FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

شرق مرے شمال میں

(شعری مجموعہ)

 

                ذوالفقار عادل

 

پیشکش : تصنیف حیدر

 

 

 

 

ذوالفقار عادل کی کتاب ‘اردو غزل کی ایک نئی کتاب’ ہے۔اس شاعری کے قاری بھی نئے ہیں۔اسے پڑھنے اور اس کا استقبال کرنے کا مناسب وقت یہی ہے کہ یہ شاعری جدیدیت کا بالکل تازہ چہرہ ہے۔ہم تخلیقیت میں جس مشقت، جس محنت اور جس انفرادیت کے قائل ہیں، نئے وسائل اور نئے مسائل سے بھری ہوئی اس شاعری کا انداز اپنے ہم عصروں کو ان کی حیثیت کا اندازہ کروانے کے لیے کافی ہے۔یہ شاعری نئے پن کی کامیابی ہے، اور غزل جیسی صنف میں، جہاں خیال کو سانچے میں ڈھالنے کی آزادی بہت کم ہے، ایسی تازہ کاری مشکل ہی سے دیکھنے کو ملتی ہے۔یہ مجموعہ اتنا اہم مجموعہ ہے کہ ہر نئے لکھنے پڑھنے والے کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔ذوالفقار عادل جانتے ہیں کہ شاعری میں غزل کے لیے اداسی اور بکھراؤ کی کتنی اہمیت ہے، اس لیے ان کی شاعری میں ان عناصر سے بہت اچھی طرح کام لیا گیا ہے۔وہ اپنے اندرون یا بیرون دونوں اطراف کی جنگ اور خاموشی سے فائدہ اٹھانا جانتے ہیں۔اس شاعری پر بات ہونی چاہیے، اچھے لوگوں، اچھے پڑھنے والوں کو اس کے حق میں یا اس کے خلاف بولنا چاہیے۔

 

تصنیف حیدر

 

 

 

لایا ہے مرا شوق مجھے پردے سے باہر

میں ورنہ وہی خلوتیِ رازِ نہاں ہوں

میرؔ

 

 

 

ایک عشرہ، ذوالفقار عادل کے لیے

 

اضافی پرندوں ، درختوں کا نام و نشاں تک نہ ہو گا

یہاں عشق ہو گا جو محدود سائیں، میاں تک نہ ہو گا

الاؤ یہ بارش میں روشن رہے گا، دھواں تک نہ ہو گا

 

غزل کی کہانی ا ب اپنی روانی سے آگے چلی ہے

یہاں شاعری،زندگی، زندگی،شاعری کی جگہ لے چلی ہے

 

پُرانے دھُرانے سب اپنی جگہ پر سخن ساز ہوں گے

یہاں سے نئی ہر روایت جنم لے گی، در باز ہوں گے

وہ در جو وجود اور عدم نامی دیواروں کے راز ہوں گے

 

محبت کا جذبہ نمودار جینے کی خواہش سے ہو گا

کہانی کا آغاز، میں جانتا تھا کہ بارش سے ہو گا

ادریس بابر

٭٭٭

 

 

 

اک دریا، اک درویش

 

(انتساب)

 

نانا بشیر احمد کے کتبے پر

ایک سفر میں سارا عالم اور فنا در پیش

جن کا کام محبت، باقی اُن کے نام ہمیش

ایک دعا سے کھِل سکتے ہیں یہاں ہزاروں پھول

اِس مٹی کے نیچے ہے اک دریا ، اک درویش

 

نانی اماں کی یاد میں

سورج مُکھی کا پھول تھا دِل، تازہ تم سے تھا

دنیا میں شرق و غرب کا اندازہ، تم سے تھا

ترتیب میں یہ گھر تھا، توازن میں نظم تھی

دیوار تم سے تھی، کہیں دروازہ تم سے تھا

 

دادا حسن محمد کے انتقال پر

دھوپ دیکھی ہی نہیں تھی، بارشوں کا ڈر نہ تھا

آج سب دیکھا ہے جب اک سائباں سرپر نہ تھا

 

چچا ولایت علی کے کتبے پر

 

عشق ہی منصب ہے تیرا، عشق ہی تیرا نصاب

تُو کہ ہر عاشق کا عاشق، تُو کہ سب خوابوں کا خواب

 

جس میں تُو سویا ہے، سب اُس خاک کی اشکال ہیں

کیسا بچپن، کیا لڑکپن، کیسی پِیری، کیا شباب

 

ایک نادیدہ سفر اور ایک گُم گشتہ جہاں

ایک پوشیدہ نظر اور ایک طرزِ انتخاب

 

’’آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے‘‘

تجھ پہ ہو آسان و ارزاں سختیِ یومِ حساب

 

ابّو جی

(والدِ محترم راؤ شوکت علی کی نذر)

میں کہ نام و نشان ہوں اُس کا

میرا مسکن، مرا پتا ہے وہ

اُس کی آنکھوں سے دیکھتا ہوں میں

میری آنکھوں میں دیکھتا ہے وہ

 

اُس کا سایہ ہے روشنی میری

میرا پرَتو ہے آئنہ اُس کا

وہ مرا اوّلیں زمانہ ہے

میں ہوں اِک وقت بعد کا، اُس کا

 

اپنے گزرے ہوئے زمانے کو

میرے اندر ٹٹولتا ہے وہ

اُس کا سامان باندھتا ہوں میں

میرا سامان کھولتا ہے وہ

 

امّی

(والدہ محترمہ کی نذر)

 

دنیا کی

سب سے خوبصورت چیز

میری ماں کی ہنسی ہے

اِس میں

چاروں سمتیں

اور

تینوں زمانے

موجود ہیں

 

وہی تریسٹھ سال

(حمد،نعت،سلام)

یہ وقت وہ ہے کہ جو بار بار آتا ہے

گزرتے رہتے ہیں دِل سے وہی تریسٹھ سال

 

اُس نے ہمارے سامنے رکھ دی کتابِ حق

اپنی حدوں میں لوٹ گئے فلسفے تمام

 

میں ظلمتوں میں تھا کہ اُجالا بکھر گیا

میں راستوں میں تھا کہ ہوئے راستے تمام

 

 

 

حمد باری تعالیٰ

راستہ کوئی اگر ہے، تو دِکھا سکتا ہے

گر نہیں ہے، تو وہی ہے، جو بنا سکتا ہے

 

اپنی جانوں پہ بڑا ظلم کِیا ہے ہم نے

اب خسارے سے ہمیں تُو ہی بچا سکتا ہے

 

ہم تو وہ ہیں کہ جو ذرّوں کو ستارے سمجھیں

کون اِس دشت کی تاریخ بتا سکتا ہے

 

یہ ہنر صرف اُسی کا ہے، وگرنہ صاحب!

سونے والوں کو بھلا کون جگا سکتا ہے

 

کب سے بیکار پڑا ہے یہ مرا دل، عادلؔ

وہ جو چاہے تو اِسے کام میں لا سکتا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

نعتِ رسول مقبولؐ

دنیا کی بنیادیں رکھنے والا شخص

دُور کہیں، اِک غار میں بیٹھا، تنہا شخص

 

سب تاریخیں اُس میں گم ہو جاتی ہیں

دنیا کی تاریخ میں ہے اِک ایسا شخص

 

پہلے کے اور بعد کے سب قانون حذف

آخری خطبہ دینے والا پہلا شخص

 

دل جو اب تک زندہ ہے، تو حیرت کیا

دل میں ہے، اک زندہ رہنے والا شخص

 

تھک کر رُک جاؤں تو آنکھوں کے آگے

آ جاتا ہے پھر اِک ہجرت کرتا شخص

٭٭٭

 

 

 

نعتِ رسول مقبولؐ

اور اِس سے قبل کہ حرفِ یقیں گماں ہو جائے

تری نظر کی طلب ہے، اگر یہاں ہو جائے

 

یہ وہ کمال نہیں ہے، زوال ہو جس کو

یہ وہ چراغ نہیں ہے کہ جو دھواں ہو جائے

 

یہ میرا دل ہے، گلستاں بھی اِس میں، صحرا بھی

یہ تیری بارشِ رحمت پہ ہے، جہاں ہو جائے

 

یہ جسم، نام و نسب کو اٹھائے پھرتا ہے

کمال ہو، ترے قدموں میں بے نشاں ہو جائے

 

یہ ایک تار مری دسترس میں باقی ہے

گر اُس نگاہ کی وسعت سے بادباں ہو جائے

 

بحال رکھ مجھے اِس چاک پر، مرے خالق!

یہی نہ ہو کہ مری خاک رائیگاں ہو جائے

٭٭٭

 

سلام بحضور امامِ عالی مقامؓ

 

اِک اُس کے نہ ہونے سے کچھ بھی نہیں بچتا ہے

وحشت ہے کہ حسرت ہے، صحرا ہے کہ دریا ہے

 

دنیا کی حکومت سے، دنیا تو نہیں ملتی

مالک ہے وہ دنیا کا، جو تارکِ دنیا ہے

 

تاریخ ہے اِک حصّہ، اُس ذاتِ گرامی کا

باقی ہے یہاں جو کچھ، تاریخ کا حصّہ ہے

 

کل کس کو خبر، ہم سے، یہ کام بھی چھن جائے

اے درد، غنیمت ہے، جو مہلتِ گریہ ہے

٭٭٭

 

 

 

 

(غزلیں)

 

کچھ بھی کہا نہ جا سکا، چاہا تو تھا کہیں کہ بس

رات غزل نے ہم سے کیں، اِتنی شکایتیں کہ بس

 

اِک عمر اپنی اپنی جگہ پر کھڑے رہے

اِک دوسرے کے خوف سے دیوار اور میں

٭٭٭

 

 

 

 

پیڑوں سے بات چیت ذرا کر رہے ہیں ہم

نادیدہ دوستوں کا پتا کر رہے ہیں ہم

دل سے گزر رہا ہے کوئی ماتمی جلوس

اور اس کے راستے کو کھُلا کر رہے ہیں ہم

اک ایسے شہر میں ہیں جہاں کچھ نہیں بچا

لیکن اک ایسے شہر میں کیا کر رہے ہیں ہم

پلکیں جھپک جھپک کے اڑاتے ہیں نیند کو

سوئے ہوؤں کا قرض ادا کر رہے ہیں ہم

کب سے کھڑے ہوئے ہیں کسی گھر کے سامنے

کب سے اک اور گھر کا پتا کر رہے ہیں ہم

اب تک کوئی بھی تیر ترازو نہیں ہوا

تبدیل اپنے دل کی جگہ کر رہے ہیں ہم

ہاتھوں کے ارتعاش میں بادِ مراد ہے

چلتی ہیں کشتیاں کہ دعا کر رہے ہیں ہم

واپس پلٹ رہے ہیں ازل کی تلاش میں

منسوخ آپ اپنا لکھا کر رہے ہیں ہم

عادلؔ سجے ہوئے ہیں سبھی خواب خوان پر

اور انتظارِ خلقِ خدا کر رہے ہیں ہم

٭٭٭

 

 

 

شب میں دن کا بوجھ اٹھایا؂، دن میں شب بیداری کی

دل پر دل کی ضرب لگائی، ایک محبت جاری کی

کشتی کو کشتی کہہ دینا ممکن تھا، آسان نہ تھا

دریاؤں کی خاک اُڑائی، ملاّحوں سے یاری کی

کوئی حد، کوئی اندازہ، کب تک گِرتے جانا ہے

خندق سے خاموشی گہری، اُس سے گہری تاریکی

اک تصویر مکمل کرکے اُن آنکھوں سے ڈرتا ہوں

فصلیں پک جانے پر جیسے دہشت اک چنگاری کی

ہم انصاف نہیں کر پائے، دنیا سے بھی، دل سے بھی

تیری جانب مڑ کر دیکھا، یعنی جانب داری کی

خواب ادھورے رہ جاتے ہیں، نیند مکمل ہونے سے

آدھے جاگے ،آدھے سوئے ،غفلت بھر ہُشیاری کی

جِتنا اِن سے بھاگ رہا ہوں، اُتنا پیچھے آتی ہیں

ایک صدا جاروب کشی کی، اک آواز بھکاری کی

اپنے آپ کو گالی دے کر گھور رہا ہوں تالے کو

الماری میں بھول گیا ہوں پھر چابی الماری کی

گھٹتے بڑھتے سائے سے عادلؔ ،لطف اٹھایا سارا دن

آنگن کی دیوار پہ بیٹھے ،ہم نے خوب سواری کی

٭٭٭

 

 

 

کیا توقّع کرے کوئی ہم سے

اک محبت نہ ہو سکی ہم سے

بات اُس کم سخن کی کرتے ہیں

چھِن نہ جائے سخن وری ہم سے

باغ ایسا اُتر گیا دل میں

پھر وہ کھڑکی نہیں کھُلی ہم سے

خوش گمانی سے ہو گئے تصویر

ایک دیوار آلگی ہم سے

چاک دل کا بہت نمایاں ہے

کون سیکھے رفوگری ہم سے

اب کہاں ہے وہ خواب سی صورت

اُس میں جو بات تھی، وہ تھی ہم سے

ہم سفر تھا غبارِ راہِ فنا

اَبر سمجھے جسے کئی ہم سے

دشتِ امکاں میں دُور تک عادلؔ

فصلِ کُن ہے ہری بھری ہم سے

٭٭٭

 

 

 

عمریں گزار کر یہاں، پیڑوں کی دیکھ بھال میں

بیٹھے ہیں ہم نشیں مرے، سایۂ ذوالجلال میں

پیچھے جو رہ گیا تھا شہر، پیچھے پڑا ہوا ہے یوں

روتا ہوں بات بات پر، ہنستا ہوں سال سال میں

پوچھتا پھر رہا ہوں میں، دل میں جو ایک بات ہے

کوئی جواب دے نہ دے، دخل نہ دے سوال میں

چیخ نہیں سکا کبھی، آگ نہیں لگا سکا

جلتا رہا ہوں رات دن، آتشِ اعتدال میں

زخم کا رنگ اَور تھا، داغ کا رنگ اَور ہے

کتنا بدل گیا ہوں میں، عرصۂ اندمال میں

وہیل چیئر پہ بیٹھ کر، چڑھتا ہے کون سیڑھیاں

آ کے مجھے ملے جسے، شک ہو مرے کمال میں

اپنی جگہ سے ہٹ کے دیکھ، پھر وہ جگہ پلٹ کے دیکھ

میں جو نہیں تو اب وہاں، کیا ہے ترے خیال میں

٭٭٭

 

 

 

یہ میز، یہ کتاب، یہ دیوار اور میں

کھڑکی میں زرد پھولوں کا انبار اور میں

ہر شام اِس خیال سے ہوتا ہے جی اُداس

پنچھی تو جا رہے ہیں اُفق پار، اور میں!

اک عمر اپنی اپنی جگہ پر کھڑے رہے

اک دوسرے کے خوف سے دیوار اور میں

سرکار! ہر درخت سے بنتے نہیں ہیں تخت

قربان آپ پر مرے اوزار اور میں

لے کر تو آ گیا ہوں مرے پاس جو بھی تھا

اب سوچتا ہوں تیرا خریدار، اور میں!

خوشبو ہے اک فضاؤں میں پھیلی ہوئی، جسے

پہچانتے ہیں صرف سگِ یار اور میں

کھوئے ہوؤں کو ڈھونڈنے نکلا تھا آفتاب

دنیا تو مل گئی سرِ بازار، اور میں!

٭٭٭

 

 

 

اب اسے عیب سمجھ لیجیے، خوبی کہیے

پھر وہ مٹی نہیں رہتی جسے مٹی کہیے

کس کو ٹھہرایئے ٹوٹی ہوئی چیزوں کا امیں

اپنی لُکنت کا سبب کس کی زبانی کہیے

گفتگو سے نکل آتے ہیں، ہزاروں رستے

ذرا دیوار کی سنیے، ذرا اپنی کہیے

خود سے جو بات بھی کرتے ہیں ،خدا سنتا ہے

خود کلامی کہاں ممکن ہے، کلیمی کہیے

کون سنتا ہے، یہاں کون سُنا سکتا ہے

شور اِس شہر میں ایسا ہے کہ کچھ بھی کہیے

ایسی ویرانی ہے عادلؔ کہ فنا لگتی ہے

مجھ میں کیا بات ہے ایسی، جسے ہستی کہیے

٭٭٭

 

 

 

جانے ہم یہ کِن گلیوں میں خاک اُڑا کر آ جاتے ہیں

عشق تو وہ ہے جس میں نا موجود میسر آ جاتے ہیں

جانے کیا باتیں کرتی ہیں دن بھر آپس میں دیواریں

دروازے پر قفل لگا کر ،ہم تو دفتر آ جاتے ہیں

کام مکمل کرنے سے بھی،شام مکمل کب ہوتی ہے

ایک پرندہ رہ جاتا ہے، باقی سب گھر آ جاتے ہیں

اپنے دل میں گیند چھپاکر ،اِن میں شامل ہو جاتا ہوں

ڈھونڈتے ڈھونڈتے سارے بچے میرے اندر آ جاتے ہیں

میم محبت پڑھتے پڑھتے ،لکھتے لکھتے کاف کہانی

بیٹھے بیٹھے اِس مکتب میں، خاک برابر آ جاتے ہیں

روز نکل جاتے ہیں خالی گھر سے، خالی دل کو لے کر

اور اپنی خالی تربت پر پھول سجا کر آ جاتے ہیں

خاک میں انگلی پھیرتے رہنا، نقش بنانا،وحشت لکھنا

اُن وقتوں کے چند نشاں، اب بھی کوزوں پر آ جاتے ہیں

نام کسی کا رٹتے رٹتے ایک گرہ سی پڑ جاتی ہے

جن کا کوئی نام نہیں، وہ لوگ زباں پر آ جاتے ہیں

پھر بستر سے اُٹھنے کی بھی مہلت کب ملتی ہے عادلؔ

نیند میں آتی ہیں آوازیں، خواب میں لشکر آ جاتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

چرچ کی سیڑھیاں، وائلن پر کوئی دھُن بجاتا ہوا

دیکھتا ہے مجھے، اِک ستارہ کہیں ٹمٹماتا ہوا

ڈوب جاتا ہوں، پھِر اُڑنے لگتا ہوں، پھِر ڈوب جاتا ہوں میں

اِک پری کو کسی جل پری کی کہانی سناتا ہوا

میں خدا سے تو کہہ سکتا ہوں ’’دیکھ،سُن‘‘ پر خلا سے نہیں

اپنے اندر ہی پھر لوٹ جاتا ہوں میں، باہر آتا ہوا

ہے کہاں تک تماشا، کہاں تک خلل، کوئی کیسے کہے

ایک رعشہ زدہ ہاتھ کٹھ پُتلیوں کو نچاتا ہوا

دائرہ اِس مثلث کے باہر بھی ہے اور اندر بھی ہے

ایک نقطہ ہے دِل، لطف ہر مسئلے کا اٹھاتا ہوا

پاؤں رکھتا ہوں اِک منجمِد جھیل میں،چاند کے عکس پر

ایک تنہائی سے،ایک گہرائی سے خوف کھاتا ہوا

باغ اپنی طرف کھینچتا تھا مجھے،خواب اپنی طرف

بنچ پر سو رہا ہوں میں دونوں کا جھگڑا چُکاتا ہوا

ایک بستی ہے یہ، لوگ بھی ہیں یہاں اور تالاب بھی

ابر جےسی اِسے جانتا ہی نہ ہو، آتا جاتا ہوا

بسترِمرگ پر نبض ہی وقت ہے،نبض ہی یاد ہے

کوئی منظر کہیں سے اُبھرتا ہوا، ڈوب جاتا ہوا

رات پکڑا گیا، اور باندھا گیا، اور مارا گیا

ایک لڑکا سا دل، میرؔ کے باغ سے پھل چُراتا ہوا

٭٭٭

 

 

 

کس کو سمجھائیں کہ حضرت! سمجھو

دل کو دنیا کی طرح مت سمجھو

تم مجھے کچھ بھی سمجھ سکتے ہو

کچھ نہیں ہوں تو غنیمت سمجھو

یہ جو دریا کی خموشی ہے اِسے

ڈوب جانے کی اجازت سمجھو

ایک دن خاک تو ہو جانا ہے

رائیگانی کو ریاضت سمجھو

میں نہ ہوتے ہوئے ہو سکتا ہوں

تم اگر میری ضرورت سمجھو

یہ جو آنکھوں میں نمی ہے عادلؔ

ڈوبنے والوں کی غفلت سمجھو

٭٭٭

 

 

 

نہیں کہ مشتِ خاک ہوں، نہیں کہ خاک داں ہوں میں

اِنھی کی ایک شکل ہوں، اِنھی کے درمیاں ہوں میں

بہت سُنا گیا مجھے، بہت سُنا دیا گیا

ہزار سال بعد بھی، ہزار داستاں ہوں میں

مرے لیے جو ہوش ہے، فریبِ چشم و گوش ہے

یہ کون مے فروش ہے، یہ کس کا راز داں ہوں میں

لِکھا گیا، ہُوا نہیں، پڑھا گیا، کھُلا نہیں

زباں کا عیب جانیے کہ حرفِ رائیگاں ہوں میں

یہ گھر وہ گھر نہیں میاں! غبارِ ماہ و سال ہے

مری شناخت کچھ نہیں، بیادِرفتگاں ہوں میں

بھلا ہُوا کہ قافلے، مری تلاش میں نہ تھے

پکارنا نہیں پڑا کہ صاحبو! یہاں ہوں میں

کبھی نہ کچھ سُنا سکا، کہیں نظر نہ آ سکا

کوئی نہیں بتا سکا، نہیں ہوں یا نہاں ہوں میں

٭٭٭

 

 

 

میں جہاں ت ھا وہیں رہ گیا، معذرت

اے زمیں معذرت، اے خدا، معذرت

کچھ بتاتے ہوئے، کچھ چھُپاتے ہوئے

میں ہنسا، معذرت، رو دیا، معذرت

جو ہُوا، جانے کیسے ہُوا، کیا خبر

جو کِیا، وہ نہیں ہو سکا، معذرت

ہم سے گریہ مکمل نہیں ہو سکا

ہم نے دیوار پر ِلکھ دیا، معذرت!

میں کہ خود کو بچانے کی کوشش میں تھا

ایک دن میں نے خود سے کہا، معذرت

خود تمھاری جگہ جا کے دیکھا ہے اور

خود سے کی ہے تمھاری جگہ معذرت

میں بہت دُور ہوں، شام نزدیک ہے

شام کو دو صدا، شکریہ، معذرت

٭٭٭

 

 

 

شُکر کیا ہے اِن پیڑوں نے، صبر کی عادت ڈالی ہے

اِس منظر کو غور سے دیکھو، بارش ہونے والی ہے

سوچا یہ تھا وقت ملا تو ٹوٹی چیزیں جوڑیں گے

اب کونے میں ڈھیر لگا ہے، باقی کمرا خالی ہے

بیٹھے بیٹھے پھینک دیا ہے آتش دان میں کیا کیا کچھ

موسم اِتنا سرد نہیں تھا جتنی آگ جلا لی ہے

اپنی مرضی سے سب چیزیں گھومتی پھرتی رہتی ہیں

بے ترتیبی نے اِس گھر میں اِتنی جگہ بنا لی ہے

دیر سے قفل پڑا دروازہ ،اک دیوار ہی لگتا تھا

اس پر ایک کھُلے دروازے کی تصویر لگا لی ہے

ہر حسرت پر ایک گرہ سی پڑ جاتی تھی سینے میں

رفتہ رفتہ سب نے مل کر دل سی شکل بنا لی ہے

اوپر سب کچھ جل جائے گا، کون مدد کو آئے گا

جس منزل پر آگ لگی ہے، سب سے نیچے والی ہے

’’اک کمرا سایوں سے بھرا ہے، اک کمرا آوازوں سے ‘‘

آنگن میں کچھ خواب پڑے ہیں،ویسے یہ گھر خالی ہے

پیروں کو تو دشت بھی کم ہے، سر کو دشت نوردی بھی

عادلؔ ہم سے چادر جتنی پھیل سکی، پھیلا لی ہے

٭٭٭

 

 

 

تجھ میں پڑا ہُوا ہوں میں، پھر بھی جُدا سمجھ مجھے

میں نے تجھے سمجھ لیا، تُو بھی ذرا سمجھ مجھے

سبزہ اُگا کہ خاک اُڑا، قبضے میں رکھ کہ چھوڑ جا

بھول سے بھر کہ دھیان سے، خالی جگہ سمجھ مجھے

ہاتھ میں کل جو ہاتھ تھا، نبض پہ آ گیا ہے آج

وقت کے عارضے میں ہوں، گزرا ہوا سمجھ مجھے

جِتنا اٹھا سکے یہ بوجھ، اُتنا اٹھا مرے عزیز

جِتنا سمجھ میں آ سکے، اُتنا بڑا سمجھ مجھے

خود کو سمجھ، خدا سے مل، ہے جو یہاں پہ مستقل

میری تلاش میں نہ پھِر، خلقِ خدا سمجھ مجھے

کالے لباس کا مجھے ایسا بھی تجربہ نہیں

ہنستا بھی ہوں اگر کبھی، روتا ہوا سمجھ مجھے

دینے کو کچھ نہیں یہاں، میں بھی “نہیں” کی شکل ہوں

آ ہی گیا ہے تو اگر ، خالی نہ جا ،سمجھ مجھے

اِتنا بتا کہ شہر میں، کِتنے سمجھ سکے تجھے

کِتنوں کو تو سمجھ سکا،اب تو ذرا سمجھ مجھے

٭٭٭

 

 

 

وہ بوڑھا اِک خواب ہے اور اِک خواب میں آتا رہتا ہے

اُس کے سَر پر اَن دیکھا پنچھی منڈلاتا رہتا ہے

ناٹک کے کرداروں میں کچھ سچّے ہیں ،کچھ جھوٹے ہیں

پردے کے پیچھے کوئی ان کو سمجھاتا رہتا ہے

بستی میں جب چاک گریباں، گِریہ کرتے پھرتے ہیں

اُس موسم میں، ایک رفوگر ہنستا گاتا رہتا ہے

ہر کردار کے پیچھے پیچھے چل دیتا ہے قصّہ گو

یونہی بیٹھے بیٹھے اپنا کام بڑھاتا رہتا ہے

اُس دن بھی جب بستی میں تلواریں کم پڑ جاتی ہیں

ایک مدبِّر آہن گر زنجیر بناتا رہتا ہے

آوازوں کی بھیڑ میں اِک خاموش مسافر دھِیرے سے

نامانوس دھُنوں میں کوئی ساز بجاتا رہتا ہے

دیکھنے والی آنکھیں ہیں اور دیکھ نہیں پاتیں کچھ بھی

اِس منظر میں جانے کیا کچھ آتا جاتا رہتا ہے

اِس دریا کی تہہ میں عادلؔ ایک پرانی کشتی ہے

اِک گرداب مسلسل اس کا بوجھ بڑھاتا رہتا ہے

٭٭٭

 

 

 

یہ راستے میں جو شب کھڑی ہے ،ہٹا رہا ہوں، معاف کرنا

بغیر اجازت، میں دِن کو بستی میں لا رہا ہوں، معاف کرنا

زمین بنجر تھی تم سے پہلے، پہاڑ خاموش، دشت خالی

کہانیو! میں تمھیں کہانی سنا رہا ہوں، معاف کرنا

کچھ اِتنے کل جمع ہو گئے ہیں کہ آج کم پڑتا جا رہا ہے

میں اِن پرندوں کو اپنی چھت سے اُڑا رہا ہوں، معاف کرنا

یہ بے یقینی عجب نشہ ہے، یہ بے نشانی عجب سکوں ہے

میں اِن اندھیروں کو روشنی سے بچا رہا ہوں، معاف کرنا

اِنھیں ستاروں کے سب لطائف سنا چکا ہوں، ہنسی ہنسی میں

اور اب چراغوں سے اپنا دامن بچا رہا ہوں، معاف کرنا

مجھے بتانے کا فائدہ کیا، مکین کیا تھے؟ مکان کیا ہیں؟

میں اِس گلی سے نہ آ رہا ہوں، نہ جا رہا ہوں، معاف کرنا

٭٭٭

 

 

 

کچھ بھی وہاں بچا نہیں

اب یہ پتا، پتا نہیں

جتنا اُڑا دِیا گیا

اُتنا غبار تھا نہیں

پانی میں عکس ہے مرا

پانی مگر مرا نہیں

پھِر وہ غزالِ دم بخود

مرتا رہا، مَرا نہیں

گزرا ہے وقت اس طرح

خالی کوئی جگہ نہیں

سوچا کہ رات ڈَھل گئی

سوچا، مگر کہا نہیں

کشتی تو بن گئی مگر

کشتی سے کچھ بنا نہیں

میں بھی کہیں نہیں رہا

مجھ میں کوئی رہا نہیں

٭٭٭

 

 

 

کبھی خوشبو، کبھی آواز بن جانا پڑے گا

پرندوں کو کسی بھی شکل میں آنا پڑے گا

خود اپنے سامنے آتے ہوئے حیران ہیں ہم

ہمیں اب اُس گلی سے گھوم کر جانا پڑے گا

اِسے یہ گھر سمجھنے لگ گئے ہیں رفتہ رفتہ

پرندوں سے قفس آزاد کروانا پڑے گا

اُداسی وزن رکھتی ہے ، جگہ بھی گھیرتی ہے

ہمیں کمرے کو خالی چھوڑ کر جانا پڑے گا

میں پچھلے بنچ پر سہما، ڈرا بیٹھا ہوا ہوں

سمجھ میں کیا نہیں آیا ، یہ سمجھانا پڑے گا

یہاں دامن پہ نقشہ بن گیا ہے آنسوؤں سے

کسی کی جستجو میں دُور تک جانا پڑے گا

تعارف کے لیے چہرہ کہاں سے لائیں گے ہم

اگر چہرہ بھی ہو تو نام بتلانا پڑے گا

کہیں صندوق ہی تابوت بن جائے نہ اِک دن

حفاظت سے رکھی چیزوں کو پھیلانا پڑے گا

’’خدا حافظ‘‘ بلند آواز میں کہنا پڑے گا

پھِر اُس آواز سے آگے نکل جانا پڑے گا

جہاں پیشین گوئی ختم ہو جائے گی آخر

ابھی اِس راہ میں اِک اور ویرانہ پڑے گا

یہ جنگل باغ ہے عادلؔ، یہ دلدل آبجو ہے

کہیں کچھ ہے جسے ترتیب میں لانا پڑے گا

٭٭٭

 

 

 

اِک دن میں چھُپا ہُوا دِن، اِک شب میں کٹی ہوئی شب

کیا خواب دِکھاتی ہے، اِک خواب سے لی ہوئی شب

ہم دن کی تمنّا کو عِزّت سے کہیں رکھ لیں

بس اتنی جگہ دے دے، اے گھر میں بھری ہوئی شب

بس لطف اُٹھاتے ہیں، سبزے کی عنایت سے

ہم دیکھ نہیں سکتے، شبنم میں چھپی ہوئی شب

ممکن ہے کہ دھُلنے سے، کچھ اور نکھر جائے

دن تو نہیں بن سکتی، بارش میں پڑی ہوئی شب

کاغذ جنھیں چننے ہوں، تحریر نہیں پڑھتے

ردّی بھی نہیں بنتی، قسمت میں لکھی ہوئی شب

باتوں سے بُنیں اِس کو، آنکھوں سے سُنیں اِس کو

پہروں میں نہ ڈھل جائے، لمحوں سے بھری ہوئی شب

جب راہ ملی عادلؔ، اندر بھی گرے آنسو

تنہائی میں کام آئی، مجلس میں کٹی ہوئی شب

٭٭٭

 

 

 

آخری شب ہوں، شہر زاد

میں تجھے کیوں نہیں ہوں یاد

ایسے ملی وہ شب مجھے

جیسے کسی سخن کو داد

دنیا بدل گئی مری

دنیا سے معذرت کے بعد

میرے لیے تو ہے یہاں

شہر سے بے گھری مراد

بادِ چہار سمت سے

مجھ میں کھِلا گلِ تضاد

برف پگھل رہی ہے بس

اپنی جگہ ہے اِنجماد

کوزہ گری ہے دشت کی

گرد نہیں یہ گرد باد

جیسی فلک پہ خامشی

ویسا زمین پر فساد

کہنا ہے اور کچھ مجھے

اِس سے خلل نہیں مراد

کیسا مرض ہے، صاحبو

چارہ گری پہ اعتقاد

کرتا ہوں آرزو کا وِرد

کہتا ہوں خود کو خیر باد

٭٭٭

 

 

 

سارا باغ اُلجھ جاتا ہے ایسی بے ترتیبی سے

مجھ میں پھیلنے لگ جاتی ہے خوشبو، اپنی مرضی سے

ہر منظر کو مجمع میں سے، یوں اُٹھ اُٹھ کر دیکھتے ہیں

ہو سکتا ہے شہرت پالیں، ہم اپنی دلچسپی سے

اِن آنکھوں سے دو اِک آنسو ٹپکے ہوں تو یاد نہیں

ہم نے اپنا وقت گزارا، ہر ممکن خاموشی سے

برف جمی ہے منزل منزل، رستے آتش دان میں ہیں

بیٹھا راکھ کرید رہا ہوں، میں اپنی بیساکھی سے

خوابوں کے خوش حال پرندے، سر پر یوں منڈلاتے ہیں

دُور سے پہچانے جاتے ہیں، ہم اپنی بے خوابی سے

دِل سے نکالے جا سکتے ہیں، خوف بھی اور خرابے بھی

لیکن ازل، ابد کو عادلؔ، کون نکالے بستی سے

٭٭٭

 

 

 

پکارے جا رہا ہوں، کیا کوئی ہے؟

یہاں خاموش رہنا، خودکشی ہے

زمیں پہلی محبت ہے ہماری

(اگر پہلی محبت ہو چکی ہے)

ہوا سب سے بڑی جارُوب کش ہے

زمیں کا چپّہ چپّہ جانتی ہے

یہ کس نے ہاتھ پیشانی پہ رکھا

ہماری نیند پوری ہو گئی ہے

یہ جو بھی لوگ ہیں اِن کشتیوں میں

ہمیں دریافت ہونے کی خوشی ہے

یہاں اِک شور بڑھتا جا رہا ہے

خدا کی بات پوری ہو رہی ہے

ہمیں کہنا تھا کچھ، اپنے لیے بھی

مگر یہ بات پہلے ہو چکی ہے

یہ جو بہتا ہوا تختہ ہے عادلؔ

سمجھ لیجے کہ اب کشتی یہی ہے

٭٭٭

 

 

 

نکلا ہوں شہرِ خواب سے، ایسے عجیب حال میں

غرب، میرے جنوب میں، شرق، مرے شمال میں

کوئی کہیں سے آئے اور مجھ سے کہے کہ زندگی

تیری تلاش میں ہے دوست، بیٹھا ہے کس خیال میں

ڈھونڈتے پھر رہے ہیں سب، میری جگہ، مرا سبب

کوئی ہزار میل میں، کوئی ہزار سال میں

لفظوں کے اِختصار سے ، کم تو ہوئی سزا مری

پہلے کہانیوں میں تھا، اب ہوں میں اِک مثال میں

میز پہ روز صُبح دم، تازہ گلاب دیکھ کر

لگتا نہیں کہ ہو کوئی، مجھ سا مرے عیال میں

پھول کہاں سے آئے تھے، اور کہاں چلے گئے

وقت نہ تھا کہ دیکھتا ، پودوں کی دیکھ بھال میں

کمروں میں بستروں کے بیچ کوئی جگہ نہیں بچی

خواب ہی خواب ہیں یہاں آنکھوں کے ہسپتال میں

گُرگ و سمند و مُوش و سگ، چھانٹ کے ایک ایک رگ

پھرتے ہیں سب الگ الگ، رہتے ہیں ایک کھال میں

٭٭٭

 

 

 

رات گزری،نہ کم ستارے ہوئے

منکشِف ہم پہ ہجر سارے ہوئے

ناؤ دو لخت ہو گئی، اِک دن

دو مسافر تھے، دو کنارے ہوئے

پھول دلدل میں کھِل رہا ہے یہاں

ہم ہیں اِک جسم پر اتارے ہوئے

جانے کس وقت نیند آئی ہمیں

جانے کس وقت ہم تمھارے ہوئے

مُدّتوں بعد کام آئے ہیں

چند لمحے کہیں گزارے ہوئے

اپنی چھت پر اُداس بیٹھے ہیں

ہم پرندوں کا روپ دھارے ہوئے

٭٭٭

 

 

 

وہ مرے غم سے آشنا ہو جائے

اِس سے پہلے کہ انتہا ہو جائے

میں اُسے دیکھتا رہوں اور وہ

دیکھتے دیکھتے مرا ہو جائے

اِس سے آگے جنوں اضافی ہے

دشت کو چاہیے بڑا ہو جائے

لیجیے رات کاٹ دی ہم نے

اب کسی دِن کی ابتدا ہو جائے

دیکھ کے چل یہاں کہ ممکن ہے

لغزشِ پا ہی نقشِ پا ہو جائے

شہر کا حال دیکھنا عادلؔ

جب وہ درویش لا پتا ہو جائے

٭٭٭

 

 

 

رُوپ بدل کر، جانے کِس پل، کیا بن جائے ،مائے نی

دِل کا آخِر آ پہنچا ہے، درد کہاں تک جائے نی

اُس کے بعد تو میں تھا، جس نے جنگل بیلے چھانے تھے

میرے بعد اب کون ہے ایسا، جو رانجھا کہلائے نی

میں بھوکے کا بھوکا آخِر، دن نکلے یا شام ڈھلے

روٹی، سالن پی جائے اورسالن، روٹی کھائے نی

کیا دیکھا اور کیا نہ دیکھا، یاد نہیں، کچھ یاد نہیں

نینوں کے کہنے میں آ کر، ہم نے نیر بہائے نی

دنیا، دِل میں،دِل،دنیا میں، کون اِن میں تفریق کرے

وقت کا پہیّہ گھوم رہا ہے، چرخہ کون گھمائے نی

اِک جوگی کے روگی بن کر، رستے میں آبےٹھر ہیں

چار دنوں کا وقت ہے سارا، جانے وہ کب آئے نی

ایسے روٹی سالن سے تو چولھا ٹھنڈا اچھا ہے

اُس بالن کا کیا کرنا، جو گھر کو آگ لگائے نی

دِل تختی پر، عشق زباں میں، پلکوں سے اور اشکوں سے

کہے حسین فقیر سئیں دا، عادلؔ لکھتا جائے نی

(نذرِشاہ حسینؒ)

٭٭٭

 

 

 

ویرانے کو وحشت زندہ رکھتی ہے

دِل کو ایک محبت زندہ رکھتی ہے

آئینے کو زندہ رکھتا ہوں میں اور

مجھ کو میری حیرت زندہ رکھتی ہے

دیواروں کو، دروازے کو، آنگن کو

گھر آنے کی عادت زندہ رکھتی ہے

صحرا میں بھی آنکھیں خشک نہیں ہوتیں

دریاؤں سے نسبت زندہ رکھتی ہے

اپنے آپ سے کہتا ہوں، میں زندہ ہوں

اور یہی اِک صورت زندہ رکھتی ہے

شور سے پہچانا جاتا ہے شہروں کو

شور کو ایک شکایت زندہ رکھتی ہے

٭٭٭

 

 

 

مجھ کو یہ وقت، وقت کو میں، کھو کے خوش ہُوا

کاٹی نہیں وہ فصل، جسے بو کے خوش ہُوا

وہ رنج تھا، کہ رنج نہ کرنا محال تھا

آخر، میں ایک شام، بہت رو کے خوش ہُوا

صاحب، وہ بوُ گئی نہ وہ نشّہ ہَوا ہُوا

اپنے تئیں میں جام و سبو دھو کے خوش ہُوا

ایسی خوشی کے خواب سے جاگا، کہ آج تک

خوش ہو کے سو سکا، نہ کبھی سو کے خوش ہُوا

چھانی اِک عمر خاک، خوشی کی تلاش میں

ہونا تھا رزقِ خاک مجھے، ہو کے خوش ہُوا

عادلؔ، مرا لِباس ہی ہمرنگِ داغ تھا

کارِ رفو کِیا، نہ کبھی دھو کے خوش ہُوا

٭٭٭

 

 

 

سو لینے دو، اپنا اپنا کام کرو، چپ ہو جاؤ

دروازو! کچھ وقت گزارو، دیوارو! چپ ہو جاؤ

کس کشتی کی عمر ہے کتنی، ملّاحوں سے پوچھنے دو

تم سے بھی پوچھیں گے اِک دن، دریاؤ! چپ ہو جاؤ

دیکھ لیا نا، آخر مٹی، مٹی میں مل جاتی ہے

خاموشی سے اپنا اپنا حصّہ لو، چپ ہو جاؤ

اِس ویران سرا کی مالک، ایک پرانی خاموشی

آوازیں دیتی رہتی ہے، مہمانو! چپ ہو جاؤ

ایسا لگتا ہے، ہم اپنی منزل پر آ پہنچے ہیں

دُور کہیں، یہ رونے کی آواز سنو، چپ ہو جاؤ

خود کو ثابت کرنے سے بھی بڑھ جاتی ہے تنہائی

کون سی گرہیں کھول رہے ہو، سحر گرو! چپ ہو جاؤ

پیڑ پرانا ہو جاتا ہے، نئے پرندے آنے سے

بات ادھوری ہی رہتی ہے، کچھ بھی کہو، چپ ہو جاؤ

٭٭٭

 

 

 

اپنی نہ کہوں تو کیا کروں میں

ہر بات کی ابتدا میں ہوں میں

محتاط ہوں، مطمئن نہیں ہوں

محتاط بھی کب تلک رہوں میں

موجود کے ہاتھ آ گیا ہوں

ممکن سے گریز کیا کروں میں

یاں کچھ بھی نہیں مرا اگرچہ

کیا اپنی مثال بھی نہ دوں میں

یہ پھول مرے لیے کھِلے ہیں

ثابت ہی اگر نہ کر سکوں میں

اِک شہر کے بعد، دوسرا شہر

خاموش رہوں کہ خوش رہوں میں

٭٭٭

 

 

 

ہنسا اور پھر رو دیا بادشہ

اُسی دن سے ہے لا پتا بادشہ

ہر اِک وقت کے بادشہ سے الگ

یہ دل، ایک بے وقت کا بادشہ

وہ دیوار اپنی جگہ سلطنت

یہ دربان اپنی جگہ بادشہ

پرندوں کی اِک دوسری رہگزر

فقیروں کا اِک دوسرا بادشہ

ہم انصاف خود سے نہیں کر سکے

ترے پاس آنا پڑا، بادشہ

مریں تیرے دشمن، جئیں تیرے دوست

اب اِتنے نہ دشمن بنا بادشہ

زمانوں سے رقصاں ہَوا اور ہم

جھروکے میں بیٹھا ہُوا بادشہ

ہماری تمھاری کہانی فنا

’’ہمارا تمھارا خدا بادشہ‘‘

٭٭٭

 

 

 

رات میں دن ملایئے

خواب سا کچھ بنایئے

خوابوں کو وقت دیجیے

نیند میں مسکرائیے

میز پہ رکھ دیا ہے سر

پھول کہاں سے لایئے

پڑھنے کا وقت جا چکا

صفحے اُلٹتے جایئے

سجدے کا لطف لیجیے

نبیوں کے دُکھ اُٹھایئے

رات، کسی کی رات ہو

اپنے دیے جلائیے

٭٭٭

 

 

 

دل کی آواز سماعت کر لی

دستِ مجذوب پہ بیعت کر لی

اپنی ویرانی سے، دل، دشت ہوا

کچھ نہ کر پائے تو وحشت کر لی

آئنہ سامنے رکھا ہم نے

اور آنکھوں پہ قناعت کر لی

ہم نے پاپوش چھپائے رکھے

اور پیروں کی مرمت کر لی

اپنے خوابوں سے سبکدوش ہوئے

اپنے آگے ہی وضاحت کر لی

ایک گردش کا تصور کر کے

طے زمانوں کی مسافت کر لی

دیر کے بعد خیال آیا ہے

ہم نے اِس عشق میں عجلت کر لی

٭٭٭

 

 

 

کچھ خاک سے ہے کام، کچھ اِس خاک داں سے ہے

جانا ہے دُور اور گزرنا یہاں سے ہے

دِل اپنی رائیگانی سے زندہ ہے اب تلک

آباد یہ جہاں بھی غبارِ جہاں سے ہے

بس خاک پڑ گئی ہے بدن پر زمین کی

ورنہ مشابہت تو مری آسماں سے ہے

دِل بھی یہی ہے، وقت بھی، منظر بھی، نیند بھی

جانا کہاں ہے خواب میں، جانا کہاں سے ہے

اِک داستاں قدیم ہے، اِک داستاں دراز

ہے شام جِس کا نام، وہ کِس داستاں سے ہے

وابستہ میز پوش کے پھولوں کی زندگی

مہمان سے ہے، میز سے ہے، میزباں سے ہے

٭٭٭

 

 

 

اشک گرتے نہیں ہیں یوں شاید

ہو چکی سیرِ اندروں شاید

میں اُسے دیکھتا رہوں شاید

یوں کنارے سے جا لگوں شاید

لوٹ آیا ہوں سب کے جانے پر

اب کوئی بات کر سکوں شاید

ہر کہانی اداس کرتی ہے

ختم ہونے کو ہے جنوں شاید

خشک ہونٹوں پہ پھیرتا ہوں زباں

سر اٹھاتی ہے موجِ خوں شاید

آ گرا ہوں کسی ستارے پر

منہدم ہو گئے ستوں شاید

روز اِس راہ سے گزرتا ہوں

پھِر کسی کو دِکھائی دوں شاید

ہر پڑاؤ پہ یوں لگا عادلؔ

میں کسی قافلے میں ہوں شاید

٭٭٭

 

 

 

سبھی کو دشت سے دریا، جدا دکھائی دیا

ہمیں تو عشق میں سب ایک سا دکھائی دیا

میں آسماں کی طرف دیکھ کر ہنسوں، تو یہ لوگ

یہ پوچھتے ہیں کہ اے بھائی! کیا دکھائی دیا

یہ ایک داغ ہے دل پر، کہ ایک روزن ہے

اِسی سے خواب، اِسی سے خدا دکھائی دیا

کسی نے جھانک کے دیکھا تھا اُس دریچے سے

میں اپنے آپ سے باہر کھڑا دکھائی دیا

بہ طور آئنہ دیکھا جہاں تلک دیکھا

بہ طور عکس تو بس آئنہ دکھائی دیا

لکھا تو اور ہی کچھ تھا کھنڈر کی تختی پر

کچھ ایسے ٹوٹی کہ ’عادل‘ؔ لکھا دکھائی دیا

٭٭٭

 

 

 

گرد کوزوں سے ہٹانے کے لیے آتا ہے

کوزہ گر، شکل دکھانے کے لیے آتا ہے

اشک اِس دشت میں،اِس آنکھ کی ویرانی میں

اِک محبت کو بچانے کے لیے آتا ہے

یوں ترا خواب ہٹا دیتا ہے سارے پردے

جس طرح کوئی جگانے کے لیے آتا ہے

روز اِس کاٹھ کی چھت پر سے گزرتا ہے پرند

جانے کیا یاد دِلانے کے لیے آتا ہے

ایک کردار کی امّید میں بیٹھے ہیں یہ لوگ

جو کہانی میں ہنسانے کے لیے آتا ہے

ایک کتبے پہ لکھا ہے کہ ذرا ٹھہرو تو

یاں تو ہر شخص ہی جانے کے لیے آتا ہے

دِل کی سرحد پہ کھڑا دیکھ رہا ہوں عادلؔ

کب کوئی ہاتھ ملانے کے لیے آتا ہے

٭٭٭

 

 

 

دل میں رہتا ہے کوئی، دل ہی کی خاطِر خاموش

جیسے تصویر میں بیٹھا ہو مصوّر خاموش

دل کی خاموشی سے گھبرا کے اُٹھاتا ہوں نظر

ایک آواز سی آتی ہے، مسافر! خاموش

اِس تعارف کا نہ آغاز، نہ انجام کوئی

کر دیا ایک خموشی نے مجھے پھر خاموش

کچھ نہ سُن کر بھی تو کہنا ہے کہ ہاں، سنتے ہیں

کچھ نہ کہہ کر بھی تو ہونا ہے بالآخِر خاموش

ڈوب سکتی ہے یہ کشتی تری سرگوشی سے

اے مرے خواب، مرے حامی و ناصر، خاموش

چیونٹیاں رینگ رہی ہیں کہیں اندر عادلؔ

ہم ہیں دیوار کے مانند، بظاہر خاموش

٭٭٭

 

 

 

اندروں سے مکالمہ کیجے

چُپ سے بہتر ہے، رو لیا کیجے

دل بھی سورج کے ساتھ نکلا تھا

شام ہونے کو ہے دعا کیجے

خال و خد ساتھ چھوڑ دیتے ہیں

آئنہ دیکھتے رہا کیجے

وقت بھولا ہوا مسافر ہے

اِس کو رستہ بتا دیا کیجے

کِن زمانوں کا عشق ہے دل میں

کِن زبانوں میں تذکرہ کیجے

کس کی دستک پہ کون نکلا ہے

کون مہمان ہے؟ پتا کیجے

اشک جاتا ہے آنکھ سے عادلؔ

کس طرح دوست کو جدا کیجے

٭٭٭

 

 

 

اشک گرنے کی صدا آئی ہے

بس یہی راحتِ گویائی ہے

سطح پر تیر رہے ہیں دن، رات

نیند، اِک خواب کی گہرائی ہے

اُن پرندوں کا پلٹ کر آنا

اِک تخیّل کی پذیرائی ہے

عکس بھی غیر ہے، آئینہ بھی

یہ تحیّر ہے کہ تنہائی ہے

اُن دریچوں سے، کہ جو تھے ہی نہیں

اِک اُداسی ہے، کہ در آئی ہے

دِل نمودار ہُوا ہے دِل میں

آنکھ اِک آنکھ سے بھر آئی ہے

اُس کی آنکھوں کی خموشی عادلؔ

ڈوبتے وقت کی گویائی ہے

٭٭٭

 

 

 

وقت گزرا ہوا مِلا ہے مجھے

کوئی پہلے سے جانتا ہے مجھے

اپنے آغاز کی تلاش میں ہوں

اپنے انجام کا پتا ہے مجھے

بیٹھے بیٹھے، اِسی غبار کے ساتھ

اب تو اُڑنا بھی آ گیا ہے مجھے

رات جو خواب دیکھتا ہوں میں

صبح وہ خواب دیکھتا ہے مجھے

کوئی اِتنے قریب سے گزرا

دُور تک دیکھنا پڑا ہے مجھے

پھول رکھے ہیں میز پر کس نے

اب یہ دفتر بھی دیکھنا ہے مجھے

ہونٹ ٹکرا رہے ہیں کشتی سے

کوئی پانی پِلا رہا ہے مجھے

یہ طلسمِ غمِ جہاں عادلؔ

ٹوٹتا ہے نہ توڑتا ہے مجھے

٭٭٭

 

 

 

سفر پہ جیسے کوئی گھر سے ہو کے جاتا ہے

ہر آبلہ مرے اندر سے ہو کے جاتا ہے

جہاں سے چاہے گزر جائے موجۂ اُمّید

یہ کیا، کہ میرے برابر سے ہو کے جاتا ہے

جنوں کا پوچھیے ہم سے، کہ شہر کا ہر چاک

اِسی دکانِ رفوگر سے ہو کے جاتا ہے

میں روز ایک زمانے کی سیر کرتا ہوں

یہ راستہ مرے بِستر سے ہو کے جاتا ہے

ہمارے دل میں حوالے ہیں ساری یادوں کے

ورق ورق اِسی دفتر سے ہو کے جاتا ہے

٭٭٭

 

 

 

سنتے ہیں جو ہم دشت میں پانی کی کہانی

آزار کا آزار، کہانی کی کہانی

دریا تو کہیں بعد میں دریافت ہوئے ہیں

آغاز ہوئی دل سے روانی کی کہانی

سنتا ہو اگر کوئی تو عادلؔ وہ در و بام

کہتے ہیں مری نقلِ مکانی کی کہانی

٭٭٭

 

 

 

صحراؤں کے دوست تھے ہم، خود آرائی سے ختم ہوئے

اُوپر اُوپر خاک اُڑائی، گہرائی سے ختم ہوئے

ویرانہ بھی ہم تھے، خاموشی بھی ہم تھے، دِل بھی ہم

یکسوئی سے عشق کِیا اور یکتائی سے ختم ہوئے

دریا، دلدل، پربت، جنگل اندر تک آپ ہنچے تھے

اِس بستی کے رہنے والے تنہائی سے ختم ہوئے

کتنی آنکھیں تھیں جو اپنی بینائی میں ڈوب گئیں

کتنے منظر تھے جو اپنی پہنائی سے ختم ہوئے

عادلؔ اِس رہداری سے وابستہ کچھ گُل دستے تھے

رُک رُک کر بڑھنے والوں کی پسپائی سے ختم ہوئے

٭٭٭

 

 

 

رُک گیا تھا میں کسی تحریک سے

اِک صدا آئی بہت نزدیک سے

ناؤ تھی یا وقت تھا یا خواب تھا

یاد کچھ پڑتا نہیں ہے ٹھیک سے

روشنی اِک تجربہ تھی ورنہ ہم

مطمئن ہیں گوشۂ تاریک سے

اِس خرابی میں یہ خوبی ہے کہ دِل

مضمحل ہوتا نہیں تضحیک سے

٭٭٭

 

 

 

دیکھنے والوں کو پہچانیں، اُن کے ساتھ رہیں

رینگنے والے، دوڑنے والوں سے محتاط رہیں

فرش پہ رکھ کر خوابوں، چہروں اور لکیروں کو

ہم کچھ دیر، اجازت ہو تو، خالی ہاتھ رہیں

جینا سیکھیں، مرنا سیکھیں، خوش رہنا سیکھیں

بستی والے، اِس خیمے میں آئیں، رات رہیں

خاموشی سے، بڑھتی فصلیں، جلدی بڑھتی ہیں

تم شہروں کو شور مبارک! ہم دیہات رہیں

رُک کر، رہ کر، اُڑ کر، بہہ کر، چل کر دیکھا ہے

ہر صورت ممکن ہے عادؔل، دریا ساتھ رہیں

٭٭٭

 

 

 

کسی کا خواب، کسی کا قیاس ہے دنیا

مرے عزیز! یہاں کس کے پاس ہے دنیا

یہ خون اور پسینے کی بُو نہیں جاتی

نہ جانے کس کے بدن کا لباس ہے دنیا

ہمارے حلق سے اِک گھونٹ بھی نہیں اتری

بس ایک اور ہی دنیا کی پیاس ہے دنیا

مرے قلم کی سیاہی کا ایک قطرہ ہے

مری کتاب سے اِک اقتباس ہے دنیا

٭٭٭

 

 

 

وہ شہر، کسی شہر میں محدود نہیں تھا

اُس میں وہ سبھی کچھ تھا، جو موجود نہیں تھا

گم ہو گئی زنجیر کی آواز میں آواز

افسوس! کہ ہم میں کوئی داؤد نہیں تھا

خاموش کچھ ایسا تھا کہ بس تھا ہی نہیں دل

آباد بس اِتنا تھا کہ نابود نہیں تھا

مقبول نہیں گرچہ، مرے دل کی معیشت

یاں کوئی خسارہ کبھی بے سُود نہیں تھا

چھُو کر اُسے دیکھا تھا، مکرّر نہیں دیکھا

عادلؔ وہ مرا خواب تھا، مقصود نہیں تھا

٭٭٭

 

 

 

جانے کیا کیا ہے ترے میرے بیچ

ہاں، یہ ممکن ہے کہ دیوار بھی ہو

یہ جو شہرت ہے بھنور کی اِس پار

کیا ضروری ہے کہ اُس پار بھی ہو

دل میاں! چپ ہی رہو، بہتر ہے

تم اکیلے بھی ہو، بیکار بھی ہو

٭٭٭

 

 

 

اِک نفس، نابود سے باہر ذرا رہتا ہوں میں

گمشدہ چیزوں کے اندر لاپتا رہتا ہوں میں

جتنی باتیں یاد آتی ہیں، وہ لکھ لیتا ہوں سب

اور پھر ایک ایک کر کے، بھولتا رہتا ہوں میں

گرم جوشی نے مجھے جھُلسا دیا تھا، ایک دن

اندروں کے سرد خانے میں پڑا رہتا ہوں میں

خرچ کر دیتا ہوں سب موجود اپنے ہاتھ سے

اور نا موجود کی دھُن میں لگا رہتا ہوں میں

جتنی گہرائی ہے عادل،ؔ اُتنی ہی تنہائی ہے

بس کہ سطحِ زندگی پر تیرتا رہتا ہوں میں

٭٭٭

 

 

 

کھنڈر ہوتے ہوئے گھر کی نشانی

تمنّا، کیا نئی اور کیا پرانی

روانی میں نظر آتا ہے جو بھی

اُسے تسلیم کر لیتے ہیں پانی

کیا ہے احتجاجاً صبر ہم نے

ہماری کشتیاں ہیں بادبانی

اُسے ہم رقص، ہم آواز کرتے

اگر کردار بن سکتی کہانی

٭٭٭

 

 

 

ہم جانا چاہتے تھے جدھر بھی، نہیں گئے

اور انتہا تو یہ ہے کہ گھر بھی نہیں گئے

وہ خواب جانے کیسے خرابے میں گم ہوئے

اِس پار بھی نہیں ہیں، اُدھر بھی نہیں گئے

صاحب! تمھیں خبر ہی کہاں تھی کہ ہم بھی ہیں

ویسے تو اب بھی ہیں، کوئی مر بھی نہیں گئے

بارش ہوئی تو ہے مگر اِتنی کہ یہ ظروف

خالی نہیں رہے ہیں تو بھر بھی نہیں گئے

عادلؔ زمینِ دل سے زمانے خیال کے

گزرے کچھ اِس طرح کہ گزر بھی نہیں گئے

٭٭٭

 

 

 

کچھ نظر آتا نہیں افلاک پر

مطمئن ہیں دامنِ صد چاک پر

یوں اُٹھے، اِک دن، کہ لوگوں کو ہُوا

اَبر کا دھوکا، ہماری خاک پر

رنگ جو پوشاک کا ہے، دِل کا تھا

دِل پہ ہے، جو داغ تھا پوشاک پر

لہلہاتی کھیتیوں سے پُر زمیں

تازیانہ ہے ہماری خاک پر

٭٭٭

 

 

 

ہمیں یونہی نہ سرِ آب و گِل بنایا جائے

ہمارے خواب دیے جائیں، دِل بنایا جائے

دکھائی دیتا ہے تصویرِ جاں میں دونوں طرف

ہمارا زخم ذرا مندمل بنایا جائے

اگر جلایا گیا ہے کہیں دیے سے دیا

تو کیا عجب کہ کبھی دِل سے دِل بنایا جائے

شدید تر ہے تسلسل میں ہجر کا موسم

کبھی ملو، کہ اِسے معتدل بنایا جائے

یہ نقش بن نہیں سکتا، تو کیا ضروری ہے

خراب و خستہ و خوار و خجل بنایا جائے

٭٭٭

 

 

 

اے شہرِ خواب! اور بھی کچھ ہے یہاں کہ بس

میں مان لوں کہ یہ مرے جانے کا وقت ہے

الجھی ہوئی ہو ڈور ، تو کیا شام، کیا ہَوا

دِل میں مگر پتنگ اُڑانے کا وقت ہے

یہ اعتراف آخری کوشش ہے، اور بس

جتنا بچا ہے خود کو بچانے کا وقت ہے

عادلؔ کہانیوں سے مدد مانگتا ہوں میں

جو ہو نہیں سکا وہ بتانے کا وقت ہے

٭٭٭

 

 

 

ترکِ دنیا بیا نہیں کرسکتے

خود سے جھگڑا بھی نہیں کرسکتے

لوگ تو عشق میں مر جاتے ہیں

ہم تو ایسا بھی نہیں کر سکتے

اُن گزارے ہوئے لمحوں کے بغیر

ہم گزارا بھی نہیں کر سکتے

ہم تو جلتے بھی نہیں ہیں عادلؔ

اور سایہ بھی نہیں کر سکتے

(ادریس بابر کے لیے)

٭٭٭

 

 

 

کوزہ گر! تیرے نہ چھونے سے یہی خاک کا ڈھیر

رفتہ رفتہ کسی تربت میں بدل جاتا ہے

اِک نظر دیکھنا، ہارے ہوئے لشکر کی طرف

ایک دن، مالِ غنیمت میں بدل جاتا ہے

آنکھ ہنستی ہے تو ہنستی ہی چلی جاتی ہے

پھر یہ رونا بھی ضرورت میں بدل جاتا ہے

٭٭٭

 

 

 

ہوئی آغاز پھولوں کی کہانی

وہ پہلا دِل، وہ پہلی خوش گمانی

اُداسی کی مہک آتی ہے مجھ سے

مری تنہائی ہے اِتنی پرانی

ہمیں دونوں کنارے دیکھنے ہیں

توجّہ چاہتی ہے یہ روانی

یہ بارش اور یہ پامال سبزہ

نمو پاتی ہوئی اِک رائیگانی

محبت ہو گئی اِک روز عادلؔ

ہمارا مشغلہ تھا باغبانی

٭٭٭

 

 

 

شب بھر، یہ ہم تھے اور وہ ماہِ تمام تھا

دِل نے جو کر دیا ہے، سمندر کا کام تھا

دریا تو اپنی موج میں جانے کہاں گیا

دِل میں وہ پھول ہے جو کناروں پہ عام تھا

رنجِ سفر میں ایک سے تھے، دشت و آبجو

رستے میں جو بھی تھا، وہ دعا کا مقام تھا

عادلؔ، اِس ایک چاکِ دلِ مضطرب سے قبل

کارِ رفوگری میں ہمارا بھی نام تھا

٭٭٭

 

 

 

وہ کہیں تھا کہ نہ تھا، فرض کریں

اُس دریچے کو کھُلا فرض کریں

کوئی بھی چیز جلا کر گھر کی

دِل میں آتا ہے، دِیا فرض کریں

در و دیوار سے ہٹ کر کسی روز

گھر، کوئی اور جگہ فرض کریں

نیند کو نیند میں کیا سمجھیں ہم

خواب کو خواب مںد کیا فرض کریں

ہم سے دِل ہی نہیں ثابت ہوتا

آپ آئیں تو ذرا فرض کریں

٭٭٭

 

 

 

ترے ادراک سے پہلے کہاں تھا

میں اپنی خاک سے پہلے کہاں تھا

دیے میں آ گیا ہے جو تمدّن

وہ گھر کے طاق سے پہلے کہاں تھا

پرندے میں سکونت کا ارادہ

خس و خاشاک سے پہلے کہاں تھا

٭٭٭

 

 

 

یوں جو پلکوں کو مِلا کر نہیں دیکھا جاتا

ہر طرف ایک ہی منظر نہیں دیکھا جاتا

کام اتنے ہیں بیابانوں کے، ویرانوں کے

شام ہو جاتی ہے اور گھر نہیں دیکھا جاتا

جھانک لیتے ہیں گریباں میں، یہی ممکن ہے

ایسی پستی ہے کہ اُوپر نہیں دیکھا جاتا

جس کو خوابوں کی ضرورت ہو، اٹھا کر لے جائے

ہم سے اب اور یہ دفتر نہیں دیکھا جاتا

٭٭٭

 

 

 

پھر کیوں واپس لوٹ گئے ہیں، گھر کو آتے آتے ہم

کوئی سمجھنے والا ہوتا، دِل کو کیا سمجھاتے ہم

خوابوں کی آباد گلی میں حسرت تھی، حیرانی تھی

کس کس در پہ دستک دیتے، کس کس کو بلواتے ہم

اَن دیکھی کو دیکھ رہے تھے اور دکھائی دیتے تھے

کھو جانے والوں کو عادلؔ، کھو جاتے تو پاتے ہم

٭٭٭

 

 

 

تم مرا خواب تھے، خیال آیا

جانے کیا دیکھ کے خیال آیا

ہجرتیں سب پہ فرض تھیں لیکن

سب سے پہلے مجھے خیال آیا

وہ سفینے کہاں گئے ہوں گے

ڈوبتے ڈوبتے خیال آیا

راستے کھا گئے اُسے عادلؔ

لوٹنے کا جسے خیال آیا

٭٭٭

 

 

 

شاخِ دل، اب بھی ہری ہو جیسے

کوئی تصویر گری ہو جیسے

سرسری دیکھ رہے ہیں دنیا

نیند، پلکوں پہ دھری ہو جیسے

خواب اِتنے ہیں کہ بیٹھے بیٹھے

حالتِ دربدری ہو جیسے

بے پر و بال اُڑا جاتا ہوں

ساتھ میں کوئی پری ہو جیسے

٭٭٭

 

 

 

جتنا آب و دانہ ہے

اُتنا ہی ویرانہ ہے

ہم نے اپنی نیندوں کو

خوابوں سے پہچانا ہے

باغ کا تربت ہو جانا

پھولوں کا اُٹھ جانا ہے

زخموں کی گہرائی بھی

وحشت کا پیمانہ ہے

گھر کے خالی کمروں میں

میرا ایک گھرانہ ہے

٭٭٭

 

 

 

زوالِ آفتاب دیکھیے

ذرا مری کتاب دیکھیے

ہماری جستجو نہ پوچھیے

زمیں پہ نقشِ آب دیکھیے

یہی کِیا کہ خاک اوڑھ لی

ہمارا احتساب دیکھیے

چراغ جل کے راکھ ہو گیا

ہوا کا اجتناب دیکھیے

٭٭٭

 

 

 

اپنی چھت پر اُداس بیٹھا ہوں

میں پرندوں کے پاس بیٹھا ہوں

دن کی چوکھٹ پہ، شب کے قدموں میں

صورتِ التماس بیٹھا ہوں

آخری پیرہن ادھورا ہے

اُگ رہی ہے کپاس، بیٹھا ہوں

کھو گیا ہے کہیں بدن عادلؔ

لے کے اپنا لباس، بیٹھا ہوں

٭٭٭

 

 

 

اپنی پہچان بھول جاتے ہیں

اپنی پہچان کے لیے، ہم لوگ

کوزہ گر کی دکاں ملی ہی نہیں

خاک ہی چھانتے رہے ہم لوگ

پھر بہت یاد آئیں گے صاحب!

گر تمہیں یاد رہ گئے ہم لوگ

٭٭٭

 

 

 

ہمارا خاک ہو جانا بظاہر

نظر آتا ہے افسانہ بظاہر

جنم لیتی ہے ہر تاریخ دل سے

بہت خالی ہے یہ خانہ بظاہر

مرے اندر کی خاموشی کے ڈر سے

چھلک اُٹّھا ہے پیمانہ بظاہر

تری بے خوابیوں کا خواب ہوں میں

تماشا ہے مرا آنا بظاہر

٭٭٭

 

 

 

اندر سے بھلا دیا گیا ہوں

تاریخ بنا دیا گیا ہوں

مجھ پر تھے ہزار خواب کندہ

قصوں میں چلا دیا گیا ہوں

خاموش کھڑا تھا راستے میں

نقشے سے مٹا دیا گیا ہوں

سرگوشی کا منتظر تھا عادلؔ

اور دُور بٹھا دیا گیا ہوں

٭٭٭

 

 

 

تو نہیں ہے تو دوست کیا غم ہے

دل میں تیری جگہ ترا غم ہے

دل میں جو زہر ہے وہ زہر نہیں

مدتوں کا رُکا ہوا غم ہے

زخم مائل بہ اندمال نہیں

اور یہ غم زخم سے بڑا غم ہے

اس سے مل کر مجھے خوشی ہو گی

اس کے دل میں ابھی مرا غم ہے

کھولیے دل کی ڈائری عادلؔ

دیکھیے آج کون سا غم ہے

٭٭٭

 

 

 

شجاع آباد

 

اسٹیشن پر آتی جاتی گاڑی کی آواز

جیسے اگلی پچھلی، ساری، صدیوں کی ہمراز

 

نا مقبول دعاؤں جیسے بڑھتے یکّہ بان

اور مسافر آنے والے، جیسے رب کا دھیان

 

ٹوٹی پھوٹی، اونچی نیچی، ناہموار سڑک

گزرے وقت کی گرد پڑی ہے جس پہ دور تلک

 

پھاٹک والے موڑ سے آگے، رستے میں اک نہر

جس میں اکثر لہراتی ہے ویرانی کی لہر

ززز

 

 

 

رنگ برنگی آنکھوں والے دُور دراز کے لوگ

ایک شفا خانہ آنکھوں کا، اور اَن دیکھے روگ

ایک احاطے میں بیٹھے ہیں ڈھیروں ڈھیر وکیل

اِن کے خوابوں کا حلقہ ہے تھانہ اور تحصیل

اُستادوں کی پیشانی پر اِک جیسی تحریر

اِس تحریر سے وابستہ ہے بچوں کی تقدیر

قبرستان کے اِک کونے پر گورکنوں کے گھر

موت اِنھیں زندہ رکھتی ہے، مٹی اِن کا زر

ساری آوازوں کا مخزن، چوراہے کا شور

لمحہ لمحہ بھیس بدلتا وقت، ازل کا چور

ٹھیلے والے دُکّانوں کی حسرت میں پامال

دن بھر ساتھ لیے پھرتے ہیں، سودا اور سوال

چاروں دروازوں کے اندر، اندر کا اسباب

ایک فصیل پرانی، جیسے اک بوڑھے کا خواب

٭٭٭

 

 

 

ایک نامکمل نظم

 

نا موجود کی دھُن میں

(فرد فرد)

ہم سے گِریہ مکمل نہیں ہو سکا

ہم نے دیوار پر لکھ دیا معذرت

کِس کو ٹھہرایئے ٹوٹی ہوئی چیزوں کا امیں

اپنی لُکنت کا سبب کِس کی زبانی کہیے

یہ آدمی، مری نظروں میں پست کیسے ہُوا

کِسے بتاؤں کہ میں سگ پرست کےسو ہُوا

٭٭٭

 

 

متفرق اشعار

میرے آنگن میں وہ شجر ہی نہیں

جو پرندوں کا خواب ہوتا ہے

٭٭٭

 

سبھی اپنی کہانی کہہ رہے ہیں

الاؤ جل رہا ہے خامشی سے

٭٭٭

 

کچھ پرندوں کو یہ معلوم نہیں تھا عادلؔ

جل رہا ہو تو شجر چھوڑ دیا جاتا ہے

٭٭٭

 

سمجھ کہ تھے ہی نہیں خواب دیکھنے والے

بھلا ہُوا کہ میں بازار سے نکل آیا

٭٭٭

 

اگر گزار لیں یہ لمحۂ محبت

تو کیا ہمیں کوئی زمانہ مل سکے گا

٭٭٭

 

موسمِ اندمال آتا ہے

زخم پر بھی زوال آتا ہے

٭٭٭

 

یہ اشک نہیں ہے اشک، عادلؔ

اِک طرزِ کلام ہے ہمارا

٭٭٭

 

اِک ذرا روشنی میں لاؤ اِسے

دیکھتے ہیں، دیا بجھا کیوں ہے

٭٭٭

 

دشت و دریا کی ابتدا سے ہیں

ہم وہی تین دن کے پیاسے ہیں

٭٭٭

 

ہم ستارے شمار کرتے ہیں

اور دیے انتظار کرتے ہیں

٭٭٭

 

اجنبی کی حیثیت سے ذوالفقارؔ عادل، ہمیں

جانتے ہیں سب کے سب اِس کارواں کے اجنبی

٭٭٭

 

کہاں لے جائیں اِس موہوم سی موجِ تبسم کو

ہماری خوش گمانی سے تم اِتنے بدگماں کیوں ہو؟

٭٭٭

 

نہ اوّلیں، سرِ منظر، نہ آخریں ہم ہیں

بس اِک غبار ہے، جس میں کہیں کہیں ہم ہیں

٭٭٭

 

دشت کی سمت سے جنگل میں پہنچتا دریا

آگے بڑھ جاتا ہے پیڑوں کو نصیحت کر کے

٭٭٭

 

جب ٹھہرتا نہ ہو کہیں کچھ بھی

دل میں رہ جائے تو خدا اچھا

شہر میں وہ دکان ڈھونڈتے ہیں

زخم سِلتا ہو جس جگہ اچھا

٭٭٭

 

وہ چراغوں کو جلانے کا ہنر جانتا ہے

ہاں مگر لیتا نہیں اُس سے کوئی کام ابھی

تیز آندھی میں کسی جلتے دیے کی صورت

میرے ہونٹوں پہ لرزتا ہے ترا نام ابھی

٭٭٭

 

راحتِ گریہ و زاری پہ قناعت کر لے

دیکھ، اِس خوابِ گریزاں میں نہ کر اور سفر

٭٭٭

 

وسعتِ خواب! ہمیں اور کہاں جانا ہے

ایک گردش میں سمٹ آئے ہیں گھر اور سفر

٭٭٭

 

بس یہی ہے کہ کنارہ نہیں ملنے والا

ورنہ اِس موج میں کیا کیا نہیں ملنے والا

بس اِسی خوابِ محبت پہ قناعت کیجئے

اب کوئی اور اشارہ نہیں ملنے والا

٭٭٭

 

جانے والے لوٹ کر آتے نہیں

ہم ہی تھے جو آ گئے بارِ دگر

وہ مری پہلی دعا کا کیا ہُوا؟

ہاتھ اُٹھاؤں کس لیے، بارِ دگر

٭٭٭

 

پہلے کہاں تھے ہم میں اڑانوں کے حوصلے

یہ تو قفس میں آ کے ہمیں بال و پر لگے

٭٭٭

 

دیکھ یوں آنکھ نم نہیں کرتے

جانے والوں کا غم نہیں کرتے

دل میں جلتے ہوئے چراغ کی لو

روشنی میں بھی کم نہیں کرتے

٭٭٭

 

راستہ ڈھونڈ کے لایا ہے مجھے

آبلہ دیکھنے آیا ہے مجھے

اشک دیکھا ہے تری آنکھوں میں

تب کہیں ڈوبنا آیا ہے مجھے

٭٭٭

 

ہر ستارے کی جگہ ہے دل میں

ایک نایاب خلا ہے دل میں

شام کے وقت یہ کس نے عادلؔ

دن کا آغاز کِیا ہے دل میں

٭٭٭

 

چلنا ہے روشنی کے سفر پر، تو آئیے

پہلے شکستہ طاق سے باہر تو آیئے

کہتے نہیں ہیں ہم تو دِکھاتے ہیں داستاں

سب کچھ بدل گیا ہے، کبھی گھر تو آیئے

٭٭٭

 

کیا خبر تھی کہ یہ باہر سے کھنڈر لگتا ہے

ہم کبھی گھر کے در و بام سے نکلے ہی نہیں

مطمئن میرے بدن سے کوئی ایسا تو نہ تھا

جیسے یہ تیر ہیں، آرام سے نکلے ہی نہیں

٭٭٭

 

ہم تری آگ یونہی ساتھ لیے پھرتے ہیں

دل میں رکھی بھی نہیں، دِل سے نکالی بھی نہیں

شجرِ عشق پہ اُترے ہیں پرندے کیا کیا

اور یہ تصویر کوئی ایسی خیالی بھی نہیں

٭٭٭

 

کسی دیوار پہ نظریں تو جما کر بیٹھو

ورنہ تا حشر نہیں نقش اُبھرنے والے

آج لبریز ہُوا جاتا ہے پیمانۂ صبر

عین اُس وقت کہ جب زخم ہیں بھرنے والے

٭٭٭

 

اِک ایسی سمت کی، اِک ایسے زاویے کی تلاش

جہاں سے ہو سکے ممکن کسی دیے کی تلاش

ہمارے ساتھ کہاں تک ہے راستہ عادلؔ

اور اس کے بعد کہاں تک ہے راستے کی تلاش

٭٭٭

 

ایک ٹھکانا مل ہی جاتا لیکن ہم

ایک دِیا اور ایک ٹھکانہ چاہتے ہیں

گذرے وقت کو یاد کریں اب وقت کہاں

کچھ لمحے تو ایک زمانہ چاہتے ہیں

٭٭٭

 

اس برگِ آخریں پہ ابھی مضمحل نہ ہو

ممکن ہے اس کے بعد کوئی پھول کھلنا ہو

ملیے کہ پھر نہ جانے کہاں کے غبار میں

کن وحشتوں میں، کون سے دشتوں میں ملنا ہو

٭٭٭

 

ہم اگر عالمِ امکان سمجھنے لگ جائیں

ان ستاروں کو بھی سامان سمجھنے لگ جائیں

بند کمروں کی خبر لو کہ بہت ممکن ہے

آنے والے ہمیں مہمان سمجھنے لگ جائیں

٭٭٭

 

ہمیں کچھ کام ایسے پڑ گئے ہیں

دیے گھر کے بجھانے پڑ گئے ہیں

میں اِن سے بھاگتا پھرتا ہوں عادلؔ

سفر کچھ ایسے پیچھے پڑ گئے ہیں

٭٭٭

 

وہ جو معدوم ہے، معدوم نہیں

کون سا وقت ہے، معلوم نہیں

ہم ہیں بند آنکھوں پہ رکھے ہوئے خواب

ہم سے غافل ہے وہ محروم نہیں

٭٭٭

 

میں نے دیکھا ہی نہیں تھا ترے در سے آگے

میں نے سوچا ہی نہیں تھا کہ کدھر جاؤں گا

میرے لہجے میں ہی خوشبو ہے، ہَوا!تیز نہ چل

میں کوئی پھول نہیں ہوں کہ بکھر جاؤں گا

٭٭٭

 

اور اِس کے بعد اِک ایسے ہی لمحے تک ہے خاموشی

ہمیں درپیش پھر سے لمحۂ تجدیدِ وعدہ ہے

سنو!رستے میں اِک جلتا ہوا صحرا بھی آئے گا

کہو! کب تک ہمارے ساتھ چلنے کا اِرادہ ہے

٭٭٭

 

پربت پہ ابر، ابر میں بھیگے ہوئے درخت

بارش سے بے نیاز، فرشتے ہوئے درخت

شاخوں کو نام دے کے تماشا بنا دیا

جیسے کسی درخت پہ اُگتے ہوئے درخت

٭٭٭

 

ہم چاہیں تو اس کو ڈھونڈ بھی سکتے ہیں

خوابِ گزشتہ میں جاکر آئندہ بھی

٭٭٭

 

کبھی رخ نہ کرتے کسی کی طرف

اگر دیکھتے اپنے جی کی طرف

نظر بھی تنفس کا دیتی ہے کام

ذرا دیکھیے تو کسی کی طرف

٭٭٭

 

صبا صبا سے الگ ہے، قفس قفس میں نہیں

یہ دسترس بھی عجب ہے کہ دسترس میں نہیں

٭٭٭

بشکریہ: ذوالفقار عادل

ماخذ: ادبی دنیا ڈاٹ کام

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید