FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

چار کہانیاں

 

                پرویز شہریار

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

 

 

 

سکاؤٹ گرل

 

ایک سوال کے جواب میں اُس نے بتایا۔

’’صاحب،کبھی کبھی تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میرے جسم کے حساس حصوں پر گرم گرم انگارے رکھے جا رہے ہیں۔ میرے کومل انگوں کو کوئی اپنے چرمی بوٹوں سے کچل رہا ہے۔۔۔میری آنکھوں سے درد کے آنسو ٹپکنے لگتے ہیں لیکن کلائنٹ کے سامنے ہمیں رونے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ ہم اپنے ہونٹوں پر نا قابلِ برداشت درد کی کراہٹ کے باوجود مسکان سجانے اور سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس جارحانہ عمل سے مردوں کی انا کو تسکین ملتی ہے اور وہ ٹپ کے طور پر ہمیں انعام بھی دیتے ہیں۔‘‘

’’تو کیا انعام کے پیسے بھی وہ تم سے لے لیتے ہیں؟‘‘

’’ہاں!‘‘ اُس نے صرف اتنا ہی کہا اور اپنی لمبی لمبی مصنوعی پلکیں جھپکا لیں اور نیچے اپنی اُدھڑتی ہوئی نیل پالش کی طرف دیکھنے لگی۔

اُس کی گز گز بھر کی گوری گوری ٹانگیں کئی ہفتوں سے ویکسنگ نہ کیے جانے کی وجہ سے ننھے ننھے سنہرے بالوں سے پٹی پڑی تھیں۔ اُس نے سر اٹھایا اور مجھے اپنی بھدّی ٹانگوں پر نظریں جمائے دیکھ کر اُس نے فوراً اپنی دونوں ٹانگیں ترچھی کر کے اپنی طرف سمیٹ لیں۔ اُس کے فربہ بدن سے اُس وقت خوشبوؤں کا ایک ایسا بھپکا اُٹھ رہا تھا جو میری نتھنوں کو اپنی طرف پوری شدت سے مائل کیے ہوئے تھا۔ یہ مہک اس کے جسم کی تھکاوٹ کی وجہ سے تھی یا شاید پسینے یا آنسوؤں کی وجہ سے تھی۔ یا پھر ہارمونل رساؤ کی وجہ سے جو ایک جوان عورت ہی کے جسم سے آسکتی ہے۔ اس میں ڈی او ڈورینٹ اور پرفیوم کی مصنوعی خوشبوئیں بھی شامل ہو گئی تھیں۔ اس کی گہری نیلی بینائیوں کے گرد آنکھوں کے غلافی حصے اُس وقت سُوجھ کے موٹے پھولے ہوئے سے لگ رہے تھے۔

جُولیہ سے یہ میری دوسری ملاقات تھی۔

میری پہلی ملاقات اُس سے بڑے ڈرامائی انداز سے ہوئی تھی۔ وہ اسکاؤٹ گرل تھی۔ وہ پیرس کے سب سے مہنگے اور پاش ایریا میں کام کرتی تھی۔ ہو سکتا ہے، اس کا اصلی نام کچھ اور ہو لیکن اُس نے مجھے یہی بتایا تھا ۔میں وثوق سے کچھ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اُس نے جھوٹ کہا تھا یا سچ کہا تھا۔ لیکن اتنا تو تھا کہ اُس نے خود پر ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان ہم سے سچ سچ بتا دی تھی۔ اُس کی حالت ایک ایسے قیدی کی تھی۔ جسے معلوم تھا کہ اُس سے ہمدردی کرنے والا شخص قید خانے میں ہے اور اب اس سے دوبارہ ملاقات نہیں ہو پائے گی۔

لیکن جب میں نے ہزاروں روپے خرچ کر کے اُس سے دوبارہ ملاقات کا انتظام کر لیا تو مارے خوشی کے اُس کی آنکھیں چھلک پڑی تھیں۔ اُس وقت میں نے اُس کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔ گناہوں کی آلائشوں سے پاک، شہر کی آلودگیوں سے دور کسی ساحلی علاقے کی ریت پر سیپیوں سے کھیلتی ہوئی ایک معصوم بچی وہاں موجود تھی ۔مادہ پرست دُنیا کے مکر و فریب سے پرے ، وہ اپنی آنکھوں میں کھلکھلا کر ہنس رہی تھی۔

وہاں ایک ایسی لڑکی موجود تھی، جس کا باپ دور سمندر کی ہولناک لہروں سے الجھتا ہوا مچھلیاں پکڑنے گیا ہوا تھا تاکہ اس کے بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچے بھوکے نہ رہیں۔

اُس نے اپنے بارے میں بتایا تھا۔

اُس کے سات بھائی بہن تھے۔ وہ سب سے بڑی تھی۔ اتنی بڑی کہ اُسے مرد کی محبت کا مطلب سمجھ میں آنے لگا تھا۔ وہ اپنی بالی عمر سے زندگی کی اُس سرحد میں داخل ہو چکی تھی،جہاں لڑکیاں اپنے جسم کے نہاں خانے میں کسی راجکمار کی دستک کا انتظار کرنے لگتی ہیں۔

تبھی سارکوزی نے آ کر اُس کے پھول سے ہونٹوں کو کھیل کھیل میں چٹکیوں سے مسل دیا تھا ۔اُسے بہت ہی اپنائیت کا احساس ہوا تھا۔ وہ اسے اپنا دل دے بیٹھی تھی۔ یہ سب کچھ اتنا آناً فاناً میں ہوا کہ وہ اپنا سب کچھ نچھاور کربیٹھی تھی۔ ایسا کرتے وقت اُس نے ایک پل کو بھی ٹھہر کر اس کے انجام کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ شاید وہ اتنا جاذب نظر تھا۔ اس کی شخصیت اتنی رعب دار تھی کہ اُس کے سفید ہیٹ اور سفید یونیفارم کے آگے وہ بے بس ہو گئی تھی۔ اُس نے بتایا تھا کہ وہ نیوی مرچنٹ ہے۔

لیکن مسٹر پرویز فریب اتنا دلکش ہوتا ہے۔ اتنا سحر انگیز ہوتا ہے کہ انسان مچھلیوں کی طرح چارے کے اندر پوشیدہ کانٹے کو دیکھ نہیں پاتا۔ وہ اُس وقت تک مجھ سے کسی ضدی بچے کی طرح کھیلتا رہا جب تک کہ اُس کا جی نہیں بھر گیا۔ جب ایک سال کا عرصہ بیت گیا۔ تو وہ ایک دن مجھے میرے ساحلی گاؤں سے نکال کر شہر لے آیا۔ میں اُس وقت پورے پیٹ سے تھی اور کسی بھی وقت بچہ پیدا ہوسکتا تھا۔ میں پیرس کی اجنبی اور انجان گلی کوچوں میں اس کے پیچھے لاچار بھاگتی رہی۔ ایک چیری ٹیبل نرسنگ ہوم میں بچے کی ڈلیوری ہوئی۔ میں نے ایک بیٹے کو جنم دیا تھا۔ میرا بیٹا لوئس جب ایک سال کا ہو گیا اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے لگا تبھی سارکوزی نے مجھے اس جہنم کی آگ میں ڈھکیل دیا۔

تب سے آج تک میں مامتا کی ماری اپنی اولاد کی خاطر مافیاؤں کے ہاتھوں ہر ظلم وستم سہہ رہی ہوں۔ میں حقیقت میں اُن کی غلام بن چکی ہوں اور وہ ہمارے آقا ہیں۔ آج اس واقعے کو پانچ سال بیت چکے ہیں۔ چوبیس گھنٹے ان کی نگاہ مجھ پر رہتی ہے۔ وہ لوگ مجھے اپنے بچے سے ملنے کی اتنی دیر کی مہلت دیتے ہیں۔ جتنی دیر کے لیے تم ہزاروں روپے خرچ کر کے مجھے سے ملنے کی خاطر میرے پاس آتے ہو۔

لیکن تمہارے عاشق نے بھلا ایسا کیوں کیا؟

یہ سچ ہے کہ وہ مجھ سے دوبارہ نہیں ملا۔ اگر مل جاتا تو میں اُس کا خون کر دیتی۔

وہ مافیا جو اس فلیش ٹریڈ کے ریکٹ کو چلاتے ہیں۔ انھوں نے بتایا تھا کہ نیوی مرچنٹ تمہارا عاشق نہیں ، وہ در اصل ایک پمپ ہے۔ اُس نے ہم سے پانچ ہزار فرینک لے کر تمہیں بیچ دیا تھا۔ تم ہمارے لیے انڈے دینے والی صرف ایک مرغی بھر ہو۔ کھاؤ پیو اور انڈے دیتی رہو۔ اس سے زیادہ کی سوچنا بھی مت ورنہ تمہارے چہرے پر تیزاب پھینک دیا جائے گا ۔تمہارا چہرے جل کر اتنا خوفناک ہو جائے گا کہ اسے دیکھ کر تمہارا بیٹا بھی ڈر کے مارے بھاگ کھڑا ہو گا۔ تم اتنی بد صورت ہو جاؤ گی کہ خود اپنی شکل آئینے میں دیکھنے کی ہمت نہیں جُٹا پاؤگی۔ تمہارے لیے بس یہی اچھا ہے کہ انڈے دیتی رہو اور ہمارے دھندے کے بیچ میں اپنی ٹانگیں مت اڑاؤ۔ ہمارے راستے میں جو بھی آئے گا،اس کا اتنی آسانی سے صفایا ہو جائے گا کہ تم کبھی سوچ بھی نہیں سکتی۔ ہم انٹر نیشنل لیول پر کام کرتے ہیں۔ دُنیا کے کسی بھی مُلک کی پولیس ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی۔ ہمارے اس کام میں بڑے بڑے ڈپلومیٹ اور پالیٹے شین بھی شامل ہیں۔

’’جولیہ‘‘ میں نے اُسے پورے اعتماد میں لے کر کہا: ’’تم ان کی باتوں سے ذرا بھی مت گھبرانا۔ وہ سب تمہیں ڈرانا چاہتے ہیں۔ تم بے خوف رہنا۔میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تم بہت جلد ان کے چنگل سے آزاد ہو جاؤ گی۔ تمہیں تمہارا اپنا بیٹا بھی مل جائے گا۔ بس تم صرف اتنا کرو کہ میرے موبائل میں کچھ ویڈیو رکارڈنگ ہیں۔ اسے کسی اندھیرے گوشے میں لے جا کر دیکھو اور بتاؤ کہ ریکٹ کا سرغنہ فلپس ان میں سے کون ہے؟ کیا وہ ان ویڈیو میں موجود ہے؟

جولیہ کو حالات نے سب کچھ سیکھا دیا تھا۔ اُس نے سی سی ٹی کیمرے کے دائرۂ کار سے بچا کر موبائل آن کیا اور دور سے ہی اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ فلپس کو ٹیپ کرنا اب بہت آسان ہو گیا تھا۔ میں نے ایمنسٹی انٹر نیشنل کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ برانچ کے ایک جری آفیسر کو اُس جگہ کے بارے میں کچھ سراغ دے دیا تھا ،جہاں بہت ہی ٹاپ ماڈل کی آڑ میں جسم فروشی کا دھندہ کافی وسیع پیمانے پر اور بڑے زور و شور سے چل رہا تھا۔

پیرس کے ا یفل ٹاور سے نیچے اُترنے کے بعد میں نے سیٹھ گردھاری پٹیل کو ایک ہوٹل میں ڈراپ کر کے تھکا ہوا لوٹ رہا تھا۔ شب کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔ تبھی اچانک ایک ماڈل میرے سامنے زمین پر گرے اپنے پرس کو اُٹھانے کے لیے جھکی تھی اور جوں ہی میں نے اس کی پرس اُٹھانے میں مدد کرنے کی کوشش کی۔ اُس نے بہت ہی شہوت انگیز اشارے کرتے ہوئے اپنی انگلی کے گرد اپنے سرخ ہونٹوں کا حلقہ بنا کر خشکی دور کرنے کے لیے زبان پھیر ی تھی۔

ایسا کرتے وقت اس کی نظریں مجھ پر سے ایک ساعت کے لیے بھی نہیں ہٹی تھیں۔ میرے بدن میں سہرن سے دوڑ گئی۔

میں رُکا اور اُسے دیکھتا رہ گیا۔

اُس نے بڑے معنی خیز انداز سے مجھے آنکھ مارتے ہوئے دریافت کیا۔ ’’اسکاؤٹ ؟‘‘

میں نے بھی کچھ سمجھے بغیر کہہ دیا۔

’’ہاں! اسکاؤٹ‘‘

اُس نے تحکمانہ انداز میں کہا۔’’میرے ساتھ ساتھ چلتے رہو۔‘‘

ایک اندھیری گلی میں مڑتے ہی وہاں لمبی کار ہمارا انتظار کر رہی تھی۔

اُس نے ایک عالی شان کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی کہا۔

’’بیس ہزار‘‘

میں نے گردھاری پٹیل کو فون پر ساری بات مختصراً بتادی۔ اُس نے کہا ’’پندرہ ہزار‘‘ میں نے بھی کہہ دیا۔

’’پندرہ ہزار‘‘

’’چلے گا۔ لیکن یہ بتاؤ کہ تم فون پر کس سے باتیں کر رہے ہو؟‘‘

’’سیٹھ گردھاری پٹیل ۔ میرا کلائنٹ‘‘

’’تم میرے کلائنٹ ہو اور وہ تمہارا کلائنٹ، کیسے؟‘‘

’’میں ایک انٹر پریٹر ہوں۔ سیٹھ فرانسیسی زبان نہیں جانتا ہے ۔لیکن اس کے پاس مال ہے، بہت سارا مال جس طرح تمہارے پاس مال ہے۔ تم دونوں مالا مال ہو۔ قدرت نے تمہیں حسن کی دولت دی ہے اور سیٹھ کو روپوں کی دولت دی ہے۔ تم دونوں اپنا کام کرو۔ میں کرتا ہوں آرام….. ‘‘

جولیا نے باہر آ کر خوش رنگ لباس زیب تن کرنے کے بعد اپنے گہری تراش کے گریبان کو درست کرتے ہوئے کہا۔’’ میں تو کسی مجبوری کے تحت یہ کام کرتی ہوں لیکن یہ سب تم کس لیے کرتے ہو؟‘‘

’’میں پاپی پیٹ کے لیے کرتا ہوں۔‘‘ میں نے اپنے پیٹ کی طرف ہاتھوں کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ اُس کے چہرے سے لگا کہ وہ کچھ سمجھی نہیں یا اگر سمجھ گئی ہے تو کچھ بتانا چاہتی ہے، لیکن بتا نہیں پا رہی ہے۔

میں نے سوالیہ نگاہوں سے اُسے دیکھا اور ہاتھوں کے اشارے سے پوچھا۔’’ کیا معاملہ ہے؟‘‘

اتنا دریافت کرتے ہی اُس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ وہ ضبط نہ کر سکی اور زار و قطار آنسو جاری ہو گئے۔ یہ منظر دیکھ کر میرا دل پسیج گیا۔ میں اس کے قریب کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔

اُس کے منھ سے پہلا جملہ نکلا۔

’’میرا ایک معصوم بچہ ہے۔ جسے ظالموں نے مجھ سے دور کسی جگہ قید کر رکھا ہے۔ اُس کے عوض یہ لوگ مجھ سے یہ گناہوں کا دھندہ کرواتے ہیں۔ میں یہ سب اپنی خوشی سے نہیں کرتی ہوں۔ میری روح کو ہر روز کوئی نہ کوئی نیا زخم دے جاتا ہے۔ آج تم نہیں ملتے تو کوئی دوسرا مرد مجھے اپنے پیروں تلے روند جاتا ۔تم مجھے شریف آدمی معلوم ہوتے ہو، اس لیے میں تم سے اپنی بات بتا رہی ہوں کہ شاید تم میری کچھ مدد کرسکو۔میں اندر سے بالکل ٹوٹ چکی ہوں۔‘‘

آغاز میں مجھے یہ سب من گھڑت کہانی معلوم ہوئی۔

لیکن تبھی ہماری موجودگی میں تین دبنگ قسم کے غنڈے آئے اور اُ سے کسی گذشتہ کلائنٹ کی شکایت کی وجہ سے ڈانٹنا شروع کر دیا۔ اس کے جواب دینے پر بڑی درشتی سے ان میں سے ایک نے کہا۔ ’’ہم سے زبان لڑاتی ہے‘‘۔ ایک موٹی سی دل خراش گالی دی اور طمانچوں سے اُس کا منھ لال کر دیا۔ وہ سر سے پاؤں تک ڈر سے کانپ رہی تھی۔

سیٹھ نا جانے کب باتھ روم میں گھس گیا تھا۔ وہ شور کم ہوتے ہی نکل کر مجھے گھسٹتا ہوا وہاں سے باہر لے آیا۔ اُس ملاقات میں میں بھی مجبور تھا۔ باہر جاتے جاتے میں اُسے صرف مڑ مڑ کر بے بسی سے دیکھتا رہ گیا تھا۔

وقت گذرتا رہا۔ مجھے لگا تھا کہ اس سے دوبارہ ملاقات نہیں ہوپائے گی۔ میں سیاحوں کو لے کر جب بھی فرانس جاتا، پیرس کے اُس ماڈرن بازارِ حُسن میں ضرور جاتا، مبادا جولیہ سے ملاقات ہو جائے۔

وہ اسکاؤٹ گرل تھی۔

میں اپنے دل ہی دل میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ سوئے اتفاق سے کسی نے مجھ سے آ کر کہا،’’ اسکاؤٹ گرل؟‘‘

میں نے کہا۔ ’’ہاں!‘‘

وہ مجھے لے کر ایک دیوار کی آڑ میں لے گیا ،جہاں اندھیرے میں کچھ لڑکیاں کلائنٹ کا انتظار کر رہی تھیں۔ چند لڑکیوں کے ساتھ وہاں جولیہ بھی کھڑی تھی ۔اُ س نے مجھے شاید نہیں پہچانا تھا۔ یا شاید پہچان ظاہر کرنا نہیں چاہتی تھی۔ میں نے اُس کی طرف اشارہ کیا۔

’’بیس ہزار‘‘

میں نے کہا۔ ’’چلے گا۔‘‘

عالی شان عمارت کے ویسے ہی کسی کمرے میں ہم دونوں کو قسمت نے ایک بار پھر آمنے سامنے لا کھڑا کیا تھا۔آج کوئی سیٹھ میرے ساتھ نہیں تھا۔

جولیہ میرے سامنے مادر زاد برہنہ کھڑی تھی۔

میں اس کی طرف اپنی پیٹھ کر کے کھڑا ہو گیا۔ میں نے کہا۔ ’’جولیہ! میں تمہیں اس کام سے آزاد کرانے آیا ہوں۔ جاؤ اور جا کر اپنا تن کپڑے سے ڈھانپ لو۔‘‘وہ مڑی تو مجھے آئینے میں دیکھ کر جے پور کے شاہی میوزیم میں رکھا آدم قد گلدان کا اُبھار یاد آ گیا۔

اُس نے کچھ اس انداز سے اپنی بڑی بڑی اداس آنکھوں سے میری طرف دیکھا جیسے میری باتوں کا اسے یقین نہ ہو۔

’’کاش! میں تمہاری باتوں پر یقین کر پاتی!‘‘

’’تم سے پہلے بھی کئی دیوانے یہ بات کہہ چکے ہیں۔ ٹامس نے میری خاطر اپنی جان جوکھم میں ڈال لی تھی۔ وہ فلپس کے گرگوں سے بھڑ گیا تھا لیکن آخر کار اسے اپنے اس دیوانے پن کی ضِد چھوڑنی پڑی۔ اُسے فلپس کے غنڈوں نے بری طرح زد  و کوب کر کے شہر سے دور کسی ویرانے میں پھینک آئے تھے۔‘‘

’’جولیہ! میں کچھ نہیں جانتا۔ میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ تم مظلوم ہو اور مظلوم کی مدد کرنا میرا فرض ہے۔‘‘

’’تم جانتے ہو، اس کا انجام؟‘‘

جولیہ نے اپنا لباس زیب تن کرنے کے بعد اس کی آخری زپ کھینچ کر بند کرتے ہوئے میری طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔ اُس کے لہجے میں قطعیت تھی اور اپنی نظروں کے ترازو پر رکھ کر دل کے کانٹے سے وہ میرے ارادے میں کتنا وزن ہے، اُسے ٹٹول رہی تھی۔‘‘

’’ہاں!میں خوب جانتا ہوں ۔ اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ ‘‘میں نے سپاٹ لہجے میں کہا۔

’’اگر اتنے دیوانے ہو تو آؤ میرے ساتھ۔۔۔اس تاریک گوشے میں چلو۔۔۔‘‘

میرے قدموں میں سبک سی لغزش ہوئی تھی لیکن پھر مجھے خود پر نا جانے کہاں سے ایک غیر معمولی اعتماد آ گیا۔ میں حیران تھا کہ وہ مجھے تاریک گوشے میں کیوں لے جا رہی ہے۔ اس نے اپنے پیڈیڈ برا کے نچلے سرے سے اپنی لانبی لانبی انگلیوں کے خوبصورتی سے تراشے ہوئے ناخنوں کی مدد سے ایک پرچی نکالی اور اپنے سرخ گلوس ہونٹوں کو میرے کانوں کے نزدیک لا کر سرگوشی کی تو ایک سنسنی سی میرے پورے جسم میں دوڑ گئی۔ ریڈ یو ٹیکسی کے بل کی پشت پر اس فلیش ٹریڈ کے سرغنہ کا نام و پتہ آئی لائنر سے لکھا ہوا تھا۔

تبھی دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی اور ایک زوردار آواز کے ساتھ دروازہ پوری طرح کھُل گیا تو جولیہ نے اپنی حاضر دماغی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے پیوستہ ہونٹوں کو مجھ سے الگ کرتے ہوئے بڑے ہرجائی پن سے میرے ہونٹوں پر لگی لپ اسٹک صاف کر لینے کا اشارہ کیا۔

’’بس بس! اب ٹائم ختم ہو گیا۔‘‘ سامنے فلپس کے گرگے کھڑے تھے۔ ان میں سے ایک نے بڑے تحکمانہ لہجے میں مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

اس قلیل ملاقات نے میرے سینے میں ایک ہلچل سی پیدا کر دی تھی۔

مجھے اس بار پیرس میں ایک ہفتہ قیام کرنا تھا۔ جولیہ نے جب سے مجھے سرغنہ کے نام کی پرچی دی تھی، تب سے میں ایک پل بھی چین سے نہیں بیٹھا تھا اور میرا دماغ مسلسل اس کی رہائی کے منصوبے بنا رہا تھا۔ خیالوں ہی خیالوں میں اسے کئی بار رہا بھی کرا چکا تھا۔ لیکن شیخ چلّی کی طرح خیالی پلاؤ پکانے اور عملی کار روائی میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ سوچ سوچ کر میرا ذہن ماؤف ہوتا جا رہا تھا۔

چار دن بیت چکے تھے۔

بات ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھی تھی۔ میں نے قصداً جولیہ سے ملنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ لیکن اس دوران ہر شام دیر رات تک اس کے علاقے میں کسی نہ کسی بہانے سے میں نے نگاہ رکھی ہوئی تھی۔ میرے لیے ایک حیرانی کی بات یہ تھی کہ اس دوران جولیہ کا کوئی اتہ پتہ نہ تھا۔ کئی بار میرے ذہن میں خیال آیا۔ مبادا راز فاش نہ ہو گیا ہو ؟ سرغنہ کو خبر ہوتے ہی اس نے اسے نظر بند کر دیا ہو گا۔اسی قسم کے بیہودہ اور فضول خیالات نے مجھے پریشان کر رکھا تھا۔

ایک شام میں بازار حسن کے اس سنسان علاقے سے بھاری قدموں کے ساتھ لوٹ رہا تھا کہ میرے موبائل فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ اس فون پر ہونے والے گفتگو کے دوران میرے باس (Boss)کو میری باتوں سے میری ذہنی کیفیت کا اندازہ لگا نے میں ذرا بھی دیر نہ لگی۔ جب سیٹھ گردھاری پٹیل نے وجہ دریافت کی تو میں خود کو روک نہیں سکا اور اُس سرغنے کا نام و پتہ نوٹ کرادیا ۔

’’سیٹھ جی ! ‘‘ میں نے بڑی خوداعتمادی کے ساتھ کہا۔’’ویسے تو میرے آہنی ارادے سے مجھے کوئی بھی ہٹا نہیں سکتا۔‘‘

پھر تھوڑے توقف کے بعد میں نے کہا۔’’لیکن اگر خدا نخواستہ کوئی بات ہو جائے تو یہ نام اور پتہ یاد رکھیے گا۔ یہی وہ سرغنہ ہے جو فلیش ٹریڈ کا انٹرنیشنل ریکٹ چلا رہا ہے۔ یہ ایک زاؤنسٹ ہے اور بظاہر بنی اسرائیل کے قوم کا مذہبی پیشوا ہے لیکن ہر وقت عورت ہی اس کا اوڑھنا اور عورت ہی اس کا بچھونا رہتی ہے۔ وہ کروٹ کروٹ حسیناؤں کے گداز بدن کے لمس کا شیدائی ہے۔ ہمہ وقت ہیروئن کی تسکری میں اس نے بے حساب دولت کمالی ہے اور دنیا کے ہر ملک میں اس کے گرگے دن رات چوبیس گھنٹے سرگرم عمل رہتے ہیں۔ ‘‘

دفعتاً میرے فون میں گھڑ گھڑاہٹ ہونے لگی اور کچھ فضول سی آوازوں کے بعد فون بند ہو گیا۔

ایک گھنٹہ بھی نہیں گذرا تھا کہ میرے پاس فون آ گیا۔

’’آپ جو کوئی بھی ہوں اور جہاں بھی ہیں۔ اپنی جگہ سے ہلنا نہیں، آپ سے جلد ہی کوئی ملاقات کرے گا۔ ‘‘آواز میں کڑک تھی اور ایسی رعب دار آواز کہ میں سوچنے پر مجبور ہو گیا۔

’’یا الٰہی ماجرہ کیا؟‘‘

کہیں جولیہ کے سر غنہ کو نہ معلوم چل گیا ہو۔میں اسی تشویش میں مبتلا ہو کر موبائل فون کو فلپ کے اندر ڈال کر اپنی جیب میں رکھ کر ہوٹل کے سنسان کمرے میں بیٹھا ہی تھا کہ تیزی سے دستک ہوئی۔

’’کون؟‘‘

میں نے ہوٹل کا اسٹووارڈ سمجھ کر اندر ہی سے کہہ دیا۔ ’’دروازہ کھلا ہے اندر آ جاؤ؟‘‘

دروازہ کھلا۔ ایک پُر اسرار شخص اندر داخل ہوا۔ اُس نے مصافحہ کے لیے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔

’’میں انٹر پول پولیس کا رسکیوآفیسر ہوں۔‘‘

آپ کو یہ جان کر یقیناً خوشی ہو گی کہ آپ نے انجانے میں ایک انتہائی سنگین مسئلہ حل کر نے میں ہماری مدد کی ہے۔ انڈیا میں آپ نے فون کر کے جس کی تفصیلات دی ہے۔ وہ ایک انٹر نیشنل ہیومن ٹریفکنگ کی ریکٹ کا سرغنہ ہے۔ ہماری ٹیم اس نام کے ہر فون کو کمپیوٹر کے ذریعے ٹیپ کر رہی ہے۔ اگر آپ کا بتایا ہوا پتہ صحیح نکلا تو کئی بڑے جرائم پر انکوش لگانے میں ہم کامیاب ہو جائیں گے۔ آپ اسی وقت اپنا سامان وغیرہ جو کچھ بھی ہے، سب یہیں چھوڑ کر فوراً ہمارے ساتھ چلیں کیوں کہ اب آپ کی جان کو یہاں خطرہ ہے۔‘‘

اُس رات ،انٹر پول پولیس کے ہیڈ کوارٹر میں مجھے رسکیو ٹیم کے مزید دو افسران سے ملایا گیا۔ ان میں سے ایک سیاہ فام شخص تو نائجیریائی تھا لیکن دوسرا شخص انڈین سردار یعنی سکھ تھا۔ یہ دیکھ کر مجھے قدرے راحت محسوس ہوئی۔ اس کے بائیں گال پر داڑھیوں سے ڈھنکا ہوا ایک مسّہ تھا۔

ملاقات کے بعد مجھے ایک کمرے میں کھانے اور سونے کے لیے بھیج دیا گیا۔

میں رات بھر یہ سوچتا رہا کہ ہو نہ ہو وہ مسّہ والا سردار میری یونیورسٹی کا ترلوچن سنگھ ہی ہے۔ ترلوچن ہمارے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے جھیلم ہوسٹل میں میرے دو چار کمرے کے بعد والے کمرے میں سیکنڈ فلور پر رہتا تھا۔ ہم سب میس میں ایک ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے اور اس دوران گپ شپ بھی مارا کرتے تھے۔ وہ انڈین پولیس سروس کی تیاری کر رہا تھا جس کا امتحان یونین پبلک سروس کمیشن (UPSC) کنڈکٹ کیا کرتی تھی۔ پھر ایک روز اچانک پتہ چلا کہ ترلوچن کا سلیکشن را ء یعنی ریسرچ اینڈ انا لیسس ونگ میں ہو گیا ہے۔ یہ ایک خفیہ شعبہ تھا ۔ لہٰذا اُس نے کسی کو نہیں بتایا اور چپکے سے ایک دن انڈر گراؤنڈ ہو گیا تھا۔ اس کے بائیں گال پر بڑا سا مسّہ تھا جس کی نسبت سے ہم سبھی دوست یار پیار سے اسے ’’مسخرہ‘‘ کہا کرتے تھے۔

آدھی رات گذر جانے کے بعداُسی مسّے والے سردار نے مجھے میس ہال سے باہر مردانہ واش روم میں لے جا کر سر گوشی میں بتایا:

’’ تو اپنا پرویز خان ہے نا جھیلم ہوسٹل والا ؟‘‘

میں یہ سُن کر ایک دم سے دنگ رہ گیا۔ میرے منھ سے حیرت سے نکلا۔

’’ترلوچن؟ مسخرہ؟‘‘ وہ ہنس پڑا اور ہاں میں سر ہلاتا ہوا منھ سے کچھ نہ بولا۔

’’ تو اور انٹر پول پولیس میں؟ یہ سب کب اور کیسے ہوا؟‘‘اُس نے آنکھوں سے اشارہ کیا کہ سی سی ٹی کیمرے میں ہماری باتیں بھی ریکارڈ ہو رہی ہیں۔

میں خاموش ہو گیا۔

مجھے اندر سے ایک انجانی سی خوشی محسوس ہو رہی تھی۔ قدرت کا میں شکر ادا کر رہا تھا۔ ایک مثبت توانائی میرے پورے رگ و پے میں دوڑ گئی تھی۔

دوسرے دن، رات کے چار بجے اچانک دروازے پر دست ہوئی اور میں ہڑ بڑا کر بستر سے اُٹھ گیا۔ تر لوچن نے بتایا کہ دبش دی جا چکی ہے اور سارے گینگ کو سرغنہ سمیت حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے تھمس اپ کا خفیف کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’جولیہ نیچے HSBCکے اے ٹی ایم پر تمہارا  انتظار کر رہی ہے اور ہاں اسے دیکھ کر چکرانا نہیں وہ سر سے پاؤں تک سیاہ برقعے میں ملبوس ہے۔‘‘

اس کی اردو دانی کا آج بھی میں قائل تھا۔ اُس کی یہی اردو فارسی کی تعلیم نے اسے راء جیسے خفیہ محکمے میں آسانیاں فراہم کرا دی تھیں۔

لیکن یہ سب کچھ اتنا آناً فاناً میں ہوا کہ میرے حواس باختہ ہو کر رہ گئے تھے۔میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ سب مسائل اتنی آسانی سے حل ہو جائیں گے۔ لیکن کہتے ہیں نا کہ جب کوئی بات بننا ہو تو راستے خود بخود ہموار اور ماحول خودبخود سازگار ہو تے چلے جاتے ہیں۔میرے مولا نے میرے دل کی فریادسن لی تھی۔

اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق جب میں HSBCکے اے ٹی ایم بوتھ پر پہنچا تو ترلوچن سنگھ کی پلاننگ دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ چند ہی سیکنڈ کے بعد ایک چمچماتی ہوئی ٹیکسی سے ایک لمبی تڑنگی سی نقاب پوش خاتون نکلی جو اپنے حلیے اور لگیج وغیرہ سے بیرونی سیاح معلوم ہوتی تھی۔ اے ٹی ایم میں اپنے کلاچر(Clucher)لے کر داخل ہونے والی خاتون کوئی اور نہیں بلکہ یہ جولیہ تھی۔

تبھی جولیہ نے بتایا ۔’’ فرانسیسی حکومت کے حجاب پر پابندی لگانے کے خلاف مسلم خواتین کا کل ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ تھا۔ نقاب پوش خواتین وزیر اعظم کے نئے قانون نافذ کرنے کے خلاف نعرے بلند کر رہی تھیں، ان کا قافلہ ہماری اسٹریٹ سے ہوتا ہوا شاہی ایوان کو جا رہا تھا۔ تبھی انٹر پول کے افسران نے مقامی پولیس کے ساتھ ایک دم سے ہمارے اڈّے پر دھاوا بول دیا۔اس کے ساتھ ہی ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی۔ تبھی ایک انڈین افسر مجھے نقاب پہنا کر وہاں سے باہر نکال لایا اور یہ اسی انڈین افسر نے مجھ سے کہا تھا کہ میں اس اے ۔ٹی۔ایم پر رات کے چار بجے کسی سیلانی کے بھیس میں ٹیکسی سے آ  کر تمہارا انتظار کروں۔‘‘

میرے دریافت کرنے پر اُس نے بتایا تھا۔

’’آپ کی رہائی جس شخص کی وجہ سے ممکن ہو پائی ہے، وہ کوئی اور نہیں میرا یونیورسٹی کا ساتھی ہے‘‘۔۔۔یہ کہتے کہتے میں نے دیکھا اس پولیس افسر کی آنکھیں پل بھر کو نم ہو گئی تھیں اور آواز میں ہلکی سی کپکپاہٹ در آئی تھی۔ اُس نے خود کو سنبھالااور اپنے جذبات کو قابو میں کرتے ہوئے کہا۔

’’آپ مجھے نہیں جانتی۔ لیکن میں سب جانتا ہوں۔ وہ تمہیں بہت خوش رکھے گا۔

اور…ہاں! وہ میرا یار ہے پرویز خان، وہ ایک سچا مسلمان ہے۔ میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں۔وہ اپنی جان کی بازی لگا سکتا ہے،تمہاری حفاظت کی خاطر—– وہ اپنا دم تو توڑ سکتا ہے لیکن اپنا وعدہ نہیں توڑ سکتا۔۔۔۔‘‘یہ کہتے ہوئے جولیہ نے اپنے رُخ سے نقاب اُٹھایا تو اُس کی آنکھوں کی عجیب دل کو چیر دینے والی کیفیت سے متاثر ہو کر میں نے اس کے سر کو اپنے کندھوں کا سہارا دے دیا۔

لیکن یہ کیا—— میں حیران تھا کہ جولیہ جیسی پختہ ارادے والی لڑکی بھی کبھی گریہ کر سکتی ہے!

جلتی ہوئی مومی شمع کی ماننداُس کی سرخ ڈورے پڑی آنکھوں سے گرم گرم آنسو نکل کر میرے ہاتھوں پر ٹپ ٹپ گر رہے تھے۔ اُس دم مجھے ایسامحسوس ہوا گویا جولیہ کے قلب کا صیقل ہو گیا ہو اور آنکھوں کے رستے برسوں کی جمی ہوئی حالات کے جبر کی آلودگیاں دھُل دھُل کر باہر نکل آئی ہوں۔

یکایک، جذبات سے مغلوب ہو کر وہ میرے قدموں پر جھک سی گئی اور کہنے لگی:

’’آپ نے مجھے نئی زندگی دی ہے۔میری یہ زندگی آپ کا قرض ہے جسے میں کبھی اتار نہ سکوں گی۔‘‘

میں نے فوراً اسے دونوں بازوؤں سے تھام کر اوپر اٹھا لیا۔

’’ارے، ارے، آپ یہ کیا کر رہی ہیں؟ آپ کا مقام یہ نہیں ہے۔ بلکہ مجھے تو ابھی ایک اور قرض اتارنا ہے۔ ‘‘ میں نے اس کی حیران آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔

’’جب تک تمہیں تمہارا بیٹا واپس نہیں مل جاتا….. میں چین سے نہیں بیٹھوں گا۔یہ میرا وعدہ ہے!‘‘

وہ مجھے اپنی شبنمی آنکھوں سے دیکھنے لگی۔ اس کی شکر گذار آنکھوں میں نمی تھی۔ اُس وقت مجھے اُن آنکھوں میں مریم کی سی ازلی تقدیس دکھائی دے رہی تھی۔

جب میں نے جولیہ کو یہ یقین دلایا کہ ترلوچن اپنا دوست ہے۔ اُس کے بیٹے کی بازیافت میں وہ ہماری ضرور مدد کرے گا اور جب تک اس کا پانچ سالہ بیٹا نہیں مل جاتا تب تک کے لیے میں نے انڈیا جانے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔‘‘ …..یہ سنتے ہی اس کے اداس ہونٹوں پر مسکراہٹ کی ایک سبک سی کرن دوڑ گئی ۔

اس کے بعد ہمارے درمیان خاموشی نے کچھ لمحے کے لیے اپنے پنکھ پھیلا دیئے۔ وہ اپنے مستقبل کے خواب سنجونے میں کچھ دیر کے لیے کہیں گم ہو گئی تھی —– تھوڑے توقف کے بعد میں نے اپنا ارادہ ظاہر کیا تو وہ ایک دم خوشی سے اچھل پڑی۔

’’جولیہ! میں تمہارہ وہ ساحلی گاؤں دیکھنا چاہتا ہوں، جہاں تمہاری زندگی میں شباب کی کلیوں نے پہلے پہل مہکنا سیکھا تھا، جہاں تمہارے دل نے اول اول گنگنانا سیکھا تھا….. اور جہاں تمہارے پھول ہونٹوں نے سب سے پہلے مسکرانا سیکھا تھا۔تم دکھاؤ گی نہ مجھے وہ سب… میں تمہارا وہ الھڑ پن پھر سے دیکھنا چاہتا ہوں؟ ‘‘

میں نے جب اپنی نرم نظروں سے اسے دیکھا تو محسوس ہوا جیسے دور بہت دور کہیں بادلوں کی چھاؤں میں کوئی بیج انکورنے کے لیے بھربھری مٹی کو ہٹا کر نمودار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

’’آؤ! ہم چلیں اُس گاؤں کی طرف—- !‘‘

یہ سنتے ہی معاً جولیہ کے اندر کوئی ہرنی سی کلانچیں بھرنے لگی ۔ اُس نے حوا کی ازلی معصومیت کے ساتھ بڑھ کے میرا ہاتھ تھام لیا اور قدم سے قدم ملا کر چلنے لگی۔

’’لیکن، یہ کیا؟‘‘

میں نے اس کے سیاہ نقاب والے لباس کی طرف دیکھ کے اس کے بارے میں دریافت کیا تو اس کا جواب سن کر بالکل دنگ رہ گیا۔

اس نے کالے رنگ کے سلکی نقاب کے دامن کو بڑے شوق سے اپنے دونوں ہاتھوں سے دکھا تے ہوئے کہا۔

’’یہ محض ایک لباس نہیں۔ بلکہ میری عزتِ نفس کا ایک حصہ ہے۔ کل اِسے پہننے کے بعد پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ اب تک میرا بدن ہی نہیں بلکہ روح بھی ننگی تھی۔اسے پہننے کے بعد مجھے پہلی بار محسوس ہوا ہے ،گویا میں کسی سلطنت کی ملکہ ہوں۔‘‘

اس نے تھوڑے توقف کے بعد مصمم ارادے کے ساتھ کہا۔

’’اب میں اسے کبھی اپنے تن سے جدا نہیں کروں گی۔میں ہمیشہ حجاب استعمال کروں گی۔اسے زیبِ تن کرنے کے بعد ہی مجھے ایک خاص قسم کے تحفظ احساس ہوا ہے۔تم مرد ایسی باتوں کو کبھی محسوس نہیں کر سکوگے۔‘‘

میں نے اسے بتایا کہ پروفیٹ محمدؐ نے طلوعِ اسلام کے وقت ایمان لانے والی عورتوں سے یوں ہی نہیں کہا ہو گا کہ ———-

’’جب تم اپنے گھروں سے باہر نکلو تو اپنے جسم پر کوئی ردا ڈال لیا کرو تاکہ تم میں اور بازار کی دوسری عورتوں میں لوگ فرق کر سکیں۔‘‘

میری بات سن کے جولیہ استعجاب سے مسکرائی اور پھر رخ پر حجاب ڈال کر میرے ہمراہ چل پڑی۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

شہر نو شیرواں کا ایک یادگار محرّم

 

 

 

کاشی ڈیہہ کے خلیفہ کو جب پے در پے تین بیٹیاں ہو گئیں تو کسی نے صلاح دی کہ اب کے بھابھی جان کا پاؤں بھاری ہو تو محرم کے موقع پر امام حسین کا نام لے کر محرم کے تعزیے سے گزار کے بیٹے کے لیے منت مانگ لیجے گا، اللہ نے چاہا تو بیٹا ہو گا۔

اللہ اللہ خیر سلّا کر کے وہ دن بھی آ گیا جب خلیفن پورے پیٹ سے تھیں۔ خلیفہ نے غایت درجے عقیدت کے ساتھ محرم کے سبز رنگ کے ساٹن کے لہراتے ہوئے طویل و عریض نشان کو اپنی دونوں آنکھوں سے لگایا اور منہ سے چوم کے بیٹے کی پیدائش کے لیے دعا مانگی۔پھر خلیفن کا ہاتھ پکڑ کے محرم کے عالیشان تعزیے کے نیچے سے تین مرتبہ گزار ا اور گلے میں پڑی سرخ اور سبز رنگ کی چمکیلی اور سنہری تاروں سے جھلملاتی بدھیاں اُتار کے ٹھنڈ ی کرنے کے لیے تعزیے کے محرابی دروازے کے اندر ڈال دیں۔اُس وقت خلیفن نے بھی امام ضامن کھول کے تعزیے میں ڈالتے وقت دل ہی دل میں چپکے سے منت مان لی تھی۔اب کہ جو اولاد ہو گی اُسے یا علی دولہا بناؤں گی۔محرم کے الاؤ میں اُسے آگ کے شعلوں پر چلاؤں گی۔خلیفن نے عقیدت کے جوش میں آ کے یہ منت مان تو لی تھی لیکن ایک بار کو اُس کا دل تیزی سے دھڑکا ضرور تھا۔’’اگر ایسا نہ کر سکی تو۔۔۔ ‘‘۔پھر خلیفن نے شیطان کا وسوسہ سمجھ کے اُس خیال کواپنے ذہن سے جھٹک دیا تھا۔

محرم کے شور و غل اور ہنگامے سے الگ ،ایک طرف کنارے لا کر خلیفہ نے اپنی بیگم سے کہا، ’’جانتی ہو؟۔میں نے کیا مِنّت مانگی ہے ؟اب کے اگر ہماری اولاد نرینہ ہوئی تو اُسے محرم کے اکھاڑے میں تلوار بھانجنا سیکھاؤں گا‘‘۔

’’انشاء اللہ ایسا ہی ہو گا۔‘‘خلیفن نے مستحکم ارادے اور پورے یقین کے ساتھ اظہار خیال کیا تھا۔

لیکن جب چوتھی بار بھی خلیفہ کے یہاں لڑکی ہی پیدا ہوئی تو اُن کے گھر اور محلے میں تمام اُداسی چھا گئی۔مگر خلیفہ اپنے اصول کے پکّے تھے۔ اُن کی چوتھی بیٹی شاہدہ جب دس برس کی ہوئی تو خلیفہ نے اس کے ہاتھوں میں تلوار تھما دی۔شاہدہ کی گرفت تلوار پر اتنی مضبوط تھی کہ اُسے دیکھ کے لوگ باگ دنگ رہ گئے۔پھر تو ایسا ہو گیا کہ جب بھی شاہدہ اپنی کمر میں ڈوپٹہ باندھ کر محرم کے اکھاڑے میں اُترتی تو پورا ماحول نعرۂ تکبیر اور نعرہ رسالت کی فلک شگاف آوازوں سے گونج اُٹھتا تھا۔ اُس کمسن لڑکی کے کھیل اور تیور کو دیکھنے کے لیے پورا مجمع اُمڈ پڑتا تھا۔ وہ جب تلوار بھانجنا شروع کرتی تو ایسا معلوم ہوتا گویا جھانسی کی رانی اپنے وطن کے دُشمن گورے فرنگیوں پر متواتر وار کر رہی ہو۔

ساکچی گول چکر پر سب ہی اکھاڑوں کا ملاپ ہوا کرتا تھا۔ الگ الگ محلّوں اور ٹولوں سے جلوس لے کر لوگوں کا ہجوم یہاں اکٹھا ہو جاتا تھا۔ عورتیں بچے اور گھر کے بزرگ افراد گھروں اور دکانوں کی چھت سے یہ ایمان افروز نظارہ دیکھتے اور عقیدت سے نعرہ تکبیر کے جواب میں بیک زبان ہو کر اللہ اکبر کہتے تو آسمان کی بلندیوں کو چھوتی ہوئی اُن کی آواز سے سارا ماحول تھرّا اٹھتا تھا۔ گول چکر کے ارد گر د ایک ہی وقت میں کئی کئی اکھاڑے کھیلے جاتے تھے۔

شاہدہ جس اسکول میں پڑھتی تھی۔اُس اسکول کے سارے بچے شاہدہ کا کھیل دیکھنے کے لیے بھیڑ میں راستہ بناتے ہوئے سب سے اگلی صف میں آکے کھڑے ہو جاتے تھے اور بھلا کیوں نہ ہوتے اُن کا حق بنتا تھا۔ وہ نہ دیکھیں تو اسکول میں استاد کے پوچھنے پر پوری تفصیل سے شاہدہ کے کھیل کے بارے میں وہ کیسے بتاتے۔غرض یہ کہ محرم کے اس عشرے میں جگہ جگہ سبیلیں لگی رہتی تھیں۔ لڑکے بالے گلے میں رنگ برنگے بٹوے ڈالے جب کبھی چلتے چلتے منھ سوکھ جاتا اور پیاس لگتی تو کربلا کے میدان میں امام حسین اور ان کے قافلے کو یاد کرتے کہ یزید ملعون نے اُنھیں کیسے بھوکا پیاسا رکھا ہو گا۔ یہ سوچتے ہی اُن کے دل میں خیال آتا۔کاش !ہم وہاں ہوتے تو یزید اور اُس کی فوج کو وہ مزہ چکھا تے کہ وہ یاد رکھتا۔ اپنی سوچ ہی سوچ میں وہ اُس نافر ما ن سے انتقام لیتے اور بٹوے سے کبھی کٹے ہوئے ناریل اور خرمہ اور کبھی کوٹی ہوا ملیدہ نکال کے کھاتے اور بھیڑ کو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے ہٹا تے ہوئے سبیل سے جا کر شربت پی آتے۔اس طرح بچے بالے بھی بڑوں کے ساتھ کئی کئی کوس تک پا پیادہ جلوس میں چلتے چلاتے ساکچی گول چکر پر آ کے دم لیتے تھے۔

وقفے وقفے سے بچوں کے بھی اکھاڑے ہوتے جن میں زیادہ تر بچے نو لاٹھیاں کھیلتے تھے۔ بعض لوگ اسے گوال لاٹھی بھی کہتے تھے۔ اس کھیل میں ایک کھلاڑی بیچ میں ہوتا تھا جس پر آٹھ مختلف سمتوں سے حملے کیے جاتے تھے۔ اور بیچ کا کھلاڑی درد سے بلبلا اُٹھتا تھا لیکن کھیل کا اصول تھا کہ اُسے میدان میں ڈٹے رہنا پڑتا تھا۔ لاٹھیاں بھی ایسی تھیں کہ چھوٹا ناگپور کے آدی باسی پہاڑیوں پر سے بانس کاٹ کر لاتے تھے۔لاٹھیاں خریدنے کے بعد مہینوں اُنھیں سرسوں کا تیل پلایا جاتا تھا۔یہ سب تیل پلی لاٹھیاں خلیفہ کے گھر کے نزدیک اکھاڑے میں رکھی جاتی تھیں۔

تین دن تو بقر عید رہتی،چوتھے دن سے محرّم کے اکھاڑے کی مشقیں شروع ہو جا تی تھیں۔ ڈھول ،نگاڑے اور تاشے بجنے شروع ہو جاتے تھے۔ شام ہوتے ہی بعد نماز مغرب خلیفہ اکھاڑے میں آ کر لِپے پوتے ہوئے مٹی کے چبوترے کے ایک طرف کونے میں لوبان اور اگر بتی جلاتے اور اپنے دونوں ہاتھ اُٹھا کر امام حسین کے نام کی فاتحہ پڑھتے اور اپنے اکھاڑے کی کامیابی کے لیے دُعا مانگا کرتے تھے۔ محلے ٹولے کے پڑھنے لکھنے والے لڑکے بھی ایک عقیدت کے تحت اس طرف کھینچے آتے تھے۔ چھوٹے بچے تو شام ہی سے جمگھٹا لگانے لگتے تھے لیکن سیانے کچھ دیر سے ہی پہنچتے تھے۔ پڑھنے لکھنے اور کھانے پینے سے فارغ ہو کر دیر رات تک وہ اکھاڑے کے پینترے سیکھتے رہتے تھے۔ محرم کے دوران خلیفہ کی بڑی آؤ بھگت ہوتی تھی۔ وہ بڑے چاؤ سے ہر ایک کو لاٹھی چلانے اور تلوار بھانجنے کے داؤ پیچ سیکھاتے رہتے تھے۔ اُن کی نگاہ ایسی تیز تھی کہ بچوں میں دیکھتے ہی وہ بھانپ لیتے تھے کہ فلاں لڑکا اکھاڑے کی ضرور شان بڑھائے گا۔ عموماً گاؤں سے آنے والے لڑکے بہتر لاٹھیاں چلاتے تھے۔

ہر ایک محلے والے تعزیے داری میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی ہوڑ میں لگے رہتے تھے۔ یہ ہر سال کا قصہ تھا۔ ساکچی گول چکر پر جب سال کے بہترین تعزیے کے بارے میں لاؤڈاسپیکر پر اعلان ہوتا تو سب عش عش کرتے رہ جاتے تھے۔ پھر اگلے محرم تک اُسی کی بات ہوتی تھی اورسبھوں پر اُس محلے کی دھاک جم جاتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ہر ایک محلے کی مسجد اور مدرسے کے صحنوں میں بقرعید کے بعد سے ہی تازیہ بنانے کے لیے بانس کی قمنچیاں چھلنی شروع ہو جاتی تھیں۔ رنگ برنگے کریپ اور پتنگوں کے پتلے کاغذ وں کی مدد سے تعزیے داری کی سرگرمیاں شروع ہو جاتی تھیں۔ کلکتے اور لکھنو سے کاریگر بلائے جاتے اور ان کی ہدایت کے مطابق خلیفہ کی نگرانی میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ اِس کام کا آغاز ہو تا تھا۔ پنواڑی اور پرچون کی دُکانوں میں رنگ رنگ کے بٹوے اور سجی دھجی بدھیاں نظر آنے لگتی تھیں۔ہر چند کہ یہ غمی کا تہوار تھا لیکن محرم کی گہما گہمی میں یہ احساس کچھ دب سا جاتا تھا مگر بڑے بزرگ پوری سنجیدگی سے ان سرگرمیوں میں حصّہ لیتے تھے۔

شیعہ حضرات کے چہروں پر البتہ غم کے یہ اثرات نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے تھے۔ان کے گھر میں کسی ایک مقام پر اجتماع ہوتا تھا۔دن بھرسستی اور غمی سی طاری رہتی تھی شام ہوتے ہی مغرب کی نماز کے بعد وعظ اور گریہ وزاری کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔خاک صفا پر نمازیں ادا کی جاتیں اور حضرت علی ،بی بی فاطمہ،امام حسن اور امام حسین کے طغرے دیواروں پر آویزاں کیے جاتے۔ دلدل اور پنجہ شریف والی تصویریں لگائی جاتیں اور ایسے ماحول میں ماتم داری کی جاتی اور سوگ منائے جاتے تھے۔محرم کی نویں اور دسویں شبوں میں اس قدر سینہ کوبی کی جاتی کہ خون کے فوارے اُبل پڑتے تھے۔’’ہائے افسوس یا حسین وہاں ہم نہ ہوئے۔‘‘ہر ایک شخص کی زبان پر یہی فقرہ رواں ہوتا تھا۔

جب ان کے جلوس نکلتے تو ان میں دُلدل بھی ساتھ ساتھ چلتا تھا۔اس پر خوبصورت گوٹے پٹے لگا ہوا کپڑے کا زین پوش چڑھا ہوتا تھا۔اس زین پوش پر جا بجا تمام تیر لٹک رہی ہوتی تھی جو یزید کی فوج نے اُن پر چلائی تھیں۔دلدل کے اوپر پنجہ شریف بھی نصب کیا جاتا تھا۔امام حسین کی یاد میں اہل تشیّع جلوس نکالتے اور زنجیر ی ماتم کرتے تھے۔ساکچی گول چکّر پر اُن کا مجموعی طور پر ایک جلوس ہوا کرتا تھا جس میں شہر بھر کے شیعہ حضرات شرکت کرتے تھے۔اس روح فرسا دینے والا منظر دیکھنے کے لیے اہل ہنود بھی وہاں آ جایا کرتے تھے۔

البتہ سنیّوں کے مختلف محلوں سے الگ الگ جلوس آ کر آپس میں یہاں مل جاتے تھے۔ ان میں ایک تورانی کوٗ در، دھتکی ڈیہہ اور جُگسلائی وغیرہ کے جلوس کھڑکھائی ندی میں اپنے اپنے تعزیے ٹھنڈے کرتے تھے۔دوسرے کھڑنگا جھاڑ ٹیلکو اور آزادبستی والے بھی گول چکر پر نہیں آ پاتے تھے۔لیکن گول موری،بھالو باشہ ،کاشی ڈیہہ اور ندّی پار کی نئی آبادی مُنشی محلہ ،آزاد نگر اور باون گھوڑا کے جلوس کا مِلن اِسی ساکچی گول چکر پر ہوتا تھا اور جب دو اکھاڑے آپس میں تیزی سے دوڑ تے ہوئے آ کے ملتے تو ایک بڑا گھمسان کا منظر ہوتا تھا نعرے تکبیر کی مسلسل گونج فضا میں میدانِ جنگ سا جوش بھر دیتی تھی۔لاٹھیوں ،بھالے اور برچھوں کے آپس میں ٹکرانے سے اس قدر ہنگامہ ہوتا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔غروبِ آفتاب سے کچھ پہلے ڈھلتے ہوئے سورج کی روشنی میں انسانوں کے سروں کے اوپر چمکتے ہوئے بھالے اور گڈانسے ،لہراتی ہوئی برچھیوں اور تلواروں سے ناظرین کے دل دَہلنے لگتے تھے۔معلوم ہوتا تھا گویا متحرک انسانی ہجوم کا ایک سیلاب ہے ،پانیوں کا ریلا ہے جو تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد ساکچی گول چکر کے بھنور کے گرد امڈ اچلا آتا ہے۔اگر کسی کی چپل گر جائے تو وہ اٹھا نہیں سکتا ہے۔کوئی اپنوں سے بچھڑ جائے تو وہ انسانوں کی اس جم غفیر میں کہاں گم ہو جائے گا پتہ نہیں چلتا تھا۔ایسے نفسی نفسی کے عالم میں لوگ ایک دوسرے کا مضبوطی سے ہاتھ تھامے ایک چین بنا کے گھومتے تھے۔بڑوں نے بچوں کو اپنے کندھوں اور سروں پر بیٹھا رکھا تھا۔اُن دنوں اتنی دھُول دھپّا اور گردو غبار بھی نہیں ہوا کرتی تھی۔جمشید پور بہت ہی صاف ستھرا شہر تھا۔ ہر روز سڑکوں کی صفائی ہوا کرتی تھی۔

کہتے ہیں کہ اس شہر کو جمشید جی نو شیرواں جی ٹاٹا نے بڑے چاؤ سے بسایاتھا۔اسے نہ صرف ریاست بہار کا بلکہ پورے ایشیا کا سب سے خوب صورت شہر ایسے ہی نہیں تسلیم کیا جاتا تھا۔اس کی خوبصورتی واقعی قابل دید تھی۔ٹاٹا نے کشمیر کے شالیمار اور نشاط باغ کے طرز پر جبلی پارک بنوایا تھا۔پھولوں کے جا بجا تختے ،شام ہوتے ہی رنگین پانیوں کے جھرنے ،زینہ بہ زینہ نشیب کی طرف قل قل چھل چھل کرتا ہوا پانیوں کا بہاؤ ،گلاب باغ سے ہو کر سبک روی سے تالاب میں کھلے ہوئے خوش رنگ کنولوں کے نیچے جا کر روپوش ہو جاتا تھا۔تالاب کا زائد پانی ذرا سے فاصلے پرجا کے سدا بہار سورن ریکھا ندی میں چپکے سے اُتر جاتا تھا کہتے ہیں کہ ندّی کے کنارے پڑی ہوئی ریت پر سونے کے ذرّات ایک ریکھا سی کھینچ دیتے تھے۔جنھیں نیم لباس آدی باسی سیاہ فام عورتیں بانس سے بنے سوپ میں اُٹھا کر جھاڑ پھٹک کر اُن میں سے سونے کے ذرات الگ کر لیتی تھیں۔اسی مناسبت سے اس ندّی کا نام سورن ریکھا پڑ گیا تھا یعنی سونے کی لکیروں والی ندی۔ اسی سورن ریکھا ندی کے کنارے جمشید جی نوشیرواں نے اس خوبصورت شہر کی 1907میں داغ بیل ڈالی تھی۔ جدید تکنیک کو بروئے کار لا کر بسٹو پور میں بمبئی کے طر ز پر سڑکیں اور بڑی بڑی عالیشان دُکانیں ،شو روم بنوائی گئی تھیں۔رات میں یہ شہر روشنی میں اس قدر جھلملا اُٹھتا تھا کہ اسے بلاد شہر کہنا چنداں مبالغہ نہ ہو گا۔1962میں چین اور 1965میں پاکستانی افواج نے جب ملک پر حملہ کیا اور اس شہر پر ہوائی حملے اور بمباری کے خطرات منڈلانے لگے تو روشنیوں کے اس شہر کو تارو تاریک کر کے رات کے وقت دلمہ پہاڑ کے کوہستانی سلسلے کو روشن کر دیا جاتا تھا، مبادا دشمن اگر حملہ کرے بھی تو پہاڑوں کو اپنا ہدف بنائے اور اس خوبصورت شہر کو مسمار ہونے سے بچا یا جا سکے۔

مگر اب یہ شہر بوڑھا ہو چکا تھا۔لوگ باگ بھی تھک چکے تھے۔ٹاٹا کمپنی میں سخت پہروں کے با وجود روزانہ لاکھوں روپے کی چوریاں ہونے لگی تھیں۔یہ کون لوگ تھے۔یہ کب اور کیسے اس شہر میں اپنے قدم جمانے لگے تھے۔غنڈوں اور لپاڑوں نے کیوں کر یہاں اپنے اڈّے بنا لیے تھے۔یہ کسی کی سمجھ میں نہ آتا تھا۔آئے دن جرائم پیشہ افراد دولت کے لالچ میں لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارنے لگے تھے۔بڑے بڑے لینڈ مافیا اور کول مافیا رونما ہونے لگے تھے۔ایک افرا تفری کا ماحول تھا۔بالا جی دیورس کی آمد اور گاندھی میدان میں اس کی تقریر سے سیاسی فضا زہر آلود ہو چکی تھی۔

عام لوگوں کی زندگی میں بھی اب وہ پہلے جیسی بات نہیں رہ گئی تھی۔لوگ اپنی پریشانیوں سے جتنے دکھی نہیں تھے اس سے کہیں زیادہ دوسروں کی کامیابیوں اور خوشیوں سے دُکھی ہوئے جاتے تھے۔سڑک پر چلتے ہوئے راہ گیروں میں قوتِ برداشت و تحمل صفر ہو چکی تھی۔طبقہ اشرافیہ ہو کہ ناخواندہ بستی کے لوگ سبھی بے رحم ہو چکے تھے۔بزرگ کہتے تھے جب سے پاکستان سے رفیوجی آئے تبھی سے اس شہر کا امن چین غارت ہو گیا تھا۔1964میں ٹرین کی بوگیوں میں پاکستان سے رفیوجی آئے تو اسٹیشن پر اُن زخمیوں کے کٹے ہوئے ہاتھ پاؤں دیکھ کر لوگوں کا خون کھول اُٹھا اور پورے شہر میں ہندوؤں نے اُنماد میں آ کر نہتے مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہا دی تھیں۔وہ دن ہے اور آج کا دن ،لوگ خوف کے سائے میں جیتے تھے۔ اجنبیوں کو اب لوگ باگ دروازے پر ہی روک دیتے تھے۔نو واردوں سے یہاں کے باشندے ڈرنے لگے تھے۔باہر سے آنے والا ہر شخص یہاں کے مقامی آدی باسیوں کے استحصال کی تاک میں رہتا تھا۔کہتے ہیں ۔

اِدھر خلیفہ کو بھی ایک فکر اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔گذشتہ کئی برسوں سے کاشی ڈیہہ کے اس اکھاڑے کو نمبر ایک کا خطاب ملتا آیا تھا۔لیکن پچھلی بار سورن ریکھا ندی کے اُس پار نئی بستی باون گھوڑا کے نام نہاد خلیفہ رسول مستری نے کھلے عام چیلنج کر دیا تھا۔بات صرف اتنی سی تھی کہ خلیفہ کی بیٹی شاہدہ نے محرم کی نویں شب کو ساکچی گول چکر کے اکھاڑے میں رسول مستری کے لڑکے اسرائیل کو تلوار کے کھیل میں شکست فاش دے دی تھی۔تبھی سے اُس نے اپنے دل میں معاندت پال رکھی تھی۔وہ بڑا ہی کینہ توش قسم کا آدمی تھا۔محلّے کے سبھی لوگ اس سے نالاں تھے۔اسے کسی بیوہ محتاج کا مکان ہڑپنا ہو تو اوجھا بُلا کر اس کے ڈائن ہونے کا اعلان کروا دیتا تھا۔بدکردار اور بدقماش قسم کے لوگوں کی منڈلی بے سہارا عورت کو مار پیٹ کے محلہ بدر کر دیا کرتی تھی۔اُس کے بعد رسول مستری کی چاندی ہو جاتی تھی۔وہ کسی کی بھی بہو بیٹی کوبد چلن قرار دے کر اپنی خودساختہ پنچایت میں معصوم بے ضرر لوگوں کو تاوان دینے کے لیے مجبور کر دیتا تھا۔اُس کے خلاف کوئی آواز بلند کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔دو پڑوسیوں کے درمیان یہ اپنے فتنہ سے تفرقہ د پیدا کر دیتا تھا۔اُنھیں آپس میں بھِڑا دیتا اور پھر اُن کے فیصلے بھی خود اپنے مفاد میں کرتا تھا۔اگر کوئی نوجوان اس کے خلاف احتجاج کرتا تو اُس پر اپنی ہی بیٹی کے ساتھ زنا بالجبر کا الزام لگا کر گواہوں کی موجودگی میں اتنے کوڑے لگواتا تھا کہ کوئی دوسرا اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کی ہمت نہ جُٹا سکے۔اُس سے آج تک کسی نے حساب نہیں مانگا تھا۔وہ جبراً محرم کے تعزیے ،سبیل اور لنگر کے لیے چندے وصول کرتا تھا۔جو کوئی منع کرنے کی جرأت کرتا اسے کسی نہ کسی بہانے سے تنگ کرتا اور ان کے گھر پر غنڈے لپاڑے بھیج کر انھیں ذلیل و خوار کرنے کی کوشش کرتا تھا۔اسے مذہبی امور میں دخل در معقولات کا بڑا زعم تھا۔بزرگ کہتے تھے کہ نام کا بڑا اثر پڑتا ہے لیکن وہ اسم با مسمی نہیں تھا ۔اس پر تو گویا نام کا برعکس اثر پڑا تھا صحیح معنوں میں وہ اپنے نام کا ضد تھا۔وہ واقعتاً شیطان الر جیم تھا۔ایک دفعہ کسی نے محرم کا چندہ دینے سے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ میں اہل حدیث ہوں اور محرم منانا ہمارے یہاں حرام سمجھا جاتا ہے۔اس پر اس شیطان نے پورے محلے میں اس کا حقہ پانی بند کروا دیا تھا۔

ہر سال وہ اجمیر شریف کی درگاہ میں حاضری دینے کی غرض سے جاتا تھا مگر خدا جانے کیوں اس پر درگاہ شریف کی حاضری کا بھی فیض نہیں پہنچ رہا تھا۔کہتے ہیں کہ اللہ ایسے لوگوں کی رسّی میں ڈھیل دے دیتا ہے۔کچھ ایسا ہی معاملہ تھا اس کے ساتھ کہ ہر سال وہ عید میلاد النبی کا جلسہ بھی کرواتا تھا۔وہ ایسے سبھی عوامی تقریبات میں دخل اندازی کرتا جن سے اسے عوام سے چندے وصولنے کا موقع مل جائے۔اُس نے کسی ناجائز زمین پر ایک مسجد بھی تعمیر کروا رکھی تھی۔لیکن کوئی بھی پیش امام اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں کر سکتا تھا۔رسول مستری نِرا انگوٹھا ٹیک تھا۔ اپنے حصول معاش کے لیے وہ راج مستری کا کام کرتا تھا ۔وہ اپنی خود ساختہ کمیٹی کا صدر تھا۔عالموں اور فاضلوں کو اپنے آگے کچھ نہیں سمجھتا تھا۔ایک دفعہ ایسا واقعہ ہوا کہ کسی دوسرے محلے سے ایک تبلیغی جماعت نے آ کر اس مسجد میں4 2گھنٹے کا قیام کر لیا۔مسجد کے امام نے رسول مستری کی اجازت لیے بغیر اُنھیں عارضی قیام و پیغامِ حق کی اجازت دے دی تھی۔دوسرے ہی دن مسجد کے امام کو اُنھیں مقررہ وقت سے پہلے چلتا کرنا پڑا اور وہ بچارے دن بھر کنویں سے پانی کھینچ کھینچ کر مسجد کا فرش دھُوتے دھُوتے بیمار پڑ گئے۔لیکن رسول مستری کو اُن پر ترس نہیں آیا۔رسول مستری کا کہنا تھا کہ تبلیغوں کی آمد اور قیام سے مسجد ناپاک ہو جاتی ہے۔چنانچہ ،ایسے میں کم از کم سات بارمسجد کو دھونا واجب ہو جاتا ہے۔

یوں تو اس شیطان الرجیم کے مظالم کے لامتناہی واقعات تھے جِسے سُن کے لوگوں کے دلوں میں غم و غصّے کی لہر دوڑ جایا کرتی تھی۔لیکن اُس ناہنجار نے اس بار شاہدہ کے باپ اور اپنے ہم منصب کاشی ڈیہہ کے خلیفہ پر نشانہ سادھ رکھا تھا جس کی فکر خلیفہ کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔

شاہدہ اس برس پندرہ سال کی ہو گئی تھی۔وہ اپنے تلوار کے فن میں طاق تھی ۔اب اس علاقے میں کوئی اس کا ثانی نہیں تھا۔گذشتہ برس اُس نے رسول مستری کے بیٹے اسرائیل کو محرم کے بھرے مجمع میں بُری طرح شکست دی تھی۔وہ زخمی بھیڑیے کی طرح بدلے کی آگ میں اندر ہی اندر سلگ رہا تھا۔رسول مستری اس شکست کو اپنے بیٹے کی نہیں بلکہ خود اپنی شکست محسوس کر رہا تھا۔شمالی ہندوستان میں عام طور سے سندھیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر ایک طرف سانپ ہو دوسری طرف سندھی تو پہلے سندھی سے نمٹنا چاہیے بعد میں سانپ سے کیونکہ سانپ سے تو آپ بچ بھی سکتے ہیں مگر سندھی سے نہیں بچ سکتے۔اس قول میں کہاں تک صداقت تھی یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کیونکہ میرا سندھیوں سے کبھی کوئی معاملہ پیش نہیں آیا تھا۔البتہ یہ قول رسول مستری پر ضرور صادق آتا تھا۔دراصل ،وہ بہت ہی کمینہ اور لچر قسم کا آدمی تھا۔ وہ اپنے فائدے کے لیے کمینگی کی کسی بھی حد کو لانگ سکتا تھا۔

اِدھر شاہدہ کی تینوں بڑی بہنوں کی خلیفہ نے بہت پہلے ہی شادی کر دی تھی اور وہ سب اپنی اپنی سسرال میں خوش تھیں۔سب سے بڑی بہن عائشہ اسکول میں ٹیچر تھی۔منجھلی بہن آمنہ اور سنجھلی زاہدہ اپنی اپنی گھر گرہستیوں میں مصروف تھیں۔لیکن شاہدہ میٹرک کے امتحان کی تیاری کر رہی تھیں۔دوسرے وہ ابھی اپنی بالی عمر میں تھی۔شاہدہ کی ماں یعنی خلیفن کی خواہش تھی کہ وہ اٹھارہ سال کی ہو جائے تبھی اسے الاؤ میں اُترنا چاہیے۔خلیفہ کو اس کے لڑکی ذات ہونے کا بھی خیال تھا۔مذہبی اور سماجی پابندیوں کے بھنور میں پھنسے خلیفہ کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی تھی۔مرد کی بات اور ہوتی ہے۔

جب خلیفہ جوان تھے۔انھوں نے بھی حضرت علی کے نام پر شیر بننے کی منتیں پوری کی تھیں۔جسم پر چیتے کی طرح زرداورسیاہ دھاریاں بنوائی تھیں۔سر پر شیر کی کھال سے بنی ٹوپی اور چہرے پر مونچھیں چھپکا کے وہ بھی شیر علی بنے تھے۔انھوں نے بھی الاؤ پر ننگے پاؤں چل کے اپنی والدہ کی منّت پوری کی تھی۔بلکہ کئی برسوں تک یہ منّت پوری کرتے رہے تھے۔محرم کے پہلے عشرے میں گھر گھر جا کے حضرت علی کے نام پر جب وہ ہاتھوں میں ہرن کی سینگ لے کے ناچتے تھے تو دیکھنے والے دیکھتے ہی رہ جاتے تھے۔خوشی سے کوئی نوٹوں کا نذرانہ دیتا تو وہ ناچتے ناچتے منہ میں پکڑ لیا کرتے تھے۔بچے البتہ ڈر سے ماؤں کے پیچھے دُبک جا یا کرتے تھے۔ ہاں!گرمی کے دنوں میں البتہ جب پینٹ سوکھنے لگتا تو جلد کی حالت ناگفتہ بہ ہو جاتی تھی، ویسے میں لوگ بالٹی بھر بھر کے پانی لاتے اور اُن پر ڈال دیا کرتے تھے۔

اچانک ،شاہدہ کا جب اُنھیں خیال آتا تو وہ سہم سے جاتے ایک تو وہ لڑکی ہے۔خدا جانے اُس کی قسمت میں کیا لکھا ہے۔لیکن وہ جانتے تھے کہ قرآن کریم میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔’’نا امیدی کفر ہے۔‘‘اس خیال کے آتے ہی اُن کی کسی قدر رنجش دور ہو جاتی اور حوصلہ بندھ جاتا تھا۔

آج محرم کی دسویں تاریخ تھی۔صبح کے دس بج چکے تھے۔ابھی سے شام کی تیاریاں شروع ہو گئی تھیں۔بڑے بڑے دیگوں میں لنگر کے لیے کھچڑا پکانے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔بچے اور جوان سبھی اپنی لاٹھی ،برچھی،گڈانسے ،بانا،گدکا اور تلوار چمکانے میں جُٹے تھے۔بچے اور بچیاں لال اور ہری کاغذی ٹوپیاں لیے امام حسن اور امام حسین کی یاد میں صبح ہی سے اِدھر اُدھر دور بھاگ رہے تھے۔کوئی اپنے بٹوئے کے کھول بند کرنے والے دھاگے درست کروا رہا تھا تو کوئی اُن میں کٹے ہوئے میوے اور ملیدے بھروا رہا تھا۔کوئی اپنی اُلجھی ہوئی بدھیاں بیٹھ کے سلجھانے میں منہمک تھا۔

محرم کی نویں شب دیر رات تک اکھاڑے میں کھیلتے رہنے کی وجہ سے کھلاڑی تھک کر چور ہو گئے تھے۔لیکن آج آخری اکھاڑا تھا۔اس لیے بچے ،بالے،پیرو جوان سبھی کے حوصلے بلند تھے۔کل گئی رات کسی کے چوٹ لگی تھی۔ وہ سر پر سفید پٹی باندھے گھوم رہا تھا۔ویسے بھی گوٹے لگی ہری لال پٹیاں سبھوں نے کل رات اپنے سروں پر باندھ رکھی تھیں۔آج بھی اُن پر استری کر کے اُنھیں ٹھیک بنایا جا رہا تھا۔ان پٹیوں پر کسی میں اللہ محمد سلمی ستاروں سے لکھا ہوا تھا تو کسی کسی پر کلمہ توحید تحریر کیا ہوا تھا۔کسی پر یا علی اور کسی کسی پر یا حسن یا حسین لکھا ہوا تھا۔رات کے وقت جب ان پر پیٹرومیکس کی روشنی کی پڑتی تو وہ جھلملا اٹھتی تھیں۔

رات میں جب جلوس نکلتا تھا تو جلوس کے دونوں اطراف میں آدی باسی عورتیں اپنے سروں پر پیٹرو میکس لیے قطار در قطار بھیڑ کے ساتھ چلتی رہتی تھیں۔چنانچہ ایسی عورتیں پیٹرومیکس کے شیشوں کو مٹی کے چولہوں سے لکڑی اور کوئلوں کی راکھ لے کر صاف کر رہی تھیں۔پیتل کیپیٹرومیکس کی ٹنکی کو چمکانے کے بعد ہر ایک پیٹرومیکس کے جلے ہوئے مینٹل ہٹا کر نئے مینٹل لگائے جا رہے تھے۔ان میں کیروسین تیل بھرے جا رہے تھے۔ڈھول ،تاشے اور نگاڑے والے اُن کی بندھنی کی رسیاّں کھینچ تان کر کے اُنھیں درست کرنے کے بعد دھوپ دکھانے کے لیے محفوظ جگہوں پر رکھ رہے تھے۔

کاشی ڈیہہ کے اکھاڑے کے چبوترے کے ساتھ سب سے بڑا نشان اور اس کے ساتھ رکھے چھوٹے چھوٹے رنگ برنگے ساٹن کے نشانات ہوا میں لہرا رہے تھے۔اُن میں گوٹے کناری لگے ہوئے تھے اور سب سے بڑے ہرے رنگ کے نشان پر کچھ زیادہ ہی بڑا سا ہلال بنا ہوا تھا جس کے کچھ ہی اوپر ایک پانچ کونے والا سنہرے رنگ کا ستارہ چمک رہا تھا۔سیاہ مخمل کے بینر کو بھی دھوپ دکھائی جا رہی تھی اس پر سنہرے اور پیلے افشاں برادوں سے جلی حروف میں ’’کاشی ڈیہہ کا اکھاڑا‘‘ لکھا ہوا تھا۔اس بینر کو جلوس میں سب سے آگے رکھا جاتا تھا جسے دو لوگ پکڑ کے آگے آگے چلتے تھے۔خلیفہ نے اُنھیں خود اپنی نگرانی میں تیار کروایا تھا۔اس کے چاروں کونوں میں یا علی ، یا فاطمہ ، یا حسن اور یا حسین لکھا ہوا تھا اور پیشانی پر86 7 بسم اللہ کا ہندسہ لکھا ہوا تھا۔خلیفہ کا عقیدہ تھا کہ رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔2 1 وفات اللہ کے رسول کا لیکن محرم میں امام حسین کی شہادت کے ساتھ ساتھ مرتضی علی ،بی بی فاطمہ اور حسن علیہ السلام کو بھی خراج عقیدت پیش کرنا چاہیے کیونکہ شہدائے کربلا میں ان سبھوں کا خون شامل ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے نام کی فاتحہ خوانی ہوتی ہے۔مرثیے اور نوحہ خوانی کی جاتی ہے۔ان کے علاوہ ان 72 نہتے افراد کو بھی خراج عقیدت پیش کرنا چاہیے جنھیں ہم اہل بیت کے نام سے جانتے ہیں۔جنھوں نے اپنے جان و مال کی پرواہ کیے بغیر اسلام کو اپنے خونِ جگر سے سینچا تھا۔ مذہب اسلام کی آبیاری کی تھی۔ ورنہ یزید ملعون کے ہاتھوں اسلام کا شیرازہ نعوذ باللہ کب کا بکھر چکا ہوتا۔آج ہم مسلمان ہیں تو اُنھیں شہدائے کربلا کی وجہ سے ہیں اور اُن ہی کے دم سے سارے عالم میں اسلام کا ڈنکا بج رہا ہے۔

آج جیسے جیسے دن چڑ ھ رہا تھا۔گہما گہمی بڑھتی جا رہی تھی۔ظہر کے نماز کے بعد ہی ڈنکے اور تاشے بجنے شروع ہو گئے تھے۔عصر کے وقت جلوس کو روانہ ہونا تھا۔دیکھتے ہی دیکھتے عصر کا وقت بھی ہو گیا۔لنگر اور سبیلوں پر بھیڑ ہونے لگی۔رکشے پر لاؤڈسپیکر لے کر بچے جوان سب ہی گانے لگے

رو رو کے کہتی تھیں سکینہ

ظالمو! میرا گوہر نہ چھینو

بچے گلی محلے میں زور زورسے چلّا رہے تھے۔’’کربلا دور ہے جانا ضرور ہے‘‘ کربلا دور ہے ،جانا ضرور ہے۔‘‘ چھوٹے بچوں نے کاٹھ کی اور پلاسٹک کی تلواریں لی ہوئی تھیں۔جِسے دیکھو آج تیور ہی کچھ اور تھا۔تلواریں لڑی جا رہی ہیں۔لڑکیاں بھی گڑیا اور گھروندا کے کھیل چھوڑ کے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے تیار تھیں۔آج ان کا سب سے بڑا دشمن یزید تھا۔بڑے بھی مائک پر نعرے بلند کر رہے تھے۔

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

مغرب کا وقت ہوتے ہوتے کربلا جانے والوں کا قافلہ ساکچی گول چکّر پر پہنچ چکا تھا۔تمام نشانات اور تعزیے سنبھال کر آگے بڑھائے جا رہے تھے۔ جہاں کہیں کوئی درخت یا بجلی کا کھمبا آتا وہاں نشانوں کو کئی لوگ مل کر پوری احتیاط کے ساتھ جھکا دیتے اور بجلی کے تاروں سے بچا کر آگے محفوظ جگہ پر کھڑا کر دیتے تھے۔آسمان سے باتیں کرتے ہوئے کاغذی بُرج اور گنبدوں والے تعزیے بھی کہاروں کے کاندھوں پر بڑے احتیاط کے ساتھ دھیرے دھیرے آگے بڑھائے جا رہے تھے۔عورتیں اور بچیاں ان میں اپنے گلے کی بدھیاں اُتار اُتار کر ڈال رہی تھیں۔ان کے اندر سے گذرنے والوں کی اور منّت مانگنے والوں کی بھی لام لگی ہوئی تھی۔کوئی بھی موقع چوکنا نہیں چاہتا تھا اور جیسے ہی ذرا سا موقع ملتا اس کے نیچے سے گزرنے کے بعد فاتحہ خوانی میں مصروف ہو جاتا تھا۔ناخواندہ لوگ مولوی صاحب کو الانچی دانے ، بتاشے اور چراغی کے پانچ آنے دے کر فاتحہ پڑھوا رہے تھے۔غرض یہ کہ ایک گہماگہمی کا ماحول تھا۔مراثی الگ مرثیہ خوانی اور نوحہ گری میں مشغول تھے۔ہر طرف گریہ و زاری کا ماحول بنا ہوا تھا۔فضا میں مختلف نوع کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ جس سے دل پر عجیب سے رقّت طاری ہو گئی تھی۔تڑا تڑکہیں لاٹھیاں بج رہی تھیں تو کہیں تلواریں اور برچھیاں فضا میں چمک رہی تھیں۔

ایسے میں سورن ریکھا ندی کے اُس پار سے آنے والے باون گھوڑے کے اکھاڑے کا مِلن ہوا تو ایسا محسوس ہوا جیسے پانی پت کے میدان میں دو فوجیں آپس میں بھڑ گئی ہوں۔زور زور سے لاٹھیاں بجنے لگیں۔ٹھن ٹھن تلواروں اور گڈانسوں کے ٹکرانے سے آواز یں پیدا ہونے لگیں نعرۂ تکبیر اور اللہ اکبر کی گونج سے آسمان تھرا اُٹھا تھا۔لوگ باگ گرتے پڑتے ایک دوسرے پر چڑھے چلے آرہے تھے۔ڈھول تاشے اور نگاڑے پورے ہی زور و شور سے بج رہے تھے۔دھول دھپوں کا ایک ایسا مرغولہ اُٹھا کہ چاروں طرف اندھیرا سا چھا گیا۔تبھی ایک ایسا دہشت ناک واقعہ پیش آ گیا کہ خوف سے پورا ماحول تھرّا اُٹھا۔

باون گھوڑا کے خلیفہ نے جوں ہی کاشی ڈیہہ کے خلیفہ سے مصافحہ کرنے کے بعد معانقہ کیا، اچانک سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔کسی نے خلیفہ کو پیچھے سے پیٹھ میں چھورا پیوست کر دیا تھا۔چشم زدن میں خون کا فواّرہ اُبل پڑا۔ایک بھگ دھڑ سی مچ گئی۔اس قدر شور و غوغا مچا کہ آناً فاناً میں کہرام مچ گیا۔ جِسے دیکھو دیوانہ وار بھاگتا جا رہا تھا۔ماحول ویسے ہی سوگوار تھا۔ اس پر اِس حادثے سے بالکل ماتمی سناّٹا چھا گیا ہر طرف سراسیمگی چھائی ہوئی تھی۔

خلیفہ کو کسی نے چھورا گھونپ دیا تھا۔ لیکن خلیفہ کو کس نے چھورا گھونپا ،اس کا بالکل بھی پتہ نہیں چلا۔اسپتال میں جب ان کی آنکھ کھلی تو وہ ایک ہی جملہ بار بار دہرا رہے تھے۔ ’’میری بیٹی شاہدہ کہاں ہے؟‘‘اور یہ جملہ ایک ایسا سوال تھا کہ جس کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔آپس میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔جتنے منھ اتنی باتیں ہو رہی تھیں۔رات بھر شاہدہ کو تلاش کیا جاتا رہا تھا لیکن کہیں اس کا پتہ نہ تھا۔شاہدہ اکھاڑے سے اُٹھا لی گئی تھی۔

کوئی کہتا ،’’شاہدہ کو میں نے کربلا کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا تھا۔جب لوگوں کا ریلا اُس طرف کو بھاگ رہا تھا ‘‘۔کوئی کہتا،’’ ہم نے اُسے تعزیے کے ساتھ کربلا میں فاتحہ پڑھتے ہوئے دیکھا تھا‘‘۔کوئی کہتا تھا کہ’’ کربلا میں تعزیے اور نشان ٹھنڈ ا کرنے کے بعد کچھ نوجوان ہوٹل میں بیٹھے نہاری کے ساتھ ساتھ شراب بھی پی رہے تھے۔ان ہی بدمعاشوں نے اسے اِغوا کیا ہو گا۔‘‘کوئی کہتا تھا کہ’’ وہ بہت بہادر اور دلیر لڑکی تھی۔ وہ ایسی ویسی لڑکی نہیں تھی کہ کوئی اس کا اپہرن کر سکے۔‘‘ قصّہ مختصر یہ کہ شاہدہ کا اس رات کے بعد سے کوئی پتہ نہ تھا۔شاہدہ کی ماں کا رو رو کے برا حال ہو گیا اور خلیفہ کو تو اس کا اتنا شدید صدمہ پہنچا کہ اپنی چہیتی بیٹی کے اس غم میں ان کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی تھی۔

پولیس تحقیقات میں لگی ہوئی تھی ۔

اگلے روز سورن ریکھا ندی کی باندھ سے باون گھوڑا کے خلیفہ کے بیٹے اسرائیل کی لاش برآمد ہوئی۔اس پھولی ہوئی لاش کے جسم پر تلوار سے جا بجا وار کیے گئے تھے۔اس پُر اِسرار موت کی خبر نے پورے شہر کو سناّٹے میں لے لیا تھا۔ہر طرف ایک خوفناک خاموشی سی طاری تھی۔

لوگ باگ دبی زبان میں کانا پھوسی کر تے نظر آرہے تھے۔کوئی کہتا ،’’ایسے وار تو شاہدہ ہی کر سکتی ہے۔‘‘

کوئی کہتا،’’لیکن ایسی نوبت ہی کیوں آئی ؟‘‘

لیکن زیادہ تر لوگوں کا گمان تھا کہ ہو نہ ہو۔باون گھوڑا کے خلیفہ رسول مستری کی اس میں سازش ہو گی۔جب وہ بغل گیر ہو رہا تھا تو عین اُسی وقت اس کے بیٹے اسرائیل نے ان کی پیٹھ پر چھورا گھونپ دیا ہو گا۔اور یہ منظر ممکن ہے شاہدہ نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہو اور اُس نے جنون میں آ کر اس لڑکے کا قتل کر دیا ہو گا۔‘‘

بہر حال ،اگر شاہدہ نے ایسا کیا بھی تو وہ آخر گئی کہاں؟

کوئی کہتا،’’ اس نے گہر باندھ میں ڈوب کر خودکشی کر لی ہے۔‘‘کوئی کہتا کہ وہ بہت مردانی تھی۔وہ ندّی کے اُس پار آدی باسیوں کے گاؤں میں جا کر روپوش ہو گئی ہو گی۔‘‘کسی کے کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ شاہدہ کہاں گئی۔آسماں کھا گیا اُسے یا زمین نگل گئی؟

نوشیرواں کے اس شہر میں محرم کا وہ آخری جلوس تھا اُس کے بعد سے پھر کبھی اُس شہر میں ویسے آن بان شان والا کوئی جلوس نہیں نکلا۔

٭٭٭

 

 

 

 

دس سروں والا بجوکا

 

 

اُس وقت کی بات ہے کہ جب پریم چند کی کہانی کا ’ہوری‘ پچہترسال کا ہو چکا تھا۔ سارے بال سفید ہو چکے تھے۔ چونکہ وہ ایک کسان کا بیٹا تھا، اس لیے ہاتھ پاؤں کے پٹھے اور عضلات اب بھی صحیح سلامت تھے۔البتہ اب وہ اونچا سننے لگا تھا۔افرادِ خانہ کا خیال تھا کہ باپو اپنے مطلب کی بات بہت جلدی سن لیتے ہیں لیکن جس میں ان کا کوئی فائدہ نہ ہو وہ بات انھیں سنائی نہیں پڑتی ، چاہے ان کے آگے ہم اپنا کتنا بھی گلا پھاڑ لیں۔

دریں اثنا،ہوری کا بیٹا گوبردھن پڑھ لکھ کر دہلی آئی آئی ٹی میں پروفیسر ہو گیا تھا۔ سونا اور روپا بھی اپنی اپنی سسرال سدھار چکی تھیں۔اس کے بیٹے نے ہوری کو بہت سمجھایا تھا کہ زمانہ بدل چکا ہے اب کھیتی باڑی چھوڑ کے وہ بھی شہر میں آ کر آرام سے رہے اور زندگی کے بقیہ دنوں کا لطف اُٹھائے۔گوبردھن ہوری کو اپنے ساتھ رکھنے کو تیار تھا، لیکن ہوری نے اس کی ایک نہ سُنی۔

’’ماٹی ہمارا جیون ہے۔‘‘ہوری نے کہا تھا۔’’اس سے جنموں کا ناطہ ہے۔ اسے ایک دم سے ہم کیسے چھوڑ دیں۔‘‘

بچے بے بس تھے۔ انھوں نے ہوری اور دھنیا کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ وہ اپنے اپنے بچوں کے کیر ئر کو لے کر فکر مند تھے۔ ان کے اپنے مسائل تھے۔انھیں اپنے بچوں کی خوشیاں بھی عزیز تھیں۔

دراصل، گاؤں اور شہر کے معیارِ زندگی میں بڑا فرق آچکا تھا۔نشست و برخاست کے آداب میں بڑا بدلاؤ آ گیا تھا۔شہر میں گوبر کا اپنا ایک رُتبہ تھا، ایک حیثیت تھی۔ اُس کے احباب کا ایک اچھا خاصا حلقہ تھا۔

کہتے ہیں کہ بیٹا اگر اپنے دوستوں سے اپنے باپ کا تعارف کراتے ہوئے شرمائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ خاندان ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ہوری اور دھنیا جب کبھی اپنے بیٹے کے یہاں جاتے تو ان کے دوستوں کی آمد پر انھیں گھر کے اندرونی کمروں میں منتقل کر دیا جاتا تھا، مبادا مہمان ان دیہایتوں کو دیکھ کر ان کا تمسخر نہ اُڑائیں۔

یہ بات ہوری کو اندر سے کھائے جاتی تھی اور اسے ایک ہتک سی محسوس ہوتی تھی۔ اس بار ہوری اور دھنیا شہر گئے تو جلدی ہی گاؤں واپس لوٹ آئے۔اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ فصل کی کٹائی کا وقت نزدیک آ گیا تھا۔گاؤں آتے ہی انھیں بڑی راحت محسوس ہوئی تھی۔ گاؤں میں انھیں ہر طرف شناسا چہرے نظر آتے۔لوگ باگ آ کر ہوری کاکا سے ان کا حال چال پوچھتے۔ یہ سب ہوری کو اچھا لگتا تھا۔’’یہاں کتنی اپنائیت ہے، لوگوں میں۔ گاؤں کی مٹی تک سے پاؤں مانوس ہیں۔‘‘ہوری نے سوچا۔’’اجنبی دھرتی پر قدم لڑکھڑانے سے لگتے تھے۔‘‘

گاؤں میں رہ کر وہ خود کو بہت سکھی محسوس کرتے تھے۔

وہ دونوں بیٹا کے پاس ہوتے تو انھیں گاؤں کی یاد ستاتی اور جب گاؤں واپس جاتے تو انھیں اپنے پوتے، پوتیوں کی یادیں فکر میں مبتلا کر دیتی تھیں۔دھنیا اکثر بیمار رہنے لگی تھی۔ اسے زیادہ سوچ فکر کرنے کی وجہ سے ہائی بلڈ پریشر کا مرض لاحق ہو گیا تھا۔ڈاکٹروں نے اسے زیادہ چنتا نہ کرنے کی صلاح دی ہوئی تھی ۔دھنیا کا بس ایک ہی ارمان رہ گیا تھا ۔وہ اپنی پوتی کی گود ہری دیکھنا چاہتی تھی۔

وہ اپنے تین تین بچوں کی شادیوں میں ہاتھ تنگ ہونے کی وجہ سے کچھ بھی نہ کر پائے تھے ۔لیکن اب وہ کافی فارغ البال ہو چکے تھے ۔اب ان کی خواہش تھی کہ بڑی پوتی نین تارا کی شادی وہ بہت دھوم دھام سے کریں گے ۔بڑھاپے میں دونوں ایک دوسرے کی سوچ سے اس قدر مانوس ہو چکے تھے کہ ایک کے ذہن میں کیا چل رہا ہے دوسرے کو خود بخود پتہ چل جاتا تھا۔دونوں میں، اب بھی وہی پرانی ہم آہنگی برقرار تھی بلکہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں مزید پختگی آ گئی تھی۔

جب دھنیا نین تارا کی دھو م دھام سے شادی کرنے کی بات سوچ رہی تھی تبھی ہوری بول اٹھا۔ ’’گیہوں ں کی پکی ہوئی بالیاں کٹائی کے لیے تیار کھڑی ہیں ۔‘‘گیہوں کی لہلہاتی ہوئی سنہری بالیوں کی طرف ہاتھ سے دکھاتے ہوئے ہوری نے اپنی بات جاری رکھی۔’’لکشمی دیوی کی کرپا سے اب کی فصل اچھی آئی ہے۔سوچتا ہوں ۔نین تارا کا منگیتر آئی اے ایس آفیسر ہے ،اس کی شادی بھی اسی شان سے ہونی چاہیے ۔امسال مزدوروں کی پائی پائی مزدوری چکا دی ہے ۔اس لیے نسچنت ہوں کہ پورے کا پورا گیہوں سیدگے سرکاری گودام میں پہنچا کر اچھی رقم کھڑی کر لوں گا۔

دھنیا نے چین کی لمبی سانس لی ۔’’شکر ہے تمہیں میری ترکیب سمجھ میں آ گئی ورنہ ہر سال کی طرح اس سال بھی وہی رونا روتے کہ ادھیہ بٹائی کے دینے پڑیں گے۔‘‘

…..ابھی دھنیا نے اپنا آخری جملہ زبان سے ادا کیا ہی تھا کہ وہ کھیت کے آخری سرے پر جہاں زمین اور آسمان مل رہے تھے ،کچھ دیکھ کر ٹھٹک سے گئے ۔ہتھیاروں سے لیس نکسلیوں کا پورا قافلہ نہر کے کنارے سے گزر رہا تھا ۔دور سے دیکھنے پر ایسا محسوس ہوتا تھا گویا چیونٹیوں کی لمبی سی لکیر اپنے صراط مستقیم پر رینگ رہی ہے ۔لیکن اصل میں ،اس لرزہ بر اندام کر دینے والے منظر نے کچھ دیر کے لیے ان کے اوسان خطا کر دیئے تھے ۔آئے دن نکسلیوں کے ہلّا بول سے زمینداروں کی نیند یں حرام ہو رہی تھیں۔

اس نے سوچا ۔’’یہ معمولی سی چیونٹیاں بھی اگر اِکھٹی ہو جائیں تو کتنی شکتی شالی ہو جاتی ہیں ۔‘‘ اچانک اُسے محسوس ہُواجیسے بے شمار چیونٹیاں اس کے اعصاب پر ،اس کے دل و دماغ پر رینگتی چلی آ رہی ہیں ۔اس خیال سے لمحہ بھر اس کا سارا بدن سہراُٹھا اور اس کی زبان گنگ ہو گئی ۔

لیکن مستقبل کا خواب اتنا زبردست تھا کہ اس کے میٹھے میٹھے رس سے وہ دونوں ایک بار پھر مسرور ہو اُٹھے ۔پکی ہوئی فصل دو تین روز میں کٹنے والی تھی ۔کھیت کے بیچو بیچ بجوکا کھڑا آج کچھ عجیب انداز سے مسکرا رہا تھا ۔ہوری نے محسوس کیا ،اس کی معنیٰ خیز مسکراہٹ کے پیچھے کوئی راز چھپا ہوا ہے جس سے وہ محظوظ ہو رہا ہے۔لیکن دوسرے ہی لمحہ اس نے ایسے لایعنی خیال کو اپنے ذہن سے جھٹک دیا ۔بجوکا بھی بھلا مسکرا سکتا ہے؟ اس نے اسے گھر کے پھٹے پرانے کپڑوں سے بنا کر خود اپنے ہاتھوں سے اس کھیت میں کھڑا کیا ہے۔اس میں اتنا شعور کہاں کہ وہ مسکرا بھی سکے۔ضرور یہ اس کا وہم ہو گا ۔معاًاس کے دماغ میں بیتے دنوں کی یاد یں تازہ ہو گئیں ۔

دَورِ غلامی میں جب انگریزوں کا راج پاٹ تھا ۔لال پگڑی اور خاکی وردی والا ایک سپاہی بھی گاؤں سے گزر جاتا، تو اسے دیکھ کر لوگ باگ خوف سے کانپ اُٹھتے تھے۔اس قدر رعب تھا کبھی ان کا ہم ہندوستانیوں پر۔

لیکن اب ہم آزاد ہیں ۔ہماری اپنی حکومت ہے۔پرشاسن بھی اپنا ہے۔اپنی عدالت ہے اور پولیس بھی ہماری اپنی ہے۔نہ مہاجن گلا دباتا ہے ،نہ لگان کی وصولی کا خوف ہے اور نہ ہی کسی قسم زبردستی ۔کیسے اچھے دن آ گئے ہیں ۔جیسے جی چاہے جیؤ ۔جیسے جی چاہے کھاؤ ،جیسے جی چاہے پیؤ!

’’سنا ہے نکسلیوں نے بڑے ٹھا کر کے بیٹے کو اگوا(اغوا) کر لیا ہے؟‘‘

دھنیا نے جب اپنی مری سی آواز میں ہوری سے دریافت کیا تو اُس کے چہرے سے گہری تشویش ظاہر ہو رہی تھی۔

’’ہاں !پر اِس سے ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے۔‘‘ہوری نے قدرے لا پروائی سے جواب دیا ۔’’پھروتی کی رقم نہ ملنے پر اُنھوں نے اسے جان سے مار دینے کی دھمکی بھی دی ہوئی ہے۔‘‘ ہوری نے یہ بات کچھ اس انداز سے کہی گویا دھنیا کو فکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔

لیکن …. دھنیا اس جواب سے با لکل بھی مطمئن نہ تھی ۔ اس کے باوجود ہوری سے مزید سوال پوچھ کر اسے پریشان کرنا نہیں چاہتی تھی۔وہ چپ چاپ ہوری کے پیچھے پیچھے پگڈنڈی پر قدم جما کر برابر چلتی رہی ۔شہر سے آ کر سب سے پہلے وہ اپنے کھیت پر گئے تھے ۔وہاں سے جب سب کچھ ٹھیک ٹھیک پایا تو گھر آ کر دونوں نے اطمینان کی سانس لی ۔

ہوری لمبی مسافت سے تھک چکا تھا۔اپنے ہاتھ منھ پونچھنے کے بعد انگو چھا کندھے پر پھینکتے ہوئے اُس نے کہا۔

’’میں ثابت کر دوں گا کہ گوبر دھن کا خیال غلط ہے۔

میرا بڑے شہر کو ہجرت نہ کر کے گاؤں میں رہنے اور اپنے پُرکھوں کی زمین پر کاشت کرنے کا فیصلہ کتنا صحیح ہے۔‘‘

دھنیا گڑ کی کچھ بھیلیاں اور ایک لوٹا کنویں کا تازہ کھینچا ہوا ٹھنڈا پانی رکھ کر ایک طرف بیٹھ گئی اور حقہ کے لیے چلم تیار کرنے لگی۔

’’ایشور کی دَیا سے آج ہم کسی کے محتاج نہیں ہیں ۔‘‘ دھنیا نے کہا ۔’’ ہم پوتی کی شادی میں دل کھول کر خرچ کرنے کی چھمتا رکھتے ہیں ۔‘‘

’’دھنیا !تم بس دیکھتی جانا،ہم اپنی پوتی کا بیاہ کس دھوم سے دھام سے کریں گے۔‘‘

ہوری نے یہ بات چلم کا کش لگاتے ہوئے کہی ۔’’دنیا ،سماج سب عش عش کرتے رہ گائیں گے۔‘‘

ان کے یہ جذبے اور یہ سوچ ہوری اور دھنیا کو ایسے بڑھاپے میں بھی اندر سے توانائی اور سر خوشی بخش رہے تھے ۔اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔دھنیا نے جا کے باہر کا دروازہ کھولا ۔ڈاکیہ کھڑا تھا۔اُس نے دھنیا کے ہاتھوں میں ایک خط تھما دیا ۔وہ دونوں خط پا کر اچانک حیران رہ گئے۔

دھنیا نے ہوری کے ہاتھ میں خط دیتے ہوئے پوچھا ۔’’سب ٹھیک ہے نا؟ خط میں بھیجنے والے کا نام و پتہ ندارد تھا۔

ہاتھ میں خط لیے وہ دونوں حیرانی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔تھوڑے پس و پیش کے بعد لفافہ چاک کیا تو خط کے مضمون نے انھیں ایک دم ہلا کر رکھ دیا۔

ہوری کاکا لال سلام!

ہماری عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ گیہوں کی فصل میں سے ایک چوتھائی کے حصے دار تم بھی ہو۔ہم تمہاری پوری فصل نہیں اُٹھائیں گے۔پورنیماشی کی را ت تمہارے گیہوں کی کٹائی ہو جائے گی ۔تم اپنے حصے کا گیہوں دالان میں رکھواؤ گے یا منڈی بھجواؤ گے، اس کا تمہیں پورا پورا ادھیکار ہے۔

جلد بازی کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ اسی رات بتا دینا کہ کیا کرنا ہے؟

اور ہاں ! خبردار جو کسی بھی طرح کی ہوشیاری دکھائی یا پولیس میں خبر کی ، تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گے۔

پرندوں سے حفاظت کرنے والا

تمہارا اپنابجوکا

ہوری نے خط کا آخری فقرہ پڑھا تو بجوکا کا زہر خندمسکراہٹ میں لپٹا ہوا چہرہ ایک دم سے اس کے تصور میں گھوم گیا۔بجوکا کے راون کی طرح دس سر نکل آئے تھے اور وہ اس کی بے بسی پر زور زور سے قہقہے لگا رہا تھا۔

ہوری نے انگوچھے سے اپنے ماتھے کے پسینے پونچھے اور زیر لب بڑ بڑا یا۔

’’اب پتہ چلا ۔کولین اُس وقت کھیت میں کھڑا کیوں مسکرا رہا تھا۔‘‘

دھنیا کچھ نہ سمجھ سکی اور وہ خالی خالی سی ہو ری کا منہ تکتی رہ گئی۔

٭٭٭

 

 

 

 چور کی ماں

 

 

 

“ہم مکان کے اوپر مکان بنا لیں، چاہے مکان کے نیچے مکان بنا لیں۔ دو گز زمین کے تصرف سے زیادہ کی آرزو بہادر شاہ ظفر جیسا کوئی بادشاہ وقت بھی نہیں کرسکا۔”میں آرام کرسی پر بیٹھا اخبار پڑھتے وقت سوچ رہا تھا۔

“آئے دن اخبارات میں لینڈ مافیا اور انکروچمنٹ کی خبریں چھپ رہی تھیں۔ ویسے بھی صنعتی شہروں میں رہائشی مکانوں کے لیے پلاٹ خریدنا ایک عام آدمی کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گیا تھا۔‘‘

اسی دوران نہ جانے کب میری نظریں اخبار سے ہٹ کر دور خلا میں تیرنے لگیں اور میرے تفکرات کا سلسلہ دوبارہ مربوط ہو گیا۔

“ہم اپنے حالیہ گناہوں کا بھاری پتھر تو اٹھا نہیں سکتے مگر ایسے چھوٹے چھوٹے پتھروں کو جمع کرنے میں ہمہ وقت سرگرداں رہتے ہیں جن کا بوجھ ہماری آنے والی نسلیں مل کر بھی اٹھانا چاہیں تو بھی نہیں اٹھا سکیں گی۔”

“بیٹا! میرا ایک خط لکھ دو گے؟ ارہر بڑھیا نے دھیرے سے میرے قریب آ کے بیٹھتے ہوئے کہا۔

“کیوں نہیں”میں نے کہا۔

“ابھی لکھتا ہوں” اتنا کہہ کر میں نے جیب سے قلم نکالا اور اس کے ہاتھ سے پوسٹ کارڈ لے کر اس پر لکھنا شروع کر دیا- 786 آگے بولیے نانی کیا لکھوانا ہے؟

“عظمت علی کو معلوم ہو کہ ہم یہاں خیریت سے ہیں۔ اس سال پھر بہو کو بیٹا ہوا ہے،وغیرہ وغیرہ۔”وہ لکھواتی اور جب خط مکمل ہو جاتا تو میں پوچھتا کہ آپ نے کسے کو خط لکھوایا ہے؟

’ارے میرا دیور ہے وہ۔ اسے میری طرف سے جو بھی لکھا جاتا ہے وہ تو خود ہی لکھ دے،مجھے وہ سب نہیں معلوم ہے‘ میں کہتا۔ “میں نے یہی لکھ دیا ہے کہ وہ سب مجھے نہیں معلوم ہے۔”  اس پر وہ مذاق کے موڈ میں آ جاتی…… “بیٹا! میں تو ان پڑھ ہوں،تو نے کیا پڑھا ہے جو تجھے نہیں معلوم؟” پھر وہ اپنے بچپن کے زمانے کو یاد کر کے خیالوں میں گم ہو جاتی۔

میں نے بھی تیسری کلاس تک مولوی صاحب سے پڑھائی کی ہے۔ میرے ماں باپ نے بہت لاڈ سے پالا تھا مجھے۔ ایک دو نہیں پورے بارہ سال تک میں نے گائے کا کچا دودھ پیا ہے۔ چھوٹی عمر میں میرا بدن اتنا بڑھ گیا، اتنی جلدی بڑی لگنے لگی کہ ایک دن جب میں تیسری کلاس میں تھی اور مولوی صاحب نے مجھے کسی بات پر چھڑی سے مارا تو میں روتی ہوئی فوراً گھر چلی گئی۔ میرے باپ،چچا کا اتنا دیکھنا تھا کہ وہ مولوی سے لڑنے کے لیے دوڑ پڑے اور گھر آ کر مجھ سے کہا کہ کل سے مولوی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ دن ہے اور آج کا دن پھر میں کبھی اسکول نہیں گئی۔

میرے باپ اور چچا دھنباد کی کوئلیری میں بڑے ٹھیکیدار تھے۔وہ سب ناگدہ کے قریب جیت پور، سدھام ڈیہہ اور باگ ڈ گیّ کی کانوں میں ٹھیکیداری کیا کرتے تھے۔ ہزاروں مزدور ان کے یہاں مزدوری کرتے تھے۔ دور دور تک ان کی عزت اور شہرت تھی اور کیوں نہ ہوتی دھوں دھوں کر کے دھواں اگلتی اور سلگتی ہوئی زمین کے اندر کوئلے کی ہزاروں فٹ گہری کانوں سے کوئلہ نکالنا اتنا جان جوکھم کا کام تھا کہ ہر ایک کے بس کا نہیں تھا۔ بڑے جگرے کے لوگ ہی اس کام کو کرسکتے تھے۔ برسات کے دنوں میں مال ڈھولائی کے لئے بھی مزدور ہاتھ نہیں آتے تھے۔ کبھی کبھی تو زہریلی گیس نکلنے سے بہتوں کی موت ہو جایا کرتی تھی۔انھیں کمپنی سے معاوضہ دلوانا، ان کے وارثوں کو نوکری دلوانا یہ سب بڑی ذمے داری کا کام تھا۔ ہنگامی حالات میں گہری کانوں کے اندر سوائے آکسیجن کے ماسک کے کسی بھی احتیاطی اُپائے کا بندوبست نہیں ہوتا تھا.. .

میں نے بیچ میں ہی بات کاٹ کر کہا۔’’اچھا! اب خط مکمل ہو گیا ہے۔ کارڈ پر بتائیے پتہ کس کا لکھنا ہے؟”

وہ کہتی

’’گرام:  کمبھری”

“پوسٹو آفس:  چکسیہ”   (وہ پوسٹ آفس کو ہمیشہ ٹ اور واؤ کو کھینچ کر پوسٹو آفس کہا کرتی تھی۔)

اسی طرح ایک اور غلط بات اس کے دماغ میں گھسی ہوئی تھی جسے نکالنا ناممکن تھا۔ اس کا خیال تھا کہ جواہر لال نہرو اندرا گاندھی کے نانا تھے اور سمجھانے پر کہتی،”بیٹا! میں غلط نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ میں نے اپنے باپ چچا  سے سنا ہے۔ آج کل کی پڑھائی غلط ہوسکتی ہے لیکن وہ غلط نہیں ہوسکتے”۔اپنے باپ اور چچا پر وہ اس قدر راسخ العقیدہ تھی کہ اس کی اس کٹ حجتی کے آگے آخر مجھے ہی خاموش ہونا پڑتا تھا۔

بہرحال، اس نے آگے لکھوایا۔

’’ضلع:  دھنباد”۔ساتھ میں وہ یہ بھی کہتی،’’عظمت میاں کو ملے۔”

اس پتے پر اس نے اتنی بار خط لکھوائے تھے کہ اس واقعہ کو گزرے آج بارہ سال بیت چکے ہیں۔ لیکن یہ پتہ آج بھی میری یادداشت کے پردے پر ویسے سے ہی نقش ہے جیسے آج سے بارہ برس پہلے چسپاں رہتا تھا۔

جب ہم نے جمشید پور میں دلمہ پہاڑ کی وادی میں اپنا مکان بنوایا۔ والد صاحب چونکہ شاعرانہ مزاج کے آدمی تھے اور والدہ بھی قدرت کے حسین مناظر کی دلدادہ تھیں۔ کھلی فضا میں حد نگاہ تک اونچی نیچی چھوٹے ناگپور کی پٹھاری زمین پھیلی ہوئی تھی۔ محکمۂ جنگلات نے یوکلپٹس کا گھنا جنگل لگا رکھا تھا۔ قدرت کے اس دلفریب آغوش میں سرخ ٹائیلس کا ایک مکان تھا جو ہمارے مکان جیسا تھا لیکن فرق یہ تھا کہ وہاں ارہر کے کھیت لگے ہوئے تھے۔ ارہر بڑھیا اسی مکان کی مالکن تھی اور ارہر کے کھیت کی نسبت سے لوگ اسے ارہر بڑھیا کے نام سے پہچانتے تھے۔ ویسے اس کا نام بتولن تھا۔ ماں باپ نے شاید اس کا یہ نام اس لیے بھی رکھا ہو گا کہ وہ بولتی بہت تھی۔ ہر وقت اپنے پرکھوں کو یاد کرتی۔ ان کی عظمت کی داستان سناتی نہیں تھکتی تھی اور ویسے بھی اس کے پاس ماضی کے سوا رکھا ہی کیا تھا۔ کہنے کو ایک بیٹا تھا جو کچھ نہیں کرتا تھا۔ لوگ باگ دبی زبان یہاں تک کہتے تھے کہ وہ چور ہے اور اس نے کہیں بڑا ہاتھ مار کر وہ مکان بنوا لیا تھا۔ شہتیر اور کڑیاں شال کے درختوں کو آرا مشین سے چیروا کر منگوائی گئی تھی اور فرش پر سنگ مرمر کے دانے کٹوائے گئے تھے۔ دیواریں پکی اینٹ اور سیمنٹ سے چنوائی گئی تھی۔

شہر آہن جمشید پور میں ویسے تو سبھی صوبوں کے لوگ رہتے تھے لیکن مقامی آدی باسی،کول،بھیم اور سنتھال کے ماسوا یوپی اور بہار کے زیادہ تر لوگ وہاں آباد تھے۔ ٹاٹا کی اسٹیل فیکٹری نے ہزاروں لوگوں کو روزگار دے رکھا تھا۔ نئے نئے مکانات بن رہے تھے۔ لوگ باگ مختلف فیکٹریوں اور کمپنیوں سے سبک دوش ہو ہو کر جہا ں کہیں بہار سرکار کی پرتی زمین ملتی اسے خرید کر مکان بنا رہے تھے۔ کول، بھیم اور سنتھال بھی اب بہت چالاک ہوتے جا رہے تھے۔ وہ کسی بھی اُ سّرزمین پر باڑا بنا لیتے، اس پر ہل بیل چلاتے اور اسے فروخت کر دیتے۔ اس سے ان کی زندگی میں خوشحالی آ رہی تھی۔ ان کی اگلی پیڑھیاں مشنری اسکولوں میں پڑھنے لگی تھیں۔

ارہر بڑھیا نے مجھے کبھی بتایا تھا کہ اس کا بیٹا بھی میٹرک میں پڑھتا تھا۔

ایک دن میں درخت پر چڑھ کر اس کی کچھ فاضل ٹہنیاں اور شاخیں تراش رہا تھا کہ اچانک مجھے دیکھ کر اس پر دور ا سا پڑ گیا اور تقریباً چیختی ہوئی بولی۔

“اُتر جا بیٹا…… پیڑ سے اُتر جا…… تو یہ کیا کر رہا  ہے…… ہرے بھرے پیڑ کو کبھی کاٹنا نہیں چاہیے‘‘۔

میں نے کہا۔

’’یہی کچھ فالتو ڈالیوں کو کاٹ رہا ہوں کوئی پیڑ تھوڑے ہی کاٹ رہا ہوں؟”جب میں درخت سے اُترا تو وہ قدرے غمناک ہو کر کہنے لگی۔

“میرا بیٹا میٹرک میں تھا۔ ایک دن وہ پیڑ پر چڑھ کر اس کی کچھ ڈالیاں کاٹ رہا تھا۔ کچا بدن، پیڑ پر سے پاؤں پھسل گیا اور گرتے ہی اس کی موت ہو گئی” کہتے کہتے اس کا گلا رندھ گیا۔ آنکھیں نم ہو گئیں۔پھر کہنے لگی۔

“پیڑ پر بھوت پریت کا بسیرا ہوتا ہے۔ در اصل، اسے بھوت نے پٹخ دیا تھا۔ ورنہ کوئی پیڑ سے گر کر یوں بھلا مرتا ہے کہیں؟”

اس نے بڑی اپنائیت سے مجھے سمجھایا۔

“ہرے بھرے ڈال کو کبھی کاٹنا نہیں چاہیے۔”میں نے کہا۔

’’تم بھی تو نانی اتنی ساری لکڑیاں پہاڑ سے کاٹ کر لایا کرتی ہو۔ اس سے کیا ہوتا ہے۔”

“بیٹا! میں سوکھی لکڑیاں توڑ کر لاتی ہوں۔ وہ جلاون کی لکڑیاں ہوتی ہیں‘‘۔یہ کہہ کر اس نے مجھے قائل کرنے کی کوشش کی۔ “پھر تو ابھی نوجوان ہے۔ تجھے دُنیا دیکھنا ہے۔ بھوت پریت جوان لڑکوں پر عاشق ہو جایا کرتی ہیں”—لیکن میں سوچنے لگا۔

“سب بکواس ہے۔ میں بھوت پریت کو نہیں مانتا!”

ستّر سال کی عمر میں بھی ڈھائی من لکڑیاں کاٹ کر باندھ چھاندھ کر اونچی پہاڑیوں سے سرپرڈھوکر لانا بچوں کا کوئی کھیل نہیں۔ جب وہ لکڑیاں لایا کرتی تھی۔ اس کی تیز رفتاری بھی قابل دید ہوا کرتی تھی۔ یوں جب وہ چلتی تو اس کی کمر بہت زیادہ جھکی ہوئی بلکہ نوے کے زاویے پر خمیدہ ہوتی تھی۔ مگر لکڑیوں کا بوجھ ڈھوتے وقت وہ تن کر بالکل سیدھی کھڑی ہو جاتی تھی۔ بدن ہاتھ پر جھریاں اس قدر زیادہ تھیں جسے دیکھنے سے محسوس کیا جا سکتا تھا کہ وہ اپنی جوانی میں کس دھڑلے کی عورت رہی ہو گی۔ایک آنکھ کچھ زیادہ ہی میچی ہوئی سی تھی۔ اس میں موتیابند کی لالی پڑی گدلی سی جھلی ہر وقت نمایاں رہتی تھی۔ مِسّی لگے دانت بتیس کے بتیس اپنی جگہ موجود تھے۔ بالوں میں البتہ جابجا چاندی گھلی ہوئی تھی۔ جنہیں نہانے کے بعد وہ ساری کے پلّو کے نیچے کھلا چھوڑ دیا کرتی تھی۔اکثر ایسا اس وقت ہوتا تھا جب وہ باری تالاب سے نہا کر آتی تھی۔ گرمی کے دنوں میں بھیگی ساری کے نیچے کچھ نہیں پہنتی تھی۔ ٹانگوں میں ساری توانائی آ کر مجتمع ہو گئی تھی۔ سرخ پاڑ والی سفید مارکن کی ساری میں اس کا سلونا بدن اِدھر سے اُدھر ڈولتا رہتا تھا۔

ارہر بڑھیا نے مجھے کسی بات پر ایک دفعہ ہم سبھی افراد خانہ کے سامنے بتایا تھا:

“میری جب شادی ہوئی۔تمہارے نانا نے جب پہلی بار مجھے دیکھا تو میرے سامنے دبلے سے تھے، کانپنے لگے۔ کمرے سے باہر جانے لگے تو میں بھانپ گئی اور میں نے اپنی قد کاٹھی چھپا لیے اور خود کو چھوئی موئی کی ایک پوٹلی سی بنا لی۔ دفعتاً وہ پلٹ آئے اور پیار سے پوچھنے لگے۔

“تم کہیں گھبرا تو نہیں رہی ہو؟ ”

پرانے زمانے کی شادی ماں باپ نے کرائی تھی۔ ہم نے شادی سے پہلے ایک دوسرے کا منھ تک بھی نہیں دیکھا تھا۔ گاؤں میں بڑے ہوشیار اور مکھیا مانے جاتے تھے۔ مجھے ہنسی آ گئی۔

مرد کیسا بھی رعب دار کیوں نہ ہو عورت کے سامنے آتے ہی منمنانے لگتا ہے۔میں نے اپنی ہنسی دبا لی۔”

کچھ دیر تک خاموش اور گم سم رہتی جیسے وہ کچھ سوچ رہی ہو اور جب سوچ کا سرا مل جاتا تو دو بارہ سکوت توڑتی۔

’’بڑا دبدبہ تھا ان کا، ان کی موت کے بعد قسمت نے کہاں لا کے پھینکا۔ بیٹے بچوں کی محتاج ہو گئی ہوں۔ کسے خبر تھی کہ یہ دن بھی دیکھنے پڑیں گے۔ بڑھیا رانڈی کو کون پوچھتا ہے۔ بیٹے کو پال پوس کر بڑا کر دیا۔ شادی ہو گئی۔ اب وہ سمجھتا ہے کہ میں بے وقوف ہوں۔”

مجھ سے کہنے لگی اب نظام کا قصہ سن لو،

نظام الدین ان کا چھوٹا بیٹا تھا۔ ٹاٹا اسٹیل کمپنی کے پھینکے جانے والے کوڑے میں فارنیس کی راکھ اور چمنیوں کی کالک کے علاوہ کبھی کبھی کچے کوئلے اور لوہے کے ٹکڑے بھی مل جایا کرتے تھے۔ نظام وہاں اپنے دوستوں کے ساتھ لوہا اور کوئلہ کھوجنے جایا کرتا تھا۔ انہیں بیچ کر چار پیسے کما لیا کرتا تھا لیکن کوئلے کے دھندے میں ہاتھ تو کالے ہوتے ہی ہیں۔ ایک مدراسن لڑکی رضیہ اس سے وہیں ٹکرا گئی تھی۔ رضیہ کے جسم میں غضب کی جنسی کشش تھی۔ وہ تھی تو سیاہ فام لیکن اس کی بوٹی بوٹی چمکتی تھی۔ لمبی ناگن جیسی بل کھاتی ہوئی زلفیں اور ملیح رخساروں  کے آخری سرے پر تھوڑی سے ذرا اوپر ہونٹ سے متصل ایک کالا سے مسّہ تھا۔ جب کبھی وہ ہنستی تو اس کے سفید چمکیلے دانت اس قدر جاذب نظر معلوم ہوتے کہ دیکھنے والوں کا جی چاہتا کہ بڑھ کر اس کا منھ چوم لیں۔ ظاہر ہے نظام پر بھی ایسی کیفیت طاری ہوئی تھی اور اس نے اس جذبے سے مغلوب ہو کر اس کا منھ چوم لیا تھا۔ تب سے یہ دونوں ساتھ ساتھ رہتے تھے اور کوئلے کے دھندے میں دل کھول کر ہاتھ کالے کر رہے تھے۔ جب دونوں تمام لچھمن ریکھا لانگ چکے اور سیاحت ِجسم و جان سے سیر ہو چکے تو ایک دن چپکے سے ہاتھ پیلا کیے بغیر نظام اسے اپنے گھر لے آیا۔

ارہر بڑھیا نے سلسلہئ کلام جاری کرتے ہوئے کہا۔

“ایک روز وہ اسے شام کے  جھٹپٹے کے وقت گھر لے آیا۔ پوچھنے پر بتایا کہ اس کا نام رضیہ ہے اور میں نے اس سے شادی کر لی ہے، اب یہ یہیں رہے گی۔ میں حیران رہ گئی۔یا اللہ! ایسے بھی دنیا میں کہیں ہوتا ہے؟یہ ڈھیٹ ایسی کہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوتی تھی۔ آخر، رات ہو گئی تو میں نے کہا۔

“اب اتنی رات کو کہاں جائے گی۔ رات کے رات یہاں رہ لو صبح تڑکے یہاں سے نکل جانا، کوئی تمھیں دیکھے گا بھی نہیں”۔ رات بھر فکر سے میری نیند اُڑی کی اُڑی رہی اور وہ بے خبر غفلت کی ماری صبح دیر تک بستر پر پڑی رہی۔ نظام صبح صبح کام پر جا چکا تھا۔ شام لوٹ کر گھر آیا تو منّت و سماجت کرنے لگا۔

“کہاوت مشہور ہے کہ بیٹا کا دل قصائی کا اور ماں کا دل گائے کا۔ آخر کار، گھر میں اسے سہارا دے ہی دیا اور اس کے بعد میں نے دیکھا کہ ہلال، پورنیماشی، اماوس سب گزر گئے، اس نے کھا پی کر سب ہضم کر لیا۔ ڈکار تک نہ لی۔ مجھے حیرانی ہوئی۔ کافی گھما پھرا کر دس بہانے سے پوچھا تو پیٹ کی طرف اشارہ کر کے بولی۔

“دوسرا مہینہ چڑھ گیا ہے۔”

وہ دن ہے اور آج کا دن۔ مدراسن اتنی سخت جان ثابت ہوئی کہ کھٹّی دال اور باسی بھات سب کچھ ہضم کر جاتی ہے اور اسے کچھ ہوتا بھی نہیں اور کوئی ہوتی تو کھاٹ پکڑ لیتی، لیکن یہ باسی تباسی جو بھی کھاتی اس کے بدن کو لگتا گیا۔ افضل پیدا ہوا تو نظام جیل میں تھا۔ اس نے بتایا کہ مال تو اس کے دوستوں نے اُڑا لیے تھے اور اسے تھانے میں پھنسادیا گیا تھا۔ دانے دانے کو میں ترستی رہی۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ نظام الدین بھاری مال جمع کر رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو میں کب کی اسے جیل سے چھڑا لاتی۔ لیکن بولنے والوں کی زبان کس نے پکڑی ہے۔

مجھے اس بات کا احساس تھا کہ ارہر بڑھیا جھوٹ نہیں بولتی تھی۔ مجھے اس کی ایمانداری کا ایک واقعہ اچانک یاد آ گیا۔

ارہر بڑھیا میرے گھر میں بھی چھوٹے موٹے سودے سلف لے آیا کرتی تھی۔ گھر کے اوپر کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹا دیا کرتی تھی۔ ایک بار رات کے گیارہ بجے وہ اندھیرے میں جنگل کی کچی زمین بلکہ اونچی نیچی زمین پر پاؤں جماتے ہوئے ہمارے گھر چلی آئی۔ رات تیز بارش ہو رہی تھی۔ ڈاکٹرنی! ڈاکٹرنی! سب لوگ جاگے ہیں یا سوگئے؟ وہ میری امّی کے دکھ تکلیف اور بیماری میں بڑی خدمت کیا کرتی تھی۔ امّی نے دروازہ کھولا اور گھر کیے اندر بلالیا۔ کہنے لگی۔

“میں شام میں ڈیری سے دودھ لانے گئی تھی۔ ساڑھے گیارہ  روپے کا دودھ ہوا اور باقی اٹھنّی میں نے اپنی کمر میں اڑوس رکھی تھی۔‘‘وہ ہمیشہ ساری پہنا کرتی تھی، کہنے لگی:

“رات بستر پر لیٹی تو کروٹ بدلتے ہی اٹھنّی گڑی، میں نے سوچا آخر کیا ہے؟ جو مجھے یوں چبھ رہا ہے، ہاتھ سے چھوا تو محسوس ہوا کہ کوئی سخت سی چیز ہے، پھر معلوم ہوا کہ سکہ ہے۔ کچھ دیر تک دماغ پر زور دینے کے بعد مجھے خیال آیا کہ یہ تو ڈاکٹرنی کی اٹھنّی ہے اور میں سوچنے لگی۔ ڈاکٹرنی کیا سوچیں گی کہ دیکھوپچاس پیسے کے لیے خالہ نے مجھ سے بتایا تک نہیں اور اٹھنّی چھپا کر رکھ لی۔ اگر خالہ مجھ سے مانگ لیتی تو کیا میں انھیں نہیں دے دیتی۔ اس خیال کے آتے ہی میں بے چین ہو گئی۔ پہلے تو دل کو سمجھایا کہ صبح ہونے پر دے آؤں گی لیکن دل نہیں مانا، آنکھوں سے نیند اڑ گئی مجھے لگا جیسے میرا ضمیر اس کا بوجھ نہیں اٹھا پائے گا۔ قیامت کے دن اللہ کو کیا منھ دکھاؤں گی۔اس نے اٹھنّی میری امّی کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا۔

“لالٹین کی بتّی بڑھائی تو اندھیرے میں میری ہتھیلی پر اٹھنّی چمک رہی تھی۔”

بات آئی گئی ہو گئی۔

میری امّی بارہا ذکر کیا کرتی تھیں۔

“دیکھو کیسی ایماندار بڑھیا ہے۔ لوگ اسے کانی کہا کرتے ہیں۔ کوئی اس کے بیٹے کو چور بتاتا ہے۔ مگر مجھے تو یہ ایماندار معلوم ہوتی ہے۔”

بیوہ تھی۔ اس لیے فطرہ اور زکوۃ کے پیسے ہم لوگ اسے ہی دے دیا کرتے تھے۔ ضرورت پڑنے پر گھر میں اوپر کے کام کاج بھی کر دیا کرتی تھی۔ روٹی کھانے اور پرانے کپڑے ہم اس کے پوتوں کے لیے دے دیا کرتے تھے۔

وقت تیزی سے اپنا چکّر پورا کرتا رہا……

میں دلّی آ گیا۔ یہاں میں ایک سنٹرل یونیورسٹی میں لیکچرر ہو گیا۔ اس عرصے میں میری امّی کا انتقال ہو گیا۔ کوئی دس سال کے بعد جب میں جمشید پور گیا تو میں نے دیکھا کہ دوپہر کے وقت لوگ ارہر بڑھیا کے گھر کو چاروں اطراف سے حصار میں لیے کھڑے تھے۔ ایک اوجھا بیٹھا وہاں کچھ جھاڑ پھونک کر رہا تھا۔ میں نے زیادہ دھیان نہیں دیا اور آگے بڑھ گیا۔ مجھ سے ڈرائیور نے کہا “صاحب! کوئی مداری والا ہے، کھیل دکھا رہا ہو گا۔” میں نے بھی سن کر بس ہاں، ہوں کر دیا۔

گھر میں سبھوں کے حال چال دریافت کیے جاتے رہے۔ سبھوں نے ایک ساتھ مل کر کھانا کھایا۔ پھر جب شام ہوئی تو میں گھر سے باہر نکلا۔ وہاں پکی سیاہ سڑک پر ہمارا چتکبرہ پڑوسی نبی رسول کھڑا ہوا دور سے کسی برص کے بدنما داغ کی طرح معلوم ہو رہا تھا۔ گال پچک چکے تھے۔ ہڈیاں ابھر آئی تھیں۔ بال بری طرح سفید مٹیالے ہو رہے تھے۔ یہ اتنا حاسد واقع ہوا تھا کہ جسم پر اس کے کبھی ایک بوٹی گوشت نہیں چڑھتا تھا۔ ہر وقت دوسروں کی ٹوہ اور عیب جوئی میں لگا رہتا تھا۔ خود کی بہو کسی کے خالی گھر میں کسی کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑی جائے تو کوئی بات نہیں لیکن مُحلّے میں کسی کی بہو بیٹی نے رکشہ پر جاتے ہوئے برقعہ الٹ کر دیکھ بھی لیا تو وہ اس شخص کی حاملہ ٹھہرا دی جاتی تھی۔ اس کی پوری چھان بین کرنا،اس کی تضحیک کرنا وہ اپنا پیدائشی حق سمجھتاتھا۔ مجھ سے علیک سلیک کے بعد کہنے لگا۔

“ڈاکٹر صاحب! آج کل ارہر بڑھیا ڈائن ہو گئی ہے۔”

میرا ماتھا ٹھنکا یہ ضروراس کی کوئی نئی سازش ہو گی۔ مجھے یاد ہے پہلے کبھی یہ کسی سے بات نہیں کرتا تھا۔ ہو نہ ہو یہ ٹنٹا اسی نے کھڑا کیا ہو گا۔ میں نے حیرت کا مصنوعی اظہار کرتے ہوئے دریافت کیا۔

“ایسی کون سی آفت آ گئی، اس کی وجہ سے، اوّل تو وہ ڈائن ہوہی نہیں سکتی۔ اس کے گھر میں تین تین پوتے پوتیاں ہوئیں اور اس کی گود میں پل کر سبھی بڑے ہوئے۔ ارہر بڑھیا ڈائن ہوتی تو انھیں چھوڑتی؟”نبی رسول کہنے لگا۔

“علاء الدین کی بیٹی مری ہوئی پیدا ہوئی یا شاید پیدا ہوتے ہی مر گئی۔” اس نے عجلت میں اپنے منھ سے نکلے فقرے کو درست کیا۔”کیونکہ اس کی پیدائش سے ایک دن پہلے اس نے علاء الدین کی بیوی کا پیٹ دیکھ لیا تھا۔”

میں نے عدم دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا۔”اب لوگ باگ کیا کہہ رہے ہیں؟ اس کا کیا کرنا ہے؟”

“کرنا کیا ہے! تڑی پار کر دی جائے گی۔ اب اس محلے میں تو اسے کوئی ٹکنے نہیں دے گا،”نبی رسول نے ہتھیلی پر کھینی کچھ زیادہ ہی زور سے ملتے ہوئے کہا۔

میں خاموش رہا، وہ مجھے متجسس سمجھ کر دوبارہ گویا ہوا۔”ہم نے ایک سماج سدھار کمیٹی بنائی ہوئی ہے۔ لوگوں نے مجھے اس کا صدر بنایا ہے۔ لیکن جیسے ہی میں صدر بنا اتفاق دیکھیے کہ اس کے دوسرے ہی دن علاء الدین کے گھر کے زیورات چوری ہو گئے۔ پچاس ہزار کے زیورات تھے۔وہ بہت پریشان ہوا۔ کمیٹی سے درخواست کی۔ درخواست پر غور کرنے کے بعد کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ارہر بڑھیا کا بیٹا چور ہے۔ آج کل چونکہ باہر ہاتھ مارنے کا اسے موقع نہیں ملتا ہے اور شریر سے بھی کمزور ہو چکا ہے۔ اس لیے گانجے چرس کے لیے اس نے محلے میں ہی چوری کرنا شروع کر دی ہو گی،”کہتے کہتے اس نے کھینی کی ایک چٹکی منھ میں دبائی اور تھوک کی پچکاری چھوڑتے ہوئے لنگی جانگھوں کے بیچ سمیٹ کر بولا۔

“ڈاکٹر صاحب! آپ کو یقین نہیں آئے گا۔ کمیٹی نے جب محلے والوں کے سامنے اس کے گھر کی تلاشی لی تو ارہر بڑھیا کے کپڑوں میں لپٹے ہوئے زیورات اس کے بکسہ کے اندر سے نکلے۔ پھر کیا تھا، پولیس آئی اور ماں بیٹے کو تھانے لے گئی۔وہاں اس کے بڑھاپے کا خیال کر کے اسے تو چھوڑ دیا لیکن نظام چونکہ عادی مجرم ثابت ہوا،اس لیے اسے ساڑے تین سال کی سزا ہو گئی۔”

مجھے واقعی یقین نہیں ہوا۔ میں وہاں سے کسی بہانے سے ہٹ گیا۔

اس واقعے کے علل و اسباب پر میں دیر تک بیٹھا غور کر رہاتھا۔ ایک ایک کر کے واقعات کی کڑیاں ملاتا رہا۔ در اصل، علاء الدین اس محلے کا نامی غنڈہ تھا۔ بلرام پور، پرولیہ میں کسی سنگین جرم کے ارتکاب میں ملوث تھا اور اسے مغربی بنگال کی پولیس ڈھونڈ رہی تھی۔وہ قانون کا فرار مجرم تھا۔ یہاں اسے نبی رسول نے شروع شروع میں سہارا دیا تھا۔ دونوں کو باہم دیگر سہارے کی ضرورت تھی۔ اس کی قوت بازو اور اس کے شاطر دماغ نے پورے محلے بھر میں لوگوں کی ناک میں دم کر رکھا تھا۔ اس زمانے میں ارہر بڑھیا پہلی عورت تھی جس نے پورے محلے کے سامنے نبی رسول کو خوب  دل کھول کے جلی کٹی سنائی تھی۔

یہ جس قدر بے ایمان تھا،اتنے ہی پر تقدس نام اپنے بچوں کے رکھے ہوئے تھا۔ اوّل تو بیوی چھوٹا ناگپور کی آدی باسی تھی۔ اسے کلمہ پڑھوا کر اس نے جنت خاتون کے نام سے شادی کر لی تھی۔ شادی کے عوض اسے جھارکھنڈ کے ایک گاؤں میں گھر اور زمین کی ملکیت مل گئی تھی۔ دوسرے اس نے بچوں کے نام عیسیٰ اور موسیٰ رکھے ہوئے تھے۔ سناہے، دُنیا کے سارے برے لوگ اپنے سارے برے دھندے اچھے ناموں کی آڑ میں ہی کیا کرتے ہیں۔ اس کا خود کا بھی کیا مبارک نام تھا، نبی رسول!۔اس کا تیسرا بیٹا جب پیدا ہوا اور اس کا نام اس نے خالق رکھا تو ہم سبھی بھائی بہن اپنے اس نئے پڑوسی پر ان دنوں خوب ہنسا کرتے تھے۔ یہ خود  تو نبی رسول ہے شادی کرتے ہی جنت اس کے گھر میں آ گئی،۔عیسیٰ اور موسیٰ بھی اس کے ساتھ ہیں،۔ایک کمی رہ گئی تھی خد ا کی تو اس خالق نام کے ساتھ اس نے وہ بھی پوری کر لی۔ اب بچا ہی کیا ہے؟ جو اُسے گناہوں سے روکے۔ وہ دل کا کالا آدمی تھا۔ وہ بتولن کے ارہر کے کھیت ہڑپنا چاہتا تھا۔ یہ تب کی بات ہے جب نبی رسول نے اس محلے میں مکان نہیں بنایا تھا اور بتولن نے اپنے کھیت میں ارہر نہیں بوئے تھے۔ بتولن بعد میں ارہر بڑھیا کے نام سے مشہور ہوئی۔ جب اس نے پورے محلے کے سامنے اس کی سازش کو بے نقاب کر کے اس کی عزت سر عام نیلام کر دی تھی۔

کتا اپنا زخم اس وقت تک چاٹتا رہتا ہے۔ اس کا زخم اس وقت تک مندمل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنا بدلانہ لے لے۔ ویسے بھی بدلہ لینے والے کا زخم ہمیشہ ہرا رہتا ہے۔ اوپر سے طرہ یہ کہ نبی رسول اوّل درجے کا کینہ توش آدمی تھا۔ میں نے سوچا۔

نبی رسول نے ارہر بڑھیا کے کمزور اور بیمار پڑتے ہی سازش رچ دی ہو گئی اور اس کے بیٹے نظام کو ساڑے تین سال کی سزائے قید کروا دی ہو گی۔

پہلے یہ میرا خیال تھا۔ آپ اسے گمان کہہ لیجیے۔ لیکن بعد میں چند ایک معتبر لوگوں سے اس بات کی تصدیق بھی ہو گئی۔ اب سوال یہ تھا کہ ارہر بڑھیا اچانک ڈائن کیسے ہو گئی۔ میری بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ میں نے اپنے شام کے کپڑے تبدیل کئے۔ سگریٹ سلگائی اور پینٹ کی جیب میں ایک ہاتھ ڈالے، ارہر بڑھیا کے گھر کے سامنے لگے مجمعے کی طرف نکل پڑا۔ سڑک پر چلتے ہوئے میں نے محسوس کیا۔

آج سے دس سال پہلے یہ علاقہ کس قدر ہرا بھرا ہوا کرتا تھا۔ کچی پگڈنڈیوں پر چل کے ہم یہاں تک آیا کرتے تھے۔ دور دور پر سرخ کھپریل کے اِکا دُکا مکان ہی نظر آتے تھے۔ رات برات کوئی مسافر آندھی پانی میں رستہ بھٹک کر پھنس جاتا تو ہم اسے لالٹین کی روشنی میں ہاتھ میں ڈنڈا لیے، دور تک بحفاظت چھوڑ کر آیا کرتے تھے۔ آج کیسی گھنی آبادی ہو گئی ہے۔ یہاں چاروں طرف جدھر دیکھیے کنکریٹ کے اونچے اونچے پختہ مکان بن چکے ہیں۔ زمین کی قیمت ہے کہ آسمان چھو رہی ہے۔ سامنے دلمہ پہاڑ کا خوبصورت

نظارہ مکانوں کی کھڑیوں اور دروازوں نے کھا لیے ہیں۔ اونچی اونچی دیواروں کے بیچ یوکلپٹس کے درخت نہ جانے کہاں گم ہو چکے ہیں۔ آس پاس کے علاقوں میں کیسے کیسے پٹرول پمپ، بس اڈے، سنیما گھر ا ور شاپنگ مال کھل گئے ہیں۔

اچانک میرے ذہن میں خیال آیا۔ نبی رسول اور علاء الدین جو، اب ایک دوسرے کے سمدھی بن چکے ہیں دونوں مل کر ارہر بڑھیا کا کہیں مکان تو ہڑپنا نہیں چاہتے ہیں؟ اس کا بیٹا نظام الدین جیل میں ہے اور بڑھیا کی عمر طویل ہی ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی عمر اسی سال ہونے کو آئی اور وہ اب بھی زندہ اور آئندہ بھی دس برسوں تک کوئی اس کا بال بیکا نہیں کرسکتاتھا۔ ہاں! کمر اس کی مزید خمیدہ ہو چکی تھی۔  چہرے پر بے شمار ننھی ننھی منحنی سی جھریوں کا جال بن چکاتھا۔ جیسے زر خیز زمین پر سوکھے کی متواتر مار جھیلنے کی وجہ سے دراڑیں پڑ گئی ہوں۔ لیکن بتیسی اب تک اپنی جگہ پر ویسے ہی صحیح سلامت تھی۔ شاید یہ مسی کا کمال تھا۔

مجمع میں بڑے چھوٹے، بوڑھے بچے، جوان عورت مرد سبھی ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ ان سبھوں کے چہرے پر خوف اور ہیبت کی دبیر پر چھائیں موجود تھی۔ ایک کالا بھو جنگ ہڈی چمڑے کا ڈھانچہ نما آدمی سر پر بالوں کا ایسا جٹا دار جوڑا کیے بیٹھا تھا کہ اس کے آگے بھگوان شنکر کی جٹا بھی پھیکی پڑ جائے۔ خونی لال رنگ کی اچکن اور تہمد باندھے اپنا گورکھ دھندا لیے بیٹھا تھا۔ گلے میں تلسی اور رودراکش کی کنٹھ مالا پڑی ہوئی تھی۔ سامنے مردے کی کھوپڑی پر لال سندور، ایک مرغا، شراب کی بوتل، اصلی گھی کا ڈبہ اور اڑہل کے چند لال پھول پڑے ہوئے تھے۔ لوگ باگ کھسر پھسر کر رہے تھے۔ ان کے کچھ فقرے میرے کانوں میں بھی پڑ رہے تھے:

“بہت بڑا تانترک ہے۔”

“ضرور شیو مت کا ماننے والا ہو گا”۔

“بار بار جے بھوانی! جے بھوانی اور کالی کلکتے والی بولتا رہتا ہے۔”

“پر شراب تو بھیروں پیتے ہیں؟”

“ارے ڈائن کا بدھ کرنے کے لیے تو بھیروں بننا ہی پڑتا ہے۔”

“ڈائن اور چڑیلیں اتنی آسانی سے کہاں قابو دیتی ہیں۔”

غرض یہ کہ جتنے منھ اتنی بات ہو رہی تھی۔ سنتے سنتے مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ اس تانترک سے مجمع میں بڑھ کر پوچھا:

“ہاں بھئی مہاراج جی! یہ سب کیا ہے؟”

اس نے پہلے تو اپنی سرخ غصیلی آنکھوں سے مجھے گھور کر دیکھا، پھر بولا۔

“اس گھر میں ایک ڈائن رہتی ہے۔ اس نے علاء الدین جیسے سجن ویئکتی کے نو جات ششو کا پیدا ہوتے ہی کلیجہ کھا لیا ہے۔ اب اس سبھا میں وہ ننگی ناچتی ہوئی آئے گی اور ہم اس کا ڈائن چھڑا دیں گے۔ آپ بھی دیکھنا، وہیں ہاتھ باندھے کھڑے رہو۔”

“تمہیں کیسے پتہ چلا کہ ارہر بڑھیا نے ہی اس کا بچہ کھایا ہے اور یہ کہ وہ ڈائن ہے؟”

یہ سن کر اس نے سامنے پڑے گانجے کی چلم سے دوچار لمبی لمبی کش کھینچی پھر کچھ سوچنے کے بعد ترنگ میں آ کر بولا:

“کل رات بارہ بجے میں شمشان گھاٹ میں ایک مردے کے آسن پر بیٹھا تھا۔ وہاں ماں کالی پرکٹ ہوئی اور وہ بولی ارہر بڑھیا نے ہی نو جات ششو کا کلیجہ کھایا ہے۔”

اس عیار کی ایسی ڈھونگ بھری حرکتیں معاً میرے لیے ناقابل برداشت ہو گئیں۔ پہلے تو خاموش کرنے کی غرض سے آگے بڑھا مگر لگا وہ مجھے بندر گڑکیاں دینے۔

“خبردار! آگے مت آنا”، کہہ کے پہلے تووہ لنگور کی طرح خوب بلیوں اچھلنے لگا پھر بڑے ڈرامائی انداز سے کچھ پھوں پھاں کر کے ہاتھ پیر چلائے اور جے ماں کلکتے والی کی کریہہ اور ڈراؤنی آواز نکالی اور بولا۔

“بھشم ہو جائے گا تو اگر اور ایک قدم بھی آگے بڑھا تو، اس سادھو کے شراپ سے خون تھوکنے لگے گا تو۔”

اتنا سننا تھا کہ میں نے فی الفور اسے گریبان سے پکڑ کے اس کی مشکیں کسی اور کہنی کاجو دبا کر ایک زبردست ٹہوکا دیا تو اوندھے منھ زمین پر جا کر بھڑام سے گرا اور وہاں پڑا دھول چاٹنے لگا۔ منٹوں میں اس کے دونوں ہونٹ پھول کے ملغوبہ ہو گئے۔ اس کے بعد اسے رام کرنے میں مجھے چنداں دیر نہ لگی۔آن کے آن میں اس کا سارانشہ ہرن ہو چکا تھا۔ وہ ایسا خوف زدہ ہوا کہ سیدھے میرے پاؤں پر آ کے گر گیا۔

یہ دیکھنا تھا کہ مجمع میں کہرام مچ گیا۔

“مارو مارو،…… بچاؤ بچاؤ،…… اور مارو،…… مت مارو،…… چھوڑ دو چھوڑ دو،……” کا شور برپا ہو گیا۔

اتنے میں علاء الدین اور نبی رسول بھی وہاں آ گئے۔ یہ اب تک دور کھڑے نظارہ دیکھ رہے تھے۔

“اجی! ڈاکٹر صاحب، آپ کیوں ہاتھ گندہ کرتے ہیں۔ چھوڑ دیجیے اسے ابھی کمیٹی کے ممبران پولیس کے حوالے کر دیں گے۔” مجمع میں سے ایک اونچی آواز اُبھری۔

“پولیس کچھ نہیں کرے گی۔ مارو اس پاکھنڈی کو بچ کے جانے نہ پائے۔”

دونوں سمدھی میری گرفت سے اس کا گریبان چھڑانے کی حتی المقدور کوشش کرنے لگے۔

“ارے صاحب! آپ سمجھتے نہیں ہیں؟…… جمشید پور کتنا حساس علاقہ ہے۔ ہندومسلم دنگا بھڑکتے دیر نہیں لگے گی۔”میں نے علاء الدین کو تیز نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔

“یہ جو چرکی داڑھی ہے تمہاری، اس کے رکھ لینے سے تم شریف نہیں ہو گئے ہو۔ میں تمہاری ہسٹری جانتا ہوں۔ سب سے پہلے تم جاؤ گے جیل میں اگر فساد بھڑکا تو، یاد رکھنا میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں!”میں نے غصے سے کہا۔

“آج میں اتنا ماروں گا اسے کہ زندگی بھر یہ کسی کے ساتھ دھوکا دھڑی نہیں کرے گا۔”یہ سن کر دونوں سمدھی تو ایک طرف کو کھسک گئے اور اس اوجھا نے مرتے ہوئے چوہے کی طرح آنکھ اٹھا کر اوپر دیکھا اور ڈر سے سہم گیا۔

“اسے صرف ایک شرط پر معاف کرسکتا ہوں۔”میں نے مجمع کی طرف دیکھا اور انہیں حق بجانب محسوس کرتے ہوئے کہا۔

“اگر یہ سبھوں کے سامنے اپنا گناہ قبول کر لے اور بتا دے کہ اس گورکھ دھندے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے اور ارہر بڑھیا جیسی شریف اور ایماندار عورت کو کس نے ڈائن قرار دینے کو کہا تھا؟” ایک ساتھ کئی آوازیں آئیں۔

“ہاں! ہاں! اسے بتانا ہو گا۔”

کسی نے آگے آ کر کہا۔”او بے پاکھنڈی بتا دے ورنہ پبلک پیٹ پیٹ کر تجھے جان سے مار ڈالے گی۔”

اس نے چاروں طرف نگاہ دوڑائی اور پانسہ پلٹتا ہوا دیکھ کر پہلے تو اس نے باری باری علاء الدین اور نبی رسول کی طرف دیکھا جو ہاتھ باندھے خاموشی سے دم بخود کھڑے تھے۔ پھر ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ بولا۔

“صاحب جی! یہی وہ لوگ ہیں۔ جنھوں نے دولت کا لالچ دے کر یہ کہانی گڑھنے کو کہا تھا۔ میں کسی آسن واسن پر نہیں بیٹھا تھا۔ ارہر بڑھیا کو میں جانتا بھی نہیں۔ یہ مائی بے قصور ہے۔ اصل میں، میں فقیر آدمی ہوں،دولت کے لالچ نے مجھے اندھا کر دیا تھا۔”

اتنا سننا تھا کہ مجمع کا رخ بدل گیا اور لوگ جوتے چپلوں سے دونوں سمدھیوں پر نشانہ سادھنے لگے۔ محلے کے سارے مظلوم لوگ اپنا حساب چکتا کرنے میں لگ گئے۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی بوڑھی اور بیوہ عورتوں کو جو ایسے لوگوں کی باتوں میں نہیں آتی ہیں، انہیں اس نوع کے سماج کے معدودے چند ریا کار اور دھوکے باز لوگ اپنے نجی مفاد کے حصول کے لیے ڈائن قرار دے دیتے ہیں۔ ارہر بڑھیا بھی اسی قسم کی سازش کا شکار ہوتی ہوتی بچی تھی۔ کیوں کہ اس کے مکان اور پلاٹ کی قیمت اب بیس لاکھ لگائی جا رہی تھی۔ میں ان باتوں پر غور کرتے کرتے بستر پر لیٹ گیا اور کب آنکھ لگ گئی پتہ ہی نہیں چلا۔

جب آدھی رات بیت گئی تو اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے دیکھا:

ارہر بڑھیا دروازے پر بیٹھی زار و قطار  رو رہی تھی۔

“بیٹا! تو نے آج آ کر اس بڑھیا کی لاج بچا لی۔ اللہ نے تجھے میری جان کی حفاظت کے لیے فرشتہ بنا کر بھیجا ہے۔”

تھوڑے توقف کے بعد وہ دوبارہ گویا ہوئی۔

“میری باتوں کا اب یہاں کوئی یقین نہیں کرتا ہے۔ میرے باپ چچا نے دھنباد کی کوئلیری میں ضرور کوئی نیکی کی ہو گی، ورنہ …… اس نبی رسول نے پہلے میرے بیٹے کو جیل بھجوا دیا۔ پھر میری بہو کو دھمکا دھمکا کر اتنا ورغلایا کہ وہ مجھے یہاں اکیلا چھوڑ کر بچوں کے ساتھ اپنے مائیکے چلی گئی۔”وہ کہتے کہتے پھر رونے لگی۔

“اتنا دکھ جھیلنے کے بعد بھی میں زندہ ہوں۔”

میں نے ارہر بڑھیا کو دونوں بازوؤں سے پکڑ کر اوپر اٹھایا اور اپنے کندھے کے سہارے ایستادہ کر کے اس کی چوندھیائی ہوئی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسوؤں کو پوچھنے لگا۔معاً مجھے محسوس ہوا۔

پہاڑ سے لکڑیاں کاٹ کر لاتے لاتے ارہر بڑھیا کا جسم بھی کاٹھ کا ہو گیا تھا۔ شال کی چھال کی طرح اس کے بدن ہاتھ کی جلدیں بھی کھردری ہو چکی تھیں۔

“نانی تم گھبراؤ مت۔ تمہارا کوئی ایک بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔ میں ہوں نا!”

اتنا کہتے کہتے میرا گلا ایک دم رندھ گیا۔ کچھ دیر بعد خود پر قابو پاتے ہوئے میں نے دریافت کیا۔

“نانی! ایک مشورہ دوں آپ کو؟”

وہ سراپا سوالیہ نشان بنی خالی خالی نگاہوں سے مجھے دیکھنے لگی۔

“آپ یہ مکان بیچ کیوں نہیں دیتیں؟ بیس بائیس لاکھ روپے مل جائیں گے۔ ان بہت سارے روپوں کو لے کر آپ اپنے باپ چچا کے پاس دھنباد چلی جائیے۔”

“نہ بیٹا ناں! یہ مجھ سے نہ ہو گا۔ اب وہاں کون بیٹھا ہے رانڈی کو پہچاننے والا؟ باپ چچا سب مر کھپ گئے۔ اب اس بوجھ کو کون ڈھوئے گا؟ جب اپنا جنا ہوا بیٹا ہی نہیں ڈھو رہا ہے، یہاں۔”

“نانی وہ کہاوت سنی ہے ناآپ نے۔’جس کے ہاتھ میں ڈوئی اس کا ہر کوئی۔‘ جب پاس میں پیسے ہوں گے تو سبھی آپ کے آگے پیچھے دوڑیں گے۔ سارے روپے کسی کو دینے کے بجائے بینک میں جمع کرا دیجیے گا۔”

“مکان ہے تب تو یہ حال ہے۔”ارہر بڑھیا نے قدرے تاسف سے کہا۔

“جب بینک میں روپے ہوں گے تو اور تو کوئی نہیں بہو کے کہنے میں آ کر بیٹا ہی اپنے ہاتھوں سے بڑھیا کا گلا دبا دے گا اور کورے کاغذ پر انگوٹھا لگوا لے گا۔” وہ کچھ دیر تک سوچنے کے بعد ٹھنڈی آہ بھر کر بولی، گو وہ بہت تھک گئی ہو اور افکار کی دنیا میں بہت دور تک سفر کر کے واپس آئی ہو۔

“اپنے جیتے جی میں کسی کو اس مکان میں ہاتھ لگانے نہ دوں گی۔”

میں نے کہا۔”یہ ہوئی نہ ہمت والی بات! اب کوئی بھی آپ کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا، حوصلہ رکھیے۔ یہی حوصلہ ایک دن دشمنوں کے دانت کھٹے کر دے گا۔”

اصل میں اس کا پختہ یقین تھا کہ اس کا بیٹا بے قصور ہے اور وہ چھٹ کر ایک دن ضرور آئے گا۔

موسم گرما کی تعطیل گزار کر میں دلّی جانے کی تیاری میں مصروف ہو گیا۔ دوسرے دن صبح مجھے راجدھانی ایکسپریس سے دلّی روانہ ہونا تھا۔ ٹھیک شام کے وقت ارہر بڑھیا لمبے لمبے ڈگ بھرتی ہوئی ہمارے یہاں چلی آ رہی تھی۔ آج تو اس کی چال میں غیر معمولی تیزی نظر آ رہی تھی۔

“بیٹا! نظام الدین چھٹ کر آ گیا۔”

وہ بچوں کی طرح اٹھلا رہی تھی،”میں نہ کہتی تھی، نظام بے قصور ہے وہ ضرور آئے گا۔”

جب ارہر بڑھیا نے یہ جملے اپنے منھ سے ادا کیے تو مجھے ایسا لگا جیسے تھوڑے فرق کے ساتھ مونالیزا اپنی صدیوں پرانی تصویر سے نکل کر سامنے آ گئی ہو،اور وہ فرق صرف ا تنا سا تھا کہ چہرے پر جھریوں کا جال سا بچھ گیا تھا مگر اس کے ہونٹوں پہ کھلی ہوئی مسکان اب بھی اس کے دل کی مسرور کن کیفیت کی غمازی کر رہی تھی۔

ارہر بڑھیا نے بتایا کہ کس طرح اس کے بیٹے کو رہائی نصیب ہوئی۔

در اصل، کچھ دنوں پہلے ایک نوجوان عاشق جو نیم پاگل معلوم ہوتا تھا۔ اچانک اس نے جیل کے داروغہ کی پستول پر جھپٹ کر قابض ہو گیا تھا اور اسے گولی مارنے کے بعد زخمی حالت میں چھوڑ کے جیل سے فرار ہو جانا چاہتا تھا کہ دفعتاً نظام الدین نے بڑی غیر معمولی سرعت کے ساتھ اسے جکڑ کر قابو میں کر لیا اور اس کے ہاتھ سے پستول چھین لی تھی۔ اس طرح، داروغہ ئ  جیل کی جان بچا لی تھی۔ جیلر صاحب نے اس کی ایمانداری اور بہادری کے عوض اس کی سزا ختم کروا دی اور اسے جیل سے جلدی رہا کر دیا گیا تھا۔

“اب تو آپ خوش ہیں نا، نانی؟ آپ کا بیٹا گھر آ گیا ہے۔”

میں نے اسے بتایا کہ کل سویرے والی گاڑی سے میں دلّی چلا جاؤں گا۔ اسے ہمت سے کام لینا چاہیے اور یہ کہ انسان کو کبھی حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے۔ چلتے وقت میں نے اسے کہا۔

“اچھا نانی، الوداع!”

دوسرے دن سورج کی پہلی کرن کے ساتھ کسی نے دروازے پر دستک دی۔ میں سوٹ کیس ہاتھ میں لے کر باہر نکلا تو کسی نے خبر دی۔

ارہر بڑھیا مر گئی۔

یہ سنتے ہی میرے ہاتھ سے سوٹ کیس چھوٹ کر زمین پر گر گیا۔

میں انتہائی مغموم دل کے ساتھ وہاں پہنچا تو دیکھا کہ ارہر بڑھیا بستر مرگ پرسوئی ہوئی تھی۔

چہرے پر ابدی سکون جیسے دنیا کا سارا کام نمٹانے کے بعد کوئی سورہا ہو۔ منھ کا دہانہ کھلا ہوا تھا۔ ارہر بڑھیا کے جبڑوں میں مسی لگے اس کے اپنے بتیس کے بتیس اصلی دانت ٹھیک ویسے ہی چمک رہے تھے، جیسے وطن کی حفاظت کی خاطر میدانِ جنگ میں شہید ہونے والے کسی میجر جنرل کے سینے پر براس کے چمکتے ہوئے تمغے اپنی فتح مندی کے گیت سنارہے ہوتے ہیں۔

٭٭٭

عالمی پرواز اور مختلف ویب سائٹس سے ماخوذ

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید