FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

عہد نامہ قدیم

 

 

               کتاب  ۲۹ تا کتاب ۳۹

 

 

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

 

 

کتاب ۲۹: یوئیل

 

 

 

 

 

باب: 1

 

1 یوئیل بن فتو ایل نے  خداوند سے  اس پیغام کو حاصل کیا :

2 اے  بزرگو! اس پیغام کو سنو! اے  زمین کے  سب باشندو!سنو۔ کیا تمہارے  یا تمہارے  باپ دادا کے  ایّام میں  کبھی کوئی ایسی بات ہوئی ہے ؟

3 تم اس کے  بارے  میں  اپنے  بچوں  کو بتاؤ اور تمہارے  بچے  یہ باتیں  اپنے  بچوں  کو ضرور بتائیں  اور ان کے  بچے۔۔

4 جو کچھ کاٹنے  وا لی ٹڈیوں  سے  بچا اسے  ٹڈوں  کے  جھنڈ نے  کھا لیا جو کچھ ٹڈیوں  کے  جھنڈ سے  بچا اچھلنے  والی ٹڈیوں  نے  کھا لیا اُچھلنے  وا لی ٹڈیوں  سے  جو بچا اسے  برباد کرنے  وا لی ٹڈیوں  نے  کھا یا۔

5 اے  نشے  باز! جا گو اور روؤ۔ مئے  نو شی کرنے  وا لو میٹھی مئے  کے  لئے  چلاؤ کیوں  کہ وہ تمہارے  منہ سے  چھنی گئی ہے۔

6 کیونکہ میری زمین پر ٹڈیوں  کی فوج نے  حملہ کیا ہے  اور وہ زور آور اور بے  شمار ہے۔ ان کے  دانت شیر ببر کی طرح اور ان کی جبڑا شیرنی کی طرح ہے۔

7 اس نے  میرے  انگور کی بیل کو تباہ کر دیا اور میرے  انجیر کے  پیڑ کو کاٹ ڈالا اس نے  چھا لوں  کو چھیل ڈالا اور اسے  دور پھینک دیا۔انگور کے  بیل سفید ہو گئے  ہیں۔

8 اس طرح ماتم کرو جس طرح جوان دلہن ٹاٹ اوڑھ کر جوان شو ہر کے  لئے  ماتم کرتی ہے۔

9 خداوند کے  گھر میں  اناج اور مئے  کا نذرانہ اب اور پیش نہیں  کیا جا تا۔ کاہن جو کہ خداوند کا وزیر ہے  ماتم کرتے  ہیں۔

10 کھیت برباد ہو گئے  ہیں  اور زمین ماتم کر تی ہے  کیونکہ اناج برباد ہوا ہے۔ نئی مئے  سو کھ گئی اور زیتون کا تیل خالی ہو گیا ہے۔

11 اے  کسانو! دُکھی ہو انگور کے  باغبانو! گیہوں  اور جوَ کے  لئے  چلاؤ کیوں  کہ کھیت کی فصل برباد ہوئی ہے۔

12 انگور کی بیلیں  سو کھ گئی ہیں  اور انجیر کے  پیڑ مرجھا رہے  ہیں۔ انار کے  پیڑ کھجور کے  پیڑ اور سیب کے  پیڑ سبھی مرجھا گئے  ہیں  کیونکہ لوگوں  سے  خوشی جا تی رہی ہے۔

13 اے  کاہنو! ٹاٹ اوڑھ لو! اور ماتم کرو۔ اے  قربان گاہ پر خدمت کرنے  وا لو چلاؤ! تم میرے  خدا کے  وزیر آؤ!اور ٹاٹ اوڑھ کر رات گذارو کیوں  کہ ہیکل میں  اناج اور پینے  کا نذرانہ موقوف ہو گیا۔

14 روزہ کے  لئے  ایک دن مقرر کرو تقریب کی محفل بلاؤ۔ بزرگوں  کو اور ملکوں  کے  تمام باشندوں  کو خداوند اپنے  خداوند کے  ہیکل میں  ایک ساتھ جمع کر اور بلند آواز سے  خداوند سے  فریاد کر۔

15 کیسا افسوس ناک دن ہے  کیوں  کہ خداوند کے  فیصلے  کا دن نزدیک آ گیا ہے۔ یہ وہی دن ہے  جس دن خداوند قادر مطلق کی طرف سے  بربادی آئے  گی۔

16 ہم لوگوں  نے  اپنی آنکھوں  سے  دیکھا کہ کیسے  ہمارا کھانا تباہ ہوا اور ہم لوگوں  نے  دھیان دیا تو محسوس کیا کہ ہمارے  خداوند کے  گھر سے  خوشی اور شادمانی چلی گئی ہے۔

17 بیج مٹی کے  ڈھیلوں  کے  نیچے  مرجھا گئے  ہیں  گودام خالی ہو گئے۔ غلّہ خانہ کھنڈر ہو گئے  کیوں  کہ اناج سو کھ گئے۔

18 حیوان کیسے  کراہ رہے  ہیں ! مویشی کے  جھنڈ کیسے  ابتری میں  ادھر اُدھر بھٹک رہے  ہیں۔ ان کے  چرنے  کے  لئے  گھاس نہیں  ہے۔ بھیڑوں  کے  جھنڈ بھی اس میں  مبتلا ہے۔

19 تمہارے  پاس اے  خداوند میں  روتا ہوں۔ کیونکہ آگ نے  بیابان کی چراگاہوں  کو جلا دیا۔ اور شعلوں  نے  سب درختوں  کو راکھ کر دیا ہے۔

20 جنگلی جانور بھی تیرے  پاس مدد کے  لئے  روتے  ہیں  پانی کا سارا منبع سو کھ گیا ہے  اور آگ نے  بیابان کی چراگاہوں  کو جلا دیا ہے۔

 

 

 

باب:  2

 

1 صیون میں  بگل پھونکو۔ میرے  مقدس کوہ پر آگا ہی کی آواز لگاؤ۔ سبھی لوگوں  کو خوف سے  تھر تھرانے  دو کیوں  کہ خداوند کے  فیصلے  کا دن آ رہا ہے۔ یہ بہت ہی نزدیک ہے۔

2 یہ اندھیرا اور تاریکی کا دن ہو گا۔ ایک بڑی اور زبردست فوج پہاڑوں  پر پھیلتے  ہوئے  اندھیرا کی طرح آ رہی ہے۔ اس کے  جیسا کبھی نہ تھا اور نہ کبھی مستقبل میں  ہو گا۔

3 فوج کے  آگے  ایک آگ بھسم کر تی جائے  گی اور اس کے  پیچھے  شعلہ جلے  گی۔ فوج کے  آگے  کی زمین عدن کے  باغ جیسے  اور اس کے  پیچھے  کی زمین ایک ویران بیابان جیسی ہو گی۔ اور ان سے  کچھ بھی نہیں  بچے  گا۔

4 وہ گھوڑوں  جیسے  ہوں  گے  اور وہ شہسو ار کی مانند دوڑتے  ہیں۔

5 وہ پہاڑوں  کی چوٹیوں  پر چڑھتے  ہیں  تو رتھوں  کے  کھڑ کھڑانے  کی جیسی آواز ہو تی ہے۔ وہ آواز ایسی ہے  جیسے  شعلہ بھو سے  کو جلا تی ہے   وہ زبردست فوج جو جنگ کے  لئے  پو زیشن لے  چکے  ہیں  کی مانند ہیں۔

6 ان کا سامنا کرتے  ہوئے  لوگ ڈر سے  کانپتے  ہیں۔ خوف و دہشت سے  لوگوں  کا چہرہ سرخ ہو جاتا ہے۔

7 وہ جنگجو کی طرح اچانک اور بہت تیزی سے  حملہ کرتے  ہیں  سپاہی کی دیواروں  پر چڑھتے  ہیں۔ان میں  سے  ہر ایک اپنے  سمت میں  رہتے  ہیں  اور وہ اپنے  راستوں  سے  نہیں  ہٹتے  ہیں۔

8 وہ ایک دوسرے  کو نہیں  دھکیلتے  اور ہر ایک اپنے  اپنے  راستے  پر رہتے  ہیں۔ وہ بغیر رُکے  ہی حفاظتی عملوں  سے  ہوتے  ہوئے  آگے  بڑھتے  ہیں۔

9 وہ شہر پر جھپٹ پڑتے  ہیں  اور دیواروں  پر دوڑتے  ہیں  اور گھروں  پر چڑھتے  ہیں  وہ چوروں  کی طرح کھڑ کیوں  سے  اندر گھس جاتے  ہیں۔

10 زمین کانپتی اور آسمان تھر تھراتے  ہیں۔ سورج اور چاند بھی سیاہ پڑ جاتے  ہیں  اور تارے  چمکنا چھوڑ دیتے  ہیں۔

11 خداوند زور سے  اپنی فوج کے  سردار کو آواز دیتا ہے۔ یقیناً اس کی فوج بہت بڑی ہے۔ اس کے ا حکام کو ماننے  والے  بے  شمار ہے۔ خداوند کا دن سچ مچ میں  عظیم اور نہایت خوفناک ہے۔ اسے  کون برداشت کر سکتا ہے ؟

12 اب بھی خداوند کہتا ہے   پو رے  دل سے   روزہ رکھ کر رو کر اور چلا کر میری طرف رجوع کرو۔

13 اور اپنے  کپڑوں  کو نہیں  بلکہ اپنے  ہی دل کو چاک کرو۔” تم لوٹ کر اپنے  خداوند اپنے  خدا کے  پاس جاؤ۔ کیونکہ وہ رحیم و کریم ہے۔ اس کو جلد غصہ نہیں  آتا ہے۔ وہ رحیم مہربان اور صبر کرنے  وا لا ہے۔ وہ اپنے  ذہن کو بدلتا ہے  اور اس سزا کو جس کا اس نے  منصوبہ بنایا کو رد کرتا ہے۔

14 کون جانتا ہے   شاید وہ اپنا ذہن بدلے  گا اور اس کے  بجائے  پیچھے  کوئی برکت چھوڑ جائے۔ تب خداوند اپنے  خدا کے  لئے  تم اناج اور مئے  کے  نذرانے  پیش کر سکتے  ہو۔

15 صیون میں  بگل پھونکو اور روزہ کے  لئے  ایک دن مقرر کرو مقدس محفل بلاؤ۔

16 لوگوں  کو جمع کرو۔خاص اجلاس کے  لئے  بلاؤ۔ بزرگوں  کو اکٹھا کرو۔ بچوں  اور شیر خواروں  کو بھی اکٹھا کرو۔ دولھا اپنی کو ٹھری سے  اور دلہن اپنے  خلوت خانہ سے  نکل آئے۔

17 کاہنوں  کو جو کہ خداوند کے  وزیر کے  وزیر ہیں  دہلیز اور قربان گاہ کے  بیچ رونے  دو۔ اسے  کہنے  دو : ” اے  خداوند اپنے  لوگوں  پر رحم کر۔ اپنے  لوگوں  کو شرمندہ نہ ہونے  دو۔ دوسری قوموں  کو ان پر حکومت نہ کرنے  دو۔ دوسری قوموں  کے  لوگ کیونکہ کہیں  گے   ” ان کا خدا کہاں  ہے۔ ”

18 تب خداوند اپنی زمین کے  لئے  فکر مند ہوا اور اپنے  لوگوں  پر رحم کیا۔

19 اور اس لئے  خداوند نے  اپنے  لوگوں  سے  کہا ” دیکھو میں  اناج مئے  اور زیتون کا تیل تمہارے  لئے  بھیج رہا ہوں  اور تم تشفی بخش ہو جاؤ گے۔ اور میں  تمہیں  قوموں  کے  درمیان اب اور شرمندہ نہیں  ہونے  دوں  گا۔

20 میں  شمال کے  لوگوں  کو تم سے  دور بھیج دوں  گا۔ اور میں  اس خشک ریگستان زمین میں  ہانک دوں  گا۔ میں  انہیں  زمین کے  خشک اور ریگستانی حصوں  میں  بیج دوں  گا۔ ان لوگوں  میں  سے  جو کہ سامنے  ہیں  مشرقی سمندر میں  ہانک دیا جائے  گا اور جو کہ پیچھے  ہیں  مغربی سمندر میں  ہانک دیئے  جائیں  گے۔ ان کا گندہ مہک اور بدبو اوپر اٹھے  گی۔ یقیناً وہ بھیانک عمل کئے  ہیں۔”

21 اے  زمین! مت ڈرو۔خوشی و شادمانی کر کیونکہ خداوند نے  بڑے  کام بجا لا یا ہے۔

22 اے  جنگلی جانورو تم خوفزدہ مت ہو۔ کیوں  کہ بیابان کی چراگاہیں  پھر ہرے  بھرے  ہو جائیں  گی۔ درخت پھل دینے  لگیں  گے۔ انجیر کے  پیڑ اور انگور کی بیلیں  بھر پور پھل دے  گی۔

23 صیون کے  بچو خوش رہو اور خداوند اپنے  خدا میں  جشن مناؤ۔ وہ تمہیں  بارش دیں  گے  کیو کہ وہ وہی کرتا ہے  جو صحیح ہے۔ وہ تمہارے  لئے  برسات کا موسم بھیجے  گا۔ پہلے  اور آخر ی دنوں  موسم کا بارش بھیجے  گا جیسا کہ وہ پہلے  کیا کرتا تھا۔

24 تمہارے  کھلیان گیہوں  سے  بھر جائیں  گے۔ اور حوض مئے  اور تیل سے  بھر جائے  گا۔

25 ” میں  تمام سا لوں  کا ادائیگی کروں  گا جو ٹڈیوں  کے  جھنڈ نے   اچھلنے  وا لی ٹڈیوں  نے   برباد کرنے  وا لی ٹڈیوں  نے  اور کاٹنے  وا لی ٹڈیوں  نے  اور میری عظیم فوج نے  جسے  میں  نے  تیرے  خلاف بھیجے  تھے  کھا گئے  ہیں۔

26 تم کھاتے  ہی رہو گے  اور سیر ہو جاؤ گے  اور تم خداوند اپنے  خدا کے  نام کی ستائش کرو گے  جس نے  تمہارے  لئے  تعجب خیز کام کئے  ہیں۔ میرے  لوگ پھر کبھی شرمندہ نہیں  کئے  جائیں  گے۔

27 تم کو پتا چل جائے  گا کہ میں  اسرائیل کے  درمیان ہو ں۔ اور یہ کہ میں  تمہارا خداوند خدا ہوں  اور یہ کہ کوئی دوسرا خدا نہیں  ہے۔ میرے  لوگ پھر کبھی شرمندہ نہیں  کئے  جائیں  گے۔ ”

28 ” اور تب اس کے  بعد میں  ہر انسان پر اپنی روح نازل کروں  گا۔ تمہارے  بیٹے  اور تمہاری بیٹیاں  نبوت کریں  گے۔ تمہارے  بوڑھے  لوگ خواب اور تمہارے  جوان آدمی  رو یا دیکھیں  گے۔

29 اس وقت میں  اپنی روح مرد اور عورت ملازموں  پر بھی نازل کروں  گا۔

30 اور میں  زمین وآسمان میں  حیرت انگیز کارنامے  کروں  گا۔ وہاں  خون آگ اور گہرا دھواں  ہو گا۔

31 خداوند کا عظیم اور خوفناک دن کے  آنے  کے  پہلے ! سو رج کا لا ہو جائے  گا۔چاند خون کی طرح لال ہو جائے  گا۔

32 تب وہ جو خداوند کا نام لے  گا بچا لیا جائے  گا وہ لوگ جو بچ گئے  ہیں  کوہِ  صیون اور یروشلم میں  جئیں  گے  جیسا کہ خداوند نے  کہا ہے۔ اور اسے  جسے  خداوند بلاتا ہے  ان بچے  ہوئے  لوگوں  میں  ہوں  گے۔

 

 

 

باب:  3

 

1 ” ان ایّام میں  اور اس وقت میں  یہوداہ اور یروشلم کے  لوگوں  کو قید سے  واپس لاؤں  گا۔ 2 میں  سبھی قوموں  کو اکٹھا کروں  گا اور انہیں  یہوسفط کی وادی میں  اتار لاؤں  گا۔ اور وہاں  پر میں  اپنے  لوگوں  اور اسرائیل کی میراث کے  بدلے  میں  انصاف کروں  گا کیوں  کہ انہوں  نے  ان لوگوں  کو قوموں  کے  درمیان تتر بِتر کر دیا اور انہوں  نے  میری زمین کو بانٹ دیا۔

3 انہوں  نے  میرے  لوگوں  کے  لئے  قرعہ ڈالا۔انہوں  نے  طوائفوں  کو حاصل کرنے  کے  لئے  لڑکوں  کا اد لا بدلی کی اور مئے  پینے  کے  لئے  لڑکیوں  کو بیچ ڈالا۔

4 تم میرے  لئے  کیا ہو۔ اے  صور اور صیدا اور فلسطین کے  تمام علاقے ! کیا تم مجھ کو میرے  کئے  ہوئے  کسی کام کے  لئے  سزا دے  رہے  ہو۔ اگر تم مجھ سے  بدلے  لے  رہے  ہو تو میں  تمہارے  کارکردگی کو فوراً ہی تمہارے  سر پر وا پس موڑ دوں  گا۔

5 چونکہ تم نے  میرا سونا میری چاندی لے  لیا۔ اور میری قیمتی خزانے  تم اپنی عبادت خانے  میں  لے  گئے۔

6 ” یہوداہ اور یروشلم کے  لوگوں  کو تم نے  یو نانیوں  کے  ہاتھ بیچا۔تا کہ ان کو تم ان کی سرحدوں  سے  دور لے  جا سکو۔

7 لیکن اب میں  ان کو بیدار کروں  گاتا کہ وہ اس جگہ کو چھوڑ دے  جہاں  اسے  بیچے  گئے  ہیں  اور اس لئے  میں  تمہاری کار کردگی کو تمہارے  سر پر لاؤں  گا۔

8 میں  یہوداہ کے  لوگوں  کے  پاس تمہارے  بیٹے  اور بیٹیوں  کو بیچ دوں  گا۔ اور وہ ان کو ایک دور کی قوم سبا کے  ہاتھ بیچیں  گے۔ ” کیوں  کہ یہ خداوند نے  کہا ہے۔

9 قوموں  کے  درمیان اسے  منادی کرو لڑائی کی تیاری کرو۔سپاہیوں  کو حرکت میں  لاؤ۔ سارے  سپاہیوں  کو اکٹھا کرو۔ اور انہیں  تیار رکھو۔

10 اپنے  ہل کی پھالوں  کو پیٹ کر تلواریں  بناؤ اور اپنی درانتیوں  کو پیٹ کر بھالے  بناؤ۔ کمزور کو کہنے  دو ” میں  ایک جنگجو  ہو ں۔”

11 ارد گرد کے  سبھی قومو! جلدی آؤ۔ وہاں  اکٹھا ہو جاؤ۔ اے  خداوند! تو بھی اپنے  جنگجو کو اُتار!

12 قوموں  کو حرکت میں  آنے  دو اور یہوسفط کی وادی میں  چلنے  ( مار چ کرنے  )دو۔ کیوں  کہ میں  وہیں  بیٹھ کر آس پاس کے  سبھی قوموں  کا فیصلہ کروں  گا۔

13 درانتی لگاؤ کیوں  کہ فصل پکی ہوئی ہے۔ اندر آؤ اور انگوروں  کو روند دو کیوں  کہ مئے  کی کولہو بھر گئی ہے  اور حوض لبالب بھر کر بہہ رہا ہے   کیوں  کہ ان کی شرارت بہت عظیم ہے

14 فیصلہ کے  وا دی میں  لوگوں  کی بھیڑ پر بھیڑ ہے  کیوں  کہ خداوند کا دن یہوسفط کی گھاٹی میں  نزدیک آ چکا ہے۔

15 آفتاب اور مہتاب سیاہ پڑ جائیں  گے  اور تارے  چمکنا چھوڑ دیں  گے۔

16 خداوند صیون سے  گرجتا ہے  اور یروشلم سے  آواز لگا رہا ہے۔ آسمان و زمین ہلتی ہے۔ لیکن اپنے  لوگوں  کے  لئے  خداوند پناہ گاہ ہے   بنی اسرائیلیوں  کے  لئے  قلعہ ہے۔

17 ” تب تم جان جاؤ گے  کہ میں  خداوند تمہارا خدا صیون پر بستا ہو ں۔میرا کوہ مقدس یروشلم مقدس رہے  گا۔ اور پھر غیر ملکی کبھی اس سے  ہو کر نہیں  گذرے  گا۔”

18 “اس دن پہاڑ میٹھی مئے  ٹپکائے  گا۔ پہاڑیوں  سے  دودھ کی ندیاں  بہیں  گی۔ یہوداہ کے  تمام سوکھی ندیوں  سے  پانی بہے  گا۔ خداوند کی ہیکل سے  ایک چشمہ پھوٹ پڑے  گا اور وادیِ شطِیم کو سیراب کر دے  گا۔

19 مصر بنجر ہو جائے  گا اور ادوم ریگستان و بیابان ہو جائے  گا کیونکہ وہ لوگ یہوداہ کے  لو گوں  کے  ساتھ بہت ظالمانہ حرکت کی۔ جس کے  ملکوں  میں  انہوں  نے  لوگوں  کا خون بہایا وہ بے  قصور تھے۔

20 لیکن یہوداہ ہمیشہ ہی آباد رہیں  گے۔ اور یروشلم میں  لوگ پُشت درپُشت قائم رہے  گا۔

21 میں  انہیں  بغیر سزا دیئے  نہیں  چھوڑوں  گا۔ یقیناً انہیں  یروشلم میں  معصوم لوگوں  کا خون بہانے  کی وجہ سے  سزادوں  گا۔” خداوند کا گھر صیون میں  ہے۔

 

 

 

 

کتاب ۳۰: عاموس

 

 

 

 

 

باب :  1

 

1 عاموس کا کلام جو کہ تقوع کے  چرواہوں  میں  سے  ایک تھا۔ یہ کلام اس پر شاہ یہوداہ عزّیاہ اور شاہِ اسرائیل یربعام بن یوآس کے  ایام میں  اسرائیل کی بابت زلزلہ سے  دو سال پہلے  رویا میں  نازل ہوا۔

2 عاموسنے  کہا : خداوند صیون میں  شیر ببر کی طرح دھاڑے  گا اور یروشلم سے  آواز بلند کرے  گا۔ چرواہوں  کی چراگا ہیں  سو کھ جائیں  گی۔ یہاں  تک کہ کرمل کی چوٹی بھی سو کھے  گی۔

3 خداوند یہ کہتا ہے  : ” میں  دمشق کے  لوگوں  کو ان کے  کئی گنا ہوں  کے  لئے  سزا ضرور دوں  گا۔کیوں ؟ کیونکہ انہوں  نے  جلعاد کو اناج ملنے  کے  تیز لو ہے  کے  اوزار سے  روند ڈالا ہے۔

4 اس لئے  میں  حزائیل کے  گھرانے  میں  آگ بھیجوں  گا اور وہ آگ بن ہدد کے  قلعوں  کو کھا جائے  گی۔

5 اور میں  دمشق کا پھاٹک توڑ دوں  گا۔ اور وادی آؤن کے  باشندوں  اور بیت عدن کے  فرمانرواؤں  کو ان کی زمین سے  ہٹا دوں  گا ارام کے  لوگ اسیر ہو کر قیر کو جلا وطن ہو جائیں  گے۔ خداوند نے  یہ فرمایا۔

6 خداوند یہ کہتا ہے  : ” میں  یقیناً ہی غزّہ کے  لوگوں  کو ان کے  کئی گنا ہوں  کے  لئے  سزادوں  گا۔کیوں ؟ کیونکہ انہوں  نے  سب لوگوں  کو اسیر کر کے  لئے  گئے  اور غلام بنا کر ادوم کو روانہ کیا۔

7 اس لئے  میں  غزّہ کی دیوار پر آگ لگاؤں  گا۔ یہ آگ غزّہ کے  اہم قلعوں  کو برباد کر دے  گی۔

8 میں  اشدود کے  باشندوں  اور اسقلون کے  حکمرانوں  کو زمین سے  ہٹا دوں  گا۔ میں  عقرون کے  حکمراں  کو زمین سے  ہٹا دوں  گا فلسطین کے  باقی لوگ بھی نیست و نابود ہو جائیں  گے۔ ” خداوند خدا نے  یہ کہا۔

9 خداوند یہ کہتا ہے  : ” میں  صور کے  لوگوں  کو ان کے  کئی گنا ہوں  کے  لئے  سزا دوں  گا۔کیوں ؟ کیوں  کہ انہوں  نے  ساری قوم کو پکڑا اور غلام بنا کر ادوم کو روانہ کیا۔انہوں  نے  اس معاہدہ کو یاد نہیں  رکھا جسے  انہوں  نے  اپنے  بھائیوں  ( اسرائیل ) کے  ساتھ کیا تھا۔

10 اس لئے  میں  صور کی دیواروں  پر آ گ لگاؤں  گا۔ وہ آگ صور کے  قلعوں  کو فنا کر دے  گی۔”

11 خداوند یہ کہتا ہے  : ” میں  یقیناً ہی ادوم کے  لوگوں  کو ان کے  کئی گنا ہوں  کے  لئے  سزادوں  گا۔کیوں ؟ کیونکہ ادوم نے  اپنے  بھائی کا پیچھا تلوار لے  کر کیا۔ ادوم نے  تھوڑا بھی رحم نہیں  دکھا یا۔ اور اس کا قہر لگاتار برستا رہا۔

12 اس لئے  میں  تیمان میں  آ گ لگاؤں  گا وہ آگ بصرہ کے  اونچے  قلعوں  کو فنا کر دے  گی۔”

13 خداوند یہ سب کہتا ہے  : ” میں  یقیناً ہی عمون کے  لوگوں  کو ان کے  کئی گنا ہوں  کے  لئے  سزادوں  گا۔کیوں ؟ کیوں  کہ انہوں  نے  جلعاد میں  حاملہ عورتوں  کے  پیٹ چاک کر دیئے۔ بنی عمون نے  یہ اس لئے  کیا کہ وہ اس ملک کولے  سکیں  اور اپنے  ملک کی حدود کو بڑھائیں۔

14 اس لئے  میں  ربّہ کی دیوار پر آگ لگاؤں  گا۔ یہ آگ ربّہ کے  قلعوں  کو فنا کرے  گی جنگ کے  دن یہ آگ لگے  گی۔ یہ آگ اس دن لگے  گی جب آندھیاں  چل رہی ہوں  گی۔

15 تب ان کے  بادشاہ اور امراء پکڑے  جائیں  گے۔ وہ سب ایک قیدی بن کر لے  جائے  جائیں  گے۔ ” خداوند یہ فرماتا ہے۔

 

 

 

باب :  2

 

1 خداوند یہ کہتا ہے  : ” میں  موآب کے  لوگوں  کو ان کے  کئی گنا ہوں  کے  لئے  ضرور سزا دوں  گا۔کیوں ؟ کیونکہ موآب نے ادوم کے  بادشاہ کی ہڈیوں  کو جلا کر چونا بنا یا۔

2 اس لئے  میں  موآب میں  آ گ لگاؤں  گا اور وہ آگ قریوت کے  قلعوں  کو فنا کرے گی۔ دہشت ناک چیخیں  اور بگل کی آواز ہو گی اور مو آب مر جائے  گا۔

3 اس لئے  میں  مو آب کے  بادشاہوں  کو ختم کر دوں  گا اور میں  مو آب کے  سبھی لوگوں  کو مار ڈالوں  گا۔” خداوند فرماتا ہے۔

4 خداوند یوں  فرماتا ہے  : ” میں  یہوداہ کو ان کے  کئی گنا ہوں  کے  لئے  ضرور سزا دوں  گا کیوں ؟ کیوں  کہ انہوں  نے  خداوند کے  احکام کو ماننے  سے  انکار کیا۔انہوں  نے  ان احکام کو قائم نہیں  رکھا۔ان کے  باپ دادا نے  جھوٹ پر یقین کیا اور ان جھوٹی باتوں  کی وجہ سے  بنی یہوداہ نے  خدا کی اطاعت نہ کی۔

5 اس لئے  میں  یہوداہ میں  آگ لگاؤں  گا اور یہ آگ یروشلم کے  قلعوں  کو فنا کرے  گی۔”

6 خداوند یہ کہتا ہے  : ” میں  اسرائیل کو ان کے  کئی گنا ہوں  کے  لئے  سزا ضرور دوں  گا۔کیوں ؟ کیونکہ انہوں  نے  چاندی کے  چند سکوں  کے  لئے  صادق لوگوں  کو بیچ دیا۔ انہوں  نے  ایک جوڑی جوتے  کے  لئے  غریب لوگوں  کو بیچا۔

7 انہوں  نے  ان غریب لوگوں  کو دھکہ دیکر منہ کے  بل گرا یا اور وہ ان کو کچلتے  ہوئے  گئے۔ انہوں  نے  خاکسار لوگوں  کی ایک نہ سنی۔باپ اور بیٹا ایک ہی عورت کے  ساتھ جنسی تعلقات قائم کئے۔ انہوں  نے  میرے  مقدس نام کی بے  حرمتی کی اور اسے  تباہ کیا۔

8 انہوں  نے  غریبوں  کے  کپڑوں  کو لیا اور ان پر غالیچہ کی طرح تب تک بیٹھے  جب تک کہ وہ قربان گاہ پر عبادت کرتے  رہے۔ انہوں  نے  غریبوں  کے  کپڑوں  کو گروی رکھا اور سکّے  قرض کے  طور پر دیئے۔ انہوں  نے  لوگوں  کو جرمانہ دینے  پر مجبور کیا اور اس جرمانہ کی رقم سے  اپنے  خدا کی ہیکل میں  پینے  کے  لئے  مئے  خریدی۔

9 ” حالانکہ میں  نے  ہی ان کے  سامنے  اموریوں  کو فنا کیا۔ جو دیواروں  کی مانند بلند اور بلوطوں  کی مانند مضبوط تھے۔ وہاں  میں  نے  ہی اوپر سے  ان کا پھل برباد کیا اور نیچے  سے  ان کی جڑی کا ٹیں۔

10 ” وہ میں  ہی تھا جو تمہیں  مصر سے  نکال کر لا یا۔ چالیس برس تک میں  تمہیں  بیابان سے  ہوتے  ہوئے  لا یا۔ میں  نے  تمہیں  اموریوں  کی زمین پر قبضہ کر لینے  میں  مدد دی۔

11 میں  نے  تمہارے  کچھ بیٹوں  کو نبی چنا۔ میں  نے  تمہارے  نو جوان آدمیوں  میں  سے  کچھ کو نذیری بنا یا۔ اے  بنی اسرائیل! کیا یہ سچ نہیں  ہے  ” خداوند نے  یہ سب کہا

12 ” لیکن تم لوگوں  نے  نذیریوں  کو مئے  پلائی۔ تم نے  نبیوں ک نبوت کرنے  سے  رو کا۔

13 تم لوگ میرے  لئے  بھاری بوجھ کی طرح ہو۔ میں  سا گاڑی کی طرح ہوں  جو ڈھیر سا اناج لدے  ہونے  کی سبب جھکی ہوئی ہو۔

14 کوئی بھی شخص بچ کر نکل نہیں  پائے  گا۔ یہاں  تک کہ تیز دوڑنے  وا لا بھی۔زور آور کا زور بھی نہیں  رہے  گا۔ سپاہی اپنے  کو نہیں  بچا پائیں  گے۔

15 کمان اور تیر والے  بھی نہیں  بچائے  جائیں  گے۔ تیز دوڑنے  والے  بھی نہیں  بچیں  گے۔ اور تیز سوار بھی اپنی جان نہیں  بچا پائیں  گے۔

16 اس دن جنگجوؤں  میں  سے  جو کوئی سچ مچ دلا ور ہے  حفاظت کے  لئے  ننگا دوڑیں  گے۔ ” خداوند نے  یہ فرمایا تھا۔

 

 

 

باب :  3

 

1 اے  بنی اسرائیل! اس پیغام کو سنو۔خداوند تمہارے  با رے  میں  یہ سب کہا ہے۔ یہ پیغام ان سبھی خاندانوں  ( اسرائیل ) کے  لئے  ہے۔ جنہیں  میں  مصر سے  با ہر لا یا ہو ں۔

2 ” زمین پر کئی خاندان ہے۔ لیکن میں  نے  تمہیں  خصوصی طو پر دھیان دینے  کے  لئے  چُنا۔ اور تم میرے  خلاف ہو گئے  اس لئے  میں  تمہیں  تمہارے  سبھی گنا ہوں  کے  لئے  سزا دوں  گا۔

3 کیا وہ لوگ ایک ساتھ چلیں  گے  جب تک کہ وہ اس پر راضی نہ ہو؟

4 کیا شیر اپنا شکار پکڑے  بغیر جنگل میں  گر جے  گا؟ کیا جوان شیر غار میں  گر جے  گا اگر یہ کوئی شکار نہ پکڑا ہو۔

5 کیا گو ریا جال میں  پڑے  گی جب تک اس میں  دانا ڈالا نہ جائے۔ کیا جال کسی کو پکڑے  بغیر بند ہو گا۔

6 اگر کسی خطرے  کا انتباہ بگل بجا کر کرد یا جائے  تو کیا لوگ خوف سے  کانپ نہیں  اٹھیں  گے ؟ اگر کوئی مصیبت کسی شہر میں  آئی تو یہ اس لئے  نہیں  کہ اسے  خداوند نے  بھیجا ہے ؟

7 میرا مالک خداوند کچھ بھی کرنے  کا ارادہ کر سکتا ہے۔ لیکن کچھ بھی کرنے  سے  پہلے  وہ اپنے  نبیوں  کو اپنے  پوشیدہ منصوبے  بتائے  گا۔

8 اگر کوئی شیر دھاڑے  گا تو لوگ خوفزدہ ہوں  گے۔ خداوند نے  فرمایا کہ کون نبوت نہ کرے  گا۔

9 اشدود اور مصر کے  قلعوں  میں  جاؤ اور منادی کرو اور کہو : ” سامریہ کے  پہاڑوں  پر جمع ہو جاؤ اور دیکھو اس میں  کیسا ہنگامہ اور ظلم ہے۔ کیوں ؟ کیوں  کہ لوگ نہیں  جانتے  کہ صحیح زندگی کیسے  گذاری جا تی ہے۔ وہ دیگر لوگوں  کے  ساتھ ظلم کرتے  تھے۔ وہ دیگر لوگوں  سے  چیزیں  لیتے  تھے  اور ان چیزوں  کو اپنے  قصروں  میں  چھپاتے  تھے۔ ان کے  خزانے  جنگ میں  لی گئی چیزوں  سے  بھرے  ہیں۔”

10

11 اس لئے  خداوند کہتا ہے   “اس ملک میں  ایک دشمن آئے  گا۔ وہ دشمن تمہاری قوت لے  لے  گا وہ ان چیزوں  کولے  گا جنہیں  تم نے  اپنے  قصروں  میں  چھپائے  رکھا ہے۔ ”

12 خداوند یہ سب فرماتا ہے   “جس طرح سے  چروا ہا بھیڑ کا دو ٹانگ یا کان کا ایک ٹکڑا شیر کے  منہ سے  کھینچ کر بچاتا ہے۔ اسی طرح( کچھ ) بنی اسرائیل جو سامریہ میں  رہتے  ہیں  بچائے  جائیں  گے۔ وہ صرف بسترہ کا کونا یا پلنگ کا کپڑا بچائیں  گے۔

13 میرے  مالک خداوند قادر مطلق یہ کہتا ہے  : “یعقوب ( اسرائیل ) کے  خاندان کے  لوگوں  کو ان باتوں  کی تنبیہ دو۔

14 اسرائیل نے  گناہ کیا اور میں  ان گنا ہوں  کی انہیں  سزادوں  گا۔ میں  بیت ایل کی قربان گا ہوں  کو بھی فنا کر دوں  گا اور قربان گاہ کے  سینگ کٹ کر زمین پر گر جائیں  گے۔

15 اور خداوند فرماتا ہے   ” میں  زمستانی اور تا بستانی گھروں  کو برباد کروں  گا۔ اور ہاتھی کے  دانت سے  بنے  ہوئے  گھروں  کو بھی مسمار کیا جائے  گا۔اس کے  علاوہ بہت سے  گھروں  کو تباہ کئے  جائیں  گے۔ ”

 

 

 

باب :  4

 

1 اے  بسن کی گایو جو کو ہِ سامر یہ پر رہتی ہو میری بات سنو! تم غریب لوگوں  کو چوٹ پہنچا تی ہو۔ تم ان غریبوں  کو کچلتی ہو۔ تم اپنے  اپنے  شوہروں  سے  کہتی ہو ” پینے  کے  لئے  ہمارے  لئے  کوئی مئے  لاؤ”

2 میرے  مالک خداوند نے  ایک وعدہ کیا۔اس نے  اپنی پاکیزگی کی قسم کھائی کہ تم پر مصیبتیں  آئیں  گی۔ لو گ ہک کا استعمال کریں  گے  اور تمہیں  قیدی بنا کر لے  جائیں  گے۔ وہ تمہارے  بچوں  کولے  جانے  کے  لئے  مچھلیوں  کے  ہک کا استعمال کریں  گے۔

3 تمہارا شہر تباہ ہو گا۔ تم عورتو دیواروں  کے  سوراخوں  سے  شہر کے  با ہر جاؤ گی۔ تم کو ہر مون میں  پھینکا جائے  گا۔

4 ” اور خداوند یہ فرماتا ہے  : بیت ایل جاؤ اور گناہ کرو اور جلجال جاؤ اور مزید گناہ کرو۔ ہر صبح اپنی قربانیاں  اور ہر تیسرے  روز اپنی فصل کا دسواں  حصہ لاؤ۔

5 اور شکر گذاری کی قربانی خمیر کے  ساتھ آگ پر پیش کرو اور رضا کی قربانی کا اعلان کرو اور اس کو مشہور کرو کیوں ؟ کیوں  کہ اے  بنی اسرائیل یہ سب کام تم کو پسند ہیں۔” خداوند فرماتا ہے  :

6 ” میں  نے  تمہیں  اپنے  پاس بلانے  کے  لئے  کئی کام کئے۔ میں  نے  تمہیں  کھانے  کو کچھ بھی نہیں  دیا۔ تمہارے  کسی بھی شہر میں  خوراک نہیں  تھی لیکن تم میرے  پاس نہیں  لوٹے۔ ” خداوند نے  یہ سب کچھ کہا۔

7 ” میں  نے  بارش کو بھی روک دیا اور یہ فصل پکنے  کے  تین مہینے  پہلے  کیا گیا تھا۔اس لئے  کوئی فصل نہیں  ہوئی۔تب میں  نے  ایک شہر پر بارش برسائی لیکن دوسرے  شہر پر نہیں۔ بارش زمین کے  ایک خطہ میں  ہوئی۔ لیکن ملک کے  دوسرے  خطہ میں  زمین بہت سو کھ گئی۔

8 اس لئے  دو یا تین شہروں  سے  لوگ پانی لینے  کے  لئے  دوسرے  شہروں  کو لڑ کھڑاتے  ہوئے  گئے  مگر وہاں  بھی ہر ایک شخص کے  لئے  پانی میسر نہیں  ہوا۔ تو بھی تم میرے  پاس مدد کے  لئے  نہیں  آئے۔ ” خداوند نے  یہ سب کہا۔

9 ” میں  نے  تمہاری فصلوں  کو گرمی اور بیماری سے  مار ڈالا۔ اور تمہارے  بے  شمار باغ اور تاکستان اور انجیر اور زیتون کے  دخت ٹڈیوں  نے  کھا لئے  تو بھی تم میری طرف رجوع نہ ہوئے۔ خداوند نے  یہ سب کہا۔

10 ” میں  نے  مصر کی جیسی وبا تم پر بھیجی میں  نے  تمہارے  جوانوں  کو تلوار سے  قتل کیا۔ میں  نے  تمہارے  گھوڑے  لے  لئے۔ میں  نے  تمہارے  ڈیروں  کو لاشوں  کی بدبو سے  بھرا۔ لیکن تب بھی تم میرے  پاس مدد کو نہیں  لوٹے۔ ” خداوند نے  یہ سب کہا۔

11 ” میں  نے  تمہیں  ویسے  ہی برباد کیا جیسے  سدوم اور عمورہ کو فنا کیا تھا اور وہ شہر پوری طرح نیست و نابود کئے  گئے  تھے۔ تم آ گ سے  کھینچی گئی جلتی لکڑی کی طرح تھے۔ لیکن تم پھر بھی مدد کے  لئے  میرے  پاس نہیں  لوٹے۔ ” خداوند نے  یہ سب کہا۔

12 “اس لئے  اے  اسرائیل! میں  تمہارے  ساتھ یہ سب کروں  گا۔ میں  تمہارے  ساتھ یہ کروں  گا۔ اے  اسرائیل اپنے  خدا سے  ملنے  کے  لئے  تیار ہو جاؤ۔

13 میں  کون ہوں ؟ میں  وہی ہوں  جس نے  پہاڑوں  کو بنا یا اور ہوا کو پیدا کیا۔ وہ انسان پر اس کے  خیالات کو ظاہر کرتا ہے  اور صبح کو تاریک بنا دیتا ہے  اور زمین کے  اونچے  مقامات پر چلتا ہے۔ اس کا نام خداوند قادر مطلق ہے۔ ”

 

 

 

باب :  5

 

1 اے  بنی اسرائیل اس کلام کو جس سے  میں  تم پر نوحہ کرتا ہوں  سنو!

2 اسرائیل کی کنواری گر گئی ہے۔ وہ اب کبھی نہیں  اٹھے  گی۔ وہ اپنی زمین پر پڑی ہے۔ اس کو اٹھانے  وا لا کوئی نہیں۔

3 میرا مالک خداوند یہ کہتا ہے  : ” ہزار سپاہیوں  کے  ساتھ شہر جانے  والے  افسران صرف سو سپاہیوں  کے  ساتھ لو ٹیں  گے۔ اور سو سپاہیوں  کے  ساتھ شہر چھوڑنے  والے  افسران صرف دس سپاہیوں  کے  ساتھ لو ٹیں  گے۔

4 خداوند اسرائیل کے  گھرانے  سے  یہ کہتا ہے  : ” میری کھو ج کرتے  آؤ اور زندہ رہو۔

5 لیکن بیت ایل میں  مجھے  تلاش مت کرو۔ جلجال میں داخل نہ ہو اور عبادت کرنے  کے  لئے  بیر سبع کو نہ جاؤ۔ جلجال کے  لوگ اسیری میں  جائے  گا اور بیت ایل تباہ ہو گا۔

6 خداوند کے  پاس جاؤ اور زندہ رہو۔ اگر تم خداوند کے  یہاں  نہیں  جاؤ گے   تو یوسف کے  گھر میں  آگ لگے  گی۔ آگ یوسف کے  خاندان کو فنا کرے  گی اور بیت ایل میں  سے  اسے  کوئی بھی نہیں  روک سکے  گا۔

7 اے  لوگو تم پر مصیبت ہو۔ تم نے  اچھائی کو کڑوا ہٹ میں  بدل دیا۔ تم نے  انصاف کو مار دیا اور دھول میں  پھینک دیا ہے۔

8 تجھے  مدد کے  لئے  خداوند کے  پاس جانا چاہئے۔ یہ وہی ہے  جس نے  ثرّیا اور جبّار کو بنایا۔ اس نے  اندھیرے  کو دن میں  اور دن کی روشنی کو اندھیرے  بدل دیتا ہے۔ وہ سمندر کے  پانی کو بلاتا ہے  اور روئے  زمین پر پھیلاتا ہے  اس کا نام خداوند ہے۔ ”

9 وہ قلعہ دار شہروں  کے  مضبوط محلوں  کو ڈھا دیتا ہے۔

10 اگر کوئی شخص سماجی جگہوں  پر جاتے  ہیں  اور ان بُرے  کاموں  کے  خلاف بولتے  ہیں  جنہیں  لوگ کیا کرتے  ہیں۔ لوگ ان سے  نفرت کرتے  ہیں۔ وہ سچ کہتا ہے۔ لیکن لوگ اس سے  سخت نفرت کرتے  ہیں۔

11 تم مسکینوں  کو پامال کرتے  ہو اور ظلم کر کے  ان سے  گیہوں  چھین لیتے  ہو۔اور اس دولت کا استعمال تم ترا شے  ہوئے  پتھروں  سے  خوبصورت محل بنانے  میں  کرتے  ہوں  لیکن تم ان محلوں  میں  نہیں  رہو گے  اور جو نفیس تاکستان تم نے  لگائے  ان کی مئے  نہ پیو گے۔

12 کیونکہ میں  تمہارے  بے  شمار خطاؤں  اور تمہارے  بڑے  بڑے  گنا ہوں  سے  واقف ہوں۔ تم صادق کو ستاتے  ہو اور رشوت لیتے  ہو اور پھاٹک میں  غریبوں  کی حق تلفی کرتے  ہو۔

13 اس وقت دانشمند چپ رہیں  گے۔ کیوں ؟ کیونکہ یہ بُرا وقت ہے۔

14 تم کہتے  ہو کہ خدا ہمارے  ساتھ ہے۔ اس لئے  اچھے  کام کرو بُرے  نہیں  تب تم زندہ رہو گے  اور خداوند خدا قادر مطلق سچ ہی تمہارے  ساتھ ہو گا۔

15 بُرائی سے  نفرت کرو۔اچھائی سے  محبت کرو۔ عدالتوں  میں  عدل وا پس لاؤ اور تب شاید کہ خداوند خدا قادر مطلق یوسف کے  بچے  ہوئے  گھرانے  کے  لوگوں  پر رحم کرے  گا۔

16 یہی سبب ہے  کہ میرا مالک خداوند قادر مطلق یہ کہہ رہا ہے   ” سب بازاروں  میں  نوحہ ہو گا اور سب گلیوں  میں  افسوس افسوس! چلائیں  گے  اور ان کو جو نوحہ گری میں  مہارت رکھتے  ہیں  نوحہ کے  لئے  بھاڑے  پر بلائے  جائیں  گے۔

17 لوگ سب تاکستانوں  میں  روئیں  گے  کیوں ؟ کیوں  کہ میں  وہاں  سے  نکلوں  گا اور تمہیں  سزادوں  گا۔” خداوند نے  یہ سب کہا ہے۔

18 تم میں  سے  کچھ خداوند کے  انصاف کے  خصوصی دن کو دیکھنا چاہتے  ہیں۔ تم اس دن کو کیوں  دیکھنا چاہتے  ہو؟ خداوند کا خصوصی دن تمہارے  لئے  تاریکی لائے  گا روشنی نہیں۔

19 تم اس شخص کی مانند ہو جو شیر کی نظروں  سے  اپنی جان بچا کر بھاگ جاتا ہے  لیکن ریچھ کا اس پر حملہ ہوتا ہے۔ یا پھر اس شخص کی مانند جو سہا رے  کے  لئے  دیوار میں  ٹیک لگاتا ہے  لیکن سانپ اسے  ڈنس لیتا ہے۔

20 یقیناً خداوند کا دن روشنی کے  بجائے  اندھیرا ہو گا۔ بلکہ سخت تاریکی ہو گی اور روشنی کی چمک بالکل نہیں  ہو گی۔

21 ” میں  تمہاری عیدوں  سے  نفرت کرتا ہوں  اور میں  تمہاری مقدس محفلوں  سے  بھی خوش نہ ہوں  گا۔

22 اور اگر چہ تم جلانے  کی قربانیاں  اور اناج کی قربانیاں  پیش کرو تو بھی میں  ان کو قبول نہ کروں  گا۔ اور تمہارے  فربہ جانوروں  کی ہمدردی کی قربانیوں  کو خاطر میں  نہ لاؤں  گا۔

23 تم یہاں  سے  اپنے  شور و غل والے  گیتوں  کو دور کرو میں  تمہارے  بگل کی آواز نہ سنوں  گا۔

24 تمہیں  اپنے  سارے  ملک میں  عدالت کو ندی کی طرح بہنے  دینا چاہئے  اور صداقت کو بڑی نہر کی مانند بہنے  دو جو کبھی نہیں  سو کھتی۔

25 اے  اسرائیل! کیا تم نے  چالیس برس تک بیابان میں  میرے  حضور تحفہ کے  طور پر قربانی پیش کی؟

26 تم تو ملکوم کا خیمہ اور کیوان کے  بت جو تم نے  اپنے  لئے  بنائے  اٹھائے  پھرتے  تھے۔

27 اس لئے  میں  تمہیں  قیدی بنا کر دمشق کے  پار پہنچاؤں  گا۔” یہ سب خداوند کہتا ہے۔ اس کا نام خدا قادر مطلق ہے۔

 

باب :  6

 

1 صیون کے  تم لوگوں  میں  سے  کچھ کی زندگی بہت آرام کی ہے۔ اور کو ہستان سامریہ کے  کچھ لوگ اپنے  کو محفوظ محسوس کرتے  ہیں۔ لیکن تم پر کئی مصیبتیں  آئیں  گی۔ قوموں  کے  اہم شہروں  کے  تم عزت دار لوگ ہو۔ بنی اسرائیل انصاف پانے  کے  لئے  تمہارے  پاس آتے  ہیں۔

2 جاؤ اور کلنہ پر توجّہ دو اور وہاں  سے  حمات عظیم تک سیر کرو اور پھر فلسطینیوں  کے  جات کو جاؤ۔ کیا تم ان مملکتوں  سے  اچھے  ہو؟ نہیں  ان کے  ملک تمہارے  ملک سے  بڑے  ہیں۔

3 تم لوگ وہ کام کر رہے  ہو۔ جو سزا کے  دن کو قریب لاتا ہے۔ تم ظلم کی کر سی کو نزدیک اور نزدیک لا رہے  ہو۔

4 لیکن تم سبھی سہولتوں  کی خوشیاں  حاصل کرتے  ہو۔ تم ہاتھی کے  دانت کے  پلنگ پر سوتے  ہو اور اپنے  بستر پر آرام کرتے  ہو۔ تم جھنڈ سے  چھوٹے  میم نے  کو اور تھان سے  چھوٹے  بچھڑوں  کو کھاتے  ہو۔

5 تم اپنا بربط بجاتے  ہو اور داؤد کی طرح موسیقی کی نئی دھن تیار کرتے  ہو۔

6 تم خوبصورت پیالوں  میں  مئے  پیتے  ہو اور بہترین عطر سے  اپنا بدن ملتے  ہو اور تمہیں  اس کے  لئے  گھبراہٹ بھی نہیں  کہ یوسف کا خاندان فنا کیا جا رہا ہے۔

7 وہ لوگ اب اپنے  بستر پر آرام کر رہے  ہیں۔ لیکن ان کے  اچھے  وقت کا خاتمہ ہو گا۔ وہ قیدی کی طرح غیر ملکوں  میں  پہنچائے  جائیں  گے  اور وہ پہلے  پکڑے  جانے  وا لوں  میں  سے  کچھ ہوں  گے۔

8 میرے  مالک خداوند نے  یہ قسم کھائی تھی۔خداوند خدا قادر مطلق یوں  فرماتا ہے   ” میں  یعقوب کے  تکبر سے  نفرت رکھتا ہوں  اور اس کے  محلوں  سے  مجھے  نفرت ہے  اس لئے  میں  شہر کو اس کی ساری آبادی کے  ساتھ دشمنوں  کے  ہاتھوں  میں  سونپ دوں  گا۔”

9 اس وقت کسی گھر میں  اگر دس لوگ زندہ بچیں  گے  تو وہ بھی مر جائیں  گے

10 جب کوئی مر جائے  گا تب اس کا کوئی رشتے  دار لاش لینے  آئے  گاتا کہ وہ اسے  با ہر لے  جا سکے  اور جلا سکے۔ رشتے  دار گھر سے  ہڈیاں  لے  جائے  گا۔ لوگ ہر اس شخص سے  جو گھر کے  اندر چھُپا ہو گا پو چھیں  گے   ” کیا تمہارے  پاس کوئی اور لاش ہے ؟ ” وہ شخص جواب دے  گا “نہیں  ․․․” تب اس کے  رشتہ دار کہیں  گے۔ ” چپ! ہمیں  خداوند کا نام نہیں  لینا چاہئے۔ ”

11 دیکھو! خداوند خدا حکم دے  گا اور بڑے  بڑے  محل ٹکڑے  ٹکڑے  کر دیئے  جائیں  گے  اور چھوٹے  چھوٹے  گھر چھوٹے  چھوٹے  ٹکڑو میں  توڑ دیئے  جائیں  گے۔

12 کیا گھوڑے  چٹانوں  پر دوڑتے  ہیں ؟ یا کوئی بیلوں  سے  سمندر پر ہل چلائے  گا؟ لیکن تم نے  انصاف کو زہر میں  اور جائز کو کڑوا زہر میں  بدل دیا ہے۔

13 تم بے  حقیقت چیزوں  پر فخر کرتے  ہو اور کہتے  ہو ” ہم نے  اپنے  لئے  اپنی طاقت سے  سینگ نہیں  نکالے۔ ”

14 ” لیکن اے  اسرائیل! میں  تمہارے  خلاف ایک قوم کو بھیجوں  گا۔ وہ قوم سارے  ملک میں  مصیبت لائے  گی یہ قوم مدخل حمات کے  راستے  سے  لے  کر وادی عربہ تک پریشان کرے  گی۔” خداوند خدا قادر مطلق نے  یہ سب کہا۔

 

 

 

باب :  7

 

1 خداوند نے  مجھے  رو یا دکھائی۔ اور کیا دیکھتا ہوں  کہ اس نے  دوسری فصل کی ابتداء میں  ٹڈیاں  پیدا کیں۔بادشاہ کی فصل کٹائی کے  بعد یہ دوسری فصل تھی۔

2 ٹڈیوں  نے  ملک کی ساری گھاس کھا ڈالی۔اس کے  بعد میں  نے  کہا ” میرے  مالک خداوند میں  التجا کرتا ہوں  ہمیں  معاف کر! یعقوب بچ نہیں  سکتا! وہ بہت چھوٹا ہے۔ ”

3 تب خداوند نے  اس کے  با رے  میں  اپنے  منصوبہ کو بدلا۔ خداوند نے  کہا “ایسا نہیں  ہو گا۔”

4 میرے  مالک خداوند نے  مجھے  یہ چیزیں  دکھائی : میں  نے  دیکھا کہ خداوند خدا آگ کو بارش کی طرح برسنے  کے  لئے  بلا رہا ہے۔ آگ بحرِ عمیق کو نگل گئی۔ آگ نے  زمین کو کھا لیا۔

5 لیکن میں  نے  کہا ” خداوند خدا میں  تم سے  التجا کرتا ہوں  ٹھہر یعقوب بچ نہیں  سکتا وہ بہت چھوٹا ہے۔ ”

6 تب خداوند خدا نے  اس کے  با رے  میں ا پنا منصوبہ بدلا۔خداوند خدا نے  کہا “ایسا نہیں  ہو گا۔ ”

7 خداوند نے  مجھے  دکھا یا : خداوند ایک دیوار کے  سہا رے  ایک سا ہول اپنے  ہاتھ میں  لے  کر کھڑا تھا۔ دیوار ساہول سے  سیدھی کی گئی تھی۔

8 خداوند نے  مجھ سے  کہا “عاموس تم کیا دیکھتے  ہو؟ ” میں  نے  کہا “ساہول ” تب میرے  مالک نے  کہا ” دیکھو میں  بنی اسرائیل پر ساہول کا استعمال کروں  گا۔ میں  اب ان کی عیاری کو اور مزید نظر انداز نہیں  کروں  گا۔ میں  ان بُرے  حصوں  کو کاٹ پھینکوں  گا۔

9 اسحاق کے  اونچے  مقام برباد ہوں  گے  اور اسرائیل کے  مقدس ویران ہو جائیں  گے۔ اور میں  یربعام کے  گھرانے  کے  خلاف تلوار لے  کر اٹھوں  گا۔”

10 بیت ایل کے  کاہن امصیاہ نے  اسرائیل کے  بادشاہ یربعام کو بھیجا : ” عاموس تیرے  خلاف اسرائیل کی زمین میں  سازش کا منصوبہ بناتا ہے  اور وہ بہت سی باتیں  کہتے  آ رہے  ہیں  کہ زمین اس کی ساری باتوں  کو برداشت نہیں  کر سکتی۔

11 عاموسنے  کہا ” یربعام تلوار سے  مارا جائے  گا اور بنی اسرائیلیوں  کو قیدی بنا کر ملک سے  با ہر لے  جایا جائے  گا۔”

12 امصیاہ نے  بھی عاموس سے  کہا ” اے  غیب بین تو یہوداہ کے  ملک کو بھاگ جا۔ وہیں  کھا و پی اور نبوت کر۔

13 لیکن یہاں  بیت ایل میں  اور زیادہ نبوت نہ کر یہ بادشاہ کی مقدس جگہ ہے۔ یہ اسرائیل کی ہیکل ہے۔ ”

14 تب عاموسن ے  امصیاہ کو جواب دیا کہ میں  نہ نبی ہوں  اور نہ ہی نبی کا بیٹا بلکہ چروا ہا اور گولر کا پھل بٹورنے  وا لا ہو ں۔

15 اور جب میں  گلّہ کے  پیچھے  پیچھے  جاتا تھا تو خداوند نے  مجھے  لیا اور فرمایا کہ جا میری قوم اسرائیل میں  نبوت کر۔

16 اس لئے  خداوند کے  کلام کو سنو۔ تم مجھ سے  کہتے  ہو “اسرائیل کے  خلاف نبوت مت کرو۔اسحاق کے  گھرانے  کے  خلاف کلام نہ کرو۔”

17 لیکن خداوند کہتا ہے  : ” تمہاری بیوی شہر میں  فاحشہ بنے  گی۔ تمہارے  بیٹے  اور بیٹیاں  تلوار سے  ہلاک ہوں  گے۔ اور تیری زمین جریب سے  تقسیم کی جائے  گی اور تم ناپاک ملک میں  رہو گے۔ بنی اسرائیل یقیناً ہی اس ملک سے  قیدی کی طرح لے  جائے  جائیں  گے۔ ”

 

 

 

باب :  8

 

1 خداوند نے  مجھے  یہ دکھا یا۔ میں  نے  تابستانی میوؤں  کی ایک ٹوکری دیکھی۔

2 خداوند نے  پو چھا ” عاموس تم کیا دیکھتے  ہو؟ ” میں  نے  کہا ” گرمی کے  موسم کے  پھلوں  کی ایک ٹوکری۔” تب خداوند نے  مجھ سے  کہا ” یہ میرے  نبی اسرائیلیوں  کے  ختم ہونے  کا وقت ہے۔ میں  ان کے  گنا ہوں  کو اور نظرانداز نہیں  کر سکتا۔”

3 مقدس کے  نغمے  ماتم بن جائیں  گے۔ میرے  مالک خداوند نے  یہ سب کہا ہے۔ بہت سی لاشیں  پڑی ہوں  گی۔ سنّاٹے  میں  لوگ لاشوں  کولے  جائیں  گے  اور ان کے  ڈھیر لگا دیں  گے۔ ”

4 میری سنو! لو گو تم مسکینوں  کو کچلتے  ہو۔ تم اس ملک کے  غریبوں  کو برباد کرنا چاہتے  ہو۔

5 اے  تاجر! تم کہتے  ہو ” نئے  چاند کا دن کب گذرے  گاتا کہ ہم گلّہ بیچیں  گے ؟ سبت کا دن کب ختم ہو گا جس سے  ہم اپنا گیہوں  بازار میں  لا سکیں  گے ؟ ہم قیمتیں  بڑھا سکیں  گے   اور غلط ناپ استعمال کر سکیں  گے   ہم غلط ترازو سے  دھو کہ دے  سکیں  گے ؟

6 ہم لوگ غریبوں  کو وہ جو اپنا قرض واپس ادا نہ کر سکیں  غلام کی طرح خریدیں  گے۔ اور محتا جوں  کو ایک جوڑا جو توں  کی قیمت سے  خرید سکیں  گے۔ ہم لوگ گیہوں  کا بھو سا بھی بیچ سکیں  گے۔ ”

7 خداوند یعقوب کی فخر کی قسم کھا کر فرماتا ہے  : ” میں  ان کے  کاموں  میں  سے  ایک کو بھی ہر گز نہ بھولوں  گا۔

8 ان کاموں  کے  سبب سے  پور ی زمین کانپ جائے  گی۔اس ملک کا ہر ایک شہری ماتم کرے  گا۔ پوری سرزمین مصر کے  دریائے  نیل کی طرح اٹھے  گی اور گرے  گی۔سارا ملک چاروں  جانب سے  اچھال دیا جائے  گا۔”

9 خداوند نے  یہ باتیں  بھی کہیں  : “اس وقت میں  آفتاب کو دو پہر میں  غروب کر دوں  گا۔ میں  روزِ روشن میں  ہی زمین کو تاریک کر دوں  گا۔

10 تمہاری عیدوں  کو ماتم سے  اور تمہارے  نغموں  کو ماتم میں  بدل دوں  گا اور ہر ایک کی کمر پر ٹاٹ بندھواؤں  گا اور ہر ایک کے  سر پر چند لا پن بھیجوں  گا اور ایسا ماتم برپا کروں  گا جیسا اکلوتے  بیٹے  پر ہوتا ہے  اور اس کا انجام روزِ تلخ سا ہو گا۔”

11 خداوند کہتا ہے  : ” دیکھو وہ دن قریب آ رہے  ہیں  جب میں  ملک میں  بھکمری لاؤں  گا۔ لوگ روٹی کے  بھو کے  اور پانی کے  پیاسے  نہیں  ہوں  گے   بلکہ لوگ خداوند کے  کلام کے  بھو کے  ہوں  گے۔

12 تب لوگ مردہ سمندر سے  بحر قلزم تک اور شمال سے  مشرق تک بھٹکتے  پھریں  گے  اور خداوند کے  کلام کی تلاش میں  اِدھر اُدھر دوڑیں  گے  لیکن کہیں  نہ پائیں  گے۔

13 اس وقت حسین کنواریاں  اور جوان مرد پیاس کے  سبب بے  ہوش ہو جائیں  گے۔

14 ان لوگوں  نے  سامریہ کے  گنا ہوں  کے  نام پر قسمیں  کھائی۔ انہوں  نے  کہا “اے  دان! تیرے  خداوند کی قسم ” اور کہا ” بیر سبع کے  بتوں  کی قسم ” وہ گر جائیں  گے  اور پھر ہر گز نہ اٹھیں  گے۔ ”

 

 

 

باب :  9

 

1 میں  نے  میرے  مالک کو قربان گاہ کے  سہارے  کھڑا دیکھا۔ اس نے  کہا ” ستونوں  کے  سروں  پر مارو اور عمارتیں  ہل جائیں  گی اور لوگوں  کے  سروں  پر ستونوں  کو گراؤ۔ اور ان کے  باقی بچے  ہوئے  کو میں  تلواروں  سے  قتل کروں  گا۔ان میں  سے  ایک بھی بھاگ نہ سکے  گا۔ان میں  سے  ایک بھی بچ کر نہ نکلے  گا۔

2 اگر وہ کھود کر پاتال میں  چلے  جائیں  گے  تو میں  انہیں  وہاں  سے  کھینچ لاؤں  گا۔ اگر وہ او پر آسمان میں  چلے  جائیں  گے  تو میں  انہیں  وہاں  سے  بھی نیچے  لاؤں  گا۔

3 اگر وہ کو ہِ کرمل کی چوٹی پر جا چھپیں  تو میں  ان کو وہاں  سے  ڈھونڈ نکالوں  گا اور اگر وہ سمندر کی تہہ میں  میری نظر سے  غائب ہو جائیں  تو میں  وہاں  سانپ کو حکم دوں  گا اور وہ ان کو کاٹے  گا۔

4 اگر وہ پکڑے  جائیں  گے  اور ان کے  دشمن انہیں  لے  جائیں  گے  تو میں  تلوار کو حکم دوں  گا اور وہ انہیں  وہیں  مارے  گی۔ہاں ! میں  ان پر کڑی نگاہ رکھوں  گا۔ مگر میں  انہیں  بھلائی کے  لئے  نہیں  بلکہ بُرائی کے  لئے  اپنی نگاہ میں  رکھوں  گا۔”

5 کیونکہ میرے  مالک خداوند قادر مطلق وہ ہے  کہ اگر زمین کو چھو دے  تو وہ پگھل جائے  گی۔ تب اس سرزمین پر رہنے  والے  لوگ تمہارے  مرے  ہوئے  لوگوں  کے  لئے  روئیں  گے۔ وہ بالکل مصر کی نیل ندی کی طرح اٹھے  گا اور پھر گر جائے  گا۔

6 خداوند نے  اپنا ہاتھ با لا خانہ آسمان کے  او پر بنا یا۔اس نے  اپنے  آسمان کو زمین پر رکھا۔ وہ سمندر کے  پانی کو بلا کر روئے  زمین پر پھیلا دیتا ہے۔ اس کا نام خداوند ( یہواہ ) ہے۔

7 خداوند یہ کہتا ہے  : “اسرائیل! تم میرے  لئے  اہل کوش کی مانند ہو میں  نے  اسرائیل کو مصر سے  نکال کر با ہر لا یا۔ میں  فلسطینیوں  کو کفتور سے  لا یا اور ارامیوں  کو قیر سے۔ ”

8 دیکھو خداوند میرے  مالک کی آنکھیں  اس گنہگار مملکت پر لگی ہیں۔ خداوند یہ کہتا ہے  : ” میں  روئے  زمین سے  اسرائیل کو فنا کر دوں  گا۔ لیکن میں  یعقوب کے  گھرانے  کو پوری طرح فنا نہیں  کروں  گا۔

9 میں  اسرائیل کے  گھرانے  کو تِتر بِتر کر کے  سب قوموں  میں  بکھیر دینے  کا حکم دیتا ہوں۔ یہ اسی طرح ہو گا جیسے  کوئی شخص اناج کو چھلنی سے  چھان دیتا ہے  اچھا آٹا اس میں  سے  نکل جاتا لیکن بُرے  دانہ پھنس جاتے  ہیں۔ یعقوب کے  گھرانے  کے  ساتھ ایسا ہی ہو گا۔

10 میری قوم کے  سب گنہگار لو گ جو کہتے  ہیں  ” ہم لوگوں  کے  ساتھ کچھ بھی برا نہیں  ہو گا! مگر وہ سبھی لوگ تلوار سے  مار دیئے  جائیں  گے ! ”

11 ” داؤد کا خیمہ گر گیا ہے۔ لیکن اس وقت اس خیمہ کو میں  پھر کھڑا کروں  گا۔ میں  دیواروں  کے  سو را خوں  کو ڈھانک دوں  گا۔ میں  برباد عمارتوں  کو پھرسے  آباد کروں  گا۔ میں  اسے  ایسا بناؤں  گا جیسا وہ پہلے  تھیں۔

12 پھر وہ ادوم میں  جو لوگ بچ گئے  ہیں  انہیں  اور ان کی قوموں  کو جو میرے  نام سے  جانی جا تی ہیں  لے  جائیں  گے۔ ” خداوند نے  وہ باتیں  کہیں  اور وہ انہیں  وجود میں  لا یا جائے  گا۔

13 خداوند کہتا ہے   ” وہ وقت آ رہا ہے  جب ہر طرح کی خوراک کی بہتات ہو گی۔ ابھی لوگ پوری طرح فصل کاٹ بھی نہیں  پائے  ہوں  گے  کہ جو تائی کا وقت آ جائے  گا۔ اور انگور کچلنے  وا لا درخت سے  انگور توڑنے  والے  سے  جا ملیں  گے۔ پہاڑوں  اور پہاڑیوں  سے  مئے  بہے  گی۔

14 میں  اپنے  لوگوں  بنی اسرائیل کو جلا وطنی سے  واپس لاؤں  گا۔ وہ لوگ اجڑے  ہوئے  شہروں  کو پھر سے  بنائے  گا اور ان میں  رہے  گا۔ اور وہ لوگ تاکستان لگا کر ان کی مئے  پئیں  گے۔ وہ باغ لگائیں  گے  اور ان باغوں  کے  پھلوں  کو کھائیں  گے۔

15 میں  اپنے  لوگوں  کو ان کی زمین پر بساؤں  گا اور وہ دوبارہ اس ملک سے  نکالے  نہیں  جائیں  گے   جسے  میں  نے  دیا ہے۔ ” خداوند تمہارے  خدا نے  یہ باتیں  کہیں۔

 

 

 

 

 

 

کتاب ۳۱:  عبدیاہ

 

 

 

 

 

باب :   1

 

1 یہ عبدیاہ کی رو یا ہے۔ میرا مالک خداوند نے  ادوم کے  بارے  میں  یہ الہام کیا ہے  : ہم نے  خداوند سے  سیدھے  ایک پیغام حاصل کیا ہے  کہ قوموں  کے  درمیان ایک پیغمبر بھیجا گیا ہے   ” ہم لوگوں  کو ادوم پر حملہ کرنے  دو۔”

2 ” دیکھو ادوم! میں  نے  تمہیں  قوموں  کے  درمیان غیر اہم بنا یا ہے۔ تمام لوگ تم سے  بہت نفرت کریں  گے۔

3 تمہارا گھمنڈی نظریہ نے  تمہیں  بے  وقوف بنایا ہے  تم جو چٹانی پہاڑیوں  کے  غار میں  رہتے  ہو تم جو عظیم پہاڑی پر رہتے  ہو تمہارا گھر اونچے  پہاڑوں  پر ہے۔ تمہارا تکبرانہ سلوک تمہیں  بے  وقوف بنائے  گا۔ تم اپنے  دل میں  سوچتے  ہو ” کون مجھے  زمین پر لا سکتا ہے۔ ”

4 ” اگر چہ تم اپنا آشیانہ عقاب کی مانند بلندی پر بناؤ۔ اگر چہ تم اسے  ستاروں  کے  درمیان رکھ دو تو بھی میں  تم کو وہاں  سے  نیچے  لاؤں  گا۔” خداوند نے  فرمایا۔

5 اگر چور تمہارے  پاس آئے  اور اگر رات کے  وقت ڈاکو آئے  تو آہ! تم کیسے  برباد ہو جاؤ گے۔ کیا وہ صرف اتنا ہی چوری نہیں  کریں  گے  جتنا ان کے  لئے  کافی ہے ؟ اگر انگور توڑنے  وا تمہارے  کھیتوں  میں  آ جائے  تو کیا وہ کچھ انگور چھوڑ کر نہیں  جائیں  گے ؟

6 کیسے  عیساؤ پوری طرح لٹ جائے  گا۔ اس کا چھپا ہوا سامان پوری طرح تلاش کر لیا جائے  گا۔

7 تمہارے  سبھی حمایتی تم کو دھو کہ دیں  گے  اور وہ تم کو ملک سے  با ہر نکال دے  گا۔ تما رے  حمایتی تم پر قابض ہو جائیں  گے۔ وہ جو تمہارے  ساتھ سلامتی رکھتا ہے  وہ تمہارے  لئے  پھندا ڈالے  گا۔ وہ لوگ سوچتے  ہیں  ” وہ ایسی چیزوں  کی امید نہیں  کرتے  ہیں ! ”

8 خداوند کہتا ہے  : “اس دن میں  ادوم کے  دانشمندوں  کو نیست و نابود کروں  گا اور میں  عیساؤ کے  پہاڑ سے  سمجھداروں  کو فنا کر دوں  گا۔

9 تیمان! تمہارے  جنگجو خوفزدہ ہوں  گے  اور عیساؤ کے  پہاڑی علاقے  کا ہر شخص برباد ہو گا۔

10 اپنے  بھائی یعقوب کے  ساتھ تمہارے  ظلم کی وجہ سے  تمہیں  شرمندہ کی جائے  گی۔ اور تم سدا کے  لئے  برباد ہو جاؤ گے۔

11 اس دن جب تم ایک جانب کھڑے  ہو گئے   اس دن جب غیر ملکی اس کی دولت لوٹ لئے   اس وقت جب اجنبی اس کے  پھاٹکوں  میں  گھس آئے  اور یروشلم کے  لئے  قرعہ ڈالے   تم بھی ان کی مانند ان میں  سے  ایک تھے۔

12 تمہیں  اپنے  بھائی پر ان کی بد نصیبی کے  دن حقارت کی نظر سے  نہیں  دیکھنا چاہئے  تھا۔ تمہیں  یہوداہ کے  لوگوں  پر ان کی تباہی کے  دن خوش ہونا نہیں  چاہئے  تھا۔ تمہیں  ان کی مصیبت کے  دن شیخی بگھار نا اور ان پر ہنسنا نہیں  چاہئے  تھا۔

13 تمہیں  میرے  لوگوں  کے  پھاٹکوں  کے  اندر ان کی آفت کے  دن داخل نہیں  ہونا چاہئے  تھا۔ تمہیں  ان کی آفت کے  دن جب وہ نقصان اٹھا رہے  تھے  انہیں  حقارت کی نظر سے  نہیں  دیکھنا چاہئے  تھا۔ تمہیں  ان کی آفت کے  دن ان کی دولت کو ہڑپنے  کے  لئے  اپنے  ہاتھوں  کو بڑھا نا نہیں  چاہئے  تھا۔

14 تمہیں  چوراہے  پر ان لوگوں  کو جو کہ بھاگنے  کی کوشش کر رہے  تھے  مار نے  کے  لئے  کھڑے  نہیں  رہنا چاہئے  تھا۔ تمہیں  ان کے  بچے  ہوئے  لوگوں  کو ان کی مصیبت کے  دن سونپنا نہیں  چاہئے  تھا۔

15 کیوں  کہ سبھی قوموں  کے  خلاف خداوند کا دن نزدیک ہے۔ تمہارے  لئے  بھی ویسا ہی کیا جائے  گا جیسا کہ تم نے  کئے  تھے۔ تیرا کیا ہوا تیرے  ہی سر پر واپس آئے  گا۔

16 کیوں  کہ جیسے  تم میرے  مقدس پہاڑ پر پئے۔ اس لئے  تمہارے  آس پاس کے  سبھی قوم بھی لگا تار میری سزا پیتے  رہیں  گے  اور وہ لوگ اس وقت تک پئیں  گے  اور نگلا کریں  گے  جب کہ ان لوگوں  کی وجود ختم نہ ہو جائے۔

17 کچھ بچے  لوگ کوہِ صیّون پر رہیں  گے۔ اور صیون پر ایک مقدس جگہ ہو گی۔ اور یعقوب کا خاندان اپنا حق حصہ واپس حاصل کر لے  گا۔

18 یعقوب کا خاندان آ گ اور یوسف کا خاندان شعلہ ہو گا لیکن عیساؤ کا خاندان ایک ڈنٹھل ہو گا ( جسے  فصل کاٹنے  کے  بعد کھیت میں  چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ) وہ لوگ اسے  جلا دیں  گے  اور کھا جائیں  گے۔ اور عیساؤ کے  خاندان میں  ایک بھی زندہ نہیں  بچے  گا۔” کیوں  کہ خداوند نے  کہا ہے۔

19 نیگیو کے  لوگ عیساؤ کے  پہاڑ پر قابض ہو جائے  گا۔ اور مغربی پہاڑی ترائی کے  لوگ فلسطین کی زمین پر قابض ہو جائیں  گے۔ اور وہ لوگ افرائیم اور سامریہ کی زمین کو قبضہ کر لیں  گے   اور بنیمین جلعاد پر قابض ہو جائیں  گے۔

20 اسرائیلی جلا وطن اس کی فوج کنعانیوں  کی زمین صاریت تک قبضہ کر لیں  گی۔ یروشلم کا جلا وطن جو کہ سفا راد میں  ہیں  نیگیو کے  شہروں  پر قبضہ کر لے  گا۔

21 رہائی پانے  والے  کوہِ عیساؤ وا لوں  پر حکومت کرنے  کے  لئے  کو ہِ صیون پر جائیں  گے  اور بادشاہت خداوند کی ہو گی۔

 

 

 

 

 

 

کتاب ۳۱: یُونس

 

 

 

 

 

باب :  1

 

1 خداوند کا کلام یونس بن امِتّی پر نازل ہوا۔ خداوند نے  کہا

2 ” نینوہ ایک بڑا شہر ہے۔ وہاں  کے  لوگ برے  کام کر رہے  ہیں  ان میں  سے  بہت سی شرارتوں  کے  بارے  میں  میں  نے  سنا ہے۔ اسرائیل تو اس شہر میں  جا اور وہاں  کے  لوگوں  کو بتا کہ وہ ان برے  کاموں  کو کرنا چھوڑ دے۔ ”

3 یونسنے  خدا کی فرمانبرداری سے  انکار کیا اور بجائے  اس کے  وہ خداوند سے  کہیں  دور بھاگنے  کی کو شش کی۔ وہ یافا کی جانب چلا گیا۔ اور وہاں  اسے  دور کے  شہر ترسیس کو جانے  کا جہاز ملا اور وہ کرایہ دیکر اس پر سوار ہوا تاکہ خداوند کے  حضور سے  ترسیس کو اہل جہاز کے  ساتھ فرار ہو جائے۔

4 لیکن خداوند نے  سمندر میں  ایک بھیانک طوفان اٹھا دیا۔ آندھی سے  سمندر میں  تھپیڑے  اٹھنے  لگے  اور اندیشہ تھا کہ جہاز تباہ ہو جائے۔

5 تب ملّاح خوفزدہ ہوئے  اور ہر ایک نے  اپنے  جھوٹے  خداوند کو مدد کے  لئے  پکارا۔ تب انہوں  نے  جہاز کا سارا مال کو سمندر میں  پھینک دیا۔تا کہ اسے  ہلکا کریں۔ لیکن اس کے  با وجود یونس جہاز کے  اندر جا کر لیٹ گیا اور اسے  نیند آ گئی۔

6 تب جہاز کا کپتان یونس کو دیکھا اور کہنے  لگا ” اٹھ! تو کیوں  سو رہا ہے ؟ اپنے  خداوند کو پکار ہو سکتا ہے   تیرا خداوند تیری پکار سن لے  اور ہمیں  بچا۔ ”

7 لوگ پھر آپس میں  کہنے  لگے   ” ہمیں  یہ جاننے  کے  لئے  کہ ہم پر یہ مصیبت کس کی وجہ سے  آ رہی ہے  قرعہ ڈالنا چاہئے۔ ” چنانچہ لوگوں  نے  قرعہ ڈالا اور جس سے  ظاہر ہوا کہ مصیبت یونس کے  سبب آ رہی ہے۔

8 اس پر لوگوں  نے  یونس سے  کہا ” یہ تمہارا قصور ہے  جس کے  سبب یہ مصیبت ہم پر پڑ رہی ہے۔ برائے  مہربانی ہمیں  بتا کہ تیرا پیشہ کیا ہے ؟ تو کہاں  سے  آ رہا ہے ؟ تیرا وطن کہاں  ہے  اور تو کس قوم سے  ہو؟ ”

9 یونس نے  لوگوں  سے  کہا ” میں  عبرانی ہوں  اور آسمان کے  خداوند کی عبادت کرتا ہوں۔ وہ وہی خدا ہے  جس نے  بحر و بر کو بنا یا ہے۔ ”

10 یونس نے  لوگوں  سے  کہا کہ وہ خداوند سے  دور بھاگ رہا ہے   جب لوگوں  کو اس بات کا پتہ چلا تو وہ بہت زیادہ خوفزدہ ہوئے۔ لوگوں  نے  یونس سے  پوچھا ” تو نے  اپنے  خدا کے  خلاف کیا بری بات کہی ہے ؟ ”

11 اُدھر آندھی طوفان اور سمندر کی لہریں  تیز سے  تیز تر ہوتی جا رہی تھیں۔ اس لئے  لوگوں  نے  یونس سے  کہا ” ہمیں  اپنی حفاظت کے  لئے  کیا کرنا چاہئے۔ سمندر کو پر سکون کرنے  کے  لئے  ہمیں  تیرے  ساتھ کیا کرنا چاہئے ؟ ”

12 یونس نے  لوگوں  سے  کہا ” میں  جانتا ہوں  کہ میری ہی وجہ سے  سمندر میں  یہ طوفان آیا ہے۔ اس لئے  تم لوگ مجھے  سمندر میں  پھینک دو اس سے  طوفان تھم جائے  گا۔”

13 بجائے  اس کے  ملّاح جہاز کو واپس کنارے  لانے  کی کوشش کرنے  لگے۔ لیکن وہ ایسا نہیں  کر پائے۔ کیونکہ آندھی طوفان اور سمندر کی لہریں  بہت طاقتور تھیں۔ اور وہ تیز تر ہوتی چلی جا رہی تھیں۔

14 اس لئے  ملّاح نے  خداوند سے  دعا کی ” اے  خداوند! اس آدمی  کو سمندر میں  پھینکنے  کے  بعد اسے  مار نے  کی وجہ سے  ہمیں  مت مارو اور برائے  مہربانی اور ایک معصوم شخص کو مار نے  کا ہم لوگوں  کو مجرم مت بنا۔ سچ مچ میں  تو خداوند ہے   اور تو جو چاہتا ہے  وہی کر۔”

15 چنانچہ لوگوں  نے  یُونس کو سمندر میں  پھینک دیا۔ طوفان رک گیا سمندر پر سکون ہو گیا۔

16 جب لوگوں  نے  یہ دیکھا تو وہ خداوند ڈرنے  لگے  اور اس کا احترام کرنے  لگے  انہوں  نے  خداوند کے  حضور قربانی پیش کی اور خداوند سے  وعدہ کیا۔

17 یُونس جب سمندر میں  گرا تو خداوند نے  یُونس کو نگل جانے  کے  لئے  ایک بہت بڑی مچھلی بھیجی۔ یُونس تین دن اور تین رات تک اس مچھلی کے  پیٹ میں  رہا۔

 

 

 

باب :  2

 

1 یونس جب مچھلی کے  پیٹ میں  تھا تو اس نے  خداوند اپنے  خدا سے  دعا کی۔ یونسنے  کہا

2 ” میں  گہری مصیبت میں  تھا۔ میں  نے  خداوند سے  التجا کی اور اس نے  مجھ کو جواب دیا۔ میں  قبر کی گہرائی میں  تھا۔ اے  خداوند میں  نے  تجھے  پکارا اور تو نے  میری پکار سنی۔

3 ” تو نے  مجھ کوسمندر میں  پھینک دیا تھا۔ تیری طاقتور لہروں  نے  مجھے  تھپیڑے  مارے  اور میں  سمندر کے  بیچ میں  گہرا اترتا چلا گیا۔ میری چاروں  طرف بس پانی ہی پانی تھا۔

4 ” پھر میں  نے  سوچا ” اب میں  تیری نظروں  سے  دور پھینک دیا گیا ہوں۔” لیکن پھر بھی میں  تیری ہیکل کی طرف دوبارہ دیکھوں  گا۔

5 ” سمندر کا پانی مجھے  نگل لیا ہے۔ اس پانی نے  میرا منہ بند کر دیا ہے  اور میری سانس گھُٹ گئی۔ میں  گہرے  سمندر کے  درمیان اترتا چلا گیا۔ بحری نبات میرے  سر پر لپٹ گئی۔

6 میں  پہاڑوں  کی تہہ تک غرق ہو گیا۔ زمین کے  دروازے  ہمیشہ کے  لئے  مجھ پر بند ہو گئے۔ تو بھی اے  خداوند میرے  خدا تو نے  میری زندگی پاتال سے  بچائی۔

7 ” جیسا کہ میں  اپنے  ہر امیدسے  نا امید ہونے  وا لا ہی وا لا تھا تب میں  نے  خداوند کو یا دکیا ہے  خداوند میں  نے  تجھ سے  دعا کی اور تو نے  میری فریاد اپنی مقدس ہیکل میں  سنی۔

8 ” کچھ لوگ جھوٹے  خداؤں  کی پرستش کرتے  ہیں  مگر ان خداؤں  نے  کبھی سہا را نہیں  دیا۔

9 نجات تو صرف خداوند سے  آتی ہے ! ” اے  خداوند میں  تیرے  حضور قربانی پیش کروں  گا اور تیری مدح سرائی کروں  گا۔ میں  اپنی نذریں  ادا کروں  گا۔ میں  تیرا شکر ادا کروں  گا۔ میں  نے  جو وعدہ کیا ہے  اس وعدے  کو پو را کروں  گا۔”

10 پھر خداوند نے  اس مچھلی سے  کہا اور اس نے  یونس کو خشک زمین پر اپنے  پیٹ سے  با ہر اگل دیا۔

 

 

 

باب :  3

 

1 اس کے  بعد خداوند نے  یونس سے  پھر کہا

2 ” خداوند نے  کہا تو نینوہ کے  بڑے  شہر میں  جا اور وہاں  جا کر جو باتیں  میں  تجھ سے  بتاتا ہوں  اس کی منادی کر۔”

3 تب یونس خداوند کے  کلام کے  مطابق اٹھ کر نینوہ کو گیا۔ نینوہ بہت بڑا شہر تھا۔ اس کو پار کرنا تین دن کی مسا فت تھی۔

4 اس لئے  یونسنے  شہر کے  سفر کا آغا ز کیا اور سارادن چلنے  کے  بعد اس نے  لوگوں  کو پیغام دینا شروع کیا یونسنے  کہا ” چالیس دن بعد نینوہ تباہ ہو جائے  گا۔”

5 خدا کی جانب سے  ملے  اس پیغام پر نینوہ کے  لوگوں  نے  ایمان لا یا اور ان لوگوں  نے  کچھ وقت کے  لئے  کھانا چھوڑ کر اپنے  گنا ہوں  پر غور کرنے  کا فیصلہ کیا۔ لوگوں  نے  اپنا دُکھ ظاہر کرنے  کے  لئے  مخصوص قسم کے  لباس کو اپنایا۔ شہر کے  سبھی لوگوں  نے   چا ہے  وہ بہت بڑے  یا چھوٹے  ہوں  ایسا ہی کیا۔

6 نینوہ کے  بادشاہ نے  باتیں  سنی اور اس نے  بھی اپنے  بُرے  کاموں  کا غم منایا۔اس کے  لئے  بادشاہ نے  تخت چھوڑ دیا اور بادشاہی لباس کو اتار ڈالا۔ اس کے  بعد وہ بادشاہ راکھ پر بیٹھ گیا۔

7 اور بادشاہ اس کے  ارکانِ دولت کے  فرمان سے  نینوہ میں  یہ اعلان کیا گیا۔ اور اس بات کی منادی ہوئی : تھوڑے  وقت کے  لئے  کوئی انسان یا حیوان کچھ نہ کھائے  گا۔مویشی کا جھنڈ یا بھیڑوں  کا ریوڑ کھیت میں  نہ جائے  گا۔ نینوہ کے  رہنے  والے  نہ کچھ کھائے  گا اور نہ پانی پئے  گا۔

8 لیکن انسان اور حیوان ٹاٹ سے  ملبّس ہوں  اور خدا کے  حضور گریہ و زاری کریں  بلکہ ہر شخص اپنی زندگی کے  برے  راستے  کے  بدلے  اور اپنی بُری روش اور اپنے  ہاتھ کے  ظلم سے  باز آئے۔

9 تب ہو سکتا ہے  کہ خدا رحم کرے  اور اس نے  جو منصوبہ بنا یا ہے۔ ویسا نہ کرے  اور اپنے  قہر شدید سے  باز آئے  اور ہم فنا نہ ہوں۔

10 لوگوں  نے  جو باتیں  کی تھیں  انہیں  خدا نے  سنا۔ خدا نے  دیکھا کہ لوگوں  نے  بُرے  کام کرنا بند کر دیا ہے۔ اس لئے  خدا نے  اپنا ارادہ بدل لیا اور جیسا کرنے  کا اس نے  منصوبہ بنا یا تھا ویسا نہیں  کیا۔ خدا نے  لوگوں  کو سزا نہیں  دی۔

 

 

 

باب :  4

 

1 یونس اس بات پر خوش نہیں  تھا کہ خدا نے  شہر کو بچا لیا تھا۔ یونس ناراض ہوا۔

2 اس نے  خداوند سے  شکایت کرتے  ہوئے  کہا ” میں  جانتا تھا کہ ایسا ہی ہو گا! میں  تو اپنے  ملک میں  تھا۔ اور تو نے  ہی مجھ سے  یہاں  آنے  کو کہا تھا۔ اسی وقت سے  مجھے  یہ پتا تھا کہ تو اس گنہگار شہر کے  لوگوں  کو معاف کر دے  گا۔ میں  نے  اس لئے  ترسیس بھاگ جانے  کی سوچی تھی۔ میں  جانتا تھا کہ تو رحیم و کریم خدا ہے  اور لوگوں  کو سزا دینا نہیں  چاہتا مجھے  پتا تھا کہ تو شفقت میں  غنی ہے  اور عذاب نازل کرنے  سے  باز رہتا ہے۔

3 اس لئے  اے  خداوند اب میں  تجھ سے  یہ مانگتا ہوں  کہ تو مجھے  مار ڈال۔ میرے  لئے  زندہ رہنے  سے  مر جانا بہتر ہے۔ ”

4 اس پر خداوند نے  کہا ” کیا اس بارے  میں  تیرا غصہ کرنا ٹھیک ہے  صرف اس لئے  کیوں  کہ میں  نے  ان لوگوں  کو تباہ نہیں  کیا؟ ”

5 ان سبھی باتوں  سے  یونس ابھی بھی ناراض تھا۔اس لئے  وہ شہر کے  با ہر چلا گیا۔ یونس ایک ایسی جگہ پر چلا گیا تھا جو شہر کے  مشرق کی جانب تھی۔ یونسنے  وہاں  اپنے  لئے  ایک چھپّر بنا کر اس کے  سایہ میں  بیٹھا رہا کہ دیکھیں  شہر کا کیا حال ہوتا ہے۔

6 اُدھر خداوند نے  ایک بیل کو بہت تیزی سے  اگایا اور یونس کے  سر پر پھیلا دیا اور سو رج سے  سایہ دیا۔ یونس کو اس کے  بعد زیادہ آرام حاصل ہوئی۔ اس پودا کے  سبب یونس بہت شادمان ہوا۔

7 لیکن خدا نے  دوسرے  دن صبح اس پودا کو کھانے  کے  لئے  ایک کیڑا بھیجا۔ کیڑے  نے  اس پودے  کو کھانا شروع کر دیا اور اس لئے  وہ پودا مرجھا گیا۔

8 اور جب آفتاب بلند ہوا تو خدا نے  مشرق سے  لُو چلائی اور آفتاب کی گرمی سے  یونس کے  سر میں  اثر کیا اور وہ بے  تاب ہو گیا اور موت کی آرزومند ہو کر کہنے  لگا ” میرے  اُس جینے   سے  مر جانا بہتر ہے۔ ”

9 لیکن خدا نے  یونس سے  کہا ” بتا کیا تیرے  خیال میں  تیرا غصہ کرنا بہتر ہے  صرف اس لئے  کہ یہ پودا سوکھ گیا؟ ” یونسنے  جواب دیا ” ہاں  غصہ کرنا بہتر ہے   مجھے  اتنا غصہ آ رہا ہے  کہ مرنا چاہتا ہوں۔”

10 تب خداوند نے  فرمایا ” تجھے  اس پو دے  کا اتنا خیال ہے  جس کے  لئے  تو نے  کچھ محنت نہیں  کی اور نہ اسے  اگا یا۔جو ایک ہی رات میں  اُگا اور ایک ہی رات میں  سو کھ گیا۔

11 اگر تو اس پودا کے  لئے  پریشان ہیں  اور جو یہ بھی نہیں  جانتے  ہیں  کہ وہ کوئی غلط کام کر رہے  ہیں۔ اور میں  یقیناً اس شہر کو تباہ نہ کروں  گا۔”

 

 

 

 

 

 

 

کتاب ۳۳: میکاہ

 

 

 

 

 

باب : 1

 

1 خداوند کا کلام جو شاہانِ یہوداہ یو تام و آخز وحزقیاہ کی دور حکومت میں  میکاہ مورشتی پر نازل ہوا۔ میکاہ نے  سامریہ اور یروشلم کے  بارے  میں  اِن رویاؤں  کو دیکھا۔

2 اے  لوگو! تم سبھی سنو! اے  زمین اور جو کچھ زمین پر ہے   سن! میرا مالک خداوند اس مقدس ہیکل سے  آئے  گا۔ میرا مالک تمہاری مخالفت میں  ایک گواہ کی شکل میں  آئے  گا۔

3 دیکھو! خداوند اپنے  مسکن سے  با ہر آ رہا ہے۔ وہ زمین کے  بلند مقاموں  پر قدم رکھنے  کے  لئے  آ رہا ہے۔

4 خداوند خدا کے  قدموں  تلے  پہاڑ پگھل جائیں  گے   وادیاں  پھٹ کر بہنے  لگے  گی جیسے  آگ کے  سامنے  موم پگھل جاتا ہے   جیسے  ڈھلان سے  پانی اترتا ہوا بہتا ہے۔

5 یہ سب یعقوب کے  گناہ اور اسرائیل کی قوموں  کی وجہ سے  ہو گا۔ یعقوب کے  گناہ کرنے  کا سبب کیا ہے ؟ یہ سامریہ ہے ! یہوداہ میں  اونچے  مقام کہاں  ہیں ؟ یہ یروشلم ہے !

6 اس لئے  میں  نے  سامر یہ کو بیرونِ شہر میں  کھنڈروں  میں  بدل دوں  گا۔وہ ایسی جگہ ہو جائے  گی جس میں  انگور لگائے  جاتے  ہیں۔ میں  سامریہ کے  پتھروں  کو وادی میں  دھکیل دوں  گا اور میں  اس کی بنیادوں  کو باہر کر دوں  گا۔

7 ان کے  سارے  بتوں  کو توڑ کر ٹکڑے  ٹکڑے  کر دیئے  جائیں  گے۔ اس کی طوائف کی اجرت کو آگ میں  جلا دیا جائے  گا۔ میں  ان کے  جھوٹے  خداؤں  کی مورتیوں  کو تباہ کر دوں  گا۔ کیوں ؟ کیونکہ سامریہ میری بے  وفا ہو کر کافی دولت پاتا ہے۔ اس لئے  وہ سب چیزیں  ان لوگوں  کے  ذریعہ لے  لی جائیں  گی جو کہ میرا وفادار نہیں  ہے۔

8 میں  اس جلد آنے  والی بربادی کے  سبب پریشان ہوؤں  گا اور افسوس کروں  گا۔ میں  جوتے  نہ پہنوں  گا اور نہ ملبس ہوں  گا۔ گیدڑوں  کے  جیسے  زور سے  چلّاؤں  گا اور شتر مرغوں  کی مانند غم کروں  گا۔

9 سامریہ کا زخم نہیں  بھر سکتا ہے  یہ یہوداہ تک پھیل گیا ہے۔ یہ میرے  لوگوں  کے  پھاٹک تک پہنچ گیا بلکہ یہ تو یروشلم تک آ گیا ہے۔

10 اس کی بات جات میں  مت کرو اور عکّو میں  ہر گز ماتم نہ کرو۔ بیت عفرہ میں  خاک پر لوٹو۔

11 اے  سفیر کی رہنے  والی تو اپنی راہ برہنہ چلی جا اور شرمندہ ہو۔ ضانان کے  لوگ باہر نہیں  نکلیں  گے۔ بیت ایضل کے  لوگ روئیں  گے  کیوں  کہ ان لوگوں  کی حمایت تم سے  چھین لی جائے  گی۔

12 ماروت کی رہنے  والی بھلائی کے  انتظار میں  تڑپتی ہے  کیوں  کہ خداوند کی طرف سے  بلا نازل ہوئی جو یروشلم کی پھاٹک تک پہنچتی ہے۔

13 اے  لکیس کی رہنے  والی! گھوڑوں  کو رتھ میں  جوت۔ بنت صیون کے  گناہ کا آغاز ہوا کیوں  کہ اسرائیل کی خطائیں  بھی تجھ میں  پائی گئیں۔

14 اس لئے  تجھے  جات میں  مورست کو وداع کے  تحفہ دینے  ہوں  گے۔ اسرائیل کے  بادشاہوں  نے  اکذیب کے  قلعوں  پر بھروسہ کیا تھا لیکن وہ مایوس ہوئے  تھے۔

15 اے  مریسہ کی رہنے  والی! تیرے  خلاف میں  ایک شخص کو لاؤں  گا جو تیری سب چیزوں  کو چھین لے  گا۔ اسرائیل کی عظمت عدلّام میں  آئے  گی۔

16 اپنے  بال منذ والو! گنجا ہو جاؤ! کیوں  کہ تم بچوں  کے  لئے  جسے  تم پیار کرتے  ہو نوحہ کرو گے۔ اپنے  گنجا پن کو بڑھاؤ کیونکہ وہ تیرے  پاس سے  لے  کر جلا وطنی میں  لے  جائے  جائیں  گے۔

 

 

 

باب :  2

1 ان لوگوں  پر مصیبتیں  آئیں  گی جو گناہوں  کے  منصوبے  بناتے  ہیں۔ لوگ بستر میں  سوتے  ہوئے  منصوبے  بناتے  ہیں  اور صبح ہوتے  ہی ان کو عمل میں  لاتے  ہیں۔ کیوں ؟ کیوں  کہ ان کے  پاس انہیں  پورا کرنے  کی قوت ہے۔

2  3  4 اس وقت لوگ تیری ہنسی اڑائیں  گے  اور پر درد نوحہ سے  ماتم کریں  گے  اور کہیں  گے  : ” ہم بر باد ہو گئے ! خداوند نے  میرے  لوگوں  کی ز مین چھین لی ہے  اور اسے  دوسرے  لوگوں  کو دے  دیا ہے  – ہاں  اس نے  میری ز مین کو مجھ سے  چھین لیا ہے  – خداوند نے  ہماری ز مین ہمارے  دشمنوں  کے  بیچ بانٹ دی ہے  –

5 اس لئے  تیرے  پاس قرعہ ڈال کر زمین کی سرحد معلوم کرنے  کے  لئے  کوئی بھی شخص نہیں  ہو گا۔ جب خدا کے  لوگ جمع ہوں  گے۔ ”

6 لوگ کہا کرتے  ہیں  ” تم ہم کو نصیحت مت کرو۔ ہم لوگوں  کے  بارے  میں  ان بری باتوں  کو مت کہو۔ ہم لوگوں  کے  ساتھ کوئی بھی بری بات نہیں  ہو گی۔

7 اے  بنی یعقوب! کیا یہ کہا جائے  گا کہ خداوند بے  صبر ہے ؟ کیا اس کا یہ سب کام ہیں  میرا کلام نیک لوگوں  کے  لئے  بھلا کرتا ہے۔

8 لیکن ابھی حال میں  میرے  ہی لوگ میرے  دشمن ہو گئے  ہیں۔ تم راہ گیروں  کے  کپڑے  اتارتے  ہو۔ جو لوگ سوچتے  ہیں  کہ وہ محفوظ ہیں۔ مگر تم ان سے  ہی چیزیں  چھینتے  ہو جیسے  وہ جنگی قیدی ہیں۔

9 میرے  لوگوں  کی عورتوں  کو تم نے  ان کے  گھر سے  نکل جانے  پر مجبور کیا جو گھر خوبصورت اور آرام دہ تھا۔ اور تم نے  میرے  جلال کو ان کے  بچوں  پر سے  ہمیشہ کے  لئے  دور کر دیا۔

10 اٹھو اور یہاں  سے  بھاگو! یہ تمہارا آرام گاہ نہیں  ہو گا۔ کیونکہ نا پاکی سے  تم نے  اس جگہ کو تباہ کر دی! یہ بہت خطرناک تباہی ہو گی۔

11 اگر کوئی جھوٹا نبی آئے  گا اور وہ یہ کہتے  ہوئے  جھوٹ بولے   ” میں  شراب اور نشہ کے  بارے  میں  تمہیں  نصیحت کروں  گا تو وہ ان لوگوں  کا نصیحت کار ہوسکتا ہے۔ ” ”

12 ہاں  اے  بنی یعقوب! میں  تم سب کو ہی اکٹھا کروں  گا۔ میں  اسرائیل کے  بچے  ہوئے  لوگوں  کو یکجا کروں  گا۔ میں  ان کو  بصرہ کی بھیڑوں  اور چراگاہ کے  گلّہ کی مانند اکٹھا کروں  گا اور آدمیوں  کا بڑا شور ہو گا۔

13 ” توڑنے  والا ” ان لوگوں  کے  آگے  جاتا ہے۔ وہ لوگ پھاٹکوں  کو توڑ کر اس سے  ہو کر گزرے  گا۔ ان لوگوں  کا بادشاہ ان لوگوں  سے  پہلے  اس سے  ہو کر گزر جائے  گا۔ یعنی خداوند ان لوگوں  کے  آگے  ہو گا۔

 

 

 

باب :  3

 

1 پھر میں  نے  کہا ” اے  یعقوب کے  سردار اب سنو! تم کو جاننا چاہئے  کہ عدالت کیا ہوتی ہے ؟

2 لیکن تم کو نیکی سے  نفرت ہے  اور تم لوگوں  کی کھال تک اتار لیتے  ہو۔ تم لوگوں  کی ہڈیوں  سے  گوشت نوچ لیتے  ہو۔

3 تم نے  میرے  لوگوں  کا گوشت کھا یا۔ تم ان کی کھال ان سے  اتار رہے  ہو اور ان کی ہڈیاں  توڑ رہے  ہو۔ تم ان کی ہڈیاں  ایسے  توڑ رہے  ہو جیسے  ہانڈی میں  گوشت چڑھا یا جاتا ہے۔

4 تم خداوند سے  فریاد کرو گے  لیکن وہ تمہیں  جواب نہیں  دے  گا۔ نہیں ! خداوند اپنا منھ تم سے  چھپائے  گا۔ کیوں ؟ کیوں  کہ تم نے  برا عمل کیا ہے۔ ”

5 جھوٹے  نبی خداوند کے  لوگوں  کی زندگی گمراہ کریں  گے۔ خداوند ان جھوٹے  نبیوں  کے  بارے  میں  یہ کہتا ہے  : ” اگر لوگ ان نبیوں  کو کھانے  دیتے  ہیں  تو وہ چلّا کر سلامتی سلامتی پکارتے  ہیں۔ لیکن اگر لوگ انہیں  کھانے  کو نہیں  دیتے  ہیں  تو فوج کو ان کے  خلاف لڑنے  کے  لئے  تیار کرتے  ہیں۔

6 اس لئے  یہ تمہارے  لئے  رات سی ہو گی۔ جس میں  رویا نہ دیکھو گے  اور تم پر تاریکی چھا جائے  گی۔ اور تم مستقبل کی پیشین گوئی نہ کر سکو گے۔ نبیوں  پر آفتاب غروب ہو گا اور ان کے  لئے  دن اندھیرا ہو جائے  گا۔

7 تب مستقبل کی پیشین گوئی کرنے  والا ( غیب بین ) اور فالگیر شرمندہ ہوں  گے۔ ہاں  وہ سبھی اپنا منھ بند کر لیں  گے۔ کیوں ؟ کیوں  کہ وہاں  خدا کی جانب سے  کوئی جواب نہ ہو گا۔

8 لیکن خدا کی روح نے  مجھ کو قوت انصاف اور طاقت سے  معمور کیا تاکہ یعقوب کو اس کا گناہ اور اسرائیل کو اس کے  گناہوں  کے  بارے  میں  کہہ سکوں۔

9 اے  یعقوب کے  خاندان کے  سردار اور اے  بنی اسرائیل کے  خاندان کے  قائد! تم میری بات سنو۔ تم راستی سے  نفرت کرتے  ہو۔ اگر کوئی شئے  سیدھی ہو تو تم اسے  ٹیڑھی کر دیتے  ہو۔

10 تم نے  صیون کی تعمیر خون ریزی سے  کی۔ تم نے  یروشلم کو گناہ کے  راستے  بنا یا تھا۔

11 یروشلم کے  منصف رشوت لے  کر جھوٹا فیصلہ کرتے  ہیں۔ اور اس کے  امام اجرت لے  کر تعلیم دیتے  ہیں  اور اس کے  نبی روپیہ لے  کر پیشین گوئی کرتے  ہیں۔ وہ قائدین اب خداوند پر منحصر کرتے  ہیں  اور کہتے  ہیں  ” کیا خداوند ہمارے  درمیان نہیں ؟ اس لئے  ہم لوگوں  کے  لئے  کچھ برا نہیں  ہو گا۔”

12 تمہارے  ہی سبب صیون سپاٹ چراگاہ بن جائے  گا۔ یروشلم پتھروں  کا ٹیلہ بن جائے  گا اور اس ہیکل کی پہاڑ جنگل کی پہاڑی ہو جائے  گی –

 

 

 

باب :  4

 

1 آخری دنوں  میں  خداوند کی ہیکل کا پہاڑ سبھی پہاڑوں  میں  بہت زیادہ اونچا ہو گا – اسے  دوسرے  پہاڑوں  کے  اوپر اٹھا دیا جائے  گا – دوسرے  ملکوں  کے  لوگ لگا تار آتے  رہیں  گے

2 اور بہت سی قومیں  آئیں  گی اور کہیں  گی ” آؤ! خداوند کے  پہاڑ پر چڑھیں  گے  اور یعقوب کے  خدا کے  گھر تک جائیں  گے  اور وہ اپنی را ہیں  ہم کو سکھائے  گا اور ہم اس کے  راستوں  پر چلیں  گے۔ ” کیونکہ شریعت صیون سے  اور خداوند کا پیغام یروشلم سے  صادر ہو گا۔

3 اور خدا بہت سے  قوموں  کے  بیچ انصاف کرے  گا۔ اور دور کی زور آور قوموں  کا فیصلہ کرے  گا اور وہ اپنی تلواروں  کو پیٹ کر ہل کا پھال اور اپنی بھالوں  کو درانتی بنا ڈالیں  گے  اور ایک قوم دوسری قوموں  پر تلوار نہ چلائے  گی پھر وہ کبھی جنگ کرنا نہ سیکھیں  گے۔

4 لیکن ہر کوئی اپنے  انگور کی بیلوں  تلے  اور انجیر کے  پیڑ کے  نیچے  بیٹھا کرے  گا۔ کوئی بھی شخص انہیں  ڈرا نہیں  پائے  گا۔کیوں ؟ کیوں  کہ خداوند قادر مطلق نے  یہ کہا ہے۔

5 ہر ایک دوسری قو میں  اپنے  اپنے  خداؤں  کو مانیں  گے۔ لیکن ہم اپنے  خداوند خدا کو ابد الآباد تک مانیں  گے۔

6 خداوند کہتا ہے   ” یروشلم پر حملہ ہوا اور وہ لنگڑا ہو گیا۔ یروشلم کو پھینک دیا گیا تھا۔ یروشلم کو نقصان پہنچا یا گیا اور اس کو سزا دی گئی۔ لیکن میں  اس کو پھر اپنے  پاس وا پس لے  آؤں  گا۔

7 اور لنگڑوں  کو پسماندوں  کو اور جلا وطنوں  کو زور آور قوم بناؤں  گا۔” خداوند ان کا بادشاہ ہو گا۔ اور وہ صیون کے  پہاڑ پر ابد الآباد سلطنت کرے  گا۔

8 اے  گلّہ کے  پہرے  کا بُرج! اے  صیون کے  اوفل پہاڑی۔ تم پھر سے  حکومت کی نشست ہو گے۔ ماضی کی طرح دفتر یروشلم کی سلطنت تجھے  ملے  گی۔”

9 اب تم کیوں  اتنی اونچی آواز میں  پکار رہے  ہو؟ کیا تمہارا بادشاہ جاتا رہا ہے ؟ کیا تم نے  اپنا حاکم کھو دیا ہے ؟ تم ایسے  تڑپ رہے  ہو جیسے  کوئی عورت دردِ زہ میں  تڑپتی ہے۔

10 اے  بنتِ صیون حاملہ عورت کی مانند درد جھیل اور دردِزہ میں  مبتلا ہو کیوں  کہ تو اب شہر سے  خارج ہو کر کھیت میں  رہے  گی اور بابل تک جائے  گی۔ وہاں  تو رہائی پائے  گی اور خداوند تجھ کو دشمنوں  کے  ہاتھ سے  چھڑائے  گا۔

11 لیکن اب تجھ سے  لڑنے  کے  لئے  کئی قومیں  جمع ہوئی۔ وہ کہتی ہیں  ” دیکھو صیّون وہاں  ہے  اس پر حملہ کرو! ”

12 ان سب قوموں  نے  اپنے  منصوبے  بنائے  ہیں  لیکن انہیں  ان باتوں  کا پتا نہیں  جن کے  بارے  میں  خداوند منصوبہ بنا رہا ہے۔ خداوند ان لوگوں  کو کسی خاص استعمال کے  لئے  لایا۔ وہ لوگ ویسے  کچل دیئے  جائیں  گے  جیسے  کھلیان میں  اناج کے  پولیوں  کو کچلا جاتا ہے۔

13 ” اے  بنت صیّون! ان لوگوں  کو کچلنا شروع کر! میں  تمہیں  بہت زور آور بناؤں  گا۔ تو ایسی ہو گی مانو جیسے  لوہے  کے  سنگ اور پیتل کے  کھڑ والے  سانڈ۔ تو مار مار کر بہت سارے  لوگوں  کی دھجیاں  اڑا دے  گی۔ تو ان کی دولت کو خداوند کے  حوالے  کرے  گی۔ تو ان کے  خزانے   ساری زمین کے  خداوند کے  سپرد کرے  گی۔”

 

 

 

باب :  5

 

1 اے  بنتِ افواج اب فوجوں  میں  جمع ہو۔ ہمارا محاصرہ کیا جاتا ہے۔ وہ اسرائیل کے  حاکم کے  گال پر چھڑی سے  مارے  گا۔

2 اے  بیت اللحم افراتاہ! تو یہوداہ کے  ایک چھوٹے  خاندانی گروہ کا ایک چھوٹا قصبہ ہے۔ لیکن تجھ سے  ہی میرے  لئے  ” اسرائیل کا حاکم ” آئے  گا۔ اس کے  خاندان کا ابتداء زمانہ سابق ہاں ! قدیم الایاّم سے  ہے۔

3 خداوند اپنے  لوگوں  کو چھوڑ دے  گا۔ وہ لوگ اس وقت تک جلاوطنی میں  رہیں  گے  جب تک کے  حاملہ عورت ایک بچہ کو جنم نہیں  دے  دیتی ہے  تب اس کے  باقی بھائی بنی اسرائیل میں  آئیں  گے۔

4 تب اسرائیل کا حاکم کھڑا ہو گا اور جھنڈ کی دیکھ ریکھ کرے  گا۔ وہ اسے  خداوند کی قدرت سے  اور خداوند اپنے  خدا کی جاہ و جلال سے  کرے  گا۔ وہاں  سلامتی ہو گی۔ کیوں  کہ اس وقت میں  اس کا جلال انتہائی زمین تک ہو گا۔

5 وہاں  امن قائم رہے  گا۔ اگر اسور کی فوج ہمارے  ملک میں  آئے  گی اور وہ فوج ہمارے  قصروں  کو توڑے  گی ہم لوگ سات چرواہوں  اور آٹھ شریفوں  کو چنیں  گے۔

6 اور وہ اسور کے  ملک کو اور نمرود کی سر زمین کے  میدان کے  مدخلوں  کو تلوار سے  ویران کریں  گے۔ اور جب اسور ہمارے  ملک میں  آ کر ہماری حدود کو پامال کرے  گا تو وہ ہم کو رہائی بخشے  گا۔

7 پھر بہت سے  لوگوں  کے  بیچ میں  یعقوب کے  بچے  ہوئے  لوگ کئی قوموں  کے  بیچ اوس کی مانند جیسے  ہوں  گے  جو خداوند کی جانب سے  آئی ہو۔ وہ گھاس کے  اوپر بارش کی بوندوں  کی مانند ہوں  گے۔ وہ نہ لوگوں  پر انحصار کریں  گے   اور نہ ہی وہ کسی کے  منتظر رہیں  گے۔

8 یعقوب کے  بچے  ہوئے  لوگ مختلف قوموں  اور جماعتوں  میں  ایسے  بکھرے  ہوئے  ہوں  گے  جیسے  شیر جنگل کے  دوسرے  جانوروں  کے  درمیان۔ وہ بھیڑوں  کے  جھنڈ کے  بیچ جوان شیر کی مانند ہوں  گے۔ جب وہ ان کے  درمیان جاتا ہے  یہ اس کے  شکار پر حملہ کرتا ہے  اور مار ڈالتا ہے۔ اور کوئی بھی اس جانور کو بچانے  کے  لائق نہ ہو گا۔

9 تم اپنے  ہاتھ اپنے  دشمنوں  پر اٹھاؤ گے  اور تم ان کو برباد کر ڈالو گے۔

10 خداوند فرماتا ہے  : ” اس وقت میں  تمہارے  گھوڑے  تم سے  دور کر لوں  گا۔ تمہاری رتھوں  کو برباد کر ڈالوں  گا۔

11 میں  تمہارے  ملک کے  شہروں  کو اجاڑ دوں  گا میں  تمہارے  سبھی قلعوں  کو مسمار کر دوں  گا۔

12 میں  تمہاری زمین سے  نجومی کو نیست و نابود کر دوں  گا۔ تب پھر مستقبل کے  بارے  میں  رجوع کرنے  والا اور کوئی نہ ہو گا۔

13 میں  تمہارے  جھوٹے  خداؤں  کی مورتیاں  فنا کروں  گا۔ تمہارے  جھوٹے  خداؤں  کی ستون تمہارے  درمیان نیست و  نابود کر دوں  گا اور تم پھر اپنی دستکاری کی عبادت نہ کرو گے۔

14 میں  تمہارے  درمیان سے  آشیرہ کے  ستونوں  کو برباد کر دوں  گا۔ میں  تمہارے  سب جھوٹے  خداؤں  کو نیست و نابود کر دوں  گا۔”

15 کچھ لوگ ایسے  ہوں  گے  جو میری نہیں  سنیں  گے۔ میں  ان پر غصہ ہوں  گا اور میں  ان سے  بدلہ لوں  گا۔

 

 

 

باب :  6

 

1 اب خداوند جو کہتا ہے  اُسے  سنو! پہاڑوں  کے  سامنے  کھڑے  ہو جاؤ اور پھر ان کو اپنی جانب کی کہانی سناؤ پہاڑیوں  کو تم اپنا قصہ سناؤ۔

2 خداوند کو اپنے  لوگوں  سے  ایک شکایت ہے۔ اے  پہاڑو! تم خداوند کی شکایت کو سنو! اے  زمین کی بنیادو! خداوند کی شکایت کو سنو! وہ دعویٰ کرے  گا کہ اسرائیل مجرم ہے۔

3 خداوند کہتا ہے  : ” اے  میرے  لوگو! کیا میں  نے  کبھی تمہارا بُرا کیا ہے ؟ میں  نے  کیسی تمہاری زندگی کٹھن کی ہے ؟ مجھے  بتاؤ۔ میں  نے  تمہارے  ساتھ کیا کیا ہے ؟

4 میں  تم کو بتاتا ہوں  جو میں  نے  تمہارے  ساتھ کیا ہے۔ میں  تمہیں  مصر کی زمین سے  نکال لایا۔ میں  نے  تمہیں  غلامی سے  نجات دلائی تھی۔ میں  نے  تمہارے  پاس موسیٰ ہارون اور مریم کو بھیجا تھا۔

5 اے  میرے  لوگو! موآب کے  بادشاہ بِلق کے  منصوبے  کو یاد کرو۔ وہ باتیں  یاد کرو جو بلعام بن بعور نے  بِلق سے  کہی تھیں۔ وہ باتیں  یاد کرو جو شِطیم سے  جلجال تک ہوئی تھیں۔ تبھی سمجھ پاؤ گے  کہ خداوند راست ہے۔ ”

6 جب میں  خداوند کے  سامنے  جاؤں  اور جب میں  آسمان کے  خدا کے  سامنے  سجدہ کروں  تو خدا کے  سامنے  اپنے  ساتھ کیا لے  جاؤں ؟ کیا ایک سالہ بچھڑوں  کا جلانے  کا نذرانہ کے  طو پرلے  جاؤں ؟

7 کیا خداوند ہزاروں  مینڈھوں  سے  یا تیل کی دس ہزار نہروں  سے  خوش ہو گا؟ کیا میں  اپنے  پہلوٹھے  کو اپنے  گناہ کے  عوض میں  اور اپنی اولاد کو اپنی جان کے  گناہ کے  بدلہ میں  دے دوں ؟

8 اے  انسان اس نے  تم کو وہی کہا جو اچھا ہے۔ خداوند امید کرتا ہے  کہ تم انصاف کرو گے  دوسرے  پر رحم کرو گے۔ اپنے  خدا کے  ساتھ خاکساری سے  چلو۔

9 خداوند کی آواز شہر کو پکار رہی ہے۔ دانشمند شخص خداوند کے  نام کا لحاظ رکھتا ہے۔ اس لئے  سزا کی چھڑی اور اس کے  پکڑنے  والے  توجّہ دو۔

10 کیا اب بھی شریر اپنے  چرائے  ہوئے  خزانے  کو چھپا رہے  ہیں ؟ کیا شریر اب بھی لوگوں  کو ان ٹوکریوں  سے  دغا دیتے  ہیں  جو بہت چھوٹی ہیں ؟ ( جی ہاں  یہ تمام باتیں  اب بھی ہو رہی ہیں۔)

11 کیا میں  ان بُرے  لوگوں  کو معصوم قرار دوں  جو دغا کی ترازو اور جھوٹے  با ٹوں  کا تھیلا اور غلط پیمانہ رکھتے  ہیں۔

12 اس شہر کے  امیر لوگ ابھی بھی ظلم کرتے  ہیں۔ اس کے  لوگ ابھی بھی جھوٹ بو لا کرتے  ہیں۔ ہاں  وہ لوگ من گھڑت باتیں  کیا کرتے  ہیں۔

13 اس لئے  میں  نے  تمہیں  سزا دینی شروع کر دی ہے۔ میں  تمہیں  تمہارے  گنا ہوں  کی وجہ سے  نیست و نابود کر دوں  گا۔

14 تم کھانا کھاؤ گے  لیکن تمہارا پیٹ نہیں  بھرے  گا۔ تم پھر بھی بھو کے  رہو گے۔ تم لوگوں  کو بچانے  اور انہیں  گھر واپس آنے  میں  مدد کرنے  کی کوشش کرو گے   لیکن تم جیسے  بھی بچاؤ گے  میں  اسے  تلوار کے  حوالے  کروں  گا۔

15 تم اپنے  بیج بوؤ گے  لیکن تم ان سے  خوراک نہیں  حاصل کرو گے۔ تم زیتون کو روندو گے  لیکن تم تیل استعمال نہیں  کر پاؤ گے۔ تم اپنے  انگور کچلو گے  لیکن تم کوئی مئی نہیں  پی پاؤ گے۔

16 کیوں ؟ کیوں  کہ تم نے  عمری کے  قوانین اور اخی اب کے  خاندان کے  اعمال جیسے  وہ کرتے  ہیں  اس کی پیروی کرتے  ہو۔ اور تم ان کی تعلیمات پر چلتے  ہو اس لئے  میں  تمہیں  برباد کر دوں  گا۔ تمہارے  ساتھ حقارت کا معاملہ کیا جائے  گا۔ جو تیری تباہی کو دیکھیں  گے  ان کے  ذریعہ تیری ہنسی اڑائی جائے  گی۔ تب تم اس شرمندگی کو جھیلو گے  جسے  دوسری قوم لائیں  گے۔

 

 

 

باب :  7

 

1 میں  پریشان ہو ں۔ کیوں ؟ کیوں  کہ میں  گرمی کے  اس پھل کی مانند ہوں  جسے  اب تک جمع کر لیا گیا ہے۔ میں  ان انگوروں  کی مانند ہوں  جنہیں  توڑ لیا گیا ہے۔ اب وہاں  کوئی انگور کھانے  کو نہیں  بچے  ہیں  اور نہ پہلا پکّا دل پسند انجیر ہے۔

2 اس کا مطلب یہ ہے  کہ سبھی سچے  لو گ غائب ہو گئے  ہیں۔ کوئی بھی راستباز اس ملک میں  نہیں  بچا ہے۔ ہر شخص کسی دوسرے  کو مار نے  کی گھات میں  رہتا ہے۔ ہر شخص اپنے  ہی بھائی کو پھندے  میں  پھنسانے  کی کوشش کرتا ہے۔

3 ان کے  ہاتھ بدی میں  پھُر تیلے  ہیں۔ حاکم رشوت مانگتے  ہیں۔” خاص قائدین” عدالتوں  میں  فیصلہ بدلنے  کے  لئے  مال لیا کرتے  ہیں۔ اور بڑے  آدمی  اپنے  دل کی حریص باتیں  کرتے  ہیں  انہیں  جیسا پسند ہے  وہ ویسا ہی کام کرتے  ہیں۔

4 یہاں  تک کہ ان کا سب سے  اچھا آدمی  کانٹوں  کی جھاڑی کی مانند ہوتا ہے۔ یہاں  تک کہ ان کا راستباز آدمی  کانٹوں  کی جھاڑی سے  زیادہ عیّار ہے۔

5 تم اپنے  پڑوسی پر بھروسہ مت کرو۔ تم دوست پر بھروسہ مت کرو۔ اپنی بیوی تک سے  کھل کر بات مت کرو۔

6 کیوں  کہ بیٹا اپنے  باپ کے  خلاف ہو گا۔ اور بیٹی اپنی ماں  کے  اور بہو اپنی ساس کے  خلاف ہو گی۔ اور لوگوں  کا دشمن ان کے  خاندان ہی کے  لوگوں  میں  سے  ہو گا۔

7 لیکن میں  نجات کے  لئے  خداوند کا انتظار کروں  گا۔ میں  خدا کی راہ دیکھوں  گا اور مجھے  یقین ہے  کہ وہ مجھ کو بچ  گا۔ میرا خدا میری سنے  گا۔

8 میں  گروں  گا لیکن اے  میرے  دشمن میری ہنسی مت اڑا! میں  پھر کھڑا ہو جاؤں  گا۔ ویسے  آ ج تاریکی میں  بیٹھا ہوں  تو خدا میرا نور ہے۔

9 خداوند کے  خلاف میں  نے  گناہ کیا تھا۔ اس لئے  وہ مجھ پر غضبناک تھا جب تک وہ میرا دعویٰ ثابت کر کے  میرا انصاف نہ کرے۔ وہ مجھے  روشنی میں  واپس لائے  گا اور میں  دیکھوں  گا کہ وہ صحیح ہے۔

10 تب میرا دشمن مجھ سے  کہتا تھا ” خداوند تیرا خدا کہاں  ہے ؟ ” لیکن جب وہ اسے  دیکھے  گا تو وہ شرمندہ ہو گا۔ میری آنکھیں  دیکھیں  گی کہ اس پر کیا ہو رہی ہے۔ اسے  گلیوں  کی کیچڑ کی مانند پامال کیا جائے  گا۔

11 وہ وقت آئے  گا جب تیری فصیل کی تعمیر پھر سے  ہو گی اس وقت تمہاری حدود بڑھائی جائیں  گی۔

12 تیرے  لوگ تیری زمین پر لوٹ آئیں  گے۔ وہ لوگ اسور سے  آئیں  گے۔ تیرے  لوگ مصر اور فرات کے  دوسرے  کنارے  سے  آئیں  گے۔ وہ سمندر اور پہاڑوں  سے  آئیں  گے۔

13 اور زمین اپنے  باشندوں  کے  اعمال کے  سبب سے  ویران ہو جائے  گی۔

14 اپنے  چرواہے  کے  عصا سے  اپنے  لوگوں  کی دیکھ بھال کرو۔ جو تمہارا گلّہ ہے  جنگل میں  تنہا رہتا ہے۔ ان کی چاروں  طرف ہری بھری چراگاہیں  ہیں۔ ان کو بسن اور جلعاد میں  پہلے  کی طرح چرنے  دے۔

15 جب میں  تم کو مصر سے  نکال لایا تھا تو میں  نے  بہت سے  معجزہ کیا تھا۔ ویسے  ہی مزید معجزے  تم کو دکھاؤں  گا۔

16 وہ معجزے  قومیں  دیکھیں  گی اور شرمندہ ہو جائیں  گی۔ وہ قومیں  دیکھیں  گی کہ ان کی “قوت” میرے  سامنے  کچھ نہیں  ہے۔ وہ حیران رہ جائیں  گی اور وہ اپنے  منھ پر ہاتھ رکھیں  گے۔ ان کے  کان بہرے  ہو جائیں  گے۔

17 وہ سانپ کی طرح خاک میں  رینگیں  گے۔ اور وہ اپنے  چھپنے  کی جگہوں  سے  ناگ کی مانند تھر تھراتی ہوئی باہر آئیں  گی۔ وہ خداوند ہمارے  خدا کے  سامنے  خوف سے  آئیں  گے۔ ہاں  وہ تمہارا خوف اور تعظیم کریں  گے۔

18 تیری طرح کوئی خدا نہیں  ہے۔ تو بچے  ہوئے  لوگوں  کے  بد کردار اور گناہوں  کو معاف کر دیتا ہے۔ خداوند اپنے  قہر کو لمبے  عرصے  تک نہیں  رکھے  گا کیوں  کہ وہ ہر ایک پر رحم کرنا پسند کرتا ہے۔

19 خداوند! ایک بار پھر تو ہم لوگوں  پر رحم کرے  گا۔ تو ہمارے  گناہوں  کو فتح کرے  گا اور تو ہمارے  سارے  گناہوں  کو گہرے  سمندر میں  پھینک دے  گا۔

20 خداوند یعقوب سے  وفا داری کر اور ابراہیم پر شفقت دکھا جس کی بابت تو نے  بہت پہلے  ہی ہمارے  باپ دادا سے  وعدہ کیا تھا۔

 

 

 

 

کتاب ۳۴:  ناحوم

 

 

 

 

باب : 1

 

1 یہ کتاب ناحوم القوشی کی رویا ہے۔ نینوہ شہر کے  بارے  میں  یہ غم بھرا پیغام ہے۔

2 خداوند بہت غیرت مند اور انتقام لینے  والا خدا ہے۔ خداوند وہ ہے  جو طیش میں  بدلہ لیتا ہے۔ وہ اپنے  مخالفوں  سے  بدلہ لیتا ہے  اور اس کا غیض و غضب اس کے  دشمنوں  کے  خلاف ہے۔

3 خداوند صابر ہے   لیکن وہ بہت قدرت والا ہے۔ اور خداوند قصور وار کو سزا دیتا ہے۔ وہ انہیں  آزادانہ طور پر چلے  جانے  نہیں  دے  گا۔ دیکھو خداوند مجرموں  کو سزا دینے  آ رہا ہے۔ وہ اپنی قدرت دکھانے  کے  لئے  گرد و غبار اور آندھی کو کام میں  لائے  گا۔ انسان تو زمین میں  مٹی پر چلتا ہے۔ لیکن خداوند بادلوں  پر چلتا ہے۔

4 اگر خداوند سمندر کو ڈانٹے  تو سمندر بھی سو کھ جائے۔ ساری ندی سوکھ جائے۔ بسن اور کر مل کملا جائیں  گے  اور لبنان کی کونپلیں  مرجھا جائیں  گی۔

5 خداوند کی آمد ہو گی اور پہاڑ خوف سے  کانپیں  گے  اور یہ پہاڑیاں  پگھل کر بہہ جائیں  گی۔ خداوند کی آمد ہو گی اور یہ زمین خوف سے  کانپ اٹھے  گی۔ یہ دنیا اور جو کچھ زندہ ہے  خوف سے  کانپے  گی۔

6 خداوند کے  عظیم قہر کا سامنا کوئی نہیں  کر سکتا۔ کوئی بھی اس کا بھیانک غصہ سہہ نہیں  سکتا۔ اس کا قہر آگ کی مانند نازل ہوتا ہے۔ وہ چٹانوں  کو توڑ ڈالتا ہے۔

7 خداوند اچھا ہے  اور مصیبت کے  دن پناہ گاہ ہے۔ وہ اسے  جانتا ہے  جو اس میں  پناہ لیتا ہے۔

8 لیکن وہ اپنے  دشمنوں  کو پوری طرح نیست و نابود کرے  گا۔ وہ انہیں  سیلاب کی طرح بہا کر لے  جائے  گا۔ تاریکی کے  درمیان وہ اپنے  دشمنوں  کا پیچھا کرے  گا۔

9 کیا تم خداوند کی مخالفت میں  منصوبے  بنا رہے  ہو؟ وہ تیرا خاتمہ کر دے  گا۔ پھر اور کوئی دوبارہ کبھی خداوند کی مخالفت نہیں  کرے  گا۔

10 تمہارے  دشمن الجھے  ہوئے  کانٹوں  سے  نیست و نابود ہوں  گے۔ وہ سوکھی گھاس کی مانند جلد جل جائیں  گے۔

11 اے  نینوہ! ایک شخص تجھ سے  ہی آگے  آیا اور خداوند کے  خلاف برا منصوبہ بنایا اور برا مشورہ پیش کیا۔

12 خداوند نے  بولا : ” اگر چہ اسیر یہ کے  لوگ کافی طاقتور ہیں  اور ان کے  پاس کافی سپاہی ہیں  وہ کاٹ دیئے  جائیں  گے  اور سب کا خاتمہ کیا جائے  گا۔ اے  میرے  لوگو! میں  نے  تم کو بہت دکھ دیا لیکن اب آگے  تمہیں  مزید دکھ نہیں  دوں  گا۔”

13 میں  اب تمہیں  اسور کی قوت سے  نجات دوں  گا۔ تمہارے  کندھے  سے  میں  وہ جوا اتار دوں  گا۔ تمہاری زنجیر جن میں  تم بندھے  ہو میں  اب توڑ دوں  گا۔

14 اے  اسور کے  بادشاہ تیرے  بارے  میں  خداوند نے  یہ کہتے  ہوئے  حکم دیا : ” تیرا نام لیوا کوئی بھی نسل نہیں  رہے  گی۔ میں  پتھر یا لکڑیوں  کے  تراشے  ہوئے  بت اور ڈھالی ہوئی دھات کے  مورتیوں  جو کہ تمہارے  جھوٹے  خداؤں  کی ہیکل میں  ہے  اس کو بھی نیست و نابود کروں  گا میں  تیرے  لئے  قبر بنا رہا ہوں  کیوں  کہ تیرا خاتمہ بہت نزدیک ہے۔

15 دیکھ یہوداہ! دیکھ وہاں  پہاڑ کے  اوپر سے  کوئی آ رہا ہے۔ کوئی خبر رساں  خوشخبری لے  کر آ رہا ہے۔ دیکھو وہ کہہ رہا ہے  کہ یہاں  پر سلامتی ہے۔ اے  یہوداہ! اپنی تقریب منا۔ اے  یہوداہ اپنی نذرانہ پیش کر۔ اب کبھی خبیث تم پر حملہ نہ کریں  گے  اور وہ پھر تم کو ہرا نہیں  پائیں  گے۔ ان سبھی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

 

 

 

باب :  2

 

1 اے  نینوہ! جو تباہ کرنا چاہتا ہے  تجھ پر حملہ کرنے  کے  لئے  آ رہا ہے۔ اس لئے  تو اپنے  قلعہ کو محفوظ رکھ۔ راہ کی نگہبانی کر۔ کمر بستہ ہو اور خوب مضبوط رہ۔

2 کیوں  کہ خداوند یعقوب کی شان و شوکت کو اسرائیل کی شان و شوکت کی مانند پھر بحال کرے  گا۔ بنی اسرائیل دشمنوں  سے  کچل دیئے  گئے  تھے  اور ان کی انگور کے  بیلیں  روند ڈالی ہیں۔

3 اس کے  سپاہیوں  کی سپریں  سرخ ہیں۔ جنگی مرد قرمزی وردی پہنے  ہیں۔ اس کی رتھ تیاری کے  وقت فولاد کی طرح جھلکتی ہیں  اور دیودار کے  نیزے  بشدّت ہلتے  ہے۔

4 ان کی رتھ گلیوں  میں  بھیانک طریقے  سے  بھاگتی ہیں۔ وہ کھلے  میدانوں  میں  سلگتی مشعلوں  کی مانند چمکتی ہے۔ اور تیزی سے  دوڑتے  اور بے  تحاشہ بھاگتی ہے۔ وہ ایسے  لگتے  ہیں  جیسے  یہاں  وہاں  بجلی کڑک رہی ہو۔

5 دشمن اپنے  سرداروں  کو بلا رہا ہے۔ جیسے  ہی وہ آگے  بڑھتے  ہیں  وہ ٹھو کر کھاتے  ہیں۔ وہ لوگ تیزی سے  دیوار کی طرف دوڑے  جو قلعہ شکن گاڑی کے  اوپر ڈھال کھڑا کیا۔

6 لیکن ندیوں  کے  پھاٹک کے  کھلے  رکھے  گئے۔ دشمن ان میں  سے  جا رہا ہے  اور بادشاہ کے  محل کو تباہ کر رہا ہے۔

7 ملکہ کو قیدی بنا کر لے  جایا گیا۔ اس کی لونڈیاں  فاختوں  کی مانند کراہتی ہیں  اور غم میں  اپنی چھا تی پیٹتی ہیں۔

8 نینوہ تالاب کی مانند ہے  جس کا پانی بہہ کر باہر نکل رہا ہو۔ لوگ چلّا رہے  ہیں  اور کہہ رہے  ہیں  ” رکو! رکو! کہیں  بھاگ مت جاؤ! ” لیکن واپس آنے  کے  لئے  کوئی بھی نہیں  رکے  گا۔

9 اے  سپاہیو! نینوہ کو لوٹ لو اور ان کے  سونے  چاندی کو جمع کرو! یہاں  پر لینے  کو بہت سی چیزیں  ہیں۔ یہاں  پر بہت سارا خزانہ بھی ہے۔

10 اب نینوہ خالی سنسان اور ویران ہے۔ اس کی دولت اس سے  چھین لی گئی ہے  لوگوں  نے  اپنا حوصلہ کھو دیا ہے۔ وہ لوگ خوفزدہ ہو گئے  ہیں۔ ان کے  دل خوف سے  پگھل رہے  ہیں  اور گھٹنے  آپس میں  ٹکراتے  ہیں۔ ان کے  جسم کانپ رہے  ہیں  اور ان سب کے  چہرے  زرد ہو گئے  ہیں۔

11 نینوہ کبھی شیروں  کی ماند کی مانند تھا۔ اب وہ ویسا نہیں  ہے  جہاں  شیریں  رہا کرتے  تھے  اور ان کے  بچے  بے  خوف گھومتے  پھرتے  تھے۔

12 شیر ببر ( نینوہ کا بادشاہ ) اپنے  بچوں  کی خوراک کے  لئے  لوگوں  کو پھاڑتا تھا اور شیر نیوں  کے  لئے  لوگوں  کا گلا گھونٹتا تھا اور اپنی ماندوں  کو شکار سے  اور غاروں  کو پھاڑے  ہوئے  سے  بھرتا تھا۔

13 خداوند قادر مطلق کہتا ہے   ” نینوہ میں  تیرے  خلاف ہوں۔ میں  تیری رتھوں  کو جلا دوں  گا۔ جوان شیروں  کو جنگ میں  ہلاک کروں  گا میں  تیرے  شکار کو کاٹ ڈالوں  گا۔ تم پھر کبھی دوبارہ اس زمین پر اپنا شکار نہیں  مار پاؤ گے  لوگ پھر کبھی تیرے  قاصدوں  کی باتیں  نہیں  سنیں  گے۔

 

 

 

باب :  3

 

 

1 اس خونریز شہر پر افسوس! نینوہ ایسا شہر ہے  جو جھوٹوں  سے  بھرا ہے۔ یہ دوسرے  ملکوں  کے  مال سے  بھرا ہے۔ یہ ان بہت سارے  لوگوں  سے  بھرا ہے  جس کا اس نے  پیچھا کیا اور جنہیں  اس نے  مار ڈالا ہے۔

2 سنو چابک کی آواز اور پہیوں  کی کھڑ کھڑاہٹ اور گھوڑوں  کی ٹاپیں  اور ساتھ ساتھ اچھلتی رتھوں  کے  ہچکولے۔

3 دیکھو! سوار حملہ کر رہے  ہیں  اور ان کی تلواریں  چمک رہی ہیں  بھا لوں  کی چمک اور لاشوں  کے  ڈھیر صاف نظر آ رہی ہے۔ ان گنت لوگ مارے  گئے  ہیں۔ لاشوں  کی انتہا نہیں  ہے۔ لوگ لاشوں  کے  اوپر ٹھو کر کھا رہے  ہیں۔

4 یہ سب کچھ اس طوائف نینوہ اور اس کے  لا تعداد بد کاریوں  کے  سبب ہے۔ وہ کشش اور اس کا طوائف پن جو اسے  بہت سے  قوموں  کا اور اس کی جادو گری جو اسے  قبیلوں  کا غلام بنا تی ہے۔

5 خداوند قادر مطلق کہتا ہے   ” اے  نینوہ میں  تیرے  خلاف ہوں  اور تیرے  لہنگا کو تیرے  سر کے  اوپر کھینچ لوں  گا۔ اور قوموں  کو تیری برہنگی اور مملکتوں  کو تیری رسوائی دکھلاؤں  گا۔

6 میں  تیرے  اوپر نجاست پھینک دوں  گا۔ میں  تجھ سے  حقارت کے  ساتھ بر تاؤ کروں  گا۔ لو گ تجھ کو دیکھیں  گے۔ تجھ کو دیکھیں  گے  اور تجھ پر ہنسیں  گے

7 جو کوئی بھی تجھ کو دیکھے  گا تجھ سے  دور بھا گے  گا۔ وہ کہے  گا ” نینوہ تباہ ہو گیا۔ اس کے  لئے  کون روئے  گا؟ ” اے  نینوہ کوئی تجھے  سکھ چین نہیں  دے  گا۔”

8 کیا تو تبس سے  بہتر ہے  جو نیل ندی کے  کنارے  بستا تھا اور پانی اس کی چاروں  طرف تھا جس کی شہر پناہ دریائے  نیل تھا اور جس کی شہر کی دیوار پانی تھا؟

9 کوش اور مصر نے  تبس کو بہت قوت بخشی تھی۔فوط اور لوبیم اس کے  حمایتی تھے۔

10 لیکن تبس ہار گیا۔ اس کے  لوگوں  کو اسیر کر کے  جلا وطن کر دیا گیا۔ کو چوں  پر سپاہیوں  نے  اس کے  چھوٹے  بچوں  کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔ انہوں  نے  قرعہ ڈالا تاکہ شرفاء و غلام بنا کر اپنے  پاس رکھے۔ تبس کے  سبھی شرفاء پر انہوں  نے  زنجیریں  ڈال دی تھیں۔

11 اس لئے  اے  نینوہ تو نشے  میں  ہو کر اپنے  آپ  کو چھپاؤ گے۔ اور دشمن سے  پناہ ڈھونڈو گے۔

12 تیرے  سب قلعے  انجیر کے  درخت کی مانند ہوں  گے  جس پر پکے  ہوئے  پھل لگے  ہوں  جس کو اگر کوئی ہلاتا ہے  تو پھل اس کے  منھ میں  گر جائے  گا۔

13 اے  نینوہ تیرے  لوگ تو عورتوں  جیسی ہیں  اور دشمن اسے  پکڑنے  کے  لئے  تیار بیٹھے  ہیں۔ تیری مملکت کے  پھاٹک کھلے  پڑے  ہیں تا کہ تیرا دشمن آسانی سے  اندر آ جائے۔ تیرے  پھاٹکوں  کی سلاخیں  جل کر راکھ ہو گئے  تھے۔

14 پانی اکٹھا کر اور اسے  اپنے  شہر کے  اندر رکھو۔ کیوں  کہ دشمن کے  سپاہی تیرے  شہر کو گھیر لیں  گے۔ وہ لوگ کسی کو بھی شہر کے  اندر کھا نا یا پانی لانے  نہیں  دیں  گے۔ اپنی قلعوں  کو مضبوط بنا۔ اور زیادہ اینٹیں  بنانے  کے  لئے  زیادہ مٹی جمع کر۔ اور اینٹ کا سانچہ ہاتھ میں  لے۔

15 وہاں  آگ تجھے  کھا جائے  گی۔ تلوار کاٹ ڈالے  گی۔ وہ ٹڈی کی طرح تجھے  چٹ کر جائے  گی۔ اگر چہ تو اپنے  آپ  کو چٹ کر جانے  والی ٹڈیوں  کی مانند فراوانی کرے  اور ٹڈیوں  کی فوج کی مانند بے  شمار ہو جائے۔

16 تیرے  یہاں  کئی سودا گر ہو گئے  جو مختلف جگہوں  پر جا کر چیزیں  خریدا کرتے  ہیں۔ وہ اتنے  انگنت ہو گئے  جتنے  آسمان کے  تارے  ہیں۔ وہ اس ٹڈی دل کے  جیسے  ہو گئے  جو کھاتا ہے   اور سب کچھ کو اس وقت تک کھاتا رہتا ہے  جب تک وہ ختم نہیں  ہو جاتی اور پھر چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔

17 تیرے  شریف اور امراء ٹڈیوں  کے  دل کی طرح ہیں۔ جو سردی کے  دن دیوار پر رہتی ہے  اور جب آفتاب نکلتا ہے  تو اڑ جاتی ہے  اور کوئی نہیں  جانتا کہ وہ سب کہاں  جاتا ہے۔

18 اے  اسور کے  بادشاہ تیرے  چرواہے  ( سردار ) سو گئے۔ زور آور لوگ بھی محو خواب ہیں۔ اور تیرے  بھیڑ بلا مقصد پہاڑوں  پر بھٹک رہی ہے۔ انہیں  واپس لانے  والا کوئی نہیں  ہے۔

19 تو بری طرح گھائل ہوا ہے  اور ایسا کچھ نہیں  ہے  جو تیرے  زخم کو بھر سکے۔ ہر کوئی جو تیری تباہی کا ذکر سنتا ہے۔ تالیاں  بجاتا ہے   وہ سب بہت خوش ہیں۔ جیسا کہ سبھی تیرے  ظالمانہ عمل میں  مبتلا ہیں۔

 

 

 

 

 

 

کتاب ۳۵:  حبقوق

 

 

 

 

 

باب :  1

 

1 یہ وہ پیغام ہے  جو حبقوق نبی کو دیا گیا تھا۔

2 اے  خداوند! میں  کب تک روؤں  گا اور تو اسے  نہیں  سنو گے ؟ میں  ظلم کے  بارے  میں  تیرے  آگے  چلّاتا رہا ہوں  لیکن تو نے  کچھ نہیں  کیا۔

3 لوگ لوٹتے  ہیں  اور دوسروں  کو نقصان پہنچاتے  ہیں۔ لوگ حجت کرتے  ہیں  اور جھگڑتے  ہیں۔ اے  خداوند تو مجھے  اس طرح کے  جھگڑے  اور بحث و مباحثہ کیوں  دکھاتا ہے ؟

4 شریعت کمزور ہے  اور انصاف زوروں  پر نہیں  ہے۔ شریر لوگ ہمیشہ صادقوں  کے  خلاف اپنے  مقدمے  ہمیشہ جیتتے  ہیں۔ اس طرح شریعت کا حون ہو رہا ہے۔

5 خداوند نے  جواب دیا ” دوسری قوموں  کو دیکھ۔ انہیں  دھیان سے  دیکھ تجھے  تعجب ہو گا۔ میں  تیرے  ایام میں  ہی کچھ ایسا کروں  گا کہ اگر کوئی تجھ سے  اس کا بیان کرے  تو تو ہر گز یقین نہیں  کرے  گا۔

6 میں  بابل کے  لوگوں  کو ایک طاقتور قوم بناؤں  گا۔ وہ بہت زیادہ ظالم اور بے  قرار لوگ ہیں۔ وہ ساری زمین پر چلیں  گے۔ وہ ان گھروں  اور شہروں  کو فتح اور قبضہ کرے  گا جو ان کے  نہیں  ہیں۔

7 بابل کے  لوگ دوسرے  لوگوں  کو خوفزدہ کریں  گے۔ بابل کے  لوگ جو چاہیں  گے  ویسا کریں  گے۔ اور جہاں  چاہیں  گے  وہاں  جائیں  گے۔

8 ان کے  گھوڑے  چیتوں  سے  بھی تیز دوڑنے  والے  ہوں  گے  اور شام کو نکلنے  والے  بھیڑ یوں  سے  بھی زیادہ خونخوار ہوں  گے۔ ان کے  سوار کودتے  پھاندتے  آئیں  گے۔ وہ اپنے  دشمنوں  میں  ویسے  ٹوٹ پڑیں  گے  جیسے  آسمان سے  کوئی بھو کا عقاب جھپٹ مارتا ہے۔

9 وہ سبھی جنگ کے  بھو کے  ہوں  گے۔ ان کی فوجیں  بیابان کی ہواؤں  کی طرح سیدھے  بڑھے  چلی آئیں  گی۔ بابل کے  سپاہی انگنت لوگوں  کو اسیر کر کے  لے  جائیں  گے۔ اور وہ ریت کے  ذروں  کی مانند بے  شمار ہوں  گے۔

10 ” بابل کے  سپاہی دوسری قوموں  کے  بادشاہوں  کی ہنسی اڑائیں  گے۔ دوسری قوموں  کے  حکمراں  ان کے  لئے  مذاق بن جائیں  گے۔ بابل کے  سپاہی ہر ایک بلند قلعوں  پر ہنسیں  گے۔ وہ لوگ دیوار کے  مدّ مقابل مٹی کا ایک ڈھلوان ٹیلہ بنائیں  گے۔ اور شہروں  کو قبضہ کر لیں  گے۔

11 پھر دوسروں  کے  ساتھ لڑائی لڑنے  کے  لئے  وہ آندھی کی طرح بڑھیں  گے۔ بابل کے  وہ لوگ صرف اپنے  زور کو ہی عبادت تصور کریں  گے۔ لیکن وہ لوگ قصور وار ٹھہریں  گے۔ ”

12 پھر حبقّوق نے  کہا ” اے  خداوند میرے  خدا! اے  میرے  قدوس! تو لافانی ہے  جو کبھی نہیں  مرتا۔ تو نے  بابل کے  لوگوں  کو دوسرے  لوگوں  کا فیصلہ کرنے  کے  لئے  پیدا کیا ہے۔ اور اے  چٹان تو نے  ان کو سزا کے  لئے  مقرر کیا ہے۔

13 تیری آنکھیں  بدی کو دیکھنے  سے  ایسے  پاک ہیں  کہ بُرائی کو دیکھ نہیں  سکتا اور غلط کام ہوتے  ہوئے  دیکھنے  کے  لئے  کھڑا نہیں  ہو سکتا۔ تو یہ کیسے  ہو سکتا ہے  کہ تو دغا بازوں  کو دیکھے  اور کچھ نہ کرے۔ اور جب ایک بدکردار اپنے  سے  زیادہ صادق کو نگل جاتا ہے  تب تُو کیسے  خاموش رہ سکتا ہے ؟

14 تو نے  ہی لوگوں  کو ایسے  بنا یا ہے  جیسے  سمندر کی انگنت مچھلیاں  اور جیسے  وہ سمندر چھوٹے  جاندار جن پر کوئی حکومت کرنے  وا لا نہیں۔

15 دشمن کانٹے  اور جال سے  انہیں  پکڑ لیتا ہے۔ اپنے  جال میں  اسے  پھنسا کر دشمن انہیں  کھینچ لے  جاتا ہے  اور دشمن اپنے  اس پکڑ سے  مسرور ہوتا ہے۔

16 اس لئے  وہ اپنے  جال کے  آگے  قربانیاں  پیش کرتے  ہیں  اپنے  جال کے  آگے  اسے  تعظیم دینے  کے  لئے  بخور بھی جلاتے  ہیں۔ جال کے  وسیلہ سے  وہ اونچے  معیار کی زندگی اور ذائقہ دار غذا سے  مسرور ہوتے  ہیں۔

17 کیا وہ اپنے  جال سے  اسی طرح لگا تار دولت حاصل کرتے  رہیں  گے ؟ کیا وہ ( بابل کی فوج )اس طرح لوگوں  کو لگاتار بہ رحمی سے  تباہ کرتے  رہیں  گے۔

 

 

 

باب :  2

 

1 ” میں  پہرہ کی چو کی پر اپنے  آپ کو مقرر کر دوں  گا اور انتظار کروں  گا یہ دیکھنے  کے  لئے  کہ خداوند مجھے  کیا کہتا ہے۔ اور میں  سنوں  گا کہ وہ میری شکایت کا کیسے  جواب دیتا ہے۔ ”

2 خداوند نے  مجھے  جواب دیا ” میں  تجھے  جو کچھ رو یا میں  دکھاتا ہوں  تو اسے  لکھ لے۔ صاف صاف لکھ دے تا کہ لوگ آسانی سے  اسے  پڑ ھ سکیں۔

3 یہ پیغام اس خاص وقت کے  بارے  میں  جو مستقبل میں  آئے  گا۔ یہ پیغام آخری وقت کے  بارے  میں  ہے  جو ہو گا۔ یہ ایسا ظاہر ہوتا ہے  جیسے  ایسا وقت بالکل کبھی نہیں  آئے  گا۔ لیکن صبر کے  ساتھ اس کا منتظر رہ وہ وقت آئے  گا وہ دیر نہیں  کرے  گا۔

4 وہ جو نا امید ہوتا ہے  اس پیغام کو نہیں  مانے  گا لیکن صادق اپنے  ایمان کی وجہ سے  زندہ رہے  گا۔”

5 ” بلا شبہ دو لت مغرور آدمی  کو اور پاتال کی طرح لالچی آدمی  کو دھوکہ دیتی ہے  جو کہ کامیاب نہیں  ہو گا۔ وہ موت کی طرح ہے  جو کبھی آسودہ نہیں  ہوتا بلکہ وہ لا لچ میں  آ کر سبھی قوموں  اور لوگوں  کو اپنے  لئے  جمع کر لیتا ہے۔

6 یقیناً ہی یہ لوگ اس کی ہنسی اڑاتے  ہوئے  یہ کہیں  گے   “اس پر افسوس جو اوروں  کے  مال سے  مالدار ہوتا ہے۔ جو کتنے  ہی لوگوں  کو اپنے  قرض کے  بوجھ تلے  دباتا رہا ہے۔ ”

7 ” اے  انسان! تو نے  لوگوں  سے  دولت اینٹھی ہے۔ ایک دن وہ لوگ اٹھ کھڑے  ہوں  گے  اور جو کچھ ہو رہا ہے   انہیں  اس کا احساس ہو گا اور پھر وہ تیری مخالفت میں  کھڑے  ہو جائیں  گے۔ تب وہ تجھ سے  ان چیزوں  کو چھین لیں  گے   تب تو بہت خوفزدہ ہو جائے  گا۔

8 تو نے  بہت سی قوموں  کو لوٹا ہے۔ اس لئے  وہ تجھ سے  اور زیادہ لو ٹیں  گے۔ کیوں  کہ تو نے  بہت سے  لوگوں  کو ہلاک کیا ہے۔ تو نے  ملکوں  اور شہروں  کو تباہ کیا ہے۔ تو نے  وہاں  سبھی لوگوں  کو مار ڈالا ہے۔

9 اس کا بُرا ہو گا جو ناجائز طریقے  سے  دولتمند ہوتا ہے۔ ایسا آدمی  اس طرح کا کام کرتا ہے تا کہ وہ اپنی اونچی عمارت میں  محفوظ رہ سکے  جہاں  کوئی بُرائی واقع نہ ہو سکے۔ لیکن یقیناً بُرے  واقعات اس کے  ساتھ ہوں  گے۔

10 ” تو نے  بہت سے  لوگوں  کو فنا کرنے  کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ اس سے  تیرے  اپنے  لوگوں  کی رسوائی ہو گی۔ اور تجھے  بھی اپنی جان سے  ہاتھ دھو نا پڑے  گا۔

11 دیوار سے  پتھر تیرے  خلاف چلائیں  گے۔ اور یہاں  تک کہ چھت کا شہتیر بھی راضی ہو گا کہ تو غلط ہے۔

12 ” اس کا برا ہو جو شہر کو خونریزی سے  اور بدکاری سے  تعمیر کرتا ہے۔

13 خداوند قادر مطلق نے  یہ ارادہ کر لیا ہے  کہ ان لوگوں  نے  جو کچھ بنا یا تھا ان سب کو ایک آگ بھسم کر دے  گی۔ ان کا بنا بنا یا رائے  گاں  جائے  گا۔

14 پھر ہر کوئی خداوند کے  جلال کو جان جائے  گا اور اس کا عرفان ایسے  ہی پھیل جائے  گا۔جیسے  سمندر میں  پانی پھیلا ہو۔

15 اس کا برا ہو جو اپنے  پڑوسی کو نشہ آور بناتا ہے  اور تب پھر مئے  میں  اس کے  ننگا پن کو دیکھنے  کے  لئے  زہر ملا تا ہے۔

16 ” لیکن وہ شخص خداوند کے  غصہ کو جانے  گا۔ وہ غصہ خداوند کے  داہنے  ہاتھ میں  ایک زہر کے  پیالہ کی مانند ہو گا۔ وہ آدمی  اس غصہ کو چکھے  گا اور نشے  میں  چور آدمی  کی طرح زمین پر گر پڑے  گا۔” برا حاکم تم اس پیالہ سے  پیو گے  تمہیں  تعظیم نہیں  رسوائی ملے  گی۔

17 لبنان میں  تم نے  کئی لوگوں  کو ہلاک کیا۔ تم نے  وہاں  کئی مویشیوں  کو تباہ کیا۔ اس لئے  جو لوگ مر گئے  اس کی وجہ سے  اور زمین کو برباد کرنے  کے  لئے  تم نے  جو بُرے  کام کئے  اس کی وجہ سے  تم خوفزدہ ہو گے۔ تم نے  ان شہروں  اور ان کے  شہریوں  کے  لئے  جو کئے  اس کی وجہ سے  تم خوفزدہ ہو گے۔ ”

18 جھوٹے  خداؤں  کی مورتی کا کیا فائدہ کہ کا ریگروں  نے  اس کو کھود کر بنا یا۔ دھات کی مورتیوں  اور اس کے  جھوٹے  پیغا مات کا کیا فائدہ۔ مورتیوں  کا بنانے  وا لا مورتی پر جسے  وہ بنایا ہے  کیوں  بھروسہ کرے  گا جو کہ بول بھی نہیں  سکتا ہے۔

19 اس پر افسوس جو لکڑی سے  کہتا ہے   ” جاگ ” اور بے  زبان پتھر سے  کہتا ہے   ” اٹھ! ” کیا وہ تعلیم دے  سکتا ہے ؟ دیکھ وہ سونے  چاندی سے  مڑھا ہے  لیکن اس میں  مطلق دم نہیں۔

20 ( مگر خداوند بالکل مختلف ہے  ) خداوند اپنی مقدس ہیکل میں  رہتا ہے۔ اس لئے  ساری زمین کو خاموش رہنی چاہئے  اور اس کی موجودگی میں  اس کے  احترام کو دکھاؤ۔

 

 

باب :  3

 

1 شگا یو نوت کے  سر پر حبّقوق نبی کی دعا۔

2 اے  خداوند میں  نے  تیرے  با رے  میں  سنا ہے۔ میں  جلال سے  پھر گیا تھا۔ اسے  خداوند میں  ان طاقتور قوموں  سے  جو تو نے  کیا ہے  حیرت زدہ ہو ں۔ میں  تجھ سے  التجا کرتا ہوں  کہ ہمارے  وقت میں  عظیم کاموں  کو کرو۔ میں  تجھ سے  یہ بھی التجا اور امید کرتا ہوں  کہ تم ابھی بھی ان چیزوں  کو کرتے  ہو۔ لیکن اپنے  قہر کے  وقت ہم لوگوں  پر رحم کرنا یا د رکھ۔

3 خدا تیمان کی جانب سے  آ رہا ہے۔ خدا مقدس کو ہِ فاران سے  آ رہا ہے۔ اس کا جلال آسمان پر چھا گیا اور زمین اس کی حمد سے  معمور ہو گئی ہے۔

4ا سکی چمک سورج کی روشنی کی مانند ہے   اس کے  ہاتھ سے  کرنیں  نکلتی تھی۔ اور اس کے  ہاتھ میں  قدرت چھپی ہوئی تھی۔

5 مہلک وبا اس کے  آگے  چلتی ہے۔ اور پلیگ ( طاعون ) اس کے  پیچھے  چلتی ہے۔

6 خداوند کھڑا ہوا اور زمین کو ہلا دیا۔اس نے  قوموں  پر تیکھی نگاہ ڈالی اور وہ خوف سے  کانپ اٹھے۔ ازلی پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گا۔ قدیم پہاڑی جھک گئی۔ خدا شروع سے  ہی ایسا رہا ہے۔

7 اس وقت میں  نے  کوشن اور مدیان کے  شہروں  اور گھروں  کو کانپتے  دیکھا۔

8 اے  خداوند کیا تو ندیوں  پر خفا تھا۔ کیا تیرا قہر دریاؤں  پر تھا۔ کیا سمندر تیرے  غضب کا نشانہ بن گیا؟ کیا یہی وجہ ہے  کہ تو فتح کے  لئے  اپنے  گھوڑوں  اور رتھوں  پر سوار ہوئے۔ اب میں  دیکھتا؟

9 تو نے  اپنی کمان غلاف سے  نکالی اور تیر نشانے  پر لگا۔ پانی کے  جھرنے  زمین کے  چیرنے  کے  لئے  پھوٹ پڑے۔

10 پہاڑوں  نے  تجھے  دیکھا اور وہ کانپ اٹھے۔ بادل نے  پانی برسایا۔ سمندر شور کرنے  لگا اور موجیں  بلند ہوئیں۔

11 آفتاب اور مہتاب اب بھی آسمان میں  ہے۔ انہوں  نے  جب تمہاری بجلی کی چمک کو دیکھا تو چمکنا چھوڑ دیا۔ وہ بجلیاں  ایسی تھیں  جیسے  پھینکے  ہوئے  بھالے  یا جیسے  ہوا میں  چھوڑے  ہوئے  تیر ہو ں۔

12 تو اپنا غصہ میں  زمین سے  ہو کر گذرا اور ملکوں  کو روند ڈالا۔

13 تو ہی اپنے  لوگوں  کو بچانے  آیا تھا۔ تو ہی اپنے  منتخب ( مسح کئے  ہوئے  ) بادشاہ کو بچانے  آیا تھا۔ تو نے  شریر کے  سرداروں  کو روند ڈالا۔ اور اسے  سر سے  پیر تک مٹا یا۔

14 تو نے  اپنے  تیروں  سے  ان کے  سپاہیوں  کے  سروں  کو چھید دیا جو دھول کے  آندھی کی طرح ہم لوگوں  کو تتر بتر کرنے  کے  لئے  بہا۔ وہ لوگ بڑی حرص بھری نگاہ سے  دیکھا یہ سوچتے  ہوئے  کہ غریبوں  کو نگل جائیں  گے  ان جنگلی جانوروں  کی طرح جو اپنے  شکار کو ماند میں  کھا جاتا ہے۔

15 لیکن تو نے  سمندر کو اپنے  ہی گھوڑوں  سے  پار کیا۔ تو نے  عظیم پانی کو ہلا دیا۔

16 میں  نے  سنا اور اس کے  ساتھ میرا دل دہل گیا۔ میرے  ہونٹ ہلنے  لگے۔ میری ہڈیاں  بہت کمزور ہو گئیں  اور میں  کھڑے  کھڑے  کانپنے  لگا۔ لیکن میں  صبر کے  ساتھ ان لوگوں  پر آنے  وا لی مصیبت کا انتظار کرتا ہوں  جنہوں  نے  ہم لوگوں  پر حملہ کیا تھا۔

17 اگر چہ انجیر کا درخت نہ پھولے  اور تاک میں  پھل نہ لگے  اور زیتون کا حاصل ضائع ہو جائے  اور کھیتوں  میں  کچھ پیدا وار نہ ہو اور بھیڑ خانہ سے  بھیڑیں  جا تی رہیں  اور طویلوں  میں  مویشی نہ ہوں۔

18 لیکن پھر بھی میں  خداوند سے  خوش رہوں  گا – میں  اپنے  نجات دہندہ خدا سے  خوش ہوں  گا-

19 خداوند جو میرا مالک ہے  مجھے  طاقت دیتی ہے۔ وہ میرے  پیر کو ہرن کی طرح تیز دوڑاتا ہے  وہ مجھے  حفاظت کے  ساتھ پہاڑوں  کے  اوپر چلنے  میں  مدد کرتا ہے  مو سیقی کے  ہدایت کار کے  لئے  میرے  تار دار سازوں  کے  ساتھ۔

 

کتاب  : صفنیاہ

 

باب :   1

 

1 خداوند کا کلام جو شاہِ یہوداہ یوسیاہ بن امون کے  ایام میں  صفنیاہ بن کوشی بن جدلیاہ بن حزقیاہ پر نازل ہوا۔

2 خداوند کہتا ہے   ” میں  زمین کی ہر شئے  کو نیست و نابود کر دوں  گا۔

3 میں  سبھی انسانوں  اور حیوانوں  کو نیست و نابود کر دوں  گا۔ میں  آسمان کے  پرندوں  اور سمندر کی مچھلیوں  کو فنا کروں  گا۔ میں  گنہگار لوگوں  کو اور ان سبھی چیزوں  کو جو انہیں  گنہگار بناتی ہیں  فنا کروں  گا۔ میں  سبھی لوگوں  کا اِس زمین پر سے  نام و نشان مٹا دوں  گا۔ خداوند نے  یہ سب کہا! ”

4 خداوند نے  یہ کہا ” میں  یہوداہ کو اور یروشلم کے  سارے  باشندوں  کو سزا دوں  گا۔ میں  ان چیزوں  کو ان جگہوں  سے  ہٹاؤں  گا۔ میں  باقی ماندہ بعل پرستش کو تباہ کروں  گا۔ میں  بت پرست کاہنوں  کو ہٹاؤں  گا اس لئے  لوگ ان کے  بارے  میں  بھول جائیں  گے۔

5 میں  ان لوگوں  کو جو اپنی چھتوں  پر آسمانی ستاروں  کی پرستش اور سجدہ کرتے  ہیں  ہٹاؤں  گا۔ میں  ان لوگوں  کو جو میری پرستش کرنے  کا وعدہ کیا لیکن اب ملکوم جھوٹا خداوند کی پرستش کرتے  ہیں  ہٹاؤں  گا۔

6 کچھ لوگ خداوند سے  پھِر گئے۔ انہوں  نے  میری پیروی چھوڑ دی۔ ان لوگوں  نے  خداوند سے  مدد مانگنی بھی چھوڑ دی اس لئے  میں  ان لوگوں  کو اس جگہ سے  ہٹاؤں  گا۔”

7 میرے  مالک خداوند کے  آگے  خاموش رہو! کیوں  کہ خداوند کا لوگوں  کی عدالت کرنے  کا دن جلد ہی آ رہا ہے۔ خداوند نے  اپنی قربانی تیار کر لی ہے۔ اور اس نے  اپنے  بلائے  ہوئے  مہمانوں  سے  تیار رہنے  کے  لئے  کہہ دیا ہے۔

8 خداوند نے  کہا ” خداوند کی قربانی کے  دن میں  شہزادوں  اور امراء کو سزا دوں  گا اور ان سب کو جو اجنبیوں  کی پوشاک پہنتے  ہیں  سزا دوں  گا۔

9 اس وقت میں  ان سبھی لوگوں  کو سزا دوں  گا جو گھروں  میں  گھس کر اپنے  آقا کے  گھر کو لوٹ اور مکر و فریب سے  بھر دیتے  ہیں۔”

10 خداوند نے  یہ بھی کہا ” اس وقت مچھلی پھاٹک سے  رونے  کی آواز اور مشنہ سے  ماتم کی اور ٹیلوں  پر سے  بڑے  غوغا کی صدا اٹھے  گی۔

11 شہر کے  نچلے  حصہ میں  رہنے  والے  لوگو! تم چلّاؤ گے  کیوں  کہ کنعان کے  کارو باری اور دولت مند تاجر فنا کر دیئے  جائیں  گے۔

12 ” اس وقت میں  چراغ لے  کر پورے  یروشلم میں  تلاش کروں  گا اور میں  ان تمام لوگوں  کو سزا دوں  گا جو کہ روحانی طور پر مطمئن ہو گئے  ہیں  اور دل میں  کہتے  ہیں  ” خداوند نہ ہی ہمیں  مدد پہنچاتا ہے  اور نہ ہی نقصان۔”

13 لوگوں  کا سارا مال لوٹ لیا جائے  گا۔ اپنے  بنائے  ہوئے  گھروں  میں  لوگ نہیں  رہیں  گے۔ اور جن لوگوں  نے  تاکستان لگائے  ہیں  وہ ان کی مئے  نہیں  پئیں  گے۔ ان چیزوں  کو دوسرے  لوگ لیں  گے۔ ”

14 خداوند کے  فیصلے  کا دن جلد آ رہا ہے  وہ دن قریب ہے  اور تیزی سے  آ رہا ہے۔ خداوند کے  فیصلے  کے  خاص دن لوگ غم بھری آواز اور شور سنیں  گے۔ یہاں  تک کہ زبردست آدمی  بھی پھوٹ پھوٹ کر روئے  گا۔

15 اس وقت خدا اپنا قہر ظاہر کرے  گا۔ یہ بھیانک مصیبت کا وقت ہو گا دکھ اور رنج کا دن ویرانی اور خرابی کا دن تاریکی اور اداسی کا دن اور ابر و طوفان کا دن ہو گا۔ ۱۶یہ جنگ کے  ایسے  دن کی طرح ہو گا جب لوگ محفوظ بر جوں  اور محفوظ شہروں  سے  بگل اور جنگی للکار سنیں  گے۔

16 خداوند نے  کہا ” میں  بنی آدم پر مصیبت لاؤں  گا یہاں  تک کہ وہ اندھوں  کی مانند چلیں  گے۔ کیوں  کہ وہ خداوند کے  گنہگار ہوئے۔ ان کا خون زمین پر بہایا جائے  گا اور ان کی لاشیں  زمین پر گوبر کی طرح پڑی رہیں  گی۔

17 ان کا سونا چاندی ان کی مدد نہیں  کر پائیں  گے۔ اس دن خدا بہت غضبناک ہو گا۔ تمام ملک کو اس کی غیرت کی آگ کھا جائے  گی۔ خداوند نے  روئے  زمین کی ہر شئے  کو نیست و نابود کر دے  گا۔”

18

 

 

 

باب :   2

 

1 اے  بے  حیا قوم اپنے  آپ  اکٹھا ہو جاؤ۔

2 اس سے  پہلے  کہ تم ان پھولوں  کی طرح ہو جاؤ جو کہ مرجھا گئے  اور مر گئے  ہیں۔ اس سے  پہلے  کہ خداوند اپنا دہشت ناک غصہ دکھائے   اس سے  پہلے  کہ خدا کا غضبناک دن تیرے  خلاف آئے   اپنی زندگی بدل ڈالو۔

3 خداوند کو تلاش کرو۔ تم سب خاکسار لوگ جو خداوند کے  احکام پر چلتے  ہو اور اس کا طالب ہو۔ راستبازی کو ڈھونڈو فروتنی کو تلاش کرو شاید خداوند کے  غضب کے  دن سے  تم کو پناہ ملے۔

4 غزّہ شہر میں  کوئی بھی نہیں  بچے  گا۔ اسقلون ویران کیا جائے  گا اشدود چھوڑنے  پر مجبور کیا جائے  گا اور عقرون ویران ہو گا۔

5 فلسطینی لوگو! سمندر کے  ساحل کے  رہنے  والو خداوند کا یہ پیغام تمہارے  لئے  ہے۔ اے  کنعان فلسطینیوں  کی سر زمین تم نیست و نابود کر دیئے  جاؤ گے  وہاں  کوئی نہیں  رہے  گا۔

6 سمندر کے  ساحل چرا گاہیں  ہوں  گے  جن میں  چرواہوں  کی جھونپڑیاں  اور بھیڑ خانے  ہوں  گے۔

7 اور وہی ساحل یہوداہ کے  گھرانے  کے  بچے  ہوئے  لوگوں  کے  لئے  ہوں  گے۔ وہ ان میں  چرا یا کریں  گے۔ وہ شام کے  وقت اسقلون کے  مکانوں  میں  لیٹا کریں  گے   کیوں  کہ خداوند ان پر پھر نظر کرے  گا اور ان کی اسیری کو موقوف کرے  گا۔

8 خداوند کہتا ہے   ” میں  جانتا ہوں  کہ موآب اور عمّون کے  لوگوں  نے  کیسے  میرے  لوگوں  کو حقیر اور رسوا کیا۔ انہوں  نے  اپنے  ملک کو اور زیادہ بڑا کرنے  کے  لئے  ان کی زمین لے  لی۔

9 اس لئے  خداوند قادر مطلق اسرائیل کا خدا فرماتا ہے  مجھے  اپنی حیات کی قسم! یقیناً موآب سدوم کی مانند ہو گا اور بنی عمّون عمورہ کی مانند وہ پُر خار نمک زار اور ابد الآباد تک بر باد رہیں  گے۔ میرے  لوگوں  کے  بچے  ہوئے  لوگ ان کو غارت کرے  گا اور میری قوم کے  باقی لوگ ان کے  وارث ہوں  گے۔ ”

10 وہ چیزیں  ان لوگوں  کے  ساتھ ان کے  غرور کی وجہ سے  ہوں  گے۔ جیسا کہ یہ وہی لوگ تھے  جس نے  خداوند قادر مطلق کے  لوگوں  کا مذاق اڑایا اور ان کے  لئے  ظالم تھے۔

11 وہ لوگ خداوند سے  ڈریں  گے  کیوں ؟ کیونکہ خداوند ان کے  خداؤں  کو فنا کرے  گا تب سبھی دور و دراز کے  ملک کے  لوگ خداوند کی پرستش کریں  گے۔

12 اے  کوش کے  باشندو! اس کا مطلب تم بھی ہو۔ خداوند کی تلوار تمہارے  باشندوں  کو ہلاک کرے  گی۔

13 اور خداوند شمال کی جانب اپنا ہاتھ بڑھائے  گا اور اسور کو سزا دے  گا۔ وہ نینوہ کو نیست و نابود کرے  گا۔ وہ شہر خشک صحرا جیسا ہو گا۔

14 ان میں  جنگلی جانور اور بھیڑ رہیں  گے۔ الّو اور کوا اس کے  ستون پر کھونسلا بنائیں  گے  ان کے  رونے  کی آواز کھڑ کی سے  سنی جائے  گی۔ اس کی دہلیزوں  میں  ویرانی ہو گی۔ دیودار کے  تختوں  کو کھینچ لیا جائے  گا۔

15 یہ وہ شادماں  شہر ہے  جو بے  فکر تھا۔ جس نے  دل میں  کہا کہ میں  ہوں  اور میرے  سوا کوئی دوسرا نہیں۔ وہ کیسا ویران ہوا۔ حیوانوں  کی بیٹھنے  کی جگہ ہر ایک جو ادھر سے  گزرے  گا سسکارے  گا اور ہاتھ ہلائے  گا۔

 

 

 

 باب :  3

 

 

1 اے  یروشلم! تمہارے  لوگ خدا کے  خلاف لڑے۔ تمہارے  لوگوں  نے  کئی لوگوں  کو چوٹ پہنچا اور تم ناپاک ہوئے۔

2 تمہارے  لوگ میری ایک نہیں  سنے۔ وہ میری تعلیم کو قبول نہیں  کر تے۔ یروشلم نے  خداوند پر توکل نہیں  کیا۔ وہ اپنے  خدا کے  پاس نہیں  گئی۔

3 یروشلم کے  امراء گرجنے  والے  شیر ببر ہیں۔ اس کے  قاضی بھیڑیوں  کی طرح ہیں  جو شام کو نکلتے  ہیں  اور صبح تک کچھ نہیں  چھوڑتے  ہیں۔

4 اس کے  نبی اپنے  پوشیدہ منصوبوں  کو ہمیشہ زیادہ سے  زیادہ پانے  کے  لئے  بنا رہے  ہیں۔ اس کے  کاہنوں  نے  پاک چیزوں  کو ناپاک کیا ہے۔ انہوں  نے  خدا کی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔

5 لیکن خدا اب بھی اس شہر میں  ہے  اور وہ اس کی خاطر ہمیشہ کرتا رہے  گا۔خدا کچھ بھی بُرا نہیں  کرتا وہ اپنے  لوگوں  کی بھلائی کرتا چلا آ رہا ہے۔ وہ ہر صبح بلا ناغہ اپنی عدالت ظاہر کرتا ہے  مگر بے  انصاف آدمی  شرم کو نہیں  جانتا۔

6 خدا کہتا ہے   “میں  نے  پوری قوموں  کو فنا کیا ہے۔ میں  ان کے  بُرجوں  کو نیست و نابود کیا ہے۔ میں  نے  ان کی سڑ کیں  برباد کی ہیں  اور اب وہاں  کوئی نہیں  جا تا۔ ان کے  شہر ویران ہیں  ان میں  اب کوئی نہیں  رہتا۔

7 میں  تم سے  یہ اس لئے  کہہ رہا ہوں تا کہ تم سبق لو۔ میں  چاہتا ہوں  کہ تم مجھ سے  ڈرو اور میرا احترام کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے  تو تمہارا گھر نیست و نابود نہیں  ہو گا۔ اگر تم ایسا کرو گے  تو میں  اپنے  بنائے  منصوبے  کے  تحت تمہیں  سزا نہیں  دوں  گا۔” لیکن وہ برے  لوگ ویسے  ہی برے  کام اور زیادہ کرنا چاہتے  ہیں  جنہیں  انہوں  نے  پہلے  ہی کر رکھا ہے۔

8 پس خداوند فرماتا ہے   ” میرے  منتظر رہو جب تک کہ میں  فیصلہ کرنے  کے  لئے  کھڑا نہ ہو جاؤں  جیسا کہ میں  نے  ساری قوموں  اور مملکتوں  کو اکٹھا کرنے  کا ارادہ کر لیا ہے تا کہ میں  اپنا شدید غصہ ان لوگوں  پر برپا کروں  گا۔ اور میری غیرت کی آگ ساری زمین کو کھا جائے  گی۔

9 تب میں  لوگوں  کو دیگر قوموں  سے  مختلف کروں  گاتا کہ وہ صاف زبان بول سکیں  اور وہ خداوند کے  نام کی ستائش کریں۔ وہ سبھی ایک ساتھ میری عبادت کریں  گے۔

10 ” لوگ کوش میں  ندی کی دوسری جانب پو را راستہ طئے  کر کے  آئیں  گے  میرے  بکھرے  لوگ میرے  پاس آئیں  گے۔ میری عبادت گذار میرے  پاس آئیں  گے  اور میرے  لئے  تحفہ لائیں  گے۔

11 ” اے  یروشلم! تب تم آگے  چل کر ان بُرے  کاموں  کے  لئے  جسے  تیرے  لوگوں  نے  میرے  خلاف کئے  ہیں  شرمندگی محسوس نہیں  کرو گی؟ کیوں  کہ میں  سبھی مغرور لوگوں  کو دور کر دوں  گا۔ ان مغرور لوگوں  میں  سے  کوئی بھی میرے  کوہ مقدس پر نہیں  رہ پائے  گا۔

12 میں  صرف عاجزانہ طبیعت والے  اور خاکسار لوگوں  کو اپنے  شہر ( یروشلم ) میں  رہنے  کی اجازت دوں  گا۔ اور انہیں  خداوند کے  نام پر پو را ایمان ہو گا۔

13 باقی بنی اسرائیل نہ بدی کریں  گے  نہ جھوٹ بو لیں  گے  اور نہ ان کے  منہ میں  دغا کی باتیں  پائی جائیں  گی بلکہ وہ کھائیں  گے  اور لیٹے  رہیں  گے۔ اور کوئی ان کو نہ ڈرائے  گا۔”

14 اے  صیون کی بیٹی گاؤ! اور مسرور رہو۔ اے  اسرائیل خوشی سے  چلاؤ! اے  یروشلم! پو رے  دل سے  خوشی منا اور شادماں  ہو۔

15 کیوں ؟ کیوں  کہ خداوند نے  تمہاری سزا روک دی۔ اس نے  تمہارے  دشمنوں  کو نکال دیا۔ خداوند اسرائیل کا بادشاہ تمہارے  اندر ہے۔ تم پھر مصیبت کو نہ دیکھو گے۔

16 اس وقت یروشلم سے  کہا جائے  گا ہراساں  نہ ہو! اے  صیون تیرے  ہاتھ ڈھیلے  نہ ہوں۔

17 خداوند تمہارا خدا تمہارے  ساتھ ہے۔ وہ قادر ہے۔ وہ تمہاری حفاظت کرے  گا۔ وہ دکھائے  گا کہ تم سے  کتنا پیار کرتا ہے۔ وہ دکھائے  گا کہ وہ تمہارے  ساتھ کس قدر مسرور ہے۔ وہ خوشیاں  منائے  گا اور شادماں  ہو گا۔

18 جیسے  لوگ ایک دعوت میں  ہو ں۔” خداوند فرماتا ہے   ” میں  تمہارے  شرمندگی دور کروں  گا۔ میں  ان لوگوں  کو تمہیں  نقصان پہنچانے  سے  روکوں  گا۔

19 اس وقت میں  لوگوں  کو سزا دوں  گا۔ جنہوں  نے  تمہیں  چو ٹ پہنچائی۔ میں  اپنے  زخمی لوگوں  کی حفاظت کروں  گا۔ میں  ان لوگوں  کو واپس لاؤں  گا جنہیں  بھاگنے  پر مجبور کیا گیا تھا اور میں  انہیں  ناموری بخشوں  گا۔ لوگ ہر جگہ ان کی ستائش کریں  گے۔

20 اس وقت میں  تمہیں  وا پس لاؤں  گا۔ میں  تمہیں  ایک ساتھ وا پس لاؤں  گا۔ میں  تمہیں  ناموری دوں  گا۔ سبھی لوگ تمہاری ستائش کریں  گے۔ یہ تب ہو گا جب میں  تمہاری آنکھوں  کے  سامنے  تم اسیروں  کو وا پس لاؤں  گا۔ خداوند نے  یہ سب کہا۔

 

 

 

 

 

کتاب ۳۷: حجّی

 

 

 

 

 

باب :  1

 

1 دارا بادشاہ کی حکومت کے  دوسرے  برس کے  چھٹے  مہینے  کی پہلی تاریخ کو یہوداہ کے  گورنر زُر باّ بل بن سیالتی ایل اور اعلیٰ کاہن یشوع بن یہو صدق کو حجی نبی کی معرفت خداوند کا کلام پہنچا۔

2 خداوند قادر مطلق کہتا ہے   ” لوگ کہتے  ہیں  کہ خداوند کے  گھر کو ازسر نو بنانے  کے  لئے  وقت اب تک نہیں  آیا ہے۔ ”

3 خداوند کا پیغام حجی نبی کی معرفت آیا۔ حجی نبی نے  کہا :

4 ” کیا یہ وقت تمہارے  لئے  لکڑی کے  تختوں  سے  سجے  گھروں  میں  رہنے  کا ہے   جبکہ میرا گھر تباہ و برباد پڑا ہوا ہے ؟

5 اس سبب سے  خداوند قادر مطلق یہ کہتا ہے  : “اپنے  راستے  کے  با رے  میں  سوچنے  کے  لئے  ہوشیار رہو!

6 تم نے  بو یا بہت ہے  لیکن صرف تھوڑا ہی کاٹا ہے۔ تم کھاتے  ہو لیکن تم پھر بھی بھوک محسوس کرتے  ہو۔ تم پیتے  ہو لیکن یہ تمہارے  لئے  کافی نہیں  ہوتا ہے۔ تم کپڑا پہنو گے  لیکن تمہیں  گرم محسوس نہیں  ہو گی۔ اور روزانہ مزدوری کرنے  والے  اپنے  پیسے  ایسی تھیلی میں  رکھتے  ہیں  جس میں  سوراخ ہے ! ”

7 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” اپنے  راستے  کے  با رے  میں  سوچنے  کے  لئے  ہوشیار رہو۔”

8 پہاڑوں  پر جاؤ لکڑی لاؤ اور گھر بناؤ تا کہ میں  شاید خوش ہوں  گا اور میری تعظیم ہو گی۔ خداوند کہتا ہے۔ ”

9 تم بہت زیادہ فصل کی امید کئے   لیکن تمہیں  بہت کم اناج ملتا ہے۔ اور جب تم اسے  اندر لائے  تو میں  نے  اسے  اڑا دیا۔کیوں ؟ ” خداوند قادر مطلق کہتا ہے   ” کیوں  کہ میرا گھر تباہ و برباد ہو کر پڑا ہے  جبکہ تم میں  سے  ہر کوئی اپنے  اپنے  گھر کولے  کر مشغول ہو۔

10 اس وجہ سے  آسماننے  شبنم روک لیا اور زمین فصل دینی بند کر دی۔”

11 ” میں  نے  خشک سالی کو زمین اور پہاڑوں  پر اناجوں  نئی مئے  اور تیل کے  او پر زمین پر پیدا ہونے  وا لی چیزوں  پر انسانوں  پر اور جانوروں  کے  اوپر اور ان ساری چیزوں  کے  اوپر جسے  وہ بناتے  ہیں  نیچے  بلا یا اور سارے  آدمیوں  کی محنت بے  مول ہو گئی۔”

12 تب زُر باّ بل بن سیالتی اور اعلیٰ کاہن یشوع بن یہو صدق اور باقی بچے  ہوئے  لوگوں  نے  خداوند اپنے  خدا کے  کلام کو مانا۔انہوں  نے  نبی حجّی کے  کلام پر بھی چلا کیونکہ خداوند ان کے  خدا نے  اسے  بھیجا تھا اور لوگ خداوند کے  سامنے  احترام سے  تھے۔

13 خداوند کا پیغمبر حجی نے  خداوند کے  پیغام کو لوگوں  کو دیا۔ یہ کہتے  ہوئے   ” میں  تمہارے  ساتھ ہوں۔” خداوند کہتا ہے۔

14 خداوند نے  یہوداہ کے  گور نر زُرباّبل بن سیالتی ایل کی روح کو اعلیٰ کاہن یشوع بن یہو صدق کی روح کو اور باقی لوگوں  کو جوش دلا یا۔ اور اپنے  خدا خداوند قادر مطلق کے  گھر پر کام کئے۔

15 ان لوگوں  نے  یہ کام دارا بادشاہ کی حکومت کے  دوسرے  برس کے  چھٹے  مہینے  کی چوبیسویں  تاریخ کو شروع کیا۔

 

 

 

باب :  2

 

1 ساتویں  مہینے  کی اکیسویں  تاریخ کو خداوند کا پیغام حجّی نبی کے  معرفت پہنچا۔ کہا گیا

2 برائے  مہربانی یہوداہ کے  گور نر زُرباّبل بن سیالتی ایل اعلیٰ کاہن یشوع بن یہو صدق اور باقی لوگوں  سے  بات کرو اور کہو۔

3 ” تم میں  سے  یہاں  کون ہے  جو اس گھر کو اس کے  پہلے  کے  جلال میں  دیکھا ہے۔ اب تمہیں  یہ کیسا دکھائی دے  رہا ہے ؟ کیا تمہیں  یہ پہلے  گھر کے  مقابلے  میں  ایسا نہیں  دکھائی دے  رہا ہے  کہ یہ کچھ بھی نہیں  ہے ؟

4 لیکن اے  زُرباّبل خدا کہتا ہے   ” اے  اعلیٰ کاہن یشوع بن یہوصدق حوصلہ رکھو! اس زمین کے  سارے  لوگ حوصلہ رکھو! ” خداوند کہتا ہے   ” کام کرو کیوں  کہ میں  تیرے  ساتھ ہوں ! ” خداوند قادر مطلق فرماتا ہے

5 ” معاہدہ کے  مطابق جو کہ میں  نے  تم سے  کیا تم مصر سے  با ہر آئے۔ میری روح تمہارے  ساتھ رہتی ہے  ڈرو مت۔”

6 کیوں  کہ خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   صرف تھوڑی ہی دیر میں  آسمان زمین سمندر اور خشک زمین کو ہلا دوں  گا۔

7 اور میں  ساری قوموں  کو بلا دوں  گا۔تا کہ وہ اپنے  خزانوں  کے  ساتھ آئیں  گے  اور میں  اس گھر کو شان و شوکت سے  بھر دوں  گا۔” خداوند قادر مطلق فرماتا ہے۔

8 ” چاندی میری ہے  اور اسی طرح سو نا بھی ” خداوند قادر مطلق فرماتا ہے۔

9 اس ہیکل کی شان و شوکت پہلے  کی ہیکل کی شان و شوکت سے  بہت زیادہ ہو گی۔” خداوند قادر مطلق کہتا ہے   ” اور اس جگہ کو میں  امن و مان دوں  گا۔” خداوند قادر مطلق فرماتا ہے۔

10 دارا کی حکومت کے  دوسرے  دن سال کے  نویں  مہینے  کے  چو بیسویں  دن خداوند کا پیغام حجی نبی کی معرفت آیا۔

11 اس طرح خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” برائے  مہربانی کاہنوں  سے  پو چھو کہ اس کے  متعلق شریعت کیا کہتی ہے۔

12 ” اگر کوئی شخص مقدس گوشت اپنے  لباس میں  لپیٹ کر لاتا ہے   اور اگر اس کا لباس روٹی یا پکا ہوا کھا نا یا مئے   تیل یا کوئی بھی کھانے  کی چیزوں  سے  چھو جائے   تو کیا وہ چیزیں  جو اس سے  چھو جائے  مقدس ہو جائے  گا؟ ” تب کاہنوں  نے  جواب دیا نہیں !

13 حجّی نے  کہا ” لیکن اگر کوئی شخص لاش کو چھونے  سے  نا پاک ہو جاتا ہے   ان چیزوں  میں  سے  کسی کو بھی چھوتا ہے   کیا وہ ناپاک ہو جائے  گا؟۔ ” کاہنوں  نے  جواب دیا ” ہاں ! یہ ناپاک ہو جائے  گا۔”

14 پھر حجّی نے  کہا خداوند فرماتا ہے   ” میری نظر میں  ان لوگوں  کے  بارے  میں  اور ان قوموں  کے  بارے  میں  یہ صحیح ہے   ” ” یہ صحیح ہے  کہ وہ جو کچھ بھی قربان گاہ میں  لائے  گا وہ نا پاک ہے !

15 اب آج سے  آئندہ کے  لئے  اس بات کا خیال رکھو ہوشیاری برتو : اس سے  پہلے  کہ خداوند کے  گھر میں  ایک پتھر کے  اوپر دوسرا پتھر رکھا جائے۔

16 اس وقت تم کیسے  تھے ؟ جب کوئی شخص اناج کے  ڈھیر کے  پاس بیس پیمانے  کی امید لے  کر گئے   وہاں  صرف دس پیمانہ ہی تھا۔ جو کوئی شخص ایک بڑا حوض کے  پاس پچاس پیمانے  مئے  کے  لئے  گئے  تو وہاں  صرف بیس پیمانہ ہی تھا۔

17 میں  نے  تم کو اور تمہارے  محنت کے  سارے  پیدا وار کو پت روگ سے   پھپھوندیوں  سے  اور اولوں  سے  مارا۔ تب بھی تم میرے  پاس نہیں  آئے۔ ” خداوند فرماتا ہے۔

18 خداوند نے  کہا ” آج نویں  مہینے  کا ۲۴ واں  تاریخ ہے۔ اور تم نے  خداوند کی ہیکل کی بنیاد کو رکھنا پورا کیا۔ اس لئے  آج سے  آئندہ ہونے والی باتوں  کے  بارے  میں  سو چو۔”

19 کیا ابھی بھی کوئی بیج غلّہ خانہ میں  بچا ہوا ہے ؟ انگور کی بیل انجیر کے  درخت انار کے  درخت اور زیتون کے  درخت میں  کیا اب بھی پھل نہیں  لگتے  ہیں ؟ آج سے  آئندہ کے  لئے  میں  تمہیں  فضل بخشوں  گا۔”

20 خداوند نے  مہینے  کے  چو بیس تاریخ کو دوسری بار حجّی سے  بات کی کہا گیا

21 ” یہوداہ کے  گور نر زربّابل سے  بات کرو اور کہو ” میں  زمین اور آسمان کو ہلادوں  گا۔

22 میں  حکو مت کو الٹ دوں  گا اور دوسرے  ملکوں  کی طاقت کو بر باد کر دوں  گا۔ میں  رتھوں  کو اس کے  رتھ بان سمیت الٹ دوں  گا۔ اور گھوڑے  اپنے  گھوڑ سوار سمیت گر پڑے  گا۔ اور آدمی  اپنے  ساتھی سپاہی کی تلوار سے  مارا جائے  گا۔

23 اس دن خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” میرے  خادم سیالتی ایل کے  بیٹے  زربّابل میں  تمہیں  لے  جاؤں  گا۔” میں  تمہیں  اپنے  مہر کی انگوٹھی جیسا بنا دوں  گا کیوں  کہ میں  نے  تمہیں  چنا ہے۔ ” خداوند قادر مطلق فرماتا ہے۔

 

 

 

 

 

کتاب ۳۸: زکریاہ

 

 

 

 

 

باب :  1

 

1 دارا کی حکو مت کے  دوسرے  برس کے  آٹھویں  مہینے  میں  خداوند کا کلام نبی زکریاہ بن بر کیاہ بن عدّو پر نازل ہوا۔

2 خداوند تمہارے  باپ دادا سے  سخت ناراض رہا۔

3 اس لئے  تمہیں  یہ پیغام ان لوگوں  کو کہنا چاہئے۔ خداوند فرماتا ہے   ” تم میری طرف واپس آؤ اور میں  تیری طرف واپس آؤں  گا۔” یہ سب خداوند قادر مطلق نے  کہا۔

4 خداوند نے  کہا ” اپنے  باپ دادا کی مانند نہ بنو۔ اگلے  نبیوں  نے  ان سے  باتیں  کیں۔ انہوں  نے  کہا ” خداوند قادر مطلق چاہتا ہے  کہ تم اپنے  برے  رہن سہن کو چھوڑ دو اور برے  کام بند کر دو۔ ” مگر تمہارے  باپ دادا نے  میری ایک نہ سنی۔” خداوند نے  یہ باتیں  کہی۔

5 خدا نے  کہا ” تمہارے  با پ دادا جا چکے   اور وہ نبی ہمیشہ زندہ نہ رہے۔

6 لیکن میرا کلام اور میری آئین اور میری تعلیمات جس کا کہ میں  نے  اپنے  خدمت گذار نبیوں  کے  ذریعہ حکم دیا تھا اور بو لا تھا وہ تمہارے  باپ دادا کے  لئے  سچ ہو گئے۔ جب وہ سچ ہو گئے  تو تمہارے  باپ دادا پچھتائے  اور کہا “خداوند نے  وہی کیا ہے  جو وہ کہا ہے  کہ وہ کرے  گا۔ وہ ہماری زندگی کے  راستے  اور ہمارے  بُرے  اعمال کے  لئے  سزا دیا۔”

7 دارا کی حکومت کے  دوسرے  برس اور گیارہویں  مہینے  یعنی ماہِ سباط کی چو بیسویں  تاریخ کو خداوند کا کلام زکریاہ نبی بن بر کیاہ بن عدّو پر نازل ہوا۔

8 رات کو میں  نے  ایک شخص کو لال گھوڑے  پر سوار دیکھا۔ وہ مہندی کے  درختوں  کے  درمیان وادی میں  کھڑا تھا۔اس کے  پیچھے  لال بھو را اور سفید گھوڑے  تھے۔

9 تب میں  نے  کہا ” اے  میرے  آقا یہ گھوڑے  کس لئے  ہیں ؟ ” تب فرشتے  نے  بولتے  ہوئے  مجھ سے  کہا ” میں  تمہیں  دکھاؤں  گا کہ یہ گھوڑے  کس لئے  ہیں۔”

10 تب مہندی کے  درختوں  کے  درمیان کھڑا شخص کہنے  لگا ” خداوند نے  ان گھوڑوں  کو زمین پر ادھر اُدھر گھوم نے  کے  لئے  بھیجے  ہیں۔”

11 اور انہوں  نے  خداوند کے  فرشتے  سے  جو مہندی کے  درختوں  کے  درمیان کھڑا تھا کہا ” ہم نے  ساری دنیا کی سیر کی ہے  اور دیکھا کہ ساری زمین میں  امن و امان ہے۔ ”

12 تب خداوند کے  فرشتے  نے  کہا ” اے  خداوند تو یہوداہ اور یروشلم کے  شہروں  پر کب رحم کرے  گا؟ تو نے  تو ان شہروں  پر ستر برس تک اپنا قہر ظاہر کر چکا ہے۔ ”

13 تب خداوند نے  اس فرشتہ کو جواب دیا جو مجھ سے  باتیں  کر رہا تھا خداوند نے  امن و امان اور اطمینان بخش پیغام کہا۔

14 تب فشرتہ نے  مجھے  لوگوں  سے  یہ سب کہنے  کو کہا : ” خداوند قادر مطلق فرماتا ہے  : ” میں  یروشلم اور صیون سے  خاص شفقت رکھتا ہوں۔

15 اور میں  ان قوموں  سے  جو محسوس کرتے  ہیں  کہ وہ بہت حفاظت میں  ہیں  نہایت ناراض ہوں۔ میں  اپنے  لوگوں  پر تھوڑا ہی نارا ض تھا تو میں  نے  قوموں  کا استعمال ان لوگوں  کو سزا دینے  کے  لئے  کیا لیکن انہوں  نے  حالات کو بہت زیادہ خراب کر دیا۔”

16 اس لئے  خداوند فرماتا ہے   ” میں  اس پر رحم کرنے  کے  لئے  یروشلم وا پس آؤں  گا۔” خداوند قادر مطلق کہتا ہے   ” یروشلم کی تعمیر دوبارہ ہو گی اور وہاں  میرا گھر بنایا جائے  گا۔

17 فرشتہ نے  کہا ” لوگوں  سے  یہ بھی اعلان کرو : خداوند قادر مطلق کہتا ہے   ” میرے  شہر ایسے  خوشحال ہوں  گے  کہ وہ پھیلیں  گے   میں  صیون کو اطمینان بخشوں  گا اور یروشلم کو پھر سے  اپنا خاص شہر چنوں  گا۔”

18 تب میں  نے  نظر اوپر اٹھائی اور چار سینگوں  کو دیکھا۔

19 تب میں  نے  اس فرشتے  سے  جو مجھ سے  باتیں  کر رہا تھا پو چھا ” ان سینگوں  کا مطلب کیا ہے ؟ ” اس نے  کہا ” یہ وہ سینگیں  ہیں  جنہوں  نے  اسرائیل یہوداہ اور یروشلم کے  لوگوں  کو غیر ملک جانے  پر مجبور کیا۔”

20 تب خداوند نے  مجھے  چار کاریگر دکھائے۔

21 میں  نے  ان سے  پو چھا ” یہ چار کاریگر کیا کرنے  آ رہے  ہیں ؟ ” اس نے  جواب دیا ” یہ وہ سینگ ہیں  جنہوں  نے  یہوداہ کو ایسا پرا گندہ کیا کہ کوئی اپنا سر نہ اٹھا سکا۔ لیکن یہ اس لئے  آئے  ہیں  کہ ان کو ڈرائیں  اور ان قوموں  کے  سینگ کو کاٹ ڈالنے  کے  لئے  جنہوں  نے  یہوداہ کے  ملک کو پرا گندہ کرنے  کے  لئے  سینگ اٹھا یا ہے ! ”

 

باب:  2

 

 

1 تب میں  نے  اوپر نگاہ اٹھائی اور میں  نے  ایک شخص کو پیمائش کی رسّی کو لئے  ہوئے  دیکھا۔

2 میں  نے  اس سے  پو چھا ” تم کہاں  جا رہے  ہو؟ ” اس نے  مجھے  جواب دیا ” میں  یروشلم کی پیمائش کو جا رہا ہوں تا کہ دیکھوں  کہ اس کی چوڑائی اور لمبائی کتنی ہے۔ ”

3 تب وہ فرشتہ جو مجھ سے  باتیں  کر رہا تھا چلا گیا اور اس سے  باتیں  کرنے  کے  لئے  دوسرا فرشتہ با ہر گیا۔

4 اس نے  اس سے  کہا ” دوڑ کر جاؤ اور اس نو جوان سے  کہو : ” یروشلم میں  اتنے  سارے  انسان اور حیوان ہوں  گے  کہ وہاں  چہار دیواری نہیں  ہو گی۔”

5 خداوند فرماتا ہے   ” میں  خود سے  یروشلم کی حفاظت آگ کی دیوار کی طرح کروں  گا۔ اور اس شہر کو شان و شوکت بخشنے  کے  لئے  وہیں  رہوں  گا۔”

6 ” جلدی کرو شمال کی سر زمین سے  بھاگ چلو! ہاں  یہ سچ ہے  کہ میں  تمہارے  لوگوں  کو چاروں  جانب بکھیرا۔

7 اے  صیون کے  لوگو! جو بابل میں  رہتے  ہو بھاگ نکلو! اس شہر سے  بھاگ جاؤ!” خداوند قادر مطلق نے  یہ کہا “اس نے  مجھے  ان قوموں  میں  بھیجا جو جنگ کے  دوران تمہاری چیزیں  لوٹ لئے  اس نے  مجھے  تمہاری تعظیم کو بچانے  کی خاطر بھیجا۔

8 وہ فرماتا ہے  جو کوئی تم کو نقصان پہنچانے  کی غرض سے  چھوتا ہے  تو گو یا وہ خدا کی آنکھ کی پتلی کو چھوتا ہے

9 اور میں  ان لوگوں  کے  خلاف اپنا ہاتھ اٹھاؤں  گا اور ان کے  غلام ان کا مال لیں  گے۔ تب تم سمجھو گے  کہ خداوند قادر مطلق نے  مجھے  بھیجا ہے۔ ”

10 خداوند فرماتا ہے   ” اے  صیون شادمان رہو کیوں ؟ کیونکہ میں  آ رہا ہوں  اور میں  تمہارے  شہر میں  ٹھہروں  گا۔

11 اور اس وقت بہت سی قو میں  خداوند کو مانیں  گے  اور یہ قومیں  میرے  آدمی  ہوں  گے  اور میں  تم سبھی لوگوں  کے  ساتھ ٹھہروں  گا۔” تب تو جان جائے  گی کہ خداوند قادر مطلق نے  مجھے  تیرے  پاس بھیجا ہے۔

12 خداوند نے  پھر سے  یروشلم کو اپنا خصوصی شہر منتخب کرے  گا اور یہوداہ مقدس زمین کی اس کا خاص حصہ ہو گا۔

13 اے  فنا ہونے  وا لو! خداوند کی موجودگی میں  خاموش رہو کیونکہ وہ اپنے  مقدس گھر سے  اٹھا ہے۔

 

 

باب :  3

 

1 تب فرشتے  نے  مجھے  کاہن یشوع کو دکھا یا۔ یشوع خداوند کے  فرشتہ کے  سامنے  کھڑا تھا اور شیطان یشوع کے  داہنی طرف کھڑا تھا۔اسے  الزام دینے  کے  لئے  شیطان وہاں  تھا۔

2 تب خداوند کے  فرشتہ نے  کہا “اے  شیطان خداوند تجھے  ڈانٹے ! ہاں  وہ خداوند جس نے  یروشلم کو اس طرح بچا یا جیسے  جلتی لکڑی کو آگ سے  با ہر نکال دی جائے۔ ”

3 یشوع فرشتے  کے  سامنے  کھڑا تھا اور وہ میلے  کپڑے  پہنے  ہوئے  تھے۔

4 پھر فرشتہ نے  ان سے  جو اس کے  سامنے  کھڑے  تھے  کہا “اس کے  میلے  کپڑے  اتار دو۔” اور اس سے  کہا “دیکھ میں  نے  تیرے  گنا ہوں  کو دور کیا اور میں  تجھے  نفیس لباس پہناؤں  گا۔”

5 پھر اس نے  کہا “اس کے  سر پر ایک نئی پگڑی باندھو۔” انہوں  نے  اس کے  سر پر صاف عمامہ رکھا اور لباس پہنائی اور خداوند کا فرشتے  وہاں  کھڑا ہوا۔

6 تب خداوند کے  فرشتے  نے  یشوع سے  یہ کہا۔

7 خداوند قادر مطلق یوں  فرماتا ہے   ” اگر تو میری را ہوں  پر چلے  اور میرے  احکام پر عمل کرے  تو میرے  گھر کا نگراں  کار ہو گے  اور میری بارگاہوں  کا نگہبان بھی ہو گے۔ میں  تجھے  ان گروہ کو جو یہاں  کھڑے  ہیں  میری خدمت کے  لئے  کار کن بننے  کی اجازت دوں  گا۔

8 اس لئے  اعلیٰ کاہن یشوع تجھے  اور تیرے  لوگوں  کو میری باتیں  سننی ہوں گی۔ تم اور باقی کاہن اس کی مثال ہو جو آ رہا ہے۔ میں  اپنے  نو کر کو جو کہ شاخ کہلاتا ہے  لانے  جا رہا ہو ں۔

9 یہاں  ایک پتھر ہے  جسے  میں  نے  یشوع کے  سامنے  رکھا ہے۔ یہاں  دیکھ اس کے  سات کنا رے  ہیں۔ دیکھ میں  اس پر کتبہ کندہ کروں  گا خداوند قادر مطلق اسے  کہتا ہے۔ میں  اس زمین سے  گنا ہوں  کو ایک ہی دن میں  دور کروں  گا۔”

10 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   “اس وقت لوگ اپنے  دوستوں  کو آنے  اور انگور انجیر کے  درخت کے  نیچے  بیٹھنے  کی دعوت دیں  گے۔ ”

 

 

باب :  4

 

1 اور تب وہ فرشتہ جو مجھ سے  باتیں  کر رہا تھا۔ میرے  پاس واپس آیا اور مجھے  جگا یا۔ جیسا کہ آدمی  کو نیند سے  جگا یا جاتا ہے۔

2 تب فرشتے  نے  پو چھا ” تم کیا دیکھتے  ہو؟ ” میں  نے  کہا ” میں  ایک ٹھوس سونے  کا شمعدان دیکھتا ہوں۔ اس شمعدان پر سات چراغ ہیں  جس کے  سر پر ایک کٹورا ہے۔ کٹورے  میں  سات نلیاں  نکل رہی ہیں  اور ہر ایک نلی ہر چراغ تک جا رہی ہے۔ وہ نلی تیل کو ہر ایک چراغ تک لا تی ہیں۔

3 اور دو زیتون کا درخت ہے  ایک کٹورے  کے  دائیں  جانب اور ایک بائیں  جانب ہے۔ ”

4 اور تب میں  اس فرشتہ سے  جو مجھ سے  باتیں  کر رہا تھا پو چھا ” اے  میرے  آقا! ان سب کا مطلب کیا ہے ؟ ”

5 مجھ سے  باتیں  کرنے  والے  فرشتے  نے  کہا ” کیا تم نہیں  جانتے  کہ یہ سب چیزیں  کیا ہیں ؟ ” میں  نے  کہا ” نہیں  میرے  آقا۔”

6 تب اس نے  مجھ سے  کہا ” یہ پیغام خداوند کی جانب سے  زُرباّبل کو ہے  تمہاری مدد نہ تو کسی فوج سے  اور نہ ہی تمہاری مدد کسی طاقت سے  آئے  گی بلکہ میری روح سے۔

7 وہ اونچا پہاڑ زُرباّبل کے  لئے  چٹیل زمین کی مانند ہو گا۔ جب وہ ہیکل کے  آخری پتھر کو جگہ پر رکھے  گا تو لوگ چلائیں  گے   ” واہ کتنا خوبصورت! واہ کتنا خوبصورت! ”

8 پھر خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہو گا۔

9 “زُرباّبل کے  ہاتھوں  نے  اس ہیکل کی بنیاد ڈالی اور اسی کے  ہاتھا سے  تمام بھی کریں  گے۔ تب تو جانے  گا کہ خداوند قادر مطلق نے  مجھے  تمہارے  پاس بھیجا ہے۔

10 لوگوں  کو چھوٹی شروعات کو گھٹا کر نہیں  بتا نا چاہتے  وہ اس سے  شرمندہ نہیں  ہوں  گے۔ لوگ بہت خوش ہوں  گے  جب زربابل کے  ہاتھوں  میں  ساہول دیکھیں  گے۔ پتھر کی سات کنارے  خداوند کی سات آنکھیں  ہیں  جو ساری زمین کو دیکھتی ہے۔ ”

11 تب میں  ( زکریاہ )نے  اس سے  کہا ” میں  نے  زیتون کا ایک پیڑ شمعدان کے  دائیں  جانب اور ایک بائیں  جانب دیکھا۔ ان دونوں  زیتون کا پیڑ کیا پیش کرتا ہے۔ ”

12 میں  نے  اس سے  یہ بھی کہا ” زیتون کی یہ دو شاخیں  جو سونے  کی دو نلیوں  جو سنہرا تیل ڈالتا ہے  کے  بغل میں  ہے  اس کا کیا مطلب ہے ؟ ”

13 تب فرشتے  نے  مجھ سے  کہا ” کیا تم نہیں  جانتے  کہ ان چیزوں  کا مطلب کیا ہے ؟ میں  نے  کہا ” اے  آقا نہیں ! ”

14 اس نے  کہا ” یہ دو آدمی  کو بتاتا ہے  جسے  خالص مقدس تیل سے  مسح کیا گیا ہے۔ جو ساری زمین کے  خداوند کی خدمت میں  کھڑے  ہیں۔”

 

 

 

باب :  5

 

1 میں  نے  پھر نگاہ بلند کی اور میں  نے  ایک اڑتا ہوا طومار دیکھا۔

2 فرشتہ نے  مجھ سے  پوچھا ” تم کیا دیکھتے  ہو؟ میں  نے  کہا ” میں  ایک اڑتا ہوا طومار دیکھتا ہوں  جس کی لمبائی بیس ہاتھ اور چوڑائی دس ہاتھ ہے۔ ”

3 تب فرشتہ نے  مجھ سے  کہا ” اس طومار پر ساری زمین کے  لئے  لعنت لکھی ہے۔ اس طومار کی ایک جانب چوروں  کے  لئے  لعنت لکھی ہے   اور دوسری جانب ان لوگوں  کے  لئے  لعنت لکھی ہے  جو جھوٹا وعدہ کرتے  ہیں۔

4 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے  میں  اس طومار کو چوروں  اور ان لوگوں  کے  لئے  گھر بھیجوں  گا جو جھوٹا عہد کرتے  وقت میرے  نام کا استعمال کرتے  ہیں۔ وہ طومار وہیں  رہے  گا اور یہ ان کے  گھروں  کو فنا کر دے  گا۔ یہاں  تک کہ پتھر اور لکڑی کے  ستون بھی برباد کر دیئے  جائیں  گے۔ ”

5 اور وہ فرشتہ جو مجھ سے  کلام کرتا تھا نکلا اور اس نے  مجھ سے  کہا ” اوپر دیکھو! اب کیا با ہر آ رہا ہے ؟ ”

6 میں  نے  کہا ” میں  نہیں  جانتا کہ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ ” اس نے  جواب دیا ” یہ ایک ٹوکری ہے۔ یہ ٹوکری اس ملک کے  لوگوں  کے  کئے  ہوئے  گنا ہوں  کی پیمائش کے  لئے  ہے۔ ”

7 ٹوکری کا سر پوش سیسے  کا ہے۔ جب اسے  اٹھا یا گیا تو اس کے  اندر ایک عورت بیٹھی ہوئی دیکھی گئی۔”

8 فرشتے  نے  کہا ” عورت بُرائی کی نشانی ہے۔ اور اس نے  ان کو نیچے  دبا کر ڈھکن ( سرپوش ) واپس رکھ دیا۔

9 تب میں  نے  پھر نظر اٹھائی اور دو عورتوں  کو سارس کی مانند پنکھ سے  اڑتے  دیکھا۔ اور ان کا پنکھ ہوا میں  اڑ رہی ہے۔ اور وہ عورتیں  ٹوکری اٹھا کر آسمان اور زمین کے  درمیان سے  لے  گئیں۔

10 تب میں  نے  کلام کرنے  والے  اس فرشتے  سے  پو چھا ” وہ عورتیں  ٹوکری کو کہاں  لے  جا رہی ہیں ؟ ”

11 فرشتہ نے  مجھ سے  کہا ” وہ سنعار میں  اپنے  لئے  ایک گھر بنانے  جا رہی ہیں۔ جب وہ گھر بنا لیں  گی تو ٹوکری کو اس اسٹینڈ پر رکھ دے  گی جسے  اس کے  لئے  بنایا گیا تھا۔”

 

 

 

باب :  6

 

1 جب میں  نے  پھر سے  آنکھ اٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں  کہ دو کانسے  کے  پہاڑوں  کے  درمیان سے  چار رتھ باہر نکل رہی ہے۔

2 پہلی رتھ کو سرخ گھوڑے  کھینچ رہے  تھے۔ دوسری رتھ کو کالے  گھوڑے  کھینچ رہے  تھے۔

3 تیسری کو سفید اور چو تھی کو لال چتّے  دار گھوڑا کھینچ رہا تھا۔

4 تب میں  نے  کلام کرنے  والے  اس فرشتے  سے  پو چھا ” یہ کیا اشارہ کرتا ہے ؟ ”

5 فرشتے  نے  جواب دیا ” یہ آسمان کی چار ہوائیں  ہیں  جو رب العا لمین کے  حضور سے  نکلی ہیں۔

6 کالے  گھوڑے  شمال کو جائیں  گے۔ سرخ گھوڑے  مشرق کو جائیں  گے۔ سفید گھوڑے  مغرب کو جائیں  گے  اور لال چتّے  دار گھوڑے  جنوب کو جائیں  گے۔ ”

7 جو وہ زورآور گھوڑے  نکلے  اور وہ چا ہا کہ زمین کی سیر کریں  اور فرشتے  نے  ان سے  کہا ” جاؤ زمین کی سیر کرو۔” اور انہوں  نے  زمین کی سیر کی۔

8 تب خداوند نے  بلند آواز سے  پکارا اور مجھ سے  کہا ” دیکھو وہ گھوڑے  جو شمال کو جا رہے  تھے  وہ میری روح کو شمالی ملک میں  خاموش کر دیا ہے۔ اس لئے  میں  اب اور ناراض نہیں  ہوں۔ ”

9 پھر خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔

10 “حلدائی طو بیاہ اور ید عیاہ بابل کے  جلا وطنوں  کے  پاس سے  آئے  ہیں۔ جاؤ اور ان لوگوں  کے  پاس سے  سونا اور چاندی حاصل کرو۔ اور تب اس دن صفنیاہ کا بیٹا یوسیاہ کے  گھر جاؤ۔

11 ان سے  سونا چاندی اور نذرانے  کے  طور پرلے  کر ایک تاج بناؤ۔اس تاج کو یشوع کے  سر پر رکھو۔( یشوع اعلیٰ کاہن تھا وہ یہوصدق کا بیٹا تھا ) تب یشوع سے  یہ باتیں  کہو :

12 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے  : ” یہاں  شاخ نامی ایک شخص ہے   وہ بہت طاقتور ہو جائے  گا۔

13 وہ خداوند کے  گھر بنائے  گا اور وہ صاحب شو کت ہو گا۔ وہ تخت نشین ہو گا۔اس کے  تخت کے  قریب ایک کاہن کھڑا ہو گا اور یہ دونوں  شخص ایک ہی سوچ سمجھ کے  ہوں  گے۔

14 ” اور یہ تاج حلدائی طوبیاہ یدعیاہ اور یوسیاہ بن صفنیاہ کے  لئے  خداوند کے  گھر میں  یادگار ہو گی۔

15 دُور کے  لوگ آئیں  گے  اور خداوند کے  ہیکل کو بنائیں  گے۔ اے  لوگو! تب تم سمجھو گے  کہ خداوند نے  مجھے  تمہارے  پاس بھیجا ہے۔ یہ سب کچھ واقع ہو گا اگر تم خداوند کے  حکم کے  مطابق کرو گے۔ ”

 

 

 

باب :  7

 

1 دارا بادشاہ کی سلطنت کے  چو تھے  برس کے  نویں  مہینے  یعنی کسلیو مہینے  کی چوتھی تاریخ کو خداوند کا کلام زکر یاہ پر نازل ہوا۔

2 بیت ایل کے  باشندوں  نے  شراضر رجم ملک اور اپنے  آدمیوں  کو خداوند سے  رحم و کرم کی درخواست کے  لئے  بھیجا۔

3 وہ خداوند قادر مطلق کے  گھر میں  نبیوں  کواور کاہنوں  کے  پاس گئے۔ ان لوگوں  نے  ان سے  سوال پوچھا : ” ہم لوگوں  نے  کئی برس تک ہیکل کی بربادی کا ماتم کیا۔ کیا ہم لوگوں  کو گریہ و زاری کرنا اور پانچویں  مہینے  کا روزہ رکھنا ہو گا؟ کیا ہمیں  اسے  کرتے  رہنا چاہئے ؟ ”

4 میں  نے  خداوند قادر مطلق کا یہ کلام پایا ہے  :

5 ” کاہنوں  اور اس ملک کے  مختلف لوگوں  سے  یہ کہو کہ جب تم نے  پانچویں  اور ساتویں  مہینے  میں  ان ستّر برس تک روزہ رکھا اور ماتم کیا تو کیا کبھی خاص میرے  ہی لئے  روزہ رکھا تھا؟

6 اور جب تم نے  کھا یا اور مئے  پی تب کیا وہ میرے  لئے  تھا؟ نہیں ! یہ تمہاری اپنی بھلائی کے  لئے  ہی تھا۔

7 خدا نے  اگلے  نبیوں  کا استعمال یہی بات کہنے  کے  لئے  کیا تھا۔ انہوں  نے  یہ باتیں  تب کہی تھی جب یروشلم آباد محفوظ اور امن و امان میں  تھا۔ خدا نے  یہ باتیں  تب کہی تھیں  جب یروشلم کے  علاقے  کے  شہر نیگیو کی زمین اور مغربی پہاڑی دامن آباد تھے۔ ”

8 پھر خداوند کا کلام زکریاہ پر نازل ہوا :

9 خداوند قادر مطلق نے  یہ باتیں  کہی۔ ” راستی سے  عدالت کرو۔ تم میں  سے  ہر ایک کو دوسرے  کے  ساتھ رحم و کرم کرنا چاہئے۔

10 بیواؤں  یتیموں  اجنبیوں  یا غریب لوگوں  کو چوٹ نہ پہنچاؤ ایک دوسرے  کو برا کرنے  کا خیال بھی من میں  نہ آنے  دو!”

11 لیکن ان لوگوں  نے  اَن سنی کی۔ انہوں  نے  اسے  کرنے  سے  انکار کیا جسے  وہ چاہتے  تھے۔ انہوں  نے  اپنے  کان بند کر لئے  جس سے  وہ خدا جو کہے  اسے  نہ سن سکیں۔

12 وہ بڑے  ضدی تھے  انہوں  نے  خدا کی شریعت کو قبول کرنے  سے  انکار کر دیا۔ اپنی روح کی معرفت خداوند قادر مطلق نے  نبیوں  کے  توسط سے  لوگوں  کو پیغام بھیجا۔ لیکن لوگوں  نے  اسے  نہیں  سنا۔ اس لئے  خداوند قادر مطلق بہت غضبناک ہوا۔

13 اور جب خداوند قادر مطلق نے  فرمایا تھا ” جس طرح میں  نے  پکار کر کہا اور وہ جواب نہ دیا۔ اس لئے  اب اگر مجھے  پکاریں  گے  تو میں  جواب نہیں  دوں  گا۔

14 میں  انہیں  دیگر قوموں  میں  طوفان کی طرح بکھیر دوں  گا۔ ان قوموں  کے  لئے  یہ لوگ اجنبی ہوں  گے۔ جب وہ لوگ جلا وطنی میں  چلے  جائیں  گے  تو ملک تباہ و برباد ہو جائے  گا۔ یہ خوشگوار ملک بیان ہو جائے  گا۔”

 

 

 

باب :  8

 

1 پھر خداوند قادر مطلق کا کلام مجھ پر نازل ہوا!

2 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” مجھے  صیّون سے  بڑی پر جوش محبت ہے۔ میری پر جوش محبت میری عظیم غصہ سے  ظاہر ہوا ہے۔ ”

3 خداوند فرماتا ہے   ” میں  صیّون واپس آ رہا ہوں  میں  یروشلم میں  ٹھہروں  گا۔ یروشلم شہر وفادار شہر کہلائے  گا اور خداوند قادر مطلق کا پہاڑ کوہِ مقدس کہلائے  گا۔”

4 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” یروشلم کی خاص جگہ میں  عمر رسیدہ لوگ بڑھاپے  کے  سبب سے  ہاتھوں  میں  عصا لئے  ہوئے  ایک بار پھر بیٹھتے  دیکھے  جائیں  گے۔

5 اور شہر گلیوں  میں  کھیل نے  والے  بچوں  سے  بھرا ہو گا۔

6 یہی خداوند قادر مطلق فرماتا ہے  : بچے  ہوئے  لوگ اسے  سچ تسلیم کرنے  میں  حیرت انگیز ہوں  گے۔ لیکن میں  اسے  ایسا نہیں  مانوں  گا۔”

7 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” دیکھو! میں  مشرق اور مغرب کے  ملکوں  میں  رہنے  والے  اپنے  لوگوں  کو بچاؤں  گا۔

8 میں  انہیں  یہاں  واپس لاؤں  گا۔ اور وہ یروشلم میں  رہیں  گے۔ وہ میرے  لوگ ہوں  گے  اور میں  وفاداری اور راستبازی سے  ان کا خدا ہوں  گا۔”

9 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” اے  لوگو! کام کرنے  کے  لئے  تیار ہو جاؤ۔ اے  لوگو! وہی پیغام سن رہے  ہو جسے  نبیوں  نے  دیا تھا۔ ان پیغامات کو اس وقت سے  دیئے  جا رہے  تھے  جب خداوند کی ہیکل کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

10 کیوں  کہ ان دنوں  سے  پہلے  آدمیوں  کو محنت کا اجر نہیں  دیا جاتا تھا۔ جانوروں  کے  محنت کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ دشمنوں  کے  سبب سے  سفر محفوظ نہ تھا اور میں  نے  تمام لوگوں  کو ایک دوسرے  کے  خلاف کر دیا تھا۔

11 لیکن اب بچے  ہوئے  لوگوں  کے  لئے  ایسا نہیں  کروں  گا۔” خداوند قادر مطلق نے  یہ باتیں  کہیں۔

12 ” یہ لوگ سلامتی کے  ساتھ زراعت کریں  گے  ان کے  انگور کے  باغ انگور دیں  گے۔ زمین اچھی فصل دے  گی اور آسمان بارش دے  گا۔ میں  یہ سبھی چیزیں  اپنے  لوگوں  کو دوں  گا۔

13 اے  بنی یہوداہ اور اے  بنی اسرائیل تم دوسری قوموں  میں  لعنتی تھے  لیکن میں  تم کو آزاد کروں  گا۔ تم فضل کا ذریعہ بنو گے  تم کو ڈرنے  کی ضرورت نہیں  کیوں  کہ تم اپنے  ہاتھوں  کو کام کرنے  کے  لئے  مضبوط کرو گے۔ ”

14 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” تمہارے  باپ دادا نے  مجھے  غضبناک کیا تھا اس لئے  میں  نے  انہیں  فنا کرنے  کا فیصلہ کر لیا۔ میں  اپنے  ارادہ سے  باز نہ رہا۔” خداوند قادر مطلق نے  یہ سب کہا۔

15 “لیکن اب میں  نے  اپنا فیصلہ بدل دیا ہے  اور اسی طرح میں  نے  یروشلم اور یہوداہ کے  لوگوں  کے  ساتھ اچھائی کرنے  کا فیصلہ کیا ہے  اس لئے  ڈرو نہیں۔

16 لیکن تمہیں  یہ سب کرنا چاہئے۔ اپنے  پڑوسیوں  سے  سچ بولو اور اپنی عدالت میں  راستی سے  انصاف کرو تاکہ ہر جگہ امن و امان قائم ہو۔

17 اپنے  پڑوسیوں  کو چوٹ پہنچانے  کے  لئے  پوشیدہ منصوبے  نہ بناؤ۔ جھوٹی قسمیں  کھاتے  ہوئے  خوشی محسوس مت کرو۔ کیوں  کہ میں  ان باتوں  سے  نفرت کرتا ہوں۔” خداوند فرماتا ہے۔

18 پھر خداوند قادر مطلق کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔

19 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” چوتھے  اور پانچویں  اور ساتویں  اور دسویں  مہینے  کے  مقررہ روزے  کا دن اور غمگین دن تقریب و جشن کا دن ہو جائے  گا جو کہ شادمانی اور خوشی لائے  گا۔ اس لئے  سچائی اور امن و امان کو عزیز رکھو!

20 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” پھر قومیں  اور بڑے  بڑے  شہروں  کے  باشندے  آئیں  گے۔

21 ایک شہر کے  لوگ دوسرے  شہر کے  ملنے  والے  لوگوں  سے  کہیں  گے   ” ہم خداوند قادر مطلق کی عبادت کرنے  جا رہے  ہیں۔ ہمارے  ساتھ آؤ۔”

22 بہت سے  لوگ اور زبردست قومیں  خداوند قادر مطلق کی کھوج میں  یروشلم آئیں  گی۔ وہ وہاں  ان کی عبادت کرنے  آئیں  گی۔

23 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” ان ایام میں  ساری دنیا کے  سارے  لوگ یہودی کا دامن پکڑیں  گے  اور کہیں  گے  کہ کیا ہم تمہارے  ساتھ عبادت کرنے  کے  لئے  جا سکتے  ہیں۔ کیوں  کہ ہم نے  سنا ہے  کہ وہاں  خدا تمہارے  ساتھ ہے۔ ”

 

 

 

باب :  9

 

1 یہ پیغام خداوند کی طرف سے  حدراک اور دمشق کے  بارے  میں  ہے۔ ہر ایک مدد کے  لئے  خداوند کی طرف اس طرح دیکھتے  ہیں  جس طرح اسرائیل کے  خاندانی گروہ۔

2 حمایت جس کی سرحد حدراک ہے  اس نبوت میں  شامل ہے۔ یہ نبوت صور اور صیدا کے  بھی خلاف ہے۔ حالانکہ وہ لوگ بہت ہی عقلمند ہیں۔

3 صور ایک قلعہ کی طرح بنا ہے  وہاں  کے  لوگوں  نے  چاندی اتنی اکٹھا کی ہے  کہ وہ مٹی کی مانند ہے  اور سونا گلیوں  کی کیچڑ کی مانند ہے۔

4 لیکن خداوند ہمارا آقا یہ سب ان لوگوں  سے  لے  لے  گا۔ وہ ان لوگوں  کی دولت کو سمندر میں  پھینک دے  گا۔ اور آگ شہر کو کھا جائے  گا۔

5 اسقلون میں  رہنے  والے  دیکھیں  گے  اور وہ ڈریں  گے۔ غزّہ کے  لوگ خوف سے  کانپ اٹھیں  گے  اور عقرون کے  لوگ ساری امیدیں  چھوڑ دیں  گے   جب وہ ان واقعات کو ہوتے  دیکھیں  گے۔ غزّہ میں  کوئی بادشاہ بچا نہیں  رہے  گا۔ کوئی بھی شخص اب اسقلون میں  نہیں  رہے  گا۔

6 مخلوط نسل کے  لوگ آئیں  گے  اور اشدود میں  بسیں  گے۔ اور میں  فلسطینیوں  کا فخر مٹا دوں  گا۔

7 اور میں  اس کے  مکروہ غذا ( ممانعتی غذا ) کے  خون کو اس کے  منھ سے  اور اس کے  ناپاک غذا اس کے  دانتوں  سے  نکال ڈالوں  گا اور وہ لوگ یہوداہ کے  دوسرے  خاندانی گروہ کی مانند ہوں  گے۔ اور ہمارے  خدا کی خدمت کے  لئے  چھوڑ دیئے  جائیں  گے۔ اور عقرونی یبوسیوں  کی مانند ہوں  گے۔

8 میں  اپنے  گھر کو حملہ سے  بچانے  کے  لئے  ایک پہرا دار رکھوں  گا۔ میں  ظالموں  کو اندر آنے  کی اجازت نہیں  دوں  گا۔ کیوں  کہ اب میں  اپنی آنکھوں  سے  دیکھ رہا ہوں۔”

9 اے  بنت صیون تو شادماں  ہو۔ اے  دختر یروشلم اپنی بلند آواز سے  خوشی کے  ساتھ چلّاؤ۔ کیوں  کہ دیکھ تیرا بادشاہ تیرے  پاس آتا ہے۔ وہ صادق ہے   اور نجات اس کے  ہاتھوں  میں  ہے   وہ خاکسار ہے  اور گدھے  پر بلکہ جوان گدھے  پر سوار ہے  جو کہ کام کرنے  والے  جانور سے  پیدا ہوئے۔

10 ” میں  افرائیم میں  رتھوں  کو اور یروشلم میں  سواریوں  کو تباہ کر دوں  گا۔ میں  جنگ میں  استعمال کئے  گئے  کمانوں  کو تباہ کر دوں  گا۔” بادشاہ قوموں  میں  سلامتی لائے  گا۔ وہ سمندر سے  سمندر تک حکو مت کرے  گا۔ اس کی سلطنت دریائے  فرات سے  انتہائے  زمین تک پھیلے  گی۔

11 اے  یروشلم کیونکہ وہاں  تیرے  معاہدے  خون سے  مہر بند ہے۔ میں  تمہارے  قیدیوں  کو بنا پانی کے  کنویں  سے  آزاد کروں  گا۔

12 اے  اسیرو! اپنے  گھر جاؤ۔ اب تمہارے  لئے  کچھ امید کا موقع ہے۔ اب میں  تم سے  کہہ رہا ہوں  میں  تمہیں  پہلے  تمہارے  پاس جتنا تھا اس سے  دو گنا واپس دوں  گا۔

13 میں  یہوداہ اور افرائیم کو تیر کمان کی طرح استعمال کروں  گا۔ اے  اسرائیل! میں  تیرے  فرزندوں  کو یونان کے  فرزندوں  کے  خلاف کھڑا کروں  گا۔ اور میں  تجھے  جنگجو  کی تلوار کی طرح استعمال کروں  گا۔

14 خداوند اس کے  سامنے  ظاہر ہو گا اور اپنے  تیروں  کو بجلی کی طرح چلائیں  گے۔ خداوند میرا آقا بگل بجائے  گا اور فوج بیابان کے  طوفان کی مانند آگے  بڑھے  گی۔

15 خداوند قادر مطلق ان کی حفاظت کرے  گا۔ اور سپاہی پتھروں  اور غلیل سے  دشمنوں  کو ہرائیں  گے۔ وہ دشمنوں  کے  خون بہائیں  گے  اور یہ مئے  کی مانند بہے  گا۔ یہ قربان گاہ کے  کونوں  پر چھڑ کے  گئے  خون کی مانند ہو گا۔

16 اس وقت خداوند ان کے  خدا اپنے  لوگوں  کو ویسے  بچائے  گا جیسے  چرواہا بھیڑوں  کو بچاتا ہے۔ وہ ان کے  لئے  بہت انمول ہوں  گے۔ وہ ان کے  ہاتھوں  جگمگاتے  جواہر ہوں  گے۔

17 ہر ایک شئے  اچھی اور خوبصورت ہو گی۔ اناج اور مئے  کی حیرت انگیز فصل ہو گی یہ فصل نو جوان آدمیوں  اور عورت کو زور آور بنائے  گا۔

 

 

 

باب :  10

 

1 موسم بہار میں  بارش کے  لئے  خداوند سے  دعا کرو۔

2 وہ جو اہل خانہ کے  دیوتاؤں  کی طرف مڑ جاتا ہے  بیکار کا مشو رہ حاصل کرتا ہے۔ غیب داں  جھوٹی پیشین گوئی کرتا ہے۔ جھوٹا نبی جھوٹی رویا دیکھتا ہے۔ وہ بالکل ہی تسلی نہیں  لاتا ہے۔ اس لئے  لوگ بھیڑ کی مانند بھٹک جاتے  ہیں۔ وہ ایسا جھیلتے  ہیں  جیسے  ان کا چرواہا نہیں  ہے۔

3 خداوند کہتا ہے   ” میرا غضب چرواہوں  پر ہے  میں  پیشواؤں  کو سزا دوں  گا کیوں  کہ خداوند قادر مطلق اپنے  بھیڑوں  کے  جھنڈ کا خیال رکھتا ہے  جو کہ یہوداہ کے  لوگ ہیں۔” وہ ان لوگوں  سے  ویسا ہی سلوک کرتے  ہیں  جتنا کہ ایک جنگجو اپنے  لڑائی کے  گھوڑے  کا خیال رکھتے  ہیں۔

4 ” کونے  کا پتھر ڈیرے  کی کھونٹی جنگی کمان اور آگے  بڑھتے  سپاہی سبھی یہوداہ سے  ایک ساتھ آئیں  گے۔

5 وہ اپنے  دشمنوں  کو شکست دیں  گے   یہ کیچڑ میں  سڑکوں  پر آگے  بڑھتے  سپاہی جیسے  ہوں  گے۔ وہ لڑیں  گے  اور خداوند ان کے  ساتھ ہو گا۔ اس لئے  وہ دشمن کے  سواریوں  کو بھی ہرائیں  گے۔

6 میں  یہوداہ کے  خاندان کو بہت زور آور بناؤں  گا۔ میں  یوسف کے  خاندان کو جنگ میں  کامراں  کروں  گا۔ میں  ان کو پھر سے  گھر دوں  گا کیوں  کہ میں  ان پر رحم رکھتا ہوں۔ وہ ایسے  ہوں  گے  گویا میں  نے  ان کو کبھی ترک نہیں  کیا تھا۔ میں  خداوند ان کا خدا ہوں  میں  ان کی دعاؤں  کا جواب دوں  گا۔

7 بنی افرائیم جنگجو کی مانند ہوں  گے  اور ایسے  شادماں  ہوں  گے  جیسے  وہ لوگ جنہیں  پینے  کے  لئے  بہت زیادہ مل گیا ہو۔ ان کے  بچے  بھی بہت خوش ہوں  گے۔ وہ لوگ بہت خوش ہوں  گے  جب وہ خداوند کی عبادت کریں  گے۔

8 ” میں  سیٹی بجا کر سبھی کو ایک ساتھ بلاؤں  گا۔ میں  ان لوگوں  کو آزاد کر دیا ہوں  اور وہ تعداد میں  بہت ہو جائیں  گے  جیسے  وہ پہلے  تھے۔

9 ہاں ! میں  سبھی قوموں  میں  اپنے  لوگوں  کو بکھیر رہا ہوں۔ لیکن ان ملکوں  میں  وہ مجھے  یاد کریں  گے۔ وہ اور ان کی اولاد زندہ رہے  گی اور وہ واپس آئیں  گے۔

10 میں  انہیں  مصر اور اسور سے  واپس لاؤں  گا۔ وہ جلعاد اور لبنان تک پہنچتے  رہیں  گے  اس وقت تک جب وہاں  اور جگہ کی گنجائش نہیں  ہو گی۔”

11 اور وہ مصیبت کے  سمندر سے  گزر جائے  گا اور اس کی لہروں  کو قابو میں  لائے  گا۔ اور دریائے  نیل تہہ تک سوکھ جائے  گا۔ خداوند اسور کے  تکبّر اور مصر کی حکومت کا خاتمہ کر دے  گا۔

12 خداوند اپنے  لوگوں  کو طاقتور بنائے  گا اور اس کا نام لے  کر ادھر اُدھر چلیں  گے۔ یہ سب خداوند فرماتا ہے۔

 

 

 

باب :  11

 

1 اے  لبنان! اپنے  دروازوں  کو کھول دے  تاکہ آگ اندر آئے  اور وہ تیرے  دیوداروں  کے  درختوں  کو کھا جائے۔

2 اے  سرو کے  درخت ماتم کر کیوں  کہ دیو دار کا درخت گر گیا اور اس کی شان و شوکت غارت ہو گئی۔ اے  بسان کے  بلوط کے  درختو! ماتم کرو کیونکہ دشوار گزار جنگل کاٹ ڈالا گیا۔

3 چرواہوں  کی ماتم کی آواز آتی ہے  کیونکہ ان کی حشمت تباہ ہو گئی۔ جوان شیروں  کی گرج سنائی دیتی ہے  کیونکہ یردن ندی کے  کنارے  کی گھنی جھاڑیاں  تباہ کر دی گئی۔

4 خداوند میرے  خدا یوں  فرماتا ہے   ” ان بھیڑوں  کی حفاظت کرو جن کو ذبح کرنے  کے  لئے  پر ورش کی جا رہی ہے۔

5 جن کے  مالک ان کو ذبح کرتے  ہیں  اور اپنے  آپ  کو بے  قصور سمجھتے  ہیں  اور جن کے  بیچنے  والے  کہتے  ہیں  خداوند کا شکر کرو کہ ہم مالدار ہوئے  اور ان کے  چرواہے  ان پر رحم نہیں  کرتے۔

6 اور میں  اس ملک میں  رہنے  والوں  کے  لئے  اور رحم نہیں  کروں  گا۔” خداوند فرماتا ہے   ” دیکھو! میں  ہر ایک کو اس کے  دوست اور اس کے  بادشاہ کی قوت کا رعایا بناؤں  گا۔ میں  انہیں  ان کا ملک تباہ کرنے  دوں  گا۔ میں  انہیں  کسی بھی حالت میں  نہیں  روکوں  گا! ”

7 میں  ان بھیڑوں  کو چَرایا جسے  ذبح کرنے  کے  لئے  پا لا گیا تھا۔ اور میں  نے  دو لاٹھیاں  لیں  ایک کا نام فضل اور دو سری کا اتحاد رکھا۔ اور میں  بھیڑوں  کے  جھنڈ کو ان لاٹھیوں  سے  چَرایا۔

8 میں  نے  ایک مہینے  میں  تین چروا ہوں  کو ہلاک کیا میں  بھیڑوں  پر غضبناک ہوا اور وہ مجھ سے  نفرت کرنے  لگے۔

9 تب میں  نے  کہا ” میں  تمہیں  چھوڑتا ہوں  میں  تمہاری دیکھ بھال نہیں  کروں  گا۔ جو مر رہے  ہیں  وہ مریں  گے۔ جو فنا ہو رہے  ہیں  وہ فنا ہوں  گے۔ اور جو بچیں  گے  وہ ایک دوسرے  کو تباہ کریں  گے۔ ”

10 تب میں  نے  فضل نامی لا ٹھی کو لیا اور اسے  توڑ ڈالا۔ میں  نے  اسے  یہ دکھانے  کے  لئے  کیا کہ قوموں  کے  ساتھ خدا کا معاہدہ ٹوٹ گیا تھا۔

11 اس لئے  اسی دن عہد نامہ ٹوٹ گیا۔ وہ بیچا رے  بھیڑ جو مجھے  دیکھ رہے  تھے  یہ جان گئے  کہ یہ خداوند کا کلام ہے۔

12 تب میں  نے  کہا “اگر تم مجھے  مزدوری دینا چاہتے  ہو تو دو۔ اور اگر نہیں  تو مت دو۔” اس لئے  انہوں  نے  چاندی کے  تیس سکّے  دیئے۔

13 تب خداوند نے  مجھ سے  کہا ” تو وہ سوچتے  ہیں  کہ میں  اتنا ہی مول کا ہوں۔ اس بڑی رقم کو گھر کے  خزانے  میں  پھینک دو۔” اس لئے  میں  نے  چاندی کا تیس ٹکڑا لیا اور اسے  خداوند کی ہیکل کے  خزانے  میں  پھینک دیا۔

14 تب میں  نے  دوسری لا ٹھی لی یعنی اتحاد نامی لا ٹھی کو کاٹ ڈالا یہ میں  نے  یہ بات ظاہر کرنے  کے  لئے  کیا کہ اسرائیل اور یہوداہ کے  بیچ اتحاد ٹوٹ گیا۔

15 تب خداوند نے  مجھ سے  کہا ” اب ایک ایسی لا ٹھی کی کھوج کرو جو کسی بے  وقوف چروا ہے  کا ہو۔

16 کیوں  کہ میں  ان لوگوں  کے  لئے  ایک ایسا چروا ہا دوں  گا جو اس جھنڈ کی دیکھ بھال نہیں  کرے  گا جو کہ بھٹک گئے  ہیں  اور جو بھیڑ زخمی ہو گئے  ہیں۔ وہ اسے  تندرست بھی نہ کر سکے  گا اور نہ ہی فَربہ کو چرائے  گا۔ لیکن فرَ بہ کا گوشت کھائے  گا اور ان کے  کھروں  کو بھی توڑ ڈالے  گا۔”

17 اے  میرے  نا لائق چروا ہا! تم نے  میری بھیڑوں  کو چھوڑ دیا انہیں  سزا دو۔ تلوار سے  اس کا داہنا بازو اور داہنی آنکھ پر حملہ کرو۔ اس کا بازو بالکل سو کھ جائے  گا اور اس کی داہنی آنکھ پھوٹ جائے  گی۔

 

 

 

باب :  12

 

1 اسرائیل کی بابت خداوند کا پیغام : خداوند جو آسمان کو پھیلاتا اور زمین کی بنیاد ڈالتا اور انسان کے  اندراس کی روح پیدا کرتا ہے  یوں  فرماتا ہے  :

2 ” دیکھو! میں  یروشلم کو اس کے  ارد گرد کے  لوگوں  کے  لئے  زہر کا پیالہ بنا دوں  گا۔ قو میں  آئیں  گے  اور اس شہر پر حملہ کریں  گے۔ اور سارا یہوداہ حملہ میں  جا پھنسے  گا۔

3 لیکن میں  یروشلم کو بھاری چٹان بناؤں  گا اور جو کوئی اسے  اٹھانے  کی کوشش کرے  گا خود گھائل ہو جائے  گا۔ اور دنیا کی سب قو میں  اس کے  مقابل جمع ہوں  گی۔

4 اس دن میں  تمام قوموں  کے  گھوڑوں  کو خوفزدہ اور اندھا کر دوں  گا۔ اور گھوڑ سوار کو ڈر سے  پا گل کر دوں  گا۔ لیکن میری آنکھیں  کھلی رہیں  گی اور میں  یہوداہ کے  گھرانے  کی حفاظت کرتا رہوں  گا۔

5 یہوداہ کے  خاندانی گروہ کے  قائدین اپنے  آپ  کہیں  گے   ” یروشلم کے  لوگ زور آور اور حوصلہ مند ہیں  کیوں  کہ وہ لوگ خداوند قادر مطلق اپنے  خدا پر یقین کرتے  ہیں۔”

6 اس دن میں  یہوداہ کے  گھرانے  کے  قائدین کو لکڑ یوں  کے  ڈھیر کے  بیچ جلتی ہوئی انگیٹھی پیالوں  کے  ڈھیر کے  بیچ جلتی ہوئی مشعل کے  لَو کی طرح کر دوں  گا جو کہ دائیں  بائیں  کے  سبھی قوموں  کو کھا جائیں  گے۔ تب یروشلم کے  لوگ پھر سے  اپنے  گھروں  میں  آباد ہوں  گے۔ ”

7 خداوند یہوداہ کے  لوگوں  کو پہلے  بچائے  گا جو کہ یروشلم کے  با ہر رہتے  ہیں۔اس لئے  یروشلم کے  باشندے  فخر نہ کر سکیں  گے۔ داؤد کے  گھرانے  اور یروشلم میں  رہنے  والے  دیگر لوگ یہ فخر نہیں  کر سکیں  گے۔ کہ وہ یہوداہ میں  رہنے  والے  دیگر لوگوں  سے  بہتر ہیں۔

8 اس روز خداوند یروشلم کے  باشندوں  کی حفاظت کرے  گا اور ان میں  سب سے  کمزور داؤد کی مانند ہو گا۔ اس دن داؤد کا گھرانا دیوتاؤں  کی مانند یا خداوند کے  فرشتے  کی مانند ہو گا جو لوگوں  کے  آگے  چلتا ہے۔

9 خداوند فرماتا ہے   “اس روز میں  ان قوموں  کو ہلاک کرنے  کا ارادہ کروں  گا جو یروشلم کے  خلاف جنگ کرنے  آئیں  گے۔

10 میں داؤد کے  گھر اور یروشلم کے  باشندوں  کے  دل میں  رحم اور مناجات کی روح نازل کروں  گا۔ وہ میری جانب دیکھیں  گے   جسے  انہوں  نے  چھیدا تھا اور وہ بہت دُکھی ہوں  گے۔ وہ اس طرح ماتم کریں  گے  جیسا کوئی اپنے  اکلوتے  بیٹے  کے  لئے  کرتا ہے۔ اور اتنا ہی غمزدہ ہوں  گے  جیسے  کوئی اپنے  پہلوٹھے  بیٹے  کی موت پر روتا ہے۔

11 اس روز یروشلم میں  بڑا ماتم ہو گا۔ یہ اس وقت کی طرح ہو گا جو ہدد رِموّن کا ماتم مجدّون کی وا دی میں  ہوا۔

12 اور تمام ملک ماتم کرے  گا۔ داؤد کے  گھرانے  کے  لوگ اپنے  آپ  روئیں  گے  اور ان کی بیویاں  بھی الگ سے  روئیں  گی۔ ناتن کے  گھرانے  کے  لوگ اپنے  آپ  روئیں  گے   اور ان کی بیویاں  اپنے  آپ  روئیں  گی۔

13 لاوی کے  گھرانے  کے  مرد اپنے  آپ  روئیں  گے  اور ان کی بیویاں  اپنے  آپ  روئیں  گی سمعی کے  گھرانے  کے  مرد اپنے  آپ  روئیں  گے  اور ان کی بیویاں  اپنے  آپ  روئیں  گی۔

14 اور یہی بات سبھی گھرانوں  میں  ہو گی۔ مرد اپنے  آپ  روئیں  گے  اور عورتیں  اپنے  آپ  روئیں  گی۔”

 

 

 

باب :  13

 

1 اس روز داؤد کے  گھرانے  اور یروشلم کے  باشندوں  کے  گنا ہوں  اور نا پاکیوں  کو دھونے  کے  لئے  ایک جھرنا بہنے  لگے  گا۔

2 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   “اس روز میں  زمین کے  سبھی بتوں  کو ہٹا دوں  گا۔ لوگ ان کا نام بھی یاد نہیں  رکھیں  گے  اور میں  جھوٹے  نبیوں  اور ناپاک روحوں  کو بھی ز،مین سے  ہٹا دوں  گا۔

3 اگر کوئی شخص نبوت کرتا رہتا ہے  تو اسے  سزا ملے  گی۔ یہاں  تک کہ اس کے  ماں  باپ جن سے  وہ پیدا ہوا اس سے  کہیں  گے  کہ تو زندہ نہ رہے  گا کیونکہ تو خداوند کا نام لے  کر جھوٹ بو لتا ہے۔ اس لئے  تمہیں  مر جانا چاہئے۔ اس کی اپنی ماں  اور اس کا اپنا با پ نبوت کرنے  کے  سبب اسے  چھُرا گھونپ دیں  گے۔

4 اور اس روز نبیوں  میں  سے  ہر ایک نبوت کرتے  وقت اپنی رویا سے  شرمندہ ہوں  گے۔ اور کوئی بھی دھو کہ دینے  کی کوشش میں  کھرد را کپڑا نہیں  پہنے  گا۔

5 وہ کہیں  گے   ” میں  نبی نہیں  ہوں  میں  ایک کسان ہو ں۔ میں  نے  بچپن سے  کسان کے  رو پ میں  کام کیا ہے۔ ”

6 دوسرے  لوگ کہیں  گے   ” مگر تمہارے  ہاتھوں  پر یہ زخم کیسے  ہیں ؟ ” وہ کہیں  گے   ” یہ چوٹ مجھے  دوست کے  گھر میں  لگی۔”

7 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے  ” اے  تلوار! چروا ہے  پر وار کر۔ اس آدمی  پر وار کر جو کہ میرا نزدیکی دوست تھا۔ چروا ہے  کو مار جھنڈ کو تتر بتر ہو جانے  دے۔ اور میں  ان جھو ٹوں  کے  خلاف کارروائی کروں  گا۔

8 ملک کے  دو تہائی لوگ چو ٹ کھائیں  گے  اور مریں  گے  لیکن ایک تہائی بچے  رہیں  گے۔

9 اور میں  اس ایک تہائی کو آگ میں  ڈال کر چاندی کی طرح صاف کروں  گا۔ اور اسے  سونے  کی طرح صاف کروں  گا۔ وہ مجھ سے  دعا کریں  گے  اور میں  ان کی سنوں  گا۔ میں  کہوں  گا ” یہ میرے  لوگ ہیں  اور وہ کہیں  گے  خداوند ہی ہمارا خدا ہے۔ ”

 

 

 

باب :  14

 

1 دیکھو! خداوند نے  ایک دن متعین کیا جب وہ مال جو تو نے  لیا ہے  وہ تیرے  شہر میں  بانٹا جائے  گا۔

2 میں  سبھی قوموں  کو یروشلم کے  خلاف لڑنے  کے  لئے  ایک ساتھ لاؤں  گا۔ وہ لوگ صرف شہر پر ہی قبضہ نہیں  کریں  گے  بلکہ گھروں  کو بھی تباہ کریں  گے۔ عورتوں  کی عصمت دری کی جائے  گی اور آدھا شہریوں  کو قید میں  لے  جایا جائے  گا۔ لیکن باقی لوگ شہر سے  نہیں  لے  جائے  جائیں  گے۔

3 تب خداوند ان قوموں  کے  خلاف جنگ کرے  گا۔ یہ ایک حقیقی جنگ ہو گی۔

4 اور اس روز وہ کو ہِ زیتون پر جو یروشلم کے  مشرق میں  واقع ہے  کھڑا ہو گا اور کو ہِ زیتون بیچ سے  پھٹ جائے  گا اور اس کے  مشرق سے  مغرب تک ایک بڑی وادی ہو جائے  گی کیوں  کہ آدھا پہاڑ شمال کو سرک جائے  گا ار آدھا جنوب کو۔

5 تم وادی سے  ہو کر میرے  پہاڑیوں  کے  بیچ سے  جو کہ آضل نامی جگہ تک پھیلا ہوا ہے  بھا گو گے۔ تم اس طرح بھا گو گے  جیسے  کہ زلزلہ آیا ہو۔ جس طرح شاہِ یہوداہ عّزیاہ کے  زمانے  میں  زلزلے  سے  لوگ بھا گے  تھے۔ کیوں  کہ خداوند میرا خدا آئے  گا اور سب مقدس اس کے  ساتھ ہوں  گے۔

6 وہ دن ایک بہت ہی اہم دن ہو گا۔ اس دن نہ روشنی ہو گی نہ ٹھنڈ اور نہ ہی شبنم ہو گی۔ صرف خداوند ہی جانتا ہے  کہ یہ دن کب ہو گا۔ دن رات میں  کوئی فرق نہیں  ہو گا۔ شام کے  وقت بجائے  اندھیرا کے  اجا لا ہو گا۔

7

8 اس روز یروشلم سے  لگا تار پانی بہے  گا۔ جس کا آدھا مشرقی سمندر کی طرف اور آدھا مغربی سمندر کی طرف بہے  گا۔ پانی گرمی اور سردی میں  بہے  گا۔

9 اور خداوند ساری دنیا کا بادشاہ ہو گا۔ اس روز خداوند ہی صرف خدا ہو گا۔ اور صرف اس کا ہی نام خدا کا نام ہو گا۔

10 اور سارے  ملک جنوبی یروشلم جبع سے  رمّون تک میدان ہو گا۔ لیکن یروشلم کافی اونچائی پر ہو گا۔ اور یہ بنیمین کے  پھاٹک سے  پرانے  پھاٹک تک اور پھر کونے  کے  پھاٹک تک اور حنن ایل کے  برج سے  بادشاہ کے  حوض جہاں  شراب بنتی ہے  وہاں  تک آباد ہو گا۔

11 لوگ اس میں  سکونت کریں  گے  اور پھر لعنت مطلق نہ ہو گی بلکہ یروشلم امن و امان سے  آباد رہے  گا۔

12 لیکن خداوند ان قوموں  کو سزا دے  گا جو یروشلم کے  خلاف لڑے۔ وہ انہیں  بھیانک بیماری دے  گا۔ ان کا گوشت سڑ جائے  گا جب کہ وہ زندہ ہی ہوں  گے   ان کی آنکھیں  چشم خانوں  میں  سڑ جائے  گی اور ان کی زبان بھی ان کے  منھ میں  سڑ جائے  گی۔

13 وہ بھیانک بیماری دشمن کے  خیمے  میں  پھیل جائے  گی۔ اور ان کے  گھوڑوں  اور گدھوں  کو وہ بھیانک بیماری لگ جائے  گی۔ اس وقت دشمن یقیناً خداوند سے  خوف کھائیں  گے۔ وہ ایک دوسرے  کا ہاتھ پکڑیں  گے۔ وہ ایک دوسرے  پر حملہ کرنے  کے  لئے  ہاتھ اٹھائیں  گے۔ یہوداہ کے  لوگ یروشلم کے  خلاف جنگ کریں  گے۔ لیکن چاروں  طرف کی قوموں  سے  دولت جمع کی جائے  گی : جیسے  کہ سونا چاندی اور فینسی کپڑے۔

14 15  16 دشمنوں  کی فوجوں  میں  سے  کچھ لوگ بچ جائیں  گے۔ اور وہ لوگ ہر سال خداوند قادر مطلق کی عبادت کرنے  اور پناہ کی تقریب منانے  کے  لئے  یروشلم آئیں  گے۔

17 اگر روئے  زمین کا کوئی بھی قوم بادشاہ جو کہ خداوند قادر مطلق کی عبادت کرنے  کے  لئے  یروشلم نہیں  جائے  گا تو انہیں  بارش کا پانی بھی نہیں  ملے  گا۔

18 اگر کوئی بھی مصری خاندان جن پر بارش نہیں  ہوتی پناہ کی تقریب منانے  کے  لئے  نہ آئیں  تو ان پر بھیانک بیماری آئے  گی جس کو خداوند نے  دیگر دشمن قوموں  پر نازل کی تھی۔

19 وہ مصر کے  لئے  کسی بھی قوم کے  لئے  اور سزا ہو گی جب سب قومیں  پناہ کی تقریب منانے  نہیں  جائیں  گی۔

20 اس دن ہر ایک چیز خداوند کی ہو گی۔ یہاں  تک کہ گھوڑوں  کے  سازوں  پر بھی یہ لکھا ہو گا۔” خداوند کے  لئے  مقدس ” اور سارا برتن جس کا استعمال خدا کی ہیکل میں  کیا جاتا ہے  وہ بھی اتنا ہی اہم ہو گا جتنا کہ قربان گاہ پر استعمال ہونے  والا کٹورا۔

21 بلکہ یروشلم اور یہوداہ کی پکانے  کی سب برتن ” خداوند قادر مطلق کے  لئے  مقدس ” کے  طور پر الگ اور مخصوص کر لیا جائے  گا۔ اور وہ سبھی جو قربانی پیش کریں  گے  ان کا استعمال پکانے  کے  لئے  کریں  گے۔ اور اس روز خداوند قادر مطلق کی ہیکل میں  چیزوں  کا خرید و فروخت کرنے  والا کوئی بھی تاجر نہ ہو گا۔

 

 

 

 

 

کتاب ۳۹: ملاکی

 

 

 

 

 

باب :  1

 

1 خداوند کی طرف سے  ملاکی کی معرفت اسرائیل کے  لئے  پیغام۔

2 خداوند فرماتا ہے   ” لوگو! میں  نے  تم سے  محبت کی ہے۔ ” لیکن تم نے  کہا ” تم نے  ہم سے  کیسے  محبت کی؟ ” خداوند فرماتا ہے   ” کیا عیساؤ یعقوب کا بھائی نہیں  تھا؟ اب تک میں  نے  یعقوب سے  محبت کی۔

3 لیکن میں  نے  عیساؤ سے  نفرت کیا۔ میں  نے  اس کے  پہاڑی ملک کو ویران کیا۔ اس کی زمین کو ریگستان کے  گیدڑوں  کو دے  دیا گیا۔”

4 اگر ادوم کہے   ” ہم برباد ہو گئے  تھے   پر ویران جگہوں  کو پھر آ کر تعمیر کریں  گے۔ ” تو خداوند قادر مطلق یہ فرماتا ہے  : ” ہو سکتا ہے  وہ اسے  پھر سے  بنائے   لیکن میں  اسے  پھر سے  ڈھا دوں  گا! “تب تک لوگ ان لوگوں  کو شریر کا علاقہ کہا جاتا ہے۔ وہ لوگ جن کے  ساتھ خداوند ہمیشہ ناراض رہتا ہے۔

5 تم اپنی آنکھوں  سے  دیکھو گے  اور کہو گے   ” خداوند اسرائیل کے  باہر بھی عظیم ہے۔ ”

6 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” اے  کاہنوں  میرے  نام سے  کون تحقیر کرتا ہے ! بیٹا اپنے  باپ کی اور نوکر اپنے  آقا کی تعظیم کرتا ہے۔ اس لئے  اگر میں  باپ ہوں  تو مجھے  عزت کیوں  نہیں  دی جا رہی ہے   اور اگر میں  آقا ہوں  تو کیوں  کوئی شخص مجھ سے  نہیں  ڈرتا ہے ؟ ” لیکن تم کہتے  ہو ” ہم لوگوں  نے  کیسے  تیرے  نام کی تحقیر کی ہے ؟ ”

7 ” نا پاک کھانے  کا نذرانہ پیش کر کے ! ” لیکن تم نے  کہا ” ہم لوگوں  نے  اسے  کیسے  ناپاک کیا؟ ” یہ سوچ کر کہ شاید خداوند کی قربان گاہ کی تحقیر ہو؟ ”

8 ” جب تم اندھے  جانوروں  کی قربانیاں  پیش کرتے  ہو تو کیا یہ غلط نہیں  ہے ؟ اور جب لنگڑے  یا بیمار جانور کی قربانی پیش کرتے  ہو تو کیا یہ غلط نہیں  ہے ؟ یہی تو اپنے  صوبیدار کو پیش کرو تو کیا وہ تم سے  خوش ہو گا یا تیرا ہمدرد ہو گا؟ ” نہیں ! ” وہ اسے  قبول نہیں  کرے  گا خداوند قادر مطلق فرماتا ہے۔

9 ” اور اب برائے  کرم خدا سے  اس کے  کرم کی درخواست کر کہ شاید ہم لوگوں  پر مہربان ہو۔ تم ذمہ دار ہو کیا وہ تم سے  کسی کے  ساتھ بھی خوش ہو گا؟ ” خداوند قادر مطلق فرماتا ہے۔

10 ” کاش تم میں  کوئی ایسا ہوتا جو ہیکل کا دروازہ بند کرتا تا کہ تم میری قربان گاہ پر بلا مقصد کا آگ نہ جلا تے۔ میں  تم سے  خوش نہیں  ہوں  اور میں  تیرے  ہاتھ کا کوئی بھی تحفہ قبول نہیں  کروں  گا۔” خداوند قادر مطلق یہ فرماتا ہے۔

11 کیوں  کہ طلوع آفتاب سے  غروب آفتاب تک میرا نام عظیم ہے۔ اور ہر جگہ میرے  نام کی تعظیم میں  بخور کا نذرانہ پیش کیا جاتا ہے  اور ساتھ ہی ساتھ خالص نذرانہ بھی پیش کیا جاتا ہے۔ کیوں  کہ میرا نام قوموں  میں  عظیم ہے۔ ” خداوند قادر مطلق فرماتا ہے۔

12 ” لیکن تم یہ کہہ کر اس کی بے  حرمتی کرتے  ہو کہ خداوند کی قربان گاہ نا پاک ہے۔ اور قربانی کا کھانا گھٹیا ہے۔

13 تم نے  کہا ” یہ کسی زحمت ہے ! اور مجھے  غصہ دلاتا ہے۔ خداوند قادر مطلق فرماتا ہے۔ اور پھر تم نے  نذرانے  کے  طور پر چُرائے  ہوئے  جانور یا وہ جو لنگڑا ہو یا وہ بیمار ہو پیش کیا تو کیا میں  ان کو تمہارے  ہاتھ سے  قبول کروں  گا؟ ” خداوند فرماتا ہے۔

14 ان دھو کے  بازوں  پر لعنت ہو جس کے  جھنڈ میں  نر جا نور ہو اور وہ اسے  خداوند کو پیش کرنے  کا وعدہ کرتا ہو لیکن ایک بیمار جانور پیش کرتا ہو۔ کیونکہ میں  ایک عظیم بادشاہوں  ” خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” اور میرا نام قوموں  میں  خوفناک ہے۔ ”

 

 

 

باب :  2

 

1 ” اور اب کاہنو! یہ احکامات تمہارے  لئے  ہے   میری سنو! جو میں  کہتا ہوں  اس پر دھیان دو۔ میرے  نام کی تمجید کرو۔

2 اگر تم نہیں  سنو گے  اور میرے  نام کی سنجید گی سے  تمجید نہیں  کرو گے   ” خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” تب میں  تم پر لعنت بھیجوں  گا اور تمہاری دعاؤں  کو لعنت میں  بدل دوں  گا۔ سچ مچ میں  نے  تم لوگوں  پر لعنت ڈالنا شروع کر دیا ہوں  کیوں  کہ تم لوگوں  نے  اسے  سنجیدگی سے  نہیں  لیا۔”

3 ” دیکھو! میں  تیری نسلوں  کو ڈانٹوں  گا اور تمہارے  چہروں  پر ان جانوروں  کو جو کہ قربانی کے  لئے  تھے  کے  گو بر کو پھیلا دوں  گا۔ اور میں  تیری قربانی کے  گو بر کو بھی تیرے  چہرے  پر پھیلا دوں  گا۔ اور تم کو اپنے  آ پ سے  دور رکھوں  گا۔

4 تب تم سمجھو گے  کہ میں  تمہیں  یہ حکم بھیجا ہوں تا کہ لاویوں  کے  ساتھ میرا معاہدہ قائم آئے  گا۔” خداوند قادر مطلق نے  یہ سب کہا۔

5 ” اس کے  ساتھ میرا  معاہدہ ایک زندگی اور سلامتی ہے۔ میں  نے  وہ اسے  سب دیا جب مجھ سے  خوفزدہ ہوا تھا اور میرا نام کا احترام کیا تھا۔

6 سچی ہدایت اس کے  منہ میں  تھا۔ ان کے  ہونٹوں  میں  کبھی غلطی نہیں  پائی گئی۔ اس کا راستہ میر ی نظر میں  مکمل اور صحیح تھا۔ اور اس نے  بہت سے  لوگوں  کو ان کی زندگی کے  گناہ کے  راستے  سے  وا پس لا یا۔

7 لوگ جانکاری حاصل کرنے  کے  لئے  کاہن کو دیکھے۔ وہ لوگ اس کے  پاس ہدایت کا کلام حاصل کرنے  کے  لئے  جاتا ہے  کیونکہ وہ خداوند قادر مطلق کا پیغمبر ہے۔ ”

8 ” لیکن تم کاہنو! میرے  راستے  سے  ہٹ گئے۔ تمہاری ہدایت بہت سے  لوگوں  کا گناہ میں  ٹھو کر کھانے  کا سبب بنا۔ تم نے  لا وی کے  ساتھ کئے  گئے  معاہدہ کو توڑ دیئے   ” خداوند قادر مطلق فرماتا ہے۔

9 ” اس لئے  میں  نے  تمہیں  تمام لوگوں  کے  سامنے  حقیر اور ذلیل کیا۔ کیوں  کہ تم نے  میری راہ پر نہیں  چلا۔ اور کیونکہ تم نے  ان لوگوں  کے  ساتھ جانبداری کا معاملہ کیا جسے  تم نے  میری تعلیمات کو سکھا یا۔”

10 کیا ہم سب کا ایک ہی با پ نہیں  ( خدا ) ہے  کیا اسی ایک خدا نے  ہم سب کو پیدا نہیں  کیا۔ پھر کیوں  ہم میں  سے  کچھ لوگ دوسرے  کو دھو کہ دیتے  ہیں ؟ لوگ جو اس معاہدہ کی بے  حرمتی کرتے  ہیں  جسے  کہ خدا نے  ہمارے  با پ دادا سے  کئے  تھے۔

11 یہوداہ بے  وفا تھے  اور اسرائیل اور یروشلم میں  لوگوں  نے  بہت برا کام کیا تھا۔ کیوں  کہ یہوداہ کے  آدمیوں  نے  خداوند کے  مقدس جگہ کی بے  حرمتی کی جس سے  کہ خدا محبت کرتا ہے  اور ان لوگوں  نے  ان عو رتوں  سے  شادی کی جو کہ غیر ملکی خداوند کی پرستش کرتے  ہیں۔

12 کاش خدا یعقوب کے  خاندان کا کوئی بھی شخص جو ایسا کرتا ہے  اسے  ہٹا دے  وہ جو بھی ہو۔ اگر وہ خداوند قادر مطلق کو نذرانہ بھی پیش کرتے  ہیں۔

13 اور تمہیں  یہ بھی کرنا چاہئے  : خداوند کی قربان گاہ کو آنسوؤں  سے  بھر دو۔ تم روؤ اور ماتم مناؤ کیوں  کہ وہ تمہارے  نذرانے  اور قبول نہیں  کرتے  ہیں۔ اور وہ اسے  ہمدردی کے  ساتھ تمہارے  ہاتھ سے  قبول نہیں  کرے  گا۔

14 اور تم پو چھو ” ہمارے  تحفے  کے  خداوند کے  ذریعہ کیوں  قبول نہیں  کیا گیا؟ ” کیوں  کہ خداوند تمہارے  خلاف گواہ ہے۔ اس نے  دیکھا کہ تم اپنی بیوی کے  جس سے  تم نے  جوانی کے  وقت شادی کی تھی بے  وفا تھے۔ تم نے  اس سے  دغا بازی کی حالانکہ وہ مقدس وعدہ سے  تمہارے  شریک حیات ہے۔

15 کیا خدا نے  شو ہر بیوی کو ایک جسم اور ایک روح ہونے  کے  لئے  پیدا نہیں  کیا؟ اور وہ کیا ہے  جس کی خدا نے  خواہش کی؟ خدا ترس نسل۔اس لئے  اس روحانی اتحاد کو قائم رکھنے  کے  لئے  ہوشیار رہو اور اس عو رت سے  جس سے  تم جوانی میں  شادی کی تھی بے  وفائی مت کر۔

16 خداوند اسرائیل کا خدا فرماتا ہے   ” کیوں  کہ میں  طلاق سے  نفرت کرتا ہوں  ” ” میں  اس آدمی  سے  نفرت کرتا ہوں  جو اپنے  کپڑوں  کو تشدد سے  ڈھانکتا ہے   ” خداوند قادر مطلق فرماتا “اس لئے  ہوشیار رہو اور اپنی بیوی سے  بے  وفائی مت کر۔”

17 تم نے  اپنے  کلام سے  خداوند کو بہت زیادہ بیزار کیا ہے۔ لیکن تم کہتے  ہو ” ہم لوگوں  نے  اسے  کیسے  بیزار کیا؟ ” یہ کہتے  ہوئے   ” وہ سارے  جو برا کرتے  ہیں  خداوند کی نظر میں  حقیقت میں  اچھا ہے   اور وہ ان لوگوں  سے  خوش ہے۔ ” یا یہ پو چھتے  ہو گے   ” وہ خدا کہاں  ہے  جو شریروں  کو سزا دیتا ہے ؟ ”

 

 

 

باب :  3

 

1 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” دیکھو! میں  اپنا پیغمبر بھیج رہا ہوں  اپنے  سامنے  میں  راستہ تیار کرنے  کے  لئے  اور خداوند جس کی تم کھوج کر رہے  ہو وہ اچانک اپنے  گھر میں  آئے  گا۔معاہدے  کا پیغمبر جس کے  لئے  تم کافی کھوج کر رہے  ہو آ رہا ہے۔ دیکھو وہ آ رہا ہے۔ ”

2 ” جب وہ آئے  گا اس کے  لئے  کون برداشت کر پائے  گا؟ جب وہ ظاہر ہو گا اس کے  بر خلاف کون کھڑا ہونے  کے  لائق ہو گا۔ وہ ایک صاف کرنے  والے  کارخانے  کی بھٹی کی آگ کی طرح ہو گی یا اس صابن کی طرح جو کپڑوں  میں  سفیدی لاتا ہے۔

3 وہ اس شخص کی طرح بیٹھے  گا جو چاندی کو صاف اور خالص کرتا ہے   اور وہ لاویوں  کو خالص بنائے  گا اور انہیں  سونے  اور چاندی کی طرح صاف اور خالص بنائے  گاتا کہ وہ خداوند کو اپنے  نذرانے  صحیح طریقہ سے  پیش کرے۔

4 تب خداوند کو یہوداہ اور یروشلم کے  نذرانے  خوش کرے  گا جیسا کہ گذرے  ہوئے  وقتوں  میں  کرتا تھا۔

5 تب میں  تمہارے  پاس آؤں  گا اور تجھے  آزماؤں  گا۔ اور میں  جا دو گروں  زنا کاروں  جھوٹی گوا ہی پیش کرنے  وا لوں  مزدوروں  پر ظلم کرنے  وا لوں  بیواؤں  اور یتیموں  پر ظلم کرنے  وا لوں  کے  خلاف اور ان لوگوں  کے  خلاف جن کے  معاملات تمہارے  بیچ رہ رہے  غیر ملکیوں  کے  ساتھ صاف نہ ہو اور جن کو میرا خوف نہ ہو جانچ پر تال کرنے  میں  بڑی تیزی برتوں  گا۔” ”

6 ” کیوں  کہ میں  خداوند ہوں  اور میں  بدلتا نہیں  تم اب بھی یعقوب کی او لاد ہو اور تم تباہ نہیں  کئے  گئے  ہو۔

7 تم اپنے  باپ دادا کے  ایام سے  میرے  آئین سے  منحرف رہے  اور ان کو نہیں  مانا۔ تم میری طرف آؤ اور میں  تیری طرف وا پس آؤں  گا۔” خداوند قادر مطلق فرماتا ہے۔ ” لیکن تم کہتے  ہو ہم لوگ کیسے  وا پس آئیں ؟ ”

8 کیا کوئی شخص خدا کو لُو ٹ سکتا ہے ؟ لیکن تم لوگ مجھ کو لوٹ رہے  ہو۔ اور تم لوگ کہتے  ہو ہم لوگ کیسے  نہیں  لُو ٹ رہے  ہیں۔ اپنے  دسویں  حصے  اور نذرانہ پیش کرتے  ہیں۔

9 تم لعنت سے  ملعون ہوئے  کیوں  کہ تم مجھے  لُو ٹ رہے  ہو تم سب کوئی!

10 پو رے  کا پو را دسواں  حصہ میرے  گودام میں  لاؤ تا کہ میرے  گھر میں  خوراک ہو گا۔ براہ کرم میرا امتحان لو۔” خداوند قادر مطلق یہ فرماتا ہے   ” دیکھو اگر میں  تیرے  لئے  کثرت سے  پانی برسانے  کا سبب نہ بنو گا اور بہ کثرت ہونے  تک برکت برساتا نہ رہوں  گا۔

11 میں  کیڑوں  کو حکم دوں  گا کہ وہ تمہاری فصلوں  کو برباد نہ کرے۔ اور میں  انگور کے  بیلوں  سے  جو کہ تمہارے  کھیتوں  میں  ہے  بہ کثرت انگور پیدا کراؤں  گا۔” خداوند قادر مطلق یہ فرماتا ہے۔

12 ” تب ساری قوموں  کی برکت کی نظریں  تمہارے  اوپر ہو گی کیوں  کہ تمہارے  پاس خوشگوار زمین ہو گی۔” خداوند قادر مطلق یہ فرماتا ہے۔

13 ” تم نے  میرے  خلاف بُری باتیں  کی۔” خداوند فرماتا ہے   لیکن تم کہتے  ہو ” ہم لوگوں  نے  تیرے  خلاف کیا کہا ہے ؟ ”

14 تم نے  کہا ” خداوند کی عبادت کر نا بیکار ہے۔ اس کے  حکم کا پالن کرنے  سے  کیا فائدہ یا خداوند قادر مطلق کے  آگے  غمزدہ ہو کر جانے  سے  یہ دکھانے  کے  لئے  کہ ہم لوگوں  کو اپنے  گنا ہوں  کے  لئے  افسوس ہے  کیا فائدہ؟

15 اب ہم کہتے  ہیں  کہ مغرور با فضل ہو بدکردار اچھا کرتا ہے   اور جو خدا کو للکارتے  ہیں  اسے  سزا نہیں  ملنی چاہئے۔ ”

16 تب جو خدا سے  خوف کھاتے  ہیں  وہ ایک دوسرے  سے  باتیں  کیں۔ خداوند نے  ان کا سنا اور ان پر دھیان دیا۔ اور ایک دستاویز کی کتاب اس کے  سامنے  لکھی گئی۔ اس کی فہرست بنائی گئی جو ان کے  نام کی تعظیم کی اور اس کا خوف کھا یا۔

17 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” وہ لوگ میرے  ہوں  گے۔ ” وہ لوگ میرا خاص خزانہ ہو گا اس دن جب میں  زمین کا فیصلہ کروں  گا میں  ان لوگوں  پر اسی طرح رحم و کرم کروں  گا جس طرح ایک شخص اپنے  بیٹے  پر رحم و کرم کرتا ہے  جو اس کی خدمت کرتا ہے۔

18 تب ایک بار پھر تم جو صادق ہیں  ان کے  اور جو شریر ہیں  ان کے  بیچ فرق کو اور ان کے  بیچ خدمت کرتا ہے  اور وہ جو اس کی خدمت نہیں  کرتا ہے  کو دیکھو گے۔

 

 

 

باب :  4

 

1 ” دیکھو! وہ دن آ رہا ہے۔ یہ جلتے  ہوئے  بھٹی کی مانند ہو گا جب سبھی مغرور اور وہ سبھی جو برائی کرتے  ہیں  پیال کی طرح جل جائیں  گے۔ وہ دن جو کہ آ رہا ہے  وہ ان لوگوں  کو جلا ڈالے  گا۔” خداوند قادر مطلق یہ فرماتا ہے   “اس لئے  نہ تو ایک شاخ اور نہ ہی ایک جڑ بچے  گی۔

2 ” لیکن تم جو میرے  نام کی تعظیم کرتے  ہو صداقت کا سورج تمہارے  اوپر اترے  گا اور یہ شفا لائے  گا۔ تم آزاد اور خوش ہو گے  جیسے  بچھڑوں  کو تھان سے  چراگاہ میں  چھوڑ دیا جاتا ہے۔

3 اور تم بدمعاش لوگوں  کو کچلو گے  کیوں  کہ وہ اس دن تمہارے  پیروں  کے  نیچے  راکھ کے  جیسے  ہوں  گے۔ اس دن جب میں  حرکت ( زمین پر فیصلہ کرنے  کے  لئے  ) کروں  گا۔” خداوند قادر مطلق فرماتا ہے۔

4 ” میرے  خادم موسیٰ کی شریعت احکامات اور اصول جو کہ میں  نے  اسے  کو ہِ حورب پر سبھی بنی اسرائیلیوں  کو دینے  کے  لئے  دیا تھا یا د رکھو اوراس پر عمل کرو۔

5 دیکھو! میں  نبی الیاس خداوند کے  اس عظیم اور بھیانک دن کے  آنے  سے  پہلے  تمہارے  ساتھ بھیج رہا ہوں۔

6 وہ والدین اور بچوں  کو ساتھ لائیں  گے۔ یہ ضرور ہونا چاہئے  ورنہ میں  آؤں  گا زمین پر وار کروں  گا اور اسے  پوری طرح تباہ کر دوں  گا۔”

٭٭٭

ماخذ:

http://gospelgo.com/a/urdu_bible.htm

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید