FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

تاریخ اہل حدیث

 

 

 

               ابو طلحہ سلفی

 

 

 

اہل باطل فورم اور اہل باطل ویب سائٹ پر ایک تحریر موجود ہے جس کا عنوان ہے “جب امام ابوحنیفہ نہیں تھے تو حنفی مقلد کہاں تھے؟ “۔ یہ تحریر ایک دوست نے فیس بک پر پیش کی اور اس کے جواب کا مطالبہ کیا جس پر اس تحریر کا تفصیلی پوسٹ مارٹم پیش کیا جا رہا ہے۔

وسوسہ = جب امام ابوحنیفہ نہیں تھے تو حنفی مقلد کہاں تھے ؟

چاروں مذاہب کے پیروکار اپنے اماموں پرجا کر دم توڑتے ہیں۔

یہ وسوسہ نہیں بلکہ حقیقت ہے جیسا کہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“ومن أھل السنۃ و الجماعۃ مذاہب قدیم معروف قبل أن یخلق اللہ أبا حنیفۃ و مالکاً و الشافعی و أحمد فإنہ مذہب الصحابۃ۔۔۔”

مفہوم: ابوحنیفہ، مالک، شافعی اور احمد بن حنبل کے پیدا ہونے سے پہلے اہل سنت و الجماعت کا مذہب قدیم و مشہور ہے، کیونکہ یہ صحابہ کا مذہب ہے، رضی اللہ عنہم اجمعین

(منہاج السنۃ جلد ۱ ص ۲۵۶ مطبوعہ: دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان)

معلوم ہوا کہ 30 مئی 1867 کو ہندوؤں کے پیسے سے معرض وجود میں آنے والے فرقہ دیوبند کا اہلسنت والجماعت کے نام پر قبضہ غاصبانہ ہیں۔ لقب اہلسنت کے صحیح حقدار وہی ہیں جن میں اہلسنت والجماعت کی خصوصیات و صفات موجود ہیں جبکہ فرقہ دیوبند نرے وحدۃ الوجودی صوفیوں کا ایک گروہ ہے جس کی تفصیل یہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

اس وسوسہ کا الزامی جواب تو یہ ہے کہ جب ائمہ حدیث امام بخاری ،امام مسلم ، امام ترمذی ، امام ابوداد ، امام نسائی ، امام ابن ماجہ وغیرہم نہیں تھے اور نہ ان کی کتابیں تھیں ، تو اس وقت اہل اسلام حدیث کی کن کتابوں پر عمل کرتے تھے ؟؟

یہ اعتراض فرقہ دیوبند نے اپنے بڑے بھائیوں روافض اور دیگر منکرین حدیث سے سیکھا ہے جس کا اصولی جواب یہ ہے کہ کتابت حدیث کا کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے ہی شروع ہو گیا تھا ایسا نہیں کہ امام بخاری اور دیگر محدثین سے پہلے احادیث تحریری شکل میں موجود نہ تھیں اس بات کے چند ثبوت پیش خدمت ہیں:

 

1۔ کتاب الصدقۃ

حضرت عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب زکوٰۃ لکھوائی لیکن ابھی اپنے عمال کو بھیج نہ پائے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی وفات ہو گئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اسے اپنی تلوار کے پاس رکھ دیا تھا۔ آپ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے اپنی وفات تک اس پر عمل کیا پھر حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے اپنی وفات تک ۔

ترمذی ، کتاب الزکاۃ عن رسول اللہ صلى اللہ علیہ ]ہوسلم ، باب : ما جاء فی الہھى عن المسالۃ ، حدیث : 624

 

2۔ صحیفہ صادقہ

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے ایک صحیفہ مرتب کیا جسے ’صحیفہ صادقہ‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رضی اللہ عنہ) کا بیان ہے کہ : صادقہ ایک صحیفہ ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر لکھا ہے۔

حوالہ جات :

طبقات ابن سعد ، ، ج:2 ، ص:408

اسد الغابہ ، از:ابن الاثیر ، ج:3 ، ص:222

صحیفہ ہمام بن منبہ ، مطبوعہ فیصل آباد ، ص:26

 

3۔ صحیفہ علی

ابو جحیفہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ :

کیا تمہارے پاس کوئی (اور بھی) کتاب ہے؟

انہوں (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ : نہیں ! مگر اللہ کی کتاب قرآن ہے یا پھر فہم ہے جو وہ ایک مسلمان کو عطا کرتا ہے یا پھر جو کچھ اس صحیفے میں ہے۔

میں نے پوچھا : اس صحیفے میں کیا ہے؟

انہوں (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا : دیت اور قیدیوں کی رہائی کا بیان ہے اور یہ حکم کہ مسلمان ، کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔

صحیح بخاری ، کتاب العلم ، باب : کتابۃ العلم ، حدیث : 111

 

4۔ حضرت انس (رضی اللہ عنہ) کی تالیفات

حضرت انس (رضی اللہ عنہ) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمت میں دس برس رہے۔ آپ (رض) نے عہدِ رسالت ہی میں احادیث کے کئی مجموعے لکھ کر تیار کر لیے تھے۔

حضرت انس (رضی اللہ عنہ) کے شاگرد سعید بن ہلال فرماتے ہیں کہ ہم جب حضرت انس (رض) سے زیادہ اصرار کرتے تو وہ ہمیں اپنے پاس سے بیاض نکال کر دکھاتے اور کہتے : یہ وہ احادیث ہیں جو میں نے نبی () سے سنتے ہیں لکھ لی تھیں اور پڑھ کر بھی سنا دی تھیں۔

( المستدرک للحاکم ، ذکر انس بن مالک ، مطبوعہ : دائرۃ المعارف حیدرآباد دکن)

 

5۔ حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) کی مرویات

ایک دفعہ طائف کے چند لوگ حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ) کے پاس آئے تو آپ نے اپنا جزدان نکالا اور اس میں سے چند احادیث انہیں املا کرائیں ۔

ترمذی ، کتاب العلل ، باب : 1 ، حدیث : 4386

 

6۔ صحیفہ حضرت جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)

یہ مجموعہ مناسک حج اور خطبہ حجۃ الوداع پر مشتمل تھا۔

صحیفہ جابر بن عبداللہ کو ان کے شاگرد وہب بن منبہ (م:110) اور سلیمان بن قیس لشکری نے مرتب کیا۔

ترمذی ، کتاب البیوع عن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ، باب : ما جاء فی ارض المشترک یرید بعضھم بیع نصیبہ ، حدیث : 1360

 

7۔ صحیفہ عمرو بن حزم (رضی اللہ عنہ)

جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم (رضی اللہ عنہ) کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو فرائض و سنن اور صدقات و دیات پر مشتمل احکام لکھوا کر دئے۔

(بحوالہ : تاریخ الحدیث و المحدثین ، ص : 303)

تو ثابت ہوا کہ احادیث عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی تحریری شکل میں موجود ہیں، اب ہم یہ اعتراض کرنے والوں کی اپنی تاریخ کی طرف آتے ہیں:

 

                      تاریخ فرقہ دیوبند​

 

دیوبندیت ایک جدید فرقہ ہے جو دیوبندی کتب کے مطابق 30 مئی 1867 میں ہندوؤں اور انگریزوں کے تعاون سے بننے والے مدرسہ دیوبند کی تعمیر کیساتھ ہی معرض وجود میں آیا اس کا مختصر احوال ملاحظہ کیجیے:

دارالعلوم دیو بند کے موسسین میں پہلا نام مولانا ذوالفقار علی ولد فتح علی کاہے جو مولانا محمو د الحسن کے والد بزرگوار تھے ۔یہ دہلی کالج میں پڑھتے رہے، بریلی کالج میں پروفیسر رہے پھر شعبہ تعلیم میں ڈپٹی انسپکٹر مدارس بنے پھر پنشن کے بعد دیو بند تشریف لے آئے اور حکومت برطانیہ سے وفاداری کے اعزا ز میں آنریری مجسٹریٹ بنا دیئے گئے۔انہوں نے 30مئی 1867ءمیں دارالعلوم دیو بند کی بنیاد رکھی ۔ دوسرے مولانا فضل الرحمن تھے جو مولانا شبیر احمد عثمانی کے والد بزرگوار تھے۔انہوں نے دارالعلوم دیو بند کی بنیاد رکھنے میں حصہ لیا ۔مولانا یعقوب علی نانوتوی دارالعلوم دیو بند کے پہلے مدرس تھے ۔مولانا قاسم نانوتوی دہلی کالج سے فارغ ہوئے تو پہلے مطبع احمدی پھر مطبع مجتبائی میرٹھ میں اور اس کے بعد مطبع مجتبائی دہلی میں پروف ریڈر رہے اس کے بعد مستقل طور پر مدرسہ دیو بند میں پڑھاتے رہے ۔       (احسن نانوتوی ص691,195,47,45)

مدرسہ دیو بند کی تعمیر کے لئے جن ہندوؤں نے چندہ دیا ان میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں ۔منشی تلسی رام ، رام سہائے ، منشی ہر دواری لال، لالہ بجناتھ ، پنڈت سری رام ، منشی موتی لال ، رام لال، سیو رام سوار ۔

(سوانح قاسمی 2/317)

قاری طیب دیو بندی مہتمم دارالعلوم دیو بند فرماتے ہیں:

’’‘چنانچہ دارالعلوم دیو بند کی ابتدائی روداد میں بہت ہندوؤں کے چندے بھی لکھے ہوئے ہیں‘‘۔

( خطبات حکیم الاسلام9/149)

13جنوری 1875ءبروز یک شنبہ لیفٹننٹ گورنر کے ایک خفیہ معتمد انگریز مسمی پامر نے اس مدرسہ کا دورہ کیا تو اس نے اس کے متعلق بہت ہی اچھے خیالات کا اظہار کیا۔اس معائنے کی رپورٹ کی چند سطور ملاحظہ فرمائیں ۔

“یہ مدرسہ سرکار کے خلاف نہیں بلکہ موافق سرکار ممد و معاون سرکار ہے۔یہاں کے تعلیم یافتہ لوگ ایسے آزاد اور نیک چلن ہیں کہ ایک دوسرے سے کچھ واسطہ نہیں ‘‘۔

(احسن نانوتوی ص217‘تصنیف محمد ایوب قادری دیوبندی۔ خر العلماء ص 60)

‘‘مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کو انگریزی حکومت کی طرف سے چھ سو روپیہ ماہوار ملتا تھا‘‘ ۔

(مکالمہ الصدرین ص 9‘ تقریر شبیر احمد عثمانی دیوبندی)

اس بات کا تذکرہ تھانوی صاحب نے الاضافات الیومیہ 6۔56 ملفوظ نمبر 108میں بھی کیا ہے۔

دارالعلوم دیو بند کا جب صد سالہ جشن منایا گیا تو مہمان خصوصی (صدر مجلس ) بھارت کی وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی اور بھارت کے سابق نائب وزیر اعظم جگ جیون رام تھے۔مسز اندرا گاندھی نے علماء دیوبند کو خطاب فرمایا نیز مسٹر جگ جیون رام نے بھی علماء دیوبند کو بالخصوص اور عوام الناس کو بالعموم وعظ و نصیحت سے مستفید فرمایا ۔ اس صد سالہ جشن دیو بند کی روئداد بھی چھپی جس میں مہمانان گرامی کی تصاویر نمایاں طور ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔

 

                      چاروں تقلیدی مذاہب (احناف ،شوافع، مالکیہ اور حنابلہ) کی مختصر تاریخ​

 

شاہ ولی اللہ حنفی لکھتے ہیں:

اعلم ان الناس کا نو قبل الما ئۃ الرابعۃ غیر مجمعین علی التقلید الخالص لمذہب واحد

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ چوتھی صدی سے پہلے لوگ کسی ایک مخصوص مذہب کی تقلید پر متفق نہیں تھے (حجۃ اللہ البالغہ ص ۴۵۱)

قاضی ثناءاللہ پانی پتی حنفی لکھتے ہیں:

فان اہل السنۃ والجمۃ قد افترق بعد القرون الثلاثۃ او الاربعۃ علی اربعۃ مذاہب

اہل سنت والجماعت چوتھی یا پانچویں صدی میں چار مذاہب میں متفرق ہوئے۔ (تفسیر مظہری)

امام ابنِ قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

انما حد ثت ھذہ البدعۃ فی القرن الرابع المذمومۃ علیٰ لسانہ علیہ الصلاۃ والسلام۔

تقلید کی بدعت چوتھی صدی ہجری میں پیدا ہوئی جسے نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے مذموم قرار دیا تھا۔ (اعلام الموقعین ۲۸۹۱)

خلاصہ: 1867 سے پہلے فرقہ دیوبند اور چوتھی صدی سے پہلے چاروں تقلیدی مذاہب کا دنیا میں کوئی وجود نہیں تھا۔

کیونکہ فرقہ نام نہاد اہل حدیث ( 1888 ء ) میں معرض وجود میں آیا ، اور اگرچہ بعض نام نہاد اہل حدیث نے اپنا رشتہ ناطہ حقیقی ( اہل الحدیث ) یعنی محدثین کرام کے ساتھہ جوڑنے کی ناکام کوشش کی ہے ، محدثین کرام اور ائمہ اسلام کی کتب میں جہاں کہیں بھی ” اہل الحدیث ” کا لفظ دیکھا تو اپنے اوپر چسپاں کر دیا ، ان جھوٹے دعاوی سے ایک جاہل ناواقف شخص کو تو خوش کیا جا سکتا ہے ، لیکن اصحاب علم و نظر کے سامنے ان پر فریب دعاوی کی کوئ حیثیت نہیں ہے ،

لہذا فرقہ نام نہاد اہل حدیث کا تعلق ( اہل الحدیث ) یعنی حقیقی ائمہ حدیث اور محدثین کرام کے ساتھہ ذرہ برابر بھی نہیں ہے ۔

اہل حدیث 1888 میں پیدا ہوئے یہ ٹھیک ویسا ہی جھوٹ ہے جیسا فرقہ دیوبند کے اکابرین نے اپنی کتابوں میں تحریر کیا ہے اور پھر ڈھٹائی کیساتھ اپنا جھوٹا ہونا تسلیم بھی کیا ہے۔

مثلاً اہل حدیث کے بارے میں اشرف علی تھانوی صاحب لکھتے ہیں: “اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تراویح کے بدعتی بتلاتے ہیں” (امداد الفتاویٰ ج4ص562)

آل دیوبند قیامت تک کسی سلفی عالم کا کوئی حوالہ پیش نہیں کر سکتے جس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسی کوئی بات کی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی کتابوں میں ان بنا دلیل، بنا حوالہ اور بنا ثبوت باتوں کو تحریر کرنے کی وجہ سے اکابرین دیوبند نے خود بھی اپنا جھوٹا ہونا تسلیم کر رکھا ہے۔

قاسم ناتوتوی دیوبندی نے کہا: “لہذا میں نے جھوٹ بولا” (دیکھئے حکایات اولیاء ص ۳۹۰ حکایت ۳۹۱)

دوسرے دیوبندی پیشوا نے اعلان کیا کہ “جھوٹا ہوں” (دیکھئے فضائل صدقات ص ۵۵۸)

قارئین خود ہی فیصلہ کریں کہ ایسے جھوٹے لوگوں کی بنا ثبوت اور بنا حوالہ باتوں کا کس طرح اعتبار کیا جا سکتا ہے؟ آئیے اب ہم آپ کے سامنے تحریک اہلحدیث کی مختصر تاریخ پیش کرتے ہیں۔

 

               “تاریخ اہل حدیث” ایک مختصر جائزہ​

 

اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں، تمام اہل علم اس کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت ہے اس وقت سے یہ جماعت ہے، اس لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔

اللہ تعالی نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر کہا ہے:

“فبای حدیث بعد اللہ و آیاتہ یومنون” (سورۃالجاثیۃ:6)

پس اللہ تعالی اور اس کی آیتوں کے بعد کس پر ایمان لائیں گے۔دوسری جگہ فرمایا ہے:

“فبای حدیث بعدہ یومنون” ( المرسلات:50)

اب اس قرآن کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے۔

اس کے علاوہ اور دیگر آیتیں ہیں جن میں لفظ حدیث سے مراد قرآن ہے اور ہر خطیب بھی اپنے خطبہ جمع میں یہ پڑھتا ہے۔

” فان خیر الحدیث کتاب اللہ”

بہترین حدیث اللہ کی کتاب ہے۔

اور اسی طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال اور تقاریر کو حدیث کہا گیا ہے۔ (مشکوۃ ص:3)

مذکورہ صدر دلائل سے یہ امر اظہر من الشمس ہو گیا کہ قرآن مجید اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال اور تقریر حدیث ہیں تو اس اعتبار سے اہل حدیث کے معنی ہوں گے “صاحب قرآن و حدیث” یعنی قرآن اور نبی پاکؐ کے احکام پر عمل کرنے والا۔

اصحاب اہل حدیث، اہل حدیث، اہل سنت یہ سب مترادف لفظ ہیں، اہل یا اصحاب کے معنی ” والے” اب اس کے نسبت حدیث کی طرف کر دیں تو معنی ہوں گے، ” حدیث والے” اور قرآن کو بھی اللہ نے حدیث کہا ہے جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے۔ اب یہ بات اچھی طرح واضح ہو گئی کہ اسلام سے مراد” قرآن و حدیث” ہے اور قرآن و حدیث سے مراد اسلام ہے۔ اور مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چیزوں پر ہے اور یہ ہی جماعت حق ہے اور رسول اللہ ۖ کی اس حدیث کا مطلب

” میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی ان کا مخالف ان کو نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آ جائے” ( مسلم:2/143)

محدثین نے یہی لیا ہے کہ وہ گروہ اہل حدیث ہے۔ اس کی تفصیل آگے آئے گی۔

رسول اللہؐ نے فرمایا :

” صدیوں میں بہترین صدی میری ہے پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے” (متفق علیہ)

اس سے مراد صحابہ (رض)، تابعین، تبع تابعین کا دور ہے۔ 222ھ تک کا زمانہ خیرالقرون سمجھا جاتا ہے۔

آئیے اب آپ کے سامنے لقب اہل حدیث کے وہ دلائل پیش کیے جا رہے ہیں جو صحابہ رضی اللہ عنہم کے دور سے موجودہ دور تک ہیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ ان شاء اللہ

 

       لقب اہل حدیث ، عہد صحابہ (رض) میں

 

1:۔ “حضرت ابو سعد خدری رضی اللہ عنہ جب حدیث کے جوان طلباء کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے، تمہیں مرحبا ہو، رسول اللہ ۖ نے تمہاری بابت ہمیں وصیت فرمائی ہے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم تمہارے لیے اپنی مسجدوں میں کشادگی کریں اور تم کو حدیث سمجھائیں کیونکہ تم ہمارے تابعی جانشین اور اہلحدیث ہو”۔ (شرف اصحاب الحدیث)

2:۔ ” حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہو گا تو اہلحدیث اس حال میں آئیں گے کہ ان کے ساتھ روایتیں ہوں گی، پس اللہ تعالی ان سے کہے گا کہ تم اہلحدیث ہو۔ نبی پاک ۖ پر درود بھیجتے ہوئے جنت میں داخل ہو جاؤ” (طبرانی القول البدیع للسخاوی: تاریخ بغداد 3)

3:۔ کثیر الروایۃ صحابہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (متوفی 57ھ یا 58ھ) کے متعلق امام ابوبکر بن داؤد رقم طراز ہیں کہ میں نے آپ کو خواب میں یہ فرماتے ہوئے دیکھا:

” اما اول صاحب حدیث کان فی الدنیا” دنیا میں سب سے پہلا حدیث والا ” اہل حدیث” میں تھا۔ ( تذکرۃ الحفاظ 1/29)

4:۔ “خیر الامۃ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ (متوفی 68ھ) اہل حدیث تھے” (تاریخ بغداد 3/227)

 

       لقب اہل حدیث، عہد تابعین میں

 

1:۔” سید التابعین حضرت عامر بن شرجیل شعبی رحمہ اللہ (متوفی 104ھ) اہلحدیث تھے” (تاریخ بغداد 3/227)

2:۔شیخ علی ہجویری لاہوری نے فرمایا ہے، “عبداللہ بن المبارک امام اہلحدیث تھے” یعنی عبداللہ بن مبارک اہلحدیث کے امام تھے۔ (کشف المحجوب)

3:۔ علامہ ذہبی اور امام خطیب نے ذکر کیا ہے کہ “امام زہری رحمہ اللہ خلیفہ عبدالمالک بن ابو سفیان، عاصم الاحول، عبیداللہ بن عمرو، یحی بن سعید الانصاری رحمہ اللہ تابعین میں اہل حدیث کے امام تھے” ( تذکرہ الحفاظ 97، تاریخ بغداد 2/245)

4:۔ “ابوبکر بن عیاش تابعی کہا کرتے تھے الحدیث ہر زمانے میں رہے ہیں جس طرح اسلام دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں ہے” ( میزان شعرانی)

5:۔ صحیح مسلم کے مقدمہ میں ہے ائمہ اہلحدیث کا ذکر کیا گیا ہے مثال کے طور پر” مالک بن انس، شعبہ بن الحجاج، سفیان ابن عینیہ، یحیی بن سعید قطان اور عبدالرحمان بن مہدی وغیرہ” ( مقدمہ صحیح مسلم مطبوعۃ دھلی 23)

6:۔ “امام ابن قنیبہ اپنی کتاب جو معارف اسماء اہلحدیث سے مشہور ہے اس میں ان لوگوں کے نام گنوائے ہیں جو نبی پاکؐ کے زمانے سے آپ کے زمانے تک گذر چکے ہیں اور 100 نام گنوائے ہیں اور اما م ابن قنیبہ تیسری صدی ہجری کے مشہور امام ہیں جیسا کہ امام ذہبی نے ذکر کیا ہے اور ان کے حالات زندگی میں لکھا ہے اور میرا خیال ہے کہ ان کی وفات 310ھ میں ہوئی ہے” (تذکرہ الحفاظ ج 3)

 

       لقب اہلحدیث، تبع تابعین کے زمانے میں

 

1:۔ “تبع تابعین اپنے آپ کو اہلحدیث کے نام سے عزت دیتے تھے اور اس نام سے خوش ہوتے تھے جیسا کہ امام ثوری نے کہا ہے کہ اہلحدیث میرے پاس نہ آئیں تو میں ان کے پاس ان کے گھروں میں جاؤں گا” (شرف اصحاب اہلحدیث)

2:۔ “تبع تابعین حضرت سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ کو ان کے استاد امام ابو حنیفہ نے اہلحدیث بنایا تھا جیسا کہ آپ نے اپنے لفظوں میں یوں بیان کرتے ہیں پہلے پہل امام ابو حنیفہ نے ہی مجھے اہلحدیث بنایا تھا” (حدائق الحنفیہ: 134، تاریخ بغداد 9/178)

3:۔ “علامہ شہر ستانی نے اپنی کتاب ” الملل والنحل” میں ائمہ اہلحدیث کے نام گنوائے ہیں اور وہ اہل حجاز ہیں اور وہ مالک بن انس اور محمد بن ادریس شافعی کے اصحاب ہیں اور سفیان ثوری کے اصحاب ہیں اور داؤد بن علی بن محمد اصفہانی کے اصحاب ہیں اور اسی طرح علامہ ابن خلدون نے اپنی کتاب تاریخ ابن خلدون میں ذکر کیا ہے” (تاریخ ابن خلدون 1/372)

4:۔ علامہ ابو منصور عبدالقادر بن طاہر تیمی بغدادی نے اپنی مشہور کتاب ” اصول دین” میں صحابہ رض، تابعین اور تبع تابعین رح کے حالات کا ذکر کیا ہے۔ دوران ذکر میں کہا کہ روم جزیرہ آذربائیجان کی سرحدوں کے پورے باشندے اہلحدیث کے مذہب پر تھے اور اسی طرح افریقہ اور اندلس کے باشندے، بحیرہ عرب کے پورے باشندے، زنج کے ساحل پر یمن کی سرحدوں کے پورے باشندے اہلحدیث تھے” ( اصول الدین 1/310)

5:۔ امام اللغتہ والخو خلیل بن احمد الفراہیدی (متوفی 164ھ) فرماتے ہیں فرشتے آسمان کے اور اہل حدیث زمین کے محافظ ہیں یعنی یہی دین کی دعوت دینے والے اور تقریر و تحریر سے اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ نیز فرماتے ہیں ان کے لیے یہی نیکی کافی ہے کہ وہ جب حدیث میں آپ کا نام آتا ہے تو درود شریف لکھتے اور پڑھتے رہتے ہیں۔

6:۔ مشہور زاہد امام فضل بن عیاض ( متوفی 187ھ) اہل حدیث کو دیکھ کر فرمانے لگے” یا ورثۃ الانبیاء”۔

7:۔ خلیفہ ہارون الرشید (متوفی 193ھ) کہتے ہیں کہ 4 صفات مجھے 4 جماعتوں میں ملیں۔ کفر جہیمہ میں، بحث و جھگڑا معتزلہ میں، جھوٹ رافضیوں میں، اور حق اہلحدیث میں۔

8:۔ عبداللہ بن داؤد الخریبی (متوفی 213ھ) فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے استاذہ سے سنا کہ اہلحدیث اللہ تعالی کی طرف سے اس کے دین کے امین ہیں یعنی علم و عمل میں رسول اللہ ۖ کے دین کی حفاظت کرنے والے ہیں (یہ سارے اقوال امام احمد بن سنان الواسطی{۶۵۲ھ}کی کتاب شرف اصحاب اہلحدیث سے لیے گئے ہیں)

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ صحابہ رض، تابعین و تبع تابعین رح یہ قرون ثلاثہ اہلحدیث کے نام سے مشہور تھے اور ان کو اہلحدیث کہا جاتا تھا۔

 

       لقب اہل حدیث، ائمہ اسلام کی نظر میں

 

ائمہ اربعہ خود بھی اہل حدیث تھے اور بڑے ہی شد مد کے ساتھ لوگوں کو اپنی تقلید سے منع کرتے ہوئے صرف قرآن و سنت کی دعوت دیتے تھے۔

1:۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ (80ھ 150ھ) آپ کے شاگرد سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ “پہلے پہل امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے مجھ کو اہلحدیث بنایا تھا ( حدائق الحنفیہ ص 134)

2:۔ حنفیت کے بانی امام محمد کے قول کے مطابق انہوں نے اپنی کتاب موطا میں امام زہری کے بارے میں کہا کہ ابن شہاب مدینہ میں اہلحدیث کے نزدیک سب سے بڑے عالم تھے۔ (موطا امام محمد ص 362)

3:۔ امام شافعی رحمہ اللہ (150ھ 204ھ) کے بارے میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رح (متوفی 728ھ) فرماتے ہیں” امام شافعی رح نے اہلحدیث کا مذہب پکڑا اور اسی کو اپنے لیے پسند فرمایا” (منہاج السنہ 4/143)

4:۔ علامہ ابن القیم رح (متوفی 751ھ) اعلام الموقعین میں امام شافعی رح کا قول نقل فرماتے ہیں” تم اپنے اوپر حدیث والوں (اہلحدیث) کو لازم پکڑو کیونکہ وہ دوسروں کے اعتبار سے زیادہ درست اور صحیح ہیں۔

5:۔ امام شافعی رح اہلحدیث کے مذہب پر تھے بلکہ مذہب اہلحدیث کے مبلغ تھے کہ امام نووی رح نے امام شافعی رح کے حالات زندگی میں لکھا ہے، پھر عراق گئے علم حدیث کو پھیلایا اور مذہب اہلحدیث قائم کیا” (تھذیب الاسماءواللغات)

6:۔امام شافعی رح سے روایت ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ” اہلحدیث ہر زمانے میں ویسے ہی ہیں جس طرح صحابہ رض ہر زمانے میں تھے۔ یعنی وہ سختی کے ساتھ کتاب و سنت کی پیروی کرتے تھے” (المیزان الکبری)

7:۔ امام مالک (95ھ 180ھ) آپ کے متعلق علامہ شمس الدین ابو عبداللہ ال ذہبی رح (متوفی 748ھ) لکھتے ہیں کہ ” قال وہیب، امام اہلحدیث مالک” یعنی وہیب نے کہا کہ اما مالک رح اہلحدیث کے امام تھے۔ (تذکرۃ الحفاظ 1/195)

8:۔ امام مسلم بن حجاج نیساپوری رح (261ھ) نے امام مالک رح کو ” امام اہلحدیث” کہا ہے۔ (مقدمہ مسلم شریف ص:23)

9:۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (164ھ 241ھ) شیخ الاسلام ابن تیمیہ رح آپ کے متعلق فرماتے ہیں ” کان علی مذہب اہل حدیث” یعنی آپ رحمہ اللہ اہلحدیث کے مذہب پر تھے۔ (منہاج السنہ 4/143)

10:۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ طائفہ منصورہ والی روایت کی تشریح یوں فرماتے ہیں ” ان لم یکونو ا اہلحدیث فلا ادری من ہم” یعنی اگر طائفہ منصورہ سے مراد اہلحدیث نہیں تو پھر مجھے نہیں معلوم کہ یہ کون ہیں۔ (نووی شرح مسلم 2/143، واللفظ لہ شرف اصحاب الحدیث 14)

11:۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بالاتفاق اہلحدیث اماموں کے امام ہیں جیسا کہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رح نے فرمایا ہے کہ امام احمد اہلحدیث کے مذہب پر تھے۔ (منہاج السنۃ و ابن خلدون و الملل و النحل)

12:۔ خلیل بن احمد، صالح بن محمد رازی سے روایت ہے وہ امام احمد بن جنبل رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا ” اگر اہلحدیث اللہ کے ولی نہ ہوں تو زمین میں پھر اللہ کا کوئی بھی ولی نہیں” (شرف اصحاب الحدیث)

13:۔ امام الدنیا فی الحدیث فخر المحدثین محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ علیہ (المتوفی 256ھ) جن کی کتاب صحیح بخاری ہے اور تمام اہل علم اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ الصحیح البخاری یعنی قرآن کے بعد سب سے صحیح کتاب صحیح بخاری ہے۔

حدیث نبوی لاتزال طائفۃ الخ کی تفسیر میں امام بخاری سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے علی بن مدینی کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” وہ گروہ االحدیث ہیں” (ترمذی، فتح الباری 13/294)

14:۔ امام مسلم رحمہ اللہ (المتوفی 261ھ) جن کی مشہور کتاب صحیح مسلم ہے صحیح بخاری کے بعد اسی کا درجہ ہے خود امام مسلم رح نے اپنے صحیح کے مقدمہ میں ائمہ اہل حدیث کا ذکر کیا ہے۔ (مقدمہ صحیح مسلم مطبوعہ دھلی:43)

15:۔ حدیث نبوی لاتزال طائفۃ الخ کی تفسیر میں عبداللہ بن مبارک سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ وہ گروہ اہلحدیث کا ہے (شرف اصحاب الحدیث)

16:۔ امام عیسی ترمذی رحمہ اللہ کی شہادت: ” طائفہ منصورہ سے مراد اہلحدیث کا طبقہ ہے” (ترمذی)

17:۔ امام محمد بن حبان رحمہ اللہ کی شہادت: یعنی یہ بات درست ہے کہ قیامت کے دن رسول اللہ ۖ کے سب سے قریب اہلحدیث ہوں گے” (جواہر البخاری: 14)

18:۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ علیہ نے اللہ تعالی کا یہ قول ” جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے” نقل کر کے فرمایا ہے کہ سلف صالحین اس آیت کریمہ کے پیش نظر یہ کہتے ہیں کہ حضرات اہلحدیث کے لیے اس سے بڑا شرف اور کیا ہوسکتا ہے کہ انہیں ان کے اپنے امام اور رہبر نبی پاکؐ کے ساتھ بلایا جائے گا۔ (تفسیر ابن کثیر ص 200)

19:۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا ” اہلحدیث کا اعتقاد خالص سنت پر ہے کیونکہ یہ وہی اعتقاد ہے جو نبی پاکۖ سے ثابت شدہ ہے۔ (منھاج السنۃ:179)

20:۔ شیخ عبدالقار جیلانی رحمہ اللہ علیہ کی شہادت: آپ نے فرمایا” اہل بدعات کی کچھ علامتیں ہیں جن سے ان کی پہچان ہو جاتی ہے۔ ایک علامت تو یہ ہے کہ وہ اہلحدیث کو برا کہتے ہیں” (غنیۃالطالبین 1/80)

21:۔ امام علامہ البانی رحمہ اللہ علیہ مسکراتے ہوئے ایک سوال کا جواب دیا اور فرمایا” الحمد اللہ میں سلفی اور اہلحدیث ہوں اور یہ کہ جس شخص کا منہج سلفیت نہیں وہ حق سے منحرف ہے” (بحوالہ ماہنامہ سبیل المومنین حیدرآباد اکتوبر 2002ء)

 

                      اہل الحدیث سے مراد محدثین کرام اور عوام دونوں ہیں​

 

یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ اہل الحدیث سے مراد صرف محدثین ہیں جبکہ حقیقت میں اہل الحدیث سے مراد محدثین (صحیح العقیدہ) اور حدیث پر عمل کرنے والے ان کے عوام دونوں مراد ہیں اس کی فی الحال دس دلیلیں پیش خدمت ہیں:

1) علمائے حق کا اجماع ہے کہ طائفہ منصورہ (فرقہ ناجیہ) سے مراد اہلحدیث ہیں جس کی تفصیل اوپر بیان کی جا چکی ہے تو کیا فرقہ ناجیہ صرف محدثین ہیں؟

ہرگز نہیں یہ بالکل خلاف عقل اور خلاف حقیقت ہے، طائفہ منصورہ اہل الحدیث سے مراد محدثین اور ان کے عوام دونوں ہیں۔

2) امام اہلسنت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا:

“صاحب الحدیث عندنا من یستعمل الحدیث” ہمارے نزدیک اہلحدیث وہ ہے جو حدیث پر عمل کرتا ہے۔

(مناقب الامام احمد بن حنبل لابن الجوزی ص۲۰۹ و سندہ صحیح)

3) شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم اہلحدیث کا یہ مطلب نہیں لیتے کہ اس سے مراد صرف وہی لوگ ہیں جنہوں نے حدیث سنی، لکھی یا روایت کی ہے بلکہ اس سے ہم یہ مراد لیتے ہیں کہ ہر آدمی جو اس کے حفظ، معرفت اور فہم کا ظاہری اور باطنی لحاظ سے مستحق ہے اور ظاہری اور باطنی لحاظ سے اس کی اتباع کرتا ہے اور یہی معاملہ اہل قرآن کا ہے۔

(مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ جلد ۴ ص ۹۵)

4) امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اہل حدیث کی یہ صفت بیان کی ہے:

“وہ حدیثوں پر عمل کرتے ہیں، ان کا دفاع کرتے ہیں اور ان کے مخالفین کا قلع قمع کرتے ہیں”

(صحیح ابن حبان، الاحسان : ۶۱۲۹)

5) امام احمد بن سنان الواسطی رحمہ اللہ (المتوفی ۲۵۹ ہجری) نے فرمایا: دنیا میں کوئی ایسا بدعتی نہیں جو اہلحدیث سے بغض نہیں رکھتا (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم ص۴ وسندہ صحیح)

یہ بات عام لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ صحیح العقیدہ محدثین اور ان کے عوام سے اہل بدعت بہت بغض رکھتے ہیں۔

6) قرآن مجید سے ثابت ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ پکارا جائے گا (بنی اسرائیل:۷۱) اس کی تشریح میں امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے بعض سلف سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت اہلحدیث کی سب سے بڑی فضیلت ہے کیونکہ ان کے امام نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں (تفسیر ابن کثیر ۱۶۴/۴)

کیا صرف محدثین کے امام نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ نہیں بلکہ اہلحدیث سے مراد محدثین اور ان کے عوام دونوں ہیں

7) امام ابن قیم نے اپنے مشہور قصیدے نونیہ میں فرمایا: ” اے اہل حدیث سے بغض رکھنے والے اور گالیاں دینے والے تجھے شیطان سے دوستی قائم کرنے کی بشارت ہو” (الکافیہ الشافیہ ص ۱۹۹)

8) امام جلال الدین سیوطی نے بنی اسرائیل:۷۱ کی تفسیر میں نقل فرمایا: “اہل حدیث کے لیئے اس سے زیادہ فضیلت والی کوئی اور بات نہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا ان کا کوئی امام نہیں۔ (تدریب الراوی جلد۲ ص ۱۲۶)

یہاں بھی اہلحدیث سے مراد محدثین اور ان کے عوام دونوں ہیں۔

9) ابو منصور عبدالقاہر بن طاہر البغدادی (المتوفی ۴۲۹ ہجری) نے ملک شام وغیرہ کی سرحدوں پر رہنے والے مسلمانوں کے بارے میں کہا: وہ سب اہلسنت میں سے اہلحدیث کے مذہب پر تھے۔ (اصول دین ص ۳۱۷)

یہ کسی دلیل سے ثابت نہیں کہ صرف محدثین ہی مذکورہ سرحدی علاقوں میں رہتے تھے اور وہاں ان کے عوام موجود نہیں تھے لہذا اس حوالے سے بھی ثابت ہوا کہ محدثین کے عوام بھی اہل حدیث ہیں۔

10) ابو عبداللہ محمد بن احمد بن البناء المقدسی البشاری (متوفی ۳۸۰ ہجری) نے اپنے دور کے اہل سندھ کے بارے میں لکھا:

“مذاھبھم أکثرھم أصحاب حدیث ورأیت القاضی أبا محمد المنصوری داودیًّا إماماً فی مذہبھ ولھ تدریس و تصانیف، قدصنّف کتباً عدّۃ حسنۃ”

ان سندھیوں کے مذاہب میں اکثر اہلحدیث ہیں اور میں نے قاضی ابو محمد المنصوری کو دیکھا، وہ داؤد ظاہری کے مسلک پر اپنے مذہب (اہل ظاہر) کے امام تھے، وہ تدریس بھی کرتے ہیں اور کتابیں بھی لکھتے ہیں، انہوں نے بہت سی اچھی کتابیں لکھی ہیں۔

(احسن التقاسیم فی معرفۃ الاقالیم ص ۳۶۳)

بشاری نے سندھیوں کی اکثریت کو اہلحدیث قرار دے کر ثابت کر دیا کہ محدثین کی طرح صحیح العقیدہ عوام بھی اہلحدیث ہیں نیز (1867 میں) فرقہ دیوبند کی پیدائش سے سینکڑوں سال پہلے۳۸۰ ہجری میں سندھ میں اہلحدیث اکثریت میں تھے۔

 

                      تاریخ اہلحدیث علماء دیوبند کی زبانی​

 

مذکورہ بالا دلائل کے بعد مزید کسی وضاحت کی ضرورت تو نہیں لیکن پھر بھی دیوبندیوں پر اتمام حجت کے لیئے ہم اکابرین دیوبند کی کتب سے چند حوالے پیش کر رہے ہیں۔

1) مفتی رشید احمد لدھیانوی دیوبندی نے لکھا:

تقریباً دوسری تیسری صدی ہجری میں اہل حق میں فروعی اور جزئی مسائل کے حل کرنے میں اختلافِ انظار کے پیش نظر پانچ مکاتب فکر قائم ہو گئے یعنی مذاہب اربعہ اور اہل حدیث۔ اس زمانے سے لے کر آج تک انہی پانچ طریقوں میں حق کو منحصر سمجھا جاتا رہا۔ (احسن الفتاوٰی ج1 صفحہ 316، مودودی صاحب اور تخریب اسلام صفحہ 20)

2) اشرف علی تھانوی نے لکھا ہے:

“امام ابو حنیفہ کا غیر مقلد ہونا یقینی ہے” (مجالس حکیم الامت ص۳۴۵)

یہ عام لوگوں کو بھی پتہ ہے کہ امام ابوحنیفہ انگریزوں کے دور سے بہت پہلے گزرے ہیں۔

3) حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے تقلید کے رد پر ضخیم کتاب “اعلام الموقعین” لکھی ہے۔ چنانچہ ظفر احمد تھانوی دیوبندی لکھتے ہیں:

“لأنارأینا أن ابن القیم الذی ھو الأب لنوع ھذہ الفرقۃ”

کیونکہ ہم نے دیکھا کہ ابن قیم اس (تقلید نہ کرنے والے/اہلحدیث) فرقے کی قسم کا باپ ہے۔ (اعلاء السنن جلد ۲۰ ص۸)

سب جانتے ہیں کہ امام ابن قیم 1888 سے سینکڑوں سال پہلے گزرے ہیں۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین

4) حافظ ابن حزم الظاہری الاندلسی نے فرمایا “والتقلید حرام” اور تقلید حرام ہے (البذۃالکافیۃ فی احکام اصول الدین ص70)

اور فرمایا: اور عامی و عالم (دونوں) اس (حرمت تقلید میں) برابر ہیں، ہر ایک اپنی طاقت اور استطاعت کے مطابق اجتہاد کرے گا(النبذۃ الاکافیۃ ص71)

چنانچہ اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں:

اگرچہ اس امر پر اجماع نقل کیا گیا ہے کہ مذاہب اربعہ کو چھوڑ کر مذہب خامس مستحدث کرنا جائز نہیں یعنی جو مسئلہ چاروں مذہبوں کے خلاف ہو اس پر عمل کرنا جائز نہیں کہ حق دائر و منحصر ان چار میں ہے مگر اس پر بھی کوئی دلیل نہیں کیونکہ اہل ظاہر ہر زمانہ میں رہے اور یہ بھی نہیں کہ سب اہل ہویٰ ہوں وہ اس اتفاق سے علیحدہ رہے۔دوسرے اجماع اگر ثابت بھی ہو جاوے مگر تقلید شخصی پر تو کبھی اجماع بھی نہیں ہوا۔(تذکرۃ الرشید ج1، صفحہ 131)

فرقہ دیوبند کی خدمت میں دو مزید حوالے پیش خدمت ہیں جس سے اہل حدیث (تقلید نہ کرنے والے متبعین کتاب و سنت و اجماع) کا اہل سنت (واہل حق) ہونا بااعتراف فریق مخالف ثابت ہے۔ والحمد للہ

1) تفسیر حقانی کے مصنف عبد الحق حقانی دہلوی نے کہا:

” اور اہل سنت شافعی،حنبلی،مالکی، حنفی ہیں اور اہل حدیث بھی ان ہی میں داخل ہیں۔۔۔(حقانی عقاءد اسلام صفحہ ۳)

2) مفتی کفایت اللہ دہلوی دیوبندی نے کہا:

“ہاں اہل حدیث مسلمان ہیں اور اہل سنت والجماعت میں داخل ہیں۔ ان سے شادی بیاہ کا معاملہ کرنا درست ہے۔ محض ترک تقلید سے اسلام میں فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی اہل سنت و الجماعت سے تارک تقلید باہر ہے (کفایت المفتی جلد۱، صفحہ ۳۲۵، جواب:۳۷۰)

امید ہے شرم اور غیرت رکھنے والے دیوبندیوں کے لیئے اتنا کافی ہے۔

اور اگر حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی ، اپنے ائمہ پر جا کر دم توڑتے ہیں تو یہ کوئی نقص و عیب کی بات نہیں ہے کیونکہ یہ سب ائمہ کرام ائمہ حق وہدی ہیں ،خیرالقرون کی شخصیات ہیں ، جمیع امت ان ائمہ کرام کی امامت و صداقت و جلالت و ثقاہت پر متفق ہے ، اور بالخصوص امام اعظم ابوحنیفہ بالاتفاق تابعیت کے عظیم شرف سے متصف ہیں ، صحابہ کرام کے شاگرد ہیں ، اور بقول امام سیوطی و دیگر ائمہ کہ امام اعظم ابوحنیفہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئ کا مصداق ہیں

یہ بھی نرا جھوٹ ہے، جہاں تک آئمہ ثلاثہ کا تعلق ہے تو دیوبندی ان کے مقلد نہیں اور نہ ہی دیوبندیوں کے نزدیک تلفیق جائز ہے۔ دیوبندی امام ابوحنیفہ کی تقلید کا دعوی کرتے ہیں اور امام ابوحنیفہ کے بارے میں یہ دعوی کرنا کے جمیع امت ان کی ثقاہت پر متفق ہے نرا جھوٹ ہے، چند حوالے پیش خدمت ہیں:

۱) قال الامام بخاری فی التاریخ الکبیر (۸۱/۴) سکتوا عنہ یعنی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے۔

علامہ ابن کثیر مختصر علوم الحدیث ص ۱۱۸ پر فرماتے ہیں ” جب امام بخاری کسی کے بارے میں کہہ دیں کہ “سکتوا عنہ یا فیہ نظر” تو وہ انکے نزدیک سب سے ادنیٰ راوی ہوتا ہے (الرفع و التکمیل ص ۱۸۲)

یہ جرح مفسرہ ہے کیونکہ مسائل المروزی میں آتا ہے “امام احمد سے پوچھا گیا کہ راوی کی روایت کب ترک کی جائے گی جائے گی ؟ انہوں نے فرمایا جب اس کی صحت پر خطاء غالب آ جائے۔

۲) و قال الام مسلم فی الکنی و الاسماء ص۳۱ مضطرب الحدیث لیس لہ کبیر حدیث صحیح یعنی امام ابوحنیفہ مضطرب الحدیث ہیں ان کے پاس صحیح حدیث کا کوئی ذخیرہ نہیں ہے

۳َ) امام نسائی فرماتے ہیں “لیس بالقوی فی الحدیث و ھو کثیر الغلط علی قلۃ روایۃ” (کتاب الضعفاء والمتروکین:۵۸)

۴) ابن سعد فرماتے ہیں “کان ضعیفاً فی الحدیث” یعنی امام ابوحنیفہ حدیث میں کمزور تھے (الطبقات۲۵۶/۶)

۵) عبد الحق اشبیلی فرماتے ہیں “ولا یحتج بابی حنیفۃ لضعفہ فی الحدیث” یعنی ضعف فی الحدیث کی وجہ سے امام ابو حنیفہ کی حدیث دلیل نہیں بن سکتی (الاحکام الکبری۱۷/۲)

۶) امام ابن ابی شیبہ اپنی مصنف میں امام ابو حنیفہ پر رد کرتے ہیں اور فرماتے ہیں اس کتاب الرد علی ابی حنیفۃ میں تردید کا مرکز امام ابو حنیفہ ہیں (ص۱۴۸/۱۴)

۷) اسی طرح ابو نعیم نے بھی ان پر رد کیا ہے. (الحلۃ ۱۹۷/۱۱/۳)

۸)عبداللہ بن امام احمد نے بھی ان پر رد کیا ہے (کتاب السنۃ ۱۸۰/۱)

۹)خطیب بغدادی نے بھی رد کیا ہے (تاریخ بغداد ج ۱۳)

۱۰) معلّمی نے بھی ان پر رد کیا ہے (التنکیل:۱۸/۱و عمدۃ الرعایۃ ۳۶)

۱۱) امام ابن عبد البر فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی رائے کا بھی انکار کیا گیا ہے (کما فی التمھید)

۱۲) امام ابن عدی امام صاحب کی روایتوں کا ضعف بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ اہل الحدیث میں سے نہیں تھے اور جس کی ایسی حالت ہو اس سے حدیث نہیں لی جاتی (الکامل لابن عدی:۴۰۳/۲)

 

       امام ابوحنیفہ کے بارے میں ایک اجماع

66 ۔ حدثنا محمد بن علی بن مخلد الوراق لفظا قال فی کتابی عن أبی بکر محمد بن عبد اللہ بن صالح الأسدی الفقیہ المالکی قال سمعت أبا بکر بن أبی داود السجستانی یوما وھو یقول لأصحابہ ما تقولون فی مسألۃ اتفق علیھا مالک وأصحابہ والشافعی وأصحابہ والأوزاعی وأصحابہ والحسن بن صالح وأصحابہ وسفیان الثوری وأصحابہ وأحمد بن حنبل وأصحابہ فقالوا لھ یا أبا بکر لا تکون مسألۃ أصح من ھذہ فقال ھؤلاء کلھم اتفقوا على تضلیل أبی حنیفۃ

تاریخ بغداد 13/394 , ط. دار الکتب العلمیۃ ۔ بیروت

ابو بکر بن أبی داود السجستانی رحمہ اللہ نے ایک دن اپنے شاگردوں کو کہا کہ تمہارا اس        مسئلہ کے بارہ میں کیا خیال ہے جس پر مالک اور اس کے اصحاب شافعی اوراس کے اصحاب اوزاعی اور اس کے اصحاب حسن بن صالح اور اس کے اصحاب سفیان ثوری اور اس کے اصحاب احمد بن حنبل اور اس کے اصحاب سب متفق ہوں ؟؟

تو وہ کہنے لگے اس سے زیادہ صحیح مسئلہ اور کوئی نہیں ہو سکتا

تو انہوں نے فرمایا

یہ سب ابو حنیفہ کو گمراہ قرار دینے پر متفق تھے

یہ پڑھ کر ممکن ہے بعض دیوبندی رونا شروع کر دیں کہ دیکھو غیر مقلدوں نے ہمارے امام اعظم کی گستاخی کر دی تو بھیا عرض یہ ہے کہ ہم نے امام صاحب کے بارے میں محدثین اور آئمہ کرام کی جرح من و عن نقل کی ہے اپنی طرف سے ایک لفظ بھی نہیں لکھا اس لیئے اگر گستاخی کا فتوی لگانا ہے تو شوق سے مذکورہ بالا آئمہ پر لگائیں۔

اور جہاں تک امام صاحب کی تابعیت کا تعلق ہے تو یہ بھی محتاج دلیل ہے ایسے کئی دلائل موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ امام صاحب تابعی نہیں تھے۔ اور رہی بات پیشنگوئی کی تو تمام دلائل عربی متن اور مکمل حوالوں کیساتھ پیش کیجیے صرف حافظ سیوطی کے نام کا رعب جمانے کی ضرورت نہیں۔

ہماری سند دو واسطے سے           حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی ہے ، کیونکہ امام اعظم ابوحنیفہ تابعی ہیں اور تابعی صحابہ کا شاگرد ہوتا ہے اور صحابہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے براہ راست بلا واسطہ شاگرد ہیں ، الحمد للہ ہمیں اس نسبت اور سند پر فخر ہے

یہ بھی مقلدین کی خوش فہمی ہے اول تو کتب احادیث میں ایسی کسی سند کا وجود ہی یکسر معدوم ہے اور اگر مقلدین ایسی کوئی سند دریافت کر بھی لیتے ہیں تب بھی کوئی فائدہ نہیں کیونکہ امام صاحب کے ضعف پر جمہور محدثین کا اتفاق ہے نتیجتاً ایسی روایات اگر ہوں بھی تو ضعیف ہی کہلائیں گی۔

لیکن دوسری طرف فرقہ نام نہاد اہل حدیث جو کہ بالاتفاق ھندوستان میں انگریزی دور میں پیدا کی گئ ، پوری تاریخ اسلام میں کسی بھی جگہ فرقہ نام نہاد اہل حدیث کا تذکرہ کہیں نہیں ملتا ، آپ تاریخ اسلام یا تاریخ فقہ پر کوئی بھی کتاب اٹھا لیں کہیں بھی ان کا نام و نشان تک نہیں ملتا ، ان کا سلسلہ انگریزی دور سے چلتا ہے حتی کہ صرف ھندوستان کی تاریخ پڑھہ لیں کہ سینکڑوں سال تک زمام اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں رہا مثلاً مسلمان حکمرانوں میں مغل ، غوری ، تغلق ، لودھی ، خلجی وغیرہ ایک طویل زمانہ تک ھندوستان پر حکمرانی کرتے رہے لیکن ان سب ادوار میں فرقہ نام نہاد اہل حدیث بالکل نظر نہیں آتا ، اور جو حضرات اس فرقہ میں حدیث کی سند بھی رکھتے ہیں تو وہ بھی میاں نذیرحسین دھلوی سے آگے صرف اور صرف فرقہ نام نہاد اہل حدیث اور غیر مقلدین کے واسطہ سے اصحاب صحاح ستہ تک نہیں پہنچتا ،            بلکہ میاں نذیرحسین دہلوی کے بعد امام بخاری امام مسلم وغیرہ تک ان کا سلسلہ سند حنفی و شافعی مقلدین کے واسطہ سے پہنچتا ہے ،۔

ان سب فضولیات کا جواب اوپر تاریخ اہلحدیث میں تفصیل سے دیا جا چکا ہے۔ یہاں دو مزید حوالے پیش خدمت ہیں:

۱۸۵۷ کی جنگ آزادی میں انگریزوں کے خلاف جو فتوی لگا تھا اس فتویٰ پرچونتیس علمائے کرام کے دستخط ہیں، سوال یہ تھا:

“کیا فرماتے ہیں علماء دین اس امر میں کہ اب جو انگریز دلی پر چڑھ آئے اور اہل اسلام کی جان و مال کا ارادہ رکھتے ہیں، اس صورت میں اب شہر والوں پر جہاد فرض ہے یا نہیں؟ اگر فرض ہے تو وہ فرض عین ہے یا نہیں؟”

علماء نے جواب دیا: “در صورت مرقومہ فرض عین ہے” اس فتوے پر سید محمد نذیر حسین دہلوی رحمہ اللہ کے دستخط موجود ہیں۔

(دیکھئے علماء ہند کا شاندار ماضی تصنیف سید محمد میاں دیوبندی جلد ۴ ص ۱۷۸۔۱۷۹ و انگریز کے باغی مسلمان تصنیف جانباز مرزا ص۲۹۳)

اہل حدیث عالم سید نذیر حسین دہلوی تو جہاد کی فرضیت کا فتوی دے رہے تھے اب دیوبندی علماء کی کاروائیاں بھی پڑھ لیں۔

دیوبندیوں کے پیارے مولوی فضل الرحمن گنج مراد آبادی کہہ رہے تھے:

“لڑنے کا کیا فائدہ؟ خضر علیہ السلام کو تو میں انگریزوں کی صف میں پا رہا ہوں” (سوانح قاسمی جلد۲ ص۱۰۳ حاشیہ علماء ہند کا شاندار ماضی جلد۴ ص ۲۸۰ حاشیہ)

اب ہمارا سوال یہ ہے کہ رات دن یہ لوگ یہ تکرار کرتے رہتے ہیں کہ تقلید شرک و جہالت ہے اور مقلد مشرک و جاہل ہوتا ہے ، اگر تم اپنے اس قول میں سچے ہو تو امام بخاری یا کسی بھی امام حدیث تک اپنی ایک ضعیف سند بھی ایسی دکھا دو جس میں اول تا آخر سب کے غیر مقلد اور تمہاری طرح نظریات کے حامل افراد شامل ہوں ؟؟

قیامت تک یہ لوگ ایسی سند نہیں دکھا سکتے ، بس عوام الناس کو دھوکہ دینے کے لیئے مختلف قسم کے حیلے بہانے تراشے ہوئے ہیں ۔        اگر یہی حق پر ہونے کی دلیل ہے تو پہلے خود فرقہ دیوبند سے امام بخاری یا کسی بھی امام تک ایسی ہی کوئی سند پیش کر کے اپنا اہل حق ہونا تو ثابت کیجیے، فما کان جوابکم فھو جوابنا

مشہور غیر مقلد عالم مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی نے اپنی کتاب ( تاریخ اہل حدیث ) حصہ سوم پریہ عنوان قائم کیا ہے

ہندوستان میں علم و عمل بالحدیث

اور اس کے تحت یہ نام ذکر کیئے ہیں

1 = شیخ رضی الدین لاھوری

2 = علامہ مُتقی جونبوری

3 = علامہ طاہر گجراتی

4 = شیخ عبدالحق محدث دھلوی

5 = شیخ احمد سرہھندی

6 = شیخ نورالدین

7 = سید مبارک بلگرامی

8 = شیخ نورالدین احمد آبادی

9 = میر عبدالجلیل بلگرامی

10 = حاجی محمد افضل سیالکو ٹی

11 = شیخ مرزا مظہر جان جاناں

12 = شیخ الشاھ ولی اللھ

13 = شیخ الشاہ عبدالعزیز

14 = شیخ الشاہ رفیع الدین

15 = شیخ الشاہ عبدالقادر

16 = شیخ الشاہ اسماعیل الشھید

17 = شیخ الشاہ محمد اسحق

( رحمھم اللہ تعالى اجمعین )

( ص 387 تا 424 ، ملخصا )

( ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء )

الحمدللہ یہ سب کے سب حضرات حنفی المسلک تھے جن کی بدولت بقول مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ھندوستان میں حدیث کا علم اور عمل پھیلا اور انھی حضرات محدثین کی اتباع سے لوگوں نے حدیث وسنت کا علم حاصل کیا ،

ان میں سے ہر عالم کے حنفی ہونے کا ثبوت پوری ذریت دیوبند پر تا قیامت قرض ہے۔ ان علماء کے حنفی ہونے کا دعوی دیوبندیوں نے کیا ہے ظاہر ہے ثبوت بھی انہیں ہی پیش کرنا پڑے گا کیونکہ ثبوت مدعی کے ذمہ ہوتا ہے۔

جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا کہ یہ لوگ عوام کے سامنے تو رات دن یہ راگ الاپتے رہتے ہیں کہ مقلد مشرک و جاہل ہوتا ہے لیکن حقیقت میں قیامت تک اس اصول و موقف کو اپنا نہیں سکتے کیونکہ دنیا میں کوئ ایسی حدیث کی سند ان کو نہیں مل سکتی جس میں سب کےسب ان کی طرح غیر مقلد ہوں ، بلکہ تمام اسناد اصحاب صحاح ستہ وغیرہم ائمہ تک مقلدین علماء کے واسطہ سے پہنچتی ہیں ، اور بقول ان کے مقلد مشرک و جاہل ہوتا ہے تو حدیث جو ہمارا دین ہے ، یہ لوگ مشرک و جاہل لوگوں کے واسطوں سے لیتے ہیں ، ( معاذاللہ )

ایک اور سفید جھوٹ، اس دعوے کا ثبوت بھی پوری ذریت دیوبند پر تا قیامت قرض ہے کہ تمام اسناد اصحاب صحاح ستہ وغیرہم ائمہ تک مقلدین علماء کے واسطہ سے پہنچتی ہیں۔

اللہ تعالی ان کو صحیح سمجھ دے ۔ اللہ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ اور فہم دے آمین۔

٭٭٭

ماخذ:

http://www.urdumajlis.net/index.php?threads/%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE۔%D8%A7%DB%81%D9%84۔%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB۔%D8%A7%D9%88%D8%B1۔%D9%81%D8%B1%D9%82%DB%81۔%D8%AF%DB%8C%D9%88%D8%A8%D9%86%D8%AF۔%DA%A9%DB%8C۔%D9%85%D8%BA%D8%A7%D9%84%D8%B7%DB%81۔%D8%A7%D9%86%DA%AF%DB%8C%D8%B2%DB%8C%D9%88%DA%BA۔%DA%A9%D8%A7۔%D8%B1%D8%AF.13009/

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید