FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

حصہ دوم: یونس تا  فرقان

               احمد علی لاہوری

 

سورۃ يونس

شروع اللہ کے نام سے جو  بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.      یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں

۲.      کیا اس بات سے لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کے پاس وحی بھیج دی کہ سب آدمیوں کو ڈرائے اور جو  ایمان لائیں انہیں یہ خوشخبری سنائے کہ انہیں اپنے رب کے ہاں پہنچ کر پورا مرتبہ ملے گا کافر کہتے ہیں کہ یہ شخص صریح جادوگر ہے

۳.     بے شک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش پر قائم ہوا وہی ہر کام کا انتظام کرتا ہے اس کی اجازت کے سوا کوئی سفارش کرنے والا نہیں ہے یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے سو اسی کی عبادت کرو کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے

۴.     تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ جو  لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے انہیں انصاف کے ساتھ بدلہ دے اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے واسطے کھولتا ہوا پانی پینے کو ہو گا اور ان کے کفر کے سبب سے دردناک عذاب ہو گا

۵.     وہی ہے جس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو منور فرمایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور حساب معلوم کر سکو یہ سب کچھ اللہ نے تدبیر سے پیدا کیا ہے وہ اپنی آیتیں سمجھداروں کے لیے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے

۶.      رات اور دن کے آنے جانے میں اور جو  چیزیں اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کی ہیں ان میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو  ڈرتے ہیں

۷.     البتہ جو  لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پر خوش ہوئے اور اسی پر مطمئن ہو گئے اور جو  لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں

۸.     ان کا ٹھکانا آگ ہے بسبب اس کے جو  کرتے تھے

۹.      بے شک جو  لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے انہیں ان کا رب ان کے ایمان کے سبب ہدایت کرے گا ان کے نیچے نعمت کے باغوں میں نہریں بہتی ہوں گی

۱۰.    اس جگہ ان کی دعا یہ ہو گی کہ اے اللہ تیری ذات پاک ہے اور وہاں ان کا باہمی تحفہ سلام ہو گا اور ان کی دعا کا خاتمہ اس پر ہو گا سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو  سارے جہان کا پالنے والا ہے

۱۱.     اور اگر اللہ لوگوں کو برائی جلد پہنچا دے جس طرح وہ بھلائی جلدی مانگتے ہیں تو ان کی عمر ختم کر دی جائے سو ہم چھوڑے رکھتے ہیں ان لوگوں کو جنہیں ہماری ملاقات کی امید نہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں

۱۲.    اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹے اور بیٹھے اور کھڑے ہونے کی حالت میں ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اس سے اس تکلیف کو دور کر دیتے ہیں تو اس طرح گزر جاتا ہے گویا کہ ہمیں کسی تکلیف پہنچنے پر پکارا ہی نہ تھا اس طرح بیباکوں کو پسند آیا ہے جو  کچھ وہ کر رہے ہیں

۱۳.    اور البتہ ہم تم سے پہلے کئی امتوں کو ہلاک کر چکے ہیں جب انہوں نے ظلم اختیار کیا حالانکہ پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لائے تھے اور وہ ہر گز ایمان لانے والے نہ تھے ہم گناہگاروں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

۱۴.    پھر ہم نے تمہیں ان کے بعد زمین میں نائب بنایا تاکہ دیکھیں تم کیا کرتے ہو

۱۵.    اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیتیں پڑھی جاتی ہیں وہ لوگ کہتے ہیں جنہیں ہم سے ملاقات کی امید نہیں کہ اس کے سوا کوئی قرآن لے آ یا اسے بدل دے تو کہہ دے میرا کام نہیں کہ اپنی طرف سے اسے بدل دوں میں اس کی تابعداری کرتا ہوں جو  میری طرف وحی کی جائے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

۱۶.    کہہ دو اگر اللہ چاہتا تو میں اسے تمہارے سامنے نہ پڑھتا اور نہ وہی تمہیں اس سے خبردار کرتا کیوں کہ اس سے پہلے تم میں ایک عمر گذار چکا ہوں کیا پھر تم نہیں سمجھتے

۱۷.    پھر اس سے بڑا ظالم کون ہو گا جو  اللہ پر بہتان باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے بے شک گناہگاروں کا بھلا نہیں ہوتا

۱۸.    اور اللہ کے سوا اس چیز کی پرستش کرتے ہیں جو  نہ انہیں نقصان پہنچا سکے اور نہ انہیں نفع دے سکے اور کہتے ہیں اللہ کے ہاں یہ ہمارے سفارشی ہیں کہہ دو کیا تم اللہ کو بتلاتے ہو جو  اسے آسمانوں اور زمین میں معلوم نہیں وہ پاک ہے اور ان لوگوں کے شرک سے بلند ہے

۱۹.     اور وہ لوگ ایک ہی امت تھے پھر جدا جدا ہو گئے اور اگر ایک بات تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے نہ ہو چکی ہو تی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کر تے ہیں ان میں فیصلہ کر دیا جاتا ہے

۲۰.   اور کہتے ہیں اس پر اس کے رب سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری سو تو کہہ دے کہ غیب کی بات اللہ ہی جانتا ہے سو تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

۲۱.    اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں اس تکلیف کے بعد جو  انہیں پہنچی تھی تو وہ ہماری آیتوں کے متعلق حیلے کرنے لگتے ہیں کہہ دو کہ اللہ بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے بے شک ہمارے فرشتے تمہارے سب حیلوں کو لکھ رہے ہیں

۲۲.   وہ وہی ہے جو  تمہیں جنگل اور دریا میں سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں بیٹھتے ہو اور وہ کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعہ سے لے کر چلتی ہیں اور وہ لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں تیز ہوا چلتی ہے اور ہر طرف سے ان پر لہریں چھانے لگتی ہیں اور و ہ خیال کرتے ہیں کہ بے شک وہ لہروں میں گھر گئے ہیں تو سب خالص اعتقاد سے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس مصیبت سے بچا دے تو ہم ضرور شکر گزار رہیں گے

۲۳.   پھر جب اللہ انہیں نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں اے لوگو تمہاری شرارت کا وبال تمہاری جانوں پر ہی پڑے گا دنیا کی زندگی کا نفع اٹھا لو پھر ہمارے ہاں ہی تمہیں لوٹ کر آنا ہے پھر ہم تمہیں بتلا دیں گے جو  کچھ تم کیا کرتے تھے

۲۴.   دنیا کی زندگی کی مثال مینہ کی سی ہے کہ اسے ہم نے آسمان سے اتارا پھر اس کے ساتھ سبزہ مل کر نکلا جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین سبزے سے خوبصورت اور آراستہ ہو گئی اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر بالکل قابض ہو چکے ہیں تو اس پر ہماری طرف سے دن یا رات میں کوئی حادثہ آ پڑا سو ہم نے اسے ایسا صاف کر دیا کہ گویا کل وہاں کچھ بھی نہ تھا اس طرح ہم نشانیوں کو کھول کر بیان کرتے ہیں اور لوگوں کے سامنے جو  غور کرتے ہیں

۲۵.   اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جسے چاہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے

۲۶.   جنہوں نے بھلائی کی ان کے لئے بھلائی ہے اور زیادتی بھی اور ان کے منہ پر سیاہی اور رسوائی نہیں چڑھے گی وہ بہشتی ہیں وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے

۲۷.   اور جنہوں نے برے کام کئے تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ہو گا کہ ان پر ذلت چھائے گی اور انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہو گا گویا کہ ان کے مونہوں پر اندھیری رات کے ٹکڑے اوڑھ دئے گئے ہیں یہی دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

۲۸.   اور جس دن ہم ان سب کو جمع کرینگے پھر مشرکوں سے کہیں گے تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ کھڑے رہو تو ہم ان میں پھوٹ ڈال دیں گے اور ان کے شریک کہیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے

۲۹.    سو اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے کہ ہمیں تمہاری عبادت کی خبر ہی نہ تھی

۳۰.   اس جگہ ہر شخص اپنے پہلے کئے ہوئے کاموں کو جانچ لے گا اور یہ لوگ اللہ کی طرف لوٹائے جائینگے جو  ان کا حقیقی مالک ہے اور جو  جھوٹ وہ باندھا کرتے تھے ان سے جاتا رہے گا

۳۱.    کہو تمہیں آسمان اور زمین سے کون روزی دیتا ہے یا کانوں اور آنکھوں کا کون مالک ہے اور زندہ کو مردہ سے کون نکلتا ہے اور مردہ کو زندہ سے کون نکلتا ہے اور سب کاموں کا کون انتظام کرتا ہے سو کہیں گے کہ اللہ تو کہہ دو کہ پھر (اللہ)سے کیوں نہیں ڈرتے

۳۲.   یہی اللہ تمہارا سچا رب ہے حق کے بعد گمراہی کے سوا اور ہے کیا سو تم کدھر پھرے جاتے ہو

۳۳.   اسی طرح ان نا فرمانوں کے حق میں تیرے رب کا فیصلہ ثابت ہو کر رہا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے

۳۴.   کہہ دو آیا تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو  مخلوقات کو پیدا کرے پھر اسے دوبارہ زندہ کرے کہہ دو اللہ پہلے پیدا کرتا ہے پھر اسے لوٹائے گا سو تم کہاں پھیرے جاتے ہو

۳۵.   کہہ دو آیا تمہارے شریکوں میں کوئی ہے جو  صحیح راہ بتلائے کہہ دو اللہ ہی صحیح راہ بتلاتا ہے تو جو  اب صحیح راستہ بتلائے اس کی بات ماننی چاہیئے یا اس کی جو  خود راہ نہ پائے مگر جب کوئی اور اسے راہ بتلائے سو تمہیں کیا ہو گیا کیا انصاف کرتے ہو

۳۶.   اور وہ اکثر اٹکل پر چلتے ہیں بے شک حق بات کے سمجھنے میں اٹکل ذرا بھی کام نہیں دیتی بے شک اللہ جانتا ہے جو  کچھ وہ کرتے ہیں

۳۷.   اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ اللہ کے سوا اسے کوئی اپنی طرف سے بنا لائے اور لیکن اپنے سے پہلے کلام کی تصدیق کرتا ہے اور ان چیزوں کو بیان کرتا ہے جو  تم پر لکھی گئی اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے

۳۸.   کیا یہ لوگ کہتے ہیں اس نے اسے خود بنایا ہے کہہ دو تم ایک ہی ایسی سورت لے آؤ اور اللہ کے سوا جسے بلا سکو بلا لو اگر تم سچے ہو

۳۹.   بلکہ انہوں نے اس چیز کو جھٹلایا جسے وہ سمجھ نہ سکے اور بھی اس کی حقیقت ان پر کھلی نہیں اسی طرح جو  لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی جھٹلایا تھا سو دیکھ لو کہ ظالموں کا انجام کیسا ہوا

۴۰.   اور ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے اور تمہارا رب شریروں سے خوب واقف ہے

۴۱.    اور اگر تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے میرے لیے میرا کام اور تمہارے لیے تمہارا کام تم میرے کام کے جو اب دہ نہیں اور میں تمہارے کام کا جو اب دہ نہیں ہوں

۴۲.   اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں کیا تم بہروں کو سنا سکتے ہو اگر چہ وہ نہ سمجھیں

۴۳.   اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری طرف دیکھتے ہیں کیا تم اندھوں کو راہ دکھا دو گے اگر کچھ بھی نہ دیکھتے ہوں

۴۴.   بے شک اللہ لوگوں پر ذرہ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں

۴۵.   اور جس دن انہیں جمع کرے گا گویا وہ نہیں رہے تھے مگر ایک گھڑی دن کی ایک دوسرے کو پہچانیں گے بے شک خسارے میں رہے جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا اور راہ پانے والے نہ ہوئے

۴۶.   اور اگر ہم تمہیں ان وعدوں میں سے کوئی چیز دکھا دیں جو  ہم نے ان سے کیے ہیں یا تمہیں وفات دیں پھر انہیں ہماری طرف لوٹنا ہے پھر اللہ شاہد ہے ان کاموں پر جو  کرتے ہیں

۴۷.   اور ہر امت کا یک رسول ہے پھر جب ان کے پاس ان کا رسول آیا تو ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کیا گیا اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا

۴۸.   اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب ہے اگر تم سچے ہو

۴۹.   کہہ دو میں اپنی ذات کے برے اور بھلے کا بھی مالک نہیں مگر جو  اللہ چاہے ہر امت کا ایک وقت مقرر ہے جب وہ وقت آتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کر سکتے ہیں اور نہ جلدی کر سکتے ہیں

۵۰.   کہہ دو بھلا دیکھو تو اگر تم پر اس کا عذاب رات یا دن کو آ جائے تو عذاب میں سے کون سی ایسی چیز ہے کہ مجرم اس کو جلدی مانگتے ہیں

۵۱.    کیا پھر جب وہ آ چکے گا تب اس پر ایمان لاؤ گے اب مانتے ہو اور تم اس کی جلدی کرتے تھے

۵۲.   پھر ظالموں سے کہا جائے گا ہمیشگی کا عذاب چکھتے رہو تمہیں نہیں بدلا دیا جاتا مگر اس چیز کا جو  تم کرتے تھے

۵۳.   اور تم سے پوچھتے ہیں کیا یہ بات سچ ہے کہہ دو ہاں میرے رب کی قسم بے شک یہ سچ ہے اور تم عاجز کرنے والے نہیں ہو

۵۴.   اور اگر ہر ایک نافرمان کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں البتہ اپنے بدلے میں دے ڈالے اور جب وہ عذاب دیکھیں گے تو دل میں نادم ہوں گے اور ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ ہو گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

۵۵.   خبردار بے شک اللہ ہی کا ہے جو  کچھ آسمان اور زمین میں ہے خبردار بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

۵۶.   وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کی طرف پھر کر جاؤ گے

۵۷.   اے لوگو تمہارے رب سے نصیحت اور دلوں کے روگ کی شفا تمہارے پاس آئی ہے اور ایمان داروں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے

۵۸.   کہہ دو (قرآن) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے سو اسی پر انہیں خوش ہونا چاہیئے یہ ان چیزوں سے بہتر ہے جو  جمع کرتے ہیں

۵۹.    کہہ دو بھلا دیکھو تو اللہ نے تمہارے لیے جو  رزق نازل فرمایا ہے تم نے اس میں سے بعض کو حرام اور بعض کو حلال کر دیا کہہ دو اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے یا اللہ پر افترا کرتے ہو

۶۰.   اور جو  لوگ اللہ پر افترا کرتے ہیں قیامت کے دن کی نسبت ان کا کیا خیال ہے بے شک اللہ لوگوں پر مہربان ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

۶۱.    اور تم جس حال میں ہوتے ہو یا قرآن میں سے کچھ پڑھتے ہو یا تم لوگ کوئی کام کرتے ہو تو ہم وہاں موجود ہوتے ہیں جب تم اس میں مصروف ہوتے ہو اور تمہارے رب سے ذرہ بھر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ بڑی مگر کتاب روشن میں ہے

۶۲.   خبردار بے شک جو  اللہ کے دوست ہیں نہ ان پر ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے

۶۳.   جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے رہے

۶۴.   ان کے لیے دنیا کی زندگی اور آخرت میں خوشخبری ہے اللہ کی باتوں میں تبدیلی نہیں ہوتی یہی بڑی کامیابی ہے

۶۵.   اور ان کی بات سے غم نہ کر بے شک عزت سب اللہ ہی کے لیے ہے وہی سننے والا جاننے والا ہے

۶۶.    خبردار جو  کوئی آسمانوں میں ہے اور جو  کوئی زمین میں ہے سب اللہ کا ہے اور یہ جو  اللہ کے سوا شریکوں کو پکارتے ہیں وہ نہیں پیروی کرتے مگر گمان کی اور نہیں ہیں وہ مگر اٹکل کرتے ہیں

۶۷.   وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں آرام کرو اور دن دکھلانے والا بنایا بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو  سنتے ہیں

۶۸.   کہتے ہیں اللہ نے بیٹا بنا لیا وہ پاک ہے وہ بے نیاز ہے جو  کچھ آسمانوں میں اور جو  کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے تمہارے پاس اس کی کوئی سند نہیں ہے تم اللہ پر ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جو  جانتے نہیں

۶۹.    کہہ دو جو  لوگ اللہ پر افترا کرتے ہیں نجات نہیں پائیں گے

۷۰.   دنیا میں تھوڑا سا نفع اٹھا لینا ہے پھر ہماری طرف انہیں لوٹنا ہے پھر ہم انہیں سخت عذاب چکھائیں گے بسبب اس کے کہ کفر کرتے تھے

۷۱.    اور انہیں نوح کا حال سنا جب اس نے اپنی قوم سے کہا اے قوم اگر تمہیں میرا تم میں رہنا اور اللہ کی آیتوں سے نصیحت کرنا ناگوار ہو تو میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اب تم سب مل کر اپنا کام مقرر کرو اور اپنے شریکوں کو جمع کرو پھر تمہیں اپنے کام میں شبہ نہ رہے پھر وہ کام میرے ساتھ کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو

۷۲.   پھر اگر منہ پھیرو تو میں نے تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگا میرا معاوضہ اللہ پر ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ فرمانبرداروں میں سے رہوں

۷۳.   پھر انہوں نے اسے جھٹلایا پھر ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو کشتی میں بچا لیا اور انہیں خلیفہ بنا دیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا انہیں غرق کر دیا سو دیکھ لو کہ جو  لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا انجام کیسا ہوا

۷۴.   پھر ہم نے نوح کے بعد اور پیغمبر اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لائے پھر بھی ان سے یہ نہ ہوا کہ اس بات پر ایمان لے آئیں جسے پہلے وہ جھٹلا چکے تھے اسی طرح ہم حد سے نکل جانے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں

۷۵.   پھر ہم نے ان کے بعد موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا پھر انہوں نے تکبر کیا اور وہ لوگ گنہگار تھے

۷۶.   پھر جب انہیں ہمارے ہاں سے سچی بات پہنچی کہنے لگے یہ تو کھلا جادو ہے

۷۷.  موسیٰ نے کہا کیا تم حق بات کو یہ کہتے ہو جب وہ تمہارے پاس آئی کیا یہ جادو ہے اور جادو کرنے والے نجات نہیں پاتے

۷۸.   انہوں نے کہا کیا تو ہمارے ہاں آیا ہے کہ ہمیں اس راستہ سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے تم دونوں کو اس ملک میں سرداری مل جائے اور ہم تو تمہیں ماننے والے نہیں ہیں

۷۹.   اور فرعون نے کہا میرے پاس ہر دانا جادوگر کو لے آؤ

۸۰.   پھر جب جادوگر آئے انہیں موسیٰ نے کہا ڈالو جو  تم ڈالتے ہو

۸۱.    پھر جب انہوں نے ڈالا موسیٰ نے کہا جو  تم لائے ہو وہ جادو ہے اللہ اسے ابھی درہم برہم کر دے گا بے شک اللہ شریروں کے کام نہیں سنوارتا

۸۲.   اور اللہ اپنے حکم سے حق بات کو سچا کرتا ہے اگر چہ گنہگار برا ہی مانیں

۸۳.   پھر کوئی بھی موسیٰ پر ایمان نہ لایا مگر اس کی قوم کے چند لڑکے اور وہ بھی فرعون اور ان کے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں وہ انہیں مصیبت میں نہ ڈال دے اور بے شک فرعون زمین میں سرکشی کرنے والا تھا اور بے شک وہ حد سے گزرنے والوں میں سے تھا

۸۴.   اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم فرمانبردار ہو

۸۵.   تب وہ بولے ہم اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں اے رب ہمارے ہم پر اس ظالم قوم کا زور نہ آزما

۸۶.   اور ہمیں مہربانی فرما کر ان کافروں سے چھڑا دے

۸۷.   اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کو حکم بھیجا کہ اپنی قوم کے واسطے مصر میں گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو مسجدیں سمجھو اور نماز قائم کرو اور ایمان والوں کو خوشخبری دو

۸۸.   اور موسیٰ نے کہا اے رب ہمارے تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں آرائش اور ہر طرح کا مال دیا ہے اے رب ہمارے یہاں تک کہ انہوں نے تیرے راستہ سے گمراہ کر دیا اے رب ہمارے ان کے مالوں کو برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے پس یہ ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھیں

۸۹.   فرمایا تمہاری دعا قبول ہو چکی سو تم دونوں ثابت قدم رہو اور بے عقلوں کی راہ پر مت چلو

۹۰.    اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کر دیا پھر فرعون اور اس کے لشکر نے ظلم اور زیادتی سے ان کا پیچھا کیا یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا کہا میں ایمان لایا کہ کوئی معبود نہیں مگر جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں فرمانبردار میں سے ہوں

۹۱.     اب یہ کہتا ہے اور تو اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا اور مفسدوں میں داخل رہا

۹۲.    سو آج ہم تیرے بدن کو نکال لیں گے تاکہ تو پچھلوں کے لیے عبرت ہو اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بے خبر ہیں

۹۳.   اور البتہ تحقیق ہم نے بنی اسرائیل کو رہنے کی عمدہ جگہ دی اور کھانے کو ستھری چیزیں دیں وہ باوجود علم ہونے کے خلاف کرتے رہے بے شک تیرا رب قیامت کے دن ان میں فیصلہ کرے گا جس بات میں کہ وہ اختلاف کرتے تھے

۹۴.   سو اگر تمہیں اس چیز میں شک ہے جو  ہم نے تیری طرف اتاری تو ان سے پوچھ لے جو  تجھ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں بے شک تیرے پاس تیرے رب سے حق بات آئی ہے سو شک کرنے والوں میں ہرگز نہ ہو

۹۵.    اور ان میں سے بھی نہ ہو جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا پھر تو بھی نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا

۹۶.    جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے

۹۷.   اگرچہ انہیں ساری نشانیاں پہنچ جائیں جب تک کہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں

۹۸.   سو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی جو  ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا سوائے یونس کی قوم کے کہ جب وہ ایمان لائے تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کر دیا اور ہم نے انہیں ایک وقت تک فائدہ پہنچایا

۹۹.    اور اگر تیرا رب چاہتا تو جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ایمان لے آتے پھر کیا تو لوگوں پر زبردستی کرے گا کہ وہ ایمان لے آئیں

۱۰۰.  اور کسی کے بھی بس میں نہیں کہ اللہ کے حکم کے سوا ایمان لے آئے اور اللہ انکے لیے کفر کا فیصلہ کرتا ہے جو  نہیں سوچتے

۱۰۱.   کہہ دو دیکھو کہ آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ ہے اور بے ایمان قوم کو معجزے اور ڈرانے والے کچھ فائدہ نہیں دیتے

۱۰۲.  پھر کیا وہ انہیں لوگوں کے دنوں کا سا انتظار کرتے ہیں جو  ان سے پہلے گزرے ہیں کہہ دو اچھا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

۱۰۳.  پھر ہم اپنے رسولوں اور ان لوگوں کو جو  ایمان لاتے ہیں بچا لیتے ہیں اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ایمان والوں کو بچا لیں

۱۰۴.  کہہ دو اے لوگو اگر تمہیں میرے دین میں شک ہے تو اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا بلکہ میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو  تمہیں وفات دیتا ہے اور مجھے حکم ہوا ہے کہ ایمانداروں میں رہوں

۱۰۵.  اور یہ بھی کہ یک سو ہو کر دین کی طرف رخ کیے رہو اور مشرکوں میں نہ ہو

۱۰۶.  اور اللہ کے سوا ایسی چیز کونہ پکار جو  نہ تیرا بھلا کرے اور نہ برا پھر اگر تو نے ایسا کیا تو بے شک ظالموں میں سے ہو جائے گا

۱۰۷. اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اسے ہٹانے والا کوئی نہیں اور اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچانا چاہے تو کوئی اس کے فضل کو پھیرنے والا نہیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے اور وہی بخشنے والا مہربان ہے

۱۰۸.  کہہ دو اے لوگو تمہیں تمہارے رب سے حق پہنچ چکا ہے پس جو  کوئی راہ پر آئے سو وہ اپنے بھلے کے لیے راہ پاتا ہے اور جو  گمراہ رہے گا اس کا وبال اسی پر پڑے گا اور میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں

۱۰۹.  اور جو  کچھ تیری طرف وحی کیا گیا ہے اس پر چل اور صبر کر یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

 

سورۃ ہُود

شروع اللہ کے نام سے جو  بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.      یہ ایسی کتاب ہے کہ جس کی آیتیں حکیم خبردار کی طرف سے مستحکم کر دی گئی ہیں پھر مفصل بیان کی گئی ہیں

۲.      یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو میں تمہارے لیے اس کی طرف سے ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں

۳.     اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو تاکہ تمہیں ایک وقت مقرر تک اچھا فائدہ پہنچائے اور جس نے بڑھ کر نیکی کی ہو اس کو بڑھ کر بدلہ دے اور اگر تم پھر جاؤ گے تو میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

۴.     تمہیں اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

۵.     خبردار جس وقت وہ کپڑے ڈھانکتے ہیں وہ جانتا ہے جو  کچھ وہ چھپا کر اور ظاہر کر کے کرتے ہیں بے شک وہ دلوں کی باتوں کو جاننے والا ہے

۶.      اور زمین پر کوئی چلنے والا نہیں مگر اس کی روزی اللہ پر ہے اور جانتا ہے جہاں وہ ٹھیرتا ہے اور جہاں وہ سونپا جاتا ہے سب کچھ واضح کتاب میں ہے

۷.     اور وہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے اور اس کا تخت پانی پر تھا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے اور اگر تو کہے کہ مرنے کے بعد اٹھو گے تو منکرین یہ کہیں گے کہ یہ تو صریح جادو ہے

۸.     اور اگر ہم ایک مدت معلوم تک ان سے عذاب کو روک رکھیں تو ضرور کہیں گے کس چیر نے عذاب کو روک دیا خبردار جس دن ان پر عذاب آئے گا ان سے نہ پھیرا جائے گا اور انہیں وہ چیز گھیرے گی جس پر ٹھٹایا  کیا کرتے تھے

۹.      اور اگر ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھا کر پھر اس سے چھین لیتے ہیں تو وہ نا امید ناشکرا ہو جاتا ہے

۱۰.    اور اگر مصیبت پہنچنے کے بعد نعمتوں کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے کہ میری سختیاں جاتی رہیں کیوں کہ وہ اترانے والا شیخی خورا ہے

۱۱.     مگر جو  لوگ صابر ہیں اور نیکیاں کرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے

۱۲.    پھر شاید آپ اس میں سے کچھ چھوڑ بیٹھیں گے جو  آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے اور ان کے اس کہنے سے آپ کا دل تنگ ہو گا کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتر آیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا آپ تو محض ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہر چیز کا ذمہ دار ہے

۱۳.    کیا کہتے ہیں کہ تو نے قرآن خود بنا لیا ہے کہہ دو تم بھی ایسی دس سورتیں بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جس کو بلا سکو بلا لو اگر تم سچے ہو

۱۴.    پھر اگر تمہارا کہنا پورا نہ کریں تو جان لو کہ قرآن اللہ کے علم سے نازل کیا گیا ہے اور یہ بھی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس کیا تم فرمانبرداری کرنے والے ہو

۱۵.    جو کوئی دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتا ہے تو انکے اعمال ہم یہیں پورے کر دیتے ہیں اور انہیں کچھ نقصان نہیں دیا جاتا

۱۶.    یہ وہی ہیں جن کیلئے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں اور برباد ہو گیا جو  کچھ انہوں نے دنیا میں کیا تھا اور خراب ہو گیا جو  کچھ کمایا تھا

۱۷.    بھلا وہ شخص جو  اپنے رب کے صاف راستہ پر ہو اور اس کے ساتھ اللہ کی طرف سے ایک گواہ بھی ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب گواہ تھی جو  امام اور رحمت تھی یہی لوگ قرآن کو مانتے ہیں اور جو  کوئی سب فرقوں میں سے اس کا منکر ہو تو اس کا ٹھکانا دوزخ ہے سو تو قرآن کی طرف سے شبہ میں نہ رہ بے شک یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

۱۸.    اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو  اللہ پر جھوٹ باندھے وہ لوگ اپنے رب کے روبرو پیش کیے جائیں گے اور گواہ کہیں گے کہ یہی ہیں کہ جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا خبردار ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے

۱۹.     جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے ہیں اور وہی آخرت کے منکر ہیں

۲۰.   یہ لوگ زمین میں عاجز کرنے والے نہیں تھے اور ان کے لیے سوا اللہ کے کوئی دوست نہ تھا انہیں دگنا عذاب کیا جائے گا یہ لوگ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے تھے

۲۱.    انہوں نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال دیا اور ان سے ضائع ہو گیا جو  جھوٹ وہ باندھتے تھے

۲۲.   بے شک یہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان میں ہوں گے

۲۳.   البتہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے اور اپنے رب کے سامنے عاجزی کی وہ جنت میں رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

۲۴.   دونوں فریق کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا ہو اور دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا کیا دونوں کا حال برابر ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے

۲۵.   اور ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا بے شک میں تمہیں صاف ڈرانے والا ہوں

۲۶.   کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو بے شک میں تم پر دردناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

۲۷.   پھر اس کی قوم کے جو  کافر سردار تھے وہ بولے ہمیں تو تم ہم جیسے ہی ایک آدمی نظر آتے ہو اور ہمیں تو تمہارے پیرو وہی نظر آتے ہیں جو  ہم میں سے رذیل ہیں وہ بھی سرسری نظر سے اور ہم تم میں اپنے سے کوئی فضیلت بھی نہیں پاتے بلکہ تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں

۲۸.   اس نے کہا اے میری قوم دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے صاف راستہ پر ہوں اور اس نے مجھ پر اپنے ہاں سے رحمت بھیجی ہو پھر وہ تمہیں دکھائی نہ دے تو کیا میں زبردستی تمہارے گلے مڑھ دوں اور تم اس سے نفرت کرتے ہو

۲۹.    اور اے میری قوم میں تم سے اس پر کچھ مال نہیں مانگتا میری مزدوری اللہ ہی کے ذمہ ہے اور میں ایمانداروں کو ہٹانے والا نہیں بے شک و ہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں لیکن تمہیں جاہل قوم دیکھتا ہوں

۳۰.   اور اے میری قوم اگر میں انہیں ہٹا دوں تو مجھے اللہ سے کون چھڑائے گا کیا پھر تم نہیں سمجھتے

۳۱.    اور میں تمہیں نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب دان ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ یہ کہوں گا کہ جو  لوگ تمہاری نظر میں حقیر ہیں اللہ ان کو بھلائی نہ دے گا اللہ خوب جانتا ہے جو  کچھ ان کے دلوں میں ہے ایسا کہوں تو میں بے انصاف ہوں

۳۲.   کہا اے نوح تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت جھگڑا کر چکا اب لے آ جو  تو ہم سے وعدہ کرتا ہے اگر تو سچا ہے

۳۳.   نوح نے کہا اسے تو اگر چاہے گا اللہ ہی لائے گا اور تم اسے روک نہ سکو گے

۳۴.   اور میری نصیحت تمہیں فائدہ نہ دے گی خواہ میں کتنی ہی نصیحت کرنا چاہوں اگر اللہ کو تمہیں گمراہ رکھنا ہی منظور ہے وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تمہیں پھر جانا ہے

۳۵.   کیا کہتے ہیں کہ قرآن کو خود بنا لایا ہے کہہ دو اگر میں بنا لایا ہوں تو اس کا گناہ مجھ پر ہے اور میں تمہارے گناہوں سے بری ہوں

۳۶.   اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے اب کوئی ایمان نہیں لائے گا مگر جو  لا چکا پھر غم نہ کر اور کاموں پر جو  کر رہے ہیں

۳۷.   اور ہمارے روبرو اور ہمارے حکم سے کشتی بنا اور ظالموں کے حق میں مجھ سے کوئی بات نہ کر بے شک وہ غرق کیے جائیں گے

۳۸.   اور وہ کشتی بناتے تھے اور جب اس کی قوم کے سردار اس پر گزرتے اس سے ہنسی کرتے کہتے اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنسیں گے جیسے تم ہنستے ہو

۳۹.   تمہیں جلدی معلوم ہو جائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو  اسے رسوا کرے گا اور کسی پر دائمی عذاب اترتا ہے

۴۰.   یہاں تک کہ جب ہمارا حکم پہنچا اور تنور نے جو ش مارا ہم نے کہا کشتی میں ہر قسم کے جوڑا نر مادہ چڑھا لے اور اپنے گھر والوں کو مگر وہ جن کے متعلق فیصلہ ہو چکا ہے اور سب ایمان والوں کو اور اس کے ساتھ ایمان تو بہت کم لائے تھے

۴۱.    اور کہا اس میں سوار ہو جاؤ اس کا چلنا اور ٹھیرنا اللہ کے نام سے ہے بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے

۴۲.   اور وہ انہیں پہاڑ جیسی لہروں میں لیے جا رہی تھی اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا جب کہ وہ کنارے پر تھا اے بیٹے ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ

۴۳.   کہا میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لیتا ہوں جو  مجھے پانی سے بچا لے گا کہا آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے اور دونوں کے درمیان موج حائل ہو گئی پھر ڈوبنے والوں میں ہو گیا

۴۴.   اور حکم آیا اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا اور پانی سکھا دیا گیا اور کام ہو چکا اور کشتی جو دی پہاڑ پر ٹھری اور کہہ دیا گیا کہ ظالموں پر پھٹکار ہے

۴۵.   اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اے رب میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور بے شک تیار وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بڑا حاکم ہے

۴۶.   فرمایا اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے کیوں کہ اس کے عمل اچھے نہیں ہیں سو مجھ سے مت پوچھ جس کا تجھے علم نہیں میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ کہیں جاہلوں میں نہ ہو جاؤ

۴۷.   کہا اے رب میں تیری پناہ لیتا ہوں اس بات سے کہ تجھ سے وہ بات پوچھوں جو  مجھے معلوم نہیں اور اگر تو نے مجھے نہ بخشا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان والوں میں ہو جاؤں گا

۴۸.   کہا گیا اے نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو  تم پر اور تمہارے ساتھ والوں پر رہیں گی کشتی سے اتر اور دوسرے فرقے ہیں کہ ہم انھیں دنیا میں فائدہ دیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا

۴۹.   یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں اس سے پہلے نہ تو آپ ہی جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم جانتی تھی پس صبر کر کیوں کہ بہتر انجام پرہیزگاروں کے لیے ہے

۵۰.   اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا اے قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی حاکم نہیں تم سب جھوٹ کہتے ہو

۵۱.    اے قوم میں اس پر تم سے مزدوری نہیں مانگتا میری مزدوری اسی پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا پھر کیا تم نہیں سمجھتے

۵۲.   اور اے قوم اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو وہ تم پر خوب بارشیں برسائے گا اور تمہاری قوت کو اور بڑھائے گا اور تم نافرمان ہو کر نہ پھر جاؤ

۵۳.   کہا اے ہود تو ہمارے پاس کوئی معجزہ بھی نہ لایا اور ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور نہ ہم تجھے ماننے والے ہیں

۵۴.   ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تجھے ہمارے کسی معبود نے بری طرح جھپٹ لیا ہے کہا بے شک میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم اللہ کے سوا شریک کرتے ہو

۵۵.   سو تم سب مل کر میرے حق میں برائی کرو پھر مجھے مہلت نہ دو

۵۶.   میں نے اللہ پر بھروسہ کیا ہے جو  میرا اور تمہارا رب ہے کوئی بھی زمین پر ایسا چلنے والا نہیں کہ جس کی چوٹی اس نے نہ پکڑ رکھی ہو بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے

۵۷.   پھر اگر تم منہ پھیرو گے تو جو  مجھے دے کر بھیجا گیا تھا وہ تمہیں پہنچا دیا اور میرا رب تمہاری جگہ اور قوم پیدا کر دے گا اور تم اس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکو گے بے شک میرا رب ہر چیز پر نگہبان ہے

۵۸.   اور جب ہمارا حکم پہنچا تو ہم نے ہود کو اور انہیں جو  اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی رحمت سے بچا لیا اور ہم نے انہیں سخت عذاب سے نجات دی

۵۹.    اور یہ عاد تھے کہ اپنے رب کی باتوں سے منکر ہوئے اور اس کے رسولوں کو نہ مانا اور ہر ایک جبار سرکش کا حکم مانتے تھے

۶۰.   اور اس دنیا میں بھی اپنے پیچھے لعنت چھوڑ گئے اور قیامت کے دن بھی خبردار بے شک عاد نے اپنے رب کا انکار کیا تھا خبردار عاد جو  ہود کی قوم تھی اللہ کی رحمت سے دور کی گئی

۶۱.    اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اسی نے تمہیں زمین سے بنایا اور تمہیں اس میں آباد کیا پس اس سے معافی مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو بے شک میرا رب نزدیک ہے قبول کرنے والا

۶۲.   انہوں نے کہا اے صالح اس سے پہلے تو ہمیں تجھ سے بڑی امید تھی تم ہمیں ان معبودوں کے پوجنے سے منع کرتے ہو جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں اور جس طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس سے تو ہم بڑے شک میں ہیں

۶۳.   صالح نے کہا اے میری قوم بھلا دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے کوئی کھلی دلیل رکھتا ہوں اور اس کی طرف سے میرے پاس رحمت بھی آ چکی ہو پھر اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو مجھے اس سے کون بچا سکتا ہے پھر تم مجھے نقصان کے سوا اور کیا دے سکو گے

۶۴.   اور اے میری قوم یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی ہے سو اسے چھوڑ دو اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اسے برائی سے چھونا بھی نہیں (ورنہ) پھر تمہیں عذاب بہت جلد آ پکڑے گا

۶۵.   پھر انہوں نے اس کے پاؤں کاٹ ڈالے تب صالح نے کہا تین دن تک اپنے گھروں میں فائدہ اٹھا لو یہ وعدہ ہے جو  جھوٹا نہ ہو گا

۶۶.    پھر جب ہمارا حکم آ پہنچا تو ہم نے صالح کو اور جو  اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی رحمت سے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے نجات دی بے شک تیرا رب وہی زور والا زبردست ہے

۶۷.   اور ان ظالموں کو ہولناک آواز نے پکڑ لیا پھر صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے رہ گئے

۶۸.   گویا کہ کبھی وہاں رہے ہی نہ تھے خبردار ثمود نے اپنے رب کا انکار کیا تھا خبردار ثمود پر پھٹکار ہے

۶۹.    اور ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر آئے انہوں نے کہا سلام اس نے کہا سلام پس دیر نہ کی کہ ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آیا

۷۰.   پھر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس تک نہیں پہنچتے تو انہیں اجنبی سمجھا اور ان سے ڈرا انہوں نے کہا خوف نہ کرو ہم تو لوط کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

۷۱.    اور اس کی عورت کھڑی تھی تب وہ ہنس پڑی پھر ہم نے اسے اسحاق کے پیدا ہونے کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی

۷۲.   وہ بولی اے افسوس کیا میں بوڑھی ہو کر جنوں گی میرا خاوند بھی بوڑھا ہے یہ تو ایک عجیب بات ہے

۷۳.   انہوں نے کہا کیا تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے تم پر اے گھر والو اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں بے شک وہ تعریف کیا ہوا بزرگ ہے

۷۴.   جب ابراہیم سے ڈر جاتا رہا اور اسے خوشخبری آئی ہم سے قوم لوط کے حق میں جھگڑنے لگا

۷۵.   بے شک ابراہیم بردبار نرم دل اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والا تھا

۷۶.   اے ابراہیم یہ خیال چھوڑ دے کیوں کہ تیرے رب کا حکم آ چکا ہے اور بے شک ان پر عذاب آ کر ہی رہے گا جو  ٹلنے والا نہیں

۷۷.  اور جب ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس پہنچے تو ان کے آنے سے غمگین ہوا اور دل میں تنگ ہوا اور کہا آج کا دن بڑا سخت ہے

۷۸.   اور اس کے پاس اس کی قوم بے اختیار دوڑتی آئی اور یہ لوگ پہلے ہی سے برے کام کیا کرتے تھے کہا اے میری قوم یہ میری بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لیے پاک ہیں سو تم اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں میں مجھے ذلیل نہ کرو کیا تم میں کوئی بھی بھلا آدمی نہیں

۷۹.   انہوں نے کہا البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ ہمیں تیری بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور تجھے معلوم ہے جو  ہم چاہتے ہیں

۸۰.   کہا کاش کہ مجھے تمہارے مقابلے کی طاقت ہو تی یا میں کسی زبردست سہارے کی پناہ جا لیتا

۸۱.    فرشتوں نے کہا اے لوط بے شک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں یہ تم تک ہرگز نہ پہنچ سکیں گے سو کچھ حصہ رات رہے اپنے لوگوں کو لے نکل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے مگر تیری عورت کہ اس پر بھی وہی بلا آنے والی ہے جو  ان پر آئے گی ان کے وعدہ کا وقت صبح ہے کیا صبح کا وقت نزدیک نہیں ہے

۸۲.   پھر جب ہمارا حکم پہنچا تو ہم نے وہ بستیاں الٹ دیں اور اس زمین پر کھنگر کے پتھر برسانا شروع کیے جو  لگاتار گر رہے تھے

۸۳.   جن پر تیرے رب کے ہاں سے خاص نشان بھی تھا اور یہ بستیاں ان ظالموں سے کچھ دور نہیں ہیں

۸۴.   اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا کہ اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور ناپ اور تول کو نہ گھٹاؤ میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں اور تم پر ایک گھیر لینے والے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

۸۵.   اور اے میری قوم انصاف سے ناپ اور تول کو پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد نہ مچاؤ

۸۶.   اللہ کا دیا جو  باقی بچ رہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم ایماندار ہو اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں

۸۷.   انہوں نے کہا اے شعیب کیا تیری نماز تجھے یہی حکم دیتی ہے کہ ہم ان چیزوں کو چھوڑ دیں جنہیں ہمارے باپ باپ دادا پوجتے تھے یا اپنے مالوں میں اپنی خواہش کے مطابق معاملہ نہ کریں بے شک تو البتہ بردبار نیک چلن ہے

۸۸.   کہا اے میری قوم دیکھو تو سہی اگر مجھے اپنے رب کی طرف سے سمجھ آ گئی ہے اور اس نے مجھے عمدہ روزی دی ہے اور میں یہ نہیں چاہتا کہ جس کام سے تجھے منع کروں میں اس کے خلاف کروں میں تو اپنی طاقت کے مطابق اصلاح ہی چاہتا ہوں اور مجھے تو صرف اللہ ہی سے توفیق حاصل ہوتی ہے میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

۸۹.   اور اے میری قوم کہیں میری ضد سے ایسا جرم نہ کر بیٹھنا جس سے وہی مصیبت نہ آ پڑے جیسی کہ قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح پر پڑی تھی اور لوط کی قوم بھی تم سے دور نہیں

۹۰.    اور اپنے اللہ سے معافی مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو بے شک میرا رب مہربان محبت والا ہے

۹۱.     انہوں نے کہا اے شعیب ہم بہت سی باتیں نہیں سمجھتے جو  تم کہتے ہو اور بے شک ہم البتہ تمہیں اپنے میں کمزور پاتے ہیں اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو تجھے ہم سنگسار کر دیتے اور ہماری نظر میں تیری کوئی عزت نہیں ہے

۹۲.    کہا اے میری قوم کیا میری برادری کا دباؤ تم پر اللہ سے زیادہ ہے اس کو تم نے پس پشت ڈال دیا ہے بے شک میرا رب تمہارے سب اعمال پر احاطہ کرنے والا ہے

۹۳.   اور اے میری قوم اپنی جگہ پر کام کیے جاؤ میں تم بھی کام کرتا ہوں آئندہ معلوم کر لو گے کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور جھوٹا کون ہے اور انتظار کرو بے شک میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں

۹۴.   اور جب ہمارا حکم آ گیا تو ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو  ان کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی رحمت سے بچا لیا اور ان ظالموں کو کڑک نے آ پکڑا پھر صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے رہ گئے

۹۵.    گویا کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے خبردار مدین پر پھٹکار ہے جیسے ثمود پر پھٹکار ہوئی تھی

۹۶.    اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور واضع سند دے کر بھیجا

۹۷.   فرعون اور اس کے سرداروں کے ہاں پھر وہ فرعون کے حکم پر چلے اور فرعون کا حکم ٹھیک بھی نہ تھا

۹۸.   قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے ہو گا پھر انہیں آگ میں لا ڈالے گا اور برا گھاٹ ہے جس پر وہ پہنچے

۹۹.    اور اپنے پیچھے اس جہان میں بھی لعنت چھوڑ گئے اور قیامت کے دن کے لیے بھی برا ہی انعام ہے جو  انہیں دیا جائے گا

۱۰۰.  یہ بستیوں کے تھوڑے سے حالات ہیں کہ تجھے سنا رہے ہیں ان میں سے کچھ تو اب تک باقی ہیں اور کچھ اجڑی پڑی ہیں

۱۰۱.   اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہی اپنی جانوں پر ظلم کر گئے پھر ان کے وہ معبود کچھ کام نہ آئے جنہیں و ہ اللہ کے سوا پکارتے تھے جس وقت تیرے رب کا حکم آ پہنچا اور ان معبودوں نے سوا ہلاکت کے انہیں کچھ بھی فائدہ نہ دیا

۱۰۲.  اور تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ ظالم بستیوں کو پکڑتا ہے اور اس کی پکڑ سخت تکلیف دہ ہے

۱۰۳.  اس بات میں نشانی ہے اس کے لیے جو  آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے یہ ایک ایسا دن ہو گا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور یہی دن ہے جس میں سب حاضر کیے جائیں گے

۱۰۴.  اور ہم اسے تھوڑی مدت کے لیے ملتوی کیے ہوئے ہیں

۱۰۵.  جب وہ دن آئے گا تو کوئی شخص اللہ کی اجازت کے سوا بات بھی نہ کر سکے گا سو ان میں سے بعض بدبخت ہیں اور بعض نیک بخت

۱۰۶.  پھر جو  بد ہوں گے تو وہ آگ میں ہوں گے کہ اس میں ان کی چیخ و پکار پڑی رہے گی

۱۰۷. اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان زمین قائم ہیں ہاں اگر تیرے اللہ ہی کو منظور ہو (تو دوسری بات ہے )بے شک تیار رب جو  چاہے اسے پورے طور سے کر سکتا ہے

۱۰۸.  اور جو  لوگ نیک بخت ہیں سو جنت میں ہوں گے اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان زمین قائم ہیں ہاں اگر تیرے اللہ ہی کو منظور ہو تو( دوسری بات ہے )یہ بے انتہا عطیہ ہو گا

۱۰۹.  سو تو ان چیزوں سے شک میں نہ رہ جنہیں یہ پوجتے ہیں یہ لوگ کچھ نہیں پوجتے مگر اسی طرح سے کہ جس طرح ان سے پہلے ان کے باپ دادا پوجتے تھے اور بے شک ہم انہیں عذاب کا پورا حصہ دے کر رہیں گے

۱۱۰.   اور البتہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی پھر اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات مقرر نہ ہو چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ ہو جاتا اور بے شک اس کی طرف سے ایسے شک میں ہیں کہ مطمئن نہیں ہو نے دیتا

۱۱۱.    اور جتنے لوگ ہیں جب وقت آیا تیرا رب انہیں ان کے اعمال پورے دے گا بے شک وہ خبردار ہے اس چیز سے جو  کر رہے ہیں

۱۱۲.   سو تو پکار جیسا تجھے حکم دیا گیا ہے اور جنہوں نے تیرے ساتھ توبہ کی ہے اور حد سے نہ بڑھو بے شک وہ دیکھتا ہے جو  کچھ تم کرتے ہو

۱۱۳.   اور ان کی طرف مت جھکو جو  ظالم ہیں پھر تمہیں بھی آگ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی مددگار نہیں ہے پھر کہیں سے مدد نہ پاؤ گے

۱۱۴.   اور دن کے دونوں طرف اور کچھ حصہ رات کا نماز قائم کر بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کرتی ہیں یہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے

۱۱۵.   اور صبر کر بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

۱۱۶.   سو ان جماعتوں میں ایسے لوگ کیوں نہ ہوئے جو  تم سے پہلے تھیں جو  ملک میں فساد پھیلانے سے منع کرتے بجز چند آدمیوں کے جنہیں ہم نے ان میں سے بچا لیا تھا اور جن لوگوں نے نافرمانی کی تھی وہ تو انہیں لذتوں کے پیچھے پڑے رہے جو  ان کو دی گئی تھیں اور وہ مجرم تھے

۱۱۷.  اور تیرا رب ہرگز ایسا نہیں جو  بستیوں کو زبردستی ہلاک کر دے اور وہاں کے لوگ نیک ہوں

۱۱۸.   اور اگر تیرا رب چاہتا تو سب لوگوں کو ایک رستہ پر ڈال دیتا اور ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے

۱۱۹.   مگر جس پر تیرے رب نے رحم کیا اور اسی لیے انہیں پیدا کیا ہے اور تیرے رب کی یہ بات پوری ہو کر رہے گی کہ البتہ دوزخ کو اکھٹے جنوں اور آدمیوں سے بھر دوں گا

۱۲۰.  اور ہم رسولوں کے حالات تیرے پاس اس لیے بیان کرتے ہیں کہ ان سے تیرے دل کو مضبوط کر دیں اور ان واقعات میں تیرے پاس حق بات پہنچ جائے گی اور ایمانداروں کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہے

۱۲۱.   اور ان سے کہہ دو جو  ایمان نہیں لاتے اپنے جگہ پر کام کیے جاؤ ہم بھی کام کرتے ہیں

۱۲۲.  اور انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں

۱۲۳.  اور آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ بات اللہ ہی جانتا ہے اور سب کام کا رجوع اسی کی طرف ہے پس اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھ اور تیرا رب بے خبر نہیں اس سے جو  کرتے ہو

 

سورۃ يُوسُفْ

شروع اللہ کے نام سے جو  بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.      یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں

۲.      ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں تمہارے سمجھنے کے لیے نازل کیا

۳.     ہم تیرے پاس بہت اچھا قصہ بیان کرتے ہیں اس واسطے کہ ہم نے تیری طرف یہ قرآن بھیجا ہے اور تو اس سے پہلے البتہ بے خبروں میں سے تھا

۴.     جس وقت یوسف نے اپنے باپ سے کہا اے باپ میں گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو خواب میں دیکھا کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں

۵.     کہا اے بیٹا اپنا خواب بھائیوں کے سامنے بیان مت کرنا وہ تیرے لیے کوئی نہ کوئی فریب بنا دیں گے شیطان انسان کا صریح دشمن ہے

۶.      اور اسی طرح تیرا رب تجھے برگزیدہ کرے گا اور تجھے خواب کی تعبیر سکھائے گا اور اپنی نعمتیں تجھ پر اور یعقوب کے گھرانے پر پوری کرے گا جس طرح کہ اس سے پہلے تیرے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کر چکا ہے بے شک تیرا رب جاننے والا حکمت والا ہے

۷.     البتہ یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں پوچھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں

۸.     جب انہوں نے کہا البتہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارا ہے حالانکہ ہم طاقتور جماعت ہیں بے شک ہمارا باپ صریح غلطی پر ہے

۹.      یوسف کو مار ڈالو یا کسی ملک میں پھینک دو تاکہ باپ کی توجہ اکیلے تم پر رہے اور اس کے بعد نیک آدمی ہو جانا

۱۰.    ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو قتل نہ کرو اور اسے گمنام کنوئیں میں ڈال دو کہ اسے کوئی مسافر اٹھا لے جائے اگر تم کرنے ہی والے ہو

۱۱.     انہوں نے کہا اے باپ کیا بات ہے کہ تو یوسف پر ہمارا اعتبار نہیں کرتا اور ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں

۱۲.    کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دے کہ وہ کھائے اور کھیلے اور بے شک ہم ا سکے نگہبان ہیں

۱۳.    اس نے کہا مجھے اس سے غم ہوتا ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور اس سے ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھا جائے اور تم اس سے بے خبر رہو

۱۴.    انہوں نے کہا اگر اسے بھیڑیا کھا گیا اور ہم ایک طاقتور جماعت ہیں بے شک ہم اس وقت البتہ نقصان اٹھانے والے ہوں گے

۱۵.    جب اسے لے کر چلے اور متفق ہوئے کہ اسے گمنام کنوئیں میں ڈالیں تو ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ تو ضرور انہیں ایک دن آگاہ کرے گا ان کے اس کام سے اور وہ تجھے نہ پہچانیں گے

۱۶.    اور کچھ رات گئی اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے

۱۷.    کہا اے ہمارے باپ ہم تو آپس میں دوڑنے میں مصروف ہوئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تب اسے بھیڑیا کھا گیا اور تو ہمارے کہنے پر یقین نہیں کرے گا اگر چہ ہم سچے ہی ہوں

۱۸.    اور اسی کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا لائے اس نے کہا نہیں بلکہ تم نے دل سے ایک بات بنائی ہے اب صبر ہی بہتر ہے اور اللہ ہی سے مدد مانگتا ہوں اس بات پر جو  تم بیان کر تے ہو

۱۹.     اور ایک قافلہ آیا پھر انہوں نے اپنا پانی بھرنے والا بھیجا اس نے اپنا ڈول لٹکایا کہا کیا خوشی کی بات ہے یہ ایک لڑکا ہے اور اسے تجارت کا مال سمجھ کر چھپا لیا اور اللہ خوب جانتا ہے جو  کچھ وہ کر رہے تھے

۲۰.   اسے بھائی ناقص قیمت پر بیچ آئے گنتی کی چونیوں پر اور اس سے بیزار ہو رہے تھے

۲۱.    اور جس نے اسے مصر میں خرید کیا اس نے اپنی عورت سے کہا اس کی عزت کر شاید ہمارے کام آئے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں اس طرح ہم نے یوسف کو اس ملک میں جگہ دی اور تاکہ ہم اسے خواب کی تعبیر سکھائیں اور اللہ اپنا کام جیت کر رہتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

۲۲.   اور جب اپنی جو انی کو پہنچا تو ہم نے اسے حکم اور علم دیا اور نیکوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں

۲۳.   اور جس عورت کے گھر میں تھا وہ اسے پھسلا نے لگی اور دروازے بند کر لیے اور کہنے لگی لو آؤ اس نے کہا اللہ کی پناہ وہ تو میرا آقا ہے جس نے مجھے عزت سے رکھا ہے بے شک ظالم نجات نہیں پاتے

۲۴.   اور البتہ اس عورت نے تو اس پر ارادہ کر لیا تھا اور اگر وہ اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتا تو اس کا ارادہ کر لیتا اسی طرح ہوا تاکہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی کو ٹال دیں بے شک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا

۲۵.   اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور عورت نے اس کا کرتہ پیچھے سے پھاڑ ڈالا اور دونوں نے عور ت کے خاوند کو دروازے کے پاس پایا کہنے لگی کہ جو  تیرے گھر کے لوگوں سے برا ارادہ کرے اس کی تو یہی سزا ہے کہ قید کیا جائے یا سخت سزا دی جائے

۲۶.   کہا یہی مجھ سے اپنا مطلب نکالنے کو پھسلاتی تھی اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹا ہوا ہے تو عورت سچی ہے اور وہ جھوٹا ہے

۲۷.   اور اگر اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو یہ جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے

۲۸.   پھر جب عزیز نے اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا کہا بے شک یہ تم عورتوں کا ایک فریب ہے بے شک تمہارا فریب بڑا ہوتا ہے

۲۹.    یوسف تو اس سے درگزر کر اور تو اے عورت اپنے گنا ہ کی معافی مانگ کیوں کہ تو ہی خطا کار ہے

۳۰.   اور عورتوں نے شہر میں چرچا کیا کہ عزیز کی عورت اپنے غلام کو چاہتی ہے بے شک اس کی محبت میں فریفتہ ہو گئی ہے ہم تو اسے صریح غلطی پر دیکھتے ہیں

۳۱.    پھر جب عزیز کی بیوی نے ان کی ملامت سنی تو انہیں بھلا بھیجا اور ان کے واسطے ایک مجلس تیار کی اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک چھری دی اور کہا ان کے سامنے نکل آ پھر جب انہوں نے اسے دیکھا تو حیرت میں رہ گئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور کہا اللہ پاک ہے یہ انسان تو نہیں ہے یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے

۳۲.   کہا یہی وہ ہے کہ جس کے معاملہ میں تم نے مجھے ملامت کی تھی اور البتہ تحقیق میں نے اس سے دلی خواہش ظاہر کی تھی پھر اس نے اپنے آپ کو روک لیا اور اگر وہ میرا کہنا نہ مانے گا تو ضرور قید کر دیا جائے گا اور ذلیل ہو کر رہے گا

۳۳.   یوسف نے کہا اے میرے رب میرے لیے قید خانہ بہتر ہے اس کام سے کہ جس کی طرف مجھے بلا رہی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کا فریب دفع نہ کرے گا تو ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور جاہلوں میں سے ہو جاؤں گا

۳۴.   پھر اس کے رب نے اس کی دعا قبول کی پس ان کا فریب ان سے دور کر دیا گیا کیوں کہ وہی سننے والا جاننے والا ہے

۳۵.   ان لوگوں کو نشانیاں دیکھنے کے بعد یوں سمجھ میں آیا کہ اسے ایک مدت تک قید کر دیں

۳۶.   اور اس کے ساتھ دو جو ان قید خانہ میں داخل ہوئے ان میں سے ایک نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ شراب نچوڑتا ہوں اور دوسرے نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹی اٹھا رہا ہوں کہ اس میں سے جانور کھاتے ہیں ہمیں اس کی تعبیر بتلا ہم تجھے نیکو کار سمجھتے ہیں

۳۷.   کہا جو  کھانا تمہیں دیا جاتا ہے وہ ابھی آنے نہ پائے گا کہ اس سے پہلے میں تمہیں اس کی تعبیر بتلا دوں گا یہ ان چیزوں سے ہے جو  میرے رب نے مجھے سکھائی ہیں بے شک میں نے اس قوم کا مذہب ترک کر دیا ہے جو  اللہ پر ایمان نہیں لاتی اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں

۳۸.   اور میں اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب کا تابع ہو گیا ہوں ہمیں یہ جائز نہیں کی اللہ کے ساتھ کسی کو بھی شریک کریں یہ ہم پر اور سب لوگوں پر اللہ کا فضل ہے لیکن بہت لوگ شکر نہیں کرتے

۳۹.   اے قید خانہ کے رفیقو کیا کئی جدا جدا معبود بہتر ہیں یا اکیلا اللہ جو  زبردست ہے

۴۰.   تم اس کے سوا کچھ نہیں پوجتے مگر چند ناموں کو جو  تم نے اور تمہارے باپ داداؤں نے مقرر کر لیے ہیں اللہ نے ان کے متعلق کوئی سند نہیں اتاری حکومت سوا اللہ کے کسی کی نہیں ہے اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو یہی سیدھا راستہ ہے لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے

۴۱.    اے قید خانہ کے رفیقو تم دونوں میں سے ایک جو  ہے وہ اپنے آقا کو شراب پلائے گا جو  دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا پھر اس کے سر میں سے پرندے کھائیں گے اس کام کا فیصلہ ہو گیا ہے جس کی تم تحقیق چاہتے تھے

۴۲.   اور ان دونوں میں سے جسے شیطان نے اسے اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا پھر قید میں کئی برس رہا

۴۳.   اور بادشاہ نے کہا میں خواب دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں انہیں سات دبلی گائیں کھاتی ہیں اور سات سبز خوشے ہیں اور سات خشک اے دربار والو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتلاؤ اگر تم خواب کی تعبیر دینے والے ہو

۴۴.   انہوں نے کہا یہ خیالی خواب ہیں اور ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے

۴۵.   اور وہ بولا جو  ان دونوں میں سے بچا تھا اور اسے مدت کے بعد یاد آ گیا میں تمہیں اس کی تعبیر بتلاؤں گا سو تم مجھے بھیج دو

۴۶.   اے یوسف اے سچے ہمیں اس کی تعبیر بتلا کہ سات موٹی گایوں کو سات دبلی کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشے ہیں اور سات خشک تاکہ میں لوگوں کے پاس لے جاؤں شاید وہ سمجھ جائیں

۴۷.   کہا تم سات برس لگاتار کھیتی کرو گے پھر جو  کاٹو تو اسے اس کے خوشوں میں رہن ے دو مگر تھوڑا سا جو  تم کھاؤ

۴۸.   پھر اس کے بعد سات برس سختی کے آئیں گے جو  تم نے ان کے لیے رکھا تھا کھا جائیں گے مگر تھوڑا سا جو تم بیج کے واسطے روک رکھو گے

۴۹.   پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا اس میں لوگوں پر مینہ برسے گا اس میں رس نچوڑیں گے

۵۰.   اور بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لے آؤ پھر جب اس کے پاس قاصد پہنچا کہا اپنے آقا کے ہاں واپس جا اور اس سے پوچھ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے بے شک میرا رب ان کے فریب سے خوب واقف ہے

۵۱.    کہا تمہارا کیا واقعہ تھا جب تم نے یوسف کو پھسلایا تھا انہوں نے کہا اللہ پاک ہے ہمیں اس میں کوئی برائی معلوم نہیں ہوئی عزیز کی عورت بولی اب سچی بات ظاہر ہو گئی میں نے ہی اسے پھسلانا چاہا تھا اور وہ سچا ہے

۵۲.   یہ اس لیے کیا تاکہ عزیز معلوم کر لے کہ میں نے اس کی غائبانہ خیانت نہیں کی تھی اور بے شک اللہ خیانت کرنے والوں کے فریب کو چلنے نہیں دیتا

۵۳.   اور میں اپنے نفس کو پاک نہیں کہتا بے شک نفس تو برائی سکھاتا ہے مگر جس پرمیرا رب مہربانی کرے بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے

۵۴.   اور بادشاہ نے کہا کہ اسے میرے پاس لے آؤ تاکہ اسے خاص اپنے پاس رکھوں پھر جب اس سے بات چیت کی کہا بے شک تو آج سے ہمارے ہاں تو بڑا معزز اور معتبر ہے

۵۵.   کہا مجھے ملکی خزانوں پر مامور کر دو بے شک میں خوب حفاظت کرنے والا جاننے والا ہوں

۵۶.   اور ہم نے اس طور پر یوسف کو اس ملک میں با اختیار بنا دیا کہ اس میں جہاں چاہے رہے ہم جس پر چاہیں اپنی رحمت متوجہ کر دیں اور ہم نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے

۵۷.   اور آخرت کا ثواب ان کے لیے بہتر ہے جو  ایمان لائے اور پرہیزگاری میں رہے

۵۸.   اور یوسف کے بھائی آئے پھر اس کے ہاں داخل ہوئے تو اس نے انہیں پہچان لیا اور وہ پہچان نہیں سکے

۵۹.    اور جب انہیں ان کا سامان تیار کر دیا کہا میرے پاس وہ بھائی بھی لے آنا جو  تمہارے باپ کی طرف سے ہے تم نہیں دیکھتے میں ناپ پورا دیتا ہوں اور بڑا مہمان نواز ہوں

۶۰.   پھر اگر تم اسے میرے پاس نہ لائے تو نہ تمہیں میرے ہاں سے پیمانہ ملے گا اور نہ تم میرے پاس آنا

۶۱.    انہوں نے کہا اس کے باپ سے خواہش کریں گے اور ہم یہ کر کے ہی رہیں گے

۶۲.   اور اپنے خدمتگاروں سے کہہ دیا کہ ان کی پونجی ان کے اسباب میں رکھ دو تاکہ وہ اسے پہچانیں جب وہ لوٹ کر اپنے گھر جائیں شاید وہ پھر آ جائیں

۶۳.   پھر جب اپنے باپ کے ہاں پہنچے کہا اے باپ! ہمارا پیمانہ روک لیا گیا پس آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیجیئے کہ ہم پیمانہ لائیں اور بے شک ہم اس کا نگہبان ہیں

۶۴.   کہا میں تمہارا اس پرکیا اعتبار کروں مگر وہی جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی پر اعتبار کیا تھا سو اللہ بہتر نگہبان ہے اور وہ سب مہربانوں سے مہربان ہے

۶۵.   اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا انہوں نے اپنی پونجی پائی جو  انہیں واپس کر دی گئی تھی کہا اے ہمارے باپ! ہمیں اور کیا چاہیئے یہ ہماری پونجی ہمیں واپس کر دی گئی ہے اور اپنے گھر والوں کے لیے غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ لائیں گے اور یہ بوجھ ملنا آسان ہے

۶۶.    کہا اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا یہاں تک کہ مجھے اللہ کا عہد دو کہ البتہ اسے میرے ہاں ضرور پہنچا دیویں گے مگر یہ کہ تم سب گھر جاؤ پھر جب سب نے اسے عہد دیا کہا ہماری باتوں کا اللہ شاہد ہے

۶۷.   اور کہا اے میرے بیٹو! ایک دروازے سے داخل نہ ہونا اور مختلف دروازوں سے داخل ہونا اور میں تمہیں اللہ کی کیسی بات سے بچا نہیں سکتا اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں ہے اسی پر میرا بھروسہ ہے اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے

۶۸.   اور جب کہ اسی طرح داخل ہوئے جس طرح ان کے باپ نے حکم دیا تھا انہیں اللہ کی کسی بات سے کچھ نہ بچا سکتا تھا مگر یعقوب کے دل میں ایک خواہش تھی جسے اس نے پورا کیا اور وہ تو ہمارے سکھلانے سے علم والا تھا لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے

۶۹.    اور جب وہ یوسف کے پاس گئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی کہا کہ بے شک میں تیرا بھائی ہوں پس جو  کچھ یہ کرتے رہے ہیں اس پر غم نہ کر

۷۰.   پھر جب یوسف نے اس کا سامان تیار کر دیا تو اپنے بھائی کے اسباب میں کٹورا رکھ دیا پھر پکارے نے والے نے پکارا اے قافلہ والو! بے شک تم البتہ چور ہو

۷۱.    اس کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کیا چیز گم ہو گئی ہے

۷۲.   انہوں نے کہا ہمیں بادشاہ کا کٹورا نہیں ملتا جو  اسے لائے گا ایک اونٹ بھر کا غلہ پائے گا اور میں اس کا ضامن ہوں

۷۳.   انہوں نے کہا اللہ کی قسم تمہیں معلوم ہے ہم اس ملک میں شرارت کرنے کے لیے نہیں آئے اور نہ ہم کبھی چور تھے

۷۴.   انہوں نے کہا پھر اس کی کیا سزا ہے اگر تم جھوٹے نکلو

۷۵.   انہوں نے کہا اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے اسباب میں سے پایا جائے پس وہی اس کے بدلہ میں جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیتے ہیں

۷۶.   پھر یوسف نے اپنے بھائی کے اسباب سے پہلے ان کے اسباب دیکھنے شروع کیے پھر وہ کٹورا اپنے بھائی کے اسباب سے نکالا ہم نے یوسف کو ایسی تدبیر بتائی تھی بادشاہ کے قانون سے تو وہ اپنے بھائی کو ہرگز نہ لے سکتا تھا مگر یہ کہ اللہ چاہے ہم جس کے چاہیں درجے بلند کرتے ہیں اور ہر ایک دانا سے بڑھ کر دوسرا دانا ہے

۷۷.  انہوں نے کہا اگر اس نے چوری کی ہے تو اس سے پہلے اس کے بھائی نے بھی چوری کی تھی تب یوسف نے اپنے دل میں آہستہ سے کہا اور انہیں نہیں جتایا کہا تم درجے میں بدتر ہو اور اللہ خوب جانتا ہے جو  کچھ تم بیان کرتے ہو

۷۸.   انہوں نے کہا اے عزیز! بے شک اس کا باپ بوڑھا بڑی عمر کا ہے سو اس کی جگہ ہم میں سے ایک کو رکھ لے ہم تم کو احسان کرنے والا دیکھتے ہیں

۷۹.   کہا اللہ کی پناہ کہ ہم بجز اس کے جس کے پاس اپنا اسباب پایا کسی اور کو پکڑیں تب تو ہم بڑے ظالم ہیں

۸۰.   پھر جب اس سے نا امید ہوئے مشورہ کرنے کے لیے اکیلے ہو بیٹھے ان میں سے بڑے نے کہا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کا عہد لیا تھا اور پہلے جو یوسف کے حق میں قصور کر چکے ہو سو میں تو اس ملک سے ہرگز نہیں جاؤں گا یہاں تک کہ میرا با پ مجھے حکم دے یا میرے لیے اللہ کوئی حکم فرمائے اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

۸۱.    تم اپنے باپ کے پاس لوٹ جاؤ اور کہو اے ہمارے باپ! تیرے بیٹے نے چوری کی اور ہم نے وہی کہا تھا جس کا ہمیں علم تھا اور ہمیں غیب کی خبر نہ تھی

۸۲.   اور اس گاؤں سے پوچھ لیجیئے جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے بھی جس میں ہم آئے ہیں اور بے شک ہم سچے ہیں

۸۳.   کہا بلکہ تم نے دل سے ایک بات بنا لی ہے اب صبر ہی بہتر ہے اللہ سے امید ہے کہ شاید اللہ ان سب کو میرے پاس لے آئے وہی جاننے والا حکمت والا ہے

۸۴.   اور اس نے ان سے منہ پھیر لیا اور کہا ہائے یوسف! اور غم سے اس کی آنکھیں سفید ہو گئیں پس وہ سخت غمگین ہوا

۸۵.   انہوں نے کہا اللہ کی قسم تو یوسف کی یاد کو نہیں چھوڑے گا یہاں تک کہ نکما ہو جائے یا ہلاک ہو جائے

۸۶.   کہا میں تو اپنی پریشانی اور غم کا اظہار اللہ ہی کے سامنے کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے میں وہ جانتا ہوں جو  تم نہیں جانتے

۸۷.   اے میرے بیٹو! جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کی تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو بے شک اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو  کافر ہیں

۸۸.   پھر جب وہ ان کے پاس آئے تو کہا اے عزیز! ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو قحط کی وجہ سے بڑی تکلیف ہے اور کچھ نکمی چیز لائے ہیں سو آپ پورا غلہ بھر دیجیئے اور خیرات دیجئے بے شک اللہ خیرات دینے والوں کو ثواب دیتا ہے

۸۹.   کہا تمہیں یاد ہے جو  کچھ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا تھا جب تمہیں سمجھ نہ تھی

۹۰.    کہا کیا تو ہی یوسف ہے کہا میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر احسان کیا بے شک جو  ڈرتا ہے اور صبر کتا ہے تو اللہ بھی نیکوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

۹۱.     انہوں نے کہا اللہ کی قسم البتہ تحقیق اللہ نے تمہیں ہم پر بزرگی دی اور بے شک ہم غلط کار تھے

۹۲.    کہا آج تم پر کوئی الزام نہیں اللہ تمہیں بخشے اور وہ سب سے زیادہ مہربان ہے

۹۳.   یہ کرتہ میرا لے جاؤ اور اسے میرے باپ کے منہ پر ڈال دو کہ وہ بینا ہو جائے اور میرے پاس اپنے سب کنبے کو لے آؤ

۹۴.   اور جب قافلہ روانہ ہوا تو ان کے باپ نے کہا بے شک میں یوسف کی بو پاتا ہوں اگر مجھے دیوانہ نہ بناؤ

۹۵.    لوگوں نے کہا اللہ کی قسم بے شک تو البتہ اپنی گمراہی میں مبتلا ہے

۹۶.    پھر جب خوشخبری دینے والا آیا اس نے وہ کرتہ اس کے منہ پر ڈال دیا تو بینا ہو گیا کہا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو  تم نہیں جانتے

۹۷.   انہوں نے کہا اے ہمارے باپ! ہمارے گناہ بخشوا دیجیئے بے شک ہم ہی غلط کار تھے

۹۸.   کہا عنقریب اپنے رب سے تمہارے لی معافی مانگوں گا بے شک وہ غفور رحیم ہے

۹۹.    پھر جب یوسف کے پاس آئے تو اس نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں داخل ہو جاؤ اگر اللہ نے چاہا تو امن سے رہو گے

۱۰۰.  اور اپنے ماں باپ کو تخت پر اونچا بٹھایا اور اس کے آگے سب سجدہ میں گر پڑے اور کہا اے باپ میرے اس پہلے خواب کی یہ تعبیر ہے اسے میرے رب نے سچ کر دکھایا اور اس نے مجھ پر احسان کیا جب مجھے قید خانے سے نکالا اور تمہیں گاؤں سے لے آیا اس کے بعد کہ شیطان مجھ میں اور میرے بھائیوں میں جھگڑا ڈال چکا بے شک میرا رب جس کے لیے چاہتا ہے مہربانی فرماتا ہے بے شک وہی جاننے والا حکمت والا ہے

۱۰۱.   اے میرے رب تو نے مجھے کچھ حکومت دی ہے اور مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم بھی سکھلایا ہے اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے ! دنیا اور آخرت میں تو ہی میرا کارساز ہے تو مجھے اسلام پر موت دے اور مجھے نیک بختوں میں شامل کر دے

۱۰۲.  یہ غیب کی خبریں کہیں جو  ہم تیرے ہاں بھیجتے ہیں اور تو ان کے پاس نہیں تھا جب کہ انہوں نے اپنا ارادہ پکا کر لیا اور وہ تدبیریں کر رہے تھے

۱۰۳.  اور اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں خواہ تو کتنا ہی چاہے

۱۰۴.  اور آپ اس پر ان سے کوئی مزدوری بھی تو نہیں مانگتے یہ تو صرف تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے

۱۰۵.  اور آسمانوں اور زمین میں بہتی سی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ گزرتے ہیں اور ان سے منہ پھیر لیتے ہیں

۱۰۶.  اور ان میں سے اکثر ایسے بھی ہیں جو  اللہ کو مانتے بھی ہیں اور شرک بھی کرتے ہیں

۱۰۷. کیا اس سے بے خوف ہو چکے ہیں کہ انہیں اللہ کے عذاب کی ایک آفت آ پہنچے یا اچانک قیامت ان پر آ جائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو

۱۰۸.  کہہ دو میرا اور میرے تابعداروں کا بصیرت کے ساتھ یہ راستہ ہے کہ میں لوگوں کو اللہ کی طرف بلا رہا ہوں اور اللہ پا ک ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں

۱۰۹.  ا اور تجھ سے پہلے ہم نے جتنے پیغمبر بھیجے وہ سب بستیوں کے رہنے والے مرد ہی تھے ہم ان کی طرف وحی بھیجتے تھے پھر وہ زمین میں سیر کر کے کیوں نہیں دیکھتے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے تھے اور البتہ آخرت کا گھر پرہیز کرنے والوں کے لیے بہتر ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے

۱۱۰.   یہاں تک کہ جب رسول نا امید ہونے لگے اور خیال کیا کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا تب انہیں ہماری مدد پہنچی پھر جنہیں ہم نے چاہا بچا لیا اور ہمارے عذاب کو نا فرمانوں سے کوئی بھی روک نہیں سکتا

۱۱۱.    البتہ ان لوگوں کے حالات میں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے کوئی بنائی ہوئی بات نہیں ہے بلکہ اس کلام کے موافق ہے جو  اس سے پہلے ہے اور ہر چیز کا بیان اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لیے ہے جو  ایمان لاتے ہیں

 

سورۃ الّرَعدْ

شروع اللہ کے نام سے جو  بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.      یہ کتاب کی آیتیں ہیں اور جو  کچھ تجھ پر تیرے رب سے اترا سو حق ہے اور لیکن اکثر آدمی ایمان نہیں لاتے

۲.      اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر بلند کیا جنہیں تم دیکھ رہے ہو پھر عرش پر قائم ہوا اور سورج اور چاند کو کام پر لگا دیا ہر ایک اپنے وقت معین پر چل رہا ہے وہ ہر ایک کام کا انتظام کرتا ہے نشانیاں کھول کر بتاتا ہے تاکہ تم اپنے رب سے ملنے کا یقین کر لو

۳.     اور اسی نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا بنائے اور زمین میں ہر ایک پھل دو قسم کا بنایا دن کو رات سے چھپا دیتا ہے بے شک اس میں سوچنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں

۴.     اور زمین میں ٹکڑے ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں اور انگور کے باغ ہیں اور کھیتیاں اور کھجوریں ہیں ایک کی جڑ ملی ہوئی بعض بن ملی انہیں پانی بھی ایک ہی دیا جاتا ہے اور ہم ایک کو دوسرے پر پھلوں میں فضیلت دیتے ہیں بے شک اس میں عقل مندوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں

۵.     اگر تو عجیب بات چاہے تو ان کا یہ کہنا عجب ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہو گئے کیا نئے سرے سے بنائیں جائیں گے یہی وہ ہیں جو  اپنے رب سے منکر ہو گئے اور انہیں کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی دوزخی ہیں و ہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

۶.      اور تجھ سے بھلائی سے پہلے برائی کو جلد مانگتے ہیں اور ان سے پہلے بہت سے عذاب سے گزر چکے ہیں اور بے شک تیرا رب لوگوں کو باوجود ان کے ظلم کے معاف بھی کرتا ہے اور تیرے رب کا عذاب بھی سخت ہے

۷.     اور کافر کہتے ہیں اس کے رب سے اس پر کوئی نشانی کیوں نہیں اتری تم تو محض ڈرانے والے ہوں اور ہر قوم کے لیے ایک رہبر ہوتا آیا ہے

۸.     اللہ کو معلوم ہے کہ جو  کچھ ہر مادہ اپنے پیٹ میں لیے ہوئے ہے اور جو  کچھ پیٹ میں سکڑتا اور بڑھتا ہے اور اس کے ہاں ہر چیز کا اندازہ ہے

۹.      پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے سب سے بڑا بلند مرتبہ ہے

۱۰.    تم میں سے جو  شخص کوئی بات چپکے سے کہے یا پکار کر کہے اور جو  شخص رات میں کہیں چھپ جائے یا دن میں چلے پھرے یہ سب برابر ہیں

۱۱.     ہر شخص حفاظت کے لیے کچھ فرشتے ہیں اس کے آگے اور پیچھے اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے اور جب اللہ کو کسی قوم کی برائی چاہتا ہے پھر اسے کوئی نہیں روک سکتا اور اس کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہو سکتا

۱۲.    وہی ہے جو  تمہیں خوف یا امید دلانے کے لیے بجلی دکھاتا اور بھاری بادلوں کو اٹھاتا ہے

۱۳.    اور رعد ا سکی پاکی کے ساتھ ا سکی تعریف کرتا ہے اور سب فرشتے اس کے ڈر سے اور بجلیاں بھیجتا ہے پھر انہیں جس پر چاہتا ہے گرا دیتا ہے اور یہ تو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں حالانکہ وہ بڑی قوت والا ہے

۱۴.    اسی کو پکارنا بجا ہے اور اس کے سوا جن لوگوں کو پکارتے ہیں وہ ان کے کچھ بھی کام نہیں آتے مگر جیسا کوئی پانی کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے کہ اس کے منہ میں آ جائے حالانکہ وہ اس کے منہ تک نہیں پہنچتا اور کافروں کی جتنی پکار ہے سب گمراہی ہے

۱۵.    اور چارو ناچار اللہ ہی کو آسمان والے اور زمین والے سجدہ کرتے ہیں اور ان کے سائے بھی صبح اور شام

۱۶.    کہو آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے کہہ دو اللہ کہو پھر کیا تم نے اللہ کے سوا ان چیزوں کو معبود نہیں بنا رکھا جو  اپنے نفسوں کے نفع اور نقصان کے بھی مالک نہیں کہو کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہو سکتا ہے یا کہیں اندھیرا اور روشنی برابر ہو سکتے ہیں کیا جنہیں انہوں نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے انہوں نے بھی اللہ کی مخلوق جیسی کوئی مخلوق بنائی ہے پھر مخلوق ان کی نظر میں مشتبہ ہو گئی ہے پیدا کرنے والا اللہ ہے اور وہ اکیلا زبردست ہے

۱۷.    اس نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے اپنی مقدار میں نالے بہنے لگے پھر وہ سیلاب پھولا ہوا جھاگ اوپر لایا اور جس چیز کو آگ میں زیور یا کسی اور اسباب بنانے کے لیے پگھلاتے ہیں اس پر بھی ویسا ہی جھاگ ہوتا ہے اللہ حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے پھر جو  جھاگ ہے وہ یونہی جاتا رہتا ہے اور جو  لوگوں کو فائدہ دے وہ زمین میں ٹھیر جاتا ہے اسی طرح اللہ مثالیں بیان فرماتا ہے

۱۸.    جنہوں نے اپنے رب کا حکم مانا ان کے واسطے بھلائی ہے اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا اگر ان کے پاس سارا ہو جو  کچھ زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہو تو سب جرمانہ میں دینا قبول کریں گے ان لوگوں کے لیے برا حساب ہے اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے

۱۹.     بھلا جو  شخص جانتا ہے کہ تیرے رب سے تجھ پر جو  کچھ اترا ہے حق ہے اس کے برابر ہو سکتا ہے جو  اندھا ہے سمجھتے تو عقل والے ہی ہیں

۲۰.   وہ لوگ جو  اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اس عہد کو نہیں توڑتے

۲۱.    اور وہ لوگ جو  ملاتے ہیں جس کے ملانے کو اللہ نے فرمایا ہے اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور برے حساب کا خوف رکھتے ہیں

۲۲.   وہ جنہوں نے اپنے رب کی رضا مندی کے لیے صبر کیا اور نماز قائم کی اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کیا اور برائی کے مقابلے میں بھلائی کرتے ہیں انہیں کے لیے آخرت کا گھر ہے

۲۳.   ہمیشہ رہنے کے باغ جن میں وہ خود بھی رہیں گے اور ان کے باپ دادا اور بیویوں اور اولاد میں سے بھی جو  نیکو کار ہیں اور ان کے پاس فرشتے ہر دروازے سے آئیں گے

۲۴.   کہیں گے تم پر سلامتی ہو تمہارے صبر کرنے کی وجہ سے پھر آخرت کا گھر کیا ہی اچھا ہے

۲۵.   اور جو  لو گ اللہ کا عہد مضبوط کرنے کے بعد توڑ تے ہیں اور اس چیز کو توڑتے ہیں جسے اللہ نے جوڑنے کا حکم فرمایا اور ملک میں فساد کرتے ہیں ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے

۲۶.   اللہ ہی جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ اور تنگ کرتا ہے اور دنیا کی زندگی پر خوش ہیں اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں کچھ نہیں مگر تھوڑا سا اسباب

۲۷.   اور کافر کہتے ہیں اس پراس کے رب سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری کہہ دو اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جو  اس کی طرف رجوع کرتا ہے اسے اپنے تک پہنچنے کا راستہ دکھاتا ہے

۲۸.   وہ لوگ جو  ایمان لائے اور ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے تسکین ہوتی ہے خبردار! اللہ کی یاد ہی سے دل تسکین پاتے ہیں

۲۹.    جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے خوشخبری اور اچھا ٹھکانا ہے

۳۰.   اسی طرح ہم نے تجھے ایک امت میں بھیجا ہے کہ اس سے پہلے کئی امتیں گزر چکی ہیں تاکہ تو انہیں سنا دے جو  ہم نے تیری طرف حکم بھیجا ہے اور وہ تو رحمٰن کے منکر ہیں کہہ دو وہی میرا رب ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے

۳۱.    اور اگر تحقیق کوئی ایسا قرآن نازل ہوتا جس سے پہاڑ چلتے یا اس سے زمین کے ٹکڑے ہو جاتے یا اس سے مردے بول اٹھتے (تب بھی نہ مانتے ) بلکہ سب کام اللہ کے ہاتھ میں ہیں پھر کیا ایمان والے اس بات سے نا امید ہو گئے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو سب آدمیوں کو ہدایت کر دیتا اور کافروں پر تو ہمیشہ ان کی بد اعمالی سے کوئی نہ کوئی مصیبت آتی رہے گی یا وہ بلا ان کے گھر کے قریب نازل ہو گی یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ پورا ہو بے شک اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا

۳۲.   اور تجھ سے پہلے کئی رسولوں سے ہنسی کی گئی ہے پھر میں نے کافروں کو مہلت دی پھر انہیں پکڑ لیا پھر ہمارا عذاب کیسا تھا

۳۳.   بھلا جو  ہر کسی کے سر پر لیے کھڑا ہے جو  اس نے کیا ہے اور انہوں نے اللہ کے لیے شریک بنا رکھے ہیں کہہ دو ان کے نام بتلاؤ کیا اللہ کو وہ بات بتاتے ہو جسے وہ زمین میں نہیں جانتا یا اوپر ہی کی باتیں کرتے ہو بلکہ کافروں کے فریب انہیں بھلے معلوم کرائے گئے ہیں اور وہ راستہ سے روکے گئے ہیں اور جسے اللہ گمراہ کرے پھر اسے کوئی بھی ہدایت دینے والا نہیں ہے

۳۴.   ان کے لیے دنیا کی زندگی میں عذاب ہے اور البتہ آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے اور انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہو گا

۳۵.   اس جنت کا حال جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں جس کے میوے اور سائے ہمیشہ رہیں گے یہ پرہیزگاروں کا انجام ہے اور کافروں کا انجام آگ ہے

۳۶.   اور وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اس سے خوش ہوتے ہیں جو  تجھ پر نازل ہوا اور جماعتوں میں سے بعض لوگ اس کی بعضی بات نہیں مانتے کہہ دو مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ اللہ کی بندگی کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروں اس کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف میرا ٹھکانا ہے

۳۷.   اور اسی طرح ہم نے یہ کلام اتارا کتاب عربی زبان میں اور اگر تو ان کی خواہش کے مطابق چلے بعد اس علم کے جو  تجھے پہنچ چکا ہے تیرا اللہ سے کوئی حمایتی اور بچانے والا نہ ہو گا

۳۸.   اور البتہ تحقیق ہم نے تجھ سے پہلے کئی رسول بھیجے اور ہم نے انہیں بیویاں اور اولاد بھی دی تھی اور کسی رسول کے اختیار میں نہ تھا کہ وہ اللہ کے حکم کے سوا کوئی معجزہ لاتا ہر زمانے کے مناسب احکام ہوتے ہیں

۳۹.   اللہ جو  چاہے موقوف کر دیتا ہے اور باقی رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے

۴۰.   اور اگر ہم تجھے کوئی وعدہ دکھا دیں جو  ہم نے ان سے کیا ہے یا تجھے اٹھا لیں سو تیرے ذمہ تو پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمہ حساب لینا ہے

۴۱.    کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں اور اللہ حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کو ہٹا نہیں سکتا اور وہ جلد حساب لینے والا ہے

۴۲.   اور ان سے پہلے لوگ بھی تدبیریں کر چکے ہیں سو اصل تدبیر تو اللہ ہی کی ہے جو  کچھ کوئی کرتا ہے اسے سب خبر رہتی ہے اور ابھی کافروں کو معلوم ہو جائے گا کہ نیک انجام کس کا ہے

۴۳.   اور کہتے ہیں کہ تو رسول نہیں ہے کہہ دو میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ کافی ہے اور وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم ہے

 

سورۃ اِبْراٰہِيْم

شروع اللہ کے نام سے جو  بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.      یہ ایک کتاب ہے ہم نے اسے تیری طرف نازل کیا ہے تاکہ تو لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے اندھیروں سے روشنی کی طرف غالب تصرف کیے ہوئے راستہ کی طرف نکالے

۲.      یعنی اللہ جس کے لیے ہے جو  کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور کافروں پر افسوس کہ انہیں سخت عذاب ہونا ہے

۳.     جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں پسند کرتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں وہ دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں

۴.     اور ہم نے ہر پیغمبر کو اس کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا ہے تاکہ انہیں سمجھا سکے پھر اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے

۵.     اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا تھا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال اور انہیں اللہ کے دن یاد دلا بے شک اس میں ہر ایک صبر شکر کرنے والے کے لیے بڑی نشانیاں ہیں

۶.      اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تمہیں فرعون کی قوم سے چھڑا یا وہ تمہیں برا عذاب چکھاتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی

۷.     اور جب تمہارے رب نے سنا دیا تھا کہ البتہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو اور زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بھی سخت ہے

۸.     اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور جو  لوگ زمین میں ہیں سارے کفر کرو گے تو اللہ بے پروا تعریف کیا ہوا ہے

۹.      کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو  ان کے بعد ہوئے اللہ کے سوا جنہیں کوئی نہیں جانتا ان کے پاس ان کے رسول نشانیاں لے کر آئے پھر انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں لوٹائے اور کہا ہم نہیں مانتے جو  تمہیں دے کر بھیجا گیا ہے اور جس دین کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہمیں تو اس میں بڑا شک ہے

۱۰.    ان کے رسولوں نے کہا کیا تمہیں اللہ میں شک ہے جس نے آسمان او زمین بنائے وہ تمہیں بلاتا ہے تاکہ تمہارے کچھ گناہ بخشے اور تمہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دے انہوں نے کہا تم بھی تو ہمارے جیسے انسان ہو تم چاہتے ہو کہ ہمیں ان چیزوں سے روک دو جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے رہے سو کوئی کھلا ہوا معجزہ لاؤ

۱۱.     ان سے ان کے رسولوں نے کہا ضرور ہم بھی تمہارے جیسے ہی آدمی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے اور ہمارا کام نہیں کہ ہم اللہ کی اجازت کے سوا تمہیں کوئی معجزہ لا کر دکھائیں اور ایمان والوں کا بھروسہ اللہ ہی پر ہونا چاہیئے

۱۲.    اور ہم کیوں اللہ پر بھروسہ نہ کریں حالانکہ اسی نے ہمیں (سیدھے ) راستوں کی راہ نمائی کی ہے اور ہم ضرور صبر کریں گے اس ایذا پر جو  تم ہمیں دیتے ہو اور توکل کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے

۱۳.    اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے یا ہمارے دین میں لوٹ آؤ تب انہیں ان کے رب نے حکم بھیجا کہ ہم ان ظالموں کو ضرور ہلاک کر دیں گے

۱۴.    اور ان کے بعد اس زمین میں تمہیں آباد کر دیں گے یہ اس کے لیے ہے جو  میرے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور جس نے میرے عذاب سے خوف کھایا

۱۵.    اور پیغمبروں نے فیصلہ چاہا اور ہر ایک سرکش ضدی نامراد ہوا

۱۶.    اور اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا

۱۷.    جسے گھونٹ گھونٹ پیے گا اور اسے گلے سے نہ اتار سکے گا اور اس پر ہر طرف سے موت آئے گی اور وہ نہیں مرے گا اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہو گا

۱۸.    ان کی مثال جنہوں نے اپنے رب سے انکار کیا ایسی ہے کہ ان کے اعمال گویا راکھ ہیں کہ جیسی آندھی کے دن ہوا اڑا کر لے گئی ہو جو کچھ انہوں نے کمایا تھا اس میں کچھ بھی ان کے ہاتھ میں نہ رہا ہو یہ بھی بڑی دو رکی گمراہی ہے

۱۹.     کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک طور پر بنایا اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور نئی مخلوق لے آئے

۲۰.   اور یہ اللہ پر کچھ مشکل نہیں ہے

۲۱.    اور یہ سب اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے تب کمزور متکبروں سے کہیں گے ہم تو تمہارے تابع تھے سو ہمیں اللہ کے عذاب سے کچھ بچاؤ گے وہ کہیں گے اگر ہمیں اللہ ہدایت کرتا تو ہم تمہیں ہدایت کرتے اب ہمارے لیے برابر ہے کہ ہم چیخیں چلائیں یا صبر کریں ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں

۲۲.   اور جب فیصلہ ہو چکے گا تو شیطان کہے گا بے شک اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا پھر میں نے وعدہ خلافی کی اور میرا تم پر اس کے سوا کوئی زور نہ تھا کہ میں نے تمہیں بلایا پھر تم نے میری بات کو مان لیا پھر مجھے الزام نہ دو اور اپنے آپ کو الزام دونہ میں تمہارا فریاد رس ہوں اور نہ تم میرے فریاد رس ہو میں خود تمہارے اس فعل سے بیزار ہوں کہ تم اس سے پہلے مجھے شریک بناتے تھے بے شک ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے

۲۳.   اور جو  لوگ ایمان لائے تھے اور نیک کام کیے تھے وہ باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان میں اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ رہیں گے آپس میں دعائے خیر ان کی سلام ہو گی

۲۴.   کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کلمہ پاک کی ایک مثال بیان کی ہے گویا وہ ایک پاک درخت ہے کہ جس کی جڑ مضبوط اور اس کی شاخ آسمان ہے

۲۵.   وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت اپنا پھل لاتا ہے اور اللہ لوگوں کے واسطے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ سمجھیں

۲۶.   اور ناپاک کلمہ کی مثال ایک ناپاک درخت کی سی ہے جو  زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جائے اسے کچھ ٹھیراؤ نہیں ہے

۲۷.   اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت کی زندگی میں سچی بات پر ثابت قدم رکھتا ہے اور ظالموں کو گمراہ کر تا ہے اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے

۲۸.   کیا تو نے انہیں نہیں دیکھا کہ جنہوں نے اللہ کی نعمت کے بدلے میں ناشکری کی اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا

۲۹.    جو دوزخ ہے اس میں داخل ہوں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے

۳۰.   اور لوگوں نے اللہ کی راہ سے بہکانے کے لیے شریک بنا رکھے ہیں کہہ دو نفع اٹھا لو پھر تمہیں آگ کی طرف لوٹنا ہے

۳۱.    میرے بندوں کو کہہ دو جو  ایمان لائے ہیں نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کریں اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہے نہ دوستی

۳۲.   اللہ وہ ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی نازل کیا پھر اس سے تمہارے کھانے کو پھل نکالے اور کشتیاں تمہارے تابع کر دیں تاکہ دریا میں اس کے حکم سے چلتی رہیں اور نہریں تمہارے تابع کر دیں

۳۳.   اور سورج اور چاند کو تمہارے تابع کر دیا جو  ہمیشہ چلنے والے ہیں اور تمہارے لیے رات اور دن کو تابع کیا

۳۴.   اور جو  چیز تم نے ان سے مانگی اس نے تمہیں دی اور اگر اللہ کی نعمتیں شمار کرنے لگو تو انہیں شمار نہ کر سکو بے شک انسان بڑا بے انصاف اور ناشکرا ہے

۳۵.   اور جس وقت ابراہیم نے کہا اے میرے رب ! اس شہر کو امن والا کر دے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا

۳۶.   اے میرے رب! انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا ہے پس جس نے میری پیروی کی وہ تو میرا ہے اور جس نے نافرمانی کی پس تحقیق تو بخشنے والا مہربان ہے

۳۷.   اے رب میرے ! میں نے اپنی کچھ اولاد ایسے میدان میں بسائی ہے جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت والے گھر کے پاس اے رب ہمارے ! تاکہ نماز کو قائم رکھیں پھر کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں میووں کی روزی دے تاکہ وہ شکر کریں

۳۸.   اے رب ہمارے ! بے شک تو جانتا ہے جو  کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو  کچھ ظاہر کرتے ہیں اور اللہ پر کوئی چیز زمین اور آسمان میں پوشیدہ نہیں

۳۹.   اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اتنی بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے بے شک میرا رب دعاؤں کا سننے والا ہے

۴۰.   اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا دے اے ہمارے رب! اور میری دعا قبول فرما

۴۱.    اے ہمارے رب! مجھے اور میرے ماں باپ کو اور ایمانداروں کو حساب قائم ہونے کے دن بخش دے

۴۲.   تو ہر گز خیال نہ کر کہ اللہ ان کاموں سے بے خبر ہے جو  ظالم کرتے ہیں انہیں صرف اس دن تک مہلت دے رکھی ہے جس میں نگاہیں پھٹی رہ جائیں گی

۴۳.   وہ سرا اٹھائے ہوئے دوڑتے چلے جا رہے ہوں گے کہ ان کی نظر ان کی طرف ہٹ کر نہیں آوے گی اور ان کے دل اڑ گئے ہوں گے

۴۴.   اور لوگوں کو اس دن سے ڈراوے کہ ان پر عذاب آئے گا تب ظالم کہیں گے اے رب ہمارے ! ہمیں تھوڑی مدت تک مہلت دے کہ ہم تیرا بلانا قبول کر لیں اور رسولوں کی پیروی کر لیں کیا تم نے پہلے قسم نہیں کھائی تھی کہ تمہیں کہیں جانا ہی نہیں ہے

۴۵.   اور تم انہیں لوگوں کی بستیوں میں آباد تھے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اور تمہیں معلوم ہو چکا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا  تھا اور ہم نے تمہیں سب قصے بتلائے تھے

۴۶.   اور ان لوگوں نے اپنی تدبیریں کی تھیں اور ان کی تدبیریں اللہ کے سامنے تھیں اگر چہ ان کی تدبیریں ایسی تھی کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں

۴۷.   پس اللہ کو اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرنے والا خیال نہ کریں بے شک اللہ زبردست بدلہ لینے والا ہے

۴۸.   جس دن اس زمین میں سے اور زمین بدلی جائے گی اور آسمان بدلے جاویں گے اور سب کے سب ایک زبردست اللہ کے روبرو پیش ہوں گے

۴۹.   اور تو اس دن گناہگاروں کو زنجیروں میں جکڑے ہوئے دیکھے گا

۵۰.   کرتے ان کے گندھک کے ہوں گے اور ان کے چہروں پر آگ لپٹی ہو گی

۵۱.    تاکہ اللہ ہر شخص کو اس کے کیے کی سزا دے بے شک اللہ بڑی جلدی حساب لینے والا ہے

۵۲.   یہ قرآن لوگوں کے لیے اعلان ہے اور تاکہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو ڈرایا جائے اور تاکہ وہ معلوم کر لیں کہ وہی ایک معبود ہے اور تاکہ عقلمند نصیحت حاصل کریں

 

سورۃ الحجر

شروع اللہ کے نام سے جو  بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.      یہ آیتیں کتاب کی ہیں اور قرآن واضح کی

۲.      کافر بڑی حسرت کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہو جاتے

۳.     انہیں چھوڑ دو کھا لیں اور فائدہ اٹھا لیں اور انہیں آرزو بھلائے رکھے سو آئندہ معلوم کر لیں گے

۴.     اور ہم نے جتنی بستیاں ہلاک کی ہیں ان سب کے لیے ایک مقرر وقت لکھا ہوا تھا

۵.     کوئی قوم اپنے وقت مقرر سے نہ پہلے ہلاک ہوئی ہے نہ پیچھے رہی ہے

۶.      اور انہوں نے کہا اے وہ شخص جس پر قرآن نازل کیا گیا ہے بے شک تو مجنون ہے

۷.     اگر تم سچے ہو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتے

۸.     ہم فرشتہ تو فیصلہ ہی کے لیے بھیجا کرتے ہیں اور اس وقت انہیں مہلت نہیں ملے گی

۹.      ہم نے یہ نصیحت اتار دی ہے اور بے شک ہم اس کے نگہبان ہیں

۱۰.    اور تجھ سے پہلے ہم پہلی قوموں میں بھی رسول بھیج چکے ہیں

۱۱.     اور وہ بھی جب کوئی رسول ان کے پاس آتا ہے تو اس سے ٹھٹھا ہی کرتے

۱۲.    اسی طرح ہم یہ ٹھٹھا ان مجرموں کے دلوں میں ڈال دیتے ہیں

۱۳.    یہ لوگ قرآن پر ایمان نہیں لاتے اور یہ پہلوں کا دستور چلا آیا ہے

۱۴.    اور اگر ہم ان پر آسمان سے دروازہ کھول دیں پھر اس میں سے چڑھ جائیں

۱۵.    البتہ کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی تھی بلکہ ہم پر جادو کیا گیا ہے

۱۶.    اور البتہ تحقیق ہم نے آسمان پر برج بنائے ہیں اور دیکھنے والوں کی نظر میں اسے رونق دی ہے

۱۷.    اور ہم نے اسے ہر شیطان مردود سے محفوظ رکھا

۱۸.    مگر جس نے چوری سے سن لیا تو اس کے پیچھے چمکتا ہوا انگارہ پڑا

۱۹.     اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس پر پہاڑ رکھ دیے اور اس میں ہر چیز اندازے سے اگائی

۲۰.   اور اس میں تمہارے لیے روزی کے اسباب بنا دیئے اور ان کے لیے بھی جنہیں تم روزی دینے والے نہیں ہو

۲۱.    اور ہر چیز کے ہمارے پاس خزانے ہیں اور ہم صرف اسے اندازہ معین پر نازل کرتے ہیں

۲۲.   اور ہم نے بادل اٹھانے والی ہوائیں بھیجیں پھر ہم نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر وہ تمہیں پلایا اور تمہارے پاس اس کا خزانہ نہیں ہے

۲۳.   اور بے شک ہم ہی زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ا خیر مالک بھی ہم ہی ہیں

۲۴.   اور ہمیں تم میں سے اگلے اور پچھلے سب معلوم کر لیں

۲۵.   اور بے شک تیرا رب ہی انہیں جمع کرے گا بے شک وہ حکمت والا خبردار ہے

۲۶.   اور البتہ تحقیق ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے جو  سڑے ہوئے گارے سے تھی پیدا کیا

۲۷.   اور ہم نے اس سے پہلے جنوں کو آگ کے شعلے سے بنایا تھا

۲۸.   اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں ایک بشر کو بجتی ہوئی مٹی سے جو  کے سڑے ہوئے گارے کی ہو گی پیدا کرنے والا ہوں

۲۹.    پھر جب میں اسے ٹھیک بنا لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدہ میں گر پڑنا

۳۰.   پھر سب کے سب فرشتوں نے سجدہ کیا

۳۱.    مگر ابلیس نے انکار کیا کہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو

۳۲.   فرمایا اے ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا

۳۳.   کہا میں ایسا نہ تھا کہ ایک ایسے بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے بجتی ہوئی مٹی سے جو  سڑے ہوئے گارے کی تھی پیدا کیا ہے

۳۴.   کہا تو آسمان سے نکل جا بے شک تو مردود ہو گیا

۳۵.   اور بے شک تجھ پر قیامت کے دن تک لعنت رہے گی

۳۶.   کہا اے میرے رب! تو پھر مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے

۳۷.   فرمایا بے شک تجھے مہلت ہے

۳۸.   وقت معلوم کے دن تک

۳۹.   کہا اے میرے رب! جیسا تو نے مجھے گمراہ لیا ہے البتہ ضرور ضرور میں زمین میں انہیں ان کے گناہوں کو مرغوب کر کے دکھاؤں گا اور ان سب کو گمراہ کروں گا

۴۰.   سوائے تیرے ان بندوں کے جو  ان میں مخلص ہوں گے

۴۱.    فرمایا یہ راستہ مجھ پر سیدھا ہے

۴۲.   بے شک میرے بندوں پر تیرا کچھ بھی بس نہیں چلے گا مگر جو  گمراہوں میں سے تیرا تابعدار ہوا

۴۳.   اور بے شک ان سب کا وعدہ دوزخ پر ہے

۴۴.   اس کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لیے ان کے الگ الگ حصے ہیں

۴۵.   بے شک پرہیزگار باغوں اور چشموں میں رہیں گے

۴۶.   ان باغوں میں سلامتی اور امن سے جا کر رہو

۴۷.   اور ان کے دلوں میں جو  کینہ تھا ہم وہ سب دور کر دیں گے سب بھائی بھائی ہوں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھنے والے ہوں گے

۴۸.   انہیں وہاں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے

۴۹.   میرے بندوں کو اطلاع دے کہ بے شک میں بخشنے والا مہربان ہوں

۵۰.   اور بے شک میرا عذاب وہی دردناک عذاب ہے

۵۱.    اور انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا حال سنا دو

۵۲.   جب اس کے گھر میں داخل ہوئے اور کہا سلام اس نے کہا بے شک ہمیں تم سے ڈر معلوم ہوتا ہے

۵۳.   کہا ڈرو مت بے شک ہم تمہیں ایک دن لڑکے کی خوشخبری سناتے ہیں

۵۴.   کہا مجھے اب بڑھاپے میں خوشخبری سناتے ہو سو کس چیز کی خوشخبری سناتے ہو

۵۵.   انہوں نے کہا ہم نے تمہیں بھی سچی خوشخبری سنائی ہے سو تو نا امید نہ ہو

۵۶.   کہا اپنے رب کی رحمت سے نا امید تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں

۵۷.   کہا اے فرشتو! پھر تمہارا کیا مقصد ہے

۵۸.   انہوں نے کہا ہم ایک نافرمان قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

۵۹.    مگر لوط کے گھر والے کہ ہم ان سب کو بچا لیں گے

۶۰.   مگر اس کی بیوی ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں سے ہے

۶۱.    پھر جب لوط کے گھر فرشتے پہنچے

۶۲.   کہا بے شک تم اجنبی لوگ ہو

۶۳.   انہوں نے کہا بلکہ ہم تیرے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں وہ جھگڑتے تھے

۶۴.   اور ہم تیرے پاس پکی بات لائے ہیں اور بے شک ہم سچ کہتے ہیں

۶۵.   پس تم اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے لے نکلو اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے اور چلے جاؤ جہاں تمہیں حکم ہے

۶۶.    اور ہم نے لوط کو قطعی طور پر یہ بات واضح کر دی تھی کہ صبح ہوتے ہی ان کی جڑ کاٹ دی جائے گی

۶۷.   اور شہر والے خوشیاں کرتے ہوئے آئے

۶۸.   لوط نے کہا یہ لوگ میرے مہمان ہیں سو مجھے ذلیل نہ کرو

۶۹.    اور اللہ سے ڈرو اور مجھے بے آبرو نہ کرو

۷۰.   انہوں نے کہا کیا ہم نے تمہیں دنیا بھر کی حمایت سے منع نہیں کیا ہے

۷۱.    کہا یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کرنے والے ہو

۷۲.   تیری جان کی قسم ہے وہ اپنی مستی میں اندھے ہو رہے تھے

۷۳.   پھر دن نکلتے ہی انہیں ہولناک آواز نے آ لیا

۷۴.   پھر ہم نے ان بستیوں کو زیرو زبر کر دیا اور ان پر کنکر کے پتھر برسائے

۷۵.   بے شک اس واقعہ میں اہلِ بصیرت کے لیے نشانیاں ہیں

۷۶.   اور بے شک یہ بستیاں سیدھے راستے پر واقع ہیں

۷۷.  بے شک اس میں ایمانداروں کے لیے نشانیاں ہیں

۷۸.   اور بن کے لوگ بھی بدکار تھے

۷۹.   پھر ہم نے ان سے بھی بدلہ لیا اور یہ دونوں بستیاں کھلے راستہ پر واقع ہیں

۸۰.   اور بے شک حجر والوں نے رسولوں کو جھٹلایا تھا

۸۱.    اور ہم نے انہیں اپنی نشانیاں بھی دی تھیں پر وہ ان سے روگردانی کرتے تھے

۸۲.   او وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے کہ امن میں رہیں

۸۳.   پھر انہیں صبح کے وقت سخت آواز نے آ پکڑا

۸۴.   پھر ان کے دنیاوی ہنر ان کے کچھ بھی کام نہ آئے

۸۵.   اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان کی درمیانی چیزوں کو بغیر حکمت کے پیدا نہیں کیا اور قیامت ضرور آنے والی ہے پر تو ان سے خوش خلقی کے ساتھ کنارہ کر

۸۶.   بے شک تیار رب وہی پیدا کرنے والا جاننے والا ہے

۸۷.   اور ہم نے تمہیں سات آیتیں دیں جو  (نماز میں) دہرائی جاتی ہیں اور قرآن عظمت والا دیا

۸۸.   اور تو اپنی آنکھ اٹھا کر بھی ان چیزوں کو نہ دیکھ جو  ہم نے مختلف قسم کے کافروں کو استعمال کے لیے دے رکھی ہیں اور ان پر غم نہ کر اور اپنے بازو ایمان والوں کے لیے جھکا دے

۸۹.   اور کہہ دو بے شک میں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں

۹۰.    جیسا ہم نے (عذاب) ان بانٹنے والوں پر بھیجا ہے

۹۱.     جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کیا ہے

۹۲.    پھر تیرے رب کی قسم ہے البتہ ہم ان سب سے سوال کریں گے

۹۳.   اس چیز سے کہ وہ کرتے تھے

۹۴.   سو تو کھول کر سنا دے جو  تجھے حکم دیا گیا ہے اور مشرکوں کی پروا نہ کر

۹۵.    بے شک ہم تیری طرف سے ٹھٹھا کرنے والوں کے لیے کافی ہیں

۹۶.    اور جو  اللہ کے ساتھ دوسرا خدا مقرر کرتے ہیں سو عنقریب معلوم کر لیں گے

۹۷.   اور ہم جانتے ہیں کہ تیرا دل ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو  وہ کہتے ہیں

۹۸.   سو تو اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ کیے جا اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو

۹۹.    اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت آ جائے

 

سورۃ  النحل

شروع اللہ کے نام سے جو  بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.      اللہ کا حکم آ پہنچا تم اس میں جلدی مت کرو وہ لوگوں کے شرک سے پاک اور برتر ہے

۲.      وہ اپنے بندوں سے جس کے پاس چاہتا ہے فرشتوں کو وحی دے کر بھیج دیتا ہے یہ کہ خبردار کر دو کہ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں پس مجھ سے ڈرتے رہو

۳.     اسی نے آسمان اور زمین کو ٹھیک طور پر بنایا ہے وہ ان کے شرک سے پاک ہے

۴.     اسی نے آدمی کو ایک بوند سے پیدا کیا پھر وہ یکایک کھلم کھلا جھگڑنے لگا

۵.     اور تمہارے واسطے چار پایوں کو بھی اسی نے بنایا ان میں تمہارے لیے جاڑے کا بھی سامان ہے اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے کھاتے بھی ہو

۶.      اور تمہارے لیے ان میں زینت بھی ہے جب شام کو چرا کر لاتے ہو اور جب چرانے لے جاتے ہو

۷.     اور وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر ان شہروں تک لے جاتے ہیں کہ جہاں تک تم جان کو تکلیف میں ڈالنے کے سوا نہیں پہنچ سکتے تھے بے شک تمہارا رب شفقت کرنے والا مہربان ہے

۸.     اور گھوڑے خچر اور گدھے پیدا کیے کہ ان پر سوار ہو اور زینت کے لیے اور وہ چیزیں پیدا کرتا ہے جو  تم نہیں جانتے

۹.      اور اللہ تک سیدھی راہ پہنچتی ہے اور بعض ان میں ٹیڑھی بھی ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو سیدھی راہ بھی دکھا دیتا

۱۰.    وہی ہے جس نے آسمان سے تمہارے لیے پانی نازل کیا اسی میں سے پیتے ہو اور اسی سے درخت ہوتے ہیں جن میں چراتے ہو

۱۱.     تمہارے واسطے اسی سے کھیتی اور زیتون اور کھجوریں اور انگور اور ہر قسم کے میوے اگاتا ہے بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو  غور کرتے ہیں

۱۲.    اور رات اور دن اور سورج اور چاند کو تمہارے کام میں لگا دیا ہے اور اسی کے حکم سے ستارے بھی کام میں لگے ہوئے ہیں بے شک اس میں لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو  سمجھ رکھتے ہیں

۱۳.    اور تمہارے واسطے جو  چیزیں زمین میں رنگ برنگ کی پھیلائی ہیں ان میں لوگوں کے لیے نشانی ہے ہے جو  سوچتے ہیں

۱۴.    اور وہ وہی ہے جس نے دریا کو کام میں لگا دیا کہ اس میں تازہ گوشت کھاؤ اور اسی سے زیور نکالو جسے تم پہنتے ہو اور تو اس میں جہازوں کو دیکھتا ہے کہ پانی کو چیرتے ہوئے چلے جاتے ہیں اور تاکہ تم اس کے فضل کو تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو

۱۵.    اور زمین پر پہاڑوں کے بوجھ ڈال دیے تاکہ تمہیں لے کر نہ ڈگمگائے اور تمہارے لیے نہریں اور راستے بنا دیے تاکہ تم راہ پاؤ

۱۶.    اور نشانیاں بنائیں اور ستاروں سے لوگ راہ پاتے ہیں

۱۷.    پھر کیا جو  شخص پیدا کرے اس کے برابر ہے جو  کچھ بھی پیدا نہ کرے کیا تم سوچتے نہیں

۱۸.    اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننے لگو تو ان کا شمار نہیں کر سکو گے بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

۱۹.     اور اللہ جانتا ہے جو  تم چھپاتے ہو اور جو  تم ظاہر کرتے ہو

۲۰.   اور جنہیں اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے ہوئے ہیں

۲۱.    وہ تو مردے ہیں جن میں جان نہیں اور وہ نہیں جانتے کہ لوگ کب اٹھائے جائیں گے

۲۲.   تمہارا معبود اکیلا معبود ہے پھر جو  آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل نہیں مانتے اور وہ تکبر کرنے والے ہیں

۲۳.   ضرور اللہ جانتا ہے جو  کچھ چھپاتے ہیں اور جو  کچھ ظاہر کرتے ہیں بے شک وہ غرور کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

۲۴.   اور جب ان سے کہا جائے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے کہتے ہیں پہلے لوگوں کے قصے ہیں تاکہ قیامت کے دن اپنے بوجھ پورے اٹھائیں اور کچھ ان کے بوجھ جنہیں بے علمی سے گمراہ کرتے ہیں خبردار برا بوجھ ہے جو اٹھاتے ہیں

۲۵.   ان سے پہلے لوگوں نے بھی مکر کیا تھا پھر اللہ نے ان کی عمارت کو جڑوں سے ڈھا دیا پھر ان پر اوپر سے چھت گر پڑی اور ان پر عذاب آیا جہاں سے انہیں خبر بھی نہ تھی

۲۶.   پھر قیامت کے دن انہیں رسوا کرے گا اور کہے گا میرے شریک کہاں ہیں جن پر تمہیں بڑی ضد تھی جنہیں علم دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ بے شک آج کافروں کے لیے رسوائی اور برائی ہے

۲۷.   یہ وہ لوگ ہیں کہ فرشتوں نے ان کی ایسی حالت میں روح نکالی تھی کہ وہ اپنے آپ پر ظلم کر رہے تھے

۲۸.   پھر وہ صلح کا پیغام بھیجیں گے کہ ہم تو کوئی برا کام نہ کرتے تھے کیوں نہیں بے شک اللہ کو تمہارے اعمال کی پوری خبر ہے

۲۹.    سو دوزخ کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ اس میں ہمیشہ رہو پس متکبرین کا کیا ہی برا ٹھکانہ ہے

۳۰.   اور پرہیزگاروں سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے تو کہتے ہیں اچھی چیز جنہوں نے نیکی کی ہے (ان کے لیے ) اس دنیا میں بھی بہتری ہے اور البتہ آخرت کا گھر تو بہت ہی بہتر ہے اور پرہیزگاروں کا کیا ہی اچھا گھر ہے

۳۱.    ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جو  چاہیں گے انہیں وہاں ملے گا اللہ پرہیزگاروں کو ایسا ہی بدلہ دے گا

۳۲.   جن کی جان فرشتے قبض کرتے ہیں ایسے حال میں کہ وہ پاک ہیں فرشتے کہیں گے تم پر سلامتی ہو بہشت میں داخل ہو جاؤ بسبب ان کاموں کے جو  تم کرتے تھے

۳۳.   کیا اب اس کے منتظر ہیں کہ ان پر فرشتے آویں یا تیرے رب کا حکم آئے اسی طرح ان سے پہلوں نے بھی کیا تھا اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا اور لیکن وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرتے تھے

۳۴.   پھر انہیں ان کے بد اعمال کے نتیجے مل کر رہے اور جس کی وہ ہنسی اڑایا کرتے تھے وہی ان پر نازل ہوا

۳۵.   اور مشرک کہتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی چیز کی عبادت نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور اس کے حکم کے سوا ہم کسی چیز کو حرام نہ ٹھیراتے اسی طرح کیا ان لوگوں نے جو  ان سے پہلے تھے پھر رسولوں کے ذمہ تو صرف صاف پہنچا دینا ہے

۳۶.   اور البتہ تحقیق ہم نے ہر امت میں یہ پیغام دے کر رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور شیطان سے بچو پھر ان میں سے بعض کو اللہ نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ثابت ہوئی پھر ملک میں پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا

۳۷.   اگر تو انہیں ہدایت پر لانے کی طمع کرے تو اللہ ہدایت نہیں دیتا اس شخص کو جسے گمراہ کر دے اور نہ ان کے لیے کوئی مددگار ہو گا

۳۸.   اور اللہ کی سخت قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اللہ انہیں اٹھائے گا اس شخص کو جو  مر جائے گا ہاں اس نے اپنے ذمہ پکا وعدہ کر لیا ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے

۳۹.   تاکہ ان پر ظاہر کر دے وہ بات جس میں یہ جھگڑتے ہیں اور تاکہ کافر معلوم کر لیں کہ وہ جھوٹے تھے

۴۰.   ہم جس کام کے کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے لیے ہمارا اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ ہم اسے کہہ دیں کہ ہو جا پھر ہو جاتا ہے

۴۱.    اور جنہوں نے اللہ کے واسطے گھر چھوڑا اس کے بعد ان پر ظلم کیا گیا تھا تو البتہ ہم نے انہیں دنیا میں اچھی جگہ دیں گے اور آخرت کا ثواب تو بہت ہی بڑا ہے کاش یہ لوگ سمجھ جاتے

۴۲.   جو لوگ ثابت قدم رہے اور اپنے رب پر بھروسہ کیا

۴۳.   اور ہم نے تجھ سے پہلے بھی تو انسان ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے سو اگر تمہیں معلوم نہیں تو اہلِ علم سے پوچھ لو

۴۴.   ہم نے انہیں معجزات اور کتابیں دے کر بھیجا تھا اور ہم نے تیری طرف قرآن نازل کیا تاکہ لوگوں کے لیے واضح کر دے جو  ان کی طرف نازل کیا گیا ہے اور تاکہ وہ سوچ لیں

۴۵.   پس کیا وہ لوگ نڈر ہو گئے ہیں جو  برے فریب کرتے ہیں اس سے کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ان پر عذاب آئے جہاں سے انہیں خبر بھی نہ ہو

۴۶.   یا انہیں چلتے پھرتے پکڑے پس وہ عاجز کرنے والے نہیں ہیں

۴۷.   یا انہیں ڈرانے کے بعد پکڑے پس تحقیق تمہارا رب نہایت ہی شفیق رحم کرنے والا ہے

۴۸.   کیا وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کو نہیں دیکھتے کہ کے سائے دائیں اور بائیں طرف جھکے جا رہے ہیں اور نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ کو سجدہ کر رہے ہیں

۴۹.   اور جو  آسمان میں ہے اور جو  زمین میں ہے جانداروں سے اور فرشتے سب اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے

۵۰.   وہ اپنے بالا دست رب سے ڈرتے ہیں اور انہیں جو  حکم دیا جاتا ہے وہ بجا لاتے ہیں

۵۱.    اللہ نے کہا ہے دو معبود نہ بناؤ وہ ایک ہی معبود ہے پھر مجھ ہی سے ڈرو

۵۲.   اور اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور عبادت اسی کی لازم ہے پھر کیا اللہ کے سوا اوروں سے ڈرتے ہو

۵۳.   اور تمہارے پاس جو  نعمت بھی ہے سو اللہ کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تواسی سے فریاد کرتے ہو

۵۴.   پھر جب تم سے تکلیف دور کر دیتا ہے تو فوراً تم میں سے ایک جماعت اپنے رب کے ساتھ شریک بنانے لگتی ہے

۵۵.   تاکہ جو  نعمتیں ہم نے انہیں دی تھیں ان کی ناشکری کریں خیر نفع اٹھا لو آ گے چل کر معلوم کر لو گے

۵۶.   اور جنہیں وہ جانتے بھی نہیں ان کے لیے ہماری دی ہوئی چیزوں میں سے ایک حصہ مقرر کرتے ہیں اللہ کی قسم البتہ تم سے ان بہتانوں کی ضرور باز پرس ہو گی

۵۷.   اور اللہ کے لیے بیٹیاں ٹھیراتے ہیں وہ اس سے پاک ہے اور اپنے لیے جو  دل چاہتا ہے

۵۸.   اور جب ان میں سے کسی کی بیٹی کی خوشخبری دی جائے اس کا منہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ غمگین ہوتا ہے

۵۹.    اس خوشخبری کی برائی باعث لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے آیا اسے ذلت قبول کر کے رہنے دے یا اس کو مٹی میں دفن کر دے دیکھو کیا ہی برا فیصلہ کرتے ہیں

۶۰.   جو آخرت کو نہیں مانتے ان کی بری مثال ہے اور اللہ کی شان سب سے بلند ہے اور وہی زبردست حکمت والا ہے

۶۱.    اور اگر اللہ لوگوں کو ان کی بے انصافی پر پکڑے تو زمین پر کسی جاندار کو نہ چھوڑے لیکن ایک مدت مقرر تک انہیں مہلت دیتا ہے پھر جب ان کا وقت آتا ہے تو نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں

۶۲.   اور اللہ کے لیے وہ چیزیں تجویز کرتے ہیں جنہیں آپ بھی پسند نہیں کرتے اور زبان سے جھوٹے دعوے کرتے ہیں کہ آخرت کی بھلائی انہیں کے لیے ہے اس میں شک نہیں کہ ان کے لیے آگ ہے اور بے شک وہ سب سے پہلے دوزخ میں بھیجے جائیں گے

۶۳.   اللہ کی قسم ہے ! ہم نے تجھ سے پہلے بھی قوموں میں رسول بھیجے تھے پھر شیطان نے لوگوں کو ان کی بد اعمالیاں اچھی کر دکھائیں سو آج بھی ان کا وہی دوست ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

۶۴.   اور ہم نے اسی لیے تجھ پر کتاب اتاری ہے کہ تو انہیں وہ چیز کھول کر سنا دے جس میں وہ جھگڑ رہے ہیں اور ایمانداروں کے لیے ہدایت اور رحمت بھی ہے

۶۵.   اور اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے مردہ زمین کو زندہ کر دیا اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو  سنتے ہیں

۶۶.    اور بے شک تمہارے لیے چار پایوں میں سوچنے کی جگہ ہے ہم نے ان کے جسم سے خون اور گوبر کے درمیان خالص دودھ پیدا کر دیتے ہیں جو  پینے والوں کے لیے خوشگوار ہے

۶۷.   اور کھجور اور انگور کے پھلوں سے نشہ اور اچھی غذا بھی بناتے ہو اس میں لوگوں کے لیے نشانی ہے جو  سمجھتے ہیں

۶۸.   اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کو حکم دیا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور ان چھتوں میں گھر بنائے جو  اس کے لیے بناتے ہیں

۶۹.    پھر ہر قسم کے میووں سے کھا پھر اپنے رب کی تجویز کردہ آسان راہوں پر چل ان کے پیٹ سے پینے کی چیز نکلتی ہے جس کے رنگ مختلف ہیں اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو  سوچتے ہیں

۷۰.   اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا پھر وہی تمہیں مارتا ہے اور کوئی تم میں سے نکمی عمر تک پہنچایا جاتا ہے جو  سمجھ دار ہونے کے بعد نادان ہو جاتا ہے بے شک اللہ جاننے والا قدرت والا ہے

۷۱.    اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر روزی میں فضیلت دی پھر جنہیں فضیلت دی گئی وہ اپنے حصہ کا مال اپنے غلاموں کو دینے والے نہیں کہ وہ اس میں برابر ہو جائیں پھر کیا اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں

۷۲.   اور اللہ نے تمہارے واسطے تمہاری ہی قسم سے عورتیں پیدا کیں اور تمہیں تمہاری عورتوں سے بیٹے اور پوتے دیئے اور تمہیں کھانے کے لیے اچھی چیزیں دیں پھر کیا جھوٹی باتیں تو مان لیتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں

۷۳.   اور اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو  آسمانوں اور زمین سے انہیں رزق پہنچانے میں کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ رکھ سکتے ہیں

۷۴.   پس اللہ کے لئے مثالیں نہ گھڑو بے شک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

۷۵.   اللہ ایک مثال بیان فرماتا ہے ایک غلام ہے کسی دوسرے کی ملک میں جو  کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا اور ایک دوسرا آدمی ہے جسے ہم نے اچھی روزی دے رکھی ہے اور وہ ظاہر اور پوشیدہ اسے خرچ کرتا ہے کیا دونوں برابر ہیں سب تعریف اللہ کے لیے ہے مگر اکثر ان میں سے نہیں جانتے

۷۶.   اور اللہ ایک اور مثال دو آدمیوں کی بیان فرماتا ہے ایک ان میں سے گونگا ہے کچھ بھی نہیں کر سکتا اور اپنے آقا پر ایک بوجھ ہے جہاں کہیں اسے بھیجے اس سے کوئی خوبی کی بات بن نہ آئے کیا یہ اور وہ برابر ہے جو  لوگوں کو انصاف کا حکم دیتا ہے اور وہ خود بھی سیدھے راستے پر قائم ہے

۷۷.  اور آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں تو اللہ ہی کو معلوم ہیں اور قیامت کا معاملہ تو ایسا ہے جیسا آنکھ کا جھپکنا یا اس سے بھی قریب تر بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے

۷۸.   اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے نکالا تم کسی چیز کو نہ جانتے تھے اور تمہیں کان اور آنکھیں اور دل دیئے تاکہ تم شکر کرو

۷۹.   کیا پرندوں کو نہیں دیکھتے کہ آسمان کی فضا میں تھمے ہوئے ہیں انہیں اللہ کے سوا کون تھامے ہوئے ہے بے شک اس میں بھی ایمانداروں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں

۸۰.   اور اللہ نے تمہارے گھروں کو تمہارے لیے آرام کی جگہ بنایا ہے اور تمہارے لیے چار پایوں کی کھالوں سے خیمے بنائے جنہیں تم اپنے سفر اور قیام کے دن ہلکے پاتے ہو اور بھیڑوں کی اون سے اور اونٹوں کی روؤں سے اور بکریوں کے بالوں سے کتنے ہی سامان اور مفید چیزیں وقت مقرر تک کے لیے بنا دیں

۸۱.    اور اللہ نے تمہارے لیے اپنی بنائی ہوئی چیزوں کے سائے بنا دیئے اور تمہارے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہیں بنا دیں اور تمہارے لیے کرتے بنا دیئے جو  تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں اور زرہیں جو  تمہیں لڑائیں میں بچاتی ہیں اسی طرح اللہ اپنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار ہو جاؤ

۸۲.   پھر بھی اگر نہ مانیں تو تم پر صاف صاف پیغام پہنچا دینا ہی ہے

۸۳.   وہ اللہ کی نعمتیں پہچانتے ہیں پھر منکر ہو جاتے ہیں اور اکثر ان میں سے ناشکر گزار ہیں

۸۴.   اور جس دن ہم ہر قوم میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے پھر نہ کافروں کو اجازت دی جائے گی اور نہ ان کا کوئی عذر قبول کیا جائے گا

۸۵.   اور جب ظالم عذاب دیکھیں گے پھر نہ ان سے ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی

۸۶.   اور جب مشرک اپنے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے رب! یہی ہمارے شریک ہیں جنہیں ہم تیرے سوا پکارتے تھے پھر وہ انہیں جو اب دیں گے کہ تم سراسر جھوٹے ہو

۸۷.   اور وہ اس دن اللہ کے سامنے سر جھکا دیں گے اور بھول جائیں گے وہ جو  جھوٹ بناتے تھے

۸۸.   جو لوگ منکر ہوئے اور اللہ کی راہ سے روکتے رہے ہم ان پر عذاب پر عذاب بڑھاتے جائیں گے بسبب اس کے کہ وہ فساد کرتے تھے

۸۹.   اور جس دن ہر ایک گروہ میں سے ان پر انہیں میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور تجھے ان پر گواہ بنائیں گے اور ہم نے تجھ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کا کافی بیان ہے اور وہ مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور خوشخبری ہے

۹۰.    بے شک اللہ انصاف کرنے کا اور بھلائی کرنے کا اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم کرتا ہے اور بے حیائی اور بری بات اور ظلم سے منع کرتا ہے تمہیں سمجھاتا ہے تاکہ تم سمجھو

۹۱.     اور اللہ کا عہد پورا کرو جب آپس میں عہد کرو اور قسموں کو پکا کرنے کے بعد نہ توڑو حالانکہ تم نے اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا یا ہے بے شک اللہ جانتا ہے جو  تم کرتے ہو

۹۲.    اور اس عورت جیسے نہ بنو جو اپنا سوت محنت کے بعد کاٹ کر توڑ ڈالے کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں فساد کا ذریعہ بنانے لگو محض اس لیے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے بڑھ جائے اللہ اس میں تمہاری آزمائش کرتا ہے اور جس چیز میں تم اختلاف کرتے ہو اللہ اسے ضرور قیامت کے دن ظاہر کر دے گا

۹۳.   اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتا اور لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں پڑا رہنے دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور البتہ تم سے پوچھا جائے گا کہ کیا کرتے تھے

۹۴.   اور تم اپنی قسموں کو آپس میں فساد کا ذریعہ نہ بناؤ کبھی قدم جمنے کے بعد پھسل نہ جائے پھر تمہیں اس سبب سے کہ تم نے راہِ خدا سے روکا تکلیف اٹھانی پڑے اور تمہیں بڑا عذاب ہو

۹۵.    اور اللہ سے عہد کو تھوڑے سے داموں پر نہ بیچو جو  کچھ اللہ کے ہاں ہے وہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو

۹۶.    جو تمہارے پاس ہے ختم ہو جائے گا اور جو  اللہ کے پاس ہے کبھی ختم نہ ہو گا اور ہم صبر کرنے والوں کو ان کے اچھے کاموں کا جو  کرتے تھے ضرور بدلہ دیں گے

۹۷.   جس نے نیک کام کیا مرد ہو یا عورت اور وہ ایمان بھی رکھتا ہے تو ہم اسے ضرور اچھی زندگی بسر کرائیں گے اور ان کا حق انہیں بدلے میں دیں گے انکے اچھے کاموں کے عوض میں جو  کرتے تھے

۹۸.   سو جب تو قرآن پڑھنے لگے تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ لے

۹۹.    اس کا زور ان پر نہیں چلتا جو  ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں

۱۰۰.  اس کا زور تو انہیں پر ہے جو  اسے دوست بناتے ہیں اور جو  اللہ کے ساتھ شریک مانتے ہیں

۱۰۱.   اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری بدلتے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے جو  اتارتا ہے تو کہتے ہیں کہ تو بنا لاتا ہے یہ بات نہیں لیکن اکثر ان میں سے نہیں سمجھتے

۱۰۲.  تو کہہ دے اسے تیرے رب کی طرف سے پاک فرشتے نے سچائی کے ساتھ اتارا ہے تاکہ ایمان والوں کے دل جما دے اور فرمانبرداروں کے لیے ہدایت اور خوشخبری ہے

۱۰۳.  اور ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کہتے ہیں اسے تو ایک آدمی سکھاتا ہے حالانکہ جس کی طرف نسبت کرتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے

۱۰۴.  وہ لوگ جنہیں اللہ کی باتوں پر یقین نہیں اللہ بھی انہیں ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

۱۰۵.  جھوٹ تو وہ لوگ بناتے ہیں جنہیں اللہ کی باتوں پر یقین نہیں اور وہی لوگ جھوٹے ہیں

۱۰۶.  جو کوئی ایمان لانے کے بعد اللہ سے منکر ہوا مگر وہ جو  مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو اور لیکن وہ جو  دل کھول کر منکر ہوا تو ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے

۱۰۷. یہ اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر محبوب بنایا اور نیز اس لیے کہ اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا

۱۰۸.  یہ وہی ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر مہر کر دی اور وہی غافل بھی ہیں

۱۰۹.  ضرور وہی لوگ آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں

۱۱۰.   پھر بے شک تیرا رب ان کے لئے جنہوں نے مصیبت میں پڑنے کے بعد ہجرت کی پھر جہاد کیا اور صبر کیا بے شک تیرا رب ان باتوں کے بعد بخشنے والا مہربان ہے

۱۱۱.    جس دن ہر شخص اپنے ہی لیے جھگڑتا ہو آئے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کچھ بھی ظلم نہ ہو گا

۱۱۲.   اور اللہ ایک ایسی بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جہاں ہر طرح کا امن چین تھا اس کی روزی با فراغت ہر جگہ سے چلی آتی تھی پھر اللہ کے احسانوں کی ناشکری کی پھر اللہ نے ان کے برے کاموں کے سبب سے جو  وہ کیا کرتے تھے یہ مزہ چکھایا کہ ان پر فاقہ اور خوف چھا گیا

۱۱۳.   اور البتہ ان کے پاس انہیں میں سے رسول بھی آیا مگر انہوں نے اسے جھٹلایا پھر انہیں عذاب نے آ پکڑا ایسے حال میں کہ وہ ظالم تھے

۱۱۴.   پھر تمہیں جو  اللہ نے حلال طیب روزی دی ہے کھاؤ اور اللہ کے احسان کا شکر کرو اگر تم صرف اسی کو پوجتے ہو

۱۱۵.   تم پر صرف مردار اور خون اور سور کا گوشت حرام کیا ہے اور وہ چیز بھی جو  اللہ کے سوا کسی اور کے نام سے پکاری گئی ہو پھر جو بھوک کے مارے بیتاب ہو جائے نہ وہ باغی ہو اور نہ حد سے گزرنے والا تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے

۱۱۶.   اور اپنی زبانوں سے جھوٹ بنا کر نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے تاکہ اللہ پر بہتان باندھو بے شک جو  اللہ پر بہتان باندھتے ہیں انکا بھلا نہ ہو گا

۱۱۷.  تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

۱۱۸.   اور جو  لوگ یہودی ہیں ہم نے ان پر حرام کی جو  تجھے پہلے سنا چکے ہیں اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ اپ نے اوپر آپ ظلم کرتے تھے

۱۱۹.   پھر تیرا رب ان کے لیے جو  جہالت سے برے کام کرتے رہے پھر اس کے بعد انہوں نے توبہ کر لی اور سدھر گئے بے شک تیرا رب اس کے بعد البتہ بخشنے والا مہربان ہے

۱۲۰.  بے شک ابراہیم ایک پوری امت تھا اللہ کا فرمانبردار تمام راہوں سے ہٹا ہوا اور مشرکوں میں سے نہ تھا

۱۲۱.   اس کی نعمتوں کا شکر کرنے والا اسے اللہ نے چن لیا اور اسے سیدھی راہ پر چلایا

۱۲۲.  اور ہم نے اسے دنیا میں بھی خوبی دی تھی اور وہ آخرت میں بھی اچھے لوگوں میں ہو گا

۱۲۳.  پھر ہم نے تیرے پاس وحی بھیجی کہ تمام راہوں سے ہٹنے والے ابراہیم کے دین پر چل اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا

۱۲۴.  ہفتہ کا دن انہی پر مقرر کیا گیا تھا جو  اس میں اختلاف کرتے تھے اور تیرا رب ان میں قیامت کے دن فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے

۱۲۵.  اپنے رب کے راستے کی طرف دانشمندی اور عمدہ نصیحت سے بلا اور ان سے پسندیدہ طریقہ سے بحث کر بے شک تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے بھٹکا ہوا ہے اور ہدایت یافتہ کو بھی خوب جانتا ہے

۱۲۶.  اور اگر بدلہ لو تو اتنا بدلہ لو جتنی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہے اور اگر صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے

۱۲۷. اور صبر کر اور تیرا صبر کرنا اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان پر غم نہ کھا اور ان کے مکروں سے تنگ دل نہ ہو

۱۲۸.  بے شک اللہ ان کے ساتھ ہے جو  پرہیزگار ہیں اور جو  نیکی کرتے ہیں

 

سورۃ بنی اسرائیل

شروع اللہ کے نام سے جو  بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.      وہ پاک ہے جس نے راتوں رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی جس کے اردگرد ہم نے برکت رکھی ہے تاکہ ہم اسے اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں بے شک وہ سننے والا دیکھنے ولا ہے

۲.      اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ بناؤ

۳.     اے ان کی نسل جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا بے شک وہ شکر گزار بندہ تھا

۴.     اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں یہ بات بتلا دی تھی کہ تم ضرور ملک میں دو مرتبہ خرابی کرو گے اور بڑی سرکشی کرو گے

۵.     پھر جب پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے سخت لڑائی والے بھیجے پھر وہ تمہارے گھروں میں گھس گئے اور اللہ کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا

۶.      پھر ہم نے تمہیں دشمنوں پر غلبہ دیا اور تمہیں مال اور اولاد میں ترقی دی اور تمہیں بڑی جماعت والا بنا دیا

۷.     اگر تم نے بھلائی کی تو اپنے ہی لیے کی اور اگر برائی کی تو وہ بھی اپنے ہی لیے کی پھر جب دوسرا وعدہ آیا تاکہ تمہارے چہروں پر رسوائی پھیر دیں اور مسجد میں گھس جائیں جس طرح پہلی بار گھس گئے تھے اور جس چیز پر قابو پائیں اس کا ستیاناس کر دیں

۸.     تمہارا رب قریب ہے کہ تم پر رحم کرے اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کریں گے اور ہم نے دوزخ کو کافروں کے لیے قید خانہ بنایا ہے

۹.      بے شک یہ قرآن وہ راہ بتاتا ہے جو  سب سے سیدھی ہے اور ایمان والوں کو جو  نیک کام کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہے ان کے لیے بڑا ثواب ہے

۱۰.    اور یہ بھی بتاتا ہے کہ جو  لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کیا ہے

۱۱.     اور انسان برائی مانگتا ہے جس طرح وہ بھلائی مانگتا ہے اور انسان جلد باز ہے

۱۲.    اور ہم نے رات اور دن کے دو نمونے بنا دیے پھر رات کے نمونے کو دھندلا کر دیا اور دن کا نمونہ نظر آنے کے لیے روشن کر دیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کر لو اور ہم نے ہر چیز کی تفصیل کر دی

۱۳.    اور ہم نے ہر آدمی کا نامہ اعمال اس کی گردن کے ساتھ لگا دیا ہے اور قیامت کے دن ہم اس کا نامہ اعمال نکال کر سامنے کر دیں گے

۱۴.    اپنا نامہ اعمال پڑھ لے آج اپنا حساب لینے کے لیے تو ہی کافی ہے

۱۵.    جو سیدھے راستے پر چلا تو اپنے ہی لیے چلا اور جو  بھٹک گیا تو بھٹکنے کا نقصان بھی وہی اٹھائے گا اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور ہم سزا نہیں دیتے جب تک کسی رسول کو نہیں بھیج لیتے

۱۶.    اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے دولت مندوں کو کوئی حکم دیتے ہیں پھر وہ وہاں نافرمانی کرتے ہیں تب ان پر حجت تمام ہو جاتی ہے اور ہم اسے برباد کر دیتے ہیں

۱۷.    اور نوح کے بعد ہم نے قوموں کے کئی دور ہلاک کر دیئے ہیں اور تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں کا جاننے والا دیکھنے والا کافی ہے

۱۸.    جو کوئی دنیا چاہتا ہے تو ہم اسے سر دست دنیا میں سے جس قدر چاہتے ہیں دیتے ہیں پھر ہم نے اس کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے جس میں وہ ذلیل و خوار ہو کر رہے گا

۱۹.     اور جو  آخرت چاہتا ہے اور اس کے لیے مناسب کوشش بھی کرتا ہے اور وہ مومن بھی ہے تو ایسے لوگوں کی کوشش مقبول ہو گی

۲۰.   ہم ہر فریق کو اپنی پروردگاری بخششوں سے مدد دیتے ہیں ان کو بھی اور تیرے رب کی بخشش کسی پر بند نہیں

۲۱.    دیکھو ہم نے ایک کو دوسرے پر کیسی فضیلت دی ہے اور آخرت کے تو بڑے درجے اور بڑی فضیلت ہے

۲۲.   اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود نہ بنا ورنہ تو ذلیل بے کس ہو کر بیٹھے گا

۲۳.   اور تیرا رب فیصلہ کر چکا ہے اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف بھی نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان سے ادب سے بات کرو

۲۴.   اور ان کے سامنے شفقت سے عاجزی کے ساتھ جھکے رہو اور کہو اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما

۲۵.   جو تمہارے دلوں میں ہے تمہارا رب خوب جانتا ہے اگر تم نیک ہو گے تو وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے

۲۶.   اور رشتہ دار اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق دے دو اور مال کو بے جا خرچ نہ کرو

۲۷.   بے شک بیجا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکر گزار ہے

۲۸.   اور اگر تجھے اپنے رب کے فضل کے انتظار میں کہ جس کی تجھے امید ہے منہ پھیرنا پڑے تو ان سے نرم بات کہہ دے

۲۹.    اور اپنا ہاتھ اپنی گردن کے ساتھ بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ اسے کھول دے بالکل ہی کھول دینا پھر تو پشیمان تہی دست ہو کر بیٹھ رہے گا

۳۰.   بے شک تیرا رب جس کے لئے چاہے رزق کشادہ کر تا ہے اور تنگ بھی کرتا ہے بے شک وہ اپنے بندوں کو جاننے والا دیکھنے والا ہے

۳۱.    اور اپنی اولاد کو تنگدستی کے ڈر سے قتل نہ کرو ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی بے شک ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے

۳۲.   اور زنا کے قریب نہ جاؤ بے شک وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے

۳۳.   اور جس جان کو قتل کرنا اللہ نے حرام کر دیا ہے اسے ناحق قتل نہ کرنا اور جو  کوئی ظلم سے مارا جائے تو ہم نے اس کے ولی کے واسطے اختیار دے دیا ہے لہذا ا قصاص میں زیادتی نہ کرے بے شک اس کی مدد کی گئی ہے

۳۴.   اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر جس طریقہ سے بہتر ہو جب تک وہ اپنی جو انی کو پہنچے اور عہد کو پورا کرو بے شک عہد کی باز پرس ہو گی

۳۵.   اور ناپ تول کر دو تو پورا ناپو اور صحیح ترازو سے تول کر دو یہ بہتر ہے اور انجام بھی اس کا اچھا ہے

۳۶.   اور جس بات کی تجھے خبر نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ بے شک کان اور آنکھ اور دل ہر ایک سے باز پرس ہو گی

۳۷.   اور زمین پر اتراتا ہوا نہ چل بے شک تو نہ زمین کو پھاڑ ڈالے گا اور نہ لمبائی میں پہاڑوں تک پہنچے گا

۳۸.   ان میں سے ہر ایک بات تیرے رب کے ہاں ناپسند ہے

۳۹.   یہ اس حکمت میں سے ہے جسے تیرے رب نے تیری طرف وحی کیا ہے اور اللہ کے ساتھ اور کسی کو معبود نہ بنا ورنہ تو ملزم مردود بنا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا

۴۰.   کیا تمہارے رب نے تمہیں چن کر بیٹے دے دیئے اور اپنے لئے فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا تم بڑی بات کہتے ہو

۴۱.    اور ہم نے اس قرآن میں کئی طرح سے بیان کیا تاکہ وہ سمجھیں حالانکہ اس سے انہیں نفرت ہی بڑھتی جاتی ہے

۴۲.   کہہ دو اگر اس کے ساتھ اور بھی معبود ہوتے جیسا وہ کہتے ہیں تب تو انہوں نے عرش والے تک کوئی راستہ نکال لیا ہوتا

۴۳.   وہ پاک ہے اور جو  کچھ وہ کہتے ہیں اس سے وہ بہت ہی بلند ہے

۴۴.   ساتوں آسمان اور زمین اور جو  کوئی ان میں ہے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور ایسی کوئی چیز نہیں جو  ا سکی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے بے شک وہ بردبار بخشنے والا ہے

۴۵.   اور جب تو قرآن پڑھتا ہے ہم تیرے اور ان لوگوں کے درمیان جو  آخرت کو نہیں مانتے ایک چھپا ہو ا پردہ کر دیتے ہیں

۴۶.   اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے کر دیے ہیں تاکہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دی ہے اور جب تو قرآن میں صرف اپنے رب ہی کا ذکر کرتا ہے تو پیٹھ پھیر کر نفرت سے بھاگتے ہیں

۴۷.   ہم خوب جانتے ہیں جس غرض سے یہ سنتے ہیں جب یہ لوگ تیری طرف کان لگاتے ہیں اور جس وقت آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں جب یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم محض ایسے شخص کا ساتھ دیتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے

۴۸.   دیکھ تیرے لیے کیسی مثالیں بیان کرتے ہیں سو گمراہ ہو گئے پھر وہ راستہ نہیں پا سکتے

۴۹.   اور کہتے ہیں کیا جب ہم ہڈیاں اور چورا ہو جائیں گے پھر نئے بن کر اٹھیں گے

۵۰.   کہہ دو تم پتھر یا لوہا ہو جاؤ

۵۱.    یا کوئی اور چیز جسے تم اپنے دلوں میں مشکل سمجھتے ہو پھر وہ کہیں گے ہمیں دوبارہ کون لوٹائے گا کہہ دو وہی جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے پھر تمہارے سامنے سروں کو ہلا کر کہیں گے کہ وہ کب ہو گا کہہ دو شاید وہ وقت بھی قریب آ گیا ہو

۵۲.   جس دن تمہیں پکارے گا پھر اس کی تعریف کرتے ہوئے چلے آؤ گے اور خیال کرو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے تھے

۵۳.   اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہیں جو  بہتر ہو بے شک شیطان آپس میں لڑا دیتا ہے بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

۵۴.   تمہارا رب خوب جانتا ہے اگر چاہے تم پر رحم کرے اور اگر چاہے تمہیں عذاب دے اور ہم نے تجھے ان پر ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا

۵۵.   اور تیرا رب خوب جانتا ہے جو  آسمانوں اور زمین میں ہے اور ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر فضیلت دی ہے اور ہم نے داؤد کو زبور دی تھی

۵۶.   کہہ دو انہیں پکارو جنہیں تم اس کے سوا سمجھتے ہو وہ نہ تمہاری تکلیف دور کر سکیں گے اور نہ اسے بدلیں گے

۵۷.   وہ لوگ جنہیں یہ پکارتے ہیں جو  ان میں سے زیادہ مقرب ہیں وہ بھی اپنے رب کی طرف نیکیوں کا ذریعہ تلاش کرتے ہیں اور اس کی مہربانی کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں بے شک تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے

۵۸.   اور ایسی کوئی بستی نہیں جسے ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا اسے سخت عذاب نہ دیں یہ بات کتاب میں لکھی ہوئی ہے

۵۹.    اور ہم نے اس لیے معجزات بھیجنے موقوف کر دیے کہ پہلوں نے انہیں جھٹلایا تھا اور ہم نے ثمود کو اونٹنی کا کھلا ہوا معجزہ دیا تھا پھر بھی انہوں نے اس پر ظلم کیا اور یہ معجزات تو ہم محض ڈرانے کے لیے بھیجتے ہیں

۶۰.   اور جب ہم نے تم سے کہہ دیا کہ تیرے رب نے سب کو قابو میں کر رکھا ہے اور وہ خواب جو  ہم نے تمہیں دکھایا اور وہ خبیث درخت جس کا ذکر قرآن میں ہے ان سب کو ان لوگوں کے لیے فتنہ بنا دیا اور ہم تو انہیں ڈراتے ہیں سو اس سے ان کی شرارت اور بھی بڑھتی جاتی ہے

۶۱.    اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو سوائے ابلیس کے سب سجدہ میں گر پڑے کہا کیا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی بنایا ہے

۶۲.   کہا بھلا دیکھ تو یہ شخص جسے تو نے مجھ سے بڑھایا اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں بھی سوائے چند لوگوں کے اس کی نسل کو قابو میں کر کے رہوں گا

۶۳.   فرمایا جا۔ پھر ان میں سے جو  کوئی تیرے ساتھ ہوا تو جہنم تم سب کی پوری سزا ہے

۶۴.   ان میں سے جسے تو اپنی آواز سنا کر بہکا سکتا ہے بہکا لے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے بھی چڑھا دے اور ان کے مال اور اولاد میں بھی شریک ہو جا اور ان سے وعدے کر اور شیطان کے وعدے بھی محض فریب ہی تو ہیں

۶۵.   بے شک میرے بندوں پر تیرا غلبہ نہیں ہو گا اور تیرا رب کافی کارساز ہے

۶۶.    تمہارا رب وہ ہے جو  تمہارے لیے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو بے شک وہی تم پر بڑا مہربان ہے

۶۷.   اور جب تم پر دریا میں کوئی مصیبت آتی ہے تو بھول جاتے ہو جنہیں اللہ کے سوا پکارتے تھے پھر جب وہ تمہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو تم اس سے منہ موڑ لیتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے

۶۸.   پھر کیا تم اس بات سے نڈر ہو گئے کہ وہ تمہیں خشکی کی طرف لا کر زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسانے والی آندھی بھیج دے پھر تم کسی کو اپنا مددگار نہ پاؤ

۶۹.    یا تم اس بات سے بالکل نڈر ہو گئے ہو کہ وہ دوبارہ تمہیں پھر دریا میں لوٹا لائے پھر تم پر ہوا کا سخت طوفان بھیج دے پھر تمہاری ناشکری سے تمہیں غرق کر دے پھر اپنی طرف سے ہم پر کوئی باز پرس کرنے والا بھی نہ پاؤ

۷۰.   اور ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی ہے اور خشکی اور دریا میں اسے سوار کیا اور ہم نے انہیں ستھری چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں فضیلت عطا کی

۷۱.    جس دن ہم ہر فرقہ کو ان کے سرداروں کے ساتھ بلائیں گے سو جسے اس کا اعمال نامہ ا سکے داہنے ہاتھ میں دیا گیا سو وہ لوگ اپنا اعمال نامہ پڑھیں گے اور وہ تاگے کے برابر ظلم نہیں کئے جائیں گے

۷۲.   اور جو  کوئی اس جہان میں اندھا رہا تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہو گا اور راستہ سے بہت دور ہٹا ہوا

۷۳.   اور بے شک وہ قریب تھے کہ تجھے اس چیز سے بہکا دیں جو  ہم نے تجھ پر بذریعہ وحی بھیجی ہے تاکہ تو اس کے سوا ہم پر بہتان باندھنے لگے اور پھر تجھے اپنا دوست بنا لیں

۷۴.   اور اگر ہم تجھے ثابت قدم نہ رکھتے تو کچھ تھوڑا سا ان کی طرف جھکنے کے قریب تھا

۷۵.   اس وقت ہم تجھے زندگی میں اور موت کے بعد دہرا عذاب چکھاتے پھر تو اپنے واسطے ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار نہ پاتا

۷۶.   اور وہ تو تجھے اس زمین سے دھکیل دینے کو تھے تاکہ تجھے اس سے نکال دیں پھر وہ بھی تیرے بعد بہت ہی کم ٹھرتے

۷۷.  تم سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے ہیں ان کا یہی دستور رہا ہے اور ہمارے دستور میں تم تبدیلی نہیں پاؤ گے

۷۸.   آفتاب کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک نماز پڑھا کرو اور صبح کی نماز بھی بے شک صبح کی نماز میں مجمع ہو تا ہے

۷۹.   اور کسی وقت رات میں تہجد پڑھا کرو جو  تیرے لیے زائد چیز ہے قریب ہے کہ تیرا رب مقام محمود میں پہنچا دے

۸۰.   اور کہہ اے میرے رب مجھے خوبی کے ساتھ پہنچا دے اور مجھے خوبی کے ساتھ نکال لے اور میرے لیے اپنی طرف سے غلبہ دے جس کے ساتھ نصرت ہو

۸۱.    اور کہہ دو کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا

۸۲.   اور ہم قرآن میں ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں کہ وہ ایمانداروں کے حق میں شفا اور رحمت ہیں اور ظالموں کو اس سے اور زیادہ نقصان پہنچتا ہے

۸۳.   اور جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے اور پہلو تہی کرتا ہے اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو نا امید ہو جاتا ہے

۸۴.   کہہ دو کہ ہر شخص اپنے طریقہ پر کام کرتا ہے پھر تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ سب سے زیادہ ٹھیک راہ پر کون ہے

۸۵.   اور یہ لوگ تجھے رو ح کے متعلق سوال کرتے ہیں کہہ دو روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں جو  علم دیا گیا ہے وہ بہت ہی تھوڑا ہے

۸۶.   اور اگر ہم چاہیں تو جو  کچھ ہم نے تیری طرف وحی کی ہے اسے اٹھا لیں پھر تجھے اس کے لیے ہمارے مقابلہ میں کوئی حمایتی نہ ملے

۸۷.   مگر یہ صرف تیرے رب کی رحمت ہے بے شک تجھ پر اس کی بڑی عنایت ہے

۸۸.   کہہ دو اگر سب آدمی اور سب جن مل کر بھی ایسا قرآن لانا چاہیں تو ایسا نہیں لا سکتے اگر چہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا مددگار کیوں نہ ہو

۸۹.   اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر ایک قسم کی مثال بھی کھول کر بیان کر دی ہے پھر بھی اکثر لوگ انکار کیے بغیر نہ رہے

۹۰.    اور کہا ہم تمہیں ہرگز نہ مانیں گے یہاں تک کہ تو ہمارے لیے زمین میں سے کوئی چشمہ جاری کر دے

۹۱.     یا تیرے لیے کھجور اور انگور کا کوئی باغ ہو پھر تو اس باغ میں بہت سی نہریں جاری کر دے

۹۲.    یا جیسا تو خیال کرتا ہے ہم پر کوئی آسمان کا ٹکڑا گرا دے یا تو اللہ اور فرشتوں کو روبرو لے آ

۹۳.   یا تیرے پاس کوئی سونے کا گھر ہو یا تو آسمان پر چڑھ جائے اور ہم تو تیرے چڑھنے کا بھی یقین نہیں کریں گے یہاں تک کہ تو ہمارے پاس ایسی کتاب لائے جسے ہم بھی پڑھ سکیں کہہ دو میرا رب پاک ہے میں تو فقط ایک بھیجا ہوا انسان ہوں

۹۴.   اور لوگوں کو ایمان لانے سے جب کہ ان کے پاس ہدایت آ گئی صرف اسی چیز نے روکا ہے کہ کہنے لگے کیا اللہ نے آدمی کو رسول بنا کر بھیجا ہے

۹۵.    کہہ دو اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چلتے پھرتے ہوتے تو ہم آسمان سے ان پر فرشتہ ہی رسول بنا کر بھیجتے

۹۶.    کہہ دوکہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے بے شک وہ اپنے بندوں سے خبردار دیکھنے والا ہے

۹۷.   اور جسے اللہ راہ دکھا دے وہی راہ پانے والا ہے اور جسے گمراہ کر دے پھر تو ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست نہیں پائے گا اور ہم نے انہیں قیامت کے دن مونہوں کے بل اندھے گونگے بہرے کر کے اٹھائیں گے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جب بجھنے لگے گی تو ان پر اور بھڑکا دیں گے

۹۸.   یہ ان کی سزا اس لیے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہا کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور چورا ہو جائیں گے تو پھر نئے ے سرے سے بنا کر اٹھائے جائیں گے

۹۹.    کیا انہوں نے نہیں دیکھا جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو بنایا ہے وہ ان جیسے اوپر بھی بنا سکتا ہے اور اس نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس میں کوئی شک نہیں اس پر بھی ظالم انکار کیئے بغیر نہ رہے

۱۰۰.  کہہ دو اگر میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم انہیں خرچ ہو جانے کے ڈر سے بند ہی کر رکھتے اور انسان بڑا تنگ دل ہے

۱۰۱.   اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دی تھیں پھر بھی بنی اسرائیل سے بھی پوچھ لو جب موسیٰ ان کے پاس آئے تو فرعون نے اسے کہا اے موسیٰ میں تو تجھے جادو کیا ہوا خیال کرتا ہوں

۱۰۲.  کہا یہ تو تجھے معلوم ہے کہ یہ آسمانوں اور زمین کے مالک ہی نے لوگوں کو سوجھانے کے لیے نازل کی ہیں اور بے شک میں تجھے اے فرعون ہلاک کیا ہوا خیال کرتا ہوں

۱۰۳.  پھر اس نے ارادہ کیا کہ انہیں اس زمین سے نکال دے تب ہم نے اسے اور اس کے سب ساتھیوں کو غرق کر دیا

۱۰۴.  اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس زمین میں آباد رہو پھر جب آخرت کا وعدہ آئے گا ہم تمہیں سمیٹ کر لے آئیں گے

۱۰۵.  اور ہم نے اس قرآن کو سچائی سے نازل کیا اور وہ سچائی سے ہی نازل ہوا اور ہم نے تجھے صرف خوشی سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے

۱۰۶.  اور ہم نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا تاکہ تو مہلت کے ساتھ اسے لوگوں کو پڑھ کر سنائے اور ہم نے اسے آہستہ آہستہ اتارا ہے

۱۰۷. کہہ دو تم اسے مانو یا نہ مانو بے شک وہ لوگ جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب ان پر پڑھا جاتا ہے تو تھوڑیوں پر سجدہ میں گرتے ہیں

۱۰۸.  اور کہتے ہیں ہمارا رب پاک ہے بے شک ہمارے رب کا وعدہ ہو کر رہے گا

۱۰۹.  اور تھوڑیوں پر روتے ہوئے گرتے ہیں اور ان میں عاجزی زیادہ کر دیتا ہے

۱۱۰.   کہہ دو اللہ کہہ کر یا رحمٰن کہہ کر پکارو جس نام سے پکارو سب اسی کے عمدہ نام ہیں اور اپنی نماز میں نہ چلا کر پڑھ اور نہ بالکل ہی آہستہ پڑھ اور اس کے درمیان راستہ اختیار کر

۱۱۱.    اور کہہ دو سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ کوئی اس کا سلطنت میں شریک ہے اور نہ کوئی کمزوری کی وجہ سے اس کا مددگار ہے اور اس کی بڑائی بیان کرتے رہو

 

سورۃ الکھف

شروع اللہ کے نام سے جو  بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.      سب تعریف اللہ کے لیے جس نے اپنے بندہ پر کتاب اتاری اور اس میں ذرا بھی کجی نہیں رکھی

۲.      ٹھیک اتاری تاکہ اس سخت عذاب سے ڈراوے جو  اس کے ہاں ہے اور ایمان داروں کو خوشخبری دے جو  اچھے کام کرتے ہیں کہ ان کے لیے اچھا بدلہ ہے

۳.     جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے

۴.     اور انہیں بھی ڈرائے جو  کہتے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے

۵.     ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے اور نہ ان کے باپ دادا کے پاس تھی کیسی سخت بات ہے جو  ان کے منہ سے نکلتی ہے وہ لوگ بالکل جھوٹ کہتے ہیں

۶.      پھر شاید تو ان کے پیچھے افسوس سے اپنی جان ہلاک کر دے گا اگر یہ لوگ اس بات پر ایمان نہ لائے

۷.     جو کچھ زمین پر ہے بے شک ہم نے اسے زمین کی زینت بنا دیا ہے تاکہ ہم انہیں آزمائیں کہ ان میں کون اچھے کام کرتا ہے

۸.     اور جو  کچھ اس پر ہے بے شک ہم سب کو چٹیل میدان کر دیں گے

۹.      کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور کتبہ والے ہماری نشانیوں والے عجیب چیز تھے

۱۰.    جب کہ چند جو ان اس غار میں آ بیٹھے پھر کہا اے ہمارے رب ہم پر اپنی طرف سے رحمت نازل فرما اور ہمارے اس کام کے لیے کامیابی کا سامان کر دے

۱۱.     پھر ہم نے کئی سال تک غار میں ان کے کان بند کر دیے

۱۲.    پھر ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ دونوں جماعتوں میں سے کس نے یاد رکھی ہے جتنی مدت وہ رہے

۱۳.    ہم تمہیں ان کا صحیح حال سناتے ہیں بے شک وہ کئی جو ان تھے جو  اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے انہیں اور زیادہ ہدایت دی

۱۴.    اور ہم نے ان کے دل مضبوط کر دیے جب وہ یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے کہ ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی معبود کو ہرگز نہ پکاریں گے ورنہ ہم نے بڑی ہی بیجا بات کہی

۱۵.    یہ ہماری قوم ہے انہوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا لیے ہیں ان پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے پھر اس سے بڑا ظالم کون ہو گا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا

۱۶.    اور جب تم ان سے الگ ہو گئے ہو اور اللہ کے سوا جنہیں وہ معبود بناتے ہیں تب غار میں چل کر پناہ لو تم پر تمہارا رب اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے لیے تمہارے اس کام میں آرام کا سامان کر دے گا

۱۷.    اور تو سورج کو دیکھے گا جب وہ نکلتا ہے تو ان کے غار کے دائیں طرف سے ہٹا ہوا رہتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان کی بائیں طرف سے کتراتا ہو گزر جاتا ہے وہ اس کے میدان میں ہیں یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے پھر اس کے لیے تمہیں کوئی بھی کارساز پر لانے والا نہیں ملے گا

۱۸.    اور تو انہیں جاگتا ہوا خیال کرے گا حالانکہ وہ سو رہے ہیں اور ہم انہیں دائیں بائیں پلٹتے رہتے ہیں اور ان کا کتا چوکھٹ کی جگہ اپنے دونوں بازو پھیلائے بیٹھا ہے اگر تم انہیں جھانک کر دیکھو تو الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوئے اور البتہ تم پر ان کی دہشت چھا جائے

۱۹.     اور اسی طرح ہم نے انہیں جگا دیا تاکہ ایک دوسرے سے پوچھیں ان میں سے ایک نے کہا تم کتنی دیر ٹھہرے ہو انہوں نے کہا ہم ایک دن یا دن سے کم ٹھیرے ہیں کہا تمہارا رب خوب جانتا ہے جتنی دیر تم ٹھہرے ہو اب اپنے میں سے ایک کو یہ اپنا روپیہ دے کر اس شہر میں بھیجو پھر دیکھے کون سا کھانا ستھرا ہے پھر تمہارے پاس اس میں سے کھانا لائے اور نرمی سے جائے اور تمہارے متعلق کسی کو نہ بتائے

۲۰.   بے شک وہ لوگ اگر تمہاری اطلاع پائیں گے تو تمہیں سنگسار کر دیں گے یا اپنے دین میں لوٹا لیں گے پھر تم کبھی فلاح نہیں پا سکو گے

۲۱.    اور اسی طرح ہم نے ان کی خبر ظاہر کر دی تاکہ لوگ سمجھ لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیں جبکہ لوگ ان کے معاملہ میں جھگڑ رہے تھے پھر کہا ان پر ایک عمارت بنا دو انکا رب ان کا حال خوب جانتا ہے ان لوگوں نے کہا جو  اپنے معاملے میں غالب آ گئے تھے کہ ہم ان پر ضرور ایک مسجد بنائیں گے

۲۲.   بعض کہیں گے تین ہیں چوتھا ان کا کتا ہے اور بعض اٹکل پچو سے کہیں گے پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا ہے اور بعض کہیں گے سات ہیں آٹھواں ان کا کتا ہے کہہ دو ان کی گنتی میرا رب ہی خوب جانتا ہے ان کا اصلی حال تو بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں سو تو ان کے بارے میں سرسری گفتگو کے سوا جھگڑا نہ کرو ان میں سے کسی سے بھی انکا حال دریافت نہ کر

۲۳.   اور کسی چیز کے متعلق یہ ہر گز نہ کہو کہ میں کل اسے کر ہی دوں گا

۲۴.   مگر یہ کہ اللہ چاہے اور اپنے رب کو یاد کر لے جب بھول جائے اور کہہ دو امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے بھی بہتر راستہ دکھائے

۲۵.   اور وہ اپنے غار میں تین سو سے زائد نو برس رہے ہیں

۲۶.   کہہ دو اللہ بہتر جانتا ہے کہ کتنی مدت رہے تمام آسمانوں اور زمین کا علم غیب اسی کو ہے کیا عجیب دیکھتا اور سنتا ہے ان کا اللہ کے سوا کوئی بھی مددگار نہیں اور نہ ہی وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے

۲۷.   اور اپنے رب کی کتاب سے جو  تیری طرف وحی کی گئی ہے پڑھا کرو اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں ہے اور تو اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ نہیں پائے گا

۲۸.   تو ان لوگوں کی صحبت میں رہ جو  صبح اور شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اسی کی رضا مندی چاہتے ہیں اور تو اپنی آنکھوں کو ان سے نہ ہٹا کہ دنیا کی زندگی کی زینت تلاش کرنے لگ جائے اور اس شخص کا کہنا نہ مان جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور اپنی خواہش کے تابع ہو گیا ہے اور ا سکا معاملہ حد سے گزرا ہوا ہے

۲۹.    اور کہہ دو سچی بات تمہارے رب کی طرف سے ہے پھر جو  چاہے مان لے اور جو  چاہے انکار کر دے بے شک ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے انہیں اس کی قناتیں گھیر لیں گی اور اگر فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے فریاد رسی کیے جائیں گے جو  تانبے کی طرح پگھلا ہوا ہو گا مونہوں کو جھلس دے گا کیا ہی برا پانی ہو گا اور کیا ہی بری آرام گاہ ہو گی

۳۰.   بے شک جو  لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے ہم بھی اس کا اجر ضائع نہیں کریں گے جس نے اچھے کام کیے

۳۱.    وہی لوگ ہیں جن کے لیے ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی انہیں وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور باریک اور موٹے ریشم کا سبز لباس پہنیں گے وہاں تختوں پر تکیے لگانے والے ہوں گے کیا ہی اچھا بدلہ ہے اور کیا ہی اچھی آرام گا ہے

۳۲.   اور انہیں دو شخصوں کی مثال سنا دو ان دونوں میں سے ایک لیے ہم نے انگور کے دو باغ تیار کیے اور ان کے گرد اگر کھجوریں لگائیں اور ان دونوں کے درمیان کھیتی بھی لگا رکھی تھی

۳۳.   دونوں باغ اپنے پھل لاتے ہیں اور پھل لانے میں کچھ کمی نہیں کرتے اور ان دونوں کے درمیان ہم نے ایک نہر بھی جاری کر دی ہے

۳۴.   اور اسے پھل مل گیا پھر اس نے اپنے ساتھی سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ میں تجھ سے مال میں بھی زیادہ ہوں اور جماعت کے لحاظ سے بھی زیادہ معزز ہوں

۳۵.   اور اپنے باغ میں داخل ہوا ایسے حال میں کہ وہ اپنی جان پر ظلم کرنے والا تھا کہا میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی برباد ہو گا

۳۶.   اور میں قیامت کو ہونے والی خیال نہیں کرتا اور البتہ اگر میں اپنے رب کے ہاں لوٹایا بھی گیا تو اس سے بھی بہتر جگہ پاؤں گا

۳۷.   اسے اس کے ساتھی نے گفتگو کے دوران میں نے کہا کیا تو اس کا منکر ہو گیا ہے جس نے تجھے مٹی سے پھر نطفہ سے بنایا پھر تجھے پورا آدمی بنا دیا

۳۸.   لیکن میرا تو اللہ ہی رب ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کروں گا

۳۹.   اور جب تو اپنے باغ میں آیا تھا تو نے کیوں نہ کہا جو  اللہ چاہے تو ہوتا ہے اور اللہ کی مدد کے سوا کوئی طاقت نہیں اگر تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں تجھ سے مال اور اولاد میں کم ہوں

۴۰.   پھر امید ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر دے اور اس پر لو کا ایک جھونکا آسمان سے بھیج دے پھر وہ چٹیل میدان ہو جائے

۴۱.    یا اس کا پانی خشک ہو جائے پھر تو اسے ہرگز تلاش کر کے نہ لا سکے گا

۴۲.   اور اس کا پھل سمیٹ لیا گیا پھر وہ اپنے ہاتھ ہی ملتا رہ گیا اس پر جو  اس نے اس باغ میں خرچ کیا تھا اور وہ اپنی چھتریوں پر گرا پڑا تھا اور کہا کاش میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا

۴۳.   اور اس کی کوئی جماعت نہ تھی جو  اللہ کے سوا اس کی مدد کرتے اور نہ وہ خود ہی بدلہ لے سکا

۴۴.   یہاں سب اختیار اللہ سچے ہی کا ہے اسی کا انعام بہتر ہے اور اسی کا دیا ہوا بدلہ اچھا ہے

۴۵.   اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کرو مثل ایک پانی کے ہے جسے ہم نے آسمان سے برسایا پھر زمین کی روئیدگی پانی کے ساتھ مل گئی پھر وہ ریزہ ریز ہ ہو گئی کہ اسے ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکنے والا ہے

۴۶.   مال اور اولاد تو دنیا کی زندگی کی رونق ہیں اور تیرے رب کے ہاں باقی رہنے والی نیکیاں ثواب اور آخرت کی امید کے لحاظ سے بہتر ہیں

۴۷.   اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو زمین کو صاف میدان دیکھے گا اور سب کو جمع کریں گے اور ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے

۴۸.   اور سب تیرے رب کے سامنے صف باندھ کر پیش کیے جائیں گے البتہ تحقیق تم ہمارے پاس آئے ہو جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا بلکہ تم نے خیال کیا تھا کہ ہم تمہارے لیے کوئی وعدہ مقرر نہ کریں گے

۴۹.   اور اعمال نامہ رکھ دیا جائے گا پھر مجرموں کو دیکھے گا اس چیز سے ڈرنے والے ہوں گے جو  اس میں ہے اور کہیں گے افسوس ہم پر یہ کیسا اعمال نامہ ہے کہ اس نے کوئی چھوٹی یا بڑی بات نہیں چھوڑی مگر سب کو محفوظ کیا ہوا ہے اور جو  کچھ انہوں نے کیا تھا سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا

۵۰.   اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو سوائے ابلیس کے سب نے سجدہ کیا وہ جنوں میں سے تھا سو اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی پھر کیا تم مجھے چھوڑ کر اسے اور اس کی اولاد کو کارساز بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں بے انصافوں کو برا بدل ملا

۵۱.    نہ تو آسمان اور زمین کے بناتے وقت اور نہ انہیں بناتے وقت میں نے انہیں بلایا اور میں گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار بنانے والا نہ تھا

۵۲.   اور جس دن فرمائے گا میرے شریکوں کو پکارو جنہیں تم مانتے تھے پھر وہ انہیں پکاریں گے سو وہ انہیں جو اب نہیں دیں گے اور ہم نے ان کے درمیان ہلاکت کی جگہ بنا دی ہے

۵۳.   اور گناہگار آگ کو دیکھیں گے اور سمجھیں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے

۵۴.   اور البتہ تحقیق ہم نے اس قرآن میں ان لوگوں کے لیے ہر ایک مثال کو کئی طرح سے بیان کیا ہے اور انسان بڑا ہی جھگڑالو ہے

۵۵.   اور جب ان کے پاس ہدایت آئی تو انہیں ایمان لانے اور اپنے رب سے معافی مانگنے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ انہیں پہلی امتوں کا سا معاملہ پیش آئے یا عذاب ان کے سامنے آ جائے

۵۶.   اور ہم رسولوں کو صرف خوشخبری دینے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجتے ہیں اور کافر نا حق جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے سچی بات کو ٹلا دیں اور انہوں نے میری آیتوں کو اور جس سے انہیں ڈرایا گیا ہے مذاق بنا لیا ہے

۵۷.   اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی جائے پھر ان سے منہ پھیر لے اور جو  کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے بھول جائے بے شک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں کہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ہے اور اگر تو انہیں ہدایت کی طرف بلائے تو بھی وہ ہر گز کبھی راہ پر نہ آئیں گے

۵۸.   اور تیرا رب بڑا بخشنے والا رحمت والا ہے اگر ان کے کیے پر انہیں پکڑنا چاہتا تو فوراً ہی عذاب بھیج دیتا بلکہ ان کے لیے ایک میعاد مقرر ہے اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ نہیں پائیں گے

۵۹.    اور یہ بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کیا ہے جب انہوں نے ظلم کیا تھا اور ہم نے ان کی ہلاکت کا بھی ایک وقت مقرر کیا تھا

۶۰.   اور جب موسیٰ نے اپنے جو ان سے کہا کہ میں نہ ہٹوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ پر پہنچ جاؤں یا سالہا سال چلتا جاؤں

۶۱.    پھر جب وہ دو دریاؤں کے جمع ہونے کی جگہ پر پہنچے دونوں اپنی مچھلی کو بھول گئے پھر مچھلی نے دریا میں سرنگ کی طرح کا راستہ بنا لیا

۶۲.   پھر جب وہ دونوں آگے بڑھ گئے تو اپنے جو ان سے کہا کہ ہمارا ناشتہ لے آ۔ البتہ تحقیق ہم نے اس سفر میں تکلیف اٹھائی ہے

۶۳.   کہا کیا تو نے دیکھا جب ہم اس پتھر کے پاس ٹھرے تومیں مچھلی کو وہیں بھول آیا اور مجھے شیطان ہی نے بھلایا ہے کہ اس کا ذکر کروں اور اس نے اپنی راہ سمندر میں عجیب طرح سے بنا لی

۶۴.   کہا یہی ہے جو  ہم چاہتے تھے پھر اپنے قدموں کے نشان دیکھتے ہی الٹے پھرے

۶۵.   پھر ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ کو پایا جسے ہم نے اپنے ہاں سے رحمت دی تھی اور اسے ہم نے اپنے پاس سے ایک علم سکھایا تھا

۶۶.    اسے موسیٰ نے کہا کیا میں تیرے ساتھ رہوں اس شرط پر کہ تو مجھے سکھائے اس میں سے جو  تجھے ہدایت کا طریقہ سکھایا گیا ہے

۶۷.   کہا بے شک تو میرے ساتھ ہر گز صبر نہیں کر سکے گا

۶۸.   اور تو صبر کیسے کرے گا اس بات پر جو  تیری سمجھ میں نہیں آئے گی

۶۹.    کہا انشا اللہ تو مجھے صابر ہی پائے گا اور میں کسی بات میں بھی تیری مخالفت نہیں کروں گا

۷۰.   کہا پس اگر تو میرے ساتھ رہے تو مجھ سے کسی بات کا سوال نہ کر یہاں تک کہ میں تیرے سامنے اس کا ذکر کروں پس دونوں چلے

۷۱.    یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو اسے پھاڑ دیا کہا کیا تو نے اس لیے پھاڑا ہے کہ کشتی کے لوگوں کو غرق کر دے البتہ تو نے خطرناک بات کی ہے

۷۲.   کہا کیا میں نے تجھے نہیں کہا تھا کہ تو میرے ساتھ صبر نہیں کر سکے گا

۷۳.   کہا میرے بھول جانے پر گرفت نہ کر اور میرے معاملہ میں سختی نہ کر

۷۴.   پھر دونوں چلے یہاں تک کہ انہیں ایک لڑکا ملا تو اسے مار ڈالا کہا تو نے ایک بے گناہ کو ناحق مار ڈالا البتہ تو نے بڑی بات کی

۷۵.   کہا کیا میں نے تجھے نہیں کہا تھا کہ تو میرے ساتھ صبر نہیں کر سکے گا

۷۶.   کہا اگر اس کے بعد میں آپ سے کسی چیز کا سوال کروں تو مجھے ساتھ نہ رکھیں آپ میری طرف سے معذوری تک پہنچ جائیں گے

۷۷.  پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک گاؤں والوں پر گزرے تو ان سے کھانا مانگا انہوں نے مہمان نوازی سے انکار کر دیا پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار پائی جو  گرنے ہی والی تھی تب اسے سیدھا کر دیا کہا اگر آپ چاہتے تو اس کام پر کوئی اجرت ہی لے لیتے

۷۸.   کہا اب میرے اور تیرے درمیان جدائی ہے اب میں تجھے ان باتوں کا راز بتاتا ہوں جن پر تو صبر نہ کر سکا

۷۹.   جو کشتی تھی سو وہ محتاج لوگوں کی تھی جو  دریا میں مزدوری کرتے تھے پھر میں نے اس میں عیب کر دینا چاہا اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو  ہر ایک کشتی کو زبردستی پکڑ رہا تھا

۸۰.   اور رہا لڑکا سو اس کے ماں باپ ایمان دار تھے سو ہم ڈرے کہ انہیں بھی سر کشی اور کفر میں مبتلا نہ کرے

۸۱.    پھر ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس کے بدلہ میں انہیں ایسی اولاد دے جو  پاکیزگی میں اس سے بہتر اور محبت میں اس سے بڑھ کر ہو

۸۲.   اور جو  دیوار تھی سو وہ اس شہر کے دو یتیم بچوں کی تھی اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا پس تیرے رب نے چاہا کہ وہ جو ان ہو کر اپنا خزانہ تیرے رب کی مہربانی سے نکالیں اور یہ کام میں نے اپنے ارادے سے نہیں کیا یہ حقیقت ہے اس کی جس پر تو صبر نہیں کر سکا

۸۳.   اور آپ سے ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں کہہ دو کہ اب میں تمہیں اس کا حال سناتا ہوں

۸۴.   ہم نے اسے زمین میں حکمرانی دی تھی اور اسے ہر طرح کا سازو سامان دیا تھا

۸۵.   تو اس نے ایک ساز و سامان تار کیا

۸۶.   یہاں تک کہ جب سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچا تو اسے ایک گرم چشمے میں ڈوبتا ہوا پایا اور وہاں ایک قوم بھی پائی ہم نے کہا اے ذوالقرنین یا انھیں سزا دے اور یا ان سے نیک سلوک کر

۸۷.   کہا جو  ان میں ظالم ہے اسے تو ہم سزا ہی دیں گے پھر وہ اپنے رب کے ہاں لوٹایا جائے گا پھر وہ اسے اور بھی سخت سزا دے گا

۸۸.   اور جو  کوئی ایمان لائے گا اور نیکی کرے گا تو اسے نیک بدلہ ملے گا اور ہم بھی اپنے معاملے میں اسے آسان ہی حکم دیں گے

۸۹.   پھر اس نے ایک ساز و سامان تیار کیا

۹۰.    یہاں تک کہ جب سورج نکلنے کی جگہ پہنچا تو اس نے سورج کو ایک ایسی قوم پر نکلتے ہوئے پایا کہ جس کے لیے ہم نے سورج کے ادھر کوئی آڑ نہیں رکھی تھی

۹۱.     اسی طرح ہی ہے اور اس کے حال کی پوری خبر ہمارے ہی پاس ہے

۹۲.    پھر اس نے ایک ساز و سامان تیار کیا

۹۳.   یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا ان دونوں سے اس طرف ایک ایسی قوم کو دیکھا جو  بات نہیں سمجھ سکتی تھی

۹۴.   انہوں نے کہا کہ اے ذوالقرنین بے شک یاجوج ماجوج اس ملک میں فساد کرنے والے ہیں پھر کیا ہم آپ کے لیے کچھ محصول مقرر کر دیں اس شرط پر کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دیں

۹۵.    کہا جو  میرے رب نے قدرت دی ہے کافی ہے سو طاقت سے میری مدد کرو کہ میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دوں

۹۶.    مجھے لوہے کے تختے لا دو یہاں تک کہ جب دونوں سروں کے بیچ کو برابر کر دیا تو کہا کہ دھونکو یہاں تک کہ جب اسے آگ کر دیا تو کہا کہ تم میرے پاس تانبا لاؤ تاکہ اس پر ڈال دوں

۹۷.   پھر وہ نہ اس پر چڑھ سکتے تھے اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے

۹۸.   کہا یہ میرے رب کی رحمت ہے پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو اسے ریزہ ریزہ کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے

۹۹.    اور ہم چھوڑ دیں گے بعض ان کے اس دن بعض میں گھسیں گے اور صور میں پھونکا جائے گا پھر ہم ان سب کو جمع کریں گے

۱۰۰.  اور ہم دوزخ کو اس دن کافروں کے سامنے پیش کریں گے

۱۰۱.   جن کی آنکھوں پر ہماری یاد سے پردہ پڑا ہوا تھا اور وہ سن بھی نہ سکتے تھے

۱۰۲.  پھر کافر کیا خیال کرتے ہیں کہ میرے سوا میرے بندوں کو اپنا کارساز بنا لیں گے بے شک ہم نے کافروں کے لیے دوزخ کو مہمانی بنایا ہے

۱۰۳.  کہہ دو کیا میں تمہیں بتاؤں جو  اعمال کے لحاظ سے بالکل خسارے میں ہیں

۱۰۴.  وہ جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں کھوئی گئی اور وہ خیال کرتے ہیں کہ بے شک وہ اچھے کام کر رہے ہیں

۱۰۵.  یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا اور اس کے روبرو جانے کا انکار کیا ہے پھر ان کے سارے اعمال ضائع ہو گئے سو ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی وزن قائم نہیں کریں گے

۱۰۶.  یہ سزا ان کی جہنم ہے ا سلیے کہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کا مذاق بنایا تھا

۱۰۷. بے شک جو  لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے ان کی مہمانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے بے شک جو  لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے ان کی مہمانی کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے

۱۰۸.  ان میں ہمیشہ رہیں گے وہاں سے جگہ بدلنی نہ چاہیں گے

۱۰۹.  کہہ دو اگر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لئے سمندر سیاہی بن جائے تو میرے رب کی باتیں ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہو جائے اور اگر چہ اس کی مدد کے لیے ہم ایسا ہی اور سمندر لائیں

۱۱۰.   کہہ دو کہ میں بھی تمہارے جیسا آدمی ہی ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے پھر جو  کوئی اپنے رب سے ملنے کی امید رکھے تو اسے چاہیئے کہ اچھے کام کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے

 

سورۃ مریم

شروع اللہ کے نام سے جو  بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.      کھیعصۤ

۲.      یہ تیرے رب کی مہربانی کا ذکر ہے جو  اس کے بندے زکریا پر ہوئی

۳.     جب اس نے اپنے رب کو خفیہ آواز سے پکارا

۴.     کہا اے میرے رب میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور سر میں بڑھاپا چمکنے لگا ہے اور میرے رب تجھ سے مانگ کر میں کبھی محروم نہیں ہوا

۵.     اور بے شک میں اپنے بعد اپنے رشتہ داروں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے پس تو اپنے ہاں سے ایک وارث عطا کر

۶.      جو میرا اور یعقوب کے خاندان کا بھی وارث ہو اور میرے رب اسے پسندیدہ بنا

۷.     اے زکریا بے شک ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہو گا اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی پیدا نہیں کیا

۸.     کہا اے میرے رب میرے لیے لڑکا کہاں سے ہو گا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے میں انتہائی درجہ کو پہنچ گیا ہوں

۹.      کہا ایسا ہی ہو گا تیرے رب نے کہا ہے وہ مجھ پر آسان ہے اور میں نے تجھے اس سے پہلے پیدا کیا حالانکہ تو کوئی چیز نہ تھا

۱۰.    کہا اے میرے رب میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر کہا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تین رات تک مسلسل لوگوں سے بات نہیں کر سکے گا

۱۱.     پھر حجرہ سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے اور انہیں اشارہ سے کہا کہ تم صبح و شام خدا کی تسبیح کیا کرو

۱۲.    اے یحییٰ کتاب کو مضبوطی سے پکڑ اور ہم نے اسے بچپن ہی میں حکمت عطا کی

۱۳.    اور اسے اپنے ہاں سے رحم دلی اور پاکیزگی عنایت کی اور وہ پرہیز گار تھا

۱۴.    اور اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا اور سرکش نافرمان نہ تھا

۱۵.    اور اس پر سلام ہو جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن مرے گا اور جس دن وہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا

۱۶.    اور اس کتاب میں مریم کا ذکر کر جب کہ وہ اپنے لوگوں سے علیحدہ ہو کر مشرقی مقام میں جا بیٹھی

۱۷.    پھر لوگوں کے سامنے سے پردہ ڈال لیا پھر ہم نے اس کے پاس اپنے فرشتے کو بھیجا پھر وہ اس کے سامنے پورا آدمی بن کر ظاہر ہوا

۱۸.    کہا بے شک میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو پرہیزگار ہے

۱۹.     کہا میں تو بس تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ تجھے پاکیزہ لڑکا دوں

۲۰.   کہا میرے لیے لڑکا کہاں سے ہو گا حالانکہ مجھے کسی آدمی نے ہاتھ نہیں لگایا اور نہ میں بدکار ہوں

۲۱.    کہا ایسا ہی ہو گا تیرے رب نے کہا ہے وہ مجھ پر آسان ہے اور تاکہ ہم اسے لوگوں کے لیے نشانی اور اپنی طرف سے رحمت بنائیں اور یہ بات طے ہو چکی ہے

۲۲.   پھر اس (بچہ کے ساتھ) حاملہ ہوئی پھر اسے لے کر کسی دور جگہ میں چلی گئی

۲۳.   پھر اسے درد زہ ایک کھجور کی جڑ میں لے آیا کہا اے افسوس میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور میں بھولی بھلائی ہوتی

۲۴.   پھر اسے اس کے نیچے سے پکارا کہ غم نہ کر تیرے رب نے تیرے نیچے سے ایک چشمہ پیدا کر دیا

۲۵.   اور تو کھجور کے تنہ کو پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر پکی تازہ کھجوریں گریں گی

۲۶.   سوکھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی کر پھر اگر تو کوئی آدمی دیکھے تو کہہ دے کہ میں نے رحمان کے لیے روزہ کی نذر مانی ہے سو آج میں کسی انسان سے بات نہیں کروں گی

۲۷.   پھر وہ اسے قوم کے پاس اٹھا کر لائی انہوں نے کہا اے مریمؑ البتہ تو نے عجیب بات کر دکھائی

۲۸.   اے ہارون کی بہن نہ تو تیرا باپ ہی برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں بدکار تھی

۲۹.    تب اس نے لڑکے کی طرف اشارہ کیا انہوں نے کہا ہم پنگوڑے والے بچے سے کیسے بات کریں

۳۰.   کہا بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں مجھے اس نے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے

۳۱.    اور مجھے با برکت بنایا ہے جہاں کہیں ہوں اور مجھے کو نماز اور زکوٰۃ کی وصیت کی ہے جب تک میں زندہ ہوں

۳۲.   اور اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرنے والا اور مجھے سرکش بدبخت نہیں بنایا

۳۳.   اور مجھ پر سلام ہے جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا

۳۴.   یہ عیسیٰ مریمؑ کا بیٹا ہے سچی بات جس میں وہ جھگڑ رہے ہیں

۳۵.   اللہ کی شان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے وہ پاک ہے جب کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو صرف اسے کن کہتا ہے پھر وہ ہو جاتا ہے

۳۶.   اور بے شک اللہ تعالیٰ میرا اور تمہارا رب ہے سو اسی کی عبادت کرو یہ سیدھا راستہ ہے

۳۷.   پھر جماعتیں آپس میں مختلف ہو گئیں سو کافروں کے لیے ایک بڑے دن کے آنے سے خرابی ہے

۳۸.   کیا خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے جس دن ہمارے پاس آئیں گے لیکن ظالم آج صریح گمراہی میں ہیں

۳۹.   اور انہیں حسرت کے دن سے ڈرا جس دن سارے معاملہ کا فیصلہ ہو گا اور وہ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لاتے

۴۰.   بے شک ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے اور ان کے بھی جو  اس پر ہیں اور ہماری طرف لوٹائے جائیں گے

۴۱.    اور کتاب میں ابراہیمؑ کا ذکر بے شک وہ سچا نبی تھا

۴۲.   جب اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ تو کیوں پوجتا ہے ایسے کو جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے اور نہ تیرے کچھ کام آ سکے

۴۳.   اے میرے باپ بے شک مجھے وہ علم حاصل ہوا ہے جو  تمہیں حاصل نہیں تو آپ میری تابعداری کریں میں آپ کو سیدھا راستہ دکھاؤں گا

۴۴.   اے میرے باپ شیطان کی عبادت نہ کر بے شک شیطان اللہ کا نافرمان ہے

۴۵.   اے میرے باپ بے شک مجھے خوف ہے کہ تم پر اللہ کا عذاب آئے پھر شیطان کے ساتھی ہو جاؤ

۴۶.   کہا اے ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے پھرا ہوا ہے البتہ اگر تو باز نہ آیا میں تجھے سنگسار کر دوں گا اور مجھ سے ایک مدت تک دور ہو جا

۴۷.   کہا تیری سلامتی رہے اب میں اپنے رب سے تیری بخشش کی دعا کروں گا بے شک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے

۴۸.   اور میں تمہیں چھوڑتا ہوں اور جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اور میں اپنے رب ہی کو پکاروں گا امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کر محروم نہ رہوں گا

۴۹.   پھر جب ان سے علیٰحدہ ہوا اور اس چیز سے جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیا اور ہم نے ہر ایک کو نبی بنایا

۵۰.   اور ہم نے ان سب کو اپنی رحمت سے حصہ دیا اور ہم نے ان کا نیک نام بلند کیا

۵۱.    اور کتاب میں موسیٰؑ کا ذکر کر بے شک وہ خاص بندے اور بھیجے ہوئے پیغمبر تھے

۵۲.   اور ہم نے اسے کوہِ طور کے دائیں طرف سے پکارا اور اسے راز کی بات کہنے کے لیے قریب بلایا

۵۳.   اور ہم نے اسے اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر عطا کیا

۵۴.   اور کتاب میں اسماعیل کا بھی ذکر کر بے شک وہ وعدہ کا سچا اور بھیجا ہوا پیغمبر تھا

۵۵.   اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم کرتا تھا اور وہ اپنے رب کے ہاں پسندیدہ تھا

۵۶.   اور کتاب میں ادریس کا ذکر کر بے شک وہ سچا نبی تھا

۵۷.   اور ہم نے اسے بلند مرتبہ پر پہنچایا

۵۸.   یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا پیغمبروں میں اور آدم کی اولاد میں سے اور ان میں سے جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد میں سے اور ان میں سے جنہیں ہم نے ہدایت کی اور پسند کیا جب ان پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو روتے ہوئے سجدے میں گرتے ہیں

۵۹.    پھر ان کی جگہ ایسے نا خلف آئے جنہوں نے نماز ضائع کی اور خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے پھر عنقریب گمراہی کی سزا پائیں گے

۶۰.   مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک کام کیے سو وہ لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا

۶۱.    ہمیشگی کے باغوں میں جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے جو  ان کی آنکھوں سے پوشیدہ ہے بے شک اس کا وعدہ پورا ہونے والا ہے

۶۲.   اس میں سوائے سلام کے کوئی فضول بات نہ سنیں گے اور انہیں وہاں صبح و شام کھانا ملے گا

۶۳.   یہ وہ جنت ہے کہ ہم اپنے بندوں میں سے اس کو وارث بنائیں گے جو  پرہیزگار ہو گا

۶۴.   اور ہم تیرے رب کے حکم کے سوا نہیں اترتے اسی کا ہے جو  کچھ ہمارے سامنے ہے اور جو  کچھ ہمارے پیچھے ہے اور جو  کچھ اس کے درمیان ہے اور  تیرا رب بھولنے والا نہیں

۶۵.   آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو  چیز ان کے درمیان ہے سو اسی کی عبادت کرو اسی کی عبادت پر قائم رہ کیا تیرے علم میں اس جیسا کوئی اور ہے

۶۶.    اور انسان کہتا ہے جب میں مر جاؤں گا تو کیا پھر زندہ کر کے نکالا جاؤں گا

۶۷.   کیا انسان کو یاد نہیں ہے کہ اس سے پہلے ہم نے اسے بنایا تھا اور وہ کوئی چیز بھی نہ تھا

۶۸.   سو تیرے رب کی قسم ہے ہم انہیں اور ان کے شیطانوں کو ضرور جمع کریں گے پھر ہم انہیں گھٹنوں پر گرے ہوئے دوزخ کے گرد حاضر کریں گے

۶۹.    پھر ہر گروہ میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیں گے جو  اللہ سے بہت ہی سرکش تھے

۷۰.   پھر ہم ان لوگوں کو خوب جانتے ہیں جو  دوزخ میں جانے کے زیادہ مستحق ہیں

۷۱.    اور تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا اس پر گزر نہ ہو یہ تیرے رب پر لازم مقرر کیا ہوا ہے

۷۲.   پھر ہم انہیں بچا لیں گے جو  ڈرتے ہیں اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں پر گرے ہوئے چھوڑ دیں گے

۷۳.   اور جب انہیں ہماری کھلی ہوئی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کافر ایمان داروں سے کہتے ہیں دونوں فریقوں میں سے کس کا مرتبہ بہتر ہے اور محفل کس کی اچھی ہے

۷۴.   اور ہم ان سے پہلے کتنی جماعتیں ہلاک کر چکے ہیں وہ سامان اور نمود میں بہتر تھے

۷۵.   کہہ دو جو  شخص گمراہی میں پڑا ہوا ہے سو اللہ بھی اسے ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس چیز کو دیکھیں گے جس کا انہیں نے وعدہ دیا گیا تھا یا عذاب یا قیامت تب معلوم کر لیں گے مرتبے میں کون برا ہے اور لشکر کس کا کمزور ہے

۷۶.   اور جو  لوگ ہدایت پر ہیں اللہ انہیں زیادہ ہدایت دیتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ثواب اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں

۷۷.  کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہتا ہے کہ مجھے ضرور مال اور اولاد ملے گی

۷۸.   کیا اس نے غیب پر اطلاع پائی ہے یا اس نے اللہ سے اقرار لے رکھا ہے

۷۹.   ہرگز نہیں ہم لکھ لیتے ہیں جو  کچھ وہ کہتا ہے اور اس کے لیے عذاب بڑھاتے جاتے ہیں

۸۰.   اور ہم اس کے وارث ہوں گے جو  کچھ وہ کہتا ہے اور ہمارے ہاں تنہا آئے گا

۸۱.    اور انہوں نے اللہ کے سوا معبود بنا لیے ہیں تاکہ وہ ان کے مددگار ہوں

۸۲.   ہرگز نہیں وہ جلد ہی ان کی عبادت کا انکار کریں گے اور ان کے مخالف ہو جائیں گے

۸۳.   کیا تو نے نہیں دیکھا ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے وہ انھیں ابھارتے رہتے ہیں

۸۴.   سوتو ان کے لیے عذاب کی جلدی نہ کر ہم خود ان کے دن گن رہے ہیں

۸۵.   جس دن ہم پرہیزگاروں کے رحمان کے پاس مہمان بنا کر جمع کریں گے

۸۶.   اور گناہگاروں کو دوزخ کی طرف پیاسا ہانکیں گے

۸۷.   کسی کو سفارش کا اختیار نہیں ہو گا مگر جس نے رحمان کے ہاں سے اجازت لی ہو

۸۸.   اور کہتے ہیں کہ رحمان نے بیٹا بنا لیا

۸۹.   البتہ تحقیق تم سخت بات زبان پر لائے ہو

۹۰.    کہ جس سے ابھی آسمان پھٹ جائیں اور زمین چر جائے اور پہاڑ ٹکڑے ہو کر گر پڑیں

۹۱.     اس لئے کہ انہوں نے رحمان کے لیے بیٹا تجویز کیا

۹۲.    اور رحمان کی یہ شان نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے

۹۳.   جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ان میں سے ایسا کوئی نہیں جو  رحمان کا بندہ بن کر نہ آئے

۹۴.   البتہ تحقیق اس نے انھیں شمار کر رکھا ہے اور ان کی گنتی گن رکھی ہے

۹۵.    اور ہر ایک ان میں سے اس کے ہاں اکیلا آئے گا

۹۶.    بے شک جو  ایمان لائے اور نیک کام کیے عنقریب رحمان ان کے لیے محبت پیدا کرے گا بلاشبہ جو  لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اللہ تعالیٰ ان کے لیے محبت پیدا کر ے گا

۹۷.   سو ہم نے فرمان کو تیری زبان میں اس لیے آسان کیا ہے کہ تو اس سے پرہیز گاروں کو خوشخبری سنا دے اور جھگڑنے والوں کو ڈرا دے

۹۸.   اور ہم ان سے پہلے کئی جماعتیں ہلاک کر چکے ہیں کیا تو کسی کی ان میں سے آہٹ پاتا ہے یا ان کی بھنک سنتا ہے

 

سورۃ طٰہ

شروع اللہ کے نام سے جو  بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.      طہۤ

۲.      ہم نے تم پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم تکلیف اٹھاؤ

۳.     بلکہ اس شخص کے لیے نصیحت ہے جو  ڈرتا ہے

۴.     اس کی طرف سے نازل ہوا ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا

۵.     رحمان جو  عرش پر جلوہ گر ہے

۶.      اسی کا ہے جو  کچھ آسمانوں میں ہے اور جو  کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ گیلی زمین کے نیچے ہے

۷.     اور اگر تو پکار کر بات کہے تو وہ پوشیدہ اور اس سے بھی زیادہ پوشیدہ کو جانتا ہے

۸.     اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کے سب نام اچھے ہیں

۹.      اور کیا تجھے موسیٰؑ کی بات پہنچی ہے

۱۰.    جب اس نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا کہ ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے شاید کہ میں اس سے تمہارے پاس کوئی چنگاری لاؤں یا وہاں کوئی رہبر پاؤں

۱۱.     پھر جب وہ اس کے پاس آئے تو آواز آئی کہ اے موسیٰ

۱۲.    میں تمہارا رب ہوں سو تم اپنی جوتیاں اتار دو بے شک تم پاک وادی طویٰ میں ہو

۱۳.    اور میں نے تجھے پسند کیا ہے جو  کچھ وحی کی جا رہی ہے اسے سن لو

۱۴.    بے شک میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں پس میری ہی بندگی کر اور میری ہی یاد کے لیے نماز پڑھا کر

۱۵.    بے شک قیامت آنے والی ہے میں اسے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ مل جائے

۱۶.    سو تمہیں قیامت سے ایسا شخص باز نہ رکھنے پائے جو  اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہشوں پر چلتا ہے پھر تم تباہ ہو جاؤ

۱۷.    اور اے موسیٰؑ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے

۱۸.    کہا یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لیے اور بھی فائدے ہیں

۱۹.     فرمایا اے موسیٰ اسے ڈال دو

۲۰.   پھر اسے ڈال دیا تو اسی وقت وہ دوڑتا ہوا سانپ ہو گیا

۲۱.    فرمایا اسے پکڑ لے اور نہ ڈر ہم ابھی اسے پہلی حالت پر پھیر دیں گے

۲۲.   اور اپنا ہاتھ اپنی بغل سے ملا دے بلا عیب سفید ہو کر نکلے گا یہ دوسری نشانی ہے

۲۳.   تاکہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیوں میں سے بعض دکھائیں

۲۴.   فرعون کے پاس جا بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے

۲۵.   کہا اے میرے رب میرا سینہ کھول دے

۲۶.   اور میرا کام آسان کر

۲۷.   اور میری زبان سے گرہ کھول دے

۲۸.   کہ میری بات سمجھ لیں

۲۹.    اور میرے لیے میرے کنبے میں سے ایک معاون بنا دے

۳۰.   ہارون کو جو  میرا بھائی ہے

۳۱.    اس سے میری کمر مضبوط کر دے

۳۲.   اور اسے میرے کام میں شریک کر دے

۳۳.   تاکہ ہم تیری پاک ذات کا بہت بیان کریں

۳۴.   اور تجھے بہت یاد کریں

۳۵.   بے شک تو ہمیں خوب دیکھتا ہے

۳۶.   فرمایا اے موسیٰ تیری درخواست منظور ہے

۳۷.   اور البتہ تحقیق ہم نے تجھ پر ایک دفعہ اور بھی احسان کیا ہے

۳۸.   جب ہم نے تیری ماں کے دل میں بات ڈال دی تھی

۳۹.   کہ اسے صندوق میں ڈال دے پھر اسے دریا میں ڈال دے پر اسے دریا کنارے پر ڈال دے گا اسے میرا دشمن اور اس کا دشمن اٹھا لے گا اور میں نے تجھ پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی اور تاکہ تو میرے سامنے پرورش پائے

۴۰.   جب تیری بہن کہتی جا رہی تھی کیا تمہیں ایسی عورت بتاؤں جو  اسے اچھی طرح پالے پھر ہم نے تجھے تیری ماں کے پاس پہنچا دیا کہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو اور غم نہ کھائے اور تو نے ایک شخص کو مار ڈالا پھر ہم نے تجھے اس غم سے نکالا اور ہم نے تجھے کئی مرتبہ آزمائش میں ڈالا پھر تو مدین والوں میں کئی برس رہا پھر تو اے موسیٰ تقدیر سے یہاں آیا

۴۱.    اور میں نے تجھے خاص اپنے واسطے بنایا

۴۲.   تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں کوتاہی نہ کرو

۴۳.   فرعون کے پاس جاؤ بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے

۴۴.   سو اس سے نرمی سے بات کرو شاید وہ نصیحت حاصل کرے یا ڈر جائے

۴۵.   کہا اے ہمارے رب ہمیں ڈر ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے یا یہ کہ زیادہ سرکشی کرے

۴۶.   فرمایا ڈرو مت میں تمہارے ساتھ سنتا اور دیکھتا ہوں

۴۷.   سو تم دونوں اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ بے شک ہم تیرے رب کی طرف سے پیغام لے کر آئے ہیں کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں تکلیف نہ دے ہم تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی اس کے لیے ہے جو  سیدھی راہ پر چلے

۴۸.   بے شک ہمیں وحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب اسی پر ہو گا جو  جھٹلائے اور منہ پھیر لے

۴۹.   کہا اے موسیٰ پھر تمہارا رب کون ہے

۵۰.   کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی صورت عطا کی پھر راہ دکھائی

۵۱.    کہا پھر پہلی جماعتوں کا کیا حال ہے

۵۲.   کہا ان کا علم میرے رب کے ہاں کتاب میں ہے میرا رب نہ غلطی کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے

۵۳.   جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور تمہارے لیے اس میں راستے بنائے اور آسمان سے پانی نازل کیا پھر ہم نے اس میں طرح طرح کی مختلف سبزیاں نکالیں

۵۴.   کھاؤ اور اپنے مویشیوں کو چراؤ بے شک اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں

۵۵.   اسی زمین سے ہم نے تمہیں بنایا اور اسی میں لوٹائیں گے اور دوبارہ اسی سے نکالیں گے

۵۶.   اور ہم نے فرعون کو اپنی سب نشانیاں دکھا دیں پھر اس نے جھٹلایا اور انکار کیا

۵۷.   کہا اے موسیٰ کیا تو ہمیں اپنے جادو سے ہمارے ملک سے نکالنے کے لیے آیا ہے

۵۸.   سو ہم بھی تیرے مقابلے میں ایک ایسا ہی جادو لائیں گے سو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدہ مقرر کر دے نہ ہم اس کے خلاف کریں اور نہ تو کسی صاف میدان میں

۵۹.    کہا تمہارا وعدہ جشن کا دن ہے اور دن چڑھے لوگ اکھٹے کیے جائیں

۶۰.   پھر فرعون لوٹ گیا اور اپنے مکر کا سامان جمع کیا پھر آیا

۶۱.    موسیٰ نے کہا افسوس تم اللہ پر بہتان نہ باندھو ورنہ وہ کسی عذاب سے تمہیں ہلاک کر دے گا اور بے شک جس نے جھوٹ بنایا وہ غارت ہوا

۶۲.   پھر ان کا آپس میں اختلاف ہو گیا اور خفیہ گفتگو کرتے رہے

۶۳.   کہا بے شک یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دیں اور تمہارے عمدہ طریقہ کو موقوف کر دیں

۶۴.   پھر تم اپنی تدبیر جمع کر کے صف باندھ کر آؤ اور تحقیق آج جیت گیا جو  غالب رہا

۶۵.   کہا اے موسیٰ یا تو ڈال اور یا ہم پہلے ڈالنے والے ہوں

۶۶.    کہا بلکہ تم ڈالو پس اچانک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو سے اس کے خیال میں دوڑ رہی ہیں

۶۷.   پھر موسیٰ نے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا

۶۸.   ہم نے کہا ڈرو مت بیشک تو ہی غالب ہو گا

۶۹.    اور جو  تیرے دائیں ہاتھ میں ہے ڈال دے کہ نگل جائے جو  کچھ انہوں نے بنایا ہے جو  کچھ کہ انہوں نے بنایا ہے صرف جادوگر کا فریب ہے اور جادوگر کا بھلا نہیں ہوتا جہاں بھی ہو

۷۰.   پھر جادوگر سجدہ میں گر پڑے کہا ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لائے

۷۱.    کہا تم میری اجازت سے پہلے ہی اس پر ایمان لے آئے بے شک یہ تمہارا سردار ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا سو اب میں تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹواؤں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا اور تمہیں معلوم ہو جائے گا ہم میں سے کس کا عذاب سخت اور دیر تک رہنے والا ہے

۷۲.   کہا ہم تجھے ہرگز ترجیح نہ دیں گے ان کھلی ہوئی نشانیوں کے مقابلہ میں جو  ہمارے پاس آ چکی ہیں اور نہ اس کے مقابلہ میں جس نے ہمیں پیدا کیا ہے سو تو کر گزر جو  تجھے کرنا ہے تو صرف اس دنیا کی زندگی پر حکم چلا سکتا ہے

۷۳.   بے شک ہم اپنے رب پر ایمان لائے ہیں تاکہ ہمارے گناہ معاف کرے اور جو  تو نے ہم سے زبردستی جادو کرایا اور اللہ بہتر اور سدا باقی رہنے والا ہے

۷۴.   بے شک جو  شخص اپنے رب کے پاس مجرم ہو کر آئے گا سواس کے لیے دوزخ ہے جس میں نہ مرے گا اور نہ جیے گا

۷۵.   اور جو  اس کے پاس مومن ہو کر آئے گا حالانکہ اس نے اچھے کام بھی کیے ہوں تو ان کے لیے بلند مرتبے ہوں گے

۷۶.   ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ اس کی جزا ہے جو  گناہ سے پاک ہوا

۷۷.  اور ہم نے البتہ موسیٰ کو وحی کی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے جا پھر ان کے لیے دریا میں خشک راستہ بنا دے پکڑے جانے سے نہ ڈر اور نہ کسی خطرہ کا خوف کھا

۷۸.   پھر فرعون نے اپنے لشکر کو لے کر ان کا پیچھا کیا پھر انہیں دریا نے ڈھانپ لیا جیسا ڈھانپا

۷۹.   اور فرعون نے اپنی قوم کو بہکایا اور راہ پر نہ لایا

۸۰.   اے بنی اسرائیل ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے طور کی دائیں طرف کا وعدہ کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارا

۸۱.    کھاؤ جو  ستھری چیزیں ہم نے تمہیں دی ہیں اور اس میں حد سے نہ گزرو پھر تم پر میرا غضب نازل ہو گا اور جس پرمیرا غضب نازل ہوا سو وہ گڑھے میں جا گرا

۸۲.   اور بے شک میں بڑا بخشنے والا ہوں اس کو جو  توبہ کرے اور ایمان لائے اور اچھے کام کرے پھر ہدایت پر قائم رہے

۸۳.   اور اے موسیٰ تجھے اپنی قوم سے پہلے جلدی آنے کا کیا سبب ہوا

۸۴.   کہا وہ بھی میرے پیچھے یہ آ رہے ہیں اور اے میرے رب میں جلدی تیرے طرف آیا تاکہ تو خوش ہو

۸۵.   فرمایا تیری قوم کو تیرے بعد ہم نے آزمائش میں ڈال دیا ہے اور انہیں سامری نے گمراہ کر دیا ہے

۸۶.   پھر موسیٰ اپنی قوم کی طرف غصہ میں بھرے ہوئے افسوس کرتے ہوئے لوٹے کہا اے میری قوم کیا تمہارے رب نے تم سے اچھا وعدہ نہیں کیا تھا پھر کیا تم پر بہت زمانہ گزر گیا تھا یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غصہ نازل ہو تب تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی

۸۷.   کہا ہم نے اپنے اختیار سے آپ سے وعدہ خلافی نہیں کی لیکن ہم سے اس قوم کے زیور کا بوجھ اٹھوایا گیا تھا سو ہم نے اسے ڈال دیا پھر اسی طرح سامری نے ڈال دیا

۸۸.   پھر ان کے لیے ایک بچھڑا نکال لایا ایک جسم جس میں گائے کی آواز تھی پھر کہا یہ تمہارا اور موسیٰ کا معبود ہے سو وہ بھول گیا ہے

۸۹.   کیا پس وہ نہیں دیکھتے کہ وہ انہیں کس بات کا جو اب نہیں دیتا اور ان کے نقصان اور نفع کا بھی اسے اختیار نہیں

۹۰.    اور انہیں ہارون نے اس سے پہلے کہہ دیا تھا اے میری قوم اس سے تمہاری آزمائش کی گئی ہے اور بے شک تمہارا رب رحمان ہے سو میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو

۹۱.     کہا ہم برابر اسی پر جمے بیٹھے رہیں گے یہاں تک کہ موسیٰ ہمارے پاس لوٹ کر آئے

۹۲.    کہا اے ہارون تمہیں کس چیز نے روکا جب تم نے دیکھا تھا کہ وہ گمراہ ہو گئے ہیں

۹۳.   تو میرے پیچھے نہ آیا کیا تو نے بھی میری حکم عدولی کی

۹۴.   کہا اے میری ماں کے بیٹے میری داڑھی اور اور سر نہ پکڑ بیشک میں ڈرا اس سے کہ تو کہے گا تو نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میرے فیصلہ کا انتظار نہ کیا

۹۵.    کہا اے سامری تیرا کیا معاملہ ہے

۹۶.    کہا میں نے وہ چیز دیکھی تھی جو  دوسروں نے نہ دیکھی پھر میں نے رسول کے نقشِ قدم کی ایک مٹھی مٹی میں لے کر ڈال دی اور میرے دل نے مجھے ایسی ہی بات سوجھائی

۹۷.   کہا بس چلا جا تیرے لیے زندگی میں یہ سزا ہے کہ تو کہے گا ہاتھ نہ لگانا اور تیرے لیے ایک وعدہ ہے جو  تجھ سے ٹلنے والا نہیں اور تو اپنے معبود کو دیکھ جس پر تو جما بیٹھا تھا ہم اسے ضرور جلا دیں گے پھر اسے دریا میں بکھیر کر بہا دیں گے

۹۸.   تمہارا معبود ہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کے علم میں سب چیز سما گئی ہے

۹۹.    ہم اسی طرح سے تجھے گزشتہ لوگوں کی کچھ خبریں سناتے ہیں اور ہم نے تجھے اپنے ہاں سے ایک نصیحت نامہ دیا ہے

۱۰۰.  جس نے اس سے منہ پھیرا سو وہ قیامت کے دن بوجھ اٹھائے گا

۱۰۱.   اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کے لیے قیامت کے دن بُرا بوجھ ہو گا

۱۰۲.  جس دن صور میں پھونکا جائے گا اور ہم اس دن مجرموں کو نیلی آنکھوں والے کر کے جمع کر دیں گے

۱۰۳.  چپکے چپکے آپس میں باتیں کہتے ہوں گے کہ تم صرف دس دن ٹھیرے ہو

۱۰۴.  ہم خوب جان لیں گے جو  کچھ وہ کہیں گے جب ان میں سے بڑا سمجھدار کہے گا کہ تم صرف ایک ہی دن ٹھہرے ہو

۱۰۵.  اور تجھ سے پہاڑوں کا حال پوچھتے ہیں سو کہہ دے میرا رب انہیں بالکل اڑا دے گا

۱۰۶.  پھر زمین کو چٹیل میدان کر کے چھوڑے گا

۱۰۷. تو اس میں کجی اور ٹیلا نہیں دیکھے گا

۱۰۸.  اس دن پکارے نے والے کا اتباع کریں گے اس میں کوئی کجی نہیں ہو گی اور رحمان کے ڈر سے آوازیں دب جائیں گی پھر تو پاؤں کی آہٹ کے سوا کچھ نہیں سنے گا

۱۰۹.  اس دن سفارش کام نہیں آئے گی مگر جسے رحمان نے اجازت دی اور اس کی بات پسند کی

۱۱۰.   وہ جانتا ہے جو  کچھ ان کے آگے اور پیچھے ہے اور ان کا علم اسے احاطہ نہیں کر سکتا

۱۱۱.    اور سب منہ حّی و قیوم کے سامنے جھک جائیں گے اور تحقیق نامراد ہوا جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا

۱۱۲.   اور جو  نیک کام کرے گا اور وہ مومن بھی ہو تو اسے ظلم اور حق تلفی کا کوئی خوف نہیں ہو گا

۱۱۳.   اور اسی طرح ہم نے اسے عربی قرآن نازل کیا ہے اور ہم نے اس میں طرح طرح سے ڈرانے کی باتیں سنائیں تاکہ وہ ڈریں یا ان میں سمجھ پیدا کر دے

۱۱۴.   سو اللہ بادشاہ حقیقی بلند مرتبے والا ہے اور تو قرآن کے لینے میں جلدی نہ کر جب تک اس کا اترنا پورا نہ ہو جائے اور کہہ اے میرے رب مجھے اور زیادہ علم دے

۱۱۵.   اور ہم نے اس سے پہلے آدم سے بھی عہد لیا تھا پھر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں پختگی نہ پائی

۱۱۶.   اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سوائے ابلیس کے سب نے سجدہ کیا اس نے انکار کیا

۱۱۷.  پھر ہم نے کہا اے آدم بے شک یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے سو تمہیں جنت سے نہ نکلوا دے پھر تو تکلیف میں پڑ جائے

۱۱۸.   بے شک تو اس میں بھوکا اور ننگا نہیں ہو گا

۱۱۹.   اور بے شک تو اس میں نہ پیاسا ہو گا اور نہ تجھے دھوپ لگے گی

۱۲۰.  پھر شیطان نے اس کے دل میں خیال ڈالا کہا اے آدم کیا میں تجھے ہمیشگی کا درخت بتاؤں اور ایسی بادشاہی جس میں ضعف نہ آئے

۱۲۱.   پھر دونوں نے اس درخت سے کھایا تب ان پر ان کی برہنگی ظاہر ہو گئی اور اپنے اوپر جنت کے پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی پھر بھٹک گیا

۱۲۲.  پھر اس کے رب نے اسے سرفراز کیا پھر اس کی توبہ قبول کی اور راہ دکھائی

۱۲۳.  فرمایا تم دونوں یہاں سے نکل جاؤ تم میں سے ایک دوسرے کا دشمن ہے پھر اگر تمہیں میری طرف سے ہدایت پہنچے پھر جو  میری ہدایت پر چلے گا تو گمراہ نہیں ہو گا اور نہ تکلیف اٹھائے گا

۱۲۴.  اور جو  میرے ذکر سے منہ پھیرے گا تو اس کی زندگی بھی تنگ ہو گی اور اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے

۱۲۵.  کہے گا اے میرے رب تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا حالانکہ میں بینا تھا

۱۲۶.  فرمائے گا اسی طرح تیرے پاس ہماری آیتیں پہنچی تھیں پھر تو نے انھیں بھلا دیا تھا اور اسی طرح آج تو بھی بھلایا گیا ہے

۱۲۷. اور اسی طرح ہم بدلہ دیں گے جو  حد سے نکلا اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہیں لیا اور البتہ آخرت کا عذاب بڑا سخت اور دیرپا ہے

۱۲۸.  سو کیا انہیں اس بات سے بھی سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے ان سے پہلے کئی جماعتیں ہلاک کر دی ہیں یہ لوگ ان کی جگہوں پر پھرتے ہیں بیشک اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں

۱۲۹.  اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے طے شدہ نہ ہوتی اور میعاد معین نہ ہوتی تو عذاب لازمی طور پر ہوتا

۱۳۰.  پس صبر کر اس پر جو  کہتے ہیں اور سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں اور دن کے اول اور آخر میں تسبیح کر تاکہ تجھے خوشی حاصل ہو

۱۳۱.   اور تو اپنی نظر ان چیزوں کی طرف نہ دوڑا جو  ہم نے مختلف قسم کے لوگوں کو دنیاوی زندگی کی رونق کے سامان دے رکھے ہیں تاکہ ہم انہیں اس میں آزمائیں اور تیرے رب کا رزق بہتر اور دیرپا ہے

۱۳۲.  اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کر اور خود بھی اس پر قائم رہ ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے ہم تجھے روزی دیتے ہیں اور پرہیزگاری کا انجام اچھا ہے

۱۳۳. اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہمارے پاس اپنے رب سے کوئی نشانی کیوں نہیں لے آتا کیا ان کے پاس پہلی کتابوں کی شہادت نہیں پہنچی

۱۳۴. اور اگر ہم انہیں اس سے پہلے کسی عذاب سے ہلاک کر دیتے تو کہتے اے ہمارے رب تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم ذلیل و خوار ہونے سے پہلے تیرے حکموں پر چلتے

۱۳۵.  کہہ دو ہر ایک انتظار کرنے والا ہے سو تم بھی انتظار کرو آئندہ تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ سیدھی راہ پر کون ہے اور ہدایت پانے والا کون ہے

 

سورۃ الانبیا

شروع اللہ کے نام سے جو  بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.      لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا ہے اور وہ غفلت میں پڑ کر منہ پھیرنے والے ہیں

۲.      ان کے رب کی طرف سمجھانے کے لیے کوئی ایسی نئی بات ان کے پاس نہیں آتی کہ جسے سن کر ہنسی میں نہ ٹال دیتے ہوں

۳.     ان کے دل کھیل میں لگے ہوئے ہیں اور ظالم پوشیدہ سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ تمہاری طرح ایک انسان ہی تو ہے پھر کیا تم دیدہ دانستہ جادو کی باتیں سنتے جاتے ہو

۴.     رسول نے کہا میرا رب آسمان اور زمین کی سب باتیں جانتا ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

۵.     بلکہ کہتے ہیں کہ یہ بیہودہ خواب ہیں بلکہ اس نے جھوٹ بنایا ہے بلکہ وہ شاعر ہے پھر چاہیے کہ ہمارے پاس کوئی نشانی لائے جس طرح پہلے پیغمبر بھیجے گئے تھے

۶.      ان سے پہلے کوئی بستی ایمان نہیں لائی تھی جسے ہم نے ہلاک کیا کیا  اب یہ ایمان لائیں گے

۷.     اور ہم نے تم سے پہلے بھی تو آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا ان کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھ لو

۸.     اور ہم نے ان کے ایسے بدن بھی نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے

۹.      پھر ہم نے ان سے وعدہ سچا کر دیا تب انہیں اور جسے ہم نے چاہا نجات دی اور ہم نے حد سے بڑھنے والوں کو ہلاک کر دیا

۱۰.    البتہ تحقیق ہم نے تمہارے پاس ایک ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہاری نصیحت ہے کیا پس تم نہیں سمجھتے

۱۱.     اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو  ظالم تھیں غارت کر دیا ہے اور ان کے بعد ہم نے اور قومیں پیدا کیں

۱۲.    پھر جب انہوں نے ہمارے عذاب کی آہٹ پائی تو وہ فوراً وہاں سے بھاگنے لگے

۱۳.    مت بھاگو اور لوٹ جاؤ جہاں تم نے عیش کیا تھا اور اپنے گھروں میں جاؤ تاکہ تم سے پوچھا جائے

۱۴.    کہنے لگے ہائے ہماری کم بختی بے شک ہم ہی ظالم تھے

۱۵.    سو ان کی یہی پکار رہی یہاں تک کہ ہم نے انہیں ایسا کر دیا جس طرح کھیتی کٹی ہوئی ہو اور وہ بجھ کر رہ گئے

۱۶.    اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو  کچھ ان کے بیچ میں ہے کھیلتے ہوئے نہیں بنایا

۱۷.    اور اگر ہم کھیل ہی بنانا چاہتے تو اپنے پاس کی چیزوں کو بناتے اگر ہمیں یہی کرنا ہوتا

۱۸.    بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں پھر وہ باطل کا سر توڑ دیتا ہے پھر وہ مٹنے والا ہوتا ہے اور تم پر افسوس ہے ان باتوں سے جو  تم بناتے ہو

۱۹.     اور اسی کا ہے جو  کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو  اس کے ہاں ہیں اس کی عبادت سے سرکشی نہیں کرتے اور نہ تھکتے ہیں

۲۰.   رات اور دن تسبیح کرتے ہیں سستی نہیں کرتے

۲۱.    کیا انہوں نے زمین کی چیزوں سے ایسے معبود بنا رکھے ہیں جو  زندہ کریں گے

۲۲.   اگر ان دونوں میں اللہ کے سوا اور معبود ہوتے تو دونوں خراب ہو جاتے سو اللہ عرش کا مالک ان باتوں سے پاک ہے جو  یہ بیان کرتے ہیں

۲۳.   جو کچھ وہ کرتا ہے اس سے پوچھا نہیں جاتا اور وہ پوچھے جاتے ہیں

۲۴.   کیا انہوں نے اس کے سوا اور بھی معبود بنا رکھے ہیں کہہ دو اپنی دلیل لاؤ یہ میرے ساتھ والوں کی کتاب اور مجھ سے پہلے لوگوں کی کتابیں موجود ہیں بلکہ اکثر ان میں سے حق جانتے ہی نہیں اس لیے منہ پھیرے ہوئے ہیں

۲۵.   اور ہم نے تم سے پہلے ایسا کوئی رسول نہیں بھیجا جس کی طرف یہ وحی نہ کی ہو کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں سو میری ہی عبادت کرو

۲۶.   اور کہتے ہیں کہ اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے وہ پاک ہے لیکن وہ معزز بندے ہیں

۲۷.   بات کرنے میں اس سے پیش قدمی نہیں کرتے اور وہ اسی کے حکم پر کام کرتے ہیں

۲۸.   وہ جانتا ہے جو  ان کے آگے اور جو  ان کے پیچھے ہے اور وہ شفاعت بھی نہیں کرتے مگر اسی کے لیے جس سے وہ خوش ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے ہیں

۲۹.    اور جو  کوئی ان میں سے یہ کہے کہ بے شک میں اس کے سوا خدا ہوں تو اسی پر ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے ہم اسی طرح ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیں

۳۰.   کیا منکروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین جڑے ہوئے تھے پھر ہم نے انھیں جدا جدا کر دیا اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے بنایا کیا پھر بھی یقین نہیں کرتے

۳۱.    اور ہم نے زمین میں بھاری پہاڑ رکھ دیئے تاکہ انہیں لے کر اِدھر اُدھر نہ جھکنے پائے اور ہم نے اس میں کشادہ راہیں بنا دی ہیں تاکہ وہ راہ پائیں

۳۲.   اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا اور وہ آسمان کی نشانیوں سے منہ موڑنے والے ہیں

۳۳.   اور وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند بنائے سب اپنے اپنے چکر میں پھرتے ہیں

۳۴.   اور ہم نے تجھ سے پہلے کسی آدمی کو ہمیشہ کے لیے زندہ رہنے نہیں دیا پھر کیا اگر تو مر گیا تو وہ رہ جائیں گے

۳۵.   ہر ایک جاندار موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی سے آزمانے کے لیے جانچتے ہیں اور ہماری طرف لوٹائے جاؤ گے

۳۶.   اور جہاں تمہیں کافر دیکھتے ہیں تو انہیں تجھ سے سوائے ٹھٹھا کرنے کے اور کوئی کام نہیں کیا یہی شخص ہے جو  تمہارے معبودوں کا نام لیتا ہے اور وہ رحمان کے نام سے منکر ہیں

۳۷.   آدمی جلد باز بنایا گیا ہے میں تمہیں اپنی نشانیاں ابھی دکھاتا ہوں سو جلدی مت کرو

۳۸.   ور کہتے ہیں یہ وعدہ کب ہو گا اگر تم سچے ہو

۳۹.   کاش یہ منکر اس وقت کو جان لیں کہ اپنے مونہوں اور اپنی پیٹھوں سے آگ کو روک نہیں سکیں گے اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے

۴۰.   بلکہ وہ ان پر ناگہاں آئے گی پھر وہ ان کے ہوش کھو دے گی پھر نہ اسے ٹال سکیں گے اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی

۴۱.    اور تجھ سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا گیا ہے پھر جس عذاب کی بابت وہ ہنسی کیا کرتے تھے ان ٹھٹھا کرنے والوں پر وہی آ پڑا

۴۲.   کہہ دو تمہاری رات اور دن میں رحمان سے کون نگہبانی کرتا ہے بلکہ وہ اپنے رب کے ذکر سے منہ موڑنے والے ہیں

۴۳.   کیا ہم سے ان کے معبود انہیں بچائے رکھتے ہیں وہ تو خود اپنی بھی مدد نہیں کر سکتے اور نہ ہمارے مقابلہ میں ان کا کوئی ساتھ دے گا

۴۴.   بلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو خوب سامان دیا یہاں تک کہ ان پر ایک عرصہ دراز گزر گیا کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ بے شک ہم زمین کو ہر طرف سے گھٹاتے چلے جاتے ہیں سو کیا یہ لوگ غالب آنے والے ہیں

۴۵.   کہہ دو کہ میں تو صرف وحی کے ذریعہ سے تمہیں ڈراتا ہوں اور یہ بہرے جس وقت ڈرائے جاتے ہیں سنتے ہی نہیں

۴۶.   اور البتہ اگر انہیں تیرے رب کا عذاب کا ایک جھونکا بھی لگ جائے تو ضرور کہیں گے کہ ہائے ہماری کم بختی بے شک ہم ظالم تھے

۴۷.   اور قیامت کے دن ہم انصاف کی ترازو قائم کریں گے پھر کسی پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی عمل ہو گا تو اسے بھی ہم لے آئیں گے اور ہم ہی حساب لینے کے لیے کافی ہیں

۴۸.   اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فیصلہ کرنے والی اور روشنی دینے والی اور پرہیز گاروں کو نصیحت کرنے والی کتاب دی تھی

۴۹.   جو اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور قیامت کا بھی خوف رکھنے والے ہیں

۵۰.   اور یہ ایک مبارک نصیحت ہے جسے ہم نازل کیا ہے پھر کیا تم اس کے بھی منکر ہو

۵۱.    اور ہم نے پہلے ہی سے ابراہیم کو اس کی صلاحیت عطا کی تھی اور ہم اس سے واقف تھے

۵۲.   جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ کیسی مورتیں ہیں جن پر تم مجاور بنے بیٹھے ہو

۵۳.   انہوں نے کہا ہم نے اپنے باپ دادا کو انہیں کی پوجا کرتے پایا ہے

۵۴.   کہا البتہ تحقیق تم اور تمہارے باپ دادا صریح گمراہی میں رہے ہو

۵۵.   انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس سچی بات لایا ہے یا تو دل لگی کرتا ہے

۵۶.   کہا بلکہ تمہارا رب تو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے انہیں بنایا ہے اور میں اسی بات کا قائل ہوں

۵۷.   اور اللہ کی قسم میں تمہارے بتوں کا علاج کروں گا جب تم پیٹھ پھیر کر جا چکو گے

۵۸.   پھر ان کے بڑے کے سوا سب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تاکہ اس کی طرف رجوع کریں

۵۹.    انہوں نے کہا ہمارے معبودوں کے ساتھ کس نے یہ کیا ہے بے شک وہ ظالموں میں سے ہے

۶۰.   انہوں نے کہا ہم نے سنا ہے کہ ایک جو  ان بتوں کو کچھ کہا کرتا ہے اسے ابراہیم کہتے ہیں

۶۱.    کہنے لگے اسے لوگوں کے سامنے لے آؤ تاکہ وہ دیکھیں

۶۲.   کہنے لگے اے ابراہیم کیا تو نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کیا ہے

۶۳.   کہا بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ کیا ہے سو ان سے پوچھ لو اگر وہ بولتے ہیں

۶۴.   پھر وہ اپنے دل میں سوچ کر کہنے لگے بے شک تم ہی بے انصاف ہو

۶۵.   پھر انہوں نے سر نیچا کر کے کہا تو جانتا ہے کہ یہ بولا نہیں کرتے

۶۶.    کہا پھر کیا تم اللہ کے سوا اس چیز کی پوجا کرتے ہو جو  نہ تمہیں نفع دے سکے اور نہ نقصان پہنچا سکے

۶۷.   میں تم سے اور جنہیں اللہ کے سوا پوجتے ہو بیزار ہوں پھر کیا تمھیں عقل نہیں ہے

۶۸.   انھوں نے کہا اگر تمہیں کچھ کرنا ہے تو اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو

۶۹.    ہم نے کہا اے آگ ابراہیم پر سرد اور راحت ہو جا

۷۰.   اور انہوں نے اس کی برائی چاہی سو ہم نے انہیں ناکام کر دیا

۷۱.    اور ہم اسے اور لوط کو بچا کراس زمین کی طرف لے آئے جس میں ہم نے جہان کے لیے برکت رکھی ہے

۷۲.   اور ہم نے اسے اسحاق بخشا اور انعام میں یعقوب دیا اور سب کو نیک بخت کیا

۷۳.   اور ہم نے انہیں پیشوا بنایا جو  ہمارے حکم سے رہنمائی کیا کرتے تھے اور ہم نے انہیں اچھے کام کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا تھا اور وہ ہماری ہی بندگی کیا کرتے تھے

۷۴.   اور لوط کو ہم نے حکمت اور علم عطا کیا تھا اور ہم اسے اس بستی سے جو  گندے کام کیا کرتی تھی بچا کر لے آئے بے شک وہ لوگ برے نافرمانی کرنے والے تھے

۷۵.   اور اسے ہم نے اپنی رحمت میں لے لیا بے شک وہ نیک بختوں میں سے تھا

۷۶.   اور نوح کو جب اس نے اس سے پہلے پکارا پھر ہم نے اس کی دعا قبول کر لی پھر ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو گھبراہٹ سے بچا لیا

۷۷.  اور ہم نے اس کی مدد کی ان لوگوں پر جو  ہماری آیتیں جھٹلاتے تھے بے شک وہ بُرے لوگ تھے پھر ہم نے ان سب کو غرق کر دیا

۷۸.   اور داؤد اور سلیمان کو جب وہ کھیتی کے جھگڑا میں فیصلہ کرنے لگے جب کہ اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت جا پڑیں اور ہم اس فیصلہ کو دیکھ رہے تھے

۷۹.   پھر ہم نے وہ فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا اور ہر ایک کو ہم نے حکمت اور علم دیا تھا اور ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑ اور پرندے تابع کیے جو  تسبیح کیا کرتے تھے اور یہ سب کچھ ہم ہی کرنے والے تھے

۸۰.   اور ہم نے اسے تمہارے لیے زر ہیں بنانا بھی سکھایا تاکہ تمہیں لڑائی میں محفوظ رکھیں پھر کیا تم شکر کرتے ہو

۸۱.    اور زور سے چلنے والی ہوا سلیمان کے تابع کی جو  اس کے حکم سے اس زمین کی طرف چلتی جہاں ہم نے برکت دی ہے اور ہم ہر چیز کو جاننے والے ہیں

۸۲.   اور تو کچھ ایسے جن تھے جو  دریا میں اس کے واسطے غوطہ لگاتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کی حفاظت کرنے والے تھے

۸۳.   اور جب کہ ایوب نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے روگ لگ گیا ہے حالانکہ تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے

۸۴.   پھر ہم نے اس کی دعا قبول کی اور جو اسے تکلیف تھی ہم نے دور کر دی اور اسے اس کے گھر والے دیئے اور اتنا ہی ان کے ساتھ اپنی رحمت سے اور بھی دیا اور عبادت کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے

۸۵.   اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو یہ سب صبر کرنے والے تھے

۸۶.   اور ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کر لیا بے شک وہ نیک بختوں میں سے تھے

۸۷.   اور مچھلی والے کو جب غصہ ہو کر چلا گیا پھر خیال کیا کہ ہم اسے نہیں پکڑیں گے اندھیروں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو بے عیب ہے بے شک میں بے انصافوں میں سے تھا

۸۸.   پھر ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دی اور ہم ایمان داروں کو یونہی نجات دیا کرتے ہیں

۸۹.   اور ذکریا کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا اے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے

۹۰.    پھر ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا کیا اور اس کے لیے اس کی بیوی کو درست کر دیا بے شک یہ لوگ نیک کاموں میں دوڑ پڑتے تھے اور ہمیں امید اور ڈر سے پکارا کرتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے

۹۱.     اور وہ عورت جس نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا پھر ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اسے اور اس کے بیٹے کو جہان کے لیے نشانی بنایا

۹۲.    یہ لوگ تمہارے گروہ کے ہیں جو  ایک ہی گروہ ہے اور میں تمہارا رب ہوں پھر میری ہی عبادت کرو

۹۳.   اور ان لوگوں نے اپنے دین میں اختلاف پیدا کر لیا سب ہمارے پاس ہی آنے والے ہیں

۹۴.   پھر جو  کوئی اچھے کام کرے گا اور وہ مومن بھی ہو گا تو اس کی کوشش رائگاں نہ جائے گی اور بے شک ہم اس کے لکھنے والے ہیں

۹۵.    اور جن بستیوں کو ہم فنا کر چکے ہیں ان کے لیے ناممکن ہے کہ وہ پھر لوٹ کر آئیں

۹۶.    یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے چلے آئیں گے

۹۷.   اور سچا وعدہ نزدیک آ پہنچے گا پھر اس وقت منکروں کی آنکھیں اوپر لگی رہ جائیں گی ہائے کم بختی ہماری بے شک ہم تو اس سے غفلت میں پڑے ہوئے تھے بلکہ ہم ہی ظالم تھے

۹۸.   بے شک تم اور اللہ کے سوا جو  کچھ پوجتے ہو دوزخ کا ایندھن ہے تم سب اس میں داخل ہو گے

۹۹.    اگر یہ معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے اور سب اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں

۱۰۰.  ان کے لیے دوزخ میں چیخیں ہوں گی اور وہ اس میں کچھ نہیں سنیں گے

۱۰۱.   بے شک جن کے لیے ہماری طرف سے بھلائی مقدر ہو چکی ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے

۱۰۲.  اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے اور وہ اپنی من مانی مرادوں میں ہمیشہ رہیں گے

۱۰۳.  اور انہیں بڑا بھاری خوف بھی پریشان نہیں کرے گا اور ان سے فرشتے آ ملیں گے یہی وہ تمہارا دن ہے جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا

۱۰۴.  جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹیں گے جیسے خطوں کا طومار لپیٹا جاتا ہے جس طرح ہم نے پہلی بار پیدا کیا تھا دوبارہ بھی پیدا کریں گے یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے بے شک ہم پورا کرنے والے ہیں

۱۰۵.  اور البتہ تحقیق ہم نصیحت کے بعد زبور میں لکھ چکے ہیں کہ بے شک زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے

۱۰۶.  بے شک اس میں خدا پرستوں کے لیے ایک پیغام ہے

۱۰۷. اور ہم نے تو تمہیں تمام جہان کے لوگوں کے حق میں رحمت بنا کر بھیجا ہے

۱۰۸.  کہہ دو مجھے تو یہی حکم آیا ہے کہ تمہارا معبود ایک معبود ہے پھر کیا اس کے آگے سر جھکاتے ہو

۱۰۹.  پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو کہ میں نے یکساں طور پر خبر دے دی ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ نزدیک ہے یا دور ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے

۱۱۰.   بے شک وہ جانتا ہے جو  بات پکار کر کہو اور جانتا ہے جو  تم چھپاتے ہو

۱۱۱.    اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لیے امتحان ہو اور ایک وقت تک دنیا کا فائدہ پہنچانا منظور ہو

۱۱۲.   کہ اے رب انصاف کا فیصلہ کر دے اور ہمارا رب بڑا مہربان ہے اسی سے مدد مانگتے ہیں ان باتوں پر جو  تم بیان کرتے ہو

 

سورۃ  الحج

شروع اللہ کے نام سے جو  بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.      اے لوگو اپنے رب سے ڈرو بے شک قیامت کا زلزلہ ایک بڑی چیز ہے

۲.      جس دن اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تجھے لوگ مدہوش نظر آئیں گے اور وہ مدہوش نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب سخت ہو گا

۳.     اور بعضے لوگ وہ ہیں جو  اللہ کے معاملے میں بے سمجھی سے جھگڑتے ہیں اور ہر شیطان سرکش کے کہنے پر چلتے ہیں

۴.     جس کے حق میں لکھا جا چکا ہے کہ جو  اسے یار بنائے گا تو وہ اسے گمراہ کر کے رہے گا اور اسے دوزخ کے عذاب کا راستہ دکھائے گا

۵.     اے لوگو اگر تمہیں دوبارہ زندہ ہونے میں شک ہے تو ہم نے تمہیں مٹی سے پھر قطرہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کی بوٹی نقشہ بنی ہوئی اور بغیر نقشہ بنی ہوئی سے بنایا تاکہ ہم تمہارے سامنے ظاہر کر دیں اور ہم رحم میں جس کو چاہتے ہیں ایک مدت معین تک ٹھیراتے ہیں پھر ہم تمہیں بچہ بنا کر باہر لاتے ہیں پھر تاکہ تم اپنی جو انی کو پہنچو اور کچھ تم میں سے مر جاتے ہیں اور کچھ تم میں سے نکمی عمر تک پہنچائے جاتے ہیں کہ سمجھ بوجھ کا درجہ پاکر نا سمجھی کی حالت میں جا پڑتا ہے اور تم زمین کو سوکھی دیکھتے ہو پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو تر و تازہ ہو جاتی ہے اور ہر قسم کے خوش نما نباتات اُگ آتے ہیں

۶.      یہ اس لیے ہے کہ اللہ ہی برحق ہے اور مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر بات پر قادر ہے

۷.     اور بے شک قیامت آنے والی ہے جس میں کوئی شک نہیں اور بے شک اللہ قبروں والوں کو دوبارہ اٹھائے گا

۸.     اور بعضا وہ شخص ہے جو  اللہ کے معاملہ میں بے سمجھی اور دلیل اور روشن کتاب کے بغیر تکبر سے جھگڑتا ہے

۹.      تاکہ اللہ کی راہ سے بہکائے اس کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن بھی ہم اسے دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھاویں گے

۱۰.    یہ تیرے ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں کا بدلہ ہے اور بے شک اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں

۱۱.     اور بعض وہ لوگ ہیں کہ اللہ کی بندگی کنارے پر ہو کر کرتے ہیں پھر اگر اسے کچھ فائدہ پہنچ گیا تو اس عبادت پر قائم ہو گیا اور اگر تکلیف پہنچ گئی تو منہ کے بل پھر گیا دنیا اور آخرت گنوائی یہی وہ صریح خسارا ہے

۱۲.    اللہ کے سوا ایسی چیز کو پکارتا ہے جو  نہ اسے ضرر دے سکے اور نہ اسے فائدہ پہنچا سکے یہی وہ پرلے درجہ کی گمراہی ہے

۱۳.    ایسے کو پکارتا ہے جس کا ضرر اس کے نفع سے نزدیک تر ہے ایسا کارساز بھی برا اور ایسا رفیق بھی برا ہے

۱۴.    بے شک اللہ ان لوگوں کو جو  ایمان لائے اور اچھے کام کیے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی بے شک اللہ جو  چاہتا ہے کرتا ہے

۱۵.    جسے یہ خیال ہو کہ اللہ دنیا اور آخرت میں اس کی ہرگز مدد نہ کرے گا اسے چاہیے کہ چھت میں ایک رسی لٹکائے پھر اسے کاٹ دے پھر دیکھے کہ اس کی تدبیر اس کے غصہ کو دور کرتی ہے

۱۶.    اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو واضح آیتیں بنا کر نازل کیا ہے اور بے شک اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے

۱۷.    بے شک اللہ مسلمانوں اور یہودیوں اور صابیوں اور عیسائیوں اور مجوسیوں اور مشرکوں میں قیامت کے دن فیصلہ کرے گا بے شک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے

۱۸.    کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو  کوئی آسمانوں میں ہے اور جو  کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چار پائے اور بہت سے آدمی اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے ہیں کہ جن پر عذاب مقرر ہو چکا ہے اور جسے اللہ ذلیل کرتا ہے پھر اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا بے شک اللہ جو  چاہتا ہے کرتا ہے

۱۹.     یہ دو فریق ہیں جو  اپنے رب کے معاملہ میں جھگڑتے ہیں پھر جو  منکر ہیں ان کے لیے آگ کے کپڑے قطع کیے گئے ہیں اور ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا

۲۰.   جس سے جو  کچھ ان کے پیٹ میں ہے اور کھالیں جھلس دی جائیں گی

۲۱.    اور ان پر لوہے کے گرز پڑیں گے

۲۲.   جب گھبرا کر وہاں سے نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور دوزخ کا عذاب چکھتے رہو

۲۳.   بے شک اللہ ان لوگوں کو جو  ایمان لائے اور اچھے کام کیے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہاں انہیں سونے کے کنگن اور موتی پہنائیں جائیں گے اور وہاں ان کا لباس ریشمی ہو گا

۲۴.   اور انہوں نے عمدہ بات کی راہ پائی اور تعریف والے اللہ کی راہ پائی

۲۵.   بے شک جو  منکر ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے راستہ اور مسجد حرام سے روکتے ہیں جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے بنایا ہے وہاں اس جگہ کا رہنے والا اور باہر والا دونوں برابر ہیں اور جو  وہاں ظلم سے کجروی کرنا چاہے تو ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے

۲۶.   اور جب ہم نے ابراہیم کے لیے کعبہ کی جگہ معین کر دی کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھ

۲۷.   اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دے کہ تیرے پاس پا پیادہ اور پتلے دُبلے اونٹوں پر دور دراز راستوں سے آئیں

۲۸.   تاکہ اپنے فائدوں کے لیے آ موجود ہوں اور تاکہ جو  چار پائے اللہ نے انہیں دیے ہیں ان پر مقررہ دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں پھر ان میں سے خود بھی کھاؤ اور محتاج فقیر کو بھی کھلاؤ

۲۹.    پھر چاہیئے کہ اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور قدیم گھر کا طواف کریں

۳۰.   یہی حکم ہے اور جو  اللہ کی معزز چیزوں کی تعظیم کرے گا سو یہ اس کے لیے اس کے رب کے ہاں بہتر ہے اور تمہارے لیے مویشی حلال کر دیئے گئے ہیں مگر وہ جو  تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں پھر بتوں کی ناپاکی سے بچو اور جھوٹی بات سے بھی پرہیز کرو

۳۱.    خاص اللہ کے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور جو  اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے

۳۲.   بات یہی ہے اور جو  شخص اللہ کی نامزد چیزوں کی تعظیم کرتا ہے سو یہ دل کی پرہیز گاری ہے

۳۳.   تمہارے لیے ان میں ایک وقت معین تک فائدے ہیں پھر اس کے ذبح ہونے کی جگہ قدیم گھر کے قریب ہے

۳۴.   اور ہر امت کے لیے ہم نے قربانی مقرر کر دی تھی تاکہ اللہ نے جو  چار پائے انہیں دیے ہیں ان پر اللہ کا نام یاد کیا کریں پھر تم سب کا معبود تو ایک اللہ ہی ہے پس اس کے فرمانبردار رہو اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو

۳۵.   وہ لوگ جب اللہ کا نام لیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر مصیبت آئے تو صبر کرنے والے ہیں اور نماز قائم کرنے والے ہیں اور جو  کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

۳۶.   اور ہم نے تمہارے لیے قربانی کے اونٹ کو اللہ کی نشانیوں میں سے بنایا ہے تمہارے لیے ان میں فائدے بھی ہیں پھر ان پر اللہ کا نام کھڑا کر کے لو پھر جب وہ کسی پہلو پر گر پڑیں تو ان میں سے خود کھاؤ اور صبر سے بیٹھنے والے اور سائل کو بھی کھلاؤ اللہ نے انہیں تمہارے لیے ایسا مسخر کر دیا ہے تاکہ تم شکر کرو

۳۷.   اللہ کو نہ ان کا گوشت اور نہ ان کا خون پہنچتا ہے البتہ تمہاری پرہیز گاری اس کے ہاں پہنچتی ہے اسی طرح انہیں تمہارے تابع کر دیا تاکہ تم اللہ کی بزرگی بیان کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور نیکوں کو خوشخبری سنا دو

۳۸.   بیشک اللہ ایمان والوں سے دشمنوں کو ہٹا دے گا اللہ کسی دغا باز نا شکر گزار کو پسند نہیں کرتا

۳۹.   جن سے کافر لڑتے ہیں انہیں بھی لڑنے کی اجازت دی گئی ہے اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے

۴۰.   وہ لوگ جنہیں ناحق ان کے گھروں سے نکال دیا گیا ہے صرف اس کہنے پر کہ ہمارا رب اللہ ہے اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا تو تکیئے اور مدرسے اور عبادت خانے اور مسجدیں ڈھا دی جاتیں جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے اور اللہ ضرور اس کی مدد کر ے گا جو  اللہ کی مدد کرے گا بیشک اللہ زبردست غالب ہے

۴۱.    وہ لوگ اگر ہم انہیں دنیا میں حکومت دے دیں تو نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں اور نیک کام کا حکم کریں اور برے کاموں سے روکیں اور ہر کام کا انجام تو اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے

۴۲.   اور اگر تمہیں جھٹلائیں تو ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود

۴۳.   اور ابراہیم کی قوم اور لوط کی قوم

۴۴.   اور مدین والے اپنے اپنے نبی کو جھٹلا چکے ہیں اور موسیٰ کو بھی جھٹلایا گیا پھر میں نے منکروں کو مہلت دی پھر میں نے انہیں پکڑا پھر میری پکڑ کیسی تھی

۴۵.   سو کتنی بستیاں ہم نے ہلاک کر دیں اور وہ گناہ گار تھیں اب وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں اور کتنے کنوئیں نکمے اور کتنے پکے محل اجڑے اجڑے پڑے ہیں

۴۶.   کیا انھوں نے ملک میں سیر نہیں کی پھر ان کے ایسے دل ہو جاتے جن سے سمجھتے یا ایسے کان ہو جاتے جن سے سنتے پس تحقیق بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو  سینوں میں ہیں اندھے ہو جاتے ہیں

۴۷.   اور تجھ سے عذاب جلدی مانگتے ہیں اور اللہ اپنے وعدہ کا ہرگز خلاف نہیں کرے گا اور ایک دن تیرے رب کے ہاں ہزار برس کے برابر ہوتا ہے جو تم گنتے ہو

۴۸.   اور کتنی بستیوں کو میں نے مہلت دی حالانکہ وہ ظالم تھیں پھر میں نے انہیں پکڑا اور میری طرف ہی پھر کر آنا ہے

۴۹.   کہہ دو اے لوگو میں تو صرف تمہیں صاف صاف ڈرانے والا ہوں

۵۰.   پھر جو  لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے

۵۱.    اور جنہوں نے ہماری آیتوں کے پست کرنے میں کوشش کی وہی دوزخی ہیں

۵۲.   اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی بھی ایسا رسول اور نبی نہیں بھیجا کہ جس نے جب کوئی تمنا کی ہو اور شیطان نے اس کی تمنا میں کچھ آمیزش نہ کی ہو پھر اللہ  شیطان کی آمیزش کو دور کر کے اپنی آیتوں کو محفوظ کر دیتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

۵۳.   تاکہ شیطان کی آمیزش کو ان لوگوں کے لیے آزمائش بنا دے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور بے شک ظالم بڑی ضدی میں پڑے ہوئے ہیں

۵۴.   اور تاکہ علم والے اسے تیرے رب کی طرف سے حق سمجھ کر ایمان لے آئیں پھر ان کے دل اس کے لیے جھک جائیں اور بیشک اللہ ایمان داروں کو سیدھے راستہ کی طرف ہدایت کرنے والا ہے

۵۵.   اور منکر قرآن کی طرف سے ہمیشہ شک میں رہیں گے یہاں تک کہ قیامت یکایک ان پر آ موجود ہو یا منحوس دن کا عذاب ان پر نازل ہو

۵۶.   اس دن اللہ ہی کی حکومت ہو گی وہی ان میں فیصلہ کر لے گا پھر جو  ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے

۵۷.   اور جو  منکر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا سو انکے لیے ذلت کا عذاب ہے

۵۸.   اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر قتل کیے گئے یا مر گئے البتہ انہیں اللہ اچھا رزق دے گا اور بے شک اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

۵۹.    البتہ انہیں ایسی جگہ پہنچائے گا جسے پسند کریں گے اور بیشک اللہ جاننے والا بردبار ہے

۶۰.   بات یہ ہے اور جس نے اسی قدر بدلہ لیا جس قدر اسے تکلیف دی گئی تھی پھر اس پر زیادتی کی گئی تو اللہ ضرور اس کی مد کرے گا بے شک اللہ درگزر کرنے والا معاف کرنے والا ہے

۶۱.    وہ اس لیے کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کیا کرتا ہے اور بے شک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے

۶۲.   یہ اس لیے کہ حق اللہ ہی کی ہستی ہے اور جنہیں اس کے سوا پکارتے ہیں باطل ہیں اور بے شک اللہ ہی بلند مرتبہ بڑائی والا ہے

۶۳.   کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر زمین سرسبز ہو جاتی ہے بے شک اللہ مہربان خبردار ہے

۶۴.   جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور بے شک اللہ وہی بے نیاز قابل تعریف ہے

۶۵.   کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے زمین کی سب چیزوں اور کشتیوں کو تمہارے تابع کر دیا ہے جو  دریا میں اس کے حکم سے چلتی ہیں اور آسمان کو زمین پر گرنے سے تھامے ہوئے ہے مگر اس کے حکم سے بے شک اللہ لوگوں پر نرمی کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے

۶۶.    اور وہ وہی ہے جس نے تمہیں زندہ کیا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا بے شک انسان البتہ بڑا ہی نا شکرا ہے

۶۷.   ہم نے ہر قوم کے لیے ایک دستور مقرر کر دیا ہے جس پر وہ چلتے ہیں پھر انہیں تمہارے ساتھ اس معاملہ میں جھگڑنا نہ چاہیئے اور اپنے رب کی طرف بلا بے شک تو البتہ سیدھے راستہ پر ہے

۶۸.   اور اگر تجھ سے جھگڑا کریں تو کہہ دے اللہ بہتر جانتا ہے جو  تم کرتے ہو

۶۹.    اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا جس چیز میں تم اختلاف کرتے تھے

۷۰.   کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے جو  کچھ آسمان اور زمین میں ہے یہ سب کتاب میں لکھا ہوا ہے یہ اللہ پر آسان ہے

۷۱.    اور اللہ کے سوا ایسی چیز کو پوجتے ہیں جس پر اس نے کوئی سند نہیں اتاری اور نہ انکے پاس کوئی اس کا علم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا

۷۲.   اور جب انہیں ہماری کھلی کھلی آیتیں پڑھ کر سنائی جائیں تو تم منکروں کے چہروں میں ناراضگی دیکھو گے قریب ہوتے ہیں کہ جو  لوگ انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کر دیں کہہ دو کیا میں تمہیں اس سے بھی بدتر بات بتاؤں آگ ہے کہ جس کا اللہ نے منکروں سے وعدہ کیا ہے اور وہ بری جگہ ہے

۷۳.   اے لوگو ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے کان لگا کر سنو جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگر چہ وہ سب اس کے لیے جمع ہو جائیں اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز چھین لے تو اسے مکھی سے چھڑا نہیں سکتے عابد اور معبود دونوں ہی عاجز ہیں

۷۴.   انہوں نے اللہ کی کچھ بھی قدر نہ کی بے شک اللہ زور والا غالب ہے

۷۵.   فرشتوں اور آدمیوں میں سے اللہ ہی پیغام پہنچانے کے لیے چن لیتا ہے بے شک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے

۷۶.   وہ ان کے اگلے اور پچھلے حالات جانتا ہے اور سب کاموں کا مدار اللہ پر ہے

۷۷.  اے ایمان والو رکوع اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی بندگی کرو اور بھلائی کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو

۷۸.   اور اللہ کی راہ میں کوشش کرو جیسا کوشش کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں پسند کیا ہے اور دین میں تم پر کسی طرح کی سختی نہیں کی تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے اسی نے تمہارا نام پہلے سے مسلمان رکھا تھا اور اس قرآن میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ بنے اور تم لوگوں پر گواہ بنو پس نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو مضبوط ہو کر پکڑو وہی تمہارا مولیٰ ہے پھر کیا ہی اچھا مولیٰ اور کیا ہی اچھا مددگار ہے

 

سورۃ مُومنون

شروع اللہ کے نام سے جو  بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.      بے شک ایمان والے کامیاب ہو گئے

۲.      جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں

۳.     اور جو  بے ہودہ باتوں سے منہ موڑنے والے ہیں

۴.     اور جو  زکوٰۃ دینے والے ہیں

۵.     اور جو  اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں

۶.      مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں پر اس لیے کہ ان میں کوئی الزام نہیں

۷.     پس جو  شخص اس کے علاوہ طلب گار ہو تو وہی حد سے نکلنے والے ہیں

۸.     اور جو  اپنی امانتوں اور اپنے وعدہ کا لحاظ رکھنے والے ہیں

۹.      اور جو  اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں

۱۰.    وہی وارث ہیں

۱۱.     جو جنت الفردوس کے وارث ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے

۱۲.    اور البتہ ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا

۱۳.    پھر ہم نے حفاظت کی جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا

۱۴.    پھر ہم نے نطفہ کا لوتھڑا بنایا پھر ہم نے لوتھڑے سے گوشت کی بوٹی بنائی پھر ہم نے اس بوٹی سے ہڈیاں بنائیں پھر ہم نے ہڈیوں پر گوشت پہنایا پھر اسے ایک نئی صورت میں بنا دیا سو اللہ بڑی برکت والا سب سے بہتر بنانے والا ہے

۱۵.    پھر تم اس کے بعد مرنے والے ہو

۱۶.    پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے

۱۷.    اور ہم ہی نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے ہیں اور ہم بنانے میں بے خبر نہ تھے

۱۸.    اور ہم نے ایک اندازہ کے ساتھ آسمان سے پانی نازل کیا پھر اسے زمین میں ٹھیرایا اور ہم اس کے لے جانے پر بھی قادر ہیں

۱۹.     پھر ہم نے اس سے تمہارے لیے کھجور اور انگور کے باغ اگا دیے جن میں تمہارے بہت سے میوے ہیں اور انہی میں سے کھاتے ہو

۲۰.   اور وہ درخت جو  طور سینا سے نکلتا ہے جو  کھانے والوں کے لیے روغن اور سالن لے کر اگتا ہے

۲۱.    اور بے شک تمہارے لیے چار پایوں میں بھی عبرت ہے کہ ہم تمہیں ان کے پیٹ کی چیزوں میں سے پلاتے ہیں اور تمہارے لیے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو کھاتے ہو

۲۲.   اور ان پر اور کشتیوں پر سوار بھی کیے جاتے ہو

۲۳.   اور ہم نے نوح کو اس کی قوم کے پاس بھیجا پھر اس نے کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں پھر تم کیوں نہیں ڈرتے

۲۴.   سواس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ یہ بس تم ہی جیسا آدمی ہے تم پر بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو فرشتے بھیج دیتا ہم نے اپنے پہلے باب دادا سے یہ بات کبھی نہیں سنی

۲۵.   یہ تو بس ایک دیوانہ آدمی ہے پس اس کا ایک وقت تک انتظار کرو

۲۶.   کہا اے میرے رب تو میری مدد کر کیوں کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے

۲۷.   پھر ہم نے اس کی طرف وحی کی کہ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بنا پھر جب ہمارا حکم آ پہنچے اور تنور ابلنے لگے پس تو کشتی میں ہر چیز کا جوڑا نر مادہ اور اپنے گھر والوں کو بٹھا لے مگر ان میں سے وہ شخص جس کے لیے پہلے فیصلہ ہو چکا ہے اور ظالموں کے معاملہ میں مجھ سے بات نہ کر بے شک وہ غرق کیے جائیں گے

۲۸.   پھر جب تو اور جو  تیرے ساتھ ہے کشتی پر چڑھ بیٹھو تو کہہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں ظالموں سے چھوڑایا

۲۹.    اور کہہ اے میرے رب مجھے برکت کے ساتھ اتار اور تو بہتر اتارنے والا ہے

۳۰.   اس واقعہ میں بہت سی نشانیاں ہیں بے شک ہم تو آزمائش کرنے والے تھے

۳۱.    پھر ہم نے انکے بعد ایک دوسرا دور پیدا کیا

۳۲.   پھر ان میں بھی انہیں میں سے ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو تمہارے لیے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں پھر تم کیوں نہیں ڈرتے

۳۳.   اور اس کی قوم کے سرداروں نے کہا جنہوں نے کفر کیا تھا اور قیامت کی آمد کو جھٹلاتے تھے اور جنہیں ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا کہ یہ بس تمہیں جیسا آدمی ہے وہی کھاتا ہے جو  تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو  تم پیتے ہو

۳۴.   اور اگر تم نے اپنے جیسے آدمی کی فرمانبرداری کی تو بے شک تم گھاٹے میں پڑ گئے

۳۵.   کیا تمہیں وعدہ دیتا ہے کہ جب تم مر جاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جاؤ گے تو تم نکالے جاؤ گے

۳۶.   بہت ہی بعید بہت ہی بعید بات ہے جو  تم سے کہی جاتی ہے

۳۷.   ہماری صرف یہی دنیا کی زندگی ہے مرتے اور جیتے ہیں اور ہم اٹھائے نہیں جائیں گے

۳۸.   بس یہ ایک ایسا شخص ہے جو  اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے اور ہم اسے ماننے والے نہیں ہیں

۳۹.   کہا اے میرے رب میری مدد کر کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے

۴۰.   فرمایا تھوڑی دیر کے بعد یہ خود نادم ہوں گے

۴۱.    پھر انہیں ایک سخت آواز نے سچے وعدہ کا موافق آ پکڑا پھر ہم نے انہیں خس و خاشاک کر دیا پھر ظالموں پر اللہ کی پٹکار ہے

۴۲.   پھر ہم نے ان کے بعد اور بہت سے دور پیدا کیے

۴۳.   کوئی جماعت نہ اپنے وقت سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے

۴۴.   پھر ہم اپنے رسول لگاتار بھیجتے رہے جب کوئی رسول اپنی قوم کے پاس آیا وہ اسے جھٹلاتی ہی رہی پھر ہم بھی ایک کے بعد دوسری کو ہلاک کرتے گئے اور ہم نے ان کو افسانے بنا دیے پھر ان لوگوں پر پھٹکار ہے جو  ایمان نہیں لاتے

۴۵.   پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور کھلی سند دے کر

۴۶.   فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا پھر انہوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے

۴۷.   پھر کہا کیا ہم اپنے جیسے دو شخصوں پر ایمان لائیں جن کی قوم ہماری غلامی کر رہی ہو

۴۸.   پھر ان دونوں کو جھٹلایا پھر ہلاک کر دیے گئے

۴۹.   اور البتہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تاکہ وہ ہدایت پائیں

۵۰.   اور ہم نے مریم کے بیٹے اور اس کی ماں کو نشانی بنایا تھا اور انہیں ایک ٹیلہ پر جگہ دی جہاں ٹھیرے نے کا موقع اور پانی جاری تھا

۵۱.    ا ے رسولو! ستھری چیزیں کھاؤ اور اچھے کام کرو بے شک میں جانتا ہوں جو  تم کرتے ہو

۵۲.   اور بے شک یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تم سب کا رب ہوں پس مجھ سے ڈرو

۵۳.   پھر انہوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا ہر ایک جماعت اس ٹکڑے پو جو  ان کے پاس ہے خوش ہونے والے ہیں

۵۴.   پھر ایک وقت تک انہیں اپنے نشہ میں پڑا رہنے دو

۵۵.   کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم انہیں مال اور اولاد میں ترقی دے رہے ہیں

۵۶.   انہیں فائدہ پہچانے میں جلدی کر رہے ہیں بلکہ یہ نہیں سمجھتے

۵۷.   بے شک جو  اپنے رب کی ہیبت سے ڈرنے والے ہیں

۵۸.   اور جو  اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لاتے ہیں

۵۹.    اور جو  اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے

۶۰.   اور جو  دیتے ہیں جو  کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل اس سے ڈرتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں

۶۱.    یہی لوگ نیک کاموں میں جلدی کرتے ہیں اور وہی نیکیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں

۶۲.   اور ہم کسی پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو  سچ بولے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

۶۳.   بلکہ ان کے دل اس سے بے ہوشی میں پڑے ہوئے ہیں اور اس کے سوا ان کے اور بھی کام ہیں کہ جنہیں وہ کیا کرتے ہیں

۶۴.   یہاں تک کہ جب ہم ان میں سے آسودہ حال لوگوں کو عذاب میں پکڑیں گے فوراً وہ چلائیں گے

۶۵.   آج کے دن مت چلاؤ بے شک تم ہم سے چھڑائے نہ جاؤ گے

۶۶.    تمہیں میری آیتیں سنائی جاتی تھیں پھر تم ایڑیوں پر الٹے بھاگتے تھے

۶۷.   غرور میں آ کر اسے کہانی سمجھ کر چلے جایا کرتے تھے

۶۸.   کیا انہوں نے اس ارشاد میں غور ہی نہیں کیا یا ان کے پاس ایسی بات آئی ہے جو  ان کے پہلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی

۶۹.    یا یہ لوگ اپنے رسول کو پہچانتے نہیں تب یہ اس کے منکر ہیں

۷۰.   یا کہتے ہیں کہ اسے جنون ہے بلکہ رسول ان کے پاس حق بات لے کر آیا ہے اور ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرنے والے ہیں

۷۱.    اور اگر حق ان کی خواہشوں کے مطابق ہوتا تو آسمان اور زمین میں اور جو  کچھ ان میں ہے درہم برہم ہو گیا ہوتا بلکہ ہم نے تو ان کی نصیحت انہیں پہنچا دی ہے سو وہ اپنی نصیحت سے منہ موڑنے والے ہیں

۷۲.   کیا تو ان سے کچھ اجرت مانگتا ہے سو تیرے رب کی اجرت بہتر ہے اور وہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے

۷۳.   اور بے شک تو انہیں سیدھے راستہ کی طرف بلاتا ہے

۷۴.   اور جو  لوگ آخرت کو نہیں مانتے سیدھے راستہ سے ہٹنے والے ہیں

۷۵.   اور اگر ہم ان پر رحم کر کے ان کی تکلیف کو دور کر دیں تو بھی وہ اپنی سرکشی میں گمراہ پڑے رہیں گے

۷۶.   اور البتہ ہم نے انہیں عذاب میں مبتلا بھی کیا پھر بھی اپنے رب کے سامنے عاجزی نہ کی اور نہ گڑگڑائے

۷۷.  یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھولا تو فوراً اس میں نا امید ہو گئے

۷۸.   اور اسی نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے ہیں تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو

۷۹.   اور اسی نے تمہیں زمین میں پھیلا رکھا ہے اور اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے

۸۰.   اور وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور رات اور دن کا بدلنا اسی کی اختیار میں ہے سو کیا تم نہیں سمجھتے

۸۱.    بلکہ وہی کہتے ہیں جو  پہلے لوگ کہتے تھے

۸۲.   کہتے ہیں کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے

۸۳.   اس کا تو ہم سے اور اس سے پہلے اور ہمارے باپ دادا سے وعدہ ہوتا چلا آیا ہے یہ صرف اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

۸۴.   ان سے پوچھو یہ زمین اور جو  کچھ اس میں ہے کس کا ہے اگر تم جانتے ہو

۸۵.   وہ فوراً کہیں گے اللہ کا ہے کہہ دو پھر تم کیوں نہیں سمجھتے

۸۶.   ان سے پوچھو کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے

۸۷.   وہ فوراً کہیں گے اللہ ہے کہہ دو کیا پھر تم اللہ سے نہیں ڈرتے

۸۸.   ان سے پوچھو کہ ہر چیز کی حکومت کس کے ہاتھ میں ہے اور وہ بچا لیتا ہے اور اسے کوئی نہیں بچا سکتا اگر تم جانتے ہو

۸۹.   وہ فوراً کہیں گے اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے کہہ دو پھر تم کیسے دیوانے ہو رہے ہو

۹۰.    بلکہ ہم نے تو ان کے پاس حق بات پہنچا دی اور بے شک وہ البتہ جھوٹے ہیں

۹۱.     اللہ نے کوئی بھی بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کے ساتھ کوئی معبود ہی ہے اگر ہوتا تو ہر خدا اپنی بنائی ہوئی چیز کو الگ لے جاتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کرتا اللہ پاک ہے جو  یہ بیان کرتے ہیں

۹۲.    غائب اور حاضر سب کا جاننے والا ہے وہ بہت بلند ہے اس سے جسے یہ شریک بناتے ہیں

۹۳.   کہہ دو اے میرے رب اگر تو مجھے دکھائے وہ چیز جس کا انہیں وعدہ دیا جا رہا ہے

۹۴.   تو اے میرے رب مجھے ظالموں میں شامل نہ کر

۹۵.    اور ہم اس پر قادر ہیں کہ تجھے دکھا دیں جو  ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے

۹۶.    بری بات کے جو اب میں وہ کہو جو  بہتر ہے ہم خوب جانتے ہیں جو  یہ بیان کرتے ہیں

۹۷.   اور کہو اے میرے رب میں شیطانی خطرات سے تیری پناہ مانگتا ہوں

۹۸.   اور اے میرے رب میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ شیطان میرے پاس آئیں

۹۹.    یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آئے گی تو کہے گا اے میرے رب مجھے پھر بھیج دے

۱۰۰.  تاکہ جسے میں چھوڑ آیا ہوں اس میں نیک کام کر لوں ہر گز نہیں ایک بات ہی بات ہے جسے یہ کہہ رہا ہے اور ان کے آگے قیامت تک ایک پردہ پڑا ہوا ہے

۱۰۱.   پھر جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن ان میں نہ رشتہ داریاں رہیں گے اور نہ کوئی کسی کو پوچھے گا

۱۰۲.  پھر جن کا پلہ بھاری ہوا تو وہی فلاح پائیں گے

۱۰۳.  اور جن کا پلہ ہلکا ہو گا تو وہی یہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کیا ہمیشہ جہنم میں رہنے والے ہوں گے

۱۰۴.  ان کے مونہوں کو آگ جھلس دے گی اور وہ اس میں بد شکل ہونے والے ہوں گے

۱۰۵.  کیا تمہیں ہماری آیتیں نہیں سنائی جاتی تھیں پھر تم انہیں جھٹلاتے تھے

۱۰۶.  کہیں گے اے ہمارے رب ہم پر ہماری بدبختی غالب آ گئی تھی اور ہم لوگ گمراہ تھے

۱۰۷. اے رب ہمارے ہمیں اس سے نکال دے اگر پھر کریں تو بے شک ہم ظالم ہوں گے

۱۰۸.  فرمائے گا اس میں پھٹکارے ہوئے پڑے رہو اور مجھ سے نہ بولو

۱۰۹.  میرے بندوں میں سے ایک گروہ تھا جو  کہتے تھے اے ہمارے رب ہم ایمان لائے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کرو اور تو بہت بڑا رحم کرنے والا ہے

۱۱۰.   سو تم نے ان کی ہنسی اڑائی یہاں تک کہ انہوں نے تمہیں میری یاد بھی بھلا دی اور تم ان سے ہنسی ہی کرتے رہے

۱۱۱.    آج میں نے انہیں ان کے صبر کا بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہوئے

۱۱۲.   فرمائے گا تم زمین پر گنتی کے کتنے برس رہے

۱۱۳.   کہیں گے ایک دن یا اس سے بھی کم رہے ہیں پس آپ گنتی کرنے والوں سے پوچھ لیں

۱۱۴.   فرمائے گا تم اس میں بہت نہیں تھوڑا ہی رہے ہو کاش کہ تم سمجھ لیتے

۱۱۵.   سو کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں نکما پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہمارے پاس لوٹ کر نہیں آؤ گے

۱۱۶.   سو اللہ بہت ہی عالیشان ہے جو  حقیقی بادشاہ ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں عرش عظیم کا مالک ہے

۱۱۷.  اور جس نے اللہ کے ساتھ اور معبود کو پکارا جس کی اس کے پاس کوئی سند نہیں تو اس کا حساب اسی کے رب کے ہاں ہو گا بے شک کافر نجات نہیں پائیں گے

۱۱۸.   اور کہو اے میرے رب معاف کر اور رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

 

سورۃ نور

شروع اللہ کے نام سے جو  بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.      یہ ایک سورت ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے اور اس کے احکام ہم نے ہی فرض کئے ہیں اور ہم نے اس میں صاف صاف آیتیں نازل کی ہیں تاکہ تم سمجھو

۲.      بدکار عورت اور بدکار مرد سو دونوں میں سے ہر ایک کو سو سو دُرّے مارو اور تمہیں اللہ کے معاملہ میں ان پر ذرا رحم نہ آنا چاہیئے اگر تم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت کو حاضر رہنا چاہیئے

۳.     بدکار مرد سوائے بدکار عورت یا مشرکہ کے نکاح نہیں کرے گا اور بدکار عورت سے سوائے بد کار مرد یا مشرک کے اور کوئی نکاح نہیں کرے گا اور ایمان والوں پر یہ حرام کیا گیا ہے

۴.     اور جو  لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں اور پھر چار گواہ نہیں لاتے تو انہیں اسّی درے مارو اور کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو اور وہی لوگ نافرمان ہیں

۵.     مگر جنہوں نے اس کے بعد توبہ کر لی اور درست ہو گئے تو بے شک اللہ ہی بخشنے والا نہایت رحم والا ہے

۶.      اور جو  لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور ان کے لیے سوائے اپنے اور کوئی گواہ نہیں تو ایسے شخص کی گواہی کی یہ صورت ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ بے شک وہ سچا ہے

۷.     اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہے

۸.     اور عورت کی سزا کو یہ بات دور کر دے گی کہ اللہ کو گواہ کر کے چار مرتبہ یہ کہے کہ بے شک وہ سراسر جھوٹا ہے

۹.      اور پانچویں مرتبہ کہے کہ بے شک اس پر اللہ کا غضب پڑے اگر وہ سچا ہے

۱۰.    اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا حکمت والا ہے (تو کیا کچھ نہ ہوتا)

۱۱.     بے شک جو  لوگ یہ طوفان لائے ہیں تم ہی میں سے ایک گروہ ہے تم سے اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے ان میں سے ہر ایک کے لیے بقدرِ عمل گناہ ہے اور جس نے ان میں سے سب سے زیادہ حصہ لیا اس کے لیے بڑا عذاب ہے

۱۲.    جب تم نے یہ بات سنی تھی تو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنے لوگوں کے ساتھ نیک گمان کیوں نہ کیا اور کیوں نہ کہا کہ یہ صریح بہتان ہے

۱۳.    یہ لوگ اس پرچار گواہ کیوں نہ لائے پھر جب وہ گواہ نہ لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں

۱۴.    اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور دنیا اور آخرت میں اس کی رحمت نہ ہوتی تو اس چرچا کرنے میں تم پر کوئی بڑی آفت پڑتی

۱۵.    جب تم اسے اپنی زبانوں سے نکالنے لگے اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہنی شروع کر دی جس کا تمہیں علم بھی نہ تھا اور تم نے اسے ہلکی بات سمجھ لیا تھا حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بڑی بات ہے

۱۶.    اور جب تم نے اسے سنا تھا تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں تو اس کا منہ سے نکالنا بھی لائق نہیں سبحان اللہ یہ بڑا بہتان ہے

۱۷.    اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسا نہ کرنا اگر تم ایمان دار ہو

۱۸.    اور اللہ تمہارے لیے آیتیں بیان کرتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

۱۹.     بے شک جو  لوگ چاہتے ہیں کہ ایمانداروں میں بدکاری کا چرچا ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

۲۰.   اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ نرمی کرنے والا مہربان ہے (تو کیا کچھ نہ ہوتا

۲۱.    اے ایمان والو شیطان کے قدموں پر نہ چلو اور جو  کوئی شیطان کے قدموں پر چلے گا سو وہ تو اسے بے حیائی اور بری باتیں ہی بتائے گا اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی کبھی بھی پاک صاف نہ ہوتا اور لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک کر دیتا ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے

۲۲.   اور تم میں سے بزرگی اور کشائش والے اس بات پر قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو نہ دیا کریں گے اور انہیں معاف کرنا اور درگذر کرنا چاہیے کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے اور اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے

۲۳.   جو لوگ پاک دامنوں بے خبر ایمان والیوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے

۲۴.   جس دن ان پر ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہی دیں گے جو  کچھ وہ کیا کرتے تھے

۲۵.   اس دن اللہ انہیں انصاف سے پوری جزا دے گا اور جان لیں گے بے شک اللہ ہی حق بیان کرنے والا ہے

۲۶.   ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں وہ لوگ اس سے پاک ہیں جو  یہ کہتے ہیں ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے

۲۷.   اے ایمان والو اپنے گھروں کے سوا اور کسی کے گھروں میں نہ جایا کرو جب تک اجازت نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ کر لو یہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو

۲۸.   پھر اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو اندر نہ جاؤ جب تک کہ تمہیں اجازت نہ دی جائے اور اگر تمہیں کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو اپس چلے جاؤ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور جو  کچھ تم کرتے ہو اللہ جانتا ہے

۲۹.    تم پراس میں کوئی گناہ نہیں کہ ان گھروں میں جاؤ جہاں کوئی نہیں بستا ان میں تمہارا سامان ہے اور اللہ جانتا ہے جو  تم ظاہر کرتے ہو اور جو  تم چھپاتے ہو

۳۰.   ایمان والوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہ نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کو بھی محفوظ رکھیں یہ ان کے لیے بہت پاکیزہ ہے بے شک اللہ جانتا ہے جو  وہ کرتے ہیں

۳۱.    اور ایمان والیوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو  جگہ اس میں سے کھلی رہتی ہے اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں پر یا اپنے باپ یا خاوند کے باپ یا اپنے بھائیوں یا بھتیجوں یا بھانجوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنے غلاموں پر یا ان خدمت گاروں پر جنہیں عورت کی حاجت نہیں یا ان لڑکوں پر جو  عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہیں اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہو جائے اور اے مسلمانو تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ

۳۲.   اور جو  تم میں مجرّد ہوں اور جو  تمہارے غلام اور لونڈیاں نیک ہوں سب کے نکاح کرا دو اگر وہ مفلس ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا اور اللہ کشائش والا سب کچھ جاننے والا ہے

۳۳.   اور چاہیے کہ پاک دامن رہیں وہ جو  نکاح کی توفیق نہیں رکھتے یہاں تک کہ اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے اور تمہارے غلاموں میں سے جو  لوگ مال دے کر آزادی کی تحریر چاہیں تو انہیں لکھ دو بشرطیکہ ان میں بہتری کے آثار پاؤ اور انہیں اللہ کے مال میں سے دو جو  اس نے تمہیں دیا ہے اور تمہاری لونڈیاں جو  پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدہ کی غرض سے زنا پر مجبور نہ کرو اور جو  انہیں مجبور کرے گا تو اللہ ان کے مجبور ہونے کے بعد بخشنے والا مہربان ہے

۳۴.   اور البتہ ہم نے تمہارے پاس روشن آیتیں بھیج دی ہیں اور جن میں تم سے پہلوں کے حالات ہیں اور جو  پرہیز گاروں کے لیے نصیحت ہیں

۳۵.   اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے طاق میں چراغ ہو چراغ شیشے کی قندیل میں ہے قندیل گویا کہ موتی کی طرح چمکتا ہوا ستارا ہے زیتون کے مبارک درخت سے روشن کیا جاتا ہے نہ مشرق کی طرف ہے اور نہ مغرب کی طرف اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہو جائے اگر چہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو روشنی ہے اللہ جسے چاہتا ہے اپنی روشنی کی راہ دکھاتا ہے اور اللہ کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے

۳۶.   ان گھروں میں جن کی تعظیم کرنے اور ان میں اس کا نام یاد کرنے کا اللہ نے حکم دیا ان میں صبح اور شام اللہ کی تسبیح پڑھتے ہیں

۳۷.   ایسے آدمی جنہیں سوداگری اور خرید و فروخت اللہ کے ذکر اور نماز کے پڑھنے اور زکوٰۃ کے دینے سے غافل نہیں کرتی اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی

۳۸.   تاکہ اللہ انہیں ان کے عمل کا اچھا بدلہ دے اور انہیں اپنے فضل سے اور بھی دے اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب روزی دیتا ہے

۳۹.   اور جو  کافر ہیں ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے جنگل میں چمکتی ہوئی ریت ہو جسے پیاسا پانی سمجھتا ہے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آتا ہے اسے کچھ بھی نہیں پاتا اور اللہ ہی کو اپنے پاس پاتا ہے پھر اللہ نے اس کا حساب پورا کر دیا اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے

۴۰.   یا جیسے گہرے دریا میں اندھیرے ہوں اس پر ایک لہر چڑھ آتی ہے اس پر ایک اور لہر ہے اس کے اوپر بادل ہے اوپر تلے بہت سے اندھیرے ہیں جب اپنا ہاتھ نکالے تو اسے کچھ بھی دیکھ نہ سکے اور جسے اللہ ہی نے نور نہ دیا ہو اس کے لیے کہیں نور نہیں ہے

۴۱.    کیا تم نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین کے رہنے والے اور پرند جو  پر پھیلائے اڑتے ہیں سب اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں ہر ایک نے اپنی نماز اور تسبیح سمجھ رکھی ہے اور اللہ جانتا ہے جو  کچھ وہ کرتے ہیں

۴۲.   اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

۴۳.   کیا تو نے نہیں دیکھا اللہ ہی بادل کو چلاتا ہے پھر اسے ملاتا ہے پھر اسے تہہ بر تہہ کرتا ہے پھر تو بارش کو دیکھتا ہے کہ اس کے بیچ میں سے نکلتی ہے اور آسمان سے جو  ان میں اولوں کے پہاڑ ہیں ان میں سے اولے برساتا ہے پھر انہیں جس پر چاہتا ہے گراتا ہے اور جس سے چاہتا ہے روک لیتا ہے قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک آنکھوں کو لے جائے

۴۴.   اللہ ہی رات اور دن کو بدلتا ہے بے شک اس میں آنکھوں والوں کے لیے عبرت ہے

۴۵.   اور اللہ نے ہر جاندار کو پانی سے بنایا ہے سو بعض ان میں سے اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ان میں سے دو پاؤں پر چلتے ہیں اور اور بعض ان میں سے چار پاؤں پر چلتے ہیں اللہ جو  چاہتا ہے پیدا کرتا ہے بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے

۴۶.   البتہ ہم نے کھلی کھلی آیتیں نازل کر دی ہیں اور اللہ جسے چاہے سیدھے راستہ پر چلاتا ہے

۴۷.   اور کہتے ہیں ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے اور ہم فرمانبردار ہو گئے پھر ایک گروہ ان میں سے اس کے بعد پھر جاتا ہے اور وہ لوگ مومن نہیں ہیں

۴۸.   اور جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے تاکہ ان میں فیصلہ کرے تب ہی ایک گروہ ان میں سے منہ موڑنے والے ہیں

۴۹.   اور اگر انہیں حق پہنچتا ہو تو اس کی طرف گردن جھکائے آتے ہیں

۵۰.   کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا شک میں پڑے ہیں یا ڈرتے ہیں اس سے کہ ان پر اللہ اور اس کا رسول ظلم کرے گا بلکہ وہی ظالم ہیں

۵۱.    مومنوں کی بات تو یہی ہوتی ہے جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا اور وہی لوگ نجات پانے والے ہیں

۵۲.   اور جو  شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے اور اللہ سے ڈرتا ہے اور اس کی نافرمانی سے بچتا ہے بس وہی کامیاب ہونے والے ہیں

۵۳.   اور اللہ کی پکی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگر آپ انہیں حکم دیں تو سب کچھ چھوڑ کر نکل جائیں کہہ دو قسمیں نہ کھاؤ دستور کے موافق فرمانبرداری چاہیئے بے شک اللہ جانتا ہے جو  تم کرتے ہو

۵۴.   کہہ دو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اور تم پر وہ ہے جو  تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے

۵۵.   اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو  تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ انہیں ضرور ملک کی حکومت عطا کرے گا جیسا کہ ان سے پہلوں کو عطا کی تھی اور ان کے لیے جس دین کو پسند کیا ہے اسے ضرور مستحکم کر دے گا اور البتہ ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جو اس کے بعد ناشکری کرے وہی فاسق ہوں گے

۵۶.   اور نماز پڑھا کرو اور زکوٰۃ دیا کرو اور رسول کی فرمانبرداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے

۵۷.   کافروں کی نسبت یہ خیال نہ کر کہ ملک میں عاجز کر دیں گے اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہے

۵۸.   اے ایمان والو تمہارے غلام اور تمہارے وہ لڑکے جو  ابھی بالغ نہیں ہوئے تم سے ان تین وقتوں میں اجازت لے کر آیا کریں صبح کی نماز سے پہلے اور دوپہر کے وقت جب کہ تم اپنے کپڑے اتار دیتے ہو اور عشا کی نماز کے بعد یہ تین وقت تمہارے پردوں کے ہیں ان کے بعد تم پر اور نہ ان پر کوئی الزام ہے تم آپس میں ایک دوسرے کے پاس آنے جانے والے ہو اسی طرح اللہ تمہارے لیے آیتیں کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

۵۹.    اور جب تمہارے لڑکے بلوغ کو پہنچ جائیں انہیں بھی اجازت لے کر آنا چاہیے جس طرح کہ ان سے پہلے لوگ اجازت لے کر آتے ہیں اللہ اس طرح تمہارے لیے کھول کر احکام بیان کرتا ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

۶۰.   اور وہ بڑی بوڑھی عورتیں جو  نکاح کی رغبت نہیں رکھتیں ان پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ اپنے کپڑے اتار رکھیں بشرطیکہ زینت کا اظہار نہ کریں اور اس سے بھی بچیں تو ان کے لیے بہتر ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے

۶۱.    اندھے پر اور لنگڑے پر اور بیمار پر اور خود تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپ کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی کنجیاں تمہارے اختیار میں ہیں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے تم پر کوئی گناہ نہیں کہ مل کر کھاؤ یا الگ الگ کھاؤ پھر جب گھروں میں داخل ہونا چاہو تو اپنے لوگوں سے سلام کیا کرو جو  اللہ کی طرف سے مبارک اور عمدہ دعا ہے اسی طرح اللہ تمہارے لیے احکام بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

۶۲.   مومن تو وہی ہیں جو  اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں اور جب وہ اس کے ساتھ کسی جمع ہونے کے کام میں ہوتے ہیں تو چلے نہیں جاتے جب تک اس سے اجازت نہ لیں جو  لوگ تجھ سے اجازت لیتے ہیں وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں پھر جب تجھ سے اپنے کسی کام کے لیے اجازت مانگیں تو ان میں سے جسے تو چاہے عزت دے اور ان کے لیے اللہ سے بخشش کی دعا کر اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے

۶۳.   رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کے بلانے جیسا نہ سمجھو اللہ انہیں جانتا ہے جو  تم میں سے چھپ کر کھسک جاتے ہیں سو جو  لوگ اللہ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں اس سے ڈرنا چاہیئے کہ ان پر کوئی آفت آئے یا ان پر کوئی دردناک عذاب نازل ہو جائے

۶۴.   خبردار اللہ ہی کا ہے جو  کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اسے معلوم ہے جس حال پر تم ہو اور جس دن اس کی طرف پھیر لائے جائیں گے تو انہیں بتائے گا جو  کچھ وہ کرتے تھے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے

 

سورۃ فرقان

شروع اللہ کے نام سے جو  بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.      وہ بڑی برکت والا ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا تاکہ تمام جہان کے لیے ڈرانے والا ہو

۲.      وہ جس کی آسمانوں اور زمین میں سلطنت ہے اور اس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ کوئی سلطنت میں اس کا شریک ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کر کے اندازہ پر قائم کر دیا

۳.     اور انہوں نے اللہ کے سوا ایسے معبود بنا رکھے ہیں جو  کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے حالانکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں اور وہ اپنی ذات کے لیے نقصان اور نفع کے مالک نہیں اور موت اور زندگی اور دوبارہ اٹھنے کے بھی مالک نہیں

۴.     اور کافر کہتے ہیں کہ یہ تو محض جھوٹ ہے جسے اس نے بنا لیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اس میں اس کی مدد کی ہے پس وہ بڑے ظلم اور جھوٹ پر اتر آئے ہیں

۵.     اور کہتے ہیں کہ پہلوں کی کہانیاں ہیں کہ جنہیں اس نے لکھ رکھا ہے پس وہی اس پر صبح اور شام پڑھی جاتی ہیں

۶.      کہہ دو کہ اسے تو اس نے نازل کیا ہے جو  آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں جانتا ہے بے شک وہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے

۷.     اور کہتے ہیں اس رسول کو کیا ہو گیا کہ کھانا کھاتا اور بازاروں میں پھرتا ہے اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا کہ اس کے ساتھ وہ بھی ڈرانے والا ہوتا

۸.     یا اس کے پاس کوئی خزانہ آ جاتا یا اس کے لیے باغ ہوتا جس میں سے کھاتا اور بے انصافوں نے کہا کہ تم تو بس ایک ایسے شخص کے تابع ہو گئے جس پر جادو کیا گیا ہے

۹.      دیکھو تو تمہارے لیے کیسی مثالیں بیان کرتے ہیں پس وہ ایسے گمراہ ہوئے کہ راستہ بھی نہیں پا سکتے

۱۰.    بڑی برکت ہے اس کی جو  چاہے تو تیرے لیے اس سے بہتر باغ بنا دے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور تیرے لیے محل بنا دے

۱۱.     بلکہ انہوں نے تو قیامت کو جھوٹ سمجھ لیا ہے اور ہم نے اس کے لیے آگ تیار کی ہے جو  قیامت کو جھٹلاتا ہے

۱۲.    جب وہ انہیں دور سے دیکھے گی تو اس کے جو ش و خروش کی آواز سنیں گے

۱۳.    اور جب وہ اس کے کسی تنگ مکان میں جکڑ کر ڈال دیے جائیں گے تو وہاں موت کو پکاریں گے

۱۴.    آج ایک موت کو نہ پکارو اور بہت سی موتوں کو پکارو

۱۵.    کہہ دو کیا بہتر ہے یا وہ بہشت جس کا پرہیز گاروں کے لیے وعدہ کیا گیا ہے جو  ان کا بدلہ اور ٹھکانہ ہو گی

۱۶.    وہاں انہیں جو  چاہیں گے ملے گا وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے یہ وعدہ تیرے رب کے ذمہ ہے جو  قابل درخواست ہے

۱۷.    اور جس دن انہیں اور ان کے معبودوں کو جمع کرے گا جنھیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے تو فرمائے گا کیا تم ہی نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا وہ خود راستہ بھول گئے تھے

۱۸.    کہیں گے تو پاک ہے ہمیں یہ کب لایق تھا کہ تیرے سوا کسی اور کو کارساز بناتے لیکن تو نے انہیں اور ان کے باپ دادا کو یہاں تک آسودگی دی تھی کہ وہ یاد کرنا بھول گئے اور یہ لوگ تباہ ہونے والے تھے

۱۹.     سو تمہارے معبودوں نے تمہاری باتوں میں تمہیں جھٹلا دیا سو تم نہ تو ٹال سکتے ہو اور نہ مدد دے سکتے ہو اور جو  تم میں سے ظلم کرے گا ہم اسے بڑا عذاب چکھائیں گے

۲۰.   اور ہم نے تجھ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنایا کیا تم ثابت قدم رہتے ہو اور تیرا رب سب کچھ دیکھنے والا ہے

۲۱.    اور ان لوگوں نے کہا جو  ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہ بھیجے گئے یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے البتہ انہوں نے اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ لیا ہے اور بہت بڑی سرکشی کی ہے

۲۲.   جس دن فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لیے کوئی خوشی نہیں ہو گی اور کہیں گے آڑ کر دی جائے

۲۳.   اور جو  عمل انہوں نے کیے تھے ہم ان کی طرف متوجہ ہوں گے پھر انہیں اڑتی ہوئی خاک کر دیں گے

۲۴.   اس دن بہشتیوں کا ٹھکانا بہتر ہو گا اور دوپہر کی آرام گاہ بھی عمدہ ہو گی

۲۵.   اور جس دن آسمان بادل سے پھٹ جائے گا اور فرشتے بکثرت اتارے جائیں گے

۲۶.   اس دن حقیقی حکومت رحمٰن ہی کی ہو گی اور وہ دن کافروں پر بڑا سخت ہو گا

۲۷.   اور اس دن ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا کہے گا اے کاش میں بھی رسول کے ساتھ راہ چلتا

۲۸.   ہائے میری شامت کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا

۲۹.    اسی نے تو نصیحت کے آنے کے بعد مجھے بہکا دیا اور شیطان تو انسان کو رسوا کرنے والا ہی ہے

۳۰.   اور رسول کہے گا اے میرے رب بے شک میری قوم نے اس قرآن کو نظر انداز کر رکھا تھا

۳۱.    اور ہم اسی مجرموں کو ہر ایک نبی کا دشمن بناتے رہے ہیں اور ہدایت کرنے اور مدد کرنے کے لیے تیرا رب کافی ہے

۳۲.   اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر یکبارگی قرآن کیوں نازل نہیں کیا گیا اسی طرح اتارا گیا تاکہ ہم اس سے تیرے دل کو اطمینان دیں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھ سنایا

۳۳.   اور جو  انوکھی بات تیرے سامنے لائیں گے ہم بھی تمہیں اس کا بہت ٹھیک جو اب اور بہت عمدہ حل بتائیں

۳۴.   جو لوگ مونہوں کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈالیں جائیں گے یہی برے درجے والے ہیں اور بہت ہی بڑے گمراہ ہیں

۳۵.   اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ہم نے اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون کو وزیر بنایا

۳۶.   پھر ہم نے کہا تم دونو ان لوگوں کی طرف جاؤ جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائی ہیں پھر ہم نے انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا

۳۷.   اور نوح کی قوم کو بھی جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں غرق کر دیا اور ہم نے انہیں لوگوں کے لیے نشانی بنا دیا اور ہم نے ظالموں کے لیے دردناک عذاب تیار کیا ہے

۳۸.   اور عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں کو بھی اور بہت سے دور جو  ان کے درمیان تھے

۳۹.   اور ہم نے ہر ایک کو مثالیں دے کر سمجھایا تھا اور سب کو ہم نے ہلاک کر دیا

۴۰.   اور یہ اس بستی پر بھی گزرے ہیں جس پر بری طرح پتھر برسائے گئے سو کیا یہ لوگ اسے دیکھتے نہیں رہتے بلکہ یہ لوگ مر کر زندہ ہونے کی امید ہی نہیں رکھتے

۴۱.    اور جب یہ لوگ تمہیں دیکھتے ہیں تو بس تم سے مذاق کرنے لگتے ہیں کیا یہی ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا

۴۲.   اس نے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے ہٹا ہی دیا ہوتا اگر ہم ان پر قائم نہ رہتے اور انہیں جلدی معلوم ہو جائے گا جب عذاب دیکھیں گے کہ کون شخص گمراہ تھا

۴۳.   کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنا خدا اپنی خواہشات نفسانی کو بنا رکھا ہے پھر کیا تو اس کا ذمہ دار ہو سکتا ہے

۴۴.   یا تو خیال کرتا ہے کہ اکثر ان میں سے سنتے یا سمجھتے ہیں یہ تو محض چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں

۴۵.   کیا تو نے اپنے رب کی طرف نہیں دیکھا کہ اس نے سایہ کو کیسے پھیلایا ہے اور اگر چاہتا تو اسے ٹھہرا رکھتا پھر ہم نے سورج کو اس کا سبب بنا دیا ہے

۴۶.   پھر ہم اسے آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹتے ہیں

۴۷.   اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو اوڑھنا اور نیند کو راحت بنا دیا اور دن چلنے پھرنے کے لیے بنایا

۴۸.   اور وہی تو ہے جو  اپنی رحمت سے پہلے خوشخبری لانے والی ہوائیں چلاتا ہے اور ہم نے آسمان سے پاک پانی نازل فرمایا

۴۹.   “تاکہ ہم اس سے مرے ہوئے شہر کو زندہ کریں اور اسے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں، چار پایوں اور بہت سے آدمیوں کو پلائیں”

۵۰.   اور ہم نے اسے لوگوں میں بانٹ دیا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں پس بہت سے آدمی ناشکری کیے بغیر نہ رہے

۵۱.    اور اگر ہم چاہتے تو ہر گاؤں میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے

۵۲.   پس کافروں کا کہا نہ مان اس کے ساتھ بڑے زور سے ان کا مقابلہ کر

۵۳.   اور وہی ہے جس نے دو دریاؤں کو آپس میں ملا دیا یہ میٹھا خوشگوار ہے اور یہ کھاری کڑوا ہے اور ان دونوں میں ایک پردہ اور مستحکم آڑ بنا دی

۵۴.   اور وہی ہے جس نے انسان کو پانی سے پیدا کیا پھر اس کے لیے رشتہ نسب اور دامادی قائم کیا اور تیرا رب ہر چیز پر قادر ہے

۵۵.   اور وہ اللہ کے سوا ایسے کو پوجتے ہیں جو  انہیں نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور کافر اپنے رب کی طرف پیٹھ پھیرنے والا ہے

۵۶.   اور ہم نے تمہیں محض خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے

۵۷.   کہہ دو میں اس پر تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا مگر جو  شخص اپنے رب کی طرف راستہ معلوم کرنا چاہے

۵۸.   اور تم اس زندہ خدا پر بھروسہ رکھو جو  کبھی نہ مرے گا اور اس کی تسبیح اور حمد کرتے رہو اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی خبردار ہے

۵۹.    جس نے آسمان اور زمین اور جو  کچھ ان میں ہے چھ دن میں بنایا پھر عرش پر قائم ہوا وہ رحمٰن ہے پس اس کی شان کسی خبردار سے پوچھو

۶۰.   اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں رحمٰن کیا ہے کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کے لیے تو کہہ دے اور اس سے انہیں اور زیادہ نفرت ہوتی ہے

۶۱.    بڑا برکت والا ہے وہ جس نے آسمان میں ستارے بنائے اور اس میں چراغ اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا

۶۲.   اور وہی ہے جس نے رات اور دن یکے بعد دیگرے آنے والے بنائے یہ اس کے لیے ہے جو  سمجھنا چاہے یا شکر کرنا چاہے

۶۳.   اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو  زمین پر دبے پاؤں چلتے ہیں اور جب ان سے بے سمجھ لوگ بات کریں تو کہتے ہیں سلام ہے

۶۴.   اور وہ لوگ جو  اپنے رب کے سامنے سجدہ میں اور کھڑے ہو کر رات گزارتے ہیں

۶۵.   اور وہ لوگ جو  کہتے ہیں اے ہمارے رب ہم سے دوزخ کا عذاب دور کر دے بے شک اس کا عذاب پوری تباہی ہے

۶۶.    بے شک وہ برا ٹھکانا اور بڑی قیام گاہ ہے

۶۷.   اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچی نہیں کرتے اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان کا خرچ ان دونوں کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے

۶۸.   اور وہ جو  اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور اس شخص کو ناحق قتل نہیں کرتے جسے اللہ نے حرام کر دیا ہے اور زنا نہیں کرتے اور جس شخص نے یہ کیا وہ گناہ میں جا پڑا

۶۹.    قیامت کے دن اسے دگنا عذاب ہو گا اس میں ذلیل ہو کر پڑا رہے گا

۷۰.   مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک کام کیے سو انہیں اللہ برائیوں کی جگہ بھلائیاں بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

۷۱.    اور جس نے توبہ کی اور نیک کام کیے تو وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے

۷۲.   اور جو  بے ہودہ باتوں میں شامل نہیں ہوتے اور جب بیہودہ باتوں کے پاس سے گزریں تو شریفانہ طور سے گزرتے ہیں

۷۳.   اور وہ لوگ جب انہیں ان کے رب کی آیتوں سے سمجھایا جاتا ہے تو ان پر بہرے اندھے ہو کر نہیں گرتے

۷۴.   اور وہ جو  کہتے ہیں کہ ہمارے رب ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا دے

۷۵.   یہی لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلہ میں جنت کے بالا خانے دیے جائیں گے اور ان کا وہاں دعا اور سلام سے استقبال کیا جائے گا

۷۶.   اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے ٹھیرنے اور رہنے کی خوب جگہ ہے

۷۷.  کہہ دو میرا رب تمہاری پروا نہیں کرتا اگر تم اسے نہ پکارو سو تم جھٹلا تو چکے ہو پھر اب تو اس کا وبال پڑ کر رہے گا

 *****

پروف ریڈنگ اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید