FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

ترجمہ و تفسیر قرآن

 

حصہ ۴: اعراف ، انفال، توبہ

 

                ترجمہ: حافظ نذر احمد

 

 

 

 

اس ترجمہ قرآن میں تحت اللفظ ترجمہ حافظ نذر احمد صاحب کے ’’ترجمہ قرآن‘‘ سے لیا گیا ہے، اور ہر سورۃ کا تعارف مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا آسان ترجمہ قرآن(توضیح القرآن)سے پیش کیا گیا ہے، قرآن کریم کی جو آیتیں بغیر تشریحات کے سمجھ میں آ جاتی ہیں وہاں تشریح کے بجائے صرف ترجمہ پر اکتفا کیا گیا ہے، اور جن آیتوں کو سمجھنے کے لئے تشریحات ضروری ہیں وہاں پر توضیح القرآن، معارف القرآن اور تفسیر عثمانی سے مختصر تشریح کی گئی ہے۔

 

 

 

 

 

۷۔سورۃ الاعراف

 

                تعارف

 

یہ سورت بھی مکی ہے ، اس کا بنیادی موضوع آنحضرتﷺ کی رسالت اور آخرت کو ثابت کرنا ہے ، اس کے ساتھ توحید کے دلائل بھی بیان ہوئے ہیں، اور متعدد انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات بھی تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں، خاص طور پر حضرت موسی علیہ السلام کے کوہ طور پر تشریف لے جانے کا واقعہ سب سے زیادہ مفصل طریقے پر اسی سورت میں آیا ہے ، اعراف کے لفظی معنی بلندیوں کے ہیں اور اصطلاح میں یہ اس جگہ کا نام ہے جو جنت اور دوزخ کے درمیان واقع ہے اور جن لوگوں کے اچھے اور برے اعمال برابر ہوں گے ان کو کچھ عرصے کے لئے یہاں رکھا جائے گا، پھر ان کے ایمان کی وجہ سے آخر کار وہ بھی جنت میں داخل ہو جائیں گے ،  چونکہ اسی سورت میں اعراف اور اس میں رکھے جانے والوں کا بیا ن تفصیل سے آیا ہے اس لئے اس کا نام سورۂ اعراف رکھا گیا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

مکیۃ

 

                آیات:۲۰۶  رکوعات:۲۴

 

اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے

 

الٓمّٓصٓ (۱) یہ کتاب تمہاری طرف نازل کی گئی ہے تواس سے تمہارے سینہ میں کوئی تنگی نہ ہو تاکہ تم اس (کے ذریعے ) سے ڈراؤ اور ایمان والوں کی لئے نصیحت ہے۔ (۲)

اس کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اور پیچھے نہ لگو اس کے سوا (اور ) رفیقوں کے ، بہت کم تم نصیحت قبول کرتے ہو۔ (۳)

تشریح:المص:سورۂ بقرہ کے شروع میں گزر چکا ہے کہ یہ علیحدہ علیحدہ حروف جو بہت سی سورتوں کے شروع میں آئے ہیں ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں اور ان کے ٹھیک ٹھیک معنی اللہ تعالی کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہیں اور ان کے معنی سمجھنے پر دین کی کوئی بات موقوف نہیں ہے۔

فَلَا يَكُنْ فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ :آپ کو یہ پریشانی نہیں ہونی چاہئے کہ اس کے مضامین کو آپ لوگوں سے کیسے منوائیں گے اور اگر لوگ نہ مانے تو کیا ہو گا ؟کیونکہ آپ کا فریضہ لوگوں کو ہوشیار اور خبردار کرنا ہے ان کے ماننے نہ ماننے کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور ہم نے کتنی ہی بستیاں ہلاک کیں پس ان پر ہمارا عذاب رات کو سوتے میں آیا یا دوپہر کو آرام کرتے۔ (۴)

پس ان کی پکار (اس کے سوا) نہ تھی جب ان پر آیا ہمارا عذاب تو انہوں نے کہا کہ بیشک ظالم ہمیں تھے۔ (۵)

تشریح: یعنی جب ان کے ظلم و عدوان اور کفر و عصیان کی حد ہو چکی، تو دنیا کی لذات و شہوات میں منہمک اور عذاب الہٰی سے بالکل بے فکر ہو کر خواب استراحت کے مزے لینے لگے کہ یکایک ہمارے عذاب نے آ دبوچا۔ پھر ہلاکت آفرینیوں کے اس دہشت ناک منظر اور ہنگامہ دارو گیر میں ساری طمطراق بھول گئے چاروں طرف سے اِنَّا کُنَّا ظَالِمِیْنَ کی چیخ پکار کے سوا کچھ سنائی نہ دیتا تھا۔ گویا اس وقت انہیں واضح ہوا اور اقرار کرنا پڑا کہ خدا کسی پر ظلم نہیں کرتا ہم خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

سوہم ان سے ضرور پوچھیں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے ، اور ہم رسولوں سے (بھی) ضرور پوچھیں گے۔ (۶)

تشریح: جن امتوں کی طرف پیغمبر مبعوث ہوئے ، ان سے سوال ہو گا مَاذَا اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ (تم نے ہمارے پیغمبروں کی دعوت کو کہاں تک قبول کیا تھا؟) اور خود پیغمبروں سے پوچھیں گے مَاذَا اُجِبْتُمْ (تم کو امت کی طرف سے کیا جواب ملا تھا؟) .

(تفسیرعثمانی)

 

البتہ ہم ان کو اپنے علم سے احوال سنا دیں گے اور ہم غائب نہ تھے۔ (۷)

تشریح: یعنی تمہارا کوئی جلیل و حقیر اور قلیل و کثیر عمل یا ظاہری و باطنی حال ہمارے علم سے غائب نہیں۔ ہم بلا توسط غیرے ذرہ ذرہ سے خبردار ہیں۔ اپنے اس علم ازلی محیط کے موافق سب اگلے پچھلے احوال تمہارے سامنے کھول کر رکھ دیں گے۔ ملائکۃ اللہ کے لکھے ہوئے اعمال نامے بھی علم الہٰی کے سرمو خلاف نہیں ہو سکتے ، ان کے ذریعہ سے اطلاع دینا محض ضابطہ کی مراعات اور نظام حکومت کا مظاہرہ ہے ، ورنہ خدا اپنے علم میں ان ذرائع کا (معاذاللہ) محتاج نہیں ہو سکتا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اس دن ( اعمال کا) وزن ہونا برحق ہے ، تو جن کی نیکیوں کے وزن بھاری ہوئے وہ فلاح (نجات) پانے والے ہیں۔ (۸)

اور جن کی (نیکیوں کے ) وزن ہلکے ہوئے تو وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کا نقصان کیا کیونکہ وہ ہماری آیتوں سے نا انصافی کرتے تھے۔ (۹)

تشریح:قیامت کے دن سب لوگوں کے اعمال کا وزن دیکھا جائے گا۔ جن کے اعمال قلبیہ و اعمال جوارح وزنی ہوں گے وہ کامیاب ہیں اور جن کا وزن ہلکا رہا وہ خسارہ میں رہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ”شخص کے عمل وزن کے موافق لکھے جاتے ہیں۔ ایک ہی کام ہے ، اگر اخلاص و محبت سے حکم شرعی کے موافق کیا۔ اور بر محل کیا، تو اس کا وزن بڑھ گیا اور دکھاوے کو یا رِیس کو کیا یا موافق حکم نہ کیا یا ٹھکانے پر نہ کیا تو وزن گھٹ گیا۔ آخرت میں وہ کاغذ تلیں گے جس کے نیک کام بھاری ہوئے تو برائیوں سے درگزر ہوا، اور ہلکے ہوئے تو پکڑا گیا” بعض علماء کا خیال ہے کہ اعمال جو اس وقت اعراض ہیں، وہاں اعیان کی صورت میں مجسد کر دیے جائیں گے۔ اور خود ان ہی اعمال کو تولا جائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارے اعمال تو غیر قارالذات اعراض ہیں جن کا ہر جزء وقوع میں آنے کے ساتھ ہی ساتھ معدوم ہوتا رہتا ہے۔ پھر ان کا جمع ہونا تلنا کیا معنی رکھتا ہے ؟ میں کہتا ہوں کہ گراموفون میں آجکل لمبی چوڑی تقریریں بند کی جاتی ہیں، کیا وہ تقریریں اعراض میں سے نہیں؟ جن کا ایک حرف ہماری زبان سے اس وقت ادا ہو سکتا ہے جب اس سے پہلا حرف نکل کر فنا ہو جائے پھر یہ تقریر کا سارا مجموعہ گراموفون میں کس طرح جمع ہو گیا؟ اسی سے سمجھ لو کہ جو خدا گراموفون کے موجد کا بھی موجد ہے اس کی قدرت سے کیا بعید ہے کہ ہمارے کل اعمال کے مکمل ریکارڈ تیار رکھے جس میں سے ایک شوشہ اور ذرہ بھی غائب نہ ہو۔ رہا ان کا وزن کیا جانا تو نصوص سے ہم کو اس قدر معلوم ہو چکا ہے کہ وزن ایسی میزان (ترازو) کے ذریعہ سے ہو گا جس میں کفتین اور لسان وغیرہ موجود ہیں لیکن وہ میزان اور اس کے دونوں پلے کس نوعیت و کیفیت کے ہوں گے اور اس سے وزن معلوم کرنے کا کیا طریقہ ہو گا؟ ان باتوں کا احاطہ کرنا ہماری عقول و افہام کی رسائی سے باہر ہے۔ اسی لئے ان کے جاننے کی ہمیں تکلیف نہیں دی گئی۔ بلکہ ایک میزان کیا اس عالم کی جتنی چیزیں ہیں بجز اس کے کہ ان کے نام ہم سن لیں اور ان کا کچھ اجمالی سا مفہوم جو قرآن و سنت نے بیان کر دیا ہو عقیدہ میں رکھیں، اس سے زائد تفصیلات پر مطلع ہونا ہماری حد پرواز سے خارج ہے۔ کیونکہ جن نوامیس و قوانین کے ما تحت اس عالم کا وجود اور نظم و نسق ہو گا، ان پر ہم اس عالم میں رہتے ہوئے کچھ دسترس نہیں پا سکتے۔ اسی دنیا کی میزانوں کو دیکھ لو کتنی قسم کی ہیں۔ ایک میزان وہ ہے جس سے سونا چاندی یا موتی تلتے ہیں۔ ایک میزان سے غلہ اور سوختہ وزن کیا جاتا ہے۔ ایک میزان عام ریلوے اسٹیشنوں پر ہوتی ہے جس سے مسافروں کا سامان تولتے ہیں۔ ان کے سوا ”مقیاس الہوا” یا ”مقیاس الحرارت” وغیرہ بھی ایک طرح کی میزانیں ہیں جن سے ہوا اور حرارت وغیرہ کے درجات معلوم ہوتے ہیں۔ تھرمامیٹر ہمارے بدن کی اندرونی حرارت کو جو اعراض میں سے ہے تول کر بتلاتا ہے کہ اس وقت ہمارے جسم میں اتنے ڈگری حرارت پائی جاتی ہے۔ جب دنیا میں بیسیوں قسم کی جسمانی میزانیں ہم مشاہدہ کرتے ہیں جن سے اعیان و اعراض کے اوزان و درجات کا تفاوت معلوم ہوتا ہے تو اس قادر مطلق کے لئے کیا مشکل ہے کہ ایک ایسی حسّی میزان قائم کر دے جس سے ہمارے اعمال کے اوزان و درجات کا تفاوت صورۃً و حسّاً ظاہر ہوتا ہو۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور بیشک ہم نے تمہیں زمین میں ٹھکانہ دیا اور ہم نے اس میں تمہارے لئے زندگی کے سامان بنائے تم بہت کم ہو جو شکر کرتے ہو۔ (۱۰)

تشریح:یہاں سے بعض آیات آفاقیہ و انفسیہ کا بیان شروع کیا ہے جس سے ایک طرف حق تعالیٰ کے وجود پر کارخانہ عالم کے حکیمانہ نظم ونسق سے استدلال اور احسانات و انعامات الہٰیہ کا تذکرہ فرما کر اس کی شکر گذاری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور دوسری طرف نبوت کی ضرورت انبیاء علیہم السلام کی آمد، ان کی سیرت، ان کے متبعین و مخالفین کا انجام جو اس سورت کا اصلی موضوع معلوم ہوتا ہے ، اس کے بیان کے لئے یہ آیات بطور توطیہ و تمہید کے مقدم کی گئی ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور البتہ ہم نے تمہیں پیدا کیا اور پھر ہم نے تمہاری شکل و صورت بنائی پھر ہم نے فرشتوں کو کہا آدمؑ کو سجدہ کرو، تو انہوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیں کے ، وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہ تھا۔ (۱۱)

اس نے فرمایا جب میں نے تجھے حکم دیا تو تجھے کس نے منع کیا کہ تو سجدہ نہ کرے وہ بولا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔ (۱۲)

تشریح:اگرچہ براہ راست سجدے کا حکم فرشتوں کو دیا گیا تھا مگر اس میں تمام جاندار مخلوقات بھی شامل تھیں لہذا ابلیس جو جنات میں سے تھا اس پر بھی اس حکم کی تعمیل لازم تھی لیکن جیسا کہ خود قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے وہ اللہ تعالی سے کہنے لگا کہ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے اس لئے میں اس سے افضل ہوں میں اسے کیوں سجدہ کروں، اس واقعہ سے دو سبق ملتے ہیں ایک یہ کہ اپنے آپ کو بذات خود دوسروں سے بڑا سمجھنا اور اپنی بڑائی بگھارنا کتنا بڑا گناہ ہے اور دوسرا سبق یہ کہ جب اللہ تعالی کی طرف سے کوئی واضح حکم آ جائے تو بندے کا کام یہ ہے کہ اس حکم کو دل و جان سے بجا لائے ، چاہے اس کی حکمت اور فائدہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔

(توضیح القرآن، سورۂ بقرہ، آیت نمبر:۳۴)

 

فرمایا پس تو یہاں سے اتر جا تیرے لئے (لائق) نہیں کہ تو غرور و تکبر کرے یہاں، پس نکل جا، بیشک تو ذلیلوں میں سے ہے۔ (۱۳)

تشریح: یعنی جنت میں یا آسمانوں پر خدا کی مخلوق رہ سکتی ہے جو خدا کی پوری مطیع و فرمانبردار ہو، نافرمان متکبروں کے لئے وہاں گنجائش نہیں، بہرحال ابلیس لعین عزت کے اس مقام سے جس پر کثرت عبادت وغیرہ کی وجہ سے اب تک فائز تھا، بڑا بول بولنے کی بدولت نیچے دھکیل دیا گیا (تنبیہ) ابلیس کے مدت دراز تک زُمرہ ملائکہ میں شامل رکھنے سے متنبہ کر دیا ہے کہ حق تعالیٰ نے مکلفین میں کسی کی فطرت حتیٰ کہ شیطان کی بھی ایسی نہیں بنائی کہ وہ صرف بدی کی طرف جانے کے لئے مجبور و مضطر ہو جائے بلکہ خبیث سے خبیث ہستی بھی اصل فطرت کے اعتبار سے اس کی صلاحیت رکھتی ہے کہ اپنے کسب و اختیار سے نیکی اور پرہیزگاری میں انتہائی ترقی کر کے زمرہ ملائکہ میں جا ملے۔

(تفسیرعثمانی)

 

وہ بولا مجھے اس دن تک مہلت دے (جس دن مردے ) اٹھائے جائیں گے (۱۴) فرمایا تو مہلت ملنے والوں میں سے ہے۔ (تجھے مہلت دی گئی)۔ (۱۵)

تشریح:شیطان نے درخواست تو یہ کی تھی کہ اس وقت تک اسے زندگی دی جائے جس دن حشر ہو گا اور دوسرے مردے زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ، یہاں اس درخواست کے جواب میں مہلت دینے کا ذکر ہے ،  لیکن یہ مہلت کب تک دی گئی ہے اس آیت میں یہ بات واضح طور پر بیان نہیں فرمائی گئی، سورۂ حجر (۱۴:۳۸) اور سورۂ ص (۲۳) میں بھی یہ واقعہ آیا ہے وہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ ایک معین وقت تک مہلت دی گئی ہے جس سے معلوم ہوا کہ اس کی درخواست کے مطابق روز حشر تک مہلت دینے کا وعدہ نہیں کیا گیا، بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ ایک معین وقت ہے جو اللہ تعالی کے علم میں ہے اس وقت تک مہلت دی گئی ہے ، دوسرے دلائل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیطان قیامت کا پہلا صور پھونکے جانے تک زندہ رہے گا، اور اس کے بعد جس طرح دوسری مخلوقات کو موت آئے گی اسے بھی موت آئے گی، پھر جب سب کو زندہ کیا جائے گا اسے بھی زندہ کیا جائے گا۔

(توضیح القرآن)

 

وہ بولا جیسے تو نے میرے گمراہ (ہونے کا فیصلہ) کیا ہے میں ضرور بیٹھوں گا ان کیلئے (گمراہ کرنے کے لئے ) تیرے سیدھے راستہ پر۔ (۱۶) پھر میں ان تک ضرور آؤں گا ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے اور تو ان میں اکثر کو شکر کرنے والے نہ پائے گا۔ (۱۷)

فرمایا یہاں سے نکل جا ذلیل مردود ہو کر ان میں سے جو تیرے پیچھے لگا البتہ میں ضرور جہنم کو بھر دوں گا تم سب سے۔ (۱۸)

تشریح:شیطان نے اپنی بد عملی کی ذمہ داری خود قبول کرنے کے بجائے (معاذاللہ) اللہ تعالی کی تقدیر پر ڈالنے کی کوشش کی، حالانکہ تقدیر کی وجہ سے کسی کا اختیار سلب نہیں ہوتا، تقدیر کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ فلاں شخص اپنے اختیار سے فلاں کام کرے گا، نیز اس کے کہنے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے اس کو ایک ایسا حکم ہی کیوں دیا جو اس کے لئے قابل قبول نہیں تھا اس لئے بالواسطہ اس کی گمراہی (معاذاللہ) اللہ تعالی کے اس حکم کی وجہ سے ہوئی۔

(تفسیرعثمانی)

 

اے آدم تم اور تمہاری بیوی (حوا) جنت میں رہو، پس کھاؤ جہاں سے تم چاہو اور اس درخت کے قریب نہ جانا (اگر ایسا کرو گے ) تو ظالموں سے ہو جاؤ گے۔ (۱۹)

تشریح: آدم و حوا کو اجازت تھی کہ بلا روک ٹوک جو چاہیں کھائیں پئیں۔ بجز ایک معین درخت کے جس کا کھانا ان کی بہشتی زندگی اور استعداد کے مناسب نہ تھا، اسے فرما دیا کہ اس کے پاس نہ جاؤ ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

پس وسوسہ ڈالا شیطان نے ان کیلئے (ان کے دل میں) تاکہ ان کے ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں ان کے لئے ظاہر کر دے اور بولا تمہارے رب نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا مگر اس لئے کہ (کہیں) تم فرشتے ہو جاؤ یا ہو جاؤ ہمیشہ رہنے والوں سے۔ (۲۰)

تشریح: آدم و حوا شیطان کی قسموں سے متاثر ہوئے کہ خدا کا نام لے کر کون جھوٹ بولنے کی جرأت کر سکتا ہے ، شاید وہ یہ سمجھے کہ واقعی اس کے کھانے سے ہم فرشتے بن جائیں گے ، یا پھر کبھی فنا نہ ہوں گے۔ اور حق تعالیٰ نے جونہی فرمائی تھی اس کی تعلیل یا تاویل کر لی ہو گی، لیکن غالباً فَتَکُوْنَا مِنَ الظَّالِمِیْنَ اور اِنَّ ھٰذَا عَدُوٌّلَّکَ وَلِزَوْجِکَ فَلاَ یُخْرِجَنَّکُمَا مِنَ الْجَنَّۃِ فَتَشْقٰی وغیرہ سے نسیان ہوا، اور یہ بھی خیال نہ رہا کہ جب وہ مسجود ملائکہ بنائے جاچکے ، پھر ملک بننے کی کیا ضرورت رہی۔ فَنَسِیَ وَلَمْ نَجِدْلَہ عَزْمًا (طہٰ، رکوع٦’آیت ١١٥) واضح ہو کہ امر و نہی کبھی تو تشریعاً ہوتے ہیں اور کبھی شفقۃً۔ اس کو یوں سمجھو کہ مثلاً ایک تو ریل میں بدون ٹکٹ سفر کرنے کی ممانعت ہے یہ تو قانونی حیثیت رکھتی ہے جس کا اثر کمپنی کے حقوق پر پڑتا ہے اور ایک جو گاڑیوں میں لکھا ہوتا ہے کہ ”مت تھوکو کہ اس سے بیماری پھیلتی ہے۔ ”یہ نہی شفقۃً ہے جیسا کہ بیماری پھیلنے کی تعلیل سے ظاہر ہے۔ اسی طرح خدا کے اوامر و نواہی بعض تشریعی ہیں جن کی خلاف ورزی کرنے والا قانونی مجرم سمجھا جاتا ہے اور جن کا ارتکاب کرنا ان حقوق کے منافی ہے جن کی حفاظت کرنا تشریع کا منشا تھا۔ دوسرے وہ اوامر و نواہی ہیں جن کا منشا تشریع نہیں محض شفقت ہے جیسا کہ طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ کی بہت سی احادیث میں علماء نے تصریح کی ہے۔ شاید آدم علیہ السلام نے اکل شجرہ کی ممانعت کو نہی شفقت سمجھا، اسی لئے شیطان کی وسوسہ اندازی کے بعد اس کی خلاف ورزی کرنے کو زیادہ بھاری خیال نہ کیا۔ مگر چونکہ انبیاء علیہم السلام کی چھوٹی سی لغزش بھی ان کے مرتبہ قرب کے لحاظ سے عظیم و ثقیل بن جاتی ہے اس لئے اپنی غلطی کا ظاہری نقصان اٹھانے کے علاوہ مدت دراز تک توبہ و استغفار میں مشغول گریہ و بکا رہے آخرکار ثُمَّ اجْتَبٰہُ رَبُّہ، فَتَابَ عَلَیْہِ وَھَدٰی کے نتیجہ پر پہنچ گئے۔

(تفسیرعثمانی)

 

پس ان کو مائل کر لیا دھوکہ سے پس جب انہوں نے درخت چکھا تو ان کیلئے ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ اپنے اوپر جوڑ جوڑ کر رکھنے لگے (ستر چھپانے کیلئے ) جنت کے پتے اور ان کے رب نے انہیں پکارا کیا میں نے تمہیں   اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور کہا تھا تمہیں کہ بیشک شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔ (۲۲)

تشریح:بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس درخت کی خاصیت یہ تھی کہ اس کا پھل کھانے سے جنت کا لباس اتر جاتا تھا اور یہ بات ابلیس کو معلوم تھی، چنانچہ جب حضرت آدم اور حوا علیہما السلام نے اسے کھایا تو جنت کا جو لباس انہیں عطا ہوا تھا وہ ان کے جسم سے اتر گیا۔

(توضیح القرآن)

 

ان دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا، اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیاتو ہم ضرور خسارہ پانے والوں سے ہو جائیں گے۔ (۲۳)

تشریح:یہ استغفار کے وہی الفاظ ہیں جن کے بارے میں سورۂ بقرہ (۲:۳۷) میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے ہی یہ الفاظ سکھائے تھے ، کیونکہ اس وقت تک انہیں توبہ کا طریقہ بھی معلوم نہیں تھا، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ توبہ کرنے کے لئے یہ الفاظ نہایت مناسب ہیں اور ان کے ذریعے توبہ قبول ہونے کی زیادہ امید ہے ، کیونکہ یہ خود اللہ تعالی ہی کے سکھائے ہوئے ہیں، اس طرح اللہ تعالی نے اگر ایک طرف شیطان کو مہلت دے کر اسے انسان کو بہکانے کی صلاحیت دی جو انسان کے لئے زہر جیسی تھی تودوسری طرف انسان کو توبہ اور استغفار کا تریاق بھی عطا فرما دیا کہ اگر شیطان کے بہکائے میں آ کر وہ کبھی کوئی گناہ کر گزرے تو اسے فوراً توبہ کرنی چاہئے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہو، اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرے اور اللہ تعالی سے معافی مانگے اس طرح شیطان کا چڑھایا ہوا زہر اتر جائے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

فرمایا تم اترو تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہیں، اور تمہارے لئے زمین میں ایک وقت (معین) تک ٹھکانا اور سامان زیست ہے۔ (۲۴)

تشریح:مفسرین کے نزدیک یہ خطاب آدم و حوا اور ابلیس لعین سب کو ہے کیونکہ اصل عداوت آدم اور ابلیس کی ہے اور اس عداوت کا دنگل ہماری زمین بنائی گئی جس کی خلافت حضرت آدم علیہ السلام کو سپرد ہوئی تھی۔

(تفسیرعثمانی)

 

فرمایا اس میں تم جیو گے اور اس میں تم مرو گے اور اس سے تم نکالے جاؤ گے۔ (۲۵)

تشریح:یعنی عموماً تمہارا مسکن اصلی و معتاد یہی زمین ہے۔ اگر خرق عادت کے طور پر کوئی شخص کسی وقت ایک معین مدت کے لئے اس سے اوپر اٹھا لیا جائے مثلاً حضرت مسیح علیہ السلام، تو وہ اس آیت کے منافی نہیں۔ کیا جو شخص چند روز یا چند گھنٹے کے لئے زمین سے جدا ہو کر ہوائی جہاز میں مقیم ہو یا فرض کیجئے وہیں مر جائے وہ فِیْھَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْھَا تَمُوْتُوْنَ کے خلاف ہو گا۔ کیونکہ وہ اس وقت زمین پر نہیں ہے۔ دوسری جگہ ارشاد ہے مِنْھَا خَلَقْنَاکُمْ وَ فِیْھَا نُعِیْدُکُمْ وَ مِنْھَا نُخْرِجُکُمْ جو اموات زمین میں مدفون نہ ہوں ان کو فیھا نعیدکم الخ میں کیسے داخل کیا جائے گا معلوم ہوا کہ اس قسم کے قضایا کلیہ کے رنگ میں استعمال نہیں ہوئے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اے اولاد آدم!ہم نے تم پر لباس اتارا جو ڈھانکے تمہارے ستراور (موجب) زینت ہو اور پرہیز گاری کا لباس سب سے بہتر ہے ، یہ (لباس ) اللہ کی نشانیوں سے ہے تاکہ وہ غور کریں۔ (۲۶)

تشریح:آیات ۲۶ تا ۳۲ اہل عرب کی ایک عجیب و غریب رسم کے پس منظر میں نازل ہوئی ہیں، جس کی تفصیل یہ ہے کہ مکہ مکرمہ کے قریب رہنے والے کچھ قبیلے مثلاً قریش، حمس کہلاتے تھے ، عرب کے دوسرے تمام قبیلے حرم کی پاسبانی کی وجہ سے ان لوگوں کی بڑی عزت کرتے تھے ، اسی کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ عربوں کے عقیدے کے مطابق کپڑے پہن کر طواف کرنا صرف انہی کا حق تھا، دوسرے لوگ کہتے تھے کہ جن کپڑوں میں ہم نے گناہ کئے ہیں ان کے ساتھ ہم بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکتے ، چنانچہ یہ لوگ جب طواف کے لئے آتے تو حمس کے کسی آدمی سے کپڑے نہ ملتے تووہ بالکل عریاں ہو کر طواف کرتے تھے ، یہ آیتیں اس بے ہودہ رسم کی تردید کے لئے نازل ہوئی ہیں اور ان میں انسان کے لئے لباس کی اہمیت بھی بیان فرمائی گئی ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لباس کا اصل مقصد جسم کا پردہ ہے اور ساتھ ہی لباس انسان کے لئے زینت اور خوشنمائی کا بھی ذریعہ ہے ، ایک اچھے لباس کی صفت یہ ہونی چاہئے کہ وہ یہ دونوں مقصد پورے کرے اور جس لباس سے پردے کا مقصد حاصل نہ ہو وہ انسانی فطرت کے خلاف ہے۔

(توضیح القرآن)

 

وَلِبَاسُ التَّقْوٰى ذٰلِکَ خَيْرٌ:لباس کا ذکر آیا تو یہ حقیقت بھی واضح فرما دی گئی کہ جس طرح لباس انسان کے ظاہری جسم کی پردہ داری کرتا ہے اسی طرح تقویٰ انسان کو گناہوں سے پاک رکھتا ہے اور اس کے ظاہر اور باطن دونوں کی حفاظت کرتا ہے ، اور اس لحاظ سے تقویٰ کا لباس بہترین لباس ہے ، لہذا ظاہری لباس پہننے کے ساتھ ساتھ انسان کو یہ فکر بھی رکھنی چاہئے کہ وہ تقویٰ کے لباس سے آراستہ ہو۔

(توضیح القرآن)

 

اے اولاد آدم! (کہیں) شیطان تمہیں     نہ بہکا دے ، جیسے اس نے نکالا تمہارے ماں باپ (آدم اور حوا) کو جنت سے ، ان کے لباس اتروا دئیے ، تاکہ ان کے سترظاہر کر دے ، بیشک تمہیں دیکھتا ہے وہ اور اس کا قبیلہ اس جگہ سے جہاں تم انہیں نہیں دیکھتے ، بیشک ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا رفیق بنا دیا جو ایمان نہیں لاتے۔ (۲۷)

تشریح: جو دشمن ہم کو اس طرح دیکھ رہا ہو کہ ہماری نظر اس پر نہ پڑے اس کا حملہ سخت خطرناک اور مدافعت سخت دشوار ہوتی ہے۔ اس لئے تم کو بہت مستعد و بیدار رہنا چاہئے۔ ایسے دشمن کا علاج یہی ہے کہ ہم کسی ایسی ہستی کی پناہ میں آ جائیں جو اسے دیکھتی ہے پر وہ اسے نہیں دیکھتا۔ لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ وَ ھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جب وہ بے حیائی کریں تو کہیں ہم نے باپ دادا کو اس پر پایا ہے اور اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے اس کا، آپ فرما دیں بیشک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا کیا تم اللہ پر (وہ بات) لگاتے ہو؟ جوتم نہیں جانتے۔ (۲۸)

تشریح:اس سے اسی رسم کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ عریاں ہو کر طواف کرتے تھے چونکہ یہ رسم برسوں سے چلی آتی تھی اس لئے ان کی دلیل یہ تھی کہ ہمارے باپ دادا ایسا ہی کرتے چلے آئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کا یہی حکم ہو گا۔

(توضیح القرآن)

 

آپ فرما دیں میرے رب نے مجھے انصاف کا حکم دیا ہے اور اپنے چہرے ہر نماز کے وقت سیدھے کرو، اور اسے پکارو خالص اس کے حکم کے فرماں بردار ہو کر، جیسے تمہیں (پہلے ) پیدا کیا تم دوبارہ بھی (جی اٹھو گے )۔ (۲۹)

ایک فریق کو ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہو گئی، بیشک انہوں نے اللہ کے سوا شیطانوں کو اپنا رفیق بنا لیا ہے ، اور گمان کرتے ہیں کہ وہ بیشک ہدایت پر ہیں۔ (۳۰)

تشریح:یعنی جن پر گمراہی مقرر ہو چکی، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا دوست اور رفیق ٹھہرا لیا ہے۔ اور تماشا یہ ہے کہ اس صریح گمراہی کے باوجود سمجھتے یہ ہیں کہ ہم خوب ٹھیک چل رہے ہیں اور مذہبی حیثیت سے جو روش اور طرز عمل ہم نے اختیار کر لیا ہے و ہی درست ہے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا (کہف، رکوع۱۲’آیت:۱۰۴) (تنبیہ) آیت کے عموم سے ظاہر ہوا کہ کافر معاند کی طرح کافر مخطی بھی جو واقعی اپنی غلط فہمی سے باطل کو حق سمجھ رہا ہو فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْھِمُ الضَّلَالَۃُ میں داخل ہے ، خواہ یہ غلط فہمی پوری طرح غور و فکر نہ کرنے کی وجہ سے ہو، یا اس لئے کہ گو اس نے بظاہر پوری قوت غور فکر میں صرف کر دی، لیکن ایسے صریح اور واضح حقائق تک نہ پہنچنا خود بتلاتا ہے کہ فی الحقیقت اس سے قوت فکرو استدلال کے استعمال میں کوتاہی ہوئی ہے۔ گویا جن چیزوں پر ایمان لانا مدار نجات ہے وہ اس قدر روشن اور واضح ہیں کہ ان کے انکار کی بجز عناد یا قصور فکر و تامل کے اور کوئی صورت نہیں۔ بہرحال کفر شرعی ایک ایسا سنکھیا (زہر) ہے جو جان بوجھ کر یا غلط فہمی سے کسی طرح بھی کھایا جائے انسان کو ہلاک کرنے کے لئے کافی ہے۔ ”اہلسنت والجماعت” کا مذہب یہی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اے اولاد آدم! اپنی زینت ہر نماز کے وقت اختیار کرو اور کھاؤ اور پیو، اور بیجا خرچ نہ کرو، بیشک اللہ فضول خرچ کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (۳۱)

تشریح: یہ آیات ان لوگوں کے رد میں نازل ہوئیں جو کعبہ کا طواف برہنہ ہو کر کرتے تھے اور اسے بڑی قربت اور پرہیزگاری سمجھتے تھے اور بعض اہل جاہلیت ایام حج میں سد رمق سے زائد کھانا اور گھی یا چکنائی وغیرہ کا استعمال چھوڑ دیتے تھے بعضوں نے بکری کے دودھ اور گوشت سے پرہیز کر رکھا تھا۔ ان سب کو بتلا دیا کہ یہ کوئی نیکی اور تقویٰ کی باتیں نہیں۔ خدا کی دی ہوئی پوشاک جس سے تمہارے بدن کا تستّر اور آرائش ہے اس کی عبادت کے وقت دوسرے اوقات سے بڑھ کر قابل استعمال ہے ،  تاکہ بندہ اپنے پروردگار کے دربار میں اس کی نعمتوں کا اثر لے کر حاضر ہو، خدا نے جو کچھ پہننے اور کھانے پینے کو دیا ہے اس سے تمتّع کرو۔ بس شرط یہ ہے کہ اسراف نہ ہونے پائے۔

”اسراف” کے معنی ہیں ”حد سے تجاوز کرنا” جس کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً حلال کو حرام کر لے ، یا حلال سے گزر کر حرام سے بھی متمتع ہونے لگے یا اناپ شناپ بے تمیزی اور حرص سے کھانے پر گر پڑے ، یا بدون اشتہاء کے کھانے لگے ، یا نا وقت کھائے یا اس قدر کم کھائے جو صحت جسمانی اور قوت عمل کے باقی رکھنے کے لئے کافی نہ ہو، یا مضر صحت چیزیں استعمال کرے وغیر ذٰلک، لفظ ”اسراف” ان سب امور کو شامل ہو سکتا ہے۔ بے جا خرچ کرنا بھی اس کی ایک فرد ہے۔ اسی تعمیم کے لحاظ سے بعض سلف نے فرمایا کہ ”جمع اللّہ الطب کلہ فی نصف اٰیۃ” (خدا نے ساری طب آدھی آیت میں اکٹھی کر دی)۔

(تفسیرعثمانی)

 

آپ فرما دیں کس نے حرام کی ہے اللہ کی (وہ) زینت جواس نے اپنے بندوں کے لئے نکالی (پیدا) کی ہے ، اور پاک رزق، آپ فرما دیں یہ دنیا کی زندگی میں ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لائے اور خالص طور پر قیامت کے دن (انہیں کا حصہ ہے ) اسی طرح ہم آیتیں مفصل بیان کرتے ہیں اس گروہ کے لئے جو جانتے ہیں۔ (۳۲)

تشریح:قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللہِ :جس طرح ان عرب قبائل نے طواف کے وقت کپڑے پہننے کو حرام سمجھا ہوا تھا، اسی طرح جاہلیت کے لوگوں نہ بہت سی غذاؤں کو بلا وجہ حرام قرار دیا ہوا تھا، جس کا مفصل تذکرہ سورۂ انعام میں گزرا ہے ، نیز حمس کے قبائل نے گوشت کی بعض قسموں کو اپنی امتیازی حیثیت ظاہر کرنے کے لئے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا، حالانکہ اللہ تعالی کی طرف سے ایسا کوئی حکم نہیں آیا تھا۔

(توضیح القرآن)

 

قُلْ هِيَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا:یہ دراصل کفار مکہ کی ایک بات کا جواب ہے وہ کہا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالی کو ہمارا موجودہ طریقہ پسند نہیں ہے تو وہ ہمیں رزق کیوں دے رہا ہے ؟جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس دنیا میں تو اللہ تعالی کے رزق کا دستر خوان ہر شخص کے لئے بچھا ہوا ہے چاہے وہ مؤمن ہو یا کافر، لیکن آخرت میں یہ نعمتیں صرف مؤمنوں کے لئے خاص ہیں، اس لئے یہ سمجھنا غلط ہے کہ اگر دنیا میں کسی کو خوشحالی میسر ہے تو یہ اللہ تعالی کی رضامندی کی دلیل ہے اور اسے آخرت میں بھی خوشحالی ضرور میسر آئے گی۔

(توضیح القرآن)

 

آپ فرما دیں میرے رب نے تو حرام قرار دیا ہے ، بے حیائیوں کو ان میں جو ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں، اور گناہ اور سرکشی ناحق کو، اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ شریک کرو جس کی اس نے کوئی سند نہیں اتاری، اور یہ کہ تم اللہ پر لگاؤ (وہ بات) جوتم نہیں جانتے۔ (۳۳)

تشریح:اس تفصیل میں لفظ “اثم”کے تحت وہ تمام گناہ آ گئے ہیں جن کا تعلق انسان کی اپنی ذات سے ہے اور ‘‘ بغی’’ میں وہ گناہ جن کا تعلق دوسروں کے معاملات اور حقوق سے ہو اور شرک اور افتراء علی اللہ یہ عقیدے کا گناہ عظیم ظاہر ہی ہے۔

(معارف القرآن)

 

یوں توکسی بھی شخص کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرنا ہر اعتبار سے ایک ناجائز اور غیر اخلاقی فعل ہے لیکن اگر یہ جرم اللہ تعالی کے ساتھ کیا جائے تواس کی سنگینی انسان کو کفر تک لے جاتی ہے ، اس لئے اللہ تعالی کی طرف کوئی بات منسوب کرتے وقت انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اور جب تک انسان کو یقینی علم حاصل نہ ہو، ایسی نسبت کا اقدام ہر گز نہیں کرنا چاہئے ، عرب کے بت پرستوں نے اپنی طرف سے باتیں گھڑ گھڑ کر اللہ تعالی کی طرف منسوب کر رکھی تھیں جن کی بنیاد کسی علم پر نہیں تھی بلکہ اپنے بے بنیاد اندازوں پر تھی جن کی حقیقت کا خود انہیں بھی علم حاصل نہیں تھا۔

(توضیح القرآن)

 

اور ہر امت کیلئے ایک مدت مقرر ہے پس جب ان کا مقررہ وقت آ جائے گا نہ پیچھے ہو سکیں گے ایک گھڑی اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔ (۳۴)

تشریح:یہ مجرمین ہر طرح کی سرکشی کے باوجود اللہ تعالی کی نعمتوں میں پل رہے ہیں اور دنیا میں بظاہر ان پر کوئی عذاب آتا نظر نہیں آتا، اس عادۃ اللہ سے غافل نہ رہیں کہ اللہ تعالی مجرموں کو اپنی رحمت سے ڈھیل دیتے رہتے ہیں کہ کس طرح یہ اپنی حرکتوں سے باز آ جائیں لیکن اللہ تعالی کے علم میں اس ڈھیل اور مہلت کی ایک میعاد معین ہوتی ہے جب وہ میعاد آ پہنچتی ہے تو ایک گھڑی بھی آگے پیچھے نہیں ہوتی اور یہ عذاب میں پکڑ لئے جاتے ہیں، کبھی دنیا ہی میں کوئی عذاب آ جاتا ہے اور اگر دنیا میں عذاب نہ آیا تو مرتے ہی عذاب میں داخل ہو جاتے ہیں۔

(معارف القرآن)

 

اے اولاد آدم!اگر تمہارے پاس تم ہی سے میرے رسول آئیں، سنائیں تمہیں میری آیات، تو جو ڈرا، اور اس نے اصلاح کر لی، ان پر نہ کوئی خوف ہو گا نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (۳۵)

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا یہی لوگ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (۳۶)

پس اس سے بڑا ظالم کون؟ جس نے اللہ پر جھوٹ بہتان باندھا، یا اس کی آیتوں کو جھٹلایا، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا حصہ کتاب (لوح محفوظ) میں لکھا ہوا ہے پہنچے گا، یہاں تک کہ جب ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے ) ان کے پاس ان کی جان نکالنے آئیں گے ، وہ کہیں گے کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے تھے ؟ وہ (جواب میں) کہیں گے وہ ہم سے گم ہو گئے اور وہ اپنی جانوں پر (اپنے خلاف) گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے۔ (۳۷)

تشریح:یہاں یہ واضح کر دیا گیا کہ دنیا میں رزق دینے کے لئے اللہ تعالی نے مؤمن اور کافر میں تفریق نہیں فرمائی ہے ،  بلکہ ہر ایک کے لئے رزق کا ایک حصہ مقرر فرما دیا ہے جو اسے ہر حال میں پہنچتا رہے گا، چاہے وہ کتنا بڑا کافر کیوں نہ ہو،  لہذا اگر کسی کو دنیا میں رزق کی فراوانی حاصل ہے تو اسے یہ نہ سمجھ بیٹھنا چاہئے کہ اس کا طریقہ اللہ تعالی کوپسند ہے ، جیسا کہ یہ کفار مکہ سمجھ رہے ہیں، ان کو اصل حقیقت کا پتہ اس وقت چلے گا جب موت کا منظر ان کے سامنے آ جائے گا۔

(توضیح القرآن)

 

(اللہ) فرمائے گا تم داخل ہو جاؤ جہنم میں ان امتوں کے ہمراہ جو گز ر چکیں تم سے قبل، جنوں اور انسانوں میں سے جب کوئی امت داخل ہو گی وہ اپنی ساتھی (پہلی امت) پر لعنت کرے گی یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہو جائیں گے تو ان کے پیچھے اپنے پہلوں کے بارہ میں کہیں گے ، اے ہمارے رب!یہ ہیں جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا، پس انہیں آگ کا دوگنا عذاب دے۔ (اللہ تعالی) فرمائے گا ہر ایک کے لئے دوگنا ہے ، لیکن تم جانتے نہیں۔ (۳۸)

اور ان کے پہلے اپنے پچھلوں کو کہیں گے تمہیں ہم پر کوئی برائی نہیں، لہذا چکھو عذاب اس کے بدلے جو تم کرتے تھے۔ (۳۹)

تشریح:جو لوگ سرداروں کے ماتحت تھے وہ اپنے ان سرداروں پر لعنت بھیجیں گے جنہوں نے انہیں گمراہ کیا تھا اور سردار اپنے ماتحتوں پر لعنت بھیجیں گے کہ انہوں نے ان کی حد سے زیادہ تعظیم کر کے انہیں گمراہی میں اور پختہ کر دیا۔

(توضیح القرآن)

 

بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا، ان کیلئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے اور جنت میں داخل نہ ہوں گے ، جب تک اونٹ داخل (نہ) ہو جائے سوئی کے ناکے میں (جو ممکن نہیں) اسی طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیتے ہیں۔ (۴۰)

تشریح: یعنی نہ زندگی میں ان کے اعمال کے لئے آسمانی قبول و رفعت حاصل ہے ، نہ موت کے بعد ان کی ارواح کو آسمان پر چڑھنے کی اجازت ہے۔ حدیث صحیح میں ہے کہ ”بعد موت کافر کی روح کو آسمان کی جانب سے سجین کی طرف دھکے دئیے جاتے ہیں اور مومن کی روح ساتویں آسمان تک صعود کرتی ہے۔ ”مفصل احوال کتب احادیث میں ملاحظہ کریں۔

(تفسیرعثمانی)

 

ان کے لئے جہنم کا بچھونا ہے ، اور ان کے اوپر سے جہنم ہی کا اوڑھنا ہے ، اسی طرح ہم ظالموں کو بدلہ دیتے ہیں۔ (۴۱)

تشریح: ہر طرف سے آگ محیط ہو گی، کسی کروٹ چین نہ ملے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے ، ہم کسی پر بوجھ نہیں ڈالتے مگر اس کی بساط کے مطابق، یہی لوگ جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (۴۲)

تشریح:نیک عمل کے ذکر کے ساتھ اللہ تعالی نے جملۂ معترضہ کے طور پر یہ وضاحت فرما دی کہ نیک عمل کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے جو انسان کی طاقت سے باہر ہو کیونکہ ہم نے کوئی حکم انسانوں کو ایسا نہیں دیا جو ان کی استطاعت میں نہ ہو، نیز شاید اشارہ اس طرف بھی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی طاقت کی حد تک نیک عمل کرنے کی کوشش کر رہا ہو اور پھر اس سے کوئی بھول چوک ہو جائے تو اللہ تعالی اس پر گرفت نہیں فرماتے۔

(توضیح القرآن)

 

اور ہم نے ان کے سینوں سے کینے کھینچ لئے ، ان (جنتوں) کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اور کہیں گے تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، جس نے ہمیں اس کی طرف رہنمائی کی، اور اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا (رہنمائی نہ فرماتا) توہم ہدایت پانے والے نہ تھے ، البتہ ہمارے رب کے رسول حق کے ساتھ آئے ، اور انہیں ندا دی گئی کہ تم اس جنت کے وارث ہو گے (ان اعمال کے ) صلہ میں جو تم کرتے تھے۔ (۴۳)

تشریح:چونکہ جنت ہر قسم کی تکلیف سے خالی ہو گی اس لئے وہاں باہمی عداوت، کینے اور کدورت کا بھی گزر نہیں ہو گا اور دنیا میں انسانوں کے درمیان جو رنجشیں رہی ہوں، جنت میں وہ بالکل دور فرما دیں گے اور تمام جنتی محبت، دوستی اور بھائی چارے کے ماحول میں رہیں گے۔

(توضیح القرآن)

 

اور جنت والے دوزخ والوں کو پکاریں گے کہ تحقیق ہم نے پا لیا جو ہم سے وعدہ کیا تھا ہمارے رب نے سچا، تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے بھی پا لیا سچا؟ وہ کہیں گے ہاں!تو ایک پکارنے والا پکارے گا ان کے درمیان کہ (ان) ظالموں پر اللہ کی لعنت۔ (۴۴)

جو لوگ اللہ کے راستے سے روکتے تھے ، اور اس میں کجی تلاش کرتے تھے اور وہ آخرت کے کافر (منکر) تھے۔ (۴۵)

تشریح:اہل جنت اہل جہنم سے سوال کریں گے کہ ہمارے رب نے ہم سے جن نعمتوں اور راحتوں کا وعدہ کیا تھا ہم نے تو ان کو بالکل سچا اور پورا پایا تم بتلاؤ کہ تمہیں جس عذاب سے ڈرایا گیا تھا وہ بھی تمہارے سامنے آ گیا یا نہیں وہ اقرار کریں گے کہ بیشک ہم نے بھی ا س کا مشاہدہ کر لیا۔

ان کے اس سوال و جواب کی تائید میں اللہ جل شانہ کی طرف سے کوئی فرشتہ یہ منادی کرے گا کہ اللہ تعالی کی لعنت اور پھٹکار ہے ظالموں پر جو لوگوں کو اللہ تعالی کے راستے سے روکتے تھے اور یہ چاہتے تھے کہ ان کا راستہ بھی سیدھا نہ رہے اور وہ آخرت کا انکار کیا کرتے تھے۔

(معارف القرآن)

 

اور ان کے درمیان ایک حجاب (پردہ) ہے ، اعراف پر کچھ آدمی ہوں گے ، اور ہر ایک کو اس کی پیشانی سے پہچان لیں گے ، اور جنت والوں کو پکاریں گے کہ سلام ہو تم پر، وہ (اعراف والے ) جنت میں داخل نہیں ہوئے ، اور وہ امیدوار ہیں۔ (۴۶)

تشریح:حجاب کے معنی پردہ اور آڑ کے ہیں۔ یہاں پردہ کی دیوار مراد ہے جس کی تصریح سورہ حدید میں کی گئی ہے : فَضُرِبَ بَیْنَھُمْ بِسُوْرٍلَّہُ بَابٌ، یہ دیوار جنت کی لذتوں کو دوزخ تک اور دوزخ کی کلفتوں کو جنت تک پہنچنے سے مانع ہو گی اس کی تفصیلی کیفیت کا ہم کو علم نہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اسی درمیانی دیوار کی بلندی پر جو مقام ہو گا اس کو ”اعراف ”کہتے ہیں۔ اصحاب اعراف کون لوگ ہیں؟قرطبی نے اس میں بارے  میں کئی قول نقل کئے ہیں۔ ہمارے نزدیک ان میں راجح و ہی قول ہے جو حضرت حذیفہ، ابن عباس، ابن مسعود رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ اور اکثر سلف و خلف سے منقول ہے۔ یعنی وزن اعمال کے بعد جن کے حسنات بھاری ہوں گے وہ جنتی ہیں اور جن کے سیاٰت غالب ہوئے وہ دوزخی۔ اور جن کے حسنات و سیاٰت بالکل مساوی ہوں گے وہ اصحاب اعراف ہیں۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انجام کار اصحاب اعراف جنت میں چلے جائیں گے اور یہ ویسے بھی ظاہر ہے کہ جب عصاۃ مومنین جن کے سیاٰت غالب تھے جہنم سے نکل کر آخرکار جنت میں داخل ہوں گے ، تو اصحاب اعراف جن کے حسنات اور سیاٰت برابر ہیں وہ ان سے پہلے داخل ہونے چاہئیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

یوں تو اعراف والے جنت اور جہنم دونوں کا خود نظارہ کر رہے ہوں گے ، اس لئے انہیں جنتیوں اور دوزخیوں کو پہچاننے کے لئے کسی علامت کی ضرورت نہیں ہو گی،  لیکن یہاں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ لوگ جنت اور دوزخ والوں کو دنیا میں بھی ان کی علامتوں سے پہچانتے تھے اور چونکہ یہ لوگ صاحب ایمان تھے ، اس لئے انہیں دنیا میں بھی اللہ تعالی نے اتنی حس عطا فرما دی تھی کہ یہ متقی پرہیز گار لوگوں کے چہروں سے پہچان لیتے تھے کہ یہ نیک لوگ ہیں اور کافروں کے چہروں سے پہچان لیتے تھے کہ یہ کافر ہیں۔ تفسیر کبیر امام رازی.

(توضیح القرآن)

 

اور جب ان کی نگاہیں پھریں گی دوزخ والوں کی طرف تو کہیں گے اے ہمارے رب! ہمیں ظالموں کے ساتھ نہ کر۔ (۴۷)

تشریح:اعراف والے :جنت و دوزخ کے درمیان میں ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کی حالت خوف و رجاء کے بیچ ہو گی اُدھر دیکھیں گے تو امید کریں گے اور ادھر نظر پڑے گی تو خدا سے ڈر کر پناہ مانگیں گے کہ ہم کو ان دوزخیوں کے زمرہ میں شامل نہ کیجئے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور پکاریں گے اعراف والے کچھ آدمیوں کو کہ انہیں ان کی پیشانی سے پہچان لیں گے وہ کہیں گے تمہیں کچھ فائدہ نہ دیا تمہارے جتھے نے اور جوتم تکبر کرتے تھے۔ (۴۸)

تشریح:اہل اعراف اہل جہنم کو خطاب کر کے بطور ملامت کے یہ کہیں گے کہ دنیا میں تم کو جس مال و دولت اور جماعت اور جتھا پر بھروسہ تھا اور جن کی وجہ سے تم تکبر و غرور میں مبتلا تھے آج وہ کچھ تمہارے کام نہ آیا۔

(معارف القرآن)

 

کیا اب یہ وہی لوگ ہیں کہ تم قسم کھایا کرتے تھے کہ اللہ انہیں اپنی کوئی رحمت نہ پہنچائے گا، تم جنت میں داخل ہو جاؤ، نہ تم پر کوئی خوف ہے ، نہ تم غمگین ہو گے۔ (۴۹)

تشریح:اس کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جب اہل اعراف کا سوال و جواب اہل جنت اور اہل دوزخ دونوں کے ساتھ ہو چکے گا، اس وقت رب العلمین اہل دوزخ کو خطاب کر کے یہ کلمات اہل اعراف کے بارے میں فرمائیں گے کہ تم لوگ قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ان کی مغفرت نہ ہو گی اور ان پر کوئی رحمت نہ ہو گی سو اب دیکھو ہماری رحمت، اور اس کے ساتھ ہی اہل اعراف کو خطاب ہو گا کہ جاؤ جنت میں داخل ہو جاؤ، نہ تم پر پچھلے معاملات کا کوئی خوف ہونا چاہئے اور نہ آئندہ کا کوئی غم و فکر۔

(ابن کثیر۔ از معارف القرآن)

 

اور دوزخ والے پکاریں گے جنت والوں کو کہ، ہم پر (تھوڑا) پانی بہاؤ (پہنچاؤ) یا اس میں سے (کچھ) جو اللہ نے تمہیں دیا ہے ، وہ کہیں گے بیشک اللہ نے یہ کافروں پر حرام کر دیا ہے۔ (۵۰)

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل کود بنا لیا اور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکہ میں ڈال دیا، پس آج ہم انہیں بھلا دیں گے ، جیسے انہوں نے (آج کے ) اس دن کا ملنا فراموش کر دیا تھا، اور جیسے ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے۔ (۵۱)

تشریح: دوزخی بدحواس اور مضطرب ہو کر اہل جنت کے سامنے دست سوال دراز کریں گے کہ ہم جلے جاتے ہیں، تھوڑا سا پانی ہم پر بہاؤ یا جو نعمتیں تم کو خدا نے دے رکھی ہیں کچھ ان سے ہمیں بھی فائدہ پہنچاؤ۔ جواب ملے گا کہ کافروں کے لئے ان چیزوں کی بندش ہے ، یہ کافر وہی تو ہیں جو دین کو کھیل تماشہ بناتے تھے اور دنیا کے تُنّعم پر پھولے ہوئے تھے۔ سو جیسا ان کو دنیا کے مزوں میں پڑ کر کبھی آخرت کا خیال نہیں آیا آج ہم بھی ان کا کچھ خیال نہ کریں گے اور جس طرح انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا تھا آج ہم بھی ان کی درخواست منظور کرنے سے انکار کرتے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے جسے ہم نے تفصیل سے بیان کیا علم (کی بنیاد) پر ایمان لانے والے لوگوں پر ہدایت اور رحمت۔ (۵۲)

تشریح: قرآن جیسی کتاب کی موجودگی میں جس میں تمام ضروریات کی عالمانہ تفصیل موجود ہے اور ہر بات کو پو ری آگاہی سے کھول کر بیان کر دیا گیا ہے چنانچہ ایمان لانے والے اس سے خوب منتفع ہو رہے ہیں، غضب ہے کہ ان متکبر معاندوں نے کچھ بھی اپنے انجام پر غور نہ کیا۔ پھر اب پچھتانے سے کیا حاصل۔

(تفسیرعثمانی)

 

کیا وہ یہی انتظار کر رہے ہیں کہ اس کہا ہوا پورا ہو جائے ، جس دن اس کا کہا ہوا ہو جائے گا تووہ لوگ جنہوں نے اسے پہلے بھلا دیا تھا وہ کہیں گے : بیشک ہمارے رب کے رسول حق بات لائے تھے ، تو کیا ہمارے لئے کوئی سفارش کرنے والے ہیں کہ ہماری سفارش کریں، یا ہم (دنیا میں) لوٹائے جائیں کہ ہم اس کے خلاف عمل کریں جو ہم (پہلے ) کرتے تھے ، بیشک انہوں نے اپنی جانوں کا (اپنا) نقصان کیا اور ان سے گم ہو گیا جو وہ جھوٹ گھڑتے تھے۔ (۵۳)

تشریح: کتاب اللہ میں جو دھمکیاں عذاب کی دی گئی ہیں کیا یہ اس کے منتظر ہیں کہ جب ان دھمکیوں کا مضمون (مصداق) سامنے آ جائے تب حق کو قبول کریں۔ حالانکہ وہ مضمون جب سامنے آ جائے گا یعنی عذاب الہٰی میں گرفتار ہوں گے تو اس وقت کا قبول کرنا کچھ کام نہ دے گا۔ اس وقت تو سفارشیوں کی تلاش ہو گی جو خدا کی سزا سفارش کر کے معاف کرا دیں اور چونکہ ایسا سفارشی کافروں کو کوئی نہ ملے گا یہ تمنا کریں گے کہ ہم کو دوبارہ دنیا میں بھیج کر امتحان کر لیا جائے کہ اس مرتبہ اپنے جرائم کے خلاف ہم کیسی نیکی اور پرہیزگاری کے کام کرتے ہیں۔ لیکن اب اس تمنا سے کیا حاصل؟ جبکہ پہلے خود اپنے ہاتھوں اپنے کو برباد کر چکے اور جو جھوٹے خیالات پکا رکھے تھے وہ سب رفو چکر ہو گئے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے زمین اور آسمان چھ دن میں بنائے اور پھر قرار فرمایا عرش پر، دن ڈھانکتا ہے رات کو اس کے پیچھے (دن) دوڑتا ہوا آتا ہے ، اور سورج چاند اور ستارے اس کے حکم کے مسخر ہیں، یاد رکھو اسی کے لئے ہے پیدا کرنا اور حکم دینا اللہ برکت والا ہے سارے جہانوں کا رب ہے۔ (۵۴)

تشریح:استواء عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں سیدھا کرنا، قائم ہونا، قابو پانا اور بعض اوقات اس کے معنی بیٹھنے کے بھی ہوتے ہیں، اللہ تعالی چونکہ جسم اور مکان سے پاک ہے اس لئے اس کے یہ معنی سمجھنا صحیح نہیں ہے کہ جس طرح کوئی انسان تخت پر بیٹھتا ہے اس طرح (معاذاللہ) اللہ تعالی بھی عرش پر بیٹھے ہیں، استواء اللہ تعالی کی ایک صفت ہے اور جمہور اہل سنت کے نزدیک اس کی ٹھیک ٹھیک کیفیت اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اسے متشابہات میں شمار کیا گیا ہے ، جن کی کھود کرید میں پڑنے کو سورۂ آل عمران کے شروع میں خود قرآن کریم نے منع فرمایا ہے ، اتنا ایمان رکھنا کافی ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی شان کے مطابق استواء فرمایا جس کی حقیقت ہماری محدود عقل کے ادراک سے باہر ہے۔

(ملخص توضیح القرآن)

 

اپنے رب کو پکارو گڑا گڑا کر اور آہستہ سے ، بیشک وہ حد سے گزرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ (۵۵)

تشریح:اس حد سے گزرنے میں یہ بات بھی داخل ہے کہ بہت اونچی آواز سے دعا مانگی جائے ، اور یہ بھی کہ کوئی ناجائز یا ناممکن چیز طلب کی جائے ، جو دعا کے بجائے (معاذاللہ) مذاق بن جائے ، مثلاً یہ دعا کہ میں ابھی آسمان پر چڑھ جاؤں، کفار بعض اوقات آنحضرتﷺ سے اس قسم کی دعائیں مانگنے کا مطالبہ کرتے تھے۔

(توضیح القرآن)

 

اور فساد نہ مچاؤ زمین میں اس کی اصلاح کے بعد، اور اسے پکارو ڈرتے اور امید رکھتے ہوئے ، بیشک اللہ کی رحمت قریب ہے نیکی کرنے والوں کے۔ (۵۶)

تشریح:زمین پر اللہ تعالی نے جب انسان کو بھیجا تو شروع میں نافرمانی کا کوئی تصور نہیں تھا اور اس طرح زمین کی اصلاح ہو چکی تھی، جن جن لوگوں نے بعد میں نافرمانی کے بیج بوئے انہوں نے زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد مچایا۔

(توضیح القرآن)

 

پچھلی آیتوں میں ہر حاجت کے لئے خدا کو پکارنے کا طریقہ بتلایا گیا تھا۔ اس آیت میں مخلوق اور خالق دونوں کے حقوق کی رعایت سکھلائی۔ یعنی جب دنیا میں معاملات کی سطح درست ہو تو تم اس میں گڑ بڑ نہ ڈالو، اور خوف و رجاء کے ساتھ خدا کی عبادت میں مشغول رہو۔ نہ اس کی رحمت سے مایوس ہو اور نہ اس کے عذاب سے مامون اور بے فکر ہو کر گناہوں پر دلیر بنو۔ میرے نزدیک یہی راجح ہے کہ یہاں وادعوہ الخ میں دعاء سے عبادت مراد لی جائے جیسا کہ صلوٰۃ تہجد کے بارے میں فرمایا تَتَجَافٰی جُنُوبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفاً وَّطَمَعاً۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور وہی ہے جو اپنی رحمت (بارش) سے پہلے ہوائیں بطور خوشخبری بھیجتا ہے ، یہاں تک کہ جب وہ بھاری بادل اٹھا لائیں توہم نے انہیں کسی مردہ شہر کی طرف ہانک دیا پھر اس سے پانی اتارا (برسایا) پھر ہم نے نکالے اس سے ہر قسم کے پھل، اسی طرح ہم مردوں کو نکالیں گے تاکہ تم غور کرو۔ (۵۷)

تشریح:جس طرح اللہ تعالی ایک مردہ زمین میں جان ڈال دیتا ہے اسی طرح وہ مردہ انسانوں میں بھی جان ڈالنے پر قادر ہے ، مردہ زمین کے زندہ ہونے کے واقعات تم روز مرہ دیکھتے ہو اور یہ بھی مانتے ہو کہ یہ اللہ تعالی کی قدرت سے ہوتا ہے اس سے تمہیں سبق لینا چاہئے کہ انسانوں کو دوبارہ زندگی دینے کو اللہ تعالی کی قدرت سے باہر سمجھنا کتنی بڑی بے وقوفی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور پاکیزہ زمین سے اس کا سبزہ اس کے رب کے حکم سے (پاکیزہ ہی) نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس سے نہیں نکلتا مگر ناقص اسی طرح ہم شکر گزار لوگوں کیلئے آیتیں پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔ (۵۸)

تشریح:اس میں ایک لطیف اشارہ اس طرف ہے کہ جس طرح اچھی زمین کی پیداوار بھی خوب ہوتی ہے اسی طرح جن لوگوں کے دل میں طلب کی پاکیزگی ہوتی ہے وہ اللہ تعالی کے کلام سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں، اور جس طرح ایک خراب زمین پر بارش پڑنے کے باوجود اس سے کوئی فائدہ مند پیداوار حاصل نہیں ہوتی، اسی طرح جن لوگوں کے دل ضد اور عناد سے خراب ہو چکے ہیں ان کو اللہ تعالی کے کلام سے بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔

(توضیح القرآن)

 

البتہ ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا، پس اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بیشک میں ڈرتا ہوں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے۔ (۵۹)

تشریح: آدم علیہ السلام کا قصہ ابتدائے سورت میں گزر چکا۔ ان کے بعد نوح علیہ السلام پہلے اولوالعزم اور مشہور رسول ہیں جو زمین والوں کی طرف مشرکین کے مقابلے میں بھیجے گئے گو باعتبار اپنی خاص شریعت کے ان کی بعثت خاص اپنی قوم کی طرف مانی جائے تاہم ان اساسی اصولوں کے اعتبار سے جو تمام انبیاء علیہم السلام کی تعلیم میں مشترک ہیں، کہا جا سکتا ہے کہ تمام انسان ہر نبی کے مخاطب ہوتے ہیں مثلاً توحید اور اقرارِ معاد کی تعلیم پر سارے پیغمبر متفق اللسان ہیں تو ایسی چیزوں کی تکذیب کرنا فی الحقیقت تمام انبیاء کی تکذیب کرنا ہے۔ بہرحال نوح علیہ السلام نے توحید وغیرہ کی عام دعوت دی۔ کہتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کے بعد دس قرن ایسے گزرے کہ ساری اولاد آدم کلمہ توحید پر قائم تھی، بت پرستی کی ابتداء ابن عباس کے بیان کے موافق یوں ہوئی کہ بعض صالحین کا انتقال ہو گیا جن کے نام وَد، سواع، یغوث، یعوق، نسر تھے ، جو سورۃ نوح میں مذکور ہیں۔ لوگوں نے ان کی تصویریں بنالیں تاکہ ان کے احوال و عبادات وغیرہ کی یاد تازہ رہے کچھ مدت کے بعد ان صورتوں کے موافق مجسمے تیار کر لئے حتی کہ کچھ دنوں کے بعد ان کی عبادت ہونے لگی اور یہ بت انہی بزرگوں کے نام سے موسوم کئے گئے۔ جب بت پرستی کی وباء پھیل گئی تو حق تعالیٰ نے نوح کو بھیجا۔ انہوں نے طوفان سے پہلے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو برس تک توحید و تقویٰ کی طرف بلایا۔ اور دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرایا مگر لوگوں نے ان کی تضلیل و تجہیل کی اور کوئی بات نہ سنی آخر طوفان کے عذاب نے سب کو گھیر لیا اور جیسا کہ نوح نے دعاء کی تھی ربِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا۔ روئے زمین پر کوئی کافر عذاب الٰہی سے نہ بچا۔ بستانی نے ”دائرۃالمعارف” میں یورپین محققین کے اقوال طوفان اور عموم طوفان کے متعلق نقل کئے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اس کی قوم کے سردار بولے ہم تجھے کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں۔ (۶۰)

اس نے کہا اے میری قوم ! میرے اندر کچھ بھی گمراہی (کی بات) نہیں لیکن میں بھیجا ہوا ہوں سارے جہانوں کے رب کی طرف سے۔ (۶۱)

میں تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں، اور تمہیں نصیحت کرتا ہوں اور اللہ (کی طرف) سے جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ (۶۲)

تشریح: یعنی میں تو ذرا بھی نہیں بہکا، ہاں تم بہک رہے ہو کہ خدا کے پیغامبر کو نہیں پہچانتے جو نہایت فصاحت سے خدائی پیغام تم کو پہنچا رہا ہے اور تمہاری بھلائی چاہتا ہے تم کو عمدہ نصیحتیں کرتا ہے۔ اور خدا کے پاس سے وہ علوم و ہدایت لے کر آیا ہے جن سے تم جاہل ہو۔

 

کیا تمہیں تعجب ہوا کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت تم میں سے ایک آدمی پر آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور تاکہ تم پرہیز گار ی اختیار کرو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (۶۳)

تشریح: یعنی اس میں تعجب کی کیا بات ہے کہ تم ہی میں سے خدا کسی ایک فرد کو اپنی پیغام رسانی کے لئے چن لے۔ آخر اس نے ساری مخلوق میں سے منصب خلافت کے لئے آدم علیہ السلام کو کسی مخصوص استعداد کی بنا پر چن لیا تو کیوں نہیں ہو سکتا کہ اولاد آدم میں سے بعض کامل الاستعداد لوگوں کو منصب نبوت و رسالت کے لئے انتخاب کر لیا جائے تاکہ وہ لوگ براہ راست خدا سے فیض پا کر دوسروں کو ان کے انجام سے آگاہ کریں اور یہ اس پر آگاہ ہو کر بدی سے بچ جائیں اور اس طرح خدا کے رحم و کرم کے موردِ بنیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

پس انہوں نے اسے جھٹلایا توہم نے اسے اور ان لوگوں کو اور جو لوگ کشتی میں اس کے ساتھ تھے بچا لیا، اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا انہیں ہم نے غرق کر دیا بیشک وہ لوگ (حق شناسی سے ) اندھے تھے۔ (۶۴)

تشریح: یعنی حق و باطل اور نفع و نقصان کچھ نہ سوجھا۔ اندھے ہو کر برابر سرکشی اور تکذیب و بغاوت پر قائم رہے اور بت پرستی وغیرہ حرکات سے باز نہ آئے ، تو ہم نے معدودے چند مومنین کو بچا کر جو نوح علیہ السلام کے ہمراہ کشتی پر سوار ہوئے تھے ، باقی سب مکذبین کا بیڑا غرق کر دیا۔ اب جس قدر انسان دنیا میں موجود ہیں وہ ان ہی اہل سفینہ بلکہ صرف حضرت نوح کی ذرّیت ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور عاد کی طرف (بھیجا) ان کے بھائی ہود کو اور اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں؟۔ (۶۵)

تشریح:قوم عاد عربوں کی ابتدائی نسل کی ایک قوم تھی جو حضرت عیسی علیہ السلام سے کم از کم دو ہزار سال پہلے یمن کے علاقے حضر موت کے آس پاس آباد تھی، یہ لوگ اپنی جسمانی طاقت اور پتھروں کو تراشنے کے ہنر میں مشہور تھے ، رفتہ رفتہ انہوں نے بت بنا کر ان کی پوجا شروع کر دی اور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا ہو گئے ، حضرت ہود علیہ السلام ان کے پاس پیغمبر بنا کر بھیجے گئے اور انہوں نے اپنی قوم کو بڑی دردمندی سے سمجھانے کی کوشش کی اور انہیں توحید کی تعلیم دے کر اللہ تعالی کا شکر گزار بننے کی تعلیم دی مگر کچھ نیک طبع لوگوں کے سوا باقی لوگوں نے ان کا کہنا نہیں مانا، پہلے ان کو قحط میں مبتلا کیا گیا اور حضرت ہود علیہ السلام نے انہیں یاد دلایا کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے ایک تنبیہ ہے ، اگر اب بھی تم اپنی بد اعمالیوں سے باز آ جاؤ تو اللہ تعالی تم پر رحمت کی بارشیں برسادے گا،  لیکن اس قوم پر کچھ بھی اثر نہیں ہوا، اور وہ اپنے کفر و شرک میں بڑھتی چلی گئی، آخر کار ان پر ایک تیز و تند آندھی کا عذاب بھیجا گیا جو آٹھ دن تک متواتر جاری رہا، یہاں تک کہ یہ ساری قوم ہلاک ہو گئی، یہ لوگ اپنے قد و قامت میں اتنے لمبے چوڑے تھے کہ سورہ فجر میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ ان جیسی قوم کسی بھی ملک میں پیدا نہیں کی گئی۔

(توضیح القرآن)

 

اس کی قوم کے کافر سردار بولے البتہ ہم تجھے دیکھتے ہیں بے وقوفی میں اور ہم بیشک تجھے جھوٹوں سے گمان کرتے ہیں۔ (۶۶)

تشریح: ان کی قوم کے کافر سردار بولے : معاذ اللہ! تم بے عقل ہو کہ باپ دادا کی روش چھوڑ کر ساری برادری سے الگ ہوتے ہو اور جھوٹے بھی ہو کہ اپنے اقوال کو خدا کی طرف منسوب کر کے خوامخواہ عذاب سے ڈراتے ہو۔

(تفسیرعثمانی)

 

اس نے کہا اے میری قوم! مجھ میں بیوقوفی (کی کوئی بات) نہیں، لیکن میں تمام جہانوں کے رب کا بھیجا ہوا ہوں۔ (۶۷)

میں تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچاتا ہوں اور میں تمہارا خیر خواہ، امین ہوں۔ (۶۸)

تشریح: یعنی میری کوئی بات بے عقلی کی نہیں، ہاں جو منصب رسالت مجھ کو خدا کی طرف سے تفویض ہوا ہے اس کا حق ادا کرتا ہوں۔ یہ تمہاری بے عقلی ہے کہ اپنے حقیقی خیر خواہوں کو جن کی امانت و دیانت پہلے سے لائقِ اطمینان ہے بے عقل کہہ کر خود اپنا نقصان کرتے ہو۔

(تفسیرعثمانی)

 

کیا تمہیں تعجب ہوا کہ تمہارے پاس آئی تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت تم میں سے ایک آدمی پر تاکہ وہ تمہیں ڈرائے ، اور تم یاد کرو جب اس نے تمہیں توم نوح کے بعد جانشین بنایا، اور تمہیں زیادہ دیا جسم میں پھیلاؤ (ڈیل ڈول) سو اللہ کی نعمتیں یاد کرو تاکہ تم فلاح (کامیابی) پاؤ۔ (۶۹)

تشریح:یعنی قوم نوح کے بعد دنیا میں تمہاری حکومتیں قائم کیں اور اس کی جگہ تم کو آباد کیا۔ شاید یہ احسان یاد دلا کر اس پر بھی متنبہ کرنا ہے کہ بت پرستی اور تکذیب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت جو حشر ان کا ہوا وہ کہیں تمہارا نہ ہو۔

وَّزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً :جسمانی قوت اور ڈیل ڈول کے اعتبار سے یہ قوم مشہور تھی۔

فَاذْكُرُوْٓا اٰلَآءَ اللہِ :جو احسانات مذکور ہوئے وہ اور ان کے علاوہ خدا کے دوسرے بے شمار احسانات یاد کر کے اس کے شکر گذار اور فرمانبردار بننا چاہیے نہ یہ کہ منعم حقیقی سے بغاوت کرنے لگو۔

(تفسیرعثمانی)

 

وہ بولے کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہم اللہ واحد کی عبادت کریں، اور چھوڑ دیں جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے تھے ، تولے آ جس کا توہم سہ وعدہ کرتا ہے (دھمکاتا ہے ) اگرتوسچے لوگوں میں سے ہے۔ (۷۰)

تشریح: یعنی جس عذاب کی ہم کو دھمکی دیتے ہیں، اگر آپ سچے ہیں تو وہ لے آئیے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اس نہ کہا البتہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے پڑ گیا عذاب اور غضب، کیا تم مجھ سے ان ناموں کے بارہ میں جھگڑے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں، نہیں نازل کی اللہ نے اس کے لئے کوئی سند، سوتم انتظار کرو میں (بھی) تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔ (۷۱)

تشریح:یعنی جب تمہاری سرکشی اور گستاخانہ بے حیائی اس حد تک پہنچ چکی تو سمجھ لو خدا کا عذاب اور غضب تم پر نازل ہی ہو چکا اس کے آنے میں اب کچھ دیر نہیں۔

بتوں کو جو کہتے تھے کہ فلاں رزق دینے والا ہے اور فلاں مینہ برسانے والا اور فلاں بیٹا عطاء کرنے والا و علیٰ ہذا القیاس، یہ محض نام ہی نام ہیں جن کے نیچے کوئی حقیقت اور واقعیت نہیں، خدائی صفات پتھروں میں کہاں سے آئیں۔ پھر ان نام کے معبودوں کے پیچھے جن کی معبودیت کی کوئی عقلی یا نقلی سند نہیں، بلکہ کل عقلی و نقلی دلائل جسے مردود ٹھہراتے ہیں، تم دعویٰ توحید میں مجھ سے جھگڑے اور بحثیں کرتے ہو۔ جب تمہارے جہل اور شقاوت و عناد کا پیمانہ اس قدر لبریز ہو چکا ہے تو انتظار کرو خدا ہمارے تمہارے ان جھگڑوں کا فیصلہ کر دے۔ میں بھی اسی فیصلہ کا منتظر ہوں۔

(تفسیرعثمانی)

 

توہم نے اس کو بچا لیا اور اپنی رحمت سے اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے اور ہم نے ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی، جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور وہ نہ تھے ایمان لانے والے۔ (۷۲)

تشریح:یعنی ان پر سات رات اور آٹھ دن تک مسلسل آندھی کا طوفان آیا جس سے تمام کفار ٹکرا ٹکرا کر اور پٹک پٹک کر ہلاک کر دیئے گئے۔ یہ تو ”عاد اولیٰ” کا انجام ہوا۔ اور اسی قوم کی دوسری شاخ (ثمود) جسے ”عاد ثانیہ” کہتے ہیں، اس کا ذکر آگے آتا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور ثمود کی طرف (بھیجا) ان کے بھائی صالح کو اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، تمہارا ا سکے سوا کوئی معبود نہیں، تحقیق تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی آ چکی ہے ، یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی ہے ، سو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ، ورنہ تمہیں دردناک عذاب پکڑ لے گا۔ (۷۳)

اور یاد کرو جب تمہیں عاد کے بعد جانشین بنایا اور تمہیں زمین میں ٹھکانہ دیا، بناتے ہو اس کی نرم جگہ میں محل، اور تراشتے ہو پہاڑوں کے مکانات، سواللہ کی نعمتیں یاد کرو، اور ملک میں فساد مچاتے نہ پھرو۔ (۷۴)

سردار بولے ان کی قوم کے ، جو متکبر تھے ، ان غریب لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لا چکے تھے ، کیا تم جانتے ہو؟کہ صالح اپنے رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہے (رسول ہے ) انہوں نے کہا بیشک وہ جو کچھ لے کر بھیجا گیا ہے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ (۷۵)

وہ جنہوں نے تکبر کیا (سردار) بولے تم جس پر ایمان لائے ہو ہم اس کے منکر ہیں۔ (۷۶)

انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں، اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی، اور بولے اے صالح !لے آ جس کا توہم سے وعدہ کرتا ہے (دھمکاتا ہے ) اگر تورسولوں میں سے ہے۔ (۷۷)

پس زلزلہ نے انہیں آ پکڑا، تو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (۷۸)

پھر (صالح نے ) ان ے س منہ پھیرا اور کہا اے میری قوم ! میں نے تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچایا، اور تمہاری خیر خواہی کی، لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے۔ (۷۹)

تشریح:ثمود بھی قوم عاد ہی کی نسل سے پیدا ہوئی تھی اور ظاہر یہ ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام اور ان کے مؤمن ساتھی جو عذاب سے بچ گئے تھے یہ ان کی اولاد تھی اور ثمود ان کے دادا کا نام تھا، اسی لئے ان کو عاد ثانیہ بھی کہا جاتا ہے ، یہ قوم عرب اور شام کے درمیان اس علاقے میں آباد تھی جس کو اُس وقت حجر کہا جاتا تھا اور آج کل اسے مدائن صالح کہتے ہیں، اور آج بھی ان کے گھروں اور محلات کے کھنڈر موجود ہیں اور پہاڑوں سے تراشی ہوئی عمارتوں کے آثار جن کا ذکر آیت۷۴ میں ہے آج بھی وہاں دیکھے جا سکتے ہیں، عرب مشرکین جب تجارتی سفر پر شام جاتے تو یہ کھنڈر ایک نشان عبرت کے طور پر ان کے راستے میں پڑتے تھے اور قرآن کریم نے کئی مقامات پر انہیں اس کی طرف توجہ دلائی ہے ، اس قوم میں بھی رفتہ رفتہ بت پرستی کی بیماری پیدا ہو گئی تھی، اور اس کے نتیجے میں بہت سی عملی خرابیاں پھیل گئی تھیں، حضرت صالح علیہ السلام اسی قوم کے ایک فرد تھے جن کو اللہ تعالی نے ان کو راہ راست دکھانے کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا، لیکن یہاں بھی وہی صورت پیش آئی کہ قوم کی اکثریت نے ان کی بات نہیں مانی، حضرت صالح علیہ السلام نے جوانی سے بڑھاپے تک مسلسل ان کو تبلیغ جاری رکھی، آخر کا ان لوگو ں نے یہ مطالبہ کیا کہ اگر آپ ہمارے سامنے کے پہاڑ سے کوئی اونٹنی نکال کر دکھا دیں گے تو ہم ایمان لے آئیں گے ، حضرت صالح علیہ السلام نے دعا فرمائی اور اللہ تعالی نے پہاڑ سے اونٹنی بھی نکال کر دکھا دی، اس پر کچھ لوگ تو ایمان لے آئے ، مگر بڑے بڑے سردار اپنے عہدسے پھر گئے اور نہ صرف یہ کہ اپنی ضد پر اڑے رہے ، بلکہ جو دوسرے لوگ ایمان لانے کا ارادہ کر رہے تھے انہیں بھی روک دیا، حضرت صالح علیہ السلام کو اندیشہ ہوا کہ ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب آ جائے گا، اس لئے انہوں نے فرمایا کے کم از کم اللہ تعالی کی پیدا کی ہوئی اس اونٹنی کو تم آزاد چھوڑے رکھو، اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ، اور اونٹنی کو چونکہ پورے کنویں کا پانی درکار ہوتا تھا، اس لئے اس کی باری مقرر کر دی کہ ایک دن اونٹنی کنویں کا پانی پیئے گی اور دوسرے دن آبادی کے لوگ پانی لیں گے ، لیکن ہوا یہ کہ قوم کے کچھ لوگوں نے اونٹنی کو مار ڈالنے کا ارادہ کیا اور آخر کار ایک شخص نے جس کا نام قذار تھا اس کو قتل کر ڈالا، اس موقع پر حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں متنبہ کیا کہ اب ان کی زندگی کے صرف تین دن باقی رہ گئے ہیں، جس کے بعد وہ عذاب سے ہلاک کر دئے جائیں گے ، بعض روایات میں ہے کہ انہوں نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ ان تین دنوں میں سے ہر دن ان کے چہروں کا رنگ بدل جائے گا یعنی پہلے دن رنگ پیلا، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن کالا ہو جائے گا، اس کے باوجود اس ضدی قوم نے توبہ اور استغفار کرنے کے بجائے خود حضرت صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، جس کا ذکر قرآن کریم نے سورہ نمل میں فرمایا ہے ،  لیکن اللہ تعالی نے انہیں راستے ہی میں ہلاک کر دیا اور ان کا منصوبہ دھرا رہ گیا، آخر کار تین دن اسی طرح گزرے جیسے حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا تھا اسی حالت میں شدید زلزلہ آیا اور آسمان سے ایک ہیبت ناک چیخ کی آواز نے ان سب کو ہلاک کر ڈالا۔

(توضیح القرآن)

 

لوط (کو بھیجا) جب اس نے اپنی قوم سے کہا تم وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے سارے جہان میں کسی نے نہیں کی۔ (۸۰)

بیشک تم مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر، بلکہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔ (۸۱)

اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا، مگر یہ کہ انہوں نے کہا انہیں اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ پاکیزگی چاہتے ہیں۔ (۸۲)

سوہم نے نجات دی اس کو اور ا سکے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔ (۸۳)

اور ہم نے ان پر (پتھروں کی) ایک بارش برسائی پس دیکھو مجرموں کا کیسا انجام ہوا۔ (۸۴)

تشریح:حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے ، جو اپنے مقدس چچا کی طرح عراق میں پیدا ہوئے تھے ، اور جب انہوں نے وہاں سے ہجرت کی تو حضرت لوط علیہ السلام بھی ان کے ساتھ وطن سے نکل آئے ، بعد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام فلسطین کے علاقے میں آباد ہوئے ، اور حضرت لوط علیہ السلام کو اللہ تعالی نے اردن کے شہرسدوم (sodom) میں پیغمبر بنا کر بھیجا، سدوم ایک مرکزی شہر تھا اور اس کے مضافات میں عمورہ وغیرہ کئی بستیاں آباد تھیں، کفر و شرک کے علاوہ ان بستیوں کی شرمناک بد عملی یہ تھی کہ وہ ہم جنسی (homosexuality) کی لعنت میں گرفتار تھے جس کا ارتکاب قرآن کریم کی تصریح کے مطابق ان سے پہلے دنیا کے کسی فرد نے نہیں کیا تھا، حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں اللہ تعالی کے احکام پہنچائے اور عذاب سے بھی ڈرایا، لیکن جب یہ لوگ اپنی خباثت سے باز نہ آئے تو ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی اور ان تمام بستیوں کو الٹ دیا گیا، آج بحر میت (dead sea) کے نام سے جو سمندر ہے ، کہتے ہیں کہ یہ بستیاں یا تواس میں ڈوب گئی ہیں یا اس کے آس پاس تھیں جن کا نشان واضح نہیں رہا، حضرت لوط علیہ السلام کا اس قوم کے ساتھ نسبی تعلق نہیں تھا پھر بھی اس آیت میں اسے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کہا گیا ہے کیونکہ یہ وہ امت تھی جس کی طرف ان کو بھیجا گیا تھا.

(توضیح القرآن)

 

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (کو بھیجا) اس نے کہا اے میری قوم!اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تحقیق تمہارے پاس ایک دلیل پہنچ چکی ہے ، تمہارے رب کی طرف سے ، پس ناپ اور تول پورا کرو اور لوگوں کی اشیاء نہ گھٹاؤ، (گھٹا کر نہ دو) اور ملک میں اصلاح کے بعد فساد نہ مچاؤ، تمہارے لئے بہتر ہے ، اگر تم ایمان والے ہو۔ (۸۵)

تشریح:مدین ایک قبیلے کا نام ہے اور اسی کے نام پر ایک بستی بھی ہے جس میں حضرت شعیب علیہ السلام کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا، ان کا زمانہ حضرت موسی علیہ السلام سے کچھ پہلے کا ہے اور بعض روایات میں ہے کہ وہی حضرت موسی علیہ السلام کے خسر تھے ، یہ ایک سرسبز شاداب علاقہ تھا اور یہاں کے لوگ خاصے خوش حال تھے ، رفتہ رفتہ ان میں کفر و شرک کے علاوہ بہت سی بد عنوانیاں رواج پا گئیں، ان کے بہت سے لوگ ناپ تول میں دھوکا دیتے تھے ، بہت سے زور آور لوگوں نے راستوں پر چوکیاں بنا رکھی تھیں جو گزرنے والوں سے زبردستی کا ٹیکس وصول کرتے تھے ، کچھ لوگ ڈاکے بھی ڈالتے تھے ، نیز جو لوگ حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس جاتے نظر آتے انہیں روکتے اور تنگ کرتے تھے ، ان کی بد عنوانیوں کا ذکر اگلی دو آیتوں میں آ رہا ہے ، حضرت شعیب علیہ السلام کو اللہ تعالی نے اپنی قوم کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا، انہوں نے مختلف طریقوں سے اپنی قوم کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی، اللہ تعالی نے تقریر اور خطابت کا خاص ملکہ عطا فرمایا تھا اسی لئے وہ خطیب الانبیاء کے لقب سے مشہور ہیں،  لیکن ان کی مؤثر تقریروں کا قوم نے کچھ اثر نہ لیا اور آخر کار وہ اللہ تعالی کے عذاب کا نشانہ بنی، حضرت شعیب علیہ السلام اور ان کی قوم کے واقعات سب سے زیادہ تفصیل سے سورۂ  ہود (۱۱: ۸۴تا۹۵) میں آئے ہیں اور سورۂ حجر (۱۵:۷۸) میں مختصر حوالہ آیا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

وَلَا تَبْخَسُوْا النَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ:اس سے معلوم ہو تا ہے کہ یہ قوم ناپ تول میں کمی کے علاوہ دوسرے طریقوں سے بھی لوگوں کی حق تلفی کیا کرتی تھی، اس آیت میں لفظ بخس استعمال کیا گیا ہے ، جس کے لفظی معنی کمی کرنے کے ہیں اور یہ لفظ خاص طور پر کسی کا حق مار لینے کے معنی میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے اور قرآن کریم میں یہ فقرہ تین جگہ بڑی تاکید کے ساتھ آیا ہے اور اس میں دوسروں کی ملکیت کے احترام پر زور دیا گیا ہے ، اس احترام میں یہ بات بھی داخل ہے کہ کسی کے مال یا جائیداد پر اس کی مرضی کے بغیر قبضہ کر لیا جائے اور یہ بھی کہ کسی کی کوئی بھی چیز اس کی خوش دلی کے بغیر استعمال کی جائے۔

(توضیح القرآن)

 

اور ہر راستہ پر نہ بیٹھو کہ تم (راہ گیروں کو) ڈراؤ اور اسے اللہ کے راستے سے روکو جو اس پر ایمان لایا اور اس میں کجی ڈھونڈو، اور یاد کرو جب تم تھوڑے (اقلیت میں) تھے اس نے تمہیں بڑھا دیا، اور دیکھو فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ (۸۶)

تشریح: وَلَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ:  راستوں پر بیٹھنا دو وجہ سے تھا۔ راہ گیروں کو ڈرا دھمکا کر ظلماً مال وصول کریں اور مومنین کو شعیب کے پاس جانے اور خدا کا دین اختیار کرنے سے روکیں اور خدائی مذہب کے متعلق نکتہ چینی اور عیب جوئی کی فکر میں رہیں۔

وَاذْكُرُوْٓا إِذْ كُنْتُمْ قَلِيْلًا فَکَثَّرَكُمْ :تعداد اور دولت دونوں میں کم تھے خدا نے دونوں طرف تم کو بڑھایا۔ مردم شماری بھی بڑھ گئی اور دولت مند بھی ہو گئے۔ خدا کے ان احسانات کا شکر ادا کرو۔ اور وہ جب ہی ادا ہو سکتا ہے کہ خدا کے اور بندوں کی حقوق پہچان کی عملی درستی اور اصلاح میں مشغول رہو اور ان نعمتوں پر مغرور نہ ہو بلکہ خرابی اور فساد مچانے والوں کا جو انجام پہلے ہو چکا ہے اسے پیش نظر رکھ کر خدائی گرفت سے ڈرتے رہو۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اگر تم میں ایک گروہ ہے جو اس پر ایمان لایا جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں، اور ایک گروہ وہ ایمان نہیں لایا، تو تم صبر کرو یہاں تک کہ فیصلہ کر دے اللہ ہمارے درمیان، اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ (۸۷)

تشریح:یہ درحقیقت ان کی ایک بات کا جواب ہے ، وہ کہتے تھے کہ ہمیں تو مؤمنوں اور کافروں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا، جو لوگ ایمان نہیں لائے وہ بھی خوش حالی کی زندگی بسر کر رہے ہیں اگر ان کا طریقہ اللہ کو پسند نہ ہوتا تو انہیں یہ خوش حالی کیوں نصیب ہوتی؟جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس وقت کی خوش حالی سے یہ دھوکا نہ کھانا چاہئے کہ صورت حال ہمیشہ ایسی ہی رہے گی، ابھی اللہ تعالی کے فیصلے کا انتظار کرو۔

(توضیح القرآن)

 

اس کی قوم کے سردار جو بڑے بنتے تھے بولے اے شعیب! ہم ضرور نکال دیں گے تجھے اور انہیں جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے یا یہ کہ تم ہمارے دین میں لوٹ آؤ فرمایا خواہ ہم ناپسند کرتے ہوں (پھر بھی) (۸۸)

البتہ ہم اللہ پر جھوٹا بہتان باندھیں گے اگر ہم اس کے بعد تمہارے دین میں لوٹ آئیں جبکہ اللہ نے ہمیں اس سے بچا لیا ہے اور ہمارا کام نہیں اس میں لوٹ آئیں مگر یہ کہ اللہ ہمارا رب چاہے۔ (۸۹)

تشریح:حضرت شعیب علیہ السلام کے دوسر ے ساتھی تو پہلے اپنی قوم کے دین پر تھے ، بعد میں ایمان لائے اس لئے ان کے حق میں تو پرانے دین کی طرف لوٹنے کا لفظ صحیح ہے ، لیکن حضرت شعیب علیہ السلام کبھی بھی ان کے دین پر نہیں رہے البتہ ان کی نبوت سے پہلے ان کی قوم کے لوگ یہ سمجھتے ہوں گے کہ وہ انہی کے دین پر ہیں، اس لئے انہوں نے آپ کے لئے بھی لوٹنے کا لفظ استعمال کیا تھا، حضرت شعیب علیہ السلام نے جواب بھی انہی کے الفاظ میں دیا۔

إِلَّا أَنْ يَشَآءَ اللّٰهُ:یہ اعلی درجے کی عبدیت کا فقرہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے پکے عزم سے اللہ تعالی کو کسی بات پر مجبور نہیں کر سکتا، ہم نے اپنی طرف سے تو یہ پکا ارادہ کر رکھا ہے کہ کبھی تمہارا دین اختیار نہیں کریں گے لیکن اپنے اس عزم پر عمل اللہ تعالی کی توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہے ، اور اگر وہ چاہے تو ہمارے دلوں کو بھی پھیر سکتا ہے یہ اور بات ہے کہ جب کوئی بندہ اخلاص کے ساتھ راہ راست پر رہنے کا ارادہ کر لیتا ہے تووہ اس کا دل گمراہی کی طرف نہیں پھیرتا اور ہر شخص کے اخلاص کی کیفیت کا اس کو پورا علم ہے ، لہذا اخلاص کے ساتھ کسی بات کا پکا ارادہ کر لینے کے بعد اللہ تعالی پر بھروسہ کرنا چاہئے کہ وہ اس ارادے کو پورا فرمائے گا، اس طرح حضرت شعیب علیہ السلام نے اس جملے سے یہ عظیم سبق دیا ہے کہ کوئی بھی نیکی کرتے وقت بھروسہ اپنے عزم اور عمل کے بجائے اللہ تعالی پر کرنا چاہئے۔

(توضیح القرآن)

 

اور وہ سردار بولے جنہوں نے کفر کیا اس کی قوم کے ، اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو اس صورت میں تم خود خسارے میں ہوں گے۔ (۹۰)

تشریح:یعنی باپ دادا کا مذہب جھوٹا، یہ تو دین کی خرابی ہوئی اور تجارت میں ناپ تول ٹھیک رکھی، یہ دنیا کا نقصان ہوا۔

(تفسیرعثمانی)

 

تو انہیں زلزلہ نے آل یا پس وہ صبح کے وقت اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے (۹۱)

جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا (وہ ایسے مٹے ) گویا (کبھی) بستے نہ تھے وہاں، جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہی خسارہ پانے والے ہوئے۔ (۹۲)

پھر ان سے اس نے منہ پھیرا اور کہا اے میری قوم !میں نے تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچا دئیے اور تمہاری خیر خواہی کر چکا تو (اب) کافر قوم پر کیسے غم کھاؤں؟ (۹۳)

تشریح:اس قوم پر جو عذاب آیا اس کے لئے قرآن نے یہاں زلزلے کا ذکر فرمایا ہے ، سورۂ ہود میں اس کو صیحہ یعنی چنگھاڑ سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور سورۂ شعراء میں اسے عذاب یوم الظلہ یعنی سائبان کے دن کا عذاب فرمایا گیا ہے ، حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے ایک روایت یہ ہے کہ ان لوگوں پر پہلے سخت گرمی پڑی جس سے یہ بلبلا اٹھے پھر شہر سے ایک بادل آیا جس میں ٹھنڈی ہوا تھی یہ لوگ گھروں سے نکل کر اس کے نیچے جمع ہو گئے اس وقت اس بادل سے آگ برسائی گئی جسے سائبان سے تعبیر کیا گیا ہے ، پھر زلزلہ آیا (روح المعانی) اور زلزلے کے ساتھ عموماً آواز بھی ہوتی ہے جسے چنگھاڑ کہا گیا۔

(توضیح القرآن)

 

اور ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا مگر ہم نے وہاں کے لوگوں کو سختی میں پکڑا اور تکلیف میں، تاکہ وہ عاجزی کریں۔ (۹۴)

پھر ہم نے برائی کی جگہ بھلائی بدلی، یہاں تک کہ وہ بڑھ گئے اور کہنے لگے : تکلیف اور خوشی ہمارے باپ دادا کو پہنچ چکی ہے ، پس ہم نے انہیں اچانک پکڑا، اور وہ بے خبر تھے۔ (۹۵)

تشریح: بتایا یہ جا رہا ہے کہ اللہ تعالی نے جن لوگوں کو اپنے عذاب سے ہلاک کیا انہیں (معاذاللہ) جلدی سے غصے میں آ کر ہلاک نہیں کر دیا، بلکہ انہیں سالہا سال تک راہ راست پر آنے کے بہت سے مواقع فراہم کئے ، اول تو پیغمبر بھیجے جو انہیں برسوں تک ہوشیار کرتے رہے ، پھر شروع میں انہیں کچھ معاشی بدحالی یا بیماریوں وغیرہ کی مصیبتوں سے دوچار کیا تاکہ ان کے دل کچھ نرم پڑیں کیونکہ بہت سے لوگ ایسے حالات میں اللہ تعالی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور تنگی ترشی میں بعض اوقات حق بات کو قبول کرنے کی صلاحیت زیادہ پیدا ہو جاتی ہے ، جب ایسے حالات میں پیغمبر ان کو متنبہ کرتے ہیں کہ ذرا سنبھل جاؤ ابھی اللہ تعالی نے ایک اشارہ دیا ہے ، جو کسی وقت باقاعدہ عذاب میں تبدیل ہو سکتا ہے تو بعض لوگوں کے دل پسیج جاتے ہیں، دوسری طرف کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان پر خوش حالی آتی ہے تو ان کے دل میں اللہ تعالی کے احسانات کا احساس پیدا ہوتا ہے اور وہ اس وقت حق بات کو قبول کرنے کے لئے نسبۃً زیادہ آمادہ ہو جاتے ہیں، چنانچہ ان لوگوں کو بدحالی کے بعد خوش حالی کی نعمت بھی عطا کی جاتی ہے ،  تاکہ وہ شکر گزار بن سکیں، حالات کی اس تبدیلی سے بعض لوگ بیشک سبق لے لیتے ہیں اور راہ راست پر آ جاتے ہیں، لیکن کچھ ضدی طبیعت کے لوگ ان باتوں سے کوئی سبق نہیں سیکھتے اور یہ کہتے ہیں کہ یہ دکھ سکھ اور سرد گرم حالات تو ہمارے باپ داداؤں کو بھی پیش آ چکے ہیں، انہیں خوامخواہ اللہ تعالی کی طرف سے کوئی اشارہ قرار دینے کی کیا ضرورت ہے ؟ اس طرح جب ان لوگوں پر ہر طرح کی حجت تمام ہو چکی ہوتی ہے تو پھر اللہ تعالی کی طرف سے عذاب آتا ہے اور اس طرح پکڑ لیتا ہے کہ ان کو پہلے سے اندازہ بھی نہیں ہوتا۔

(توضیح القرآن)

 

اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے ، اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو البتہ ہم ان پر برکتیں کھول دیتے زمین اور آسمان سے ، لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے انہیں پکڑا اس کے نتیجے میں جو وہ کرتے تھے۔ (۹۶)

تشریح: یعنی ہم کو بندوں سے کوئی ضد نہیں جو لوگ عذابِ الٰہی میں گرفتار ہوتے ہیں یہ انہی کی کرتوتوں کا نتیجہ ہے ، اگر یہ لوگ ہمارے پیغمبروں کو مانتے اور حق کے سامنے گردن جھکاتے اور کفر و تکذیب وغیرہ سے بچ کر تقویٰ کی راہ اختیار کرتے تو ہم ان کو آسمانی و زمینی برکات سے مالا مال کر دیتے ، امام رازی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ برکت کا لفظ دو معنی میں استعمال ہوتا ہے کبھی تو خیر باقی و دائم کو برکت سے تعبیر کرتے ہیں اور کبھی کثرت آثار فاضلہ پر یہ لفظ اطلاق کیا جاتا ہے ، لہٰذا آیت کی مراد یہ ہو گی کہ ایمان و تقویٰ اختیار کرنے پر ان آسمانی و زمینی نعمتوں کے دروازے کھول دئیے جاتے جو دائمی اور غیر منقطع ہوں یا جن کے آثار فاضلہ بہت کثرت سے ہوں۔ ایسی خوشحالی نہیں، جو مکذبین کو چند روز کے لیے بطور امہال و استدراج حاصل ہوتی ہے اور انجام کار دنیا میں ورنہ آخرت میں تو ضرور ہی وبال جان بنتی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

کیا اب وہ بے خوف ہیں بستیوں والے کہ ان پر ہمارا عذاب راتوں رات آ جائے اور وہ سوئے ہوئے ہو ں۔ (۹۷)

کیا بستیوں والے اس سے بے خوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ جائے اور وہ کھیل کود رہے ہوں۔ (۹۸)

تشریح:ان واقعات کے حوالے سے اب کفار مکہ کو متوجہ کیا جا رہا ہے کہ اللہ تعالی کے غضب سے کسی کو بھی بے فکر ہو کر نہیں بیٹھ رہنا چاہئے ، اور یہ بات صرف کفار مکہ ہی کے لئے نہیں ہے بلکہ ہر وہ شخص جو کسی گناہ بد عملی یا ظلم میں مشغول ہو اسے ان آیات کریمہ کا ہمیشہ دھیان رکھنا چاہئے۔

(توضیح القرآن)

 

کیا وہ اللہ کی تدبیر سے بے خوف ہو گئے ؟ سو بے خوف نہیں ہوتے اللہ کی تدبیر سے مگر خسارہ اٹھانے والے۔ (۹۹)

تشریح:یہاں اصل لفظ‘‘ مکر’’ ہے جس کے معنی عربی میں ایسی خفیہ تدبیر کے ہوتے ہیں جسکا مقصد وہ شخص نہ سمجھے جس کے خلاف وہ کاروائی کی جا رہی ہو، اللہ تعالی کی طرف سے ایسی تدبیر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی بعض لوگوں کو ان کی بد اعمالیوں کے باوجود دنیا میں خوش حالی اور ظاہری خوشیاں عطا فرماتے ہیں، جسکا مقصد انہیں ڈھیل دینا ہوتا ہے ، پھر جب وہ اپنی بد عملی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں تو ان کو ایک دم سے پکڑ میں لے لیا جاتا ہے ، لہذا عیش و عشرت کے عالم میں بھی انسان کو اپنے اعمال سے غافل ہو کر نہیں بیٹھنا چاہئے ،  بلکہ اپنی اصلاح کی فکر کرتے رہنا چاہئے اور یہ خطرہ ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اگر ہم راہ راست سے بھٹکے تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے ڈھیل بھی ہو سکتی ہے ، اللہ تعالی ہم سب کو اس سے اپنی پناہ میں رکھے۔

(توضیح القرآن)

 

کیا ان لوگوں کو ہدایت نہ ملی؟ جو زمین کے وارث ہوئے وہاں رہنے والوں کے بعد، اگر ہم چاہتے تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصبیت ڈالتے ، اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگاتے ہیں سو وہ سنتے نہیں۔ (۱۰۰)

یہ بستیاں ہیں جن کی خبریں ہم تم پر بیان کرتے ہیں، اور البتہ ان کے پاس آئے ان کے رسول نشانیاں لے کر سو وہ ایمان نہ لائے ،  کیونکہ اس سے پہلے انہوں نے جھٹلایا تھا، اسی طرح اللہ کافروں کے دل پر مہر لگاتا ہے۔ (۱۰۱)

تشریح:پچھلی قوموں کے حالات و واقعات سنا کر موجودہ اقوام عرب و عجم کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ ان واقعات میں تمہارے لئے بڑا درس عبرت ہے کہ جن کاموں کی وجہ سے پچھلے لوگوں پر اللہ کا غضب اور عذاب نازل ہوا ان کے پاس نہ جائیں اور جن کاموں کی وجہ سے انبیاء علیہم السلام کے متبعین کو کامیابی ہوئی ان کو اختیار کریں۔

(معارف القرآن)

 

اور ہم نے ان کے اکثر میں عہد کا کوئی پاس نہ پایا اور در حقیقت ہم نے ان میں اکثر نافرمان بدکردار پائے۔ (۱۰۲)

تشریح: ”عہد” سے ممکن ہے عام عہود مراد ہوں یا خاص ”عہد الست” کا ارادہ کیا گیا ہو، یا وہ عہد جو مصائب اور سختیوں کے وقت کرتے تھے کہ فلاں سختی اٹھا لی جائے تو ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

پھر ہم نے ان کے بعد موسیؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا فرعون کی طرف اور اس کے سرداروں کی طرف، تو انہوں نے ان (نشانیوں کا) انکار کیا، سو تم دیکھو فساد کرنے والوں کا انجام کیا ہوا؟۔ (۱۰۳)

تشریح:یہاں سے آیت نمبر:۱۶۲ تک حضرت موسی علیہ السلام کے واقعے کے کچھ اہم حصے تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں، اس سورت میں فرعون کے ساتھ آپ کی گفتگو اور مقابلے اور اس کے غرق ہونے کی تفصیل، نیز حضرت موسی علیہ السلام کو تورات عطا ہونے کے واقعات آرہے ہیں، آپ حضرت یعقوب علیہ السلام کی چوتھی پشت میں آتے ہیں، سورۂ یوسف میں قرآن کریم نے بتایا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام جب مصر کے وزیر خزانہ بن گئے تو انہوں نے اپنے والدین اور بھائیوں کو فلسطین سے مصر بلا لیا تھا، اسرائیلی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی ساری اولاد جو بنو اسرائیل کہلاتی ہے پھر وہیں آباد ہو گئی تھی، اور مصر کے بادشاہ نے ان کو شہری آبادی سے الگ ایک علاقہ دے دیا تھا، مصر کے ہر بادشاہ کو فرعون کہا جاتا تھا، حضرت یوسف علیہ السلام کی وفات کے بعد رفتہ رفتہ مصر کے بادشاہوں نے بنی اسرائیل کو اپنا غلام سمجھنا شروع کر دیا اور دوسری طرف تکبر میں آ کر انہی میں کا ایک فرعون (جس کا نام جدید تحقیق کے مطابق منفتاح تھا) خدائی کا دعوے دار بن بیٹھا، ان حالات میں حضرت موسی علیہ السلام کو پیغمبر بنا کر اس کے پاس بھیجا گیا، ان کے پیدائش، مدین کی طرف ہجرت، اور پھر نبوت عطا ہونے کے واقعات تو انشاء اللہ سورہ طہ (سورہ نمبر:۲۰) اور سورہ قصص (سورہ نمبر:۲۸) میں آئیں گے ، اس کے علاوہ مزید ۳۵ سورتوں میں آپ کے واقعات کے مختلف حصے بیان فرمائے ہیں ، لیکن فرعون کے ساتھ ان کے جو واقعات پیش آئے ان کا تذکرہ یہاں ہو رہا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور کہا موسیؑ نے اے فرعون !بیشک میں تمام جہانوں کے رب کی طرف سے رسول ہوں۔ (۱۰۴)

شایاں ہے کہ میں نہ کہوں اللہ پر، مگر حق، تحقیق میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانیاں لایا ہوں، پس میرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے۔ (۱۰۵)

تشریح: یوں تو حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرعون کو کئی طرح کی نصیحتیں کیں جیسا کہ دوسری آیات میں مذکور ہیں: فَقُلْ ہَلْ لَّکَ اِلٰی اَنْ تَزَکیّٰ وَاَہْدِیَکَ اِلٰی رَبِّکَ فَتَخْشٰی مگر ایک بڑی مہم چیز یہ تھی کہ بنی اسرائیل کو جو انبیائے کرام کی اولاد میں سے تھے اور جنہیں فرعونیوں نے ذلیل جانوروں کی طرح غلام بنا رکھا تھا، مظالم و شدائد سے نجات دلائیں۔ اس موقع پر فرعون کو مخاطب کرتے ہوئے اسی چیز کی طرف توجہ دلائی ہے۔ یعنی بنی اسرائیل کو اپنی قید و بیگار سے نجات دے تاکہ وہ آزادی کے ساتھ اپنے پروردگار کی عبادت میں مشغول ہوں اور میرے ساتھ اپنے وطن مالوف (ملک شام) میں چلے جائیں کیونکہ ان کے جد اعلیٰ حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے عراق سے ہجرت کر کے شام ہی میں قیام فرمایا تھا۔ بعدہٗ حضرت یوسف علیہ السلام کی وجہ سے بنی اسرائیل مصر میں آباد ہوئے۔ اب چونکہ یہاں کی قوم قبطیوں نے ان پر طرح طرح کے مظالم کر رکھے ہیں، ضرورت ہے کہ ان کو قبطیوں کی ذلیل غلامی سے آزادی دلا کر آبائی وطن کی طرف واپس کیا جائے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بولا اگر تو کوئی نشانی لایا ہے تو وہ لے آ، اگر تو سچوں میں سے ہے۔ (۱۰۶)

پس اس ( موسیؑ) نے ڈالا اپنا عصا اور اچانک وہ صاف اژدھا ہو گیا۔ (۱۰۷)

تشریح: جس کے اژدھا ہونے میں کسی طرح کی شک و شبہ کی گنجائش نہ تھی کہتے ہیں کہ وہ اژدھا منہ کھول کر فرعون کی طرف لپکا آخر فرعون نے بدحواس ہو کر موسٰی علیہ السلام سے اس کے پکڑنے کی درخواست کی۔ موسٰی علیہ السلام کا ہاتھ لگانا تھا کہ پھر عصا بن گیا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اپنا ہاتھ (گریبان سے ) نکالا تا ناگاہ وہ ناظرین کے لیے نورانی ہو گیا۔ (۱۰۸)

تشریح:یعنی ہاتھ گریبان میں ڈال کر اور بغل میں دبا کر نکالا تو لوگوں نے کھلی آنکھوں دیکھ لیا کہ غیر معمولی طور پر سفید اور چمکدار تھا۔ یہ روشنی اور چمک کسی مرض برص وغیرہ کی وجہ سے نہ تھی، بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قلب منوّر کی روشنی بطریق اعجاز ہاتھ میں سرایت کر جاتی تھی۔

(تفسیرعثمانی)

 

یہ دو معجزے تھے جو اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کو عطا فرمائے تھے ، کہتے ہیں کہ اس زمانے میں جادوگروں کا بڑا چرچہ تھا، اس لئے آپ کو ایسے معجزات عطا فرمائے گئے جو جادوگروں کو بھی عاجز کر دیں اور آپ کی نبوت ہر کس وناکس پر واضح ہو جائے۔

(توضیح القرآن)

 

فرعون کی قوم   کے سردار بولے بیشک یہ تو ماہر جادوگر ہے۔ (۱۰۹)

تشریح: معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے موسٰی علیہ السلام کے معجزات سے ہیبت زدہ ہو کر پبلک کو جمع کیا اور پہلے اس نے بذاتِ خود (کما فی الشعراء) پھر اس کی طرف سے بڑے بڑے لیڈروں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ موسٰی علیہ السلام (معاذ اللہ) کوئی بڑے ماہر جادوگر معلوم ہوتے ہیں۔ کیونکہ جو خوارق موسٰی علیہ السلام سے ظاہر ہوئے ان کی حسیّات کے موافق جادو سے بہتر ان کی کوئی توجیہ نہ ہو سکتی تھی۔

(تفسیرعثمانی)

 

چاہتا ہے کہ تمہیں نکال دے تمہاری سر زمین سے ، تو اب کیا کہتے ہو (تمہارا کیا مشورہ ہے ) ؟ (۱۱۰)

تشریح:یعنی عجیب و غریب ساحرانہ کرشمے دکھلا کر مخلوق کو اپنی طرف مائل کرنے اور انجام کار ملک میں اثرو اقتدار پیدا کر کے اور بنی اسرائیل کی حمایت و آزادی کا نام لے کر قبطیوں کو جو یہاں کے اصل باشندے ہیں، ان کے ملک و وطن (مصر) سے بے دخل کر دے۔ ان حالات کو پیش نظر رکھ کر مشورہ دو کہ کیا ہونا چاہیے۔

(تفسیرعثمانی)

 

وہ بولے اس کو اس کے بھائی کو روک لے ، اور شہروں میں بھیج دے نقیب۔ (۱۱۱)

تیرے پاس ہر ماہر جادوگر کو لے آئیں۔ (۱۱۲)

تشریح: مشاورت باہمی کے بعد یہ پاس ہوا کہ فرعون سے درخواست کی جائے کہ وہ ان دونوں (موسیٰ و ہارون) کے معاملہ میں جلدی نہ کرے ، ان کا بہترین توڑ اور موثر جواب یوں ہو سکتا ہے کہ چپراسی بھیج کر تمام قلمرو میں سے فنِ سحر کے جاننے والے جو ان سے بھی بڑھ کر اس فن کے ماہر (سحّار) ہوں جمع کر لیے جائیں، ان سے ان کا مقابلہ کرایا جائے۔ چنانچہ یوں ہی کیا گیا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جادو گر فرعون کے پاس آئے ، وہ بولے یقیناً ہمارے لیے کوئی انعام ہو گا ؟اگر ہم غالب ہوئے۔ (۱۱۳)

تشریح:ساحرین فرعون نے اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا کہہ کر پہلے ہی قدم پر جتلا دیا کہ انبیاء علیہم السلام جن کا پہلا لفظ مَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّاعَلَی اللہِ ہوتا ہے ، کوئی پیشہ ور لوگ نہیں ہوتے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اس نے کہا ہاں!تم بیشک (میرے ) مقربین میں سے ہو گے۔ (۱۱۴)

تشریح: یعنی مزدوری کیا چیز ہے وہ تو ملے گی، اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم ہمارے مقربین بارگاہ اور مصاحبین خاص میں داخل کر لیے جاؤ گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

وہ بولے اے موسی!یا تو ڈال ورنہ ہم ڈالنے والے ہیں۔ (۱۱۵)

تشریح:یہ شاید اس بناء پر کہا کہ پیشتر حضرت موسٰی علیہ السلام فرعون کے روبرو عصا ڈال کر باذن اللہ اژدھا بنا چکے تھے۔

(تفسیرعثمانی)

 

(موسیؑ نے ) کہا تم ڈالو، پس جب انہوں نے ڈالا لوگوں کی آنکھوں پر سحر کر دیا، اور انہیں ڈرایا اور وہ بڑا جادو لائے۔ (۱۱۶)

تشریح: یعنی جادو کے زور سے نظر بندی کر کے مجمع پر چھا گئے اور لوگوں کو مرعوب کر لیا۔ دوسری آیت میں ہے کہ انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر پھینک دیں جس سے زمین پر سانپ ہی سانپ دوڑتے معلوم ہونے لگے (یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِھمْ اَنَّہَا تَسْعٰی) ان آیات سے ظاہر ہوا کہ ساحرین فرعون نے اس وقت جو شعبدہ دکھلایا تھا، اس میں فی الواقع قلب ماہیت نہیں ہوا بلکہ وہ محض تخییل اور نظر بندی تھی۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ تمام اقسامِ سحر اسی میں منحصر ہوں، شاید انہوں نے یہ گمان کیا ہو کہ ہم اتنی ہی کارروائی سے موسٰی علیہ السلام کو دبا لیں گے۔ اور کچھ گنجائش ملتی تو ممکن تھا کہ اس سحر عظیم سے بھی بڑا کوئی سحر اعظم دکھلاتے ، مگر اعجازِ موسوی نے سحر کو پہلے ہی مورچہ پر مایوس کن شکست دے دی، آگے موقع ہی نہ رہا کہ مزید مقابلہ جاری رکھا جاتا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور ہم نے موسی کی طرف وحی بھجی کہ اپنا عصا ڈالو، ناگاہ وہ نگلنے لگا جو ڈھکو سلا انہوں نے بنایا تھا۔ (۱۱۷)

پس حق ثابت ہو گیا اور وہ جو کرتے تھے باطل ہو گیا۔ (۱۱۸)

تشریح: یعنی عصائے موسٰی سانپ بن کر ان کی تمام لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل گیا اور سارا بنا بنایا کھیل ختم کر دیا۔ جس سے ساحرین کو تنبہ ہوئی کہ یہ سحر سے بالا تر کوئی اور حقیقت ہے۔

 

پس وہ وہیں مغلوب ہو گئے ، اور لوٹے ذلیل ہو کر (۱۱۹)

تشریح:آخر فرعون کے لوگ بھرے مجمع میں شکست کھا کر اور ذلیل ہو کر میدان مقابلہ سے لوٹے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جادو گر سجدہ میں گر گئے۔ (۱۲۰)

تشریح: ساحرین خدائی نشانی دیکھ کر بے اختیار سجدہ میں گر پڑے۔ کہتے ہیں کہ موسٰی و ہارون نے ظہورِ حق پر سجدہ شکر ادا کیا۔ اسی وقت ساحرین بھی سر بسجود ہو گئے۔ اُلْقِیَ السَّحَرَۃُ کا لفظ بتلاتا ہے کہ کوئی ایسا قوی حال ان پر طاری ہوا جس کے بعد بجز خضوع و استسلام کوئی چارہ نہیں رہا۔ رحمت الٰہیہ کا کیا کہنا کہ جو لوگ ابھی ابھی پیغمبر خدا سے نبرد آزمائی کر رہے تھے سجدہ سے سر اٹھاتے ہی اولیاء اللہ اور عارفِ کامل بن گئے۔

(تفسیرعثمانی)

 

وہ بولے کہ ہم تمام جہانوں کہ رب پر ایمان لے آئے۔ (۱۲۱)

یعنی موسی اور ہارون کے رب پر۔ (۱۲۲)

تشریح: چونکہ فرعون بھی اپنی نسبت اَنَارَبُّکُمُ الْاَعْلٰی کہتا تھا، شاید اس لیے رَبُّ الْعَالَمِیْنَ کے ساتھ رَبِّ مُوْسیٰ وَھرُوْنَ کہنے کی ضرورت ہوئی۔ اس میں یہ بھی اشارہ ہو گیا کہ بیشک جہان کا پروردگار و ہی ہو سکتا ہے جس نے موسٰی و ہارون کو اپنی خاص ربوبیت سے بدون توسط اسباب ظاہرہ دنیا کے متکبروں پر علیٰ رؤس الاشہاد اس طرح غالب کر کے دکھلا دیا۔

(تفسیرعثمانی)

 

فرعون بولا: کیا تم اس پر ایمان لے آئے ، اس سے قبل  کہ میں تمہیں اجازت دوں ؟ بیشک یہ ایک چال ہے کہ شہر میں تم نے چلی ہے ،  تاکہ اس کے رہنے والوں کو یہاں سے نکال دو، تم جلد (اس کا نتیجہ ) معلوم کر لو گے۔ (۱۲۳)

تشریح:یعنی یہ تم سب جادو گروں کی ملی بھگت ہے ، غالباً موسٰی تمہارا بڑا استاد ہو گا۔ اس کو آگے بھیج دیا پھر سب نے اپنی مغلوبیت کا اظہار کر دیا۔ تاکہ عام لوگ متاثر ہو جائیں۔ اس گہری سازش سے تمہارا مقصود یہ ہے کہ اس ملک کے اصلی باشندوں کو نکال باہر کرو اور خود مصر کی سلطنت پر قبضہ کر لو۔ یہ تقریر فرعون نے اپنی کھلی شکست پر پردہ ڈالنے اور لوگوں کو اُلُّو بنانے کی غرض سے کی تھی (فَاسْتَخَفَّ قَوْمَہ فَاَطَاعُوہُ) مگر جس چیز سے فرعون اور فرعونی ڈر رہے تھے ، آخر تقدیر الٰہی سے وہ ہی پیش آئی: وَنُرِیَ فِرْعَوْنَ وَھامَانَ وَجُنَوْدَہُمَا مِنْہُمْ مَّاکَانُوْا یَحْذَرُوْنَ.

(القصص، رکوع:۱، آیت:۶)

 

میں ضرور کاٹ ڈالوں گا تمہارے (ایک طرف کے ) ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں پھر میں تم سب کو ضرور سولی دوں گا۔ (۱۲۴)

وہ بولے بیشک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (۱۲۵)

تشریح: ساحرین توحید اور تمنائے لقاء اللہ کی شراب سے مخمور ہو چکے تھے ، جنت و دوزخ گویا آنکھوں کے سامنے تھیں۔ بھلا وہ ان دھمکیوں کی کیا پرواہ کر سکتے تھے انہوں نے صاف کہہ دیا کہ کچھ مضائقہ نہیں جو کرنا ہو کر گزر پھر ہم کو اپنے خدا کے پاس جانا ہے تیرے سر ہو کر سہی۔ وہاں کے عذاب سے یہاں کی تکلیف آسان ہے اور اس کی رحمت و خوشنودی کے راستہ میں دنیا کی بڑی سے بڑی تکالیف و مصائب کا برداشت کر لینا بھی عاشقوں کے لیے سہل ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور تجھ کو ہم سے دشمنی نہیں مگر صرف یہ کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لائے ، جب وہ ہمارے پاس آ گئیں، اے ہمارے رب! ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں موت دے (اس حال میں کہ ہم ) مسلمان ہوں۔ (۱۲۶)

تشریح:یعنی جب رب کی نشانیوں کو مان لینے سے ہم تیری نگاہ میں مجرم ٹھہرے ہیں، اسی رب سے ہماری دعا ہے کہ وہ تیری زیادتیوں اور سختیوں پر ہم کو صبر جمیل کی توفیق بخشے اور مرتے دم تک اسلام پر مستقیم رکھے ، ایسا نہ ہو کہ گھبرا کر کوئی بات تسلیم و  رضاء کے خلاف کر گزریں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور سردار بولے فرعون کی قوم کے ، کیا موسی اور اس کی قوم کو چھوڑ رہا ہے کہ وہ زمین میں فساد کریں اور وہ (موسی علیہ اسلام) تجھے چھوڑ دے اور تیرے معبودوں کو، اس نے کہا ہم عنقریب ان کے بیٹوں کو قتل کر ڈالیں گے اور ان کی بیٹیوں کو زندہ چھوڑ دیں گے ، اور ہم ان پر زور آور ہیں۔ (۱۲۷)

تشریح:ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے ایمان لانے والے جادوگروں کو دھمکیاں تو دی تھیں ، لیکن حضرت موسی علیہ السلام کے معجزے اور جادوگروں کے ایمان اور استقامت کو دیکھ کر حاضرین اور خاص طور پر بنی اسرائیل کی اتنی بڑی تعداد ایمان لے آئی کہ اس کو فوری طور سے حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے ماننے والوں پر ہاتھ ڈالنے کا حوصلہ نہ ہوا، اور جب مجمع درہم برہم ہو گیا تو حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے ماننے والے اپنے گھروں کو چلے گئے ، اس موقع پر فرعون کے سرداروں نے یہ بات کہی جو یہاں مذکور ہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے ان لوگوں کو آزاد چھوڑ دیا ہے ، رفتہ رفتہ یہ اپنی طاقت جمع کر کے آپ کے لئے ایک خطرہ بن جائیں گے ، فرعون نے اپنی خفت مٹانے کے لئے ان کا جواب دیا کہ فوری طور پر چاہے میں نے ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی، مگر اب بنی اسرائیل کو ایک ایک کر کے ختم کروں گا، البتہ عورتوں کو اس لئے زندہ رکھوں گا کہ وہ ہماری خدمت کے کام آسکیں، اس نے اپنے آدمیوں کو یہ بھی یقین دلایا کہ حالات ہمارے قابو میں ہیں اور ہماری حکمت عملی ایسی ہے کہ ہمارے لئے کوئی بڑا خطرہ پیدا نہیں ہو گا، اس طرح بنی اسرائیل کے مردوں کو قتل کرنے کا ایک نیا دور شروع ہوا۔

(توضیح القرآن)

 

موسی علیہ اسلام نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اللہ سے مدد مانگو، اور صبر کرو، بیشک زمین اللہ کی ہے ، وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے ، اور انجام کار پرہیزگاروں کے لیے ہے۔ (۱۲۸)

تشریح:موسی علیہ السلام نے مؤمنوں کو تسلی دی کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، اللہ کے سامنے کسی کا زور نہیں چلتا، ملک اسی کا ہے جس کو مناسب جانے عطا فرمائے ، لہٰذا ظالم کے مقابلہ میں اسی سے مدد مانگو، اسی پر نظر رکھو، اسی سے ڈرو، صبر و تقویٰ کی راہ اختیار کرو، اور یقین رکھو، کہ آخری کامیابی صرف متقین کے لیے ہے۔

(ماخوذتفسیرعثمانی)

 

وہ بولے ہم اذیت دئیے گئے اس سے قبل کہ آپ ہم میں آتے ، اور اس کے بعد کہ آپ ہم میں آئے ، (موسی علیہ السلام نے ) کہا قریب ہے تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمہیں زمین میں خلیفہ (نائب) بنا دے ، پھر دیکھے گا تم کیسے کام کرتے ہو۔ (۱۲۹)

تشریح:یعنی ہم تو ہمیشہ مصیبت ہی میں رہے۔ تمہاری تشریف آوری سے قبل ہم سے ذلیل بیگار لی جاتی تھی۔ اور ہمارے لڑکے قتل کیے جاتے تھے۔ تمہارے آنے کے بعد طرح طرح کی سختیاں کی جا رہی ہیں اور قتل ابناء کے مشورے ہو رہے ہیں۔ دیکھئے کب ہماری مصیبتوں کا خاتمہ ہو۔

حضرت موسٰی علیہ السلام نے تسلی دی کہ زیادہ مت گھبراؤ۔ خدا کی مدد قریب آ گئی ہے۔ تم دیکھ لو گے کہ تمہارا دشمن ہلاک کر دیا جائے گا اور تم کو ان کے اموال کا مالک بنا دیا جائے گا،  تاکہ جس طرح آج سختی و غلامی میں تمہارا امتحان ہو رہا ہے ، اس وقت خوشحالی اور آزادی دے کر آزمایا جائے کہ کہاں تک اس کی نعمتوں کی قدر اور احسانات کی شکر گزاری کرتے ہو۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ یہ کلام مسلمانوں کے سنانے کو نقل فرمایا، یہ سورت مکی ہے ، اس وقت مسلمان بھی ایسے ہی مظلوم تھے ”گفتہ آید در حدیثِ دیگراں” کے رنگ میں یہ بشارت ان کو پہنچائی۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور البتہ ہم نے پکڑا فرعون والوں  کو قحطوں میں، اور پھلوں کے نقصان میں، تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔ (۱۳۰)

تشریح:پیچھے آیت نمبر:۹۴ میں اللہ تعالی نے جو اصول بیان فرمایا تھا اس کے مطابق پہلے فرعون اور اس کی قوم کو دنیا میں مختلف تکلیفیں دی گئیں، تاکہ وہ کچھ نرم پڑیں، ان میں سے پہلا عذاب قحط کا مسلط ہوا اور ا سکے نتیجے میں پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔

(توضیح القرآن)

 

جب ان کے پاس آئی بھلائی تو وہ کہنے لگے یہ ہمارے لئے ہے ، اور کوئی برائی پہنچتی تو موسیٰؑ اور ان کے ساتھیوں سے بد شگونی (بد نصیبی) لیتے ، یاد رکھو! اس کے سوا نہیں کہ ان کی بد نصیبی اللہ کے پاس ہے ، لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔ (۱۳۱)

تشریح: ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَانَ السَّیِّئَۃِ الْحَسَنَۃِ کے قاعدہ سے جب قحط وغیرہ دور ہو کر خوشحالی حاصل ہوتی تو کہنے لگتے کہ دیکھو ہماری اقبال مندی کے لائق تو یہ حالات ہیں، پھر اگر درمیان میں کبھی کسی ناخوشگوار اور بری حالت سے دوچار ہونا پڑ جاتا تو کہتے کہ یہ سب (معاذ اللہ) موسٰی اور اس کے رفقاء کی نحوست ہے۔ حق تعالیٰ نے اسی کا جواب دیا اَلَآ اِنَّمَا طَآئِرُھمْ عِنْدَاللہِ الخ یعنی اپنی بدبختی اور نحوست کو مقبول بندوں کی طرف کیوں نسبت کرتے ہو۔ تمہاری اس نحوست کا واقعی سبب تو خدا کے علم میں ہے۔ اور وہ تمہارا ظلم و عدوان اور بغاوت و شرارت ہے۔ اسی سبب کی بناء پر خدا کے یہاں سے کچھ حصہ نحوست کا وقتی سزا اور تنبیہ کے طور پر تم کو پہنچ رہا ہے۔ باقی رہی تمہارے ظلم و کفر کی اصلی نحوست یعنی پوری پوری سزا تو وہ اللہ کے پاس محفوظ ہے ، جو دنیا میں یا آخرت میں اپنے وقت پر تم کو پہنچ کر رہے گی۔ جس کی ابھی اکثر لوگوں کو خبر نہیں۔

(مختصرتفسیرعثمانی)

 

اور وہ کہنے لگے جو کچھ تو ہم پر کیسی بھی نشانی لائے گا کہ اس سے ہم پر جادو کرے تو (بھی) ہم تجھ پر ایمان لانے والے نہیں۔ (۱۳۲)

تشریح:یہ موسٰی علیہ السلام کے معجزات و نشانات دیکھ کر کہتے تھے کہ خواہ کیسا ہی جادو آپ ہم پر چلائیں اور اپنے خیال کے موافق کتنے ہی نشان دکھلائیں، ہم کسی طرح تمہاری بات ماننے والے نہیں۔ جب انہوں نے یہ آخری فیصلہ سنا دیا اور قبول حق کے سب دروازے اپنے اوپر بند کر لیے ، تب خدا نے ان پر چند قسم کی عظیم الشان بلائیں یکے بعد دیگرے مسلط کر دیں۔ جن کی تفصیل اگلی آیت میں آتی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

پھر ہم نے ان پر بھیجے طوفان، اور ٹڈی، اور جوئیں، اور مینڈک، اور خون، جدا جدا نشانیاں، تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم قوم کے لوگ تھے۔ (۱۳۳)

اور جب ان  پر عذاب واقع ہوا تو کہنے لگے کہ اے موسیٰؑ تو ہمارے لئے دعا کر اپنے رب سے ، (اللہ کے ) اس عہد کے سبب جو تیرے پاس ہے ، اگر تو نے ہم سے عذاب اٹھا لیا تو ہم ضرور تجھ پر ایمان لے آئیں گے ، اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ ضرور بھیج دیں گے۔ (۱۳۴)

تشریح:یہ مختلف قسم کے عذاب تھے جو یکے بعد دیگرے فرعون کی قوم پر مسلط ہوتے رہے ، پہلے طوفان آیا جس میں ان کی کھیتیاں بہہ گئیں اس کے بعد جب انہوں نے ایمان لانے کا وعدہ کر کے حضرت موسی علیہ السلام سے دعا کروائی اور کھیت بحال ہوئے اور پھر بھی وہ ایمان نہ لائے ت وٹڈی دل نے کھیتوں کو برباد کر ڈالا، پھر وہی وعدے کئے ، اور یہ بلا دور ہوئی اور خوش حالی آنے لگی تو یہ پھر مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور ایمان نہ لائے تو ان کی پیداوار کو گھن لگادیا گیا، پھر وہی ساری داستان دہرائی گئی اور یہ پھر بھی نہ مانے تو مینڈکوں کی اتنی کثرت ہو گئی کہ وہ کھانے کے برتنوں میں نمودار ہوتے اور سارے کھانے کو خراب کر دیتے ، دوسری طرف پینے کے پانی میں ہر جگہ خون نکلنے لگا اور پانی پینا دوبھر ہو گیا۔

(توضیح القرآن)

 

پھر جب ہم نے ان سے عذاب اٹھا لیا ایک مدت تک کہ انہیں پہنچنا تھا، اسی وقت وہ عہد توڑ دیتے۔ (۱۳۵)

تشریح:مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کے علم اور تقدیر میں ان کے لئے ایک وقت توایسا آنا ہی تھا جب وہ عذاب کا شکار ہو کر ہلاک ہوں ، لیکن اس سے پہلے جو چھوٹے چھوٹے عذاب آرہے تھے ان کو ایک مدت تک کے لئے ہٹا لیا جاتا تھا۔

(توضیح القرآن)

 

پھر ہم نے ان سے انتقام لیا، اور انہیں دریا میں غرق کر دیا ، کیونکہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور وہ ان سے غافل تھے۔ (۱۳۶)

تشریح: موضح القرآن میں ہے کہ ”یہ سب بلائیں ان پر آئیں ایک ہفتہ کے فرق سے۔ اول حضرت موسٰی فرعون کو کہہ آتے کہ اللہ تم پر یہ بلا بھیجے گا، وہ ہی بلا آتی۔ پھر مضطر ہوتے ، حضرت موسٰی کی خوشامد کرتے ، ان کی دعاء سے دفع ہوتی، پھر منکر ہو جاتے ، آخر کو وبا پڑی۔ نصف شب کو سارے شہر میں ہر شخص کا پہلا بیٹا مر گیا، وہ لگے مردوں کے غم میں، حضرت موسٰی اپنی قوم کو لے کر شہر سے نکل گئے پھر کئی روز کے بعد فرعون پیچھے لگا۔ دریائے قلزم پر جا پکڑا۔ وہاں یہ قوم سلامت گزر گئی اور فرعون ساری فوج سمیت غرق ہوا۔

(تفسیرعثمانی)

 

فرعون اور اس کے غرق ہونے کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورۂ یونس، سورۂ طہ اور سورۂ شعراء میں آنے والا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور ہم نے اس قوم کو وارث کر دیا جو (اس) زمین کے مشرق و مغرب میں کمزور سمجھے جاتے تھے ، جس میں ہم نے برکت رکھی ہے (سر زمینِ شام) اور بنی اسرائیل پر تیرے رب کا وعدہ پورا ہو گیا، اس کے بدلہ میں کہ انہوں نے صبر کیا، اور ہم نے برباد کر دیا جو فرعون اور اس کی قوم نے بنایا تھا اور جو وہ اونچا پھیلاتے تھے (ان کے بلند و بالا محلات)۔ (۱۳۷)

تشریح:قرآن کریم جب برکتوں والی زمین کا تذکرہ فرماتا ہے تواس سے مراد شام اور فلسطین کا علاقہ ہوتا ہے ، لہذا اس آیت میں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں کو فرعون نے غلام بنا رکھا تھا، انہیں بعد میں شام اور فلسطین کا مالک بنا دیا گیا، یاد رہے کہ ان علاقوں پر بنی اسرائیل کی حکومت فرعون کے غرق ہونے کے کافی عرصے کے بعد قائم ہوئی، جس کی تفصیل سورۂ بقرہ کی آیت نمبر۲۴۶ تا۱۵۱ میں گزری ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور ہم  نے بنی اسرائیل کو بحر (قلزم) کے پار اتارا، پس وہ ایک ایسی قوم کے پاس آئے جو اپنے بتوں (کی پوجا) پر جمے بیٹھے تھے ، وہ بولے اے موسی! ہمارے لئے ایسے بت بنا دے جیسے ان کے ہیں (موسیؑ نے ) کہا بیشک تم لوگ جہل (نادانی) کرتے ہو۔ (۱۳۸)

بیشک یہ لوگ جس (بت پرستی) میں لگے ہوئے ہیں وہ تباہ ہونے والی ہے اور باطل ہے وہ جو یہ کر رہے ہیں۔ (۱۳۹)

موسیؑ نے کہا اللہ کے سوا تمہارے لئے کوئی اور معبود تلاش کروں؟ حالانکہ اس نے تمہیں سارے جہان پر فضیلت دی۔ (۱۴۰)

تشریح:بنی اسرائیل حضرت موسی علیہ السلام پر ایمان تولے آئے تھے اور فرعون کی طرف سے پہنچنے والی مصیبتوں کو بھی انہوں نے صبر سے برداشت کیا جس کی تعریف قرآن کریم نے بھی فرمائی ہے لیکن بعد میں انہوں نے حضرت موسی علیہ السلام کو طرح طرح سے پریشان بھی کیا یہاں سے اللہ تعالی اس قسم کے کچھ واقعات بیان فرما رہے ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ یہ قوم ابھی ابھی اعجاز موسوی کے ساتھ دریا سے پار ہوئی اور پوری قوم فرعون کے غرق دریا ہونے کا تماشہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ذرا آگے بڑھی تو ایک قبیلہ پر گزر ہوا جو مختلف بتوں کی پرستش میں مبتلا تھا، بنی اسرائیل کو کچھ ان کا ہی طریقہ پسند آنے لگا اور موسی علیہ السلام سے درخواست کی کہ جیسے ان لوگوں کے بہت سے معبود ہیں آپ ہمارے لئے بھی کوئی ایسا ہی معبود بنا دیجئے ، کہ ہم بھی ایک محسوس چیز کو سامنے رکھ کر عبادت کیا کریں، اللہ تعالی کی ذات توسامنے نہیں، موسی علیہ السلام نے فرمایا انکم قوم تجھلون یعنی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے ، یہ لوگ جن کے طریقے کو تم نے پسند کیا ان کے اعمال سب ضائع  و برباد ہیں، یہ باطل کے پیرو ہیں، تمہیں ان کی حرص نہ کرنا چاہئے ، کیا میں تمہارے لئے اللہ کے سوا کسی کو معبود بنا دوں،  حالانکہ اللہ تعالی نے ہی تم کو تمام جہاں والوں پر فضیلت بخشی ہے ، مراد اس وقت کے اہل عالم ہیں کہ اس وقت موسی علیہ السلام پر ایمان لانے والے ہی دوسرے سب لوگوں سے افضل و اعلی تھے۔

(معارف القرآن)

 

اور ( یاد کرو) جب یم نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی، وہ تمہیں برے عذاب سے تکلیف دیتے تھے ، تمہارے بیٹوں کو مار ڈالتے ، اور تمہاری بیٹیوں کو جیتا چھوڑ دیتے تھے ، اور اس میں تمہارے لئے  تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔ (۱۴۱)

تشریح:بنی اسرائیل کو ان کی پچھلی حالت یاد دلائی گئی کہ وہ فرعون کے ہاتھوں میں ایسے مجبور و مقہور تھے کہ ان کے لڑکوں کو قتل کیا جاتا تھا، صرف لڑکیاں اپنی خذمت کے لئے رکھی جاتی تھیں، اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کی برکت و دعا سے اس عذاب سے نجات دی، کیا اس احسان کا اثر یہ ہونا چاہئے کہ تم اسی رب العلمین کے ساتھ دنیا کی ذلیل ترین پتھروں کو شریک ٹھہراؤ، یہ کیسا ظلم عظیم ہے اس سے توبہ کرو۔

(معارف القرآن)

 

اور ہم نے موسی سے وعدہ کیا تیس رات کا اور اس کو دس (اور بڑھا کر) پورا کیا، تو اس کے رب کی مدت چالیس رات پوری ہوئی، اور موسی نے اپنے بھائی ہارون سے کہا میرے نائب رہو میری قوم میں، اور اصلاح کرنا، اور مفسدوں کے راستہ کی پیروی نہ کرنا۔ (۱۴۲)

تشریح:جب بنی اسرائیل کو طرح طرح کی پریشانیوں سے اطمینان نصیب ہوا تو انہوں نے موسٰی علیہ السلام سے درخواست کی کہ اب ہمارے لیے کوئی آسمانی شریعت لائیے جس پر ہم دلجمعی کے ساتھ عمل کر کے دکھلائیں، موسٰی علیہ السلام نے ان کا معروضہ بارگاہ الٰہی میں پیش کر دیا۔ خدا تعالیٰ نے ان سے کم از کم تیس دن اور زائد از زائد چالیس دن کا وعدہ فرمایا کہ جب اتنی مدت تم مسلسل روزے رکھو گے اور کوہ طور پر معتکف رہو گے تو تم کو تورات شریف عنایت کی جائے گی۔

وَقَالَ مُوْسٰٓى لِأَخِيْهِ هَارُوْنَ :یعنی میری عدم موجودگی میں میرے حصہ کا کام بھی تم ہی کرو۔ گویا حکومت و ریاست کے جو اختیارات موسٰی علیہ السلام کے ساتھ مخصوص تھے ، وہ ہارون علیہ السلام کو تفویض کر دیئے گئے اور چونکہ بنی اسرائیل کی تلون مزاجی اور سست اعتقادی کا پورا تجربہ رکھتے تھے ، اس لیے بڑی تصریح و تاکید سے ہارون علیہ السلام کو متنبہ کر دیا کہ اگر میرے پیچھے یہ لوگ کچھ گڑ بڑ مچائیں تو تم اصلاح کرنا اور میرے طریق کار پر کار بند رہنا۔ مفسدہ پردازوں کی راہ پر مت چلنا۔ خدا کی مشیت کہ موسٰی علیہ السلام یہ وصیت کر کے اُدھر گئے۔ ادھر بنی اسرائیل نے گوسالہ پرستی شروع کر دی مگر حضرت ہارون نے موجودہ بائبل نویسوں کے علی الرغم یَاقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِہٖ وَاِنَّ رَبَّکُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِی وَاَطِیْعُوآ اَمْرِی کہہ کر ان کی گمراہی اور اپنی بیزاری کا صاف صاف اعلان کر دیا، اور وصیت موسوی کے موافق اصلاح حال کی امکانی کوشش کی۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جب موسی آئے ہماری وعدہ گاہ پر، اور اپنے رب سے کلام کیا، موسی نے کہا اے میرے رب ! مجھے دکھا کہ میں تجھے دیکھوں، اللہ نے کہا تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا، البتہ پہاڑ کی طرف دیکھ، پس اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو تبھی مجھے دیکھ لے گا، پس جب اس کے رب نے تجلی کی پہاڑ کی طرف (تو) اس کو ریزہ ریزہ کر دیا، اور موسی بے ہوش ہو کر گر پڑے ، پھر جب ہوش آیا تو اس نے کہا، تو پاک ہے میں نے توبہ کی تیری طرف اور میں ایمان لانے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔ (۱۴۳)

تشریح:یعنی تم پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو، ہم اپنے جمال مبارک کی ایک ذرا سی جھلک اس پر ڈالتے ہیں۔ اگر پہاڑ جیسی سخت اور مضبوط چیز اس کو برداشت کر سکے تو ممکن ہے تم کو بھی اس کا تحمل کرا دیا جائے۔ ورنہ سمجھ لیجئے کہ جس چیز کا تحمل پہاڑ سے نہ ہو سکے ، کسی انسان کی مادی ترکیب اور جسمانی آنکھیں اسے کیسے برداشت کر سکتی ہیں اگرچہ قلبی اور روحانی طاقت کے اعتبار سے زمین، آسمان، پہاڑ، سب چیزوں سے انسان فائق ہو۔ اور اسی لیے موسٰی علیہ السلام جس وحی الٰہی کے حامل تھے ، بلکہ دوسرے انسان بھی جس امانت عظیمہ کے حامل ہیں، پہاڑ وغیرہ اس کے اٹھانے پر قادر نہیں۔

حق تعالیٰ کی تجلیات بہت طرح کی ہیں اور یہ خدا کا ارادی فعل ہے کہ جس چیز پر جس طرح چاہے تجلی فرمائے۔ پہاڑ پر جو تجلی ہوئی اس نے معًا پہاڑ کے خاص حصہ کو ریزہ ریزہ کر ڈالا، اور موسٰی علیہ السلام چونکہ محل تجلی سے قریب تھے ، ان پر اس قرب محل اور پہاڑ کے ہیبت ناک منظر دیکھنے کا اثر ہوا کہ بیہوش ہو کر گر پڑے۔ بلا تشبیہ یوں سمجھ لیجئے کہ بجلی جس چیز پر گرتی ہے اسے جلا کر ایک آن میں کس طرح خاک سیاہ کر دیتی ہے اور جو لوگ اس مقام کے قریب ہوتے ہیں بسا اوقات انہیں بھی کم و بیش صدمہ پہنچ جاتا ہے۔

فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَکَ :یعنی پاک ہے اس سے کہ کسی مخلوق کے مشابہ ہو اور یہ فانی آنکھیں اس کے دیدار کا تحمل کر سکیں۔ تیری پاکی اور برتری کا اقتضاء یہ ہے کہ کسی چیز کی طلب تیری اجازت کے بدون نہ کی جائے ، میں توبہ کرتا ہوں کہ فرط اشتیاق میں بدون اجازت کے ایک نازیبا درخواست کر گزرا۔ میں اپنے زمانہ کے سب لوگوں سے پہلے تیری عظمت و جلال کا یقین رکھتا ہوں اور پہلا وہ شخص ہوں جسے ذوق و عیانی طریق پر منکشف ہوا کہ خداوند قدوس کی رویت دنیا میں ان ظاہری آنکھوں سے واقع نہیں ہو سکتی۔

(تفسیرعثمانی)

 

اللہ نے کہا اے موسی! بیشک میں نے تجھے لوگوں پر چن لیا اپنے پیغاموں اور اپنے کلام سے ، پس جو میں نے تجھے دیا ہے (قوت سے ) پکڑ لے اور شکر گزاروں میں سے رہو۔ (۱۴۴)

تشریح:یعنی دیدار نہ ہو سکا نہ سہی، یہ شرف و امتیاز کیا تھوڑا ہے کہ ہم نے تجھ کو پیغمبر بنایا اور تورات عطا کی اور بالواسطہ کلام فرمایا۔ سو جس قدر بخشش ہماری طرف سے ہوئی، اسے پلے باندھو اور ان بندوں میں شامل رہو، جنہیں خدا نے ”شاکرین” کے امتیازی لقب سے ملقب فرمایا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور ہم نے اس کے لئے لکھ دی تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت، ہر چیز کی تفصیل، پس تو اسے قوت سے پکڑ لے ، اور حکم دے اپنی قوم کو کہ وہ اس کی اچھی باتیں اختیار کریں، عنقریب میں تجھے نافرمانوں کا گھر (انجام) دکھاؤں گا۔ (۱۴۵)

تشریح: بعض کہتے ہیں کہ تورات شریف ان تختیوں پر لکھی ہوئی تھی۔ اور بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ تختیاں تورات کے علاوہ تھیں جو نزول تورات سے پہلے مرحمت ہوئیں۔ بہرحال دیدار نہ ہو سکنے سے جو شکستگی موسٰی علیہ السلام کو ہوئی اس کی تلافی اور جبر مافات کے طور پر الواح عطا کی گئیں۔ جن میں ہر قسم کی نصیحتیں اور تمام ضروری احکام کی تفصیل تھی (ابن کثیر) .

(تفسیرعثمانی)

 

میں عنقریب پھیر دوں گا ان لوگوں کو اپنی آیتوں سے جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں، اور وہ اگر ہر نشانی دیکھ لیں (پھر بھی) اس پر ایمان نہ لائیں، اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھ لیں تو بھی اس راستہ کو اختیار نہ کریں، اور اگر دیکھ لیں گمراہی کا راستہ تو اختیار کر لیں، یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا، اور وہ اس سے غافل تھے۔ (۱۴۶)

تشریح:جو لوگ خدا اور پیغمبروں کے مقابلہ میں ناحق کا تکبر کرتے ہیں اور نخوت و غرور اجازت نہیں دیتا کہ احکام الٰہی کو قبول کریں، ہم بھی ان کے دل اپنی آیات کی طرف سے پھیر دیں گے کہ آئندہ ان سے منتفع ہونے کی توفیق نہ ہو گی۔ ایسے لوگوں کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ خواہ کتنے ہی نشانی دیکھیں اور کتنی ہی آیتیں سنیں ٹس سے مس نہ ہوں، ہدایت کی سڑک کیسی ہی صاف اور کشادہ ہو، اس پر نہ چلیں ہاں گمراہی کے راستہ پر نفسانی خواہشات کی پیروی میں دوڑے چلے جائیں۔ تکذیب کی عادت اور غفلت کی تمادی سے جب دل مسخ ہو جاتا ہے ، اس وقت آدمی اس حالت کو پہنچتا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جن لوگوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات کو ان کے عمل ضائع ہو گئے وہ کیا بدلہ پائیں گے مگر (وہی) جو وہ کرتے تھے۔ (۱۴۷)

تشریح:یعنی احکام الٰہی پر چلنے کی توفیق نہ ہو گی۔ اور جو کچھ کام اپنی عقل سے کریں گے وہ خدا کے یہاں قبول نہ ہو گا۔ جیسا کریں گے ویسا بھگتیں گے۔ باقی ان کی بے جان اور مردہ نیکیوں کا جو بدلہ ملنا ہو گا دنیا میں مل رہے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور موسی کی قوم نے اس کے بعد بنایا اپنے زیور سے ایک بچھڑا (محض) ایک دھڑ جس میں گائے کی آواز تھی، کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ نہ وہ ان سے کلام کرتا ہے ، نہ انہیں دکھاتا ہے راستہ ؟ انہوں نے اسے معبود بنا لیا، اور وہ ظالم تھے۔ (۱۴۸)

تشریح: یہ زیور جسے گلا کر اور ڈھال کر بچھڑا بنایا اصل میں فرعون کی قوم قبطیوں کا تھا۔ ان کے پاس سے بنی اسرائیل کے قبضے میں آیا۔ جیسا کہ سورہ ”طہٰ” میں ہے حُمِّلْنَا اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَۃِ الْقَوْمِ۔

سورہ ”طہٰ” میں اس بچھڑے کا مفصل قصہ آئے گا، یہاں ان کی حماقت وسفاہت پر متنبہ فرمایا ہے کہ ایک خود ساختہ ڈھانچہ میں سے گائے کی آواز سن لینے پر مفتون ہو گئے اور بچھڑے کو خدا سمجھ بیٹھے۔ حالانکہ اس کی بے معنی آواز میں نہ کوئی کلام و خطاب تھا نہ دینی یا دنیاوی راہنمائی اس سے ہوتی تھی۔ اس طرح کی صورت محض تو کس چیز کو انسانیت کے درجہ تک بھی نہیں پہنچا سکتی، چہ جائیکہ خالق جل وعلا کے مرتبہ پر پہنچا دے۔ یہ کتنا بڑ اظلم اور بے موقع کام ہے کہ ایک معمولی جانور کی صورت کو خدا کہہ دیا جائے۔ بات یہ ہے کہ اس قوم کو پہلے ہی سے ایسی بے موقع باتیں کرنے کی عادت تھی چنانچہ پیشتر اِجْعَل لَّنَا اِلٰہاً کَمَالَہُمْ اٰلِہَۃً کی درخواست موسٰی علیہ السلام سے کر چکے تھے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جب وہ نادم ہوئے اور انہوں نے دیکھا کہ وہ گمراہ ہو گئے تو کہنے لگے ، اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہمیں نہ بخش دیا توہم ضرور ہو جائیں گے خسارہ پانے والوں میں سے۔ (۱۴۹)

تشریح: اپنی بد عقلی اور کجروی سے انہوں نے ایسا بے ڈھنگا اور بھونڈا کام کیا تھا کہ موسٰی علیہ السلام کی تنبیہ کے بعد جب باطل کا جوش ٹھنڈا ہوا اور عقل و ہوش کچھ ٹھکانے ہوئے تو خود بھی اپنی حرکت پر بہت شرمائے۔ گویا مارے ندامت کے ہاتھ کاٹنے لگے اور خوف و ہراس کی وجہ سے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ گھبرا کر کہنے لگے اب کیسے بنے گی۔ اگر خدا نے ہم پر رحم فرما کر توبہ اور مغفرت کی کوئی صورت نہ نکالی تو یقیناً ہم ابدی خسران اور دائمی ہلاکت میں جا پڑیں گے۔

(تفسیر عثمانی)

 

اور جب موسی لوٹے اپنی قوم کی طرف غصہ میں بھرے ہوئے رنجیدہ، انہوں نے کہا کس قدر بری میری جانشینی کی تم نے میرے بعد !کیا تم نے اپنے پروردگار کے حکم سے جلدی کی ؟ اور انہوں  (موسی) نے تختیاں ڈال دیں اور سر (بالوں سے ) پکڑا اپنے بھائی کا، اور انہیں اپنی طرف کھینچنے لگے ، وہ (ہارون) بولے اے میرے ماں جائے ! لوگوں نے مجھے کمزور سمجھا، اور قریب تھے کہ مجھے قتل کر ڈالیں، پس مجھ پر دشمنوں کو خوش نہ کرو، اور مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کرو۔ (۱۵۰)

تشریح: حضرت موسٰی علیہ السلام اس مشرکانہ ڈھونگ کو دیکھ کر اور ہارون علیہ السلام کی نرمی و تساہل کا گمان کر کے اس قدر افروختہ اور دینی حمیت وغیرت کے جوش سے اس قدر بے قابو ہو رہے تھے کہ ہارون علیہ السلام کی طرف لپکے اور حرارت ایمانی کے بے اندازہ جوش میں ان کی ڈاڑھی اور سر کے بال پکڑ لیے۔ معاذ اللہ ہارون کی اہانت کی نیت سے نہیں کیونکہ ہارون خود مستقل نبی اور عمر میں موسٰی علیہ السلام سے تین سال بڑے تھے۔ پھر ایک اولوالعزم پیغمبر سے یہ کیسے ممکن تھا کہ دوسرے نبی کو جو اس کا بڑا بھائی بھی ہو ذرّہ برابر توہین کا ارادہ کرے۔ نہیں موسٰی علیہ السلام کی طرف سے یہ معاملہ اس وقت ہوا جب کہ وہ قوم کی سخت بدعنوانی کی بنا پر بغض فی اللہ اور غصہ سے بے اختیار ہو رہے تھے ، حضرت ہارون کی نسبت یہ خیال گزر رہا تھا کہ شاید انہوں نے اصلاحِ حال کی پوری کوشش نہیں کی۔ حالانکہ ان کو اصلاح کی بھی تاکید کر گئے تھے۔ بیشک ہارون نبی اور عمر میں بڑے تھے ، مگر رتبہ میں موسٰی علیہ السلام ان سے بڑے تھے اور سیاسی و انتظامی حیثیت سے ہارون کو ان کا وزیر اور تابع بنایا گیا تھا۔ اس موقع پر موسٰی علیہ السلام کی شان سیادت و حکمت کا ظہور ہوا۔ گویا ان کی طرف سے یہ دارو گیر اور سخت باز پرس حضرت ہارون کی تقصیر مظنون پر ایک قسم کی فعلی ملامت تھی جس سے قوم کو بھی پوری طرح متنبہ کر دیا گیا کہ پیغمبر کا قلب نشہ توحید سے کس قدر سرشار اور دسیسہ شرک و کفر سے کس قدر نفور و بیزار ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں ادنیٰ ترین تساہل یا خاموشی کو بھی برداشت نہیں کر سکتے حتیٰ کہ ایک نبی کی نسبت اگر ایسا وہم ہو جائے کہ اس نے شرک کے مقابلہ پر آواز بلند کرنے میں ذرا سی کوتاہی کی ہے تو اس کی بزرگی اور وجاہت عند اللہ بھی ایسی سخت باز پرس سے ان کو نہیں روک سکتی۔ بہرحال موسٰی علیہ السلام اس حالت میں شرعاً معذور تھے۔ اسی فرطِ غضب اور ہنگامہ دارو گیر میں الواح (وہ تختیاں جو خدا کی طرف سے مرحمت ہوئی تھیں) ان کے ہاتھ سے چھوٹ گئیں جسے عدم تحفظ کی وجہ سے تغلیظاً ”القاء” سے تعبیر فرمایا، کیونکہ بظاہر خذھا بقوۃٍ کا امتثال نہ کر سکے ، یا جیسا کہ بعض مفسرین کا خیال ہے ہارون کی طرف بڑھتے وقت ہاتھ خالی کرنے کے لیے بہت تیزی اور عجلت کے ساتھ تختیاں ایک طرف رکھ دیں مگر چونکہ ان دونوں معاملات کی سطح جو ہارون یا الواح کے متعلق ظہور میں آئے صورۃً پسندیدہ نہ تھی، گو موسٰی علیہ السلام نیۃً معذور تھے۔ اس لیے آئندہ رب اغفرلی کہہ کر حق تعالیٰ سے عفو کی درخواست کی۔ سبحانہ’ و تعالیٰ اعلم۔

قَالَ ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِيْ :گو ہارون علیہ السلام حضرت موسٰی کے عینی بھائی ہیں۔ مگر ماں کی طرف نسبت کرنے سے ان کو نرمی اور شفقت پر آمادہ کرنا تھا۔ اس آیت میں ہارون کی معذرت کا بیان ہے۔ حاصل یہ ہے کہ میں اپنے مقدور کے موافق ان کو سمجھا چکا۔ لیکن انہوں نے میری کچھ حقیقت نہ سمجھی۔ الٹے مجھے قتل کرنے پر آمادہ ہونے لگے۔ اب آپ ایسا معاملہ کر کے ان کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دیجئے اور عتاب و غصہ کا اظہار کرتے وقت مجھ کو ظالموں کے ذیل میں شامل نہ کیجئے۔

(تفسیرعثمانی)

 

انہوں نے (موسی نے ) کہا اے میرے رب ! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر، اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔(۱۵۱)

تشریح: یعنی شدتِ غضب میں جو بے اعتدالی یا اجتہادی غلطی مجھ سے ہوئی خواہ میں اس میں کتنا ہی نیک نیت ہوں، آپ معاف فرما دیجئے اور میرے بھائی ہارون سے اگر ان کے درجہ اور شان کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی طرح کی کوتاہی قوم کی اصلاح میں ہوئی، اس سے بھی درگزر فرمائیے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بے شک جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا، عنقریب انہیں ان کے رب کا غصب پہنچے گا، اور ذلت دنیا کی زندگی میں، اور اسی طرح ہم بہتان باندھنے والوں کو سزا دیتے ہیں۔ (۱۵۲)

تشریح: یہ غضب وہی ہے جس کا ذکر سورہ بقرہ میں ربع پارہ آلم کے بعد گزر چکا۔ یعنی ”گوسالہ پرستوں کو وہ لوگ قتل کریں جنہوں نے یہ حرکت نہیں کی اور دوسروں کو روکنے میں حصہ نہ لیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرتد کی سزا دنیا میں قتل ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جن لوگوں نے برے عمل کئے پھر اس کے بعد توبہ کی اور وہ ایمان لے آئے ، بیشک تمہارا رب ا س (توبہ) کے بعد بخشنے والا مہربان ہے۔ (۱۵۳)

تشریح: یعنی برا کام حتیٰ کہ شرک و کفر کر کے پھر توبہ کر لے اور ایمان لے آئے تو غفور رحیم” کے یہاں رحمت اور معافی کی کچھ کمی نہیں، یہ معافی وغیرہ آخرت سے متعلق ہے۔ گویا اشارہ فرما دیا کہ گوسالہ پرستوں کو جو سزائے قتل دی گئی وہ ان کے حق میں شرطِ قبولِ توبہ سمجھی گئی تھی فَتُوْبُوآ اِلٰی بَارِئِکُمْ فَاقْتُلُوا اَنْفُسَکُمْ (بقرہ) اب ان پر اُخروی مواخذہ باقی نہیں رہا۔ دنیاوی سزا کے بعد اُخروی حالت کا بیان اس جگہ ایسا ہی ہے جیسے دوسری جگہ وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوآ اَیْدِیَہُمَا الخ کے بعد فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِظُلْمِہٖ وَاَصْلَحَ فَاِنَّ اللہَ یَتُوبُ عَلَیْہِ اِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ فرما دیا گیا۔

 

(تفسیرعثمانی)

 

اور جب موسیؑ کا غصہ فرو ہوا، انہوں نے تختیوں کو اٹھا لیا، اور ان کی تحریر میں ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ (۱۵۴)

جب حضرت موسی علیہ السلام کا غصہ فرو ہوا تو تورات کی تختیاں جو جلدی سے رکھ دی تھیں پھر اٹھا لیں اور اس نسخہ میں اللہ تعالی سے ڈرنے والوں کے لئے ہدایت و رحمت تھی۔

(معارف القرآن)

 

اور موسیؑ نے اپنی قوم سے ہمارے وعدے کے لئے ستر آ دمی چن لئے ، پھر جب انہیں زلزلہ نے آ لیا، انہوں نے کہا :اے میرے رب !تو اگر چاہتا تو اس سے پہلے انہیں اور مجھے ہلاک کر دہتا، کیا تو ہمیں اس پر ہلاک کر دے گا جو ہم میں سے بیوقوفوں نے کیا ! یہ نہیں مگر (صرف) تیری آزمائش ہیں، تو اس سے جسے چاہے گمراہ کرے اور تو جس کو چاہے ہدایت دے ، تو ہمارا کار ساز ہے ، سو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو بہترین بخشنے والا ہے۔ (۱۵۵)

تشریح: بنی اسرائیل نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے کہا تھا کہ تمہاری باتیں اس وقت تسلیم کر سکتے ہیں جب خدا تعالیٰ سے خود سن لیں۔ حضرت موسٰی ان میں سے ستر آدمیوں کو جو سردار تھے منتخب کر کے طور پر لے گئے۔ آخر انہوں نے حق تعالیٰ کا کلام سن لیا، کہنے لگے کہ جب تک ہم خدا کو اپنی آنکھوں سے بے حجاب دیکھ نہ لیں ہم کو یقین نہیں آسکتا۔ اس گستاخی پر نیچے سے سخت بھونچال آیا اور اوپر سے بجلی کی کڑک ہوئی، آخر کانپ کر مر گئے ، یا مردوں کی سی حالت کو پہنچ گئے۔ موسٰی نے اپنے آپ کو ان کے ساتھ نتھی کر کے نہایت موثر انداز میں دعا کی جس کا حاصل یہ تھا کہ خداوند! اگر تو ہلاک کرنا ہی چاہتا تو ان سب کو بلکہ ان کے ساتھ مجھ کو بھی کہ میں ہی انہیں لے کر آیا یہاں بلانے اور کلام سنانے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا۔ کس کی مجال تھی کہ آپ کی مشیت کو روک سکتا؟ جب آپ نے ایسا نہیں چاہا، بلکہ مجھے لانے کی اور ان کو کلام الٰہی سننے کے لیے یہاں آنے کی اجازت دی، تو یہ کیسے گمان کیا جا سکتا ہے کہ اپنے یہاں بلا کر محض بعض بیوقوفوں کی حماقت کی سزا میں ہم سب کو ہلاک کر دینا چاہیں یقیناً یہ (رجفہ و صاعقہ کا) منظر سب آپ کی طرف سے ہماری آزمائش و امتحان ہے اور ایسے سخت امتحانات میں ثابت قدم رکھنا یا نہ رکھنا بھی آپ ہی کے قبضے میں ہے۔ اس قسم کے خطرناک مواقع میں آپ ہی ہمارے تھامنے اور دستگیری کرنے والے ہیں اور صرف آپ ہی کی ذات منبع الخیرات سے یہ امید ہو سکتی ہے کہ ہم سب کی گزشتہ تقصیرات اور بے اعتدالیوں سے درگزر فرمائیں اور آئندہ اپنی رحمت سے ایسی خطاؤں اور غلطیوں کا شکار نہ ہونے دیں۔ حضرت موسٰی کی اس دعاء پر وہ لوگ بخشے گئے اور خدا نے ان کو از سر نو زندگی مرحمت فرمائی۔ کما قال ثُمَّ بَعَثْنَا کُمْ مِّنْ م بَعْدِ مَوْتِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ۔

(ماخوذتفسیرعثمانی)

 

اور ہمارے لئے اس دنیا میں اور آخرت میں بھلائی لکھ دے ، بے شک ہم نے تیری طرف رجوع کیا، اس نے فرمایا میں اپنا عذاب جس کو چاہو ں دوں، اور میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے ، سو وہ میں عنقریب لکھ دوں گا ان کے لئے جو ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں، اور ہماری  آیات پر ایمان رکھتے ہیں۔ (۱۵۶)

تشریح: وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ: مطلب یہ ہے کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے ، دنیا کا عذاب میں ہر نافرمان کو نہیں دیتا،  بلکہ اپنی حکمت اور علم سے جس کو چاہتا ہوں اسے دیتا ہوں، آخرت میں بھی ہر گناہ پر میرا عذاب دینا ضروری نہیں ، بلکہ جو لوگ ایمان لے آتے ہیں ان کے بہت سے گناہ میں معاف کرتا رہتا ہوں،  البتہ جن لوگوں کی سرکشی کفر و شرک کی صورت میں حد سے بڑھ جاتی ہے ان کو اپنی مشیت اور حکمت کے تحت عذاب دیتا ہوں، ا سکے برخلاف دنیا میں میری رحمت ہر مؤمن اور کافر، نیک اور بد سب پر چھائی ہوئی ہے ، جس کے نتیجے میں انہیں رزق اور صحت و عافیت کی نعمتیں ملتی رہتی ہیں اور آخرت میں بھی کفر و شرک کے علاوہ دوسرے گناہوں کو اسی رحمت سے معاف کیا جائے گا۔

فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ:حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی امت کے لئے جو دعا مانگی تھی کہ دنیا اور آخرت دونوں میں ان کو بھلائی نصیب ہو، یہ اس کا جواب ہے اور مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تو میری رحمت سے سب کو رزق وغیرہ مل رہا ہے ، لیکن جن لوگوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں میری رحمت حاصل ہو گی وہ صرف وہ لوگ ہیں جو ایمان اور تقویٰ کی صفات کے حامل ہوں اور جنہیں مال کی محبت زکوٰۃ جیسے فریضے کی ادائیگی سے نہ روکے ، چنانچہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! آپ کی امت کے جو لوگ ان صفات کے حامل ہوں گے ان کو ضرور میری یہ رحمت پہنچے گی کہ دنیا اور آخرت دونوں میں انہیں بھلائی نصیب ہو گی۔

(توضیح القرآن)

 

وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں (ہمارے ) رسول (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) نبی امی کی، جسے وہ لکھا ہوا پاتے ہیں اپنے پاس توریت میں اور انجیل میں، وہ انہیں حکم دیتا ہے بھلائی کا، اور انہیں روکتا ہے برائی سے اور ان کے لئے حلال کرتا ہے پاکیزہ چیزیں، اور ان پر حرام کرتا ہے نا پاک چیزیں، اور اتارتا ہے ان (کے سروں) سے بوجھ اور (ان کی گردنوں سے ) طوق جو ان پر تھے ، پس جو لوگ ان پر ایمان لائے اور انہوں نے اس کی حمایت کی، اور اس کی مدد کی، اور اس نور کی پیروی کی جو اس کے ساتھ اتارا گیا، وہی فلاح پانے والے ہیں۔ (۱۵۷)

تشریح:حضرت موسی علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل کو ان کی وفات کے بعد بھی صدیوں تک باقی رہنا تھا اور حضرت موسی علیہ السلام نے دنیا اور آخرت کی بھلائی کی جو دعا کی تھی وہ بنی اسرائیل کی اگلی نسلوں کے لئے بھی تھی، اس لئے اللہ تعالی نے ان کی دعا قبول کرتے وقت یہ بھی واضح فرما دیا کے بنی اسرائیل کے جو لوگ نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود ہوں گے ، ان کو دنیا اور آخرت کی بھلائی اسی صورت میں مل سکے گی جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر ان کی پیروی کریں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر فرماتے ہوئے اللہ تعالی نے آپ کی کچھ صفات بھی بیان فرمائیں، جن میں سے پہلی صفت یہ ہے کہ آپ نبی ہونے کے ساتھ رسول بھی ہوں گے ، عام طور سے رسول کا لفظ ایسے پیغمبر کے لئے بولا جاتا ہے جو نئی شریعت لے کر آئے ، لہذا اس لفظ سے اشارہ کر دیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نئی شریعت لے کر آئیں گے ، جس میں کچھ فروعی احکام تورات کے احکام سے مختلف بھی ہو سکتے ہیں اور بنی اسرائیل کو اس وقت یہ نہ کہنا چاہئے کہ یہ تو ہماری شریعت سے مختلف احکام بیان کر رہے ہیں، اس لئے ان پر کیسے ایمان لائیں ؟چنانچہ پہلے سے بتایا جا رہا ہے کہ ہر دور کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں اور جو رسول نئی شریعت لے کر آتے ہیں ان کے فروعی احکام پہلے احکام سے مختلف ہو سکتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ آپ امی ہوں گے ، یعنی لکھتے پڑھتے نہیں ہوں گے ، عام طور سے بنی اسرائیل امی نہیں تھے ،  بلکہ نسلی عربوں کو امی کہا جاتا تھا (۲:۷۸۔ ۳:۲۰۔ ۲:۶۳) اور خود یہودی عرب نسل کے لوگوں کے لئے کسی قدر حقارت کے پیرائے میں استعمال کرتے تھے (دیکھئے سورۂ آل عمران۳:۷۵) اس لئے اس لفظ سے یہ اشارہ بھی دے دیا گیا کہ وہ بنی اسرائیل کے بجائے عربوں کی نسل سے مبعوث ہوں گے ، آپ کی تیسری صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ آپ کا ذکر مبارک تورات اور انجیل دونوں میں موجود ہو گا، اس سے ان بشارتوں کی طرف اشارہ ہے جو آپ کی تشریف آوری سے متعلق ان مقدس کتابوں میں دی گئی تھیں، آج بھی بہت سی تحریفات کے باوجود بائبل میں متعدد بشارتیں موجود ہیں، تفصیل کے لئے دیکھئے حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب اظہار الحق کا اردو ترجمہ بائبل سے قرآن تک مرتبہ راقم الحروف۔

(توضیح القرآن)

 

وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ:یعنی یہود پر جو سخت احکام تھے اور کھانے کی چیزوں میں ان کی شرارتوں کی وجہ سے تنگی تھی، فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِینَ ھادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ طَیِّبَاتٍ اُحِلَّتْ لَہُمْ (النسآء، آیت١٦٠) اس دین میں وہ سب چیزیں آسان ہوئیں۔ اور جو ناپاک چیزیں مثلاً لحم خنزیر، یا گندی باتیں مثلاً سود خوری وغیرہ، انہوں نے حلال کر رکھی تھیں، ان کی حرمت اس پیغمبر نے ظاہر فرمائی۔ غرض ان سے بہت سے بوجھ ہلکے کر دیئے اور بہت سی قیدیں اٹھا دی گئیں۔ جیسا کہ حدیث میں فرمایا۔ ”بُعِثْتُ بِالْحَنِیْفِیَۃِ السَّمْحَۃ۔ ”

(تفسیرعثمانی)

 

فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَعَزَّرُوْهُ وَنَصَرُوْهُ:نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخصوص صفاتِ کمال بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا:تورات و انجیل میں نبی آخرالزماں کی واضح صفات و علامات بتلا دینے کا نتیجہ یہ ہے کہ جو لوگ آپ پر ایمان لائیں اور آپ کی تعظیم کریں اور مدد کریں اور اس نور کا اتباع کریں جو آپ کے ساتھ بھیجا گیا ہے ، یعنی قرآن عظیم تو یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے ، یہاں فلاح پانے کے لئے چار شرطیں ذکر کی گئیں ہیں، اول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان، دوسرے آپ کی تعظیم و تکریم، تیسرے آپ کی امداد، چوتھے قرآن کریم کا اتباع۔

مراد یہ ہے کہ وہ لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت  و محبت کے ساتھ آپ کی تائید و حمایت اور مخالفین کے مقابلہ میں آپ کی مدد کریں وہ مکمل فلاح پانے والے ہیں، زمانہ نبوت میں تو تائید و نصرت آپ کی ذات کے ساتھ متعلق تھی اور آپ کی وفات کے بعد آپ کی شریعت اور آپ کے دین کی تائید و نصرت ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید و نصرت کا مصداق ہے۔

(ماخوذ معارف القرآن)

 

آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دیں، اے لوگو! بیشک میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں، وہ جس کی بادشاہت ہے آ سمانوں پر اور زمین میں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے ، سو تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول نبی امی (محمد) پر، وہ جو ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور اس کے کلاموں پر، اور اس کی پیروی کر تاکہ تم ہدایت پاؤ۔ (۱۵۸)

تشریح:چونکہ پیچھے یہ ذکر آیا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول کرتے وقت ان کو یہ بتا دیا گیا تھا کہ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ان کی آئندہ نسلوں کے لئے ضروری ہو گا، اس لئے اس موقع کی مناسبت سے جملۂ معترضہ کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت عطا فرمائی کہ وہ بنی اسرائیل سمیت تمام انسانوں کو اپنی نبوت پر ایمان لانے اور اپنی اتباع کی دعوت دیں۔

(توضیح القرآن)

 

اور موسی کی قوم میں ایک گروہ ہے جو حق کی ہدایت دیتا ہے اور وہ اسی کے مطابق انصاف کرتے ہیں۔ (۱۵۹)

تشریح:یہودیوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی جو دعوت دی گئی اور اس سے پہلے ان کی بہت سی بد عنوانیاں بیان ہوئیں، اس سے یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ تمام بنی اسرائیل بد عنوانیوں کے مرتکب ہیں، اس لئے جملۂ معترضہ کے آخر میں اللہ تعالی نے یہ وضاحت فرما دی کے سارے بنی اسرائیل ایک جیسے نہیں ہیں، اس میں وہ بنی اسرائیل بھی داخل ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دین حق پر قائم رہے اور وہ بھی جو آپ پر ایمان لائے ، مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ، اس وضاحت کے بعد آگے پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے بنی اسرائیل کا جو واقعہ دور سے چلا آ رہا ہے اس کو دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور ہم نے انہیں جدا کر دیا (تقسیم کر دیا) بارہ قبیلے گروہ گروہ (کی صورت میں) اور جب اس کی قوم نے اس سے پانی مانگا، ہم نے موسی کی طرف وحی بھجی کہ مارو اپنی لاٹھی اس پتھر پر تو اس سے بارہ چشمہ پھوٹ نکلے ، ہر شخص نے پہچان لیا اپنا گھاٹ، اور ہم نے ان پر ابر کا سایہ کیا اور ان پر من (ایک قسم کا گوند) اور سلوی (بٹیر جیسا پرندہ) اتارا، تم کھاؤ پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں دیں اور انہوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا، لیکن وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔ (۱۶۰)

اور جب ان سے کہا گیا تم اس شہر میں رہو اور اس سے کھاؤ جیسے تم چاہو اور (بخش دے ) کہو اور دروازہ (میں) سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو، ہم تمہیں تمہاری خطائیں بخش دیں گے ، ہم عنقریب نیکی کرنے والوں کو زیادہ دیں گے۔ (۱۶۱)

پس بدل ڈالا ان میں سے ظالموں نے اس کے سوا لفظ جو انہیں کہا گیا تھا، سو ہم نے ان پر عذاب بھیجا آ سمان سے کیونکہ وہ ظلم کرتے تھے۔ (۱۶۲)

آیت نمبر ۱۶۰ تا ۱۶۲ میں جن واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، وہ سورۂ بقرہ (۲۔ ۵۷تا۶۱) میں گزر چکے ہیں، تشریح کیلئے ان آیتوں کے حواشی ملاحظہ فرمائیں۔

(توضیح القرآن)

 

اور ان سے اس بستی کے متعلق پوچھو جو دریا کے کنارے پر تھی جب وہ سبت (ہفتہ) کے (حکم) کے بارہ میں حد سے بڑھنے لگے ، ان کے سبت (ہفتہ) کے دن مچھلیاں ان کے سامنے آ جاتیں اور جس دن سبت نہ ہوتا نہ آتیں، اسی طرح ہم انہیں آزماتے ، کیونکہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔ (۱۶۳)

تشریح:یہ واقعہ بھی اختصار کے ساتھ سورۂ بقرہ (۲۔ ۶۵، ۶۶) میں گزرا ہے ، خلاصہ یہ ہے کہ سنیچر کو عربی اور عبرانی زبان میں سبت کہتے ہیں، یہودیوں کے لئے اسے ایک مقدس دن قرار دیا گیا تھا، جس میں ان کے لئے معاشی سرگرمیاں ممنوع تھیں، جن یہودیوں کا یہاں ذکر ہے وہ (غالباً حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں) کسی سمندر کے کنارے رہتے تھے ، اور مچھلیاں پکڑا کرتے تھے ، سنیچر کے دن مچھلیاں پکڑ نا ان کے لئے ناجائز تھا، مگر شروع میں انہوں نے کچھ حیلے کر کے اس حکم کی خلاف ورزی کرنی چاہی، اور پھر کھلم کھلا مچھلیاں پکڑنی شروع کر دیں، کچھ نیک لوگوں نے انہیں سمجھایا مگر وہ باز نہ آئے ، بالآخر ان پر عذاب آیا اور ان کی صورتیں مسخ کر کے انہیں بندر بنا دیا گیا، سورہ بقرہ میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اگرچہ موجودہ بائبل میں موجود نہیں ہے لیکن عرب کے یہودی اس سے خوب اچھی طرح واقف تھے۔

(توضیح القرآن)

 

اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا تم ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو؟ جسے اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا عذاب دینے والا ہے ، سخت عذاب، وہ بولے تمہارے رب کے (الزام اتارنے ) کے لئے اور (اس امید پر ) کہ شاید وہ ڈریں۔ (۱۶۴)

تشریح:دراصل ان لوگوں کے تین گروہ ہو گئے تھے ، ایک گروہ مسلسل نافرمانی پر کمر باندھے ہوئے تھا دوسرا گروہ شروع میں انہیں سمجھاتا رہا اور جب نہ مانے تو مایوس ہو کر بیٹھ گیا تیسرا گروہ مایوس ہونے کے بجائے بدستور انہیں نصیحت کرتا رہا، اب دوسرے گروہ نے تیسرے گروہ سے کہا جب یہ لوگ مسلسل نافرمانی پر کمر باندھے ہوئے ہیں تواس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر اللہ تعالی کا عذاب آنے والا ہے اس لئے ان کو سمجھانا وقت ضائع کرنا ہے۔

قَالُوْا مَعْذِرَةً إِلٰى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ :یہ تیسرے گروہ کا جواب ہے اور بڑا عارفانہ جواب ہے ، انہوں نے اپنی کوششیں جاری رکھنے کی دو وجہیں بیان کیں، ایک یہ کہ ہمارے نصیحت کرتے رہنے کا پہلا مقصد تو یہ ہے کہ جب اللہ تعالی کے سامنے ہماری پیشی ہو تو ہم یہ کہہ سکیں کہ یا اللہ ہم اپنا فریضہ ادا کرتے رہے تھے اس لئے ہم ان کے جرائم سے بری الذمہ ہیں اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ ہم اب بھی یہ امید رکھتے ہیں کہ شاید کوئی اللہ کا بندہ ہماری بات سن لے اور گناہ سے باز آ جائے ، اللہ تعالی نے ان کا یہ جواب خاص طور پر نقل فرما کر ہر مسلمان کو متنبہ فرمایا ہے کہ جب معاشرے میں نافرمانی کا دور دورہ ہو جائے تو ایک مسلمان کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو بچا لے ، بلکہ دوسروں کو راہ راست کی دعوت دینا بھی اس کی ذمہ داری ہے جس کے بغیر وہ مکمل طور پر بری الذمہ نہیں ہو سکتا، اور دوسرا نکتہ یہ ہے کہ حق کے ایک داعی  کو کبھی  مایوس ہو کر نہیں بیٹھنا چاہئے ،  بلکہ اس امید کے ساتھ اپنا پیغام پہنچاتے رہنا چاہئے کہ شاید کوئی اللہ کا بندہ بات سمجھ جائے۔

(توضیح القرآن)

 

پھر جب وہ بھول گئے جو انہیں سمجھائی گئی تھی، جو برائی سے روکتے تھے ، ہم نے انہیں بچا لیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا ہم نے انہیں پکڑ لیا برے عذاب میں ، کیونکہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔ (۱۶۵)

تشریح: یعنی جب ان نالائقوں نے تمام نصیحتوں کو بالکل ایسا بھلا دیا گویا سنا ہی نہیں، تو ہم نے ناصحین کو بچا کر ظالمین کو سخت عذاب میں گرفتار کر دیا۔

(تفسیرعثمانی)

 

پھر جب وہ اس سے سرکشی کرنے لگے جس سے منع کئے گئے تھے تو ہم نے حکم دیا ان کو ذلیل  و خوار بندر بن جاؤ۔ (۱۶۶)

تشریح:اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی صورتیں مسخ کر کے انہیں واقعی بندر بنا دیا گیا، ہمارے دور کے بعض لوگ اس قسم کی باتوں پر یقین کرنے کے بجائے قرآن کریم میں تاویلات بلکہ تحریفات کا دروازہ کھول دیتے ہیں، عجیب بات یہ ہے کہ جب ڈارون کسی قطعی دلیل کے بغیر یہ کہے کہ بندر ترقی کر کے انسان بن گیا تھا تواسے ماننے میں انہیں تامل نہیں ہوتا ، لیکن جب اللہ تعالی اپنے قطعی کلام میں یہ فرمائیں کہ انسان تنزل کر کے بندر بن گیا تو یہ حضرات شرما کر اس کی تاویل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

اور جب تمہارے رب نے خبر دی کہ البتہ وہ ان (یہود) پر ضرور بھیجتا رہے گا روز قیامت تک (ایسے افراد) جو انہیں برے عذاب سے تکلیف دیں، بیشک تمہارا رب جلد عذاب دینے والا ہے اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (۱۶۷)

تشریح: یہود کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ واقعی ہر تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ان پر کوئی نہ کوئی جابر مسلط ہوتا رہا ہے جس نے ان کو اپنا محکوم بنا کر طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں، البتہ ظاہر ہے کہ ہزاروں سال کی تاریخ میں ایسے وقفے بھی آتے رہے جن میں وہ خوش حال رہے جیسا کہ اللہ تعالی نے آگے خود یہ فرمایا ہے کہ ہم نے ان کو اچھے اور برے حالات سے آزمایا جس سے واضح ہے کہ ان پر خوش حالی کے دور بھی آتے رہے ہیں مگر مجموعی تاریخ کے مقابلے میں وہ کم ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

آجکل کی اسرائیلی حکومت سے اس پر شبہ اس لئے نہیں ہو سکتا کہ جاننے والے جانتے ہیں کہ درحقیقت آج بھی اسرائیل کی نہ اپنی کوئی قوت ہے نہ حکومت وہ روس اور امریکہ کی اسلام دشمن سازش کے نتیجے میں انہیں کی ایک چھاؤنی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور آج بھی بدستور انہیں کے محکوم و مقہور ہیں جس دن جس وقت یہ دونوں اس کی امداد سے اپنا ہاتھ کھینچ لیں اسی روز اسرائیل کا وجود دنیا سے ختم ہو سکتا ہے۔

(معارف القرآن)

 

پھر ہم نے انہیں زمین میں پراگندہ کر دیا گروہ در گروہ، ان میں سے (کچھ) نیکوکار ہیں اور ان میں سے (کچھ) اس کے سوا ہیں، اور ہم نے انہیں آزمایا اچھائیوں اور برائیوں میں تاکہ وہ رجوع کریں۔ (۱۶۸)

تشریح: یہود کی دولت برہم ہوئی تو آپس کی مخالفت سے ہر طرف نکل گئے۔ کوئی اجتماعی قوت و شوکت نہ رہی اور مذہب مختلف پیدا ہوئے۔ یہ احوال اس امت کو عبرت کے لیے سنائے جا رہے ہیں۔

کچھ افراد ان میں نیک بھی تھے۔ مگر اکثریت کافروں اور فاسقوں کی تھی۔ ان اکثروں کے لیے بھی ہم رجوع و انابت الی اللہ کے موافق بہم پہنچاتے رہے۔ کبھی ان کو عیش و تنعم میں رکھا، کبھی سختی اور تکلیف میں مبتلا کیا کہ ممکن ہے احسان مان کر یا سختیوں سے ڈر کر توبہ کریں اور خدا کی طرف رجوع ہوں۔

(تفسیرعثمانی)

 

چند سال سے فلسطین کے ایک حصہ میں ان کے اجتماع اور مصنوعی اقتدار سے دھوکہ نہ کھایا جائے ، اجتماع تو ان کا اس جگہ میں آخری زمانہ میں ہونا ہی چاہئے تھا ، کیونکہ صادق  و مصدوق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث صحیحہ میں قرب قیامت کے لئے یہ خبر دی گئی ہے کہ آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے ، نصاریٰ سب مسلمان ہو جائیں گے اور یہودیوں سے جہاد کر کے ان کو قتل کریں گے ، خدا کا مجرم وارنٹ اور پولیس کے ذریعہ پکڑ کر نہیں بلایا جاتا ، بلکہ وہ تکوینی اسباب ایسے جمع کر دیتے ہیں کہ مجرم اپنے پاؤں چل کر ہزاروں کوششیں کر کے اپنی قتل گاہ پر پہنچتا ہے ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ملک شام دمشق میں ہونے والا ہے یہودیوں کے ساتھ معرکہ بھی یہیں بننا ہے ،  تاکہ عیسی علیہ السلام کے لئے ان کا قلع قمع کر دینا سہل ہو، قدرت نے دنیا کی پوری عمر میں تو یہودیوں کو مختلف ملکوں میں منتشر رکھ کر محکومیت اور بے قدری کا عذاب چکھایا اور آخری زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آسانی کے لئے ان کے مقتل میں جمع فرما دیا اس لئے یہ اجتماع اس عذاب کے منافی نہیں۔

(معارف القرآن)

 

پیچھے آئے ان کے بعد نا خَلف وہ کتاب کے وارث ہوئے ، وہ اس ادنی زندگی کا اسباب لیتے ہیں، اور کہتے ہیں اب ہمیں بخش دیا جائے گا، اور اگر ان کے پاس اس جیسا مال واسباب (پھر) آئے تو اس کو لے لیں، کیا نہیں لیا گیا ان سے (جو) عہد کتاب (توریت میں ہے ) کہ وہ اللہ کے بارہ میں نہ کہیں مگر سچ، اور انہوں نے پڑھا ہے جو اس (توریت) میں ہے ، اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان کے لئے جو پرہیزگار ہیں، کیا تم سمجھتے نہیں ؟ (۱۶۹)

تشریح:یعنی اگلوں میں تو کچھ صالحین بھی تھے پچھلے ایسے نا خلف ہوئے کہ جس کتاب (تورات شریف) کے وارث و حامل بنے تھے ، دنیا کا تھوڑا سامان لے کر اس کی آیات میں تحریف و کتمان کرنے لگے اور رشوتیں لے کر احکام تورات کے خلاف فیصلے دینے لگے۔ پھر اس پر ستم ظریفی دیکھئے کہ ایسے نالائق اور پاجیانہ حرکات کا ارتکاب کرتے ہوئے یہ عقیدہ اور دعویٰ رکھتے ہیں کہ ان باتوں سے ہم کو مضرت کا کچھ اندیشہ نہیں۔ ہم تو خدا کی اولاد اور اس کے محبوب ہیں۔ کچھ بھی کریں وہ ہماری بے اعتدالیوں سے ضرور درگزر کرے گا۔ اسی عقیدہ کی بناء پر تیار رہتے ہیں کہ آئندہ جب موقع ہو پھر رشوت لے کر اسی طرح کی بے ایمانی کا اعادہ کریں۔ گویا بجائے اس کے کہ گزشتہ حرکات پر نادم ہوتے اور آئندہ کے لیے عزم رکھتے کہ ایسی حرکات کا اعادہ نہ کریں گے۔ مگر اللہ سے مامون ہو کر ان ہی شرارتوں اور بے ایمانیوں کے اعادہ کا عزم رکھتے ہیں، اس سے زیادہ حماقت اور بے حیائی کیا ہو گی؟

یعنی تورات میں جو عہد لیا گیا تھا کہ ”خدا کی طرف سچ کے سوا کسی چیز کی نسبت نہ کریں۔ ” کیا وہ انہیں معلوم نہیں جو اس کی کتاب اور احکام میں قطع و برید کر کے اس پر افتراء کرنے لگے ، حالانکہ ”کتاب اللہ” (تورات) کو یہ لوگ پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ پھر کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اس کا مضمون انہیں معلوم نہیں یا یاد نہیں رہا۔ حقیقت وہی ہے کہ دنیا کی فانی متاع کے عوض انہوں نے دین و ایمان بیچ ڈالا اور آخرت کی تکلیف و راحت سے آنکھیں بند کر لیں۔ اتنا نہ سمجھے کہ جو لوگ خدا سے ڈرتے اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے آخرت کا گھر اور وہاں کا عیش و تنعم دنیا کی خوشحالی سے کہیں بہتر اور فائق ہے۔ کاش کہ اب بھی انہیں عقل آ جائے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جو لوگ مضبوط پکڑتے ہیں کتاب کو اور نماز قائم کرتے ہیں، بیشک ہم نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔ (۱۷۰)

تشریح:یعنی توبہ اور اصلاحِ حال کا دروازہ اب بھی کھلا ہے جو لوگ شریروں کی راہ چھوڑ کر تورات کی اصلی ہدایات کو تھامے رہیں اور اسی کی ہدایت و پیشین گوئی کے موافق اس وقت قرآنِ کریم کا دامن مضبوط پکڑے رہیں اور خدا کی بندگی (نماز وغیرہ) کا حق ٹھیک ٹھیک ادا کریں۔ غرض اپنی اور دوسروں کی اصلاح پر متوجہ ہوں۔ خدا ان کی محنت ضائع نہ کرے گا وہ بلاشبہ اپنی محنت کا میٹھا پھل چکھیں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور (یاد کرو) جب ہم نے اٹھایا پہاڑ ان کے اوپر کہ وہ سائبان ہے ، اور انہوں نے گمان کیا گویا کہ وہ ان کے اوپر گرنے والا ہے ، جو ہم نے تمہیں دیا ہے وہ مضبوطی سے پکڑو، اور جو اس میں ہو اسے یاد کرو تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ (۱۷۱)

تشریح: یعنی جو ”میثاق الکتاب” (عہد و اقرار) انہیں یاد دلایا جا رہا ہے ، وہ ایسے اہتمام سے لیا گیا تھا کہ پہاڑ اٹھا کر ان کے سروں پر لٹکا دیا گیا اور کہا گیا کہ جو کچھ تم کو دیا جا رہے ہے (تورات وغیرہ) اُسے پوری مضبوطی اور عزم سے تھامو اور جو نصیحتیں کی گئیں انہیں ہمیشہ یاد رکھو۔ ورنہ بصورت انکار سمجھ لو کہ خدا تم پر یہ پہاڑ گرا کر ہلاک کر سکتا ہے۔ اس قدر اہتمام اور تخویف و تاکید سے جو قول و قرار لیا گیا تھا، افسوس ہے وہ بالکل فراموش کر دیا گیا۔ یہ ”رفع جبل” کا قصہ سورہ بقرہ میں ربع پارہ الم کے بعد گزر چکا ہے ، ملاحظہ فرما لیا جائے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور (یاد کرو) جب تمہارے رب نے نکالی اولاد آ دم کی پشت سے ان کی اولاد، اور انہیں ان کی جانوں پر (ان پر) گواہ بنایا، کیا میں تمہارا رب نہیں ؟ وہ بولے کیوں نہیں ! ہم گواہ ہیں، کبھی تم قیامت کے دن کہو، بیشک ہم اس سے غافل (بے خبر) تھے۔ (۱۷۲)

تشریح:اس آیتِ کریمہ میں جس عہد لینے کا ذکر ہے ، حدیث میں اس کی تشریح یہ آئی ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے کے بعد ان کی پشت سے جتنے انسان پیدا ہونے والے تھے ان سب کو ایک جگہ اس طرح جمع فرمایا کہ وہ سب چیونٹیوں کے برابر جسم رکھتے تھے ، پھر ان سے یہ عہد لیا کہ کیا وہ اللہ تعالی کو اپنا رب مانتے ہیں؟سب نے اقرار کیا کہ بیشک وہ اللہ تعالی کو اپنا رب تسلیم کرتے ہیں (روح المعانی بحوالہ نسائی و حاکم و بیہقی وغیرہ) جس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ وہ اللہ تعالی کے تمام احکام کو مان کر ان پر عمل کریں گے ، اور اس طرح اللہ تعالی نے انسان کو دنیا میں بھیجنے سے پہلے ہی ان سے اپنی اطاعت کا اقرار لے لیا تھا، دنیا میں ایسے حضرات بھی ہوئے ہیں جن کو یہ واقعہ دنیا میں آنے کے بعد بھی یاد رہا ہے مثلاً حضرت ذوالنون مصری رحمہ اللہ سے ان کا یہ ارشاد منقول ہے کہ :یہ عہد مجھے ایسا یاد ہے گویا اس وقت سن رہا ہوں۔ (معارف القرآن ج:۴، ص۱۱۵) لیکن یہ درست ہے کہ چند مستثنیات کو چھوڑ کر باقی انسان اس واقعے کو ایک عہد کی شکل میں تو بھول چکے ہیں مگر کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ یاد نہ رہنے کے باوجود اپنا طبعی اثر چھوڑ جاتے ہیں، یہ اثر آج بھی دنیا کے اکثر و بیشتر انسانوں میں موجود ہے کہ وہ اس کائنات کے ایک پیدا کرنے والے پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی عظمت و کبریائی کے گن گاتے ہیں، جو لوگ مادی خواہشات کے گرداب میں پھنس کر اپنی فطرت خراب کر چکے ہوں ان کی بات تو اور ہے ،  لیکن اللہ تعالی کی عظمت و محبت ہر انسان کی فطرت میں سمائی ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کبھی فطرت سے دور کرنے والے بیرونی عوامل دور ہوتے ہیں توانسان حق کی طرف اس طرح دوڑتا ہے جیسے اس کو اپنی کھوئی ہوئی پونجی اچانک مل گئی ہو۔

(توضیح القرآن)

 

یا تم کہو شرک تو اس سے قبل صرف ہمارے باپ دادا نے کیا، اور ان کے بعد ہم (انکی) اولاد ہوئے سو کیا تو ہمیں ہلاک کرتا ہے ؟اس پر جو غلط کاروں نے کیا۔ (۱۷۳)

تشریح:یعنی یہ اقرار ہم نے اس لئے بھی لیا ہے کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ عذر نہ کرنے لگو کہ شرک و بت پرستی تو دراصل ہمارے بڑوں نے اختیار کر لی تھی اور ہم تو ان کے بعد ان کی اولاد تھے ، کھرے کھوٹے اور صحیح غلط کو نہیں پہچانتے تھے ، اس لئے بڑوں نے جو کچھ کیا ہم نے بھی اسی کو اختیار کر لیا تو بڑوں کے جرم کی سزا ہمیں کیوں دی جائے ، حق تعالی نے بتلا دیا کہ دوسروں کے فعل کی سزا تم کو نہیں دی گئی،  بلکہ خود تمہاری غفلت کی سزا ہے ، کیونکہ اس اقرار نے انسان میں ایک ایسی عقل و بصیرت کا تخم ڈال دیا تھا کہ ذرا بھی غور  وفکر سے کام لیتا تو اتنی بات سمجھ لینا کچھ مشکل نہیں تھا کہ یہ پتھر کے بت جن کو ہم نے اپنے ہاتھوں تراشا ہے یا آگ اور پانی اور درخت یا کوئی انسان ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جس کو کوئی انسان اپنا پیدا کرنے والا اور پروردگار یا حاجت روا مشکل کشا یقین کر سکے۔

(معارف القرآن)

 

اور اسی طرح ہم آیتیں کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ وہ رجوع کریں (لوٹ آئیں )۔ (۱۷۴)

تشریح:یعنی ہم اسی طرح اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ غفلت اور کجروی سے باز آ جائیں، مراد یہ ہے کہ آیات الہیہ میں ذرا بھی غور کریں تووہ اس عہد و میثاق کی طرف لوٹ آئیں جو ازل میں کیا گیا تھا یعنی اللہ جل شانہ کی ربوبیت کا اعتراف کرنے لگیں اور اس کے نتیجے میں اس کی اطاعت کو لازم سمجھیں۔

(معارف القرآن)

 

اور انہیں اس شخص کی خبر سناؤ جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں تو وہ اس سے صاف نکل گیا، تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا، سو وہ ہو گیا گمراہوں میں سے۔ (۱۷۵)

اور اگر ہم چاہتے تو اسے ان (آیتوں ) کے ذریعہ بلند کرتے ، لیکن وہ زمین کی طرف مائل ہو گیا، اور اس نے پیروی کی اپنی خواہش کی، تو اس کا حال کتے جیسا ہے ، اگر تو اس پر (بوجھ) لادے تو ہانپے یا اسے چھوڑ دے تو (پھر بھی) ہانپے ، یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا، سو (یہ) احوال بیان کر دو تاکہ وہ غور کریں۔ (۱۷۶)

بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔ (۱۷۷)

تشریح: اکثر مفسرین کے نزدیک یہ آیات بلعم بن باعوراء کے حق میں نازل ہوئیں جو ایک عالم اور صاحب تصرف درویش تھا۔ بعدہٗ اللہ کی آیات اور ہدایات کو چھوڑ کر عورت کے اغواء اور دولت کے لالچ سے حضرت موسٰی کے مقابلہ میں اپنے تصرفات چلانے اور ناپاک تدبیریں بتلانے کے لیے تیار ہو گیا۔ آخر موسٰی علیہ السلام کا تو کچھ نہ بگاڑ سکا خود مردود ابدی بنا۔ آیات اللہ کا جو علم بلعم کو دیا گیا تھا، اگر خدا چاہتا تو اس کے ذریعہ سے بہت بلند مراتب پر اس کو فائز کر دیتا۔ اور یہ جب ہی ہو سکتا تھا کہ اُسے اپنے علم پر چلنے اور آیات اللہ کا اتباع کرنے کی توفیق ہوتی۔ لیکن ایسا نہ ہوا کیونکہ وہ خود آسمانی برکات و آیات سے منہ موڑ کر زمینی شہوات و لذات کی طرف جھک پڑا۔ وہ نفسانی خواہشات کے پیچھے چل رہا تھا اور شیطان اس کا پیچھا (تعاقب) کرتا جا رہا تھا۔ حتیٰ کہ پکے کجروؤں اور گمراہوں کی قطار میں جا داخل ہوا۔ اس وقت اس کا حال کتے کی طرح ہو گیا جس کی زبان باہر لٹکی ہو اور برابر ہانپ رہا ہو اگر فرض کرو اس پر بوجھ لا دیں یا ڈانٹ بتلائیں یا کچھ نہ کہیں آزاد چھوڑ دیں، بہر صورت ہانپتا اور زبان لٹکائے رہتا ہے۔ کیونکہ طبعی طور پر دل کی کمزوری کی وجہ سے گرم ہوا کے باہر پھینکنے اور سرد و تازہ ہوا کے اندر کھینچنے پر بسہولت قادر نہیں ہے۔ اسی طرح سفلی خواہشات میں منہ مارنے والے کتے کا حال ہوا کہ اخلاقی کمزوری کی وجہ سے ”آیات اللہ” کا دیا جانا اور نہ دیا جانا یا تنبیہ کرنا اور نہ کرنا دونوں حالتیں اس کے حق میں برابر ہو گئیں۔ سَوَاءٌ عَلَیْہِمْ ءَ اَنْذَرْتَہُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْہُمْ لَایُؤْمِنُوْنَ حرصِ دنیا سے اس کی زبان باہر لٹک پڑی اور ترک آیات کی نحوست سے بدحواسی اور پریشانی خاطر کا نقشہ برابر ہانپتے رہنے کی مثال میں ظاہر ہوا۔ ممکن ہے کہ بلعم کی باطنی و معنوی کیفیت ظاہر کرنے کے لیے صرف ایک مثال کے طور پر یہ مضمون (اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْہِ یَلْہَثْ اَوْتَتْرُکْہُ یَلْہَثْ) ذکر کیا گیا ہو اور ہو سکتا ہے کہ دنیا یا آخرت میں اس کے لیے یہ سزا تجویز کی گئی ہو کہ ظاہری وحسی طور پر کتے کی طرح زبان باہر نکل پڑے اور ہمیشہ پریشان و بدحواس اور خوف زدہ آدمی کی طرح ہانپتا رہے۔ العیاذ باللہ۔ آیات کی شان نزول کچھ ہو، بہرحال ایسے ہوا پرستوں کا انجام بتلایا گیا ہے جو حق کے قبول کرنے یا پوری طرح سمجھ لینے کے بعد محض دنیاوی طمع اور سفلی خواہشات کی پیروی میں احکام الٰہیہ کو چھوڑ کر شیطان کے اشاروں پر چلنے لگیں۔ اور خدا کے عہد و میثاق کی کچھ پروا نہ کریں۔ گویا یہود کو بھی متنبہ فرما دیا کہ صرف کتاب کا علم کچھ نافع نہیں ہو سکتا جب تک صحیح معنی میں اس کا اتباع نہ ہو مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التّٰورَاۃَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوھا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا (الجمعہ، رکوع١، آیت:٥) علمائے سوء کے لیے ان آیات میں بڑا عبرتناک سبق ہے اگر دھیان کریں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اللہ جس کو ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے ، اور جس کو گمراہ کر دے سو وہی لوگ گھاٹا پانے والے ہیں۔ (۱۷۸)

تشریح:علم و فضل بھی انسان کو جب ہی کام دیتا ہے کہ خدا کی ہدایت و دستگیری سے علم صحیح کے موافق چلنے کی توفیق ہو، جسے وہ سیدھے راستہ پر چلنے کے لیے موافق نہ کرے تو کتنی ہی بڑی علمی فضیلت و قابلیت رکھتا ہو سمجھ لو کہ ٹوٹے اور خسارے کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ اس لیے انسان اپنے علم و فضل پر مغرور نہ ہو بلکہ دائما خدا سے ہدایت و توفیق کا طلبگار رہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور ہم نے جہنم کے لئے بہت سے جن اور آ دمی پیدا کئے ، ان کے دل ہیں ان سے سمجھتے نہیں، اور ان کی آنکھیں ہیں ان سے وہ دیکھتے نہیں، اور ان کے کان ہیں وہ سنتے نہیں ان سے ، یہی لوگ چوپایوں کے مانند ہیں، بلکہ (ان سے بھی) بدترین گمراہ ہیں، یہی لوگ غافل ہیں۔ (۱۷۹)

تشریح:یعنی دل، کان، آنکھ سب کچھ موجود ہیں لیکن نہ دل سے ”آیات اللہ” میں غور کرتے ہیں نہ قدرت کے نشانات کا بنظر تعمق و اعتبار مطالعہ کرتے ہیں۔ اور نہ خدائی باتوں کو بسمع قبول سنتے ہیں۔ جس طرح چوپائے جانوروں کے تمام ادراکات صرف کھانے پینے اور بہیمی جذبات کے دائرہ میں محدود رہتے ہیں۔ یہ ہی حال ان کا ہے کہ دل و دماغ، ہاتھ پاؤں، کان آنکھ غرض خدا کی دی ہوئی سب قوتیں محض دنیاوی لذائذ اور مادی خواہشات کی تحصیل و تکمیل کے لیے وقف ہیں۔ انسانی کمالات اور ملکوتی خصائل کے اکتساب سے کوئی سروکار نہیں بلکہ غور کیا جائے تو ان کا حال ایک طرح چوپائے جانوروں سے بھی بدتر ہے۔ جانور مالک کے بلانے پر چلا آتا ہے ، اس کے ڈانٹنے سے رک جاتا ہے۔ یہ کبھی مالکِ حقیقی کی آواز پر کان نہیں دھرتے ، پھر جانور اپنے فطری قویٰ سے وہ ہی کام لیتے ہیں جو قدرت نے ان کے لیے مقرر کر دیا ہے۔ زیادہ کی ان میں استعداد ہی نہیں۔ لیکن ان لوگوں میں روحانی و عرفانی ترقیات کی جو فطری قوت وا ستعداد ودیعت کی گئی تھی، اسے مہلک غفلت اور بے راہ روی سے خود اپنے ہاتھوں ضائع معطل کر دیا گیا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اللہ کے لئے ہیں اچھے نام، سو تم اس کو ان (ہی) سے پکارو، اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں، جو وہ کرتے تھے عنقریب وہ اس کا بدلہ پائیں گے۔ (۱۸۰)

تشریح:غافلین کا حال ذکر کر کے مومنین کو متنبہ فرمایا ہے کہ تم غفلت اختیار نہ کرنا۔ غفلت دور کرنے والی چیز خدا کی یاد ہے ، سو تم ہمیشہ اس کو اچھے ناموں سے پکارو اور اچھی صفات سے یاد کرو، جو لوگ اس کے اسماء و صفات کے بارے میں کج روش اختیار کرتے ہیں انہیں چھوڑ دو وہ جیسا کریں گے ویسا بھگتیں گے۔ خدا کے ناموں اور صفتوں کے متعلق کجروی یہ ہے کہ خدا پر ایسے نام یا صفت کا اطلاق کرے جس کی شریعت نے اجازت نہیں دی۔ اور جو حق تعالیٰ کی تعظیم و جلال کے لائق نہیں یا اس کے مخصوص نام اور صفت کا اطلاق غیر اللہ پر کرے ، یا ان کے معانی بیان کرنے میں بے اصول تاویل اور کھینچ تان کرے یا ان کو معصیت (مثلاً سحر وغیرہ) کے مواقع میں استعمال کرنے لگے۔ یہ سب کجروی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بہت سے کافروں کے ذہن میں اللہ تعالی کا جو ناقص، ادھورا یا غلط تصور تھا اس کے مطابق انہوں نے اللہ تعالی کا کوئی نام یا کوئی صفت بنا لی تھی یہ آیت متنبہ کر رہی ہے کہ مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے کہ ان لوگوں کی پیروی میں وہ بھی اللہ تعالی کا وہ نام یا صفت استعمال کرنا شروع کر دیں۔

(توضیح القرآن)

 

اور جو لوگ ہم نے پیدا کئے (ان میں) ایک گروہ ہے جو ٹھیک راہ بتلاتے ہیں اور اس کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ (۱۸۱)

تشریح: یہ جماعت امت محمدیہ مرحومہ ہے علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتسلیم جس نے ہر قسم کی افراط اور تفریط اور کجروی سے علیحدہ ہو کر سچائی اور انصاف و اعتدال کا طریقہ اختیار کیا۔ اور اسی کی طرف دوسروں کو دعوت دیتی ہے۔ آگے اس امت کے مخالفین اور حق کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا، آ ہستہ آ ہستہ ہم ان کو پکڑیں گے کہ انہیں خبر بھی نہ ہو۔ (۱۸۲)

اور میں ان کے لئے ڈھیل دوں گا، بیشک میری خفیہ تدبیر پختہ ہے۔ (۱۸۳)

تشریح:یہ ان لوگوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے جو مسلسل نافرمانی کئے جا رہے ہوں اور پھر بھی دنیا کے عیش و عشرت سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، اور جنہیں کبھی یہ خیال بھی نہ آتا ہو کہ انہیں کسی دن اللہ تعالی کے سامنے پیش ہونا ہے ، کیونکہ ایسی نافرمانیوں اور ایسی غفلت کے ساتھ جو دنیوی عیش و عشرت میسر آتی ہے تو وہ اللہ تعالی کی طرف سے ڈھیل ہوتی ہے جس کو قرآن کریم نے استدراج کا نام دیا ہے ، ایک وقت آتا ہے کہ ایسا شخص اچانک پکڑ لیا جاتا ہے کبھی تو یہ پکڑ دنیا میں ہو جاتی ہے اور اگر ایسا نہ ہوئی تو آخرت میں تو ہونی ہی ہونی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

کیا وہ غور نہیں کرتے ؟ کہ ان کے صاحب (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کو کچھ جنون نہیں، وہ نہیں مگر صاف صاف ڈرانے والے۔ (۱۸۴)

تشریح: مشرکین مکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر ماننے کے بجائے کبھی معاذاللہ آپ کو مجنون قرار دیتے ، کبھی شاعر یا جادوگر کہتے تھے ، یہ آیت بتا رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایسے بے سروپا تبصرے وہی کر سکتا ہے جو بے سوچے سمجھے بات کرنے کا عادی ہو، اگر یہ لوگ ذرا بھی غور کر لیں تو ان پر اپنے ان الزامات کی حقیقت واضح ہو جائے۔

(توضیح القرآن)

 

کیا وہ نہیں دیکھتے ؟ بادشاہت آ سمانوں کی اور زمین کی اور جو اللہ نے کوئی چیز (بھی) پیدا کی ہے ، اور یہ کہ شاید قریب آ گئی ہو ان کی اجل (موت کی گھڑی) تو اس کے بعد کس بات پر وہ ایمان لائیں گے ؟۔ (۱۸۵)

تشریح: یعنی اگر آیاتِ قرآنیہ پر ایمان نہ لائے تو دنیا میں اور کون سی بات اور کون سا کلام ہے جس پر ایمان لانے کی امید کی جا سکتی ہے سمجھ لو کہ ان بدبختوں کے لیے دولت ایمان مقدر ہی نہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

جس کو اللہ گمراہ کرے تو کوئی ہدایت دینے والا نہیں اس کو، اور وہ انہیں ان کی سرکشی میں بہکتے چھوڑ دیتا ہے۔ (۱۸۶)

تشریح: ہدایت و ضلالت، ہر چیز خدا کے قبضہ میں ہے۔ وہ نہ چاہے تو سارے سامان ہدایت کے رکھے رہ جائیں۔ آدمی کہیں سے بھی منتفع نہ ہو ہاں عادۃً وہ جب ہی ہدایت کی توفیق دیتا ہے جب بندہ خود اپنے کسب و اختیار سے اس راستہ پر چلنا چاہے۔ باقی جو دیدہ و دانستہ بدی اور شرارت ہی کی ٹھان لے تو خدا بھی راستہ دکھلانے کے بعد اسی حال میں اسے چھوڑ دیتا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

وہ آ پ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے قیامت سے متعلق پوچھتے ہیں کب ہے ؟ اس کے قائم ہونے (کا وقت) ؟ آ پ کہہ دیں اس کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے ، اس کو اس کے وقت پر اللہ کے سوا کوئی ظاہر نہ کرے گا، بھاری ہے آ سمانوں اور زمین میں، اور تم پر نہ آئے گی مگر اچانک (واقع ہو گی) آ پ  سے (یوں) پوچھتے ہیں گویا کہ آ پ اس کے متلاشی ہیں  آ پ کہہ دیں، اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے ، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (۱۸۷)

تشریح: پہلے عَسٰی اَنْ یَّکُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُھُمْ میں خاص اس قوم کی اجل (موت) کا ذکر تھا کہ انہیں کچھ معلوم نہیں کہ کب آ جائے۔ یہاں تمام دنیا کی اجل (قیامت) کے متعلق متنبہ فرما دیا کہ جب کسی کو خاص اپنی موت کا علم نہیں کب آئے ، پھر کل دنیا کی موت کو کون بتلا سکتا ہے کہ فلاں تاریخ اور فلاں سنہ میں آئے گی۔ اس کی تعیین کا علم بجز خدائے علام الغیوب کسی کے پاس نہیں۔ و ہی وقت معین و مقدر پر اسے واقع کر کے ظاہر کر دے گا کہ خدا کے علم میں اس کا یہ وقت تھا۔ آسمان و زمین میں وہ بڑا بھاری واقعہ ہو گا اور اس کا علم بھی بہت بھاری ہے جو خدا کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ گو اس واقعہ کی امارات (بہت سی نشانیاں) انبیاء علیہم السلام خصوصاً ہمارے پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں۔ تاہم ان سب علامات کے ظہور کے بعد بھی جب قیامت کا وقوع ہو گا تو بالکل بے خبری میں اچانک اور دفعتاً ہو گا جیسا کہ بخاری وغیرہ کی احادیث میں تفصیلاً مذکور ہے۔

ان لوگوں کے طرزِ سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ گویا وہ آپ کی نسبت یوں سمجھتے ہیں کہ آپ بھی اسی مسئلہ کی تحقیق و تفتیش اور کھوج لگانے میں مشغول رہے ہیں اور تلاش کے بعد اس کے علم تک رسائی حاصل کر چکے ہیں حالانکہ یہ علم حق تعالیٰ شانہ’ کے ساتھ مخصوص ہے انبیاء علیہم السلام اس چیز کے پیچھے نہیں پڑا کرتے جس سے خدا نے اپنی مصلحت کی بناء پر روک دیا ہو۔ نہ ان کے اختیار میں ہے کہ جو چاہیں کوشش کر کے ضرور ہی معلوم کر لیا کریں۔ ان کا منصب یہ ہے کہ جن بے شمار علوم و کمالات کا خدا کی طرف سے افاضہ ہو، نہایت شکر گزاری اور قدر شناسی کے ساتھ قبول کرتے رہیں۔ مگر ان باتوں کو اکثر عوام کالانعام کیا سمجھیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

آپ کہہ دیں میں مالک نہیں اپنی ذات کے لئے نفع کا نہ نقصان کا، مگر جو اللہ چاہے ، اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو میں بہت بھلائی جمع کر لیتا، اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچتی، میں بس ڈرانے والا اور خوشخبری سنانے والا ہوں ان لوگوں کے لئے (جو) ایمان رکھتے ہیں۔ (۱۸۸)

تشریح:یعنی اگر مجھے غیب کی ساری باتیں معلوم ہو جایا کرتیں تو میں دنیا کے سارے فائدے اکھٹے کر لیتا اور کبھی مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی،  کیونکہ ہر کام کا انجام مجھے پہلے سے معلوم ہو جاتا، حالانکہ واقعہ ایسا نہیں ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ مجھے غیب کی ساری باتوں کا علم نہیں دیا گیا، البتہ جو باتیں وحی کے ذریعے بتا دیتے ہیں ان کا مجھے بھی علم ہو جاتا ہے ، یہ ان کافروں کی بھی تردید ہے جو پیغمبر کیلئے ضروری سمجھتے تھے کہ اسے خدائی کے اختیارات حاصل ہوں اور ان لوگوں کو بھی تنبیہ ہے جو اپنے پیغمبروں کی تعظیم میں حد سے نکل کر انہیں خدائی کا درجہ دے دیتے ہیں، اور جس شرک کو مٹانے کے لئے انبیا کرام علیہم السلام تشریف لائے تھے ان کی تعظیم کے نام پر اسی شرک کا ارتکاب کرنے لگتے ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اس سے بنایا اس کا جوڑا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے ، پھر جب مرد نے اسے ڈھانپ لیا تو اسے ہلکا سا حمل رہا، پھر وہ اس کو لئے پھر ی، پھر جب وہ بوجھل ہو گئی، تو دونوں نے اپنے رب کو پکارا اگر تو نے ہمیں صالح بچہ دیا تو ہم ضرور تیرے شکر کرنے والوں میں سے ہوں گے۔ (۱۸۹)

پھر جب اللہ نے انہیں صالح بچہ دیا تو جو اللہ نے انہیں دیا تھا انہوں نے اس میں شریک ٹھہرائے ، سو اللہ اس سے برتر ہے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔ (۱۹۰)

تشریح: خدا نے سب انسانوں کو حضرت آدمؑ سے پیدا کیا۔ حضرت آدم کے انس اور سکون و قرار حاصل کرنے کے لیے انہی کے اندر اس کا جوڑا (حواء) بنایا۔ پھر دونوں سے نسل چلی۔ جب مرد نے عورت سے فطری خواہش پوری کی تو عورت حاملہ ہوئی، حمل کی ابتدائی حالت میں کوئی گرانی نہ تھی۔ عورت حسب معمول چلتی پھرتی اور اٹھتی بیٹھتی رہی۔ جب پیٹ بڑھ گیا، اور یہ کون جان سکتا تھا کہ اس کے اندر کیا چیز پوشیدہ ہے ، تب مرد و عورت دونوں نے حق تعالیٰ کی جناب میں عرض کیا کہ اگر آپ اپنے فضل سے بھلا چنگا کار آمد بچہ عنایت فرمائیں گے تو ہم دونوں (بلکہ ہماری نسل بھی) تیرا شکر ادا کرتی رہے گی۔ خدا نے جب ان کی یہ تمنا پوری کر دی تو ہماری دی ہوئی چیز میں اوروں کے حصے لگانے شروع کر دیئے مثلاً کسی نے عقیدہ جما لیا کہ یہ اولاد فلاں زندہ یا مردہ مخلوق نے ہم کو دی ہے ، کسی نے اس عقیدہ سے نہیں تو عملاً اس کی نذر و نیاز شروع کر دی، یا بچہ کی پیشانی اس کے سامنے ٹیک دی یا بچہ کا نام ایسا رکھا جس سے شرک کا اظہار ہوتا ہے۔ مثلاً عبد العزیٰ یا عبدالشمس وغیرہ، غرض جو حق منعم حقیقی کا تھا وہ اعتقاداً یا فعلاً یا قولاً دوسروں کو دے دیا گیا۔ خوب سمجھ لو کہ حق تعالیٰ تمام انواع و مراتب شرک سے بالا و برتر ہے۔ ان آیات میں حسن بصری وغیرہ کی رائے کے موافق خاص آدم و حوا کا نہیں بلکہ عام انسانوں کی حالت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

کیا وہ انہیں شریک ٹھہراتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے ، بلکہ وہ پیدا کیے جاتے ہیں (خالق نہیں مخلوق ہیں)۔ (۱۹۱)

اور وہ ان کی مدد کی قدرت نہیں رکھتے اور نہ خود اپنی مدد کرتے ہیں۔ (۱۹۲)

تشریح: پہلے ایک طرح کے شرک کا ذکر تھا اس کی مناسبت سے ان آیات میں بت پرستی کا رد فرماتے ہیں۔ یعنی جو کسی کو پیدا نہ کر سکے بلکہ خود تمہارا بنایا ہوا ہو وہ تمہارا خدایا معبود کیسے بن سکتا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اگر تم انہیں ہدایت کی طرف بلاؤ تو وہ تمہاری پیروی نہ کریں، تمہارے لئے برابر ہے خواہ تم انہیں بلاؤ یا خاموش رہو۔ (۱۹۳)

بے شک تم جنہیں پکارتے ہو اللہ کے سوا، وہ تمہارے جیسے بندے ہیں، پھر انہیں پکارو تو چاہئے کہ وہ تمہیں جواب دیں اگر تم سچے ہو۔ (۱۹۴)

کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں، یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں، یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں، یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں، آ پ کہے دیں پکارو اپنے شریکوں کو، پھر مجھ پر داؤ چلو، پس مجھے مہلت نہ دو۔ (۱۹۵)

تشریح: جن بتوں کو تم نے معبود ٹھہرایا ہے اور خدائی کا حق دیا ہے ، وہ تمہارے کام تو کیا آتے ، خود اپنی حفاظت پر بھی قادر نہیں اور باوجود مخلوق ہونے کے ان کمالات سے محروم ہیں جن سے کسی مخلوق کو دوسری پر تفوق و امتیاز حاصل ہو سکتا ہے۔ گو ان کے ظاہری ہاتھ پاؤں، آنکھ، کان سب کچھ تم بناتے ہو، لیکن ان اعضاء میں وہ قوتیں نہیں جن سے انہیں اعضاء کہا جا سکے۔ نہ تمہارے پکارنے پر مصنوعی پاؤں سے چل کر آ سکتے ہیں، نہ ہاتھوں سے کوئی چیز پکڑ سکتے ہیں، نہ آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں، نہ کانوں سے کوئی بات سنتے ہیں۔ اگر پکارتے پکارتے تمہارا گلا پھٹ جائے گا تب بھی وہ تمہاری آواز سننے والے اور اس پر چلنے والے یا اس کا جواب دینے والے نہیں۔ تم ان کے سامنے چلاؤ یا خاموش رہو، دونوں حالتیں یکساں ہیں۔ نہ اس سے فائدہ نہ اس سے نفع، تعجب ہے کہ جو چیزیں مملوک و مخلوق ہونے میں تم ہی جیسی عاجز و درماندہ بلکہ وجود و کمالاتِ وجود میں تم سے بھی گئی گزری ہوں انہیں خدا بنا لیا جائے اور جو اس کا رد کرے اسے نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی جائیں۔ چنانچہ مشرکین مکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے تھے کہ آپ ہمارے بتوں کی بے ادبی کرنا چھوڑ دیں ورنہ نہ معلوم وہ کیا آفت تم پر نازل کر دیں۔ ” ”وَیُخَوِّفُوْنَکَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ” (زمر، رکوع ٤، آیت:٣٦) اسی کا جواب قُلِ ادْعُوْا شُرَکَآءَ کُمْ الخ سے دیا۔ یعنی تم اپنے سب شرکاء کو پکارو اور میرے خلاف اپنے سب منصوبے اور تدبیریں پوری کر لو، پھر مجھ کو ایک منٹ کی مہلت بھی نہ دو۔ دیکھوں تم میرا کیا بگاڑ سکو گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک میرا کار ساز اللہ ہے جس نے کتاب نازل کی اور وہ نیک بندوں کی حمایت کرتا ہے۔ (۱۹۶)

تشریح: یعنی جس نے مجھ پر کتاب نازل کی اور منصب رسالت پر فائز کیا و ہی ساری دنیا کے مقابلہ میں میری حمایت و حفاظت کرے گا۔ کیونکہ اپنے نیک بندوں کی حفاظت و اعانت و ہی کرتا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اس (اللہ) کے سوا جن کو تم پکارتے ہو، وہ قدرت نہیں رکھتے تمہاری مدد کی اور نہ وہ خود اپنی مدد کریں۔ (۱۹۷)

اور اگر تم انہیں پکارو ہدایت کی طرف تو وہ (کچھ) نہ سنیں اور تو انہیں دیکھتا ہے کہ وہ تیری طرف تکتے ہیں،  حالانکہ وہ کچھ نہیں دیکھتے۔ (۱۹۸)

آپ در گزر کریں اور بھلائی کا حکم دیں اور جاہلوں سے منہ پھیر لیں۔ (۱۹۹)

تشریح: گزشتہ آیات میں بت پرستوں کی جو تحمیق و تجہیل کی گئی تھی بہت ممکن تھا کہ جاہل مشرکین اس پر برہم ہو کر ناشائستہ حرکت کرتے یا برا لفظ زبان سے نکالتے ، اس لیے ہدایت فرما دی کہ عفو و درگزر کی عادت رکھو، نصیحت کرنے سے مت رکو، معقول بات کہتے رہو اور جاہلوں سے کنارہ کرو یعنی ان کی جہالت آمیز حرکتوں پر روز روز سے الجھنے کی ضرورت نہیں۔ جب وقت آئے گا ذرا سی دیر میں ان کا سب حساب بے باق ہو جائے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اگر تجھے ابھارے شیطان کی طرف سے کوئی چھیڑ، تو اللہ کی پناہ میں آ جا، بیشک وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ (۲۰۰)

تشریح:اس آیت نے ہر مسلمان کو یہ تعلیم دی ہے کہ جب کبھی شیطان دل میں کوئی برے خیال کا وسوسہ ڈالے تو فوراً اللہ تعالی کی پناہ مانگنی چاہئے ، اس بات کا ذکر خاص طور پر درگزر کا رویہ اپنانے کے سلسلہ میں کیا گیا ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں درگزر کرنے کی فضیلت ہے وہاں بھی اگر شیطانی اثر سے کبھی کسی کو غصہ آ جائے تواس کا علاج بھی اللہ تعالی سے پناہ مانگنا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

بیشک جو لوگ (اللہ سے ) ڈرتے ہیں، جب انہیں پہنچتا ہے شیطان ( کی طرف سے ) کوئی وسوسہ وہ (اللہ کو) یاد کرتے ہیں تو وہ فوراً (راہ صواب) دیکھ لیتے ہیں۔ (۲۰۱)

اور ان (شیطانوں) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچتے ہیں پھر وہ کمی نہیں کرتے۔ (۲۰۲)

تشریح:گناہ کی خواہش  نفس اور شیطان کے اثرات سے بڑے بڑے پرہیزگاروں کو بھی ہوتی ہے ، لیکن وہ اس کا علاج اس طرح کرتے ہیں کہ اللہ تعالی کا ذکر کرتے ہیں، اس سے مدد مانگتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں، اور اس کی بارگاہ میں حاضری کا دھیان کرتے ہیں، اس کے نتیجے میں ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں، یعنی ان کو گناہ کی حقیقت نظر آ جاتی ہے ، اور اس کے نتیجے میں وہ گناہ سے بچ جاتے ہیں اور اگر کبھی غلطی ہو بھی جائے تو توبہ کی توفیق ہو جاتی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہ لاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ تو کیوں نہیں (خود) گھڑ لیتا، آپ کہہ دیں میں تو صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے میری طرف وحی کی جاتی ہے یہ (قرآن) سوجھ کی باتیں ہیں تمہارے رب کی طرف سے ، اور ہدایت و رحمت ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔ (۲۰۳)

تشریح:  جب کبھی وحی کے آنے میں تاخیر ہوتی، تو کفار از راہِ تمسخر کہتے تھے کہ اب کوئی آیت کیوں گھڑ کر نہیں لے آتے۔ آخر سارا قرآن تم نے بنایا ہی ہے (العیاذ باللہ)۔ اسی طرح کبھی دق کرنے کے لیے بعض ایسے نشان (معجزات) طلب کرتے جن کے دکھلانے کو خدا کی حکمت مقتضی نہ تھی۔ جب آپ دکھلانے سے انکار کرتے تو کہتے۔ ” لَوْلَا اجْتَبَیْتَہَا” یعنی اپنے خدا سے کہہ کر ہمارا مانگا ہوا نشان کیوں چھانٹ کر نہ لے آئے دونوں باتوں کے جواب میں فرمایا۔ ”قُلْ اِنَّمَا اَتَّبِعُ مَایُوْحٰی اِلَیَّ مِن رَّبِّیْ” یعنی ان سے کہہ دو کہ (نبی کا یہ کام نہیں کہ اپنی طرف سے خدا پر افتراء کرے ، یا لوگوں کے کہنے سننے پر اقدام کر کے خدا سے وہ چیز مانگے جس کا دینا اس کی حکمت کے منافی ہے یا جس کے طلب کرنے کی اجازت نہیں ہے ) اس کا وظیفہ صرف یہ ہے کہ جو کچھ خدا وحی بھیجے ، قبول کرے ، اس پر عمل پیرا ہو اور دوسروں کو عمل پیرا ہونے کی دعوت دے۔ باقی آیات تنزیلیہ یا تکوینیہ جو مجھ سے طلب کرتے ہو، تو قرآن سے بڑھ کر کون سی آیات ہوں گی اور اس سے زیادہ عظیم الشان معجزہ کون سا ہو گا جو سارے جہان کے لیے بصیرت افروز حقائق و مواعظ کا خزانہ اور ایمان لانے والوں کے لیے خاص قسم کی ہدایت و رحمت کا ذخیرہ اپنے اندر رکھتا ہے۔ اسی کو تم کب ماننے کے لیے تیار ہوئے ، جو فرمائشی آیات کو تسلیم کرو گے۔

(تفسیر عثمانی)

 

اور جب قرآن پڑھا جائے تو (پوری توجہ سے ) سنو اس کو، اور چپ رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (۲۰۴)

تشریح:اس آیت نے بتا دیا کہ جب قرآن کریم کی تلاوت ہو رہی ہو تو اسے سننے کا اہتمام کرنا چاہئے ، البتہ تلاوت کرنے والے کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ ایسے مقامات پر بلند آواز سے تلاوت نہ کرے جہاں لوگ اپنے کاموں میں مشغول ہوں، ایسی صورت میں اگر لوگ تلاوت کی طرف دھیان نہیں دیں گے تواس کا گناہ تلاوت کرنے والے کو ہو گا۔

(توضیح القرآن)

 

اور اپنے رب کو یاد کرو اپنے دل میں عاجزی سے اور ڈرتے ہوئے اور بلند آواز کے بغیر صبح و شام اور بے خبروں سے نہ ہو۔ (۲۰۵)

تشریح: بڑا ذکر تو قرآن کریم ہے ، اس کا ادب بیان ہو چکا ہے۔ اب عام ”ذکر اللہ” کے سوا کچھ آداب بیان فرماتے ہیں۔ یعنی ”ذکر اللہ” کی اصلی روح یہ ہے کہ جو زبان سے کہے دل سے اس کی طرف دھیان رکھے تاکہ ذکر کا پورا نفع ظاہر ہو اور زبان و دل دونوں عضو خدا کی یاد میں مشغول ہوں۔ ذکر کرتے وقت دل میں رقت ہونی چاہیے۔ سچی رغبت و رہبت سے خدا کو پکارے۔ جیسے کوئی خوشامد کرنے والا ڈرا ہوا آدمی کسی کو پکارتا ہے۔ ذاکر کے لہجہ میں، آواز میں ہئیت میں تضرع و خوف کا رنگ محسوس ہونا چاہیے۔ ذکر و مذکور کی عظمت و جلال سے آواز کا پست ہونا قدرتی چیز ہے وَخَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّاھمْسًا۔ اسی لیے زیادہ چلانے کی ممانعت آئی ہے۔ دھیمی آواز سے سراً یا جہراً خدا کا ذکر کرے تو خدا اس کا ذکر کرے گا۔ پھر اس سے زیادہ عاشق کی خوش بختی اور کیا ہو سکتی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک جو لوگ تیرے رب کے نزدیک ہیں، وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور وہ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔ (۲۰۶)

تشریح:ا س  میں اشارہ ہے کہ انسانوں کو اللہ تعالی کا ذکر کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے ، اس میں (معاذاللہ) اللہ تعالی کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، کیونکہ اول تو اللہ تعالی کسی مخلوق کی عبادت یا ذکر سے بے نیاز ہے ، دوسرے اس کی ایک بڑی مخلوق یعنی فرشتے ہر وقت اس کے ذکر میں مشغول ہیں، انسانوں کو جو ذکر کا حکم دیا گیا ہے ، اس میں خود انسانوں کا فائدہ ہے کہ یہ ذکر جب دل میں سماجائے تو انہیں شیطان کے تصرفات سے محفوظ رکھنے کے لئے نہایت مفید ہے ، اور اس کے ذریعے وہ گناہوں اور جرائم و مظالم سے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ آیت سجدۂ تلاوت کی آیت ہے ، اور جو شخص عربی میں یہ آیت پڑھے اس پر سجدہ کرنا واجب ہے ، قرآن کریم میں ایسی چودہ آیتیں ہیں اور یہ ان میں سے سب سے پہلی آیت ہے۔

(توضیح القرآن)

 

 

 

 

۸۔ سورۂانفال

 

                تعارف

 

یہ سورت تقریباً سن ۲ہجری کے آس پاس مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے ، اور اس کے بیشتر مضامین جنگ بدر اور اس کے واقعات اور مسائل سے متعلق ہیں، یہ جنگ عظیم اسلام اور کفر کے درمیان پہلے باقاعدہ معرکے کی حیثیت رکھتی ہے ، جس میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو فتح مبین عطا فرمائی اور قریش مکہ کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا، چنانچہ اس سورت میں اللہ تعالی نے اپنے انعامات بھی یاد دلائے ہیں، اور مسلمانوں نے جس جاں نثاری کے ساتھ یہ جنگ لڑی اس کی ہمت افزائی کے ساتھ بعض ان کمزوریوں کی بھی نشان دہی فرمائی ہے جو اس جنگ میں سامنے آئیں، اور آئندہ کے لئے وہ ہدایات بھی دی گئی ہیں جو ہمیشہ مسلمانوں کی کامیابی اور فتح و نصرت کا سبب بن سکتی ہیں، جہاد اور مال غنیمت کی تقسیم کے بہت سے احکام بھی بیان ہوئے ہیں، اور چونکہ جنگ بدر اصل میں کفار مکہ کے ظلم وستم کے پس منظر میں پیش آئی تھی، اس لئے ان حالات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ سے ہجرت کا حکم ہوا، نیز جو مسلمان مکہ مکرمہ میں رہ گئے تھے ، ان کے لئے بھی ضروری قرار دیا گیا ہے وہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ جائیں، ہجرت کے وجہ سے میراث کی تقسیم سے متعلق کچھ احکام عارضی طور پر نافذ کئے گئے تھے ، سورت کے آخر میں اسی وجہ سے میراث کے کچھ مستقل احکام دئے گئے ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

جنگ بدر

 

چونکہ اس سورت کے بہت سے مضامین جنگ بدر کے مختلف واقعات سے متعلق ہیں، اس لئے ان کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لئے اس جنگ کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات یہاں پیش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے ،  تاکہ اس سے متعلق آیات کو ان کے صحیح پس منظر میں سمجھا جا سکے۔

مکہ مکرمہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے بعد تیرہ سال مقیم رہے ، اس دوران مکہ مکرمہ کے کفار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جاں نثار صحابہ (رضی اللہ عنہم) کو طرح طرح سے ستانے اور ناقابل برداشت تکلیفیں پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، یہاں تک کہ ہجرت سے ذرا پہلے آپ کو قتل کرنے کا باقاعدہ منصوبہ بنایا گیا جس کا ذکر اسی سورت میں آنے والا ہے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو کفار مکہ اس فکر میں رہے کہ آپ کو وہاں بھی چین سے بیٹھنے نہ دیا جائے ، انہوں نے عبداللہ ابن ابی کو مدینہ منورہ میں خط لکھا کہ تم لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو پناہ دی ہے ، اب یا تو تم انہیں پناہ دینے سے ہاتھ اٹھا لو ورنہ ہم تم پر حملہ کریں گے (دیکھئے سنن ابوداؤد، کتاب الخراج باب ۲۳ حدیث نمبر:۳۰۰۴) انصار میں سے اوس کے قبیلے کے سردار حضرت سعد بن معاذؓ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ گئے تو عین طواف کے دوران ابوجہل نے ان سے کہا کہ تم نے ہمارے دشمنوں کو پناہ دے رکھی ہے ، اور اگر تم ہمارے ایک سردار کی پناہ میں نہ ہوتے تو زندہ واپس نہیں جا سکتے تھے ، جس کا مطلب یہ تھا کہ آئندہ اگر مدینہ منورہ کا کوئی آدمی مکہ مکرمہ آئے گا تو اسے قتل کر دیا جائے گا، حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں ابوجہل سے کہہ دیا کے اگر تم ہمارے آدمیوں کو مکہ مکرمہ آنے سے روکو گے تو ہم تمہارے لئے اس سے بھی بڑی رکاوٹ کھڑی کر دیں گے ، یعنی تم تجارتی قافلے لے کر جب شام جاتے ہو تو تمہارا راستہ مدینہ منورہ کے قریب سے گزرتا ہے ، اب ہم تمہارے قافلوں کو روکنے اور ان پر حملہ کرنے میں آزاد ہوں گے۔ (دیکھئے صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب۲، حدیث نمبر:۳۹۵) اس کے بعد کفار مکہ کے کچھ دستے مدینہ منورہ کے آس پاس آئے اور مسلمانوں کے مویشی لوٹ کر لے گئے ، حالات کے اس پس منظر میں ابوسفیان (جو اس وقت کفار مکہ کا سردار تھا) ایک بڑا بھاری تجارتی قافلہ لے کر شام گیا، اس قافلے میں مکہ مکرمہ کے ہر مرد و عورت نے سونا چاندی جمع کر کے تجارت میں شرکت کی غرض سے بھیجا تھا، یہ قافلہ شام سے سوفی صد نفع کما کر واپس آ رہا تھا یہ قافلہ ایک ہزار اونٹوں پر مشتمل تھا اور پچاس ہزار دینار (گنیوں) کا سامان لا رہا تھا اور اس کے ساتھ چالیس مسلح افراد اس کی حفاظت پر متعین تھے ، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قافلے کی واپسی کا پتہ چلا تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے چیلنج کے مطابق آپ نے اس قافلے پر حملہ کرنے کا ارادہ فرمایا، اس کے لئے باقاعدہ سپاہیوں کے بھرتی کا موقع نہیں تھا اس لئے وقت پر جتنے صحابہ تیار ہو سکے ان کی تعداد تین سو تیرہ تھی، کل ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے ، ساٹھ زرہیں تھیں، اس مختصر سامان کے ساتھ آپ مدینہ منورہ سے نکلے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بعض غیرمسلم مصنفین نے اس واقعے پر یہ اعتراض کیا ہے کہ ایک پر امن تجارتی قافلے پر حملہ کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا، ہمارے زمانے کے بعض مسلمان مصنفین نے اس اعتراض سے مرعوب ہو کر یہ دعوی کرنے کی کوشش کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ قافلے پر حملہ کرنے کا نہیں تھا ، بلکہ ابوسفیان نے اپنے طور پر خطرہ محسوس کر کے ابوجہل کے لشکر کو دعوت دی تھی ،  لیکن واقعے کی یہ تشریح صحیح احادیث اور قرآنی اشارات کی روشنی میں درست نہیں ہے ، در حقیقت یہ اعتراض اس وقت کے حالات اور اس دور کے سیاسی دفاعی اور معاشرتی ڈھانچے سے بے خبری پر مبنی ہے ، پہلی بات تو یہ ہے کہ جو واقعات ہم نے اوپر بیان کئے ہیں، ان کی روشنی میں فریقین کے درمیان ایک مسلسل جنگ کی حالت موجود تھی، دونوں نے ایک دوسرے کو نہ صرف چیلنج دے رکھے تھے ،  بلکہ کفار کی طرف سے عملی طور پر چھیڑ چھاڑ بھی شروع ہو چکی تھی، دوسرے حضرت سعد بن معاذ پہلے سے انہیں متنبہ کر آئے تھے کہ وہ ان کے قافلوں پر حملہ کرنے کے لئے آزاد ہوں گے ، تیسرے اس دور میں شہری اور فوجی افراد کی کوئی تفریق نہیں ہوتی تھی، کسی معاشرے کے تمام بالغ مرد مقاتلہ یعنی لڑنے والے کہلاتے تھے ، چنانچہ قافلے کی سرکردگی ابو سفیان کے ہاتھ میں تھی جو اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کھلا دشمن تھا اور اس کے ساتھ چالیس مسلح افراد میں سے ہر ایک قریش کے ان لوگو ں میں سے تھا جو مسلمانوں کو ستانے میں پیش پیش رہے تھے ، اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاری کر رہے تھے اور یہ قافلہ بھی اگر کامیابی سے مکہ مکرمہ پہنچ جاتا تو قریش کی جنگی طاقت میں بڑے اضافے کا سبب بنتا، ان حالات میں اس کو ایک پر امن تجارتی قافلے پر حملہ قرار دینا اس وقت کے حالات سے ناواقفیت یا محض عناد کا کرشمہ ہے ، اور اس کی وجہ سے ان واقعات کا انکار کرنا کسی طرح درست نہیں ہے جو صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔

بہر حال جب ابو سفیان کو آپ کے ارادے کا اندازہ ہوا تو اس نے ایک طرف تو ایک تیز رفتار ایلچی ابوجہل کے پاس بھیج کر اس واقعے کی اطلاع دی، اور اسے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ آپ پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا، اور دوسری طرف اپنے قافلے کا راستہ بدل کر بحر احمر کے ساحل کی طرف نکل گیا،  تاکہ وہاں سے چکر کاٹ کر مکہ مکرمہ پہنچ سکے ، ابوجہل نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر ایک بڑا لشکر تیار کیا اور لوہے میں غرق ہو کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب پتہ چلا کہ ابوسفیان تو قافلہ لے کر نکل چکا ہے ، اور ابوجہل کا لشکر آ رہا ہے تو آپ نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا، سب نے یہی رائے دی کہ اب ابوجہل سے ایک فیصلہ کن معرکہ ہو جانا چاہئے ، چنانچہ بدر کے مقام پر دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا، مسلمانوں کی تعداد اور ساز وسامان ابوجہل کے لشکر کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا،  لیکن اللہ تعالی کے فضل و کرم سے مسلمانوں کو شاندار فتح حاصل ہوئی، ابوجہل سمیت قریش کے ستر سردار جو مسلمانو ں کی دشمنی میں پیش پیش تھے ، مارے گئے ، اور دوسرے ستر افراد گرفتار ہوئے ، اور باقی لوگ میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے۔

(توضیح القرآن)

 

مدنیہ

آیات:۷۵  رکوعات:۱۰

 

اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے

آپ سے غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیں غنیمت اللہ اور رسول کے لئے ہے ، پس اللہ سے ڈرو اور درست کرو آ پس میں (تعلقات) اور اللہ اور اس کے رسول کی  اطاعت کرو اگر تم مومن ہو۔ (۱)

تشریح:جنگ بدر کے موقع پر جب دشمن کو شکست ہو گئی تو صحابہ کرام تین حصوں میں تقسیم ہو گئے تھے ، ایک حصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے آپ کے ساتھ رہا، دوسرا حصہ دشمن کے تعاقب میں روانہ ہو گیا، اور تیسرا حصہ دشمن کے چھوڑے ہوئے مال غنیمت کو جمع کرنے میں مشغول ہو گیا، یہ چونکہ پہلی جنگ تھی اور مال غنیمت کے بارے میں مفصل ہدایات نہیں آئی تھیں، اس لئے اس تیسرے حصے نے یہ سمجھا کہ جو مال انہوں نے اکھٹا کیا ہے وہ انہی کا ہے (اور شاید زمانۂ جاہلیت میں معمول ایسا ہی رہا ہو گا) لیکن جنگ ختم ہونے کے بعد پہلے دو گروہوں کو یہ خیال ہوا کہ وہ بھی جنگ میں برابر کے شریک تھے ،  بلکہ مال غنیمت اکھٹا ہونے کے وقت زیادہ اہم خدمات انجام دے رہے تھے ، ا س لئے ان کو بھی اس مال میں حصہ دار ہونا چاہئے ، یہ ایک فطری تقاضا تھا جس کی بنا پر ان حضرات کے درمیان بحث کی بھی نوبت آئی، جب معاملہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو یہ آیات نازل ہوئیں جن میں بتا دیا گیا کہ مال غنیمت کے بارے میں فیصلے کا مکمل اختیار اللہ اور اس کے رسول کو ہے ، چنانچہ بعد میں اسی سورت کی آیت نمبر:۴۱ میں مال غنیمت کے بارے میں مفصل احکام آ گئے ، زیر نظر آیت نے ہدایت دی کہ اگر مسلمانوں کے درمیان کوئی رنجش ہوئی ہے تو اس وضاحت کے بعد اسے دور کر کے باہمی تعلقات درست کر لینے چاہئیں۔

(توضیح القرآن)

 

در حقیقت مومن وہ لوگ ہیں جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جائیں اور ان  پر (ان کے سامنے ) اس کی آیتیں پڑھی جائیں تو وہ (آیات) ان کا ایمان زیادہ کریں، اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ (۲)

وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں، اور جو ہم نے انہیں دیا اس میں خرچ کرتے ہیں۔ (۳)

یہی لوگ سچے مومن ہیں ان کے لئے ان کے رب کے پاس درجے ہیں، اور بخشش اور رزق عزت والا۔ (۴)

تشریح: پکے مسلمانوں کا کام یہ ہے کہ ہر معاملہ میں خدا سے ڈریں۔ آپس میں صلح و آشتی سے رہیں، ذرا ذرا سی بات پر جھگڑے نہ ڈالیں، اپنی آراء و جذبات سے قطع نظر کر کے محض خدا اور رسول کا حکم مانیں، جب خدا کا نام درمیان میں آ جائے ہیبت و خوف سے کانپ اٹھیں، آیات و احکامِ الٰہی سن کر ان کا ایمان و یقین زیادہ مضبوط ہوتا رہے۔ اس قدر مضبوط و قوی ہو جائے کہ ہر معاملہ میں ان کا اصلی بھروسہ اور اعتماد بجز خدا کے کسی پر باقی نہ رہے۔ اس کے سامنے سر عبودیت جھکائیں، اسی کے نام پر مال و دولت خرچ کریں۔

غرض عقیدہ، خلق، عمل اور مال ہر چیز سے خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش میں رہیں۔ ایسے ہی لوگوں کو سچا اور پکا ایماندار کہا جا سکتا ہے جو خدا کے یہاں اپنے اپنے درجہ کے موافق بڑے بڑے مقامات و مراتب قرب پر فائز ہوں گے۔ جنہیں معمولی کوتاہیوں سے درگزر کر کے عزت کی روزی سے سرفراز کیا جائے گا۔ رزقنا اللہ منہ بفضلہ ومنہ۔

(تفسیرعثمانی)

 

جیسا کہ آ پ کو آ پ کے رب نے آ پ کے گھر سے حق (درست تدبیر) کے ساتھ نکالا، اور بیشک اہل ایمان کی ایک جماعت نا خوش تھی۔ (۵)

وہ آ پ سے حق میں جھگڑتے تھے جبکہ وہ ظاہر ہو چکا، گویا کہ وہ ہانکے جا رہے ہیں موت کی طرف اور وہ (اسے ) دیکھ رہے ہیں۔ (۶)

اور (یاد کرو) اللہ تمہیں وعدہ دیتا ہے کہ (ابو جہل اور ابو سفیان کے ) دو گروہ میں سے ایک تمہارے لئے اور تم چاہتے تھے کہ (جس میں) کانٹا نہ لگے تمہارے لئے ہو اور اللہ چاہتا تھا کہ ثابت کر دے حق اپنے کلمات سے ، اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔ (۷)

تا کہ حق کو حق ثابت کر دے اور باطل کو باطل خواہ، مجرم نہ پسند کریں۔ (۸)

تشریح:جن لوگوں نے مال غنیمت جمع کیا تھا، ان کی خواہش یہ تھی کہ یہ مال انہی کے پاس رہے لیکن فیصلہ اس کے برعکس ہوا، اب ان کو تسلی دی جا رہی ہے کہ انسان کی ہر خواہش انجام کے اعتبار سے درست نہیں ہوتی، اسے بعد میں پتہ چلتا ہے کہ جو واقعہ اس کی خواہش کے خلاف ہوا بہتر ی اسی میں تھی، اور ایسا ہی ہے جیسے ابوجہل سے جنگ کرنے کا معاملہ میں ہوا، مدینہ منورہ سے نکلتے وقت چونکہ صرف ابوسفیان کے قافلے پر حملہ کرنا پیش نظر تھا اور کوئی باقاعدہ لشکر تیار نہیں کیا گیا تھا، اس لئے جب یہ بات سامنے آئی کہ ابوجہل ایک بڑا لشکر لے کر مقابلے پر آ گیا ہے تو بعض صحابہ کی خواہش یہ تھی کہ ابوجہل سے جنگ کرنے کے بجائے فی الحال واپس چلے جائیں، کیونکہ اس بے سروسامانی کی حالت میں ایک مسلح فوج کا مقابلہ موت کے منہ میں جانے کے مرادف ہو گا،  لیکن دوسرے صحابہ نے بڑی پر جوش تقریریں کیں، جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے ، اور جب آپ کی مرضی معلوم ہو گئی توسب نے جنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کر لیا اور بعد میں ثابت ہوا کہ مسلمانوں کا عظیم فائدہ اسی میں تھا کہ اس طرح کفر کی کمر توڑ دی گئی۔

(توضیح القرآن)

 

مسلمان چاہتے تھے کہ ”تجارتی قافلہ” پر حملہ ہو، کہ کانٹا نہ چبھے اور بہت سا مال ہاتھ آ جائے لیکن خدا کی مرضی یہ تھی کہ اس چھوٹی سی بے سرو سامان جماعت کو کثیر التعداد اور مرتب و پر شوکت لشکر سے بھڑا کر اپنی باتوں سے سچ کو سچ کر دکھائے اور کفار مکہ کی جڑ کاٹ ڈالے تاکہ اس طرح اس کے وعدوں کی سچائی حیرت انگیز طریقہ پر ظاہر ہو کر سچ کا سچ اور جھوٹ کا جھوٹ ہونا کفار کے علی الرغم صاف صاف آشکارا ہو جائے۔ چنانچہ یہ ہی ہوا۔ بدر میں قریش کے ستر سردار مارے گئے جن میں ابو جہل بھی تھا اور ستر ہی قید ہوئے۔ اس طرح کفر کی کمر ٹوٹ گئی اور مشرکین مکہ کی بنیا دیں ہل گئیں۔ فللہ الحمد والمنہ۔

(تفیسرعثمانی)

 

یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کر لی کہ میں تمہاری مدد کروں گا ایک ہزار لگاتار آ نے والے فرشتوں سے۔ (۹)

اور اللہ نے اس کو نہیں بنایا مگر خوشخبری، اور تاکہ اس سے مطمئن ہوں تمہارے دل اور مدد نہیں ہے مگر اللہ کے پاس سے ، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔ (۱۰)

تشریح:یعنی اللہ تعالی کو مدد کرنے کے لئے فرشتے بھیجنے کی حقیقت میں ضرورت نہیں تھی، نہ فرشتوں میں کوئی ذاتی طاقت ہے کہ وہ مدد کر سکیں، مدد تو اللہ تعالی براہ راست بھی کر سکتا تھا، لیکن یہ انسان کی فطرت ہے کہ جس چیز کے اسباب سامنے ہوں اس پر اسے زیادہ اطمینان اور خوشی حاصل ہوتی ہے ، اس لئے یہ وعدہ کیا گیا تھا، اس آیت نے یہ سبق دیا ہے کہ کسی کام کے جو اسباب بھی اختیار کئے جائیں ایک مؤمن کویہ بات ہر آن سامنے رکھنی چاہئے کہ یہ اسباب اللہ تعالی ہی کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور ان میں تاثیر اسی کے حکم سے پیدا ہوتی ہے ، لہذا بھروسہ اسباب پر نہیں بلکہ اسی کے فضل و کرم پر کرنا چاہئے۔

(توضیح القرآن)

 

یاد کرو جب اس نے تم پر اونگھ تاری کر دی، یہ اس (اللہ) کی طرف سے تسکین (تھی) اور اس نے تم پر آ سمان سے پانی اتارا ، تا کہ تمہیں پاک کر دے اس سے ، اور تم سے شیطان کی ناپاکی دور کر دے ، اور تاکہ تمہارے دل مضبوط کر دے ، اور اس سے جما دے (تمہارے ) قدم۔ (۱۱)

تشریح:اتنے بڑے لشکر کے ساتھ تقریباً نہتے آدمیوں کا معرکہ پیش آنے والا ہو تو گھبراہٹ ایک طبعی امر ہے ، اللہ تعالی نے اس گھبراہٹ کا علاج یہ فرمایا کہ صحابہ پر نیند طاری کر دی، جس کی ایک تاثیر یہ ہوتی ہے کہ اس سے گھبراہٹ دور ہو جاتی ہے ، چنانچہ وہ جنگ سے پہلی رات جی بھرکرسوئے جس سے تازہ دم ہو گئے ، نیز جنگ کے دوران بھی ان پر وقفے وقفے سے اونگھ طاری ہوتی رہی، جس سے انہیں سکون ملتا رہا۔

(توضیح القرآن)

 

وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً:مسلمانوں کے لئے ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ کفار نے بدر کے میدان میں پہلے پہنچ کر بہترین جگہ پر قبضہ کر لیا تھا جہاں پانی کافی تھا، اور زمین بھی سخت تھی، مسلمانوں کو جگہ ملی وہ ریتیلی جگہ تھی جس پر پاؤں جمتے نہیں تھے ، اور نقل و حرکت میں دشواری پیش آتی تھی، اور وہاں پانی بھی نہیں تھا، تھوڑا بہت پانی ایک حوض بنا کر اس میں جمع کیا گیا تھا جو جلدی ہی ختم ہونے لگا، اللہ تعالی نے دونوں مسئلوں کے حل کے لئے بارش برسادی جس سے ریت بھی جم گئی اور قدم بھی جمنے لگے ، اور پانی کا بھی اچھا ذخیرہ جمع ہو گیا۔

(توضیح القرآن)

 

یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں کو وحی بھیجی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، تم ثابت رکھو مؤمنوں کے (دل)، میں عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا، تم ان کی گردنوں کے اوپر ضرب لگاؤ اور ان کے ایک ایک پور پر ضرب لگاؤ۔ (۱۲)

یہ اس لئے ہوا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہوئے ، اور جو اللہ اور اس کے رسول کا مخالف ہو گا (وہ یاد رکھے ) بیشک اللہ کی مار سخت ہے۔ (۱۳)

تو تم یہ چکھو اور یقیناً کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے۔ (۱۴)

تشریح: جنگ بدر کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ اس معرکہ میں خود ابلیس لعین کنانہ کے سردارِ اعظم سراقہ بن مالک مدلجی کی صورت میں ممثل ہو کر ابوجہل کے پاس آیا اور مشرکین کے خوب دل بڑھائے کہ آج تم پر کوئی غالب نہیں آ سکتا، میں اور میرا سارا قبیلہ تمہارے ساتھ ہے۔ ابلیس کے جھنڈے تلے بڑا بھاری لشکر شیاطین کا تھا۔ یہ واقعہ آگے آئے گا۔ اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے مسلمانوں کی کمک پر شاہی فوج کے دستے جبرائیل و میکائیل کی کمانڈ میں یہ کہہ کر بھیجے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر شیاطین آدمیوں کی صورت میں (ہم شکّل) ہو کر کفار کے حوصلے بڑھا رہے ہیں اور ان کی طرف سے لڑنے کو تیار ہیں اور مسلمانوں کے قلوب کو وسوسے ڈال کر خوفزدہ کر رہے ہیں تو تم مظلوم و ضعیف مسلمانوں کے دلوں کو مضبوط کرو۔ ادھر تم ان کی ہمت بڑھاؤ گے اُدھر میں کفار کے دلوں میں دہشت اور رعب ڈال دوں گا۔ تم مسلمانوں کے ساتھ ہو کر ان ظالموں کی گردنیں مارو اور پور پور کاٹ ڈالو۔ کیونکہ آج ان سب جنی و انسی کافروں نے مل کر خدا اور رسول سے مقابلہ کی ٹھہرائی ہے۔ سو انہیں معلوم ہو جائے کہ خدا کے مخالفوں کو کیسی سخت سزا ملتی ہے۔ آخرت میں جو سزا ملے گی اصل تو وہ ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اس کا تھوڑا سا نمونہ دیکھ لیں اور عذابِ الٰہی کا کچھ مزہ چکھ لیں۔ روایات میں ہے کہ بدر میں ملائکہ کو لوگ آنکھوں سے دیکھتے تھے اور ان کے مارے ہوئے کفار کو آدمیوں کے قتل کئے ہوئے کفار سے الگ شناخت کرتے تھے۔ خدا تعالیٰ نے یہ ایک نمونہ دکھا دیا کہ اگر کبھی شیاطین الجن والانس ایسے غیر معمولی طور پر حق کے مقابل جمع ہو جائیں تو وہ اہل حق اور مقبول بندوں کو ایسے غیر معمولی طریقہ سے فرشتوں کی کمک پہنچا سکتا ہے۔ باقی ویسے تو فتح و غلبہ بلکہ ہر چھوٹا بڑا کام خدا ہی کی مشیت و قدرت سے انجام پاتا ہے۔ اسے نہ فرشتوں کی احتیاج ہے نہ آدمیوں کی، اور اگر فرشتوں ہی سے کوئی کام لے تو ان کو وہ طاقت بخشی ہے کہ تنہا ایک فرشتہ بڑی بڑی بستیوں کو اٹھا کر پٹک سکتا ہے۔ یہاں تو عالم تکلیف و اسباب میں ذرا سی تنبیہ کے طور پر شیاطین کی غیر معمولی دوڑ دھوپ کا جواب دینا تھا اور بس۔

(تفسیرعثمانی)

 

اے ایمان لانے والو! جب ان سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو جنہوں نے کفر کیا، میدان جنگ میں، تو تم ان سے پیٹھ نہ پھیرو۔ (۱۵)

اور جو کوئی اس دن ان سے اپنی پیٹھ پھیرے ، سوائے اس کے کہ گھات لگاتا ہو جنگ کے لئے یا اپنی جماعت کی طرف جا ملنے کو، پس وہ لوٹا اللہ کے غضب کے ساتھ، اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور یہ برا ٹھکانہ ہے۔ (۱۶)

تشریح:یہاں دشمن کے مقابلے سے پیٹھ پھیرنے کو ہر حالت میں ناجائز قرار دیا گیا ہے ، چاہے دشمن کی تعداد کتنی زیادہ ہو، اور جنگ بدر کے وقت صورت حال یہی تھی، البتہ بعد میں اس حکم کی تفصیل اسی سورت کی آیت :۶۵ اور ۶۶ میں بیان فرمائی گئی ہے جس کی روسے اب حکم یہ ہے کہ دشمن کی تعداد اگر دگنی یا اس سے کم ہو، تب تو میدان چھوڑنا حرام ہے ،  لیکن اگر ان کی تعداد اس سے زیادہ ہو تو میدان چھوڑنے کی اجازت ہے ، پھر جس وقت دشمن کو پیٹھ دکھانا ناجائز ہوتا ہے اس میں بھی اس آیت نے دو صورتوں کو مستثنی رکھا ہے ، ایک یہ کہ بعض اوقات جنگ ہی کی کسی حکمت عملی کے طور پر پیچھے ہٹنا پڑتا ہے مقصد میدان سے بھاگنا نہیں ہوتا ایسے میں پیچھے ہٹنا جائز ہے ، دوسری صورت یہ ہے کہ پیچھے ہٹ کر اپنی فوج کے پاس جانا اس سے مقصود ہو کہ ان کی مدد لے کر دوبارہ حملہ کیا جائے ، یہ صورت بھی جائز ہے۔

(توضیح القرآن)

 

تو تم نے انہیں قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا، اور آ پ نے (مٹھی پھر خاک ) نہیں پھینکی جب آ پ نے پھینکی،  بلکہ اللہ نے پھینکی، اور تاکہ مؤمنوں کو اپنی آزمائش (احسان) سے اچھی طرح آزمائے ، بیشک اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ (۱۷)

تشریح:جنگ بدر کے موقع پر جب دشمن پوری طاقت سے حملہ کرنے کے لئے چڑھا چلا آ رہا تھا، اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کے حکم سے ایک مٹھی میں مٹی اور کنکر اٹھا کر دشمن کی طرف پھینکتے تھے ، اللہ تعالی نے وہ کنکریاں دشمن کے ہر فرد تک پہنچا دیں، جو ان کی آنکھوں وغیرہ میں جا کر لگیں اور ان سے لشکر میں افراتفری مچ گئی، یہ اس واقعے کی طرف اشارہ ہے۔

(توضیح القرآن)

 

یہ تو ہوا، اور یہ کہ اللہ کافروں کا داؤ سست کرنے والا ہے۔ (۱۸)

تشریح:یہ درحقیقت ایک سوال کا جواب ہے ، سوال یہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالی تو اپنی قدرت سے دشمن کو براہ راست ہلاک کر سکتا تھا، پھر اس نے مسلمانوں کو کیوں استعمال کیا، اور کنکریاں آنحضرت صلی اللہ سلیہ وسلم کے دست مبارک سے کیوں پھنکوائیں؟جواب یہ دیا گیا ہے کہ اول تو اللہ تعالی کا یہ دستور ہے کہ وہ تکوینی امور بھی کسی ظاہری سبب کے ذریعے انجام دلواتا ہے اور یہاں مسلمانوں کو اس لئے ذریعہ بنایا گیا کہ ان کو اجر و ثواب حاصل ہو، اور دوسرے وہ کافروں کو بھی یہ دکھانا چاہتا تھا کہ جن سازشوں اور وسائل پر انہیں ناز ہے وہ سب ان لوگوں کے ہاتھوں خاک میں مل سکتے ہیں جنہیں تم کمزور سمجھتے رہے ہو۔

(توضیح القرآن)

 

کافرو! اگر تم فیصلہ چاہتے ہو تو البتہ تمہارے پاس فیصلہ (اسلام کی فتح کی صورت میں) آ گیا ہے اور اگر تم باز آ جاؤ تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے ، اور اگر پھر (یہی) کرو گے توہم بھی پھر کریں گے اور تمہارا جتھا ہر گز تمہارے کام نہیں آئے گا، خواہ اس کی کثرت ہو اور بیشک اللہ مؤمنوں کے ساتھ ہے۔ (۱۹)

تشریح:یہ خطاب کفارِ مکہ کو ہے ، وہ ہجرت سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کرتے تھے مَتٰی ہٰذَا الْفَتْحُ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ یعنی ہمارے تمہارے درمیان یہ فیصلہ کب ہو گا؟ سو پورا فیصلہ تو قیامت کے دن ہو گا مگر ایک طرح کا فیصلہ آج میدان بدر میں بھی تم نے دیکھ لیا کہ کیسے خارق عادت طریق سے تم کو کمزور مسلمانوں کے ہاتھوں سے سزا ملی۔ اب اگر نبی علیہ السلام کی مخالفت اور کفر و شرک سے باز آ جاؤ تو تمہارے لیے دنیا و آخرت کی بہتری ہے۔ ورنہ اگر پھر اسی طرح لڑائی کرو گے تو ہم بھی پھر اسی طرح مسلمانوں کی مدد کریں گے اور انجام کار تم ذلیل و خوار ہو گے۔ جب خدا کی تائید مسلمانوں کے ساتھ ہے تو تمہارے جتھے اور جماعتیں خواہ کتنی ہی تعداد میں ہوں کچھ کام نہ آئیں گے۔ بعض روایات میں ہے کہ ابوجہل وغیرہ نے مکہ سے روانگی کے وقت کعبہ کے پردے پکڑ کر دعاء کی تھی کہ خداوندا! دونوں فریق میں جو اعلیٰ و اکرام ہو اسے فتح دے اور فساد مچانے والے کو مغلوب کر فقد جاءَ کم الفتح میں اس کا بھی جواب ہو گیا کہ جو واقعی ”اعلیٰ و افضل” تھے ، ان کو فتح مل گئی اور مفسد ذلیل و رسوا ہوئے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اے ایمان والو!اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو، اور اس سے نہ پھرو جب کہ تم سنتے ہو۔ (۲۰)

تشریح: پہلے فرمایا تھا کہ ”اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے ” اب ایمان والوں کو ہدایت فرماتے ہیں کہہ ان کا معاملہ خدا اور رسول کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے ؟ جس سے وہ خدا کی نصرت و حمایت کے مستحق ہوں۔ سو بتلا دیا کہ ایک مومن صادق کا کام یہ ہے کہ وہ ہمہ تن خدا اور رسول کا فرمانبردار ہو۔ احوال و حوادث خواہ کتنا ہی اس کا منہ پھیرنا چاہیں مگر خدا کی باتوں کو جب وہ سن کر سمجھ چکا اور تسلیم کر چکا، تو قولاً و فعلاً کسی حال ان سے منہ نہ پھیرے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے کہا ہم نے سُنا حالانکہ وہ سنتے نہیں۔ (۲۱)

تشریح:یعنی زبان سے کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ سننا ہی کیا جو آدمی سیدھی سی بات کو سن کر سمجھے نہیں یا سمجھ کر قبول نہ کرے۔ پہلے یہودیوں نے موسٰی علیہ السلام سے کہا تھا ”سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا” (ہم نے سن لیا مگر مانا نہیں) مشرکین مکہ کا قول آگے آتا ہے۔ ”قَدْسَمِعْنَا لَوْنَشَاءُ لَقُلْنَا مِثْلَ ھذَا” یعنی جو قرآن آپ سناتے ہیں بس ہم نے سن لیا۔ اگر ہم چاہیں تو اسی جیسا کلام بنا کر لے آئیں۔ مدینہ کے منافقین کا تو شیوہ یہ تھا کہ پیغمبر علیہ السلام اور مسلمانوں کے سامنے زبانی اقرار کر گئے اور دل سے اسی طرح منکر رہے۔ بہرحال مومن صادق کی شان اور یہود اور مشرکین و منافقین کی طرح نہ ہونی چاہیے۔ اس کی شان یہ ہے کہ دل سے ، زبان سے ، عمل سے ، حاضر و غائب احکام الٰہیہ اور فرامین نبویہ پر نثار ہوتا رہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک جانوروں سے بدترین اللہ کے نزدیک (وہ ہیں جو) بہرے ، گونگے ہیں، جو سمجھتے نہیں۔ (۲۲)

تشریح:پچھلی آیت میں سننے سے مراد سمجھنا ہے ، اور مطلب یہ ہے کہ کافر لوگ کانوں سے تو سننے کا دعوی کرتے ہیں، مگر سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ، اس لحاظ سے وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں، کیونکہ بے زبان جانور اگر کسی کی بات کو نہ سمجھیں تو اتنی بری بات نہیں ہے ، ان میں یہ صلاحیت پیدا ہی نہیں کی گئی، اور نہ ان سے یہ مطالبہ ہے ، لیکن انسانوں میں تو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی گئی ہے ، اور ان سے یہ مطالبہ بھی ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر کوئی راستہ اپنائیں، اگر وہ سمجھنے کی کوشش نہ کریں تو جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

اور اگر اللہ ان میں کوئی بھلائی جانتا تو انہیں ضرور سنا دیتا، اور اگر اللہ انہیں سنا دے تو ضرور پھر جائیں، اور وہ منہ پھیرنے والے ہیں۔ (۲۳)

تشریح:بھلائی سے یہاں مراد حق کی طلب اور جستجو ہے ، اور جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، سننے سے مراد سمجھنا ہے ، اس طرح اس آیت میں یہ اہم نکتہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی حق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق اس کو دیتا ہے جس کے دل میں حق کی طلب ہو، اگر کسی میں حق کی طلب ہی نہ ہو اور وہ غفلت کی حالت میں اس طرح زندگی گزار رہا ہو کہ بس جو کچھ میں کر رہا ہوں ٹھیک کر رہا ہوں اور مجھے کسی سے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے تو اول تووہ حق بات کو سمجھنے ہی محروم رہتا ہے ، اور اگر سمجھ بھی جائے تواس کا نوٹس ہی نہیں لیتا اور حق سے بدستور منہ موڑے رہتا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اے ایمان والو!اللہ اور اس کے رسول (کی دعوت) قبول کرو، جب وہ تمہیں اس کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے ، اور جان لو کہ اللہ حائل ہو جاتا ہے آ دمی اور اس کے دل کے درمیان، اور یہ کہ تم اسی کی طرف (روز حشر) اٹھائے جاؤ گے۔ (۲۴)

تشریح:اس مختصر جملے میں بڑی عظیم حقیقت بیان فرمائی گئی ہے ، اول تواسلام کی دعوت اور اس کے احکام ایسے ہیں کہ اگر ان پر تمام انسان پوری طرح عمل کرنے لگیں تواسی دنیا میں وہ پر سکون زندگی کی ضمانت دیتے ہیں، عبادات کے علاوہ جو روحانی سکون کا بہترین ذریعہ ہیں، اسلام کے تمام معاشرتی معاشی اور سیاسی احکام دنیا کو نہایت خوشگوار زندگی فراہم کر سکتے ہیں، دوسری طرف زندگی تو اصل میں آخرت کی ابدی زندگی ہے ، اور اس کی خوشگواری تمام تر اسلامی احکام کی پیروی پر موقوف ہے ، لہذا اگر کسی کو اسلام کا کوئی حکم مشکل بھی محسوس ہو تو اسے یہ سوچنا چاہئے کہ میری خوشگوار زندگی کا دارومدار اس پر ہے ، جس طرح انسان زندگی کے خاطر بڑے سے بڑے اور مشکل آپریشن کو منظور کر لیتا ہے اسی طری شریعت کا ہر وہ حکم جس میں محنت یا مشقت معلوم ہوتی ہے یا نفسانی خواہشات کی قربانی دینی پڑتی ہو اس کو بھی خندہ پیشانی سے منظور کرنا چاہئے ،  کیونکہ اس کی حقیقی زندگی کا دارومدار اس پر ہے۔

وَاعْلَمُوْٓا أَنَّ اللہَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ:اس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے دل میں حق کی طلب ہوتی ہے اگر اس کے دل میں کبھی گناہ کا تقاضا پیدا ہو، اور وہ طالب حق کی طرح اللہ تعالی سے رجوع کر کے اس سے مدد مانگے تو اللہ تعالی اس کے اور گناہ کے درمیان آڑ بن جاتے ہیں اور وہ گناہ کے ارتکاب سے محفوظ رہتا ہے اور اگر کبھی غلطی ہو بھی جائے تواسے توبہ کی توفیق ہو جاتی ہے ، اسی طرح اگر کسی کے دل میں حق کی طلب نہ ہو اور وہ اللہ تعالی کی طرف رجوع نہ کرتا ہو تو اگر کبھی اس کے دل میں نیک خیال آ بھی جائے اور وہ اسے ٹلا تا چلا جائے تو اسے نیکی کی توفیق نہیں ملتی، کچھ نہ کچھ اسباب ایسے پیدا ہو جاتے ہیں کہ اس کے دل میں جو خیال آیا تھا وہ کمزور پڑ جاتا ہے اس پر عمل کا موقع نہیں ملتا، اسی لئے بزرگوں نے فرمایا ہے کہ جس کسی نیکی کا خیال آئے تو اسے فوراً کر گزرنا چاہئے ، ٹلانا خطرناک ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور اس فتنہ سے ڈرو جو نہ پہنچے گا تم میں سے خاص طور پر ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا، اور جان لو کہ اللہ شدید عذاب والا ہے۔ (۲۵)

تشریح:اس آیت کریمہ میں ایک اور اہم حکم بیان فرمایا گیا ہے ، اور وہ یہ کہ ایک مسلمان کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی ذات کی حد تک شریعت پر عمل کر لے ، اس کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اگر معاشرے میں کوئی برائی پھیل رہی ہے تو اپنی طاقت کی حد تک اس کو روکنے کی کوشش کرے ، اگر لوگ اپنے فریضے میں کوتاہی کریں اور اس برائی کا کوئی وبال آئے تو وہ وبال صرف ان لوگوں کی حد تک محدود نہیں رہے گا جو اس برائی میں براہ راست ملوث تھے ،  بلکہ جو لوگ اس برائی کا خود تو ارتکاب نہیں کر رہے تھے مگر دوسروں کو اس سے روکتے بھی نہیں تھے وہ بھی اس وبال کا شکار ہوں گے۔

(توضیح القرآن)

 

اور یاد کرو جب تم زمین میں تھوڑے تھے ، کمزور سمجھے جاتے تھے ، تم ڈرتے تھے کہ تمہیں اچک کر لے جائیں گے لوگ، پس اس نے تمہیں ٹھکانہ دیا اور اپنی مدد سے قوت دی، اور پاکیزہ چیزوں سے تمہیں رزق دیا تاکہ تم شکر گزار ہو جاؤ۔ (۲۶)

تشریح: یعنی اپنی قلت و ضعف کو خیال کر کے خدا کا حکم (جہاد) ماننے میں سستی مت دکھلاؤ۔ دیکھو۔ ہجرت سے پہلے بلکہ اس کے بعد بھی تمہاری تعداد تھوڑی تھی، سامان بھی نہ تھا۔ تمہاری کمزوری کو دیکھ کر لوگوں کو طمع ہوئی تھی کہ تم کو ہضم کر جائیں۔ تمہیں ہر وقت یہ خدشہ رہتا تھا کہ دشمنانِ اسلام کہیں نوچ کھسوٹ کر نہ لے جائیں۔ مگر خدا نے تم کو مدینہ میں ٹھکانہ دیا، انصار و مہاجرین میں عدیم النظیر رشتہ مواخات قائم کر دیا۔ پھر معرکہ بدر میں کیسی کھلی ہوئی غیبی امداد پہنچائی۔ کفار کی جڑ کاٹ دی، تم کو فتح الگ دی، مالِ غنیمت اور فدیہ اساریٰ الگ دیا، غرض حلال طیب ستھری چیزیں اور انواع و اقسام کی نعمتیں عطا فرمائیں تاکہ تم اس کے شکر گزار بندے بنے رہو۔

(تفسیرعثمانی)

 

اے ایمان والو! خیانت نہ کرو اللہ کی اور رسول کی، اور خیانت نہ کرو اپنی امانتوں میں جب کہ تم جانتے ہو (دیدہ و دانستہ)۔ (۲۷)

تشریح: خدا و رسول کی خیانت یہ ہے کہ ان کے احکام کی خلاف ورزی کی جائے۔ زبان سے اپنے کو مسلمان کہیں اور کام کفار کے کریں یا جس کام پر خدا و رسول نے مامور کیا ہو اس میں دَغل فصَل کیا جائے۔ یا مالِ غنیمت میں چوری کی جائے۔ ونحو ذالک۔ بہرحال ان تمام امانتوں میں جو خدا اور رسول یا بندوں کی طرف سے تمہارے سپرد کی جائیں، خیانت سے بچو۔ اس میں ہر قسم کے حقوق العباد آ گئے۔ روایات میں ہے کہ یہود ”بنی قریظہ” نے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح کی درخواست کی اور یہ کہ ان کے ساتھ وہ ہی معاملہ کیا جائے جو بنی النضیر کے ساتھ ہوا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ”نہیں، میں تم کو اتنا حق دیتا ہوں کہ سعد بن معاذ کو حکم بنا لو، جو فیصلہ وہ تمہاری نسبت کر دیں وہ منظور ہونا چاہیے انہوں نے حضرت ابولبابہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر اپنے یہاں بلایا اور دریافت کیا کہ تمہاری اس معاملہ میں کیا رائے ہے ؟ ہم سعد بن معاذ کی تحکیم منظور کریں یا نہ کریں۔ ابولبابہ کے اموال اور اہل و عیال بنی قریظہ کے یہاں تھے ، اس لیے وہ ان کی خیر خواہی کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے حلقوم کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا، یعنی اگر سعد بن معاذ کی تحکیم قبول کی تو ذبح ہو جاؤ گے۔ ابولبابہ اشارہ تو کر گزرے مگر معًا متنبہ ہوا کہ میں نے خدا و رسول کی خیانت کی۔ واپس آ کر اپنے کو ایک ستون سے باندھ دیا اور عہد کیا کہ نہ کچھ کھاؤں گا نہ پیوں گا حتی کہ موت آ جائے یا اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرما لے۔ سات آٹھ دن یونہی بندھے رہے۔ فاقہ سے غشی طاری ہو گئی۔ آخر بشارت پہنچی کہ حق تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول کی۔ کہا خدا کی قسم میں اپنے کو نہ کھولوں گا جب تک خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دست مبارک سے میری رسی نہ کھولیں۔ آپ تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے اپنے قیدی کو آزاد کیا۔ الیٰ آخر القصہ ابن عبدالبر کا دعویٰ ہے کہ یہ واقعہ غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرنے کی بناء پر پیش آیا تھا واللہ اعلم۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جان لو کہ در حقیقت تمہارے مال اور تمہاری اولاد بڑی آزمائش ہیں، اور یہ کہ اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ (۲۸)

تشریح: مال اور اولاد کی محبت تو انسان کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے اور معقول حد تک ہو تو بری بھی نہیں ہے ، لیکن آزمائش یہ ہے کہ یہ محبت اللہ تعالی کی نافرمانی پرتو آمادہ نہیں کر رہی ہے ، اگر اللہ تعالی کی فرماں برداری کے ساتھ یہ محبت ہو گی تو نہ صرف جائز بلکہ باعث ثواب ہے ، لیکن اگر وہ نافرمانی تک لے جائے تو ایک وبال ہے اللہ تعالی ہر مسلمان کی اس سے حفاظت فرمائیں، آمین۔

(توضیح القرآن)

 

اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لئے بنا دے گا (حق اور باطل جدا کرنے والا) فرقان، اور تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ (۲۹)

تشریح:تقویٰ کی یہ خاصیت ہے کہ وہ انسان کو ایسی سمجھ عطا کر دیتا ہے جو حق اور ناحق میں تمیز کرنے کی اہلیت رکھتی ہے اور گناہ کی ایک خاصیت یہ ہے کہ وہ انسان کی عقل خراب کر دیتا ہے جس سے وہ اچھے کو برا اور برے کو اچھا سمجھنے لگتا ہے۔

 

اور (یاد کرو) جب کافر آ پ کے بارہ میں خفیہ تدبیریں کرتے تھے کہ آ پ کو قید کر لیں، یا قتل کر دیں، یا مکہ سے نکال دیں اور وہ خفیہ تدبیریں کرتے تھے اور اللہ بھی خفیہ تدبیریں کرتا ہے ، اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ (۳۰)

تشریح:یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے واقعے کی طرف اشارہ کر رہی ہے ، کفار مکہ نے جب یہ دیکھا کہ اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے اور مدینہ منورہ میں بڑی تعداد مسلمان ہو چکی ہے ، تو انہوں نے ایک مجلس مشاورت منعقد کی اس میں مختلف تجویزیں پیش کی گئیں، یہ آیت ان تمام تجویزوں کا ذکر کر رہی ہے ، یعنی گرفتاری، قتل، اور جلا وطنی، آخر میں فیصلہ یہ ہوا تھا کہ مختلف قبیلوں سے ایک ایک نوجوان لے کر سب یکبارگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور ہوں، اللہ تعالی نے یہ ساری باتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے بتا دیں اور ہجرت کا حکم دے دیا، آپ کے گھر کا محاصرہ ہو چکا تھا، مگر آپ وہاں سے اللہ تعالی کی قدرت سے اس طرح نکل آئے کہ وہ آپ کو نہ دیکھ سکے ، تفصیلی واقعہ سیرت کی کتابوں میں موجود ہے اور معارف القرآن میں بھی اس آیت کے تحت بیان ہوا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور جب ان پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں، البتہ ہم نے سن لیا اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسی (آیات) کہہ لیں، یہ تو صرف قصہ کہانیاں ہیں اگلوں کی۔ (۳۱)

تشریح: نضر بن الحارث کہا کرتا تھا کہ ہم چاہیں تو قرآن جیسا کلام بنا لائیں اس میں قصے کہانیوں کے سوا کیا رکھا ہے۔ مگر قرآن تو سب جھگڑوں کا فیصلہ اسی بات پر رکھتا تھا۔ پھر چاہا کیوں نہیں؟ کسی نے کہا تھا کہ میرا گھوڑا اگر چلے تو ایک دن میں لندن پہنچے ، مگر چلتا نہیں۔ بہرحال پچھلی قوموں کے احوال سن کر کہا کرتے تھے کہ سب قصے کہانیاں ہیں۔ اب بدر میں دیکھ لیا کہ محض افسانے نہ تھے ، وعدہ عذاب تم پر بھی آیا جیسا پہلوں پر آیا تھا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جب وہ کہنے لگے اے اللہ ! اگر تیری طرف سے یہی سچ ہے تو برسا ہم پر آ سمان سے پتھر، یا ہم پر درد ناک عذاب لے آ۔ (۳۲)

تشریح: اس آیت میں مشرکین مکہ کے انتہائی جہل اور شقاوت و عناد کا اظہار ہے یعنی وہ کہتے تھے کہ خداوندا اگر واقعی یہ ہی دین حق ہے جس کی ہم اتنی دیر اور اس قدر شدومد سے تکذیب کر رہے ہیں تو پھر دیر کیوں ہے ؟ گزشتہ اقوام کی طرح ہم پر بھی پتھروں کا مینہ کیوں نہیں برسا دیا جاتا۔ یا اسی طرح کے کسی دوسرے عذاب میں مبتلا کر کے ہمارا استیصال کیوں نہیں کر دیا جاتا؟ کہتے ہیں کہ یہ دعاء ابوجہل نے مکہ سے نکلتے وقت کعبہ کے سامنے کی۔ آخر جو کچھ مانگا تھا اس کا ایک نمونہ بدر میں دیکھ لیا۔ وہ خود مع سرداروں کے کمزور اور بے سروسامان مسلمانوں کے ہاتھوں سے مارا گیا۔ ستر سردار اسیری کی ذلت میں گرفتار ہوئے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اللہ (ایسا) نہیں ہے کہ انہیں عذاب دے جبکہ آ پ ان میں ہیں، اور اللہ انہیں عذاب دینے والا نہیں جبکہ وہ بخشش مانگ رہے ہوں۔ (۳۳)

تشریح: مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے کفر اور شرک کی وجہ سے مستحق تواسی بات کے تھے کہ ان پر عذاب نازل کیا جائے ، لیکن دو وجہ سے اللہ تعالی ان پر عذاب نازل نہیں فرمایا، ایک وجہ یہ ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ مکہ مکرمہ میں موجود ہیں اور آپ کے ہوتے ہوئے عذاب نازل نہیں ہو سکتا، کیونکہ نبی کی موجودگی میں اللہ تعالی کسی قوم پر عذاب نہیں بھیجتا، جب نبی بستی سے نکل جاتے ہیں تب عذاب آتا ہے ، اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ اللعلمین بنا کر بھیجا گیا ہے اس لئے آپ کی برکت سے عذاب عام اس امت پر نہیں آئے گا، اور دوسری وجہ یہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں بہت سے مسلمان استغفار کرتے رہتے ہیں ان کے استغفار کی برکت سے عذاب رکا ہوا ہے اور بعض مفسرین نے اس کی یہ تشریح بھی کی ہے کہ خود مشرکین مکہ بھی اپنے طواف کے دوران کثرت سے غفرانک کہتے رہتے تھے جو استغفار ہی کی ایک قسم ہے اگرچہ کفر و شرک کے ساتھ استغفار آخرت کے عذاب کو دور کرنے کے لئے تو کافی نہیں تھا ، لیکن اللہ تعالی کافروں کی نیکیوں کا بدلہ اسی دنیا میں دے دیتے ہیں اس لئے ان کے استغفار کا اثر یہ ہے کہ ان پر دنیا میں کوئی اس طرح کا عذاب عام نازل نہیں ہوا جیسا عاد و ثمود وغیرہ پر آیا تھا۔

(توضیح القرآن)

 

اور ان میں کیا ہے ؟ کہ اللہ انہیں عذاب نہ دے جبکہ وہ مسجد حرام سے روکتے ہیں، اور وہ نہیں ہیں اس کے متولی اس کے متولی تو صرف متقی ہیں، لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔ (۳۴)

تشریح: یعنی اگرچہ مذکورہ بالا دو وجہ سے ان پر دنیا میں کوئی عام عذاب تو نہیں آیا مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ لوگ عذاب کے مستحق نہیں ہیں، واقعہ یہ ہے کہ کفر و شرک کے علاوہ ان کی ایک خرابی یہ ہے کہ مسلمانوں کو مسجد حرام میں عبادت کرنے سے روکتے ہیں، جیسا کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے واقعے میں پیچھے گزر چکا (دیکھئے اس سورت کا ابتدائی تعارف) لہذا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے صحابہ مکہ مکرمہ سے نکل جائیں گے تو ان پر جزوی عذاب آئے گا، جو بعد میں فتح مکہ کی صورت میں سامنے آیا اور پھر آخرت میں ان کو مکمل عذاب ہو گا۔

(توضیح القرآن)

 

اور خانۂ کعبہ کے نزدیک ان کی نماز نہ تھی مگر صرف سیٹیاں اور تالیاں، پس عذاب چکھو اس کے بدلے جو تم کفر کرتے تھے۔ (۳۵)

تشریح: یعنی حقیقی نمازیوں کو مسجد سے روکتے ہیں اور خود ان کی نماز کیا ہے ؟ کعبہ کا برہنہ ہو کر طواف کرنا اور ذکر اللہ کی جگہ سیٹیاں اور تالیاں بجانا، مسلمانوں کی عبادت میں خلل ڈالنے کے لیے ہوتا تھا، یا از راہِ استہزاء تمسخر ایسا کرتے تھے۔ واللہ اعلم۔

(تفسیرعثمانی)

 

بے شک کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں تا کہ وہ روکیں اللہ کے راستہ سے ، سو اب وہ خرچ کریں گے پھر ان پر حسرت ہو گی، پھر وہ مغلوب ہوں گے ، اور کافر جہنم کی طرف اکھٹے کیے جائیں گے۔ (۳۶)

تشریح: بدر میں بارہ سرداروں نے ایک ایک دن اپنے ذمہ لیا تھا کہ ہر روز ایک شخص لشکر کو کھانا کھلائے گا۔ چنانچہ دس اونٹ روزانہ کسی ایک کی طرف سے ذبح کیے جاتے تھے۔ پھر جب شکست ہو گئی تو ہزیمت خوردہ مجمع نے مکہ پہنچ کر ابو سفیان وغیرہ سے کہا کہ جو مال تجارتی قافلہ لایا ہے ، وہ سب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے انتقام لینے میں صرف کیا جائے چنانچہ سب اس پر راضی ہو گئے۔ اسی طرح کے خرچ کرنے کا یہاں ذکر ہے۔

جب دنیا میں مغلوب و مقہور اور آخرت میں معذب ہوں گے ، تب افسوس و حسرت سے ہاتھ کاٹیں گے کہ مال بھی گیا اور کامیابی بھی نہ ہوئی۔ چنانچہ اول بدر میں احد وغیرہ میں سب مالی اور جسمی طاقتیں خرچ کر دیکھیں کچھ نہ کر سکے آخر ہلاک یا رسوا ہوئے یا نادم ہو کر کفر سے توبہ کی۔

(تفسیرعثمانی)

 

تاکہ اللہ گندے کو پاک سے جدا کر دے اور گندے کو ایک دوسرے پر رکھے ، پھر سب کو ایک ڈھیر کر دے ، پھر اس کو جہنم میں ڈال دے یہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے۔ (۳۷)

تشریح:بہت سے حضرات مفسرین نے اس جگہ خبیث اور طیب کی مراد عام قرار دی ہے یعنی پاک اور ناپاک، پاک سے مؤمن اور ناپاک سے کافر مراد ہیں، اس صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ حالات مذکورہ کے ذریعہ اللہ تعالی یہ چاہتے ہیں کہ پاک و ناپاک یعنی مؤمن اور کافر میں امتیاز ہو جائے ، مؤمنین جنت میں اور کفار سب ایک جگہ جہنم میں جمع کر دئے جائیں گے۔

(معارف القرآن)

 

کافروں سے کہہ دیں اگر وہ باز آ جائیں تو انہیں معاف کر دیا جائے گا جو گزر چکا، اور اگر وہ پھر وہی کریں تو تحقیق پہلوں کی روش گزر چکی ہے۔ (۳۸)

اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے ، اور دین سب اللہ کا ہو جائے ، پھر اگر وہ باز آ جائیں تو بیشک اللہ دیکھنے والا ہے جو وہ کرتے ہیں۔ (۳۹)

اور اگر وہ منہ موڑ لیں تو جان لو کہ اللہ تمہارا ساتھی ہے ، کیا خوب ساتھی اور کیا خوب مدد گار ہے۔ (۴۰)

اور جان لو کہ تم جو کچھ کسی چیز سے غنیمت لو اس کا پانچواں حصہ ہے اللہ کے لئے ، اور رسول کے لیے ، اور (ان کے ) قرابت داروں کے لیے ، اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور جو ہم نے اپنے بندہ پر فیصلہ (بدر) کے دن نازل کیا، جس دن (کفر و اسلام) کی دونوں فوجیں بھڑ گئیں، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (۴۱)

جب تم ادھر والے کنارے پر تھے اور وہ پرلے کنارے پر تھے اور قافلہ تم سے نیچے (ترائی میں) تھا اگر تم باہم وعدہ کرتے تو البتہ وعدہ میں اختلاف کرتے ( وقت پر نہ پہنچتے ) لیکن (اللہ نے جمع کیا) تاکہ پورا کر دے اللہ وہ کام جو ہو کر رہنے والا تھا ، تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل سے ہلاک ہو، اور جس کو زندہ رہنا ہے وہ زندہ رہے دلیل سے اور بیشک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (۴۲)

اور جب اللہ نے تمہیں تمہارے خواب میں ان (کافروں) کو دکھایا تھوڑا، اور اگر وہ تمہیں ان (کی تعداد) کو بہت دکھاتا تو تم بزدلی کرتے اور (جنگ کے ) معاملے میں جھگڑتے لیکن اللہ نے بچا لیا، بیشک وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے۔ (۴۳)

اے ایمان والو ! جب کسی جماعت (کفار) سے تمہارا آمنا سامنا ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو بکثرت یاد کرو تاکہ تم فلاح (دو جہانوں میں کامیابی) پاؤ۔ (۴۵)

اور اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی اور آپس میں جھگڑا نہ کرو کہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا جاتی رہے گی (اکھڑ جائے گی) اور صبر کرو بیشک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے۔ (۴۶)

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو اپنے گھروں سے نکلے اتراتے ، اور لوگوں کے دکھاوے کو، اور اللہ کے راستے سے روکتے ہوئے اور وہ جو کرتے ہیں اللہ احاطہ کیے ہوئے ہے۔ (۴۷)

اور جب شیطان نے ان کے کام خوشنما کر کے دکھائے ، اور کہا آج لوگوں میں سے تم پر کوئی غالب (آنے والا) نہیں، اور میں تمہارا رقیق (حمایتی) ہوں، پھر جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو وہ اپنی ایڑیوں پر الٹا پھر گیا، اور بولا میں تم سے لا تعلق ہوں، میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ، میں اللہ سے ڈرتا ہوں (کہ مجھے ہلاک نہ کر دے ) اور اللہ سخت عذاب والا ہے۔ (۴۸)

جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض تھا کہنے لگے کہ انہیں (مسلمانوں کو) ان کے دین نے مغرور کر دیا ہے ، اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔ (۴۹)

تشریح: جب مسلمانوں نے بے سروسامانی کی حالت میں اتنے بڑے لشکرسے ٹکر لے لی تو منافقین نے کہا تھا کہ یہ اپنے دین کے گھمنڈ میں بڑا دھوکہ کھا رہے ہیں، ان میں کفار مکہ کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ (۴۹)

اور اگر تو دیکھے جب فرشتے کافروں کی جان نکالتے ہیں مارتے (جاتے ) ہیں ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پراور (کہتے جاتے ہیں ) دوزخ کا عذاب چکھو۔ (۵۰)

یہ اس کا بدلہ ہے جو تمہارے ہاتھوں نے (اعمال) آگے بھیجے ہیں اور یہ کہ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔ (۵۱)

جیسا کہ فرعون والوں کا اور ان سے پہلے لوگوں کا دستور تھا، انہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا، اور اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑا، بیشک اللہ قوت والا، سخت عذاب والا ہے۔ (۵۲)

یہ اس لیے ہے کہ اللہ (کبھی) اس نعمت کو بدلنے والا نہیں جو اس نے کسی قوم کو دی جب تک کہ وہ نہ بدل ڈالیں جو ان کے دلوں میں ہے (اپنا عقیدہ و احوال) اور یہ کہ اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (۵۳)

جیسا کہ دستور تھا فرعون والوں کا جو ان سے پہلے تھے انہوں نے اپنے رب کی آیتوں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر دیا، اور فرعون والوں کو غرق کر دیا، اور وہ سب ظالم تھے۔ (۵۴)

بیشک اللہ کے نزدیک سب جانوروں سے بدتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا سو وہ ایمان نہیں لاتے۔ (۵۵)

وہ لوگ جن سے تم نے معاہدہ کیا پھر وہ اپنا معاہدہ توڑ دیتے ، ہر بار، اور وہ ڈرتے نہیں۔ (۵۶)

پس اگر تم انہیں جنگ میں پاؤ تو (انہیں ایسی سزا دو کہ) ان کے ذریعہ بھگا دو جو ان کے پیچھے ہیں، عجب نہیں کہ وہ عبرت پکڑیں۔ (۵۷)

اگر تمہیں کسی قوم سے دغا بازی کا ڈر ہو تو (ان کا معاہدہ ) پھینک دو ان کی طرف برابری پر (برابری  کا جواب دو) بیشک اللہ دغا بازوں کو پسند نہیں کرتا۔ (۵۸)

اور کافر ہر گز خیال نہ کریں کہ وہ بھاگ نکلے ( بچ گئے ) ہیں، بیشک وہ عاجز نہ کر سکیں گے۔ (۵۹)

اور ان کے لیے تیار رکھو جو تم سے ہو سکے قوت سے ، اور پلے ہوئے گھوڑوں سے ، اس سے تم دھاک بٹھاؤ اللہ کے دشمنوں پر، اور دوسروں پر ان کے سوا، تم انہیں نہیں جانتے ، اللہ انہیں جانتا ہے اور تم جو کچھ اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے تمہیں پورا پورا دیا جائے گا، اور تمہارا نقصان نہ کیا جائے گا۔ (۶۰)

اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو (تم بھی) اس (صلح) کی طرف جھکو اور اللہ پر بھروسہ رکھو بیشک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (۶۱)

اور اگر وہ تمہیں دھوکہ دینا چاہیں تو بیشک تمہارے لیے اللہ کافی ہے ، وہ جس نے تمہیں اپنی مدد سے اور مسلمانوں سے زور دیا۔ (۶۲)

اور الفت ڈال دی ان کے دلوں میں، اگر تم سب خرچ کر دیتے جو زمین میں ہے ، ان کے دلوں میں الفت نہ ڈال سکتے ،  لیکن اللہ نے ان کے درمیان الفت ڈال دی، بیشک وہ غالب حکمت والا ہے۔ (۶۳)

اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ! اللہ کافی ہے تمہیں اور مومنوں کو جو تمہارے پیرو ہیں۔ (۶۴)

اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) مومنوں کو جہاد پر ترغیب دو، اگر تم میں سے بیس صبر والے (ثابت قدم ) ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے ، اور اگر تم میں سے ایک سو ہوں تو وہ ایک ہزار پر غالب آئیں گے ، اس لیے کہ وہ لوگ (کافر) سمجھ نہیں رکھتے۔ (۶۵)

اب اللہ نے تم سے تخفیف کر دی اور معلوم کر لیا کہ تم میں کمزوری ہے ، پس اگر تم میں سے ایک سو صبر والے ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے ، اگر تم میں سے ایک ہزار ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب رہیں گے ، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (۶۶)

کسی نبی کے لیے ( لائق) نہیں کہ اس کے (قبضہ میں ) قیدی ہوں جب تک وہ زمین میں خونریزی نہ کر لے ، تم دنیا کا مال چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔ (۶۷)

اگر اللہ (کی طرف) سے پہلے ہی لکھا ہوا نہ ہوتا تو اس کے لینے (بدلہ) میں تمہیں پہنچتا، بڑا عذاب۔ (۶۸)

پس اس میں سے کھاؤ جو تمہیں غنیمت میں حلال پاک ملا، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ (۶۹)

اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ! آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے ہاتھ (قبضہ) میں جو قیدی ہیں، ان سے کہہ دیں کہ اگر اللہ تمہارے دلوں میں کوئی بھلائی معلوم کر لے گا تو تمہیں اس سے بہتر دے گا جو تم سے لیا گیا اور وہ تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ (۷۰)

اور اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے خیانت کا ارادہ کریں گے تو انہوں نے اس سے قبل اللہ سے خیانت کی تو اللہ نے انہیں (تمہارے ) قبضہ میں دے دیا اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے   ۔ (۷۱)

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اور جن لوگوں نے ٹھکانہ دیا اور مدد کی، وہی لوگ ایک دوسرے کے رفیق ہیں، اور جو لوگ ایمان لائے ، اور انہوں نے ہجرت نہ کی، تمہیں نہیں ہے کچھ سروکار ان کی رفاقت سے یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں، اور اگر وہ تم سے دین میں مدد مانگیں تو تم پر مدد لازم ہے ، مگر اس قوم کے خلاف نہیں جس کے اور تمہارے درمیان معاہدہ ہو، اور جو تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھنے والا ہے۔ (۷۲)

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ایک دوسرے کے رفیق ہیں، اگر تم ایسا نہ کرو گے تو فتنہ ہو گا زمین میں، اور بڑا فساد ہو گا۔ (۷۳)

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کے راستہ میں، اور جن لوگوں نے ٹھکانہ دیا اور مدد کی وہی لوگ سچے مؤمن ہیں، ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔ (۷۴)

اور جو لوگ اس کے بعد ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور تمہارے ساتھ (مل کر) جہاد کیا پس وہی تم میں سے ہیں، اور قرابت دار (آپس میں) ایک دوسرے سے زیادہ حق دار ہیں اللہ کے حکم کی رو سے ، بیشک اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ (۷۵)

٭٭ٍ٭

ماخذ:

http://anwar-e-islam.org

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید