FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

 

تفسیر ثنائی (سورۂ فاتحہ، سورۂ بقرہ)

 

                ثناء اللہ امرتسری

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

 

 

 

۱۔ سورۃالفاتحہ

 

مکیہ

آیات:۷    رکوع:۱

 

چونکہ یہ سورت بندوں کی زبان پر گویا ایک عرضی کا مسودہ نازل ہوا ہے۔ اس لئے اس کے ترجمہ سے پہلے ” کہو” محذوف سمجھنا چاہئے۔ یعنی اے میرے بندو! تم یوں کہو کہ ہم شروع کرتے ہیں سب کام اللہ کے نام سے جو باوجود گناہ بندوں کے بڑا ہی مہربان نہایت رحم والا ہے۔ عرض مطلب سے پہلے ہم اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ سب تعریفیں اللہ پاک کے لیے ہیں جو سب جہان والوں کا پرورش کرنے والا ہے۔ سب مخلوق کیا چھوٹی کیا بڑی سب اس کی نمک خوار اور غلام ہیں۔ نہ صرف پرورش کرتا ہے بلکہ باوجود ان کے گناہوں کے بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ اور اگر دنیا میں باوجود کثرت احسانات کے اس کی طرف رجوع نہ کریں۔ اور اپنے تکبر اور سرکشی میں پھنسے رہیں اس نے ایک دن بد بختوں اور نیک بختوں کی تمیز کرنے کو مقرر کر رکھا ہے۔ جس کا نام روز قیامت ہے۔ اس قیامت کے دن کا مالک بھی وہی ہے۔ چوں کہ ایسے اللہ مالک الملک کے حکم سے رو گردانی کرنا بہت ہی مذموم اور قبیح امر ہے۔ نیزایسا مالک الملک کوئی اور نہیں۔ لہٰذا ہم سب سے علیحدہ ہو کر اے ہمارے مہربان مولا ! تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہر ایک کام کی انجام دہی میں تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ چنانچہ بالفعل ہماری ایک ضروری حاجت ہے جس کے سبب سے ہم تیرے عاجز بندے ایک دوسرے سے مخالف اور دشمن ہو رہے ہیں۔ اور نہایت ہی زور سے کوشش کر چکے ہیں تاہم کوئی فیصلہ بیّن طور پر نہیں ہوتا لہذا ہم نیازمندان سب کے سب عاجز آ کر التماس کرتے ہیں کہ تو ہی اے مولا ! مہربان ہم کو اس میں کامیاب کر۔

 

شان نزول الحمد للہ

 

مکہ شریف میں جب نماز فرض ہوئی تھی تو یہ سورت نازل ہوئی۔ (فتح البیان) ۱۲

اس سورت کے کئی نام ہیں ہر نام اس کی فضیلت ظاہر کرتا ہے اس کو فاتحۃ الکتاب بھی کہتے ہیں کیونکہ ابتدا کتاب اللہ کے آتی ہے اور سورت الشکر بھی اس کا نام ہے اس لئے کہ اس کے اول میں حمد ہے جو شکر سے بڑھ کر ہے اس کا نام سورت الرقیہ یعنی دم کی سورت بھی ہے کیونکہ صحابہ کرام اس کو پڑھ کر بیماروں پر دم کیا کرتے تھے۔ ترمذی نے آنحضرتﷺ سے نقل کیا ہے کہ اس سورت جیسا بابرکت کلام نہ توریٰت میں ہے نہ انجیل میں نہ کسی آسمانی کتاب میں نازل ہوا یہی قرآن عظیم ہے جو مجھ (آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو ملا ہے۔ (منہ)

 

تفسیر

 

وہ مطلب یہ کہ دین میں ہمیں سیدھی راہ پر پہنچا اور اگر یہی ہے جس پر ہم ہیں تو اسی پر ہمیں قائم رکھ اے ہمارے مولا ! ہماری یہ آرزو نہیں کہ جس راہ کو ہم ناقص العقل لوگ سیدھی سمجھیں یا ہمارے اور بھائی اچھی جانیں وہ دکھا۔ حاشا وکلا بلکہ ان بزرگوں کی راہ پر پہنچا جن پر تو نے بوجہ ان کی دینداری کے بڑے بڑے انعام کئے عطیات دیے اور مہربانیاں مبذول فرمائیں۔ نہ ان بے ایمان لوگوں کی جن پر ان کی بد عملی کے سبب سے غضب کیا گیا جیسے یہودی وغیرہ۔ نہ ان لوگوں کی جو بوجہ اپنی کو تہ اندیشی کے گمراہ ہیں جیسے عیسائی وغیرہ۔ اے ہمارے مہربان مولا ! ہم عاجزوں کی یہ التماس مخلصانہ قبول فرما۔

یہ پہلا موقع قرآن کریم کا ہے کہ دعا کا اس میں ذکر آیا۔ نہ صرف ذکر آیا بلکہ تعلیم کی گئی۔ قرآن کریم اور حدیث شریف سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ دعا جب دل کی توجہ سے کی جائے تو ضرور ہی قبول ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں تو صریح ارشاد ہے۔ اُجِیبُ دَعوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَان یعنی مانگنے والا جب مجھ سے دعا مانگتا ہے تو میں قبول کرتا ہوں۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ ایسا جوّاد ہے کہ دعا گو بندے کے ہاتھ خالی پھیرنے سے اسے شرم آتی ہے۔ اسی مضمون کی آیات اور احادیث کثیر التعداد ہیں۔ جملہ اہل اسلام بلکہ جمہور انام بھی اس امر پر متفق ہیں اور عقل بھی اسی کی مقتضی ہے کہ ایک عاجز بندہ جو اپنے اللہ کو سب طاقتوں کا مالک جان کر اس سے اپنے ارادوں کے پورا ہونے میں امداد چاہتا ہے۔ تو ایسے وقت میں اس عاجز بندے کی حاجت روائی نہ کرنا ایک قسم کا بخل ہے۔ جب کہ انسانی طبائع کا تقاضا ہے کہ اگر کسی سائل کا سوال الحاج کو پہونچتا ہے تو طبیعت انسانی اس کی حاجت روائی پر متوجہ ہوتی ہے۔ حالانکہ انسانی طبائع میں بخل بھی ہے پھر جو ذات ستودہ صفات بخل اور امساک سے مبرّا ہو اس کا یہ تقاضا ہو کہ سائل کے سوال پر متوجہ نہ ہو۔ تو اس سے زیادہ بخل کیا ہو گا؟ تعَالی اللّٰہ عن ذٰلک علوّا کبیرا یَسئَلُہٗ مَن فِی السَّمٰوٰتِ وَالاَرضِ کُلَّ یَومٍ ھُوَ فِی شَانٍ فَبِآَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ۔ یہی وجہ ہے کہ سب لوگ بالطبع تکلیف کے وقت اس فعل پر مجبور ہوتے ہیں اور اس کی طفیل سے اپنی حاجت روائی کی امید رکھتے ہیں۔ مگر اس زمانہ کے محقق سر سید احمد خاں علی گڈھی اس امر میں نہ صرف اہل اسلام بلکہ جملہ انام سے بھی مخالف ہو بیٹھے ہیں اور قبولیت دعا کے وہ معنے نہیں مانتے جو سب لوگ مانتے ہیں۔ چنانچہ اپنی تفسیر کی پہلی جلد میں یوں رقمطراز ہیں :۔

“دعا جب دل سے کی جاتی ہے ہمیشہ مستجاب ہوتی ہے۔ مگر لوگ دعا کے مقصد اور استجابت کا مطلب سمجھنے میں غلطی کرتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ جس مطلب کے لئے ہم دعا کرتے ہیں۔ دعا کرنے سے وہ مطلب حاصل ہو جائے گا۔ اور استجابت کے معنے اس مطلب کا حاصل ہو جانا سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ غلطی ہے۔ حصول مطلب کے لئے جو اسباب اللہ نے مقرر کئے ہیں وہ مطلب تو انہی اسباب کے جمع ہونے سے حاصل ہوتا ہے۔ مگر دعا نہ تو اس مطلب کے اسباب سے ہے اور نہ اس مطلب کے اسباب کو جمع کرنے والی ہے بلکہ وہ اس قوت کو تحریک کرنے والی ہے۔ جس سے اس رنج و مصیبت اور اضطراب میں جو مطلب کے نہ حاصل ہونے سے ہوتا ہے تسکین دینے والی ہے ” (صفحہ ۱۸)

ناظرین غور کریں کہ سرسیّد کی کس قدر جرأت ہے اور مجھے ہمیشہ ان کی جرأت پر تعجب ہوا کرتا ہے کہ تمام جہان کے مقابلہ پر خم ٹھونک کر کھڑے تو ہو جائیں مگر اس کے سامان مہیا نہیں کرتے۔ کوئی دلیل قوی تو کجا ضعیف بھی اپنے دعویٰ پر پیش نہیں کرتے۔ بتلا دیں تو اس مسئلہ میں جو سب لوگوں کے خلاف رائے ظاہر کی۔ تو اس کی کوئی دلیل بھی بیان کی ہے ؟

ہمارے خیال میں سرسید کا یہ کہنا تو صحیح ہے کہ اس مطلب کے اسباب میں سے نہیں مگر یہ فرمانا کہ نہ اس مطلب کے اسباب کو جمع کرنے والی ہے غلط ہے۔ ہم حسب درخواست سید صاحب تفسیر القرآن بالقرآن کئی ایک آیتیں بتلاتے ہیں جن سے سرسیّد کے اس بیان کی غلطی ناظرین و نیز سید صاحب پر پورے طور سے منکشف  ہو جائے گی۔ اس مطلب کو بہت سی جگہ اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ انبیاء سابقین نے جب تنگ آ کر دعا کی تو ہم نے فوراً ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا۔ چنانچہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی نسبت فرمایا فَدَعَا رَبَّہٗٓ اَنِّی مَغلُوبٌ فَانتَصِر۔ فَفَتَحنَآ اَبوَاب السَّمَآءِ بِمَآَءِ مُّنھَمِرٍ وَّفَجَّرنَا الاَرضَ عُیُونًا فَالتَقَی المَآءُ عَلیٰٓ اَمرٍ قَد قُدِرَ۔ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ فآء کو جس کا ترجمہ “پس” ہے۔ جب کسی کلام پر تعاقب لاتے ہیں تو پہلا کلام پچھلے کے لئے سبب ہوتا ہے جیسے سبَّنی زیدٌ فضربتُہ  “مجھے زید نے گالی دی پس میں نے اسے پیٹا” اس سے صاف ظاہر ہے کہ گالی دینا پیٹنے کے لئے سبب ہے۔ اسی طرح اس آیت میں فَدَعَا رَبَّہٗ۔ فَفَتَحنَا کے لئے علت ہے جس سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا بارش کے لئے یا کم سے کم بارش کے اسباب جمع کرنے کے لئے سبب ہوئی۔ گو کفار کی ہلاکت کے اسباب کچھ اور ہی ہوں۔ مگر اس میں شک نہیں کہ ان اسباب کو جمع کرنے میں دعا کو بھی دخل ہے ورنہ ” ف” لا کر فَفَتَحنَا فرمانا بے معنے ہے۔ دوسری جگہ بھی اسی طرح فرمایا۔ اِنَّ قَومِی کَذَّبُونِ فَافتَح بَینِی وَبَینھُم فَتحًا وَّنَجِّنِی وَمَن مَّعِیَ مِنَ المُؤمِنِینَ فَاَنجَینٰہ وَمَن مَّعَہٗ فِی الفُلکِ المَشحُونِ ثُمَّ اَغرَقنَا بَعدُ البَاقِینَ اِنَّ فِی ذٰلِکَ لَایَٰۃً وَّمَا کَانَ اَکثَرھُم مُّؤمِنِینَ ناظرین ذرا غور فرمائیں کہ کس طرح پہلے کلام پر پچھلے کو تقریباً بیان فرمایا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعا کی کہ ” اے اللہ تو ہم میں فیصلہ کر اور مجھے اور میرے ساتھیوں کو اس سے نجات دے ” اس سے آگے کے لفظوں میں ارشاد ہے کہ “پس نوح ( علیہ السلام) کی دعا کرتے ہی ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو نجات دی” جس سے ایک جزء دعا کا پورا ہوا۔ ” پھر دوسروں کو ہلاک کر دیا” جس سے حضرت نوح ( علیہ السلام) کی دعا کے دونوں جزء پورے کر دئیے ” بیشک اس میں بڑی نشانی ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی دعا کو ضائع نہیں کیا کرتا۔ لیکن بہت سے لوگ (مثل سید صاحب کے ) نہیں مانتے “۔

ایک اور مقام پر اس سے بھی واضح طور پر بیان فرمایا بلکہ اجابت دعا کے معنے بھی صاف صاف بتلا دیئے۔ چنانچہ ارشاد ہے۔

فَاَستَجَابَ لَکُم رَبُّکُم اَنِّی مُمِدُّکُم بِاَلفٍ مِّنَ المَلٰٓئِکَۃِ مُردِفِینَ یعنی اے مسلمانو ! تمہاری دعا فتح اسلام کے بارے میں اللہ نے اس طور سے قبول کی کہ میں تمہاری مدد کرنے کو ایک ہزار فرشتہ نشاندار بھیجوں گا ۔

سرسید نے بجواب مولوی مہدی علی ملقب نواب محسن الملک مرحوم درخواست کی ہوئی ہے کہ آپ اپنے مطلب پر دلیلی عقلی یا نقلی ضرور پیش کریں۔ اور دلیل نقلی کی تعریف سید صاحب نے یہ کی ہے کہ تفسیر القرآن بالقرآن ہو۔ (دیکھو تہذیب الاخلاق بابت رمضان ۱۳۱۲؁ھ صفحہ ۲۵۴)

سید صاحب کا مذہب نزول ملائکہ کی نسبت ہمیں معلوم ہے اس کا ذکر اپنے موقعہ پر آئے گا وہ ہمیں کسی طرح مضر نہیں ہمارا مطلب تو صرف اس سے ہے کہ اِستَجَابَ کا مفعول اَنِّی مُمِدُّکُم واقع ہے پس اگر ہمارا مطلب صحیح نہ ہو تو کلام میں کذب لازم آئے گا۔ وللتفصیل مقام اٰخر (منہ)

اس سے صاف اور صریح طور پر معلوم ہوا کہ قبولیت دعا کے یہ معنے ہیں کہ جو مراد مانگی جائے وہ حاصل ہو جائے جیسے کہ صحابہ کرام کو جنگ بدر میں حاصل ہوئی۔ اس قسم کی بہت سی آیات قرآنی ہیں جن سے صاف صاف اگر بے تعصبی سے باقاعدہ سمجھنا چاہیں تو مفہوم ہوتا ہے کہ ہاں دعا بھی واقع حصول مطلب میں دخل رکھتی ہے بلکہ بھاری سبب ہے۔ نہیں معلوم سید صاحب کو اس کے مخالف کون سی دلیل عقلی یا نقلی سوجھی جو اس سے انکاری ہو بیٹھے۔ اگر وہی شبہ ہے جو عموماً عام لوگوں کو ہوا کرتا ہے کہ جس کام کے لئے دعا کی جاتی ہے اگر وہ شدنی ہے۔ تو دعا بے فائدہ ہے اور اگر ناشدنی ہے تو دعا سے ہو نہیں سکتا۔ تو اس کا جواب وہی ہے جو حافظ ابن قیم (رح) نے “الجواب الکافی” میں دیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دعا بھی مثل دیگر اسباب خوردو نوش کے ہے۔ جیسے کھانا بھوک کے لئے اور پینا پیاس کے لئے۔ پس اگر یہی سوال کھانے اور پینے پر وارد ہو کہ اگر بھوک نے جانا ہی ہے تو کھانے کی بھی حاجت نہیں اور اگر نہیں جانا تو کھانے سے بھی نہیں جائے گی پھر اس سوال کا جواب غالباً سرسید بھی یہی دیں گے کہ کسی چیز کا مقدر ہونا اس چیز کے متسبب ہونے کے مخالف نہیں ورنہ دنیا میں کوئی چیز بھی ایک دوسری سے مسبب نہ ہو اس لئے کہ سب امور واقعیہ کی تقدیر ہو چکی ہے۔ پس اسی پر دعا کو بھی قیاس فرما لیجئے۔

اصل یہ ہے کہ دنیا میں جس قدر اسباب اللہ نے مقرر فرمائے ہیں ان سب کا یہی حال ہے کہ بعض دفعہ ان کے ہونے سے بھی وہ مطلب حاصل نہیں ہوتا اس لئے کہ محض اسباب کے ہونے سے ہی متسبب کا وجود نہیں ہوا کرتا۔ جب تک کہ اس کے موانع بھی معدوم نہ ہوں مثلاً آفتاب دھوپ کے لئے ایک سبب ہے حالانکہ اس کے طلوع سے جب تک کہ موانع مثل بادل وغیرہ کے مرتفع نہ ہوں دھوپ نہیں ہوتی۔ اس ہماری تقریر سے ایک اور شبہ بھی دور ہو گیا۔ جو دعا کے سبب ہونے پر کیا جاتا ہے جسے سید صاحب نے بھی تہذیب الاخلاق ماہ ربیع الاوّل ۱۳۱۳؁ھ میں پیش کیا ہے۔ کہ بسا اوقات دعا کی جاتی ہے مگر حاجت پوری نہیں ہوتی۔ پس معلوم ہوا کہ دعا کوئی سبب حصول مقصود کے لئے نہیں ہے ورنہ ایسا نہ ہوتا” اس لئے کہ اگر حاجت روائی نہ ہونے سے دعا کے سبب ہونے میں شبہ آتا ہو تو دھوپ کے لئے آفتاب کے سبب ہونے میں یہی شبہ ہونا چاہیے بلکہ جو لوگ فی زمانا نوکری کے لئے پڑھتے ہیں اور سید صاحب بھی تعلیم علوم جدیدہ کو زمانہ حال میں معاش کا بڑا بھاری سبب جانتے ہیں۔ حالانکہ بہت سے تعلیم یافتہ حیرانو سر گردان ہیں پس ان کی ناکامی سے معلوم ہوا کہ علوم جدیدہ حصول معاش کے لئے سبب نہیں ؟ حالانکہ ان کی ناکامی بہ نسبت دعا گوؤں کے تعجب انگیز ہے کیونکہ دعا گوؤں کو علیم حکیم سے معاملہ ہے جس کی نسبت یہ بھی گمان ہے کہ اس کے علم اور حکمت میں مطلوب کا ملنا ان کو مفید نہ ہو یا ان میں بعض امور ایسے ہوں جو دعا کی قبولیت کو مانع ہوں جیسے حدیث میں آیا ہے کہ بعض لوگ حالانکہ ان کا کھانا پینا اور لباس سب حرام ہوتا ہے پھر ان کی دعا کیسے قبول ہو؟” قرآن کریم نے بھی فلیستجیبولی کہہ کر اس طرف اشارہ فرمایا ہے۔ خلاصہ یہ کہ دعا بھی مثل اور اسباب کے ایک سبب ہے پس جیسے اور اسباب پر حصول مطلب ضروری نہیں باوجود اس کے ان کی سببیت میں شبہ نہیں آتا اسی طرح اس میں بھی نہیں۔ ودلیلہ ما مرفتذکّرٰ (منہ)

٭٭٭

 

 

 

 

 

۲۔ سورۃ البقرۃ

 

مدنیہ

 

آیات:۲۸۶       رکوعات:۴۰

 

میں ہوں اللہ سب سے بڑے علم والا اگر تم میرے علم پر یقین رکھتے ہو تو جان لو کہ یہ کتاب جس کا نام قرآن شریف ہے بلا شک (صحیح) اور میری طرف سے ہے اور جو یہ شبہ ہو کہ اگر یہ کتاب بلا شک صحیح ہے تو اس کو سب لوگ کیوں نہیں مانتے ؟ تو اس کا جواب سنو ! کہ مخلوق تین قسم پر ہے ایک وہ لوگ ہیں جن کو یہ خیال ہے کہ ہمارا کوئی مالک ہے جو ہم سے ہمارے افعال کی نسبت سوال کرے گا کہ تم نے کیا کچھ کیا ؟ ایسے لوگ تو ہمیشہ مجھ (اللہ) سے ڈرتے رہتے ہیں۔ دوسری قسم وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ اپنے خیالات کو دوسروں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ غلط ہوں دوسرے کی سنتے ہی نہیں خواہ کیسی ہی کہے بلکہ الٹے حق گوؤں سے جو ان کی رائے کے مخالف ہوں دشمن ہو جاتے ہیں۔ تیسری قسم وہ ہیں جو اپنی غرض کے یار مطلب کے آشنا۔ نہ اسلام سے عداوت نہ کفر سے عار۔ بلکہ جس طرف دنیاوی مطلب ہو اسی طرف کے غلام اگر مسلمان ہیں تو اپنے مطلب کو۔ کافر ہیں تو اپنی غرض سے۔ پس یہ قرآن بیشک پہلی قسم کے لوگوں یعنی اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے ہدایت ہے۔ بعد ہدایت یابی کے ان کی پہچان کے دو نشان ہیں۔ اول نشانی اور بڑی ضروری نشانی یہ ہے جو وہ بِن دیکھی غیب کی باتیں حسب فرمان الٰہی مانتے ہیں اور نماز کو ایسا ادا کرتے ہیں کہ پانچوں وقت جماعت سے پڑھتے ہیں اور علاوہ اس کے ممسک اور بخیل بھی نہیں بلکہ ہمارے دیے ہوئے سے خرچ بھی کرتے ہیں اور دوسری نشانی یہ سمجھو کہ اللہ سے ڈرنے والے وہ ہیں اے پیغمبر ! تیری طرف اتری ہوئی کتاب اور تجھ سے پہلے اتری ہوئی کتابیں بھی مانتے ہیں نہ صرف زبانی دنیا داروں کی طرح یا جھوٹے واعظوں کی مانند کہ کہیں کچھ اور کریں کچھ بلکہ وہ نیک کام اور اخلاص میں ایسے مشتاق ہیں کہ ان کی اخلاص مندی دیکھ کر بے ساختہ منہ سے نکلتا ہے کہ یہی لوگ قیامت کو مانتے ہیں جو ہر وقت اسی کی فکر میں لگے رہتے ہیں جو کام کرتے ہیں قیامت کی عزت اور ذلت کا لحاظ اس میں پہلے ۔

اس سورت کی فضیلت حدیثوں میں بہت آئی ہے۔ ایک حدیث میں جو ترمذی وغیرہ نے نقل کی ہے وارد ہے کہ یہ سورت قیامت کے روز اپنے پڑھنے والے کے ساتھ جناب باری میں آئے گی اور اس کی طرف سے بطور وکالت کے گفتگو کرے گی اور اس کی سفارش میں کہے گی کہ اے اللہ تیرے بندے نے مجھے تیرا کلام جان کر پڑھا تھا اور مجھ پر عمل کیا اس کو معاف کر دے۔ اسی طرح ہر ایک پڑھنے والے کی سفارش کر کے معافی کرائے گی۔ (منہ)

 

(1 ۔ 20)

(الٓمّٓ)

ان حروف مقطعات کے معنے بتلانے میں بہت ہی اختلاف ہوا۔ جس کا مفصل ذکر تفسیر اتقان اور معالم میں مرقوم  کر لیتے ہیں ایسے لوگوں کی نسبت ہم بھی شہادت دیتے ہیں کہ بے شک یہی لوگ اپنے رب کے فرمان پر چلنے والے ہیں اور اگر یہ اسی طرز پر رہے تو بے شک یہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں ہاں وہ لوگ جو عناد کے سبب ہر ایک حقانیت سے انکاری ہیں یعنی جن کو تیرا سمجھانا یا نہ سمجھانا برابر ہے وہ اس کتاب کو نہیں مانیں گے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ بھی اپنی جناب سے دور کر دیا ہے۔ (اور تجھ سے پہلے اتری ہوئی) بسا اوقات دیکھنے میں آیا ہے کہ جب کبھی کسی مسلمان نے عیسائیوں سے انجیل کے کلام الٰہی ہونے کی دلیل مانگی تو جھٹ سے انہوں نے یہ آیت یا اس کے ہم معنے کوئی دوسری آیت پڑھ دی اور سائل مسلمان پر زور ڈالا کہ تمہارا قرآن کتب سابقہ کی شہادت دیتا ہے۔ بلکہ ان کی تسلیم کو داخل ایمان بتاتا ہے۔ پھر تم اس سے زیادہ ثبوت کیا چاہتے ہو۔ اس لئے مناسب ہے کہ اس جگہ جو پہلا ہی موقع کتب سابقہ کی تصدیق کا آیا ہے ہم اس امر کی تحقیق کر دیں کہ کتب سابقہ جن کی قرآن کریم تصدیق کرتا ہے وہ یہی ہیں جن کے کلام الٰہی ہونے کا ثبوت زمانہ حال کے عیسائیوں سے مطلوب ہے یا اور۔ اور ان کتابوں کی قدرو منزلت کہاں تک ہے اور یہ بھی واضح کر دیں کہ اس مطلب پر عیسائیوں کا اس آیت کو پیش کرنا مثبت مدعا ہے یا صرف دفع الوقتی یا ناسمجھی۔ پس واضح ہو کہ کتب سابقہ جن کی تصدیق قرآن کریم نے کی ہے بحیثیت مجموعی یہ نہیں جو اس وقت متداول ہیں۔ یہ تو ایک مثل کتب تواریخ کے ہیں۔ اس ہمارے دعویٰ کا ثبوت ان کا موجودہ طرز ہی بتلا رہا ہے توریٰت ابتدا سے انتہا تک۔ انجیل اوّل سے آخر تک پڑھنے سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ ان کے والے حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح علیہما السلام کے سوا کوئی اور ہی ہیں چنانچہ حضرت موسیٰ اور مسیح علیہما السلام کے بعد کے واقعات کا اس میں درج ہونا اس امر کا بین ثبوت ہے کہ ان جملوں کی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور مسیح ( علیہ السلام) کو خبر تک نہیں کجا یہ کہ اللہ کی طرف سے ان پر الہام ہوئے ہوں مثلاً حضرت موسیٰ کی وفات اور بعد وفات کے واقعات کا ذکر بھی توریٰت میں مذکور ہے۔ توریٰت کی پانچویں کتاب استثناء میں لکھا ہے :۔

” سو اللہ کا بندہ موسیٰ ( علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہوآب کی سرزمین میں مر گیا اور اس نے اسے ہوآب کی ایک وادی میں بیت مغفور کے مقابل گاڑا آج کے دن تک کوئی اس کی قبر کو نہیں جانتا اور موسیٰ ( علیہ السلام) اپنے مرنے کے وقت ایک سو بیس برس کا تھا کہ نہ اس کی آنکھیں دھندلائیں اور نہ اس کی تازگی جاتی رہی۔ سو بنی اسرائیل موسیٰ ( علیہ السلام) کے لئے موآب کے میدانوں میں تیس دن تک رویا کئے ” (باب ۳۴۔ فقرہ ۵)

آگے چل کر دسویں فقرے میں لکھا ہے :۔ ” اب تک بنی اسرائیل میں موسیٰ ( علیہ السلام) کی مانند کوئی نبی نہیں اٹھا ”

اور حضرت مسیح ( علیہ السلام) کے سولی پر جان دینے کا مذکور اناجیل میں بصراحت موجود ہے بلکہ سولی کے بعد کے واقعات بھی ان میں پائے جاتے ہیں ان سب امور پر غور کرنے سے یہ نتیجہ با آسانی نکل سکتا ہے کہ ان واقعات کے دیکھنے اور لکھنے والے سوا ان دو صاحبوں کے کوئی اور شخص ہوں گے اور اگر عیسائیوں کا عقیدہ بھی بغور دیکھیں تو وہ بھی اس امر کے قائل نہیں کہ توریٰت انجیل موجودہ کے مصنف موصوفہ انبیاء ہیں۔ بلکہ ان کے خیال کے مطابق بھی ان کے بعد کے لوگ ہیں اناجیل کے مصنف تو یہی لوگ ہیں جن کے نام سے اناجیل مروج ہیں ایسا ہی توریٰت وغیرہ کا لکھنے والا اور واقعات کا جمع کرنے والا بھی کوئی شخص ہو گا یوشع بن نون ہو یا کوئی اور۔ ہاں اہل اسلام اور عیسائیوں کا صرف اس قدر اختلاف ہے کہ عیسائی اس کے قائل ہیں کہ جو کچھ اناجیل وغیرہ میں مذکور ہے بیشک حواریوں ہی نے لکھا مگر وہ اس کے لکھنے میں معصوم تھے ان کی حفاظت اللہ کے یا بقول ان کے مسیح کے ذمہ تھی جو خود اللہ ہے۔ جو واقعات مسیح کے تھے ان کو الہام کے ذریعہ معلوم ہوتے تھے وہ لکھتے جاتے تھے۔ مثلاً جو واقعات حضرت مسیح کو پیش آئے کہیں انہوں نے کلام الٰہی کا وعظ کہا کہیں اپنے معمولی بشری کاموں کھانے پینے میں مصروف رہے سب کے سب مصنفوں نے اناجیل میں درج کر دیئے۔ چنانچہ ان کے اختلافات سے یہی ثابت ہوتا ہے کیونکہ ایک واقعہ کو تو ایک لیتا ہے دوسرا نہیں لیتا۔ مثلاً مسیح کا زندہ ہو کر آسمان پر چلا جانا مرقس لیتا ہے متی نہیں لیتا۔ متی کا مسیح کے پیچھے ہو لینا متی بیان کرتا ہے۔ مرقس وغیرہ نہیں کرتے۔ اسی طرح اور سینکڑوں واقعات ہیں جو ایک انجیل میں ہیں دوسری میں نہیں۔ اصل یہ ہے کہ ایسے واقعات کا چھوٹ جانا کچھ تعجب بھی نہیں۔ بالخصوص جب کہ ثبوت کی بنا صرف سماع ہی پر ہو۔ چنانچہ لوقا اپنی انجیل کے شروع میں ظاہر کرتا ہے کہ میں نے بلکہ سب نے راویوں سے سن سن کر واقعات لکھے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ توریٰت انجیل جن کی قرآن کریم نے شہادت دی ہے یہ نہیں۔ ان کو ان کے ساتھ بجز شراکت اسمی کے کوئی شراکت نہیں جیسے کوئی شخص خاندان مغلیہ کا حال لکھ کر اس کا نام گلستان رکھ دے تو وہ شیخ سعید کی گلستان نہ ہو گی۔ پس اس انجیل موجودہ کے ثبوت میں آیت قرآنی کا پیش کرنا اور آیت شریفہ قرآنیہ کو اپنے دعویٰ کا مثبت جاننا ہرگز صحیح نہیں۔ قرآن شریف نے کہیں یہ نہیں بتلایا کہ انجیل متداول مسیح پر نازل ہوئی یا یہ کہ اس کو بھی مانو بلکہ ایمان کے موقع پر اُنزِلَ مِن قَبلِکَ اَو مَآ اُوتِیَ مُوسیٰ وَ عِیسٰے یعنی ان کتابوں کو جو تجھ سے پہلے اتریں اور موسیٰ اور عیسیٰ کو ملیں۔ ان الفاظ شریفہ سے تعبیر کرنے میں اسی طرف اشارہ ہے جو ہم لکھ آئے ہیں۔ رہی یہ بات کہ عیسائی ان کے مصنفوں کو الہامی مانتے ہیں۔ سو پڑے مانیں۔ اسی کا ثبوت ہم کو دیں کسی عقلی یا نقلی دلیل سے ثابت کریں کہ متی مرقس وغیرہ الہامی تھے اور یہ کتابیں ان کے الہام سے ہیں و دونہ ! خرط القتاد۔ آیت قرآنی کو پیش کرتے ہوئے خیال کریں کہ دعویٰ کیا ہے اور دلیل کیا۔ دعوے اناجیل موجودہ کے مصنفوں کے الہامی ہونے کا ہے اور دلیل سے حضرات موسیٰ اور مسیح کا الہام ثابت ہوتا ہے فآنیّٰ ھٰذا مِن ذالک۔ بعض عیسائی بھولے مسلمانوں کو دھوکا دینے کی غرض سے کہا کرتے ہیں کہ اگر موجودہ اناجیل اصلی نہیں تو اصل لا کر دکھاؤ۔ ہم اس سے مقابلہ کر کے دیکھیں جبکہ تمہارا قرآن شریف ان کی شہادت دیتا ہے تو ان کا وجود بھی بتلاؤ کہ کہاں ہے ؟ اس کا جواب ہے کہ اگر کوئی شخص جنگل میں کسی کو ایک چاندی کا ٹکڑا دکھا کر کہے کہ یہ انگریزی روپیہ ہے وہ شخص بوجہ اس کے کہ اس پر انگریزی سکّہ نہیں اس سے انکار کرے تو شخص مدعی کا حق ہے ؟ کہ اپنے دعوے کی یہ دلیل بیان کرے کہ اگر یہ روپیہ نہیں تو اصلی روپیہ لا کر دکھاؤ۔ اس سے مقابلہ کرو تاکہ معلوم ہو جائے کہ اصلی کون ہے اور نقلی کون۔ اگر نہ ملے تو میرا دعوے ماننا ہو گا۔ ہرگز یہ کلام مدعی کا صحیح نہیں۔

کیونکہ اس کے انکار کی وجہ تو یہ تھی کہ چونکہ اس ٹکڑے پر جو نشان روپیہ بننے کے ہونے چاہئیں وہ نہیں اس لئے یہ ٹکڑا روپیہ نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح اناجیل موجودہ کی نسبت بھی مسلمانوں کا یہ خیال ہے کہ قطع نظر ان کے موجودہ طرز کے چونکہ ان میں ایسے واقعات بھی درج ہیں جو حضرت موسیٰ اور مسیح کے زمانہ کے قطعاً نہیں ہو سکتے اس لئے ہم ان کو انجیل مسیحی نہیں مانتے۔ علاوہ اس کے ہو سکتا ہے اور ممکن ہے کہ اصلی انجیل کلا یا جزء اً اسی میں ہو جیسے کہ بعض فقرات جو حضرت مسیح نے بطور وعظ کے فرمائے ہیں یہی بتلا رہے ہیں مگر چونکہ ایسے فقرات الہامی۔ مجموعہ غیر الہامی میں آ کر وہی رنگ اختیار کر لیتے ہیں اس لئے ہم من حیث المجموعہ ان پر غیر الہامی کا حکم لگاتے ہیں پس اناجیل موجودہ کی مثال بالکل یہ ہو گی کہ ایک واعظ قرآن کریم کی ایک دو آیتیں پڑھ کر گھنٹہ دو گھنٹہ تک وعظ کہے۔ پھر اسی وعظ کو کوئی شخص اوّل سے آخر تک کسی اخبار یا رسالہ میں چھپوا دے پس جیسا کہ یہ اخبار یا رسالہ الہامی نہیں ہو سکتا گو اس میں آیات قرآنی بھی ہیں۔ ایسا ہی اناجیل موجودہ الہامی نہیں جب تک کہ عیسائی اس امر کا ثبوت نہ دیں کہ ان کے مصنف بھی الہامی تھے۔ ودونہ خرط القتاد۔ منہ

تحقیق اس کی یہ ہے کہ ہر زمانہ میں دستور ہے کہ بزرگوں کے واقعات سب کے سب چاہے کیسے ہی ہوں مسلسل قلم بند کیا کرتے ہیں گو ان میں اس بزرگ کے معمولی مشاغل کھانا پینا چلنا پھرنا بھی کیوں نہ ہو پھر اسی پر بس نہیں بلکہ وفات اور بعد وفات کے حالات بھی درج کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق (رض) اور حضرت صلحائے امت وغیرہ بزرگان کی سوانح عمریاں اس کی شاہد عدل ہیں۔ ان وقائع کے جمع کرنے سے مصنفوں کی یہ غرض ہوتی ہے کہ جو واقعات ان بزرگوں کی زندگی کے یا بعد مرنے کے جو ان کے تعلق ہوں بعض کو بطور مسائل شرعیہ اور بعض کو بغرض رقت قلب بیان کریں۔ یہ خیال ان کو ہرگز نہیں ہوتا کہ ان بزرگوں کے الہامی واقعات ہی کو لکھیں یہی وجہ ہے کہ ایسی تصنیفوں میں ان واقعات کا ذکر بھی ہوتا ہے جو ان بزرگوں کے الہامی تو کجا اختیاری بھی نہیں ہوتے مثلاً سوتے وقت خراٹے مارنا یا بحرکت طبعی گاہے بلندی سے پستی میں گر پڑنا یا موت کے وقت بتقاضائے طبیعت اللہ کو ایلی ایلی کہہ کر پکارنا وغیرہ وغیرہ۔ پس اسی طرح حضرت موسیٰ اور مسیح علیہما السلام کے خادموں نے بھی وہ واقعات جو ان صاحبوں کے سامنے بلکہ اس سے پہلے اور پچھلے جو ان سے متعلق تھے سب کو یکجا جمع کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح کے پیدا ہونے کے پہلے کے حالات اور بقول ان کے بعد وفات کے واقعات بھی اپنی تحقیق اور حافظہ اور سماع کے مطابق ایک ایک جگہ جمع کر کے کتابیں بنائیں جسے فی زمانا اناجیل کہتے ہیں آخر کار لوگوں نے انہی کو بایں لحاظ کہ مسیح کے واقعات بتلا رہے ہیں۔ حضرت مسیح کی انجیل سمجھ لیا۔ نہ اس خیال سے کہ مسیح کی زندگی میں ان پر نازل ہوئی تھی بلکہ اس خیال سے کہ مسیح کے حالات بتلا رہے ہیں۔ قربان جائیں سرور عالم سید الانبیاء فداہ روحی علیہ الصلوٰۃو السلام کے جنہوں نے ابتدا میں اسی لحاظ سے کہ شاید لوگ میرے واقعات اور میرے کلام اور کلام الٰہی میں فرق نہ کر سکیں اور یہودو نصاریٰ کی طرح مورو اعتراض بنیں۔ اپنی حدیثیں لکھنے سے بھی منع فرما دیا تھا۔ لیکن جب لوگوں کو اس امر کی تمیز بخوبی ہو گئی کہ واقعات نبویہ اور ہوں۔ کلام الٰہی اور۔ وحی متلو اور ہو۔ اور غیر متلو اور۔ تو پھر احادیث نبویہ کے لکھنے کی اجازت ! بخشی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج مسلمانوں کے ہاں علوم حدیث اور ہیں اور علوم قرآن اور۔ نہ جیسا کہ یہودو نصاریٰ کے ساتھ معاملہ گذرا۔ جس کا دفعیہ ان سے مشکل ہو رہا ہے۔ ہماری اس مفصل تقریر سے اس شبہ کا جواب بھی ہو سکتا ہے جو عیسائی قرآن کریم کے قصص بنی اسرائیل پر کیا کرتے ہیں کہ فلاں قصہ جو قرآن شریف نے بنی اسرائیل کا بیان کیا ہے،  کتب سابقہ میں نہیں۔ فلاں واقعہ جس طرح کہ قرآن شریف نے بیان کیا ہے اسی طرح کتب سابقہ میں نہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے کہ یہ کتابیں سب کی سب مجموعہ بائیبل مثلاً ایک تاریخ کے ہیں پس کسی واقعہ کا ان میں نہ ہونا یا کسی قصہ کا ان میں قرآن کریم کے مخالف ہونا قرآن پر اعتراض نہیں لا سکتا۔ کیونکہ بہت سی کتب تواریخ کا یہی حال ہے کہ کوئی کسی واقعہ کو چھوڑ جاتا ہے کوئی کسی قصہ کو کسی طرح بیان کرتا ہے دوسرا کسی طرح۔ پس جیسا کہ ان میں احتمال اس امر کا ہوتا ہے کہ مؤرخ کو یہ واقعہ سرے سے ملا نہ ہو یا ملا تو ہو مگر اس نے اس کو صحیح یا اپنے مذاق کے مطابق نہ پایا ہو۔ یا ناتمام ملا ہو۔ اسی طرح جا معین بائیبل پر احتمال ہے کہ ان کو وہ واقعہ جس کو قرآن کریم نے بیان کیا ہے نہ ملا ہو گا۔ یا ملا مگر ناقص یا غلط۔ ان کے ایسا ہونے سے قرآن الہامی پر شبہ نہیں آ سکتا۔ ہمارے اس بیان کی شہادت یوحنا مؤلف انجیل بھی دے رہا ہے جو اپنی انجیل یوحنا میں لکھتا ہے :۔

” پر اور بھی بہت سے کام ہیں جو یسوع نے کئے اور اگر وہ جدا جدا لکھے جائیں تو میں گمان کرتا ہوں کہ کتابیں جو لکھی جاتیں تو دنیا میں نہ سما سکتیں ” (کیا سچ ہے یا الہامی مبالغہ؟) (باب ۲۱۔ فقرہ ۲۵)

پس اگر ایک واقعہ کتب سابقہ میں نہیں اور قرآن کریم میں ہے تو اس کے جھٹلانے کی یہ وجہ نہیں ہو سکتی کہ چونکہ ان میں نہیں۔ اس لئے غلط ہے کیونکہ کتب سابقہ میں کسی واقعہ کا نہ ہونا اس امر کی دلیل تو بیشک ہے کہ ان کے مصنف کو یہ واقعہ نہ ملا ہو یا اس کو حسب مذاق اپنا نہ سمجھا ہو مگر اس کی دلیل ہرگز نہیں ہو سکتا کہ یہ واقعہ وقوع پذیر ہی نہ ہوا ہو۔ اس لئے کہ عدم علم سے عدم شیء لازم نہیں آتا۔ منہ

اب ان کی ایسی بری حالت ہے کہ کوئی سچی بات ان کے ذہن تک رسائی کر ہی نہی سکتی اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو قبو لیت حق سے اور کانوں کو حق سننے سے بند کر دیا اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے پس تینوں طریق انسان کی ہدایت کے ہوتے ہیں سو اللہ تعالیٰ نے ان کی سر کشی اور لا پر واہی کے سبب سے تینوں کو بند کر دیا اور اسی پر بس نہیں بلکہ چونکہ یہ لوگ بڑے معاند اور مفسد ہیں قیا مت کے دن ان کو عذاب بھی بڑا ہی ہو گا۔

(خَتَمَ اللّٰہُ) اس مقام پر بعض لوگوں کو شبہ ہوتا ہے کہ جب خود اللہ ہی نے ان کافروں کو گمراہ کیا اور ان کے دلوں اور کانوں پر مہر کر دی اور ان کی آنکھیں بند کر دیں تو پھر ان کا قصور کیا؟ ایسے لوگوں کو عذاب کرنا انصاف سے دور ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں چونکہ یہ پہلی آیت ہے اس لئے ہم اس کے حاشیہ میں کسی قدر مفصل لکھیں گے اور پھر موقع بموقع اس کے حو آلہ ہی پر قناعت کر جائیں گے مگر تحقیقی جواب سے پہلے یہ بتلانا ضروری ہے کہ اسلام کے قدیمی مہربان عیسائیوں نے اس مسئلہ کے متعلق جو زبان درازیاں کی ہیں بالکل انصاف سے بعید اور فہم کلام سے دور ہیں اور ان جنٹل میں عیسائیوں کی ایمانداری کا پورا ثبوت ہے۔ کہ انہوں نے اس معاملہ میں سونکن کے جلانے کو اپنی ناک کی بھی پرواہ نہ کی۔ قرآن کریم کی ان آیات پر اعتراض کرتے ہوئے انہوں نے اپنے ہاں کی بھی خبر نہ لی کہ توریٰت انجیل نے بھی اس مسئلہ کو متعدد مقامات پر بوضاحت لکھا ہے۔ توریٰت کی دوسری کتاب سفر خروج باب ۴ کے فقرہ ۲۱ میں ہے :۔

عیسائیوں کی دوسری غلطی :

” اللہ نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہا کہ جب تو مصر میں داخل ہو دے تو دیکھ سب معجزے جو میں نے تیرے ہاتھ میں رکھے ہیں فرعون کے آگے دکھلائیو۔ لیکن میں اس کے دل کو سخت کروں گا وہ ان لوگوں کو جانے نہ دے گا”

ایضاً ۱۰ باب کے فقرہ ۲۷ میں لکھا ہے :۔

” اللہ نے فرعون کے دل کو سخت کر دیا۔ اس نے ان کا جانا نہ چاہا ”

ایضاً ۱۱ باب کا فقرہ ۱۰:۔

” موسیٰ ( علیہ السلام) اور ہارون ( علیہ السلام) نے یہ عجائب فرعون کو دکھائے اور اللہ نے فرعون کے دل کو سخت کر دیا کہ اس نے اپنے ملک سے بنی اسرائیل کو جانے نہ دیا ”

اسی طرح مقامات ذیل میں بھی اس مسئلہ کا ذکر ہے۔ بغرض اختصار ہم صرف نام بتلانے ہی پر قناعت کرتے ہیں :۔

استثناء ۲ باب کا فقرہ ۳۰۔ ایضاً ۲۹ باب کا فقرہ ۴۔ یشوع ۱۱ باب کا ۱۰۔ قاضیون ۹ باب کا ۲۳۔ سلاطین ۲۲ باب کا ۲۱۔ زبور ۱۰۵۔ ۲۵۔ ایضاً ۱۴۸۔ ۱۶۔ مثال ۱۶ باب کا ۴۔ یسعیا ۶ باب کا ۹۔ ایضاً ۲۹ باب فقرہ ۹۔ متی ۱۳ باب کا ۱۴۔ لوقا ۸ باب کا ۱۰۔ یوحنا ۶ باب کا ۲۴ وغیرہ۔

پادریوں  نے اپنے ہاں کی تو خبر نہ لی۔ لی ہو گی تو اپنی کلیسا میں رسوخ بڑھانے کو ناحق اسلام سے الجھے۔ پس پادری لوگ تو جب تک ان مقامات مذکورہ کا جواب نہ سوچ لیں ہم سے مخاطب نہیں ہو سکتے۔ فماَ ہو جوابھم فھو جوابناَ۔ رہا یہ امر کہ ایسی آیات قرآنی کا کیا مطلب ہے اور اس سوال کا حقیقی جواب کیا ہے۔ سو اس کے جواب دینے سے پہلے ہم چند اصول بتلانا مناسب جانتے ہیں تاکہ جواب سمجھنے میں آسانی ہو۔

اوّل : سوائے اللہ کے دنیا میں کوئی خالق نہیں۔ دنیا میں کیا جوہر کیا عرض بغیر خلق الٰہی کے پیدا نہیں ہو سکتا+

دوم : اللہ کا علم بہت ہی وسیع ہے ہر ایک چیز کو اس نے ایک ہی آن میں جان لیا ہوا ہے خواہ وہ چیز ہزارہا سال بعد کیوں نہ پیدا ہو –

سوم : اللہ کی قدرت سب پر غالب ہے۔ اگر وہ چاہے تو مخلوق سے خلاف طبع کام بھی کرا سکتا ہے۔

چہارم : اللہ نے انسان کو ایسی طاقتیں دے رکھی ہیں کہ اگر ان کو استعمال کیا جائے تو ترقی پذیر ہوئی ہیں اور اگر مہمل چھوڑی جائیں تو بیکار بلکہ قریب زوال بھی ہو جاتی ہیں۔

پنجم : کسی شخص کی نسبت قیافہ شناسی یا کسی اور وجہ سے پیشگوئی کرنا اس کو مجبور نہیں کرنا۔

ششم : انسان کو اللہ نے کسی قسم کی تمیز اور قدرت ضرور دے رکھی ہے جس کی وجہ سے وہ دیگر حیوانات سے ممتاز ہو کر اشرف المخلوقات ہوا۔

ہفتم : کسی بیمار صاحب الفراش کا کسی برے کام میں چل کر شریک نہ ہونا اس کی مدح کا باعث نہیں ہو سکتا۔

پس اب ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ انسان جو قوانین الٰہی بلکہ قوانین شاہی کا بھی مکلف ہوتا ہے اسے ان احکام کے ادا کرنے کی طاقت بھی ہے یا نہیں۔ بیشک بموجب اصول ششم ہے مگر خانہ زاد نہیں کسی کی دی ہوئی ہے اور وہ طاقت بموجب اصول چہارم اس قابل ہے کہ اسے کام میں نہ لایا جائے تو بیشک تنزل پذیر ہوتی ہے بلکہ اگر ایک مدت تک مہمل ہی رہے تو قریب فنا بھی ہو جاتی ہے۔ اس امر کی وضاحت کے لئے ہم چوروں اور ڈاکوؤں کا حال تمثیلاً بتلاتے ہیں کہ زمانہ ابتدا میں ان کو بڑے بڑے کام کرنے کی جرأت نہیں ہوتی اس لئے کہ ان کے دل میں اس کام کے عیوب نمایاں اور اس کی پاداش کا ڈر ہوتا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ وہ ایک حد تک پہونچ کر ایسے ہو جاتے ہیں کہ بے کس۔ مظلوم۔ یتیم۔ بیوہ عورتوں کا مال بھی اگر ملے تو نہیں چھوڑتے۔ وجہ اس کی بغیر اس کے کیا ہے کہ انہوں نے اللہ کی عطاء کردہ طاقت سے کام نہیں لیا۔ جو آخر کار رفتہ رفتہ ایسی ہو گئی کہ گویا معدوم ہے مگر در اصل معدوم نہیں بلکہ مغلوب ہے۔ اسی مغلوبیت کو اس آیت میں ختم اللّٰہ کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ بموجب اصول سوم اگر اللہ چاہے تو ان کو  بھی ہدایت کر دے اور ان کو ان کی بے جا حرکتوں سے جو مثل طبعی کے ہو رہی ہیں جبراً روک دے۔

انہی معنے کی طرف آیات وَلَو شِئنَا لَاٰتَینَا کُلَّ نَفسٍ ھُدٰھَا+ وَلَو شَآَئَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوا+ وَلَو شَآئَ رَبُّکَ مَآ اَشرَکُوا وغیرہ میں ارشاد فرمایا اور اگر انسان اپنی مغلوب طاقت سے کچھ کام لینا چاہے تو اللہ تعالیٰ بھی بموجب اصول چہارم اس پر نظر رحمت کرتا ہے۔ وَیھَدِیٓ! اِلَیہِ مَن یُّنِیبُ یہی بتلا رہا ہے اور اگر توجہ ہی نہ ہو تو مطابق اسی اصول مذکور کی دن بدن حالت ردی اور ابتر ہوتی جاتی ہے ذٰلِکَّ”” بِمَا عَصَوا وَّکَانُوا یَعتَدُونَ اور فَلَمَّا زَاغُوآ اَزَاغ اللّٰہُ قُلُوبھَم اسی مطلب کو واضح کرتی ہیں۔

رہا یہ سوال کہ انسان کا قصد کون پیدا کرتا ہے۔ سو اس کا جواب بموجب اصول ششم یہ ہے کہ اللہ نے جو انسان کو تمیز دے رکھی ہے اسی تمیز اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ کو انسان ایک طرف اپنے اختیار سے لگا لیتا ہے اسی کا نام قصد ہے۔ اگر کہا جاوے کہ اللہ اس کے بد ارادوں کو روکتا کیوں نہیں تو اس کا جواب بموجب اصول ہفتم یہ ہے کہ اس صورت میں انسان کسی مدح کا مستحق نہیں ہو سکتا بلکہ ” عصمت بی بی ست از بے چادری” کا مصداق۔ علاوہ اس کے اگر اللہ انسان کو بد ارادوں سے جبراً روک دے تو ایمان بالجبر کس کا نام ہے یہی تو محل نزاع ہے۔ اگر یہ سوال ہو کہ انسان کے دل میں ایسے خیالات جن کو وہ اپنے اختیار اللہ سے قصد اور ارادہ تک پہونچاتا ہے کون ڈالتا ہے انسان کا تو کام نہیں۔ بسا اوقات ہمیں بلا اختیار جی میں ایسی باتیں آ جاتی ہیں جن کا ہمیں وہمو گمان بھی نہیں ہوتا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہر قسم کے خیالات اللہ ہی ڈالتا ہے۔ اَلھَمھَا فُجُورھَا وَتَقوٰھَا اس کا مثبت ہے مگر اتنی ہی حد تک جو اس کے بس میں نہیں۔ انسان پر کوئی عذاب بھی نہیں۔ بلکہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس حد تک نیک خیال پر اجر بھی ملتا ہے ہاں جب اس سے بڑھ کر انسان اس خیال کو قصد تک پہونچاتا ہے تو پھر وہی حال ہوتا ہے۔ جو ہونا چاہیے۔ اگر سوال کیا جائے کہ اس حدیث کے اور اس کی ہم معنے آیتوں کے کیا معنے ہوں گے ؟ جن میں صاف آیا ہے۔ کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے صحابہ سے فرمایا کہ خواہ خصی ہو جاؤ یا نہ ہو جاؤ جو زنا تمہاری قسمت میں لکھا ہو گا وہ تم سے ہو کر ہی رہے گا۔ اس سے تو صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ انسان خواہ کتنے ہی انتظام کرے گناہ مقدر سے بچ نہیں سکتا۔ تو اس کا جواب بموجب اصول دوم و پنجم یہ ہے کہ بیشک ایسا ہی ہوتا ہے مگر ایسا ہونا انسان کو مجبور نہیں بناتا بلکہ یہ تو با اختیار بناتا ہے۔ ہاں اس سے اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور حقانیت ضرور ثابت ہوتی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ بادشاہ اپنے نوکر کو حکم کرے کہ کل صبح چھ بجے میرے پاس حاضر ہو جیؤ۔ اتفاق سے بادشاہ اس وقت اپنے مقام معہود پر نہ تھا۔ نوکر نہ اس خیال سے کہ بادشاہ وہاں نہیں ہے بلکہ اس کی موجودگی کے علم پر بھی نہ آیا تو کیا وقت مواخذہ نوکر کا یہ عذر ہو سکتا ہے ؟ کہ آپ اس وقت دربار میں نہ تھے۔ اس لئے میں نہ آیا۔ اگر کہے تو بادشاہ اس کا جواب یوں دے گا کہ گو میں اپنے دربار میں نہ تھا لیکن تم نے تو غیر حاضری اپنے قصد سے کی تھی پس اس کی سزا تم کو ملے گی۔ اسی طرح انسان بھی جو کچھ کرتا ہے اس کے مقدر میں ہوتا ہے مگر کرتا تو اپنے اختیار سے ہے اس سے اختیار ثابت ہوتا ہے نہ جبر۔ اسی کے مطابق ارشاد وارد ہے وَلَقَد#ذَرَانَا لِجھَنَّمَ کَثِیرًا۔ اگر یہ سوال ہو کہ اس آیت مَن یّھَدِی۔ اللّٰہُ فھُوَ المُتہَدِ وَمَن یُّضلِل فَلَن تَجِدَلَہٗ وَلِیًّا مُّرشِدًا کے کیا معنے ہوں گے ؟ اس سے تو صاف ثابت ہے کہ بجز اللہ تعالیٰ کی ہدایت  سے کوئی بھی ہدایت نہیں پا سکتا۔ اور جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو کوئی بھی ہدایت نہیں کر سکتا۔ معلوم ہوا کہ سب کچھ اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے تو اس کا جواب بموجب اصول اوّل یہ ہے کہ جو چیز دنیا میں پیدا ہوتی ہے خواہ وہ جوہر ہو یا عرض۔ بغیر مشیت اور ارادہ الٰہی کے ہرگز نہیں ہو سکتی۔ اور یہ ظاہر ہے کہ ہدایت اور ضلالت بھی دنیا میں اعراض سے ہیں تو پس ان کے وجود کی بابت اگر یوں ارشاد ہو کہ بدون ہماری مشیت اور ارادہ کے نہیں ہو سکتے جیسے اور چیزیں تو اس میں کیا موقع اعتراض یا اشتباہ ہے ؟ پس اس آیت کریمہ کے معنے بالکل روشن اور واضح یوں ہوئے کہ گو تم اپنے ارادہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی طرف متوجہ ہو لیکن جس کی ہدایت کو ہم ہی پیدا کریں اور وجود دیں وہی ہدایت پر آ سکتا ہے اسی طرح جو شخص اپنے ارادے سے گمراہی کی طرف جھکے اور اللہ کی طرف سے اس کی گمراہی وجود پذیر بھی ہو جائے تو پھر کوئی نہیں جو اس کو ہدایت دے سکے اس لئے کہ بجز ذات پاک کوئی دوسرا خالق ہی نہیں جو ضلالت موجود کو فنا کر کے ہدایت پیدا کر دے۔ یہ امر بالکل واضح ہے۔ رہا یہ سوال کہ ایسی آیتیں ہی کیوں نازل فرمائیں ؟ جن سے کہیں تو گمراہی کو شیطان وغیرہ کی طرف نسبت کیا اور کہیں اپنی طرف کیا جس سے کئی قسم کی غلط گمانیاں پیدا ہو گئی۔ ایک تو یہ کہ گمراہ کرنے والا اللہ کو سمجھ گئے۔ دوم یہ کہ اس میں شیطان کو بھی اللہ جیسا اختیار ثابت ہوا حالانکہ بحیثیت تعلیم اسلامی یہ دونوں خیال غلط ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ جہاں کہیں گمراہی کو اپنی طرف نسبت کیا ہے اس سے تو مجوسیوں اور مشرکوں کو تغلیط کرنی منظور ہے جو اس بات کے قائل تھے کہ دنیا میں خیر جس میں ہدایت بھی داخل ہے ایک اللہ پیدا کرتا ہے اور شر جو گمراہی کو بھی شامل ہے دوسرا اللہ بناتا ہے اس لئے وہ دو الہٰوں اھرمن اور یزدان کے قائل تھے چونکہ یہ عقیدہ جیسا کہ سب انبیاء کی تعلیم کے خلاف تھا ویسا ہی عقل سلیم کے بھی مخالف تھا اس لئے قرآن کریم نے اس باطل عقیدہ کے رد کرنے کو صاف اور صریح الفاظ یُضِلُّ مَن یَّشَآءُ وَیھَدِی مَن یَّشَآءُ کی منادی کرا دی۔ ہدایت اور اضلال کے معنے اس سے پہلے ہم بتلا آئے ہیں اور جہاں کہیں شیطان وغیرہ کی طرف نسبت کیا ہے وہ حسب محاورہ سبب کی طرف ہے نہ کہ اصلی فاعل کی طرف جیسے کہ انبت الربیع البقلَ (موسم نے بہار لگا دی) بولا کرتے ہیں۔

اب ہم بتلانا چاہتے ہیں کہ قرآن کریم نے اس امر کی تکذیب بھی کی ہے کہ انسان کو بالکل بیکار کاٹھ کی پتلی مثل حجر شجر کے مانا جائے۔ کفار نے یہ سن کر کہ جو کچھ ہوتا ہے اللہ کے ارادے سے ہوتا ہے اپنی پاکدامنی پر اس سے حجت پکڑی وَلَو شَآءَ اللّٰہُ مَآ اَشرَکنَا نَحنُ وَلَآ اٰبَآءُ نَا زبان پر لائے۔ چونکہ یہ بے سمجھی کی بات تھی نیز ایک کافر فاسق کو ایک قسم کا بہانہ تھا اسی لئے اس کے جواب میں وہ الفاظ استعمال کئے جن سے سخت اور نہ ملیں کَذٰلِکَ ! کَذَّبَ الَّذِینَ مِن قَبلھِم کہہ کر اس نا فہمی پر ناراضگی ظاہر فرمائی۔ پس اگر قرآن کریم کی تعلیم کا یہی منشا ہوتا کہ انسان اپنے افعال میں اپنے ارادے میں اپنی حرکات میں مثل جمادات کے ہے تو اس کا ایسے شد و مد سے رد نہ فرماتے بلکہ موقع غنیمت سمجھ کر کہ ہمارے ہم خیال ہوئے جاتے ہیں اس کی تائید کرتے۔ رہا یہ سوال کہ اللہ نے ایسا کیوں نہ کیا کہ سب مخلوق نجات پاتی؟ دنیا میں جس قدر مذاہب مختلف ہیں یقیناً بعض ان میں سے غلطی پر ہیں پھر ان کی نجات کا بھی تو کوئی ذریعہ ہونا چاہئے تھا۔ آخر وہ بھی تو اسی کی مخلوق ہیں۔ مانا کہ اللہ نے ہدایت کی راہ سب کو دکھائی اور جیسا کہ ثابت ہوا انسان اپنے ہی ارادہ سے غلطی کرتا ہے مگر کوئی صورت ایسی کیوں نہ کی کہ سب کے سب مدامی عیش میں رہتے ؟ اس کا جواب علاوہ اصول سابقہ کے اور دو اصول پر مبنی ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو ہم نہ ہمارے باپ دادا شرک کرتے۔  اور تیسری قسم عام انسانوں میں بعض لوگ ایسے ہیں جو مسلمانوں سے رسوخ پیدا کرنے کو کہتے ہیں کہ ہم اللہ کو مانتے اور قیامت پر یقین رکھتے ہیں مگر یہ باتیں ان کی سب زبانی ہی ہیں اوپر سے چاپلوسی کرتے ہیں حالانکہ دل سے ان کو ایمان نہیں ایسے بد معاش مطلب کے یار ہیں اگر ہو سکے تو اللہ کو بھی فریب دیے جائیں چنانچہ یہ کاروائی ان کی دیکھنے سے دانا صاف جان جائیں گے کہ گو یا اللہ کو دھو کہ دیتے ہیں کیونکہ ایمان کا اظہار کرنا اور اندر کفر چھپانا اس لئے ہے کہ اللہ ان کے ظاہری ایمان کو دیکھ کر ان سے مومنوں کا سا معاملہ کرے ہرگز نہیں اللہ تو عالم الغیب ہے البتہ عام مسلمانوں کو جو غیب نہیں جانتے دھوکہ دیتے ہیں اور ان سے جو مطلب نکالنا ہو نکال لیتے ہیں مگر جان رکھیں کہ در حقیقت اپنی جانوں ہی سے فریب کرتے ہیں کیونکہ اس کا وبال آخر کار انہی کی جانوں پر ہو گا لیکن اپنی نادانی سے سمجھتے نہیں بھلا وہ ضرر کو سوچیں بھی کیا ؟ ان کے دلوں میں تو بیماری ہے۔ اور اللہ حکیم نے مطلق کی بتلائی ہوئی دوا قرآن مجید کو استعمال نہیں کرتے پس اللہ نے بھی ان کی بیماری زیادہ کر دی یہ نہ جانیں کہ اس دوا کرنے سے نہ چھوٹ جائیں گے۔

جس چیز کی چند صفات ہوں اس کی ہر صفت کا ظہور ضروری ہے خواہ وہ صفات متضاد ہی کیوں نہ ہوں اپنے اپنے موقع ہر سب کا ظاہر ہونا ضروری ہے۔ جیسے انسان کی صفات اٹھنا۔ بیٹھنا۔ بولنا۔ سکوت کرنا۔ چلنا۔ ٹھیرنا وغیرہ ہر ایک صفت باوجود تضاد کے اپنا اپنا اثر دکھا رہی ہے۔

پس اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اللہ کی صفت خلق (پیدا کرنے کی) تو خلقت کے پیدا کرنے سے ظاہر ہوئی لیکن اتنی ہی بات سے باقی صفات کا تقاضا پورا نہیں ہو سکتا تھا۔ جب تک کہ ان کے آثار بھی نہ پائے جائیں چونکہ وہ صفات بظاہر کسی قدر متضاد بھی ہیں اس لئے اللہ عالم جل مجدہٗ نے جو بڑا عالم الغیب ہے ان صفات کے ظہور کے لئے جیسے کہ صفات مختلف نہیں ویسے ہی طریق اظہار بھی مختلف ایجاد کئے ایک طرف شیطان اور شہوات نفسانیہ پیدا کیں۔ جو لوگ ان کے پیچھے چلیں وہ مورد غضب بنیں۔ چونکہ بلحاظ انسانی طبائع کے قریب قریب تمام لوگوں کا اس میں پھنس جانا بھی کچھ مشکل نہ تھا۔ اور یہ طریق صفت عدل کے مخالف تھا۔ اس مخالفت کے دور کرنے کو اللہ نے انبیاء علیہم السلام بھیجے اور قویٰ ملکوتیہ کو پیدا کیا۔ جن سے انسان اپنے نفع نقصان کو سوچے۔ بعد سوچ کے موافق ارشاد انبیاء علیہم السلام سیدھی راہ پر چلے تو صفت عدل کا تقاضا پورا ہو۔ کہ وعدہ الٰہی کے موافق انعام اکرام کا مستحق ٹھیرے۔ رہا تقاضا رحم سو اس طرح پورا کیا کہ جو لوگ بعد قصور اپنے آپ کو نادم کریں اور اللہ کے آگے گڑ گڑائیں۔ یا باوجود تقصیرات کے کسی ضروری حکم کی تعمیل کر چکے ہوں تو ان کو یا تو بغیر کسی مواخذہ کے معافی دی جائے یا بعد کسی قدر مواخذہ کے چھوڑا جائے بلکہ بعض بوجہ اخلاص کامل کے مورو انعام بھی ہوں۔ پس ثابت ہوا کہ یہ تمام سلسلہ ظاہری اور باطنی در اصل صفات اللہ کے آثار ہیں اور ایسا ہونا بھی ضروری تھا۔ اس ہمارے تقریر سے اس شبہ کا بھی جواب آ گیا جو عوام لوگ کیا کرتے ہیں کہ اللہ نے شیطان کو کیوں پیدا کیا انبیاء کو کیوں بھیجا؟ اور یہ بھی ثابت ہوا کہ صفات اللہ باوجود تضاد کے اس طریق سے سب کی سب پوری ہو جاتی ہیں نہ جیسا کہ عیسائیوں نے غلط فہمی سے اللہ کے عدل کو پورا کرنے کے لئے مسیح کا کفارہ تجویز کیا۔ جو بجائے عدل کے سراسر ظلم ہے۔ وللبحث مقام اٰخر (منہ)

 

(21۔ 25)

 

اب ہم تمہیں ۱ ے۔ لوگو ! ایک ضروری امر بتلاتے ہیں ذرا دل کے کان لگا کر سنو ! اور اس کی تعمیل بھی کرو۔ وہ یہ کہ تم اپنے مولا کریم کی صدق دل سے عبادت کرو اور اسی سے اپنی مرادیں مانگو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا۔ اس پیدا کرنے کے شکر میں نہ سہی اس خیال سے کرو کہ شاید تم اس کے عذاب سے جو گردن کشوں پر آنے والا ہے بچ جاؤ۔ بھلا ایسے مالک کی عبادت سے منہ پھیرنا کیسی نادانی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو مثل فرش کے بنایا جہاں چاہو سورہو جہاں چاہو لیٹ رہو باوجود اس کے اگر کھیتی بھی چاہو تو کر سکو چنانچہ کرتے ہو اور آسمان کو مثل چھت کے سجایا اور علاوہ اس کے ہمیشہ تمہارے لئے بادلوں سے بارش اتارتا ہے۔ پھر اس بارش کے پانی کے ساتھ تمہارے لئے ہر قسم کے میوہ جات سے رزق پیدا کرتا ہے۔ پس جبکہ وہ ذات پاک ان سب کاموں میں اکیلا خود مختار ہے تو تم بھی دیدہ دانستہ اس اللہ کے لئے شریک نا بناؤ اور ہماری رضا جوئی ہمارے رسول کی معرفت سیکھو اور اگر تمہیں بوجہ غلط فہمی یا سوء ظنی کے اس کتاب کی سچائی میں شبہ ہو جو ہم نے اپنے بندے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پر بذریعہ وحی نازل کی ہے۔

تو اس غلطی کا دفعیہ یوں ہو سکتا ہے کہ چونکہ تم بھی اس جیسے آدمی ہو تمہاری انسانیت اور اس آدمیت میں کوئی فرق نہیں ظاہر تعلیم و تعلم میں بھی وہ تم لوگوں پر مزیت نہیں رکھتا۔ سو تم بھی اس جیسا ایک ٹکڑا بنا لاؤ اور سوا اللہ کے سب اپنے مددگاروں کو بلا لو جو اس امر میں تمہاری مدد کریں اور تم کو اس مقابلہ میں کامیاب کرائیں اگر اس دعویٰ میں سچے ہو کہ اس رسول نے آپ ہی آپ بغیر الہام الٰہی کے کتاب بنا لی ہے۔ تو ضرور مقابلہ پر آؤ۔ پس باوجود اس ابھارنے کے نہ کرو اور ہم تو ابھی سے کہے دیتے ہیں کہ تم نہ کرو گے پس باوجود عاجز آنے کے تو عناد سے باز آؤ اور اس آگ سے بچو جس کا ایندھن مشرک آدمی اور ان کے جھوٹے معبودوں، بتخانوں اور قبروں کے پتھر ہوں گے جن سے تمام عمر ان کی منتیں مانگتے ہی گزری ہو گی وہ بھی ان کے ہمرکاب بھڑکتی جہنم میں ہوں گے اب تم اس کی گرمی کا اندازہ خود ہی کر لو۔ کہ دنیا کی آگ میں جب پتھر ڈالے جائیں تو سرد ہو جاتی ہے مگر وہ آگ اس غضب کی ہو گی کہ اس میں ایسی چیزیں مثل ایندھن کے کام دیں گی کیوں نہ ہو جبکہ تیار ہی کی گئی ہے کافروں گردن کشوں کے کئے تو اس کی اس درجہ حرارت بھی مناست ہے۔ پس تو اے پیغمبر ایسے سرکشوں مفسدوں سے منہ پھیر اور جو لوگ ایمان لاکر نیک عمل کرتے ہیں ان کو مژدہ سنا۔ کہ ان کے لئے اللہ کے ہیں باغ ہیں جن کے مکانوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ وہ ان باغوں میں نعمتوں کی ایسی کثرت میں ہوں گے کہ کثرت اقسام کی وجہ سے جب کبھی ان کو کوئی پھل کھانے کے لئے ملے گا، وہ بوجہ مغائرت قلیلہ کے کہیں گے کہ یہ تو وہی ہے جو ہمیں ابھی ملا تھا اس کی وجہ یہ ہو گی کہ ان کو ملتا جلتا ہی ملے گا صورت میں مشابہ ہو گا۔ بھر یہ نہیں کہ اس عیش و عشرت میں تجرد کی وجہ سے ان کو تکلیف ہو گی بلکہ ان کے لئے ان باغوں میں بیویاں بد اخلاقی وغیرہ سے پاک ہوں گی۔ اور خاوندوں کی بڑی پیاری یہ بھی نہیں کہ ایسی نعمتوں میں چند روزہ ہی رہیں گے۔ بلکہ وہ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے۔

(ایک ٹکڑا بنا لاؤ) اس آیت میں اللہ جل شانہٗ قرآن کریم کی صداقت بیان فرماتا ہے۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ اگر تم کفار مکہ وغیرہ اس قرآن کو سچی الہامی کتاب نہیں مانتے تو اس جیسی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اگر نہ بنا سکو اور یقین ہے کہ نہیں بنا سکو گے حالانکہ تم بھی اسی رسول محمدﷺ کی طرح آدمی ہو۔ بلکہ اس سے کسی قدر دنیاوی معاملہ فہمی میں زیادہ واقف۔ تو پھر کیا وجہ کہ وہ بنا سکے اور تم نہ بنا سکو بیشک اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کوئی طاقت تم سے زیادہ ہے جو تم میں نہیں۔ وہ وہی ہے مایَنطِقُ عَنِ الھَویٰ اِن ھُوَ اِلَّا وَحیٌ یُّوحیٰ یہ خلاصہ ہے اس آیت کی تقریر کا۔

سر سید کی دوسری غلطی :

رہی یہ بحث کہ مثل سے کیا مراد ہے سو اس کے متعلق بیان کس قدر بسیط چاہیے۔ پہلے ہم مفسرین کی رائے دریافت کرتے ہیں پھر ان میں جس رائے کو بقرائن قرآنیہ مرجح سمجھیں گے ترجیح دیں گے۔ مفسرین تو سلفاًو خلفاً اس پر متفق ہیں کہ مثل سے مراد مثل فی البلاغت ہے۔ تفسرا کبیر الوسعود۔ فتح البیان۔ ابن کثیر۔ کشاف۔ معالم۔ بیضادی۔ جامع البیان۔ جلالین۔ کو اشی وغیرہ سب کے سب متفق ہیں کہ مثل فی البلاغت مراد ہے۔ مگر سرسید نے اس مسئلہ میں بھی سب کا مقابلہ کیا ہے۔ کہتے ہیں :۔

” مثلیت قرآن کی فصاحت بلاغت کے لحاظ سے نہیں ” گو یہ بھی مانتے ہیں کہ :۔

” قرآن مجید بیشک بہت بڑا فصیح ہے مگر اس کی فصاحت کی بے نظیری اس کے من اللہ ہونے کی دلیل نہیں ہو سکتی اس لئے کہ بہت سے کلام دنیا میں بے نظیر ہیں مگر وہ من اللہ نہیں ہو سکتے۔ اور نہ قرآن میں اس کا کوئی اشارہ ہے کہ مثلیت سے مراد فصاحت ہے بلکہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ مثلیت سے مراد ہدایت مثلیت ہے۔ سورۃ قصص میں فرمایا کہ ” کافروں سے کہہ دو کہ توریٰت اور قرآن سے زیادہ ہدایت کرنے والی کتاب لاویں اس کے پیچھے چلوں گا” پس ثابت ہوا کہ قرآن گو کیسا ہے فصیح ہو مگر جو معارضہ ہے وہ اس کے ہادی ہونے میں ہے۔ ہاں فصاحت بلاغت اس کو زیادہ روشن کرتی ہے ” (تفسیر احمدی جلد اوّل صفحہ ۳۰۳)

پس پہلے ہم ان آیتوں میں قرینہ تلاش کرتے ہیں جن میں معارضہ چاہا گیا ہے۔ تاکہ سید صاحب کے قول (نہ آیت قرآنیہ میں اس کا کوئی اشارہ ہے ) کی تصدیق یا تکذیب ہو سکے۔ علاوہ اس آیت سورۃ بقرہ کے سورۃ یونس میں ارشاد ہے :

اَم یَقُولُونَ افتَرَاہُ قُل فَاتُوا بِسُورَۃٍ مِّثلِہٖ وَادعُوا مَنِ استَطَعتُم مِّن دُونِ اللّٰہِ اِن کُنتُم صٰدِقِینَ سورۃ ہود میں فرمایا اَم یَقُولُونَ افتَرٰہٌ قُل فَاتُوا بِعَشرِ سُوَرٍ مِّثلِہٖ مُفتَرَیَاتٍ وَّادعُوا مَنِ استَطَعتُم مِّن دُونِ اللّٰہِ اِن کُنتُم صٰدِقِینَ سورۃ بنی اسرائیل میں فرمایا قُل لَئِنِ اجتَمَعَتِ”” الاِنسُ وَالجِنُّ عَلیٰٓ اَن یَّاتُوا بِمِثلِ ھٰذَا القُراٰنِ لَا یَاتُونَ بِمِثلِہٖ وَلَو کَانَ بَعضھُم لِبَعضٍ ظھَیرًا۔ اس میں تو شک نہیں کہ یہ آیات تحدی سب کی سب اس پر متفق ہیں کہ کفار عرب کے مقابلے اور ان کے عاجز کرنے کو نازل ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف مخاطبوں ہی کو نہیں بلکہ تمام ان کے اعوان اور انصار کو اس میں دعوت دی گئی ہے کہ مل کر مقابلہ پر آؤ اور ساتھ ہی اس کے پیش گوئی بھی ہو رہی ہے کہ نہ کر سکو گے پڑے ایک دوسرے کے مددگار بھی بنو کچھ نہ بن سکے گا۔ اور یہ امر ظاہر ہے کہ مقابلہ میں ایسی باتوں کا ذکر کہ تم سب کے سب مل کر اتفاق بھی کر لو تو بھی ہمارا کچھ نہ بگاڑ سکو گے وہاں بھی مناسب ہوتا ہے کہ جس امر پر اتفاق کرنے سے فریق مقابلہ کو بھی کچھ امید کامیابی ہو جیسا کہ ایک بڑی زبردست سلطنت ماتحت ریاستوں سے مقابلے کے وقت کہے کہ تم سب کے سب بھی متفق ہو جاؤ۔ تو بھی تم ہمارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے نہ کہ ایسے امر کی نسبت ان کا اتفاق ذکر کر کے دھمکی دی جاتی ہے کہ جس امر کے حصول کی نسبت ان کو بعد اتفاق بھی وہمو گمان نہ ہو کجا وہ امر کہ اس کے حصول ہی کو برا سمجھیں پس بعد اس تمہید کے ہم دیکھتے ہیں کہ کفار عرب کو یہ جتلانا کہ تم سب کے سب مل کر بھی اس سورت بنانا چاہو تو نہ بنا سکو گے کیا معنے رکھتا ہے ؟ اگر مثلیت سے مراد ہدایت میں مثل ہو جیسا کہ سید صاحب کہتے ہیں تو کلام بالکل بے معنے ہے۔ اس لئے کہ ان کا خیال ہی نہ تھا کہ ہم اتفاق کر لیں تو قرآن جیسی ہادی کوئی کتاب بنا لیں بلکہ ان کو تو قرآن کی ہدایت سے سخت نفرت تھی۔ بار بار یہی کہتے تھے کہ اس قرآن کو بدل ڈال۔

کوئی اور کتاب ہمارے پاس لا۔ یہ تو اچھا نہیں۔ ہمارے معبودوں کو برا کہتا ہے اس کی تکذیب کی وجہ معقول ان کے نزدیک ہی تھی کہ اَجَعَلَ الاٰلھِۃَ اِلٰھًا وَّاحِدًا اِنَّ ھٰذَا لَشَیئٌ عُجَابٌ پس ایسے لوگوں کے سامنے جو اس کتاب کی ہدایت سے بیزار اور سخت متنفر ہوں اور یہی وجہ ان کی نفرت کی ہو۔ اور کبھی اس کی ہدایت کو پسند نہ کریں اور کبھی اس جیسی ہادی بنانے کی طرف رخ نہ لادیں۔ ایسے لوگوں کو

یہ کہنا کہ تم سب کے سب مل کر اس کتاب جیسی کوئی کتاب ہادی انام بنا لاؤ اور ساتھ ہی یہ پیش گوئی بھی کر دینا کہ ” ہرگز نہ لا سکو گے ” بالکل اس کے مشابہ ہے کہ جیسے کوئی ہندو بت پرست یا عیسائی تثلیث پرست کسی مسلمان کو (جو ان کی کتابوں سے ایسی ہی تعلیم کے سبب سے بیزار ہو) یہ کہے کہ اگر تو ہماری کتاب متضمن تعلیم بت پرستی اور تثلیث پرستی کو نہیں مانتا تو اس جیسی کوئی ہادی کتاب بنا لا اور ساتھ ہی اس کے یہ پیش گوئی بھی کرے کہ تو اور تیرے حمایتی ہرگز ایسی نہ بنا سکو گے ، تو میں نہیں سمجھتا کہ کوئی دانا اہل الرائے اس کی اس پیش گوئی کی کچھ وقعت کرے ہاں اس قائل کی حمایت کی دلیل کافی جانے گا۔ کیونکہ جو وجہ مسلمانوں کو اس کتاب کی تسلیم سے مانع ہے اسی قسم کی کتاب کا اس سے مطالبہ کرنا گویا ایک تکلیف بالمحال ہے اسی قاعدہ پر کفار عرب کا جواب پر آمادہ ہونا اور لَو لَشَآءُ لَقُلنَا مِثلَ ھٰذَٓا اِن ھٰذَا اِلَّآ اَسَاطِیرُ الاَوَّلِینَ کہنا صاف جتلاتا ہے کہ وہ اس کے طرز بیان کی نسبت معارضہ سمجھے تھے ورنہ یہ نہ کہتے اور ساتھ ہی اس کے اس آمادگی اور استعداد کی وجہ بھی بتلانا کہ اِن ھٰذَٓا اِلَّآ اَسَاطِیرُ الاَوَّلِینَ بالکل واضح کر رہا ہے کہ مثل سے مراد مثل فی الہدایت نہیں۔ ورنہ ایسی مستعدی نہ بتلاتے بلکہ بجائے اس کے یہ کہتے کہ ہم تو اس قرآن کو اور اس کے مثل ہادی بنانے کو ہی کفر جانیں سونکن کے ساڑے اپنی ناک تھوڑی ہی کٹوانی ہے۔ نیز اس موقع پر کفار عرب کا کہنا کہ قرآن کا بنانا کیا مشکل ہے۔ یہ تو پہلے لوگوں کی داستانیں ہیں۔ قابل غور ہے اس لئے کہ ہدایت کی وجہ سے تو اس کو وہ بالکل نیا سمجھتے تھے مَا ! سَمِعنَا بھِٰذَا فِی المِلَّۃِ الاٰخِرَۃِ اِن ھٰذَآ اِلَّا اختِلَاق صاف مظہر ہے کہ قرآن کو باعتبار ہادی ہونے کے ایک نئی چیز جانتے تھے بلکہ باعتبار ہادی ہونے کے موجب نفرت کہتے تھے۔ پس ان دونوں آیتوں کے ملانے سے صاف سمجھ میں آتا ہے۔ کہ کفار عرب خود اس معارضہ کو باعتبار ہدایت نہیں جانتے تھے بلکہ باعتبار طرز بیان سمجھتے تھے جب ہی تو اس سہولت کی وجہ بتلانے میں حکایات سابقہ کہتے تھے ہاں سرسید نے جس آیت سورۃ قصص کا ذکر کیا ہے اور دلیل بیان کی ہے کہ مثل سے مراد ہادی ہے۔ ان کی نسبت حیرت افزاء ہے۔ سید صاحب نے (حسب دستور قدیم) یہ تو خیال نہ فرمایا کہ دعویٰ کیا ہے اور دلیل کیا۔ دعوے مثلیت کا اور دلیل افضل کی اور وہ بھی من عند اللّٰہ۔ سید صاحب ! دعوے تو آپ کا یہ ہے کہ آیات تحدی میں جو معارضہ چاہا گیا وہ ہدایت میں ہے جس کی دلیل آپ نے یہ بیان کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر قرآن اور تورات دونوں سے منہ پھیر کر (اے کفار مکہ) اپنے آپ ہی کو ہدایت پر جانتے ہو۔ اور ان دونوں کی تعلیم توحید کو غلط جانتے ہو اور ان کو بناوٹی کتابیں سمجھتے ہو اور خود دین الٰہی کے تابع کہلاتے ہو تو ان دونوں سے بڑھ کر کوئی ہادی کتاب اللہ کی طرف سے آئی ہوئی لا کر دکھاؤ۔ اگر وہ واقع میں اللہ کی طرف سے ہوئی تو میں اسی کے پیچھے ہو لوں گا۔ اس مضمون کو آیت تحدی سے کوئی علاقہ نہیں۔ یہ تو کفار کو صرف اس بات پر الزام دیا جاتا ہے کہ باوجود یکہ تمہارے پاس کوئی سمادی کتاب بھی نہیں۔ پھر بھی اس قدر مخالفت پر جمے ہوئے ہو کہ پناہ اللہ جیسا کہ کوئی بڑا واقف اسرار الٰہی اپنی کہتا ہوا دوسرے کی نہیں سنتا۔ پس اگر تم بھی دین سے ایسے ہی واقف اور آگاہ ہو تو اس کتاب الٰہی کو جس کے ذریعہ سے تمہیں ایسی آگاہی ہوئی ہے لا کر دکھاؤ۔ معلوم ہو جائے گا کہ حق بجانب کس کے ہے۔ اس مضمون کو کئی آیات میں بیان کیا ہے۔ سورۃ قلم میں فرمایا اَم لَکُم کِتَابٌ فِیہِ تَدرُسُونَ اِنَّ لَکُم فِیِہ لَمَا تَخَیَّرُونَ سَلھُم اَیّھُم بِذٰلِکَ زَعِیمٌ پس اس آیت کو جس میں اھَدی کتاب اور وہ بھی من عند اللّٰہ کی طلب ہے ان آیات کی تفسیر بنانا جن میں مثل کا معارضہ ہو۔ صریح غلط فہمی اور تفسیر الکلام بمَا لا یرضیٰ بہ قائلہ نہیں تو کیا ہے۔ بھلا اگر یہ آیت ان آیات کی تفسیر ہوتی تو اس میں من عند اللّٰہ کالفظ کیوں ہوتا؟ حالانکہ ان آیات تحدی میں کفار کی بنائی ہوئی کتاب کا مطالبہ ہے اور اس آیت میں (جو بقول آپ کے ان کی تفسیر ہے ) اللہ کی طرف سے آئی ہوئی کتاب کا تقاضا نہیں۔ تفاوت راہ از کجا ست تا بکجا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آپ نے ترجمہ میں من عند اللّٰہ کو (جس کے معنے اللہ کے پاس سے ہیں ) اڑا دیا۔ کیونکہ آپ کے دعویٰ کو مضر تھا۔ حضرت ! قرآن کریم کا کوئی لفظ مضر نہیں۔ بلکہ شِفَآئٌ لِّمَا فِی الصُّدُورِ ہے۔ یہ تو انسان کی اپنی ہی غلط فہمی ہے۔ پس اصل مطلب ان آیات کا وہی ہے جو ہم نے بد لائل بینہ ثابت کیا ہے کہ قرآن کی مثل سے مراد فصاحت بلاغت اور طرز بیان میں مثل ہے کہ مقدمات یقینیہ سے نتیجہ نکالنا اور ایسے طرز پر نتیجہ نکالنا کہ ہر مرتبہ کا آدمی اس سے مستفیض ہو۔ ذرہ سورۃ قیامت ہی پر غور کیجئے اَیَحسَبُ الاِنسَانُ اَن یُّترَکَ سُدًی دعویٰ ہے اَلَم یَکُ نُطنَۃً مِّن مَّنِیٍّ یُمنَی ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً فَخَلَقَ فَسَوّیٰ فَجَعَلَ مِنہُ الزَّوجَینِ الذَّکَرَ وَاَلاُنثیٰ دلیل بیان فرما کر نتیجہ پر اطلاع دیتے ہیں اَلَیسَ ذٰلِکَ بِقَادِرٍ عَلٰٓی اَن یُّحیِیَ المَوتیٰ اس دلیل پر جس مرتبہ کا آدمی غور کرتا ہے اپنی طبیعت کے موافق نتیجہ پیدا کر سکتا ہے۔

ایسا باریک مسئلہ انسانی پیدائش اور معاد کا جس میں بڑے بڑے حکماء حیران پریشان ہیں ایسے سہل اور نرم الفاظ میں بیان کر دیا کہ جن سے بڑھ کر ممکن ہی نہیں۔ یہی قرآن کی اعلیٰ درجہ کی بلاغت ہے اور یہی اس کی فلاسفی۔ ہاں سرسید کا یہ کہنا کہ ” بہت سے ایسے کلام فصیح ہیں جن کی مثل بنایا نہیں گیا۔ مگر وہ من اللّٰہ نہیں ہو سکتے۔ ” محض دعویٰ ہی دعویٰ اور مدعی سست گواہ چست والا معاملہ ہے۔ ورنہ کوئی کلام یا متکلم ایسا بتلا دیں ؟ جس نے اہل زبان کے سامنے دعوے کیا ہو۔ نہ صرف دعویٰ بلکہ وَلَن تَفعَلُوا کے اعلان سے منکروں کی عاجزی کو دوبالا کر دیا بجز اس ایک ذات ستودہ صفات آپ کے جدا مجد فداہ ابیو امی کے پس ہمارا ایمان ہے کہ قرآن مجید بے مثل بلیغ کلام ہے۔ اس جیسا نہ کسی نے کلام بنایا نہ کوئی بنا سکے گا۔

نظیر اس کی نہیں جمتی نظر میں غور کر دیکھا

بھلا کیونکہ نہ ہو یکتا کلام پاک رحماں ہے

یہ نہ سمجھنا کہ ان کافروں سے اللہ کو خواہ مخواہ عناد ہے۔ بلکہ انہی کا قصور ہے کہ جب کبھی اللہ ان کو شرک سے بچانے کے لئے کوئی بات بطور مثال کے کہتا ہے جیسے کہ ان مشرکوں کی مثال ہم نے ایک جگہ مکڑی سے دی ہے جو اپنا گھر بنا کر اپنے زعم میں بڑا پناہ گیر ہو جاتا ہے اور ان کے معبودوں کی قدرت بتلائی ہے کہ اتنی بھی نہیں کہ سب کے سب مل کر ایک مکھی بھی بنا سکیں۔ ایسا ہی کہیں مچھر کی اور کہیں کسی کمزور جانور کی مثال دیتے ہیں تو یہ نادان بجائے ہدایت پانے کے الٹے ہم سے الجھتے ہیں کہ اللہ ان حقیر چیزوں کے نام ہی کیوں لیتا ہے ؟ بھلا ان کے کہنے سے اللہ ہدایت کے لئے مثال بتانی بھی چھوڑ دے گا؟ ہرگز اللہ ہدایت کے بتلانے سے نہیں روکتے۔ چھوٹی ہو یا بڑی مچھر کی ہو یا اس سے اوپر کی اس لیے کہ مثال تو صرف سامع کے سمجھانے کو ہوتی ہے اس میں کچھ متکلم کی شان کا لحاظ نہیں جو مثال مطلب بتانے میں مفید ثابت ہو وہی عمدہ ہے چاہے کیسی ہی حقیر اور چھوٹی چیز کی ہو۔ اسی بنا پر اللہ بھی سمجھانے کی غرض سے گاہے بگاہے کوئی مثال دیتا ہے پس جو لوگ مؤمن ہیں وہ تو جان جاتے ہیں کہ بے شک یہ مثال نہایت مناسب اور بالکل سچ ہے اور ان کے رب کی طرف سے بتلائی ہوئی ہے اور جو لوگ کافر ہیں بجائے ہدایت حاصل کرنے کے الٹے یوں۔ کہنے لگتے ہیں کہ اللہ نے اس مثال بتلانے سے کیا چاہا جو مکھیوں اور مچھروں سے دیتا ہے ایسا عالیشان ہو کر ان خسیس اشیاء کا نام لیتا ہے آخر نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ اس مثال کے ذریعہ اللہ بہتوں ان جیسوں کو ان کی بیجا نکتہ چینی کی وجہ سے گمراہ کر دیتا ہے ان کو مطلقاً اس کا فائدہ سمجھ میں نہیں آتا اور بہت سے صاف باطن لوگوں کی راہ نمائی بھی کر دیتا ہے نہ اس مثال کا قصور ہے نہ کسی اور کا بلکہ ان کی شامت اعمال سے ہے جب ہی تو سوائے ان فاسقوں بد کرداروں کے کسی دوسرے کو گمراہ نہیں کرتا۔

(ان کے لئے باغ ہیں ) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جنت اور اس کی نعمتوں کا ذکر مجملاً بیان فرمایا ہے۔ قرآن کریم میں بہت سی جگہ جنت دوزخ کا مذکور ہے جو بالکل کھلے کھلے لفظوں میں بیان ہوا ہے سب کی سب آیتیں اس پر متفق ہیں کہ قیامت کے روز انسان کو بشرط ایمان جنت یا دوسرے لفظوں میں باغ اور نعمتیں ملیں گی اور یہی مذہب تمام اہل اسلام کا ہے کسی معتبر فرقہ نے اس سے انکار نہیں کیا۔ صحابہ کرام سے لے کر آج تک سب کا اتفاق پایا جاتا ہے اور قرآن کریم میں اس مضمون کی آیتیں اس قدر ہیں کہ بجائے خود جو ایک دفتر ہے مگر افسوس سرسدر احمد خاں مرحوم نے حسب دستور اس میں بھی مسلمانوں کا خلاف کیا ان کا خیال ہے کہ جنت میں ایسی نعمتوں کا ہونا صرف وہمی اور کوڑ مغز ملاؤں اور شہوت پرست زاہدوں کے خیالی پلاؤ ہیں وہاں اس قسم کی کوئی بات نہیں۔ بلکہ ایک روحانی لذت ہے جس کو کوئی نہیں سمجھتا۔ چنانچہ اپنی تفسیر جلد اوّل کے صفحہ ۳۸ پر لکھتے ہیں :۔

” یہ سمجھنا کہ جنت مثل ایک باغ کے پیدا ہوئی ہے اس میں سنگ مرمر کے اور موتی کے جڑاؤ محل ہیں باغ ہیں شاداب اور سرسبز درخت ہیں دودھ و  شراب کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ ہر قسم کا میوہ کھانے کو موجود ہے ساقی و ساقنیں نہایت خوبصورت چاندی کے کنگن پہنے ہوئے جو ہمارے ہاں کی گھوسنیں پہنتی ہیں شراب پلا رہی ہیں ایک جنتی ایک حور کے گلے میں ہاتھ ڈالے پڑا ہے۔ ایک نے ران پر سر دھرا ہے ایک چھاتی سے لپٹا رہا ہے۔ ایک نے لب جاں بخش کا دبایں ریش (فش) بوسہ لیا ہے کوئی کسی کو نے میں کچھ کر رہا ہے۔ کوئی کسی کونے میں کچھ۔ بیہودہ ہے جس پر تعجب ہوتا ہے کہ اگر بہشت یہی ہے تو بے مبالغہ ہمارے خرابات اس سے ہزار درجہ بہتر ہیں ” (حو الہ مذکور)

یہ ہیں  سید صاحب کے الفاظ شریفہ جن پر آپ کو اور آپ کے دل داروں کو بڑا فخر ہے کہ ہم محقق ہیں حالانکہ تحقیق اس کا نام نہیں کہ مخالفوں کے اعتراضوں سے دب کر اپنے مذہب کے مسلمات ہی سے انکار کیا جاوے جیسے کہ ایک بزدل کے مکان میں چور آگھسے اس بیچارے سے اتنا تو نہ ہو سکا کہ ان کا مقابلہ کر کے اپنا مال بچائے مجبوراً اپنی ہمت کے موافق یہی مناسب جانا کہ گھر کا سارا اسباب چھوڑ کر بالکل علیحدہ ہو جائے تاکہ اس بلا سے نجات ہو۔ یہی حال سرسید کا ہے کہ مخالف ملحدوں کے اعتراض تو اٹھا نہ سکے ان کا تدارک یہی مناسب سمجھا کہ اپنے مسلمات ہی میں تصرف کیا جاوے۔ قرآن کریم تو بقول آپ کے جدا ۱ ؎ مجد کے ساکت ہے جس طرف پھیریں اسے انکار نہیں۔ اسی قول پر آپ نے بنا کر کے جو چاہا کہہ دیا اور بعض سے منوا بھی لیا۔ مگر علماء کی تو یہ شان نہیں کہ ایسے مٹی کے کھلونوں سے کھیلتے پھریں۔ جب تک دلیل نہ دیکھیں آپ اپنے مذہب کی توضیح یا دلیل ان لفظوں میں فرماتے ہیں :۔

” جنت یا بہشت کی ماہیت جو اللہ تعالیٰ نے بتلائی ہے وہ تو یہ ہے کہ فَلَا تَعلَم نَفسٌ مَّآ اُخفِیَ لھُم مِّن قُرَّۃِ اَعیُنٍ جَزَآءً بِمَا کَانُوا یَعمَلُونَ یعنی کوئی نہیں جانتا کہ کیا ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک (راحت) چھپا رکھی ہے ۔  اس کے بدلہ میں جو وہ کرتے تھے۔ پیغمبر (علیہ السلام) نے جو حقیقت بہشت بیان فرمائی جیسا کہ بخاری مسلم نے ابوہریرہ کی سند پر بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ قال اللّٰہ تعالیٰ اعددت لعبادی الصآلحین مالا عین رأت ولا اذن سمعت ولا خطر علٰے قلب بشر (صفحہ ۳۶)

سید صاحب ! فرمائیے تو مِن قُرَّۃِ اَعیُنٍ مَّآ اُخفِیَ کا بیان ہے یا کچھ اور؟ بیشک یہی ہے پس آیت کا ترجمہ یہ ہوا کہ جو ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک چھپائی گئی ہے اس کو کوئی نہیں جانتا۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ چھپی ہوئی چیز کوئی ایسی ہے جو دیکھنے سے راحت بخشتی ہو گی سو وہی ہے جس کو مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں دیدار رب العالمین بتلایا ہے۔ بلکہ اس آیت کی تفسیر خود دوسری آیت ہی کر رہی ہے۔ دیکھے تو کس وضاحت سے ارشاد ہے وُجُوہٌ یَّومَئِۃٍ نَّاضِرَۃٌ اِلیٰ رَبِّھَا نَاظِرَۃٗ۔ شکر ہے کہ اس آیت میں بھی علام الغیوب نے مِن قُرَّۃِ اَعیُنٍ کا لفظ جوڑا ہوا تھا جس سے اہل انصاف ہمارے بیان کی تصدیق بخوبی کر سکتے ہیں پس اب اس آیت کو جو رویت کے متعلق ہے ان آیتوں کی تفسیر یا توضیح بنانا جن میں ایسی نعماء جنت مذکور ہیں جو نہ صرف دیکھنے سے متعلق ہوں گی (بلکہ دیکھنے سے تو ھٰذا ! الَّذِی رُزِقنَا مِن قَبلُ کہیں گے جو ایک قسم کی ناخوشی کا مظہر ہے۔ ہاں کھانے پینے سے بیشک تعلق رکھتی ہوں گی اور ان کی نسبت کُلُوا وَاشرَبُوا بِمَآ اَسلَفتُم فِی الاَیَّامِ الخَالِیَۃٍ وَفَاکھِۃٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُونَ وَلَحمِ طَیرٍ مِّمَّا یَشتھُونَ وغیرہ ارشاد ہوتا ہے ) غلط فہمی یا خلاف منشا متکلم کلام کی تفسیر نہیں تو کیا ہے ؟ رہا سید صاحب نے جو حدیث نبوی سے استدلال پیش کیا ہے سو یہ اگر مطلب برآری اور الزام دہی کی غرض سے نہیں تو ہمیں حد سے زیادہ خوشی ہے کہ سید صاحب بھی حدیث نبوی کا نام لیں جس سے کو سوں دور بھاگا کرتے تھے۔ غالباً صفائی نیت سے بخاری مسلم یا مشکوٰۃ کی تلاش نہیں کی تھی جب ہی تو فہم مطالب میں غلطی کھائی۔ شکر ہے کہ اسی حدیث کے اخیر میں یہ بھی مرقوم ہے کہ اقرء وا ان شئتم فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین

(مشکوٰۃ باب صفۃ الجنہ صفحہ ۴۸۷)

پس اس لفظ سے بھی معلوم ہوا کہ حدیث نبوی اس آیت کی تفسیر ہے جس کو ہم ثابت کر آئے ہیں کہ وہ ان اشیاء سے متعلق ہے جو مشاہدہ اور روئت سے راحت بخش ہوں گی جیسے دیدار رب العالمین جس کی احادیث نبویہ میں تصریح اور قرآن میں بھی اشارہ ہے۔ نہ ان اشیاء سے جو کھانے پینے سے لذت دیں گی جن کی بابت کلوا واشربوا ارشاد ہدایت بنیاد صادر ہو گا۔ پس اس سے بھی سید صاحب کا مدعا ہنوز او ر بطن قائل ہے اسی مدعیٰ پر سرسید نے ایک اور روایت ترمذی سے نقل کی ہے۔ مگر چونکہ اس کی تلاش میں بھی اخلاص نیت نہ تھا۔ اس لئے اس کے معنے سمجھنے میں بھی غلطی سے محفوظ نہیں رہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں :۔

” اس امر کے ثبوت کے لئے کہ بانی مذہب کا ان چیزوں کے بیان کرنے سے صرف اعلیٰ درجہ کی راحت کا بقدر فہم انسانی خیال پیدا کرنا مقصود تھا۔ نہ واقعی ان چیزوں کا دوزخو بہشت میں موجود ہونا ایک حدیث کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ جو ترمذی نے بریدہ سے روایت کی ہے اس میں بیان ہے کہ ایک شخص نے آنحضرتﷺ سے پوچھا کہ بہشت میں گھوڑا بھی ہو گا آپ نے فرمایا کہ تو سرخ یاقوت کے گھوڑے پر سوار ہو کر جہاں چاہے گا اڑتا پھرے گا۔ پھر ایک شخص نے پوچھا کہ حضرت ! وہاں اونٹ بھی ہو گا؟ آپ نے فرمایا کہ وہاں جو کچھ چاہو گے سب کچھ ہو گا۔

پس اس جواب سے مقصود یہ نہیں ہے کہ در حقیقت بہشت میں گھوڑے اور اونٹ موجود ہوں گے بلکہ صرف ان لوگوں کے خیال میں اس اعلیٰ درجہ کی راحت کے خیال کا پیدا کرنا ہی جو ان کے اور ان کی عقلو فہم طبیعت کے موافق اعلیٰ درجہ کی ہو سکتی ہے ”

تعجب بلکہ تاسف ہے۔ سید صاحب ! اب سو فسطائیہ کا زمانہ نہیں جو ایک اور ایک دو سے بھی انکاری ہوں۔ بھلا کوئی اہل عقل کہہ سکتا ہے کہ اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے جو آپ نے ایجاد کیا؟ اچھا اگر یہی مضمون بتلانا ہوتا کہ واقعی جنت میں گھوڑے اور اونٹ بھی ہوں گے۔ تو کس طرح اور کن لفظوں میں بتلاتے کوئی عبارت ایسی آپ ہی تجویز کریں جس سے یہ مطلب صاف صاف بلا تاویل سمجھ میں آوے۔ پھر دیکھیں کہ تفسیر الکلام بمالا یرضیٰ بہ قائلہ کس پر صادق آتا ہے۔ سید صاحب کی اس امر میں کہاں تک شکایت کی جائے۔ ماشاء اللہ بے دلیل کہنے کے آپ ایسے خو گیر ہیں کہ یہ عادت طبیعت میں پختہ ہو گئی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ دوسروں کو الزام لگانا اور بدنام کرنے میں بڑے ہوشیار ہیں۔ کہیں ان کا نام کوڑ مغز ملا رکھا ہے۔ کہیں شہوت پرست کے لفظ سے عزت بخشتی ہیں کہیں یہودیوں اور عیسائیوں کے مقلد بتلاتے ہیں۔ سچ ہے اور بالکل سچ ہے ؎

بلا سے کوئی اور ان کی بدنما ہو جا

کسی طرح سے تو مٹ جائے ولولہ دل کا

سید صاحب ! بھلا آپ جو اتنے ہاتھ پاؤں جنت کی تاویل کرنے میں مارتے ہیں۔ براہ مہربانی پہلے یہ تو بتلا دیں کہ ایسی جنت کا ہونا جسے اہل اسلام عموماً مانتے ہیں جس کا فوٹو یہ ہے کہ ایک باغ (بلا تشبیہ) مثل شالا مار باغ لاہور کے ہو جس میں ہر قسم کے میوہ جات ہوں۔ اس میں نیک صلحا لوگ رہیں اور ان کی عافیت کو وہاں پر عورتیں پاکیزہ (جن کی صفت میں قاصرات الطرف ہے ) بھی ہوں کسی دلیل عقلی یا نقلی سے محال ہے ؟ اگر محال ہے تو براہ نوازش اور کرم گستری بیان کر دی ہوتی۔ اگر آج تک نہیں کی تو کر دیجئے۔ اجی حضرت ! جس اللہ نے یہ نعمتیں ہم کو دنیا میں بلا کسی نیک کام کے عنایت کی ہیں۔ وہ کسی نیک کام کے عوض آخرت میں جسے روز انصاف آپ بھی مانتے ہیں اور واقعی ہے بھی۔ نہیں دی سکتا؟ یا دنیا میں دینے سے اس پر کوئی اعتراض اور اس کی قدو سیت کے خلاف نہ ہوا۔ مگر آخرت میں یہی نعمتیں مرحمت فرمائے تو وہ ذات ستودہ صفات محل اعتراض ہو؟ دنیا میں تو تجرد بلائے عظیم معلوم ہو اور اگر تاہل ہو تو اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کریں۔ مگر آخرت میں ان نعمتوں کا ملنا بجائے احسان کے اس منعم حقیقی کی ذات ستودہ صفات کی شان کے خلاف سمجھیں ؟ واہ ہماری سمجھ ؎

گر ہمیں مکتب است وایں ملا

کار طفلاں تمام خواہد شد

اگر یہ ارشاد ہے کہ دلیل عقلی سے تو محال نہیں مگر چونکہ دلیل نقلی قرآنی سے اس کا ثبوت نہیں جیسا کہ آپ نے وجود ملائکہ کی نسبت عذر کیا ہے تو بسم اللہ لیجئے ایک نہیں بیسیوں ، بیسیوں کیا سینکڑوں آیتیں اس مضمون کی چاہیں تو ہم سناتے ہیں سورۃ الرحمن ہی کی چند آیتیں سنئے وَلِمَن خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ الایٰۃ سورۃ الواقعہ میں بھی مختصر سا جملہ اسی کے قریب قریب ہے اِنَّآ اَنشَا نَاھُنَّ اِنشَآءً الایٰۃ فرمائے اس سے بھی کوئی صریح دلالت ہو گی۔ معلوم نہیں کہ باوجود اس قطعیت اور عدم مانع دلیل عقلی کے اس ایچ پیچ کرنے سے جو آپ کر رہے ہیں کیا فائدہ

ہٹ چھوڑئے اب برسر انصاف آئے

انکاری رہے گا مری جان کب تلک؟

اصل یہ ہے کہ سید صاحب چونکہ حشر اجساد کے قائل نہیں جیسے کہ اہل مکہ اس سے منکر تھے اور بار بار یہی مشکلات پیش کیا کرتے تھے۔ ئَ اِذَامِتنَا وَکُنَّا تُرَابًاط ذٰلِکَ رَجعٌ بَعیِدٌ اسی لئے سید صاحب نعمائے جنت کے بھی منکر ہیں کہ روحانی زندگی سے روحانی نعمتیں مطابق ہو جائیں۔ پس ان آیتوں کی ذیل میں جن میں حشر اجساد کا ذکر آئے گا۔ ہم سید صاحب کی اس غلط بنا کی حقیقت کھولیں گے اور ثابت کریں گے کہ سرسید کی تاویل بناء فاسد علی الفاسد سے کم نہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ (منہ)

جب کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے مشرکوں اور بت پرستوں کی تشبیہیں بغرض تفہیم بیان فرمائیں۔ کہیں مشرکوں کو مکڑی وغیرہ سے تشبیہ دی۔ کہیں معبودات باطلہ کی کمزوری بیان کرنے کو فرمایا کہ اگر مکھی بھی ان سے کوئی چیز چھین لے تو اس سے بھی وہ چیز واپس نہیں لے سکتے تو یہ مثالیں سن کر مخالفوں نے عناداً بطور طعن کے کہا کہ اللہ کو ایسی مثالوں سے کار مطلب؟ ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ۱۴ معالم

جو اللہ کے عہد کو جو کبھی تکلیفوں اور تنگیوں کے وقت اللہ سے باندھا کرتے ہیں کہ اگر تو اس بلا سے ہم کو نجات بخشے گا تو ہم تیرے سب احکام مانیں گے مضبوط وعدہ کرنے کے بعد بھی توڑ ڈالتے ہیں پھر اسی کفر شرک اور دنیا سازی میں مبتلا ہو جاتے ہیں علاوہ اس کے ان میں ایک خرابی اور بڑی بھاری ہے کہ انسانی تعلق جس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا ہے اس کو توڑ ڈالتے ہیں اللہ نے تو حکم کیا کہ آپس میں رشتہ دار سلوک کیا کریں مگر یہ لوگ بجائے سلوک کے الٹا رشتہ داروں ہی سے عناد رکھتے ہیں اور باوجود اس کے ملک میں فساد مچاتے ہیں اگر کوئی مخلص عاقل بالغ باختیار خود مسلمان ہوتا ہے تو اس کو بلاوجہ تنگ کرتے ہیں حالانکہ اس تنگ کرنے کا ان کو کوئی حق حاصل نہیں جب ہی تو ان پر یہ فرد جرم ہے کہ یہی لوگ ٹوٹا پانے والے ہیں۔ کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے اپنا ہی زیاں کرتے ہیں۔

کوئی ان سے یہ پوچھے کہ بھلا تم اللہ کی توحید سے انکار کیسے کرتے ہو حالانکہ اس کی طرح طرح کی تم پر مہربانیاں ہیں تم اپنی اصل حالت کو نہیں دیکھتے کہ پہلے تو تم نطفہ کی صورت میں بے جان تھے۔ پھر اس نے تمہیں جان بخشی پھر بعد اس کے تم کو پرورش بھی کیا اور ایک مدت مقررہ تک زندہ رکھ کر پھر تم کو مار بھی دیتا ہے پھر مر کر بھی تم ایسے نہ ہو گے کہ اللہ سے کہیں غائب ہو جاؤ بلکہ بعد مرنے کے وہ تمھیں ایک روز زندہ کرے گا۔ بعد اس زندگی کے یہ نہ ہو گا کہ تم ایسے ہی مزے کرو۔ بلکہ تمہاری ساری لیاقت کھل جائے گی۔ اور اسی اظہار لیاقت کے لئے تم اس مالک الملک کی طرف پھیر جاؤ گے۔

یہ حقوق مالکیت کچھ ایسے نہیں کہ خواہ مخواہ جابرانہ تسلط ہو۔ بلکہ وہ ذات پاک وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا اور دنیا کی سب چیزیں تمہارے لئے پیدا کیں۔ تاکہ تم ان سے منافع حاصل کرو ورنہ اللہ کو بھی کوئی چیز کام آتی ہے ؟ چار پارے ہیں تمہارے لئے نباتات ہیں تو تمہارے لئے جمادات ہیں تو تمہاری خاطر۔ تمہاری خاطر زمین پیدا کی زمین میں ہر قسم کی قوتیں ودیعت کیں۔ پھر تمہاری ہی فائدہ کو آسمان کو قصد کیا تو حسب ضرورت اس نے ان کو سات عدد بنا دیا کسی پر چاند کسی پر سورج کسی پر کوئی ستارہ کسی پر کوئی اس لئے کہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے جو کچھ مناسب مقتضائے علم ہوتا ہے وہی کرتا ہے اس کے علم کامل کی شہادت علاوہ دلائل عقلیہ کے واقعات بھی بتلا رہے ہیں۔

 

(30۔ 33)

 

یاد تو کر جب اس مالک الملک تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین پر اپنا ایک نائب بنانے کو ہوں۔ جو سب دنیا کی آبادی پر حکمرانی کرے۔ اور تمام اشیاء اس کی تابعدار ہوں یعنی آدم اور اس کی اولاد۔ یہ معلوم کر کے کہ اس نائب حکومت میں ہر قسم کی خواہشات بھی ہوں گی وہ بولے کہ اس کے اجزا عناصر اربعہ تو آپس میں متضاد ہیں ایسی ترکیب کی شئے سے بے جا جوش اور خون خرابے کچھ بعید نہیں۔ کیا آپ ایسے شخص کو نائب حکومت بناتے ہیں جو اس زمین میں فساد کرے۔ اور خون بہائے۔ اگر خلیفہ ہی بنانا منظور ہو تو ہم خاکسار ان خدام قدیمی اس منصب کے لیے ہر طرح سے قابل ہیں۔ اس لیے کہ ہم تو علاوہ اخلاص قلبی کے تیری خوبیاں بیان کرتے رہتے ہیں اور تجھے پاکی سے یاد کرتے ہیں۔ علاوہ اس کمال عملی کے ہم میں کمال علمی بھی پایا جاتا ہے کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں۔ چونکہ ان کا یہ ضمنی دعویٰ کہ ہر چیز کو جاتے ہیں بالکل غلط تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو کئی طرح سے غلط کیا پہلے تو یہ کہا کہ یقیناً میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ جس نیابت کے لئے انسان کو بنایا جاتا ہے اس نیابت کی اسی میں قابلیت ہے۔ دوم عملی طور سے اس کو غلط کیا کہ آدم کو بعد پیدائش سب چیزوں کے نام سکھائے پھر وہ فرشتوں کو دکھا کر۔ کہا کہ ان اشیاء کے نام مجھے بتاؤ۔ اگر تم اپنے دعوے ہمہ دانی میں سچے ہو۔ اس عملی مقابلہ سے عاجز آ کر وہ بولے کہ بیشک ہمارا علم ناقص ہے توں سب نقصانوں سے پاک ہے ہمارا خیال ہمہ دانی غلط ہے بلکہ اصل یہ ہے کہ ہم کچھ بھی نہیں جانتے مگر اسی قدر جو تو نے ہم کو سکھایا ہے۔ بیشک ہمیں یقین ہے کہ تو ہی بڑے علم اور حکمت والا ہے جو کچھ تو کرتا ہے اس میں کمال درجہ کی حکمت ہوتی ہے اور اس حکمت کو بھی کما حقہ سوا تیرے کوئی نہیں جانتا۔ اس کے بعد ان کا بقیہ گمان دفع کرنے کو آدم سے کہا کہ اے آدم تو ان کو ان چیزوں کے نام بتلا دے۔ پس جب حسب ارشاد اللہ اس (آدم علیہ السلام) نے ان کو ان چیزوں کے نام بتلائے اور فرشتوں نے سب ماجرا بچشم خود دیکھا اور جان لیا کہ ہمارا زعم کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں غلط ہے تو اللہ نے تنبیہاً ان کو خطاب کر کے کہا۔ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانو زمین کی سب چھپی ہوئی چیزیں جانتا ہوں۔ اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور چھپاتے ہو وہ بھی جانتا ہوں

سر سید کی چوتھی غلطی :

(فرشتوں سے کہا) یہ پہلا ہی موقع ہے کہ قرآن کریم میں فرشتوں کا صریح ذکر آیا ہے۔ چونکہ زمانہ حال کے محققوں نے اس مسئلہ میں بھی عجیب قسم کا اختلاف نہ صرف مسلمانوں سے بلکہ جملہ ادیاں (یہودو نصاریٰ) سے بھی بلاوجہ پیدا کیا ہے اس لئے اس موقع پر ہم بھی اگر کسی قدر تفصیل سے لکھیں تو ہمارا حق ہے فرشتہ کا لفظ (جسے عربی میں ملک اور ملایکہ کہتے ہیں ) اصلی تو انہیں معنے میں اطلاق ہوتا ہے جس کو عام مسلمان بلکہ یہود نصاریٰ اور عرب کے مشرک سمجھا کرتے تھے کہ اللہ کی ایک مخلوق ہے جو گناہوں سے پاک اور اللہ کے حکم کی تابعدار۔ اس کی عبادت میں ہر وقت مشغول رہتے ہیں کسی کا زمین سے تعلق ہے۔ کسی کا آسمان سے۔ آسمان والے بحکم الٰہی زمین پر آ جاتے ہیں اور زمین والے آسمان پر جا سکتے ہیں۔ ان کو اللہ نے ایسابنایا ہے کہ ہوا کی طرح مرئی اور مشاہد نہیں ہوتے ہاں جب چاہیں اپنی شکل یا کسی آدمی کی صورت میں دکھائی دے سکتے ہیں وہ انبیاء پر اللہ کا پیغام لاتے ہیں اگر کوئی قوم سرکشی کرے تو اس کی ہلاکت بھی بحکم الٰہی انہیں کے ہاتھوں سے ہوتی ہے۔ یہ خلاصہ ہے ان معنوں کا جن پر اہل ادیان ” فرشتہ” بولتے ہیں مگر مشرکین عرب میں ایک بات زائد تھی کہ وہ ملائکہ کو بوجہ ان کے مستور ہونے کے اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے چنانچہ قرآن کریم نے ان کی مذمت کے موقع پر فرمایا وَجَعَلُوا المَلٰئِکَۃَ الَّذِینَ ھُم عِبَاد الرَّحمٰنِ اِنَاثًا اور اس قول شنیع کے رد کے لئے ارشاد فرمایا اَم خَلَقنَا المَلٰٓئِکَۃَ اِنَاثًا وّھُم شَاھِدُونَ یہودو نصاریٰ کی کتاب توریٰت انجیل تو اس مضمون سے پر ہیں احادیث نبویہ میں تو اس کا ذکر تبصریح ہے کہ حضرت جبرئیل آنحضرتﷺ کے پاس دحیہ کلبی صحابی کی صورت میں آیا کرتے تھے۔ غرض ان معنے سے کسی مسلمان نہ کسی یہودی نہ عیسائی کو انکار ہے کہ فرشتے اللہ کی ایک مخلوق جدا گانہ ہیں۔ ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ مگر زمانہ حال کے محقق سرسید احمد خاں ان معنے کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ اس سے سخت انکاری ہیں چنانچہ اپنی تفسیر کی جلد اوّل کے صفحہ ۴۹ پر رقمطراز ہیں :۔

” جن فرشتوں کا قرآن میں ذکر ہے ان کا کوئی اصلی وجود نہیں ہو سکتا بلکہ اللہ کے بے انتہا قدرتوں کے ظہور کو اور ان قویٰ کو جو اللہ نے اپنی تمام مخلوق میں مختلف قسم کی پیدا کی ہیں ملک یا ملائکہ کہا ہے جن میں سے ایک شیطان یا ابلیس بھی ہے ”

تعجب ہے کہ سرسید اوروں پر تمسخر اور ہنسی تو اڑایا کرتے ہیں کہ ہمارے مفسرین کو بے دلیل کہنے کی عادت ہے۔ فلاں قوم امام رازی کا بے دلیل ہے فلاں توجیہ بیضاوی کی بے ثبوت مگر خود کہتے ہوئے یہ قاعدہ ہی بھول جائیں۔ کہ دعویٰ پر دلیل پیش کرنا بھی کوئی شئے ہوتا ہے۔ سید صاحب ! اس پر کیا دلیل ہے کہ ملائکہ سے مراد انسان کے قویٰ ہیں۔ حالانکہ انسان کے پیدا ہونے سے پہلے ہی فرشتوں کو اعلان کیا جاتا ہے کہ جب ہم آدم کو پیدا کریں گے تو تم نے اسے سجدہ کرنا۔ اس آدم سے مراد آپ نوع انسان ہی مراد لے لیں۔ اور اس قصہ کو ایک فطری تمثیل ہی کیوں نہ کہیں۔ بہر حال یہ تو آپ کو ماننا ہو گا کہ انسان سے فرشتوں کا (یا بقول آپ کی قویٰ کا) وجود پہلے تھا۔ تو پھر فرما دیں کہ کسی شئے کے عوارض کو (جو وجود میں بہرحال اس سے مؤخر ہوں ) مقدم سمجھ کر ایک مضمون گانٹھنا فرضی نہیں تو کیا ہے ؟ جسے آپ بھی صفحہ ۵۴ پر شاعرانہ جھوٹ فرما چکے ہیں۔ نیز کفار کا درخواست کرنا کہ اس رسول کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا جو اس کے ساتھ ساتھ ہو کر لوگوں کو ڈراوے بالکل بے معنے ہے اس لئے کہ قویٰ انسانیہ کا (جو بقول آپ کے ملائکہ ہیں ) ظاہر ہو کر کسی کو ڈرانا کیا معنے ؟ وہ تو ایسے مستور ہیں کہ ان کا بذات خود ظاہر اور مشاہد ہونا ہی مشکل بلکہ محال ہے۔ ہاں آپ کا ابوعبیدہ کے شعر ؎

لست لانسی واکن بملاک

تنزل فی جوّ السماء بصوب

سے استدلال کر کے اس امر کا ثبوت دینا کہ عرب قدیم اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے زمانہ کے مشرک قویٰ پر ملَک کا لفظ بولا کرتے تھے بہت ہی تعجب انگیز ہے جناب من ! کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ قائل کا مذہب بھی یہی ہو کہ مینہ برسانے پر فرشتے مقرر ہیں اور ممدوح کو ان فرشتوں سے تشبیہ دیتا ہو۔ جیسا کہ عرب کے شعرا کا عموماً دستور ہے چنانچہ ایک شاعر نے اپنی محبوب کو چاند سے تشبیہ دے کر کہا ہے

لاتعجبوا ! من بلاغالتہ

قد زراز رارہ علے القمر

اس قسم کی تشبیہیں تو کوئی عرب ہی کا خاصہ نہیں۔ آپ نے اردو کا شعر بھی سنا ہو گا ؎

وہ نہ آئیں شب وعدہ تو تعجب کیا ہے

رات کو کس نے ہے خورشید درخشاں دیکھا؟

دیکھیں یہاں پر شاعر نے ایسا مبالغہ کیا ہے کہ محبوب کو ہو بہو سورج ہی بنا دیا۔ پھر آپ کا اس آیت قرآنی قالُوا لَولَآ اُنزِلَ عَلَیہِ مَلَکٌ وَّلَو اَنزَلنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الاَمرُ ثُمَّ لَایُنظَرُونَ۔ وَلَو جَعَلنَاہُ مَلَکًا لَّجَعَلنَاہُ رَجُلًا وَّلَلَبَسنَا عَلَیہِم مَایَلبِسُونَ کو نفی وجود ملائکہ بالمعنے المتعارف میں پیش کرنا پہلے سے بھی زیادہ تعجب انگیز ہے۔ خوش قسمتی سے جو دلیل آپ کے مخالف کی ہوتی ہے اسے شاید یاد بھی نہ ہو۔ آپ اسے اپنی سمجھ کر پیش کر دیتے ہیں۔ بھلا اگر ملک کا اطلاق قویٰ ملکوتیہ پر ہے تو آیت کے کیا معنے ہوں گے یہ کہ اس رسول پر قویٰ کیوں نہیں اتاری گئیں۔ جس کا جواب ملتا ہے کہ اگر ہم قویٰ ملکوتیہ اس رسول کو بناتے تو ضرور اس رسول کو (یا ان قویٰ کو) بشر بناتے۔ پھر بھی تم کو وہی شبہ ہوتا جو ہو رہا ہے۔ سبحان اللہ ! اس قرآن دانی اور فہم معانی کے کیا کہنے۔ حضرت ! اوّل تو کفار کو کیسے خبر تھی کہ اس رسول کے قویٰ نہیں جن کے نزول کی انہوں نے درخواست کی۔ درخواست سے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ کسی شئے مرئی اور مشاہدہ کی تھی جو بالکل دیکھنے سے تعلق رکھتی ہو۔ قویٰ کا مرئی ہونا کیا معنے ؟ پھر جناب باری کی طرف سے یہ جواب ملنا کہ اگر ہم قویٰ ملکوتیہ اس رسول کو بناتے تو ضرور بشر ہی بناتے۔ کیسا منطبق ہو گا۔ سید صاحب ! آپ بھولے کیوں پھرتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر تو دوسری آیت سورۃ فرقان کی کر رہی ہے۔ لَولَآ اُنزِلَ عَلَیہِ مَلَکٌ فَیَکُونَ مَعَہٗ نَذِیرًا دیکھئے تو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کفار کو کسی شئے مرئی کی خواہش تھی چنانچہ اسی سورۃ کی دوسری آیت میں اس سے بھی واضح بیان ہے۔ قَالَ الَّذِینَ لَا یَرجُونَ لِقَآَءَ نَا لَولَآ اُنزِلَ عَلَینَا المَلٰٓئِکَۃُ اَو نَریٰ رَبَّنَا۔ اس سے تو صاف روز روشن کی طرح معلوم ہوتا ہے کہ واقعی کفار کو کسی چیز قابل دید کی درخواست تھی جب ہی تو جناب باری تعالیٰ نے ان کے جواب میں یوَم یَرَونَ المَلٰٓئِکَۃَ لَابُشریٰ یَومَئِذٍ لِّلمُجرِمِینَ فرمایا۔ اگر شئے مرئی کی درخواست نہ ہوتی تو جواب میں رویت کا ذکر کیا معنے رکھتا ہے پس ثابت ہوا کہ کفار عرب ملک کے لفظ کو کسی شئے مرئی پر بولتے تھے۔ جو قوٰے ملکوتیہ کی طرح نہیں ہو سکتیں۔ کیونکہ وہ مرئی اور مشاہد نہیں ہیں۔ پھر سرسید کا کہنا کہ ” جہاں تک ہم نے تفتیش کی ہے قدیم عربوں کے لفظ ملک یا ملائکہ کی نسبت ایسا خیال جیسا کہ یہودیوں کا ہے ثابت نہیں ہوا۔ ” بالکل بے معنی ہے اس لئے کہ اوّل تو عدم علم سے عدم شئے کا لازم نہیں آتا۔ ممکن ہے کہ ہو اور ان کو نہ ملا ہو۔ اور اگر واقع میں قدیم عرب نے ملک کا لفظ ان معنے مشہور میں استعمال نہ کیا ہو تو کیا حرج ہے جب کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے زمانہ میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ عرب کے مشرک ملک کے یہی معنے سمجھتے تھے اور اسی کے موافق ان کی درخواست بھی تھی جس کا جواب بھی یہی جتلا رہا ہے کہ جناب باری تعالیٰ کو بھی ان معنے سے انکار نہیں تو پھر یہ عذر تار عنکبوت سے کچھ زائد قوت بھی رکھتا ہے ؟ اس کی مثال شرع میں صلوٰۃ زکوٰۃ ہے ان لفظوں کو قدیم عرب سے آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ انہیں معنے میں اطلاق کرتے تھے۔ جن میں کہ اب ہو رہے ہیں۔ دوسری مثال اس کی ہمارے زمانہ میں پریس لمپ وغیرہ ہیں کسی تحریر میں اگر پریس اور لمپ کا ذکر ہو تو کوئی شخص اس عذر سے اس کے معنے بدلنے چاہے کہ قدیم ہند میں ان لفظوں کو ان معنے میں نہیں بولتے تھے جن میں انگریزی رواج کے بولے جاتے ہیں۔ تو کیا اس کی یہ وجہ قابل شنوائی اہل دانش ہو گی؟ ہرگز نہیں۔ پھر بھلا اگر قدیم عرب ملک کو معنے متعارف پر نہ بولتے ہوں اور آنحضرت (علیہ السلام) کے عہد رشد مہد میں اس کا رواج ان معنے میں ہوا ہو۔ جس کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) بلکہ خود اللہ نے مسلم رکھا۔ تو معتبر نہ ہو گا۔ فتفکر۔ باقی رہا آپ کا کلام مقصود اور غیر مقصود میں فرق کرنا سو یہ بھی قطع نظر فی الجملہ غلطی کے اس جگہ نہیں چل سکتا۔ اس لئے کہ یہاں پر ملائکہ کا ذکر (حسب تقریر آپ کے ) غیر مقصود نہیں بلکہ عین مقصود ہے کیونکہ وجود ملائکہ پر کسی امر کی تعلیق نہیں جو اس کو غیر مقصود کیا جائے بلکہ ایسے امر کی خبر ہے جو قرآن کریم کا مطلب اصلی ہے یعنی ثبوت قیامت اگر فرما دیں کہ قرآن کریم میں بہت سی جگہ کفار کے خیالات مان کر بھی ان کو توحید سکھائی گئی ہے تو گذارش ہے کہ یہ تو مشرکین عرب کا بھی عندیہ نہیں تھا کہ ایک دن ایسا ہو گا کہ اس میں ہم ملائکہ کو دیکھیں گے اور وہ روز جزا بھی ہے بلکہ وہ تو اسی وجہ سے قرآن پر خفا تھے کہ یہ قیامت کیوں بتلاتا ہے

ئَ اِذَا مِتنَاوَکُنَّا تُرَابًاط ذٰلِکَ رَجعٌ بَعیِدٌ اس کا شاہد عدل ہے۔ ہمیں تعجب ہے کہ سید صاحب یہ مانتے ہیں کہ ” ہمارے پاس کسی ایسی مخلوق کے ہونے سے جو کسی قسم کا جسمو صورت بھی نہ رکھتی جو ہم کو نہ دکھائی دیتی ہو انکار کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ “ص ۴۲ پھر فرشتوں کے ایسا ہونے سے کیوں انکاری ہیں نہ صرف انکاری۔ بلکہ ان کو نفی پر بزعم والا دلائل بیان کرتے ہیں۔ گو ان دلائل کا حاصل یہی ہوتا ہے۔

دوست ہی دشمن جاں ہو گیا اپنا حافظ !

نوش دارو نے کیا اثر سم پیدا

اگر یوں فرما دیں کہ میرا انکار تو جب ہی تک ہے کہ قرآن سے فرشتوں کا ثبوت بمعنی متعارف ہو۔ اگر قرآن کی کسی آیت سے ان کا وجود مستقل ثابت ہو جائے گا تو مجھے بھی تسلیم سے انکار نہیں جیسا کہ صفحہ ۱۴۲ سے مفہوم ہوتا ہے اور یہی تقاضا ایمانی ہے۔ تو گذارش ہے کہ آپ اگر انصاف سے غور کریں اور قرآن کو اس طور سے پڑھیں جس طور سے عرب کے رہنے والے سیدھے سادے جن کی زبان میں قرآن نازل ہوا تھا پڑھتے اور سمجھتے تھے۔ انہیں کے لغت پر بھروسہ کریں تو مطلب بالکل صاف ہے اور اگر اٰمَنتُ باللّٰہِ کو بی بی آمنت کا بلا بتلا دیں تو خیر۔ دیکھو تو کیسے صریح لفظوں میں فرشتوں کا ثبوت ملتا ہے قال عز من قائل جَاعِلِ المَلٰئِکَۃِ رُسُلًا اُولِیٓ اَجنِحۃٍ مَثنیٰ وَثُلٰثَ وَرُبَاعَ یَزِیدُ فِی الخَلقِ مَا یَشَآئُ۔ سرسید اور ان کے اتباع بتلا دیں اور ہماری معروضہ بالا گذارش کو زیر نظر رکھیں کہ ملائکہ کا رسول ہونا بلکہ پروار ہونا بھی ثابت ہے یا نہیں ؟ اس پر بھی آپ بے پر کی اڑائیں تو اختیار۔ (منہ)

(اور آدم کو سب نام سکھائے ) اس آیت کے متعلق بھی نافہموں نے بہت ہی ہاتھ پاؤں مارے ہیں مگر بعد غور ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ان کی نافہمی اور تعصب کے نتائج ہیں۔ قرآن کریم اپنے معانی بتلانے میں بالکل صاف ہے اور بفضلہ تعالیٰ اس کے سمجھنے اور سمجھانے والے ہر زمانہ میں موجود رہے اور ہیں اور ہوں گے۔ ہماری ہمسایہ قوم آریہ نے اس کے متعلق بہت سے ورق سیاہ کئے ہیں جن کے دیکھنے سے اس قوم کی شوخی اور نئے جوش کا اندازہ ہوتا ہے۔ افسوس کہ اس قوم نے باوجود دعویٰ توحید کے جس کی وجہ سے یہ لوگ اسلام سے بہت ہی قریب ہو گئے تھے۔ بجائے فہمو فراست کے تعصب اور ضد سے کام لیا۔ اس آیت کے متعلق ان کے اعتراضات حسب تفصیل ذیل ہیں۔ (۱) اللہ نے فرشتوں سے مشورہ کیا جس سے اس کی بے علمی ثابت ہوتی ہے (۲) باوجویکہ فرشتوں نے جواب معقول دیا مگر اللہ نے (معاذ اللہ) اپنی ہی بات پر ہٹ کی جس کا نتیجہ آخر وہی ہوا جو فرشتوں نے کہا (۳) اللہ نے فرشتوں سے (معاذ اللہ) دھوکا کیا۔ کہ ان کے مقابل آدم کو سب نام بتلا دئے اور مقابلہ کرایا۔ اگر یہی نام فرشتوں کو بتلا دیتا تو وہ بھی بتلا سکتے تھے آدم کی اس میں کون سی بزرگی ہے ؟ جواب۔ میں کہتا ہوں سب آفتوں کی جڑ یہی ہے کہ متکلم سے اس کے کلام کے معنے دریافت کرنے سے پہلے ہی اس پر رائے زنی کی جائے اور آپ ہی آپ اس کی شرح کر کے حاشیہ چڑھایا جاوے۔

اس آیت کے معنی جن کی طرف ہم نے تفسیر میں اشارہ کیا ہے سمجھنے ہی سے سب اعتراضات اٹھ جاتے ہیں جو در اصل اپنے ہی دل کے غبارات ہیں۔ پہلے یہی غلط کہ اللہ نے مشورہ کیا۔ مشورہ نہیں کیا تھا۔ بلکہ اس امر کے متعلق ان فرشتوں کو ایک حکم سنانا تھا اس کے اعلان کرنے کو یہ اظہار کیا۔ چنانچہ اسی قصہ کو دوسرے مقام پر یوں بیان کیا ہے :۔ اِنِّی خَالِقٌ بَشَرًا مِّن طِینٍ فَاِذَا سَوَّیتُہٗ وَنَفَختُ فِیہِ مِن رُوحِی فَقَعُوا لَہٗ سٰجِدِینَ یہ مشہور ہے کہ ” تصنیف را مصنف نیکو کند بیاں ” پس اس قاعدہ کلیہ سے اس آیت نے اس کی پوری تفسیر کر دی ہے کہ فرشتوں پر اس امر کا ظاہر کرنا اس غرض سے تھا کہ ایک حکم کی ان کو اطلاع دی جائے یہی وجہ ہے کہ اس آیت میں اِنِّی جَاعِلٌ فِی الاَرضِ خَلِیفَہً کہہ کر ماتقولون فی ھٰذا الامر نہیں کہا جو مشورہ کا دستور ہے جیسا کہ بلقیس بیگم نے جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے اپنا خیال ظاہر کر کے ماذَا تَامُرُونَ کہا تھا۔

دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ ؎

رموز مملکت خویش خسرواں دانند

گدائے گوشہ نشینی تو حافظا مخروش

یہی وجہ ہے کہ فرشتوں نے بھی اس امر کو تسلیم کیا۔ اور اِنَّکَ اَنتَ العَلِیمُ الحَکِیمُ کہہ کر قصور مہم کا اعتراف کیا۔ تیسرے سوال کا جواب بھی میں نے تفسیر میں ادا کر دیا ہے یعنی یہ کہ فرشتوں نے علاوہ اپنی پاکی اور بزرگی جتلانے کے دعوے ہمہ دانی بھی کا تھا یعنی نُسَبِّحُ بِحَمدِکَ وَ نُقَدِّسُ لَکَ کے علاوہ ونعلم الاشیاء کلھآ بھی کہا تھا اس لئے کہ صرف بزرگی اور زہد تو خلاف کو مستلزم نہیں جب تک کہ ثبوت علمی نہ ہو۔ قرینہ اس حذف کا یہ ہے کہ فرشتوں کے دعوے تقدیس اور زہد پر جناب باری تعالیٰ کی طرف سے اَنبِئُونِی بِاَسمَآئِ ھٰؤٓلَآئِ اِن کُنتُم صٰدِقِینَ ارشاد ہے اگر فرشتوں کی طرف سے دعوے علم نہ ہوتا تو یہ بالکل اس کے مشابہ ہوتا ہے جو کسی مولوی صاحب نے کسی دہقانی کو سمجھایا کہ تہبند ٹخنوں سے اونچا رکھ وہ بولا کہ تیرے باپ نے دعوت کی تھی تو نمک زائد نہیں ڈال دیا تھا؟ مولوی صاحب نے پوچھا اس قصہ کو میرے وعظ سے کیا تعلق۔ دہقانی بولا۔ تعلق ہو یا نہ ہو۔ بات سے بات نکل آتی ہے۔ سو اگر فرشتوں نے دعوے علم نہ کیا ہوتا تو بجائے لَاعِلمَ لَنَا کہنے کے یہ کہتے کہ صاحب ! اس سوال کو یہاں کہ علاقہ؟ ہمارا دعویٰ زہد ہے اور سوال ہم سے علم کا۔ چہ خوش :ع بہ ببین تفاوت راہ از کجاست تابکجا۔ پس یہ ارشاد اَنبِئُونِی اور اِن کُنتُم صٰدِقِینَ جب ہی درست اور مناسب ہو سکتا ہے کہ فرشتوں نے کوئی دعویٰ علمیت بھی کیا ہو۔ جس کے جواب میں ان کی غلط فہمی رفع کرنے کو یہ ضروری ہوا کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کو سب نام سکھائے جائیں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ بہت سے امور ایسے بھی ہیں جنیں ہم نہیں جانتے جب بھی تو اس الزام کے بعد سُبحٰنَکَ لَاعِلمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمتَنَآ پکار اٹھے اور اپنے نقصان علم کے مقر ہوئے۔ اب بتلا دیں مدعی سست گواہ چست کا سا معاملہ ہے یا نہیں ؟ اور فہم قرآن سے بے نصیبی کے آثار ہیں یا کچھ اور؟ رہا شیطانی جھگڑا سو اس کا جواب ختم اللّٰہ کے حاشیہ میں دے آئے ہیں فتذکر (منہ)

اور ایک واقعہ بھی اسی کے متعلق قابل شنید ہے جو گویا اس بیان کا تتمہ ہے سنو ! جس سے ہمارا کمال علمی ظاہر ہو جائے گا۔ سوچو توسہی کہ جب ہم نے تمام فرشتوں اور ان کے اتباع کو معہ ان کے حکم دیا تھا کہ آدم کی بزرگانہ تعظیمو پس سب نے تعظیم کی۔ مگر شیطان اس سے اترایا اور اپنے جی میں بڑا بن بیٹھا اور اپنے غرور میں اس حکم کے منکروں سے ہو گیا۔ جب ہی تو اپنے کئے کی پاداش کو پہنچا کہ بوجہ حسد بیجا کے ہمیشہ کے لئے ذلیل ہوا اس کے بعد بجائے اس کے کہ اس کے حسد سے آدم کا کچھ بگڑتا اسی کی عزت افزائی ہوئی گیا وہ ہمارا مہان ہوا

(تعظیم کرو) اس آیت کے متعلق بھی ہمارے نامہربان پڑوسی آریہ وغیرہ نے دانت پیسے ہیں اور طرح طرح سے بے سمجھی کے سوالات کئے ہیں اور نئی توحید کے نشہ میں معلم التوحید قرآن شریف پر اعتراض کئے ہیں کہ وہ بت پرستی اور شرک سکھاتا ہے چنانچہ فرشتوں سے آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ کروایا۔ کعبہ کو پجوایا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے آگ کو پوجا۔ طرفہ یہ کہ شیطان نے بوجہ توحید کے جو اس کے پہلے سے تعلیم ہوئی تھی سجدہ نہیں کیا۔ تو اس کو لعنتی گردانا وغیرہ وغیرہ۔ ” باقی آیات کا جواب تو اپنے موقعہ پر آئے گا۔ بالفعل ہم اس آیت کے متلعق ان کی سمجھ کا پھیر بتلاتے ہیں۔ بھلا آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ عبودیت کا تھا یا کچھ اور۔ اگر عبودیت کا تھا تو بے شک قرآن شرک کی تعلیم دیتا ہے اور اوّل درجہ کا مشرک ہے لیکن ایسا نہیں۔ بلکہ ایک تعظیمی سجدہ تھا جس کو دوسرے لفظوں میں سلام تعظیم کہتے ہیں۔ اس لئے کہ اگر یہ عبادت ہوتا تو شیطان اپنی معذوری اور جواب دہی میں اَنَا خَیرٌ مِّنہُ خَلَقتَنِی مِن نَّاٍر وَّخَلَقتَہٗ مِن طِینٍ نہ کہتا بلکہ صاف کہتا کہ جناب والا یہ کیا انصاف ہے۔ کہ ہمیں ایک طرف تو شرک سے روکا جاتا ہے اور دوسری طرف اسی شرک کی تعلیم ہوتی ہے کیونکہ وہ تو بڑا ہی شیطان ہے اسے تو یہ عذر ضرور ہی سوجھنا چاہیے تھا۔ جب کہ اس کے شاگردوں کو ایسی سوجھتی ہے کہ پناہ بخدا۔ تو پھر استاد کو ایسی کیوں نہ سوجھی۔ بلکہ اس نے تو ایک معنی سے یہ سجدہ خود ہی جائز سمجھا۔ کیونکہ وہ اپنے رکنے کی وجہ یہ بتلا رہا ہے کہ میں اس سے اچھا ہوں اس لئے اسے سجدہ نہ کروں گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر آدم کو جو اس کے خیال میں اس سے ادنیٰ تھا۔ اس کو سجدہ کرنے کا حکم ہوتا تو شیطان کو اپنے لئے سجدہ کروانے میں کسی طرح کا تامل نہ ہوتا اور نہ تعلیم توحید اس سے مانع ہوتی۔ پس ان دونوں آیتوں کے ملانے سے معلوم ہوا کہ یہ سجدہ سجدہ عبادت نہ تھا۔ بلکہ محض ان معنے میں تھا جیسے کسی سردار یا نواب کا ماتحت ایک خاص وقت میں حاضر ہو کر اسلام کیا کرے۔ جس سے اس سردار کی رفعت اور ماتحتوں کی وفا داری کا ثبوت ہوتا ہے جو شیطان کو پسند نہ آیا (منہ)

 

(36۔ 39)

 

پس آخر کار شیطان نے ان کو اس جنت سے لغزش دی اور غلطی کرا کر ان نعمتوں سے جن میں وہ دونوں بیوی خاوند رہتے تھے نکلوا دیا۔ جب ان سے غلطی ہوئی تو ہم نے بھی کہا۔ تم اس جنت سے پستی میں اتر جاؤ۔ اس لئے کہ قطع نظر اس عداوت اور شرارت کے جو شیطان نے تم سے کی خود تم آئندہ نسلوں کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو گے اور بہشت ایسے دشمنوں کے لئے نہیں ہے۔ کیا تم نے نہیں سنا پس تم اس سے نکل جاؤ اور زمین پر جا رہو اس میں تمہارے لئے ٹھہرنے کو جگہ اور زندگی تک گذارہ بھی مہیا ہے اس حکم کے مطابق نیچے تو آ گئے۔ چونکہ ان سے یہ قصور واقع میں سہوًا ہوا تھا۔ نہ عنادًا۔ اس لئے وَے ہمیشہ اس کے تدارک میں لگے رہے اور رحمت الٰہی بھی ان کی یہ حالت دیکھ کر موجزن ہوئی پھر آخر کار آدم نے اپنے اللہ کے الہام سے چند باتیں سیکھیں (ربنا ظلمنا انفسنا کی طرف اشارہ ہے۔ ۲۱) جن کا خلاصہ یہ تھا کہ اے اللہ ہم سے سہوًا غلطی ہو گئی تو ہی رحم والا مہربان ہے پس اللہ نے اس پر رحم کیا اس لئے کہ وہ بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بعد اس رحم کے حسب دستور آدم نے اپنا مسلوبہ مقام حاصل کرنا چاہا۔ اور دخول جنت کی درخواست کی۔ تو ہم نے کہا یہ نہ ہو گا بلکہ مناسب یہ کہ اب تم سب یعنی آدم۔ حوا اور ان کی اولاد اس باغ سے نیچے ہی اترے رہو پس اس حکم میں تبدیلی نہ ہو گی ہاں ایک ذریعہ تمہارے دخول جنت کے لئے ہم بتائے دیتے ہیں وہ یہ کہ اگر میری طرف سے تم کو کوئی پیغام ہدایت پہنچے تو جو لوگ تم میں سے اس میری ہدایت کے تابع ہوں گے سو وے بیشک جنت کے قابل ہوں گے نہ اس کو کچھ خوف ہو گا نہ غم کریں گے۔ اور جو لوگ اس ہدایت کے منکر ہوں گے اور علاوہ اس ہدایت کی ہماری ہدایت کی نشانیاں جھٹلاویں گے وے ہرگز جنت میں نہ جاویں گے بلکہ جہنم کی آگ کے قابل ہوں گے نہ صرف چند روز بلکہ ہمیشہ کے لئے اس میں رہیں گے۔ اس امر کو اور لوگ بھولیں تو بھولیں۔

 

(40۔ 46)

 

مگر افسوس یہ کہ تم اے بنی اسرائیل اہل علم ہو کر بھی بھولتے ہو۔ حالانکہ میں نے تم پر کئی احسانات کئے اور ہر طرح کی نعمتیں بھی عطا کیں۔ ہمیشہ تم میں رسول بھی بھیجے زمین کا تم کو حاکم بھی بنایا پس تم میری نعمتیں یاد کرو جو میں نے تمہیں دیں اور میرے وعدہ کو جو اس رسول آخر الزمان کے متعلق خاص کر تم سے لیا ہوا ہے کہ جب وہ آئے تو اس پر ایمان لانا۔ اسے پورا کرو اس کے عوض میں بھی تمہارا وعدہ بخشش کا پورا کروں گا۔ اس ایفاء عہد اور ایمان لانے میں تنگی معاش کی فکر نہ کرو۔ رزق دینے والا میں ہوں پس تم مجھ ہی سے ڈرو جو تمہاری تنگی اور ثروت کا مالک ہوں پس تم مجھے ہی متولی امور جانو اور میری اتاری ہوئی کتاب کو مانو جو تمہاری ساتھ والی کتاب تورات کی تصدیق کرتی ہے اور اس کی اصلیت کو مانتی ہے اور اگر تم نے انکار کیا اور تم کو دیکھ کر اور لوگوں نے بھی یہی وطیرہ اختیار کیا تو ان سب کا گناہ تمہاری جان پر ہو گا۔ پس مناسب ہے کہ مان لو اور سب سے پہلے منکر نہ بنو اور اس وعدہ کو پھیر پھار کر اپنے ماتحتوں سے میرے حکموں کے بدلہ میں دنیا کا حقیر مال نہ لیا کرو۔ آخر کتنا کچھ لو گے سب کا سب بمقابلہ ان نعمتوں کے جو نیک بندوں کو آخرت میں ملنے والی ہے۔ دنیا کا سارا مال بھی تھوڑا اور ذلیل ہے میں تمھیں سچ کہتا ہوں کہ حق کے اختیار کرنے میں کسی سے مت ڈرو فقط مجھ ہی سے ڈر و۔ جو میں تمہارے عذاب اور رہائی پر قادر ہوں جھوٹی تاویلیں کر کے سچ کو جھوٹ سے نہ ملاؤ۔ اور نہ جان بوجھ  کر دنیاوی منافع کے لئے حق کو چھپایا کرو اور سیدھے سادھے مسلمان ہو کر نماز پڑھو اور مسلمانوں کی طرح مال کی زکوٰۃ بھی دیا کرو اور سب دینی کاموں کو چستی سے ادا کیا کرو بالخصوص نماز میں تو ایسے چالاک ہو جاؤ کہ پانچوں وقت پڑھو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ مل کر رکوع کیا کرو یعنی با جماعت ادا کیا کرو تاکہ تمہارے دین کا اظہار پورے طور سے ہو بجائے اس کے تم الٹے نا بلد ہو رہے ہو۔

کیا لوگوں کو بھلی باتیں بتلاتے ہو؟ ( بعض علماء یہود کا شیوہ تھا کہ جب ان سے کوئی قریبی رشتہ دار آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے حالات سے سوال کرتا تو اس پر اسلام اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی صداقت ظاہر کرتے اور خود اسی کفر پر اڑے رہتے۔ ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ معالم) گرجوں اور دیگر معبدوں میں لوگوں کو اپنے خیال کے مطابق اچھے کام بتلاتے ہو اور اپنے آپ کو باوجود کتاب پڑھنے کے بھلاتے ہو۔ کیا تم ہوش نہیں کرتے ؟ ہم پھر مکرر تمھیں کہتے ہیں کہ لوگوں سے مت ڈرو اس لئے کہ یہ شرک خفی ہے بلکہ اگر تم کو کوئی تکلیف آوے تو تم اس کے دفع کرنے میں صبر اور نماز کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگا کرو اس لئے کہ تکلیف میں صبر کے ساتھ جب آدمی مستقل ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے تو ضرور ہی تکلیف رفع ہو جاتی ہے۔ ہاں ظاہری اسباب سے منہ پھیر کر یہ مدد چاہنا اور صبر کرنا بیشک کارے دارد خاص کر ایک سی حالت میں نماز پڑھنا اور نماز کے ساتھ مدد چاہنا تو بہت بھاری ہے مگر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں پر بھاری نہیں کیونکہ وہ ہر کام کی علت العلل اللہ تعالیٰ ہی کو جانتے ہیں اگر وہ ظاہری اسباب کی طرف بھی رخ کرتے ہیں تو ان کا انجام بھی اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد کرتے ہیں اس لئے کہ یہ لوگ ایسے ہی پاکیزہ خیال ہیں جو اس بات کا پختہ خیال رکھتیں ہیں کہ وہ اس تکلیف کے عوض میں اپنے مولا سے نیک بدلا ضرور پاویں گے اور یہ بھی مانتے ہیں کہ مر کر بھی وہ اسی کی طرف جائیں گے

(بحذف مضافٍ ای ملاقوا جزأء ربھم)

 

(47۔ 53)

 

افسوس اے بنی اسرائیل کی قوم تم ایسے نہ ہوئے حالانکہ میں (اللہ) نے تم پر ہر طرح سے احسان بھی کئے اور کچھ نہیں کر سکتے ہو۔ تو میرے احسان ہی یاد کرو جو میں نے تم پر کئے دنیا میں عزت دی کہ ملک کا حاکم بنایا اور دین میں بھی تم کو سب کا پیشوا بنایا۔ خلاصہ یہ کہ میں نے سب جہان کے لوگوں پر تم کو بزرگی دی کیا احسان کا شکریہ یہی ہے جو کر رہے ہو۔ اب بھی باز آؤ اور اس دن سے ڈرو جس میں کوئی نفس کسی کے کچھ بھی کام نہ آئے گا۔ نہ اس کی تکلیف خود اٹھا سکے گا۔ اور نہ سفارش کر سکے گا اور اگر فرضاً کرے بھی تو اس کی سفارش بھی قبول نہ ہو گی اور اگر اپنی نیکیاں دے کر بھی دوسرے کو چھڑانا چاہے گا تو اس سے عوض بھی نہ لیا جائے گا۔ بلکہ جو کچھ دنیا میں اس نے کیا ہو گا اس کی پوری جز اسزا پاوے گا نہ اس میں کسی طرح کی تخفیف ہو گی اور نہ کمی اور نہ ان مجرموں کو کسی قسم کی مدد پہنچے گی اور وہ وقت بھی یاد کرو جب ہم نے تم کو فرعونیوں یعنی اس سے اور اس کی فوج سے چھڑایا تھا جو ہر طرح سے تم کو بڑے بڑے عذاب پہنچاتے تھے تمہارے لڑکوں کو جان سے مار ڈالتے اور لڑکیوں کو زندہ اپنی خدمت کرانے کو چھوڑتے۔ اس واقع میں اللہ کی طرف سے تم پر بڑا احسان ہے کہ ایسے ظالم کے پنجہ سے بچا کر اصل ملک میں تم کو پہنچا دیا اور راہ میں بھی تم پر ہر طرح سے احسان کئے جب تمہارے لئے ہم نے دریا کو پھاڑا پس تم کو ڈوبنے سے بچایا۔ اور تمہارے دشمن فرعونیوں کو تمہارے دیکھتے دیکھتے ہی اسی میں غرق کر دیا اور اس نجات بدنی کے بعد ہم نے تمہاری روحانی نجات کے اسباب بھی مہیا کئے کہ حضرت موسیٰ کی معرفت تم کو کتاب دی اور ہدایت کی اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا تھا کہ ہم تجھ کو چالیس دن بعد تورات دیں گے۔ وہ تو تمہاری خاطر کوہ طور پر کتاب لینے گیا۔ پھر تم نے اس کے پیچھے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا لگے اس کی منت منائیں۔ سچ پوچھو تو تم بڑے ظالم ہو کہ ایک بے جان کو تمام جہان کا مالک سمجھ بیٹھے اور نہ جانا کہ یہ تو ہمارے ہی ہاتھوں کا بنا ہوا ہے باوجود ایسے قصور کے پھر بھی ہم نے بعد اس کے تم کو معاف کیا تاکہ تم شکر گزار بنو اور احسان یاد کرو جب ہم نے تمہاری ہی بھلائی کے لئے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے ثبوت کے لئے بڑے بڑے معجزے بھی دئے تاکہ تم دین کی سیدھی راہ پاؤ۔ اسی کتاب کی برکت تھی کہ تم نے بعض موقع پر اپنی جان دینے سے بھی دریغ نہیں کیا۔

سر سید کی پانچویں غلطی :

(دریا کو پھاڑا) اس آیت میں اللہ سبحانہ بنی اسرائیل کو وہ نعمت یاد دلاتا ہے جو تمام دنیا کی نعمتوں سے بڑھ کر تھی یعنی ان کے دشمن فرعون کی ہلاکت اور ان کی نجات پھر وہ بھی ایسے طرز سے کہ قدرت اللہ کے نشانات بینہ ظاہر ہوں وہی پانی جس میں سے بنی اسرائیل باوجود بے سامانی کے بچ کر صاف نکل گئے اسی میں فرعون مع اپنے جرار لشکر کے باوجود سامان کثیر کے ڈوبا اس پر (کہ بنی اسرائیل کی خاطر اللہ نے دریا پھاڑا تھا۔ جس میں سے وہ بسلامت چلے گئے اور فرعون اسی میں ڈبویا گیا) قرآن کریم اور تورات دونوں متفق ہیں مگر سرسید احمد خاں بہادر نے اس میں بھی بہادری دکھائی کہ سرے سے منکر ہی ہو بیٹھے کہ قرآن کریم سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت موسیٰ کی خاطر دریا پٹھا تھا۔ بلکہ یہ تو ہمارے علما نے اپنی عادت قدیمہ کے موافق یہودیوں سے ایسی روایتیں لے کر قرآن کی تفسیر میں جڑی ہیں۔ حالانکہ نہ کوئی دریا پٹھا اور نہ کوئی خلاف عادت معجزہ ظہور میں آیا تھا۔ بلکہ اس دریا کی سمندر کی طرح عادت ہی تھی کہ مدو جزر چڑھنا اترنا آناً فاناً اس میں ہوا کرتا تھا۔ پس رات کو جب موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کے سمیت وہاں سے گزرے تھے اس وقت خشک تھا اور جب فرعون گزرنے لگا تو اتفاقاً چڑھ گیا (جلد اوّل صفحہ ۹۹) چونکہ اصل وجہ انکار سید صاحب کی اس واقعہ سے یہ ہے کہ یہ واقعہ خرق عادت ہے اس لئے ہم سب باتوں سے پہلے خرق عادت کے امکان یا محال ہونے پر گفتگو کرتے ہیں تاکہ سید صاحب کی بناء فاسد علی الفاسد خوب واضح ہو جائے۔ خرق یا خلاف عادت پر سپر نیچرل اس کو کہتے ہیں جو قوانین مروجہ کے خلاف ہو جیسے پانی کا نیچے کی طرف کو جانا ایک قانون مروج ہے اگر پانی اوپر کی طرف کو جائے یا باوجود نیچے جگہ ہونے کے ٹھیر جائے تو خلاف عادت کہا جائے گا یا مثلاً آگ کا کام جلانا ہے اگر بلا مانع ظاہری نہ جلائے تو خرق عادت ہو گا۔ بحث اس میں ہے کہ یہی مروجہ قوانین قدرتی قانون ہیں یا ان کے سوا اور بھی ہیں ؟ کچھ شک نہیں کہ اللہ کے جتنے کام ہیں سب اپنے اپنے اسباب سے وابستہ ہیں۔ مگر ان سب قوانین پر کوئی فرد بشر مطلع نہیں ہو سکتا۔ مثلاً پیدائش کے متعلق اس کا قانون ہے کہ بکری کا بچہ مثلاً چار ٹانگ اور دو سینگ اور دو آنکھوں والا ہوتا ہے۔ مگر باوجود اس کے لکھنؤ کے عجائب خانہ میں بکری کے بچہ کی شبیہ ایسی ملتی ہے جس کی ایک ہی آنکھ ماتھے پر ہے اور بس۔ تو کیا یہ خلاف قانون ہے ؟ نہیں اس کے لئے بھی ضرور کوئی قانون ہو گا۔ مگر ہمیں اس کی اطلاع نہیں۔ ٹھیک اسی طرح ایسے امور جو حضرات انبیاء علیہم السلام سے بطور معجزہ کے ظاہر ہوتے ہیں ان کے لئے بھی مخفی اسباب ہوتے ہیں ان اسباب میں سے نبوت یا رسالت کا مجہول الکیف تعلق بھی ایک سبب ہے جس کی کیفیت ہماری سمجھ سے بالا ہے مگر ہے۔ حقیقت میں تو وہ اپنے ہی اسباب سے ظاہر ہوتے ہیں لیکن چونکہ ان اسباب پر عامہ مخلوق کو اطلاع نہیں ہوئی بلکہ عوام کے نزدیک جو ان افعال کے اسباب ہیں ان کے خلاف یہ امور ہوتے ہیں اس لئے ان کو خرق عادت یا سپر نیچرل کہا جاتا ہے ورنہ حقیقت میں سپر نیچرل نہیں ہوتے۔ بلکہ عین نیچرل ہوتے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ دنیا کے معمولی قانون مروج کے خلاف بھی ہونا کوئی محال امر نہیں۔ اسی کا نام معجزہ ہے کہ ایک امر خلاف قانون مروجہ مگر ممکن بالذات کا وقوع بلا اسباب مدعی نبوت سے وقوع پذیر ہو۔ ایسے امر ممکن بالذات کی اگر کوئی مخبر صادق خبر دے تو اس کے تسلیم کرنے میں چونو چرا کرنا فضول ہے۔ پس بعد اس تمہید کے ہم یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ یہ معجزہ عبور موسیٰ کا جو ایک امر ممکن ہے واقع بھی ہوا ہے یا نہیں اور اس کے واقع ہونے کو قرآن کریم نے بیان کیا ہے یا نہیں اور توریٰت میں بھی جو اس زمانہ کے واقعات کی مخبر ہے جس کو سید صاحب بھی غیر محرف مانتے ہیں اس امر کا ثبوت ہے یا نہیں۔ پس سنئے ! پہلی آیت سورۃ بقرہ میں ہے جس کے الفاظ شریفہ یہ ہیں وَاِذ فَرَقنَا بِکُمُ البَحرَ فَاَنجَینٰکُم وَاَغرَقنَآ اٰلَ فِرعَونَ وَ اَنتُم تَنظُرُونَ۔ اس آیت کا سیاق ہی بتا رہا ہے کہ نبی اسرائیل پر کسی بڑے احسان کا جتلانا منظور ہے جب ہی تو فرما دیا کہ ہم نے تمہارے لئے دریا کو پھاڑا اور تمہیں بچایا اور تمہارے دشمن کو تمہارے دیکھتے دیکھتے غرق کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کچھ ایسے طور سے ہوا ہو گا جسے احسان بھی کہہ سکیں۔ افسوس کہ سید صاحب اس سیاق کلام سے غافل ہو کر کہتے ہیں کہ :۔

” اس آیت میں کوئی ایسا لفظ نہیں جس سے دریا کے جدا ہو جانے یا پھٹ جانے کو خلاف قانون قدرت قرار دیا جا سکے ” صفحہ ۷۶

حالانکہ یہ بات صریح لفظوں میں ہے کہ تمہارے لئے ہم نے دریا کو پھاڑا اور تمہیں نجات دی۔ اور تمہارے دشمن فرعون کو اس میں غرق کیا اور اس کے سباق سے احسان جتلانا مفہوم ہے مگر اس بلاوجہ انکار کا علاج کیا۔ بھلا صاحب یہ لفظ نہ سہی جس سے خلاف قانون قدرت پھٹنا معلوم ہو۔ لیکن اتنا تو معلوم ہوتا ہے کہ اس فعل سے غرض بنی اسرائیل کی نجات اور فرعون کی ہلاکت تھی پس اس سے بھی آپ کے جوار بھاٹ کو کسی قدر صدمہ پہنچے گا۔ کیونکہ جوار بھاٹ کی نسبت جو ہمیشہ سے ہوتا آیا تھا ایسا فرمانا کہ ہم نے تمہارے لئے کیا اور اس کرنے سے تمہاری نجات علت غائی تھی بالکل بے معنے ہے اور بنی اسرائیل پر کوئی احسان نہیں۔ دوسری آیت سورۃ شعرا میں ہے۔ اَوحَینَآ اِلیٰ مُوسٰٓی اَنِ اضرِب بِعَصَاکَ البَحرَ فَانفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرقٍ کَالطَّودِ العَظِیمِ اس آیت میں صاف ارشاد ہے کہ ہم نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ تو اپنی لکڑی دریار پر مار پس وہ اس کے مارنے سے ایسا پھٹ گیا کہ اس کا ایک ایک ٹکڑا بڑے بڑے ڈھیر کی طرح ہو گیا۔ باوجودیکہ یہ آیت نہایت ہی اپنے معنے (دریا کے پھٹنے ) میں صاف تھی مگر سید صاحب نے اس کو بھی ٹیڑھی گھیر بنانا چاہا چنانچہ فرماتے ہیں کہ

” اس آیت میں ضرب کے معنے زدن کے نہیں بلکہ رفتن کے ہیں اور البحر پر فی محذوف ہے پس صاف معنے یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو کہا کہ اپنی لاٹھی کے سہارے سے سمندر میں چل۔ وہ پھٹا ہوا یا کھلا ہوا ہے یعنی پایاب ہو رہا ہے ” (صفحہ ۸۸ جلد اوّل)

یہ توجیہ سید صاحب کی دیکھ کر مجھے ایک حکایت زمانہ طالب علمی کی یاد آئی جس سے یہ ثابت ہو گا کہ ایسے حذف محذوف نکالنا بالکل اس کے مشابہ ہے کہ ملا آں باشد کہ چپ نشود۔ جن دونوں میں ” فیض عام” کانپور میں پڑھتا تھا ایک طالب علم سے جو میرے ساتھ صدرا وغیرہ میں شریک تھے میں بھولے سے پوچھ بیٹھا کہ اِنَّہٗ تَعَالیٰ جَدُّ رَبِّنَا کے کیا معنے ہیں وہ بولے کہ بڑا ہے دادا ہمارے رب کا۔ میں نے کہا باپ ہی نہیں۔ تو دادا کہاں ؟ فرمانے لگے کہ بڑے کے معنے ہیں بہت بلندی پر یعنی معدوم اور یہ دلیل انی ہے کہ باپ ہی نہیں۔ آخر کار میں خاموش ہو گیا۔ اسی طرح سید صاحب کی عادت شریفہ ہے کہ کیسی ہی صریح عبارت دکھلاؤ۔ خواہ مخواہ اسے ٹیڑھی بنائیں گے۔ بھلا صاحب ! کسی شعر عرب کا بھی حوالہ دیا؟ یا کسی مستند شخص کے قول سے استشہاد بھی کیا؟ اگر فرما دیں کہ حروف جارہ کا حذف جائز ہے تو گذارش ہے کہ ہمیشہ نہیں ورنہ فرمایا کہ صلی فی المسجد سے فی کو حذف کر کے صلی المسجد کہنا بھی جائز ہے یا دعالہ سے جارہ کو محذوف کر کے دعاہ کہنا۔ پھر اس سے وہی معنے سمجھنا جو دعالہ کا مفہوم ہیں درست ہے ؟ اصل یہ ہے کہ آپ چونکہ ہمیشہ سے بے دلیل کہنے کے عادی ہیں۔ اس لئے ایسی باتیں آپ سے کچھ بعید نہیں جنتی چاہیں کہے جائیں مثل مشہور ہے جہاں سو وہاں ایک پر سو۔ ہاں ایک دلیل آپ کی قابل ذکر ہے جہاں فرمایا کہ :۔

” فی کے حذف ہونے کا قرینہ یہ ہے کہ اسی قصہ کو سورۃ طہٰ میں فاضرِب لَھُم طَرِیقًا فِی البَحرِ یَبَسًا فرما پس ایک جگہ لفظ فی مذکور ہے تو یہی قرینہ باقی مقامات میں اس کے محذوف ہونے کا ہے۔ ”

پھر کہا کہ :۔

” شاہ ولی اللہ صاحب نے اس آیت کا یہ ترجمہ کیا ہے ” پس برو برائے ایشاں درراہ خشک” یعنی شاہ صاحب نے ضرب کے معنے زون کے نہیں لئے رفتن کے لئے ہیں۔ ” (جلد اوّل صفحہ ۹۸)

میں کہتا ہوں اس دلیل سے سرسید کا مطلب ثابت نہیں ہوتا اس لئے کہ یہ کوئی قاعدہ نہیں کہ ایک جگہ اگر حرف جر مذکور ہو تو دوسری جگہ بھی اسی کو قرینہ بنا کر محذوف مانا جائے۔ یہ جب ہے کہ طریق بیان اور مطلب ایک ہو۔ الا اگر مطلب بدل جائے تو کلا (ہرگز نہیں ) مثلاً ایک جگہ دعاہ ہے دوسری جگہ دعالہ ہو تو یہاں حرف جر کا مذکور ہونا پہلے میں اثر نہ کرے گا۔ اسی طرح اَنِ اضرِب بِعَصَاکَ البَحرَ میں راستہ بنانے کا بیان ہے اور فاضرِب لھُم طَرِیقًا فِی البَحرِ میں اس راہ چلنے کا حکم ہے چانچہ شاہ صاحب کا ترجمہ ہی اس کا محاکم بناتا ہوں جس سے یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ آپ نے جو ترجمہ نقل کیا ہے وہ غلط ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں ” بس بساز برائے ایشاں راہ خشک در دریا” دیکھو حمائل مطبوعہ انصاری دہلی اور ایک نسخے میں تو بالکل ہی آپ کے دعویٰ کی تردید ہے۔ کہ شاہ صاحب نے ضرب کے معنے رفتن کے کئے ہیں ” بزن برائے ایشاں ” دیکھو حمائل مطبوعہ ہاشمی میرٹھ۔ ہاں ہم انصاف سے کہتے ہیں کہ آپ کا منقولہ ترجمہ بھی ایک قرآن مطبوعہ فاروقی دہلی میں ہے۔ لیکن دو نسخے اس سے مخالف ہیں اس مخالفت کا فیصلہ اگر کثرت نسخ کے اعتبار سے آپ منظور کریں تو ہمیں مفید ہے ورنہ اذا تعارضا تساقطا تو نتیجہ لازمی ہے پس آپ کا دونوں آیتوں کے ملانے سے ضرب کے معنے دونوں جگہ چلنے کے لینا اور فی کو محذوف ماننا ہرگز صحیح نہیں دونوں آیتیں اپنا اپنا مطلب ادا کرنے میں بالکل واضح ہیں اَنِ اضرِب والی آیت کے صاف معنے یہ ہیں کہ دریا کو اپنی لکڑی سے مار تاکہ وہ راہ بن جائے اور فاضرِب لھُم طَرِیقًا کے معنے ” بنا ان کے لئے دریا میں خشک راستہ” ہیں۔ پس کچھ ضرور نہیں کہ ضرب کے معنے دونوں جگہ چلنے کے لئے جاویں یا ایک جگہ لینے سے دوسری جگہ لینے ضرور ہو جائیں۔ ہر ایک آیت اپنے اپنے معنے بتلانے میں جدا گانہ ہے پھر آپ نے جو فانفلق کی توجیہ میں تحریر یا تحریف فرمائی ہے انصاف سے کہیں وہ اس قابل ہے کہ عالم کی زبان سے نکلے۔ چونکہ آپ کی اس موقع کی ساری در افشانی اہل علم کے ملاحظہ کے قابل ہے اس لئے میں اسے من وعن نقل کرتا ہوں (قولہ) ” انفلق ماضی کا صیغہ ہے اور عربی زبان کا یہ قاعدہ ہے۔ کہ جب ماضی جزا میں واقع ہوتی ہے تو اس کی دو حالتیں ہوتی ہیں۔ اگرچہ ماضی اپنے معنے پر نہیں رہتی بلکہ شرط کی معلول ہوتی ہے۔ تو اس وقت اس پر ” ف” نہیں لاتے اور جب کہ وہ اپنے مضمون پر باقی رہتی ہے اور جزا کی معلول نہیں ہوتی۔ تب اس پر ” ف” لاتے ہیں۔ جیسے کہ اس مثال میں ان اکرمتنی فاکر متک امس یعنی اگر تعظیم کرے گا تو میری تو میں تیری تعظیم کر چکا ہوں۔ اس مثال میں جزا (یعنی گزشتہ کل میں تعظیم کا کرنا) شرط کا معلول نہیں ہے کیونکہ وہ اس سے پہلے ہی ہو چکی تھی۔ اسی طرح اس آیت میں سمندر کا پھٹ جانا یا زمین کا کھل جانا ضرب کا معلول نہیں ہے۔ کیونکہ وہ اس سے پہلے ہی ہو چکی تھی۔ اسی طرح اس آیت میں سمندر کا پھٹ جانا یا زمین کا کھل جانا، ضرب کا معلول نہیں ” (جلد اوّل صفحہ ۸۲)

سید صاحب کیا فرماتے ہیں۔ کہاں شرط اور جزاء کا مسئلہ اور کہاں یہ صورت اور آپ کی کہاں مثال۔ سچ ہے ؎

بنے کیونکر کہ ہے سب کار الٹا

ہم الٹے بات الٹی یار الٹا

بقول شیعہ اہل بیت معصوم تھے مگر آج تو آپ نے ان کی خوب ہی تغلیط کی۔ اوّل ! تو یہ قاعدہ ہی غلط ہے کہ ماضی اپنے معنوں میں رہ کر جزا واقع ہو سکتی ہے۔ بلکہ وہ دلیل بر جزا ہوتی ہے جزا نہیں۔ آپ کوئی مثال ایسی نہ بتلا سکیں گے جس میں ماضی اپنے معنوں میں رہ کر جزا واقع ہوتی ہو۔ پس آپ کا مثال میں ان اکرمتنی فاکرمتک امس پیش کرنا بھی غلط ٹھیرا۔ اس لئے کہ اس مثال میں بھی فاکرمتک امس جزا نہیں بلکہ دلیل بر جزا ہے جیسا کہ متنبی کے اس شعر میں ؎

ان تفق الانام وانت منھم

فان المسک بعض دم الغزالٖ

یا آیت کریمہ اِن یَّسرِق فَقَد سَرَقَ اَخٌ لَّہٗ ہاں ان معنوں سے صحیح ہو سکتی ہے جو ہم نے حاشیہ پر لکھے ہیں۔ مگر ان کو یہاں علاقہ ہی نہیں۔ سید صاحب اس طرح کے ہاتھ پاؤں مارنے سے بجز اس کے کہ اہل علم میں ہنسی ہو کچھ فائدہ نہیں۔ عالموں سے

غلطی بھی ممکن ہے مگر عالم کا فرض ہے کہ کہتے ہوئے اپنی تقریر کو مخالفانہ نظر سے دیکھے۔ ورنہ محبت تو ایسی بلا ہے کہ اپنا کانا بیٹا بھی سنوانکھا دکھاتی ہے۔ ہاں ایک توجیہ آپ کی عبارت کی ہو سکتی ہے شاید آپ نے اپنے جی میں وہی رکھی ہو جو (بقول نواب محسن الملک مرحوم) اللہ کو بھی نہ سوجھی ہو۔ کہ تقدیر کلام یوں ہے اَنِ اضرِب بِعَصَاکَ البَحرَان ضَرَبتَ نَجَوتَ فَانفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرقٍ کَالطَّودِ العَظِیمِ۔ یعنی (بقول آپ کے ) ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہا کہ دریا میں اپنی لکڑی کے سہارے چل۔ اگر چلے گا تو بچ جائے گا اس لئے کہ وہ دریا کھلا ہوا اور پایاب ہے پس اس صورت میں فانفلق اگرچہ جزا نہیں۔ مگر دلیل بر جزا جسے مجازاً جزا کہیں تو ہو سکتا ہے۔ سو اگر یہی آپ کی مراد ہے تو شاباش میرے نام ہے جس نے آپ کے مدعا کو جو در بطن قائل کا مصداق تھا ظاہر کیا۔ مگر اس پر بھی گذارش ہے کہ اوّل یہ بتلا دیں کہ اگر اتنی بڑی عبارت کا حذف جائز رکھا جائے اور ہر جگہ اس ٹوٹے پھوٹے ہتھیار کو پیش کیا جائے تو کوئی مسئلہ بھی قرآن کریم کا ثابت ہو سکتا ہے ؟ ہر ایک جگہ یہی قاعدہ جاری ہو گا۔ کہ یہ حذف ہے وہ حذف ہے۔ حتی کہ مطلب ہی حذف ہے۔ دوم یہ کہ سیاق کلام کے بھی مخالف ہے کیونکہ سیاق سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کلام بطور نتیجہ کے ہم کو سنایا جاتا ہے اسی لئے آگے کے جملوں کو اس پر عطف کرتے گئے ہیں چنانچہ فرماتے ہیں فَکَانَ کُلُّ فِرقٍ کَالطَّودِ العَظِیمِ وَاَزلَفنَا ثَمَّ الاٰخَرِینَ وَاَنجَینَا مُوسیٰ وَمَن مَّعَہٗٓ اَجمَعِینَ ثُمَّ اَغرَقنَا الاٰخَرِینَ اور سب سے اخیر کیا ہی مختصر نتیجہ نکالا ہے۔ اِنَّ فِی ذَلٰکِ لَایَٰۃً وَّمَا کَانَ اَکثَرھُم مُّؤمِنِینَ یعنی موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کے بچانے اور فرعون کے غرق کرنے میں بڑی نشانی ہے۔ کہ اللہ کی قدرت کاملہ اور تصرف فی الامور کا پورا ثبوت ملتا ہے۔ لیکن بہت سے لوگ (مثل سید صاحب کے ) اسے نہیں مانتے پس جب یہ کلام بطور نتیجہ کے ہمیں سنایا جاتا ہے تو فانفلق سے لے کر اخیر تک حضرت موسیٰ کو خطاب نہیں اور کسی طرح نہیں ہو سکتا۔ تیسری آیت سورۃ طہٰ کی ہے اَوحَینَآ اِلیٰ مُوسٰٓی اَن اَسرِ بِعِبَادِی فَاضرِب لھُم طَرِیقًا فِی البَحرِ یَبَسًا یعنی موسیٰ کو ہم نے پیغام بھیجا کہ تو ہمارے بندوں کو رات ہی سے لے چل پھر ان کے لئے دریا میں راستہ خشک بنا۔ یہ آیت بھی جتلا رہی ہے کہ اس دریا سے عبور کرنے میں حضرت موسیٰ کے فعل کو بھی دخل ہے۔ ورنہ حضرت موسیٰ کو کیوں حکم ہوتا کہ تو ان کے لئے خشک راستہ بنا۔ غضب یہ کہ اس آیت کو سید صاحب اپنے دعوے اَنِ اضرِب بِعَصَاکَ البَحرَ میں حذف فی کا قرینہ بتاتے ہیں جس کا جواب ہم پہلے دے آئے ہیں۔ پس بعد اللُّتیا والّٰتِی ہم اس دعویٰ پر کہ حضرت موسیٰ کا عبور خرق عادت تھا جو قرآن کی صریح الفاظ سے ثابت ہوتا ہے توریٰت سے بھی جسے سید صاحب غیر محرف لفظی مانتے ہیں۔ شہادت پیش کرتے ہیں تاکہ سید صاحب کہ حسب عادت قدیمہ کوئی عذر نہ رہے کہ کتب سابقہ میں اس کا ذکر نہیں اس لئے قابل تاویل ہے۔ توریٰت کی دوسری کتاب سفر خروج ۱۴ باب ۱۹ آیت سے اخیر تک مذکور ہے۔

” اللہ کا فرشتہ جو اسرائیلی لشکر کے آگے چلا جاتا تھا پھرا اور ان کی پشت پر آ رہا اور بدلی کا وہ ستون ان کے سامنے سے گیا اور ان کی پشت پر جا ٹھہرا اور مصریوں اسرائیلی لشکر کے بیچ میں آیا اور وہ ایک اندھیری بدلی ہو گئی پر رات کو روشن ہوئی سو تمام رات ایک لشکر دوسرے کے نزدیک نہ آیا۔ پھر موسیٰ نے دریا پر ہاتھ بڑھایا۔ اور اللہ نے بہ سبب بڑی پوربی آندھی کے تمام رات میں دریا کو چلایا اور دریا کو سکھایا اور پانی کو دو حصہ کیا۔ اور بنی اسرائیل دریا کے بیچ میں سے سوکھی زمین پر ہوکے گذر گئے۔ اور پانی کے ان کے دہنے اور بائیں دیوار تھی اور مصریوں نے پیچھا کیا اور ان کا پیچھا کئے ہوئے وسے اور فرعون کے سب گھوڑے اور اس کی گھوڑیاں اور اس کے سوار دریا کے بیچو بیچ تک آئے اور یوں ہوا کہ اللہ نے پچھلے پہر اس آگ اور بدلی کے ستون میں سے مصریوں میں سے مصریوں کے لشکر پر نظر کی اور مصریوں کی فوج کو گھیرا دیا اور ان کی گاڑیوں کے پہیوں کو نکال ڈالا ایسا کہ مشکل سے چلتی تھیں چنانچہ مصریوں نے کہا آؤ اسرائیلیوں کے منہ پر سے بھاگے جائیں۔ کیونکہ اللہ ان کے لئے مصریوں سے جنگ کرتا ہے۔ اور اللہ نے موسیٰ سے کہا کہ اپنا ہاتھ دریا پر بڑھا تاکہ مصریوں اور ان کی گاڑیوں پر اور ان کے سواروں پر پھر آوے اور موسیٰ نے اپنا ہاتھ دریا پر بڑھایا اور دریا صبح ہوتے اپنی قوت اصلی پر لوٹا اور مصری اس کے آگے بھاگے اور اللہ اور اللہ نے مصریوں کو دریا میں ہلاک کیا اور پانی پھرا اور گاڑیوں اور سواروں اور فرعون کے سب لشکر کو جو ان کے پیچھے دریا کے پیچ آئے تھے چھپا لیا اور ایک بھی ان میں سے باقی نہ چھوٹا۔ پر بنی اسرائیل خشک زمین پر دریا کے بیچ میں چلے گئے اور پانی کی ان کے دہنے بائیں دیوار تھی سو اللہ نے اس دن اسرائیلیوں کو مصریوں کے ہاتھ سے یوں بچایا اور اسرائیلیوں نے مصریوں کی لاشیں دریا کے کنارے پر دیکھیں اور اسرائیلیوں نے بڑی قدرت جو اللہ نے مصریوں پر ظاہر کی دیکھی اور لوگ اللہ سے ڈرے تب اللہ اور اس کے بندے موسیٰ پر ایمان لائے۔ ”

پس ثابت ہوا کہ اس واقعہ (عبور موسیٰ) کے خرق عادت ہونے کے بیان میں قرآن کریم سے توریٰت نے نہ صرف اجمالی اتفاق کیا ہے بلکہ اس طرح کہ اس کی کیفیت مفصل بیان کی ہے۔ پھر نہیں معلوم سر سید کو باوجود توریٰت کو غیر محرف ماننے کے کون سا امر باعث ہے کہ ان دونوں کتابوں (قرآن اور توریٰت) کے ظاہری اور صریحی الفاظ سے مخالفت کر رہے ہیں۔ ہاں میں بھولا۔ دوامر ان کو باعث ہیں۔ ایک تو وہی پرانی لکیر کا پیٹنا یعنی سپر نیچرل (خلاف قانون قدرت) نہیں ہو سکتا۔ جس کا مفصل جواب گذر چکا۔ دوسرا مانع ایک نقلی امر ہے جس کو آپ بطلیموس سے نقل کرتے ہیں چنانچہ لکھتے ہیں :۔

” معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں جب بنی اسرائیل نے عبور کیا تھا بحر احمر ایسا تھا قہار سمندر نہ تھا۔ جیسا کہ اب ہے گو اس زمانہ کا صحیح جغرافیہ ہم کو نہ ملے مگر بہت پرانا جغرافیہ جو بطلیموس نے بنایا تھا مع اس کے نقش جات کے جو بطلیموس کے جغرافیہ کے مطابق بنائے گئے ہیں خوش قسمتی سے ہمارے پاس موجود ہے اور اس میں بحر احمر کا بھی نقشہ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بطلیموس کے زمانہ تک بحر احمر میں تیس چھوٹے بڑے جزیرے موجود تھے اور یہ صاف دلیل اس بات کی ہے کہ اس زمانہ میں بحر احمر ایسا قہار سمندر نہ تھا جیسا کہ اب ہے یا جیسا کہ ہمارے علماء اسلام بارہ سو برس سے اس کو دیکھتے آئے ہیں بحر احمر کی اس حالت پر خیال کرنے سے بالکل یقین ہو جاتا ہے کہ وہ مقام جہاں سے بنی اسرائیل اترے بلاشبہ جوار بھاٹ کے سبب سے رات کو پایاب اور دن کو عمیق ہو جاتا ہو گا۔ الیٰ ان قال مؤرخین کے قول کے بموجب بنی اسرائیل سن عیسوی سے دو ہزار پانسو تیرہ برس قبل بحر احمر کی شاخ سے اترے تھے اور بطلیموس جس نے جغرافیہ لکھا ہے جس کو کلاڈس ٹانی کہتے ہیں سنہ عیسوی کی دوسری صدی میں تھا۔ پس بنی اسرائیل کے عبور کرنے کے دو ہزار سات سو برس تک وہ جزیرے موجود تھے۔ یہ بطلیموس یونانی تھا مگر مصر میں رہتا تھا اور اس لئے بحر احمر کا حال جو اس نے لکھا ہے زیادہ اعتبار کے لائق ہے (جلد اوّل صفحہ ۱۰۰)

مگر سید صاحب (وآلٔہ) انصاف تو کریں کہ یہ ہتھیار ٹوٹا پھوٹا آپ کا کہاں تک کام دے سکتا ہے۔ آپ کی اس دلیل کو دیکھ کر مجھے محدثین (رض) کی دور اندیشی کی تصدیق ہوئی کہ اخیر عمر کے محدث کی روایت قابل حجت نہیں۔ یا تو آپ جانتے ہیں کہ مقابل میں بقول آپ کے کوڑ مغز ملآیان مساجد ہیں کہ ان کو کچھ بھی سمجھ نہیں۔ کہاں میرے کلام پر غور کریں گے اور کہاں حسن قبیح سے واقف ہوں گے یا یہ خیال سمایا ہے کہ آخر بے خبروں سے ملک خالی نہیں بلکہ قریباً دوتہائی ایسے ہی ہیں بالخصوص مذہبی باتوں سے تو بالکل ناواقف۔ بھلا یہ تو فرما دیں اگر تاریخی واقعات پر پچھلے لوگ آپ کے کمالات اور قومی خدمات کو معلوم کرنا چاہیں گے تو منشی ! سراج الدین احمد اڈیٹر سرمور گزٹ کی تحریر (جو آپ کے حالات دیکھنے والے ہیں ) ان کے نزدیک زیادہ معتبر ہو گی یا ان مورخوں کی جو تین ہزار برس بعد قریب قیامت ہوں گے ؟ حاشا وکلا۔ یہی وجہ ہے کہ سلطان محمود غزنوی رضی”” اللہ عنہ وارضاہ کے حالات دریافت کرنے کو تاریخ یمینی سب سے زیادہ قابل اعتبار ہے جو واقعات کو بچشم خود دیکھتا یا دیکھنے والوں سے سنتا رہا۔ پس یہ قاعدہ ہمیشہ صحیح ہے اور ہونا چاہیے کیونکہ لیس الخبر کالمعائنۃ۔ تو پھر تمام تاریخ سے وہ تاریخ جو حضرت موسیٰ کے دیکھنے والوں نے لکھی ہو گی یعنی توریٰت کیوں معتبر نہ ہوتی۔ خاص کر آپ تو ضرور ہی مانیں گے کیونکہ جناب والا اس کی نسبت تحریف لفظی کے قائل نہیں۔ پس انصاف سے سید صاحب و آلہ بتلا دیں اور سچ بتلا دیں اپنے نانا کے لحاظ ہی سے بتلا دیں کہ توریٰت کی عبارت مذکورہ بالا کیا بتلا رہی ہے مجھے تعجب ہے سرسید کی تحقیقات پر کہ اس موقع پر انہوں نے توریٰت کا نام تک نہیں لیا گویا کسی مسجد کے امام صاحب بن گئے۔ کہ توریٰت انجیل کا پڑھنا پڑھانا بلکہ دیکھنا بھی حرام سمجھا۔ حالانکہ مطلب کے لئے توریٰت کو پیش نظر رکھ کر آیات قرآنی میں بھی تاویل یا تحریف کر دیا کرتے ہیں۔ کیوں نہ ہو

وَ اِذَا تَکُونُ کَرِیھَۃٌ اُدعیٰ لھَا

وَ اِذَا یُحَاسُ الخَیسُ یُدعیٰ جُندَبٗ

اے صاحب ! ہم اس کو بھی تسلیم کئے لیتے ہیں کہ بطلیموس نے بھی ٹھیک لکھا۔ مگر اس سے یہ کیونکر ثابت ہوا کہ بنی اسرائیل کے لئے دریا نہیں پھٹا تھا۔ اوّل تو اس میں دریا کے جوار بھاٹ ہونے کا کوئی ذکر نہیں اور میں کہتا ہوں۔ اگر صریح لفظوں میں بھی بطلیموس لکھ جاتا کہ میرے دیکھتے ہوئے اس دریا میں جوار بھاٹ ہوتا رہا۔ تو بھی ہمیں مضر نہ تھا۔ اس لئے کہ تناقض کے نئے وحدت زمانہ کی بھی علماء منطق نے شرط لگائی ہے یہ نہیں کہ ایک شخص خبر دے کہ زید صبح کے وقت مسجد میں تھا۔ اور دوسرا بتلاوے کہ شام کو بازار میں تھا۔ تو ان دونوں میں کسی قسم کا تناقض یا تدافع ہو۔ پس ممکن ہے کہ بطلیموس کے زمانہ میں جو قریباً تین ہزار برس بعد میں ہوا بحر احمر میں جوار بھاٹ بقواعد علم جو الجی ہو گیا بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ کسی تاریخ سے بفرض محال اگر یہ بھی ثابت ہو کہ زمانہ عبور بنی اسرائیل میں جوار بھاٹ تھا۔ تو بھی ہمارے دعویٰ کو مضر نہیں۔ ممکن ہے کہ ہو مگر جب بنی اسرائیل گذرے ہوں تو خاص ان کی خاطر اللہ نے بہتے ہوئے دریا کو بند کر دیا ہو۔ چنانچہ وَاِذ فَرَقنَابِکُمُ البَحرَ فَکَانَ کُلُّ فِرقٍ کَالطَّودِ العَظِیمِ بتلا رہا ہے اور توریٰت کی عبارت مذکورہ اس کی مشرح کیفیت بتلا رہی ہے۔ میں حیران ہوں کہ سید صاحب کس بناء پر قرآن کریم کو الہامی کتاب مان کر ایسی تاویلات رکیکہ اور اعذار بار وہ کیا کرتے ہیں۔ اس پر بھی طرہّ یہ کہ علماء کا لقب خشک ملا۔ کوڑ مغز۔ شہوت پرست آپ نے تجویز کر رکھے ہیں۔

کئے لاکھوں ستم اس پیار میں بھی آپ نے ہم پر

اللہ ناخواستہ گر خشمگیں ہوتے تو کیا کرتے

رہا آپ کا یہ اعتراض کہ ” اگر یہ واقعہ خلاف قانون قدرت ہوا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ سمندر کے پانی کو ہی ایسا سخت کر دیتا کہ مثال زمین کے اس پر سے چلے جاتے ” (جلد اوّل صفحہ ۷۱) اس کا جواب آپ نے خود ہی صفحہ ۱۹۲ پر دے کر اس تکلیف سے ہمیں سبکدوش فرمایا جزاک اللّٰہ خیر الجزاء۔ جہاں پر آپ نے سمت قبلہ کے اختیار کرنے اور دوسری جانب کو چھوڑنے کی ترجیح بلا مرجح کے سوال کو اٹھانے کو فرمایا ہے کہ :۔

” یہ شبہ بطور ایک شبہ عاتمہ الورود کے ہو گا جسے تمام عقلا لغو اور بیہودہ سمجھتے ہیں کیونکہ اگر بالفرض دو مساوی چیزوں میں سے ایک کے ترک اور ایک کے اختیار کرنے کی کوئی وجہ نہ ہو تو جو شبہ اس پر وارد ہوتا ہے وہی اس وقت بھی وارد ہو گا جب کہ مختار کو ترک اور متروک کو اختیار کیا جائے ” (جلد اوّل صفحہ ۱۹۲)

پس اسی طرح کی یہاں صورت ہے آپ بتلا دیں آپ کے سوال کا نام وہی عقلاء کیا تجویز کریں گے۔ غالباً وہی لقب دیں گے جو آپ نے ایسے شبہ کے لئے تجویز فرمایا یعنی لغو اور بہ۔ علاوہ اس کے ہم اس شبہ کی لغویت اور طرح بھی ثابت کرتے ہیں کہ اگر اسی پانی کو ایسا سخت کیا جاتا تو آپ جیسے منکرین معجزات کو ایک قسم کی گنجائش مل جاتی کہ وہ پانی حسب نیچر سردی کی وجہ سے سخت ہو گیا ہو گا جیسا عموماً پہاڑوں میں ہوتا ہے کوئی سپر نیچرل (خرق عادت) معجزہ نہیں پس اسی بھید سے علام الغیوب اللہ تعالیٰ نے اس شق کو متروک اور اس کو اختیار کیا۔ فالحمدُللّٰہ علیٰ ذٰلک (منہ)

 

(54۔ 59)

 

جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بھائیو ! تم نے بچھڑے کو معبود بنانے کی وجہ سے اپنے پر ظلم کیا۔ اس کا علاج سوائے توبہ کے نہیں پس تم اپنے خالق کی طرف دل سے جھک جاؤاور آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو۔ جو بچھڑا پوجنے میں شریک نہیں ہوئے وہ شریک ہونے والوں کو ماریں۔ یہ کشت وخون گو بظاہر تم کو برا معلوم ہوتا ہے لیکن تمہارے خالق کے ہاں یہی بہتر ہے پس تمہارے جھکنے کی ہی دیر تھی کہ اس مولانے بھی تم پر رحم کیا۔ اس لئے کہ وہ تو بڑا ہی رحم کرنے والا نہایت مہربان ہے باوجود اتنی مہربانیوں کے بھی تم باز نہ آئے اور ہمارے رسول موسیٰ کے ساتھ گستاخی اور بے ادبی ہی سے پیش آتے رہے۔ چنانچہ وہ واقعہ بھی تمہیں یاد ہے کہ جب تم نے کہا تھا کہ اے موسیٰ ! ہم تجھے ہرگز نہیں مانیں گے۔ جب تک کہ اللہ کو سامنے اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں پس تمہاری اس گستاخی کا بدلا تم کو یہ ملا کہ اسی وقت بجلی نے تمہارے دیکھتے ہی تم کو پکڑ لیا اور ہلاک کر ڈالا۔ پھر موسیٰ نے دعا کی کہ اے اللہ میری قوم کے لوگ مجھ کو ملامت کریں گے تو اپنی مہربانی سے انہیں زندہ کر دے۔ پھر ہم نے بعد تمہاری موت کے تم کو زندہ کیا۔ تاکہ تم اس نعمت کا شکر کرو اگر اسی موت سے مرے رہتے تو بسبب گناہ سابق کے سخت عذاب میں مبتلا ہوتے۔ اب جو تم کو زندہ کیا تو اس سے توبہ کی گنجائش تم کو ملی پس اس نعمت کا شکر تم پر واجب ہوا۔ مگر تم ایسے کہاں تھے کہ شکر گذار بنتے۔ اگر ایسے ہوتے تو اس نعمت کا شکر کرتے۔ جب ہم نے جنگل بیابان میں تم پر بادلوں کا سایہ کیا اور موسم برسات میں بارشیں کیں اور من سلویٰ بھی تم پر اتارا اور عام اجازت دی کہ ہماری نعمتیں کھاؤ جو ہم نے تم کو دی ہیں۔ آخر کار اس نعمت کی بھی ناشکری ہی تم سے ہوئی جس کا زوال بھی ان ناشکروں پر پڑا جسے انہوں نے بھگتا اور ہم پر اس ناشکری کی وجہ سے انہوں نے کوئی ظلم نہ کیا لیکن اپنا ہی نقصان کرتے تھے اور بھی سنو ! جب ہم نے کہا کہ اس بستی بیت المقدس میں چلے جاؤ۔ پھر اس شہر میں جہاں چاہو کھلم کھلا کھاتے پھرو۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ تکبر نہ کرو اور شہر کے دروازہ میں بعاجزی جھکتے ہوئے داخل ہونا۔ اور یہ بھی کہتے جانا۔ کہ ہماری گناہ کی معافی ہو۔

ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے نہ صرف معاف ہی کریں گے بلکہ جو لوگ توبہ ہی پر رہیں گے اور اعمال نیک کریں گے ان

نیکوکاروں پر مزید عنایت بھی ہم کریں گے۔ پھر بھی ہمارا حکم انہوں نے نہ مانا۔ بلکہ ظالموں نے بجائے اس کے جو ان کو حکم ہوا تھا کچھ اور ہی بدل دیا۔ اپنا ہی گیت گانے لگے بجائے حطّہ (معانی) کے حنطہ (گیہوں ) کہنے لگے پس اس نافرمانی کا بدلہ بھی ان کو یہ ملا کہ ان ظالموں پر ہم نے خاص کر ان کے فساد اور فسقو فجور کے سبب سے آسمان سے عذاب اتارا جس سے وہ سارے کے سارے ہلاک ہو گئے ہم نے تو ان پر ہر طرح سے بندہ نوازی کی تھی مگر ان کی طبیعتیں ہمیشہ فتنہ پردازی میں لگی رہیں۔

 

(60۔ 66)

 

اور سنو ! جب حضرت موسیٰ نے اپنی قوم بنی اسرائیل کے لئے ہم سے پانی مانگا اور ہم نے حکم دیا کہ پتھر کو اپنی لکڑی مار۔ جب اس نے ماری تو بہہ نکلے اس سے بارہ چشمے اتنے ہی اس کی قوم کے مختلف قبائل تھے۔ لہٰذا ہر ایک شخص نے یہ جان کر کہ ہماری جماعتوں کے برابر ان چشموں کا شمار ہے اپنا اپنا گھاٹ پہچان لیا۔ ہم نے بھی حکم دیا کہ کھاؤ پیو اللہ کے دیے ہوئے میں سے اور زمین پر فساد کرتے ہوئے نہ پھرو پھر اس نعمت کا بھی تم سے شکر نہ ہوا بلکہ الٹا کفران نعمت کیا پھر اسی پر بس نہیں اور سنو ! جب ہم نے تم پر میدان بیاباں میں من سلویٰ آسمان سے اتارا اور آرام سے تم کچھ مدت کھاتے رہے آخر کار بجائے شکریہ کے تم نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہا کہ ہم تو ہرگز ایک ہی قسم کے کھانے من سلویٰ پر صبر نہیں کریں گے پس ہمارے لئے اپنے رب سے دعا مانگ کہ وہ ہمارے لئے ایسی چیزیں پیدا کرے جو زمین سے نکلتی ہیں یعنی ساگ ککڑی گیہوں مسور اور پیاز وغیرہ تاکہ ہم اپنی ترکاریاں چٹ پٹی بنایا کریں اس کے جواب میں موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا تعجب ہے تمہارے حال پر کیا اچھی چیز من سلویٰ کے بدلہ میں ادنیٰ چیز مسور وغیرہ لینا چاہتے ہو۔ اگر تمہارا یہی شوق ہے تو کسی شہر میں جا بسو پس جو مانگتے ہو وہ تم کو وہاں ملے گا جب کہ انہوں نے خود ہی ان اشیاء کی درخواست کی تو اسی کے مناسب ان کی گت ہوئی اور ان پر ذلت اور محتاجی ڈالی گئی جیسے کہ عموماً دہقانوں پر ہوتی ہیں نہ صرف مفلسی اور تنگ دستی بلکہ بعد اس کے بھی انہوں نے بے فرمانی کر کے اللہ تعالیٰ کا غضب اپنے پر لیا یہ اس لئے کہ ہمیشہ اللہ کے احکام کو جھٹلاتے رہے یہاں تک اس میں دلیر ہوئے کہ احکام شرعیہ کی عموماً گستاخی کرتے اور اللہ کے نبیوں کو جو کہ بڑی بھاری اللہ تعالیٰ کی نشانی ہوتی ہے ناحق ظلم سے قتل کرتے تھے چنانچہ حضرت یحیٰے ( علیہ السلام) اور زکریاکو ناحق انہوں نے قتل کیا قاعدہ ہے کہ ابتدا میں انسان چھوٹے چھوٹے گناہ دلیری سے کرتا ہے آخر نوبت یہ ہوتی ہے کہ بڑوں سے بھی پرہیزی نہیں کرتا چنانچہ یہ قتل قتال نبیوں کا جو بنی اسرائیل نے کیا اس وجہ سے تھا کہ وہ پہلے ہی سے نافرمانی اور سرکشی کیا کرتے تھے آخر نوبت بآں جا رسید کہ انہوں نے اپنے دنیاوی منافع کے لئے اللہ کے رسولوں کو قتل کر ڈالا اے بنی اسرائیل جو کچھ تم نے اور تمہارے بزرگوں نے پہلے سے کیا سو کیا اب بھی اگر تم باز آ جاؤ گے تو ہم تمہیں معاف کر دیں گے کیونکہ ہمیں اس بات کا خیال نہیں کہ کوئی کون ہے اور کوئی کون بلکہ ہمارے ہاں تو ایمان اور اخلاص معتبر ہے اس لئے ہم اعلان عام دیتے ہیں کہ جو لوگ سرسری اور ظاہری طور پر اللہ اور رسول کو مانتے ہیں یا جو لوگ یہودی ہیں جو سچے رسول حضرت محمد رسول اللہﷺ سے سخت بے جا عداوت رکھتے ہیں یا عیسائی یا دہرئے بے دین جو ایسے عقل سے خالی ہیں کہ اپنا خالق کسی کو نہیں مانتے کوئی ہو جو کوئی ان میں سے اللہ کے حکموں کو دل سے مانے اور قیامت کے دن کا یقین کرے اور عمل بھی شریعت محمدیہ کے مطابق اچھے کرے پس ان لوگوں کی مزدوری بڑی ہی محفوظ ان کے مالک اللہ عالم کے پاس ہے۔ نہ ان کو زندگی میں اس کے ضائع ہونے کا خوف ہے اور نہ وہ بعد مرنے کے اس کے ضائع ہونے سے غمناک ہوں گے اس لئے کہ وہ ضائع ہی نہ ہوں گی مگر تم ایسے کہاں کہ چپکے سے مان لو تمہاری تو ابتدا سے انکار اور غرور کی عادت رہی اور سنو ! کہ جب ہم نے تم پر پہاڑ کو اونچا کر کے تم سے وعدہ لیا کہ توریت پر عمل کرنا اور حضرت موسیٰ کی زبانی تاکید بھی کی کہ جو تم کو ہم نے دیا اسے مضبوط پکڑے رہنا اور جو اس میں ہے اسے دل سے یاد کرنا اور اس امر کی امید رکھنا کہ شاید تم عذاب سے چھوٹ جاؤ مگر تم ایسے کہاں تھے کہ سیدھے رہتے پھر بھی اپنے عہدوپیمان سے تم پھر گئے جس کے سبب مورد عتاب ہوئے پھر اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو بے شک تم ٹوٹا پاتے کہ دین اور دنیا میں تم کو سخت ذلت پہنچتی کیا تمہیں کچھ اس میں شک ہے کہ جو لوگ ہمارے حکموں سے رو گردانی کرتے ہیں ان کو کیسی ذلت اور خواری پہنچتی ہے حالانکہ یقیناً تم ان شریر لوگوں کو جان چکے ہو جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے حکم میں زیا دتی کی جو ان کو حکم تھا کہ ہفتہ کے روز دنیاوی کام نہ کرنا انہوں نے اس کی پرواہ نہ کی کسی حیلہ بہانہ سے دنیاوی کام کرتے ہی رہے پس ہم نے ان کو حکم دیا کہ تم پھٹکارے ہوئے ہو بندر ہو جاؤ چنانچہ وہ ہو گئے پس ہم نے کیا اس قصہ کو ہیبت ناک نظارہ اس کے سامنے دیکھنے والوں کے لئے اور اس سے پچھلوں کے لئے اور اللہ سے ڈرنے والوں کے حق میں نصیحت بنایا اس انکار اور سرکشی کی عادت تم میں نئی نہیں ہے بلکہ یہ بد خوئی تم میں ابتدا ہی سے چلی آتی ہے

 

سر سید کی چھٹی غلطی :

(پتھر کو اپنی لکڑی مار) اس آیت میں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ کے ایک معجزے کا بیان فرماتا ہے مطلب اس آیت کا تو صرف اتنا ہے کہ حضرت موسیٰ کے پانی مانگنے پر ہم نے ان کو پتھر پر لکڑی مارنے کا حکم دیا جب اس نے پتھر کو لکڑی سے مارا تو اس میں سے بارہ چشمے حسب تعداد قبائل بنی اسرائیل جاری ہو گئے۔ یہ واقعہ بعینہ توریٰت میں بھی اسی طرح مذکور ہے۔ توریٰت کی دوسری کتاب سفر خروج ۱۷ باب اوّل آیت میں یوں ہے۔

” تب ساری بنی اسرائیل کی جماعت نے اپنے سفروں میں اللہ کے فرمان کے مطابق سین کے بیابان سے کوچ کیا اور فیدم میں ڈیرا کیا۔ وہاں لوگوں کے پینے کو پانی نہ تھا۔ سو لوگ موسیٰ سے جھگڑنے لگے اور کہا ہم کو پانی دے کہ پیویں۔ موسیٰ نے انہیں کہا تم مجھ سے کیوں جھگڑتے ہو۔ اور اللہ کا کیوں امتحان کرتے ہو۔ اور وہی لوگ وہاں پانی کے پیاسے تھے سو لوگ موسیٰ پر جھنجھلائے اور کہا کہ تو مصر سے کیوں ہمیں نکال لایا کہ ہمیں اور ہمارے لڑکوں اور ہمارے مواشی کو پیاس سے ہلاک کرے۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے فریاد کر کے کہا کہ میں ان لوگوں سے کیا کروں وہ ہی سب تو ابھی مجھے سنگسار کرنے کو تیار ہیں۔ اللہ نے موسیٰ کو فرمایا کہ لوگوں کے آگے جا اور بنی اسرائیل کے بزرگوں کو اپنے ساتھ لے اور اپنا عصا جو تو دریا پر مارتا تھا اپنے ہاتھ میں لے اور جا دیکھ کہ میں وہاں حورب کی چٹان پر تیرے آگے کھڑا ہوں گا تو اس چٹان کو مار تو اس سے پانی نکلے گا تاکہ لوگ پیویں چنانچہ موسیٰ نے بنی اسرائیل کے بزرگوں کے سامنے یہی کہا اور اس نے اس لئے کہ بنی اسرائیل نے وہاں جھگڑا کیا تھا اور اس لئے کہ انہوں نے اللہ کو امتحان کیا تھا اور کہا تھا کہ اللہ ہمارے بیچ میں ہے کہ نہیں اس جگہ کا نام مسہ اور مریبہ رکھا (یعنی امتحان کی جگہ)۔

گو یہ واقع بھی سیدھے سادھے الفاظ سے قرآن کریم میں مذکور ہے اور توریٰت میں اس کا مفصل ذکر ہے مگر سرسید کو وہی پرانی سوجھی انہوں نے اس پر بھی ہاتھ صاف کرنا چاہا اور یہ در فشانی کی :۔

” حجر کے معنے پہاڑ کے ہیں۔ اور ضرب کے معنے رفتن کے۔ پس صاف معنے یہ ہوئے کہ اپنی لاٹھی کے سہارے سے پہاڑ پر چل۔ اس پہاڑ کے پرے ایک مقام ہے۔ وہاں بارہ چشمے پانی کے جاری تھے جن کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا فانفَجَرَت مِنہُ اثنَتَا عَشرَۃَ عَینًا یعنی اس سے پھوٹ نکلے ہیں بارہ چشمے (جلد اوّل صفحہ ۱۱۲)

کاش کہ اسی پہاڑ سے ہی کہہ دیا ہوتا کہ مِنہُ کی ضمیر مجرور اسی حجر کی طرف پھر جاتی ہیں۔ اس میں تو شک نہیں کہ جو کچھ مضمون سید صاحب تراش رہے ہیں۔ موجود الفاظ سے وہ معنے کسی طرح مفہوم نہیں ہوتے۔ رہا حذف حروف جارہ کا۔ سو جب تک موجودہ عبارت معنے بتلانے میں بے غبار ہے اور وہ معنے فی نفسہ صحیح اور ممکن اور منقولات سے مبرہن ہیں تب تک کسی قسم کا خذف بلا ضرورت جائز نہیں۔ اور اگر ایسے بلا ضرورت حروف جارہ کا حذف مانیں تو فرمائے کہ مَن شھَدَ مِنکُمُ الشّھَرَ فَلیَصُمہُ سے اگر کوئی حرف جار کو حذف سمجھ کر تقدیر کلام فَلیَصُم فِیہِ بتلائے جس سے سارے مہینے رمضان کے روزوں کی فرضیت غیر ضروری ہو۔ بلکہ چند روزے رکھنے سے مکلف عہدہ بر آ ہو سکے تو ایسے شخص کے جواب میں غالباً آپ بھی یہی کہیں گے کہ ایسے موقع پر جہاں کلام میں حذف کرنے سے موجودہ عبارت سے معنے ہی دگرگوں ہو جائیں حذف جائز نہیں اس لئے کہ حذف عبارت مثل مردار کے ہے۔ جب تک حلال (موجودہ عبارت) سے کام چل سکے تب تک حرام (حذف) کی طرف خیال کرنا گویا بلا ضرورت مردار خوری ہے۔ سو ہماری طرف سے بھی یہی جواب با ادب یا اس کے ہم معنے یا لازم معنی گذارش ہو گا۔ اصل یہ ہے کہ سید صاحب کو ایسے مواقع میں ہمیشہ وہی سپر نیچرل (خلاف قانون قدرت) کی مشکل در پیش آتی ہے جس کا جواب مفصل ہم اذفرقنا کے حاشیہ میں معروض کر آئے ہیں۔ گر قبول افتد زہے عز و شرف۔ علاوہ اس کے گذارش خاص یہ ہے کہ اتنا تو سرسید بھی مانتے ہیں کہ عناصر میں کون و فساد بھی ہونا نہ صرف ممکن بلکہ مشاہد ہے یعنی ہوا سے پانی اور پانی سے ہوا وغیرہ بنتا ہے پس ممکن ہے کہ اس پتھر میں بھی جس سے بنی اسرائیل کے لئے پانی نکلا تھا کچھ اس قسم کے مسامات دقیقہ ہوں جن میں ہوا کی درآمد برآمد ہوتی ہو۔ اور اس کے اندر پہنچ کر بہ سبب برودت کے پانی ہو کر بہہ جاتی۔ لیجئے صاحب آپ کا نیچرل بھی بحال رہا اور آیت کے معنے بھی آپ کی آفت سماوی سے محفوظ رہے۔ رہا یہ شبہ کہ اس میں زدن کو کیا دخل تھا جس کے مارنے کا حضرت موسیٰ کو حکم ہو رہا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم معجزے کی تعریف میں کہہ آئے ہیں کہ بغیر اسباب کے محض قدرت اللہ سے ہوتا ہے۔ گو کہ یہ ضروری ہے کہ اس کے اسباب بھی کچھ ہوں مگر چونکہ وہ ان اسباب سے جو عام طور پر بطور عادت اور نیچرل کے اس کے لئے سمجھے جایا کرتے ہیں۔ خالی ہوتا ہے اس لئے اس کو بلا اسباب ہی کہا کرتے ہیں۔ پس اسی طرح ضرب موسیٰ ( علیہ السلام) کو بھی گو حسب عادت اس میں دخل نہیں۔ لیکن ممکن ہے کہ ان اسباب خفیہ سے جن سے یہ بھی ایک خفی سبب ہی خلاف عادت اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ظہور فرمایا ہو۔

اخیر میں ہم سرسید کی کمال تحقیق کا ذکر کرنے کے بغیر بھی نہیں رہ سکتے۔ کہ انہوں نے اس موقع پر توریٰت کے اصل مقام مناسب کا نام تک نہیں لیا۔ اور جو لیا بھی تو ایسے ایک بے لگاؤ مقام کا کہ جس سے آیت کو کچھ بھی تعلق نہ تھا۔ مگر چونکہ اس میں بارہ چشموں کا مذکور تھا اس لئے غنیمت جان کر فوراً ذکر کر دیا۔ گو وہ واقعہ ایلیم کا ہے اور یہ رفیدیم کا سچ ہے ؎

کالے گورے پہ کچھ نہیں موقوف

دل کے لگنے کا ڈھنگ اور ہی ہے

(منہ)

 

(67۔ 71)

 

اور سنو ! جب حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے جب انہوں نے ایک بے گناہ آدمی کو قتل کر ڈالا تھا اور آپس میں ایک دوسرے پر بہتان لگائے جیسا کہ آگے آتا ہے تو اس کے فیصلے کے لئے کہا کہ اللہ تعالیٰ اس معاملہ میں تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم ایک گائے ذبح کرو تمہارے بزرگوں نے اس کی حکمت تو نہ سمجھی الٹے اعتراض کرنے لگے اور حضرت موسیٰ کے سامنے گستاخی سے بولے کہ اے موسیٰ کیا تو ہم سے مسخری کرتا ہے ؟ ہم تو ایک خون کا مقدمہ تیرے پاس لائے ہیں اور تو ہم کو گائے کا قصہ سناتا ہے سوال ازآسماں جواب ازریسماں کا معاملہ نہیں تو کیا ہے موسیٰ نے نہایت تہذیب کے ساتھ ان کو جواب میں کہا کہ ٹھٹھہ مسخری کرنا تو بازاری لوگوں اور جاہلوں کا کام ہے پناہ اللہ تعالیٰ کی اس سے کہ میں جاہل بنوں میں تو اللہ تعالیٰ کارسول ہوں اور اس کے احکام سناتاہوں موسیٰ کا یہ جواب سن کر ذراسرد پڑے مگر بیہودہ سوالات کی عادت نہ گئی آخر بولے کہ بہتر ہم آپ کا حکم مانتے ہیں لیکن اپنے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمیں صاف بتلا دے کہ وہ گائے کیسی ہے اور اس کی عمر کیا ہے موسیٰ نے کہا کہ اللہ فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ بوڑھی ہے نہ بہت چھوٹی بلکہ درمیانی عمر کی ہے اب سوال مت کرو جو کچھ تم کو حکم الٰہی ہوتا ہے وہی کرو مگر وہ اپنی عادت نہ بھولے کہنے لگے ایک دفعہ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہمیں بتلا دے کہ اس گائے کا رنگ کیسا ہے موسیٰ نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ گائے زرد رنگ کی ہے ایسا عمدہ ہے رنگ اس کا کہ دیکھنے والوں کو نہایت بھلی لگتی ہے اتنا سن سناکر بھی باز نہ آئے اور بولے کہ ایک دفعہ پھر اپنے رب سے دعا کیجئے کہ بتلا دے ہم کو کہ وہ گائے کیسی ہے وہ دودھ دینے والی ہے یا کام کرنے وا لی جیسا کہ بعض گائیں ہل جوتنے میں کام دیتی ہیں کیونکہ اس قسم کی گائیں ہمارے ہاں بہت ہیں اس لئے مختلف قسم کی گائیں ہم پر مشتبہ ہو رہی ہیں پورے طور سے معلوم نہیں ہوتا کہ اللہ کو کون سی گائے منظور ہے ہماری غرض اس سے تحقیق حق ہے انشاء اللہ آپ بتلا دیں گے تو ہم ضرور ہی پا جائیں گے۔

موسیٰ نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ گائے کام کرنے وا لی نہیں جو ہل چلا کر زمین کو پھاڑتی ہو نہ کسی کھیت کو پانی پلاتی ہے بلکہ وہ بے

عیب اور تندرست ہے کوئی داغ بھی اس میں نہیں یہ سب فضول جھگڑے کر کے بولے کہ صاحب ! اب آپ نے ٹھیک بات بتائی پس اللہ اللہ کر کے انہوں نے اس گائے کو ذبح کیا ان کے جھگڑے سننے والوں کو تعجب ہوتا تھا اور دیکھنے والوں کو امید نہ تھی کہ وہ کریں گے ۔

 

(72۔ 74)

 

اس آخرالزماں رسول سے بھی تمہارا انکار کوئی تعجب کی بات نہیں تم تو موسیٰ سے بھی در پردہ کبھی منکر ہو جایا کرتے تھے یاد کرو جب ایک نفس کو مار کر تم نے اس میں تنازع کیا کوئی کہتا تھا اس نے مارا کوئی کہتا اس نے تمہارا گمان تھا کہ اللہ تعالیٰ موسیٰ کو خبر نہ کرے گا مگر اللہ ایسے امور پر اپنے رسولوں کو ضرور مطلع کیا کرتا ہے اور جس امر کو تم چھپاتے تھے اللہ نے اس کو ظاہر کرنا تھا کیونکہ ظاہری قانون قدرت ہے کہ ظاہری اسباب سے کام ہوتے ہیں پس ہم نے حکم دیا کہ اس گائے مذبوحہ میں سے ایک ٹکڑا اس مردے سے لگاؤ انہوں نے اسی طرح حسب الحکم لگایا وہ مردہ زندہ ہو گیا مگر افسوس کہ تم نے ایسے نشان قدرت دیکھ کر بھی ایسی بد اعمالیاں اختیار کیں گویا روز جزا ہی بھول گئے اور جان لیا کہ مر کر اللہ کے سامنے نہیں جانا بلکہ زندہ ہی نہیں ہونا سو یاد رکھو ! بے شک اللہ تعالیٰ اسی طرح باسباب مؤثرہ مردوں کو زندہ کرے گا جس طرح کہ یہ تمہارا مردہ بظاہر بلا اسباب مگر در حقیقت با اسباب مؤثرہ زندہ کر کے دکھلا دیا اور پہلے زندہ کرنے کے تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھ جاؤ مگر تم ایسے کہاں تھے کہ اتنی بڑی نشانی دیکھ کر بھی ہمیشہ کے لیے مان لیتے بعد اس کے پھر تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ سختی میں مثل پتھروں کی ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت کہ پتھروں کی سختی تو طبعی ہے اور بعض پتھر ایسے بھی ہیں کہ ان میں سے نہریں جاری ہوتی ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ وہ کسی قدر پھٹ جاتے ہیں پھر بسبب پھٹنے کے ان میں سے تھوڑا تھوڑا پانی نکل آتا ہے۔ اور بعض پتھر ایسے ہیں کہ اللہ کے خوف سے گر جاتے ہیں مگر تم ایسے ہو کہ ان پتھروں سے بھی سخت دل اور بے پرواہ بن رہے ہو۔ یہ مت سمجھو کہ اس کی سزا تم کو نہ ہو گی۔ بے شک ہو گی۔ اس لئے کہ ظالموں کی سرکو بی سے خاموش رہنا غافلوں کا کام ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں ہے

کیا تم اے مسلمانو ! ان کی ایسی کاروائیاں دیکھتے اور سنتے ہو پھر امید بھی رکھتے ہو کہ تمہاری باتیں مان لیں گے حالانکہ علاوہ واقعات گزشتہ کے اب بھی ایک گروہ ان میں ایسا ہے جن پر دنیا کی محبت ایسی غالب ہے کہ باوجود اہل علم اور پادری ہونے کے تورات کو جسے کلام الٰہی بھی مانتے ہیں اٹھا کر نہیں دیکھتے اور اگر کوئی ان کو لا کر دکھا دے بھی تو کلام الٰہی کو سن کر۔ اپنے مطلب کی طرف پھیر لیتے ہیں۔ یہ نہیں کہ غلط فہمی سے ایسا کرتے ہیں بلکہ بعد سمجھنے کے دیدہ ودانستہ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں واقعی برا ہے۔

(کلام الٰہی) اس آیت میں اللہ یہودیوں کے فعل شنیع کا حال بیان کرتا ہے۔ اس آیت کے متعلق اس بحث سے قطع نظر کہ یہ تحریف لفظی ہے یا معنوی خاص طور پر ایک اشکال وارد ہوتا ہے۔ جس کی طرف کسی مفسر کی توجہ میری نظر سے نہیں گذری اور اس کے دفع کرنے کی طرف میں نے تفسرت میں اشارہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اس تحریف کے کرنے والوں کی تعیین میں مفسرین نے دو توجیہیں کی ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ لوگ وہ ہیں جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ کوہ طور پر کلام الٰہی سننے گئے تھے اور انہوں نے آ کر بنی اسرائیل سے جب بیان کیا تو سب کچھ کہہ کر اخیر میں اپنی طرف سے یہ بھی کہہ دیا کہ اللہ نے فرمایا تھا کہ یہ کام تم کیجئیو اگر تم میں طاقت ہو۔ اور اگر نہ ہو تو خیر دوسری توجیہہ یہ ہے کہ یہ لوگ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے عہد ہدایت مہد میں تھے انہیں دوسرے معنوں کی آئندہ آیت تائید کرتی ہے کیونکہ جو حال اگلی آیت میں بیان ہوا ہے وہ کسی طرح سے ان لوگوں پر صادق نہیں آ سکتا۔ جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ہمراہ تھے پس اس صورت میں یہ مشکل پیش آئے گی کہ تحریف کرنا خواہ لفظی ہو یا معنوں اس میں شک نہیں کہ علماء کا کام ہے اور کلام ہے اور کلام کا سن کر عمل کرنا جہلا کا کام۔ حالانکہ اس آیت میں فرمایا کہ سنتے ہیں اور تحریف کرتے ہیں جو ایک طرح سے متضادین کا جمع کرنا ہے بظاہر مناسب یوں تھا کہ پڑھتے ہیں اور تحریف کرتے ہیں اس اعتراض کی طرف میں نے تفسیر میں اشارہ کیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس فعل شنیع کے بیان کرنے میں ان کی ایک قسم کی اور شناخت بیان ہو رہی ہے۔ کہ یہ لوگ کتاب اللہ کو خود تو بشوق پڑھتے نہیں۔ ہاں اگر کوئی مقابل میں لا کہ پیش کرے اور اس کے متعلق کچھ سوال کرے تو سن کر اس کی تحریف کر دیتے ہیں۔ راقم کہتا ہے کہ ایسے افعال شنیعہ اور اطوار قبیحہ مسلمانوں میں بھی عام طور پر مروج ہو گئے ہیں۔ کتاب اللہ قرآن کریم چھوڑ کر نَبَذُوا کِتَاب اللّٰہِ وَرَائَ ظھُورھِم کے مصداق بن رہے ہیں۔ جھوٹی روایات اور قصص واہیات کے بیان کے محل۔ اب ہمارے ممبر ہیں قرآن مجید جو عین وعظ تھا اور وعظ ہی کے لئے اترا تھا اور اسے ہی حضور اقدس فداہ روحی ہمیشہ اپنے خطبوں میں پڑھ کر لوگوں کو وعظ نصیحت کیا کرتے تھے۔ اسی کی یہ حالت ہے کہ خطبوں میں بھی اس کو جگہ نہیں ملتی۔ وہ جگہ ہی مروج خطب مصنفہ نے جن میں بعض نظم اور بعض نثر ہیں۔ اپنے لئے مخصوص کر لی ہے۔ ہاں تبرکاً اگر کوئی آیت منہ سے نکل جائے تو اور بات ہے واحسرتا اس روز ہم کیا جواب دیں گے۔ جب ہم پر اس مضمون کی نالش ہو جائے گی۔ وَقَال الرَّسُولُ یَا رَبِّ اِنَّ قَومِی اتَّخَذُوا ھٰذَا القُراٰنَ مھَجُورًا۔ (رسول (علیہ السلام) بروز قیامت کہیں گے کہ اے میرے پروردگار ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا تھا) (منہ)

 

(76۔ 82)

 

یہ تو ان کی علمی کاروائی تھی اب عملی کیفیت بھی سنو ! ہر ایک کام میں اپنا مطلب مد نظر رکھتے ہیں اور جب کبھی مسلمانوں سے ملتے ہیں تو بوجہ اپنی دنیا داری کے ان سے بگاڑنا نہیں چاہتے بلکہ بطور دھوکہ دہی اور مطلب براری کے کہتے ہیں کہ ہم نے تمہارے دین کو مدت سے مانا ہوا ہے کہ سچی ہے اور واقعی اس نبی کی بابت پہلے ہی سے حضرت موسیٰ نے خبر دی ہوئی ہے اور جب ایک دوسرے سے اپنی مجالس میں ملتے ہیں تو بطور ملامت کے کہتے ہیں۔ کہ تم بھی عجیب احمق ہو۔ کیا ان مسلمانوں کو وہ راز بتاتے ہو۔ جو اللہ تعالیٰ نے خاص تم ہی کو بتلائے ہیں کیا ان مسلمانوں کو اس غرض سے بتلاتے ہو تاکہ وہ تم سے بعد مرنے کے اسی دلیل سے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھگڑا کریں۔ اگر یہی خیال ہے تو بڑے ہی نادان ہو۔ کیا تم سمجھتے نہیں ہو کہ اس کا ضرر کس پر ہو گا۔ افسوس ہے ان پر کیا یہ گمان کرتے ہیں کہ ان کے چھپانے سے چھپ جائے گا۔ اور نہیں جانتے کہ اللہ ان کی باتیں جو ظاہر کرتے ہیں اور جو چھپاتے ہیں سب جانتا ہے ایک گروہ کا تو یہ حال ہے جو سن چکے ہو۔ اور بعض ان میں سے ایسے ناواقف ہیں جو کتاب میں سے کچھ بھی نہیں جانتے ہاں اپنی بے جا امنگیں ضرور لئے ہوئے ہیں حالانکہ ان امنگوں کو درست ہونے کا بھی ان کو علم نہیں بلکہ یوں ہی اٹکلیں چلاتے ہیں اصل یہ ہے کہ اہل کتاب دو قسم پر ہیں۔ ایک تو عالم ہیں جن کو دعویٰ ہے کہ ہم اہل دانش اور اسرارالٰہی سے واقف ہیں۔ دوسرے عوام ہیں اہل علم عوام کا لانعام کو دھوکہ میں ڈالنے کی غرض سے اپنی ہاتھ کی لکھی ہوئی باتوں کو اللہ کی طرف لگاتے ہیں۔ پس افسوس ہے ان نام کے عالموں کو جو اپنے ہاتھ سے ایک منصوبہ لکھتے ہیں۔ پھر لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اس بناوٹ سے ان کی غرض کوئی ہدایت خلق اللہ نہیں حاشا وکلا بلکہ سارے حیلے حوالے اس لئے کرتے ہیں تاکہ اس کے عوض میں کسی قدر دنیا کا مال حاصل کریں دیکھو تو کیسا بڑا ظلم کرتے ہیں۔ پس افسوس ہے ان کے حال پر ان کے لکھنے کی وجہ سے اور افسوس ہے ان پر ان کی کمائی سے منجملہ ان کی دروغ گوئی کے یہ ہے کہ اپنے تئیں محبوب الٰہی ہونے کے مدعی ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم چاہے کچھ بھی کریں۔ ہم کو چند روز سے زیادہ آگ کا عذاب نہ ہو گا۔ نہایت سے نہایت چالیس روز تک اس لئے کہ ہمارے بزرگوں نے چالیس روز تک بچھڑے کی عبادت کی ہے۔ اے رسول تو ان سے کہ دے کہ تم نے کوئی اللہ سے اس امر کا اقرار لیا ہے کہ جو چاہو سو کیا کرو میں تمہیں کبھی بھی مواخذہ نہ کروں گا۔ اگر کوئی عہد لیا ہوا ہے تو بیشک قابل اعتماد ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے عہد کے خلاف نہیں کرے گا۔ مگر واقعی بات یہ ہے کہ اس امر کا اقرار ہی کوئی نہیں۔ تو کیا اللہ کی نسبت ایسی بے ہودہ باتیں کہتے ہو۔ جو خود بھی نہیں جانتے۔ ہاں سنو ! حق یہ ہے کہ جو شخص گناہ کرے اور اس درجہ اس کی بد اعمالیاں پہنچیں کہ اس کے ایمان کو بھی گھیر لین یعنی ہر قسم کے کفر و شرک وغیرہ میں مبتلا ہو۔ تو ایسے لوگ بے شک آگ میں جائیں گے نہ صرف چند روزہ بلکہ وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائیں گے اور موافق مرضی اس کی کے اچھے کام کریں ایسے لوگ بیشک جنت میں جائیں گے۔ نہ صرف جائیں گے بلکہ وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے تعجب کہ یہود کس منہ سے کہتے ہیں کہ ہم کو عذاب نہ ہو گا جو چاہیں ہم کئے جائیں۔

 

(83۔ 86)

 

کیا ان کو یاد نہیں کہ جب ہم نے بنی اسرائیل سے اس امر کا عہد لیا تھا کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ، قریبیوں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ احسان کرنا اور علاوہ اس کے سب لوگوں سے اچھی طرح بولنا نہ صرف دنیا سازوں کی طرح کہ کہیں کچھ اور کریں کچھ۔ بلکہ خود بھی عمل کرنا اور نماز پڑھنا اور زکوٰۃ مال کی دیا کرنا اس لئے کہ ان دو کے کرنے سے بدنی اور مالی دونوں عبادتیں پوری ہو جاتی ہیں مگر تم اپنی ہٹ سے باز نہ آئے پھر بعد اس عہد و پیمان کے بھی تم سب اس سے پھر گئے۔ مگر بہت تھوڑے سے تم میں سے ثابت قدم رہے پھر کیونکر ہو سکتا ہے کہ تھوڑے ہی روز تم کو عذاب ہو۔ حالانکہ اب بھی تم اللہ کے حکموں سے منہ پھیرے جاتے ہو۔ نہ صرف یہی عہد تم نے توڑا بلکہ کئی اس سے پہلے پیچھے اور بھی توڑے۔ اور سنو ! جب ہم نے تم سے یہ عہد لیا تھا کہ آپس میں خون ریزی نہ کرنا اور اپنے بھائی بندوں کو ان کے وطن سے نہ نکالنا پھر تم نے اقرار بھی کیا اور اب تک تم اس امر کے شاہد ہو۔ مگر ظاہر جو ہوا وہ صرف زبانی جمع خرچ تھا۔ پھر تم نے اے بنی اسرائیل کے لوگو ! سب حکموں کا خلاف کیا چنانچہ پہلے ہی حکم کو تم نے اس طرح سے پلٹا کہ اپنے بھائی بندوں کو قتل کرتے ہو اور دوسرے حکم کا خلاف یہ کیا کہ اپنے میں سے ایک جماعت کو ضعیف جان کر بجائے جگہ دینے کے ان کے گھروں سے بھی نکال دیتے ہو۔ پھر اسی پر بس نہیں بلکہ اور بھی جہاں تک ہو سکتا ہے کر گزرتے ہو۔ اور ان کو تکلیف پہنچانے میں ان کے دشمنوں کے گناہ اور ظلم میں مدد کرتے ہو۔ یہ نہیں سمجھتے ہو کہ یہ بیچارے آخری بھائی بند تو تمھارے ہیں جیسا کہ اس وقت سمجھتے ہو جب ان پر کوئی بیرونی دشمن غالب آتا ہے اور ذلیل کرتا ہے اس وقت تو ایسے مہربان بنتے ہو کہ اگر وہ تمہارے پاس دشمن کے ہاتھ قیدی ہو کر آویں تو بدلہ بھی دے کر ان کو چھڑا لیتے ہو۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ ان مظلوموں کا نکالنا بھی تو تم پر حرام ہے۔ اس کا خلاف کیوں ہمیشہ کرتے ہو۔ کیا آدھی کتاب کے حکموں کو مانتے ہو اور کچھ حصہ سے انکار کرتے ہو۔ پس جو کوئی تم میں سے یہ وطیرہ اختیار کرے اس کو دنیا میں خواری اور ذلت کے سوا کچھ بھی نصیب نہ ہو گا اور اسی پر بس نہیں بلکہ قیامت کے روز جو واقعی یوم الجزا ہے سخت عذاب میں پہنچائے جائیں گے۔ اس لیے کہ یہ بات بڑی مجرمانہ حرکت ہے۔ اور اللہ تمھارے کاموں سے کسی طرح بے خبر نہیں۔ ایسے شریروں کی سزا اس قدر کچھ زائد اور حد سے متجاوز نہیں۔ ان کا جرم بھی تو اعلیٰ درجہ کا ہے یہی تو ہیں جنہوں نے دنیا کو آخرت کے عوض میں لیا۔ محض دنیاوی فوائد کے لحاظ سے اپنی آخرت کا خیال نہیں کیا۔ پس ان کے جرم کے مناسب یہی سزا ہے کہ نہ تو ان سے عذاب تخفیف ہو گا اور نہ ان کو کسی سے مدد پہنچے گی۔

 

(87۔ 93)

 

بھلا اور قصہ بھی سن لو ! جس کے سننے کے بعد تم جان جاؤ گے کہ واقعی یہ لوگ اسی سزا کے لائق اور مستوجب ہیں ابتداء سے ہم نے ان پر ہر طرح کے احسان کئے۔ فرعون کی قید سے نکال کر ان کو حاکم بنایا۔ اور ان کی ہدائیت کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے کتاب بھی دی۔ مگر چونکہ طبیعت میں ان کی شرارت اور کجروی تھی۔ اس لئے حضرت موسیٰ کی زندگی ہی میں اس سے بھی الجھتے تھے بعد اس کے تو زیادہ ہی بگڑنے کا موقع تھا۔ اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ہم نے اس کے خلیفہ بنائے۔ اور اس کے پیچھے کئی رسول بھی بھیجے مگر ان لوگوں نے ایسے ظلم اور ستم ڈھائے کہ کسی کو قتل کیا اور کسی کو نکال دیا۔ سب سے اخیر ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو روشن معجزے دئیے اور اس کو جبرئیل کے ذریعے سے قوت بھی دی کہ اکثر اوقات مسیح کے ہم رکاب رہتا۔ لیکن انہوں نے کبھی کسی نبی کی کما حقہ تعظیم نہیں کی۔ بلکہ ہمیشہ معاملہ دگرگوں ہی کرتے رہے۔ کوئی ان سے یہ تو پوچھے کہ جب کبھی تمہارے پاس کوئی رسول ایسے حکم لایا جنہیں تمہارے دل نہیں چاہتے تھے۔ تو کیا تم نے ان کے ماننے سے واقعی انکار اور تکبر کیا تھا۔ ایک جماعت کو جھٹلا یا اور ایک کو قتل بھی کیا۔ اس کے جواب میں بڑی دلیری سے اقرار کرتے ہیں اور اپنے زعم باطل کے مطابق اس کی وجہ بتلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے اس لئے ان کو نہیں مانا تھا کہ ہمارے دل محفوظ ہیں ان کی جھوٹی باتیں وہاں تک رسائی نہ کر سکتی تھیں۔ دیکھو تو کیا عذر گناہ بدتر از گناہ کے مصداق ہیں۔ یہ عذر ان کا بالکل غلط ہے یہ ہرگز نہیں کہ وہ جھوٹی باتیں ان کو سناتے تھے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان کے کفر اور بے ایمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی ہے پس اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب یہ لوگ کسی سچی بات کو بھی بہت کم مانیں گے ان کی بے ایمانی اور طمع دنیاوی کا ثبوت بین سننا ہو تو اور سنو ! جب اللہ کی طرف سے ان کے پاس ایک کتاب بذریعہ محمد رسول اللہﷺ پہنچی جس کی سچائی کو خوب ہی پہچان چکے ہیں جو ذاتی سچائی کے علاوہ ان کے ساتھ والی کتاب کی اصلیت کو مانتی ہے۔ تو بوجہ محض دنیاوی اغراض کے اس سے ناکاری ہو گئے حالانکہ اس سے پہلے اسی کے وسیلہ سے اپنے مخالف کفار پر فتح یابی چاہا کرتے تھے آڑے وقت میں کہا کرتے تھے۔ خداوندا ! ہم تیرے دین کے خادم اور نبی آخر الزمان کے منتظر ہیں۔ پس تو ہم کو دشمنوں پر فتح دے۔ کیا اس سے یہی زیادہ دنیاداری کا ثبوت ہو گا پس اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ اللہ کی لعنت ہے ان جیسے کافروں پر جو دنیا کے عوض میں دین کو بیچ رہے ہیں۔ اگر غور کریں تو بری ہے وہ چیز جس کے عوض میں اپنی جانوں کو دے چکے ہو اور عذاب الٰہی کے مستحق ہو گئے۔ وہ بدکاری کہ جس کے سبب سے اپنے آپ کو مورد عذاب بنا چکے ہیں۔ یہ ہیں کہ اللہ کی اتاری ہوئی (کتاب) قرآن نہیں مانتے نہ بوجہ غلط فہمی کے بلکہ محض حسد سے اس بات کے کہ اللہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے کسی پر اتارے پس اسی وجہ سے تو غضب پر غضب اللہ کا انہوں نے لیا اور دنیا کے عذاب سے بڑھ کر ان کافروں کو قیامت میں نہائیت ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ عوام دنیا دار تو جو چاہیں سو بے پر کے اڑائیں۔ خواص بھی کسی طرح سے کم نہیں جو چاہتے ہیں سو کہہ دیتے ہیں اور جب کوئی بطور نصیحت ان سے کہے کہ اللہ کی اتاری ہوئی (کتاب) کو مان لو تمہاری نجات ہو جائے گی۔ تو اس کے جواب میں کیسی بے ڈھب بات کہتے ہیں۔ کہ ہم تو صاحب ! اسی کتاب کو مانیں گے جو ہماری طرف اتری ہوئی ہے یعنی تورات گویا اسی کتاب پر حصر ہے کہ اسی کو مانیں اور جو اس کے سوا ہے سب سے انکار ہی کریں گے۔ حالانکہ ہر امر کی تکذیب کے لئے دو باتیں ہوا کرتی ہیں یا تو وہ امر فی نفسہٖ پایۂ صداقت سے گراہو یا وہ کسی عقیدہ سابقہ مسلمہ کے خلاف ہو حالانکہ قرآن میں ان دونوں مواقع میں سے ایک بھی نہیں اپنے ثبوت میں وہ بالکل حق ہے دوسری وجہ بھی اس میں نہیں کہ ان کے کسی عقیدے کے خلاف ہو بلکہ ان کی ساتھ والی کتاب کی تصدیق کرتی ہے پھر کیا وجہ ہے کہ اس سے انکاری ہوئے جاتے ہیں۔ اور بار بار یہی منہ پر لاتے کہ ہم تو اپنی ہی کتاب کو مانیں گے۔ بھلا ان کا یہ عذر بھی نہ رہے بایں غرض کہ بدرا بدیایدرسانید تو اے رسول ان سے کہہ کہ اگر تم ایماندار ہو اور ہمیشہ سے تورات کو مانتے چلے آئے ہو تو پھر گذشتہ زمانے میں اللہ کے نبیوں کو کیوں قتل کرتے تھے۔ کیا تورات میں نبی کا قتل جائز ہے ؟ پس تمہارے ایسے ہی افعال شنیعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تم ہمیشہ سے دنیا کے طالب رہے نہ تم کو تورات سے غرض نہ حضرت موسیٰ سے مطلب۔ پس تمہارا قرآن مجید سے انکار کرنا اور اس انکار کی وجہ یہ بتلانا کہ ہم تورات ہی کو مانتے ہیں اس لئے قرآن کے ماننے کی ہمیں حاجت نہیں۔ بالکل غلط ہے بلکہ بہت سے نبی تورات ہی کی تکمیل کو آئے تم نے ان کو بھی قتل کر دیا۔ اگر یہ وجہ تمہاری معقول ہوتی تو ان کو کیوں مارتے ؟ اصل وجہ یہ ہے کہ تم ہمیشہ سے اپنی خواہشوں کے تابع رہے اور دین کی آڑ میں بے دینی کے کام کئے گئے۔ چنانچہ اسی کی ایک نظیر اور سنو ! جب تمہارے پاس حضرت موسیٰ اپنی نبوت کی صاف صاف دلیلیں یعنی معجزے لایا اور تم نے اسے تسلیم بھی کیا۔ اور اس نے تم کو انہی معجزات کے ذریعہ فرعون سے نجات دلائی۔ جنگل میں تمہیں چھوڑ کر حسب ارشاد اللہ کوہ طور پر تمہاری ہدایت کے لئے گیا۔ پھر تم نے اس کے پیچھے بچھڑے کو معبود بنا لیا اور اس کی پوجا شروع کر دی یہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہمیشہ سے تمہاری عادت ہی کجروی کی ہے اور نیز تم ظالم ہو۔ اور بھی کئی دفعہ تم نے ایسی ہی کجروی کی۔ سنو تو ! جب ہم نے تم سے بار بار سمجھانے کے بعد کوہ طور تم پر کھڑا کر کے عمل کرنے کا وعدہ لیا اور کہا کہ خوب مضبوط قوت سے اس کو پکڑو جو ہم نے تم کو دیا ہے اور جو کچھ ہم کہیں دل لگا کرسنو ! تو تمہارے باپ دادا بولے کہ صاحب ہم نے تو سن لیا اور جی میں ٹھان چکے کہ ہم کرنے کے نہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک تو طبیعت کی ان میں آزادی۔ اور دوسرے یہ کہ ان کے دلوں میں ان کے کفر کی شامت سے بچھڑے کی محبت رچ گئی تھی۔ تو کہہ دے اگر یہی ایمانداری ہے۔ تو تمہارا ایمان تم کو بری راہ بتلاتا ہے۔ اب بھی اگر تم ایسے ہی ایماندار ہو۔ تو براہ مہربانی اسے چھوڑ دو۔ اگر باوجود صریح الزام کے دعویٰ نجات ہی کئے جاویں۔ اور یہی کہے جاویں کہ قیامت کے دن ہم ہی نجات پاویں گے تو ایسے سینہ زوروں کو جو کسی دلیل کی طرف توجہ نہ کریں اور نہ اپنی ہٹ سے باز آویں۔

 

94۔ 96)

 

و اے نبی ! کہ کہ اگر سب لوگوں سے علیحدہ تمہارے ہی لئے اللہ کے ہاں نجات اخروی ہے اور کسی کو اس میں شرکت نہیں اور تم کو اس کے حاصل ہونے میں صرف موت کی دیر ہے مرتے ہی سرگباشی اور جنتی ہو جاؤ گے تو پس تم اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے موت مانگو۔ تاکہ مرتے ہی حقیقی عیش میں جا بسو اور ناحق تکلیف دنیاوی میں کیوں پھنس رہو۔ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو ضرور ایساہی کرو اگر آرزو موت کی نہ کریں تو ثابت ہو جائے گا کہ ان کو مذہب سے کوئی لگاؤ نہیں صرف اپنی خواہش نفسانی کے پیچھے چلتے ہیں۔ اور ہم ابھی سے کہے دیتے ہیں کہ اپنے کیے ہوئے بد اعمالی کہ وجہ سے جن کی سزاکا بھگتنا ان کو بھی یقینی ہے ہرگز کبھی موت کی خواہش نہ کریں گے باوجود اس بد اعمالی اور جسارت کے دعویٰ نجات کرنا کیسا ظلم ہے پھر کیوں نہ ان کو سزا ملے حالانکہ ان کے ظلم پر ظلم بڑھتے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو خوب جانتا ہے کوئی اس سے چھپا نہیں بھلا یہ موت مانگیں گے ؟ یہ تو ایسے حریص ہیں اگر تم تمام جہان بھی تلاش کرو تو سب لوگوں سے زیادہ زندگی کا خواہش مند انہی لوگوں کو پاؤ گے حتیٰ کہ مشرکوں سے بھی زیادہ ان کی خواہش کا اندازہ اسی سے کر لو ان میں ہر ایک یہی چاہتا ہے کہ ہزار برس کی عمر ملے حالانکہ عمر کی زیادتی ان کو کچھ بھی عذاب سے دور نہیں کر سکے گی۔

اس لئے کہ اللہ ان کے اعمال دیکھتا ہے جس قدر عمر دراز ہو کر سر کشی کریں گے سب کی سزا دے گا

(شان نزول : (تو کہہ دے ) یہودی کہا کرتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے پیارے بندے ہیں اور بزرگوں کی اولاد ہیں۔ ہمیں عذاب اخروی ہرگز نہ ہو گا۔ اگر ہم میں سے کسی کو بد اعمالی کی وجہ سے ہوا بھی تو صرف چند روز ہو گا۔ پھر ہم ہمیشہ کو نجات پاویں گے۔ اور کوئی سوائے ہمارے نجات نہ پاوے گا۔ ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی مگر انہوں نے موت کی خواہش نہیں کی۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ اگر یہ لوگ موت چاہتے تو اسی وقت اپنا ہی تھوک نگلنے سے مر جاتے۔ اور کوئی یہودی دنیا میں زندہ نہ رہتا۔ (معالم)

 

(97۔ 101)

 

بھلا یہ بھی کوئی دینداروں کی بات ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم تو قرآن کو اس لئے نہیں مانتے کہ اس کا لانے والا جبرئیل فرشتہ ہے اور اس سے ہماری ابتدا سے دشمنی ہے کیونکہ وہ ہم پر ہمیشہ طرح طرح کے عذاب لاتا رہا اس نے ہم سے کبھی خیر نہیں کی۔ اے رسول ! تو کہہ دے یاد رکھو جو کوئی ! جبرائیل سے دشمن ہو گا وہ سخت ٹوٹا پائے گا۔ اس لئے کہ وہ تو محض مامور ہے جو کچھ اسے حکم ہوتا ہے وہی کرتا ہے یہ قرآن مجید بھی اسی نے تیرے دل پر (اے محمدﷺ!) اللہ کے حکم سے نازل کیا ہے اگر اس میں کوئی ان یہودیوں کی برائی مذکور ہے تو اس کا قصور نہیں سو یہ وجہ تکذیب کی بیان کرنا بھی عبث ہے بلکہ اصل وجہ تکذیب کی جیسا کہ ہم پہلے بتلا آئے ہیں دوہی امر ہوا کرتے ہیں یا وہ کلام فی نفسہ کسی دلیل سے ثابت نہ ہو یا ثابت ہو یا ثابت ہو مگر کسی عقیدہ سابقہ مسلمہ کے خلاف ہوسو پہلے عذر کا جواب یہ ہے کہ یہ قرآن سچا بتلاتا ہے اپنے سامنے والی کتاب یعنی تورات کو اور فی نفسہ کامل اور سچی ہدایت ہے اور بڑی خوشخبری ہے اس کے ماننے والوں کو۔ اب بتلاؤ کہ مامور سے عداوت امر سے عداوت ہے یا نہیں۔ بھلا کوئی شخص کسی سپاہی سے جو حاکم کا حکم لے کر اس کے پاس آیا ہے۔ عداوت رکھے کہ یہ حکم کیوں لایا ہے تو ایسا شخص در اصل سپاہی سے عداوت نہیں رکھتا بلکی حاکم سے رکھتا ہے۔ ایسا ہی جبرئیل سے عداوت رکھنا گویا اللہ تعالیٰ سے بلکہ تمام اس کے مقربین ملائکہ سے عداوت ہے سو یاد رکھو جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے مقربین ملائکہ یا اس کے رسولوں سے یا جبرئیل یا میکائیل سے عداوت رکھے گا وہ اپنی بہتری نہ دیکھے گا اس لئے کہ اللہ ایسے بے ایمان کافروں کا خود دشمن ہے ایسا ہی معاملہ ان سے کرے گا اور ایسے عذاب میں پھنسائے گا جیسا کوئی دشمن کسی دشمن کو پھنسایا کرتا ہے جس سے کبھی رہائی نہ ہو گی بھلا یہ عذر ان کا کیسے مسموع ہو سکتا ہے حالانکہ ہم نے تیری طرف کھلی کھلی آیتیں اتاری ہیں جنہیں کسی طرح کا ایچ پیچ نہیں جن کو سب راست باز تسلیم کرتے ہیں اور بڑا بھاری ثبوت ان کی حقانیت کا یہ ہے کہ بدکار لوگ ہی ان سے انکاری ہوتے ہیں۔

کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بھی بڑے راستباز اور دیانت دار ہیں حالانکہ جب کبھی انہوں نے ہم سے کوئی عہد کیا کہ آئندہ ضرور تابعدار رہیں گے تو ایک فریق نے ضرور اسے ایسا چھوڑا کہ گویا پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا۔ پھر اسی پر بس نہیں کی بلکہ بہت سے ان میں سے مانتے ہی نہیں سرے سے دین مذہب سے منکر ہیں۔ اور ان کی بے ایمانی کا ثبوت سنو ! کہ جب ان کے پاس اللہ کے ہاں سے ایک رسول (محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) آیا۔ جس کی رسالت کو بقرائن شہادت کتاب خوب ہی پہچان چکے ہیں جو ان کے ساتھ والی کتاب کی توحید میں تصدیق کرتا ہے تو با ایں ہم ایک جماعت نے ان کتاب پانے والوں میں سے اس رسول کا انکار کر دیا اور کتاب اللہ تورات کو بھی اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا اور ایسے ہو گئے گویا کچھ بھی نہیں جانتے

(شان نزول :

(جو کوئی جبرئیل) ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے آنحضرتﷺ سے سوال کیا کہ آپ کے پاس کون فرشتہ قرآن لاتا ہے ؟ آپ نے فرمایا جبرئیل۔ وہ بولا جبرئیل تو ہمارا قدیم سے دشمن ہے اس کی ہماری تو کبھی بنی ہی نہیں۔ ہمیشہ ہم پر عذاب لاتا رہا۔ اگر میکائیل ہوتا تو ہم مان لیتے۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (معالم)

 

سر سید کی ساتویں غلطی :

(جو کوئی جبرئیل کا) اس آیت میں اللہ تعالیٰ جبرئیل کا ذکر فرماتا ہے اور اس کی ہستی جدا گانہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ یہ مسئلہ (کہ جبرئیل ایک فرشتہ ہے جو انبیاء پر اللہ تعالیٰ کا کلام لایا کرتا ہے ) تمام اہل الکتاب (یہود نصاریٰ اہل اسلام) میں متفق علیہ ہے۔ قرآن مجید میں اس کا کئی جگہ ذکر صریح آیا ہے اور احادیث نبویہ تو بھری پڑی ہیں مگر با ایں ہمہ سر سید احمد خاں نے حسب عادت قدیمہ باوجود دعوے اسلام کے اس سے بھی انکار کیا ہے۔ چنانچہ اپنی تفسیر کی جلد اوّل میں فرماتے ہیں :۔

” یہ جبرئیل ایک ملکہ فطرتی کا نام ہے جو انبیاء میں ابتداء فطرت سے ہوتا ہے وہی ملکہ اس کو بلاتا ہے وہی اس (نبی) میں نئے نئے خیالات پیدا کرتا ہے یا پیدا کرنے کا باعث ہوتا ہے جیسا کہ ایک لوہار کو اپنے فن آہنگری میں نئے نئے قسم کے خیالات سوجھتے ہیں یا جیسا کہ (معاذ اللہ) ایک دیوانہ کو نئے نئے جوش از خود اٹھتے ہیں حالانکہ اس کے پاس کوئی نہیں ہوتا۔ مگر وہ کسی کو اپنے پاس کھڑا سمجھ کر باتیں کیا کرتا ہے۔ اسی طرح (بقول سید صاحب) نبی اپنی نبوت کو نباہتا ہے اس کے پاس بھی سوائے اس ملکہ نبوت کے کوئی جبرئیل نہیں آتا۔ مگر وہ اس ملکہ کے ذریعہ سے سمجھتا ہے کہ میرے پاس کوئی کھڑا مجھ سے باتیں کر رہا ہے حالانکہ در اصل کوئی بھی اس سے باتیں نہیں کرتا۔ بلکہ اس کے دل سے فوارہ کی طرح وحی اٹھتی ہے اور اسی پر گرتی ہے جس کو وہ خود ہی الہام کہتا ہے (خلاصہ صفحہ ۲۹)

ناظرین! یہ ہے سرسید کی کمال تحقیق۔ جس پر بڑا فخر کرتے ہوئے علماء اسلام کو کوڑ مغز ملا شہوت پرست زاہد وغیرہ وغیرہ القاب بخشا کرتے ہیں جس کے جواب میں علماء کہا کرتے ہیں

بدم گفتیو خر سندم عفاک اللہ نکوگفنی

نہیں معلوم سید صاحب کو بے ثبوت کہنے کی کیوں عادت ہے بے دلیل بات اور بے ثبوت دعویٰ کرنے کے خو گیر کیوں تھے ؟ ہم اپنے ناظرین ہی سے نہیں بلکہ سید صاحب کے با اخلاص احباب سے بھی دریافت کرتے ہیں کہ آپ نے اس امر پر کوئی دلیل ایسی بھی بیان کی ہے جس سے ایسا بڑا اہم مسئلہ جس کے ماننے کی تعلیم تمام سلسلہ نبوت میں پائی جاتی ہے طے ہو جائے۔ ہاں میں بھول گیا۔ ایک دلیل بھی بزعم خود لائے ہیں جس کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔ فرماتے ہیں :۔ قولہٗ:۔

” اللہ نے بہت سی جگہ قرآن (مجید) میں جبرئیل کا نام لیا ہے مگر سورۃ بقر میں اس کی ماہیت بتا دی ہے جہاں فرمایا ہے کہ جبرئیل نے تیرے دل میں قرآن کو اللہ کے حکم سے ڈالا ہے۔ دل پر اتارنے والی یا دل میں ڈالنے والی چیز وہی ہوتی ہے جو خود انسان کی فطرت میں ہو نہ کوئی دوسری چیز جو فطرت سے خارج اور خود اس کی خلقت سے جس کے دل پر ڈالی گئی ہے جدا گانہ ہو” (جلد اوّل صفحہ ۳۰)

سید صاحب کے کیا کہنے ہیں یہ تو خیال فرما لیا ہوتا کہ ماہیت شئے کس کو کہتے ہیں ماہیت تو ذاتیات کو سنا تھا جن کا ذات سے تاخر محال ہے جیسے کہ انسان کی ماہیت حیوان ناطق (وغیرہ) کا تاخر انسان سے ممکن نہیں۔ پس اب میں پوچھتا ہوں کہ اگر تنزیل ماہیت جبرئیل ہے تو جب سے جبرئیل ہے تب سے ہی تنزیل ہو گی۔ حالانکہ تنزیل آنحضرتﷺ پر چالیس سال بعد شروع ہوئی اور جبرئیل تو بقول آپ کے ابتدائے پیدائش ہی سے ہوتا ہے چنانچہ آپ نے اس امر کی تصریح بھی کر دی ہے جو لکھتے ہیں :۔

” جس میں اخلاق انسانی کی تعلیمو تربیت کا ملکہ بمقتضائے اس کی فطرت کے اللہ تعالیٰ سے عنایت ہوتا ہے وہ پیغمبر کہلاتا ہے ” (صفحہ ۲۸)

پھر آگے چل کر تحریر فرماتے ہیں :

” جس طرح اور قویٰ انسانی بمناسبت اس کے اعضاء کے قوی ہوتے جاتے ہیں اسی طرح یہ ملکہ بھی قوی ہوتا جاتا ہے اور جب اپنی قوت پر پہنچ جاتا ہے تو اس سے وہ ظہور میں آتا ہے۔ جس کو عرف عام میں بعثت سے تعبیر کرتے ہیں ” (صفحہ ۲۹)

بتلا دیں ذات کا تقدم ذاتیات یا ماہیت سے ہوا یا نہیں فافھم فانہ دقیق خیر اس کو تو آپ ” شعر مرا بمدرسہ کہ برد” کا مصداق بتا دیں گے اور مولویانہ فضول جھگڑا بتاویں گے اس لئے ہم بھی اس سے درگذر کرتے ہیں لیکن یہ بات کہ دل پر اتارنے والی یا دل میں ڈالنے والی وہی چیز ہوتی ہے جو خود انسان کی فطرت میں ہو نہ کوئی دوسری چیز جو فطرت سے خارج ہو اور خود اس کی خلقت سے جس کے دل پر ڈالی گئی ہے جدا گانہ ہو جس سے آپ نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ :۔

” اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسی ملکہ نبوت کا جو اللہ تعالیٰ نے انبیاء میں پیدا کیا ہے جبرئیل نام ہے ” (صفحہ ۳۰)

ہرگز قابل پذیرائی نہیں اس لئے کہ دل میں ڈالنا یا دل پر کسی چیز کا اتارنا یہ محاورہ ہے اس کے ذہن نشین کرنے سے بھلا اور کسی کی شہادت اس بارے میں تو آپ کا ہے کوئی مانیں گے آپ ہی کے لخت جگر آنریبل سید محمود صاحب مرحوم (جو بفحوائے ابن الفقیہ نصف الفقیہ گویا کہ آپ ہی ہیں ) کا کلام پیش کرتا ہوں جو غالباً آپ کے ملاحظہ سے گذر کر تہذیب الاخلاق نمبر ۲ بابت ذی قعدہ ۱۳۱۱ ھ؁ صفحہ ۳۲ کلام ۲ میں چھپا ہے جو میرے اس دعویٰ کی کامل شہادت ہے وہو ہذا :۔

سید محمود کی شہادت :

” میں سلطان کے پاس جاتا ہوں۔ ٹھیر مت جا۔ میں ابھی اس کے حضور سے آتا ہوں۔ اور اس دل میں ایسی باتیں ڈال آیا ہوں جو غرناطہ کے بادشاہ کو زیبا ہیں ”

فرماویں اور سچ فرماویں کہ اس کا قائل کون تھا؟ کیا کوئی اہل زبان اس کے معنے یہ سمجھے گا کہ اس کلام کا قائل بادشاہ کے قویٰ ہیں۔ دور کیوں جائے گا اپنے صاحبزادے ہی سے ذرہ دریافت فرما لیں کہ انہوں نے کیا سمجھ کر اس کو لکھا تھا۔ یا اپنی کا نشنس (طبیعت) سے بانصاف استفسار کریں کہ آپ نے اس کلام سے بھی یہی معنے سمجھے تھے جو اس آیت سے بتلا رہے ہیں۔ حاشا وکلا ہرگز نہیں۔ سید صاحب ! یہی عرب کا محاورہ ہے اور اس میں کسی زبان کی کچھ خصوصیت بھی نہیں۔ سب زبانوں میں برابر یہی محاورہ بولا جاتا ہے۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ سب اہل زبان اس میں مجھ سے اتفاق رائے کریں گے۔ پس آپ کا جبرئیل اس آیت سے ثابت نہ ہوا کہ وہ انسانی قویٰ ہیں ہاں یہ ثابت ہو کہ جبرئیل بھی کوئی شخص ہے جو قرآن مجید آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فدا روحی کے ذہین نشین کیا کرتا تھا۔ پھر یہ دلیل آپ کی ہوئی یا آپ کے مخالف کی؟ سچ ہے ؎

دوست ہی دشمن جاں ہو گیا اپنا حافظ

نوش دارو نے کیا اثر سم پیدا

پھر آپ کا فرمانا کہ :

” یہی مطلب قرآن کی بہت سی آیتوں سے پایا جاتا ہے جیسا کہ سورۃ قیامہ میں فرمایا ہے کہ اِنَّ عَلَینَا جَمعَہٗ وَقُراٰنَہٗ۔ یعنی ہمارے ذمہ ہے وحی کو تیرے دل میں اکٹھا کرنے اور اس کے پڑھنے کا۔ فَاِذَا قَرَئ نَاہُ فَاتَّبِع قُراٰنَہٗ۔ پھر جب ہم اس کو پڑھ چکیں تو اس پڑھنے کی پیروی کر ثُمَّ اِنَّ عَلَینَا بَیَانَہٗ پھر ہمارا ذمہ ہے اس کا مطلب بتانا۔ ان آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور پیغمبر میں کوئی واسطہ نہیں خود اللہ تعالیٰ ہی پیغمبر کے دل میں وحی جمع کرتا ہے وہی پڑھتا ہے وہ مطلب بتاتا ہے اور یہ سب کام اسی فطری قوت نبوی کے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مثل دیگر قویٰ انسانی کے انبیاء میں بمقتضائے ان کی فطرت کے پیدا کی ہے اور وہی قوت ناموس اکبر ہے۔ اور وہی قوت جبرئیل پیغمبر” (جلد اوّل صفحہ ۳۰)

عجیب ہی رنگ دکھا رہا ہے۔ سید صاحب ! واسطہ کی نفی تو جب ہو گی کہ اس فطری قوت کا بھی انکار کیا جاوے جسے آپ تسلیم کرتے ہیں اس کے ہوتے ہوئے واسطہ کی نفی کرنا آپ جیسے داناؤں کی شان سے بعید ہے شاید کہ آپ فطری قوت نبوی میں اور جناب باری میں اتحاد محض کے قائل ہوں وھو کما تریٰ۔ سید صاحب انصاف فرمائے کہ آپ نے کس قدر اس آیت میں تصرفات کئے۔ اول تو آپ نے قرءنا میں نسبت حقیقی سمجھی پھر اسے بھول کر سب کو فعل فطری بنایا وھل ھٰذا لا تھافت قبیح وتناقض صریح۔ اگر آپ اس کی یہ توجیہ فرما دیں کہ قرئت حقیقتہً اس قوت فطری کا فعل ہے لیکن مجازاً اسی جناب باری سے نسبت کر سکتے ہیں اس لئے ہم کہتے ہیں کہ خود اللہ ہی پیغمبر کے دل میں وحی جمع کرتا ہے اور پڑھتا ہے اور مطلب بتاتا ہے اور یہ سب کام اسی فطری قوت کے ہیں ” تو آپ کا اور ہمارا چنداں اختلاف نہ رہے گا اس لئے کہ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ اس آیت میں نسبت مجازی ہے جیسی کہ یُجَادِلُنَا فِی قَومِ لُوطٍ میں ہے یعنی حقیقت میں تو قرئت فعل جبرئیل کا ہے مگر مجازاً جناب باری نے اپنی طرف منسوب کر کے فاذا قراء نا فرمایا ہے پس جب تک کہ آپ دلائل خارجیہ سے اس امر کا ثبوت نہ دیں کہ جبرئیل کا وجود مستقل یا یوں کہئے کہ بالمعنے المتعارف نہیں ہو سکتا اور اس سے مراد قویٰ فطری ہیں جو مثل دیگر قویٰ کے انبیاء میں ہوا کرتے ہیں تب تک آپ کی یہ توجیہیں تار عنکبوت سے بھی ضعیف سمجھی جائیں گی۔ ودونہ خرط القتاد۔ اسی طرح سورۃ والنجم کی آیت وَلَقَد رَاٰہُ نَزلَۃً اُخریٰ کی نسبت آپ کا فرمانا کہ

” یہ تمام مشاہدہ اگر انہیں ظاہری آنکھوں سے تھا تو وہ عکس خود اپنی دل کی تجلیات ربانی کا تھا جو بمقتضائے فطرت انسانیو فطرت نبوت دکھائی دیتا تھا۔ اور در اصل بجز ملکہ نبوت کے جس کو جبرئیل کہو یا اور کچھ۔ کچھ نہ تھا۔ (صفحہ ۳۰)

ہرگز قابل التفات نہیں جب تک کہ آپ اس کا ثبوت نہ دیں کہ جبرئیل کا وجود مستقل (جیسا کہ قرآن مجید کے ظاہری الفاظ سے ثابت ہوتا ہے اور تمام اہل ادیان (یہود نصاریٰ مسلمان اس کو تسلیم کرتے ہیں ) نہیں ہو سکتا سنا تھا کہ اہل علم قدیماًو حدیثاً اس سے پرہیز کرتے تھے۔ کہ کوئی بات ایسی منہ سے نہ نکالیں جس کی دلیل نہ ہو۔ مگر آپ نے اس شنید کی خوب ہی تکذیب کی۔ سچ ہے

ترا دیدۂ و یوسف را شنیدہ

شنیدہ کے بود مانند دیدہ

بلا سے کبھی آپ نے کوئی دلیل مثبت مدعا بیان کی ہو جس کا جواب دینا مقابل پر ضروری ہو بجز اس کے کہ دعویٰ کی دلیل دعوے ہوتا ہے۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ بہت سے لوگ بوجہ علوم شرعیہ سے ناواقفی اور آپ سے حسن ظن رکھنے کے آپ کی بے دلیل باتیں بھی قبول کر لیں گے۔ مگر اہل علم تو ایسی بے دلیل بات پر توجہ نہیں کیا کرتے۔ کیونکہ ان کے ہاں یہ اصول ہے

نگفتہ ندارو کسے باتو کار

ولیکن چوگفتی دلیلش بیار

(منہ)

مولانا عبدالحق صاحب مصنف تفسیر حقانی دہلوی نے اس ملکہ کا جواب یہ دیا ہے کہ اگر جبرئیل ملکہ نبوت کا نام تھا تو یہود کے جواب میں جو جبرئیل کو اپنا دشمن جانتے تھے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ جس جبرئیل (ملکۂ نبوت) کے ساتھ تمہاری عداوت ہے وہ تو اپنے نبی کے ساتھ چلا گیا۔ کیونکہ عوارض اپنے معروض سے ہوتے ہیں۔ یہ تو جبرئیل (ملکۂ نبوت محمدی) اور ہی ہے۔ لیکن میں نے اس لئے اس کو نقل نہ کیا کہ شاید سید صاحب ماہیت نوعیہ سے عداوت بتلا دیں۔ جو تغیر افراد سے بدلا نہیں کرتی۔ جیسی کرپانی اور آگ یا انسان اور سانپ میں۔ ۱۲ فافہم

 

(102)

 

اور پیچھے ہو لئے ہیں ان واہیات باتوں کے جو بدمعاش شیاطین سلیمان کے زمانہ میں پڑھتے اور رواج دیتے تھے جن میں کئی باتیں کفر کی بھی تھیں لیکن حق یہ ہے کہ سلیمان کے زمانہ میں ایسے واقعات ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ بھی اس میں شریک تھا حاشا وکلاسلیمان نے کبھی کفر نہیں کیا ہاں بدمعاش شیاطین یعنی ہاروت ماروت نے کفر کیا۔ اور کفر کی باتیں عوام میں پھیلاتے تھے اور لوگوں کو جادو کے کلمات واہیات سکھاتے تھے اور طرح طرح سے عوام کو ورغلاتے یہ بھی مشہور کرتے کہ یہ کلمات جادو گری کے آسمانی علم جبرئیل میکائیل دونوں فرشتوں پر شہر بابل میں اترا تھا حالانکہ نہ اتارا گیا تھا ان دو فرشتوں پر (شہر) بابل میں اور نہ کوئی آسمانی علم تھا بلکہ محض ان ہاروت ماروت کی چالبازی تھی اس سے غرض ان کی صرف وثوق جتلانا تھا جبھی تو ان کی یہ عادت تھی کہ زبانی جمع خرچ بہت کچھ کرتے اور کسی کو جادو نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ میاں ہم تو خود بڑے بدکردار بلا میں پھنسے ہوئے مبتلا ہیں پس تو بھی مثل ہمارے ایسی باتیں سیکھنے سے کافر مت ہو۔ اس کہنے سے ان کا جاہلوں میں اور بھی زیادہ رسوخ پیدا ہوتا اور عوام میں مشہور ہو جاتا کہ سائیں صاحب بڑے منکسر المزاج ہیں جیسا کہ فی زمانا دغا باز پیروں کا کام ہے پھر بھی لوگ ان سے متنفر نہ ہوتے بلکہ سیکھتے ان سے وہ کلمات جن کی وجہ سے خاوند بیوی میں جدائی ڈالتے اور اس کے عوض میں زانیوں سے کچھ کماتے اور اللہ کا غضب اپنے پر لیتے یہ مت سمجھو کہ ان کے منہ میں کوئی خوبی تھی یا قلم میں کوئی تاثیر تھی کہ جس کو چاہیں نقصان اور مضرت پہنچائیں بلکہ ان کے کلمات بھی مثل اور ادویہ کے تھے جب ہی تو کسی کو سوا اذن اللہ کے ضرر نہ دے سکتے تھے چونکہ قانون خداوندی جاری ہے کہ ہر فعل انسانی پر اس کے مناسب اثر پیدا کر دیتا ہے اگر کوئی سرد پانی پیتا ہے تو اسے ٹھنڈک بخشتا ہے زہر کھاتا ہے تو اس کی جان بھی ضائع ہو جاتی ہے اسی طرح ان کے جادو کا حال تھا کہ وہ ان کے حق میں مثل زہر کے مضر تھا لیکن وہ بہت خوشی سے اس کا استعمال کرتے اور اللہ تعالیٰ اپنی عادت جاریہ کے موافق اس پر آثار بھی ویسے ہی مرتب کر دیتا مگر وہ لوگ اس بھید کو نہ سمجھتے اور وہی چیز سیکھتے جو ان کو ہر طرح سے جسمانی اور روحانی ضرر دے اور کسی طرح سے نفع نہ بخشے تعجب ہے کہ یہ لوگ اس زمانہ کے مدعیان علم بھی ان کے پیچھے ہو لئے میں حالانکہ یقیناً جان چکے ہیں کہ جو شخص اس جادو کی واہیات باتوں کو لے گا۔ قیامت میں اس کے لئے بھلائی سے حصہ نہیں باوجود اس جاننے کے اس میں ایسے منہمک ہیں کہ اپنی جانوں تک بھی اس کے عوض میں دے کر عذاب کے مستوجب ہو رہے ہیں یاد رکھیں برا ہے وہ کام جس کے بدلہ میں اپنی جانوں کو عذاب میں دے چکے ہیں کاش یہ لوگ سمجھتے ہوں گو جانتے اور سمجھتے ہیں پر جاننے پر جب عمل ہی نہیں تو گویا جانتے ہی نہیں۔

اس آیت کی نسبت مفسرین نے عجیب عجیب قصے بھرے ہیں۔ کچھ تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی نسبت اور کچھ ہاروت ماروت کے متعلق۔ کسی نے ہاروت ماروت کو فرشتہ بنایا اور نبی آدم ( علیہ السلام) بنا کر زمین پر اتارا اور کسی نے فاحشہ عورت سے زنا کرنا اور شراب پینا۔ بت کو سجدہ کرنا۔ پھر اللہ کی طرف سے ان کو دنیاوی اور اخروی عذاب میں مخیر کرنا اور ان کا لوگوں کو جادو سکھانا وغیرہ وغیرہ بتلایا ہے۔ مگر امام رازی جیسے محققوں نے ان سب قصوں کو خرافات اور اباطیل سے شمار کیا ہے جو ترجمہ میں نے اختیار کیا ہے وہی قرطبی نے پسند کیا ہے چنانچہ تفسیر ابن کثیر اور فتح البیان وغیرہ میں مذکور ہے مولانا نواب محمد صدیق حسن خان صاحب مرحوم نے بھی نقل کیا ہے بلکہ ترجیح دی ہے کہ ہاروت ماروت شیاطین سے بدل ہے جس کو دوسرے لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ شیاطین سے یہی دو شخص ہاروت ماروت مراد ہیں۔ اگر قرآن مجدد کی آیات پر غور کریں تو یہی معلوم ہوتا ہے کیونکہ پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے شیاطین کا فعل تعلیم سحر فرمایا ہے یُعَلِٓمُونَ النَّاس السِّحرَ دوسری میں اسی تعلیم کی کیفیت بتلائی ہے یعنی مایُعَلِّمٰنِ مِن اَحَدٍ حَتّیٰ یَقُولَا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دونوں تعلیموں کے معلم ایک ہی ہیں یعنی شیاطین کیونکہ یہ نہایت قبیح اور مخل فصاحت ہے کہ مجمل فعل کے ذکر کے موقع پر تو ایک کو فاعل بتلایا جاوے اور تفصیل کے موقع پر کسی اور کو بتلایا جاوے۔ رہا یہ سوال کہ یہ مبدل منہ جمع ہے یعنی شیاطین اور بدل تثنیہ ہے یعنی ہاروت ماروت۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ مبدل میں جمعیت باعتبار اتباع کے ہیں اور بدل تثنیہ باعتبار ذات کے ہے۔ پس مطلب آیت کا بالکل واضح ہے کہ یہود کی اس امر میں شکایت ہو رہی ہے کہ اللہ کی کتاب کو چھوڑ کر واہیات باتوں کے پیچھے لگ گئے پھر طرفہ کہ ان واہیات عقائد اور اباطیل کو بزرگوں کی طرف نسبت کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان نے یہ باتیں سکھائی ہیں اور اس پر اللہ کے دو فرشتے جبرئیل میکائیل لائے تھے۔ سو ان کی اس آیت میں تکذیب کی جاتی ہے کہ یہ باتیں ان کی خرافات سے ہیں نہ سلیمان نے ان کو سکھلائی ہیں نہ کسی نبی یا ولی نے ان کو بتلائی ہیں۔ بلکہ اس زمانہ کے بدمعاش جن کے سرگردہ ہاروت ماروت تھے۔ لوگوں کو ایسی باتیں سکھاتے تھے۔ راقم کہتا ہے یہی حال آج کل کے مسلمانوں کا ہے عقائد میں ان کے وہ خرابیاں ہیں کہ پناہ اللہ کوئی کہتا ہے کہ پیر صاحب نے بارہ برس کے بعد ڈوبے ہوئے بیڑے کو مریدوں کی خاطر نکالا۔ کوئی کہتا ہے پیر صاحب نے ایک مرید کے زندہ کرنے کو کئی ہزار روحیں عزرائیل سے چھڑا دیں۔ کوئی کہتا ہے مجلس مولود میں آنحضرتﷺ بذات خود تشریف لاتے ہیں غرض عجیب عجیب قسم کے خرافات اپنے ذہنوں میں ڈال رکھے ہیں بعینہٖ وہی عقائد باطلہ جن کی تکذیب کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہزارہا پیغمبر بھیجے تھے ان نام کے مسلمانوں نے اختیار کر لئے ہیں۔ انہیں کی طفیل سے ہمارے قدیمی مہربان پڑوسی آریہ وغیرہ کو یہ جرأت ہوئی کہ عام طور پر کہنے لگے ہیں کہ اسلام میں بھی شرک ہے گو ان کا یہ حملہ اسلام پر داناؤں کے نزدیک بزدلانہ طریق ہے۔ مگر اس بات کو تو سمجھنے والے بہت ہی کم ہیں ؎ اڑ گئے دانا جہاں سے بے شعورے رہ گئے۔

یہ تو عقائد کا حال ہے اعمال کا تو پوچھے ہی نہیں۔ تمام عمر بھر دنیاوی کام کریں گے۔ علوم مروجہ جن سے صرف چند روزہ دنیاوی گذارہ مقصود ہو سیکھیں گے۔ بلا سے کبھی آٹھویں روز ہی قرآن کی دو آیتیں پڑھ لیں۔ الی اللّٰہ المشتکیٰ الیہ الماٰب والرجعیٰ۔ افسوس ہم نے بدقسمتی سے یہ سب کچھ دیکھنا تھا۔ منہ

 

(103۔ 104)

 

اور اگر یہ ایماندار ہوتے یعنی اللہ کے حکموں کو مانتے اور پرہیزگاری کرتے تو بڑی عزت پاتے کیونکہ اللہ کے ہاں کا بدلہ سب سے اچھا ہے کاش یہ سمجھیں سمجھیں تو اب بھی مان جائیں افسوس کہ بجائے ماننے کے انہوں ایک عادت قبیحہ اختیار کر رکھی ہے کہ گول مول الفاظ بولتے ہیں کہ جس سے مخاطب کچھ اور سمجھے اور ان کے جی میں کچھ اور ہو چنانچہ تمہاری محفل میں جب آتے ہیں تو ہمارے رسول کو دبی زبان سے راعنا کہہ کر گالی دی جاتی ہے جس کا مطلب تم لوگ اپنے خیال میں یہی سمجھتے کہ آنحضرت سے التجا کرتے ہیں کہ ہماری طرف التفات فرمائیے مگر وہ یہودی اس سے اپنے جی کچھ اور ہی خیال کر کے کہتے ہیں انہیں کو دیکھ کر تم بھی ایسا بولنے لگ گئے ہو۔ اس لئے ہم اعلان دیتے ہیں کہ اے مسلمانو ! تم راعنا مت کہا کرو گو تمہاری وہ مراد نہیں جو ان کم بختوں کی ہے پھر بھی کیا ضرورت ہے کہ ایسے کلمات بولو جن سے ان کی بیہودہ گوئی کا رواج ہو اس لئے مناسب ہے کہ یہ چھوڑ دو اور انظرنا کہا کرو جو اسی کے ہم معنیٰ ہے بہتر تو یہ ہے کہ جب تم رسول کی خدمت میں آؤ تو کچھ بھی نہ کہا کرو بلکہ خاموش رہو اور سنتے رہا کرو اس لئے کہ بولتے بولتے انسان کو زیادہ گوئی کی عادت ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے کبھی نہ کبھی گستاخی کر بیٹھتا ہے جس کے سبب سے کفر تک نوبت پہنچ جاتی ہے اور کافروں کو نہایت درد ناک عذاب ہو گا۔

(شان نزول : (ولا تقولو اراعنا) یہودی حضور اقدس کی خدمت میں حاضر ہوتے تو اپنے بھرے ہوئے غصہ سے جو شوکت اسلام کی وجہ سے ان کے دلوں میں جوش زن تھا آنجناب کو صریح لفظوں میں تو کچھ نہ کہہ سکتے پر کمینوں کی طرح ایک ایسا لفظ بولتے کہ جس سے عام مسلمان صاف معنے سمجھیں اور وہ اپنے دلی جوش کے مطابق کچھ اور ہی مراد لیں چنانچہ انہوں نے راعِنَا کو اس مطلب کے لئے تجویز کیا جس کے معنے یہ تھے کہ آپ ہماری طرف التفات فرمائے اور اگر اس کو ذرا لمبا کر کے راعِینَا کہیں تو اسی کے معنے ہو جاتے ہیں ” خادم اور کمینہ ہمارے ” وہ اسی طرز سے کہتے پس مسلمانوں کو اس کلمہ کہنے سے منع کیا گیا اور بجائے انظرنا جو اسی کی مثل دیکھنے کے معنے میں تھا مقرر ہوا تاکہ ان کی بھی عادت چھوٹ جائے۔ منہ

 

(105۔ 107)

 

بھلا یہ کیونکر نہ جلیں بھنیں تمہاری تو دن بدن شوکت ہو اور یہ کتاب والے کافر اور مکہ کے مشرک ہرگز اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ کی طرف سے کچھ بھلائی تم کو ملے اور یہاں معاملہ ہی دگرگوں ہے کہ تم روز افزوں ترقی پر ہو اس لیے ان کو بجز دشنام دہی کے کچھ نہیں سوجتا پس گالیاں بکتے ہیں مگر یاد رکھیں تمہارا کچھ نہیں بگاڑیں گے اس لئے اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت خاصہ کے ساتھ مخصوص کر لیتا ہے کسی کا اس پر نہ اجارہ ہے نہ کیونکہ زور اللہ بڑے فضل والا ہے ہمیشہ اپنے بندوں پر مناسب حال کرم بخشی کرتا ہے یہ تو ان کی غلطی ہے کہ اسلام کی اشاعت کو اپنے لئے مضر جانتے ہیں کیونکہ ان کو اپنی قومی عزت (یہودیت) پر بڑا ناز ہے یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام چونکہ ہماری قومیت کے بر خلاف ہے اس کو مٹا دے گا اس لئے اسلام کو کم درجہ جان کر اعراض کرتے ہیں حالانکہ ہمارے ہاں قاعدہ ہے کہ جب کبھی کوئی نشان قومی یا شخصی شرعی یا عرفی ہم تبدیل کریں یا بحالت موجود چند روز کے لئے اس کو پیچھے چھوڑ رکھیں تو پہلی صورت میں اس سے اچھالے آتے ہیں یا بصورت دیگر اس جیساپس یہودیت کے آثار مٹنے سے اسلام ان کے اور سب کے حق میں بہتر ہو گا کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور کیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں اور زمینوں کی تمام حکومت اللہ کو ہی حاصل ہے وہ جو چاہے اپنی رعیّت میں احکام جاری کرے اسے کوئی مانع نہیں اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی والی ہے نہ مددگار جو اس کی پکڑسے تم کو بچائے ۔

تعجب ہے کہ تم لوگ ایسے زبر دست مولا کے تابع فرمان نہیں ہوتے ہو بلکہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے جو مولا نے محض تمہاری ہدایت کے لئے بھیجا ہے ایسے سوال کر کے وقت کھویا کرو۔ جیسے کہ پہلے حضرت موسیٰ سے کیے گئے تھے کہ کفار کے بتوں کو دیکھ کر کہ بنی اسرائیل جھٹ بول اٹھے تھے کہ اے موسیٰ ہمارے لئے بھی کوئی اللہ بنا دے جیسا کہ ان کے لئے ہیں۔ اور یہ نہ سمجھے کہ ہم تو انہی بتوں کو چھوڑ کر اب اہل توحید ہوئے ہیں اور یہ عام دستور ہے کہ جو شخص کفر کو ایمان سے بدلے یعنی موّحد بن کر پھر مشرک بنے تو جان لو کہ وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا کیا مسلمانو ! یہ سن کر بھی تم انہیں کتاب والوں کی چال چلو گے ؟ حالانکہ قطع نظر ان کی ذاتی خباثت کے تمہارے حق میں بھی خیر نہیں چاہتے بلکہ اکثر اہل کتاب بعد ظاہر ہونے حق بات کے بھی محض اپنے حسد سے یہی چاہتے ہیں کہ بعد مسلمان ہونے کے بھی تم کو کافر بنا دیں پس ایسے لوگوں کا علاج تو یہ ہے کہ بالکل ہی انہیں چھوڑ دو اور ان کا خیال بھی نہ لاؤ یہاں تک کہ اللہ کا حکم یعنی اس کی مدد تم کو پہنچے اور تمہارا ہی بول بالا ہو یہ تمہارے حاسد حسد سے مرتے رہیں۔ ہاں اللہ سے ہر وقت بھلائی کی امید رکھو اس لئے کہ اللہ ہر کام پر قدرت رکھتا ہے ایسے کام تو اس کے ہاں کچھ ان ہوئے نہیں ہیں۔

 

(108۔ 110)

 

(شان نزول : مشرکوں کا ایک درخت تھا جس کا نام تھا ذات انواط وہ اس کی پوجا کرتے تھے ان کو دیکھ کر بعض سادہ لوح مسلمانوں نے بھی آنحضرت سے سوال کیا کہ ہمارے لئے بھی ایک ذات انواط مقرر کیجئے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر کبیر)

پس اسی پر بھروسہ کرو اور نماز ہمیشہ پڑھتے رہو زکوٰۃ بھی دیتے رہو اور بھی جو کچھ بہتری کے کام اپنے لئے آگے بھجوں گے ضرور ان کو اللہ کے ہاں پاؤ گے ہرگز ضائع نہ ہوں گے نہ کسی منشی کی وجہ سے نہ کسی سپاہی کے سبب سے اس لئے کہ اللہ تمہارے کاموں کو خود دیکھ رہا ہے

 

(111۔ 121)

 

تعجب ہے ان یہودو نصاریٰ کے حال پر تمہارے حسد میں باوجود آپس کی عداوت شدیدہ کے ایک ہو رہے ہیں طرح طرح کے منصوبے باندھتے ہیں۔

(شان نزول :

جنگ احد میں جب مسلمانوں کو قدرے تکلیف پہنچی جس کی تفصیل آگے آتی ہے۔ تو یہودیوں نے حذیفہ اور عمار سے کہا کہ اگر تمہارا دین سچا ہوتا۔ تو تمہیں تکلیف کیوں پہنچتی پس آؤ ہمارے دین میں داخل ہو جاؤ ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (معالم))

اور کہتے ہیں کہ جنت میں وہی جائے گا جو یہودی ہو یا عیسائی مگر مسلمان نہ ہو یہ سب ان کی اپنے نفس کی خواہشیں ہیں کوئی اس پر دلیل ان کے پاس نہیں بھلا آزمانے کو تُو کہہ تو دے بھلا اپنی دلیل تو لاؤ اگر اس دعوے میں سچے ہو اس لئے کہ بلا دلیل کسی کی بھی سنی نہیں جاتی ورنہ ہر ایک اپنی جگہ اپنا ہی گیت گا رہا ہے ہم بتلائے دیتے ہیں کہ کوئی ان کے پاس اس دعویٰ پر دلیل نہیں اور نہ یہ دعویٰ فی نفسہٖ صحیح ہے ہاں جنت کے حق دار ہم بتلاتے ہیں جو کوئی اپنے آپ کو اللہ کے تابع کر دے اور وہ اس تابعداری میں صرف زبانی جمع خرچ نہ رکھتا ہو بلکہ نیکو کار فرمانبردار ہو تو ایسے اشخاص کی نجات ہو گی اور ان کی مزدوری اور اخلاص مندی کا بدلہ ان کے مو لیٰ کے پاس ہے جس کا کسی طرح سے نہ ان کو خوف ہو گا اور نہ غم اٹھائیں گے پس چونکہ یہودو نصاریٰ بالکل اپنی خواہشوں کے غلام ہو رہے ہیں جس طرف ان کی خواہش لے جائے اسی طرف چلتے ہیں تو پھر کیونکر ان کو پہنچتا ہے کہ یہ دعوی کریں کہ سوا ان کے کوئی شخص بھی نجات کا مستحق نہیں ادھر تو تمہارے مقابلے میں یہ کہتے ہیں خواہ یہودی ہو یا عیسائی مگر مسلمان نہ ہو ادھر آپس میں ان کا یہ حال ہے کہ یہود کہتے ہیں کہ عیسائیوں کا کچھ ٹھیک نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودیوں کا کچھ ٹھیک نہیں حالانکہ اپنی زعم میں یہ دونوں فریق اللہ کی کتاب یعنی تورات پڑھتے ہیں یہ تو بھلا تھے ہی ایسا ہی بے علم عرب کے مشرک بھی انہی کی طرح بولتے ہیں کہ ہم ہی نجات کے حق دار ہیں سوائے ہمارے کوئی نجات نہ پاوے گا جب تک کہ بت پرستی نہ کرے گا ہرگز نجات نہ ملے گی پس تم ان کے خیا لات واہیات نہ سنو اللہ ہی ان کے جھگڑوں میں قیامت کے دن فیصلہ کرے گا جس کا فیصلہ آخری ہو گا بھلا اور اختلاف تو ہوا سو ہوا اللہ کے ذکر میں بھی کسی کو اختلاف ہے ؟ پھر کس منہ سے یہ کافر دینداری کا دعوی کرتے ہیں حالانکہ مسلمانوں کو اللہ کے ذکر سے بھی روکتے ہیں۔

(اس آیت کے متعلق بعض بلکہ اکثر مفسرین نے لفو نشر مانا ہے مگر لف و نشر میں کمال درجہ عداوت مفہوم نہیں ہوتی جیسی کہ اس توجیہہ میں۔ فَتَأَ مَّل۔ )

اور کون بڑا ظالم ہے ان لوگوں سے جو اللہ کی مسجدوں میں اللہ کا ذکر کرنے سے روکیں اور ان کی خرابی میں کوشش کریں اس لئے کہ جب ذکر والوں کو ہی روک دیا تو پھر ان میں کون آئے گا خیر چند روزہ روز دکھا لیں گے تھوڑے ہی دنوں بعد ان لوگوں کو قدرت نہ ہو گی کہ ان مساجد میں داخل ہوں مگر دل میں ڈرتے ہوئے

(یہ پیش گوئی آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی زندگی میں فتح مکہ کے بعد پوری ہوئی)

نہ صرف یہی بلکہ دنیا میں انہی کو ذلتو رسوائی نصیب ہو گی اور قیامت میں بھی انہی کو بڑا عذاب ہو گا اگر تم کو اے مسلمانو ! یہ کفار مکہ روکتے ہیں اور کعبہ میں نماز نہیں پڑھنے دیتے تو کوئی حرج نہیں نماز ہر جگہ ہو سکتی ہے اس لئے کہ اللہ ہی کا تو سارا مشرق و مغرب ہے

(شان نزول :

چند صحابہ نے جنگل میں بہ سبب اندھیری کے خلاف جہت کعبہ نماز پڑھی اور نیز نوافل سواری پر بھی پڑھا کرتے تھے تو اس مسئلہ کے بتلانے کو کہ اگر غلطی سے کعبہ کی طرف نہ ہو سکو یا نوافل سواری پر پڑھ لو تو جائز ہیں۔ یہ آیت نازل ہوئی۔ (معالم)

پس ! جدھر کو منہ پھیرو گے وہیں اللہ کی توجہ اپنے حال پر پاؤ گے بے شک اللہ بڑی ہی وسعت والا ہے اس کے ملک کی وسعت کسی دنیا کے جغرافیہ میں محدود نہیں ہو سکتی پھر یہ بھی نہیں کہ کسی کے حل سے بے خبر ہو یا بتلانے کی حاجت پڑے بلکہ بڑے ہی وسیع علم والا ہے اس نے تو ہر ایک چیز کو ایک آن میں جان رکھا ہے کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں جا سکتی تم چاہے جنگل بیا باں میں پڑھو خواہ دریا وریگستان میں وہ سب کو جانتا ہے تمہارے دلی اخلاص کے مطابق تم کو بدلہ دے گا ان بے ایمانوں کے کہنے سننے سے تم ملول نہ ہوا کرو یہ تو اللہ پر بھی بہتان لگانے سے نہیں رکتے دیکھو تو کیا کہتے ہیں کہ اللہ نے بھی ہماری مثل اپنے لئے اولاد بنائی ہے کوئی کہتا ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں کوئی کہتا ہے کہ مسیح اور عزیر اللہ کے بیٹے ہیں حالانکہ وہ ان کی بے ہودہ گوئی سے پاک ہے کوئی اس کا بیٹا بیٹی نہیں بلکہ سب آسمان اور زمین والے اسی کے غلام ہیں یہ بھی نہیں کہ کوئی غلام سر کشی کر سکے اور قہری حکم سے کسی طرح انکار کرے بلکہ سب کے سب اسی کے آگے گردن جھکانے والے ہیں۔ بھلا کیوں نہ ہو وہ پاک ذات ایسی قدرت وا لی ہے کہ آسمان اور زمین کو جو کہ اپنی ہیئت اور مضبوطی میں اپنی نظیر نہیں رکھتے بلا نمونہ اسی نے بنایا ہے اور کمال یہ کہ جس وقت کوئی چیز چاہتا ہے تو صرف اتنا ہی کہتا ہے کہ ہو جا پس وہ مطلوب چیز فوراً موجود ہو جاتی ہے اور بھلا تم ان کی باتوں سے ملال پذیر ہوتے ہو جو اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ ہم منہ سے کیا کہہ رہے ہیں آیا وہ امر ہو بھی سکتا ہے یا ہماری ہی ندامت کا باعث ہے سنو ! تو یہ بے علم و نادان عرب کے مشرک اپنی بے علمی کی وجہ سے کہتے ہیں کہ بھلا صاحب ! یہ رسول جو اللہ کی طرف سے آ کر ہمیں سمجھاتے ہیں اللہ ہی کیوں نہیں ہم سے سامنے ہو کر باتیں کرتا تاکہ ہم جلدی سے مان بھی لیں یا کوئی ایسی نشانی ہمارے پاس آوے جس سے ہم جان جائیں کہ کہ بے شک یہ سچا رسول اللہ کی طرف سے ہے اصل میں یہ ان کے بہانے ہیں ان سے پہلے لوگوں نے بھی ایسا ہی کہا تھا کہ اللہ ہم کو سامنے لا کر دکھاؤ پھر ہم مانیں گے بغور دیکھا جائے تو بالکل ان کے دل ایک سے ہو رہے ہیں ایک ہی بیماری میں مبتلا ہیں سو جو علاج ان کا ہوا تھا ان کا بھی ہو گا بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ ہر ایک شخص مرضی کے موا فق نشانیاں مانگتا پھرتا ہے اصل نشانی نبوت کی تو قائل کی صفائی ہے کہ اس کی حالت دیکھو کہ وہ کیسا ہے آیا وہ دنیا ساز مکار ہے جنونی ہے یا کیا ہے ؟ بے شک یہی نشانی مفید ہے سو ایسی ہم بہت سی نشانیاں ماننے والوں کے لئے بیان کر چکے ہیں جن کو ان با توں کی تمیز ہے کہ نبوّت کی بناء کن امور پر ہوا کرتی ہے۔ سو بعد تلاش تجھ میں ضرور پائیں گے اس لئے کہ ہم نے تجھ کو سچی ہدایت کے ساتھ بھلے کاموں پر خوش خبری دینے والا اور برے اطوار پر ڈرانے والا مقرر کر کے بھیجا ہے۔ اگر یہ نالائق تیری بات نہ مانیں تو تجھے ان کی طرف سے ہرگز ملال نہ ہو اس لئے کہ تجھ سے دوزخ والوں کے حال سے سوال نہ ہو گا کہ یہ کیوں دوزخ میں پہنچے ہم جانتے ہیں کہ جتنے تیرے مخالف ہیں سب عنادی ہیں خاص کر اہل کتاب جو اپنے آپ کو اہل علم جانتے ہیں ان کا تو یہ حال ہے کہ ہرگز تجھ سے خوش نہ ہوں گے نہ یہودی نہ نصاریٰ یہاں تک کہ تو ہی ان کے غلط مذہب کا پیرو بنے پس تو ان سے کہہ دے کہ ہدایت تو اصل وہی ہے جو اللہ کے ہاں سے ہو۔ نہ کہ تمہاری اذلیات کہ اللہ نے اولاد بنائی اور اپنے بیٹے کو کفارہ کیا۔

وغیر ذلک من الخرافات ایسے ہی لوگوں کی چال سے ہوشیار رہو اگر تو بھی فرضاً بعد پہنچنے علم یقینی کے ان کی خواہش کے پیچھے چلا تو بس تیری بھی خیر نہیں سخت بلا میں مبتلا ہو گا پھر تیرا نہ کوئی اللہ کے ہاتھ سے حمایتی ہو گا کہ اس سے رہائی دلا سکے اور نہ کوئی مددگار جو اس کی پکڑ سے چھڑا لے تجھے ان کے انکار سے کیوں ملال ہوتا ہے تیرے تابع تو ایسے لوگ بھی ہیں جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو پڑھتے ہیں جیسا پڑھنا چاہئے یہی لوگ اس کو مانتے ہیں

(شان نزول :۔ کئی ایک صحابہ مشرکین سے تنگ آ کر حبشہ کو چلے گئے وہاں کا حاکم عیسائی تھا۔ وہ کسی کے مذہب سے پریشان حال نہیں ہوتا تھا۔ جب انہوں نے آنحضرتﷺ کا حال سنا کہ آپ مدینہ منورہ میں ہجرت کر آئے ہیں اور سب مسلمان آپ کے ساتھ جمع ہو گئے ہیں یہ سن کر وہاں سے مدینہ کو چل پڑے راہ میں بوجہ بحری سفر کے ان کو نہایت تکلیف ہوئی۔ ان کی خاطرداری کو یہ آیت نازل ہوئی (معالم)

اور جو لوگ اس سے انکاری ہیں قیامت میں وہی ٹوٹا پاویں گے کیا ایسے عنادی بھی اس قابل ہیں کہ تو ان کو خوش کرنے کی فکر کرے ہرگز نہیں خاص کر یہودی تو ایسی نرمی اور مداہنت سے زیادہ بگڑتے ہیں میں نے جس قدر ان پر احسان کیے سب کو بھلائے بیٹھے ہیں

 

(122۔ 129)

 

اے بنی اسرائیل کے لوگو یاد کرو میرے احسان جو میں نے تم پر کیے کہ تمہیں فرعون جیسے موذی سے چھڑایا اور تمام جہان کے لوگوں پر تم کو عزت دی کہ تم میں نبی اور رسول بھیجے پھر کیا میری شکر گزاری یہی کرتے ہو کہ میرے سچے رسول کو نہیں مانتے بلکہ بجائے ماننے کے سبّو شتم سے پیش آتے ہو آخر ایک روز تو میرے سامنے آؤ گے اب بھی اگر اپنی بہتری چاہتے ہو تو میرے رسول پر ایمان لے آؤ اور اس دن کے عذاب سے بچ جاؤ جس میں کوئی کسی کے کام نہ آئے گا اور نہ اس سے بدلہ لیا جائے گا اور نہ اس کو کسی کی سفارش ہی کچھ کام دے گی اور نہ ان مجرموں کو کسی زبر دست کی طرف سے مدد پہنچے گی کہ ہماری پکڑ سے ان کو رہائی دلا سکے بلکہ سب کے سب اپنے ہی حال میں حیران سرگردان ہوں گے تعجب ہے کہ تم نے اپنے بڑوں کی اقتدا بھی چھوڑ دی اور ابراہیم ( علیہ السلام) کی حالت بھی بھول گئے جب کہ اس ابراہیم ( علیہ السلام) کو اس کے اللہ نے چند باتوں کا حکم دیا پس اس بندہ کامل نے ان سب کو پورا کیا جب اس کے انعام میں اللہ نے اس کو کہا کہ میں تجھ کو سب لوگوں کا امام اور پیشوا بناؤں گا وہی لوگ نجات پائیں گے جو تیرے پیچھے چلیں گے وہ اپنے نیک ارادوں سے بولا ! یا اللہ مجھے امام بنا اور میری اولاد میں سے بھی کسی کو یہ رتبہ نصیب کر کہ وہ بھی مخلوق کی رہنمائی کریں کیونکہ اولاد کی لیاقت آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اللہ تعالیٰ نے کہا بے شک تیری اولاد سے بھی یہ رتبہ بعض کو ملے گا مگر چونکہ پانچوں انگلیاں بھی یکساں نہیں ہوتیں اس لئے ان میں بعض بد کردار بھی ہوں گے جو آپس میں ظلم و ستم کریں گے پس ایسے ظالموں کو یہ میرا وعدہ نہیں پہنچے گا ایسے اخلاص اور اطاعت کے سبب سے ہم نے ابرا ہیم ( علیہ السلام) کے نیک کام کو قبول کیا تمہیں یاد نہیں ؟ کہ جب ہم نے ابراہیم ( علیہ السلام) کے بنائے ہوئے کعبہ کو لوگوں کا مرجع اور بڑے امن کی جگہ بنایا اور عام طور پر حکم دیا کہ ابرا ہیم  ( علیہ السلام) کی جگہ نماز پڑھو

(شان نزول :۔

حضرت عمر (رض) نے آنحضرتﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ مقام ابراہیم میں نماز پڑھا کریں۔ ان کی درخواست پر یہ آیت نازل ہوئی۔ راقم کہتا ہے اس آیت سے بلحاظ اس قصہ کے فاروق اعظم (رض) کی کمال بزرگی ثابت ہوتی ہے مگر دیکھنے کو چشم بصیرت چاہیے۔ )

اور اس کی دعا کا کسی قدر ظہور تو اس کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا کہ ہم نے ابراہیم ( علیہ السلام) اور اس کے بڑے بیٹے اسمٰعیل ( علیہ السلام) کو حکم بھیجا کہ میرا عبادت خانہ طواف اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجود کرنے والوں کے لئے شرک کی آلودگی سے صاف ستھرا رکھو اس پر بھی اس بندہ کامل نے پورا عمل کیا اس کی اخلاص مندی کا ایک واقعہ اور بھی سنو ! جب ابراہیم ( علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے میرے مولا اپنی مہربانی سے اس شہر مکہ کو بڑے آرام کی جگہ بنا جس طرح اس کے ارد گرد لوٹ گھسوٹ ہوتی ہے اس میں نہ ہو اور ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنے دل میں یہ سمجھا کہ مثل سابق اب کی دفعہ بھی میری دعا فی الجملہ واپس نہ ہو گی۔ اس لئے اس نے بعد سوچ بچار ڈرتے ڈرتے یہ کہا کہ اس کے رہنے والوں کو جو پختہ طور سے اپنے اللہ کو مانیں اور قیامت کے دن پر یقین لاویں محض اپنی مہربانی سے عمدہ عمدہ میوے نصیب کر چونکہ یہ درخواست ابراہیم ( علیہ السلام) کی کچھ ایسے مطلب کی نہیں تھی جو کسی قوم نیک یا بد سے مخصوص ہو اس لئے کہ دنیا کا رزق تو عام طور پر ایسا ہے کہ باتیرے مومن حیران ہیں اور بہتیرے فاسقو فاجر مزے میں گزارتے ہیں اس لئے اللہ نے کہا ہاں بے شک ایمان داروں کو دوں گا اور ان کے سوا کافروں کو بھی دنیا میں کسی قدر نفع مند کروں گا پھر اس کے بعد ان کو عذاب میں پھینکوں گا جو بہت ہی بری جگہ ہے یہ سن کر ابراہیم ( علیہ السلام) بہت خوش ہوا اور اپنے کام میں مشغول رہا بالکلکسی طرح سے اس کے دل میں کوئی ایسی بات نہ آئی تھی جو اخلاص سے خالی ہو اور سنو ! جب ابراہیم ( علیہ السلام) اور اس کا بیٹا اسمٰعیل ( علیہ السلام) کعبہ کی بنیاد بحکم ربّانی اٹھا رہے تھے تو اس وقت بھی یہی کہتے تھے اے ہمارے مولا تو ہم سے اس کار خیر کو قبول کر اسلئے کہ تو ہی ہماری باتیں سننے والا ہے اور ہمارے دل کی آرزوئیں جانتا ہے پھر اسی پر بس نہیں بلکہ اپنی ترقی درجات کے لئے ہمیشہ دست بدعا رہے کہ ہمارے مولا ہم کو اپنا فرمانبردار بندہ بنا نہ صرف ہم کو بلکہ ہم کو اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو ضرور ہی اپنا تابعدار کیجیے اور اے ہمارے مولا چونکہ ہم تیرے عاجز بندے ناقص العقل تیری رضا خود بخود دریافت نہیں کر سکتے جب تک تو ہی اپنی مرضی پر مطلع نہ کرے اس لئے ہم عرض پرداز ہیں کہ تو ہم کو ہماری عبادت کے طریقے بتلا اور اگر اس بتلائے ہوئے میں کسی طرح کا ہم سے قصور واقعہ ہو تو ہم پر رحم فرما اس لئے کہ تو ہی ہے بڑا رحم کرنے والا مہربان۔ یہ دونوں باپ بیٹا نیک کاموں میں کچھ ایسے حریص تھے کہ علاوہ مذکو رہ بالا دعا کے آئندہ کو بھی اپنی اولاد کے لئے درخواست کرتے رہے کہ اے میرے ہمارے مولا ! چونکہ بغیر کسی ھادی کے انسان کا ہدایت یاب ہونا مشکل امر ہے اس لئے گزارش ہے کہ تو ان لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھی پیدا کیجیو جو ان کو تیری آیتیں پڑھ کر سنائے اور تیری کتاب آسمانی کے احکام اور نیک اخلاق ان کو سکھلاوے اور اپنی صحبت موثرہ میں ان کو اخلاق رویہ مثل شرک کفر حسد بغض کینہ کبر وغیرہ سے پاک صاف کرے تو تو ایسے بہت سے کام کر سکتا ہے بے شک تو ہر کام پر غالب ہے جو چاہے سو کرتا ہے اور ساتھ ہی اس کے بڑی حکمت والا بھی ہے جس کسی کو اس خدمت کے لائق سمجھے گا معمور کرے گا۔

(ایک رسول پیدا کیجیو) اس آیت میں اللہ نے سید الانبیاء محمد مصطفیٰ علیہ وعلیٰ آلہ التحیۃ کی نبوت کی طرف اشارہ فرمایا ہے اس بات کا ثبوت کہ آپ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں محتاج دلیل نہیں کل دنیا کے لوگ یہود نصارٰے اہل اسلام اس پر متفق ہیں کہ آپ بلکہ آپ کا تمام خاندان قریش بلکہ قریب قریب کل عرب حضرت اسمٰعیل ( علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور اسمٰعیل ابراہیم علیہما السلام کے بڑے بیٹے تھے جن کے حق میں توریٰت سے بھی اتنی شہادت ملتی ہے :۔

” اور ہاجرہ ابرہام کے لئے بیٹا جنی اور ابرہام نے اپنے بیٹے کا نام جو ہاجرہ جنی اسمٰعیل رکھا۔ اور جب ابرہام کے لئے ہاجرہ سے اسمٰعیل پیدا ہوا تب ابرہام چھیاسی برس کا تھا۔ ” (پیدائش ۱۶ باب ۱۸ آیت)

اسی کتاب کی دوسری جگہ لکھا ہے :۔

” اسمٰعیل ( علیہ السلام) کے حق میں (اے ابراہیم ( علیہ السلام) میں نے تیری سنی دیکھ میں اسے برکت دوں گا۔ اور اسے برومند کروں گا اور اسے بہت بڑھاؤں گا اور اس سے بارہ سردار پیدا ہوں گے اور میں اسے بڑی قوم بناؤں گا” (۱۷ باب ۲۰ آیت)

پس عبارت مذکورہ بالا تورات سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت اسمٰعیل ( علیہ السلام) ابراہیم ( علیہ السلام) کے نہ صرف بیٹے بلکہ موعود بالبرکت تھے گو یہ واقع بناء کعبہ تو توریٰت میں مصرح مذکور نہیں اور اس کے مذکور نہ ہونے کی وجہ شاید وہی ہے جس کا مفصل ذکر ہم عیسائیوں کی پہلی غلطی کی ذیل میں کر آئے ہیں لیکن اتنا تو معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم ( علیہ السلام) کو اپنے بیٹے اسمٰعیل ( علیہ السلام) کے لئے بہت کچھ خیال تھا۔ جس کے جواب میں ارشاد باری پہنچا کہ میں نے تیری سنی۔ خاندان نبوت اور سلسلہ رسالت بلکہ عام اہل اللہ کے حالات دیکھنے سے بھی اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ وہ ایسے موقعہ پر دنیاوی برکت اور ظاہری کثرت تعداد سے خوش نہیں ہوا کرتے جب تک کہ ان کی اولاد میں سے بڑھ کر کوئی پیدا نہ ہو پس ان وجوہ کے لحاظ سے الفاظ قرآن اور توریٰت دونوں متفق ہیں کہ اسمٰعیل ( علیہ السلام) کی اولاد سے کوئی نبی ہونا چاہیے جس سے ان کی اولاد کو بابرکت کہا جائے پس وہ نبی وہی ہے جو سیّد ولد اٰدم ولا فخر کا مصداق ہے بیشک سچ ہے ؎

ہوئے پہلوئے آمنہ سے ہویداَ

دعائے خلیل اور نوید مسیحا

 

(130۔ 141)

 

بتلاؤ تو ایسے بھلے آدمی ابراہیم ( علیہ السلام) کی راہ سے سوا احمقوں کے کون رو گردان ہو گا حالانکہ ہم نے اس کو تمام دنیا کے لوگوں میں پسند کیا ہے اور آخرت میں بھی وہ نیک بندوں کی جماعت میں ہو گا اس کی بزرگی میں شک ہو تو یاد کرو جب اللہ نے اسے کہا کہ میری تابعداری کرو وہ فوراً بو لا کہ میں دست بستہ حاضر اللہ ربّ العٰلمین کا بڑی مدّت سے تابعدار ہوں

(شان نزول :۔ع (ومن یرغب) عبداللہ بن سلام (رض) نے اپنے دو بھتیجوں کو کہا کہ تم بھی مسلمان ہو جاؤ۔ ایک تو ان میں سے ہو گیا دوسرے نے انکار کیا ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی (معالم)

بعد اس کے پھر ہمیشہ تک ایسا ہی اخلاص مند رہا اور ابراہیم ( علیہ السلام) نے اور اس کی تاثیر صحبت سے اس کے پو تے یعقوب ( علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے وصیت کی کہ اے میرے بیٹو ! اللہ نے تمہارے لئے یہی توحید کا دین پسند کیا ہے پس تم مرتے دم تک اسی پر رہیو بلکہ اس امر کے تو تم بھی گواہ ہو یعقوب ( علیہ السلام) نے فوت ہوتے وقت اپنے بیٹوں بطور نصیحت اور آزمائش کہا تھا کہ میرے بعد کس کی عبادت کرو گے جس سے اس کی غرض ہی تھی کہ ان کے منہ سے نکلوا لوں کہ صرف اللہ کی ہی عبادت کریں گے چنانچہ انہوں نے یہی اس کے منشاء کے مطابق ہی کہا کہ ہم اکیلے اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کریں گے جو تیرا اور تیرے باپ دادا ابراہیم ( علیہ السلام) اور اسمٰعیل اور اسحق کا اللہ تعالیٰ ہے اور ہم تو اب بھی اس کے فرمانبردار ہیں

(شان نزول :۔ ۱ ؎ (ام کنتم شھداء) یہودیوں نے کہا کہ حضرت یعقوب نے فوت ہوتے وقت اپنے بیٹوں کو یہودیت کے قائم رکھنے کی وصیت کی ہوئی ہے آپ ہم کو یہودیت سے کیوں بدلاتے ہیں ؟ ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ۱۲ معالم)

یہ ایک جماعت کسیا بابرکت تھی جو اپنے وقت میں گزر گئی صرف زبانی جمع خرچ کرنے والوں کا ان سے کیا علاقہ ان کی کمائی ان کو ہو گی تمہاری کمائی تم کو ہے تمہیں ان کے کیے سے سوال نہ ہو گا نہ ان کو تمہارے کیے کی پوچھ۔ تم ان سے علیحدہ وہ تم سے جدا تعجب ہے کہ با وجود زبانی جمع خرچ کے۔ یہ لوگ اپنے ہی کو ہدایت پر جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری طرح یہودی یا عیسائی ہو جاؤ اس سے ہدایت یاب ہو جاؤ گے گویا ان کے نزدیک سوائے یہودیت کے کوئی طریق درست نہیں تو کہہ دے کہ تمہارے زئلیات تو ہم ہرگز نہ سنیں گے اور نہ ان پر عمل کریں گے بلکہ ہم تو حضرت ابراہیم یک رخہ کے پیچھے چلیں گے اور اسی کی راہ ہم نے پکڑ رکھی ہے۔ جو تمام نفسانی خواہشوں سے پاک وصاف ہو کر اللہ کا بندہ ہو گیا تھا اور وہ مشرک نہ تھا۔

(شان نزول :۔ (قالو اکونوا ھودا) یہود مدینہ اور نصاریٰ نجران دونو مسلمانوں سے آ کر جھگڑنے لگے اور ہر ایک اپنے مذہب کی طرف بلاتا تھا ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ۱۲ ف)

جیسے کہ تم ہو۔ پس ہم تمہارے پیچھے چل کر مشرک بننا نہیں چاہتے۔ اس تمہارے کہنے سے اگر لوگوں میں یہ مشہور کریں کہ مسلمان توریت انجیل کو اللہ کا کلام نہیں مانتے تو تم بلند آواز سے کہہ دو کہ یہ الزام ہم پر غلط ہے سب سے پہلے ہم اللہ واحد کو مانتے ہیں اور اس کتاب کو مانتے ہیں جو ہماری طرف اتری اور اس کو بھی مانتے ہیں جو حضرت ابراہیم اور اس کے بڑے بیٹے اسمٰعیل اور چھوٹے بیٹے اسحاق اور اس کے پوتے یعقوب اسرئیل اور اس کی اولاد علیہم السلام کی طرف اللہ کے ہاں سے اتاری گئی اور خاص کر اس کلام کو مانتے ہیں جو کچھ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ کو اللہ کے ہاں سے زندگی میں ملا تھا اور جو عموماً سب نبیوں کو اللہ کی طرف سے ملا ہم سب کو تسلیم کرتے ہیں اور بدل وجان قبول کرتے ہیں بڑی بات ہم میں یہ ہے کہ اللہ کے نبیوں میں تفریق نہیں کرتے کہ بعض کو مانیں اور بعض سے انکاری ہوں جیسے تم حضرت مسیح اور سیدالانبیاء محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے منکر ہو اور ہم میں بفضلہ تعالیٰ یہ عیب بھی نہیں کہ ہم تمہاری طرح مطلب کے وقت اللہ کے حکموں پر غیروں کو ترجیح دیں بلکہ ہم تو صرف اسی کے تابعدار ہیں پس بعد اس اظہار صریح کے اگر وہ تمھاری مانی ہوئی کتاب یعنی قرآن مجید کو مان لیں تو جان لو کہ ہدایت پر آ گئے اور اگر حسب دستور قدیم اعراض کریں تو معلوم کرو کہ وہ سخت ضدی ہیں اگر وہ تجھ سے (اے رسول) کچھ اذیت کا قصد کریں تو پس اللہ تعالیٰ تجھ کو ان کی شرارت سے بچائے گا اس لئے کہ وہ تیرے مخالفوں کی سرگوشیاں اور باہمی مشورے سنتا ہے اور ان کے دلی عنادوں کو بھی جانتا ہے ان کا یہ بھی ایک داؤ ہے کہ اپنے مذہب میں لاتے ہوئے رنگ کے چھینٹے ڈالتے ہیں اور اس کو الٰہی رنگ کہتے ہیں اور عوام لوگوں کو اس دھوکہ سے کہ آؤ اس سچے رنگ سے اپنے کو رنگو دام میں لاتے ہیں۔ سوئم ان کے جواب میں کہہ دو کہ تمہارا رنگ تو پھیکا بلکہ سرے سے کچھ بھی نہیں اصل اللہ کا رنگ ہم نے اختیار کیا ہے یعنی اس کے خالص بندے بن چکے ہیں۔ بھلا بتلاؤ تو اللہ سے کس کا رنگ اچھا ہے ؟ تمہاری طرح ہم زبانی جمع خرچ نہیں رکھتے۔ بلکہ ہم تو دل و جان سے اللہ کے حکموں کو مانتے ہیں اور ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ اب بھی اگر یہ اہل کتاب باز نہ آئیں اور اے رسول ! تیری نبوت کو اس وجہ سے جھٹلاویں کہ تو نبی اسمٰعیل (علیہ السلام) سے ہے اور ان کا خیال ہے کہ نبوت خاصہ بنی اسرائیل کا ہے۔ تو تو ان سے کہہ دے کیا تم ہم سے اللہ کے فضل اور بخشش کے بارے میں جھگڑتے ہو۔ کیا نبوت اپنا ہی حق جانتے ہو اور ہم کو اس سے علیحدہ ہی رکھنا چاہتے ہو۔ بھلا تم میں کون سی ترجیح ہے حالانکہ بندگی میں ہم تم سب برابر ہیں۔ اور وہ ہمار اور تمہارا سب کا مالک ہے اور اعمال میں بھی تم کو کسی قسم کی رعایت نہیں کہ اوروں کی کمائی تم کو مل جائے بلکہ ہمارے اعمال ہم کو اور تمہارے اعمال تم کو جو کرے وہ بھرے ہاں اگر غور کیا جائے تو قابل ترجیح بات ہم میں ہے کیونکہ ہم اس کے سب احکام کو مانتے ہیں۔ اور ہم دل سے اسی کے اخلاص مند ہیں نہ کہ تمہاری طرح مطلب کے یار۔ غرض ہو تو اللہ کے بن گئے۔ جب مطلب حاصل ہوا تو پھر کون۔ یہ بھی تو ان سے پوچھو کہ کیا تم بجائے چھوڑنے اس واہیات خیالات کے یہ کہتے ہو کہ حضرت ابراہیم اور اس کے دونوں بیٹے اور پوتا اسمٰعیل او اسحاق اور یعقوب علیہم السلام اور اس کی سب اولاد تمہاری طرح یہودی یا عیسائی تھے۔ تو اے رسول ! ان سے کہہ دے بھلا کیونکر ہم تمہاری باتیں مانیں کہ وہ ایسے تھے حالانکہ ہم کو اللہ نے پختہ طور سے بتلایا ہے کہ ان بزرگوں کی یہ روش نہ تھی جو تم نے نکال رکھی ہے کیا تم خوب جانتے ہو یا اللہ خوب جانتا ہے۔ جی میں تو یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ حضرات ان جیسے نہ تھے مگر لوگوں کی شرم سے چھپاتے میں اور نہیں جانتے کہ یہ بھی ایک قسم کی شہادت ہے اور کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جو اپنے پاس سے اللہ کی بتائی ہوئی شہادت کو چھپائے۔

یقیناً جانو کہ اللہ تم کو اس کتمان پر مواخذہ کرے گا۔ اس لئے کہ اللہ تمہارے کاموں سے بے خبر نہیں۔ اصل پوچھو تو تم یہودو نصاریٰ کو ان بزرگوں سے کیا مطلب؟ یہ ایک جماعت پسندیدہ تھی جو اپنے اپنے وقت پر گزر گئی ان کی کمائی ان کو ہے اور تمہاری تم کو اور تم ان کے کئے سے نہ پوچھے جاؤ گے اور نہ وہ تمہارے کردار سے۔ تم ان سے اجنبی وہ تم سے بیگانے پھر بار بار ان کا نام لینے سے کیا فائدہ۔ جب تک کہ ان کی تابعداری نہ ہو۔

 

(142۔ 147)

 

چونکہ تم مسلمان حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے تابع ہو اس لئے مناسب ہے کہ اسی کے قبلہ کی طرف نماز پڑھو۔ مگر اس کی مصلحت اور حکمت نہ سمجھنے والے بے وقوف لوگ جھٹ سے کہیں گے کہ کسی چیز نے ان مسلمانوں کو ان کے پہلے قبلہ بیت المقدس سے پھیر دیا جس پر یہ پہلے سے تھے

(شان نزول :۔ ۱ ؎ (سَیَقول السُّفھآء) جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) مدینہ میں تشریف لے گئے تو آپ بیت المقدس کی طرف جو انبیاء کا قبلہ رہا تھا قریباً سولہ مہینے نماز پڑھتے رہے مگر دل میں یہ شوق غالب تھا کہ میں اپنے باپ سید الموحدین ابراہیم (علیہ السلام) کے کعبہ کی طرف نماز پڑھوں چونکہ اس خواہش کے پورا ہونے پر مخالفین (یہود نصاریٰ مشرکین عرب اور چھپے دشمن ان کے بھائی منافقوں ) نے شور مچانا تھا اس لئے حکم آنے سے پہلے ہی ان کے حال سے اطلاع دی گئی اور کسی قدر اجمالی اور تفصیلی جوابات کے بعد تحویل قبلہ کا حکم صادر فرمایا کہ تعمیل میں آسانی ہو۔ منہ

تو ان کے جو اب میں کہہ دیجیو۔ کیا ہم بیت المقدس کی عبادت کرتے تھے کہ اب اس میں فرق آ گیا ہرگز نہیں بلکہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور مشرق مغرب جنوب شمال تو سب اللہ ہی کا ہے ہر ایک طرف سجدہ ہو سکتا ہے ہاں تعین جہت اس کے حکم سے ہے جس طرف کا حکم دے گا اسی طرف کو جھک جائیں گے ہاں یہ بیشک ہے کہ کسی جانب کی تعیین جب بھی ہوتی ہے۔ کہ اس میں کوئی مصلحت اور دوسروں سے ترجیح پائی جائے لیکن ایسے مصلحت آمیز امور ہر ایک کی سمجھ میں نہیں آیا کرتے اللہ ہی جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے جیساکہ ہم کو اسی نے اس کعبہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی اس کے یہ بھی سمجھا دیا کہ ابراہیمی یادگار کا قائم رکھنا مناسب ہے جس نے اللہ کی مرضی کے حاصل کرنے کے لئے تمام لوگوں کی ناگوارسختیوں کو بھی برداشت کیا تاکہ لوگ اس امر کو جان کر کہ اللہ اپنے بندوں کے اخلاص کے موافق قدر افزائی کیا کرتا ہے اخلاص مندی کا سبق حاصل کریں جیسا کہ ہم نے تم کو کعبہ ابراہیمی کی راہنمائی کی ہے اسی طرح ہم نے تم کو ایک اور نعمت بھی عطا کی ہے وہ یہ کہ تم کو میانہ روش بنایا ہے دنیاوی اور مذہبی امور میں افراط تفریط سے بالکل صاف اور ظلم اور بیجا قومی حمایت سے پاک۔ سچ پوچھو تو یہ خصائل ترقی قومی اور بہبودی ملکی کے لئے ضروری ہیں اسی وجہ سے تم (اصحاب) کو ایسا بنایا تاکہ تم اور لوگوں پر حکمران ہو۔ اور رسول جو ان صفات سے ہر طرح کامل اور مکمل ہے تم پر حاکم بنے

} (لِتَکُونُوا شھُدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیکُم شھَیدًا) اس آیت کے معنے جمہور مفسرین نے یہ کئے ہیں کہ ” تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) تم پر گواہ بنے ” پھر اس میں اختلاف ہوا ہے کہ یہ شہادت دنیا کے متعلق ہے یا آخرت میں۔ تفسیر کبیر میں پہلے لوگوں کی تقریر میں لکھا ہے۔

فھٰذہ الشھادۃ اما ان تکون فی الاٰخرۃ او فی الدنیا لاجائزان تکون فی الاٰخرۃ لان اللّٰہ تعالیٰ جعلھم عدولا فی الدنیا لاجل ان یکونوا شھداء وذٰلک یقتضی ان یکونوا شھداء فی الدنیا انما قلنا انہ تعالیٰ جعلھم عدولا فی الدنیا لانہ تعالیٰ قال وکذٰلک جعلٰنکم امۃو ھٰذا اخبار عن الماضی فلا اقل من حصولہ فی الحالو انما قلنا ان ذٰلک یقتضی صیرورتھم شھودا فی الدنیا لانہ تعالیٰ قال وکذٰلک جعلٰنکم امۃ وسطا لتکونوا شھداء علی الناس رتب کونھم شھداء علٰے صیرورتھم وسطا ترتیب الجزا علے الشرط فاذا حصل وصف کونھم وسطا فے الدنیا وجب ان یحصل وصف کونھم شھداء فی الدنیا (تفسیر کبیر جلد ۲ص ۱۰)

یہ شہادت (دو حال سے خالی نہیں ) یا تو آخرت میں ہو گی یا دنیا میں (لیکن) آخرت میں تو اس کا ہونا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اللہ نے ان کو دنیا میں عادل اس لئے بنایا تاکہ وہ گواہ بنیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں گواہ ہیں اور یہ جو ہم نے کہا ہے کہ اللہ نے ان کو دنیا میں عادل کیا اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ نے وکذٰلک جعلٰنکم فرمایا ہے اور یہ خبر واقعہ گذشتہ سے دی گئی ہے پس کم سے کم اس کا حصول زمانہ حال میں ہونا چاہیے اور یہ جو ہم نے کہا کہ اس سے ان کا دنیا میں گواہ ہونا لازم آتا ہے اس کی دلیل یہ ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے تم کو امت متوسط بنایا تاکہ تم لوگوں پر اور رسول تم پر گواہ ہو۔ اس کلام کو ایسا مرتب کیا جیسے شرط جزا ہوا کرتی ہے۔ پس جب ان کا وسط ہونا دنیا میں حاصل ہے تو گواہ بھی دنیا میں ہونا واجب اور ضروری ہو گا” انتہیٰ)

رہا یہ سوال کہ دنیا میں ان کی گواہی کا کیا مطلب۔ سو اس کا جواب ان لوگوں کے نزدیک جو اس شہادت کو دنیا کے متعلق مانتے ہیں یہ ہے کہ اس شہادت سے مراد اجماع ہے۔ چنانچہ تفسیر کبیر میں اس سے آگے چل کر کہا ہے کہ :۔

فثبت ان لایۃ تدل علیٰ ان الا جماع ججۃ (ج ۲ص ۱)

ثابت ہوا کہ آیت اجماع کے حجت ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

بعض لوگ بلکہ اکثر کہتے ہیں کہ یہ شہادت قیامت میں ہو گی جب انبیاء کی امتیں تبلیغ رسل سے انکار کریں گی تو اس وقت امت محمدیہ انبیاء کی طرف سے شہادت دے گی کہ بے شک انہوں نے اپنی اپنی امت کو پہنچا دیا۔ اور جناب رسالت مآب اپنی امت کا تزکیہ کریں گے کہ میری امت کے لوگ سچے گواہ ہیں اس مضمون کی ایک حدیث بھی صحیح مسلم میں آئی ہے جو ان معنے کو تقویت دیتی ہے مگر چونکہ پہلے لوگوں کی دلیل بھی قوی ہے اس لئے امام رحمہ اللہ نے تفسیر کبیر میں دونوں کو جمع کرنا چاہا ہے اور کہا ہے کہ :۔

فالحاصل ان قولہ تعالیٰ فتکونوا شھداء علی الناس اشارۃ ان قولھم عند الاجماع حجۃ من حیث ان قولھم عند الاجماع یبین للناس الحق ویؤکد ذٰلک قولہ تعالیٰ ویکون الرسول علیکم شھیدا یعنے مودیا ومبینا ثم لایمتنع مع ذٰلک لھم الشھادۃ فی الاٰخرۃ فیجری الواقع منھم فی الدنات مجری التحمل لاٰنھم اذا اثبتوا الحق عرفوا عندہ من القائل ومن الرّاد ثم یشھدون بذٰلک یوم القیمۃ کما ان الشاھد علی العقود یعرف ما الذی لم وما الذی ثمّ یتم لم یشھد بذٰلک عند الحاکم (ج ۲ صفحہ ۱)

حاصل اس بحث کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ تم گواہ بنو گے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ان کی بات

اجماع کے وقت دلیل ہو گی اس لحاظ سے کہ اجماع کے وقت لوگوں کو حق بتا دیں گے اور اسی کی تائید کرتا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ رسول تم پر گواہ ہو گا یعنی ادا کرنے والا اور بیان کرنے والا یہ ہو کر بھی اجماع حجت ہے اور اس دلیل سے دنیاوی شہادت معلوم ہوتی ہے ممکن ہے کہ قیامت میں بھی ان کی شہادت ہو پس دنیا کی شہادت ان کے حق میں گویا کہ دریافت واقع ہے اس لئے کہ جب انہوں نے دنیاوی شہادت سے ایک امر کو ثابت کیا تو گویا اس وقت وہ ماننے اور نہ ماننے والوں کو جان لیں گے پھر اس بات کی قیامت میں شہادت دیں گے جیسا کہ گواہ وقت بیع عقد تام اور غیر تام کو جانتا ہے پھر اس امر کی حاکم کے پاس شہادت ادا کرتا ہے۔ ” انتہیٰ

میں کہتا ہوں یہ طریق جمع بین الشہادتین جو امام ممدوح نے بیان کیا ہے اس میں ایک طرح کا شبہ ہے کیونکہ امام صاحب نے دنیاوی شہادت کو بمنزلہ تحمل شہادت کے قرار دیا ہے۔ حالانکہ اس شہادت کو اس شہادت سے مبائنت ہے اس لئے کہ بعد تسلیم اس امر کے کہ اس آیت سے اجماع کی حجیت ثابت ہوتی ہے یہ کہنا باقی ہے کہ اجماع مثبت فروعات شرعیہ کا ہوتا ہے اور شہادت اخروی جیسے کہ حدیث مذکور سے ثابت ہے امم سابقہ کے مقابلہ پر ہو گی۔ جن کو فروعات شرعیہ محمدیہ سے کوئی علاقہ نہیں پس جب کہ حسب منشاء امام جمع بین الشہادتین ہی ضروری ہے اور یہ امر ہر حال میں اولیٰ اور انسب ہے کہ اس آیت سے دونوں شہادتیں مراد ہوں تو کوئی وجہ نہیں۔ کہ شہادت کے معنے گواہی دادن کے لے کر کلام صحیح ہو سکے اس لئے میں نے شہادت کے معنے حکمرانی کے لئے ہیں پس یہ معنی نہ تو حدیث کے خلاف رہے اور نہ امام کے منشاء (جمع بین الشہادتین) کے مخالف ہاں شہادت کے مصداق متنوع ہوں گے یعنی دنیا میں حکمرانی اور نوع کی ہو گی اور قیامت میں اور قسم کی جیسا کہ عموم مجاز یا عموم مشترک (علیٰ تقریر جوازہ) کی صورت میں ہوا کرتا ہے۔ رہا یہ سوال کہ شہادت کے معنے حکمرانی کے ہیں ؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ مفسر بیضاوی نے اِن کُنتُم فِی رَیبٍ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ شہید حاکم کو بھی اس لئے کہتے ہیں کہ وہ مجالس میں واسطے تصفیہ مقدمات کے آیا جایا کرتا ہے۔ اور اگر آیت پر غور کیا جائے تو یہی معنے مناسب ہیں۔ اس لئے کہ تحویل قبلہ کا وقت ایک نہایت اضطراب اور بے قراری کا مسلمانوں کے حق میں تھا۔ جس میں ان کو ہر طرف سے کسو ناکس کے اعتراضات سننے پڑتے تھے ایسے موقع پر نہایت ضروری تھا کہ ان کی گھبراہٹ کے دفع کرنے کو کوئی خبر ایسی فرحت بخش سنائی جاتی جس سے ان کے لئے اس گھبراہٹ کا بہت جلد تبادلہ ہوتا چنانچہ بعد تدبران آیات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کی تسکین ہر طرح سے مقصود تھی کہیں تو ان کو طمع دی جاتی تھی۔ کہیں ان کو کفار کے شر سے بچنے کی تاکید ہو رہی ہے۔ اور بار بار اس امر کی تاکید ہے کہ ضرور اس کام پر پختہ ہو جاؤ اور کسی کی مت سنو اللہ بھی چاہتا ہے کہ تم پر اپنی نعمتیں پوری کرے۔ وغیرہ وغیرہ۔ پس شہداء کے معنے حکمران لینا اور اس کو ایک قسم کی دلجوئی بلکہ پیشگوئی قرار دینا سیاقو سباق سے نہایت مناسب بلکہ انسب ہے ۱۲ منہ){

یہ لوگ ایسے بے ہودہ بکواس ہی میں رہ جائیں گے۔ اور تم ان کے دیکھتے ہی ترقی کر جاؤ گے۔ جو تمہاری سچائی کی دلیل ہو گی۔ رہا ان ظاہر بین نادانوں کا سوال کہ کبھی کسی طرف نماز پڑھتے ہیں اور کبھی کسی طرف سواس میں بھی کئی ایک مصلحتیں اور حکمتیں ہوتی ہیں جو تمہاری ترقی کے لئے ایک زینہ ہے یاد رکھیں کہ تیرا اصل قبلہ تو یہی کعبۂ ابراہیمی ہے جس پر اعتراض کر رہے ہیں مگر درمیان میں ہم نے اس قبلہ بیت المقدس کو جس کی طرف تو بالفعل متوجہ ہے اس لئے تجویز کیا تھا کہ رسول کے مخلص تابعین کو نافرمانوں اور دوزخی چال والوں سے ممتاز کریں جو سنتے ہی مان جائے گا وہ اخلاص مند ثابت ہو گا اور جو ایچ پیچ کرے گا۔ اس کی گردن کشی ثابت ہو گی۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی تمیز بھی نہایت ضروری ہے اس لئے کہ جب تک کسی قوم کے سب لوگ یکجان ہو کر اپنے مقاصد میں ساعی نہ ہوں ترقی مسدود ہوتی ہے ہاں اس میں شک نہیں کہ یہ انقلاب کعبہ بہت دشوار ہے مگر ایسے لوگوں پر دشوار نہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے رہنمائی کی ہو اور وہ جانتے ہوں کہ رسول کے احکام ہر حال میں قابل تسلیم ہوتے ہیں شاباش تم ایمانداروں پر جو اپنے ایمان کی حفاظت دل و جان سے کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ بھی تمہارا ایمان اور اعمال صالحہ ضائع نہیں کرے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ سب لوگوں کے حال پر عموماً اور ایسے مسلمانوں کے حال پر خصوصاً بڑا مہربان رحم کرنے والا ہے

} (شان نزول : (وَمَا کَان اللّٰہُ) تحویل قبلہ سے پہلے جو مسلمان بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے ہوئے فوت ہو گئے تھے۔ ان کی بابت ان کے احباب نے حضور مقدس سے سوال کیا کہ ان کی نمازیں مقبول ہوئیں یا نہیں۔ ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ ضائع نہ ہوں گی ۱۲ جلالین۔ ){

تو پھر رحم اور مہربانی اسی کا نام ہے کہ کئے ہوئے کام (نماز روزہ) بھی بلا وجہ ضائع کر دے چونکہ تیرا مدت سے یہی جی چاہتا ہے کہ کعبۂ ابراہیم کی طرف ہی (جو سب سے اول عبادت خانہ ہے ) نماز پڑھے چنانچہ تیرے منہ کا آسمان کی طرف بانتظار وحی پھر نا ہم دیکھ رہے ہیں نیز تعیین جہت سے کوئی یہ غرض نہیں کہ اس جہت کی عبادت کرائی جائے بلکہ عبادت تو ہماری ہے تعیین قبلہ تو صرف ایک عارضی امر ہے پس تجھ کو ہم اسی کعبہ کی طرف پھیریں گے۔ جسے تو پسند کرتا ہے لیجئے بس اب سے آئندہ کو اپنا منہ عزت والی مسجد یعنی کعبہ ابراہیمی کی طرف پھیر کر اور عام مسلمانوں کو بھی اعلان دے دو کہ جہاں کہیں تم ہو نماز کے وقت اپنا رخ اسی کی طرف کیا کرو۔

}آریوں اور عیسائیوں کی غلطی :

(اپنا منہ عزت والی مسجد کی طرف پھیرا کر) اس آیت کے متعلق بھی نا فہم مخالفوں نے کئی طرح سے دانت پیسے ہیں سب سے بڑا اعتراض تو یہ ہے کہ اسلام نے بت پرستی کو رواج دیا جو سچے مذہب کے شایاں نہیں۔ کس طرح دیا؟ اس طرح کہ کعبہ جو پتھروں کا بنا ہوا مثل ایک بت کے ہے اس کی عبادت کا حکم کیا اور ایسا کیا کہ بغیر اس طرف رخ کرنے کے نماز قبول ہی نہیں ہوتی۔ دوسرا اعتراض نسخ احکام کے متعلق ہے کہ پہلے حکم کو اٹھانا اس کے نا تجربہ اور لاعلمی پر مبنی ہوتا ہے اس لئے جائز نہیں کہ احکام خداوندی میں سے کوئی حکم کسی زمانہ میں صادر ہو کر پھر اٹھا دیا جائے جیسا کہ یہاں پر پہلے کعبہ سے دوسرے کعبہ کی طرف منہ پھرنے کا حکم ہوا کیونکہ اللہ تعالیٰ تو علام الغیوب ہے۔ یہ خلاصہ ہے ان دفتروں کا جو ہمارے قدیمی مہربان عیسائی اور ہمسایہ قوم آریہ وغیرہ نے بھرے ہیں پہلے سوال کا جواب دو طرح سے ہے اجمالی اور تفصیلی۔ اجمالی تو دو ٹوک بات ہے کہ شرک اور بت پرستی اسے کہتے ہیں کہ غیر اللہ کی عبادت کی جاوے یا کم سے کم اس سے وہ معاملے کئے جاویں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہونے چاہئیں مثلاً امید بھلائی یا دفع ضرر مگر چونکہ کعبہ کی نسبت اسلام نے کوئی حکم ایسا نہیں دیا بلکہ صاف اور صریح لفظوں میں فَلیَعبُدُوا رَبَّ ھٰذَا البَیت فرمایا۔ یعنی کعبہ کے اللہ کی عبادت کریں۔

تو اب اسلام کی نسبت یہ گمان کرنا کہ کعبہ پرستی اور بت پرستی سکھاتا ہے۔ سراسر انصاف کا خون کرنا ہے۔ تفصیلی جواب سے پہلے مسلمانوں کی نماز کا مطلب بیان کرنا بھی کسی قدر مفید ہو گا۔ تاکہ ثابت ہو جائے کہ اسلامی نماز جس پر تمام اہل اسلام فخر کیا کرتے ہیں کہاں تک توحید سے یا شرک سے بھری ہوئی ہے۔ پہلے میں اس نوٹس اذان کا مضمون سناتا ہوں جو نماز پنجگانہ کی حاضری کے لئے تجویز ہوا ہے۔ کچہری (مسجد) کے دروازہ یا کسی کونے میں چپڑاسی (موذن) کھڑا ہو کر بلند آواز سے کہتا ہے کہ

اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اشھدان لا الہ الا اللہ اشھد ان لا الہ الا اللہ اشھد ان محمد الرسول اللہ اشھد ان محمد رسول اللہ حی علی الصلوۃ حتی علی الصلوۃ حی علی الفلاح حی الفلاح اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ۔

اللہ تعالیٰ! سب سے بڑا ہے (چار دفعہ) میں گواہی دیتا ہوں کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی معبود برحق نہیں (دو دفعہ) میں اس امر کا شاہد ہوں کہ محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں (جن کو سوا پیغام پہونچانے کے خدائی میں کسی طرح کا حق نہیں ) اے سب سننے والو ! آؤ نماز پڑھنے کو (دو دفعہ) آؤ عذاب سے رہائی پانے کو (دو دفعہ) اللہ سب سے بڑا ہے (دو دفعہ) سوائے اس کے کوئی بھی معبود برحق نہیں۔ یہ ہے مضمون اس نوٹس کا جو رسول اسلام (فداہ روحی) نے حاضری دربار رب العالمین کے لئے مقرر کیا ہے۔ سچ ہے ع سالیکہ نکوست از بہارش پیداست۔ اس نوٹس کے الفاظ میں نے حاشیہ پر نقل کر دئے ہیں تاکہ ہر موافق مخالف کو یہ موقع ملے کہ مسجد میں جا کر (اللہ کرے کہ سب جائیں ) اپنے کان سے سن کر ہماری تصدیق کا اندازہ کرے اب میں اس نماز کا مضمون سناتا ہوں جس کے لئے یہ اعلان تجویز ہے۔ کھڑے ہوتے ہی (بایں خیال کہ میں اس وقت دنیا اور ماسوا اللہ سے علیحدہ ہوں ) دونوں ہاتھ اٹھا کر کہتا ہے کہ

اللہ اکبر سبحنک اللھم بحمدک وتبارک اسمک وتعالی جدک ولا الہ غیرک اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العلمین الرحمن الرحیم ملک یوم الدین ایاک نعبد وایاک نستعین اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم والا الضالین۔

اللہ سب سے بڑا ہے۔ یہ کہہ کر نوکروں اور غلاموں کی طرح دونوں ہاتھ باندھ کر اقرار کرتا ہے۔ اے اللہ تو سب عیوب سے پاک ہے میں تیری تعریف کرتا ہوں بڑی برکت والا ہے نام تیرا اور بلند ہے ذات تیری اور سوا تیرے کوئی معبود نہیں۔ شیطان مردود سے پناہ میں ہو کر اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور اس بات کا صریح لفظوں میں اقرار کرتا ہوں کہ سب تعریفوں کا مستحق اللہ ہی ہے جو سب جہان کا پالنہار ہے بڑا بخشنے والا نہایت مہربان۔ انصاف کے دن کا حاکم (اس کے بعد مخاطب ہو کر اپنی آرزو کا اظہار کرتا ہے کہ) ہم تیری ہی اے ہمارے مولا ! بندگی کرتے ہیں اور تجھ ہی سے اپنے اڑے کاموں میں مدد چاہتے ہیں تو ہی ہم کو سیدھی راہ پر پہنچا۔ ان لوگوں کی راہ پر پہنچا کہ جن پر تو نے بڑے بڑے انعامو اکرام کئے اور نہ ان کی جن پر غصہ ہوا اور نہ گمراہوں کی۔ اس کے بعد کوئی سورت قرآنی بغرض ربط مخلوق بخالق پڑھ کر اللّٰہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے ) کہہ کر رکوع میں جاتا ہے اور اس امر کا اقرار کرتا ہے کہ سبحان ربی العظیم۔ میرا ! مالک مربی اللہ بڑی بزرگی والا ہے (کم سے کم تین دفعہ) پھر سر اٹھاتے ہوئے اللہ کی عام قدرت کا اقرار کرتا ہے سمع اللہ لمن حمدہ۔ یعنی اللہ سنتا”” ہے ان کی پکار کو جو اس کی تعریف کرتے ہیں۔ پھر ساتھ ہی اس کے یہ بھی اظہار ہے کہ ربنا لک الحمد۔ اے # ہمارے مولا ! تو ہی سب تعریفوں کا مالک ہے پھر اللّٰہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے ) کہتا ہوا سجدہ میں جاتا ہے وہاں تو خوب ہی بن آتی ہے من مانی دعائیں جی میں آئی عرضیں کرتا ہے سبحان ربی الاعلیٰ (پاک ہے رب میرا سب سے بلند) (کم سے کم تین دفعہ) کہہ کر اللّٰہ اکبر کہتا ہوا سر اٹھاتا ہے۔ ۔ پھر دوسرا سجدہ بھی اسی کیفیت سے کرتا ہے یہاں پہنچ کر ایک رکعت ختم ہوئی۔ ( دونوں سجد وں کے درمیان میں دعا پڑھنا لازمی رسول اللہﷺ سے مرفوع ہے۔ (۱) ربی اغفرلی۔ (۲) ربی اغفرلی ورحمنی… الخ) اسی کیفیت کی دو تین چار جیسا وقت ہو پڑھتا ہے۔ سب سے اخیر بیٹھ کر اپنے مالک کی تعریف کے کلمات (التحیات للہ والصلوت والطیبت السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ اللھم صلی علی محمد وعلی ال محمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید اللھم بارک علی محمد وعلی ال محمد کما برکت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم انک حمید مجید۔ ) کہہ کر اور اپنے پیرو مرشد سچے رسول کے حق میں نیک دعا کر کے اور اپنے حق میں بھی کچھ کہہ سن کر نماز سے فارغ ہوتا ہے پس یہ ہے وہ نماز اور وہ عبادت جس کو ایک ناخواندہ (مگر خوندوں کے معلم) جنگلی ملک کے رہنے والے (فداہ روحی) نے بالہام الٰہی تجویز کیا ہے۔ کیا اس میں کوئی کلمہ بھی ایسا ہے کہ جس میں کعبہ کی مدح یا تعظیم ہو۔ پھر اس نماز کو بھی ہمارے نا فہم مخالف شرک اور بت پرستی کہیں گے تو اس کے جواب میں ہم سے یہی سنیں گے

پس تنگ نہ کر ناصح ناداں مجھے اتنا

یا چل کے دکھا دے دہن ایسا کمر ایسی

بعد اس کے ہم اپنے مخالفین سے پوچھتے ہیں کہ اگر اسلام کو کعبہ پرستی منظور ہوتی اور شرک اور بت پرستی کا رواج مد نظر ہوتا تو کیا وجہ ہے کہ ساری نماز میں کعبہ کا ذکر تک بھی نہیں۔ نہ اس کو خطاب ہے۔ نہ اس سے استمداد۔ نہ اس کا نام۔ پھر کعبہ پرستی ہے تو کہاں ہے ؟ میں نہیں جانتا کہ کوئی منصف مزاج اس معروضہ تقریر پر غور کر کے اسلام پر کعبہ پرستی کا الزام لگائیں۔ رہا یہ سوال کہ نماز میں تو بیشک شرک کی بو تک نہیں۔ مگر اس کی کیا وجہ ہے کہ نماز پڑھتے ہوئے کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم آیا ہے۔ انسان کو اس امر میں مختار کیوں نہیں کیا گیا کہ جس طرف منہ کر کے چاہتا اپنے مالک کی عبادت کرتا۔ سو اس کا جواب بعد ایک تمہید کے ہم دیتے ہیں۔ وہ یہ ہے :۔

ہمیشہ قاعدہ ہے کہ ایک امر مقصود اصلی کے ساتھ کوئی مقصود تبعی بھی ہوا کرتا ہے مثلاً علم کا پڑھنا مقصود اصلی ہے تو حروف ابجد کا سیکھنا غیر اصلی لازم ہے گو بعد حصول علم حروف ابجد کا خیال تک بھی نہیں رہتا۔ اسی طرح دفع دشمن کے لئے تلوار بندوق کا اٹھانا لازم ہو جاتا ہے حالانکہ ان کے اٹھانے سے بجز تحمل بوجھ کوئی فائدہ نہیں مگر بایں لحاظ کہ یہ بوجھ ایک ضروری کام (دفع دشمن) کے لئے ذریعہ ہے یہی عمدہ اور احسن ہو جاتا ہے اس تقریر سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جو امر کسی دوسرے امر کا ذریعہ ہوا کرتا ہے اس کا حسنو قبح اصل ذی ذریعہ کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ یہی تلوار کا اٹھانا جو بلحاظ اس امر کے کہ یہ تلوار دفع دشمن کے لئے ایک ذریعہ ہے احسن اور عمدہ ہے اور اس لحاظ سے کہ کسی بیکس مظلوم پر چلائی جائے۔ تو قبیح ہوتا ہے۔ ہاں اس امر کی پہچان بعض دفعہ مشکل ہو جاتی ہے کہ مقصود اصلی کیا ہے اور تبعی کیا۔ سو اس کے لئے عام قاعدہ یہ ہے کہ ان دونوں میں سے جو امر ایسا ہو کہ اس کے حصول کے بعد دوسرے کے لئے تردد کرنا باقی رہے۔ اور مقصود سے فارغ البالی نہ ہو۔ تو وہ مقصود اصلی نہیں اور جس کے حصول کے بعد دوسرے کی تلاش نہ رہے تو وہ امر مقصود اصلی ہو گا۔ مثلاً دوا کا بنانا اور گھوٹنا ایک ایسا امر ہے کہ اس کے حصول پر قناعت نہیں کی جا سکتی۔ جب تک کہ بیمار کو بھی شفا نہ ہولے۔ ہاں اگر بغیر دوا نوشی کے مرض سے عافیت ہو جائے تو دوا کا مطلق خیال بھی نہیں ہوتا۔ ہماری اس تقریر سے یہ امر بھی بخوبی واضح ہوتا ہے کہ مقصود اصلی کسی حال میں متروک اور مفروغ عنہ نہیں ہو سکتا۔ پس اب ہمیں پہلے یہ دیکھنا ہے کہ تعیین جہت کو اسلام نے کوئی مقصود اصلی قرار دیا ہے یا تبعی۔ بعض مواقع پر اس حکم کا ساقط ہو جانا صاف دلیل ہے کہ یہ کوئی امر اصلی نہیں۔ مثلاً جنگ کی حالت میں بشدت خوف جدھر رخ ہو نماز پڑھتے جانا خواہ کعبہ کی طرف پیٹھ بھی ہو۔ اس امر کو ثابت کررہا ہے کہ کعبہ کی طرف توجہ کرنا مقصود اصلی نہیں۔ بلکہ صرف اس امر کے لئے ہے کہ مسلمانوں میں جیسا کہ معنوی اتحاد ہے صوری موافقت بھی حاصل رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت سے نماز پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے جو اختیار دینے کی صورت میں متصور نہ تھا کیونکہ جب ہر ایک کو اختیار ملتا اور اس بات کا مجاز ہوتا کہ دوسرے کے منہ کی طرف منہ کرے یا پیٹھ ایک مشرق کو رخ کرے تو دوسرا مغرب کو۔ تیسرا جنوب کو چوتھا شمال کو۔ یہ فائدہ جو یک جہتی سے حاصل ہے نہ ہوتا۔ پس یہی وجہ اس کے تبعی مقصود ہونے کی ہے۔ یہ تقریر بالخصوص اس وقت بخوبی سمجھ میں آ سکتی ہے کہ نماز کے معانی اور مطالب ذہن نشین کر کہ یہ دیکھا جائے کہ اس میں تو کسی جہت یا کعبہ کا نام تک بھی نہیں پس اگر یہ مقصود اصلی ہوتا تو اصل عبادت کے طریق اور اس کے الفاظ میں اس کا ذکر ہوتا کیونکہ بغیر مقصود کسی کام کا کرنا کون نہیں جانتا کہ علاوہ لغو ہونے کے تضیع اوقات اور بیہودہ پن ہے۔ پس ہماری ہمسایہ قوم آریہ اور عیسائی وغیرہ اسلام کے مخالف ہماری اس تقریر پر غور کریں اور نتیجہ سے ہمیں اطلاع دیں اگر کچھ شبہ ہو تو تمام قرآن میں تلاش کر کے کوئی آیت اس مضمون کی نکالیں جس سے ثابت ہو کہ نماز میں کعبہ کی پرستش ہے۔ نہ ملنے پر ہم آپ سے صرف ایک چیز چاہتے ہیں۔ جو نہایت آسان ہے گو کسی مخالف حق کے حق میں مشکل اور گراں سے گراں ہے وہ وہی ہے جس کا پیارا نام ” انصاف” ہے جو انسان کو ہر ایک جگہ عزت دلاتا ہے اور اعزاز سے یاد کراتا ہے۔ رہا یہ سوال کہ کعبہ کی جہت کیوں مقرر ہوئی۔ اور طرف کیوں نہ ہو گئی؟ مانا کہ نماز میں شرک نہیں اور تعین جہت شرک ہے لیکن اتنا تو ہے کہ اور اطراف بھی اس کے مساوی ہیں آخر اس میں کیا ترجیح ہے جو اس کو اختیار کیا گیا۔ کیا ترجیح بلا مرجح محال نہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جہت میں سب سے بڑھ کر ایک ایسی ترجیح پائی جاتی ہے جو ہم خرما وہم ثواب کی مصداق ہے۔ یعنی یہ کعبہ ایک بڑے نامور سید الموحدین اس نیک بندے کا بنایا ہوا ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی محبت اور توحید کے اختیار۔ کرنے کی وجہ سے اپنے بیگانے سے وہ تکالیف دیکھی تھیں جن کا نمونہ آج کل تمام دنیا میں نہ مل سکے پس ایسے شخص کی یاد گار دل میں قائم رکھنے کی غرض سے کعبہ مقرر کیا گیا۔ تاکہ اور لوگوں کو بھی اخلاص مندی اور توحید کا اس سے سبق حاصل ہو۔ اسی حکمت سے حضور اقدس (فداہ روحی) کا دل تڑپتا تھا کہ میں کعبہ ابراہیمی کی طرف نماز پڑھوں ورنہ اس میں کچھ شک نہیں کہ کعبہ بھی مثل اور جہات کے ایک جہت ہے۔ ہاں کوئی وصف ہے تو یہ ہے

بگفتا من گلے ناچیز بودم

ولیکن مدتے باگل نشستم

رہا اعتراض نسخ احکام کے متعلق سو اس کا جواب یہ ہے کہ نسخ یعنی حکم سابق کا اٹھا دینا یہ دو طرح پر ہے۔ ایک تو جس طرح سے حکام زمانہ کوئی قانون بعد ترویج بدلتے ہیں جس کی بابت پہلی ترتیب کے وقت ان کو علم نہیں ہوتا کہ اس میں کیا خرابی ہو گی جس کے سبب سے اس میں کچھ تغیر آئے گا۔ دوسری قسم طبیب کی تبدیلی نسخہ جات کی طرح ہے کہ رفتہ رفتہ بتدریج طبیعت کو درستی پر لاتا ہے۔ منضج دے کر مسہل تجویز کرتا ہے ان دو قسموں میں سے قسم اول تو بیشک حاکم کی لاعلمی پر دلالت کرتا ہے۔ مگر قسم دوم بجائے لاعلمی کے کمال بتلاتا ہے۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اہل اسلام کون سے نسخ کے قائل ہیں ؟ قسم اوّل کے۔ حاشا وکلّا (ہرگز نہیں ) ان کی پاک کتاب کی تعلیم ہے یَعلَم مَابَینَ اَیدِیہِم وَمَا خَلفھُم اور اِنَّہٗ عَلِیمٌ بِذَات الصُّدُورِ۔ بھلا اس صریح تعلیم کے خلاف وہ کیونکر کہہ سکتے ہیں اور اگر کہیں بھی تو یہ اعتراض ان پر ہو گا۔ نہ کہ اسلام پر۔ قسم دوم کے البتہ جمہور اہل اسلام معترف ہیں کتب اصول میں لکھا ہے کہ :۔

النسخ ہو بیان لمدۃ الحکم المطلق الذی کان معلوماً عند اللّٰہ الا انہ اطلق فصار ظاھرہ البقأ فی حق البشر فکان تبدیلا فی حقناببانا فی حق صاحب الشرع (نور الا نوازص ۲۰۸)

نسخ صرف ایک مدت کا اظہار ہوتا ہے جو کسی حکم بلا قید میں مراد ہوتی ہے اور اللہ کو معلوم ہے کہ یہ حکم فلاں وقت

تک رکھوں گا مگر بظاہر اس کو غیر مفید فرما دیتا ہے جس سے لوگ اس کو دوامی سمجھ جاتے ہیں پس اسی وجہ سے وہ ہمارے خیال میں پہلے حکم کی تبدیلی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ صرف ایک مدت کا اظہار ہوتا ہے ۔

پس ایسے نسخ سے نہ تو اللہ کے علم میں کوئی نقصان آتا ہے اور نہ کوئی دوسرا اعتراض ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ابتدائے اصلاح قوم میں مصلحان کو کیا کیا دقتیں پیش آیا کرتی ہیں کبھی وہ مشکل سے مشکل کام بھی کر گذرتے ہیں اور کروا لیتے ہیں اور کبھی آسان سے آسان بھی بوجہ کسی مصلحت اور حکمت کے ان سے نہیں ہو سکتے ایک شخص کے خیالات کا اندازہ کرنا اور اس کی طبیعت مدت سے بگڑی ہوئی کو اصلاح پر لانا ہاتھ میں انگار لینا ہے تو پھر ایک قوم کی قوم کو یکدم پلٹا دلانے میں کیا کیا دقتیں نہ پیش آتی ہوں گی۔ سچ ہے اور بالکل سچ ہے

پانی میں ہے آگ کا لگانا دشوار

بہتے دریا کا پھیر لانا دشوار

دشوار تو ہے مگر نہ اتنا جتنا

بگڑی ہوئی قوم کا بنانا دشوار

ایک حدیث میں جو امام مسلم نے نقل کی ہے مذکور ہے کہ آپ نے لوگوں کی مشرکانہ عادت دیکھ کر قبرستان کی زیارت سے منع فرمایا تھا بعد اصلاح اجازت دے دی اور ان کے بخل کے مٹانے کی غرض سے قربانیوں کے گوشت تین دن سے زائد رکھنے سے منع کر دیا تھا جس کی بعد میں اجازت دے دی ایسا ہی شراب کے برتنوں میں بھی کھانا پینا منع کیا تھا۔ مگر بعد میں ان کے استعمال کی اجازت بخشی اس حدیث سے ہمارے بیان کی تصدیق ہوتی ہے کہ اسلامی نسخ بے علمی پر مبنی نہیں بلکہ کمال دور اندیشی کی خبر دیتا ہے۔ ہمارے خیال میں ایسے مصلح اور رفارمر کی کسی پالیسی (حکمت عملی) یا دوسرے لفظوں میں نسخ پر کوئی اعتراض کرنا گویا ثابت کرنا ہے کہ اصول رفارمری سے ناواقف ہیں۔ سچ ہے سخن شناس نئی دلبر اخطا اینجاست۔ اسلامی نسخ جس قدر کہ ہے اس قسم کا ہے ہاں اس میں شک نہیں کہ بعض مفسرین نسخ بتلانے میں ذرا جلدی بھی کر جاتے ہیں سو جس نے آیات منسوخہ کی صحیح تعداد اور ان کے متعلق محققانہ بحث دیکھنی ہو وہ رسالہ فوز الکبیر مصنفہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی قدس سرہٗ کا مطالعہ کرے تمام تلاش میں شاید کوئی آیت منسوخ ملے گی۔ واللہ اعلم منہ

اس لفظ میں استثناء باب ۱۸۔ اور اعمال باب ۳ کی طرف اشارہ ہے۔ ۱۲ منہ{

اس امر کا خطرہ نہ کرو کہ جہاں اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) تم کو طعن مطعن دیں گے اگر دیں تو کچھ پرواہ نہیں اس لئے کہ جو لوگ کتاب کے جاننے والے ہیں خوب جانتے ہیں کہ یہ (حکم) واقعی ان کے (اور تمہارے سب کے ) مالک کی طرف سے ہے کیونکہ وہ بشہادت تورات ونیز بقرائن خارجہ اسے خوب سمجھتے ہیں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سچا نبی اور حضرت موسیٰ کی مانند رسول مستقل ہے۔ پس جو کچھ وہ حکم کرے گا ممکن نہیں کہ غلط اور باطل ہو گوہ بوجہ دنیا سازی مانتے نہیں سو یاد رکھیں کہ اللہ ان کے کاموں سے بے خبر نہیں ضد اور تعصب میں تو یہاں تک بڑھے ہوئے ہیں کہ اگر تو ان کے پاس ہر طرح کے نشان بھی لاوے گا تو جب بھی تیرے قبلہ ابراہیمی کی طرف نماز نہ پڑھیں گے اور نہ کسی طرح تو ان کے قبلہ کو مانے گا ان کی یہ مخالفت تیری حقانیت میں خلل انداز نہیں ہو سکتی پہلے وہ آپس میں تو فیصلہ کر لیں اس لئے کہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کو نہیں مانتے۔ یہود نصاریٰ سے مخالف اور نصاریٰ یہود سے۔ حالانکہ دونوں گروہ تورات کو مانتے ہیں پھر تجھ سے بھی الجھنے کی کیا وجہ کوئی دلیل ان کے پاس ہے ؟ کہ انہی کے قبلہ کی طرف نماز پڑھی جاوے ہاں نفسانی خواہش تو بے شک ہے اور یاد رکھ کہ اگر تو بفرض محال باوجود جان لینے ان کی اندرونی حالت کے ان کی خواہش پر چلا تو بے شک تو بھی اسی وقت بے انصاف ثابت ہو گا اصل میں یہ ضد جہلاء اور نیم، ملّاؤں میں زیادہ ہے ورنہ جن لوگوں کو ہم نے کتاب تورات کی سمجھ دی ہے وہ تو اس رسول کو ایسا سچا پہچانیں جیسا اپنے بیٹوں کو جب ہی تو ماننے میں بھی دیر نہیں کرتے۔ ہاں ایک فرقہ نیم ملّاؤں کا ان میں سے بے شک دیدہ دانستہ حق بات چھپاتے ہیں اور اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح حق ظاہر نہ ہونے پائے مگر تو سن رکھ کہ حق وہی ہے جو تیرے رب کی طرف سے ہے پس تو ان کی باتوں سے کسی طرح کا شک نہ کی جیو ان کی مخالفت سے کیا ہوتا ہے پڑے مخالفت کریں اللہ تعالیٰ نے اس دین کو ضرور ہی پھیلانا ہے۔

 

(148۔ 176)

 

اور ہم ابھی سے بتلائے دیتے ہیں کہ ہر ایک فر قہ کے لئے ایک جانب کعبہ کی مقرر ہے وہ فر قہ اس جہت کی طرف نماز میں اپنا رخ ضرور پھیرے گا جنوب شمال مشرق مغرب تمام اطراف کے لوگ اپنی اپنی طرف سے کعبہ کی طرف نماز پڑھیں گے جس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ اسلام کی اشاعت اطراف میں ہو گی ہاں اس میں شک نہیں کہ ابتدا میں تم کو کسی قدر تکلیف ہو گی سو کچھ حرج نہیں تکلیف میں بہت بڑا اجر ہے پس تم اس سے مت ڈرو بلکہ ایسی نیکیوں کے کرنے میں جلدی کرو اور یہ وہم مت لاؤ کہ مشرق مغرب کے لوگ اس کعبہ میں کیونکر آویں گے اور کیونکر آپس میں ملیں گے اس لئے کہ جہاں کہیں تم ہو گے اللہ تم سب کو ایک جگہ لے آئے گا بے شک اللہ سب کام کر سکتا ہے یہ کام اللہ کے سپرد کر اور اس کی تعمیل ارشاد میں مصروف ہو

} (اپنا رخ ضرور پھیرے گا) اس آیت کے معنے بتلانے میں بھی مفسرین کا قدرے اختلاف ہوا ہے بعض کہتے ہیں ہر ایک کے لئے ایک جہت ہے جو وہ اپنا منہ اس طرف پھیرتا ہے مثلاً یہودی ایک طرف عیسائی ایک طرف مشرکین عرب ایک طرف حالانکہ بہتر وہی جہت ہے جو اللہ کے حکم سے ہو پس تم کعبہ کی طرف منہ کرو جو منشاء ایزدی کے موافق ہونے کی وجہ سے ہر طرح سے افضل اور فائق ہے بعض کہیں ہو کی ضمیر اللہ کی طرف پھرتی ہے پس اس توجیہ پر آیت کے معنے دو طرح سے ہوں گے ایک تو یہ کہ ہر ایک کے لئے جہان والوں سے ایک رخ ہے کہ اللہ نے ان کو اس طرف پھیرا ہے۔ مثلاً یہود کو ایک طرف عیسائیوں کو ایک طرف۔ دوسرے معنے یہ ہوں گے کہ ہر ایک کے لئے تم مسلمانوں سے کعبہ کی ایک جہت ہے کہ اللہ تم کو اس طرف پھیرے گا ان معانی کا مفصل ذکر تفسیر کبیر میں مرقوم ہے من شاء فلیرجع الیہ۔ جو معنے میں نے کئے ہیں وہ بہئیت کذائی کسی کے کئے ہوئے تو میرے سے نظر سے نہیں گذرے لیکن انہی وجہ مذکورہ سے مستنبط ہو سکتے ہیں میں نے کل کا مضاف الیہ مخاطب یعنی مسلمان لئے ہیں اور ہو کی ضمیر کل کی طرف ہی پھیری ہے جو متبادر ہے یہ سب اس لئے کیا کہ ان معنے میں ایک قسم کی پیشگوئی ترقی اسلام کے متعلق معلوم ہوتی ہے جو ایسی گھبراہٹ کے زمانہ میں مناسب بلکہ انسب ہے جیسی کہ سَیھُزَمُ الجَمعُ وَیُوَلُّونَ الدُّبُرَ اور جنگ خندق میں آپ نے عین گھبراہٹ کے وقت ایک روشنی دیکھ کر صحابہ کو تسلی فرمائی کہ مجھے روم شام کا ملک دکھایا گیا ہے اور بتلایا گیا ہے کہ یہ ملک میری امت کو ملے گا۔ چنانچہ یہ پیشگوئی معہ ان دو قرآنی پیشگوئیوں کے اللہ کے فضل سے پوری ہو گئیں۔ فالحمدُللّٰہ علٰے ذٰلک {

اور مدینہ سے باہر جہاں نکلے وہاں نماز پڑھنے لگے تو اسی عزت والی مسجد یعنی کعبہ شریف کی طرف نماز میں اپنا منہ پھیر اس لئے کہ وہی سچا حکم تیرے مالک کی طرف سے ہے اور جان لو کہ اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں اس تکلیف کا یہ بدلہ تم کو ضرور دے گا اس لئے ہم تم کو بار بار بتاتے ہیں کہ جہاں سے تو نکلے پس اسی مسجد عزت والی کی طرف نماز میں اپنا منہ پھیرو اور تم بھی مسلمانو ! جہاں کہیں ہوؤ نماز پڑھتے وقت اسی طرف اپنا منہ پھیرو تاکہ لوگوں کا جھگڑا تم سے نہ رہے کہ دعویٰ تو ملت ابراہیمی ( علیہ السلام) کا کریں اور کعبہ ابراہیمی ( علیہ السلام) کو چھوڑ دیں ہاں جو ان میں سے بالکلہی کجرو ہیں سو ان سے مت ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرو تاکہ تم ترقی کرو اور تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی راہ پر پہنچو یہ نعمت یہ کامیابی بھی کوئی کم چیز نہیں بلکہ ویسی ہی جیسا کہ ہم نے تمہارے پاس ایک رسول تمہاری جنس کا بھیجا ہے۔ جو ہماری آیتیں تم پر پڑھتا ہے اور کدورت باطنی مثل کفر شرک کینہ نفاق وغیرہ سے تم کو پاک کرتا ہے اور تم کو کتاب آسمانی اور تہذیب روحانی سکھا تا ہے اور علاوہ اس کے ضروری ضروری باتیں وہ باتیں بھی تم کو سکھاتا ہے جو پہلے اس کے تم نہیں جانتے تھے بڑی بھاری اخلاقی بات جو تم ہمارے رسول سے سیکھتے ہو طریقہ ذکر ہے اس لئے کہ بہت سے لوگ اس میں بھولا کرتے ہیں پس تم اسی طریقہ معلومہ سے میری یاد کیا کرو میں بھی اس کے عوض میں تمہیں انعام خاص سے یاد کروں گا اور اس ہدایت کا احسان مان کر میرا شکریہ ادا کرو اور نا شکری مت کرو کہ اس طریقہ محمدیہ کو چھوڑ کر نئی نئی راہیں نکالنے لگو اور جس طریق سے ہمارے پیغمبر نے تم کو تعلیم نہیں دی اس طور سے ذکر کرنے لگ جاؤ کیونکہ الٰہی معلم کے طریق کو چھوڑنا بڑی بھاری نا شکری ہے اس میں شک نہیں کہ ذکر اور شکر بھی ایک مشکل کام ہے مگر اس کے لئے ایک آسان طریق ہم بتلاتے ہیں پس اے مسلمانو ! تم صبر اور نماز کے ساتھ مدد چاہا کرو یعنی تکلیفوں کے وقت صبر کے خو گیر ہو جاؤ اور ہر وقت اس کا خیال رکھو اور جب کبھی تکلیف ناگہانی آ جاوے تو نفل پڑھ کر دعا کیا کرو ان دونوں کے استعمال اور مزاولت سے تم پکے ذاکر شاکر بن جاؤ گے اس لئے کہ ان دونوں کاموں پر بہت سے آثار باطنی فیضان ہوتے ہیں بڑی بات تو یہ کہ بے شک اللہ تعالیٰ کی ہر وقت مدد صابروں کے ساتھ ہے تمہارے صبر کی نشانوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم اپنے بھائی بندوں کے مرنے پر واویلا نہ کیا کرو اور خاص کہ ان لوگوں کو جو اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے قتل ہوتے ہیں مردے مت کہا کرو

} (شان نزول :۔ (وَلَا تَقُولُوا) جنگ بدر میں چودہ مسلمان شہید ہوئے تھے ان کے وارث حسب طبیعت انسانی ان کا رنج رکھتے تھے اور ان کا ذکر کرتے ہوئے کہ فلاں شخص مر گیا فلاں قتل ہوا ان کو ملال ہوتا تھا۔ ادھر کفار نے بھی یہ کہنا شروع کیا کہ یہ لوگ ناحق (ایک شخص (محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے پیچھے ہو کر جان دیتے ہیں۔ اس لئے مسلمانوں کو شہداء کے مردہ کہنے سے جو ان کے حق میں باعث رنجیدگی کا ہو روکنے کو یہ آیت نازل ہوئے۔ {

اس لئے کہ جب تم آپس میں بول چال کرتے ہوئے کہتے ہو کہ فلاں مر گیا فلاں قتل ہو گیا تو اس کہنے سے تمہیں ایک قسم کا بے اختیاری قلق ہوتا ہے پس ایسا کہنا ہی چھوڑ دو بلکہ یہ سمجھو کہ وہ زندہ ہیں اور اگر غور کیا جائے تو زندہ ہی ہیں اس لئے کہ جو زندگی کا حاصل ہے وہ ان کو بطریق احسن حاصل ہے ہر طرح کے عیشو آرام میں ہیں لیکن تم اس کی کیفیت نہیں جانتے کہ کس قسم کا ہے کیونکہ تمہاری نظر سے غائب ہیں سچ پوچھو تو صبر ایک عجیب ہی وصف جامع کمالات ہے اس لئے ہم تم کو صبر کی ہدایت کرتے ہیں اور آئندہ تمہیں کس قدر دشمنوں کے خوف اور بھوک یعنی تنگی معاش اور مال و جان اور پھلوں کے نقصانات سے تجر بہ کار بنا دیں گے جو ایسے وقت میں کامیاب ہوں گے انہی کے حق میں اپنے رسول کو ہدایت کرتے ہیں کہ تو ایسے صبر والوں کو خوش خبری سنا۔ جو مصیبت کے وقت بجائے بے ہودہ شور و غل کرنے کے بجائے بجوش دل کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ ہی کی ملک ہیں جس طرح چاہے ہم میں تصرف کرے ہمیں کوئی عذر نہیں اور ہو بھی کیسے جبکہ بلا شک ہم اس کے حضور جا نے کو ہیں تو جیسا کچھ ہو گا وہاں کھل جائے گا سچ تو یہ ہے کہ انہی لوگوں پر ان کے رب کی شا باش ہے اور رحمت ہو گی اور یہی لوگ سیدھی دانائی کی راہ پر چلنے والے ہیں کیونکہ یہ کمال دا نائی ہے کہ ما تحت اپنے افسر سے بگاڑے نہیں اگرچہ اس کی طرف سے کیسی ہی تکلیفیں پہنچیں سب کو بڑی خوشی سے اٹھائے با لخصوص ایسا افسر جو تمام اختیا رات کاملہ رکھتا ہو دیکھو ہم تمہیں اس صبر کے متعلق ایک حکایت سناتے ہیں کہ جب حضرت اسمٰعیل ( علیہ السلام) کی والدہ نے جس وقت ابراہیم ( علیہ السلام) اس کو بحکم خداوندی جنگل میں چھوڑ گئے تو اس نے صبر و شکر سے کام لیا اور جب اسے پیاس کی سخت تکلیف پہنچی تو وہ بیچاری پانی کی تلاش میں ان دونوں پہاڑیوں پر جو شہر مکہ کے قریب ہیں جس کا نام صفا مروہ ہے دوڑنے لگی کہ کہیں سے پانی ملے اسوقت کی اس صابرہ کی یہ دوڑ ہمیں ایسی بھلی معلوم ہوئی کہ علاوہ ان احسانات کے جو اس وقت اس پر اور اس کے بچے پر کیے ہم نے عام طور پر اس صابرہ کا صبر جتلانے اور اس پر اپنی خوشی کا اظہار کرنے کو اعلان کر دیا کہ صفا اور مروہ دونوں پہاڑیاں بے شک اللہ کی قبولیت کی نشانیاں ہیں جو شخص دیکھنا چاہے کہ اللہ صبر پر بھی کچھ بدلہ دیتا ہے وہ صفا مروہ کو دیکھ لے یہاں سے اس کو اسمٰعیل ( علیہ السلام) اور اس کی ماں کا قصہ معلوم ہو جائے گا کہ ہم نے کیونکر اس کو صبر کا بدلہ دیا کہ عموماً اس کی نسل سے تمام عرب کو آباد کیا پھر اسی پر بس نہیں کی بلکہ اس کے پانی کی تلاش والی چال ان دونوں پہاڑیوں میں ہمیں یہاں تک بھلی معلوم ہوئی کہ ہم نے عام طور پر لوگوں کو حکم دیا کہ جو کوئی حج یا عمرہ کرنے کو آوے تو ان دو پہاڑیوں کے گرد بھی پھر لے تو اس پر کوئی گناہ نہیں بلکہ ثواب ہے اور جو کوئی ایسے ثواب بھی کمائے گا تو ضرور اللہ اس کو بدلہ دے گا اس لئے کہ اللہ تو بڑا قدر دان اور ان کو جاننے والا ہے

} (شان نزول :۔ مدینہ کے لوگوں کے زمانہ کفر میں صفا مروہ پر دو بت رکھے تھے اور ان کا طواف کیا کرتے تھے جب اسلام لائے تو انہوں نے ان بتوں کے طواف کو تو برا سمجھا ہی تھا۔ یہاں تک ان سے بیزار ہوئے کہ صفا مروہ (جن پر وہ بت رکھے تھے ) کے درمیان سعی کرنا بھی انہوں نے حرام جانا ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی {

با وجود اس کے بعض لوگ خبیث النفس ایسے بھی ہیں کہ ہمارے احکام متعلقہ صبر وغیرہ عوام سے چھپاتے ہیں صاف طور پر بیان نہیں کرتے سو یاد رکھو کہ جو لوگ ہمارے اتارے ہوئے کھلے کھلے احکام اور ہدایت لوگوں سے چھپاتے ہیں بعد اس کے جو ہم نے اس کو کتاب میں لوگوں کے لئے بیان بھی کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کو اللہ لعنت کرتا ہے اور تمام دنیا کے لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں

} یہود نصاریٰ کے علماء سچی باتوں کو اکثر لوگوں سے چھپاتے تھے جس سے غرض ان کی محض لوگوں کو خوش کرنا تھا۔ ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ علماء اسلام اس سے متنبہ ہوں کہ تھوڑی تھوڑی اغراض نفسانی کے لئے حق پوشی نہ کیا کریں ورنہ ان میں اور ان میں کیا فرق ہو گا۔ {

ہاں جنہوں نے اس گناہ سے توبہ کی اور آئندہ کو عمل اچھے کیے اور اپنی پہلی غلطیاں بیان بھی کر دیں تو ان لوگوں پر میں بھی رحم کرتا ہوں۔ اور میں ہمیشہ سے بڑا ہی رحم والا مہربان ہوں جو کوئی مجھ سے ڈر کر ذرہ بھی جھکے تو میں فوراً اس کو اپنی رحمت میں لے لیتا ہوں ہاں جو لوگ شریر اور متکبر ہیں کہ میری کتاب اور رسول سے منکر ہوئے اور تمام عمر بھی اس سے باز نہ آئے بلکہ اسی حالت کفر ہی میں مرے تو ان پر اللہ اور اللہ کے فرشتوں اور سب نیک بندوں کی طرف سے لعنت ہے اور اسی لعنت کے وبال میں ہمیشہ رہیں گے نہ ان کے عذاب میں تخفیف ہو گی اور نہ عذر داری کے لئے ان کو مہلت ہی ملے گی کیونکہ ان کا جرم بھی تو بہت بڑا ہے کہ توحید اور خداوندی احکام سے منکر ہیں اور اوروں کو اللہ بناتے ہیں حالانکہ تمہارا سب کا اللہ ایک ہی ہے اس کے سوا کوئی بھی اللہ نہیں وہ بڑا رحم والا نہایت مہر بان جس کی انہوں نے قدر نہ کی بلکہ بجائے شکر گزاری کے نا شکری کو پسند کیا تو کیسی نادانی کی بھلا ایسے اللہ مالک الملک کا بھی کوئی انکاری ہو سکتا ہے کہ جس کے وجود کی شہادت چاروں طرف سے آتی ہو آسمان ! اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کی تبدیلی میں اور ان جہازوں میں جو سمندر میں لوگوں کے نفع کو چلتے ہیں اور اللہ کے آسمان سے اتارے ہوئے پانی میں جس سے زمین کو بعد خشکی کے تازہ کرتا ہے اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلاتا ہے اور ہوا کے ادھر ادھر پھیرنے میں اور ان بادلوں میں جو زمین اور آسمان کے درمیان گھرے ہوئے ہیں بے شک عقل والوں کے لئے بہت نشانیاں ہیں جو ان اشیا کے ہیر پھیر سے اس نتیجہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ واقعی ان کا بنانے والا واحد لا شریک ہے اور وہی لائق عبادت ہے مگر باوجود ایسے نشانوں کے بھی بعض لوگ ایسے احمق ہیں کہ اللہ کے سوا اور معبود بناتے ہیں یہ نہیں کہ ان کو اپنا خالق جانتے ہوں یا رزاق سمجھتے ہوں نہیں طرفہ تو یہی ہے کہ رزق کا مالک ایک ہی اللہ کو جانتے ہیں باوجود اس کے ان بناوٹی معبودوں سے ایسی محبت اور دلی لگاؤ کرتے ہیں کہ جیسی اللہ سے چاہئے یہ بھی تو ایک قسم کا شرک ہے کہ اللہ کی سی محبت اوروں سے کی جائے یہی وجہ ہے کہ جو مومن ہیں وہ دلی لگاؤ اور قلبی خلوص سب سے زائد اللہ کے ساتھ رکھتے ہیں کیونکہ وہ اپنی کمال دور اندیشی سے جانتے ہیں کہ ہمارا جس قدر تعلق اللہ کے ساتھ ہے اس طرح کسی اور کے ساتھ نہیں ہماری عزت، ذلت، غربت، امارت سب اسی کے قبضہ میں ہے بخلاف پہلے لوگوں کے جو اوروں میں بھی کچھ طاقت کارروائی کی سمجھتے ہیں اس بے وقوفی کا انجام آخرت میں تو دیکھ ہی لیں گے اگر ابھی سے یہ ظالم اپنے اس باطل عقیدے کی سزا اور عذاب کی گھڑی کو دیکھ لیں تو جان جائیں کہ بے شک ہم غلطی میں ہیں کہ اوروں میں بھی توا نائی سمجھتے ہیں اب معلوم ہوا کہ توانائی سب اللہ ہی کو ہے اور سوائے اس کے کسی کو نہیں اگر ہوتی تو ہمیں مصیبت سے ضرور ہی بچا لیتے ایسے ہی مشکل وقت میں قدر معلوم ہو گی اور یہ بھی معلوم ہو گا کہ واقعی اللہ کا عذاب سخت ہے ابھی تو یہ احمق اپنے شرک کی بلا میں پھنسے ہوئے کچھ نہیں سمجھتے لطف تو جب ہو گا کہ جس وقت ان کے جھوٹے پیشوا اپنے پیروکاروں سے بیزار ہو جاویں گے اور سامنے سے عذاب دیکھیں گے اور ان کے سب علاقے ٹوٹ جاویں گے اور پیرو کار مرید تنگ آ کر بول اٹھیں گے کہ اگر ہم دنیا میں ایک مرتبہ پھر جاویں تو ضرور ہی ہم بھی ایسے دغا بازوں سے ایسے ہی بیزار ہوں جیسے کہ یہ ہم سے ہوئے اور کبھی بھی تو ان کی نہ سنیں گے چاہے جتنا بھی زور لگائیں مگر اس وقت کا افسوس کیا مفید نہ ہو گا ایسا ہی کئی دفعہ اللہ ان کے اعمال قبیحہ ان کو دکھائے گا کہ اپنی بد کرداری پر افسوس کریں اور ہمیشہ ہی ان کو جہنم میں رکھے گا جس کی آگ سے کبھی بھی نکل نہ سکیں گے بعض لوگ اپنی غلط فہمی سے یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ سے محبت جبھی ہوتی ہے کہ تمام کاروبار دنیاوی اور لذیذ اشیا کو ترک کر دیں ورنہ نہیں۔ سو ایسے لوگوں کی غلط فہمی دور کرنے کو ہم عام طور پر اعلان دیتے ہیں کہ اے لوگو کھاؤ اور پیو دنیا کی حلال اور پاک چیزیں ایسی جائز لذت اٹھانے میں کوئی حرج اور ممانعت نہیں حرج تو اس میں ہے کہ اس کھا نے میں غرور ہو سو تم ایسا مت کرو اور شیطان کے پیچھے مت جاؤ وہ ضرور تمہارا صریح دشمن ہے کبھی تم سے بہتری سے پیش نہ آئے گا بلکہ ہمیشہ تمہاری برائی ہی کی تدبیریں سوچے گا اور سوچتا ہے کیونکہ وہ بجز بد اخلاقی اور بے حیائی کے کوئی بھی تم کو راہ نہیں بتلاتا اور ہمیشہ بری بری باتیں سکھلاتا ہے سب سے بری یہ سکھاتا ہے کہ تم اللہ کی نسبت ایسی بے ہودہ بات کہو جسے تم خود بھی یقیناً نہیں جانتے چنانچہ تم سے اللہ کا شریک اور ساجھی کہلواتا ہے اور اس کی اولاد کی تلقین کرتا ہے کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے حالانکہ تم بھی یقینی طور پر نہیں کہ سکتے ہو کہ اللہ کا کوئی ساجھی یا اولاد ہے اس کی بڑی بھاری چال بازی یہ ہے جس کسی کو بہکاتا ہے یہی کہہ کر بہکاتا ہے کہ تمہارے باپ دادا ایسا ہی کرتے آئے ہیں پس تمہیں بھی اسی راہ چلنا چاہئے کیا تم ان سے زیادہ دانا ہو کیا وہ بے وقوف ہی تھے ؟ پس لوگ اسی پر جم جاتے ہیں اور جب ان سے کوئی شخص بطور نصیحت کہنے لگے کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کی پیروی کرو تو فوراً کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو اسی راہ پر چلیں گے جس پر ہمارے باپ دادا تھے کیسی نادانی کا جواب ہے کہ کیا ان باپ دادوں ہی کے پیچھے چلیں گے گو باپ دادا ان کے ایسے احمق ہوں کہ کسی کے سمجھانے پر بھی نہ سمجھیں اور نہ خود ہی راہ پر ہوں سچ تو یہ ہے کہ جب کسی کے دل میں باپ دادا کے اتباع کا خاقل بیٹھ جائے تو پھر کوئی ہدایت اثر نہیں کرتی بلکہ ایسے کافروں کو ہدایت اور راہ راست کی طرف بلانے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو کسی ایسے جانور کو بلاتا ہے کہ جو سوائے پکار اور آواز کے کچھ نہیں سنتا یہی حال ان احمقوں کا ہے جو کوئی ان کو ہدایت کی طرف بلائے اس کی آواز تو صرف سنتے ہیں مگر مطلب کی طرف جی نہیں لگاتے کہ کیا کہہ رہا ہے حق ہے یا باطل کیونکہ یہ لوگ اپنے خیالی پلاؤ میں حق سننے سے گویا بہرے ہیں سچ بولنے سے گونگے اور اپنی کج روی دیکھنے میں اندھے ہیں پس یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ حق نہیں سمجھتے ہاں یہ خیال مت کرنا کہ اللہ کی محبت عمدہ اور لذت دار چیزوں سے روکتی ہی نہیں سنو ! ہم اعلان دیتے ہیں کہ اے ایمان والو ! ہماری دی ہوئی حلال چیزوں میں سے خوب کھاؤ اور جی میں یہ سمجھ کر کہ اللہ ہی نے دی ہیں اللہ کا شکر کرو اگر تم اس کے کامل بندے بننا چاہتے ہو تو یہی مناسب ہے کیا تم نے شیخ سعدی کا قول نہیں سنا ــ” درویش صفت باش کلاہ تتری دار” ہاں میتہ یعنی خود مردہ چیز اور ذبح کے وقت کا خون اور گوشت خنزیر اور جو اللہ کے سوا غیر کے نام سے پکاری ہو کہ فلاں ۱ ؎ پیر کی نیاز یا فلاں دیوی کا بکرا بے شک تم پر حرام ہے پھر بھی جو کوئی مجبور ہو نہ حرام خوری کی چاٹ میں حرام خوری کی تلاش کرنے والا ہو کر بلکہ پابند شریعت اور تابعدار من پسند ہو اور نہ کھانے میں حد سے بڑھنے والا ہو تو اس شخص پر کوئی اس گناہ کا مواخذہ نہیں بقدر حاجت کھا لے گو یہ اشیا اصل میں حرام ہیں لیکن بوجہ تنگی اس کی کے معافی دی گئی کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑی بخشش والا مہربان ہے

} فلاں پیر کی نیاز) زمانہ حال میں یہ اختلاف ہے کہ غیر اللہ کے نام کی اشیاء جو بغرض تقرب مقرر کی جاتی ہیں جب ان کو بسم اللہ سے ذبح کیا جاوے تو حلال ہیں یا حرام؟ بعض لوگ اس کو حلال مانتے ہیں مگر محققین کے نزدیک حرام ہیں۔ حضرت حجۃ الہند شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی قدس سرہ العزیز نے اسی کو پسند کیا ہے اور مولانا عبدالحق صاحب مصنف تفسیر حقانی دہلوی بھی اسی کو ترجیح دیتے ہیں اس لئے کہ ایسی اشیاء کی حرمت کچھ ایسی عارضی نہیں ہوتی جیسے بغیر اجازت چیز میں ہوتی ہے جو بعد اجازت حلال ہو جاتی ہے بلکہ ان کی حرمت کا سبب شرک ہے جو ابتداء ہی سے اس میں اثر کر گیا ہے۔ سرسید سے اس مسئلہ میں مشرکوں کی تائید ہو گئی ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ :۔

” حرام نہیں ہونا چاہیے کیونکہ سوائے اللہ کے کسی کے نام کی کوئی چیز مقرر کر دینا شرک نہیں بلکہ اقدام علی الشرک ہے شرک جب ہو گا کہ اسی کے نام پر ذبح کی جائے اور جب ذبح اللہ کے نام پر ہے تو پھر اقدام علی الشرک سبب حرمت نہیں ”

میں کہتا ہوں سید صاحب کا یہ فرمانا کہ تسمیہ غیر اللہ کے نام کا شرک نہیں صحیح نہیں بلکہ یہ بھی شرک ہے اس لئے کہ شرک تو نیت کے متعلق ہے نہ کہ خاص فعل سے لَن یَّنَال اللّٰہَ لُحُرمھُآ وَلَا دِمَآؤھُا وَلٰکِن یَّنَالُہُ التَّقویٰ مِنکُم اس کا مؤید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی قدس سرہٗ نے غیر اللہ کی نسبت غلامی کو بھی شرک قرار دیا ہے۔ فرماتے ہیں :۔

” از ینجا دانستہ شد کہ شرک در تسمیہ نوعیست از شرک چنانکہ اہل زمان ما غلام فلاں وعبد فلاں نام مے نہند” (حاشیہ ترجمہ قرآن پارہ ۹ ربع ثالث)

پس آپ کا یہ فرمانا کہ یہ نیت اقدام علی الشرک ہے شرک نہیں۔ قابل نظر ہے۔ رہا ان لوگوں کا جھگڑا جو ایسی چیزوں کو اس تاویل سے کہ ہمیں ثواب رسانی مقصود ہوتی ہے۔ نہ کہ ان بزرگوں سے تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سو یہ تنازع لفظی ہے اس لئے کہ ان کی تقریر سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ تقرب غیر اللہ (تقرب غیر اللہ اس کو کہتے ہیں کہ سوا اللہ کے کسی کے نام کا بکرا یا کوئی اور چیز اس نیت سے دی جائے کہ یہ صاحب میری اس نیاز کو قبول کریں۔ ) اگر ہو تو بے شک حرام ہے مگر صورت مروجہ میں نہیں پایا جاتا۔ پس اب ہماری تلاش یہ ہو گی کہ ایسے موقعہ پر ہم بقرائن دریافت کریں کہ ان لوگوں کی غرض کیا ہوتی ہے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب نے   بھی ایک قرینہ بتلایا ہے وہ یہ ہے کہ ان لوگوں سے کہا جائے کہ تم اس بکرے جتنا گوشت بازار سے لے کر مساکین کو کھلا دو اور پیر صاحب کو ثواب پہنچا دو۔ تو ہرگز نہیں مانیں گے۔ معلوم ہوا کہ غرض ان کی صرف غیر اللہ کے نام پر جان دینے کی ہے نہ کچھ اور سو یہی شرک ہے۔ پس اس موقعہ پر بسم اللہ سے ذبح کرنا کیا مفید ہو سکتا ہے ؟

راقم کہتا ہے۔ تمام لوگوں کا پیر صاحب کے نام سے ذبح کرنا اور اس سے ایصال ثواب مقصود رکھنا میری سمجھ میں نہیں آتا۔ کیا وجہ ہے کہ حضرت آدم کے نام کی کوئی نیاز نہیں کرتا۔ کسی نے آج تک حضرت موسیٰ کے نام کی چاء نہیں پکائی۔ کبھی نہیں سنا کہ کسی نے بکرے کا ثواب حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) کو پہنچایا ہو۔ حالانکہ اگر باعتبار بزرگی کے دیکھا جائے۔ تو اس تعظیم میں وہی لوگ زیادہ حق رکھتے ہیں جن کی بزرگی دلیل قطعی سے ثابت ہو۔ پس یہ بھی ایک قرینہ اس امر کا ہے کو ثواب رسانی مقصود نہیں۔ علاوہ اس کے ہم نے بذات خود ایسے لوگوں کا حال دیکھا ہے جن کو پیروں کے نام پر نیازیں دینے کی عادت ہے بالکل یہی جانتے ہیں اس نیاز کی قبولیت پیر صاحب کی طرف سے ہے اور اس قبولیت کے عوض میں وہ ہماری بلا ضرور ہی دفع کر دیں گے۔ یا حصول مطلب کرا دیں گے۔ ہاں بعض لوگوں کا اعتراض بھی قابل ذکر ہے کہ پاک کتاب کی تفسیر ایسے سوالوں کے ذکر کے مناسب نہیں مگر اس لئے کہ ایسے لوگوں کا شبہ بھی حل ہو جائے کچھ لکھا جاتا ہے ایسے لوگ کہتے ہیں کہ اگر پیر صاحب کا بکرا کہنے سے وہ بکرا حرام ہو جاتا ہے تو پھر کوئی چیز بھی حلال نہ ہو گی اس لئے کہ ہر ایک چیز کو ہم کہا کرتے ہیں کہ یہ روٹی زید کی ہے اور وہ بیوی عمرو کی پس یہ بھی حرام ہوئیں سبحان اللّٰہ ما اَصدَقَ رسول اللّٰہِ فداہُ ابِیو اُمِّی یٰرفَعُ العِلمُ وَیَفشُوا لجھَلُ قَبلَ القِیَامَۃِ۔ افسوس ان حضرات نے یہ نہیں سمجھا کہ ان صورتوں میں تو اضافت تملک ذات یا منافع کی ہے۔ پیر صاحب کی نسبت میں کون سی اضافت ہے۔ اگر یہی ہے تو مردہ کی ملک کیونکر ہوئی اور اگر ہوئی تو بلا اجازت ان کے اس چیز کو کیوں کھاتے ہو؟ اصل یہ ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں بنی اسرائیل کی طرح بچھڑے کی محبت گھر کر گئی ہوئی ہے۔ اس لئے ایسی باتیں ان سے کچھ بعید نہیں۔ اَللّٰھُمَّ اھدِ قَومِی فَاِنّھُم لَا یَعلَمُونَ {

ایسے صاف اور صریح احکام سن کر ان کتاب والوں کے پاس کوئی حجت نہیں رہتی۔ تو ایک نئی بات نکالتے ہیں کہ اس نبی کے حق میں پہلی کتابوں میں کوئی پیش گوئی نہیں اور اگر یہ نبی برحق ہوتا تو اس کے لیے کتب سابقہ میں ضرور کوئی خبر ہوتی حالانکہ جانتے ہیں کہ اکثر انبیاء نے یہ خبر دی ہوئی ہے مگر ان کے ظاہر ہونے سے ان کو نقصان پہنچتا ہے اس لیے ان کو چھپاتے ہیں سو یاد رکھیں کہ بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ کی تاری اور بتلائی ہوئی خبریں کتاب سماوی سے مخفی کرتے ہیں اور عوام لوگوں کو جو یہ بات ان سے پوچھتے ہیں تو اور ہی معنی بتلاتے ہیں اور اس کے عوض میں دنیائے دوں کا کسی قدر مال لیتے ہیں تاکہ مزے سے چند روزہ زندگانی بسر کریں وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم پلاؤ گوشت کھا رہے ہیں بلکہ سراسر آگ ہی اپنے پیٹ میں ڈال رہے ہیں جس کا بدلہ ان کو آگ ہی ملے گا اور نہ قیامت کے دن اللہ ان سے مہربانی سے کلام کرے گا اور گناہوں سے ان کو معافی دے گا بلکہ بجائے معافی کے مواخذہ ہو گا اور اس مواخذہ میں ان کو سخت عذاب پہنچے گا اس لیے کہ یہی تو ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلہ میں قرآن جیسی پاک کتاب چھوڑ کر اپنے اپنے خیالات واہیہ میں پھنسے اور عذاب الٰہی کو بخشش کے عوض میں لے چکے ہیں۔ پس دیکھیے کیسے صابر ہیں آگ کے عذاب پر اس قدر ان پر سختی کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے تو سچی کتاب قرآن کریم اتاری ہے اور جو لوگ اس میں کج روی سے مخالف ہیں ان کا حال ہم پہلے ہی بتلا چکے ہیں کہ وہ بڑی بھاری بدبختی میں ہیں

 

(177۔ 188)

 

اوجود اس بد دیانتی کے جس کا ذکر تم سن چکے ہو اہل کتاب اس امر پر نازاں ہیں کہ ہم ہی انبیا کے کعبہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے ہیں اس لئے وہ سن رکھیں کہ بغیر اقرار رسالت یہ کوئی نیکی نہیں کہ تم اپنا منہ مشرق مغرب کی طرف پھیرتے جاؤ ہاں نیکی والے حقیقتاً وہ لوگ ہیں جو سب سے پہلے اللہ کو اپنا خالق مالک رازق مطلق مانیں اور قیامت کے دن کو یقینی جانیں اور اللہ کے فرشتوں کو اور سب کتابوں اور نبیوں کو سچے مانیں جن میں سے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو خاص کر واجب الاتباع جانیں۔ اور عملی پہلو ان کا یہ ہو کہ اپنا مال عزیز باوجود اس کی خواہش اور ضرورت کے محتاج قریبیوں اور یتیموں اور مسکینوں اور بے سامان مسافروں اور ہر قسم کے مانگنے والوں کو دیویں اور غلاموں کی رہائی میں خرچ کریں نہ کہ تمہاری طرح کہ سب جہان کو کھا جا ؤ اور ہنوز روزہ دار ہی کہلاؤ اور نیکی والوں کی تعریف میں یہ بھی ہے کہ وہ نماز کی پابندی رکھتے ہوں اور زکوٰۃ بھی دیتے ہوں اور معاملہ کے ایسے صاف ہوں کہ جب کبھی کسی سے وعدہ کرتے ہیں تو پورا کرتے ہیں اور سختیوں اور بیماریوں میں اور جہاد کے وقت صابر رہتے ہیں یہی لوگ اپنے دعوے میں سچے راست باز ہیں اور یہی لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں باقی سب خلط

(شان نزول :

(لَیسَ البِرَّ) تحویل قبلہ پر یہودیوں نے اعتراض کئے اور اپنی شیخی بگھاری تو ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔

ہاں یہ نہیں کہ اگر ان لوگوں پر کوئی نا اہل زیادتی کرے یہاں تک کہ ان کو یا ان کے بھائی بندوں کو جان سے مار دے تو وہ اپنے صبر ہی میں خاموش رہیں ایسا صبر تو ان کی جان پر وبال ہو جائے گا صبر یہ نہیں کہ ظالموں کو دلیر کیا جائے بلکہ ایسے نالائقوں سے بدلہ لینا بھی ضروری ہے اس لئے ہم اعلان دیتے ہیں کہ اے ایمان والو ! مقتولوں کا بد لہ لینا تمہیں جائز ہے اس میں کسی خاص شخص یا قوم کی فضیلت بھی نہیں کہ ان میں کا قاتل چھوڑا جائے یا ان کے آزاد کے عوض غلام کو لیا جائے یا ان کی عورت دوسروں کی عورتوں کے ہم پلہ نہ ہو سکے بلکہ آزاد قاتل بدلے آزاد مقتول کے خواہ کوئی ہو مارا جائے گا اور غلام بدلہ غلام کے چاہے کوئی ہو مارا جائے گا اور عورت قاتلہ عوض عورت مقتولہ کے خواہ کسی قوم کی ہو ماری جاوے ہاں اگر باہمی صلح کی ٹھہرے تو پس جس قاتل کو اس کے بھائی مقتول کے وارثوں کی طرف سے کچھ معافی ملے کہ وہ اس کا مارنا چھوڑ کر کسی قدر نقدی پر فیصلہ کریں تو دستور کے موافق اس وارث کا یہ احسان شکریہ سے لینا واجب ہے۔ یہ نہیں کہ اپنی ہی اکڑخانی میں رہو کہ ہم جان تو دے دیں گے پر احسان نہ مانیں ایسا مت کرو اور بخوشی اس وارث کا حق اس کو پہنچاؤ۔ کیا یہ نہیں سمجھتے ہو کہ تمہارا کتنا بڑا جرم تھا جو اس نے بالکل ہی معاف کر دیا اور ہم نے بھی اسے جائز رکھا۔ سچ پوچھو تو یہ تمہارے رب کی طرف سے آسانی ہے اور مہربانی ورنہ حق یہی تھا کہ جو کوئی کسی کو قتل کرے وہ ضرور مارا جائے پس بعد اس فیصلہ کے جو کوئی ان میں سے کسی دوسرے پر زیادتی کرے گا یعنی معاف کر کے بدلہ لینے کی ٹھیرائے۔ یا وعدہ ادا کرنے رقم کا کرے اور ادانہ کرے تو اس کو سخت عذاب بھگتنا ہو گا۔

(شان نزول : (اَلحُرُّ بالحُرِّ) عرب کے بعض قبیلے ایک دوسرے پر فضیلت جانتے تھے۔ یہاں تک کہ اگر شریف قبیلے کا ایک آدمی مارا جاتا تو دوسرے کے دو مار کر برابر سمجھتے۔ اگر شریف قبیلے کی عورت کو کوئی رذیل قبیلے کی عورت مارتی تو اس عورت کے بدلہ میں اس قبیلے کے مرد کو مارتے۔ یہاں تک ایک دوسرے پر فخر اور علو ہوتا تھا کہ شریف قبیلے رذیلوں کی لڑکیاں بلا مہر لے لیتے جب مشرف باسلام ہوئے اور ہنوز ان کے بعض معاملات خون کے تصفیہ طلب تھے شریف قبیلے نے حسب دستور قدیم خواہش کی اور اللہ کو یہ خواہش ان کی ناپسند تھی تو ان کے تصفیہ کرنے کو یہ آیت نازل ہوئی۔ معالم بتفصیل

ہاں اس میں شک نہیں کہ خونی کے قتل کرنے میں تمہاری گویا زندگی ہے اے عقل والو ! حتی الامکان یہی کیا کرو۔ تاکہ تم اس خوف سے کہ اگر قتل کر دیں گے تو اس کے بدلہ میں مارے جائیں گے اس فعل شنیع سے بچتے رہو۔ چونکہ تنگدستی بھی ایک قسم کی گویا موت ہے خاص کر ایسے شخص کے حق میں جس کے ماں باپ یا اولاد کا ترکہ دوسرے لوگ لے جائیں اور وہ محروم ہی رہیں اس لئے جیسا کہ تم کو قتل قتال سے روکا اسی طرح تم پر فرض ۱ کیا گیا ! ہے کہ اگر کوئی تم میں سے مال اسباب پیچھے چھوڑتا ہو تو مرتے وقت اپنے ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے لئے دستور شرع کے موافق وصیت کر جائے کہ میرے بعد میرے ماں باپ اور میری لڑکیوں اور بہنوں کو اتنا دینا اور فلانے کو اتنا فلانے کو اتنا کسی پر طرح کا ظلم زیادتی نہ کرنا بلکہ موافق شریعت کے تقسیم کرنا گویا یہ وصیت ہر ایک کے حق میں مفید اور مناسب ہے مگر خاص کر پرہیز گاروں پر تو ضروری ہے

(شان نزول : (کَتِبَ عَلَیکُم) عرب میں دستور تھا کہ سوائے لڑکے کے کوئی وارث نہ ہوتا تھا ان کی یہ عادت قبیحہ مٹانے کو یہ آیت نازل ہوئی۔

(تم پر فرض کیا گیا ہے ) اس آیت کی تفسیر میں بھی مفسروں کا کسی قدر اختلاف ہوا ہے۔ کوئی کہتا ہے اس آیت کا حکم پہلے تھا کہ ہر ایک شخص پر مرتے ہوئے اپنے مال کے متعلق وصیت کرنا فرض تھا کہ میری جائداد کو اس طرح تقسیم کرنا اتنا فلاں کو اور اتنا فلاں کو۔ لیکن جب آیت میراث نازل ہوئی تو اس میں اللہ تعالیٰ نے خود ہی حصے فرما دئے کہ بیٹے کا بیٹی سے دوگنا ہووے۔ بیوی کا اتنا۔ خاوند کا اتنا۔ اس لئے یہ آیت منسوخ ہو گئی بعض علماء کہتے ہیں کہ منسوخ نہیں بلکہ یہ حکم استحبابی ہے اور ان لوگوں کے حق میں ہے جن کا آیت میراث میں حصہ مذکور نہیں۔ جیسے باپ بیٹے کے ہوتے ہوئے چچا یا اس کی اولاد۔ پس اگر ایسے لوگوں کے حق میں کچھ وصیت کرے تو جائز ہے اور وصیت کی حد حدیث صحیح میں ثلث مال تک آئی ہے۔

خاکسار راقم کے نزدیک بھی قرآن کی دونوں آیتوں سے کوئی آیت منسوخ نہیں بلکہ آیت میراث اس آیت کی شرح ہے کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وصیت کرنے کا حکم فرمایا تھا مگر چونکہ اس وصیت میں کمی زیادتی کرنا انسان طبائع سے کچھ بعید نہ تھا اس لئے خدائے عالم الغیب نے اس وصیت کی آپ ہی شرح کر دی بلکہ اس فعل کو جو اس کی شرح میں مستعمل تھا خاص اپنی طرف نسبت کیا اور فرمایا یُوصِیکُمُ اللّٰہُ فِیٓ اَولَادِکُم للذَّکَرِ مِثلُ حَظِّ الاُنثَیَینِ ” یوصی” کے لفظ کو اس جگہ لانا اور یحکم جو عموماً ایسے مواقع پر بولا جایا کرتا ہے نہ فرمانا اسی طرف اشارہ ہے کہ یہ افعال (ایصاء) اس فعل (وصیت مکتوبہ) کی شرح ہے جو پہلے مجمل تھی پس اب آیت موصوفہ کے معنے یہ ہوں گے کہ اپنے ان وارثوں کے حق میں جن کے حصے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دئیے ہیں یہ وصیت کرنا تم پر فرض ہے کہ اپنے اپنے حصے موافق شریعت کے لیں۔ کوئی کسی پر ظلم زیادتی نہ کرے مگر ان ورثاء کے علاوہ اور لوگ بھی میت سے دور نزدیک کا تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں ان کی نسبت وصیت کی کوئی شرح نہیں بلکہ وہ میت کے اختیار میں رکھا اور مِن بَعدِ وَصِیَّۃٍ یُّوصِی بھِآ اَودَینٍ میں اسی اختیار کی طرف اشارہ ہے ہاں اس کو بھی ایسا کھلا نہیں چھوڑا کہ سارے مال کی وصیت کسی کے حق میں کر جائے بلکہ اس کو بھی غَیرَ مُضَآرٍّ سے مقید فرمایا ہے جس کی شرح حدیث میں ثلث تک آئی ہے۔ کہ تہائی مال کی وصیت کو آنحضرت (ﷺ) نے جائز رکھا اور غَیرَ مُضَآرٍّ کی شرح فرما دی اور وارث کے حق میں لاوَصِیَّتَ لِوَارِثٍ کہہ کر یُوصِیکُمُ اللّٰہُ کو کُتِبَ عَلَیکُمُ الوَصِیَّۃُ کی شرح ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ خلاصہ دونوں آیتوں کا یہ ہوا کہ جن کے حق میں اللہ عالم الغیب نے حصے مقرر کر دیئے ہیں ان کی نسبت تو مقرر حصص کے لیے وصیت کرنے کی حاجت نہیں بلکہ ان کی وہی وصیت ہے جس کو اللہ تبارکو تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے اور جن لوگوں کے حصص مقرر نہیں کئے ان کے حق میں میت کو ثلث مال تک وصیت کرنے کی اجازت حاصل ہے پس سرسید احمد خاں کا فرمانا کہ :۔

سر سید کی دسویں غلطی :

” قرآن مجید کی دونو آیتوں کے ملانے سے نتیجہ یہ نکلا کہ مرنے والے نے اگر کوئی وصیت کی ہے تو اس کا مال اس کی وصیت کے مطابق تقسیم کیا جائے اور اگر اس نے کچھ وصیت نہیں کی یا جس قدر کہ وصیت کی ہے اس سے زیادہ مال چھوڑا ہے تو اس کے مالکی یا اس قدر کی جو وصیت سے زیادہ ہے آیت توریث کے مطابق تقسیم ہو جائے گی پس دونوں آیتوں کا حکم بحال اور قائم ہے ” (صفحہ ۲۱۵)

صحیح نہیں۔ کیونکہ بحکم القراٰن یفسر بعضہ بعضا۔ قرآن جو اپنی تفسیر آپ کرتا ہے۔ وہ ہر طرح مقدم ہے۔ سرسید کی تفسیر اس اصول کے خلاف ہے امید ہے کہ سید صاحب ہمارے معروضہ بالا بیان پر غور فرمائیں گے تو اپنی اس رائے کو واپس لیں گے (تفسیر ثنائی کا بہت سا حصہ سرسید مرحوم کی زندگی میں چھپ گیا تھا اور ان کو پہنچ بھی گیا تھا۔ ) اس لیے کہ سید صاحب کو اس کہنے کی وجہ یہی پیش آئی ہے کہ کوئی آیت کسی آیت یا حدیث سے منسوخ نہ ہو سو ہم نے نہ کسی آیت کو آیت سے منسوخ ٹھیرایا ہے نہ حدیث سے بلکہ ایک آیت اور حدیث کو دوسری آیت کی تفسیر اور شرح بنایا ہے جو بالکل القراٰن یفسّر بعضہ بعضا کے مطابق ہے۔ فافھم

ہاں جو لوگ اس وصیت کو بعد سننے کے بھی بدلیں گے تو اس ظلم کا گناہ انہیں بدلنے والوں پر ہو گا۔ نہ کہ اس میت پر بے شک اللہ اس میت کی باتیں سنتا ہے اور ان بدلنے والوں کی حرکات ناشائستہ کو جانتا ہے پھر کیسا ہو سکتا ہے کہ اس میت کو باوجود وصیت کے کر جانے کے بھی مواخذہ ہو۔ ہاں جو کوئی اس میت وصیت کنندہ سے کسی وارث کی حق تلفی کے سبب سے کجروی معلوم کرے یا کسی کو اس کے حق سے زائد دلانے یا کسی ناجائز جگہ صرف کرنے کی وجہ سے گناہ معلوم کر کے اس میں اصلاح مناسب کر دے اگرچہ موصی کی وصیت میں تغیر ہی آوے۔ تو بھی اس پر گناہ نہیں بلکہ اس کی کوشش کا اس کو عوض ملے گا بے شک اللہ بڑی بخشش والا نہایت مہربان ہے مخلصوں کی تھوڑی سے محنت بھی ضائع نہیں کرتا یہ بھی اس کی مہربانی ہے کہ محض اپنے فضل سے تمہیں ایسے کام بتلاتا ہے جو تمہیں ہر طرح سے مفید ہوں یہی وجہ ہے کہ اے مسلمانو ! تم پر روزہ فرض ہوا ہے جو تمہارے حق میں سراسر مفید ہے اس میں تمہاری خصوصیت نہیں بلکہ تم پر جو ہوا تو ویسا ہی ہوا جیساتم سے پہلے لوگوں پر ہوا تھا اس میں ہماری کوئی ذاتی غرض نہیں بلکہ یہی ہے تاکہ تم شہوات نفسانہل اور عذاب الٰہی سے بچ جاؤ گھبراؤ نہیں چند ہی ایام ہیں پھر ان میں بھی ہر طرح سے آسانی کی گئی ہے کہ جو کوئی تم میں سے رمضان کے دنوں میں بیمار ہو جس سے وہ روزہ نہ رکھ سکے یا مسافر تو وہ بجائے ان دنوں کے اور دنوں سے شمار پورا کرے۔

(فرض ہوا ہے ) اس آیت کے متعلق بھی کسی قدر اختلاف ہوا ہے بعض مفسر کہتے ہیں کہ یہ روزے اور ہیں اور رمضان کے روزے اور لیکن جب رمضان فرض ہوا تو یہ منسوخ ہو گئے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ روزے وہی ہیں جن کی تفسیر خود کلام اللہ نے کر دی ہے کہ وہ رمضان ہے خاکسار کے نزدیک بھی یہ رائے ارجح ہے اس لئے کہ کوئی وجہ نہیں کہ ہم آیات قرآنی کو خواہ مخواہ توجیہ ہوتے ہوئے بی منسوخ قرار دیں۔ خیر یہ اختلاف تو تھا ہی اس سے آگے کی آیت یُطِیقُونَہٗ میں اس سے بھی کسی قدر زیادہ بحث ہوئی ہے بعض مفسرین اس کے معنے یہ کرتے ہیں کہ جو لوگ روزہ کی طاقت رکھتے ہیں وہ اگر نہ رکھیں تو اس کے عوض میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں ساتھ ہی اس کے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حکم دوسری آیت فَمَن شھَدَ مِنکُمُ الشّھَرَ فَلیَصُمہُ سے منسوخ ہے اس لئے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے روزہ کا حکم قطعی طور پر دے کر وہ (بیمار اور مسافر) ہی کو مستثنیٰ کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ باقی لوگ روزہ ضرور رکھیں بعض صاحب نسخ سے بچنے کو اس کے معنے میں لا کو مقدر سمجھتے ہیں یعنی جو لوگ روزہ کی طاقت نہیں رکھتے اور بعض کی رائے ہے کہ باب افعال کا ہمزہ سلب کے لئے بھی آتا ہے یعنی حذف لا کی حاجت نہیں بلکہ یطیقونہ ہی کے معنے عدم طاقت کے ہیں غرض ان کی رائے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں بعض کہیں یطیقون کے معنے دشواری سے روزہ رکھنے کے ہیں۔ پس یہ آیت منسوخ نہ ہوئی صحیح بخاری کتاب التفسیر میں اس آیت کی تفسیر کے ماتحت سلمہ سے روایت ہے کہ شروع اسلام میں جو چاہتا روزہ رکھتا تھا جو چاہتا افطار کر کے فدیہ طعام دیتا تھا یہاں تک کہ اس سے بعد کی آیت نازل ہوئی۔ سلمہ (رض) کا مطلب یہ ہے کہ یُطِیقُونَ کے معنے طاقت رکھنے کے ہیں مگر دوسری آیت مَن شھَدَ مِنکُم الشّھَرَ فَلیَصُمہُ نے اس اختیار کو منسوخ کر دیا۔ اسی صحیح بخاری میں ابن عباس سے روایت ہے کہ یطیقون کے معنی ہیں یطوقون یعنی بدقتو دشواری روزہ رکھنے والے مراد ہیں جیسے بہت بوڑھے لوگ اس قول کے مطابق آیت منسوخ نہیں بلکہ کمزور بوڑھوں کے حق میں بحال ہے۔ میں نے جو ترجمہ کیا ہے۔ وہ ابن عباس کی روایت کی بنا پر کیا ہے لیکن سلمہ بن اکوع نے جو طاقت رکھنے والے بتائے ہیں ان معیک کی تردید کی میں کوئی دلیل نہیں پاتا۔ نیز اس تفسیر سے آیت موصوفہ کو منسوخ کہنے پر بھی کوئی قطعی دلیل از قرآنو حدیث میں مجھے نہیں ملی۔ رہی یہ بحث کہ یہ کون لوگ ہیں جن کو دقت اور دشواری ہوتی ہے۔ بہت سے مزدور تمام روز گرمی میں کام کرتے ہوئے بھی روزہ رکھتے ہیں اور بہت سے بابو لوگوں کو سرد مکانوں میں بیٹھے ہوئے بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے سواس کی تعیین یوں ہے کہ جو لوگ ایسے ہوں کہ ان کے ہم عمر دوسرے لوگ روزہ رکھ سکتے ہیں تو وہ معذور نہ سمجھے جائیں گے اور جو لوگ ایسے ہوں کہ ان کی عمر ہی ایسے مرتبہ کو پہنچ چکی ہو جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے اور نہ آئندہ کو انہیں طاقتور ہونے کی امید ہے جیسے شیخ فانی تو ایسے لوگ بیشک معذور ہیں اور ہونے بھی چاہئیں۔ سر سید نے اس موقع پر ناتوانوں کی تفصیل نہیں کی بلکہ مطلقاً اختیار دیا ہے کہ :۔

” جن لوگوں کو روزہ رکھنے میں زیادہ سختی اور تکلیف ہوتی ہے اور مشکل روزہ رکھ سکتے ہیں ان کو اجازت ہے کہ روزوں کے بدلہ میں فدیہ دیں مگر ان کے حق میں فدیہ دینے سے روزہ رکھنا بہتر ہے ” (ج ۱،ص ۲۲۹)

(اس مضمون کی ایک حدیث بھی آئی ہے کہ بڈھی ارزل العمر کی روزہ کے بجائے ایک مسکین کو کھانا کھلانا جائز ہے حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی اگر روزہ رکھنے سے اس کے حمل کو یا بچہ کو کچھ نقصان پہنچتا ہے تو وہ بھی بیمار کی طرح معذور ہے۔ بعد فراغت رکھ سکتی ہے۔ )

اس لئے گذارش ہے کہ یا تو تفصیل کیجئے اور اگر تفصیل منظور نظر نہیں بلکہ ہر ایک تکلیف اور سخی اٹھانے والے کو خواہ اس کی نا طاقتی صنفی ہو یا شخصی اجازت ہے تو فرما دیں مَن شھَدَ مِنکُمُ الشّھَرَ فَلیَصُمہُ والی آیت کا جو باستثناء دو قسم (مریض اور مسافر) مطلقاً فائدہ وجوب کا دیتی ہے۔ کیا جواب؟ رہی یہ بحث کہ سارے مہینے کے روزے قرآن سے ثابت ہیں یا نہیں۔ اس لئے کہ فَلیَصُمہُ کی ضمیر منصوب مفعول فیہ کے لئے استیعاب ضروری نہیں بلکہ کسی قدر اشتعال کافی ہے جیسا کہ دخلت الدار اور دخلت المسجد شبہ مولوی حشمت علی اہل قرآن کی مفید ایجاد ہے سواس کا جواب یہ ہے کہ ضمیر منصوب اس کی جگہ مفعول فیہ نہیں بلکہ مفعول بہ ہے تلویح میں لکھا ہے جو شخص کہے علی ان اصوم فی الشھر اسے تو مہینہ میں کم از کم ایک روزہ واجب ہے اور جو شخص ان صوم الشھر کہے اسے سارا مہینہ رکھنے پڑتے ہیں اس لئے کہ الشھر مفعول فیہ مشابہ مفعول بہ کے ہو گیا۔ یہ محاورہ کسی قدر ہمارے ہاں بھی ملتا ہے اگر کوئی کہے کہ میں نے اس ہفتہ رخصت لی ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ چند ایام نہ تمام ہفتہ۔ اور اگر کہے کہ میں نے یہ ہفتہ رخصت لی ہے تو اس کے معنے سارے ہفتہ کے دن ہوتے ہیں پس اسی طرح فلیصم فیہ اور فلیصمہ میں فرق ہے۔ فتدبر ۱۲ منہ

(فرضیت کے بارے میں ) اس آیت کی تفسیر میں بھی کسی قدر اختلاف ہوا ہے اکثر صاحب اس کے ترجمہ میں حذف مضاف نہیں مانتے بلکہ صاف ترجمہ یوں کرتے ہیں کہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا اور اس کی توجیہ یوں کرتے ہیں رمضان میں لوح محفوظ سے پہلے آسمان پر سارا قرآن آ گیا تھا پھر حسب موقع ایک ایک سورت نازل ہوتی رہی بعض صاحب اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں کہ :۔

(القول الثانی) فی تفسیر قولہ انزل فیہ القراٰن قال سفیان انزل فیہ القراٰن معناہ انزل فی فضلہ القراٰن وھٰذا اختیار الحسین ابن الفضل قالو مثلہ ان یقال انزل فی الصّدیق کذا ایٰۃ یریدون فی فضلہ قال ابن الانباری انزل فے ایجاب صومہ علے الخلق کما یقال انزل فی الزکوٰۃ کذاو کذا یرید فی ایجابھاو انزل فے الخمر کذا یرید فے حرمتھا۔

رمضان کی فضیلت میں قرآن نازل ہوا بعض کہیں رمضان کی فرضیت میں قرآن نازل ہوا جیسا کہ کہا کرتے ہیں کہ زکوٰۃ میں قرآن کی فلاں آیت اتری اور شراب میں فلاں آیت نازل ہوئی جس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ زکوٰۃ کی فرضیت میں اور شراب کی حرمت میں نازل ہوئی۔

میرے  نزدیک بھی یہی معنے ارجح ہیں چنانچہ میں نے انہیں کو اختیار کیا ہے اس لئے کہ اس سے آگے کی آیت میں ارشاد ہے فَمَن شھَدَ مِنکُمُ الَّشھَر فَلیَصُمہُ جس سے متبادر معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم پہلے بیان پر تفریع مذکور ہے چنانچہ لفظف جس کے معنے پس کے ہیں یہی جتلا رہا ہے سو یہ تفریع جبھی صحیح اور درست ہو گی کہ اس سے پہلی آیت میں کچھ ایسا مذکور ہو جس کے ساتھ وجوب صیام تفریع پذیر ہو سکے وہ یہی ہے کہ انزل فی ایجاب صومہ یعنی اس کے روزوں کے فرض ہونے میں قرآن نازل ہوا ہے پس جو کوئی حاضر ہو وہ روزہ رکھے پہلے دونوں معنے کہ اس میں قرآن نازل ہوا یا اس کی فضیلت میں نازل ہوا۔ اس تقریر سے ایسے منطبق نہیں جیسے کہ یہ ہیں فافھم رہی سورۃ قدر کی آیت اِنَّآ اَنزَلنٰہُ فِی لَیلَۃِ القَدرِ اس میں بھی اگر حذف مضاف مانا جائے جیسا کہ بعض نے مانا ہے تو کوئی حرج نہیں۔ دونوں آیتوں میں تطبیق ہو جاتی ہے۔ اور انہیں تو جو وجہ میں نے بیان کی ہے وہاں چونکہ وہ نہیں اس لئے وہاں اس کے متبادل معنی بھی لئے جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ فتفکر ”

اور جو لوگ بوجہ غایت ضعف جسمانی اور پیرا نہ سالی بدقّت و دشواری اس روزہ کی طاقت رکھتے ہیں وہ اگر روزہ نہ رکھیں تو ان پر ایک مسکین کا کھانا دینا واجب ہے پھر جو کوئی شوق سے نیکی زیادہ کرے کہ ایک کے بدلہ میں دو کو کھلاوے پس وہ دو کا کھلانا اس کے لئے بہتر ہے اور سب سے بہتر تو یہی ہے کہ روزہ ہی رکھو گو تکلیف شدید ہی ہو اس لئے کہ روزہ مثل ایک مسہل کے ہے جو سال بعد ہر ایک کو کر لینا چاہئے گو وہ کسی مرتبہ کاہو۔ اگر دینی رموز جانتے ہو تو ایسا ہی کرو۔ تم جانتے ہو کہ یہ ایام مذکورہ کیا ہیں اور کب ہیں سنو ! ماہ رمضان ہی وہ مہنہ ہے جس کے روزہ رکھنے کی فرضیت کے بارے میں قرآن نازل ہوا ہے جو سب لوگوں کے لئے ہدایت اور ہدایت کی بین نشانیاں اور حق باطل کا فیصل ہے پس اب تو ضرور ہے کہ جو کوئی تم میں سے اس رمضان کے مہینے کو پائے وہ اس کے سارا مہینہ روزے رکھے اور جو کوئی بیمار یا مسافر ہو وہ اور دنوں سے جب وہ تندرست ہو جائے یا سفر سے واپس آ جائے تو اسی قدر شمار پورا کر دے اللہ تعالیٰ کو تمہاری تکلیف  منظور نہیں بلکہ اخلاص منظور ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ اپنے احکام میں تمہارے حق میں ہمیشہ آسانی چاہتا ہے اور کبھی تنگی نہیں چاہتا اور بیمار اور مسافر کو تمام مافات کا حکم بھی اسی لئے دیا تاکہ حتی المقدور تم اس مبارک مہینے کی گنتی پوری کر سکو اور بعد ختم ہونے رمضان کے بتلائے ہوئے طریق سے عید کے روز اللہ وحدہٗ لا شریک کی بڑائی اور تکبیریں بیان کرو تاکہ تم گناہوں کی معافی پر شکریہ کرو اس قسم کی مہربانی اور بخشش دیکھ کر جب میرے چاہنے والے بندے تجھ سے میرا حال دریافت کریں کہ اللہ ہم سے دورہے یا نزدیک؟ ہم کسی طرح سے اس کو مل سکتے ہیں یا نہیں ؟ تو تو میری طرف سے ان کو کہہ دے کہ میں تم سے ہر حال میں قریب ہوں یہ کہ جس طرح تم ایک دوسرے کی باتیں سنو تو دریافت کر سکو بلکہ ہوں تو جہاں ہوں البتہ پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں۔ نہ کسی خاص حالت اور وقت میں بلکہ جب کبھی اور جس وقت مجھے پکاریں اور مجھ سے مانگے فوراً حسب الحکمت اس کو قبول کرتا ہوں پس تم کو اور کیا چاہئے اب اگر لوگ مجھ سے ملنا چاہیں اور اپنی دعاؤں کی قبولیت کے خواہشمند ہوں تو میری بات مانیں اور میری نسبت ایمان درست کریں اور دل میں مجھ ہی کو دینے والا جانیں تاکہ وہ اپنی مراد کی راہ پاویں یہ نہ سمجھو کہ میرے قریب ہونے سے تمہاری سب لذتیں چھوٹ جائیں گی نہیں اسی طرح لذت حاصل کرو گے جب ہی تو تمہارے لئے رمضان کی راتوں میں بھی عورتوں سے جماع کرنا حلال کیا گیا کہ تم ان کے نہ ملنے سے تکلیف نہ اٹھاؤ اس لئے کہ وہ تمہارے لباس کی طرح ہیں اور تم ان کی پوشاک کی مانند ہو نہ وہ تم سے جدا ہو سکتی ہیں نہ تم ان سے علیحدہ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے پہلے تم سے غلطیاں بھی ہوتی رہیں سو اللہ تعالیٰ نے جان لیا کہ تم اپنے نفسوں کی خیانت کرتے ہو کہ رمضان کی راتوں میں عورتوں سے جماع کرنے سے رکتے ہو جس سے تمہیں سخت تکلیف ہوتی ہے پس تم پر رحم کیا کہ تمہاری حاجت کے موافق تم کو اجازت دی اور پہلے قصور کو تم سے معاف کر دیا پس اب سے رمضان کی راتوں کو ان عورتوں سے ملا کرو اور جو اولاد اللہ تعالیٰ نے تمہارے حق میں لکھی ہے اس کی طلب کرو۔ اور اسی نیت سے جماع کرو کہ اللہ تعالیٰ کوئی نیک اولاد عنایت کرے جو بعد مرنے کے نیک دعا سے یاد کرتا رہے ۔

(شان نزول :۔ اوّل اوّل صحابہ میں دستور تھا کہ رمضان کی راتوں میں عورتوں سے جماع نہ کرتے بعض لوگوں سے طبعی جوش اس کے برخلاف بھی ظاہر ہوا جس سے ان کو سخت رنج ہوا ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ”

اور رمضان کی راتوں کو خوب جی بھر کر کھاتے پیتے رہو جب تک کہ صبح کی سفید دھاری رات کی کالی دھاری سے علیحدہ ہو یعنی صبح صادق ہو جائے تو بس کرو

(شان نزول : اوّل اوّل صحابہ میں دستور تھا کہ افطار کے وقت ہی جو چاہیے سو کھا لیتے پھر نہیں۔ چنانچہ ایک صحابی اپنے کھیت سے تھکا ماندہ ہو کر گھر میں آیا اور کھانا تیار نہ تھا اتنے میں تو سو گیا اور بوجہ سونے کے کھانا کھانے سے محروم رہا۔ اور دوسرے روز بھی اسے روزہ رکھنا پڑا جس سے اس کو بہت بڑی تکلیف ہوئی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

پھر شام تک کھانے پینے۔ جماع۔ غیبت۔ شکایت۔ جھوٹ۔ وغیرہ سے بندر رہ کر روزہ پورہ کرو اور جب تم مسجدوں اخیر دہا کے رمضان میں مثلاً اعتکاف کرتے ہو تو دن رات میں کسی وقت بھی عورتوں سے مت چھوؤ یہ چند احکام مذکورہ گویا حدود خداوندی ہیں پس خبردار ہو ان سے گذرنا تو درکنار ان کے نزدیک بھی نا جائیو اسی طرح اللہ لوگوں کی ہدایت کے لئے اپنے احکام بیان کرتا ہے تاکہ وہ ان پر تعمیل کر کے جہنم سے بچ جائیں پس تم ان احکام پر کار بندر ہو اور معاملہ مابین مخلوق بھی درست رکھو کہ آپس میں ایک دوسرے کے مال ناجائز طریق اور فریب سے مت کھانا اور اس مال کو جھوٹی نالشوں کے ذریعہ سے حکام تک نہ پہنچانا کہ ناحق جھوٹی ڈگریاں کروا کر لوگوں کے مال کا کچھ حصہ جان بوجھ کر کھا جاؤ۔

(شان نزول :۔ ! دو شخصوں کا آپس میں کچھ تنازع تھا۔ مدعی نے حضور اقدس میں دعویٰ دائر کیا۔ آپ نے اس سے گواہ طلب کئے۔ وہ بولا میرے پاس گواہ نہیں۔ حضور نے حسب دستور مدعا علیہ کو قسم کا حکم دیا۔ وہ قسم کھانے پر تیار ہو گیا۔ آپ نے فرمایا اگر جھوٹی قسم کھا کر اس کا مال کھائے گا تو قیامت کے روز اللہ کا غضب اپنے پر لے گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ”

مگر تعجب ہے کہ یہ لوگ ان حکموں کی تعمیل کرتے نہیں۔ ہاں بے کار سوال کرنے کے بڑے مشتاق ہیں۔

 

(189۔ 210)

 

چنانچہ تجھ سے چاند کا حال دریافت کرتے ہیں کہ چاند کم و بیش کیوں ہوتا ہے اس کا فائدہ کیا ہے تو اے بنی علیک السلام ان کو کہہ کہ یہ چاند کا کم زائد ہونا لوگوں کے کاروبار کے اوقات اور حج کی تاریخ کے لئے ہے پس اسے ہی کافی سمجھو اور اپنی سمجھ سے بالا تر سوال نہ کرو۔

” بعض لوگوں نے آنحضرت سے سوال کیا کہ چاند کم زائد کیوں ہوتا ہے ؟ یہ مسئلہ ان کے فہم سے عالی تھا اس کے سمجھنے کو علم ہئیت بھی چاہئے اس لئے اس کے سبب سے اعراض کر کے اس کے فائدہ کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ”

اصل بات تو یہ ہے کہ جو امر دینی نہ ہو اس کا سوال پیغمبر سے کرنا ایسا ہی لغو ہے جیسا کہ تمہارا یہ فعل کہ حج کر کے مکانوں کے دروازوں سے نہیں آتے ہو بلکہ اوپر سے چھت پھاڑ کر اترتے ہو۔ اور اس کو بڑا نیکی کا کام ! جانتے ہو۔ حالانکہ ہمارے نزدیک یہ کوئی نیکی کا کام نہیں کہ تم اپنے گھروں میں بجائے دروازوں کے چھت کی طرف سے آؤ

(شان نزول :۔ ! عرب میں دستور تھا کہ حج کر کے واپسی کے وقت گھروں کے دروازوں سے اندر نہیں آتے تھے بلکہ پیچھے کی طرف سے چڑھ کر اوپر سے اترتے تھے اور اس کو ثواب جانتے چونکہ یہ رسم ان کی محض خیالی تھی اس لئے اس سے روکنے کو یہ آیت نازل ہوئی ”

ہاں نیکی کے کام تو ان لوگوں کے ہیں جو متقی ہیں سو تم بھی اگر نیک بننا چاہو تو یہ واہیات خیال چھوڑو اور گھروں کے دروازوں سے آیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو جو کام کرو اس میں پہلے اللہ کی رضا عدم رضا کو سوچ لیا کرو۔ تاکہ تم مراد حقیقی کو پاؤ تمہاری مراد یابی کا پہلا زینہ یہ ہے کہ جو لوگ تم سے دین کی وجہ سے ناحق لڑتے ہیں تم انسے اللہ کی راہ میں اللہ کے خوش کرنے کو لڑو۔

(شان نزول :۔ “” مکہ شریف میں تو مسلمانوں کو اس امر کی ممانعت تھی کہ کسی سے تعرض اور لڑائی کریں۔ جب مدینہ میں ہجرت کی تو یہ آیت نازل ہوئی معالم ”

“(لڑو) یہ پہلی آیت جہاد کے متعلق آئی ہے۔ اس مسئلہ (جہاد) پر تو جو کچھ مخالفین اسلام نے اپنی بے سمجھی کے گل کھلائے ہیں ، عیاں راچہ بیاں ، کسی صاحب نے اسلام کو ایمان بالجبر کا معلم بنایا۔ کسی نے ظالم کا خطاب عطا فرمایا۔ کسی نے ترقی اسلام کا ذریعہ اسی کو سمجھا۔ مگر دراصل یہ سب کچھ ان کی بے سمجھی اور تعصب کے آثار ہیں ؎

سخن شناس نئی دلبر اخطا ایں جاست

اسلامی جہاد بالکل طبیعت انسانی کے موافق اور انصاف کے مطابق ہے۔ اس کا بیان کرنے سے پہلے ہم کسی قدر اس زمانہ کی آزادی کا مختصر ذکر مناسب سمجھتے ہیں جس وقت مسلمانوں کو جہاد کا حکم ہوا تھا۔ اس لئے کہ واقعات کو ملحوظ رکھ کر رائے لگانا ہی انصاف ہے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) (فداہ روحی) نے جب تک دعویٰ نبوت نہ کیا تھا تمام ملک آپ کی نسبت حسن ظن رکھتا تھا۔ اور آپ کو نہایت ہی راستباز جانتے تھے اس پر کل مورخین (مسلم کافر) متفق ہیں کہ آپ کی نسبت پہلے دعوے نبوت کے کسی کو بھی کوئی اعتراض نہ تھا بلکہ بعد دعوے نبوت کے بھی آپ کے معاملات کی صفائی کے قائل تھے۔ اور آپ کو امین جان کر اپنی امانتیں آپ کے پاس رکھا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ جس روز آپ انہیں کفار کے ستائے ہوئے اپنا وطن مالوف چھوڑ کر مدینہ منورہ میں مسافرانہ تشریف لے گئے اس روز بھی آپ کے پاس مانتیں رکھی تھیں۔ جن کے ادا کرنے کو آپ اپنے چچا زاد بھائی علی (رض) کو وکیل کر گئے انہوں نے تین روز میں سب امانتیں ادا کر دیں۔ باوجود اس صفائی حال اور صدق مقال کے آپ کو اور آپ کے اتباع کو جس قدر تکالیف شدیدہ مخالفین نے پہنچائیں کتب تاریخ ان سے پر ہیں کسی کو انکار مجال نہیں۔ امام مسلم نے ابوذر غفاری (رضی اللہ عنہ) کے مشتے نمونہ خروار حالات اپنی کتاب میں لکھے ہیں۔ ابوذر صحابی (رض) کہتے ہیں :۔

جملہ مخالفین کی غلطی :

جب میں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی رسالت کی خبر سنی تو میں نے اپنے بھائی انیس کو جو بڑا شاعر تھا دریافت حال کے لئے بھیجا۔ اس نے آ کر بتایا کہ لوگ اس کو شاعر کہتے ہیں مگر میں نے اس کا کلام شعرا کے کلام سے مقابلہ کیا اور شعرا کے سامنے پیش کیا لیکن چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔ ابوذر کہتے ہیں میں نے اس تحقیق کو ناکافی جان کر مکہ کا قصد کیا۔ میں نے سن رکھا تھا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا نام لینے سے لوگ بگڑتے ہیں اور آپ کا نام بے دین (صابی) رکھا ہوا ہے میں نے مکہ میں آ کر ایک شخص کو نہایت کمزور غریب طبع کم حیثیت سمجھ کر اس سے پوچھا کہ جس کو لوگ بے دین کہتے ہیں وہ کہاں ہے اس نے فوراً سب کو جمع کر لیا۔ ان لوگوں نے میری ایسی گت بنائی کہ میرا تمام جسم خون آلود سرخ ہو گیا۔ پھر میں نے کسی کے پاس آپ کا یہ نام بھی ظاہر نہ کیا۔ یہاں تک کہ قریباً میں پندرہ روز کعبہ شریف کی مسجد میں پڑا رہا اور ڈرتا ہوا کسی سے اتنا بھی نہ پوچھتا کہ یہ بے دین کہاں رہتا ہے۔ ایک روز آپ کا چچا زاد بھائی حضرت علی (رض) نے (جو اس وقت کم سن لڑکے تھے ) مسافر جان کر یہ کہا کہ ابھی مسافر کو اپنی منزل معلوم نہیں ہوئی کہ یہاں سے جائے مگر نہ تو میں ان سے ڈرتا ہوا کچھ کہہ سکتا تھا اور نہ انہوں نے از خود مجھے کچھ کہا۔ یہاں تک کہ تین روز پے در پے ایسا ہوا۔ اخیر کو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم یہاں اتنی مدت سے کیوں ٹھیرے ہو میں نے کہا اگر بتلانے کا وعدہ کرو تو کہتا ہوں ان سے پختہ وعدہ لے کر میں نے حضور اقدس کا ٹھکانہ پوچھا۔ انہوں نے کہا میرے ساتھ آؤ۔ لیکن چونکہ میں حضور کے خدام سے مشہور ہوں میرے ساتھ چلنے سے لوگ تمہیں تکلیف دیں گے۔ اس لئے میں جب کسی موذی کو دیکھوں گا تو پیشاب کے بہانہ ٹھیر جاؤں گا۔ تو آگے چلا جائیو۔ چنانچہ اللہ اللہ کر کے دونوں اسی طرح درد حالت تک پہونچے۔ حضور اقدس نے مجھے تلقین اسلام کر کے فرمایا کہ تو اپنی قوم میں چلا جا۔ میں نے عرض کیا کہ ایک دفعہ تو ضرور ان میں با آواز بلند حقانیت ظاہر کروں گا۔ چنانچہ میں نے آ کر کعبہ شریف میں بلند آواز سے کلمہ پڑھا تو سنتے ہی سب نے مجھ پر ہجوم کیا اور خوب ہی خبر لی اتنے میں آپ کے چچا عباس ( جو ابھی تک مشرف باسلام نہ ہوئے تھے ) آئے اور انہوں نے مجھے چھڑایا۔ اس وجہ سے نہیں کہ انہوں نے میرے اسلام کی حمایت کی بلکہ یہ کہا کہ تم (مشرکین عرب) شام کے ملک کو تجارت کے لئے جاتے ہوئے اس کی قوم سے ہو کر جاتے ہو۔ اگر اس کو ایسا تنگ اور بے عزت کرو گے تو نقصان تجارت کا اندیشہ ہے آخر کار میں وہاں سے اپنے وطن کو چلا گیا۔

بلال اور صہیب کو ان کے مالک ہر روز دھوپ میں کھڑا کر کے سخت بے رحمانہ مارتے۔ ابوبکر جیسے معزز رئیس اور عمر جیسے بہادر شجاع پر ہر روز بلا جرم حرم کعبہ میں (جہاد کوئی باپ کے قاتل کو بھی کچھ نہ کہتا تھا) حملے ہوتے۔ تنگی معاش کا یہ حال تھا کہ سب قریش نے اتفاق کر لیا تھا کہ مسلمانوں اور ان کے حمایتی ابوطالب بلکہ کل آپ کے خاندان بنی ہاشم سے خریدو فروخت ناطہ و نکاح وغیرہ بند کر دیئے اور اس پر ایک مجمع عام میں بعد منظوری دستخط ہوئے جس پر تین سال تک عمل درآمد ہوتا رہا۔ حضور اقدس معہ چند مسلمانوں اور ابوطالب کے ایک پہاڑی میں بستے رہے کوئی قریش ان لوگوں سے لین دین تو کجا گفتگو تک بھی نہ کرتا تھا آپ راستہ میں چلے جائیں تو کنکر پتھر کے علاوہ پائخانہ آپ کے بدن مبارک (فداہ ابیو امی) پر ڈالا جاتا۔ آخر نوبت باں رسید کہ آپ نے اپنا وطن مالوف چھوڑ کر طائف کی راہ لی وہاں بھی جو سلوک خدام والا سے ہوا اس کے بیان سے قلم عاجز ہے۔ اینٹیں پتھر برسائے گئے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو پیچھے لگا کر تالیاں پٹوا کر شہر سے باہر نکالے گئے۔ پھر وہاں سے لوٹتے ہوئے مکہ شریف کو آئے۔ جہاں آپ کے جدی مکانات تھے اور جہاں کے آپ خاندانی رئیس تھے۔ اسی شہر میں آپ کو (فداہ روحی) قدم رکھنے کی اجازت نہیں۔ اللہ اکبر آخر ایک معمولی آدمی کی پناہ لے کر اندر آئے (عربوں میں دستور تھا کہ جب کوئی کسی کی پناہ سے شہر میں آتا تو اس کو کچھ نہ کہتے۔ ) تو آ کر بھی کون سی عافیت تھیں ادھر مسلمانوں کا یہ حال کہ کفار لوگوں سے تنگ آ کر گھر بار بیوی بچے چھوڑ کر حبشہ کو چلے گئے تھے۔ آخر یہ ہوا کہ خود ولت بھی مکہ شریف کو جو آپ کا وطن مالوف تھا چھوڑ کر سب  سے چھپ کر چلے گئے مگر آپ لوگ اس پر بھی راضی نہ ہوئے مدینہ تک بھی پیچھا کیا۔ سو سو اونٹ پکڑنے والے کے لئے مقرر کئے۔ چنانچہ ایک بڑا بہادر ڈاکو مدینہ کی راہ میں جا ہی ملا۔ لیکن ؎

ہو گا کیا دشمن اگر سارا جہاں ہو جائے گا

جبکہ وہ با مہر ہم پر مہرباں ہو جائے گا

تھوڑی ہی دور تھا کہ اس کا گھوڑا بحکم الٰہی زمین میں دھس گیا۔ یہاں تک مجبور ہوا کہ اس نے خود ہی درخواست کی کہ آپ میرے لئے دعا کر کے مجھے چھڑائیں میں آپ تک کسی کو آنے نہ دوں گا اور وہ اپنے تجربہ سے یہ بھی جان گیا کہ آپ کی ضرور ترقی ہو گی چنانچہ اس نے ایک امان بھی اسی وقت ایک چمڑے کے ٹکڑے پر لکھوا لی اور اپنے وعدہ کے موافق لوٹتے ہوئے جو تلاش کنندہ اس کو ملا اس نے پتہ نہیں بتلایا۔ پھر اس پر بھی بس نہیں کی بلکہ مدینہ پر بھی فوج لائے اور منہ کی کھا کر گئے۔ آخر کار جنگ احزاب میں تو تمام ملک کو جن میں مشرکین عرب اور ہمارے جنٹلمین اہل کتاب (باوجود معاہدہ امن اور عہد صلح کے ) بھی شریک تھے۔ آ کر تمام مدینہ کو گھیر لیا اور قریباً ۱۸۔ ۱۹ روز تک گھیرے رہے تمام شہر میں دہلی کے غدر سے کئی حصے زائد بربادی اور گھبراہٹ رہی۔ آخر کار خائب خاسر ہو کر واپس ہوئے۔ دیکھو اور غور سے پڑھو وَاَرسَلنَا عَلَیھِم رِیحًا وَّجُنُودًا لَّم تَرَوھَا۔ اس برتے پر بھی اعتراض ہیں کہ پیغمبر اسلام نے جہاد کئے اور جہاد کی تعلیم دی ؎

اللہ رے ایسے حسن یہ یہ بے نیازیاں

بندہ نواز ! آپ کسی کے اللہ نہیں

اب سوال یہ ہے کہ یہ اور اس کے سوا اور تکالیف جن کے لکھنے سے قلم کو رعشہ ہوتا ہے آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور آپ کے اللہ کو کیوں پہنچائی گئیں۔ اسلام کے مخالفو ! ہمارے علاتی بھائی عیسائیو !

(حدیث شریف میں آیا ہے کہ انبیاء سب کے سب علاتی بھائی ہیں یعنی توحید میں جو اصل الاصول ہے سب شریک ہیں اس لحاظ سے عیسائیوں کو علاتی بھائی لکھا گیا گو انہوں نے توحید چھوڑ دی ہے مگر نام لیوا اتباع انبیاء تو ہیں۔ )

ہمارے مہربان پڑوسی ہندوؤ ! ذرا انصاف سے اس سوال کو سوچو اور اللہ سے ڈر کر اس کا جواب صاف اور صحیح لفظوں میں دو۔ مگر آپ لوگ تو اپنے بھائیوں کے لحاظ سے حق کے لئے کہیں گے ہم ہی اس کی صحیح وجہ بتلاتے ہیں وہ یہی تھی کہ

مکش بہ تیغ ستم والہان ملت را

نہ کردہ اند بجز پاس حق گناہ دگر

سب جھوٹے خداؤں کو چھوڑ کر ایک ہی مولا کریم سے لو لگائی تھی ذرا غور سے پڑھو اور خوب سمجھو یُخرِجُونَ ! الرَّسُولَ وَاِیّٓاکُم اَن تُؤمِنُوا باللّٰہِ رَبِّکُم (سورہ ممتحنہ) کیا آپ یا آپ کا کوئی اور بھائی ثابت کر سکتا ہے کہ ان مظلوموں کا بجز اس کے کوئی اور گناہ بھی تھا۔ کیا حضور مقدس ( فداہ روحی) یا آپ کے خدام نے مکہ میں کسی پر ظلم کئے تھے۔ کیا کسی کا مال کھایا تھا یا جاگیر دبائی تھی؟ یا کسی کے باپ یا بیٹے کا قتل کیا تھا یا کم سے کم کسی مشرک کا پانی چھو دیا تھا؟ کچھ نہیں کہا اور ہرگز نہیں کیا۔ پھر کیا ان (مشرکین اور اہل کتاب) کا حق تھا؟ ان کو بھی بوجہ تبدیل مذہب ایسے تنگ کریں کہ جس کا ذکر شتے نمونہ از خرداء سن چکے ہو جس کا ادنیٰ اثر ہو کہ وہ بیچاری مظلوم بجان آ کر اپنا وطن مالوف اور بیوی بچے بھی چھوڑ کر غیر وطن میں جابسے۔ اگر ان کا یہ حق تھا تو ہر ایک کا جو اپنے کو سچے مذہب کا پیرو سمجھے یہ حق ہونا چاہیے۔ پس صحابہ کا یہی حق تھا کہ ان ظالموں سے علاوہ بدلہ لینے کے اس حق کے لحاظ سے بھی بخوبی پیش آویں مگر واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے ایسا نہ کیا۔ اگر ان مشرکوں کا حق نہ تھا تو جو کچھ انہوں نے کیا اسے انصافاً بے جا تو کہو اور اپنے بھائیوں کی بے جا حمایت تو چھوڑ دو۔ پھر بتلائیے کہ ایسے ظلم پر ظلم کی کہاں تک برداشت ہو سکتی ہے اور کہاں تک طبیعت انسانی متحمل ہے اور ساتھ ہی اس کے مذہبی رکاوٹ کے اٹھانے کا جوش بھی اندازہ کر کے بتلاؤں۔ سنو ! اس جنگ جہاد کی وجہ قرآن کریم نے خود ہی بتلائی ہے اُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتِلُونَ بِاَنّھُم ظُلِمُوا وَاِنَّ اللّٰہَ عَلیٰ نَصرھِم لَقَدِیرٌ اَلَّذِینَ اُخرِجُوا مِن دِیَارھِم بِغَرِرس حَقٍّ اِلَّآ اَن یَّقُولُوا رَبُّنَا اللّٰہُ الایۃ اس آیت کو ذرا آنکھیں کھول کر پڑھو اور دل لگا کر سمجھو کہ اس جہاد کے بانی مبانی آپ ہی کے بھائی صاحبان تھے یا کوئی اور۔ میں سچ کہتا ہوں اگر مسلمانوں کو آزادی اور امن ہوتا اور کفار ناہنجار کی طرف سے وہ سلوک جو پیش آئے نہ آئے ہوتے تو ان کو جہاد کی بھی ضرورت نہ ہوتی اور نہ وہ اس طرف خیال کرتے بلکہ اپنی صفائی حال اور صدق مقال سے ایسی ترقی کرتے اور آسائش میں رہتے جو اس جنگو جہاد سے ان کو میسر نہ ہوئی تھی۔ اس آیت میں بھی جس کا حاشیہ ہم لکھ رہے ہیں جہاد کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور باوجود اس کے کہ اب ایک موقع بدلہ لینے کا ہے اور بدلہ بھی ایسے لوگوں سے جن کے ظلم و ستم کی کوئی حد ہی نہ رہی ہو۔ پھر بھی زیادتی کرنے سے روک دیا نہ صرف روک دیا بلکہ اس پر وعید شدید فرمایا کہ زیادتی کرنے والے اللہ کو کسی طرح بھی نہیں بھاتے۔ پھر اسی آیت میں بانیان جہاد پر الزام لگایا ہے کہ فتنہ وفساد کرنا جو تم کر رہے ہو جس سے طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ قتل سے بھی برا ہے اس وقت لکھتے ہوئے مجھے اس کی وجہ کہ یہاں پر والفِتنَۃُ اَشَدُّ مِنَ القَتلِ جناب باری نے کیوں فرمایا سمجھ میں آئی ہے کہ اس میں حال کے عیسائیوں اور آریوں وغیرہ کو الزام دیا جاتا ہے کہ تم اسلام پر تو منہ پھاڑ پھاڑ کر اعتراض کرتے ہو کہ اس نے جہاد کی تعلیم کی ہے مگر یہ نہیں دیکھتے کہ تمہارے بھائیوں نے کیا کچھ نہیں کیا۔ سب فتنوں کی جڑ تو وہی ہیں جو فتنہ پروازی کرتے ہیں ایک اور آیت میں بھی اس امر کی طرف کہ مسلمان بمجبوری لڑتے ہیں اشارہ ہے قاتِلُوا المُشرِکِینَ کَافَّۃً کَمَا یُقَاتِلُونَکُم کَآفَّۃً مگر افسوس کہ مخالفین اسلام بجائے اس کے کہ اس آیت پر غور کر کے نادم اور خجل ہوتے۔ الٹے الجھتے ہیں کہ صاحب یہاں پر قرآن نے فیصلہ ہی کر دیا کہ سب کافروں کو مار ڈالو۔ مگر وہ اس کو نہیں دیکھتے کہ کَمَا یُقَاتِلُونَکُم کَآفَّۃً کے بھی تو کچھ معنی ہیں۔ بھلا اگر اسلام اور قرآن کا یہی منشا ہوتا کہ کوئی کافر بھی دنیا میں زندہ نہ رہے تو ذمی کافروں کو رکھنے کا حکم اور ان کی حفاظت مثل مسلمانوں کے ہونے کا ارشاد کیوں ہوتا ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کو دفع فساد منظور ہے نہ کہ کشت و خون چنانچہ ایک جگہ صریح ارشاد ہے وَلَولَ ! دَفعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعضھُم بِبَعضٍ لّھُدِّمَت صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَصَلٰوۃٌ وَّمَسَاجِدُ یُذکَرُ فِیھَا اسمُ اللّٰہِ کَثِیرًا (الحج) جس جس آیت میں قتل قتال کا ذکر ہے سب میں نہیں تو اکثر میں ضرور ہی ہو گا کہ اس جہاد سے مقصود دفع مظالم ہیں۔ سنو ! وَمَا لَکُم لاَ تُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ وَالمُستَضعَفِینَ مِنَ الرِّجَالِ وَ الوِلدَانِ الَّذِینَ یَقُولُونَ رَبَّنَآ اَخرِجنَا مِن ھٰذِہِ القَریَۃِ الظَّالِمِ اھَلھُا اس آیت نے اور بھی واضح کر دیا کہ جہاد سے مقصود اصلی دفع مظالم اور آزادی کا کھولنا ہے ورنہ اسلام کی اصلی غرض تو منادی اور اعلائے کلمۃ الحق ہے اگر کوئی اس میں خلل انداز نہ ہو اور بلاوجہ مزاحمت نہ کرے تو اسلام نے بھی اس سے تعرض کی اجازت نہیں دی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے زمانہ کے مخالفین عیسائی اور ہندو (آریہ) اعتراض کرتے ہوئے اپنے گریبان میں منہ نہیں ڈالتے کہ جس جہاد پر ہم منہ پھاڑ پھاڑ کر اعتراض کر رہے ہیں وہ ہمارے ہی بھائیوں کی مہربانی کا ثمرہ ہے افسوس ہے کہ ہم نے کسی مخالف سے زبانی نہ تحریری یہ سنا کہ بیشک جو کچھ مشرکین عرب اور اس زمانہ کے جنٹلمین اہل کتاب نے حضور مقدس (فداہ روحی) اور آپ کے اللہ سے سلوک کئے واقعی حد سے متجاوز تھے۔ حیرانی ہے کہ ان مظلوم صحابہ کی نسبت عام اخلاق انسانی بھی بھول گئے کسی گلیڈ اسٹونی کو بھی اس پر آرمینیا کی نسبت سے عشر عشیر بھی رنج نہ ہوا سچ ہے الکفر ملّۃ واحدۃ۔ جانب واری ایسی ہی بلا ہے کہ آنکھوں پر پٹی بندھوا دیتی ہے سب سے زیادہ تعجب تو عیسائیوں کے حال پر ہے کہ اسلام پر تو منہ پھاڑ پھاڑ کر معترض ہیں حالانکہ ان کی کتب عہد عتیق ایسے ہی جہادوں سے پر ہیں۔ اسے تو جانے دیجئے۔ حال ہی میں جو کچھ یورپ کے عیسائیوں نے کیا ہے وہی دیکھئے کہ چین میں چند مشنریوں کو جو خواہ مخواہ لوگوں کے گھروں میں حسب دستور خویش ہندوستان پنجاب ہی سمجھ کر گھستے ہوں گے کسی قدر تکلیف پہنچنے پر تمام یورپ برانگیختہ ہو گیا۔ ملکہ معظمہ بھی اپنی تقریر افتتاح پارلیمنٹ ۱۵۔ اگست ۱۸۹۵؁ء میں اس طرف توجہ دلالتی ہیں لارڈ سالسبری وزیر اعظم انگلستان بھی گورنمنٹ چین کو لکھ رہے ہیں کہ اس کا کامل انتظام نہ ہوا تو انگلستان مزید کارروائی کرنے پر مجبور ہو گا۔ آرمینیا کا جھگڑا جو بات سے بتنگڑ بنیا گیا تھا قابل دید ہے کہ ان روشن ضمیر عیسائیوں اور تقدس مآب مشنریوں نے کہاں تک قوم کی حمایت جی کھول کر نہیں کی اور کس قدر ان کے امن اور عافیت کے اسباب مہیا کرنے میں کوششیں نہیں کیں اور کہاں تک ممکنات سے گذر کر محالات تک نہیں پہنچے۔ جو ناظرین اخبارات ۱۸۹۵؁ء سے پوشیدہ نہ ہوں گے۔ انہوں نے تو سب کچھ کیا اور امن عامہ اور ہمدردی قومی کے نام لینے سے نہ صرف بری ہوئے بلکہ قابل قدر بھی جانے گئے مگر اسلام نے قاتِلُوا ! فِی سَبِیلِ اللّٰہِ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَکُم وَلَا تَعتَدُوا اِنَّ اللّٰہَ لَایُحِبُّ المُعتَدِینَ اگر کہہ دیا تو چاروں طرف سے گونج آ رہی ہے کہ یہ کیا وہ کیا۔ ظلم کیا۔ ستم کیا۔ کوئی نہیں پوچھتا۔ کیوں صاحب چین کے مشنریوں اور آرمینیا کے مفسدوں کو جس قدر تکلیف ہوئی مکہ کے معزز رؤسا ابوبکر عمر اور دیگر صحابہ اور خود سید الانبیاء (فداہ ابیو امی) کو کیا کم ہوئی تھی؟ ان روشن ضمیر عیسائیوں کو تقدس مآب پادریوں نے یہاں تک بھی سمجھا رکھا ہے کہ مسلمانوں کے مذہب میں فرض ہے کہ ساری عمر میں ایک آدھ عیسائیوں کو ضرور ہی ماریں۔ مسٹرویب نو مسلم امریکن لکھتے ہیں۔ کہ مجھے ایک عیسائی نے پوچھا کہ کیا سچ ہے مسلمانوں کو جنت میں جگہ نہ ملے گی جب تک وہ ایک آدھ عیسائی کا خون نہ کریں افسوس ہے کہ اس روشنی کے زمانہ میں بھی روشنی کے لحاظ سے یورپ اندھیر نگری ہے۔ ہندوستان میں مشنری لوگ ایسے خیال ظاہر کرنے سے اس لئے رکتے ہیں کہ ان کو ڈر ہے کہ یہاں بھانڈا پھوٹ جائے گا اور علماء اسلام ہماری جہالت کی قلعی کھول دیں گے۔ خلاصہ یہ کہ اسلامی جہاد جس قدر ہے صرف امن عامہ اور آزادی کے قائم کرنے اور وسعت سلطنت کے لئے ہے نہ کہ کافروں کو کفر کی سزا دینے یا جبراً مسلمان بنانے کو ان دونوں اوہام کو ذمیوں کے حقوق اور حفاظت پورے طور سے دفع کر رہے ہیں۔ فاعتبروا یا اولی الالباب۔

اب ہم مخالفین اسلام (عیسائیوں اور آریوں ) کی کتابوں سے بتلانا چاہتے ہیں کہ ان میں کس قسم کا جہاد بھرا ہے اور وہ کس قسم کے جہاں کی تعلیم دیتے ہیں عیسائیوں کی مقدس کتاب توریٰت میں لکھا ہے :۔

” پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو خطاب کر کے فرمایا کہ اہل مدیان سے بنی اسرائیل کا انتقام لیں۔ تب موسیٰ نے لوگوں کو فرمایا کہ بعضے تم میں سے لڑائی کے لئے تیار ہوویں اور مدیانیوں کا سامنا کرنے جاویں۔ انہوں نے مدیانیوں سے لڑائی کی۔ جیسا اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو فرمایا تھا۔ اور سارے مردوں کو قتل کیا اور بنی اسرائیل نے مدیان کی عورتوں اور ان کے بچوں کو اسیر کیا اور ان کے مویشی اور بھیڑ بکری اور مال و اسباب سب کچھ لوٹ لیا۔ اور ان کے سارے شہروں کو جن میں وہ رہتے تھے اور ان کے سب قلعوں کو پھونک دیا اور انہوں نے ساری غنیمت اور سارے اسیر انسان اور حیوان کے لئے تم ان کے بچوں کو جتنے لڑکے ہیں سب کو قتل کرو اور ہر ایک عورت کو جو مرد کی صحبت سے واقف ہیں جان سے مارو لیکن وہ لڑکیاں جو مرد کی صحبت سے واقف نہیں ہوئیں۔ ان کو اپنے لئے زندہ رکھو (گنتی ۳۱ باب) اور جب کہ خداوند تیرا اللہ انہیں تیرے حوالے کر دے۔ تو تو انہیں ماریو اور حرم کیجئیو۔ نہ تو ان سے کوئی عہد کریو نہ ان پر رحم کریو نہ ان سے بیاہ کرنا۔ تم ان سے یہ سلوک کرو تم ان کے مذبحوں (ذبح کی جگہ) کو ڈھا دو ان کے بتوں کو توڑو۔ ان کے گھنے باغوں کو کاٹ ڈالو اور ان کی تراشی ہوئی مورتیں اگر ہیں جلا دو کیونکہ تو خداوند اپنے اللہ کے لئے پاک قوم ہے۔ خداوند تیرے اللہ نے تجھے چن لیا۔ کہ تم سب گروہوں کی بہ نسبت جو زمین پر ہیں اس کی خاص گروہ” (استثنا ۷ باب)

ان حوالجات سے مسئلہ صاف ہے۔ عیاں زاچہ بیاں۔ مگر ناظرین اس کی پوری تفصیل ہمارے رسالہ تقابل ثلاثہ میں دیکھ سکتے ہیں اب سنئے ہمارے لالہ صاحبان کی کتھا۔ وہ کیا کہتے ہیں۔ وید جس کو مخزن علومو فنون کہا جاتا ہے جس کو بہت کچھ مجلّیٰ کر کے نادانوں کے ہاتھ سونے کے بھاؤ بیچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی وید میں بھی جہاد کی اعلیٰ درجہ کی تعلیم ہے پس سنئے !

” اے دشمنوں کے مارنے والے اصول جنگ میں ماہر بے خوف و ہراس پر جاہ و جلال عزیزوا اور جوان مردو ! تم سب رعایا کے لوگوں کو خوش رکھو پرمیشور کے حکم پر چلو اور بد فرجام دشمن کو شکست دینے کے لئے لڑائی کا سرانجام کرو۔ تم نے پہلے میدانوں میں دشمنوں کی فوج کو جیتا ہے تم نے حواس کو مغلوب اور روئے زمین کو فتح کیا ہے۔ (کب؟ شاید سلطان محمود کے زمانے میں ) تم روئیں تن اور فولاد بازو ہو اپنے زور سجاعت سے دشمنوں کو تہ تیغ کرو تاکہ تمہارے زور بازو اور ایشور کے لطف و کرم سے ہماری ہمیشہ فتح ہو” (اتھرووید  کانڈ ۱۶ نوواک اورگ ۹۷ منتر ۳)

گو نمونہ تو اسی ایک ہی منتر سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ویدہاں وید مقدس میں جہاد کے متعلق (انہیں نہیں بلکہ تمام دنیا پر سلطنت کا سکہ جمانے کے لیے ) یہ حکم ہے۔ جس نے مفصل بحث دیکھنی ہو وہ ہمارے رسالہ حق ! پر کاش۔ ترک اسلام اور جہاد وید وغیرہ میں ملاحظہ کریں۔ فاعتبروا الخ۔ ”

کیونکہ ان کا ظلم و ستم حد کو پہنچ چکا ہے جس کا دفعیہ اللہ کو منظور ہے پس جس قدر تمہیں تنگ کریں اسی قدر تم بھی کرو اور ظلم زیادتی نہ کرنا۔ اسی لئے کہ ظلم زیادتی کرنے والے اللہ کو نہیں بھاتے۔ البتہ ایسے ظالموں سے جو ناحق ظلم ہی پر کمر بستہ ہوں بدلہ لینا اور ان کی پوری گت بنانا کوئی زیادتی میں داخل نہیں بے شک بدلہ لو اور جہاں ان کو پاؤ قتل کرو اور جہاں سے وہ تمہیں نکال چکے ہیں تم ان کو نکال دو۔ اس لئے کہ باہمی فتنہ فساد جو وہ کر رہے ہیں قتل سے بھی بدتر ہے۔ باوجود ان کی شرارت اور خباثت کے ہم ان کو مہلت اور سہولت دیتے ہیں کہ اگر وہ کعبہ شریف میں پناہ گیر ہوں تو نہ انہیں ستاؤ اور عزت والی مسجد یعنی کعبہ کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک وہ خود تم سے اس میں نہ لڑیں پھر اگر وہ اس مسجد میں بھی تم سے لڑیں اور تمہارے دینی امروں میں خلل انداز ہوں تو تم بھی ان سے خوب لڑو پھر ان کی کسی بات کا لحاظ نہ کرو اسی طرح کی سزا ہے ظالموں کی جو ظلم و ستم پر کمربستہ ہوں باوجود اس کے پھر بھی اگر وہ باز آویں اور اپنی پہلی خباثتیں چھوڑ دیں تو اللہ بھی ان کو معاف کرے گا کیوں کہ وہ بڑا بخشنہار مہربان ہے اور اگر شرارت ہی پر کمربستہ رہیں تو ان سے خوب لڑو یہاں تک کہ ان کا فتنہ فساد معدوم ہو جائے۔ اور بالکل امن صورت ہو کر دین یعنی قانون اللہ کا جاری ہو جائے پھر بھی اگر اپنی شرارت سے باز آویں اور فتنہ فساد نہ کریں اور امن عامہ میں خلل انداز نہ ہوں تو ان پر کسی طرح کی دست اندازی جائز نہیں مگر ان لوگوں پر جو عہد شکنی کی وجہ سے ظالم ہیں بے شک ہاتھ بڑھاؤ یہاں تک کہ اگر وہ مہینے حرام میں بھی تم سے لڑیں اور عہد شکنی کریں تو تم بھی اسی مہینہ میں لڑو اس لئے کہ عزت کا مہینہ عزت والے مہینے کے مقابل ہے۔ جب وہ تمہارے مہینے کی عزت نہیں کرتے تو تم بھی ان کے مہینے کی عزت نہ کرو اور ہتک حرمت کا یہی بدلہ ہے جبکہ وہ تمہاری عزت کی پرواہ نہیں کرتے تو تم بھی ان کی مت کرو۔ بیشک موقع مناسب میں ان سے بدلہ لو۔ پھر بھی اس امر کا لحاظ رکھو کہ جو کوئی تم پر زیادتی کرے اس سے اس کی زیادتی جتنا بدلہ لو اور اس سے زیادہ بدلہ لینے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔

(شان نزول :۔ مسلمانوں کو جب اپنے دفعیہ کے لئے لڑنے کا حکم ہوا تو ان کے دل میں خیال آیا کہ اگر کفار عرب مہینے حرام میں ہم سے لڑیں گے تو ہم کیا کریں گے اس مہینے میں تو لڑنا جائز نہیں ان کے اس خیال پر یہ آیت نازل ہوئی (موضح القرآن) مہینے حرام کے وہ ہیں جن میں لڑائی کی ابتدا کرنی حرام ہے اور وہ چار ہیں۔ ذوالقعدہ۔ ذوالحجہ۔ محرم اور رجب ”

اور اس ڈرنے میں اپنا نقصان نہ سمجھو بلکہ دلی یقین سے جانو کہ اللہ تعالیٰ کی مدد ڈرنے والوں کے ساتھ ہے ہاں ایسے بھی مت ہو جاؤ کہ قتل قتال کے جھگڑوں میں پڑ کر سبھی کچھ چھوڑ دو۔ کیونکہ لڑائی جھگڑا بھی اپنی حد تک ہی اچھا ہے حد سے زیادہ مصروفی کسی کام میں بھی اچھی نہیں۔ جنگ و جدال کی بھی کوئی حد ہے کہ جب کبھی تم کو کفار تنگ کریں اور احکام الٰہی کے تابع نہ ہوں تو اس کا دفعیہ ضروری ہے ہاں ایک کام ایسا ہی ہے جس کی کوئی بہار خزاں نہیں بلکہ سب موسم اس کے لئے بہار ہیں وہ یہ کہ اللہ کو اپنا داتا اور رازق مطلق جانو اور اللہ عالم الغیب کی راہ میں حسب موقع اپنے کمائے ہوئے حلال مال خرچ کرو اور بخل کی وجہ سے اپنی جانوں کو ہلاک نہ کرو

(شان نزول :۔ جب لوگوں کو مسکینوں پر خرچ کرنے کا حکم ہوا تو بعض لوگوں نے کہا کہ اگر ہم مال اپنا اسی طرح پر خرچ کرتے رہے تو ہم خود مسکین ہو جائیں گے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ”

اور سب لوگوں کے حال پر چاہے کوئی ہو احسان اور مہربانی کیا کرو اس لئے کہ احسان کرنے والے اللہ کو بھاتے ہیں مال خرچ کرنا دو قسم پر جانو ایک تو یہ کہ دوسروں کو دیا جائے جیسے صدقہ وغیرہ۔ دوسری قسم وہ ہے جو خاص اپنی ہی جانوں پر خرچ کرو تو بھی تم کو ثواب ہے جیسے سفر حج میں پس تم پہلی قسم میں خرچ کرو اور حج اور عمرہ کو بھی مال خرچ کر کے جاؤ اور ان کو خالص لِلّٰہِ نیت سے پورا کیا کرو۔ پھر اگر راہ میں کسی وجہ سے گھر جاؤ اور کعبہ تک نہ پہنچ سکو تو جو چیز قربانی کی تم کو میسر ہو راستے ہی میں ذبح کر دیا کرو۔ یا بھیج سکو تو بھیج دو اور اپنے سر نہ منڈواؤ اور احرام کی صورت جو پہلے سے تم نے دربار الٰہی کے لائق بنا رکھی ہو۔ اسے نہ بدلا کرو جب تک کہ قربانی تمہاری اپنے ٹھکانے پر نہ پہنچ لے یعنی ذبح ہو جائے

( ایک شخص نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے سوال کیا کہ میں اپنا عمرہ کس طرح کروں اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ۱۲ف یعنی عمرہ میں جو احکام ہیں کہ احرام باندھ کر مثل حج کے طواف کرنا سو کرو اور جو امور منع ہیں ان سے بچتے رہو )

ہاں جو شخص تم میں سے بیمار ہو۔ یا اس کے سر میں بالخصوص کوئی تکلیف ہو جس کے سبب سے وہ احرام کی تکلیف نہیں اٹھا سکتا۔ ایسا شخص اگر احرام توڑ دے تو اس توڑنے کے بدلہ میں تین روزے یا ساڑھے سات سیراناج کا صدقہ یا قربانی اس پر واجب ہے پھر جب تم بے خوف ہو جاؤ تو جو شخص عمرہ کر کے دنیاوی لذائذ اور فوائد سے حج تک بہرہ یاب ہو تو وہ اس کے شکریے میں ایک قربانی کرے جیسے اسے میسر ہو اور جس کو قربانی نہ ملے وہ تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات جب وطن کو لوٹو یہ دھاکہ پورا اس پر واجب ہے نہ ہر ایک کو یہ حکم ہے بلکہ ان لوگوں کو ہے جن کے گھر والے مسجد حرام یعنی مکہ میں نہ رہتے ہوں بلکہ آفاقی ہوں اور اللہ سے ڈرتے رہو بتلائے سے کمی زیادتی نہ کرو اور یہ جان لو کہ احکام شرعیہ میں کمی زیادتی کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کا عذاب بہت سخت ہے ایسانہ ہو کہ حج کی فضیلت سن کر دیگر صدقات کی طرح ہر وقت ہی اس کے ادا کرنے میں لگو نہیں بلکہ اس حج کے لئے چند مہینے یعنی شوال ذوالقعدہ اور اول ہفتہ ذوالحج مقرر ہیں تمام عمر بھر کا فرض ان میں ادا ہو جاتا ہے ہر سال آنا جانا کچھ ضروری نہیں ہاں یہ ضروری ہے کہ جو کوئی ان مہینوں میں حج کو اپنے ذمہ لے وہ چند امور ممنوعہ سے ضرور ہی بچتا رہے بیوی سے جماع نہ کرے۔ فسق فجور نہ کرے اور نہ حج کے دنوں میں کسی سے جھگڑا کرے۔ گر چہ حق پر ہو۔ کیونکہ دربار شاہی میں اس قسم کی باتیں بے ادبی میں داخل ہیں اس کے سوا اور بھی جو کچھ بھلائی کرو گے اس کا بدلہ پاؤ گے کیونکہ اللہ اس کو جانتا ہے اور ایسے زاہد اور متوکل بھی نہ بنو۔ کہ حج کو جاتے ہوئے کھانا کپڑا ہی چھوڑ جاؤ جس سے آخر کار مجبوری مانگنے تک نوبت آئے اس لئے سفر حج میں بلکہ ہر سفر میں سفر خرچ ساتھ لیا کرو

((شان نزول :۔ بعض لوگ بلا خرچ حج کو چلے آتے اور اپنا نام متوکل کہلاتے مگر مکہ شریف میں آ کر مانگتے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔)

کیونکہ خرچ کا بڑا فائدہ سوال سے بچنا ہے جو سفر خرچ نہ ہونے کی حالت میں تم کرتے ہو پس ایسے بے جا سوال اور ناحق کے بخل کرنے میں اے عقل والو ! مجھ سے ڈرتے رہو ہاں اس میں تمہیں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کریم سے تجارت کے ذریعہ فضل یعنی نفع چاہو بے شک حج کے موسم میں اسباب فروختنی لے جاؤ اور کماؤ اس میں تم پر گناہ نہیں۔ گناہ اس میں ہے کہ دنیا کمانے میں اللہ کو بھول جاؤ سو ایسا مت کرنا بلکہ اس کی یاد سب دنیا و مافیہا سے افضل جانا کرو۔ پھر جب تم عرفات سے واپس آؤ تو مشعر الحرام پہاڑی کے پاس اللہ کو خوب یاد کرو نہ اپنے بناوٹی طریق سے بلکہ اس کو اسی طرح یاد کرو جیسا اس نے تم کو بتلایا اس لئے کہ ابھی تم اس سے پہلے گمراہ تھے۔ پھر تمہاری رائے کا کیا ٹھیک ہے۔ تم تو کہیں اپنے خاول میں ایسے کلمات بولو جو شریعت میں پسند نہ ہوں۔ ! پھر لوٹو تم اے قریشیو ! جہاں سے اور عرب لوگ لوٹتے ہیں یعنی عرفہ سے اور اپنے بے جا ہٹ کو چھوڑ دو اور اپنے پہلے فعلوں پر اللہ سے بخشش مانگا کرو۔ وہ بخشے گا کیونکہ اللہ بڑا ہی بخشنے والا مہربان ہے۔

( قریش کے لوگ اور ان کے اتباع مزدلفہ میں جو عرفات سے ورے ایک میدان ہے ایام حج میں ٹھیر کر واپس مکہ ہوتے تھے اور دوسرے لوگ عرفات سے واپس ہوتے تھے اور حکم الٰہی دوسروں کے مطابق تھا اس لئے قریش کے لیے بطور فہمائش یہ آیت نازل ہوئی ۱۲ (صحیح بخاری)(

چونکہ حج میں مقصود صرف ذکر الٰہی ہے اس لئے اس کی ابتدا انتہا میں کوئی فرق نہیں۔ پس مناسب بلکہ واجب ہے کہ جیسے ابتدا میں اللہ کو یاد کرتے رہے ہو اسی طرح جب تم حج کے کام پورے کر چکو تو اللہ کو ایسا یاد کرو جیسا کہ اپنے باپ دادا کو بعد حج کے بطور فخریہ یاد کرتے ہو۔ بلکہ اس سے بھی زائد۔ کیونکہ باپ دادا کا مذاکرہ تو تمہاری باہمی مفاخرت اور ایک نکمی بڑائی کے لئے ہے اور اللہ کے ذکر سے تو تمہاری عاقبت بخیر ہو جائے گی ہماری تعلیم تو ایسی صاف ہے مگر پھر بھی بعض لوگ ایسے کوتاہ اندیش ہیں کہ دعا کرتے ہوئے یہی کہتے ہیں کہ اے ہمارے مولا ! جو کچھ تو نے ہم کو دینا ہے اسی دنیا میں دے ہم بھی ایسے ویسوں کو جس قدر کچھ دینا ہو گا دیں گے اور آخرت میں ان کو ایسا بے نصیب کریں گے کہ ان کے لئے بھلائی سے کچھ بھی حصہ نہ ہو گا اور ان کے مقابل بعض لوگ وہ ہیں جو اللہ کو سب طاقتوں کا مالک سب کچھ دینے والا جان کر دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے ہمارے مولا؟ تو دنیا میں بہت ہم کو نعمت اور ہر طرح سے عافیت دے اور قیامت میں بھی نعمت اور آسائش نصیب کر اور سب سے زائد تیری رحمت سے یہ توقع ہے کہ تو ہم کو آگ کے عذاب سے رہائی دیجئیو۔ ان دور اندیشوں اور ان کو تہ بینوں کی مثال بین یہ ہے کہ یہ تو اللہ سے گویا عمدہ سی غذا مع سالن اور حبوب ہاضمہ کے مانگتے ہیں۔ اور وہ کم بخت گویا صرف روکھی روٹی اللہ مالک الملک سے چاہتے ہیں۔ پس تم آپ ہی فیصلہ کر لو کہ ان میں سے بہتر اور دنا کون ہے یقیناً ان کی دور اندیشی اور بلند پروازی میں کسی کو کلام نہ ہو گا۔ جب ہی تو ان کی کمائی کا حصہ ان کو ہے اور ان کی دعا بھی قبول ہو گی اور اللہ ان دونوں کا بہت جلد محاسبہ کرنے والا ہے جس سے تمام اجر بجر فریقین کا کھل جائے گا اپنے اپنے برتے کے موافق پھل پاویں گے پس تم بھی اے لوگو ! اگر اللہ کے کامل بندے بننا چاہتے ہو تو اللہ سے اس طرح کے سوال کرو جو دونوں جہانوں میں کار آمد ہوں اور ہر حال میں اللہ کو یاد کرو۔ بالخصوص چند دنوں میں یعنی بعد حج کے گیا رہویں بارہویں تیرھویں پھر بھی جو کوئی دو دن میں ہی جلدی کرے اور بارھویں کو لوٹ آوے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بلکہ ثواب ہے ہاں ہر ایک کو نہیں بلکہ ان کو جو پرہیز گاری کریں اور ہر کام میں اخلاص مند ہوں۔ پس تم اخلاص مند بنو اور اللہ سے ہر وقت ڈرتے رہو۔ اور دل سے جان رکھو کہ تم نے اسی کے پاس جمع ہو کر جانا ہے مناسب تمہارے اعمال کی جزا سزا دے گا۔ اپنی ظاہر داری پر نازاں نہ ہو اس لئے کہ وہ تمہارے حال سے خوب واقف ہے تمہارے دلوں کے بھیدوں کو جانتا ہے۔ ہاں تم آپس میں ایک دوسرے کے حال سے مطلع نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات تمہارا دشمن دوست بن کر تم کو دھوکا دے جاتا ہے اور تم نہیں جان سکتے اور بعض ! لوگ ایسے بھی ہیں کہ جن کی بناوٹی باتیں باوجود رسول ہونے کے اے رسول تجھ کو بھی دنیا کے معاملات میں بھلی معلوم ہوں اس لئے کہ غیب سے ناواقف ہے اور وہ طلاقت لسانی سے ادھر ادھر کی تجھ کو سناتا ہے اور اپنے مافی الضمیر پر بڑے صادق اور راست بازوں کی طرح اللہ کو گواہ کرتا ہے کہ اللہ قسم میں تمہارا دل سے خیر خواہ ہوں مجھے آپ سے بڑی محبت ہے حالانکہ وہ تمہارا سخت دشمن ہے اس کی دشمنی کا ثبوت اس سے زیادہ کیا ہو گا۔ کہ مسلمانوں کو ہر طرح سے تکلیف پہنچاتا ہے اور جب تیری مجلس سے پھر جاتا ہے تو زمین کی بربادی میں تگ و دو کرتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلائے اور کھیتوں کو برباد کرے اور چار پایوں کی نسل کو مارے اگرچہ تو کبھی ایسے بد معاش سے بوجہ ناواقفی کے خوش ہو گیا ہو یا آئندہ کو ہو جائے مگر اللہ تو ہرگز ان سے خوش نہ ہو گا اس لئے کہ اللہ فساد اور فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔

(شان نزول :۔ بعض لوگ منافقانہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی خدمت میں آ کر نرم نرم باتیں کرتے اور اپنا اخلاص ظاہر کرتے۔ اور ہر طرح سے قسمیں کھا کر بھی یقین دلاتے کہ ہم خیر خواہ ہیں حالانکہ باہر جا کر ہر طرح سے ایذا رسانی میں کوشش کرتے اور مسلمانوں کی مال و جان کے ضائع کرنے میں بھی دریغ نہ کرتے چنانچہ اخنس بن شریق ایک شخص منافقانہ حضرت کی خدمت میں آیا کرتا تھا۔ ایک دفعہ جب اس کا داؤ چلا تو رات کو جاتے ہوئے مسلمانوں کے کھیت جلا گیا اور مویشی قتل کر گیا۔ اس کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ۱۲ جلالین ”

یہ تو ایسا مفسد اور متکبر ہے کہ جب کوئی اسے بطور نصیحت کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈر اور ایسے بیہودہ کاموں سے توبہ کر تو اپنی اکڑ خانی کی وجہ سے زیادہ گناہ پر اڑ جاتا ہے اور کہنے سننے والوں کی تحقیر کرتا ہے بھلا کہاں تک کرے گا۔ ہم نے بھی اس کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے پس وہی جہنم اس کے غرور توڑنے کو کافی ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے جہاں اسے رہنا ہو گا۔ جیسا کہ یہ اعلیٰ درجہ کا متکبر اور مغرور ہے اسی طرح اس کی مقابل بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی جان بھی اللہ کے خوش کرنے میں دے دیتے ہیں ایسے ہی لوگ مورد الطاف خداوندی ہیں بھلا کیوں نہ ہوں ایک تو ان کی نیک نیتی اور ساتھ ہی اس کے یہ کہ اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہی ٹھیک ہے کہ اللہ کا بندہ بننا صرف زبانی خرچ سے نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے سب احکام نہایت تعظیم و تکریم سے نہ نباہے جائیں۔ جب ہی تو تم کو حکم ہوتا ہے کہ اے مسلمانو ! سب احکام الٰہی کی فرمانبرداری کیا کرو۔ اور بعض کو کرنے اور بعض کو چھوڑنے میں شیطان کے پیچھے مت چلو اس لئے کہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔ وہ کبھی تم سے بھلائی نہ کرے گا پس بعد پہنچنے صریح اور روشن احکام کے بھی اگر تم بھولو گے تو جان لو کہ تم اپنا ہی نقصان کرو گے۔

(شان نزول بعض لوگ مسلمان ہو کر بھی اپنی رسوم چھوڑنے سے جی چراتے بعض یہودی مشرف باسلام ہو کر اونٹ کے گوشت سے حسب عادت سابقہ پرہیز کرتے تھے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔

اور اللہ تو بڑا غالب اور بڑی حکمت والا ہے جب کھبی کوئی کام چاہتا ہے تو فوراً کر دیتا ہے اور نہائیت حکمت سے کرتا ہے کسی مخلوق کی اطاعت سے اسے فائدہ نہیں کسی کی سرکشی سے اس کا نقصان نہیں۔ مگر یہ دنیا کے بندے کفار مکہ ایسے اللہ کے رسول کی بھی اطاعت نہیں کرتے اور ناحق ادھر اور ادھر کی باتیں بناتے ہیں۔ یہ مشرک لوگ گویا اب اس امر کی انتظاری کرتے ہیں کہ خود اللہ اہی بادلوں کے سایہ میں ان کے پاس چل کر آوے اور ساتھ ہی اس کے فرشتے بھی ہوں اور آخری کام کا فیصلہ ہو جائے نیکوں اور بدوں میں تمیز ہو۔ ان کی ایسی بے جا آرزوؤں اور تمسخر کی سزا خوب ہی ملے گا آخر تو سب کام اللہ وحدہ لا شریک ہی کی طرف پھرتے ہیں ایسے لوگ تو پہلے بھی ہو چکے ہیں جو بظاہری نازو نعمت پر مغرور ہو کر اللہ تعالیٰ کے حکموں کو بھولے تھے۔ پھر آخر کار عذاب الٰہی نے ان کو خوب گرفت کی۔

(211۔ 230)

 

ذرا پوچھ تو بنی اسرائلس سے کہ کتنے ہم نے ان کو احسان خداوندی کے نشان دئے۔ مگر انہوں نے بجائے شکر کے یہ سمجھا کہ ہماری لیاقت پر ہم کو ملے ہیں اس کی ناشکری کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے ان پر وبال نازل کئے کیوں نہ ہو جبکہ عام قاعدہ ہے کہ جو شخص اللہ کی نعمت کو بعد حاصل ہو جانے کے بدلتا ہے یعنی بجائے شکر کے کفر کرتا ہے تو انجام کار سوائے ہلاکت کے اس کو کچھ بھی نصیب نہیں ہوتا اس لئے کہ ایسے نالائقوں کے لئے اللہ تعالیٰ کا عذاب سخت ہے۔ ہمیشہ سے کوتاہ اندیش ظاہر بینی پر مرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کافروں کو دنیا کی زندگی کی نمائش اچھی لگتی ہے اور مسلمانوں سے بسبب ان کی تنگدستی کے مسخری کرتے ہیں اس چند روزہ زندگی اور اس کے تھوڑے سے اسباب کے لحاظ سے ان کو حقیر جانتے اور ان کا نام درویش اور ملانے رکھتے ہیں حالانکہ اللہ سے ڈرنے والے اہل ایمان قیامت کے روز ان سے بلند مرتبہ میں ہوں گے باقی رہی دنیاوی زیب و زینت سو یاد رکھیں یہ کام اللہ کے ہیں جس کو چاہتا ہے رزق بے حساب دیتا ہے اس میں اس کی مصلحتیں ہوتی ہیں

(شان نزول : کفار عموماً غربا مسلمانوں سے مسخری کرتے اور کہتے تھے کہ یہی لوگ جنت کے مالک ہیں ؟ ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔

یہ کوئی لیاقت کی دلیل نہیں بہت سے نالائق جن کو بات کرنے کا بھی شعور نہیں ان کے آگے بہتیرے ذی شعور خادم بنے پھرتے ہیں کیا یہ نہیں جانتے کہ

بناداں آنچناں روزی رساند

کہ دانا اندراں حیراں بماند

رہا ان کا یہ سوال کہ اللہ خود ہی آ کر ان کو ہدایت کرے سو یہ امر نہ کبھی ہوا اور نہ ہو گا اور نہ ہو سکتا ہے۔ دنیا کی ابتدا تاریخ سے دیکھیں تو ان کو معلوم ہو گا کہ ہمیشہ سے بنی آدم ہی رسول ہو کر آتے رہے۔ اول اول تو سب لوگ ایک ہی دین پر متفق تھے۔ چند دنوں پر انہوں نے اس میں اختلاف کیا کوئی توحید پر رہا کوئی شرک میں پھنسا۔ جب یہ حالت ان کی ہوئی تو اللہ نے بنی آدم سے نبی بھیجے بھلے کاموں پر خوشی سنانے والے اور برے کاموں سے ڈرانے والے اور ان کے ساتھ ایک ایک سچی کتاب بھی نازل کی تاکہ وہ کتاب ان لوگوں کے اختلافوں کا فیصلہ کرنے اسے بہت لوگ مان گئے گو بعض اپنی جہالت پر بھی اڑے رہے خیر وہ زمانہ بھی گذرا بعض ہدایت پر آئے اور بعض گمراہ رہے۔ طرفہ تو یہ کہ اس زمانہ کے لوگوں کی ابتر حالت دیکھ کر ہم نے ہدایت کے لئے رسول بھیجا تاکہ لوگوں کو راہ راست پر لائے اس کے ماننے میں بھی ان لوگوں نے پسو پیش کیا اور سب سے زیادہ اختلاف رائے اس میں انہیں لوگوں نے کیا جن کو پہلے الہامی کتاب تورات انجیل ملی تھی اور وہ اس سلسلہ رسالت سے واقف ہیں نہ یہ کہ لاعلمی بلکہ بعد پہنچنے نشانات بینہ کے محض اپنے حسد کی وجہ سے منکر ہوئے۔ پس اس کا انجام یہ ہوا کہ یہی لوگ بے نصیب رہے اور اللہ تعالیٰ نے سچائی ماننے والوں کو محض اپنے فضل و کرم سے حق کی وہ راہ دکھائی جس میں یہ لوگ آپس میں مختلف ہو رہے ہیں کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ جسے چاہے سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے وہ با اختیار حاکم ہے۔ اور ہمیشہ اپنے اخلاص مندوں کی قدر کیا کرتا ہے۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ ہدایت پر ثابت قدم رہنا ذرا مشکل کام ہے۔ علاوہ تکلیف احکام شرعیہ کے نا ا ہلوں سے تکالیف اور اذیتیں بھی اٹھانی پڑتی ہیں جیسی کہ پہلے لوگوں کو ہوئیں اسی طرح تم پر بھی اے مسلمانوں تکالیف آئیں گی اور ضرور آئیں گی کیا تم خیال کئے بیٹھے ہو کہ جنت میں جھٹ سے داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی تم پر وہ تکالیف نہیں آئیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں ہر طرح کی سختیاں اور تکلیفیں بھی ان کو پہنچیں اور مخالفوں کے خوف سے کانپتے رہے یہاں تک ان کو تکلیف پہنچی تھی کہ اس زمانہ کے رسول اور اس کے تابعدار مومن بعض دفعہ بول اٹھے تھے کہ اللہ کی مدد جس کا ہم سے وعدہ ہوا ہے کب ہو گی اس حال سے زیادہ مناسب وقت مدد کا کونسا ہو گا۔ اس پر اللہ کی طرف سے بطور تسلی ان سے کہا جاتا تھا کہ خبردار رہو۔ اللہ کی مدد بہت قریب ہے وہ حکمت والا ہے جب مناسب ہو گا مدد پہنچائے گا۔ ایسی تکلیفوں پر صبر تو کجا ابھی تو مسلمانوں پر یہ آئی ہی نہیں۔

(شان نزول مکہ میں تو صرف مشرکین ہی کی تکلیف تھی مدینہ میں جب آپ نے ہجرت کی تو وہاں پر ایک طرف یہودی اور دوسری طرف چھپے دشمن دنیا دار منافق تیسرے مشرک سب ساتھ مل کر جنگ احزاب میں مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوئے جن میں یہود نصارٰے ، اہل کتاب باوجود عہد مصالحت کے سب سے پیش قدم تھے ایسے واقعات سے صحابہ کرام کو بڑی تکلیف پہنچی ان کی ہمت بڑھانے کو یہ آیت نازل ہوئی۔ (معالم) ”

ابھی تو اللہ کے فضل سے ہر طرح کی آسائش ہے مال و دولت کا یہ حال ہے کہ تجھ سے از خود ! سوال کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں کیا خرچ کریں۔ چاندی دیں یا سونا یا حیوانات یا پیداوار

” ایک صحابی عمرو بن جموع نے جو بہت مال دار تھا آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے سوال کیا کہ میں کیا خرچ کروں اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ”

تو کہہ دے اس امر سے کیا پوچھو جس کی توفیق ہو خرچ کر لو ہاں اس امر کا لحاظ رکھو کہ بیجا نہ دیا جائے بلکہ جو کچھ خرچ کرنا چاہو وہ پہلے ماں باپ کو دو اگر وہ محتاج ہوں (” یہ صدقات سوائے زکوٰۃ کے مراد ہیں۔ زکوٰۃ کا مال ماں باپ کو دینا جائز نہیں ” )

پھر اور قریبیوں یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کو جن کا خرچ منزل تک نہ ہویا کا فی نہ ہو وہ ان کے علاوہ جس کو حقدار سمجھو دیتے رہو تمہارا دینا ضائع نہ ہو گا اس لئے کہ جو کچھ بھی تم نیکی کا کام کرتے ہو اللہ اس کو خوب جانتا ہے اور یہ جو تم بعض اوقات خرچ کرنے سے رکتے ہو اس کی وجہ یہ نہیں کہ خرچ کرنا ہی واقع میں اچھا نہیں بلکہ یہ ناخوشی تمہاری بھی اسی طرح جیسے کہ جنگ کرنا تم پر فرض ہوا ہے اور وہ تم کو ناپسند ہے تمہاری طبیعتوں کا کیا ٹھیک؟ تم تو بسا اوقات ایک چیز کو ناپسند کرو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہوئی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک چیز کو پسند کرتے ہو حالانکہ وہ تمہیں مضر ہوتی ہے تمہاری بھلائی برائی اللہ ہی کو معلوم ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ سب چیزوں کو جانتا ہے اور تم تو اپنا نفع نقصان بھی نہیں جانتے۔

(شان نزول : مشرکین اور کفار ناہنجار کی تکالیف مسلمانوں کے حق میں از حد سرفزوں ہو گئیں تو ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔

جب تم مسلمانوں کا یہ حال ہے تو ان کافروں کا کیا ٹھکانہ۔ ان کی نادانی کا تو یہی ثبوت کافی ہے کہ بطور طعن کے تجھ ! سے حرام مہینے میں لڑنے کا حکم پوچھتے ہیں یہ سمجھ کر کہ اگر اس نے لڑنا جائز ہے کہہ دیا تو تمام عرب میں اس کی بدنامی کریں گے یہ نہیں جانتے کہ حق بات کے ظاہر کرنے میں کبھی چوکنے کے نہیں۔ تو بے شک کہہ دیکہ اس مہینہ میں لڑنا بڑا گناہ ہے مگر صرف یہی گناہ نہیں بلکہ سیدھی راہ سے تمہاری طرح ٹیڑھے چلنا اور لوگوں کو بھی اللہ کی راہ دین اسلام سے اور مسجد حرام یعنی کعبہ شریف میں نماز پڑھنے سے روکنا اور اس کے حکموں کا انکار کرنا اور اس مسجد کے رہنے والوں کو محض اسلام کی وجہ سے اس سے نکال دینا اور ناحق تنگ کرنا یہ سب سے بڑا گناہ ہے اور فتنہ فساد کرنا جو تم کر رہے ہو۔ قتل قتال سے بھی بڑا ہے پھر کسی منہ سے کیسے سوال کرتے ہیں اور ذرہ سی مسلمانوں کی غلطی کو بات کا بتنگڑ بنا رہی ہیں اور سنو مسلمانو ! کافر لوگ اسی گزشتہ پر بس نہیں کریں گے بلکہ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تم کو تمہارے دین اسلام سے بھی پھیر دیں مگر کیا یہ کام کر سکتے ہیں ہاں اگر طاقت رکھیں تو ضرور ہی کریں لیکن انشاء اللہ کبھی بھی ان کو اس امر کی طاقت نہ ہو گی۔ ہاں تمہیں بھی آگاہ رہنا چاہئے اور ہمارا اعلان سن رکھنا چاہئے کہ جو لوگ تم میں سے اپنا دین اسلام چھوڑ کر کفر کی حالت میں مریں گے تو ان کے نیک کام جس قدر کہ ہوں گے دنیا اور آخرت میں سب کے سب ضائع ہو جاویں گے۔ اور آخر کار یہ لوگ آگ ہی کے لائق ہوں گے جس میں ہمیشہ تک رہیں گے ۔

( صحابہ کرام (رض) سے ایک موقع پر بوجہ غلطی کے یکم رجب میں (جو حرام کا مہینہ تھا) جنگ واقع ہو گئی اس پر مشرکین عرب نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور آپ کے صحابہ پر طعن کرنے شروع کئے کیونکہ ان مہینوں میں لڑنا پہلے سے منع چلا آیا تھا اور عرب میں دستور عام تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۱۲ ک۔ … اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ یہ سوال کن لوگوں نے کیا تھا بعض اہل اسلام کو سائل بتاتے ہیں اور بعض کفار کو میرے نزدیک آخری صورت یہ ہے اس لئے کہ آئندہ کے لفظوں میں بطور عار دلانے کے جو الفاظ فرمائے گئے ان کے مصداق کفار ہی ہو سکتے ہیں مسلمان نہیں۔)

ہاں جو لوگ اللہ کی توحید پر ایمان لائے اور اگر کفار نا ہنجار تنگ کریں تو بجائے دین چھوڑنے کے اپنا گھر اور وطن مالوف چھوڑ کر ہجرت کر آئے اور اگر اس پر بھی دشمنوں نے پیچھا نہ چھوڑا تو ایسے دشمنوں سے اللہ کے راہ میں خوب لڑنے انہی کو اللہ کی رحمت کی امید ہے اور اللہ کی طرف سے علاوہ ان کی مزدوری کے بہت سی خلعتیں بھی ملیں گی اس لئے کہ اللہ تو بڑا بخشنے والا مہربان ہے یہ بھی اس کی ایک مہربانی ہے جو ان کو ایسی سمجھ دے رکھی ہے کہ باوجود ایسی جہالت سابقہ کے جو کچھ کرتے ہیں پوچھ کر ہی کرتے ہیں گو وہ کام ان کی قدیمی عادت میں ہی کیوں نہ ہو دیکھو تو باوجود عادت قدیمہ کے تجھ سے شراب اور جوئے کا مسئلہ پوچھتے ہیں کہ مفید ہے یا نہیں۔

(شان نزول :۔ حضرت عمر اور معاذ بن جبل اور بعض انصار نے شراب اور جوئے کی بابت سوال کئے کہ حضرت ان کی بابت ہمیں حکم دیجئے۔ یہ تو بہت ہی مذموم فعل ہیں ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ۱۲م راقم کہتا ہے چونکہ عرب میں مثل یورپ کے شراب کی از حد کثرت تھیں اس لئے بتدریج ہٹانے کی غرض سے اس آیت میں سہل طریق برتا گیا۔ جب وہ لوگ متنفر ہوئے تو اسی کو فعل شیطانی کہہ کر سختی سے روکا گیا۔

تو کہہ دے کہ ان دونو میں بڑا گناہ ہے اور کسی قدر لوگوں کے نفعے بھی ہیں کہ ایک قسم کا چند روزہ فربہ پن اور غیر معمولی تموّل ہو جاتا ہے مگر باوجود اس کے ان کو نہ کرنا چاہئے۔ اس لئے کہ ان میں قباحتیں بہت ہیں اور گناہ بھی ان کا نفع سے بڑا ہے اہل ایمان سے امید قوی ہے کہ ایسے افعال شنیعہ کے کرنے میں ہرگز پیش قدمی نہ کریں گے اس لئے کہ وہ ہمیشہ فائدہ اخروی ملحوظ رکھا کرتے ہیں جو ان میں مفقود ہے

ان کی اس خصلت حمیدہ کی یہ قوی دلیل ہے کہ جب سنتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بھی ایک ضروری امر ہے تو برضا اور رغبت تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں کتنا رکھیں اور کتنا دیں جس قدر ارشاد ہو اتنا ہی دیں

(شان نزول : آنحضرتﷺ نے جب صدقہ کی ترغیب دی تو بعض صحابہ نے آپ سے پوچھا کہ حضرت کتنا مال خرچ کریں یعنی کس قدر دیں اور کس قدر رکھیں ؟ ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔

تو ایسے پاک باطنوں سے کہہ دے کہ سارا مال خرچ کرنے میں اگرچہ اعلیٰ درجہ حاصل ہوتا ہے لیکن ہر ایک آدمی اس کا متحمل نہیں ہوتا۔ اس لئے تم اپنی حاجت سے زائد یعنی مال کا چالیسواں حصہ خرچ کرو اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنے احکام بیان کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔ تاکہ تم دنیا اور آخرت میں غور کرو اور فانی کو ترک کر کے باقی کو اختیار کرو کیا اس دنیا کے فانی ہونے میں بھی کسی کو شک ہے ؟ کیا نہیں دیکھتے کہ بہت سے لوگ ان کے دیکھتے دیکھتے جا رہے ہیں اور اپنی چھوٹی چھوٹی اولاد جن کو نہائیت ہی شفقت سے رکھتے تھے اپنے پیچھے یتیم چھوڑ جاتے ہیں اور یہ لوگ نہایت اخلاص سے ان یتیموں کی بابت تجھ ! سے سوال کرتے ہیں کہ کس طرح اس نے معاملہ کریں۔

ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جب یتیموں کے مال کھانے کی ممانعت نازل ہوئی تو جن لوگوں کے پاس یتیم بچے رہا کرتے تھے اور وہ ان کو اپنے کھانے پینے میں کسی قدر خرچ لے کر شامل کر لیتے تھے انہوں نے یہ سمجھا کہ ایسا نہ ہو کہ ہم کچھ ان کا غلطی سے کھالیں۔ ان یتیموں کے کھانے کا بندوبست علیحدہ کر دیا۔ اس علیحدگی میں یتیموں کا خرچ زائد ہونے لگا۔ تو انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے کہا تو ان کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔

تو کہہ دے بہر حال ان کی اصلاح کرنا اچھا ہے اور اگر ان کو اپنے ساتھ ہی ملالو اور ساتھ ان کو کھانا کھلاؤ گو ان سے اس کھانے دام بھی وصول کرو تو بھی کوئی حرج نہیں اس لئے کہ وہ تمہارے بھائی ہیں اگر تمہاری نیت میں کوئی فساد ہو گا کہ ان کو ساتھ ملا کر ان کا مال کھا جائیں تو اس کی سزا پاؤ گے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو مفسد اور مصلح سب معلوم ہیں۔ سب کو ان کی نیت کے موافق بدلہ دے گا۔ غور کرو تو یتیموں کے ساتھ ملانے کا حکم محض تمہاری ہی آسائش کے لئے ہے۔ ورنہ اگر اللہ چاہتا تو تم کو سخت تکلیف میں ڈال دیتا کہ بالکل ان سے کسی طرح کا ملنا ملانا ایک جگہ بیٹھ کر کھانا بھی منع کر دیتا ہے جس سے تمہیں بڑی دقت ہوتی۔ آخر وہ تمہارے بھائی ہیں بے شک اللہ بڑا زبردست حکمت والا ہے۔ یہ بھی اسی کی حکمت سے ہے کہ تم کو ایسے حکم دیتا ہے کہ تم خود بھی مشرک نہ بنو اور مشرک عورتوں سے نکاح بھی نہ کرو۔ جب تک وہ مسلمان نہ ہوں کیونکہ بیوی خاوند میں تفرقہ مذہبی خاص کر توحید اور شرک کا اختلاف مقصود خانہ واری میں مخل ہے ہمیشہ کے جھگڑے اور فساد دور تک نوبت پہنچاتے ہیں۔ اگر مقصود خانہ داری حاصل کرنا ہو تو کسی مؤمن موحدہ عورت سے نکاح کرو۔ اس لئے کہ کمینی لونڈی کو بھلی ایماندار مشرکہ خاندانی سے بہتر ہے۔ گو بوجہ حسن ظاہری وہ مشرکہ تم کو بھلی معلوم ہو اس میں تمہاری خانہ داری مقصود خوب حاصل ہو گا۔ اس میں تم کو ہمیشہ کی دقت ہو گی ایسا ہی یہ بھی تم کو ضروری ہے کہ اپنی لڑکیوں کو مشرکوں سے نہ بیاہ ہوکسی ایماندار نیک بخت سے بیاہ دیا کرو۔ گو وہ غلام ہی ہو۔ کیونکہ غلام مؤمن دیندار، مشرک بے دین سے اچھا ہے۔ اگرچہ وہ مشرک بوجہ اپنی ظاہری وجاہت کے تم کو بھلا معلوم ہو۔

( ابو مرثد صحابی نے ایک عورت خوبصورت مشرکہ سے نکاح کرنے کی آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے اجازت چاہی اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۱۲ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نکاح کے متعلق ایک عمدہ اصول بتلایا ہے کہ دامادی کی بابت ہمیشہ دین داروں کو ترجیح ہونی چاہیے۔ مگر افسوس کہ مسلمانوں نے جہاں اور احکام خداوندی سے غفلت کی ہیں معقول اصول سے بھی بے پروائی کی۔ کیسا ہی ہو۔ مال دار ہو۔ ہمیشہ قابل ترجیح سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے نالائقوں سے پالا پڑ کر تمام عمر لڑکی کی جہنم میں گذرتی ہے مگر یہ سب کام انہیں لوگوں کے ہیں جن کی نسبت اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے فرمایا وفَرِحُوا بالحَیٰوۃِ الدُّینَا )

اس لئے کہ یہ مشرک رشتہ دار لوگ عذاب آگ کی طرف تم کو بلاتے ہیں اور اللہ تو محض اپنی مہربانی سے تم کو بہشت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اور ہمیشہ لوگوں کے لئے اپنے احکام کھول کر بیان کرتا ہے۔ تاکہ وہ نصیحت پاویں۔ اور ہر اک امر دریافت کر کے عمل کیا کریں۔ جیسا کہ یہ مسلمان لوگ تجھ سے حیض والی عورتوں کا مسئلہ دریافت کرتے ہیں کہ حیض کے دنوں میں ان عورتوں سے کیسا برتاؤ کریں ؟ یہودیوں کی طرح بالکل علیحدہ ہی کر دیں یا کچھ میل جول بھی رکھیں ؟

(شان نزول :۔ یہودیوں میں دستور تھا کہ جب عورت کو حیض آتا تو اس کو اپنے سے بالکل علیحدہ ہی کر دیتے تھے کہ کھانا پینا سب اس کا الگ کر دیتے صحابہ نے بھی آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے سوال کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی معالم ۔

تو کہہ دے میل جول میں تو کوئی حرج نہیں بے شک ساتھ کھلاؤ پلاؤ ہاں حیض ایک قسم کی ناپاکی بے شک ہے سو حیض کی مدت میں عورتوں کے ساتھ ملاپ کرنے سے علیحدہ رہو اور ان سے اس حالت میں صحبت تو کجا قریب بھی نہ جاؤ جب تک کہ حیض کی ناپاکی سے پاک نہ ہو جائیں۔ پھر جب پاک ہو جائیں اور غسل بھی کر لیں تو بے شک ان سے ملاپ کرو۔ مگر ایسا ہی وحشیوں کی طرح بے سوچے سمجھے جہاں طبیعت چاہے نہ کرنے لگو بلکہ جہاں سے اللہ نے تم کو حکم دیا ہے یعنی جو اولاد پیدا ہونے کا قدرتی راستہ ہے اور اس ملاپ سے غرض یہ رکھو کہ اللہ تعالیٰ اولاد صالح عنایت کرے اور اس اولاد طلبی میں کفر شرک میں نہ پھنس جاؤ بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف جھکو اس لئے کہ اللہ جھکنے والوں اور پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ حیض کے دنوں میں بند کرتا صرف اسی وجہ سے ہے کہ یہ خون ناپاک اور عورت کے رحم کی غلاظت ہوتا ہے اس کا بہہ جانا ہی مناسب ہے ورنہ عورتیں تمہاری کھیتی ہیں سو جیسا کھیتوں میں بیج بوتے ہو اسی طرح اپنی عورتوں کی کھیتیوں کو جس طرح چاہو حسب منشا آباد کرو اولاد کے قابل بناؤ

(شان نزول :۔ یہودیوں کا خیال تھا کہ اگر پیچھے کھڑے ہو کر عورت کے موضع مخصوص میں جماع کریں تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے۔ ان کے اس خیال کی تغلیط کو یہ آیت نازل ہوئی ۱۲ ف۔ راقم کہتا ہے اس سے یہ سمجھنا کہ عورت کے پیچھے میں دخول کرنا بھی جائز ہے بڑی غلط فہمی ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے حرث (کھیتی) سے عورت کو تشبیہہ دی ہے اور حرث جب ہی ہو گی کہ ایسے موضع میں دخول ہو جہاں سے پیداوار کی بھی امید ہو۔ اور پیچھے میں تو سب کچھ ضائع ہوتا ہے اور علاوہ اس کے عورت کو بجائے لذت کے سخت تکلیف پہنچتی ہے۔ کیونکہ وہ سوراخ اس غرض کے لئے نہیں بنا۔ اس لئے ایسا کرنا آدمیت کے خلاف ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو شخص عورت کے پیچھے میں جماع کرے اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرتا ہے۔)

اور محض شہوت رانی میں نہ لگے رہو۔ بلکہ اپنی جانوں کے لئے آئندہ کی فکر کرو۔ اور ہر حال میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور صدق دل سے جان رکھو کہ ایک روز تم کو اس سے ملنا ہے اور تو اے رسول (علیہ السلام) احکام خداوندی ماننے والوں کو خوشخبری سنا جو ہر وقت اور ہر حال میں قانون شریعت کا لحاظ رکھتے ہیں اور ان کو یہ بھی سمجھا دے کہ تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کو اپنی قسموں کا بہانہ نہ بنایا کرو کہ قسموں کی آڑ میں نیکی کرنی چھوڑ دو۔ اور پرہیز گاری کے کام نہ کرو۔ اور لوگوں میں فتنہ فساد کے وقت صلح نہ کراؤ اور جو اس سے پہلے قسمیں کھا چکے ہو ان کی بابت جناب باری میں عذر کرو وہ معاف کرے گا۔ اس لئے کہ اللہ سب کی باتیں سننے والا اور سب کے دلوں کے حالات جاننے والا ہے۔ اگر ایسی قسموں کو جن میں نیکی کے کام کرنے سے روکنا ہو توڑ کر کفارہ دے دو گے تو کوئی مواخذہ نہ کرے گا جیسا کہ بلا قصد قسمیں کھانے پر اللہ تعالیٰ تم کو نہیں پکڑے گا۔ جیسے عام لوگ واللہ با للہ کہا کرتے ہیں۔ ہاں جو دل سے پورے طور پر تم نے قسمیں کھائی ہیں کہ واللہ باللہ ضرور ایسا ہی کرے گا  ان پر مواخذہ کرے گا اور مواخذہ میں بھی یہ سہولت ہو گی کہ کفارہ دینے سے تمہارے گناہ بخشے جائیں گے کیونکہ اللہ بڑا بخشنے والا اور حلم والا ہی چھچھورے کم حوصلے حاکموں کی طرح تھوڑے سے قصور پر جلدی سے نہیں پکڑتا۔

(دو صحابہ کو آپس میں کچھ رنج ہوا اس پر ایک نے قسم کھا لی کہ نہ تو میں تیرے مکان پر آؤں گا۔ اور نہ کبھی تیرے معاملہ میں دخل دوں گا۔ چونکہ آپس کا رشتہ تھا۔ جب کوئی اس کی بابت اس کو کہے تو وہ کہہ دے کہ میں اس کے معاملہ میں دخیل نہ ہوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ معالم ۔)

یہ بھی اس کی مہربانی کا اثر ہے کہ مخلوق کو ظلم زیادتی سے روکتا اور ان کو ان کی عادات قبیحہ سے جو انہیں کے لئے مضر ہیں منع کرتا ہے۔ چنانچہ تمہاری عادت ابلا کے متعلق جو بڑی قبیحہ ہے اس سے عورت پر بلا وجہ از حد ظلم ہوتے ہیں۔ اس لئے اس کے متعلق قاعدہ بتایا جاتا ہے کہ جو لوگ ! اپنی بیویوں سے ایلا کرتے ہیں وہ بیوئییں چار مہینوں تک ان کی انتظاری میں ٹھیریں پھر اس سے بعد اگر وہ اپنے کہے سے باز آویں اور آرام چین سے رہیں تو اللہ بھی ان کے سابقہ قصور معاف کر دے گا اس لئے کہ اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے

(عرب کے لوگوں کا دستور تھا کہ عورت سے خفا ہو کر اس کے قریب جانے کی قسم کھا لیتے پھر نہ اسے چھوڑتے اور نہ اسے آباد ہی کرتے۔ بلکہ ہمیشہ کو تکلیف پہنچاتے۔ ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی)

(جو لوگ اپنی بیویوں سے ایلا کرتے ہیں ) اس آیت میں مسئلہ ایلا کا شروع ہوا ہے۔ ایلا کے معنی قسم کے ہیں۔ عرب میں یہ ایک دستور قبیح تھا کہ عورت کو تکلیف پہونچانے کی غرض سے قسم کھا لیتے کہ میں تیرے پاس نہیں آؤں گا۔ اس سے نہ تو وہ عورت اس خاوند سے مطلقہ ہوتی اور نہ آباد ہی رہتی۔ اسلام نے جہاں ان کی اور خرابیوں کی اصلاح کی تھی اس کی اصلاح بھی مناسب کر دی کہ ایسے ظالموں کے لئے ایک مدت مقرر کر دی کہ جو لوگ ایسی بیہودگی کریں ان کو ہمیشہ تک کامیابی نہ ہو۔ کہ اپنی مرضی کے مطابق عورتوں کو ستائیں بلکہ چار مہینے تک عورتیں ان کی انتظاری کریں اگر وہ رجوع کر آویں تو خیرو اس کی عورت اور وہ اس کا خاوند۔ اور اگر چار مہینے تک رجوع نہ کریں تو طلاق ہو جائے گی۔ آگے پھر کسی قدر علماء کا اختلاف ہے۔ کہ چار مہینے گزرنے سے طلاق خودبخود ہو جائے گی یا قاضی یا حاکم وقت کی بھی حاجت ہے۔ سو خیر یہ کچھ اختلاف ایسا نہیں جو مقصود قرآنی میں خلل انداز ہو۔ غرض تو یہ ہے کہ عورت سے مظالم جابرانہ کو دفع کیا جاوے۔ رہی یہ بحث کہ ایلا کے احکام مختلفہ کیا ہیں ؟ اور ان میں ہر ایک کے دلائل کیا ہیں ؟ سو کتب فقہ میں سب مذکور ہیں۔

(احق میں یہاں تفصیل نہیں جیسے کہ حدیث کے لفظ فان جاء صاحبھا فھوا حق بھا میں نہیں۔ )

اور اگر چھوڑنے کی ہی ٹھان لیں اور بعد چار مہینے کے بھی صلح صفائی نہ کریں اور منہ سے طلاق دیں یا دل میں اس کو چھپا دیں تو بے شک اللہ سنتا اور جانتا ہے ان کی طلاق ہو جائے گی۔ اور وہ عورتیں مطلقہ کہلائیں گی اور مطلقہ عورتیں تین حیضوں تک اپنے کو ٹھیرائے رکھیں جب تک وہ تین حیضوں سے بعد طلاق پاک نہ ہولیں نکاح ثانی نہ کریں۔ اگر بوجہ پیرانہ سالی کے حیض نہ آوے تو تین مہینے تک ٹھہریں اور اگر بوجہ حمل خون بند رہے تو وضع حمل تک انتظار کریں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کے پیٹوں میں پیدا کر رکھا ہوا ہے اس کو بغرض جلدی نکاح نہ چھپاویں۔ اگر اللہ کو مانتی ہیں اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں تو ایسا ہی کریں اور خاوند ان کے جنہوں نے اب تک ایک یا دو ہی طلاقیں دی ہیں اس مدت کے اندر اندر پھیرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اگر ان کی غرض مصالحت کی ہو۔ بعد اس مصالحت کے تکلیف نہ دیں بلکہ جان لیں کہ جیسے عورتوں پر مردوں کے حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے بھی ان مردوں پر دستور کے موافق حقوق ہیں یہ نہیں کہ اپنے حقوق تو پورے لیں اور ان کے حقوق کی پرواہ نہ کریں حالانکہ مردوں کو عورتوں پر ایک قسم کی برتری ضرور ہے۔ یہ ان کے حاکم ہیں اور وہ ان کی گویا محکوم۔ پھر باوجود اس برتری کے ان پر ظلم کرنا گویا شان حاکمی کے خلاف ہے اور اب بھی اگر ان کے حقوق میں غفلت کریں گے تو سن لیں کہ اللہ تعالیٰ بھی ان پر غالب ہے ان کی طرف سے خود بدلہ لے گا اور بڑی حکمت والا ہے کسی ایسے چکر میں پھنسائے گا کہ جہاں کا ان کو وہم و گمان بھی نہ ہو۔

 

یہ نہیں کہ ہر ایک خاوند بعد طلاق روک سکتا ہے نہیں بلکہ جیسا ہم پہلے اشارہ کر آئے ہیں روکنے والی رجعی طلاقیں دو تک ہیں !

(شان نزول :۔ عرب میں نہایت قبیح دستور تھا کہ عورت کی طلاق کی کوئی حد نہ تھی طلاق سے جب عدت گزرنے کو آوے تو خاوند رجوع کر لیتے اور پھر کچھ مدت بعد طلاق دے کر اسے خراب کرتے۔ پھر عدت کے قریب زبانی دارو مدار سے رجوع کر لیتے۔ جہاں تک چاہتے عورت کو تنگ کرتے رہتے ان کے منع کرنے کو یہ آیت نازل ہوئی کہ روکنے والی دو ہی طلاقیں ہیں اور بس۔ )

(طلاق) اس مسئلہ طلاق پر مخالفین اسلام خفا ہیں جیسے کہ تعدد ازواج پر ناراض۔ مگر در اصل وہی مثل ہے ع گل ست سعدی و در چشم دشمنان خارست۔ تعدد ازواج کا جواب تو ہم اسی موقع پر دیں گے جہاں اس حکم کی آیت آئے گی۔ اور یہ بتلا دیں گے کہ اسلامی مسئلہ تعدد ازواج ہی عقل سلیم اور فطرت انسانی اور نظام عالم کے مطابق ہے۔ بالفعل یہاں طلاق کے ذکر کا موقع ہے۔ مخالف کہتے ہیں کہ طلاق کا مسئلہ رواج دینا اخلاق سے خلاف ہے جو اسلام نے کیا۔ کیونکہ جو شخص کسی دوسرے سے کچھ وقت بھی بسر کرے اور ہم راز بنائے اس کو ایسا چھوڑنا کہ پھر اس سے ملاپ ہی نہ ہو اخلاق سے کس قدر دور ہے۔ میں کہتا ہوں جس بنا پر اسلام نے اس مسئلہ کی اجازت دی ہے۔ وہ انسانی طبیعت کے موافق اور بالکل اصول معاشرت کے مطابق ہے۔ ہر ایک شخص اپنے خانگی معاملات پر غور کرنے سے اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ کوئی عورت تو ایسی ہوتی کہ ہمہ تن خاوند کی محبہ، پسو پیش یکساں خیر خواہ۔ حکم کی فرمانبردار۔ صورت کی دلکش۔ بخلاف اس کے بعض ایسی بھی ہوں جن کی مختصر کیفیت سعدی کے اس شعر میں ہے ؎ تھی پائے رفتن بہ از کفش تنگ۔ بلائے سفر بہ کہ در خانہ جنگ۔ زبان دراز۔ بد خو۔ منافق۔ بنے ہوئے گھر کو برباد کرنے والی۔ صورت کریہہ منظر۔ ایسی صورت میں آپ ہی بتلا سکتے ہیں کہ شخص مذکور کی عورت موصوفہ سے معاشرت کیسی ہو گی۔ دوسرا نکاح کرے تو بھی آپ صاحبان کی اجازت نہیں۔ ایسی بلا کے دفعیہ کو اسلام نے ایک اصول قائم کیا ہے جو نہایت ہی حسن معاشرت پر مبنی ہے وہ طلاق ہے۔ یہ بھی ایک ہی دفعہ نہیں بلکہ اس کا بھی وہ طریق رکھا ہے کہ اگر معمولی سی خفگی ہو تو دور ہو جاوے۔ اور باہمی سلوک بھی ممکن ہو۔ وہ یہ کہ ایک مہینے ایک طلاق دیوے وہ بھی ایسے وقت میں دیوے جس وقت طبعی نفرت بھی اس عورت سے نہ ہو یعنی طہر (بندش خون) کے زمانہ میں دے جس وقت عموماً عورت اپنے آپ کو حتے المقدور دلکش بناتی ہے اس کے بعد بھی مرد کو اختیار ہے کہ اپنے اس کہنے سے پھرجائے اور عورت کو بلا کسی سزا دہی کے اپنے پاس بلا لے اگر ایک مہینے میں بھی اس کی خفگی زائل نہ ہوئی تو دوسرے مہینے میں دوسری طلاق دیوے۔ پھر بھی اسے مثل سابق واپس بلانے کا اختیار ہے اور اس فعل پر بھی کوئی سزا نہیں۔ اگر اتنی مدت میں بھی اس کی ناراضگی نہ جائے اور صفائی نہ ہو تو اب اسے تیسری طلاق دینے کا اختیار ہے۔ پس اس طلاق سے (جس کی حد پر پہنچنے سے ان کی صفائی سے بھی مایوسی ہوتی ہے ) بالکل علیحدگی ہو جائے گی چونکہ اتنی مدت مدید میں خاوند نے اپنی خفگی کو دور نہیں کیا اس لئے اگر وہ بعد طلاق ثانی کے اس کو واپس لانا چاہے تو اس کے لئے بدون ایک سزا بھگتنے کے یہ کام درست نہ ہو گا۔ وہ یہ کہ جب تک وہ عورت دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے اور وہ اپنی مرضی سے اس کو طلاق نہ دے اس کے قبضے میں نہیں آ سکتی تاکہ خاوند ثانی کی غیرت اس کے حق میں ایک قسم کی سزا ہو کہ اس کی ہٹ سے اس کی بیوی نے دوسرے کا منہ دیکھا۔ حدیث میں آیا ہے کہ جس کی عورت ناراضگی کا کام کرے تو اسے زبان سے سمجھائے اگر نہ مانے تو اس کی طرف پیٹھ پھیر کر سوئے۔ اگر پھر بھی نہ مانے تو اس سے بسترا الگ کر لے۔ اگر اب بھی نہ مانے تو کسی قدر خفیف سا مارے اگر پھر بھی باز نہ آئے تو طلاق دے۔ اس تفصیل سے مخالفین کے سوالات جڑ سے کٹ گئے۔ اس سے عمدہ حسن معاشرت بھی ہے ؟ اور ہو سکتی ہے ؟ ؎

بس تنگ نہ کر ناصح نادان مجھے اتنا

یا چل کے دکھاوے دہن ایسا کمر ایسی ”

پھر بعد اس کے یا تو اس کو روک لینے کا حق ہے۔ یا بھلائی سے رخصت کرنے کا حکم اور بھلائی میں یہ بھی داخل ہے۔ کہ اپنے دیے ہوئے میں سے کچھ نہ لو۔ ہاں جب دونوں (خاوند بیوی) یہ جانیں کہ ہم سے اللہ کے احکام متعلقہ زوجیت ادا نہیں ہوں گے اور اس ملاپ میں ہمیں ہمیشہ تکلیف ہی رہے گی پھر اس صورت میں تم برادری کے لوگ بھی اگر بقرائین موجودہ یہ جانو کہ واقعی یہ دونوں خاوند بیوی احکام خداوندی متعلقہ خانہ داری ادا نہیں کریں گے تو ایسی صورت میں ان پر گناہ نہیں کہ عورت اپنے پاس سے کچھ دے کر رخصت لے (اس کا نام خلع ہے۔ ) یہ احکام اور اسی کی مثل اور بھی گویا حدود خداوندی ہیں پس ان سے نہ گذرو بلکہ بدل و جان ان پر کاربند رہو۔ اور جان لو کہ جو لوگ اللہ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں وہی ظالم ہیں اپنے ظلم کا بدلہ بے شک پاویں گے۔ پھر بعد ان دو طلاقوں کے جن میں خاوند عورت کو روک سکتا ہے اگر تیسری طلاق اس کو دے تو وہ اس کو حلال نہ ہو گی جب تک کہ اس کے سوا اور خاوند سے نکاح نہ کرے۔ پھر اگر وہ دوسرا خاوند اپنی مرضی سے اس کو طلاق دے اور عدت بھی گذر جائے تو ان دونوں کو آپس میں ملاپ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر جانیں کہ احکام خداوندی متعلقہ زوجیت ادا کر سکیں گے ایسا نہ ہو کہ مثل سابق جوت پیزار کھڑکے یہ احکام مذکورہ گو یا اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں۔ جیسا کہ بادشاہوں کے احکام متعلق رعیت ہوتے ہیں جاننے والوں کے لئے کھول کھول کر بیان کرتا ہے جو اس امر کو جانتے ہیں کہ احکام خداوندی قابل تسلیم اور تعمیل ہوتے ہیں انہیں کو اس بیان سے فائدہ ہوتا ہے۔

 

(231۔ 242)

 

گو یہ احکام ابتدا سے عورتوں کو دفع ضرر کے لئے ہی ہیں۔ مگر تاہم ہم صاف اور صریح لفظوں میں تم سے کہتے ہیں کہ جب تم عورتوں کو ایک یا دو طلاق دے چکے اور وہ عدت ختم کرنے کو ہوں۔ تو اس حال میں تمہیں اختیار ہے کہ ان کو بھلے طریق سے رجوع کر کے اپنے پاس رکھ لو یا شریفانہ طرز سے چھوڑ دو اور یا درکھو کہ دکھ دینے کے لئے ان کو مت روکنا کہ ناحق ان پر ظلم کرنے لگو اور سن رکھو کہ جو کوئی ظلم کا کام کرے گا۔ تو جان لے کہ اس نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا۔ بلکہ اپنی ہی جان پر ظلم کیا ٖ۔ جس کا وبال اسے اٹھانا ہو گا پس تم دل سے ان حکموں کو مانو اور اللہ کی آیتوں اور قوانین کو ہنسی اور مسخری نہ سمجھو اور اپنے حق میں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد کرو۔ اور اسے بھی یاد کرو جو تمہاری طرف کتاب اور تہذیب الحکمت اتاری ہے۔ اور ان پر عمل کرو اللہ تم کو اس کتاب کے ذریعہ سے سمجھاتا ہے اور اس میں حکم ہے کہ اللہ سے ڈرو اور دل میں جان رکھو کہ اللہ ہر ایک چیز کو جانتا ہے تمہارا اخلاص اور غرور بھی اس سے مخفی نہیں اور یہ بھی اس سے مخفی نہیں کہ جو تم ناحق کے رنج اور کدورت میں اپنی رشتہ دار عورتوں کو ان کے خاوندوں سے ملنے نہیں دیتے اس لئے تمہیں بتلایا جاتا ہے کہ جب تم اپنی رشتہ دار عورتوں کو ان کے خاوندوں سے بوجہ ناچاقی کے طلاق دلا چکو اور وہ اپنی مدت ٹھیرنے کی پوری کر چکیں اور انہیں خاوندوں سے دوبارہ ان کی مرضی ہو تو تم ان کو ان کے پہلے خاوندوں سے جب وہ آپس میں دستور کے موافق راضی ہو جائیں نکاح کرنے سے مت روکا کرو اس امر کی خاص کر ان کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں سے بصدق دل اللہ کو مانتے ہیں اور قیامت کے دن پر یقین رکھتے ہیں

(شان نزول ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور عدت گزر گئی تو اسی عورت سے دوبارہ نکاح کی درخواست کی۔ عورت کی مرضی نکاح کرنے کی تھی لیکن اس کے بھائی نے بوجہ غیرت کے نکاح سے انکار کیا اور غیظ و غضب میں سخت سست بھی کہا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (معالم) راقم کہتا ہے کہ یہ طلاق ایک یا دو ہوں گی اور مدت گذر چکی ہو گی اس لئے کہ اگر تین ہوتیں تو پہلی آیت کے موافق ان کا نکاح بدون نکاح ثانی کے درست نہ ہوتا۔ اس آیت کے متعلق اور توجیہیں بھی ہیں میرے نزدیک یہ بہت صحیح ہے ”

غور کرو تو یہ حکم تمہارے لئے بڑا ہی ستھرا رہنے کا ذریعہ ہے اور بڑا ہی پاکیزہ ہے اور اللہ ہی اس کی خوبی کما حقہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ تمہیں تو اپنی روزمرہ کی باتیں بھی معلوم نہیں مثلاً شیر خوار بچہ کا دودھ پلانے کی مدت بھی تم نہیں جانتے کہ کتنی ہوتی ہے اس لئے ہم ہی ٹھیک ٹھیک بتلاتے ہیں کہ جو مائیں اپنے بچے کو پوری مدت دودھ پلانا چاہیں وہ پورے دو برس پلائیں اور جو اس سے پہلے ہی بچہ قوی تندرست جان کر چھڑا دیں تو انہیں اختیار ہے اور اس دودھ پلانے کی مدت میں ان کا کھانا کپڑا موافق دستور کے باپ کے ذمہ ہے۔

( چونکہ بعد تولد بچہ کے خاوند بیوی میں علیحدگی بھی ہو جاتی ہے اس لئے یہ حکم فرمایا ورنہ خانہ دار عورت کا نفقہ تو خاوند کے ذمہ ہی ہوتا ہے۔ )

یہ نہ ہو گا کہ عورت اس کو مجبور کرے کہ میں پلاؤ ہی کھاؤں گی اور اطلس ہی پہنوں گی اور بچے کا باپ طاقت نہیں رکھتا بلکہ جس قدر اس کو وسعت ہو اتنا ہی دے اس لئے کہ ہر ایک نفس کو اس کی ہمت کے موافق ہی حکم ہوا کرتا ہے۔

نہ تو ماں اپنے بچے کی وجہ سے خاوند کو ضرر پہنچاوے کہ خواہ مخواہ خاوند سے زیادہ ہی مانگے اور نہ باپ اپنے بچہ کے سبب سے اس کی ماں کو تکلیف دے کہ خواہ مخواہ بلا ضرورت اس سے جدا کر کے کسی دوسری دایہ ہی سے دودھ پلوائے جس سے اس کی ماں کو بہ سبب جدائی بچہ کے تکلیف پہنچے غرض ہر ایک دوسرے کی آسائش اور آرام کے مخالف کام نہ کرے اور اگر باپ نہ ہو تو اسی قدر باپ کے وارثوں کے ذمہ ہے یعنی اگر تایا چچا یا دادا وغیرہ ہیں تو ان کے ذمہ ہے کہ اس بچہ کی پرورش کا خرچ اس کی ماں کو دیویں اگر وہ بھی نہ ہوں تو اسی بچہ کے مال سے جو اس کو وراثتاً باپ سے ملتا ہے اس کی ماں کا خرچ دیا جاوے پھر اگر وہ دونوں (ماں باپ) اپنی مرضی اور مشورہ سے بچے کو قوی لائق کھانے پینے کے جان کر مدت سے پہلے ہی دودھ بڑھانا یعنی چھڑانا چاہیں تو اس بڑھانے میں ان پر کوئی گناہ نہیں اس لئے کہ ماں باپ سے زیادہ شفیق دنیا بھر میں کوئی نہ ہو گا مناسب قوت بچے کے جب چاہیں بڑھا سکتے ہیں اور اگر کسی وجہ سے مشورہ کر کے کسی دایہ سے اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو اور بچے کی ماں سے وعدہ کر لو کہ ہم بچے کو تجھ سے ہر روز یا دوسرے روز ملا دیا کریں گے اور وہ اس کو مان بھی جائے تو اس میں تمہیں کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ جو کچھ ان کی دائیوں سے دینا کیا ہے دستور کے موافق دے دیا کرو۔ یعنی ماؤں اور دائیوں سے حسب وعدہ برتاؤ کرو اور اس ایفاء عہد میں اور نیز دیگر امور دینی اور دنیاوی میں اللہ سے ڈرتے رہو اور دل سے جان لو کہ اللہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے یہ احکام مذکورہ متعلق زیست تو سن چکے ہو۔ اب کسی قدر موت کے متعلق بھی سنو ! جو لوگ مرتے ہوئے اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ بیویاں ان کے ماتم میں چار مہینے دس روز سوگ میں بیٹھا کریں

(شان نزول عرب میں دستور تھا کہ شوہر کی موت کے بعد ایک سال تک بیوہ ماتم میں رہتی اور کسی قسم کی غلاظت بھی بدن سے دور نہ کرتی بعد ایک سال کے کسی چار پایہ کے منہ سے اپنا فرج لگا کر ایک مینگنی اپنے سر کے اوپر سے پیچھے کو پھینک دیتی جس سے اس کی عدت کا خاتمہ سمجھا جاتا چونکہ اس قدر درازی مدت عورت کے لئے بلائے عظیم تھی اس کی مدت کم کرنے کو یہ آیت نازل ہوئی)

پھر جب اپنی مدت پوری کر چکیں۔ تو جو کچھ وہ اپنے حق میں موافق دستور زیب و زینت بغرض نکاح ثانی کریں تو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں تم اس سے ناراض نہ ہو اور اگر بوجہ بیہودہ عار اس امر کے کہ ہماری بہن یا بھاوج دوسرے سے نکاح کیوں کرتی ہے ان کو منع کرو گے تو یاد رکھو کہ اللہ تمہارے کاموں سے پوری خبر رکھتا ہے خوب ہی سزا دے گا۔ اور یہ بھی مت کرو کہ یہ سمجھ کر کہ بعد عدت کسی اور سے نکاح نہ کرے ابھی سے اس کا انتظام کر لو۔ ہاں اس میں تم پر گناہ نہیں کہ اشاروں سے پیغام نکاح پہنچاؤ مثلاً کسی ایسے شخص سے کہو جو اس عورت سے ملنے والا ہو۔ مرد یا عورت کہ اگر کوئی عورت پاک دامن ہمیں مل جائے تو ہم اس سے نکاح کر لیں یا اسی عورت ہی کو اشاروں سے کہہ دو کہ تیرے جیسی شریف عورت کو کون نہیں چاہتا یا اپنے جی میں اس راز کو چھپائے رکھو کہ بعد عدت میں اس سے نکاح کروں گا۔ اس سے بھی اگر تم کو روکا جاوے تو تم رک نہیں سکتے اس لیے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ تم ان کو ضرور یاد کرو گے اس امر کا کسی نہ کسی طرح سے اظہار بھی کرو گے سواتنی کی تو اجازت ہے لیکن چپکے چپکے ان سے وعدہ نہ لیا کرو کہ ہم سے نکاح کرنا، ہاں اتنی اجازت ہے کہ بھلی بات ان سے کہو جس سے وہ تمہاری خواہش دریافت کر کے بعد فراغت ماتم سے تمہارا خیال رکھیں۔ اور پھر ہم کہتے ہیں کہ نکاح کا وعدہ ہرگز پختہ نہ کیجو جب تک کہ عدت پوری نہ ہولے اس لئے کہ ماتم کے زمانہ میں عورت حواس باختہ ہوتی ہے ایسے وقت میں اسے تمیز نہیں ہوتی کہ کس سے کرنا ہے کس سے نہیں کون لائق ہے کون نالائق وہ بیچاری غم رسیدہ مرد کا نام بھی غنیمت سمجھتی ہے چاہے انجام اس کا اچھا ہو یا برا۔ لیکن بعد عدت جو ایک زمانہ دراز ہے سب کچھ سوچ سمجھ کر کرے گی۔ جس کا انجام بھی اچھا ہو گا۔ سو تم ان کو ایسی مصیبت کے وقت کچھ نہ کہو اور جان لو کہ اللہ تمہارے دل کی باتیں بھی جانتا ہے سو اس سے ڈرتے رہو جس قدر اس نے اجازت دی ہے اسی پر اکتفا کرو اور جو کچھ غلطی ہو جاوے اس پر توبہ کرو۔ اور توبہ کرتے ہوئے دل سے جانو کہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا بردبار ہے۔ ایسا نہیں کہ تھوڑے سے گناہ پر سخت عذاب نازل کر دے اس بردباری کی وجہ سے تمہاری توبہ پر زیادہ توجہ ہو گی اس لئے کہ جو کوئی بالادست حاکم کو باوجود بردبار سمجھنے کے اس سے ڈرتا ہے اس کے آگے گڑ گڑاتا ہے اس سے اچھا ہے جو اس کو غضب ناک جان کر نادم ہو اور ڈرے یہ بھی اس کی مہربانی کے آثار ہیں کہ تم کو سمجھاتا ہے کہ اگر بوجہ کسی خرابی ظاہری یا باطنی کے ملاپ کے ذریعہ عورتوں کو چھونے اور مہر باندھنے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو تمہیں کوئی گناہ نہیں۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ ان کو بے عزت نہ کرو۔ اور کچھ خرچ ان کو دیا کرو۔ یہ نہیں کہ سو ہزار دینا فرض ہے نہیں بلکہ وسعت والا اپنے مناسب اور تنگی والا اپنے مناسب اچھی طرح گذارہ دستور کے موافق دیوے۔ گو یہ حکم عام طور پر بھی ہے لیکن بھلے لوگوں پر واجب ہے کہ دیویں کیونکہ وہ تو حتی المقدور کسی کی دل شکنی نہیں کیا کرتے پھر ایسے موقع پر کیوں نہ دیں جہاں چند پیسوں سے کسی زخم خوردہ کی دلجوئی ہو سکے اور اگر مہر باندھ کر زفاف یعنی خاوند بیوی کے ملاپ سے پہلے طلاق دو تو مقررہ مہر سے نصف دینا تم پر واجب ہے

(شان نزول : ایک شخص نے انصار میں سے ایک عورت سے نکاح کیا تھا اور مہر بھی پختہ ٹھیرا تھا کہ ملنے سے پہلے ہی کسی وجہ سے رنجش ہونے پر طلاق دے دی اس پر یہ آیت نازل ہوئی معالم)

مگر جب عورتیں سب ہی معاف کر دیں یا خاوند جو نکاح کا مالک ہے اپنا دیا ہوا سارا چھوڑ دے اور نصف واپس نہ لے تو کوئی حرج نہیں اور حق تو یہ ہے کہ اگر پہلے دے چکے ہو تو سارا ہی معاف کرنا پرہیز گاری اور احسان کے زیادہ مناسب ہے اگر محسن ہو تو دیا ہوا واپس نہ لو اور باہمی احسان کرنا نہ سمجھ لو اس احسان کا عوض ضرور پاؤ گے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو دیکھتا ہے۔ ایسا بھی نہ ہو کہ عورتوں کے جھگڑوں میں پھنس کر اللہ کی یاد ہی بھول جاؤ اسی لئے ہم تمہیں خبردار کرتے ہیں۔ ۔ کہ پنجگانہ نمازوں ! کو اپنے اپنے وقت میں جماعت سے ادا کیا کرو خاص کر درمیانی نماز یعنی عصر کی پورے طور سے نگہبانی کرو۔

[(حافظوا) صحابہ کرام نماز میں ایک دوسرے سے باب چیت کر لیا کرتے تھے ان کو روکنے کے لئے یہ آیت نازل ہوئی معالم]

اور اللہ کے آگے نماز پڑھتے ہوئے عاجزی سے کھڑے ہوا کرو۔ یہ جان کر اللہ تعالیٰ ہم کو اور ہمارے دلی ارادوں کو دیکھتا ہے تم اگر نماز کے وقت کسی دشمن کے حملہ سے ڈرو تو تمہیں اختیار ہے کہ پاپیا وہ پڑھو یا سوار جس طرح تم کو اپنا بچاؤ معلوم ہواسی طرح کرو مقصود صرف توجہ الی اللہ ہے نہ کہ استقبال قبلہ پھر جب تم بے خوف ہو جاؤ تو نماز میں اللہ کو یادر کیا کرو۔ جیسا کہ اس نے اپنے رسول کی معرفت تم کو سکھایا ہے جو تم نہیں جانتے تھے اس لئے کہ رسول کے بھیجنے سے غرض اصلی یہی ہوتی ہے کہ جس امر دینی کو قوم نہ جانتی ہو ان کو بتا دے اور ان کی بیہودہ رسوم کو مٹا دے جیسے کہ تمہاری یہ رسم ہے کہ جو شخص مرتے وقت کہہ مرے کہ میری بیوی میرے مرنے کے بعد میرے ہی مکان میں ایک سال تک رہ کر گذارہ کرے تو اس کی بیوی پر ضروری ہوتا ہے کہ ایسا ہی کرے اور اس کے ورثا بھی اس بیچاری کو مجبور کرتے ہیں حالانکہ یہ ایک بے ہودہ رسم ہے جس سے اس بیوہ پر از حد تکلیف ہوتی ہے اتنی مدت مدید میں وہ کسی سے نکاح نہیں کر سکتی ہے پس اس رسم قبیح کے مٹانے کو ہم حکم دیتے ہیں۔

(شان نزول عرب میں دستور تھا کہ مرتے ہوئے اگر خاوند اس مضمون کی وصیت کر جاتا تو خاوند کے ورثاء پر اس کی پابندی ضروری ہوتی ان کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی)

کہ جو لوگ مرتے ہوئے بیویاں پیچھے چھوڑ جائیں اور بغیر نکالنے کے سال بھر تک ان بیویوں کو خرچ دینے کی وصیت بھی کر گئے ہوں ! پھر بھی وہ عورتیں اگر بعد چار مہینے دس روز عدت شرعی پوری کر کے ان خاوندوں کے گھروں سے نکل جائیں۔ تو ان کو روکو نہیں اس لئے کہ جو کچھ وہ دستور کے موافق اپنے حق میں زیب وزینت بغرض نکاح کریں گی اس میں تم پر گناہ نہیں اور اگر تم ان کو روکو گے یا وہ خود ناجائز طریقے سے شرع کی مخالفت کریں گے تو اللہ ان کو خود سزا دے سکتا ہے اس لئے کہ اللہ ہر کام پر غالب ہے اور ساتھ ہی اس کے بڑی حکمت والا دنیا میں کسی ایسی بلا میں پھنسا دے گا کہ تمہیں پہلے سے اس کی خبر تو کجا وہم بھی نہ ہو پس اس سے ڈرو

(وصیت بھی کر گئے ہیں ) اس آیت کی تفسیر میں بھی قدرے اختلاف رائے ہوا ہے بعض بلکہ اکثر مفسرین اس کی تفسیر اسے طرز سے کرتے ہیں جس سے انہیں اس آیت کو منسوخ ٹھیرانا پڑتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے معنے ہیں ” جو لوگ فوت ہوں وہ اپنی بیویوں کے حق میں وصیت کر جائیں کہ سال کامل تک ان کو گذارہ ملے ” اور یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا۔ بعد اس کے چار مہینے دس روز عدت والی آیت (جو اس سے پہلے آ چکی ہے ) نازل ہوئی تو اس نے اس حکم کو منسوخ کر دیا۔ بعض صاحب کہتے ہیں کہ پہلی آیت اور اس آیت کے اپنے اپنے موقع پر معنے ہیں منسوخ ان میں سے کوئی نہیں۔ اگر عورت بعد وفات شوہر خاوند کے گھر میں رہنا پسند نہ کرے تو وہ چار مہینے دس روز عدت گذارے اور اگر اس میں رہنا پسند کرے تو سال بھر رہے۔ تیسری توجیہ اس آیت کے متعلق یہ ہے کہ ” جو لوگ مرتے ہوئے وصیت کر جاتے تھے کہ میری بیوی کو سال تک نہ نکالنا اور اس کا سارا خرچہ دیتے رہنا۔ ” ان کی اس رسم کو مٹانا منظور ہے اختلاف اس لئے ہے وَصِیَّۃً سے پہلے ایک فعل محذوف ہے کیونکہ وصیت مفعول مطلق یا مفعول بہ ہے اس کا فعل محذوف ہے سو پہلے لوگ اس کا فعل فَلیُوصُوا نکالتے ہیں جس کے معنے ہیں ” پس وصیت کر جائیں ” اور بعض علماء وَقَد اَوصَوا نکالتے ہیں جس کے معنے یہ ہیں کہ ” وصیت کر گئے ہوں ” تفسیر کبیر میں امام رازی (رح) نے اس توجیہ کے کرنے پر تین دلیلیں لکھی ہیں جو یہ ہیں :۔

(احدھا) ان النسخ خلاف الاصل فوجب المصیر الی عدمہ بقدر الا مکان (والثانی) ان یکون الناسخ متاخرا عن المنسوخ فی النزول واذا کان متاخرا عنہ فی النزول کان الاحسن ان یکون متاخراً عنہ فی التلاوۃ ایضا لان ھٰذا الترتیب احسن فاما تقدم الناسخ علے المنسوخ فی التلاوۃ فھو وان کان جائزا فی الجملۃ الا انہ یعد من سوء الترتیب وتنزیہ کلام اللّٰہ تعالیٰ عنہ واجب بقدر الا مکان ولما کانت ھٰذہ الایٰۃ متاخرۃ عن تلک فی التلاوۃ کان الاولیٰ ان لایحکم بکونھا منسوخۃ بتلک (والوجہ الثالث) وھو انہ ثبت فی علم اصول الفقہ انہ متی وقع التعارض بین النسخ وبین التخصیص کان التخصیص اولیٰ وھھنا ان خصصنا ھاتین الایٰتین بالحالتین علیٰ ماھو مذھب مجاھد اندفع النسخ فکان المصیر الیٰ قول مجاھد اولی من التزام النسخ من غیر دلیل وامآ علیٰ قول ابی مسلم فالکلام اظھر لانکم تقولون تقدیر الایٰۃ فعلیھم وصیۃ لازواجھم او تقدیرھا فلیوصوا وصیۃ فانتم تضیفون ھذا الحکم الیٰ اللّٰہ تعالیٰ وابومسلم یقول بل تقدیر الایٰۃ والذین یتوفون منکم ولھم وصیۃ لازواجھم او تقدیرھا وقد اوصوا وصیۃ لازواجھم فھو یضیف ھٰذا الکلام الیٰ الزوج واذا کان لابد من الاضمار فلیس اضمارکم اولیٰ من اضمارہ ثم علیٰ تقدیر ان یکون الا ضمارما ذکرتم بلزم تطرق النسخ الیٰ الایٰۃ وعند ھٰذا یشھد کل عقل سلیم بان اضمار ابی مسلم اولیٰ من اضمارکم وان التزام ھٰذا النسخ التزام لہ من غیر دلیل مع ما فی القراٰن بھٰذا النسخ من سوء الترتیب الذے یجب تنزیہ کلام اللّٰہ عنہ وھٰذا کلام واضح واذا عرفت ھٰذا فنقول ھٰذہ الایٰۃ من اولھا الیٰ اٰخرھَا تکون جملۃ واحدۃ شرطیۃ فالشرط ہو قولہ والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا وصیۃ لازواجھم متاعا الیٰ الحول غیر اخراج فھٰذا کلہ شرط والجزاء ہو قولہ فان خرجن فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن من معروف فھٰذا تقریر قول ابی مسلم وھو فے غایۃ الصحّۃ (جلد ثانی ص ۲۹۲)

ایک  تو یہ کہ نسخ اصل کے خلاف ہے (یعنی اصل یہ ہے کہ ہر حکم جناب باری کا بحال رہے ) پس حتی المقدور اسی طرف رجوع ہونا چاہیے (دوسری ۲ دلیل) یہ ہے کہ ناسخ منسوخ سے اترنے میں پیچھے ہو۔ جب نزول میں پیچھے ہو تو انسب ہے کہ پڑھنے میں بھی پیچھے ہو اس لئے کہ یہی ترتیب (کہ ناسخ دونوں طرح منسوخ سے پیچھے ہو) بہت عمدہ ہے گو کہ کسی قدر ناسخ کا منسوخ سے پڑھنے میں پہلے ہونا بھی جائز ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ یہ ترتیب (کہ ناسخ پڑھنے میں پہلے ہو) اچھی نہیں سمجھی جاتی اور جہاں تک ہو سکے ایسی بے ترتیبیوں سے کلام اللہ کو پاک سمجھنا چاہیے اور یہ آیت (جس کو منسوخ ٹھیراتے ہیں ) اس ناسخہ سے پڑھے جانے میں پیچھے ہے تو بہتر یہ ہے کہ اس کو اس سے منسوخ نہ ٹھیرایا جاوے۔ (تیسری دلیل) کا خلاصہ ۱ ؎ بھی یہی ہے کہ جہاں تک ہو سکے دو آیتوں کو جمع کرنا ہی بہتر ہے منسوخ کرنے سے (اس کے بعد امام علام نے محاکمہ کیا ہے کہ) یہ تقریر ابومسلم کی نہایت ہی صحیح ہے ” اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علام امام رازی مرحوم بھی اسی کو پسند کرتے ہیں۔

حدیث ہے جو بخاری مسلم نے ام سلمہ کی روایت سے بیان کی ہے کہ ایک عورت نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ میری لڑکی کا شوہر فوت ہو گیا ہے اور قبل عدت اس کی آنکھیں دکھتی ہیں اس کو سرمہ لگا دیں ؟ آپ نے فرمایا ہرگز نہیں اب تو عدت صرف چار مہینے دس روز ہے اتنے میں تم کھساھ جاتی ہو اور ایام کفر میں تو کامل ایک سال تک اسی طرح بیٹھا کرتی تھیں اور بعد سال کے حسب دستور مینگنی ڈالا کرتی تھیں۔

اس حدیث شریف میں جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) (فداہ روحی) نے اس عورت کو سال بھر عدت کا عار دلانے کے لئے ایام کفر یاد دلائے اور یہ نہ فرمایا کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کا حکم سال بھر بیٹھنے کا تھا۔ اب اس نے اپنی مہربانی سے چار مہینے دس روز کر دیئے ہیں تم اب بھی گھبراتی ہو۔ اس سے دلالۃً مفہوم ہوتا ہے کہ سال بھر عدت اسلام میں پہلے نہیں تھی جس کو منسوخ کہا جائے اگر کوئی صاحب کہیں کہ ان ایام کفر کے یاد دلانے سے ان کی مینگنی کی رسم کی مذمت کا بیان کرنا منظور تھا سو قلت مدبر ہے سیاق حدیث سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو مدت سابقہ کی درازی کا جتلانا منظور ہے۔ نہ کہ مینگنی کا جھگڑا جسے طول یا قصر مدت سے کوئی بھی علاقہ نہ ہو۔ بہر حال یہ وجوہ ہیں جن کی وجہ سے میں نے اس آیت کو منسوخ نہیں ٹھیرایا۔ واللّٰہ اعلم وعلمہ اتم

( ای متمضمن للشرط۔  اس دلیل کی تقریر چونکہ اصولی طرز پر ہے جو عوام سمجھ نہیں سکتے اور خواص عربی ہی میں سمجھ سکتے ہیں اس لئے اس کا ترجمہ نہیں کیا۔ )

اور طلاق والیوں کا موافق دستور جو گذارہ ہے وہ ان کو دیا کرو بالخصوص پرہیز گاروں یعنی نیکو کاروں پر ضروری ہے اس لئے کہ وہ عدت کے دنوں میں تمہارے ہی فراق میں ہیں تمہارے ہی زخم رسیدہ ہیں پھر کیا انصاف ہے کہ ان کی خبر نہ لو اسی طرح تمہارے لئے اللہ اپنے احکام بیان کرتا ہے تاکہ تم سمجھو اگر مال کی کمی سے ڈرتے ہو تو کیا تم نہیں جانتے کہ اگر اللہ چاہے تو بغیر خرچ کرنے کے بھی اس کو ضائع کر دے۔ یہ تو مال ہی ہے اللہ تو ایسا زبردست مالک ہے کہ تمہاری جانیں بھی اس کے قبضہ میں ہیں اگر چاہے تو ایک ہی آن میں تم سب کو فنا کر دے

 

(243۔ 252)

 

کیا تمہیں ان لوگوں کا قصہ معلوم نہیں جو اپنے گھروں سے ہزاروں جمع ہو کر موت سے ڈرتے ہوئے نکلے تھے یہ سمجھ رہے تھے کہ نکلنے سے ہماری جان سلامت رہے گی جیسا تم سمجھتے ہو کہ مال کے روکنے سے مال بچ رہے گا۔ اور خرچ سے کم ہو گا۔ پھر اللہ نے ان کو حکم دیا کہ مر جاؤ فوراً مر گئے پھر اس نے ان کو زندہ کیا۔

(شان نزول :۔ مشرکین عرب قیامت سے منکر تھے اور ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ مر کر زندہ ہونا ایک محال امر ہے ان کے مقابلہ میں یہ آیت دلیل نقلی کے طور پر نازل ہوئی)

(جو اپنے گھروں سے ) ان لوگوں کی تعیین میں اختلاف ہے کہ کون تھے۔ بعض سلف کہتے ہیں کہ ایک بستی میں وبا پڑی تھی وہاں کے بعض اشخاص نکل کر دوسری جگہ چلے گئے جب بعد دفع وبا کے واپس آئے تو ان کی صحت دیکھ کر پیچھے رہنے والوں نے کہا کہ اگر اب کے وبا پڑی تو ہم بھی نکل جائیں گے اتفاقاً پھر ایک دفعہ وبا پڑی تو وہ لوگ بھی نکل بھاگے۔ راہ ہی میں اللہ نے ان کو فوت کر دیا۔ حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے بنی اسرائیل میں سے اپنی قوم کو جہاد کا حکم دیا۔ وہ بہانہ کرتے ہوئے بولے کہ جس ملک میں ہمیں جانا ہے اس میں وبا ہے جب تک آرام نہ بنو لے ہم نہیں جائیں گے پس اللہ نے ان سب کو مار دیا ان کی دلیل ہے کہ اس سے آگے اللہ تعالیٰ جہاد کی ترغیب دیتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قصہ بھی مجاہدین کا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ حزقیل نبی (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو جہاد کی ترغیب دی تھیں وہ اس سے گھبرائے تو انہوں نے دعا کی کہ یا اللہ ان کو کوئی نشانی انہیں کی جانوں میں دکھا تاکہ یہ تیرے حکم کو مانیں پس اللہ نے ان کو مار دیا اور پھر زندہ کیا۔ ان روایتوں سے کوئی روایت صحیح ہو یا کوئی غلط۔ قرآن کے مضمون کو اس سے بحث نہیں۔ قرآن کریم سے اتنا تو بوضاحت ثابت ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کو مار کر پھر زندہ بھی کیا۔ باقی رہی سر سید اور مرزا صاحب قادیانی کی تاویلات (یا تحریفات) سو الفاظ قرآنی کے مقابلہ میں تار عنکبوت سے بھی ضعیف ہیں۔ ہرگز اس قابل نہیں کہ ادھر توجہ کی جائے کیونکہ دلائل عقلیہ سے احیاء اموات کا امکان اور نقلیہ سے اطلاق ثابت ہے۔ رہا سپر نیچرل (خلاف عادت) سو اس کا مفصل جواب پہلے گذر چکا۔

تاکہ وہ اور ان کے اس قصہ کے سننے والے عبرت پاویں اور یہ سمجھیں کہ ہماری زندگی ہماری ترقی ہماری عمدہ تدبیروں پر مبنی نہیں بلکہ اصل میں سب اللہ کی مہربانی ہے بے شک اللہ لوگوں کے حال پر بڑا ہی مہربان ہے لیکن بہت سے لوگ اس مہربانی کا شکریہ نہیں کرتے۔ بلکہ اپنی ترقی اور اپنی صحت اور سلامتی اپنی تدابیر ناقصہ سے جانتے ہیں۔ یہی شکر نہیں کہ ہر کام میں زبانی شکر شکر کیا کرو۔ بلکہ شکریہ ہے کہ حسب توفیق اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ بھی کرو اور (مسلمانو !) جب موقع ہو تو اللہ کی راہ میں مخالفوں سے لڑا کرو۔ اور دل میں جان رکھو کہ اللہ ہر ایک کی سنتا ہے اور جانتا ہے

بعض لوگ جب خرچ کرنے کا نام سنتے ہیں تو ان پر مثل موت کے گراں گذرتا ہے یہ نہیں جانتے کہ دیا ہوا کہیں جانے کا نہیں آخر تم دنیا میں قرض بھی تو ایک دوسرے کو دیتے ہو۔ جو بعد مدت تم کو وصول ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کوئی ہے جو اللہ کو بھی قرض حسنہ ہی سمجھ کر دے پھر اس کی طرف سے تمسک لکھوا لے کہ اخلاص مندی پر وہ کئی گنا زیادہ اس کو دے گا۔

(جہاد وغیرہ ضروریات مذہبی اور قومی میں خرچ کرنے کی ترغیب دینے کو یہ آیت نازل ہوئی۔ )

پس اے سودخوارو ! دنیا میں چار آنے آٹھ آنے روپیہ سینکڑا سود لینے والو ! آؤ غربا پر احسان کرو اور اللہ سے اس کے عوض میں کئی گنا سود لو اور اگر اب بھی باز نہ آؤ تو یاد رکھو کہ اللہ ہی تنگی اور فراخی کرتا ہے سیدھے منہ نہ دو گے تو اسے تنگ کر دینا بھی آتا ہے اس کے حکم سے جو کچھ دو گے اس سے زیادہ تم کو دے گا۔ آخر تو تم نے اس کی طرف لوٹنا ہے اپنی بھلے کی سوچو اور بعض کوتاہ اندیشوں کی طرح بوالہوس نہ بنو کہ باوجود جاننے مفید کام کے محض اپنی عافیت ظاہری چند روز کے لئے ان سے منہ پھیر جاتے ہیں جس کی وجہ سے آخر کار دقت پر دقت ان کو نصیب ہوتی ہے۔ کیا مثال کے لئے تمہیں بنی اسرائیل کی جماعت کا قصہ حضرت موسیٰ کے بعد کا معلوم نہیں

(شان نزول :۔ ! جہاد میں ترغیب دینے کو یہ آیت بصوراک تاریخی واقع کے نازل ہوئی۔ )

جب انہوں نے خود ہی اپنے وقت کے نبی سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لئے کوئی بادشاہ اعلیٰ فوجی افسر مقرر کر دے جس کے ساتھ ہو کر ہم اللہ کی راہ میں اپنے دشمنوں سے جن کے ہاتھ سے ہم جاں بلب ہیں لڑیں اس (نبی) نے کہا کہ اگر اس بادشاہ کی طرف سے تم کو لڑنے کا حکم ہوا تو تم سے لڑنے کی امید نہیں تم تو بزدلی سے بھاگ جاؤ گے وہ بولے کہ اللہ کی راہ میں ہم کیوں نہ لڑیں گے حالانکہ اس سستی اور غفلت ہی کا نتیجہ ہے کہ ہم اپنے ملک اور بال بچوں سے نکالے گئے ہیں اور سب مال اسباب ہمارا دشمنوں نے لوٹ لیا پس خلاصہ یہ کہ جب ان کو بادشاہ کی طرف سے لڑنے کا حکم ہوا تو سوائے چند اشخاص کے سب نے پیٹھ دیدی اور بد عہدی سے اپنی جانوں پر ظلم کئے جس کی سزا ان کو بھگتنی پڑی اس لئے کہ اللہ تو ظالموں کو خوب جانتا ہے تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ برطبق ان کی خواہش کے ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ نے تمہارے لئے ایک شخص طالوت کو (جو بوجہ) اپنی دینداری اور لیاقت علمی کے اس کام کے لائق ہے بادشاہ (اعلیٰ افسر) بنایا ہے۔ اس کی فرمانبرداری کرو۔ اور اس کے ساتھ ہو کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں دشمنوں سے لڑو۔ انہوں نے اپنی کوتاہ اندیشی سے اس کی لیاقت اور دین داری پر تو غور نہ کی اور ظاہر بینوں کی طرح جھٹ سے بولے کہ بھلا وہ ہم پر کیسے حاکم ہو سکتا ہے حالانکہ ہم اس سے حکومت کا حق زیادہ رکھتے ہیں اس لیے کہ ہم تو کسی قدر مالدار بھی ہیں اسے تو مال کی بھی چنداں فراخی نہیں ہے۔ اس نبی نے ان کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ گو مال اس کے پاس نہیں اور نہ مال کی اس میں چنداں ضرورت ہے جن امور کی حکومت کے لئے ضرورت ہے وہ تو تین ہی باتوں میں منحصر ہیں ایک تو دینداری کہ ناحق کے ظل مو ستم نہ کرتا پھرے دوسری لیاقت علمی کہ امور مملکت کو بخوبی انجام دے سکے۔ تیسری کسی قدر جسامت اور ظاہری ڈیل ڈول بھی ہو ایسا دبلا پتلا بھی نہ ہو کہ دیکھنے سے بجائے ہیبت کے بے رعبی ہو۔ سو ان تینوں باتوں میں وہ کامل ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ نے اس کو تم پر بزرگی دی ہوئی ہے اور علم بھی اس کو وسیع دیا ہوا ہے۔ اور بدن میں فربہی ( تر و تازگی) بخشی ہے۔ علاوہ اس کے یہ ہے کہ اللہ اپنا ملک اور اس کی حکومت جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ تمہارا کوئی حق نہیں کہ تم سوال کرو اور اپنے استحقاق جتلاؤ مناسب غیر مناسب کو وہ خود ہی جانتا ہے تمہارے جتلانے کی حاجت نہیں اور اللہ بڑی ہی وسعت والا علم والا ہے باوجود اس بیان شافی کے انہوں نے قناعت نہ کی اور اس نبی سے اس کی حکومت کی نشانی مانگی جس کے جواب میں ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اس کی حکومت کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا

(صندوق آئے گا) اس کا نام تابوت سکینہ تھا اس میں بنی اسرائیل کے بزرگوں کے تبرکات رکھے رہتے تھے لڑائی کی وقت بنی اسرائیل اس کو میدان جنگ میں بڑی جانفشانی سے لڑتے ایک تو اس کے سبب سے جوش مذہبی ہوتا تھا۔ دوم یہ خطرہ رہتا کہ کہیں سستی کرنے سے دشمن اس کو لوٹ نہ لیں۔ جس کا لٹ جانا ان کو ایسا ناگوار تھا۔ جیسا کہ امت میں نبی کا قتل ہو جانا مگر بنی اسرائیل کے ضعف سے آخر تابوت سکینہ مخالفوں کے پاس چلا گیا۔ انہوں نے اس کو بڑی بے ادبی سے پائخانہ میں رکھا تھا۔ جس کا بنی اسرائیل کو سخت رنج تھا۔ نبی نے ان کو خوشخبری سنائی کہ طالوت کی حکومت کی یہ علامت ہے کہ تابوت سکینہ تمہارے پاس آ جائے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مخالفوں نے اس کو نکال کر بیل گاڑی میں لادا تو بیل فرشتوں کی تحریک سے سیدھے بنی اسرائیل میں چلے آئے بنی اسرائیل اس کو دیکھ کر شاد شاد ہوئے اور مقابلہ میں جان توڑ کر لڑے اور فتح یاب ہوئے ۔)

جس میں اللہ کی طرف سے تمہیں تسکین ہو گی اور حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کی قوم کی چھوڑی ہوئی چیزیں ہوں گی یعنی عصا وغیرہ بزرگوں کی مستعملہ اشیاء ہوں گی جن کو بنی اسرائیل بڑی متبرک سمجھتے تھے فرشتے اس کو اٹھائے ہوئے لاویں گے اور تمہارے بیچ میں رکھ دیں گے جس کے دیکھنے سے تمھیں تسلی ہو جائے گی۔ بیشک اس صندوق کے اس طور سے آنے میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہو گی اگر تم ماننے والے ہوئے تو اسی پر قناعت کرو گے اور اگر ضدی ہوئے تو کوئی علاج نہیں چنانچہ ایساہی ہوا اور بعد دیکھنے اس واقعہ کے ان کے دلوں میں غیرت مذہبی اور غیظ ملکی جوش زن ہوا اور انہوں نے اس طالوت کو اپنا حاکم سمجھا پس اس نے فوج کی کمان شروع کی اور جہاد کے لئے سب نے تیاری بھی کر لی مگر چونکہ ان میں بہت سے نا آزمودہ کار اور خام جوشیلے تھے۔ نیز بسا اوقات کثرت ہجوم سے انتظام میں خلل بھی آ جاتا ہے جس کے سبب سے انجام کار ہزیمت ہو جاتی ہے اس لئے ایسے وقت میں کسی زبردست پالیسی (حکمت عملی) کی ضرورت تھی پس اس نے ایسا ہی کیا کہ جب طالوت اپنی فوج کے ساتھ باہر کو چلا تو بولا کہ اللہ تم کو ایک نہر کے پانی سے آزمائے گا۔ پس جو شخص اس نہر سے پئے گا وہ میری جماعت سے نہ ہو گا اور جو نہ پئے گا تو وہ میرا ہمراہی ہو گا۔ مگر جو شخص بوجہ شدت پیاس کے ایک چلو ہاتھ سے بھر لے گا اس کو معافی دی جائے گی پس جب لوگ اس نہر پر پہنچے تو سوائے چند لائق اشخاص کے سب نالائقوں نے اس سے پانی پی لیا۔ پس طالوت نے اپنے پہلے حکم کے مطابق ان کو علیحدہ کر دیا پھر جب وہ اور اس کے حکم کے ماننے والے مخلص تابعدار اس کے ساتھ اس نہر سے آگے بڑھے۔ تو بعض لوگ دشمن (جالوت) کی شوکت دیکھ کر بول اٹھے کہ آج تو ہم میں جالوت اور اس کی فوج کے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں لیکن سب یکساں نہیں ہوتے جن لوگوں کو یقین تھا کہ اللہ کی مدد پاویں گے۔ وہ ان کے جواب میں بولے کہ گھبراتے کیوں ہو کیا ہوا اگر دشمن کی فوج عظیم اور بے شمار و با شوکت ہے بہت دفعہ تھوڑے لوگ بہتوں پر اللہ کے حکم سے غالب آ جایا کرتے ہیں تم اللہ پر بھروسہ کرو اور اگر کچھ تکلیف پہنچے تو صبر کرو اللہ کی مدد صابروں کے ساتھ ہے۔ اور ان کے اس کہنے سے سب فوج کو تسلی ہو گئی اور مستقل ہو کر آگے بڑھے اور جب وہ جالوت کی فوج کے مقابل لڑنے کو آئے تو سب سے پہلے وہ اللہ سے مستدعی ہوئے کہ اے ہمارے مولا ! ہمیں تکلیفوں پر صبر عطا کر اور دشمنوں کے مقابلہ میں ہمارے قدم مضبوط رکھ اور ہمیں ان کافروں کی قوم پر فتح نصیب کر بے شک تو ہی اپنے بندوں کا مددگار ہے۔ اور تیری مدد سے بیڑا پار ہے پس اللہ نے ان کی یہ مخلصانہ دعا قبول کر لی اور انہوں نے ان سب جالوطیوں کو اللہ کے حکم سے بھیگا دیا اور ان کے بادشاہ جالوت کو حضرت داؤد (علیہ السلام) نے جو ان دنوں جوان اور طالوت کی فوج میں سپاہی تھے ، قتل کیا پھر تو طالوت کی فتح نمایاں ہو گئی اور اللہ نے داؤد کو طالوت کے بعد سب ملک کا اختیار دیا اور اصل تہذیب اور شائستگی جو حکومت کے لئے ضروری ہے حضرت داؤد کو سکھائی اور بوقت ضرورت اس داؤد نے جو سیکھنا چاہا اللہ تعالیٰ نے اس کو سکھایا جس کے سبب سے اس کا لقب خلیفۃ اللہ ہو گیا پھر تو ان کے تمام دشمن دب گئے اور فتنہ وفساد فرد ہو گئے بے شک اگر اللہ بعض لوگوں ظالموں کو بعض عادلوں کے ذریعہ سے دفعہ نہ کرے تو زمین سب خراب ہو جائے۔ لیکن اللہ ایسے ظالموں کو جن کا ظلم اپنی حد تک پہنچ جاتا ہے ضرور ہلاک کرتا ہے اس لئے کہ وہ دنیا کے رہنے والوں پر بڑا ہی مہربان ہے کہ ان کے نقصانات کو کسی قسم کے ہوں جسمانی یا روحانی پورا کر دیتا ہے یہ قصہ اور اس کے مشابہ ہماری بتلائی ہوئی خبریں ہیں ان کو ہم تجھ سے واقعی طور پر بیان کرتے ہیں اور تو بھی صحیح طور سے لوگوں کو سناتا ہے اس لئے کہ بے شک تو اللہ کے رسولوں سے ہے جیسے کہ وہ غائب کی خبریں با طلاع الٰہی سنایا کرتے تھے اسی طرح تو بھی بتلاتا ہے

 

(253۔ 257)

 

گو رسالت کے مرتبہ میں سب برابر ہیں آغاز الجز الثالث من التفسیر :۔ مگر تاہم ہم نے ان رسولوں میں سے بعض کو بعض پر بزرگی اور فضیلت دی ہے۔ مثلاً تجھ کو اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سب سے افضل بنایا۔ اور بعض ان میں سے ایسے بھی ہیں کہ جن سے اللہ نے باتیں بھی کیں جیسے حضرت موسیٰ اور بعض کے کسی اور وجہ سے درجہ بلند کئے اور عیسیٰ مریم کے بیٹے کو کھلی نشانیاں ہم نے دیں اور روح پاک جبرئیل سے اس کو قوت دی

(روح القدس کی تفسیر خود قرآن نے دوسری جگہ کر دی ہے قل نزلہ روح القدس (یعنی جبرئیل (سورۃ النحل))

نہ جیسا کہ اس کے مخالف یہودیوں کا خیال ہے کہ وہ جھوٹا نبی تھا اور نہ جیسا کہ اس کے نادان دوست عیسائیوں کا غلط گمان ہے کہ وہ اللہ وحدہ لا شریک کا بیٹا اور ایک حصہ تھا یہ ایسے خیالات واہیہ سب کے سب انبیاء سے پچھلے لوگوں نے تراشے ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو نبیوں سے پچھلے لوگ بعد آنے دلائل واضح کے آپس میں نہ لڑتے جھگڑتے لیکن چونکہ انہوں نے باہمی اختلاف کیا یعنی بعض تو مان گئے اور بعض انکاری رہے جس کا اثر لازمی حسب عادت جاریہ قتل قتال اور لڑائی جھگڑا ہوا باوجود اس کے بھی اگر اللہ چاہتا تو کبھی نہ لڑتے وہ ان کے اثر لازمی کو بھی روک سکتا تھا۔ لیکن اللہ نے ایسا نہ چاہا اس لئے کہ وہ عموماً وہ کام کرتا ہے جو ارادہ کرے اور اس کا ارادہ ہمیشہ علل پر جیسی کہ ہوں آثار مرتب کرتا ہے جب ہی تو تمہیں حکم دیتا ہے کہ اے مسلمانو ! ہمارے دیے ہوئے میں سے غربا کی حاجت روائی میں خرچ کیا کرو۔ پہلے اس سے کہ وہ دن آ پہنچے کہ جسمیں نہ تجارت ہو گی کہ اس مال سے فائدہ اٹھا سکو اور نہ کسی کی دوستی اور نہ سفارش ہی بلا اذن کام آئے گی۔ صرف نیک اعمال اور ہاتھ کا دیا ہی کام آئے گا۔ سو تم اگر اس دن کی تکلیف سے بچنا چاہتے ہو تو سب سے مقدم یہ ہے کہ اللہ کی توحید پر پختہ ہو جاؤ اور جان لو کہ توحید سے منکر ہی بڑے ظالم ہیں کیونکہ ایک سیدھی راہ چھوڑ کر ٹیڑھے جا رہے ہیں یعنی اللہ کے سوا اور معبود مانتے ہیں حالانکہ سوائے اللہ کے کوئی دوسرا معبود نہیں تھا نہ اب ہے نہ آئندہ ہی ہو سکتا ہے اس لئے کہ وہ ہمیشہ سے ہمیشہ تک زندہ بلکہ سب چیزوں کو زندگی بخشنے والا ہے اور اکیلا ہی بذات خود سب مخلوق کا انتظام کرنے والا اس کے کسی کام میں فتور نہیں آ سکتا۔ اس لئے کہ نہ اس کو اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے سب اسی کی ملک ہے۔ وہ شہنشاہ ایسی ہیبت کا مالک ہے کہ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے سامنے چوں کرے کون ہے جو بلا اجازت اس کے پاس کسی کی سفارش کرے کیا نبی کیا ولی کیا مومن کیا کافر سب اس کی ہیبت سے لرزاں اور ترساں ہیں۔ کمال علمی اس کے کی کوئی حد نہیں۔ وہ لوگوں کے آگے پیچھے کی سب چیزیں جانتا ہے اور لوگ اس کے معلومات سے کچھ بھی نہیں جان سکتے۔ مگر جس قدر کہ خود ہی بتلانا چاہے۔ اس کی حکومت ۱ نے تمام آسمان اور زمین کو گھیر رکھا ہے مجال نہیں کہ کوئی چیز اس کی حفاطت سے باہر ہو اور ہو بھی کیسے جبکہ محافظ ایسا زبردست ہے کہ باوجود اس قدر وسعت کے ان کی حفاظت سے تھکتا نہیں۔ اور وہ سب سے بلند اور بڑی عظمت اور بزرگی والا ہے۔

( اس آیت میں جو کرسی کا لفظ ہے اس کے معنے میں بھی مفسرین کا قدرے اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کرسی ایک چوکی ہے جو تمام آسمانوں سے اوپر ہے جس کے اوپر عرش ہے بعض کہتے ہیں کرسی سے مراد یہاں علم ہے۔ میں نے جو ترجمہ اختیار کیا ہے۔ یہ ترجمہ حضرت شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ کا ہے اور اسی پر یہی انسب ہے۔ کرسی کے معنے علم کے بھی آئے ہیں۔ یہ معنے بھی موقع کے مناسب ہیں۔ )

باوجود اس بیان واضح کے اگر تیری نہ مانیں تو غم نہ کر اس لئے کہ دین میں ظلم جبر نہیں کہ خواہ مخواہ کسی کو بزور پکڑ کر اسلام میں لایا جائے

(شان نزول :۔ عرب میں دستور تھا کہ جب کسی عورت کی اولاد زندہ نہ رہتی تو وہ نذر مانتی تھی کہ اگر میرا بچہ زندہ رہے گا تو میں اس کو یہودی بناؤں گی جیسے ہمارے ملک کی عورتیں مشرکانہ خیال والی کہا کرتی ہیں کہ اگر میرا بچہ زندہ رہا تو فلاں قبر والے کا مرید بناؤں گی اور اس کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اس کے نام کی چوٹی اس کے سر پر رکھی جاتی ہے ) چنانچہ بہت سے لوگوں کی اولاد اتفاقاً زندہ رہ کر اسی طرح یہودی بنی ہوئی تھی جب آپ نے بنی نضیر کے یہودیوں کو ان کی بدعہدی کی وجہ سے عرب سے خیبر کی طرف جلا وطن کیا تو اس قسم کے بچے بھی ان یہودیوں میں تھے ان کے مسلمان ورثاء نے اس وجہ سے کہ یہ بچے ماں باپ کی غلطی سے یہودی بنائے گئے تھے چاہا کہ ان کو جبراً روک لیں اور یہودیوں کے ساتھ نہ جانے ویں اس پر یہ آیت نازل ہوئی (معالم) مخالفین ذرہ غور سے دیکھیں ۱۲ منہ )

ہدایت کی راہ گمراہی سے ممتاز ہو چکی ہے پس جو کوئی جھوٹے معبودوں سے منہ پھیر کر اکیلے سچے اللہ پر ایمان رکھے تو جان لو کہ اس نے ایک ایسا نجات کا مضبوط سہارا لیا جو ہرگز نہ ٹوٹے گا اور جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اللہ سنتا ہے جانتا ایسے ہی مؤمنوں کا بالخصوص اللہ متولی امور ہے ہر طرح ان کی بہتری کے سامان مہیا کر دیتا ہے چنانچہ محض اپنی مہربانی سے شرک کفر وغیرہ کے اندھیروں سے ان کو نکال کر نور توحید کی طرف لے جاتا ہے او توحید کو ان کے دلوں میں ایسا مضبوط کرتا ہے کہ مشرک کیسی ہی کوشش کریں ان کو شرک میں پھنسا دیں ہرگز نہیں پھنسا سکتے اور جو لوگ توحید سے منکر ہیں وہ چونکہ راندۂ درگاہ ہیں اس لئے ان کے دوست شیاطین ہیں ہمیشہ ان کو ایمان سے اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں اور یہی ذہن نشین کرتی ہیں کہ فلاں بت یا فلاں قبر سے حاجت روائی ہوتی ہے جس کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ یہی لوگ جہنم کی آگ کے لائق ہیں۔ اور اس میں ہمیشہ رہیں گے تو ان کی بیہودہ باتیں سن کر کیوں تعجب کرتا ہے۔ ہمیشہ سے قاعدہ ہے کہ لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو دیندار چاہے کسی مذہب کے پیرو کار ہوں وہ تو بعد سمجھنے حق بات کے ہدایت سے سرتابی نہیں کرتے۔ دوسرے دنیا دار جو اپنے مذہب کو یونہی برائے نام بتلا دیں اصل میں ان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا صرف چالبازی جانتے ہیں ایسے لوگ باوجود دیکھنے بین ثبوتوں کے بھی اپنے غلط خیال چھوڑا نہیں کرتے۔

 

(258۔ 260)

 

کیا تجھے اس گمراہ شخص کا حال معلوم نہیں جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے بوجہ اس کے کہ ابراہیم اللہ کی توحید کا قائل تھا اور وہ ملحد سرے سے اللہ کا منکر اپنے پروردگار کی بابت عناد سے جھگڑا کیا تھا۔ اس وجہ سے کہ اللہ عالم الغیب نے اس کو بادشاہ بنایا تھا پھر وہ اپنی چند روزہ بادشاہی پر ایسا نازاں ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا مدعی بن بیٹھا۔ جب ابراہیم نے اس کے سوال (کہ میرے سواتیرا اللہ کون ہے ) کے جواب میں کہا میرا پروردگار وہ ہے جو سب کو زندہ کرتا اور مارتا ہے۔ وہ بولا کہ زندہ تو میں رکھتا ہوں اور مارتا بھی میں ہوں چنانچہ اسی وقت ایک قصور وار مجرم کو چھوڑ دیا اور بے قصور کو مروا دیا۔ ابراہیم نے جانا کہ اس بات سے یہ نادان قائل نہ ہو گا اس کو کسی ایسے پیچ میں لائیں کہ اس کا جواب نہ دے سکے یہ سوچ کر ابراہیم نے کہا کہ اللہ تو سورج کو ہر روز مشرق سے لاتا ہے اگر تو ہی اللہ ہے تو ایک روز اس کو مغرب سے چڑھا اس لیے کہ جب مشرق سے تو لا سکتا ہے تو مغرب سے لانے میں کیا دقّت ہے۔ پس یہ سن کر وہ کافر حیران رہ گیا۔ جواب کچھ نہ بن پڑا چونکہ معانن تھا یہ نہ ہوا کہ ہدایت کو قبول کرتا اور اپنے مالک کے آگے جھکتا۔ الٹا ابراہیم سے الجھنے لگا جس کی سزا اس کو یہ ملی کہ اللہ نے اسے سمجھ ہی نہ دی کہ ابراہیم کے اس سوال کا جواب کیا دے اس لئے کہ اللہ ایسے ظالموں کو صادقوں کے مقابلہ میں راہنمائی نہیں کیا کرتا۔ جیسا یہ قاعدہ ظالموں کو ہدایت نہ کرنے کا اللہ نے مقرر کر رکھا ہے ایسا ہی یہ بھی مقرر ہے کہ جو کوئی با خلاص نیت کوئی سوال حل کرانا چاہے اور اللہ سے مدد مانگے اللہ اس کو آسان کر کے اس کی راہ نمائی کرتا ہے کیا تو اس شخص کو نہیں ! جانتا جو ایک پرانی گری ہوئی بستی پر سے گذرا اور اس کو خراب اور اس کے رہنے والوں کو مرے پڑے دیکھ کر بولا کہ اس بستی کے رہنے والوں کو بعد مرنے کے اللہ کیونکر زندہ کرے گا؟ یہ ایک قسم کا تردد اسے ہوا جس کے دریافت حال کو اس نے سوال کیا چونکہ یہ سوال اس کا محض دینداری کی وجہ سے تھا اس لئے اللہ نے اس کو ایسے طور سے تشفی دی کہ بعد اس کے کسی دلیل کا محتاج نہ رہا۔ پس اللہ نے سو برس تک اس کو مار رکھا۔ پھر بعد سو برس کامل کے اس کو زندہ کر کے پوچھا کہ کتنی مدت توں یہاں پر ٹھیرا ہے۔ وہ بوجہ مرنے کی حالت سے بے خبر ہونے کے بولا کہ ایک دن یا کچھ حصہ دن کا ٹھیرا ہوں (اللہ نے ) کہا ایک آدھ دن تو کجا بلکہ سو برس تک ٹھیرا ہے مگر تجھے معلوم نہیں۔ یہ ہماری ہی قدرت ہے کہ تجھے سو برس بعد زندہ کیا نہ صرف تجھے ہی زندہ کیا بلکہ تیرے متعلق کئی ایک اور بھی خرق عادت محض اپنی قدرت کاملہ سے کئے تیری ایسی چیزیں جو عموماً درازی زمانہ سے بگڑ جاتی ہیں وہ تو صحیح سالم رکھیں ہیں اور جن کو کسی قدر درازی مضر نہیں ان کو بگاڑ دیا اور بگڑی ہوئی کو تیرے سامنے درست بھی کریں گے۔ پس تو دیکھنا چاہے تو اپنے کھانے اور پانی کو دیکھ کہ باوجود سریع الزوال ہونے کے ابھی تک نہیں بگڑا اور اپنی سواری کی طرف دیکھ کہ کیسی گلی پڑی ہے تجھے بعد سو برس کے زندہ کر کے تیری تشفی کرتے ہیں اور ہم تجھ کو لوگوں کے لئے نشانی بنا دیں گے۔ تاکہ آئندہ جن لوگوں کو مردوں کے زندہ ہونے میں شک ہو وہ تیرے تاریخی حالات سن کر یقین کریں اور اپنی سواری کی ہڈیوں کو دیکھ کہ کس طرح ان کو ابھار کر گوشت چڑھائیں گے پھر تیرے سامنے ہی زندہ ہو کر پھرنے لگ جائے گا۔ پس جب اسے اصل حال معلوم ہو گیا ہاں بے شک اللہ ہی بڑی قدرت والا ہے تو بولا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ اللہ سب کام کر سکتا ہے۔ چونکہ یہ سوال اس کا محض دینداری سے تھا اس لئے وہ فوراً سمجھ گیا۔

(کیا تو اس شخص کو نہیں جانتا) اس قصہ اور اس سے آئندہ قصہ ابراہیمی کی نسبت کل مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ واقعات ان دونوں سائلوں کی بیداری میں واقع ہوئے گو ان کا پہلے قصے میں بسبب نہ ہونے نام سائل کے کسی قدر اختلاف ہوا ہے کہ یہ سائل کون تھا بعض نے کہا کہ کوئی کافر تھا بعض نے کہا مؤمن۔ بعض نے کہا نبی۔ بعض نے اس نبی کا نام بھی بتلایا کہ وہ حضرت عزیر تھے۔ تفسیر کبیر میں حضرت ابن عباس (رض) سے ایک روایت منقول ہے اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سائل حضرت عزیر (علیہ السلام) تھے مگر سرسید احمد خاں کو یہاں بھی ایک نیا ہی خواب آیا۔ کہ انہوں نے اس قصہ کا سرے سے انکار کر کے جان چھڑائی اور اس کو خواب سے متعلق بتلایا کہتے ہیں کہ اس بزرگ نے خواب میں اللہ تعالیٰ سے احیاء موتیٰ کا سوال کیا اور خواب ہی میں اپنے کو سو برس تک مرے ہوئے دیکھا اور حضرت ابراہیم نے بھی جو کچھ کیا خواب ہی میں کیا۔ وجہ اس انکار کی تو وہی سپر نیچرل (خلاف عادت کا استحالہ ٹوٹا پھوٹا ہتھیار ہے۔ )

دلیل ان کی یہ ہے کہ :۔

” بزرگوں کو جو اس قسم کے خلجان قلبی پیش آیا کرتے ہیں ان کا دفعیہ ان کو کشف اور خواب ہی میں ہوا کرتا ہے پس ضرور ہے کہ ان بزرگوں کو بھی جو ایک عقدہ دربارہ احیاء موتے پیش آیا ہے اس کا دفعیہ خواب میں ہوا ہو گا۔ حضرت ابراہیم سے نہ تو پہلے کسی نے اور نہ خود ابراہیم نے مردہ کا زندہ ہونا دیکھا تھا اس لئے کوئی ذی عقل اس قسم کے سوالات اللہ سے نہیں کر سکتا” (تفسیر جلد اوّل ص ۲۹۲)

دوسری دلیل جو ذکر میں پہلے حضرت ابراہیم سے مخصوص ہے کہ :۔

” یہ سوال ابراہیم (علیہ السلام) کا رویت سے ہے اور یہ ظاہر ہے کہ رویت کیفیت احیا موتی نہیں ہو سکتی اس لئے کہ غایت مافی الباب یہ ہے کہ اگر ہمارے سامنے مردہ زندہ ہو جائے یا کوئی بیمار اچھا ہو۔ تو ہم اتنا تو جان لیں گے کہ زندہ بیمار اچھا ہو گیا مگر اس کی زندگی کی کیفیت ہمیں معلوم نہ ہو گی کہ کس طرح ہوا پس حضرت ابراہیم کا سوال رویت قلبی سے متعلق تھا جو خواب میں ان کو حل ہو گیا (صفحہ ۲۹۱)

ناظرین! سید صاحب کی اس قسم کی تاویلات سے آپ کو تو تعجب ہوتا ہو گا۔ مگر در اصل تعجب نہیں اس لئے کہ جناب تو اسی کے خو گیر ہیں بھلا اس کا بھی کچھ ثبوت دیا کہ بزرگان دین کو ہمیشہ عقدہ کشائی اور حل مطالب خواب ہی میں ہوا کرتا ہے۔ کیا حضرت زکریا (علیہ السلام) کو بے ٹا کی خبر سے تعجب نہیں ہوا تھا قالَ اَنّیٰ یَکُونُ لِی غُلَامٌ وَقَد بَلَغتُ مِنَ الکِبَرِ عِتِیًّا۔ کیا حضرت مریم علیہا السلام کا عقدہ اَنّیٰ یَکُونُ لِی غُلَامٌ وَّلَم یَمسَسنِی بَشَرٌ بھی خواب میں خواب ہوا تھا۔ سید صاحب ! جیسا کہ پہلے کہہ آیا ہوں کہ علماء کا دستور تھا کہ کہتے ہوئے دعویٰ کی دلیل بھی سوچ لیتے تھے مگر آپ نے جیسا کہ مذہب میں تجدید کی طریق مناظرہ اور اثبات دعا دی میں بھی سب سے تجرد اور انفراد کیا سچ ہے ؟

قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا

پر تیرے عہد سے پہلے تو یہ دستور نہ تھا

پھر آپ کا یہ ارشاد کہ ” ابراہیم سے پہلے اور نہ خود ابراہیم نے مردوں کو زندہ ہوتے دیکھا تھا اس لئے یہ سوال ذی عقل کا کام نہیں ” حضرت ! بے ادبی معاف۔ حضرت موسیٰ سے پہلے کسی نے یا خود موسیٰ نے بھی پہلے سوال رویت (رَبِّ اَرِنِیٓ اَنظُر اِلَیکَ) کے اللہ کو دیکھا تھا؟ پس بتلا دیں ایسی بے معنی بات جو جی میں آئے کہہ دینا ذی عقل کا کام ہے ؟ نہیں بیشک نہ تو حضرت ابراہیم سے پہلے اور نہ خود ابراہیم نے احیاء اموات دیکھا تھا۔ مگر ممکن سمجھتے تھے ممکنات مقدورات باری سے سوال کرنا ہر ذی عقل اور ایماندار کا کام ہے گو آپ کا نہ ہو۔ ہاں آپ کا یہ کہنا کہ مردہ زندہ ہونا تو ہم دیکھ سکتے ہیں مگر اس کی کیفیت نہیں دیکھ سکتے۔ ” بہت خوب دلیل ہے۔ قطعی ہے۔ جناب والا حضرت ابراہیم کا سوال بھی اسی رویت سے متعلق تھا۔ جس کو آپ بھی مانتے ہیں ان کو اس کیفیت سے جو مقولہ کیفہ (لا یقتضی القسمۃ واللّٰہ قسمتہ) سے ہی بحث نہیں تھی۔ یہ تو وہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کو اسباب اور آلات کی حاجت نہیں چنانچہ ان کا بَلٰے کہنا اس کی وضاحت کرتا ہے اطمینان قلبی وہ صرف رویت امر عجیب کے متعلق چاہتے تھے آپ کیف سے بلا کیف بگڑ گئے اور یہ سمجھ گئے کہ یہ کیفیت فلسفیانہ کیفیت ہے حالانکہ یہ کلام عرف پر مبنی ہے جیسا کوئی کسی مسحریزم والے کو کہے کہ میرے سامنے عمل کرتا کہ میں اس کی کیفیت دیکھوں تو اس کے معنے حسب عرف عام ہم یہی سمجھتے ہیں کہ اس سوال سے تاثیر فعل کا دیکھنا منظور ہے نہ کہ کیفیت فعل کا پس آپ کا فرمانا کہ کیفیت احیاء اموات تو کسی طرح مرئی نہیں ہو سکتی عرف عام اور خطابیات سے چشم پوشی ہے۔ رہا آپ کا ٹوٹا پھوٹا ہتھیار نیچرل سو اس کا جواب قرأت مرات گذر چکا ہے۔ فتذکر۔ جیسے سر سید احمد خاں ان واقعات سے انکاری ہیں ایسے ہی ان کے روحانی فیض یاب (مراز قادیانی) بھی منکر ہیں کیوں نہ ابن الفقہ نصف الفقیہ مشہور ہے ۱۲ منہ ”

اسی کی مثل ایک اور واقعہ بھی سنو ! جب ۱ ابراہیم نے محض دینداری سے بغرض دریافت حال اپنے رب سے کہا کہ اے میرے مولا ! مجھ کو دکھا کہ تو مردوں کو کسی طرح زندہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ تو اس امر کو جانتا تھا کہ ابراہیم کا سوال بغرض تسلی اور مزید اطمینان ہے نہ کہ انکار اور عناد سے مگر اس خیال سے کہ بعد لوگ ابراہیم کے اس سوال سے اس کا نقصان ایمانی نہ سمجھیں اس امر کے اظہار کرنے کو ابراہیم سے کہا کہ تجھے یقین نہیں ؟ کہ مردے زندہ ہوں گے (ابراہیم نے ) کہا ہاں لیکن میں محض اطمینان قلبی کے لئے (پوچھتا ہوں ) کہ مجھے علم الیقین سے عین الیقین ہو جائے (اللہ عالم الغیب نے ) کہا کہ چار جانور لے کر اپنے پاس رکھ لے تاکہ تجھے بخوبی ان کی پہچان ہو۔ پھر ان کو ذبح کر کے ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر جو اس وقت تیرے ارد گرد ہیں رکھ دے پھر ان کو بلا تو دیکھ کہ وہ فوراً تیرے پاس اللہ کے حکم سے بھاگتے ہوئے آویں گے اور بخوبی جان رکھ کہ اللہ تعالیٰ بڑا زبردست حکمت والا ہے کسی کام کے کرنے سے عاجز نہیں۔

(شان نزول مشرکین عرب قیامت کو مردوں کے زندہ ہونے کے سخت مخالف تھے ، اور اس کو ایسا مشکل محال جانتے تھے جیسا کہ سیاہ اور سفید کا ایک جگہ جمع ہونا ان کو سمجھانے کی خاطر حضرت ابراہیم (جن کو وہ لوگ بھی اپنا مقتدا مانتے تھے ) کا واقع نقل کرنے کو یہ آیت نازل ہوئی ۱۲ منہ )

عام طور پر اس آیت کا مطلب یہی بتایا جاتا ہے مگر تدقیق نظر سے ان معنے کا ثبوت قرآن مجید کے لفظوں سے نہیں ہوتا قرآنی عبارت میں دو لفظ قابل غور ہیں (۱) صُر اس کے اصلی معنے ہیں جھکا چنانچہ تفسیر معالم وغیرہ میں اس کا ترجمہ اَمِل کیا گیا ہے اور شاہ عبدالقادر دہلوی نے بھی یہی ترجمہ کیا ہے۔ دوسرا لفظ جزو ہے جب وہ ایک چیز کی طرف نسبت ہوتا ہے تو اس چیز کا ایک ٹکڑا مراد ہوتا ہے اور جب کسی جمع کی طرف مضاف ہوتا ہے تو اس جمع میں سے ایک فرد مراد ہوتا ہے جیسے کہیں یہ لڑکا دسویں جماعت کا جزو ہے قرآن مجید میں بھی جزء مقسوم انہیں معنے سے آیا ہے پس اس صورت میں معنے آیت کے یہ ہوئے کہ ان چار جانوروں کو اپنی طرف مائل کر پھر ان میں سے ایک ایک کو پہاڑ پر رکھ کر بلا تیرے پاس آ جاویں گے تو اس سے سمجھ لے گا کہ جس طرح یہ وحشی جانور تیرے بلانے پر آ گئے ہیں اللہ کے بلانے پر سب مردہ چیزیں زندہ ہو جاویں گی انشاء اللہ تعالیٰ منہ ۔

 

(261۔ 266)

 

اس کے تمام کام با حکمت ہیں جو احکام لوگوں کی طرف بھیجتا ہے ان میں بھی صد ہا حکمتیں ہوتی ہیں مگر ان حکمتوں کو پورے طور سے وہ خود ہی جانتا ہے کسی کو غریب کر کے صبر کا حکم دیتا ہے اور کسی کو امیر بنا کر اس کو خرچ کا حکم دیتا ہے۔ اور مثال کے لئے بتلاتا ہے کہ جو لوگ ! اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں اور غریبوں کو حاجت کے موافق دیتے ہیں ان کے خرچ کی مثال ایک دانہ کی طرح ہے جس سے سات بالیں نکلیں۔ ہر بال میں ایک سو دانہ ہے بتلاؤ تو اس کسان کو کتنا بڑا فائدہ ہو گا کہ ایک دانہ کے سات سو دانہ ہو گئے

” حضرت عثمان (رض) نے جنگ تبوک کے دنوں میں (جو نہایت تنگی کے زمانہ میں ہوئی تھی) ایک ہزار اونٹ معہ سازو سامان کے دے دئیے اور حضرت عبدالرحمن بن عوف نے چار ہزار درہم نقد دیئے ان دونوں صاحبوں کے حق میں نازل ہوئی ۱۲ف مگر افسوس کہ ایسے بزرگوں کی نسبت بھی نادانوں کی آنکھ کا تنکا ابھی باقی ہے ع

گدر خانہ اگر کس ست یک حرف بس ست (۱۲ منہ)

اسی طرح جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کو بھی ایک پیسہ کے ساتھ سو پیسے ملیں گے اور اس سے بھی زائد جس کے لئے اللہ چاہے گا زیادہ کرے گا اور اس کے اخلاص کے موافق اس کو بدلہ دے گا اس کے ہاں کسی طرح کی کمی نہیں اللہ بڑا فراخی والا بڑا جواد سب کے اخلاص کو جاننے والا ہے۔ پس سود خواروں کو اطلاع ہو کہ اگر اپنی دولت سے واقعی نفع اٹھانا چاہیں تو اللہ سے معاملہ کریں اس کی صورت یہ ہے کہ غربا پر رحم کریں اور جہاں تک ہو سکے ان کی حاجت برآری میں ساعی ہوں اور نہیں تو کم از کم اتنا تو کریں کہ ان پر ظلم زیادتی سے ہاتھ صاف کریں اور یہ بھی ضروری ہے کہ اگر غربا پر کچھ احسان کریں تو بعد احسان کرنے کے ان پر کسی قسم کا بیجا دباؤ یا طعنہ نہ کریں۔ اس لئے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں اور بعد خرچنے کے نہ احسان جتلاتے ہیں نہ کسی قسم کی تکلیف پہنچاتے ہیں ان ہی لوگوں کے خرچ کا بدلہ اللہ کے پاس ہے جہاں سے ان کو نہ ضائع ہونے کا خوف ہو گا اور نہ کسی قسم کے نقصان سے وہ غمناک ہوں گے سچ پوچھو تو محتاجوں سے اچھی طرح نرمی سے بولنا۔ اور معاف کرو کہہ کر واپس کر دینا اور اگر مسائل بدزبانی کرے تو اس کی بدزبانی کو معاف کر دینا بہتر ہے اس خیرات دینے سے جس کے دینے کے بعد تکلیف پہنچے اور احسان جتلایا جائے اس لئے کہ اس کا کسی قدر اللہ کے ہاں بدلہ بھی ہے مگر اس صدقہ خیرات کا عوض کچھ نہیں کیونکہ اللہ ایسے صدقات لینے سے بے پرواہ ہے بلکہ ایسے صدقہ دینے والے مستوجب سزا ہیں مگر اللہ بڑا برد بار حوصلہ والا ہے جو ان کی عذاب رسانی میں جلدی نہیں کرتا اس لئے ہم عام اعلان دیتے ہیں کہ مسلمانو ! اپنی خیرات احسان جتلانے اور تکلیف پہنچانے سے ضائع مت کیا کرو اس شخص کی طرح جو لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے کہ انہیں سے شاباش سنوں اور اللہ کو جزا سزا کا گویا مالک نہیں مانتا اور قیامت کے دن پر یقین نہیں رکھتا جس کی وجہ سے اس کے تمام صدقات ضائع ہو جاتے ہیں پس اس کے خرچ کی مثال ایک پتھر کی سی ہے جس پر کچھ مٹی ہو اور اس مٹی کی وجہ سے اس پر کچھ روئیدگی بھی ہو۔ پھر اس پر بڑے زور کا مینہ برس کر اس کو بالکل صاف مصفیٰ کر چھوڑے اسی طرح ان کا حال ہے جو لوگوں کو دکھانے کی غرض سے خرچ کرتے ہیں کہ ان کو مال کے خرچ کرنے سے کچھ بھلائی کی امید ہوتی ہے جیسے کہ پتھر کو دیکھ کر کسان کو۔ مگر اس پر ان کا ریا جو مثل زور دار مینہ کے آ پڑتا ہے بالکل ہی اس کو صاف کر جاتا ہے یہاں تک کہ اپنی کمائی میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ سب کاسب ضائع کر بیٹھتے ہیں مگر اتنا نہیں سمجھتے کہ لوگوں کو خوش کرتے ہم کیا لیں گے کوئی ایک آدھ گھڑی اگر خوش بھی ہوا اور اچھا بھی کہہ گیا تو اور کیا اور جو نہ کہہ گیا تو کیا مخلوق کی اتنی ہی شاباش کے لئے حقیقی مالک کی دائمی جزا سے محروم رہنا عقلمندی نہیں مگر غور نہیں کرتے اور اللہ بھی ایسے بے ایمان کافروں کو ہدایت نہیں کرتا یہ ان کے جی میں ڈالتا ہی نہیں کہ بھلا کس جانب ہے اور جو لوگ اپنے مال محض اللہ کی خوشی حاصل کرنے اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پر اپنے نفسوں کو مضبوط کرنے کو خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کی تشبیہ ایک باغ کی سی ہے جو کسی میدان صاف کی نرم زمین میں ہو جہاں زور کی بارش پہنچنے سے وہ باغ دوسروں کی نسبت دوگنا پھل لادے پھر اگر گاہے اس باغ پر گاہے بارش نہ بھی ہو تو بھی بوجہ اس کی نرمائش زمین کے شبنم ہی کافی ہے اسی طرح ان کا حال ہے کہ ان کے خرچ کا بدلہ بھی جس قدر ملنا چاہئے تھا ان کے اخلاص کی وجہ سے اس سے بھی دو گنا ملے گا اور اگر کبھی ایسے مخلص لوگ نامناسب جگہ جان کر نہ بھی دیں تو اس کا بدلہ بھی ان کو ضرور ہی ملے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو دیکھتا ہے جس نیت سے کرتے ہو اس کے موافق بدلہ دے گا۔ حاصل یہ کہ اخلاص مندی سے دیا ہوا ہی کام آتا ہے ریا کاری تو ایسی بری بلا ہے کہ بھرے گھر کو تباہ کرنے والی ہوتی ہے پھر تم ریا کر کے کیا کر لو گے کیا کوئی تم میں سے یہ چاہتا ہے کہ اس کا ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا ہو۔ جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور اس باغ میں اس کے لئے ہرقسم کے میوہ جات بھی ہوں اور وہ خود عمر رسیدہ اور ضعیف ہو اور ساتھ ہی اس کے بچے بھی چھوٹے چھوٹے قابل پرورش ہوں پس ایسے نازک وقت میں اس باغ کو (جو سب اثاث البیت اس کا تھا اور اس پر اس کے سارے امور موقوف تھے ) ایک لوکا جھوکا چل جائے جس میں آگ کی مانند گرمی ہو۔ پس وہ باغ اس گرم ہو اسے جل جائے بتلاؤ کہ کوئی شخص بھی ایسی مصیبت کو اپنے پر لینا چاہتا ہے ؟ کہ عین حاجت شدید کے وقت پھر وہ حاجت بھی نہ صرف ذاتی بلکہ اپنے جملہ ضعفا کی بھی ساتھ ہی ہو پس ایسا ہی جان لو کہ اس حاجت سے (جس کا کسی قدر نقشہ تمہیں بتلایا ہے ) بھی بڑھ کر ایک سخت حاجت تم پر آنے والی ہے جس میں تم اپنے خرچ کئے ہوئے مالوں کے اس ضعیف العمر سے بھی زیادہ محتاج ہو گے اگر ان میں ریاکاری یا محتاجوں کو دیکھ کر احسان جتلانا یا کسی قسم کی تکلیف پہنچانا مخلوط ہو گا تو سب کے سب اپنے ہاتھ سے دیے ہوئے مال مثل اس باغ کے راکھ ہوئے دیکھو گے اسی طرح اللہ کھول کھول کر احکام بتلاتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو اور مضر سے بچ کر مفید کی طرف آؤ۔

 

(267۔ 284)

 

تمہارے ہی فائدہ کو بتلاتا ہے کہ مسلمانو ! اپنی کمائی میں سے عمدہ عمدہ چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کیا کرو اور اس میں سے بھی دو جو ہم تمہارے لئے زمین سے نکالتے ہیں اور یہ سمجھ کر کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کا دیا ہوا ہے اسی نے ہمارے لئے زمین سے پیدا کیا ہے اس میں سے گندی چیز کے دینے کا قصد نہ کیا کرو۔ کیا ایسی گندی چیز اللہ کی راہ میں دیتے ہو۔ حالانکہ اگر تم کو کوئی دے تو خود اسے نہیں لیتے ہو ہاں جب قصداً اس سے چشم پوشی کر جاؤ اور بوجہ ناداری مقروض یا اپنی ضروری حاجت کے وہی معیوب لے لو تو اور بات ہے مگر اللہ تعالیٰ کو نہ تو حاجت ہے کہ خواہ مخواہ یہی قبول کرے اور نہ تمہارے فقر فاقہ کی اسے پرواہ کہ اپنے حق کے ضائع ہونے سے ڈرے ایسے خیالات فاسدہ کو دل میں نہ آنے دو اور یقیناً جانو کہ اللہ تمہارے مال متاع اور خرچ ورچ سے بالکل بے نیاز اور اپنی ذات میں تعریف والا ہے تم نے کیا سمجھا کہ وہ تمہارے مالوں کا محتاج ہے ہرگز نہیں۔ وہ تو تمہارے ہی بھلے کو کہتا ہے۔ اگر بھلائی چاہتے ہو تو فوراً خرچ کرو۔ ورنہ شیطان تمہارا دشمن قدیم تمہارے پیچھے لگا ہوا ہے وہ ہر وقت تم کو فقر فاقہ سے ڈراتا ہے کہ اگر کار خیر میں خرچ کرو گے تو تمہاری فلاں حاجت رک جائے گی۔ بیٹے بیٹی کی شادی پر تمہیں اتنا روپیہ چاہیے۔ اور برے کاموں اور بے حیائی کے طریق بتلاتا ہے ہمیشہ شراب نوشی کراتا ہے رنڈیوں کا ناچ دکھلاتا ہے۔

( ہمارے زمانہ کے امراء اس آیت کو بغور دیکھیں جن کی امیری سے بجز رنڈیوں اور شراب فروشوں کے کسی کو فیض نہیں ۱۲ منہ )

اور اللہ تو باوجود اس کے کہ سب کچھ اسی کا دیا ہوا ہے پھر بھی تمہیں اس کے خرچ کرنے پر اپنی بخشش اور فراخی کا وعدہ دیتا ہے اور اللہ بڑی ہی وسعت والا اور جاننے والا ہے جس کو چاہے سمجھ اور تہذیب دے دیتا ہے جس سے وہ اپنے آپ کو پہچان کر اللہ سے اپنی نسبت جان جاتا ہے اور جسے اس امر کی سمجھ ملے کہ میں کیا ہوں اور اللہ کا کہاں تک محتاج ہوں اور اس سے میری نسبت کیا ہے سچ جانو کہ اسے تو بہت سے بھلائی مل گئی مگر اس بات کو سوائے کا مل عقل والوں کے کوئی نہیں سمجھتا اور کوتاہ اندیشوں کا خیال اس کے برخلاف ہے۔ وہ بھلائی دولت کا نام رکھتی ہیں حالانکہ دولت کوئی عزت یا دانائی کی موجب نہیں بہت سے دولت مند ایسے احمق ہیں کہ قطع نظر ان کی دولت مندی کے کوئی ان کی بات سننے کو بھی پسند نہیں کرتا۔ اور بہت سے امیر اپنی بدکرداری اور بخل کی وجہ سے ہر ایک نظر میں حقیر اور ذلیل ہوتے ہیں کیا تم نہیں جانتے کہ جو کچھ تم بخوشی خاطر اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو یا بوقت ضرورت اللہ کے لئے کوئی نذر اپنے ذمہ مانتے ہو۔ تو سب کی جزا موافق تمہاری نیت کے ملے گی اس لئے کہ اللہ اس کو خوب جانتا ہے اور جو لوگ دیتے ہوئے ریا کو داخل کرتے ہیں ایسے ظالموں کو سخت سزا ملے گی اور ان کا کوئی حمایتی نہیں ہو گا جو ان کو اللہ کی پکڑسے بچاس کے جب ہی تو تمہیں حکم دیا جاتا ہے کہ اخلاص مندی سے خرچ کرو چاہے تھوڑا کرو اگر بہ نیت اخلاص ظاہر کر کے خیرات دو گے تو بھی بہتر ہے اور اگر چھپا کر فقراء کو بانٹو گے تو وہ بہت ہی بہتر ہے اس لئے کہ چھپانے میں بہ نسبت اظہار کے ریا کو دخل کم ہے غرض ریا سے بچو گے تو اللہ تمہارے صدقات قبول کرے گا اور اللہ تمہارے گناہ دور کرے گا اس لئے کہ اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے جیسا کرو گے ویسا بھرو گے تو اے رسول سچی راہ بتلا دے اور خرچ کرنے کے طریق سکھا دے یہ تیرے ذمہ نہیں کہ ان کو راہ رست پر لاوے لیکن اللہ جس کو چاہے سیدھی راہ پر لے آتا ہے۔ ہر ایک کام کی سمجھ دے دیتا ہے کہ اسلام کیا ہے۔ صدقات خیرات کا کیا ڈھب ہے۔ اور تو یہ بھی بتلا دے کہ جو مال تم خرچ کرتے ہو سو تمہارے ہی لئے ہے اور مناسب نہیں کہ اللہ کی خوشی حاصل کرنے کے سوا کسی اور غرض سے خرچ کرو۔ اور اس طریق سے جو مال خرچ کرو گے اس کا بدلہ تم کو پورا ملے گا اور تمہارا کچھ بھی نقصان نہ ہو گا۔ جیسا کہ دینے میں اخلاص نیت ضروری ہے ایسا ہی مصرف کی تلاش بھی لازم ہے یعنی یہ بھی دیکھا کرو کہ کسی کو دیں ایسا نہ ہو کہ تم اخلاص سے دو مگر لینے والا اس کا مستحق نہ ہو جس سے مستحق کی حق تلفی لازم آوے اس لئے ہم ہی بتلائے دیتے ہیں کہ اس خرچ کے زیادہ حقدار کون ہیں ان محتاجوں کو دو جو اللہ کی راہ میں علم دینی پڑھنے کی وجہ سے بند ہو رہے ہیں۔ باوجود حوائج ضروریہ کے دین خدمت کے خاطر ایسے ہو رہے ہیں کہ زمین میں سفر نہیں کر سکتے۔ ناواقف لوگ ان کو نہ مانگنے سے مالدار جانتے ہیں مگر تو اور تیرے جیسا دانا ان کے چہرے سے ان کو پہچان لیتی ہے ہر ایک کا کام نہیں کہ ان کو پہچانے اس لئے کہ وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے پس ایسے لوگوں کی خاطر جہاں تک ہو سکے مقدم سمجھو اور سن رکھو کہ جو مال خرچ کرو گے تو اس کا بدلہ ضرور ہی پاؤ گے اس لیے کہ اللہ اس کو پورے طور سے جانتا ہے۔ پس جو لوگ اللہ کے احکام سنتے ہیں ان کی تعمیل کرنے کو شبو روز پوشیدہ اور ظاہر اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کا بدلہ ان کے رب خداوند عالم کے ہاں موجود ہے جہاں سے نہ ان کو تلف ہونے کا خوف ہے اور نہ ضائع ہونے سے غمناک ہوں گے اس لئے ضائع ہی نہ ہو گا۔ بلکہ کل کا کل محفوظ رہے گا۔

(شان نزول :۔ پہلی آیت کو سن کر حضرت علی اور عبدالرحمن بن عوف (رض) نے رات کو چھپا کر اللہ کی راہ میں مال خرچ کئے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ منہ ”

یہ تو ان کا حال ہے جو بغرض تعمیل احکام خداوندی اپنے مال خرچ کرتے ہیں اور ان کے مقابل جو لوگ بجائے فیض رسانی کے بوقت ضرورت حاجتمندوں کو قرض دے کر بجائے فیض رسائی کے قرض پر ان سے سود لے کر کھاتے ہیں قیامت میں سخت ذلیل ہوں گے نشانی ان کی یہ ہو گی کہ قبروں سے اٹھتے ہوئے مخبوط الحواسوں کی طرح جنہیں کسی بھوت نے چھوا ہو اہو اٹھیں گے۔

(شان نزول :۔ عرب کے مال دار لوگ عوام سے بے تحاشا سود لیتے تھے جیسا کہ ہمارے ملک کے ظالم بنئے سو سے ہزار تک نوبت پہنچاتے ہیں اس قسم کی کارروائی عام اخلاق سے بھی مخالف ہے ان کے روکنے کو یہ آیت نازل ہوئی۔ علاوہ اس ممانعت کے امیروں پر غربا پروری کے لئے زکوٰۃ بیل فرض کر دی گئی ہے۔ مخالفین اس رحم کو غور سے دیکھیں ۱۲ منہ )

یہ بری حالت ان کی اس لئے ہو گی کہ وہ دنیا میں اپنی نفسانی خواہش میں پھنس کر بغرض طیب قلبی کہا کرتے تھے کہ تجارت اور سود ایک سے ہیں حالانکہ ان میں بہت فرق ہے۔ جب ہی تو اللہ نے تجارت کو جائز کیا اور سود کو حرام۔ پس جس کے پاس ہدایت خداوندی پہنچ گئی اور وہ اس فعل شنیع سود خوری سے باز رہا تو جو کچھ اسے پہلے وصول ہوا اسی کا ہے اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد چاہے عذاب کرے چاہے چھوڑ دے اور جو لوگ بعد سننے نصیحت کے پھر وہی فعل سود خوری کریں گے تو یہی آگ کے لائق ہوں گے۔ جس میں وہ ہمیشہ تک رہیں گے۔ سود خوری تو اس قدر مذموم ہے کہ اللہ سود کو ہمیشہ گھٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سود خور ایسا ممسک ہوتا ہے کہ کسی سے بلا عوض احسان کرنا نہیں چاہتا اور مثل تن گدستوں کے ہمیشہ منہ تاکتا رہ جاتا ہے گیا وسعت ہی نہیں رکھتا کہ اپنے مال سے کچھ بہرہ ور ہو۔ اور جو صدقات اور احسان کرنے کے خو گیر ہوں ان کے حوصلے فراخ اور بلند خیالات ہوں ہر کار خیر سے وہ حصہ لیں۔ کیا تم نہیں سنا۔

سخیاں زا موال برمیخورن

بخیلاں غم سیم وزر میخورند

علاوہ اس ذلت اور خواری کے جو سودخوروں کو دنیا میں نصیب ہے اللہ تعالیٰ کی جناب میں ناشکروں کے دفتر میں لکھے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو ناشکرے بدکار کسی طرح نہیں بھاتے سچ پوچھو تو ان کا ایمان بھی درست نہیں ورنہ جو لوگ پکے مؤمن ہیں اور عمل بھی نیک کرتے ہیں لوگوں سے احسان بھی کرتے ہیں اور نماز با جماعت وقت پر پڑھتے ہیں اور مالداری کی صورت میں زکوٰۃ بھی دیتے ہیں بے شک ان کا بدلہ ان کے رب خداوند عالم کے ہاں محفوظ ہے نہ ان کو ضائع ہونے کا خوف ہے اور نہ وہ اس کی گم ہونے پر غمناک ہوں گے پس مسلمانو ! تم اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور بقایا سود کا چھوڑ دو اگر تم سچے دل سے مؤمن ہو۔ پھر اگر بعد سننے کے بھی نہ کرو گے اور آئندہ کو سود ہی لیتے رہو گے تو اللہ اور رسول کی لڑائی کے لئے خبردار ہو جاؤ اس لئے کہ باوجود تاکید شدید کے نہ ماننا گویا مقابلہ کرنا ہے پس جب تمہاری یہ حالت ہے تو اللہ تعالیٰ بھی تم سے اسی کے مناسب معاملہ کرے گا۔ اور اگر باز آؤ تو تمہارے اصلی مال تم کو مل جائیں گے نہ کسی پر ظلم کرو۔ نہ تم پر ظلم ہو گا۔

(شان نزول :۔ حضرت عباس اور عثمان (رض) نے کسی کسان سے کچھ معاملہ کیا تھا۔ جب کھیتی کٹنے کا وقت آیا تو کسان بولا کہ اگر تم اپنا سارا حق لے لو گے تو میرے کھانے کو بھی کچھ نہ رہے گا نصف لے لو اور نصف کے بدلے آئندہ کو میں تمہیں دگنا دوں گا۔ جب دوسرا موسم آیا اور انہوں نے جب وعدہ زیادہ چاہا تو یہ معاملہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی خدمت شریف میں پہنچا۔ تا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ان دونوں بزرگوں نے سنتے ہی اس حکم کی تعمیل کی ۱۲م بیشک بڑوں کی بڑی باتیں ہیں ۱۲ منہ)”

اپنے حقوق اصلی بیشک پورے لو۔ ہاں، لینے میں ایسی تنگی نہ کرو کہ خواہ مخواہ اس کے گلے پر چھری رکھ دو۔ نہیں آرام سے لو اور اگر (مقروض) تنگدست ہے تو فراخی تک اس کو ڈھیل دینا چاہئے۔ اور اگر بالکل معافی کے قابل ہو تو معاف کرنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے اگر جانتے ہو تو ایسا ہی کرو اور حیلے کرتے ہوئے اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف پھرو گے پھر ہر ایک جان کو اس کی مزدوری پوری ملے گی اور ان کا کسی طرح سے نقصان نہ ہو گا اسی ظلم سے بچانے کو ہم اعلان دیتے ہیں کہ مسلمانو ! جب تم ایک مدت مقررہ تک قرض پر معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو۔ آپ ہی نہ لکھو بلکہ کوئی کہنے والا تم میں انصاف سے لکھے اور لکھنے والا حیلے بہانہ سے رکے نہیں۔ کہ میرا خط اچھا نہیں۔ یا مجھے کچھ کام ہے جیسا اللہ نے اس کو سکھایا ہے لکھنے سے انکار نہ کرے پس یہ سمجھ کر کہ اللہ نے مجھ کو محض اپنی مہربانی سے سکھایا ہے ضرور لکھے اور جس پر قرض ہے وہ بیان کرتا جائے اور بتلاتا ہوا اللہ سے ڈرے جو اس کا رب اور کارساز ہے اور اس کے حق میں سے کوئی چیز کم نہ کرے ہاں اگر مقروض ناسمجھ ہو کہ جانتا ہی نہیں کہ سو اور پچاس میں کیا فرق ہے۔ یا بہت ہی بوڑھایا ناتواں ہے یا کسی مانع سے بتلا نہیں سکتا۔ تو ان سب صورتوں میں اس کا متولی انصاف سے بتلاتا جائے اور بعد تحریر کاغذ دو مردوں کو گواہ بنایا کرو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دوعورتیں جو بوجہ دینداری کے تمہاری پسندیدہ گواہوں سے ہوں۔ مقرر کرو۔ تاکہ ایک کے بھولتے وقت دوسری اسے یاددلا دے اس لئے کہ عورتوں میں عموماً نسیان غالب اور حافظہ مغلوب ہوتا ہے اور مقرر کدہ گواہ بلاتے وقت انکار نہ کریں اور مدت مقررہ تک لکھنے میں سستی نہ کیا کرو چھوٹا ہو خواہ بڑا۔ یہ لکھنا اللہ کے ہاں بہت انصاف کی بات ہے اور بڑا مضبوط ذریعہ شہادت یاد رکھنے کا ہے اور اس سے امید ہے کہ تم بروقت ادائے شہادت شک میں نہ پڑو گے۔ ہاں جبکہ معاملہ دست بدست ہو جس کو اسی وقت ہاتھ بہ ہاتھ لیتے دیتے ہو تو اس کے نہ لکھنے میں تمہیں گناہ نہیں۔ اور خاص خاص صورتوں میں خریدو فروخت کرتے ہوئے گواہ مقرر کر لیا کرو سنو ! اس قسم کے معاملات میں نہ محرر کو نقصان پہنچا یا جائے اور نہ گواہ کو کہ خواہ مخواہ موقع بے موقع ان کو کھینچتے پھرو جس سے ان کا نقصان ہو اور اگر اس کام میں اس کا قدرے نقصان ہو تو اس کا ان کو عوض دیا کرو اگر ایسا کرو گے یعنی محرر اور کاتب کا نقصان کرو گے اور ان کا ہرجانہ ان کو نہ دو گے تو یہ تمہارے حق میں گناہ کی بات ہو گی ایسا مت کرنا اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ تم پر مہربان ہے اور تمہارے بھلے کی باتیں تم کو سکھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ بعد سکھانے کے غافل اور بے خبر نہیں بلکہ ہر چیز کو جانتا ہے۔

(شان نزول :۔ معاملہ صفا رکھنے کو یہ آیت نازل ہوئی۔ ۱۲ منہ )

اور اگر تم سفر میں ہو اور محرر نہ پاؤ تو اپنی کوئی چیز قرض خواہ کے ہاتھ میں بغیر سود گرو دے دیا کرو ہاں اگر کوئی شخص کسی کو معتبر جانے اور اس سے کوئی چیز گرو نہ لے تو وہ معتبر اپنے قرضہ کو ضرور ادا کر دے اور اس کی حق تلفی میں اللہ سے ڈرے جو اس کا مالک ہے اگر کسی قسم کی بددیانتی کرے گا تو گویا اپنے مالک سے بگاڑے گا جس کا نتیجہ اس کے حق میں اچھا نہ ہو گا۔ اور اگر تم کسی معاملہ میں گواہ ہو تو گواہی نہ چھپاؤ جو کوئی اس کو چھپائے گا خواہ کسی غرض سے چھپاوے تو جان لو کہ اس کا دل بگڑا ہوا ہے اس کی سزا پائے گا۔ کیونکہ اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے اس کا علم نہایت وسیع ہے اس لئے کہ اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں ! اور زمینوں میں ہے جبکہ ملک اتنا وسیع ہے تو علم بھی وسیع کیوں نہ ہو پس تم یہ سمجھ کر کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے ظاہر و باطن گنا چھوڑ دو اور اگر تم اپنے جی کی بات ظاہر ہو کر کرو گے یا پوشیدہ اس کو کرو گے تو ہر حال میں اللہ تم سے اس کا حساب لے گا پھر جس کو چاہے گا بخشے گا اور جس کو چاہے گا عذاب کرے گا۔ نہ ہو گا کہ کسی قوی اور زبردست سے دب جائے کیونکہ اس سے تو کوئی زبردست ہی نہیں۔ اس لئے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے جیسا کہ اللہ اپنی صفات خداوندی میں کامل اور یکتا ہے اسی طرح بعض بندے بھی اپنی صفات بندگی میں کامل ہیں جو حکم ان کو پہنچے خواہ ان کی طبیعت کے مخالف ہو یا موافق سب کو تسلیم کرتے ہیں۔

(شان نزول :۔ معاملہ سابقہ کی تاکید کرنے کو کہ انصاف سے کرو اور کسی کی جانبداری نہ کرو۔ یہ آیت نازل ہوئی۔ (منہ)۔

 

(285۔ 286)

 

چنانچہ یہ رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور اس کے ساتھ والے مسلمان کیسے اپنے اللہ کی اتاری ہوئی باتوں کو مان گئے۔ گو ان کی سمجھ میں نہ آئی لیکن انہوں نے فہم پر تسلیم کو مقدم رکھا پس سب کے سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر یقین لائے اور بولے کہ ہم اللہ کے کسی رسول کے ماننے میں فرق نہیں کریں گے۔ کہ یہود نصاریٰ کی طرح بعض کو مانیں اور بعض سے انکاری ہوں۔ اور یہ بھی بولے کہ حکم ہم کو ہوا ہم نے دل لگا کرسنا اور قبول کر کے اس کی اطاعت کی اگر اس میں ہم سے غلطی ہو جائے تو اے ہمارے اللہ ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اور اس امر کا اقرار کرتے ہیں کہ مر کر تیری طرف پھرنا ہے اللہ کی طرف سے بھی ایسے نیک بندوں کی دعا قبول ہوئی اس لئے اللہ کسی کو طاقت اس کی سے بڑھ کر حکم نہیں دیتا۔

(شان نزول :۔ پہلی آیت جس میں اِن تُبدُوا ہے اس کے ظاہری معنی تھے کہ اگر تم اپنے جی کی بات کو چھپاؤ گے تو بھی عذاب ہو گا اس سے صحابہ کو رنج اور بیقراری ہوئی اور عرض کیا کہ اگر ہمارے دلوں کے خیالات فاسدہ پر بھی ہمیں سزا ملی تو پھر ہمارا کیا حال ہو گا دل میں تو خیالات ہر طرح کے بلا اختیار آ جاتے ہیں آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی طرح گھبراؤ نہیں بلکہ جو حکم آئے اس کو تسلیم کرو اللہ علیمو حکیم ہے کوئی مناسب حکم اتارے گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتے جو غلط خیالات تمہارے دل میں بلا اختیار پیدا ہوتے ہیں یا آئندہ کو ہوں گے ان پر تم کو پکڑ نہ ہو گی ۱۲ (ترمذی بتفصیل منہ)

بعد مناسب حکم دینے کے جو کچھ کوئی نیکی کرے وہ اسی کو ملے گی اور جو برائی کرے اس کا وبال بھی اسی پر ہو گا یہ سن کر بھی وہ مؤمن یہی کہتے رہے کہ ہمارے مولا ! نہ پکڑ ہم کو اگر ہم سے بھول چوک سے گناہ ہو جاوے اے ہمارے مولا ! نہ رکھ ہم پر بوجھ بھاری جیسا کہ رکھا تھا تو نے ہم سے پہلوں پر کہ ان کی توبہ قتل نفس سے ہوئی۔ اے ہمارے مولا ! ہم کو ایسے حکم نہ دیجیو جن کی ہم میں طاقت نہ ہو اے ہمارے مولا ! اور ہماری آرزو ہے کہ ہمارے قصور ہم سے درگزر کر اور ہم کو اپنی مہربانی سے بخش اور ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا والی ہے پس تو کافروں کی قوم پر (جو تیری توحید اور تیرے رسول کے ماننے کی وجہ سے ہمیں ستائیں ) ہم  کو فتح یاب کر۔

(اس آیت کے فضائل احادیث میں بہت ہیں۔ ایک حدیث میں جو مسلم نے روایت کی ہے مذکور ہے کہ ایک فرشتے نے آسمان سے آ کر حضرت اقدس کو مبارک باد دی کہ آپ کو دو چیزیں ایسی ملی ہیں کہ آپ سے پہلے کسی کو نہیں ملیں۔ وہ سورۃ فاتحہ اور سورۃ بقر کی اخیر کی آیتیں ہیں)۔

٭٭٭

ماخذ:

http://gegasoft.com/quran-reader/en/tafaseer/tafseer-sanai.html

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید