FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

فہرست مضامین

کتاب الدعاء

 

ماخوذ از ’حج اور عمرہ کے مسائل‘

 

                محمد اقبال کیلانی

 

 

 

 

 

اَلْادْعِیَۃ مِنَ الْکِتَابِ وَالسُّنَّۃ

 

قرآن مجید اور حدیث شریف کی دعائیں

 

طواف و سعی نیز قیام منیٰ،  وقوف عرفات اور وقوف مزدلفہ کے دوران مانگنے کے لئے قرآن و حدیث کی بعض جامع دعائیں۔

رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ﴾ (23:7)

“اے ہمارے رب! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم یقیناًًخسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ ” (سورہ اعراف، آیت نمبر23)

﴿ رَبَّنَا آتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃ وَّفِیْ الْآخِرَۃ حَسَنَۃ وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴾(201:2)

“اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی سے نواز اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔ ” (سورہ بقرہ، آیت نمبر201)

﴿رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَ اِنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا اِنَّہَا سَاءَ تْ مُسْتَقَرًّا وَّمُقَامًا ﴾(66۔65:25)

ٍ”اے ہمارے پروردگار! ہم سے جہنم کا عذاب دور رکھنا کیونکہ اس کا عذاب چمٹ جانے والا ہے بیشک جہنم بہت ہی برا ٹھکانا اور بہت ہی بری جگہ ہے۔ ” (سورہ فرقان، آیت نمبر66۔65)

﴿ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃ اَعْیُنٍ وَّجَعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا﴾(74:25)

“اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور اولادوں کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقی لوگوں کا امام بنا دے۔ ” (سورہ فرقان، آیت نمبر74)

﴿ رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃ اِنَّکَ اَنْتَ الْوَہَّابُ ﴾(8:3)

“اے ہمارے رب! ہدایت عطا فرمانے کے بعد ہمارے دلوں کو گمراہ نہ کر اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما۔ بیشک تو ہی حقیقی داتا ہے۔ ” (سورہ آل عمران، آیت نمبر 8)

﴿ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَلاَ تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلآً لِّلَّذِیْنَ آمَنُوْا رَبَّنَا اِنَّکَ رَوٴُوْفٌ رَّحِیْمٌ ﴾(10:59)

“اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں اور اہل ایمان کے بارے میں ہمارے دلوں میں کسی قسم کا کینہ نہ آنے دے اے ہمارے رب ! تو بڑا ہی شفیق اور مہربان بے۔ ” (سورہ حشر، آیت نمبر10)

﴿ رَبَّنَا اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃ وَّہَیِّیٴْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا ﴾(10:18)

“اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے معاملات میں اصلاح کی صورت پیدا فرما۔ ” (سورہ کہف، آیت نمبر10)

﴿ رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْلَنَا اِنَّکَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ﴾(8:66)

“اے ہمارے رب! ہمارا نور آخر تک باقی رکھنا اور ہمیں بخش دیناتو یقیناً ہر چیز پر قادر ہے۔ ” (سورہ التحریم، آیت نمبر8)

﴿ رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلاَۃ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ رَبَّنَا اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُوْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ ﴾(41۔40:14)

“اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا اے ہمارے رب! میری دعاء قبول فرما۔ “اے ہمارے رب! مجھے میرے والدین اور اہل ایمان کو حساب کتاب کے دن بخش دینا۔ ” (سورہ ابراہیم، آیت نمبر41۔40)

﴿ رَبَّنَا لاَ تُوَاخِذْنَا اِنْ نَّسِیْنَا اَوْ اَخْطَاْنَاج رَبَّنا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَیْنَا اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ  عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَتَ لَنَا بِہٖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلٰنَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ ﴾(286:2)

“اے ہمارے رب! اگر ہم سے بھول یا چوک ہو جائے تو ہم پر گرفت نہ فرما،  اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا اے ہمارے رب! جو بوجھ اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں وہ ہمارے اوپر نہ ڈال ہمیں معاف فرما۔ ہمیں بخش دے ہم پر رحم فرما،  تو ہی ہمارا آقا ہے کافر قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ ” (سورہ بقرہ، آیت نمبر286)

(( یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلیٰ دِیْنِکَ ))

“اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرا دل اپنے دین پر جما دے۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ اَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِیْ الْاُمُوْرِ کُلِّہَا وَاَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا وَعَذَابِ الْآخِرَۃ ))

“الٰہی! ہمارا انجام سب ہی کاموں میں اچھا کیجئے اور دنیا کی رسوائی سے ہمیں پناہ دیجئے اور آخرت کے عذاب سے بھی۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ مَغْفِرَتِکَ اَوْسَعُ مِنْ ذُنُوْبِیْ وَرَحْمَتِکَ اَرْجیٰ عِنْدِیْ مِن عَمَلِیْ ))

“یا اللہ! میرے گناہوں کے مقابلے میں تیری مغفرت بہت وسیع ہے اور مجھے میرے عمل کے مقابلے میں تیری رحمت کی زیادہ امید ہے۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ رَحْمَتِکََ اَرْجُوْا فَلاَ تَکِلْنِیْ اِلیٰ نَفْسِیْ طَرْفَۃ عَیْنٍ وَّاَصْلِحْ لِیْ شَانِیْ کُلَّہٗ  لاَ اِلٰہَ اِلآَ اَنْتَ ))

“اے اللہ! میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں مجھے لمحہ بھر کے لئے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر۔ میرے تمام حالات درست فرما دے۔ تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ ))

“اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے معاف کرنا پسند کرتا ہے مجھے معاف فرما۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْرًا وَلاَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلآَ اَنْتَ فَاغْفِرْلِیْ مَغْفِرَۃ مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ))

“اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کئے اور تیرے سوا کون ہے جو گناہ بخشے تو مجھے بھی اپنے ہاں سے خاص بخشش سے نواز اور مجھ پر رحم فرما بے شک تو بخشنے والا مہربان ہے۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لاَ اِلٰہَ اِلآَ اَنْتَ خَلَقْتَنِْی واَنَا عَبْدُکَ وَاَنَا عَلیٰ عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ وَ اَبُوْءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَاَبُوْءُ بِذَنْبِیْ فاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہٗ  لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلآَ اَنْتَ))

“اے اللہ! تو میرا رب ہے تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں تو نے ہی مجھے پیدا کیا ہے میں تیرا بندہ ہوں تجھ سے کئے ہوئے عہد اور وعدے پر اپنی استطاعت کے مطابق قائم ہوں اپنے کئے ہوئے برے کاموں کے وبال سے تیری پناہ چاہتا ہوں مجھ پر تیرے جو احسانات ہیں ان کا اعتراف کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں۔ مجھے بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں۔ ”

((أَللّٰہُمَّ رَبَّ جِبْرَائِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ وَرَبَّ اِسْرَافِیْلَ وَرَبَّ مُحَمَّدًا اَعُوْذُبِکَ مِنَ النَّارِ))

“الٰہی! اے جبرائیل،  میکائیل،  اسرافیل اور حضرت محمدﷺ کے رب! میں تیرے ساتھ آگ کے عذاب سے پناہ مانگتا ہوں۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ ))

“اے اللہ! جس روز تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا اس روز مجھے اپنے عذاب سے بچائے رکھنا۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ حَاسِبْنَا حِسَابًا یَّسِیْرًا ))

“اے اللہ! ہم سے آسان حساب لے۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِہٖ مِنِّی اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُوٴَخِّرُ وَاَنْتَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ))

اے اللہ! میرے اگلے ،  پچھلے ،  پوشیدہ اور ظاہر نیز وہ گناہ جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے سب معاف فرما دے۔ تیری ذات سب سے پہلے اور سب سے آخر ہے اور تو ہر چیز پر قادر رہے۔

((اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَعَافِنِیْ وَاہْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ ))

اے اللہ! مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما مجھے صحت،  ہدایت اور رزق عطا فرما۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلاَلِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ ))

“یا اللہ! رزق حلال سے میری ساری ضرورتیں پوری فرما اور حرام سے بچا نیز اپنے فضل و کرم سے مجھے اپنی ذات کے علاوہ ہر ایک سے بے نیاز کر دے۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃ وَالْمُعَافَاۃ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃ ))

الٰہی! میں سوال کرتا ہوں آپ سے درگزر اور سلامتی اور ہر تکلیف سے بچاؤ کا دنیا و آخرت میں۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْہُدیٰ وَالتُّقیٰ وَالْعَفَافَ وَالْغِنیٰ ))

“یا اللہ! میں تجھ سے ہدایت،  تقوی،  پاکدامنی اور بے نیازی کا سوال کرتا ہوں۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ اہْدِنِیْ وَسَدِّدْنِیْ اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ الْہُدیٰ وَالسَّدَادَ ))

“اے اللہ! مجھے ہدایت دے اور میری اصلاح فرما۔ اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت اور اصلاح کا سوال کرتا ہوں۔ ”

(( رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَتُبْ عَلَیَّ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَابُ الْغَفُوْرُ ))

اے میرے رب! مجھے بخش دے میری توبہ قبول فرما تو یقیناً توبہ قبول کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔

(( اَللّٰہُمَّ عَافِنِیْ فِیْ بَدَنِیْ اَللّٰہُمَّ عَافِنِیْ فِیْ سَمْعِیْ اَللّٰہُمَّ عَافِنِی فِیْ بَصْرِیْ لاَ اِلٰہَ اِلآَ اَنْتَ ))

“اے اللہ! میرے بدن کو تندرست رکھ۔ اے اللہ! میرے کان عافیت سے رکھ۔ اے اللہ! میری آنکھ کو عافیت عطا فرما۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ طَہِّرْ قَلْبِیْ مِنَ النِّفَاقِ وَعَمَلِیْ مِنَ الرِّیَاءِ وَلِسَانِیْ مِنَ الْکَذِبِ وَعَیْنِیْ مِنَ الخَیَانَۃ فَاِنَّکَ تَعْلَمُ خَائِنَۃ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِیْ الصُّدُوْرِ ))

“یا اللہ! میرے دل کو نفاق سے ،  عمل کو ریا سے ،  زبان کو جھوٹ سے اور آنکھ کو خیانت سے پاک کر دے کیونکہ تو آنکھوں کی خیانت اور سینوں کے اندر چھپی باتوں کو جانتا ہے۔ ”

 

((اَللّٰہُمَّ اَصْلِحْ دِیْنِی الَّذِیْ ہُوَ عِصْمَۃ اَمْرِیْ وَاَصْلِحْ لِیْ دُنْیَایَ الَّتِی فِیْہَا مَعَاشِیْ وَاَصْلِحْ لِیْ آخِرَتِیَ الَّتِیْ فِیْہَا مَعَاِدْی وَاجْعَلِ الْحَیَاۃ زِیَادَۃ لِیْ فِیْ کُلِّ خَیْرٍ وَاجْعَلَ الْمَوْتَ رَاحَۃ لِیْ مِنْ کُلِّ شَرٍّ ))

“یا اللہ! میرے دین کی اصلاح فرما جو میرے انجام کا محافظ ہے۔ میری دنیا کی اصلاح فرما جس میں میری روزی ہے۔ میری آخرت کی اصلاح فرما جہاں مجھے (مرنے کے بعد) پلٹ کر جانا ہے میری زندگی کو نیکیوں میں اضافے کا باعث بنا اور موت کو ہر برائی سے بچنے کے لئے راحت بنا۔ ”

 (( اَللّٰہُمَّ اِنِیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ وَتَحَوُّلِ عَافِیَتِکَ وَفُجَاءَ ۃ نَقْمَتِکَ وَجَمِیْعِ سَخَطِکَ ))

“یا اللہ! میں تیری نعمت کے زوال،  تیری عافیت سے محرومی،  تیرے اچانک عذاب اور تیرے ہر طرح کے غصے سے پناہ مانگتا ہوں۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَسُوْءِ الْاِخْلاَقِ ))

“یا اللہ! میں حق کی مخالفت،  نفاق اور برے اخلاق سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ ”

 (( اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ سَمْعِیْ وَشَرِّ بَصَرِیْ وَشَرِّ لِسَانِیْ وَشَرِّ قَلْبِیْ وَشَرِّ مَنِیِّیِ ))

“اے اللہ! میں اپنی سماعت،  بصارت،  زبان،  دل اور شرمگاہ کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْفَقْرِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ الْقِلَّۃ وَالذِّلَّۃ وَاَعُوْذَبِکَ اَنْ اَظْلِمْ اَوْ اُظْلَمْ ))

“یا اللہ! میں فقیری سے (دین اور دنیا کی ضرورتوں میں ) کمی سے اور (دنیا و آخرت میں ) رسوائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں نیز اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ اَعْمَلْ ))

“اے اللہ! میں نے جو عمل کیا ہے اس کے شر سے اور جو (ابھی نہیں کیا اس کے شر سے آپ کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُذَامِ وَالْجَنُوْنِ وَمِنْ سَیِّءِ الْاِسَقَامِ ))

“یا اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں برص،  کوڑھ،  جنون اور تمام بُری بیماریوں سے۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنْ یَوْمِ السُّوْءِ وَمِنْ لَیْلَۃ السُّوْءِ وَمِنْ سَاعَۃ السُّوْءِ وَمِنْ صَاحِبِ السُّوْءِ وَمِنْ جَارِ السُّوْءِ فِیْ دَارِ الْمُقَامَۃ ))

“یا اللہ! میں اپنے گھر میں برے شب و روز ،  بری گھڑی،  برے ساتھی اور برے ہمسائے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْاَرْبَعِ مِنْ عِلْمٍ لاَ یَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لاَ یَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ وَمِنْ دُعَاءٍ لاَ یُسْمَعُ ))

“یا اللہ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں 1ایسا علم جو نفع نہ دے (یعنی جس کے مطابق عمل نہ ہو)2ایسا دل جو خوف نہ کھائے 3 ایسا نفس جو آسودہ نہ ہو4 اور ایسی دعاء جو قبول نہ ہو۔ ”

((اَللّٰہُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْیَتِکَ مَا یَحُوْلُ بَیْنَنَا وَبَیْنَ مَعَاصِیْکَ وَمِنْ طَاعَتِکَ مَا تُبَلِّغُنَا بِہٖ جَنَّتَکَ وَمِنَ الْیَقِیْنِ مَا تُہَوِّنُ بِہٖ عَلَیْنَا مُصِیْبَاتِ الدُّنْیَا وَمَتِّعْنَا بِاَسْمَاعِنَا وَاَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا اَحْیَیْتَنَا وَاجْعَلْہُ الْوَارِثَ مِنَّا وَاجْعَلْ ثَاْرَنَا عَلیٰ مَنْ ظَلَمَنَا وَانْصُرْنَا عَلیٰ مَنْ عَادَانَا وَلاَ تَجْعَلْ مُصِیْبَتَنَا فِیْ دِیْنِنَا وَلاَ تَجْعَلِ الدُّنْیَا اَکْبَرَ ہَمِّتَا وَلاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلاَ تُسَلِّطْ عَلَیْنَا مَنْ لآَ یَرْحَمُنَا ))

“یا اللہ! تو ہمیں اتنی خشیت عطا فرما جو ہمارے اور ہمارے گناہوں کے درمیان حائل ہو جائے اور ہمیں اتنی اطاعت نصیب فرما جو ہمیں تیری جنت میں پہنچا دے اور اتنا یقین عطا فرما جو دنیا کے مصائب سہنے ہمارے لئے آسان بنا دے یا اللہ! جب تک تو ہمیں زندہ رکھے ،  ہمیں کانوں آنکھوں اور دوسری قوتوں سے فائدہ پہنچا اور ہمیں اس فائدے کا وارث بنا (یعنی عمر بھر ہمارے حواس صحیح سلامت رکھ) جو شخص ہم پر ظلم کرے اس سے تو انتقام لے دشمنوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما دین کے معاملے میں ہم پر مصیبت نہ ڈال،  دنیا کو ہماری زندگی کا سب سے بڑا مقصد نہ بنا نہ ہی دنیا کو ہمارے علم کی منزل مقصود بنا اور ایسے شخص کو ہم پر مسلط نہ فرما جو ہم پر رحم نہ کرے۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدُکَ وَابْنُ اَمَتِکَ نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ قَاضٍ فِیَّ حُکْمُکْ عَدْلٌ فِیَّ قَضَاءُ کَ اَسْئَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ہُوَ لَکَ سَمَّیْتَ بِہٖ نَفْسَکَ اَوْ اَنْزَلَتَہٗ  فِیْ کِتَابِکَ اَوْ عَلَّمْتَہُ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِکَ اَوْ اَسْتَاثَرْتَ بِہٖ فِیْ عِلْمِ غَیْبِ عِنْدَکَ اَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ وَنُوْرَ صَدْرِیْ وَجَلاَءَ حُزْنِیْ وَذَہَابَ ہَمِّیْ وَغَمِّیْ ))

“یا اللہ! میں تیرا بندہ ہوں تیرے بندے اور بندی کا بیٹا،  میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ،  تیرا ہر حکم مجھ پر نافذ ہونے والا ہے میرے بارے میں تیرا ہر فیصلہ انصاف پر مبنی ہے میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں جسے تو نے خود اپنے لئے پسند کیا ہے یا اپنی کتب میں نازل کیا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے یا اپنے علم غیب کے خزانے میں محفوظ کر رکھا ہے کہ قرآن کو میرے دل کی بہار،  سینے کا نور اور میرے دکھوں اور غموں کو دور کرنے کا ذریعہ بنا دے۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنَ الْخَیْرِ کُلِّہٖ عَاجِلِہٖ وَاٰجِلِہٖ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ اَعْلَمْ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ الشَرِّ کُلِّہٖ عَاجَلِہِ وَاٰجِلِہٖ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ اَعْلَمُ اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا سَأَلَکَ عَبْدُکَ وَنَبِیُّکَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِہٖ عَبْدُکَ وَنَبِیُّکَ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْجَنَّۃ وَمَا قَرَبَ اِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ اَوْ عَمَلٍ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ اِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ اَوْ عَمَلٍ وَاَسْئَلُکَ اَنْ تَجْعَلَ کُلَّ قَضَاءٍ قَضَیْتَہٗ  لِیْ خَیْرًا ))

“یا اللہ! میں تجھ سے ہر طرح کی بھلائی مانگتا ہوں جلد یا دیر کی جسے میں جانتا ہوں اور جسے میں نہیں جانتا اور تجھ سے پناہ طلب کرتا ہوں ہر طرح کی برائی سے جلد یا دیر کی جسے میں جانتا ہوں اور جسے میں نہیں جانتا یا اللہ! میں تجھ سے ہر وہ بھلائی مانگتا ہوں جو تجھ سے تیرے بندے اور نبی نے مانگی اور ہر اس برائی سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں جس سے تیرے بندے اور نبی نے پناہ مانگی۔ یا اللہ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور ایسے قول و فعل کا جو جنت کے قریب لے جائے۔ یا اللہ!میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں آگ سے اور اس قول و فعل سے جو آگ کے قریب لے جائے۔ یا اللہ! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ تو نے میرے لئے جس تقدیر کا فیصلہ کیا اسے میرے حق میں بہتر بنا دے۔ ”

(( لاَ اِلٰہَ اِلآَ اللّٰہُ الْعَظِیْمُ الْحَلِیْمُ لاَ اِلٰہَ اِلآَّ اللّٰہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمُ لاَ اِلٰہَ اِلآَ اللّٰہُ رَبُّ السَّمٰوَاتِ وَرَبُّ الْاَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ ))

“عظمت اور حوصلے والے اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں عرش عظیم کے مالک اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں زمین و آسمان کے مالک اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں وہ عرش کریم کا بھی مالک ہے۔ ”

﴿ لاَ اِلٰہَ اِلآَ اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ ﴾(78:21)

“تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں تو (ہر خطاء سے ) پاک ہے بے شک میں ہی ظالموں سے ہوں۔ ” (سورہ انبیاء، آیت نمبر78)

(( لاَ اِلٰہَ اِلآَ اللّٰہُ وَحْدَہٗ  لاَ شَرِیْکَ لَہٗ  لَہُ المُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ اَللّٰہُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدِّ ))

“اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ،  وہ ایک ہے ،  اس کا کوئی شریک نہیں ،  بادشاہی اسی کے لئے ہے ،  حمد کے لائق وہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یا اللہ! اگر تو اپنے فضل سے کسی کو نوازنا چاہے تو تجھے کوئی روک نہیں سکتا اور اگر تو کسی کو اپنی رحمت سے محروم کر دے تو کوئی اسے نواز نہیں سکتا، کسی دولت مند کی دولت اسے تیرے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔ ”

(( اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ بِاَنَّکَ اَنْتَ اللّٰہُ لاَ اِلٰہَ اِلآَ اَنْتَ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدُ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ  کُفُوًا اَحَدٌ ))

“اے اللہ! میں تجھ سے اس لئے پناہ مانگتا ہوں کہ تو اللہ ہے تیرے سوا کوئی الہٰ نہیں تو اکیلا ہے بے نیاز ہے نہ اس نے کسی کو جنا نہ وہ کسی سے جنا گیا اور اس کی برابری کرنے والا کوئی نہیں۔

٭٭٭

تشکر:مکتبہ جبرئیل، مرثد ہاشمی جن کے توسط سے فائل فراہم ہوئی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید