FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

فہرست مضامین

توزکِ  اردو

 

حصہ دوم: حصہ نظم

 

 

                (مولوی)محمد اسمٰعیل (میرٹھی)

 

 

 

 

 

مثنویات

 

                خواجہ الطاف حسین حالی

 

حب وطن

 

اے سپہر بریں کے سیارو

اے فضائے زمیں کے گلزارو

 

اے پہاڑوں کی دلفریب فضا

اے لب جو کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا

 

اے عنادل کے نغمہ سحری

اے شب ماہتاب تاروں بھری

 

اے نسیم بہار کے جھوکو

دہر ناپائدار کے دھوکو

 

تم ہر اک حال میں ہو یوں تو عزیز

تھے وطن میں مگر کچھ اور ہی چیز

 

جب وطن میں ہمارا تھا رمنا

تم سے دل باغ باغ تھا اپنا

 

تم میری دل لگی کے ساماں تھے

تم مرے درد دل کے درماں تھے

 

تم سے کٹتا تھا رنج تنہائی

تم سے پاتا تھا دل شکیبائی

 

آن اک اک تمھاری بھاتی تھی

جو ادا تھی وہ جی لبھاتی تھی

 

کرتے تھے جب تم اپنی غمخواری

دھوئی جاتی تھیں کلفتیں ساری

 

جب ہوا کھانے باغ جاتے تھے

ہو کے خوش حال۔  گھر میں آتے تھے

 

بیٹھ جاتے تھے جب کبھی لب آب

دھوکے اٹتھے تھے دل کے داغ شتاب

 

کوہ و صحرا و آسمان و زمیں

سب مری دل لگی کی شکلیں تھیں

 

پر چھٹا جب سے اپنا ملک و دیار

جی ہوا تم سے خود بخود بیزار

 

نہ گلوں کی ادا خوش آتی ہے

نہ صدا بلبلوں کی بھاتی ہے

 

سیر گلشن ہے جی کا اک جنجال

شب مہتاب جان کو ہے وبال

 

کوہ و صحرا سے تا لب دریا

جس طرف جائیں جی نہیں لگتا

 

کیا ہوے وہ دن اور وہ راتیں

تم میں اگلی سی اب نہیں باتیں

 

ہم ہی غربت میں ہو گئے کچھ اور

یا تمھارے ہی کچھ بدل گئے طور

 

گو وہی ہم ہیں اور وہی دنیا

پر نہیں ہم کو لطف دنیا کا

 

اے وطن! اے مرے بہشت بریں!

کیا ہوئے تیرے آسمان و زمیں؟

 

رات اور دن کا وہ سمان نہ رہا

وہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہا

 

تیری دوری سے مورد آلام

تیرے چھٹنے سے چھت گیا آرام

 

کاٹے کھاتا ہے باغ بن تیرے

گل ہیں نظروں میں داغ بن تیرے

 

مٹ گیا نقش کامرانی کا

تجھ سے تھا لطف زندگانی کا

 

جو کہ رہتے ہیں تجھ سے دور سدا

ان کو کیا ہو گا زندگی کا مزا

 

ہو گیا یاں تو دو ہی دن میں یہ حال

تجھ بن ایک ایک پل ہے اک اک سال

 

سچ بتا۔  تو سبھی کو بھاتا ہے

یا کہ مجھ سے ہی تیرا ناتا ہے

 

میں ہی کرتا ہوں تجھ پہ جان نثار

یا کہ سب تجھ ہی ہیں فدا اے یار!

 

کیا زمانے کو تو عزیز نہیں

اے وطن تو تو ایسی چیز نہیں

 

جن و انسان کی حیات ہے تو

مرغ و ماہی کی کائنات ہے تو

 

ہے نباتات کو نمو تجھ سے

روکھ تجھ بن ہرے نہیں ہوتے

 

سب کو ہوتا ہے تجھ سے نشو ونما

سب کو بھاتی ہے تیری آب و ہوا

 

تیری اک مشت خال کے بدلے

لوں نہ ہر گز۔  اگر بہشت ملے

 

جان جب تک نہ ہو بدن سے جدا

کوئی دشمن نہ ہو وطن سے جدا

 

اے دل! اے بندہ وطن! ہشیار!

خواب غفلت سے ہو ذرا بیدار

 

او نشاط خودی کے متوالے!

گھر کی چوکھٹ کے چومنے والے

 

نام ہے کیا اسی کا حب وطن!

جس کی تجھ کو لگی ہوئی ہے لگن

 

کبھی بچوں کا خیال آتا ہے

کبھی یاروں کا غم ستاتا ہے

 

یاد آتا ہے اپنا شہر کبھی

لو کبھی اہل شہر کی لگی

 

نقش ہیں دل پہ کوچہ و بازار

پھرتے آنکھوں میں ہیں در و دیوار

 

کیا وطن کی یہی محبت ہے

یہ بھی الفت میں کوئی  الفت ہے

 

اس میں انساں سے کم نہیں ہیں درند

اس سے خالی نہیں چرند و پرند

 

ٹکڑے ہوتے ہیں سنگ غربت میں

سوکھ جاتے ہیں روکھ فرقت میں

 

جا کے کابل سے یاں بہی و انار

ہو نہیں سکتے بارور زنہار

 

مچھلی جب چھوٹتی ہے پانی سے

ہاتھ دھوتی ہے زندگانی سے

 

آگ سے جب ہوا سمندر دور

اس کو جینے کا پھر نہیں مقدور

 

گھوڑے جب کھیت سے بچھڑتے ہیں

جان کے ان کی لالے پڑتے ہیں

 

گائے یا بھینس اونٹ یا بکری

اپنے اپنے ٹھکانے خوش ہیں سبھی

 

کہئے حب وطنی اسی کو اگر

ہم سے حیوان نہیں ہیں کمتر

 

بیٹھے بے فکر کیا ہو۔  ہم وطنو!

اٹھو۔  اہل وطن کے دوست بنو

 

مرد ہو۔  تو کسی کے کام آؤ

ورنہ کھاؤ۔  پیو۔  چلے جاؤ

 

جب کوئی زندگانی کا لطف اٹھاؤ

دل کو دکھ بھائیوں کے یاد دلاؤ

 

پہنو جب کوئی عمدہ تم پوشاک

کرو دامن سے تا گریباں چاک

 

کھانا کھاؤ۔  تو جی میں تم شرماؤ

ٹھنڈا پانی پیو۔  تو اشک بہاؤ

 

کتنے بھائی تمھارے ہیں نادار

زندگی سے ہے جن کا دل بیزار

 

نوکروں کی تمھارے جو ہے غذا

ان کو وہ خواب میں نہیں ملتا

 

جس پہ تم جوتیوں سے پھرتے ہو

واں میسر نہیں وہ اوڑھنے کو

 

کھاؤ۔  تو پہلے لو خبر ان کی

جن پہ بپتا ہے نیستی کی پڑی

 

پہنو۔  تو پہلے بھائیوں کو پنھاؤ

کہ ہے اترن تمھاری جن کا بناؤ

َ

ایک ڈالی کے سب ہیں برگ و ثمر

ہے کوئی ان میں خشک کوئی تر

 

سب کو ہَ ایک اصل سے پیوند

کوئی آزردہ ہے کوئی خرسند

 

مقبلو! مدبروں کو یاد کرو

خوش دلو! غم زدوں کو شاد کرو

 

جاگنے والو! غافلوں کو جگاؤ

تیرنے والو! ڈوبتوں کو تراؤ

 

ہیں ملے تم کو چشم و گوش اگر

لو جو لی جائے کور و کر کی خبر

(حالی)

٭٭٭

 

 

 

 

برکھا رت

 

گرمی کی تپش بجھانے والی

سری کا پیام لانے والی

 

قدرت کے عجائبات کی کان

عارف کے لیے کتاب عرفان

 

وہ شاخ و درخت کی جوانی

وہ مور و ملخ کی زندگانی

 

وہ سارے برف کی جان برسات

وہ کون؟ خدا کی شان برسات

 

آئی ہے بہت دعاؤں کے بعد

اور سینکڑوں التجاؤں کے بعد

 

برسات کا بج رہا ہے ڈنکا

اک شور ہے آسماں پے برپا

 

ہے ابر کی فوج آگے آگے

اور پیچھے ہیں دل کے دل ہوا کے

 

ہیں رنگ برنگ کے رسالے

گورے ہیں کہیں کہیں ہیں کالے

 

ہے چرخ پہ چھاوئنی سی چھاتی

ایک آتی ہے۔  فوج ایک جاتی

 

جاتے ہیں مہم پہ کوئی جانے

ہمراہ ہیں لاکھوں توپخانے

 

توپوں کی ہے جبکہ باڑ چلتی

چھاتی ہے زمین کی دہلتی

 

مینہ کا ہے زمین پر دڑیڑا

گرمی کا ڈبو دیا بیڑا

 

بجلی ہے کبھی جو کوند جاتی

آنکھوں میں ہے روشنی سی آتی

 

گھنگھور گھٹائیں چھا رہی ہیں

جنت کی ہوائیں آ رہی ہیں

 

کوسوں ہے جدھر نگاہ جاتی

قدرت ہے نظر خدا کی آتی

 

سورج نے نقاب لی ہے منہ پر

اور دھوپ نے تہ کیا ہے بستر

 

باغوں نے کیا ہے غسل صحت

کھیتوں کو ملا ہے سبز خلعت

 

سبزہ سے ہے کوہ دشت معمور

ہے چار طرف برسا رہا نور

 

بٹیا سے ہے نہ سڑک نمودار

اٹکل سے ہیں راہ چلتے ہموار

 

ہے سنگ و شجر کی ایک وردی

عالم ہے تمام لاجوردی

 

پھولوں سے پٹے ہوے ہیں کہسار

دولھا سے بنے ہوئے ہیں اشجار

 

پانی سے بھرے ہوئے ہیں جل تھل

ہے گونج رہا تمام جنگل

 

کرتے ہیں پپیہے “پیہو پیہو”

اور مور جھنگارتے ہیں ہر سو

 

کوئل کی ہے کوک جی لبھاتی

گویا کہ ہے دل میں بیٹھی جاتی

 

مینڈک ہیں کو بولنے پہ آتے

سنسار کو سر پہ ہیں اٹھاتے

 

سب خوان کرم سے حق کے ہیں سیر

پانی ہیں مگر۔  کچھار میں شیر

 

زردار ہیں اپنے مال میں مست

قلانچ ہیں اپنی کھال میں مست

 

ابر آیا ہے گھر کے آسماں پر

کلمے ہیں خوشی کے ہر زباں پر

(حالی)

٭٭٭

 

 

 

 

                میر حسن دہلوی

 

میر غلام حسن نام۔  حسن تخلص شرفا سے دہلی سے تھے۔  فن سخن میں میر درد اور میرزا سودا سے مشورہ کرتے تھے۔  ایام شباب میں دلی سے فیض آباد آئے۔  پھر لکھنو۔  وہیں یہ مثنوی لکھی۔  جس سے بہتر اردو میں کوئی مثنوی نہیں ہوئی۔  بیان سادہ پر تاثیر اور محاورہ کی خوبیوں سے معمور۔  جس معاملہ کو بیان کیا ہے اس کی تصویر کھینچ دی ہے۔

 

مثنوی سحر البیان

 

کروں پہلے توحید یزداں رقم

جھکا جس کے سجدہ کو اول قلم

 

سر لوح پر رکھ بیاض جبیں

کہا دوسرا کوئی تجھ سا نہیں

 

قلم پھر شہادت کی انگلی اٹھا

ہوا حرف زن یوں کہ رب العلا

 

نہیں کوئی تیرا۔  نہ ہو گا شریک

تری ذات ہے وحدہ لا شریک

 

پرستش کے قابل ہے تو۔  اے کریم!

کہ ہے ذات تیری غفور الرحیم

 

رہ حمد میں تیری عز و جل!

تجھے سجدے کرتا چلوں سر کے بل

 

وہ الحق۔  کہ ایسا ہی معبود ہے

قلم جو لکھے۔  اس سے ازود ہے

 

تر و تازہ ہے اس سے گلزار خلق

وہ ابر کرم ہے ہوا دار خلق

 

اگرچہ وہ بے فکر عیور ہے

ولے پرورش سب کی منظور ہے

 

کسی سے بر آوے نہ کچھ کام جاں

جو وہ مہرباں ہو۔  تو کل میزباں

 

نہاں سب میں اور سب میں ہے آشکار

یہ سب اس کے عالم ہیں ہژدہ ہزار

 

اسی سے ہے کعبہ۔  اسی سے کنشت

اسی کا ہے دوزخ۔  اسی کا بہشت

 

وہ ہے مالک الملک دنیا و دیں

ہیں قبضہ میں اس کے زمان و زمیں

 

نہیں اس سے خالی غرض کوئی شے

وہ کچھ شے نہیں۔  پر ہر اک شے میں ہے

 

نہ گوہر میں ہے وہ۔  نہ ہے سنگ میں

وہ لیکن چمکتا ہے ہر رنگ میں

 

تامل سے کیجے اگر غور کچھ

تو سب کچھ وہی ہے۔  نہیں اور کچھ

 

دیا عقل و ادراک اس نے ہمیں

کیا خاک سے پاک اس نے ہمیں

 

وصف سخن

 

پلا مجھ کو ساقی شراب سخن

کہ ہو جس سے مفتوح باب سخن

 

سخن کی مجھے فکر دن رات ہے

سخن ہی تو ہے۔  اور کیا بات ہے

 

سخن کے طلبگار ہیں عقلمند

سخن سے ہے نام نکویاں بلنا

 

سخن کی کریں قدر مردان کار

سخن نام ان کا رکھے برقرار

 

سخن سے وہی شخص رکھتے ہیں کام

جنہیں چاہیے ساتھ نیکی کے کام

 

سخن سے سلف کی بھلائی رہی

زبان قلم سے بڑائی رہی

 

کہاں رستم و گیو و افراسیاب

سخن سے رہی یاد یہ نقل خواب

 

سخن کا صلہ یار دیتے رہے

جواہر سدا مول لیتے رہے

 

سخن کا سدا گرم بازار ہے

سخن سنج اس کا خریدار ہے

 

رہے جب تلک داستان سخن

الہی! رہیں قدر دان سخن

 

سواری کی ریاری

 

پڑی جب گرہ بارھویں سال کی

کھلی گل جھڑی غم کے جنجال کی

 

کہا شہ نے بلوا نقیبوں کو شام

کہ ہوں صبح حاضر سبھی خاص و عام

 

سواری تکلف سے تیار ہو

مہیا کریں۔  جو کہ درکار ہو

 

کریں شہر کو مل کے آئینہ بند

سواری کا ہو لطف جس سے دو چند

 

رعیت کے خوش ہوں صغیر و کبیر

کہ نکلے گا کل شہر میں بے نظیر

 

یہ فرما۔  محل میں گئے بادشاہ

نقیبوں نے سن حکم۔  لی اپنی راہ

 

خوشی میں گئی جلد جو شب گزر

ہوئی سامنے سے نمایاں سحر

 

عجب شب تھی وہ جوں سحر رو سفید

عجب روز تھا مثل روز امید

 

کہا شاہ نے اپنے فرزند کو

کہ بابا! نہا دھو کے تیار ہو

 

ہوا جب کہ داخل وہ حمام میں

عرق آ گیا اس کے اندام میں

 

تن نازنیں نم ہوا اس کا کل

کہ جس طرح ڈوبے ہے شبنم میں گل

 

نہا دھو کے نکلا وہ گل اس طرح

کہ بدلی سے نکلے ہے مہ جس طرح

 

غرض شاہزادہ کو نہلا دھلا

دیا خلعت خسروانہ پنھا

 

نکل گھر سے جس دم ہوا وہ سوار

کئے خوان گوہر کے اس پر نثار

 

زبس تھا سواری کا باہر ہجوم

ہوا جب کہ ڈنکا پڑی سب میں دھوم

 

برابر برابر کھڑے تھے سوار

ہزاروں ہی تھیں ہاتھیوں کی قطار

 

وہ ماہی مراتب۔  وہ تخت رواں

وہ نوبت۔  کہ دولھا کا جیسے سماں

 

وہ شہنائیوں کی صدا خوش نما

سہانی وہ نوبت کی دھیمی صدا

 

وہ آہستہ گھوڑوں پہ نقارچی

قدم با قدم۔  بالباس زری

 

سوار اور پیادے۔  صغیر و کبیر

جلو میں تمامی امیر و وزیر

 

ہوے حکم سے شاہ کے پھر سوار

چلے سب قرینہ سے باندھے قطار

 

سجے سجائے سبھی خاص و عام

لباس زری میں ملبس تمام

 

غرض اس طرح سے سواری چلی

کہے تو۔  کہ باد بہاری چلی

 

رعیت کی کثرت۔  ہجوم سپاہ

گزرتی تھی رک رک کے ہرجا نگاہ

 

لگا لنج سے تا ضعیف و نھیف

تماشے کو نکلے قضیع و شریف

 

نظر کس کو آیا وہ ماہ تمام

کیا اس نے جھک جھک کے اس کو سلام

 

غرض شہر سے باہر اک سمت کو

کوئی باغ تھا شہ کا اس میں سے ہو

 

سواری کو پہنچا گئی فوج ادھر

گئے اپنی منزل پہ شمس و قمر

 

پہر رات تک پہنے پوشاک وہ

رہا ساتھ سب کے طربناک وہ

 

قضارہ وہ شب تھی شب چاردہ

پڑا جلوہ لیتا تھا ہر طرف مہ

 

نظارہ سے تھا اس کے دل کو سرور

عجب عالم نور کا تھا ظہور

 

عجب لطف تھا سیر مہتاب کا

کہے تو۔  کہ دریا تھا سیماب کا

 

کچھ آئی جو اس مہ کے جی میں ترنگ

کہا۔  آج کوٹھے پے بچھے پلنگ

 

ارادہ ہے کوٹھے پے آرام کا

کہ بھایا ہے عالم لب بام کا

 

زبس نیند میں تھا جو وہ ہو رہا

بچھونے پے آتے ہی بس سو رہا

 

جہاں تک کہ چوکی کے تھے باریدار

ہوا جو چلی سو گئے ایک بار

 

شہزادہ گم ہو گیا

 

کھلی آنکھ جو ایک کی واں کہیں

تو دیکھا کہ وہ شاہزادہ نہیں

 

نہ ہے وہ پلنگ اور نہ وہ ماہ رو

نہ وہ گل ہے اس جا۔  نہ وہ اس کی بو

 

نہ بن آئی کچھ ان کو اس کے سوا

کہ کہیے یہ احوال اب شہ سے جا

 

ہوا گم وہ یوسف۔  پڑی یہ جو دھوم

کیا خادمان محل نے ہجوم

 

شب آدھی وہ جس طرح سوتے کٹے

رہی تھی جو باقی۔  سوروتے کٹی

 

عجب طرح کی شب تھی ہیہات وہ

قیامت کا دن تھا۔  نہ تھی رات وہ

 

سحر نے کیا جب گریبان چاک

اڑانے لگے مل کے سب سر پے خاک

 

اٹحا شہر میں سب طرف شور غل

کہ غائب ہوا اس چمن سے وہ گل

 

غم و درد سے دل جو سب کا بھرا

ہوا باغ سارا وہ ماتم سرا

 

وہ لبریز جو نہر تھی جا بجا

سو آنکھوں کو وہ رہ گئی ڈبڈبا

 

ہوا حال چشموں کا یاں تک تباہ

کیا رخت پانی سے اپنا سیاہ

 

کہاں وہ کنوئیں اور کدھر آبشار!

کوئی دل میں روئے کوئی دھاڑ مار

 

جہاں رقص کرتے تھے طاؤس باغ

لگے بولنے ان منڈیروں پے زاغ

 

منقش جہاں تھے وہ رنگیں مکاں

ہوے سب وہ جوں دیدی خوں چکاں

 

گلوں کی طرح کھل رہے تھے جو دل

سو وہ سب خزاں سے ہوے مضمحل

 

نہ غنچہ۔  نہ گل۔  نے گلستاں رہا

فقط دل میں اک خار ہجراں رہا

 

وزیروں نے دیکھا جو احوال شاہ

کہ ہوتی ہے اب اس کی حالت تباہ

 

کہا گو جدائی گوارہ نہیں

ولیکن خدائی سے چارا نہیں

 

خدا کی خدائی تو معمور ہے

غرض اس کے نزدیک کیا دور ہے

 

یہ کہہ اور شہ کو بٹھا تخت پر

بہر نوع رہنے لگے یک دگر

 

لٹایا بہت باپ نے مال و زر

ولیکن نہ پائی کچھ اس کی خبر

 

شادی کا سماں

 

بڑی خواہشوں سے جب آیا وہ روز

چڑھا بیاہنے وہ مہ شب فروز

 

محل سے نکل جب ہوا وہ سوار

بجے شادیانے بہم ایک بار

 

کوئی دوڑ گھوڑوں کی لانے لگا

کوئی ہاتھیوں کو بٹھانے لگا

 

سپر اور قبضے کھڑکنے لگے

سواروں کے گھوڑے بھڑکنے لگے

 

ٹکورے وہ نوبت کے اور ان کے بعد

گرجنا وہ دھوسوں کا مانند رعد

 

دو رستہ جو روشن چراغاں ہوئے

پتنے خوشی سے غزل خواں ہوئے

 

براتی ادھر اور ادھر جوق جوق

وہ آواز سرنا و آواز بوق

 

وہ ابرک کی ٹٹی وہ مینے کے جھاڑ

کہے تو۔  کہ تنکے کی اوجھل پہاڑ

 

دو رستہ برابر برابر وہ تخت

کسی پر کنول اور کسی پر درخت

 

اناروں کا دغنا بھچپنے کا زور

ستاروں کا چھٹنا پٹاخوں کا شور

 

وہ مہتاب کا چھوٹنا بار بار

ہر اک رنگ کی جس سے دونی بہار

 

جب آئی وہ دلہن کے گھر پر برات

کہوں واں کے عالم کی کیا تجھ سے بات!

 

بلوریں دھرے شمعداں بےشمار

چڑھیں بتیاں موم کی چار چار

 

نئے رنگ کے اور نئے طور کے

دھرے ہر طرف جھاڑ بلور کے

 

تماشائیوں کی یہ کثرت۔  کہ بس

ملے ایک سے ایک سب پیش و پس

 

وہ دولھا کا مسند پے جا بیٹھنا

برابر رفیقوں کا آ بیٹھنا

 

ہوا جب نکاح اور بٹے ہار پان

پلا سب کو شربت دئے پاندان

 

وہ سب ہو چکے جب کہ رسم ورسوم

سواری کی ہونے لگی پھر تو دھوم

 

سحر کا وہ ہونا۔  وہ ٹونے کا وقت

وہ دلہن کی رخصت۔  وہ رونے کا وقت

 

وہ دلہن کا رو رو کے ہونا جدا

وہ ماں باپ کا اور رونا جدا

 

نکلتے وہ جانا محل سے جہیز

کہ جوں چشم سے اشک ہو موج خیز

 

یہاں موت ہے اہل عرفان کو

کہ جانا ہے اک دن بوہیں جان کو

 

وہ جو درد مندی سے ہیں آشنا

وہ شادی کا لیتے ہیں غم سے مزا

 

شہزادہ کا ملنا

 

پڑا شہر میں یک بیک پھر یہ غل

کہ غائب ہوا تھا سو آیا وہ گل

 

خبر یہ ہوئی جب کہ ماں باپ کو

کیا گم انہوں نے وہیں آپ کو

 

لگے رونے آپس میں زار و نزار

کہا۔  ہائے! ہم کو نہیں اعتبار

 

کہا سب نے صاحب! چلو تو سہی

یہ بیٹا تمھارا وہی ہے! وہی!

 

مکرر سنا جب کہ بیٹے کا نانوں

چلا پھر تو روتا ہوا ننگے پانوں

 

جو ہیں اپنے کعبہ کو دیکھا رواں

چلا سر کے بل بے نظیر جہاں

 

گرا پانوں پر کہہ کے یہ باپ کے

“خدا نے دکھائے قدم آپ کے”

 

سنی یہ صدا جو ہیں اس ماہ کی

تو اس غم رسیدہ نے اک آہ کی

 

ملے پھر تو آپس میں وہ خوب سے

کہ یوسف ملے جیسے یعقوب سے

 

ہوے شاد و خرم صغیر و کبیر

چلے لیکے نذریں امیر و وزیر

 

مئے عیش سے سب کو مستی ہوئی

نئے سر سے آباد بستی ہوئی

 

درآمد ہوا گھر میں سرو رواں

لئے ساتھ اپنے وہ غنچہ وہاں

 

کہ اتنے میں آگے نظر جو پڑی

تو دیکھا۔  کہ ہے راہ میں ماں کھڑی

 

بہی چشم سے آنسوؤں کی قطار

گرا ماں کے پانوں پہ بے اختیار

 

وہ ماں خوب بیٹے کے لگ کر گلے

یہ روئی۔ کہ آنسو کے نالے چلے

 

بہو اور بیٹے کو چھاتی لگا

وہ دونوں کی دو ہاتھ سے لی بلا

 

ہوئی جان اور جی سے ان پر نثار

پیا پانی ان دونوں پر وار وار

 

وہ آنکھیں جو اندھی تھیں۔  روشن ہوئیں

زمینیں جو تھیں خشک۔  گلشن ہوئیں

 

زبس باپ ماں کو تھی سہرہ کی چاہ

دوبارہ انہوں نے کیا اس کا بیاہ

 

بنا ان کے تقدیر کا جو بناؤ

نکالے انہوں نے یہ سب دل کے چاؤ

 

ہوا شہر پر فضل پروردگار

وہی شاہزادہ۔  وہی شہریار

 

وہی بلبلیں اور وہی بوستاں

شگفتہ گل و مجمع دوستاں

(حسن دہلوی)

٭٭٭

 

 

                پنڈت دیا شنکر نسیم

 

مثنوی گلزار نسیم

 

 

پنڈت دیا شنکر متخلص بہ نسیم سرکاری اودھ کی فوج میں منشی تھے اور فن سخن میں خواجہ آتش کے شاگرد۔  قصہ گل بکاؤلی جو پہلے نثر میں تھا۔  اس کو نظم کر کے گلزار نسیم نام رکھا۔  تشبیہ و استعارہ اور صنائع لفظی و معنوی سے بیان کو آراستہ اور قصہ کو مختصر کیا ہے۔  میر حسن کی مثنوی کے بعد یہ ہی مثنوی ہے۔  جو مقبول عام ہوئی۔

 

 

ہر شاخ میں ہے شگوفہ کاری

ثمرہ ہے قلم کا حمد باری

 

کرتا ہے یہ دو زباں سے یکسر

حمد حق و مدحت پیمبر

 

پانچ انگلیوں میں حرف زن ہے

یعنی کہ مطیع پنجتن ہے

 

ختم اس پہ ہوئی سخن پرستی

کرتا ہے زباں کی پیش دستی

 

۲

رو داد زمان پاستانی

یوں نقل ہے خامہ کی زبانی

 

پورب میں ایک تھا شہنشاہ

سلطان زین الملوک ذیجاہ

 

لشکر کش و تاجدار تھا وہ

دشمن کش و شہریار تھا وہ

 

خالق نے دئے تھے چار فرزند

دانا۔ عاقل۔ ذکی۔ خردمند

 

نقشہ ایک اور نے جمایا

پس ماندہ کا پیش خیمہ آیا

 

تھا افسر خسرواں وہ گلفام

پالا تاج الملوک رکھ نام

 

پردہ سے نہ دایہ نے نکالا

پتلی سا نگاہ رکھ کے پالا

 

جب نام خدا جواں ہوا وہ

مانند نظر رواں ہوا وہ

 

آتا تھا شکارہ گاہ سے شاہ

نظارہ کیا پسر کو ناگاہ

 

مہر لب شہ ہوئی خموشی

کی نور بصر سے چشم پوشی

 

دی آنکھ جو شہ نے رونمائی

چشمک سے نہ بھائیوں کو بھائی

 

ہر چند کہ بادشہ نے ٹالا

اس ماہ کو شہر سے نکالا

 

گھر گھر یہی ذکر تھا یہی شور

خارج ہوا نور دیدی کور

 

آیا کوئی لیکے نسخہ نور

لایا کوئِ  جا کے سرمہ طور

 

تقدیر سے چل سکا نہ کچھ زور

بینا نہ ہوا وہ دیدہ کور

 

ہوتا ہے وہی خدا جو چاہے

مختار ہے جس طرح نباہے

 

۳

تھا اک کحال پیر دیریں

عیسی کی تھیں اس نے آنکھیں دیکھیں

 

وہ مرد خدا بہت کرایا

سلطاں سے ملا۔  کہا۔  کہ شاہا!

 

ہے باغ بکاؤلی میں اک گل

پلکوں سے اسی پے مار چنگل

 

خورشید میں یہ ضیا کرن کی

ہے مہر گیا اسی چمن کی

 

اس نے تو گل ارم بتایا

لوگوں کو شگوفہ ہاتھ آیا

 

شہزادے ہوے وہ چاروں تیار

رخصت کئے شہ نے چار ناچار

 

شاہانہ چلے وہ لیکے ہمراہ

لشکر۔ اسباب۔ خیمے۔ خرگاہ

 

۴

وہ بادیہ گرد خانہ برباد

یعنی تاج الملوک ناشاد

 

میدان میں خاک اڑا رہا تحا

دیکھا۔  تو وہ لشکر آ رہا تھا

 

پوچھا۔  تم لوگ خیل کے خیل

جاتے ہو کدھر کو صورت سیل

 

بولا لشکر کا اک سپاہی

“جاتی ہے ارم کو فوج شاہی”

 

سلطان زین الملوک شہ زور

دیدار پسر سے ہو گیا کور

 

منظور علاج روشنی ہے

مطلوب گل بکاؤلی ہے

 

گل کی جو خبر سنائی اس کو

گلشن کی ہوا سمائی اس کو

 

ہمرہ کسی لشکری کے ہو کر

قسمت پے چلا وہ نیک اختر

 

یک چند پھر کیا وہ ابنوہ

صحرا صحرا و کو ہ در کوہ

 

بلبل ہوئے سب ہزار جی سے

گل کا نہ پتا لگا کسی سے

 

 

۵

وہ دامن دشت شوق کا خار

یعنی تاج الملوک دل زار

 

درویش تھا بندہ خدا وہ

اللہ کے نام پر چلا وہ

 

اک جنگلے میں جا پڑا جہاں گرد

صحرائے عدم بھی تھا جہاں گرد

 

سایہ کو پتا نہ تھا شجر کا

عنقا تھا نام جانور کا

 

مرغان ہوا تھے ہوش راہی

نقش کف پا تھے ریگ ماہی

 

وہ دشت۔  کہ جس میں پر تگ و دو

یا ریگ رواں تھا یا وہ رہرو

 

ڈانڈا تھا ارم کے بادشا کا

ایک دیو تھا پاسباں بلا کا

 

بھوکا کئی دن کا تھا وہ ناپاک

فاقوں سے رہا تھا پھانک کر خاک

 

حلوے کی پکا کر اک کڑھائی

شیرینی دیو کو چڑھائی

 

کہنے لگا۔  کیا مزا ہے دلخواہ!

اے آدمی زاد واہ وا واہ!

 

چیز کھلائی تو نے مجھ کو

کیا اس کے عوض میں دوں تجھ کو؟

 

بولا وہ۔  کہ پہلے قول دیجیے

پھر جو میں کہوں قبول کیجیے

 

گلزار ارم کی ہے مجھے دھن

بولا وہ ارے بشر! وہ گلبن

 

خورشید کے ہم نظر نہیں ہے

اندیشہ کا واں گزر نہیں ہے

 

رہ جا! مرا بھائی ایک ہے اور

شاید کچھ اس سے بن پڑے طور

 

حال ا س سے کہا۔  کہ قول ہارا

ہے پیر یہ نوجواں ہمارا

 

مشتاق ارم کی سیر کا ہے

کوشش کرو، کام خیر کا ہے

 

حمالہ نام دیونی ایک

چھوٹی نہیں اس کی تھی بڑی نیک

 

خط اس کو لکھا بایں عبارت

“اے خواہر مہرباں سلامت!”

 

“پیارا ہے مرا یہ آدمی زاد

رکھیو اسے جس طرح میری یاد”

 

“انسان ہے چاہے کچھ جو سازش

مہمان ہے کیجئیو نوازش”

 

“باپ اس کا ہے اندھے پن سے مجہول

مطلوب بکاؤلی کا ہے پھول”

 

“دل داغ اس کا برائے گل ہے

نرگس کے لئے ہوائے گل ہے”

 

خط لے کے بشر کو لے اڑا دیو

پہنچا حمالہ پاس بے ریو

 

بھائی کا جو خط بہن نے پایا

بھیجے ہوئے کو گلے لگایا

 

دیوؤں سے کہا۔  کہ چوہے بن جاؤ

تا باغ ارم سرنگ پہنچاؤ

 

سن حاجت نقب بہر گلگشت

کترا چوہوں نے دامن دشت

 

جب مہر تہ زمیں سمایا

اس نقب کی رہ وہ آدم آیا

 

کھٹکا جو نگاہبانوں کا تھا

دھڑکا یہی دل کا کہہ رہا تھا

 

گوشہ میں کوئی لگا نہ ہووے!

خوشہ کوئی تاکتا نہ ہووے!

 

گو باغ کے پاسپاں غضب تھے

خوابیدہ برنگ سبزہ سب تھے

 

پانی کے جو بلبلوں میں تھا گل

پہنچا لب حوض سے نہ چنگل

 

پوشاک اتار اتر کے لایا

پھولا نہ وہ جامہ میں سمایا

 

گل لے کے بڑھا ایاغ بر کف

چوری سے چلا چراغ بر کف

 

گل ہاتھ میں مثل دست بیضا

اس نقب کی آستیں سے نکلا

 

گل لے کے جب آ ملا وہ گلچیں

اس نقب کی رخنہ بندیاں کیں

 

۶

 

گلچیں نے وہ پھول جب اڑایا

اور غنچہ صبح کھلکھلایا

 

وہ سبز باغ خواب آرام

اٹھی نکہت سی فرش گل سے

 

منہ دھونے جو آنکھ ملتی آئی

پر آب وہ چشم حوض پائی

 

دیکھا تو۔  وہ گل ہوا ہوا ہے

کچھ اور ہی گل کھلا ہوا ہے

 

گھبرائی کہ ہیں! کدھر گیا گل

جھنجلائی۔  کہ کون دے گیا جل؟

 

ہے ہے! مرا پھول لے گیا کون؟

ہے ہے! مجھے خار دے گیا کون؟

 

ہاتھ اس پے اگر پڑا نہیں ہے

بو ہو کے تو گل اڑا نہیں ہے

 

اپنوں میں سے پھول لے گیا کون؟

بیگانہ تھا سبزہ کے سوا کون؟

 

شبنم کے سوا چرانے والا

اوپر کا تھا کون آنے والا؟

 

جس کف میں وہ گل ہو۔  داغ ہو جائے!

جس گھر میں ہو۔  گل چراغ ہو جائے؟

 

آنکھوں سے عزیز گل مرا تھا

پتلی وہی چشم حوض کا تھا

 

گلچیں کا جو ہائے! ہاتھ ٹوٹا

غنچہ کے بھی منہ سے کچھ نہ پھوٹا

 

او قات پڑا نہ تیرا چنگل

مشکیں کس لیں نہ تو نے سنبل؟

 

او باد صبا ہا نہ بتلا

خوشبو ہی سنگھا پتا نہ بتلا؟

 

بلبل تو چہک اگر خبر ہے؟

گل تو ہی مہک سنگھا کدھر ہے؟

 

لرزاں تھی زمیں یہ دیکھ کہرام

تھی سبزہ سے راست مو بر اندام

 

جو نخل تھا سوچ میں کھڑا تھا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاتھ مل رہا تھا

 

رنگ اس کا غرض لگا بدلنے

گل برگ سے کف لگی وہ ملنے

 

گل کا سا لہو بھر گریباں

سبزہ کا سا تار تار داماں

 

دکھلا کے کہا سمن پری کو

اب چین کہاں!بکاؤلی کو!

 

تھی بسکہ غبار سے بھری وہ

آندھی سی اٹھی۔  ہوا ہوئی وہ

 

ہر باغ میں پھولتی پھری وہ

ہر شاخ میں جھولتی پھری وہ

 

جس تختہ میں مثل باد جاتی

اس رنگ کے گل کی بو نہ پاتی

 

بےوقت کسی کو کچھ ملا ہے

پتا کہیں حکم بن ہلا ہے؟

(نسیم لکھنوی)

٭٭٭

 

 

                میر تقی میر

 

محمد تقی نام میر تخلص۔  شرفائے اکبر آباد سے تھے، دلی پہنچکر ان کی شاعری نے شہرت پائی۔  شعرائے ماضی و حال نے ان کو غزل کا امام مانا ہے۔  مثنویاں بھی اچھی ہیں۔  مگر قصیدہ پھیکا، کلام ان کا نہایت صاف و شستہ اور پراثر ہے۔  آخر عمر میں لکھنو چلے گئے تھے۔  سو برس کے ہو کر ۱۲۲۵ھ میں راہی ملک بقا ہوئے۔  درد۔ سعدا۔  مصحفی۔ انشا اور جرا کے ہمعصر تھے۔

 

 

مثنوی میر تقی

 

ضبط کروں میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب

چل رے خامہ! بسم اللہ اب

 

کر ٹک دل کا راز نہانی

ثبت جریدہ میری زبانی

 

یعنی۔  میر اک خستہ غم تھا

سرتاپا اندوہ و الم تھا

 

تاب و توان و شکیب و تحمل

رخصت اس سے ہو گئے بالکل

 

سینہ فگاری سامنے آئی

بیتابی نے طاقت پائی

 

خواب وخورش کا نام نہ آیا

ایک گھڑی آرام نہ پایا

 

سوز سے چھاتی تابہ گویا

اور پلک خوننابہ گویا

 

دل میں تمنا۔  داغ جگر میں

شیون لب پر۔ یاس نظر آیا

 

نالے شب کو اس کے سنکر

مر گئے کتنے۔ سر کودھن کر

 

روے و جبیں پہ خراش ناخن

داغوں سے خوں کے قامت گلبن

 

غم نے تو دل میں کیا ہی چھوڑا

بر میں تھا اک پکا پھوڑا

 

کام رہا ناکامی ہی سے

تسکیں بے آرامی ہی سے

 

دشنہ غم سے سینہ کوچا

ناخن سے منہ ساراا نوچا

 

دل آماجگہ غمناکی

اور نفس اک تیرے خاکی

 

نے طاقت نے یارا اس کو

ضعف دلی نے مارا اس کو

 

رنگ اڑے چہرہ کا ہر دم

تھا گویا گل آخر موسم

 

رنگ شکستہ۔  بسکہ فسردا

کہنے کو زندہ۔  لیکن مردہ

 

دیدہ تر کے دریا قائل

ساحل خشک لبی کے سائل

 

ہر دم ہو ہر سمت کو جاری

خونباری سے سیل بہاری

 

خاک بسر آشفتہ سری سے

شور قیامت نوحہ گری سے

 

وادی پر جب اپنے آوے

صحرا صحرا خاک اڑا وے

 

سر پر اس کے سنگ ہمیشہ

جی پر عرصہ تنگ ہمیشہ

 

آہ سرد کرے وہ عریاں

بید سا کانپے موئے پریشاں

 

پامالی میں مثل جادہ

خار بیاباں لال ہوئے سب

 

جس نے دیکھا اس کو یکدم

اس نے کہا یہ۔  پحول کے سب غم

 

چندے یہ ناشاد رہے گا

پر مدت تک یاد رہے گا

(میر)

٭٭٭

 

 

 

 

                غزلیات

 

جہاں استاد۔  فصیح الملک۔  نواب میرزا خان۔ داغ دہلوی

 

(۱)

 

جہاں تیرے جلوہ سے معمور نکلا

پڑی آنکھ جس کوہ طور نکلا

 

یہ سمجھے تھے ہم ایک چرکا ہے دل پر

دبا کر جو دیکھا۔  تو ناسور نکلا

 

نہ نکلا کوئی بات کا اپنی پورا

نہ یہ دور نکلا۔  نہ وہ دور نکلا

 

سمجتھے تھے ہم داغ گمنام ہو گا

مگر وہ تو عالم میں مشہور نکلا

 

(۲)

وہ زمانہ نظر نہیں آتا

کچھ ٹھکانہ نظر نہیں آتا

 

دل نے اس بزم میں بٹھا تو دیا

اٹھ کے جانا نظر نہیں آتا

 

رہئے مشتاق جلوہ دیدار

ہم نے مانا۔  نظر نہیں آتا

 

لے چلو مجھ کو رہروان عدم

یہاں ٹھکانہ نظر نہیں آتا

 

دل پر آرزو لٹا اے داغ

وہ خزانہ نظر نہیں آتا

 

(۳)

دل میں ہے غم و رنج و الم۔  حرص و ہوا بند

دنیا میں محمس کا ہمارے نہ کھلا بند

 

موقوف نہیں دام و قفس پر ہی اسیری

ہر غم میں گرفتار ہوں۔  ہر فکر میں پابند

 

اے حضرت دل!جائیے۔  میرا بھی خدا ہے

بے آپ کے رہنے کا نہیں کام مر بند

 

دم رکتے ہی سینہ سے نکل پڑتے ہیں آنسو

بارش کی علامت ہے۔  جو ہوتی ہے ہوا بند

 

کہتے تھے ہم۔  اے داغ! وہ کوچہ ہے خطرناک

چھپ چھپ کے مگر آپ کا جانا نہ ہوا بند

 

(۴)

حضرت دل! آپ ہیں جس دھیان میں

مر گئے لاکھوں اسی ارمان میں

 

گر فرشتہ ہوا کوئی۔  تو کیا؟

آدمیت چاہیے انسان میں

 

جس نے کھویا۔  اسی کو کچھ ملا

فائدہ دیکھا۔  اسی نقصان میں

 

کس نے ملنے کا کیا وعدہ۔  کہ داغ

آج ہو تم اور ہی سامان میں

 

(۵)

خدا دے۔  تو دے اپنا غم ہر کسی کو

کرے پر نہ مائل کسی پر کسی کو

 

نہ کو ناصحا! ایسی دیوانی باتیں

یہ کیا؟ کھینچ مارا جو پتھر کسی کو

 

محبت میں جس جا گئے۔  لٹ گئے ہم

لیا دل کسی نے۔  دیا سر کسی کو

 

بہت چھیڑ کر ہم کو پچھتائیے گا

ستاتے نہیں بندہ پرور! کسی کو

 

(۶)

نہیں ہووے بندہ سے طاعت زیادہ

بس اب خانہ آباد! دولت زیادہ!

 

وہ تشریف لاتے ہی بولے۔  کہ رخصت!

نہیں ہم کو ملنے کی فرصت زیادہ!

 

الہی! زمانہ کو کیا ہو گیا ہے؟

محبت تو کم ہے۔  عداوت زیادہ!

 

عدم سب آتے ہیں یاں چار دن کو

نہیں ہوتی منظور رخصت زیادہ

 

مری بندگی سے مرے جرم افزوں

ترے قہر سے تیری رحمت زیادہ

 

(۷)

 

دل کی کلی نہ تجھ سے کبھی اے صبا کھلی

چمپا کھلی۔  گلاب کھلا۔  موتیا کھلی

 

ہم تو اسیر دام ہیں صیاد! ہم کو کیا؟

گلشن میں گر بہار بہت خوش نما کھلی

 

نالوں سے شق ہوا نہ جگر پاسبان کا

دیوار قید خانہ مگر بارہا کھلی

 

رونا نصیب میں ہو۔  تو ہنسنا ہو کس طرح؟

تو شکل گل نہ بلبل خونیں نوا کھلی

 

داغ شگفتہ دل کا ذرا دیکھنا اثر

مانند غنچہ قبر بھی بعد فنا کھلی

 

(۸)

 

سب حسرتوں کا یاس نے کھٹکا مٹا دیا

جن سے خلش تھی دل میں۔  وہ کانٹے نکل گئے

 

سچ ہے۔ پرائی آگ میں پڑتا نہیں کوئی

ہمراہ کوہ طور کے موسی نہ جل گئے؟

 

اب کیا ہے! اگر کسی سے ملاتے نہیں نظر

لاکحوں ہماری آنکھ س جلسے نکل گئے

 

مرتے کے بعد ساتھ کوئی بھی مرتا نہیں کبھی

فرقت میں رفتہ رفتہ سب احباب ٹل گئے

 

احباب ڈھونڈتے ہیں۔  پریشان ہیں رفیق

کیا جانے! آج داغ کدھر کو نکل گئے

 

(۹)

غم اٹھانے کے واسطے دم ہے

زندگی ہے اگر۔  تو کیا غم ہے!

 

کہتے ہو۔  کچھ کہو۔  کہوں کیا خاک!

جانتا ہوں۔  مزاج برہم ہے

 

اب جہاں مہرباں ہو۔  تو کیا!

مہربانی تری مقدم ہے

 

سنتے ہیں۔  داغ! کل وہ آئے تھے

بارے اب تو سلوک باہم ہے

 

(۱۰)

طبعیت کوئی دن میں بھر جائے گی

چڑھی ہے یہ آندھی اتر جائے گی

 

رہیں گی دم مرگ تک خواہشیں

یہ نیت کوئی آج بھر جائے گی

 

نہ تھی یہ خبر ہم کو۔  اپنی بہار

ادھر آئے گی اور ادھر جائے گی

 

نہ چھوڑے گی دامن کبھی مشت خاک

صبا ہم سے اڑ کر کدھر جائے گی

 

دیا دل۔  تو اے داغ۔  اندیشہ کیا؟

گزرنی جو ہو گی۔  گزر جائے گی

٭٭٭

 

 

 

امیر الشعرا منشی امیر احمد صاحب امیر مینائی

 

(۱)

ریاض دہر میں پوچھو نہ میری بربادی

برنگ بو ادھر آیا ادھر روانہ ہوا

 

خدا کی راہ میں دینا ہے گھر کا بھر لینا

ادھر دیا۔  کہ ادھر داخل خزانہ ہوا

 

قدم حضور کے آئے۔  مرے نصیب کھلے

جواب قصر سلیماں غریب خانہ ہوا

 

جب آئی جوش پہ میرے کریم کی رحمت

گرا جو آنکھ سے آنسو۔  در یگانہ ہوا

 

چنے مہینوں ہی تنکے غریب بلبل نے

مگر نصیب نہ دو روز آشیانہ ہوا

 

اٹھائے صدمے پہ صدمے۔  تو آبرو پائی

امیر ٹوٹ کے دل گوہر یگانہ ہوا

 

(۲)

وہ سنتا ہی نہیں۔  میں داد خواہی کیا کروں؟

کس کے آگے جا کے سر پھوڑوں الہی کیا کروں؟

 

مجھ گدا کو دے نہ تکلیف حکومت۔  اے ہوس!

چار دن کی زندگی میں بادشاہی کیا کروں؟

 

مجھ کو ساحل تک خدا پہنچائے گا۔  اے ناخدا!

اپنی کشتی کی بیاں تجھ سے تباہی کیا کروں؟

 

وہ مرے اعمال روز و شب سے واقف ہے امیر!

پیش خالق ادعائے بے گناہی کیا کروں؟

 

(۳)

انساں عزیز خاطر اہل جہاں نہ ہو

وہ مہرباں نہ ہو۔  تو کوئی مہرباں نہ ہو

 

پیری میں بھی گیا نہ تغافل ہزار حیف

اتنا بھی کوئی مائل خواب گراں نہ ہو

 

آنکھوں سے فائدہ؟ جو دیدار نہ ہو نصیب

حاصل جبیں سے کیا؟ جو ترا آستاں نہ ہو

 

جانے اگر۔  کہ چاہ عدم میں گرائے گا

کوئی سوار تو سن عمر رواں نہ ہو۔

 

(۴)

دل نے جب پوچھا۔  مجھے کیا چاہیے؟

درد بول اٹھا۔  تڑپنا چاہیے

 

حرص دنیا کا بہت قصہ ہے طول

آدمی کو صبر تھوڑا چاہیے

 

ترک لذت بھی نہیں لذت سے کم

کچھ مزہ اس کا بھی چکھا چاہیے

 

ہے مزاج اس کا بہت نازک امیر!

ضبط اظہار تمنا چاہیے۔

 

(۵)

کی دل شکنی نہ تند خو کی

سختی پہ بھی نرم گفتگو کی

 

کی جس پہ نگاہ۔  تجھ کو دیکھا

اب تک تو نظر کہیں نہ چوکی

 

جز دی و حرم کہاں میں جاؤں

راہیں تو یہی ہیں جستجو کی

 

دل ہی نہ رہا امید کیسی

جڑ کٹ گئی نخل آرشو کی

 

کلفت نہ مٹی امیر! دل سے

اشکوں نے ہزار شست وشو کی

 

(۶)

موتی کی طرح جو ہو خدا داد

تھوڑی سی بھی آبرو بہت ہے

 

جاتے ہیں جو صبر و ہوش۔  جائیں

مجھ کو اے درد! تو بہت ہے

 

مانند کلیم بڑھ نہ اے سل!

یہ دور کی گفتگو بہت ہے

 

اے نشتر غم! ہو لاکھ تن خشک

تیرے دم کو لہو بہت ہے

 

کیا غم ہے امیر! اگر نہیں مال

اس وقت میں آبرو بہت ہے

٭٭٭

 

 

 

مولف

 

(۱)

کام اگر حسب مدعا نہ ہوا

تیرا چاہا ہوا۔  برا نہ ہوا

 

سب جتایا کئے نیاز قدیم

وہ کسی کا بھی آشنا نہ ہوا

 

کیا کھلے؟ جو کبھی نہ تھا پنہاں

کیوں ملے؟ جو کبھی جدا نہ ہوا

 

سخت فتنہ جہان میں اٹھتا

کوئی تجھ سا ترے سوا نہ ہوا

 

تو نہ ہو۔  یہ تو ہو ہی نہیں سکتا

اور کوئی ہوا۔  ہوا۔  نہ ہوا

 

(۲)

جو بھلے برے کی اٹکل نہ مرا شعار ہوتا

نہ جزائے خیر پاتا۔  نہ گناہگار ہوتا

 

میں کبھی کا مر بھی رہتا۔  نہ غم فراق سہتا

اگر اپنی زندگی پر۔  مجھے اختیار ہوتا

 

کبھی بھول کر کسی سے نہ کرو سلوک ایسا

کہ جو تم سے کوئی کرتا۔  تمھیں ناگوار ہوتا

 

ہے اس انجمن میں یکساں عدم و وجود میرا

کہ جو میں یہاں نہ ہوتا۔  یہی کاروبار ہوتا

 

(۳)

کبھی تقصیر جس نے کی ہی نہیں

ہم سے پوچھو تو آدمی ہی نہیں

 

دوستی اور کسی غرض کے لئے!

وہ تجارت ہے۔  دوستی ہی نہیں

 

جام وحدت کی درد بھی جس نے

نہیں چکھی۔  وہ متقی ہی نہیں

 

جس خوشی کو نہ ہو قیام و دوام

غم سے بدتر ہے۔  وہ خوشی ہی نہیں

 

(۴)

 

جہاں تیغ ہمت علم دیکھتے ہیں

محالات کا سر قلم دیکھتے ہیں

 

کمالات صانع پہ جن کی نظر ہے

وہ خوبی مصنوع کم دیکھتے ہیں

 

نہیں مبتلا جو تن آسانیوں میں

انہیں دمبدم تازہ دیکھتے ہیں

 

اڑاتے ہیں جو رخش ہمت کو سرپٹ

وہ منزل کو زیر قدم دیکھتے ہیں

 

(۵)

ہے وصف ترا محیط اعظم

یہاں تاب کسے شناوری کی

 

دی زندگی اور اس کا ساماں

کیا شان ہے بندہ پروری کی

 

کیا آنکھ کو تل دیا! کہ جس میں

وسعت ہے چرخ چنبری کی

 

کی بعد خزاں بہار پیدا

سوکھی ٹہنی ہری بھری کی

 

کیا بات ہے! گر کیا ترحم

ہیہات! جو تو نے داوری کی

 

ہر شکل میں تھا وہی نمودار

ہم نے ہی نگاہ سرسری کی

 

(۶)

راہ و رسم خط کتابت ہی سہی

گل نہیں۔  تو گل کی نکہت ہی سہی

 

بیدماغی بندہ پرور! اس قدر!

آپ کی سب پر حکومت ہی سہی

 

بسکہ ذکر العیش نصف العیش ہے

یاد ایام فراغت ہی سہی

 

حسن صورت کا نہ کھا اصلا فریب!

کلک صنعت گر کی صنعت ہی سہی

 

 

کچھ نہ کرنا بھی مگر اک کام ہے

گر نہیں صبحت۔  تو عزلت ہی سہی

 

(۷)

ممکن ہے۔  کہ ٹل جائے جبل اپنے مقر سے

لیکن کبھی تبدیل جبلت نہیں ہوتی

 

ہو جان کی جونکھوں بھی اگر راہ طلب میں

پست اس سے الوالغرم کی ہمت نہیں ہوتی

 

خلوت میں بھی لاتے ہیں عاقل اسے منہ پر

جو بات کہ شائستہ جلوت نہیں ہوتی

 

ہم کرتے ہیں عادت کی غلامانہ اطاعت

اصلاح پذیر اس لئے عادت نہیں ہوتی

 

پتے کی طرح جو کوئی محکوم ہوا ہو

اس شخص کی دنیا میں کبھی پت نہیں ہوتی

 

ڈھاتی ہے قیامت یہی خونخوار جہاں میں

کچھ غم نہیں ہوتا۔  جو محبت نہیں ہوتی

 

(۸)

لو جان بیچ کر بھی، جو فضل و ہنر ملے

جس سے ملے۔  جہاں سے ملے۔  جس قدر ملے

 

جب چشم آز پھوٹ گئی سب خلش مٹی

اب سنگریزہ ہاتھ لگے۔  یا گہر ملے

 

ممکن نہیں بغیر قباحت فراغ بال

ہر چند تودو  تودی تجھے سیم و زر ملے

 

جن کو نہیں ہے درد و دوا میں کچھ امتیاز

قسمت سے ان گنوں کے ہمیں چارہ گر ملے

 

(۹)

غیرتو کل نہیں چارا مجھے

اپنے ہی دم کا ہے سہارا مجھے

 

حرص و طمع نے تو ڈبویا ہی تھا

صبر و قناعت نے ابھارا مجھے

 

جو وہ کرے اس کو سزاوار ہے

چون و چرا کا نہیں یارا مجھے

 

فرصت اوقات ہے بس مغتنم

یہ نہیں ملنے کی دو بارا مجھے

 

آہ! نہیں رخصت افشائے راز

قصہ تو معلوم ہے سارا مجھے

٭٭٭

 

 

 

 

سراج الدین محمد۔  بہادر شاہ ظفر

 

سراج الدین محمد نام بہادر شاہ لقب۔  ظفر تخلص۔  آخر جانشیں شاہاں مغلیہ۔  شیخ ابراہیم ذوق کے شاگرد تھے۔  ان کا کلام نہایت سادہ سلیس اور روزمرہ اردو کا عمدہ نمونہ ہے

 

(۱)

 

کسی نے اس کو سمجھایا ہوتا

کوئی یہاں تک اسے لایا ہوتا

 

نہ بھیجا تو نے لکھ کر ایک پرچہ

ہمارے دل کو پرچایا تو ہوتا

 

نہ بولو۔  ہم نے کھڑکایا بہت در

ذرا دربا ں کو کھڑکایا تو ہوتا

 

دل اس کی زلف میں الجھا ہے کب سے

ظفر! اک روز سلجھایا تو ہوتا

 

(۲)

ہر بات میں تو ایک بھی ہے لاکھ پہ بھاری

گر بات کو اپنی نہ کرے طول سے ہلکا

 

ہے جامہ تکلف کا پسندیدی احمق

ہو گا نہ گدھا یہ کبھی اس جھول سے ہلکا

 

جز تارک دنیا ہو ہوس سے سبکدوش

یہ بوجھ نہ دنیا کے ہو مشغول سے ہلکا

 

صرفہ نہیں کاغذ کا۔  مگر بھیجتے ہیں وہ

خط ڈاک میں اندیشہ محصول سے ہلکا

 

دنیا میں ظفر جو ہے گر انبار جہالت

کب ہوتا ہے وہ مردم معقول سے ہلکا

 

(۳)

آ کے پروانہ ہی کیا اس بزم میں جل بھن گیا؟

شمع بھی یہاں رو گئی۔  شعلہ بھی یہاں سر دھن گیا

 

جائیے اس در پہ اور دھونی رما کر بیٹھئے

جو گیا دل سوختی وہاں باندھ کر یہ دھن گیا

 

نام جس کا رہگیا۔  کچھ اس کا گن باقی رہا

ورنہ جو یہاں سے گیا۔  ساتھ اس کے اس کا گن گیا

 

میں صبا! وہ طائر بے طاقت اس گلشن میں ہوں

ایک پر جس کا نہ اڑ کر تا سر گلبن گیا

 

واسطے بے مغز کے کیا خاک ہو نشو و نما!

سبز ہو سکتا نہیں وہ۔  جو کہ دانہ گھن گیا

 

جاگ اٹھا خواب عدم سے یک بیک سارا جہاں

کان میں جس دم ظفر! خالق کا امر کن گیا۔

 

 

(۴)

 

غم دنیا میں ہے جینے کا مزا ہیچ!

اس بے مزگی میں کوئی جیتا ہے تو کیا ہیچ!

 

کیا کیا محل و قصر بناتے ہیں تونگر

از بہر نشاں۔  لیک نشاں بعد فنا ہیچ!

 

ایماں کو نہ دے ہاتھ سے غافل! کہ پس مرگ

آنے کا نہیں کام ترے اس کے سوا ہیچ!

 

 

 

(۵)

 

چاہتے ہیں کب نشاں اپنا مثال نقش پا!

جو کہ مٹ جانے کو بیٹھے ہیں فنا کی راہ پر

 

دل سے ہو کیونکر طریق آشنائی میں خلاف

آشنا وہ ہے۔  کہ جو ہو آشنا کی راہ پر

 

ہے صراط المستقیم اس کے لئے جس نے ظفر!

استقامت کی ہے تسلیم و رضا کی راہ پر

 

 

 

(۶)

 

اتنا نہ اپنے جامہ سے باہر نکل کے چل

دنیا ہے چل چلاؤ کا رستہ۔  سنبھل کے چل

 

کم ظرف پر غرور! ذرا اپنا ظرف دیکھ

مانند جوش خم نہ زیادہ ابل کے چل

 

فرصت ہے اک صدا کی یہاں سوز دل کے ساتھ

اس پر سپندوارنہ اتنا اچھل کے چل

 

یہ غول وش ہیں۔  ان کو سمجھ تو نہ رہنما

سایہ سے بچ کے اہل فریب و دغل کے چل

 

انسان کل کا پتلا بنایا ہے اس نے آپ

اور آپ ہی وہ کہتا ہے پتلے کو کل کے “چل”

 

پھر آنکھیں بھی تو دی ہیں۔  کہ رکھ دیکھ کر قدم

کہتا ہے کون تجھ  کو! نچل۔  چل۔  سنبھل کے چل!

 

جو امتحان طبع کرے اپنا۔  اے ظفر!

تو کہہ دو اس کو۔  طور پہ تو اس غزل کے چل

 

(۷)

 

نہیں تم کو لازم برائی کی باتیں

بھلوں کو ہیں زیبا بھلائی کی باتیں

 

غضب ہے! کہ دم میں تو رکھو کدورت

کرو منہ پہ ہم سے صفائی کی باتیں

 

اگر سیدھے ہوتے مرے بخت واژوں

تو کیوں کرتے وہ کج ادائی کی باتیں

 

قفس میں ہے کیا فائدہ شور و غل سے

اسیرو! کرو کچھ رہائی کی باتیں

 

ظفر! کیا زمانہ برا آ گیا ہے

جہاں دیکھو۔  ہیں وہاں برائی کی باتیں

 

 

(۸)

 

گرد جو اے شہسوار! آئی نظر اڑتی ہوئی

تیرے آنے کی ہمیں پہنچی خبر اڑتی ہوئی

 

دل جلوں کی ہوتی قسمت میں نہ بربادی۔  تو کیوں

پھرتی پروانہ کی خاکستر سحر اڑتی ہوئی

 

وہ شکار انداز لے جب ہاتھ میں اپنے تفنگ

برق تھرا جائے رنجک دیکھ کر اڑتی ہوئی

 

بے ثباتی کیا کہوں ہستی کی؟ دیکھی ہی نہیں

سرخی رنگ حنا جلد اس قدر اڑتی ہوئی

 

ہے تو کچھ رونق صفائی میں ہی دلکی۔  ورنہ یاں

خاک ہی دیکھی کدورت میں ظفر۔ اڑتی ہوئی

 

 

 

(۹)

 

کیا کیا آ کر تری محفل میں ہم نے شمع ساں!

ہاں! مگر جل کر بروں کی جان کو ہم رو گئے

 

حضرت دل تو گئے۔  پر کر گئے اور اک ستم

ساتھ اپنے مجھ کو بھی دونوں جہاں سے کھو گئے

 

شوق اپنا تم سے دونا ہی محبت میں رہا

جب وہاں سے ایک خط آیا۔  یہاں سے دو گئے

 

اے ظفر! جاؤ۔  دل دیوانہ کو ڈھونڈو کہیں

ہے خدا جانے کہاں؟ مدت ہوئی اس کو گئے

٭٭٭

 

 

 

 

ملک الشعرا شیخ ابراہیم ذوق

 

کلام نہایت عام پسند۔  محاورات و ضرب الامثال خوب باندھتے ہیں۔  مفصل حال دیکھو صفحہ ۷۳ حصہ نثر

 

 

 

(۱)

 

اسے ہم نے بہت ڈھونڈا نہ پایا

اگر پایا۔  تو کھوج اپنا نہ پایا

 

جس انساں کو سگ دنیا نہ پایا

فرشتہ اس کا ہم پایا نہ پایا

 

مقدر ہی پہ گر سود و زیاں ہے

تو ہم نے یاں کچھ نہ کھویا۔  نہ پایا

 

سراغ عمر رفتہ ہو۔  تو کیونکر؟

کہیں جس کا نشان پا نہ پایا

 

رہ گم گشتگی میں ہم نے اپنا

غبار راہ بھی عنقا نہ پایا

 

رہا ٹیڑھا مثال نیش کژدم

کبھی کج فہم کو سیدھا نہ پایا

 

احاطے سے فلک کے۔  ہم تو کب کے

نکل جاتے۔  مگر رستا نہ پایا

 

جہاں دیکھا، کسی کے ساتھ دیکھا

کبھی ہم نے تجھے تنہا نہ پایا

 

کہے کیا ہائے زخم دل ہمارا!

دہن پایا۔  لب گویا نہ پایا

 

کبھی تو اور کبھی تیرا رہاغم

غرض۔  خالی دل شیدا نہ پایا

 

نظیر اس کو کہاں عالم میں! اے ذوق

کہیں ایسا نہ پائے گا۔  نہ پایا

 

 

 

(۲)

 

 

 

نالہ اس زور سے کیوں میرا دہائی دیتا

اے فلک! اگر تجھے اونچا نہ سنائی دیتا

 

دیکھو چھوٹوں کو ہے اللہ بڑائی دیتا

آسماں آنکھ کے تل میں ہے دکھائی دیتا

 

کون گھر آئینہ کے جاتا؟ اگر وہ گھر میں

خاکساری سے نہ جاروب صفائی دیتا

 

منہ سے بس کرتے نہ ہر گز یہ خدا کے بندے

گر حریصوں کو خدا ساری خدائی دیتا

 

دیکھ۔  اگر دیکھنا ہے ذوق! کہ وہ پردہ نشیں

دیدی روزن دل سے ہے دکھائی دیتا

 

 

 

(۳)

 

بےنصیب اس کے ہیں گر دیدار سے

سی دو آنکھوں کو نظر کے تار سے

 

اٹھ چکا وہ ناتواں۔  جو رہ گیا

دبکے تیرے سائی دیوار سے

 

اپنے دامن کو بچا کے جائیو

برق! میرے وادی پرخار سے

 

ناکسوں سے کیا رکیں وارستگاں!

الجھے کب دامن صبا کا خار سے

 

 

(۴)

 

وہ خلق سے پیش آتے ہیں۔  جو فیضرساں ہیں

ہے شاخ ثمر دار میں گل پہلے ثمر سے

 

فریاد ستم کش ہے وہ شمشیر کشیدہ

جس کا نہ رکے وار فلکی کی بھی سپر سے

 

اشکوں میں بہے جاتے ہیں ہم سوئے درِ یار

مقصود رہ کعبہ ہے دریا کے سفر سے

 

اے ذوق! کسی ہمدم دیرینہ کا ملنا

بہتر ہے ملاقات مسیحا و خضر سے

 

 

 

(۵)

 

کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے

ان کا بندہ ہوں جو بندے ہیں محبت والے

 

رہے جو شیشہ ساعت وہ مکدر دونوں

کبھی مل بھی گئے دو دل جو کدورت والے

 

حرص کے پھیلتے ہیں پانوں بقدر وسعت

تنگ ہی رہتے ہیں دنیا میں فراغت والے

 

نہیں جز شمع مجاور مرے بالین مزار

نہیں جز کثرت پروانہ زیارت والے

 

نہ ستم کا کبھی شکوہ۔  نہ کرم کی خواہش

دیکھ تو! ہم بھی ہیں۔  کیا صبر و قناعت والے!

 

کیا تماشا ہت! کہ مثل مہ نو اپنا فروغ

جانتے اپنی حقارت کو ہیں شہرت والے

 

کبھی افسوس ہے آتا۔  کبھی رونا آتا

دل بیمار لے ہیں دو ہی عیادت والے

 

ناز ہے گل کو نزاکت پے چمن۔ اے ذوق

اس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے

 

 

 

(۶)

 

نہیں ثبات بلندی عز و شاں کے لئے

کہ ساتھ اوج کے پستی ہے آسمان کے لئے

 

نہ چھوڑ تو کسی عالم میں راستی۔  کہ یہ شے

عصا ہے پیر کو اور سیف ہے جواں کے لئے

 

جو پاس مہر و محبت کہیں یہاں بکتا

تو مول لیتے ہم اک اپنے مہرباں کے لئے

 

اگر امید نہ ہمسایہ ہو۔  تو خانہ یاس

بہشت ہے ہمیں آرام جاوداں کے لئے

 

وبال دوش ہے اس ناتوں کو سر۔  لیکن

لگا رکھا ہے ترے خنجر و سناں کے لئے

 

بنایا آدمی کو ذوق! ایک جز و ضعیف

اور اس ضعیف سے کل کام دو جہاں کے لیے

 

 

(۷)

 

ایسا نہ ہو کہ آتے ہی آتے جواب خط

قاصد! جواب زندگی مستعار دے

 

اے شمع تیری عمر طبعی ہے ایک رات

ہنسکر گزار یا اسے رو کر گزار سے

 

بے فیض گر ہے چشمہ آب بقا۔  تو کیا!

مانگو۔  تو ایک قطرہ نہ آئینہ وار دے

 

پشہ سے سیکھے شیوہ مردانگی کوئی

جب قصد خوں کو آئے۔  تو پہلے پکار دے

 

اس جبر پر تو ذوق! یہ انساں کا حال ہے

کیا جانے کیا کرے! جو خدا اختیار دے۔

 

 

(۸)

 

لائی حیات۔  آئے۔  قضا لے چلی۔  چلے

اپنی خوشی نہ آئے۔  نہ اپنی خوشی چلے

 

ہمسا بھی۔  اس بساط پے کم ہو گا بد قمار

جو چال ہم چلے۔  وہ نہایت بری چلے

 

بہتر تو ہے یہی۔  کہ نہ دنیا سے دل لگے

پر کیا کریں! جو کام نہ بےدل لگی چلے

 

ہو عمر خضر بھی۔  تو ہو معلوم وقت مرگ

ہم کیا رہے یہاں! ابھی آئے۔  ابھی چلے

٭٭٭

 

 

 

                حکیم مومن خان۔  مومن

 

مومن خان نام۔  مومن تخلص۔  وطن دلی۔  طبابت پیشہ آبائی۔  ۱۲۱۵ ہجری میں پیدا ہوئے۔  ۱۲۶۸ھ میں رحلت کی۔  نہایت ذکی و ذہین آدمی تھے۔ ان کی روش خاص معاملہ بندی ہے۔  کہیں میر و درد کی سی سادہ بیانی۔  کہیں باریکی۔  ذوق اور غالب کے ہمعصر تھے۔

 

(۱)

 

 

 

وعدہ وصلت سے ہو دل شاد کیا!

تم سے دشمن کی “مبارکباد” کیا!

 

کچھ قفس میں ان دنوں لگتا ہے جی

آشیاں اپنا ہوا برباد کیا؟

 

ہیں اسیر اس کے۔  جو ہے اپنا اسیر

ہم نے سمجھے صید کیا! صیاد کیا!

 

نالہ اک دم میں اڑا ڈالے دھوئیں

چرخ کیا اور چرخ کی بنیاد کیا!

 

جب مجھے رنج دل آزاری نہ ہو

بےوفا! پھر حاصل بیداد کیا؟

 

کیا کروں اللہ! سب ہیں بے اثر

ولولہ کیا!نالہ کیا! فریاد کیا!

 

ان نصیبوں پر کی اختر شناس

لب پہ مومن “ہر چہ بادا باد” کیا؟

 

 

 

(۲)

 

کیا رم نہ کرو گے۔  اگر ابرام نہ ہو گا

الزام سے حاصل بجز الزام نہ ہو گا

 

ہاں جوش تپز!چھیڑ چلی جائے۔  کہ پرتو

جھڑ جائیں گے۔  فرسودا اگر دام نہ ہو گا

 

ناکامی امید پہ صبر آئے۔  تو کیا آئے

ہر بات میں کہتے ہو۔  کہ یہ کام نہ ہو گا

 

وہ مشق رہی اور نہ وہ شوق ہے۔  مومن!

کیا شہر کہیں گے۔  اگر الہام نہ ہو گا

 

 

 

(۳)

 

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

رنج راحت فزا نہیں ہوتا

 

اس نے کیا جانے! کیا کیا لیکر!

دل کسی کام کا نہیں ہوتا

 

آہ! طول امل ہے روز افزوں

گرچہ اک مدعا نہیں ہوتا

 

نارسائی کے دم رکے۔  تو رکے

میں کسی سے خفا نہیں ہوتا

 

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

 

چارہ دل سوائے صبر نہیں

سو تمھارے سوا نہیں ہوتا

 

کیوں سنے عرض مومن مضطر

صنم آخر خدا نہیں ہوتا

 

 

 

(۴)

 

قابو میں نہیں ہے دل کم حوصلہ اپنا

اس جور پہ جب کرتے ہیں تجھ سے گلہ اپنا

 

لبیک حرم ہم ہیں۔  نہ ناقوس کلیسا

پھر شیخ و برہمن میں ہے کیوں غلغلہ اپنا؟

 

تھے دشت میں ہمراہ مرے آبلہ چند

سو آپ ہی پامال کیا قافلہ اپنا

 

اس ھال کو پہنچے ترے قصے سے۔  کہ اب ہم

راضی ہیں۔  گراعدا بھی کریں فیصلہ اپنا

 

انصاف کے خواہاں ہیں۔  نہیں طالب زر ہم

تحسین سخن فہم ہے مومن صلہ اپنا

 

 

 

(۵)

 

تم بھی رہنے لگے خفا۔  صاحب!

کہیں سایہ مرا پڑا۔  صاحب!

 

ستم۔ آزار۔ ظلم۔ جور۔ جفا

جو کیا۔ سو بھلا کیا۔  صاحب!

 

کیوں الجھتے ہو جنبش لب سے

خیر ہے! میں نے کیا کہا؟ صاحب!

 

کیوں لگے دینے خط آزادی

کچھ گنہ بھی غلام کا؟ صاحب!

 

نام عشق بتاں نہ لو۔  مومن

کیجیئے بس خدا خدا۔  صاحب

 

(۶)

 

ٹھانی تھی دل میں۔  اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

پر کیا کریں! کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم

 

مجھ سے نہ بولو تم۔  اسے کیا کہتے ہیں بھلا

انصاف کیجیئے۔  پوچھتے ہیں آپ سے ہم

 

صاحب نے کس غلام کو آزاد کر دیا؟

لو بندگی! کہ چھوٹ گئے بندگی ہم سے

 

کب گل کھلے گا! فصل گل تو دور

اور سوے دشت بھاگتے ہیں کچھ ابھی سے ہم

 

لے نام آرزو کا تو دل کو نکال لیں

مومن نہ ہوں۔  جو ربط رکھیں بدعتی سے ہم

 

 

 

(۷)

 

سینہ کوبی سے زمیں ساری ہلا کے اٹھے

کیو علم دھوم سے تیرے شہدا کے اٹھے

 

گو کہ ہم صفحہ ہستی پہ تھے اک حرف غلط

لیک اٹھے بھی۔  تو اک نقش بٹھا کے اٹھے

 

اس رے گرمی محبت! کہ ترے سوختہ جاں

جس جگہ بیٹھ گئے۔  آگ لگا کے اٹھے

 

میں دکھاتا تمھیں تاثیر۔  مگر ہاتھ مرے

ضعف کے ہاتھ سے کب وقت دعا کے اٹھے

 

شعر مومن کے پڑھے بیٹھ کے اس کے آگے

خوب احوال دل زار سنا کے اٹھے

 

 

 

(۸)

 

اگر غفلت سے باز آیا۔  جفا کی

تلافی کی بھی ظالم نے۔  تو کیا کی

 

فلک کے ہاتھ میں جا چھپوں۔  گر

خبر لا دے کوئی تحت الثریٰ کی

 

جفا سے تھک گئے۔  تو بھی نہ پوچھا

کہ تو نے کس توقع پر وفا کی؟

 

کہا اس شوخ سے “مرتا ہے مومن”

کہا “میں کیا کروں! مرضی خدا کی”

٭٭٭

 

 

 

 

 

                نواب مصطفے خان شیفتہ

 

مصطفٰے خان نام۔  شیفتہ تخلص۔  جہانگیر آباد ضلع شہر کے جاگیر دار اور عمائد دہلہ سے تھے۔  ان کی ذات ستودہ صفات امارت، فقر اور علم و فضل کی جامع تھی۔  ریختہ میں حکیم مومن خان مومن سے مشورہ کرتے تھے۔  کلام نہایت متین و سنجیدہ۔  فارسیت کا رنگ غالب۔  ۱۲۷۷ ہجری میں رحلت فرمائی۔

 

(۱)

 

اے جان بیقرار ذرا صبر چاہیے

بےشک ادھر بھی آئے گا جھونکا نسیم کا

 

جس کی سرشت صاف نہ ہو آدمی نہیں

نیرنگ و عشوہ کام ہے دیو رحیم کا

 

طاعت اگر نہیں۔  تو نہ ہو۔  یاس کس لئے!

وابستہ سبب ہے کرم کب کریم کا

 

جس وقت تیرے لطف کے دریا کو جوش آئے

فوارہ جناں ہو زبانہ حجیم کا

 

اے شیفتہ! عذاب جہنم سے کیا مجھے؟

میں امتی ہوں نار و جناں کے قسیم کا

 

(۲)

 

دل زار کا ماجرا کیا کہوں!

فسانہ ہے مشہور سیماب کا

 

کہاں پھر وہ نایاب! پایا جسے

غلط شوق ہے جنس نایاب کا

 

نہ کیجو غل۔  اے خوش نوایان صبح!

یہ ہے وقت ان کے شکر خواب کا

 

محبت نہ ہر گز جتائی گئی

رہا ذکر کا اور ہر باب کا

 

وہاں تیری روزوں کی پرواہ کسے

جہاں شغل ہو سیر مہتاب کا

 

میں بیجرم رہتا ہوں خائف۔  کہ واں

جفا میں نہیں دخل اسباب کا

 

نہ کرنا خطا پر نظر شیفتہ!

کہ اغماض شیوہ ہے احباب کا

 

 

(۳)

 

 

اہل طریق کی بھی روش سب سے ہے الگ

جتنا زیادہ شغل۔  زیادہ فراغ بال

 

ہنگام عہد کام میں لائے وہ ایسے لفظ

جن کے معانی متعدد پر اشتمال

 

یہ بات تو غلط ہے۔  کہ دیوان شیفتہ

ہے نسخہ’ معارف و مجموعہ کمال

 

لیکن مبالغہ تو ہے البتہ! اس میں کم

ہاں! ذکر خد و خال۔  اگر ہے۔تو خال خال

 

(۴)

 

آرام سے ہے کون جہان خراب میں؟

گل سینہ چاک اور صبا اضطراب میں

 

سب اسی میں محو اور وہ سب سے علحٰدہ

آئینہ میں ہے آب۔  نہ آئینہ آب میں

 

معنی کی فکر چاہیے۔  صورت سے کیا حصول!

کیا فائدہ ہے موج اگر ہے سراب میں

 

ذات و صفات میں بھی یہی ربط سمجھئے

جو آفتاب و  روشنیِ آفتاب میں

 

قطع نظر جو نقش و نگار جہاں سے ہو

دیکھو وہ آنکھ سے۔  جو نہ دیکھا ہو خواب میں

 

مرنے کے بعد بھی کہیں شاید پتا لگے

کھویا ہے ہم نے آپ کو عہد شباب میں

 

وہ قطرہ ہوں۔  کہ موجہ دریا میں گم ہوا

وہ سایہ ہوں۔  کہ محو ہوا آفتاب میں

 

اس صورت جاں نواز کا ثانی نہیں بنا

کیا ڈھونڈتے ہو! بربط و عود و رباب میں

 

اے آفت زمانہ! تیرے دور میں شکیب

بلبل کو باغ میں ہے۔  نہ ماہی کو آب میں

 

بیباک شیوہ۔  شوخ طبعیت۔  زبان دراز

ملزم ہوا ہے۔  پر نہیں عاجز جواب میں

 

تکلیف شیفتہ ہوئی تم کو۔  مگر حضور

اس اتفاق سے وہ ہیں عتاب میں

 

 

(۵)

 

جو کہ ہوا محو تجلی ذات

خاک در اس شخص کی اکسیر ہے

 

کھیل ہے کچھ یہ؟ کہ دکھا دوں تمھیں

فرض کیا۔  آہ میں تاثیر ہے

 

خط کے لکھنے کا لکھوں کیا گلہ؟

خامہ! مدد کر۔  دم تحریر ہے

 

کیا کہوں! احباب کی آہن دلی

پانوں میں فولاد کی زنجیر ہے

 

ہم سے ناحق جو خفا ہو گئے

شیفتہ! کچھ اپنی ہی تقصیر ہے

 

(۶)

ستمگر کہے سے برا مانتا کیوں!

ستم کو اگر وہ بھلا جانتا ہے

 

جو بیگانہ جانے تجھے خلق۔  کیا غم!

اگر آشنا۔  آشنا جانتا ہے

 

اسے کنج خلوت کی کیا ہے ضرورت!

جو محفل کو خلوت سرا جانتا ہے

 

بہر صورت آئینہ بھی مغتنم ہے

کچھ آئین اہل صفا جانتا ہے

 

ہمیں شفیتہ کی نصیحت سے حاصل!

کہ وہ آپ سے سوا جانتا ہے

 

(۷)

ابھی کہوں، تو کریں لوگ شرمسار مجھے

کہ کس کے وعدے پر اتنا ہے انتظار مجھے

 

یہی گمان یہی رشک ہے اگر۔  تو کبھی

نہ کوئی دوست ملے گا نہ کوئی یار مجھے

 

قفس میں کرتی ہے تحریک بال جنبانی

نو ائے دلکش مرغان شاخسار مجھے

 

ہزار دم سے نکلا ہوں ایک جنبش میں

جسے غرور ہو۔  آئے۔  کرے شکار مجھے

 

رہے سرائر مکتومہ دل ہی میں۔ افسوس!

جہان میں نہ ملا کوئی راز دار مجھے

 

جفا کو ترک کرو تم۔  وفا کو میں چھوڑوں

کچھ اشتہار تمھیں ہو۔  کچھ اشتہار مجھے

 

جو شورشیں نہ مچاتا۔  اسیر کیوں ہوتا!

خراب تو نے کیا۔  جلوہ بہار مجھے

 

بڑے فساد اٹھیں۔  شفیتہ!خدا نہ کرے!

کہ ان کی بزم میں ہو دخل و اختیار مجھے

٭٭٭

 

 

 

 

                میرزا اسد اللہ خان غالب

 

ان کے کلام میں فارسی الفاظ اور ترکیبوں کا استعمال بیشتر۔  مگر الفاظ کی شستگی اور ترکیب کی چستی بے مثل۔  معانی کثیر کو الفاظ قلیل میں بیان کرنا ان کا خاصہ ہے۔  ابتدائے عمر میں دس برس تک بیدل اور اسیر کے طرز پر خیالی مضامین لکھا کئے۔  جب تمیز آئی۔  اس دیوان کو چاک کر ڈالا۔  دیوان حال میں کچھ نمونہ ابتدائی کلام کا موجود ہے۔

 

(۱)

دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے!

زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے!

 

بے نیازی حد سے گزری۔  بندہ پرور! کب تلک

ہم کریں گے عرض حال اور آپ فرمائیں گے کیا؟

 

حضرت ناصح گر آئیں۔  دیدہ و دل فرش راہ

کوئی مجھکو یہ تو سمجھا دو۔  کہ سمجھائیں گے کیا؟

 

آج واں تیغ و کفن باندھے ہوئے جاتا ہوں میں

عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لائیں گے کیا؟

 

خانہ زاد زلف ہیں۔  زنجیر سے بھاگیں گے کیوں!

ہیں گرفتار وفا۔  زنداں سے گھبرائیں گے کیا؟

 

ہے اب اس معمورہ میں قحط غم الفت اسد

ہم نے یہ مانا۔  کہ دلی میں رہے۔  کھائیں گے کیا؟

 

 

(۲)

 

یہ نہ تھی ہماری قسمت۔  کہ وصال یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے۔  یہ ہی انتظار ہوتا

 

ترے وعدے پر جئے ہم۔  تو یہ جان جھوٹ جانا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے۔  اگر اعتبار ہوتا۔

 

یہ کہاں کی دوستی ہے۔  کہ بنے ہیں دوست ناصح

کوئی چارہ ساز ہوتا! کوئی غمگسار ہوتا

 

رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو۔  کہ پھر نہ تھمتا

جیسے غم سمجھ رہے ہو۔  وہ اگر شرار ہوتا

 

کہوں کس سے میں۔  کہ کیا ہے۔  شب غم بری بلا ہے

مجھے کیا برا تھا مرنا۔  اگر ایک بار ہوتا

 

اسے کون دیکھ سکتا۔  کہ یگانہ ہے وہ یکتا

جو دوئی کی بو بھی ہوتی۔  تو کہیں دوچار ہوتا

 

یہ مسائل تصوف! یہ ترا بیان! غالب!

تجھے ہم ولی سمجتھے۔  جو نہ بادہ خوار ہوتا

 

 

(۳)

ہوئی تاخیر۔  تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا؟

آپ آتے تھے۔  مگر کوئی عناں گیر بھی تھا؟

 

تم سے بیجا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ

اس میں کچھ شائبہ خوبی تقدیر بھی تھا

 

تو مجھے بھول گیا ہو۔  تو پتا بتلا دوں

کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا؟

 

بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے۔  تو کیا!

بات کرتے۔  کہ میں لب تشنہ تقریر بھی تھا

 

پیشہ میں عیب نہیں۔  رکھئے نہ فرہاد کا نام

ہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا

 

ہم تھے مرنے کو کھڑے۔  پاس نہ آیا۔  نہ سہی!

آخر اس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا؟

 

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق

آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا؟

 

ریختے کے تمھیں استاد نہیں ہو۔ غالب!

کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

 

(۴)

 

گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر

جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر

 

کہتے ہیں۔  جب رہی نہ مجھے طاقت سخن

“جانوں کسی کے دل کی میں کیونکر کہے بغیر”

 

کام اس سے آ پڑا ہے۔  کہ کس کا جہان میں

لیوے نہ کوئی نام ستمگر کہے بغیر

 

جی میں ہی کچھ نہیں ہے ہمارے۔  وگرنہ ہم

سر جائے یا رہے۔  نہ رہیں پر کہے بغیر

 

چھوڑوں گا میں نہ اس بت کافر کا پوجنا

چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر

 

مقصد ہے ناز و غمزہ۔  ولے گفتگو میں کام

چلتا نہیں ہے دشنہ و خنجر کہے بغیر

 

ہر چند ہو مشاہدہ حق کی گفتگو

بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

 

بہرا ہوں میں۔  تو چاہئے دونا ہو التفات

سنتا نہیں ہوں بات مکرر کہے بغیر

 

غالب! نہ کر حضور میں تو بار بار عرض

ظاہر ہے تیرا حال سب ان پر کہے بغیر

 

(۵)

 

کب سے ہوں (کیا بتاؤں) جہان خراب میں

شبہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں

 

قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں

میں جانتا ہوں۔  جو وہ لکھیں گے جواب میں

 

ہین آج کیوں ذلیل! کہ کل تک نہ تھی پسند

گستاخی فرشتہ ہماری جناب میں

 

رو میں رخش عمر۔  کہاں (دیکھئے) تھمے!

نے ہاتھ باگ پر ہے۔  نہ پا ہے رکاب میں

 

اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بعد ہے

جتنا۔  کہ وہم غیر سے ہوں بیچ و تاب میں

 

اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے

حیراں ہوں۔  پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں!

 

ہے مشتمل نمود صور پر وجود بحر

یاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج حباب میں

 

غالب! ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست

مشغول حق ہوں بندگی بو تراب میں

 

(۶)

 

قطع کیجیے نہ تعلق ہم سے

کچھ نہیں ہے۔  تو عداوت ہی سہی

 

میرے ہونے میں کیا ہے رسوائی

اے! وہ مجلس نہیں۔  خلوت ہی سہی

 

اپنی ہستی ہی سے ہو۔  جو کچھ ہو

آگہی گر نہیں۔  غفلت ہی سہی

 

عمر پر چند کہ ہے برق خرام

دل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی

 

ہم کوئی ترک وفا کرتے ہیں!

نہ سہی عشق۔  مصیبت ہی سہی

 

کچھ تو دے۔  اے فلک ناانصاف!

آہ و فریاد کی رخصت ہی سہی

 

ہم بھی تسلیم کی خو دالیں گے

بے نیازی تیری عادت ہی سہی

 

یار سے چھیڑ چلی جائے اسد!

گر نہیں وصل۔  تو حسرت ہی سہی

 

 

(۷)

کوئی دن گر زندگانی اور ہے

اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے

 

آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں!

سوز غمہائے نہانی اور ہے

 

بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیں

پر کچھ اب کے سر گرانی اور ہے

 

سے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر

کچھ تو پیغام زبانی اور ہے

 

ہو چکیں غالب! بالائیں سب تمام

ایک مرگ ناگہانی اور ہے

٭٭٭

 

 

 

 

                خواجہ حیدر علی۔  آتش

 

خواجہ حیدر علی نام۔  آتش تخلص۔  ان کے والد دلی سے لکھنو آئے۔  خواجہ کو ابتدائے عمر سے شاعری کا چسکا لگا۔  شیخ مصحفی کے شاگرد ہوئے۔  غزل گوئی میں شیخ ناسخ سے مقابلہ رہا۔  ان کے کلام میں لطف محاوارات اور گرمی و تاثیر بہ نسبت شیخ ناسخ کے زیادہ ہے۔

 

(۱)

حسن پری اک جلوہ مستانہ ہے اس کا

ہشیار وہی ہے، کہ جو دیوانی ہے اس کا

 

وہ شوخ نہاں گنج کی مانند ہے اس میں

معمورہ عالم جو ہے۔  ویرانہ ہے اس کا

 

جو چشم۔  کہ حیراں ہوئی۔  آئینہ ہے اس کی

جو سینہ۔  کہ صد چاک ہوا، شانہ ہے اس کا

 

دل قصر شہنشہ ہے۔  وہ شوخ اس میں شہنشاہ

عرصہ یہ دو عالم کا جلو خانہ ہے اس کا

 

وہ یاد ہے اس کی۔  جو بھلا دے دو جہاں کو

حالت کر کرے غیر۔  وہ یارانہ ہے اس کا

 

یوسف نہیں۔  جو ہاتھ لگے چند درم سے

قیمت جو دو عالم کی ہے۔  بیعانہ اس کا

 

آوارگی نکہت گل ہے یہ اشارہ

جامہ سے وہ باہر ہے۔  جو دیوانہ ہے اس کا

 

یہ حال ہوا اس کے فقیروں سے ہویدا

آلودہ دنیا جو ہے۔  بیگانہ ہے اس کا

 

شکرانہ ساقی ازل کرتا ہے آتش

لبریز مئے شوق سے پیمانہ ہے اس کا

 

(۲)

 

برنگ شمع جس نے دل جلایا تیری دوری میں

تو اس نے منزل مقصود کو زیر قدم پایا

 

ہزاروں حسرتیں جائیں گی میرے ساتھ دنیا سے

شرار و برق سے بھی عرہ ہستی کم پایا

 

سوائے رنج کچھ حاصل نہیں ہے اس خرابہ میں

غنیمت جان۔  جو آرام تو نے کوئی دم پایا

 

نظر آیا تماشائے جہاں۔  جب بند کریں آنکھیں

صفائے قلب سے پہلو میں نے جام جم پایا

 

ہوا ہر گز نہ خط شوق کا ساماں درست۔  آتش!

سیاہی ہو گئی نایاب۔  اگر ہم نے قلم پایا۔

 

(۳)

 

نہ بوریا بھی میسر ہو بچھانے کو

ہمیشہ خواب ہی دیکھا کئے چھپر کھٹ کا

 

مطیع نفس نہ اللہ نے کیا مجھ کو

نہ میں نے پیروی غول کی۔  نہ میں بھٹکا

 

نہ پھول بیٹھ کے بالائے سرو۔  اے قمری!

چڑھی جو بانس کے اوپر۔  یہ کام ہے نٹ کا

 

عجیب بھول بھلیاں ہے غفلت ہستی

جسے کہ واہ ہوئی اس سے۔  خوب ہی بھٹکا

 

عجب نہیں ہے۔  جو سودا ہوا شعر گوئی سے

خراب کرتا ہے آتش! زبان کا چٹکا

 

(۴)

 

اے چرخ بے مروت! بل بے تنک مزاجی!

خوش تیرے گھر میں دو دن ایک میہماں نہ ٹھیرا

 

برباد کر نہ ناحق – اے باد صرصر! اس کو

بلبل کا آشیانہ برگ خزاں نہ ٹھیرا

 

عزلت گزینی کا کو میں نے کیا ارادہ

کنج لحد سے بہتر کوئی مکاں نہ ٹھیرا

 

پھونک آشیاں ہمارا – اے برق آتش گل!

رہنے کے قابل اپنے یہ بوستاں نہ ٹھیرا

 

میری ہی خاک پر کی منہ زوری اس نے آتش!

پہروں سمند قاتل ورنہ کہاں نہ ٹھیرا!

 

 

(۵)

 

مسافر کی طرح رہ خانہ بردوش

نہیں جائے اقامت دار فانی

 

یقیں ہے دیدی باریک بیں کو

کرے عینک طلب یہ ناتوانی

 

یہ مشت خاک ہو مقبول درگاہ

صبا کی چاہتا ہوں مہربانی

 

سفیدی مو کی ہو کافور ہر چند

کہٰں مٹتا ہے یہ داغ جوانی!

 

نہ خوش ہو فربہی تن سے۔  غافل!

سبک کرتی ہے مردہ کو گرانی

 

موئے جو پیشتر مرنے سے۔  وہ لوگ

کفن سمجھے قبائے زندگانی

 

ہوا کوئی نہ حال دل سے آگاہ

رہی مشتاق گوش اپنی کہانی

 

خدا کے حکم سے ہے قوت نطق

کلام اپنا ہے ہاتف کی زبانی

 

مرا دیواں ہے۔  اے آتش! خزانہ

ہر اک بیت اس میں ہے گنج معانی

 

(۶)

 

آنکھوں کوکھول۔  اگر تو دیدار کا ہے بھوکا

چودہ طبق سے باہر نعمت نہیں ہے کوئی

 

یہ کیا سمجھ کے کڑوے ہوتے ہیں آپ ہم سے!

پی جائیے گا کس کو! شربت نہیں ہے کوئی

 

میں نے کہا۔  کبھی تو تشریف لاؤ۔  بولے

“معذور رکھئے۔  وقت فرصت نہیں ہے کوئی”

 

دل لیکے جان کے بھی سائل جو ہو۔  تو حاضر

حاضر جو کچھ ہے۔  اس میں حجت نہیں ہے کوئی

 

ہم شاعروں کا حلقہ حلقہ ہے عارفوں کا

ناآشنائے معنی صورت نہیں ہے کوئی

 

ہژدہ ہزار عالم دم بھر ہے تیرا

تجھ کو نہ چاہے۔  ایسی خلقت نہیں ہے کوئی

 

نازاں نہ حسن پر ہو۔  مہماں ہے کوئی دم کا

بےاعتبار ایسی دوست نہیں ہے کوئی

 

یوں بد کہا کرو تم۔  یوں مال کچھ نہ سمجو

ہمسا بھی خیر خواہ دولت نہیں ہے کوئی

 

ما و شما۔  کہہ و مہ کرتا ہے ذکر تیرا

اس داستاں سے خالی صحبت نہیں ہے کوئی

 

(۷)

 

منزل ہی دور ہے۔  جو پہنچی نہیں ہنوز

دم لینے والی راہ میں عمر رواں نہ تھی

 

دکھلائے سیر آنکھوں کو بام مراد کی

ایسی کوئی کمند۔  کوئی نرد باں نہ تھی

 

نا فہمی کی دلیل ہے یہ سجدہ سے ابا

ابلیس کو حقیقت آدم عیاں نہ تھی

 

افسوس کیا جوانی رفتہ کا کیجئے!

وہ کونسی بہار تھی! جس کو خزاں نہ تھی

 

نالوں سے ایک دن نہ کئی گرم گوش یار

آتش! مگت تمھارے دہن میں زباں نہ تھی۔

٭٭٭

 

 

 

 

                شیخ امام بخش ناسخ

 

شیخ امام بخش نام۔  ناسخ تخلص، لکھنو کے مشاہیر شعرا سے ہیں اور اپنے وقت کے استاد۔  میر تقتی میر۔  مصحفی۔  انشا۔  جرات کا اخیر زمانہ دیکھا تھا۔  خواجہ آتش کے ہمعصر تھے۔  کلام ان کا اصول فن کے مطابق نہایت جنچا تلا۔  تشبیہ و تمثیل سے معمور۔  مگر دلاویزی و تاثیر کم۔

 

(۱)

انسان کو انسان سے کینہ نہیں اچھا

جس سینہ میں کینہ ہو۔  وہ سینہ نہیں اچھا

 

آوازیہ آتی ہے لب آب بقا سے

“مرنا ہی یہاں خوب ہے جینا نہیں اچھا”

 

ہو سیر جو منظور (دلد!) بحر جہاں کی

جز کشتی درویش سفینہ نہیں اچھا

 

(۲)

 

دشمن سر ہے تری گردن کشی مانند شمع

افسرزر شوق سے رکھ۔  پر نہ اتنا سر اٹھا

 

زندگی میں صرف کر۔  تو ہو سبکدوشی حصول

مثل قاروں خاک میں جا کر نہ بار زر اٹھا

 

چاہیے تعمیر دل۔  جو ساتھ اٹھا لے جائے گا

یوں خرابی کے لیے دیوار اٹھا، یا در اٹھا

 

بات جن نازک مزاجوں سے نہ اٹھتی تھی کبھی

بوجھ ان سے سینکڑوں من خاک کا کیونکر اٹھا!

 

کیا سخن سنجی سے حاصل! جب سخنداں ہی نہیں

زانئوے فکرت سے۔  اے ناسخ! تو اپنا سر اٹھا

 

(۳)

ہو وطن میں خاک میرے گوہر مضموں کی قدر

لعل قیمت کو پہنچتا ہے بدخشاں چھوڑ کر

 

ہوتی ہے گربت میں ثروت۔  پر بڑی ایذا کے بعد

رنج اٹھائے کس قدر یوسف نے کنعاں چھوڑ کر

 

اعتماد اصلا نہیں۔  گر ہے جہاں زیر نگیں

اٹھ گیا دنیا سے خاتم کو سلیماں چھوڑ کر

 

آج تو پوشاک پر مرتا ہے تو۔  کل دیکھئیو!

جائے گا نباش تیری لاش عریاں چھوڑ کر

 

(۴)

خوش قدوں کی خاک یہ اٹھتی ہے ہر دم سروقد

گرد باد۔  اے اہل غفلت ! اس بیاباں میں نہیں

 

آج نقاشی کی چھت لگوا۔  نہیں مانع کوئی

کل بجز خفاش کوئی سقف ایواں میں نہیں

 

دوست۔  دشمن۔  سب کے سب ہیں رفتنی مثل نسیم

گل تو کیا ! کانٹا بھی اک دن اس گلستاں میں نہیں

 

دم دبا جاتے تھے جن کے سامنے شیر ژیاں

غیر روباہ و شغال اب ان کے ایواں میں نہیں

 

بے وطن ہو کر زمانہ میں ہوے نالاں بشر

آشنا نالوں سے ہر گز نے نیستاں میں نہیں

 

(۵)

دو روز ایک وضع پہ رنگ جہاں نہیں

وہ کونسا چمن ہے؟ کہ جس کو خزاں نہیں

 

حاصل تجھے بصارت یعقوب ہو اگر

یوسف بغیر کوئی یہاں کارواں نہیں

 

منعم کے شکر میں بھی بلائیں کبھی کبھی

تنہا برائے لذت دنیا زباں نہیں

 

پژمردہ ایک ہے۔  تو شگفتہ ہے دوسرا

باغ جہاں میں فصل بہار و خزاں نہیں

 

 

(۶)

 

بیاں کیا ہو سکے عمر رواں کی مجھ سے چالاکی

کہ اس تو سن سے لگا ہے نہ ترکی کو۔  نہ تاری کو

 

اکیلا دل مرا فوج تمنا کے مقابل ہے

الہیٰ  کیجئیو تو فتحیاب اس مرد غازی کو

 

ثمر پختہ جو ہے (اے خام طبعو!) باغ عالم میں

نہ کیونکر خاکساری سے وہ بدلے سرفرازی کو!

 

(۷)

 

“پا شکستہ کو ہے۔  کرتا ہے جہاں میں سلطنت”

یہ صدا آتی ہے ہر دم تربت تیمور سے

 

منعم موذی کے گھر کو اہل حاجت لوٹ لیں

مانگتا ہے کب کوئی جا کر عسل زنبور سے!

 

بانٹ لے کوئی کسی کا درد! یہ ممکن نہیں

بار غم دنیا میں اٹھواتے نہیں مزدور سے

 

دیکھنا (اے اہل عبرت!) انتقام آسماں

بنتے ہیں جام گدا خاک سر فغفور سے

٭٭٭

 

 

 

 

                شیخ قلندر بخش جرأت

 

قلندر بخش نام۔  جرات تخلص، اکبر آبادی مشہور ہیں۔  مگر ان کے والد دلی ے رہنے والے تھے۔  لکھنو میں پہنچ کر ان کی غزلوں نے شہرت پائی۔  عین جوانی میں نابینا ہو گئے۔  ۱۲۲۵ھ میں انتقال کیا۔  میر انشا اور مصحفی کے ہمعصر تھے۔  ان کا کلا، میں میر کی سادہ بیانی اور لطف محاورہ تو ہے۔  مگر مضامین رندی و ہوا پرستی کی حد سے باہر کم نکلتے ہیں۔

 

(۱)

 

غم رو رو کے کہتا ہوں کچھ اس اگر اپنا

تو ہنس کے وہ بولے ہے۔  میاں! فکر کر اپنا

 

باتوں سے کتے کس کی بھلا راہ ہماری!

گربت کے سوا کوئی نہٰن ہم سفر اپنا

 

عالم میں ہے گھر گھر خوشی و عیش۔  پر اس بن

ماتم کدہ ہم کو نظر آتا ہے گھر اپنا

 

ہر بات کا بہتر ہے چھپانا ہی۔  کہ یہ بھی

ہے عیب۔  کرے کوئی جو ظاہر ہنر اپنا

 

کیا کیا اسے دیکھ۔  آتی ہے (جرات!) ہمیں حسرت

مایوس جو پھر آتا ہے پیغامبر اپنا

 

(۲)

 

بلبل سنے نہ کیونکہ قفس میں چمن کی بات!

آوارہ وطن کو لگے خوش وطن کی بات

 

عیش و طرب کا ذکر کروں کیا میں۔  دوستو!

مجھ غمزدہ سے پوچھئے رنج و محن کی بات

 

شاید اسی کا ذکر ہو۔  ہر رہگزر میں میں

سنتا ہوں گوش دل سے ہر اک مرد و زن کی بات

 

جرات! خزاں کے آتے چمن میں رہا نہ کچھ

اک رہ گئی زباں پہ گل و یاسمین کی بات

 

(۳)

 

صوت بلبل دل نالاں نے سنائی مجھ کو

سیر گل دیدہ گریاں نے دکھائی مجھ کو

 

لاؤں خاطر میں نہ میں سلطنت ہفت اقلیم

اس گلی کی جو میسر ہو گدائی مجھ کو

 

صلح میں جس کی نہیں چین یہ اندیشہ ہے

آہ! دکھلائیں گی کیا اس کی لڑائی مجھ کو؟

 

وصل میں جس کے نہ تھا چین۔  سو جرات ! افسوس

وہ گیا پاس سے اور موت نہ آئی مجھ کو

 

(۴)

 

اتنا بتلا مجھے ہرجائی ہوں میں۔  یار! کہ تو

میں ہر اک شخص سے رکھتا ہوں سروکار۔ کہ تو؟

 

کم ثباتی مری ہر دم ہے مخاطب بحباب

دیکھیں تو۔  پہلے ہم اس بحر سے ہوں پار۔  کہ تو؟

 

ناتوانی مری گلشن میں یہ ہی بحثے ہے

دیکھیں۔  اسے نکہت گل! ہم ہیں سبکبار۔  کہ تو؟

 

دوستی کر کے جو دشمن ہوا تو جرات کا

بیوفا وہ ہے۔  پھر اے شوخ ستمگار۔  کہ تو؟

 

(۵)

دی خبر پیک صبا نے کیا یہ گلشن میں جو آہ!

غنچہ پژمردہ ساں دل کی کلی مرجھا گئی

 

ضعف پیری روز اس کا انتقال اب لے ہے آہ!

قبل ازیں عمر جوانی کو مزے دکھلا گئی

 

اس سے کیوں بحثے ہے۔  کیا سودا چڑھا تجھ کو۔  دلا!

وہ نہیں گر آپ میں۔  تو تو ہی بس کر جا گئی

 

اے اجل! بس یہ تو رسوائی نہ دیکھی جائے گی

طبع غمخواروں کی اپنے اب بہت اکتا گئی

 

اب ڈھٹائی سمجھیے یا اس کی جرات جانئے

آئیں گے جی۔  آئیں گے! اب تو طبعیت آ گئی

 

(۶)

 

مشکل ہے، جو آوے وہ احاطہ میں خرد کے

گو اس کا تصور کوئی ادراک سے باندھے

 

دعوے نہ کرے برق کبھی اپنی تڑپ کا

گر پانوں ترے تو سن چالاک سے باندھے

 

قاتل ہو وہ سنمکھ۔  تو ابھی ڈر کے یہ بھاگیں

جو تیغ و سپر پھرتے ہیں بے باک سے باندھے

٭٭٭

 

 

 

 

                سید انشاء اللہ خان انشا

 

انشاء اللہ خان نام۔  انشا تخلص۔  شرفا سے دہلی سے تھے۔  استعداد علمی میں لائق فائق۔  فارسی۔  عربی۔  ترکی سے ماہر۔  شیخ مصحفی نے ان کو فیضی زماں لکھا ہے۔  کلام میں ہزل و ظرافت زیادہ ہے۔  مگر جو صاف و سنجیدہ ہے۔  وہ بے مثل و نظیر۔  میر و مصحفی و جرات کے ہمعصر تھے۔  نواب آصف الدولہ کے عہد میں لکھنو پہنچے۔  ۱۲۳۳ھ میں بحالت دیوانگی انتقال کیا۔

 

(۱)

 

جس شخص نے کہ اپنے نخوت کے بل کو توڑا

راہ خدا میں اس نے گویا جبل کو توڑا

 

اپنا دل شگفتہ تالاب کا کنول تھا

افسوس تو نے ظالم! ایسے کنول کو توڑا

 

تھا ساعت فرنگی۔  دل چپ جو ہو رہا ہے

کیا جانئے کہ کس نے ہے اس کی کل کو توڑا

 

دارا و جم نے تجھ سے کیا کیا شکست پائی

اے چرخ! تو نے کس کس ایک دول کو توڑا

 

لینی ہے جنس دل تو ظالم! تو آج لے چک

پڑ جائے گا وگرنہ پھر اس کا کل توڑا

 

احوال خوش انہوں کا انشا میاں جنہوں نے

اس ذات بخت سے مل بند اجل کو توڑا

 

 

(۲)

جھوٹا نکلا قرار تیرا

اب کس کو ہے اعتبار تیرا

 

واللہ! کہ کام آ رہے گا

مجھ سا یک رنگ یار تیرا

 

کر جبر جہاں تلک تو چاہے

میرا کیا! اختیار تیرا

 

انشا سے نہ روٹھ۔  مت خفا ہو!

ہے بندی جاں نثار تیرا

 

(۳)

شعلے بھڑک رہے ہیں یوں اپنے تن کے اندر

دوں لگ رہی ہو جیسے گرمی میں بن کے اندر

 

جو چاہو تم۔  سو کہہ لو۔  چپ چاپ ہیں ہم ایسے

گویا زباں نہیں ہت اہنے دہن کے اندر

 

گل سے زیادہ نازک جو دلبران رعنا

ہیں بیکلی میں شبنم کے پیرہن کے اندر

 

ہے مجھ کو یہ تعجب۔  سو ویں گے پانوں پھیلا

یہ رنگ گورے گورے کیونکر کفن کے اندر!

 

غم نے ترے بٹھایا۔  اے مای مصر خوبی!

یعقوب وار ہم کو بیت الحزن کے اندر

 

یوں بولتا کہے ہے۔  سنتے ہو میر انشا!

“ہیں طرفہ ہم مسافر اپنے وطن کے اندر”

 

(۴)

شادابی ہوا میں یہ کیفیت اب کے ہے

سورنگ کے شگفتہ ہیں گل شاخسار پر

 

نظارہ سوے دانہ شبنم اگر کروں

جاتی ہے چٹ نگاہ پھسل سبزہ زار پر

 

اشجار جھومتے ہیں پڑے صحن باغ میں

تاک اینڈ تے ہیں سست پڑے جوئبار پر

 

موج بہار لالہ خود رونے۔ اے نسیم!

کچھ آگ سی لگائی ہے آ کوہسار پر

 

(۵)

نکلے ہیں خوں ٹھہر ٹھہر دل کے ہر ایک خراش سے

چھیڑ دو اس کو دوستو! تیز قلم تراش سے

 

ہم کو مصاحبوں سے آپ کے کیا برابری!

ہم ہیں کمینہ اک غلام فرقہ خواجہ تاش سے

 

موسم گل ہے دوستو جائے وہ سیر باغ کو

اٹھنے کی تاب جس کو ہو تکیہ گہ فراش سے

 

حضرت عشق! دیر میں رہتے ہو یا حرم میں تم

مجھ کو نہیں کچھ اطلاع آپ کی بود و باش کی

 

ہے زند یہ دو روزہ زندگی ہم کو وبال گردن آہ!

اے وہ خوشا! جو چھٹ گئے دغدغہ معاش سے

 

(۶)

 

یہ جائے ترحم ہے، اگر سمجھے تو صیاد

میں اور پھنسوں اس طرح اس کنج قفس میں

 

آتی ہے نظر اس کی تجلی ہمیں زاہد!

ہر چیز میں۔  ہر سنگ میں۔  ہر خار میں۔  خس میں

 

کیا پوچھتے ہو؟ عمر کٹی کس طرح اپنی

جز درد نہ دیکھا کبھی اس تیس برس میں

 

ہر بات میں یہ جلدی ہے۔  ہر چیز میں اصرار

دنیا سے نرالی ہیں غرض تیری تو رسمیں

 

انشا ترے گر گوش اصم ہوں نہ۔  تو آوے

آواز تجھے یار کی ہر رنگ جرس میں

 

(۷)

 

نبھ گئی بندہ درگاہ سے اور آپ سے خیر!

بہم الفت میں اگر ایسے ہی آئیں ہوئے

 

راہ رو! چونک۔  کہ ہے قافلہ میں تیاری

محمل اونٹوں پہ بندھے۔  فوج میں سب زیں ہوئے

 

قمری و بلبل نالاں ہیں پرے جو جھگڑے

سو دل غمزدہ کے موجب تسکیں ہوئے

 

اشک آنکھوں سے قدم رکھ نہیں سکتے باہر

دولت شرم سے مانند سلاطیں ہوئے

 

قصد بنگالہ مناسب ہی نہیں صاحب کو

گرچہ معمول تجارت کے سب آئیں ہوئے

 

جی ہی اچھا نہ رہا پھر۔  تو عیاذاً باللہ!

فائدہ کیا! جو شناسائے اراکیں ہوئے

 

(۸)

 

کر بیٹھے وہیں فضل خداداد پے تکیہ

جب بن نہ پڑی بات کچھ اپنی تگ و دو سے

 

جان اہل توکل انھیں اشخاص کو۔  جو ہیں

محفوظ پیاز و نمک و گردہ جو سے

 

اے دل! وہ کوشاکشت برومند۔  کہ جس کو

خطرہ ہی نہیں تہلکہ وقت درو سے

 

افواج گل و لالہ میں ہے زلزلہ انشا

اس باد بہاری کی سواری جلو سے

٭٭٭

 

 

 

 

                شیخ غلام ہمدانی مصحفی

 

غلام ہمدانی نام۔  مصحفی تخلص۔  وطن اصلی امروہہ۔  دلی میں آ کر علوم رسمیہ حاصل کئے۔  آصف الدولہ کے زمانہ میں لکھنو پہنچے۔  اور ریختہ گوئی میں میر و سودا کے بعد علم استادی بند کیا۔  خود فرماتے ہیں۔  “اے مصحفی شاعر نہیں پورب میں ہوا میں۔  دلی میں بھی چوری میرا دیوان گیا۔ ” ان کا کلام نہایت صاف و شستہ ہے۔  کہیں بطرز سودا۔  کہیں بطرز میر۔

 

(۱)

 

نظارہ کروں دہر کی کیا جلوہ گری کا!

یہاں عمر کو وقفہ ہے چراغ سحری کا

 

کیا لطف مقام ان کو! جو مشتاق عدم ہیں

دل کوچ میں رہتا ہے ہمیشہ سفری کا

 

کیا بھجیئے قاصد کو وہاں! کوچہ جس کے

جبریل کو مقدور نہیں نامہ بری کا

 

تربت پہ مری برگ گل تازہ چڑھائے

احسان ہے مجھ پر یہ نسیم سحری کا

 

بندہ ہے ترا۔  مصحفی خستہ کو یارب!

محتاج طبیبوں کی نہ کر چارہ گری کا

 

(۲)

 

بوئے محبت اپنی رکھی خدا نے اس میں

سینہ میں آدمی کے دل عطر داں بنایا

 

اپنی تو اس چمن میں عمر اس طرح سے گزری

یہاں آشیاں بنایا۔  وہاں آشیاں بنایا

 

گرم سفر رہے ہم۔  منزل کر پر نہ پہنچے

آوارگی نے ہم کو ریگ رواں بنایا

 

اے مصحفی! گریباں سارا لہو سے تر ہے

یہ رنگ اپنا ظالم! تو نے کہاں بنایا؟

 

 

(۳)

ہے یہاں کس کو دماغ انجمن آرائی کا

اپنے رہنے کو مکاں چاہئیے تنہائی کا

 

شیشہ دل کو مرے چور کیا کیوں اس نے؟

کیا بگاڑا تھا بھلا گبند مینائی کا؟

 

بھیج دیتا ہے خیال اپنا عوض اپنے مدام

کس قدر یار کو غم ہے میری تنہائی کا!

 

مصحفی! ریختہ پہنچا مرا کس مرتبہ کو

شور یہاں گرد ہے مرزا کی مرزائی کا

 

(۴)

کیا غیر کا کھٹکا ہے؟ کہ میں کچھ نہیں کہتا

یہ منہ مجھے تیرا ہے۔  کہ میں کچھ نہیں کہتا

 

دیوانے جو ہوتے ہیں کہا کرتے ہیں کیا کیا

مجھ کو یہ ہی سودا ہے۔  کہ میں کچھ نہیں کہتا

 

جو چاہتے ہیں۔  مجھ کو وہ کہتے ہیں۔  خدایا!

تو عالم و دانا ہے۔  کہ میں کچھ نہیں کہتا

 

اے مصحفی! بعضے مرے کہنے کے ہیں قائل

بعضوں کا مقولہ ہے۔  کہ میں کچھ نہیں کہتا

 

(۵)

بوئے خوں دیتا ہے کچھ مجھ کو یہ گلشن اے صاب

ہے شہیدوں کا یہاں کس کس کے مدفن اے صبا

 

کس کے ماتم ہوئے ہوئے ہیں گل ہزاروں سنہ چاک

بلبلیں کرتی ہیں کس کشتہ پہ شیون اے صبا

 

ہم اسیران قفس کو تب خبر دی تو نے آہ!

لٹ گئے جب باغ میں پھولوں کے خرمن اے صبا

 

ڈال کر شبنم کے مندرے بےتکلف کان میں

اب کے ہولی میں بنانا گل کو جوگن اے صبا

 

(۶)

معشوق ہوں یا عاشق معشوق نما ہوں

معلوم نہیں مجھ کو۔  کہ میں کون ہوں۔  کیا ہوں

 

ہوں شاید تنزیہی کے رخسارہ کا پردہ

یا خود ہی میں شاہد ہوں، کہ پردہ میں چھپا ہوں

 

ہستی کو مری ہستی عالم نہ سمجھنا

ہوں ہست۔  مگر ہستی عالم سے جدا ہوں

 

انداز ہیں سب عاشق و معشوق کے مجھ میں

سوز جگر و دل ہوں۔  کبھی ناز و ادا ہوں

 

ہے مجھ سے گریبان گل و صبح معطر

میں عطر نسیم چمن و باد صبا ہوں

 

گوش شنوا ہو۔  تع میری رمز کو سمجھے

حق یہ ہے۔  کہ میں ساز حقیقت کی صدا ہوں

 

یہ کیا ہے۔  کہ مجھ ہر مرا عقدہ نہیں کھلتا

ہر چند۔  کہ خود عقدہ و خود عقدہ کشا ہوں

 

اے مصحفی شامیں ہیں مرے جلوہ گری میں

ہر رنگ میں میں مظہر انوار خدا ہوں

 

(۷)

چہرہ اتر رہا ہے۔  نقشے بگڑ گئے ہیں

کچھ ان دنوں تو تیرے لچھن سے جھڑ گئے ہیں

 

تلوار سج کے جب وہ نکلا ہے گھر سے باہر

کشتوں کے ہر گلی میں ستھراؤ پڑ گئے ہیں

 

روتا پھروں نہ کیونکر میں قافلہ میں ہر سو

منزل پہ میرے ساتھی مجھ سے بچھڑ گئے ہیں

 

اے مصحفی میں روؤں کیا اگلی صحبتوں کو؟

بن بن کے کھیل ایسے لاکھوں بگڑ گئے ہیں

 

(۸)

فلک کی کو نہیں ایسوں کی پرورش۔  ورنہ

شکستہ حال و غریب و فقیر ہم بھی ہیں

 

یہ درمیاں جو مہینوں بگاڑ رہتا ہے

وہی شریر نہیں۔  کچھ شریر ہم بھی ہیں

 

حسد کی جا نہیں اے مصحفی کلام ان کا

کہ اپنے عہد کے مرزا و میر ہم بھی ہیں

 

(۹)

نوبہار آئی ہے۔  سودائے کہن تازہ ہوا

سبزہ کی موج نے پھر سلسہ جنبانی کی

 

ہوں وہ غارت زدہ رہرو۔  کہ نمودار ہے صاف

میری صورت سے حقیقت مری ویرانی کی

 

محو ہر دم جو رہے اپنی ہی آرائش کا

اس کو کیا فکر مری بے سر و سامانی کی

 

مصحفی! دوں میں کہاں ریختہ گوئی کو رواج

قدر شیرازی کی ہو وہاں۔  نہ صفا ہانی کی

٭٭٭

 

 

 

 

                میر محمد تقی۔  میر

 

حالات کے لئے دیکھو حصہ نظم

 

(۱)

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا؟

آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟

 

سبز ہوتی ہی نہیں یہ سر زمیں

تخم خواہش دل میں تو بوتا ہے کیا؟

 

یہ نشان عشق ہیں جانے نہیں

داغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا؟

 

غیرت یوسف ہے یہ وقت عزیز

میر اس کو رائیگاں کھوتا ہے کیا؟

 

 

(۲)

دل و دماغ ہے اب کس کو زندگانی کا

جو کوئی دم ہے تو افسوس جوانی کا

 

اگرچہ عمر کے دس دن یہ لب رہے خاموش

سخن رہے گا سدا میری کم زبانی کا

 

ہزار جان سے قربانی بےپری کے ہیں

خیال بھی کبھو گزرا نہ پرفشانی کا

 

نمود کر کے وہیں بحر غم میں بیٹھ گیا

کہے تو میر بھی اک بلبلہ تھا پانی کا

 

 

(۳)

طریق خوب ہے آپس میں آشنائی کا

نہ پیش آئے اگر مرحلہ جدائی کا

 

یہیں ہیں دیر و حرم۔  اب تو یہ حقیقت ہے

دماغ کس کو ہے ہر در کی جبہ سائی کا

 

کسو پہاڑ میں جوں کوہکس سراب ماریں

خیال ہم کو بھی ہے سخت آزمائی کا

 

رکھا ہے بار ہمیں دربدر کے پھرنے سے

سروں پے اپنے ہے احساس شکستہ پائی کا

 

جہاں میں میری کے ساتھ جانا تھا۔  لیکن

کوئی شریک نہیں ہے کسو کی آئی کا

 

 

(۴)

مہر کی تجھ سے توقع تھی۔  ستمگر نکلا

موم سمجھے تھے تیرے دل کو۔  پتھر نکلا

 

دل کی آبادی کی اس حد ہے خرابی۔  کہ نہ پوچھ

جانا جاتا ہے۔  کہ اس راہ سے لشکر نکلا

 

اشت تر۔  قطرہ خوں۔  لخت جگر۔  پارہ دل

ایک سے ایک عدد آنکھ سے بہتر نکلا

 

ہم نے جانا تھا لکھے گا تو کوئی حرف اے میر

پر ترا نامہ تو اک شوق کا دفتر نکلا

 

(۵)

مستو جب ظلم و ستم و جور و جفا ہوں

ہر چند کے جلتا ہوں۔  پہ سرگرم وفا ہوں

 

اس گلشن دنیا میں شگفتہ نہ ہوا میں

ہوں غنچہ افسردہ۔  کہ مردود صبا ہوں

 

گو طاقت و آرام و خور و خواب گئے سب

بارے پہ غنیمت ہے۔  کہ جیتا تو رہا ہوں

 

سینہ تو کیا فضل الہیٰ سے سبھی چاک

ہے وقت دعا میر، کہ اب دل کو لگا ہوں

 

 

(۶)

لایا ہے مرا شوق مجھے پردے سے باہر

میں ورنہ وہی خلوتی راز نہاں ہوں

 

جلوہ ہے مجھی س لب دریائے سخن پر

صد رنگ مری شوچ ہے۔  میں طبع رواں ہوں

 

دیکھا ہے مجھے جس نے۔  سو دیوانہ ہے میرا

میں باعث آشفتگی طبع جہاں ہوں

 

ہوں زرد غم تازہ نہالان چمن سے

اس باغ خزاں دیدہ میں میں برگ خزاں ہوں

 

رکھتی ہے مجھے خواہش دل بسکہ پریشاں

درپے نہ ہو۔  اس وقت خدا جانے کہاں ہوں

 

 

 

(۷)

رکھئے گردن کو تری تیغ ستم پر۔  ہو سو ہو

جی میں ہم نے یہ کیا ہے اب مقرر۔  ہو سو ہو

 

قطرہ قطرہ اشکباری تا کجا پیش سحاب

ایک دن تو ٹوٹ پڑ اے دیدہ تر۔  ہو سو ہو

 

بند میں ناز و نعم ہی کے رہے کیونکر فقیر

یہ فضولہ ہے۔  فقیری میں میسر ہو سو ہو

 

صاحبی کیسی؟ جو تم کو بھی کوئی تم سا ملا

پھر تو خواری بے وقاری بندہ پرور۔  ہو سو ہو

 

کہتے ہیں۔  ٹھیرا ہے تیرا اور غیروں کا بگاڑ

ہیں شریک اے میر ہم بھی تیرے۔  بہتر۔  ہو سو ہو

 

 

(۸)

وہ اپنی ہی خوبی پہ رہتا ہے نازاں

مرو یا جیو کوئی اس کی بلا سے

 

نہ رکھی مری خاک بھی اس گلی میں

کدورت مجھے نہایت صبا سے

 

اگر چشم ہے۔  تو وہی عیھ حق ہے

تعجب تجھے ہے عجب ماسوا سے

 

ٹک اسے مدعی چشم انصاف وا کر

کہ بیٹھے ہیں یہ قافیئے کس ادا سے

 

نہ شکوہ شکایت نہ حرف و حکایت

کہو میر جی! آج کیوں ہو خفا سے

 

 

(۹)

اپنی ہستی حباب کی سی ہے

یہ نمائش سراب کی سی ہے

 

چشم دل کھول اس ہی عالم پر

یاں کی اوقات خواب کی سی ہے

 

میں جو بولا کہا۔  کہ یہ آواز

اسی خانہ خراب کی سی ہے

 

(۱۰)

تصویر کے سے طاہر خاموش رہتے ہیں ہم

جی کچھ اچٹ گیا ہے اب نالہ و فغاں سے

 

جب کوندتی ہے طجلی تب جانب گلستاں

رکھتی ہے چھیڑ میرے خاشاک آشیاں سے

 

آنکھوں ہی میں رہے ہو۔  دل نہیں نہیں گئے ہو

حیراں ہوں میں۔  یہ شوخی آئی تمھیں کہاں سے

 

اتنی بھی بد مزاجی! ہر لحظہ میر تم کو

الجھاؤ ے زمین سے جھگڑا ہے آسماں سے

 

 

                میرزا رفیع سودا

 

میرزا محمد رفیع نام۔  سودا تخلص۔  ۱۱۲۵ھ میں پیدا ہوئے۔  دلی ان کا مولد و مسکن۔  ریختی گوئی میں شاہ حاتم کے شاگرد۔  ۱۱۸۵ھ میں لکھنو چلے گئے۔  ۱۱۹۵ھ ہجری میں وہی انتقال فرمایا۔  ان کا کلام رنگا رنگ ہے۔  کہیں صاف و سادہ۔  کہیں تشبیہ و استعارہ + فارسی ترکیبوں کا استعمال بخلاف میر کے زیادہ۔  اگرچہ اصناف سخن میں استاد مسلم ہیں۔  مگر ان کے قصائد اور ہجویں خصوصیت کے ساتھ مشہور ہیں۔

 

(۱)

 

مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا

جوں شمع سراپا ہو اگر صرف زباں کا

 

پردہ کو تعین کے در دل سے اٹھا دے

کھلتا ہے ابھی پل میں طلسمات جہاں کا

 

اس گلشن ہستی میں عجب دید ہے! لیکن

جب چشم کھلی گل کی۔  تو موسم ہے خزاں کا

 

ہستی سے عدم تک نفس چند کی ہے راہ

دنیا سے گزرنا سفر ایسا ہے کہاں کا

 

 

(۲)

گلہ لکھوں میں اگر تیری بے وفائی کا

لہو میں غرق سفینہ ہو آشنائی کا

 

زباں ہے شکر میں قاصر شکستہ بالی کے

کہ جن نے دل سے مٹایا خلش رہائی کا

 

دماغ جھڑ گیا آخر نہ تیرا۔  اے نمرود!

چلا نہ پشہ سے کچھ بس تری خدائی کا

 

طلب نہ چرخ سے سے کر نان راحت اے سودا

پھرے ہے اپنا وہ کاسہ لیے گدائی کا

 

 

(۳)

لطف۔  اے اشک! کہ جوں شمع گھلا جاتا ہوں

رحم۔  اے آہ زر بار! کہ جل جاؤں گا

 

قطرہ اشک ہوں پیارے! مرے نظارہ سے

کیوں خفا ہوتے ہو! پل مارتے ڈھل جاؤں گا

 

اس مصیبت سے تو مت مجھ کو نکال اب گھر سے

تو کہے”آج ہی جا” میں کہوں “کل جاؤں گا”

 

چھیڑ مت باد بہاری! کہ میں جوں نکہت گل

پھاڑ کر کڑے ابھی گھر سے نکل جاؤں گا

 

کہتے ہیں وہ جو ہے سودا کا قصیدہ خوب

ان کی خدمت میں لئے میں یہ غزل جاؤں گا

 

(۴)

قاصدا شک آئے خبر کر گیا

قتل کوئی دل کا نگر کر گیا

 

دیکھئے! درماندگی اب کیا دکھائے

قافلہ یاروں کا سفر کر گیا

 

کیونکہ کوئی کھائے ترا اب فریب

حال مرا سب کو خبر کر گیا

 

ایک جو مانند گل اس باغ سے

کرم و خنداں ہو کر گزر کر گیا

 

آن کے شبنم کی طرح دوسرا

شام سے رو رو کے سحر کر گیا

 

کیا تجھے اب فائدہ اس فکر سے

ہر کوئی اک طرح بسر کر گیا

 

(۵)

گدا دست اہل کرم دیکھتے ہیں

ہم اپنا ہی دم اور قدم دیکھتے ہیں

 

حباب لب جو ہیں اے باغباں ہم

چمن کو ترے کوئی دم دیکھتے ہیں

 

خدا دشمنوں کو نہ وہ کچھ دکھائے

جو کچھ دوست اپنے سے ہم دیکھتے ہیں

 

مگر تجھ سے رنجیدہ خاطر ہے سودا

اسے تیرے کوچہ میں کم دیکھتے ہیں

 

(۶)

مضمر کا دخل کیا ہے محفل میں تفتگاں کی

بو داغ دل کی اپنے ہم عود جانتے ہیں

 

اپنا چراغ دل کا جس دم سے بجھ گیا

ہم گھر کو آسماں کے پر دود جانتے ہیں

 

آئینہ سازی ان کو ہے کفر اے سکندر!

جو مرد شکل ہستی نابود جانتے ہیں

 

جس خشت کو اٹھا کر دیکھیں وہ چشم دل سے

صورت کو اپنی اس میں موجود جانتے ہیں

 

کیا شکر کیا شکایت اپنی ہی شکل سے ہے

دونوں سے آپ کو ہم مقصود جانتے ہیں

 

عجز و غرور دونوں اپنی ہی ذات میں ہیں

ہم عہد سے جدا کب معبود جانتے ہیں

 

ہم سر نوائیں کس کے آگے؟ کہ بید آسا

اپنے قدم کو اپنا مسجود جانتے ہیں

 

(۷)

تو ہی کچھ اپنے سر پہ نہ یاں خاک کر گئی

شبنم بھی اس چمن سے صبا! چشم تر گئی

 

کیجو اثر قبول۔  کہ تجھ تک ہماری آہ

سینہ سے ارمغاں لئے داغ جگر گئی

 

دیوانہ کون گل ہے ترا جس کو باغ میں

زنجیر کرنے موج نسیم سحر گئی

 

خانہ خراب دل تو ہے۔  لیکن میں کیا کہوں

جیسی بلائے جان ہے یہ آنکھ گھر گئی

 

مت پونچھ یہ۔  کہ رات کٹی کیونکہ مجھے بغیر

اس گفتگو سے فائدہ پیارے! گزر گئی

 

ظالم کروڑ گل کا گریباں ہوا ہے چاک

ایک عندلیب گرا جل اپنی سے مر گئی

 

پروانہ کون سا نہ جلا شام کو۔  کہ شمع

روتی ہوئی نہ بزم سے وقت سحر گئی

 

(۸)

نسیم ہے تیرے کوچے میں اور صبا بھی ہے

ہماری خاک سے دیکھو (دیکھو تو) کچھ رہا بھی ہے

 

ترا غرور مرا عجز تا کجا – ظالم!

ہر ایک بات کی آخر کچھ انتہا بھی ہے

 

زبان شکوہ سو اب زمانہ میں ہیہات!

کوئی کسی بہم دیگر آشنا بھی ہے

 

ستم روا ہے اسیروں ہی اس قدر؟ صیاد!

چمن چمن کہیں بلبل کی اب نوا بھی ہے؟

 

سمجھ کے رکھیو قدم خار دشت پر مجنوں!

کہ اس نواح میں سودا برہنہ پا بھی ہے

٭٭٭

 

                خواجہ میر درد

 

خواجہ میر نام۔  درد تخلص۔  دہلی کے ارباب طریقت و ارشاد سے تھے۔  ان کا دیوان ریختہ نہایت مختصر ہے۔  غزلیات تمام تر عارفانہ۔  خوبی زبان و سادی بیان کے لحاظ سے مقبول خاص و عام۔  میر و میرزا کے ہمعصر تھے۔  ۱۱۵۵ھ میں بعمر ۶۸ سال رحلت فرمائی۔

 

(۱)

مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا

حقا! کہ خداوند ہے تو لوح و قلم کا

 

اس مسند عزت پہ۔  کہ تو جلوہ نما ہے

کیا تاب? گزر ہووے تعقل لے قدم کا

 

بستے ہیں ترے سایہ میں سب شیخ و برہمن

آباد ہے تجھ سے ہی تو گھر دیر و حرم کا

 

ہے کوف اگر جی میں تو ہے تیرے غضب سے

اور دل میں بھروسا ہے تو ہے تیرے کرم کا

 

مانند حباب آنکھ تو اے درد! کھلی تھی

کھینچا نہ پر اس بحر میں عرصہ کوئی دم کا

 

(۲)

سب کے ہاں تم ہوے کرم فرما

اس طرف کو کبھو گزر نہ کیا

 

دیکھنے کو رہے ترستے ہم

نہ کیا تو نے رحم۔  پر نہ کیا

 

آپ سے ہم گزر گئے کب کے

کیا ہے! ظاہر میں گو سفر نہ کیا

 

کونسا دل ہے وہ? کہ جس میں آہ!

خانہ آباد! تو نے گھر نہ کیا

 

سب کے جوہر نظر میں آئے۔ درد!

بے ہنر! تو نے کچھ ہنر نہ کیا

 

(۳)

لے کر ازل سے تا ابد ایک آن ہے

گر درمیاں حساب نہ ہو سال و ماہ کا

 

رحمت قدم نہ رنجہ کرے گر تری ادھر

یا رب ہے کون پھر تو ہمارے گناہ کا

 

شاہ و گدا سے اپنے تئیں کام کچھ نہیں

ہے تاج کی ہوس۔  نہ ارادہ کلاہ کا

 

سو بار دیکھیں میں نے تری بیوفائیاں

تس پر بھی نت غرور ہے دل میں نباہ کا

 

اے درد! چھوڑتا ہی نہیں مجھ کو جذب عشق

کچھ کہر با سے بس نہ چلے برگ کاہ کا

 

 

(۴)

ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک! جستجو کریں

دل ہی نہیں رہا۔  جو کچھ آرزو کریں

 

تر دامنی پہ شیخ! ہماری نہ جا۔  ابھی

دامن نچوڑ دیں۔  تو فرشتے وضو کریں

 

سرتا قدم زبان ہیں جوں شمع کو کہ ہم

پر یہ کہاں مجال? جو کچھ گفتگو کریں

 

ہر چند آئینہ ہوں۔  پر اتنا ہوں نا قبول

منہ پھیر لے وہ۔  جس کے مجھے روبرو کریں

 

نے گل کو ہے ثبات۔  نہ ہم کو ہے اعتبار

کس بات پر چمن! ہوس رنگ و بو کریں

 

(۵)

یاں عیش کے پردہ میں چھپی دل شکنی ہے

ہر بزم طرب جوں مژہ برہم زدنی ہے

 

آگے جو بلا آئی تھی سو دل پہ ٹلی تھی

اب کے تو مری جان ہی پر آن بنی تھی

 

اے درد! بتا کس سے کہو راز محبت

عالم میں سخن چینی ہے یا طعنہ زنی ہے

 

(۶)

دیکھئے جس کو یاں۔  اسے اور ہی کچھ دماغ ہے

کرمک شب چراغ بھی گوہر شب چراغ ہے

 

غیر سے کیا معاملہ? آپ ہیں اپنے دام میں

قید خودی نہ ہو اگر۔  پھر تو عجب فراغ ہے

 

حال مرا نہ پوچھئے۔  میں جو کہوں۔  سو کیا کہوں?

دل ہے سو ریش ریش ہے سینہ سو داغ داغ ہے

 

سنتے ہیں یوں۔  کہ آہ تو ہم ہی میں چھپ رہا کہیں!

اپنی تلاش سے غرض ہم کو ترا سراغ ہے

 

غفلت دل ہوئی مگر۔  پنبئہ گوش خلق درد!

بلبل داستاں سرا ورنہ ہر ایک زاغ ہے

 

 

 

قصائد

 

امیر الشعرا منشی امیر احمد صاحب امیر مینائی

 

تحت کا غز ہی ہوا صدر نشیں شاہ قلم

دائرے طبل کی صورت ہیں الف شکل علم

 

ہیں جو یہ عرصہ کاغذ ہی حروف و حرکات

یہی لشکر ہے۔  یہی فوج۔  یہی خیل و خدم

 

ہے فصاحت جو مصاحب۔  بلاغت ہے ندیم

وزرا مرتبہ و دیدہ و جاہ حشم

 

منتخب ہیں جو مضامیں۔  تو معانی ہیں لطیف

ہیں وہی گنج و خزائن۔  وہی دینار و درم

 

اہل دفتر نے جو کی کھول کے بستوں و نشست

گردن منشی گردوں ہوئی تسلیم کو خم

 

کبھی منصب۔  کبھی تقسیم میں دیں جاگیریں

شقے لکھے گئے۔  ہونے لگے فرمان رقم

 

وقت دربار ہوا۔  جمع ہوئے مجرانی

عقل و فہم و خرد و ہوش و تدابیر و حکم

 

سامنے آنے لگے خیر طلب بہر سلام

مردہا تھا جو ادب کا۔  وہ پکارا پیہم

 

روبرو خسرو جم جاہ فلک فر کے نگاہ

تا ابد سلطنت پشت و پناہ عالم

 

ہوئی مجرے سے بخوبی جو فراغت حاصل

مسند حکم ہوئی مطلع انوار قدم

 

روبرو دستخط خاس کو لایا کاغذ

حکمت الدولہ۔  جو تھا منشیۂ یاقوت رقم

 

عرضیاں گزریں۔  خلائی کے بر آئے مطلب

لب ہوئے لعل فشاں۔  کھل گئے ابواب کرم

 

بعد اخبار کے پرچوں کی جو نوبت آئی

نئے مضمون کا اک پرچہ ہوا پیش اس دم

 

کہ ملازم ہیں جو سرکار کے یہ دانش و وہم

در دولت پہئے ہنگامہ۔  لڑے ہیں باہم

 

بحث اک بات کی دونوں میں پڑی ہی ایسی

کہ بہم گتھ گئے ہیں صورت خط توام

 

حکم عالی یہ ہوا۔  جلد کرو حاضر بزم

دیکھیں۔  کیا کہتے ہیں؟ خود دونوں ہیں ہم ہوں گے بہم

 

حاضر بزم ہوئے وہ۔  تو ہوا یہ ایما

کیوں لڑے? کیا سبب جنگ ہے آگاہ ہوں ہم

 

عرض دانش نے یہ کی۔  روز ابد تک قائم

یہ حکومت۔  یہ ایالت۔  یہ شہامت۔  یہ حشم

 

بندہ خاص نے دیکھے ہیں ہزاروں انساں

حکمرانان زمانہ رؤسائے عالم

 

ایک حاکم ہے۔  فلک جاہ۔  خردمند۔  ذکی

صاحب علم و ہنر۔  معدن اخلاق و کرم

 

نام ہے کلب علی خاں بہادر جم جاہ

جس کی خدام ہیں ہم مرتبہ قیصر و جم

 

علم میں۔  حلم میں۔  جود و کرم و ہمت میں

ہے وہ یکتائے زمانہ سر اقدس کی قسم!

 

جس میں جو بات ہو۔  کیونکر اسے کوئی نہ کہے

پیش انصاف گزیں حق کا چھپانا ہے ستم

 

میرے کہنے کو ذرا وہم نے باور نہ کیا

بلکہ مارا رہ انکار میں منکر نے قدم

 

کہ کمالات کا حصر ایک میں ہے ناممکن

کارخانہ ہے خدا کا۔  نہیں خالی عالم

 

کیسے کیسے نہیں گزرے ہیں کہاں میں نامی?

خواجگان عربستان و صنادید عجم

 

سارے عالم میں ہے سحباب کی فصاحت مشہور

سارے آفاق میں کسری کی عدالت ہے علم

 

کس کو معلوم فلاطوں کی نہیں ہے حکمت؟

حکم نادر ہے عیاں۔  جلوہ نما عشرت جم

 

چار سو ہمت حاتم کا ہے آوازہ بلند

شش جہت پر ہے عیاں۔  سب سے جری تھا رستم

 

تو جو کہتا ہے۔  کہ ان سب سے ہے بڑھ کر کوئی

زعم باطل ہے فقط۔  مانتے ہیں کب اسے ہم

 

میں یہ کہتا ہوں۔  میں دعوی میں ہوں اپنے صادق

ہیں دلائل۔  جو ہوں گوش شنوا گوش اصم

 

کچھ یہ سنتا نہیں انکار نہ باندھی ہے کمر

گفتگو سے طرفین آپ سنیں ہو کے بہم

 

ہو گیا حکم۔  کہ ہاں محکمہ بحث ہو گرم

ایک ایک بات کا ہو فیصلہ۔  لاہو۔  کہ نعم

 

 

(۲)

فصل گل آئی ہوا گلزار جنت بوستاں

بڑھ کے رضواں سے ہے ان روزوں دماغ باغباں

 

ہر طرف گلہائے رنگا رنگ گلشن میں کھلے

جیسے صبح عید یکجا ہوں حسینان جہاں

 

خم نہیں شاخیں درختوں کی ہوا سے خاک پر

کر رہی ہیں سجدہ شکر خدائے انس و جاں

 

“قم باذن اللہ” کہتی آئی گلشن میں بہار

جی اٹھے جو ہو گئے تھے مردہ دل وقت خزاں

 

جھوم کر آیا ہے ابر کوہساری باغ میں

رقص میں ہیں ہر روش طاؤس۔  ہو کر شادماں

 

لالہ کہتا ہے کہاں موسی ہیں؟ آ کر دیکھ لیں

صاف جلوہ ہے چراغ طور کا مجھ سے عیاں

 

جھومنا مستوں کی صورت ہے درختوں کا بجا

نکہت گل میں بھی ہے کیف شراب ارغواں

 

لالہ احمر نے یاقوتی کی ڈبیا کی درست

نرگس شہلا نے رکھی مے فروشی کی دکاں

 

دار بست تاک میں خوشے نظر آنے لگے

جس طرف جھرمٹ ستاروں لا فراز آسماں

 

سیم غنچہ کیوں نہ بیحد ہو زر گل بےشمار

رکھتی ہے اجسیر کی بوٹی بہار بوستاں

 

ہر روش پر بیٹھی ہے بزاز بن کر خرمی

جس طرف دیکھو کھلی ہے سبز مخمل کی دکاں

 

فیض شبنم نے دئے اشجار کو آبی لباس

بر میں ہے مردم گیا کے جامہ آب رواں

 

نو عروسان چمن کو ہے جواہر کا جو شوق

بیچنے فیروزہ آیا ہے چمن میں آسماں

 

یوں ہے جنبش میں ہوا سے ہر نہال سایہ دار

ہو خراماں کس طرح کوئی حسیں دامن کشاں

 

ہے مبارک فال۔  کوئی ہونے والی ہے خوشی

ہر چراغ لالہ جوش رنگ سے ہے گل فشاں

 

جان پھولوں میں پری۔  زندہ ہوئی خاک چمن

ہے دم جاں بخش عیسی یا نسیم بوستاں

 

قمریوں کا قول ہے “ہم ہیں طیور باغ خلد”

سرو کہتا ہے۔  کہ میں ہوں طوبی باغ جناں

 

صحن گلشن میں نزاکت نے جمایا ہے یہ رنگ

مرغ بو کا آشیاں ہے شاخ گلبن پر کہاں

 

ہے بلندی و درازی اس قدر ہر شاخ میں

ہے محیط مشرق و مغرب برنگ کہکشاں

 

پائے گر سورج مکھی کے سایہ میں تھوڑی جگہ

بھول جائے مہر جنبش مثل قطب آسماں

 

چودھویں کا چاند ہے۔  جو چاندنی کا پھول ہے

چادر مہتان ہے فرش فضائے بوستاں

 

سیر کو جو آئے۔  اس کا ناف آہو ہو مشام

گیسوے مشکین سنبل بسکہ ہے عنبر فشاں

 

دیدہ بیدار نرگس کا تو کیا مذکور ہے

خواب میں کرتا ہے سبزہ سیر گلزار جناں

 

ہے تبسم غنچہ گل کا کہ تیغ آبدار

نوک کی لیتے ہیں کانٹے یا چبھوتے ہیں سناں

 

شمس العلما مولوی سید نذیر احمد صاحب

 

اگرچہ دیر سے ہیں مجمع خواص و عوام

پر اس میں شک نہیں جلسہ ہے اب کا بے ہنگام

 

کسی طرف سے بھی آواز خوش نہیں آتی

کچھ ایسا بگڑا ہے نظم لیالی و ایام

 

وہ بمبئی۔  کہ جو تھا مرکز تجارت ہند

وبا نے کر دیا گویا کہ اس کا کام تمام

 

مقام۔  رت جگے رہتے تھے۔  جن میں ساری رات

وہ کر رہے ہیں پڑے بھائیں بھائیں اول شام

 

حکایتیں جو مصائب کی ان کے سنتے ہیں

تو دونوں ہاتھوں سے لیتے ہیں ہم کلیجہ تھام

 

خدا ہی جانے۔  ہوئیں کتنی عورتیں بیوہ

خدا ہی جانے۔  ہوئے کتنے بچے ایتام

 

جلا وطن ہوئے کتنے۔  کہ جو نہ ٹھیر سکے

کوئی سلون کا بھاگا۔  کوئی گیا آسام

 

مگر پناہ نہیں آہوئے حرم کو بھی

کہیں جہان میں۔  جس دم قضا بچھائے دام

 

مرا تو کرتے ہیں۔  لیکن نہ یوں۔  مفاجاۃً

تپ آئی صبح کو۔  دن چڑھے ہو گیا سرسام

 

ہوئی دوپہر۔  تو دنیا سے ہو گئے رخصت

کہ تپ کے ساتھ ہی آیا تھا مرگ کا پیغام

 

ہزاروں آدمی گر جاں بحق ہوئے۔  تو ہوئے

یہ کیا غضب ہے! ہوئی طب رہی سہی بدنام

 

علاج جتنے کیے۔  سب جت سب گئے بے سود

بتائیں جتنی تدابیر۔  سب رہیں ناکام

 

بس اب کھلا۔  کہ طبابے کی اتنی ہستی ہے

کہ جھٹ سے لکھ دیا خیساندہ ازبر ائے زکام

 

سکنجبین کو فرمایا قاطع صفرا

مریض یبس کو بتلایا روغن بادام

 

بنی جب آن کے جانوں ہی اور رہے عاجز

تو ایسی طب کو سلام اور سلام اور سلام

 

دوا کا حیلہ ہے۔  گر وقت ابھی نہیں آیا

تو ہوتے دیکھا ہے چٹکی سے خاک کی آرام

 

اور آن پہنچا ہے وعدہ۔  تو بس سمجھ رکھو

دعا۔  دوا۔  کوئی تدبیر بھی نہ آئے کام

 

ادھر وبا نہیں۔  پر قحط اور گرانی سے

مچا ہو ا ہے ہر اک گھر میں رات دن کہرام

 

غلط۔  کہ عید ہوئی۔  کوئی ہم کو سمجھا دے

یہ فاقے کیسے؟ اگر ہو چکا ہے ماہ صیام

 

ہمیں تو بے زری اور مفلسی نے مار دیا

وگرنہ کیا تھا، جو ہوتے گرہ میں اپنی دام

 

وبا و قحط سے باقی تھا کیا اجڑنے میں؟

مگر بھلے کو نگہبان خلق تھے حکام

 

کجا فراغ! خوشی کیسی! کس کا اطمینان!

ان آفتوں کے سبب ہو رہی ہے زیست حرام

 

پھری ہوئی ہے خد کی نظر کچھ ان روزوں

کہ ہم نے توڑے ہیں اس کے ضوابط و احکام

 

بساط یہ ہے۔  اور اس پر گناہ کی جرات

نمود یہ ہے۔  اور اس پر قصور کا اقدام

 

سوائے توبہ نہیں کچھ علاج قہر خدا

طبیب ہو کہ طبابت، کسی پہ کیا الزام!

 

وہ چاہے مار دے ہم سب کو بو وبا بے قحط

بقا تجھی کو ہے۔  اے ذوالجلال والا کرام!

 

گناہگار ہیں۔  پرمعترف قصور کے ہیں

وسیع ہے تری رحمت۔  کرم ہے تیرا عام

 

جئیں۔  تو خوش جئیں۔  اور امن و عافیت سے جئیں

جب آئے موت۔  تو سب کا بخیر ہو انجام

٭٭٭

 

 

 

 

                حکیم مومن خان۔  مومن

 

کوئی اس دور میں جئے کیونکر

ملک الموت ہے ہر ایک بشر

 

داد خواہوں کے شور سے۔  دیکھو

چونک پڑتا ہے فتنہ محشر

 

آئینہ نے بھی اس زمانہ میں

تیغ کے سے نکالے ہیں جوہر

 

ہے پئے اشتیاق ویرانی

شاہ فرہاد و بےستوں کشور

 

نہ امیروں کو پائے بندی عدل

نہ رعایا مطیع و فرماں بر

 

اس کو سو رستم زماں کا خطاب

جر کرے قتل خرد سالہ پسر

 

چمن آرا کو رسم پیرائش

اک بہانہ ہے بہر قطع شجر

 

پا کے الزام دست خالی سے

فلسفی پیٹتا ہے اپنا سر

 

آب و ناں کے لئے گرو رکھیں

رستمان زمانہ تیغ و سپر

 

شعرا کو یہ آرزوئے شعیر

خوان عیسی ہے نیم خوردہ خر

 

کام آئے نی نغمہ شیریں

طوطیوں کو ہے حسرت شکر

 

سروران سپہر مرتبہ ہیں

بسکہ جاہل نواز دوں پرور

 

واعظوں کی زباں پہ آتا ہے

برملا شکوہ قضا و قدر

 

کہے مفتی سوال کو واجب

کسب مفقود کو ہوئے یکسر

 

پھلے پھولے ہیں بے خرد۔  کیا دور!

بید مجنوں بھی گر لے آئے ثمر

 

سختی و کاہلی کی دولت سے

دامن کوہ میں ہیں لعل و گہر

 

باندھتے ہیں سخن سرا موزوں

کس طرح ہو نصیب سرو کو بر

 

قدر دانی کا نام ہی نہ رہا

چند ناداں ہوئے ہیں نام آور

 

ایک امیر سخن شناس نہیں

لاکھ ہیں شاعر ثنا گستر

 

اے لب یا دہ گوئے ہرزہ درائے

بس کہاں تک یہ ناستور سمر

 

ہجو گوئی نہیں ہمارا کام

ایسی باتوں سے خامشی بہتر

٭٭٭

 

 

 

                میرزا اسد اللہ خان غالب

 

ہاں مہ نو! سنیں ہم اس کا نام

جس کو تو جھک کے کر رہا ہے سلام

 

دو دن آیا ہے تو نظر دم صبح

یہی انداز اور یہی اندام

 

بارے دو دن کہاں رہا غائب؟

بندہ عاجز ہے، گردش ایام

 

اڑ کے جاتا کہاں؟ کہ تاروں کا

آسماں نے بچھا رکھا تھا دام

 

مرحبا اے سروع خاص خواص!

حبذا اے نشاط عام عوام!

 

عذر میں تین دن نہ آنے کے

لے کے آیا ہے عید کا پیغام

 

اس کو بھولا نہ چاہیے کہنا

صبح کو جائے اور آئے شام

 

ایک میں کیا؟ کہ سب نے جان لیا

تیرا آغاز ار ترا انجام

 

راز دل مجھ سے کیوں چھپاتا ہے؟

مجھ کو سمجھا ہے کیا کہیں نمام؟

 

جانتا ہوں۔  کہ آج دنیا میں

ایک ہی امید گاہ انام

 

میں نے مانا۔  کہ تو ہے حلقہ بگوش

غالب اس کا مگر نہیں ہے غلام ؟

 

جانتا ہوں۔  کہ جانتا ہے تو

تب کہا ہے بطرز استفہام

 

مہر تاباں کو ہو تو ہو۔  اے ماہ

قرب ہر روزہ برسیل دوام

 

تجھ کو کیا پایہ روشناسی کا

جز بتقریب عید ماہ صیام

 

جانتا ہوں۔  کہ اس کے فیض سے تو

پھر بنا چاہتا ہے ماہ تمام

 

ماہ بن۔  ماہتاب بن۔  میں کون!

مجھ کو کیا بانٹ دے گا تو انعام؟

 

میرا اپنا جدا معاملہ ہے

اور کے لین دین سے کیا کام

 

ہے مجھے آرزوئے بخشش خاص

گر تجھے ہے امید رحمت عام

 

جو کہ بخشے گا تجھ کو فر فروغ

کیا نہ دے گا مجھے مئے گلفام

 

جب کہ چودا منازل فلکی

کر چکے قطع تیری تیزی گام

 

تیرے پر تو سے ہوں فروغ پذیر

کوی و مشکوے و صحن و منظر و بام

 

دیکھنا میرے ہاتھ میں لبریز

اپنی صورت کا اک بلوریں جام

 

کہہ چکا میں تو سب کچھ اب تو کہہ

اے پری بہرہ پیل تیز خرام

 

کون ہے کس کے در پے ناصیہ سا

ہیں مہ و مہر و زہرہ و بہرام

 

تو نہیں جانتا۔  تو مجھ سے سن

نام شاہنشہ بلند مقام

 

قبلہ چشم و دل بہادر شاہ

مظہر ذوالجلال و الاکرام

٭٭٭

 

 

 

 

                شیخ ابراہیم ذوق

 

شب کو میں اپنے سر بستر خواب راحت

نشہ علم می سر مست غرور و نخوت

 

مزے لیتا تھا پڑا علم عمل کے اپنے

تھا تصور میرا ہرامر میں تصدیق صفت

 

جو مسائل نظری تھے وہ بدیہی تھے تمام

عقل کو تجربہ کی اتنی ہوئی تھی کثرت

 

ذہن میں سب مرے حاضر صور علمیہ

پر جتانی نہ تھی منظور مجھے علمیت

 

چار و ناچار جو ترغیب سے یاروں کے کبھی

درس و تدریس پے آج اتی تھی مجھ کو رغبت

 

کبھی ہمت تھی مری قاعدہ صرف میں صرف

کبھی تھی نحو میں ہر نحو مجھے محویت

 

کبھی میں کرتا تھا تصریح معانی و بیاں

کبھی میں کرتا تھا توضیح نجوم و ہیئت

 

کبھی تھا علم الہی کی طرف ذہن رسا

کبھی کرتی تھی طبیعی میں طبعیت جودت

 

کبھی تھی عرصہ تدویر فلک کی مجھے سیر

کبھی میں ناپتا تھا سطح زمیں کی وسعت

 

کبھی ثابت مرے نزدیک فلک کی گردش

کبھی مثبت مرے نزدیک زمیں کی حرکت

 

کبھی منقول پے مائل کبھی سوئے مقتول

کبھی میں فقہ پے راغب کبھی سوئے حکمت

 

کبھی میں کرتا تھا قانون سے تشریح علاج

کبھی میں کرتا تھا قاموس میں تصحیح لغت

 

کبھی میں لون سے بینندہ بیمارو صحیح

کبھی میں نبض سے دانندہ ضعف و قوت

 

گہ نباتات کی آگاہ میں کیفیت سے

گہ جمادات کی معلوم مجھے خاصیت

 

جوں مہندس کبھی مالوف بہ شکل و مقدار

جوں محاسب کبھی مصروف بہ ضرب و قسمت

 

کبھی کرتا تھا قرآن مہ و زہرہ پہ نظر

کبھی تھا دیکھتا مریخ و زحل کی رجعت

 

کبھی تھا علم قیافہ میں یہ ادراک مجھے

ایک صورت سے بیاں کرتا تھا میں سو سیرت

 

کبھی میں شاعر غرا و ادب دان بلیغ

نظم میں نام مرا نثر میں میری شہرت

 

کبھی کرتا تھا عروضی کا بھی میں قافیہ تنگ

طبع موشوں کی دکھاتا تھا جو موزونیت

 

کبھی پیش نظر انجیل و زبور و توریت

کبھی مصحف میں نظر میری سر ہر آیت

 

کبھی یہ آگہی شاستر و بید و پران

کروں اک بات سے پنڈت کی کتھا میں کھنڈت

 

آخرش دیکھا۔  تو العلم حجاب الاکبر

عاقبت پایا۔  تو ہاں بلہ کو اہل جنت

 

فائدہ کیا؟ کہ جو ہر علم کی جانی تعریف

فائدہ کیا؟ جو ہوئی آگہی ہر ملت

 

بے مقدر نہ پڑے صورت بہبود نظر

دور آئینہ دل سے نہ ہو زنگ کلفت

 

(۲)

 

واہ وا! کیا معتدل ہے باغ عالم کی ہوا!

مثل نبض صاحب صحت ہے ہر موج صبا

 

بھرتی ہے کیا کیا میسحائی کا دم باد بہار!

بنگیا گلزار عالم رشک صد دار السفا

 

ہے گلوں کے حق میں شبنم مرہم زخم جگر

شاخ بشکستہ کو ہے یاراں کا قطرہ مومیا

 

ہو گیا موقوف یہ سودا کا بالکل احتراق

لالہ بے داغ سیہ پانے لگا نشو و نما

 

ہو گیا زائل مزاج دہر سے یہاں تک جنوں

بید مجنوں کا بھی سحرا میں نہیں باقی پتا

 

ہوتا ہے لطف ہوا سے اس قدر پیدا لہو

برگ میں ہر نخل کے سرخی ہے جوں برگ حنا

 

پائی یہ اصلاح صفرا نے کہ دنیا میں کہیں

زرد چشم اب دیکھنے کو بھی نہیں ہے کہربا

 

ہر مزاج بلغمی میں ہوتی ہے تولید خوں

چاندنی کا پھول ہو گر ارغوانی ہے بجا

 

نام کو اشیا میں نے تلخی رہی نے سمیت

بن گئی تریاک افیوں۔  زہر میٹھا ہو گیا

 

کیا عجب جدوار کی تاثیر گر رکھے زقوم

نیش کی جانوش حنظل دیوے شربت کا مزا

 

نیش کی جانوش ہو دنبالہ زنبور میں

کام میں افعی کے ہو مہرہ بجائے آبلہ

 

راحت و آرام کا اس دور میں ہے دور دور

چاہیے واقف نہ ہو دوران سر سے آسیا

 

موتیا بند آنکھ میں اپنے جو رکھتی ہے صدف

اب رکھے ہے روشنی مثل دل اہل صفا

 

آ گیا اصلاح پر ایسا زمانہ کا مزاج

تا زبان خامہ بھی آتا نہیں حرف دوا

 

نسخہ پر لکھنے نہیں پاتا ہوا الشافی طبیب

کہتا ہے بیمار بس کر مجھ کو ہے بالکل شفا

 

فرق چاہا یہاں تک اعضا سے بدن سے درد نے

درد کے جو حرف ہیں وہ آپ ہی ہیں سب جدا

 

لاغروں کو ہو کمال تاب و طاقت یہ شتاب

کیسے دو ہفتے ہلال اک شب میں ہو بدر الدجا

 

صبح صادق کے ہے گو سر میں سپیدی آ گئی

لیکن اس پیری میں بھی صادق ہے ایسی اشتہا

 

بھوک کی شدت میں اس کو اک نفس فرصر نہ ہو

قرص سے خورشید کے جن تک نہ کر لے ناشتا

 

رات بھر ٹھونکا کیا انجم کے تارے طرح پیر

پھر جو دیکھا صبح کو۔  اصلا شکم میں کچھ نہ تھا

 

پہنچی یہ تفتیح کی نوبت۔  کہ تو بتخانہ میں

لیتی ہے جی کھول کر کیا کیا ڈکاریں کرنا

 

پوست پھولا پے خوشی سے نفخ کا کیا دخل ہے

جوں حباب اس کے نہیں مطلق شکم میں امتلا

 

ہضم کام اس قدر معدہ نے پہنچایا بہم

جید الکیموس ہے جو حلق سے اتری غذا

 

ہے مزاج اہل عالم یہ قریب اعتدال

ساتوں اقلیمیں ہیں گویا ان بخط استوا

 

رکھے گا تعویذ اور گندا کوئی کیوں اپنے پاس

باغ عالم میں یہی عالم جو صحت کا رہا

 

دے گا طاؤس اپنے بال و پر سے سارے نقوش دھو

پھینک دے گی توڑ کر گنڈا گلے سے فاختا

 

 

(۳)

 

پائے نہ ایسا ایک بھی دن خوشتر آسماں

کھائے اگر ہزار برس چکر آسماں

 

ہے بادہ نشاط و طرب سے لبالب آج

اک عمر سے پڑا تھا تہی ساغر آسماں

 

سیکھے نہ اس طرح کا تماشا جہان میں

گر ہو تمام چشم تماشا گر آسماں

 

اترا رہا ہے عطر سے عیش و نشاط کے

سچ ہے زمیں پہ پانوں رکھے کیونکر آسماں

 

افراط انبساط سے کیا عجب۔  اگر

مثل حباب جامے سے ہو باہر آسماں

 

شادی کی اس کی دھوم ہے آج آسمان تک

تابع زمانہ جس کا ہے فرماں بر آسماں

 

فرزند شاہ یعنی جواں بخت ذی وقار

تسلیم کو ہے کس کے جھکاتا سر آسماں

 

ہے اس کی بارگاہ میں مانند چوبدار

حاضر عصائے کاہکشاں لے کر آسماں

 

اس بیاہ کی نوید سے ہے اس قدر سرور

ہے پیر۔  پر جوانوں سے ہے بہتر آسماں

 

پھرتا ہے اہتمام می شادی کے رات دن

مقدور کیا! کہ ٹھیر سکے دم بھر آسماں

 

فرد حساب صرف سے اس بیاہ کی ہو کم

گو لاکھ جمع و خرچ کا ہو دفتر آسماں

٭٭٭

 

 

 

 

                خواجہ الطاف حسین حالی

 

ہے عید یہ کس جشن کی یا رب۔  کہ سراسر

ہے جیوبلی ہے جیوبلی اک ایک کی زباں پر

 

یہ عہد کہ گزرے ہیں برس جس کو پچاس اب

ست جگ سے ہء یہ ہند کے حق میں کہیں بہتر

 

وہ دور تعصب تھا، یہ ہے دورہ اخلاق

وہ جنگ کا موجد تھا۔  یہ ہے صلح کا رہبر

 

اس دور خجستہ میں وہ سب بجھ گئے شعلے

تھی جن کی جہاں سوز لپٹ آگ سے بڑھ کر

 

اس عہد نے وہ خون بھرے ہاتھ کئے قطع

جو پھیرتے تھے بیٹیوں کے حلق پہ خنجر

 

بیٹوں کی طعح چاہتے ہیں بیٹیوں کو اب

جو لوگ روا رکھتے تھَ خونریزی دختر

 

جب بیٹیوں نے زندگی اس طرح پائی

دی زندگی ایک اور انھیں علم پڑھا کر

 

اس عہد نے کی آ کے غلاموں کی حمایت

انساں کو نہ سمجھا کسی انسان سے کمتر

 

دی اس نے مٹا ہند سے ہوں رسم ستی کی

گویا وہ ستی ہو گئی خود عہد کہن پر

 

نابود کیا اس نے زمانہ سے ٹھگی کو

ایک قہر تھا اللہ کا جو نوع بشر پر

 

اس عہد میں انساں ہی نہیں ظلم سے محفوظ

مظلوم نہ اب بیل۔  نہ گھوڑا ہے۔  نہ خچر

 

اے نازش برطانیہ۔  اے فکر برنزک

اے ہند کے گلہ کی شباں۔  ہند کی قیصر

 

سچ یہ ہے کہ فاتح کوئی تجھ سا نہیں گزرا

محمود نہ تیمور۔  نہ نیبل نہ سکندر

 

تسخیر فقط اگلوں نے عالم کو کیا تھا

اور تو نے کیا ہے دل عالم کو مسخر

 

بند اپنے فرائض میں مسلماں ہیں۔  نہ ہندو

معمور مساجد ہیں۔  تو آباد ہیں مندر

 

بجتا ہے فقط چرچ میں اتوار کا گھنٹا

سنکھ اور اذاں گونجتے ہیں روز برابر

 

گو منت قیصر سے ہے ہر قوم گرانبار

احساں مگر اسلام پہ ہیں اس کے گراں تر

 

اب ہند میں کشمیر سے تا راس کماری

ہر قوم کے ہیں پیرو جواں متفق اس پر

 

امید نہیں ہند کے راحت طلبوں کو

راحت کی کسی سایہ میں جز سایہ قیصر

 

گر برکتیں اس عہد کی سب کیجیے تحریر

کافی ہے نہ وقت اس کے لئے اور نہ دفتر

 

ہے ان یہ دعا حق سے کہ آفاق میں جب تک

آزادی و انصاف حکومت کے ہیں رہبر

 

قیصر کے گھرانے پہ رہے سایہ یزداں

اور ہند کی نسلوں پہ رہے سایہ قیصر

٭٭٭

 

 

 

 

قطعات

 

                خواجہ الطاف حسین حالی

 

(۱) بے تمیزی ابنائے زماں

 

از رہ فخر آبگینہ سے یہ ہیرے نے کہا

ہے وجود اے مبتذل تیرا برابر اور عدم

 

جنس تیری کس میرس اور قدر و قیمت تیری ہیچ

تیرے پانے کی خوشی کچھ اور نہ گم ہونے کا غم

 

دے کے دھوکا یوں اگر الماس بن جائے تو کیا!

امتحاں کے وقت کھل جاتا ہے سب تیرا بھرم

 

مسکرا کر آبگینہ نے یہ ہیرے سے کہا

گو کہ ہے رتبہ ترا مجھ سے بڑا اے محترم

 

مجھ میں اور تجھ میں مگر کر سکتے ہیں جو امتیاز

ہیں مبصر ایس اس بازار ناپرساں میں کم

 

تیرے جوہر گو نہیں موجود اپنی ذات میں

تجھ سے اے المس لین اچھے پڑ رہتے ہیں ہم

 

(۲) جس قوم میں افلاس ہو اس میں بخل اتنا بدنما نہیں جتنا اسراف

 

حالی سے کہا ہم نے کہ ہے اس کا سبب کیا

جب کرتی ہو تم کرتے ہو مسرف کی مذمت

 

لیکن بخلاف آپ نے سب اگلے سخنور

جب کرتے تھے کرتے تھے بخیلوں کو ملامت

 

اسراف بھی مذموم ہے۔  پر بخل سے کمتر

ہے جس سے انساں کو بالطبع عداوت

 

حالی نے کہا روکے نہ پوچھو سبب اس کا

یاروں کے لئے ہے یہ بیاں موجب رقت

 

کرتے تھے بخیلوں کو ملامت سلف اس وقت

جب قوم میں افراط سے تھی دولت و ثروت

 

وہ جانتے تھے قوم ہو جس وقت تونگر

پھر اس میں نہیں بخل سے بدتر کوئی خصلت

 

اور اب کہ نہ دولت ہے نہ ثروت نہ اقبال

گھر گھر پہ ہے چھایا ہوا افلاس و فلاکت

 

ترغیب سخاوت کی ہے اب قوم کو ایسی

پرواز کی ہے چیونٹوں کو جیسے ہدایت

 

(۳) بے اعتدالی

 

تم اے خود پرستو! طبعیت کے بندو!

ذرا وصف اپنے سنو کان دھر کے

 

نہیں کام کا تم کو اندازہ ہر گز

جدھر ڈھل گئے۔  ہو رہے بس ادھر کے

 

جا گانے بجانے پہ آئی طبعیت

تو چیخ اٹھے دو دن میں ہمسائے گھر کے

 

جو مجرے میں بیٹھو۔  تو اٹھو نہ جب تک

کہ اٹھ جائیں ساتھی سب ایک ایک کر کے

 

اگر پل پڑے چوسر اور گنجفہ پر

تو فرصت ملے شاید اب تم کو مر کے

 

پرا مرغ بازی کا لپکا۔  تو جانو

کہ بس ٹھن گئے عزم جنگ تتر کے

 

چڑھا بھوت عشق و جوانی کا سر پر

تو پھر گھاٹ کے آپ ہیں اور نہ گھر کے

 

جو ہے تم کو کھانے کا چسکا۔  تو سمجھو

کہ چھوڑیں گے اب آپ دوزخ کو بھر کے

 

جو پینے پے آؤ۔  تو پی جاؤ اتنی

رہین پانوں کے ہوش جس میں۔  نہ سر کے

 

جو کھانا تو بیحد۔  جو پینا تو ات گت

غرض یہ کہ سرکار ہیں پیٹ بھر کے

٭٭٭

 

 

 

 

                میرزا اسد اللہ خان غالب

 

(۱)

اے شہنشاہ فلک منظر بے مثل و نظیر

اے جہانداد کرم شیوہ بے شبہ و عدیل

 

پانوں سے تیرے ملے فرق ارادت اورنگ

فرق سے تیرے کرے کسب سعادل اکلیل

 

تیرا انداز سخن شانہ زلف الہام

تیری رفتار قلم جنبش بال جبریل

 

تجھ سے عالم پہ کھلا رابطہ قرب کلیم

تجھ سے دنیا میں بچھا مائدہ بذل خلیل

 

بسخن اوج دہ مرتبہ معنی و لفظ

بکرم داغ نہ ناصیہ قلزم و نیل

 

تا ترے وقت میں ہو عیش و طرب کی توفیر

تا ترے عہد میں ہو رنج و الم کی تقلیل

 

ماہ نے چھوڑ دیا ثور سے جانا باہر

زہرہ نے ترک کیا حوت سے کرنا تحویل

 

تیری دانش مری اصلاح مفاسد کی رہیں

تیری بخشش میرے انجاح مقاصد کی کفیل

 

تیرا القاب ترحم مرے جینے کی نوید

تیرا انداز تغافل مرے مرنے کی دلیل

 

بخت ناساز نے چاہا۔  کہ نہ دے مجھ کو اماں

چرخ کج باز نے چاہا۔  کہ کرے مجھ کو ذلیل

 

پیچھے دالی ہے زر رشتہ اوقات میں گانٹھ

پہلے ٹھونکی ہے بن ناخن تدبیر میں کیل

 

تپش دل نہیں بے رابطہ خوف عظیم

کشش دم نہیں بے ضابطہ جر ثقیل

 

فکر میری گہر اندوز اشارات کثیر

کلک میری رقوم آموز عبارات قلیل

 

میرے ابہام پہ ہوتی ہے تصدیق تو یح

میرے اجمال سے کرتی ہے تراوش تفصیل

 

نیک ہوتی میری حالت تو نہ دیتا تکلیف

جمع ہوتی میری خاطر تو نہ کرتا تعجیل

 

قبلہ کون و مکاں خستہ نوازی میں یہ دیر

کعبہ امن و اماں عقدہ کشائی میں یہ ڈھیل

 

(۲)

 

اے شاہ جہانگیر۔  جہاں بخش۔  جہانداد

ہے غیب سے ہر دم تجھے صد گونہ بشارت

 

جو عقدہ دشوار کہ کوشش سے نہ وا ہو

تو وا کرے اس عقدہ کو۔  سو  وہ بھی بشارت

 

ممکن ہے؟ کرے حضر سکندر سے ترا ذکر

گراب کو نہ دے چشمہ حیواں سے طہارت

 

آصف کو سلیماں کی وزارت سے شرف تھا

ہے فخر سلیماں۔  کو کرے تیری وزارت

 

ہے نقش مریدی ترا فرمان الہی

ہے داغ غلامی تیرا توقیع امارت

 

تو آب سے گر سلب کرے طاقت سیلاں

تو آگ سے کر دفع کرے تاب شرارت

 

ڈھونڈے نہ ملے موجۂ دریا میں روانی

باقی نہ رہے آتش سوزان میں حرارت

 

ہے گرچہ مجھے نکتہ سرائی میں لوغل

ہے گرچہ مجھے سحر طرازی میں مہارت

 

کیونکر نہ کروں مدح کو میں ختم دعا پر؟

قاصر ہے حکایت میں تری میری عبارت

 

نو روز ہے آج۔  اور وہ دن ہے۔  کہ ہوئے ہیں

نظارگی صنعت حق اہل بصارت

 

تجھ کو شرف مہر جہانتاب مبارک

غالب کو ترے عتبہ عالی کی زیارت

٭٭٭

 

 

 

 

                شیخ ابراہیم ذوق

 

(۱)

 

خسرو! سن کے ترا مژدۂ جشن نو روز

آج ہے بلبل تصویر تلک زمزمہ سنج

 

خبر عیش تری سے ہے چمن کو جا کر

زرگل پیک صبا پائے نہ کیونکر پارنج

 

بادہ جوش جوانی کی ہے گویا اک موج

تن پیران کہن سال پہ ہر چین شکنج

 

چند قطرے سے ہیں شبنم کے وہ بلکہ کمتر

آگے ہمت کے تری گوہر شہوا کے گنج

 

حسن نیست سے ہے تو یوسف مصر بخشش

دست حاتم میں بجا ہے، کہ جو دیں تیغ و ترنج

 

شش جہت پر ہے غالب ترا سر پنجہ امن

فتنے کو اٹھنے میں جوں نرد ہے کیا کیا شش و پنج!

 

نہ بجھے آب سے آتش، نہ خس آتش سے جلے

ایک سے ایک موافق۔  کہ مرنجان و مرنج

 

تیرے منصوبے کے تابع ہیں سب احکام نجوم

صفحی تقویم کا گویا ہےبساط شطرنج

 

لایا ہے معنی رنگیں سے یہ لعل خوشرنگ

ذوق جو مدح و ثنا میں ہے تری گوہر سنج

 

خسروا ہوتا ہے اس رنگ سے معلوم یہ رنگ

رنگ نوروز جو ہے اب کے برنگ نارنج

 

بزم رنگیں میں تری رنگ طرب ہو ہر روز

اور تو خاطر اقدس پہ کبھی آئے نہ رنج

٭٭٭

 

 

 

 

مسدسات

 

                میر ببر علی انیس

 

میر ببر علی نام۔  انیس تخلص۔  میر حسن دہلوی کے نامور پوتے۔  لکھنو میں تعلیم و تربیت پائی۔  مرثیہ گوئی و مرثیہ خوانی ان کی چار دانگ ہند میں مشہور و مسلم تھی۔  فصاحت بیان اور لطافت محاورہ میں ان کا کلام اس پایہ بلند پر پہنچا ہے۔  کہ جس کی نظیر نہیں۔

 

صفت صبح

 

طے کر چکا جو منزل شب کاروان صبح

ہونے لگا افق سے ہویدا نشان صبح

 

گردوں سے کوچ کرنے لگے اختران صبح

ہر سوئی ہوئی بلند صدائے اذان صبح

 

پنہاں نظر سے روئے شب تار ہو گیا

عالم تمام مطلع انوار ہو گیا

 

یوں گلشن فلک سے ستارے ہوئے رواں

چن لے چمن سے پھولوں کو جس طرح باغباں

 

آئی بہار میں گھل مہتاب پر خزاں

مرجھا کے گر گئے ثمر و شاخ کہکشاں

 

دکھلائے طور باد سحر نے سموم کے

پژمردہ ہو کے رہ گئے غنچے نجوم کے

 

چھپنا وہ ماہتاب کا۔  وہ صبح کا ظہور

یاد خدا میں زمزمہ پردازی طیور

 

وہ رونق اور وہ سرد ہوا۔  وہ فضا۔  وہ نور

خنکی ہو جس سے چشم کو اور قلب کو سرور

 

انساں زمیں پے محو۔  ملک آسمان پر

جاری تھا ذکر قدرت حق ہر زبان پر

 

وہ سرخی شفق کی ادھر چرخ پر بہار

وہ بار و درخت۔  وہ صحرا۔  وہ سبزہ زار

 

شبنم کے وہ گلوں پے گہر ہائے سے آبدار

پھولوں سے سب بھرا ہوا دامان کوہسار

 

نافے کھلے ہوے وہ گلوں کی شمیم کے

آتے تھے سرد سرد وہ جھونکے نسیم کے

 

 

غریب الوطنی

 

 

ہوتے ہیں بہت رنج مسافر سفر میں

راحت نہیں ملتی کوئی دم آٹھ پہر میں

 

سو شغل ہوں پو دھیان لگا رہتا ہے گھر میں

پھرتی ہے سدا شکل عزیزوں کی نظر میں

 

سنگ غم فرقت دل نازک ہےگراں ہے

اندوہ غریب الوطنی کا ہش جاں ہے

 

گو راہ میں ہمراہ بھی ہو راحلہ و زاد

جاتی نہیں افسردگیِ خاطر ناشاد

 

جب عالم تنہائی میں آتا ہے وطن یاد

ہر گام ہے دل مثل جرس کرتا ہے فریاد

 

اک آن غم و رنج سے فرصت نہیں ہوتی

منزل پہ بھی آرام کی صورت نہیں ہوتی

 

ہمراہ سفر میں ہوں اگر حامی و ناصر

منزل ہی کمر کھولکے سوتے ہیں مسافر

 

جب ہو سفر خوف و پریشانی خاطر

شب جاگتے ہی جاگتے ہو جاتی ہے آخر

 

ہر طرح مسافر کے لیےرنج و تعب ہے

رہ جائے پس قافلہ تھک کر۔  تو غضب ہے

 

دکھ دیتے ہیں ایک ایک قدم پاتوں کے چھالے

منزل پہ پہنچنے کے بھی پڑ جاتے ہیں لالے

 

ہاتھوں سے اگر بیٹھ کے کانٹوں کو نکالے

ڈر ہے۔  کہ بڑھ نہ جائیکہیں قافلے والے

 

داماندوں کے لینے کو بھی آتا نہیں کوئی

تھک کر بھی جو بیٹھے۔  تو اٹھاتا نہیں کوئی

 

 

 

صفت تیغ

 

تھا صورت آئینہ تمام اس کا بدن صاف

خوں پیتی تھی۔  پر دیکھو تو منہ صاف دہن صاف

 

چلتی تھی جو سن سن۔  یہ نکلتا تھا سخن صاف

ہوں میں تو وہ جاروں۔  کہ کر دیتی ہوں رن صاف

 

نااہل ہی۔  نامراد ہیں۔  ناپاک ہیں اعدا

میں برق غضب ہوں۔  خس و خاشاک ہیں اعدا

 

مغفر سے جھلم کاٹ کے گردن میں در آئی

گردن سے سرکنا تھا۔  کہ جوشن میں در آئی

 

جوشن سے گزرنا تھا۔  کہ بس تن میں در آئی

تن سے ابھی اتری تھی۔  کہ توسن میں در آئی

 

بچتا کوئی کیا تیغ قضا رنگ کے نیچے

اک برق غضب کوند گئی تنگ کے نیچے

 

پیری کبھی۔  کہ خون میں نہا کر نکل آئی

ٹھیری کبھی۔  غوطہ کبھی کھا کر نکل آئی

 

کاٹی جوزرہ۔  موج میں جا کر نکل آئی

منجدھار سے دو ہاتھ لگا کر نکل آئی

 

کیا ڈر اسے طوفاں کا۔  جو چالاک ہو ایسا

جب باڑھ پہ دریا ہو۔  تو پیراک ہو ایسا

 

دم بھر نہ ٹھہرتی تھی۔  عجب طرح کا دم تھا

تیزی پہ جسے ناز تھا۔  سر اس کا قلم تھا

 

ناگن میں نہ یہ زہر۔  نہ افعی میں یہ سم تھا

یہ فتح کی جویا تھی۔  قداسواسطے خم تھا

 

بد اصل تکبر کے سخن کہتے ہیں اکثر

جو صاحب جو ہر ہیں۔  جھکے رہتے ہیں اکثر

 

(۲)

 

بجلی سی جو گر کر صف کفار سے نکلی

آواز بزن تیغ کی جھنکار سے نکلی

 

گہہ ڈھال میں ڈوبی۔  کبھی تلوار سے نکلی

در آئی جو پیکاں میں۔  تو سو فار سے نکلی

 

تھے بند خطا کاروں پہ در امن و اماں کے

چلے بھی چھپے جاتے تھے گوشوں میں کماں کے

 

افلاک پہ چمکی کبھی۔  سر پر کبھی آئی

کوندی کبھی جوشن پہ۔  سپر پر کبھی آئی

 

گہہ پڑ گئی سینہ پہ۔  جگر پر کبھی آئی

تڑپی کبھی پہلو پہ۔  کمر پر کبھی آئی

 

طے کر کے پھری۔  کونسا قصہ فرس کا؟

باقی تھا جو کچھ کاٹ۔  وہ حصہ تھا فرس کا

 

بےپانوں جدھر ہاتھ سے چلتی ہوئی آئی

ندی ادھر اک خوں کی ابلتی ہوئی آئی

 

دم بھر میں وہ سو رنگ بدلتی ہوئی آئی

پی پی کے لہو۔  لعل اگلتی ہوئی آئی

 

ہیرا تھا بدن رنگ زمرد سے ہرا تھا

جوہر جو کہو! پیٹ جواہر سے بھرا تھا

 

سر ٹپکے۔  تو موج اس کی روانی کو نہ پہنچے

قلزم کا بھی دھارا ہو۔  تو پانی کو نہ پہنچے

 

بجلی کی تڑپ شعلہ فشانی کو نہ پہنچے

خنجر کی زباں تیز زبانی و نہ پہنچے

 

دوزخ کے زبانوں سے بھی آنچ اس کی بری تھی

برچھی تھی۔  کٹاری تھی۔  سروہی تھی۔  چھری تھی

 

موجود بھی ہر غول میں اور سب سے جدا بھی

دم خم بھی۔  لگاوٹ بھی۔  صفائی بھی۔  ادا بھی

 

اک گھاٹ پہ تھی آگ بھی۔  پانی بھی۔  ہوا بھی

امرت بھی۔  ہلاہل بھی۔  مسیحا بھی قضا بھی

 

کیا صاحب جوہر تھی۔  عجب ظرف تھا اس کا

موقع تھا جہاں جس کا۔  وہیں صرف تھا اس کا

 

ہر ڈھال کے پھولوں کو اڑاتا تھا پھل اس کا

تھا لشکر باغی میں ازل سے عمل اس کا

 

ڈر جاتی تھی منہ دیکھ کے بزدل اجل اس کا

تھا قلعہ چار آئینہ گویا محل اس کا

 

اس در سے گئی۔  کھول کے در وہ نکل آئی

گہہ صدر میں بیٹھی۔  کبھی باہر نکل آئی

 

نیزوں پہ گئی برچھیوں والوں کی طرف سے

جا پہنچی کمانداروں پہ بھالوں کی طرف سے

 

پھر آئی سواروں کے رسالوں کی طرف سے

نہ تیغوں کی جانب کیا ڈھالوں کی طرف سے

 

بس ہو گیا دفتر نظری نام و نسب کا

لاکھوں تھے تو کیا! دیکھ لیا جائزہ سب کا

 

پہنچی جو سپرتک۔  تو کلائی کو نہ چھوڑا

ہاتھ میں ثابت کسی گھاٹی کو نہ چھوڑا

 

شوخی کو۔  شرارت کو۔  لڑائی کو نہ چھوڑا

تیزی کو۔  رکھائی کو۔  صفائی کو نہ چھوڑا

 

اعضا سے بدن قطع ہوئے جاتے تھے سب کے

قینچی سی زباں چلتی تھی، فقرے غضب کے

 

چار آئینہ والوں کو نہ تھا جنگ کا یارا

چورنگ تھے سینے۔  تو کلیجہ تھا دوپارا

 

کہتے تھے زرہ پوش نہیں تاب خدارا

بچ جائیں تو جانیں کہ ملی جان دو بارا

 

جوشن کو سنا تھا۔  کہ حفاظت کا محل ہے

اس کی نہ خبر تھی۔  کہ یہی دام اجل ہے

 

بد کیش لڑائی کا چلن بھول گئے تھے

ناوک فگنی تیغ فگن بھول گئے تھے

 

سب حیلہ گری عہد شکن بھول گئے تھے

بیہوشی میں ترکش کے دہن بھول گئے تھے

 

معلوم نہ تھا جسم میں جاں ہے ہے کہ نہیں ہے

چلاتے تھے قبضہ میں کماں ہے کہ نہیں ہے

 

 

صفت اسپ

 

لکھتا ہے ادہم قلم اب سرعت عقاب

نعل اس کے ماہ نور ہیں۔  تو سم رشک آفتاب

 

پستی میں سیل ہے۔  تو بلندی میں ہے سحاب

سرعت میں برق۔  گرم روانی میں جوئے آب

 

اڑنے میں اس فرس کو پرندوں پر اوج ہے

اک شور تھا۔  قدم نہیں دریا کی موج ہے

 

نازک مزاج۔  نسترن اندام۔  تیز رو

گردوں مسیر۔  بادیہ پیما و برق دو

 

اس کا نہ اک قدم۔  نہ زغندیں ہرن کی سو

دو روز سے نہ کاہ ملی تھی اسے۔  نہ جو

 

رفتار میں ہوا تھا۔  اشارے میں برق تھا

سرعت میں کچھ کمی تھی۔  نہ چھل بل میں فرق تھا

 

صر صر سے تند۔  بو سے سبک رو۔  ہوا سے تیز

چالاک فہم و فکر سے۔  ذہن رسا سے تیز

 

طاؤس و کبک و نسر و عقاب و ہما سئ تیز

جانے میں اڑ کے ہد  ہد شہر سبا سے تیز

 

ذی جاہ تھا۔  سعید تھا۔  فیروز بخت تھا

رہوار کیا! ہوا پہ سلیماں کا تخت تھا

 

سمٹا۔  جما۔  اڑا۔  ادھر آیا۔  ادھر گیا

چمکا۔  پھرا۔  جمال دکھایا۔  ٹھہر گیا

 

تیروں سے اڑ کے برچھوں میں بےخطر گیا

برہم کیا صفوں کو۔  پروں سے گزر گیا

 

گھوڑوں کا تن بھی ٹاپ سے اس کی فگار تھا

ضربت تھی نعل کی۔  کہ سروہی کا وار تھا

 

(۲)

 

کوتاہ و گرد و صاف۔  کنوتی کمر کفل

کیا خوش نما کشادگی سینہ و بغل!

 

سیماب کی طرح نہیں آرام ایک پل

پھرتا اس طرح، کہ پھرے جس طرح سے کل

 

راکب نے سانس لی۔  کہ وہ کوسوں روانہ تھا

تار نفس بھی اس کے لیے تازیانہ تھا

 

وہ جست و خیز و سرعت و چالاکی سمند

سانچے میں تھے ڈھلے ہوئے سب اس کے جوڑ بند

 

سم قرض ماہتاب سے روشن ہزار چند

نازک مزاج و شوخ وسیہ چشم و سر بلند

 

گر ہل گئی ہوا سے ذرا باگ۔  اڑ گیا

پتلی سواری کی نہ پھیری تھی۔  کہ مڑ گیا

 

آہو کی جست۔  شیر کی آمد۔  پری کی چال

کبک دری خجل۔  دل طاؤس پائمال

 

سبزہ سبکروی میں قدم کے تلے نہال

اک دو قدم میں بھول گئے چوکڑی غزال

 

جو آ گیا قدم کے تلے۔  گرد باد تھا

چھل بل غضب کے تھے، کہ چھلاوہ بھی گرد تھا

 

بجلی کبھی بنا۔  کبھی رہوار بن گیا

آیا عرق۔  تو ابر گہر بار بن گیا

 

گہہ قطب۔  گاہ گنبد دوار بن گیا

نقطہ کبھی بنا۔  کبھی پرکار بن گی

 

حیراں تھے اس کے گشت ہی لوگ اس ہجوم کے

تھوڑی سی جا میں پھرتا تھا کیا جھوم جھوم کے

 

 

ایک مثمن

 

                 مولف

 

کیفیت قلعہ اکبر آباد

 

یارب! یہ کسی مشعل کشتہ کا دھواں ہے

یا گلشن برباد کی یہ فصل خزاں ہے

 

یا برہمی بزم کی فریاد و فغاں ہے

یا قافلہ رفتہ کا پس خیمہ رواں ہے

 

ہاں دور گزشتہ کی مہابت کا نشاں ہے

بانی عمارت کا جلال اس سے عیاں ہے

 

اڑتا تھا یہاں پرچم جم جاہی اکبر

بجتا تھا یہاں کوس شہنشاہی اکبر

 

باہر سے نظر ڈالئے اس قلعہ پہ یک چند

برپا ہے لب آب جمن صورت الوند

 

گویا کہ ہے اک سورما۔  مضبوط۔  تنومند

یا ہند کا رجپوت ہے۔  یا ترک سمر قند

 

کیا بارہ سنگین کا پہنا ہے قزآگند!

رینی کا قزآگند پہ باندھا ہے کمر بند

 

مسدود ہے خندق سے رہ فتنہ و آشوب

ارباب تمرد کے لئے برج ہیں سرکوب

 

تعمیر در قلعہ بھی البتہ ہے موزوں

پرشوکت و ذی شان ہے اس کا رخ بیروں

 

کی ہے شعرا نے صفت طاق فریدوں

معلوم نہیں اس سے وہ کمتر تھا کہ افزوں

 

گو ہمسر کیواں ہے۔  نہ ہم پلہ گردوں

محراب کی ہیئت سے ٹپکتا ہے یہ مضموں

 

پیلان گراں سلسلہ با ہودج زریں

اس در سے گزرتے تھے بصد رونق و تزئیں

 

اکبر سا کبھی مخزن تدبیر یہاں تھا

یا طنطنہ ذی رتبہ مشاہیر یہاں تھا

 

یا شاہجہاں مرجع توقیر یہاں تھا

یا مجمع ذی رتبہ مشاہیر یہاں تھا

 

القصہ۔  کبھی عالم تصویر یہاں تھا

دنیا سے سوا جلوہ تقدیر یہاں تھا

 

بہتا تھا اسی کاخ میں دولت کا سمندر

تھے جشن ملوکانہ اسی قصر کے اندر

 

وہ قصر معلی کہ جہاں عام تھا دربار

آئینہ نمط صاف ہیں جس کے درو دیوار

 

وہ سقف زر اندوز ہے مانند چمن زار

وہ فرش ہے مرمر کا مگر چشمہ انوار

 

اب بانگ نقیب اس میں۔  نہ چاؤش کی للکار

سرہنگ کمربستہ۔  نہ وہ مجمع حضار

 

کہتا ہے کبھی مرکز اقبال تھا میں بھی

ہاں! قبلہ گہ عظمت و اجلال تھا میں بھی

 

جب تک مشیت کو مرا وقر تھا منظور

نافذ تھا زمانہ میں مری جاہ کا منشور

 

شاہان معاصر کا معین تھا یہ دستور

کرتے تھے سفیران ذوی القدر کو مامور

 

تا میری زیارت سے کریں چشم کو پر نور

آوازہ مری شان کا پہنچا تھا بہت دور

 

اکناف جہاں میں تھا مرا دبدبہ طاری

تسلیم کو جھکتے تھے یہاں ہفت ہزاری

 

وہ چتر۔  وہ دیہیم۔  وہ سامان کہاں ہیں؟

وہ شاہ۔  وہ نوئین۔  وہ خاقان کہاں ہیں؟

 

وہ بخشی و دستور۔  وہ دیوان کہاں ہیں؟

خدام ادب اور وہ دربان کہاں ہیں؟

 

وہ دولت مغلیہ کے ارکان کہاں ہیں؟

فیضی و ابوالفضل سے اعیان کہاں ہیں؟

 

سنسان ہے وہ شاہ نشیں آج صد افسوس

ہوتے تھے جہاں خان و خوانین زمیں بوس

 

وہ بارگہ خاص کی پاکیزہ عمارت

تاباں تھے جہاں نیر شاہی و وزارت

 

بڑھتی تھی جہاں نظم و سیاست کی مہارت

آتی تھی جہاں فتح ممالک کی بشارت

 

جوں شحنئہ معزول پڑی ہے وہ اکارت

سیاح کیا کرتے ہیں اب اس کی زیارت

 

کہتا ہے سخن فہم سے یوں کتبہ دروں گا

“تھا مخزن اسرار یہ تاجوروں کا”

 

اورنگ سیہ رنگ جو قائم ہے لب بام

بوسہ جسے دیتا تھا ہر اک زبدہ عظام

 

اشعار میں ثبت اس ہی جہانگیر کا ہے نام

شاعر کا قلم اس کی بقا لکھتا ہے مادام

 

پر صاف نظر آتا ہے کچھ اور ہی انجام

سالم نہیں چھوڑے گی اسے گردش ایام

 

فرسودگی دہر نے شق اب تو کیا ہے

آئندہ کی نسلوں کو سبق خوب دیا ہے

 

ہاں کس لئے خاموش ہے۔  او تخت جگر ریش؟

کس غم میں سیہ پوش ہے۔  کیا سوگ ہے درپیش؟

 

کملی ہے تری دوش پہ کیوں صورتِ درویش؟

جوگی ہے ترا پنتھ، کہ صوفی ہے ترا کیش؟

 

بولا۔  زمانہ نے دیا نوش۔  کبھی نیش

صدیاں مجھے گزری ہیں یہاں تین کم و بیش

 

صدقے کبھی مجھ پر گہر و لعل ہوئے تھے

شاہان معظم کے قدم میں نے چھوئے تھے

 

رنگیں محل اور برج مثمن ک وہ انداز

صنعت میں ہی بے مثل تو رفعت میں سرافراز

 

یاں مطرب خوش لہجہ کی تھی  گونجتی آواز

کہ ہند کی دھرپت تھی۔  کبھی نغمہ شیراز

 

اب کون ہے؟ بتلائے جو کیفیت آغاز

زنہار! کوئی  جاہ و حشم پر نہ کرے ناز

 

جن تاروں کے پرتو سے تھا یہ برج منور

اب ان کا مقابر میں تہ خاک ہے بستر

اس عہد کا باقی کوئی ساماں ہے۔  نہ اسباب

 

فوارے شکستہ ہیں۔  تو سب حوض ہیں بے آب

وہ جام بلوریں ہیں۔  نہ و ہ گوہر نایاب

وہ چلمن زرتار۔  نہ وہ بستر کم خواب

 

ہنگامہ جو گزرا ہے۔  سو افسانہ تھا یا خواب

یہ معرض خدام تھا۔  وہ موقف حجاب

 

وہ بزم۔  نہ وہ دور۔  نہ وہ جام۔  نہ وہ ساقی

ہاں ! طاق و رواق اور در و بام باقی

 

مستور سراپردہ عصمت میں تھے جا گل

سود ودہ ترک اور مغل ہی سے نہ تھے کل

 

کچھ خیری فرغانہ تھے۔  کچھ لالہ کابل

پھر مولسری ہند کی ان میں گئی مل جل

 

تعمیر کے انداز کو دیکھو بہ تامل

تاتار ی و ہندی ہے بہم شان و تجمل

 

سیاح جہاندیدہ کے نزدیک یہ تعمیر

اکبر کے خیالات مرکب کی ہے تصویر

 

درشن کے جھروکے کی پڑی تھی یہیں بنیاد

ہوتی تھی تو دلان میں کیا کیا دہش و داد

 

زنجیر عدالت بھی ہوئی تھی یہیں ایجاد

جو سمع شہنشاہ میں پہنچاتی تھی فریاد

 

وہ بور جیاں اور جہانگیر کی افتاد

اس کاخ ہمایوں کو بی تفصیل ہے سب یاد

 

ہر چند کہ بیکار یہ تعمیر پڑی ہے

قدراس کی مورخ کی نگاہوں میں بڑی ہے

 

اب دیکھئے وہ مسجد و حمام زنانہ

وہ نہر۔  وہ حوض۔  اور وہ پانی کا خزانہ

 

صنعت میں ہر اک چیز ہے یکتا و یگانہ

ہے طرز عمارت سے عیاں شان شہانہ

 

کیا ہو گئے وہ لوگ! کہاں ہے وہ زمانہ!

ہر سنگ کے لب پر ہے غم اندوز ترانہ

 

چغتائیہ گلزار کی یہ فصل خزاں ہے

ممتاز محل ہے نہ یہاں نور جہاں ہے

 

وہ قصر جہاں جودھ پوری رہتی تھی بائی

تھی دولت و ثروت نے کہاں دھوم مچائی

 

دیکھا اسے جا کر۔  تو بری گت نظر آئی

صحنوں میں جمی گھاس۔  تو دیواروں پہ کائی

 

گویا در و دیوار یہ دیتے ہیں دہائی

ممکن نہیں طوفان حوادث سے رہائی

 

جس گھر میں تھے نسرین و سمن یا گل لالہ

اب نسل ابابیل میں ہے اس کا قبالہ

 

وہ مسجد زیبا۔  کہ ہے اس بزم کی دلہن

خوبی میں یگانہ ہے۔  ولے سادہ و پر فن

 

محراب و در و بام ہیں سب نور کا مسکن

موتی سے ہیں دالان۔  تو ہے دو دھ سا آنگن

 

کافور کا تودہ ہے۔  کہ الماس کا معدن

یا فجر کا مطلع ہے۔  کہ خود روز ہے روشن

 

بلور کا ہے قاعدہ یا نور کا ہے راس

باطل سی ہوئی جاتی ہے یاں قوت احساس

 

ہاتھوں نے ہنرمند کے اک سحر کیا ہے

سانچہ عمارت کو مگر ڈھال دیا ہے

 

یا تار نظر س کہیں پتھر کو سیا ہے

مرمر میں مہ و مہر کا سا نور و ضیا ہے

 

نے شمع۔  نہ فانوس۔  نہ بتی۔  نہ دیا ہے

ہاں چشمہ خورشید سے آب اس نے پیا ہے

 

چلئے جو یہاں سے تو نظر کہتی ہے فی الفور

نظارے کی دو مجھ کو اجازت کوئی دم اور

 

 

مسجد نے اشارہ کیا پتھر کی زبانی

اس قلعہ میں ہوں شاہجہاں کی میں نشانی

 

کچھ شوکت ماضی کی کہی اس نے کہانی

کچھ حالت موجود بایں سحر بیانی

 

“ان حجروں میں ہے شمع۔  نہ اس حوض میں پانی

فواروں کے دل میں بھی ہے ایک درد نہانی

 

تسبیح۔  نہ تہلیل۔  نہ تکبیر و اذاں ہے

بس گوشہ تنہائی ہے اور قفل گراں ہے”

 

جمگھٹ تھا کبھی یاں وزرا و امرا کا

مجمع تھا کبھی یاں صلحا و علما کا

 

چرچا تھا شب و روز یہاں ذکر خدا کا

ہوتا تھا ادا خطبہ سدا حمد و ثنا کا

 

اک قافلہ ٹھیرا تھا یہاں عز و علا کا

جو کچھ تھا گزر جانے میں جھونکا تھا ہوا کا

 

ہیں اب تو نمازی مرے باقی یہی دو تین

یا دھوپ ہے یا چاندنی یا سایہ مسکیں

 

وہ دور ہے باقی نہ وہ ایام و لیالی

وہ واقعہ حسی تھا سو ہے آج خیالی

 

ہر کو شک و ایواں، ہر اک منزل عالی

عبرت سے ہے پر اور مکینوں سے خالی

 

آقا نہ خداوند۔  اہالی۔  نہ موالی

جز ذات خدا کوئی نہ وارث ہے۔  نہ والی

 

یہ جملہ محلات۔  جو سنسان پڑے ہیں

پتھر کا کلیجہ کئے حیران کھڑے ہیں

 

جب کند ہوئی دولت مغلیہ کی تلوار

اور لوٹ کیا جاٹ نے ایوان طلا کار

 

تب لیک جو تھا لشکر انگلش کا سپہدار

افواج مخالف سے ہوا برسر پیکار

 

یہ بارہ و برج اور یہ ایوان۔  یہ دیوار

کچھ ٹوٹ گئے ضرب سے لوگوں کی بہ ناچار

 

ہے گردش ایام کے حملوں کی کسے تاب

پھر قلعہ اکبر ہی میں تھا کب پر سرخاب!

 

آخر کو مخالف کی شکستہ ہوئی قوت

اونچا ہوا سرکار کے اقبال کا رایت

 

لہرانے لگا پھر علم امن و حفاظت

آثار قدیمہ کی لگی ہونے مرمت

 

یہ بات نہ ہوتی۔  تو پہنچتی وہی نوبت

دیوار گری آج۔  تو کل بیٹھ گئی چھت

 

حکام زماں کی کو نہ ہوتی نگرانی

رہ سکتی نہ محفوظ یہ مغلیہ نشانی

 

ارباب خرد چشم بصیرت سے کریں غور

اکبر کی بنا اس سے بھی پایندہ ہے اک اور

 

سردی کی جفا جس پے نہ گرمی کا چلے جوت

ہر چند گزر جائین بہت قرن۔  بہت دور

 

برسوں یونہیں پھرتے رہیں برج حمل و ثور

اس میں نہ خلل آئے کسی نوع۔  کسی طور

 

انجینیروں کی بھی مرمے سے بری ہے

وہ حصن حصین کیا ہے فقط ناموری ہے

 

او اکبر ذیجاہ! ترے عزت و تمکیں

محتاج مرمت ہے۔  نہ مستلزم تزئیں

 

کندہ ہیں دلوں میں تری الفت کے فرامیں

ہے تیری محبت کی بنا اک دژ روئیں

 

گو حملہ بےسود کرے بھی کوئی کم بیں

زائل نہیں ہونے کی ترے عہد کی تحسیں

 

پشتوں سے رعایا میں بہ آئین وراثت

قائم چلی آتی ہے ترے نام کی عظمت

 

بکرم کی سنھا کو تری صحبت نے بھلایا

اور بھوج کا دورہ تری شہرت نے بھلایا

 

ارجن کو تری جرات و ہمت نے بھلایا

کسری کو ترے دور عدالت نے بھلایا

 

اسکندر و جم کو تری شوکت نے بھلایا

پچھلوں کو۔  غرض تیری عنایت نے بھلایا

 

آتے ہیں زیارت کو تو اب تک ہے یہ معمول

زائر تری تربت پہ چڑھا جاتے ہیں دو پھول

 

ہو کہنہ و فرسودہ ترا قلعہ تو کیا غم

شہرت ہے ترے نام کی سو قلعوں سے محکم

 

بھرتا ہے ہر اک فرقہ محبت کا ترے دم

لکھتے ہیں مورخ بھی تجھے اکبر اعظم

 

رتبہ ترا ہند کے شاہوں میں مسلم

یہ فخر ترے واسطے زنہار نہیں کم

 

گو خاک میں مل جائے ترے عہد کی تعمیر

ہے کتبہ عزت ترا ہر سینہ میں تحریر

٭٭٭

 

 

 

 

رباعیات

 

                خواجہ الطاف حسین حالی

 

(۱)

 

چھوڑو کہیں جلد مال و دولت کا خیال

مہمان کوئی دن کے ہیں۔  دولت ہو۔  کہ مال

سرمایہ کرو وہ جمع۔  جس کو نہ کبھی

اندیشہ فوت ہو۔  نہ ہو خوف زوال

 

(۲)

 

موجود ہنر ہوں ذات میں جس کی ہزار

بد ظن نہ ہو۔  عیب اس میں اگر ہوں دو چار

طاؤس کے پائے زشت پر کر کے نظر

کر حسن و جمال کا نہ اس کے انکار

 

(۳)

ہیں یار رفیق۔  پر مصیبت میں نہیں؛

ساتھی ہیں عزیز۔  لیک ذلت میں نہیں

اس بات کی انساں سے توقع عبث

جو نوع بشر کی خود جبلت میں نہیں

 

(۴)

 

ہیں جہل میں سب عالم و جاہل ہمسر

آتا نہیں فرق اس کے سوا ان میں نظر

عالم کو ہے علم اپنی نادانی کا

جاہل کو نہیں جہل کی کچھ اپنے خبر

 

 

                مولف

 

(۱)

 

تیزی نہیں منجملہ اوصاف کا کمال

کچھ عیب نہیں۔  اگر چلو دھیمی چال

خرگوش سے لے گیا ہے کچھوا بازی

ہاں! راہ طلب میں شرط ہے استقلال

 

 

(۲)

 

گر نیک دلی سے کچھ بھلائی کی ہے

یا بد منشی سے کچھ برائی کی ہے

اپنے ہی لئے ہے سب نہ اوروں کے لئے

اپنے ہاتھوں نے کو کمائی کی ہے

 

(۳)

 

دین اور دنیا کا تفرقہ ہے مہمل

نیت ہی یہ موقف ہے تنفیح عمل

دنیاداری بھی عین دین داری ہے

مرکوز ہو فر رضائے حق عز و جل

 

(۴)

 

دیکھا تو کہیں نظر نہ آیا ہر گز

ڈھونڈا۔  تو کہیں پتا نہ پایا ہر گز

کھونا پاتا ہے سب فضولی اپنی

یہ خبط نہ ہو مجھے خدایا ہر گز

 

 

                امیر مینائی

 

(۱)

گھر کھدنے کی پوچھو نہ مصیبت ہم سے

روتی ہے لپٹ لپٹ کے حسرت ہم سے

یا ہم جاتے تھے گھر سے رخصت ہو کر

یا گھر ہوتا ہے آج رخصت ہم سے

 

(۲)

بالفرض حیات جاودانی تم ہو

بالفرض۔  کہ آب زندگانی تم ہو

ہم سے نہ لو۔  تو خاک سمجھیں تم کو

لیں نام نہ پیاس کا۔  جو پانی تم ہو

 

 

                غالب

 

(۱)

حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرے

تا شاہ شیوع دانش و داد کرے

یہ دی گئی ہے رشتہ عمر میں گانٹھ

ہے صفر۔  کہ افزائش اعداد کرے

 

(۲)

 

ان سیم کے بیجوں کو کوئی کیا جانے؟

بھیجے ہیں جو ارمغاں شہ والا نے

گن کر دیویں گے ہم دعائیں سو بار

فیروزہ کی تسبیح کے ہیں یہ دانے

 

                میر انیس

 

(۱)

 

پرساں کوئی کب جوہر ذاتی کا ہے

ہر گل کو گلہ کم التفاتی کا ہے

شبنم سے کو وجہ گریہ پوچھی۔  تو کہا

رونا فقط اپنی بے ثباتی کا ہے

 

(۲)

جو شے ہے فنا اسے بقا سمجھا ہے

جو چیز ہے کم اسے سوا سمجھا ہے

ہے بحر جہاں میں عمر مانن حباب

غافل! اس زندگی کو کیا سمجھا ہے|؟

 

(۳)

 

ہشیار! کہ وقت ساز و برگ آیا ہے

ہنگام یخ و برف و تگرگ آیا ہے

محتاج عصا ہوئے تو پیری نے کہا

چلئے۔  اب چوبدار مرگ آیا ہے

 

(۴)

 

گلشن میں پھروں۔  کہ سیر صحرا دیکھوں

یا معدن و کوہ و دشت و دریا دیکھوں

ہر جا تری قدرت کے ہیں لاکھوں جلوے

حیراں ہوں۔  کہ دو آنکھوں سے کیا کیا دیکھوں!

 

(۵)

 

انسان ہی کچھ اس دور میں پامال نہیں

سچ ہے کوئی آسودہ و خوش حال نہیں

اندیشہ آشیان و خوف صیاد

مرغان چمن بھی فارغ البال نہیں

 

(۶)

ہر طرح سے یہ سرائے فانی دیکھی

ہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھی

جو آ کے نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھا

جو جا کے نہ آئے وہ جوانی دیکھی

 

                میر تقی

 

(۱)

 

ہم میرے سے کہتے ہیں۔  نہ رویا کر

ہنس کھیل کے ٹک چین سے بھی سویا کر

پایا نہیں جانے کا وہ در نایاب

کڑھ کڑھ کے عبث جان کو مت کھویا کر

 

(۲)

راضی ٹک آپ کو رضا پر رکھئے

مائل دل تنگ کو قضا پر رکھئے

بندوں سے تو کچھ کام نہ نکلا اے میر

سب کچھ موقوف اب خدا پر رکھئے

 

(۳)

 

ملئے اس شخص سے جو آدم ہووے

ناز اس کو کمال پر بہت کم ہووے

ہو گرم سخن تو گرد آوے اک خلق

خاموش رہے تو ایک عالم ہووے

٭٭٭

ٹائپنگ: مقدس حیات،فہیم اسلم

ماخذ: اردو محفل

تدوین اور ای بک کی  تشکیل: اعجاز عبید