FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

جدید دنیا اور مسلمانوں کی فکری آوارگی

 

                سید نصیر شاہ

 

 

مذہب کوئی بھی ہواس کی تعلیمات کا بڑا حصہ ان لوگوں کی رہنمائی کے لئے ہوتا ہے جو اس کے اولین مخاطب ہوتے ہیں اس طرح وہی مخصوص ماحول اور وہی مخصوص معاشرت اس کے پیش نظر رہتی ہے۔ مگر وقت بدلتا ہے اس کے ساتھ معاشرتی ماحول بھی بدلتا ہے اور نئے معاشرتی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں نئے مسائل نیا حل مانگتے ہیں۔ اہل مذہب چکرا جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے دعویٰ کر رکھا ہوتا ہے کہ ان کا مذہب ’’خدائے علیم و خبیر‘‘ اور ’’حکیم دانا و بینا‘‘ کا نازل کردہ ہے اس لئے اس میں ہر مسئلہ کا حل موجود ہے۔

یہاں مذہب پرست دو فرقوں میں بٹ جاتے ہیں ایک فرقہ کے لوگ ’’حال کے ماضیائی‘‘ لمحہ میں جی رہے ہوتے ہیں وہ مذہبی تعلیمات کی ان ہی تعبیرات سے چمٹ جاتے ہیں جو انہیں اسلاف کی طرف سے ورثہ میں ملی ہوتی ہیں وہ اس مشقت میں جُت جاتے ہیں کہ وقت کو دھکیل کر سینکڑؤں سال پیچھے لے جائیں مگر ایسا ممکن نہیں ہوتا اس لئے حال کو ماضی بنا دینے کی دھُن میں زمانہ بھر سے لڑائی مول لے بیٹھتے ہیں۔

کچھ دوسرے لوگ ہوتے ہیں مذہب میں تجدید و اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے اس لئے اجتہاد سے نئے مسائل کا حل تلاش کیا جائے جو مذہب کی بنیادی تعلیمات سے متصادم نہ ہو وہ اجتہاد کی محنت میں دل و دماغ کی تمام توانائیاں کھپانے لگتے ہیں الفاظ کو نئے معانی پہناتے ہیں اور پرانے احکام کو کھینچ کھا نچ کر نیا مفہوم دیتے اور اپنے زمانے کے مطابق مطالب برآمد کرنے لگتے ہیں۔

سچ پوچھئے تو تجدید و اجتہاد کے علم بردار تقلید جامد پر جم کر بیٹھ جانے والوں سے زیادہ مشکل میں پھنس جاتے ہیں ایک تو ان کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہوتا کہ ’’خدائے علیم و خبیر‘‘ کو تو علم ہونا چاہیے کہ فلاں زمانہ میں اس قسم کے مسائل پیدا ہوں گے پھر اس نے خود ہی ان مسائل کا حل کیوں نہیں بتا دیا اور مشقت مجتہدین کے لئے رکھ دی۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ مذہب نے تو کتاب کے ساتھ نبی بھی بھیجا تھا اور اس کا نام لے کر بتا دیا تھا کہ اس کی تعلیمات خدا کے احکام کی صحیح تشریح ہیں مگر اس مجتہد کے پاس کون سی برہان ہے جس سے آدمی تسلیم کر لے کے اس کی متعین کردہ تصریحات اور ہدایات درست اور واجب العمل ہیں۔ آخر اس ایک متعین شخص کے پاس کون ’’سی سند یا ’’تائید ربانی‘‘ ہے جس سے اُسے تعبیرات مذہبی میں اتھارٹی تسلیم کیا جائے

پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس کے اجتہاد کوکب تک واجب العمل رہنا ہے اور کب اس کی مدت ختم ہونی ہے۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ایک مجتہد کے اجتہاد کو قیامت تک کے لئے واجب العمل مان لیا جائے کیونکہ بقول مولانا مودودی ’’مجتہد خواہ کتنا ہی باکمال ہو زمان و مکان کے تعینات سے بالکل آزاد نہیں رہ سکتا اور نہ اس کی نظر تمام ازمنہ و احوال میں تمام حالات کے مطابق ہے‘‘ (تفہیمات حصہ دوم ایڈیشن1957ء ص246)۔

غرضیکہ مجتہد کے متعلق بیسیوں سوالات اٹھتے ہیں جو کل بھی بے جواب تھے اور آج بھی بے جواب ہیں وہ حضرات جنہیں ائمہ مجتہد بن تسلیم کیا گیا ہے یعنی امام ابوحنیفہ، امام مالک شافعی، امام احمد بن حنبل، امام جعفر صادق ان میں سے اسی کے مسلک کو زیادہ تائید ملی جس کی پشت پر کسی حکومت کا ہاتھ تھا۔ وگرنہ اسی دور میں اور بھی بہت سے لوگ تھے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ’’صاحب مذہب‘‘ اور مجتہد تھے آج علماء کا ایک بڑا گروہ کہتا ہے اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔

مثال کے طور پر مشہور درس گاہ جامعہ اشرفیہ لاہور کے مفتی جمیل احمد تھانوی کا فرمان ہے ’’یہ طے شدہ بات ہے کہ تحقیق و تفتیش کا کام پہلی صدی، دوسری صدی اور تیسری صدی ہجری میں پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے اسی کا نام فقہ اسلامی ہے جو ائمہ کی تحقیقات کا مجموعہ ہے۔ لہٰذا اگر تحقیقات اسلامی سے ایسے مفہومات مراد ہوں جو مکمل اور تصحیح شدہ موجودہ دور کی تحقیق اگر اس کے مطابق ہے تو بلا ضرورت ہے اور اگر تحقیق اس کے خلاف ہے تو مردود ہے اس پر امت محمدیہ کا اجماع ہے‘‘ (بحوالہ ہفت روزہ ’’ایشیاء‘‘ 14اگست1978ء)۔

اس کے برعکس علامہ اقبال اپنے خطبات میں اجتہاد پر زور دیتے ہیں اور تجویز کرتے ہیں کہ بہتر ہے مسلمان حکومت جو مجلس شوری بنائے وہ متفقہ فیصلہ سے اجتہاد کرے۔اس بحث کی اگر مزید تفصیل میں جائیں تو ہم اصل موضوع سے دور نکل جائیں گے۔

ہم یہ بتا رہے تھے کہ اجتہاد والے تقلید جامد والوں سے زیادہ پیچیدگیوں میں الجھ جاتے ہیں جو لوگ اجتہاد کی ضرورت پر زور دیتے ہیں ان کا دعویٰ یہ ہے کہ مذہب کی بنیادی کتاب یعنی کلام الٰہی میں صرف اصولی احکام آئے ہیں جزئیات پر زمانہ کے مطابق مجتہد سوچ سمجھ کر مرتب کرتا ہے مگر جیسا کہ آپ نے مفتی جمیل احمد تھانوی صاحب کے بیان میں دیکھا اہل تقلید کے نزدیک جزئیات تیسری صدی ہجری تک جس طرح مرتب کی جا چکیں ان ہی پر عمل واجب ہے۔

اب مفتیان عصر موجود کا کام یہ ہے کہ کسی مسئلہ پر ان ہی متعین کردہ جزئیات کی روشنی میں فتویٰ صادر کریں۔ ان اہل تقلید میں بھی اختلاف ہے شیعہ مسلک تو بالکل جدا گانہ ہے اور وہ الگ بحث کا متقاضی ہے۔اس لئے سردست ہم اہل سنت کہلانے والے حضرات کی بات مکمل کریں گے۔ ان حضرات میں ایک فرقہ تو وہ ہے جسے اہل حدیث کہتے ہیں ان کے نزدیک ائمہ فقہ کی کوئی حیثیت نہیں، خدا نے صرف اپنے احکام کی اور رسول کے احکام کی اطاعت فرض قرار دی ہے، کہیں ابو حنیفہ و مالک وغیرہ کا نام نہیں لیا۔

مقلدین کہتے ہیں ائمہ فقہ ہی کتاب وسنت کے صحیح عالم تھے انہوں نے وسیع اور بیشتر صورتوں میں باہم متناقض و متضاد روایات میں سے جس روایت کو چھانٹ پر کھ کر صحیح سمجھااسی کو بنائے استدلال بنایا اب ہم میں سے کوئی اتنا بڑا عالم کتاب سنت ہے نہ تقویٰ و احتیاط میں ان کا ہمسر، اس لئے ان کوہی تقلید میں نجات ہے چونکہ ان مسالک کو کبھی کسی نہ کسی حکومت کی قوت نافذہ کی پشت پناہی حاصل رہی اس لئے عوام میں سے کم یا زیادہ افراد آج بھی ان کے قائل ہیں۔

ان کے مقابلہ میں فرداً فرداً جن لوگوں نے اجتہاد کیا ان کے سامنے والے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ “جدید دنیا” کی اصطلاح مغربی تہذیب کے غلبہ کے بعد پیدا ہونے والی دنیا کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ یہ دنیا مسلمانوں کے لئے بہت سے مسائل لائی۔ ہم یہاں ایک دوکا ذکر ضروری سمجھتے ہیں۔

غلام لونڈی قدیم سے چلے آتے تھے یونان کو جس وقت اپنی حکمت و دانش پر ناز تھا اور وہ سقراط و افلاطون وارسطو پیدا کر رہا تھا۔اس وقت یونان کا پورا معاشرہ غلاموں سے پٹا پڑا تھا اور حکمائے یونان اسے تذلیل انسانیت نہیں سمجھتے تھے۔ ایک یونان کی بات نہیں غلام داری کا نظام ساری دنیا میں بر سر عمل تھا اور ہر معاشرہ میں ان کی خرید و فروخت کے لئے بھیڑ بکری کی طرح انسانوں کی منڈیاں لگتی تھیں۔

اسلام تکریم انسانیت کا علم بردار بن کر آیا لیکن اس معاشرہ میں بھی غلاموں اور لونڈیوں کا رواج عام تھا۔ اسلام نے ان لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی ہدایت کی اور گناہوں کے کفارے کے طور پر غلاموں کو آزاد کرنے کا حکم دیا۔ ظاہر ہے اس طرح بہت کم غلام آزاد ہوئے لونڈیوں کے ساتھ بغیر نکاح تمتع جائز تھا۔ نکاح کے سلسلہ میں یہ قید تو تھی کہ آزاد عورتوں میں سے بیک وقت چار تک بیویاں رکھی جا سکتی ہیں لیکن لونڈیوں کے لئے کوئی تعداد مقرر نہیں تھی اور بیک وقت کئی لونڈیاں رکھی جا سکتی تھیں۔

غلاموں اور لونڈیوں کی خریدو فروخت بھی جائز رہی اور یہ سلسلہ چلتا رہا۔ یہ غلام جنگی قیدی ہوتے تھے ان میں سے کئی اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک ہوتے اور اپنی قابلیت اور وفاداری کی بنیاد پر بادشاہوں کے منظور نظر ہو جاتے اور تخت حکومت پر قابض بھی ہوتے رہے۔

مشرق وسطیٰ میں ایک دور آیا جس میں یکے بعد دیگرے غلام بادشاہ بنتے رہے اس دور کو ’’ممالیک‘‘ کا دور کہا جاتا ہے خود ہند وستان میں ایک دور کو’’ خاندان غلاماں‘‘ کا دور کہا جاتا ہے اس میں قطب الدین ایبک اور غیاث الدین بلبن جیسے نامور بادشاہ ہوئے یہ غلام ہی تھے۔ اس طرح مسلمان ملکوں میں غلام داری کانظام بڑی مضبوطی سے قائم رہا اور غلاموں، لونڈیوں کے بازار سجتے رہے۔ مغرب بھی یہ کچھ کرتا رہا۔

جب انگریز نے ’’غلام داری‘‘ کو قابل نفرت نظام قرار دیا تو ہندوستان میں ایسے مفکرین اسلام پیدا ہوئے جنہوں نے قرآن سے ثابت کرنا شروع کیا کہ اسلام میں غلامی کی ممانعت ہے۔ ان لوگوں نے یہ دلائل دئیے کہ قرآن میں غلاموں اور لونڈیوں کا ذکر صیغہ ماضی کے طور پر آیا ہے چونکہ معاشرہ میں یہ لوگ رچے بسے تھے اور یک دم انہیں آزاد کر دینا بحران پیدا کرنے کے مترادف تھا اس لئے انہیں آہستہ آہستہ آزاد کرتے جانے کی ترغیب دی گئی۔

سرسید کے مکتب فکر کے لوگ یہی کہنے لگے۔علامہ اسلم جیراجپوری نے ’’تعلیمات قرآن‘‘ نام کی کتاب لکھی تو اس میں کہا قرآن نے ’’سورہ محمد‘‘ میں قوانین جنگ بیان کرتے ہوئے کہہ دیا ’’تو جب کافروں سے تمہارا سامنا ہو تو گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب انہیں خوب قتل کر لو تو مضبوط باندھو پھر اس کے بعد چاہے احسان کر کے چھوڑ دو چاہے فدیہ لے لو‘‘ (ترجمہ احمد رضا خان بریلوی)۔

علامہ اسلم جیراجپوری اور ان کے ساتھی علامہ غلام احمد پرویز نے اس سے یہ استدلال کیا کہ جنگی قیدیوں کے متعلق صاف کہہ دیا گیا ہے کہ’’ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دویا احسان دھر کر چھوڑ دو‘‘ تیسری کوئی صورت نہیں گویا خدا کا منشا یہ ہے کہ انہیں ہر حال میں چھوڑنا ہے آج بھی لوگ کہتے ہیں اسلام غلامی کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ اسلم جیراجپوری اور غلام احمد پرویز کا نام نہیں لیتے لیکن ان کی اسی بات کو اس طمطراق سے دہراتے ہیں جیسے یہ ان کی اپنی تحقیق ہو۔

بہرحال یہ ان لوگوں کا اجتہاد تھا جنہیں ’’منکر حدیث کہا جاتا ہے۔ اہل تقلید کہتے ہیں یہ آیت شاید ابتدائی حکم کے طور پر تھی جب اسلام کو زیادہ زور اور قوت نصیب نہیں ہوئی تھی اور جب لڑائی اُن قریش مکہ کے خلاف تھی جن کے لئے بالخصوص مسلمان مہاجرین کے دلوں میں کسی نہ کسی وابستگی کے باعث نرم گوشے تھے۔ مثال کے طور پر جنگ بدر ہے جس میں کفار کی طرف سے جنگ کرتے ہوئے جنگی قیدیوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا اور آپ کے داماد بھی شامل تھے۔

ان حضرات کے نزدیک یہ آیت منسوخ ہو گئی تھی۔ احمد رضا خان بریلوی کے ترجمہ قرآن ’’کنز الایمان‘‘ کے حاشیہ نگار مولانا نعیم الدین مراد آبادی لکھتے ہیں ’’مشرکین کے اسیروں کا حکم ہمارے نزدیک یہ ہے کہ انہیں قتل کیا جائے یا مملوک (غلام) بنا لیا جائے اور احساناًچھوڑنا اور فدیہ لینا جو اس آیت میں مذکور ہے وہ حکم سورہ برات کی آیت ’’اقتلوالمشرکین‘‘ سے منسوخ ہو گیا‘‘ (حاشیہ نمبر 3زیرآیت4/47) سورہ برات جس آیت کو اس آیت کاناسخ قرار دیا گیا ہے اس کا ترجمہ دیکھ لیجئے اس میں کیا گیا ہے ’’تو مشرکوں کو مارو جہاں پاؤ اور انہیں پکڑو اور قیدی بنا لو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو‘‘(5/9) اس آیت میں فدیہ لے کر یا احساناًَ چھوڑنے کا کوئی ذکر نہیں بس قیدی بنا لینے کا حکم ہے پس یہی اصل حکم ہے۔

ہندوستان میں انگریزوں کی آمد کے بعد اسلام کی طرف رجوع کی جو تحریکیں چلیں ان میں ایک تحریک مولانا مودودی نے بھی شروع کی جس کا نام ’’جماعت اسلامی‘‘ رکھا۔ مولانا مودودی نے اپنے ماہنامہ ترجمان القران میں علامہ اسلم جیراجپوری کی تصنیف ’’تعلیمات قرآن‘‘ میں چھیڑے گئے موضوع ’’غلام اور لونڈیاں‘‘ پر سخت تنقید کی خود حضور کے عمل اور تعامل صحابہ کے ساتھ مسلمانوں کی پوری تاریخ کو گواہ بنا کر یہ ثابت کیا کہ اسلام میں غلام اور لونڈیوں کی کوئی ممانعت نہیں بعد میں ان کا یہ مضمون ان کی کتاب تفہیمات حصہ دوم میں شامل کیا گیا۔

انہوں نے صاف کہا کہ اسلم جیراجپوری اور اس قبیل کے دوسرے لوگ جو غلام اور لونڈیوں کا عدم جواز قرآن حکیم سے ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ انگریز کے افکار سے مرعوب ہیں اور ان کا اسلام معذرت خواہانہ ہے۔ ابراہام لنکن نے جب یہ تاریخی جملہ کہہ کر غلام داری کو ختم کرنے کی بات کی کہ

’’As I don’t want to be a slave, I don’t want to be a master ‘‘

اور ’’یو این او‘‘ کے چارٹر میں انسانی غلامی کو ممنوع قرار دے دیا گیا تو بھی مولانا مودودی اسلام میں غلام لونڈیوں کا جواز ثابت کرتے رہے۔ مولانا مودودی اپنی مشہور تفسیر قرآن ’’تفہیم القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں ’’جو عورتیں جنگ میں گرفتار ہوں حکومت کو اختیار ہے کہ چاہے ان کو رہا کر دے، چاہے ان سے فدیہ لے چاہے ان کا تبادلہ مسلمان قیدیوں سے کر لے جو دشمن کے ہاتھ میں ہوں اور چاہے تو انہیں سپاہیوں میں تقسیم کر دے ‘‘ (تفہیم القرآن جلد دوم مطبوعہ1951ء صفحہ340)۔

گویا مولانا مودودی ’’فدیہ لے کر چھوڑ دینے یا احساناً چھوڑ دینے ‘‘ والی آیت کو مولانا نعیم الدین مرادآبادی اور ان کے ہمنوا دیگر علماء کی طرح منسوخ نہیں کہتے وہ اسے بھی باقی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں اگر صورت حال یہ ہے کہ حکومت احساناً’’ نہیں چھوڑ سکتی فدیہ بھی ادا نہیں کیا جاتا تو انہیں اپنے سپاہیوں میں تقسیم کر دے۔ ان عورتوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم رکھنے کے سوال پر مولانا فرماتے ہیں ’’جنگ میں گرفتار ہونے والی عورتوں کے لئے (جب کہ ان کا تبادلہ ہو اور نہ فدیہ وصول کیا جا سکے) اس سے بہتر اور کیا حل ہوسکتا ہے کہ جو عورت حکومت کی طرف سے جس شخص کی ملکیت میں دے دی جائے اس کے ساتھ اس شخص کو جنسی تعلقات قائم کرنے کا قانونی حق دے دیا جائے‘‘ (تفہیم القرآن جلد دوم مطبوعہ اگست1951صفحہ323)۔

لونڈیوں کے سلسلہ میں تعداد کی بھی کوئی پابندی نہیں اور ان کی خرید و فروخت بھی جائز ہے (ایضاً ص323-24) مولانا نے اپنے خیال کے مطابق ’’حوروں‘‘ کی بھی وضاحت کر دی ان سے سوال کیا گیا کہ کفار کی جو بچیاں کم سنی میں فوت ہو جاتی ہیں انہیں جنت میں کیا بنایا جائے گا تو انہوں نے جواب دیا’’ میں یقین سے نہیں کہا سکتا البتہ میرا خیال ہے کہ جنت میں جو حوریں ہو گی وہ یہی کفار کی لڑکیاں ہوں گی‘‘ (ہفت روزہ ایشیاء14-06-1969)۔

’’حوروں‘‘ اور ’’بیویوں‘‘ کی حدود کار بھی مولانا نے بتا دیں فرماتے ہیں’’ یہ حوریں بیویوں کے علاوہ ہوں گی بیویاں جنتی مردوں کے ساتھ محلات میں ہوں گی لیکن جب وہ پکنک منانے کے لئے باہر جائیں گے تو ان کی سیرگاہوں میں جگہ جگہ خیمے لگے ہوں گے جن میں حوریں ان کے لئے لطف و لذت کاسامان فراہم کریں گی‘‘ (تفہیم القران جلد پنجم ص 35)۔

یہ باتیں اس وقت کہی جا رہی ہیں جب جدید دنیا غلامی کو بین الاقوامی طور پر ممنوع قرار دے چکی ہے۔ مولانا مودودی کے تربیت یافتہ ڈاکٹر اسرار احمد ہیں اب وہ جماعت اسلامی سے الگ ہو کر اپنی ایک مذہبی جماعت بنا لی جس کے وہ خود ہی امیر تھے۔ ان سے غلام لونڈیوں کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے یہ عجیب بد حوا سانہ جواب دیا فرماتے ہیں ’’قرآن میں اس کے (غلامی کے) خاتمے کی کوئی آیت نہیں لیکن اسلام کے نزدیک غلام بنانا شرک ہے‘‘؟؟ لیکن لونڈیوں کے معاملہ میں تمتع کی اجازت ہے نکاح ضروری نہیں‘‘ (روز نامہ ’’جنگ‘‘ لاہور مورخہ 12فروری1983ء)

بھٹو صاحب کے دور میں جمیعۃ العلمائے اسلام کے مولانا نعمت اللہ صاحب قومی اسمبلی کے رکن تھے انہوں نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا’’ غلامی کو منسوخ کرنا خلاف اسلام ہے اس لئے جو شخص ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو ایسا انتظام کیا جائے کہ کم از کم ایک لونڈی رکھ سکے‘‘ (پاکستان ٹائمز1-3-1973)۔

اسلم جیرا جپوری اور غلام احمد پرویز نے جس آیت سے استدلال کیا ہے اس کے جواب میں علماء نے کہا’’ اگر غلامی کو ممنوع ٹھہرانا ہوتا تو خدا نے صاف کہہ دیا ہوتا غلامی ممنوع ہے اُسے سیدھی بات کرنے کا طریقہ بھی آتا ہے یہ کہ فدیہ رکھ کر چھوڑ دو یا احساناً کہہ کر خاموشی اختیار کر لی۔ پوری تاریخ علما کی تائید کر تی ہے۔

علامہ احمد امین مصری یہی بحث چھیڑ کر بتاتے ہیں ’’بغداد میں غلام اور لونڈیوں کی تجارت عام تھی ایک بازار کا نام ہی ’’شارع دارالرقیق‘‘ (غلاموں کا بازار) تھا۔ غلاموں کی تجارت کرنے والوں کو نخاس کہا جاتا یہ لفظ دراصل مویشیوں کی تجارت کرنے والوں کے لئے تھا، بعد میں غلاموں اور لونڈیوں کے تاجروں کے لئے بولا جانے لگا۔ حکومت کی طرف سے ان پر ایک انسپکٹر مقرر ہوتا تھا جسے ’’قیم الرقیق‘‘ کہتے تھے‘‘ (ضحی الاسلام)۔

قرآن حکیم کی بہت سی آیات میں غلاموں اور لونڈیوں کا ذکر ہے اور ان کے متعلق مسائل بھی بیان کئے گئے ہیں م؟ثلاًَ اگر ایک لونڈی زنا کی مرتکب ہوتو اُسے آزاد عورت سے نصف سزادی جائے وغیرہ، کتب حدیث فقہ کے طویل ابواب غلاموں اور لونڈیوں کے مسائل سے بھرے پڑے ہیں علمائے کرام کی زندگی کا ایک حصہ ان ہی مسائل کو پڑھنے اور سمجھنے میں گزر جاتا ہے وہ کہتے ہیں تفسیر حدیث اور فقہ کا یہ کثیر حصہ اس بات پر تو دریا برد نہیں کیا جا سکتا کہ انگریزوں نے جدید دنیا میں غلامی کو ممنوع قرار دے دیا ہے۔

اور انگریزوں سے مرعوب ذہن رکھنے والے چند تجدد پسند قرآن کی ایک آیت کو کھینچ کھانچ کر انگریزوں کی سوچ پر اپنی سبقت دکھانے کے چکر میں وہی کچھ کہہ رہے ہیں جو آج انگریز کہہ رہا ہے۔ اگر اس آیت کا یہی مفہوم تھا تو صحابہ کرام اور سلف صالحین سے کیوں پوشیدہ رہا؟ قرآن ہی کی آیت ہے ہمیشہ سے قرآن میں موجود چلی آتی ہے اور مسئلہ بھی ایسا ہے کہ اس سے انسانوں کی کثیر تعداد ہر زمانہ میں متاثر ہوتی رہی ہے۔ لاکھوں انسان جنگوں میں قیدی بنتے اور پھر غلامی کی ذلت میں مبتلا ہوتے رہے ہیں انہیں جنس تجارت بنایا جاتا رہا ہے، جانوروں کی طرح ان کی منڈیاں سجتی رہی ہیں یہ سب کچھ مذہب کے نام پر ہوتا رہا ہے مگر کسی مجتہد اور کسی فقیہ نے یہ آیت پیش کر کے اس ظلم کو نہیں روکا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے علماء کے یہ تمام اعتراضات تجدد پسندوں کو خاموش کر دیتے ہیں۔ ادھر جدید دنیا میں غلامی کسی طرح بھی قابل برداشت نہیں۔

اب ہم ایک اور مسئلہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ مذہب کوئی بھی ہو۔اس کا دعویٰ ہوتا ہے کہ اُسی کو دنیا پر غالب آنا ہے کیونکہ اسی کے پاس انسان کے تمام مسائل کا حل موجود ہے اسلام بھی یہی دعویٰ لے کر میدان عمل میں آیا یہ اپنے ’’زورِ دروں‘‘ سے جلد ہی اس قابل ہو گیا کہ مختلف سلطنتوں کو زیر کرسکے۔

ابتدائی قبائلی معاشرت کے مسائل سادہ تھے قبائلی انداز میں انہیں حل کیا جاتا رہا۔ جب مسلمان قیصر روم کے علاقوں پر قابض ہوئے تو انہیں متمدن دنیا سے واسطہ پڑا۔ خوش قسمتی سے اس دور کا ترقی یافتہ قانونی نظام ’’رومن لاء‘‘ کی صورت میں ان کی رہنمائی کے لئے موجود تھا۔ امام ابوحنیفہ اور اُن کے شاگردوں کی محنت سے قوانین مدون ہوئے۔ان قوانین کی تدوین میں اسلام کے سادہ سے چند احکام اور ’’رومن لاء‘‘ کا ذخیرہ ان کے پیش نظر تھا۔

اس طرح فقہ حنیفہ مرتب ہوئی یہ فقہ مسلمانوں کی حاکمیت کے دور میں مدون ہوئی اس لئے اس نے مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کر دی کہ وہ پیدا ہی حکمرانی کے لئے ہوئے ہیں۔ دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا’’دارالاسلام‘‘ اور ’’دار لکفر‘‘ جن علاقوں پر مسلمان حاکم تھے اور جہاں ان کا قانونی نظام برسرِ عمل تھا وہ ’’دارالسلام‘‘ قرار پائے اور جہاں مسلمانوں کی حکومت نہیں تھی انہیں ’’دار الکفر‘‘ شمار کیا گیا۔ ابتدائی معاشرت سادی تھی آبادیاں کم تھیں زمین وسیع تھی لوگوں کے لئے ہجرت آسان تھی’’پاسپورٹ‘‘ اور ’’ویزا‘‘ وغیرہ کی یہ پابندیاں نہ تھیں۔ قرآن حکیم میں یہ آیات وارد ہوئی تھیں۔

’’وہ لوگ جن کی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے اُن سے فرشتے کہتے ہیں ’تم کا ہے میں تھے‘ وہ کہتے ہیں ہم زمین میں کمزور تھے کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے، تو ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت بُری جگہ ہے پلٹنے کی، مگر وہ جو دبا لیے گئے مرد، عورتیں اور بچے جنہیں کوئی تدبیر بن نہ پڑے نہ راستہ جانیں تو قریب ہے اللہ ایسے لوگوں کو معاف فرمائے اور وہ معاف فرمانے والا بخشے والا ہے‘‘ (کنز الایمان 4/97-99)۔

ان آیات کی شان نزول بیان کرتے ہوئے مولانا نعیم الدین مراد آبادی لکھتے ہیں ’’یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے کلمہ اسلام کو زبان سے ادا کیا مگر جس زمانہ میں ہجرت نہ کی اور جب مشرکین جنگ بدر میں مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے گئے تو یہ لوگ ان کے ساتھ ہوئے اور کفار کے ساتھ ہی مارے بھی گئے۔ ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ کفار کے ساتھ ہونا اور فرض ہجرت ترک کرنا اپنی جان پر ظلم کرنا ہے‘‘ (حاشیہ آیت مذکورہ) مولانا مراد آبادی آگے کہتے ہیں ’’ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ جو شخص کسی شہر میں اپنے دین پر قائم نہ رہ سکتا ہو اور یہ جانے کہ دوسری جگہ جانے سے اپنے فرائض دینی ادا کرسکے گا اس پر ہجرت واجب ہو جاتی ہے‘‘

’’دارالاسلام‘‘اور ’’دار الکفر‘‘ کی اصطلاحات کے ساتھ ’’دار الامن‘‘ اور ’’دار الحرب‘‘ کی اصطلاحات بھی فقہ میں وضع ہوئیں اور مسلمانوں کے لئے فقہ مدون کرتے رہتے ہیں جہاں انہیں فرائض مذہبی (نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ) ادا کرنے کی آزادی ہے اور وہ حفظ و امان میں ہیں تو وہ ملک ’’دار الامن‘‘ ہیں وہاں مسلمان رہ سکتے ہیں مگر وہ کوشش کرتے رہیں کہ اس ملک میں اسلام کا غلبہ ہو اور یہ دارالاسلام بن جائے۔ رہے وہ ملک جہاں حکومتیں فرائض مذہبی کی ادائیگی میں رکاوٹ ڈالتی ہیں تو وہ ممالک ’’دار الحرب‘‘ ہیں یعنی حکومت کے ساتھ مسلح تصادم کیا جائے تو بھی جائز ہے لیکن اگر یہ طاقت نہ ہو تو ہجرت ضروری ہے۔

ہندوستان میں جب انگریزوں نے اقتدار حاصل کر لیا تو کچھ علماء نے اسے ’’دار الحرب‘‘ قرار دے دیا اور مسلمانوں کو ہدایت کی کہ وہ یہاں سے ہجرت کرکے’’دارالسلام‘‘ چلے جائیں چنانچہ اسی ہدایت کے تحت کچھ علماء حجاز چلے گئے اور کچھ نے مسلمان ریاستوں میں رہائش اختیار کر لی بعض علماء نے تو یہ کر لیا لیکن عوام مشکلات کا شکار تھے انہیں کسی طرح رزق کمانا تھا مسلمان سپاہی ہندو راجاؤں کے ہاں ملازم ہو گئے انہیں اگر مسلمان ریاستوں کے مسلمان سپاہیوں کے خلاف جنگ کرنا پڑتی تھی تو وہ ایسا کرتے اسی طرح انگریز کی ملازمت کا معاملہ تھا۔

شاہ عبدالعزیز فرزند شاہ ولی اللہ نے فتویٰ دے دیا کہ انگریزوں کی ملازمت جائز ہے ہندوستان ’’دار الحرب‘‘ نہیں مگر انگریز کی ملازمت میں یہ احتیاط کی جائے کہ اس کی فوج میں بھرتی نہ ہوا جائے کہ کہیں مسلمانوں سے جنگ کی نوبت نہ آ جائے۔ جب ملازمت اختیار کی جائے تو وہ وفاداری سے اپنے فرائض سنبھالے جائیں لیکن انگریزوں کے ساتھ ثقافتی اور معاشرتی تعلقات نہ رکھے جائیں۔ ان کے برتنوں میں کھایا پیا جائے ان کے تہواروں اور عبادت گاہوں میں جانے سے بھی پرہیز کیا جائے۔

شاہ عبد العزیز کے اپنے بھتیجے شاہ عبدالحئ بھی اسی اجازت کے تحت ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم ہو گئے۔ مگر جیسا کہ پچھلی قسط میں ہم بتا چکے ہیں یہ بات علماء کے فتوؤں تک محدود رہی عام مسلمان معاشی و اقتصادی حالات کے پیش نظر انگریزوں کی فوج میں بھی ملازم ہوئے اور مسلمان سپاہیوں سے جنگ بھی کرتے رہے۔

فتوے اپنی جگہ رہے اور عام مسلمان اپنے حالات کے مطابق اپنی راہ نکالتے رہے انگریز پوری طرح ہندوستان پرچھا گئے اور ان کے اس تسلط میں بھی اہل ہند اور خود مسلمانوں نے بڑا کردار ادا کیا۔ پھر پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی۔ 1912تا1914میں بلقان کی جنگیں ہوئیں اور اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کے تحفظ اور خود ترکی کا خلافت کے بچانے کا سوال پیدا ہو گیا۔ اس وقت مسلمان مفکرین کیا کرتے تھے؟

انہوں نے تحریک خلافت شروع کی اس میں علماء لمبی لمبی تقریریں کر رہے تھے اور اپنی عادت کے مطابق مسلمانوں کے جذبات بھڑ کانے کے لئے طرح طرح کے الزامات گھڑ رہے تھے مہاتما گاندھی بھی تحریک خلافت میں شانہ بشانہ تھے ایک ہندو مورخ بی۔ آر نندہ لکھتا ہے ’’قسم قسم کی افواہیں پھیل رہی تھیں برطانوی ہندوستان میں قرآن حکیم کی تعلیم پر پابندی لگنے والی ہے، مکہ مکرمہ اور مدنیہ منورہ پر انگریزوں نے قبضہ کر لیا ہے، کعبہ کو تباہ کر دیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ‘‘ )پان اسلامزم: امپیریلزم اینڈ نیشنلزم از بی آر نندہ)۔

بعض علماء نے ہندوستان کو دار الحرب قرار دے دیا مولانا ابوالکلام آزاد نے فتویٰ جاری کیا اور ہجرت کی ہدایت کی۔’’تمام دلائل شرعیہ، حالات حاضرہ، مصالح مہمہ امت، مقتضیات صالحہ و موثرہ پر نظر ڈالنے کے بعد پوری بصیرت کے ساتھ اس اعتقاد پر مطمئن ہو گیا ہوں کہ مسلمانان ہند کے لئے بغیر ہجرت کے کوئی چارہ نہیں ان تمام مسلمانوں کے لیے جو اس وقت ہندوستان میں سب سے بڑا عمل انجام دینا چاہتے ہیں ضروری ہے کہ ہندوستان سے ہجرت کر جائیں‘‘۔

اس فتویٰ کو مولانا عبدالباری فرنگی محلی کی تائید و حمایت بھی حاصل تھی اس فتویٰ کا اثر ہوا اور کئی مسلمان خاندان ہندوستان میں اپنی جائیدادیں اونے پونے بیچ کر افغانستان کو ہجرت کر گئے۔ دس ہزار راستے کی صعوبتوں یا افغانستان میں دھکے کھاتے ہوئے لقمہ اجل بنے۔افغانستان میں ان کے ساتھ بے انتہا بدسلو کی ہوئی یہ تحریک آوارگیِ فکر کا بد انجام مظاہرہ ثابت ہوئی۔

ادھر مسلمانوں کے دوسرے حکیم الامت، مفکر اسلام علامہ اقبال کے متعلق بھی پڑھتے چلئے۔ لاہور کے ٹاؤن ہال میں جنگ عظیم کے مصارف کے لئے رقم جمع کرنے اور فوجی بھرتی کی ترغیب دینے کے لئے گورنر پنجاب سرمائیکل اوڈوائر کی صدارت میں جلسہ ہو رہا تھا۔ ہمارے مفکر اسلام میں انگریز کو اپنی وفاداریوں کا یقین دلاتے ہوئے اور ہدیہ عقیدت میں اپنی جان پیش کرتے ہوئے ایک خوبصورت نظم سنار رہے تھے جس کا ایک بند آپ بھی پڑھ لیجئے۔

اخلاص بے غرض ہے صداقت بھی بے غرض،

خدمت بھی بے غرض ہے اطاعت بھی بے غرض

عہد وفا و مہرو محبت بھی بے غرض

تخت شہنشہی سے عقیدت بھی بے غرض

ہنگامہ وغاء میں سرا سر قبول ہو

اہل وفا کی نذر محقر قبول ہو

(سرودِ رفتہ)۔

بعد میں گورنر پنجاب سرمائیکل اوڈوائر نے پنجاب کے مسلمانوں کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے اپنی خود نوشت میں لکھا ’’سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پنجاب کی نصف سے زیادہ آبادی مسلمان ہے اور جن لوگوں کو دیہاتی مسلمانوں کے متعلق صرف سطحی علم حاصل تھا وہ خیال کرتے تھے کہ ایسی جنگ کے لئے جو ترکوں کے خلاف ہے اور جو مصر، فلسطین اور عراق جیسے اسلامی ممالک میں جہاں اسلامی مقدس مقامات ہیں لڑی جا رہی ہے مسلمان بھرتی نہیں ہوں گے مگر یہ سب مایوسانہ خیالات باطل ثابت ہوئے۔

جنگ کی ابتداء میں صرف ایک لاکھ پنجابی سپاہی تھے مگر جنگ کے اختتام تک یہ تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ دوران جنگ تقریباًَ تین لاکھ ساٹھ ہزار سپاہی بھرتی ہوئے جو کل ہندوستان کی بھرتی کے نصف سے زائد تھے اور ان میں سے نصف پنجاب کے مسلمان تھے جو یہ جانتے ہوئے بھرتی ہو رہے تھے کہ وہ ترکوں کے خلاف جنگ کرنے جا رہے ہیں‘‘ (’’انڈیا آیز آئی نیواٹ‘‘ ازسرمائیکل اوڈوائر ص415)۔

یہاں ایک اور بات بھی دیکھتے جائیں کہ اس وقت علماء نے ہجرت کو ضروری قرار دیا کیونکہ ان کے نزدیک ہندوستان دار الحرب ہو گیا تھا جب تقسیم ہند ہوئی اور مسلمان پاکستان کی طرف ہجرت کرنے لگے تو علماء کیا کہتے تھے۔

مولانا شبیر احمد عثمانی مسلم لیگ کے ساتھ تھے وہ فرما رہے تھے ’’رسول خدا نے بھی ہجرت کی تھی اور وہ بھی مکہ سے مدینہ جاتے ہوئے اپنا سب کچھ چھوڑ گئے تھے لہٰذا مسلمانان ہند کو سنت رسول کی پیروی کرتے ہوئے پاکستان جا کر پاکستان کو مدینہ بنایا چاہیے ‘‘۔

مولانا حسین احمد مدنی جو ’’قوم پرست‘‘ علماء کے ساتھ تھے فرما رہے تھے ’’اپنے پیچھے اپنے آباء و اجداد کی قبریں، اپنی مسجدیں، اپنی تاریخی عمارات اور اپنے ثقافتی اثاثے چھوڑ کر نہ جاؤ کہ تم چلے گئے تو ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہو گا اور یہ سب کچھ برباد ہو جائے گا‘‘

اور وہی مولانا ابوالکلام آزاد جن کا تحریک خلافت کے دوران ہجرت کے لئے فتویٰ ابھی ابھی آپ نے پڑھا انہوں نے تقسیم ہند کے بعد اکتوبر 1947ء میں جامع مسجد دہلی میں اپنی وہ یادگار تقریر کی جوان کی دوسری تحریروں اور تقریروں کی طرح خطابت اور ادب عالیہ کی خوب صورت مثال ہے،اس میں انہوں نے فرمایا

’’یہ فرار کی زندگی جو تم ہجرت کے مقدس نام پر اختیار کی ہے اس پر غور کرو، اپنے دلوں کو مضبوط بناؤ اپنے دماغوں کو سوچنے کی عادت ڈالو اور پھر دیکھو کہ تمہارے فیصلے کتنے عاجلانہ ہیں، آخر کہاں جا رہے ہو اور کیوں جا رہے ہو؟‘‘ گویا اب ہندوستان کی حیثیت کچھ اور ہو گئی تھی اور ہجرت غیر ضروری تھی جب کہ کچھ دوسرے علماء اسے اب بھی ضروری قرار دے رہے تھے۔۔

یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ مسلمان علماء جدید دنیا کو سمجھ نہ سکے تھے۔ ان کی سوچوں میں انتشار تھا۔ وہ دور جس میں مذہب کے نام پر جنگیں ہوتی تھیں کبھی محمود غزنوی بت خانے توڑ رہا ہوتا تھا کبھی وحشی عیسائی صلیبی جنگوں کے نام پر انسانی لہو سے زمین کا چہرہ لال کر رہے ہوتے تھے۔ وہ دور ختم ہو گیا تھا زمانہ آگے بڑھ گیا تھا اب جنگوں کے اسباب کچھ اور ہو گئے تھے اب وہ بات نہیں رہی تھی کہ زمین وسیع ہے جہاں مرضی آئے چلے جاؤ۔اب ایک ملک سے دوسرے ملک جانے میں لاکھوں قسم کی پابندیاں ہیں۔ ہر ملک ایک خاص خطۂ ارض میں محدود ہے وہ بمشکل پہلے سے موجود آبادی کا بوجھ سہارسکتا ہے۔

ہم نے پاکستان بنا لیا بہت سے مسلمان ہجرت کر کے ادھر آ گئے لیکن اب بھی بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کی آباد ی ہم سے زیادہ ہے۔ کیا پاکستان میں اتنی گنجائش ہے کہ ان تمام مسلمانوں کو بھی اپنے ہاں بسالے جو بھارت میں ہیں؟ اس سوال کا جواب یقیناً نفی میں ہے۔ پاکستان نے تو اپنے دروازے ان غریب بہاری مسلمانوں پر بھی بند کر رکھے ہیں جنہوں نے پاکستان کے لئے ووٹ دئیے تھے۔ ان حالات میں’’دارالاسلام‘‘ اور ’’دار الکفر‘‘ والی فقہ کیا رہنمائی کرسکے گی اور مسلمان ’’دار الکفر‘‘ سے ہجرت کر کے کہاں جا سکیں گے؟

آج مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد یورپ ایشیاء اور دیگر براعظموں میں بکھری ہوئی ہے وہاں سیکولر قوانین کے تحت زندگی بسر کر رہی ہے ہمارے تنگ نظر فقہاء صدیوں پہلے کی ’’دارالسلام‘‘ اور ’’دار الکفر‘‘ والی تقسیم پر اب بھی جان دیتے ہیں ہم انہیں معذورسمجھتے ہیں مگر ہمیں حیرت ہوتی ہے حکیم الامت علامہ اقبال پر جنہوں نے جدید دنیا کھلی آنکھوں سے دیکھی مگر ’’واہ واہ‘‘ کرانے کے لئے ایسی شاعری کرتے رہے۔

ان غلاموں کو یہ فتویٰ ہے کہ ناقص ہے کتاب

کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق

حضرت علامہ سے کون کہتا کہ قبلہ غلام بے چارے کیا فتویٰ دیں گے؟ وہ تو آپ سے اور آپ کے شعروں پر گزارہ چلانے والے علماء سے پوچھتے ہیں کہ آج مسلمان بہتر روزگار،بہتر حالات کار، بہتر زندگی اور امن وسکون کی تلاش میں مسلمان ملکوں سے ہجرت کر کے یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں کو جا رہے ہیں یہ وہاں جا کر کیا کریں، ان ملکوں سے وفاداری نبھائیں جہاں سے یہ پُر سکون طریقہ سے محنت کا صحیح معاوضہ وصول کرتے اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے بفراخی رزق کماتے ہیں یا وہاں اپنی خداوندی آقائی کا ڈنکا بجانے کے لئے کلاشنکوفیں اٹھا لیں۔

اسلام کی طرف رجوع کی تحریکوں کو بڑھاوا دینے میں ہمارے حکیم الامت علامہ اقبال کی شاعری کا بڑا ہاتھ ہے۔ انہوں نے شاہینوں اور عقابوں والی شاعری سے مسلمانوں کا لہو خوب گرمایا اور طارق بن زیاد کے پردے میں خداسے یہ دعا کی۔

دل مرد مومن میں پھر زندہ کر دے

وہ بجلی کہ تھی نعرۂ ’’لا تذر‘‘ میں

’’لا تذر‘‘ کی تلمیح سمجھنے کے لئے ہم کچھ اجمالی اشارات کئے دیتے ہیں۔قرآن حکیم میں حضرت نوح علیہ اسلام کی دعا درج ہے جو انہوں نے اپنی قوم سے مایوس ہو کر کی تھی اس دعا ’’یا بددعا‘‘ میں انہوں نے کہا ’’رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا (اے میرے پروردگار زمین میں ایک کافر بھی نہ چھوڑ) یہلا تذر (نہ چھوڑ) نوح علیہ اسلام کی تو دعا تھی، علامہ اقبال نے اسے نعرہ بنا کر اپنے غازیوں اور خدا کے پراسرار بندوں کے ہونٹوں پر جما دیا اور اپنے آپ کو ’’دارلاسلام ‘‘ اور ’’دار الکفر‘‘ کی فقہ مرتب کرنے والوں کا سرخیل بنا لیا۔

ان ہی عجیب و غریب تعلیمات نے آج دنیا میں’’مسلمانوں‘‘ کہ بحیثیت قوم ’’فسادپسند‘‘ مشہور کر دیا ہے اور حالت یہ ہے کہ دنیا کے جس ملک میں کوئی مسلمان نظر آتا ہے لوگ چیخ اٹھتے ہیں

روکو اسے یہ شخص پھر لے کر خدا کا نام

شجر زقوم بوئے گا پھولوں کے شہر میں

ہمارے لفافہ گیر کالم نگار بڑے جوش و خروش سے کہتے ہیں کہ یہ اسلام دشمن لوگوں کا پروپیگنڈا ہے مگر انھیں یہ پراپیگنڈہ کرنے کے شواہد ہم نے ہی دنیا کو اسی طرح تقسیم کر کے اور ’’لا تذر‘‘ کے نعرے تخلیق کر کے فراہم کئے ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد 1953ء میں تحریک ختم نبوت چلی اس کے بعد جسٹس منیر کا تحقیقاتی کمیشن بیٹھا۔اس کمیشن نے علماء سے مختلف سوالات کئے۔ایک آدھ سوال کے علمائے پاکستان کی طرف سے دئیے گئے جوابات ملاحظہ فرمائیے اور پھر سوچئے کہ کیا اس طرح کے نظریات رکھنے والے لوگ جدید دنیا میں مسلمانوں کے رہنما ہوسکتے ہیں۔

کمیشن کی طرف سے ایک سوال اٹھایا گیا ’’ان مسلمان اقلیتوں کے بارے میں کیا رائے ہے جو غیر مسلمان ممالک میں ہیں؟‘‘ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری ان علماء میں شامل تھے جو قوم پر ست کہاتے تھے اور جنہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی مگر جب پاکستان بن گیا تو انھوں نے کہا عوام نے ہماری تائید نہیں کی، مسلم لیگ کا ساتھ دیا ہے اس لیے ہم نے عوام کا فیصلہ تسلیم کر لیا ہے اب ہم پاکستان کے وفادار شہری ہیں۔

انہوں نے مذکورہ بالا سوال کے جواب میں فرمایا ’’یہ ناممکن ہے کہ ایک مسلمان غیر مسلمان ملک کا وفا دار شہری ہوسکے‘‘ جب پوچھا گیا ’’کیا بھارت کے مسلمانوں کا یہ فرض نہیں کہ وہ اپنے ملک کے وفادار شہری ہو گی تو بخاری صاحب نے فرمایا ’’ہرگز نہیں‘‘۔

امیر جماعت اسلامی مولانا سیدابوالاعلی مودودی سے پوچھا گیا ’’آپ اپنے ملک کا دستور اپنے مذہب کے مطابق بناتے ہیں اور اقلیتوں کو اپنی رائے دینے کا حق نہیں دیتے کیا ہندوؤں کو اجازت دیں گے کہ وہ بھی اپنے ملک کا دستور اپنے مذہب کے مطابق بنائیں؟‘‘ تو مولانا نے کہا ’’یقیناً ہندوؤں کو یہ حق حاصل ہو گا اور مجھے اس پر قطعاً کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔اگر منو کے شاستروں کے مطابق ہندوؤں کی حکومت میں مسلمانوں کو شودر اور ملیچھ کے طور پر رکھا جائے، انہیں حکومت میں حصہ دار نہ بننے دیا جائے اور بطور شہری انہیں حقوق نہ دئیے جائیں‘‘۔

منیر کمیشن نے ایک اور سوال پوچھا ’’اگر پاک بھارت جنگ ہو جائے تو بھارتی مسلمانوں کا کیا فرض ہو گا وہ کس کا ساتھ دیں؟ بریلوی عالم مولانا ابوالحسنات نے فرمایا ’’ان کا فرض ہے کہ وہ ہمارا ساتھ دیں اور بھارت کے خلاف لڑیں جب یہی سوال مولانا مودودی سے کیا گیا تو انہوں نے اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا ’’انہیں پاکستان کے خلاف نہیں لڑنا چاہیے اور نہ ہی کوئی ایسا قدم اٹھانا چاہیے جس سے پاکستان کے تحفظ کو نقصان پہنچے‘‘۔

غور کیجئے اگر مسلمانوں کے نظریات یہ ہوں تو کیا غیر مسلم حکومتیں انہیں اپنے شہریوں کے طور پر قبول کر سکتی ہیں؟ اور خاص طور پر جب غیر مسلم ارباب سیاست کے ذہن میں بٹھا دیا جائے کہ ’’مسلمانوں کی کتاب‘‘ مسلمانوں کی صرف ’’آقائی و خداوندی‘‘ سکھاتی ہے۔ اس لیے یہ جہاں بھی رہیں گے اس ملک کے وفادار شہری نہیں ہوسکتے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ نظریاتی سیاست کی حامل جو پارٹی ہو وہ اپنے نظریات کو غالب کر کے قیادت کی باگ دوڑ اپنے ہاتھوں میں لینا چاہتی ہے لیکن آج کی دنیا میں جمہوری طریقہ یہ ہے کہ سیاسی جماعت عوام کو اپنے اعلیٰ منشور کے ذریعے اپنے ساتھ ملائے اور پھر اسمبلی میں اکثریت حاصل کر کے برسراقتدار آئے لیکن افسوس ہے کہ مسلمانوں کو مذہبی رہنماؤں نے علم و دانش سے آراستہ کر کے لوگوں کے دماغوں کو فتح کرنے کا طریقہ نہیں سکھایا کیونکہ وہ خود ان باتوں سے دور معین الدین اجمیری نے اسی راستے سے اسلام کی اشاعت کی تھی۔

مگر ہمارے علماء ان چیزوں کو بھی نہیں جانتے وہ صرف ایک طریقہ سے واقف ہیں اور وہ یہ کہ مسلح جدوجہد یاکسی طریقہ سے اقتدار پر قبضہ کر لیا جائے اور پھر بزور شمشیر اسلام نافذ کیا جائے اور اسلام کی طرف رجوع اکثر تحریکیں یہی عمل کرتی ہیں یا یہی عمل کرنے پر اکساتی ہیں۔

٭٭٭

ماخذ:

http://niazamana.com/2015/10/syed-naseer-shah-salves-men-and-women/

http://niazamana.com/2015/10/syed-naseer-shah-islamic-movements/

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید