FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

حصہ اول : فاتحہ تا انفال

آسان تحریک

               ترجمہ: شبیر عثمانی

 

۱: سورۃ فاتحۃ

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا نہایت رحم کرنے والا ہے۔

۱:۱ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا نہایت رحم کرنے والا ہے۔

۱:۲ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں، جو رب ہے  سب جہانوں کا

۱:۳ بڑا مہربان، نہایت رحم والا

۱:۴ مالکِ روزِ جزا کا

۱:۵ تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

۱:۶ دکھا ہم کو راستہ سیدھا

۱:۷ راستہ ان لوگوں کا کہ انعام فرمایا تو نے ان پر ، نہ وہ جن پر غضب ہوا  (تیرا) اور نہ بھٹکنے والے

 

۲۔ سورۃ البقرۃ

 شروع اللہ کے نام سے جو بڑا نہایت رحم کرنے والا ہے۔

۲:۱ الف ، لام،  میم

۲:۲ یہ اللہ کی کتاب ہے، نہیں کوئی شک اس کے کتاب الٰہی ہونے) میں ہدایت ہے  (اللہ سے) ڈرنے والوں کے لیے۔

۲:۳ جو ایمان لاتے ہیں غیب پر اور قائم کرتے ہیں نماز اور اس میں سے جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے خرچ کرتے ہیں۔

۲:۴ اور وہ جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو نازل کیا گیا تم پر اور اس پر جو نازل کیا گیا تم سے پہلے اور آخرت پر بھی وہ یقین رکھتے ہیں۔

۲:۵  یہی لوگ ہیں ہدایت پر اپنے رب کی اور یہی ہیں فلاح پانے والے۔

۲:۶ بیشک وہ لوگ جنہوں نے  (ان باتوں کو ماننے سے) انکار کر دیا یکساں ہے ان کے لیے خواہ تم خبردار کرو انہیں یا نہ کرو وہ ایمان نہ لائیں گے۔

۲:۷ مہر لگا دی ہے اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر  (پڑ گیا ہے) پردہ اور ان کے لیے ہے عذاب عظیم۔

۲:۸ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ایمان لائے ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر، حالانکہ نہیں ہیں وہ مومن۔

۲:۹ دھوکہ بازی کر رہے ہیں وہ اللہ سے اور ایمان والوں سے جب کہ نہیں دھوکا دے رہے مگر اپنے آپ ہی کو لیکن انہیں  (اس کا) شعور نہیں۔

۲:۱۰ ان کے دلوں میں ہے ایک بیماری لہذا اور بڑھا دیا ان کا اللہ نے مرض اور ان کے لیے ہے درد ناک عذاب، بسبب اس جھوٹ کے جو وہ بولتے ہیں۔

۲:۱۱ اور جب کہا جاتا ہے ان سے کہ نہ برپا کرو فساد زمین میں تو کہتے ہیں کہ ہم ہی تو ہیں اصلاح کرنے والے۔

۲:۱۲ خبردار! حقیقت میں یہی لوگ ہیں فساد برپا کرنے والے، مگر انہیں شعور نہیں۔

۲:۱۳ اور جب کہا جاتا ہے ان سے کہ ایمان لاؤ جس طرح ایمان لائے اور لوگ تو کہتے ہیں کہ کیا ایمان لائیں ہم جس طرح ایمان لائے بیوقوف، خبردار !  حقیقت میں یہی لوگ ہیں بیوقوف، لیکن جانتے نہیں۔

۲:۱۴ اور جب ملتے ہیں اہل ایمان سے تو کہتے ہیں ایمان لائے ہم اور جب ملتے ہیں علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے تو کہتے ہیں ہم تو تمہارے ہی ساتھ ہیں، اصل میں ہم تو  (ان کے ساتھ) محض مذاق کر رہے ہیں۔

۲:۱۵   (جبکہ) اللہ مذاق کر رہا اُن سے کہ مہلت دیے جا رہا ہے انہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹک رہے ہیں۔۔

۲:۱۶ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خریدی ہے گمراہی بدلے میں ہدایت کے، سو نہ تو نفع دیا ان کی تجارت ہی نے اور نہ ہوئے وہ ہدایت پانے والے۔

۲:۱۷ ان کی مثال اس شخص کی ہے جس نے جلائی آگ  (روشنی کے لیے) پھر جب روشن کر دیا آگ نے اس کے گرد و نواح کو تو سلب کر لیا اللہ نے ان کا نُور اور چھوڑ دیا ان کو اندھیروں میں کہ کچھ نہیں دیکھ پاتے۔

۲:۱۸ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، لہٰذا یہ  (اب نہ لوٹیں گے  (سیدھے راستے کی طرف)۔

۲:۱۹ یا  (پھر ان کی مثال ایسی ہے) جیسے زور کی بارش ہو رہی ہے آسمان سے، اس کے ساتھ ہیں اندھیری گھٹائیں، کڑک اور چمک، ٹھونس لیتے ہیں اپنی انگلیاں کانوں میں اپنے، بسبب بجلی کی کڑک کے، موت کے ڈر سے، اور اللہ ہر طرف سے گھیرے میں لیے ہوئے ہے ان منکرین حق کو۔

۲:۲۰ قریب ہے کہ یہ بجلی اچک لے جائے بصارت ان کی، جب ذرا بجلی چمکی تو چلنے لگتے ہیں اس  (کی روشنی) میں اور جونہی اندھیرا چھا جاتا ہے، ان پر تو کھڑے ہو جاتے ہیں حالانکہ اگر چاہتا اللہ تو سلب کر لیتا ان کی سماعت اور بصارت ہی کو۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

۲:۲۱ اے انسانو! عبادت کرو اپنے رب کی جس نے پیدا کیا تم کو اور ان کو بھی جو  (ہو گزرے) تم سے پہلے تاکہ تم بچ جاؤ  (عذاب سے)

۲:۲۲ جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت اور برسایا آسمان سے پانی، پھر نکالا اس کے ذریعہ سے ہر طرح کی پیداوار کو بطور رزق تمہارے لیے، پس نہ ٹھہراؤ اللہ کا ہمسر  (کسی کو) در آنحالیکہ تم  (یہ باتیں) جانتے ہو۔

۲:۲۳ اور اگر ہے تم کو شک اس  (کتاب) کے بارے میں جو ہم نے نازل کی اپنے بندے پر، تو بنا لاؤ ایک ہی سورت اس کی مانند اور بلا لو اپنے سب حمایتیوں کو بھی اللہ کے سوا، اگر ہو تم سچے۔

۲:۲۴ لیکن اگر تم  (ایسا) نہ کر سکو اور ہر گز نہ کر سکو گے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن ہیں انسان اور پتّھر، جو تیّار کی گئی ہے منکرین حق کے لیے۔

۲:۲۵ اور خوشخبری دے دو ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور کیے جنہوں نے نیک عمل کہ بے شک ان کے لیے ہیں باغ، بہتی ہوں گی جن کے نیچے نہریں، جب بھی دیا جائے گا انہیں ان باغوں میں سے کوئی پھل کھانے کے لیے تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو مل چکا ہے ہمیں اس سے پہلے کیونکہ دیا ہی جائے گا انہیں پھل ملتا جُلتا۔ اور اُن کے لیے وہاں بیویاں ہوں گی پاکیزہ اور وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے۔

۲:۲۶ بلاشبہ اللہ ہرگز نہیں شرماتا اس سے کہ بیان کرے تمثیل کسی قسم کی، مچھر کی یا اس سے بھی حقیر تر چیز کی۔ اب وہ لوگ جو ایمان والے ہیں، وہ تو جانتے ہیں کہ یہی حق ہے اُن کے رب کی طرف سے  (آیا) ہے، لیکن وہ لوگ جو ماننے والے نہیں ہیں وہ کہتے ہیں کہ آخر کیا مُراد ہے اللہ کی ایسی تمثیلوں سے؟ گمراہی میں مبتلا کرتا ہے اللہ ایسی باتوں سے بہتوں کو اور راہِ راست دکھاتا ہے ان کے ذریعہ سے بہتوں کو۔ اور نہیں گمراہ کرتا اس سے مگر نا فرمانوں کو۔

۲:۲۷ جو توڑ دیتے ہیں اللہ کے عہد کو مضبوط کرنے کے بعد اور قطع کرتے ہیں اُن  (رشتوں) کو کہ حُکم دیا ہے اللہ نے جن کے جوڑنے کا اور فساد برپا کرتے ہیں زمین میں۔ یہی لوگ ہیں حقیقت میں نقصان اُٹھانے والے۔

۲:۲۸ کیسے کفر کا رویہّ اختیار کرتے ہو تم اللہ کے ساتھ حالانکہ تھے تم بے جان پھر زندگی عطا کی اس نے تمہیں پھر وہی موت دے گا تمہیں، پھر وہی زندہ کرے گا تمہیں، پھر اُسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تم۔

۲:۲۹ وہی تو ہے جس نے پیدا کیا تمہاری خاطر وہ کچھ جو زمین میں ہے، سب، پھر توجّہ فرمائی آسمان کی طرف اور استوار کر دیے سات آسمان۔ اور وہ تو ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے

۲:۳۰ اور  (یاد کرو)جب کہا  تیرے رب نے فرشتوں سے کہ  یقیناً میں بنانے والا ہوں زمین میں ایک خلیفہ تو انہوں نے کہا تو مقّرر کرے گا زمین میں  (خلیفہ) اس کو جو فساد برپا کرے گا اس میں اور خونریزیاں کرے گا جبکہ ہم تسبیح کرتے ہیں تیری حمد و ثنا کے ساتھ اور تقدیس کرتے ہیں تیری۔اللہ نے فرمایایقیناً میں جانتا ہوں وہ کچھ جو تم نہیں جانتے۔

۲:۳۱ اور سکھائے اللہ نے آد م کو نام سب  (چیزوں کے)،پھر پیش کیا اُن کو فرشتوں کے سامنے اور فرمایا بتاؤ مجھے نام اُن کے،اگر ہو تم سچّے۔

۲:۳۲ : انہوں نے عرض کیا، پاک ہے تیری ذات، نہیں ہمیں علم مگر اسی قدر جتنا تو نے سکھایا ہمیں۔ بیشک تُو ہی ہے سب کچھ جاننے والا، بڑی حکمت والا۔

۲:۳۳ اللہ نے فرمایا: اے آد م! بتاؤ ان کو نام اُن کے، پھر جب بتا دیے آد م نے فرشتوں کو نام ان سب کے، تو فرمایا: کیا نہیں کہا تھا میں نے تم سے کہ بیشک میں ہی جانتا ہوں سب راز آسمانوں کے اور زمین کے بھی؟ اور جانتا ہوں ہر اس چیز کو جو تم ظاہر کرتے ہو اور وہ بھی جو تم چھُپا رہے ہو۔

۲:۳۴ اور جب حُکم دیا ہم نے فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آد م کو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ اس نے انکار کیا اور گھمنڈ کیا اور وہ تھا ہی کافروں میں سے۔

۲:۳۵ اور ہم نے کہا: اے آد م! رہو تم اور تمہاری بیوی جنّت میں اور کھاؤ اس میں با فراغت، جہاں سے چاہو، مگر نہ قریب جانا اس درخت کے ورنہ شمار ہو گا تمہارا ظالموں میں۔

۲:۳۶ پھر پھسلا دیا ان دونوں کو شیطان نے اس درخت کی ترغیب دے کر۔ بالآخر نکلوا دیا ان دونوں کو اس  (عیش و آرام) سے تھے وہ جس میں اور ہم نے حکم دیا کہ اُتر جاؤ تم سب  (یہاں سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ہے زمین میں ٹھکانا اور گزر بسر کرنا ایک وقت خاص تک۔

۲:۳۷ پھر سیکھے آد م نے اپنے رب سے کچھ کلمات  (اور توبہ کی) تو قبول کر لی اللہ نے توبہ اس کی۔ بیشک وہی تو ہے بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا۔

۲:۳۸ ہم نے کہا: اتر جاؤ یہاں سے تم سب، اب ہو گا یہ کہ ضرور آئے گی تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت، سوجو تو پیروی کریں گے میری ہدایت کی تو نہ کوئی خوف ہے ان کے لیے اور نہ وہ غمگین ہی ہوں گے۔

۲:۳۹ اور جو  (اس ہدایت کو) قبول کرنے سے انکار کریں گے اور جھٹلائیں گے ہماری آیات کو وہی لوگ دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

۲:۴۰ اے اولادِ یعقوب! یاد کرو میری اس نعمت کو جو عطا کی تھی میں نے تم کو اور پورا کرو تم اس عہد کو جو تم نے مجھ سے کیا،  پورا کروں گا میں وہ عہد جو میں نے تم سے کیا  اور مجھ ہی سے ڈرو۔

۲:۴۱ اور ایمان لاؤ اس  (کتاب) پر جو نازل کی ہے میں نے، جو تصدیق کر رہی ہے ان  (کتابوں) کی جو تمہارے پاس موجود ہیں اور نہ بنو تم ہی سب سے اوّل منکر اس کے اور مت بیچو میری آیات کو تھوڑی قیمت پر اور میرے غضب سے بچو۔

۲:۴۲ اور نہ مشتبہ بناؤ حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر اور  (مت) چھپاؤ حق کو تم جانتے بوجھتے۔

۲:۴۳ اور قائم رکھو نماز اور دیا کرو زکوٰۃ اور جھکو جھُکنے والوں کے ساتھ ۔

۲:۴۴ کیا حکم دیتے ہو تم لوگوں کو نیکی کا اور بھول جاتے ہو اپنے آپ کو؟ حالانکہ تلاوت کرتے ہو تم کتابُ اللہ کی۔ تو کیا پھر تم عقل سے بالکل کام نہیں لیتے؟۔

۲:۴۵ اور مدد لو صبر سے اور نماز سے۔ اور بیشک یہ بہت گراں ہے سوائے ان بندوں کے جن کی دلوں میں ڈر اور عاجزی ہے۔

۲:۴۶ جو سمجھتے ہیں کہ انہیں ضرور پیش ہونا ہے اپنے رب کے حضور اور آخر کار وہ اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

۲:۴۷ اے اولادِ یعقوب! یاد کرو میری اس نعمت کو جو عطا کی تھی میں نے تم کو اور بیشک میں نے تمہیں فضیلت بخشی تھی اہل جہان پر۔

۲:۴۸ اور ڈرو اس دن سے جب کام نہ آئے گا کوئی کسی دوسرے کے ذرا بھی اور نہ منظور ہو گی اس کی طرف سے سفارش اور نہ قبول کیا جائے گا کسی کی طرف سے بدلے میں  (کوئی اور) اور نہ ہی انہیں مدد پہنچے گی۔

۲:۴۹ اور  (یاد کرو) جب نجات بخشی ہم نے تمہیں آلِ فرعون سے جنہوں نے مُبتلا کر رکھا تھا تم کو بدترین عذاب میں ذبح کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو اور زندہ رہنے دیتے تھے تمہاری عورتوں کو۔ اور اس حالت میں تمہاری آزمائش تھی تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑی۔۔

۲:۵۰ اور جب پھاڑا ہم نے تمہارے لیے سمندر کو، پھر نجات دلائی تمہیں اور غرق کر دیا آلِ فرعون کو تمہارے دیکھتے دیکھتے۔

۲:۵۱ اور جب وعدہ کیا ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا پھر بنا لیا تم نے بچھڑے کو  (معبود) موسیٰ کے بعد اور تم ظلم کر رہے تھے۔

۲:۵۲ پھر معاف کر دیا ہم نے تم کو اس کے بعد بھی تاکہ تم شکر گزار بنو۔

۲:۵۳ اور جب دی ہم نے موسی کو کتاب اور فرقان تاکہ تم ہدایت حاصل کرو۔

۲:۵۴ اور جب کہا موسی نے اپنی قوم سے اے میری قوم، یقیناً تم نے ظلم کیا ہے اپنی جانوں پر، معبود ٹھہرا کر بچھڑے کو، پس توبہ کرو تم اپنے خالق کے حضور، لہٰذا قتل کرو تم اپنی جانوں کو یہی ہے بہتر تمہارے حق میں، تمہارے خالق کے نزدیک۔ سو توبہ قبول کر لی اللہ نے تمہاری۔ بیشک وہی تو ہے بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا۔

۲:۵۵ اور جب تم نے کہا: اے موسی! ہر گز نہ یقین کریں گے ہم تمہارا جب تک  (نہ) دیکھ لیں ہم اللہ کو علانیہ، تو آ لیا تم کو ایک کڑکے نے تمہارے دیکھتے دیکھتے۔

۲:۵۶ پھر زندہ کیا ہم نے تم کو تمہاری موت کے بعد تاکہ تم شکر گزار بنو۔

۲:۵۷ اور سایہ کیا ہم نے تم پر بادل کا اور اُتارا ہم نے تم پر من من و سلوٰی۔  (اور کہا) کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو عطا کی ہیں ہم نے تم کو۔ اور  (ناشکری کر کے) نہیں بگاڑا انہوں نے ہمارا کچھ بلکہ رہے وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے۔

۲:۵۸ اور جب ہم نے کہا کہ داخل ہو جاؤ اس بستی میں اور کھاؤ وہاں، جہاں سے چاہو با فراغت اور داخل ہونا  (بستی کے) دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے اور کہتے جانا۔ بخشش مانگتے ہیں، معاف کر دیں گے ہم خطائیں تمہاری بلکہ اور زیادہ عطا کریں گے ہم، نیکی کرنے والوں کو۔

۲:۵۹ مگر بدل دیا ان ظالموں نے  (اس کلمہ کو) ایسے کلمہ سے جو مختلف تھا اس سے جو کہا گیا تھا اُن سے لہٰذا نازل کیا ہم نے ظلم کرنے والوں پر عذاب، آسمان سے، بسبب اس کے کہ وہ نافرمانیاں کیے جاتے تھے۔

۲:۶۰ اور جب پانی مانگا موسی نے اپنی قوم کے لیے تو کہا ہم نے کہ مارو اپنے عصا کو اس چٹان پر۔ سو پھُوٹ نکلے اس میں سے بارہ چشمے۔ جان لیا ہر قبیلے نے اپنا اپنا گھاٹ۔  (ہم نے کہا) کھاؤ اور پیو اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے اور مت پھرو زمین میں فساد پھیلاتے۔

۲:۶۱ اور جب کہا تم نے اے موسی! ہرگز نہیں صبر کر سکتے ہم ایک ہی  (طرح کے) کھانے پر، لہٰذا دعا کیجیے ہمارے لیے اپنے رب سے کہ وہ پیدا کرے ہمارے لیے وہ چیزیں جو اُگاتی ہے زمین مثلاً ساگ پات، کھیرا ککڑی، گیہوں، مسور اور لہسن پیاز۔ موسیٰ نے کہا کیا لینا چاہتے ہو تم وہ چیز جو ادنیٰ ہے اس کے عوض جو بہتر ہے؟  (اچّھا) تو جا رہو کسی شہر میں بیشک تمہیں مِل جائے گا جو مانگا ہے تم نے۔ اور مسلّط ہو گئی ان پر ذلّت اور محتاجی اور گھر گئے وہ غضب میں اللہ کے۔ یہ اس لیے ہوا کہ وہ انکار کرتے تھے اللہ کی آیات کا اور قتل کرتے تھے نبیوں کو ناحق۔ یہ اس سبب سے تھا کہ وہ نافرمانی کیے جاتے اور حد سے بڑھ جاتے تھے۔

۲:۶۲ بیشک وہ لوگ جنہوں نے اسلام قبول کیا اور وہ لوگ جو یہودی ہوئے اور عیسائی اور صابی،  (ان میں سے) جو بھی ایمان لایا اللہ پر اور روزِ آخر پر اور کیے اس نے نیک کام تو اُن کے لیے ہے اجر اُن کا اُن کے رب کے پاس اور نہ کسی قسم کا خوف ہے اُن کے لیے اور نہ وہ کبھی غمگین ہوں گے۔

۲:۶۳ اور جب لیا تھا ہم نے تم سے عہد اور اُٹھا رکھا تھا تمہارے اُوپر کوہ طور کو۔  (حکم دیا تھا کہ) تھامے رہنا اس  (کتاب) کو جو ہم نے تمہیں دی مضبوطی سے اور یاد رکھنا ان  (احکام) کو جو اس میں ہیں تاکہ تم عذاب سے بچ سکو۔

۲:۶۴ پھر تم پھر گئے اس عہد کے بعد، سو اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تم پر اور اس کی رحمت تو ہو چکے ہوتے تم تباہ و برباد۔۔

۲:۶۵ اور البّتہ خُوب جانتے ہو تم ان لوگوں کا  (قصّہ) جنہوں نے توڑا تھا تم میں سے سبت کا قانون جس پر کہا تھا ہم نے اُن سے کہ بن جاؤ بندر، ذلیل و خوار۔

۲:۶۶ اس طرح بنا دیا ہم نے  (اس واقعہ کو) باعثِ عبرت اُن لوگوں کے لیے جو اس زمانے میں موجود تھے اور اُن کے لیے بھی جو بعد میں آنے والے تھے اور نصیحت ڈرنے والوں کے لیے۔

۲:۶۷ اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، بیشک اللہ حُکم دیتا ہے تم کو کہ ذبح کرو ایک گائے۔ کہنے لگے، کیا کرتے ہو تم ہم سے مذاق؟ موسیٰ نے کہا اللہ کی پناہ اس سے کہ ہوؤں میں جاہلوں میں سے۔

۲:۶۸ وہ بولے، درخواست کیجیے ہماری خاطر اپنے رب سے کہ کھول کر بتائے ہمیں کہ وہ گائے کیسی ہو؟ موسیٰ نے کہا بیشک اللہ فرماتا ہے کہ وہ گائے ہو نہ بُوڑھی اور نہ بچھیا۔  (بلکہ) اوسط عمر کی، درمیان بڑھاپے اور جوانی کے۔ لہٰذا تعمیل کرو تم اس حُکم کی جو دیا جا رہا ہے۔

۲:۶۹ کہنے لگے، درخواست کیجیے ہماری خاطر اپنے رب سے کہ وہ کھول کر بتائے ہمیں کہ کیسا ہو رنگ اس کا؟ موسی نے کہا، بیشک وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے ہو زرد رنگ کی، ایسی شوخ رنگ کہ جی خوش ہو جائے دیکھنے والوں کا۔

۲:۷۰ کہنے لگے، درخواست کیجیے ہماری خاطر اپنے رب سے کہ وہ کھول کر بتائے ہمیں کہ وہ کیسی ہو؟ بیشک گائے مشتبہ ہو گئی ہے ہم پر اور بیشک ہم اگر چاہا اللہ نے تو (اب) اس کا ٹھیک پتا پا لیں گے۔

۲:۷۱ موسیٰ نے کہا، بیشک اللہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے جو نہیں ہے محنت کرنے والی، کہ زمین جوتتی ہو اور نہ پانی دیتی ہو کھیتی کو، صحیح و سالم، بے داغ۔ کہنے لگے، اب لائے ہو تم بالکل ٹھیک بات۔ بالآخر ذبح کر دیا انہوں نے اُسے اگرچہ نہ لگتا تھا کہ وہ ایسا کریں گے۔

۲:۷۲ اور جب قتل کیا تھا تم نے ایک شخص کو، پھر باہم جھگڑنے لگے تھے تم اس کے بارے میں اور اللہ ظاہر کرنے والا تھا اُس  (بات) کو جو تم چھُپا رہے تھے۔

۲:۷۳ لہٰذا ہم نے کہا: ضرب لگاؤ مقتول کو اس گائے کے کسی ٹکڑے سے  (دیکھو!) اسی طرح زندہ کرے گا اللہ مُردوں کو اور دکھاتا ہے وہ تم کو اپنی  نشانیاں تاکہ تم سمجھو۔

۲:۷۴ پھر سخت ہو گئے تمہارے  دل، ایسی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی، گویا کہ وہ پتّھر ہیں یا زیادہ سخت  (پتّھر سے بھی) اور بیشک پتھروں میں تو ایسے بھی ہیں کہ پھوٹ بہتی ہیں جن میں سے نہریں اور ان میں ایسے بھی ہیں جو پھٹ جاتے ہیں اور نکلتا ہے ان میں سے پانی۔ اور ان میں تو ایسے بھی ہیں جو گر پڑتے ہیں اللہ کے خوف سے۔ اور نہیں ہے اللہ بے خبر اس سے جو تم کرتے ہو۔

۲:۷۵   (اے مسلمانو!) کیا تم اب بھی توقّع رکھتے ہو کہ ایمان لے آئیں گے یہ لوگ تمہاری دعوت پر؟ حالانکہ ہے ایک گروہ ان میں  (ایسا بھی) جو سنتا ہے اللہ کا کلام پھر ردّ و بدل کر دیتا ہے اس میں، بعد خُوب سمجھ لینے کے، جانتے بوجھتے۔

۲:۷۶ اور جب مِلتے ہیں ان لوگوں سے جو ایمان لا چکے ہیں  (محمد پر) تو کہتے ہیں کہ ایمان لائے ہم بھی اور جب تنہا ہوتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ تو کہتے ہیں: کیا بتا دیتے ہو تم مسلمانوں کو وہ باتیں جو کھولی ہیں اللہ نے تم پر؟ تاکہ وہ حجت کے طور پر پیش کریں تمہارے خلاف ان باتوں کو تمہارے رب کے حضور۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے؟۔

۲:۷۷ اور کیا نہیں جانتے وہ کہ بےشک اللہ جانتا ہے ہر وہ بات جو وہ چھپاتے ہیں اور وہ بھی جو وہ ظاہر کرتے ہیں؟۔

۲:۷۸ اور ان میں ایک گروہ ان پڑھوں کا ہے جو نہیں جانتے کتابِ الٰہی کو مگر جھوٹی آرزوئیں  (لیے بیٹھے ہیں) اور نہیں ہیں وہ مگر وہم و گمان پر چلے جا رہے ہیں۔

۲:۷۹ پس ہلاکت اور تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جو لکھتے ہیں تحریر خود اپنے ہاتھوں سے، پھر کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ حاصل کریں اس کے بدلے میں حقیر معاوضہ۔ سو تباہی ہے ان کے لیے اس کی بنا پر جو لکھا انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اور ہلاکت ہے ان کے لیے اس کی بنا پر جو وہ کماتے ہیں ۔

۲:۸۰ اور کہتے ہیں کہ ہر گز نہ چھوئے گی ہمیں دوزخ کی آگ مگر چند دن گنتی کے۔ کہو کیا لے چُکے ہو تم بارگاہِ الٰہی سے کوئی وعدہ کہ ہرگز نہیں خلاف کرے گا اللہ اپنے وعدے کے؟ یا کہتے ہو تم اللہ کے بارے میں ایسی باتیں جن کا تمہیں کچھ علم نہیں؟۔

۲:۸۱ کیوں نہیں! جس نے کمائی کوئی  بدی اور گھیر لیا اس کو اس کے گناہوں نے، سو ایسے ہی لوگ ہیں اہلِ دوزخ، وہ اسی میں رہیں گے ہمیشہ۔

۲:۸۲ اور جو لوگ ایمان لائے اور کئے انہوں نے نیک عمل بھی وہی ہیں اہلِ جنّت، وہ اسی میں رہیں گے ہمیشہ۔

۲:۸۳ اور جب لیا تھا ہم نے پختہ عہد بنی اسرائیل سے کہ نہ بندگی کرنا تم مگر اللہ کی اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا اور قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ بھی اور کہنا لوگوں سے اچھّی بات اور قائم رکھنا نماز کو اور ادا کرتے رہنا زکوٰۃ۔ مگر پھر گئے تم  (اس عہد سے) سوائے چند ایک کے تم میں سے اور تم تو ہو ہی پھر جانے والے۔

۲:۸۴ اور جب لیا تھا ہم نے پختہ عہد تم سے کہ نہ بہانا تم آپس میں خون اور نہ نکالنا اپنوں کو اپنے وطن سے پھر تم نے اس کا اقرار کیا تھا اور تم خود اس پر گواہ ہو۔

۲:۸۵ پھر تم ہی وہ لوگ ہو کہ قتل کرتے ہو اپنوں کو اور نکال دیتے ہو اپنے ہی ایک گروہ کو اُن کے وطن سے، چڑھائی کرتے ہو ان پر گناہ اور زیادتی سے،  اور اگر آتے ہیں وہ تمہارے پاس قیدی بن کر تو چھڑا لیتے ہو تم ان کو فدیہ دے کر، حالانکہ سرے سے حرام تھا تمہارے لیے ان کا نکالنا ہی۔ تو کیا تم ایمان لاتے ہو کتاب اللہ کے ایک حصّے پر اور کُفر کرتے ہو دوسرے حصّے کے ساتھ؟ سو نہیں ہے سزا اس شخص کی جو کرے ایسا تم میں سے سوائے رُسوائی کے، دُنیاوی زندگی میں اور قیامت کے دن پھیر دیے جائیں گے یہ لوگ سخت ترین عذاب کی طرف اور نہیں ہے اللہ بے خبر ان  (حرکتوں) سے جو تم کرتے ہو۔

۲:۸۶ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خرید لی ہے دنیاوی زندگی آخرت کے بدلے۔ لہٰذا نہ تو کمی کی جائے گی ان کے عذاب میں اور نہ اُن کو کوئی مدد پہنچے گی

۲:۸۷ اور بیشک دی ہم نے موسی کو کتاب اور پے در پے بھیجے بعد موسی کے رسول اور عطا کیں ہم نے عیسیٰ ابنِ مریم کو کھُلی نشانیاں اور مدد کی ہم نے اُس کی رُوح القدس سے۔ تو پھر کیا  (ایسا نہیں ہوا کہ) جب بھی آیا تمہارے پاس کوئی رسُول ایسے احکام لے کر جو خلاف تھے تمہاری خواہشاتِ نفس کے، تو تم سرکش ہو گئے پھر بعض رسُولوں کو تم نے جھٹلایا اور بعض کو قتل ہی کر ڈالا۔

۲:۸۸ اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں۔ نہیں، بلکہ لعنت بھیج دی ہے ان پر اللہ نے ان کے کفر کے سبب سو وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔

۲:۸۹ اور جب آئی ان کے پاس ایک کتاب اللہ کی طرف سے تصدیق کرتی ہوئی ان کتابوں کی جو ان کے پاس موجود ہیں اور ان کی حالت یہ تھی اس سے پہلے کہ دُعائیں مانگا کرتے تھے فتح کی کافروں پر۔ پھر جب  آ گیا ان کے پاس وہ جس کو انہوں نے پہچان بھی لیا تو ماننے سے انکار کر دیا اُسے پس پھٹکار اللہ کی ان منکروں پر۔

۲:۹۰ بہت بُری ہے وہ چیز کہ بیچ دیا ہے انہوں نے اس کے بدلے میں اپنی جانوں کو، وہ یہ کہ انکار کرتے ہیں وہ اس کا جو نازل کیا ہے اللہ نے، محض اس ضد کی بنا پر کہ نازل کر رہا ہے اللہ اپنا فضل  (قرآن) جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے۔ سو وہ گرفتار ہو گئے  (اللہ کے) پے در پے غضب میں  اور کافروں کے لیے ہے عذاب ذِلّت آمیز۔

۲:۹۱ اور جب کہا جاتا ہے ان سے کہ ایمان لاؤ اس پر جو نازل کیا ہے اللہ نے تو وہ کہتے ہیں ایمان لاتے ہیں ہم اس پر جو نازل کیا گیا ہم پر اور انکار کرتے ہیں ماننے سے ہر اس چیز کے جو اس کے علاوہ ہے حالانکہ وہ حق ہے جو تصدیق کرتا ہے اس  (کتاب) کی جو ان کے پاس موجود ہے۔ ان سے کہو آخر کیوں قتل کرتے رہے ہو تم اللہ کے نبیوں کو اس سے پہلے اگر تھے تم ایمان والے؟۔

۲:۹۲ اور یقیناً آئے تمہارے پاس موسیٰ کھُلی نشانیاں لے کر پھر بھی پُوجنا شروع کر دیا تم نے بچھڑے کو موسیٰ  (کے طور پر جانے) کے بعد اور تم ظلم کر رہے تھے۔

۲:۹۳ اور جب لیا تھا ہم نے تم سے عہد اور اُٹھا رکھا تھا تمہارے اوپر کوہِ طور کو۔ اور حُکم دیا تھا کہ) پکڑے رہو اس کتاب کو جو دی ہے ہم نے تمہیں زور سے اور سنو  (احکام الٰہی)۔ انہوں نے کہا: سن تو لیا ہم نے، مگر مانیں گے نہیں اور رچ بس گیا تھا ان کے دلوں میں بچھڑا ہی ان کے کفر کے سبب۔ تم کہہ دو بہت ہی برے ہیں وہ کام جن کے کرنے کا حُکم دیتا ہے تم کو تمہارا ایمان اگر ہو تم مومن۔

۲:۹۴ ان سے کہو اگر ہے تمہارے ہی لیے آخرت کا گھر اللہ کے ہاں مخصوص، دوسرے انسانوں کے لیے نہیں، تو تمنّا کرو موت کی اگر ہو تم سچّے۔

۲:۹۵ اور ہرگز  نہیں تمنّا کریں گے یہ لوگ موت کی، کبھی بھی،  بسبب ان  (گناہوں) کے جنہیں آگے بھیج چکے ہیں  (کما کر) یہ اپنے ہاتھوں اور اللہ خُوب جانتا ہے ان ظالموں کو۔

۲:۹۶ اور یقیناً پاؤ گے تم ان  (یہودیوں) کو سب سے بڑھ کر حریص جینے کا، اور ان لوگوں سے بھی زیادہ جو مشرک ہیں۔ چاہتا ہے، ان میں سے ہر ایک کہ کاش ملے اس کو عمر ہزار سال کی حالانکہ نہیں ہے بچانے والا اُس کو عذاب سے یہ اس قدر عمر کا مِلنا بھی۔ اور اللہ دیکھ رہا ہے اس کو جو یہ کر رہے ہیں۔

۲:۹۷ کہہ دو! جو شخص ہے دُشمن جبریل کا  (اسے معلوم ہونا چاہیے) کہ جبریل ہی نے تو اتارا ہے قرآن  تمہارے قلب پر، اللہ کے حُکم سے تصدیق کرتا ہوا ان  (کتابوں) کی جو ان کے پاس پہلے سے موجود ہیں اور  (قرآن) ہدایت ہے اور بشارت ہے اہلِ ایمان کے لیے۔

۲:۹۸ جو ہے دشمن اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے رسولوں کا اور جبریل و میکائیل کا،تو بیشک اللہ بھی دُشمن ہے کافروں کا۔

۲:۹۹ اور بیشک نازل کی ہیں ہم نے تمہاری طرف ایسی آیات جو صاف صاف  (حق کا) اظہار کرنے والی ہیں اور نہیں انکار کرتے ان کا مگر وہی جو نافرمان ہیں۔

۲:۱۰۰ کیا  (ایسا نہیں ہوتا رہا کہ) جب بھی انہوں نے کوئی عہد کیا تو اٹھا کر پھینک دیا اس کو ایک گروہ نے ان ہی میں سے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان میں سے اکثر ایمان، نہیں لاتے۔

۲:۱۰۱ اور جب آیا ان کے پاس کوئی رسول، اللہ کی طرف سے تصدیق کرتا ہوا ان  (کتابوں) کی جو ان کے پاس موجود ہیں تو پھینک دیا ایک گروہ نے ان میں سے جنہیں دی گئی تھی کتاب، اللہ ہی کی کتاب کو پس پُشت، اس طرح کہ گویا وہ  (اُسے) جانتے ہی نہیں۔

۲:۱۰۲ اور پیچھے لگ گئے ان  (خرافات) کے جنہیں پڑھتے پڑھاتے تھے شیاطین، سلیمان کے عہدِ حکومت میں حالانکہ نہیں کفر کیا سلیمان نے بلکہ ان شیطانوں نے کفر کیا، سکھاتے تھے لوگوں کو جادُو اور  (پیچھے لگ گئے)اس  (علم) کے جو نازل کیا گیا دو فرشتوں پر بابل میں یعنی ہاروت اور ماروت پر۔ حالانکہ وہ دونوں نہیں سکھاتے تھے کسی کو  (وہ علم) جب تک  نہ کہہ لیں یہ کہ ہم تو محض ایک آزمائش میں، لہٰذا تو کفر میں مُبتلا نہ ہو۔ پھر بھی وہ سیکھتے تھے ان دونوں سے ایسی چیز کہ جدائی ڈال دیں وہ اس سے مرد اور اس کی بیوی کے درمیان۔ حالانکہ وہ نہیں پہنچا سکتے تھے نقصان اس سے کسی کو مگر اللہ کے اِذن سے۔اور سیکھتے تھے یہ لوگ  (ان سے) ایسی چیزیں جو نقصان تو پہنچائیں انہیں، لیکن نفع بالکل نہ دیں۔ حالانکہ وہ خوب جانتے تھے کہ بیشک جو اس کا خریدار بنا، نہیں ہے اس کے لیے آخرت میں کوئی حصّہ۔ اور یقیناً بہت ہی بُری تھی وہ چیز کہ بیچ ڈالا تھا اُنہوں نے اس کے عوض اپنی جانوں کو۔ کاش! وہ جانتے۔

۲:۱۰۳ اور اگر وہ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو بیشک وہ ثواب جو اللہ کے ہاں سے مِلتا کہیں بہتر تھا۔ کاش! وہ جانتے۔

۲:۱۰۴ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو نہ کہا کرو رَاعِنا، بلکہ کہا کرو “اُنظُرنا” اور توجہ سے سُنا کرو۔ اور کافروں کے لیے ہے۔ عذاب، دردناک۔

۲:۱۰۵ نہیں پسند کرتے وہ لوگ جو کافر ہیں، اہلِ کتاب میں سے اور نہیں  (پسند کرتے) مشرک، اس بات کو کہ نازل ہو تم پر کوئی خیر تمہارے رب کی طرف سے ۔مگر اللہ خاص کر لیتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ جس کو چاہے۔ اور اللہ مالک ہے فضلِ عظیم کا۔

۲:۱۰۶ نہیں منسوخ کرتے ہیں ہم کسی آیت کو یا بھُلا دیتے ہیں کسی آیت کو تو عطا کرتے ہیں بہتر اس سے یا ویسی ہی۔ کیا نہیں جانتے تم کہ بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

۲:۱۰۷ کیا نہیں جانتے تم کہ یقیناً اللہ ہی ہے جس کو سزاوار ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی۔ اور نہیں ہے تمہارا اللہ کے سوا کوئی سرپرست اور نہ کوئی مددگار؟۔

۲:۱۰۸ پھر کیا چاہتے ہو تم کہ سوالات اور مطالبات کرو اپنے رسول سے اسی طرح جیسے سوالات اور مطالبات کیے گئے موسیٰ سے اس سے پہلے۔ اور جس نے اختیار کیا کفر ایمان کے بدلے تو یقیناً بھٹک گیا وہ سیدھی راہ سے

۲:۱۰۹ دل و جان سے چاہتے ہیں بہت سے لوگ اہلِ کتاب میں سے کہ کاش ! واپس پھیر دیں تم کو  (یعنی) تمہارے ایمان لے آنے کے بعد  (تمہیں) پھر کافر بنا دیں، حسد کی بنا پر جو ان کے دلوں میں ہے بعد اس کے کہ کھُل کر سامنے آ گیا ہے ان کے حق۔ سو تم معاف کرتے رہو اور  در گزر  سے کام لو، یہاں تک کہ نافذ فرمائے اللہ خود ہی اپنا فیصلہ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۲:۱۱۰ اور قائم رکھو نماز  اور  دیتے رہو زکوٰۃ- اور جو بھی آگے بھیجو گے تم اپنے لیے کسی قسم کی بھلائی، پالو گے اسے اللہ کے ہاں۔ بیشک اللہ ان اعمال کو جو تم کرتے ہو دیکھ رہا ہے۔

۲:۱۱۱ اور کہتے ہیں  (یہودی اور عیسائی) کہ ہرگز نہیں داخل ہو گا جنّت میں مگر وہ جو ہو گا یہودی یا نصرانی، یہ باتیں ان کی تمنائیں ہیں۔ ان سے کہو پیش کرو دلیل اپنی، اگر ہو تم سچّے۔

۲:۱۱۲ ہاں بلا شُبہ! جس نے سرِ تسلیم خم کر دیا اللہ کے حضور اور عملاً بھی نیک رَوِش اختیار کی، سو ایسے شخص کے لیے ہے اس کا اجر اس کے رب کے پاس اور نہیں ہے کسی طرح کا خوف ایسے لوگوں کے لیے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

۲:۱۱۳ اور کہتے ہیں۔ یہودی، نہیں ہیں نصرانی کسی راہ پر اور کہتے ہیں نصرانی، نہیں ہیں یہودی کسی راہ پر حالانکہ یہ سب تلاوت کرتے ہیں کتاب اللہ کی۔ اسی طرح کہی اُن لوگوں نے بھی، جو کچھ نہیں جانتے، اِن ہی کی سی بات: لہٰذا اب اللہ فیصلہ کرے گا ان کے مابین، قیامت کے دن ان باتوں کا جن میں یہ اختلاف کر رہے ہیں۔

۲:۱۱۴ اور کون بڑا ظالم ہے اس سے جو روکے اللہ کی مسجدوں میں اس سے کہ ذکر کیا جائے ان میں اللہ کے نام کا اور کوشش کرے ان کو ویران کرنے کی۔ ایسے لوگوں کو نہیں ہے یہ حق بھی کہ داخل ہوں مسجد میں، مگر ڈرتے ڈرتے۔ اُن کے لیے ہے دُنیا میں ذلّت اور ان ہی کے لیے ہے آخرت میں عذابِ عظیم۔

۲:۱۱۵ اور اللہ ہی کا ہے مشرق بھی اور مغرب بھی، سو جس طرف بھی تم رُخ کرو اسی طرف ہے رُخ اللہ کا۔ بیشک اللہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

۲:۱۱۶ اور اُنہوں نے کہا کہ رکھتا ہے اللہ اولاد ، پاک ہے اللہ  (ان باتوں سے)۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں، سبھی ہیں اس کے مطیع فرمان۔

۲:۱۱۷ موجدِ بے مثال، آسمانوں اور زمین کا۔ اور جب فیصلہ کرتا ہے وہ کسی کام کا تو بس حُکم دیتا ہے اسے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے۔

۲:۱۱۸ اور کہا ان لوگوں نے جو نادان ہیں کہ آخر کیوں نہیں کلام کرتا ہم سے خود اللہ، یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی نشانی؟ اسی طرح کہہ چُکے ہیں وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ان ہی کی سی بات۔ ایک جیسے ہیں ان سب کے دل۔ بیشک ہم بیان کر چُکے ہیں نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو صاحبِ یقین ہیں۔۔

۲:۱۱۹   (اس سے بڑی نشانی اور کیا ہو گی کہ) ہم نے بھیجا ہے تم کو  (اے محمد!) علمِ حق کے ساتھ، خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر اور  پُرسش نہیں ہو گی تم سے اہل دوزخ کے بارے میں۔

۲:۱۲۰ اور ہرگز نہ راضی ہوں گے تم سے یہودی اور نہ عیسائی جب تک کہ  (نہ) ہو جاؤ تم تابع اُن کے دین کے۔ تم کہہ دو بیشک اللہ کی ہدایت ہی حقیقی ہدایت ہے۔ اور اگر کہیں پیروی کر لی تم نے ان کی خواہشات کی اس کے بعد بھی کہ آ چکا ہے تمہارے پاس علم تو نہیں ہو گا تم کو اللہ  (کی گرفت) سے  (بچانے والا) کوئی دوست اور نہ کوئی مددگار۔

۲:۱۲۱ وہ لوگ جن کو دی ہم نے کتاب،  (جو) پڑھتے ہیں اسے جیسا کہ اس کے پڑھنے کا حق ہے۔ وہی لوگ ایمان رکھتے ہیں اس پر۔ اور جو کفر کا رویہ اختیار کرتے ہیں اس کے ساتھ سو وہی ہیں نقصان اٹھانے والے۔

۲:۱۲۲ : اے بنی اسرائیل! یاد کرو میری وہ نعمت جو عطا کی میں نے تم کو اور یہ کہ میں نے فضیلت بخشی تھی تمہیں اہل جہان پر۔

۲:۱۲۳ اور ڈرو اس دن سے جب کام نہ آئے گا کوئی کسی کے ذرا  بھی اور نہ قبول کیا جائے گا اس کی طرف سے بدلے میں  (کوئی دوسرا) اور نہ فائدہ پہنچائے گی اسے سفارش اور نہ ان  (مجرموں) کو مدد ہی پہنچے گی۔

۲:۱۲۴ اور جب آزمایا ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں سے اور اس نے وہ پوری کر دکھائیں۔ تو ارشاد ہوا، بے شک میں بنانے والا ہوں تمہیں سب لوگوں کا پیشوا۔ ابراہیم نے عرض کیا اور کیا میری اولاد میں سے بھی؟ فرمایا نہیں پہنچے گا میرا وعدہ ظالموں کو۔

۲:۱۲۵ اور جب بنایا ہم نے بیت اللہ کو مرکز لوگوں کے لیے اور امن کی جگہ۔ اور  (حکم دیا کہ) بناؤ مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ اور تاکید کی ہم نے ابراہیم و اسماعیل کو، یہ کہ پاک رکھنا تم دونوں، میرے اس گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے۔

۲:۱۲۶ اور جب دعا کی ابراہیم نے اے میرے رب! بنا دے اس  (جگہ) کو امن والا شہر اور رزق دے اس کے باشندوں کو ہر قسم کے پھلوں کا، ان کو جو ایمان لائیں ان میں سے اللہ پر اور روز آخر پر۔ رب نے فرمایا اور جو ایمان نہ لائے گا فائدہ پہنچاؤں گا میں اس کو بھی، مگر قلیل پھر گھسیٹوں گا اس کو دوزخ کے عذاب کی طرف۔ اور بد ترین ٹھکانا ہے۔

۲:۱۲۷  اور جب اٹھا رہے تھے ابراہیم بنیادیں بیت اللہ کی اور اسماعیل بھی۔  (اور دعا کرتے جاتے تھے)۔ اے ہمارے رب!قبول فرما۔ ہم سے  (یہ خدمت) بے شک تو ہی ہے سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا۔

۲:۱۲۸ اے ہمارے رب! اور بنا ہم دونوں کو فرمانبردار اپنا اور ہماری نسل میں سے  (اٹھا) ایک امت جو مطیع فرمان ہو تیری اور بتا ہمیں طریقے اپنی عبادت کے اور قبول فرما ہماری توبہ بے شک تو ہی ہے توبہ قبول فرمانے والا، رحم فرمانے والا۔

۲:۱۲۹ اے ہمارے رب! اور بھیج ان میں ایک رسول ان ہی میں سے  (جو) پڑھ کر سُنائے ان کو تیری آیات اور تعلیم دے ان کو کتاب و حکمت کی اور پاک کرے ان  (کے دلوں اور زندگیوں) کو۔ بیشک تو ہی تو ہے ہر چیز پر غالب اور کامل حکمت والا۔

۲:۱۳۰ اب کون ہے جو انحراف کرے گا مِلّتِ ابراہیم سے بجز اس شخص کے جس نے حماقت میں مبتلا کر لیا ہو اپنے آپ کو۔ جبکہ درحقیقت منتخب کر لیا ہم نے ابراہیم کو دُنیا میں اور بیشک ہو گا ہو گا وہ آخرت میں صالحین میں سے۔

۲:۱۳۱   (وہ تو ایسا تھا کہ) جب کہا اس سے اس کے رب نے کہ مسلم ہو جا، اس نے  (فوراً) کہا میں فرمانبردار ہو گیا ربِّ کائنات کا۔

۲:۱۳۲ اور وصیّت کی اسی دین  (پر قائم رہنے) کی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے بھی۔ اے میرے بیٹو! بےشک اللہ نے منتخب فرما لیا ہے تمہارے لیے اس دین کو لہٰذا تم ہرگز نہ مرنا مگر اس حالت میں کہ ہو تم مسلمان۔

۲:۱۳۳ کیا تھے تم حاضر اس وقت جب قریب آیا، یعقوب کی موت کا وقت۔ جب پوچھا تھا اس نے اپنے بیٹوں سے کہ کس کی عبادت کرو گے تم میرے بعد؟ ان سب نے کہا: عبادت کریں گے ہم تیرے معبود کی اور تیرے آباء و اجداد، ابراہیم، اسمعیل اور اسحاق کے معبود کی، جو الٰہِ واحد ہے اور ہم سب اسی کے فرمانبردار ہیں۔

۲:۱۳۴ یہ ایک گروہ تھا جو ہو گزرا، ان کے لیے ہے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لیے وہی ہے جو تم کماؤ گے۔ اور تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ کیا کرتے رہے وہ۔

۲:۱۳۵ اور کہتے ہیں کہ ہو جاؤ یہودی یا نصرانی، ہدایت پا جاؤ گے۔ کہہ دو! نہیں، بلکہ طریقہ ابراہیم کا جو سب کو چھوڑ کر اللہ کا ہو گیا تھا اور نہ تھا وہ مشرکوں میں سے۔

۲:۱۳۶   (مسلمانو) تم کہہ دو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو نازل کیا گیا ہماری طرف اور جو نازل کیا گیا ابراہیم، اسماعیل، اسحاق اور یعقوب پر اور اس کی اولاد پر اور جو دیا گیا موسیٰ کو اور عیسیٰ کو اور جو دیا گیا نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے، نہیں تفریق کرتے ہم ان کے درمیان اور ہم اللہ ہی کے فرمانبردار ہیں۔

۲:۱۳۷ پھر اگر ایمان لے آئیں وہ بھی اسی طرح جیسے ایمان لائے ہو تم تو ہدایت پا گئے وہ اور اگر انحراف کریں تو پھر اصل بات یہ ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑ گئے ہیں۔ سو کافی ہے تمہارے لیے ان کے مقابلے میں اللہ اور وہ ہر بات کا سُننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

۲:۱۳۸ اللہ کا رنگ  (اختیار کرو) اور کس کا  (رنگ) اچّھا ہے اللہ کے رنگ سے اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔

۲:۱۳۹ کہو: کیا جھگڑتے ہو تم ہم سے اللہ کے بارے میں حالانکہ وہی ہے رب ہمارا بھی اور رب تمہارا بھی اور ہمارے لیے ہیں عمل ہمارے اور تمہارے لیے ہیں عمل تمہارے اور ہم خالص اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔

۲:۱۴۰ کیا پھر تم کہتے ہو کہ بیشک ابراہیم، اسماعیل، اسحٰق، یعقوب اور اولاد یعقوب  (سب کے سب) تھے یہودی یا نصرانی۔ کہو! کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟ اور کون بڑا ظالم ہے اس سے جو چھُپائے وہ شہادت جو اس کے پاس ہے اللہ کی طرف سے؟ اور نہیں ہے اللہ غافل اس سے جو تم کر رہے ہو۔

۲:۱۴۱ یہ بھی ایک گروہ تھا جو ہو گزرا، ان کے لیے ہے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لیے وہی ہے جو تم کماؤ گے اور تم سے یہ نہ پوچھا جائیگا کہ وہ کیا کرتے رہے۔۔

۲:۱۴۲ ضرور کہیں گے بے وقوف لوگ کہ کس چیز نے پھیر دیا ہے مُسلمانوں  (کے رُخ) کو ان کے اس قبلے سے کہ تھے  (پہلے) یہ جس پر۔ کہو  (اے نبی) اللہ ہی کا ہے مشرق اور مغرب۔ چلاتا ہے وہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے پر ۔

۲:۱۴۳ اور اس طرح بنا دیا ہے ہم نے تم کو ایک اُمّتِ مُعتدل تاکہ بنو تم گواہ لوگوں پر اور  ہو رسول تم پر گواہی دینے والا اور نہیں مقرر کیا تھا ہم نے وہ قبلہ کہ تھے تم  (پہلے) جس پر مگر اس غرض سے کہ دیکھیں ہم کہ کون پیروی کرتا ہے رسول کی اور کون پھر جاتا ہے اپنے الٹے پاؤں۔ اور بے شک تھا یہ  (قبلہ بدلنا) بہت گراں سوائے ان لوگوں کے جنہیں ہدایت دی اللہ نے۔ اور نہیں ہے اللہ ایسا کہ ضائع کر دے تمہارا ایمان۔ بیشک اللہ انسانوں پر بہت ہی شفیق اور رحم کرنے والا ہے۔

۲:۱۴۴ بیشک دیکھ رہے ہیں ہم بار بار اٹھنا تمہارے چہرے کا آسمان کی طرف سو پھیرے دیتے ہیں ہم تمہیں اسی قبلے کی طرف جسے تم پسند کرتے ہو سو پھیر لو تم اپنا رُخ طرف مسجدِ حرام کے اور جہاں بھی ہوا کرو تم پھیر لیا کرو اپنے رُخ  (نماز میں) اسی کی جانب۔ اور بیشک وہ لوگ جنہیں دی گئی کتاب الٰہی خوب جانتے ہیں کہ یہی  (قبلہ) حق ہے ان کے رب کی طرف سے۔ اور نہیں ہے اللہ بے خبر ان کاموں سے جو یہ کر رہے ہیں۔

۲:۱۴۵ اور اگر لے آؤ تم ان لوگوں کے پاس جنہیں دی گئی کتاب تمام نشانیاں پھر بھی نہ پیروی کریں گے وہ تمہارے قبلے کی اور نہ ہو تم پیروی کرنے والے ان کے قبلے کی اور نہیں ہے ان میں کوئی گروہ پیروی کرنے والا دوسرے گروہ کے قبلے کی۔ اور اگر کہیں پیچھے چل پڑے تم ان کی خواہشات کے اس کے بعد بھی کہ آ چکا ہے تمہارے پاس علم تو یقیناً تم بھی  دریں صورت ہو گے ظالموں میں سے۔

۲:۱۴۶ وہ لوگ جنہیں دی ہم نے کتاب پہچانتے ہیں اس  (قبلہ) کو جیسے پہچانتے ہیں اپنی اولاد کو۔ لیکن کچھ لوگ ان میں سے چھپاتے ہیں حق کو جانتے بوجھتے۔

۲:۱۴۷ حق یہی ہے تیرے رب کی طرف سے پس تم ہر گز نہ ہونا شک کرنے والوں میں سے۔

۲:۱۴۸ اور ہر ایک کے لیے ہے رخ کرنے کی ایک سمت کہ وہ منہ کرتا ہے اس کی طرف سو سبقت لے جاؤ تم نیک کاموں میں۔جہاں کہیں بھی ہو گے تم لائے  گا تم کو اللہ اکھٹا بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۲:۱۴۹ اور جہاں سے بھی نکلو تم موڑو  اپنا رُخ  (نماز میں) مسجد الحرام کی طرف۔ اور بیشک یہی حق ہے تمہارے رب کی طرف سے۔ اور نہیں ہے اللہ بے خبر اس سے جو تم کرتے ہو۔

۲:۱۵۰ اور جہاں سے بھی نکلو تم موڑو  اپنا رُخ  (نماز میں) مسجد الحرام کی طرف۔ اور جہاں کہیں بھی ہو تم تو موڑو اپنے رُخ اسی کی جانب تاکہ نہ رہے لوگوں کے پاس تمہارے خلاف کوئی  حُجّت سوائے ان کے جو بے انصاف ہیں اس میں سے،  سو نہ ڈرو تم ان سے بلکہ  مجھ ہی سے ڈرو اور  (مسجد الحرام کی طرف رُخ کرنا اس لیے ضروری ہے) تاکہ پورا کروں میں اپنا انعام تم پر اور  (اس لیے بھی) تاکہ تم ہدایت پاؤ۔

۲:۱۵۱    (یہ قبلہ مقرّر کرنا بھی اسی طرح کا انعام ہے) جیسا کہ بھیجا ہم نے تم میں ایک رسول تم ہی میں سے جو پڑھ کر سناتا ہے تمہیں ہماری آیات اور پاک کرتا ہے تم کو اور تعلیم دیتا ہے تم کو کتاب اللہ کی اور حکمت کی اور سکھاتا ہے تم کو وہ باتیں جو تم نہیں جانتے تھے۔

۲:۱۵۲ پس یاد رکھو تم مجھے، میں یاد رکھوں گا تمہیں اور شکر گزار بنو میرے اور نہ کرو ناشکری میری۔

۲:۱۵۳ اے لوگوں جو ایمان لائے ہو مدد حاصل کرو صبر سے اور نماز سے۔ بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

۲:۱۵۴ اور نہ کہو ان کو جو مارے جائیں اللہ کی راہ میں، مُردہ۔ بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تمہیں  (ان کی زندگی کا) شعور نہیں۔

۲:۱۵۵ اور ضرور آزمائیں گے ہم تم کو کسی قدر خوف اور بھُوک سے اور  (مبتلا کر کے) نقصان میں مال و جان کے اور آمدنیوں کے اور خوشخبری دو صبر کرنے والوں کو۔

۲:۱۵۶ وہ  (صبر کرنے والے) کہ جب پہنچتی ہے انہیں کوئی مصیبت تو کہتے ہیں بیشک ہم اللہ ہی کے ہیں اور بیشک ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

۲:۱۵۷   (دراصل) یہی وہ لوگ ہیں کہ ان پر ہیں عنایتیں ان کے رب کی اور رحمتیں بھی اور  یہی لوگ ہیں جو ہدایت یافتہ ہیں۔

۲:۱۵۸ بےشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں سو جو شخص حج کرے بیت اللہ کا یا عمرہ کرے تو نہیں ہے کچھ گناہ اس پر کہ سعی کرے ان دونوں کے درمیان۔ اور جو شخص خوشدلی سے کرتا ہے کوئی نیک کام تو بیشک اللہ ہے قدر دان، سب کچھ جاننے والا۔

۲:۱۵۹ بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں ہمارے نازل کیے ہوئے واضح احکام کو اور ہدایت کو اس کے بعد بھی کہ کھول کر بیان کر دیے ہیں ہم نے وہ  لوگوں کے لیے  اس کتاب میں، وہی لوگ ہیں کہ لعنت کرتا ہے ان پر اللہ بھی اور لعنت کرتے ہیں ان پر سب لعنت کرنے والے۔

۲:۱۶۰ البتّہ وہ لوگ جنہوں نے توبہ کر لی اور اپنی اصلاح کر لی اور بیان کرنے لگے  (جو کچھ چھپاتے تھے) تو یہی لوگ ہیں کہ معاف کر دوں گا میں ان کو اور میں ہی تو ہوں بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا۔

۲:۱۶۱ بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر  (کا رویہ اختیار) کیا اور مر گئے کافر ہی یہی لوگ ہیں کہ ہے ان پر لعنت اللہ کی اور فرشتوں کی اور   انسانوں کی، سب کی۔

۲:۱۶۲ ہمیشہ رہیں گے یہ  (گرفتار) لعنت میں نہ ہلکا کیا جائے گا ان کا عذاب اور  نہ انہیں مہلت ملے گی۔

۲:۱۶۳ اوت تم سب کا معبود ایسا معبود ہے جو ایک ہی ہے۔  نہیں ہے کوئی معبود اس سے سوا بڑا مہربان نہایت رحم والا۔

۲:۱۶۴ بیشک پیدا کرنے میں آسمانوں کے اور زمین کے اور ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں شب و روز کے اور کشتیوں میں جو چلتی ہیں سمندر میں وہ  (چیزیں) لے کر جو نفع بخش ہیں انسانوں کے لیے اور یہ جو نازل کیا اللہ نے آسمان سے پانی پھر زندگی بخشی اس کے ذریعہ سے زمین کو مُردہ ہونے کے بعد اور پھیلائی اس میں ہر طرح کی جاندار مخلوق اور ہواؤں کی گردش میں اور بادلوں میں جو تابع فرمان بنا کر رکھے گئے ہیں درمیان آسمان و زمین کے یقیناً  (ان سب چیزوں میں) نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لیے۔

۲:۱۶۵ اور لوگوں میں سے  (کچھ ایسے ہیں) جو بناتے ہیں اللہ کے سوا  (دوسروں کو اللہ کا) مدِ مقابل محبت کرتے ہیں ان سے ایسی محبت جیسی اللہ سے ہونی چاہیے۔ حالانکہ وہ لوگ جو ایمان والے ہیں سب سے بڑھ کر محبوب رکھتے ہیں اللہ کو۔ اور کاش سوجھ جائے ان ظالموں کو  (آج ہی وہ کچھ جو سوجھنے والا ہے انہیں) اس وقت جب دیکھیں گے عذاب کہ بیشک قوت اللہ ہی کے پاس ہے ساری کی ساری اور یہ کہ بیشک اللہ بہت سخت ہے عذاب دینے میں

۲:۱۶۶ جب بیزاری کا اظہار کریں گے وہ جن کی پیروی کی گئی تھی ان سے جنہوں نے پیروی کی تھی اور دیکھ رہے ہوں گے عذاب کو اور منقطع ہو چُکے ہوں گے ان کے تمام ذرائع اور وسائل

۲:۱۶۷ اور کہیں گے وہ جنہوں نے پیروی کی تھی: کاش کہ ہوتا ہمارے لیے ایک موقعہ پھر  (دُنیا میں جانے کا) تو بیزاری کا اظہار کرتے ہم بھی ان سے اسی طرح جیسے بیزاری ظاہر کی ہے انہوں نے ہم سے۔ اس طرح بنا دکھائے گا اللہ ان کے اعمال کو حسرت و پشیمانی ان کے لیے۔ اور ہرگز نہیں نکل سکیں گے وہ دوزخ سے۔

۲:۱۶۸ اے لوگو! کھاؤ وہ چیزیں جو ہیں زمین میں، حلال اور پاکیزہ اور نہ پیروی کرو شیطان کے قدموں کی ۔ بیشک وہ ہے تمہارا کھلا دشمن

۲:۱۶۹ وہ تو بس حُکم دیتا ہے تم کو بُرائی کا اور بے حیائی کا اور اس بات کا کہ کہو تم اللہ کے بارے میں وہ باتیں جن کے متعلّق تمہیں علم نہیں  (کہ اللہ نے فرمائی ہیں)۔

۲:۱۷۰ اور جب کہا جاتا ہے اِن سے کہ پیروی کرو ان  (احکام) کی جو نازل کیے ہیں اللہ نے تو کہتے ہیں نہیں بلکہ ہم تو پیروی کریں گے ان  (طور طریقوں) کی جن پر پایا ہے ہم نے اپنے آباء و  اجداد کو۔ کیا پھر بھی کہ ہوں ان کے باپ دادا ایسے جو نہ سمجھتے ہوں کچھ اور نہ سیدھے راستے پر ہوں؟۔

۲:۱۷۱ اور مثال اُن لوگوں کی جنہوں نے کفر کیا ایسی ہے جیسے کوئی شخص پکارے ان کو جو نہیں سُنتے  (کچھ) سوائے پکارنے اور چّلانے کے۔ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں سو وہ کچھ نہیں سمجھتے۔

۲:۱۷۲ اے ایمان والو ! کھاؤ پاکیزہ چیزیں جو عطا کی ہیں ہم نے تم کو اور شکر ادا کرو اللہ کا اگر ہو تم واقعی اسی کی عبادت کرنے والے۔

۲:۱۷۳ اس نے تو بس حرام کیا ہے تم پر مُردار، خُون، خنزیر کا گوشت اور ہر وہ چیز کہ پکارا جائے اس پر۔ (نام) غیر اللہ کا پھر جو مجبور ہو جائے جبکہ وہ سرکش بھی نہ ہو اور حدسے بڑھنے والا بھی نہ ہو تو کچھ گناہ نہیں اس پر۔ بیشک اللہ بہت معاف فرمانے والا اور حکم کرنے والا ہے۔

۲:۱۷۴ بیشک جو لوگ چھُپاتے ہیں اس کو جو نازل کیا ہے اللہ نے اپنی کتاب میں اور لیتے ہیں اس کے بدلے تھوڑی قیمت یہ لوگ نہیں بھرتے اپنے پیٹ میں مگر آگ اور نہیں بات کرے گا ان سے اللہ روزِ قیامت اور نہ پاک کرے گا ان کو اور ان کے لیے ہے دردناک عذاب۔

۲:۱۷۵ یہ وہ لوگ ہیں کہ خریدی ہے انہوں نے گمراہی ہدایت کے بدلے میں اور عذاب مغفرت کے بدلے میں سو کِس قدر صبر کرنے والے ہیں یہ دوزخ پر۔

۲:۱۷۶ یہ اس لیے کہ اللہ نے نازل کی ہے یہ کتاب سچائی کے ساتھ اور بیشک جنہوں نے اختلاف کیا اس کتاب میں اور ضد میں بہت دُور جا نکلے ہیں۔

۲:۱۷۷ نہیں ہے نیکی یہی کہ کر لو تم اپنے چہرے مشرق کی طرف یا مغرب کی طرف بلکہ نیکی  (یہ ہے کہ) آدمی ایمان لائے اللہ پر اور  روز  آخرت پر اور فرشتوں پر اور اللہ کی کتاب پر اور پیغمبروں پر اور دے مال اس کی محبت میں، رشتے داروں کو اور یتیموں کو اور مسکینوں کو اور مسافروں کو اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں اور قائم کرے نماز اور دے زکوٰۃ اور  (نیک وہ ہیں جو) پورا کرنے والے ہیں اپنے عہد کو جب عہد کر لیں اور ثابت قدم رہنے والے ہیں تنگدستی میں اور جسمانی تکالیف میں اور جنگ کے وقت یہی لوگ ہیں راست باز۔ اور یہی لوگ ہیں متقی۔

۲:۱۷۸ اے ایمان والو! فرض کر دیا گیا ہے تم پر قصاص لینا مقتولوں کا۔  (قتل کیا جائے) آزاد، بدلے میں آزاد کے اور غلام، بدلے میں غلام کے اور عورت، بدلے میں عورت کے۔ سو وہ شخص جس کو معاف کر دیا جائے اس کے بھائی کی طرف سے  (قصاص میں سے) کچھ تو لازم ہے  (اس پر) پیروی کرنا معروف طریقے کی اور ادا کرنا مقتول  (کے ورثا) کو احسن طریقے سے۔ یہ رعایت ہے تمہارے رب کی طرف سے اور رحمت ہے۔ پھر جو زیادتی کرے اس کے بعد تو اس کے لیے ہے دردناک عذاب ۔

۲:۱۷۹ اور تمہارے لیے قصاص  (کے حکم) میں زندگی ہے اے عقل والوں تاکہ تم بچے رہو  (خونریزی سے)۔

۲:۱۸۰ فرض کر دیا گیا ہے تم پر، جب آ پہنچے تم میں سے کسی کی موت  (کی گھڑی) اگر چھوڑے مال۔ وصیّت کرنا والدین کے لیے اور رشتے داروں کے لیے معروف طریقے سے یہ حق ہے، اللہ سے ڈرنے والوں پر۔

۲:۱۸۱ پھر جو کوئی بدلے وصیّت کو اسے سُننے کے بعد تو بس اس کا گناہ ان لوگوں پر ہے جو اسے بدلیں گے۔ بیشک اللہ ہر بات سُننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔

۲:۱۸۲ پھر اگر کسی کو اندیشہ ہو وصیت کرنے والے کی طرف سے حق تلفی یا کسی گناہ کا اور  وہ صلح کرا دے ان کے درمیان تو کوئی گناہ نہیں اس پر۔ بیشک اللہ بہت معاف فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

۲:۱۸۳ اے ایمان والو! فرض کیے گئے ہیں تم پر روزے جیسے فرض کیے گئے تھے ان لوگوں پر جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار بنو۔

۲:۱۸۴ چند دن ہیں گنتی کے  پھر اگر کوئی ہو تم میں سے بیمار یا سفر میں، تو تعداد پوری کرے دوسرے دنوں میں۔ اور ان لوگوں پر جو طاقت رکھتے ہوں روزے کی  (پھر نہ رکھیں تو) فدیہ ہے کھانا کھلانا ایک مسکین کو۔ پھر جو شخص کرے گا اپنی خوشی سے کوئی نیکی تو یہ بہتر ہے اسی کے لیے۔ اور یہ کہ روزہ رکھو تم، بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم سمجھو۔

۲:۱۸۵ رمضان کا مہینہ وہ  (مہینہ) ہے نازل کیا گیا جس میں قرآن  (جو) ہدایت ہے انسانوں کے لیے اور  (اس میں) روشن نشانیاں ہیں ہدایت کی اور  (حق کو باطل سے) جدا کرنے کی سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینے کو تو لازم ہے اس پر کہ روزے رکھے اس میں۔ اور جو شخص ہو بیمار یا سفر میں تو تعداد پوری کرے دوسرے دنوں میں  (یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ) چاہتا ہے اللہ تمہارے لیے آسانی اور نہیں چاہتا تمہارے لیے دَشواری اور اس لیے کہ پُورا کر لو تم گنتی کو اور اس لیے کہ کبریائی بیان کرو تم اللہ کی اس ہدایت پر جو عطا کی اس نے تم کو اور اس لیے بھی کہ شکر گزار بنو تم۔

۲:۱۸۶ اور جب پوچھیں تم سے  (اے محمد) میرے بندے میرے بارے میں تو بیشک میں تو قریب ہی ہوں۔ جواب دیتا ہوں میں پکارنے والے کی پکار کا جب پکارتا ہے وہ مجھے تو چاہیے کہ وہ حکم مانیں میرا اور یقین رکھیں مجھ پر تاکہ وہ راہ راست پا لیں۔

۲:۱۸۷ حلال کیا گیا ہے تمہارے لیے روزے کی رات میں بے حجاب ہونا اپنی بیویوں کے ساتھ۔ وہ لباس ہیں تمہارے لیے اور تم لباس ہو ان کے لیے ۔ جانتا ہے اللہ کہ بیشک تم خیانت کرتے تھے اپنے آپ سے سو عنایت فرمائی اس نے تم پر اور درگزر کیا تم سے لہٰذا اب مباشرت کرو ان سے اور طلب کرو اس کو جو مقدر کر رکھا ہے اللہ نے تمہارے لیے اور کھاؤ اور پیو حتیٰ کہ نمایاں  نظر آ جائے تم کو  (صبح کی) سفید دھاری  (رات کی) سیاہ دھاری سے فجر کو،  پھر پورا کرو تم روزے کو رات تک اور مت مباشرت کرو ان سے جبکہ تم معتکف ہو، مساجد میں، یہ حدیں ہیں  (مقرّر کردہ) اللہ کی پس نہ نزدیک جانا تم ان کے۔ اس طرح کھول کھول کر بیان کرتا ہے اللہ اپنے احکام لوگوں کے لیے تاکہ وہ  (غلط رویّے سے) بچیں۔

۲:۱۸۸ اور نہ کھاؤ تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق اور  (نہ) پہنچاؤ اس کو حاکموں تک اس غرض سے کہ کھا جاؤ کچھ حصّہ لوگوں کے مال کا ناجائز طریقے سے حالانکہ تم جانتے ہو۔

۲:۱۸۹ پوچھتے ہیں تم سے نئے چاند کے بارے میں۔ کہو یہ، تاریخیں مقرر کرنے کا ذریعہ ہیں لوگوں کے لیے اور حج  (کے اوقات)۔ کا بھی اور نہیں ہے نیکی یہ کہ آؤ تم، گھروں میں ان کے پچھواڑے سے بلکہ نیکوکار وہ ہے جو ڈرے اللہ سے ا ور آؤ تم گھروں میں ان کے دروازوں سے اور ڈرتے رہو اللہ سے تاکہ تم فلاح پاؤ۔

۲:۱۹۰ اور لڑو اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جو لڑتے ہیں تم سے اور زیادتی نہ کرو۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا زیادتی کرنے والوں کو۔

۲:۱۹۱ اور قتل کرو انہیں  (بحالتِ جنگ) جہاں بھی پاؤ تم انہیں اور نکال دو تم انہیں جہاں سے نکالا ہو انہوں نے تم کو اور فتنہ زیادہ برا ہے قتل سے اور نہ لڑو تم ان سے مسجد حرام کے قریب جب تک کہ  (نہ) لڑیں وہ تم سے وہاں پھر اگر لڑیں وہ تم سے  (وہاں) تو قتل کرو تم ان کو یہی ہے سزا ایسے کافروں کی۔

۲:۱۹۲ پھر اگر وہ باز آ جائیں تو بیشک اللہ معاف فرمانے والا، ہر حالت میں رحم کرنے والا ہے۔

۲:۱۹۳ اور جنگ کرو ان سے حتی کہ نہ باقی رہے فتنہ اور ہو جائے دین صرف اللہ کے لیے۔ پھر اگر باز آ جائیں وہ تو نہیں  (روا) زیادتی مگر ظالموں پر۔

۲:۱۹۴ ماہِ حرام  (کی پابندی) ہے بدلے میں ماہِ حرام  (کی پابندی) کے اور تمام حرمتیں ادلے کا بدلہ ہیں لہٰذا جو شخص زیادتی کرے تم پر تو تم بھی زیادتی کرو اس پر ویسی ہی جیسی زیادتی کی ہو اس نے تم پر اور ڈرتے رہو اللہ سے اور یقین رکھو کہ بیشک اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔

۲:۱۹۵ اور خرچ کرو اللہ کی راہ میں اور نہ ڈالو  (خود کو) اپنے ہاتھوں ہلاکت میں اور احسان کا طریقہ اختیار کرو بیشک اللہ محبوب رکھتا ہے اچھے کام کرنے والوں کو۔

۲:۱۹۶ اور پورا کرو حج اور عمرہ اللہ کے لیے۔ پھر اگر کوئی رکاوٹ پیش آ جائے تو جو میسّر آ جائے کوئی قربانی کا جانور  (پیش کرو اللہ کے حضور) اور نہ مونڈو اپنے سر جب تک کہ نہ پہنچ جائے قربانی اپنی جگہ پر پھر جو شخص ہو تم میں سے بیمار یا ہو اسے کوئی تکلیف سر میں تو وہ بطور فدیہ روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر جب تمہیں اطمینان نصیب ہو تو جو شخص فائدہ اُٹھائے عمرہ کرنے کا حج کے ساتھ تو  (وہ ذبح کرے) جو میّسر آئے قربانی کا جانور پھر اگر کوئی نہ پائے  (قربانی کا جانور) تو روزے رکھے، تین دن کے حج  (کے دنوں) میں اور سات روزے جب  (گھر) لوٹے۔ یہ ہوئے پورے دس، یہ  (عمرہ کی اجازت) اس شخص کے لیے ہے، نہ ہو جس کا گھر بار مسجدِ حرام کے قریب۔ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور خُوب جان لو کہ بیشک اللہ بہت سخت ہے عذاب دینے میں۔

۲:۱۹۷ حج کے مہینے جانے پہچانے ہیں لہٰذا جس نے ارادہ کر لیا ان مہینوں میں حج کا تو  (جائز) نہیں بے حجاب ہونا عورت سے اور فسق و فجور اور نہ لڑائی جھگڑا حج کے دوران میں اور جو بھی کرتے ہو تم کوئی نیک کام جانتا ہے اسے اللہ۔ اور زادِ راہ لے کر چلو کہ بیشک بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے اور مجھ سے ڈرتے رہو اے عقل والو۔

۲:۱۹۸ نہیں ہے تم پر کوئی گناہ اس میں کہ تلاش کرو تم  (حج کے دوران) رزقِ حلال اپنے رب کے ہاں سے۔ پھر جب  (واپس) چلو تم عرفات سے تو ذکر کرو اللہ کا مشعر حرام  (مُزدلفہ) میں ٹھہر کر۔ اور ذکر کرو اللہ کا اسی طریقے سے جس کی ہدایت کی ہے اللہ نے تم کو اور اگرچہ تھے تم اس سے پہلے گمراہوں میں سے۔

۲:۱۹۹ علاوہ ازیں  (اے قریش!) تم بھی  (واپس) چلو جہاں سے روانہ ہوتے ہیں سب لوگ اور معافی مانگو اللہ سے۔ بیشک اللہ معاف فرمانے والا، ہر حالت میں رحم کرنے والا ہے۔۔

۲:۲۰۰ پھر جب ادا کر چکو تم مناسک اپنے حج کے تو ذکر کرو اللہ کا جیسے ذکر کیا کرتے تھے تم اپنے آباءو اجداد کا بلکہ اس سے بڑھ کر۔ سو کچھ لوگ تو ایسے ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! دے دے ہمیں دنیا ہی میں  (سب کچھ) اور نہیں ایسے شخص کے لیے آخرت میں کوئی حصّہ۔

۲:۲۰۱ اور کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب!عطا فرما ہمیں دُنیا میں بھی اچھائی اور بھلائی اور  آخرت میں بھی اچھائی اور بھلائی اور بچا تو ہمیں آگ کے عذاب سے۔

۲:۲۰۲ یہی لوگ ہیں کہ ہے ان کے لیے حصّہ ان کی کمائی کا۔ اور اللہ جلد حساب چُکانے والا ہے۔

۲:۲۰۳ اور یاد کرو اللہ کو گنتی کے چند دنوں میں۔ پھر جو جلدی چلا گیا دو ہی دنوں میں تو نہیں ہے کوئی گناہ اس پر اور جو ٹھہرا رہا تو نہیں ہے کوئی گناہ اس پر بھی  (یہ رعایت) اس کے لیے ہے جس نے تقویٰ اختیار کیا۔ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور خُوب جان لو کہ بیشک تم اسی کے حضور! اکٹھے کیے جاؤ گے۔

۲:۲۰۴ اور انسانوں میں سے کوئی تو  (ایسا) ہے کہ پسند آتی ہیں تم کو اس کی باتیں دُنیاوی زندگی کے اعتبار سے اور گواہ ٹھہراتا ہے وہ اللہ کو اس پر جو اس کے دل میں ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔

۲:۲۰۵ اور جب جاتا ہے  (تمہارے پاس سے) تو دوڑ دھوپ کرتا ہے زمین میں کہ فساد پھیلائے اس میں اور تباہ و برباد کرے کھیتی کو اور نسل کو حالانکہ اللہ نہیں پسند کرتا فساد کو۔

۲:۲۰۶ اور جب کہا جاتا ہے اس سے کہ ڈرو اللہ سے تو آمادہ کرتا ہے اس کو غرور نفس گناہ پر سو کافی ہے اس کے لیے جہنّم اور وہ بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے۔

۲:۲۰۷ اور انسانوں میں ہی سے کوئی ایسا بھی ہے جو کھپا دیتا ہے اپنی جان اللہ کی رضا جوئی میں اور اللہ بہت ہی مہربان ہے اپنے بندوں پر ۔

۲:۲۰۸ اے ایمان والو! داخل ہو جاؤ اسلام میں پُورے پُورے اور نہ چلو شیطان کے نقش قد م پر بیشک وہ تمہارا کھُلا دُشمن ہے۔

۲:۲۰۹ پھر اگر تم ڈگمگا گئے اس کے بعد بھی کہ آ چُکے ہیں تمہارے پاس واضح احکام تو جان رکھو کہ بیشک اللہ زبردست ہے بڑی حکمت والا ہے۔

۲:۲۱۰ کیا انتظار کرتے ہیں یہ لوگ اس بات کا کہ آ جائے ان کے پاس خود اللہ، ابر کے سائبانوں میں، فرشتے ساتھ لیے اور فیصلہ کر ڈالا جائے معاملہ کا۔ اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جانے والے ہیں سارے معاملات۔

۲:۲۱۱ پُوچھ لو، بنی اسرائیل سے کہ کس قدر دی تھیں ہم نے ان کو کھُلی کھُلی نشانیاں۔ اور جو کوئی بدل دے اللہ کی نعمت کو اس کے بعد کہ آ چُکی ہو وہ اس کے پاس تو بیشک اللہ بہت سخت ہے عذاب دینے میں۔

۲:۲۱۲ خوشنما بنا دیا گیا ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر اختیار کیا دنیاوی زندگی کو اور مذاق اڑاتے ہیں یہ ان لوگوں کا جو ایمان والے ہیں۔ اور وہ لوگ جو متقی ہیں برتر ہوں گے ان سے قیامت کے دن۔  (رہا دنیا کا رزق) تو اللہ رزق دیتا ہے جسے چاہے بے حساب۔

۲:۲۱۳ تھے سب انسان ایک ہی امت۔  (پھر ان میں اختلافات ہو گئے) تو بھیجے اللہ نے انبیا بشارت دینے والے اور خبردار کرنے والے اور نازل کی ان کے ساتھ اپنی کتاب، مبنی بر حق تاکہ فیصلہ کرے وہ لوگوں کے درمیان ان باتوں کا اختلاف کرتے تھے وہ جن میں۔ اور نہیں اختلاف کیا کتاب میں مگر ان لوگوں نے جنہیں دی گئی تھی وہ اس کے بعد کہ آ چُکے تھے ان کے پاس واضح احکام، محض آپس کی ضد کی بنا پر پھر ہدایت دی اللہ نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے  (محمد پر) ان باتوں میں جن میں اختلاف کیا کرتے تھے  (پہلے لوگ) حق کی اپنے حکم سے۔ اور اللہ ہی ہدایت دیتا ہے جسے چاہے سیدھے راستے کی۔

۲:۲۱۴ پھر کیا سمجھ رکھا ہے تم نے  (اے مُسلمانو!) کہ داخل ہو جاؤ گے تم جنّت میں جبکہ ابھی نہیں پیش آئے تم کو احوال ان لوگوں کے سے جو ہو گزرے ہیں تم سے پہلے۔ پہنچی اُن کو تنگ دستی اور مصیبت و الم اور  وہ ڈول گئے حتّیٰ کہ پکار اُٹھا رسول اور وہ لوگ جو ایمان لائے تھے اس کے ساتھ! کب آئے گی مدد اللہ کی؟  (جواب آیا) سن لو! مدد اللہ کی آیا ہی چاہتی ہے۔

۲:۲۱۵ پُوچھتے ہیں لوگ تم سے کہ کیا چیز خرچ کریں وہ؟ کہو جو کچھ خرچ کرو تم مال میں سے سو وہ ہے والدین کے لیے، رشتہ داروں کے لیے اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے۔ اور جو بھی کرتے ہو تم کوئی بھلائی تو بیشک اللہ اس سے پُوری طرح باخبر ہے۔

۲:۲۱۶ فرض کیا گیا تم پر جنگ کرنا اور وہ ناگوار ہے تمہیں اور ہو سکتا ہے کہ ناپسند کرو تم کسی چیز کو جبکہ ہو وہ بہتر تمہارے حق میں اور ہو سکتا ہے کہ پسند کرو تم کسی چیز کو جبکہ ہو وہ بُری تمہارے حق میں۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

۲:۲۱۷ پُوچھتے ہیں تم سے حرمت والے مہینے کے بارے میں کہ جنگ کرنا اس میں  (کیسا ہے؟)۔ کہو جنگ کرنا اس میں بڑا گناہ ہے۔ لیکن روکنا اللہ کی راہ سے اور نہ ماننا اللہ کو اور  (روکنا) مسجدِ حرام سے اور نکال دینا اہلِ حرم کو وہاں سے اس سے بھی بڑا گناہ ہے اللہ کے نزدیک اور فتنہ انگیزی بڑا  (گناہ) ہے قتل سے بھی۔ اور وہ تو تم سے لڑے ہی جائیں گے یہاں تک کہ پھیر دیں تم کو تمہارے دین سے اگر ان کا بس چلے۔ اور جو شخص پھرے گا تم میں سے اپنے دین سے پھر مر جائے کافر ہی، تو یہی لوگ ہیں کہ ضائع ہو جائیں گے ان کے اعمال دُنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور یہی لوگ ہیں جہنمی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

۲:۲۱۸ بیشک جو لوگ ایمان لانے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں یہی لوگ اُمیدوار  رہتے ہیں اللہ کی رحمت کے۔ اور اللہ بہت زیادہ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔

۲:۲۱۹ پُوچھتے ہیں تم سے  (حکم) شراب کا اور جُوئے کا۔ کہہ دو ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور کچھ فائدے بھی ہیں لوگوں کے لیے مگر ان کا گناہ زیادہ بڑا ہے ان کے فائدے سے۔ اور پُوچھتے ہیں تم سے کہ کیا خرچ کریں  (اللہ کی راہ میں)۔ کہو جو زائد ہو  (ضرورت سے) اس طرح کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔ اللہ تمہارے لیے احکام تاکہ تم غور و فکر کرو۔

۲:۲۲۰   (غور و فکر کرو) دُنیا اور آخرت کے بارے میں۔ اور پُوچھتے ہیں تم سے یتیموں کے بارے میں۔ کہو  (جس میں ہو) بھلائی ان کے لیے وہی بہتر ہے اور اگر تم اپنا اور  ان کا خرچ اکٹّھا کر لو تو بہر حال وہ تمہارے بھائی ہیں۔ اور اللہ خُوب جانتا ہے کہ خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون ہے۔ اور اگر چاہتا اللہ تو تم پر مشقت ڈال دیتا۔ بیشک اللہ زبردست اور بڑی حکمت والا ہے۔

۲:۲۲۱ اور نہ نکاح کرنا تم مشرک عورتوں سے جب تک کہ نہ ایمان لے آئیں وہ۔ اور البتّہ ایک مومن لونڈی کہیں بہتر ہے مشرک عورت سے اگرچہ وہ بہت پسند ہو تمہیں اور نہ نکاح کرنا تم  (اپنی عورتوں کا) مشرک مردوں سے جب تک کہ نہ ایمان لے آئیں وہ۔ اور البتّہ ایک مومن غلام کہیں بہتر ہے مشرک مرد سے اگرچہ وہ بہت پسند ہو تمہیں۔ یہ  (مشرک) بلاتے ہیں دوزخ کی طرف اور اللہ بلاتا ہے جنّت اور مغفرت کی طرف اپنے اذن سے اور کھول کھول کر بیان کرتا ہے اپنے احکام لوگوں کے لیے تاکہ وہ نصیحت قبول کریں۔

۲:۲۲۲ اور پُوچھتے ہیں تم سے حیض کے بارے میں۔ کہہ دو وہ تو گندگی ہے سو الگ رہو تم عورتوں سے ایّامِ حیض میں اور نہ قربت کرو ان سے جب تک کہ وہ پاک نہ ہو جائیں پھر جب خُوب پاک ہو جائیں وہ تو جاؤ ان کے پاس اس طرح جیسے حکم دیا ہے تم کو اللہ نے۔ بیشک اللہ پسند کرتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور دوست رکھتا ہے پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو۔

۲:۲۲۳ تمہاری عورتیں کھیتیاں ہیں تمہاری سو جاؤ اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو اور آگے کی تدبیر کرو اپنے واسطے۔ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور خوب جان لو کہ یقیناً تمہیں پیش ہونا ہے اس کے حضور۔ اور خوشخبری دے دو   ( اے پیغمبر!) ایمان والوں کو۔

۲:۲۲۴ اور مت بناؤ اللہ  (کے نام) کو حیلہ اپنی قسموں کے لیے اس طرح  (کہ قسم کھاؤ اللہ کی) نیکی نہ کرنے، پرہیز گاری کے کام نہ کرنے اور صلح نہ کرانے کی لوگوں کے درمیان۔ اور اللہ ہر بات سُننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔

۲:۲۲۵ نہیں مواخذہ کرتا اللہ تمہاری لغو قسموں پر لیکن مواخذہ کرتا ہے تمہارا ان قسموں پر جو تم دل سے کھاتے ہو۔ اور اللہ بخشنے والا، بُرد بار ہے۔

۲:۲۲۶ ان لوگوں کے لیے جو قسم کھا لیتے ہیں اپنی عورتوں کے پاس نہ جانے کی، مہلت ہے چار مہینے کی پھر اگر رجوع کر لیں تو بیشک اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔

۲:۲۲۷ اور اگر ارادہ کر لیں طلاق کا تو بیشک اللہ ہر بات سُننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

۲:۲۲۸ اور طلاق یافتہ عورتیں روکے رکھیں اپنے اپ کو تین حیض تک۔ اور نہیں جائز ہے ان کے لیے یہ کہ چھپائیں وہ اس کو جو کچھ پیدا کیا ہے اللہ نے ان کے رحم میں اگر وہ ایمان رکھتی ہیں اللہ پر اور آخرت کے دن پر۔ اور ان کے خاوند زیادہ حقدار ہیں انہیں لوٹا لینے کے  (اپنی زوجیت میں) اس  (مُدّت) میں اگر وہ چاہیں صلح کرنا۔ اور عورتوں کے بھی حقوق ہیں ویسے ہی جیسے ان پر ہیں  (مردوں کے) دستور کے مطابق البتّہ مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ حاصل ہے۔ اور اللہ غالب ہے بڑی حکمت والا ہے۔

۲:۲۲۹ طلاق دو بار ہے پھر یا تو روک لیا جائے اچھّے طریقے سے یا رخصت کر دیا جائے بھلے طریقے سے۔ اور نہیں جائز ہے تمہارے لیے یہ کہ واپس لو تم اس میں سے جو دے چُکے ہو انہیں کچھ بھی مگر یہ کہ  (میاں بیوی) دونوں ڈریں اس بات سے کہ نہ قائم رکھ سکیں گے اللہ کی  (مقرر کردہ) حدیں۔ پھر اگر ڈر ہو تم لوگوں کو بھی اس بات کا کہ نہ قائم رکھ سکیں گے وہ دونوں اللہ کی حدوں کو تو نہیں ہے کچھ گناہ ان دونوں پر اس  (معاوضہ) میں جو بطور فدیہ دے عورت۔ یہ ہیں اللہ کی  (مقرر کردہ) حدیں سو نہ تجاوز کرنا تم ان سے اور جو کوئی تجاوز کرتا ہے اللہ کی  (مقرر کردہ) حدوں سے تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں۔

۲:۲۳۰ پھر اگر طلاق دے دی مرد نے بیوی کو  (تیسری بار) تو نہیں حلال ہو گی وہ اس کے لیے اس کے بعد جب تک کہ نہ نکاح کرے وہ کسی اور خاوند سے اس کے سوا۔ پھر اگر طلاق دے دے  (دوسرا)خاوند اس کو تو نہیں ہے کچھ گناہ ان دونوں پر اس بات میں کہ رجوع کر لیں ایک دوسرے کی طرف بشرطیکہ دونوں یہ خیال کریں کہ قائم رکھیں گے دونوں اللہ کی  (مقرر کردہ)۔حدیں۔اور یہ اللہ کی  (مقرر کردہ) حدیں ہیں جن کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے وہ ان لوگوں کے لیے جو دانشمند ہیں۔

۲:۲۳۱ اور جب طلاق دے دو تم عورتوں کو پھر پوری ہونے کو آئے ان کی عدت پھر یا تو روک لو انہیں اچھے طریقے سے یا رخصت کر دو انہیں اچھے طریقے سے اور مت روکے رکھو انہیں ستانے کی خاطر تاکہ تم زیادتی کر سکو اور جو ایسا کرے گا وہ درحقیقت ظلم کرے گا اپنے اوپر۔ اور مت بناؤ احکام الٰہی کو ہنسی کھیل اور یاد کرو اللہ کے احسان کو جو تم پر ہے اور اس کو بھی کہ نازل کی اس نے تم پر کتاب اور حکمت جن کے ذریعے سے نصیحت کرتا ہے تم کو۔اور ڈرتے رہو اللہ سے اور جان رکھو کہ بیشک اللہ سب کچھ  جانتا ہے ۔

۲:۲۳۲ اور جب طلاق دے دو تم عورتوں کو پھر پوری کر لیں وہ اپنی عدت تو مت روکو انہیں اس سے کہ نکاح کر لیں وہ اپنے  (سابقہ یا دوسرے) شوہروں سے جبکہ راضی ہوں وہ دونوں باہم  (نکاح کرنے پر) جائز طریقے سے اس حکم کے ذریعہ سے نصیحت کی جاتی ہے اس کو جو رکھتا ہے تم میں سے ایمان اللہ پر اور روز آخرت پر۔ یہی طریقہ ہے نہایت شائستہ تمہارے لیے اور پاکیزہ۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

۲:۲۳۳ اور مائیں دودھ پلائیں اپنے بچّوں کو دو سال پُورے اس شخص کے لیے جو چاہے کہ پُوری ہو دُودھ پلانے کی مُدّت اور  باپ کے ذمّہ ہے ان کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق۔ نہیں بوجھ ڈالا جاتا کسی شخص پر مگر اس کی طاقت کے مطابق نہ نقصان پہنچایا جائے ماں کو اس کے بچّے کی وجہ سے اور نہ باپ کو اس کے بچّے کی وجہ سے اور وارث پر بھی  (ذمّے داری) ہے اسی طرح کی پھر اگر ارادہ کر لیں وہ دونوں دُودھ چھُڑا نے کا۔ باہمی رضامندی اور مشورے سے تو کوئی گناہ نہیں ان دونوں پر اور اگر چاہو تم یہ کہ دُودھ پلواؤ  (کسی دایہ سے) اپنی اولاد کو تو بھی کچھ گناہ نہیں تم پر، بشرطیکہ ادا کرو تم جو دینا ٹھہرایا تھا تم نے، دستور کے مطابق۔ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور جان رکھو کہ بیشک اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اسے پُوری طرح دیکھ رہا ہے۔

۲:۲۳۴ اور جو لوگ مر جائیں تم میں سے اور چھوڑ جائیں بیویاں تو روکے رکھیں وہ اپنے آپ کو  (نکاح سے) چار مہینے اور دس دن پھر جب پُوری کر چکیں وہ اپنی عدّت تو نہیں کچھ گناہ تم پر اس اقدام کا جو وہ کریں اپنے حق میں، دستور کے مطابق۔ اور اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔

۲:۲۳۵ اور نہیں کچھ گناہ تم پر اس میں کہ اشارے کنائے میں دو تم پیغامِ نکاح ان عورتوں کو یا چھُپائے رکھو اپنے دل میں۔ اللہ جانتا ہے کہ تم ضرور سوچتے ہو گے ان کے بارے میں لیکن نہ وعدہ کرو ان سے  (نکاح کا) پوشیدہ طور پر البتّہ یہ کہ کہو کوئی بات معروف طریقہ سے اور نہ پختہ کرو ارادہ عقدِ نکاح کا جب تک کہ نہ پُوری ہو جائے عدت۔ اور جان رکھو کہ بیشک اللہ جانتا ہے اس کو جو تمہارے دلوں میں ہے لہٰذا اس سے ڈرتے رہو اور یہ بھی جان رکھو کہ بیشک اللہ بخشنے والا، بُرد بار ہے۔

۲:۲۳۶ نہیں ہے کچھ گناہ تم پر اگر طلاق دے دو تم عورتوں کو قبل اس کے کہ چھوا ہو تم نے انہیں یا مقرر کیا ہو ان کے لیے مہر اور کچھ نہ کچھ ضرور دو انہیں۔ جو خوشحال ہو  (وہ دے) اپنے مقدور کے مطابق اور تنگدست اپنے مقدور کے مطابق یہ دینا دستور کے مطابق ہو، لازم ہے یہ نیک لوگوں پر ۔

۲:۲۳۷ اور اگر طلاق دو تم عورتوں کو پہلے اس سے کہ ہاتھ لگاؤ تم انہیں جبکہ مقرر کر چُکے تھے تم ان کے لیے مہر تو  (دینا ہو گا) آدھا مہر الّا یہ کہ بخش دیں وہ عورتیں  (مہر) یا چھوڑ دے  (اپنا حق) وہ شخص جس کے ہاتھ میں ہے عقدِ نکاح اور یہ کہ چھوڑ دو تم مرد  (اپنا حق) یہ زیادہ قریب ہے تقویٰ سے اور مت بھولو احسان کرنا ایک دوسرے کے ساتھ، بیشک اللہ تمہارے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے۔

۲:۲۳۸ حفاظت کرو سب نمازوں کی بالخصوص بیچ والی نماز کی اور کھڑے رہو اللہ کے حضور ادب و نیاز سے۔

۲:۲۳۹ پھر اگر تم خوف کی حالت میں ہو تو پیدل چلتے ہوئے یا سوار  (نماز ادا کر لو) پھر جب امن میسر آ جائے تو یاد کرو اللہ کو  (یعنی نماز ادا کرو) جس طرح سکھایا ہے اس نے تم کو، جو تم پہلے نہیں جانتے تھے۔

۲:۲۴۰ اور جو لوگ وفات پا جائیں تم میں سے اور چھوڑ جائیں بیویاں  (لازم ہے ان پر) وصیّت کرنا اپنی بیویوں کے لیے نان و نفقہ کی ایک برس تک بغیر گھر سے نکالے پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو کچھ گناہ نہیں تم پر اس میں جو وہ کریں اپنی ذات کے بارے میں کوئی جائز اقدام اور اللہ سب پر غالب۔ بڑی حکمت والا ہے۔

۲:۲۴۱ اور طلاق یافتہ عورتوں کو بھی کچھ نہ کچھ دینا چاہیے دستور کے مطابق یہ حق ہے اللہ سے ڈرنے والوں پر۔

۲:۲۴۲ اس طرح کھول کھول کر بیان کرتا ہے اللہ تمہارے لیے اپنے احکام تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔

۲:۲۴۳ کیا نہیں دیکھا تم نے ان لوگوں کو جو نکلے تھے اپنے گھروں سے اور تھے وہ ہزاروں کی تعداد میں موت کے ڈر سے تو حُکم دیا انہیں اللہ نے کہ مر جاؤ۔ پھر ان کو زندہ کر دیا۔ بیشک اللہ بڑا ہی فضل کرنے والا ہے انسانوں پر مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔

۲:۲۴۴ اور  (اے مسلمانو!) جنگ کرو اللہ کی راہ میں اور خوب جان رکھو کہ بیشک اللہ ہر بات سُننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

۲:۲۴۵ کون ہے وہ جو قرض دے اللہ کو قرضِ حسنہ تاکہ بڑھا چڑھا کر واپس کرے اللہ اسے کئی گنا بڑھانا اور اللہ ہی تنگدستی لاتا ہے اور خوشحالی بھی اسی کی طرف تمہیں لَوٹ کر جانا ہے۔

۲:۲۴۶ بھلا نہیں دیکھا تم نے سردارانِ بنی اسرائیل  (کے اس واقعہ) کو موسیٰ کے بعد۔ جب کہا تھا انہوں نے اپنے ایک نبی سے کہ مقرّر کر دیجیے ہمارے لیے ایک بادشاہ تاکہ ہم جنگ کریں اللہ کی راہ میں۔ نبی نے کہا: کہیں ایسا تو نہیں ہو گا کہ اگر حُکم دیا جائے تم کو جنگ کا تو تم نہ لڑو کہنے لگے بھلا کیا ہوا ہے ہمیں کہ نہ لڑیں ہم اللہ کی راہ میں جبکہ نکالا گیا ہے ہمیں ہمارے گھروں سے اور  (جدا کیا گیا ہے) بال بچوں سے۔  پھر جب حُکم دیا گیا انہیں جنگ کا تو سب پھر گئے سوائے چند ایک کے ان میں سے۔ اور اللہ خُوب جانتا ہے ظالموں کو۔

۲:۲۴۷ اور کہا ان سے ان کے نبی نے کہ اللہ نے مقرّر کیا ہے تمہارے لیے طالوت کو بادشاہ، کہنے لگے کیونکر ہو سکتا ہے اسے حق حُکمرانی ہم پر جبکہ ہم زیادہ حقدار ہیں حکمرانی کے اس سے اور نہیں دی گئی ہے اسے بہت سی دولت، نبی نے کہا بیشک اللہ نے فضیلت دی ہے اسے تم پر اور عطا فرمائی ہے اس کو فراوانی علم و عقل میں اور جسمانی طاقت میں اور اللہ عطا فرماتا ہے اپنا ملک جس کو چاہتا ہے۔ اور اللہ ہے وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا۔

۲:۲۴۸ اور کہا ان سے ان کے نبی نے کہ نشانی اس کی بادشاہی کی یہ ہے کہ آئے گا تمہارے پاس وہ صندوق جس میں ہو گی تسکین تمہارے رب کی طرف سے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں جو چھوڑی ہیں آلِ موسیٰ اور آلِ ہارون نے اٹھائے لا رہے ہوں گے جسے فرشتے بیشک اس میں ایک بڑی نشانی ہے تمہارے لیے اگر ہو تم مومن۔

۲:۲۴۹ پھر جب چلا طالوت لشکر لے کر تو اس نے کہا بیشک اللہ آزمائش کرے گا تمہاری ایک دریا سے سو جو شخص پئے گا  (پانی) اس میں سے تو وہ نہیں ہے میرا ساتھی اور جو نہ پیئے گا اسے تو ہو بیشک میرا ساتھی ہے ہاں اگر کوئی بھر لے چلّو بھر  (پانی) اپنے ہاتھ سے  (خیر) مگر پی لیا انہوں نے اس میں سے  (سیر ہو کر) سوائے گروہ قلیل کے ان میں سے۔ پھر جب پار ہوا دریا سے وہ خود اور اہلِ ایمان جو اس کے ساتھ تھے تو کہنے لگے نہیں ہے مقابلے کی طاقت ہم میں آج، جالوت اور اس کے لشکر سے۔ کہنے لگے وہ لوگ جو سمجھتے تھے کہ انہیں حاضر ہونا ہے اللہ کے سامنے، کہ بارہا ایک گروہ قلیل غالب آیا ہے بڑے گروہ پر اللہ کے حُکم سے۔ اور اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے۔

۲:۲۵۰ اور جب مقابل آئے وہ جالوت اور کے لشکر کے تو انہوں  نے دعا کی  –  اے ہمارے رب فیضان کر ہم پر صبر کا اور جمائے رکھ ہمارے قدم اور فتح عطا فرما ہمیں کافر لوگوں پر۔

۲:۲۵۱ پس شکست دے دی انہوں نے کافروں کو اللہ کے اذن سے، اور قتل کر دیا داؤد نے جالوت کو اور عطا کی اس کو اللہ نے سلطنت اور حکمت اور سکھایا اس کو جو کچھ چاہا۔ اور اگر نہ ہٹاتا رہتا اللہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے سے تو نظام بگڑ جاتا زمین کا لیکن اللہ بڑا مہربان ہے اہلِ عالم پر۔

۲:۲۵۲ یہ ہیں اللہ کی آیات جو ہم پڑھ کر سنا رہے ہیں تم کو ٹھیک ٹھیک۔ اور یقیناً تم  (اے محمد) اللہ کے رسولوں میں سے ہو۔

۲:۲۵۳ یہ سب رسول، فضیلت دی ہے ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر، ان میں سے کوئی ایسا تھا جس سے ہم کلام ہوا اللہ اور بلند کیے بعض کے مرتبے۔ اور عطا کیں ہم نے عیسیٰ بن مریم کو کھُلی نشانیاں اور مدد کی ہم نے اس کی رُوح القدس سے۔ اور اگر چاہتا اللہ تو نہ لڑتے آپس میں وہ لوگ جو ان رسولوں کے بعد ہوئے اس کے بعد کہ آ چُکی تھیں ان کے پاس کھُلی نشانیاں لیکن انہوں نے باہم اختلاف کیا پھر کوئی تو ان میں سے ایمان لے آیا اور کسی نے کفر اختیار کیا اور اگر چاہتا اللہ تو نہ لڑتے یہ لوگ آپس میں لیکن اللہ کرتا ہے وہی جو چاہتا ہے۔

۲:۲۵۴ اے ایمان والو! خرچ کرو اس میں سے جو  (مال و متاع) دیا ہم نے تم کو، اس سے پہلے کہ آئے وہ دن کہ نہ ہو گی سودے بازی جس میں اور نہ  (کام آئے گی) دوستی اور نہ ہی سفارش۔ اور جو اس کے منکر ہیں وہی ظالم ہیں

۲:۲۵۵ اللہ کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے زندۂ جاوید ہے، پوری کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے۔ نہیں آتی اس کو اونگھ اور نہ نیند۔ اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں۔ کون ہے جو سفارش کر سکے اس کے حضور بغیر اس کی اجازت کے۔ وہ جانتا ہے اسے بھی جو بندوں کے سامنے ہے اور وہ بھی جو ان سے اوجھل ہے  اور نہیں احاطہ کر سکتے وہ، ذرا بھی اس کے علم میں سے مگر جس قدر وہ چاہے، حاوی ہے اس کی کرسی آسمانوں اور زمین پر، اور نہیں تھکاتی اس کو نگہبانی ان دونوں کی، اور وہی ہے برتر اور عظیم۔

۲:۲۵۶ نہیں کوئی زبردستی دین کے معاملہ میں بیشک صاف طور پر الگ ہو چکی ہے ہدایت گمراہی سے، سو جس نے انکار کیا طاغوت کا اور ایمان لایا اللہ پر تو یقیناً اس نے تھام لیا ایک ایسا مضبوط سہارا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔ اور اللہ سب کچھ سُننے والا، ہر بات جاننے والا ہے۔

۲:۲۵۷ اللہ حامی و مدد گار ہے ان لوگوں کا جو ایمان لاتے ہیں نکالتا ہے ان کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف۔ اور وہ لوگ جو کفر اختیار کرتے ہیں ان کے حامی و مدد گار طاغوت ہیں جو، نکالتے ہیں ان کو روشنی سے تاریکیوں کی طرف۔ یہی لوگ ہیں اہلِ دوزخ، یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

۲:۲۵۸ کیا نہیں غور کیا تم نے اس شخص  (کے حال) پر جس نے جھگڑا کیا تھا ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں اس بنا پر کہ عطا کر رکھی تھی اس کو اللہ نے سلطنت، جب کہا تھا ابراہیم نے میرا رب وہ ہے جو زندگی بخشتا ہے اور مارتا ہے اس نے کہا میں بھی زندگی بخشتا ہوں اور مارتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا اچھا! اللہ تو نکالتا ہے سورج کو مشرق سے، ذرا نکال لا تو اس کو مغرب سے سو مبہوت ہو کر رہ گیا وہ جو کافر تھا اور اللہ نہیں دیا کرتا ہدایت بے انصاف لوگوں کو۔

۲:۲۵۹ یا اسی طرح کیا  (نہیں دیکھا تم نے) اس شخص کو  جو گزرا ایک بستی سے جبکہ وہ اوندھی پڑی تھی اپنی چھتوں پر تو اس نے کہا کیونکر زندہ کرے گا اس  (آبادی) کو اللہ اس کے مرنے کے بعد تو مُردہ رکھا اس کو اللہ نے سو برس تک پھر دوبارہ زندہ کیا اسے  اور پُوچھا کتنی مدّت پڑے رہے ہو تم؟  وہ بولا رہا ہوں میں ایک دن یا دن کا کچھ حصّہ فرمایا بلکہ رہے ہو تم سو برس اب ذرا دیکھو اپنے کھانے کو اور پانی کو کہ سڑے بُسے نہیں، اور دیکھو اپنے گدھے کو بھی  (جو مرا پڑا ہے) اور یہ اس لیے  (کیا ہے) کہ بنائیں ہم تمہیں ایک نشانی لوگوں کے لیے، لو دیکھو! اس کی ہڈیوں کو، کس طرح اُٹھا کھڑا کرتے ہیں ہم ان کو پھر چڑھاتے ہیں ان پر گوشت۔ چنانچہ جب نمایاں ہو گئی حقیقت اس پر۔ تو بول اٹھا، میں جانتا ہوں کہ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۲:۲۶۰ اور  (غور کرو اس واقعہ پر بھی) جب کہا تھا ابراہیم نے اے میرے رب! دکھا مجھے کیسے زندگی کرے گا تو مردوں کو۔ فرمایا کیا تم ایمان نہیں رکھتے؟ عرض کیا کیوں نہیں! لیکن چاہتا ہوں کہ مطمئن ہو جائے میرا دل۔ فرمایا اچّھا تو لے لو چار پرندے اور مانوس کر لو انہیں اپنے ساتھ پھر رکھ دو ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا پھر پکارو انہیں چلے آئیں گے وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے اور خوب جان لو کہ بیشک اللہ غالب اور صاحبِ حکمت ہے۔

۲:۲۶۱ مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں، ایسی ہے جیسے ایک دانہ، اُگائے ساتھ بالیں، ہر بالی میں  (ہوں) سو دانے۔ اور اللہ بڑھاتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے۔ اور اللہ ہے بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا۔

۲:۲۶۲ جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں پھر نہیں جتاتے خرچ کرنے کے بعد کوئی احسان اور نہ ستاتے ہیں، ان کے لیے ہے ان کا اجر ان کے رب کے پاس اور نہ کوئی خوف ہے ان کے لیے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

۲:۲۶۳ ایک میٹھا بول اور درگزر کرنا بہتر ہے ایسی خیرات سے جس کے پیچھے ہو ایذا رسانی۔ اور اللہ غنی بھی ہے اور بردبار بھی۔

۲:۲۶۴ اے ایمان والو! مت ضائع کرو اپنے صدقات احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر، اس شخص کی طرح جو خرچ کرتا ہے اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے اور نہیں ایمان رکھتا اللہ پر اور آخرت کے دن پر تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان ہو اس پر ہو تھوڑی سی مٹّی اور برسے اس پر زور کا مینہ اور چھوڑ جائے اسے بالکل صاف چٹان۔ نہیں حاصل ہوتا انہیں کچھ بھی صلہ اپنی کمائی کا۔ اور اللہ نہیں ہدایت دیتا کافر لوگوں کو۔

۲:۲۶۵ اور مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی رضا جوئی کے لیے، دل کے پُورے ثبات و قرار کے ساتھ ایسی ہے جیسے ایک باغ ہو اونچی جگہ پر، پڑے اس پر زور کی بارش تو لائے وہ پھل دو گنا اور اگر نہ پڑے اس پر زور کی بارش تو ہلکی پھوار  (کافی ہے)۔ اور اللہ تمہارے عملوں کو خُوب دیکھ رہا ہے۔

۲:۲۶۶ کیا پسند کرتا ہے تم میں سے کوئی کہ ہو اس کا ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا بہہ رہی ہوں اس میں نہریں اس کے لیے ہوں اس باغ میں ہر قسم کے پھل اور آ لیا ہو اسے بڑھاپے نے اور ہو اس کی اولاد ناتواں پھر آ پڑے باغ پر ایک بگولا آگ کا بھرا ہوا اور وہ جل کر رہ جائے۔ اس طرح بیان کرتا ہے اللہ تمہارے لیے اپنی آیات تاکہ تم غور و فکر کرو۔

۲:۲۶۷ اے ایمان والو! خرچ کرو عمدہ اور پاکیزہ چیزیں اپنی کمائی میں سے اور اس میں سے جو نکالا ہے ہم نے تمہارے لیے زمین سے اور مت قصد کرو ایسی بُری چیز اس میں سے خرچ کرنے کا جسے تم خود لینا گوارا نہ کرو مگر یہ کہ چشم پوشی سے کام لو، اس کے بارے میں۔ اور جان رکھو کہ بیشک اللہ ہے بے نیاز اور قابلِ ستائش۔

۲:۲۶۸ شیطان ڈراتا ہے تمہیں مفلسی سے اور ترغیب دیتا ہے تم کو بے حیائی کے کاموں کی، مگر اللہ وعدہ کرتا ہے تم سے اپنی بخشش اور فضل کا۔ اور اللہ ہے بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا۔

۲:۲۶۹ عطا فرماتا ہے حکمت جسے چاہے اور جسے مل گئی حکمت سو درحقیقت مِل گئی اسے خیر کثیر۔ اور نہیں نصیحت قبول کرتے مگر اہلِ عقل

۲:۲۷۰ اور جو بھی کرتے ہو تم کسی قسم کا خرچ یا مانتے ہو تم کوئی منّت تو یقیناً اللہ اسے جانتا ہے، اور نہیں ہے ظالموں کا کوئی مدد گار۔

۲:۲۷۱ اگر علانیہ دو تم صدقات تو یہ بھی خوب ہے اور اگر چھپاؤ انہیں اور دو حاجت مندوں کو تو وہ زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے۔ اور محو کرے گا تمہاری کچھ بُرائیاں، اور اللہ تمہارے کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔

۲:۲۷۲ نہیں ہے تم پر  (اے نبی!) ذمہ داری ان کو راہ پر لانے کی بلکہ اللہ ہدایت بخشتا ہے جسے چاہتا ہے۔ اور جو بھی خرچ کرتے ہو تم کوئی مال  (بطور خیرات) تو اس کا فائدہ تم ہی کو ہے۔ اس لیے کہ نہیں خرچ کرتے ہو تم مگر حاصل کرنے کے لیے اللہ کی رضا۔ اور جو بھی تم کرچ کرتے ہو کوئی مال  (بطورِ خیرات) پُورا پُورا دے دیا جائے گا وہ تمہیں اور تمہاری حق تلفی نہ کی جائے گی۔

۲:۲۷۳   (خرچ کرو) ایسے حاجت مندوں پر جو رُکے بیٹھے ہیں اللہ کی راہ میں، نہیں طاقت رکھتے چلنے پھرنے کی زمین میں، سمجھتا ہے انہیں ایک ناواقف آدمی خوش حال، سوال نہ کرنے کی وجہ سے، پہچان سکتے ہو تم ان  (کی حالت) کو ان کے چہرے سے، نہیں مانگتے لوگوں سے پیچھے پڑ کر۔ اور جو بھی خرچ کرو گے تم کوئی مال بیشک اللہ اسے جانتا ہے۔

۲:۲۷۴ جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال  (اللہ کی راہ میں) رات کو اور دن کو چھپا کر اور علانیہ ان کا اجر ہے ان کے رب کے پاس اور  نہ کوئی خوف ہے ان کے لیے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

۲:۲۷۵ جو لوگ کھاتے ہیں سُود، نہیں اُٹھیں گے وہ  (روزِ قیامت) مگر جیسے اٹھتا ہے وہ شخص جسے باؤلا کر دیا ہو شیطان نے چھو کر۔ یہ  (حال) اس لیے ہو گا کہ وہ کہتے ہیں آخر تجارت بھی تو سود ہی کی مانند ہے۔ حالانکہ حلال کیا ہے اللہ نے تجارت کو اور حرام کر دیا ہے سود کو۔ لہٰذا جس کو پہنچ گئی نصیحت اس کے رب کی طرف سے اور وہ باز  آ گیا  (سود خوری سے) تو اس کا ہے وہ جو پہلے لے چُکا وہ۔ اور معاملہ اس کا اللہ کے حوالے اور جس نے پھر لیا  (سود) تو ایسے ہی لوگ ہیں جہنمی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

۲:۲۷۶ مٹاتا ہے اللہ سود کو اور بڑھاتا ہے صدقات کو۔ اور اللہ نہیں پسند کرتا کسی ناشکرے، گناہ گار کو۔

۲:۲۷۷ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور کیے انہوں نے نیک کام اور قائم رکھی نماز اور دیتے رہے زکوٰۃ ان کا اجر ہے ان کے رب کے پاس اور نہ کوئی خوف ہے ان کے لیے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

۲:۲۷۸ اے ایمان والو! ڈرو اللہ سے اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود  (لوگوں کے ذمّے) اگر ہو تم ایمان والے۔

۲:۲۷۹ پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تیار ہو جاؤ لڑنے کے لیے اللہ سے اور اس کے رسُول سے اور اگر تم توبہ کر لو  (اور سود چھوڑ دو) تو تم حقدار ہو اصل سرمائے کہ، نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔

۲:۲۸۰ اور اگر ہو  (قرضدار) تنگدست تو مہلت دو خوشحال ہونے تک اور یہ بات کہ بخش دو تم اسے زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے بشرطیکہ تم سمجھو

۲:۲۸۱ اور ڈرو اس دن سے کہ جب لوٹ کر جاؤ گے تم اس دن اللہ کے حضور۔ پھر پُورا پُورا دیا جائے گا ہر شخص کو  (بدلہ) اس کے کمائے ہوئے عملوں کا اور ان پر ہرگز ظلم نہ ہو گا۔

۲:۲۸۲ اے ایمان والو! جب لین دین کرو تم اُدھار کا کسی میعادِ معین کے لیے تو اسے لکھ لیا کرو۔ اور لکھے تمہارے درمیان کوئی لکھنے والا  انصاف کے ساتھ،  اور نہ انکار کرے لکھنے والا لکھنے سے جیسا کہ سکھایا ہے اس کو اللہ نے سو چاہیے کہ وہ لکھے-  اور تحریر لکھوائے وہ شخص جس پر قرض ہے اور چاہیے کہ ڈرے اللہ سے جو اس کا رب ہے اور کمی بیشی نہ کرے اس میں ذرا بھی ، اور اگر ہو وہ شخص جس پر قرض ہے کم عقل یا ضعیف یا قابلیّت نہ رکھتا ہو کہ تحریر لکھوائے وہ خود تو لکھوائے اس کا ولی انصاف کے ساتھ ۔ اور گواہ بنا لو دو گواہ اپنے مردوں میں سے پھر اگر نہ موجود ہوں دو مرد تو ایک مرد اور دو عورتیں، ایسے لوگوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو بطورِ گواہ تاکہ  (اگر) بھول بھٹک جائے ان میں سے ایک تو یاد دہانی کرا دے ان میں سے ایک دوسری کو۔ اور نہ انکار کریں گواہ جس وقت بھی بلائے جائیں۔ اور نہ تسا ہل کرو دستاویز لکھنے میں  (معاملہ) چھوٹا ہو یا بڑا، تعیینِ میعاد کے ساتھ ۔تمہارا ایسا کرنا زیادہ قرین انصاف ہے اللہ کے نزدیک اور بہت درست طریقہ ہے شہادت کے لیے اور زیادہ قریب ہے اس کے کہ نہ پڑو تم شک و شبہ میں۔ ہاں یہ کہ ہو لین دین دست بدست  (جس طرح) تم لیتے دیتے ہو آپس میں، سو نہیں ہے تم پر کچھ گناہ، نہ لکھنے میں اور گواہ کر لیا کرو جب تم سودا کرو اور نہ ستایا جائے لکھنے والے کو اور نہ گواہ کو۔ اور اگر تم ایسا کرو گے تو بیشک ہو گی یہ سخت گناہ کی بات تمہارے لیے۔ اور ڈرتے رہو اللہ سے۔ اور  (کیسی مفید باتیں) سکھاتا ہے تم کو۔ اللہ اور اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے۔

۲:۲۸۳ اور اگر ہو تم سفر میں اور نہ پاؤ کوئی لکھنے والا تو رہن با قبضہ پر  (معاملہ کرو)۔ پھر اگر اعتبار کر لے تم میں سے کوئی شخص دوسرے کا تو چاہیے کہ ادا کرے وہ شخص جس پر بھروسہ کیا گیا ہے اپنی امانت اور ڈرتا رہے اللہ سے جو اس کا رب ہے۔ اور مت چھُپاؤ گواہی کو۔ اور جو چھُپاتا ہے گواہی کو تو درحقیقت گنہگار ہے اس کا دل۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے پُوری طرح با خبر ہے۔

۲:۲۸۴ اللہ ہی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں۔ اور خواہ ظاہر کرو تم جو  تمہارے دلوں میں ہے یا چھپاؤ بہر حال حساب لے لے گا تم سے اس کا اللہ۔ پھر بخش دے گا جسے چاہے اور سزا دے گا جسے چاہے۔ اور اللہ ہر چیز پر پُوری قدرت رکھتا ہے۔

۲:۲۸۵ ایمان لایا رسول اس  (ہدایت) پر جو نازل ہوئی اس کی طرف اس کے رب کی طرف سے اور مومن بھی  (ایمان لائے)۔ یہ سب ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر۔  (وہ کہتے ہیں) نہیں فرق کرتے ہم اس کے رسُولوں کے درمیان کیس ایک میں دوسرے سے اور کہا انہوں نے کہ سنا ہم نے اور اطاعت کی، طالب ہیں ہم تیری بخشش کے، اے ہمارے رب ! اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

۲:۲۸۶ نہیں ذمّہ داری  (کا بوجھ) ڈالتا اللہ کسی شخص پر مگر اس کی قوّتِ برداشت کے مطابق۔ اسی کے لیے ہے وہ  (نیکی) جو اس نے کمائی اور اسی پر ہے  (وبال) اس  (بدی) کا جو اس نے کمائی۔ اے ہمارے رب! نہ مواخذہ کیجیو اگر بھُول یا چُوک ہر جائے ہم سے۔ اے ہمارے رب ! اور نہ ڈالیو ہم پر بھاری بوجھ جیسا کہ ڈالا تھا تو نے ان لوگوں پر جو ہم سے پہلے تھے، اے ہمارے رب! اور نہ اٹھوائیو ہم سے ایسا بار نہ ہو طاقت ہم میں جس کی۔ اور ہمیں معاف فرما دے اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا مولا ہے پس ہماری مدد فرما کافروں کے مقابلے میں۔

 

سورۃ آل عِمرَان

 شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

۳:۱ الف لام میم

۳:۲ اللہ کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے، زندۂ جاوید ہے، پُوری کائنات کو قائم رکھنے والا ہے

۳:۳ اسی نے نازل کی ہے تم پر یہ کتاب حق کے ساتھ، تصدیق کرتی ہوئی ان کتابوں کی جو اس سے پہلے موجود تھیں اور اسی نے نازل کی تورات اور انجیل۔

۳:۴ اس سے پہلے، انسانوں کی ہدایت کے لیے اور اسی نے نازل کیا فرقان۔ بے شک جن لوگوں نے انکار کیا، آیاتِ الٰہی کا انہی کے لیے ہے عذاب، سخت ترین۔ اور اللہ غالب ہے، برائی کا بدلہ دینے والا ہے۔

۳:۵ بے شک اللہ وہ ہے کہ نہیں پوشیدہ اس سے کوئی چیز زمین میں اور نہ آسمان میں۔

۳:۶ وہی تو ہے جو شکل و صورت بناتا ہے تمہاری، ماؤں کے پیٹ میں، جیسی چاہے، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے وہ سب پر غالب بڑی حکمت والا ہے۔

۳:۷ وہی تو ہے جس نے نازل کی تم پر یہ کتاب اس میں آیاتِ محکمات بھی ہیں، وہی کتاب کی بنیاد ہیں اور کچھ دوسری متشابہات ہیں سو وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ تو پیچھے پڑے رہتے ہیں ان آیات کے جو متشابہ ہیں ان میں سے تلاش میں فتنے کی اور تلاش میں اس کی حقیقت و ماہیت کے جبکہ نہیں جانتا اس کی حقیقت و ماہیت مگر اللہ اور وہ لوگ جو پختہ کار ہیں علم میں کہتے ہیں ایمان لائے ہم اس پر، سب کا سب ہمارے رب کی طرف سے ہے، اور نہیں سمجھتے  (یہ نکتہ) مگر دانشمند لوگ۔

۳:۸  (جو کہتے ہیں) اے ہمارے مالک نہ پیدا کیجیو کجی ہو مارے دلوں میں بعد اس کے کہ اب تو ہمیں ہدایت دے چکا ہے اور بخش ہمیں اپنی جناب سے رحمت، یقیناً تو ہے بہت زیادہ عطا کرنے والا۔

۳:۹ اے ہمارے مالک! بے شک تو جمع کرنے والا ہے سب لوگوں کو  (اپنے حضور) ایک دن نہیں کوئی شک جس  (کے آنے) میں، بے شک اللہ خلاف نہیں کرتا اپنے وعدے کے۔

۳:۱۰ یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، ہرگز نہ بچا سکیں گے ان کو ان کے مال اور نہ ان کی اولادیں اللہ  (کی پکڑ) سے، ذرا بھی اور یہی لوگ ہیں ایندھن دوزخ کا

۳:۱۱   (ان کے لچھن) آلِ فرعون اور ان لوگوں کے لچھّنوں جیسے ہیں جو ان سے پہلے ہو گزرے۔ جھٹلایا تھا انہوں نے ہماری آیات کو۔ سو پکڑ لیا ان کو اللہ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں۔ اور  (یاد رکھو) اللہ سخت سزا دینے والا ہے

۳:۱۲ کہہ دو  (اے محمد) ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا کہ وہ وقت دُور نہیں جب تم مغلوب ہو جاؤ گے اور ہانکے جاؤ گے طرف جہنّم کے۔ اور وہ بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے

۳:۱۳ بے شک تھی تمہارے لیے بڑی نشانی ان دو گروہوں میں جو ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے۔ ایک گروہ جنگ کر رہا تھا اللہ کی راہ میں اور دوسرا گروہ کافر تھا دیکھ رہے تھے وہ ان کو دوگنا اپنے سے کھلی آنکھوں۔ اور اللہ قوّت بہم پہنچاتا ہے اپنی نصرت سے جس کو چاہے۔ بے شک اس میں ایک بڑا سبق ہے دیدۂ بینا رکھنے والوں کے لیے۔

۳:۱۴ خوش نما بنا دی گئی ہے لوگوں کے لیے محبت ان رغبتوں کی جو انہیں ہیں عورتوں سے اور اولاد سے، بڑے بڑے ڈھیروں سے سونے اور چاندی کے، منتخب گھوڑوں سے، مال مویشی سے اور کھیت کھلیان سے۔  (لیکن) یہ سب ساز و سامان ہے دنیاوی زندگی کا اور اللہ ہی کے پاس ہے بہترین ٹھکانا

۳:۱۵ کہو کیا میں بتاؤں تم کو وہ چیز جو زیادہ بہتر ہے تمہاری ان چیزوں سے۔ ان لوگوں کے لیے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ان کے رب کے پاس جنّتیں ہیں ایسی کہ بہہ رہی ہیں ان کے نیچے نہریں، رہیں گے وہ ہمیشہ ان میں اور بیویاں ہیں پاکیزہ اور خوشنودی اللہ کی۔ اور اللہ ہر وقت دیکھ رہا ہے اپنے بندوں کو۔

۳:۱۶ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے مالک! بے شک ایمان لائے ہم سو بخش دے تو ہمارے گناہ اور بچا لے ہمیں دوزخ کے عذاب سے

۳:۱۷   (یہی لوگ ہیں) ثابت قدم رہنے والے، قول و فعل کے سچّے، فرمانبردار،  (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنے والے اور مغفرت طلب کرنے والے رات کی آخری گھڑیوں میں

۳:۱۸ گواہی دی خود اللہ نے اس بات کی کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے ۔ اور  (گواہی دی) فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی وہی قائم رکھنے والا ہے  (نظامِ کائنات کو) عدل کے ساتھ۔ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے، وہ غالب اور بڑی حکمت والا ہے۔

۳:۱۹ بلاشبہ دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے۔ اور نہیں اختلاف کیا  (اس دین سے) ان لوگوں نے جنہیں دی گئی کتاب مگر اس کے بعد کہ آ چکا تھا ان کے پاس حقیقی علم  (محض) آپس کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے۔ اور جو کوئی انکار کرے گا احکامِ الٰہی کا، تو بے شک اللہ جلد چکانے والا ہے حساب۔

۳:۲۰ پھر اگر وہ حجت بازی کریں تم سے تو کہہ دو کہ جھکا دیا میں نے تو اپنا سر اللہ کے آگے اور ان لوگوں نے بھی جنہوں نے میری پیروی کی۔ اور پوچھو ان لوگوں سے جنہیں کتاب دی گئی اور امیوں سے بھی کہ کیا تم بھی اسلام لاتے ہو؟ سو اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو وہ ہدایت پا گئے اور اگر انہوں نے منہ موڑا تو تم پر صرف اتنی ذمّہ داری ہے کہ پیغام پہنچا دو۔ اور اللہ نظر رکھے ہوئے ہے اپنے بندوں کے اعمال پر۔

۳:۲۱ بے شک وہ لوگ جو انکار کرتے ہیں احکامِ الٰہی کا اور قتل کرتے ہیں نبیوں کو ناحق اور قتل کرتے ہیں ان کو جو حکم دیتے ہیں عدل و انصاف کا لوگوں میں سے سو خوشخبری دے دو انہیں دردناک عذاب کی۔

۳:۲۲ یہی ہیں وہ لوگ کہ برباد ہو گئے اعمال ان کے دُنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور نہیں ہے ان کا کوئی مددگار۔

۳:۲۳ کیا نہیں دیکھا تم نے ان لوگوں کو جنہیں دیا گیا تھا کچھ حصّہ کتاب میں سے، بلایا جاتا ہے انہیں کتاب اللہ کی طرف تاکہ فیصلہ کرے یہ ان کے درمیان تو پہلو تہی کرتا ہے ایک گروہ ان میں سے اور  (اس فیصلہ سے) منہ پھیر جاتا ہے؟

۳:۲۴ یہ  (روش) اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں: ہرگز نہیں چھوئے گی ہمیں دوزخ کی آگ مگر چند دن گنتی کے اور فریب میں مبتلا کر رکھا ہے ان کو ان کے دین کے بارے میں ان باتوں نے جو وہ از خود گھڑتے رہتے ہیں۔

۳:۲۵ پھر کیا کیفیّت ہو گی جب جمع کریں گے ہم ان کو اس دن کوئی شک نہیں جس کے آنے میں اور پُورا پُورا دیا جائے گا بدلہ ہر شخص کو اس کے عملوں کا اور کسی کی ذرا بھی حق تلفی نہ کی جائے گی۔

۳:۲۶ کہہ دو! اے اللہ، مالک بادشاہی کے دیتا ہے تو حکومت جسے چاہے اور چھین لیتا ہے حکومت جس سے چاہے اور عزّت دیتا ہے تُو جسے چاہے اور ذلّت دیتا ہے جسے چاہے۔ تیرے ہی ہاتھ میں ہے خیر۔ بیشک تو ہر چیز پر پُوری قدرت رکھتا ہے۔

۳:۲۷ داخل کرتا ہے تو رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور نکالتا ہے جاندار کو بے جان سے اور نکالتا ہے بے جان کو جاندار سے اور رزق دیتا ہے تو جسے چاہے بے حساب۔

۳:۲۸ نہ بنائیں مؤمن، کافروں کو اپنا دوست مؤمنوں کو چھوڑ کر اور جو کرے گا ایسا تو نہیں ہے اس کا اللہ سے کوئی تعلّق الّا یہ کہ تم بچنا چاہو ان  (کے شر) سے کسی قسم کا بچنا اور ڈراتا ہے تم کو اللہ اپنی ذات سے۔ اور اللہ ہی کی طرف ہے سب کو لوٹ کر جانا۔

۳:۲۹ کہہ دو! خواہ تم چھپاؤ اسے جو تمہارے سینوں میں ہے یا ظاہر کرو، جانتا ہے اسے اللہ اور وہ تو جانتا ہے ہر اس چیز کو جو آسمانوں میں ہے اور اس کو بھی جو زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز پر پُوری قدرت رکھتا ہے۔

۳:۳۰ وہ دن جب موجود پائے گا ہر شخص وہ جو کی ہو گی اس نے کوئی نیکی اپنے سامنے حاضر اور وہ بھی جو کی ہو گی اس نے کوئی بدی، آرزو کرے گا کہ اے کاش! اس کے اور اس کی بدی کے درمیان فاصلہ ہوتا بہت دُور کا اور ڈراتا ہے تم کو اللہ اپنی ذات سے۔ اور اللہ نہایت شفیق ہے اپنے بندوں پر۔

۳:۳۱ کہہ دو! اگر تم محبّت رکھتے ہو اللہ سے تو اتباع کرو میرا، محبّت کرے گا تم سے اللہ اور معاف کر دے گا تمہارے گناہ۔ اور اللہ تو ہے ہی بڑا معاف کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا۔

۳:۳۲ کہہ دو! اطاعت کرو اللہ کی اور رسُول کی پھر اگر وہ منہ موڑیں  (تو وہ کافر ہیں) اور بے شک اللہ نہیں پسند کرتا کافروں کو۔

۳:۳۳ بے شک اللہ نے منتخب فرمایا آد م کو اور نوح کو اور آلِ ابراہیم کو اور آلِ عمران کو اہلِ عالم  (کی رہنمائی) کے لیے

۳:۳۴ یہ اولاد تھے ایک دوسرے کی اور اللہ ہر بات سُننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

۳:۳۵   (وہ اس وقت بھی سن رہا تھا) جب کہا تھا عمران کی عورت نے اے میرے رب! بے شک میں نے نذر مانی ہے تیرے حضور کہ جو کچھ میرے پیٹ میں ہے، وہ  (تیرے نام پر) آزاد ہو گا سو قبول فرما مجھ سے، بے شک تو ہے ہر بات کا سُننے والا، سب کچھ جاننے والا۔

۳:۳۶ پھر جب پیدا ہوئی اس کے ہاں وہ بچی تو بولی! اے میرے رب! میرے ہاں تو پیدا ہوئی ہے لڑکی جبکہ اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ اس نے  (درحقیقت) کیا جنا ہے۔ اور نہیں ہے کوئی لڑکا اس لڑکی جیسا اور میں نے نام رکھا اس کا مریم اور میں پناہ میں دیتی ہوں اسے تیری اور اس کی اولاد کو بھی شیطان مردُود سے  (بچانے کے لیے)۔

۳:۳۷ پس قبول فرما لیا اس لڑکی کو اس کے رب نے احسن طریقے سے اور پروان چڑھایا اسے بہترین انداز سے اور سرپرست بنا دیا اس کا زکریا کو، جب بھی جاتے اس کے پاس زکریا محراب میں، موجود پاتے اس کے پاس کھانے پینے کا سامان کہتے اے مریم! کہاں سے آیا ہے تیرے پاس یہ۔؟ وہ جواب دیتی یہ اللہ کے ہاں سے ہے۔ بے شک اللہ رزق دیتا ہے جسے چاہے بے حساب۔

۳:۳۸ اس موقعہ پر دُعا کی زکریا نے اپنے رب سے، کہا اے میرے مالک! عطا کر مجھے اپنی قدرت خاص سے اولادِ پاکیزہ ہے شک تو ہے ہر ایک کی دُعا سُننے والا۔

۳:۳۹ پس آواز دی اسے فرشتوں نے جبکہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہا تھا محراب میں کہ بے شک اللہ بشارت دیتا ہے تم کو   یحیٰ کی  جو تصدیق کرنے والا ہو گا کلمہ من اللہ  (عیسیٰ) کی اور وہ سردار، پارسا، نبی اور صالحین میں سے ہو گا۔

۳:۴۰ زکریا نے کہا اے میرے مالک! کیونکر ہو گا میرے ہاں لڑکا جبکہ میں ہو چکا ہوں بُوڑھا اور بیوی میری بانجھ ہے، جواب دیا اسی طرح اللہ کرتا ہے جو چاہے۔

۳:۴۱ عرض کیا اے میرے رب! مقرر کر دے میرے لیے کوئی نشانی ،کہا نشانی تمہاری یہ ہے کہ نہ بات کرو گے تم لوگوں سے تین دن مگر اشارے سے، اور یاد کرتے رہنا اپنے رب کو بہت زیادہ اور تسبیح کرتے رہنا  (اس کی) شام اور صبح۔

۳:۴۲ اور جب کہا فرشتوں نے اے مریم! بے شک اللہ نے منتخب کر لیا ہے تم کو اور پاک کر دیا ہے تمہیں اور برگزیدہ بنا دیا ہے تم کو تمام دُنیا کی عورتوں سے۔

۳:۴۳ اے مریم! تابع فرمان بن کر دست بستہ کھڑی رہو اپنے رب کے حضور اور سجدہ کرو اور جھُکا کرو جھُکنے والوں کے ساتھ۔

۳:۴۴ یہ  (باتیں) غیب کی خبروں میں سے ہیں جو ہم وحی کر رہے ہیں تمہاری طرف حالانکہ نہ تھے تم اُن کے پاس جب وہ ڈال رہے تھے اپنے قلم  (قرعہ اندازی کے لیے) کہ کون ان میں سے سرپرست بنے مریم کا، اور نہ تھے تم ان کے پاس جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔

۳:۴۵ اس وقت کہا تھا فرشتوں نے اے مریم! بے شک اللہ بشارت دیتا ہے تم کو کلمۃ من اللہ کی، جس کا نام مسیح، عیسیٰ بن مریم ہو گا، ذی وجاہت دُنیا اور آخرت میں اور اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہو گا۔

۳:۴۶ اور باتیں کرے گا لوگوں سے گہوارے میں بھی اور ادھیڑ عمر میں بھی اور صالحین میں سے ہو گا۔

۳:۴۷ مریم نے کہا  (ہائے) میرے رب! کہاں سے ہو گا میرے ہاں بچّہ جبکہ نہیں چھُوا ہے مجھے کسی مرد نے۔ جواب دیا، اسی طرح اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہے۔ جب فیصلہ کر لیتا ہے وہ کسی امر کا تو بس حکم دیتا ہے اسے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے۔

۳:۴۸ اور تعلیم دے گا اللہ اس کو کتاب و حکمت اور تورات اور انجیل کی۔

۳:۴۹ اور رسول بنا کر بھیجے گا نبی اسرائیل کی طرف  (پھر جب وہ مبعوث ہوا تو اس نے کہا) بیشک میں لایا ہوں تمہارے پاس نشانی تمہارے رب کی طرف سے، بے شک میں بناتا ہوں تمہارے سامنے مٹی سے مجسمہ پرندے کی مانند پھر پھونکتا ہوں اس کے اندر سو بن جاتا ہے وہ پرندہ اللہ کے حُکم سے اور تندرست کرتا ہوں مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو زندہ کرتا ہوں مُردوں کو اللہ کے حُکم سے اور بتا سکتا ہوں تم کو جو تم کھاتے ہو اور جو تم ذخیرہ کرتے ہو، اپنے گھروں میں۔ بے شک اس میں بہت بڑی نشانی ہے تمہارے لیے اگر ہو تم ایمان لانے والے۔

۳:۵۰ اور تصدیق کرنے والا بن کر آیا ہوں اس کی جو مجھ سے پہلے موجود ہے تورات میں سے اور تاکہ حلال کروں تمہارے لیے بعض وہ چیزیں جو حرام کر دی گئی تھیں تم پر اور آیا ہوں میں تمہارے پاس نشانی لے کر تمہارے رب کی طرف سے لہٰذا ڈرو اللہ سے اور میری اطاعت کرو۔

۳:۵۱ بے شک اللہ ہی رب ہے میرا اور رب ہے تمہارا سو اسی کی عبادت کرو تم۔ یہی ہے راستہ سیدھا

۳:۵۲ پھر جب محسوس کیا عیسیٰ نے بنی اسرائیل کی طرف سے کفر و انکار تو کہا کون ہے میرا مدد گار۔ اللہ کی راہ میں؟ کہا حواریوں نے ہم ہیں اللہ کے مدد گار، ایمان لائے ہم اللہ پر اور تم گواہ رہو کہ ہم مسلم ہیں۔

۳:۵۳ اے ہمارے مالک! ایمان لائے ہم اس ہدایت پر جو تو نے اُتاری اور پیروی کی ہم نے رسول کی لہٰذا لکھ لے تو ہم کو  (حق کی) گواہی دینے والوں میں۔

۳:۵۴ اور چلے  (بنی اسرائیل عیسیٰ کے خلاف) چالیں اور چلا اپنی چال اللہ۔ اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔

۳:۵۵ جب کہا اللہ نے اے عیسیٰ بے شک میں واپس لے لُوں گا تمہیں اور اٹھا لوں گا تم کو اپنی طرف اور پاک کر دُوں گا تم کو ان لوگوں کے  (گندے ماحول) سے جو کافر ہیں اور کروں گا ان لوگوں کو جنہوں نے اتباع کیا تمہارا، غالب ان لوگوں پر جنہوں نے انکار کیا، قیامت کے دن تک۔ پھر میری طرف لوٹ کر آنا ہے تمہیں پس فیصلہ کروں گا میں تمہارے درمیان ان باتوں کا جن میں تم باہم اختلاف کرتے تھے۔

۳:۵۶ پس رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا سو عذاب دُوں گا انہیں سخت ترین عذاب دُنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور نہ ہو گا ان کا کوئی مدد گار۔

۳:۵۷ اور رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور کیے انہوں نے عمل نیک سو پُورے پُورے دے گا اللہ انہیں اجر ان کے اور اللہ نہیں پسند کرتا ظالموں کو۔

۳:۵۸ یہ جو ہم پڑھ کر سُنا رہے ہیں تم کو  (اے محمد) آیات ہیں  (کتاب الہٰی کی) اور تذکرہ ہے حکمت والا۔

۳:۵۹ بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے ہاں مانند ہے آد م کی مثال کے۔ پیدا کیا اسے اللہ نے مٹی سے پھر حکم دیا اسے کہ ہو جا، سو وہ ہو گیا۔

۳:۶۰ یہی بات حق ہے، تیرے رب کی طرف سے پس نہ ہونا تم شک کرنے والوں میں سے۔

۳:۶۱ پھر جو کوئی حجت بازی کرتے تم سے اس معاملہ میں اس کے بعد بھی کہ آ چکا ہے تمہارے پاس صحیح علم تو تم ان سے کہو کہ آؤ! بلا لیتے ہیں ہم اپنی اولاد کو اور  (بلا لو) تم اپنی اولاد کو اور ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو اور ہم خود  (بھی آتے ہیں) اور تم بھی  (آ جاؤ) پھر ہم مباہلہ کریں اور بھیجیں لعنت اللہ کی جھوٹوں پر۔

۳:۶۲ بے شک یہی ہے بیان سچا، اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے۔ اور بلا شُبہ اللہ ہی ہے غالب اور بڑی حکمت والا۔

۳:۶۳ پھر اگر منہ موڑ جائیں یہ لوگ تو بے شک اللہ خُوب جانتا ہے فساد کرنے والوں کو۔

۳:۶۴ کہہ دو! اے اہلِ کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو یکساں ہے ہمارے ہاں اور تمہارے ہاں، یہ کہ  نہ عبادت کریں ہم مگر اللہ کی اور نہ شرک کریں اس کے ساتھ ذرا بھی اور نہ بنائے ہم میں سے کوئی کسی کو رب، اللہ کے سوا۔ پھر اگر منہ موڑیں وہ  (اس دعوت سے) تو  (اے مسلمانو!) کہہ دو: گواہ رہو۔ کہ ہم تو  (صرف اللہ ہی کے) عبادت گزار اور اطاعت شعار ہیں۔

۳:۶۵ اے اہلِ کتاب! کیوں حجت بازی کرتے ہو تم ابراہیم کے بارے میں۔ جبکہ نہیں نازل ہوئی تورات اور انجیل مگر ابراہیم کے بعد۔ کیا تم  (اتنی بات بھی) نہیں سمجھتے؟

۳:۶۶ تم وہ ہو جو جھگڑتے رہتے ہو  (ہم سے) ان باتوں کے بارے میں جن کا تمہیں کچھ علم تھا لیکن کیوں جھگڑتے ہو تم ان باتوں میں کہ نہیں ہے تمہیں ان کے بارے میں کچھ علم۔ جبکہ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

۳:۶۷ نہ تھا ابراہیم یہودی اور نہ نصرانی بلکہ تھا وہ سب سے لاتعلّق اللہ کا فرمانبردار۔ اور نہ تھا وہ مشرکوں میں سے۔

۳:۶۸ بے شک لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ابراہیم کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے پیروی کی ان کی۔ نیز یہ نبی اور وہ لوگ جو ایمان لائے  (اس نبی پر)۔ اور اللہ ساتھی ہے ایمان والوں کا۔

۳:۶۹ دل سے چاہتا ہے ایک گروہ اہلِ کتاب میں سے کہ کاش! گمراہ کر سکے تمہیں۔ حالانکہ نہیں گمراہ کرتے یہ مگر اپنے آپ کو، لیکن انہیں اس کا شعور نہیں۔

۳:۷۰ اے اہلِ کتاب! کیوں انکار کرتے ہو تم اللہ کی آیات کا جبکہ تم خو  گواہ ہو  (کہ وہ حق ہیں)؟

۳:۷۱ اے اہلِ کتاب! کیوں گڈ مڈ کرتے ہو تم حق کو باطل کے ساتھ اور  (کیوں) چھپاتے ہو حق کو جبکہ تم جانتے ہو  (کہ حق کیا ہے)؟۔

۳:۷۲ اور کہتا ہے ایک گروہ اہلِ کتاب کا  (اپنے لوگوں سے کہ)  ایمان لے آؤ اس پر جو نازل کیا گیا ہے ان لوگوں پر جو ایمان لائے ہیں  (محمد پر) صبح کے وقت اور انکار کر دو شام کو، ممکن ہے کہ وہ پھر جائیں  (اپنے دین سے)

۳:۷۳ اور مت بات مانو مگر اس شخص کی جو کرتا ہو پیروی تمہارے دین کی۔ کہہ دو! بے شک حقیقی ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے  (اور یہ اسی کی دین ہے) کہ دیا جائے کسی کو ویسا ہی جو  (کبھی) تم کو دیا گیا تھا یا یہ کہ ان کو  (تمہارے خلاف) قوی حجت مل جائے تمہارے رب کے حضور سے۔ کہو! فضل تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، دیتا ہے وہ اپنا فضل جسے چاہے اور اللہ وسعتوں کا مالک، سب کچھ جاننے والا ہے،

۳:۷۴ وہ مختص کر لیتا ہے اپنی رحمت کے لیے جسے چاہتا ہے۔ اور اللہ مالک ہے فضلِ عظیم کا۔

۳:۷۵ اور اہلِ کتاب میں سے کوئی ایسا بھی ہے کہ اگر امانت رکھو تم اس کے پاس ایک خزانہ تو ادا کر دے وہ تم کو اور ان میں سے کوئی ایسا بھی ہے کہ اگر امانت رکھو تم اس کے پاس ایک دینار بھی تو نہ واپس دے تم کو الّا یہ کہ رہو تم اس کے سر پر سوار۔ یہ  (بد معاملگی) اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے ہم پر امیّوں کے سلسلہ میں کوئی مواخذہ اور کہتے ہیں وہ اللہ کے بارے میں جھوٹی بات جانتے بوجھتے۔

۳:۷۶ ہاں! جس نے پُورا کیا اپنا عہد اور اللہ سے ڈرا تو بے شک اللہ محبوب رکھتا ہے تقویٰ اختیار کرنے والوں کو

۳:۷۷ بلاشبہ وہ لوگ جو بیچتے ہیں اللہ سے کیے ہوئے عہد اور اپنی قسموں کو حقیر قیمت پر یہی لوگ ہیں کہ نہیں ہے کوئی حصّہ ان کے لیے آخرت میں اور نہ بات کرے گا ان سے اللہ اور  نہ دیکھے گا ان کی طرف قیامت کے دن اور نہ پاک کرے گا ان کو، اور ان کے لیے عذاب ہے درد ناک۔

۳:۷۸ اور بلا شُبہ ان میں تو ایک گروہ  (ایسا بھی ہے) جو مروڑ کر اپنی زبانوں کو پڑھتا ہے کتاب، تاکہ گمان کرو تم کہ یہ کتابُ اللہ میں سے ہے حالانکہ نہیں ہوتا وہ کتابُ اللہ میں سے، اور کہتے ہیں وہ کہ یہ اللہ کے پاس سے  (آیا) ہے حالانکہ نہیں ہے وہ اللہ کی طرف سے اور بولتے ہیں وہ اللہ کے بارے میں جھوٹ جانتے بوجھتے۔

۳:۷۹ نہیں زیب دیتا کسی انسان کو، جسے دی ہو اللہ نے کتاب و حکمت اور نبوّت، پھر وہ کہے لوگوں سے کہ بن جاؤ تم میرے بندے اللہ کو چھوڑ کر بلکہ  (وہ تو یہی کہے گا) کہ بن جاؤ تم اللہ والے کیونکہ تم تعلیم دیتے ہو کتابِ الہٰی کی اور اس بنا پر بھی کہ تم پڑھتے ہو خود بھی  (اللہ کی کتاب)۔

۳:۸۰ اور نہ حکم دے گا وہ تم کو کہ بنا لو تم فرشتوں کو اور نبیوں کو اپنا رب۔ کیا وہ حکم دے گا تم کو کفر کا بعد اس کے کہ تم مسلمان ہو چکے ہو۔

۳:۸۱ اور  (یاد کرو) جب لیا تھا اللہ نے عہد، نبیوں سے کہ یہ جو عطا کی ہے میں نے تم کو کتاب و حکمت  (اس احسان کا تقاضا یہ ہے کہ) پھر جب آئے تمہارے پاس ایک عظیم رسول تصدیق کرتا ہوا اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اور بہر حال ایمان لاؤ گے اس پر اور مدد کرو گے اس کی۔ ارشاد ہوا! کیا اقرار کرتے  ہو تم اور کرتے ہو ان شرائط پر مجھ سے عہد؟ انہوں نے کہا ہم نے اقرار کیا۔ ارشاد ہوا! سو گواہ رہو تم اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔

۳:۸۲ پس جو پھرے گا اس کے بعد  (اس عہد سے) تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں۔

۳:۸۳ تو پھر کیا یہ اللہ کے دین کے سوا  (کوئی اور دین) چاہتے ہیں حالانکہ اللہ ہی کے مطیع ہیں جو ہیں آسمانوں میں اور زمین میں چار و نا چار اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے سب

۳:۸۴ کہو: ایمان لائے ہم اللہ پر اور اس پر جو نازل کیا گیا ہم پر اور جو نازل کیا گیا ابراہیم و اسماعیل پر اور اسحاق و یعقوب پر اور اس کی اولاد پر اور  (اس پر بھی) جو دیا گیا موسی کو، عیسیٰ کو اور سب نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے، نہیں فرق کرتے ہم ان میں ایک  (اور دوسرے) کے درمیان  (نبی ہونے کے اعتبار سے) اور ہم اسی کے تابع فرمان ہیں۔

۳:۸۵ اور جو اختیار کرنا چاہے اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تو ہرگز قبول نہ کیا جائے گا یہ اس سے، اور وہ  (ہو گا) آخرت میں خسارہ  پانے والوں میں سے۔

۳:۸۶ بھلا کیسے ہدایت دے اللہ ایسے لوگوں کو جنہوں نے کفر اختیار کیا بعد ایمان لانے کے جبکہ گواہی دے چُکے ہیں وہ کہ بےشک یہ رسول سچّا ہے اور آ چکی ہیں ان کے پاس کھُلی کھلی نشانیاں۔ اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ان لوگوں کو جو خود پر ظلم کرتے ہیں۔

۳:۸۷ ان لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ہے ان پر لعنت اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی۔

۳:۸۸ ہمیشہ رہیں گے یہ اس لعنت میں۔ نہ کمی کی جائے گی ان کے عذاب میں اور نہ ہی ان کو مہلت ملے گی۔

۳:۸۹ مگر وہ جنہوں نے توبہ کر لی اس کے بعد اور صلاح کر لی اپنی تو بے شک اللہ بڑا معاف فرمانے والا اور ہر حالت میں رحم کرنے والا ہے۔

۳:۹۰ بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا بعد ایمان لانے کے پھر بڑھتے چلے گئے کفر میں ہرگز نہیں قبول ہو گی توبہ ان کی اور یہی لوگ ہیں حقیقی گمراہ۔

۳:۹۱ بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا اور مرے بھی بحالتِ کفر، تو ہرگز نہیں قبول کیا جائے گا ان میں کسی سے زمین بھر سونا، اگرچہ وہ دے بطور فدیہ اسے۔ یہی لوگ ہیں کہ ہے ان کے لیے دردناک عذاب اور نہ ہو گا ان کے لیے کوئی مدد گار۔

۳:۹۲ ہرگز نہیں پہنچ  سکتے تم نیکی کو جب تک کہ نہ خرچ کرو  (اللہ کی راہ میں) اس میں سے جو تم محبوب رکھتے ہو اور جو بھی خرچ کرتے ہو تم کوئی چیز، تو بے شک اللہ اس سے باخبر ہے۔

۳:۹۳ ہر قسم کا کھانا تھا حلال بنی اسرائیل کے لیے مگر وہ جو حرام کر لیا تھا اسرائیل نے خود اپنے اوپر قبل اس کے کہ نازل کی گئی تورات، کہو کہ لاؤ تورات اور اسے پڑھو، اگر ہو تم سچّے۔

۳:۹۴ پھر جو کوئی خود گھڑ کر منسوب کرے گا اللہ کی طرف جھُوٹی بات اس کے بعد بھی تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں۔

۳:۹۵ کہہ دو سچ فرمایا اللہ نے پس پیروی کرو دینِ ابراہیم کی جو سب سے کٹ کر اللہ کا ہو رہا اور نہ تھا وہ مشرکوں میں سے۔

۳:۹۶ بے شک پہلا گھر جو بنایا گیا  (عبادت گاہ) لوگوں کے لیے یقیناً وہی ہے جو مکّہ میں ہے، برکت والا اور مرکزِ ہدایت تمام جہاں والوں کے لیے۔

۳:۹۷ اس میں ایسی نشانیاں ہیں جو  (اپنی صداقت کی) خود گواہ ہیں، مقامِ ابراہیم ہے اور  (یہ بات کہ) جو داخل ہوا اس میں مِل گیا اسے امن اور اللہ کا حق ہے لوگوں پر کہ حج کرے اس کے گھر کا ہر وہ شخص جو استطاعت رکھتا ہو اس تک پہنچنے کی اور اگر کوئی انکار کرے تو بے شک اللہ بے نیاز ہے سب جہاں والوں سے۔

۳:۹۸ کہو! اے اہلِ کتاب کیوں انکار کرتے ہو تم ماننے سے اللہ کی آیات کو جبکہ اللہ دیکھ رہا ہے ان کرتوتوں کو جو تم کر رہے ہو؟۔

۳:۹۹ کہو! اے اہلِ کتاب آخر کیوں روکتے ہو تم اللہ کی راہ سے ہر اس شخص کو جو ایمان لاتا ہے؟ چاہتے ہو تم  (کہ چلے وہ) راہ ٹیڑھی حالانکہ تم خود گواہ ہو  (کہ سیدھی راہ یہی ہے) اور نہیں ہے اللہ غافل ان حرکتوں سے جو تم کرتے ہو۔

۳:۱۰۰ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اگر تم مانو گے کہا بعض لوگوں کا ان میں سے جنہیں دی گئی ہے کتاب تو پھیر دیں گے یہ تم کو  (تمہارے دین سے)  (اور ہو جاؤ گے تم) بعد ایمان لانے کے پھر کافر۔

۳:۱۰۱ اور بھلا کیسے کفر اختیار کر سکتے ہو تم جبکہ تم تو وہ ہو کہ پڑھ کر سُنائی جاتی ہیں تمہیں اللہ کی آیات اور تمہارے درمیان موجود ہے اللہ کا رسول اور جس نے تھام لیا مضبوطی سے اللہ  کا دامن تو ضرور ہدایت پا گیا وہ سیدھے راستے کی۔

۳:۱۰۲ اے ایمان والو! ڈرو اللہ سے جیسا کہ حق ہے اس سے ڈرنے کا اور ہرگز نہ موت آئے تم کو مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔

۳:۱۰۳ اور مضبوطی سے تھام لو تم اللہ کی رسّی کو سب مِل کر اور فرقہ بندی نہ کرو اور یاد کرو احسان اللہ کا جو اس نے تم پر کیا کہ تھے تم  (آپس میں) دُشمن پھر الفت پیدا کر دی اس نے تمہارے دلوں میں سو ہو گئے تم اللہ کے فضل و کرم سے بھائی بھائی اور تھے تم  (کھڑے) کنارے پر آگ سے بھرے  گڑھے کے سو بچا لیا اللہ نے تم کو اس سے، اس طرح کھول کھول کر بیان کرتا ہے اللہ تمہارے لیے اپنی آیات تاکہ تم رہنمائی حاصل کرو۔

۳:۱۰۴ اور چاہیے کہ رہے تم میں  (ہمیشہ) ایک جماعت ایسے لوگوں کی جو دعوت دیتے رہیں اچھّے کاموں کا اور منع کریں بُرے کاموں سے اور یہی لوگ ہیں درحقیقت فلاح پانے والے۔

۳:۱۰۵ اور نہ ہو جانا تم ان لوگوں کی طرح جو فرقوں میں بٹ گئے اور اختلاف میں مبتلا ہو گئے اس کے بعد بھی کہ آ چکے تھے ان کے پاس واضح احکام اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے ہے عذابِ عظیم۔

۳:۱۰۶ اس دن جب روشن ہوں گے کچھ  چہرے اور سیاہ ہوں کے کچھ چہرے، سو وہ لوگ کہ سیاہ ہوں گے ان کے چہرے  (ن سے کہا جائے گا) اچھا! تم ہو جنہوں نے کفر کیا تھا ایمان لانے کے بعد؟ سو چکھو اب مزا عذاب کا بدلے میں اس کفر کے جو تم کرتے رہے ہو۔

۳:۱۰۷ رہے وہ لوگ کہ روشن ہوں گے چہرے ان کے، سو ہوں گے وہ اللہ کی رحمت میں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

۳:۱۰۸ یہ آیات ہیں اللہ کی جو پڑھ کر سُنا رہے ہیں ہم تمہیں ٹھیک ٹھیک اور اللہ نہیں چاہتا کہ ظلم ہو اہل جہاں پر۔

۳:۱۰۹ اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں، اور اللہ کے حضور پیش ہوتے ہیں سب معاملات۔

۳:۱۱۰ تم ہو  (اے مسلمانو! وہ) بہترین امّت جسے پیدا کیا گیا ہے انسانوں  (کی رہنمائی) کے لیے حکم دیتے ہو تم اچھے کاموں کا اور منع کرتے ہو بُرے کاموں سے اور ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اگر کہیں ایمان لے آتے اہل کتاب بھی  (قرآن و رسُول پر) تو ہوتا بہت بہت ان کے حق میں، ان میں سے تھوڑے ہیں جو مومن ہیں اور زیادہ ان میں سے فاسق ہیں۔

۳:۱۱۱ ہرگز نہ بگاڑ سکیں گے یہ تمہارا کچھ بھی سوائے ستانے کے اور اگر جنگ کریں گے تم سے تو پھیر جائیں گے پیٹھ۔ پھر ان کو مدد بھی نہ ملے گی ۔

۳:۱۱۲ پڑ گئی مار ان پر ذلّت کی جہاں بھی پائے جائیں گے الّا یہ کہ پناہ میں آ جائیں اللہ کی یا پناہ میں آ جائیں انسانوں میں سے کسی کی اور گھر گئے وہ غضب میں اللہ کے اور پڑ  گئی مار  ان پر محتاجی کی یہ اس لیے ہوا کہ وہ انکار کرتے تھے اللہ کی آیات کا اور قتل کرتے تھے نبیوں کو ناحق۔ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ نافرمان تھے اور حدسے بڑھ جاتے تھے۔

۳:۱۱۳ نہیں ہیں سب  (اہلِ کتاب) ایک جیسے اہلِ کتاب میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو قائم ہیں  (راہِ راست پر) تلاوت کرتے ہیں اللہ کی آیات کی رات کی گھڑیوں میں اور وہ سر بسجود رہتے ہیں۔

۳:۱۱۴ ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور روز آخرت پر اور حُکم دیتے ہیں نیک کاموں کا اور منع کرتے ہیں بُرے کاموں سے اور سرگرم گر رہتے ہیں بھلائی کے کاموں میں۔ اور یہ نیک لوگوں میں سے ہیں۔

۳:۱۱۵ اور جو بھی کریں گے یہ کوئی نیکی تو ہرگز نہ کی جائے گی ناقدری اس کی اور اللہ خُوب جانتا ہے ان لوگوں کو جو اس سے ڈرتے ہیں۔

۳:۱۱۶ بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا ہرگز نہ بچا سکیں گے ان کو ان کے مال اور نہ ان کی اولاد اللہ  (کی گرفت) سے ذرا بھی اور یہ لوگ دوزخی ہیں، یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

۳:۱۱۷ مثال اس کی جو خرچ کرتے ہیں یہ لوگ اس دُنیاوی زندگی میں اس ہوا کی سی ہے جس میں ہو سخت سردی، جو چلے کھیتی پر، ایسے لوگوں کی جنہوں نے ظلم کیا ہو اپنے جانوں پر اور برباد کر دے وہ اس کھیتی کو اور نہیں کیا ظلم ان پر اللہ نے بلکہ وہ تو خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔

۳:۱۱۸ اے ایمان والو! مت بناؤ راز دار  (کسی کو) اپنوں کے سوا، نہیں اٹھا رکھیں گے وہ کوئی کسر تمہیں نقصان پہنچانے میں، محبوب رکھتے ہیں وہ ہر اس بات کو جو مصیبت میں مُبتلا کرے تمہیں، پھوٹا پڑتا ہے بعض و عناد ان کے مونہوں سے اور جو کچھ چھپائے ہوئے ہیں ان کے سینے، وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ بے شک کھول کھول کر بیان کر دی ہیں ہم نے تمہارے لیے نشانیاں اگر تم عقل رکھتے ہو۔

۳:۱۱۹ یہ تم ہو ایسے کہ دوست رکھتے ہو ان کو جبکہ نہیں پسند کرے وہ تمہیں اور ایمان رکھتے ہو تم  سب کتابوں پر اور  (ان کی حالت یہ ہے کہ) جب ملتے ہیں تم سے تو کہتے ہیں کہ ایمان لائے ہم بھی اور جب خلوت میں ملتے ہیں  (باہم) تو چبانے لگتے ہیں تم پر اپنی انگلیاں مارے غصّے کے۔ کہہ دو! جل مرو تم اپنے غصّے میں، بےشک اللہ خُوب جانتا ہے اس  (بغض و عناد) کو جو ہے سینوں میں۔

۳:۱۲۰ اگر چھو بھی جاتی ہے تم کو کوئی بھلائی تو برا لگتا ہے انہیں اور اگر پہنچتی ہے تم کو کوئی تکلیف تو وہ خوش ہوتے ہیں اس پر۔  اور اگر تم صبر سے کام لو اور تقویٰ اختیار کرو تو نہ نقصان پہنچائیں گی تم کو ان کی چالیں ذرا بھی۔ بےشک اللہ ان کرتوتوں کا جو یہ کر رہے ہیں پُوری طرح احاطہ کیے ہوئے ہے۔

۳:۱۲۱ اور جب صبح سویرے نکلے تھے تم اپنے گھر سے، مامور کرنے کے لیے مومنوں کو جنگی مورچوں پر۔ اور اللہ سب کچھ سُن رہا تھا، ہر بات سے باخبر تھا۔

۳:۱۲۲ جب قصد کیا تھا دو گروہوں نے تم میں سے بزدلی دکھانے کا حالانکہ اللہ ان کا حامی و مدد گار تھا اور محض اللہ ہی پر چاہیے کہ بھروسہ کریں مومن۔

۳:۱۲۳ اور بلا شُبہ مدد کر چُکا تھا تمہاری اللہ غزوۂ بدر میں حالانکہ تم  (اس وقت) بہت کمزور تھے سو ڈرو اللہ سے تاکہ تم شکر ادا کر سکو  (اس کے اس احسان کا)۔

۳:۱۲۴ جب کہہ رہے تھے تم مومنوں سے، کیا نہیں کافی ہے تمہارے لیے یہ کہ مدد دے تم کو تمہارا رب تین ہزار فرشتوں سے جو اتارے جائیں  (آسمان سے)۔

۳:۱۲۵ ہاں کیوں نہیں اگر تم ثابت قدم رہو اور تقویٰ اختیار کرو اور آ پڑے تمہارا دشمن تم پر اچانک تو مدد دے گا تم کو تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے جو خاص نشان لگائے ہوئے ہوں گے۔

۳:۱۲۶ اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے مگر خوشخبری تمہارے لیے اور تاکہ مطمئن ہو جائیں دل تمہارے اس سے، اور نہیں ہے فتح و نصرت مگر اللہ کی طرف سے جو سب پر غالب، بڑی حکمت والا ہے۔

۳:۱۲۷  (یہ مدد اس لیے تھی) تاکہ کاٹ دے اللہ ایک حصّہ ان لوگوں کا جنہوں نے کفر کیا یا ذلیل کر دے انہیں، پس لوٹ جائیں وہ ناکام و نامراد۔

۳:۱۲۸ نہیں ہے تمہیں اس معاملہ میں  (اختیار) ذرا بھی  (سارا اختیار اللہ کے پاس ہے) چاہے تو وہ توبہ قبول کر لے ان کی اور چاہے تو عذاب دے انہیں کیونکہ بلاشبہ وہ ظالم ہیںَ۔

۳:۱۲۹ اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں۔ بخش دے جسے چاہے اور عذاب دے جسے چاہے اور اللہ تو ہے ہی بڑا معاف کرنے والا، بہت رحم کرنے والا۔

۳:۱۳۰ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! مت کھاؤ سُود  دوگنا چوگنا، بڑھتا چڑھتا اور ڈرو اللہ سے تاکہ تم فلاح پاؤ۔

۳:۱۳۱ اور بچوں اس آگ سے جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے۔

۳:۱۳۲ اور اطاعت کرو اللہ کی اور رسول کی تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

۳:۱۳۳ اور لپکو مغفرت کی طرف اپنے رب کی اور جنّت  (کی طرف) جس کی وسعت آسمانوں اور زمین جیسی ہے وہ تیّار کی گئی ہے متقیوں کے لیے۔

۳:۱۳۴   (متقی وہ ہیں) جو خرچ کرتے ہیں خوشحالی میں اور تنگی میں اور پی جانے والے ہیں غصّے کو اور معاف کر دینے والے ہیں لوگوں کو۔ اور اللہ محبوب رکھتا ہے حسن عمل کرنے والوں کو۔

۳:۱۳۵ اور ان لوگوں کو جو اگر کر بیٹھیں کوئی کھُلا گناہ یا کر گزریں ظلم اپنی جانوں پر تو  (فوراً) یاد آ جاتا ہے ان کو اللہ پس معافی مانگتے ہیں وہ اپنے گناہوں کی اور کون ہے جو معاف کرے گناہوں کو سوائے اللہ کے اور نہیں اصرار کرتے وہ اپنے کیے پر جان بُوجھ کر۔

۳:۱۳۶ یہی وہ لوگ ہیں کہ ہے صلہ ان کا بخشش ان کے رب کی طرف سے اور جنتیں ایسی کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان جنّتوں میں اور کیا ہی خوب ہے اجر نیک عمل کرنے والوں کا۔

۳:۱۳۷ بیشک گزر  چُکے ہیں تم سے پہلے کئی دور  سو چلو پھر و زمین میں پھر دیکھو کیا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا۔

۳:۱۳۸ یہ واضح تنبیہ ہے لوگوں کے لیے اور ہدایت و نصیحت ہے متقیوں کے لیے۔

۳:۱۳۹ اور نہ دل شکستہ ہو اور نہ غم کرو، تم ہی غالب رہو گے بشرطیکہ تم مومن ہو۔

۳:۱۴۰ اگر لگا ہے تم کو زخم  (احد میں) تو بے شک لگ چکا ہے ان لوگوں کو بھی زخم ایسا ہی  (بدر میں) اور یہ  (کامیابی اور ناکامی  کے) دن باری باری گردش دیتے ہیں ہم ان کو لوگوں کے درمیان اور  (تم پر یہ وقت اس لیے لایا گیا) تاکہ ظاہر کرے اللہ ان لوگوں کو جو سچّے مومن ہیں اور بنائے تم میں سے بعض کو شہید اور اللہ نہیں پسند کرتا ظالموں کو۔

۳:۱۴۱ اور تاکہ چھانٹ لے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان والے ہیں اور زور توڑ دے کافروں کا۔

۳:۱۴۲ کیا سمجھتے ہو تم یہ کہ داخل ہو جاؤ گے تم جنّت میں  (یونہی) حالانکہ ابھی تک نہیں دیکھا اللہ نے ان لوگوں کو جنہوں نے جہاد کیا ہے تم میں سے اور وہ دیکھنا چاہتا ہے ثابت قدم رہنے والوں کو۔

۳:۱۴۳ اور بےشک تم تمنا کیا کرتے تھے موت کی پہلے اس  سے کہ دو چار ہو تم اس سے۔ لو اب وہ تمہارے سامنے ہے اور تم نے اسے کھلی آنکھوں دیکھ لیا۔

۳:۱۴۴ اور نہیں ہیں محمد مگر ایک رسول، بے شک ہو گزرے ہیں اس سے پہلے بھی بہت سے رسول تو کیا پھر اگر وہ وفات پا جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو پھر جاؤ گے تم الٹے پاؤں؟ اور جو پھرے گا الٹے پاؤں تو ہر گز نہیں نقصان پہنچائے گا وہ اللہ کو ذرا بھی اور ضرور جزا دے گا اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو۔

۳:۱۴۵ اور نہیں ہے  (اختیار) کسی جان کو کہ وہ مرے بغیر اللہ کے حکم کے، لکھا ہوا ہے  (موت کا) وقتِ معین اور جو کوئی چاہے بدلہ  (اپنے اعمال کا) دُنیا میں، دیتے ہیں ہم اس کو دُنیا میں ہی سے اور جو چاہے بدلہ آخرت کا، دیتے ہیں ہم اس کو آخرت میں سے اور ضرور صلہ دیں گے ہم اپنے شکر گزار بندوں کو۔

۳:۱۴۶ اور کتنے ہی نبی  (گزر چُکے ہیں) کہ جنگ کی ان کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ والوں نے سو نہ تو پست ہمّت ہوئے وہ ان مصیبتوں کی وجہ سے جو پہنچیں انہیں اللہ کی راہ میں اور نہ کمزوری دکھائی  (دُشمن کے آگے) اور نہ بے دست و پا ہو کر بیٹھے اور اللہ محبوب رکھتا ہے ثابت قدم رہنے والوں کو۔

۳:۱۴۷ اور نہ تھا ان کا قول  (ایسے مواقع پر) مگر یہ دُعا: اے ہمارے رب! معاف فرما دے ہمارے گناہ اور بے اعتدالیاں جو ہم سے سرزد ہوئیں اپنے معاملات اور میں اور ثابت قدم رکھ ہمیں اور فتح عطا فرما ہمیں کافروں پر۔

۳:۱۴۸ سو عطا فرمایا ان کو اللہ نے صلہ دنیا کا بھی اور بہترین اجر آخرت کا بھی۔ اور اللہ محبوب رکھتا ہے نیک کام کرنے والوں کو۔

۳:۱۴۹ اے لوگو جو ایمان لائے ہو اگر تم کہا مانو گے ان لوگوں کا جنہوں نے کفر کیا تو پھیر لے جائیں گے وہ تم کو الٹے پاؤں تو ہو جاؤ گے تم پھر خسارہ اٹھانے والے۔

۳:۱۵۰ بلکہ اللہ ہی ہے جو دوست ہے تمہارا اور وہی سب سے بہتر مدد کرنے والا ہے۔

۳:۱۵۱ عنقریب ہم ڈالیں گے دلوں میں ان لوگوں کے جنہوں نے کفر کیا، تمہاری ہیبت اس وجہ سے کہ شریک کیا انہوں نے اللہ کے ساتھ ان کو کہ نہیں اتاری اللہ نے اس بارے میں کوئی سند اور ٹھکانا ان کا دوزخ ہے۔ اور بہت بُرا ٹھکانا ہے ان ظالموں کا۔

۳:۱۵۲ اور یقیناً سچ کر دکھایا تھا تم کو اللہ نے تو اپنا وعدہ جب بے دریغ قتل کر رہے تھے تم ان کو اللہ کے حُکم سے۔ حتّیٰ کہ جب ڈھیلے پڑ گئے تم خود ہی اور اختلاف کیا تم نے حکم کے بارے میں اور حکم عدولی کی تم نے بعد اس کے کہ دکھا دی تمہیں اللہ نے وہ چیز جو تمہیں محبوب تھی۔ تم میں سے کچھ وہ تھے جو طلب گار تھے دُنیا کے اور تم میں سے کچھ وہ تھے جو طلب گار تھے آخرت کے، تب پسپا کر دیا اللہ نے تمہیں دُشمنوں کے سامنے سے تاکہ آزمائش کرے تمہاری اور حق یہ ہے کہ اللہ نے  (پھر بھی) معاف کر دیا تمہیں۔ اور اللہ بہت فضل والا ہے مومنوں پر۔

۳:۱۵۳ جب تم منہ اٹھائے بھاگے جا رہے تھے اور پلٹ کر نہ دیکھتے تھے کسی کی طرف اور رسول اللہ پکار رہے تھے تم کو تمہارے پیچھے سے، سو بدلہ دیا للہ نے تم کو غم پر غم کی صُورت میں تاکہ نہ ملال کرو تم اس چیز کا جو چھن گئی تم سے اور نہ اس  (مصیبت) کا جو پہنچی تم کو اور اللہ پُوری طرح باخبر ہے ہر اس بات سے جو تم کرتے ہو۔

۳:۱۵۴ پھر نازل فرمائی الہ نے تم پر اس غم کے بعد اطمینان کی کیفیّت اونگھ  (کی شکل میں) جو طاری ہو گئی ایک گروہ پر تم میں سے اور ایک گروہ تھا کہ بس فکر تھی ان کو محض اپنی ہی جانوں کی، گمان رکھتے تھے یہ اللہ کے بارے میں جھُوٹے، دَور  جاہلیّت کے سے گمان، کہتے تھے کیا ہمارا بھی ہے اس معاملہ میں کچھ  (عمل دخل)؟ کہو  (اے پیغمبر) بے شک اختیار سارے کا سارا اللہ کا ہے۔ چھُپائے ہوئے ہیں یہ لوگ اپنے دلوں میں ایسی باتیں جو نہیں ظاہر کرتے تم پر، کہتے ہیں اگر ہوتا ہمارا بھی اختیارات میں کچھ حصّہ تو نہ مارے جاتے ہم اس جگہ۔ کہہ دو! اگر ہوتے تم اپنے گھروں میں بھی تو ضرور نکل آتے وہ لوگ کہ لکھ دیا گیا تھا جن کی قسمت میں قتل ہونا، اپنی قتل گاہوں کی طرف اور یہ اس لیے تھا کہ پرکھے اللہ  اس کو جو تمہارے سینوں میں ہے اور تاکہ صاف کر دے و ہ کھوٹ جو تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ خُوب جانتا ہے دلوں کی باتوں کو۔

۳:۱۵۵ بے شک وہ لوگ جو پیٹھ پھیر گئے تم میں سے، جس دن باہم ٹکرائیں دو فوجیں اس کا سبب صرف یہ تھا کہ قدم ڈگمگا دیے تھے ان کے شیطان نے بوجہ بعض ان حرکتوں کے جو وہ کر بیٹھے تھے۔ بہر حال معاف کر دیا اللہ نے انہیں۔ بے شک اللہ بہت معاف فرمانے والا، نہایت بردبار ہے۔

۳:۱۵۶ اے لوگوں جو ایمان لائے ہو! نہ ہو جانا ان کی طرف جو کافر ہیں اور کہتے ہیں اپنے بھائی بندوں کے بارے میں جب وہ سفر کرتے ہیں کسی سرزمین میں یا نکلتے ہیں جنگ کے لیے کہ اگر ہوتے وہ ہمارے پاس تو نہ مرتے اور نہ قتل کیے جاتے  (ایسی بات کرنے کا نتیجہ یہ ہے) کہ بنا دیا ہے اللہ نے اس کو حسرت  (کا سبب) ان کے دلوں میں۔ حالانکہ اللہ ہی زندہ رکھتا ہے اور مارتا ہے۔ اور اللہ تمہارے اعمالوں پر نگران ہے۔

۳:۱۵۷ اور اگر قتل کیے جاؤ تم اللہ کی راہ میں یا مر جاؤ تو بخشش جو اللہ کی طرف سے ہو گی اور اس کی رحمت کہیں بہتر ہے ہر اس چیز سے جو لوگ جمع کرتے ہیں۔

۳:۱۵۸ اور خواہ مرو تم یا قتل کیے جاؤ بہر حال اللہ ہی کے حضور پیش کیے جاؤ گے تم۔

۳:۱۵۹ سو یہ کتنی بڑی رحمت ہے اللہ کی کہ ہو تم  (اے محمد) نرم مزاج ان کے لیے اور اگر کہیں ہوتے تم سخت مزاج اور سنگدل تو ضرور منتشر ہو جاتے یہ تمہارے گرد و پیش سے سو تم معاف کر دو ان کو اور دعائے مغفرت کرو ان کے حق میں اور مشورہ  لیتے رہو ان سے دین کے کام میں پھر جب پختہ فیصلہ کر لو تم تو توکّل کرو اللہ پر  (اور کر گزرو) بےشک اللہ دوست رکھتا ہے توکّل کرنے والوں کو۔

۳:۱۶۰ اگر مدد کرے تمہاری اللہ تو نہیں ہے کوئی غالب آنے والا  تم پر اور  اگر چھوڑ دے وہ تم کو تو کون ہے وہ جو مدد کرے تمہاری اس کے بعد اور محض اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے مومنوں کو۔

۳:۱۶۱ اور نہیں ہے کسی نبی کی یہ شان کہ وہ خیانت کرے اور جو کوئی خیانت کرے گا،حاضر ہو گا اپنی خیانت کے ساتھ قیامت کے دن پھر پورا پورا گا ہر جان کو بدلہ اس کا جو اس نے کمایا تھا اور ان کے ساتھ نا انصافی نہ ہو گی ۔

۳:۱۶۲ بھلا کیا وہ شخص جو چل رہا ہو اللہ کی رضا پر مانند اس شخص کے ہو سکتا ہے جو گھر گیا ہو اللہ کے غضب میں اور ٹھکانا ہو اس کا جہنم جبکہ وہ بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے۔

۳:۱۶۳  یہ  (دو قسم کے ) لوگ ،درجے کے لحاظ سے مختلف ہیں اللہ کے نزدیک اور اللہ نگران ہے ہر اس عمل پر جو وہ کرتے ہیں ۔

۳:۱۶۴ یقیناً بڑا احسان کیا ہے اللہ نے مومنوں پر کہ بھیجا ہے ان میں ایک رسُول اُنہی میں سے جو پڑھ کر سُناتا ہے اُنہیں اللہ کی آیات اور تزکیۂ  (نفس) کرتا ہے ان کا اور تعلیم دیتا ہے ان کو کتاب اللہ کی اور سکھاتا ہے ان کو حکمت۔ اگر چہ تھے وہ اس سے پہلے یقیناً کھلی گمراہی میں ۔

۳:۱۶۵ کیا (ایسا نہیں ہُوا) کہ جب پہنچی تم کو (کوئی) مصیبت جبکہ پہنچا چکے تھے تم اس سے  دگنی مصیبت  (دشمنوں کو بدر میں) تو تم نے کہا !کہاں سے آ گئی یہ ؟َکہہ دو! یہ مصیبت تمہاری اپنی ہی لائی ہوئی ہے، بے شک اللہ ہر بات پر پُوری طرح قادر ہے ۔

۳:۱۶۶ اور جو نقصان پہنچا تم کو اس دن جب ٹکرائیں دو فوجیں سو  (پہنچا وہ)اللہ کے اذن سے اور اس لیے بھی کہ دیکھ لے اللہ ان کو جو مومن ہیں۔

۳:۱۶۷ اور اس لیے کہ دیکھ لے ان لوگوں کو جو منافق ہیں اور کہا گیا تھا اُن سے کہ آؤ جنگ کرو اللہ کی راہ میں یا دفاع کرو اُنہوں نے کہا اگر ہم جانتے کہ لڑائی ہو گی تو ضرور ساتھ چلتے ہم تمہارے۔ یہ لوگ کفر سے اس دن زیادہ قریب تھے بہ نسبت ایمان کے، کہتے ہیں اپنے مُنہ سے ایسی باتیں جو نہیں ہیں ان کے دلوں میں اور اللہ خُوب جانتا ہے اس کو جو وہ چھپاتے ہیں ۔

۳:۱۶۸ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کہا اپنے بھائیوں کے بارے میں جبکہ خود بیٹھے رہے ( گھروں میں) کہ اگر مانتے بات ہماری تو نہ مارے جاتے ،تم کہو!اچّھا ٹال کر دکھاؤ تم اپنی جانوں سے موت، اگر ہو تم سّچے۔

۳:۱۶۹ اور ہر گز نہ سمجھنا ان لوگوں کو جو قتل ہُوئے ہیں اللہ کی راہ میں کہ وہ مُردہ ہیں بلکہ وہ تو زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں۔

۳:۱۷۰ شاداں و فرحاں ہیں اس پر جو عطا فرمایا ہے ان کو اللہ نے اپنے فضل اس اور مطمئن ہیں ان لوگوں کے بارے میں جو ابھی نہیں پہنچے اُن کے پاس اُن کے پچھلوں میں سے، اس بنا پر کہ نہ کوئی خوف ہے اُن کے لیے اور  نہ وہ غمگین ہوتے ہیں۔

۳:۱۷۱ مطمئن ہیں اللہ کے انعام پر اور اس کے فضل پر اور  (اس پر) کہ اللہ نہیں ضائع کرتا اجر مومنوں کا۔

۳:۱۷۲ وہ  (مومن) جنہوں نے لبیک کہا، پکار پر اللہ اور رسُول کی اس کے باوجود کہ کھا چُکے تھے زخم، ان لوگوں کے لیے، جنہوں نے  بہتر کارکردگی دکھائی ان میں سے اور تقویٰ اختیار کیا، اجرِ عظیم ہے۔

۳:۱۷۳ یہ وہ ہیں کہ کہا تھا ان سے لوگوں نے کہ بہت لوگ جمع ہو رہے ہیں تمہارے مقابلہ کے لیے لہٰذا ڈرو ان سے، سو زیادہ کر دیا اس بات نے ان کا ایمان اور انہوں نے کہا! کافی ہے ہمارے لیے اللہ اور وہی بہترین کار ساز ہے۔

۳:۱۷۴ نتیجہ یہ نکلا کہ لوٹے وہ لے کر انعام اللہ کا اور فضل اس کا، نہ پہنچا اُنہیں کوئی نقصان اور چلے راہ پر رضائے الٰہی کے۔ اور اللہ مالک ہے فضلِ عظیم کا۔

۳:۱۷۵ یہ جو تھا دراصل شیطان تھا جو ڈرا رہا تھا تم کو اپنے ساتھیوں سے لہٰذا نہ ڈرو تم اُن سے اور ڈرو صرف مجھ سے اگر ہو تم  (واقعی) مومن۔

۳:۱۷۶ اور نہ آزردہ خاطر کریں تم کو وہ لوگ جو بھاگ دوڑ کر رہے ہیں کفر  (کی راہ) میں، بے شک وہ ہرگز نہ نقصان پہنچا سکیں گے اللہ کو ذرا بھی، اللہ کا  ارادہ یہ ہے کہ نہ رکھے ان کے لیے کوئی حصّہ آخرت میں اور ان کے لیے ہے عذابِ عظیم۔

۳:۱۷۷ بے شک وہ لوگ جنہوں نے خریدا کفر، ایمان کے بدلے میں، ہرگز نہیں بگاڑ رہے اللہ کا کچھ بھی اور ان کے لیے ہے، درد ناک عذاب۔

۳:۱۷۸ اور ہرگز نہ گمان کریں وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے کہ یہ جو ہم مہلت دے رہے ہیں اُن کو، یہ بہتر ہے ان کے لیے۔ یہ ہمارا ان کو مہلت دینا، محض اس لیے ہے کہ خُوب اضافہ کر لیں وہ گناہوں میں اور ان کے لیے ہے عذاب ذلیل و خوار کرنے والا۔

۳:۱۷۹ نہیں ہے اللہ کہ چھوڑ دے مومنوں کو اس حالت میں کہ ہو تم جس میں حتیٰ کہ الگ نہ کر دے ناپاک کو پاک سے اور نہیں ہے اللہ کہ مطلع کرے تم کو غیب پر، لیکن اللہ چن لیتا ہے اپنے رسُولوں میں سے جسے چاہے  (غیب کی باتیں بتانے کے لیے) لہٰذا ایمان رکھو تم اللہ پر اور اس کے رسُولوں پر، اور اگر تم ایمان پر قائم رہے اور تقویٰ اختیار کیا تو تمہارے لیے ہے اجرِ عظیم۔

۳:۱۸۰ اور ہرگز نہ گمان کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اُس کے دینے میں جو عطا کیا ہے ان کو اللہ نے اپنے فضل سے کہ یہ  (بخل) بہتر ہے ان کے حق میں بلکہ یہ بہت بُرا ہے ان کے لیے ضرور طوق بنا کر ڈالا جائے گا اُن کی گردنوں میں اس چیز کا جس کے دینے میں بخل کرتے تھے، قیامت کے دن۔ اور اللہ ہی کے لیے ہے، میراث آسمانوں کی اور زمین کی۔ اور اللہ ہر اس بات سے جو تم کرتے ہو پُوری طرح باخبر ہے۔

۳:۱۸۱ بے شک سُن لیا اللہ نے قول ان لوگوں کا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی ہیں۔ سو لکھے لیتے ہیں ہم، ان کا یہ کہنا اور قتل کرنا ان کا نبیوں کا ناحق  (بھی درج ہے،) اور کہیں گے ہم  (ان سے روزِ قیامت) کہ چکھو عذاب دہکتی آگ کا۔

۳:۱۸۲ یہ بدلہ ہے ان عملوں کا جو  (کر کے) آگے بھیجے، تمہارے ہاتھوں نے اور یقیناً اللہ نہیں ہے ذرا بھی ظلم کرنے والا اپنے بندوں پر۔

۳:۱۸۳ وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ بے شک اللہ نے حکم دیا ہے ہم کو کہ نہ ایمان لائیں ہم کسی رسُول پر جب تک کہ نہ پیش کرے وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی کہ کھا جائے اس کو  (آسمانی) آگ، کہہ دو کہ آ چکے ہیں تمہارے پاس کتنے ہی رسُول مجھ سے پہلے، روشن نشانیاں لے کر اور وہ نشانی بھی جو تم نے کہی ہے، تو پھر کیوں قتل کیا تم نے ان کو، اگر ہو تم سچے۔

۳:۱۸۴ پھر اگر جھٹلاتے ہیں یہ تم کو  (اے محمد) تو البتہ جھٹلائے جا چکے ہیں بہت سے رسُول تم سے پہلے بھی جو لائے تھے کھُلی نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتاب۔

۳:۱۸۵ ہر جان کو چکھنا ہے مزا موت کا اور بس دیے جائیں گے تم کو پُورے اجر تمہارے  (اعمال کے) روزِ قیامت، پس جو بچا لیا گیا آگ سے اور داخل کر دیا گیا جنّت میں تو بے شک کامیاب ہو گیا وہ اور نہیں ہے دُنیاوی زندگی مگر محض سامان دھوکے کا۔

۳:۱۸۶ البتّہ آزمائے جاؤ گے تم ضرور اپنے مالوں اور جانوں کے معاملے میں اور البتّہ سُنو گے تم ضرور ان لوگوں سے جنہیں دی گئی کتاب تم سے پہلے اور ان لوگوں سے بھی جو مشرک ہیں تکلیف دہ باتیں بہت سی اور اگر  (ان حالات میں) تم نے صبر کیا اور تقویٰ اختیار کیا تو بے شک یہ بڑے حوصلے کا کام ہے۔

۳:۱۸۷ اور جب لیا اللہ نے عہد ان لوگوں سے جنہیں دی گئی کتاب کہ تم ضرور بیان کرتے رہو گے اس کو لوگوں کے سامنے اور نہ چھپاؤ گے اُس کو۔ تو پھینک دیا اُنہوں نے عہد کو پسِ پشت اور بیچ ڈالا اس کو حقیر قیمت کے بدلے، سو بہت ہی بُرا ہے وہ کاروبار جو یہ کر رہے ہیں۔

۳:۱۸۸ ہرگز نہ خیال کرنا تم کہ وہ لوگ جو اتراتے ہیں اپنے کرتوتوں پر اور چاہتے ہیں کہ تعریف کی جائے اُن کی ایسے کارناموں پر جو نہیں کیے اُنہوں نے سو نہ خیال کرنا ان کے بارے میں کہ وہ بچ گئے عذاب سے بلکہ اُن کے لیے ہے بڑا درد ناک عذاب۔

۳:۱۸۹ اور اللہ ہی کے لیے ہے حکومت آسمانوں کی اور زمین کی اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

۳:۱۹۰ بےشک پیدا کرنے میں آسمانوں اور زمین کے اور ایک دوسرے کے پیچھے آنے میں شب و روز کے یقیناً بہت نشانیاں ہیں ایسے عقل مندوں کے لیے ۔

۳:۱۹۱ جو یاد کرتے ہیں اللہ کو کھڑے بیٹھے، اور اپنے پہلوؤں کے بل اور غور و فکر کرتے رہتے ہیں تخلیق میں آسمانوں اور زمین کی۔  (پھر بے اختیار بول اُٹھتے ہیں) اے ہمارے رب! نہیں پیدا کیا تو نے یہ سب بے مقصد، پاک ہے تو ہر نقص و عیب سے، پس بچا لے ہم کو دوزخ کے عذاب سے۔

۳:۱۹۲ اے ہمارے رب! بےشک تو نے جس کو ڈالا دوزخ میں سو درحقیقت بڑا ہی رسوا کر دیا تو نے اسے اور نہیں ہو گا ایسے ظالموں کا کوئی مددگار۔

۳:۱۹۳ اے ہمارے رب! ہم نے سُنا ایک پکار نے والے کو جو دعوت دے رہا تھا ایمان کی کہ ایمان لاؤ اپنے رب پر سو ایمان لے آئے ہم۔ اے ہمارے رب اب بخش دے تو ہمارے گناہ اور دُور کر دے ہم سے وہ بُرائیاں جو ہم میں ہیں اور موت دے ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ ۔

۳:۱۹۴ اے ہمارے رب اور عطا فرما تو ہم کو وہ جس کا وعدہ کیا ہے تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی معرفت اور نہ رسوا کیجیو ہمیں قیامت کے دن بےشک تو نہیں خلاف کرتا اپنے وعدے کے ۔

۳:۱۹۵ پس قبول فرما لی اُن کی دُعا ان کے رب نے  (اور جواب دیا) کہ بلا شُبہ میں نہیں ضائع کرتا عمل کسی عمل کرنے والے کا تم میں سے مردہ ہو یا عورت تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو سو وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی، اور نکالے گئے اپنے گھروں سے اور ستائے گئے میری راہ میں اور جنگ کی اُنہوں نے اور شہید ہوئے، ضرور کفارہ بناؤں گا میں ان کی طرف سے  (ان عملوں کو) اُن کے گناہوں کا اور ضرور داخل کروں گا میں ان کو جنّتوں میں، بہتی ہیں جن کے نیچے نہریں۔ یہ ہے اجر اللہ کی جنابِ خاص سے۔ اور اللہ کے پاس ہے بہترین اجر۔

۳:۱۹۶ ہرگز نہ دھوکے میں ڈالے تم کو  (اے محمد) چلت پھرت کافروں کی مُلکوں میں۔

۳:۱۹۷ یہ فائدہ ہے تھوڑا سے۔ پھر ٹھکانا ہے اُن کا جہنّم اور بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے۔

۳:۱۹۸ لیکن وہ لوگ جو ڈرتے رہے اپنے رب سے ان کے لیے ہیں جنّتیں ایسی کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں یہ مہمان نوازی ہو گی اللہ کی طرف سے۔ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی سب سے بہتر ہے نیک لوگوں کے لیے۔

۳:۱۹۹ اور بے شک اہل کتاب میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس پر جو نازل کیا گیا تمہاری طرف اور اس پر جو نازل کیا گیا اُن کی طرف، جھکے رہتے ہیں اللہ کے حضور اور نہیں بیچتے اللہ کی آیات کو حقیر معاوضے پر۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ اُن کے لیے ہے اُن کا اجرِ خاص ان کے رب کے پاس، بے شک اللہ بہت جلد چُکانے والا ہے حساب کا۔

۳:۲۰۰ اے ایمان والو! ثابت قدم رہو اور  (دشمنوں کے) مقابلہ میں پامردی دکھاؤ اور اتفاق و  اتحاد قائم رکھتے ہوئے جہاد کے لیے کمر بستہ رہو اور ڈرتے رہو اللہ سے تاکہ تم کامیابی سے ہمکنار ہو۔

 

سورۃ اَلنِسَآء

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا۔

۴:۱ اے انسانو! ڈرو اپنے رب سے جس نے پیدا کیا  تم کو ایک جان سے اور پیدا کیا اسی میں سے جوڑا اس کا اور  پھیلائے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں اور ڈرتے رہو اس اللہ سے کہ سوال کرتے ہو تم ایک دوسرے سے جس کا واسطہ دے کر اور ڈرتے رہو رشتوں  (کی نزاکت) سے بھی۔ بے شک اللہ ہے تم پر ہر وقت نگران۔

۴:۲ اور دے دو  یتیموں کو اُن کے مال اور  مت بدلو بُرے مال کو اچّھے مال سے اور مت ہڑپ کرو اُن کے مال اپنے مالوں کے ساتھ  (ملا کر) بے شک یہ ہے گناہ، بہت بڑا۔

۴:۳ اور اگر اندیشہ ہو تم کو کہ نہ انصاف کر سکو تم یتیم  (لڑکیوں) کے معاملے میں تو نکاح کر لو تم  (ان کے علاوہ) ان سے جو پسند آئیں تم کو عورتیں دو دو ، تین تین، چار چار۔ پھر اگر خوف ہو تم کو یہ کہ نہ عدل کر سکو گے تو بس ایک یا پھر  (لونڈی) جو تمہاری مِلک میں ہو۔ یہ زیادہ قریب ہے اس کے کہ بچ جاؤ تم ناانصافی سے۔

۴:۴ اور ادا کرو عورتوں کو اُن کے مہر، خوش دلی کے ساتھ۔ پھر اگر  (چھوڑ دیں) وہ اپنی خوشی سے تمہارے لیے کچھ حصّہ مہر کا از خود تو کھاؤ اُسے خوشگوار سمجھ کر بے کھٹکے۔

۴:۵ اور نہ دو کم عقل یتیموں کو اپنے مال  (یعنی وہ مال جو اُن کے تمہارے پاس ہیں) جس کو بنایا ہے اللہ نے تمہارے لیے ذریعۂ گزران اور کھلاؤ اُنہیں اس میں سے اور پہناؤ بھی اور سمجھاؤ اُنہیں بات اچھّی۔

۴:۶ : اور جانچتے پرکھتے رہو یتیموں کو یہاں تک کہ جب پہنچ جائیں وہ نکاح کی عمر کو پھر اگر پاؤ تم ان میں عقل کی پختگی تو دے دو ان کو مال اُن کے اور نہ کھاؤ اس مال کو فضول خرچی کر کے جلدی جلدی کہ کہیں بڑے ہو جائیں  (اور اپنے حق کا مطالبہ کرنے لگیں) اور جو ہو آسودہ حال اسے چاہیے کہ بچ کر رہے  (اُن کے مال سے) اور جو ہو غریب تو اُسے چاہیے کہ کھائے جائز طریقے سے۔ پھر جب حوالے کرنے لگو اُن کو اُن کے مال تو گواہ بنا لو اُن پر اور کافی ہے اللہ حساب لینے والا۔

۴:۷ مردوں کے لیے حصّہ  ہے اس  (ترکے) میں سے جو چھوڑیں والدین اور قریبی رشتہ دار اور عورتوں کے لیے بھی ہے حصّہ ہے اس  (ترکے) میں سے جو چھوڑیں والدین اور قریبی رشتہ دار   ۔ وہ ترکہ کم ہو یا زیادہ۔ یہ حصّہ مقّرر ہے  (اللہ کی طرف سے)۔

۴:۸ اور جب موجود ہوں تقسیم کے وقت رشتہ دار اور یتیم اور مسکین تو دو  ان کو بھی کچھ اس میں سے اور کہو اُن سے معقول بات۔

۴:۹ اور چاہیے کہ ڈریں وہ لوگ جو  (ترکہ تقسیم کر رہے ہیں) کہ اگر چھوڑتے وہ اپنے پیچھے اولاد ضعیف و ناتواں تو کیسے کچھ اندیشے ہوتے اُنہیں اُن کے بارے میں لہٰذا انہیں چاہیے کہ ڈریں اللہ سے اور کہیں ٹھیک ٹھیک بات۔

۴:۱۰ بے شک وہ لوگ جو کھا جاتے ہیں یتیموں کے مال ناحق وہ تو بس بھر رہے ہیں اپنے پیٹوں میں آگ۔ اور عنقریب جا پڑیں گے بھڑکتی آگ میں۔

۴:۱۱ ہدایت کرتا ہے تم کو اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں، مرد کا  (حصّہ) برابر ہے دو عورتوں کے حصّے کے پھر اگر ہوں  (وارث) صرف لڑکیاں ہی دو سے زیادہ تو ان کے لیے ہے دو تہائی پُورے ترکے کا اور اگر ہو ایک ہی لڑکی تو اس کے لیے، نصف  (کل ترکے کا)۔ اور میت کے ماں باپ کے لیے، دونوں میں سے ہر ایک کے لیے ہے چھٹا حصّہ، ترکے میں سے اگر ہو میّت کی اولاد۔ پھر اگر نہ ہو اس کی اولاد اور  وارث بن رہے ہوں اس کے ماں باپ ہی تو اس کی ماں کا ایک تہائی حصّہ ہے پھر اگر ہون میّت کے بھائی بہن تو اس کی ماں کا چھٹا حصّہ  (یہ حصّے نکالے جائیں گے) بعد پُورا کرنے وصیّت کے جو کی ہو میّت نے اور  (بعد ادائیگی) قرض کے  (جو میّت پر ہو)۔ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد، نہیں جانتے تم کہ کون ان میں سے قریب تر ہے تمہارے نفع کے لحاظ سے،  (یہ حصّے) مقّرر ہیں اللہ کی طرف سے۔ بے شک اللہ ہے ہر بات جاننے والا، بڑی حکمت والا۔

۴:۱۲ اور تمہارے لیے ہے نصف اس کا جو چھوڑیں تمہاری بیویاں اگر نہ ہو اُن کی اولاد۔ پھر اگر ہو اُن کی اولاد بھی تو تمہارے لیے ہے چوتھا حصّہ اس میں سے جو وہ چھوڑیں بعد پُورا کرنے وصیّت کے جو اُنہوں نے کی ہو یا  (ادائیگی) قرض کے بعد  (جو ان پر ہو) اور بیویوں کے لیے ہے چوتھا حصّہ اس میراث کا جو چھوڑی تم نے اگر نہ ہو تمہاری اولاد ۔پھر اگر ہو تمہاری اولاد بھی تو بیویوں کے لیے ہے آٹھواں حصّہ اس کا جو چھوڑا تم نے  (یہ تقسیم ہو گی) بعد پُورا کرنے وصیّت کے جو تم نے کی ہو اور قرض  (کی ادائیگی) کے  (جو تم پر ہو) اور اگر ہو کوئی مرد جس کی میراث تقسیم طلب ہے، ایسا بے اولاد کہ اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں یا ایسی ہی کوئی عورت ہو اور ہو اُس کا صرف ایک بھائی یا صرف ایک بہن تو ملے گا ہر ایک کو ان دونوں میں سے چھٹا حصّہ پھر اگر ہوں  (بہن بھائی) ایک سے زیادہ تو وہ سب شریک ہوں گے  ایک تہائی میں بعد پُورا کرنے اس وصیّت کے جو کی گئی ہو یا  (ادائیگی) قرض کے  (جو میّت پر ہو) بشرطیکہ  (یہ وصیت) ضرر رساں نہ ہو، یہ حُکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، نہایت بردبار ہے۔

۴:۱۳ یہ حدیں  (مقّرر کردہ) ہیں اللہ کی۔ اور جو اطاعت کرے گا اللہ کی اور اس کے رسول کی، داخل کرے گا اللہ اس کو ایسی جنتوں میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں، سدا رہیں گے ایسے لوگ ان میں۔ اور یہی ہے عظیم کامیابی۔

۴:۱۴ اور جو نافرمانی کرے گا اللہ اور اُس کے رسُول کی اور تجاوز کرے گا اس کی  (مقّرر کردہ) حدوں سے، ڈالے گا اللہ اس کو آگ میں، پڑا رہے گا وہ ہمیشہ اس میں اور اس کے لیے عذاب ہے رُسوا کُن۔

۴:۱۵ اور جو ارتکاب کریں بدکاری کا تمہاری عورتوں میں سے تو گواہی لاؤ اُن پر چار  (مردوں) کی اپنوں میں سے۔ پھر اگر گواہی دے دیں وہ تو قید رکھو ان عورتوں کو گھروں میں حتّیٰ کہ آ جائے اُنہیں موت یا نکالے اللہ ان عورتوں کے لیے کوئی اور سبیل۔

۴:۱۶ اور جو دو مرد ارتکاب کریں بدکاری کا تم میں سے تو اذیّت دو  ان کو  (جسمانی اور  ذہنی) پھر اگر توبہ کر لیں دونوں اور اپنی اصلاح بھی کر لیں تو پیچھا چھوڑ دو اُن کا، بے شک اللہ ہے بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا۔

۴:۱۷ درحقیقت توبہ کا حق اللہ کے حضور  محض انہی لوگوں کے لیے ہے جو کر بیٹھتے ہیں گناہ نادانی سے پھر توبہ کر لیتے ہیں جلد ہی۔ سو یہ وہ لوگ ہیں کہ توبہ قبول کر لیتا ہے اللہ اُن کی۔ اور ہے اللہ  (ہر بات سے) باخبر، بڑی حکمت والا۔

۴:۱۸ اور نہیں ہے توبہ ان لوگوں کے لیے جو کیے چلے جاتے ہیں گناہ حتّیٰ کہ جب سامنے آ کھڑی ہوتی ہے ان میں سے کسی ایک کے موت تو وہ کہتا ہے میں توبہ کرتا ہُوں اب اور نہ  (توبہ) ان لوگوں کے لیے ہے جو مرتے ہیں اس حالت میں کہ وہ کافر ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ تیار کر رکھا ہے ہم نے ان کے لیے دردناک عذاب۔

۴:۱۹ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، نہیں ہے جائز تمہارے لیے کہ میراث بنا لو تم عورتوں کو زبردستی۔ اور نہ دباؤ ڈالو اُن پر اس غرض سے کہ ہڑپ کر جاؤ تم کچھ حصّہ اس کا جو دیا ہے تم نے ہی اُنہیں  (بصورتِ مہر و میراث) الاّ یہ کہ وہ ارتکاب کریں صریح بدکاری کا اور برتاؤ کرو عورتوں کے ساتھ اچھّا۔ پھر اگر ناپسند ہوں وہ تم کو تو عجب نہیں کہ ناپسند کرو تم ایک چیز کو اور رکھی ہو اللہ نے اس میں خیرِ کثیر۔

۴:۲۰ اور اگر چاہو تم بدلنا بیوی کی جگہ بیوی اور دے چُکے ہو تم ان میں سے کسی ایک کو ڈھیروں مال تو نہ واپس لو اس میں سے کچھ بھی۔ کیا لو گے تم وہ مال اس سے بہتان لگا کر اور صریح ظلم کر کے۔

۴:۲۱ بھلا کیسے لے سکتے ہو تم اسے  (واپس) جبکہ یکجان ہو چُکے تھے تم ایک دوسرے کے ساتھ اور لے چُکی ہیں وہ تم سے پختہ عہد۔

۴:۲۲ اور نہ نکاح کرو تم ان سے کہ نکاح کر چُکے ہوں تمہارے باپ ان عورتوں سے مگر جو کچھ پہلے  ہو چُکا  (سو ہو چُکا)۔ بے شک یہ تھی کھلی بے حیائی، قابلِ نفرت کام۔ اور بہت ہی بُری راہ۔

۴:۲۳ حرام کر دی گئی ہیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھُوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور تمہاری بھتیجیاں اور تمہاری بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے دُودھ پلایا تمہیں اور  بہنیں تمہاری دُودھ شریک اور مائیں تمہاری بیویوں کی اور وہ لڑکیاں جو پل رہی ہوں تمہارے گھروں میں جو اولاد ہوں تمہاری ان بیویوں کی جن سے تم مباشرت کر چُکے ہو، لیکن اگر نہ کی ہو مباشرت تم نے ان سے تو نہیں ہے کوئی گناہ تم پر  (نکاح کرنے میں ان کی لڑکیوں سے) اور بیویاں تمہارے اُن بیٹوں کی جو تمہارے صُلب سے ہوں اور  (حرام کیا گیا ہے) یہ بھی کہ جمع کرو دو بہنوں کو  (نکاح میں) مگر جو کچھ پہلے ہو چُکا  (سو ہو چُکا) بے شک اللہ ہے معاف کرنے والا، ہر حالت میں رحم فرمانے والا۔

۴:۲۴ اور  (حرام کی گئی ہیں تم پر) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو  (جنگ میں قید ہو کر) ہاتھ آئیں تمہارے یہ قانون ہے اللہ کا  (لازم ہے جس کی پابندی) تم پر۔ اور حلال ہیں تمہارے لیے وہ  (عورتیں جو علاوہ ہیں ان کے اس طرح کہ حاصل کرو تم اُن کو اپنے مال خرچ کر کے، قید  (نکاح) میں لانے کے لیے نہ کہ بدکاری کی خاطر۔ پھر جو لطف اُٹھاؤ تم ان عورتوں میں کسی سے تو ادا کرو انہیں ان کے مہر بطور فرض اور نہیں ہے کچھ گناہ تم پر کسی  (سمجھوتے) میں جو باہمی رضا مندی سے طے پا جائے، بعد مہر مقّرر  کرنے کے۔ بے شک اللہ ہے ہر بات جاننے والا، بڑی حکمت والا۔

۴:۲۵ اور جو نہ رکھتا ہو تم میں سے قدرت اس بات کی کہ نکاح کر سکے آزاد مومن عورتوں سے تو  (وہ نکاح کرے) ان سے جو تمہاری مِلک میں ہوں، کنیزیں ایمان والی اور اللہ خُوب جانتا ہے تمہارے ایمان کا حال، تم سب ایک دوسرے میں سے ہو، سو نکاح کرو ان کنیزوں سے، اجازت سے ان کے مالکوں کی۔ اور ادا کرو انہیں ان کے مہر دستور کے مطابق  (تاکہ وہ) قیدِ نکاح میں محفوظ رہنے والیاں ہوں۔ نہ بدکاری کرنے والیاں اور نہ چوری چھُپے یارانہ گانٹھنے والیاں۔ پھر جب وہ قیدِ نکاح میں محفوظ ہو جائیں تو اگر ارتکاب کریں بدکاری کا تو ان کے لیے ہے نصف اس سزا کا جو ہے آزاد عورتوں کے لیے مقّرر ہ سزا۔ یہ  (کنیز سے نکاح کی سہولت) اس کے لیے ہے۔ جسے ڈر ہو بد کاری میں مُبتلا ہونے کا تم میں سے اور یہ کہ صبر سے کام لو تم۔ یہ بہتر ہے تمہارے لیے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔

۴:۲۶ چاہتا ہے اللہ کہ کھول کر بیان کرے تمہارے لیے  (اپنے احکام) اور چلائے تم کو طریقوں پر ان لوگوں کے جو  (تھے) تم سے پہلے اور قبول کر لے تمہاری توبہ۔ اور  اللہ ہے ہر بات جاننے والا، بڑی حکمت والا۔

۴:۲۷ اور اللہ تو چاہتا ہے کہ توبہ قبول کرے تمہاری۔ مگر چاہتے ہیں وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں خواہشاتِ نفس کی کہ دُور ہٹ جاؤ تم  (راہِ راست سے) بہت زیادہ دُور۔

۴:۲۸ چاہتا ہے اللہ کہ ہلکا کرے بوجھ تمہارا کیونکہ پیدا کیا گیا ہے انسان کمزور۔

۴:۲۹ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو نہ کھاؤ  ایک دوسرے کے مال باہم ناجائز طریقے سے، مگر یہ کہ ہو لین دین تمہاری آپس کی رضامندی سے۔ اور نہ قتل کرو اپنے آپ کو، بے شک اللہ ہے تم پر بے حد مہربان۔

۴:۳۰ جو شخص کرے گا ایسے کام زیادتی اور ظلم سے تو عنقریب جھونکیں گے ہم اسے بڑی آگ میں اور ہے یہ  (کام) اللہ کے لیے بہت آسان۔

۴:۳۱ اور اگر تم بچتے رہو ایسے برے گناہوں سے کہ منع کیا گیا ہے تم کو جن سے تو معاف کر دیں گے ہم تمہاری چھوٹی بُرائیاں اور داخل کریں گے ہم تمہیں عزّت و احترام کی جگہ۔

۴:۳۲ اور مت تمنّا کرو ایسی بات کی کہ فضیلت دی ہے اللہ نے اس میں تم میں سے بعض کو بعض پر۔ مردوں کے لیے ہے حصّہ اس میں جو کمایا انہوں نے اور عورتوں کے لیے ہے حصّہ اس میں جو کمایا انہوں نے اور مانگو اللہ سے اس کا فضل۔ بے شک اللہ ہے ہر چیز کے بارے میں سب کچھ جاننے والا۔

۴:۳۳ اور سب کے لیے مقّرر کیے ہیں ہم نے وارث اس میں جو چھوڑیں والدین اور قریبی رشتہ دار۔ اور رہے وہ لوگ جن سے عہد و پیمان کر رکھا ہے تم نے۔ سو دو اُنہیں بھی اُن کا حصّہ۔ بے شک اللہ ہے ہر چیز پر نگران۔

۴:۳۴ مرد سرپرست و نگہبان ہیں عورتوں کے اس بنا پر کہ فضیلت دی ہے اللہ نے انسانوں میں بعض کو بعض پر اور اس بنا پر کہ خرچ کرتے ہیں مرد اپنے مال۔ پس نیک عورتیں  (ہوتی ہیں) اطاعت شعار، حفاظت کرنے والیاں  (مردوں کی) غیر حاضری میں، ان سب چیزوں کی جن کو محفوظ بنایا ہے اللہ نے۔ اور وہ عورتیں کہ اندیشہ ہو تم کو نافرمانی کا جن سے، سو نصیحت کرو ان کو اور  (اگر نہ مانیں تو) تنہا چھوڑ دو اُن کو بستروں میں اور  (پھر بھی نہ مانیں تو) مارو ان کو پھر اگر اطاعت کرنے لگیں وہ تمہاری تو نہ تلاش کرو ان پر زیادتی کرنے کی راہ۔ بے شک اللہ ہے سب سے بالا تر اور بہت بڑا۔

۴:۳۵ اور اگر اندیشہ ہو تم کو ناچاقی کا، میاں بیوی کے درمیان تو مقّرر کرو  ایک ثالث مرد کے خاندان سے اور ایک ثالث عورت کے خاندان سے، اگر چاہیں گے وہ دونوں اصلاحِ احوال تو موافقت پیدا کر دے گا اللہ اُن دونوں کے درمیان، بے شک اللہ ہے سب کچھ جاننے والا، ہر بات سے باخبر۔

۴:۳۶ : اور بندگی کرو اللہ کی اور نہ شریک بناؤ اس کا  (کسی کو) ذرا بھی اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو اور رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، رشتے دار ہمسایوں، بیگانہ ہمسایوں، پاس کے اُٹھنے بیٹھنے والوں، مسافروں اور اپنے لونڈی، غلاموں کے ساتھ بھی  (حسنِ سلوک کرو)۔ بے شک اللہ نہیں پسند کرتا ان لوگوں کو جو ہوں مغرور اور شیخی بگھارنے والے۔

۴:۳۷ جو بخل کرتے ہیں اور ترغیب دیتے ہیں لوگوں کو بخل کی اور چھپاتے ہیں اس کو جو دیا ہے ان کو اللہ نے اپنے فضل سے اور تیّار کر رکھا ہے ہم نے ایسے ناشکروں کے لیے رسوا کُن عذاب۔

۴:۳۸ اور  (نہیں پسند کرتا) ان لوگوں کو بھی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال، لوگوں کے دکھاوے کی خاطر اور نہیں ایمان رکھتے اللہ پر اور نہ روزِ آخرت پر  (اُن کا ساتھی شیطان ہے) اور وہ شخص کہ ہو گیا شیطان اس کا ساتھی، تو وہ تو بہت ہی بُرا ساتھی ہے۔

۴:۳۹ اور کی آفت ٹوٹ پڑتی ان پر اگر ایمان لے آتے وہ اللہ پر اور روز آخرت پر اور خرچ کرتے اس میں سے جو دیا ہے انہیں اللہ ہی نے اور ہے اللہ ان کے بارے میں سب کچھ جاننے والا۔

۴:۴۰ بے شک اللہ نہیں ظلم کرتا ذرّہ برابر۔ اور اگر ہونے کی تو دو گنا چوگنا کرتا ہے اس کو اور دیتا ہے اپنے پاس سے بھی اجرِ عظیم۔

۴:۴۱ پھر کیا کیفیت ہو گی  (ان لوگوں کی) جب لائیں گے ہم ہر اُمّت میں سے ایک گواہ اور لائیں گے تمہیں  (اے محمد!) ان پر بطورِ گواہ۔

۴:۴۲ اس دن آرزو کریں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور نافرمانی کی رسُول کی اے کاش!  (وہ زمین میں سما جائیں اور) برابر کر دی جائے اُن پر زمین اور نہ چھپا سکیں گے وہ اللہ سے کوئی بات۔

۴:۴۳ اے لوگوں جو ایمان لائے ہو! نہ قریب جاؤ نماز کے، اس حال میں کہ نشہ میں ہو، حتّیٰ کہ  (نشہ اُتر جائے اور) معلوم ہو تمہیں کہ کیا کہہ رہے ہو تم؟ اور نہ جنابت کی حالت میں  (قرب جاؤ نماز کے) الاّ یہ کہ تم راستے سے گزر رہے ہو، حتّیٰ کہ غسل کر لو۔ اور اگر ہو تم بیمار یا سفر میں یا آیا ہو کوئی تم میں سے رفع حاجت کر کے یا ہم بستری کی ہو تم نے عورتوں سے۔ اور نہ میسر آئے تم کو پانی تو تیّمم کرو پاک مٹی سے۔ سو مسح کرو اپنے چہروں کا اور ہاتھوں کا بے شک اللہ ہے خطائیں معاف کرنے والا، گناہ بخشنے والا۔

۴:۴۴ کیا نہیں دیکھا تم نے ان لوگوں کو جنہیں دیا گیا تھا کچھ حصّہ کتابِ الٰہی میں  سے کہ خریدتے ہیں وہ گمراہی اور چاہتے ہیں کہ بھٹک جاؤ تم بھی راستے سے۔

۴:۴۵ اور اللہ خُوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو اور کافی ہے اللہ کارساز اور کافی ہے اللہ مدد گار۔

۴:۴۶ ان لوگوں میں سے جو یہودی بن گئے کچھ ایسے ہیں جو ہٹا دیتے ہیں الفاظ کو اُن کے موقع و محل سے اور کہتے ہیں-سمعنا و عصینا-  ہم نے سُنا اور نہ مانا اور  – اسمع غیر مسمع=   ہماری سُن تیری کوئی نہ سُنے اور    (کہتے ہیں) -راعنا- کو -راعینا: (یعنی ہمارا گڈریا) مروڑ کر   اپنی زبانیں طنز کرنے کے لیے دینِ حق پر اور اگر وہ یُوں کہتے  -سمعنا و اطعنا-   ہم نے سُنا اور مان لیا اور  – اسمع و انظرنا-  سنیے اور ہماری طرف نظر کیجیے  تو یہ ہوتا بہتر ان کے حق میں اور زیادہ درست بھی، لیکن دُور کر دیا ہے اپنی رحمت سے اُن کو اللہ نے، ان کے کفر کی وجہ سے سو وہ نہیں ایمان لاتے مگر بہت کم۔

۴:۴۷  اے لوگو! جنہیں دی گئی ہے کتاب، ایمان لاؤ اس کتاب پر جو نازل کی ہے ہم نے، جو تصدیق کرنے والی ہے اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے قبل اس کے کہ ہم مسخ کر دیں چہروں کو اور پھیر دیں ان کو ان کی پیٹھ کی طرف یا لعنت کریں ہم ان پر جیسے لعنت کی تھی ہم نے اصحابِ سبت پر۔ اور  (یاد رکھو) ہے اللہ کا حُکم نافذ ہو کر رہنے والا۔

۴:۴۸ بے شک اللہ نہیں معاف کرتا یہ  (گناہ) کہ شرک کیا جائے اس کے ساتھ اور معاف کر دیتا ہے شرک کے علاوہ  (باقی گناہ) جس کے لیے چاہے۔ اور جس نے شریک ٹھہرایا اللہ کا  (کسی کو) اس نے بہتان باندھا الہ پر  (اور ارتکاب کیا) بہت بڑے گناہ کا۔

۴:۴۹ کیا نہیں دیکھا تم نے ان لوگوں کو جو پاکیزہ قرار دیتے ہیں اپنی ذات کو، حالانکہ اللہ ہی ہے جو پاک کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور  (جنہیں اللہ پاک نہیں کرتا) نہیں ظلم کیا جائے گا ان پر بھی ذرّہ برابر۔

۴:۵۰ دیکھو تو سہی! کس ڈھٹائی سے بہتان باندھ رہے یہ لوگ اللہ پر جھُوٹ کا۔ اور کافی ہے  (ان کے مُجرم ہونے کے لیے) یہی کھُلا گناہ۔

۴:۵۱ کیا نہیں دیکھا تم نے ان لوگوں کو جن کو دیا گیا ہے کچھ حصّہ کتابِ الٰہی میں سے کہ ایمان رکھتے ہیں وہ جادُو ٹونے اور شیطانی قوّتوں پر اور کہتے ہیں ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے انکار کیا  (رسالتِ محمدیہ کا) کہ یہ لوگ زیادہ ہدایت یافتہ ہیں اُن کی نسبت جو مُسلمان ہو چُکے ہیں راستے کے اعتبار سے۔

۴:۵۲ یہ ہیں وہ لوگ کہ لعنت کی ہے ان پر اللہ نے۔ اور جس پر لعنت کر دی اللہ نے سو ہرگز  نہیں پائے گا تو اس کے لیے کوئی مدد گار۔

۴:۵۳ کیا ان کو حاصل ہے کوئی حصّہ، اللہ کی حکومت میں؟  (اگر کہیں ایسا ہوتا) تو پھر یہ نہ دیتے لوگوں کو، ذرّہ برابر بھی۔

۴:۵۴ یا پھر یہ حسد کرتے ہیں لوگوں سے اس پر جو عطا کیا ہے ان کو اللہ نے اپنے فضل سے۔ سو عطا کی تھی ہم نے تو آلِ ابراہیم کو بھی کتاب اور حکمت اور عطا کی تھی ہم نے ان کو بہت بڑی سلطنت۔

۴:۵۵ سو ان میں سے کچھ تو ایسے تھے جو ایمان لائے اس پر اور کچھ ایسے بھی تھے جو رکے رہے ایمان لانے سے۔ اور کافی ہے  (ایسوں کے لیے) جہنّم کی بھڑکتی ہُوئی آگ۔

۴:۵۶ بے شک وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا ماننے سے ہمارے احکام کو عنقریب جھونکیں گے ہم انہیں آگ میں۔ جب جل جائیں گی کھالیں ان کی تو بدل دیں گے ہم ان کی کھالیں اور کھالوں سے، تاکہ مزہ چکھتے رہیں عذاب کا۔ بے شک اللہ ہے سب پر غالب، بڑی حکمت والا۔

۴:۵۷ اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور کرتے رہے نیک عمل، عنقریب داخل کریں گے ہم انہیں جنّتوں میں کہ بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں، رہیں گے یہ ان جنّتوں میں ہمیشہ ہمیشہ۔ ہوں گی ان کے لیے وہاں بیویاں پاکیزہ اور داخل کریں گے ہم انہیں  (اپنی رحمت کی) گھنی چھاؤں میں۔

۴:۵۸ بے شک اللہ حکم دیتا ہے تم کو کہ سپرد کرو امانتیں، اہلِ امانت کو۔ اور جب فیصلہ کرو تم لوگوں کے مابین تو فیصلہ کرو عدل کے ساتھ۔ بے شک اللہ بہت ہی اچھّی نصیحت کرتا ہے تم کو، بے شک اللہ ہے ہر بات کا سُننے والا، ہر چیز کو دیکھنے والا۔

۴:۵۹ اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور صاحبانِ اقتدار و اختیار کی، جو تم میں سے ہوں پھر اگر جھگڑا ہو جائے تمہارے درمیان کسی معاملہ میں، تو پھیر دو اسے  (فیصلے کے لیے) اللہ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تم  (واقعی ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور روز آخرت پر۔ یہی طریقِ کار ہے بہتر اور بہت اچّھا انجام کے اعتبار سے۔

۴:۶۰ کیا  نہیں دیکھا تم نے ان لوگوں کو جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے ہیں اس پر جو نازل کیا گیا ہے تم پر اور اس پر بھی جو نازل کیا گیا ہے تم سے پہلے  (اس کے باوجود) چاہتے ہیں یہ کہ رجوع کریں معاملات کے فیصلے کے لیے طاغوت کی طرف، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ انکار کریں طاغوت کا۔ جبکہ چاہتا ہے شیطان یہی کہ لے جائے بھٹکا کر انہیں گمراہی میں بہت دُور۔

۴:۶۱ اور جب کہا جاتا ہے ان سے کہ آؤ اس کی طرف جو نازل کیا ہے اللہ نے اور  (آؤ) رسُول کی طرف تو دیکھو گے تم ان منافقوں کو کہ رکے رہتے ہیں تمہارے پاس آنے سے، بڑی سختی کے ساتھ۔

۴:۶۲ پھر کیا کیفیّت ہوتی ہے جب آ پڑتی ہے ان پر، کوئی مصیبت بسبب اس کے جو کیا ہوتا ہے ان کے اپنے ہاتھوں نے، پھر آتے ہیں تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے اللہ کی کہ نہیں تھا ہمارا ارادہ مگر بھلائی اور  (فریقین میں) موافقت کرانا۔

۴:۶۳ یہ وہ لوگ ہیں کہ جانتا ہے اللہ اس کو جو ہے ان کے دلوں میں سو چشم پوشی کرو تم ان سے اور سمجھاؤ انہیں اور کہو ان سے ان کے حق میں ایسی بات، جو دل میں اتر جائے۔

۴:۶۴ اور نہیں بھیجا ہم نے کوئی رسُول مگر اس لیے کہ اطاعت کی جائے اس کی اللہ کے حُکم سے۔ اور اگر یہ لوگ جب ظلم کر بیٹھے تھے اپنی جانوں پر تو آ جاتے تمہارے پاس اور معافی مانگتے اللہ سے اور مغفرت کی درخواست کرتے ان کے لیے رسُول بھی تو یقیناً پاتے وہ اللہ کو بڑا معاف کرنے و الا۔ اور رحم کرنے والا۔

۴:۶۵ سو قسم ہے تمہارے رب کی  (اے محمد) یہ ہرگز مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ فیصلہ کرنے والا نہ تسلیم کر لیں تم کو اپنے باہمی اختلافات میں پھر نہ پائیں اپنے دلوں میں کوئی کھٹک اس پر جو، فیصلہ کیا ہو تم نے اور تسلیم کر لیں اسے جیسا کہ تسلیم کرنے کا حق ہے۔

۴:۶۶ اور اگر کہیں ہم نے حُکم دیا ہوتا انہیں کہ قتل کرو اپنے آپ کو یا نکل جاؤ اپنے گھروں سے تو نہ عمل کرتے اس حُکم پر، مگر تھوڑے ان میں سے۔ اور اگر یہ عمل کرتے اس حُکم پر جس کی نصیحت کی جاتی ہے انہیں تو ہوتا زیادہ بہتر ان کے حق میں اور  (دین میں) زیادہ ثابت قدمی کا ذریعہ۔

۴:۶۷ اور اس صُورت میں ضرور دیتے ہم ان کو اپنی جنابِ خاص سے اجرِ عظیم۔

۴:۶۸ اور ضرور ہدایت دیتے ہم ان کو صراطِ مستقیم کی۔

۴:۶۹ اور جس نے اطاعت کی اللہ کی اور رسول کی سو یہی ہیں جو  (ہوں گے) ساتھ ان لوگوں کے کہ انعام کیا ہے اللہ نے ان پر  (یعنی) انبیا اور صدّیقین اور شہدا اور صالحین  (کے) اور بہت اچھّے ہیں یہ لوگ بطور  رفیق کے۔

۴:۷۰ یہ ہے فضلِ خاص اللہ کی طرف سے۔ اور بس کافی ہے اللہ سب کچھ جاننے والا۔

۴:۷۱ اے لوگوں جو ایمان لائے ہو! سنبھالو اپنے ہتھیار پھر نکلو الگ الگ دستوں کی صُورت میں یا نکلو سب اکٹّھے۔

۴:۷۲ اور بے شک تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو ضرور پیچھے رہ جاتا ہے پھر اگر پہنچتی ہے تمہیں کوئی مصیبت تو کہتا ہے بے شک احسان کیا اللہ نے مجھ پر کہ نہ ہوا میں ان کے ساتھ حاضر  (معرکہ میں)۔

۴:۷۳ اور اگر پہنچتا ہے تم کو فضل اللہ کا تو وہ اس طرح بات کرتا ہے، گویا کہ نہ تھی تمہارے اور اس کے درمیان ذرا بھی دوستی  (کہتا ہے) اے کاش! ہوتا میں بھی ان کے ساتھ تو حاصل کرتا بڑی کامیابی۔

۴:۷۴ سوچا ہے کہ جنگ کریں اللہ کی راہ میں وہ لوگ جو فروخت کر چُکے ہیں دُنیاوی زندگی کو آخرت کے عوض۔ اور جو شخص جنگ کرے، اللہ کی راہ میں پھر وہ مارا جائے یا غالب آ جائے تو ضرور دیں گے ہم اسے اجرِ عظیم۔

۴:۷۵ اور کیا ہوا ہے تم کو کہ نہیں جنگ کرتے تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں  (کی خاطر) جو فریاد کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب! نکال تو ہمیں اس بستی سے کہ ظالم ہیں، جس کے رہنے والے۔ اور بنا تُو ہمارے لیے اپنی جناب سے کوئی حامی اور بنا تو ہمارے لیے اپنی جناب سے کوئی مدد گار۔

۴:۷۶ وہ لوگ جو ایمان والے ہیں، جنگ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں اور جو کافر ہیں وہ جنگ کرتے ہیں راہ میں، شیطان کی پس جنگ کرو تم شیطان کے ساتھیوں سے۔ بے شک چال شیطان کی ہے نہایت کمزور۔

۴:۷۷ کیا نہیں دیکھا تم نے ان لوگوں کو، کہا گیا تھا جن سے کہ روکے رکھو اپنے ہاتھ  (جنگ سے) اور قائم کرو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ پھر جونہی حکم دیا گیا انہیں جنگ کا تو ایک گروہ ان میں سے ایسا جو جو ڈرتا ہے لوگوں سے ایسا جیسے ڈرنا چاہیے اللہ سے یا اس بھی زیادہ ڈر۔ اور کہتے ہیں یہ لوگ۔ اے رب ہمارے! کیوں فرض کیا تو نے ہم پر جنگ کرنا؟ کیوں نہ مہلت دی تو نے ہم کو تھوڑی مُدّت اور؟ کہو دو  (اے نبی!) دُنیاوی فائدہ حقیر ہے اور آخرت بہت بہتر ہے، ان کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ اور نہیں ظلم کیا جائے گا تم پر ذرّہ برابر۔

۴:۷۸ جہاں کہیں بھی ہو گے تم، آلے گی تم کو موت اگرچہ ہو تم مضبوط قلعوں کے اندر۔ اور اگر حاصل ہوتی ہے ان  (موت سے ڈرنے والوں) کو کامیابی تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور اگر پہنچتا ہے ان کو کوئی نقصان تو کہتے ہیں کہ  (اے محمد) یہ تمہاری وجہ سے ہے۔ کہو سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔ آخر کیا ہو گیا ہے ان لوگوں کو کہ نہیں لگتے یہ کہ سمجھیں کوئی بات۔

۴:۷۹ جو پہنچتی ہے تم کو کسی قسم کی بھلائی سو وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور جو پہنچتی ہے تم کو کسی قسم کی بُرائی سو تمہارے نفس کی طرف سے ہے اور بھیجا ہے ہم نے تم کو  (اے محمد) لوگوں کے لیے رسول بنا کر اور کافی ہے اللہ  (اس بات پر) گواہ۔

۴:۸۰ جس نے اطاعت کی رسول کی سو در حقیقت اطاعت کی اس نے اللہ کی اور جو منہ موڑ گیا تو نہیں بھیجا ہے ہم نے تم کو ان پر پاسبان بنا کر۔

۴:۸۱ اور کہتے ہیں ہم فرمانبردار ہیں مگر جب چلے جاتے ہیں تمہارے پاس سے تو راتوں کو مشورہ کرتا ہے ایک گروہ ان کا، خلاف اس کے جو تم کہتے ہو۔ اور اللہ لکھ رہا ہے جو مشورے یہ کرتے ہیں سو پرواہ نہ کرو ان کی اور بھروسہ کرو اللہ پر اور کافی ہے اللہ کار ساز۔

۴:۸۲ کیا یہ لوگ  (ذرا بھی) غور نہیں کرتے قرآن میں اور اگر کہیں ہوتا یہ غیر اللہ کی طرف سے تو ضرور پاتے یہ اس میں، بہت زیادہ اختلاف۔

۴:۸۳ اور جب آتی ہے ان کے پاس کوئی بات، امن کی یا خوف کی تو نشر کر دیتے ہیں اس کو حالانکہ اگر پہنچاتے اس کو رسول کے پاس یا اپنے صاحب اختیار لوگوں تک تو اس کی تحقیق کرتے وہ لوگ جو نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان میں سے اور اگر نہ ہوتا فضل اللہ کا تم پر اور رحمت اس کی تو ضرور پیروی کرنے لگ جاتے تم شیطان کی، مگر تھوڑے۔

۴:۸۴ سو جنگ کرو تم  (اے نبی!) اللہ کی راہ میں، نہیں ہو تم ذمّہ دار مگر اپنی ذات کے اور ترغیب دلاتے رہو مومنوں کو بھی توقّع ہے کہ اللہ توڑ دے زور ان لوگوں کا جو کافر ہیں۔ اور اللہ سب سے زبردست ہے اور بہت سخت ہے سزا دینے میں۔

۴:۸۵ جو کرے گا سفارش اچھّے کام کی، ہو گا اس کے لیے حصّہ اس میں سے اور جو کرے گا سفارش بُرے کام کی، ہو گا اس کے لیے حصّہ اس میں سے۔ اور ہے اللہ ہر چیز پر قادر اور نگران۔

۴:۸۶ اور جب دُعا دی جائے تم کو، سلامتی کی دُعا تو  (جواب میں) دو تم بھی دُعا بہتر اس سے یا لوٹا دو وہی۔ بے شک اللہ ہے ہر چیز کا حساب لینے والا۔

۴:۸۷ اللہ  (وہ ذات ہے کہ) نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے ضرور جمع کرے گا وہ تم سب کو قیامت کے روز کہ نہیں ہے کوئی شک جس  (کے آنے) اور کون ہے زیادہ سچّا اللہ سے بات میں۔

۴:۸۸ پھر کیا ہو گیا ہے تم کو کہ منافقین کے معاملہ میں دو گروہ بن گئے ہو، جبکہ اللہ نے واپس لوٹا دیا ہے ان کو  (گمراہی میں) بسبب ان کی کرتوتوں کے۔ کیا چاہتے ہو تم کہ ہدایت دو اسے جسے گمراہ کر دیا ہے اللہ نے حالانکہ جس کو گمراہ کر دے اللہ تو ہرگز نہیں پاؤ گے تم اس کے لیے کوئی راستہ  (ہدایت پانے کا)۔

۴:۸۹ دل سے چاہتے ہیں  (یہ منافق) کہ کاش تم بھی کافر ہو جاؤ جیسے کافر ہو گئے ہیں وہ تاکہ ہو جاؤ تم  (اور وہ) ایک جیسے لہٰذا مت بناؤ تم میں سے کسی کو دوست جب تک کہ نہ ہجرت کریں وہ اللہ کی راہ میں، پھر اگر رُوگردانی کریں وہ  (ہجرت سے) تو پکڑو انہیں اور قتل کرو جہاں کہیں پاؤ تم انہیں اور نہ بناؤ تم ان میں سے کسی کو دوست اور نہ مدد گار۔

۴:۹۰ مگر وہ لوگ  (اس حُکم سے مستثنیٰ ہیں) جو جا ملیں ایسی قوم سے کہ تمہارے اور ان کے درمیان  (صلح کا) معاہدہ ہے یا  آئیں وہ تمہارے پاس کہ تنگ آ چُکے ہوں ان کے دل اس بات سے کہ جنگ کریں تمہارے ساتھ یا جنگ کریں اپنی قوم کے ساتھ اور اگر چاہتا اللہ تو غالب کر دیتا ان کو تم پر، پھر ضرور جنگ کرتے وہ تم سے پس اگر وہ کنارہ کش رہیں تم سے اور نہ جنگ کریں تم سے اور پیش کریں تمہارے آگے صلح کی درخواست تو نہیں رکھا ہے اللہ نے تمہارے لیے ان کے خلاف  (کسی اقدام کا) کوئی جواز۔

۴:۹۱ اور پاؤ گے تم کچھ اور لوگ جو چاہتے ہیں کہ امن میں رہیں تم سے بھی اور امن میں رہیں اپنی قوم سے بھی۔ جب بھی موقع پاتے ہیں فتنے کا تو اوندھے مُنہ جا پڑتے ہیں اس میں۔ پس اگر نہ کنارہ کش ہوں یہ لوگ تم سے اور  (نہ) پیش کریں تمہارے آگے صلح کی درخواست اور  (نہ) روکیں ہاتھ اپنے  (جنگ سے) تو پکڑو انہیں اور قتل کرو جہاں کہیں پاؤ تم انہیں اور یہی وہ لوگ ہیں کہ دیا ہے ہم نے تم کو ان پر کھلا اختیار۔

۴:۹۲ اور نہیں ہے کسی مومن کے لیے  (روا) کہ قتل کرے کسی مومن کو مگر غلطی سے۔ اور جس نے قتل کیا کسی مومن کو غلطی سے تو آزاد کرے ایک غلام، مومن اور خون بہا ادا کیا جائے مقتول کے وارثوں کو، مگر یہ کہ معاف کر دیں وہ بطور صدقہ پھر اگر ہو مقتول ایسی قوم سے جو دشمن ہو تمہاری اور ہو مقتول مومن تو آزاد کرنا ہو گا ایک مومن غلام۔ اور اگر ہو مقتول ایسی قوم میں سے کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہو تو خون بہا ادا کیا جائے اس کے وارثوں کو اور آزاد کیا جائے ایک مومن غلام پھر جس کو میّسر نہ ہو  (غلام) تو روزے رکھے دو مہینے کے لگاتار، توبہ کرنے کے لیے اللہ سے۔ اور ہے اللہ ہر بات جاننے والا، بڑی حکمت والا۔

۴:۹۳ اور جو کوئی قتل کرے کسی مومن کو قصداً تو اس کی سزا ہے جہنّم ہمیشہ رہے گا وہ اس میں اور غضب ہو گا اللہ کا اس پر اور لعنت ہو گی اس پر اور تیّار کر رکھا ہے اس کے لیے عذابِ عظیم۔

۴:۹۴ اے ایمان والوں! جب نکلو تم  (جہاد کے لیے) اللہ کی راہ میں تو خُوب تحقیق کر لیا کرو اور نہ کہو اس شخص کو جو کرے تم کو سلام کہ نہیں ہے تو مومن  (کیا) حاصل کرنا چاہتے ہو تم سازو سمان دنیاوی زندگی کا؟ تو اللہ کے ہاں غنیمتیں ہیں بہت۔ ایسے تو تھے تم اسلام سے پہلے پھر احسان کیا اللہ نے تم پر  (کہ تم مسلمان ہو گئے) لہٰذا خُوب تحقیق کر لیا کرو۔ بے شک اللہ ہے ہراس بات سے جو تم کرتے ہو پُوری طرح باخبر۔

۴:۹۵ نہیں برابر، گھر بیٹھ رہنے والے مسلمان، جن کو کوئی عذر  نہ ہو  اور  جہاد کرنے والے اللہ  کی راہ میں اپنے مال سے اور جان سے فضیلت دی ہے اللہ نے ان کو جو جہاد کرنے والے ہیں اپنے مال سے اور جان سے، بیٹھے رہنے والوں پر درجہ کے اعتبار سے۔ اگرچہ سب سے وعدہ کر رکھا ہے اللہ نے بھلائی کا لیکن فضیلت دی ہے اللہ نے مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر اجرِ عظیم سے۔

۴:۹۶ یعنی بڑے درجے ہیں اس کی طرف سے اور مغفرت ہے اور رحمت ہے اور ہے اللہ بے انتہا بخشنے والا، ہر حال میں رحم کرنے والا۔

۴:۹۷ بے شک وہ لوگ کہ رُوح قبض کریں گے ان کی فرشتے، اس حال میں کہ وہ ظلم کر رہے تھے اپنی جانوں پر، پوچھیں گے ان سے فرشتے، تم کیا کرتے رہے، وہ کہیں گے تھے ہم کمزور اور بے بس اپنی سرزمین میں، فرشتے کہیں گے کیا نہیں تھی اللہ کی زمین وسیع کہ ہجرت کر جاتے تم اس میں۔ سو یہی وہ لوگ ہیں کہ ٹھکانا ہے ان کا جہنّم اور وہ بہت بُری جگہ ہے۔

۴:۹۸ مگر وہ کمزور اور بے بس مرد، اور عورتیں اور بچے جو نہیں کر سکتے کوئی تدبیر اور نہیں پاتے کوئی راستہ۔

۴:۹۹ سو یہ لوگ، اُمید ہے کہ اللہ معاف کر دے انہیں۔ اور ہے اللہ بے حد معاف کرنے والا، بڑا بخشنے والا۔

۴:۱۰۰ اور جو شخص ہجرت کرے گا اللہ کی راہ میں، پائے گا وہ زمین میں ٹھکانے بہت سے اور فراخی اور جو نکلا اپنے گھر سے ہجرت کر کے اللہ اور رسول کی طرف پھر آ لیا اس کو موت نے تو ہو گیا اس کا اجر اللہ کے ذمّہ۔ اور ہے اللہ بے حد معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا۔

۴:۱۰۱ اور جب سفر کرو تم زمین میں تو نہیں ہے تم پر کچھ گناہ کہ قصر کرو تم نماز میں۔ اگر اندیشہ ہو تم کو کہ ستائیں گے تم کو وہ لوگ جو کافر ہیں۔ بے شک کافر ہیں، تمہارے کھُلے دُشمن۔

۴:۱۰۲ اور جب موجود ہو تم  (مسلمانوں) کے ساتھ اور پڑھانے لگو ان کو نماز، تو چاہیے کہ کھڑا ہو ایک گروہ ان میں سے تمہارے ساتھ اور لیے رہیں اپنے ہتھیار پھر جب سجدہ کر چکیں یہ لوگ تو چاہیے کہ چلے جائیں تمہارے پیچھے اور آ جائے گر وہ دوسرا جنہوں نے نماز نہیں پڑھی پس وہ نماز پڑھیں تمہارے ساتھ اور ضروری ہے کہ چوکنّا رہیں  (اور لیے رہیں) اپنے ہتھیار، دل سے چاہتے ہیں وہ لوگ جو کافر ہیں کہ کاش غافل ہو جاؤ تم اپنے ہتھیاروں سے اور سامانوں سے تو ٹوٹ پڑیں وہ تم پر ایک دم۔ اور نہیں ہے کچھ گناہ۔ تم پر اگر ہو تمہیں تکلیف بارش کی وجہ سے یا ہو تم بیمار کہ اتار رکھو اپنے ہتھیار لیکن چوکنا ر ہو بے شک اللہ نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے رسوا کن عذاب۔

۴:۱۰۳ پھر جب تم ادا کر چکو نماز تو یاد کرتے رہو اللہ کو کھڑے بیٹھے اور اپنے پہلوؤں کے بل  (ہر حال میں) پھر جب خوف دُور ہو جائے تمہارا تو قائم کرو نماز  (تمام شرائط و آداب کے ساتھ) بےشک نماز ہے مومنوں پر فرض پابندی وقت کے ساتھ۔

۴:۱۰۴ اور نہ کمزوری دکھاؤ تم دشمن کا تعاقب کرنے میں۔ اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو بے شک وہ بھی تکلیف اٹھاتے ہیں جیسے تم اٹھاتے ہو لیکن توقع رکھتے ہو تم اللہ سے ایسے  (اجر) کی جس کی وہ توقع نہیں رکھتے۔ اور ہے اللہ ہر بات جاننے والا، بڑی حکمت والا۔

۴:۱۰۵ بےشک ہم ہی نے نازل کی ہے تمہاری طرف  (اے نبی!) یہ کتاب حق کے ساتھ تاکہ تم فیصلے کرو لوگوں کے درمیان اس  (علم و حکمت) کے مطابق جو سکھائی ہے تم کو اللہ نے۔ اور مت بنو تم خیانت کرنے والوں کے طرف دار۔

۴:۱۰۶ اور درخواست کرو درگزر کی اللہ سے بے شک اللہ ہے بہت معاف فرمانے والا، ہر حالت میں رحم کرنے والا۔

۴:۱۰۷ اور مت وکالت کرو ان لوگوں کی جو دغا رکھتے ہیں اپنے دلوں میں۔ بے شک اللہ نہیں پسند کرتا ایسے شخص کو جو ہو دغا باز، گناہوں میں ڈوبا ہوا۔

۴:۱۰۸ چھُپا سکتے ہیں یہ  (اپنی حرکات) لوگوں سے لیکن نہیں چھُپا سکتے اللہ سے اس لیے کہ وہ تو ان کے ساتھ ہوتا ہے، اس وقت بھی جب یہ مشورے کرتے ہیں راتوں کو ایسی باتوں کے بارے میں جنہیں نہیں پسند کرتا اللہ اور ہے اللہ  (کا علم)، ان کے اعمال پر محیط ۔

۴:۱۰۹ یہ تم ہو  (اے مسلمانو!) جو جھگڑا کرتے ہو ان کی طرف سے دُنیاوی زندگی میں لیکن کون جھگڑا کرے گا اللہ کے ساتھ، ان کی طرف سے قیامت کے دن یا کون ہے جو ہو گا ان کا کارساز۔

۴:۱۱۰ اور جو بھی کر گزرے کوئی بُرا کام یا ظلم کر بیٹھے اپنے اوپر بھر بخشش طلب کرے اللہ سے، تو پائے گا وہ اللہ کو بے انتہا معاف فرمانے والا، رحم کرنے والا۔

۴:۱۱۱ اور جو شخص کماتا ہے کوئی گناہ تو بس کماتا ہے وہ اس گناہ  (کا وبال)، اپنی جان پر اور ہے اللہ ہر بات جاننے والا، بڑی حکمت والا۔

۴:۱۱۲ اور جس نے ارتکاب کیا کسی خطا یا گناہ کا پھر تھوپ دیا اسے کسی بے گناہ کے سر تو یقیناً اُٹھایا اس نے بوجھ بڑے بہتان اور کھلے گناہ کا۔

۴:۱۱۳ اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تمہارے شامل حال اور اس کی رحمت تو قصد کر لیا تھا ایک گروہ نے ان میں سے کہ بہکا دیں تم کو ۔ حالانکہ نہیں بہکا رہے تھے وہ مگر اپنے آپ کو اور نہیں نقصان پہنچا سکتے تھے وہ تم کو ذرا بھی۔ کیونکہ نازل کی ہے اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت اور سکھایا ہے تم کو وہ کچھ جو تم نہ جانتے تھے۔ اور ہے اللہ کا فضل تم پر بہت ہی زیادہ۔

۴:۱۱۴ نہیں ہے کوئی بھلائی ان کے بیشتر خفیہ مشوروں میں سوائے اس کے کہ کوئی ترغیب دے صدقہ دینے یا نیکی کرنے کی یا اصلاح احوال کی لوگوں کی لوگوں کے درمیان۔ اور جو شخص کرتا ہے یہ کام تلاش میں رضائے الٰہی کے تو ضرور عطا کریں گے ہم اسے اجرِ عظیم۔

۴:۱۱۵ اور جس نے مخالفت کی رسُول کی اس کے بعد بھی کہ کھُل کر آ چُکی ہے اس کے سامنے ہدایت اور چلا اہل ایمان کی راہ کے خلاف تو چلنے دیں گے ہم اس کو اسی  (راستے) پر جدھر وہ مُڑ گیا اور ڈالیں گے ہم اسے جہنّم میں۔ اور وہ بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے۔

۴:۱۱۶ بے شک الہ نہیں معاف کرتا یہ  (گناہ) کہ شریک ٹھہرایا جائے اس کے ساتھ  (کسی کو) اور معاف کر دیتا ہے شرک کے علاوہ  (باقی گناہ) جس کے لیے چاہے۔ اور جس نے شریک ٹھہرایا اللہ کا  (کسی کو) تو یقیناً بھٹک گیا وہ گمراہی میں بہت دُور۔

۴:۱۱۷ نہیں عبادت کرتے یہ  (مشرک) اللہ کے سوا مگر دیو یوں کی اور نہیں عبادت کرتے یہ  (ان کی بھی) بلکہ شیطان کی جو باغی ہے۔

۴:۱۱۸ لعنت کی اس پر اللہ نے۔ اور کہا تھا اس نے کہ ضرور لے کر رہوں گا میں، تیرے بندوں میں سے  (اپنا) مقرّرہ حصّہ۔

۴:۱۱۹ اور ضرور گمراہ کروں گا میں ان کو اور ضرور آرزوؤں کے سبز باغ دکھاؤں گا میں ان کو اور ضرور حُکم دوں گا میں ان کو تو ضرور چیریں گے وہ کان مویشیوں کے اور ضرور حُکم دُوں گا میں اُن کو تو وہ ضرور رد و بدل کریں گے اللہ کی بنائی ہوئی ساخت میں اور جس نے بنایا شیطان کو اپنا ولی و سرپرست اللہ کو چھوڑ کر تو یقیناً اُٹھایا اس نے گھاٹا کھُلا۔

۴:۱۲۰ وعدے کرتا ہے شیطان اُن سے اور آرزوؤں کے سبز باغ دکھاتا ہے اُن کو اور نہیں وعدے کرتا اُن سے شیطان، مگر پر فریب۔

۴:۱۲۱ یہ وہ لوگ ہیں کہ ہے اُن کا ٹھکانا جہنّم اور نہیں پائیں گے وہ اس سے بچنے کی کوئی جگہ۔

۴:۱۲۲ اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور کیے انہوں نے نیک کام، ضرور داخل کریں گے ہم اُن کو ایسی جنتوں میں کہ بہہ رہی ہوں گی ان کے نیچے نہریں، رہیں گے وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ۔ یہ وعدہ ہے اللہ کا سچّا اور کون ہے زیادہ سچّا اللہ سے بات میں۔

۴:۱۲۳ نہیں ہے  (موقوف کچھ) آرزوؤں پر تمہاری اور نہ آرزوؤں پر اہل کتاب کی۔ جو بھی کرے گا کوئی بُرا کام، بدلہ دیا جائے گا اُسے اس کے مطابق اور نہ پائے گا، وہ اپنے لیے اللہ کے سوا کوئی حامی اور نہ کوئی مدد گار۔

۴:۱۲۴ اور جو شخص کرے گا کوئی نیک کام وہ مرد ہو یا عورت اور ہو وہ مومن تو ایسے سب لوگ داخل ہوں گے جنّت میں اور نہیں ناانصافی ہو گی اُن کے ساتھ ذرا بھی۔

۴:۱۲۵ اور کون زیادہ اچھّا ہے دین کے لحاظ سے اس شخص سے جس نے جھُکا دیا اپنا چہرہ اللہ کے حضور اور وہ نیک کام کرتا رہا اور پیروی کی اس نے مِلّتِ ابراہیم کی جو ہر طرف سے کٹ کر اللہ کا ہو گیا تھا اور بنا لیا تھا اللہ نے ابراہیم کو اپنا مخلص دوست۔

۴:۱۲۶ اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور ہے اللہ ہر چیز کو پُوری طرح جاننے والا۔

۴:۱۲۷ اور فتویٰ پُوچھتے ہیں تم سے عورتوں کے بارے میں، کہو! اللہ فتویٰ دیتا ہے تم کو، ان کے معاملہ میں اور  (متوجّہ کرتا ہے) اس طرف جو تلاوت کیا گیا تم پر کتاب میں ان یتیم عورتوں کے بارے میں جن کو نہیں دیتے تم وہ حق جو مقرّر کیا گیا ہے ان کے لیے اور چاہتے ہو تم کہ ان سے خود نکاح کر لو  (لالچ کی بنا پر) اور  (متوجّہ کرتا ہے) بے سہارا بچوں کی طرف اور یہ کہ قائم رہو تم یتیموں کے بارے میں انصاف پر اور جو کرو گے تم کوئی بھی بھلائی تو بے شک اللہ ہے اس سے پُوری طرح باخبر۔

۴:۱۲۸  اور اگر کسی عورت کو ڈر ہو اپنے خاوند کی طرف سے بدسلوکی یا بے رُخی کا تو کچھ گناہ نہیں ان دونوں پر کہ صلح کر لیں آپس میں کسی طریقے سے۔ اور صلح بہر حال بہتر ہے اور موجود رہتا ہے طبیعتوں میں حرص اور اگر تم حسن سلوک سے کام لو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو بے شک اللہ ہے تمہارے اعمالوں سے پُوری طرح باخبر۔

۴:۱۲۹ اور نہیں قدرت رکھتے تم اس بات کی کہ عدل کر سکو بیویوں کے درمیان، خواہ کتنا ہی چاہو تم لہٰذا نہ جھک جاؤ  (کسی ایک کی طرف) پُور ی طرح جھُکنا کہ چھوڑ دو دوسری بیویوں کو ادھر لٹکتا۔ اور اگر درست کر لو تم  (اپنا طرزِ عمل) اور ڈرتے رہو اللہ سے تو بے شک اللہ ہے بہت معاف کرنے والا، اور رحم فرمانے والا۔

۴:۱۳۰ اور اگر جُدا ہو جائیں  (میاں بیوی ایک دوسرے سے) تو بے نیاز کر دے گا اللہ ہر ایک کو  (محتاجی سے) اپنی وسیع قدرت سے اور ہے اللہ وسیع قدرت کا مالک، بڑی حکمت والا۔

۴:۱۳۱ اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور سختی سے ہدایت کی تھی ہم نے ان لوگوں کو جنہیں دی گئی تھی کتاب تم سے پہلے اور  (ہدایت کرتے ہیں) تم کو کہ ڈرتے رہو اللہ سے اور اگر نہ مانو گے تم تو  (اللہ کا کچھ نقصان نہیں) بے شک اللہ ہی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں۔ اور ہ ہے اللہ بے نیاز اور ہر حال میں سزاوارِ حمد و ثنا کا۔

۴:۱۳۲ اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں۔ اور کافی ہے اللہ کار ساز۔

۴:۱۳۳ اگر چاہے تو لے جائے تم کو  (زمین سے) اے انسانو! اور لے آئے دوسروں کو۔ اور ہے اللہ اس پر پُوری طرح قادر۔

۴:۱۳۴ جو شخص ہے طالب دُنیاوی صلہ کا  (وہ جان لے کہ) اللہ کے پاس تو ہے، صلہ و ثواب دُنیا کا بھی اور آخرت کا بھی اور ہے اللہ ہر بات کا سُننے والا اور ہر چیز کا دیکھنے والا۔

۴:۱۳۵ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بنو علمبردار انصاف کے، گواہی دینے والے اللہ کے لیے اگرچہ ہو  (یہ گواہی) خلاف تمہاری اپنی ذات کے یا والدین اور رشتہ داروں کے، خواہ ہو کوئی مال دار یا غریب بہر حال اللہ ہے تم سے زیادہ  خیر خواہ ان کا پس مت پیروی کرو تم خواہشاتِ نفس کی عدل نہ کرنے میں اور اگر گھما پھرا کر بات کرو گے  (گواہی میں) یا گریز کرو گے تو بےشک اللہ ہے تمہارے اعمال سے پُوری طرح باخبر۔

۴:۱۳۶  اے لوگوں جو ایمان لائے ہو! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسُول پر اور اس کتاب پر جو نازل کی ہے اس نے اپنے رسُول پر اور اس کتاب پر بھی جو نازل کی اس سے پہلے اور جس نے انکار کیا اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور رسُولوں کا اور روزِ آخرت کا تو یقیناً وہ بھٹک کر نکل گیا گمراہی میں بہت دُور۔

۴:۱۳۷ بے شک جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہُوئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہُوئے پھر بڑھتے چلے گئے کفر میں ہرگز نہیں ہے اللہ کہ بخشے ان کو اور نہ یہ کہ ہدایت دے ان کو  (سیدھے) راستے کی۔

۴:۱۳۸ خوشخبری دی دو منافقوں کو کہ ان کے لیے ہے دردناک عذاب۔

۴:۱۳۹ ایسے  (منافق) جو بناتے ہیں کافروں کو دوست مومنوں کو چھوڑ کر، کیا ڈھونڈتے ہیں ان کے ہاں عزّت، سو بے شک عزّت تو اللہ ہی کی ہے، ساری کی ساری۔

۴:۱۴۰ اور البتّہ نازل کر چُکا ہے اللہ تم پر اسی کتاب میں یہ  (حکم) کہ جب سُنو تم اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا جا رہا ہے اور ہنسی اُڑائی جا رہی ہے اُن کی تو نہ بیٹھو ایسے لوگوں کے ساتھ جب تک نہ مشغول ہو جائیں وہ کسی اور بات میں، اس کے علاوہ بے شک تم بھی، اگر ایسا کرو گے تو انہی جیسے ہو جاؤ گے۔ یقیناً اللہ جمع کرنے والا ہے منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ اکٹھا۔

۴:۱۴۱ یہ وہ لوگ ہیں جو منتظر رہتے ہیں مصیبت کے تمہارے لیے پھر اگر حاصل ہوتی ہے تم کو فتح اللہ کی طرف سے تو کہتے ہیں کیا نہ تھے ہم تمہارے ساتھ ا ور اگر ملتا ہے کافروں کو کچھ حصّہ  (فتح کا) تو کہتے ہیں کیا ہم قادر نہ تھے کہ لڑتے تمہارے خلاف اور کیا ہم نے نہیں بچایا تم کو مومنوں سے۔ پس اللہ فیصلہ کرے  گا تمہارے اور ان کے درمیان، قیامت کے دن۔ اور ہرگز نہیں رکھا ہے اللہ نے کافروں کے لیے مؤمنوں پر غالب آنے کا کوئی راستہ۔

۴:۱۴۲  بے شک منافق دھوکہ بازی کر رہے ہیں اللہ کے ساتھ اور اللہ نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان کو اور جب کھڑے ہوتے ہیں نماز کے لیے تو کھڑے ہوتے ہیں بے دلی اور کاہلی کے ساتھ، دکھاوا کرتے ہیں لوگوں کے سامنے اور نہیں یاد کرتے اللہ کو مگر تھوڑا۔

۴:۱۴۳ ڈانواں ڈول ہیں دونوں کے درمیان نہ مومنوں کی طرف اور نہ کافروں کی طرف۔ اور جسے گمراہ کر دیا اللہ نے سو ہر گز نہ پاؤ گے تم اس کے لیے کوئی راستہ۔

۴:۱۴۴ اے لوگو جو ایمان لائے ہو نہ بناؤ کافروں کو دوست سوائے مؤمنوں کے۔ کیا چاہتے ہو تم کہ مہیا کر دو اللہ کو اپنے خلاف کھُلی حجت۔

۴:۱۴۵ بے شک منافق ہوں گے سب سے نچلی درجے میں جہنّم کے اور ہر گز نہ پاؤ گے تم ان کے لیے کوئی مدد گار۔

۴:۱۴۶ مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کر لی اور اپنی اصلاح کر لی اور مضبوطی سے پکڑ لیا اللہ  (کی رسّی) کو اور خالص کر لیا اپنے دین کو اللہ کے لیے سو ایسے لوگ مؤمنوں کے ساتھ ہوں گے۔ اور عنقریب دے گا اللہ مؤمنوں کو اجرِ عظیم۔

۴:۱۴۷ کیا کرے گا اللہ تمہیں عذاب دے کر اگر شکر گزار بنے رہو تم اور ایمان کی روش پر چلو۔ اور ہے اللہ قدر دان، سب کے حال سے پوری طرح واقف۔

۴:۱۴۸ نہیں پسند کرتا اللہ علانیہ بری بات کہنا ما سوائے اس شخص کے جس پر ظلم ہُوا ہو اور ہے اللہ ہر بات سُننے والا، ہر چیز کا جاننے والا۔

۴:۱۴۹ لیکن اگر تم علانیہ نیکی کرو یا چھُپا کر کرو یا درگزر کر دو  (دوسرے کی) بُرائی سے تو بے شک اللہ بھی ہے بے حد معاف کرنے والا، پُوری قدرت رکھنے والا۔

۴:۱۵۰ بے شک وہ لوگ جو انکار کرتے ہیں اللہ کا اور اس کے رسُولوں کا اور چاہتے ہیں کہ تفریق کریں اللہ اور اس کے رسُولوں کے درمیان اور کہتے ہیں کہ ایمان لائے ہم بعض پر اور  انکار کرتے ہیں بعض کا اور چاہتے ہیں وہ کہ نکالیں ایمان اور کفر کے درمیان کوئی راستہ۔

۴:۱۵۱ ایسے ہی لوگ ہیں جو ہیں کافر حقیقی اور مہیّا رکھا ہے ہم نے کافروں کے لیے، عذاب ذلّت آمیز۔

۴:۱۵۲ اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسُولوں پر اور نہیں فرق کیا انہوں نے ان میں ایک دوسرے کے درمیان، یہ وہ لوگ ہیں کہ ضرور دے گا اللہ اُن کو ان کے اجر۔ اور  ہے اللہ بے حد معاف کرنے والا، ہر حالت میں رحم کرنے والا۔

۴:۱۵۳ مطالبہ کرتے ہیں تم سے  (اے پیغمبر!) اہلِ کتاب کہ نازل کراؤ ان پر کوئی کتاب آسمان سے  (کچھ عجب نہیں) کہ مطالبہ کر چُکے ہیں یہ لوگ موسیٰ سے، اس سے بھی بڑا چنانچہ انہوں نے کہا تھا کہ دکھا تو ہم کو اللہ کھُلم کھُلا سا آ لیا اُن کو بجلی نے اُن کے ظلم کے سبب۔ پھر پُوجنا شروع کر دیا اُنہوں نے بچھڑے کو اس کے بعد بھی کہ آ چُکی تھیں اُن کے پاس کھلی نشانیاں لیکن معاف کر دیا ہم نے اس کو بھی اور عطا کیا ہم نے موسیٰ کو کھُلا غلبہ۔

۴:۱۵۴ اور اُٹھایا ہم نے اُوپر اُن کے کوہِ طُور اُن سے عہد لینے کے لیے اور کہا ہم نے اُن سے کہ داخل ہونا دروازے میں سجدہ کرتے ہُوئے اور حُکم دیا تھا ہم نے ان کو کہ حد سے نہ بڑھنا قانونِ سبت میں اور لیا تھا ہم نے اُن سے  (ان باتوں کا) پختہ عہد۔

۴:۱۵۵ پس بسبب اس کے کہ توڑا انہوں نے اپنا عہد اور انکار کیا اُنہوں نے اللہ کی آیات کا اور قتل کیا اُنہوں نے نبیوں کو ناحق اور کہا انہوں نے کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں حالانکہ مہر کر دی ہے اللہ نے اُن کے دلوں پر بسبب اُن کے کفر کے سو نہیں ایمان لائیں گے یہ مگر تھوڑے۔

۴:۱۵۶ اور بسبب اُن کے کفر کے اور اُن کے قول کے جس سے انہوں نے مریم پر بہتانِ عظیم لگایا۔

۴:۱۵۷ اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے قتل کیا ہے مسیح عیسی ابن مریم کو جو رسول ہیں اللہ کے حالانکہ نہیں قتل کیا انہوں نے اس کو اور نہ سولی پر چڑھایا اسے بلکہ معاملہ مشتبہ کر دیا گیا ان کے لیے اور بے شک وہ لوگ جنہوں نے اختلاف کیا اس معاملہ میں ضرور مبتلا ہیں شک میں اس بارے میںَ اور نہیں ہے انہیں اس واقع کا کچھ بھی علم سوائے گمان کی پیروی کے اور نہیں قتل کیا ہے انہوں نے مسیح کو یقیناً!۔

۴:۱۵۸ بلکہ اٹھا لیا ہے اس کو اللہ نے اپنی طرف۔ اور ہے اللہ زبردست طاقت رکھنے والا، بڑی حکمت والا۔

۴:۱۵۹ اور نہیں کوئی اہلِ کتاب میں سے مگر ضرور ایمان لائے گا مسیح پر اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہو گا  مسیح ان پر گواہ۔

۴:۱۶۰ پس بسبب ان مظالم کے جو کیے ان لوگوں نے جو یہودی ہیں، حرام کر دیں ہم نے ان پر بہت سی پاکیزہ چیزیں جو  (پہلے) حلال تھیں ان کے لیے اور اس بنا پر بھی کہ روکنے ہیں وہ۔ اللہ کی راہ سے بہت زیادہ۔

۴:۱۶۱ اور لیتے ہیں سُود جبکہ روک دیا گیا تھا اُن کو اس سے اور کھاتے ہیں لوگوں کے مال ناجائز طریقے سے  (یہ سزا دی گئی) اور تیّار کیا ہے ہم نے ان کے لیے جو کافر ہیں ان میں سے دردناک عذاب۔

۴:۱۶۲ لیکن جو پختہ ہیں علم میں ان میں سے اور ایمان والے ہیں، وہ ایمان لاتے ہیں اس پر بھی جو نازل کیا گیا تم پر اور اس پر بھی جو نازل کیا گیا تم سے پہلے اور قائم کرنے والے ہیں نماز کو اور ادا کرنے والے ہیں زکوٰۃ کو اور ایمان لانے والے ہیں اللہ پر اور روزِ آخرت پر۔ یہی وہ لوگ ہیں کہ ضرور  دیں گے ہم اُن کو اجرِ عظیم۔

۴:۱۶۳ بے شک ہم ہی نے وحی بھیجی ہے تمہاری طرف جیسے وحی بھیجی تھی ہم نے نوح اور ان نبیوں کی طرف جو اس کے بعد ہُوئے اور وحی بھیجی ہم نے ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اولادِ یعقوب کی طرف اور عیسی، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان کی طرف اور دی ہم نے داؤد کو زبور۔

۴:۱۶۴ اور کچھ رسُول ہیں کہ بیان کیے ہیں ان کے حالات ہم نے تم سے اس سے پہلے اور کچھ رسُول کہ نہیں بیان کیے ہم نے ان کے حالات تم سے  (اُن کی طرف بھی وحی بھیجی) اور کلام کیا اللہ نے موسیٰ سے جیسے کلام کیا جاتا ہے۔

۴:۱۶۵ یہ سب رسول بھیجے گئے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے  (بنا کر) تاکہ نہ رہے لوگوں کے پاس اللہ کے حضور، کوئی حجت رسولوں کے آ جانے کے بعد۔ اور ہے اللہ سب پر غالب بڑی حکمت والا۔

۴:۱۶۶   (اب بھی اگر کوئی نہیں مانتا تو نہ مانے) لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ جو کچھ نازل کیا ہے اس نے تمہاری طرف، نازل کیا ہے اس کو اپنے علم سے اور فرشتے بھی گواہ ہیں۔ حالانکہ کافی ہے اللہ گواہ۔

۴:۱۶۷ یقیناً وہ لوگ جنہوں نے  (اس کے) ماننے سے انکار کیا اور روکا اللہ کی راہ سے  (دوسروں کو بھی) بے شک جا پڑے وہ گمراہی میں بہت دُور۔

۴:۱۶۸ بے شک جن لوگوں نے انکار کیا اور  (دوسروں کو روک کر) ظلم کیا ہرگز نہیں اللہ ایسا کہ معاف کرے اُن کو اور نہ یہ کہ ہدایت دے اُنہیں کسی راہ کی۔

۴:۱۶۹ سوائے جہنّم کے راستے کے رہیں گے وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ اور ہے یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان۔

۴:۱۷۰ اے لوگو! بے شک آ گیا ہے تمہارے پاس یہ رسول حق لے کر تمہارے رب کی طرف سے، لہٰذا ایمان لے آؤ تم بہتر ہو گا تمہارے لیے اور اگر تم انکار کرو گے تو بے شک اللہ ہی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور ہے اللہ سب کچھ جاننے والا، بڑی حکمت والا۔

۴:۱۷۱ اے اہلِ کتاب مت مبالغہ کرو اپنے دین کے معاملہ میں اور مت کہو اللہ کی شان میں، مگر وہ بات جو سچ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ مسیح عیسی ابنِ مریم صرف اللہ کا رسُول اور اس کا کلمہ تھا جو بھیجا تھا مریم کی طرف اور رُوح تھی اللہ کی طرف سے پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسُولوں پر اور مت کہو کہ  (اللہ) تین ہیں، باز آ جاؤ۔ بہتر ہو گا تمہارے لیے حقیقت یہ ہے کہ صرف اللہ ہی معبود یکتا ہے، پاک ہے اس کی ذات اس  (عیب) سے کہ ہو اس کی اولاد۔ اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور کافی ہے اللہ کارساز۔

۴:۱۷۲ ہر گز نہیں باعثِ عار مسیح کے لیے یہ بات کہ ہو وہ بندہ اللہ کا اور نہ مقّرب فرشتوں کے لیے اور جس نے باعثِ عار سمجھا اللہ کی بندگی کو اور تکبّر کیا تو عنقریب اکٹّھا کرے گا اللہ اُنہیں اپنے پاس سب کو۔

۴:۱۷۳ سو وہ لوگ جو ایمان لائے اور کیے اُنہوں نے کام نیک تو دے گا اللہ اُنہیں پُورے پُورے اجر ان کے اور مزید عطا فرمائے گا اُنہیں اپنے فضل سے۔ لیکن جن لوگوں نے باعثِ عار سمجھا  (اللہ کی بندگی کو) اور تکبّر کیا سو دے گا انہیں عذاب درد ناک اور نہ پائیں گے وہ اپنے لیے غیر اللہ میں سے کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار۔

۴:۱۷۴ اے لوگو! بے شک آ چکی ہے تمہارے پاس روشن دلیل تمہارے رب کی طرف سے اور نازل کی ہے ہم نے تمہاری طرف روشنی جو صاف راہ دکھاتی ہے۔

۴:۱۷۵ پھر وہ لوگ جو ایمان لائے اللہ پر اور پکڑے رکھا مضبوطی سے اُنہوں نے اللہ کا سہارا تو ضرور داخل کرے گا اللہ اُن کو اپنی رحمت و فضلِ خاص میں اور دکھائے گا ان کو اپنی طرف آنے کا سیدھا راستہ۔

۴:۱۷۶ فتویٰ پوچھتے ہیں تم سے، کہو اللہ فتویٰ دیتا ہے تم کو -کلالہ- کے بارے میں۔ اگر کوئی شخص مر جائے  (اس حالت میں کہ) نہ ہو اس کی اولاد اور ہو اس کی ایک بہن تو اس بہن کے لیے ہے، نصف اس کے ترکے کا۔ اور بھائی وارث ہو گا بہن کے  (پُورے مال کا) اگر نہ ہو اس بہن کی کوئی اولاد۔ پھر اگر ہوں دو بہنیں  (یا زائد) تو ان کے لیے ہے دو تہائی ترکے کا۔ اور اگر ہوں کئی بھائی بہنیں مرد اور عورتیں تو مرد کے لیے ہے برابر دو عورتوں کے حصّہ کے۔ کھول کھول کر بیان کرتا ہے اللہ تمہارے لیے  (اپنے احکام) تاکہ بھٹکتے نہ پھرو تم اور اللہ ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے۔

 

سورۃ المَائدۃ

 شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

۵:۱ اے لوگوں جو ایمان لائے ہو! پُورے کرو عہد و پیمان۔ حلال کیے گئے ہیں تمہارے لیے مویشی سوائے اُن کے جو  (آگے) بیان کیے جائیں گے تم سے  (لیکن) نہ حلال سمجھو شکار کرنے کو جبکہ ہو تم احرام میں۔ بے شک اللہ حکم دیتا ہے جو چاہے۔

۵:۲ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! مت بے حرمتی کرو اللہ کی نشانیوں کی اور نہ حرمت والے مہینے کی اور نہ نیازِ کعبہ کے جانور کی اور نہ اُن کی جن کے گلے میں پٹے ہیں اور نہ اُن کی جو جا رہے ہوں بیت الحرام کی طرف تلاش کرتے ہوئے فضل اپنے رب کا اور  (اس کی) خوشنودی اور جب تم احرام اُتار دو تو شکار کر سکتے ہو۔ اور نہ آمادہ کرے تم کو دُشمنی کسی قوم کی کہ اس نے روکا تھا تم کو مسجدِ حرام سے اس  (بات) پر کہ تم زیادتی کرنے لگو اور تعاون کرو نیکی میں اور پرہیز گاری میں اور مت تعاون کرو گناہ میں اور ظلم میں اور ڈرتے رہو اللہ سے۔ بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

۵:۳ حرام کیا گیا ہے تم پر مُردار، خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور کہ پُکارا گیا ہو غیر اللہ  (کا نام) جس پر اور  (جو مرا ہو) گلا گھٹ کر یا چوٹ سے یا بلندی سے گر کر یا سینگ لگنے سے اور وہ جسے کھایا ہو درندے نے، مگر جس کو تم نے ذبح کر لیا اور وہ بھی  (حرام ہے) جو ذبح کیا گیا آستانے پر اور یہ کہ قسمت معلوم کرو تم جوئے کے تیروں سے، یہ سب کچھ گناہ ہے۔ آج مایوس ہو چُکے ہیں کافر تمہارے دین کی طرف سے پس مت ڈرو تم اُن سے اور مجھ  ہی سے  ڈرو۔ آج مکمّل کر دیا ہے میں نے تمہارے لیے تمہارا دین اور پُوری کر دی تم پر اپنی نعمت اور پسند کر لیا ہے تمہارے لیے اسلام کو بطور دین۔ البتّہ جو مجبور ہو جائے بھُوک سے  (اور کھائے) بغیر رغبتِ گناہ کے تو بے شک اللہ معاف فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

۵:۴ تم سے پُوچھتے ہیں  (اے رسول) کون سی چیزیں حلال کی گئی ہیں اُن کے لیے، کہہ دو کہ حلال کی گئی ہیں تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں اور جو سدھا رکھے ہیں تم نے شکاری جانور،  شکار پر دوڑانے کے لیے کہ سکھاتے ہو تم اُن کو وہ طریقہ جو سکھایا ہے تم کو اللہ نے سو کھاؤ اس میں سے جو وہ پکڑ رکھیں تمہارے لیے اور لو نام اللہ کا اُس پر اور ڈرتے رہو اللہ سے۔ بے شک اللہ دیر نہیں کرتا حساب لینے میں۔

۵:۵ آج حلال کر دی گئیں تمہارے لیے سب پاکیزہ چیزیں۔ اور کھانا اُن لوگوں کا جنہیں دی گئی کتاب، حلال ہے تمہارے لیے اور تمہارا کھانا حلال ہے اُن کے لیے اور  (حلال ہیں) پاکدامن عورتیں مسلمانوں میں سے اور پاکدامن عورتیں ان لوگوں میں سے جنہیں دی گئی کتاب تم سے پہلے۔ جب ادا کر دو تم اُن کو اُن کے مہر قیدِ نکاح میں لانے کے لیے نہ شہوت رانی کے لیے اور نہ چوری چھُپے آشنائی کرنے کو اور جس نے انکار کیا ایمان  (کی روش پر چلنے) سے تو اکارت گئے اس کے اعمال اور وہ  (ہو گا) آخرت میں خسارہ اُٹھانے والوں میں سے۔

۵:۶ اے ایمان والوں! جب کھڑے ہو تم نماز کے لیے تو دھو لو اپنے منہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک اور مسح کر لو اپنے سر کا اور  (دھولو) اپنے پاؤں ٹخنوں تک اور اگر ہو تم حالتِ جنابت میں تو  (نہا دھو کر) اچّھی طرح پاک ہو جاؤ اور اگر ہو  تم بیمار یا سفر میں یا آیا ہو کوئی تم میں سے بیت الخلا سے یا مباشرت کی ہو تم نے عورتوں سے پھر نہ میسر ہو تم کو پانی تو تیّمم کر لو پاک مٹّی سے۔ سو مسح کرو اپنے منہ کا اور اپنے ہاتھوں کا اس سے، نہیں چاہتا اللہ کہ مُبتلا کرے تم کو کسی قسم کی تنگی میں  بلکہ چاہتا ہے کہ پاک کرے تم کو اور  پُوری کرے اپنی نعمت تم پر، تاکہ تم  (اس کا) شکر ادا کرو۔

۵:۷ اور یاد کرو اللہ کے احسان  (جو اس نے) تم پر کیا اور  اس کے عہد کو جو اس نے تم سے لیا، جب کہا تھا تم نے کہ ہم نے سُنا اور  مانا ہم نے اور ڈرتے رہو اللہ سے۔ بے شک اللہ خُوب جانتا ہے دلوں کے رازوں کو۔

۵:۸ اے ایمان والو! بنو تم قائم رہنے والے  (راستی پر) اللہ کی خاطر، گواہی دینے والے انصاف کی اور نہ باعث بنے تمہارے لیے دشمنی، کسی قوم کی کہ نہ کرو تم انصاف۔ انصاف کرو، یہی بات زیادہ قریب ہے تقویٰ کے۔ اور ڈرتے رہو اللہ سے۔ بے شک اللہ خوب باخبر ہے اُس سے جو کچھ تم کرتے ہو۔

۵:۹ وعدہ کیا ہے اللہ نے اُن لوگوں سے جو ایمان لائے اور کیے جنہوں نے نیک عمل  (کہ ہے) ان کے لیے بخشش اور اجرِ عظیم۔

۵:۱۰ اور جنہوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیات کو، یہی لوگ ہیں دوزخی۔

۵:۱۱ اے ایمان والو! یاد کرو اللہ کے اس احسان کو  (جو اس نے ) تم پر کیا جب قصد کیا تھا ایک گروہ نے کہ دست درازی کرے تم پر تو روک دیئے اس نے اُن کے ہاتھ تمہاری طرف  (بڑھنے سے) اور ڈرتے رہو اللہ سے اور اللہ ہی پر چاہیے کہ بھروسہ کریں ایمان والے۔

۵:۱۲ بلا شُبہ لیا تھا اللہ نے عہد بنی اسرائیل سے اور مقّرر کیے تھے ہم نے اُن میں بارہ سردار ۔ اور کہا اللہ نے، بے شک میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر تم قائم رکھو گے نماز  اور  دیتے رہو گے زکوٰۃ اور ایمان لاؤ گے میرے رسُولوں پر اور مدد  کرو گے اُن کی اور قرض دو گے اللہ کو قرضِ حسنہ تو ضرور دُور کروں گا میں تم سے تمہارے گناہ اور ضرور داخل کروں گا تم کو جنتوں میں کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں۔ مگر جس نے کفر کیا اس کے بعد بھی تم میں سے تو بے شک بھٹک گیا وہ وہ سیدھے راستے سے۔

۵:۱۳ پھر اس وجہ سے کہ توڑا انہوں نے اپنا عہد، دُور کر دیا ہم نے اُن کو اپنی رحمت سے اور کر دیا ہم نے ان کے دلوں کو اتنا سخت کہ بدل دیتے ہیں وہ کلام  (اللہ) کو اُس کی  (اصل) جگہ سے اور بھُلا بیٹھے وہ بڑا حصّہ اُس تعلیم کا، نصیحت کی گئی تھی اُنہیں جس سے، اور  (اے پیغمبر) ہوتے رہتے ہو تم آگاہ کسی نہ کسی خیانت پر اُن لوگوں کی ماسوائے چند کے اُن میں سے۔ سو معاف کر دو اُنہیں اور درگزر سے کام لو۔ بے شک اللہ پسند کرتا ہے اچّھا سلوک کرنے والوں کو۔

۵:۱۴ اور ان لوگوں سے بھی جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں، لیا تھا ہم نے پختہ عہد پھر بھلا بیٹھے وہ بھی بڑا حصّہ اُس تعلیم کا، یاد دہانی کرائی گئی تھی اُنہیں جس کے ذریعہ سے پس ڈال دیا ہم نے اُن کے درمیان بعض و عناد روزِ قیامت تک کے لیے اور عنقریب بتائے گا اُن کو اللہ کہ وہ  (دُنیا میں) کیا کرتے رہے۔

۵:۱۵ اے اہلِ کتاب! بلا شُبہ آ گیا ہے تمہارے پاس ہمارا رسُول جو کھول کھول کر بیان کرتا ہے تمہارے لیے بہت کچھ اُس میں سے جو تم چھُپاتے تھے۔ کتاب میں سے۔ اور درگزر کرتا ہے بہت سی باتوں سے۔ بے شک آ گئی  ہے تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی اور کتاب مبین۔

۵:۱۶ دکھاتا ہے اس کے ذریعہ سے اللہ ہر اُس شخص کو جو طالب ہو اُس کی رضا کا، سلامتی کی راہیں اور نکالتا ہے اُن کو اندھیروں سے روشنی کی طرف اپنے اذن سے اور چلاتا ہے اُن کو سیدھی راہ پر۔

۵:۱۷ بے شک کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ یقیناً اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے۔  (اے پیغمبر) کہہ دو، کہ کس کا بس چل سکتا ہے اللہ کے آگے ذرا بھی اگر وہ چاہے ہلاک کرنا مسیح ابنِ مریم کو، اُس کی ماں کو اور اُن لوگوں کو جو زمین میں ہیں، سب کو۔ اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی، زمین کی اور اس کی جو  ان کے درمیان ہے، پیدا کرتا ہے جو چاہے۔ اور اللہ تو ہر چیز پر پُور ی قدرت رکھتا ہے۔

۵:۱۸ اور کہتے ہیں یہود و نصاریٰ ہم بیٹے ہیں اللہ کے اور اس کے چہیتے ہیں۔ کہہ دو پھر کیوں سزا دیتا ہے تمہیں تمہارے گناہوں پر۔ نہیں بلکہ تم بھی بشر ہو اُنہی میں سے جو اُس نے پیدا فرمائے ہیں۔ بخش دے جسے چاہے۔ اور عذاب دے جسے چاہے۔ اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور اس کی جو ان دونوں کئے درمیان ہے اور اُسی کی طرف  (سب کو) لوٹ کر جانا ہے۔

۵:۱۹ اے اہلِ کتاب! بے شک آیا ہے تمہارے پاس ہمارا رسول جو بیان کرتا ہے تمہارے لیے  (ہمارے احکام) ایک مُدّت تک سلسلۂ رسالت منقطع رہنے کے بعد۔ مُبادا کہو تم کہ نہیں آیا ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور نہ ڈرانے والا پس آ گیا تمہارے پاس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور اللہ ہر چیز پر پُوری طرح قادر ہے۔

۵:۲۰ اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے اے میری قوم! یاد کرو اللہ کا احسان اپنے اُوپر اس بات کا کہ پیدا کیے اس نے تم میں نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور  دیا تم کو وہ کچھ جو نہیں دیا تھا کسی کو بھی اہلِ عالم میں سے۔

۵:۲۱ اے برادرانِ قوم! داخل ہو جاؤ ارضِ مقدّس میں جو لکھ دی ہے اللہ نے تمہارے لیے اور نہ پسپا ہو جانا  (مقابلے سے) اپنی پیٹھ موڑ کر  (ایسا کرو گے) تو پلٹو گے تم ناکام و نامراد۔

۵:۲۲ کہنے لگے اے موسیٰ! بے شک وہاں  (آباد) ہے ایک قوم بہت طاقتور اور ہم ہرگز نہ داخل ہوں گے اُس میں جب تک کہ نہ نکل جائیں وہ وہاں سے! البتّہ اگر وہ نکل جائیں وہاں سے تو ہم ضرور داخل ہوں گے۔

۵:۲۳ کہا دو مردوں نے اُنہی ڈر نے والوں میں سے، کہ انعام کیا تھا اللہ نے جس پر۔ کہ داخل ہو جاؤ تم اُن پر  (حملہ کر کے) دروازے میں۔ پھر جب داخل ہو جاؤ گے تم اس میں تو بے شک تم ہی غالب رہو گے اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو، اگر ہو تم ایمان والے۔

۵:۲۴ اُنہوں نے کہا اے موسیٰ! ہم ہرگز نہ داخل ہوں گے اس میں کبھی، جب تک موجود ہیں وہ لوگ وہاں سو جاؤ تم اور تمہارا رب اور جنگ کرو تم دونوں ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔

۵:۲۵ موسیٰ نے کہا اے میرے رب! نہیں میرے اختیار میں مگر میری ذات اور میرا بھائی۔ پس فیصلہ فرما دے تو درمیان ہمارے اور اس نافرمان قوم کے۔

۵:۲۶ ارشاد ہُوا اچّھا تو وہ  (ملک) حرام کر دیا گیا ہے اُن پر چالیس سال کے لیے۔ بھٹکتے پھریں گے یہ لوگ زمین میں۔ سو نہ غم کھاؤ تم اس نافرمان قوم پر۔

۵:۲۷ اور سُناؤ اُن کو قصّہ آد م کے دو بیٹوں کا بے کم و کاست۔ جب پیش کی دونوں نے قربانی تو قبول کر لی گئی اُن میں سے ایک کی اور نہ قبول ہُوئی دوسرے کی۔ اُس نے کہا میں ضرور تمہیں قتل کر دوں گا۔ اُس نے جواب دیا حقیقت یہ ہے کہ قبول کرتا ہے اللہ  (قربانی) پرہیز گاروں کی۔

۵:۲۸   (اور) اگر بڑھائے گا تو میری طرف اپنا ہاتھ مجھے قتل کرنے کے لیے تو میں نہیں بڑھاؤں گا اپنا ہاتھ تمہیں قتل کرنے کے لیے، یقیناً میں ڈرتا ہُوں اللہ سے جو رب ہے سب جہانوں کا ۔

۵:۲۹ البتّہ میں چاہتا ہوں کہ سمیٹ لے تُو میرا گناہ بھی اور اپنا گناہ بھی پھر ہو جائے تو اہلِ دوزخ میں سے اور یہی ہے سزا ظالموں کی۔

۵:۳۰ بالآخر مرغوب بنا دیا اس کے لیے اس کے نفس نے قتل کرنا اپنے بھائی کا سو قتل کر دیا اُس نے اُسے اور ہو گیا وہ شامل نقصان اُٹھانے والوں میں۔

۵:۳۱ پھر بھیجا اللہ نے ایک کوّا جو کریدنے لگا زمین کو تاکہ دکھائے اُسے کہ کس طرح چھپائے لاش اپنے بھائی کی۔ بولا ہائے میری بدبختی! کیا میں اس سے بھی عاجز ہُوں کہ ہوتا مثل اس کوّے کے اور  چھپا سکتا لاش اپنے بھائی کی۔ غرض ہو گیا وہ نادم۔

۵:۳۲ اسی وجہ سے فرض کر دیا ہم نے نبی اسرائیل پر کہ جس نے قتل کیا کسی انسان کو بغیر اس کے کہ اس نے کسی کی جان لی ہو یا فساد مچایا ہو زمین  میں تو گویا اس نے قتل کر ڈالا سب انسانوں کو اور جس نے زندگی بخشی ایک انسان کو تو گویا اس نے زندہ کیا سب انسانوں کو۔ اور بے شک آ چُکے ہیں اُن کے پاس ہمارے رسول واضح احکام لے کر پھر بھی یقیناً بہت سے لوگ ان میں سے اس کے بعد بھی زمین میں زیادتیاں کرتے رہے۔

۵:۳۳ صرف یہی ہے سزا۔ اُن لوگوں کی جو جنگ کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسُول سے اور بھاگ دوڑ کرتے ہیں زمین میں فساد مچانے کی کہ قتل کیے جائیں یا سولی چڑھائے جائیں یا کاٹے جائیں اُن کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے یا نکال دیئے جائیں ملک سے۔ یہ  (سزا) ان کے لیے ذلت و خواری ہے دُنیا میں اور ان کے لیے ہے آخرت میں عذابِ عظیم۔

۵:۳۴ مگر جنہوں نے توبہ کی قبل اس کے کہ تم قابو پاؤ اُن پر تو جان لو کہ بے شک اللہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

۵:۳۵ اے ایمان والو! ڈرتے رہو اللہ سے اور تلاش کرو اس تک  (پہنچنے کا) ذریعہ اور جہاد کرو اس کی راہ میں تاکہ فلاح پاؤ۔

۵:۳۶ یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا اگر ہو اُن کے پاس جو زمین میں ہے سب کا سب اور اتنا ہی مزید اُس کے ساتھ تاکہ فدیہ کر دیں وہ اسے عذابِ روزِ قیامت کے بدلے تو نہ قبول کیا جائے گا وہ اُن سے اور اُن کے لیے ہے درد ناک عذاب۔

۵:۳۷ وہ چاہیں گے کہ نکل جائیں آگ سے۔ مگر وہ نہیں نکل پائیں گے اس میں سے اور اُن کے لیے ہو گا ہمیشہ رہنے والا عذاب۔

۵:۳۸ اور چور مرد اور چور عورت، کاٹ دو ہاتھ ان دونوں کے یہ بدلہ ہے اُن کی کمائ کا، عبرتناک سزا کے طور پر اللہ کی طرف سے اور اللہ ہر چیز پر غالب، کامل حکمت والا ہے۔

۵:۳۹ پھر جس نے توبہ کی اپنے ظلم کے بعد اور اصلاح کر لی تو بے  شک اللہ توبہ قبول کر لیتا ہے اس کی، یقیناً اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

۵:۴۰ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی، عذاب دے جسے چاہے اور بخش دے جسے چاہے۔ اور اللہ ہر چیز پر پُوری طرح قادر ہے۔

۵:۴۱ اے رسُول! نہ غمگین کریں تم کو وہ لوگ جو تیز گامی دکھاتے ہیں کفر کی راہ میں، ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے محض اپنے مُنہ سے جبکہ نہیں ایمان لائے اُن کے دل اور ان لوگوں میں سے بھی جو یہودی ہیں کان لگانے والے ہیں جھُوٹ پر اور سُن گن لیتے ہیں دوسرے لوگوں کے لیے جو نہیں آئے تمہارے پاس، تحریف کرتے ہیں کلمات میں ان کو اصل مقام سے  ہٹا کر، کہتے ہیں اگر دیا جائے تم کو یہ  (حُکم) تم اسے قبول کر لو اور اگر نہ دیا جائے یہ حکم تو بچتے رہنا۔ اور جسے چاہے اللہ ہی فتنے میں ڈالنا تو نہیں کر سکتے تم اُس کی مدد اللہ کے مقابلے میں ذرا بھی۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ نہیں چاہا اللہ نے کہ پاک کرے اُن کے دلوں کو۔ ان کے لیے ہے دُنیا میں ذِلت اور اُن کے لیے ہے آخرت میں عذابِ عظیم۔

۵:۴۲ بڑے ہی سُننے والے ہیں جھُوٹ کے اور بہت کھانے والے حرام کے سو اگر آئیں وہ تمہارے پاس تو فیصلہ کرو ان  (کے جھگڑوں) کا یا منہ موڑ لو ان سے اور اگر منہ موڑ لو گے اُن سے تو ہر گز نہ بگاڑ  سکیں گے وہ تمہارا کچھ بھی اور اگر تم فیصلہ کرو تو کرو فیصلہ اُن کے درمیان انصاف کے ساتھ۔ بے شک اللہ محبوب رکھتا ہے انصاف کرنے والوں کو۔

۵:۴۳ اور کس طرح حکم بنائیں گے یہ تم کو حالانکہ اُن کے پاس تو رات ہے جس میں  (لکھا) ہے اللہ کا حُکم پھر بھی مُنہ موڑ لیتے ہیں یہ  (اس سے) اس کے بعد بھی۔  (اصل بات یہ ہے کہ)  نہیں ہیں یہ ایمان والے۔

۵:۴۴ بے شک ہم نے نازل کی تورات جس میں ہے ہدایت اور روشنی فیصلہ کرتے تھے اسی کے مطابق انبیا جو فرمانبردار تھے  (اللہ کے)، ان لوگوں  (کے معاملات) کا جو یہودی کہلائے اور  (فیصلہ کرتے ہیں) درویش اور علما بھی  (اسی کے مطابق) کیونکہ وہ محافظ ٹھہرائے گئے تھے کتاب اللہ کے اور تھے وہ اس پر گواہ سو تم مت ڈرو لوگوں سے اور مجھ ہی سے ڈرو اور نہ بیچو میری آیات کو حقیر معاوضہ پر۔ اور جو لوگ فیصلہ نہ کریں ان احکام کے مطابق جو نازل کیے ہیں اللہ نے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں۔

۵:۴۵ اور لکھ دیا تھا ہم نے اُن کے لیے تورات میں  (یہ حکم) کہ جان کا بدلہ جان ہے اور آنکھ کا بدلہ آنکھ، ناک کا بدلہ ناک اور کان کا بدلہ کان اور دانت کا بدلہ دانت ہے اور زخموں کا بدلہ ویسا ہی زخم ہے پھر جو شخص معاف کر دے تو وہ کفّارہ ہے اس  (کے گناہوں) کا۔ اور جو لوگ فیصلہ نہ کریں اس  (قانون) کے مطابق جو نازل کیا ہے اللہ نے تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں۔

۵:۴۶ اور بھیجا ہم نے ان نبیوں کے نقوشِ قدم پر عیسیٰ ابن مریم کو تصدیق کرنے والا بنا کر اس حصّہ کا جو موجُود تھا اس سے پہلے تورات میں سے اور عطا کی ہم نے اس کو انجیل جس میں ہدایت اور روشنی ہے اور تصدیق کرتی ہے اس حصّہ کتاب کی جو موجود تھا تورات میں سے اور ہدایت اور نصیحت پرہیز گاروں کے لیے۔

۵:۴۷ اور چاہیے کہ فیصلے کریں اہلِ انجیل اس قانون کے مطابق جو نازل کیا اللہ نے اس میں اور جو نہیں فیصلہ کرتے اس کے مطابق جو نازل کیا اللہ نے تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں۔

۵:۴۸ پھر نازل کی ہم نے تم پر  (اے نبی) یہ کتاب حق کے ساتھ جو تصدیق کرنے والی ہے اس کی جو موجود ہے اس سے پہلے الکتاب میں سے اور نگہبان ہے اس کی سو فیصلے کرو تم اُن کے درمیان اس کے مطابق جو نازل کیا اللہ نے اور مت پیروی کرو اُن کی خواہشات کی،  (منہ موڑ کر) اس سے جو آ گیا ہے تمہارے پاس حق۔ ہر ایک کے لیے تم میں سے مقّرر کی ہے ہم نے شریعت اور راستہ اور اگر چاہتا اللہ تو بنا دیتا تم کو ایک ہی اُمّت لیکن  (یہ اس لیے کیا) کہ آزمائے تم کو ان احکام کے بارے میں جو اس نے تم کو دیے ہیں سو تم سبقت لے جاؤ نیکیوں میں۔ اور اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے تم سب کو پھر آگاہ کرے گا وہ تم کو اِن اُمور سے جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔

۵:۴۹ اور  (حُکم دیتے ہیں ہم تم کو) کہ فیصلہ کیا کرو اُن کے معاملات کا اس کے مطابق جو نازل کیا ہے اللہ نے اور نہ پیروی کرنا اُن کی خواہشات کی اور محتاط رہنا کہ مبادا یہ لوگ تم کو فتنے میں مبتلا کر دیں  (اور منحرف کر دیں) کسی  ایسے حُکم سے جو نازل کیا ہے اللہ نے تم پر۔ پھر اگر وہ منہ موڑ جائیں تو جان لو کہ چاہتا ہے اللہ کہ مُبتلائے مصیبت کرے اُن کو پاداش میں ان کے بعض گناہوں کی۔ اور بے شک انسانوں میں سے اکثر نافرمان ہیں۔

۵:۵۰ تو کیا پھر یہ لوگ زمانۂ جاہلیّت کا فیصلہ چاہتے ہیں حالانکہ کون بہتر ہے اللہ سے فیصلہ کرنے والا اُن لوگوں کے نزدیک جو اس پر یقین رکھتے ہیں۔

۵:۵۱ اے ایمان والو! نہ بناؤ یہود و نصاریٰ کو دوست۔ وہ باہم دوست ہیں ایک دوسرے کے اور جو کوئی دوستی کرے گا اُن سے، تم میں سے تو وہ انہی میں سے ہے۔ بے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو۔

۵:۵۲ اسی لیے دیکھتے ہو تم  ان کو جن کے دلوں میں  (نفاق کا) روگ ہے کہ وہ دوڑ کر گھستے ہیں ان  میں کہتے ہیں کہ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں نہ آ جائے ہم پر گردش زمانہ سو قریب ہے کہ اللہ ہمکنار  کر دے  (تمہیں) فتح سے یا کوئی اور صُورت  (غلبے کی پیدا کر دے) اپنی جناب سے اور ہو جائیں وہ۔ اس پر جو چھُپا کھا تھا انہوں نے اپنے دلوں میں، پشیمان۔

۵:۵۳ اور کہیں  (اس وقت) اہلِ ایمان کہ کیا یہی ہیں وہ لوگ جو قسمیں کھاتے تھے اللہ کی، پکّی قسمیں کہ بے شک ہم تمہارے ساتھ ہیں، برباد ہو گئے اُن کے اعمال اور ہو گئے وہ خسارہ اٹھانے والے۔

۵:۵۴ اے ایمان والو! جو کوئی پھرے گا تم میں سے اپنے دین سے تو عنقریب لائے گا اللہ ایسے لوگوں کو جو محبوب ہوں گے اللہ کو اور انہیں اللہ سے محبت ہو گی مہربان، مسلمانوں پر اور سخت، کفّار کے لیے جہاد کریں گے وہ اللہ کی راہ میں اور نہ ڈریں گے ملامت سے کسی ملامت کرنے والے کی، یہ فضل ہے اللہ کا جو دیتا ہے وہ جسے چاہے۔ اور اللہ وسیع ذرائع کا مالک اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

۵:۵۵ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا دوست تو بس اللہ اور اس کا رسُول اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے  (اللہ اور رسول پر) وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور وہ جھُکنے والے ہیں  (اللہ کے حضور)۔

۵:۵۶ اور جو کوئی دوست بن جائے گا اللہ اور اس کے رسُول کا اور ان کا جو ایمان لائے تو بے شک اللہ کی جماعت ہی سب پر غالب رہنے والی ہے۔

۵:۵۷ اے ایمان والو! مت بناؤ۔ ان لوگوں کو جنہوں ے بنا لیا ہے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل ان میں سے جنہیں دی گئی تھی کتاب تم سے پہلے اور کفّار کو۔ اپنا دوست- اور ڈرتے رہو اللہ سے اگر ہو تم ایمان والے۔

۵:۵۸ اور جب منادی کرتے ہو تم نماز کی تو بنا لیتے ہیں وہ اُسے مذاق اور کھیل۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ لوگ بے عقل ہیں۔

۵:۵۹ کہہ دو کہ اے اہلِ کتاب! نہیں ضد اور نفرت کرتے تم ہم سے مگر اس وجہ سے کہ ایمان لائے ہم اللہ پر اور اس پر جو نازل ہوا ہماری طرف اور اس پر جو نازل ہُوا  (ہم سے) پہلے، واقعہ یہ ہے کہ تم میں اکثر نافرمان ہیں۔

۵:۶۰ کہو کیا مین بتاؤں تم کو کہ کون زیادہ بُرے ہیں اُن سے بھی انجام کے لحاظ سے، اللہ کے نزدیک، وہ جن پر لعنت کی اللہ نے اور غضب ٹوٹا  (اس کا) اُن پر اور بنا دیا اُن میں سے بعض کو بندر اور سؤر اور جنہوں نے بندگی کی طاغوت کی یہی لوگ بدتر ہیں درجہ میں اور زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں سیدھے راستے سے۔

۵:۶۱ اور جب آتے ہیں تمہارے پاس تو کہتے ہیں ایمان لائے ہم حالانکہ وہ آئے بھی کفر لیے ہُوئے اور وہ گئے بھی کفر لیے ہُوئے اور اللہ خُوب جانتا ہے جو کچھ وہ چھپائے ہُوئے ہیں  (دلوں میں)۔

۵:۶۲ اور دیکھتے ہو تم ان میں سے اکثر کو کہ دوڑ دھُوپ کرتے ہیں گناہ اور ظلم زیادتی کے کاموں میں اور حرام کھانے میں۔ یقیناً بہت ہی بُرے ہیں وہ کام جو یہ کر رہے ہیں۔

۵:۶۳ کیوں نہیں منع کرتے اُنہیں اُن کے درویش اور علما گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے بہت ہی بُرے ہیں وہ کام جو یہ کر رہے ہیں۔

۵:۶۴ اور کہتے ہیں یہودی کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہُوا ہے، بندھ گئے اُن کے ہاتھ اور لعنت پڑی اُن پر اس  (بکواس) کی بدولت بلکہ اس کے ہاتھ کھُلے ہُوئے ہیں خرچ کرتا ہے جس طرح چاہے اور ضرور اضافہ ہو گا اُن میں سے بہت سوں میں، اس کلام سے جو نازل ہُوا ہے تم پر تمہارے رب کی طرف سے، سرکشی میں اور کفر میں اور ڈال دی ہے ہم نے اُن کے درمیان عداوت اور دُشمنی روزِ قیامت تک کے لیے۔ جب کبھی بھڑکاتے ہیں یہ آگ جنگ کے لیے تو بجھا دیتا ہے اُسے اللہ اور دوڑ دھُوپ کرتے ہیں وہ زمین میں فساد مچانے کی خاطر۔ اور اللہ نہیں پسند کرتا فساد کرنے والوں کو۔

۵:۶۵ اور اگر کہیں یہ اہلِ کتاب ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو دُور کر دیتے ہم اُن سے اُن کے گناہ اور داخل کرتے ہم اُن کو نعمت بھری جنّتوں میں۔

۵:۶۶ اور اگر اُنہوں نے قائم کیا ہوتا تورات اور انجیل کو اور ان تعلیمات کو جو نازل کی گئی ہیں اُن کی طرف اُن کے رب کی طرف سے تو رزق ملتا اُن کو اُن کے اُوپر سے بھی اُن کے پاؤں کے نیچے سے بھی، ان میں ایک گروہ راست رَہ ہے۔ اور بہت سے ان میں ایسے ہیں کہ بہت بُرا ہے وہ عمل جو وہ کرتے ہیں۔

۵:۶۷ اے رسُول! پہنچا دو جو کچھ نازل کیا گیا ہے تم پر تمہارے رب کی طرف سے اور اگر نہ کیا تم نے  (ایسا) تو نہ ادا کیا تم نے حق اس کی پیغمبری کا اور اللہ بچا لے گا تم کو لوگوں  (کے شر) سے بے شک اللہ نہیں دکھاتا کامیابی کی راہ کافروں کو۔

۵:۶۸   (اے پیغمبر) کہہ دو! اے اہلِ کتاب! نہیں ہو تم کسی راہ پر جب تک کہ نہ قائم کرو تم تورات اور انجیل کو اور اس تعلیم کو جو نازل کی گئی ہے تم پر تمہارے رب کی طرف سے۔ اور ضرور بڑھائے گا ان میں سے بہت سوں کو وہ  (کلام) جو نازل کیا گیا تم پر تمہارے رب کی طرف سے، سرکشی اور کفر میں۔ سو تم غم نہ کرو ایسے کافروں پر۔

۵:۶۹ بے شک وہ لوگ جو مسلمان ہیں اور جو یہودی ہیں اور صابی اور نصاریٰ،  (ان میں سے) جو بھی ایمان لائے اللہ پر اور یومِ آخرت پر اور کیے انہوں نے نیک عمل تو نہیں ہے کسی قسم کا خوف اُن کے لیے اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔

۵:۷۰  (اور) یقیناً لیا تھا ہم نے عہد نبی اسرائیل سے اور بھیجے ہم نے ان کی طرف رسُول۔ جب بھی آیا اُن کے پاس کوئی رسُول ایسا حکم لے کر جو پسند نہ آیا اُن کے نفس کو تو بعض کو جھٹلایا اُنہوں نے اور بعض کو قتل ہی کر دیتے رہے۔

۵:۷۱ اور سمجھتے رہے کہ نہ رونما ہو گا کوئی فتنہ سو وہ اندھے اور بہرے ہو گئے پھر توبہ قبول کر لی اللہ نے ان کی پھر  (دوبارہ) اندھے اور بہتر ہو گئے اُن میں سے بہت اور اللہ پوری نظر رکھے ہوئے ہے ان باتوں پر جو وہ کرتے ہیں۔

۵:۷۲ یقیناً کافر ہوئے وہ جنہوں نے کہا کہ بے شک اللہ مسیح ابنِ مریم ہی ہے۔ حالانکہ کہا تھا مسیح نے کہ اے بنی اسرائیل: عبادت کرو اللہ کی جو رب ہے میرا بھی اور رب ہے تمہارا بھی بے شک جس نے شرک کیا اللہ کے ساتھ سو حرام کر دی اللہ نے اس پر جنّت اور ٹھکانا ہے اس کا دوزخ اور نہیں ہو گا ظالموں کا کوئی مدد گار۔

۵:۷۳ یقیناً کافر ہُوئے وہ جنہوں نے کہا کہ بلا شُبہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے۔ حالانکہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اِلٰہِ واحد کے اور اگر وہ باز نہ آئے اس بات سے جو وہ کہتے ہیں تو ضرور پہنچے گا ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا ان میں سے درد ناک عذاب۔

۵:۷۴ تو کیا نہ توبہ کریں گے یہ اللہ کے حضور اور اپنے گناہوں کی بخشش طلب  (نہیں) کریں گے اُس سے؟ حالانکہ اللہ تو ہے ہی معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا۔

۵:۷۵ نہیں ہے مسیح ابنِ مریم مگر ایک رسُول البتّہ گزر چُکے اس سے پہلے بہت سے رسُول۔ اور اس کی ماں بھی ایک راست باز عورت تھی۔ کھاتے تھے دونوں کھانا، دیکھو کیسے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ہم اُن کے سامنے نشانیاں، پھر دیکھو کس طرف وہ اُلٹے پھرے جا رہے ہیں۔

۵:۷۶ کہو  (اے پیغمبر اُن سے)! کیا تم پرستش کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر ان کی جو نہیں رکھتے کچھ بھی اختیار تمہارے لیے نقصان کا اور نہ نفع کا؟ اور اللہ، وہ تو ہے ہر بات کا سُننے والا اور سب کچھ جاننے والا۔

۵:۷۷ کہو اے اہلِ کتاب! مت حد سے بڑھا ہُوا مبالغہ کرو اپنے دین کے معاملہ میں ناحق اور مت پیروی کرو ان لوگوں کے خواہشاتِ نفس کی جو خود بھی گمراہ ہُوئے تم سے پہلے اور گمراہ کر گئے بہت سو ں کو اور بھٹک گئے سیدھی راہ سے۔

۵:۷۸ لعنت بھیجی گئی اُن پر جنہوں نے کفر کیا تھا بنی اسرائیل میں سے داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے۔ کیونکہ وہ سرکش ہو گئے تھے اور حد سے بڑھ جاتے تھے۔

۵:۷۹ وہ منع نہیں کرتے تھے ایک دوسرے کو کسی بُرے کام سے جو وہ کرتے تھے۔ کیا ہی بُرا ہے یہ کام جو وہ کرتے تھے؟۔

۵:۸۰ دیکھتے ہو تم اکثر کو اُن میں سے کہ وہ دوستی کرتے ہیں اُن میں سے جو کافر ہیں۔ یقیناً بہت ہی بُرا ہے وہ جو آگے بھیجا اپنے لیے اُنہوں نے خود، یعنی یہ کہ اللہ کا غضب ہُوا اُن پر اور عذاب میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

۵:۸۱ اور اگر ان کا ایمان ہوتا اللہ پر نبی پر اور اس پر جو نازل ہُوا نبی کی طرف تو نہ بناتے یہ کافروں کو دوست، لیکن  (بات یہ ہے کہ) بہت سے اُن میں نافرمان ہیں۔

۵:۸۲ تم پاؤ گے لوگوں میں سب سے زیادہ سخت عداوت میں اہلِ ایمان سے یہود کو اور اُن کو جو مشرک ہیں اور تم پاؤ گے سب سے زیادہ قریب دوستی میں اہلِ ایمان کی، ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس لیے کہ نصاریٰ میں عبادت گزار عالم ہیں اور درویش ہیں اور اس لیے کہ وہ تکبّر نہیں کرتے۔

۵:۸۳ اور جب سُنتے ہیں یہ لوگ وہ  (کلام) جو نازل ہُوا ہے رسُول پر تو دیکھو گے تم کہ اُن کی آنکھوں سے جاری ہو جاتے ہیں آنسو اس وجہ سے کہ پہچان لیتے ہیں وہ حق کو اور کہتے ہیں اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم سو لکھ لے تو ہم کو گواہی دینے والوں میں۔

۵:۸۴ اور کیا ہوا ہم کو کہ نہ ایمان لائیں ہم اللہ پر اور اس پر جو پہنچا ہے ہمارے پاس حق جبکہ ہم خواہش رکھتے ہیں کہ شامل کرے ہم کو ہمارا رب صالح لوگوں میں۔

۵:۸۵ سو صلہ دیا ان کو اللہ نے اُن کے اس کہنے کی وجہ سے، ایسی جنتیں کہ بہتی ہیں جن کے نیچے نہریں، رہیں گے وہ ہمیشہ ان میں اور یہ ہے جزا اچھا کام کرنے والوں کی۔

۵:۸۶ اور وہ لوگ جنہوں نے ماننے سے انکار کیا اور جھٹلایا ہماری آیات کو وہی ہیں اہلِ دوزخ۔

۵:۸۷ اے ایمان والو! مت حرام ٹھہراؤ پاکیزہ چیزیں جو حلال کی ہیں اللہ نے تمہارے لیے اور مت حد سے بڑھو۔ بے شک اللہ نہیں پسند کرتا حد سے بڑھنے والوں کو۔

۵:۸۸ اور کھاؤ اس میں سے جو رزق دیا ہے تم کو اللہ نے حلال اور پاکیزہ اور ڈرتے رہو اللہ سے جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔

۵:۸۹ نہیں گرفت فرماتا تم پر اللہ تمہاری لغو قسموں پر لیکن ضرور مواخذہ کرے گا تم سے اُن پر جو مضبوط کر چُکے ہو تم اپنی قسمیں۔ سو کفارہ ہے اس کا کھانا کھلانا دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا جو کھلاتے ہو تم اپنے گھر والوں کو یا کپڑے پہناؤ ان کو یا آزاد کرو ایک غلام۔ پھر جس کو اس کی استطاعت نہ ہو وہ روزے رکھے تین دن کے۔ یہ کفارہ ہے تمہاری قسموں کا، جب تم قسم کھا بیٹھو۔ اور حفاظت کیا کرو اپنی قسموں کی۔ اس طرح بیان کرتا ہے اللہ تمہارے لیے اپنے حُکم تاکہ تم شکر گزار بنو۔

۵:۹۰ اے ایمان والو! بلا شُبہ شراب اور جوا اور بت اور پانسے  (یہ سب) گندے شیطانی کام ہیں سو اُن سے بچتے رہو تا کہ تم فلاح پاؤ۔

۵:۹۱ اصل بات یہ ہے کہ چاہتا ہے شیطان کہ ڈلوائے تمہارے درمیان دُشمنی اور بعض، شراب سے اور جوئے سے اور روکے تم کو اللہ کی یاد سے اور نماز سے تو کیا تم باز آنے والے ہو ان  (چیزوں) سے؟

۵:۹۲ اور اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور بچتے رہو  (بُرائیوں سے) پھر اگر مت نے منہ موڑا تو جان لو کہ درحقیقت ہمارے رسول کے ذمّہ تو صرف  (احکام کا) پہنچا دینا ہے واضح طور پر۔

۵:۹۳ نہیں ہے ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور کرنے لگے نیک عمل، کچھ گناہ اس پر جو وہ کھا چُکے ہیں  (پہلے) بشرطیکہ بچے رہیں وہ  (آئندہ کے لیے) اور ایمان پر قائم رہیں اور اچّھے کام کریں پھر بچیں  (حرام چیزوں سے) اور مانیں  (احکامِ الہٰی کو) پھر تقویٰ اختیار کریں اور اچّھے کام کریں۔ اور اللہ دوست رکھتا ہے اچھے کام کرنے والوں کو۔

۵:۹۴ اے ایمان والو! ضرور آزمائے گا تم کو اللہ کسی شکار سے جو زد میں ہو گا تمہارے ہاتھوں اور تمہارے نیزوں کی تاکہ دیکھے اللہ کہ کون ڈرتا ہے اس ے غائبانہ۔ پھر جس نے تجاوز کیا حد سے اس تنبیہ کے بعد تو اس کے لیے ہے درد ناک عذاب۔

۵:۹۵ اے ایمان والو! نہ مارو شکار جبکہ ہو تم احرام میں اور جو کوئی شکار مارے گا تم میں سے جان بُوجھ کر تو اس کا تاوان ہے مثل اس  (شکار) کے جو مارا ہے اس نے کوئی مویشی، جس کا فیصلہ کریں گے دو منصف تم میں سے جو بطورِ نذرانہ پہنچایا جائے گا خانہ کعبہ تک یا کفارہ ہے کہ کھانا کھلائے مسکینوں کو یا ان کے برابر روزے رکھے تاکہ چکھے سزا اپنے کیے کی۔ معاف کیا اللہ نے وہ جو ہو چُکا پہلے اور جو کوئی دو بارہ کرے گا تو بدلہ لے گا اللہ اس سے اور زبردست ہے، بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے۔

۵:۹۶ حلال کر دیا گیا ہے تمہارے لیے سمندری شکار اور اس کا کھانا فائدے کے لیے تمہارے اور مسافروں کے بھی اور حرام کیا گیا تم پر خشکی کا شکار جب تک ہو تم احرام میں اور ڈرتے رہو اللہ سے جس کے حضور تم سب کو گھیر کر حاضر کیا جائے گا۔

۵:۹۷ بنایا ہے اللہ نے کعبہ کو جو حرمت والا گھر ہے اجتماعی زندگی کا مرکز  و محور لوگوں کے لیے نیز حرمت والے مہینوں، قربانی کے جانوروں اور قلاووں  (پٹہ بندھے جانوروں)کو بھی  (بنا دیا اس کام میں معاون) یہ اس لیے کہ تم جان لو کہ بے شک اللہ جانتا ہے ہر وہ بات جو ہے آسمانوں میں اور جو ہے زمین میں اور بے شک اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔

۵:۹۸ خبر دار ہو جاؤ کہ یقیناً اللہ بہت سخت ہے سزا دینے میں اور یقیناً اللہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا بھی ہے۔

۵:۹۹ نہیں ہے رسول کی ذمّہ داری مگر پیغام پہنچا دینا۔ اور اللہ کو معلوم ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھُپاتے ہو۔

۵:۱۰۰ اے رسول! کہ دو کہ برابر نہیں ہو سکتے ناپاک اور پاک اگر چہ بھلی لگے تمہیں بہتات ناپاک کی سو ڈرتے رہو اللہ سے اے اہلِ عقل و شعور تاکہ تم فلاح پاؤ۔

۵:۱۰۱ اے ایمان والو! مت پُوچھو ایسی باتیں کہ اگر ظاہر کر دی جائیں تم پر تو بُری لگیں گی تمہیں اور اگر پُوچھو گے تم یہ باتیں ایسے وقت کہ نازل ہو رہا ہے قرآن تو ظاہر کر دی جائیں گی تم پر۔ درگزر کیا اللہ نے اُن سے اور اللہ بخشنے والا، بردبار ہے۔

۵:۱۰۲ البتّہ پوچھی تھیں ایسی ہی باتیں کچھ لوگوں نے تم سے پہلے پھر ہو گئے وہ ان ہی باتوں سے کافر۔

۵:۱۰۳ نہیں قرار دیا اللہ نے کوئی بحیرہ، نہ سائبہ، نہ وصیلہ اور نہ حام لیکن وہ لوگ جو کافر ہیں بہتان باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹا۔ اور ان میں اکثر عقل نہیں رکھتے۔

۵:۱۰۴ اور جب کہا جاتا ہے ان سے کہ آؤ اُس کی طرف جو نازل کیا ہے اللہ نے اور رسول کی طرف تو وہ کہتے ہیں کہ کافی ہے ہم کو وہ کہ پایا ہے ہم نے جس پر اپنے آباؤ اجداد کو، بھلا  (پھر بھی) اگرچہ ان کے آباؤ اجداد نہ رکھتے ہوں علم ذرا بھی اور نہ ہدایت یافتہ ہوں؟

۵:۱۰۵ اے ایمان والو! تم پر لازم ہے کہ اپنی فکر کرو، نہیں بگاڑ سکتا تمہارا کچھ بھی وہ جو گمراہ  ہُوا اگر تم ہدایت یافتہ ہو۔ اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے تم سب کو پھر بتلائے گا وہ تم کو جو کچھ کرتے رہے۔

۵:۱۰۶ اے ایمان والو! گواہی  (کا ضابطہ) تمہارے درمیان جب قریب آ پہنچے تم میں سے کسی کی موت، بوقت وصیّت  (اس طرح ہے کہ گواہ بنا لو) دو صاحبِ عدل شخص اپنوں میں سے یا دو دوسرے تمہارے اغیار  (غیر مُسلموں) میں سے اگر تم سفر میں ہو اور آ پڑے تم پر مصیبت موت کی۔ تو روک لو اُن دونوں کو نماز کے بعد سو قسم کھائیں یہ دونوں اللہ کی، اگر تم کو شُبہ پڑے  (ان پر)  (اور کہیں کہ) نہیں حاصل کریں گے ہم گواہی کے بدلے مالی فائدہ اگرچہ ہو کوئی ہمارا قرابت دار اور ہم نہیں چھپائیں گے اللہ کی گواہی۔ اگر ایسا کریں تو بے شک ہم گنہگاروں میں سے ہوں گے ۔

۵:۱۰۷ پھر اگر پتہ چلے اس بات کا کہ وہ دونوں مُبتلا ہو گئے ہیں کسی گناہ میں تو دو دوسرے شخص کھڑے ہوں ان کی جگہ ان میں سے جن کی حق تلفی ہوئی ہے اور جو قریبی رشتہ دار ہوں  (میّت کے) پھر دونوں قسم کھائیں اللہ کی کہ ہماری گواہی زیادہ درست ہے ان دونوں کی گواہی کے مقابلہ میں اور نہیں کی ہم نے کوئی زیادتی اگر ہم ایسا کریں تو ضرور ہوں گے ہم ظالموں میں سے۔

۵:۱۰۸ یہ طریقہ زیادہ قریب ہے اس سے کہ ادا کریں وہ شہادت کو کما حقہ، یا ڈریں اس بات سے کہ رد کر دی جائیں گی اُن کی قسمیں اُن کے قسمیں کھا لینے کے بعد۔ اور ڈرتے رہو اللہ سے اور سُنو۔ اور اللہ نہیں ہدایت دیتا نافرمان لوگوں کو۔

۵:۱۰۹ جس دن جمع کرے گا اللہ سب پیغمبروں کو پھر پُوچھے گا کہ کیا جواب ملا تھا تم کو؟ وہ کہیں گے نہیں کچھ علم ہم کو۔ بے شک تو ہی جاننے والا ہے غیب کی باتوں کا۔

۵:۱۱۰ جب کہے گا اللہ اے عیسیٰ بن مریم! یاد کرو میرا انعام  (جو کیا میں نے) تم پر اور تمہاری والدہ پر۔ جب میں نے مدد کی تمہاری رُوح القدس سے، باتیں کرتے تھے تم لوگوں سے گہوارہ میں اور بڑی عمر میں بھی اور جب سکھائی میں نے تم کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل اور جب بناتے تھے تم گارے سے پرندے کی سی صورت میرے حُکم سے پھر پھُونک مارتے تھے اس میں تو بن جاتا تھا وہ پرندہ میرے حُکم سے اور اچھا کر دیتے تھے تم مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو میرے حُکم سے اور جب نکال کھڑا کرتے تھے تم مُردوں کو میرے حُکم سے اور جب روکا تھا میں نے بنی اسرائیل کو تم  (پر زیادتی کرنے) سے جب لے کر گئے تھے تم ان کے پاس روشن دلیلیں تو کہنے لگے وہ لوگ جو کافر تھے ان میں سے کہ نہیں ہی یہ، مگر جادُو کھُلا۔

۵:۱۱۱ اور جب دل میں ڈالا میں نے حواریوں کے کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو وہ کہنے لگے ہم ایمان لائے اور  (اے اللہ) تو گواہ رہ کہ ہم مسلمان ہیں۔

۵:۱۱۲ جب کہا حواریوں نے اے عیسیٰ بن مریم کیا ایسا کر سکتا ہے، تمہارا رب کہ اُتارے ہم پر ایک خوان آسمان سے، کہا عیسیٰ نے کہ ڈرو اللہ سے اگر ہو تم مومن۔

۵:۱۱۳ انہوں نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ کھائیں اس میں سے اور  مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور ہم جان لیں کہ یقیناً تم نے سچ کہا ہم سے او ہو جائیں ہم اس پر گواہ۔

۵:۱۱۴ کہا عیسیٰ ابن مریم نے اے اللہ ہمارے رب! نازل فرما ہم پر ایک خوان آسمان سے جو بن جائے ہمارے لیے عید ہمارے پہلوں کے لیے اور ہمارے پچھلوں کے لیے اور ہو نشانی تیری طرف سے۔ اور رزق دے ہمیں اور تو ہی ہے سب سے بہتر رزق دینے والا۔

۵:۱۱۵ کہا اللہ نے کہ میں ضرور اتاروں گا  (وہ خوان) تم پر، پھر جس نے ناشکری کی اس کے بعد تم میں سے تو میں عذاب دُوں گا اس کو ایسا عذاب کہ نہیں دُوں گا اس جیسا عذاب کسی کو اہلِ جہاں میں سے۔

۵:۱۱۶ اور جب کہے گا اللہ اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تو نے کہا تھا لوگوں سے کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود اللہ کے سوا؟ وہ جواب دیں گے کہ پاک ہے تو، نہیں زیب دیتا مجھے کہ کہوں میں ایسی بات جس کا نہیں مجھے کوئی حق، اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو بے شک تجھے اس کا علم ہوتا۔ تو جانتا ہے وہ جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے جی میں ہے۔ بے شک تو جاننے والا ہے  غیب کی باتوں کا۔

۵:۱۱۷ نہیں کہا میں نے ان سے مگر وہ کہ حُکم دیا تو نے مجھے جس کا کہ عبادت کرو اللہ کی جو رب ہے میرا اور رب ہے تمہارا اور تھا میں اُن پر نگران جب تک رہا میں اُن میں پھر جب اُٹھا لیا تو نے مجھے تو تھا تو نگہبان اُن پر، اور تو تو ہر چیز پر نگران ہے۔

۵:۱۱۸ اگر عذاب دے تو انہیں تو بے شک وہ بندے ہیں تیرے اور اگر معاف کر دے اُنہیں تو بے شک تو ہر چیز پر غالب اور بڑی حکمت والا ہے۔

۵:۱۱۹ فرمائے گا اللہ یہ دن ہے کہ نفع دے گی سچوں کو اُن کی سچائی، اُن کے لیے جنّتیں ہیں کہ بہتی ہیں جن کے نیچے نہریں۔ رہیں گے وہ اُن میں ہمیشہ، راضی ہو ا  اللہ اُن سے اور راضی ہوئے وہ اللہ سے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔

۵:۱۲۰ اللہ ہی کی ہے حکومت آسمانوں میں اور زمین میں اور ان پر جو ان میں ہیں اور وہ ہر چیز پر پُوری طرح قادر ہے۔

 

سورۃ الأنعَام

 شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

۶:۱ تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے پیدا کیے آسمان اور زمین اور بنائیں تاریکیاں اور روشنی۔ پھر بھی وہ لوگ جو کافر ہیں  (دوسروں کو) اپنے رب کا ہمسر ٹھہراتے ہیں۔

۶:۲ وہی تو ہے جس نے پیدا کیا تم کو مٹی سے پھر مقرر کر دی  (زندگی کی) ایک مُدّت اور ایک  (دوسری) مُدّت  (قیامت) اور بھی ہے جو مقّرر ہے اللہ کے نزدیک اس کے باوجود تم شک میں مُبتلا ہو۔

۶:۳ اور وہی  (ایک) اللہ ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی۔ جو جانتا ہے تمہارے چھُپے اور کھُلے  (سب امور) کو اور جانتا ہے اس کو بھی جو  (بھلائی یا بُرائی) کماتے ہو تم۔

۶:۴ : اور نہیں آتی اُن کے پاس کوئی نشانی، نشانیوں میں سے اُن کے رب کی مگر وہ اس سے مُنہ موڑ لیتے ہیں۔

۶:۵ : چنانچہ جھٹلایا انہوں نے اس حق کو بھی جب آیا وہ ان کے پا سو عنقریب آ جائے گی اُن کے پاس حقیقت اس امر کی جس کا وہ مذاق اُڑا رہے ہیں۔

۶:۶ کیا نہیں دیکھا انہوں نے؟ کہ کتنی ہلاک کیں ہم نے ان سے پہلے ایسی قومیں جنہیں اقتدار دیا تھا ہم نے زمین میں ایسا اقتدار کہ نہیں دیا تھا تمہیں بھی؟ اور برسایا ہم نے  (مینہ) آسمان سے اُن پر موسلا دھار اور کر دیں ہم نے نہریں رواں اُن کے  (گھروں کے) نیچے پھر ہلاک کر دیا ہم نے ان کو بسبب ان کے گناہوں کے اور پیدا کیا ہم نے ان کے بعد دوسری قوموں کو۔

۶:۷ اور اگر نازل کرتے ہم تم پر کتاب  (لکھی ہوئی)کاغذ پر اور وہ چھو کر بھی دیکھ لیتے اسے اپنے ہاتھوں سے تب بھی کہتے، وہ لوگ جو کافر ہیں کہ نہیں ہے یہ مگر جادُو کھلا۔

۶:۸ اور کہتے ہیں وہ کہ کیوں نہیں اُتارا گیا اس نبی پر فرشتہ، اور اگر کہیں اُتارا ہوتا ہم نے فرشتہ تو فیصلہ ہو چکا ہوتا پھر نہ ملتی اُنہیں کوئی مہلت۔

۶:۹ اور اگر بناتے ہم رسول فرشتے کو تو بھیجتے ہم اُسے آدمی ہی کی صورت میں اور مُبتلا کر دیتے ہم ان کو اسی شُبہ میں جس میں وہ اب مُبتلا ہیں۔

۶:۱۰ اور بے شک مذاق اُڑایا جاتا رہا ہے بہت سے  رسُولوں کا تم سے پہلے بھی لیکن مسلّط ہو کر  رہی ان لوگوں پر جنہوں نے مذاق اُڑایا تھا اُن میں سے وہ حقیقت، جس کا وہ مذاق اُڑایا کرتے تھے۔

۶:۱۱ کہو ان سے کہ چلو پھرو زمین میں پھر دیکھو کیا  انجام ہوا جھٹلانے والوں کا۔

۶:۱۲ پوچھو  (ان سے) کہ کس کا ہے، جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں؟ کہہ دو! کہ اللہ ہی کا ہے۔ لازم کر لی ہے اس نے اپنے اوپر رحمت  (اسی لیے ( ضرور جمع کرے گا وہ تم کو روز قیامت، کوئی شک نہیں جس  (کے آنے) میں  (تاہم) وہ لوگ جو خسارے میں ڈال چُکے ہیں اپنی جانوں کو اُسے نہیں مانتے۔

۶:۱۳ اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ بستا ہے رات اور دن میں۔ اور وہی ہے ہر بات کا سُننے والا، سب کچھ جاننے والا۔

۶:۱۴ کہو! کیا اللہ کے سوا  (کسی اور کو) بنا لوں میں اپنا سرپرست؟  (وہ اللہ) جو بنانے والا ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور وہی روزی دیتا ہے اور روزی نہیں لیتا۔ کہہ دو! بے شک مجھے تو یہی حُکم دیا گیا ہے کہ بنوں میں سب سے پہلا حُکم ماننے والا۔ اور  (یہ کہ) ہرگز نہ شامل ہونا تم شرک کرنے والوں میں۔

۶:۱۵ کہہ دو! بے شک میں ڈرتا ہوں کہ اگر نافرمانی کی میں نے اپنے رب کی،  (تو دوچار ہونا پڑے گا مجھے) عذاب سے ایک بڑے  (خوفناک) دن کے۔

۶:۱۶ جو بچ گیا اس  (عذاب) سے اس دن تو بے شک رحم کیا اس پر اللہ نے اور یہی ہے نمایاں کامیابی

۶:۱۷ اور اگر پہنچائے تم کو اللہ کوئی نقصان تو نہیں کوئی دُور کرنے والا اس کا سوائے اس کے اور اگر پہنچائے تم کو وہ کوئی بھلائی تو وہ ہر چیز پر پُوری طرح قادر ہے۔

۶:۱۸ اور وہ کامل اختیار رکھتا ہے اپنے بندوں پر۔اور وہی ہے کامل حکمت والا، ہر بات سے باخبر۔

۶:۱۹ پُوچھو کس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے؟ کہو! اللہ گواہ ہے میرے اور تمہارے درمیان اور وحی کیا گیا ہے مری طرف یہ قرآن تاکہ متنبہ کروں تمہیں اس سے اور ہر اس شخص کو جس تک یہ پہنچے، کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ ہیں معبُود اور بھی؟ کہہ دو! کہ نہیں دیتا میں ایسی گواہی۔ کہ دو! کہ صحیح بات یہی ہے کہ وہی ہے معبودِ یکتا اور بے شک  میں بیزار ہوں اس شرک سے جس میں تم مُبتلا ہو۔

۶:۲۰ وہ لوگ جنہیں دی ہے ہم نے کتاب وہ پہچانتے ہیں اس بات کو جیسے پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کو۔  (لیکن) جو لوگ۔ خسارے میں ڈال چُکے ہیں اپنے آپ کو وہ اسے نہیں مانتے

۶:۲۱ اور کون ہے بڑا ظالم اس سے جو باندھے بہتان اللہ پر جھوٹا یا جھٹلائے اس کی نشانیوں کو، یقیناً نہیں فلاح پاتے ایسے ظالم۔

۶:۲۲ اور جس دن ہم اکٹھا کریں گے ان سب کو پھر پُوچھیں گے اُن لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا تھا، کہاں ہیں تمہارے وہ شریک جن کو تم  (الٰہ) سمجھتے تھے؟۔

۶:۲۳ پھر نہیں ہو گا ان کے پاس کوئی فریب سوائے اس کے کہ کہیں قسم اللہ کی جو ہمارا رب ہے، نہ تھے ہم مشرک۔

۶:۲۴ دیکھو کیسا جھُوٹ بولا اُنہوں نے اپنے بارے میں اور گُم ہو گئے اُن کے تمام بناوٹی معبُود۔

۶:۲۵ اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو کان لگا کر سُنتے ہیں تمہاری باتیں لیکن ڈال رکھے ہیں ہم نے اُن کے دلوں پر پردے کہ  (نہ) سمجھ سکیں وہ اس کو اور ان کے کانوں میں گرانی  (ڈال دی ہے)۔ اور  (اُن کی حالت یہ ہے) کہ اگر دیکھ لیں تمام نشانیاں تو بھی ایمان نہ لائیں اُن پر، یہاں تک کہ جب آتے ہیں تمہارے پاس تو جھگڑتے ہیں تم سے اور کہتے ہیں وہ لوگ، جنہوں نے فیصلہ کر لیا ہے انکار کا، نہیں ہیں یہ باتیں مگر کہانیاں پہلے لوگوں کی۔

۶:۲۶ اور یہ روکتے ہیں  (لوگوں کو) اس  (کے قبول کرنے) سے اور دُور بھاگتے ہیں  (خود بھی) اس سے اور نہیں ہلاک کرتے وہ مگر اپنے آپ کو، مگر اُنہیں اس کا شعور نہیں۔

۶:۲۷ اور کاش! تم دیکھ سکتے وہ وقت جب کھڑے کیے جائیں گے یہ لوگ دوزخ پر اور کہیں گے کاش! ہم واپس بھیج دیے جائیں اور نہ جھٹلائیں ہم اپنے رب کی نشانیوں کو اور شامل ہو جائیں ایمان والوں میں۔

۶:۲۸ بلکہ سامنے آ گئی ہے اُن کے وہ حقیقت جسے چھپاتے تھے یہ اس سے پہلے اور اگر پھر واپس بھیجے جائیں گے تو پھر وہی کچھ کریں گے جس سے منع کیا گیا تھا انہیں اور یقیناً یہ سخت جھُوٹے ہیں۔

۶:۲۹ اور کہتے ہیں یہ لوگ کہ نہیں ہے زندگی مگر یہ ہماری دنیاوی زندگی اور نہ ہرگز ہم زندہ کیے جائیں گے دوبارہ۔

۶:۳۰ اور کاش! تم دیکھ سکو وہ منظر جب کھڑے کیے جائیں گے یہ سامنے اپنے رب کے تو وہ پُوچھے گا کیا نہیں ہے یہ  (دن) حقیقت؟ وہ کہیں گے ہاں! قسم ہمارے رب کی  (یہ حقیقت ہے) فرمائے گا سو چکھو مزا عذاب کا بسبب اس کے جو کفر تم کرتے تھے۔

۶:۳۱ بے شک خسارے میں پڑ گئے وہ لوگ جنہوں نے جھُوٹ قرار دیا اللہ سے اپنے ملاقات کو یہاں تک کہ جب آ پہنچے گی اُن پر وہ گھڑی اچانک تو وہ کہیں گے افسوس! کیسی کوتاہی کی ہم نے اس معاملہ میں اور وہ اُٹھائے ہوں گے بوجھ اپنے  (گناہوں کا) اپنی پیٹھوں پر۔ دیکھو! کیسا بُرا ہے وہ بوجھ جو یہ اُٹھائے ہوئے ہیں۔

۶:۳۲ اور نہیں ہے یہ دُنیاوی زندگی مگر کھیل تماشا۔ اور یقیناً آخرت کا گھر ہی بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ کیا نہیں سمجھتے تم؟۔

۶:۳۳ یقیناً ہم جانتے ہیں کہ ضرور رنجیدہ کرتی ہیں تم کو وہ باتیں جو کہتے ہیں یہ لوگ لیکن واقعہ یہ ہے کہ نہیں جھٹلاتے یہ تم کو بلکہ یہ ظالم تو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔

۶:۳۴ اور بے شک جھٹلائے جا چُکے ہیں بہت سے رسُول تم سے پہلے پس صبر کیا اُنہوں نے جھٹلائے جانے پر اور ان اذیتوں پر جو دی گئیں اُنہیں حتّیٰ کہ پہنچ گئی اُن کو ہماری مدد اور کوئی نہیں بدل سکتا اللہ کی باتیں اور یقیناً آ چکی ہیں تمہارے پاس خبریں  (پہلے) رسُولوں کی۔

۶:۳۵ اور اگر گراں گزرتی ہے تم پر بے رخی ان لوگوں کی تو اگر تم سے بن پڑے تو ڈھونڈ لو کوئی سرنگ زمین میں یا  (لگاؤ) کوئی سیڑھی آسمان میں اور لے آؤ اُن کے پاس کوئی معجزہ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو جمع کر دیتا ان سب کو ہدایت پر لہٰذا مت بنو تم نادان۔

۶:۳۶ حقیقت یہ ہے کہ  (دعوتِ حق پر) لبّیک وہ لوگ کہتے ہیں جو سُنتے ہیں اور رہے مُردے سو زندہ کرے گا اُنہیں اللہ پھر اسی کی عدالت میں پیشی کے لیے وہ واپس لائے جائیں گے۔

۶:۳۷ اور کہتے ہیں یہ لوگ کہ کیوں نہیں اُتاری گئی اس رسُول پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے۔ کہو! بے شک اللہ قادر ہے اس پر کہ اُتارے کوئی نشانی مگر اُن میں سے اکثر  (اس بات کو) نہیں جانتے۔

۶:۳۸ اور نہیں کوئی جاندار جو چلتا ہے زمین میں اور نہ ہی کوئی پرندہ جو اُڑتا ہے اپنے پروں سے مگر یہ سب اُمتیں ہیں تمہاری طرح کی۔ نہیں کسر چھوڑی ہم نے ان کے نوشتۂ  (تقدیر) میں کسی بات کی پھر اپنے رب کی طرف یہ سب گھیر گھار کر لائے جائیں گے۔

۶:۳۹ اور جو لوگ جھٹلاتے ہیں ہماری آیات کو وہ بہرے اور گونگے ہیں، تاریکیوں میں پڑے ہیں۔ جسے چاہے اللہ گمراہ کرے اور جسے چاہے ڈال دے سیدھی راہ پر۔

۶:۴۰ کہو  (اُن سے) ذرا غور کر کے بتاؤ: اگر آ جائے تم پر عذاب اللہ کا یا آئے تم پر قیامت تو کیا اللہ کے سوا  (کسی اور کو) پُکارو گے تم؟ اگر ہو تم سچّے۔

۶:۴۱ بلکہ  (ایسے مواقع پر) تم اسی کو پُکارتے ہو پھر دُور کر دیتا ہے وہ اس مصیبت کو جس کے لیے پکارتے ہو تم اسے اور اگر وہ چاہتا ہے۔ اور بھُول جاتے ہو تم اُنہیں جن کو شریک ٹھہراتے ہو  (اس کا)۔

۶:۴۲ اور البتّہ بھیجے ہم نے  (رسُول) بہت سی اُمتوں کی طرف تم سے پہلے پھر مُبتلا کیا ہم نے اُن کو مصائب و آلام میں تاکہ وہ جھک جائیں عاجزی سے۔

۶:۴۳ پھر کیوں نہ جب آئی اِن پر بھی سختی تو جھُکے یہ بھی عاجزی کے ساتھ، بلکہ سخت ہو گئے اُن کے دل اور خوشنما بنا دیے ان کے لیے شیطان نے وہ کام جو یہ کرتے تھے۔

۶:۴۴ پھر جب بھُول گئے وہ اُس  (نصیحت) کو جو اُنہیں کی گئی تھی تو کھول دیے ہم نے اُن پر دروازے ہر طرح  (کی نعمتوں) کے یہاں  تک کہ جب وہ خُوب مگن ہو گئے ان  (نعمتوں) میں جو دی گئی تھیں انہیں تو پکڑ لیا ہم نے ان کو اچانک اب یہ حال تھا کہ وہ ہر خیر سے مایوس ہو گئے۔

۶:۴۵ الغرض کاٹ دی گئی جڑ اس قوم کی جس نے ظلم کیا تھا اور سب تعریفیں ا للہ ہی کے لیے ہیں جو رب ہے تمام جہانوں کا۔

۶:۴۶ کہو  (اُن سے اے نبی) کبھی تم نے یہ بھی سوچا ہے کہ اگر چھین لے اللہ تمہاری سماعت اور تمہاری بینائی اور مہر کر دے تمہارے دلوں پر تو کون ایسا خُدا ہے اللہ کے سوا جو واپس دلا دے تم کو یہ چیزیں؟ دیکھو کس طرح ہم بار بار پیش کرتے ہیں نشانیاں پھر بھی یہ لوگ رُوگردانی کرتے ہیں۔

۶:۴۷ کہو! کبھی تم نے سوچا کہ اگر آ جائے تم پر عذاب اللہ کا اچانک یا علانیہ تو نہیں ہلاک ہوں گے مگر وہ لوگ جو ظالم ہیں۔

۶:۴۸ اور نہیں بھیجتے ہم رسُول مگر اس غرض سے کہ دیں بشارت  (نیک لوگوں کو) اور ڈرائیں  (بدکاروں کو) پھر جو لوگ ایمان لے آئیں اور اصلاح کر لیں تو نہیں ہے کوئی خوف اُن کے لیے اور نہ ہی وہ کبھی غمگین ہوں گے۔

۶:۴۹ اور جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو، پہنچے گا اُنہیں عذاب بسبب اس نافرمانی کے جو وہ کرتے تھے۔

۶:۵۰ کہہ دو! نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ جانتا ہوں میں غیب اور نہ کہتا ہُوں میں تم سے کہ میں فرشتہ ہوں نہیں پیروی کرتا میں مگر اس کی جو وحی کیا جاتا ہے میری طرف پُوچھو  (ان سے) کیا برابر  ہو سکتا ہے اندھا اور آنکھوں والا؟ کیا تم غور نہیں کرتے؟

۶:۵۱ اور نصیحت کرو اس  (قرآن) سے ان لوگوں کو جو ڈرتے رہتے ہیں اس بات سے کہ وہ اکٹّھے کیے جائیں گے اپنے رب کے حضور نہ ہو گا اُن کا اللہ کے سوا کوئی حامی اور نہ کوئی سفارش کرنے والا تاکہ وہ تقویٰ اختیار کر لیں۔

۶:۵۲ اور دُور ہٹاؤ  (خود سے)ان لوگوں کو جو پُکارتے رہتے ہیں اپنے رب کو صبح و شام،طلب گار ہیں اس کی خوشنودی کے،نہیں ہے تم پر اُن کے حساب میں سے  (بار)کسی چیز کا اور نہ تمہارے حساب میں سے اُن پر کچھ  (ذ مّہ داری)ہے کہ اُن کو پرے ہٹاؤ  (اگر ایسا کیا)تو ہو جاؤ گے تم ظالموں میں سے

۶:۵۳ : دراصل اس طرح آزمائش میں ڈالا ہے ہم نے ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ سے تاکہ  (اُنہیں دیکھ کر)کہیں وہ کہ کیا یہی ہیں وہ لوگ کہ فضل و کرم کیا ہے اللہ نے جن پر ہمارے درمیان میں سے ؟ (ہاں)کیا نہیں اللہ،خُوب جاننے والا اپنے شکر گزار بندوں کو؟

۶:۵۴ : اور جب آئیں تمہارے پاس وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں ہماری آیات پر تو اُن سے کہو سلامتی ہے تم پر ،لازم کر لیا ہے تمہارے رب نے اپنے اُوپر رحمت (کا شیوہ)کہ جو شخص کرے تم میں سے کوئی بُرائ نادانی سے پھر توبہ کر لے اس کے بعد اور اصلاح کر لے تو بے شک وہ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے

۶:۵۵ : اور اس طرح تفصیل سے بیان کرتے ہیں ہم اپنی نشانیاں اس لیے بھی کہ پُوری طرح نمایاں ہو جائے راستہ مُجرموں کا

۶:۵۶ : کہ دو !بے شک مجھے منع کیا گیا ہے اس سے کہ میں عبادت کروں اُن کی جنہیں تم پُکارتے ہو اللہ کے سوا۔کہ  دو! نہیں پیروی کروں گا میں تمہاری خواہشات کی، یقیناً گمراہ ہو جاؤں گا میں اگر کیا ایسا اور نہ رہوں گا شامل ہدایت پانے والوں میں

۶:۵۷ : کہ دو! بے شک میں  (قائم) ہوں ایک روشن دلیل پر اپنے رب کی طرف سے اور جھٹلا دیا ہے تم نے اس کو،نہیں ہے میرے اختیار میں وہ چیز کہ جلدی مچا رہے ہو تم جس کے لیے ،نہیں ہے فیصلے کا اختیار مگر صرف اللہ کو۔ بیان کرتا ہے وہ حق بات اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

۶:۵۸ : کہو اگر  ہوتی میرے اختیار میں وہ چیز کہ جلدی مچا رہے ہو تم اس کی تو فیصلہ ہو چُکا ہوتا جھگڑے کا میرے اور تمہارے درمیان اور اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے ظالموں کو

۶:۵۹ : اور اُسی کے پاس ہیں کنجیاں غیب کی نہیں جانتا اُنہیں کوئی سوائے اس کے اور وہ تو جانتا ہے اسے بھی جو خشکی میں ہے اور جو سمندر میں ہے اور نہیں جھڑتا کوئی پتہ مگر وہ اس کے علم میں ہے اور نہ کوئی دانہ زمین کے تاریک پردوں میں  (ایسا ہے)اور نہیں کوئی تر ا ورنہ کوئی خشک  (چیز)مگر وہ روشن کتاب میں  (درج)ہے ۔

۶:۶۰ : اور وہی ہے جو روح قبض کر لیتا ہے تمہاری رات کے وقت اور جانتا ہے وہ امور جو کرتے ہو تم دن میں پھر اُٹھا کھڑا کرتا ہے تمہیں  (دوسرے)دن میں تاکہ پُوری ہو  (زندگی کی)مقررّ مُدّت پھر اسی کی طرف لوٹنا ہے تمہیں پھر بتائے گا تمہیں وہ جو تم کرتے رہے ہو ۔

۶:۶۱ : اور وہی پُوری قدرت رکھتا ہے اپنے بندوں پر اور بھیجتا ہے تم پر نگرانی کرنے والے  (فرشتے)یہاں تک کہ جب آ جاتی ہے تم میں سے کسی کی موت تو قبض کر لیتے ہیں اُس کی رُوح ہمارے فرشتے اور وہ کوتاہی نہیں کرتے۔

۶:۶۲ پھر لوٹائے جائیں گے سب اللہ کی طرف جو مالک ہے اُن کا حقیقی خبردار ہو جاؤ! اسی کو حاصل ہیں فیصلے کے سارے اختیارات اور وہ بہت تیز ہے حساب لینے میں۔

۶:۶۳ پُوچھو  (ان سے)! کون بچاتا ہے تم کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں  (میں خطرات) سے جب تم پُکارتے ہو اس کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے کہ اگر بجا لے وہ ہم کو، اس بلا سے تو ہم ضرور ہوں گے شکر گزار۔

۶:۶۴ کہہ دو! اللہ ہی نجات دیتا ہے تم کو اس سے اور ہر تکلیف سے پھر بھی تم شرک کرتے ہو۔

۶:۶۵ کہہ دو ! وہ قدرت رکھتا ہے اس پر کہ بھیجے تم پر عذاب تمہارے اُوپر سے اور تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا بھڑا دے تم کو فرقہ فرقہ کر کے اور چکھا دے مزہ ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا دیکھو ک س طرح ہم بار بار پیش کرتے ہیں  (اُن کے سامنے) اپنی نشانیاں تاکہ وہ سمجھ جائیں۔

۶:۶۶ اور جھٹلایا اس  (قرآن) کو تیری قوم نے حالانکہ وہ حق ہے۔ کہہ دو! کہ نہیں بنایا گیا ہوں میں تم پر داروغہ۔

۶:۶۷ ہر خبر کا ایک وقت مقّرر ہے اور عنقریب تم جان لو گے۔

۶:۶۸ اور جب دیکھو تم ایسے لوگوں کو جو نکتہ چینیاں کرتے ہیں۔ ہماری آیات پر تو منہ پھیر لو اُن سے یہاں تک کہ مشغول ہو جائیں وہ کسی اور بات میں۔ اور اگر کبھی بھلا دے تم کو شیطان تو نہ بیٹھو یاد آ جانے کے بعد ایسے ظالم لوگوں کے پاس۔

۶:۶۹ اور نہیں ہے پرہیزگاروں پر ان  (بیہودہ بحث کرنے والوں) کے حساب میں سے  (کوئی ذمّہ داری)، ذرا بھی البتّہ نصیحت کرنا  (فرض) ہے تاکہ وہ بھی غلط روی سے بچ جائیں۔

۶:۷۰ اور چھوڑ دو ان لوگوں کو جنہوں نے بنا رکھا ہے اپنے دین کو کھیل اور تماشا اور فریب میں مبتلا کئے ہوئے  ہے ان کو   دُنیا کی زندگی۔ ہاں مگر نصیحت کرتے رہو ان کو یہ قرآن سُنا کر،  تاکہ گرفتار  (نہ) ہو جائے کوئی شخص اپنے کرتوتوں کے وبال میں کہ نہ ہو اس کو اللہ کے سوا  (بچانے والا) کوئی دوست اور نہ کوئی سفارش کرنے والا اور اگر فدیہ میں دے وہ ہر قسم کا معاوضہ تو قبول نہ کیا جائے اس سے، یہی لوگ ہیں جو پکڑے گئے ہیں اپنی کمائی کے نتیجہ میں اُن کے لیے ہے، پینے کو کھولتا ہُوا پانی اور درد ناک عذاب بدلے میں اس انکارِ حق کے جو وہ کرتے تھے۔۔

۶:۷۱ کہو! کیا ہم پکاریں اللہ کے سوا اُسے جو نہ نفع پہنچا سکے ہمیں اور نہ نقصان اور  (کیا) پھر جائیں ہم اُلٹے پاؤں اس کے بعد کہ ہدایت دے چُکا ہے ہمیں اللہ  (اور ہو جائیں ہم) مانند اس شخص کے جسے بھٹکا دیا ہو شیطانوں نے صحرا میں اور وہ حیران و سرگرداں ہو  (جبکہ) اس کے ساتھی بلاتے ہوں اسے سیدھے راستے کی طرف کہ آ ہمارے پاس  (یہ سیدھی راہ موجود ہے) کہو! حقیقت میں اللہ کی رہنمائی ہی صحیح رہنمائی ہے اور حُکم دیا گیا ہے ہمیں کہ سر جھُکا دیں ہم مالکِ کائنات کے آگے۔

۶:۷۲ اور یہ کہ قائم رکھو نماز اور بچو اس  (کی نافرمانی) سے۔ اور وہی ہے جس کے حضور تم سب اکٹّھے کیے جاؤ گے۔

۶:۷۳ اور وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو برحق اور جس دن وہ حکم دے گا کہ ہو جا تو  (حشر برپا) ہو جائے گا۔ اسی کا ارشاد برحق ہے۔ اور اسی کی بادشاہی ہو گی اس دن  (جب) پھونکا جائے گا صور۔ وہ جاننے والا ہے پوشیدہ اور ظاہر کا۔ اور وہی کامل حکمت والا اور ہر بات سے باخبر ہے۔

۶:۷۴ اور جب کہا ابراہیم نے اپنے باپ آذر سے کیا بناتے ہو تم بتوں کو معبود؟ بے شک میں دیکھتا ہوں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھُلی گمراہی میں۔

۶:۷۵ اور اس طرح دکھانے لگے ہم ابراہیم کو نظامِ سلطنت آسمانوں اور زمین کا تاکہ ہو جائے وہ یقین کرنے والوں میں سے۔

۶:۷۶ چنانچہ جب چھا گئی اس پر رات  (کی تاریکی) تو دیکھا اس نے ایک تارا، کہا! یہ مرا رب ہے، پھر جب ڈوب گیا وہ تو بولا نہیں پسند کرتا میں ڈُوب جانے والوں کو۔

۶:۷۷ پھر جب دیکھا اس نے چاند، چمکتا ہُوا تو کہا یہ میرا رب ہے پھر وہ ڈوب گیا تو کہا کہ اگر نہ کرتا میری رہنمائی میرا رب تو بیشک ہو جاتا میں شامل گمراہ لوگوں میں۔

۶:۷۸ پھر جب دیکھا سُورج، روشن تو کہا یہ ہے میرا رب یہ سب سے بڑا ہے پھر جب وہ بھی ڈوب گیا تو پکار اُٹھا اے میری قوم بیشک میں بیزار ہوں ان سب سے جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو  (اللہ کا)۔

۶:۷۹ بے شک میں نے کر لیا اپنا رُخ اس ہستی کی طرف جس  نے پیدا کیے ہیں آسمان و زمین، یکسو ہو کر اور نہیں ہُوں میں مُشرکوں میں سے۔

۶:۸۰ اور جھگڑنے لگی اس سے اس کی قوم تو اس نے کہا، کیا تم جھگڑتے ہو مجھ سے اللہ کے بارے میں ؟ جبکہ وہ ہدایت دے چُکا ہے مجھے اور نہیں ڈرتا میں اُن سے جن کو شریک ٹھہراتے ہو تم اُس کا، ہاں یہ کہ چاہے میرا رب کچھ  (تو وہ ہو سکتا ہے) احاطہ کیے ہوئے ہے میرا رب ہر چیز کا، علم سے تو کیا تم غور نہیں کرتے۔

۶:۸۱ اور کیونکر ڈروں میں اُن سے جنہیں شریک ٹھہراتے ہو تم جبکہ نہیں ڈرتے تم اس بات سے کہ شریک ٹھہراتے ہو تم اللہ کا ان کو جن کے لیے نہیں اتاری اس نے تم پر کوئی دلیل، اب دونوں فریقوں میں کون زیادہ مستحق ہے دل جمعی کا۔  (بتاؤ) اگر تم جانتے ہو۔

۶:۸۲ وہ جو ایمان لائے اور نہیں آلودہ کیا اُنہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ، یہی لوگ ہیں کہ ہے اُن کے لیے امن اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔

۶:۸۳ اور یہ  (تھی) ہماری دلیل جو عطا کی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلہ میں، بلند کرتے ہیں ہم درجات جس کے چاہیں بے شک تیرا رب بڑی حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

۶:۸۴ اور دی ہم نے اُسے اسحاق اور یعقوب  (جیسی اولاد)۔ سب کو راہ راست دکھائی ہم نے اور  نوح کو راہ دکھائی ہم نے ان سے پہلے اور اسی کی نسل میں سے داؤد اور  سلیمان۔ اور ایوب اور  یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو  (بھی راہ دکھائی)۔ اور اسی طرح جز ا دیتے ہیں ہم نیکوکاروں کا۔

۶:۸۵ اور زکریا اور یحییٰ اور الیاس کو  (بھی راہ دکھائی)۔ یہ سب تھے صالحین میں سے۔

۶:۸۶ اور اسمعیل اور الیسع اور  یونس اور لوط کو  (بھی)۔ اور سب کو فضیلت دی ہم نے سارے جہان والوں پر۔

۶:۸۷ اور اُن کے آباؤ اجداد میں سے اور ان کی اولاد میں سے اور ان کے بھائیوں میں سے  (بھی کچھ کو) اور منتخب کیا ہم نے ان کو اور انہیں ہدایت دی سیدھے راستے کی طرف۔

۶:۸۸ یہ ہدایت ہے اللہ کی، راہ دکھاتا ہے اس کے ذریعہ سے وہ جس کو چاہے اپنے بندوں میں سے۔ لیکن اگر کہیں شرک کیا انہوں نے تو غارت ہو جائیں گے اُن کے وہ سب اعمال جو کیے تھے اُنہوں نے۔

۶:۸۹ یہی تھے وہ لوگ جن کو عطا کی ہم نے کتاب اور شریعت اور نبوت لہٰذا اگر انکار کرتے ہیں ان  (کو ماننے) سے یہ لوگ تو  (کچھ پروا نہیں) بے شک سونپ دی ہم نے یہ نعمت کچھ اور لوگوں کو جو نہیں ہیں اس سے مُنکر۔

۶:۹۰ یہ ہیں وہ لوگ جنہیں ہدایت دی اللہ نے سو تم بھی انہی کے راستے پر چلو۔ کہہ دو نہیں مانگتا تم سے  (تبلیغ کے) اس کام پر کوئی اجر۔  نہیں ہے یہ، مگر نصیحت جہان والوں کے لیے۔

۶:۹۱ اور نہیں پہچانا انہوں نے اللہ کو جیسا کہ حق ہے اس کو  پہچاننے کا جب کہا انہوں نے کہ نہیں نازل کی اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز، پوچھو! کس نے نازل کی تھی؟ وہ کتاب جو لے کر آئے تھے موسیٰ جو روشنی اور ہدایت تھی لوگوں کے لیے جسے کر رکھا ہے تم نے ورق ورق دکھاتے ہو اس کا  (کچھ حصّہ) اور چھُپا جاتے ہو بہت کچھ اور  (اس کے ذریعہ سے) سکھائی گئیں تم کو وہ باتیں جو نہ جانتے تھے تم اور نہ تمہارے آباؤ اجداد۔ کہہ دو! اللہ نے  (اُتاری) پھر چھوڑ دو اُن کو کہ اپنی کج بحثی میں کھیلتے ہیں۔

۶:۹۲ اور یہ  (قرآن) بھی ایک کتاب ہے جسے نازل کیا ہے ہم نے برکت والی، تصدیق کرنے والی، ان کی جو اس سے پہلے موجود ہیں اور تاکہ ڈراؤ تم اہلِ مکّہ کو اور ان کو جو اُس کے گرد و پیش ہیں اور جو لوگ یقین رکھتے ہیں آخرت پر وہ ایمان لاتے ہیں اس کتاب پر اور وہی اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

۶:۹۳ اور کون بڑا ظالم ہے اس سے جو باندھے بہتان اللہ پر جھُوٹا یا کہے کہ وحی آتی ہے مجھ پر جبکہ نہ نازل کی گئی ہو اس پر کوئی وحی اور  (اس سے) جو کہے کہ میں بھی نازل کروں گا مثل اس کے جو نازل کیا ہے اللہ نے۔ اور کاش تم دیکھ سکو  (اس وقت کو) جب ظالم لوگ سکراتِ موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے بڑھا بڑھا کر اپنے ہاتھ  (کہہ رہے ہوتے ہیں) کہ نکالو اپنی جانیں۔ آج دیا جائے گا تم کو عذاب، ذلّت آمیز پاداش میں اس کے جو کہتے تھے تم اللہ کے بارے میں ناحق باتیں اور کرتے تھے تم اس کی آیتوں کے مقابلہ میں سرکشی۔

۶:۹۴ اور  (اللہ فرمائے ا) بے شک حاضر ہو گئے تم ہمارے سامنے تن تنہا جیسے کہ پیدا کیا ہم نے تم کو پہلی مرتبہ اور چھوڑ  آئے تم جو کچھ دیا تھا ہم نے تم کو  (دُنیا میں) اپنی پیٹھ پیچھے اور نہیں دیکھتے ہم تمہارے ساتھ تمہارے سفارشی بھی جن کے متعلّق تم سمجھتے تھے کہ وہ تمہارے کام  (بنانے) میں اللہ کے شریک ہیں۔ بے شک  (آج) منقطع ہو گئے تمہارے آپس کے رابطے اور گم ہو گئے تم سے وہ سب جن کا تم زعم رکھتے تھے۔

۶:۹۵ بے شک اللہ ہی ہے پھاڑنے والا دانے اور گٹھلی کو، نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور نکالنے والا ہے مُردہ کو زندہ سے، یہ ہے تمہارا اللہ  پھر تم کدھر بہکے چلے جا رہے ہو۔

۶:۹۶   (پردۂ شب) چاک کر کے نکالنے والا صبح  (کی روشنی) اور بنایا اُسی نے رات کو سکون و آرام کے لیے اور سورج اور چاند کو حساب کے لیے۔ یہ اندازے ہیں مقّرر کردہ اس کے جو غالب ہے، سب کچھ جاننے والا ہے۔

۶:۹۷ اور وہی ہے جس نے بنائے تمہارے لیے ستارے تاکہ رہنمائی حاصل کرو اُن کے ذریعے برو بحر کی تاریکیوں میں۔ بے شک بیان کر دیں ہم نے اپنی نشانیاں ان کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔

۶:۹۸ اور وہی ہے جس نے پیدا کیا تم  (سب) کو ایک جان سے پھر ایک جائے قرار ہے اور ایک اس کے سونپے جانے کی جگہ ہے۔ بے شک بیان کر دی ہیں ہم نے اپنی آیات اُن کے لیے جو سمجھ بُوجھ رکھتے ہیں۔

۶:۹۹ اور وہی ہے جس نے نازل کیا آسمان سے پانی پھر اُگائیں ہم نے اس کے ذریعہ سے نباتات ہر قسم کی پھر پیدا کیے ہم نے اس سے سبز کھیت نکالتے ہیں ہم اس میں سے دانے تہ بہ تہ اور کھجور کے درخت میں سے اس کے خوشوں کے گچّھے، نیچے جھُکے ہُوئے اور باغات انگور کے اور  زیتون کے اور  انار کے ایک دوسرے سے ملتے جلتے اور خصوصیات میں جُدا جُدا۔ غور سے دیکھو اس کے پھر کو جب وہ پھل لائے اور اس کے پکنے کی کیفیّت کو۔ بے شک ان چیزوں میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو مومن ہیں۔

۶:۱۰۰ اور ٹھہراتے ہیں وہ اللہ کا شریک جنوں کو حالانکہ پیدا کیا ہے اس نے اُن کو اور گھڑ لیے ہیں اُنہوں نے اس کے لیے بیٹھے اور بیٹیاں بغیر علم کے۔ پاک اور بالاتر ہے وہ، ان باتوں سے جو یہ لوگ کہتے ہیں۔

۶:۱۰۱ موجدِ بے مثال آسمانوں کا اور زمین کا، کیسے ہو سکتی ہے اس کی اولاد حالانکہ نہیں ہے اس کی کوئی بیوی۔ اور اس نے پیدا کیا ہے ہر چیز کو اور وہ ہر چیز سے پُوری طرح واقف ہے۔

۶:۱۰۲ یہ ہے اللہ تمہارا رب، نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے، پیدا کرنے والا ہر چیز کا سو عبادت کرو اسی کی۔ اور وہ ہر چیز پر نگران ہے۔

۶:۱۰۳ نہیں پا سکتیں اس کو نگاہیں اور وہ پا لیتا ہے نگاہوں کو اور وہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے۔

۶:۱۰۴ بے شک آ گئی ہیں تمہارے پاس بصیرت کی روشنیاں تمہارے رب کی طرف سے پس جس نے بینائی سے کام لیا سو اس کا فائدہ اُسی کے لیے ہے اور جو اندھا رہا سو اس کا نقصان اسی کو ہو گا۔ اور نہیں ہوں میں تم پر نگہبان۔

۶:۱۰۵ اور اس طرح ہم مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں اپنی آیات اور اس لیے بھی کہ یہ لوگ کہیں کہ تم  (کسی سے) پڑھ کر آئے ہو اور اس لیے کہ ہم بیان کریں اس کو ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔

۶:۱۰۶   (اے نبی!) پیروی کیے جاؤ تم اس کی جو وحی کیا گیا ہے تم پر تمہارے رب کی طرف سے نہیں ہے کوئی معبود سوائے اس کے اور منہ پھیر لو شرک کرنے والوں سے۔

۶:۱۰۷ اور اگر چاہتا اللہ تو نہ شرک کرتے وہ لوگ اور نہیں بنایا ہے ہم نے تم کو ان پر نگہبان اور نہیں ہو تم ان پر داروغہ۔

۶:۱۰۸ اور نہ گالیاں دو ان کو جنہیں پکارتے ہیں یہ اللہ کے سوا  (کہیں ایسا نہ ہو) کہ یہ لوگ بُرا بھلا کہنے لگیں اللہ کو حد سے آگے بڑھ کر اپنی جہالت کی بنا پر۔ اس طرح خوشنما بنا دیا ہے ہم نے ہر ایک فرقہ کے لیے اُن کے اعمال کو پھر اپنے رب کی طرف اُن سب کو لوٹنا ہے تب وہ بتلائے گا ان کو جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔

۶:۱۰۹ اور قسمیں کھاتے ہیں یہ اللہ کی بڑی سخت قسمیں کہ اگر آئے ان کے پاس کوئی نشانی تو وہ ضرور ایمان لے آئیں گے اُس پر، کہہ دو! کہ بے شک نشانیاں تو اللہ ہی کے اختیار میں ہیں اور کیا معلوم ہے تم کو  (اے مسلمانو!) کہ وہ نشانیاں اگر آ بھی جائیں تب بھی یہ ایمان نہ لائیں۔

۶:۱۱۰ اور ہم پھیر دیں اُن کے دلوں کو اور ان کی نگاہوں کو اسی طرح جیسے ایمان نہیں لائے تھے یہ ان نشانیاں پر پہلی مرتبہ اور چھوڑ دیں ہم ان کو کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔

۶:۱۱۱ اور اگر نازل کر دیتے ہم ان پر فرشتے بھی اور باتیں کرتے ان سے مُردے اور جمع کر دیتے ان کے لیے ہر چیز ان کے سامنے۔ تب بھی نہ تھے یہ لوگ ایمان لانے والے مگر یہ کہ چاہتا اللہ لیکن ان میں اکثر نادانی کی باتیں کرتے ہیں۔

۶:۱۱۲ اور اسی طرح بنایا ہم نے ہر نبی کے لیے دُشمن، شیطان انسانوں اور شیطان جنوں کو جو القا کرتے ہیں ایک دوسرے پر چکنی چپڑی باتیں فریب دینے کے لیے اور اگر چاہتا تمہارا رب  (کہ وہ ایسا نہ کریں) تو نہ کرتے وہ یہ کام سو تم چھوڑو اُن کو اُن کے حال پر کہ وہ اپنے جھُوٹ گھڑتے رہیں۔

۶:۱۱۳ اور  (ہم یہ اس لیے کرنے دیتے ہیں) تاکہ مائل ہوں اُن باتوں کی طرف دل اُن لوگوں کے جو ایمان نہیں رکھتے آخرت پر اور پسند کر لیں اس کو اور یہ اس   لیے بھی تاکہ کرتے رہیں وہ  (بُرے کام) جو وہ کر رہے ہیں۔

۶:۱۱۴ سو کیا اللہ کے سوا کوئی اور تلاش کروں میں، فیصلہ کرنے والا حالانکہ وہی ہے جس نے نازل کی ہے تمہاری طرف یہ کتاب پُوری تفصیل کے ساتھ۔ اور وہ لوگ جنہیں دی ہم نے کتاب، جانتے ہیں کہ یہ نازل ہوئی ہے تیرے رب کی طرف سے بر حق سو ہرگز نہ ہونا تم شک کرنے والوں میں سے۔

۶:۱۱۵ اور کامل ہے بات تیرے رب کی سچائی اور انصاف کے اعتبار سے۔ نہیں کوئی بدلنے والا اس کی بات کو اور وہی ہے سب کچھ سُننے والا، ہر بات جاننے والا۔

۶:۱۱۶ اور اگر کہا مانو گے تم ان لوگوں کی اکثریّت کا جو زمین میں  (بستے) ہیں تو گمراہ کر دیں گے وہ تم کو اللہ کے راہ سے، نہیں پیروی کرتے وہ مگر گمان کی اور نہیں ہیں وہ مگر قیاس آرائیاں کرنے والے۔

۶:۱۱۷ بے شک تیرا رب خُوب جانتا ہے اس کو جو بھٹک جاتا ہے اس کی راہ سے اور وہی خُوب جانتا ہے ہدایت یافتہ لوگوں کو۔

۶:۱۱۸ سو کھاؤ تم اس  (ذبیحہ) میں سے کہ لیا گیا ہو نام اللہ کا اس پر اگر ہو تم اس کی آیات پر ایمان رکھنے والے۔

۶:۱۱۹ آخر کیا وجہ ہے کہ تم نہیں کھاتے اس میں سے کہ لیا گیا ہو نام اللہ کا اس پر؟ جبکہ تفصیل سے بیان کر چُکا ہے تمہارے لیے  (اللہ) وہ چیزیں جو حرام کر دی ہیں اس نے تم پر سوائے اس صُورت کے کہ مجبور ہو جاؤ تم اس  (کے کھانے) پر اور بے شک بہت سے لوگ گمراہ کرتے ہیں دوسروں کو اپنی خواہشات کی بنا پر، بغیر علم کے۔ بے شک تیرا رب ہی خُوب جانتا ہے ان حد سے بڑھنے والوں کو۔

۶:۱۲۰ اور چھوڑ دو کھلے گناہ بھی اور چھُپے گناہ بھی۔ یقیناً جو لوگ کماتے ہیں گناہ عنقریب بدلہ پائیں گے وہ ان گناہوں کا جو وہ کماتے تھے۔

۶:۱۲۱ اور مت کھاؤ اس  (ذبیحہ) میں سے کہ نہ لیا گیا ہو نام اللہ کا اس پر اور بے شک ایسا کرنا فسق ہے۔ اور البتّہ شیاطین ڈالتے ہیں دلوں میں اپنے دوستوں کے  (شکوک و شُبہات) تاکہ جھگڑا کریں وہ تم سے لیکن اگر اطاعت قبول کر لی تم نے ان کی تو یقیناً تم بھی مشرک ہو۔

۶:۱۲۲ بھلا وہ شخص جو تھا  (پہلے) مُردہ، پھر ہم نے زندگی بخشی اُس کو اور عطا کی ہم نے اس کو روشنی کہ طے کرتا ہے  (زندگی کی) راہ اس کی مدد سے لوگوں کے درمیان۔ کیا اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جو پڑا ہے تاریکیوں میں اور نہ نکل سکتا ہو اس میں سے؟ اور اس طرح خوشنما بنا دیے گئے ہیں کافروں کے لیے اُن کے اعمال جو وہ کرتے ہیں۔

۶:۱۲۳ اور اس طرح لگا دیا ہے ہم نے ہر بستی میں اس کے بڑے بڑے مجرموں کو کہ وہ اپنے مکر و فریب کے جال پھیلائیں وہاں اور نہیں۔ مکر و فریب کرتے وہ مگر اپنے ہی ساتھ لیکن انہیں شعور نہیں۔

۶:۱۲۴ اور جب آتی ہے اُن کے پاس کوئی آیت تو کہتے ہیں ہرگز نہ مانیں گے ہم جب تک کہ نہ دی جائے ہم کو بھی وہ چیز جیسی دی گئی اللہ کے رسُولوں کو، اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کس سے لے اور کیسے لے اپنی رسالت کا کام۔ عنقریب پہنچے گی ان لوگوں کو جنہوں نے جُرم کیے ہیں، ذلّت اللہ کے ہاں اور سخت ترین عذاب پاداش میں اس کے جو مکر و فریب یہ کیا کرتے تھے۔

۶:۱۲۵ پس  (حقیقت یہ ہے کہ) جس کے لیے ارادہ کرتا ہے اللہ کہ ہدایت دے اُسے تو کھول دیتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے اور جس کے لیے ارادہ کرتا ہے کہ گمراہ کرے اس کو تو کر دیتا ہے اس کے سینے کو تنگ، گھُٹا ہوا اُسے ایسا معلوم ہوتا ہے گویا اس کی رُوح پرواز کر رہی ہو آسمان کی طرف۔ اس طرح مسلّط کرتا ہے اللہ نا پاکی اور عذاب ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے۔

۶:۱۲۶ اور یہ ہے راستہ تیرے رب کا سیدھا۔ بلا شُبہ واضح کر دیے ہیں ہم نے اس کے نشانات ان لوگوں کے لیے جو نصیحت قبول  کرتے ہیں۔

۶:۱۲۷ ایسے لوگوں کے لیے ہے سلامتی کا گھر ان کے رب کے ہاں۔ اور وہی ہے اُن کا سرپرست بسبب ان  (عملوں) کے جو وہ کرتے رہے۔

۶:۱۲۸ اور جس دم گھیر کر جمع کرے گا اللہ ان سب کو  (اپنے حضور اور فرمائے گا) اے گروہ جن! بلا شُبہ تم نے بہت فائدے حاصل کیے  (بہکا کر) انسانوں سے اور کہیں گے اُن کے دوست انسانوں میں سے اے ہمارے رب فائدہ حاصل کیا ہم نے ایک دوسرے سے اور آ پہنچے ہیں ہم اس وقت پر جو مقرر کیا تھا تو نے ہمارے لیے۔ اللہ فرمائے گا،  (اچھا!) اب آگ ہے تمہارا ٹھکانا۔ رہو گے ہمیشہ اس میں مگر وہ جنہیں  (بچانا) چاہے اللہ۔ بے شک تیرا رب بڑی حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

۶:۱۲۹ اور اس طرح بنا دیں گے ہم ساتھی ظالموں کو ایک دوسرے کا  (آخرت میں) بسبب ان اعمال کے جو وہ کیا کرتے تھے۔

۶:۱۳۰ اے گروہِ جن و انس! کیا نہیں آئے تمہارے پاس رسُول جو تم میں سے تھے اور سُناتے تھے تم کو میرے احکام اور ڈراتے تھے تم کو پیشی سے اِس دن کی کہیں گے گواہی دیتے ہیں ہم خود اپنے خلاف دراصل دھوکے میں ڈال رکھا تھا اُن کو دُنیاوی زندگی نے اور  (آج) گواہی دی اُنہوں نے خود اپنے خلاف کہ بلا شُبہ وہ تھے کُفر کرنے والے۔

۶:۱۳۱ یہ  (گواہی) اس لیے ہو گی کہ نہیں ہے تیرا رب ہلاک کرنے والا بستیوں کو ظلم کے ساتھ جبکہ وہاں کے لوگ بے خبر ہوں۔

۶:۱۳۲ اور ہر شخص کے درجے ہیں اس کے عمل کے لحاظ سے۔ اور نہیں ہے تمہارا رب، بے خبر اُن  (اعمالوں) سے جو وہ کرتے ہیں۔

۶:۱۳۳ اور تمہارا رب بے نیاز ہے، مہربانی اس کا شیوہ ہے۔ اگر وہ چاہے تو لے جائے تم کو اور لے آئے تمہاری جگہ تمہارے بعد جس کو چاہے، جیسا کہ پیدا کیا اس نے تم کو نسل سے دوسرے لوگوں کی۔

۶:۱۳۴ یقیناً جس چیز کا وعدہ کیا جا رہا ہے تم سے وہ ضرور آنے والی ہے اور نہیں ہو تم  (اللہ کو) کسی طرح عاجز کرنے والے۔

۶:۱۳۵   (اے نبی) کہہ دو! اے لوگو! عمل کرتے رہو تم اپنی جگہ، میں اپنی جگہ عمل کر رہا ہوں سو عنقریب جان لو گے تم کہ کون ہے جس کے لیے ہے آخرت کا گھر۔ بلا شُبہ نہیں فلاح پائیں گے ظالم لوگ۔

۶:۱۳۶ اور  (مقّرر) کرتے ہیں اللہ کے لیے اسی کی پیدا کردہ کھیتی سے اور مویشیوں میں سے ایک حصّہ پھر کہتے ہیں یہ اللہ کے لیے ہے اُن کے اپنے خیال میں اور یہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے۔ پس جو حصّہ ہے اُن کے ٹھہرائے ہُوئے شریکوں کا وہ نہیں پہنچتا اللہ کو اور جو ہے اللہ کا وہ پہنچ جاتا ہے اُن کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو، بہت بُرا ہے جو فیصلہ وہ کرتے ہیں۔

۶:۱۳۷ اور اسی طرح خوشنما بنا دیا ہے بہت سے مشرکوں کے لیے قتل کرنا اپنی اولاد کو اُن کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں نے، تاکہ ہلاکت میں مُبتلا کریں اُن کو اور تاکہ گڈمڈ کریں اُن کے لیے اُن کا دین۔ اور اگر چاہتا اللہ تو نہ کرتے وہ یہ کام سو چھوڑ دو ان کو کہ اپنی افترا پردازیوں میں لگے رہیں۔

۶:۱۳۸ اور کہتے ہیں یہ مویشی اور کھیت ممنوع ہیں نہ کھائے کوئی اُن کو مگر وہ جسے ہم چاہیں اُن کے اپنے خیال کے مطابق اور کچھ چوپائے ہیں کہ حرام کی گئی ہیں اُن کی پیٹھیں  (سواری کے لیے) اور کچھ چوپائے ہیں کہ نہیں لیتے نام اللہ کا اُن پر  (ذبح کے وقت) بہتان باندھتے ہُوئے اللہ پر۔ عنقریب سزا دے گا اُن کو اللہ اس کی جو وہ افترا پردازیاں کرتے تھے۔

۶:۱۳۹ اور کہتے ہیں کہ جو کچھ پیٹوں میں ہے ان مویشیوں کے وہ مخصوص ہے ہمارے مردوں کے  (کھانے کے) لیے اور حرام ہے ہماری عورتوں پر۔ اور اگر ہو وہ مُردار تو ہوتے ہیں سب اس  (کے کھانے) میں شریک، عنقریب سزا دے گا اللہ اُن کو ان کی گھڑی ہُوئی باتوں کی۔ بے شک ہے وہ بڑی حکمت والا، سب کچھ جاننے والا۔

۶:۱۴۰ یقیناً خسارے میں پڑ گئے وہ لوگ جنہوں نے قتل کیا اپنی اولاد کو نادانی کی بنا پر بغیر سمجھے بُوجھے اور حرام ٹھہرا لیا اس رزق کو جو دیا اُن کو اللہ نے، افترا پردازی کرتے ہوئے اللہ پر۔ بے شک گمراہ ہو گئے وہ اور ہرگز نہ تھے وہ ہدایت پانے والے۔

۶:۱۴۱ اور وہی ہے جس نے پیدا کیے باغات، چھتریوں پر چڑھے ہُوئے اور بے چڑھے اور کھجور کے درخت اور کھیتی کہ مختلف ہیں اُن کے پھل اور زیتون اور انار ایک دوسرے سے ملتے جُلتے اور جُدا جُدا۔ کھاؤ اُن کے پھل جب وہ پھل لائیں اور ادا کرو حق اللہ کا اسی دن جب اُن کی فصل کا ٹو اور اسراف نہ کرو۔ بے شک اللہ نہیں پسند کرتا حد سے گزرنے والوں کو۔

۶:۱۴۲ اور مویشیوں میں سے کچھ بوجھ اُٹھانے والے ہیں اور کچھ کھانے اور بچھانے کے کام آتے ہیں۔ کھاؤ اس میں سے جو رزق دیا تم کو اللہ نے اور مت اتباع کرو شیطان کے قدموں کی۔ بے شک وہ تمہارا کھُلا دشمن ہے۔

۶:۱۴۳   (یہ نر و مادہ) آٹھ جوڑے ہیں۔ بھیڑ کی قسم سے دو اور بکری کی قسم سے دو۔ پُوچھو! کیا دونوں نر حرام کیے ہیں اللہ نے یا دونوں مادائیں یا وہ بچے جو پیٹ میں ہیں دونوں ماداؤں کے؟ خبر دو مجھے ٹھیک ٹھیک علم کے ساتھ، اگر ہو تم سچّے۔

۶:۱۴۴ اور اسی طرح اونٹ کی قسم سے دو اور گائے کی قسم سے دو  (پیدا کیے)۔ پُوچھو! کیا دونوں نر حرام کیے ہیں اللہ نے یا دونوں مادائیں یا وہ  (بچّے) جو ہیں پیٹ میں دونوں ماداؤں کے؟ کیا تم حاضر تھے اس وقت جب حکم دیا تھا تم کو اللہ نے ان  (کے حرام ہونے) کا؟ پھر کون بڑا ظالم ہو گا اس سے جو بہتان باندھے اللہ پر جھوٹا تاکہ گمراہ کرے لوگوں کو بغیر علم کے؟ بے شک اللہ نہیں ہدایت دیتا ظالم لوگوں کو۔

۶:۱۴۵ کہہ دو! نہیں پاتا میں اس وحی میں جو میرے پاس آئی کوئی چیز حرام کسی کھانے والے پر کہ اُسے کھائے سوائے اس کے کہ ہو وہ مُردار یا بہتا ہوا خُون یا سؤر کا گوشت۔ اس لیے کہ یقیناً وہ ناپاک ہے یا یہ کہ حکم عدولی کرتے ہوئے پکارا گیا ہو  (نام) غیر اللہ کا اس پر پھر جو کوئی مجبور ہو جائے  (اُن کے کھانے پر) اس طرح کہ نہ نافرمانی کا ارادہ ہو اور نہ حد سے تجاوز کرے تو یقیناً تیرا رب بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

۶:۱۴۶ اور ان پر جو یہودی ہو گئے حرام کر دیا تھا ہم نے ہر ناخن والا جانور اور گائے اور بکری میں سے حرام کی تھی ہم نے اُن پر چربی اُن کے سوائے اس کے جو لگی ہو اُن کی پیٹھ یا آنتوں پر یا جو لگی رہ جائے ہڈّی کے ساتھ ۔ یہ سزا دی تھی ہم نے اُن کو ان کی سرکشی کی اور یقیناً ہم سچ کہہ رہے ہیں۔

۶:۱۴۷ پھر اگر وہ جھُٹلائیں تم کو تو کہہ دو کہ تمہارے رب کا دامنِ رحمت بہت وسیع ہے لیکن نہیں ٹالا جا سکتا اس کا عذاب ان لوگوں سے جو مجرم ہیں۔

۶:۱۴۸ ضرور کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے شرک کیا ہے کہ اگر چاہتا اللہ تو نہ شرک کرتے ہم اور نہ ہمارے آباؤ اجداد اور نہ ہم حرام ٹھہراتے کوئی چیز، اسی طرح جھُٹلایا تھا ان لوگوں نے جو اُن سے پہلے تھے یہاں تک کہ چکھا اُنہوں نے مزا ہمارے عذاب کا۔ ان سے کہو کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے تو پیش کرو اُسے ہمارے سامنے۔ نہیں پیروی کرتے تم مگر گمان کی اور نہیں ہو تم مگر قیاس آرائیاں کرتے ہو۔

۶:۱۴۹ کہہ دو! تو پھر اللہ ہی کی حجت غالب ہے اور اگر وہ چاہتا تو ہدایت دے دیتا تم کو سب کو۔

۶:۱۵۰ کہہ دو! کہ لاؤ تم اپنے گواہ جو گواہی دیں کہ اللہ ہی نے حرام کیا ہے ان چیزوں کو۔ پس اگر وہ ایسی گواہی دیں تو تم گواہی نہ دینا اُن کے ساتھ اور نہ اتباع کرنا اُن کی خواہشات کا جو جھُٹلاتے ہیں ہماری آیات کو اور جو نہیں ایمان رکھتے آخرت پر اور وہ اپنے رب کا ہم سر ٹھہراتے ہیں  (دوسروں کو)۔

۶:۱۵۱ کہہ دو کہ آؤ میں سناؤں کیا حرام کیا ہے تمہارے رب نے تم پر یہ کہ نہ شریک ٹھہراؤ تم اس کا  (کسی کو) ذرا بھی اور  (حکم دیا ہے) کہ ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو اور نہ قتل کرو اپنی اولاد کو مُفلسی  (کے ڈر) سے۔ ہم رزق دیتے ہیں تم کو بھی اور اُن کو بھی اور مت قریب جاؤ بے شرمی کی باتوں کے خواہ وہ کھلی ہوں یا چھُپی اور مت قتل کرو کسی جان کو جس  (کے قتل) کو کو حرام ٹھہرایا ہے اللہ نے مگر حق کے ساتھ یہ وہ باتیں ہیں کہ حُکم دیا ہے اُس نے تم کو اُن کا تاکہ تم سمجھ بُوجھ سے کام لو۔

۶:۱۵۲ اور نہ قریب جاؤ مالِ یتیم کے مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو۔ حتّیٰ کہ پہنچ جائے وہ سنِ رشد کو اور  پُورا کرو ناپ تول انصاف کے ساتھ ۔ نہیں ذمّہ داری کا بوجھ ڈالتے ہم کسی جان پر مگر اس کی طاقت کے مطابق اور جب بات کہو تو انصاف کی کہو اگرچہ ہو تمہارا رشتہ دار اور اللہ کے ساتھ کیا ہُوا عہد پُورا کرو یہ باتیں ہیں کہ حُکم دیا ہے اللہ نے تم کو اُن کا تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔

۶:۱۵۳ اور یہ کہ یہی ہے میری راہ جو سیدھی ہے سو اسی پر چلو اور مت چلو  (دوسرے) راستوں پر کہ پراگندہ کر دیں گے تم کو ہٹا کر اللہ کی راہ سے۔ یہ وہ باتیں ہیں کہ حکم دیا ہے تم کو اللہ نے اُن کا تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

۶:۱۵۴ پھر عطا کی تھی ہم نے موسیٰ کو کتاب، نعمت پُوری کرنے کے لیے ایسے  (انسان) پر جو نیکی کی روش اختیار کرتا ہے اور تفصیل کے لیے ہر شے کی اور سراسر ہدایت اور رحمت تاکہ وہ لوگ اپنے رب سے ملاقات پر ایمان لائیں۔

۶:۱۵۵ اور یہ  (قرآن) بھی ایک کتاب ہے جو نازل کی ہم نے برکت والی سو اس کی پیروی کرو اور تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

۶:۱۵۶ اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ دراصل نازل کی گئی تھی کتاب دو گروہوں پر جو ہم سے پہلے تھے اور بلا شُبہ ہم تھے اُن کے پڑھنے پڑھانے سے بے خبر۔

۶:۱۵۷ یا کہنے لگو کہ اگر کہیں نازل ہوتی ہم پر کتاب تو یقیناً ہوتے ہم زیادہ ہدایت یافتہ اُن سے سو بے شک آ گئی تمہارے پاس روش دلیل تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت۔ پس کون ہے بڑا ظالم اس سے جو جھُٹلائے اللہ کی آیات کو اور منہ موڑ لے اُن سے۔ عنقریب ہم سزا دیں گے ان لوگوں کو جو منہ موڑتے ہیں ہماری آیات سے، بدترین عذاب کی بوجہ اُن کے مُنہ موڑنے کے۔

۶:۱۵۸ نہیں یہ لوگ منتظر مگر اس بات کے کہ آئیں اُن کے پاس فرشتے یا آئے تیرا رب یا آئے کوئی نشانی تیرے رب کی۔ جس دن آئے گی کوئی نشانی تیرے رب کی تو نہ نفع دے گا کسی شخص کو ایمان لانا اس کا جو ایمان نہ لایا ہو اس سے پہلے یا جس نے  (نہ) کمائی ہو اپنے ایمان میں کوئی بھلائی۔ ان سے کہہ دو تم انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔

۶:۱۵۹ بے شک وہ جنہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اپنے دین کو اور بن گئے گروہ گروہ، نہیں ہے تمہیں ان سے کوئی واسطہ بات یہ ہے کہ اُن کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے پھر وہی ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کرتے رہے؟۔

۶:۱۶۰ جو کوئی لائے گا  (اللہ کے حضور) ایک نیکی تو اس کے لیے ہے دس گنا  (اجر) اس جیسی نیکی کا اور جو کوئی لائے گا ایک بدی تو نہیں بدلہ دیا جائے گا اُسے مگر ویسا ہی اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا۔

۶:۱۶۱ کہہ دو  (اے پیغمبر)! بےشک ہدایت دی ہے مجھے میرے رب نے سیدھی راہ کی۔ جو بالکل ٹھیک دین ہے یعنی مِلّت ابراہیم کی جو ایک ہی طرف کا ہو گیا تھا اور نہ تھا مشرکوں میں سے۔

۶:۱۶۲ کہہ دو بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت  (سب) اللہ کے لیے ہے جو رب ہے سارے جہانوں کا۔

۶:۱۶۳ نہیں کوئی شریک اس کا اور اسی کا حُکم دیا گیا ہے مجھے اور میں ہوں سب سے پہلا مسلم۔

۶:۱۶۴ کہہ دو! کیا اللہ کے سوا تلاش کروں میں کوئی اور رب؟ حالانکہ وہی تو رب ہے ہر چیز کا۔ اور نہیں کماتا کوئی شخص  (کوئی گناہ) مگر وہ اس کا خود ذمّہ دار ہوتا ہے اور نہیں اُٹھاتا کوئی بوجھ اُٹھانے والا، بوجھ دوسرے کا پھر اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے تم سب کو پھر بتائے گا وہ تمہیں  (حقیقت) ان  (باتوں) کی جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔

۶:۱۶۵ اور وہی ہے جس نے بنایا تم کو زمین کا خلیفہ اور بلند کیا تم میں سے ایک کو دوسرے پر درجات میں۔ تاکہ آزمائے تم کو ان  (نعمتوں) کے بارے میں جو عطا کیں اس نے تم کو۔ بے شک تمہارا رب سزا دینے میں بہت تیز ہے اور بے شک وہی ہے بخشنے والا اور رحم فرمانے والا۔

 

سورۃ الأعرَاف

 شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

۷:۱ الف۔ لام۔ میم۔ صاد۔

۷:۲ یہ کتاب ہے، نازل کی گئی ہے تمہاری طرف پس  (اے نبی) نہ پیدا ہو تمہارے دل میں کوئی تنگی اس کی وجہ سے  (اسے نازل کیا گیا ہے) تاکہ خبردار کرو تم اس کے ذریعہ سے  (منکرین کو) اور نصیحت ہو ایمان والوں کے لیے۔

۷:۳  (لوگو!) پیروی کرو اس کی جو نازل کیا گیا ہے تم پر تمہارے رب کی طرف سے اور نہ پیروی کرو اپنے رب کو چھوڑ کر  (دوسرے) سر پرستوں کی۔  (مگر) کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو تم۔

۷:۴ اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہلاک کیا ہم نے ان کو اور  آن پڑا ان پر ہمارا عذاب  (اچانک) رات کے وقت یا دوپہر کو سوتے ہوئے۔

۷:۵ پس نہ تھی ان کی صدا اس وقت جب آیا ان پر ہمارا عذاب مگر یہ کہ کہنے لگے یقیناً ہم ہی تھے ظالم۔

۷:۶ پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم باز پرس کریں گے ان لوگوں سے کہ پیغمبر بھیجے گئے جن کی طرف اور ضرور پوچھیں گے ہم پیغمبروں سے بھی۔

۷:۷ پھر ہم بیان کریں گے ساری سرگذشت اُن کے سامنے پورے علم کے ساتھ اور نہیں تھے ہم کہیں غائب۔

۷:۸ اور وزن اس دن عین حق ہوگا سوجن کے بھاری ہوں گے پلڑے سو وہی فلاح پانے والے ہوں گے۔

۷:۹ اور وہ کہ ہلکے ہوں گے پلڑے اُن کے سو یہی وہ لوگ ہیں کہ خسارے میں مُبتلا کیا تھا اُنہوں نے اپنی جانوں کو کیونکہ تھے وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے۔

۷:۱۰ اور یقیناً بسایا ہم نے تم کو اختیار و اقتدار کے ساتھ زمین میں اور فراہم کیا ہم نے تمہارے لیے زمین میں سامانِ زیست۔ بہت ہی کم، شکر کرتے ہو تم۔

۷:۱۱ اور بے شک ہم نے تمہاری تخلیق کی پھر تمہاری شکل و صُورت بنائی پھر کہا ہم نے فرشتوں سے کہ سجدہ کرو آدم کو تو سجدہ کیا سب نے سوائے ابلیس کے، نہ تھا وہ شامل سجدہ کرنے والوں میں۔

۷:۱۲ پُوچھا  (اللہ نے) کس چیز نے روکا تجھ کو سجدہ کرنے سے جبکہ حکم دیا تھا میں نے تجھ کو، بولا میں بہتر ہوں اس سے۔ پیدا کیا ہے تو نے مجھے آگ سے اور پیدا کیا ہے اس  (آد م) کو مٹّی سے۔

۷:۱۳ فرمایا: اچّھا تو نیچے اُتر جا تُو یہاں سے اس لیے کہ نہیں پہنچتا تجھے  (کوئی حق) کہ تُو بڑائی کا گھمنڈ کرے یہاں اور نکل جا درحقیقت تو اُن لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذلّت چاہتے ہیں۔

۷:۱۴ بولا مجھے مہلت دے اُس دن تک کہ سب دوبارہ اُٹھائے جائیں گے۔

۷:۱۵ فرمایا!درحقیقت تجھے مہلت ہے۔

۷:۱۶ بولا: چونکہ گمراہ کیا ہے تو نے ہی مجھ کو تو میں ضرور گھات میں لگا رہوں گا انسانوں کے لیے تیری سیدھی راہ پر۔

۷:۱۷ پھر ضرور میں گھیروں گا اُن کو اُن کے آگے سے اور پیچھے سے اور اُن کی دائیں طرف سے اور بائیں طرف سے اور نہ پائے گا تو اُن میں سے اکثر کو شکر گزار۔

۷:۱۸ فرمایا: نکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہُوا۔ یقین رکھ کہ جو پیروی کرے گا تیری ان میں سے تو میں ضرور بھروں گا جہنّم کو تجھ سمیت ان سب سے۔

۷:۱۹ اور اے آد م! رہو تم اور تمہاری بیوی اس جنّت میں اور کھاؤ تم دونوں جہاں سے جو چاہو مگر نہ قریب پھٹکنا اس درخت کے ورنہ ہو جاؤ گے تم ظالموں میں سے۔

۷:۲۰ پھر بہکایا ان دونوں کو شیطان نے تاکہ کھول دے اُن کے سامنے جو چھپائی گئی تھیں ایک دوسرے سے اُن کی شرم گاہیں اور کہا: نہیں روکا ہے تم کو تمہارے رب نے اس درخت سے، مگر کہیں  (نہ) ہو جاؤ تم فرشتے یا  (نہ) ہو جاؤ تم ہمیشہ زندہ رہنے والے۔

۷:۲۱ اور قسم کھائی اُس نے اُن کے سامنے کہ یقین کرو میں تم دونوں کا حقیقی خیر خواہ ہوں۔

۷:۲۲ پھر رفتہ رفتہ اپنے ڈھب پر لے آیا اُن دونوں کو دھوکا دے کر پھر جب چکھا اُن دونوں نے مزا اس درخت کا تو کھُل گئے اُن کے سامنے ان کے ستر اور لگے وہ ڈھانکنے اور اپنے آپ کو جنّت کے پتوں سے اور پکارا اُنہیں اُن کے رب نے کیا نہیں روکا تھا میں نے تمہیں اس درخت کے پاس جانے سے اور  (نہ) کہا تھا تم سے کہ یقیناً شیطان تم دونوں کا دُشمن ہے، کھُلا۔

۷:۲۳ وہ دونوں بولے اے ہمارے رب! ظلم کیا ہم نے اپنے اُوپر اور اگر نہ بخشا تو نے ہمیں اور  (نہ) رحم فرمایا ہم پر تو یقیناً ہو جائیں گے ہم خسارہ اُٹھانے والوں میں سے۔

۷:۲۴ فرمایا(اچّھا) اُتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ہے زمین میں جائے قرار  اور  سامانِ زیست ایک خاص مدّت تک کے لیے۔

۷:۲۵ فرمایا: اسی میں جینا ہے تم کو اور اسی میں مرنا ہے تمہیں اور اسی میں سے  (آخرکار) تم کو نکالا جائے گا۔

۷:۲۶ اے اولادِ آد م! یقیناً اُتارا ہے ہم نے تم پر لباس کہ چھپائے تمہارے جسم کے قابل شرم حِصّے اور ذریعہ ہے  (تمہارے جسم کے لیے) حفاظت اور زینت کا اور تقویٰ کا لباس، یہ سب سے بہتر ہے۔ یہ نشانیوں میں سے ہے اللہ کی، شاید کہ لوگ نصیحت پکڑیں۔

۷:۲۷ اے اولادِ آد م! کہیں فتنے میں نہ مبتلا کر دے تم کو شیطان جس طرح کہ نکلوایا تھا اس نے تمہارے والدین کو جنّت سے اتروا دیئے تھے ان پر سے ان کے لباس تاکہ دکھائے ان دونوں کو ان کی شرم گاہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ دیکھتا ہے تم کو وہ اور اس کے ساتھی ایسی جگہ سے کہ نہیں دیکھ سکتے تم اُنہیں۔ بے شک بنایا ہم نے شیطانوں کو سرپرست اُن لوگوں کا جو ایمان نہیں لاتے۔

۷:۲۸ اور جب کرتے ہیں یہ کوئی شرمناک کام تو کہتے ہیں کہ پایا ہے ہم نے اسی طریقہ پر اپنے باپ دادا کو اور اللہ ہی نے حکم دیا ہے ہم کو ایسا کرنے کا۔ اِن سے کہو: بے شک اللہ کبھی نہیں حُکم دیتا ہے بے حیائی کا۔ کیا کہتے ہو تم اللہ کے بارے میں؟ ایسی باتیں جن کے متعلّق تم کچھ نہیں جانتے۔

۷:۲۹ کہو: حکم دیا ہے میرے رب نے تو راستی اور انصاف کا اور  (یہ کہ) ٹھیک رکھو اپنے رُخ ہر عبادت میں اور پُکارو اُسی کو، خالص رکھ کر اُسی کے لیے، اپنا دین۔  جس طرح پیدا کیا اس نے تم کو  (اب، اسی طرح) تم پھر  پیدا کیے جاؤ گے۔

۷:۳۰ ایک گروہ ہے جس کو سیدھا راستہ دکھا دیا گیا اور دوسرا گروہ ہے کہ چسپاں ہو کر رہی اُن پر گمراہی۔ یقیناً یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بنایا شیطانوں کو اپنا سرپرست، اللہ کو چھوڑ کر اور سمجھتے ہیں وہ کہ ہم ہی سیدھی راہ پر ہیں۔

۷:۳۱ اے اولادِ آدم! آراستہ رہو اپنے زینت سے تم ہر عبادت کے موقع پر اور کھاؤ اور پیو اور نہ تجاوز کرو حد سے۔ بے شک اللہ نہیں پسند کرتا حد سے بڑھنے والوں کو۔

۷:۳۲ کہو: کس نے حرام کیا ہے اللہ کی زینت کو جو اُسی نے پیدا کی ہے اپنے بندوں کے لیے  (اور کس نے حرام کی ہیں) پاکیزہ چیزیں کھانے پینے کی؟ کہو: یہ سب چیزیں اُن لوگوں کے لیے ہیں جو ایمان لائے، دُنیاوی زندگی میں بھی  (اور) خالصتاً  (انہی کے لیے ہیں) آخرت میں۔ اس طرح تفصیل سے بیان کرتے ہیں ہم اپنی آیات ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔

۷:۳۳ کہو: بس حرام کیے ہیں میرے رب نے تو تمام بے شرمی کے کام خواہ کھُلے ہوں یا چھُپے اور گناہ اور سرکشی حق کے خلاف اور  (حرام کیا ہے) یہ کہ تم شریک بناؤ اللہ کا ان کو کہ نہیں نازل کی اللہ نے ان کے بارے میں کوئی سند اور یہ کہ کہو تم اللہ کے بارے میں ایسی باتیں جن کے متعلّق تم نہیں جانتے  (کہ وہ اللہ نے فرمائی ہیں)۔

۷:۳۴ اور ہر اُمّت کے لیے  (مہلت کی) ایک مدّت مقّرر ہے پھر جب آئے گا اُن کا وقتِ مقرر تو نہ پیچھے رہ سکیں گے وہ  (اس سے) ایک ساعت اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔

۷:۳۵ اے بنی آدم! جب آئیں  (جو کہ ضرور آئیں گے) تمہارے پاس رسُول، جو تم ہی میں سے ہوں گے، پڑھ کر سُنائیں گے تمہیں میری آیات تو جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا اور اصلاح کر لے گا  (اپنی) سو نہ کسی قسم کا خوف ہو گا ان کے لیے اور نہ وہ کبھی غمگین ہوں گے۔

۷:۳۶ اور وہ لوگ جو جھٹلائیں گے ہماری آیات کو اور تکبّر کریں گے ان  (کے ماننے) سے، وہی لوگ ہیں اہلِ دوزخ جو اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

۷:۳۷ تو کون ہے بڑا ظالم اس شخص سے جو گھڑے اللہ کے بارے میں جھُوٹی باتیں یا جھٹلائے اللہ کی آیات کو۔ ایسے لوگوں کو ملے گا اُن کا حصّہ اُن کے نوشتۂ تقدیر میں سے۔ یہاں تک کہ جب پہنچیں گے اُن کے پاس ہمارے فرشتے قبض کرنے کے لیے اُن کی روحیں  (اس وقت) وہ پوچھیں گے اُن سے کہاں ہیں وہ جن کو تم پکارتے تھے اللہ کے سِوا؟ وہ کہیں گے کہ سب گُم ہو گئے ہم سے اور گواہی دیں گے خود اپنے خلاف کہ واقعی تھے ہم مُنکر حق۔

۷:۳۸ ارشاد ہو گا کہ داخل ہو جاؤ تم بھی اُن گروہوں کے ساتھ جو جا چُکے ہیں تم سے پہلے، جنوں اور انسانوں میں سے ، جہنّم میں ۔ جب بھی داخل ہو گا کوئی گروہ  (جہنّم میں) تو لعنت بھیجے گا وہ اپنے جیسے اور گروہوں پر حتّیٰ کہ جب گرِ چکیں گے اس میں سب تو کہیں گے بعد میں آنے والے اپنے سے پہلوں کے بارے میں کہ اے ہمارے رب! یہ ہیں جنہوں نے گمراہ کیا تھا ہمیں لہٰذا دے تو اُنہیں دُگنا عذاب آگ کا۔ ارشاد ہو گا ہر ایک کے لیے ہے۔ دُگنا ہی  (عذاب) لیکن تم نہیں جانتے۔

۷:۳۹ اور کہیں گی پہلی اُمتیں بعد میں آنے والوں سے کہ آخر کیا تھی تمہیں ہم پر فضلیت  (کہ تمہیں کم عذاب ملے) لہٰذا چکھو اب مزا اِس عذاب کا، نتیجے میں اُن  (گناہوں) کے جو تم کماتے رہے۔

۷:۴۰ بے شک وہ لوگ جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اور سرکشی اختیار کی ان کے مقابلہ میں، نہ کھولے جائیں گے اُن کے لیے دروازے آسمان کے اور نہ داخل ہوں گے وہ جنّت میں جب تک کہ  (نہ) گزر جائے اُونٹ سوئی کے ناکے میں سے اور ایسا ہی م بدلہ دیا کرتے ہیں مجرموں کو۔

۷:۴۱ اُن کے لیے ہو گا جہنّم بچھونا اور ان کے اُوپر ہو گا  (اسی کا) اوڑھنا۔ اور ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں ہم ظالموں کو۔

۷:۴۲ اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور کیے اُنہوں نے نیک کام  (ہمارا ضابطہ یہ ہے کہ) نہیں بوجھ ڈالتے ہم کسی جان پر، مگر اس کی استطاعت کے مطابق  (لہٰذا) ایسے لوگ اہلِ جنّت ہیں، یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

۷:۴۳ اور نکال دیں گے ہم جو ہو گی اُن کے سینوں میں  (ایک دوسرے کے خلاف) کچھ کدورت، بہتی ہوں گی اُن کے  (محلّات کے) نیچے نہریں۔ اور وہ کہیں گے، شکر اللہ کا جس نے پہنچایا ہم کو اس  (جنت) میں اور نہ تھے ہم راہ پانے والے اگر نہ ہدایت دیتا ہم کو اللہ۔ بے شک لائے تھے ہمارے رب کے رسُول، سچّی باتیں۔ اور ندا دی جائے گی اُنہیں کہ یہ ہے وہ جنّت جس کے تم وارث بنائے گئے ہو، بدلے میں ان اعمال کے جو تم  (دُنیا میں) کرتے رہے۔

۷:۴۴ اور پُکار کر کہیں گے اہلِ جنّت دوزخ والوں سے کہ بے شک پائے ہم نے وہ وعدے جو کیے تھے ہم سے ہمارے رب نے سچّے تو کیا پائے تم نے بھی وہ وعدے جو کیے تھے تم سے تمہارے رب بے سچّے؟ وہ جواب دیں گے ہاں۔ پھر پکار کر کہے گا ایک پکارنے والا ان کے درمیان، کہ لعنت ہو اللہ کی ان ظالموں پر۔

۷:۴۵ جو روکتے تھے  (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے اور چاہتے تھے اسے ٹیڑھا کرنا اور وہ آخرت کے منکر تھے۔

۷:۴۶ اور درمیان اُن دونوں  (گروہوں) کے  (حائل ہو گی) ایک اوٹ اور ایک مقامِ بلند  (اعراف) پر کچھ لوگ ہوں گے جو پہچانتے ہوں گے ہر گروہ کو اُن کے قیافے سے اور پکار کر کہیں گے وہ اہلِ جنّت سے کہ سلام ہو تم پر۔  (یہ لوگ) نہیں داخل ہوئے ہوں گے ابھی جنّت میں البتہ اس کے آرزو مند ہوں گے۔

۷:۴۷ اور جب پھریں گی اُن کی نگاہیں طرف اہلِ جہنّم کے تو کہیں گے اے ہمارے رب! نہ کیجیو تو ہمیں شاملِ ان ظالم لوگوں میں۔

۷:۴۸ اور پکاریں گے یہ اہلِ اعراف کچھ بڑے لوگوں کو جنہیں وہ پہچانتے ہوں گے ان کی علامتوں سے اور کہیں گے نہ کام آئے تمہارے  (آج) تمہارے جتھے اور وہ ساز و سامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے۔

۷:۴۹ کیا یہی  (اہلِ جنّت) ہیں وہ لوگ جن کے بارے میں تم قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ نہ نوازے گا ان کو اللہ اپنی رحمت سے  (اور اُن سے کہا جائے گا) داخل ہو جاؤ جنّت میں  (آج)  نہ خوف ہے تمہارے لیے اور نہ تم غمگین ہو گے۔

۷:۵۰ اور پکاریں گے اہلِ دوزخ اہلِ جنّت کو  (اور کہیں گے) کہ ڈال دو ہم پر تھوڑا سا پانی یا اس میں سے  (ہمیں کچھ دو) جو رزق دیا ہے تم کو اللہ نے۔ وہ کہیں گے یقیناً اللہ نے حرام کر دیا ہے ان چیزوں کو ان کافروں پر۔

۷:۵۱ جنہوں نے بنا لیا تھا اپنے دین کو کھیل تماشا اور فریب میں مُبتلا کر رکھا تھا اُن کو دُنیاوی زندگی نے  (اللہ تعالیٰ فرمائے گا) سو آج بھلا دیں گے ہم انہیں اسی طرح جیسے بھولے رہے وہ پیشی کو اپنے اس دن کی اور  (اسی طرح) جیسے وہ کرتے تھے ہماری آیات کا انکار۔

۷:۵۲ اور بے شک پہنچا دی ہے ہم نے اُن کو ایک کتاب جس میں تفصیل بیان کر دی ہے ہم نے ہر بات کی، علم کی بُنیاد پر جو ہدایت اور رحمت ہے اُن لوگوں کے لیے جو ایمان والے ہیں۔

۷:۵۳ نہیں یہ منتظر مگر اس کے کہ وہ انجام سامنے آ جائے  (جس کی انہیں خبر دی جا رہی ہے) جس دن سامنے آئے گا وہ انجام تو کہیں گے یہی لوگ جنہوں نے اسے بھُلا دیا تھا پہلے، کہ واقعی لائے تھے۔ ہمارے رب کے رسول، سچّی باتیں۔ تو کیا ہیں ہمارے لیے کچھ سفارش کرنے والے جو سفارش کریں ہماری؟ یا واپس بھیج دیا جائے ہم کو  (دُنیا میں) تاکہ کریں ہم ایسے اعمال جو مختلف ہوں اُن سے جو ہم کیا کرتے تھے۔ درحقیقت خسارے میں ڈال دیا ہے انہوں نے اپنے آپ کو اور گم ہو گئے اُن سے وہ سب  (جھوٹ) جو اُنہوں نے تراش رکھتے تھے۔

۷:۵۴ بلا شُبہ تمہارا رب اللہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پھر جلوہ افروز ہوا اپنے تخت سلطنت پر۔ ڈھانک دیتا ہے وہ رات کو دن پر اور وہ چلی آتی ہے اس کے پیچھے پیچھے دوڑتی اور سورج اور چاند اور ستارے سب کام میں لگے ہوئے ہیں اس کے حکم کے مطابق، خبر دار ہو اسی کا کام ہے پیدا فرمانا اور  (اُسی کو اختیار ہے) حکم دینے اور فیصلہ کرنے کا بہت بابرکت ہے اللہ جو رب ہے سب جہانوں کا۔

۷:۵۵ پکارو اپنے رب کو گِڑگڑاتے ہُوئے اور چُپکے چُپکے۔ یقیناً وہ نہیں پسند فرماتا حد سے بڑھنے والوں کو۔

۷:۵۶ اور نہ فساد برپا کرو زمین میں بعد اُس کی اصلاح کے اور دُعا مانگتے رہو اس سے ڈرتے ہُوئے اور امید وار رہتے ہوئے۔ یقیناً اللہ کی رحمت بہت قریب ہے نیک کام کرنے والوں سے۔

۷:۵۷ اور وہی ہے جو بھیجتا ہے ہواؤں کو خوشخبری لیے ہُوئے آگے آگے اپنی رحمت کے حتّیٰ کہ جب وہ  (ہوائیں) اُٹھا لیتی ہیں  (پانی سے) بوجھل بادلوں کو تو ہانک دیتے ہیں ہم اُن کو مردہ زمین کی طرف پھر برساتے ہیں ہم وہاں پانی پھر نکالتے ہیں اس پانی سے ہر طرح کی پیداوار۔ اسی طرح ہم نکالیں گے مُردوں کو،  (قبروں سے شاید کہ تم )اس مشاہدہ سے) سبق حاصل کرو۔

۷:۵۸ اور اچھی زمین سے، اگتے ہیں اس کے پھل پھُول اس کے رب کے حکم سے اور جو زمین خراب ہوتی ہے، نہیں نکلتا  (اس میں سے) سوائے ناقص پیداوار کے۔ اس طرح بار بار پیش کرتے ہیں ہم اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو شکر گزار بننا چاہیں۔

۷:۵۹ بے شک رسول بنا کر بھیجا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف تو اُس نے کہا اے میری قوم کے لوگو: عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمہارا کوئی معبود سوائے اُس کے۔ یقیناً میں ڈرتا ہوں تمہارے حق مین عذاب سے ایک ہولناک دن کے۔

۷:۶۰ کہا کچھ سرداروں نے اُس کی قوم میں سے یقیناً ہم دیکھتے ہیں تم کو کھُلی گمراہی میں۔

۷:۶۱ نوح نے کہا اے میری قوم کے لوگو! نہیں ہوں میں  (مُبتلا) کسی گمراہی میں بلکہ میں تو رسول ہُوں ربُّ العالمین کا۔

۷:۶۲ پہنچا رہا ہوں تم کو پیغامات اپنے رب کے اور خیر خواہ ہوں تمہارا اور جانتا ہوں میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جو تم نہیں جانتے۔

۷:۶۳ کیا تمہیں تعجب ہُوا اس پر کہ  آ گئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسے شخص کی معرفت جو تم ہی میں سے ہے تاکہ خبردار کرے وہ تم کو اور تاکہ تم بچ جاؤ  (غلط روی سے) اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے؟۔

۷:۶۴ مگر جھٹلایا اُنہوں نے اس کو سو نجات دی ہم نے اُسے اور اُن لوگوں کو جو اُس کے ساتھ تھے اس کشتی میں سوار  اور غرق کر دیا ہم نے ان لوگوں کو جنہوں نے جھٹلایا تھا ہماری آیات کو۔ بے شک وہ تھے اندھے لوگ۔

۷:۶۵ اور  (بھیجا ہم نے) طرف قومِ عاد کے اُن کے بھائی ہُود کو، اس نے کہا: اے میرے قوم کے لوگو! عبادت کرو اللہ کی، نہیں ہے تمہارا کوئی معبود اس کے سوا، کیا تم ڈرتے نہیں؟۔

۷:۶۶ کہا کچھ سرداروں نے جو کافر تھے اُس کی قوم میں سے، واقعہ یہ ہے کہ دیکھتے ہیں ہم تمہیں مُبتلا حماقت میں اور یقیناً ہم سمجھتے ہیں کہ تم جھُوٹے ہو۔

۷:۶۷ کہا: اے میری قوم کے لوگو! نہیں ہے مجھ میں حماقت کی کوئی بات بلکہ میں تو رسول ہوں بھیجا ہُوا ربُّ العالمین کا۔

۷:۶۸ پہنچا رہا ہوں میں تم کو پیغامات اپنے رب کے اور میں ہوں تمہارا سچا خیر خواہ۔

۷:۶۹ کیا تعجّب ہے تمہیں اس پر کہ آئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسے شخص کی معرفت جو تم ہی میں سے ہے تاکہ خبردار کرے وہ تمہیں۔ اور یاد کرو اس  (احسان) کو کہ اُس نے بنایا ہے تم کو سردار، بعد قومِ نوح کے اور زیادہ عطا کی ہے اس نے تم کو تخلیق میں وسعت۔ سو یاد کرو احسان اللہ کے تاکہ تم فلاح پاؤ۔

۷:۷۰ اُنہوں نے کہا: کیا آئے ہو تم ہمارے پاس؟  (یہ پیغام لے کر) کہ عبادت کریں ہم صرف اللہ کی جو ایک ہی ہے اور چھوڑ دیں اُن سب کو جن کی عبادت کیا کرتے تھے ہمارے باپ دادا۔ اچّھا تو لے آؤ تم وہ  (عذاب) جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو، اگر ہو تم سچّے۔

۷:۷۱ کہا  (ہُود نے) یقیناً پڑ چکی ہے تم پر تمہارے رب کی طرف سے پھٹکار اور  (اس کا) غضب، کیا جھگڑتے ہو تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جو رکھ لیے ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادا نے  (از خود) نہیں نازل کی اللہ نے اُن کے بارے میں کوئی سند۔ سو تم بھی انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔

۷:۷۲ آخر کار بچا لیا ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو اُن کے ساتھ تھے، اپنی مہربانی سے اور کاٹ دی ہم نے جڑ  اُن لوگوں کی جنہوں نے جھٹلایا تھا ہماری آیات کو اور نہ تھے وہ ایمان لانے والے۔

۷:۷۳ اور  (بھیجا ہم نے) ثمود کی طرف اُن کے بھائی صالح کو کہا اے میری قوم! بندگی کرو اللہ کی، نہیں ہے تمہارا کوئی معبود اُس کے سوا۔ بے شک آ گئی ہے تمہارے پاس کھُلی دلیل تمہارے رب کی طرف سے۔ یہ ہے اُونٹنی اللہ کی، تمہارے لیے ایک معجزہ، سو اسے کھُلا چھوڑ دو تاکہ چرتی پھرے زمین میں اللہ کی اور نہ ہاتھ لگاؤ اُسے تم، بُرے ارادے سے ورنہ آلے گا تمہیں ایک درد ناک عذاب۔

۷:۷۴ اور یاد کرو  (یہ بات) جب بنایا اس نے تم کو سردار بعد قومِ عاد کے اور آباد کیا تم کو زمین میں کہ بناتے ہو تم ہموار میدان میں محلات اور ترشتے ہو تم پہاڑوں کو گھروں کی شکل میں۔ پس یاد کرو احسان اللہ کے اور مت پھرو زمین میں فساد پھیلاتے۔

۷:۷۵ کہا: اُن سرداروں نے جو متکبّر تھے، اُس کی قوم میں سے، اُن لوگوں سے جو کمزور تھے اور ایمان لے آئے تھے اُن میں سے کیا تم کو یقین ہے کہ صالحؑ  رسول ہے اپنے رب کا؟ اُنہوں نے جواب دیا بے شک ہم اس ہدایت پر جو بھیجی گئی ہے اس کے ساتھ، یقین رکھتے ہیں۔

۷:۷۶ کہنے لگے وہ لوگ جو متکبّر تھے، بے شک ہم اس  (ہدایت) کا تم ایمان لائے ہو، جس پر انکار کرتے ہیں۔

۷:۷۷ پھر مار ڈالا اُنہوں نے اُونٹنی کو اور سرکشی کی، حکم کی اپنے رب کے اور کہا: اے صالح! لے آؤ ہم پر وہ  (عذاب) جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر ہو تم  (واقعی) رسُول۔

۷:۷۸ آخر کار آ لیا اُنہیں ایک سخت زلزلہ نے اور رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے۔

۷:۷۹ سو منہ موڑ کر چلے گئے  (صالحؑ) ان سے یہ کہتے ہوئے: اے میری قوم! بے شک پہنچا دیا ہے میں نے تم کو پیغام اپنے رب کا اور خیر خواہی کی ہے تمہاری لیکن نہیں پسند کرتے تم اپنے خیر خواہوں کو۔

۷:۸۰  اور لوطؑ، جب  (وہ مبعوث ہوئے تو) کہا انہوں نے اپنی قوم سے کیا تم  (ایسے بے حیا ہو گئے ہو اور کرتے ہو) وہ فحش کام کہ نہیں کیا تم سے پہلے ایسا کام کسی نے؟ دُنیا میں؟۔

۷:۸۱ بے شک تم آتے ہو مردوں کے پاس قضائے شہوت کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر۔ حقیقت یہ ہے کہ تم ایسے لوگ ہو جو حد سے گرز جانے والے ہو۔

۷:۸۲ مگر نہ تھا جواب اُس کی قوم کا کچھ سوائے اس کے کہ کہا انہوں نے نکال دو ان لوگوں کو اپنی بستی سے۔ یقیناً یہ ایسے لوگ ہیں جو بہت پاکباز  بنتے ہیں۔

۷:۸۳ آخر کار بچا لیا ہم نے اس کو اور اُس کے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے جو تھی پیچھے رہ جانے والوں میں۔

۷:۸۴ اور برسائی ہم نے اُن پر  (پتھروں کی) بارش، سو دیکھو! کیا ہوا تھا انجام مجرموں کا۔

۷:۸۵ اور مدین والوں کی طرف  (بھیجا ہم نے) اُن کے بھائی شعیب کو۔ اس نے کہا: اے میری قوم! بندگی کرو اللہ کی، نہیں ہے تمہارا معبود، سوائے اس کے۔ یقیناً آ چکی ہے تمہارے پاس کھُلی رہنمائی تمہارے رب کی طرف سے لہٰذا پورا کرو، ناپ اور تول اور نہ گھاٹا دو لوگوں کو ان کی چیزوں میں اور مت فساد مچاؤ تم زمین میں بعد اس کی اصلاح کے۔ یہ بات بہتر ہے، تمہارے حق میں اگر ہو تم مومن۔

۷:۸۶ اور نہ بیٹھو تم ہر راستے پر کہ ڈرانے لگو اور روکنے لوگ اللہ کی راہ سے ہر اُس سخص کو جو ایمان لائے اللہ پر اور درپے  (نہ) ہو جاؤ اس کی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے اور یاد کرو  (وہ وقت) جب تھے تم تھوڑے پھر بہت کر دیا تم کو  (اللہ نے) اور دیکھو کیا ہوا انجام فساد مچانے والوں کا۔

۷:۸۷ اور اگر ہے ایک گروہ تم میں سے ایسا جو ایمان لے آیا ہے اس تعلیم پر بھیجا گیا ہوں میں جس کے ساتھ تو  (دوسرا) گروہ ایسا بھی ہے جو نہیں ایمان لایا تو صبر کرو حتّیٰ کہ فیصلہ کر دے اللہ ہمارے درمیان اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

۷:۸۸ کہا: سرداروں نے جو متکبّر تھے اُس کی قوم میں سے۔ ضرور نکال دیں گے ہم تجھ کو اے شعیبؑ! اور اُن لوگوں کو بھی جو ایمان لائے ہیں تیرے ساتھ، اپنی بستی سے یا واپس آنا ہو گا تم کو ہماری ملّت میں۔ شعیب نے کہا! کیا اگر ہوں ہم بیزار  (تمہارے مذہب سے)۔

۷:۸۹ یقیناً گھڑیں گے ہم، اللہ پر جھوٹ اگر لوٹ جائیں ہم تمہاری مِلّت میں، اس کے بعد بھی کہ نجات دے چُکا ہے ہم کو اللہ اس سے اور نہیں ممکن ہے ہمارے لیے کہ ہم لوٹیں اس میں اِلاّ یہ کہ چاہے اللہ جو ہمارا رب ہے، احاطہ کیے ہوئے  ہے ہمارا رب ہر چیز کا اپنے علم سے۔ اللہ ہی پر بھروسہ ہے ہمارا۔ اے ہمارے مالک! فیصلہ فرما دے درمیان ہمارے اور ہمارے قوم کے بالکل ٹھیک ٹھیک اور تُو تو ہے ہی بہترین فیصلہ کرنے والا۔

۷:۹۰ اور کہا: سرداروں نے جو کافر تھے اس کی قوم میں سے اگر پیروی کی تم نے شعیب کی تو یقیناً تم برباد ہو جاؤ گے۔

۷:۹۱ سو آ لیا اُن کو ایک سخت زلزلہ نے اور رہ گئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے۔

۷:۹۲ وہ لوگ جنہوں نے جھٹلایا تھا شعیب کو ایسے ہو گئے گویا کہ وہ کبھی آباد ہی نہ تھے اس میں۔ وہ لوگ جنہوں نے جھُٹلایا تھا شعیب کو ہو گئے وہی برباد۔

۷:۹۳ سو چلے گئے  (شعیب) منہ موڑ کر ان سے یہ کہتے ہوئے اے میری قوم! بے شک پہنچا دیئے ہیں میں نے تم کو پیغامات اپنے رب کے اور خیر خواہی کی ہے تمہاری۔ تو  (اب عذاب نازل ہونے پر) کیسے غم کھاؤں میں اُن لوگوں پر جو حق کا انکار کرتے رہے۔

۷:۹۴ اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی مگر مُبتلا کیا ہم نے اس بستی کے لوگوں کو تنگی اور سختی میں شاید کہ وہ عاجزی اختیار کریں۔

۷:۹۵ پھر بدل دیا ہم نے  (ان کی) بدحالی کو خوشحالی سے یہاں تک کہ  (جب) وہ خُوب بھلے پھولے اور کہنے لگے کہ پیش آتی رہی ہے ہمارے آباؤ اجداد کو بھی سختی اور خوشحالی تو پکڑ لیا ہم نے ان کو اچانک اس طرح کہ انہیں خبر تک نہ ہُوئی۔

۷:۹۶ اور اگر کہیں بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو کھول دیتے ہم ان پر  (دروازے) برکتوں کے آسمان سے اور زمین سے لیکن اُنہوں نے تو جھٹلایا۔ لہٰذا پکڑ لیا ہم نے اُن کو بسبب اُن  (بُرائیوں) کے جو وہ کماتے رہے۔

۷:۹۷ اب کیا بے خوف ہیں بستیوں کے لوگ اس سے کہ آ جائے  اِن پر ہمارا عذاب راتوں رات جبکہ وہ سوئے پڑے ہوں؟۔

۷:۹۸ یا بے خوف ہو گئے ہیں بستیوں کے لوگ اس سے کہ آ پڑے اُن پر ہمارا عذاب، ان کے وقت جبکہ وہ کھیل رہے ہوں؟۔

۷:۹۹ کیا بے خوف ہو گئے ہیں یہ لوگ اللہ کی چال سے؟ سو واقعہ یہ ہے کہ نہیں بے خوف ہوتے اللہ کی چال سے مگر وہ لوگ جو تباہ ہونے والے ہیں۔

۷:۱۰۰ کیا نہیں رہنمائی مِلی اُن لوگوں کو جو وارث بنتے ہیں زمین کے؟ بعد اُن کے جو  (پہلے) آباد تھے کہ اگر ہم چاہیں تو مصیبت میں مُبتلا کر سکتے ہیں اُن کو بھی، اُن کے گناہوں کے بدلے میں لیکن مہر لگا دیتے ہیں ہم اُن کے دلوں پر لہٰذا وہ کچھ نہیں سُنتے۔

۷:۱۰۱ یہ ہیں وہ بستیاں کہ سنا رہے ہیں ہم تم کو اُن کی خبریں اور صُورت حال یہ ہے کہ آئے تھے اُن کے پاس اُن کے رسُول کھلی کھلی نشانیاں لے کر سو نہ ہوئے وہ ایمان لانے والے اس وجہ سے کہ جھٹلا چُکے تھے وہ  (اُنہیں) پہلے  (دیکھو) اس طرح مُہر کر دیتا ہے اللہ دلوں پر منکرینِ حق کے۔

۷:۱۰۲ اور نہ پایا ہم نے اُن میں سے  اکثر میں پاسِ عہد اور یقیناً پایا ہم نے ان میں سے اکثر کو فاسق۔

۷:۱۰۳ پھر بھیجا ہم نے اُن کے بعد موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ پاس فرعون اور اس کے سرداروں کے مگر اُنہوں نے  (نہ مان کر) ناانصافی کی اُن نشانیوں کے ساتھ۔ پس دیکھو کیا ہُوا انجام فساد مچانے والوں کا۔

۷:۱۰۴ اور فرمایا موسیٰ نے، اے فرعون! بے شک میں بھیجا ہُوا آیا ہوں کائنات کے مالک کی طرف سے۔

۷:۱۰۵ میرا منصب ہی یہ ہے کہ نہ کہوں اللہ کے بارے میں مگر حق بات یقیناً لایا ہوں میں تمہارے پاس کھُلی نشانی تمہارے رب کی طرف سے۔ سو بھیج دو تم میرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔

۷:۱۰۶   (فرعون نے) کہا: اگر لائے ہو تم کوئی نشانی تو پیش کرو اسے، اگر ہو تم سچّے۔

۷:۱۰۷ تو پھینکا موسیٰ نے اپنا عصا، سو یکایک ہو گیا وہ اژدھا جیتا جاگتا۔

۷:۱۰۸ اور نکالا  (موسیٰ نے) اپنا ہاتھ تو اچانک وہ  (نظر آیا) چمکتا ہُوا، دیکھنے والوں کو۔

۷:۱۰۹ کہا: کچھ سرداروں نے قومِ فرعون میں سے کہ یقیناً یہ شخص ایک جادُو گر ہے، بڑا ماہر۔

۷:۱۱۰ جو چاہتا ہے کہ نکال دے تم کو تمہارے مُلک سے، تو اب کیا مشورہ دیتے ہو تم؟۔

۷:۱۱۱ اُنہوں نے کہا کہ انتظار میں رکھو اُسے اور اس کے بھائی کو اور بھیجو تمام شہروں میں  (لوگوں کو) جمع کرنے والے۔

۷:۱۱۲ جو لے آئیں گے تمہارے پاس ہر قسم کے جادُو گر، ماہر۔

۷:۱۱۳ اور آئے جادُو گر فرعون کے پاس، کہنے لگے کہ ہمیں یقین ہے کہ ہم کو ضرور صلہ ملے گا، اگر رہیں ہم غالب۔

۷:۱۱۴ فرعون نے کہا: ہاں اور یقیناً تم شامل ہو جاؤ گے مقربوں میں۔

۷:۱۱۵ جادُو گروں نے کہا: اے موسیٰ یا تم پھینکو  (پہلے عصا) یا پھر ہم پھینکتے ہیں۔

۷:۱۱۶ موسیٰ نے کہا: تم ہی پھینکو پھر جب اُنہوں نے پھینکیں  (اپنی لاٹھیاں اور رسیاں) تو مسحور کر دیا لوگوں کی نگاہوں کو اور مرعوب کر دیا اُن کو اور دکھایا اُنہوں نے جادُو، زبردست۔

۷:۱۱۷ اور اشارہ کیا ہم نے موسیٰ کو کہ پھینکو تم اپنا عصا سو وہ آن کی آن میں نگلتا چلا گیا اُن کے جھوٹے طلسموں کو۔

۷:۱۱۸ پس ثابت ہو گیا حق اور باطل ہو کر رہ گیا وہ  (جھوٹ) جو انہوں نے بنا رکھا تھا۔

۷:۱۱۹ پس مغلوب ہو گئے میدان میں  (فرعون اور اُس کے ساتھی) اور لوٹ گئے ذلیل ہو کر۔

۷:۱۲۰ اور گرا دیئے گئے  (غیبی قوّت سے) جادُو گر سجدے میں۔

۷:۱۲۱   (اور بے اختیار) بول اُٹھے وہ کہ ایمان لائے ہم پروردگار عالم پر۔

۷:۱۲۲ جو رب ہے موسیٰ کا اور ہارون کا۔

۷:۱۲۳ بولا فرعون  (کیا) ایمان لے آئے ہو تم اُس پر پہلے اِس سے کہ اجازت دُوں مین تم کو؟ یقیناً یہ وہ خفیہ سازش تھی جو تم نے تیّار کر رکھّی تھی شہر میں تاکہ تم بے دخل کرو اس میں سے اس کے مالکوں کو سو عنقریب تم جان لو گے  (اس کا نتیجہ)۔

۷:۱۲۴ ضرور کٹوا دوں گا میں تمہارے ہاتھ اور تمہارے پاؤں مخالف سمتوں سے پھر ضرو ر  سولی پر چڑھا دوں گا تمہیں سب کو۔

۷:۱۲۵ انہوں نے جواب دیا  (کچھ پرواہ نہیں) بہر حال ہمیں اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

۷:۱۲۶ اور نہیں انتقام لینا چاہتا ہے تو ہم سے مگر اس بنا پر کہ ایمان لے آئے ہیں ہم نشانیوں پر اپنے رب کی جب وہ ہمارے سامنے آئیں۔ اے ہمارے مالک! دہانے کھول دے ہم پر صبر و استقامت کے اور دُنیا سے اُٹھا تو ہمیں اس حالت میں کہ ہم  (تیرے) فرمانبردار ہوں۔

۷:۱۲۷ اور کہا: سرداروں نے قومِ فرعون کے، کیا تو چھوڑ دے گا موسیٰؑ اور اس کی قوم کو کہ وہ فساد مچائیں زمین میں اور چھوڑ دیں  (بندگی) تیری اور تیرے معبودوں کی؟ فرعون نے کہا: کہ ہم ضرور قتل کروائیں گے اُن کے بیٹوں کو اور ہم زندہ رکھیں گے اُن کی عورتوں کو اور یقیناً ہمیں اُن کے اُوپر اقتدار حاصل ہے۔

۷:۱۲۸ فرمایا: موسیٰ نے اپنی قوم سے کہ مدد مانگوں اللہ سے اور صبر کرو۔ یقیناً زمین اللہ کی ہے، وارث بنا دیتا ہے وہ اس کا جس کو چاہے اپنے بندوں میں سے۔ اور آخری کامیابی  (اللہ سے) ڈرنے والوں کے لیے ہے۔

۷:۱۲۹ کہا  (موسیٰ کی قوم نے) ستائے جاتے رہے ہم پہلے بھی تمہارے آنے سے اور بعد بھی تمہارے آنے کے  (موسیٰ نے ) کہا: قریب ہے کہ تمہارا رب ہلاک کر دے تمہارے دشمن کو اور خلیفہ بنا دے تم کو زمین میں پھر دیکھے وہ کہ کیسے عمل کرتے ہو تم۔

۷:۱۳۰ اور یقیناً مبتلا رکھا ہم نے آلِ فرعون کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں، تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔

۷:۱۳۱ پھر جب آتی اُن پر خوشحالی تو کہتے کہ ہم مستحق ہیں اسی کے اور جب آتی اُن پر بدحالی تو منحوس قرار دیتے موسیٰ  اور ا س کے ساتھیوں کو حالانکہ درحقیقت آلِ فرعون کی بدبختی تو اللہ کے پاس  (مقدر) تھی لیکن ان میں سے اکثر بے خبر تھے۔

۷:۱۳۲ اور کہنے لگے کہ خواہ کیسی ہی لے آؤ تم ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ مسحور کرو تم ہم کو ان سے، تب بھی نہیں ہم تم پر ایمان لانے والے۔

۷:۱۳۳ پھر بھیجا ہم نے اُن پر  (عذاب) طوفان، ٹڈی دَل، سُسریوں، مینڈکوں اور خون  (کی صُورت میں) یہ سب نشانیاں الگ الگ  (دکھلائیں) مگر وہ سرکشی کیے چلے گئے اور تھے وہ لوگ  (بڑے ہی) مُجرم۔

۷:۱۳۴ اور جب بھی نازل ہوتا اُن پر کوئی عذاب تو کہتے اے موسیٰ! دُعا کرو ہمارے حق میں اپنے رب سے اُس منصب کی بنا پر جو تمہیں حاصل ہے اگر تم ٹلوا دو ہم سے اس عذاب کو تو ہم ضرور ایمان لے آئیں گے تم پر اور بھیج دیں گے تمہارے ساتھ بنی اسرائیل کو۔

۷:۱۳۵ پھر جب ٹال دیتے ہم اُن سے عذاب اس وقتِ مقّرر تک کے لیے جس تک اُن کو بہرحال  پہنچنا تھا تو یک لخت وہ اس عہد کو توڑ ڈالتے۔

۷:۱۳۶ پس انتقام لیا ہم نے اُن سے سو غرق کر دیا ہم نے اُن کو سمندر میں اس بنا پر کہ جھٹلایا تھا اُنہوں نے ہماری آیات کو اور ہو گئے تھے وہ اُن سے بے پروا۔

۷:۱۳۷ اور وارث بنا دیا ہم نے اُن لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھ دیے گئے تھے اس سرزمین کے مشرق و مغرب کا، وہ سرزمین کہ برکت عطا فرمائی تھی ہم نے اس میں اور پُورا ہو گیا وعدہ تیرے رب کا، خیر کا، بنی اسرائیل پر کیونکہ اُنہوں نے صبر سے کام لیا تھا اور تباہ و برباد کر دیا ہم نے وہ سب کچھ جو بنایا کرتے تھے فرعون اور اُس کی قوم کے لوگ اور جو اُنہوں نے چڑھا رکھا تھا۔

۷:۱۳۸ اور پار اُتارا ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے اور گزر ہوا اُن کا ایسے لوگوں کے پاس سے جو پوجتے تھے اپنے چند بتوں کو  (انہیں دیکھ کر) وہ کہنے لگے اے موسیٰ! بنا دے ہمارے لیے بھی ایک خدا ویسا ہی جیسے اُن کو خدا ہیں موسیٰ نے کہا درحقیقت تم لوگ بڑے ہی نادان ہو۔

۷:۱۳۹ صُورتِ حال یہ ہے کہ یہ لوگ ایسے ہیں کہ برباد ہونے والا ہے وہ  (طریقہ) جس کی یہ پیروی کر رہے ہیں اور سراسر باطل ہے وہ  (عمل) جو یہ کرتے رہے ہیں۔

۷:۱۴۰   (اور) کہا، کیا اللہ کے سوا تلاش کروں میں تمہارے لیے کوئی اور معبود؟ حالانکہ اُسی نے فضیلت بخشی ہے تم کو اہلِ عالم پر۔

۷:۱۴۱ اور  (یاد کرو) جب نجات دلائی ہم نے تم کو آلِ فرعون سے جنہوں نے مُبتلا کر رکھا تھا تم کو بدترین عذاب میں۔ قتل کرتے تھے وہ تمہارے بیٹوں کو اور زندہ رہنے دیتے تھے تمہاری عورتوں کو اور اس صُورتِ حال میں تمہاری آزمائش تھی تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑی۔

۷:۱۴۲ اور وقتِ ملاقات مقّرر کیا ہم نے موسیٰ سے تیس راتیں اور اضافہ کر دیا ہم نے اُس میں دس کا اس طرح پُوری ہو گئی۔ مقّرر کردۂ اُس کے رب کی، چالیس راتیں اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہ میری نیابت کرنا تم میرے پیچھے، میری قوم میں اور اصلاح کرتے رہنا اور نہ چلنا راستے پر بگاڑ پیدا کرنے والوں کے۔

۷:۱۴۳ پھر جب آئے موسیٰ ہمارے مقّرر کردہ وقت پر اور کلام کیا اُس سے اُس کے رب نے تو التجا کی موسیٰ نے اے میرے رب! مجھے یارائے نظر دے کہ میں دیکھ سکوں تجھے، فرمایا: تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے لیکن دیکھو اس پھاڑ کی طرف پھر اگر وہ قائم رہ گیا اپنی جگہ پر تو ضرور تم بھی مجھے دیکھ سکو گے: چنانچہ جب تجّلی کی اس کے رب نے پہاڑ پر تو کر دیا اُسے ریزہ ریزہ اور گر پڑے موسیٰ غش کھا کر، پھر جب ہوش آیا تو کہنے لگے، پاک ہے تیری ذات، توبہ کرتا ہوں میں تیرے حضور اور میں ہُوں سب سے پہلا ایمان لانے والا۔

۷:۱۴۴ فرمایا: اے موسیٰ! بے شک میں نے منتخب کر لیا ہے تمہیں تمام لوگوں پر اپنی پیغمبری اور ہم کلامی کے لیے۔ سو تھام لو جو میں تمہیں دے رہا ہوں اور ہو جاؤ شکر بجا لانے والوں میں سے۔

۷:۱۴۵ اور لکھ دی ہم نے اس کے لیے تختیوں پر ہر طرح کی نصیحت اور تفصیل ہر چیز کی۔  (اور اُس سے کہا) سو پکڑ لو اُسے مضبوطی سے اور حکم دو اپنی قوم کو کہ وہ عمل کریں اس کی اچّھی باتوں پر۔ عنقریب دکھاؤں گا میں تمہیں گھر نا فرمانوں کا۔

۷:۱۴۶ میں پھیر دُوں گا اپنی نشانیوں کا طرف سے اُن لوگوں  (کی نگاہوں) کو جو بڑے بنتے ہیں زمین میں بغیر کسی حق کے۔ اور  (ان کی حالت یہ ہے کہ) خواہ دیکھ لیں ساری نشانیاں بھی تو بھی نہ ایمان لائیں اُن پر اور اگر وہ دیکھ لیں راستہ ہدایت کا تو بھی نہ  (بنائیں) اسے  (اپنا) راستہ اور اگر وہ دیکھ لیں راستہ گمراہی کا تو بنا لیں اس کو  (اپنا) راستہ۔ یہ اس لیے ہے کہ اُنہوں نے جھٹلایا ہماری نشانیوں کو اور رہے وہ اس سے بے پرواہ۔

۷:۱۴۷ اور وہ لوگ جنہوں نے جھٹلایا ہماری نشانیوں کو اور پیشی کو آخرت کی، ضائع ہو گئے اُن کے اعمال، نہیں بدلہ دیا جائے گا اُنہیں مگر وہی جو وہ کرتے رہے۔

۷:۱۴۸ اور بنا لیا قومِ موسیٰ نے اس کے بعد اپنے زیورات سے بچھڑے کا پُتلا، جس میں  (سے نکلتی) تھی بیل کی سی آواز۔ کیا نہیں دیکھتے تھے وہ کہ وہ نہ اُن سے بات کرتا ہے اور نہ دکھاتا ہے اُن کو کوئی راستہ۔  (پھر بھی) بنا لیا اُنہوں نے اُس کو  (معبود) اور وہ تھے  (خود ہی) ظلم کرنے والے۔

۷:۱۴۹ پھر جب وہ پچھتائے اور سمجھے کہ درحقیقت وہ گمراہ ہو گئے ہیں تو کہنے لگے اگر نہ رحم فرمایا ہم پر ہمارے رب نے اور  (نہ)معاف فرمایا ہمیں تو ضرور ہو جائیں گے ہم تباہ و برباد۔

۷:۱۵۰ پھر جب لوٹے موسیٰؑ طرف اپنی قوم کے غصے میں بھرے ہُوئے اور رنجیدہ ،فرمایا، بہت ہی بُری ہے جو جانشینی کی ہے تم نے میری ،میرے بعد ،کیا جلد بازی کی تم نے اپنے رب کے عذاب کے لیے ؟ اور پھینک دیں  (تورات کی )تختیاں اور پکڑ لیا سر کے بالوں سے اپنے بھائی کو، کھینچتے ہُوئے اپنی طرف ،وہ بولے:اے میرے ماں جائے ! بے شک ان لوگوں نے مجھے دبا لیا اور قریب تھا کہ قتل کر دیں مجھے۔ پس نہ ہنسنے کا موقع دیں آپ مجھ پر دشمنوں کو اور نہ کرو مجھے  شامل ایسے لوگوں میں جو ظالم ہیں۔

۷:۱۵۱ : موسیٰ نے کہا: اے میرے مالک !معاف کر دے مجھے اور میرے بھائی کو اور داخل فرما تو ہمیں اپنی رحمت میں اور تُو تو ہے ہی سب سے بڑھ  کر رحم کرنے والا ۔

۷:۱۵۲ بے شک وہ لوگ جنہوں نے بنا لیا تھا بچھڑے کو  (معبود) عنقریب گرفتار ہو کر رہیں گے وہ غضب میں اپنے رب کے اور ذلیل ہوں گے دنیاوی زندگی میں اور ایسی ہی سزا دیتے ہیں ہم جھُوٹی باتیں گھڑنے والوں کو۔

۷:۱۵۳ لیکن وہ لوگ جنہوں نے کیے بُرے کام پھر توبہ کر لی اس کے بعد اور ایمان لے آئے تو یقیناً تیرا رب تو بہ اور ایمان کے بعد ضرور معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

۷:۱۵۴ اور جب ٹھنڈا ہُوا موسیٰ کا غصہ تو اُٹھا لیں اُنہوں نے وہ تختیاں اور اُن کی تحریر میں ہدایت اور رحمت تھی ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔

۷:۱۵۵ اور منتخب کیا موسیٰ نے اپنی قوم سے سَتّر آدمیوں کو  ہمارے وقتِ مقرّرہ پر حاضر ہونے کے لیے پھر جب آ لیا اُنہیں ایک سخت زلزلہ نے تو عرض کیا موسیٰ نے، اے میرے مالک! اگر تو چاہتا تو ہلاک کر سکتا تھا اُن کو اس سے پہلے بھی اور مجھے بھی۔ کیا تو ہلاک کرے گا ہمیں اس  (قصور) میں جو کیا ہے  (چند) نادانوں نے ہم میں سے؟ نہیں ہے یہ مگر ایک آزمائش تیری طرف سے۔ گمراہی میں مُبتلا کر دیتا ہے تو اس کے ذریعہ سے جسے چاہے اور ہدایت بخش دیتا ہے تو جسے چاہے۔ تُو ہی ہمارا سرپرست ہے پس معاف فرما دے ہمیں اور ہم پر رحم فرما، تُو سب سے بڑھ کر معاف کرنے والا ہے۔

۷:۱۵۶ اور لکھ دے ہمارے لیے اس دُنیا میں بھی، بھلائی اور آخرت میں بھی۔ بے شک ہم نے رجوع کیا تیری طرف۔ ارشاد ہُوا: مَیں سزا دیتا ہُوں جس کو چاہوں لیکن میری رحمت چھائی ہے ہر چیز پر۔ سو اُسے میں لکھّے دیتا ہُوں اُن لوگوں کے لیے جو ڈرتے رہیں گے اور ادا کریں گے زکوٰۃ ان لوگوں کے لیے جو میری آیات پر ایمان لائیں گے۔

۷:۱۵۷ یہ وہ لوگ ہیں جو اتباع کریں گے،اُس رسُول کی جو نبی اُمّی ہے، جسے پاتے ہیں وہ  لکھا ہُوا اپنے پاس تورات میں اور انجیل میں جو حکم دیتا ہے انہیں نیکی کا اور منع کرتا ہے اُنہیں بدی سے اور حلال کرتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے اُن کے لیے ناپاک چیزیں اور اُتارتا ہے اُن پر سے اُن کے بوجھ اور  (کھولتا ہے) اُن کی بندشیں جو تھیں  (پہلے) اُن پر۔ سو جو ایمان لائیں گے اس پر اور اس کی حمایت اور مدد کریں گے اور اتّباع کریں گے اُس نور  (قرآن) کی جو نازل کیا گیا ہے اُس کے ساتھ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

۷:۱۵۸   (اے محمد) کہہ دو: اے انسانو! بے شک میں رسُول ہُوں اللہ کا، بھیجا گیا تم سب کی طرف  (اللہ وہ ہے) جسے زیب دیتی ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی۔ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اُس کے وہ زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے۔ پس ایمان لاؤ   اللہ پر اور اس کے رسُول نبی اُمّی پر وہ جو خود بھی ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور اُس کے کلام پر اور پیروی کرو اُس کی، تاکہ تم ہدایت پاؤ۔

۷:۱۵۹ : اور موسیٰؑ  کی قوم میں سے بھی ایک گروہ ہے جو ہدایت کرتا ہے حق کی اور اسی کے مطابق انصاف  کرتا ہے۔

۷:۱۶۰ اور تقسیم کر دیا ہم نے اُنہیں بارہ گھرانوں میں مستقل گروہوں کی شکل میں اور وحی کی ہم نے موسیٰ کی  طرف جب پانی طلب کیا اُس سے اُس کی قوم نے، کہ مارو اپنے عصا کو فلاں چٹان پر، تو پھوٹ نکلے اُس سے بارہ چشمے، بےشک جان لیا ہر قبیلے نے اپنا اپنا گھاٹ اور سایہ کیا ہم نے اُن پر   بادل کا اور اُتارا ہم نے اُن پر  من اور  سلوٰی۔  (اور کہا) کھاؤ اُن پاکیزہ چیزوں میں سے جو عطا کی ہیں ہم نے تم کو۔ اور  (ناشکری کر کے)نہیں بگاڑا  اُنہوں نے کچھ ہمارا، اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔

۷:۱۶۱ اور جب کہا گیا اُن سے کہ سکونت اختیار کرو اس شہر میں اور کھاؤ وہاں جہاں سے چاہو اور کہتے جانا بخش دے ہم کو اور داخل ہونا  (بستی کے ) دروازے میں سجدہ زیر ہوتے ہوئے معاف کر دیں گے ہم تمہاری خطائیں اور زیادہ عطا کریں گے ہم نیکی کرنے والوں کو۔

۷:۱۶۲ پس بدل دیا اُن لوگوں نے جو ظالم تھے اُن میں سے  (اس کلمہ کو) ایسے کلمے سے جو مختلف تھا س سے جو کہا گیا تھا اُن سے تو بھیجا ہم نے اُن پر عذاب آسمان سے اس وجہ سے کہ وہ ظلم کرتے تھے۔

۷:۱۶۳ اور پُوچھو ان سے حال اس بستی کا جو تھی سمندر کے کنارے۔ جب احکامِ الہٰی کی خلاف ورزی کرتے تھے وہ ہفتے کے دن اُس وقت کہ آتی تھیں اُن کے پاس مچھلیاں ہفتے کے دن، اُبھر اُبھر کر سطح پر اور جس دن نہیں ہوتا ہفتہ تو نہیں آتی تھیں۔ اس طرح ہم آزما رہے تھے اُن کو اس وجہ سے کہ تھے وہ نافرمان۔

۷:۱۶۴ اور جب  (ان سے) کہا ایک گروہ نے انہی میں سے کہ کیوں نصیحت کرتے ہو تم ایسے لوگوں کو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا عذاب دینے والا ہے انہیں، سخت ترین عذاب۔ تو انہوں نے کہا اس لیے کہ ہم معذرت پیش کر سکیں تمہارے رب کے حضور اور اس لیے کہ شاید وہ  (نافرمانی سے) پرہیز کرنے لگیں۔

۷:۱۶۵ پھر جب وہ بھُول گئے اُن ہدایات کو جو انہیں یاد کرائی گئی تھیں۔ تو نجات دی ہم نے اُن کو جو منع کرتے تھے بُرے کام سے اور پکڑ لیا ہم نے اُن لوگوں کو جو ظالم تھے بدترین عذاب میں بسبب اُن نافرمانیوں کے جو وہ کرتے تھے۔

۷:۱۶۶ پھر جب اُنہوں نے سرکشی کی اُن کاموں میں جن سے اُنہیں منع کیا گیا تھا تو ہم نے کہا اُن سے کہ بن جاؤ بندر ذلیل و خوار۔

۷:۱۶۷ اور  (یاد کرو) جب اعلان کیا تمہارے رب نے کہ ضرور مسلّط کرتا رہے گا وہ بنی اسرائیل پر قیامت تک ایسے لوگ جو دیں گے اِن کو بدترین عذاب۔ یقیناً تیرا رب جلد سزا دینے والا ہے اور یقیناً وہی بخشنے والا، مہربان ہے۔

۷:۱۶۸ اور تقسیم کر دیا ہم نے اُن کو زمین میں مختلف فرقوں میں، کچھ اُن میں سے نیک ہیں اور کچھ اُن میں سے مختلف ہیں اُس سے اور آزمایا ہم نے اُن کو آسائشوں اور تکلیفوں سے، شاید کہ وہ پلٹ آئیں۔

۷:۱۶۹ پھر جانشین ہوئے اُن کے بعد ایسے نا خلف جو  وارث ہو کر کتاب الہٰی کے، حاصل کرتے تھے فائدہ اس حقیر دنیاوی زندگی کا اور کہتے تھے کہ توقع ہے کہ ہمیں معاف کر دیا جائے گا اور اگر آتی تھی اُن کے سامنے  (پھر) ویسی ہی متاع تو پھر لے لیتے تھے اُسے۔ کیا نہیں لیا گیا تھا اُن سے یہ عہد کتاب میں؟ کہ نہیں بولیں گے وہ اللہ کے بارے میں، مگر سچّی بات اور انہوں نے پڑھا بھی ہے وہ جو اس میں  (لکھا) ہے۔ اور آخرت کا گھر بہتر ہے اُن لوگوں کے لیے جو  (اللہ سے) ڈرتے ہیں۔ تو کیا نہیں  (اتنی سی بات بھی) سمجھتے تم؟۔

۷:۱۷۰ اور جو لوگ پابندی کرتے ہیں کتاب کی اور قائم کرتے ہیں نماز، بے شک ہم نہیں ضائع کرتے اجر ایسے نیک کردار لوگوں کا۔

۷:۱۷۱ اور  (یاد کرو  وہ وقت) جب اکھاڑ کر اُٹھایا ہم نے پہاڑ اُن کے اُوپر گویا کہ وہ سائبان ہے اور وہ یہ گمان کر رہے تھے کہ وہ آن پڑے گا اُن پر۔ پکڑے رہو وہ  (احکام) جو ہم نے دیئے ہیں تم کو مضبوطی سے اور یاد رکھو اُسے جو اس میں ہے۔ تاکہ تم  (غلط روش سے) بچے رہو۔

۷:۱۷۲ اور  (یاد کرو) جب نکالا تھا تیرے رب نے اولادِ آدم میں سے یعنی اُن کی پشتوں میں سے اُن کی نسل کو اور گواہ بنایا تھا اُن کو خود اُن کے اُوپر  (اور پُوچھا تھا) کیا نہیں ہوں میں تمہارا رب؟ سب نے کہا تھا ہاں  (تُو ہی ہمارا رب ہے) ہم گواہی دیتے ہیں  (یہ ہم نے اس لیے کیا تھا) کہ کہیں  (نہ) کہو تم قیامت کے دن کہ ہم تو تھے اس بات سے بے خبر۔

۷:۱۷۳ یا کہو تم کہ شرک تو کیا تھا ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے اور ہم تھے اِن کی اولاد  اِن کے بعد۔ تو کیا پھر تو ہلاک کرے گا ہمیں ان  (گناہوں کی پاداش) میں جو کرتے رہے گمراہ لوگ۔

۷:۱۷۴ اور اس طرح ہم واضح طور پر بیان کرتے ہیں نشانیاں اور اس لیے بھی تاکہ پلٹ آئیں یہ۔

۷:۱۷۵   (اے نبی اور بیان کرو ان کے سامنے حال اس شخص کا جسے عطا کی تھیں ہم نے اپنی آیات مگر وہ نکل بھاگا ان کی پابندی) سے تو لگ گیا اس کے پیچھے شیطان سو ہو گیا وہ شامل گمراہوں میں۔

۷:۱۷۶ اور اگر ہم چاہتے تو بلندی عطا کرتے اسے ان آیات کے ذریعے سے مگر وہ تو ہو کر رہ گیا دنیا کا اور پیروی کی اس نے اپنی خواہش نفس کی۔ پس اس کی مثال ہو گئی مانند کتے کے، اگر بوجھ لادو اس پر تب بھی زبان لٹکائے اور چھوڑ دو اسے تب بھی زبان لٹکائے۔ یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو جھٹلاتے ہیں ہماری آیات کو، تو بیان کرو یہ احوال  (ان کے سامنے) شاید وہ کچھ غور و فکر کریں۔

۷:۱۷۷ بہت ہی بری ہے مثال ان لوگوں کی جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اور اپنے ہی اوپر ظلم کرتے ہیں۔

۷:۱۷۸ جسے ہدایت بخشے اللہ سو وہی راہِ راست پاتا ہے اور جس کو محروم کر دے اللہ رہنمائی سے، سو ایسے ہی لوگ ناکام و نامراد ہو کر رہتے ہیں۔

۷:۱۷۹ اور یقیناً پیدا کیے ہیں ہم نے جہنّم ہی کے لیے بہت سے جن اور انسان، اُن کے دل تو ہیں  (مگر) نہیں لیتے سوچنے سمجھنے کا کام ان سے اور ان کے آنکھیں تو ہیں  (مگر) نہیں دیکھتے اُن سے اور اُن کے کان تو ہیں  (مگر) نہیں سُنتے وہ اُن سے یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ اُن سے بھی زیادہ گمراہ۔ یہی لوگ ہیں جو غفلت ہمیں پڑے ہوئے ہیں۔

۷:۱۸۰ اور اللہ ہی کے لیے ہیں سب اچھے نام سو پکارو اس کو اُن ناموں سے اور چھوڑ دو اُن لوگوں کو جو منحرف ہو جاتے ہیں راستی سے اس کے ناموں کے معاملہ میں وہ ضرور بدلہ پا کر رہیں گے اپنے کیے کا۔

۷:۱۸۱ اور ہماری ہی مخلُوق میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہے۔ جو ہدایت کرتے ہیں  (ٹھیک ٹھیک) حق کے مطابق اور اُسی کے مطابق انصاف کرتے ہیں۔

۷:۱۸۲ اور وہ لوگ جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو، انہیں ہم بتدریج لے جائیں گے  (تباہی کی طرف) ایسے طریقے سے کہ انہیں خبر تک نہ ہو گی۔

۷:۱۸۳ اور میں ڈھیل دُوں گا انہیں، بے شک میری چال بڑی مضبوط ہے۔

۷:۱۸۴ کیا نہیں سوچا اُنہوں نے  (کبھی) کہ نہیں ہے اُن کے رفیق  (محمد) پر کوئی اثر جنوں کا؟ نہیں ہیں وہ مگر ایک متنبہ کرنے والے واضح طور پر۔

۷:۱۸۵ کیا نہیں غور کیا اُنہوں نے کبھی انتظام پر آسمانوں اور زمین کے اور اُن پر جو پیدا کی ہیں اللہ نے چیزیں اور اس پر کہ بہت ممکن ہے کہ قریب آ لگا ہو اُن  (کی مہلتِ زندگی پُورا ہونے) کا وقت آخر وہ کون سی بات ہے، پیغمبر کی تنبیہ کے بعد  (جس پر یہ) ایمان لائیں گے؟۔

۷:۱۸۶ جس کو رہنمائی سے محروم کر دے اللہ تو نہیں کوئی رہنما اس کے لیے اور چھوڑ دیتا ہے  (اللہ) ایسے لوگوں کو کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں۔

۷:۱۸۷ پُوچھتے ہیں یہ لوگ تم سے قیامت کے بارے میں کہ کب ہے وقت اس کے قائم ہونے کاَ کہہ دو! بے شک اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے۔ نہیں ظاہر کرے گا اسے اس کے وقت پر مگر وہ، بڑا بھاری ہو گا  (وہ وقت) آسمانوں اور زمین پر۔ نہیں آئے گی وہ تم پر مگر اچانک۔ وہ پُوچھتے ہیں تم سے اس طرح گویا کہ تم کھوج میں لگے ہُوئے ہو اس کے کہہ دو! اس کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے، لیکن اکثر لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہیں۔

۷:۱۸۸ کہہ دو! کہ نہیں اختیار رکھتا میں اپنی ذات کے لیے بھی کسی نفع اور نہ کسی نقصان کا، مگر یہ کہ چاہے اللہ۔ اور اگر ہوتا مجھے علم غیب کا تو ضرور حاصل کر لیتا میں بہت فائدے اور نہ پہنچتا مجھے کبھی کوئی نقصان۔ نہیں ہوں میں مگر خبردار کرنے والا اور خوش خبری سُنانے والا اُن لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں۔

۷:۱۸۹ وہی تو ہے جس نے پیدا کیا تم کو ایک جان سے اور بنایا اسی میں سے اس کا جوڑا تاکہ سکون حاصل کرے وہ اس کے پاس۔ پھر جب ڈھانک لیا مرد نے عورت کو تو اُٹھا لیا اُس نے ہلکا سا بوجھ پھر وہ لیے پھری اُسے پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں نے دُعا کی اللہ سے جو اُن کا رب ہے کہ اگر عطا فرمائے تو ہمیں اچھّا اور سالم بچّہ تو ضرور ہوں گے ہم تیرے شکر گزار۔

۷:۱۹۰ پھر جب دیا اللہ نے اُن دونوں کو صحیح و سالم بچّہ تو ٹھہرانے لگے وہ اللہ کے شریک  (دوسروں کو) اُس نعمت میں جو عطا کی تھی اُن کو اللہ نے پس بلند و برتر ہے اللہ کی ذات ان سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔

۷:۱۹۱ کیا شریک ٹھہراتے ہیں یہ اُن کو جو نہیں پیدا کرتے کوئی چیز اور وہ خود پیدا کیے گئے ہیں؟۔

۷:۱۹۲ اور نہ طاقت رکھتے ہیں وہ اُن کے لیے کسی قسم کی مدد کی اور نہ خود اپنی ہی مدد کر سکتے ہیں۔

۷:۱۹۳ اور اگر بلاؤ تم اُن کو ہدایت کی طرف تو نہ پیروی کریں تمہاری، برابر ہے تمہارے لیے خواہ پکارو تم اُن کو یا تم خاموش رہو۔

۷:۱۹۴ درحقیقت یہ جنہیں پُکارتے ہو تم اللہ کے سوا وہ بھی بندے ہیں تمہاری طرح کے سو پُکار کر دیکھو تم اُنہیں ضرور جواب دیں گے وہ تمہیں! اگر ہو تم سچّے۔

۷:۱۹۵ کیا، ہیں اُن کے پاؤں کو چلتے ہیں وہ اُن سے؟ یا ہیں اُن کے ہاتھ کہ پکڑتے ہیں وہ اُن سے؟ یا ہیں اُن کی آنکھیں کہ دیکھتے ہیں وہ اُن سے؟ یا ہیں اُن کے کان کہ سُنتے ہیں ہو اُن سے؟ کہہ دو! کہ بلا لو تم اپنے  (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں کو پھر تم سب تدبیر کرو میرے خلاف اور مجھے ذرا مہلت نہ دو۔

۷:۱۹۶ یقیناً میرا حامی و ناصر اللہ ہے جس نے نازل کی ہے کتاب اور وہی حمایت کرتا ہے نیک لوگوں کی۔

۷:۱۹۷ اور وہ جن کو پکارتے ہو تم اس کے سوا، نہیں کر سکتے وہ تمہاری مدد اور نہ وہ خود اپنی ہی مدد کر سکتے ہیں۔

۷:۱۹۸ اور اگر بلاؤ تم اُن کو سیدھی راہ کی طرف تو سُن بھی نہیں سکتے۔ اور نظر آتا ہے تم کو کہ دیکھ رہے ہیں وہ تمہاری طرف حالانکہ وہ کچھ نہیں دیکھ رہے ہوتے۔

۷:۱۹۹ اختیار کرو طریقہ درگزر کا اور تلقین کرو نیک کام کی اور نہ اُلجھو جاہلوں سے۔

۷:۲۰۰ اور اگر کبھی اُکسائے تم کو شیطان کسی وسوسہ سے تو پناہ مانگو اللہ کی۔ بے شک وہ ہے ہر بات سُننے والا اور سب کچھ جاننے والا۔

۷:۲۰۱ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ متّقی ہیں  (ان کا حال یہ ہے) کہ جب چھو جاتا ہے اُنہیں کوئی بُرا خیال شیطان  (کے اثر) سے تو فوراً چوکنّے ہو جاتے ہیں اور پھر اُنہیں صاف نظر آنے لگتا ہے  (کہ اصل بات کیا ہے)؟۔

۷:۲۰۲ اور ان  (کفّار) کے بھائی کھینچتے چلے جاتے ہیں اُنہیں گمراہی میں اور کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھتے  (اُن کو بھٹکانے میں)۔

۷:۲۰۳ اور جب نہیں پیش کرتے تم  (اے نبی) اُن کے سامنے کوئی معجزہ تو یہ کہتے ہیں کہ کیوں نہ منتخب کر لی تم نے  (اپنے لیے کوئی) نشانی، کہہ دو! کہ میں تو صرف پیروی کرتا ہُوں اُس کی جو وحی کیا جاتا ہے مجھ پر میرے رب کی طرف سے۔ یہ  (قرآن) بصیرت کی روشنیاں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔

۷:۲۰۴ اور جب پڑھا جائے  (تمہارے سامنے) قرآن تو توجّہ سے سُنو اُسے اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحمت ہو۔

۷:۲۰۵ اور  (اے نبی) یاد کیا کرو اپنے رب کو دل ہی دل میں گڑگڑاتے ہُوئے اور ڈرتے ہُوئے۔ اور بغیر آواز بلند کیے الفاظ کی صبح و شام اور نہ ہو جاؤ تم اُن لوگوں میں سے جو غفلت میں پڑے ہُوئے ہیں۔

۷:۲۰۶ یقیناً وہ  (فرشتے) جو مقرب ہیں تیرے رب کے وہ کبھی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مُنہ نہیں موڑتے اُس کی عبادت سے اور اُس کی تسبیح کرتے ہیں اور اُسی کے آگے جھُکے رہتے ہیں۔

 

سورۃ الأنفَال

 شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہر بان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

۸:۱   (اے نبی) پُوچھتے ہیں تم سے غنیمتوں کے بارے میں۔ کہو! مالِ غنیمت اللہ اور رسُول کا ہے۔ پس ڈرو تم اللہ سے اور درست کرو آپس کے تعلّقات اور اطاعت کرو اللہ اور اُس کے رسول کی، اگر ہو تم مومن۔

۸:۲ مومن تو درحقیقت وہی لوگ ہیں کہ جب لیا جاتا ہے اللہ کا  (نام) تو لرز جاتے ہیں اُن کے دل اور جب پڑھی جاتی ہیں اُن کے سامنے اللہ کی آیات تو بڑھا دیتی ہیں  (وہ آیات) اُن کا ایمان اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

۸:۳ وہ جو قائم کرتے ہیں نماز اور اُس  (رزق) میں سے جو ہم نے ہی دیا ہے اُن کو خرچ کرتے ہیں۔

۸:۴ یہی لوگ ہیں جو مومن ہیں سچّے۔ اُن کے لیے بڑے درجے ہیں اُن کے رب کے ہاں اور بخشش ہے اور بہترین رزق۔

۸:۵ جیسا کہ نکالا تم کو تمہارے رب نے تمہارے گھر سے حق کے ساتھ جبکہ  (اُس وقت) ایک گروہ مومنوں میں سے  (اس نکلنے کو) ناپسند کرتا تھا۔

۸:۶ جھگڑا کر رہے تھے وہ لوگ تم سے اس حق کے معاملہ میں اس کے بعد بھی کہ کھل کر سامنے آ چُکا تھا وہ حق  (اور اُن کا حال یہ تھا) کہ گویا وہ ہانکے جا رہے ہیں موت کی طرف آنکھوں دیکھتے۔

۸:۷ اور  (یاد کرو) جب وعدہ کر رہا تھا تم سے اللہ ایک کا دو گروہوں میں سے کہ وہ تمہیں مِل جائے گا اور تم یہ چاہتے تھے کہ کمزور گروہ مِل جائے تمہیں اور ارادہ تھا اللہ کا یہ کہ ثابت کر دکھائے حق کو اپنے ارشادات سے اور کاٹ دے جڑ کافروں کی۔

۸:۸ تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کر دے خواہ ناگوار گزرے  (یہ بات) مجرموں کو۔

۸:۹ جب تم فریاد کر رہے تھے اپنے رب سے تو اُس نے تمہاری فریاد سُن لی  (اور فرمایا) بے شک میں مدد دُوں گا تمہیں ایک ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے لگاتار آتے جائیں گے۔

۸:۱۰ اور نہیں بتائی تھی یہ بات اللہ نے مگر اس لیے کہ خوشخبری ہو  (تمہارے لیے) اور تاکہ مطمئن ہو جائیں اس سے تمہارے دل اور نہیں  (آتی) ہے کوئی مدد مگر اللہ کی طرف سے ۔ یقیناً اللہ زبر دست ہے اور حکمت والا ہے۔

۸:۱۱   (اور وہ وقت بھی) جب طاری کر رہا تھا وہ تم پر غنودگی تسکین کے لیے اپنی طرف سے اور نازل کر رہا تھا تم پر آسمان سے پانی، تاکہ پاک کر دے تمہیں اس سے اور دُور کر دے تم سے نجاست شیطان کی اور مضبوط کر دے تمہارے دلوں کو اور جما دے اس سے تمہارے قدم۔

۸:۱۲ جب حکم دے رہا تھا تمہارا رب فرشتوں کو کہ بے شک میں تمہارے ساتھ ہوں لہٰذا تم ثابت قدم رکھو اہلِ ایمان کو، میں ابھی ڈالے دیتا ہُوں دلوں میں ان کافروں کے دہشت سو ضرب لگاؤ تم اُن کی گردنوں پر اور چوٹ لگاؤ اُن کے جوڑ جوڑ پر۔

۸:۱۳ یہ اس لیے کہ مخالفت کی اُن لوگوں نے اللہ کی اور اُس کے رسول کی اور جو مخالفت کرتا ہے اللہ کی اور اُس کے رسول کی تو بے شک اللہ  (ایسے لوگوں کو) سزا دینے میں بہت سخت ہے۔

۸:۱۴ یہ ہے  (تمہاری سزا) لہٰذا چکھو اس کا مزا اور بے شک منکرینِ حق کے لیے ہے دوزخ کا عذاب۔

۸:۱۵ اے لوگو جو ایمان لائے ہو جب مقابلہ ہو تمہارا کافروں سے میدانِ جنگ میں تو مت پھیرو تم اُن کے سامنے پیٹھ۔

۸:۱۶ اور جو پھیرے گا اُن کے سامنے اُس دن پیٹھ سوائے اس کے کہ چال چلنا چاہتا ہو جنگ کے لیے یا جا ملنا چاہتا ہو کسی  (دوسری) فوج سے تو وہ گھِر جائے گا غضب میں اللہ کے اور ٹھکانا ہو گا اس کا جہنّم جو بہت ہی بُرا ہے ٹھکانا۔

۸:۱۷ پس  (حقیقت یہ ہے کہ) نہیں قتل کیا تم نے انہیں بلکہ اللہ نے قتل کیا انہیں اور نہیں پھینکی تھی تم نے  (وہ ریت ان پر) جب پھینکی تھی تم نے بلکہ اللہ نے پھینکی تھی  (اور یہ اس لیے تھا) کہ گزار دے اللہ مومنوں کو اپنی طرف سے ایک بہترین آزمائش میں سے۔ یقیناً اللہ ہر بات کا سننے والا اور جاننے والا ہے۔

۸:۱۸ یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ ہے اور بے شک اللہ کمزور کرنے والا ہے کافروں کی چالوں کو۔

۸:۱۹   (اے کافرو!) تم فیصلہ چاہتے ہو تو بے شک آ چکا ہے تمہارے سامنے فیصلہ اور اگر تم باز آ جاؤ تو یہ بہتر ہو گا تمہارے لیے اور اگر تم دوبارہ یہی کرو گے تو پھر ہم بھی ایسا ہی کریں گے اور ہرگز نہ کام آ سکے گی تمہارے جمیعت تمہاری ذرا بھی خواہ وہ کتنی ہی زیادہ ہو اور  (جان لو کہ) بیشک اللہ اہلِ ایمان کے ساتھ ہے۔

۸:۲۰ اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اُس کے رسُول کی اور مت منہ موڑو اطاعت سے در آنحالیکہ تم سُن رہے ہو۔

۸:۲۱ اور مت ہو جانا تم اُن لوگوں کی طرح جنہوں نے کہا: سُن لیا ہم نے حالانکہ وہ نہیں سُنتے۔

۸:۲۲ بے شک سب سے بدتر جانداروں میں، اللہ کے نزدیک وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو نہیں لیتے کام عقل سے۔

۸:۲۳ اور اگر دیکھتا اللہ اُن میں کچھ بھلائی تو وہ ضرور اُنہیں سُننے کی توفیق دیتا۔ لیکن اگر  (بھلائی کے بغیر) سنواتا تو ضرور رُو گردانی کرتے، بے رُخی کے ساتھ۔

۸:۲۴ اے ایمان والو! لبیک کہو اللہ کے بلانے پر اور اس کے رسُول  ( کے بُلانے) پر جب بُلائیں وہ تم کو اُس چیز کی طرف جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے اور جان رکھوّ کہ اللہ  حائل ہے درمیان آدمی کے اور اس کے دل کے اور یہ حقیقت بھی کہ اسی کے حضور گھیر گھار کر لایا جائے گا تمہیں۔

۸:۲۵ اور بچو اس فتنے سے کہ نہیں پہنچے گی اس کی  (شامت) صرف اُن لوگوں کو جو ظالم ہیں تم میں سے بطورِ خاص۔ اور جان رکھو کہ یقیناً اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔

۸:۲۶ اور یاد کرو  (وہ وقت) جب تم تھوڑے تھے  (اور) بے زور سمجھے جاتے تھے زمین میں  (اور) ڈرتے رہتے تھے تم اُس بات سے کہ کہیں اُچک  (نہ) لے جائیں تم کو  لوگ پھر اُس نے تم کو جائے پناہ  دی اور مضبوط کیے تمہارے ہاتھ اپنی مدد سے اور عطا فرمائیں تمہیں پاکیزہ چیزیں شاید کہ تم شکر گزار بنو۔

۸:۲۷ اے ایمان والو! مت خیانت کرو اللہ اور رسول کے ساتھ اور  (مت) خیانت کرو اپنی امانتوں میں، جانتے بوجھتے۔

۸:۲۸ اور جان رکھو کہ درحقیقت تمہارے مال اور تمہاری اولادیں سامان، آزمائش ہیں اور بے شک اللہ ہی ہے جس کے پاس ہے اجر اعظم۔

۸:۲۹ اے ایمان  والوں! اگر تم ڈرتے رہو گے اللہ سے دے گا وہ تمہیں  (حق و باطل میں فرق کی) کسوٹی اور دُور کر دے گا تم سے تمہارے گناہ اور بخش دے گا تمہارے  (قصور) اور اللہ مالک ہے فضلِ عظیم کا۔

۸:۳۰ اور جب چالیں چل رہے تھے تمہارے خلاف وہ لوگ جو کافر ہیں کہ قید کر دیں تمہیں یا قتل کر دیں تمہیں یا جلاوطن کر دیں تمہیں، وہ چل رہے تھے اپنی چالیں اور چل رہا تھا اپنی چال اللہ۔ اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔

۸:۳۱ اور جب تلاوت کی جاتی ہیں اُن کے سامنے ہماری آیات تو وہ کہتے ہیں کہ ہاں سن لیا ہم نے، اگر ہم چاہیں تو بنا سکتے ہیں ہم بھی ایسی ہی باتیں، نہیں ہیں یہ، مگر کہانیاں پہلے لوگوں کی۔

۸:۳۲ اور  (یاد کرو) جب کہا تھا  (ان کافروں نے) اے اللہ! اگر ہے یہ  (قرآن) واقعی سچّا تیری طرف سے تو برسا تُو ہم پر پتّھر آسمان سے یا لا ہم پر درد ناک عذاب۔

۸:۳۳ اور نہیں ہے اللہ ایسا کہ عذاب دے اُن کو جبکہ تم  (اے نبی) اُن میں موجود ہو۔ اور نہیں ہے اللہ عذاب دینے والا انہیں جبکہ وہ استغفار کرتے ہوں۔

۸:۳۴ اور اب کون سی بات ہے ان میں کہ نہ عذاب دے اُن کو اللہ جبکہ وہ روک رہے ہیں راستہ مسجدِ حرام کا۔ حالانکہ نہیں ہیں وہ اس کے  (جائز) متولی نہیں ہیں اس کے متولی مگر اہلِ تقویٰ لیکن ان کی اکثریّت  (اس بات سے) بے خبر ہے۔

۸:۳۵ اور نہیں ہوتی ہے اِن کی نماز بیت اللہ کے پاس مگر سیٹیاں بجانا اور تالیاں پیٹنا۔ سو چکھو اب مزا عذاب کا بدلے میں انکارِ حق کے جو تم کرتے رہے۔

۸:۳۶ یقیناً وہ لوگ جنہوں نے  (حق کا) انکار کیا وہ خرچ کرتے ہیں اپنے مال تاکہ روکیں  (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے۔ سو ابھی اور مال خرچ کرتے رہیں گے وہ آخر کار، ہو جائیں گی  (یہی کوششیں) اُن کے لیے باعثِ حسرت۔ پھر یہ مغلوب ہو جائیں گے۔ اور وہ لوگ جنہوں نے  (حق کا) انکار کیا جہنّم کی طرف گھیر لائے جائیں گے۔

۸:۳۷ تاکہ چھانٹ کر الگ کرے اللہ گندگی کو پاکیزگی سے اور ڈالتا چلا جائے گندگی کو دوسری گندگی پر پھر ڈھیر بنا دے اس سارے کا، پھر جھونک دے اُسے جہنّم میں۔ یہی لوگ ہیں جو گھاٹا اُٹھانے والے ہیں۔

۸:۳۸   (اے نبی) کہو ان کافروں سے اگر یہ باز آ جائیں  (اب بھی) تو معاف کر دیے جائیں گے اِن کے وہ  (جرائم) جو پہلے سرزد ہو چُکے ہیں لیکن اگر یہ دوبارہ وہی کچھ کریں گے تو بے شک نافذ ہو چکا ہے  (ہمارا) قانون پہلے لوگوں پر۔

۸:۳۹ اور جنگ کرتے رہو ان  (کافروں) سے یہاں تک کہ نہ باقی رہے فتنہ اور ہو جائے دین پُورے کا پُورا اللہ کے لیے۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں تو بے شک اللہ اُن کے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔

۸:۴۰ اور اگر وہ نہ مانیں تو جان رکھو کہ بے شک اللہ تمہارا سرپرست ہے۔  (اور وہ) بہترین حامی اور بہترین مدد گار ہے۔

۸:۴۱ اور جان لو کہ جو بطورِ غنیمت ملے تم کو کوئی چیز تو ہے اللہ کے لیے اُس کا پانچواں حصّہ اور رسول کے لیے اور قرابت داروں کے لیے اور یتیموں کے لیے اور مسکینوں کے لیے اور مسافروں کے لیے، اگر تم رکھتے ہو ایمان اللہ پر اور اس  (نصرت) پر جو نازل کی تھی ہم نے اپنے بندے پر فیصلے کے دن جس دم ٹکرائی تھیں دو فوجیں۔ اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

۸:۴۲ جب  (تھے) تم  (وادی کے) ورے کنارے پر اور  (تھے) وہ پرلے کنارے پر اور قافلہ نیچے کی طرف تھا تم سے۔ اگر تم باہم وعدہ کرتے تو نہ پہنچتے وعدہ پر لیکن  (یہ اس لیے تھا) تاکہ پُورا کر ڈالے اللہ اُس بات کو جسے ہونا تھا۔ تاکہ ہلاک ہو جسے ہلاک ہونا ہے واضح دلیل سے زندہ رہے جسے زندہ رہنا ہے، ساتھ واضح دلیل کے۔ اور بے شک اللہ بہر حال ہر بات کو سُننے والا اور جاننے والا ہے۔

۸:۴۳   (اور) جب دکھا رہا تھا تمہیں، اُن کو اللہ تمہارے خواب میں تھوڑا۔ اور اگر دکھاتا تم کو اُنہیں زیادہ تو تم ضرور ہمت ہار جاتے اور جھگڑنے لگتے اِس لڑائی کے بارے میں لیکن اللہ نے بچا  لیا۔ بے شک وہ پوری طرح باخبر ہے سینوں کے حال سے۔

۸:۴۴ اور  (یاد کرو وہ وقت) جب دکھلا رہا تھا تم کو  (اللہ) اُنہیں، جب تم ایک دوسرے کے مقابل ہُوئے تمہاری نگاہوں میں تھوڑا اور تھوڑا دکھا رہا تھا تم کو، اُن کی نگاہوں میں تاکہ پُورا کر ڈالے اللہ وہ بات جو ہو کر رہنی تھی۔ اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں سارے معاملات۔

۸:۴۵ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب مقابلہ ہو تمہارا کسی گروہ سے تو ثابت قدم رہو اور ذکر کرتے رہو اللہ کا کثرت سے، تاکہ تمہیں کامیابی نصیب ہو۔

۸:۴۶ اور اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی اور نہ جھگڑو  (آپس میں) ورنہ بزدل ہو جاؤ گے تم اور اُکھڑ جائے گی تمہاری ہوا اور صبر سے کام لو۔ بے شک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے۔

۸:۴۷ اور نہ ہو جاؤ اُن لوگوں کی طرح جو نکلے تھے اپنے گھروں سے اِتراتے ہُوئے اور دکھاتے ہُوئے  (اپنی شان) لوگوں کو  (اُن کا حال یہ ہے) کہ روکتے ہیں اللہ کی راہ سے۔ اور اللہ اُن کے اعمال کا احاطہ کیے ہُوئے ہے۔

۸:۴۸ اور  (یاد کرو وہ وقت) جب خوشنما بنا کر دکھا رہا تھا اُن کو شیطان اُن کے کرتوت اور کہہ رہا تھا کوئی غالب نہیں ہو گا تم پر آج کے دن لوگوں میں سے اور بے شک ہیں حمایتی ہُوں تمہارا۔ پھر جب آمنا سامنا ہُوا دونوں گروہوں کا تو پھر گیا اُلٹے پاؤں اور کہنے لگا کہ میں الگ ہوتا ہوں تم سے، بے شک میں دیکھ رہا ہوں وہ کچھ جو تم نہیں دیکھ سکتے، مجھے ڈر لگتا ہے اللہ سے۔ اور اللہ بڑا سخت ہے عذاب دینے میں۔

۸:۴۹ جب کہہ رہے تھے منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے کہ مغرور کر دیا ہے اِن  (مُسلمانوں) کو اِن کے دین نے۔ حالانکہ جس نے بھروسہ کیا اللہ پر تو یقیناً اللہ زبردست اور حکمت والا ہے۔

۸:۵۰ اور کاش تم دیکھتے  (اُس حالت کو) جب روحیں قبض کر رہے تھے کافروں کی فرشتے اور ضربیں لگا رہے تھے اُن کے چہروں اور کولہوں پر اور  (کہتے جاتے تھے لو اب) چکھو مزہ جلنے کے عذاب کا۔

۸:۵۱ یہ  (سزا) بسبب اُن  (اعمال) کے ہے جو تم نے آگے بھیجے تھے اپنے ہاتھوں سے اور بے شک اللہ نہیں ہے ظلم کرنے والا اپنے بندوں پر۔

۸:۵۲ ان کے لچھن آل فرعون کے سے اور ان لوگوں کے سے تھے جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ انہوں نے انکار کیا تھا ماننے سے اللہ کے احکامات کو سو پکڑ لیا ان کو اللہ نے ان کے گناہوں پر۔ بے شک اللہ بہت قوی اور سخت ہے سزا دینے میں۔

۸:۵۳ جو کچھ ہُوا اس بنا پر ہوا کہ اللہ ہر گز نہیں ہے بدلنے والا کسی نعمت کو جو اُس نے عطا کی ہو کسی قوم کو جب تک کہ  (نہ) بدل دیں وہ خود اپنے طرزِ عمل کو، اور بے شک اللہ ہر بات سُننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

۸:۵۴ اُسی ضابطے کے مطابق جو آلِ فرعون اور ان لوگوں پر  (لاگو ہُوا) جو تھے اِن سے پہلے  (اِن کے ساتھ بھی معاملہ ہو گا) جھٹلایا تھا اُنہوں نے آیات کو اپنے رب کی سو ہلاک کر دیا ہم نے اُن کو اُن کے گناہوں کی پاداش میں اور غرق کر دیا ہم نے آلِ فرعون کو، اور وہ سب  (لوگ) تھے ظالم۔

۸:۵۵ بے شک سب سے بُرے، زمین میں چلنے والی مخلوق میں سے نزدیک اللہ کے، وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کر دیا سو یہ  (اب) ایمان نہ لائیں گے۔

۸:۵۶   (خصوصاً) وہ لوگ کہ معاہدہ کیا تھا تم نے اُن سے پھر توڑ دیتے رہے وہ اپنے عہد کو ہر موقع پر اور وہ  (اللہ سے ذرا) نہیں ڈرتے۔

۸:۵۷ لہٰذا اگر قابو پالو تم اُن پر لڑائی میں تو انہیں سخت سزا دے کر، حواس باختہ کر دو تم اُن لوگوں کو جو اُن کے پیچھے ہیں، تاکہ وہ عبرت پکڑیں۔

۸:۵۸ اور اگر کبھی تمہیں اندیشہ ہو کسی قوم سے خیانت کا تو اُٹھا کر پھینک دو  (اُن کا عہد) اُن کی طرف اسی طرح جیسے اُنہوں نے پھینکا۔ بے شک اللہ نہیں پسند کرتا خیانت کرنے والوں کو۔

۸:۵۹ اور نہ غلط فہمی میں مبتلا رہیں وہ کافر جو بازی لے گئے ہیں  (وقتی طور پر)۔ یقیناً وہ  (ہم کو) نہیں ہرا سکتے۔

۸:۶۰ اور مہیا رکھو اُن کے مقابلے کے لیے جہاں تک تمہارا بس چلے زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیّار بندھے رہنے والے گھوڑے تاکہ خوفزدہ کر سکو تم اُس کے ذریعہ سے اللہ کے دشمنوں کو، اور اپنے دشمنوں کو اور اُن دوسرے دشمنوں کو جو اُن کے علاوہ ہیں، جنہیں تم نہیں جانتے،  (لیکن) اللہ جانتا ہے اُنہیں۔ اور جو بھی تم خرچ کرو گے کوئی چیز، اللہ کی راہ میں تو اُس کا پُورا پُورا بدلہ دیا جائے گا تمہیں اور تمہارے ساتھ بے انصافی نہ کی جائے گی۔

۸:۶۱ اور اگر جھکیں وہ صلح کی طرف تو تم بھی جھک جاؤ اُس کی طرف اور بھروسہ کرو اللہ پر۔ بے شک وہ سب کچھ سُننے والا اور جاننے والا ہے۔

۸:۶۲ اور اگر اُن کا ارادہ یہ ہو کہ دھوکہ دیں تم کو تو یقیناً کافی ہے تمہارے لیے اللہ۔ وہی تو ہے جس نے تمہیں قوّت بہم پہنچائی اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعہ سے۔

۸:۶۳ اور جوڑ دیا اُن کے دلوں کو ایک دوسرے کے ساتھ۔ اگر تم خرچ کر دیتے جو کچھ زمین میں ہے، سب کا سب تو بھی نہ جوڑ سکتے اُن کے دلوں کو مگر وہ اللہ ہی ہے جس نے جوڑ دیئے اُن کے دل۔ بے شک وہ بڑا زبردست اور حکمت والا ہے۔

۸:۶۴ اے نبی! کافی ہے تمہارے لیے اللہ اور ان لوگوں کے لیے بھی جو تمہارے پیروکار ہیں مومنوں میں سے۔

۸:۶۵ اے نبی! اُبھارتے رہو، مومنوں کو جہاد پر۔ اگر ہوں گے تم میں سے بیس ثابت قدم رہنے والے تو غالب آ جائیں گے وہ دو سو ۲۰۰ پر، اور اگر ہوں گے تم میں سے سو ۱۰۰  (ثابت قدم) تو غالب آ جائیں گے وہ ہزار کافروں پر کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔

۸:۶۶ اچّھا! اب تخفیف کر دی ہے اللہ نے تم پر اور جان لیا ہے کہ تم میں کمزوری ہے لہذا اگر ہوں تم میں سے  سو ۱۰۰ ثابت قدم رہنے والے تو وہ غالب آ جائیں گے دو سو ۲۰۰ پر۔ اور اگر ہوں تم میں سے ہزار  (ثابت قدم) تو وہ غالب آ جائیں گے دو ہزار پر اللہ کے حُکم سے۔ اور اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے۔

۸:۶۷ نہیں ہے زیبا کسی نبی کو کہ ہوں اُس کے پاس قیدی جب تک کہ  (نہ) کُچل دے پُوری طرح  (دشمنوں کو) زمین میںَ تم چاہتے ہو فائدے دُنیا کے۔ اور اللہ چاہتا ہے (تمہارے لیے) آخرت۔ اور اللہ زبردست اور حکمت والا ہے۔

۸:۶۸ اگر نہ ہوتا نوشتہ اللہ کا پہلے سے، تو ضرور ملتی تم کو اس پر جو حاصل کیا تھا تم نے  (ان سے بطورِ فدیہ) سزا بہت بڑی۔

۸:۶۹ سو اب کھاؤ اُس میں سے جو مالِ غنیمت ملا ہے تم کو حلال اور پاک سمجھ کر اور ڈرتے رہو اللہ سے۔ بے شک اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

۸:۷۰ اے نبی! کہہ دو ان سے جو ہیں تمہارے قبضہ میں قیدی کہ اگر پائے گا اللہ تمہارے دل میں نیکی تو دے گا تم کو بہتر اس سے جو لیا گیا ہے تم سے اور بخش دے گا تمہیں۔ اور اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

۸:۷۱ اور اگر وہ ارادہ کریں تم سے خیانت کرنے کا تو بے شک خیانت کر چُکے ہیں یہ اللہ کے ساتھ اس سے پہلے تو اللہ نے گرفتار کرا دیا انہیں  (تمہارے ہاتھوں)۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

۸:۷۲ یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور جہاد کیا اُنہوں نے اپنے مال و جان سے اللہ کی راہ میں اور وہ لوگ جنہوں نے رہنے کی جگہ دی  (اُن کو) اور مدد کی  (اُن کی) یہی لوگ ہیں جو آپس میں ایک دوسرے کے رفیق و مدد گار ہیں۔ اور وہ لوگ جو ایمان لائے لیکن اُنہوں نے ہجرت نہیں کی، نہیں ہے تمہیں اُن کی رفاقت سے کچھ بھی  (تعلّق) جب تک کہ  (نہ) ہجرت کر آئیں وہ بھی اگر مدد چاہیں وہ تم سے دین کے معاملہ میں تو تم پر فرض ہے اُن کی مدد کرنا اِلّا یہ کہ مقابلہ میں وہ قوم ہو کہ ہے تمہارے اور اُن کے درمیان کوئی معاہدہ  اور اللہ تمہارے اعمال کو پُوری طرح دیکھ رہا ہے۔

۸:۷۳ اور وہ لوگ جو منکرِ حق میں وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق و مدد گار ہیں۔ اگر نہ کرو گے تم  (ہمارے احکام پر عمل) تو برپا ہو گا فتنہ زمین میں اور بڑا فساد۔

۸:۷۴ اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اور اللہ کی راہ میں اور وہ لوگ جنہوں نے پناہ دی  (اُن کو) اور مدد کی، یہی لوگ ہیں جو مومن ہیں سچّے۔ اُن کے لیے ہے بخشش اور روزی عزّت کی۔

۸:۷۵ اور وہ لوگ جو ایمان لائے  (ان کے) بعد اور جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا تمہارے ساتھ مل کر سو یہ لوگ بھی تم میں سے ہیں، مگر خُونی رشتے دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں اللہ کی کتاب کی رُو سے۔ بے شک اللہ ہر چیز کو پُوری طرح جانتا ہے۔

٭٭٭

پروف ریڈنگ اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید