FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

حصہ دوم : یونس تا شعراء

               مولانا محمود الحسن

 

 

سورۃ یونس

شروع اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.         یہ آیتیں ہیں پکی کتاب کی

۲.        کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ وحی بھیجی ہم نے ایک مرد پر ان میں سے یہ کہ ڈر سنا دے لوگوں کو اور خوشخبری سنا دے ایمان والوں کو کہ ان کے لیے پایہ سچا ہے اپنے رب کے یہاں  کہنے لگے منکر بے شک یہ تو جادوگر ہے صریح

۳.        تحقیق تمہارا رب اللہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین چھ دن میں پھر قائم ہوا عرش پر  تدبیر کرتا ہے کام کی   کوئی سفارش نہیں کر سکتا مگر اس کی اجازت کے بعد وہ اللہ ہے رب تمہارا سو اس کی بندگی کرو کیا تم دھیان نہیں کرتے

۴.        اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تم سب کو وعدہ ہے اللہ کا سچا وہی پیدا کرتا ہے اول بار پھر دوبارہ کرے گا اس کو تاکہ بدلہ دے ان کو جو ایمان لائے تھے اور کیے تھے کام نیک انصاف کے ساتھ  اور جو کافر ہوئے ان کو پینا ہے کھولتا پانی اور عذاب ہے دردناک اس لیے کہ کفر کرتے تھے

۵.        وہی ہے جس نے بنایا سورج کو چمک اور چاند کو چاندنا  مقرر کیں اس کے لیے منزلیں  تاکہ پہچانو گنتی برسوں کی اور حساب  یوں ہی نہیں بنایا اللہ نے یہ سب کچھ مگر تدبیر سے  ظاہر کرتا ہے نشانیاں ان لوگوں کے لیے جن کو سمجھ ہے

۶.        البتہ بدلنے میں رات اور دن کے اور جو کچھ پیدا کیا ہے اللہ نے آسمانوں اور زمین میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں

۷.        البتہ جو لوگ امید نہیں رکھتے ہمارے ملنے کی اور خوش ہوئے دنیا کی زندگی پر اور اُسی پر مطمئن ہو گئے اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے بے خبر ہیں

۸.        ایسوں کا ٹھکانا ہے آگ بدلہ اس کا جو کماتے تھے

۹.         البتہ جو لوگ ایمان لائے اور کام کیے اچھے ہدایت کرے گا ان کو رب ان کے ایمان سے  بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں باغوں میں آرام کے

۱۰.       اُن کی دعا اس جگہ یہ کہ پاک ذات ہے تیری یا اللہ  اور ملاقات ان کی سلام اور خاتمہ ان کی دعا کا اس پر کہ سب خوبی اللہ کو جو پروردگار سارے جہان کا

۱۱.        اور اگر جلدی پہنچا دے اللہ لوگوں کو برائی جیسے کہ جلدی مانگتے ہیں وہ بھلائی تو ختم کر دی جائے ان کی عمر سو ہم چھوڑے رکھتے ہیں ان کو جن کو امید نہیں ہماری ملاقات کی ان کی شرارت میں سرگرداں

۱۲.       اور جب پہنچے انسان کو تکلیف پکارے ہم کو پڑا ہوا یا بیٹھا یا کھڑا پھر جب ہم کھول دیں اس سے وہ تکلیف چلا جائے گویا کبھی نہ پکارا تھا ہم کو کسی تکلیف پہنچنے پر اسی طرح پسند آیا ہے بیباک لوگوں کو جو کچھ کر رہے ہیں

۱۳.       اور البتہ ہم ہلاک کر چکے ہیں جماعتوں کو تم سے پہلے جب ظالم ہو گئے حالانکہ لائے تھے ان کے پاس رسول ان کی کھلی نشانیاں اور ہرگز نہ تھے ایمان لانے والے یوں ہی سزا دیتے ہیں ہم قوم گناہ گاروں کو

۱۴.       پھر تم کو ہم نے نائب کیا زمین میں ان کے بعد تاکہ دیکھیں تم کیا کرتے ہو

۱۵.       اور جب پڑھی جاتی ہیں ان کے سامنے آیتیں ہماری واضح کہتے ہیں وہ لوگ جن کو امید نہیں ہم سے ملاقات کی لے آ کوئی قرآن اس کے سوا یا اس کو بدل ڈال  تو کہہ دے میرا کام نہیں کہ اس کو بدل ڈالوں اپنی طرف سے میں تابعداری کرتا ہوں اسی کی جو حکم آئے میری طرف میں ڈرتا ہوں اگر نافرمانی کروں اپنے رب کی بڑے دن کے عذاب سے

۱۶.       کہہ دے اگر اللہ چاہتا تو میں نہ پڑھتا اس کو تمہارے سامنے اور نہ وہ تم کو خبر کرتا اُس کی کیونکہ میں رہ چکا ہوں تم میں ایک عمر اس سے پہلے کیا پھر تم نہیں سوچتے

۱۷.      پھر اس سے بڑا ظالم کون جو باندھے اللہ پر بہتان یا جھٹلائے اس کی آیتوں کو بے شک بھلا نہیں ہوتا گناہ گاروں کا

۱۸.       اور پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا اس چیز کی جو نہ نقصان پہنچا سکے ان کو نہ نفع اور کہتے ہیں یہ تو ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے پاس  تو کہہ کیا تم اللہ کو بتلاتے ہو جو اس کو معلوم نہیں آسمانوں میں اور نہ زمین میں وہ پاک ہے اور برتر ہے اس سے جس کو شریک کرتے ہیں

۱۹.       اور لوگ جو ہیں سو ایک ہی امت ہیں پیچھے جدا جدا ہو گئے اور اگر نہ ایک بات پہلے ہو چکتی تیرے رب کی تو فیصلہ ہو جاتا ان میں جس بات میں کہ اختلاف کر رہے ہیں

۲۰.      اور کہتے ہیں کیوں نہ اتری اس پر ایک نشانی اس کے رب سے سو تو کہہ دے کہ غیب کی بات اللہ ہی جانے ، سو منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

۲۱.       اور جب چکھائیں ہم لوگوں کو مزا اپنی رحمت کا بعد ایک تکلیف کے جو ان کو پہنچی تھی اس وقت بنانے لگیں حیلے ہماری قدرتوں میں، کہہ دے کہ اللہ سب سے جلد بنا سکتا ہے حیلے تحقیق ہمارے فرشتے لکھتے ہیں حلیہ بازی تمہاری

۲۲.      وہی تم کو پھراتا ہے جنگل اور دریا میں یہاں تک کہ جب تم بیٹھے کشتیوں میں اور لے کر چلیں وہ لوگوں کو اچھی ہوا سے اور خوش ہوئے اس سے ، آئی کشتیوں پر ہوا تند اور آئی ان پر، موج ہر جگہ سے اور جان لیا انہوں نے کہ وہ گھر گئے پکارنے لگے اللہ کو خالص ہو کراس کی بندگی میں اگر تو نے بچا لیا ہم کو اس سے تو بے شک ہم رہیں گے شکر گزار

۲۳.      پھر جب بچا دیا ان کو اللہ نے لگے شرارت کرنے اُسی وقت زمین میں ناحق کی  سنو لوگوں تمہاری شرارت ہے تمہی پر نفع اٹھا لو دنیا کی زندگانی کا پھر ہمارے پاس ہے تم کو لوٹ کر آنا پھر ہم بتلا دیں گے جو کچھ کہ تم کرتے تھے

۲۴.      دنیا کی زندگانی کی وہی مثل ہے جیسے ہم نے پانی اتارا آسمان سے پھر رلا ملا نکلا اس سے سبزہ زمین کا جو کہ کھائیں آدمی اور جانور  یہاں تک کہ جب پکڑی زمین نے رونق اور مزین ہو گئی اور خیال کیا زمین والوں نے کہ یہ ہمارے ہاتھ لگے گی  ناگاہ پہنچا اس پر ہمارا حکم رات کو یا دن کو پھر کر ڈالا اس کو کاٹ کر ڈھیر گویا کل یہاں نہ تھی آبادی اسی طرح ہم کھول کر بیان کرتے ہیں نشانیوں کو ان لوگوں کے سامنے جو غور کرتے ہیں

۲۵.      اور اللہ بلاتا ہے سلامتی کے گھر کی طرف اور دکھلاتا ہے جس کو چاہے راستہ سیدھا

۲۶.      جنہوں نے کی بھلائی ان کے لیے ہے بھلائی اور زیادتی  اور نہ چڑھے گی ان کے منہ پر سیاہی اور نہ رسوائی وہ ہیں جنت والے وہ اُسی میں رہا کریں گے

۲۷.     اور جنہوں نے کمائیں برائیاں بدلہ ملے برائی کا اس کے برابر  اور ڈھانک لے گی ان کو رسوائی کوئی نہیں ان کو اللہ سے بچانے والا گویا کہ ڈھانک دیئے گئے ان کے چہرے اندھیری رات کے ٹکڑوں سے  وہ ہیں دوزخ والے وہ اُسی میں رہا کریں گے

۲۸.      اور جس دن جمع کریں گے ہم ان سب کو پھر کہیں گے شرک کرنے والوں کو کھڑے ہو کر اپنی اپنی جگہ تم اور تمہارے شریک پھر تڑوادیں گے ہم آپس میں ان کو اور کہیں گے ان کے شریک تم ہماری تو بندگی نہ کرتے تھے

۲۹.      سو اللہ کافی ہے شاہد ہمارے اور تمہارے بیچ میں ہم کو تمہاری بندگی کی خبر نہ تھی

۳۰.      وہاں جانچ لے گا ہر کوئی جو اس نے پہلے کیا تھا اور رجوع کریں گے اللہ کی طرف جو سچا مالک ہے ان کا اور جاتا رہے گا ان کے پاس سے جو جھوٹ باندھا کرتے تھے

۳۱.       تو پوچھ کون روزی دیتا ہے تم کو آسمان سے اور زمین سے   یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا  اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے  اور کون تدبیر کرتا ہے کاموں کی  سو بول اٹھیں گے کہ اللہ تو تو کہہ پھر ڈرتے نہیں ہو

۳۲.      سو یہ اللہ ہے رب تمہارا سچا پھر کیا رہ گیا سچ کے پیچھے مگر بھٹکنا سو کہاں سے لوٹے جاتے ہو

۳۳.     اسی طرح ٹھیک آئی بات تیرے رب کی ان نافرمانوں پر کہ یہ ایمان نہ لائیں گے

۳۴.     پوچھ کوئی ہے تمہارے شریکوں میں جو پیدا کرے خلق کو پھر دوبارہ زندہ کرے تو کہہ اللہ پہلے پیدا کرتا ہے پھر اس کو دہرائے گا سو کہاں سے پلٹے جاتے ہو

۳۵.     پوچھ کوئی ہے تمہارے شریکوں میں جو راہ بتلائے صحیح تو کہہ اللہ راہ بتلاتا ہے صحیح تو اب جو کوئی راہ بتائے صحیح اس کی بات ماننی چاہیے یا اس کی جو آپ نہ پائے راہ مگر جب کوئی اور اس کو راہ بتلائے سو کیا ہو گیا تم کو کیسا انصاف کرتے ہو

۳۶.      اور وہ اکثر چلتے ہیں محض اٹکل پر سو اٹکل کام نہیں دیتی حق بات میں کچھ بھی  اللہ کو خوب معلوم ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں

۳۷.     اور وہ نہیں یہ قرآن کہ کوئی بنا لے اللہ کے سوا  اور لیکن تصدیق کرتا ہے اگلے کلام کی  اور بیان کرتا ہے ان چیزوں کو جو تم پر لکھی گئیں جس میں کوئی شبہ نہیں پروردگار عالم کی طرف سے

۳۸.     کیا لوگ کہتے ہیں کہ یہ بنا لایا ہے تو کہہ دے تم لے آؤ ایک ہی سورت ایسی اور بلا لو جس کو بلا سکو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو

۳۹.      بات یہ ہے کہ جھٹلانے لگے جس کے سمجھنے پر انہوں نے قابو نہ پایا  اور ابھی آئی نہیں اس کی حقیقت  اسی طرح جھٹلاتے رہے اُن سے اگلے سو دیکھ لے کیسا ہوا انجام گنہگاروں کا

۴۰.      اور بعضے ان میں یقین کریں گے قرآن کا اور بعضے یقین نہ کریں گے اور تیرا رب خوب جانتا ہے شرارت والوں کو

۴۱.       اور اگر تجھ کو جھٹلائیں تو کہہ میرے لیے میرا کام اور تمہارے لیے تمہارا کام تم پر ذمہ نہیں میرے کام کا اور مجھ پر ذمہ نہیں جو تم کرتے ہو

۴۲.      اور بعضے ان میں کان رکھتے ہیں تیری طرف کیا تو سنائے گا بہروں کو اگرچہ ان کو سمجھ نہ ہو

۴۳.     اور بعضے ان میں نگاہ کرتے ہیں تیری طرف کیا تو راہ دکھائے گا اندھوں کو اگرچہ وہ سوجھ نہ رکھتے ہوں

۴۴.     اللہ ظلم نہیں کرتا لوگوں پر کچھ بھی لیکن لوگ اپنے اوپر آپ ظلم کرتے ہیں

۴۵.     اور جس دن ان کو جمع کرے گا گویا وہ نہ رہے تھے مگر ایک گھڑی دن  ایک دوسرے کو پہچانیں گے  بے شک خسارے میں پڑے جنہوں نے جھٹلایا اللہ سے ملنے کو اور نہ آئے وہ راہ پر

۴۶.      اور اگر ہم دکھائیں گے تجھ کو کوئی چیز اُن وعدوں میں سے جو کیے ہم نے ان سے یا وفات دیں تجھ کو، سو ہماری ہی طرف ہے ، ان کو لوٹنا، پھر اللہ شاہد ہے ان کاموں پر جو کرتے ہیں

۴۷.     اور ہر فرقے کا ایک رسول ہے پھر جب پہنچا ان کے پاس رسول ان کا فیصلہ ہوا اُن میں انصاف سے اور ان پر ظلم نہیں ہوتا

۴۸.     اور کہتے ہیں کب ہے یہ وعدہ اگر تم سچے ہو

۴۹.      “تو کہہ میں مالک نہیں اپنے واسطے برے کا نہ بھلے کا مگر جو چاہے اللہ ہر فرقے کا ایک وعدہ ہے جب آ پہنچے گا ان کا وعدہ پھر نہ پیچھے سرک سکیں گے ایک گھڑی اور نہ آگے سرک سکیں گے “

۵۰.      تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر آ پہنچے تم پر عذاب اس کا راتوں رات یا دن کو تو کیا کر لیں گے اس سے پہلے گناہ گار

۵۱.       کیا پھر جب عذاب واقع ہو چکے گا تب اس پر یقین کرو گے اب قائل ہوئے اور تم اسی کا تقاضا کرتے تھے

۵۲.      پھر کہیں گے گنہگاروں کو چکھتے رہو عذاب ہمیشگی کا وہی بدلہ ملتا ہے جو کچھ کماتے تھے

۵۳.     اور تجھ سے خبر پوچھتے ہیں کیا سچ ہے یہ بات تو کہہ البتہ قسم میرے رب کی یہ سچ ہے اور تم تھکا نہ سکو گے

۵۴.     اور اگر ہو ہر شخص گناہ گار کے پاس جتنا کچھ ہے زمین میں البتہ دے ڈالے اپنے بدلے میں  اور چھپے چھپے پچتائیں گے جب دیکھیں گے عذاب اور ان میں فیصلہ ہو گا انصاف سے اور ان پر ظلم نہ ہو گا

۵۵.     سن رکھو اللہ کا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں سن رکھو وعدہ اللہ کا سچ ہے  پر بہت لوگ نہیں جانتے

۵۶.      وہی جلاِتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے

۵۷.     اے لوگوں تمہارے پاس آئی ہے نصیحت تمہارے رب سے اور شفاء دلوں کے روگ کی اور ہدایت اور رحمت مسلمانوں کے واسطے

۵۸.     کہہ اللہ کے فضل سے اور اس کی مہربانی سے سو اسی پر ان کو خوش ہونا چاہیے   یہ بہتر ہے ان چیزوں سے جو جمع کرتے ہیں

۵۹.      تو کہہ بھلا دیکھو تو اللہ نے جو اتاری تمہارے واسطے روزی پھر تم نے ٹھہرائی اس میں سے کوئی حرام اور کوئی حلال کہہ کیا اللہ نے حکم دیا تم کو یا اللہ پر افتراء کرتے ہو

۶۰.      اور کیا خیال ہے جھوٹ باندھنے والوں کا اللہ پر قیامت کے دن  اللہ تو فضل کرتا ہے لوگوں پر اور لیکن بہت لوگ حق نہیں مانتے

۶۱.       اور نہیں ہوتا تو کسی حال میں اور نہ پڑھتا ہے اس میں سے کچھ قرآن اور نہیں کرتے ہو تم لوگ کچھ کام کہ ہم نہیں ہوتے حاضر تمہارے پاس جب تم مصروف ہوتے ہو اس میں اور غائب نہیں رہتا تیرے رب سے ایک ذرہ بھر زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ چھوٹا اس سے اور نہ بڑا جو نہیں ہے کھلی ہوئی کتاب میں

۶۲.      یاد رکھو جو لوگ اللہ کے دوست ہیں نہ ڈر ہے اُن پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے

۶۳.      جو لوگ کہ ایمان لائے اور ڈرتے رہے

۶۴.      اُن کے لیے خوشخبری دنیا کی زندگانی میں اور آخرت میں  بدلتی نہیں اللہ کی باتیں  یہی ہے بڑی کامیابی

۶۵.      اور رنج مت کر ان کی بات سے ، اصل میں سب زور اللہ کے لیے ہے وہی ہے سننے والا جاننے والا

۶۶.      سنتا ہے اللہ کا ہے جو کوئی ہے آسمانوں میں اور جو کوئی ہے زمین میں اور یہ جو پیچھے پڑے ہیں اللہ کے سوا شریکوں کو پکارنے والے سو یہ کچھ نہیں مگر پیچھے پڑے ہیں اپنے خیال کے اور کچھ نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے ہیں

۶۷.     وہی ہے جس نے بنایا تمہارے واسطے رات کو کہ چین حاصل کرو اس میں اور دن دیا دکھلانے والا بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں

۶۸.      کہتے ہیں ٹھہرا لیا اللہ نے بیٹا وہ پاک ہے وہ بے نیاز ہے اُسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں نہیں تمہارے پاس کوئی سند اس کی کیوں جھوٹ کہتے ہو اللہ پر جب بات کی تم کو خبر نہیں

۶۹.      کہہ جو لوگ باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ بھلائی نہیں پاتے

۷۰.     تھوڑا سا نفع اٹھا لینا دنیا میں پھر ہماری طرف ہے اُن کو لوٹنا پھر چکھائیں گے ہم ان کو سخت عذاب بدلہ ان کے کفر کا

۷۱.      اور سنا ان کو حال نوح کا  جب کہا اپنی قوم کو اے قوم اگر بھاری ہوا ہے تم پر میرا کھڑا ہونا اور نصیحت کرنا اللہ کی آیتوں سے تو میں نے اللہ پر بھروسہ کیا اب تم سب مل کر مقرر کرو اپنا کام اور جمع کرو اپنے شریکوں کو پھر نہ رہے تم کو اپنے کام میں شبہ پھر کر گزرو میرے ساتھ اور مجھ کو مہلت نہ دو

۷۲.     پھر اگر منہ پھیرو گے تو میں نے نہیں چاہی تم سے مزدوری میری مزدوری ہے اللہ پر اور مجھ کو حکم ہے کہ رہوں فرما بردار

۷۳.     پھر اس کو جھٹلایا سو ہم نے بچا لیا اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور ان کو قائم کر دیا جگہ پر اور ڈبو دیا ان کو جو جھٹلاتے تھے ہماری باتوں کو، سو دیکھ لے کیسا ہوا انجام ان کا جن کو ڈرایا تھا

۷۴.     پھر بھیجے ہم نے نوح کے بعد کتنے پیغمبر ان کی قوم کی طرف پھر لائے ان کے پاس کھلی دلیلیں سو ان سے یہ نہ ہوا کہ ایمان لے آئیں اس بات پر جس کو جھٹلا چکے تھے پہلے سے  اسی طرح ہم مہر لگا دیتے ہیں دلوں پر حد سے نکل جانے والوں کے

۷۵.     پھر بھیجا ہم نے ان کے پیچھے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر پھر تکبر کرنے لگے اور وہ تھے لوگ گناہ گار

۷۶.     پھر جب پہنچی ان کو سچی بات ہمارے پاس سے کہنے لگے یہ تو جادو ہے کھلا

۷۷.     کہا موسیٰ نے کیا تم یہ کہتے ہو حق بات کو جب وہ پہنچے تمہارے پاس کیا یہ جادو ہے اور نجات نہیں پاتے جادو کرنے والے

۷۸.     بولے کیا تو آیا ہے کہ ہم کو پھیر دے اس راستہ سے جس پر پایا ہم نے اپنے باپ دادوں کو اور تم دونوں کو سرداری مل جائے اس ملک میں اور ہم نہیں ہیں تم کو ماننے والے

۷۹.      اور بولا فرعون لاؤ میرے پاس جو جادوگر ہو پڑھا ہوا

۸۰.      پھر جب آئے جادوگر کہا اُن کو موسیٰ نے ڈالو جو تم ڈالتے ہو

۸۱.       پھر جب انہوں نے ڈالا موسیٰ بولا کہ جو تم لائے ہو سو جادو ہے  اب اللہ اس کو بگاڑتا ہے بے شک اللہ نہیں سنوارتا شریروں کے کام

۸۲.      اور اللہ سچا کرتا ہے حق بات کو اپنے حکم سے اور پڑے برا مانیں گناہ گار

۸۳.     پھر کوئی ایمان نہ لایا موسیٰ پر مگر کچھ لڑکے اُس کی قوم کے  ڈرتے ہوئے فرعون سے اور ان کے سرداروں سے کہ کہیں ان کو بچلا نہ دے  اور فرعون چڑھ رہا ہے ملک میں اور اس نے ہاتھ چھوڑ رکھا ہے

۸۴.     اور کہا موسیٰ نے اے میری قوم اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر تو اسی پر بھروسہ کرو اگر ہو تم فرماں بردار

۸۵.     تب وہ بولے ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا اے رب ہمارے نہ آزما ہم پر زور اس ظالم قوم کا

۸۶.      اور چھڑا دے ہم کو مہربانی فرما کر ان کافر لوگوں سے

۸۷.     اور حکم بھیجا ہم نے موسیٰ کو اور اس کے بھائی کو کہ مقرر کرو اپنی قوم کے واسطے مصر میں سے گھر  اور بناؤ اپنے گھر قبلہ رو اور قائم کرو نماز  اور خوشخبری دے ایمان والوں کو

۸۸.     اور کہا موسیٰ نے اب رب ہمارے تو نے دی ہے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو رونق اور مال دنیا کی زندگی میں  اے رب اس واسطے کہ بہکائیں تیری راہ سے  اے رب مٹا دے ان کے مال اور سخت کر دے ان کے دل کہ نہ ایمان لائیں جب تک دیکھ لیں عذاب دردناک

۸۹.      فرمایا قبول ہو چکی دعا تمہاری  سو تم دونوں ثابت رہو اور مت چلو راہ ان کی جو ناواقف ہیں

۹۰.      اور پار کر دیا ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پھر پیچھا کیا ان کا فرعون نے اور اس کے لشکر نے شرارت سے اور تعدی سے یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا بولا یقین کر لیا میں نے کہ کوئی معبود نہیں مگر جس پر کہ ایمان لائے بنی اسرائیل اور میں ہوں فرمانبرداروں میں

۹۱.       اب یہ کہتا ہے اور تو نافرمانی کرتا رہا اس سے پہلے اور رہا گمراہوں میں

۹۲.      سو آج بچائے دیتے ہیں ہم تیرے بدن کو تاکہ ہووے تو اپنے پچھلوں کے واسطے نشانی اور بے شک بہت لوگ ہماری قدرتوں پر توجہ نہیں کرتے

۹۳.      اور جگہ دی ہم نے بنی اسرائیل کو پسندیدہ جگہ اور کھانے کو دیں ستھری چیزیں   سو ان میں پھوٹ نہیں پڑی یہاں تک کہ پہنچی ان کو خبر بے شک تیرا رب ان میں فیصلہ کرے گا قیامت کے دن جس بات میں کہ ان میں پھوٹ پڑی

۹۴.      سو اگر تو ہے شک میں اس چیز سے کہ اتاری ہم نے تیری طرف تو پوچھ ان سے جو پڑھتے ہیں کتاب تجھ سے پہلے بے شک آئی ہے تیرے پاس حق بات تیرے رب سے سو تو ہرگز مت ہو شک کرنے والا

۹۵.      اور مت ہو ان میں جنہوں نے جھٹلایا اللہ کی باتوں کو پھر تو بھی ہو جائے خرابی میں پڑنے والا

۹۶.      جن پر ثابت ہو چکی بات تیرے رب کی وہ ایمان نہ لائیں گے

۹۷.      اگرچہ پہنچیں ان کو ساری نشانیاں جب تک نہ دیکھ لیں عذاب دردناک

۹۸.      سو کیوں نہ ہوئی کوئی بستی کہ ایمان لاتی پھر کام آتا ان کو ایمان لانا مگر یونس کی قوم جب وہ ایمان لائی اٹھا لیا ہم نے ان پر سے ذلت کا عذاب دنیا کی زندگانی میں اور فائدہ پہنچایا ہم نے ان کو ایک وقت تک

۹۹.       اور اگر تیرا رب چاہتا بے شک ایمان لے آتے جتنے لوگ کہ زمین میں ہیں سارے تمام اب کیا تو زبردستی کرے گا لوگوں پر کہ ہو جائیں با ایمان

۱۰۰.     اور کسی سے نہیں ہو سکتا کہ ایمان لائے مگر اللہ کے حکم سے اور وہ ڈالتا ہے گندگی ان پر جو نہیں سوچتے

۱۰۱.     تو کہہ دیکھو تو کیا کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور کچھ کام نہیں آتی نشانیاں اور ڈرانے والے ان لوگوں کو جو نہیں مانتے

۱۰۲.     سو اب کچھ نہیں جس کا انتظار کریں مگر انہی کے سے دن جو گزر چکے ہیں ان سے پہلے تو کہہ اب راہ دیکھو میں بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھتا ہوں

۱۰۳.    پھر ہم بچا لیتے ہیں اپنے رسولوں کو اور ان کو جو ایمان لائے اسی طرح ذمہ ہے ہمارا بچا لیں گے ایمان والوں کو

۱۰۴.    کہہ دے اے لوگوں اگر تم شک میں ہو میرے دین سے تو میں عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے سوا اور لیکن میں عبادت کرتا ہوں اللہ کی جو کھینچ لیتا ہے تم کو اور مجھ کو حکم ہے کہ رہوں ایمان والوں میں

۱۰۵.    اور یہ کہ سیدھا کر منہ اپنا دین پر حنیف ہو کر اور مت ہو شرک والوں میں

۱۰۶.     اور مت پکار اللہ کے سوا ایسے کو کہ نہ بھلا کرے تیرا اور نہ برا پھر اگر تو ایسا کرے تو تو بھی اس وقت ہو ظالموں میں

۱۰۷.    اور اگر پہنچا دیوے تجھ کو اللہ کچھ تکلیف تو کوئی نہیں اس کو ہٹانے والا اس کے سوا اور اگر پہنچانا چاہے تجھ کو کچھ بھلائی تو کوئی پھیرنے والا نہیں اس کے فضل کو پہنچائے اپنا فضل جس پر چاہے اپنے بندوں میں اور وہی ہے بخشنے والا مہربان

۱۰۸.    کہہ دے اے لوگوں پہنچ چکا حق تم کو تمہارے رب سے اب جو کوئی راہ پر آئے سو وہ راہ پاتا ہے اپنے بھلے کو اور جو کوئی بہکا پھرے سو بہکا پھرے گا اپنے برے کو اور میں تم پر نہیں ہوں مختار

۱۰۹.     اور تو چل اُسی پر جو حکم پہنچے تیری طرف اور صبر کر جب تک فیصلہ کرے اللہ اور وہ ہے سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا

 

سورۃ ھود

شروع اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.         ا لر یہ کتاب ہے کہ جانچ لیا ہے اس کی باتوں کو پھر کھولی گئی ہیں ایک حکمت والے خبردار کے پاس سے

۲.        کہ عبادت نہ کرو مگر اللہ کی  میں تم کو اُسی کی طرف سے ڈر اور خوشخبری سناتا ہوں

۳.        اور یہ کہ گناہ بخشواؤ اپنے رب سے پھر رجوع کرو اس کی طرف کہ فائدہ پہنچائے تم کو اچھا فائدہ ایک وقت مقرر تک   اور دیوے ہر زیادتی والے کو زیادتی اپنی  اور اگر تم پھر جاؤ گے تو میں ڈرتا ہوں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے

۴.        اللہ کی طرف ہے تم کو لوٹ کر جانا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

۵.        سنتا ہے وہ دوہرے کرتے ہیں اپنے سینے تاکہ چھپائیں اس سے سنتا ہے جس وقت اوڑھتے ہیں اپنے کپڑے جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں وہ تو جاننے والا ہے دلوں کی بات

۶.        اور کوئی نہیں چلنے والا زمین پر مگر اللہ پر ہے اس کی روزی  اور جانتا ہے جہاں وہ ٹھہرتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے  سب کچھ موجود ہے کھلی کتاب میں

۷.        اور وہی ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین چھ دن میں  اور تھا اس کا تخت پانی پر  تاکہ آزمائے تم کو کہ کون تم میں اچھا کرتا ہے کام   اور اگر تو کہے کہ تم اٹھو گے مرنے کے بعد تو البتہ کافر کہنے لگیں یہ کچھ نہیں مگر جادو ہے کھلا ہوا

۸.        اور اگر ہم روکے رکھیں ان سے عذاب کو ایک مدت معلوم تک تو کہنے لگیں کس چیز نے روک دیا عذاب کو، سنتا ہے جس دن آئے گا ان پر نہ پھیرا جائے گا ان سے اور گھیر لے گی ان کو وہ چیز جس پر ٹھٹھے کیا کرتے تھے

۹.         اور اگر ہم چکھا دیں آدمی کو اپنی طرف سے رحمت پھر وہ چھین لیں اس سے تو وہ نا امید ناشکر ہوتا ہے

۱۰.       اور اگر ہم چکھاویں اس کو آرام بعد تکلیف کے جو پہنچی تھی اس کو تو بول اٹھے دور ہوئیں برائیاں مجھ سے وہ تو اترانے والا شیخی خورا ہے

۱۱.        مگر جو لوگ صابر ہیں اور کرتے ہیں نیکیاں ان کے واسطے بخشش ہے اور ثواب بڑا

۱۲.       سو کہیں تو چھوڑ بیٹھے گا کچھ چیز اس میں سے جو وحی آئی تیری طرف اور تنگ ہو گا اس سے تیرا جی اس بات پر کہ وہ کہتے ہیں کیوں نہ اترا اس پر خزانہ یا کیوں نہ آیا اس کے ساتھ فرشتہ تو تو ڈرانے والا ہے اور اللہ ہے ہر چیز کا ذمہ دار

۱۳.       کیا کہتے ہیں کہ بنا لایا ہے تو قرآن کو کہہ دے تم بھی لے آؤ ایک دس سورتیں ایسی بنا کر اور بلا لو جس کو بلا سکو اللہ کے سوا اگر ہو تم سچے

۱۴.       پھر اگر نہ پورا کریں تمہارا کہنا تو جان لو کہ قرآن تو اترا ہے اللہ کی وحی سے اور یہ کہ کوئی حاکم نہیں اس کے سوا پھر اب تم حکم مانتے ہو

۱۵.       جو کوئی چاہے دنیا کی زندگانی اور اس کی زینت بھگتا دیں گے ہم ان کو ان کے عمل دنیا میں اور ان کو اس میں کچھ نقصان نہیں

۱۶.       یہی ہیں جن کے واسطے کچھ نہیں آخرت میں آگ کے سوا   اور برباد ہوا جو کچھ کیا تھا یہاں اور خراب گیا جو کمایا تھا

۱۷.      بھلا ایک شخص جو ہے صاف راستہ پر اپنے رب کے اور اس کے ساتھ ساتھ ہے ایک گواہ اللہ کی طرف سے اور اس سے پہلے گواہ تھی موسیٰ کی کتاب راستہ بتلاتی اور بخشواتی (اوروں کی برابر ہے ) یہی لوگ مانتے ہیں قرآن کو اور جو کوئی منکر ہو اس سے سب فرقوں میں سے سو دوزخ ہے ٹھکانا اس کا  سو تو مت رہ شبہ میں اس سے بے شک وہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے اور پر بہت سے لوگ یقین نہیں کرتے

۱۸.       اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو باندھے اللہ پر جھوٹ  وہ لوگ رو برو آئیں گے اپنے رب کے اور کہیں گے گواہی دینے والے یہی ہیں جنہوں نے جھوٹ کہا تھا اپنے رب پر  سن لو پھٹکار ہے اللہ کی نا انصاف لوگوں پر

۱۹.       جو کہ روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور ڈھونڈھتے ہیں اس میں کجی اور وہی ہیں آخرت سے منکر

۲۰.      وہ لوگ نہیں تھکانے والے زمین میں بھاگ کر اور نہیں ان کے واسطے اللہ کے سوا کوئی حمایتی  دونا ہے ان کے لیے عذاب  نہ طاقت رکھتے تھے سننے کی اور نہ دیکھتے تھے

۲۱.       وہی ہیں جو کھو بیٹھے اپنی جان اور گم ہو گیا ان سے جو جھوٹ باندھا تھا

۲۲.      اس میں شک نہیں کہ یہ لوگ آخرت میں یہی ہیں سب سے زیادہ نقصان میں

۲۳.      البتہ جو لوگ ایمان لائے اور کام کیے نیک اور عاجزی کی اپنے رب کے سامنے وہ ہیں جنت کے رہنے والے وہ اسی میں رہا کریں گے

۲۴.      مثال ان دونوں فرقوں کی جیسے ایک تو اندھا اور بہرا اور دوسرا دیکھتا اور سنتا کیا برابر ہے دونوں کا حال پھر کیا تم غور نہیں کرتے

۲۵.      اور ہم نے بھیجا نوح کو اس کی قوم کی طرف کہ میں تم کو ڈر کی بات سناتا ہوں کھول کر

۲۶.      کہ نہ پرستش کرو اللہ کے سوا  میں ڈرتا ہوں تم پر دردناک دن کے عذاب سے

۲۷.     پھر بولے سردار جو کافر تھے اس کی قوم کے ہم کو تو تو نظر نہیں آتا مگر ایک آدمی ہم جیسا اور دیکھتے نہیں کوئی تابع ہوا ہو تیرا، مگر جو ہم میں نیچ قوم ہیں بلا تأمل اور ہم نہیں دیکھتے تم کو اوپر اپنے کچھ بڑائی بلکہ ہم کو تو خیال ہے کہ تم سب جھوٹے ہو

۲۸.      بولا اے قوم دیکھو تو اگر میں ہوں صاف راستہ پر اپنے رب کے اور اس نے بھیجی مجھ پر رحمت اپنے پاس سے ، پھر اس کو تمہاری آنکھ سے مخفی رکھا، تو کیا ہم تم کو مجبور کر سکتے ہیں اس پر اور تم اس سے بیزار ہو

۲۹.      اور اے میری قوم نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کچھ مال میری مزدوری نہیں مگر اللہ پر اور میں نہیں ہانکنے والا ایمان والوں کو ان کو ملنا ہے اپنے رب سے  لیکن میں دیکھتا ہوں تم لوگ جاہل ہو

۳۰.      اور اے قوم کون چھڑائے مجھ کو اللہ سے اگر ان کو ہانک دوں کیا تم دھیان نہیں کرتے

۳۱.       اور میں نہیں کہتا تم کو کہ میرے پاس ہیں خزانے اللہ کے اور نہ میں خبر رکھوں غیب کی اور نہ کہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ کہوں گا کہ جو لوگ تمہاری آنکھ میں حقیر ہیں نہ دے گا ان کو اللہ بھلائی اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے جی میں ہے یہ کہوں تو میں بے انصاف ہوں

۳۲.      بولے اے نوح تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت جھگڑ چکا اب لے آ جو تو وعدہ کرتا ہے ہم سے اگر تو سچا ہے

۳۳.     کہا کہ لائے گا تو اس کو اللہ ہی اگر چاہے گا اور تم نہ تھکا سکو گے بھاگ کر

۳۴.     اور نہ کارگر ہو گی تم کو میری نصیحت جو چاہوں کہ تم کو نصیحت کروں اگر اﷲچاہتا ہو گا کہ تم کو گمراہ کرے وہی ہے رب تمہارا اور اسی کی طرف لوٹ جاؤ گے

۳۵.     کیا کہتے ہیں کہ بنا لایا قرآن کو  کہہ دے اگر میں بنا لایا ہوں تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میرا ذمہ نہیں جو تم گناہ کرتے ہو

۳۶.      اور حکم ہوا طرف نوح کی کہ اب ایمان نہ لائے گا تیری قوم میں مگر جو ایمان لا چکا سو غمگین نہ رہ ان کاموں پر جو کر رہے ہیں

۳۷.     اور بنا کشتی روبرو ہمارے اور ہمارے حکم سے اور نہ بات کر مجھ سے ظالموں کے حق میں یہ بے شک غرق ہوں گے

۳۸.     اور وہ کشتی بناتا تھا   اور جب گزرتے اس پر سردار اس کی قوم کے ہنسی کرتے اس سے  بولا اگر تم ہنستے ہو ہم سے تو ہم ہنستے ہیں تم سے جیسے تم ہنستے ہو

۳۹.      اب جلد جان لو گے کہ کس پر آتا ہے عذاب کہ رسوا کرے اس کو اور اترتا ہے اس پر عذاب دائمی

۴۰.      یہاں تک کہ جب پہنچا حکم ہمارا اور جوش مارا تنور نے  کہا ہم نے چڑھا لے کشتی میں ہر قسم سے جوڑا دو عدد  اور اپنے گھر کے لوگ مگر جس پر پہلے ہو چکا ہے حکم  اور سب ایمان والوں کو اور ایمان نہ لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے

۴۱.       اور بولا سوار ہو جاؤ اس میں اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا تحقیق میرا رب ہے بخشنے والا مہربان

۴۲.      اور وہ لیے جا رہی تھی ان کو لہروں میں جیسے پہاڑ اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کو اور وہ ہو رہا تھا کنارے اے بیٹے سوار ہو جا ساتھ ہمارے اور مت رہ ساتھ کافروں کے

۴۳.     بولا جا لگوں گا کسی پہاڑ کو جو بچا لے گا مجھ کو پانی سے  کہا کوئی بچانے والا نہیں آج اللہ کے حکم سے مگر جس پر وہی رحم کرے اور حائل ہو گئی دونوں میں موج پھر ہو گیا ڈوبنے والوں میں

۴۴.     اور حکم آیا اے زمین نگل جا اپنا پانی اور اے آسمان تھم جا اور سکھا دیا گیا پانی اور ہو چکا کام اور کشتی ٹھہری جودی پہاڑ پر اور حکم ہوا کہ دور ہو قوم ظالم

۴۵.     اور پکارا نوح نے اپنے رب کو کہا اے رب میرا بیٹا ہے میرے گھر والوں میں اور بے شک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بڑا حاکم ہے

۴۶.      فرمایا اے نوح وہ نہیں تیرے گھر والوں میں اس کے کام ہیں خراب سو مت پوچھ مجھ سے جو تجھ کو معلوم نہیں میں نصیحت کرتا ہوں تجھ کو کہ نہ ہو جائے تو جاہلوں میں

۴۷.     بولا اے رب میں پناہ لیتا ہوں تیری اس سے کہ پوچھوں تجھ سے جو معلوم نہ ہو مجھ کو  اور اگر تو نہ بخشے مجھ کو اور رحم نہ کرے تو میں ہوں نقصان والوں میں

۴۸.     حکم ہوا اے نوح اتر سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتوں کے ساتھ تجھ پر اور ان فرقوں پر جو تیرے ساتھ ہیں اور دوسرے فرقے ہیں کہ فائدہ دیں گے ان کو پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب دردناک

۴۹.      یہ باتیں منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں کہ ہم بھیجتے ہیں تیری طرف نہ تجھ کو ان کی خبر تھی اور نہ تیری قوم کو اس سے پہلے  سو تو صبر کر البتہ انجام بھلا ہے ڈرنے والوں کا

۵۰.      اور عاد کی طرف ہم نے بھیجا ان کے بھائی ہود کو بولا اے قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی تمہارا حاکم نہیں سوائے اس کے تم سب جھوٹ کہتے ہو

۵۱.       اے قوم میں تم سے نہیں مانگتا اس پر مزدوری میری مزدوری اسی پر ہے جس نے مجھ کو پیدا کیا  پھر کیا تم نہیں سمجھتے

۵۲.      اور اے قوم گناہ بخشواؤ اپنے رب سے پھر رجوع کرو اسی کی طرف  چھوڑے گا تم پر آسمان سے دھاریں  اور زیادہ دے گا تم کو زور پر زور اور روگردانی نہ کرو گناہ گار ہو کر

۵۳.     بولے اے ہود تو ہمارے پاس کوئی سند لے کر نہیں آیا اور ہم نہیں چھوڑنے والے اپنے ٹھاکروں (معبودوں) کو تیرے کہنے سے اور ہم نہیں تجھ کو ماننے والے

۵۴.     ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تجھ کو آسیب پہنچایا ہے کسی ہمارے ٹھاکروں (معبودوں) نے بری طرح  بولا میں گواہ کرتا ہوں اللہ کو اور تم گواہ رہو کہ میں بیزار ہوں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو

۵۵.     اُس کے سوا، سو برائی کرو میرے حق میں تم سب مل کر پھر مجھ کو مہلت نہ دو

۵۶.      میں نے بھروسہ کیا اللہ پر جو رب ہے میرا اور تمہارا کوئی نہیں زمین پر پاؤں دھرنے والا مگر اللہ کے ہاتھ میں ہے چوٹی اس کی بے شک میرا رب ہے سیدھی راہ پر

۵۷.     پھر اگر تم منہ پھیرو گے تو میں پہنچا چکا تم کو جو میرے ہاتھ بھیجا تھا تمہاری طرف اور قائم مقام کرے گا میرا رب اور لوگ اور نہ بگاڑ سکو گے اللہ کا کچھ تحقیق میرا رب ہے ہر چیز پر نگہبان

۵۸.     اور جب پہنچا ہمارا حکم بچا دیا ہم نے ہود کو اور جو لوگ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ اپنی رحمت سے اور بچا دیا ان کو ایک بھاری عذاب سے

۵۹.      اور یہ تھے عاد کے منکر ہوئے اپنے رب کی باتوں سے اور نہ مانا اس کے رسولوں کو اور مانا حکم ان کا جو سرکش تھے مخالف

۶۰.      اور پیچھے سے آئی ان کو اس دنیا میں پھٹکار قیامت کے دن بھی سن لو عاد منکر ہوئے اپنے رب سے سن لو پھٹکار ہے عاد کو جو قوم تھی ہود کی

۶۱.       اور ثمود کی طرف بھیجا ان کا بھائی صالح  بولا اے قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی حاکم نہیں تمہارا اس کے سوا اسی نے بنایا تم کو زمین سے   اور بسایا تم کو اس میں سو گناہ بخشواؤ اس سے اور رجوع کرو اس کی طرف تحقیق میرا رب نزدیک ہے قبول کرنے والا

۶۲.      بولے اے صالح تجھ سے تو ہم کو امید تھی اس سے پہلے کیا تو ہم کو منع کرتا ہے کہ پرستش کریں جن کی پرستش کرتے رہے ہمارے باپ دادا ے ، اور ہم کو تو شبہ ہے اس میں جس کی طرف تو بلاتا ہے ایسا کہ دل نہیں مانتا

۶۳.      بولا اے قوم بھلا دیکھو تو اگر مجھ کو سمجھ مل گئی اپنے رب کی طرف سے اور اس نے مجھ کو دی رحمت اپنی طرف سے پھر کون بچائے مجھ کو اس سے اگر اس کی نافرمانی کروں  سو تم کچھ نہیں بڑھاتے میرا سوائے نقصان کے

۶۴.      اور اے قوم یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمہارے لیے نشانی سو چھوڑ دو اس کو کھاتی پھرے اللہ کی زمین میں اور مت ہاتھ لگاؤ اس کو بری طرح پھر تو آ پکڑے گا تم کو عذاب بہت جلد

۶۵.      پھر اس کے پاؤں کاٹے تب کہا فائدہ اٹھا لو اپنے گھروں میں تین دن یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہو گا

۶۶.      پھر جب پہنچا حکم ہمارا بچا دیا ہم نے صالح کو اور جو ایمان لائے اس کے ساتھ اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے  بے شک تیرا رب وہی ہے زور والا زبردست

۶۷.     اور پکڑ لیا ان ظالموں کو ہولناک آواز نے پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے

۶۸.      جیسے کبھی رہے ہی نہ تھے وہاں   سن لو ثمود منکر ہوئے اپنے رب سے سن لو پھٹکار ہے ثمود کو

۶۹.      اور البتہ آ چکے ہیں ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر بولے سلام وہ بولا سلام ہے پھر دیر نہ کی لے آیا ایک بچھڑا تلا ہوا

۷۰.     پھر جب دیکھا ان کے ہاتھ نہیں آتے کھانے پر تو کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرا  وہ بولے مت ڈر ہم بھیجے ہوئے آئے ہیں طرف قوم لوط کی

۷۱.      اور اس کی عورت کھڑی تھی تب وہ ہنس پڑی پھر ہم نے خوشخبری دی اس کو اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی

۷۲.     بولی اے خرابی کیا میں بچہ جنوں گی، اور میں بڑھیا ہوں، اور یہ خاوند میرا ہے بوڑھا یہ تو ایک عجیب بات ہے

۷۳.     وہ بولے کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے اللہ کی رحمت سے اور برکتیں تم پر اے گھر والو تحقیق اللہ ہے تعریف کیا گیا بڑائیوں والا

۷۴.     پھر جب جاتا رہا ابراہیم سے ڈر اور آئی اس کو خوشخبری، جھگڑنے لگا ہم سے قوم لوط کے حق میں

۷۵.     البتہ ابراہیم تحمل والا نرم دل ہے رجوع رہنے والا

۷۶.     اے ابراہیم چھوڑ یہ خیال وہ تو آ چکا حکم تیرے رب کا اور ان پر آتا ہے عذاب جو لوٹایا نہیں جاتا

۷۷.     اور جب پہنچے ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس غمگین ہوا ان کے آنے سے اور تنگ ہوا دل میں اور بولا آج دن بڑا سخت ہے

۷۸.     اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی بے اختیار اور آگے سے کر رہے تھے برے کام  بولا اے قوم یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں یہ پاک ہیں تم کو ان سے سو ڈرو تم اللہ سے اور مت رسوا کرو مجھ کو میرے مہمانوں میں کیا تم میں ایک مرد بھی نہیں نیک چلن

۷۹.      بولے تو تو جانتا ہے ہم کو تیری بیٹیوں سے کچھ غرض نہیں اور تجھ کو تو معلوم ہے جو ہم چاہتے ہیں

۸۰.      کہنے لگا کاش مجھ کو تمہارے مقابلہ میں زور ہوتا، یا جا بیٹھتا کسی مستحکم پناہ میں

۸۱.       مہمان بولے اے لوط ہم بھیجے ہوئے ہیں تیرے رب کے ہرگز نہ پہنچ سکیں گے تجھ تک  سولے نکل اپنے لوگوں کو کچھ رات سے اور مڑ کر نہ دیکھے تم میں کوئی مگر عورت تیری کہ اس کو پہنچ کر رہے گا جو ان کو پہنچے گا   ان کے وعدہ کا وقت ہے صبح کیا صبح نہیں ہے نزدیک

۸۲.      پھر جب پہنچا حکم ہمارا کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر نیچے اور برسائے ہم نے اس پر پتھر کنکر کے  تہہ بہ تہہ

۸۳.     نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس  اور نہیں ہے وہ بستی ان ظالموں سے کچھ دور

۸۴.     اور مدین کی طرف بھیجا ان کے بھائی شعیب کو بولا اے میری قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی نہیں تمہارا معبود اس کے سوا اور نہ گھٹاؤ ناپ اور تول کو  میں دیکھتا ہوں تم کو آسودہ حال اور ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیر لینے والے دن کے

۸۵.     اور اے قوم پورا کرو ناپ اور تول کو انصاف سے  اور نہ گھٹا دو لوگوں کو ان کی چیزیں  اور مت مچاؤ زمین میں فساد

۸۶.      جو بچ رہے اللہ کا دیا وہ بہتر ہے تم کو اگر ہو تم ایمان والے   اور میں نہیں ہوں تم پر نگہبان

۸۷.     بولے اے شعیب کیا تیرے نماز پڑھنے نے تجھ کو یہ سکھایا کہ ہم چھوڑ دیں جن کو پوجتے رہے ہمارے باپ دادے ، یا چھوڑ دیں کرنا جو کچھ کہ کرتے ہیں اپنے مالوں میں تو ہی بڑا با وقار ہے نیک چلن

۸۸.     بولا اے قوم دیکھو تو اگر مجھ کو سمجھ آ گئی اپنے رب کی طرف سے اور اس نے روزی دی مجھ کو نیک روزی  اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد کو خود کروں وہ کام جو تم سے چھڑاؤں  میں تو چاہتا ہوں سنوارنا جہاں تک ہو سکے اور بن آنا ہے اللہ کی مدد سے اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے

۸۹.      اور اے قوم نہ کمائیو میری ضد کر کے یہ کہ پڑے تم پر جیسا کچھ کہ پڑ چکا قوم نوح پر یا قوم ہود پر یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے کچھ دور ہی نہیں

۹۰.      اور گناہ بخشواؤ اپنے رب سے اور رجوع کرو اس کی طرف البتہ میرا رب ہے مہربان محبت والا

۹۱.       بولے اے شعیب ہم نہیں سمجھتے بہت باتیں جو تو کہتا ہے  اور ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو ہم میں کمزور ہے   اور اگر نہ ہوتے تیرے بھائی بند تو تجھ کو ہم سنگسار کر ڈالتے اور ہماری نگاہ میں تیری کچھ عزت نہیں

۹۲.      بولا اے قوم کیا میرے بھائی بندوں کا دباؤ تم پر زیادہ ہے اللہ سے اور اس کو ڈال رکھا تم نے پیٹھ پیچھے بھلا کر تحقیق میرے رب کے قابو میں ہے جو کچھ کرتے ہو

۹۳.      اور اے میری قوم کام کیے جاؤ اپنی جگہ میں بھی کام کرتا ہوں آگے معلوم کر لو گے کس پر آتا ہے عذاب رسوا کرنے والا اور کون ہے جھوٹا اور تاکتے رہو میں بھی تمہارے ساتھ تاک رہا ہوں

۹۴.      اور جب پہنچا ہمارا حکم بچا دیا ہم نے شعیب کو اور جو ایمان لائے تھے اس کے ساتھ اپنی مہربانی سے اور آ پکڑا ان ظالموں کو کڑک نے پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے

۹۵.      گویا کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے  سن لو پھٹکار ہے مدین کو جیسے پھٹکار ہوئی تھی ثمود کو

۹۶.      اور البتہ بھیج چکے ہیں ہم موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور واضح سند دے کر

۹۷.      فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس پھر وہ چلے حکم پر فرعون کے اور نہیں بات فرعون کی کچھ کام کی

۹۸.      آگے ہو گا اپنی قوم کے قیامت کے دن پھر پہنچائے گا ان کو آگ پر اور برا گھاٹ ہے جس پر پہنچے

۹۹.       اور پیچھے سے ملتی رہی اس جہان میں لعنت اور دن قیامت کے بھی برا انعام ہے جو ان کو ملا

۱۰۰.     یہ تھوڑے سے حالات ہیں بستیوں کے کہ ہم سناتے ہیں تجھ کو بعض ان میں سے اب تک قائم ہیں اور بعض کی جڑ کٹ گئی

۱۰۱.     اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن ظلم کر گئے وہی اپنی جان پر پھر کچھ کام نہ آئے ان کے ٹھاکر (معبود) جن کو پکارتے تھے سوائے اللہ کے کسی چیز میں جس وقت پہنچا حکم تیرے رب کا  اور نہیں بڑھایا انکے حق میں سوائے ہلاک کرنے کے

۱۰۲.     اور ایسی ہی ہے پکڑ تیرے رب کی جب پکڑتا ہے بستیوں کو اور وہ ظلم کرتے ہوتے ہیں بے شک اس کی پکڑ دردناک ہے شدت (زور) کی

۱۰۳.    اس بات میں نشانی ہے اس کو جو ڈرتا ہے آخرت کے عذاب سے  وہ ایک دن ہے جس میں جمع ہوں گے سب لوگ اور وہ دن ہے سب کے پیش ہونے کا

۱۰۴.    اور اس کو ہم دیر جو کرتے ہیں سو ایک وعدہ کے لیے جو مقرر ہے

۱۰۵.    جس دن وہ آئے گا بات نہ کر سکے گا کوئی جاندار مگر اس کے حکم سے ، سو ان میں بعض بدبخت ہیں اور بعضے نیک بخت،

۱۰۶.     سو جو لوگ بدبخت ہیں وہ تو آگ میں ہیں ان کو وہاں چیخنا ہے اور دھاڑنا

۱۰۷.    ہمیشہ رہیں اس میں جب تک رہے آسمان اور زمین مگر جو چاہے تیرا رب بے شک تیرا رب کر ڈالتا ہے جو چاہے

۱۰۸.    اور جو لوگ نیک بخت ہیں سو جنت میں ہیں ہمیشہ رہیں اس میں جب تک رہے اَسمان اور زمین مگر جو چاہے تیرا رب بخشش ہے بے انتہا

۱۰۹.     سو تو نہ رہ دھو کے میں ان چیزوں سے جن کو پوجتے ہیں یہ لوگ کچھ نہیں پوجتے مگر ویسا ہی جیسا کہ پوجتے تھے ان کے باپ دادے اس سے پہلے اور ہم دینے والے ہیں ان کو ان کا حصہ یعنی عذاب سے بلا نقصان

۱۱۰.     اور البتہ ہم نے دی تھی موسیٰ کو کتاب پھر اس میں پھوٹ پڑ گئی اور اگر نہ ہوتا ایک لفظ کہ پہلے فرما چکا تھا تیرا رب تو فیصلہ ہو جاتا ان میں اور ان کو اس میں شبہ ہے کہ مطمئن نہیں ہونے دیتا

۱۱۱.      اور جتنے لوگ ہیں جب وقت آیا پورا دے گا رب تیرا ان کو ان کے اعمال اس کو سب خبر ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں

۱۱۲.     سو تو سیدھا چلا جا جیسا تجھ کو حکم ہوا اور جس نے توبہ کی تیرے ساتھ اور حد سے نہ بڑھو بے شک وہ دیکھتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

۱۱۳.     اور مت جھکو ان کی طرف جو ظالم ہیں پھر تم کو لگے گی آگ اور کوئی نہیں تمہارا اللہ کے سوا مددگار پھر کہیں مدد نہ پاؤ گے

۱۱۴.     اور قائم کر نماز کو دونوں طرف دن کے اور کچھ ٹکڑوں میں رات کے  البتہ نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو یہ یادگاری ہے یاد رکھنے والوں کو

۱۱۵.     اور صبر کر البتہ اللہ ضائع نہیں کرتا ثواب نیکی کرنے والوں کا

۱۱۶.     سو کیوں نہ ہوئے ان جماعتوں میں جو تم سے پہلے تھیں ایسے لوگ جن میں اثر خیر رہا ہو کہ منع کرتے رہتے بگاڑ کرنے سے ملک میں مگر تھوڑے کہ جن کو ہم نے بچا لیا ان میں سے اور چلے وہ لوگ جو ظالم تھے وہی راہ جس میں عیش سے رہے تھے اور تھے گناہ گار

۱۱۷.     اور تیرا رب ہرگز ایسا نہیں کہ ہلاک کرے بستیوں کو زبردستی سے اور لوگ وہاں کے نیک ہوں

۱۱۸.     اور اگر چاہتا تیرا رب کر ڈالتا لوگوں کو ایک راستہ پر اور ہمیشہ رہتے ہیں اختلاف میں

۱۱۹.      مگر جن پر رحم کیا تیرے رب نے  اور اسی واسطے ان کو پیدا کیا ہے اور پوری ہوئی بات تیرے رب کی کہ البتہ بھر دوں گا دوزخ جنوں سے اور آدمیوں سے اکٹھے

۱۲۰.     اور سب چیز بیان کرتے ہیں ہم تیرے پاس رسولوں کے احوال سے جس سے تسلی دیں تیرے دل کو اور آئی تیرے پاس اس سورت میں تحقیق بات اور نصیحت اور یادداشت ایمان والوں کو

۱۲۱.     اور کہہ دے ان کو جو ایمان نہیں لاتے کام کیے جاؤ اپنی جگہ پر ہم بھی کام کرتے ہیں

۱۲۲.     اور انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں

۱۲۳.    اور اللہ کے پاس چھپی ہے بات آسمانوں کی اور زمین کی اور اسی کی طرف رجوع ہے سب کام کا سو اسی کی بندگی کر اور اسی پر بھروسہ رکھ اور تیرا رب بے خبر نہیں جو کام تم کرتے ہو

 

سورۃ یوسف

شروع اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.         الرٰ یہ آیتیں ہیں واضح کتاب کی

۲.        ہم نے اس کو اتارا ہے قرآن عربی زبان کا تاکہ تم سمجھ لو

۳.        ہم بیان کرتے ہیں تیرے پاس بہت اچھا بیان اس واسطے کہ بھیجا ہم نے تیری طرف یہ قرآن اور تو تھا اس سے پہلے البتہ بے خبروں میں

۴.        جس وقت کہا یوسف نے اپنے باپ سے اے باپ میں نے دیکھا خواب میں گیارہ ستاروں کو اور سورج کو اور چاند کو دیکھا میں نے ان کو اپنے واسطے سجدہ کرتے ہوئے

۵.        کہا اے بیٹے مت بیان کرنا خواب اپنا اپنے بھائیوں کے آگے پھر وہ بنائیں گے تیرے واسطے کچھ فریب، البتہ شیطان ہے انسان کا صریح دشمن

۶.        اور اسی طرح برگزیدہ کرے گا تجھ کو تیرا رب  اور سکھلائے گا تجھ کو ٹھکانے پر لگانا باتوں کا  اور پورا کرے گا اپنا انعام تجھ پر اور یعقوب کے گھر پر   جیسا پورا کیا ہے تیرے دو باپ دادوں پر اس سے پہلے ابراہیم اور اسحاق پر  البتہ تیرا رب خبردار ہے حکمت والا

۷.        البتہ ہیں یوسف کے قصے میں اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں نشانیاں پوچھنے والوں کے لیے

۸.        جب کہنے لگے البتہ یوسف اور اس کا بھائی زیادہ پیارا ہے ہمارے باپ کو ہم سے اور ہم ان سے قوت والے لوگ ہیں، البتہ ہمارا باپ صریح خطا پر ہے

۹.         مار ڈالو یوسف کو یا پھینک دو کسی ملک میں کہ خالص رہے تم پر توجہ تمہارے باپ کی  اور ہو رہنا اس کے بعد نیک لوگ

۱۰.       بولا ایک بولنے والا ان میں مت مار ڈالو یوسف کو اور ڈال دو اس کو گم نام کنوئیں میں کہ اٹھا لے جائے اس کو کوئی مسافر اگر تم کو کرنا ہے

۱۱.        بولے اے باپ کیا بات ہے کہ تو اعتبار نہیں کرتا ہمارا یوسف پر اور ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں

۱۲.       بھیج اس کو ہمارے ساتھ کل کو خوب کھائے اور کھیلے اور ہم تو اس کے نگہبان ہیں

۱۳.       بولا مجھ کو غم ہوتا ہے اس سے کہ تم اس کو لے جاؤ اور ڈرتا ہوں اس سے کہ کھا جائے اس کو بھیڑیا اور تم اس سے بے خبر رہو

۱۴.       بولے اگر کھا گیا اس کو بھیڑیا اور ہم ایک جماعت ہیں قوت ور تو تو ہم نے سب کچھ گنوا دیا

۱۵.       “پھر جب لے کر چلے اس کو اور متفق ہوئے کہ ڈالیں اس کو گمنام کنوئیں میں اور ہم نے اشارہ کر دیا اس کو کہ تو جتائے گا ان کو ان کا یہ کام اور وہ تجھ کو نہ جانیں گے  “

۱۶.       اور آئے اپنے باپ کے پاس اندھیرا پڑے روتے ہوئے

۱۷.      کہنے لگے اے باپ ہم لگے دوڑنے آگے نکلنے کو اور چھوڑا یوسف کو اپنے اسباب کے پاس پھر اس کو کھا گیا بھیڑیا  اور تو باور نہ کرے گا ہمارا کہنا اور اگرچہ ہم سچے ہوں

۱۸.       اور لائے اس کے کرتے پر لہو لگا کر جھوٹ  بولا یہ ہرگز نہیں بلکہ بنا دی ہے تم کو تمہارے جیوں نے ایک بات اب صبر ہی بہتر ہے اور اللہ ہی سے مدد مانگتا ہوں اس بات پر جو تم ظاہر کرتے ہو

۱۹.       اور آیا ایک قافلہ پھر بھیجا اپنا پانی بھرنے والا، اس نے لٹکایا اپنا ڈول’ کہنے لگا کیا خوشی کی بات ہے یہ ہے ایک لڑکا  اور چھپا لیا اس کو تجارت کا مال سمجھ کر  اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں

۲۰.      اور بیچ آئے اس کو بھائی نقص قیمت کو گنتی کی چونیاں  اور ہو رہے تھے اس سے بیزار

۲۱.       اور کہا جس شخص نے خرید کیا اس کو مصر سے اپنی عورت کو آبرو سے رکھ اس کو شاید ہمارے کام آئے یا ہم کر لیں اس کو بیٹا  اور اسی طرح جگہ دی ہم نے یوسف کو اس ملک میں اور اس واسطے کہ اس کو سکھائیں کچھ ٹھکانے پر بٹھانا باتوں کا  اور اللہ طاقتور رہتا ہے اپنے کام میں ولیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

۲۲.      اور جب پہنچ گیا اپنی قوت کو دیا ہم نے اس کو حکم اور علم  اور ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی والوں کو

۲۳.      پھسلایا اس کو اس کی عورت نے جس کے گھر میں تھا اپنا جی تھامنے سے اور بند کر دیے دروازے اور بولی شتابی کر  کہا خدا کی پناہ عزیز مالک ہے میرا اچھی طرح رکھا ہے مجھ کو، بے شک بھلائی نہیں پاتے جو لوگ کہ بے انصاف ہوں

۲۴.      اور البتہ عورت نے فکر کیا اس کا اور اس نے فکر کیا عورت کا،  اگر نہ ہو ہوتا یہ کہ دیکھے قدرت اپنے رب کی  یوں ہی ہوا تاکہ ہٹائیں ہم اس سے برائی اور بے حیائی البتہ وہ ہے ہمارے برگزیدہ بندوں میں

۲۵.      اور دونوں دوڑے دروازے کو اور عورت نے چیر ڈالا اس کا کرتہ پیچھے سے اور دونوں مل گئے عورت کے خاوند سے دروازے کے پاس  بولی اور کچھ سزا نہیں ایسے شخص کی جو چاہے تیرے گھر میں برائی مگر یہی کہ قید میں ڈالا جائے یا عذاب دردناک

۲۶.      یوسف بولا اسی نے خواہش کی مجھ سے کہ نہ تھاموں اپنے جی کو اور گواہی دی ایک گواہ نے عورت کے لوگوں میں سے  اگر ہے کرتہ اس کا پھٹا آگے سے تو عورت سچی ہے اور وہ ہے جھوٹا

۲۷.     اور اگر ہے کرتا اس کا پھٹا پیچھے سے تو یہ جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے

۲۸.      پھر جب دیکھا عزیز نے کرتا اس کا پھٹا ہوا پیچھے سے کہا بے شک یہ ایک فریب ہے تم عورتوں کا البتہ تمہارا فریب بڑا ہے

۲۹.      یوسف جانے دے اس ذکر کو اور عورت تو بخشوا اپنا گناہ بے شک تو ہی گناہ گار تھی

۳۰.      اور کہنے لگیں عورتیں اس شہر میں عزیز کی عورت خواہش کرتی ہے اپنے غلام سے اس کے جی کو فریفتہ ہو گیا اس کا دل اس کی محبت میں، ہم تو دیکھتے ہیں اس کو صریح خطا پر

۳۱.       پھر جب سنا اس نے ان کا فریب  بلوا بھیجا ان کو اور تیار کی ان کے واسطے ایک مجلس اور دی ان کو ہر ایک کے ہاتھ میں ایک چھری اور بولی یوسف نکل آ ان کے سامنے پھر جب دیکھا اس کو ششدر رہ گئیں اور کاٹ ڈالے اپنے ہاتھ  اور کہنے لگیں حاشا للہ نہیں یہ شخص آدمی یہ تو کوئی فرشتہ ہے بزرگ

۳۲.      بولی یہ وہی ہے کہ طعنہ دیا تھا تم نے مجھ کو اس کے واسطے  اور میں نے لینا چاہا تھا اس سے اس کا جی پھر اس نے تھام رکھا  اور بے شک اگر نہ کریگا جو میں اس کو کہتی ہوں تو قید میں پڑے گا اور ہو گا بے عزت

۳۳.     یوسف بولا اے رب مجھ کو قید پسند ہے اس بات سے جس کی طرف مجھ کو بلاتی ہیں اور اگر تو نہ دفع کرے گا مجھ سے ان کا فریب تو مائل ہو جاؤں گا ان کی طرف اور ہو جاؤں گا بے عقل

۳۴.     سو قبول کر لی اس کی دعا اس کے رب نے پھر دفع کیا اس سے ان کا فریب  البتہ وہی ہے سننے والا خبردار

۳۵.     پھر یوں سمجھ میں آیا لوگوں کی ان نشانیوں کے دیکھنے پر کہ قید رکھیں اس کو ایک مدت تک

۳۶.      اور داخل ہوئے قید خانہ میں اس کے ساتھ دو جوان کہنے لگا ان میں سے ایک میں دیکھتا ہوں کہ میں نچوڑتا ہوں شراب اور دوسرے نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ اٹھا رہا ہوں اپنے سر پر روٹی کہ جانور کھاتے ہیں اس میں سے ، بتلا ہم کو اس کی تعبیر ہم دیکھتے ہیں تجھ کو نیکی والا

۳۷.     بولا نہ آنے پائے گا تم کو کھانا جو ہر روز تم کو ملتا ہے مگر بتا چکوں گا تم کو اس کی تعبیر اس کے آنے سے پہلے یہ علم ہے کہ مجھ کو سکھایا میرے رب نے میں نے چھوڑا دین اس قوم کا کہ ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور آخرت سے وہ لوگ منکر ہیں

۳۸.     اور پکڑا میں نے دین اپنے باپ دادوں کا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کا ہمارا کام نہیں کہ شریک کریں اللہ کا کسی چیز کو یہ فضل ہے اللہ کا ہم پر اور سب لوگوں پر لیکن بہت لوگ احسان نہیں مانتے

۳۹.      اے رفیقو قید خانہ کے بھلا کئی معبود جدا جدا بہتر یا اللہ اکیلا زبردست

۴۰.      کچھ نہیں پوجتے ہو سوائے اس کے مگر نام ہیں جو رکھ لیے ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نہیں اتاری اللہ نے ان کی کوئی سند  حکومت نہیں ہے کسی کی سوائے اللہ کے ، اس نے فرما دیا کہ نہ پوجو مگر اسی کو   یہی ہے راستہ سیدھا پر بہت لوگ نہیں جانتے

۴۱.       اے رفیقو قید خانہ کے ایک جو ہے تم دونوں میں سو پلائے گا اپنے خاوند کو شراب اور دوسرا جو ہے سولی دیا جائے گا، پھر کھائیں گے جانور اس کے سر میں سے فیصل ہوا وہ کام جس کی تحقیق تم چاہتے تھے

۴۲.      اور کہہ دیا یوسف نے اس کو جس کو گمان کیا تھا کہ بچے گا ان دونوں میں میرا ذکر کرنا اپنے خاوند کے پاس  سو بھلا دیا اس کو شیطان نے ذکر کرنا اپنے خاوند سے پھر رہا قید میں کئی برس

۴۳.     اور کہا بادشاہ نے میں خواب میں دیکھتا ہوں سات گائیں موٹی ان کو کھاتی ہیں سات گائیں دبلی اور سات بالیں ہری اور دوسری سوکھی  اے دربار والو تعبیر کہو مجھ سے میرے خواب کی اگر ہو تم خواب کی تعبیر دینے والے

۴۴.     بولے یہ خیالی خواب ہیں اور ہم کو ایسے خوابوں کی تعبیر معلوم نہیں

۴۵.     اور بولا وہ جو بچا تھا ان دونوں میں سے اور یاد آگیا اس کو مدت کے بعد میں بتاؤں تم کو اس کی تعبیر سو تم مجھ کو بھیجو

۴۶.      جا کر کہا اے یوسف اے سچے  حکم دے ہم کو اس خواب میں سات گائیں موٹی ان کو کھائیں سات دبلی اور سات بالیں ہری اور دوسری سوکھی تاکہ لے جاؤں میں لوگوں کے پاس شاید ان کو معلوم ہو

۴۷.     کہا تم کھیتی کرو گے سات برس جم کر سو جو کاٹو اس کو چھوڑ دو اس کی بال میں مگر تھورا سا جو تم کھاؤ

۴۸.     پھر آئیں گے اس کے بعد سات برس سختی کے کھا جائیں گے جو رکھا تم نے ان کے واسطے مگر تھوڑا سا جو روک رکھو گے بیج کے واسطے

۴۹.      پھر آئے گا اس کے پیچھے ایک برس اس میں مینہ برسے گا لوگوں پر اور اس میں رس نچوڑیں گے

۵۰.      اور کہا بادشاہ نے لے آؤ اس کو میرے پاس، پھر جب پہنچا اس کے پاس بھیجا ہوا آدمی کہا لوٹ جا اپنے خاوند کے پاس اور پوچھ اس سے کیا حقیقت ہے ان عورتوں کی جنہوں نے کاٹے تھے ہاتھ اپنے  میرا رب تو ان کا فریب سب جانتا ہے

۵۱.       کہا بادشاہ نے عورتوں کو کیا حقیقت ہے تمہاری جب تم نے پھسلانا چاہا یوسف کو اُس کے نفس کی حفاظت سے  بولیں حاشا للہ ہم کو معلوم نہیں اس پر کچھ برائی بولی عورت عزیز کی اب کھل گئی سچی بات میں نے پھسلانا چاہا تھا اس کو اس کے جی سے اور وہ سچا ہے

۵۲.      یوسف نے کہا یہ اس واسطے کہ عزیز معلوم کر لیوے کہ میں نے اس کی چوری نہیں کی چھپ کر، اور یہ کہ اللہ نہیں چلاتا فریب دغا بازوں کا

۵۳.     اور میں پاک نہیں کہتا اپنے جی کو بے شک جی تو سکھلاتا ہے برائی مگر جو رحم کر دیا میرے رب نے بے شک میرا رب بخشنے والا ہے مہربان

۵۴.     اور کہا بادشاہ نے لے آؤ اس کو میرے پاس میں خالص کر رکھوں اس کو اپنے کام میں  پھر جب بات چیت کی اس سے ، کہا واقعی تو نے آج سے ہمارے پاس جگہ پائی معتبر ہو کر

۵۵.     یوسف نے کہا مجھ کو مقرر کر ملک کے خزانوں پر نگہبان ہوں خوب جاننے والا

۵۶.      اور یوں قدرت دی ہم نے یوسف کو اس زمین میں جگہ پکڑتا تھا اس میں جہاں چاہتا  پہنچا دیتے ہیں ہم رحمت اپنی جس کو چاہیں اور ضائع نہیں کرتے ہم بدلہ بھلائی والوں کا

۵۷.     اور ثواب آخرت کا بہتر ہے ان کو جو ایمان لائے اور رہے پرہیزگاری میں

۵۸.     اور آئے بھائی یوسف کے پھر داخل ہوئے اس کے پاس تو اس نے پہچان لیا ان کو، اور وہ نہیں پہچانتے تھے

۵۹.      اور جب تیار کر دیا ان کو ان کا اسباب کہا لے آئیو میرے پاس ایک بھائی جو تمہارا ہے باپ کی طرف سے تم نہیں دیکھتے ہو کہ میں پورا دیتا ہوں ناپ اور خوب طرح اتارتا ہوں مہمانوں کو

۶۰.      پھر اس کو نہ لائے میرے پاس تو تمہارے لیے بھرتی نہیں میرے نزدیک اور میرے پاس نہ آئیو

۶۱.       بولے ہم خواہش کریں گے اس کے باپ سے اور ہم کو یہ کام کرنا ہے

۶۲.      اور کہہ دیا اپنے خدمت گاروں کو رکھ دو ان کی پونجی ان کے اسباب میں شاید اس کو پہچانیں جب پھر کر پہنچیں اپنے گھر شاید وہ پھر آ جائیں

۶۳.      پھر جب پہنچے اپنے باپ کے پاس بولے اے باپ روک دی گئی ہم سے بھرتی سو بھیج ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو کہ بھرتی لے آئیں، اور ہم اس کے نگہبان ہیں

۶۴.      کہا میں کیا اعتبار کروں تمہارا اس پر مگر وہی جیسا اعتبار کیا تھا اس کے بھائی پر اس سے پہلے ، سو اللہ بہتر ہے نگہبان اور وہی ہے سب مہربانوں سے مہربان

۶۵.      اور جب کھولی اپنی چیز بست پائی اپنی پونجی کہ پھیر دی گئی ان کی طرف، بولے اے باپ ہم کو اور کیا چاہیے ، یہ پونجی ہماری پھیر دی ہے ہم کو اب جائیں تو رسد لائیں ہم اپنے گھر کو اور خبرداری کریں گے اپنی بھائی کی اور زیادہ لیویں بھرتی ایک اونٹ کی  وہ بھرتی آسان ہے

۶۶.      کہا ہرگز ہرگز نہ بھیجوں گا اس کو تمہارے ساتھ یہاں تک کہ دو مجھ کو عہد خدا کا کہ البتہ پہنچا دو گے اس کو میرے پاس، مگر یہ کہ گھیرے جاؤ تم سب پھر جب دیا اس کو سب نے عہد بولا اللہ ہماری باتوں پر نگہبان ہے

۶۷.     اور کہا اے بیٹو نہ داخل ہونا ایک دروازہ سے اور داخل ہونا کئی دروازوں سے جدا جدا اور میں نہیں بچا سکتا تم کو اللہ کی کسی بات سے حکم کسی کا نہیں سوائے اللہ کے اسی پر مجھ کو بھروسہ ہے اور اسی پر بھروسہ چاہیے بھروسہ کرنے والوں کو

۶۸.      اور جب داخل ہوئے جہاں سے کہا تھا ان کے باپ نے  کچھ نہ بچا سکتا تھا ان کو اللہ کی کسی بات سے مگر ایک خواہش تھی یعقوب کے جی میں سو پوری کر چکا، اور وہ تو خبردار تھا جو کچھ ہم نے اس کو سکھایا، لیکن بہت لوگوں کو خبر نہیں

۶۹.      اور جب داخل ہوئے یوسف کے پاس اپنے پاس رکھا اپنے بھائی کو، کہا تحقیق میں ہوں بھائی تیرا سو غمگین مت ہو ان کاموں سے جو انہوں نے کیے ہیں

۷۰.     پھر جب تیار کر دیا ان کے واسطے اسباب ان کا رکھ دیا پینے کا پیالہ اسباب میں اپنے بھائی کے پھر پکارا پکارنے والے نے اے قافلہ والو تم تو البتہ چور ہو

۷۱.      کہنے لگے منہ کر کے ان کی طرف تمہاری کیا چیز گم ہو گئی

۷۲.     بولے ہم نہیں پاتے بادشاہ کا پیمانہ اور جو کوئی اس کو لائے اس کو ملے ایک بوجھ اونٹ کا، اور میں ہوں اس کا ضامن

۷۳.     بولے قسم اللہ کی تم کو معلوم ہے ہم شرارت کرنے کو نہیں آئے ملک میں اور نہ ہم کبھی چور تھے

۷۴.     بولے پھر کیا سزا ہے اس کی، اگر تم نکلے جھوٹے

۷۵.     کہنے لگے اس کی سزا یہ کہ جس کے اسباب میں سے ہاتھ آئے وہی اس کے بدلے میں جائے ہم یہی سزا دیتے ہیں ظالموں کو

۷۶.     پھر شروع کیں یوسف نے ان کی خرجیاں دیکھنی اپنے بھائی کی خرجی سے پہلے آخر کو وہ برتن نکالا اپنے بھائی کی خرجی سے  یوں داؤ بتا دیا ہم نے یوسف کو  وہ ہرگز نہ لے سکتا تھا اپنے بھائی کو دین میں اس بادشاہ کے مگر جو چاہے اللہ  ہم درجے بلند کرتے ہیں جس کے چاہیں  اور ہر جاننے والے سے اوپر ہے ایک جاننے والا

۷۷.     کہنے لگے اگر اس نے چرایا تو چوری کی تھی اس کے ایک بھائی نے بھی اس سے پہلے  تب آہستہ سے کہا یوسف نے اپنی جی میں اور ان کو نہ جتایا کہا جی میں کہ تم بدتر ہو درجہ میں اور اللہ خوب جانتا ہے جو تم بیان کرتے ہو

۷۸.     کہنے لگے اے عزیز اس کا ایک باپ ہے بوڑھا بڑی عمر کا سو رکھ لے ایک کو ہم میں سے اس کی جگہ ہم دیکھتے ہیں تو ہے احسان کرنے والا

۷۹.      بولا اللہ پناہ دے کہ ہم کسی کو پکڑیں گے جس کے پاس پائی ہم نے اپنی چیز  تو تو ہم ضرور بے انصاف ہوئے

۸۰.      پھر جب نا امید ہوئے اس سے اکیلے ہو بیٹھے مشورہ کرنے کو، بولا اُن میں بڑا کیا تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ نے لیا ہے تم سے عہد اللہ کا اور پہلے جو قصور کر چکے ہو یوسف کے حق میں سو میں تو ہرگز نہ سرکوں گا اس ملک سے جب تک کہ حکم دے مجھ کو باپ میرا یا قضیہ چکا دے اللہ میری طرف اور وہ ہے سب سے بہتر چکانے والا

۸۱.       پھر جاؤ اپنے باپ کے پاس اور کہو اے باپ تیرے بیٹے نے تو چوری کی اور ہم نے وہی کہا تھا جو ہم کو خبر تھی اور ہم کو غیب کی بات کا دھیان نہ تھا

۸۲.      اور پوچھ لے اس بستی سے جس میں ہم تھے ، اور اس قافلہ سے جس میں ہم آئے ہیں اور ہم بے شک سچ کہتے ہیں

۸۳.     بولا کوئی نہیں، بنالی ہے تمہارے جی نے ایک بات اب صبر ہی بہتر ہے شاید اللہ لے آئے میرے پاس اُن سب کو وہی ہے خبردار حکمتوں والا

۸۴.     اور الٹا پھرا ان کے پاس سے ، اور بولا اے افسوس یوسف پر  اور سفید ہو گئیں آنکھیں اس کی غم سے   سو وہ آپ کو گھونٹ رہا تھا

۸۵.     کہنے لگے قسم اللہ کی تو نہ چھوڑے گا یوسف کی یاد کو جب تک کہ گھل جائے یا ہو جائے مردہ

۸۶.      بولا میں تو کھولتا ہوں اپنا اضطراب اور غم اللہ کے سامنے اور جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے

۸۷.     اے بیٹو جاؤ اور تلاش کرو یوسف کی اور اس کے بھائی کی اور نا امید مت ہو اللہ کے فیض سے بے شک نا امید نہیں ہوتے اللہ کے فیض سے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں

۸۸.     پھر جب داخل ہوئے اس کے پاس بولے اے عزیز پڑی ہم پر اور ہمارے گھر پر سختی اور لائے ہیں ہم پونجی ناقص سو پوری دے ہم کو بھرتی اور خیرات کر ہم پر اللہ بدلہ دیتا ہے خیرات کرنے والوں کو

۸۹.      کہا کچھ تم کو خبر ہے کہ کیا کیا تم نے یوسف سے اور اس کے بھائی سے  جب تم کو سمجھ نہ تھی

۹۰.      بولے کیا سچ تو ہی ہے یوسف  کہا میں یوسف ہوں اور یہ ہے میرا بھائی   اللہ نے احسان کیا ہم پر  البتہ جو کوئی ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ ضائع نہیں کرتا حق نیکی والوں کا

۹۱.       بولے قسم اللہ کی، البتہ پسند کر لیا تجھ کو اللہ نے ہم سے اور ہم تھے چوکنے والے

۹۲.      کہا کچھ الزام نہیں تم پر آج بخشے اللہ تم کو  اور وہ ہے سب مہربانوں سے مہربان

۹۳.      لے جاؤ یہ کرتہ میرا اور ڈالو اس کو منہ پر میرے باپ کے کہ چلا آئے آنکھوں سے دیکھتا ہوا، اور لے آؤ میرے پاس گھر اپنا سارا

۹۴.      اور جب جدا جدا ہوا قافلہ کہا ان کے باپ نے میں پاتا ہوں بو یوسف کی  اگر نہ کہو مجھ کو بوڑھا بہک گیا

۹۵.      لوگ بولے قسم اللہ کی تُو تو اپنی اسی قدیم غلطی میں ہے

۹۶.      پھر جب پہنچا خوشخبری والا ڈالا اس نے وہ کرتہ اس کے منہ پر پھر لوٹ کر ہو گیا دیکھنے والا  بولا میں نے نہ کہا تھا تم کو کہ میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے

۹۷.      بولے اے باپ بخشوا ہمارے گناہوں کو بے شک ہم تھے چوکنے والے

۹۸.      کہا دم لو بخشواؤں گا تم کو اپنے رب سے وہی ہے بخشنے والا مہربان

۹۹.       پھر جب داخل ہوئے یوسف کے پاس جگہ دی اپنے پاس اپنے ماں باپ کو، اور کہا داخل ہو مصر میں اللہ نے چاہا تو دل جمعی سے

۱۰۰.     اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر اور سب گرے اس کے آگے سجدہ میں  اور کہا اے باپ یہ بیان ہے میرے اس پہلے خواب کا اس کو میرے رب نے سچ کر دیا  اور اس نے انعام کیا مجھ پر جب مجھ کو نکالا قید خانہ سے اور تم کو لے آیا گاؤں سے بعد اس کے کہ جھگڑا ڈال چکا تھا شیطان مجھ میں اور میرے بھائیوں میں میرا رب تدبیر سے کرتا ہے جو چاہتا ہے بے شک وہی ہے خبردار حکمت والا

۱۰۱.     اے رب تو نے دی مجھ کو کچھ حکومت اور سکھایا مجھ کو کچھ پھیرنا باتوں کا  اے پیدا کرنے والے آسمان اور زمین کے تو ہی میرا کار ساز ہے دنیا میں اور آخرت میں موت دے مجھ کو اسلام پر  اور ملا مجھ کو نیک بختوں میں

۱۰۲.     یہ خبریں ہیں غیب کی ہم بھیجتے ہیں تیرے پاس اور تو نہیں تھا اُن کے پاس جب وہ ٹھہرانے لگے اپنا کام اور فریب کرنے لگے

۱۰۳.    اور اکثر لوگ نہیں ہیں یقین کرنے والے اگرچہ تو کتنا ہی چاہے

۱۰۴.    اور تو مانگتا نہیں ان سے اس پر کچھ بدلہ یہ تو اور کچھ نہیں مگر نصیحت سارے عالم کو

۱۰۵.    اور بہترین نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں جن پر گزر ہوتا رہتا ہے ان کا اور وہ ان پر دھیان نہیں کرتے

۱۰۶.     اور نہیں ایمان لاتے بہت لوگ اللہ پر مگر ساتھ ہی شریک بھی کرتے ہیں

۱۰۷.    کیا نڈر ہو گئے اس سے کہ آ ڈھانکے ان کو ایک آفت اللہ کے عذاب کی یا آ پہنچے قیامت اچانک اور ان کو خبر نہ ہو

۱۰۸.    کہہ دے یہ میری راہ ہے بلاتا ہوں اللہ کی طرف سمجھ بوجھ کر میں اور جو میرے ساتھ ہے ، اور اللہ پاک ہے اور میں نہیں شریک بتانے والوں میں

۱۰۹.     اور جتنے بھیجے ہم نے تجھ سے پہلے وہ سب مرد ہی تھے کہ وحی بھیجتے تھے ہم ان کی بستیوں کے رہنے والے سو کیا ان لوگوں نے نہیں سیر کی ملک کی کہ دیکھ لیتے کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے اور آخرت کا گھر تو بہتر ہے پرہیز کرنے والوں کو کیا اب بھی نہیں سمجھتے

۱۱۰.     یہاں تک کہ جب نا امید ہونے لگے رسول اور خیال کرنے لگے ان سے جھوٹ کہا گیا تھا پہنچی ان کو ہماری مدد پھر بچا دیا جن کو ہم نے چاہا اور پھرتا نہیں عذاب ہمارا قوم گناہ گار سے

۱۱۱.      البتہ ان کے احوال سے اپنا حال قیاس کرنا ہے عقل والوں کو  کچھ بنائی ہوئی بات نہیں لیکن موافق ہے اس کلام کے جو اس سے پہلے ہے اور بیان ہر چیز کا اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں

 

سورۃ الرعد

شروع اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.         ال م ر یہ آیتیں ہیں کتاب کی اور جو کچھ اترا تجھ پر تیرے رب سے سو حق ہے لیکن بہت لوگ نہیں مانتے

۲.        اللہ وہ ہے جس نے اونچے بنائے آسمان بغیر ستون دیکھتے ہو   پھر قائم ہوا عرش پر  اور کام میں لا دیا سورج اور چاند کو ہر ایک چلتا ہے وقت مقرر پر  تدبیر کرتا ہے کام کی ظاہر کرتا ہے نشانیاں کہ شاید تم اپنے رب سے ملنے کا یقین کرو

۳.        اور وہی ہے جس نے پھیلائی زمین اور رکھے اس میں بوجھ اور ندیاں  اور ہر میوے کے رکھے اس میں جوڑے دو دو قسم  ڈھانکتا ہے دن پر رات کو  اس میں نشانیاں ہیں ان کے واسطے جو کہ دھیان کرتے ہیں،

۴.        اور زمین میں کھیت ہیں مختلف ایک دوسرے سے متصل، اور باغ ہیں انگور کے اور کھیتیاں ہیں اور کھجوریں ہیں ایک کی جڑ دوسری سے ملی ہوئی اور بعض بن ملی ان کو پانی بھی ایک ہی دیا جاتا ہے اور ہم ہیں کہ بڑھا دیتے ہیں ان میں ایک کو ایک سے میووں میں ان چیزوں میں نشانیاں ہیں ان کو جو غور کرتے ہیں

۵.        اور اگر تو عجیب بات چاہے تو عجب ہے ان کا کہنا کہ کیا جب ہو گئے ہم مٹی کیا نئے سرے سے بنائے جائیں گے  وہی ہیں جو منکر ہو گئے اپنے رب سے اور وہی ہیں کہ طوق ہیں ان کی گردنوں میں اور وہ ہیں دوزخ والے وہ اسی میں رہیں گے برابر

۶.        اور جلد مانگتے ہیں تجھ سے برائی کو پہلے بھلائی سے  اور گزر چکے ہیں ان سے پہلے بہت سے عذاب اور تیرا رب معاف بھی کرتا ہے لوگوں کو باوجود ان کے ظلم کے ، اور تیرے رب کا عذاب بھی سخت ہے

۷.        اور کہتے ہیں کافر کیوں نہ اتری اس پر کوئی نشانی اس کے رب سے  تیرا کام تو ڈر سنا دینا ہے اور ہر قوم کے لیے ہوا ہے راہ بتانے والا

۸.        اللہ جانتا ہے جو پیٹ میں رکھتی ہے ہر مادہ  اور جو سکڑتے ہیں پیٹ اور بڑھتے ہیں اور ہر چیز کا اس کے یہاں اندازہ ہے

۹.         جاننے والا پوشیدہ اور ظاہر کا سب سے بڑا برتر

۱۰.       برابر ہے تم میں جو آہستہ بات کہے اور جو کہے پکار کر اور جو چھپ رہا ہے رات میں اور جو گلیوں میں پھرتا ہے دن کو

۱۱.        اس کو پہرے والے ہیں بندہ کے آگے سے اور پیچھے سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں اللہ کے حکم سے  اللہ نہیں بدلتا کسی قوم کی حالت جو جب تک وہ نہ بدلیں جو ان کے جیوں میں ہے ، اور جب چاہتا ہے اللہ کسی قوم پر آفت پھر وہ نہیں پھرتی اور کوئی نہیں ان کا اس کے سوا مددگار

۱۲.       وہی ہے کہ تم کو دکھلاتا ہے بجلی ڈر کو اور امید کو اور اٹھاتا ہے بادل بھاری

۱۳.       اور پڑھتا ہے گرجنے والا خوبیاں اس کی اور سب فرشتے اس کے ڈر سے  اور بھیجتا ہے کڑک بجلیاں پھر ڈالتا ہے جس پر چاہے اور یہ لوگ جھگڑتے ہیں اللہ کی بات میں اور اس کی آن سخت ہے

۱۴.       اسی کا پکارنا سچ ہے اور جن لوگوں کو یہ پکارتے ہیں اس کے سوا وہ نہیں کام آتے ان کے کچھ بھی مگر جیسے کسی نے پھیلائے دونوں ہاتھ پانی کی طرف کہ آ پہنچے اس کے منہ تک اور وہ کبھی نہ پہنچے گا اس تک اور جتنی پکار ہے کافروں کی سب گمراہی ہے

۱۵.       اور اللہ کو سجدہ کرتا ہے جو کوئی ہے آسمانوں اور زمین میں خوشی سے اور زور سے اور ان کی پرچھائیاں صبح اور شام

۱۶.       پوچھ کون ہے رب آسمان اور زمین کا کہہ دے اللہ ہے کہہ پھر کیا تم نے پکڑے ہیں اس کے سوا ایسے حمایتی جو مالک نہیں اپنے بھلے اور برے کے  کہہ کیا برابر ہوتا ہے اندھا اور دیکھنے والا یا کہیں برابر ہے اندھیرا اور اجالا   کیا ٹھہرائے ہیں انہوں نے اللہ کے لیے شریک کہ انہوں نے کچھ پیدا کیا ہے جیسے پیدا کیا اللہ نے پھر مشتبہ ہو گئی پیدائش ان کی نظر میں کہہ اللہ ہے پیدا کرنے والا ہر چیز کا اور وہی ہے اکیلا زبردست

۱۷.      اتارا اس نے آسمان سے پانی پھر بہنے لگے نالے اپنی اپنی موافق پھر اوپر لے آیا وہ نالا جھاگ پھولا ہوا اور جس چیز کو دھونکتے ہیں آگ میں واسطے زیور کے یا اسباب کے اس میں بھی جھاگ ہے ویسا ہی یوں بیان کرتا ہے اللہ حق اور باطل کو سو وہ جھاگ تو جاتا رہتا ہے سوکھ کر اور وہ جو کام آتا ہے لوگوں کے سو باقی رہتا ہے زمین میں اس طرح بیان کرتا ہے اللہ مثالیں

۱۸.       جنہوں نے مانا اپنے رب کا حکم ان کے واسطے بھلائی ہے  اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا اگر ان کے پاس ہو جو کچھ کہ زمین میں ہے سارا اور اتنا ہی اس کے ساتھ اور تو سب دیویں اپنے بدلہ میں  ان لوگوں کے لیے ہے برا حساب  اور ٹھکانا ان کا دوزخ ہے اور وہ بری آرام کی جگہ ہے

۱۹.       بھلا جو شخص جانتا ہے کہ جو کچھ اترا تجھ پر تیرے رب سے حق ہے برابر ہو سکتا ہے اس کے جو کہ اندھا ہے سمجھتے وہی ہیں جن کو عقل ہے

۲۰.      وہ لوگ جو پورا کرتے ہیں اللہ کے عہد کو اور نہیں توڑتے اس عہد کو

۲۱.       اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں جس کو اللہ نے فرمایا ملانا  اور ڈرتے ہیں اپنے رب سے اور اندیشہ رکھتے ہیں برے حساب کا

۲۲.      اور وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا خوشی کو اپنے رب کی  اور قائم رکھی نماز اور خرچ کیا ہمارے دیئے میں سے پوشیدہ اور ظاہر  اور کرتے ہیں برائی کے مقابلہ میں بھلائی  ان لوگوں کے لیے ہے آخرت کا گھر

۲۳.      باغ ہیں رہنے کے  داخل ہوں گے ان میں اور جو نیک ہوئے ان کے باپ دادوں میں اور جو روؤں میں اور اولاد میں  اور فرشتے آئیں ان کے پاس ہر دروازے سے

۲۴.      کہیں گے سلامتی تم پر بدلے اس کے کہ تم نے صبر کیا، سو خوب ملا عاقبت کا گھر

۲۵.      اور جو لوگ توڑتے ہیں عہد اللہ کا مضبوط کرنے کے بعد اور قطع کرتے ہیں اس چیز کو جس کو فرمایا اللہ نے جوڑنا اور فساد اٹھاتے ہیں ملک میں ایسے ، لوگ ان کے واسطے ہے لعنت، اور ان کے لیے ہے برا گھر

۲۶.      اللہ کشادہ کرتا ہے روزی جس کو چاہے اور تنگ کرتا ہے  اور فریفتہ ہیں دنیا کی زندگی پر اور دنیا کی زندگی کچھ نہیں آخرت کے آگے مگر متاع حقیر

۲۷.     اور کہتے ہیں کافر کیوں نہ اتری اس پر کوئی نشانی اس کے رب سے کہہ دے اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہے اور راہ دکھلاتا ہے اپنی طرف اس کو جو رجوع ہوا

۲۸.      وہ لوگ جو ایمان لائے اور چین پاتے ہیں ان کے دل اللہ کی یاد سے  سنتا ہے ! اللہ کی یاد ہی سے چین پاتے ہیں دل

۲۹.      جو لوگ ایمان لائے اور کام کیے اچھے خوشحالی ہے ان کے واسطے اور اچھا ٹھکانا

۳۰.      اسی طرح تجھ کو بھیجا ہم نے ایک امت میں کہ گزر چکی ہیں اس سے پہلے بہت امتیں تاکہ سناوے تو ان کو جو حکم بھیجا ہم نے تیری طرف  اور وہ منکر ہوتے ہیں رحمان سے  تو کہہ وہی رب میرا ہے کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف آتا ہوں رجوع کر کے ،

۳۱.       اور اگر کوئی قرآن ہوا ہوتا کہ چلیں اس سے پہاڑ یا ٹکڑے ہووے اس سے زمین یا بولیں اس سے مردے تو کیا ہوتا بلکہ سب کام تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں  سو کیا خاطر جمع نہیں ایمان والوں کو اس پر اگر چاہے اللہ تو راہ پر لائے سب لوگوں کو  اور برابر پہنچتا رہے گا منکروں کو ان کے کرتوت پر صدمہ یا اترے گا ان کے گھر سے نزدیک جب تک کہ پہنچے وعدہ اللہ کا بے شک اللہ خلاف نہیں کرتا اپنا وعدہ

۳۲.      اور ٹھٹھا کر چکے ہیں کتنے رسولوں سے تجھ سے پہلے سو ڈھیل دی میں نے منکروں کو پھر ان کو پکڑ لیا سو کیسا تھا میرا بدلہ

۳۳.     بھلا جو لیے کھڑا ہے ہر کسی کے سر پر جو کچھ اس نے کیا ہے اور مقرر کرتے ہیں اللہ کے لیے شریک  کہہ ان کا نام لو  یا اللہ کو بتلاتے ہو جو وہ نہیں جانتا زمین میں  یا کرتے ہو اوپر ہی اوپر باتیں  یہ نہیں بلکہ بھلے سجھا دیے ہیں منکروں کو ان کے فریب اور وہ روک دیئے گئے ہیں راہ سے   اور جس کو گمراہ کرے اللہ سو کوئی نہیں اس کو بتانے والا

۳۴.     ان کو مار پڑتی ہے دنیا کی زندگی میں  اور آخرت کی مار تو بہت ہی سخت ہے اور کوئی نہیں ان کو اللہ سے بچانے والا

۳۵.     حال جنت کا جس کا وعدہ ہے پرہیزگاروں سے بہتی ہیں اس کے نیچے نہریں میوہ اس کا ہمیشہ ہے  اور سایہ بھی  یہ بدلہ ہے ان کا جو ڈرتے رہے  اور بدلہ منکروں کا آگ ہے

۳۶.      اور وہ لوگ جن کو ہم نے دی ہے کتاب خوش ہوتے ہیں اس سے جو نازل ہوا تجھ پر  اور بعضے فرقے نہیں مانتے اس کی بعض بات  کہہ مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ بندگی کروں اللہ کی اور شریک نہ کروں اس کا، اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف ہے ، میرا ٹھکانا

۳۷.     اور اسی طرح اتارا ہم نے یہ کلام حکم عربی زبان میں  اور اگر تو چلے ان کی خواہش کے موافق بعد اس علم کے جو تجھ کو پہنچ چکا کوئی نہیں تیرا اللہ سے حمایتی اور نہ بچانے والا

۳۸.     اور بھیج چکے ہیں ہم کتنے رسول تجھ سے پہلے اور ہم نے دی تھیں ان کو جو روئیں اور اولاد اور نہیں ہوا کسی رسول سے کہ وہ لے آئے کوئی نشانی مگر اللہ کے اذن سے ہر ایک وعدہ ہے لکھا ہوا

۳۹.      مٹاتا ہے اللہ جو چاہے اور باقی رکھتا ہے اور اسی کے پاس ہے اصل کتاب

۴۰.      اور اگر دکھلائیں ہم تجھ کو کوئی وعدہ جو ہم نے کیا ہے ان سے یا تجھ کو اٹھا لیویں سو تیرا ذمہ تو پہنچا دینا ہے اور ہمارا ذمہ ہے حساب لینا

۴۱.       کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم چلے آتے ہیں زمین کو گھٹاتے اس کے کناروں سے   اور اللہ حکم کرتا ہے کوئی نہیں کہ پیچھے ڈالے اس کا حکم  اور وہ جلد لیتا ہے حساب

۴۲.      اور فریب کر چکے ہیں جو ان سے پہلے تھے سو اللہ کے ہاتھ میں ہے سب فریب  جانتا ہے جو کچھ کماتا ہے ہر ایک جی  اور اب معلوم کیے لیتے ہیں کافر کہ کس کا ہوتا ہے پچھلا گھر

۴۳.     کہتے ہیں کافر تو بھیجا ہوا نہیں آیا کہہ دے اللہ کافی ہے گواہ میرے اور تمہارے بیج میں  اور جس کو خبر ہے کتاب کی

 

سورۃ ابراھیم

شروع اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.         ال رٰ یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے اتاری تیری طرف کہ تو نکالے لوگوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف ان کے رب کے حکم سے  راستہ پر اس زبردست خوبیوں والے اللہ کے

۲.        اللہ کا ہے جو کچھ کہ موجود ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں  اور مصیبت ہے کافروں کو ایک سخت عذاب سے

۳.        جو کہ پسند رکھتے ہیں زندگی دنیا کی آخرت سے اور روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور تلاش کرتے ہیں اس میں کجی وہ راستہ بھول کر جا پڑے ہیں دور

۴.        اور کوئی رسول نہیں بھیجا ہم نے مگر بولی بولنے والا اپنی قوم کی تاکہ ان کو سمجھائے  پھر راستہ بھلاتا ہے اللہ جس کو چاہے اور راستہ دکھلاتا ہے جس کو چاہے اور وہ ہے زبردست حکمتوں والا

۵.        اور بھیجا تھا ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر کہ نکال اپنی قوم کو اندھیروں سے اجالے کی طرف اور یاد دلا ان کو دن اللہ کے البتہ اس میں نشانیاں ہیں اس کو جو صبر کرنے والا ہے شکر گزار

۶.        اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم کو یاد کرو اللہ کا احسان اپنے اوپر جب چھڑا دیا تم کو فرعون کی قوم سے وہ پہنچاتے تھے تم کو برا عذاب  اور ذبح کرتے تمہارے بیٹوں کو اور زندہ رکھتے تمہاری عورتوں کو اور اس میں مدد ہوئی تمہارے رب کی طرف سے بڑی

۷.        ” اور جب سنا دیا تمہارے رب نے اگر احسان مانو گے تو اور بھی دوں گا تم کو  اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب البتہ سخت ہے

۸.        “

۹.         اور کہا موسیٰ نے اگر کفر کرو گے تم اور جو لوگ زمین میں ہیں سارے تو اللہ بے پروا ہے سب خوبیوں والا

۱۰.       کیا نہیں پہنچی تم کو خبر ان لوگوں کی جو پہلے تھے تم سے قوم نوح کی اور عاد اور ثمود اور جو ان سے پیچھے ہوئے کسی کو ان کی خبر نہیں مگر اللہ کو  آئے ان کے پاس ان کے رسول نشانیاں لے کر پھر لوٹائے انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے منہ میں  اور بولے ہم نہیں مانتے جو تم کو دے کر بھیجا اور ہم کو تو شبہ ہے اس راہ میں جس کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو

۱۱.        خلجان میں ڈالنے والا بولے ان کے رسول کیا اللہ میں شبہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین  وہ تم کو بلاتا ہے تاکہ بخشے تم کو کچھ گناہ تمہارے  اور ڈھیل دے تم کو ایک وعدہ تک جو ٹھہر چکا ہے  کہنے لگے تم تو یہی آدمی ہو ہم جیسے تم چاہتے ہو کہ روک دو ہم کو ان چیزوں سے جن کو پوجتے رہے ہمارے باپ دادے ، سو لاؤ کوئی سند کھلی ہوئی

۱۲.       اُن کو کہا ان کے رسولوں نے ہم تو یہی آدمی ہیں جیسے تم لیکن اللہ احسان کرتا ہے اپنے بندوں میں جس پر چاہے  اور ہمارا کام نہیں کہ لے آئیں تمہارے پاس سند مگر اللہ کے حکم سے اور اللہ پر بھروسہ چاہیے ایمان والوں کو

۱۳.       اور ہم کو کیا ہوا کہ بھروسہ نہ کریں اللہ پر اور وہ سمجھا چکا ہم کو ہماری راہیں  اور ہم صبر کریں گے ایذاء پر جو تم ہم کو دیتے ہو اور اللہ پر بھروسہ چاہیے بھروسے والوں کو

۱۴.       اور کہا کافروں نے اپنے رسولوں کو ہم نکال دیں گے تم کو اپنی زمین سے یا لوٹ آؤ ہمارے دین میں  تب حکم بھیجا ان کو ان کے رب نے ہم غارت کریں گے ان ظالموں کو

۱۵.       اور آباد کریں گے تم کو اس زمین میں ان کے پیچھے  یہ ملتا ہے اس کو جو ڈرتا ہے کھڑے ہونے سے میرے سامنے اور ڈرتا ہے میرے عذاب کے وعدہ سے

۱۶.       اور فیصلہ لگے مانگنے پیغمبر

۱۷.      اور نامراد ہوا ہر ایک سرکش ضدی  پیچھے اس کے دوزخ ہے اور پلائیں گے اس کو پانی پیپ کا

۱۸.       گھونٹ گھونٹ پیتا ہے اس کو اور گلے سے نہیں اتار سکتا   اور چلی آتی ہے اس پر موت ہر طرف سے اور وہ نہیں مرتا اور اس کے پیچھے عذاب ہے سخت

۱۹.       حال ان لوگوں کا جو منکر ہوئے اپنے رب سے ان کے عمل ہیں جیسے وہ راکھ کہ زور کی چلے اس پر ہوا آندھی کے دن کچھ ان کے ہاتھ میں نہ ہو گا اپنی کمائی میں سے یہی ہے بہک کر دور جا پڑنا

۲۰.      تو نے کیا نہیں دیکھا کہ اللہ نے بنائے آسمان اور زمین جیسی چاہیے اگر چاہے تم کو لے جائے اور لائے کوئی پیدائش نئی اور یہ اللہ کو کچھ مشکل نہیں

۲۱.       اور سامنے کھڑے ہوں گے اللہ کے سارے  پھر کہیں گے کمزور بڑائی والوں کو ہم تو تمہارے تابع تھے سو بچاؤ گے ہم کو اللہ کے کسی عذاب سے کچھ  وہ کہیں گے اگر ہدایت کرتا ہم کو اللہ تو البتہ ہم تم کو ہدایت کرتے اب برابر ہے ہمارے حق میں ہم بے قراری کریں یا صبر کریں ہم کو نہیں خلاصی

۲۲.      اور بولا شیطان جب فیصل ہو چکا سب کام بے شک اللہ نے تم کو دیا تھا سچا وعدہ اور میں نے تم سے وعدہ کیا پھر جھوٹا کیا اور میری تم پر کچھ حکومت نہ تھی مگر یہ کہ میں نے بلایا تم کو پھر تم نے مان لیا میری بات کو سو الزام دو اپنے آپ کو نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچوں نہ تم میری فریاد کو پہنچو میں منکر ہوں جو تم نے مجھ کو شریک بنایا تھا اس سے پہلے البتہ جو ظالم ہی ان کے لیے ہے عذاب دردناک

۲۳.      اور داخل کیے گئے جو لوگ ایمان لائے تھے اور کام کیے تھے نیک باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں ہمیشہ رہیں ان میں اپنے رب کے حکم سے  ان کی ملاقات ہے وہاں سلام

۲۴.      تو نے دیکھا کیسی بیان کی اللہ نے ایک مثال   بات ستھری  جیسے ایک درخت ستھرا  اس کی جڑ مضبوط ہے اور ٹہنے ہیں آسمان میں

۲۵.      لاتا ہے پھل اپنا ہر وقت پر اپنے رب کے حکم سے  اور بیان کرتا ہے اللہ مثالیں لوگوں کے واسطے تاکہ وہ فکر کریں

۲۶.      اور مثال گندی بات کی  جیسے درخت گندا  اکھاڑ لیا اس کو زمین کے اوپر سے کچھ نہیں اس کو ٹھہراؤ

۲۷.     مضبوط کرتا ہے اللہ ایمان والوں کو مضبوط بات سے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں  اور بچلا دیتا ہے اللہ بے انصافوں کو  اور کرتا ہے اللہ جو چاہے

۲۸.      “تو نے نہ دیکھا ان کو جنہوں نے بدلہ کیا اللہ کے احسان کا ناشکری اور اتارا اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں “

۲۹.      جو دوزخ ہے داخل ہوں گے اس میں اور وہ برا ٹھکانا ہے

۳۰.      اور ٹھہرائے اللہ کے لیے مقابل کہ بہکائیں لوگوں کو اس کی راہ سے  تو کہہ مزا اڑا لو پھر تم کو لوٹنا ہے طرف آگ کے

۳۱.       کہہ دے میرے بندوں کو جو ایمان لائے ہیں قائم رکھیں نماز اور خرچ کریں ہماری دی ہوئی روزی میں سے پوشیدہ اور ظاہر  پہلے اس سے کہ آئے دن جس میں نہ سودا ہے نہ دوستی

۳۲.      اللہ وہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین اور اتارا آسمان سے پانی  پھر اس سے نکالی روزی تمہارے میوے  اور کہنے میں کیا تمہارے کشتی کو کہ چلے دریا میں اس کے حکم سے  اور کام میں لگایا تمہارے ندیوں کو

۳۳.     اور کام میں لگا دیا تمہارے سورج اور چاند کو ایک دستور پر برابر اور کام میں لگا دیا تمہارے رات اور دن کو

۳۴.     اور دیا تم کو ہر چیز میں سے جو تم نے مانگی  اور اگر گنو احسان اللہ کے نہ پورے کر سکو  بے شک آدمی بڑا بے انصاف ہے ناشکرا

۳۵.     اور جس وقت کہا ابراہیم نے   اے رب کر دے اس شہر کو امن والا اور دور رکھ مجھ کو اور میری اولاد کو اس بات سے کہ ہم پوجیں مورتوں کو

۳۶.      اے رب انہوں نے گمراہ کیا بہت لوگوں کو  سو جس نے پیروی کی میری سو وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہنا نہ مانا سو تو بخشنے والا مہربان ہے

۳۷.     اے رب میں نے بسایا ہے اپنی ایک اولاد کو میدان میں کہ جہاں کھیتی نہیں تیرے محترم گھر کے پاس اے رب ہمارے تاکہ قائم رکھیں نماز کو سو رکھ بعضے لوگوں کے دل کہ مائل ہوں ان کی طرف اور روزی دے ان کو میووں سے شاید وہ شکر کریں

۳۸.     اے رب ہمارے تُو تو جانتا ہے جو کچھ ہم کرتے ہیں چھپا کر اور جو کچھ کرتے ہیں دکھا کر اور مخفی نہیں اللہ پر کوئی چیز زمین میں نہ آسمان میں

۳۹.      شکر ہے اللہ کا جس نے بخشا مجھ کو اتنی بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بے شک میرا رب سنتا ہے دعا کو

۴۰.      اے رب میرے کر مجھ کو قائم رکھوں نماز اور میری اولاد میں سے بھی اے رب میرے  اور قبول کر میری دعا

۴۱.       اے ہمارے رب بخش مجھ کو اور میرے باپ کو اور سب ایمان والوں کو جس دن قائم ہو حساب

۴۲.      اور ہرگز مت خیال کر کہ اللہ بے خبر ہے ان کاموں سے جو کرتے ہیں بے انصاف   ان کو تو ڈھیل دے کبھی ہے اس دن کے لیے کہ پتھرا جائیں گی آنکھیں

۴۳.     دوڑتے ہوں گے اوپر اٹھائے اپنے سر پھر کر نہیں آئیں گی ان کی طرف ان کی آنکھیں اور دل ان کے اڑ گئے ہوں گے

۴۴.     اور ڈرا دے لوگوں کو اس دن سے کہ آئے گا ان پر عذاب  تب کہیں گے ظالم’ اے رب ہمارے مہلت دے ہم کو تھوڑی مدت تک کہ ہم قبول کر لیں تیرے بلانے کو اور پیروی کر لیں رسولوں کی  کیا تم پہلے قسم نہ کھاتے تھے کہ تم کو نہیں دنیا سے ٹلنا

۴۵.     اور آباد تھے تم بستیوں میں انہی لوگوں کی جنہوں نے ظلم کیا اپنی جان پر اور کھل چکا تھا تم کو کہ کیسا کیا ہم نے ان سے اور بتلائے ہم نے تم کو سب قصے

۴۶.      اور یہ بنا چکے ہیں اپنا داؤ اور اللہ کے آگے ہے ان کا داؤ  اور نہ ہو گا ان کا داؤ کہ ٹل جائیں اس سے پہاڑ

۴۷.     سو خیال مت کر کہ اللہ خلاف کرے گا اپنا وعدہ اپنے رسولوں سے  بے شک اللہ زبردست ہے بدلہ لینے والا

۴۸.     جس دن بدلی جائے اس زمین سے اور زمین اور بدلے جائیں آسمان اور لوگ نکل کھڑے ہوں سامنے اللہ اکیلے زبردست کے

۴۹.      اور دیکھے تو گناہ گاروں کو اس دن باہم جکڑے ہوئے زنجیروں میں

۵۰.      کُرتے ان کے ہیں گندھک کے  اور ڈھانکے لیتی ہے ان کے منہ کو آگ

۵۱.       تاکہ بدلہ دے اللہ ہر ایک جی کو اس کی کمائی کا بے شک اللہ جلد کرنے والا ہے حساب

۵۲.      یہ خبر پہنچا دینی ہے لوگوں کو اور تاکہ چونک جائیں اس سے اور تاکہ جان لیں کہ معبود وہی ایک ہے اور تاکہ سوچ لے عقل والے

 

سورۃ الحجر

شروع اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.         ا لر یہ آیتیں کتاب کی  اور واضح قرآن کی

۲.        کسی وقت آرزو کریں گے یہ لوگ جو منکر ہیں کیا اچھا ہوتا جو ہوتے مسلمان

۳.        چھوڑ دے ان کو کھالیں اور برت لیں اور امید میں لگے رہیں سو آئندہ معلوم کر لیں گے

۴.        اور کوئی بستی ہم نے غارت نہیں کی مگر اس کا وقت لکھا ہوا تھا مقرر

۵.        نہ سبقت کرتا ہے کوئی فرقہ اپنے وقت مقرر سے اور نہ پیچھے رہتا ہے

۶.        اور لوگ کہتے ہیں اے وہ شخص کہ تجھ پر اترا ہے قرآن تو بے شک دیوانہ ہے

۷.        کیوں نہیں لے آتا ہمارے پاس فرشتوں کو اگر تو سچا ہے

۸.        ہم نہیں اتارتے فرشتوں کو مگر کام پورا کرے اور اس وقت نہ ملے گی ان کو مہلت

۹.         ہم نے اَپ اتاری ہے یہ نصیحت اور ہم آپ اس کے نگہبان ہیں

۱۰.       اور ہم بھیج چکے تجھ سے پہلے اگلے فرقوں میں

۱۱.        اور نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول مگر کرتے رہیں ہیں اس سے ہنسی

۱۲.       اسی طرح بٹھا دیتے ہیں ہم اس کو دل میں گنہگاروں کے

۱۳.       یقین نہ لائیں گے اس پر اور ہوتی آئی ہے رسم پہلوں کی

۱۴.       اور اگر ہم کھول دیں ان پر دروازہ آسمان سے اور سارے دن اس میں چڑھتے رہیں

۱۵.       تو بھی یہی کہیں گے کہ باندھ دیا ہے ہماری نگاہ کو نہیں بلکہ ہم لوگوں پر جادو ہوا ہے

۱۶.       اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج  اور رونق دی اس کو دیکھنے والوں کی نظر میں

۱۷.      اور محفوظ رکھا ہم نے اس کو ہر شیطان مردود سے

۱۸.       مگر جو چوری سے سن بھاگا سو اس کے پیچھے پڑا انگارہ چمکتا ہوا

۱۹.       اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور رکھ دیے اس پر بوجھ اور اگائی اس میں ہر چیز اندازے سے

۲۰.      اور بنا دیے تمہارے واسطے اس میں معیشت کے اسباب اور وہ چیزیں جن کو تم روزی نہیں دیتے

۲۱.       اور ہر چیز کے ہمارے پاس خزانے ہیں اور اتارتے ہیں ہم اندازہ معین پر

۲۲.      اور چلائیں ہم نے ہوائیں اوس بھری پھر اتارا ہم نے آسمان سے پانی پھر تم کو وہ پلایا  اور تمہارے پاس نہیں اس کا خزانہ

۲۳.      اور ہم ہی ہیں جلانے والے اور مارنے والے اور ہم ہی ہیں پیچھے رہنے والے

۲۴.      اور ہم نے جان رکھا ہے آگے بڑھنے والوں کو تم میں سے اور جان رکھا ہے پیچھے رہنے والوں کو

۲۵.      اور تیرا رب وہی اکٹھا کر لائے گا ان کو بے شک وہی ہے حکمتوں والا خبردار

۲۶.      اور بنایا ہم نے آدمی کو کھنکھناتے سنے ہوئے گارے سے

۲۷.     اور جان کو بنایا ہم نے اس سے پہلے لو کی آگ سے

۲۸.      اور جب کہا تیرے رب نے فرشتوں کو میں بناؤں گا ایک بشر کھنکھاتے سنے ہوئے گارے سے

۲۹.      پھر جب ٹھیک کروں اس کو اور پھونک دوں اس میں اپنی جان سے تو گر پڑیو اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے

۳۰.      تب سجدہ کیا ان فرشتوں نے سب نے مل کر

۳۱.       مگر ابلیس نے نہ مانا کہ ساتھ ہو سجدہ کرنے والوں کے

۳۲.      فرمایا اے ابلیس کیا ہوا تجھ کو کہ ساتھ نہ ہوا سجدہ کرنے والوں کے

۳۳.     بولا میں وہ نہیں کہ سجدہ کروں ایک بشر کو جس کو تو نے بنایا کھنکھناتے سنے ہوئے گارے سے

۳۴.     فرمایا تو تو نکل یہاں سے  تجھ پر مار ہے

۳۵.     اور تجھ پر پھٹکار ہے اس دن تک کہ انصاف ہو

۳۶.      بولا اے رب تو مجھ کو ڈھیل دے اس دن تک کو مردے زندہ ہوں

۳۷.     فرمایا کہ تو تجھ کو ڈھیل دی

۳۸.     اسی مقرر وقت کے دن تک

۳۹.      بولا اے رب جیسا تو نے مجھ کو راہ سے کھو دیا میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین سے اور راہ سے کھو دوں گا ان سب کو

۴۰.      مگر جو تیرے چنے ہوئے بندے ہیں

۴۱.       فرمایا یہ راہ ہے مجھ تک سیدھی

۴۲.      جو میرے بندے ہیں تیرا ان پر کچھ زور نہیں مگر جو تیری راہ چلا بہکے ہوؤں میں

۴۳.     اور دوزخ پر وعدہ ہے ان سب کا

۴۴.     اس کے ساتھ دروازے ہیں ہر دروازہ کے واسطے ان میں سے ایک فرقہ ہے بانٹا ہوا

۴۵.     پرہیزگار ہیں باغوں میں اور چشموں میں

۴۶.      کہیں گے ان کو جاؤ ان میں سلامتی سے خاطر جمع (بے کھٹکے ) سے

۴۷.     اور نکال ڈالی ہم نے جو ان کے جیوں میں تھی خفگی بھائی ہو گئے

۴۸.     تختوں پر بیٹھے آمنے سامنے  نہ پہنچے گی ان کو وہاں کچھ تکلیف اور نہ ان کو وہاں سے کوئی نکالے

۴۹.      خبر سنا دے میرے بندوں کو کہ میں ہوں اصل بخشنے والا مہربان

۵۰.      اور یہ بھی کہ میرا عذاب وہی عذاب دردناک ہے

۵۱.       اور حال سنا دے ان کو ابراہیم کے مہمانوں کا

۵۲.      جب چلے آئے اس کے گھر میں اور بولے سلام وہ بولا ہم کو تم سے ڈر معلوم ہوتا ہے

۵۳.     بولے ڈر مت ہم تجھ کو خوشخبری سناتے ہیں ایک ہوشیار لڑکے کی

۵۴.     بولا کیا خوشخبری سناتے ہو مجھ کو جب پہنچ چکا مجھ کو بڑھاپا اب کا ہے پر خوشخبری سناتے ہو

۵۵.     بولے ہم نے تجھ کو خوشخبری سنائی سچی سو مت ہو تو نا امیدوں میں

۵۶.      بولا اور کون آس توڑے اپنے رب کی رحمت سے مگر جو گمراہ ہیں

۵۷.     بولا پھر کیا مہم ہے تمہاری اے اللہ کے بھیجے ہوؤ

۵۸.     بولے ہم بھیجے ہوئے آئے ہیں ایک قوم گناہگار پر

۵۹.      مگر لوط کے گھر والے ہم ان کو بچا لیں گے سب کو

۶۰.      مگر ایک اس کی عورت ہم نے ٹھہرا لیا وہ ہے رہ جانے والوں میں

۶۱.       پھر جب پہنچے لوط کے گھر وہ بھیجے ہوئے

۶۲.      بولا تم لوگ ہو اوپرے

۶۳.      بولے نہیں پر ہم لے کر آئے ہیں تیرے پاس وہ چیز جس میں وہ جھگڑتے تھے

۶۴.      اور ہم لائے ہیں تیرے پاس پکی بات اور ہم سچ کہتے ہیں

۶۵.      سو لے نکل اپنے گھر کو کچھ رات رہے سے اور تو چل ان کے پیچھے اور مڑ کر نہ دیکھے تم میں سے کوئی  اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم ہے

۶۶.      اور مقرر کر دی ہم نے اس کو یہ بات کہ ان کی جڑ کٹے گی صبح ہوتے

۶۷.     اور آئے شہر کے لوگ خوشیاں کرتے

۶۸.      لوط نے کہا یہ لوگ میرے مہمان ہیں سو مجھ کو رسوا مت کرو

۶۹.      اور ڈرو اللہ سے اور میری آبرو مت کھوؤ

۷۰.     بولے کیا ہم نے تجھ کو منع نہیں کیا جہان کی حمایت سے

۷۱.      بولا یہ حاضر ہیں میری بیٹیاں اگر تم کو کرنا ہے

۷۲.     قسم ہے تیری جان کی وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں

۷۳.     پھر آ پکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت

۷۴.     پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے اور برسائے ان پر پتھر کھنکر(کنکر) کے

۷۵.     بے شک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کو

۷۶.     اور وہ بستی واقع ہے سیدھی راہ پر

۷۷.     البتہ اس میں نشانی ہے ایمان والوں کو

۷۸.     اور تحقیق تھے بن کے رہنے والے گناہ گار

۷۹.      سو ہم نے بدلہ لیا ان سے اور یہ دونوں بستیاں واقع ہیں کھلے راستہ پر

۸۰.      اور بے شک جھٹلایا حجر والوں نے رسولوں کو

۸۱.       اور دیں ہم نے ان کو اپنی نشانیاں سو رہے ان سے منہ پھیرتے

۸۲.      اور تھے کہ تراشتے تھے پہاڑوں کے گھر اطمینان کے ساتھ

۸۳.     پھر پکڑا ان کو چنگھاڑ نے صبح ہونے کے وقت

۸۴.     پھر کام نہ آیا ان کے جو کچھ کمایا تھا

۸۵.     اور ہم نے بنائے نہیں آسمان اور زمین اور جو ان کے بیچ میں ہے بغیر حکمت اور قیامت بے شک آنے والی ہے سو کنارہ کر اچھی طرح کنارہ

۸۶.      تیرا رب جو ہے وہی ہے پیدا کرنے والا خبردار

۸۷.     اور ہم نے دی ہیں تجھ کو سات آیتیں وظیفہ اور قرآن بڑے درجہ کا

۸۸.     مت ڈال اپنی آنکھیں ان چیزوں پر جو برتنے کو دیں ہم نے ان میں سے کئی طرح کے لوگوں کو  اور نہ غم کھا ان پر اور جھکا اپنے بازو ایمان والوں کے واسطے

۸۹.      اور کہہ کہ میں وہی ہوں ڈرانے والا کھول کر

۹۰.      جیسا ہم نے بھیجا ہے ان بانٹنے والوں پر

۹۱.       جنہوں نے کیا ہے قرآن کو بوٹیاں

۹۲.      سو قسم ہے تیرے رب کی ہم کو پوچھنا ہے ان سب سے

۹۳.      جو کچھ وہ کرتے تھے

۹۴.      سو سنا دے کھول کر جو تجھ کو حکم ہوا اور پروا نہ کر مشرکوں کی

۹۵.      ہم بس (کافی) ہیں تیری طرف سے ٹھٹھے کرنے والوں کو

۹۶.      جو کہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسرے کی بندگی سو عنقریب معلوم کر لیں گے

۹۷.      اور ہم جانتے ہیں کہ تیرا جی رکتا ہے ان کی باتوں سے

۹۸.      سو تو یاد کر خوبیاں اپنے رب کی اور ہو سجدہ کرنے والوں سے

۹۹.       اور بندگی کیے جا اپنے رب کی جب تک آئے تیرے پاس یقینی بات

 

سورۃ النحل

شروع اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.         آ پہنچا حکم اللہ کا سو اس کی جلدی مت کرو  وہ پاک ہے اور برتر ہے ان کے شریک بتلانے سے

۲.        اتارتا ہے فرشتوں کو  بھید دے کر  اپنے حکم سے جس پر چاہے اپنے بندوں میں  کہ خبردار کر دو کہ کسی کی بندگی نہیں سوا میرے سو مجھ سے ڈرو

۳.        بنائے آسمان اور زمین ٹھیک ٹھیک وہ برتر ہے ان کے شریک بتلانے سے

۴.        بنایا آدمی کو ایک بوند سے پھر جبھی ہو گیا جھگڑا کرنے والا بولنے والا

۵.        اور چوپائے بنا دیے تمہارے واسطے ان میں جڑ اول ہے اور کتنے فائدے اور بعضوں کو کھاتے ہو

۶.        اور تم کو ان سے عزت ہے جب شام کو چَرا کر لاتے ہو اور جب چَرانے لے جاتے ہو

۷.        اور اٹھا لے چلتے ہیں بوجھ تمہارے ان شہروں تک کہ تم نہ پہنچتے وہاں مگر جان مار کر بے شک تمہارا رب بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے

۸.        اور گھوڑے پیدا کیے اور خچریں اور گدھے کہ ان پر سوار ہو اور زینت کے لیے  اور پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے

۹.         اور اللہ تک پہنچتی ہے سیدھی راہ اور بعضی راہ کج بھی ہے  اور اگر وہ چاہے تو سیدھی راہ دے تم سب کو

۱۰.       وہی ہے جس نے اتارا آسمان سے تمہارے لیے پانی اس سے پیتے ہو اور اسی سے درخت ہوتے ہیں جس میں چَراتے ہو

۱۱.        اگاتا ہے تمہارے واسطے سے کھیتی اور زیتون اور کھجوریں اور انگور اور ہر قسم کے میوے اس میں البتہ نشانی ہے ان لوگوں کو جو غور کرتے ہیں

۱۲.       اور تمہارے کام میں لگا دیا رات اور دن اور سورج اور چاند کو اور ستارے کام میں لگے ہیں اس کے حکم سے  اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کو جو سمجھ رکھتے ہیں

۱۳.       اور جو چیزیں پھیلائیں تمہارے واسطے زمین میں رنگ برنگ کی  اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سوچتے ہیں

۱۴.       اور وہی ہے جس نے کام میں لگا دیا دریا کو کہ کھاؤ اس میں سے گوشت تازہ اور نکالو اس میں سے گہنا جو پہنتے ہو اور دیکھتا ہے تو کشتیوں کو چلتی ہیں پانی پھاڑ کر اس میں  اور اس واسطے کہ تلاش کرو اس کے فضل سے اور تاکہ احسان مانو

۱۵.       اور رکھ دیے زمین پر بوجھ کہ کبھی جھک پڑیں تم کو لے کر   اور بنائیں ندیاں  اور راستے تاکہ تم راہ پاؤ

۱۶.       اور بنائیں علامتیں  اور ستاروں سے لوگ راہ پاتے ہیں

۱۷.      بھلا جو پیدا کرے برابر ہے اس کے جو کچھ نہ پیدا کرے کیا تم سوچتے نہیں

۱۸.       اور اگر شمار کرو اللہ کی نعمتوں کو نہ پورا کر سکو گے ان کو  بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

۱۹.       اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو

۲۰.      اور جن کو پکارتے ہیں اللہ کے سوا کچھ پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے ہوئے ہیں

۲۱.       مردے ہیں جن میں جان نہیں  اور نہیں جانتے کب اٹھائے جائیں گے

۲۲.      معبود تمہارا معبود ہے اکیلا سو جن کو یقین نہیں آخرت کی زندگی کا ان کے دل نہیں مانتے اور وہ مغرور ہیں

۲۳.      ٹھیک بات ہے کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں بے شک وہ نہیں پسند کرتا غرور کرنے والوں کو

۲۴.      اور جب کہے ان سے کہ کیا اتارا ہے تمہارے رب نے تو کہیں کہانیاں ہیں پہلوں کی

۲۵.      تاکہ اٹھائیں بوجھ اپنے پورے دن قیامت کے اور کچھ بوجھ ان کے جن کو بہکاتے ہیں بلا تحقیق سنتا ہے بُرا بوجھ ہے جو اٹھاتے ہیں

۲۶.      البتہ دغا بازی کر چکے ہیں جو تھے ان سے پہلے پھر پہنچا حکم اللہ کا ان کی عمارات پر بنیادوں سے پھر گر پڑی ان پر چھت اوپر سے اور آیا ان پر عذاب جہاں سے ان کو خبر نہ تھی

۲۷.     پھر قیامت کے دن رسوا کرے گا ان کو اور کہے گا کہاں ہیں میرے شریک جن پر تم کو بڑی ضد تھی  بولیں گے جن کو دی گئی تھی خبر بے شک رسوائی آج کے دن اور برائی منکروں پر ہے

۲۸.      جن کی جان نکالتے ہیں فرشتے اور وہ برا کر رہے ہیں اپنے حق میں  تب ظاہر کریں گے اطاعت کہ ہم تو کرتے نہ تھے کچھ برائی  کیوں نہیں اللہ خوب جانتا ہے جو تم کرتے تھے

۲۹.      سو داخل ہو دروازوں میں دوزخ کے رہا کرو سدا اسی میں سو کیا برا ٹھکانا ہے غرور کرنے والوں کا

۳۰.      اور کہا پرہیزگاروں کو کیا اتارا تمہارے رب نے بولے نیک بات جنہوں نے بھلائی کی اس دنیا میں ان کو بھلائی ہے   اور آخرت کا گھر بہتر ہے اور کیا خوب گھر ہے پرہیزگاروں کا

۳۱.       باغ میں ہمیشہ رہنے کے جن میں وہ جائیں گے بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ان کے واسطے وہاں ہے جو چاہیں  ایسا بدلہ دے گا اللہ پرہیزگاروں کو

۳۲.      جن کی جان قبض کرتے ہیں فرشتے اور وہ ستھری ہیں  کہتے ہیں فرشتے سلامتی تم پر جاؤ بہشت میں  بدلہ ہے اس کا جو تم کرتے تھے

۳۳.     کیا کافر اب اس کے منتظر ہیں کہ آئیں ان پر فرشتے یا پہنچے حکم تیرے رب کا  اسی طرح کیا تھا ان سے اگلوں نے اور اللہ نے ظلم نہ کیا ان پر لیکن وہ خود اپنا برا کرتے رہے

۳۴.     پھر پڑے ان کے سر ان کے برے کام اور کٹ پڑا ان پر جو ٹھٹھا کرتے تھے

۳۵.     اور بولے شرک کرنے والے اگر چاہتا اللہ نہ پوجتے ہم اس کے سوا کسی چیز کو اور نہ ہمارے باپ اور نہ حرام ٹھہرا لیتے ہم بدون اس کے حکم کے کسی چیز کو  اسی طرح کیا ان سے اگلوں نے سو رسولوں کے ذمہ نہیں مگر پہنچا دینا صاف صاف

۳۶.      اور ہم نے اٹھائے ہیں ہر امت میں رسول  کہ بندگی کرو اللہ کی اور بچو سرکشوں سے   پھر کسی کو ان میں سے ہدایت کی اللہ نے اور کسی پر ثابت ہوئی گمراہی سو سفر کرو ملکوں میں پھر دیکھو کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا

۳۷.     اگر تو طمع کرے ان کو راہ پر لانے کی تو اللہ راہ نہیں دیتا جس کو بچلاتا ہے اور کوئی نہیں ان کا مددگار

۳۸.     اور قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی سخت قسمیں کہ نہ اٹھائے گا اللہ جو کوئی مر جائے  کیوں نہیں وعدہ ہو چکا ہے اس پر پکا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

۳۹.      اٹھائے گا تاکہ ظاہر کر دے ان پر جس بات میں کہ جھگڑتے ہیں اور تاکہ معلوم کر لیں کافر کہ وہ جھوٹے تھے

۴۰.      ہمارا کہنا کسی چیز کو جب ہم اس کو کرنا چاہیں یہی ہے کہ کہیں اس کو ہو جا تو وہ ہو جائے

۴۱.       اور جنہوں نے گھر چھوڑا اللہ کے واسطے بعد اس کے کہ ظلم اٹھایا البتہ ان کو ہم ٹھکانا دیں گے دنیا میں اچھا اور ثواب آخرت کا تو بہت بڑا ہے اگر ان کو معلوم ہوتا

۴۲.      جو ثابت قدم رہے اور اپنے رب پر بھروسہ کیا

۴۳.     ” اور تجھ سے پہلے بھی ہم نے یہی مرد بھیجے تھے کہ حکم بھیجتے تھے ہم  اُن کی طرف سو پوچھو یاد رکھنے والوں سے اگر تم کو معلوم نہیں “

۴۴.     بھیجا تھا ان کو نشانیاں دے کر اور ورقے  اور اتاری ہم نے تجھ پر یہ یادداشت کہ تو کھول دے لوگوں کے سامنے وہ چیز جو اتری ان کے واسطے

۴۵.     تاکہ وہ غور کریں  سو کیا نڈر ہو گئے وہ لوگ جو برے فریب کرتے ہیں اس سے کہ دھنسا دیوے اللہ ان کو زمین میں یا آ پہنچے ان پر عذاب جہاں سے خبر نہ رکھتے ہوں

۴۶.      یا پکڑ لے ان کو چلتے پھرتے سو وہ نہیں ہیں عاجز کرنے والے

۴۷.     یا پکڑ لے ان کو ڈرانے کے بعد  سو تمہارا رب بڑا نرم ہے مہربان

۴۸.     کیا نہیں دیکھتے وہ جو کہ اللہ نے پیدا کی ہے کوئی چیز کہ ڈھلتے ہیں سائے ان کے داہنی طرف سے اور بائیں طرف سے سجدہ کرتے ہوئے اللہ کی اور وہ عاجزی میں ہیں

۴۹.      اور اللہ کو سجدہ کرتا ہے جو آسمان میں ہے اور جو زمین میں ہے جانداروں سے اور فرشتے اور وہ تکبر نہیں کرتے

۵۰.      ڈر رکھتے ہیں اپنے رب کا اپنے اوپر سے اور کرتے ہیں جو حکم پاتے ہیں

۵۱.       اور کہا ہے اللہ نے مت پکڑو معبود دو وہ معبود ایک ہی ہے سو مجھ سے ڈرو

۵۲.      اور اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور اسی کی عبادت ہے ہمیشہ  سو کیا سوائے اللہ کے کسی سے ڈرتے ہو

۵۳.     اور جو کچھ تمہارے پاس ہے نعمت سو اللہ کی طرف سے پھر جب پہنچتی ہے تم کو سختی تو اسی کی طرف چلاتے ہو(اسی سے فریاد کرتے ہو)

۵۴.     پھر جب کھول دیتا ہے سختی تم سے اسی وقت ایک فرقہ تم میں سے اپنے رب کے ساتھ لگتا ہے شریک بتانے

۵۵.     تاکہ منکر ہو جائیں اس چیز سے جو کہ ہم نے ان کو دی ہے سو مزے اڑا لو آخر معلوم کر لو گے

۵۶.      اور ٹھہراتے ہیں ان کے لیے جن کی خبر نہیں رکھتے ایک حصہ ہماری دی ہوئی روزی میں سے  قسم اللہ کی تم سے پوچھنا ہے جو تم بہتان باندھتے ہو

۵۷.     اور ٹھہراتے ہیں اللہ کے لیے بیٹیاں وہ اس سے پاک ہے  اور اپنے لیے جو دل چاہتا ہے

۵۸.     اور جب خوشخبری ملے ان میں کسی کو بیٹی کی سارے دن رہے منہ اس کا سیاہ اور جی میں گھٹتا رہے

۵۹.      چھپتا پھرے لوگوں سے مارے برائی اس خوشخبری کے جو سنی  اس کو رہنے دے ذلت قبول کر کے یا اس کو داب دے مٹی میں  سنتا ہے برا فیصلہ کرتے ہیں

۶۰.      جو نہیں مانتے آخرت کو ان کی بری مثال ہے اور اللہ کی مثال (شان) سب سے اوپر  اور وہی ہے زبردست حکمت والا

۶۱.       اور اگر پکڑے اللہ لوگوں کو ان کی بے انصافی پر نہ چھوڑے زمین پر ایک چلنے والا لیکن ڈھیل رہتا ہے اُن کو ایک وقت موعود تک پھر جب آ پہنچے گا ان کا وعدہ نہ پیچھے سرک سکیں گے ایک گھڑی اور نہ آگے سرک سکیں گے

۶۲.      اور کرتے ہیں اللہ کے واسطے جس کو اپنا جی نہ چاہے  اور بیان کرتی ہیں زبانیں ان کی جھوٹ کہ ان کے واسطے خوبی ہے  آپ ثابت ہے کہ ان کے واسطے آگ ہے اور وہ بڑھائے جا رہے ہیں

۶۳.      قسم اللہ کی ہم نے رسول بھیجے مختلف فرقوں میں تجھ سے پہلے پھر اچھے کر کے دکھلائے ان کو شیطان نے ان کے کام سو وہی رفیق ان کا ہے آج اور ان کے واسطے عذاب دردناک ہے

۶۴.      اور ہم نے اتاری تجھ پر کتاب اسی واسطے کہ کھول کر سنا دے تو ان کو وہ چیز کہ جس میں جھگڑ رہے ہیں  اور سیدھی راہ سجھانے کو اور واسطے بخشش ایمان لانے والوں کے

۶۵.      اور اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر اس سے زندہ کیا زمین کو اس کے مرنے کے پیچھے  اس میں نشانی ہے ان لوگوں کو جو سنتے ہیں

۶۶.      ” اور تمہارے واسطے چوپاؤں میں سوچنے کی جگہ ہے پلاتے ہیں تم کو اس کے پیٹ کی چیزوں میں سے گوبر اور لہو کے بیچ میں سے دودھ ستھرا  خوشگوار پینے والوں کے لیے “

۶۷.     اور میووں سے کھجور کے اور انگور کے بناتے ہو اس سے نشہ اور روزی خاصی  اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے واسطے جو سمجھتے ہیں

۶۸.      “اور حکم دیا تیرے رب نے شہد کی مکھی کو کہ بنا لے پہاڑوں میں گھر اور درختوں میں اور جہاں ٹٹیاں باندھتے ہیں “

۶۹.      پھر کھا ہر طرح کے میووں سے  پھر چل راہوں میں اپنے رب کی صاف پڑے ہیں  نکلتی ہے ان کے پیٹ میں سے پینے کی چیز جس کے مختلف رنگ ہیں اس میں مرض اچھے ہوتے ہیں لوگوں کے  اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو دھیان کرتے ہیں

۷۰.     اور اللہ نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو موت دیتا ہے اور کوئی تم میں سے پہنچ جاتا ہے نکمی عمر کو کہ سمجھنے کے پیچھے اب کچھ نہ سمجھے اللہ خبردار ہے قدرت والا

۷۱.      اور اللہ نے بڑائی دی تم میں ایک کو ایک پر روزی میں سو جن کو بڑائی دی وہ نہیں پہنچا دیتے اپنی روزی ان کو جن کے مالک ان کے ہاتھ ہیں کہ وہ سب اس میں برابر ہو جائیں کیا اللہ کی نعمت کے منکر ہیں

۷۲.     اور اللہ نے پیدا کیں تمہارے واسطے تمہاری ہی قسم سے عورتیں  اور دیے تم کو تمہاری عورتوں سے بیٹے اور پوتے  اور کھانے کو دیں تم کو ستھری چیزیں  سو کیا جھوٹی باتیں مانتے ہیں اور اللہ کے فضل کو نہیں مانتے

۷۳.     اور پوجتے ہیں اللہ کے سوا ایسوں کو جو مختار نہیں ان کی روزی کے آسمان اور زمین میں سے کچھ بھی  اور نہ قدرت رکھتے ہیں

۷۴.     سو مت چسپاں کرو اللہ پر مثالیں  بے شک اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

۷۵.     اللہ نے بتلائی ایک مثال ایک بندہ پرایا مال نہیں قدرت رکھتا کسی چیز پر اور ایک جس کو ہم نے روزی دی اپنی طرف سے خاصی روزی سو وہ خرچ کرتا ہے اس میں سے چھپا کر اور سب کے روبرو کہیں برابر ہوتے ہیں سب تعریف اللہ کو ہے پر بہت لوگ نہیں جانتے

۷۶.     اور بتائی اللہ نے ایک دوسری مثال دو مرد ہیں ایک گونگا  کچھ کام نہیں کر سکتا  اور وہ بھاری ہے اپنے صاحب پر جس طرف اس کو بھیجے نہ کر کے لائے کچھ بھلائی   کہیں برابر ہے وہ اور ایک وہ شخص جو حکم کرتا ہے انصاف سے اور ہے سیدھی راہ پر

۷۷.     ” اور اللہ ہی کے پاس ہیں بھید آسمانوں اور زمین کے  اور قیامت کا کام تو ایسا ہے جیسے لپک نگاہ کی یا اس سے بھی قریب  اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے “

۷۸.     اور اللہ نے تم کو نکالا تمہاری ماں کے پیٹ سے نہ جانتے تھے تم کسی چیز کو اور تم کو کان اور آنکھیں اور دل تاکہ تم احسان مانو

۷۹.      کیا نہیں دیکھے اڑتے جانور حکم کے باندھے ہوئے آسمان کی ہوا میں کوئی نہی تھام رہا ان کو سوائے اللہ کے  اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کو جو یقین لاتے ہیں

۸۰.      اور اللہ نے بنا دیے تم کو تمہارے گھر بسنے کی جگہ  اور بنا دیے تم کو چوپاؤں کی کھال سے ڈیرے جو ہلکے رہتے ہیں تم پر جس دن سفر میں ہو اور جس دن گھر میں  اور بھیڑوں کی اون سے اور اونٹوں کی ببریوں سے   اور بکریوں کے بالوں سے کتنے اسباب اور استعمال کی چیزیں وقت مقرر تک

۸۱.       اور اللہ نے بنا دیے تمہارے واسطے اپنی بنائی ہوئی چیزوں کے سائے  اور بنا دیں تمہارے واسطے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہیں  اور بنا دیے تم کو کرتے جو بچاؤ ہیں گرمی میں  اور کرتے جو بچاؤ ہیں لڑائی میں  اسی طرح پورا کرتا ہے اپنا احسان تم پر تاکہ تم حکم مانو

۸۲.      پھر اگر پھر جائیں تو تیرا کام تو یہی ہے کھول کر سنا دینا

۸۳.     پہچانتے ہیں اللہ کا احسان پھر منکر ہو جاتے ہیں اور بہت ان میں ناشکر ہیں

۸۴.     اور جس دن کھڑا کریں ہم ہر فرقہ میں ایک بتلانے والا پھر حکم نہ ملے منکروں کو اور نہ ان سے توبہ لی جائے

۸۵.     اور جب دیکھیں گے ظالم عذاب کو پھر ہلکا نہ ہو گا ان سے اور نہ ان کو ڈھیل ملے

۸۶.      اور جب دیکھیں مشرک اپنے شریکوں کو بولیں اے رب یہ ہمارے شریک ہیں جن کو ہم پکارتے تھے تیرے سوا  تب وہ ان پر ڈالیں گے بات کہ تم جھوٹے ہو

۸۷.     اور آ پڑیں اللہ کے آگے اس دن عاجز ہو کر اور بھول جائیں جو جھوٹ باندھتے تھے

۸۸.     جو لوگ منکر ہوئے ہیں اور روکتے ہیں اللہ کی راہ سے ان کو ہم بڑھا دیں گے عذاب پر عذاب بدلہ اس کا جو شرارت کرتے تھے

۸۹.      اور جس دن کھڑا کریں گے ہم ہر فرقہ میں ایک بتلانے والا ان پر انہی میں کا اور تجھ کو لائیں بتلانے کو ان لوگوں پر  اور اتاری ہم نے تجھ پر کتاب کھلا بیان ہر چیز کا  اور ہدایت اور رحمت اور خوشخبری حکم ماننے والوں کے لیے

۹۰.      اللہ حکم کرتا ہے انصاف کرنے کا اور بھلائی کرنے کا اور قرابت والوں کے دینے کا  اور منع کرتا ہے بے حیائی سے اور نامعقول کام سے اور سرکشی سے  تم کو سمجھاتا ہے تاکہ تم یاد رکھو

۹۱.       اور پورا کرو عہد اللہ کا جب آپس میں عہد کرو اور نہ توڑو قسموں کو پکا کرنے کے بعد اور تم نے کیا ہے اللہ کو اپنا ضامن اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو

۹۲.      اور مت رہو جیسے وہ عورت کہ توڑا اس نے اپنا سوت کاتا ہوا محنت کے بعد ٹکڑے ٹکڑے  کہ ٹھہراؤ اپنی قسموں کو دخل دینے کا بہانہ ایک دوسرے میں اس واسطے کہ ایک فرقہ ہو چڑھا ہوا دوسرے سے  یہ تو اللہ پرکھتا ہے تم کو اس سے   اور آئندہ کھول دے گا اللہ تم کو قیامت کے دن جس بات میں تم جھگڑ رہے تھے

۹۳.      اور اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی فرقہ کر دیتا لیکن راہ بھلاتا ہے جس کو چاہے اور سجھاتا ہے جس کو چاہے  اور تم سے پوچھ ہو گی جو کام تم کرتے تھے

۹۴.      اور نہ ٹھہراؤ اپنی قسموں کو دھوکا آپس میں کہ ڈگ نہ جائے کسی کا پاؤں جمنے کے پیچھے اور تم چکھو سزا اس بات پر کہ تم نے روکا اللہ کی راہ سے اور تم کو بڑا عذاب ہو

۹۵.      اور نہ لو اللہ کے عہد پر مول تھوڑا سا بے شک جو اللہ کے یہاں ہے وہی بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم جانتے ہو

۹۶.      جو تمہارے پاس ہے ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے کبھی ختم نہ ہو گا  اور ہم بدلے میں دیں گے صبر کرنے والوں کو ان کا حق اچھے کاموں پر جو کرتے تھے

۹۷.      جس نے کیا نیک کام مرد ہو یا عورت ہو اور وہ ایمان پر ہے تو اس کو ہم زندگی دیں گے ایک اچھی زندگی  اور بدلے میں دیں گے ان کو حق ان کا بہتر کاموں پر جو کرتے تھے

۹۸.      سو جب تو پڑھنے لگے قرآن تو پناہ لے اللہ کی شیطان مردود سے

۹۹.       اس کا زور نہیں چلتا پر جو ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں

۱۰۰.     اس کا زور تو انہی پر ہے جو اس کو رفیق سمجھتے ہیں اور جو اس کو شریک مانتے ہیں

۱۰۱.     اور جب ہم بدلتے ہیں ایک آیت کی جگہ دوسری آیت اور اللہ خوب جانتا ہے جو اتارتا ہے تو کہتے ہیں تو تو بنا لاتا ہے یہ بات نہیں پر اکثروں کو ان میں خبر نہیں

۱۰۲.     تو کہہ اس کو اتارا ہے پاک فرشتے نے تیرے رب کی طرف سے بلاشبہ  تاکہ ثابت کرے ایمان والوں کو اور ہدایت اور خوشخبری مسلمانوں کے واسطے

۱۰۳.    اور ہم کو خوب معلوم ہے کہ وہ کہتے ہیں اس کو تو سکھلاتا ہے ایک آدمی  جس کی طرف تعریض کرتے ہیں اس کی زبان ہے عجمی اور یہ قرآن زبان عربی ہے صاف

۱۰۴.    وہ لوگ جن کو اللہ کی باتوں پر یقین نہیں ان کو اللہ راہ نہیں دیتا اور ان کے لیے عذاب دردناک ہے

۱۰۵.    جھوٹ تو وہ لوگ بناتے ہیں جن کو یقین نہیں اللہ کی باتوں پر اور وہی لوگ جھوٹے ہیں

۱۰۶.     جو کوئی منکر ہو اللہ سے یقین لانے کے پیچھے مگر وہ نہیں جس پر زبردستی کی گئی اور اس کا دل برقرار ہے ایمان پر  ولیکن جو کوئی دل کھول کر منکر ہوا سو ان پر غضب ہے اللہ کا اور ان کو بڑا عذاب ہے

۱۰۷.    یہ اس واسطے کہ انہوں نے عزیز رکھا دنیا کی زندگی کو آخرت سے اور اللہ راستہ نہیں دیتا منکر لوگوں کو

۱۰۸.    یہ وہی ہیں کہ مہر کر دی اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر اور یہی ہیں بے ہوش

۱۰۹.     خود ظاہر ہے کہ آخرت میں یہی لوگ خراب ہیں

۱۱۰.     پھر بات یہ ہے کہ تیرا رب ان لوگوں پر کہ انہوں نے وطن چھوڑا ہے بعد اس کے کہ مصیبت اٹھائی پھر جہاد کرتے رہے اور قائم رہے بے شک تیرا رب ان باتوں کے بعد بخشنے والا مہربان ہے

۱۱۱.      جس دن آئے گا ہر جی جواب سوال کرتا اپنی طرف سے  اور پورا ملے گا ہر کسی کو جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہ ہو گا

۱۱۲.     اور بتلائی اللہ نے ایک مثال ایک بستی تھی چین امن سے   چلی آتی تھی اس کو روزی فراغت کی ہر جگہ سے  پھر ناشکری کی اللہ کے احسانوں کی پھر چکھایا اس کو اللہ نے مزہ کہ ان کے تن کے کپڑے ہو گئے بھوک اور ڈر بدلہ اس کا جو وہ کرتے تھے

۱۱۳.     اور ان کے پاس پہنچ چکا رسول انہی میں کا پھر اس کو جھٹلایا پھر آ پکڑا ان کو عذاب نے اور وہ گناہ گار تھے

۱۱۴.     سو کھاؤ جو روزی دی تم کو اللہ نے حلال اور پاک اور شکر کرو اللہ کے احسان کا اگر تم اسی کو پوجتے ہو

۱۱۵.     اللہ نے یہی حرام کیا ہے تم پر مردار اور لہو اور سور کا گوشت اور جس پر نام پکارا اللہ کے سوا کسی اور کا پھر جو کوئی ناچار ہو جائے نہ زور کرتا ہو نہ زیادتی تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے

۱۱۶.     اور مت کہو اپنی زبانوں کے جھوٹ بنا لینے سے کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر بہتان باندھو  بے شک جو بہتان باندھتے ہیں اللہ پر ان کا بھلا نہ ہو گا

۱۱۷.     تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں اور ان کے واسطے عذاب دردناک ہے

۱۱۸.     اور جو لوگ یہودی ہیں ان پر ہم نے حرام کیا تھا جو تجھ کو پہلے سنا چکے اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا پر وہ اپنے اوپر آپ ظلم کرتے تھے

۱۱۹.      پھر بات یہ ہے کہ تیرا رب ان لوگوں پر جنہوں نے برائی کی نادانی سے  پھر توبہ کی اس کے پیچھے اور سنوارا اپنے کام کو سو تیرا رب ان باتوں کے پیچھے بخشنے والا مہربان ہے

۱۲۰.     اصل میں تو ابراہیم تھا راہ ڈالنے والا فرمانبردار اللہ کا سب سے ایک طرف ہو کر اور نہ تھا شرک والوں میں

۱۲۱.     حق ماننے والا اس کے احسانوں کا  اس کو اللہ نے چن لیا اور چلایا سیدھی راہ پر

۱۲۲.     اور دی ہم نے دنیا میں اس کو خوبی  اور وہ آخرت میں اچھے لوگوں میں ہے

۱۲۳.    پھر حکم بھیجا ہم نے تجھ کو کہ چل دین ابراہیم پر جو ایک طرف کا تھا نہ تھا وہ شرک والوں میں

۱۲۴.    ہفتہ کا دن جو مقرر کیا سو انہی پر جو اس میں اختلاف کرتے تھے اور تیرا رب حکم کرے گا ان میں قیامت کے دن جس بات میں اختلاف کرتے تھے

۱۲۵.    بلا اپنے رب کی راہ پر پکی باتیں سمجھا کر اور نصیحت سنا کر بھلی طرح اور الزام دے ان کو جس طرح بہتر ہو   تیرا رب ہی بہتر جانتا ہے ان کو جو بھول گیا اس کی راہ اور وہی بہتر جانتا ہے ان کو جو راہ پر ہیں

۱۲۶.     اور اگر بدلہ لو تو بدلہ لو اس قدر جس قدر کہ تم کو تکلیف پہنچائی جائے اور اگر صبر کرو تو یہ بہتر ہے صبر والوں کو

۱۲۷.    اور تو صبر کر اور تجھ سے صبر ہو سکے اللہ ہی کی مدد سے اور ان پر غم نہ کھا اور تنگ مت ہو ان کے فریب سے

۱۲۸.    اللہ ساتھ ہے ان کے جو پرہیزگار ہیں اور جو نیکی کرتے ہیں

 

سورۃ الإسراء

شروع اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.         پاک ذات ہے  جو لے گیا اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک  جس کو گھیر رکھا ہے ہماری برکت نے تاکہ دکھلائیں اس کو کچھ اپنی قدرت کے نمونے  وہی ہے سننے والا دیکھنے والا

۲.        اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور کیا اس کو ہدایت بنی اسرائیل کے واسطے  کہ نہ ٹھہراؤ میرے سوا کسی کو کار ساز

۳.        تم جو اولاد ہو ان لوگوں کی جن کو چڑھایا ہم نے نوح کے ساتھ بے شک وہ تھا بندہ حق ماننے والا

۴.        اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں کہ تم خرابی کرو گے ملک میں دو بار اور سرکشی کرو گے بڑی سرکشی

۵.        پھر جب آیا پہلا وعدہ بھیجے ہم نے تم پر اپنے بندے  سخت لڑائی والے پھر پھیل پڑے شہروں کے بیچ اور وہ وعدہ ہونا ہی تھا

۶.        پھر ہم نے پھیر دی تمہاری باری  ان پر اور قوت دی تم کو مال سے اور بیٹوں سے اور اس سے زیادہ کر دیا تمہارا لشکر

۷.        اگر بھلائی کی تم نے تو بھلا کیا اپنا اور اگر برائی کی تو اپنے لیے  پھر جب پہنچا وعدہ دوسرا بھیجے اور بندے کہ اداس کر دیں تمہارے منہ اور گھس جائیں مسجد میں جیسے گھس گئے تھے پہلی بار اور خراب کر دیں جس جگہ غالب ہوں پوری خرابی

۸.        بعید نہیں تمہارے رب سے کہ رحم کرے تم پر اور اگر پھر وہی کرو گے تو ہم پھر وہی کریں گے اور کیا ہے ہم نے دوزخ کو کافروں کا قید خانہ

۹.         یہ قرآن بتلاتا ہے وہ راہ جو سب سے سیدھی ہے اور خوشخبری سناتا ہے ایمان والوں کو جو عمل کرتے ہیں اچھے کہ ان کے لیے ہے ثواب بڑا

۱۰.       اور یہ کہ جو نہیں مانتے آخرت کو ان کے لیے تیار کیا ہے ہم نے عذاب دردناک

۱۱.        اور مانگتا ہے آدمی برائی جیسے مانگتا ہے بھلائی اور ہے انسان جلد باز

۱۲.       اور ہم نے بنائے رات اور دن دو نمونے   پھر مٹا دیا رات کا نمونہ  اور بنا دیا دن کا نمونہ دیکھنے کو تاکہ تلاش کرو فضل اپنے رب کا  اور تاکہ معلوم کرو گنتی برسوں کی اور حساب  اور سب چیز سنائی ہم نے کھول کر

۱۳.       اور جو آدمی ہے لگا دی ہے ہم نے اس کی بری قسمت اس کی گردن سے اور نکال دکھائیں گے اس کو قیامت کے دن ایک کتاب کہ دیکھے گا اس کو کھلی ہوئی

۱۴.       پڑھ لے کتاب اپنی تو ہی بس ہے آج کے دن اپنا حساب لینے والا

۱۵.       جو کوئی راہ پر آیا تو آیا اپنے ہی بھلے کو اور جو کوئی بہکا رہا تو بہکا رہا اپنے ہی برے کو اور کسی پر نہیں پڑتا بوجھ دوسرے کا  اور ہم نہیں ڈالتے بلا جب تک نہ بھیجیں کوئی رسول

۱۶.       اور جب ہم نے چاہا کہ غارت کریں کسی بستی کو حکم بھیج دیا اس کے عیش کرنے والوں کو پھر انہوں نے نافرمانی کی اس میں تب ثابت ہو گئی ان پر بات پھر اکھاڑ مارا ہم نے ان کو اٹھا کر

۱۷.      اور بہت غارت کر دیے ہم نے قرن نوح کے پیچھے  اور کافی ہے تیرا رب اپنے بندوں کے گناہ جاننے والا دیکھنے والا

۱۸.       جو کوئی چاہتا ہو پہلا گھر جلد دے دیں ہم اس کو اسی میں جتنا چاہیں جس کو چاہیں پھر ٹھہرایا ہے ہم نے اس کے واسطے دوزخ داخل ہو گا اس میں اپنی برائی سن کر دھکیلا جا کر

۱۹.       اور جس نے چاہا پچھلا گھر اور دوڑ کی اس کے واسطے جو اس کی دوڑ ہے اور وہ یقین پر ہے سو ایسوں کی دوڑ ٹھکانے لگی ہے

۲۰.      ہر ایک کو ہم پہنچائے جاتے ہیں ان کو تیرے رب کی بخشش میں سے اور تیرے رب کی بخشش کسی نے نہیں روک لی

۲۱.       دیکھ کیسا بڑھا دیا ہم نے ایک کو ایک سے اور پچھلے گھر میں تو اور بڑے درجے ہیں اور بڑی فضیلت

۲۲.      مت ٹھہرا اللہ کے ساتھ دوسرا حاکم پھر بیٹھ رہے گا تو الزام کھا کر بے کس ہو کر

۲۳.      اور حکم کر چکا تیرا رب کہ نہ پوجو اس کے سوائے اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو  اگر پہنچ جائے تیرے سامنے بڑھاپے کو ایک ان میں یا دونوں تو نہ کہہ ان کو ہوں اور نہ جھڑک ان کو اور کہہ ان سے بات ادب کی

۲۴.      اور جھکا دے ان کے آگے کندھے عاجزی کر نیاز مندی سے اور کہہ اے رب ان پر رحم کر جیسا پالا انہوں نے مجھ کو چھوٹا سا

۲۵.      تمہارا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے جی میں ہے اگر تم نیک ہو گے تو وہ رجوع کرنے والوں کو بخشتا ہے

۲۶.      اور دے قرابت والے کو اس کا حق اور محتاج کو اور مسافر کو اور مت اڑا بے جا

۲۷.     بے شک اڑانے والے بھائی ہیں شیطانوں کے اور شیطان ہے اپنے رب کا ناشکرا

۲۸.      اور اگر کبھی تغافل کرے تو ان کی طرف سے انتظار میں اپنے رب کی مہربانی کے جس کی تجھ کو توقع ہے تو کہہ دے ان کو بات نرمی کی

۲۹.      اور نہ رکھ اپنا ہاتھ بندھا ہوا اپنی گردن کے ساتھ اور نہ کھول دے اس کو بالکل کھول دینا پھر تو بیٹھ رہے الزام کھایا ہارا ہوا

۳۰.      تیرا رب کھول دیتا ہے روزی جس کے واسطے چاہے اور تنگ بھی وہی کرتا ہے  وہی ہے اپنے بندوں کو جاننے والا دیکھنے والا

۳۱.       اور نہ مار ڈالو اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے ہم روزی دیتے ہیں ان کو اور تم کو   بے شک ان کا مارنا بڑی خطا ہے

۳۲.      اور پاس نہ جاؤ زنا کے  وہ ہے بے حیائی اور بری راہ ہے

۳۳.     اور نہ مارو اس جان کو جس کو منع کر دیا ہے اللہ نے مگر حق پر  اور جو مارا گیا ظلم سے تو دیا ہم نے اس کے وارث کو زور سو حد سے نہ نکل جائے قتل کرنے میں  اس کو مدد ملتی ہے

۳۴.     اور پاس نہ جاؤ یتیم کے مال کے مگر جس طرح کہ بہتر ہو جب تک کہ وہ پہنچے اپنی جوانی کو  اور پورا کرو عہد کو بے شک عہد کی پوچھ ہو گی

۳۵.     اور پورا بھر دو ناپ جب ناپ کر دینے لگو اور تو لو سیدھی ترازو سے  یہ بہتر ہے اور اچھا ہے اس کا انجام

۳۶.      اور نہ پیچھے پڑ جس بات کی خبر نہیں تجھ کو بے شک کان اور آنکھ اور دل ان سب کی اس سے پوچھ ہو گی

۳۷.     اور مت چل زمین پر اتراتا ہوا تو پھاڑ نہ ڈالے گا زمین کو اور نہ پہنچے گا پہاڑوں تک لمبا ہو کر

۳۸.     یہ جتنی باتیں ہیں ان سب میں بری چیز ہے تیرے رب کی بیزاری

۳۹.      یہ ہے ان باتوں میں سے جو وحی بھیجی تیرے رب نے تری طرف عقل کے کاموں سے  اور نہ ٹھہرا اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی پھر پڑے تو دوزخ میں الزام کھا کر دھکیلا جا کر

۴۰.      کیا تم کو چن کر دے دیے تمہارے رب نے بیٹے اور اپنے لیے کر لیا فرشتوں کو بیٹیاں تم کہتے ہو بھاری بات

۴۱.       اور پھیر پھیر کر سمجھایا ہم نے اس قرآن میں تاکہ وہ سوچیں اور ان کو زیادہ ہوتا ہے وہی بد کنا

۴۲.      کہہ اگر ہوتے اس کے ساتھ اور حاکم جیسا یہ بتلاتے ہیں  تو نکالتے صاحب عرش کی طرف راہ

۴۳.     وہ پاک ہے اور برتر ہے ان کی باتوں سے بے نہایت

۴۴.     اس کی پاکی بیان کرتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے اور کوئی چیز نہیں جو نہیں پڑھتی خوبیاں اس کی لیکن تم نہیں سمجھتے ان کا پڑھنا  بے شک وہ ہے تحمل والا بخشنے والا

۴۵.     اور جب تو پڑھتا ہے قرآن کر دیتے ہیں ہم بیچ میں تیرے اور ان لوگوں کے جو نہیں مانتے آخرت کو ایک پردہ چھپا ہوا

۴۶.      اور ہم رکھتے ہیں ان کے دلوں پر پردہ کہ اس کو نہ سمجھیں  اور ان کے کانوں میں بوجھ   اور جب ذکر کرتا ہے تو قرآن میں اپنے رب کا اکیلا کر کے بھاگتے ہیں اپنی پیٹھ پر بدک کر

۴۷.     ہم خوب جانتے ہیں جس واسطے وہ سنتے ہیں  جس وقت کان رکھتے ہیں تیری طرف اور جب وہ مشاورت کرتے ہیں جب کہ کہتے ہیں یہ بے انصاف جس کے کہے پر تم چلتے ہو وہ نہیں ہے مگر ایک مرد جادو کا مارا

۴۸.     دیکھ لے کیسے جماتے ہیں تجھ پر مثلیں اور بہکتے پھرتے ہیں سو راہ نہیں پا سکتے

۴۹.      اور کہتے ہیں کیا جب ہم ہو جائیں ہڈیاں اور چورا چورا پھر اٹھیں گے نئے بن کر

۵۰.      تو کہہ تم ہو جاؤ پتھر یا لوہا

۵۱.       یا کوئی خلقت جس کو مشکل سمجھو اپنے جی میں  پھر اب کہیں گے کون لوٹا کر لائے گا ہم کو کہہ جس نے پیدا کیا تم کو پہلی بار  پھر اب مٹکائیں گے تیری طرف اپنے سر اور کہیں گے کب ہو گا یہ تو کہہ شاید نزدیک ہی ہو گا

۵۲.      جس دن تم کو پکارے گا پھر چلے آؤ گے اس کی تعریف کرتے ہوئے  اور اٹکل کرو گے کہ دیر نہیں لگی تم کو مگر تھوڑی

۵۳.     اور کہہ دے میرے بندوں کو کہ بات وہی کہیں جو بہتر ہو شیطان جھڑپ کرواتا ہے ان میں شیطان ہے انسان کا دشمن صریح

۵۴.     تمہارا رب خوب جانتا ہے تم کو اگر چاہے تم پر رحم کرے اور اگر چاہے تم کو عذاب دے   اور تجھ کو نہیں بھیجا ہم نے ان پر ذمہ لینے والا

۵۵.     اور تیرا رب خوب جانتا ہے ان کو جو آسمانوں میں ہیں اور زمین میں اور ہم نے افضل کیا ہے بعضے پیغمبروں کو بعضوں سے اور دی ہم نے داؤد کو زبور

۵۶.      کہہ پکارو جن کو تم سمجھتے ہو سوائے اس کے سو وہ اختیار نہیں رکھتے کہ کھول دیں تکلیف کو تم سے اور نہ بدل دیں

۵۷.     وہ لوگ جن کو یہ پکارتے ہیں وہ خود ڈھونڈھتے ہیں اپنے رب تک وسیلہ کہ کونسا بندہ بہت نزدیک ہے اور امید رکھتے ہیں اس کی مہربانی کی اور ڈرتے ہیں اس کے عذاب سے بے شک تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے

۵۸.     اور کوئی بستی نہیں جس کو ہم خراب نہ کر دیں گے قیامت سے پہلے یا آفت ڈالیں گے اس پر سخت آفت  یہ ہے کتاب میں لکھا گیا ،

۵۹.      اور ہم نے اس لیے موقوف کیں نشانیاں بھیجنی کہ اگلوں نے ان کو جھٹلایا اور ہم نے دی ثمود کو اونٹنی ان کے سمجھانے کو پھر ظلم کیا اس پر اور نشانیاں جو ہم بھیجتے ہیں سو ڈرانے کو

۶۰.      اور جب کہہ دیا ہم نے تجھ سے کہ تیرے رب نے گھیر لیا ہے لوگوں کو  اور وہ دکھلاوا جو تجھ کو دکھلایا ہم نے سو جانچنے کو لوگوں کے  اور ایسے ہی وہ درخت جس پر پھٹکار ہے قرآن میں   اور ہم ان کو ڈراتے ہیں تو ان کو زیادہ ہوتی ہے بڑی شرارت

۶۱.       اور جب ہم نے کہا فرشتوں کو سجدہ کرو آدم کو تو سجدہ میں گر پڑے مگر ابلیس بولا کیا میں سجدہ کروں ایک شخص کو جس کو تو نے بنایا مٹی کا

۶۲.      کہنے لگا بھلا دیکھ تو یہ شخص جس کو تو نے مجھ سے بڑھا دیا اگر تو مجھ کو ڈھیل دیوے قیامت کے دن تک تو میں اس کی اولاد کو ڈھانٹی دے لوں مگر تھوڑے سے

۶۳.      فرمایا جا پھر جو کوئی تیرے ساتھ ہوا ان میں سے سو دوزخ ہے تم سب کی سزا بدلہ پورا

۶۴.      اور گھبرا لے ان میں جس کو تو گھبرا سکے اپنی آواز سے  اور لے آ ان پر اپنے سوار اور پیادے  اور ساجھا کر ان سے مال اور اولاد میں  اور وعدے دے ان کو اور کچھ نہیں وعدہ دیتا ان کو شیطان مگر دغا بازی

۶۵.      وہ جو میرے بندے ہیں ان پر نہیں تیری حکومت اور تیرا رب کافی ہے کام بنانے والا

۶۶.      تمہارا رب وہ ہے جو چلاتا ہے تمہارے واسطے کشتی دریا میں  تاکہ تلاش کرو اس کا فضل  وہی ہے تم پر مہربان

۶۷.     اور جب آتی ہے تم پر آفت دریا میں بھول جاتے ہو جن کو پکارا کرتے تھے اللہ کے سوائے پھر جب بچا لایا تم کو خشکی میں پھر جاتے ہو اور ہے انسان بڑا نا شکرا

۶۸.      سو کیا تم بے ڈر ہو گئے اس سے کہ دھنسا دے تم کو جنگل کے کنارے یا بھیج دے تم پر آندھی پتھر برسانے والی پھر نہ پاؤ اپنا کوئی نگہبان

۶۹.      یا بے ڈر ہو گئے ہو اس سے کہ پھر لے جائے تم کو دریا میں دوسری بار پھر بھیجے تم پر ایک سخت جھونکا ہوا کا پھر ڈبا دے تم کو بدلے میں اس ناشکری کے پھر نہ پاؤ اپنی طرف سے ہم پر اس کا کوئی باز پرس کرنے والا

۷۰.     اور ہم نے عزت دی ہے آدم کی اولاد کو اور سواری دی ان کو جنگل اور دریا میں اور روزی دی ہم نے ان کو ستھری چیزوں سے اور بڑھا دیا ان کو بہتوں سے جن کو پیدا کیا ہم نے بڑائی دے کر

۷۱.      جس دن ہم بلائیں گے ہر فرقہ کو ان کے سرداروں کے ساتھ سو جس کو ملا اس کا اعمالنامہ اس کے داہنے ہاتھ میں سو وہ لوگ پڑھیں گے اپنا لکھا  اور ظلم نہ ہو گا ان پر ایک تاگے کا

۷۲.     اور جو کوئی رہا اس جہان میں اندھا سو وہ پچھلے جہان میں بھی اندھا ہے اور بہت دور پڑا ہوا راہ سے

۷۳.     اور وہ لوگ چاہتے تھے کہ تجھ کو بچلا دیں اس چیز سے کہ جو وحی بھیجی ہم نے تیری طرف تاکہ جھوٹ بنا لائے تو ہم پر وحی کے سوا اور تب تو بنا لیتے تجھ کو دوست

۷۴.     اور اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم نے تجھ کو سنبھالے رکھا تو تو لگ جاتا جھکنے ان کی طرف تھوڑا سا

۷۵.     تب تو ضرور چکھاتے ہم تجھ کو دونا مزہ زندگی میں اور دونا مرنے میں پھر نہ پاتا تو اپنے واسطے ہم پر مدد کرنے والا

۷۶.     اور وہ تو چاہتے تھے کہ گھبرا دیں تجھ کو اس زمین سے تاکہ نکال دیں تجھ کو یہاں سے اور اس وقت نہ ٹھہریں گے وہ بھی تیرے پیچھے مگر تھوڑا

۷۷.     دستور چلا آتا ہے ان رسولوں کا جو تجھ سے پہلے بھیجے ہم نے اپنے پیغمبر اور نہ پائے گا تو ہمارے دستور میں تفاوت

۷۸.     قائم رکھ نماز کو   سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک  اور قرآن پڑھنا فجر کا  بے شک قرآن پڑھنا فجر کا ہوتا ہے روبرو

۷۹.      اور کچھ رات جاگتا رہ قرآن کے ساتھ یہ زیادتی ہے تیرے لیے  قریب ہے کہ کھڑا کر دے تجھ کو تیرا رب مقام محمود میں

۸۰.      اور کہہ اے رب داخل کر مجھ کو سچا داخل کرنا اور نکال مجھ کو سچا نکالنا  اور عطا کر دے مجھ کو اپنے پاس سے حکومت کی مدد

۸۱.       اور کہہ آیا سچ اور نکل بھاگا جھوٹ بے شک جھوٹ ہے نکل بھاگنے والا

۸۲.      اور ہم اتارتے ہیں قرآن میں سے جس سے روگ دفع ہوں اور رحمت ایمان والوں کے واسطے اور گناہ گاروں کو تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے

۸۳.     اور جب ہم آرام بھیجیں انسان پر تو ٹال جائے اور بچائے اپنا پہلو اور جب پہنچے اس کو برائی تو رہ جائے مایوس ہو کر

۸۴.     تو کہہ ہر ایک کام کرتا ہے اپنے ڈھنگ پر سو تیرا رب خوب جانتا ہے کس نے خوب پا لیا ہے راستہ

۸۵.     اور تجھ سے پوچھتے ہیں روح کو  کہہ دے روح ہے میرے رب کے حکم سے اور تم کو علم دیا ہے تھوڑا سا ،،

۸۶.      اور اگر ہم چاہیں تو لے جائیں اس چیز کو جو ہم نے تجھ کو وحی بھیجی پھر تو نہ پائے اپنے واسطے اس کے لا دینے کو ہم پر کوئی ذمہ دار

۸۷.     مگر مہربانی سے تیرے رب کی اس کی بخشش تجھ پر بڑی ہے

۸۸.     کہہ اگر جمع ہوں آدمی اور جن اس پر کہ لائیں ایسا قرآن ہرگز نہ لائیں گے ایسا قرآن اور پڑے مدد کیا کریں ایک دوسرے کی

۸۹.      اور ہم نے پھیر پھیر کر سمجھائی لوگوں کو اس قرآن میں ہر مثل سو نہیں رہتے بہت لوگ بن ناشکری کئے

۹۰.      اور بولے ہم نہ مانیں گے تیرا کہا جب تک تو نہ جاری کر دے ہمارے واسطے زمین میں ایک چشمہ

۹۱.       یا ہو جائے تیرے واسطے ایک باغ کھجور اور انگور کا پھر بہائے تو اس کے بیچ نہریں چلا کر

۹۲.      یا گرا دے آسمان ہم پر جیسا کہ تو کہا کرتا ہے ٹکڑے ٹکڑے  یا لے آ اللہ کو اور فرشتوں کو سامنے

۹۳.      یا ہو جائے تیرے لئے ایک گھر سنہرا  یا چڑھ جائے تو آسمان میں اور ہم نہ مانیں گے تیرے چڑھ جانے کو جب تک نہ اتار لائے ہم پر ایک کتاب جس کو ہم پڑھ لیں تو کہہ سبحان اللہ میں کون ہوں مگر ایک آدمی ہوں بھیجا ہوا

۹۴.      اور لوگوں کو روکا نہیں ایمان لانے سے جب پہنچی ان کو ہدایت مگر اسی بات نے کہ کہنے لگے کیا اللہ نے بھیجا آدمی کو پیغام دے کر

۹۵.      کہہ اگر ہوتے زمین میں فرشتے پھرتے بستے تو ہم اتارتے ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ پیغام دے کر

۹۶.      کہہ اللہ کافی ہے حق ثابت کرنے والا میرے اور تمہارے بیچ میں وہ ہے اپنے بندوں سے خبردار دیکھنے والا

۹۷.      اور جس کو راہ دکھلائے اللہ وہی ہے راہ پانے والا اور جس کو بھٹکائے پھر تو نہ پائے ان کے واسطے کوئی رفیق اللہ کے سوا  اور اٹھائیں گے ہم ان کو دن قیامت کے چلیں گے منہ کے بل اندھے اور گونگے اور بہرے  ٹھکانا ان کا دوزخ ہے جب لگے گی بجھنے اور بھڑکا دیں گے ان پر

۹۸.      یہ ان کی سزا ہے اس واسطے کہ منکر ہوئے ہماری آیتوں سے اور بولے کیا جب ہم ہو گئے ہڈیاں اور چورا چورا کیا ہم کو اٹھائیں گے نئے بنا کر

۹۹.       کیا نہیں دیکھ چکے کہ جس اللہ نے بنائے آسمان اور زمین وہ بنا سکتا ہے ایسوں کو اور مقرر کیا ہے ان کے واسطے ایک وقت بے شبہ  سو نہیں رہا جاتا بے انصافوں سے بن ناشکری کئے

۱۰۰.     اگر تمہارے ہاتھ میں ہوتے میرے رب کی رحمت کے خزانے تو ضرور بند کر رکھتے اس ڈر سے کہ خرچ نہ ہو جائیں اور ہے انسان دل کا تنگ

۱۰۱.     اور ہم نے دیں موسیٰ کو نو نشانیاں صاف پھر پوچھ بنی اسرائیل سے جب آیا وہ ان کے پاس   تو کہا اس کو فرعون نے میری اٹکل میں تو موسیٰ تجھ پر جادو ہوا

۱۰۲.     بولا تو جان چکا ہے کہ یہ چیزیں کسی نے نہیں اتاریں مگر آسمان اور زمین کے مالک نے سجھانے کو اور میری اٹکل میں فرعون تو غارت ہوا چاہتا ہے

۱۰۳.    پھر چاہا کہ بنی اسرائیل کو چین نہ دے اس زمین میں پھر ڈبا دیا ہم نے اس کو اور اس کے ساتھ والوں کو سب کو

۱۰۴.    اور کہا ہم نے اس کے پیچھے بنی اسرائیل کو آباد رہو تم زمین میں پھر جب آئے گا وعدہ آخرت کا لے آئیں گے ہم تم کو سمیٹ کر

۱۰۵.    اور سچ کے ساتھ اتارا ہم نے قرآن اور سچ کے ساتھ اترا  اور تجھ کو جو بھیجا ہم نے سو خوشی اور ڈر سنانے کو

۱۰۶.     اور پڑھنے کا وظیفہ کیا ہم نے قرآن کو جدا جدا کر کے پڑھے تو اس کو لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر اور اس کو ہم نے اتارتے اتارتے اتارا

۱۰۷.    کہہ تم اس کو مانو یا نہ مانو جن کو علم ملا ہے اس کے پہلے سے جب ان کے پاس اس کو پڑھیے گرتے ہیں ٹھوڑیوں پر سجدہ میں

۱۰۸.    اور کہتے ہیں پاک ہے ہمارا رب بے شک ہمارے رب کا وعدہ ہو کر رہے گا

۱۰۹.     اور گرتے ہیں ٹھوڑیوں پر روتے ہوئے اور زیادہ ہوتی ہے ان کو عاجزی

۱۱۰.     کہہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر جو کہ کہہ کر پکارو گے سو اسی کے ہیں سب نام خاصے   اور پکار کر مت پڑھ اپنی نماز اور نہ چپکے پڑھ اور ڈھونڈ لے اس کے بیچ میں راہ

۱۱۱.      اور کہہ سب تعریفیں اللہ کو جو نہیں رکھتا اولاد اور نہ کوئی اس کا ساجھی سلطنت میں اور نہ کوئی اس کا مددگار ذلت کے وقت پر اور اس کی بڑائی کر بڑا جان کر

 

سورۃ الکہف

شروع اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.         سب تعریف اللہ کو جس نے اتاری اپنے بندہ پر کتاب اور نہ رکھی اس میں کچھ کجی

۲.        ٹھیک اتاری تاکہ ڈر سناوے ایک سخت آفت کا اللہ کی طرف سے  اور خوشخبری دے ایمان لانے والوں کو جو کرتے ہیں نیکیاں کہ ان کے لیے اچھا بدلہ ہے

۳.        جس میں رہا کریں ہمیشہ

۴.        اور ڈر سناوے ان کو جو کہتے ہیں اللہ رکھتا ہے اولاد

۵.        کچھ خبر نہیں ان کو اس بات کی اور نہ ان کے باپ دادوں کو کیا بڑی بات نکلتی ہے ان کے منہ سے سب جھوٹ ہے جو کہتے ہیں

۶.        سو کہیں تو گھونٹ ڈالے گا اپنی جان کو ان کے پیچھے اگر وہ نہ مانیں گے اس بات کو پچھتا پچھتا کر

۷.        ہم نے بنایا ہے جو کچھ زمین پر ہے اس کی رونق تاکہ جانچیں لوگوں کو کون ان میں اچھا کرتا ہے کام

۸.        اور ہم کو کرنا ہے جو کچھ اس پر ہے میدان چھانٹ کر

۹.         کیا تو خیال کرتا ہے کہ غار اور کھوہ کے رہنے والے ہماری قدرتوں میں عجب اچنبھا تھے

۱۰.       جب جا بیٹھے وہ جوان پہاڑ کی کھوہ میں پھر بولے اے رب دے ہم کو اپنے پاس سے بخشش اور پوری کر دے ہمارے کام کی درستی

۱۱.        پھر تھپک دیے ہم نے ان کے کان اس کھوہ میں چند برس گنتی کے

۱۲.       پھر ہم نے ان کو اٹھایا کہ معلوم کریں دو فرقوں میں کس نے یاد رکھی ہے جتنی مدت وہ رہے

۱۳.       ہم سنا دیں تجھ کو ان کا حال تحقیقی وہ کئی جوان ہیں کہ یقین لائے اپنے رب پر اور زیادہ دی ہم نے ان کو سوجھ

۱۴.       اور گرہ دی ان کے دل پر  جب کھڑے ہوئے پھر بولے ہمارا رب ہے رب آسمان اور زمین کا نہ پکاریں گے ہم اس کے سوا کسی کو معبود نہیں تو کہی ہم نے بات عقل سے دور

۱۵.       یہ ہماری قوم ہے ٹھہرا لیے انہوں نے اللہ کے اور معبود کیوں نہیں لاتے ان پر کوئی سند کھلی پھر اس سے بڑا گناہ گار کون جس نے باندھا اللہ پر جھوٹ

۱۶.       اور جب تم نے کنارہ کر لیا ان سے اور جن کو وہ پوجتے ہیں اللہ کے سوائے تو اب جا بیٹھو اس کھوہ میں پھیلا دے تم پر رب تمہارا کچھ اپنی رحمت سے اور بنا دیوے تمہارے واسطے تمہارے کام میں آرام

۱۷.      اور تو دیکھے دھوپ جب نکلتی ہے بچ کر جاتی ہے ان کی کھوہ سے داہنے کو اور جب ڈوبتی ہے کترا جاتی ہے ان سے بائیں کو اور وہ میدان میں ہیں اس کے یہ ہے اللہ کی قدرتوں سے  جس کو راہ دیوے اللہ وہی آئے راہ پر اور جس کو وہ بچلائے پھر تو نہ پائے اس کا کوئی رفیق راہ پر لانے والا

۱۸.       اور تو سمجھے وہ جاگتے ہیں اور وہ سو رہے ہیں اور کروٹیں دلاتے ہیں ہم ان کو داہنے اور بائیں اور کتا ان کا پسار رہا ہے اپنی باہیں چوکھٹ پر اگر تو جھانک کر دیکھے ان کو تو پیٹھ دے کر بھاگے ان سے اور بھر جائے تجھ میں ان کی دہشت

۱۹.       اور اسی طرح ان کو جگا دیا ہم نے کہ آپس میں پوچھنے لگے ایک بولا ان میں کتنی دیر ٹھہرے تم بولے ہم ٹھہرے ایک دن یا ایک دن سے کم بولے تمہارا رب ہی خوب جانے جتنی دیر تم رہے ہو اب بھیجو اپنے میں سے ایک کو یہ روپیہ دے کر اپنا اس شہر میں پھر دیکھے کونسا کھانا ستھرا ہے سو لائے تمہارے پاس اس میں سے کھانا اور نرمی سے جائے اور جتا نہ دے تمہاری خبر کسی کو

۲۰.      وہ لوگ اگر خبر پا لیں تمہاری پتھروں سے مار ڈالیں تم کو یا لوٹا لیں تم کو اپنے دین میں اور تب تو بھلا نہ ہو گا تمہارا کبھی

۲۱.       اور اسی طرح خبر ظاہر کر دی ہم نے ان کی تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ ٹھیک ہے اور قیامت کے آنے میں دھوکہ نہیں جب جھگڑ رہے تھے آپس میں اپنی بات پر  پھر کہنے لگے بناؤ ان پر ایک عمارت ان کا رب خوب جانتا ہے ان کا حال بولے وہ لوگ جن کا کام غالب تھا ہم بنائیں گے ان کی جگہ پر عبادت خانہ

۲۲.      اب یہی کہیں گے وہ تین ہیں چوتھا ان کا کتا اور یہ بھی کہیں گے وہ پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا بدون نشانہ دیکھے پتھر چلانا  اور یہ بھی کہیں گے وہ سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتا تو کہہ میرا رب خوب جانتا ہے ان کی گنتی ان کی خبر نہیں رکھتے مگر تھوڑے لوگ سو مت جھگڑ ان کی بات میں مگر سرسری جھگڑا اور مت تحقیق کر ان کا حال ان میں کسی سے

۲۳.      اور نہ کہنا کسی کام کو کہ میں یہ کروں گا کل کو

۲۴.      مگر یہ کہ اللہ چاہے اور یاد کر لے اپنے رب کو جب بھول جائے اور کہہ امید ہے کہ میرا رب مجھ کو دکھلائے اس سے زیادہ نزدیک راہ نیکی کی

۲۵.      اور مدت گزر چکی ان پر اپنی کھوہ میں تین سو برس اور ان کے اوپر نو

۲۶.      تو کہہ اللہ خوب جانتا ہے جتنی مدت ان پر گزری اسی کے پاس ہیں چھپے بھید آسمانوں اور زمین کے کیا عجیب دیکھتا اور سنتا ہے   کوئی نہیں بندوں پر اس کے سوائے مختار اور نہیں شریک کرتا اپنے حکم میں کسی کو

۲۷.     اور پڑھ جو وحی ہوئی تجھ کو تیرے رب کی کتاب سے کوئی بدلنے والا نہیں اس کی باتیں اور کہیں نہ پائے گا تو اس کے سوائے چھپنے کو جگہ

۲۸.      اور روکے رکھ اپنے آپ کو ان کے ساتھ جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام طالب ہیں اس کے منہ کے  اور نہ دوڑیں تیری آنکھیں ان کو چھوڑ کر تلاش میں رونق زندگانی دنیا کی  اور نہ کہا مان اس کا جس کا دل غافل کیا ہم نے اپنی یاد سے اور پیچھے پڑا ہوا ہے اپنی خوشی کے اور اس کا کام ہے حد پر نہ رہنا

۲۹.      اور کہہ سچی بات ہے تمہارے رب کی طرف سے پھر جو کوئی چاہے مانے اور جو کوئی چاہے نہ مانے  ہم نے تیار کر رکھی ہے گناہ گاروں کے واسطے آگ کہ گھیر رہی ہیں ان کو اس کی قناتیں   اور اگر فریاد کریں گے تو ملے گا پانی جیسے پیپ بھون ڈالے منہ کو کیا برا پینا ہے اور کیا برا آرام

۳۰.      بے شک جو لوگ یقین لائے اور کیں نیکیاں ہم نہیں کھوتے بدلہ اس کا جس نے بھلا کیا کام

۳۱.       ایسوں کے واسطے باغ ہیں بسنے کے بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں پہنائے جائیں گے ان کو وہاں کنگن سونے کے  اور پہنیں گے کپڑے سبز باریک اور گاڑھے ریشم کے  تکیہ لگائے ہوئے ان میں تختوں پر کیا خوب بدلہ ہے اور کیا خوب آرام

۳۲.      اور بتلا ان کو مثل دو مردوں کی  کر دیے ہم نے ان میں سے ایک کے لیے دو باغ انگور کے اور گرد ان کے کھجوریں اور رکھی دونوں کے بیچ میں کھیتی

۳۳.     دونوں باغ لاتے ہیں اپنا میوہ اور نہیں گھٹاتے اس میں سے کچھ  اور بہا دی ہم نے ان دونوں کے بیچ نہر

۳۴.     اور ملا اس کو پھل  پھر بولا اپنے ساتھی سے جب باتیں کرنے لگا اس سے میرے پاس زیادہ ہے تجھ سے مال اور آبرو کے لوگ

۳۵.     اور گیا اپنے باغ میں اور وہ برا کر رہا تھا اپنی جان پر  بولا نہیں آتا مجھ کو خیال کہ خراب ہووے یہ باغ کبھی

۳۶.      اور نہیں خیال کرتا ہوں میں کہ قیامت ہونے والی ہے اور اگر کبھی پہنچا دیا گیا میں اپنے رب کے پاس پاؤں گا بہتر اس سے وہاں پہنچ کر

۳۷.     کہا اس کو دوسرے نے جب بات کرنے لگا کیا تو منکر ہو گیا اس سے جس نے پیدا کیا تجھ کو مٹی سے پھر قطرہ سے پھر پورا کر دیا تجھ کو مرد

۳۸.     پھر میں تو یہی کہتا ہوں وہی اللہ ہے میرا رب اور نہیں مانتا شریک اپنے رب کا کسی کو

۳۹.      اور جب تو آیا تھا اپنے باغ میں کیوں نہ کہا تو نے جو چاہے اللہ سو ہو طاقت نہیں مگر جو دے اللہ  اگر تو دیکھتا ہے مجھ کو کہ میں کم ہوں تجھ سے مال اور اولاد میں

۴۰.      تو امید ہے کہ میرا رب دیوے مجھ کو تیرے باغ سے بہتر  اور بھیج دے اس پر لو کا ایک جھونکا آسمان سے پھر صبح کو رہ جائے میدان صاف

۴۱.       یا صبح کو ہو رہے اس کا پانی خشک پھر نہ لا سکے تو اس کو ڈھونڈ کر

۴۲.      اور سمیٹ لیا گیا اس کا سارا پھل پھر صبح کو رہ گیا ہاتھ نچاتا  اس مال پر جو اس میں لگایا تھا اور وہ گرا پڑا تھا اپنی چھتریوں پر  اور کہنے لگا کیا خوب ہوتا اگر میں شریک نہ بناتا اپنے رب کا کسی کو

۴۳.     اور نہ ہوئی اس کی جماعت کہ مدد کریں اس کی اللہ کے سوائے اور نہ ہوا وہ کہ خود بدلہ لے سکے

۴۴.     یہاں سب اختیار ہے اللہ سچے کا اسی کا انعام بہتر ہے اور اچھا ہے اسی کا دیا ہوا بدلہ

۴۵.     اور بتلا دے ان کو مثل دنیا کی زندگی کے جیسے پانی اتارا ہم نے آسمان سے پھر رلا ملا نکلا اس کی وجہ سے زمین کا سبزہ پھر کل کو ہو گیا چورا چورا ہوا میں اڑتا ہوا  اور اللہ کو ہے ہر چیز پر قدرت

۴۶.      مال اور بیٹے رونق ہیں دنیا کی زندگی میں اور باقی رہنے والی نیکیوں کا بہتر ہے تیرے رب کے یہاں بدلہ اور بہتر ہے توقع

۴۷.     اور جس دن ہم چلائیں پہاڑ اور تو دیکھے زمین کو کھلی ہوئی  اور گھیر بلائیں ہم ان کو پھر نہ چھوڑیں ان میں سے ایک کو

۴۸.     اور سامنے آئیں تیرے رب کے صف باندھ کر آ پہنچے تم ہمارے پاس جیسا ہم نے بنایا تھا تم کو پہلی بار نہیں تم تو کہتے تھے کہ نہ مقرر کریں گے ہم تمہارے لیے کوئی وعدہ

۴۹.      اور رکھا جائے گا حساب کا کاغذ پھر تو دیکھے گناہ گاروں کو ڈرتے ہیں اس سے جو اس میں لکھا ہے  اور کہتے ہیں ہائے خرابی کیسا ہے یہ کاغذ نہیں چھوٹی اس سے چھوٹی بات اور نہ بڑی بات جو اس میں نہیں آ گئی اور پائیں گے جو کچھ کیا ہے سامنے  اور تیرا رب ظلم نہ کرے گا کسی پر

۵۰.      اور جب کہا ہم نے فرشتوں کو سجدہ کرو آدم کو تو سجدہ میں گر پڑے مگر ابلیس تھا جن کی قسم سے سو نکل بھاگا اپنے رب کے حکم سے سو کیا اب تم ٹھہراتے ہو اس کو اور اس کی اولاد کو رفیق میرے سوا اور وہ تمہارے دشمن ہیں برا ہاتھ لگا بے انصافوں کے بدلہ

۵۱.       دکھلا نہیں لیا تھا میں نے ان کو بنانا آسمانوں اور زمین کا اور نہ بنانا خود ان کا اور میں وہ نہیں کہ بناؤں بہکانے والوں کو اپنا مددگار

۵۲.      اور جس دن فرمائے گا پکارو میرے شریکوں کو  جن کو تم مانتے تھے پھر پکاریں گے سو وہ جواب نہ دیں گے ان کو اور کر دیں گے ہم ان کے اور ان کے بیچ مرنے کی جگہ

۵۳.     اور دیکھیں گے گناہ گار آگ کو پھر سمجھ لیں گے کہ ان کو پڑنا ہے اس میں اور نہ بدل سکیں گے اس سے راستہ

۵۴.     اور بے شک پھیر پھیر کر سمجھائی ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو ہر ایک مثل اور ہے انسان سب چیز سے زیادہ جھگڑالو

۵۵.     اور لوگوں کو جو روکا اس بات سے کہ یقین لے آئیں جب پہنچی ان کو ہدایت اور گناہ بخشوائیں اپنے رب سے سو اسی انتظار نے کہ پہنچے ان پر رسم پہلوں کی یا آ کھڑا ہو ان پر عذاب سامنے کا

۵۶.      اور ہم جو رسول بھیجتے ہیں سو خوشخبری اور ڈر سنانے کو  اور جھگڑا کرتے ہیں کافر جھوٹا جھگڑا کہ ٹلا دیں اس سے سچی بات کو  اور ٹھہرا لیا انہوں نے میرے کلام کو اور جو ڈر سنائے گئے ٹھٹھا

۵۷.     اور اس سے زیادہ ظالم کون جس کو سمجھایا اس کے رب کے کلام سے پھر منہ پھیر لیا اس کی طرف سے اور بھول گیا جو کچھ آگے بھیج چکے ہیں اس کے ہاتھ  ہم نے ڈال دیے ہیں ان کے دلوں پر پردے کہ اس کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ہے بوجھ اور اگر تو ان کو بلائے راہ پر تو ہرگز نہ آئیں راہ پر اس وقت کبھی

۵۸.     اور تیرا رب بڑا بخشنے والا ہے رحمت والا اگر ان کو پکڑے ان کے کئے پر تو جلد ڈالے ان پر عذاب  پر ان کے لیے ایک وعدہ ہے کہیں نہ پائیں گے اس سے ورے سرک جانے کو جگہ

۵۹.      اور یہ سب بستیاں ہیں جن کو ہم نے غارت کیا جب وہ ظالم ہو گئے اور مقرر کیا تھا ہم نے ان کی ہلاکت کا ایک وعدہ

۶۰.      اور جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان کو میں نہ ہٹوں گا جب تک نہ پہنچ جاؤں جہاں ملتے ہیں دو دریا یا چلا جاؤں قرنوں

۶۱.       پھر جب پہنچے دونوں دریا کے ملاپ تک بھول گئے اپنی مچھلی پھر اس نے اپنی راہ کر لی دریا میں سرنگ بنا کر

۶۲.      پھر جب آگے چلے کہا موسیٰ نے اپنے جوان کو لا ہمارے پاس ہمارا کھانا ہم نے پائی اپنے اس سفر میں تکلیف

۶۳.      بولا وہ دیکھا تو نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس سو میں بھول گیا مچھلی اور یہ مجھ کو بھلا دیا شیطان ہی نے کہ اس کا ذکر کروں  اور اس نے کر لیا اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح

۶۴.      کہا یہی ہے جو ہم چاہتے تھے پھر الٹے پھرے اپنے پیر پہچانتے

۶۵.      پھر پایا ایک بندہ ہمارے بندوں میں کہ جس کو دی تھی ہم نے رحمت اپنے پاس سے اور سکھلایا تھا اپنے پاس سے ایک علم

۶۶.      کہا اس کو موسیٰ نے کہے تو تیرے ساتھ رہوں اس بات پر کہ مجھ کو سکھلا دے کچھ جو تجھ کو سکھلائی ہے بھلی راہ

۶۷.     بولا تو نہ ٹھہر سکے گا میرے ساتھ

۶۸.      اور کیونکر ٹھہرے گا دیکھ کر ایسی چیز کو کہ تیرے قابو میں نہیں اس کا سمجھنا

۶۹.      کہا تو پائے گا اگر اللہ نے چاہا مجھ کو ٹھہرنے والا اور نہ ٹالوں گا تیرا کوئی حکم

۷۰.     بولا پھر اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھیو مجھ سے کوئی چیز جب تک میں شروع نہ کروں تیرے آگے اس کا ذکر

۷۱.      پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب چڑھے کشتی میں اس کو پھاڑ ڈالا موسیٰ بولا کیا تو نے اس کو پھاڑ ڈالا کہ ڈبا دے اس کے لوگوں کو البتہ تو نے کی ایک چیز بھاری

۷۲.     بولا میں نے نہ کہا تھا تو نہ ٹھہر سکے گا میرے ساتھ

۷۳.     کہا مجھ کو نہ پکڑ میری بھول پر اور مت ڈال مجھ پر میرا کام مشکل

۷۴.     پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب ملے ایک لڑکے سے تو اس کو مار ڈالا  موسیٰ بولا کیا تو نے مار ڈالی ایک جان ستھری  بغیر عوض کسی جان کے بے شک تو نے کی ایک چیز نامعقول

۷۵.     بولا میں نے تجھ کو نہ کہا تھا کہ تو نہ ٹھہر سکے گا میرے ساتھ

۷۶.     کہا اگر تجھ سے پوچھیں کوئی چیز اس کے بعد تو مجھ کو ساتھ نہ رکھیو تو اتار چکا میری طرف سے الزام

۷۷.     پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب پہنچے ایک گاؤں کے لوگوں تک کھانا چاہا وہاں کے لوگوں سے انہوں نے نہ مانا کہ ان کو مہمان رکھیں پھر پائی وہاں ایک دیوار جو گرا چاہتی تھی اس کو سیدھا کر دیا  بولا موسیٰ اگر تو چاہتا تو لے لیتا اس پر مزدوری

۷۸.     کہا اب جدائی ہے میرے اور تیرے بیچ اب جتائے دیتا ہوں تجھ کو پھیر ان باتوں کا جس پر تو صبر نہ کر سکا

۷۹.      وہ جو کشتی تھی سو چند محتاجوں کی جو محنت کرتے تھے دریا میں   سو میں نے چاہا کہ اس میں عیب ڈال دوں اور ان کے پرے تھا ایک بادشاہ جو لے لیتا تھا ہر کشتی کو چھین کر

۸۰.      اور جو لڑکا تھا سو اس کے ماں باپ تھے ایمان والے پھر ہم کو اندیشہ ہوا کہ ان کو عاجز کر دے زبر دستی اور کفر کر کر

۸۱.       پھر ہم نے چاہا کہ بدلہ دے ان کو ان کا رب بہتر اس سے پاکیزگی میں اور نزدیک تر شفقت میں

۸۲.      اور وہ جو دیوار تھی سو دو یتیم لڑکوں کی تھی اس شہر میں اور اس کے نیچے مال گڑا تھا ان کا اور ان کا باپ تھا نیک پھر چاہا تیرے رب نے کہ وہ پہنچ جائیں اپنی جوانی کو اور نکالیں اپنا مال گڑا ہوا  مہربانی سے تیرے رب کی اور میں نے یہ نہیں کیا اپنے حکم سے  یہ ہے پھیر ان چیزوں کا جن پر تو صبر نہ کر سکا

۸۳.     اور تجھ سے پوچھتے ہیں ذو القرنین کو کہہ اب پڑھتا ہوں تمہارے آگے اس کا کچھ احوال

۸۴.     ہم نے اس کو جمایا تھا ملک میں اور دیا تھا ہم نے اس کو ہر چیز کا سامان

۸۵.     پھر پیچھے پڑا ایک سامان کے

۸۶.      یہاں تک کہ جب پہنچا سورج ڈوبنے کی جگہ پایا کہ وہ ڈوبتا ہے ایک دلدل کی ندی میں  اور پایا اس کے پاس لوگوں کو ہم نے کہا اے ذو القرنین یا تو لوگوں کو تکلیف دے اور یا رکھ ان میں خوبی

۸۷.     بولا جو کوئی ہو گا بے انصاف سو ہم اس کو سزا دیں گے پھر لوٹ جائے گا اپنے رب کے پاس وہ عذاب دے گا اس کا برا عذاب

۸۸.     اور جو کوئی یقین لایا اور کیا اس نے بھلا کام سو اس کا بدلہ بھلائی ہے اور ہم حکم دیں گے اس کو اپنے کام میں آسانی

۸۹.      پھر لگا ایک سامان کے پیچھے

۹۰.      یہاں تک کہ جب پہنچا سورج نکلنے کی جگہ پایا اس کو کہ نکلتا ہے ایک قوم پر کہ نہیں بنا دیا ہم نے ان کے لیے آفتاب سے ورے کوئی حجاب

۹۱.       یونہی ہے اور ہمارے قابو میں آ چکی ہے اس کے پاس کی خبر

۹۲.      پھر لگا ایک سامان کے پیچھے

۹۳.      یہاں تک کہ جب پہنچا دو پہاڑوں کے بیچ پائے ان سے ورے ایسے لوگ جو لگتے نہیں کہ سمجھیں ایک بات

۹۴.      بولے اے ذو القرنین یہ یاجوج و ماجوج دھوم اٹھاتے ہیں ملک میں سو تو کہے تو ہم مقرر کر دیں تیرے واسطے کچھ محصول اس شرط پر کہ بنا دے تو ہم میں ان میں ایک آڑ

۹۵.      بولا جو مقدور دیا مجھ کو میرے رب نے وہ بہتر ہے سو مدد کرو میری محنت میں بنا دوں تمہارے ان کے بیچ ایک دیوار موٹی

۹۶.      لادو مجھ کو تختے لوہے کے یہاں تک کہ جب برابر کر دیا دونوں پھانکوں تک پہاڑ کی کہا دھوں کو یہاں تک کہ جب کر دیا اس کو آگ کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا ہوا تانبا

۹۷.      پھر نہ چڑھ سکیں اس پر اور نہ کر سکیں اس میں سوراخ

۹۸.      بولا یہ ایک مہربانی ہے میرے رب کی پھر جب آئے وعدہ میرے رب کا گرا دے اس کو ڈھا کر اور ہے وعدہ میرے رب کا سچا

۹۹.       اور چھوڑ دیں گے ہم خلق کو اس دن ایک دوسرے میں گھستے اور پھونک ماریں گے صور میں پھر جمع کر لائیں گے ہم ان سب کو

۱۰۰.     اور دکھلا دیں ہم دوزخ اس دن کافروں کو سامنے

۱۰۱.     جن کی آنکھوں پر پردہ پڑا تھا میری یاد سے اور نہ سن سکتے تھے

۱۰۲.     اب کیا سمجھتے ہیں منکر کہ ٹھہرائیں میرے بندوں کو میرے سوا حمایتی  ہم نے تیار کیا ہے دوزخ کو کافروں کی مہمانی

۱۰۳.    تو کہہ ہم بتائیں تم کو کن کا کیا ہوا گیا بہت اکارت

۱۰۴.    وہ لوگ جن کی کوشش بھٹکتی رہی دنیا کی زندگی میں اور وہ سمجھتے رہے کہ خوب بناتے ہیں کام

۱۰۵.    وہی ہیں جو منکر ہوئے اپنے رب کی نشانیوں سے اور اس کے ملنے سے  سو برباد گیا ان کا کیا ہوا پھر نہ کھڑی کریں گے ہم ان کے واسطے قیامت کے دن تول

۱۰۶.     یہ بدلہ ان کا ہے دوزخ اس پر کہ منکر ہوئے اور ٹھہرایا میری باتوں اور میرے رسولوں کو ٹھٹھا

۱۰۷.    جو لوگ ایمان لائے ہیں اور کئے ہیں بھلے کام ان کے واسطے ہے ٹھنڈی چھاؤں کے باغ مہمانی

۱۰۸.    رہا کریں ان میں نہ چاہیں وہاں سے جگہ بدلنی

۱۰۹.     تو کہہ اگر دریا سیاہی ہو کر لکھے میرے رب کی باتیں بے شک دریا خرچ ہو چکے ابھی نہ پوری ہوں میرے رب کی باتیں اور اگرچہ دوسرا بھی لائیں ہم ویسا ہی اس کی مدد کو

۱۱۰.     تو کہہ میں بھی ایک آدمی ہوں جیسے تم حکم آتا ہے مجھ کو کہ معبود تمہارا ایک معبود ہے سو پھر جس کو امید ہو ملنے کی اپنے رب سے سو وہ کرے کچھ کام نیک اور شریک نہ کرے اپنے رب کی بندگی میں کسی کو

 

سورۃ مریم

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.         کھیعص

۲.        یہ مذکور ہے تیرے رب کی رحمت کا اپنے بندہ زکریا پر

۳.        جب پکارا اس نے اپنے رب کو چھپی آواز سے

۴.        بولا اے میرے رب بوڑھی ہو گئیں میری ہڈیاں اور شعلہ نکلا سر سے بڑھاپے کا  اور تجھ سے مانگ کر اے رب میں کبھی محروم نہیں رہا

۵.        اور میں ڈرتا ہوں بھائی بندوں سے اپنے پیچھے  اور عورت میری بانجھ ہے سو بخش تو مجھ کو اپنے پاس سے ایک کام اٹھانے والا

۶.        جو میری جگہ بیٹھے اور یعقوب کی اولاد کی   اور کر اس کو اے رب من مانتا

۷.        اے زکریا ہم تجھ کو خوشخبری سناتے ہیں ایک لڑکے کی جس کا نام ہے یحییٰ نہیں کیا ہم نے پہلے اس نام کا کوئی

۸.        بولا اے رب کہاں سے ہو گا مجھ کو لڑکا اور میری عورت بانجھ ہے اور میں بوڑھا ہو گیا یہاں تک کہ اکڑ گیا

۹.         کہا یونہی ہو گا  فرما دیا تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہے اور تجھ کو پیدا کیا میں نے پہلے سے اور نہ تھا تو کوئی چیز

۱۰.       بولا اے رب ٹھہرا دے میرے لیے کوئی نشانی فرمایا تیری نشانی یہ کہ بات نہ کرے تو لوگوں سے تین رات تک صحیح تندرست

۱۱.        پھر نکلا اپنے لوگوں کے پاس حجرہ سے تو اشارہ سے کہا ان کو کہ یاد کرو صبح اور شام

۱۲.       اے یحییٰ اٹھا لے کتاب زور سے  اور دیا ہم نے اس کو حکم کرنا لڑکپن میں

۱۳.       اور شوق دیا اپنی طرف سے اور ستھرائی اور تھا پرہیزگار

۱۴.       اور نیکی کرنے والا اپنے ماں باپ سے اور نہ تھا زبردست خود سر

۱۵.       اور سلام ہے اس پر جس دن پیدا ہوا اور جس دن مرے اور جس دن اٹھ کھڑا ہو زندہ ہو کر

۱۶.       اور مذکور کر کتاب میں مریم کا جب جدا ہوئی اپنے لوگوں سے ایک شرقی مکان میں

۱۷.      پھر پکڑ لیا ان سے ورے ایک پردہ پھر بھیجا ہم نے اس کے پاس اپنا فرشتہ پھر بن کر آیا اس کے آگے آدمی پورا

۱۸.       بولی مجھ کو رحمان کی پناہ تجھ سے اگر ہے تو ڈر رکھنے والا

۱۹.       بولا میں تو بھیجا ہوا ہوں تیرے رب کا کہ دے جاؤں تجھ کو ایک لڑکا ستھرا

۲۰.      بولی کہاں سے ہو گا میرے لڑکا اور چھوا نہیں مجھ کو آدمی نے اور میں بدکار کبھی نہیں تھی

۲۱.       بولا یونہی ہے فرما دیا تیرے رب نے وہ مجھ پر آسان ہے  اور اس کو ہم کیا چاہتے ہیں لوگوں کے لیے نشانی اور مہربانی اپنی طرف سے اور ہے یہ کام مقرر ہو چکا

۲۲.      پھر پیٹ میں لیا اس کو  پھر یکسو ہوئی اس کو لے کر ایک بعید مکان میں

۲۳.      پھر لے آیا اس کو درد زہ ایک کھجور کی جڑ میں بولی کسی طرح میں مر چکتی اس سے پہلے اور ہو جاتی بھولی بسری

۲۴.      پس آواز دی اس کو اس کے نیچے سے کہ غمگین مت ہو کر دیا تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ

۲۵.      اور ہلا اپنی طرف کھجور کی جڑ اس سے گریں گی تجھ پر پکی کھجوریں

۲۶.      اب کھا اور پی اور آنکھ ٹھنڈی رکھ  پھر اگر تو دیکھے کوئی آدمی تو کہیو میں نے مانا ہے رحمان کا روزہ سو بات نہ کروں گی آج کسی آدمی سے

۲۷.     پھر لائی اس کو اپنے لوگوں کے پاس گود میں وہ اس کو کہنے لگے اے مریم تو نے کی یہ چیز طوفان کی

۲۸.      اے بہن ہارون کی نہ تھا تیرا باپ برا آدمی اور نہ تھی تیری ماں بدکار

۲۹.      پھر ہاتھ سے بتلایا اس لڑکے کو  بولے ہم کیونکر بات کریں اس شخص سے کہ وہ ہے گود میں لڑکا

۳۰.      وہ بولا میں بندہ ہوں اللہ کا مجھ کو اس نے کتاب دی ہے اور مجھ کو اس نے نبی کیا

۳۱.       اور بنایا مجھ کو برکت والا جس جگہ میں ہوں اور تاکید کی مجھ کو نماز کی اور زکوٰۃ کی جب تک میں رہوں زندہ

۳۲.      اور سلوک کرنے والا اپنی ماں سے  اور نہیں بنایا مجھ کو زبردست بدبخت

۳۳.     اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں اور جس دن اٹھ کھڑا ہوں زندہ ہو کر

۳۴.     یہ ہے عیسیٰ مریم کا بیٹا سچی بات جس میں لوگ جھگڑتے ہیں

۳۵.     اللہ ایسا نہیں کہ رکھے اولاد وہ پاک ذات ہے جب ٹھہرا لیتا ہے کسی کام کا کرنا سو یہی کہتا ہے اس کو کہ ہو وہ ہو جاتا ہے

۳۶.      اور کہا بے شک اللہ ہے رب میرا اور رب تمہارا سو اس کی بندگی کرو یہ ہے راہ سیدھی

۳۷.     پھر جُدی جُدی راہ اختیار کی فرقوں نے ان میں سے سو خرابی ہے منکروں کو جس وقت دیکھیں گے ایک دن بڑا

۳۸.     کیا خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے جس دن آئیں گے ہمارے پاس پر بے انصاف آج کے دن صریح بہک رہے ہیں

۳۹.      اور ڈر سنا دے ان کو اس پچھتاوے کے دن کا جب فیصل ہو چکے گا کام  اور وہ بھول رہے ہیں اور وہ یقین نہیں لاتے

۴۰.      ہم وارث ہوں گے زمین کے اور جو کوئی ہے زمین پر اور وہ ہماری طرف پھر آئیں گے

۴۱.       اور مذکور کر کتاب میں ابراہیم کا  بے شک تھا وہ سچا نبی

۴۲.      جب کہا اپنے باپ کو اے باپ میرے کیوں پوجتا ہے اس کو جو نہ سنے اور نہ دیکھے اور نہ کام آئے تیرے کچھ

۴۳.     اے باپ میرے مجھ کو آئی ہے خبر ایک چیز کی جو تجھ کو نہیں آئی سو میری راہ چل دکھلا دوں تجھ کو راہ سیدھی

۴۴.     اے باپ میرے مت پُوج شیطان کو بے شک شیطان ہے رحمان کا نافرمان

۴۵.     اے باپ میرے ڈرتا ہوں کہیں آ لگے تجھ کو ایک آفت رحمان سے پھر تو ہو جائے شیطان کا ساتھی

۴۶.      وہ بولا کیا تو پھرا ہوا ہے میرے ٹھاکروں سے اے ابراہیم اگر تو باز نہ آئے گا تو تجھ کو سنگسار کروں گا اور دور ہو جا میرے پاس سے ایک مدت

۴۷.     کہا تیری سلامتی رہے  میں گناہ بخشواؤں گا تیرے اپنے رب سے بے شک وہ ہے مجھ پر مہربان

۴۸.     اور چھوڑتا ہوں تم کو اور جن کو تم پُوجتے ہو اللہ کے سواء اور میں بندگی کروں گا اپنے رب کی امید ہے کہ نہ رہوں گا اپنے رب کی بندگی کر کے محروم

۴۹.      پھر جب جُدا ہوا ان سے اور جن کو وہ پوجتے تھے اللہ کے سواء بخشا ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب اور دونوں کو نبی کیا

۵۰.      اور دیا ہم نے ان کو اپنی رحمت سے اور کیا ان کے واسطے سچا بول اونچا

۵۱.       اور مذکور کر کتاب میں موسیٰ کا  بے شک وہ تھا چنا ہوا اور تھا رسول نبی

۵۲.      اور پکارا ہم نے اس کو داہنی طرف سے طور پہاڑ کی اور نزدیک بُلایا اس کو بھید کہنے کو

۵۳.     اور بخشا ہم نے اس کو اپنی مہربانی سے بھائی اس کا ہارون نبی

۵۴.     اور مذکور کر کتاب میں اسماعیل کا وہ تھا وعدہ کا سچا اور تھا رسول نبی

۵۵.     اور حکم کرتا تھا اپنے گھر والوں کو نماز کا اور زکوٰۃ کا  اور تھا اپنے رب کے یہاں پسندیدہ

۵۶.      اور مذکور کر کتاب میں ادریس کا وہ تھا سچا نبی

۵۷.     اور اٹھا لیا ہم نے اس کو ایک اونچے مکان پر

۵۸.     یہ وہ لوگ ہیں جن پر انعام کیا اللہ نے پیغمبروں میں آدم کی اولاد میں اور ان میں جن کو سوار کر لیا ہم نے نوح کے ساتھ اور ابراہیم کی اولاد میں اور اسرائیل کی  اور ان میں جن کو ہم نے ہدایت کی اور پسند کیا  جب ان کو سنائے آیتیں رحمان کی گرتے سجدہ میں اور روتے ہوئے

۵۹.      پھر ان کی جگہ آئے نا خلف کھو بیٹھے نماز اور پیچھے پڑ گئے مزوں کے سو آگے دیکھ لیں گے گمراہی کو

۶۰.      مگر جس نے توبہ کی اور یقین لایا اور کی نیکی سو وہ لوگ جائیں گے بہشت میں اور ان کا حق ضائع نہ ہو گا کچھ

۶۱.       باغوں میں بسنے کے جن کا وعدہ کیا ہے رحمان نے اپنی بندوں سے ان کے بن دیکھے بے شک ہے اس کے وعدہ پر پہنچنا

۶۲.      نہ سنیں گے وہاں بَک بک سوائے سلام  اور ان کے لئے ہے ان کی روزی وہاں صبح اور شام

۶۳.      یہ وہ بہشت ہے جو میراث دیں گے ہم اپنے بندوں میں جو کوئی ہو گا پرہیزگار

۶۴.      اور ہم نہیں اترتے مگر حکم سے تیرے رب کے اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے اور جو اس کے بیچ میں ہے اور تیرا رب نہیں ہے بھولنے والا

۶۵.      رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان کے بیچ ہے سو اسی کی بندگی کر اور قائم رہ اس کی بندگی پر  کسی کو پہچانتا ہے تو اس کے نام کا

۶۶.      اور کہتا ہے آدمی کیا جب میں مر جاؤں تو پھر نکلوں گا زندہ ہو کر

۶۷.     کیا یاد نہیں رکھتا آدمی کہ ہم نے اس کو بنایا ہے پہلے سے اور وہ کچھ چیز نہ تھا

۶۸.      سو قسم ہے تیرے رب کی ہم گھیر بلائیں گے ان کو اور شیطانوں کو  پھر سامنے لائیں گے گرد دوزخ کے گھٹنوں پر گرے ہوئے

۶۹.      پھر جُدا کر لیں گے ہم ہر ایک فرقہ میں سے جونسا ان میں سے سخت رکھتا تھا رحمان سے اکڑ

۷۰.     پھر ہم کو خوب معلوم ہے جو بہت قابل ہیں اس میں داخل ہونے کے

۷۱.      اور کوئی نہیں تم میں جو نہ پہنچے گا اس پر ہو چکا یہ وعدہ تیرے رب پر لازم مقرر

۷۲.     پھر بچائینگے ہم ان کو جو ڈرتے رہے اور چھوڑ دیں گے گناہ گاروں کو اس میں اوندھے گرے ہوئے

۷۳.     اور جب سنائے ان کو ہماری آیتیں کھلی ہوئی کہتے ہیں جو لوگ کہ منکر ہیں ایمان والوں کو دونوں فرقوں میں کس کا مکان بہتر ہے اور کس کی اچھی لگتی ہے مجلس

۷۴.     اور کتنی ہلاک کر چکے ہم پہلے ان سے جماعتیں وہ ان سے بہتر تھے سامان میں اور نُمود میں

۷۵.     تو کہہ جو رہا بھٹکتا سو چاہیے اس کو کھینچ لے جائے رحمان لمبا   یہاں تک کہ جب دیکھیں گے جو وعدہ ہوا تھا ان سے یا آفت اور یا قیامت سو تب معلوم کر لیں گے کس کا برا ہے مکان اور کس کی فوج کمزور ہے

۷۶.     اور بڑھاتا جاتا ہے اللہ سوجھنے والوں کو (سوجھے ہوؤں کو سجھائے ہوؤں کو) سُوجھ  اور باقی رہنے والی نیکیاں بہتر رکھتی ہیں تیرے رب کے یہاں بدلہ اور بہتر پھر جانے کو جگہ

۷۷.     بھلا تو نے دیکھا اس کو جو منکر ہوا ہماری آیتوں سے اور کہا مجھ کو مل کر رہے گا مال اور اولاد

۷۸.     کیا جھانک آیا ہے غیب کو یا لے رکھا ہے رحمان سے عہد

۷۹.      یہ نہیں ہم لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور بڑھاتے جائیں گے اس کو عذاب میں لمبا

۸۰.      اور ہم لے لیں گے اس کے مرنے پر جو کچھ وہ بتلا رہا ہے اور آئے گا ہمارے پاس اکیلا

۸۱.       اور پکڑ رکھا ہے لوگوں نے اللہ کے سوا اوروں کو معبود تاکہ وہ ہوں ان کے لیے مدد

۸۲.      ہرگز نہیں وہ منکر ہوں گے ان کی بندگی سے اور ہو جائیں گے ان کے مخالف

۸۳.     تو نے نہیں دیکھا کہ ہم نے چھوڑ رکھے ہیں شیطان منکروں پر اچھالتے ہیں ان کو ابھار کر

۸۴.     سو تو جلدی نہ کر ان پر ہم تو پوری کرتے ہیں ان کی گنتی

۸۵.     جس دن ہم اکٹھا کر لائیں گے پرہیزگاروں کو رحمان کے پاس مہمان بلائے ہوئے

۸۶.      اور ہانک لے جائیں گے گناہ گاروں کو دوزخ کی طرف پیاسے

۸۷.     نہیں اختیار رکھتے لوگ سفارش کا مگر جس نے لے لیا رحمان سے وعدہ

۸۸.     اور لوگ کہتے ہیں رحمان رکھتا ہے اولاد

۸۹.      بے شک تم آ پھنسے ہو بھاری چیز میں

۹۰.      ابھی آسمان پھٹ پڑیں اس بات سے اور ٹکڑے ہو زمین اور گر پڑیں پہاڑ ڈھے کر

۹۱.       اس پر کہ پکارتے ہیں رحمان کے نام پر اولاد

۹۲.      اور نہیں پھبتا رحمان کو کہ رکھے اولاد

۹۳.      کوئی نہیں آسمانوں اور زمین میں جو نہ آئے رحمان کا بندہ ہو کر

۹۴.      اس کے پاس ان کی شمار ہے اور گن رکھی ہے ان کی گنتی

۹۵.      اور ہر ایک ان میں آئے گا اس کے سامنے قیامت کے دن اکیلا

۹۶.      البتہ جو یقین لائے ہیں اور کی ہیں انہوں نے نیکیاں ان کو دے گا رحمان محبت

۹۷.      سو ہم نے آسان کر دیا یہ قرآن تیری زبان میں اسی واسطے کہ خوشخبری سنا دے تو ڈرنے والوں کو اور ڈرا دے جھگڑالو لوگوں کو

۹۸.      اور بہت ہلاک کر چکے ہم ان سے پہلے جماعتیں آہٹ پاتا ہے تو ان میں کسی کی یا سنتا ہے ان کی بھنک

 

سورۃ طہ

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے

۱.         طہ

۲.        اس واسطے نہیں اتارا ہم نے تجھ پر قرآن کہ تو محنت میں پڑے

۳.        مگر نصیحت کے واسطے اس کی جو ڈرتا ہے

۴.        اتارا ہوا ہے اس کا جس نے بنائی زمین اور آسمان اونچے

۵.        وہ بڑا مہربان عرش پر قائم ہوا

۶.        اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں اور زمین میں اور ان دونوں کے درمیان اور نیچے گیلی زمین کے

۷.        اور اگر تو بات کہے پکار کر تو اس کو تو خبر ہے چھپی ہوئی بات کی اور اس سے بھی چھپی ہوئی کی

۸.        اللہ ہے جس کے سوا بندگی نہیں کسی کی اسی کے ہیں سب نام خاصے

۹.         اور پہنچی ہے تجھ کو بات موسیٰ کی

۱۰.       جب اس نے دیکھی ایک آگ تو کہا اپنے گھر والوں کو ٹھہرو میں نے دیکھی ہے ایک آگ شاید لے آؤں تمہارے پاس اس میں سے سلگا کر یا پاؤں آگ پر پہنچ کر راستہ کا پتہ

۱۱.        پھر جب پہنچا آگ کے پاس آواز آئی اے موسیٰ

۱۲.       میں ہوں تیرا رب سو اتار ڈال اپنی جوتیاں تو ہے پاک میدان طویٰ میں

۱۳.       اور میں نے تجھ کو پسند کیا ہے سو تو سنتا رہ جو حکم ہو

۱۴.       میں جو ہوں اللہ ہوں کسی کی بندگی نہیں سوا میرے سو میری بندگی کر اور نماز قائم رکھ میری یادگاری کو

۱۵.       قیامت بے شک آنے والی ہے میں مخفی رکھنا چاہتا ہوں اس کو  تاکہ بدلہ ملے ہر شخص کو جو اس نے کمایا ہے

۱۶.       سو کہیں تجھ کو نہ روک دے اس سے وہ شخص جو یقین نہیں رکھتا اس کا اور پیچھے پڑ رہا ہے اپنے مزوں کے پھر تو بھی ٹپکا جائے

۱۷.      اور یہ کیا ہے تیرے داہنے ہاتھ میں اے موسیٰ

۱۸.       بولا یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور پتے جھاڑتا ہوں اس سے اپنی بکریوں پر اور میرے اس میں چند کام ہیں اور بھی

۱۹.       فرمایا ڈال دے اس کو اے موسیٰ

۲۰.      تو اس کو ڈال دیا پھر اسی وقت وہ تو سانپ ہو گیا دوڑتا ہوا

۲۱.       فرمایا پکڑ لے اس کو اور مت ڈر ہم ابھی پھیر دیں گے اس کو پہلی حالت پر

۲۲.      اور ملا لے اپنا ہاتھ اپنی بغل سے کہ نکلے سفید ہو کر بلا عیب  یہ نشانی دوسری

۲۳.      تاکہ دکھاتے جائیں ہم تجھ کو اپنی نشانیاں بڑی

۲۴.      جا طرف فرعون کے کہ اس نے بہت سر اٹھایا

۲۵.      بولا اے رب کشادہ کر میرا سینہ

۲۶.      اور آسان کر میرا کام

۲۷.     اور کھول دے گرہ میری زبان سے

۲۸.      کہ سمجھیں میری بات

۲۹.      اور دے مجھ کو ایک کام بٹانے والا میرے گھر کا

۳۰.      ہارون میرا بھائی

۳۱.       اس سے مضبوط کر میری کمر

۳۲.      اور شریک کر اس کو میرے کام میں

۳۳.     کہ تیری پاک ذات کا بیان کریں ہم بہت سا

۳۴.     اور یاد کریں ہم تجھ کو بہت سا

۳۵.     تو تو ہے ہم کو خوب دیکھتا

۳۶.      فرمایا ملا تجھ کو تیرا سوال اے موسیٰ

۳۷.     اور احسان کیا تھا ہم نے تجھ پر ایک بار اور بھی

۳۸.     جب حکم بھیجا ہم نے تری ماں کو جو آگے سناتے ہیں

۳۹.      کہ ڈال اس کو صندوق میں پھر اس کو ڈال دے دریا میں پھر دریا اس کو لے ڈالے کنارے پر اٹھا لے اس کو ایک دشمن میرا اور اس کا  اور ڈال دی میں نے تجھ پر محبت اپنی طرف سے  اور تاکہ پرورش پائے تو میری آنکھ کے سامنے

۴۰.      جب چلنے لگی تیری بہن اور کہنے لگی میں بتاؤں تم کو ایسا شخص جو اس کو پا لے پھر پہنچا دیا ہم نے تجھ کو تیری ماں کے پاس کہ ٹھنڈی رہے اس کی آنکھ اور غم نہ کھائے  اور تو نے مار ڈالا ایک شخص کو پھر بچا دیا ہم نے تجھ کو اس غم سے  اور جانچا ہم نے تجھ کو ایک ذرا جانچنا  پھر ٹھہرا رہا تو کئی برس مدین والوں میں پھر آیا تو تقدیر سے اے موسیٰ

۴۱.       اور بنایا میں نے تجھ کو خاص اپنے واسطے

۴۲.      جا تو اور تیرا بھائی میری نشانیاں لے کر اور سستی نہ کریو میری یاد میں

۴۳.     جاؤ طرف فرعون کے اس نے بہت سر اٹھایا

۴۴.     سو کہو اس سے بات نرم شاید وہ سوچے یا ڈرے

۴۵.     بولے اے رب ہمارے ہم ڈرتے ہیں کہ بھبک پڑے ہم پر یا جوش میں آ جائے

۴۶.      فرمایا نہ ڈرو میں ساتھ ہوں تمہارے سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں

۴۷.     سو جاؤ اس کے پاس اور کہو ہم دونوں بھیجے ہوئے ہیں تیرے رب کے سو بھیج دے ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو اور مت ستا ان کو  ہم آئے ہیں تیرے پاس نشانی لے کر تیرے رب کی

۴۸.     اور سلامتی ہو اس کی جو مان لے راہ کی بات ہم کو حکم ملا ہے کہ عذاب اس پر جو جھٹلائے اور منہ پھیر لے

۴۹.      بولا پھر کون ہے رب تم دونوں کا اے موسیٰ

۵۰.      کہا رب ہمارا وہ ہے جس نے دی ہر چیز کو اس کی صورت پھر راہ سجھائی

۵۱.       بولا پھر کیا حقیقت ہے ان پہلی جماعتوں کی

۵۲.      کہا ان کی خبر میرے رب کے پاس لکھی ہوئی ہے نہ بہکتا ہے میرا رب اور نہ بھولتا ہے

۵۳.     وہ ہے جس نے بنا دیا تمہارے واسطے زمین کو بچھونا اور چلائیں تمہارے لئے اس میں راہیں  اور اتارا آسمان سے پانی پھر نکالی ہم نے اس سے طرح طرح کی سبزی

۵۴.     کھاؤ اور چراؤ اپنے چوپایوں کو  البتہ اس میں نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کو

۵۵.     اسی زمین سے ہم نے تم کو بنایا اور اسی میں تم کو پھر پہنچا دیتے ہیں اور اسی سے نکالیں گے تم کو دوسری بار

۵۶.      اور ہم نے فرعون کو دکھلا دیں اپنی سب نشانیاں پھر اس نے جھٹلایا اور نہ مانا

۵۷.     بولا کیا تو آیا ہے ہم کو نکالنے ہمارے ملک سے اپنے جادو کے زور سے اے موسیٰ

۵۸.     سو ہم بھی لائیں گے تیرے مقابلہ میں ایک ایسا ہی جادو سو ٹھہرا لے ہمارے اور اپنے بیچ میں ایک وعدہ نہ ہم خلاف کریں اس کا اور نہ تو ایک میدان صاف میں

۵۹.      کہا وعدہ تمہارا ہے جشن کا دن اور یہ کہ جمع ہوں لوگ دن چڑھے

۶۰.      پھر الٹا پھرا فرعون پھر جمع کئے اپنے سارے داؤ پھر آیا

۶۱.       کہا ان کو موسیٰ نے کم بختی تمہاری جھوٹ نہ بولو اللہ پر پھر غارت کر دے تم کو کسی آفت سے اور مراد کو نہیں پہنچا جس نے جھوٹ باندھا

۶۲.      پھر جھگڑے اپنے کام پر آپس میں اور چھپ کر کیا مشورہ

۶۳.      بولے مقرر یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ نکال دیں تم کو تمہارے ملک سے اپنے جادو کے زور سے اور موقوف کرا دیں تمہارے اچھے خاصے چلن کو

۶۴.      سو مقرر کر لو اپنی تدبیر پھر آؤ قطار باندھ کر اور جیت گیا آج جو غالب رہا

۶۵.      بولے اے موسیٰ یا تو تو ڈال اور یا ہم ہوں پہلے ڈالنے والے

۶۶.      کہا نہیں تم ڈالو  پھر تب ہی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں اس کے خیال میں آئیں ان کے جادو سے کہ دوڑ رہی ہیں

۶۷.     پھر پانے لگا اپنے جی میں ڈر موسیٰ

۶۸.      ہم نے کہا تو مت ڈر مقرر تو ہی رہے گا غالب

۶۹.      اور ڈال جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے کہ نگل جائے جو کچھ انہوں نے بنایا  انکا بنایا ہوا تو فریب ہے جادوگر کا اور بھلا نہیں ہوتا جادوگر کا جہاں ہو

۷۰.     پھر گر پڑے جادوگر سجدہ میں بولے ہم یقین لائے رب پر ہارون اور موسیٰ کے

۷۱.      بولا فرعون تم نے اس کو مان لیا میں نے ابھی حکم نہ دیا تھا وہ ہی تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو سکھایا جادو  سو اب میں کٹواؤں گا تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں  اور سولی دوں گا تم کو کھجور کے تنہ پر  اور جان لو گے ہم میں کس کا عذاب سخت ہے اور دیر تک رہنے والا

۷۲.     وہ بولے ہم تجھ کو زیادہ نہ سمجھیں گے اس چیز سے جو پہنچی ہم کو صاف دلیل اور اس سے جس نے ہم کو پیدا کیا سو تو کر گزر جو تجھ کو کرنا ہے تو یہی کرے گا اس دنیا کی زندگی میں

۷۳.     ہم یقین لائے ہیں اپنے رب پر تاکہ بخشے ہم کو ہمارے گناہ اور جو تو نے زبردستی کروایا ہم سے یہ جادو  اور اللہ بہتر ہے اور سدا باقی رہنے والا

۷۴.     بات یہی ہے کہ جو کوئی آیا اپنے رب کے پاس گناہ لے کر سو اس کے واسطے دوزخ ہے مرے اس میں نہ جیئے

۷۵.     اور جو آیا اس کے پاس ایمان لے کر نیکیاں کر کے سو ان لوگوں کے لئے ہیں درجے بلند

۷۶.     باغ ہیں بسنے کے بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ہمیشہ رہا کریں گے ان میں  اور یہ بدلہ ہے اس کا جو پاک ہوا

۷۷.     اور ہم نے حکم بھیجا موسیٰ کو کہ لے نکل میرے بندوں کو رات سے پھر ڈال دے ان کے لئے سمندر میں راستہ سوکھا نہ خطرہ کر آ پکڑنے کا اور نہ ڈر ڈوبنے سے

۷۸.     پھر پیچھا کیا ان کا فرعون نے اپنے لشکروں کو لے کر پھر ڈھانپ لیا انکو پانی نے جیسا کہ ڈھانپ لیا

۷۹.      اور بہکایا فرعون نے اپنی قوم کو اور نہ سمجھایا

۸۰.      اے اولاد اسرائیل چھڑا لیا ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے اور وعدہ ٹھہرایا تم سے داہنی طرف پہاڑ کی اور اتارا تم پر من اور سلویٰ

۸۱.       کھاؤ سھتری چیزیں جو روزی دی ہم نے تم کو اور نہ کرو اس میں زیادتی  پھر تو اترے گا تم پر میرا غصہ اور جس پر اترا میرا غصہ سو وہ پٹکا گیا

۸۲.      اور میری بڑی بخشش ہے اس پر جو توبہ کرے اور یقین لائے اور کرے بھلا کام پھر راہ پر رہے

۸۳.     اور کیوں جلدی کی تو نے اپنی قوم سے اے موسیٰ

۸۴.     بولا وہ یہ آ رہے ہیں میرے پیچھے اور میں جلدی آیا تیری طرف اے میرے رب تاکہ تو راضی ہو

۸۵.     فرمایا ہم نے تو بچلا دیا تیری قوم کو تیرے پیچھے اور بہکایا ان کو سامری نے

۸۶.      پھر الٹا پھرا موسیٰ اپنی قوم کے پاس غصہ میں بھرا پچھتاتا ہوا کہا اے قوم کیا تم سے وعدہ نہ کیا تھا تمہارے رب نے اچھا وعدہ کیا طویل ہو گئی تم پر مدت یا چاہا تم نے کہ اترے تم پر غضب تمہارے رب کا اس لئے خلاف کیا تم نے میرا وعدہ

۸۷.     بولے ہم نے خلاف نہیں کیا تیرا وعدہ اپنے اختیار سے لیکن اٹھوایا ہم نے بھاری بوجھ قوم فرعون کے زیور کا سو ہم نے اس کو پھینک دیا پھر اس طرح ڈھالا سامری نے

۸۸.     پھر بنا نکالا ان کے واسطے ایک بچھڑا ایک دھڑ جس میں آواز گائے کی پھر کہنے لگے یہ معبود ہے تمہارا اور معبود ہے موسیٰ کا سو وہ بھول گیا

۸۹.      بھلا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ وہ جواب تک نہیں دیتا ان کو کسی بات کا اور اختیار نہیں رکھتا ان کے برے کا اور بھلے کا

۹۰.      اور کہا تھا ان کو ہارون نے پہلے سے اے قوم بات یہی ہے کہ تم بہک گئے اس بچھڑے سے اور تمہارا رب تو رحمان ہے سو میری راہ چلو اور مانو بات میری

۹۱.       بولے ہم برابر اسی پر لگے بیٹھے رہیں گے جب تک لوٹ کر آئے ہمارے پاس موسیٰ

۹۲.      کہا موسیٰ علیہ السلام نے اے ہارون کس چیز نے روکا تجھ کو جب دیکھا تھا تو نے کہ وہ بہک گئے

۹۳.      کہ تو میرے پیچھے نہ آیا کیا تو نے رد کیا میرا حکم

۹۴.      وہ بولا اے میری ماں کے جنے نہ پکڑ میری داڑھی اور نہ سر  میں ڈرا کہ تو کہے گا پھوٹ ڈال دی تو نے بنی اسرائیل میں اور یاد نہ رکھی میری بات

۹۵.      کہا موسیٰ نے اب تیری کیا حقیقت ہے اے سامری

۹۶.      بولا میں نے دیکھ لیا جو اوروں نے نہ دیکھا پھر بھر لی میں نے ایک مٹھی پاؤں کے نیچے سے اس بھیجے ہوئے کے پھر میں نے وہی ڈال دی اور یہی صلاح دی مجھ کو میرے جی نے

۹۷.      کہا موسیٰ نے دور ہو تیرے لئے زندگی بھر تو اتنی سزا ہے کہ کہا کرے مت چھیڑو  اور تیرے واسطے ایک وعدہ ہے وہ ہرگز تجھ سے خلاف نہ ہو گا  اور دیکھ اپنے معبود کو جس پر تمام دن تو معتکف رہتا تھا ہم اس کو جلا دیں گے پھر بکھیر دیں گے دریا میں اڑا کر

۹۸.      تمہارا معبود تو وہی اللہ ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں سب چیز سما گئی ہے اس کے علم میں

۹۹.       یوں سناتے ہیں ہم تجھ کو ان کے احوال جو پہلے گزر چکے  اور ہم نے دی تجھ کو اپنے پاس سے پڑھنے کی کتاب

۱۰۰.     جو کوئی منہ پھیر لے اس سے سو وہ اٹھائے گا دن قیامت کے ایک بوجھ

۱۰۱.     سدا رہیں گے اس میں اور برا ہے ان پر قیامت میں وہ بوجھ اٹھانے کا

۱۰۲.     جس دن پھونکیں گے صور میں اور گھیر لائیں گے ہم گناہ گاروں کو اس دن نیلی آنکھیں

۱۰۳.    چپکے چپکے کہتے ہوں گے آپس میں تم نہیں رہے مگر دس دن

۱۰۴.    ہم کو خوب معلوم ہے جو کچھ کہتے ہیں  جب بولے گا ان میں اچھی راہ روش والا تم نہیں رہے مگر ایک دن

۱۰۵.    اور تجھ سے پوچھتے ہیں پہاڑوں کا حال سو تو کہہ ان کو بکھیر دے گا میرا رب اڑا کر

۱۰۶.     پھر کر چھوڑے گا زمین کو صاف میدان

۱۰۷.    نہ دیکھے گا تو اس میں موڑ اور نہ ٹیلا

۱۰۸.    اس دن پیچھے دوڑیں گے پکارنے والے کے ٹیڑھی نہیں جس کی بات  اور دب جائیں گی آوازیں رحمان کے ڈر سے پھر تو نہ سنے گا مگر کھس کھسی آواز

۱۰۹.     اس دن کام نہ آئے گی سفارش مگر جس کو اجازت دی رحمان نے اور پسند کی اس کی بات

۱۱۰.     وہ جانتا ہے جو کچھ ہے ان کے آگے اور پیچھے اور یہ قابو میں نہیں لا سکتے اس کو دریافت کر کے

۱۱۱.      اور رگڑتے ہیں منہ آگے اس جیسے ہمیشہ رہنے والے کے  اور خراب ہوا جس نے بوجھ اٹھایا ظلم کا

۱۱۲.     اور جو کوئی کرے کچھ بھلائیاں اور وہ ایمان بھی رکھتا ہو سو اس کو ڈر نہیں بے انصافی کا اور نہ نقصان پہنچنے کا

۱۱۳.     اور اسی طرح اتارا ہم نے قرآن عربی زبان کا اور پھیر پھیر کر سنائی ہم نے اس میں ڈرانے کی باتیں تاکہ وہ پرہیز کریں یا ڈالے ان کے دل میں سوچ

۱۱۴.     سو بلند درجہ اللہ کا اس سچے بادشاہ کا   اور تو جلدی نہ کر قرآن کے لینے میں جب تک پورا نہ ہو چکے اس کا اترنا اور کہہ اے رب زیادہ کر میری سمجھ

۱۱۵.     اور ہم نے تاکید کر دی تھی آدم کو اس سے پہلے پھر بھول گیا اور نہ پائی ہم نے اس میں کچھ ہمت

۱۱۶.     اور جب کہا ہم نے فرشتوں کو سجدہ کرو آدم کو تو سجدہ میں گر پڑے مگر نہ مانا ابلیس نے

۱۱۷.     پھر کہہ دیا ہم نے اے آدم یہ دشمن تیرا ہے اور تیرے جوڑے کا سو نکلوا نہ دے تم کو بہشت سے پھر تو پڑ جائے تکلیف میں

۱۱۸.     تجھ کو یہ ملا ہے کہ نہ بھوکا ہو تو اس میں اور نہ ننگا

۱۱۹.      اور یہ کہ نہ پیاس کھینچے تو اس میں اور نہ دھوپ

۱۲۰.     پھر جی میں ڈالا اس کے شیطان نے کہا اے آدم میں بتاؤں تجھ کو درخت سدا زندہ رہنے کا اور بادشاہی جو پرانی نہ ہو

۱۲۱.     پھر دونوں نے کھا لیا اس میں سے پھر کھل گئیں ان پر ان کی بری چیزیں اور لگے گانٹھنے اپنے اوپر پتے بہشت کے  اور حکم ٹالا آدم نے اپنے رب کا پھر راہ سے بہکا

۱۲۲.     پھر نواز دیا اس کے رب نے پھر متوجہ ہوا اس پر اور راہ پر لایا

۱۲۳.    فرمایا اترو یہاں سے دونوں اکھٹے رہو ایک دوسرے کے دشمن پھر اگر پہنچے تم کو میری طرف سے ہدایت  پھر جو چلا میری بتلائی راہ پر سو نہ وہ بہکے گا اور نہ وہ تکلیف میں پڑے گا

۱۲۴.    اور جس نے منہ پھیرا میری یاد سے تو اس کو ملنی ہے گزران تنگی کی   اور لائیں گے ہم اس کو دن قیامت کے اندھا

۱۲۵.    وہ کہے گا اے رب کیوں اٹھا لایا تو مجھ کو اندھا اور میں تو تھا دیکھنے والا

۱۲۶.     فرمایا نہیں پہنچی تھیں تجھ کو ہماری آیتیں پھر تو نے ان کو بھلا دیا اور اسی طرح آج تجھ کو بھلا دیں گے

۱۲۷.    اور اسی طرح بدلہ دیں گے ہم اس کو جو حد سے نکلا اور یقین نہ لایا اپنے رب کی باتوں پر  اور آخرت کا عذاب سخت ہے اور بہت باقی رہنے والا

۱۲۸.    سو کیا ان کو سمجھ نہ آئی اس بات سے کہ کتنی غارت کر دیں ہم نے ان سے پہلی جماعتیں یہ لوگ پھرتے ہیں ان کی جگہوں میں  اس میں خوب نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کو

۱۲۹.     اور اگر نہ ہوتی ایک بات کہ نکل چکی تیرے رب کی طرف سے تو ضرور ہو جاتی مٹھ بھیڑ(گھمسان) اور اگر نہ ہوتا وعدہ مقرر کیا گیا

۱۳۰.    سو تو سہتا رہ جو وہ کہیں  اور پڑھتا رہ خوبیاں اپنے رب کی سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے  اور کچھ گھڑیوں میں رات کی پڑھا کر  اور دن کی حدوں پر  شاید (تاکہ) تو راضی ہو

۱۳۱.     اور مت پسار اپنی آنکھیں اس چیز پر جو فائدہ اٹھانے کو دی ہم نے ان طرح طرح کے لوگوں کو رونق دنیا کی زندگی کی ان کے جانچنے کو اور تیرے رب کی دی ہوئی روزی بہتر ہے اور بہت باقی رہنے والی

۱۳۲.    اور حکم کر اپنے گھر والوں کو نماز کا اور خود بھی قائم رہ اس پر  ہم نہیں مانگتے تجھ سے روزی ہم روزی دیتے ہیں تجھ کو انجام بھلا ہے پرہیز گاری کا

۱۳۳.    اور لوگ کہتے ہیں یہ کیوں نہیں لے آتا ہمارے پاس کوئی نشانی اپنے رب سے  کیا پہنچ نہیں چکی ان کو نشانی اگلی کتابوں میں کی

۱۳۴.    اور اگر ہم ہلاک کر دیتے ان کو کسی آفت میں اس سے پہلے تو کہتے اے رب کیوں نہ بھیجا ہم تک کسی کو پیغام دے کر کہ ہم چلتے تیری کتاب پر ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے

۱۳۵.    تو کہہ ہر کوئی راہ دیکھتا ہے سو تم بھی راہ دیکھو آئندہ جان لو گے کون ہیں سیدھی راہ والے اور کس نے راہ پائی

 

سورۃ الأنبیاء

شروع اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.         نزدیک آگیا لوگوں کے ان کے حساب کا وقت اور وہ بے خبر ٹلا رہے ہیں

۲.        کوئی نصیحت نہیں پہنچتی ان کو ان کے رب سے نئی مگر اس کو سنتے ہیں کھیل میں لگے ہوئے

۳.        کھیل میں پڑے ہیں دل ان کے  اور چھپا کر مصلحت کی بے انصافوں نے یہ شخص کون ہے ایک آدمی ہے تم ہی جیسا پھر کیوں پھنستے ہو اس کے جادو میں آنکھوں دیکھتے

۴.        اس نے کہا میرے رب کو خبر ہے بات کی آسمان میں ہو یا زمین میں اور وہ ہے سننے والا جاننے والا

۵.        اس کو چھوڑ کر کہتے ہیں بیہودہ خواب ہیں نہیں، جھوٹ باندھ لیا ہے نہیں، شعر کہتا ہے پھر چاہیے لے آئے ہمارے پاس کوئی نشانی، جیسے پیغام لے کر آئے ہیں پہلے

۶.        نہیں مانا ان سے پہلے کسی بستی نے جن کو غارت کر دیا ہم نے کیا اب یہ مان لیں گے

۷.        اور پیغام نہیں بھیجا ہم نے تجھ سے پہلے مگر یہی مردوں کے ہاتھ وحی بھیجتے تھے ہم ان کو سو پوچھ لو یاد رکھنے والوں سے اگر تم نہیں جانتے

۸.        اور نہیں بنائے تھے ہم نے ان کے ایسے بدن کہ وہ کھانا نہ کھائیں اور نہ تھے وہ ہمیشہ رہ جانے والے

۹.         پھر سچا کر دیا ہم نے ان سے وعدہ سو بچا دیا ان کو اور جس کو ہم نے چاہا اور غارت کر دیا حد سے نکلنے والوں کو

۱۰.       ہم نے اتاری ہے تمہاری طرف کتاب کہ اس میں تمہارا ذکر ہے کیا تم سمجھتے نہیں

۱۱.        اور کتنی پیس ڈالیں ہم نے بستیاں جو تھیں گنہ گار اور اٹھا کھڑے کیے ان کے پیچھے اور لوگ

۱۲.       پھر جب آہٹ پائی انہوں نے ہماری آفت کی، تب لگے وہاں سے ایڑ کرنے

۱۳.       ایڑ مت کرو اور لوٹ جاؤ جہاں تم نے عیش کیا تھا اور اپنے گھروں میں شاید کوئی تم کو پوچھے

۱۴.       کہنے لگے ہائے خرابی ہماری ہم تھے بے شک گنہگار

۱۵.       پھر برابر یہی رہی ان کی فریاد یہاں تک کہ ڈھیر کر دیے گئے کاٹ کر بجھے پڑے ہوئے

۱۶.       اور ہم نے نہیں بنایا آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے کھیلتے ہوئے

۱۷.      اگر ہم چاہتے کہ بنا لیں کچھ کھلونا تو بنا لیتے ہم اپنے پاس سے اگر ہم کو کرنا ہوتا

۱۸.       یوں نہیں پر ہم پھینک مارتے ہیں سچ کو جھوٹ پر پھر وہ اس کا سر پھوڑ ڈالتا ہے پھر وہ جاتا رہتا ہے اور تمہارے لیے خرابی ہے اُن باتوں سے جو تم بتلاتے ہو

۱۹.       اور اسی کا ہے جو کوئی ہے آسمان اور زمین میں  اور جواس کے نزدیک رہتے ہیں سرکشی نہیں کرتے اس کی عبادت سے اور نہیں کرتے کاہلی

۲۰.      یاد کرتے ہیں رات اور دن نہیں تھکتے

۲۱.       کیا ٹھہرائے ہیں انہوں نے اور معبود زمین میں کے کہ وہ جِلا اٹھائیں گے ان کو

۲۲.      اگر ہوتے ان دونوں میں اور معبود سوائے اللہ کے تو دونوں خراب ہو جاتے  سو پاک ہے اللہ عرش کا مالک ان باتوں سے جو یہ بتلاتے ہیں

۲۳.      اس سے پوچھا نہ جائے گا جو وہ کرے اور ان سے پوچھا جائے

۲۴.      کیا ٹھہرائے ہیں انہوں نے اس سے ورے اور معبود تو کہہ لاؤ اپنی سند  یہی بات ہے میرے ساتھ والوں کی اور یہی بات ہے مجھ سے پہلوں کی کوئی نہیں، پر وہ بہت لوگ نہیں سمجھتے سچی بات سو ٹلا رہے ہیں

۲۵.      اور نہیں بھیجا ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول مگر اس کو یہی حکم بھیجا کہ بات یوں ہے کہ کسی کی بندگی نہیں سوائے میرے سو میری بندگی کرو

۲۶.      اور کہتے ہیں رحمان نے کر لیا کسی کو بیٹا وہ ہرگز اس لائق نہیں  لیکن وہ بندے ہیں جن کو عزت دی ہے

۲۷.     اس سے بڑھ کر نہیں بول سکتے اور وہ اسی کے حکم پر کام کرتے ہیں

۲۸.      اس کو معلوم ہے جو ان کے آگے ہے اور پیچھے  اور وہ سفارش نہیں کرتے مگر اس کی جس سے اللہ راضی ہو  اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے ہیں

۲۹.      اور جو کوئی ان میں کہے کہ میری بندگی ہے اس سے ورے ، سو اس کو ہم بدلہ دیں گے دوزخ یونہی ہم بدلہ دیتے ہیں بے انصافوں کو

۳۰.      اور کیا نہیں دیکھا ان منکروں نے کہ آسمان اور زمین منہ بند تھے پھر ہم نے ان کو کھول دیا  اور بنائی ہم نے پانی سے ہر ایک چیز جس میں جان ہے   پھر کیا یقین نہیں کرتے

۳۱.       اور رکھ دیے ہم نے زمین میں بھاری بوجھ کبھی ان کو لے کر جھک پڑے  اور رکھیں اس میں کشادہ راہیں تاکہ وہ راہ پائیں

۳۲.      اور بنایا ہم نے آسمان کو چھت محفوظ  اور وہ آسمان کی نشانیوں کو دھیان میں نہیں لاتے

۳۳.     اور وہ ہی ہے جس نے بنائے رات اور دن اور سورج اور چاند  سب اپنے اپنے گھر میں پھرتے ہیں

۳۴.     اور نہیں دیا ہم نے تجھ سے پہلے کسی آدمی کو ہمیشہ کے لیے زندہ رہنا پھر کیا اگر تو مر گیا تو وہ رہ جائیں گے

۳۵.     ہر جی کو چکھنی ہے موت  اور ہم تم کو جانچتے ہیں برائی سے اور بھلائی سے آزمانے کو  اور ہماری طرف پھر کر آ جاؤ گے

۳۶.      اور جہاں تجھ کو دیکھا منکروں نے تو کوئی کام نہیں ان کو تجھ سے مگر ٹھٹھا کرنا کیا یہی شخص ہے جو نام لیتا ہے تمہارے معبودوں کا اور وہ رحمان کے نام سے منکر ہیں

۳۷.     بنا ہے آدمی جلدی کا اب دکھلاتا ہے تم کو اپنی نشانیاں، سو مجھ سے جلدی مت کرو

۳۸.     اور کہتے ہیں کب ہو گا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو

۳۹.      اگر جان لیں یہ منکر اس وقت کو کہ نہ روک سکیں گے اپنے منہ سے آگ اور نہ اپنی پیٹھ سے اور نہ ان کو مدد پہنچے گی

۴۰.      کچھ نہیں وہ آئے گی ان پر ناگہاں پھر ان کے ہوش کھو دے گی پھر نہ پھیر سکیں گے اس کو اور نہ ان کو فرصت ملے گی

۴۱.       اور ٹھٹھے ہو چکے ہیں رسولوں سے تجھ سے پہلے پھر الٹ پڑی ٹھٹھا کرنے والوں پر ان میں سے وہ چیز جس کا ٹھٹھا کرتے تھے

۴۲.      تو کہہ کون نگہبانی کرتا ہے تمہاری رات میں اور دن میں رحمان سے  کوئی نہیں وہ اپنے رب کے ذکر سے منہ پھیرتے ہیں

۴۳.     یا ان کے واسطے کوئی معبود ہیں کہ ان کو بچاتے ہیں ہمارے سوا وہ اپنی بھی مدد نہیں کر سکتے اور نہ ان کی ہماری طرف سے رفاقت ہو

۴۴.     کوئی نہیں پر ہم نے عیش دیا ان کو اور ان کے باپ داؤد کو یہاں تک کہ بڑھ گئی ان پر زندگی  پھر کیا نہیں دیکھتے کہ ہم چلے آتے ہیں زمین کو گھٹاتے اس کے کناروں سے اب کیا وہ جیتنے والے ہیں

۴۵.     تو کہہ میں جو تم کو ڈراتا ہوں سو حکم کے موافق اور سنتے نہیں بہرے پکارنے کو جب کوئی ان کو ڈر کی بات سنائے

۴۶.      اور کہیں پہنچ جائے ان تک ایک بھاپ تیرے رب کے عذاب کی تو ضرور کہنے لگیں ہائے کم بختی ہماری بے شک ہم تھے گنہ گار

۴۷.     اور رکھیں گے ہم ترازوئیں انصاف کی قیامت کے دن پھر ظلم نہ ہو گا کسی جی پر ایک ذرہ اور اگر ہو گا برابر رائی کے دانہ کے تو ہم لے آئیں گے اس کو   اور ہم کافی ہیں حساب کرنے کو

۴۸.     اور ہم نے دی تھی موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو قضیئے چکانے والی کتاب اور روشنی اور نصیحت ڈرنے والوں کو

۴۹.      جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے اور وہ قیامت کا خطرہ رکھتے ہیں

۵۰.      اور یہ ایک نصیحت ہے برکت کی جو ہم نے اتاری سو کیا تم اس کو نہیں مانتے

۵۱.       اور آگے دی تھی ہم نے ابراہیم کو اس کی نیک راہ  اور ہم رکھتے ہیں اس کی خبر

۵۲.      جب کہا اس نے اپنے باپ کو اور اپنی قوم کو یہ کیسی مورتیں ہیں جن پر تم مجاور بنے بیٹھے ہو

۵۳.     بولے ہم نے پایا اپنے باپ دادوں کو انہی کی پوجا کرتے

۵۴.     بولا مقرر رہے تم اور تمہارے باپ دادے صریح گمراہی میں

۵۵.     بولے تو ہمارے پاس لایا ہے سچی بات یا تو کھلاڑیاں کرتا ہے

۵۶.      بولا نہیں رب تمہارا وہی ہے رب آسمان اور زمین کا جس نے ان کو بنایا اور میں اسی بات کا قائل ہوں

۵۷.     اور قسم اللہ کی میں علاج کروں گا تمہارے بتوں کا جب تم جا چکو گے پیٹھ پھیر کر

۵۸.     پھر کر ڈالا ان کو ٹکڑے ٹکڑے مگر ایک بڑا ان کا کہ شاید اُس کی طرف رجوع کریں

۵۹.      کہنے لگے کس نے کیا یہ کام ہمارے معبودوں کے ساتھ وہ تو کوئی بے انصاف ہے

۶۰.      وہ بولے ہم نے سنا ہے ایک جوان بتوں کو کچھ کہا کرتا ہے ، اس کو کہتے ہیں ابراہیم

۶۱.       وہ بولے اس کو لے آؤ لوگوں کے سامنے شاید وہ دیکھیں

۶۲.      بولے کیا تو نے کیا ہے یہ ہمارے معبودوں کے ساتھ اے ابراہیم

۶۳.      بولا نہیں پریہ کیا ہے ان کے اس بڑے نے سو ان سے پوچھ لو اگر وہ بولتے ہیں

۶۴.      پھر سوچے اپنے جی میں پھر بولے لوگوں تم ہی بے انصاف ہو

۶۵.      پھر اوندھے ہو گئے سر جھکا کر  تو تو جانتا ہے جیسا یہ بولتے ہیں

۶۶.      بولا کیا پھر تم پوجتے ہو اللہ سے ورے ایسے کو جو تمہارا کچھ بھلا کرے نہ برا

۶۷.     بیزار ہوں میں تم سے اور جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوائے کیا تم کو سمجھ نہیں

۶۸.      بولے اس کو جلاؤ اور مدد کرو اپنے معبودوں کی اگر کچھ کرتے ہو

۶۹.      ہم نے کہا اے آگ ٹھنڈک ہو جا اور آرام ابراہیم پر

۷۰.     اور چاہنے لگے اس کا برا پھر انہی کو ہم نے ڈالا نقصان میں

۷۱.      اور بچا نکالا ہم نے اس کو اور لوط علیہ السلام کو اس زمین کی طرف جس میں برکت رکھی ہے ہم نے جہاں کے واسطے

۷۲.     اور بخشا ہم نے اُس کو اسحاق اور یعقوب دیا انعام میں  اور سب کو نیک بخت کیا

۷۳.     اور ان کو کیا ہم نے پیشوا راہ بتلاتے تھے ہمارے حکم سے  اور کہلا بھیجا ہم نے ان کو کرنا نیکیوں کا اور قائم رکھنی نماز اور دینی زکوٰۃ  اور وہ تھے ہماری بندگی میں لگے ہوئے

۷۴.     اور لوط کو دیا ہم نے حکم اور سمجھ  اور بچا نکالا اس کو اس بستی سے جو کرتے تھے گندے کام وہ تھے لوگ بڑے نافرمان

۷۵.     اور اس کو لے لیا ہم نے اپنی رحمت میں وہ ہے نیک بختوں میں

۷۶.     اور نوح کو جب اس نے پکارا اس سے پہلے   پھر قبول کر لی ہم نے اس کی دعا سو بچا دیا اس کو اور اس کے گھر والوں کو بڑی گھبراہٹ سے

۷۷.     اور مدد کی اس کی ان لوگوں پر جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتیں وہ تھے برے لوگ پھر ڈبا دیا ہم نے اُن سب کو

۷۸.     اور داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کو جب لگے فیصل کرنے کھیتی کا جھگڑا جب روند گئیں اس کو رات میں ایک قوم کی بکریاں، اور سامنے تھا ہمارے ان کا فیصلہ

۷۹.      پھر سمجھا دیا ہم نے وہ فیصلہ سلیمان کو اور دونوں کو دیا تھا ہم نے حکم اور سمجھ  اور تابع کیے ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑ، تسبیح پڑھا کرتے اور اڑتے جانور  اور یہ سب کچھ ہم نے کیا

۸۰.      اور اس کو سکھلایا ہم نے بنایا ایک تمہارا لباس کہ بچاؤ ہو تم کو تمہاری لڑائی میں  سو کچھ تم شکر کرتے ہو

۸۱.       اور سلیمان کے تابع کی ہوا زور سے چلنے والی کہ چلتی اس کے حکم سے اس زمین کی طرف جہاں برکت دی ہے ہم نے  اور ہم کو سب چیز کی خبر ہے

۸۲.      اور تابع کیے کتنے شیطان جو غوطہ لگاتے اس کے واسطے اور بہت سے کام بناتے اس کے سوا  اور ہم نے ان کو تھام رکھا تھا

۸۳.     اور ایوب کو جس وقت پکارا اس نے اپنے رب کو کہ مجھ پر پڑی ہے تکلیف اور تو ہے سب رحم والوں سے رحم والا

۸۴.     پھر ہم نے سن لی اس کی فریاد سو دور کر دی جو اس پر تھی تکلیف اور عطا کیے اُس کو اس کے گھر والے اور اتنے ہی اور ان کے ساتھ  رحمت اپنی طرف سے اور نصیحت بندگی کرنے والوں کو

۸۵.     اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو یہ سب ہیں صبر والے

۸۶.      اور لے لیا ہم نے ان کو اپنی رحمت میں وہ ہیں نیک بختوں میں

۸۷.     اور مچھلی والے کو جب چلا گیا غصہ ہو کر  پھر سمجھا کہ ہم نہ پکڑ سکیں گے اس کو پھر پکارا ان اندھیروں میں  کہ کوئی حاکم نہیں سوائے تیرے تو بے عیب ہے میں تھا گنہگاروں سے

۸۸.     پھر سن لی ہم نے اس کی فریاد، اور بچا دیا اس کو اس گھٹنے سے ، اور یونہی ہم بچا دیتے ہیں ایمان والوں کو

۸۹.      اور زکریا کو علیہ السلام جب پکارا اس نے اپنے رب کو، اے رب نہ چھوڑ مجھ کو اکیلا  اور تو ہے سب سے بہتر وارث

۹۰.      پھر ہم نے سن لی اس کی دعا اور بخشا اس کو یحییٰ اور اچھا کر دیا اس کی عورت کو  وہ لوگ دوڑتے تھے بھلائیوں پر اور پکارتے تھے ہم کو توقع سے اور ڈر سے اور تھے ہمارے آگے عاجز

۹۱.       اور وہ عورت جس نے قابو میں رکھی اپنی شہوت   پھر پھونک دی ہم نے اس عورت میں اپنی روح  اور کیا اس کو اس کے بیٹے کو نشانی جہان والوں کے واسطے

۹۲.      یہ لوگ ہیں تمہارے دین کے سب ایک دین پر اور میں ہوں رب تمہارا سو میری بندگی کرو

۹۳.      اور ٹکڑے ٹکڑے بانٹ لیا لوگوں نے آپس میں اپنا کام  سب ہمارے پاس پھر آئیں گے

۹۴.      سو جو کوئی کرے کچھ نیک کام اور وہ رکھتا ہو ایمان سو اکارت نہ کریں گے اس کی سعی کو اور ہم اس کو لکھ لیتے ہیں

۹۵.      اور مقرر ہو چکا ہر بستی پر جس کو غارت کر دیا ہم نے کہ وہ پھر کر نہیں آئیں گے

۹۶.      یہاں تک کہ جب کھول دیے جائیں یاجوج و ماجوج اور وہ ہر اوچان سے پھسلتے چلے آئیں

۹۷.      اور نزدیک آ لگے سچا وعدہ پھر اس دم اوپر لگی رہ جائیں منکروں کی آنکھیں ہائے کم بختی ہماری ہم بے خبر رہے اس سے  نہیں، پر ہم تھے گناہ گار

۹۸.      تم اور جو کچھ تم پوجتے ہو اللہ کے سوا ایندھن ہے دوزخ کا تم کو اس پر پہنچنا ہے

۹۹.       اگر ہوتے یہ بت معبود تو نہ پہنچتے اس پر اور سارے اس میں سدا پڑے رہیں گے

۱۰۰.     ان کو وہاں چلانا ہے اور وہ اس میں کچھ نہ سنیں گے

۱۰۱.     جن کے لیے پہلے سے ٹھہر چکی ہماری طرف سے نیکی وہ اس سے دور رہیں گے

۱۰۲.     نہیں سنیں گے اس کی آہٹ اور وہ اپنے جی کے مزوں میں سدا رہیں گے

۱۰۳.    نہ غم ہو گا ان کو اس بڑی گھبراہٹ میں  اور لینے آئیں گے ان کو فرشتے آج دن تمہارا ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا

۱۰۴.    جس دن ہم لپیٹ لیویں آسمان کو جیسے لپیٹتے ہیں طومار میں کاغذ  جیسا سرے سے بنایا تھا ہم نے پہلی بار، پھر اس کو دوہرائیں گے ، وعدہ ضرور ہو چکا ہے ہم پر، ہم کو پورا کرنا ہے

۱۰۵.    اور ہم نے لکھ دیا ہے زبور میں نصیحت کے پیچھے کہ آخر زمین پر مالک ہوں گے میرے نیک بندے

۱۰۶.     اس میں مطلب کو پہنچتے ہیں لوگ بندگی والے

۱۰۷.    اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا سو مہربانی کر جہان کے لوگوں پر

۱۰۸.    تو کہہ مجھ کو تو حکم یہی آیا ہے کہ معبود تمہارا ایک معبود ہے پھر کیا ہو تم حکم برداری کرنے والے

۱۰۹.     پھر اگر وہ منہ موڑیں تو تو کہہ دے میں نے خبر دی تم کو دونوں طرف برابر  اور میں نہیں جانتا نزدیک ہے یا دور ہے جو تم سے وعدہ ہوا

۱۱۰.     وہ رب جانتا ہے جو بات پکار کر کرو اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو

۱۱۱.      اور میں نہیں جانتا شاید تاخیر میں تم کو جانچنا ہے اور فائدہ دینا ہے ایک وقت تک

۱۱۲.     رسول نے کہا اے رب فیصلہ کر انصاف کا  اور رب ہمارا رحمان ہے اسی سے مدد مانگتے ہیں ان باتوں پر جو تم بتلاتے ہو

 

سورۃ الحج

شروع اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.         لوگو ڈرو اپنے رب سے بے شک بھونچال قیامت کا ایک بڑی چیز ہے

۲.        جس دن اس کو دیکھو گے بھول جائے گی ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پلائے کو، اور ڈال دے گی ہر پیٹ والی اپنا پیٹ اور تو دیکھے لوگوں پر نشہ اور ان پر نشہ نہیں پر آفت اللہ کی سخت ہے

۳.        اور بعضے لوگ وہ ہیں جو جھگڑتے ہیں اللہ کی بات میں بے خبری سے  اور پیروی کرتا ہے ہر شیطان سرکش کی

۴.        جس کے حق میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو کوئی اس کا رفیق ہو سو وہ اس کو بہکائے اور لے جائے عذاب میں دوزخ کے

۵.        اے لوگوں اگر تم کو دھوکا ہے جی اٹھنے میں تو ہم نے تم کو بنایا  مٹی سے پھر قطرہ سے   پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کی بوٹی نقشہ بنی ہوئی سے اور بدون نقشہ بنی ہوئی سے  اس واسطے کہ تم کو کھول کر سنا دیں  اور ٹھہرا رکھتے ہیں ہم پیٹ میں جو کچھ چاہیں ایک وقت معین تک  پھر تم کو نکالتے ہیں لڑکا پھر جب تک کہ پہنچو اپنی جوانی کے زور کو اور کوئی تم میں سے قبضہ کر لیا جاتا ہے اور کوئی تم میں سے پھر چلایا جاتا ہے نکمی عمر تک تاکہ سمجھنے کے پیچھے کچھ نہ سمجھنے لگے  اور تو دیکھتا ہے زمین خراب پڑی ہوئی، پھر جہاں ہم نے اتارا اس پر پانی تازی ہو گئی اور ابھری اور اگائیں ہر قسم قسم رونق کی چیزیں

۶.        یہ سب کچھ اس واسطے کہ اللہ وہی ہے محقق اور وہ جلاتا ہے مردوں کو اور وہ ہر چیز کر سکتا ہے

۷.        اور یہ کہ قیامت آنی ہے اس میں دھوکا نہیں اور یہ کہ اللہ اٹھائے گا قبروں میں پڑے ہوؤں کو

۸.        اور بعض شخص وہ ہے جو جھگڑتا ہے اللہ کی بات میں بغیر جانے اور بغیر دلیل اور بدون روشن کتاب کے

۹.         اپنی کروٹ موڑ کر  تاکہ بہکائے اللہ کی راہ سے اس کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور چکھائیں گے ہم اس کو قیامت کے دن جلن کی مار

۱۰.       یہ اس کی وجہ سے جو آگے بھیج چکے تیرے دو ہاتھ اور اس وجہ سے کہ اللہ نہیں ظلم کرتا بندوں پر

۱۱.        اور بعضا شخص وہ ہے کہ بندگی کرتا ہے اللہ کی کنارے پر پھر اگر پہنچی اس کو بھلائی تو قائم ہو گیا اس عبادت پر، اور اگر پہنچ گئی اس کو جانچ پھر گیا الٹا اپنے منہ پر گنوائی دنیا اور آخرت یہی ہے ٹوٹا صریح

۱۲.       پکارتا ہے اللہ کے سواء ایسی چیز کو کہ نہ اس کا نقصان کرے اور نہ اس کا فائدہ کرے ، یہی ہے دور جا پڑنا گمراہ ہو کر

۱۳.       پکارے جاتا ہے اس کو جس کا ضرر پہلے پہنچے نفع سے  بے شک برا دوست ہے اور برا رفیق

۱۴.       اللہ داخل کرے گا ان کو جو ایمان لائے اور کیں بھلائیاں باغوں میں بہتی ہیں نیچے ان کے نہریں  اللہ کرتا ہے جو چاہے

۱۵.       جس کو یہ خیال ہو کہ ہرگز نہ مدد کرے گا اس کی اللہ دنیا میں اور آخرت میں تو تان لے ایک رسی آسمان کو پھر کاٹ ڈالے اب دیکھے کچھ جاتا رہا اس کی اس تدبیر سے اس کا غصہ

۱۶.       اور یوں اتارا ہم نے یہ قرآن کھلی باتیں اور یہ ہے کہ اللہ سجھا دیتا ہے جس کو چاہے

۱۷.      جو لوگ مسلمان ہیں اور جو یہود ہیں اور صائبین اور نصاریٰ اور مجوس  اور شرک کرتے ہیں مقرر اللہ فیصلہ کرے گا ان میں قیامت کے دن اللہ کے سامنے ہے ہر چیز

۱۸.       تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ کو سجدہ کرتا ہے جو کوئی آسمان میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت آدمی  اور بہت ہیں کہ ان پر ٹھہر چکا عذاب اور جس کو اللہ ذلیل کرے اسے کوئی نہیں عزت دینے والا اللہ کرتا ہے جو چاہے

۱۹.       یہ دو مدعی ہیں جھگڑے ہیں اپنے رب پر  سو جو منکر ہوئے ان کے واسطے بیونتے ہیں کپڑے آگ کے  ڈالتے ہیں ان کے سر پر جلتا پانی،

۲۰.      گل کر نکل جاتا ہے اس سے جو کچھ ان کے پیٹ میں ہے اور کھال بھی

۲۱.       اور ان کے واسطے ہتھوڑے ہیں لوہے کے

۲۲.      جب چاہیں کہ نکل پڑیں دوزخ سے گھٹنے کے مارے پھر ڈال دیے جائیں اس کے اندر اور چکھتے رہو جلنے کا عذاب

۲۳.      بے شک اللہ داخل کرے گا ان کو جو یقین لائے اور کیں بھلائیاں باغوں میں بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں گہنا پہنائیں گے ان کو وہاں کنگن سونے کے اور موتی  اور ان کی پوشاک ہے وہاں ریشم کی

۲۴.      اور راہ پائی انہوں نے ستھری بات کی  اور پائی اس تعریفوں والے کی راہ

۲۵.      جو لوگ منکر ہوئے اور روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور مسجد حرام سے جو ہم نے بنائی سب لوگوں کے واسطے برابر ہے اس میں رہنے والا اور باہر سے آنے والا اور جو اس میں چاہے ٹیڑھی راہ شرارت سے اسے ہم چکھائیں گے ایک عذاب دردناک

۲۶.      اور جب ٹھیک کر دی ہم نے ابراہیم کو جگہ اس گھر کی  کہ شریک نہ کرنا میرے ساتھ کسی کو  اور پاک رکھ میرا گھر طواف کرنے والوں کے واسطے اور کھڑے رہنے والوں کے اور رکوع و سجدہ والوں کے

۲۷.     اور پکار دے لوگوں میں حج کے واسطے کہ آئیں تیری طرف پیروں چل کر اور سوار ہو کر دبلے دبلے اونٹوں پر چلے آئیں راہوں دور سے

۲۸.      تاکہ پہنچیں اپنے فائدے کی جگہوں پر  اور پڑھیں اللہ کا نام کئی دن جو معلوم ہیں ذبح پر چوپایوں مواشی کے جو اللہ نے دیے ہیں ان کو  سو کھاؤ اس میں سے اور کھلاؤ برے حال کے محتاج کو

۲۹.      پھر چاہیے کہ ختم کر دیں اپنا میل کچیل اور پوری کریں اپنی منتیں اور طواف کریں اس قدیم گھر کا

۳۰.      یہ سن چکے اور جو کوئی بڑائی رکھے اللہ کی حرمتوں کی سو وہ بہتر ہے اس کے لیے اپنے رب کے پاس  اور حلال ہیں تم کو چوپائے  مگر جو تم کو سناتے ہیں  سو بچتے رہو بتوں کی گندگی سے  اور بچتے رہو جھوٹی بات سے

۳۱.       ایک اللہ کی طرف کے ہو کر نہ کہ اس کے ساتھ شریک بنا کر  اور جس نے شریک بنایا اللہ کا، سو جیسے گر پڑا آسمان سے پھر اچکتے ہیں اس کو اڑنے والے مردار خوار، یا جا ڈالا اس کو ہوا نے کسی دوسرے مکان میں

۳۲.      یہ سن چکے اور جو کوئی ادب رکھے اللہ کے نام لگی چیزوں کا، سو وہ دل کی پرہیز گاری کی بات ہے

۳۳.     تمہارے واسطے چوپایوں میں فائدے ہیں ایک مقرر وعدہ تک پھر ان کو پہنچنا اس قدیم گھر تک

۳۴.     اور ہر امت کے واسطے ہم نے مقرر کر دی ہے قربانی کہ یاد کریں اللہ کے نام ذبح پر چوپایوں کے جو ان کو (اللہ نے دیے ) سو اللہ تمہارا ایک اللہ ہے سو اسی کے حکم میں رہو  اور بشارت سنا دے عاجزی کرنے والوں کو

۳۵.     وہ کہ جب نام لیجیے اللہ کا ڈر جائیں ان کے دل اور سہنے والے اس کو جو ان پر پڑے  اور قائم رکھنے والے نماز کے اور ہمارا دیا ہوا کچھ خرچ کرتے رہتے ہیں

۳۶.      اور کعبہ کے چڑھانے کے اونٹ ٹھہرائے ہیں ہم نے تمہارے واسطے نشانی اللہ کے نام کی تمہارے واسطے اس میں بھلائی سو پڑھو ان پر نام اللہ کا قطار باندھ کر پھر جب گر پڑے اُن کی کروٹ، تو کھاؤ اس میں سے  اور کھلاؤ صبر سے بیٹھے کو اور بے قراری کرتے کو  اسی طرح تمہارے بس میں کر دیا ہم نے ان جانوروں کو تاکہ تم احسان مانو

۳۷.     اللہ کو نہیں پہنچتا ان کا گوشت اور نہ ان کا لہو لیکن اس کو پہنچتا ہے تمہارے دل کا ادب  اسی طرح ان کو بس میں کر دیا تمہارے کہ اللہ کی بڑائی پڑھو اس بات پر کہ تم کو راہ سجھائی اور بشارت سنا دے نیکی والوں کو

۳۸.     اللہ دشمنوں کو ہٹا دے گا ایمان والوں سے   اللہ کو خوش نہیں آتا کوئی دغا باز ناشکر

۳۹.      حکم ہوا ان لوگوں کو جن سے کافر لڑتے ہیں اس واسطے کہ ان پر ظلم ہوا  اور اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے

۴۰.      وہ لوگ جن کو نکالا ان کے گھروں سے اور دعویٰ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے  اور اگر نہ ہٹایا کرتا اللہ لوگوں کو ایک کو دوسرے سے تو ڈھائے جاتے تکیے اور مدرسے اور عبادت خانے اور مسجدیں جن میں نام پڑھا جاتا ہے اللہ کا بہت اور اللہ مقرر مدد کرے گا اس کی جو مدد کرے گا اس کی بے شک اللہ زبردست ہے زور والا

۴۱.       وہ لوگ کہ اگر ہم ان کو قدرت دیں ملک میں تو وہ قائم رکھیں نماز اور دیں زکوٰۃ اور حکم کریں بھلے کام کا اور منع کریں برائی سے  اور اللہ کے اختیار میں ہے آخر ہر کام

۴۲.      اور اگر تجھ کو جھٹلائیں تو ان سے پہلے جھٹلا چکی ہے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود

۴۳.     اور ابراہیم کی قوم اور لوط کی قوم

۴۴.     اور مدین کے لوگ  اور موسیٰ کو جھٹلایا  پھر میں نے ڈھیل دی منکروں کو پھر پکڑ لیا ان کو تو کیسا ہوا میرا انکار

۴۵.     سو کتنی بستیاں ہم نے غارت کر ڈالیں اور وہ گناہ گار تھیں اب وہ گری پڑتی ہیں اپنی چھتوں پر   اور کتنے کنوئیں نکمے پڑے اور کتنے محل گچکاری کے

۴۶.      کیا سیر نہیں کی ملک کی جو ان کے دل ہوتے جن سے سمجھتے یا کان ہوتے جن سے سنتے  سو کچھ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں پر اندھے ہو جاتے ہیں دل جو سینوں میں ہیں

۴۷.     اور تجھ سے جلدی مانگتے ہیں عذاب اور اللہ ہرگز نہ ٹالے گا اپنا وعدہ  اور ایک دن تیرے رب کے یہاں ہزار برس کے برابر ہوتا ہے جو تم گنتے ہو

۴۸.     اور کتنی بستیاں ہیں کہ میں نے ان کو ڈھیل دی اور وہ گناہ گار تھیں پھر میں نے ان کو پکڑا اور میری طرف پھر کر آنا ہے

۴۹.      تو کہہ اے لوگوں میں تو ڈر سنا دینے والا ہوں تم کو کھول کر

۵۰.      سو جو لوگ یقین لائے اور کیں بھلائیاں ان کے گناہ بخش دیتے ہیں اور ان کو روزی ہے عزت کی

۵۱.       اور جو دوڑے ہماری آیتوں کے ہرانے کو وہی ہیں دوزخ کے رہنے والے

۵۲.      اور جو رسول بھیجا ہم نے تجھ سے پہلے یا نبی سو جب لگا خیال باندھنے شیطان نے ملا دیا اس کے خیال میں پھر اللہ مٹا دیتا ہے شیطان کا ملایا ہوا پھر پکی کر دیتا ہے اپنی باتیں اور اللہ سب خبر رکھتا ہے حکمتوں والا

۵۳.     اس واسطے کہ جو کچھ شیطان نے ملایا اس سے جانچے ان کو کہ جن کے دل میں روگ ہیں اور جن کے دل سخت ہیں اور گنہ گار تو ہیں مخالفت میں دور جا پڑے

۵۴.     اور اس واسطے کہ معلوم کر لیں وہ لوگ جن کو سمجھ ملی ہے کہ یہ تحقیق ہے تیرے رب کی طرف سے پھر اس پر یقین لائیں نرم ہو جائیں اس کے آگے ان کے دل اور اللہ سمجھانے والا ہے یقین لانے والوں کو راہ سیدھی

۵۵.     اور منکروں کو ہمیشہ رہے گا اس میں دھوکا جب تک کہ آ پہنچے ان پر قیامت بے خبری میں یا آ پہنچے ان پر آفت ایسے دن کی جس میں راہ نہیں خلاصی کی

۵۶.      راج اس دن اللہ کا ہے ان میں فیصلہ کرے گا  سو جو یقین لائے اور کہیں بھلائیاں نعمت کے باغوں میں ہیں

۵۷.     اور جو منکر ہوئے اور جھٹلائیں ہماری باتیں سو ان کے لیے ہے ذلت کا عذاب

۵۸.     اور جو لوگ گھر چھوڑ آئے اللہ کی راہ میں پھر مارے گئے یا مر گئے البتہ ان کو دے گا اللہ روزی خاصی اور اللہ ہے سب سے بہتر روزی دینے والا

۵۹.      البتہ پہنچائے گا ان کو ایک جگہ جس کو پسند کریں گے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے تحمل والا

۶۰.      یہ سن چکے اور جس نے بدلہ لیا جیسا کہ اس کو دکھ دیا تھا پھر اس پر کوئی زیادتی کرے تو البتہ اس کی مدد کرے گا اللہ  بے شک اللہ درگزر کرنے والا بخشنے والا ہے

۶۱.       یہ اس واسطے کہ اللہ لے لیتا ہے رات کو دن میں اور دن کو رات میں  اور اللہ سنتا دیکھتا ہے

۶۲.      یہ اس واسطے کہ اللہ وہی ہے صحیح اور جس کو پکارتے ہیں اس کے سوا وہی ہے غلط اور اللہ وہی ہے سب سے اوپر بڑا

۶۳.      تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر زمین ہو جاتی ہے سرسبز  بے شک اللہ جانتا ہے چھپی تدبیریں خبردار ہے

۶۴.      اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں اور اللہ وہی ہے بے پروا تعریفوں والا

۶۵.      تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے بس میں کر دیا تمہارے جو کچھ ہے زمین میں اور کشتی کو جو چلتی ہے دریا میں اس کے حکم سے اور تھام رکھتا ہے آسمان کو اس سے کہ گر پڑے زمین پر مگر اس کے حکم سے بے شک اللہ لوگوں پر نرمی کرنے والا مہربان ہے

۶۶.      اور اسی نے تم کو جلایا پھر مارتا ہے پھر زندہ کرے گا  بے شک انسان ناشکرا ہے

۶۷.     ہر امت کے لیے ہم نے مقرر کر دی ایک راہ بندگی کی کہ وہ اسی طرح کرتے ہیں بندگی، سو چاہیے تجھ سے جھگڑا نہ کریں اس کام میں اور تو بلائے جا اپنے رب کی طرف بے شک تو ہے سیدھی راہ پر سوجھ والا

۶۸.      اور اگر تجھ سے جھگڑنے لگیں تو تو کہہ اللہ بہتر جانتا ہے جو تم کرتے ہو

۶۹.      اللہ فیصلہ کرے گا تم میں قیامت کے دن جس چیز میں تمہاری راہ جدا جدا تھی

۷۰.     کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں یہ سب لکھا ہوا ہے کتاب میں یہ اللہ پر آسان ہے

۷۱.      اور پوجتے ہیں اللہ کے سوا اس چیز کو جس کی سند نہیں اتاری اس نے اور جس کی ان کو خبر نہیں  اور بے انصافوں کا کوئی نہیں مددگار

۷۲.     اور جب سنائے ان کو ہماری آیتیں صاف تو پہچانے تو منکروں کے منہ کی بری شکل نزدیک ہوتے ہیں کہ حملہ کر پڑیں ان پر جو پڑھتے ہیں ان کے پاس ہماری آیتیں  تو کہہ میں تم کو بتلاؤں ایک چیز اس سے بدتر وہ آگ ہے اس کا وعدہ کر دیا ہے اللہ نے منکروں کو اور وہ بہت بری ہے پھر جانے کی جگہ

۷۳.     اے لوگوں ایک مثل کہی ہے سو اس پر کان رکھو  جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوائے ہرگز نہ بنا سکیں گے ایک مکھی اگرچہ سارے جمع ہو جائیں اور اگر کچھ چھین لے ان سے مکھی چھڑا نہ سکیں وہ اس سے بودا ہے چاہنے والا اور جن کو چاہتا ہے

۷۴.     اللہ کی قدر نہیں سمجھے جیسی اس کی قدر ہے بے شک اللہ زور آور ہے زبردست

۷۵.     اللہ چھانٹ لیتا ہے فرشتوں میں پیغام پہنچانے والے اور آدمیوں میں  اللہ سنتا دیکھتا ہے

۷۶.     جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے اور اللہ تک پہنچ ہے ہر کام کی

۷۷.     اے ایمان والو رکوع کرو اور سجدہ کرو اور بندگی کرو اپنے رب کی اور بھلائی کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو

۷۸.     اور محنت کرو اللہ کے واسطے جیسی کہ چاہیے اس کے واسطے محنت  اس نے تم کو پسند کیا  اور نہیں رکھی تم پر دین میں کچھ مشکل  دین تمہارے باپ ابراہیم کا  اسی نے نام رکھا تمہارا مسلمان پہلے سے اور اس قرآن میں  تاکہ رسول ہو بتانے والا تم پر اور تم ہو بتانے والے لوگوں پر  سو قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ اور مضبوط پکڑو اللہ کو وہ تمہارا مالک ہے سو خوب مالک ہے اور خوب مددگار

 

سورۃ المؤمنون

شروع اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.         کام نکال لے گئے ایمان والے

۲.        جو اپنی نماز میں جھکنے والے ہیں

۳.        اور جو نکمی بات پر دھیان نہیں کرتے

۴.        اور جو زکوٰۃ دیا کرتے ہیں

۵.        اور جو اپنی شہوت کی جگہ کو تھامتے ہیں

۶.        مگر اپنی عورتوں پر یا اپنے ہاتھ کے مال باندیوں پر سو ان پر نہیں کچھ الزام

۷.        پھر جو کوئی ڈھونڈے اس کے سوا سو وہی ہیں حد سے بڑھنے والے

۸.        اور جو اپنی امانتوں سے اور اپنے قرار سے خبردار ہیں

۹.         اور جو اپنی نمازوں کی خبر رکھتے ہیں

۱۰.       وہ ہی ہیں میراث لینے والے

۱۱.        جو میراث پائیں گے باغ ٹھنڈی چھاؤں کے  وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے

۱۲.       اور ہم نے بنایا آدمی کو چنی ہوئی مٹی سے

۱۳.       پھر ہم نے رکھا اس کو پانی کی بوند کر کے ایک جمے ہوئے ٹھکانہ میں

۱۴.       پھر بنایا اس بوند سے لہو جما ہوا پھر بنائی اس لہو جمے ہوئے سے گوشت کی بوٹی پھر بنائیں اس بوٹی سے ہڈیاں پھر پہنایا اُن ہڈیوں پر گوشت  پھر اٹھا کھڑا کیا اس کو ایک نئی صورت میں  سو بڑی برکت اللہ کی جو سب سے بہتر بنانے والا ہے

۱۵.       پھر تم اس کے بعد مرو گے

۱۶.       پھر تم قیامت کے دن کھڑے کیے جاؤ گے

۱۷.      اور ہم نے بنائے ہیں تمہارے اوپر سات راستے   اور ہم نہیں ہیں خلق سے بے خبر

۱۸.       اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی ناپ کر  پھر اس کو ٹھہرا دیا زمین میں  اور ہم اس کو لے جائیں تو لے جا سکتے ہیں

۱۹.       پھر اگا دیے تمہارے واسطے اس سے باغ کھجور اور انگور کے تمہارے واسطے ان میں میوے ہیں بہت اور انہی میں سے کھاتے ہو

۲۰.      اور وہ درخت جو نکلتا ہے سینا پہاڑ سے لے اگتا ہے تیل اور روٹی ڈبونا کھانے والوں کے واسطے

۲۱.       اور تمہارے لیے چوپایوں میں دھیان کرنے کی بات ہے پلاتے ہیں ہم تم کو اُن کے پیٹ کی چیز سے اور تمہارے لیے ان میں بہت فائدے ہیں اور بعضوں کو کھاتے ہو

۲۲.      اور ان پر اور کشتیوں پر لدے پھرتے ہو

۲۳.      اور ہم نے بھیجا نوح کو اس کی قوم کے پاس تو اس نے کہا اے قوم بندگی کرو اللہ کی تمہارا کوئی حاکم نہیں اس کے سوا کیا تم ڈرتے نہیں

۲۴.      تب بولے سردار جو کافر تھے اس کی قوم میں یہ کیا ہے آدمی ہے جیسے تم چاہتا ہے کہ بڑائی کرے تم پر اور اگر اللہ چاہتا تو اتارتا فرشتے  ہم نے یہ نہیں سنا اپنے اگلے باپ دادوں میں

۲۵.      اور کچھ نہیں یہ ایک مرد ہے کہ اس کو سودا ہے سو راہ دیکھو اس کی ایک وقت تک

۲۶.      بولا اے رب تو مدد کر میری کہ انہوں نے مجھ کو جھٹلایا

۲۷.     پھر ہم نے حکم بھیجا اسکو کہ بنا کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہمارے حکم سے پھر جب پہنچے ہمارا حکم اور ابلے تنور تو تو ڈال لے کشتی میں ہر چیز کا جوڑا دو دو (نر اور مادہ) اور اپنے گھر کے لوگ  مگر جس کی قسمت میں پہلے سے ٹھہر چکی ہے بات  اور مجھ سے بات نہ کر (نہ کہہ مجھ سے ) ان ظالموں کے واسطے بے شک ان کو ڈوبنا ہے

۲۸.      پھر جب چڑھ چکے تو اور جو تیرے ساتھ ہے کشتی پر تو کہہ شکر اللہ کا جس نے چھڑایا ہم کو گناہ گار لوگوں سے

۲۹.      اور کہہ اے رب اتار مجھ کو برکت کا اتارنا اور تو ہے بہتر اتارنے والا

۳۰.      اس میں نشانیاں ہیں اور ہم ہیں جانچنے والے

۳۱.       پھر پیدا کی ہم نے ان سے پیچھے ایک جماعت اور

۳۲.      پھر بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول ان میں کا  کہ بندگی کرو اللہ کی کوئی نہیں تمہارا حاکم اس کے سوا پھر کیا تم ڈرتے نہیں

۳۳.     اور بولے سردار اس کی قوم کے جو کافر تھے اور جھٹلاتے تھے آخرت کی ملاقات کو اور آرام دیا تھا ان کو ہم نے دنیا کی زندگی میں  اور کچھ نہیں یہ ایک آدمی ہے جیسے تم، کھاتا ہے جس قسم سے تم کھاتے ہو اور پیتا ہے جس قسم سے تم پیتے ہو

۳۴.     اور کہیں تم چلنے لگے کہنے پر ایک آدمی کے اپنے برابر کے تو تم بے شک خراب ہوئے

۳۵.     کیا تم کو وعدہ دیتا ہے کہ جب تم مر جاؤ اور ہو جاؤ مٹی اور ہڈیاں تو تم کو نکلنا ہے

۳۶.      کہاں ہوتا ہے جو تم سے وعدہ ہوتا ہے

۳۷.     اور کچھ نہیں یہی جینا ہے ہمارا دنیا کا مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم کو پھر اٹھنا نہیں

۳۸.     اور کچھ نہیں یہ ایک مرد ہے باندھ لایا ہے اللہ پر جھوٹ  اور اس کو ہم نہیں ماننے والے

۳۹.      بولا اے رب میری مدد کر کہ انہوں نے مجھ کو جھٹلایا

۴۰.      اب تھوڑے دنوں میں صبح کو رہ جائیں گے پچھتانے

۴۱.       پھر پکڑا ان کو چنگھاڑ نے تحقیق  پھر کر دیا ہم نے ان کو کوڑا  سو دور ہو جائیں گناہ گار لوگ

۴۲.      پھر پیدا کیں ہم نے ان سے پیچھے جماعتیں

۴۳.     اور نہ آگے جائے کوئی قوم اپنے وعدہ سے اور نہ پیچھے رہے

۴۴.     پھر بھیجتے رہے ہم اپنے رسول لگاتار جہاں پہنچا کسی امت کے پاس ان کا رسول اس کو جھٹلا دیا پھر چلاتے گئے ہم ایک کے پیچھے دوسرے اور کر ڈالا ان کو کہانیاں   سو دور ہو جائیں جو لوگ نہیں مانتے

۴۵.     پھر بھیجا ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں دے کر اور کھلی سند

۴۶.      فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس، پھر لگے بڑائی کرنے اور وہ لوگ زور پر چڑھ رہے تھے

۴۷.     سو بولے کیا ہم مانیں گے اپنے برابر کے دو آدمیوں کو اور ان کی قوم ہمارے تابعدار ہیں

۴۸.     پھر جھٹلایا ان دونوں کو پھر ہو گئے غارت ہونے والوں میں

۴۹.      اور ہم نے دی موسیٰ کو کتاب تاکہ وہ راہ پائیں

۵۰.      اور بنایا ہم نے مریم کے بیٹے اور اس کی ماں کو ایک نشانی  اور ان کو ٹھکانا دیا ایک ٹیلہ پر جہاں ٹھہرنے کا موقع تھا اور پانی نتھرا

۵۱.       اے رسولو کھاؤ ستھری چیزیں اور کام کرو بھلا  جو تم کرتے ہو میں جانتا ہوں

۵۲.      اور یہ لوگ ہیں تمہارے دین کے سب ایک دین پر اور میں ہوں تمہارا رب سو مجھ سے ڈرتے رہو

۵۳.     پھر پھوٹ ڈال کر کر لیا اپنا کام آپس میں ٹکڑے ٹکڑے  ہر فرقہ جو ان کے پاس ہے اس پر ریجھ رہے ہیں

۵۴.     سو چھوڑ دے ان کو ان کی بے ہوشی میں ڈوبے ایک وقت تک

۵۵.     کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ یہ جو ہم ان کو دیے جاتے ہیں مال اور اولاد

۵۶.      سو دوڑ دوڑ کر پہنچا رہے ہیں ہم ان کو بھلائیاں   یہ بات نہیں وہ سمجھتے نہیں

۵۷.     البتہ جو لوگ اپنے رب کے خوف سے اندیشہ رکھتے ہیں

۵۸.     اور جو لوگ اپنے رب کی باتوں پر یقین کرتے ہیں

۵۹.      اور جو لوگ اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں مانتے

۶۰.      اور جو لوگ کہ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل ڈر رہے ہیں اس لیے کہ ان کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے

۶۱.       وہ لوگ دوڑ دوڑ کر لیتے ہیں بھلائیاں اور وہ ان پر پہنچے سب سے آگے

۶۲.      اور ہم کسی پر بوجھ نہیں ڈالتے مگر اس کی گنجائش کے موافق اور ہمارے پاس لکھا ہوا ہے جو بولتا ہے سچ اور ان پر ظلم نہ ہو گا

۶۳.      کوئی نہیں ان کے دل بے ہوش ہیں اس طرف سے اور ان کو اور کام لگ رہے ہیں اس کے سوا کہ وہ ان کو کر رہے ہیں

۶۴.      یہاں تک کہ جب پکڑیں گے ہم ان کے آسودہ لوگوں کو آفت میں تب ہی وہ لگیں گے چلانے

۶۵.      مت چلاؤ آج کے دن تم ہم سے چھوٹ نہ سکو گے

۶۶.      تم کو سنائی جاتی تھیں میری آیتیں تو تم ایڑیوں پر الٹے بھاگتے تھے اس سے تکبر کر کے

۶۷.     ایک قصہ گو کو چھوڑ کر چلے گئے

۶۸.      سو کیا انہوں نے دھیان نہیں کیا اس کلام میں  یا آئی ہے ان کے پاس ایسی چیز جو نہ آئی تھی ان کے پہلے باپ دادوں کے پاس

۶۹.      یا پہچانا نہیں انہوں نے اپنے پیغام لانے والے کو سو وہ اس کو اوپرا سمجھتے ہیں

۷۰.     یا کہتے ہیں اس کو سودا ہے کوئی نہیں وہ تو لایا ہے ان کے پاس سچی بات اور ان بہتوں کو سچی بات بری لگتی ہے

۷۱.      اور اگر سچا رب چلے ان کی خوشی پر تو خراب ہو جائیں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے  کوئی نہیں ہم نے پہنچائی ہے ان کو ان کی نصیحت  سو وہ اپنی نصیحت کو دھیان نہیں کرتے

۷۲.     یا تو ان سے مانگتا ہے کچھ محصول سو محصول تیرے رب کا بہتر ہے اور وہ ہے بہتر روزی دینے والا

۷۳.     اور تو تو بلاتا ہے ان کو سیدھی راہ پر

۷۴.     اور جو لوگ نہیں مانتے آخرت کو راہ سے ٹیڑھے ہو گئے ہیں

۷۵.     اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور کھول دیں جو تکلیف پہنچی ان کو تو بھی برابر لگے رہیں گے اپنی شرارت میں بہکے ہوئے

۷۶.     اور ہم نے پکڑا تھا ان کو آفت میں پھر نہ عاجزی کی اپنے رب کے آگے نہ گڑگڑائے

۷۷.     یہاں تک کہ جب کھول دیں ہم ان پر دروازہ ایک سخت آفت کا تب اس میں ان کی آس ٹوٹے گی

۷۸.     اور اسی نے بنا دیے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل تم بہت تھوڑا حق مانتے ہو

۷۹.      اور اسی نے تم کو پھیلا رکھا ہے زمین میں اور اسی کی طرف جمع ہو کر جاؤ گے

۸۰.      اور وہی ہے جلاتا اور مارتا اور اسی کا کام ہے بدلنا رات اور دن کا سو کیا تم کو سمجھ نہیں

۸۱.       کوئی بات نہیں یہ تو وہی کہہ رہے ہیں جیسا کہا کرتے تھے پہلے لوگ

۸۲.      کہتے ہیں کیا جب ہم مر گئے اور ہو گئے مٹی اور ہڈیاں کیا ہم کو زندہ ہو کر اٹھنا ہے

۸۳.     وعدہ دیا جاتا ہے ہم کو اور ہمارے باپ دادوں کو یہی پہلے سے اور کچھ بھی نہیں یہ نقلیں ہیں پہلوں کی

۸۴.     تو کہہ کس کی ہے زمین اور جو کوئی اس میں ہے بتاؤ اگر تم جانتے ہو

۸۵.     اب کہیں گے سب کچھ اللہ کا ہے تو کہہ پھر تم سوچتے نہیں

۸۶.      تو کہہ کون ہے مالک ساتوں آسمان کا اور مالک اس بڑے تخت کا

۸۷.     اب بتائیں گے اللہ کو تو کہہ پھر تم ڈرتے نہیں

۸۸.     تو کہہ کس کے ہاتھ میں ہے حکومت ہر چیز کی اور وہ بچا لیتا ہے اور اس سے کوئی بچا نہیں سکتا بتاؤ اگر تم جانتے ہو

۸۹.      اب بتائیں گے اللہ کو  تو کہہ پھر کہاں سے تم پر جادو آ پڑتا ہے

۹۰.      کوئی نہیں ہم نے ان کو پہنچایا سچ اور وہ البتہ جھوٹے ہیں

۹۱.       اللہ نے کوئی بیٹا نہیں کیا اور نہ اس کے ساتھ کسی کا حکم چلے یوں ہوتا تو لے جاتا ہر حکم والا اپنی بنائی چیز کو اور چڑھائی کرتا ایک پر ایک  اللہ نرالا ہے ان کی بتلائی باتوں سے

۹۲.      جاننے والا چھپے اور کھلے کا وہ بہت اوپر ہے اس سے جس کو شریک بتلاتے ہیں

۹۳.      تو کہہ اے رب اگر تو دکھانے لگے مجھ کو جو ان سے وعدہ ہوا ہے

۹۴.      تو اے رب مجھ کو نہ کریو ان گناہ گار لوگوں میں

۹۵.      اور ہم کو قدرت ہے کہ تجھ کو دکھلا دیں جو ان سے وعدہ کر دیا ہے

۹۶.      بری بات کے جواب میں وہ کہہ جو بہتر ہے ہم خوب جانتے ہیں جو یہ بتاتے ہیں

۹۷.      اور کہہ اے رب میں تیری پناہ چاہتا ہوں شیطان کی چھیڑ سے

۹۸.      اور پناہ تیری چاہتا ہوں اے رب اس سے کہ میرے پاس آئیں

۹۹.       یہاں تک کہ جب پہنچے ان میں کسی کو موت کہے گا اے رب مجھ کو پھر بھیج دو

۱۰۰.     شاید کچھ میں بھلا کام کر لوں اس میں جو پیچھے چھوڑ آیا  ہرگز نہیں یہ ایک بات ہے کہ وہی کہتا ہے  اور ان کے پیچھے پردہ ہے اس دن تک کہ اٹھائے جائیں

۱۰۱.     پھر جب پھونک ماریں صور میں تو نہ قرابتیں ہیں اُن میں اس دن اور نہ ایک دوسرے کو پوچھے

۱۰۲.     سو جس کی بھاری ہوئی تول تو وہی لوگ کام لے نکلے

۱۰۳.    اور جس کی ہلکی نکلی تول سو وہی لوگ ہیں جو ہار بیٹھے اپنی جان دوزخ ہی میں رہا کریں گے

۱۰۴.    جھلس دے گی ان کے منہ کو آگ اور وہ اس میں بد شکل ہو رہے ہوں گے

۱۰۵.    کیا تم کو سنائی نہ تھیں ہماری آیتیں پھر تم ان کو جھٹلاتے تھے

۱۰۶.     بولے اے رب زور کیا ہم پر ہماری کم بختی نے اور رہے ہم لوگ بہکے ہوئے

۱۰۷.    اے ہمارے رب نکال لے ہم کو اس میں سے اگر ہم پھر کریں تو ہم گناہ گار

۱۰۸.    فرمایا پڑے رہو پھٹکارے ہوئے اس میں اور مجھ سے نہ بولو

۱۰۹.     ایک فرقہ تھا میرے بندوں میں جو کہتے تھے اے رب ہمارے ہم یقین لائے ، سو معاف کر ہم کو اور رحم کر ہم پر، اور تو سب رحم والوں سے بہتر ہے

۱۱۰.     پھر تم نے ان کو ٹھٹھوں میں پکڑا یہاں تک کہ بھول گئے ان کے پیچھے میری یاد اور تم ان سے ہنستے رہے

۱۱۱.      میں نے آج دیا ان کو بدلہ ان کے صبر کرنے کا کہ وہی ہیں مراد کو پہنچنے والے

۱۱۲.     فرمایا تم کتنی دیر رہے زمین میں برسوں کی گنتی سے

۱۱۳.     بولے ہم رہے ایک دن یا کچھ دن سے کم تو پوچھ لے گنتی والوں سے

۱۱۴.     فرمایا تم اس میں بہت نہیں تھوڑا ہی رہے ہو اگر تم جانتے ہوتے

۱۱۵.     سو کیا تم خیال رکھتے ہو کہ ہم نے تم کو بنایا کھیلنے کو اور تم ہمارے پاس پھر کر نہ آؤ گے

۱۱۶.     سو بہت اوپر ہے اللہ وہ بادشاہ سچا کوئی حاکم نہیں اس کے سوائے مالک اس عزت کے تخت کا

۱۱۷.     اور جو کوئی پکارے اللہ کے ساتھ دوسرا حاکم جس کی سند نہیں اس کے پاس، سو اس کا حساب ہے اس کے رب کے نزدیک  بے شک بھلا نہ ہو گا منکروں کا

۱۱۸.     اور تو کہہ اے رب معاف کر اور رحم کر اور تو ہے بہتر سب رحم والوں سے

 

سورۃ النور

شروع اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.         یہ ایک سورت ہے کہ ہم نے اتاری اور ذمہ پر لازم کی اور اتاریں اس میں باتیں صاف تاکہ تم یاد رکھو

۲.        بدکاری کرنے والی عورت اور مرد سو مارو ہر ایک کو دونوں میں سے سو سو درے  اور نہ آوے تم کو ان پر ترس اللہ کے حکم چلانے میں اگر تم یقین رکھتے ہو اللہ پر اور پچھلے دن پر  اور دیکھیں ان کا مارنا کچھ لوگ مسلمان

۳.        بدکار مرد نہیں نکاح کرتا مگر عورت بدکار سے یا شرک والی سے اور بدکار عورت سے نکاح نہیں کرتا مگر بدکار مرد یا مشرک  اور یہ حرام ہوا ہے ایمان والوں پر

۴.        اور جو لوگ عیب لگاتے ہیں حفاظت والیوں کو پھر نہ لائیں چار مرد شاہد تو مارو ان کو اسی درے اور نہ مانو ان کی کوئی گواہی کبھی  اور وہ ہی لوگ ہیں نافرمان

۵.        مگر جنہوں نے توبہ کر لی اس کے پیچھے اور سنور گئے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے

۶.        اور جو لوگ عیب لگائیں اپنی جوروؤں کو  اور شاہد نہ ہوں ان کے پاس سوائے ان کی جان کے تو ایسے شخص کی گواہی کی یہ صورت ہے کہ چار بار گواہی دے اللہ کی قسم کھا کر کہ مقرر وہ شخص سچا ہے

۷.        اور پانچویں بار یہ کہ اللہ کی پھٹکار ہو اس شخص پر اگر ہو وہ جھوٹا

۸.        اور عورت سے ٹل جائے گی مار یوں کہ وہ گواہی دے چار گواہی اللہ کی قسم کھا کر کہ مقرر وہ شخص جھوٹا ہے

۹.         اور پانچویں یہ کہ اللہ کا غضب آئے اس عورت پر اگر وہ شخص سچا ہے

۱۰.       اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تمہارے اوپر اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ معاف کرنے والا ہے حکمتیں جاننے والا تو کیا کچھ نہ ہوتا

۱۱.        جو لوگ لائے ہیں یہ طوفان  تمہیں میں ایک جماعت ہیں  تم اس کو نہ سمجھو برا اپنے حق میں بلکہ یہ بہتر ہے تمہارے حق میں  ہر آدمی کے لیے ان میں سے وہ ہے جتنا اس نے گناہ کمایا اور جس نے اٹھایا ہے اس کا بڑا بوجھ اس کے واسطے بڑا عذاب ہے

۱۲.       کیوں نہ جب تم نے اس کو سنا تھا خیال کیا ہوتا ایمان والے مردوں پر اور ایمان والی عورتوں نے اپنے لوگوں پر بھلا خیال اور کہا ہوتا یہ صریح طوفان ہے

۱۳.       کیوں نہ لائے وہ اس بات پر چار شاہد پھر جب نہ لائے شاہد تو وہ لوگ اللہ کے یہاں وہی ہیں جھوٹے

۱۴.       اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تم پر اور اس کی رحمت دنیا اور آخرت میں تو تم پر پڑتی اس چرچا کرنے میں کوئی آفت بڑی

۱۵.       جب لینے لگے تم اس کو اپنی زبانوں پر اور بولنے لگے اپنے منہ سے جس چیز کی تم کو خبر نہیں اور تم سمجھتے ہو اس کو ہلکی بات اور یہ اللہ کے یہاں بہت بڑی ہے

۱۶.       اور کیوں نہ جب تم نے اس کو سنا تھا کہا ہوتا ہم کو نہیں لائق کہ منہ پر لائیں یہ بات اللہ تو پاک ہے یہ تو بڑا بہتان ہے

۱۷.      اللہ تم کو سمجھاتا ہے کہ پھر نہ کرو ایسا کام کبھی اگر تم ایمان رکھتے ہو

۱۸.       اور کھولتا ہے اللہ تمہارے واسطے پتے کی باتیں اور اللہ سب جانتا ہے حکمت والا ہے

۱۹.       جو لوگ چاہتے ہیں کہ چرچا ہو بدکاری کا ایمان والوں میں   ان کے لیے عذاب ہے دردناک دنیا اور آخرت میں  اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

۲۰.      اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تم پر اور اس کی رحمت اور یہ کہ اللہ نرمی کرنے والا ہے مہربان تو کیا کچھ نہ ہوتا

۲۱.       اے ایمان والو نہ چلو قدموں پر شیطان کے اور جو کوئی چلے گا قدموں پر شیطان کے سو وہ تو یہی بتلائے گا بے حیائی اور بری بات  اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تم پر اور اس کی رحمت تو نہ سنورتا تم میں ایک شخص بھی کبھی و لیکن اللہ سنوارتا ہے جس کو چاہے اور اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے

۲۲.      اور قسم نہ کھائیں بڑے درجہ والے تم میں سے ، اور کشائش والے اس پر کہ دیں قرابتیوں کو اور محتاجوں کو اور وطن چھوڑنے والوں کو اللہ کی راہ میں اور چاہیے کہ معاف کریں اور درگزر کریں کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو معاف کرے اور اللہ بخشنے والا ہے مہربان

۲۳.      جو لوگ عیب لگاتے ہیں حفاظت والیوں بے خبر ایمان والیوں کو ان کو پھٹکار ہے دنیا میں اور آخرت میں اور ان کے لیے ہے بڑا عذاب

۲۴.      جس دن کہ ظاہر کر دیں گی ان کی زبانیں اور ہاتھ اور پاؤں جو کچھ وہ کرتے تھے

۲۵.      اس دن پوری دے گا ان کو اللہ ان کی سزا جو چاہے اور جان لیں گے کہ اللہ وہی ہے سچا کھولنے والا

۲۶.      گندیاں ہیں گندوں کے واسطے اور گندے واسطے گندیوں کے اور ستھریاں ہیں ستھروں کے واسطے اور ستھرے واسطے ستھریوں کے   وہ لوگ بے تعلق ہیں ان باتوں سے جو یہ کہتے ہیں  ان کے واسطے بخشش ہے اور روزی ہے عزت کی

۲۷.     اے ایمان والو مت جایا کرو کسی گھر میں اپنے گھروں کے سوائے جب تک بول چال نہ کر لو، اور سلام کر لو ان گھر والوں پر یہ بہتر ہے تمہارے حق میں تاکہ تم یاد رکھو

۲۸.      پھر اگر نہ پاؤ اس میں کسی کو تو اس میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ ملے تم کو  اور اگر تم کو جواب ملے کہ پھر جاؤ تو پھر جاؤ اس میں خوب ستھرائی ہے تمہارے لیے  اور اللہ جو تم کرتے ہو اس کو جانتا ہے

۲۹.      نہیں گناہ تم پر اس میں کہ جاؤ ان گھروں میں جہاں کوئی نہیں بستا اس میں کچھ چیز ہو تمہاری   اور اللہ کو معلوم ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو

۳۰.      کہہ دے ایمان والوں کو نیچی رکھیں ذرا اپنی آنکھیں  اور تھامتے رہیں اپنے ستر کو  اس میں خوب ستھرائی ہے ان کے لیے بے شک اللہ کو خبر ہے جو کچھ کرتے ہیں

۳۱.       “اور کہہ دے ایمان والیوں کو نیچی رکھیں ذرا اپنی آنکھیں اور تھامتی رہیں اپنے ستر کو اور نہ دکھلائیں اپنا سنگار مگر جو کھلی چیز ہے اس میں سے  اور ڈال لیں اپنی اوڑھنی اپنے گریبان پر  اور نہ کھولیں اپنا سنگار مگر اپنے خاوند کے آگے یا اپنے باپ کے  یا اپنے خاوند کے باپ کے یا اپنے بیٹے کے یا اپنے خاوند کے بیٹے کے یا اپنے بھائی کے یا اپنے بھتیجوں کے  یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی عورتوں کے  یا اپنے ہاتھ کے مال کے یا کاروبار کرنے والوں کے جو مرد کہ کچھ غرض نہیں رکھتے  یا لڑکوں کے جنہوں نے ابھی نہیں پہچانا عورتوں کے بھید کو  اور نہ ماریں زمین پر اپنے پاؤں کو کہ جانا جائے جو چھپاتی ہیں اپنا سنگار   اور توبہ کرو اللہ کے آگے سب مل کر اے ایمان والو تاکہ تم بھلائی پاؤ “

۳۲.      اور نکاح کر دو رانڈوں کا اپنے اندر  اور جو نیک ہوں تمہارے غلام اور لونڈیاں  اگر وہ ہوں گے مفلس اللہ ان کو غنی کر دے گا اپنے فضل سے  اور اللہ کشائش والا ہے سب کچھ جانتا ہے

۳۳.     ” اور اپنے آپ کو تھامتے رہیں جن کو نہیں ملتا سامان نکاح کا جب تک مقدور دے ان کو اللہ اپنے فضل سے  اور جو لوگ چاہیں لکھت آزادی کی مال دے کر ان میں سے کہ جو تمہارے ہاتھ کے مال ہیں تو ان کو لکھ کر دے دو اگر سمجھو ان میں کچھ نیکی  اور دو ان کو اللہ کے مال سے جو اس نے تم کو دیا ہے  اور نہ زبردستی کرو اپنی چھوکریوں پر بدکاری کے واسطے اگر وہ چاہیں قید سے رہنا

۳۴.     کہ تم کمانا چاہو اسباب دنیا کی زندگانی کا  اور جو کوئی ان پر زبردستی کرے گا تو اللہ ان کی بے بسی کے پیچھے بخشنے والا مہربان ہے “

۳۵.     اور ہم نے اتاریں تمہاری طرف آیتیں کھلی ہوئی اور کچھ حال ان کا جو ہو چکے تم سے پہلے اور نصیحت ڈرنے والوں کو

۳۶.      “اللہ روشنی ہے آسمانوں کی اور زمین کی   مثال اس کی روشنی کی جیسے ایک طاق اس میں ہو ایک چراغ وہ چراغ دھرا ہو ایک شیشہ میں وہ شیشہ ہے جیسے ایک تارہ چمکتا ہوا تیل جلتا ہے اس میں ایک برکت کے درخت کا وہ زیتون ہے نہ مشرق کی طرف ہے اور نہ مغرب کی طرف قریب ہے اس کا تیل کہ روشن ہو جائے اگرچہ نہ لگی ہو اس میں آگ روشنی پر روشنی اللہ راہ دکھلا دیتا ہے اپنی روشنی کو جس کو چاہے اور بیان کرتا ہے اللہ مثالیں لوگوں کے واسطے اور اللہ سب چیز کو جانتا ہے “

۳۷.     اُن گھروں میں کہ اللہ نے حکم دیا ان کو بلند کرنے کا  اور وہاں اس کا نام پڑھنے کا یاد کرتے ہیں اس کی وہاں صبح اور شام  وہ مرد کہ نہیں غافل ہوتے سودا کرنے میں اور نہ بیچنے میں اللہ کی یاد سے اور نماز قائم رکھنے سے اور زکوٰۃ دینے سے  ڈرتے رہتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں

۳۸.     تاکہ بدلہ نہ دے ان کو اللہ ان کے بہتر سے بہتر کاموں کا اور زیادتی دے ان کو اپنے فضل سے  اور اللہ روزی دیتا ہے جس کو چاہے بے شمار

۳۹.      اور جو لوگ منکر ہیں ان کے کام جیسے ریت جنگل میں پیاسا جانے اس کو پانی یہاں تک کہ جب پہنچا اس پر اس کو کچھ نہ پایا اور اللہ کو پایا اپنے پاس پھر اس کو پورا پہنچا دیا اس کا لکھا، اور اللہ جلد لینے والا ہے حساب

۴۰.      یا جیسے اندھیرے گہرے دریا میں چڑھی آتی ہے اس پر ایک لہر اس پر ایک اور لہر اس کے اوپر بادل اندھیرے ہیں ایک پر ایک  جب نکالے اپنا ہاتھ لگتا نہیں کہ اس کو وہ سوجھے  اور جس کو اللہ نے نہ دی روشنی اس کے واسطے کہیں نہیں روشنی

۴۱.       کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ کی یاد کرتے ہیں جو کوئی ہیں آسمان و زمین میں اور اڑتے جانور پر کھولے ہوئے  ہر ایک نے جان رکھی ہے اپنی طرح کی بندگی اور یاد  اور اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کرتے ہیں

۴۲.      اور اللہ کی حکومت ہے آسمان اور زمین میں اور اللہ ہی تک پھر جانا ہے

۴۳.     تو نے نہ دیکھا کہ اللہ ہانک لاتا ہے بادل کو پھر ان کو ملا دیتا ہے پھر ان کو رکھتا ہے تہ بتہ پھر تو دیکھے مینہ نکلتا ہے اس کے بیچ سے  اور اتارتا ہے آسمان سے اس میں جو پہاڑ ہیں اولوں کے پھر وہ ڈالتا ہے جس پر چاہے اور بچا دیتا ہے جس سے چاہے   ابھی اس کی بجلی کی کوند لے جائے آنکھوں کو

۴۴.     اللہ بدلتا ہے رات اور دن کو  اس میں دھیان کرنے کی جگہ ہے آنکھ والوں کو

۴۵.     اور اللہ نے بنایا ہر پھرنے والے کو ایک پانی سے  پھر کوئی ہے کہ چلتا ہے اپنے پیٹ پر  اور کوئی ہے کہ چلتا ہے دو پاؤں پر  اور کوئی ہے کہ چلتا ہے چار پر  بناتا ہے اللہ جو چاہتا ہے بے شک اللہ ہر چیز کر سکتا ہے

۴۶.      ہم نے اتاریں آیتیں کھول کھول کر بتلانے والی اور اللہ چلائے جس کو چاہے سیدھی راہ پر

۴۷.     اور لوگ کہتے ہیں ہم نے مانا اللہ کو اور رسول کو اور حکم میں آ گئے پھر جاتا ہے ایک فرقہ ان میں سے اس کے پیچھے اور وہ لوگ نہیں ماننے والے

۴۸.     اور جب ان کو بلائے اللہ اور رسول کی طرف کہ ان میں قضیہ چکائے تب ہی ایک فرقہ کے لوگ ان میں منہ موڑتے ہیں

۴۹.      اور اگر ان کو کچھ پہنچتا ہو تو چلے آئیں اس کی طرف قبول کر کر

۵۰.      کیا ان کے دلوں میں روگ ہے  یا دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں، یا ڈرتے ہیں کہ بے انصافی کرے گا ان پر اللہ اور اس کا رسول کچھ نہیں وہ ہی لوگ بے انصاف ہیں

۵۱.       ایمان والوں کی بات یہی تھی کہ جب بلائے ان کو اللہ اور رسول کی طرف فیصلہ کرنے کو ان میں تو کہیں ہم نے سن لیا اور حکم مان لیا اور وہ لوگ کہ انہی کا بھلا ہے

۵۲.      اور جو کوئی حکم پر چلے اللہ کے اور اس کے رسول کے اور ڈرتا ہے اللہ سے اور بچ کر چلے اس سے سو وہ ہی لوگ ہیں مراد کو پہنچنے والے

۵۳.     اور قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی اپنی تاکید کی قسمیں کہ اگر تو حکم کرے تو سب کچھ چھوڑ کر نکل جائیں، تو کہہ قسمیں نہ کھاؤ حکم برداری چاہیے جو دستور ہے البتہ اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو

۵۴.     تو کہہ حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا پھر اگر تم منہ پھیرو گے تو اس کا ذمہ ہے جو بوجھ اس پر رکھا اور تمہارا ذمہ ہے جو بوجھ تم پر رکھا اور اگر اس کا کہا مانو تو راہ پاؤ اور پیغام لانے والے کا ذمہ نہیں مگر پہنچا دینا کھول کر

۵۵.     وعدہ کر لیا اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں ایمان لائے ہیں اور کیے ہیں انہوں نے نیک کام، البتہ پیچھے حاکم کر دے گا ان کو ملک میں جیسا حاکم کیا تھا ان سے اگلوں کو اور جما دے گا ان کے لیے دین ان کا جو پسند کر دیا ان کے واسطے اور دے گا ان کو ان کے ڈر کے بدلے میں امن میری بندگی کریں گے شریک نہ کریں گے میرا کسی کو  اور جو کوئی ناشکری کرے گا اس کے پیچھے سو وہ ہی لوگ ہیں نافرمان

۵۶.      اور قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ اور حکم پر چلو رسول کے تاکہ تم پر رحم ہو

۵۷.     نہ خیال کر کہ یہ جو کافر ہیں تھکا دیں گے بھاگ کر ملک میں اور ان کا ٹھکانا آگ ہے اور وہ بری جگہ ہے پھر جانے کی

۵۸.     اے ایمان والو اجازت لے کر آئیں تم سے جو تمہارے ہاتھ کے مال ہیں  اور جو کہ نہیں پہنچے تم میں عقل کی حد کو تین بار فجر کی نماز سے پہلے اور جب اتار رکھتے ہو اپنے کپڑے دوپہر میں اور عشاء کی نماز سے پیچھے یہ تین وقت بدن کھلنے کے ہیں تمہارے  کچھ تنگی نہیں تم پر اور نہ ان پر ان وقتوں کے پیچھے پھرا ہی کرتے ہو ایک دوسرے کے پاس  یوں کھولتا ہے اللہ، تمہارے آگے باتیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

۵۹.      اور جب پہنچیں لڑکے تم میں کے عقل کی حد کو تو ان کو ویسی ہی اجازت لینی چاہیے جیسے لیتے رہے ہیں ان سے اگلے  یوں کھول کر سناتا ہے اللہ تم کو اپنی باتیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

۶۰.      اور جو بیٹھ رہی ہیں گھروں میں تمہاری عورتوں میں سے جن کو توقع نہیں رہی نکاح کی ان پر گناہ نہیں کہ اتار رکھیں اپنے کپڑے یہ نہیں کہ دکھاتی پھریں اپنا سنگار اور اس سے بھی بچیں تو بہتر ہے ان کے لیے  اور اللہ سب باتیں سنتا جانتا ہے

۶۱.       نہیں ہے اندھے پر کچھ تکلیف اور نہ لنگڑے پر تکلیف اور نہ بیمار پر تکلیف  اور نہیں تکلیف تم لوگوں پر کہ کھاؤ اپنے گھروں سے یا اپنے باپ کے گھر سے یا اپنی ماں کے گھر سے یا اپنے بھائی کے گھر سے یا اپنی بہن کے گھر سے یا اپنے چچا کے گھر سے یا اپنی پھوپھی کے گھر سے یا اپنے ماموں کے گھر سے یا اپنی خالہ کے گھر سے یا جس گھر کی کنجیوں کے تم مالک ہو یا اپنے دوست کے گھر سے  نہیں گناہ تم پر کہ کھاؤ آپس میں مل کر یا جدا ہو کر پھر جب کبھی جانے لگو گھروں میں تو سلام کہو اپنے لوگوں پر نیک دعا ہے اللہ کے یہاں سے برکت والی ستھری یوں کھولتا ہے اللہ تمہارے آگے اپنی باتیں تاکہ سمجھ لو

۶۲.      ایمان والے وہ ہیں جو یقین لائے ہیں اللہ پر اور اس کے رسول پر اور جب ہوتے ہیں اس کے ساتھ کسی جمع ہونے کے کام میں تو چلے نہیں جاتے جب تک اس سے اجازت نہ لے لیں جو لوگ تجھ سے اجازت لیتے ہیں وہ ہی ہیں جو مانتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول کو  پھر جب اجازت مانگیں تجھ سے اپنے کسی کام کے لیے تو اجازت دے جس کو ان میں سے تو چاہے اور معافی مانگ ان کے واسطے اللہ سے ، اللہ بخشنے والا مہربان ہے

۶۳.      مت کر لو بلانا رسول کا اپنے اندر برابر اس کے جو بلاتا ہے تم میں ایک دوسرے کو  اللہ جانتا ہے ان لوگوں کو تم میں سے جو سٹک جاتے ہیں آنکھ بچا کر   سو ڈرتے رہیں وہ لوگ جو خلاف کرتے ہیں اس کے حکم کا اس سے کہ آ پڑے ان پر کچھ خرابی یا پہنچے ان کو عذاب دردناک

۶۴.      سنتے ہو اللہ ہی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں اور زمین میں اس کو معلوم ہے جس حال پر تم ہو اور جس دن پھیرے جائیں گے اس کی طرف تو بتائے گا ان کو جو کچھ انہوں نے کیا، اور اللہ ہر ایک چیز کو جانتا ہے

 

سورۃ الفرقان

شروع اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.         بڑی برکت ہے اس کی جس نے اتاری فیصلہ کی کتاب  اپنے بندہ پر  تاکہ رہے جہان والوں کے لیے ڈرانے والا

۲.        وہ کہ جس کی ہے سلطنت آسمان اور زمین میں اور نہیں پکڑا اس نے بیٹا اور نہیں کوئی اس کا ساجھی سلطنت میں اور بنائی ہر چیز پھر ٹھیک کیا اس کو ناپ کر

۳.        اور لوگوں نے پکڑ رکھے ہیں اس سے ورے کتنے حاکم جو نہیں بناتے کچھ چیز اور وہ خود بنائے گئے ہیں اور نہیں مالک اپنے حق میں برے کے اور نہ بھلے کے اور نہیں مالک مرنے کے اور نہ جینے کے اور نہ جی اٹھنے کے

۴.        اور کہنے لگے جو منکر ہیں اور کچھ نہیں ہے یہ مگر طوفان باندھ لایا ہے اور ساتھ دیا ہے اس کا اس میں اور لوگوں نے  سو آ گئے بے انصافی اور جھوٹ پر

۵.        اور کہنے لگے یہ نقلیں ہیں پہلوں کی جن کو اس نے لکھ رکھا ہے ، سو وہ ہی لکھوائی جاتی ہیں اس کے پاس صبح اور شام

۶.        تو کہہ اس کو اتارا ہے اس نے جو جانتا ہے چھپے ہوئے بھید آسمانوں میں اور زمین میں  بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے

۷.        اور کہنے لگے یہ کیسا رسول ہے کھاتا ہے کھانا اور پھرتا ہے بازاروں میں   کیوں نہ اترا اس کی طرف کوئی فرشتہ کہ رہتا اس کے ساتھ ڈرانے کو

۸.        یا آ پڑتا اس کے پاس خزانہ یا ہو جاتا اس کے لیے ایک باغ کہ کھایا کرتا اس میں سے  اور کہنے لگے بے انصاف تم پیروی کرتے ہو اس ایک مرد جادو مارے کی

۹.         دیکھ کیسی بٹھلاتے ہیں تجھ پر مثلیں سو بہک گئے اب پا نہیں سکتے راستہ

۱۰.       بڑی برکت ہے اس کی جو چاہے تو کر دے تیرے واسطے اس سے بہتر باغ کہ نیچے بہتی ہیں ان کے نہریں اور کر دے تیرے واسطے محل

۱۱.        کچھ نہیں وہ جھٹلاتے ہیں قیامت کو اور ہم نے تیار کی ہے اس کے واسطے کہ جھٹلایا ہے قیامت کو آگ

۱۲.       جب وہ دیکھے گی ان کو دور کی جگہ سے سنیں گے اس کا جھنجھلانا اور چلانا

۱۳.       اور جب ڈالے جائیں گے اس کے اندر ایک جگہ تنگ میں ایک زنجیر میں کئی کئی بندھے ہوئے پکاریں گے اُس جگہ موت کو

۱۴.       مت پکارو آج ایک مرنے کو اور پکارو بہت سے مرنے کو

۱۵.       تو کہہ بھلا یہ چیز بہتر ہے یا باغ ہمیشہ رہنے کا جس کا وعدہ ہو چکا پرہیزگاروں سے  وہ ہو گا ان کا بدلہ اور پھر جانے کی جگہ

۱۶.       ان کے واسطے وہاں ہے جو وہ چاہیں  رہا کریں ہمیشہ ہو چکا تیرے رب کے ذمہ وعدہ مانگا ملتا

۱۷.      اور جس دن جمع کر بلائے گا ان کو اور جن کو وہ پوجتے ہیں اللہ کے سوائے پھر ان سے کہے گا کیا تم نے بہکایا میرے ان بندوں کو یا وہ آپ بہکے راہ سے

۱۸.       بولیں گے تو پاک ہے ہم سے بن نہ آتا تھا کہ پکڑ لیں کسی کو تیرے بغیر رفیق  لیکن تو ان کو فائدہ پہنچاتا رہا اور ان کے باپ دادوں کو یہاں تک کہ بھلا بیٹھے تیری یاد اور یہ تھے لوگ تباہ ہونے والے

۱۹.       سو وہ تو جھٹلا چکے تم کو تمہاری بات میں  اب نہ تم لوٹا سکتے ہو اور نہ مدد کر سکتے ہو  اور جو کوئی تم میں گناہ گار ہے اس کو ہم چکھائیں گے بڑا عذاب

۲۰.      اور جتنے بھیجے ہم نے تجھ سے پہلے رسول سب کھاتے تھے کھانا اور پھرتے تھے بازاروں میں  اور ہم نے رکھا ہے تم میں ایک دوسرے کے جانچنے کو دیکھیں ثابت بھی رہتے ہو  اور تیرا رب سب کچھ دیکھتا ہے

۲۱.       اور بولے وہ لوگ جو امید نہیں رکھتے کہ ہم سے ملیں گے کیوں نہ اترے ہم پر فرشتے یا ہم دیکھ لیتے اپنے رب کو  بہت بڑائی رکھتے ہیں اپنے جی میں اور سر چڑھ رہے ہیں بڑی شرارت میں

۲۲.      جس دن دیکھیں گے فرشتوں کو کچھ خوشخبری نہیں اس دن گناہ گاروں کو اور کہیں گے کہیں روک دی جائے کوئی آڑ

۲۳.      اور ہم پہنچے ان کے کاموں پر جو انہوں نے کیے تھے پھر ہم نے کر ڈالا اس کو خاک اڑتی ہوئی

۲۴.      بہشت کے لوگوں کا اس دن خوب ہے ٹھکانا اور خوب ہے جگہ دوپہر کے آرام کی

۲۵.      اور جس دن پھٹ جائے آسمان بادل سے اور اتارے جائیں فرشتے تار لگا کر

۲۶.      بادشاہی اس دن سچی ہے رحمان کی اور ہے وہ دن منکروں پر مشکل

۲۷.     اور جس دن کاٹ کاٹ کھائے گا گناہ گار اپنے ہاتھوں کو کہے گا اے کاش کہ میں نے پکڑا ہوتا رسول کے ساتھ راستہ

۲۸.      اے خرابی میری کاش کہ نہ پکڑا ہوتا میں نے فلانے کو دوست

۲۹.      اس نے تو بہکا دیا مجھ کو نصیحت سے مجھ تک پہنچ چکنے کے پیچھے اور ہے شیطان آدمی کو وقت پر دغا دینے والا

۳۰.      اور کہا رسول نے اے میرے رب میری قوم نے ٹھہرایا ہے اس قرآن کو جَھک جَھک

۳۱.       اور اسی طرح رکھے ہیں ہم نے ہر نبی کے لیے دشمن گناہ گاروں میں سے  اور کافی ہے تیرا رب راہ دکھلانے کو اور مدد کرنے کو

۳۲.      اور کہنے لگے وہ لوگ جو منکر ہیں کیوں نہ اترا اس پر قرآن سارا ایک جگہ ہو کر  اسی طرح اتارا تاکہ ثابت رکھیں ہم اس سے تیرا دل اور پڑھ سنایا ہم نے اس کو ٹھہر ٹھہر کر

۳۳.     اور نہیں لاتے تیرے پاس کوئی مثل کہ ہم نہیں پہنچا دیتے تجھ کو ٹھیک بات اور اس سے بہتر کھول کر

۳۴.     جو لوگ کہ گھیر کر لائے جائیں گے اوندھے پڑے ہوئے اپنے منہ پر دوزخ کی طرف انہی کا برا درجہ ہے اور بہت بہکے ہوئے ہیں راہ سے

۳۵.     اور ہم نے دی موسیٰ کو کتاب اور کر دیا ہم نے اس کے ساتھ اس کا بھائی ہارون کام بٹانے والا

۳۶.      پھر کہا ہم نے تم دونوں جاؤ ان لوگوں کے پاس جنہوں نے جھٹلا یا ہماری باتوں کو  پھر دے مارا ہم نے اُن کو اکھاڑ کر

۳۷.     اور نوح کی قوم کو جب انہوں نے جھٹلایا پیغام لانے والوں کو  ہم نے ان کو ڈبا دیا اور کیا ان کو لوگوں کے حق میں نشانی، اور تیار کر رکھا ہے ہم نے گناہ گاروں کے واسطے عذاب دردناک

۳۸.     اور عاد کو اور ثمود کو اور کنوئیں والوں کو  اور اس کے بیچ میں بہت سی جماعتوں کو

۳۹.      اور سب کو کہہ سنائیں ہم نے مثالیں اور سب کو کھو دیا ہم نے غارت کر کر

۴۰.      اور یہ لوگ ہو آئے ہیں اس بستی کے پاس جن پر برسا برا برساؤ  کیا دیکھتے نہ تھے اس کو  نہیں پر امید نہیں رکھتے جی اٹھنے کی

۴۱.       اور جہاں تجھ کو دیکھیں کچھ کام نہیں ان کو تجھ سے مگر ٹھٹھے کرنے کیا یہی ہے جس کو بھیجا اللہ نے پیغام دے کر

۴۲.      یہ تو ہم کو بچلا ہی دیتا ہمارے معبودوں سے اگر ہم نہ جمے رہتے اُن پر  اور آگے جان لیں گے جس وقت دیکھیں گے عذاب کہ کون بہت بچلا ہوا ہے راہ سے

۴۳.     بھلا دیکھ تو اس شخص کو جس نے پوجنا اختیار کیا اپنی خواہش کا کہیں تو لے سکتا ہے اس کا ذمہ

۴۴.     یا تو خیال رکھتا ہے کہ بہت سے ان میں سنتے یا سمجھتے ہیں اور کچھ نہیں وہ برابر ہیں چوپایوں کے بلکہ وہ زیادہ بہکے ہوئے ہیں راہ سے

۴۵.     تو نے نہیں دیکھا اپنے رب کی طرف کیسے دراز کیا سایہ کو اور اگر چاہتا تو اس کو ٹھہرا رکھتا پھر ہم نے مقرر کیا سورج کو اس کا راہ بتلانے والا

۴۶.      پھر کھینچ لیا ہم نے اس کو اپنی طرف سہج سہج سمیٹ کر

۴۷.     اور وہی ہے جس نے بنا دیا تمہارے واسطے رات کو اوڑھنا اور نیند کو آرام اور دن کو بنا دیا اٹھ نکلنے کے لیے

۴۸.     اور وہی ہے جس نے چلائیں ہوائیں خوشخبری لانے والیاں اس کی رحمت سے آگے اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی پاکی حاصل کرنے کا

۴۹.      کہ زندہ کر دیں اس سے مرے ہوئے دیس کو اور پلائیں اس کو اپنے پیدا کیے ہوئے بہت سے چوپایوں اور آدمیوں کو

۵۰.      اور طرح طرح سے تقسیم کیا ہم نے اس کو ان کے بیچ میں تاکہ دھیان رکھیں پھر بھی نہیں رہتے بہت لوگ بدون ناشکری کیے

۵۱.       اور اگر ہم چاہتے تو اٹھاتے ہر بستی میں کوئی ڈرانے والا

۵۲.      سو تو کہنا مت مان منکروں کا اور مقابلہ کر ان کا اس کے ساتھ بڑے زور سے

۵۳.     اور وہی ہے جس نے ملے ہوئے چلائے دو دریا یہ میٹھا ہے پیاس بجھانے والا اور یہ کھاری ہے کڑوا اور رکھا ان دونوں کے بیچ پردہ اور آڑ روکی ہوئی

۵۴.     اور وہی ہے جس نے بنایا پانی سے آدمی پھر ٹھہرایا اس کے لیے جد اور سسرال اور تیرا رب سب کچھ کر سکتا ہے

۵۵.     اور پوجتے ہیں اللہ کو چھوڑ کر وہ چیز جو نہ بھلا کر سکے ان کا نہ برا اور ہے کافر اپنے رب کی طرف سے پیٹھ پھیر رہا

۵۶.      اور تجھ کو ہم نے بھیجا یہی خوشی اور ڈر سنانے کے لیے

۵۷.     تو کہہ میں نہیں مانگتا تم سے اس پر کچھ مزدوری مگر جو کوئی چاہے کہ پکڑ لے اپنے رب کی طرف راہ

۵۸.     اور بھروسہ کر اوپر اس زندہ کے جو نہیں مرتا  اور یاد کر اس کی خوبیاں اور وہ کافی ہے اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار

۵۹.      جس نے بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے چھ دن میں پھر قائم ہوا عرش پر  وہ بڑی رحمت والا سو پوچھ اس سے جو اس کی خبر رکھتا ہو

۶۰.      اور جب کہیے ان سے سجدہ کرو رحمان کو کہیں رحمان کیا ہے کیا سجدہ کرنے لگیں ہم جس کو تو فرمائے اور بڑھ جاتا ہے ان کا بدکنا

۶۱.       بڑی برکت ہے اس کی جس نے بنائے آسمان میں برج  اور رکھا اس میں چراغ

۶۲.      اور چاند اجالا کرنے اور وہی ہے جس نے بنائے رات اور دن بدلتے سدلتے   اس شخص کے واسطے کہ چاہے دھیان رکھنا یا چاہے شکر کرنا

۶۳.      اور بندے رحمان کے وہ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر دبے پاؤں  اور جب بات کرنے لگیں ان سے بے سمجھ لوگ تو کہیں صاحب سلامت

۶۴.      اور وہ لوگ جو رات کاٹتے ہیں اپنے رب کے آگے سجدہ میں اور کھڑے

۶۵.      اور وہ لوگ کہ کہتے ہیں اے رب ہٹا ہم سے دوزخ کا عذاب بے شک اس کا عذاب چمٹنے والا ہے

۶۶.      وہ بری جگہ ہے ٹھہرنے کی اور بری جگہ رہنے کی

۶۷.     اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرنے لگیں نہ بے جا اڑائیں اور نہ تنگی کریں اور ہے اس کے بیچ ایک سیدھی گزران

۶۸.      اور وہ لوگ کہ نہیں پکارتے اللہ کے ساتھ دوسرے حاکم کو اور نہیں خون کرتے جان کا جو منع کر دی اللہ نے مگر جہاں چاہیے  اور بدکاری نہیں کرتے اور جو کوئی کرے یہ کام وہ جا پڑا گناہ میں

۶۹.      دونا ہو گا اس کو عذاب قیامت کے دن اور پڑا رہے گا اس میں خوار ہو کر

۷۰.     مگر جس نے توبہ کی اور یقین لایا اور کیا کچھ کام نیک سو ان کو بدل دے گا اللہ برائیوں کی جگہ بھلائیاں اور ہے بخشنے والا مہربان

۷۱.      اور جو کوئی توبہ کرے اور کرے کام نیک سو وہ پھر آتا ہے اللہ کی طرف پھر آنے کی جگہ

۷۲.     اور جو لوگ شامل نہیں ہوتے جھوٹے کام میں  اور جب گزرتے ہیں کھیل کی باتوں پر نکل جائیں بزرگانہ

۷۳.     اور وہ لوگ کہ جب ان کو سمجھائے اُن کے رب کی باتیں نہ پڑیں ان پر بہرے اندھے ہو کر

۷۴.     اور وہ لوگ جو کہتے ہیں اے رب دے ہم کو ہماری عورتوں کی طرف سے اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک  اور کر ہم کو پرہیزگاروں کا پیشوا

۷۵.     ان کو بدلہ ملے گا کوٹھوں کے جھروکے اس لیے کہ وہ ثابت قدم رہے اور لینے آئیں گے ان کو وہاں دعا اور سلام کہتے ہوئے

۷۶.     سدا رہا کریں ان میں خوب جگہ ہے ٹھہرنے کی اور خوب جگہ رہنے کی

۷۷.     تو کہہ پروا نہیں رکھتا میرا رب تمہاری اگر تم اس کو نہ پکارا کرو  سو تم تو جھٹلا چکے اب آگے کو ہونی ہے مٹھ بھیڑ

 

سورۃ الشعراء

شروع اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم والا ہے

۱.         طٰسم

۲.        یہ آیتیں ہیں کھلی کتاب کی

۳.        شاید تو گھونٹ مارے اپنی جان اس بات پر کہ وہ یقین نہیں کرتے

۴.        اگر ہم چاہیں اتاریں ان پر آسمان سے ایک نشانی پھر رہ جائیں ان کی گردنیں اس کے آگے نیچی

۵.        اور نہیں پہنچتی ان کے پاس کوئی نصیحت رحمان سے نئی جس سے منہ نہیں موڑتے

۶.        سو یہ تو جھٹلا چکے اب پہنچے گی ان پر حقیقت اس بات کی جس پر ٹھٹھے کرتے تھے

۷.        کیا نہیں دیکھتے وہ زمین کو کتنی اگائیں ہم نے اس میں ہر ایک قسم کی خاصی چیزیں

۸.        اس میں البتہ نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں ماننے والے

۹.         اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا

۱۰.       اور جب پکارا تیرے رب نے موسیٰ کو کہ جا اس قوم گناہ گار کے پاس

۱۱.        قوم فرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں

۱۲.       بولا اے رب میں ڈرتا ہوں کہ مجھ کو جھٹلائیں

۱۳.       اور رک جاتا ہے میرا جی اور نہیں چلتی ہے میری زبان سو پیغام دے ہارون کو

۱۴.       اور ان کو مجھ پر ہے ایک گناہ کا دعویٰ  سو ڈرتا ہوں کہ مجھ کو مار ڈالیں

۱۵.       فرمایا کبھی نہیں تم دونوں جاؤ لے کر ہماری نشانیاں ہم ساتھ تمہارے سنتے ہیں

۱۶.       سو جاؤ فرعون کے پاس اور کہو ہم پیغام لے کر آئے ہیں پروردگار عالم کا

۱۷.      یہ کہ بھیج دے ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو

۱۸.       بولا کیا نہیں پالا ہم نے تجھ کو اپنے اندر لڑکا سا   اور رہا تو ہم میں اپنی عمر میں کئی برس تک

۱۹.       اور کر گیا تو اپنی وہ کرتوت جو کر گیا  اور تو ہی ناشکر

۲۰.      کہا کیا تو تھا میں نے وہ کام اور میں تھا چوکنے والا

۲۱.       پھر بھاگا میں تم سے جب تمہارا ڈر دیکھا پھر بخشا مجھ کو میرے رب نے حکم اور ٹھہرایا مجھ کو پیغام پہنچانے والا

۲۲.      اور کیا وہ احسان ہے جو تو مجھ پر رکھتا ہے کہ غلام بنایا تو نے بنی اسرائیل کو

۲۳.      بولا فرعون کیا معنی پروردگارِ عالم کا

۲۴.      کہا پروردگار آسمان اور زمین کا اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے اگر تم یقین کرو

۲۵.      بولا اپنے گرد والوں سے کیا تم نہیں سنتے ہو

۲۶.      کہا پروردگار تمہارا اور پروردگار تمہارے اگلے باپ دادوں کا

۲۷.     بولا تمہارا پیغام لانے والا جو تمہاری طرف بھیجا گیا ضرور باؤلا ہے

۲۸.      کہا پروردگار مشرق کا اور مغرب کا اور کچھ ان کے بیچ ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو

۲۹.      بولا اگر تو نے ٹھہرایا کوئی اور حاکم میرے سوا تو مقرر ڈالوں گا تجھ کو قید میں

۳۰.      کہا اور اگر لے کر آیا ہوں تیرے پاس ایک چیز کھول دینے والے

۳۱.       بولا تو وہ چیز لا اگر تو سچ کہتا ہے

۳۲.      پھر ڈال دیا اپنا عصا، سو اسی وقت وہ اژدہا ہو گیا صریح

۳۳.     اور اندر سے نکالا اپنا ہاتھ، سو اسی وقت وہ سفید تھا دیکھنے والوں کے سامنے ،

۳۴.     بولا اپنے گرد کے سرداروں سے یہ تو کوئی جادوگر ہے پڑھا ہوا

۳۵.     چاہتا ہے کہ نکال دے تم کو تمہارے دیس سے اپنے جادو کے زور سے ، سو اب کیا حکم دیتے ہو

۳۶.      بولے ڈھیل دے اس کو اور اس کے بھائی کو اور بھیج دے شہروں میں نقیب

۳۷.     لے آئیں تیرے پاس جو بڑا جادوگر ہو پڑھا ہوا

۳۸.     پھر اکٹھے جادوگر وعدہ پر ایک مقرر دن کے

۳۹.      اور کہہ دیا لوگوں کو کیا تم بھی اکٹھے ہو گے

۴۰.      شاید ہم راہ قبول کر لیں جادوگروں کی اگر ہو ان کو غلبہ

۴۱.       پھر جب آئے جادوگر کہنے لگے فرعون سے بھلا کچھ ہمارا حق بھی ہے اگر ہو ہم کو غلبہ

۴۲.      بولا البتہ اور تم اس وقت مقربوں میں ہو گے

۴۳.     کہا ان کو موسیٰ نے ڈالو جو تم ڈالتے ہو

۴۴.     پھر ڈالیں انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں اور بولے فرعون کے اقبال سے ہماری ہی فتح ہے

۴۵.     پھر ڈالا موسیٰ نے اپنا عصا تبھی وہ نگلنے لگا جو سانگ انہوں نے بنایا تھا

۴۶.      پھر اوندھے گرے جادوگر سجدہ میں بولے

۴۷.     ہم نے مان لیا جہان کے رب کو

۴۸.     جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا

۴۹.      بولا تم نے اس کو مان لیا ابھی میں نے حکم نہیں دیا تم کو مقرر وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو سکھلایا جادو سو اب معلوم کر لو گے البتہ کاٹوں گا تمہارے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں اور سولی پر چڑھاؤں گا تم سب کو

۵۰.      بولے کچھ ڈر نہیں ہم کو اپنے رب کی طرف پھر جانا ہے

۵۱.       ہم غرض رکھتے ہیں کہ بخش دے ہم کو رب ہمارا تقصیریں ہماری اس واسطے کہ ہم ہوئے پہلے قبول کرنے والے

۵۲.      اور حکم بھیجا ہم نے موسیٰ کو کہ رات کو لے نکل میرے بندوں کو البتہ تمہارا پیچھا کریں گے

۵۳.     پھر بھیجے فرعون نے شہروں میں نقیب

۵۴.     یہ لوگ جو ہیں سو ایک جماعت ہے تھوڑی سی

۵۵.     اور وہ مقرر ہم سے دل جلے ہوئے ہیں

۵۶.      اور ہم سارے ان سے خطرہ رکھتے ہیں

۵۷.     پھر نکال باہر کیا ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے

۵۸.     اور خزانوں اور عمدہ مکانوں سے

۵۹.      اسی طرح  اور ہاتھ لگا دیں ہم نے یہ چیزیں بنی اسرائیل کے

۶۰.      پھر پیچھے پڑے ان کے سورج نکلنے کے وقت

۶۱.       پھر جب مقابل ہوئیں دونوں فوجیں کہنے لگے موسیٰ کے لوگ ہم تو پکڑے گئے

۶۲.      کہا ہرگز نہیں میرے ساتھ ہے میرا رب وہ مجھ کو راہ بتلائے گا

۶۳.      پھر حکم بھیجا ہم نے موسیٰ کو کہ مار اپنے عصا سے دریا کو پھر دریا پھٹ گیا تو ہو گئی ہر پھانک جیسے بڑا پہاڑ

۶۴.      اور پاس پہنچا دیا ہم نے اسی جگہ دوسروں کو

۶۵.      اور بچا دیا ہم نے موسیٰ کو اور جو لوگ تھے اس کے ساتھ سب کو

۶۶.      پھر ڈبا دیا ہم نے ان دوسروں کو

۶۷.     اس چیز میں ایک نشانی ہے اور نہیں تھے بہت لوگ ان میں ماننے والے

۶۸.      اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا

۶۹.      اور سنا دے ان کو خبر ابراہیم کی

۷۰.     جب کہا اپنے باپ کو اور اس کی قوم کو تم کس کو پوجتے ہو

۷۱.      وہ بولے ہم پوجتے ہیں مورتوں کو پھر سارے دن انہی کے پاس لگے بیٹھے رہتے ہیں

۷۲.     کہا کچھ سنتے ہیں تمہارا کیا جب تم پکارتے ہو

۷۳.     یا کچھ بھلا کرتے ہیں تمہارا یا برا

۷۴.     بولے نہیں پر ہم نے پایا اپنے باپ دادوں کو یہی کام کرتے

۷۵.     کہا بھلا دیکھتے ہو جن کو پوجتے رہے ہو

۷۶.     تم اور تمہارے باپ دادے اگلے

۷۷.     سو وہ میرے غنیم ہیں  مگر جہان کا رب

۷۸.     جس نے مجھ کو بنایا سو وہی مجھ کو راہ دکھلاتا ہے

۷۹.      اور وہ جو مجھ کو کھلاتا ہے اور پلاتا ہے

۸۰.      اور جب میں بیمار ہوں تو وہی شفا دیتا ہے

۸۱.       اور وہ جو مجھ کو مارے گا پھر جلائے گا

۸۲.      اور وہ جو مجھ کو توقع ہے کہ بخشے میری تقصیر انصاف کے دن

۸۳.     اے میرے رب دے مجھ کو حکم اور ملا مجھ کو نیکوں میں

۸۴.     اور رکھ میرا بول سچا پچھلوں میں

۸۵.     اور کر مجھ کو وارثوں میں نعمت کے باغ کے

۸۶.      اور معاف کر میرے باپ کو وہ تھا راہ بھولے ہوؤں میں

۸۷.     اور رسوا نہ کر مجھ کو جس دن سب جی کر اٹھیں

۸۸.     جس دن نہ کام آئے کوئی مال اور نہ بیٹے

۸۹.      مگر جو کوئی آیا اللہ کے پاس لے کر دل چنگا

۹۰.      اور پاس لائیں بہشت کو واسطے ڈر والوں کے

۹۱.       اور نکالیں دوزخ کو سامنے بے راہوں کے

۹۲.      اور کہیں ان کو کہاں ہیں جن کو تم پوجتے تھے

۹۳.      اللہ کے سوائے کیا کچھ مدد کرتے ہیں تمہاری یا بدلہ لے سکتے ہیں

۹۴.      پھر اوندھے ڈالیں اس میں ان کو اور سب بے راہوں کو

۹۵.      اور ابلیس کے لشکر کو سبھوں کو

۹۶.      کہیں گے جب وہ وہاں باہم جھگڑنے لگیں

۹۷.      قسم اللہ کی ہم تھے صریح غلطی میں

۹۸.      جب ہم تم کو برابر کرتے تھے پروردگارِ عالم کے

۹۹.       اور ہم کو راہ سے بہکایا سو ان گناہ گاروں نے

۱۰۰.     پھر کوئی نہیں ہماری سفارش کرنے والے

۱۰۱.     اور نہ کوئی دوست محبت کرنے والا

۱۰۲.     سو کسی طرح ہم کو پھر جانا ملے تو ہم ہوں ایمان والوں میں

۱۰۳.    اس بات میں نشانی ہے اور بہت لوگ ان میں نہیں ماننے والے

۱۰۴.    اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا

۱۰۵.    جھٹلایا نوح کی قوم نے پیغام لانے والوں کو

۱۰۶.     جب کہا ان کو ان کے بھائی نوح نے کیا تم کو ڈر نہیں

۱۰۷.    میں تمہارے واسطے پیغام لانے والا ہوں

۱۰۸.    معتبر سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

۱۰۹.     اور مانگتا نہیں میں تم سے اس پر کچھ بدلہ میرا بدلہ ہے اسی پروردگار عالم پر

۱۱۰.     سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

۱۱۱.      بولے کیا ہم تجھ کو مان لیں اور تیرے ساتھ ہو رہے ہیں کمینے

۱۱۲.     کہا مجھ کو کیا جاننا ہے اس کا جو کام وہ کر رہے ہیں

۱۱۳.     اُن کا حساب پوچھنا میرے رب کا ہی کام ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو

۱۱۴.     اور میں ہانکنے والا نہیں ایمان لانے والوں کو

۱۱۵.     میں تو بس یہی ڈر سنا دینے والا ہوں کھول کر

۱۱۶.     بولے اگر تو نہ چھوڑے گا اے نوح تو ضرور سنگسار کر دیا جائے گا

۱۱۷.     کہا اے رب میری قوم نے تو مجھ کو جھٹلایا

۱۱۸.     سو فیصلہ کر دے میرے ان کے بیچ میں کس طرح کا فیصلہ  اور بچا لے مجھ کو اور جو میرے ساتھ ہیں ایمان والے

۱۱۹.      پھر بچا دیا ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے اس لدی ہوئی کشتی میں

۱۲۰.     پھر ڈبا دیا ہم نے اس کے پیچھے ان باقی رہے ہوؤں کو

۱۲۱.     البتہ اس بات میں نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں ہیں ماننے والے ،

۱۲۲.     اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا

۱۲۳.    جھٹلایا عاد نے پیغام لانے والوں کو

۱۲۴.    جب کہا ان کو ان کے بھائی ہود نے کیا تم کو ڈر نہیں

۱۲۵.    میں تمہارے پاس پیغام لانے والا معتبر ہوں

۱۲۶.     سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

۱۲۷.    اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کچھ بدلہ میرا بدلہ ہے اسی جہان کے مالک پر

۱۲۸.    کیا بناتے ہو ہر اونچی زمین پر ایک نشان کھیلنے کو

۱۲۹.     اور بناتے ہو کاریگریاں شاید تم ہمیشہ رہو گے

۱۳۰.    اور جب ہاتھ ڈالتے ہو تو پنجہ مارتے ہو ظلم سے

۱۳۱.     سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

۱۳۲.    اور ڈرو اس سے جس نے تم کو پہنچائیں وہ چیزیں جو تم جانتے ہو

۱۳۳.    پہنچائے تم کو چوپائے اور بیٹے

۱۳۴.    اور باغ اور چشمے

۱۳۵.    میں ڈرتا ہوں تم پر ایک بڑے دن کی آفت سے

۱۳۶.    بولے ہم کو برابر ہے تو نصیحت کرے یا نہ بنے تو نصیحت کرنے والا

۱۳۷.    اور کچھ نہیں یہ باتیں عادت ہے اگلے لوگوں کی

۱۳۸.    اور ہم پر آفت نہیں آنے والی

۱۳۹.     پھر اس کو جھٹلانے لگے تو ہم نے ان کو غارت کر دیا  اس بات میں البتہ نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں ماننے والے

۱۴۰.    اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا

۱۴۱.     جھٹلایا ثمود نے پیغام لانے والوں کو

۱۴۲.    جب کہا ان کو ان کے بھائی صالح نے کیا تم ڈرتے نہیں

۱۴۳.    میں تمہارے پاس پیغام لانے والا ہوں معتبر

۱۴۴.    سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

۱۴۵.    اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کچھ بدلہ میرا بدلہ ہے اسی جہان کے پالنے والے پر

۱۴۶.    کیا چھوڑے رکھیں گے تم کو یہاں کی چیزوں میں بے کھٹکے ،

۱۴۷.    باغوں میں اور چشموں میں

۱۴۸.    اور کھیتوں میں اور کھجوروں میں جن کا گابھا ملائم ہے

۱۴۹.     اور تراشتے ہو پہاڑوں کے گھر تکلف کے

۱۵۰.    سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

۱۵۱.     اور نہ مانو حکم بیباک لوگوں کا

۱۵۲.    جو خرابی کرتے ہیں ملک میں اور اصلاح نہیں کرتے

۱۵۳.    بولے تجھ پر تو کسی نے جادو کیا ہے

۱۵۴.    تو بھی ایک آدمی ہے جیسے ہم  سولے آ کچھ نشانی اگر تو سچا ہے

۱۵۵.    کہا یہ اونٹنی ہے اس کے لیے پانی پینے کی ایک باری اور تمہارے لیے باری ایک دن کی مقرر

۱۵۶.    اور مت چھیڑیو اس کو بری طرح سے پھر پکڑ لے تم کو آفت ایک بڑے دن کی

۱۵۷.    پھر کاٹ ڈالا اس اونٹنی کو پھر کل کو رہ گئے پچتاتے

۱۵۸.    پھر آ پکڑا ان کو عذاب نے البتہ اس بات میں نشانی ہے اور اُن میں بہت لوگ نہیں ماننے والے

۱۵۹.     اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم کرنے والا

۱۶۰.     جھٹلایا لوط کی قوم نے پیغام لانے والوں کو

۱۶۱.     جب کہا ان کو ان کے بھائی لوط نے کیا تم ڈرتے نہیں

۱۶۲.     میں تمہارے لیے پیغام لانے والا ہوں معتبر

۱۶۳.    سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

۱۶۴.    اور مانگتا نہیں میں تم سے اس کا کچھ بدلہ میرا بدلہ ہے اسی پروردگار عالم پر

۱۶۵.    کیا تم دوڑتے ہو جہان کے مردوں پر

۱۶۶.     اور چھوڑتے ہو جو تمہارے واسطے بنا دی ہیں تمہارے رب نے تمہاری جو روئیں بلکہ تم لوگ ہو حد سے بڑھنے والے

۱۶۷.    بولے اگر نہ چھوڑے گا تو اے لوط تو تُو نکال دیا جائے گا

۱۶۸.    کہا میں تمہارے کام سے البتہ بیزار ہوں

۱۶۹.     اے رب خلاص کر مجھ کو اور میرے گھر والوں کو ان کاموں سے جو یہ کرتے ہیں

۱۷۰.    پھر بچا دیا ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو سب کو

۱۷۱.     مگر ایک بڑھیا رہ گئی رہنے والوں میں

۱۷۲.    پھر اٹھا مارا ہم نے ان دوسروں کو

۱۷۳.    اور برسایا ان پر ایک برساؤ سو کیا برا برساؤ تھا ان ڈرائے ہوؤں کا

۱۷۴.    البتہ اس بات میں نشانی ہے اور ان میں بہت لوگ نہیں تھے ماننے والے

۱۷۵.    اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا

۱۷۶.    جھٹلایا بن کے رہنے والوں نے پیغام لانے والوں کو

۱۷۷.   جب کہا ان کو شعیب نے کیا تم ڈرتے نہیں

۱۷۸.    میں تم کو پیغام پہنچانے والا ہوں معتبر

۱۷۹.    سو ڈرو اللہ سے اور میرا کہا مانو

۱۸۰.    اور نہیں مانگتا میں تم سے اس پر کچھ بدلہ میرا بدلہ ہے اسی پروردگار عالم پر

۱۸۱.     پورا بھر کر دو ناپ اور مت ہو نقصان دینے والے

۱۸۲.    اور تولو سیدھی ترازو سے

۱۸۳.    اور مت گھٹا دو لوگوں کو ان کی چیزیں اور مت دوڑو ملک میں خرابی ڈالتے ہوئے

۱۸۴.    اور ڈرو اس سے جس نے بنایا تم کو اور اگلی خلقت کو

۱۸۵.    بولے تجھ پر تو کسی نے جادو کر دیا ہے

۱۸۶.    اور تو بھی ایک آدمی ہے جیسے ہم اور ہمارے خیال میں تو تو جھوٹا ہے

۱۸۷.    سو گرا دے ہم پر کوئی ٹکڑا آسمان کا اگر تو سچا ہے

۱۸۸.    کہا میرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

۱۸۹.     پھر اس کو جھٹلایا پھر پکڑ لیا ان کو آفت نے سائبان والے دن کی بے شک وہ تھا عذاب بڑے دن کا

۱۹۰.     البتہ اس بات میں نشانی ہے اور اُن میں بہت لوگ نہیں ماننے والے

۱۹۱.      اور تیرا رب وہی ہے زبردست رحم والا

۱۹۲.     اور یہ قرآن ہے اتارا ہوا پروردگارِ عالم کا

۱۹۳.     لے کر اترا ہے اس کو فرشتہ معتبر

۱۹۴.     تیرے دل پر کہ تو ہو ڈر سنا دینے والا

۱۹۵.     کھلی عربی زبان میں

۱۹۶.     اور یہ لکھا ہے پہلوں کی کتابوں میں

۱۹۷.    کیا ان کے واسطے نشانی نہیں یہ بات کہ اس کی خبر رکھتے ہیں پڑھے لوگ بنی اسرائیل کے

۱۹۸.     اور اگر اتارتے ہم یہ کتاب کسی اوپری زبان والے پر

۱۹۹.     اور وہ اس کو پڑھ کر سناتا تو بھی اس پر یقین نہ لاتے

۲۰۰.    اسی طرح گھسا دیا ہم نے اس انکار کو گناہ گاروں کے دل میں

۲۰۱.     وہ نہ مانیں گے اس کو جب تک نہ دیکھ لیں گے عذاب دردناک

۲۰۲.    پھر آئے ان پر اچانک اور ان کو خبر بھی نہ ہو

۲۰۳.   پھر کہنے لگیں کچھ بھی ہم کو فرصت ملے گی

۲۰۴.   کیا ہمارے عذاب کو جلد مانگتے ہیں

۲۰۵.   بھلا دیکھ تو اگر فائدہ پہنچاتے رہیں ہم ان کو برسوں

۲۰۶.    پھر پہنچے ان پر جس چیز کا ان سے وعدہ تھا

۲۰۷.   تو کیا کام آئے گا ان کے جو کچھ فائدہ اٹھاتے رہے

۲۰۸.   اور کوئی بستی نہیں غارت کی ہم نے جس کے لیے نہیں ہے ڈر سنا دینے والے

۲۰۹.    یاد دلانے کو اور ہمارا کام نہیں ہے ظلم کرنا

۲۱۰.     اور اس قرآن کو نہیں لے کر اترے شیطان

۲۱۱.     اور نہ ان سے بن آئے اور نہ وہ کر سکیں

۲۱۲.     اُن کو تو سننے کی جگہ سے دور کر دیا ہے

۲۱۳.    سو تو مت پکار اللہ کے ساتھ دوسرا معبود پھر تو پڑے عذاب میں

۲۱۴.    اور ڈر سنا دے اپنے قریب کے رشتہ داروں کو

۲۱۵.    اور اپنے بازو نیچے رکھ ان کے واسطے جو تیرے ساتھ ہیں ایمان والے

۲۱۶.     پھر اگر تیری نافرمانی کریں تو کہہ دے میں بیزار ہوں تمہارے کام سے

۲۱۷.    اور بھروسہ کر اس زبردست رحم والے پر

۲۱۸.    جو دیکھتا ہے تجھ کو جب تو اٹھتا ہے

۲۱۹.     اور تیرا پھرنا نمازیوں میں

۲۲۰.    بے شک وہی ہے سننے والا جاننے والا

۲۲۱.     میں بتلاؤں تم کو کس پر اترتے ہیں شیطان

۲۲۲.    اترتے ہیں ہر جھوٹے گناہ گار پر

۲۲۳.   لا ڈالتے ہیں سنی ہوئی بات اور بہت ان میں جھوٹے ہیں

۲۲۴.   شاعروں کی بات پر چلیں وہی جو بے راہ ہیں

۲۲۵.   تو نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر میدان میں سر مارتے پھرتے ہیں

۲۲۶.    اور یہ کہ وہ کہتے ہیں جو نہیں کرتے

۲۲۷.   مگر وہ لوگ جو یقین لائے اور کام کیے اچھے اور یاد کی اللہ کی بہت اور بدلہ لیا اس کے پیچھے کہ ان پر ظلم ہوا  اور اب معلوم کر لیں گے ظلم کرنے والے کہ کس کروٹ الٹتے ہیں

ماخذ:

http://www.esnips.com/doc/ad931d54-3fe7-4cab-aed2-32499a23dc87/TarjumaMahmoodUlHasan

پروف ریڈنگ اور ای بک: اعجاز عبید