FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

مسیحؑ کے تین معجزے

               طالب الدین

پانی کا آبِ انگور بنانا

               ۱۔معجزہ

انجیل عیسیٰ پارہ یوحنا رکوع ۲ آیت ۱تا ۱۱ تک

یہ معجزہ حضرت عیسیٰ مسیح کی تبلیغ کے شروع میں نہایت ہی موزون تھا۔ کیونکہ اس سے آپ کے کل کام کا مقصد ظاہر ہو جاتا ہے ، یہ گویا آپ کی آئندہ کی تبلیغ کی ایک نبوت تھی۔ جناب مسیح ایک عجیب تبدیلی پیدا کرنے آئے تھے۔ پانی سے آب انگور بنانا اس حقیقی اور سچی تبدیلی کا نمونہ تھا۔جو آپ کی روح پاک کی قدرت سے گناہ گار کے دل میں اس وقت واقع ہوتی ہے جبکہ وہ آپ پر ایمان لاتے ہیں۔ پانی سے آب انگور بنانا گویا ایک ادنیٰ شئے سے افضل شئے بنانا تھا۔اور جس قدرت کا ملہ سے آپ نے یہ معجزانہ تبدیلی پیدا کی اسی وقت سے آپ گناہ آلودہ طبیعت اور رذالت اور خباثت کو دور کرتے ہیں۔ اور اسے الہی فرزندی کی فضیلت اور شرافت سے مالا مال فرماتے ہیں۔

آیت نمبر ۱۔پھر تیسرے دن قانائے گلیل میں شادی ہوئی اور جناب مسیح کی والدہ ماجدہ بھی وہاں تھیں۔

پھر تیسرے دن۔ یعنی آپ کو دو حواری یعنی حضرت فیلبوس اور حضرت نتھانیل کے آنے سے تین دن بعد، دو دون میں جناب مسیح اور آپ کے حواری یردن کے کنارے سے قانائے گلیل میں پہنچ گئے ہوں  گے۔ اور مسیح کی والدہ ماجدہ وہاں تھیں، یعنی علاوہ جناب مسیح اور آپ کے حواریوں کے آپ کی والدہ ماجدہ حضرت مریم صدیقہ بھی وہاں موجود تھیں۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف زندہ نہ تھے۔ ان کا آخری ذکر اس وقت آتا ہے جبکہ مسیح ان کے ساتھ  بیت اللہ کو گئے۔ اغلب ہے کہ وہ اس وقت کے بعد اور جناب مسیح کی تبلیغ کے آغاں سے پہلے کسی وقت فوت ہو گئے تھے۔

اور آپ کے حواری وغیرہ۔ عموماً یہ پانچ حواری مراد لئے جاتے ہیں۔ حضرت اندریاس، حضرت پطرس، حضرت فیلبوس، حضرت نتھانیل، اور حضرت یوحنا ان حواریوں میں سے جن کا ذکر ( انجیل شریف بہ مطابق حضرت یوحنا باب ۱ آیت ۳۵ تا۴۰) میں پایا جاتا ہے ایک حضرت یوحنا تھے اور دوسرے حضرت اندریاس اور یہ نتیجہ کہ ان میں سے ایک حضرت یوحنا تھے۔ ا س مفصل بیان سے مستنبط کیا جاتا ہے جو اس انجیل کے ہر صفحہ سے مترشح ہے (اور نیز اس بات سے بھی کہ وہ اپنا نام ظاہر کرنا نہیں چاہتے ) دیکھیں انجیل شریف بہ مطابق حضرت یوحنا باب ۱۳آیت ۲۳، باب ۱۵آیت ۱۹ باب ۲۶آیت ۳۵) اگر یہ قیاس ٹھیک ہے تو حضرت یوحنا بچشم خود اس معجزہ کے دیکھنے والے تھے۔

آیت نمبر ۲۔اور جناب مسیح اور آپ کے حواریوں کی بھی اس شادی میں دعوت تھی۔

اس شادی میں دعوت تھی۔ یعنی جناب مسیح کا اس شادی میں آنا بڑی برکت کا باعث تھا۔ وہ نہ صرف دکھ اور غم میں ہمارے ساتھ رہتے ہیں۔ بلکہ ہماری خوشی اور خرمی میں بھی ہمارا ساتھ دیتے ہیں۔آپ کی حضوری سے شادی کا جواز ثابت اور خاندانی تعلقات کی درستی اور عظمت کی تصدیق ہوتی ہے۔ جو لو گ شادی کے رشتہ پر حرف لاتے ہیں وہ غلطی میں ہیں۔ جس نے بے تکلفی سے حضرت مریم صدیقہ شادی کے معاملات میں دست اندازی کرتا ہیں ( دیکھیں آیت ۵) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے میزبان سے گہرا تعلق اور تعارف رکھتی تھی۔ ممکن ہے کہ وہ شادی والوں میں سے کسی فریق کی رشتہ دار ہوں  گی۔

جب مے  (انگور کا رس ) ختم ہو چکی۔ممکن ہے کہ جناب مسیح اور آپ کے حواریوں کے آنے سے مہمانوں کا شمار بڑھ گیا ہو۔ اور اس سبب سے مئے کم ہو گئی ہو۔ حضرت مریم صدیقہ اس کمی کو دیکھ کر متفکر ہوئی۔ اور چاہتی تھی کہ ان کی مشکل کسی طرح رفع کی جائے لہذا۔

آیت نمبر ۳۔جب میں ختم ہو چکی تو جناب مسیح کی والدہ ماجدہ نے ان سے فرمایا کہ ان کے پاس مے نہیں رہی۔

جناب مسیح سے فرمایا کہ ان کے پاس مے نہیں رہی۔ معلوم نہیں کہ وہ کس مقصد سے ان کے پاس آئیں اور کیا چاہتی تھی کہ وہ ان کے لئے کریں۔ کیونکہ مسیح کا یہ پہلا معجزہ تھا۔ (دیکھیں آیت ۱۱) اور حضرت مریم صدیقہ نے ان کی قدرت اعجاز کا کوئی کرشمہ ابھی تک نہیں دیکھا تھا۔ پس ان کو جرات نہیں ہوسکتی تھی کہ وہ ان سے یہ کہتی کہ تم اپنی معجزانہ طاقت سے ان کے لئے مے بنا دو۔ بعض لوگوں کا یہی خیال ہے کہ گو مسیح نے عام طور پر اپنی بزرگی اور عظمت ظاہر کرنے کو کوئی معجزہ اب تک نہیں دکھایا تھا مگر اپنے عزیزوں کے دائرے میں آپ نے کئی معجزے اس غرض سے دکھائے تھے کہ وہ اس ظاہر ی معجزہ کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔لیکن انجیل شریف کی سادہ بیانی سے خلاف ورزی اختیار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس میں صاف لکھا ہے کہ یہ آپ کا پہلا معجزہ تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ کس طرح حضرت مریم صدیقہ کو جناب مسیح کی بشارت دی گئی تھی۔لہذا ناممکن نہیں کہ گو آپ نے کوئی معجزانہ اظہار مسیح کی قدرت کا اب تک نہ دیکھا تھا۔ تاہم وہ ان نشانوں کے سبب سے اور اس نبوت کے کلام کے باعث جو جناب مسیح کی پیدائش سے وابستہ تھا ا س بات کی قائل تھیں کہ وہ موجودہ مشکل کو رفع کرنے کی پوری پوری قدرت رکھتے ہیں گو آپ نے اب تک اس قدرت کو عوام الناس میں ظاہر کرنا شروع نہیں کیا۔

بعض لوگوں کی یہ رائے ہے کہ وہ اس لئے جناب مسیح پا س یہ درخواست کرنے نہیں آئی تھیں کہ وہ معجزات طاقت سے مے کی مقدار بڑھا دیں یا اسے اور کسی طرح پیدا کر دیں۔ بلکہ وہ اس لئے آپ کے پاس آئی تھیں کہ ان کے ساتھ مشورہ کر کے اس موقع پر کیا کیا جائے کیونکہ آپ نے حضرت مسیح کو ہمیشہ دانا صلا ح کار اور عمدہ مشیر پایا تھا۔

پھر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ جب حضرت مریم صدیقہ نے یہ کہا کہ “ان کے پاس مے نہیں رہی ” تو اس کا مطلب یہ تھا کہ قبل ا سکے کہ ہمارے میزبانوں کی یہ مشکل فاش ہو اور وہ شرمندگی اٹھائیں بہتر ہے کہ ہم یہاں سے چلے جائیں۔

آیت نمبر ۴۔ جناب مسیح نے ان(حضرت مریم صدیقہ ) سے کہا کہ اے عورت مجھے آپ سے کیا کام ہے ابھی میرا وقت نہیں آیا ہے۔

اے عورت مجھے آپ سے کیا کام ہے۔الفاظ “اے عورت ” پر اکثر ہمارے مسلمان بھائی اعتراض کرتے ہیں کہ جناب مسیح نے اپنی والدہ ماجدہ کو “اے عورت ” کہہ کر مخاطب کیا جو کہ ایک نبی کو زیبا نہیں دیتے۔ہمارے مسلمان بھائی کا اعتراض سر آنکھوں پر لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے مسلمان بھائی جب بھی اعتراض کرتے ہیں تو وہ صرف انجیل شریف کا ترجمہ پڑھنے کے بعد اعتراض کرتے ہیں اور وہ قطعاً بھول جاتے ہیں کہ انجیل شریف کی الہامی زبان یونانی ہے جیسی کے قرآن شریف کی زبان عربی ہے۔اور اگر وہ انجیل شریف کی الہامی زبان جو کہ یونانی ہے اس میں اس آیت کو دیکھیں گے تو ہمارا ایمان ِ کامل ہے کہ پھر وہ دوبارہ اعتراض نہیں کریں گے۔ اصل زبان میں جو لفظ استعمال ہوا اور جسے اردو ترجمہ میں “اے عورت ” کیا گیا اصل میں وہ لفظ یونانی زبان میں “گونئے کوس ” ہے اور اگر ہم اس لفظ کے معنی دیکھیں تو ہم ورطہ حیرت میں پڑ جاتے ہیں کیونکہ جو لفظ “گونئے کوس ” استعمال کیا گیا ہے اس کے معنی اے عورت نہیں بلکہ اس کے معنی ہیں “اے ملکہ ” یعنی انگریزی الفاظ “لیڈی ” کے مترادف ہیں۔اور اس لفظ کا استعمال کرنا نہ صرف ظاہری ادب مقصود ہوتا تھا بلکہ دلی عزت بھی مقصود تھی۔ چنانچہ قیصر اگسطس نے ملکہ کلیو پیٹرا ( جس کا سن وفات جناب مسیح سے تیس سال قبل تھا ) کو خطاب کرتے ہوئے یہی لفظ استعمال کیا تھا۔اسی طرح سے دوسرے الفاظ یعنی” مجھے آپ سے کیا کام ہے “یونانی میں ان کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ “مجھے اور تجھے کیا” (دیکھیں کتاب مقدس قضات باب ۱۱ آیت ۱۲، ۱ سلاطین باب ۱۷ آیت ۱۸، ۲سلاطین باب ۳ آیت ۱۳، یشوع باب ۲۲ آیت ۲۴، ۲ سیموئیل باب ۳۶ آیت ۲ نیز انجیل شریف میں بہ مطابق حضرت متی باب ۸ آیت ۲۹ اور بہ مطابق حضرت مرقس باب ۱ آیت ۲۴ و بہ مطابق حضرت لوقا باب ۸ آیت ۲۸)اس سے بعض اشخاص نے یہ سمجھا کہ مسیح کا مطلب یہ تھا کہ اگر مے ختم ہو گئی ہے تو ہم کیا کریں۔ یعنی مجھے اور تجھے اس سے کیا واسطہ۔اس آیت کی تفسیر ایک مسیحی عالم ٹرنچ صاحب یوں فرماتے ہیں کہ ا س تفسیر کی بنیاد لا علمی پر قائم ہے۔ یعنی جو لوگ یہ خیال پیش کرتے ہیں وہ  اس محاور ہ کے معانی سے واقف نہیں ہیں۔

صاحب موصوف یہی تفسیر کرتے ہیں کہ”اس معاملہ میں مجھے کچھ نہ کہو۔ کیونکہ اس معاملہ میں مجھ میں اور آپ میں کسی طرح کا اشتراک نہیں ہے کیونکہ اس معاملہ میں اپنی قدرت کو ظاہر کرنا چاہتا ہوں ا س کا تعلق خون اور گوشت سے نہیں بلکہ اس کا علاقہ خدا کی بادشاہت کی ترقی کے ساتھ ہے۔ایک مسیحی عالم کری ساسسٹم صاحب فرماتے ہیں کہ ابھی حضرت مریم نے مسیح کی نسبت ایسا خیال کرنا نہیں سیکھا تھا جیسا ان کو کرنا چاہیے تھا۔بلکہ وہ خیال کرتی تھیں کہ چونکہ وہ میرے شکم سے پیدا ہوا ہے۔ لہذا جس طرح اور مائیں اپنے بچوں کو حکم کیا کرتی ہیں میں بھی انہیں حکم کرسکتیں ہوں اور نہیں جانتی تھیں کہ حکم کرنے کی نسبت ان کی تعظیم اور بندگی کرنا زیادہ زیبا ہے۔

ابھی میرا وقت نہیں آیا۔جب ہم ان لفظوں کو ماقبل کے الفاظ کے ساتھ پڑھتے ہیں تو یہی خیال گزرتا ہے کہ گویا یہی مراد تھی میرا وقت ابھی بہت دیر بعد آنے والا ہے اور حضرت یوحنا اکثر ان الفاظ کو مسیح کی موت یا ان کے اس دنیا سے کوچ کرنے کی نسبت استعمال کرتے ہیں۔ ( انجیل شریف بہ مطابق حضرت یوحنا باب ۷آیت ۳۰، باب ۸ آیت ۲۰، باب ۱۲ آیت ۲۳، ۲۷اور باب ۱۷ آیت ۱) مگر ایک اور جگہ ان الفاظ سے قریبی فاصلہ بھی مراد ہے ( انجیل شریف بہ مطابق حضرت یوحنا باب ۷ آیت ۶) اور یہی مطلب یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم نے بھی ان سے دیر کا مطلب نہیں سمجھا اور وقوعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جو مطلب حضرت مریم نے سمجھا وہی صحیح تھا۔ ان کے نزدیک مسیح کا یہی مطلب تھا کہ جب تک مے بالکل ختم نہ ہو جائے اس وقت کچھ نہیں کرسکتا ( اگر مسیح مے بنا دیتے تو اگسٹن صاحب کے قول کے مطابق لوگ یہی خیال کرتے کہ پانی تبدیل نہیں کیا گیا۔ بلکہ اس میں اور عناصر ایزاد کئے گئے ہیں ) پس معجزہ اس وقت ہونے تھا جب اس میں کسی طرح کے شک و شبہہ کی جگہ نہ رہتی۔

آیت نمبر ۵ان کی ( مسیح ) کی ماں نے خادموں سے کہا۔ جو کچھ وہ تمہیں کہے۔ اسے کرو۔حضرت مریم کو یقین تھا کہ وہ( مسیح ) ان کی درخواست کو قبول کریں گے اور انہوں نے کچھ کچھ یہ بھی جان لیا کہ کس طرح پورا کریں گے اسی لئے انہوں نے خادموں سے کہا کہ جو کچھ وہ تم سے کہے سو کرو۔ اس کے (مسیح ) حکم کو ماننا گویا معجزے کو وجود میں لا نا تھا۔

آیت نمبر ۶۔وہاں یہودیوں کی طہارت کے دستور کے موافق پتھر کے چھ مٹکے دھرے تھے اور ان میں دو دو تین تین من کی گنجائش تھی۔اس تفصیل سے فریب اور دھوکے کے لئے جگہ نہیں رہتی۔ پہلے یہاں مٹکو کا بیان ہے یونانی زبان میں جو لفظ آیا ہے وہ جس کے معنی پانی کے ہیں۔ یہ برتن شراب کے برتن یا شراب کی صراحیاں نہ تھیں۔ بلکہ ایسے برتن تھے جن میں پانی بھرا جاتا تھا۔ لہذا یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ چونکہ مے کی صراحیوں میں پانی ڈالا گیا تھا اس لئے پانی میں مے کے برتنوں کی بو پیدا ہو گئ تھی اور وہ مے سمجھا گیا۔ اب چونکہ یہ برتن بالتخصیص پانی کے برتن تھے لہذ اعتراض مذکورہ بالا کے لئے کوئی جگہ نہیں رہتی۔

پھر یہ بات بھی یاد رکھنی کے قابل ہے کہ پانی کے مٹکے وہیں موجود تھے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے کوئی ایسی صلاح نہیں کی تھی کہ ہم پہلے کہیں سے مٹکے لائیں گے اور پھر یہ کہیں کہ ان میں پانی بھرا ہوا تھا اور اب وہ پانی مے بن گیا ہے۔ بلکہ یہ مٹکے یہودیوں کے دستور کے مطابق پہلے ہی سے وہاں موجودتھے۔

مقدار بھی دی گئی تاکہ یہ شبہہ نہ رہے کہ تھوڑی سے مے کہیں سے چھپا کر لائے تھے اس مقدار سے مے کی کثرت ظاہر ہوتی ہے کیونکہ دو دو تین تین من کی گنجائش ان مٹکو میں تھی۔

مٹکو میں پانی بھر دو ان لفظوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جتنے مسیح کے لئے کام کرنے والے ہیں ان کا یہ فرض ہے کہ جیسا مسیح کہے ویسا کری۔ فرائض ہمارے ہیں اور واقعات خدا کے ہیں ہمارا کام ہے مٹکوں میں پانی بھرنا اس کا کام پانی سے مے بنانا۔

آیت نمبر ۷۔ مسیح نے ان سے کہا مٹکوں میں پانی بھر دو۔ پس انہوں نے کو لبالب بھر دیا۔اس سے ظاہر ہے کہ یہاں گمان نہیں ہوسکتا کہ پہلے ہی س ان میں مے بھری ہوئی تھی۔ خادموں نے اس کے (مسیح ) حکم کو مانا۔ بھر دیا۔ ان میں اور کوئی چیز اب نہیں ڈالی جا سکتی تھی۔

آیت نمبر ۸۔پھر اس نے ( مسیح )ان سے کہا۔ اب نکال کر میر مجلس کے پاس لے جاؤ پس وہ لے گئے۔شاید معجزہ اسی وقت واقع ہوا وہ جو انگور پیدا کرتا وہ جس نے مادہ کو نیستی سے خلق کیا باآسانی ایک قسم کے مادہ کو دوسری قسم کے مادہ میں تبدیل کرسکتا تھا۔ یہیں میر مجلس بھی مہمان تھا اور غالباً اس وقت ضیافت کا مہتمم تھا۔ مسیح سوشل دستوروں کی تحقیر نہیں کرتے بلکہ ہر شخص کو اس کا حق دینے کو تیار ہیں۔ چنانچہ وہ اس مے کو پہلے میر مجلس کے پاس بھیجتا ہے۔ اس قسم کے مہتمم یونانیوں اور رومیوں میں بھی پائے جاتے تھے۔ وہ لے گئے اطاعت۔

آیت نمبر ۹۔جب میر مجلس نے وہ پانی چکھا جو مے بن گیا تھا۔وہ تو اب پانی نہ تھا بلکہ مے تھی۔ مگر رسول اس واسطے اسے پانی کہتا ہے کہ مے بننے ے پہلے وہ پانی تھا اور نیز اس لئے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ ان میں شروع ہی سے مے بھری ہوئی تھی۔

ابھی تک ا س کو اس کو با ت کا علم نہ تھا کہ مے پانی سے بنی ہے وہ جیسا ا س کے بیان مابعد سے ظاہر ہوتا ہے یہی خیال کرتا تھا کہ میزبان نے اس رکھ چھوڑا ہے لیکن خادم جنہوں نے پانی کوئیں سے نکال کر مٹکوں میں بھرا تھا۔ اس راز سے واقف تھے پس میر مجلس نے دولہا کو بلا کر کہا۔

آیت نمبر ۱۰۔ ہر شخص پہلے اچھی مے پیش کرتا ہے اور ناقص اس وقت جب کہ سب خوب پی چکیں مگر تو نے اچھی مے اب تک رکھ چھوڑی ہے۔ جب سب پی چکے۔ ان لفظوں سے مسیح پر اہل اسلام یہ اعتراض کرتے ہیں کہ مسیح نے پروردگار کی مرضی کے خلاف کیا۔ کیونکہ اول تو نشہ بازوں کی مجلس میں آئے اور پھر ان کو مے بنا کر دی۔ جو ان کے متوالا پن کو دوبالا کرنے والی تھی۔

یہ اعتراض اس وقت پیش آتا ہے جب انسان اصل پس منظر سے واقف نہ ہو یہودیوں کے ہاں دستور تھا کہ جب ان کے بیاہ شادی وغیرہ ہوتی تھی تو وہ باراتیوں کا اور مہمانوں کا استقبال مے سے کیا کرتے تھے جیسے کہ ہمارے ملک میں اور خاص طور پر پنجاب میں جب کوئی بیاہ شادی ہوتی ہے تو مہمانوں کے تواضع کے لئے لسی یا چھاج یا شربت پیش کیا جاتا ہے بالکل اسی طرح یہودیوں کے ہاں بھی دستور تھا کہ وہ مے پیش کیا کرتے تھے وہ مے انگور کا رس تھی اور ا س کے سوا کچھ بھی نہیں۔اب ہمارے مسلمان بھائی پر یہ عیاں ہو گیا ہو گا کہ نعوذ با اللہ جناب مسیح کسی ایسی ضیافت میں نہیں گئے تھے جہاں شراب پی جا رہی تھی۔بلکہ وہاں پر مے یعنی انگور کا رس پیا جا رہا تھا۔ اور جیسا کہ ہم اوپر بیان ر چکیں کہ وہ مے بالکل ایسی ہی تھی جیسے لسی، چھاج یا شربت وغیرہ۔

نصیحتیں اور مفید اشارے

۱۔حضرت موسیٰ اور مسیح۔ حضرت موسی ٰ کا پہلا معجزہ یہ تھا کہ انہوں نے پانی سے خون بنایا اور حضرت موسیٰ شریعت کو لائے۔ مسیح نے پانی کی مے بنائی۔ فضل مسیح سے ہے مسیح زندگی کے مالک ہیں و ہ خوشی اور راحت کو اپنے ساتھ لائے۔

۲۔یہ معجزہ جناب مسیح کے کام کی پیشن گوئی ہے۔ وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ گناہگاروں کو مقدس، بنی آدم کو فرشتے۔ زمین کو آسمان اور صحرا کو فردوس بنانے والے ہیں۔

۳۔اس شادی سے دنیا کی خوشی کی بطالت اور بے ثباتی ظاہر ہوتی ہے۔ دنیا کی خوشی کے موقعوں میں محتاجی چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کے مزون کے ختم ہو جانے کا غم اس کی خوشیوں میں نہاں ہے۔کیونکہ ایک وقت آتا ہے جب مے ختم ہو چکتی ہے۔

۴۔جب تمام قسم کی خارجی مدد ہماری ضروریات کو رفع کرنے میں قاصر نکلتی ہے تو وہ وقت جناب مسیح کا ہوتا ہے اس وقت وہ ہماری مدد کو آتے ہیں۔

۵۔مناسب ہے کہ ہماری ضیافتیں جناب مسیح کی حضوری سے پاک کی جائیں جس جلسہ میں ہم مسیح کو مدعو نہیں کرسکتے وہ جلسہ قابل اعتراض ہے۔

۶۔جناب مسیح نے اپنی حضوری سے شادی کے رشتہ کی عزت کرتے ہیں۔ جس جماعت اور سوسائٹی میں اس مبارک رشتہ کی عزت نہیں کی جاتی وہ سوسائٹی جلد تباہ ہو جاتی ہے۔ وہ اس رشتہ کے وسیلہ اپنی عجیب محبت کو جو وہ مومنین سے رکھتے ہیں ظاہر کرتے ہیں۔

۷۔ہر ضرورت اور مشکل کے وقت لازم ہے کہ ہم مسیح کے پاس آئیں جس طرح حضرت مریم آئیں۔حضرت مریم کا ایمان غور کے لائق ہے۔ حالانکہ ان کی درخواست بظاہر قبول نہ ہوئی۔ تاہم وہ مایوس نہیں ہوئی۔ بلکہ ا س نے یقین کیا کہ مسیح اپنے وقت پر میری دعا کا جواب دے گا۔ جس حلم اور فروتنی سے اس نے اس بات کو سہا وہ بھی قابل غور ہے۔

۸۔ مسیح ہماری ہر طرح کی ضرورتوں کو رفع کرنے والے ہیں۔ وہ نہ صرف دکھ میں ہم کو تسلی دیتے ہیں بلکہ ہماری خوشیوں کی کمیوں کو بھی پورا کرتے ہیں۔ زندگی کی کوئی ضرورت ایسی نہیں خواہ وہ شادی سے علاقہ رکھتی ہو خواہ غمی سے جسے وہ پورا نہیں کرسکتے۔

۹۔ان کی خود انکاری غور طلب ہے۔وہ اپنے لئے کچھ نہیں کرتے چالیس دن بھوکے رہے ابلیس نے انہیں آزمایا اور کہا کہ آپ پتھر کو روٹی میں تبدیل کیوں نہیں کر لیتے۔ لیکن ہمارے پانی کو ہر روز مے بناتے رہتے ہیں۔

۱۰۔ وہ فطرت کی طاقتوں پر غالب اور حاکم ہے۔ پانی کو مے بنانا اسی ( مسیح ) کا کام ہے۔

۱۱۔ لیکن ان کی برکات حاصل کرنے کے لئے فرمانبرداری کی ضرورت ہے۔وہ حکم دیتے ہیں اور اپنے حکم کا مطلب جانتے ہیں۔ نوکر کا صرف یہ ہی کام ہے کہ مالک کے حکم کی تعمیل کرے۔

قاناء میں بادشاہ کے ملازم کے بیٹے کو شفا بخشنا

               ۲۔معجزہ

انجیلِ عیسیٰ پارہ یوحنا رکوع ۴آیت ۴۳سے ۵۴

اس معجزے کا بیان تو ۴۶ آیت سے شروع ہوتا ہے۔لیکن ۴۳-۴۶آیات کے پڑھنے سے ایک مشکل نظر آتی ہے۔ جس کا حل کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ ان آیات میں لکھا کہ “مسیح گلیل کو گئے۔ کیونکہ آپ نے گواہی دی کہ نبی اپنے وطن میں عزت نہیں پاتا “(آیات ۴۳-۴۶) اور پھر لکھا ہے ” کہ گلیلیوں نے اسے قبول کیا”۔ اب مشکل یہ ہے کہ گلیل ہی آ پ کا وطن تھا اور اگر آپ وہاں قبول کئے گئے تو پھر آپ کا یہ قول کہ “نبی اپنے وطن میں عزت نہیں پاتا ” کس طرح صحیح ہوسکتا ہے ؟بعض نے اس مشکل کو اس طرح حل کیا ہے کہ چونکہ وہ یہودیہ کے بیت لحم میں پیدا ہوئے۔ اس لئے یہودیہ آپ کا وطن تھا اور جب آپ وہاں قبول نہ کئے گئے تو گلیل کو گئے۔ بلکہ برعکس اس کے ہم جانتے ہیں کہ کئی لوگوں نے یہودیہ میں بپتسمہ پایا اور آپ کی پیروی اختیار کی۔ بلکہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس درجہ تک قبول کیا کہ فریسیوں کو بھی خبر ہو گئی۔ اور اسی سبب سے آپ کو گلیل جانا پڑا۔ اس طرح کی کئی اور تشریحیں بھی کی گئی ہیں۔لیکن وہ تسلی بخش نہیں ہیں سب سے بہتر خیال یہ ہی ہے کہ جب مسیح نے یہ فرمایا کہ “نبی اپنے وطن میں عزت نہیں پاتا۔تو آپ کا اشارہ ناصرت کی طرف تھا۔ پس مطلب یہ ہے کہ مسیح سامریہ سے اپنے وطن ناصرت کو نہ گئے بلکہ گلیل کو روانہ ہوئے۔لفظ وطن انجیل کے کئی اور مقاموں میں بھی ناصرت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس علاقہ کی طرف نہیں کرتا۔ جس میں ناصرت واقع تھا اور گلیل کہلاتا تھا۔ (انجیل عیسیٰ پارہ متی رکوع ۱۳آیت ۵۴تا۵۵۔ انجیل عیسیٰ پارہ مرقس رکوع ۶ آیت ۱تا۴اور انجیل عیسیٰ پارہ لوقا رکوع ۴ آیت ۲۳، ۲۴)۔

دوسرا سوال یہ برپا ہوتا ہے کہ کیا یہ وہی معجزہ ہے جو انجیل عیسیٰ پارہ متی رکوع ۸ آیت ۵اور انجیل عیسیٰ پارہ لوقا رکوع ۷آیت ۲میں پایا جاتا ہے ایک ہی شخص کا بیان قرار دیا ہے۔لیکن دونوں بیانوں میں کئی ایسے فرق پائے جاتے ہیں جن کے سبب سے ہم ان دونوں بیانوں کو ایک ہی شخص کا تذکرہ نہیں مان سکتے۔مثلاً جس صوبہ دار کا بیان حضرت متی اور حضرت لوقا میں پایا جاتا ہے وہ غیر قوم تھا اور یہ بادشاہ کا ملازم یہودی تھا وہ اپنے نوکر کے لئے آیا۔یہ اپنے بیٹے کے لئے اس کی درخواست اس وقت پیش کی گئی جبکہ مسیح کفرناحم میں داخل ہو رہے تھے۔ مگر اس نے اپنے بیٹے کی شفا کی التجا قاناء میں کی۔ اس نے اپنی درخواست اوروں کے ہاتھ بھیجی اس نے خود آ کر کی اس بیان میں بیماری فالج تھی۔ اس بیان میں بیماری بخار کی تھی۔ ماسواء ان ظاہری تضادتوں کے ایک اور گہرا فرق بھی پایا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ صوبدار ایک مضبوط ایمان کا نمونہ ہے۔ اور یہ ملازم کمزور ایمان کا وہ صوبہ دار یہ مانتا تھا  کہ مسیح اگر کہہ دے تو میرا خادم اچھا ہو جائے گا لیکن یہ ملازم بڑی سرگرمی سے یہ منت کرتا ہے کہ مسیح اس کے ساتھ اس کے گھر جائے۔ اس کے ایمان کی تعریف ہوتی ہے اس کو ایک ہلکی قسم کی ملامت کی جاتی ہے۔

لائٹ فٹ صاحب کا جن کی اسے ایسے معاملات پر سند سمجھی جاتی ہے اور کئی اور مفسرین کا یہ گمان ہے کہ ملازم قوزا تھا۔( انجیل عیسیٰ پارہ لوقا رکوع ۸ آیت ۳) جس کی بیوی ان عورتوں میں شامل تھی جنہوں نے اپنے مال سے جناب مسیح کی خدمت کی۔ یہ خیال ناممکن معلوم نہیں ہے کیونکہ ہیرودیس کے دیوان کے کل خاندان کا مسیح کے پیروؤں میں داخل ہونا کسی ایسے ہی عجیب واقعہ پر مبنی ہوسکتا ہے۔

آیت ۴۶۔جنابِ مسیح پھر قاناء گلیل میں آئے۔

مسیح کے قانائے گلیل میں دوبارہ آنے کی وجہ غالباً یہ تھی کہ آپ کا شاگرد نتھانی ایل وہاں کا رہنے کا والا تھا اور نیز ہم پہلے معجزے میں دیکھ آئے ہیں کہ شاید اس جگہ حضرت مریم صدیقہ کے رشتہ دار بھی رہتے تھے۔

بادشاہ کا ایک ملازم تھا جس کا بیٹا کفر ناحم میں بیمار تھا۔ ہم اس کا ذکر اوپر کر آئے ہیں کہ وہ ہیردویس کا دیوان تھا۔ لائیٹ فٹ صاحب کا خیال ہے کہ اگر یہ شخص قوزا نہ تھا تو منائین ہو گا۔یاد رہے کہ دونوں خیال صرف گمان ہیں۔ ممکن ہے کہ پہلا گمان صحیح ہو مسیح کے شاگرد فقط غریب ہی نہ تھے بلکہ امیروں اور رئیسوں میں سے بھی تھے۔

رایل صاحب فرماتے ہیں کہ جو معجزات کفرناحم میں دکھائے گئے وہ توجہ طلب ہیں نیز ان لوگوں کے منصب اور مرتبہ پر غور کرنی چاہیے جن کے لئے وہ معجزات کئے گئے اسی جگہ مسیح نے صوبہ دار کے خادم کو شفا دی۔( انجیل عیسیٰ پارہ متی رکوع ۸ آیت ۵)اور اسی جگہ آپ نے عبادت خانہ کے سردار یایئرس کی بیٹی کو زندہ کیا۔ (انجیل عیسیٰ پارہ مرقس رکوع ۸آیت ۲۱) اور یہیں آپ نے اس ملازم کے بیٹے کو شفا بخشی۔ تین مختلف قسم کے لوگوں کے درمیان ایک ایک معجزہ دکھایا۔یہ صوبہ دار ایک غیر قوم شخص تھا اور جایرس اعلیٰ درجہ کا کلیسائی عہد رکھنے والا تھا اور یہ ملازم اعلیٰ درجہ کے سرکاری منصب پر ممتاز تھا۔ مسیح کے یہ الفاظ “اے کفر ناحم تو جو آسمان تک بلند ہے ” (انجیل عیسیٰ پارہ متی رکوع ۱۱ آیت ۲۳) بیجا نہ تھے۔ بیشک کسی اور جگہ کو اتنی بزرگی اور برکت حاصل نہیں ہوئی۔

آیت ۴۷۔وہ سن کر کہ مسیح یہودیہ سے گلیل میں آ گئے ہیں آپ کے پاس گیا اور آپ سے درخواست کرنے لگا کہ چل کر میرے بیٹے کو شفا بخشیں وغیرہ۔

اس آیت سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ مسیح کی شہرت تمام گلیل میں ہو گئی تھی۔ کچھ اس معجزے کے سبب سے جو آپ نے قاناء گلیل میں دکھایا تھا اور کچھ ان عجیب کاموں کے سبب سے جو یروشلم میں کئے گئے تھے۔ جن کو ان گلیلیوں نے جو عید کے تقریب پر وہاں گئے ہوئے تھے اپنی آنکھ سے دیکھا تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ سب جان گئے تھے کہ مسیح نہ صرف شفا بخشنے کی قدرت رکھتے ہیں بلکہ چاہتے ہیں کہ بیماروں کو شفا بخشے۔

واضح رہے کہ یہ شخص مسیح کے پاس صرف ایک جسمانی ضرورت کے سبب سے آیا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ اس ضرورت کو بھی مسیح ہی رفع کرسکتے تھے۔ تاہم یہ جاننا ضروری ہے روحانی ضروریات کی شناخت اس کو آپ کے پاس نہیں لائی تھی۔کیونکہ پروردگار فرماتے ہیں کہ “جب تک تم نشان اور عجیب کام نہ دیکھو گے ہر گز ایمان نہ لاؤ گے۔”

ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ملازم اپنے ہم وطنوں کا ہم خیال تھا۔ ان کی طرح نشان کا منتظر تھا۔ وہ ان سامریوں کی مانند نہ تھا۔ جنہوں نے کوئی نشان طلب نہ کیا۔بلکہ صرف مسیح کا کلام سن کر آپ کو قبول کیا۔( انجیل عیسیٰ پارہ یوحنا رکوع ۴ آیت ۱۴) ا س ملازم اور اس کے ہم وطنوں نے مسیح کے جلال کو آپ کی شخصیت اور تعلیم میں جلوہ گر تھا نہ پہچانا اور یہی سبب تھا کہ وہ مسیح کو ساتھ چلنے پر زور دیتا تھا اور نہیں جانتا تھا کہ اگر وہ یہیں سے کہہ دیں تو آپ کا کلام شفا بخشنے کے لئے کافی ہے۔

آیت ۴۸۔مسیح نے اس سے کہا جب تک تم عجیب کام نہ دیکھو گے ہر گز ایمان نہ لاؤ گے۔

ان لفظوں میں جیسا اوپر بیان ہو چکا یہودیوں کی عام آرزو اور تمنا کا اشارہ پایا جاتا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہم اس کی مسیحائی کے ثبوت میں معجزے اور نشان دیکھیں۔ مسیح یہ فرماتے ہیں کہ کیا تم بغیر ان معجزوں اور نشانوں کے ایمان نہیں لا سکتے ؟یاد رہے کہ مسیح یہاں معجزوں کی تحقیر نہیں کرتے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ ان اصل مطلب سمجھا جائے۔ ان کا مدعا یہ نہیں کہ وہ زبردستی ایمان پیدا کریں بلکہ یہ کہ ان لوگوں کے ایمان کو مضبوط کریں جو خدا کے رسول کی تعلیم اور اس کی صداقت سے موثر ہو چکے ہیں۔نیز یہ بات غور طلب ہے کہ گو مسیح کے کلام میں ایک قسم کی دھمکی اور ملامت پائی جاتی ہے۔تاہم ملازم کی درخواست کے منظور کرنے کا انکار ثابت نہیں ہوتا۔بلکہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس قدر ان الفاظ سے ملامت ٹپکتی ہے اسی قدر یہ امید مترشح ہے کہ معجزہ دکھایا جائے گا کیونکہ وہ جانتا تھے اس کے معجزے کو دیکھ کر یہ شخص زندگی کے مالک پر بھروسہ کرے گا۔

آیت ۴۹۔بادشاہ کے ملازم نے مسیح سے کہا اے مالک میرے بچے کے مرنے سے پہلے چلئے۔

ان لفظوں میں اس ملازم کی سرگرمی آشکارا ہے۔ پروہ بھی مسیح کا مطلب نہیں سمجھاکہ وہ بغیر جان کے ا سکے بیٹے کو شفا بخش سکتے ہیں۔ وہ دو قسم کی غلطی میں گرفتار ہے۔ ایک یہ کہ مسیح موت کے بعد زندہ نہیں کرسکتے۔دوئم یہ مسیح یہ نہیں جانتے کہ میرا بیٹا کیسی نازک حالت میں گرفتار ہے۔اگر جانتے تو اتنی تاخیر نہ کرتے۔لہذا وہ زیادہ سرگرمی سے التجا کرتا ہے “اے مالک میرے بچے کے مرنے سے پہلے چلئے “

آیت ۵۰۔مسیح نے اس سے فرمایا جا تیرا بیٹا جیتا ہے۔اُس شخص نے اس بات کا یقین کیا وغیرہ۔

یہاں تین باتیں غور طلب ہیں۔

۱۔مسیح کی مہربانی۔ وہ اس ملازم کے ایمان کی کمزوری کا چنداں خیال نہیں کرتے بلکہ اس کے بیٹے کو شفا بخشتے ہیں۔

۲۔ مسیح کی لامحدود قدرت غور طلب ہے۔آپ اپنے کلمے سے بیمار کو شفا بخشتے ہیں۔

۳۔ اس ملازم کا بھروسہ غور طلب ہے اب وہ کسی طرح کی چون چرا نہیں کرتا بلکہ اس بات کا قائل ہو جاتا ہے کہ مسیح کا کلام قدرت سے ملبس ہے۔

مسیح کس طرح ہمارے ایمان کو بڑھاتے ہیں وہ عجیب طرح سے ہر شخص سے پیش آتے ہیں اس کے ایمان کو تقویت دینے کے طریقے جدا جدا ہیں۔ نقودیمس، سامریہ کی عورت یہ ملازم اس بات کی نظیر یں ہیں۔

مفسر اس بات کی طرف ہم کو متوجہ کرتے ہیں کہ مسیح نے اس معاملہ میں وہ طریقہ اختیار نہ کیا جو صوبہ دار کے خادم کو شفا بخشتے وقت اختیار کیا دیکھئے یہ ملازم درخواست کرتا ہے کہ میرے ساتھ چلئے اور وہ نہیں جاتے۔ صوبہ دار کہتا ہے کہ آپ کو میرے گھر جانے کی ضرورت نہیں تاہم آپ ادھر روانہ ہوتے ہیں۔مسیح اس ملازم کے گھر اس لئے نہیں جاتے کہ ا س کا ایمان مضبوط ہو اور صوبہ دار کے گھر اس لئے جاتے ہیں کہ اپنی حضوری  سے ا سکے ایمان کو مزین اور ا سکی فروتنی کو ممتاز کریں۔پھر یہ بات بھی ظاہر ہے کہ مسیح طرفداری کے لوث سے مبرا ہیں۔جہاں چاہتے ہیں وہاں اپنی حکمت کے مطابق جاتے ہیں جہاں جانا نہیں چاہتے وہاں اپنی حکمت کے مطابق نہیں جاتے۔

آیت ۵۱۔ وہ (مسیح) رستہ ہی میں تھے۔

یونانی کا اصل ترجمہ نئے ترجمہ کے حاشیہ میں دیا ہوا ہے اور  وہ یہ ہے کہ “اتر ہی رہے تھے ” جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قاناء پہاڑی خطہ تھا اور کفرناحم میدان میں واقع تھا۔ اس کے نوکر اس سے ملے اور کہنے لگے کہ تیرا لڑکا جیتا ہے یعنی وہ جو قریب المرگ تھا اب بیماری کے چنگل سے رہا ہے وہ جیتا ہے۔

آیت ۵۲۔ اس نے ان سے پوچھا کہ اسے کس وقت سے آرام ہونے لگا تھا۔

مسیح کی بات کا خیال اس کے دل پر جما ہوا تھا اور اگر وہ مسیح کے کلام کی قدرت کو محسوس بھی کررہا تھا تاہم ا س کا ایمان ابھی اسی درجہ تک پہنچا تھا کہ مسیح کے کلام سے صرف اتنی توقع رکھتا تھا کہ لڑکے کو شفا بتدریج حاصل ہو گی۔ لہذا وہ یہ کلمات استعمال کرتا ہے ہے کہ ” کس وقت سے آرام ہونے لگا ” لیکن اس کے نوکر اسے بتاتے ہیں کہ کل ساتویں گھنٹے کے قریب بخار نے اسے بالکل چھوڑ دیا۔

آیت ۵۳۔ ساتویں گھنٹے کے قریب۔

شمار وقت کے متعلق دو رائیں ہیں۔ ایک کہ حضرت یوحنا ہمارے دستور کے مطابق وقت کا حسا ب کرتے ہیں اور کہ ساتویں گھنٹے سے شام کا ساتواں گھنٹہ مرا دہے۔ دوسری یہ کہ یہودی طریق کے مطابق حساب لگاتا ہے جس کے مطابق وقت ایک بجے کے قریب تھا۔اس کی تپ اتر گئی نہ صرف گھٹنے لگی بلکہ فوراً اور بالکل اتر گئی۔

آیت ۵۴۔ پس باپ جان گیا کہ وہی وقت تھا۔۔۔۔اور وہ خود ایمان لایا اور ا س کا سارا گھرانہ ایمان لایا۔

یہ مسیح کی رحمتوں کی کثرت کا نتیجہ تھا اب ا س نے وہ برکت جو سب برکتوں کی سرتاج ہے پائی۔ اس نے اب نجات کا پیالہ بھی اس کے ہاتھ سے لیا اور نہ صرف اسی نے لیا بلکہ اس کے ساتھ اس کے گھرانے نے بھی لیا۔بلکہ اس ساتھ اس کے گھرانے نے نے بھی لیا۔ رایل صاحب بڑی خوبی سے بیان کرتے ہیں کہ ہمارے بچے بھی نجات میں شامل ہیں۔ ہم ان کو مسیح کی نعمتوں سے خارج نہیں کرسکتے ملازم کے تجربے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کے درجے ہیں (۱)آغاز، (۲) ترقی، (۳) کمال۔ آغاز اس وقت ہوا جبکہ شخص مسیح کے پاس آیا۔ترقی اس وقت جبکہ مسیح نے کہا جا تیرا بیٹا جیتا ہے۔کمال اس وقت جبکہ اس کا بیٹا شفا کی حالت میں اسے ملا۔ اب ا س کا ایمان اس درجہ کو پہنچ گیا کہ وہ اپنا سب کچھ اپنے نجات دہندہ کی خاطر دینے کو تیار تھا۔

آیت ۵۵۔ یہ دوسرا معجزہ ہے جو مسیح نے یہودیہ سے گلیل میں آ کر دکھایا۔

تو بھی بہت لوگ یہودیوں میں سے ایمان نہ لائے۔ سامریہ میں بغیر معجزے کے بہت سے لوگ مسیح کے پاس آئے۔

نصیحتیں اور مفید اشارے

۱۔مسیح کے فضل کی قدرت ہر مرتبہ اور ہر حالت کے لوگوں میں سے ایمانداروں کو کھینچ لاتی ہے اس انجیل کے شروع میں یعنی پہلے رکوع میں مچھوے ایما ن لاتے ہیں۔ تیسرے بات میں ایک فریسی جو اپنے تئیں متقی پرہیز گار سمجھتا تھا۔ چوتھے رکوع کے شروع میں ایک گری ہوئی عورت اور ا سکے آخر میں ایک رئیس ایمان لاتا ہے جو شاہی دربار میں اعلیٰ عہدہ پر مامور تھا۔

۲۔دکھ سب پر آتا ہے امیر بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ امیر لوگ اس سے بڑ ھ کر اور کسی غلطی میں گرفتار نہیں ہوسکتے کہ وہ یہ سمجھیں کہ ہم پر دکھ کبھی نہیں آئے گا۔

۳۔ محبت جتنی اعلیٰ طبقہ سے نیچے اترتی ہے اتنی ادنیٰ طبقہ سے اوپر نہیں جاتی ہم کہیں انجیل میں یہ نہیں دیکھتے کہ بیٹے یا بیٹیاں اپنے باپ کی شفا کے لئے مسیح کے پاس آئے ہوں۔ہمیشہ ماں باپ اپنے بچوں کے دکھ کو محسوس کر کے مسیح کے پاس آتے اور ان کے لئے دعا کرتے ہیں جتنی محبت خدا ہم سے کرتا ہے ہم میں اس عشر عشیر بھی نہیں پایا جاتا۔

۴۔لکھا ہے کہ یہ دوسرا معجزہ تھا جو مسیح نے دکھایا۔ اس بات کے رقم کرنے کی کیا ضرورت تھی یہ کہ ہم کو معلوم ہو جائے کہ خدا ان تمام فضل کے وسیلوں اور موقعوں کا حساب رکھتا ہے جو وہ ہمیں عطا کرتا ہے۔یہودیوں نے دوسرا معجزہ دیکھا اور پھر بھی ان میں سے صرف ایک گھرانہ ایمان لایا۔ خدا نہ صرف اس بات کا حساب رکھتا ہے کہ سرمن سے کتنے لوگ ایمان لائے بلکہ اس بات کا بھی کتنے سرمن لوگوں نے ضائع کر دیئے۔

۵۔ ایمان کے بغیر برکت نہیں ملتی۔

۶۔ ہم انسان کے ساتھ یہ طریقہ کام میں لاتے ہیں کہ پہلے اسے آزماتے اور پھر اس پر یقین لاتے ہیں لیکن خدا کے ساتھ یہ ترتیب بدل جاتی ہے وہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم پہلے اس پر بھروسہ کریں۔ اور پھر اسے آزمائیں۔

۷۔سچا ایمان زیادہ مضبوط ہوتا جاتا ہے اور صرف مسیح اسے مضبوط کرنا جانتے ہیں۔ نپولین اور ایک سپاہی کا قصہ۔ ایک دفعہ نپولین کے ہاتھ سے لگام گر گئی اور گھوڑا بھاگنے لگا۔ ایک سپاہی دیکھتے ہی دوڑا اور زرین کو جو اپنی جگہ سے ہل گئی تھی درست کر دیا۔ نپولین نے کہا کپتان میں آپ کا نہایت مشکور ہوں۔وہ کپتان نہ تھا مگر اس نے بادشاہ کی بات قبول کی اور کہا حضور کس رجمنٹ کا بادشاہ خوش ہوا اور کہا میرے محافظوں کے دستہ کا۔ اس نے اسی وقت جا کر وہ جگہ اختیار کی۔لوگوں نے بہت مخالفت ک پر جب اس نے انگلی سے اشارہ کر کے بتایا کہ مجھے بادشاہ نہ مقرر کیا ہے تو سب چپ ہو گئے۔

۸۔ ہمیں اپنے بچوں کی بہبودی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ اس بات کے لئے فکر مند ہونا چاہیے کہ وہ مسیح کی شکل میں تبدیل ہوں ہم ان کے لئے سفارش کریں اور خاموش نہ ہوں جب تک مسیح یہ نہ کہے جا تیرا بیٹا جیتا ہے۔

مچھلیوں کے پکڑنے کا پہلا معجزہ

               ۳۔معجزہ

انجیل عیسیٰ پارہ لوقا رکوع ۵ آیت ۱تا ۱۱ تک

یہ معجزہ رسولوں کے کام کی گویا ایک پیشن گوئی ہے جو الفاظ کی بجائے مثال کے وسیلے یا فعلوں کی زبانوں میں بیان کی گئی ہے۔ قبل اس کے اس معجزہ کی تشریح شروع کی جائے ایک دقت کا رفع کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آیا یہ بیان وہی بیان ہے جو انجیل عیسیٰ پارہ متی باب ۴ آیت۱۸ اور مرقس رکوع ۱ آیت ۱۶ تا ۲۰میں درج ہے یا اس سے مختلف ہے۔ مقابلہ کرنے سے بعض باتیں ایسی معلوم ہوتی ہیں۔ جن کے سبب سے کئی مفسروں نے ان کو دو مختلف بیان کہا ہے۔ مثلاً بزرگ اگسٹن کا خیال ہے کہ یہ معجزہ حضرت متی اور حضرت مرقس کے بیان سے پہلے واقع ہوا۔ اور جناب مسیح نے اس کے وسیلہ شاگردوں کو صرف اتنی بات بتائی کہ تم آدمیوں کے مچھیرے بنوگے۔ مگر اس موقع پر آپ نے فقط ان کے آئندہ کام اور اعلیٰ پیشہ کی نبوت کی۔لیکن ابھی ان کو یہ حکم نہیں دیا کہ اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر میر ے پیچھے ہولو۔ پس وہ اس معجزہ کے بعد بھی اپنے پیشہ ماہی گیری میں مصروف رہے۔ اور اسے قطعی اور آخری طور نہ چھوڑا، جب تک کہ آپ نے ان کو سب کچھ چھوڑنے اور اپنے پیچھے آنے کا حکم نہ دیا۔ جو پارہ متی باب ۴ آیت ۱۸ اور پارہ مرقس باب ۱ آیت ۱۶ تا ۲۰ تک میں قلمبند ہے۔

لیکن واضح ہو کہ یہی دقتیں ایسی نہیں جو رفع نہ ہوسکیں۔ اور یا سوا اس کے اگر ہم ان دونوں بیانوں کو مختلف سمجھیں اور کہیں کہ حضرت لوقا اور وقت کے اور حضرت متی اور مرقس ایک اور وقت کا ذکر کرتے ہیں توکئی اور مشکلات برپا ہو جائیں گی۔ مثلا ً اس سوال کا جواب دینا مشکل ہو جائے گا کہ ایسے بخیدہ اور عظیم موقع سے بڑھ کر اور کونسا موقعہ ان کو آخری طور پر بلانے کے لئے موزون تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ بات ناممکن نہیں کہ وہ ان کو جالوں کے پاس بیٹھے دیکھ کر اور یہ جان کر کہ وہ مچھیرے ہیں اس استعارے کو استعمال کرسکتے تھے۔ “میں تم کو آدمیوں کے مچھوے بناؤں گا۔”لیکن مسیحی عالم ِدین ٹرنچ صاحب فرماتے ہیں کہ اس معجزے کے بعد ان کلمات کا سننا اور سب کچھ چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے جناب مسیح کی پیروی کرنا ایک گونہ لطف رکھتا تھا۔ کیونکہ آپ نے ان کو حکم دیا تھا کہ اپنا جال دریا میں ڈالو۔اور انہوں نے آپ کی فرمانبرداری کر کے آ پ کی معجزانہ قدرت کا کرشمہ دیکھا۔ اور بہت سی مچھلیاں پکڑی تھیں۔ لہذا آپ کا یہ فرمان کہ “میں تمہیں آدمیوں کے مچھیرے بناؤں گا۔” اس موقع پر نہایت پُر مطلب تھا۔ کیونکہ یہ معجزہ ظاہر کرتا تھا کہ جس طرح انہوں نے آپ کے حکم کی اطاعت سے مچھلیوں کو کثرت سے پکڑا۔ اسی طرح اگر آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے تو آدمیوں کے مچھیرے بھی بنیں گے۔گویا یہ معجزہ ان کو یہ کہہ رہا تھا کہ تم اپنا پرانا پیشہ چھوڑو۔ اور آدمیوں کے مچھیرے بننے کا نیا اور اعلیٰ پیشہ اختیار کرو۔ پش تینوں مقام ایک ہی واقعہ کے ساتھ علاقہ رکھتے ہیں۔ بعض دقتیں جو تطبیق طلب ہیں یہ ہیں۔

۱۔حضرت لوقا اس شخص کی شفا کا بیان جس پر بد روح چڑھی ہوئی تھی اور جسے مسیح نے کفر ناحوم میں شفا بخشی۔ ا س معجزے سے پہلے کرتے ہیں حالانکہ حضرت مرقس اس کا ذکر شاگردوں کے بلانے کے بعد کرتے ہیں۔

۲۔حضرت متی اور مرقس بیان کرتے ہیں کہ مسیح اس وقت جھیل کے کنارے پر پھررہے تھے۔ جب آپ نے ان کو پیچھے بلایا۔

۳۔حضرت لوقا حضرت اندریاس کا ذکر نہیں کرتے۔

۴۔حضر ت متی اور مرقس اس معجزے کا ذکر نہیں کرتے۔ ان مشکلات کو اس طرح حل کرسکتے ہیں۔

۱۔حضرت مرقس نے غالباً بد روح والے شخص کا بیان حضرت پطرس کی ہدائت کے مطابق ترتیب وقت کے بموجب قلمبند کیا۔ لیکن حضرت لوقا اس معجزہ کو مچھلیوں کے معجزے سے پہلے شائد اس لئے رقم کرتے ہیں کہ جو کچھ ناصرت (جناب مسیح کا آبائی گاؤں)میں ہوا اسے ان واقعات کے بالمقابل ترتیب دیں جو کفر ناحوم میں سرزد ہوئے تاکہ بے ایمانی اور ایمان کو پہلو بہ پہلو رکھ کر ان کا فرق ظاہر کریں۔

۲۔یہ نہیں لکھا کہ جناب مسیح نے ان کو کنارے پر سے بلایا۔صرف یہ لکھا ہے کہ وہ کنارے پر سے جا رہے تھے۔ پس حضرت لوقا کے بیان کو حضرت متی اور مرقس کے بیان کے ساتھ ربط دینے میں کچھ بھی مشکل نظر نہیں آتی۔ اگر حضرت لوقا یہ نہ بھی بتاتے کہ مسیح تعلیم دینے کے لئے کشتی پر بیٹھے تو ہم کو یہ نتیجہ خود حضرت متی اور مرقس سے نکالنا پڑتا۔کیونکہ یہ بات قبول نہیں کی جا سکتی کہ جب حضرت پطرس بیٹھے اپنے جال مرمت کر رہے تھے اس وقت جناب مسیح نے کنارے پر سے ان کو پکارا کہ میرے پیچھے ہولو۔ بلکہ زیادہ تر تسلیم کے لائق یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ وہ ان کے ساتھ کشتی پر موجود تھے اور وہیں اس معجزے کے بعد ان سے فرمانے لگے کہ ” میں تم کو آدمیوں کے مچھیرے بناؤں گا “سو اب تم سب کچھ میرے واسطے چھوڑو۔ اور میرے پیچھے پیچھے چلو۔ اور پھر کبھی مجھ سے جدا نہ ہو۔

۳۔حضرت اندریاس کا ذکر نہ کرنے کا سبب یہ ہے۔ کہ اس معجزے میں جس شخص کی طرف زیادہ توجہ دلانی منظور تھی وہ حضرت پطرس تھے۔ ماسوا اس کے حضرت لوقا کے بیان سے صاف ظاہر ہے کہ کشتی میں اور لوگ بھی تھے۔ دیکھئے آیات (۲۔۵۔۹) اور پھر وہ رسولوں کی فہرست میں حضرت اندریاس کا نام درج کرتے ہیں۔ (دیکھئے انجیل عیسیٰ پارہ لوقا رکوع ۶ آیت ۱۴) اب اگر وہ ان کے بلانے کا ذکر نہیں کرتے تو کچھ مضائقہ نہیں کیونکہ دوسرے رسول یعنی حضرت متی اور حضرت مرقس ا س کی دعوت کا ذکر کرتے ہیں۔

۴پھر یہ بات بھی کہ حضرت متی اور حضرت مرقس اس معجزے کو تحریر نہیں کرتے کچھ مشکل نہیں۔ کیونکہ جناب مسیح نے بے شمار معجزے دکھائے۔ اور حواری مجبور نہ تھے کہ سب کو رقم کریں۔ علاوہ بریں ممکن ہے کہ حضرت مرقس جو اپنی انجیل حضرت پطرس کی زیر نگرانی تحریر کرتے ہیں شائد اس لئے اس معجزہ کو درج نہیں کرتے کہ حضرت پطرس کی فروتنی اور حکم مانع ہے کہ ان کے شخصی احوال قلمبند کئے جائیں۔ چنانچہ وہ آپ کے پانی پر چلنے کو بھی رقم نہیں کرتے۔ لیکن حضر ت لوقا کو کوئی ایسا خیال روکنے والا نہیں ہے۔ بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ اس واقعہ کو جو خدا کا جلال اور حضرت پطرس کی بزرگی ظاہر کرتا ہے روکنے والا نہیں ہے۔ لہذا وہ اسے تحریر کرتے ہیں۔ اب ان باتوں سے ظاہر ہے کہ یہ تینوں بیان ایک ہی واقعہ سے علاقہ رکھتے ہیں۔ اور حضرت یوحنا کہ مطابق انجیل شریف میں جو بیان شاگردوں کی بلاہٹ کا پایا جاتا ہے وہ انکی پہلی ملاقات کا بیان ہے جس کے بعد وہ اپنے اپنے کاموں میں لگے رہے۔ مگر حضرت لوقا اور حضرت متی اور حضرت مرقس کے بیانات سے وہ گہرا تعلق ظاہر ہوتا ہے جس کے سبب سے انہوں نے اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ہمیشہ آپ کے ساتھ رہنا اختیار کیا۔

آیت۴۔جب جنابِ مسیح کلام کر چکے۔ تو شمعون سے کہا گہرے میں لے چلو اور شکار کے لئے اپنا جال ڈالو۔

پہلی تین آئتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بھیڑ کے سبب سے جناب مسیح کشتی پر سوار ہوئے تاکہ کنارہ سے ذرا الگ ہو کر لوگوں کو تعلیم دینا شروع کریں۔ اور جب اس کا م سے فارغ ہوئے تو حضرت پطرس کو حکم دیا کہ کشتی کو گہرے میں لے چل، اور جب وہاں پہنچے تو حکم دیا کہ اپنے اپنے جال دریا میں ڈالو۔اس کا مطلب یہ تھا کہ ان مچھیروں کو مچھلی پکڑے کے وسیلے اپنی محبت اور فضل کے جال میں پھنسائے۔ ٹرنچ صاحب خوف فرماتے ہیں کہ وہ جو کمزوروں سے نہ درآوروں کو شرمندہ کرنے والا ہے خوب جانتا تھا کہ میری خدمت کے لئے یہی مچھوے موزون ہیں تاکہ میری کلیسیا دنیا کی دانائی اور قدرت پر نہیں بلکہ خدا کی حکمت اور ملاقات پر قائم سمجھی جائے۔

آیت۵۔شمعون نے جواب میں کہا۔ ہم نے رات بھر محنت کی اور کچھ نہ پکڑا۔ مگر آپ کے کہنے سے جال ڈالتاہوں۔

شعمون جواب دیتا ہے کہ ہم رات بھر جو مچھلی پکڑنے کا سب سے اچھا وقت ہے محنت کی۔ لیکن کچھ کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ مگر خیر آپ حکم کی تعمیل کے لئے پھر جال ڈالے دیتا ہوں۔اب ان الفاظ سے حضرت پطرس کا یہ مطلب نہیں کہ میں جو ماہی گیری کے فن میں مشتاق ہوں خوب جانتا ہوں کہ اب جال ڈالنا عبث ہے مگر چونکہ آپ کہتے ہیں اس لئے میں پھر ڈال دیتا ہوں گو اس سے کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ بلکہ برعکس اس کے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جناب مسیح کے کلام پر بھروسہ رکھتا تھا کیونکہ یہ ان کی پہلی ملاقات نہ تھی بلکہ وہ مدت سے ایک دوسرے کو خوب جانتے تھے۔ لہذا وہ اس امید اور ایمان سے جال ڈالتا ہے کہ جناب مسیح کے کلام سے ان کی محنت برومند ہو گی۔

آیت۶۔ایسا کر کے وہ مچھلیوں کو بڑا غول گھیر لائے اور اُن کے جال پھٹنے لگے۔

اب یہ سوال یہ برپا ہوتا ہے کہ آیا معجزہ مسیح کی عالم الغیبی کا معجزہ تھا۔ یا آ پ کی قدرت کا کاملہ کا معجزہ تھا۔ کیا یہ جان کر کہ فلاں جگہ مچھلیوں کا غول موجود ہے۔ اور اگر وہاں ڈال جال ڈالا جائے تو مچھلیاں کثرت سے پکڑی جائیں گی۔ آپ نے جال ڈالنے کا حکم دیا؟یا آپ نے اپنی قدرت سے مچھلیوں کو وہاں پہنچا دیا ؟مفسرین پچھلی رائے کو ترجیح دیتے ہیں مگر دوسرا خیال بھی خارج نہیں کیا جا سکتا؟لیکن معترض یہ اعتراض کرسکتا ہے کہ اس معجزہ میں کون سی بات ہے کیونکہ جال اگر سمندر میں ڈالا جائے تو مچھلیاں اس میں ضرور پھنسیں گی۔ اگر ایک جگہ نہ پھنسیں تو دوسری جگہ پھنسیں گی۔اس کا جواب یہ ہے کہ معجزہ اس بات میں ہے کہ یہ عجیب نتیجہ آناً فاناً میں مسیح کے کہنے کے مطابق سرزد ہوا۔ معجزہ دکھانے والے کے کلام اور اظہار واقعات میں جو مطابقت پائی جاتی ہے وہی معجزہ ہے یعنی جیسا آپ نے کہا ویسا ہی ہو گا۔ معجزہ انسان کی قدرت سے بلند اور بالا ہوتا ہے۔ کوئی شخص مچھلیوں کا ایک غول ایک جگہ سے دوسری جگہ اپنے کلام کے زور سے نہیں پہنچا سکتا۔ جناب مسیح کے اختیار میں تمام اشیاء ہیں۔بحری اور بری سب چیزیں اس کے حکم کے تابع ہیں ( زبور شریف باب ۸ آیت ۶۔۸)۔

آیت۷۔اور اُنہوں نے اپنے شریکوں کو جودوسری کشتی پر تھے۔ اشارہ کیا کہ آ کر ہماری مدد کرو۔ پس اُنہوں نے آ کر دونوں کشتیاں یہاں تک بھر دیں کہ ڈوبنے لگیں۔

جو دوسری کشتی پر تھے اشارہ کیا۔ بعض کا (بارن صاحب ) کا خیال ہے کہ اشارہ اس واسطے کیا کہ ان کی کشتی بہت دور تھی اور آواز سے انہیں نہیں بلا سکتے تھے۔ لیکن بعض یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت متی اور مرقس کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشتیاں اس قدر نزدیک تھیں کہ بولنے کی ضرورت نہ تھی سو انہوں نے صرف اشارہ کر کے انہیں بلا لیا۔ علاوہ بریں دوسری کشتی والوں کی آنکھ بھی اس طرف لگی ہوئی تھی۔کیونکہ وہ اس عجیب کرامات کو جو پطرس کی کشتی پر ہو رہی تھی دیکھ رہے تھے۔ اور چونکہ ان کی توجہ ادھر لگی ہوتی تھی۔ اس لئے صرف اشارہ کی ضرورت تھی۔دونوں کشتیاں یہاں تک بھر دیں کہ ڈوبنے لگیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ڈوب گئی تھیں۔مطلب صر ف یہ ہے کہ مچھلیوں کا بوجھ اتنا تھا کہ کشتیاں ڈوبنے کے خطرہ میں تھیں۔اس میں کوئی مبالغہ نہیں۔

آیت ۸۔ شمعون پطرس یہ دیکھ کر جنابِ مسیح کے پاؤں پر گرا اور کہا۔ اے مالک میرے پاس سے چلے جائیے۔اس لئے کہ میں گنہگار ہوں۔

پطرس اب آپ کے دام محبت میں گرفتار ہو گیا۔بزرگ کری ساسٹم کا یہ خیال نہایت غور طلب ہے کہ مسیح لوگوں کو اپنے پاس لانے کے فن میں خوب ماہر ہیں وہ عموماً لوگوں کو ان کے پیشہ کے وسیلہ سے اپنے قدموں میں کھینچ لاتے ہیں۔ مجوسیوں کو ستارہ کے ذریعہ اور مچھیروں کو مچھلیوں کے وسیلہ۔ کیا پطرس نے اس معجزہ میں کسی طرح کا دھوکا کھایا؟نہیں کیونکہ یہ معجزہ اس لئے ایسا معجزہ تھا کہ اس میں اس کے لئے دھوکا کھانے کی کوئی جگہ نہ تھی۔ اور یہی وجہ تھی کہ اس معجزہ کی تاثیر اس پر ایسی ہوئی کہ آگے کبھی ایسی نہیں ہوئی تھی۔

۱۔یہ معجزہ اس کے پیشہ سے علاقہ رکھتا تھا۔

۲۔اس کی کشتی پر واقعہ ہوا تھا۔

۳۔اسی کا جال استعمال کیا گیا تھا۔

۴۔اسی کے بے پھل محنت کے بعد واقع ہوا تھا۔

۵۔اور خود اس کی آنکھوں کے سامنے واقع ہوا تھا۔

لہذا اس نے اس معجزے کو جو ایسے گہرے طور پر اس کے شخصی حالات کے ساتھ وابستہ تھا بہت اچھی طرح محسوس کیا۔ پس وہ حیرت اور شکر گزاری سے معمور ہو کر آپ کے پاؤں پر گر پڑا۔ یہ فعل سجدہ کرنے اور دعا مانگنے کا معمولی طریقہ تھا۔ اب پطرس آپ کی قدرت اور حکمت کا قائل ہو گیا۔ اور اس کی حیرت اور شکر گزاری کے ساتھ یہ ادراک بھی مخطوط ہے کہ جس شخص کے سامنے سربسجود ہوں وہ ایسا بزرگ اور پاک اور عالی جاہ ہے کہ میں اس کے ساتھ نہیں رہ سکتا لہذا وہ کہتا ہے۔

اے مالک میرے پاس سے چلے جائیے۔ اس لئے کہ میں گناہ گار ہوں۔ ایسے موقعوں پر بناوٹ کی باتوں کو جگہ نہیں ملتی بلکہ انسان اپنے دل کی تہ سے بولتا ہے۔ اور اس کے دل کی وہ باتیں جو چھپی ہوئی ہوتی ہیں۔ روشن ہو جاتی ہیں۔ اور ان میں سے ایک یہ بات ہے کہ انسان اس بات کی طبعی شناخت رکھتا ہے کہ مجھ میں اور خدا میں ایک وسیع فاصلہ حائل ہے۔(توریت شریف کتاب خروج باب ۲۰آیت ۱۸۔۱۹۔دانی ایل باب ۱۰آیت ۱۷اور صحیفہ حضرت یسعیاہ باب ۶ آیت ۵)اس اقرار میں کسی خاص قسم کے گناہ کی طرف اشارہ نہیں۔ صرف یہ ہے کہ اب پطرس اپنی ذاتی برائی اور نالائقی کو پہنچانے لگ گیا وہ اب جناب مسیح کی عظمت اور قدوسیت کو محسوس کرتا ہے اور بڑے علم اور فرونتی سے عرض کرتا ہے کہ میں اس لائق نہیں کہ آپ میرے ساتھ رہیں۔یہ بھی یادرہے کہ وہ مسیح سے چلے جانے کی درخواست اس لئے نہیں کرتا کہ اس کے دل میں مسیح کی محبت اور عزت کا خیال نہیں محبت اور عزت اس کے دل میں تھی۔ مگر جب خدا کے ساتھ اس طرح آمنا سامنا ہوتا ہے تو ایسے کلمات بے ساختہ منہ سے نکل جاتے ہیں۔ یہی حال پطرس کا ہوا جو اس سے پہلے مسیح خصلت اور شخصیت سے کماحقہ طور پر واقف نہ تھا۔ یہ نکتہ بھی غور طلب ہے کہ انسان اور خدا کے درمیان جو فاصلہ حائل ہے اسے جناب مسیح دور کرتے ہیں۔ جس طرح انسانیت اور الوہیت آپ کی شخصیت میں باہم ملتی ہیں اسی طرح آپ انسان اور خدا کا ملاتے ہیں۔خدا کی حضوری جو گناہ گار کے لئے بھسم کرنے والی آگ ہے۔ ایماندار کے لئے مسیح میں بڑی برکت کا باعث ہوتی ہے۔

آیت۹۔کیونکہ مچھلیوں کے اس شکار سے وغیرہ۔

یہ حیرت مسیح کے اظہار قدرت کے وسیلہ پیدا ہوئی اور اس کا نتیجہ یہ ہواکہ نہ صرف حضرت پطرس بلکہ حضرت اندریاس، حضرت یعقوب، اور حضرت یوحنا آپ کی خدمت اور پیروی کے لئے تیار کئے گئے۔

آیت ۱۰۔ جنابِ مسیح نے حضرت پطرس سے فرمایا۔ خوف نہ کر و اب سے تم آدمیوں کو شکار کیا کرو گے۔

خوف نہ کرو۔وہ حضرت پطرس کے خوف آمیز خیالات کو جو آپ کی عظمت اور بزرگی کے مشاہدہ سے اس کے دل میں پیدا ہوئے تھے۔ ان لفظوں سے دھیما کرتے ہیں اور اسے جتاتے ہیں کہ بجائے اس کہ میں تم سے جدا ہوں اب تمہیں ہمیشہ میرے ساتھ رہنا ہو گا اور اب سے تم آدمیوں کا شکار کرو گے۔ ٹرنچ صاحب کا خیال جو ذیل کے الفاظ میں درج ہے نہایت نادر ہے۔ خدا کے نبی اور ا س کے خادم اپنے عہدہ پر معمور ہونے سے پہلے ہمیشہ کچھ اسی قسم کے تجربہ سے گذر ا کرتے ہیں ان کا تقرر کسی ظاہری رسم کے مطابق نہیں ہوتا اور نہ ہمیشہ ایک ہی صورت میں انجام پاتا ہے تاہم سب کو اپنے عہد کے فرائض ادا کرنے سے پہلے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ جو زمینی ہے آسمانی کی تاب نہیں لا سکتا بلکہ اس کے سامنے زرد رو ہو جاتا ہے۔ اس موقعہ پر انسان اپنی ناچیز حالت کو اور اپنی بدی کو پہچانتا ہے۔ اور اس درجہ تک پہچانتا ہے کہ آگے کبھی اسے ایسی شناخت نصیب نہ ہوئی تھی۔ اور یہ عرفان اس کو اس لئے بخشتا جاتا ہے کہ جو کام اس میں خدا کی طرف سے ہونے والا ہے وہ انسان کا نہ سمجھا جائے۔ بلکہ پورے پورے طور پر خدا کا مانا جائے۔ (دیکھئے توریت شریف کتاب خروج باب ۴ آیت ۱۰ سے ۱۷، صحیفہ حضرت یسعیاہ باب ۶، صحیفہ حضرت یرمیاہ باب ۱ آیت ۴، )حضرت پطرس کو آدمیوں کا مچھیرے بننے کے کام پر مامور ہوتا تھا۔ لہذا ضروری تھا کہ وہ بھی اس عجیب تجربہ کی راہ سے گزرے۔

آدمیوں کا شکار کیا کرو گے۔ دوسرے انجیل نویسیوں کے مطابق یہ مطلب اس طرح ادا کیا گیا ہے میں تجھے آدمیوں کا مچھیرا بناؤں گا۔ وہ اپنے وعدہ کو اسی فن کی اصطلاح میں ادا کرتا ہے۔جس سے پطرس بخوبی واقف ہے۔اس کام کو جواب پطرس کو ملا۔ اس کے پہلے پیشہ پر دو طرح کی فضیلت تھی۔ اول کہ وہ اب مچھلیوں کا نہیں۔ بلکہ آدمیوں کا شکار کرنے کو تھا۔ دوئم آدمیوں کو مچھلیوں کی طرح موت کے لئے نہیں بلکہ زندگی کے لئے پکڑے کو تھا۔ جولئین جو ایک بے دین شخص تھا۔ طنراً  کہا کرتا تھا۔ مسیح نے اچھا کام اپنے شاگردوں کے سپرد کیا کہ انہیں مچھیرا بنایا۔ جس طرح مچھوا مچھلیوں کو پانی سے جو ان کی زندگی کے لئے لابد ہے نکال کر جان سے مار دیتا ہے اسی طرح یہ رسول بھی لوگوں کو موت کے لئے بلاتے پھرتے ہیں۔ لیکن مفسرین بیان کرتے ہیں کہ جس لفظ کا ترجمہ شکار کیا گیا ہے اس کے اصل معنی “کسی شئے کو زندہ پکڑنے کے ہیں۔ “لہذا مسیح بنی آدم کو موت کے لئے نہیں بلاتے بلکہ دنیا کی امواج اور گناہ کے طوفان اور آزمائشوں کے تلاطم سے بچا کر کنا رے پر سلامت تک پہنچانے کے لئے بلاتے ہیں۔ خدا کی قید میں گرفتار ہونا اس آزادی سے جو دکھ سے بھر پور ہو ہزار درجہ اچھا ہے۔یہ قید گویا گناہ سے آزاد اور خدا کا غلام بننے کا نام ہے۔کلام کی تبلیغ کی نسبت بھی یہاں ایک نکتہ قابل غور ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ مچھوا نہیں جانتا کہ کیسی اور کتنی مچھلیاں اس کے جال میں آئیں گی۔ بلکہ وہ اس اعتقاد سے اپنا جال دریا میں ڈالتا ہے کہ کامیابی خدا کی طرف سے آئے گی۔ یہی اصول انجیل شریف کی تبلیغ پر صادق آتا ہے۔ اس کے ساتھ یہی بھی یاد رہے کہ ماہی گیری کا کم حکمت اور ہوشیاری کا کام ہے۔ سختی اور جبر کا کام نہیں ہے۔

آیت ۱۱۔ وہ کشتیوں کوک نارے پر لے آئے اور سب کچھ چھوڑ کر پیچھے ہو لئے۔

اب جو کچھ انہوں نے چھوڑا وہ اگرچہ بہت نہ تھا تاہم وہ ان کا سب کچھ تھا۔ جتنا انہوں نے چھوڑا۔اتنا ہی ان کے پاس تھا۔ اور وہ سب کچھ مسیح کی خاطر چھوڑا۔اس سے ان کی وہ محبت ظاہر ہوتی ہے جو وہ مسیح کے ساتھ رکھتے تھے۔ اور نیز ان کی وہ رضامندی ثابت ہوتی ہے جس کے سبب سے وہ مسیح کے لئے خود انکاری کے کام کرنے کو تیار تھے اور یہ خوبیاں اسی قدر ظاہر اور ثابت ہوتی ہیں۔ جس قدر بڑے بڑے محلوں اور کثیر دولت کے چھوڑنے سے ہوتیں ہیں۔ مسیح یہی چاہتے ہیں کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے خواہ تھوڑا ہو یا بہت اسے چھوڑے کے لئے تیار ہوں۔ جس وقت وہ ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیں چھوڑنا چاہیے شئے کی زیادتی یا کمی پر منحصر نہیں بلکہ اس نیت پر منحصر ہے جس سے وہ شئے چھوڑی جاتی ہے۔ ایک شخص اپنی جھونپڑی کو اس قدر پیار کرتا ہے جس قدر دوسر ا اپنے محل کو کرتا ہے۔ دیکھو زبدی اپنے بیٹوں کے بغیر بیت حسدا کو ( انجیل شریف بہ مطابق حضرت مرقس باب 1 آیت 20) اور مسیح ان کے ساتھ کفرناحوم کو جاتے ہیں۔ہو ہمیشہ اس کے ساتھ رہتے ہیں۔زبدی بھی نمونہ کے لائق باپ تھا۔

نصیحتیں اور مفید اشارے

۱۔مسیح ان کو برکت دیتے اور ان پر اپنے تئیں ظاہر کرتے ہیں جو بیکار اور سست نہیں رہتے بلکہ اپنے کام میں مشغول ہوتے ہیں۔ دیکھو گڈرئیے اپنی بھیڑوں کو چراتے تھے۔ عورت پانی بھرتی تھی اور حضرت پطرس اور دیگر شاگرد جالں کی مرمت کرتے تھے۔ جب جناب مسیح ان پر ظاہر ہوئے۔

۲۔مسیح اپنے لوگوں کو اپنی عجیب قدرت کے پر توس سے بسا اوقات سمندر کی گہری جگہوں میں مالا مال کیا کرتے ہیں۔

۳۔مسیح کے وعدوں پر ایمان لانا وعدوں کی برکتوں سے برومند ہونا ہے۔ کیا پطرس نے گہرے میں جال ڈال کر شرمندگی اٹھائی ؟

۴۔ وہی لوگ مسیح کی خدمت اچھی طرح بجا لاتے ہیں جو اپنی گنہگاری اور مسیح کی قدوسیت کو پہچانتے ہیں۔

۵۔جب ہماری بدی ہم پر ظاہر ہو جائے تو ہماری اصل جگہ مسیح کے قدم ہیں۔ وہیں ہم حضرت پطرس کی طرح گرنا چاہیئے۔

۶۔مسیح کے حکموں پر ہمیں بعض اوقات اپنے سالہاسال کے تجربہ کو بھی قربان کرنا پڑتا ہے۔

۷۔زبدی کی روش غور طلب ہے۔ اس نے اپنے بیٹوں کو یہ نہیں کہا کہ تم کیا بیوقوفی کرتے ہو۔ اپنا کام چھوڑ کر کہاں جاتے ہو۔ تمہاری عقل کہاں چرنے گئی ہے۔ مسیح کی پیروی میں کیا دھرا ہے۔ ہمارے لئے سبق یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو مسیح کی خدمت اختیار کرنے سے نہ روکیں کیا سب ماں باپ زبدی کی طرح اپنے بچوں کو اجازت دینے کے لئے تیار ہیں۔

۸۔سب کچھ چھوڑے بغیر مسیح کی خدمت نہیں ہوسکتی۔ دیکھو اس دولتمند کا حال جو ہمیشہ کی زندگی کی تلاش میں تھا۔ جب اس سے یہ کہا گیا کہ اپنا سب کچھ بیچ کر اور غریبوں کو دے کر میری پیروی کر تو وہ غمگین ہو کر واپس چلا گیا۔

۹۔جناب مسیح اپنے شاگردوں اور خصوصاً اپنے خادموں کو خود ڈھونڈتے ہیں وہ ان کے آپ آنے کی انتظاری نہیں کرتے “قول المسیح تم نے مجھے نہیں چنا۔ میں نے تم کو چنا ہے۔”

۱۰۔غور کرو کہ آدمی مسیح کے آنے سے پہلے کیا ہوتا ہے۔ اور جس وقت وہ آ جاتا ہے تب کیا ہو جاتا ہے۔ حضرت پطرس کیا تھے اور کیا ہو گئے۔

طوفان کو تھما دینا

               ۴۔معجزہ

انجیل عیسیٰ پارہ متی رکوع ۸آیت ۲۳تا ۲۷۔پارہ مرقس رکوع ۴آیت ۳۵تا ۴۱۔پارہ لوقا رکوع ۸آیت ۲۲تا ۲۵

مذکورہ بالا تینوں حواری اس تاریخ کو قلمبند کرتے ہیں اور اس امر میں متفق ہیں کہ یہ معجزہ گراسینیوں کے ا س شخص کے شفا یاب ہونے سے جس پر دیو چڑھا تھا پہلے واقع ہوا۔ شاید اسی شام کو واقع ہو ا ہو جس شام مسیح نے وہ تمثیلات بیان فرمائیں جو حضرت متی کے ۱۳ باب میں درج ہیں (مقابلہ کریں حضرت مرقس باب ۴ کے ساتھ ) بھیڑ کے ساتھ کلام کرنے کے بعد وہ شور و غوغا سے بچنے کے لئے دوسری جانب تنہائی میں جانا چاہتے تھے۔ لہذا کشتی پر سوار ہو کر ادھر روانہ ہوئے۔ پر ابھی راہ ہی میں تھے کہ وہ طوفان آیا جس کے معجزانہ طور پر تھمنے کا ذکر اس بیان میں پایا جاتا ہے۔

پارہ متی رکوع۸آیت ۲۳۔جب وہ (یعنی سیدنا مسیح) کشتی پر سوار ہوئے تو آپ کے حوارئین آپ کے ساتھ ہو لئے۔

شاید اس کشتی میں بادبان نہ تھے۔ اور ممکن ہے کہ زیادہ تر مچھلی پکڑنے کے کام آتی ہو گی۔ جناب مسیح اس پر سوار ہوئے اور آپ کے شاگرد بھی آپ کے ساتھ ہو لئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ اس کشتی پر سوار تھے اور کئی دوسری کشتیوں پر جن کا ذکر انجیل عیسیٰ پارہ مرقس رکوع ۴ آیت ۳۶میں آتا ہے۔ یہاں شاگرد سے مراد صرف بارہ رسول ہی نہیں بلکہ اور لوگ بھی جناب مسیح کے پیرو تھے۔ (انجیل عیسیٰ پارہ متی رکوع ۵آیت ۱)۔

آیت ۲۴۔اور دیکھو جھیل میں ایسا بڑا طوفان آیا کہ کشتی لہروں سے چھپ گئی۔

دیکھیں حضرت متی اکثر اس لفظ کو کسی عجیب واقعہ کے بیان کرنے سے پہلے استعمال کرتے ہیں۔ تاکہ توجہ اس طرف کی جائے۔ اصل لفظ کے معنی ہلنے اور جنبش کھانے کے ہیں۔ اور وہ لفظ اکثر زلزلہ کے لئے آتا ہے۔ مگر یہاں طوفان سے مراد ہے جو زلزلہ کی طرح لوگوں کے گھروں کو ہلا دیتا ہے۔ حضرت لوقا میں جو لفظ مستعمل ہے۔وہ خاص طوفان یا ہوا کے لئے آتا ہے۔ یہی ہوا وادیوں میں اور گرمی آگ کی بھٹی کی طرح جلا رہی تھی۔ مگر اس وقت ٹھنڈی سی ہوا سطح مرتفع سے آنے لگی۔ اور وادیوں میں سے گز کر جھیل کی طرف جھکی ہوئی ہیں سطح آب کو جنبش میں لانے لگی۔ اندھیرا بڑ ھ گیا۔ اور ہوا نے رفتہ رفتہ طوفان کی شکل اختیار کرنی شروع کی۔جھیل کی سطح گویا کف کی چادر بن گئی۔ سفید رنگ کی لہریں کنارے پر بڑے زور کے ساتھ ٹکر کھاتی تھیں۔ اب ہوا کی ملائم آواز ایک ہولناک اور حیرت افزا شور میں تبدیل ہو گئی۔جو ہوا کو سر سراہٹ اور پانی کے حرکت سے پیدا ہوا۔ کچھ فاصلہ پر ایک چھوٹا سا ڈونگا دکھائی دیا جو لہروں کی تھپیڑوں سے تہ و بالا ہو رہا تھا اور پھر اس غبار میں غائب ہو گیا۔

چونکہ یہ جھیل بحر اعظم کی سطح سے بہت نیچے ہے۔ لہذا ہوا بہت گرم ہوتی ہے اور رقیق ہو کر اکثر اوپر چڑھ جاتی ہے۔اور پھر غلا کو بھرنے کے لئے مشرق اور مغرب کی سطح مرتفع سے ٹھنڈی ہوا زور  و شور سے آتی ہے۔ (این امریکن کامنٹری آف دی نیو ٹیسٹیمنٹ)۔

کشی لہروں میں چھپ گئی مگر وہ (سیدنا مسیح ) سوتے تھے۔ یہ مطلب نہیں کہ وہ کشتی پانی سے بالکل بھر گئی کیونکہ ایسا ہوتا تو ڈوب جاتی یونانی فعل استمرار کو ظاہر کرتا ہے۔ (امریکن کامنٹری ) یعنی مطلب یہ ہے کہ چھپی جاتی تھی۔ حضرت مرقس فرماتے ہیں کہ “کشتی پانی سے بھری جاتی تھی اور حضرت لوقا بتاتے ہیں کہ وہ خطرے میں تھی۔”

کشتی اس وقت درحقیقت خطرے میں تھی ورنہ بچپن سے اس جھیل کے تمام حالات سے واقف تھے کبھی نہ گھبراتے اور کبھی مسیح کے پاس نہ آتے۔لیکن “وہ سوتے تھے ” لفظ وہ پر زور ہے۔ حضرت مرقس بتاتے ہیں کہ ” وہ (سیدنا مسیح ) پیچھے کی طرف خود گدی پر سوررہے تھے “کیسا عجیب سماں ہے مسیح گدی پر سر رکھے سورہے تھے اور آندھی زور و شور سے چل رہی ہے۔ اور اپنے تھپیڑوں سے کشتی کو تہ و بالا کر رہی ہے۔

جناب مسیح اس روز کے کام سے تھک کر سورہے تھے۔ مگر حضرت یوناہ (یعنی یونس ) کی طرح نہیں حضرت یوناہ ایک خراب ضمیر کے ساتھ سورہے تھے۔ مگر مسیح پاک ضمیر کے ساتھ۔ حضر ت یونہ خطرہ کا باعث تھے اور مسیح خطرے سے بچانا کا وسیلہ ہوا۔

یہاں یہہ بتانا مناسب ہے کہ یہ معجزہ ایک حقیقی تاریخی واقعہ ہے۔ مسیح نے درحقیقت طوفان کو تھمایا۔ بعض کی رائے ہے کہ مسیح نے اس طوفان کو جو شاگردوں کے دل میں دہشت سے پیدا ہو گیا تھا تھمادیا۔ اور ان کے ایمان کو ایسا مضبوط کر دیا۔ کہ ظاہری طوفان ان کی نظر میں طوفان نہ رہا۔ نہ پھر ان کے کان میں اس کی ہولناک آواز آئی اور کہ انجیل نویسوں نے اسی امن کو نیچر کا امن کہا ہے۔ پر درحقیقت مراد اس امن سے ہے جو اس کے کلام نے ان کے دل میں پیدا کیا۔ لیکن یاد رہے کہ اگر شاگرد ایسی غلطی کرتے یعنی دل کے امن کو نیچر کی قوتوں کا امن کہتے تو یہ غلطی جناب مسیح سے چھپی نہ رہتی۔ ما سوا ا سکے یہ اثر ان پر نہیں ہوسکتا تھا۔ جو ایمان نہیں لائے تھے اور شاگرد نہ تھے۔ مگر اس امن کے قائل کیا شاگرد اور کیا غیر شاگرد سب تھے۔

آیت ۲۵۔اُنہوں نے پاس آ کر اُنہیں (جنابِ مسیح) کو جگایا اور کہا اے مالک ہمیں بچائیے ہم ہلاک ہوئے جاتے ہیں۔

معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے مسیح کو کچھ دیر کے بعد جگایا اور دہشت بھری آواز کے ساتھ جگایا۔ مثلاً حضرت لوقا بتاتے ہیں کہ انہوں نے کہا۔ “صاحب، صاحب ہم ہلاک ہوئے جاتے ہیں اور حضرت مرقس کے الفاظ سے کسی قدر خفگی بھی ٹپکتی ہے ، “اے استاد کیا آپ کو فکر نہیں کہ ہم ہلاک ہوئے جاتے ہیں”اس، “ہم ” میں جناب مسیح بھی شامل تھے۔ حضرت متی “خداوند ” اور حضرت مرقس ” استاد ” اور حضرت لوقا “صاحب، صاحب ” کہتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انجیل نویس ہمیشہ وہی الفاظ جو استعمال کئے گئے رقم کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ کئی بار آزادگی کے ساتھ مطلب کو اپنے الفاظ میں ادا کر دیتے ہیں۔ ہم ہلاک ہوئے جاتے ہیں مراد جسمانی ہلاکت یا یوں کہیں کہ نیچرل موت سے ہے۔

آیت ۲۶۔ مسیح نے اُن سے فرمایا۔ اے کم اعتقادو ڈرتے کیوں ہوں؟ تب آپ نے اٹھ کر ہوا اور پانی کو جھڑکا اور بڑا امن ہو گیا۔

اب حضرت متی سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گویاد دھمکی پہلے دی گئی۔ اور طوفان پیچھے فرد ہوا۔ مگر حضرت مرقس اور حضرت لوقا سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا طوفان پہلے تھما یا گیا۔ اور جھڑکی پیچھے دی گئی۔ اغلب ہے کہ خداوند پہلے اور پیچھے دو نو مرتبہ ان کے ساتھ ہم کلام ہوئے۔ پہلے جاگ کر ان کی طرف مخاطب ہوئے اور پھر طوفان کو ہلکا کرنے کے بعد ان کے ایمان کی کمی کے باعث دوبارہ انکو دھمکا نے لگے۔ یاد رہے کہ وہ ان کو بے ایمان نہیں کہتے۔ بلکہ حضرت متی کے بیان کے مطابق “کم اعتقاد ” کہتے ہیں۔ وہ ایمان سے خالی نہ تھے۔چنانچہ ہم ان کی بے اعتقادی میں بھی ان کا اعتقاد چمکتا ہوا دیکھتے ہیں۔ یعنی وہ اپنے خطرے کے وقت جناب مسیح ہی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔تاکہ آپ سے مدد کی استد عا کریں۔ حضرت لوقا کہتے ہیں کہ مسیح نے فرمایا، “تمہارا ایمان کہاں گیا ” ایمان تو ان میں تھا۔لیکن اس وقت ان کے ایمان کا ایسا حال تھا۔ جیسا اس ہتھیار کا جسے سپاہی رکھ کر بھول جاتا ہے اور وقت پر کام نہیں لاتا۔ اب سوال یہ ہے کہ کس بات میں ان کی کم اعتقادی پائی گئی ؟کیا اس بات میں کہ انہوں نے مسیح سے مدد مانگی ؟نہیں یہ تو عین ایمان کی با ت تھی۔ کم اعتقادی اس میں تھی۔کہ انہوں نے نہایت دہشت کھائی اور خیال کیا کہ وہ کشتی جس پر جناب مسیح آرام فرما رہے تھے تباہ ہو جائے گی۔ڈرتے کیوں ہو۔اصل کے مطابق “کیوں بزدلی کرتے ہو “یہ ایک ناقص اور نامردانہ خوف تھا۔

تب مسیح نے اٹھ کر ہوا اور پانی کو جھڑکا اور بڑا امن ہو گیا۔

یہ الفاظ بڑے توجہ طلب ہیں۔ کیونکہ ان سے وہ طریقہ ظاہر ہوتا ہے جس سے جناب مسیح نے اس طوفان کو تھمایا۔ حضرت متی کہتے ہیں کہ “پانی کو جھڑکا ” اور حضرت مرقس اس طرح بیان کرتے ہیں کہ گویا مسیح نے سمندر سے مخاطب ہو کر فرمایا “چپ رہ تھم جا”مسیح لہروں سے یوں خطاب کرتے ہیں جس طرح کوئی کسی شخص سے کیا کرتا ہے۔ایک مسیحی علما ٹرنچ صاحب کہتے ہیں کہ یہ کلام گویائی کا یا فصاحت کا طرز بیان نہیں۔ جناب مسیح ان لہروں میں شیطان کو یا یوں کہیں کہ اس کی قدرت کو دیکھتے ہیں جس کے سبب سے فطرت کی طاقتوں میں بے اتحادی اور ابتری پیدا ہو رہی ہے۔ وہ ان تمام بے ترتیبیوں کا موجد ایک شخص کو سمجھتے ہیں۔سیدنا مسیح ایک اور جگہ بھی انہیں لفظوں کو استعمال کرتے ہیں۔ اُس موقعہ پر بخار کی طرف متوجہ ہو کر اسے جھڑکا تھا (انجیل شریف بہ مطابق حضرت لوقا ۴باب ۲۹آیت )۔اور وہاں بھی یہی تفسیر کام آتی ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ عین اس شور و غوغا کے درمیان فطرت مسیح کا حکم مانتی ہے کیونکہ وہ جو کامل انسان ہے اسی لئے آئے کہ فطرت پر انسان کی حکومت قائم کرے نیچر کا یہ کام تھا کہ ا س کی باندی ہو کر رہے۔ لیکن وہ بدی کی قدرت کے قبضہ میں آ کر بجائے خدمت اور مدد کے بارہا اس کو نقصان پہنچاتی ہے لیکن اس تھمانے کے لئے مسیح کا جو گناہ سے بری ہے ایک لفظ کافی ہے حضرت موسیٰ کی طرح ان کو اس بات کی ضرورت نہیں کہ اپنا عصا بڑہائے۔آپ کا کہنا ہی کافی تھا۔ پس آپ کی آواز سن کر “ہوا بند ہو گئی اور بڑا امن ہو گیا ” یہ بات بھی غور طلب ہے کہ فوق الا انسانی قدرت کے اظہاروں میں آپ انسانیت جلوہ گر دکھائی دیتی ہے۔ وہی جو جاگ کر ایسا کام کرتا ہے جوانسان نہیں کرسکتا۔تھک کر سو بھی جاتا۔

آیت ۲۷۔ لوگ تعجب کر کے کہنے لگے یہ کس طرح کا آدمی ہے کہ ہوا اور پانی بھی اس کے حکم میں ہیں۔

یہ الفاظ اس تاثیر کو ظاہر کرتے ہیں جو اس معجزہ کے سبب سے لوگوں پر ہوئی۔ انہوں نے آگے کبھی ایسا معجزہ نہ دیکھا تھا۔ اور اس اثر کا سبب یہ بھی تھا کہ وہ سمندر کے نظاروں اور طوفانوں کی بلا خیز آفتوں کا تجربہ رکھتے تھے۔ سو انہوں نے محسوس کیا۔ کہ سوائے خدا کی قدرت کے اور کوئی طوفان کو تھما نہیں سکتا تھا۔ اور شاید یہ اثر ان پر بھی جو دوسری کشتیوں پر تھے پیدا ہوا ہو گا۔ یہ کلمات تعجب آمیز کلمات ہیں۔ زبور نویس بھی کچھ اسی طرح کہتا ہے۔(زبور شریف نمبر ۸۹ آیت ۹، ۸)غرض اس معجزہ کی یہ تھی مسیح اپنے شاگردوں پر ظاہر فرمائے کہ ہر خطرے سے محافظت اور نجات پانا میری حضوری پر منحصر ہے۔ نیز وہ چاہتے تھے کہ یہ خطرہ ان کے ایمان کو مضبوط کرے کیونکہ بزرگ کر ساسٹم کے قول کے مطابق ان کو ایمان کے اکھاڑے میں پہلوان بننا تھا۔

اور یہی بات آپ کی حضوری تمام خطرات سے آزاد کرتی ہے۔ نہ صرف بیرونی طوفانوں پر صادق آتی ہے۔بلکہ مسیح جو سلامتی کا شہزادے ہیں اس معجزہ کے وسیلہ یہ کہہ رہے ہیں کہ دل کے اندر جو طوفان جاری ہیں ان کو بھی میں ہی تھما سکتا ہوں۔ علاوہ بریں کلیسیا کی محافظت بھی اس پر منحصر ہے۔ وہ بارہا خطروں میں اور طرح طرح کی آزمائشوں میں گرفتار ہوئی اور ہوتی ہے مگر ان لہروں اور موجوں سے ا س کو کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔ کیونکہ مسیح اس میں موجود ہے۔

نصیحتیں اور مفید اشارے

۱۔مسیح ہمارے کمزور ایمان کو خطروں کی جگہ لے جاتے ہیں اور وہاں سے آخر تک خطرے کا مقابلہ کرنے دیتے اور پھر ایک طرح ہمارے ایمان کی نکتہ چینی کرتے تاکہ اسے حلیم بنائے اور تمام کمزوریوں سے آزاد کریں۔

۲۔شاگردوں پر واجب ہے کہ جہاں مسیح لے جائے اس کے ساتھ جائیں۔ ان کا فرض ہے کہ ہر راہ میں اس کی پیروی کریں۔

۳۔مسیح کا سونا ہماری دینداری اور ایمان کی آزمائش ہے اور ان کا سوتے سے جاگنا ان کی قادر الوہیت کے جلال کا ایک نیا اظہار ہے۔

۴۔تمہارا ایمان کہاں ہے ؟اب بھی سوال کیا جا سکتا ہے۔مثلاً (ا)یہ سوال زندگی کے متعلق کیا جا سکتا ہے۔ (ب) ضمیر کے متعلق کیا جا سکتا ہے (ج) حالت زمانہ کے متعلق کیا جا سکتا ہے۔

۵۔جناب مسیح سمندر کا ستارہ اور بادبان اور لنگر، لائٹ ہاؤس اور باد شرط ہے۔

۶۔جہاں مسیح ہے وہاں خطرہ ہوتا ہے بلکہ اس جگہ کی نسبت جہاں وہ نہیں ہیں زیادہ ہوتا ہے مگر ہلاکت کے لئے نہیں پر آزمائش کے لئے ہوتا ہے۔

۷۔شاگردوں کی اور مسیح کی روش کا مقابلہ کرو وہ ان کو ملامت کرتے ہیں حالانکہ ابھی انہوں نے آپ کی قدرت کو کام کرتے نہیں دیا۔ لیکن وہ اس وقت ملامت کرتے ہیں جب پہلے طوفان تھما دیتے ہیں۔

۸۔دیکھو مسیح خطرہ میں کیا روش اختیار کرتے ہیں۔ (الف) طوفان کو شدت سے چلنے دیتا ہے (ب) اور آ پ ایسے بن جاتے ہیں کہ گویا کچھ خبر نہیں (ج) کہ گویا طوفان کا کھچ علاج ہی نہیں ہے۔ مگر آخر کار جاگتے اور سارے طوفان کو دفع کرتے ہیں۔

۹۔پر وہ کیوں سوتے ہیں (الف) تاکہ ہم جاگیں اور اپنی ناتوانی کو پہچانیں (ب) تاکہ اس کی قدرت کا کرشمہ حاصل کریں۔ (ج) تاکہ اس کی مدد کے لئے دعا مانگنا سیکھیں۔ (د) تاکہ آخر کار اس کی حمد اور تعریف ہو۔

۱۰۔جتنی صلیب بڑی ہوتی ہے اتنی ہی دعا سرگرم ہوتی ہے۔

۱۱۔انسان کو نیچر پر حکمرانی کرنا اور اسے اپنی اطاعت میں لانا تھا۔ لیکن طوفان اور آندھیاں اب اس سے سرکش ہیں اور اس سرکشی سے انسان کی سرکشی ظاہر ہوتی ہے اگر وہ ان شرارت کے طوفانوں اور آندھیوں میں جو اس کی سرکشی سے پیدا ہوئے۔ مبتلا نہ ہوتا تو نیچر ا س سے باغی نہ ہوتی۔ گنہگار انسان کے مقابلہ میں مسیح کامل انسان کو دیکھو کہ کس طرح نیچر اس کے تابع ہے۔ اس کی سکون دلی اور شاگردوں کی گھبراہٹ اس کا اپنے اوپر قابو رکھنا۔ اور ان کا بے قابو ہو جانا۔ اس کا نیچر کی طاقتوں پر مسلط ہونا اور ان کا اس کے خطروں سے خائف و نالاں ہونا اس فرق کو ظاہر کرتا ہے۔

۱۲۔جناب مسیح سمندر کی طغیانی اور طوفان کی شدت کو روکتے ہیں کیونکہ اس پر حاکم ہیں کوئی ایسا طوفان نہیں جسے وہ روک نہ سکیں خواہ وہ (الف) فطرت میں نمایاں ہو۔ (ب) تاریخ ہو (ج) خواہ کلیسیا کی تاریخ میں ہو (د) خواہ گھر میں ہو یا دل میں ہو۔

۱۳۔اگر مسیح ہمارے ساتھ ہیں تو ہم کبھی ہلا ک نہ ہوں گے۔کلیسیا کا جہاز بارہا ایذاؤں اور آزمائیشوں کے طوفان میں مبتلا ہوا مگر وہ ہمیشہ اسے بچاتا رہا۔

۱۴۔طوفان ہم کو دعا مانگنا سکھاتا ہے اور مسیح کو ظاہر کرتا ہے۔ (الف) وہ ظاہر کرتا ہے کہ مسیح سچا اور پاک انسان ہے (ب) کہ وہ دانا اور مہربان خداوند ہے۔ (ج) کہ وہ قادر اور واجب الاطاعت بن خدا ہے۔

۱۵۔انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ خطرے کو اس بات کا نشان سمجھتا ہے کہ خدا میری پروا نہیں کرتا۔

۱۶۔طوفان کے بعد ہمیشہ امن ہے۔ اور یہی خدا کے بندوں کی آزمائیشوں کا حال ہے ان کی آزمائشوں کے بعد ہمیشہ شانتی آتی ہے۔

۱۷۔ مسیح کمزور سے کمزور ایمان کی بھی بے قدری نہیں کرتے۔

٭٭٭

ماخذ:

 http://www.noor-ul-huda.org/book/miracles

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید