FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

لفظ لفظ

 

حصہ دوم

 

 

               فیض احمد فیض

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

دستِ تہِ سنگ، شامِ شہر یاراں

 

 

 

 

دستِ تہِ سنگ

 

 

 

 

اِنتساب

 

 

 

دیس پردیس کے یارانِ قدح خوار کے نام

حسنِ آفاق، جمالِ لب و رخسار کے نام

 

 

سرآغاز

 

شاید کبھی افشا ہو، نگاہوں پہ تمہاری

ہر سادہ ورق، جس سخنِ کُشتہ سے خون ہے

شاید کبھی اُس گیت کا پرچم ہو سرافراز

جو آمدِ صرصر کی تمنا میں نگوں ہے

شاید کبھی اُس دل کی کوئی رگ تمہیں چُبھ جائے

جو سنگِ سرِراہ کی مانند زبوں ہے

 

 

 

تقریر

 

فیض صاحب کی تقریر جو انہوں نے ماسکو میں بین الاقوامی لینن امن انعام کی پر شکوہ تقریب کے موقع پر اردو زبان میں کی:

 

محترم اراکینِ مجلسِ صدارت، خواتین اور حضرات!

الفاظکی تخلیق و ترتیب شاعر اور ادیب کا پیشہ ہے۔لیکن زندگی میں بعض مواقع ایسےبھی آتے ہیں جب قدرت کلام جواب دے جاتی ہے۔۔۔آج عجزِ بیان کا ایسا ہیمرحلہ مجھے درپیش ہے۔ایسے کوئی الفاظ میرے ذہن میں نہیں آ رہے، جن میں اپنی عزت افزائی کے لئے لینن پرائز کمیٹی،سوویٹ یونین کے مختلف اداروں،دوستوں اور سب خواتین اور حضرات کا شکریہ خاطر خواہ طور سے اداکرسکوں۔لینن امن انعام کی عظمت تو اسی ایک بات سے واضح ہے کہ اس سے لیننکا محترم نام اور مقدس لفظ وابستہ ہے۔لینن جو دور حاضر میں انسانی حریت کاسب سے بزرگ علم بردار ہے اور امن جو انسانی زندگی اور اس زندگی کے حسنو خوبی کی شرطِ اول ہے۔مجھے اپنی تحریر و عمل میں ایسا کوئی کام نظر نہیں آتا جس اس عظیم اعزاز کے شایان شان ہو۔لیکن اس عزت بخشی کی ایک وجہ ضرورذہن میں آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس تمنا اور آدرش کے ساتھ مجھے اور میرےساتھیوں کو وابستگی رہی ہے یعنی امن اور آزادی کی تمنا وہ بجائے خود اتنیعظیم ہے کہ اس واسطے سے ان کے حقیر اور ادنیٰ کارکن بھی عزت اور اکرام کےمستحق ٹھہرتے ہیں۔

یوں تو ذہنی طور سے مجنون اور جرائم پیشہ لوگوں کے علاوہ سبھی مانتے ہیں کہامن اور آزادی بہت حسین اور تابناک چیز ہے اور سبھی تصور کرسکتے ہیں کہامن گندم کے کھیت ہیں اور سفیدے کے درخت،دلہن کا آنچل ہے اور بچوں کےہنستے ہوئے ہاتھ،شاعر کا قلم ہے اور مصور کا موئے قلم اور آزادی ان سب صفاتکی ضامن اور غلامی ان سب خوبیوں کی قاتل ہے جو انسان اور حیوان میں تمیزکرتی ہے۔یعنی شعور اور ذہانت،انصاف اور صداقت، وقار اور شجاعت، نیکی اور رواداری____اس لئے بظاہر امن اور آزادی کے حصول اور تکمیل کے متعلقہوشمند انسانوں میں اختلاف کی گنجائش نہ ہونا چاہیے۔لیکن بدقسمتی سے یوں نہیں ہے کہ انسانیت کی ابتداء سے اب تک ہر عہد اور ہر دور میں متضاد عواملاور قوتیں برسرِعمل اور برسرپیکار رہی ہیں۔یہ قوتیں ہیں،تخریبو تعمیر،ترقی اور زوال،روشنی اور تیرگی،انصاف دوستی کی قوتیں۔یہی صورت آجبھی ہے اور اسی نوعیت کی کشمکش آج بھی جاری ہے۔لیکن ساتھ ہی ساتھ آج کلانسانی مسائل اور گزشتہ دور کی انسانی الجھنوں میں کئی نوعیتوں سے بھی فرقہے۔دورِ حاضر میں جنگ سے دو قبیلوں کا باہمی خون خرابہ مراد نہیں ہے۔نہ آجکل امن سے خون خرابے کا خاتمہ مراد ہے۔آج کل جنگ اور امن کے معنی ہیں امنِآدم کی بقا اور فنا۔بقا اور فنا ان دو الفاظ پر انسانی تاریخ کے خاتمے یاتسلسل کا دارومدار ہے۔انہیں پرانسانوں کی سرزمین کی آبادی اور بربادی کاانحصار ہے۔یہ پہلا فرق ہے۔دوسرا فرق یہ ہے کہ اب سے پہلے انسانوں کو فطرتکے ذخائر پر اتنی دسترس اور پیداوار کے ذرائع پر اتنی قدرت نہ تھی کہ ہرگروہ اور برادری کی ضرورتیں پوری طرح تسکین پا سکتیں۔اس لئے آپس میں چھینجھپٹ اور لوٹ مار کا کچھ نہ کچھ جواز بھی موجود ہے۔لیکن اب یہ صورت حالنہیں ہے۔انسانی عقل، سائنس اور صنعت کی بدولت اس منزل پر پہنچ چکی ہے کہجس میں سب تن بخوبی پل سکتے ہیں اور سبھی جھولیاں بھرسکتی ہیں۔بشرطیکہقدرت کے یہ بے بہا ذخائر پیداوار کے یہ بے اندازہ خرمن،بعض اجارہ داروں اور مخصوص طبقوں کی تسکینِ ہوس کے لئے نہیں،بلکہ جملہ انسانوں کی بہبود کےلئے کام میں لائے جائیں۔اور عقل اور سائنس اور صنعت کی کل ایجادیں اور صلاحیتیں تخریب کے بجائے تعمیری منصوبوں میں صرف ہوں۔لیکن یہ جبھی ممکن ہے کہانسانی معاشرے میں ان مقاصد سے مطابقت پیدا ہو اور انسانی معاشرے کے ڈھانچےکی بنائیں ہوسِ،استحصال اور اجارہ داری کے بجائے انصاف برابری،آزادیاور اجتماعی خوش حالی میں اٹھائیں جائیں۔اب یہ ذہنی اور خیالی بات نہیں،عملیکام ہے۔اس عمل میں امن کی جدوجہد اور آزادی کی حدیں آپس میں مل جاتی ہیں۔اسلئے کہ امن کے دوست اور دشمن اور آزادی کے دوست اس دشمن ایک ہی قبیلے کےلوگ،ایک ہی نوع کی قوتیں ہیں۔ایک طرف وہ سامراجی قوتیں ہیں جن کے مفاد،جنکے اجارے جبر اور حسد کے بغیر قائم نہیں رہ سکتے اور جنہیں ان اجاروں کےتحفظ کے لئے پوری انسانیت کی بھینٹ بھی قبول ہے۔دوسری طرف وہ طاقتیں ہیں جنہیں بنکوں اور کمپنیوں کی نسبت انسانوں کی جان زیادہ عزیز ہے۔جنہیں دوسروں پر حکم چلانے کے بجائے آپس میں ہاتھ بٹانے اور ساتھ مل کر کام کرنےمیں زیادہ لطف آتا ہے۔سیاست و اخلاق،ادب اور فن،روزمرہ زندگی،غرض کئی محاذوں پر کئی صورتوں میں تعمیر اور تخریب انسان دوستی اور انسان دشمنی کی یہچپقلش جاری ہے۔

آزادیپسند اور امن پسند لوگوں کے لئے ان میں سے ہر محاذ اور ہر صورت پر توجہ دیناضروری ہے۔مثال کے طور پر سامراجی اور غیر سامراجی قوتوں کی لازمی کشمکش کےعلاوہ بدقسمتی سے بعض ایسے ممالک میں بھی شدید اختلاف موجود ہیں،جنہیں حالہی میں آزادی ملی۔ایسے اختلافات ہمارے ملک پاکستان اور ہمارے سب سے قریبیہمسایہ ہندوستان میں موجود ہیں۔بعض عرب ہمساہہ ممالک میں اور بعض افریقیحکومتوں میں موجود ہیں۔ظاہر ہے کہ ان کے اختلافات سے وہی طاقتیں فائدہاٹھا سکتی ہیں جو امن عالم اور انسانی برادری کی دوستی اور یگانگت کو پسندنہیں کرتیں۔اسلئے صلح پسنداور امن دوست صفوں میں ان اختلافات کے منصفانہ حلپر غور و فکر اور اس حل میں امداد دینا بھی لازم ہے۔

ابسے کچھ دن پہلے جب سوویت فضاؤں کا تازہ کارنامہ ہر طرف دنیا میں گونج رہاتھا تو مجھے بار بار خیال آتا رہا کہ آج کل جب ہم ستاروں کی دنیا میں بیٹھ کراپنی ہی دنیا کا نظارہ کرسکتے ہیں تو چھوٹی چھوٹی کمینگیاں،خود غرضیاں،یہزمین کے چند ٹکڑوں کو بانٹنے کو کوششیں اور انسانوں کی چند ٹولیوں پر اپناسکہ چلانے کی خواہش کیسی بعید از عقل باتیں ہیں۔اب جبکہ ساری کائنات کےراستے ہم پر کشادہ ہو گئے ہیں۔ساری دنیا کے خزینے انسانی بس میں آسکتےہیں،توکیاانسانوں میں ذی شعور،منصف مزاج اور دیانت دار لوگوں کی اتنی تعدادموجود نہیں ہے جو سب کو منوا سکے کہ یہ جنگی اڈے سمیٹ لو۔یہ بم اور راکٹ،توپیں بندوقیں سمندر میں غرق کر دو اور ایک دوسرے پر قبضہ جمانے کی بجائےسب مل کر تسخیر کائنات کو چلو۔جہاں جگہ کی کوئی تنگی نہیں ہے،جہاں کس کوکسی سے الجھنے کی ضرورت نہیں ہے،جہاں لا محدود فضائیں ہیں اور ان گنتدنیائیں۔مجھے یقین ہے کہ سب رکاوٹوں اور مشکلوں کے باوجود ہم لوگ اپنیانسانی برادری سے یہ بات منوا کر رہیں گے۔

مجھےیقین ہے کہ انسانیت جس نے اپنے دشمنوں سے آج تک کبھی ہار نہیں کھائی  اببھی فتح یاب ہو کر رہے گی۔اور آخرِ کار جنگ و نفرت اور ظلم و کدورت کے بجائے ہمارےباہمی زندگی کی بنا وہی ٹھہرے گی جس کی تلقین اب سے بہت پہلے فارسی شاعرحافظ نے کی تھی

خلل پذیر بود ہر بنا کہ می بینی

مگر بنائے محبت کہ خالی از خلل است

٭٭٭

 

 

 

فیض از فیض

 

اپنےبارے میں باتیں کرنے سے مجھے سخت وحشت ہوتی ہے۔اس لئے کہ سب لوگوں کامرغوب مشغلہ یہی ہے۔اس انگریزی لفظ کے معذرت چاہتا ہوں لیکن اب تو ہمارےہاں اس کے مشتقات بوریت وغیرہ بھی استعمال میں آنے لگے ہیں۔اس لئے اب اسےاردو میں روزمرہ میں شامل سمجھنا چاہیے۔تومیں یہ کہہ رہا تھا کہ مجھے اپنےبارے میں قیل و قال بری لگتی ہے۔بلکہ میں تو شعر میں بھی حتیٰ الامکان واحدمتکلم کا صیغہ استعمال نہیں کرتا،اور ’’میں ‘‘کے بجائےہمیشہ ’’ہم‘‘ لکھتا آیا ہوں۔چنانچہ جب ادبی ساغران حضرات مجھ سے یہ پوچھنےبیٹھتے ہیں کہ تم شعر کیوں کہتے ہو تو بات کو ٹالنے کے لئے جو دل میں آئےکہہ  دیتا ہوں۔مثلاً یہ کہ بھئی میں جیسے بھی کہتا ہوں جس لئے بھی کہتا ہوں تم شعر میں خود ڈھونڈو اور میرا سر کھانے کی کیا ضرورت ہے۔لیکن ان میں  ڈھیٹقسم کے لوگ جب بھی نہیں مانتے۔چنانچہ آج کی گفتگو کی سب ذمہ داری ان حضراتکے سر ہے مجھ پر نہیں ہے۔

شعرگوئی کا واحد عذرِ گناہ تو مجھے نہیں معلوم۔اس میں بچپن کی فضائے گرد و پیشمیں شعر کا چرچا دوست احباب کی ترغیب اور دل کی لگی سبھی کچھ شامل ہے۔یہنقشِ فریادی کے پہلے حصے کی بات ہے جس میں ۲۹۔۲۸ء سے۳۵ء تک کی تحریریں شامل ہیں،جو ہماری طالب العلمی کے دن تھے۔یوں تو ان سب اشعار کا قریب قریب ایکہی ذہنی اور جذباتی واردات سے تعلق ہے اور اس واردات کا ظاہری محرک تو وہیایک حادثہ ہے جواس عمر میں نوجوان دلوں پر گزر جایا کرتا ہے۔لیکن اب جودیکھتا ہوں تو یہ دور بھی ایک دور نہیں تھا بلکہ اس کے بھی دو الگ الگ حصےتھے۔جن کی داخلی اور خارجی کیفیت کافی مختلف تھی۔وہ یوں ہے کہ۲۰ء سے۳۰ء تکزمانہ ہمارے ہاں معاشی اور سماجی طورسے کچھ عجب طرح کی بے فکری،آسودگیاور ولولہ انگیزی کا زمانہ تھا،جس میں اہم قومی اور سیاسی تحریکوں کے ساتھساتھ نثر و نظم میں بیشتر سنجیدہ فکر و مشاہدہ کے بجائے کچھ رنگ رلیاں منانےکا سا  انداز تھا۔شعر میں اولاً حسرت موہانی اور ان کے بعد جوش،حفیظ جالندھریاور اختر شیرانی کی ریاست قائم تھی،افسانے میں یلدرم اور تنقید میں حسنبرائے حسن اور ادب برائے ادب کا چرچا تھا۔ نقشِ فریادی کی ابتدائی نظمیں،  ’’خدا وہ وقت نہ لائے کہ سوگوارہوتو‘‘مری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیردے مجھ کو‘‘  تہ نجوم کہیں چاندنی کے دامن میں ‘‘وغیرہ وغیرہ اسی ماحول کےزیر اثر مرتب ہوئیں اور اس فضا میں   ابتدائے عشق کا تحیر بھی شاملتھا۔لیکن ہم لوگ اس دور کی ایک جھلک بھی ٹھیک سے نہ دیکھ پائے تھے کہصحبتِ یار آخر شد۔پھر دیس پر عالمی کساد بازاری کے سائے ڈھلنے شروعہوئے۔کالج کے بڑے بڑے بانکے تیس مار خاں تلاشِ معاش میں گلیوں کی خاکپھانکنے لگے۔یہ وہ دن تھے جب یکایک بچوں کی ہنسی بجھ گئی، اجڑے  ہوئے کسانکھیت کھلیان چھوڑ کر شہروں میں مزدوری کرنے لگے اور اچھی خاصی شریف بہوبیٹیاں بازار میں آ بیٹھیں۔گھر کے باہر یہ حال تھا اور گھر کے اندر مرگِ سوزِمحبت کا کہرام مچا تھا۔یکایک یوں محسوس ہونے لگا کہ دل و دماغ پر سبھیراستے بند ہو گئے ہیں اور اب یہاں کوئی نہیں آئے گا۔اس کیفیت کا اختتام جونقشِ فریادی کے پہلے حصے کی آخری نظموں کی کیفیت ہے ایک نسبتا غیر معروفنظم پر ہوتا ہے، جسے میں نے یاس کا نام دیا تھا۔وہ یوں ہے:

 

یاس

 

بربطِ دل کے تار ٹوٹ گئے

ہیں زمیں بوس راحتوں کے محل

مٹ گئے قصہ ہائے فکر و عمل

برم ہستی کے جام پھوٹ گئے

چھِن گیا کیف کوثر و تسنیم

زحمتِ گریہ و بکا بے سود

شکوہ بختِ نارسا بے سود

ہو چکا ختم رحمتوں کا نزول

بند ہے مدتوں سے بابِ قبول

بے نیازِ دُعا ہے رب کریم

بُجھ گئی شمعِ آرزوئے جمیل

یاد باقی ہے بے کسی کی دلیل

انتظارِ فضول رہنے دے

راز الفت نباہنے والے

بارِ غم سے کراہنے والے

کاوش بے حصول رہنے دے

 

۳۴ءمیں ہم لوگ کالج سے فارغ ہوئے اور۳۵ء میں میں نے ایم اے او کالج امرتسرمیں ملازمت کر لی۔یہاں سے میری اور میرے بہت سے ہمعصر لکھنے والوں کی ذہنیاور جذباتی زندگی کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔اس دوران کالج میں اپنے رفقاءصاحب زادہ محمود الظفر مرحوم اور ان کی بیگم رشیدہ جہاں سے ملاقات ہوئی۔پھرترقی پسند تحریک کی داغ بیل پڑی، مزدور تحریک کا سلسلہ شروع ہوا اور یوں  لگا کہ جیسے گلشن میں ایک نہیں کئی دبستان کھل گئے ہیں۔اس دبستان میں سبسے پہلا سبق جو ہم نے سیکھا تھا کہ اپنی ذات باقی دنیا سے الگ کر کےسوچنااول تو ممکن ہی نہیں،اس لئے کہ اس میں بہر حال گرد و پیش کے سبھیتجربات شامل ہوتے ہیں اور اگر ایسا ممکن ہو بھی تو انتہائی غیر سودمند فعلہے کہ ایک انسانی فرد کی ذات اپنی سب محبتوں اور کدورتوں مسرتوں اور رنجشوں کے باوجود بہت ہی چھوٹی سی بہت محدود اور حقیر شے ہے۔اس کی وسعت اور پہنائیکا پیمانہ تو باقی عالم موجودات سے اس کے ذہنی اور جذباتی رشتے ہیں،خاص طورپر انسانی برادری کے مشترکہ دکھ درد کے رشتے۔چنانچہ غمِ جاناں اور غمِدوراں تو ایک ہی تجربے کے دو پہلو ہیں۔اسی نئے احساس کی ابتداء نقشِفریادی کے دوسرے حصے کی پہلی نظم سے ہوتی ہے۔اس نظم کا عنوان ہے ’’مجھ سےپہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ‘‘

اور اگر آپ خاتون ہیں تو ’’مرے محبوب نہ مانگ‘‘

 

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

 

میں نے سمجھاتھاکہ توہے درخشاں ہے حیات

تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے

تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات

تیری آنکھوں کے سوادنیا میں رکھا کیا ہے؟

تو جو مل جائے تو تقدیر نِگُوں ہو جائے

یوں نہ تھا،میں نے فقط چاہا تھا۔ یُوں  ہو جائے

اور بھی دُکھ ہیں زمانے میں محبت سے سوا

راحتیں اور بھی وصل کی راحت کے سوا

ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم

ریشم و اطلس و کمخواب میں بُنوائے ہوئے

جا بجا بکتے  ہوئے کوچہ و بازار میں جسم

خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے  ہوئے

جسم نکلے ہوئے امراض کے تنّوروں سے

پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے

اب بھی دلکش ہے ترا حسن،مگر کیا کیجئے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

 

اس کے بعد تیر ہ چودہ برس’’کیوں نہ جہاں کا غم اپنا لیں ‘‘میں گزرے اور پھر فوج،صحافت ٹریڈیونین وغیرہ میں گزارنے کے بعد ہم چار برس کے لئے جیل خانے چلے گئے۔ نقشِ فریادی کے بعد کی دو کتابیں ’’دست صبا‘‘ اور ’’زنداں نامہ‘‘ اسی جیل خانے کی یادگار ہیں۔بنیادی طور پر  تو یہ تحریریں انہیں ذہنی محسوسات اور معمولات سے منسلک ہیں جن کا سلسلہ مجھ سے پہلی سی محبت،سے شروع ہوا تھا لیکن جیل خانہ عاشقی کی طرح خود ایک بنیادی تجربہ ہے،جس میں فکر و نظر کا ایک آدھ نیا دریچہ خود بخود کھل جاتا ہے۔چنانچہ اول تو یہ ہے کہ ابتدائے شباب کی طرح تمام حسیات یعنی(Sensations)پھر تیز ہو جاتی ہیں اور صبح کی پَو،شام کے دھُندلکے،آسمان کی نیلاہٹ،ہوا کے گداز کے بارے میں وہی پہلا سا تحیر لوٹ آتا ہے۔دوسرے یوں ہوتا ہے کہ باہر کی دنیا کا وقت اور فاصلے دونوں باطل ہو جاتے ہیں۔نزدیک کی چیزیں بھی بہت دور ہو جاتی ہیں اور دور کی نزدیک اور فرداودی کا تفرقہ کچھ اس طور سے مٹ جاتا ہے کہ کبھی ایک لمحہ قیامت معلوم ہوتا ہے اور کبھی ایک صدی کل کی بات۔تیسری بات یہ ہے کہ فراغتِ ہجراں میں فکر و مطالعہ کے ساتھ عروسِ سخن کے ظاہری بناؤ سنگھاؤ پر توجہ دینے کی زیادہ مہلت ملتی ہے۔جیل خانے کے بھی دو دور تھے۔ایک حیدرآباد جیل کا جواس تجربے کے انکشاف کے تحیر کا زمانہ تھا،ایک منٹگمری جیل کا جو اس تجربے سے اکتاہٹ اور تھکن کا زمانہ تھا۔ان دو کیفیتوں کی نمائندہ یہ دو نظمیں ہیں،پہلی’’دستِ صبا‘‘ میں ہے دوسری’’زندان نامہ‘‘ میں ہے۔

 

زندان نامہ کی ایک شام

 

شام کے پیچ و خم ستاروں سے

زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات

یوں صبا پاس سے گزرتی ہے

جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات

صحنِ زنداں کے بے وطن اشجار

سرنگوں، محو ہیں بنانے  میں

دامنِ آسماں پہ نقش و نگار

شانہ بام پر دمکتا ہے

مہرباں چاندنی کا دست جمیل

خاک میں گھُل گئی ہے آب نجوم

نُور میں گھُل گئی ہے عرش کا نیل

سبز گوشوں میں نیلگوں سائے

لہلہاتے ہیں جس طرح دل میں

موجِ دردِ فراقِ یار آئے

دل سے پیہم خیال کہتا ہے

اتنی شیریں ہے زندگی اس پل

ظلم کا زہر گھولنے والے

کامراں ہوسکیں  گے آج نہ کل

جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں

وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا

چاند کو گُل کریں تو ہم جانیں

 

اے روشنیوں کے شہر

 

سبزہ سبزہ سوکھ رہی ہے پھیکی زرد دوپہر

دیواروں کو چاٹ رہا ہے تنہائی کا زہر

دور افق تک گھٹتی،بڑھتی،اٹھتی،گرتی رہتی ہے

کہر کی صورت بے رونق دردوں کی گدلی لہر

بستا ہے اِس کُہر کے پیچھے روشنیوں کا شہر

اے روشنیوں کے شہر

اے روشنیوں کے شہر

کون کہے کس سمت ہے تیری روشنیوں کی راہ

ہر جانب بے نور کھڑی ہے ہجر کی شہر پناہ

تھک کر ہر سُو بیٹھ رہی ہے شوق کی ماند سپاہ

آج مرا دل فکر میں ہے

اے روشنیوں کے شہر

شبخوں سے منہ پھیر نہ جائے ارمانوں کی رو

خیر ہو تیری لیلاؤں کی،ان سب سے کہہ دو

آج کی شب جب دیئے جلائیں اونچی رکھیں لو

 

زنداں نامے کے بعد کچھ ذہنی افراتفری کا زمانہ ہے جس میں اپنا اخباری پیشہ چھُٹا،ایک بار جیل گئے۔مارشل لاء کا دور آیا،اور ذہنی گرد و پیش کی فضا میں پھر سے کچھ انسداد راہ اور کچھ نئی راہوں کی طلب کا احساس پیدا ہوا۔اس سکوت اور انتظار کی آئینہ دار ایک نظم ہے ’’شام‘‘ اور ایک نا مکمل غزل کے چند اشعار:

 

کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہو گی!

یہ خوں کی مہک ہے کہ لبِ یار کی خوشبو

کس راہ کی جانب سے صبا آتی ہے دیکھو

گلشن میں بہار آئی کہ زنداں ہُوا آباد

کِس سمت سے نغموں کی صدا آتی ہے دیکھو

 

دستِ تہِ سنگ آمدہ

 

بیزار فضا، در پئے آزارِ صبا ہے

یوں ہے کہ ہر اک ہمدمِ دیرینہ خفا ہے

ہاں بادہ کشو آیا ہے اب پہ موسم

اب سیر کے قابل روشِ آب و ہوا ہے

اُمڈی ہے ہر اک سمت سے الزام کی برسات

چھائی ہوئی ہر دانگ ملامت کی گھٹا ہے

وہ چیز بھری ہے کہ سلگتی ہے صراحی

ہر کاسہ ہے زہرِ  ہلاہل سے سوا ہے

ہاں جام اٹھاؤ کہ بیادِ لبِ شیریں

یہ زہر تو یاروں نے کئی بار پیا ہے

اس جذبۂ دل کی نہ سزا ہے نہ جزا ہے

مقصود رہِ شوق وفا ہے نہ جفا ہے

احساسِ غمِ دل جو غمِ دل کا صلا ہے

اس حسن کا احساس ہے جو تیری عطا ہے

ہر صبح گلستاں ہے ترا روئے بہاریں

ہر پھول تری یاد کا نقشِ کفِ پا ہے

ہر بھیگی ہوئی رات تری زلف کی شبنم

ڈھلتا ہوا سورج ترے ہونٹوں کی فضا ہے

ہر راہ پہنچتی ہے تری چاہ کے در تک

ہر حرف تمنّا ترے قدموں کی صدا ہے

تعزیر سیاست ہے، نہ غیروں کی خطا ہے

وہ ظلم جو ہم نے دلِ وحشی پہ کیا ہے

زندانِ  رہِ یار میں پابند ہوئے ہم

زنجیر بکف ہے، نہ کوئی بند بپا ہے

’’مجبوری و دعویٰ گرفتاریِ الفت

دستِ تہِ سنگ آمدہ پیمانِ وفا ہے‘‘

 

 

***

 

میخانوں کی رونق ہیں، کبھی خانقہوں کی

اپنا لی ہوس والوں نے جو رسم چلی ہے

دلداری واعظ کو ہمیں باقی ہیں ورنہ

اب شہر میں ہر رندِ خرابات ولی ہے

 

 

پیکنگ

 

یوں گماں ہوتا ہے بازو ہیں مرے ساٹھ کروڑ

اور آفاق کی حد تک مرے تن کی حد ہے

دل مرا کوہ و دمن دشت و چمن کی حد ہے

میرے کیسے میں ہے راتوں کا سیہ فام جلال

میرے ہاتھوں میں ہے صبحوں کی عنانِ گلگوں

میری آغوش میں پلتی ہے خدائی ساری

میرے مقدر میں ہے معجزۂ کُن فَیَکُوں

 

 

سِنکیانگ

 

 

اب کوئی طبل بجے گا، نہ کوئی شاہسوار

صبح دم موت کی وادی کو روانہ ہو گا!

اب کوئی جنگ نہ ہو گی نہ کبھی رات ہو گی

خون کی آگ کو اشکوں سے بُجھانا ہو گا

کوئی دل دھڑکے گا شب بھر نہ کسی آنگن میں

وہم منحوس پرندے کی طرح آئے گا

سہم، خونخوار درندے کی طرح آئے گا

اب کوئی جنگ نہ ہو گی مے و ساغر لاؤ

خوں لُٹانا نہ کبھی اشک بہانا ہو گا

ساقیا! رقص کوئی رقصِ صبا کی صورت

مطربا! کوئی غزل رنگِ حِنا کی صورت

 

بساطِ رقص پہ صد شرق و غرب سے سرِ شام

دمک رہا ہے تری دوستی کا ماہِ تمام

چھلک رہی ہے ترے حُسنِ مہرباں کی شراب

بھرا ہوا ہے لبالب ہر اِک نگاہ کا جام

گلے میں تنگ ترے حرفِ لطف کی راہیں

پسِ خیال کہیں ساعتِ سفر کا پیام

ابھی سے یاد میں ڈھلنے لگی ہے صُحبتِ شب

ہر ایک روئے حسیں ہو چلا ہے بیش حسیں

ملے جو کچھ ایسے، جُدا یوں ہوئے کہ فیض اب کے

جو دل  پہ نقش بنے گا وہ گُل ہے، داغ نہیں

ہانگ چاؤ (چین)

 

 

جشن کا دن

 

جنُوں کی یاد مناؤ کہ جشن کا دن ہے

صلیب و دار سجاؤ کہ جشن کا دن ہے

طرب کی بزم ہے بدلو دِلوں کے پیراہن

جگر کے چاک سِلاؤ کہ جشن کا دن ہے

تنگ مزاج ہے ساقی نہ رنگِ مَے دیکھو

بھرے جو شیشہ، چڑھاؤ جشن کا دن ہے

تمیزِ رہبر و رہزن کرو نہ آج کے دن

ہر اک سے ہاتھ ملاؤ کہ جشن کا دن ہے

ہے انتظارِ ملامت میں ناصحوں کا ہجوم

نظر سنبھال کے جاؤ کہ جشن کا دن ہے

وہ شورشِ غمِ دل جس کی لے نہیں کوئی

غزل کی دھُن میں سُناؤ کہ جشن کا دن ہے

 

 

 

***

 

آج تنہائی کسی ہمدمِ  دیریں کی طرح

کرنے آئی ہے مری ساقی گری شام ڈھلے

منتظرِ بیٹھے ہیں ہم دونوں کی مہتاب اُبھرے

اور ترا عکس جھلکنے لگے ہر سائے تلے

 

 

***

 

رات ڈھلنے لگی ہے سینوں میں

آگ سُلگاؤ آبگینوں میں

دلِ عُشاق کی خبر لینا

پھول کھِلتے ہیں ان مہینوں میں

 

 

شام

 

 

اس طرح ہے کہ ہر اِک پیڑ کوئی مندر ہے

کوئی اُجڑا ہوا، بے نُور پُرانا مندر

ڈھونڈتا ہے جو خرابی کے بہانے کب سے

چاک ہر دم، ہر اک در کا دمِ آخر تک

آسماں کوئی پروہت ہے جو ہر بام تلے

جسم پر راکھ ملے، ماتھے پر سیندور ملے

سرنگوں بیٹھا ہے چپ چاپ نہ جانے کب سے

اس طرح ہے کہ پسِ پردہ کوئی ساحر ہے

جس نے آفاق پہ پھیلایا ہے یوں سحر کا دام

دامنِ وقت سے پیوست ہے یوں دامنِ شام

اب کبھی شام بُجھے گی نہ اندھیرا ہو گا

اب کبھی رات ڈھلے گی نہ سویرا ہو گا

آسماں آس لئے ہے کہ یہ جادو ٹُوٹے

چُپ کی زنجیر کٹے، وقت کا دامن چھُوٹے

دے کوئی سنکھ دہائی، کوئی پایل بولے

کوئی بت جاگے، کوئی سانولی گھونگھٹ کھولے

 

 

 

 

غزل

 

جمے گی بساطِ یاراں کہ شیشہ و جام بُجھ گئے تھے

سجے گی کیسے شبِ نگاراں کہ دل سر شام بُجھ گئے ہیں

وہ تیرگی ہے رہِ بُتاں میں چراغِ رُخ ہے نہ شمعِ وعدہ

کرن کوئی آرزو کی لاؤ کہ سب در و بام بُجھ گئے ہیں

بہت سنبھالا وفا کا پیماں مگر وہ برسی ہے اب کے برکھا

ہر ایک قرار مٹ گیا ہے تمام پیغام بُجھ گئے ہیں

قریب آ اے مہِ شبِ غم، نظر پہ کھُلتا نہیں کچھ اس دم

کہ دل پہ کس کس کا نقش باقی ہے، کون سے نام بُجھ گئے ہیں

بہار اب آ کے کیا کرے گی کہ جن سے تھا جشنِ رنگ و نغمہ

وہ گل سرِ شاخ جل گئے ہیں، وہ دل تہِ دام بُجھ گئے ہیں

 

 

***

 

تم یہ کہتے ہو اب کوئی چارہ نہیں !

تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چکی!

جس میں رکھا نہیں ہے کسی نے قدم

کوئی اترا نہ میداں میں، دشمن نہ ہم

کوئی صف بن نہ پائی، نہ کوئی علم

منتشِر دوستوں کو صدا دے سکا

اجنبی دُشمنوں کا پتا دے سکا

تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چُکی!

جس میں رکھا نہیں ہم نے اب تک قدم

تم یہ کہتے ہو اب کوئی چارہ نہیں

جسم خستہ ہے، ہاتھوں میں یارا نہیں

اپنے بس کا نہیں بارِ سنگ ستم

بارِ سنگِ ستم، بار کہسار غم

جس کو چھُو کر سبھی اک طرف ہو گئے

بات کی بات میں ذی شرف ہو گئے

دوستو، کوئے جاناں کی نا مہرباں

خاک پر اپنے روشن لہو کی بہار

اب نہ آئے گی کیا؟ اب کھِلے گا نہ کیا

اس کفِ نازنیں پر کوئی لالہ زار؟

اس حزیں خامشی میں نہ لَوٹے گا کیا

شورِ آوازِ حق، نعرۂ گیر و دار

شوق کا امتحاں جو ہُوا سو ہُوا

جسم و جاں کا زیاں جو ہُوا سو ہُوا

سُود سے پیشتر ہے زیاں اور بھی

دوستو، ماتم  جسم و جاں اور بھی

اور بھی تلخ تر امتحاں اور بھی

 

 

 

 

 

***

 

نہ دید ہے نہ سخن، اب نہ حرف ہے نہ پیام

کوئی بھی حیلہ تسکین نہیں اور آس بہت ہے

اُمیدِ یار، نظر کا مزاج، درد کا رنگ

تم آج کچھ بھی نہ پُوچھو کہ دل اُداس بہت ہے

 

 

 

غزل

 

بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے

تم اچھے مسیحا ہو شِفا کیوں نہیں دیتے

دردِ  شبِ ہجراں کی جزا کیوں نہیں دیتے

خونِ  دلِ وحشی کا صِلا کیوں نہیں دیتے

مِٹ جائے گی مخلوق  تو انصاف کرو گے

منصف ہو تو اب حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے

ہاں نکتہ ورد لاؤ لب و دل کی گواہی

ہاں نغمہ گرو ساز صدا کیوں نہیں دیتے

پیمانِ جُنوں ہاتھوں کو شرمائے گا کب تک

دل والو! گریباں کا پتا کیوں نہیں دیتے

بربادیِ دل جبر نہیں فیض کسی کا

وہ دشمنِ جاں ہے تو بھُلا کیوں نہیں دیتے

 

**لاہور جیل

 

 

 

 

شورشِ زنجیر بسم اللہ

 

 

 

ہُوئی پھر امتحانِ عشق کی تدبیر بسم اللہ

ہر اک جانب مچا کہرامِ دار و گیر بسم اللہ

گلی کوچوں میں بکھری شورشِ زنجیر بسم اللہ

درِ زنداں پہ بُلوائے گئے پھر سے جُنوں والے

دریدہ دامنوں والے،پریشاں گیسوؤں والے

جہاں میں دردِ دل کی پھر ہوئی توقیر بسم اللہ

ہوئی پھر امتحانِ عشق کی تدبیر بِسم اللہ

گنو سب داغ دل کے، حسرتیں شوقیں نگاہوں کی

سرِ دربار پُرستش ہو رہی ہے پھر گناہوں کی

کرو یارو شمارِ نالہ شب گیر بسم اللہ

ستم کی داستاں، کُشتہ دلوں کا ماجرا کہئے

جو زیر لب نہ کہتے تھے وہ سب کچھ برملا کہئے

مُصِر ہے محتسب رازِ شہیدانِ وفا کہئے

لگی ہے حرفِ نا گُفتہ پر اب تعزیر بِسم اللہ

سرِ مقتل چلو بے زحمتِ تقصیر بِسم اللہ

ہُوئی پھر امتحانِ عشق کی تدبیر بِسم اللہ

 

**لاہور جیل

 

 

 

آج بازار میں پابجولاں چلو

 

چشمِ نم، جانِ شوریدہ کافی نہیں

تہمتِ عشق پوشیدہ کافی نہیں

آج بازار میں پابجولاں چلو

دست افشاں چلو، مست و رقصاں چلو

خاک بر سر چلو، خوں بداماں چلو

راہ تکتا ہے سب شہرِ جاناں چلو

حاکم شہر بھی، مجمعِ عام بھی

تیرِ الزام بھی، سنگِ دشنام بھی

صبحِ ناشاد بھی، روزِ ناکام بھی

ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے

شہرِ جاناں میں اب با صفا کون ہے

دستِ قاتل کے شایاں رہا کون ہے

رختِ دل باندھ لو دل فگارو چلو

پھر ہمیں قتل ہو آئیں یار چلو

 

**لاہور جیل

 

 

غزل

 

یہ جفائے غم کا چارہ، وہ نَجات دل کا عالم

ترا حُسن دستِ عیسیٰ، تری یاد رُوئے مریم

دل و جاں فدائے راہے کبھی آ کے دیکھ ہمدم

سرِ کوئے دل فگاراں شبِ آرزو کا عالم

تری دِید سے سوا ہے ترے شوق میں بہاراں

وہ چمن جہاں گِری ہے تری گیسوؤں کی شبنم

یہ عجب قیامتیں ہیں تری رہگزر میں گزراں

نہ ہُوا کہ مَر مِٹیں ہم، نہ ہُوا کہ جی اُٹھیں ہم

لو سُنی گئی ہماری، یُوں پھِرے ہیں دن کہ پھر سے

وہی گوشہ قفس ہے، وہی فصلِ گُل کا ماتم

 

**لاہور جیل

 

 

قید تنہائی

 

دُور آفاق پہ لہرائی کوئی نُور کی لہر

خواب ہی خواب میں بیدار ہُوا درد کا شہر

خواب ہی خواب میں بیتاب نظر ہونے لگی

عدم آبادِ جُدائی میں سحر ہونے لگی

کاسہ دل میں بھری اپنی صبُوحی میں نے

گھول کر تلخی دیروز میں اِمروز کا زہر

دُور آفاق پہ لہرائی کوئی نُور کی لہر

آنکھ سے دُور کسی صبح کی تمہید لیے

کوئی نغمہ، کوئی خوشبو، کوئی کافر صورت

بے خبر گزری، پریشانیِ اُمیّد لئے

گھول کر تلخی دیروز میں اِمروز کا زہر

حسرتِ روزِ ملاقات رقم کی میں نے

دیس پردیس کے یارانِ قدح خوار کے نام

حُسنِ آفاق، جمالِ لب و رخسار کے نام

 

***   زندانِ قلعہ لاہور

 

 

***

 

ہم خستہ تنوں سے محتسبو کیا مال منال کا پوچھتے ہو

جو عُمر سے ہم نے بھر پایا سب سامنے لائے دیتے ہیں

دامن میں ہے مشتِ جِگر، ساغر میں ہے خونِ  حسرتِ مَے

لو ہم نے دامن جھاڑ دیا، لو جام اُلٹائے دیتے ہیں

**     قلعہ لاہور

 

 

 

زندگی

 

 

ملکۂ شہرِ زندگی تیرا

شُکر کسِ طور سے ادا کیجئے

دولتِ دل کا کچھ شمار نہیں

تنگ دستی کا کیا گلہ کیجے

جو ترے حُسن کے فقیر ہوئے

ان کو تشویشِ روزگار کہاں ؟

درد بیچیں گے گیت گائیں گے

اِس سے خوش وقت کاروبار کہاں ؟

جام چھلکا تو جم گئی محفل

مِنّت لُطفِ غم گسار کسے؟

اشک ٹپکا تو کھِل گیا گلشن

رنجِ کم ظرفیِ بہار کسے؟

خوش نشیں ہیں کہ چشم و دل کی مراد

دَیر میں ہے نہ خانقاہ میں ہے

ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں

ہر صنم اپنی بارگاہ میں ہے

کون ایسا غنی ہے جس سے کوئی

نقدِ شمس و قمر کی بات کرے

جس کو شوقِ نبرد ہو ہم سے

جائے تسخیرِ کائنات کرے

 

 

 

غزل

 

 

ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے

تری رہ میں کرتے تھے سر طلب، سرِ رہگزر چلے گئے

تری کج ادائی سے ہار کے شبِ انتظار چلی گئی

مرے ضبطِ حال سے رُوٹھ کر مرنے غم گسار چلے گئے

نہ سوالِ وصل، نہ عرضِ غم، نہ حکایتیں نہ شکایتیں

ترے عہد میں دلِ زار کے سبھی اختیار چلے گئے

یہ ہمیں  تھے جن کے لباس پر سرِ رہ سیاہی لکھی گئی

یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سرِ بزمِ یار چلے گئے

نہ رہا جنونِ رُخِ وفا، یہ رسن یہ دار کرو گے کیا

جنہیں  جرمِ عشق  پہ ناز تھا وہ گناہ گار چلے گئے

 

 

 

***

 

آ گئی فصلِ سکُوں چاک گریباں والو

سِل گئے ہونٹ، کوئی زخم سِلے یا نہ سِلے

دوستوں بزم سجاؤ کہ بہار آئی ہے

کھِل گئے زخم، کوئی پھول کھِلے یا نہ کھِلے

 

 

***

 

ڈھلتی ہے موجِ مَے کی طرح رات ان دِنوں

کھِلتی ہے صبح گل کی طرح رنگ و بُو سے پُر

ویراں ہیں جام پاس کرو کچھ بہار کا

دل آرزو سے پُر کرو، آنکھیں لہُو سے پُر

 

 

غزل

 

 

کب ٹھہرے گا درد اے دل، کب رات بسر ہو گی

سنتے تھے وہ آئیں گے، سنتے تھے سحر ہو گی

کب جان لہو ہو گی، کب اشک گہر ہو گا

کس دن تری شنوائی اے دیدہ تر ہو گی

کب مہکے گی فصلِ گل، کب بہکے گا میخانہ

کب صبحِ سخن ہو گی، کب شامِ نظر ہو گی

واعظ ہے نہ زاہد ہے، ناصح ہے نہ قاتل ہے

اب شہر میں یاروں کی کس طرح بسر ہو گی

کب تک ابھی رہ دیکھیں اے قامتِ جانانہ

کب حشر معیّن ہے تجھ کو تو خبر ہو گی

 

 

 

 

 

               (۱)

ملاقات مری

 

ساری دیوار سیہ ہو گئی تا حلقۂ دام

راستے بجھ گئے رُخصت ہُوئے رہ گیر تمام

اپنی تنہائی سے گویا ہوئی پھر رات مری

ہو نہ ہو آج پھر آئی ہے ملاقات مری

اک ہتھیلی پہ حِنا، ایک ہتھیلی پہ لہو

اک نظر زہر لئے ایک نظر میں دارو

دیر سے منزلِ دل میں کوئی آیا نہ گیا

فرقتِ درد میں بے آب ہُوا تختہ داغ

کس سے کئے کہ بھرے رنگ سے زخموں کے  ایاغ

اور پھر خود ہی چلی آئی ملاقات مری

آشنا موت جو دشمن بھی ہے غم خوار بھی ہے

وہ جو ہم لوگوں کی قاتل بھی ہے دلدار بھی ہے

 

 

               (۲)

ختم ہوئی بارشِ سنگ

 

 

ناگہاں آج مرے تارِ نظر سے کٹ کر

ٹکڑے ٹکڑے  ہوئے آفاق پہ خورشید و قمر

اب کسی سَمت اندھیرا نہ اُجالا ہو گا

بُجھ گئی دل کی طرح راہِ وفا میرے بعد

دوستو! قافلہ درد کا اب کیا ہو گا

اب کوئی اور کرے پرورشِ گلشنِ غم

دوستو ختم ہوئی دیدۂ تر کی شبنم

تھم گیا شورِ جنوں ختم ہوئی بارشِ سنگ

خاکِ رہ آج لئے ہے لبِ دلدار کا رنگ

کُوئے جاناں میں کھُلا میرے لہو کا پرچم

دیکھئے دیتے ہیں کِس کِس کی صدا میرے بعد

’’کون ہوتا ہے حریفِ مئے مرد افگنِ عشق

ہے مکّرر لبِ ساقی پہ صلا میرے بعد‘‘

 

 

ان دنوں رسم و رہِ شہرِ نگاراں کیا ہے

قاصدا، قیمتِ گلگشتِ بہاراں کیا ہے

کُوئے جاناں ہے کہ مقتل ہے کہ میخانہ ہے

آج کل صورتِ بربادی یاراں کیا ہے

 

 

 

 

غزل

 

آج یوں موج در موج غم تھم گیا اس طرح غم زدوں کو قرار آگیا

جیسے خوشبوئے زلفِ بہار آ گئی جیسے پیغامِ دیدارِ یار آگیا

جس کی دید و طلب وہم سمجھے تھے ہم رُو برُو پھر سرِ رہگزر آگیا

صبحِ فردا کو پھر دل ترسنے لگا، عمر  رفتہ ترا اعتبار آگیا

رُت بدلنے لگی رنگِ دل دیکھنا، رنگِ گلشن سے اب حال کھلتا نہیں

زخم چھلکا کوئی یا کوئی گُل کھِلا، اشک اُمڈے کہ ابرِ بہار آگیا

خونِ عُشاق سے جام بھرنے لگے، دل سُلگنے لگے، داغ جلنے لگے

محفلِ درد پھر رنگ پر آ گئی، پھر شبِ آرزو پر نکھار آگیا

سر فروشی کے انداز بدلے گئے، دعوتِ قتل پر مقتل شہر میں

ڈال کر کوئی گردن میں طوق آگیا، لاد کر کوئی کاندھے پہ دار آگیا

فیض کیا جانئے یار کس آس پر، منتظر ہیں کہ لائے گا کوئی خبر

میکشوں پر ہُوا محتسب مہرباں، دل فگاروں پہ قاتل کو پیار آگیا

 

 

 

کہاں جاؤ گے

 

 

اور کچھ دیر میں لُٹ جائے گا ہر بام پہ چاند

عکس کھو جائیں گے آئینے ترس جائیں گے

عرش کے دیدۂ نمناک سے باری باری

سب ستارے سرِ خاشاک برس جائیں گے

آس کے مارے تھکے ہارے شبستانوں میں

اپنی تنہائی سمیٹے گا، بچھائے گا کوئی

بے وفائی کی گھڑی، ترک مدارات کا وقت

اس گھڑی اپنے سوا یا نہ آئے گا کوئی!

ترکِ دنیا کا سماں، ختمِ ملاقات کا وقت

اِس گھڑی اے دلِ آوارہ کہاں جاؤ گے

اِس گھڑی کوئی کسی کا بھی نہیں، رہنے دو

کوئی اس وقت ملے گا ہی نہیں رہنے دو

اور ملے گا بھی تو اس طور کہ پچھتاؤ گے

اس گھڑی اے دلِ آوارہ کہاں جاؤ گے

اور کچھ دیر ٹھہر جاؤ کہ پھر نشترِ صبح

زخم کی طرح ہر اک آنکھ کو بیدار کرے

اور ہر کشتہ واماندگی آخر شب

بھول کر ساعتِ درماندگی آخرِ شب

جان پہچان ملاقات پہ اصرار کرے

 

 

 

غزل

 

 

یک بیک شورشِ فغاں کی طرح

فصلِ گُل آئی امتحاں کی طرح

صحنِ گلشن میں بہرِ مشتاقاں

ہر روش کھِنچ گئی کماں کی طرح

پھر لہو سے ہر ایک کاسہ داغ

پُر ہُوا جامِ ارغواں کی طرح

یاد آیا جنونِ گُم گشتہ

بے طلب قرضِ دوستاں کی طرح

جانے کس پر ہو مہرباں قاتِل

بے سبب مرگِ ناگہاں کی طرح

ہر صدا پر لگے ہیں کان یہاں

دل سنبھالے رہو زباں کی طرح

 

 

 

شہرِ یاراں

 

 

آسماں کی گود میں دم توڑتا ہے طفل ابر

جم رہا ہے ابر کے ہونٹوں پہ خوں آلود کف

بُجھتے بُجھتے بُجھ گئی ہے عرش کے حُجروں میں آگ

دھیرے دھیرے بِچھ رہی ہے ماتمی تاروں کی صف

اے صبا شاید ترے ہمراہ یہ خونناک شام

سر جھکائے جا رہی ہے شہرِ یاراں کی طرف

شہر یاراں جس میں اِس دم ڈھونڈتی پھرتی ہے موت

شیر دل بانکوں میں اپنے تیر و نشتر کے ہدف

اِک طرف بجتی ہیں جوشِ زیست کی شہنائیاں

اِک طرف چنگھاڑتے ہیں اہرمن کے طبل و دف

جا کے کہنا اے صبا، بعد از سلامِ دوستی

آج شب جس دم گُزر ہو شہر یاراں کی  طرف

دشتِ شب میں اس گھڑی چپ چاپ ہے شاید رواں

ساقیِ صبحِ طرب، نغمہ بلب، ساغر بکف

وہ پہنچ جائے تو ہو گی پھر سے برپا انجمن

اور ترتیبِ مقام و منصب و جاہ و شرف

 

 

غزل

 

نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا

جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تنِ داغ داغ لُٹا دیا

مرے چارہ گر کو نوید ہو صفِ دُشمناں کو خبر کرو

جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چُکا دیا

کرو کج جبیں پہ سرِ کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو

کہ غرورِ عشق کا بانکپن پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا

اُدھر ایک حرف کہ کُشتنی یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی

جو کہا تو سُن کے اُڑا، دیا جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا

جو رُکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے

رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

 

 

خوشا ضمانتِ غم

 

دیارِ یار تری جوششِ جنوں پہ سلام

مرے وطن ترے دامانِ تار تار کی خیر

رہِ یقین افشانِ خاک و خوں پہ سلام

مرے چمن ترے زخموں کے لالہ زار کی خیر

ہر ایک کشتہ ناحق کی خامشی پہ سلام

ہر ایک دیدۂ پُر نم کی آب و تاب کی خیر

رواں رہے یہ روایت، خوشا ضمانتِ غم

نشاطِ ختمِ غمِ کائنات سے پہلے

ہر اک کے ساتھ رہے دولتِ امانتِ غم

کوئی نجات نہ پائے نَجات سے پہلے

سکوں ملے نہ کبھی تیرے پا فگاروں کو

جمالِ خونِ سرِ خار کو نظر نہ لگے

اماں ملے نہ کہیں تیرے جاں نثاروں

جلالِ فرقِ سرِدار کو نظر نہ لگ

 

 

 

جب تیری سمندر آنکھوں میں

 

(گیت)

 

یہ دھُوپ کنارا، شام ڈھلے

مِلتے ہیں دونوں وقت جہاں

جو رات نہ دن، جو آج نہ کل

پل بھر کو امر،پل بھر میں دھواں

اِس دھوپ کنارے، پل دو پل

ہونٹوں کی لپک

باہوں کی چھنک

یہ میل ہمارا، جھوٹ نہ سچ

کیوں زار کرو،کیوں دوش دھرو

کس کارن، جھوٹی بات کرو

جب تیری سمندر آنکھوں میں

اس شام کا سورج ڈوبے گا

سُکھ سوئیں گے گھر دَر والے

اور راہی اپنی رہ لے گا

(لندن سے)

 

 

 

 

رنگ ہے دل کا مرے

 

 

تم نہ آئے تھے تو ہر چیز وہی تھی کہ جو ہے

آسماں حدِّ نظر، راہگزر شیشہ مَے شیشہ مے

اور اب شیشہ مَے،راہگزر،رنگِ فلک

رنگ ہے دل کا مرے،’’خون جگر ہونے تک‘‘

چمپئی رنگ کبھی راحتِ دیدار  کا رنگ

سرمئی رنگ کہ ہے ساعت بیزار کا رنگ

زرد پتّوں کا،خس و خار کا رنگ

سُرخ پھُولوں کا دہکتے ہوئے گلزار کا رنگ

زہر کا رنگ، لہو رنگ، شبِ تار کا رنگ

آسماں، راہگزر،شیشہ مَے،

کوئی بھیگا ہُوا دامن،کوئی دُکھتی ہوئی رگ

کوئی ہر لحظہ بدلتا ہُوا آئینہ ہے

اب جو آئے ہو تو ٹھہرو کہ کوئی رنگ،کوئی رُت،کوئی شے

ایک جگہ پر ٹھہرے،

پھر سے اک بار چیز وہی ہو کہ جو ہے

آسماں حدِّ نظر، راہگزر شیشہ مَے شیشہ مے

 

 

 

پاس رہو

 

تم مرے پا س رہو

میرے قاتل، مرے دِلدار،مرے پاس رہو

جس گھڑی رات چلے،

آسمانوں کا لہو پی کے سیہ رات چلے

مرہمِ مُشک لئے،نشترِالماس لئے

بَین کرتی ہوئی،ہنستی ہُوئی،گاتی نکلے

درد کے کاسنی پازیب بجاتی نکلے

جس گھڑی سینوں میں ڈُوبے ہُوئے دل

آستینوں میں نہاں ہاتھوں کی رہ تکنے لگیں

آس لئے

اور بچوں کے بلکنے کی طرح قُلقُل مے

بہرِ ناسودگی مچلے تو منائے نہ مَنے

جب کوئی بات بنائے نہ بنے

جب نہ کوئی بات چلے

جس گھڑی رات چلے

جس گھڑی ماتمی، سُنسان،سیہ رات چلے

پاس رہو

میرے قاتل،مرے دلدار مرے پاس رہو!

 

 

 

غزل

 

تری اُمید ترا انتظار جب سے ہے

نہ شب کو دن سے شکایت، نہ دن کو شب سے ہے

کس کا درد ہو کرتے ہیں ہم تیرے نام رقم

گِلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے

ہُوا ہے جب سے دلِ نا ص بُور بے قابو

کلام تجھ سے نظر کو بڑے ادب سے ہے

اگر شرر ہے تو بھڑکے، جو پھول ہے تو کھِلے

طرح طرح کی طلب، تیرے رنگِ لب سے ہے

کہاں گئے شبِ فرقت کے جاگنے والے

ستارۂ سحری ہم کلام کب سے ہے

 

 

غزل

 

 

ہر سَمت پریشاں تری آمد کے قرینے

دھوکے دیئے کیا کیا ہمیں بادِ سحری نے

ہر منزلِ غربت پہ گماں ہوتا ہے گھر کا

بہلایا ہے ہر گام بہت در بدری نے

تھے بزم میں سب دودِ سرِ بزم سے شاداں

بیکار جلایا ہمیں روشن نظری نے

مَے خانے میں عاجز ہُوئے آزُردہ دِلی سے

مسجد کا نہ رکھا ہمیں آشفتہ سری نے

یہ جامہ صد چاک بدل لینے میں کیا تھا

مہلت ہی نہ دی فیض، کبھی بخیہ گری نے

 

 

 

 

غزل

 

شرحِ فراق، مدحِ لبِ مشکبو کریں

غربت کدے میں کس سے تری گفتگو کریں

یار آشنا نہیں کوئی،ٹکرائیں کس سے جام

کس دل رُبا کے نام پہ خالی سَ بُو کریں

سینے پہ ہاتھ ہے، نہ نظر کو تلاشِ بام

دل ساتھ دے تو آج غمِ آرزو کریں

کب تک سنے گی رات، کہاں تک سنائیں ہم

شکوے گِلے سب آج ترے رُو برُو کریں

ہمدم حدیثِ کوئے ملامت سُنائیو

دل کو لہو کریں کہ گریباں رفو کریں

آشفتہ سر ہیں، محتسبو، منہ نہ آئیو

سر بیچ دیں تو فکرِ دل و جاں عدو کریں

’’تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو

دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں ‘‘

 

 

 

منظر

 

رہ گزر، سائے شجر، منزل و در،حلقہ بام

بام پر سینہ مہتاب کھلا،آہستہ

جس طرح کھولے کوئی بندِ قبا،آہستہ

حلقہ بام تلے،سایوں کا ٹھہرا ہُوا نیل

نِیل کی جھِیل

جھِیل میں چُپکے سے تَیرا،کسی پتّے کا حباب

ایک پل تیرا،چلا،پھُوٹ گیا،آہستہ

بہت آہستہ،بہت ہلکا،خنک رنگِ شراب

میرے شیشے میں ڈھلا،آہستہ

شیشہ و جام،صراحی،ترے ہاتھوں کے گلاب

جس طرح دور کسی خواب کا نقش

آپ ہی آپ بنا اور مِٹاآہستہ

دل نے دُہرایا کوئی حرفِ وفا،آہستہ

تم نے کہا ’’آہستہ‘‘

چاند نے جھک کر کہا

اور ذراآہستہ‘‘’’

 

ہارٹ اٹیک

 

درد اتنا تھا کہ اس رات دلِ وحشی نے
ہر رگِ جاں سے الجھنا چاہا
ہر بُنِ مُو سے ٹپکنا چاہا
اور کہیں دور ترے صحن میں گویا
پتا پتا مرے افسردہ لہو میں دھل کر
حسنِ مہتاب سے آزردہ نظر آنے لگا
میرے ویرانہء تن میں گویا
سارے دُکھتے ہوئے ریشوں کی طنابیں کھُل کر
سلسلہ وار پتا دینے لگیں
رخصتِ فاصلہء شوق کی تّیاری کا
اور جب یاد کی بجھتی ہوئی شمعوں میں نظر آیا کہیں
ایک پل آخری لمحہ تری دلداری کا
درد اتنا تھا کہ اس سے بھی گزرنا چاہا
ہم نے چاہا بھی، مگر دل نہ ٹھہرنا چاہا

 

 

متفرق قطعات

یہ خوں کی مہک ہے کہ لبِ یار کی خوشبو
کس راہ کی جانب سے صبا آتی ہے دیکھو
گلشن میں بہار آئی کہ زنداں ہوا آباد
کس سمت سے نغموں کی صدا آتی ہے دیکھو

———–
 

 

 

 

 

 

شامِ شہرِ یاراں

 

 

 

 

 

پیش گفتار

 

جب میں نے اس مجموعے کا مسودہ اشاعت کے لیے بھیجا تو اپنے دوست اور ناشرچودھری عبد الحمید صاحب کی جانب سے فرمائش وصول ہوئی کہ اس میں کچھ نثر کابھی اضافہ ہونا چاہیے، اس لیے کہ بقول ان کے بعض لوگوں کو مصنف کی ذات میںبھی دلچسپی ہے۔ ایک عزیز اور کرم فرما مرزا ظفر الحسن پہلے ہی سے اس کامکے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ چنانچہ انہی کے جمع کردہ مصالح کا کچھ حصہ انصفحات میں شامل کر دیا گیا ہے۔

 

فیض

 

 

 

 

عہدِ طفلی سے عنفوانِ شباب تک

 

(مرزا ظفر الحسن سے ایک گفتگو)

 

ہمارےشعرا کو مستقلاً یہ شکایت رہی ہے کہ زمانے نے ان کی قدر نہیں کی۔ ناقدریِابنائے وطن ہماری شاعری کا ایک مستقل موضوع ہے۔ ہمیں اس سے اُلٹ شکایت یہہے کہ ہم پہ لطف و عنایات کی اس قدر بارش رہی ہے، اپنے دوستوں کی طرف سے،اپنے ملنے والوں کی طرف سے اور ان کی جانب سے بھی جن کو ہم جانتے بھینہیں، اکثر ندامت ہوتی ہے کہ اتنی داد و دہش کا مستحق ہونے کے لیے جوتھوڑا بہت کام ہم نے کیا ہے اس سے بہت زیادہ ہمیں کرنا چاہیے تھا۔

یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے۔ بچپن ہی سے اس قسم کا تاثر رہا ہے۔ جب ہم بہتچھوٹے تھے اسکول میں پڑھتے تھے تو سکول کے لڑکوں کے ساتھ بھی کچھ اسی قسمکے تعلقات قائم ہو گئے تھے کہ خوامخواہ انہوں نے ہمیں لیڈر تسلیم کر لیاتھا حالانکہ لیڈری کی صفات ہم میں نہیں تھیں۔ یا تو آدمی بہت لٹھ باز ہوکہ دوسرے اس کا رعب مانیں یا وہ سب سے بڑا فاضل ہو۔ ہم پڑھنے لکھنے میںٹھیک تھے، کھیل بھی لیتے تھے، لیکن پڑھائی میں ہم نے کوئی ایسا کمال پیدانہیں کیا تھا کہ لوگ ہماری طرف متوجہ ہوں۔

بچپن کا میں سوچتا ہوں تو ایک یہ بات خاص طور پر یاد آتی ہے کہ ہمارے گھرمیں خواتین کا ایک ہجوم تھا۔ ہم جو تین بھائی تھے ان میں ہمارے چھوٹےبھائی (عنایت) اور بڑے بھائی (طفیل) خواتین سے باغی ہو کر کھیل کود میںمصروف رہتے تھے۔ ہم اکیلے ان خواتین کے ہاتھ آ گئے۔ اس کا کچھ نقصان بھیہوا اور کچھ فائدہ بھی۔ فائدہ تو یہ ہوا کہ ان خواتین نے ہم کو انتہائیشریفانہ زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا۔ جس کی وجہ سے کوئی غیر مہذب یا اجڈقسم کی بات اس زمانے میں ہمارے منہ سے نہیں نکلتی تھی۔ اب بھی نہیں نکلتی۔نقصان یہ ہوا، جس کا مجھے اکثر افسوس ہوتا ہے کہ بچپن میں کھلنڈرے پن یاایک طرح کے لہو و لعب کی زندگی گزارنے سے ہم محروم رہے۔ مثلاً یہ کہ گلیمیں کوئی پتنگ اُڑا رہا ہے، کوئی گولیاں کھیل رہا ہے، کوئی لٹو چلا رہاہے، ہم بس کھیل کود کو دیکھتے رہتے تھے، اکیلے بیٹھ کر۔ ہوتا ہے شب و روزتماشا مرے آگے کے مصداق ہم ان تماشوں کے صرف تماشائی بنے رہتے اور ان میںشریک ہونے کی ہمت اس لیے نہیں ہوتی تھی کہ اسے شریفانہ شغل یا شریفانہ کامنہیں سمجھتے تھے۔

اساتذہ بھی ہم پر مہربان رہے۔ آج کل کی میں نہیں جانتا، ہمارے زمانے میںتو سکول میں سخت پٹائی ہوتی تھی۔ ہمارے عہد کے استاد تو نہایت ہی جلاد قسمکے لوگ تھے۔ صرف یہی نہیں کہ ان میں سے کسی نے ہم کو ہاتھ نہیں لگایا بلکہہر کلاس میں ہم کو مانیٹر بناتے تھے۔ بلکہ (ساتھی لڑکوں کو) سزا دینے کامنصب بھی ہمارے حوالے کرتے تھے۔ یعنی فلاں کو چانٹا لگاؤ، فلاں کو تھپڑمارو۔ اس کام سے ہمیں بہت کوفت ہوتی تھی اور ہم کوشش کرتے تھے کہ جس قدربھی ممکن ہو یوں سزا دیں کہ ہمارے شکار کو وہ سزا محسوس نہ ہو۔ طمانچے کیبجائے گال تھپتھپا دیا، یا کان آہستہ سے کھینچا وغیرہ۔ کبھی ہم پکڑے جاتےتو استاد کہتے یہ کیا کر رہے ہو، زور سے چانٹا مارو۔

دو تاثر بہت گہرے ہیں ایک تو یہ کہ بچوں کی جو دلچسپیاں ہوتی ہیں ان سےمحروم رہے۔ دوسرے یہ کہ اپنے دوستوں، ہم جماعتوں اور اپنے اساتذہ سے ہمیںبے پایاں شفقت و خلوص ملا جو بعد کے زمانے کے دوستوں اور معاصرین سے بھیملا اور آج تک مل رہا ہے۔

صبح ہم اپنے ابّا کے ساتھ فجر کی نماز پڑھنے مسجد جایا کرتے تھے۔ معمول یہتھا کہ اذان کے ساتھ ہم اُٹھ بیٹھے، ابّا کے ساتھ مسجد گئے، نماز ادا کیاور گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ مولوی ابراہیم میر سیالکوٹی سے جو اپنے وقت کے بڑےفاضل تھے، درس قرآن سنا، ابّا کے ساتھ ڈیڑھ دو گھنٹے کی سیر کے لیے گئےپھر سکول۔ رات کو ابّا بُلا لیا کرتے خط لکھنے کے لیے۔ اس زمانے میں انہیںخط لکھنے میں کچھ دقّت ہوتی تھی۔ ہم ان کے سیکرٹری کا کام انجام دیتے تھے۔انہیں اخبار بھی پڑھ کر سناتے تھے۔ ان مصروفیات کی وجہ سے ہمیں بچپن میںبہت فائدہ ہوا۔ انگریزی اخبارات پڑھنے اور خطوط لکھنے کی وجہ سے ہماریاستعداد میں کافی اضافہ ہوا۔

ایک اور یاد تازہ ہوئی۔ ہمارے گھر سے ملی ہوئی ایک دکان تھی، جہاں کتابیںکرائے پر ملتی تھیں۔ ایک کتاب کا کرایہ دو پیسے ہوتا۔ وہاں ایک صاحب ہواکرتے تھے جنہیں سب “بھائی صاحب” کہتے تھے۔ بھائی صاحب کی دکان میں اردوادب کا بہت بڑا ذخیرہ جمع تھا۔ ہماری چھٹی ساتویں جماعت کی طالب علمی میںجن کتابوں کا رواج تھا وہ آج کل قریب قریب مفقود ہو چکی ہیں جیسے طلسم ہوشربا، فسانہ آزاد، عبد الحلیم شرر کے ناول وغیرہ۔ یہ سب کتابیں پڑھ ڈالیں۔اس کے بعد شاعروں کا کلام پڑھنا شروع کیا۔ داغ کا کلام پڑھا۔ میر کا کلام۔غالب تو اس وقت بہت زیادہ ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔ دوسروں کا کلام بھیآدھا سمجھ میں آتا تھا اور آدھا نہیں آتا تھا۔ لیکن ان کا دل پہ اثر کچھعجب قسم کا ہوتا تھا۔ یوں شعر سے لگاؤ پیدا ہوا اور ادب میں دلچسپی ہونےلگی۔

ہمارے ابّا کے منشی گھر کے ایک طرح کے مینجر بھی تھے۔ ہمارا ان سے کسی باتپر اختلاف ہو گیا تو انہوں نے کہا کہ اچھا آج ہم تمہاری شکایت کریں گے کہتم ناول پڑھتے ہو۔ سکول کی کتابیں پڑھنے کی بجائے چھُپ کر انٹ سنت کتابیںپڑھتے ہو۔ ہمیں اس سے بہت ڈر لگا اور ہم نے ان کی بہت منّت کی کہ شکایت نہکریں مگر وہ نہ مانے اور ابّا سے شکایت کر ہی دی۔ ابّا نے ہمیں بلایا اور کہا میں نے سنا ہے تم ناول پڑھتے ہو۔ میں نے کہا جی ہاں۔ کہنے لگے ناول ہیپڑھنا ہے تو انگریزی ناول پڑھو۔ اردو کے ناول اچھے نہیں ہوتے۔ شہر کے قلعہمیں جو لائبریری ہے وہاں سے ناول لا کر پڑھا کرو۔

ہم نے انگریزی ناول پڑھنے شروع کیے۔ ڈکنس، ہارڈی اور نہ جانے کیا کیا پڑھڈالا۔ وہ بھی آدھا سمجھ میں آتا تھا اور آدھا پلّے نہ پڑتا تھا۔ اس مطالعہکی وجہ سے ہماری انگریزی بہتر ہو گئی۔ دسویں جماعت میں پہنچنے تک محسوسہوا کہ بعض استاد پڑھانے میں کچھ غلطیاں کر جاتے ہیں۔ ہم ان کی انگریزیدرست کرنے لگے۔ اس پر ہماری پٹائی تو نہ ہوئی البتہ وہ استاد کبھی خفا ہوجاتے اور کہتے تمھیں ہم سے اچھی انگریزی آتی ہے تو پھر تم ہی پڑھایا کروہم سے کیوں پڑھتے ہو۔

اس زمانے میں کبھی کبھی مجھ پر ایک خاص قسم کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔جیسے یکایک آسمان کا رنگ بدل گیا ہے۔ بعض چیزیں کہیں دور چلی گئی ہیں۔دھوپ کا رنگ اچانک حنائی ہو گیا ہے۔ پہلے جو دیکھنے میں آیا تھا، اس کیصورت بالکل مختلف ہو گئی ہے۔ دنیا ایک طرح کی پردۂ تصویر کے قسم کی چیزمحسوس ہونے لگتی تھی۔ اس کیفیت کا بعد میں بھی کبھی کبھی احساس ہوا ہے مگراب نہیں ہوتا۔

مشاعَرے بھی ہوا کرتے تھے۔ ہمارے گھر سے ملی ہوئی ایک حویلی تھی جہاںسردیوں کے زمانے میں مشاعرے کیے جاتے تھے۔ سیالکوٹ میں پنڈت راج نرائنارمان ہوا کرتے تھے جو ان مشاعروں کے انتظامات کرتے تھے، ایک بزرگ منشیسراج دین مرحوم تھے۔ علّامہ اقبال کے دوست سری نگر میں مہاراجہ کشمیر کےمیر منشی۔ وہ صدارت کیا کرتے تھے۔ جب دسویں جماعت میں پہنچے تو ہم نے بھیتک بندی شروع کر دی اور ایک دو مشاعروں میں شعر پڑھ دیے۔ منشی سراج دین نےہم سے کہا میاں ٹھیک ہے۔ تم بہت تلاش سے شعر کہتے ہو، مگر یہ کام چھوڑ دو،ابھی تو تم پڑھو لکھو اور جب تمہارے دل و دماغ میں پختگی آ جائے، تب یہکام کرنا۔ اِس وقت یہ تضیع اوقات ہے۔ ہم نے شعر کہنا ترک کر دیا۔

جب ہم مرّے کالج سیالکوٹ میں داخل ہوئے اور وہاں پروفیسر یوسف سلیم چشتیاردو پڑھانے آئے جو اقبال کے مفسر بھی ہیں تو انہوں نے مشاعرے کی طرح ڈالیاور کہا طرح پر شعر کہو۔ ہم نے کچھ شعر کہے اور ہمیں بہت داد ملی۔ چشتیصاحب نے منشی سراج دین کے بالکل خلاف مشورہ دیا اور کہا فوراً اس طرف توجہکرو۔ شاید تم کسی دن شاعر ہو جاؤ۔

گورنمنٹ کالج لاہور چلے گئے جہاں بہت ہی فاضل اور مشفّق اساتذہ سے نیازمندی ہوئی۔ پطرس بخاری تھے، اسلامیہ کالج میں ڈاکٹر تاثیر تھے، بعد میںصوفی تبسّم صاحب آ گئے۔ ان کے علاوہ شہر کے جو بڑے ادیب تھے، امتیاز علیتاج تھے، چراغ حسن حسرت، حفیظ جالندھری صاحب تھے، اختر شیرانی تھے، ان سبسے ذاتی مراسم ہو گئے۔ ان دنوں اساتذہ اور طلبا کا رشتہ ادب کے ساتھ ساتھکچھ دوستی کا سا بھی ہوتا تھا۔ کالج کی کلاسوں میں تو شاید ہم نے کچھزیادہ نہیں پڑھا۔ لیکن ان بزرگوں کی صحبت اور محبت سے بہت کچھ سیکھا۔ انکی محفلوں میں ہم پر شفقت ہوتی تھی اور ہم وہاں سے بہت کچھ حاصل کر کےاٹھتے تھے۔

ہم نے اپنے دوستوں سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ جب شعر کہتے تھے تو سب سے پہلےخاص دوستوں کو ہی سناتے تھے۔ ان سے داد ملتی تو مشاعروں میں پڑھتے۔ اگرکوئی شعر خود کو پسند نہ آیا یا دوستوں نے کہا نکال دو تو اسے کاٹ دیتے۔ایم اے میں پہنچنے تک باقاعدہ لکھنا شروع کر دیا تھا۔

ہمارے ایک دوست ہیں خواجہ خورشید انور، ان کی وجہ سے ہمیں موسیقی میںدلچسپی پیدا ہوئی۔ خورشید انور پہلے تو دہشت پسند تھے، بھگت سنگھ گروپ میںشامل۔ انہیں سزا بھی ہوئی جو بعد میں معاف کر دی گئی۔ دہشت پسندی ترک کرکے وہ موسیقی کی طرف مائل ہوئے۔ ہم دن میں کالج جاتے اور شام کو خورشیدانور کے والد خواجہ فیروز الدّین مرحوم کی بیٹھک میں بڑے بڑے استادوں کاگانا سنتے۔ یہاں اس زمانے کے سبھی استاد آیا کرتے تھے۔ استاد توکل حسینخاں، استاد عبد الوحید خاں، استاد عاشق علی خاں اور چھوٹے غلام علی خاںوغیرہ۔ ان استادوں کے ہم عصر اور ہمارے دوست رفیق غزنوی مرحوم سے بھی صحبتہوتی تھی۔ رفیق لاء کالج میں پڑھتے تھے۔ پڑھتے تو خاک تھے، رسمی طور پرکالج میں داخلہ لے رکھا تھا۔ کبھی خورشید انور کے کمرے میں اور کبھی رفیقکے کمرے میں بیٹھک ہو جاتی تھی۔ غرض اس طرح ہمیں اس فن لطیف سے حظ اندوزہونے کا کافی موقع ملا۔

جب ہمارے والد فوت ہوئے تو پتا چلا کہ گھر میں کھانے تک کو کچھ نہیں ہے۔کئی سال تک در بدر پھرے اور فاقہ مستی کی۔ اس میں بھی لطف آیا، اس لیے کہاس کی وجہ سے تماشائے اہلِ کرم دیکھنے کا موقع ملا۔ خاص طور پر اپنےدوستوں سے کالج میں ایک چھوٹا سا حلقہ بن گیا تھا۔ کوئٹہ کے ہمارے دو دوستتھے احتشام الدّین اور شیخ احمد حسین۔ ڈاکٹر حمید الدّین بھی اس حلقے میںشامل تھے۔ ان کے ساتھ شام کو محفل رہا کرتی۔ جوانی کے دنوں میں جو دوسرےواقعات ہوتے ہیں وہ بھی ہوئے اور ہر کسی کے ساتھ ہوتے ہیں۔

گرمیوں کی تعطیلات ہوتیں تو ہم کبھی خورشید انور اور بھائی طفیل کے ساتھسری نگر چلے جایا کرتے اور کبھی اپنی ہمشیرہ کے پاس لائل پور پہنچ جاتے۔لائل پور میں باری علیگ اور ان کے گروہ کے دوسرے لوگوں سے ملاقات رہتی۔کبھی اپنی سب سے بڑی ہمشیرہ کے ہاں دھرم سالہ چلے جاتے۔ جہاں منظر قدرتدیکھنے کا موقع ملتا اور دل پر ایک خاص قسم کا نقش ہوتا۔ ہمیں انسانوں سےجتنا لگاؤ رہا اتنا قدرت کے مناظر اور مطالعۂ حسن فطرت سے نہیں رہا۔ پھربھی ان دنوں میں نے محسوس کیا کہ شہر کے جو گلی محلے ہیں ان میں بھی اپناایک حسن ہے جو دریا و صحرا کوہسار یا سرو و سمن سے کم نہیں۔ البتہ اس کودیکھنے کے لیے بالکل دوسری طرح کی نظر چاہیے۔

مجھے یاد ہے کہ ہم مستی دروازے کے اندر رہتے تھے۔ ہمارا گھر بالائی سطح پرتھا۔ نیچے بدرو بہتی تھی۔ چھوٹا سا ایک چمن تھا۔ چار طرف باغات تھے۔ ایکرات چاند نکلا ہوا تھا۔ چاندنی بدرو اور ارد گرد کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پرپڑ رہی تھی۔ چاندنی اور سائے یہ سب مل کر کچھ عجیب پر اسرار منظر بن گئےتھے۔ چاند کی عنایت سے منظر کی بد وضعی چھپ گئی تھی اور کچھ عجیب ہی قسمکا حسن پیدا ہو گیا تھا۔ جسے میں نے لکھنے کی کوشش بھی کی ہے۔ایک آدھ نظممیں منظر کشی کی ہے جب شہر کی گلیوں محلّوں اور کٹڑیوں میں کبھی دوپہر کےوقت کبھی شام کے وقت کچھ اس قسم کا روپ آ جاتا ہے جیسے معلوم ہو کوئیپرستان ہے۔ “نیم شب، چاند، خود فراموشی، بام و در، خامشی کے بوجھ سے چُور” وغیرہ اسی زمانے سے متعلق ہیں۔

ایم۔اے میں پہنچے تو کبھی کلاس میں جانے کی ضرورت ہوئی کبھی بالکل جی نہچاہا۔ دوسری کتابیں جو نصاب میں نہیں تھیں پڑھتے رہے۔ اس لیے امتحان میںکوئی خاص اعزاز حاصل نہیں کیا، لیکن مجھے معلوم تھا کہ جو لوگ اول دوم آتےہیں ہم ان سے زیادہ جانتے ہیں خواہ ہمارے نمبر ان سے کم ہی کیوں نہ ہوں۔یہ بات ہمارے اساتذہ بھی جانتے تھے۔ جب کسی استاد کا جیسے پروفیسر ڈکنسنیا پروفیسر ہریش چندر کٹا پالیا تھے، لیکچر دینے کو جی نہ چاہتا تو ہم سےکہتے ہماری بجائے تم لیکچر دو، ایک ہی بات ہے۔ البتہ پروفیسر بخاری بڑےقاعدے کے پروفیسر تھے وہ ایسا نہیں کرتے تھے۔ پروفیسر ڈکنسن کے ذمّےانیسویں صدی کا نثری ادب تھا مگر انہیں اس موضوع سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔اس لیے ہم سے کہا دو تین لیکچر تیار کر لو۔ دوسرے جو دو تین لائق لڑکےہمارے ساتھ تھے ان سے بھی کہا دو دو تین تین لیکچر تم لوگ بھی تیار کر لو۔کتابوں وغیرہ کے بارے میں کچھ پوچھنا ہو آ کے ہم سے پوچھ لینا۔ چنانچہ نیماستاد ہم اسی زمانے میں ہو گئے تھے۔

ابتدائی شاعری کے دوران میں یا کال کے زمانے میں ہمیں کوئی خیال ہی نہگزرا کہ ہم شاعر بنیں گے۔ سیاست وغیرہ تو اس وقت ذہن میں بالک ہی نہ تھی۔اگرچہ اس وقت کی تحریکوں، مثلاً کانگریس تحریک، خلافت تحریک یا بھگت سنگھکی دہشت پسند تحریک کے اثرات تو ذہن میں تھے۔ مگر ہم خود ان میں سے کسیقصے میں شریک نہیں تھے۔

شروع میں خیال ہوا کہ ہم کوئی بڑے کرکٹر بن جائیں کیونکہ لڑکپن سے کرکٹ کاشوق تھا وہ بہت کھیل چکے تھے۔ پھر جی چاہا استاد بننا چاہیے۔ ریسرچ کرنےکا شوق تھا۔ ان میں سے کوئی بات بھی نہ بنی۔ ہم کرکٹر بنے نہ نقّاد اور نہریسرچ کیا۔ البتہ استاد ہو کر امرتسر چلے گئے۔

ہماری زندگی کا شاید سب سے خوشگوار زمانہ امرتسر ہی کا تھا اور کئی اعتبارسے۔ ایک تو اس وجہ سے کہ جب ہمیں پہلی دفعہ پڑھانے کا موقع ملا تو بہت لطفآیا، اپنے طلبا سے دوستی کا لطف۔ ان سے ملنے اور روز مرہ کی رسم و راہ کالطف، ان سے کچھ سیکھنے اور انہیں پڑھانے کا لطف۔ ان لوگوں سے دوستی اب تکقائم ہے۔ دوسرے یہ کہ اس زمانے میں کچھ سنجیدگی سے شعر لکھنا شروع کیا۔تیسرے یہ کہ امرتسر میں ہی پہلی بار سیاست میں تھوڑی بہت بصیرت اپنے کچھرفقا کی وجہ سے پیدا ہوئی جن میں محمود الظفر تھے، ڈاکٹر رشید جہاں تھیں۔بعد میں ڈاکٹر تاثیر آ گئے تھے۔ یہ ایک نئی دنیا ثابت ہوئی۔ مزدوروں میںکام شروع کیا۔ سول لبرٹیز کی ایک انجمن بنی تو اس میں کام کیا۔ ترقی پسندتحریک شروع ہوئی تو اس کی تنظیم میں کام کیا۔ ان سب سے ذہنی تسکین کا ایکبالکل نیا میدان ہاتھ آیا۔

ترقی پسند ادب کے بارے میں بحثیں شروع ہوئیں اور ان میں حصہ لیا۔ ‘ادبلطیف’ کی ادارت کی پیش کش ہوئی تو دو تین برس اس کا کام کیا۔ اس زمانے میںلکھنے والوں کے دو بڑے گروہ تھے۔ ایک “ادب برائے ادب” والے دوسرے ترقیپسند تھے۔ کئی برس تک ان دونوں کے درمیان بحثیں چلتی رہیں جس کی وجہ سےکافی مصروفیت رہی جو بجائے خود ایک بہت ہی دلچسپ اور تسکین دہ تجربہ تھا۔بر صغیر میں ریڈیو شروع ہوا۔ ریڈیو میں ہمارے دوست تھے۔ ایک سید رشید احمدتھے جو ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ہوئے۔ دوسرے سومناتھ چپ تھے، جو آجکل ہندوستان میں شعبۂ سیاحت کے سربراہ ہیں۔ دونوں باری باری سے لاہور کےاسٹیشن ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ ہم اور ہمارے ساتھ شہر کے دو چار اور ادیبڈاکٹر تاثیر، حسرت، صوفی صاحب اور ہری چند اختر وغیرہ، ریڈیو اسٹیشن آنےجانے لگے۔ اس زمانے میں ریڈیو کا پروگرام ڈائریکٹر آف پروگرامز نہیں بناتاتھا۔ ہم لوگ مل کر بنایا کرتے تھے۔ نئی نئی باتیں سوچتے تھے۔ ان دنوں ہمنے ڈرامے لکھے، فیچر لکھے، دو چار کہانیاں لکھیں، یہ سب ایک مستقل مشغلہتھا۔ رشید جب دلی چلے گئے تو ہم دہلی جانے لگے۔ وہاں نئے نئے لوگوں سےملاقاتیں ہوئیں۔ دہلی اور لکھنؤ کے لکھنے والے گروہوں سے شناسائی ہوئی۔مجاز، سردار جعفری، جاں نثار اختر، جذبی اور مخدوم مرحوم سے ریڈیو کے توسطسے رابطہ پیدا ہوا جس سے دوستی کے علاوہ بصیرت اور سوجھ بوجھ میں طرح طرحکے اضافے ہوئے۔ وہ سارا زمانہ مصروفیت کا بھی تھا اور ایک طرح سے بے فکریکا بھی۔

 

 

 

فیض سے میری پہلی ملاقات

 

               صوفی غلام مصطفیٰ تبسم

 

سن 1929ء تھا اور اکتوبر کا مہینہ۔ مجھے سینٹرل ٹریننگ کالج سے گورنمنٹکالج میں آئے ہوئے کوئی تین ہفتے گزرے تھے۔ سابقہ درس گاہ کی خشک تدریسیفضا اور ضبط و نظم سے طبیعت گھٹی گھٹی سی تھی۔ نئے کالج میں آتے ہی طبیعتمیں انبساط کی لہر دوڑ گئی۔ ادب و شعر کا شوق پھر سے ابھرا۔ چنانچہ “بزمسخن” کی وساطت سے ایک بڑے مشاعرے کی صدارت پروفیسر پطرس بخاری کے سپردہوئی۔ شام ہوتے ہی کالج کا ہال طلبہ سے بھر گیا۔ سٹیج کے ایک طرف نیازمندانِ لاہور اپنی پوری شان سے براجمان تھے۔

مقابل میں لاہور کی تمام ادبی انجمنوں کے نمائندے صف آرا تھے۔ دونوں جانبسے خوش ذوقی اور حریفانہ شگفتگی ایک دوسرے کا خیر مقدم کر رہی تھی۔

روایتی دستور کے مطابق صدر نے اپنے کالج کے طلباء سے شعر پڑھانے کا اعلانکیا۔ دو ایک برخوردار آئے اور بڑے ادب و انکسار سے کلام پڑھ کر چلے گئے۔اچانک ایک دبلا پتلا، منحنی سا لڑکا سٹیج پر نمودار ہوا، سیاہ رنگ، سادہلباس، انداز میں متانت بلکہ خشونت، چہرے پر اجنبی ہونے کا شدید احساس۔ادھر اُدھر چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ اتنے میں اس نے کہا: عرض کیا ہے، کلاممیں ابتداء مشق کے باوجود پختگی اور اسلوب میں برجستگی تھی۔ سب نے داد دی۔یہ حفیظ ہوشیار پوری تھے۔

پھر ایک نوجوان آئے، گورے چٹّے، کشادہ جبیں، حرکات میں شیریں روانی،آنکھیں اور لب بیک وقت نیم تبسم میں ڈوبے ہوئے۔ پطرس نے کچھ معنی خیزنظروں میں لاہور کے نیاز مندوں سے باتیں کیں اور ان کی نیم خاموشی کو رضاسمجھ کر دونوں نوجوانوں کو دوبارہ سٹیج پر بلایا۔ نیا کلام سنا۔ فیض صاحبنے غزل کے علاوہ ایک نظم بھی سنائی۔ غزل اور نظم دونوں میں سوچ کا اندازاور بیان کا اچھوتا اسلوب تھا۔

مشاعرہ ختم ہوا۔ قرار پایا کہ احباب ان دونوں کو ہمراہ لے کر غریب خانے پرجمع ہوں۔ رات کافی گزر چکی تھی۔ انہیں بورڈنگ میں پہنچنا تھا۔ بخاری صاحبنے ان کی غیر حاضری کا ذمہ لیا اور پھر گھنٹہ بھر کے لیے شعر و سخن کیصحبت قائم رہی۔ یہ ان کی طبع آزمائی کا امتحان نہیں، اساتذہ کی حوصلہافزائی کا امتحان تھا۔ دونوں کامیاب رہے۔

ابھی پورا مہینہ نہیں گزرا تھا کہ کالج کے امتحانات کا آغاز ہوا، جس دن کیمیں بات کر رہا ہوں اس دن پطرس کالج ہال میں مہتمم امتحانات تھے اور ہمجیسے نو تجربوں کو چھوٹے کمرے سپرد کیے گئے تھے۔ مجھے کالج کی دوسری منزلمیں متعین کیا گیا۔ یہاں ایم۔اے انگلش کے طلبہ تھے اور ان میں فیض احمدفیض بھی تھے۔

امتحان کا کمرہ مقام احرام ہوتا ہے۔ امید واروں کے ذہنی امتحان کے ساتھساتھ ضبط و نظم کا امتحان بھی ہوتا ہے۔ سگریٹ نوشی ممنوع تھی۔ میں نے اپنیعادت کو دبانے کے لیے پان کا انتظام کر لیا تھا۔ مگر فیض صاحب کبھی سوالاتکے پرچے کی طرف نظر ڈالتے اور کبھی میری طرف نیم متبسم نظروں سے دیکھتےاور پھر قلم کو اُٹھا کر سر کو کھجاتے اور کبھی خاموشی سے اپنے پڑوسیوں کیمزاج پرسی کرتے، کبھی کبھی ان کا بایاں ہاتھ ایسے حرکت کرتا جیسے وہ کسینامعلوم شے کو ٹٹول رہے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا، وہ اٹھے اور کہا ہمیں یہاںسگریٹ پینے کی اجازت ہے؟ میں نے کہا میں ابھی بتاتا ہوں۔

اتنے میں پطرس مختلف کمروں کا معاینہ کرتے کرتے میرے کمرے کے باہر آ کرکھڑے ہو گئے۔ میں تعظیماً پلیٹ فارم سے اتر کر دروازے پر پہنچا، پوچھا: سبٹھیک ہے؟

میں نے کہا: جی!

میں نے عرض کیا: پروفیسر صاحب (میں انہیں پروفیسر صاحب کہا کرتا تھا) بعض طلبہ سگریٹ پینا چاہتے ہیں۔ اجازت ہے؟

پطرس نے میرے کان میں دبی آواز میں کہا۔

“جب تک پروفیسر جودھ سنگھ اس کالج کے پرنسپل نہیں بنتے، اس وقت تک پی سکتے ہیں۔” اور پھر مسکرا کر چلے گئے۔

میں نے اندر آتے ہی فیض صاحب کی طرف دیکھا اور اشاروں سے سگریٹ نوشی کااعلان کیا۔ فیض صاحب کے ہاتھ میں فی الفور ایک سگریٹ نمودار ہوا جیسے قلمہی سے ابھر آیا ہے۔

پھر قلم کے رش اور سگریٹ کے کش میں مقابلہ شروع ہوا اور اس کشمکش میں معطردھوئیں کے غبارے پورے کمرے میں پھیل گئے۔ میں معلم تھا، ضبط و نظم کیزنجیروں میں جکڑا ہوا بیٹھا رہا اور قوام دار پان کو چھوڑ کر اس خوشبو سےاپنے ذوق سگریٹ نوشی کی تسکین میں محو ہو گیا۔

کیا معلوم تھا کہ دھوئیں کے یہ غبارے کالج کی چار دیواری سے دور دور تکفضا میں پھیل جائیں گے اور ان میں سگریٹ پینے والے کے معطر انفاس کیخوشبوئیں بھی لہرائیں گی اور ہنر و فن اور ادب کی دنیا کو اپنی آغوش میںلے لیں گی۔

 

 

ملامتی صوفی

 

               اشفاق احمد

 

میرااور فیض صاحب کا نظریاتی اختلاف ہے۔ میں ایک شرعی آدمی ہوں اور فیض صاحبملامتی صوفی ہیں۔ تاریخ میں ڈھونڈنے سے آپ کو کئی ایسی مثالیں مل جائیں گیجہاں ایک شرعی اور صوفی کی دوستی ہو گئ اور دونوں نے ایک دوسرے کے ہاتھمیں ہاتھ ڈال کر آخری منزلیں طے کیں۔ لیکن ایک شرعی آدمی کی کسی ملامتی سےدوستی نہیں ہوئی۔ فیض صاحب نے صوفی ازم کا اکتساب کسی سلسلہ میں بیعت کرکے نہیں کیا۔ نا ہی میرے اندازہ اور تحقیق کے مطابق انہوں نے ورد و وظیفہیا چلہ کشی کی ہے۔ انہوں نے صوفیا کا ایک تیسرا راستہ اختیار کیا ہے جومجاہدے پر محیط ہے، اسی کو بزرگانِ دین ادب اور تواضع کا نام دیتے ہیں۔

حضرت حاجی صاحب مہاجر مکی فرماتے ہیں کہ ایک دم میں ولایت حاصل کرنے کےلیے ادب اور خدمت کو اختیار کرنا چاہیے۔ بزرگانِ دین اس کی تفصیل بیانکرتے ہوئے کہتے ہیں کہ طریقِ تصوف کے طالب کو چاہیے کہ ادبِ ظاہری اور باطنی کو نگاہ میں رکھے۔ ادبِ ظاہری یہ ہے کہ مخلوقِ خدا کے ساتھ بحسنِادب و کمال تواضع اور اخلاق کے ساتھ پیش آوے اور ادبِ باطنی یہ ہے کہ تماماوقات و احوال و مقامات میں با حق رہے۔ حسنِ ادب ظاہر سرنامہ ادبِ باطن کاہے اور حسنِ ادب ترجمانِ عقل ہے اور عقل چراغِ راہِ صداقت کے تیل سے منورہے۔

یہ ادب، یہ صبر، ایسا دھیما پن، اس قدر درگزر، کم سخنی اور احتجاج سےگریز۔ یہ صوفیوں کے کام ہیں۔ ان سب کو فیض صاحب نے اپنے دامن میں سمیٹرکھا ہے۔ اوپر سے ملامتی رنگ یہ اختیار کیا ہے کہ اشتراکیت کا گھنٹا بجاتےپھرتے ہیں کہ کوئی قریب نہ آئے اور محبوب کا راز کھل جائے۔ واہ بابا ٹلواہ! کیا کہنے! چوری کر، تے بھن گھر رب دا اوس ٹھگاں دے ٹھگ نوں ٹھگ۔

میرا تعلق چونکہ اونچے خانوادے سے ہے اور میں مسلمان بادشاہوں کا پرستارہوں اور ملوکیت کو ہی اسلام سمجھتا ہوں، اس لیے میری اور بابا ٹل کی نہیںبن سکتی۔ لیکن کبھی اکیلے بیٹھے بیٹھے، خاموش اور چپ چاپ، میں سوچا کرتاہوں کہ اگر فیض صاحب حضور سرور کائنات صلّی اللہ علیہ و سلّم کے زمانے میںہوتے تو ان کے چہیتے غلاموں میں سے ہوتے۔ جب بھی کسی بد زبان، تند خو، بداندیش یہودی دکاندار کی دراز دستی کی خبر پہنچتی تو حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کبھی کبھی ضرور فرماتے: آج فیض کو بھیجو، یہ بھی دھیما ہے، صابر ہے،برد بار ہے، احتجاج نہیں کرتا پتھر بھی کھا لیتا ہے۔ ہمارے مسلک پر عملکرتا ہے۔

 

 

فیض سے میری رفاقت

 

               شیر محمد حمید

 

1929ءکی بات ہے کہ میں گورنمنٹ کالج لاہور میں تیسرے سال کا طالبعلم تھا۔چوہدری نبی احمد اور آغا عبد الحمید میرے دوست تھے۔ ہم سب نیو ہاسٹل میںرہتے تھے۔ ہر شام ہم سیر کو نکلتے تو ایک نوجوان کو دیکھتے جو باہر جنگلےپاس تنہا کھڑا گرد و پیش سے بے خبر کالج ٹاور کی سمت نظریں جمائے، دورکہیں افق کی بلندیوں کو دیکھ رہا ہوتا۔ اس کا سراپا دلکش اور محویت جاذبتوجہ۔ تین چار دنوں کے بعد نبی احمد کے ذوق جستجو نے ہمیں اس نوجوان سے ہمکلام ہونے پر آمادہ کر لیا۔ قریب جا کر نبی احمد نے پوچھا “معاف کیجیے گا،آپ کون ہیں اور یوں گم سم تنہا کھڑے کیا دیکھا کرتے ہیں؟” نوجوان محویت کےعالم سے چونکا اور کہنے لگا “میرا نام فیض ہے، میں نے مرے کالج سیالکوٹ سےایف۔اے پاس کر کے یہاں تھرڈ ایئر میں داخلہ لیا ہے۔ یہاں میرا کوئی واقفآشنا نہیں ہے”! نبی احمد نے معاً کہا۔ آئیے آج سے آپ ہمارے دوست ہیں۔ یہشیر محمد ہیں، یہ آغا حمید ہیں، یہ بھی آپ کے ہم جماعت ہیں۔ وہ دن اور آجکا دن، ایک کم پچاس برس بیت چکے ہیں، زندگی ہزاروں نشیب و فراز سے گزریفیض کی دوستی کا وہ بندھن بدستور برقرار ہے، اور یہ دوستی ہمارے لیے فخر ومسرت کا باعث رہی ہے۔

 

فیض کے والد خان بہادر سلطان محمد خان سیالکوٹ کے سرکردہ وکیل، معزز ومخیر شہری، ڈسٹرکٹ بورڈ کے چیئرمین تھے۔ وجاہت و شرافت کا پیکر تھے، گھرمیں ہر طرح کی آسودگی تھی۔ فیض نے ناز و نعمت میں آنکھ کھولی تھی، لاڈپیار میں پرورش اور گھریلو رکھ رکھاؤ اور ناز برداریوں میں تعلیم و تربیتحاصل کی۔ لاہور آئے تو ماحول مختلف پایا۔ کچھ گھُٹے گھُٹے رہتے۔ ہمیں کافیجدّ و جہد کرنا پڑی کہ فیض اپنے خول سے باہر نکلیں۔ چھے سات ماہ کے بعد ہمکامیاب ہوئے اور فیض حلقۂ احباب میں چہچہانے لگے۔

 

وہ زمانہ گورنمنٹ کالج کا سنہری دور تھا۔ بڑے بڑے نامور اساتذہ مختلفشعبوں کے سربراہ تھے۔ پروفیسر لینگ ہارن انگریزی کے صدر شعبہ تھے۔ تھرڈایئر کے امتحان میں انہوں نے ہمارے انگریزی کے پرچے دیکھے۔ پرچے واپس ملےتو فیض کے پرچے پر ایک سو پینسٹھ نمبر درج تھے، کسی طالب علم نے پروفیسرصاحب سے پوچھا ان کو ڈیڑھ سو میں سے ایک سو پینسٹھ نمبر کیسے مل گئے۔ جوابملا Because I could not give more.فیض کی انگریزی دانی کے متعلق ایکنامور انگریز استاد کے یہ الفاظ سند رہیں گے۔

 

انہی دنوں پطرس بخاری کیمبرج سے فارغ التحصیل ہو کر گورنمنٹ کالج آئے۔کالج کی علمی و ادبی دنیا میں ایک تہلکہ مچ گیا۔ بخاری اپنی ذات میں ایکانجمن تھے۔ ان کی دلفریب شخصیت کا پرتو کالج کے ہر شعبے پر پڑا۔ کالج میں “بزم سخن” نام کی ایک اردو انجمن موجود تھی۔ اس کے اجلاس مشاعروں اور رسمیتقاریب تک محدود تھے۔ بخاری صاحب نے نا کافی سمجھ کر “مجلس” کے نام سے ایکنئی انجمن کا اجرا کیا۔ اردو علم و ادب سے شغف رکھنے والے طلبا کو چن چنکر اس کا رکن بنایا۔ فیض، راشد، آغا حمید، نبی احمد، حفیظ ہوشیار پوری اور یہ خاکسار اس کے بانی اراکین میں سے تھے۔ طالب علموں کے علاوہ بخاری صاحبکے ایما اور دعوت پر لاہور کے برگزیدہ ادیب و دانشور شریک مجلس ہوتے۔ڈاکٹر تاثیر، مولانا سالک، امتیاز علی تاج، صوفی تبسم، چراغ حسن حسرتبالالتزام اور حفیظ جالندھری کبھی کبھار تشریف لاتے۔ اجلاس اکثر و بیشتربخاری کے دولت کدے پر ہوتے۔ ایک طالب علم مقالہ پڑھتا، ایک دو نظم یا غزلپیش کرتے پھر سوال و جواب، تنقید و تبصرے کا دور چلتا۔ صاحب مقالہ کیحوصلہ افزائی بھی ہوتی اور نئے نئے گوشوں کی طرف رہنمائی بھی۔ موضوع کے ہرپہلو کو کھنگالا جاتا۔ اور مشرق و مغرب کے اسالیب تنقید، قدیم و جدیداصولوں کے معیار پر پرکھا جاتا۔ غرض کوئی زاویہ، کوئی پہلو نظر انداز نہکیا جاتا۔ اس دوران زمام بحث اکثر بخاری کے چابک دست ہاتھوں میں رہتی۔گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کی یہ نشست مہینوں کی دیدہ ریزی پر حاوی ہوتی۔ ہم لوگانشراح قلب کی کیفیت لیے واپس لوٹتے۔ یہ بخاری کی کرشمہ زائی تھی کہ مدفونامکانات کو اجاگر کر کے فیض اور راشد جیسے نامور اکابر “مجلس” نے پیدا کیے۔

 

فیض میں شاعری کا مادہ فطری و وہبی تھا۔ ہم لوگوں میں بھی فیض کی صحبت اور بخاری، تاثیر اور تبسم جیسے جید اساتذہ کے التفات نظر کے باعث شعر و ادبسے کچھ لگن پیدا ہو گئی۔ احباب کا حلقہ وسیع ہو چکا تھا۔ ہر شام ہوسٹل کےکسی کمرہ میں محفل مشاعرہ برپا کر بیٹھتے۔ طرح مصرع پر ہر کوئی دو چار شعرلکھ کر لاتا۔ محفل کے اختتام پر ہر غزل میں سے شعر انتخاب کر کے ایک غزلمرکب تیار کر لیتے جو کالج کے مجلّہ راوی میں “احباب” کے نام سے چھپتی۔ظاہر ہے اس غزل مرکب میں حصہ وافر فیض کا ہوتا۔ “دی احباب” کے عنوان سےایک طنزیہ فیض نے راوی میں لکھا تھا جو اب ان کی کتاب “متاع لوح و قلم” میں شامل ہے۔

 

فیض کی شاعری پروان چڑھتی رہی۔ بین الکلیاتی مشاعروں میں فیض اکثر انعاماتسمیٹتے رہے۔ ابھی کالج کا زمانہ تھا کہ فیض صفِ شاگرداں سے اٹھ کر مجلساساتذہ میں شریک ہو گئے اور بخاری، تاثیر اور تبسم کے احباب میں جگہ پا لی۔

 

ہم فورتھ ایئر میں تھے۔ دسمبر کی چھٹیوں میں فیض کی ہمشیرہ کی شادی تھی،وہ سیالکوٹ چلے گئے۔ ان کے والد اس تقریب کی تیاری میں مصروف تھے۔ جس صبحبرات کو آنا تھا اسی رات حرکت قلب بند ہو جانے سے ان کا انتقال ہو گیا۔ اسقیامت کا اندازہ کیجیے جو اس ناگہانی موت سے ان کے خاندان پر گزر گئی۔ فیضنے ایک فقرہ کا خط لکھا: “تمہارا فیض یتیم ہو گیا” ان حشر سامانیوں کو کونسمجھے جو اس ایک فقرہ کی تہہ میں موجود ہیں۔ اس سانحہ عظیم نے گویا زندگیکی بساط الٹ دی۔ فیض کی زندگی کی کایا پلٹ گئی۔ اس کے قلب و ذہن میں ایکانقلاب آ گیا۔

 

اچانک گرفتاری، خوف و دہشت کی فضا، قید تنہائی اور پھر سنٹرل جیل میںمقدمے کی سماعت، عجب گو مگو کا عالم تھا۔ فیض کے اعزہ اور اقربا دوستاحباب سب پریشان تھے۔ فیض کے بڑے بھائی حاجی طفیل احمد، جو میرے بھی کرمفرما تھے، حیدر آباد جیل میں فیض سے ملاقات کو گئے اور وہیں حرکت قلب رکجانے سے انتقال کر گئے۔ میں تعزیت اور دلجوئی کے لیے فیض سے ملنے حیدرآباد گیا۔ جیل کے اندر ملاقات ہوئی۔ میرا خیال تھا کہ مقدمے کی سنگینی،جیل کی مصیبت اور اب شفیق بھائی کی ناگہانی موت نے فیض کو سخت مضمحل اور بد حال کر رکھا ہو گا۔ میں یہ دیکھ کر متعجب رہ گیا کہ فیض کی ظاہری شکل وصورت میں کسی غیر معمولی تبدیلی کے آثار نظر نہ آئے۔ اضمحلال و پریشانی کاکوئی خاص نشان نہ تھا۔

 

فیض ٹھنڈے مزاج کے بے حد صلح پسند آدمی ہیں۔ بات کتنی بھی اشتعال انگیزہو، حالات کتنے بھی ناسازگار ہوں، وہ نہ برہم ہوتے ہیں اور نہ مایوس۔ سبکچھ تحمل اور خاموشی سے برداشت کر لیتے ہیں۔ نہ کسی کا گلہ نہ چڑچڑاہٹ نہبد گوئی۔ میں نے فیض کو نہ کبھی طیش میں دیکھا ہے اور نہ کبھی کسی کا شکوہشکایت کرتے سنا ہے۔ ان کے دل کی گہرائیوں میں لاکھ ہیجان برپا ہوں، چہرےپر برہمی کی یا پریشانی کی کوئی لکیر نظر نہ آئے گی۔ فیض کا ظرف کتنا وسیعہے۔ سمندر کی تہہ میں طوفانوں کی رستا خیز ہے، سطح پر سکون ہے۔ یہ عظمت ہرکسی کو کہاں نصیب!

 

ہر معتدل آدمی کی طرح فیض پر بھی عشق و محبت کے حادثے گزرے ہیں۔ کچھ عامنوعیت کے رومانی واقعات جن کا دیر پا اثر فیض کی زندگی اور شاعری پر نہیںپڑا۔ لیکن دو ایک وارداتیں اس قدر شدید تھیں کہ فیض کے قلب و جگر کو گرماکے رکھ گئیں۔ “نقش فریادی” کی نظمیں رقیب سے، ایک راہ گزر پر، ایک ایسے ہیحادثہ کی یادگار ہیں جس کا اختتام مرگ سوز محبت پر ہوا۔ ایسے حادثے ہر کسیپر گزرتے ہیں لیکن فیض جیسے حسن بیں اور حسن آفریں حساس فنکار پر ان کت جوگہرے اثرات مرتب ہوئے ان کا سراغ جا بجا ان کی شعری تخلیقات میں مل جاتاہے۔

 

یہاں سے اس کی سوچ اور فکر کے ساتھ ساتھ اس کی شاعری نے بھی نیا رخ اختیارکیا، غم جاناں کے ساتھ غم روز گار کا جاں گسل پیوند لگ جانے سے سوچ کےدھارے نئی سَمت میں بہنے لگے۔

 

فیض نے انگریزی اور عربی میں ایم۔اے کر لینے کے بعد ایم اے او کالج میںانگریزی کے استاد کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ وہاں ڈاکٹر تاثیر بطور پرنسپلاور صاحب زادہ محمود الظفر بطور وائس پرنسپل آ گئے۔ صاحب زادہ کی معروفرفیقہ حیات ڈاکٹر رشیدہ جہاں اور ان کے زمرہ کے دوسرے لوگوں سے میل جولبڑھا تو فکر و نظر کو اور وسعت ملی۔ ترقی پسند مصنفین کی انجمن کا اجراانہی دنوں ہوا۔ فیض اس کے بانی رکن ہیں۔ اب وہ غم جاناں اور غم روز گار سےگزر کر غم وطن اور غم جہاں کی سنگلاخ راہوں پر چل نکلے۔ اپنی ذات کا دکھعالمگیر دکھ کے سامنے ہیچ اور اس آفاقی دکھ کا ایک معمولی حصہ نظر آیا۔فیض وطن دوستی اور انسان دوستی کی جس راہ پر گامزن ہوئے اس میں ہزار آفتوںکا سامنا تھا، جسم و جان کی قربانیاں درکار تھیں۔ الحمد اللہ کہ فیض کسیمصیبت کا سامنا کرنے سے نہیں ہچکچایا۔ نگار وطن کی حرمت آزادی اور پھرتزئین و تجمیل کے شوق نے جس جس قربانی کا تقاضا کیا، پیش کر دی۔ یہ راہطویل بھی ہے اور کٹھن بھی، لیکن راہرو عشق کے قدموں میں نہ لغزش آئی اور نہ تھکن محسوس کی۔

 

تحریک آزادی کا یہ جیالا تحریک پاکستان کے معرکوں میں بھی ہراول رہا۔پاکستان ٹائمز کے اجرا پر مدیر اعلیٰ مقرر ہوا تو صحافتی محاذ پر قلمیجہاد کے معرکے سر کرتا رہا، پاکستان معرض وجود میں آیا تو تعمیر وطن کےمرحلے سامنے آئے۔ جس پاکستان کے خواب دیکھے تھے ان کی تعبیر حسب مراد نظرنہ آئی تو سازش کیس میں دھر لیے گئے اور قید و بند کے مصائب جھیلنا پڑے۔سازش کیس کا معما کیا تھا۔ اس کے متعلق نہ کبھی ہم نے دریافت کیا اور نہہی فیض نے بتایا۔ معلوم یہی ہوتا ہے کہ:

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے

 

میرے نزدیک فیض کی زندگی کے اہم ترین واقعات میں ایلس جارج سے ان کی شادیہے۔ یہ بظاہر ایک مشرقی نوجوان کا ایک فرنگی نژاد خاتون سے نکاح ہے۔ ایسےنکاح آئے دن ہوتے رہتے ہیں، لیکن حقیقتاً یہ مشرقی قلب و روح اور مغربیجسم و دل کا وہ بار اور پیوند ہے جس نے مشرق و مغرب کی رعنائیاں یک جا کردی ہیں۔ فیض ایک لا ابالی، بے نیاز این و آں اور خود فراموش سا نوجوانتھا۔ ایلس نے اس کی زندگی میں ترتیب اور سنوار پیدا کر دی۔ اس کی بے قرارروح کو ایک حسین قالب میسر آ گیا۔ ایلس نے مغرب اور اس کی تہذیبی روایاتکو خیر باد کہہ کر مشرق اور اس کی ثقافتی اقدار کو اپنا لیا۔ دیس کے ساتھبھیس اور وطن کے ساتھ زبان تک بدل لی۔ مجھے یہ کہنے میں باک نہیں کہ ایلسنے فیض کے فکر و نظر، جذبات و حیات اور آدرش تک اپنا لیے۔ قید و بند کی جنجن آزمائشوں سے فیض گزرے ہیں، ایلس کی غم خواری اور حوصلہ مندی کے بغیر انجان لیوا مراحل سے یوں اعتماد اور یقین محکم کے ساتھ گزرنا مشکل تھا۔

 

فیض کا پیدائشی شہر سیالکوٹ ہے۔ رہائشی شہر لاہور کہہ لیجیے۔ لیکن ہمجانتے ہیں کہ لائل پور سے بھی ان کو نسبت خاص ہے۔ ان کی جوانی کی کئی حسینیادیں اس شہر سے وابستہ ہیں۔ ان کے مداح اور پرستار ملک کے اندر اور باہرہر جگہ موجود ہیں۔ لیکن لائل پور کے باسی ان سے دو گونہ التفات کے مستحقہیں۔ اس لیے یہ آرزو کرنا کوئی بڑی جسارت نہ ہو گی کہ فیض ہمیں دل کے کسیمحفوظ اور مخصوص گوشے میں جگہ دیے رکھیں۔

 

 

 

سجاد ظہیر کے نام

 

نہ اب ہم ساتھ سیرِ گُل کریں گے

نہ اب مل کر سرِ مقتل چلیں گے

حدیثِ دلبراں باہم کریں گے

نہ خونِ دل سے شرحِ غم کریں گے

نہ لیلائے سخن کی دوست داری

نہ غم ہائے وطن پر اشکباری

سنیں گے نغمۂ زنجیر مل کر

نہ شب بھر مل کے چھلکائیں گے ساغر

 

بنامِ شاہدِ نازک خیالاں

بیادِ مستیِ چشمِ غزالاں

بنامِ انبساطِ بزمِ رنداں

بیادِ کلفتِ ایّامِ زنداں

 

صبا اور اُس کا اندازِ تکلّم

سحر اور اُس کا آغازِ تبسّم

فضا میں ایک ہالہ سا جہاں ہے

یہی تو مسندِ پیرِ مغاں ہے

سحر گہ اب اُسی کے نام ساقی

کریں اتمامِ دورِ جام ساقی

بساطِ بادہ و مینا اُٹھا لو

بڑھا دو شمعِ محفل بزم والو

پیو اب ایک جامِ الوداعی

پیو اور پی کے ساغر توڑ ڈالو

 

***دہلی ستمبر 1973ء

 

 

اے شام مہرباں ہو

 

اے شام مہرباں ہو

اے شامِ شہرِ یاراں

ہم پہ مہرباں ہو

دوزخی دوپہر ستم کی

بے سبب ستم کی

دوپہر درد و غیظ و غم کی

بے زباں درد و غیظ و غم کی

اس دوزخی دوپہر کے تازیانے

آج تن پر دھنک کی صورت

قوس در قوس بٹ گئے ہیں

زخم سب کھُل گئے ہیں

داغ جانا تھا چھٹ گئے ہیں

ترے توشے میں کچھ تو ہو گا

مرہمِ درد کا دوشالہ

تن کے اُس انگ پر اُڑھا دے

درد سب سے سوا جہاں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے شامِ شہرِ یاراں

ہم پہ مہرباں ہو

 

دوزخی دشت نفرتوں کے

بے درد نفرتوں کے

کرچیاں دیدۂ حسد کی

خس و خاشاک رنجشوں کے

اتنی سنسان شاہراہیں

اتنی گنجان قتل گاہیں

جن سے آئے ہیں ہم گزر کر

آبلہ بن کے ہر قدم پر

یوں پاؤں کٹ گئے ہیں

رستے سمٹ گئے ہیں

مخملیں اپنے بادلوں کی

آج پاؤں تلے بچھا دے

شافیِ کربِ رہرواں ہو

اے شام مہرباں ہو

 

اے مہِ شبِ نگاراں

اے رفیقِ دلفگاراں

اس شام ہمزباں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے شام مہرباں ہو

اے شامِ شہریاراں

ہم پہ مہرباں ہو

 

1974ء

 

 

 

گیت

 

چلو پھر سے مسکرائیں

چلو پھر سے دل جلائیں

جو گزر گئی ہیں راتیں

اُنہیں پھر جگا کے لائیں

جو بسر گئی ہیں باتیں

اُنہیں یاد میں بُلائیں

چلو پھر سے دل لگائیں

چلو پھر سے مسکرائیں

کسی شہ نشیں پہ جھلکی

وہ دھنک کسی قبا کی

کسی رگ میں کسمسائی

وہ کسک کسی ادا کی

کوئی حرف بے مروّت

کسی کُنجِ لب سے پھُوٹا

وہ چھنک کے شیشۂ دل

تہِ بام پھر سے ٹوٹا

یہ مِلن کی نا مِلن کی

یہ لگن کی اور جلن کی

جو سہی ہیں وارداتیں

جو گُزر گئی ہیں راتیں

جو بِسر گئی ہیں باتیں

کوئی ان کی دھُن بنائیں

کوئی ان کا گیت گائیں

چلو پھر سے مسکرائیں

چلو پھر سے دل جلائیں

 

1974ء

 

 

ہم تو مجبور تھے اس دل سے

 

ہم تو مجبور تھے اس دل سے کہ جس میں ہر دم

گردشِ خوں سے وہ کُہرام بپا رہتا ہے

جیسے رندانِ بلا نوش جو مل بیٹھیں بہم

میکدے میں سفرِ جام بپا رہتا ہے

سوزِ خاطر کو ملا جب بھی سہارا کوئی

داغِ حرمان کوئی، دردِ تمنّا کوئی

مرہمِ یاس سے مائل بہ شِفا ہونے لگا

زخمِ اُمّید کوئی پھر سے ہرا ہونے لگا

ہم تو مجبور تھے اس دل سے کی جس کی ضد پر

ہم نے اُس رات کے ماتھے پہ سحر کی تحریر

جس کے دامن میں اندھیرے کے سوا کچھ بھی نہ تھا

ہم نے اُس دشت کو ٹھہرا لیا فردوس نظیر

جس میں جُز صنعتِ خونِ سرِ پا کچھ بھی نہ تھا

دل کو تعبیر کوئی اور گوارا ہی نہ تھی

کلفتِ زیست تو منظور تھی ہر طور مگر

راحتِ مرگ کسی طور گوارا ہی نہ تھی

 

1974ء

 

 

غزل

 

نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار کوئی

تم آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا

 

جُدا تھے ہم تو میسّر تھیں قربتیں کتنی

بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا

 

پہنچ کے در پہ ترے کتنے معتبر ٹھہرے

اگرچہ رہ میں ہوئیں جگ ہنسائیاں کیا کیا

 

ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے

بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا

 

ستم پہ خوش کبھی لطف و کرم سے رنجیدہ

سکھائیں تم نے ہمیں کج ادائیاں کیا کیا

 

1974ء

 

 

 

ڈھاکہ سے واپسی پر

 

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مُلاقاتوں کے بعد

پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار

خون کے دھبّے دھُلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

تھے بہت بے درد لمحے ختمِ دردِ عشق کے

تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی

کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد

اُن سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کیے

اَن کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

 

1974ء

 

 

غزل

 

یہ موسِمِ گرچہ طرب خیز بہت ہے

احوالِ گُل و لالہ غم انگیز بہت ہے

خوش دعوتِ یاراں بھی ہے یلغارِ عدو بھی

کیا کیجیے دل کا جو کم آمیز بہت ہے

یوں پیرِ مغاں شیخِ حرم سے ہوئے یک جاں

میخانے میں کم ظرفیِ پرہیز بہت ہے

اک گردنِ مخلوق جو ہر حال میں خم ہے

اک بازوئے قاتل ہے کہ خوں ریز بہت ہے

کیوں مشعلِ دل فیض چھپاؤ تہِ داماں!

بُجھ جائے گی یُوں بھی کہ ہوا تیز بہت ہے

 

1975ء

 

 

 

بہار آئی

 

بہار آئی تو جیسے یک بار

لَوٹ آئے ہیں پھر عدم سے

وہ خواب سارے، شباب سارے

جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے

جو مٹ کے ہر بار پھر جیے تھے

نِکھر گئے ہیں گلاب سارے

جو تیری یادوں سے مُشکبو ہیں

جو تیرے عُشّاق کا کہو ہیں

اُبل پڑے ہیں عذاب سارے

ملالِ احوالِ دوستاں بھی

خمارِ آغوشِ مہ وشاں بھی

غُبارِ خاطر کے باب سارے

ترے ہمارے

سوال سارے جواب سارے

بہار آئی تو کھِل گئے ہیں

نئے سرے سے حساب سارے

 

اپریل 1975ء

 

 

 

تم اپنی کرنی کر گزرو

 

اب کیوں اُس دن کا ذکر کرو

جب دل ٹکڑے ہو جائے گا

اور سارے غم مِٹ جائیں گے

جو کچھ پایا کھو جائے گا

جو مل نہ سکا وہ پائیں گے

یہ دن تو وہی پہلا دن ہے

جو پہلا دن تھا چاہت کا

ہم جس کی تمنّا کرتے رہے

اور جس سے ہر دم ڈرتے رہے

یہ دن تو کئی بار آیا

سو بار بسے اور اُجڑ گئے

سو بار لُٹے اور بھر پایا

 

 

اب کیوں اُس دن کا ذکر کرو

جب دل ٹکڑے ہو جائے گا

اور سارے غم مِٹ جائیں گے

تم خوف و خطر سے در گزرو

جو ہونا ہے سو ہونا ہے

گر ہنسنا ہے تو ہنسنا ہے

گر رونا ہے تو رونا ہے

تم اپنی کرنی کر گزرو

جو ہو گا دیکھا جائے گا

 

اکتوبر 1975ء

 

 

موری اَرج سُنو

 

               (نذرِ خسرو)

 

“موری ارج سُنو دست گیر پیر”

“مائی ری، کہوں کاسے میں

اپنے جیا کی پیر”

“نیا باندھو رے،

باندھو رے کنارِ دریا”

“مورے مندر اب کیوں نہیں آئے”

 

اس صورت سے

عرض سناتے

درد بتاتے

نیّا کھیتے

مِنّت کرتے

رستہ تکتے

کتنی صدیاں بیت گئی ہیں

اب جا کر یہ بھید کھُلا ہے

جس کو تم نے عرض گزاری

جو تھا ہاتھ پکڑنے والا

جس جا لاگی ناؤ تمھاری

جس سے دُکھ کا دارُو مانگا

تورے مندر میں جو نہیں آیا

وہ تو تُمھیں تھے

وہ تو تُمھیں تھے

 

ستمبر 1975ء

 

 

 

غزل

 

ہمیں سے اپنی نوا ہم کلام ہوتی رہی

یہ تیغ اپنے لہو میں نیام ہوتی رہی

 

مقابلِ صفِ اعداء جسے کیا آغاز

وہ جنگ اپنے ہی دل میں تمام ہوتی رہی

 

کوئی مسیحا نہ ایفائے عہد کو پہنچا

بہت تلاش پسِ قتلِ عام ہوتی رہی

 

یہ برہمن کا کرم، وہ عطائے شیخِ حرم

کبھی حیات کبھی مَے حرام ہوتی رہی

 

جو کچھ بھی بن نہ پڑا، فیض لُٹ کے یاروں سے

تو رہزنوں سے دعا و سلام ہوتی رہی

 

 

 

***

 

تجھے پکارا ہے بے ارادہ

جو دل دکھا ہے بہت زیادہ

ندیم ہو تیرا حرفِ شیریں

تو رنگ پر آئے رنگِ بادہ

عطا کرو اک ادائے دیریں

تو اشک سے تر کریں لبادہ

نہ جانے کس دن سے منتظِر ہے

دلِ سرِ رہ گزر فتادہ

کہ ایک دن پھر نظر میں آئے

وہ بامِ روشن، وہ در کشادہ

وہ آئے پُرسش کو پھر سجائے

قبائے رنگیں، ادائے سادہ

 

 

 

***

 

حسرتِ دید میں گزراں ہیں زمانے کب سے

دشتِ اُمّید میں گرداں ہیں دوانے کب سے

دیر سے آنکھ پہ اُترا نہیں اشکوں کا عذاب

اپنے ذمّے ہے ترا فرض نہ جانے کب سے

کس طرح پاک ہو بے آرزو لمحوں کا حساب

درد آیا نہیں دربار سجانے کب سے

سر کرو ساز کہ چھیڑیں کوئی دل سوز غزل

“ڈھونڈتا ہے دلِ شوریدہ بہانے کب سے”

 

 

لینن گراڈ کا گورستان

 

سرد سِلوں پر

زرد سِلوں پر

تازہ گرم لہو کی صورت

گلدستوں کے چھینٹے ہیں

کتبے سب بے نام ہیں لیکن

ہر اک پھول پہ نام لکھا ہے

غافل سونے والے کا

یاد میں رونے والے کا

اپنے فرض سے فارغ ہو کر

اپنے لہو کی تان کے چادر

سارے بیٹے خواب میں ہیں

اپنے غموں کا ہار پرو کر

امّاں اکیلی جاگ رہی ہے

 

لینن گراڈ 1976ء

 

 

غزل

 

یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیا

پھر آج کس نے سخن ہم سے غائبانہ کیا

غمِ جہاں ہو، رخِ یار ہو کہ دستِ عدو

سلوک جس سے کیا ہم نے عاشقانہ کیا

تھے خاکِ راہ بھی ہم لوگ قہرِ طوفاں بھی

سہا تو کیا نہ سہا اور کیا تو کیا نہ کیا

خوشا کہ آج ہراک مُدّعی کے لب پر ہے

وہ راز جس نے ہمیں راندۂ زمانہ کیا

وہ حیلہ گر جو وفا جُو بھی ہے جفا خُو بھی

کِیا بھی فیض تو کس بُت سے دوستانہ کیا

 

**1976

 

 

***

 

کچھ عشق کیا کچھ کام کیا

وہ لوگ بہت خوش قسمت تھے

جو عشق کو کام سمجھتے تھے

یا کام سے عاشقی کرتے تھے

ہم جیتے جی مصروف رہے

کچھ عشق کیا، کچھ کام کیا

کام عشق کے آڑے آتا رہا

اور عشق سے کام اُلجھتا رہا

پھر آخر تنگ آ کر ہم ہے

دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

1976ء

 

 

 

 

درِ اُمید کے دریوزہ گر

 

]پھر پھُرَیرے بن کے میرے تن بدن کی دھجّیاں

شہر کے دیوار و در کو رنگ پہنانے لگیں

پھر کف آلودہ زبانیں مدح و ذَم کی قمچیاں

میرے ذہن و گوش کے زخموں پہ برسانے لگیں

پھر نکل آئے ہوَسناکوں کے رقصاں طائفے

درد مندِ عشق پر ٹھٹھّے لگانے کے لیے

پھر دُہل کرنے لگے تشہیرِ اخلاص و وفا

کشتۂ صدق و صفا کا دل جلانے کے لیے

ہم کہ ہیں کب سے درِ اُمّید کے دریوزہ گر

یہ گھڑی گُزری تو پھر دستِ طلب پھیلائیں گے

کوچہ و بازار سے پھر چُن کے ریزہ ریزہ خواب

ہم یونہی پہلے کی صورت جوڑنے لگ جائیں گے

 

مارچ 1977ء

 

 

 

آج اِک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال

 

(1)

آج اِک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیال

مدھ بھرا حرف کوئی، زہر بھرا حرف کوئی

دل نشیں حرف کوئی، قہر بھرا حرف کوئی

حرفِ اُلفت کوئی دلدارِ نظر ہو جیسے

جس سے ملتی ہے نظر بوسۂ لب کی صورت

اتنا روشن کہ سرِ موجۂ زر ہو جیسے

صحبتِ یار میں آغازِ طرب کی صورت

حرفِ نفرت کوئی شمشیرِ غضب ہو جیسے

تا ابَد شہرِ ستم جس سے تبہ ہو جائیں

اتنا تاریک کہ شمشان کی شب ہو جیسے

لب پہ لاؤں تو مِرے ہونٹ سیہ ہو جائیں

 

 

(2)

آج ہر سُر سے ہر اک راگ کا ناتا ٹوٹا

ڈھونڈتی پھرتی ہے مطرب کو پھر اُس کی آواز

جوششِ درد سے مجنوں کے گریباں کی طرح

چاک در چاک ہُوا آج ہر اک پردۂ ساز

آج ہر موجِ ہوا سے ہے سوالی خلقت

لا کوئی نغمہ، کوئی صَوت، تری عمر دراز

نوحۂ غم ہی سہی، شورِ شہادت ہی سہی

صورِ محشر ہی سہی، بانگِ قیامت ہی سہی

جولائی 1977ء

 

 

 

غزل

 

کس شہر نہ شُہرہ ہُوا نادانیِ دل کا

کس پر نہ کھُلا راز پریشانیِ دل کا

آؤ کریں محفل پہ زرِ زخم نمایاں

چرچا ہے بہت بے سر و سامانیِ دل کا

دیکھ آئیں چلو کوئے نگاراں کا خرابہ

شاید کوئی محرم ملے ویرانیِ دل کا

پوچھو تو ادھر تیر فگن کون ہے یارو

سونپا تھا جسے کام نگہبانیِ دل کا

دیکھو تو کدھر آج رُخِ بادِ صبا ہے

کس رہ سے پیام آیا ہے زندانیِ دل کا

اُترے تھے کبھی فیض وہ آئینۂ دل میں

عالم ہے وہی آج بھی حیرانیِ دل کا

 

 

 

اشعار

 

وہ بُتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوفِ خدا گیا

وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیالِ روزِ جزا گیا

 

جو نفس تھا خارِ گلُو بنا، جو اُٹھے تھے ہاتھ لہُو ہوئے

وہ نَشاطِ آہِ سحر گئی، وہ وقارِ دستِ دُعا گیا

 

جو طلب پہ عہدِ وفا کیا، تو وہ قدرِ رسمِ وفا گئی

سرِ عام جب ہوئے مُدّعی، تو ثوابِ صدق و وفا گیا

 

 

 

 

               کلامِ تازہ

دلِ من مسافرِ من

 

مرے دل، مرے مسافر

ہوا پھر سے حکم صادر

کہ وطن بدر ہوں ہم تم

دیں گلی گلی صدائیں

کریں رُخ نگر نگر کا

کہ سراغ کویہ پائیں

کسی یارِ نامہ بر کا

ہر اک اجنبی سے پوچھیں

جو پتہ تھا اپنے گھر کا

سرِ کوۓ ناشناساں

ہمیں دن سے رات کرنا

کبھی اِس سے بات کرنا

کبھی اُس سے بات کرنا

تمھیں کیا کہوں کہ کیا ہے

شبِ غم بُری بلا ہے

ہمیںیہ بھی تھا غنیمت

جو کوئی شمار ہوتا

ہمیں یا برا تھا مرنا

اگر ایک بار ہوتا

 

۔۔ 1978ء

 

 

 

غزل

 

 

سہل یوں راہِ زندگی کی ہے

ہر قدم ہم نے عاشقی کی ہے

ہم نے دل میں سجا لئے گلشن

جب بہاروں نے بے رُخی کی ہے

زہر سے دھو لئے ہیں ہونٹ اپنے

لطفِ ساقی نے جب کمی کی ہے

بس وہی سرخرو ہوا جس نے

بحرِ خوں میں شناور ی کی ہے

جو گزرتے تھے داغ پر صدمے

اب وہی کیفیت سبھی کی ہے

 

۔۔ 1978ء

 

 

پھول مرجھا گئے ہیں سارے

 

پھول مرجھا گئے ہیں سارے

تھمتے نہیں آسماں کے آنسو

شمعیں بے نور ہو گئی ہیں

آئینے چور ہو گئے ہیں

ساز سب بج کے کھو گئے ہیں

پایلیں بُجھ کے سو گئی ہیں

اور اُن بادلوں کے پیچھے

دور اِس رات کا دلارا

درد کا ستارا

ٹمٹما رہا ہے

جھنجھنا رہا ہے

مسکرا رہا ہے

 

۔۔ 1978ء

 

 

 

 

غزل

 

 

ستم سکھلاۓ گا رسمِ وفا، ایسے نہیں ہوتا

صنم دکھلائیں گے راہِ خدا ایسے نہیں ہوتا

گنو سب حسرتیں جو خوں ہوئی ہیں تن کے مقتل میں

مرے قاتل حسابِ دوستاں ایسے نہیں ہوتا

جنإبِ دل میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ تعزیریں

یہاں پیمانِ تسلیم و رضا ایسے نہیں ہوتا

ہر اک شب، ہر گھڑی، گزرے قیامت، یوں تو ہوتا ہے

مگر ہر صبح ہو روزِ جزا ایسے نہیں ہوتا

رواں ہے نبضِ دوراں گردشوں میں آسماں سارے

جو تم کہتے ہو سب اچھا، کبھی ایسے نہیں ہوتا

 

۔۔ 1978ء

 

 

کوئ عاشق کسی محبوبہ سے

 

 

 

گلشنِ یاد میں گر آج دمِ بادٕ صبا

پھر سے چاہے گل افشاں ہو تو ہو جانے دو

عمرِ رفتہ کے کسی طاق پہ بسرا ہوا درد

پھر سے چاہے کہ فروزاں ہو تو ہو جانے دو

یسے بیگانے سے اب ملتے ہو، ویسے ہی سہی

آؤ دو چار گھڑی میرے مقابل بیٹھو

گر چہ مل بیٹھیں گے ہم تم جو ملاقات کے بعد

اپنا احساسِ زیاں جانئے کتنا ہو گا

ہم سخن ہوں گے جو ہم دونوں تو ہر بات کے بیچ

ان کہی باتوں کا موہوم سا پردا ہو گا

کوئی اقرار نہ میں یاد دلاؤں گا نہ تم

کوئ مضموں نہ وفا کا، جفا کا ہو گا

گردِ اّیام کی تحریر کو دھونے کے لیے

تم سے گویا ہیں دمِ دید جو بوجھل پلکیں

تم جو چاہو تو سنو اور نہ چاہو نہ سنو

اور جو حرف کریں مجھ سے گریزاں آنکھیں

تم جو چاہو تو کہو اور نہ چاہو نہ کہو

۔۔ 1978ء

 

(فرمائشیں)

 

 

 

 

 

مرثیۂ امام

 

رات آئی ہے شبّیر پہ یلغارِ بلا ہے

ساتھی نہ کوئی یار نہ غمخوار رہا ہے

مونِس ہے تو اِک درد کی گھنگھور گھٹا ہے

مُشفِق ہے تو اک دل کے دھڑکنے کی صدا ہے

تنہائی کی، غربت کی، پریشانی کی شب ہے

یہ خانۂ شبّیر کی ویرانی کی شب ہے

 

دشمن کی سپہ خواب میں‌ مدہوش پڑی تھی

پل بھر کو کسی کی نہ اِدھر آنکھ لگی تھی

ہر ایک گھڑی آج قیامت کی گھڑی تھی

یہ رات بہت آلِ محمّد پہ کڑی تھی

رہ رہ کے بُکا اہلِ‌حرم کرتے تھے ایسے

تھم تھم کے دِیا آخرِ شب جلتا ہے جیسے

 

اِک گوشے میں‌ ان سوختہ سامانوں‌ کے سالار

اِن خاک بسر، خانماں ویرانوں‌ کے سردار

تشنہ لب و درماندہ و مجبور و دل افگار

اِس شان سے بیٹھے تھے شہِ لشکرِ احرار

مسند تھی، نہ خلعت تھی، نہ خدّام کھڑے تھے

ہاں‌ تن پہ جدھر دیکھیے سو زخم سجے تھے

 

کچھ خوف تھا چہرے پہ نہ تشویش ذرا تھی

ہر ایک ادا مظہرِ تسلیم و رضا تھی

ہر ایک نگہ شاہدِ اقرارِ وفا تھی

ہر جنبشِ لب منکرِ دستورِ جفا تھی

پہلے تو بہت پیار سے ہر فرد کو دیکھا

پھر نام خدا کا لیا اور یوں ہوئے گویا

 

الحمد قریب آیا غمِ عشق کا ساحل

الحمد کہ اب صبحِ شہادت ہوئی نازل

بازی ہے بہت سخت میانِ حق و باطل

وہ ظلم میں‌کامل ہیں تو ہم صبر میں ‌کامل

بازی ہوئی انجام، مبارک ہو عزیزو

باطل ہُوا ناکام، مبارک ہو عزیزو

 

پھر صبح کی لَو آئی رخِ پاک پہ چمکی

اور ایک کرن مقتلِ خونناک پہ چمکی

نیزے کی انی تھی خس و خاشاک پہ چمکی

شمشیر برہنہ تھی کہ افلاک پہ چمکی

دم بھر کے لیے آئینہ رُو ہو گیا صحرا

خورشید جو ابھرا تو لہو ہو گیا صحرا

 

پر باندھے ہوئے حملے کو آئی صفِ‌ اعدا

تھا سامنے اِک بندۂ حق یکّہ و تنہا

ہر چند کہ ہر اک تھا اُدھر خون کا پیاسا

یہ رُعب کا عالم کہ کوئی پہل نہ کرتا

کی آنے میں ‌تاخیر جو لیلائے قضا نے

خطبہ کیا ارشاد امامِ شہداء نے

 

فرمایا کہ کیوں در پئے ‌آزار ہو لوگو

حق والوں ‌سے کیوں ‌برسرِ پیکار ہو لوگو

واللہ کہ مجرم ہو، گنہگار ہو لوگو

معلوم ہے کچھ کس کے طرفدار ہو لوگو

کیوں ‌آپ کے آقاؤں‌ میں ‌اور ہم میں ‌ٹھنی ہے

معلوم ہے کس واسطے اس جاں پہ بنی ہے

 

سَطوت نہ حکومت نہ حشم چاہیئے ہم کو

اور نگ نہ افسر، نہ عَلم چاہیئے ہم کو

زر چاہیئے، نے مال و دِرم چاہیئے ہم کو

جو چیز بھی فانی ہے وہ کم چاہیئے ہم کو

سرداری کی خواہش ہے نہ شاہی کی ہوس ہے

اِک حرفِ یقیں، دولتِ ایماں‌ ہمیں‌ بس ہے

 

طالب ہیں ‌اگر ہم تو فقط حق کے طلبگار

باطل کے مقابل میں‌ صداقت کے پرستار

انصاف کے، نیکی کے، مروّت کے طرفدار

ظالم کے مخالف ہیں‌ تو بیکس کے مددگار

جو ظلم پہ لعنت نہ کرے، آپ لعیں ہے

جو جبر کا منکر نہیں ‌وہ منکرِ‌ دیں ‌ہے

 

تا حشر زمانہ تمہیں مکّار کہے گا

تم عہد شکن ہو، تمہیں غدّار کہے گا

جو صاحبِ دل ہے، ہمیں ‌ابرار کہے گا

جو بندۂ‌ حُر ہے، ہمیں‌ احرار کہے گا

نام اونچا زمانے میں ‌ہر انداز رہے گا

نیزے پہ بھی سر اپنا سرافراز رہے گا

 

کر ختم سخن محوِ‌ دعا ہو گئے شبّیر

پھر نعرہ زناں محوِ وغا ہو گئے شبیر

قربانِ رہِ صدق و صفا ہو گئے شبیر

خیموں میں‌ تھا کہرام، جُدا ہو گئے شبیر

مرکب پہ تنِ پاک تھا اور خاک پہ سر تھا

اِس خاک تلے جنّتِ ‌فردوس کا در تھا

 

(1964)

 

 

 

 

مدح

 

حسین شہید سہروردی مرحوم نے راولپنڈی “سازش” کیس ملزموں کی جانب سے وکالت کی تھی۔ مقدمے کے خاتمے پر انھیں یہ سپاسنامہ پیش کیا گیا۔

 

 

کس طرح بیاں ہو ترا پیرایۂ تقریر

گویا سرِ باطل پہ چمکنے لگی شمشیر

وہ زور ہے اِک لفظ اِدھر نُطق سے نکلا

واں سینۂ اغیار میں پیوست ہُوئے تیر

گرمی بھی ہے ٹھنڈک بھی، روانی بھی سکوں بھی

تاثیر کا کیا کہیے، ہے تاثیر سی تاثیر

اعجاز اسی کا ہے کہ اربابِ ستم کی

اب تک کوئی انجام کو پہنچی نہیں تدبیر

اطرافِ وطن میں ہُوا حق بات کا شُہرہ

ہر ایک جگہ مکر و ریا کی ہُوئی تشہیر

روشن ہوئے اُمّید سے رُخ اہلِ وفا کے

پیشانیِ اعدا پہ سیاہی ہوئی تحریر

 

 

(2)

 

حرّیتِ آدم کی رہِ سخت کے رہگیر

خاطر میں نہیں لاتے خیالِ دمِ تعزیر

کچھ ننگ نہیں رنجِ اسیری کہ پُرانا

مردانِ صفا کیش سے ہے رشتۂ زنجیر

کب دبدبۂ جبر سے دبتے ہیں کہ جن کے

ایمان و یقیں دل میں کیے رہتے ہیں تنویر

معلوم ہے ان کو کہ رہا ہو گی کسی دن

ظالم کے گراں ہاتھ سے مظلوم کی تقدیر

آخر کو سرافراز ہُوا کرتے ہیں احرار

آخر کو گرا کرتی ہے ہر جَور کی تعمیر

ہر دَور میں سر ہوتے ہیں قصرِ جم و دارا

ہر عہد میں دیوارِ ستم ہوتی ہے تسخیر

ہر دَور میں ملعون شقاوت ہے شمر کی

ہر عہد میں مسعود ہے قربانیِ شبّیر

 

 

(3)

 

کرتا ہے قلم اپنے لب و نطق کی تطہیر

پہنچی ہے سرِ حرفِ دعا اب مری تحریر

ہر کام میں برکت ہو ہر اک قول میں قوّت

ہر گام پہ ہو منزلِ مقصود قدم گیر

ہر لحظہ ترا طالعِ اقبال سوا ہو

ہر لحظہ مددگار ہو تدبیر کی تقدیر

ہر بات ہو مقبول، ہر اک بول ہو بالا

کچھ اور بھی رونق میں بڑھے شعلۂ تقریر

ہر دن ہو ترا لطفِ زباں اور زیادہ

اللہ کرے زورِ بیاں اور زیادہ

 

 

 

 

گیت

 

منزلیں، منزلیں

شوقِ دیدار کی منزلیں

حُسنِ دلدار کی منزلیں، پیار کی منزلیں

پیار کی بے پنہ رات کی منزلیں

کہکشانوں کی بارات کی منزلیں

سربلندی کی، ہمّت کی، پرواز کی

جوشِ پرواز کی منزلیں

راز کی منزلیں

زندگی کی کٹھن راہ کی منزلیں

سربلندی کی، ہمّت کی، پرواز کی

جوشِ پرواز کی منزلیں

راز کی منزلیں

آن ملنے کے دن

پھول کھلنے کے دن

وقت کے گھور ساگر میں صبح کی

شام کی منزلیں

چاہ کی منزلیں

آس کی، پیاس کی

حسرتِ یار کی

پیار کی منزلیں

منزلیں حسنِ عالم کے گلزار کی

منزلیں، منزلیں

موج در موج ڈھلتی ہوئی رات کے درد کی منزلیں

چاند تاروں کے ویران سنسار کی منزلیں

اپنی دھرتی کے آباد بازار کی منزلیں

حق کے عرفان کی

نور انوار کی منزلیں

وصلِ دلدار کی منزلیں

قول و اقرار کی منزلیں

منزلیں، منزلیں

 

(فلم، “قسم اُس وقت کی”)

 

 

گیت

 

 

اب کے دیکھیں راہ تمھاری

بیت چلی ہے رات

چھوڑو

چھوڑو غم کی بات

تھم گئے آنسو

تھک گئیں اکھّیاں

گزر گئی برسات

بیت چلی ہے رات

چھوڑو

چھوڑو غم کی بات

کب سے آس لگی درشن کی

کوئی نہ جانے بات

کوئی نہ جانے بات

بیت چلی ہے رات

چھوڑو غم کی بات

تم آؤ تو من میں اترے

پھولوں کی بارات

بیت چلی ہے رات

اب کیا دیکھیں راہ تمھاری

بیت چلی ہے رات

 

 

(فلم، “جاگو ہُوا سویرا”)

 

 

 

گیت

ہم تیرے پاس آئے

سارے بھرم مٹا کر

سب چاہتیں بھلا کر

کتنے اداس آئے

ہم تیرے پاس جا کر

کیا کیا نہ دل دکھا ہے

کیا کیا بہی ہیں اکھیاں

کیا کیا نہ ہم پہ بیتی

کیا کیا ہوئے پریشاں

ہم تجھ سے دل لگا کر

تجھ سے نظر ملا کر

کتنے فریب کھائے

اپنا تجھے بنا کر

ہم تیرے پاس آئے

سارے بھرم مٹا کر

تھی آس آج ہم پر کچھ ہو گی مہربانی

ہلکا کریں گے جی کو سب حالِ دل زبانی

تجھ کو سنا سنا کر

آنسو بہا بہا کر

کتنے اداس آئے

ہم تیرے پاس جا کر

ہم تیرے پاس آئے

سارے بھرم مٹا کر

 

(فلم۔ “سُکھ کا سپنا”)

 

 

غزل

 

جگر دریدہ ہوں چاکِ جگر کی بات سنو

الم رسیدہ ہوں دامانِ تر کی بات سنو

زباں بریدہ ہوں زخمِ گلو سے حرف کرو

شکستہ پا ہوں ملالِ سفر کی بات سنو

مسافرِ رہِ صحرائے ظلمتِ شب سے

اب التفاتِ نگارِ سحر کی بات سنو

سحر کی بات، امیدِ سحر کی بات سنو

 

 

غزل

 

 

حیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہے

سر پر ہیں خداوند سرِ عرش خدا ہے

کب تک اسے سینچو گے تمنائے ثمر میں

یہ صبر کا پودا تو نہ پھولا ہے نہ پھلا ہے

ملتا ہے خراج اس کو تری نانِ جویں سے

ہر بادشہِ وقت ترے در کا گدا ہے

ہر ایک عقوبت سے ہے تلخی میں سوا تر

وہ رنج جو نا کردہ گناہوں کی سزا ہے

احسان لیے کتنے مسیحا نفسوں کے

کیا کیجیے دل کا، نہ جلا ہے نہ بجھا ہے

 

اکتوبر 77ء

 

 

               (پنجابی نظماں)

 

 

لمّی رات سی درد فراق والی

 

تیرے قول تے اساں وساہ کر کے

کَوڑا گھُٹ کیتی مٹھڑے یار میرے

مٹھڑے یار میرے، جانی یار میرے

تیرے قول تے اساں وساہ کر کے

جھانجراں وانگ، زنجیراں چھنکائیاں نیں

کدی کنّیں مندراں پائیاں نیں

کدی پیریں بیڑیاں چائیاں نیں

تیری تاہنگ وِچ پَٹ دا ماس دے کے

اساں کاگ سدّے، اساں سنیہہ گھلّے

رات مُکدی اے، یار آوندا اے

اسیں تک دے رہے ہزار ولّے

کوئی آیا نہ بِناں خُنامیاں دے

کوئی پُجّا نہ سوا اُلاہمیاں دے

اَج لاہ اُلاہمے مٹھڑے یار میرے

اَج آ ویہڑے وِچھڑے یار میرے

فجر ہووے تے آکھیے بسم اللہ

اَج دولتاں ساڈے گھر آئیاں نیں

جیہدے قول تے اساں وساہ کیتا

اوہنے اوڑک توڑ نبھائیاں نیں

 

1971ء

 

گیت

 

کدھرے نہ پیندیاں دسّاں

وے پردیسیا تیریاں

کاگ اُڈاواں، شگن مناواں

وگدی وا دے ترلے پاواں

تری یاد پوے تے روواں

ترا ذکر کراں تاں ہسّاں

کدھرے نہ پیندیاں دسّاں

وے پردیسیا تیریاں

درد نہ دسّاں گھُلدی جاواں

راز نہ کھولاں مُکدی جاواں

کس نوں دل دے داغ وِکھاواں

کس در اَگّے جھولی ڈھاواں

وے میں کس دا دامن کھسّاں

کدھرے نہ پیندیاں دسّاں

وے پردیسیا تیریاں

شام اُڈیکاں، فجر اُڈیکاں

آکھیں تے ساری عمر اُڈیکاں

آنڈ گوانڈی دیوے بلدے

ربّا ساڈا چانن گَھلدے

جگ وَسدائے میں وی وَسّاں

کدھرے نہ پیندیاں دسّاں

کدھرے نہ پیندیاں دسّاں

وے پردیسیا تیریاں

 

1971ء

 

 

 

میری ڈولی شوہ دریا

(74ء کے سیلاب زدوں کے امدادی فنڈ کے لیے لکھے گئی)

 

کل تائیں سانوں بابلا

تو رکھّیا ہِک نال لا

سَت خیراں ساڈیاں منگیاں

جد جھُلّی تتّی وا

اَج کیکن ویہڑیوں ٹوریا

کویں لاہے نی میرے چاء

میرے گہنے نیل ہتھ پیر دے

میری ڈولی شوہ دریا

اَج لتھّے سارے چاء

میری ڈولی شوہ دریا

نال رُہڑدیاں رُڑھ گیاں سدّھراں

نال روندیاں رُل گئے نیر

نال ہُونج ہُونج کے لَے گئے

میرے ہتھ دی لیکھ لکیر

میری چُنّی بک سواہ دی

میرا چولا لِیر و لِیر

لج پالن بَوہڑے بھین دی

کوئی کرماں والے وِیر

میرے کرماں والے وِیر

میرا چولا لِیر و لِیر

میرے لتّھے سارے چاء

میری ڈولی شوہ دریا

سسّی مر کے جنتن ہو گئی

میں تر کے اَوتر حال

سُن ہاڑے اِس مسکین دے

ربّا پورا کر سوال

میری جھوک وَسّے، میرا ویر وَسّے

فیر تیری رحمت نال

کوئی پُورا کرے سوال ربّا

تیری رحمت نال

میرے لتّھے سارے چاء

میری ڈولی شوہ دریا

 

 

 

ربّا سچّیا

 

 

ربّا سچّیا توں تے آکھیا سی

جا اوئے بندیا جگ دا شاہ ہیں توں

ساڈیاں نعمتاں تیریاں دولتاں نیں

ساڈا نَیب تے عالیجاہ ہیں توں

ایس لارے تے ٹور کد پُچھیا ای

کِیہہ ایس نمانے تے بیتیاں نیں

کدی سار وی لئی اُو رب سائیاں

تیرے شاہ نال جگ کیہہ کیتیاں نیں

 

کِتے دھونس پولیس سرکار دی اے

کِتے دھاندلی مال پٹوار دی اے

اینویں ہڈّاں چ کلپے جان میری

جیویں پھاہی چ کُونج کُرلاوندی اے

چنگا شاہ بنایا اِی رب سائیاں

پَولے کھاندیاں وار نہ آوندی اے

 

مینوں شاہی نئیں چاہیدی رب میرے

میں تے عزّت دا ٹُکّر منگناں ہاں

مینوں تاہنگ نئیں، محلاں ماڑیاں دی

میں تے جِیویں دی نُکّر منگناں ہاں

 

میری مَنّیں تے تیریاں مَیں منّاں

تیری سَونہہ جے اِک وی گلّ موڑاں

جے ایہہ مانگ نئیں پُجدی تیں ربّا

فیر میں جاواں تے رب کوئی ہور لوڑاں

 

 

1974ء

 

 

قطعہ

 

اَج رات اِک رات دی رات جی کے

اَساں جُگ ہزاراں جی لِتّا اے

اَج رات امرت دے جام وانگوں

اینہاں ہتھّاں نے یار نوں پی لتا اے

 

 

 

 

               تراجم

 

 

ناظم* حکمت

 

زندان سے ایک خط

 

مری جاں تجھ کو بتلاؤں، بہت نازک یہ نکتہ ہے

بدل جاتا ہے انساں جب مکاں اس کا بدلتا ہے

مجھے زنداں میں پیار آنے لگا ہے اپنے خوابوں پر

جو شب کو نیند اپنے مہرباں ہاتھوں سے

وا کرتی ہے در اس کا

تو آ گرتی ہے ہر دیوار اس کی میرے قدموں پر

میں ایسے غرق ہو جاتا ہوں اس دم اپنے خوابوں میں

کہ جیسے اِک کرن ٹھہرے ہوئے پانی پہ گرتی ہے

میں ان لمحوں میں کتنا سرخوش و دلشاد پھرتا ہوں

جہاں کی جگمگاتی وسعتوں میں کس قدر آزاد پھرتا ہوں

جہاں درد و الم کا نام ہے کوئی نہ زنداں ہے

“تو پھر بیدار ہونا کس قدر تم پر گراں ہو گا؟”

نہیں ایسا نہیں ہے، میری جاں، میرا یہ قصہ ہے

میں اپنے عزم و ہمت سے

وہی کچھ بخشتا ہوں نیند کو جو اس کا حصہ ہے

 

 

 

ویرا * کے نام

 

اُس نے کہا آؤ

اُس نے کہا ٹھہرو

مسکاؤ کہا اس نے

مر جاؤ کہا اس نے

میں آیا

میں ٹھہر گیا

مسکایا

اور مر بھی گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*ناظم حکمت کی رُوسی بیوی

 

 

 

او میرے وطن

 

او میرے وطن، او میرے وطن، او میرے وطن

مرے سر پر وہ ٹوپی نہ رہی

جو تیرے دیس سے لایا تھا

پاؤں میں وہ اب جوتے بھی نہیں

واقف تھے جو تیری راہوں سے

مرا آخری کُرتا جاک ہوا

ترے شہر میں جو سِلوایا تھا

اب تیری جھلک

بس اُڑتی ہوئی رنگت ہے میرے بالوں کی

یا جھُرّیاں میرے ماتھے پر

یا میرا ٹوٹا ہوا دل ہے

او میرے وطن، او میرے وطن،او میرے وطن

 

 

               اولنجر*، عمر علی سلیمان

صحرا کی رات

 

کہیں بھی شبنم کہیں نہیں ہے

عجب، کہ شبنم کہیں نہیں ہے

نہ سرد خورشید کی جبیں پر

کسی کے رخ پر، نہ آستیں پر

ذرا سی شبنم کہیں نہیں ہے

پسے ہوئے پتھروں کی موجیں

خموش و ساکن

حرارتِ ماہِ نیم شب میں سلگ رہی ہیں

اور شبنم کہیں نہیں ہے

برہنہ پا غول گیدڑوں کے

لگا رہے ہیں بنوں میں ٹھٹھے

کہ آج شبنم کہیں نہیں ہے

ببول کے استخواں کے ڈھانچے

پکارتے ہیں

نہیں ہے شبنم، کہیں نہیں ہے

سفید، دھندلائی روشنی میں

ہیں دشت کی چھاتیاں برہنہ

ترس رہی ہیں جو حسنِ انساں لیے کہ شبنم کا ایک قطرہ

کہیں پہ برسے

یہ چاند بھی سرد ہو رہے گا

افق پہ جب صبح کا کنارا

کسی کرن سے دہک اٹھے گا

کہ ایک درماندہ راہرو کی

جبیں پہ شبنم کا ہاتھ چمکے

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قازقستان کا ممتاز نوجوان شاعر

 

 

 

ٹائپنگ: وہاب اعجاز خان، محمد وارث، فاتح الدین بشیر، اعجاز عبید

ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید