FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

ایک خطرناک کام

               شیخ ابو عبد المحسن

 

        ہرمسلمان (مرد و عورت)جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان و یقین رکھتاہواس کے لئے مناسب ہے کہ ہر اس چیز سے اپنی زبان کی حفاظت کرے جو موجبِ غضبِ الہی ہو۔کوئی ٹھوس ثبوت اور بغیر کسی سبب کے کسی مسلمان کو کافر کہنے اور دین اسلام سے اُسے نکالنے سے مکمل طور پر احتیاط برتے ،کیونکہ بغیر علم و بصیرت کے کسی کو کافر کہ دینا وہ خطرناک امر ہے جو خون خرابہ اور تفرقہ بازی کا سبب بنتا ہے ۔

                     لہذا جس کے پاس علم و معرفت اور بصیرت و دانائی نہ ہو اس کے لئے جائز نہیں  ہے کہ اس مسئلہ کو چھیڑے  ، کفر کا حکم اُسی بات  پر لگے گاجسے اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلمنے اسلام کے منافی امور میں سے کسی امر کے مرتکب کو کافر قرار دیا ہو اور جن اُمور پر علماء کا اتفاق ہو ۔

                  پھر یہیں سے ایک مسلمان پر ضروری ہے کہ اس بارے میں کلام کرنے سے پہلے علم سیکھے اور بغیر علم و معرفت کے اس بارے میں کوئی بات نہ کرے ورنہ کسی مسلمان کو کافر کہنے کی وجہ وہ خود ایسے  سے دو بڑے جرم کا مرتکب ہو گا کہ  ان میں کا  ہر ایک دوسرے سے زیادہ خطرناک ہے ،اور وہ یہ ہیں:

               1۔بغیر علم کے اللہ پر بہتان باندھنا

                     اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: )وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّہ کذِباً ) (الأنعام21)

       (اس سے زیادہ بے انصاف کون ہو گا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بہتان باندھے )

                  نیز ارشاد ہے : (قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّی الْفَوَاحِشَ مَا ظَہرَ مِنْہا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَالْبَغْی بِغَیرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِکواْ بِاللّہ مَا لَمْ ینَزِّلْ بِہ سُلْطَاناً وَأَن تَقُولُواْ عَلَى اللّہ مَا لاَ تَعْلَمُونَ ) (الأعراف33)

          (آپ فرمائیے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو اعلانیہ ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اور ہر گناہ کی بات کو اور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو اوراس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کو کہ تم لوگ اللہ کے ذمے ایسی بات لگا دو جس کو تم نہیں جانتے )

                      اس آیت میں اللہ پر بغیر علم کے کوئی بات کہنے کو اللہ نے شرک سے زیادہ خطرناک بتایا ہے اسی لئے اس کا ذکر شرک کے بعد ہوا ہے ۔

                       ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: (وَلاَ تَقْفُ مَا لَیسَ لَک بِہ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کلُّ أُولـئِک کانَ عَنْہ مَسْؤُولاً )(الإسراء36)

               (جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہواس کے پیچھے مت پڑ،کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے )

                      پس ضروری ہے کہ انسان کچھ بولنے سے پہلے اسے سیکھے ،کیونکہ  قول و عمل کا مرتبہ علم کے بعد ہے ۔

                     ارشاد الہی ہے : (فَاعْلَمْ أَنَّہ لَا إِلَہ إِلَّا اللَّہ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِک وَلِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ) (محمد19)

            (پس (اے نبی!)آپ جان لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مومن مَردوں اور مومن عورتوں کے حق میں بھی)

                   لہذا جس قول کی بنیاد علم پر نہ ہو خصوصاً دین اور عقیدہ کے معاملہ میں تو وہ باطل قول ہے اور اللہ پر کذب بیانی ہے ۔

               2- مسلمان پر ظلم

                    کسی مسلمان کو کافر اور اُسے دینِ اسلام سے خارج کہنا اُس مسلمان پر ظلم  ہے کیونکہ اس حکم کے بعد  اس پر کئی احکام مرتب ہوتے ہیں ،مثلاً:بیوی اس سے جُدا ہو جائے گی،  نہ اس کا کوئی وارث اور نہ وہ کسی کا وارث ہو گا،مرنے کے بعد غسل و  کفن،  نمازِ جنازہ ، و دعا کی جائے گی  اور نہ ہی اُسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفنایا جائے گا۔ پس جس نے اُسے بغیر حق کے کافر کہا تو اس پر مرتب ہونے والے مذکورہ امور کا وہ خود متحمل ہو گا۔

                   اسلئے ضروری ہے کہ انسان ان امور کو جانے جو مُوجبِ کفر و ارتداد ہو،بغیر علم کے بات کرے اور نہ اپنی رائے کے مخالف پر کُفر کا حکم لگائے ۔

                  پھر یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ  اس علم کا ماخذ کہاں ہے ؟ کیا یہ علم کتابوں کے  مطالعے ،اور شرعی نصوص کو حفظ  کرنے سے حاصل ہو گا؟ نہیں ،ایسا ہرگز نہیں ہے ،بلکہ پختہ اور گہرا علم رکھنے والے علماء ہی سے یہ حاصل ہوسکتاہے ۔کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ جو شخص  کتابوں کا مطالعہ کر لے اور نصوص کو یاد کر لے وہ عالم بھی بن جائے ،عالم تو وہی ہے جسے اللہ کے دین کی سمجھ بوجھ ہو ،اور یہ چیز اہلِ علم سے ایک طویل عرصہ تک  اخذ و تلقی کے بعد ہی حاصل ہو گی۔

                 تکفیر سے متعلق  یہ صورت حال  ان اولین  بدعتوں میں سے ہے جو خوارج کے ذریعہ  اسلام میں ظاہر ہوئی  ،یہ  پہلی صدی ہجری کے نصف اول کا زمانہ تھا۔ اس گمراہی میں جس چیز نے انہیں مبتلا کیا وہ اُن کا دین میں قلتِ فہم ،سنتِ رسول کی عدم معرفت ، اپنی عبادتوں پر اترانا ،اور ظاہری نصوص پر اڑے رہنا تھا ۔

                 عصرِ حاضر میں کسی بھی غلطی یا گناہ پر کُفر کا فتوی لگانا،کسی کو کافر کہ دینا (دین میں)غلو کا ایک مظہر ہے ۔یہ فتوے  کفر مسلمانوں کے جان و مال کی حلت کا سبب بنتا ہے ،حالانکہ  مسلمان اگرچہ کسی  بڑے گناہ کا ارتکاب کر رہا ہے لیکن وہ اپنے اسلام پر باقی ہے ، اس پر نہ تو کُفر کا فتوی لگے گا اور نہ ہی اُسے کافر قرار دیا  جائے گا  الا یہ کہ وہ کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کرے جس سے کفر لازم آتا ہے ، اس حال میں بھی اُس پر کفر کا فتوی اس وقت تک نہ لگے گا جب تک کہ اس کے سامنے اس کی وضاحت نہ کر دی جائے ، اور اس کے بعد بھی یہ حکم،  پختہ علم رکھنے والے اہلِ علم کے ذریعہ ہی ہو گا ،وہی لوگ اُس کے اوپر کفر و ردت کا حکم لگائیں گے ،ہر ایرے غیرے کو یہ اختیار نہ دیا جائے گا ۔

ôکسی کو کافر کہنے کی ممانعت:

                  اسلام نے  کسی مسلمان کو کافر کہنے سے سختی سے منع کیا ہے   اور اس سے مکمل طور پر بچنے کا حکم دیا ہے ۔چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :  ) وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ أَلْقَى إِلَیکمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِناً ) (النساء94)

        (اور جو تم سے سلام علیک کرے تم اُسے یہ نہ کہ دو کہ تو ایمان والا نہیں)

                    ایک مسلمان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ بصیرت، علم اور دور اندیشی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے ،اُسے یہ حکم نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں کیا پوشیدہ باتیں ہیں اس کا فیصلہ کرے ۔       دوستو!   آئیے چند دلائل اور اہلِ علم کے اقوال کی روشنی میں اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

                   حضرت عبد اللہ بن عُمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”إذا قال الرجل لأخیہ یا کافرفقد باء بہا أحدہما، فإن کان کما قال وإلارجعت إلیہ”(بخاری ومسلم)

                (جب کوئی شخص اپنے کسی بھائی کو  مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اے کافر!تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو گیا،اگر وہ ایسا ہی ہے جس کو اس نے کافر کہا ہے ورنہ پکارنے والے پر لوٹ آئے گا)

                   اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلمکو فرماتے ہوئے سنا:”من دعا رجلاً بالکفر أو قال عدو اللہ ولیس کذلک إلا حار علیہ”(بخاری ومسلم)

           (کہ جو شخص کسی کو کافر کہہ کر بلائے یا اسے اللہ کے دشمن کہہ کر مخاطب کرے پھر وہ (جس کو اس نام سے پکارا ہے )ایسا نہ ہو تو وہ  پکارنے والے پر پلٹ آئے گا)

                   ایک اور مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”إذا قال المسلم لأخیہ یا کافر فقد باء بہا أحدہما”(بخاری)

                  (جب کوئی مسلمان اپنے (مسلم)بھائی کو کافر کہے تو وہ کفر دونوں میں سے کسی پر ضرور پلٹے گا )

                  ایک دوسرے مقام پرحضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ثلاث من أصل الإیمان: الکف عمن قال لا إلہ إلا اللہ لانکفرہ بذنب ولا نخرجہ من الإسلام بعمل، والجہاد ماضٍ منذ بعثنی اللہ إلى أن یقاتل آخر أمتی الدجال ، لایبطلہ جور جائر ولاعدل عادل، والإیمان بالأقدار”

                           (ابوداؤد(2532)ترمذی(1978) حاکم نے صحیح قرار دیا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے )

              (کہ تین چیزیں ایمان کی بنیاد میں سے ہیں:(1)لا الہ الا اللہ کہنے والے سے ہاتھ روکنا،کسی گناہ کی وجہ سے نہ اُسے کافر کہنا اور نہ کسی عمل کی وجہ سے اُسے دائرہ اسلام سے خارج کرنا۔(2)میری بعثت سے لے کر جہاد اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ میری اُمت کا آخری (گروہ)دجال سے قتال نہ کرے ،نہ کسی ظالم کا  ظلم اُسے باطل ٹھہرا سکتاہے اور نہ کسی عادل کا عدل۔(3)اور تقدیر پر ایمان)

                  جیساکہ اپنی کتابوں میں ائمہ اسلام نے متنبہ کیا  ہے :

                   چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ – رحمہ اللہ – فرماتے ہیں کہ”کسی کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی مسلمان پر کفر کا فتوی لگائے اگرچہ وہ غلطی اور خطا کرے یہاں تک کہ اس پر حُجت قائم کر دی ،اور اس کو صحیح طریقہ بتا دیا جائے ، اور واضح رہے کہ جس کا مسلمان ہونا  یقینی طور پر ثابت ہو چکا ہے تو محض شک کی وجہ سے  اُس سے زائل نہ   ہو گا بلکہ حُجت قائم ہونے یا شُبہ کے ازالہ کے بعد ہی زائل ہو گا”(مجموع فتاوی 12/466)

                     حضرت امام احمد – رحمہ اللہ – علماء جہمیہ اور ان کے قاضیوں سے کہتے تھے :اگر تمھارا قول میں کہوں  تو میں کافر ہو جاؤں گا لیکن میں تمھیں کافر نہیں کہتا اسلئے کہ تم سب میرے نزدیک جاہل ہو۔

                  علامہ شوکانی – رحمہ اللہ – فرماتے ہیں:”جان لو کہ کسی مسلمان پر اس کے دین سے خارج ہونے کا حکم لگانا اور (یہ کہنا کہ )وہ کفر میں داخل ہو گیا،کسی ایسے مسلمان کے لئے جو اللہ اور یومِ آخرت پر یقین رکھتا ہو مناسب نہیں ہے کہ اُس (مسلمان)پر (اس طرح کا حکم لگانے کی )ہمت کرے الا یہ کہ اس کے پاس ایسی دلیل ہو جو سورج سے زیادہ واضح اور روشن ہو، اسلئے کہ صحابہ کی ایک جماعت سے مروی کئی صحیح حدیثوں سے یہ ثابت ہے کہ جس نے اپنے بھائیوں سے کہا اے کافر!تو وہ کفر ان میں سے کسی ایک پر ضرور لوٹے گا ۔ (بخاری)۔

                  اور بخاری ومسلم اور ان کے علاوہ  دوسری حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں  وارد ہے کہ جس نے کسی آدمی کو کافر کہ کر بلایا ، یا اللہ کا دشمن کہ کر پکارا  اور وہ ایسا نہ ہو تو وہ کفر پکارنے والے پر پلٹ آئے گا۔ اور ایک دوسرے لفظ میں ہے کہ ان میں سے ایک کافر ہو گیا ۔

                    تو یہ حدیثیں اور اس طرح کی دوسری حدیثوں میں اس بات پر سخت تنبیہ اور بڑی نصیحت ہے کہ کسی کو کافر کہنے میں جلد بازی سے کام لیا جائے …”(السیل الجرار:(4/578)

                 حضرت امام مالک – رحمہ اللہ – کہتے تھے :اگر ننانوے سبب سے کسی شخص کے کافر ہونے اور ایک وجہ سے مسلم ہونے کا احتمال ہو تو مسلم سے حُسنِ ظن کی بنا پر اُسے مسلم کہا جائے گا۔

                  جیسا کہ کتاب “صیانۃ الانسان عن وسوسۃ الشیخ دحلان “میں امام محمد بن عبد الوہاب   کا یہ صریح قول موجود ہے کہ  عبد القادر جیلانی اور سید بدوی کی قبروں کے پاس سجدہ کرنے والے کو اس وقت تک کافر نہیں کہیں گے یہاں تک کہ اس پر حُجت قائم ہو جائے ۔

                  مسئلہ تکفیر اور اس کی خطرناکی کے بارے میں چند احادیث اور علماء سلف اور اہلِ صلاح و تقویٰ اہلِ علم کے اقوال کے یہ چند نمونے ہیں۔برخلاف اس کے  جن کی زبان سے  بغیر علم  و برہان کے تحلیل و تحریم، تبدیع وتفسیق اور تکفیر کے فتوے ہم سنتے رہتے ہیں اور  خاص کر علماء و امراء اور حُکام کے بارے میں تکفیر کے فتوے تو بہت عام ہیں ۔

                تکفیرسے متعلق اہم ضابطے اور اُصول

            (1)       لفظ ایمان اور کفر ان شرعی الفاظ میں سے ہیں جن کا مفہوم  انسان اپنی عقل اور خواہش سے متعین نہیں کرسکتا  بلکہ اس کے لئے شرعی قیود کی پابندی اور غایت درجہ احتیاط ضروری ہے ۔چنانچہ کتاب وسنت میں جن لوگوں کے کفر وفسق پر واضح دلیل موجود ہے اُسے ہی کافر یا فاسق کہا جائے گا۔

(الرد علی البکری  لشیخ الاسلام ابن تیمیہ ص:258، ملاحظہ فرمائیے :براءۃ السنۃ جنیدی کی    ص: 39)

(2)        کفر و شرک اور ظلم میں سے ہر ایک کی دو قسم ہے :اکبر اور اصغر، یہ وہ  اہم قاعدہ ہے جو خوارج اور ان کے پیروکاروں  پر مخفی ہے ، البتہ  سلف صالحین کے نزدیک یہ واضح اور معروف رہا ہے ۔ چنانچہ حضرت امام بخاری –رحمہ اللہ – اپنی صحیح میں فرماتے ہیں :”باب کُفران العشیر وکفر دُونَ کفر”(باب خاوندوں کی ناشکری کے بیان میں اور ایک کفر کا – اپنے درجہ میں – دوسرے کفر سے کم ہونے کے بیان میں )

                  حافظ ابن حجر-  رحمہ اللہ– لکھتے  ہیں کہ قاضی ابو بکر ابن العربی اپنی شرح میں فرماتے ہیں :اس قول سے  مصنف یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جسطرح طاعات کو ایمان کہا جاتا  ہے اسی طرح معصیت کو کفر کا نام دیا جاتا ہے  ۔لیکن جس جگہ معصیت  پر کفر کا اطلاق ہو گا  وہاں کفر سے مُراد وہ کفر نہ ہو گا جو ملت سے نکال دینے والا ہے ۔[ الفتح : 1/83 ]

         [الابانۃ لابن بطۃ   2/723، ملاحظہ فرمائیے :براءۃ السنۃ  ص:4،فتح الباری:(1/83-87)،مدارج السالکین:(1/344)،اقتضاء الصراط المستقیم :(1/207)]۔

        (3)   کسی شخص معین کی تکفیر اوراس کے قتل کا جواز اس وقت تک موقوف رہے گا جب تک کہ اس کے سامنے ان دلائل نبویہ کی وضاحت نہ کر دی جائے جن کی مخالفت کفر تک پہونچا دیتی ہے ، اس لئے کہ  ہر جاہل کو کافر نہیں کہا جائے گا۔

(الرد علی البکری  لشیخ الاسلام ابن تیمیہ ص:258،ملاحظہ فرمائیے :مجموع الفتاوی:(3/229)۔

       (4)      کسی مسلمان پر کفر یا فسق کا حُکم لگانے سے قبل دو چیزوں پر غور کرنا ضروری ہے :

      (الف)      کتاب وسنت میں واضح  دلالت موجود ہو کہ یہ قول یا فعل مُوجب کفر یا فسق ہے ۔

       (ب)      اس عمل و قول  کے کہنے اور کرنے والے  شخص پر حکم لاگو بھی ہو  اس طرح کہ تکفیر اور تفسیق کے شروط اس کے حق میں پورے ہوتے ہوں اور اس میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ۔

               تکفیر (مُعین )کے شرائط

                    اہلِ سنت و جماعت اس وقت تک کسی مسلمان پر کفر یا ارتداد کا حکم نہیں لگاتے جب تک کہ  متفق علیہ اسلام کے  منافی امور جو علماء کے نزدیک معروف ہیں ان میں سے کسی امر کا مرتکب نہ ہو جائے ،نیز یہ بھی ضروری ہے کہ  جس پر ارتداد اور کفر کا حکم لگایا جا رہا ہے  ذیل میں آنے والے شرائط بھی پائے جائیں ۔

       (1)    وہ شخص  جاہل نہ ہو جس کی  وجہ سے وہ معذور سمجھا جائے ۔جیسے کوئی نیا مسلمان ہوا اور شرعی احکام کو ابھی تک نہ سیکھ سکا،یا ایسے ملک میں رہتا ہو جہاں اسلام کا بول بالا نہیں ہے اور  قرآن کی تعلیمات قابلِ فہم انداز میں اس تک نہ پہنچی ہوں، یا وہ جس عمل کفر کا ارتکاب کر رہا ہے  ایسا مخفی حکم ہو جو محتاجِ بیان ہو۔

   (2)         وہ مجبور نہ کیا گیا  ہو کہ اپنی مجبوری کی وجہ سے صرف چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ اسلئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (مَن کفَرَ بِاللّہ مِن بَعْدِ إیمَانِہ إِلاَّ مَنْ أُکرِہ وَقَلْبُہ مُطْمَئِنٌّ بِالإِیمَانِ وَلَـکن مَّن شَرَحَ بِالْکفْرِ صَدْراً فَعَلَیہمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّہ وَلَہمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ ) (النحل106)

        (جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرے بجز اس کے جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو ، مگر جو لوگ کھُلے دل سے کفر کریں تو  ان پر اللہ کا غضب اور انہیں کے لئے بہت بڑا عذاب ہے )

        یہ    آیت اس امر پر دلیل ہے کہ جو شخص مجبوراً کلمہ ء کفر ادا کرے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو اور اس کا مقصد صرف چھٹکارا حاصل کرنا ہو تو وہ کافر نہ ہو گا۔

 (3)          وہ ایسی تاویل کرنے والا نہ ہو جسے وہ صحیح سمجھ رہا ہے ۔ ایسی صورت میں ضروری ہے کہ اس کی اس غلطی کو واضح کیا جائے ۔

  (4)         جہالت کی وجہ سے کسی ایسے شخص کی تقلید کرنے والا نہ ہو جسے وہ حق پر سمجھ رہا ہے یہاں تک کہ اس کی (جس کی تقلید کر رہا ہے )حقیقت کو واضح نہ کر دیا جائے ۔

 (5)         دین کا پختہ علم رکھنے والے ہی کسی کے مُرتد یا کافر ہونے کا حکم لگائیں گے جو ہر حکم کو اس کا صحیح مقام دیتے ہیں ، اس بارے میں کسی جاہل اور طالب علم کے حکم کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

                   خلاصۂ کلام یہ کہ صحیح اور واضح دلیل کے بغیر کسی مسلمان کو خارج از اسلام قرار دینا ایک خطرناک امر ہے ، جیسا کہ پچھلے صفحات میں دلائل کے ذریعہ اس کی خطرناکی واضح ہو چکی ہے ۔ (الغلو مظاہرہ ـ أسبابہ ـ علاجہ)

               تکفیر مُطلق

                 قارئین کرام!مذکورہ باتیں کسی شخص مُعین کو کافر قرار دینے  سے تعلق رکھتی ہیں،البتہ  جہاں تک تکفیر مُطلق کا تعلق ہے تو جو شخص اعمالِ کفریہ میں سے کسی عمل کا مُرتکب ہو گا اُسے مُطلقاً (اس کا نام لئے اور متعین کئے بغیر)کافر کہا جائے گا ۔

            مثلاً:یوں کہا جائے گا کہ  جس نے اس طرح کا اعتقاد رکھا وہ کافر ہے ،جوان امور میں جو اللہ کے ساتھ خاص ہیں  یہ کام کرے وہ کافر ہے ،جو غیر اللہ سے فریاد کرے وہ کافر ہے ۔

                     اس لئے کہ  جو شخص بھی  اعمالِ کفر کا مُرتکب ہو گا اس کے کافر ہونے پر کتاب وسنت اور سلف صالحین کے اقوال میں دلیل موجود ہے ۔

چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (إِنَّ الَّذِینَ یکفُرُونَ بِاللّہ وَرُسُلِہ وَیرِیدُونَ أَن یفَرِّقُواْ بَینَ اللّہ وَرُسُلِہ وَیقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَکفُرُ بِبَعْضٍ وَیرِیدُونَ أَن یتَّخِذُواْ بَینَ ذَلِک سَبِیلاً  أُوْلَـئِک ہمُ الْکافِرُونَ حَقّاً وَأَعْتَدْنَا لِلْکافِرِینَ عَذَاباً مُّہیناً ) (النساء150-151)

            ( جو لوگ اللہ کے ساتھ اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور جو لوگ کہتے ہیں کہ بعض نبیوں پر تو ہمارا ایمان ہے اور بعض پر نہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے اور اس کے بین بین کوئی راہ نکالیں ۔یقین مانو یہ سب لوگ اصلی کافر ہیں، اور کافروں کے لئے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے )۔

                  نیز ارشاد ہے : (وَمَن یدْعُ مَعَ اللَّہ إِلَہاً آخَرَ لَا بُرْہانَ لَہ بِہ فَإِنَّمَا حِسَابُہ عِندَ رَبِّہ إِنَّہ لَا یفْلِحُ الْکافِرُونَ( (المؤمنون117)

            (اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں ،پس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے بے شک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں) ۔

                    اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :”من مات یشرک باللہ شیئا دخل النار”(بخاری:1283،مسلم:92)

         (جو شخص اس حالت میں مر جائے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہو تو ہو جہنم میں جائے گا )

          نیز آپ کا ارشاد ہے :” العہد الذی بیننا وبینہم الصلاۃ فمن ترکہا فقد کفر”(احمد، ترمذی،ابن ماجہ ، بروایت یزید وغیرہم)

          ہمارے اور ان کے درمیان عہد نماز ہے ،جس نے نماز کو ترک کر دیا اس نے کفر کیا)۔

                       اسی طرح سلف صالحین بعض اہلِ بدعت کو ان کے کفریہ اعمال و اقوال کی وجہ سے (اس کا نام لئے بغیر)کافر کہتے تھے ۔مثلاً: قرآن اللہ کا کلام ہے جس نے اسے مخلوق کہا وہ کافر ہے اور جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے ۔اور جس نے تقدیر کا انکار کیا وہ کافر ہے ، اسی طرح جس نے صحابہ کرام کو گالی دی وہ کافر ہے گرچہ وہ روزہ رکھے ، نماز پڑھے ، اور مسلمان ہونے کا دعوی کرے ،اسی طرح جو حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے معبود ہونے کا اعتقاد رکھے ، یا یہ کہ (اصل) نبی وہی ہیں حضرت جبریل علیہ السلام سے تبلیغ رسالت میں غلطی ہوئی،تو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں بلکہ اس کے کافر ہونے میں جو توقف کرے وہ بھی کافر ہے ۔

                    اسی طرح جو یہ گمان کرے کہ نبی (کی وفات) کے بعد سوائے چند  کے سارے صحابہ مُرتد ہو گئے ،اور (نعوذ باللہ )عموماً صحابہ فاسق ہو گئے ،تو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں بلکہ اس طرح کے کفر میں جو شک کرے وہ یقینی طور سے کافر ہے ۔

               تکفیرِ مُطلق میں دو چیزوں کی رعایت

(1)            اس مسئلہ میں اس بات کی رعایت ضروری ہے کہ اس (تکفیر مطلق)سے تکفیر مُعین لازم نہیں آتا اسلئے کہ آدمی کبھی کفریہ کام کرتا ہے یا اس کی زبان سے کُفریہ کلمات نکل جاتے ہیں لیکن اس کی وجہ سے  وہ کافر نہیں ہوتا  یہاں تک کہ اس میں تکفیر کے شروط پائے جاتے ہوں اور  اس بارے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ۔

(2)            اس باب میں اس بات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ سلف سے بعض بدعتی فرقے کی جو تکفیر منقول ہے اس کا تعلق تکفیر مطلق سے ہے ، اس سے اس فرقے کے ہر شخص کی تکفیر لازم نہیں آتی ۔

                  جیسے سلف کا جہمیوں اور قدریوں کو کافر کہنا،تو اِن کو کافر کہنا اس بات کا متقاضی نہیں ہے کہ ہر جہمی اور ہر قدری کافر ہے ۔ان کے علاوہ  اور جن دوسرے فرقوں کو سلف نے کافر کہا ہے اس سے ان کے اعیان کی تکفیر لازم نہیں آتی۔

(موقف اہل السنہ والجماعۃ من  اہل الاہواء والبدع:1/185-191)

                  میرے بھائیو!تکفیر مُعین کا معاملہ بڑا خطرناک ہے جیسا کہ آپ کو گزشتہ بیان سے اندازہ ہو گیا ہو گا  اسلئے اس معاملہ میں جلدی نہ کریں بلکہ اس مسئلہ میں پختہ علم رکھنے والے علماء کی طرف  رجوع کریں ۔بغیر علم کے کلام کر کے اپنی عاقبت خراب نہ کریں۔

                      اللہ ہمیں اور آپ کو سیدھی راہ  پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔(آمین)

(وما توفیقی إلا باللہ)

                     المراجع والمصادر

1ـ تکفیر المعین. للشیخ الإمام العلامۃ عبد اللہ بن عبد الرحمن أبا بابطین

2ـ الغلو مظاہرہ ـ أسبابہ ـ علاجہ.للشیخ محمد بن ناصر العرینی

3ـ موقف أہل السنۃ والجماعۃ من الأہواء والبدع.للدکتور إبراہیم بن عامر الرحیلی

٭٭٭

ماخذ:

http://www.islamidawah.com/play.php?catsmktba=663

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید