FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

اکبر حمیدی

 

’جدید ادب‘، جرمنی ( مدیر: حیدر قریشی ) اور ’عکاس‘ اسلام آباد (مدیر: ارشد خالد) کے مختلف شماروں سے ترتیب شدہ

 

                جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

کوائف اکبر حمیدی

 

                مرتب: محمد زبیر ٹیپو

 

۱۔اصلی نام         محمد اکبر

۲۔والد صاحب کا نام       چوہدری منظور احمد

۳۔آبائی مقام معہ سالِ پیدائش      فیروزوالہ ضلع گوجرانوالہ۔اپریل 1936ء

۴۔قبیلہ                                    جٹ زمیندار

۵۔تعلیم            ایم اے اردو، ایم اے پنجابی،فاضل اردو

۶۔شعبہ            درس و تدریس،ریٹائر صدر شعبہ اردو1996ء

۷۔قیامات         1979ءتک گوجرانوالہ میں ، 1980ءسے اسلام آباد

۸۔ایوارڈز         بیسٹ ٹیچر، آؤٹ سٹینڈنگ ٹیچر

 

۹۔الف ) ادبی ایوارڈ

پرائیڈ آف پرفارمنس کی دو مرتبہ پیش کش ہوئی مگر دونوں مرتبہ ایک خاص حیثیت میں ڈال کر پیش کش ہوئی اس لیے دونوں مرتبہ پیش کش کو مسترد کر دیا۔

ب)

بھارت سے ڈاکٹر کیول دھیر نے ساحر ایوارڈ کی پیش کش کی۔آپ موسم گرما کی شدت کے باعث نہ جا سکے ، معذرت کر لی۔

ج)

نارووال کی ایک تنظیم نے ان کی پنجابی کتاب “بّکی غزل پنجاب” پر ایوارڈ کی پیش کش کی مگر موسم بہت گرم تھا، معذرت کر لی۔

 

۱۰۔ادبی کام

شاعری۔انشائیہ۔خاکہ۔خودنوشت اور بچوں کے لیے کہانیاں لکھیں۔ سب کتابوں کی تعداد 25ہے۔

۱۱۔دو کتابیں “سنگت”اور “جدید اردو انشائیہ” مرتب کیں۔پہلی گوجرانوالہ سے شائع ہوئی دوسری اکادمی ادبیات پاکستان نے 1991ءمیں شائع کی۔

۱۲۔رفیق سندیلوی نے “اکبر حمیدی کا فن” کتاب مرتب کی جس میں مشاہیر کے ان کے لیے لکھے ہوئے تقریباً 40مضامین ہیں۔لکھنے والوں میں ڈاکٹر وزیر آغا، سیّد ضمیر جعفری، جوگندر پال، پروفیسر نظیر صدیقی، ڈاکٹر سیّد عبداللہ، شہزاد احمد ،منشا یاد، ڈاکٹر رشید امجد، ڈاکٹر نوازش علی، ڈاکٹر رؤف امیر، اسلم سراج الدین، محمود احمد قاضی، حیدر قریشی، ڈاکٹر توصیف تبسم اور بہت سے شامل ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

 

اکبر حمیدی کی کتب

 

شاعری

۱۔لہو کی آگ 1970ء

۲۔آشوبِ صدا 1977ء

۳۔تلوار اُس کے ہاتھ 1986

۴۔شہر بدر 1991ء

۵۔دشتِ بام و در 1996ء

۶۔ہر اِک طرف سے 2001ء

۷۔بّکی غزل پنجاب 1997ء

۸۔شورِ بادباں 2007ء

 

انشائیے

۹۔جزیرے کا سفر 1985ء

۱۰۔تتلی کے تعاقب میں 1990ء

۱۱۔جھاڑیاں اور جگنو 1998ء

۱۲۔پہاڑ مجھے بلاتا ہے 2003ء

۱۳۔اشتہاروں بھری دیواریں 2007ء

 

خاکے

۱۴۔قدِ آدم 1993ء

۱۵۔چھوٹی دنیا بڑے لوگ 1999ء

 

تنقید

۱۶۔مضامین غیب 1993ء

۱۷۔اس کتاب میں 1995ء

 

خودنوشت

۱۸۔جست بھر زندگی 1999ء

 

کالم

۱۹۔ریڈیو کالم 1987ء

 

بچوں کا ادب

 

۲۰۔عقلمند بچوں کی کہانیاں 1999ء(ایوارڈ یافتہNBF)

۲۱۔عمل سے زندگی بنتی ہے 2002ء

۲۲۔بہت شور سنتے تھے 2002ء (مطبوعہ یونیسکو)

۲۳۔ارسطو اور نوجوان سکندرِاعظم 2003ء

۲۴۔وطن دوستوں کی کہانیاں 2003ء

۲۵۔نئے خیالوں کی نئی کہانیاں 2003ء (ایوارڈ یافتہNBF)

 

متعلقات

 

اکبر حمیدی کا فن مرتب: رفیق سندیلوی

اکبر حمیدی کی کتب پر مشاہیر کے چالیس مضامین کا مجموعہ۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

اکبر حمیدی بعض مشاہیر کی نظر میں

 

’’وہ ایک ایسا فنکار ہے جس کو حال کا قانون قید او ر مستقبل کا مؤرخ بری کرتا ہے۔ ‘‘ سید ضمیر جعفری

 

شاعری میں بھی اُن(اکبر حمیدی) کی لگن قابلِ تعریف ہے۔ انہوں نے غزل میں سہل ممتنع کا انداز اختیار کر کے نہ صرف سادہ زبان کی بے پناہ قوت کا احساس دلایا ہے بلکہ سامنے کے معاملات اور سانحات کو اپنے لہو میں شامل کر کے درد مندی کی ایک رو کو بھی جنم دیا ہے جو قارئین نے بہت پسند کی ہے۔ اُن کی نظر عصر کی جملہ کروٹوں پر محیط ہے اور وہ ایک ایسے وژن کی نمود کے لیے سرگرم نظر آتے ہیں جو اعلیٰ شاعری کا امتیازی نشان ہے۔ وزیر آغا

 

’’اکبر حمیدی نے جو خاص کام کیا ہے، وہ روز مرہ کے بعض ایسے الفاظ جو جدید اردو غزل میں بالعموم استعمال نہیں کیے جاتے، اس نے بڑی مہارت سے برت کر غزل کی فضا کو بھی کسی حد تک تبدیل کرنے کی سعی کی ہے۔ یہ اجتہادی رویہ جدید غزل کا منفرد ذائقہ بھی متعین کرتا ہے۔ ‘‘ ظفر اقبال

 

دوسرے ہمعصر شعرا کی طرح اکبر حمیدی کے مسائل بھی موجود صورتِ حال سے متعلق ہیں۔ ترقی پسند اسے معاشی صورتِ حال کے حوالے سے بیان کرنا پسند کریں گے۔ حال ہی میں جو مدافعتی ادب کی لہر چلی ہے اس سے متعلق لوگ ممکن ہے اسے جبر کے خلاف مدافعت کہنا پسند کریں، مگر اس کہانی کا مرکزی کردار میرے خیال میں ایک ایسا بے گناہ شخص ہے جسے خواہ مخواہ معتوب کیا جا رہا ہے۔ اس بات سے ہمارا کوئی تعلق نہیں کہ اصل واقعہ کیا ہے۔ ادب کے طالب علم کی حیثیت سے ہم صرف اس رویے تک ہی محدود رہ سکتے ہیں جو شاعر نے شعر لکھتے وقت اختیار کیا ہے اور شاعری ویسے بھی حقیقت کے محض ظاہری رخ کا اظہار نہیں ہوتی۔ اسے کچھ نہ کچھ اپنے باطن میں بھی اترنا ہوتا ہے۔                      شہزاد احمد

 

اکبر حمیدی کی شعری دنیا ایک مکمل انسان کی دنیا ہے جس میں خارج اور باطن دونوں پہلو شامل ہیں اور احتجاج کے ساتھ ساتھ جذبوں کی کوملتا بھی موجود ہے جو اس کی فکر کو خارجی سطح سے بلند کر کے باطنی گہرائیوں میں لے جاتی ہے اور ایک نئی دنیا کے اسرار جاننے کی تمنا اسے نئے رنگوں سے آشنا کر دیتی ہے۔ یوں اس کے یہاں جدت اور ترقی کا ایک سنگم ہوتا ہے۔            ڈاکٹر رشید امجد

اکبر حمیدی نے جس گرفت کے ساتھ اپنے قارئین کو اپنے بزرگانِ خاندان کے ساتھ پڑھوا لیا ہے اس کمال کی جتنی داد دی جائے کم ہو گی۔ اس حصے کو انہوں نے اس قدر جاذب توجہ بنا دیا ہے کہ اب نہ صرف اکبر حمیدی پر خاکہ لکھنا آسان ہو گیا ہے بلکہ ان کے خاندان میں رشتے ناطے کی بات طے کرنی بھی سہل معلوم ہوتی ہے۔ تفنن برطرف کتاب کے اس حصے میں اکبر حمیدی نے پنجاب کے دیہات کی تمدنی اور معاشرتی زندگی کی جیتی جاگتی تصویر کشی کی ہے۔ میرے اہل وطن کی موجودہ نسل اس کو غور سے پڑھ لے کہ کچھ عرصہ بعد یہ زمین شاید اس زندگی سے محروم ہو جائے۔ ان خاکوں نے اس حقیقت کی صداقت کو بھی آشکارا کر دیا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور معمولی لوگ ہی دراصل غیر معمولی لوگ ہوتے ہیں۔ تحریر کی یہ طاقت اور تاثیر اس غیر معمولی تخلیقی صلاحیت کا ثمرہ ہے جس نے اس کی غزل کو ایک منفرد لہجہ اور ایک انوکھا پیرہن بخشا ہے۔ وہ شاعری جو چناروں کو چاندنی اور روز دیکھی چیزوں کو اجنبی پاتی ہے۔ سید ضمیر جعفری

 

اکبر حمیدی……، تخلیقی اور تجزیاتی ذہن اور رویے کے آدمی ہیں۔ دھیمے، ’’نکَھے اور تکھے‘‘ … … زندگی کے ان کے تجربات، خالصتاً ان کے ’’اپنے‘‘ ہیں۔ ان منفرد تجربوں کو نرم لفظی پیراہن عطا کرنے کا سلیقہ بھی ان کی متاع ہے۔ ان کی خیال افروز باتوں سے پڑھنے والوں کو روشنی ملتی ہے۔ ان کا انہماک اور اخلاص، ان کی خوش نفسی اور دردمندی ہمیں روکتی اور متوجہ کرتی ہے۔ خاکوں کا یہ مجموعہ، اردو خاکہ نگاری کے ارتقا اور تاریخ میں ایک منفرد اور ممتاز موڑ اور مقام کا حامل ہے جس سے خاکہ نگاری کا کوئی مبصّر یا مورّخ صرفِ نظر نہیں کر سکے گا۔                ڈاکٹر سید معین الرحمن

 

اکبر حمیدی نے اگرچہ اپنی خود نوشت کا نام ’’جست بھر زندگی‘‘ رکھا ہے، تاہم اِسے پورا کر کے میرے ذہن میں پہلا یہی خیال جاگزیں ہوا ہے کہ حمیدی پاؤں پاؤں چلنے والا آدمی ہے، اتنا محتاط، کہ آپ کو بھی کبھی جست بھرنے کی سوجھ جائے تو آپ کی خواہش کی بھنک پا کر وہ آپ کو تھام لے کہ کہیں آپ اپنی خواہش سے مغلوب ہو کر واقعی اَن دیکھے کود نہ پڑیں۔ اکبر حمیدی نے اپنی پوری زندگی سوچ سوچ کر بتائی ہے اور یہ لوگ کبھی وارفتہ ہونے میں بھی آئیں تو فوراً اپنے آپ کو روک کر ذرا سا سوچ لیتے ہیں کہ وارفتہ ہولیے اور بس۔ اپنی سوا تین سو صفحات کی روئداد سے دراصل جو اکبر حمیدی چپ چاپ آپ کے سامنے آ بیٹھتا ہے وہ اپنی عمر بھر کی تھکن کو بھول کر صرف اِس لیے آپ کے چہرے کے اتار چڑھاؤ پر ٹکٹکی باندھے ہوتا ہے کہ آپ کہیں اُس کے بارے میں کچھ الٹا سیدھا تو نہیں سوچ رہے ہیں، حالانکہ اتنا راست اور محتاط آدمی اپنا کوئی الٹا پوز بنانے کی بھی ٹھان لے تو الٹا پن ہی سیدھے پن کی پہچان قرار پائے۔ دفتر مارکیٹ کمیٹی گوجرانوالہ میں اپنے خلاف عدالتی کارروائی میں مثبت نتائج کی خاطر دفتر کے چپڑاسی سے منفی دوستی یا اسلام آباد کے اتھلے ڈسپیچ کلرک سے گاڑھا لین دین اُس کے یہاں بجا طور پر تقدیر کے گڑ بڑ جھالے کی بہ نسبت تدبیر کی عینی صحت پر دال ہے۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی اپنی زندگی کے ناقابلِ فراموش واقعات سے تعبیر کر کے مصنف دراصل اپنے قارئین کے روزمرہ کے تجربات میں بھی شامل ہو جاتا ہے اور یوں وہ گویا اپنے آپ کو بھی پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ جوگندر پال

 

اکبر حمیدی کی سوانح حیات میں اور بھی بہت سی خوبیاں ہیں۔ مثلاً انہوں نے عزیز و اقارب ہی کو نہیں اپنے ادبی دوستوں ‘ استادوں ‘ محبت کرنے والوں اور مہربانوں کی نیکیوں اور حسنِ سلوک کا کھل کر اعتراف کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اس طرح کتاب میں اور بہت سے لوگوں کے چھوٹے چھوٹے خاکے شامل ہو گئے ہیں جن سے ان کی شخصیت کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کتاب میں ایک اہم شاعر ایک بڑے انشائیہ نگار اور ادیب اور ایک سیلف میڈ انسان کی زندگی کا سفر اور کامیابی کے لئے جدوجہد کا احوال قارئین کو زندگی کے ایک بڑے تجربے سے آشنا کرتا ہے۔ ناول اور افسانہ بھی یہی فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ ہم ان کے ذریعے دوسروں کے تجربات اور مشاہدات میں شریک ہوتے ہیں اور کچھ دیر کے لئے ان کی زندگی جیتے ہیں۔ جس سے ہمارا ویژن وسیع ہوتا ہے۔ اکبر حمیدی کی یہ کتاب نیکی‘ خیر‘ شرافت اور محبتوں کے فروغ کا پیغام دیتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کا شمار اردو میں لکھی جانے والی چند بہترین ادبی سوانح عمریوں میں ہو گا۔ منشا یاد

 

اکبرحمیدی لفظ آشنا ہے اور خوبصورت تخلیقی جملہ لکھنے پر قادر۔ چنانچہ اس کی نثر زندہ رواں دواں اور تکلف و تصنع سے پاک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے انشائیے دل میں اترتے اور اس کے جملے قلب و نظر کو روشن کرتے چلے جاتے ہیں۔ کوئی سا بھی موضوع ہو اس کی نثر کہیں سپاٹ یا بے رنگ نہیں ہونے پاتی۔ اپنی ادبی اور تخلیقی شان برقرار رکھتی ہے۔ ضرورت اور موقع کے مطابق وہ بیانیہ، علامتی یا استعاراتی تمثیلی لہجہ اور اسلوب اختیار کر لیتے ہیں جیسے ’’نئی اور پرانی گاڑیاں ‘‘ میں وہ جسم کو گاڑی قرار دے کر زندگی اور اس کے پیچ در پیچ سارے سفر کی کوتا گاڑی ہی کے حوالے یا استعارے میں بیان کرتے چلے جاتے ہیں جس سے تحریر میں دلکشی اور دوہری معنویت پیدا ہو جاتی ہے۔             منشا یاد

 

دیکھا آپ نے یہ ہے اصل اکبر حمیدؔی۔ ۔ ۔ اپنی ہی فوک وزڈم کے ساتھ۔ ۔ ۔ خوداعتمادی کی دولت سے مالامال ایک شخص۔ ۔ جو اپنے الفاظ بھی برتتا ہے تو ایک سخی کی طرح ناں کہ ایک شُوم کی طرح۔ اُس کی انشائی نثر ایسی ہی خوبیوں، فکر انگیزیوں سے بھری پڑی ہے وہ ایک سچا اور کھرا فنکار ہے جو وقت کی سُولی پر چڑھتے ہوئے بھی مسکراتا ہے لیکن ظلم کے چانٹے کے سامنے کبھی بھی اپنا دوسرا گال پیش نہیں کرتا بلکہ مزاحمت کرتا ہے۔ اس کتاب میں ویسے تو سبھی انشائیے ہمیں کچھ نہ کچھ کہنے پر اکساتے ہیں۔ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں لیکن انشائیہ ’’اشتہاروں بھری دیواریں ‘‘اس ضمن میں اپنا فریضہ کچھ زیادہ ہی اثر انگیزی سے ادا کرتا نظر آتا ہے۔ محمود احمد قاضی

٭٭٭

 

 

 

 

 

اکبر حمیدی کا فن

 

                رفیق سندیلوی

 

اکبر حمیدی ایک ایسے تخلیق کار ہیں جنہوں نے صرف ایک ہی صنف ادب کو مُرشد نہیں مانا بلکہ متعدد اصناف سے رشتۂ ارادت باندھا ہے اور اہم بات یہ ہے کہ فیضان بھی حاصل کیا ہے ورنہ ادب کی مسلسل اور طویل حضوری بھی بہت سوں کے لیے آخری دم تک بے فیض ہی رہتی ہے۔ دیکھا جائے تو فن کی اپنی ابتلا اور اپنی آسودگی ہوتی ہے۔ لہٰذا آسودگی میں ابتلا اور ابتلا میں آسودگی کا بیک وقت نظارہ ہی شاید وہ فیضان عطا کر سکتا ہے جس کی تمنا ہر تخلیق کار کے دل میں ہوتی ہے۔ اکبر حمیدی کے فیضانِ نظر کی اول ترجمان تو ان کی غزل ہی ٹھہرتی ہے ، اس کے بعد ان کی دیگر پسندیدہ اصناف آتی ہیں یعنی انشائیہ خاکہ اور خود نوشت۔

گذشتہ دنوں ایک ادبی میز پر دو شاعروں کو، جن کی ذات میں نرگسیت کا اچھا خاصا مادہ پایا جاتا ہے ، اکبر حمیدی کا ایک شعر قرأت بلند سے مصرع بہ مصرع مکمل کرتے ہوئے سُنا گیا۔ وہ شعر یہ تھا جس پر اطراف میں بیٹھے ہوئے احباب بھی چونکے بغیر نہ رہ سکے :

کس آسمان سے گزرا ہے درد کا دریا

ستارے ٹوٹ کے آبِ رواں میں آنے لگے

پھر اکبر حمیدی کے یہ اشعار پڑھے گئے جو محولا بالا شعر کی طرح غزل کے رفیع و نادر اشعار کی فہرست میں ہمیشہ درج رہیں گے۔

تمہاری مانگ سے روشن ہوا ہے سب جنگل

تو راستہ بھی کہیں درمیاں سے نکلے گا

رات آئی ہے بچوں کو پڑھانے میں لگا ہوں

خود جو نہ بنا ان کو بنانے میں لگا ہوں

اس واقعے سے یہ احساس تو ہوتا ہے کہ اکبر حمیدی کے اشعار خوئے شعر خوانی یا بے دھیانی کے عالم میں لبوں پر مچل جانے کی باطنی انگیخت سے ضرور بہرہ ور ہیں مگر قصہ یہ ہے کہ اکبر حمیدی کو زبانی کلامی یا مجلسی سطح پر ہی داد نہیں ملی، ان پر متعدد ادبا نے قلم بھی اٹھایا ہے۔ غزل پر بھی اور ان کی اختیار کردہ دیگر اصناف پر بھی۔ ہر چند کہ زمانۂ قریب کی ہم عصری تحسین یا تنقیص میں بلند آہنگی کا پہلو لے آتی ہے مگر اہلِ نظر کو راکھ اور چنگاریوں کے تناسب کا اندازہ ہو ہی جاتا ہے۔ اکبر حمیدی کے فن پر جو تحریریں لکھی گئی ہیں انہیں تین زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک زمرہ تشریحی و توضیحی اور تعریفی مضامین کا ہے جو تعلق کی خوش کُن حدوں میں تفہیم کے تقاضے نبھاتا ہے۔ دوسرا زمرہ توازن کی طرف جاتے ہوئے ان مضامین کا ہے جو تبصراتی ہونے کے باوجود بعض حوالوں سے اپنے بین السطور میں تنقید کی چمک سے بھی بہرہ ور ہیں۔ البتہ تیسرا زمرہ ایسے مضامین اور تبصروں کا ہے جو نسبتاً سنبھلے ہوئے قلم کے ساتھ لکھے گئے ہیں اور تجزیے کی اُس راستی سے بھی عبارت ہیں جو زندگی اور فن سے بہرطور منسلک رہتی ہے۔ دراصل اسی زمرے کی تحریریں اپنے طریقۂ ادراک کے سبب زیادہ کارآمد ہیں مگر ان مضامین کی اس جہت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کم از کم یہ عصر کی گواہی کا ایک اعلامیہ تو بنتے ہی ہیں اور یہ کہ مطالعے کی مختلف منزلوں میں کسی نہ کسی رُخ سے معاون بھی ہو جاتے ہیں۔ میں یہاں مضامین کے زمروں کی فہرست اس لیے نہیں دے رہا کیونکہ قاری کو میرے وضع کردہ زمروں میں رد و بدل کے صوابدیدی اختیار سے منع نہیں کیا جا سکتا۔ پھر یہاں اصل مسئلہ تو اکبر حمیدی کے فن کی تفہیم کا ہے جو ناقدین و مبصرین کی جانب سے ہوئی اور جس میں شریک ہو کر مجھے ایک مجموعی تاثر تک پہنچنا ہے ، تو آئیے سب سے پہلے اکبر حمیدی کی غزل پر لکھے گئے مضامین سے رجوع کرتے ہیں۔

’’لہو کی آگ‘‘ کا پیش لفظ اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ اکبر حمیدی کی شاعری پر پہلی باضابطہ تحریر کا درجہ رکھتا ہے۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے جب یہ پیش لفظ لکھا تو مسودے میں انہیں کچھ ایسے ’اچھے خاصے ‘ اشعار بھی نظر آئے جنہیں اکبر حمیدی نے قلمزد کر دیا تھا۔ اس انتخابی رویے کو ذوق غزل کی تربیت یافتگی پر محمول کرتے ہوئے پیش لفظ کے آخر میں انہوں نے بڑے پتے کی بات کی ہے کہ ذوق غزل پر حاوی ہونے کے باعث اکبر حمیدی کے ہاں خاص کو بھی عام بنانے کا رجحان ملتا ہے۔ یہ عمومیت کا وہی رُجحان ہے جس کا دائرہ اکبر حمیدی کی نثرنگاری تک پھیلا ہوا ہے اور گذشتہ تین دہائیوں میں یہ رجحان توانائی کے ساتھ نشوونما پا کر بذات خود ایک خاص رجحان میں ڈھل گیا ہے۔ اکبر حمیدی کے دوسرے مجموعے ’’آشوب صدا‘‘ کا پیش لفظ وزیر آغا نے لکھا ہے۔ انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اکبر حمیدی کی درویشی و وسیع المشربی میں مزدور اور فوق البشر کا تنازعہ موجود نہیں ہے۔ اصلاً ان کا تصور انسان زندگی، مقدر اور موت کے رشتۂ باہم سے استوار ہوتا ہے جس میں انسان کی مجرد حیثیت بھی بحال رہتی ہے اور وہ کسی مخصوص صورت حال یا نظریے میں محدود ہونے کی بجائے پوری کائنات سے بھی منسلک رہتا ہے۔ شاعرانہ سطح پراس انسانی تصور پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے اکبر حمیدی کے ہاں صلح و آشتی اور عالمگیر محبت کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ وزیر آغا نے اکبر حمیدی کی غزل کے دعائیہ لہجے کو اسی مسلک کا پروردہ قرار دیا ہے جبکہ عارف عبد المتین نے اپنے مضمون میں نام لیے بغیر وزیر آغا کے تلاش کردہ تصورِ انسان کو نقاد کی اپنی آرزو مندانہ تعبیر سے موسوم کیا ہے اور اسے اکبر حمیدی کے فن کی معروضی صورت حال سے بے علاقہ گردانا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :

’’میں اکبر حمیدی کے ان ناقدین سے متفق نہیں ہوں جن کی تنقیدی تحریروں کے مطالعہ کے دوران اکبر حمیدی کے ہاں ابھرنے والے انسان کے خد و خال نام نہاد اور مبہم بلکہ منفعل قسم کی انسان دوستی کے دھندلکوں میں ڈوب جاتے ہیں کہ قارئین کے سامنے ایک ایسا بے شباہت سا ابنِ آدم طلوع ہوتا ہے جس کی کوئی مثبت اور فعال شخصیت جبر و اختیار کے حوالے سے ان کے ذہن میں مرتب نہیں ہوتی۔ ‘‘

بالکل ایسا ہی اعتراض اسلم سراج الدین نے بھی اپنے تبصرے میں وارد کیا ہے۔ وہ یہ کہ دیباچہ نگار نے مجرد کو غیر مجرد پر ترجیح دے کر انسان کو ایک ایسے ہیولے کی حیثیت دے دی ہے جو غاصب طبقوں کے Protagonists کے لیے بے حد کشش انگیز ہے۔ میرا خیال ہے کہ معترضین دیباچہ نگار کے حاصلات تجزیہ کے اندر انسان کی مجرد حیثیت یا انسان کی انسانی حیثیت کو اس لیے نہیں سمجھنا چاہتے کہ وہ انسان کے مادی تصور کے علاوہ ہر تصور کو مجہول خیال کرتے ہیں۔ اکبر حمیدی کی شاعری کا لہو اگر گرم ہے تو اس لیے نہیں کہ انہوں نے پرولتاری یا بورژوا شاعر کا پُر جوش کردار ادا کیا ہے بلکہ اس لیے کہ وہ انسانی زندگی کی وسیع تر ابتلا سے جُڑ کر وحدت انسانی کا پرچار کر رہے ہیں۔ ’’آشوبِ صدا‘‘ کے شہر کیecology حسی سطح ہی کی نہیں ، ذہنی سطح کی بھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عارف عبدالمتین کا مضمون وزیر آغا ہی کے خیالات کا تشریحی عکس ہے جس میں انہوں نے نظریے کی آمیزش کر کے اپنے تصور انسان کو تفوق دے دیا ہے اور پھر اسے اکبر حمیدی پر منطبق بھی کر دیا ہے۔ درست ہے کہ اکبر حمیدی کا انسان دفاعی آویزش یا مدافعت کا قائل ہے مگر وہ خود کو نظریاتی آویزش، طبقاتی جدال یا نیک و بد کی تقسیم میں نہیں جھونکتا بلکہ صلح جوئی کے ساتھ فعال رہ کر کاروبارِ حیات کی طرف راغب رہتا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ اکبر حمیدی کے اشعار پر بعض پہلوؤں سے ترقی پسندوں کے دو ٹوک انداز کا شائبہ بھی ہوتا ہے۔ پھر یہ کہ ان کے خواب بڑے واضح او ان کے اپنے وضع کردہ ہیں جن پر ترقی پسندوں کو اپنے خوابوں کا گمان بھی ہو سکتا ہے۔ وہ شاعری کو شعوری عمل کہہ کر یہ تاثر بھی دینا چاہتے ہیں کہ اگر ان پر کوئی لیبل لگتا ہے تو لگ جائے ، پھر وہ ہنگامی یا تاریخی نوع کے وقوعات پر شعر کہنے میں بھی عار نہیں جانتے۔ شاید وہ اپنے آپ کو بطور شاعر توسیع دینا چاہتے ہیں یوں کہ بیک وقت ترقی پسند بھی کہلائیں ، جدید بھی اور جدید تر بھی۔ ترقی پسندوں کی شاعری کے بعض واشگاف اور بعض تطہیر شدہ عناصر سے استفادہ کرنے کے باوجود ان کی شاعری فکری سطح پر ترقی پسندوں سے آگے کی شاعری محسوس ہوتی ہے تاہم ان کی والہانہ نظر اور وارفتہ مزاجی سماجیات کے اندر ہی گرداں رہتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ ترقی پسندوں کی طرح تہذیبِ ذات کے مادی اہتمام کا کوئی نقشہ مرتب کرتے ہیں نہ انسانی عظمت کے نقارچی بنتے ہیں۔ اُن کے ہاں عظیم انسان کی بجائے عام انسان کے نقوش ہی نمایاں رہتے ہیں ، وہ عام آدمی جو حالات کے محشر میں گھرے ہونے کی وجہ سے خیالات کے محشر میں بھی گھرا ہوتا ہے۔

’’تلوار اُس کے ہاتھ‘‘ اکبر حمیدی کا تیسرا شعری مجموعہ ہے مگر جو شعر اس کتاب کے سرنامے کا سبب بنا ہے ، وہ ان کے دوسرے مجموعۂ کلام کی ایک غیر مردف غزل کا شعر ہے :

دلچسپ ہے بہت مرا اُس کا مقابلہ

تلوار اُس کے ہاتھ مرے ہاتھ میں سپر

’’تلوار اُس کے ہاتھ‘‘ کے نام میں واقعی ایک انفرادیت ہے۔ آفتاب اقبال شمیم نے اس عنوان کو کتاب کے موضوع و جہت کو متعین و منعکس کرتا ہوا ایک بلیغ اشارے کے طور پر منتخب کردہ عنوان قرار دیا ہے۔ وزیر آغا نے بھی اس عنوان کی اشاراتی جہت کو سراہا ہے۔ منشا یاد نے اس نام کو شعر کی ڈالی سے ٹوٹا ہوا شگوفہ اور شاعر کے مجموعی رویہ و مزاج کا ترجمان کہا ہے۔ انہوں نے کتاب کا سرنامہ بننے والے شعر کی تعبیر تلازماتی سطحوں پر کی ہے اور یوں ایک کثیر المفہوم فضا پیدا کر کے اکبر حمیدی کے مزید کئی ایک اشعار کی تہوں میں سے وہ روابط تلاش کیے ہیں جو اس شعر کو ان کے ذہنی مآخذ کا درجہ دے دیتے ہیں۔ اس مآخذ میں معنی کے کم و بیش سات سروکار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس وزیر آغا نے یہ تمام سروکار گنوائے تو نہیں مگر عقب میں پھیلے ہوئے ان کے رشتوں کی ساخت کو نفسیاتی سطح پر نشان زد کر دیا ہے۔ اُن کے نزدیک تلوار کا اشارہ اُس شے کی طرف ہے جس کی تیز دھار کو شاعر نے یہ دیکھنے کے لیے مس کیا ہے کہ خود اُس کے ڈر کی نوعیت کیا ہے اور وہ اس کے آگے کس حد تک سپرانداز ہو سکتا ہے۔ چنانچہ جب شاعر ظالم سے نہ ڈرنے اور ہار نہ ماننے کے دلیرانہ اعلانات جاری کرتا ہے تو یہ اعلانات اس آدمی کے اعلانات محسوس ہوتے ہیں جو اندر سے تھر تھر کانپ رہا ہوتا ہے۔ وزیر آغا کے نزدیک اسی کپکپی اور لرزہ اندامی سے گزرنے کا تجربہ پنجہ آزمائی اور بے باکی کی فضا پیدا کر کے اکبر حمیدی کے کلام کو خستہ و لطیف بناتا ہے۔ حیدر قریشی نے بھی اپنے مضمون ’’اکبر حمیدی کی غزلیں ……ایک مطالعہ‘‘ میں ذرا سے مختلف انداز میں یہی بات کی ہے۔ میرے خیال میں چونکہ مدافعت بھی جنگ کی ایک حکمت عملی میں شامل ہے۔ اس لیے حیدر قریشی نے رزم کے معروف معنوں میں اکبر حمیدی کو رزمیہ شاعر نہیں کہا بلکہ اپنے انداز کا رزمیہ شاعر کہا ہے۔ مطلب یہ کہ وہ جنگ کے ایک رُخ یعنی جارحیت کی بجائے جنگ کے دوسرے رُخ یعنی مدافعت میں یقین رکھتا ہے جو کشمکش اکبر حمیدی کو مدافعانہ سطح سے متجاوز نہیں ہونے دیتی اس کی وجہ بقول حیدر قریشی یہ ہے :۔

’’اکبر حمیدی صرف خود کو دشمن سے بچانا چاہتا ہے۔ دشمن پر وار نہیں کرنا چاہتا۔ اس کا انداز نظر اس کے اندر کی انسانیت اور محبت کا غماز ہے۔ دراصل اکبر حمیدی سچ بھی بولنا چاہتا ہے اور دشمن کا دل بھی نہیں دُکھانا چاہتا۔ ‘‘

ظاہر ہے کہ اس رویّے پر عمل پیرا رہنا آسان نہیں۔ اس کے لیے ظرف کی وسعت اور برداشت کی قوت شرط ہے اور یہ آگہی بھی کہ دِیے کا اصل دشمن کون ہے ، اندھیرا یا ہَوا؟

’’شہر بدر‘‘ اکبر حمیدی کا چوتھا شعری مجموعہ ہے جو ’’تلوار اُس کے ہاتھ‘‘ کی طرح متعدد اہلِ نظر کی توجہ کا مرکز بنا۔ اس کا ابتدائیہ شہزاد احمد نے تحریر کیا ہے۔ اس سے قبل ’’تلوار اُس کے ہاتھ‘‘ پر ان کا ایک مختصر سا تاثر ’’دستاویز‘‘ راولپنڈی میں شائع ہوا۔ بعد ازاں ان دونوں تحریروں کو بغیر کسی حک و اضافہ کے مضمون کی شکل میں مربوط کر کے اوراق میں اکبر حمیدی کے مطالعۂ خصوصی میں شامل کیا گیا۔ چونکہ یہ مضمون دو مجموعوں کے تبصرے پر محیط ہو گیا ہے اس لیے اسے زمرۂ غزل کے آخری مضامین میں سرِفہرست رکھا گیا ہے۔ سو اس پر فی الوقت گفتگو مؤخر کر کے ترتیب میں موجود مضامین کی طرف چلتے ہیں۔ ’’شہر بدر‘‘ پر پہلا مضمون ڈاکٹر توصیف تبسم کا ہے جو گھر اور شہر کی قطبینیت میں اکبر حمیدی کی غزل کے فکری و جذباتی احوال سے باخبر کرتا ہے۔ دوسرا مضمون ڈاکٹر رشید امجد کا ہے۔ انہوں نے اکبر حمیدی کی شاعری کی احتجاجی لہروں اور جذبوں کی کوملتا کو موضوع بنایا ہے۔ ان کے نزدیک ایک لہر تحفظ و دفاع کا حق نہ ملنے سے جنم لیتی ہے ، دوسری لہر معاشرتی و طبقاتی جبر کے خلاف فکری احتجاج کی ہے جبکہ تیسری لہر سیاسی تشدد اور نو آبادیاتی نظام کی بد لحاظی کے رد عمل کی زائیدہ ہے گو کہ یہ لہریں خارجی عوامل کی پیدا کردہ ہیں مگر شاعر کی باطنی گہرائی نے شامل ہو کر اسے محض احتجاج کی سطح سے بلند کر دیا ہے۔ ڈاکٹر غلام حسین اظہر نے اکبر حمیدی کے ہاں شہر بدری کی حالت کو وجودی فلسفے کی مغائرت سے ملا کر دیکھا ہے۔ ناصر عباس نیّر کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ اکبر حمیدی کے خوابوں اور آدرشوں کا بنیادی سروکار سماجی اور انسانی زندگی کے رویّوں سے ہے۔ ان کی غزل کا سٹرکچر بھی وہی ہے جو سماجی انصاف اور انسان دوستی کی قدروں کا سٹرکچر ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ شاعر نے اس سٹرکچر کو خوف کی بجائے آگہی کی بنیاد پر اپنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محبت اور محبت کی محرومی کے اجتماعی اور انفرادی دونوں رنگ اس سٹرکچر میں سمائے ہوئے ہیں۔

’’دشتِ بام و در‘‘ اکبر حمیدی کا پانچواں شعری مجموعہ ہے جس پر ناقدین و مبصرین نے بہت کم دھیان دیا ہے جبکہ یہ مجموعہ اسلوب کے تشکیلی آغاز کی طرف کچھ اشارے مہیا کرتا ہے۔ یوں کہ شاعر زندگی کے دھڑکتے ہوئے آہنگ سے لفظیات کے حصول کا آرزومند نظر آتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس مجموعے کا متکلم سماجی انسان کے اجتماعی مسائل کو صورت دینے کا جذبہ بھی رکھتا ہے۔ اس مجموعے پر منشا یاد کا مضمون سادہ مگر کلیدی نوعیت کا ہے۔ ہرچند کہ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ شعری تخلیقات کو اپنے محدود علم و ذوق کی بنیاد پر پسند کرتے اور پرکھتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس مجموعے میں اکبر حمیدی کے کسی بنیادی استعارے کی تلاش مقصود تھی، سو ’دریا‘ کی صورت میں اس استعارے کی کُنجی ہاتھ آ گئی اور یوں تیس اشعار دریا اور اس کے متعلقات پر دستیاب ہو گئے۔ منشا یاد کی یہ تلاش واقعی سراہے جانے کے قابل ہے لیکن جدید غزل کے مروجہ استعارات و علامات میں سے اگر وہ کسی بھی استعارہ و علامت کو اکبر حمیدی کی غزل میں سے ڈھونڈنا چاہتے تو انہیں مایوسی نہ ہوتی۔ دریا کا حوالہ اکبر حمیدی کا اختصاصی حوالہ نہیں ہے۔ ان کے دیگر مجموعوں میں بھی دریا سے متعلقہ اشعار مل جائیں گے جیسا کہ خود منشا یاد نے دو شعر نقل کیے ہیں۔ دراصل اکبر حمیدی اسلوب سازی میں کسی ایک حوالے کو جہت دینے کے قائل نہیں ہیں۔ اُن کی نظر تمام حوالوں کی طرف رہتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا تازہ مجموعۂ کلام جس کا نام ہی ’’ہر اک طرف سے ‘‘ ہے ، تمام جہات سے کچھ نہ کچھ سمیٹنے کی آرزومندی میں رچا نظر آتا ہے اور اب باری ہے زمرۂ غزل کے آخری مضامین کی۔ شہزاد احمد نے اپنے مضمون میں فرد کو ایسا نقطہ قرار دیا ہے جس کا تعلق بیک وقت ظاہر و باطن کے ساتھ رہتا ہے۔ لہٰذا اُن کے نزدیک خارجیت و داخلیت کو ایک رومن دیوتا جینس سے بھی موسوم کیا جا سکتا ہے جس کے دو مُنہ ہیں ، ایک سے وہ باہر اور دوسرے سے اندر کی طرف دیکھتا ہے ، بالکل جیسے اکبر حمیدی نے ایک شعر میں جاگنے کی کیفیت کو اندر اور باہر کی دُنیا سے منسلک کر دیا ہے۔ لہٰذا شہزاد احمد کا خیال ہے کہ شاعری ظاہر و باطن، من و تُو یا دو دماغوں کی یکجائی یا امتزاج سے معرض وجود میں آتی ہے۔ امتزاجی تنقید یا تخلیقی عمل کا نظام بھی یہی ہے۔ درست ہے کہ اس امتزاج، اس تقلیب یا شہزاد احمد کے بقول اس لمحۂ گزراں کا حصول گاہے گاہے ہوتا ہے۔ یوں ہوتا ہے کہ آپ ابھی سشت بدلنے نہیں پاتے کہ منظر کا پرندہ شاخ بدل جاتا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ شاعری کو یکسر شعوری عمل گرداننے کے باوجود اکبر حمیدی تخلیقی معاملے میں کبھی تہی دست نہیں رہے۔ جو شاعری شعور کے زور پر ڈھالی جاتی ہے وہ تخلیق کی بلدار سطحوں یا ارتفاعی رنگوں سے محروم رہتی ہے یا بالفاظِ دیگر ایک ہموار رُخ ہی پر بہتی رہتی ہے۔ شاعری کی عزت میں اضافہ شاعری کو شاعری کی سطح پر پرکھنے ہی سے ہو سکتا ہے۔

شہزاد احمد نے اکبر حمیدی کی غزل پر زیادہ تر گفتگو فرد کی ذات یعنی ’’میں ‘‘ پر کی ہے اور فرائڈ کے حوالے سے بتایا ہے کہ انسان انا یا ایگو تین سفاک آقاؤں کے نرغے میں رہتی ہے۔ جبلی خواہشات، ضمیر اور بیرونی دُنیا۔ لہٰذا ان آقاؤں کی بے رحمانہ کشاکش انسان کو واہمہ خلق کرنے پر اُکساتی ہے۔ شاعری کے حوالے سے دیکھیں تو شاعر اپنے لیے یا اپنے اظہار کے لیے کسی کردار کا انتخاب کرتا ہے۔ یہی واہمہ اور یہی کردار شاعری کا رُخ متعین کرتا ہے۔ سو شہزاد احمد کو اکبر حمیدی کی شاعری میں جو دباؤ اور گھٹن کی فضا ایک تسلسل کے ساتھ نظر آتی ہے ، اس کی شاید ایک وجہ یہی ہے کہ ان کا مدافعانہ کردار، جو شہزاد احمد کے مطابق خواہ مخواہ معتوب کیے جانے والے ایک بے گناہ شخص کا کردار ہے ، صورتِ حال کو واہمے کی بجائے حقیقت کی سماجی سطح پر جھیلتا ہے ، مطلب یہ کہ اس فضا میں تغیر بھی آنا چاہیے ، کھڑکی کو کھُلنا بھی چاہیے۔ حقیقت کو واہمہ میں بدل کر ٹوٹنا بھی چاہیے۔ شہزاد احمد نے اکبر حمیدی کی شعری پہچان کے بارے میں یہ رائے دی ہے :۔

’’اُن کے ہاں ہر طرح کے مضامین نظر آتے ہیں اور غزل کے لیے ضروری بھی نہیں کہ ہر چیز کے بارے میں الگ انفرادی رویّہ رکھا جائے۔ آخر ہم ایک اجتماع کا حصہ بھی تو ہیں جس میں کبھی کبھی ہم اپنی پہچان کو خود ہی گم کر دینا چاہتے ہیں مثلاً قومی شاعری یا وطن کی شاعری میں یہ رویہ خاص طور پر اُبھر کے سامنے آ جاتا ہے۔ اکبر حمیدی نے تو ماں کے متعلق جو شعر کہے ہیں وہ بھی ذات کی نفی ہی کا اظہار ہیں۔ ‘‘

میرا خیال ہے کہ اکبر حمیدی کے ہاں ذات کی نفی کا عمل ہمہ وقت قائم نہیں رہتا۔ نفیِ ذات کے درجے میں اپنی ذات یا انا کا استرداد اور ذاتِ دگر یا تُو کا اثبات کیا جاتا ہے۔ اکبر حمیدی نے ذاتِ دگر یا تُو کا استرداد اس طرح نہیں کیا کہ ان کی شاعری خارجی موجودات سے غافل ہو جاتی اور تُو کا اثبات بھی اس طرح نہیں کیا کہ خارجی موجودات اُن پر غالب آ جاتے گو کہ اُن پر خارجی موجودات کا اثر قدرے زیادہ ہے۔ ڈاکٹر نوازش علی نے تو اس اثر کو صور ت حال کی عکاسی کے علاوہ ہمعصر شعرا سے اخذ و قبول تک پھیلا ہوا پایا ہے۔ انہوں نے اس رویّے کو ’’اثر پذیری کی وافر صلاحیت‘‘ کا نام دیا ہے۔ اگر بات ظفر اقبال کے حوالے سے کی جائے تو میں اسے ’’نگل جانے کی وافر صلاحیت‘‘ کہوں گا۔ بہرکیف ڈاکٹر نوازش علی نے اکبر حمیدی کی بہت جلد تاثر قبول کر لینے والی حسِ شاعرانہ پر احمد ندیم قاسمی کا غلبہ محسوس کیا ہے۔ ہرچند کہ بات استدلال و امثال کے ساتھ کی گئی ہے مگر خود ندیمؔ پر اقبالؔ اور پھر فیضؔ اور دیگر معاصرین کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ لہٰذا اگر بات ان مآخذات تک بھی پہنچتی جن سے ندیمؔ نے استفادہ کیا تو ڈاکٹر صاحب محسوس کرتے کہ غزل میں اثر پذیری کے مسئلے پر ایک مبسوط مقالہ تیار کیا جا سکتا ہے۔

زمرۂ غزل کا آخری مضمون رؤف امیر کا ہے جو اکبر حمیدی کے اندازِ بیان کے بارے میں ہے جس میں کچھ اشارے موضوع کی طرف بھی ہیں۔ یہ وہی اشارے ہیں جن پر دیگر ناقدین و مبصرین نے زیادہ بہتر اور مفصل انداز میں گفتگو کی ہے۔ اتنا بھی بہت ہے کہ یہ مضمون اکبر حمیدی کے سہل ممتنع انداز کی گرہوں کو کھولنے کے لیے ردیف، قافیہ، بحور، لفظ کے استعمال، مصرع سازی، پیکر تراشی اور رنگِ تغزل کی مبادیات میں اُترتا ہے۔ ہرچند کہ تنقید کا یہ رسمی و روایتی انداز ہے مگر یہ غزل اور غزل کے اشعار کے درجات کی ایک ایسی سطح وضع کرتا ہے جس کے بعد ہی تحلیل و تعبیر یا متن کی عمیق قرأت کا سلسلہ قائم ہو سکتا ہے۔ ذہین اور پختہ تر نقاد جو تخلیق کے عقب میں جانے کے رسیا ہوتے ہیں۔ تنقید کی ابتدائی منازل پر ہی پڑاؤ نہیں ڈالے رہتے۔ تاہم غزل کے معاملے میں بعض اوقات اس طرز کا مطالعہ یا پھر عروضی شعور بھی اہم کردار ادا کرتا ہے جیسا کہ ’’قوس در قوس ‘‘ نام کے ادبی کالم میں ایک جگہ ’’تلوار اُس کے ہاتھ‘‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ اکبر حمیدی عمر کی جس پختہ منزل پر ہیں ’’ان سے توقع کی جا سکتی ہے کہ اُن کے ہاں اوزان کی زیادہ غلطیاں نہیں ہوں گی اور وہ یہ توقع پوری بھی کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کے نئے مجموعے میں ایک مصرعہ بے وزن ہے ، ایک میں بحر بدل گئی ہے اور بس دو مصرعوں میں آدھا آدھا رکن زائد ہے۔ ‘‘ اس اطلاع سے یہ پتہ تو چلتا ہے کہ ’’تلوار اُس کے ہاتھ‘‘ اکبر حمیدی کی غزل کا وہ نقطۂ سفر ہے جہاں وہ وزن اور بحر کے معاملات پر قابو پا کر قادر الکلامی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس مجموعے کے مطالعہ سے مجھے تو یوں لگتا ہے ان کی توجہ موضوع پر نہ ٹوٹ کر بھی اپنی غزل میں موجود ضمنی اسالیب کو جوڑنے پر مرکوز ہونا چاہتی ہے۔ آفتاب اقبال شمیم نے اسی مجموعے کے حوالے سے جب یہ کہا تھا کہ اکبر حمیدی اُن شاعروں میں سے نہیں جنہیں صاحب طرز یا صاحب اسلوب کہا جائے تو میرا خیال ہے کہ اُن کی نظر اس اُسلوب ہی کی طرف نگراں تھی جو شاید کہیں گم تھا اور بے نشان ہونے کے سبب دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ دراصل بات یہ ہے کہ اکبر حمیدی جس عمرانی بہاؤ میں ہوتے ہیں ، اُس کے اندر وہ اسلوب کی تحدیدی قوتوں یا نشان دار سمتوں کے ساتھ نباہ نہیں کر پاتے۔ شاید یہ خیال اُن کے ذہن و دل پر طاری رہتا ہے کہ وہ ایک بھرپور آدمی کو شاعری میں خلق کر رہے ہیں لہٰذا وہ ہر قسم کے خیالات کو آنے دیتے ہیں مگر اس بھگدڑ کے ساتھ نہیں کہ وہ مضحک آدمی کا کردار ادا کرنے لگیں۔

اکبر حمیدی کی شاعری اور اس پر لکھے گئے مضامین کے مطالعہ سے یہ باور آتا ہے کہ وہ سماج کی تنقید پر تو انحصار کرتے ہیں اور اپنے عہد کے آشوب کا ادراک بھی رکھتے ہیں مگر ان کے ہاں آدرشی اور آدمی کُش رویّوں کے درمیان براہِ راست تصادم کا منظر ہویدا نہیں ہوتا۔ یہی بات اُن کی سماجی تنقید کو ناخوشگوار ہونے سے بچاتی ہے۔ اُن کی غزل گوئی میں سے جو گوارا آدمی برآمد ہوتا ہے ، یہی آدمی اُن کے انشائیوں میں بھی متحرک نظر آتا ہے مگر عجیب بات یہ ہے کہ گوارا آدمی کے جلوہ و عمل کا یہ نقطۂ اشتراک اُن کے انشائیے کو غزل کی معروضی و موضوعی فضا بلکہ تکنیک تک سے منسلک رکھتا ہے۔ حالانکہ اس میں یہ خطرہ مضمر ہے کہ اشیا، مظاہر اور کیفیات کو اجزا میں دیکھنے سے غزل کے اشعار کی طرح کہیں انشائیہ بھی چند اقتباسات کی شکل میں ریزہ خیالی کا تاثر نہ دینے لگے۔ غزل کی فضا تو ایسی ہے کہ اس کے ہر شعر میں ایک خاص وضع کی تکمیلیت کا تخیّل قائم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے جس طرح روزن یا درز میں سے منظر کا وسیع تر رقبہ جھلک اُٹھتا ہے لیکن انشائیے میں اشیا و تصورات کی تکمیلیت کو نثر کے ارفع تر اسلوب کے تسلسل میں بہ اندازِ دگر دریافت کیا جانا چاہیے۔ اکبر حمیدی یقیناً لائق داد ہیں کہ انہوں نے غزل کی تکنیک کو بروئے کار لا کر انشائیے میں ایک خاص طرح کی انفرادیت حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ سب سے زیادہ (اسٔی سے زیادہ) انشائیے لکھ کر انشائیہ تحریک کے فعال رُکن ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے بلکہ انشائیے کو چند لگے بندھے موضوعات کے محبوب چوکھٹے سے بھی باہر نکالا ہے۔ انہوں نے ہر طرح کا انشائیہ لکھا ہے۔ حتیٰ کہ ان کا ایک انشائیہ نیم سیاسی طرز کا بھی ہے جسے نذیر ناجی نے اپنے کالم میں جگہ دی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اکبر حمیدی اوّل دو مجموعوں کے بعد کے انشائیوں میں دیگر عقائد کے اندر حالاتِ حاضرہ کے ساتھ ’’لوزٹاکنگ‘‘ کے میلان کو نسبتاً زیادہ آمیخت کر رہے ہیں۔ بہرکیف معروف ہونے کے باوجود ان کے انشائیوں پر تنقید نگاروں نے خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔ صفحے ڈیڑھ صفحے پر مبنی تعارفی طرز کے تبصرے تو کیے گئے ہیں لیکن میرے مضمون کے علاوہ کوئی ایسا مضمون نہیں لکھا گیا جو ایک سے زیادہ کتابوں کے مطالعے پر محیط ہو۔ البتہ جمیل آذر کا تبصرہ مضمون ہی کی سطح کا ہے اور اس کی بنیاد اس نکتے پر رکھی گئی ہے کہ انشائیہ یعنی تخلیقی تجربے کے نامعلوم دیار میں شرکت کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ باقی مضامین ’’جزیرے کا سفر‘‘ اور ’’تتلی کے تعاقب میں ‘‘ کے پیش لفظ پر مبنی ہیں جس میں انشائیہ نگار کے زاویۂ نگاہ کی ادبیت اور رویّے کی آبیاری کو سراہا گیا ہے مثلاً وزیر آغا نے کہا ہے کہ اکبر حمیدی کے انشائیوں کے مطالعے سے وہی لطف ملتا ہے جو شعر و افسانہ یا ادب کے مطالعہ سے ملتا ہے۔ اسی طرح نظیر صدیقی نے کہا ہے کہ ان کے انشائیوں کو پڑھتے وقت خود زندگی بمع دُنیائے دنی قابلِ قبول معلوم ہوتی ہے۔ بہرکیف انشائیہ نگاری میں اکبر حمیدی کی قوت جویائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

میں نے دسمبر ۱۹۹۱ء کے ’’اوراق‘‘ میں اُن کے انشائیوں کے آغاز مطالعہ میں یہ لکھا تھا کہ انہوں نے شاعری کے ذریعے نئی نسل کو اچھے خوابوں کا تحفہ دیا ہے ، اُن کے انشائیے بھی شاعر مزاج گوارا آدمی کی خواہشوں ، تمناؤں اور خوابوں کا شگفتہ اظہار ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ غزل اور انشائیے میں ان کا تراشا ہوا گوارا آدمی ان کے خاکوں اور خود نوشت میں بھی ظہور پذیر رہتا ہے بلکہ اصناف کی تبدیلی کے باعث اپنے مماثلات کا ایک دلچسپ مطالعہ بھی فراہم کرتا ہے۔ اکبر حمیدی ایسے فنکار ہیں جنہوں نے اپنی شخصیت و سوانح میں دوسروں کی ذات کو اور دوسروں کی شخصیت و سوانح میں سے اپنی ذات کو کبھی منہا نہیں ہونے دیا بلکہ ایک ایسی محفل آباد کی ہے جس میں ہر تعلق بہ اعتبار تناسب جگہ پاتا اور ہم آہنگی کو وجود میں لاتا ہے تاہم جہاں تعلق کسی حاجت روائی یا رجل پسندی کی سطح پر آیا ہے یا جہاں ہم آہنگی نہیں ہوسکی، وہاں بھی ایک ایسی فضا نمودار ہوئی ہے جس میں گوارا آدمی کے ظاہر و باطن کی تفہیم مزید کا سامان پیدا ہو گیا ہے۔ یوں تو اکبر حمیدی کو ادیبوں کے خاکوں پر بھی داد دی گئی ہے ، یہاں تک کہ ان خاکوں کو آج کی ادبی صورت حال اور ادیبوں کے نقطہ ہائے نظر کی ایک مستند تاریخ تک کہہ دیا گیا ہے لیکن مجموعی لحاظ سے ان خاکوں کو نسبتہً زیادہ معیاری اور پرکشش مانا گیا ہے جو عزیز و اقارب پر لکھے گئے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ادیبوں میں سے بہت سوں کی شخصیت کو مزاج کی معروفیت کے سبب گوارا آدمی کے زُمرے میں تا دیر روک کے نہیں رکھا جا سکتا تھا جبکہ ان کے عزیز و اقارب سب کے سب مزاج کی غیر معروفیت کے باعث اس زمرے میں آتے ہیں۔ ضمیر جعفری نے اس زمرے کے خاکوں کو بغور پڑھنے کی جو تلقین موجودہ نسل کو کی ہے ، واقعی اپنے اندر ایک پہلوئے درد رکھتی ہے کیونکہ یہ سب آدمی دیہی تمدن کی اُس جیتی جاگتی زندگی سے جُڑے ہوئے ہیں جس کے آثار بھی شاید کچھ عرصہ بعد مفقود ہو جائیں گے۔ یقیناً اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب آدمی جب ایک جیسے ماحول کے پروردہ و پرداختہ ہیں تو کیا خاکہ نگار نے ان کے درمیان کوئی حد فاصل بھی قائم کی ہے یا یہ سارے خاکے ایک خاکے میں ضم ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر سلیم آغا قزلباش نے اس سلسلے میں بتایا ہے کہ یہ مشکل مرحلہ اکبر حمیدی اس لیے سر کر پائے ہیں کہ وہ انسانی نفسیات کے ایک زیرک نباض بھی ہیں۔ نظیر صدیقی کی یہ بات بھی وزن رکھتی ہے کہ اکبر حمیدی نے اپنے عزیز و اقارب کی سات قلمی تصویریں بنا کر ایک بڑے کام پر ہاتھ ڈالا ہے۔ یقیناً شخص کو شخصیت میں بدلنا یا عام آدمی کی قلمی تصویر بنانا اور پھر اسے زندۂ جاوید کر دینا کوئی آسان کام نہیں۔ بشری کمزوریوں کو تخلیقی انداز میں پیش کیے بغیر خاکے کا فن مکمل نہیں ہوتا۔ اگر کوئی اکبر حمیدی کے ان خاکوں کو سیرتوں کا نام دینا چاہے تو دے سکتا ہے مگر اس وقت اسے دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا جب وہ یہ دیکھے گا کہ ان خاکوں میں تو بشری کمزوریاں شخصی اوصاف کی تہوں میں سلی ہوئی ہیں اور یہ کہ ان کو اُدھیڑ کر الگ نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا یہ خاکے سیرتوں کی سطح حاصل کرنے کے باوجود خاکے ہی کہلائیں گے۔ ان کی زائد خوبی یہ ہے کہ خاکہ نگار کے سوانحی احوال سے جُڑ کر اُس کی خودنوشت کا پس منظر بھی بن جاتے ہیں جیسا کہ میاں جی، ماں جی، ابّا جی اور عظیم کے خاکے۔ ڈاکٹر رشید امجد نے ان خاکوں میں سے میاں جی کے خاکے کی حلیہ نگاری اور ابا جی کے خاکے کے استعاراتی انداز کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے مجموعی طور پر اکبر حمیدی کے خاکوں کو محبت کے سلسلے کہا ہے۔ اسی سلسلے کا ایک خاکہ ’’بڑمڈا‘‘ ہے جسے محمود احمد قاضی نے زندگی سے جُڑا ہوا ایک مضبوط کردار کہا ہے جس سے اکبر حمیدی نے دفاع و تصادم کے داؤ سیکھے اور خود اپنے کردار کو شناخت کیا۔

اکبر حمیدی نے اپنے عزیز و اقارب اور گاؤں کے لوگوں کے خاکوں کو کچھ نئے خاکوں کے اضافے کے ساتھ ’’چھوٹی دنیا بڑے لوگ‘‘ میں شامل کر دیا ہے۔ ’’قد آدم‘‘ کی اشاعت پر یہ بات محسوس کر لی گئی تھی کہ اس کے حصہ اوّل کے خاکے مختلف انداز کے ہیں لہٰذا ان کا الگ مجموعے میں یکجا ہونا ضروری بھی تھا۔ سو اب یہ مجموعہ ڈاکٹر سید معین الرحمن کے بقول اردو خاکہ نگاری کی پوری تاریخ میں اپنے مزاج کا پہلا اور منفرد مجموعہ بن گیا ہے۔ اکبر حمیدی کی خود نوشت کا فن اسی مجموعے سے ہم رشتہ ہے۔ ’’جست بھر زندگی‘‘ پر بہت عمدہ مضامین لکھے گئے ہیں جو نا صرف یہ کہ خود نوشت سوانح کی صنفی تفہیم میں ممد ثابت ہوتے ہیں بلکہ اس دور کی متعدد آپ بیتیوں کے بالواسطہ تذکرے سے ایسا تناظر بھی مہیا کرتے ہیں جس میں اکبر حمیدی کی خود نوشت کے قدری تعین و تقابل کا مسئلہ بھی آسان ہو جاتا ہے۔

ہمارے ہاں بیشتر آپ بیتیاں طرح طرح کے معاشقوں کا بیان اور خود ستائشی کا اظہار ہیں۔ چونکہ ان کا تحریری محرک تخلیقی کی بجائے نفسیاتی رہا ہے ، اس لیے یہ آپ بیتیاں امراض و عوارض کا دفتر بن گئی ہیں یا منفی و مُفسد علائق کا ایسا جنگل جس میں تخلیقی وجود کی تلاش ہی کار عبث ہے۔ خود نوشت سوانح بننے اور ٹوٹنے کے جس پیچیدہ عمدہ سے گزرتی ہے ، اس راہ میں در آنے والی بعض وارداتوں پر سوالیہ نشان بھی لگایا جا سکتا ہے مگر آخری تجزیے میں اسے غیر تہذیبی یا غیر تخلیقی بن کر نہیں اُبھرنا چاہیے۔ اکبر حمیدی یقیناً ایک تخلیقی وجود ہیں اور تہذیب کی پاسداری کا رنگ تو ان کے ہاں بہت حاوی ہے مگر انہیں اپنے تخلیقی وجود کا شاید اتنا گہرا احساس نہیں ہے جتنا کہ عام آدمی ہونے کا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا احساسِ تخلیقیت عقب کا وہ ساکن پردہ بنا رہا ہے جس کے سامنے عام آدمی نے اپنا کردار بخوبی نبھایا ہے۔ خود اکبر حمیدی کا قصد بھی شاید اس تمثیل میں یہی کردار ادا کرنے کا تھا۔ جو گندر پال رشید امجد اور جمیل یوسف کے مضامین میں اسی آدمی کو اپنے اپنے انداز میں تلاش کیا گیا ہے۔ مثلاً جوگندر پال نے اس آدمی کو ایسے عام آدمی کا نام دیا ہے جو وارفتگی کے عالم میں جست بھرنے کی بجائے پاؤں پاؤں چلنے کو ترجیح دیتا ہے۔ رشید امجد نے اس آدمی کو نچلے طبقے کا وہ شاعر مزاج شخص قرار دیا ہے جس کی تمام زندگی جدوجہد سے گزرتی ہے۔ جمیل یوسف نے اس آدمی کو معاشرے کا وہ سیدھا سادا فرد کہا ہے جس کی کہانی محیر العقول واقعوں ، عشق و عاشقی کی وارداتوں یا مذہبی و روحانی انکشافوں سے تہی دامن ہو کر بھی اپنا سحر طاری کر لیتی ہے۔ ڈاکٹر پرویز پروازی، ڈاکٹر اعجاز راہی، ڈاکٹر عطش درانی اور ناصر عباس نیّر کے مضامین اس عام آدمی کے ذہنی و نفسی محرکات کو زیر بحث لاتے ہیں۔ فن کار کی خود آگاہی آپ بیتی کا محرک و منبع ہوتی ہے مگر خود آگاہی منفی بھی ہو سکتی ہے اور غیر تخلیقی بھی۔ خود آگاہی کی فریب کارانہ صورتوں کا اظہار کئی ایک آپ بیتیوں میں ہوا ہے مگر ڈاکٹر پرویز پروازی کے نزدیک اس پس منظر میں اکبر حمیدی کی خود نوشت کا لکھا جانا اس لیے اہم بن جاتا ہے کہ اس میں مصنف کی خود آگاہی نے کوئی فریب کھایا ہے نہ اُس نے دوسروں کو فریب دینے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر اعجاز راہی نے اکبر حمیدی کو ان کی شخصیت و فن کی کُلیّت میں پہچاننے کے لیے ان زیریں لہروں کو گرفت میں لیا ہے جس سے تحریر کا ظاہری مواد پھیلاؤ حاصل کرتا ہے۔ اُن کا خیال ہے کہ اس سرگزشت میں اتنا مواد موجود ہے جس پر طویل بحث بھی ناکافی ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر عطش درانی نے جست بھر زندگی کو تحفظِ ذات کی داستان کہا ہے اور اس لیے کہا ہے کہ مصنف آپ بیتی کے پردے میں اس طرح عریاں نہیں نکلا جس طرح کہ قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا تھا۔ ناصر عباس نیّر نے تخلیقی عمل کے تنوع اور تجزیۂ نفس کے تسلسل کو آپ بیتی لکھنے کے استحقاقی اصولوں میں شمار کیا ہے۔ چونکہ اکبر حمیدی کی خود نوشت میں انسان کی ذہنی، جذباتی، معاشرتی، مجلسی اور تخلیقی زندگی کا دار و مدار تجزیۂ نفس پر رکھا گیا ہے۔ لہٰذا نیّر کے خیال میں وہ اپنی داستانِ حیات کو فنی فروگذاشتوں سے بچانے میں بڑی حد تک کامیاب رہے ہیں۔

اکبر حمیدی نے اپنی خود نوشت کو ادبی کتاب بنانے کی نیت سے لکھا ہے۔ لہٰذا ان کی داستانِ حیات سے ان کے اپنے تصور ادب کی خوشبو آتی ہے اور وہ ہے خیر و محبت کے رنگ میں رچی ہوئی خوشبو، آدمی ہونے کے احساس میں بسی ہوئی خوشبو۔ شاعری سے خود نوشت تک کے سفر میں اکبر حمیدی نے کبھی اس خوشبو کو خود سے الگ نہیں ہونے دیا۔ وہ ایسے فنکاروں میں سے ہیں جن کی تخلیقات میں اُتر کر ایک عہد کے ذائقے کو چکھا جا سکتا ہے۔

اکبر حمیدی نے ریڈیو کالم بھی لکھے ہیں ، پنجابی میں غزل بھی کہی ہے ، ہائیکو اور نظمیں بھی تخلیق کی ہیں ، انشائیہ پر ایک کتاب بھی مرتب کی ہے۔ دوست احباب کے فن کی تحسین کے لیے مضامین کی دو کتابیں بھی شائع کی ہیں۔ ایک کتاب وزیر آغا کے خطوط پر مبنی ہے جو اُن کے نام آئے۔ اس کو ایم اے کی سطح کے ایک مقالے میں موضوع بحث بھی بنایا گیا ہے۔ حال ہی میں نمل یونیورسٹی اسلام آباد نے بھی اس سطح کا ایک مقالہ ان کی انشائیہ نگاری پر لکھوایا ہے۔ زیرِ نظر کتاب کے مضامین اکبر حمیدی کے فن کی مرکزی جہتوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ مجھے اُمید ہے کہ یہ کتاب نہ صرف یہ کہ پسند کی جائے گی بلکہ ناقدین کو ان کے فن کے وسیع تر مطالعے اور تجزیے کی طرف بھی راغب کرے گی۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

اکبر حمیدی کا مجموعہ شہر بدر….ایک جائزہ

 

                ڈاکٹر رشید امجد

 

“تلوار اُس کے ہاتھ” اور “شہر بدر” کو اگر اکبر حمیدی کی شاعری کے دو بنیادی استعارے تصور کر لیا جائے تو احتجاج اور ردّ عمل سے شہر بدری تک کی کہانی مکمل ہو جاتی ہے۔ اکبر حمیدی کے ردّ عمل، احتجاج، بغاوت اور پھر شہر بدری کو کئی سطحوں پر دیکھا جا سکتا ہے کیونکہ اس کی شاعری پورے سیاسی، سماجی رویوں کے ساتھ اپنی پہچان کراتی ہے۔

ایک فرد اور ذات کے حوالے سے یہ بغاوت اور احتجاج دوسروں کی ذہنی بالادستی سے انکار ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اپنے طور پر جینے کا حق مانگنا اور اس حق کا تحفظ کرنا ہے۔ اکبر حمیدی کے یہاں فرد کی تکمیل اس کی ذات اور حقوق کے حوالے سے ہوتی ہے یعنی اس کا فرد اپنی ایک انا رکھتا ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ اس کا ایک نظریۂ حیات ہے جس کے ساتھ اس کی وابستگی خالصتاً جذباتی ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ کوئی دوسرا اسے اس سے دستبرداری پر مجبور کرے۔ ایسی صورت میں اس کے یہاں ایک شدید مخالفانہ ردّ عمل پیدا ہوتا ہے اور سمجھوتے یا مصلحت کی بجائے وہ مقابلے کی راہ اختیار کرتا ہے۔ یہ راہ اُس کے یہاں احتجاج کی لہر کو جنم دیتی ہے جو دفاعی بھی ہے اور اپنا تحفظ کرنے کا حق بھی۔ اس کے ساتھ ہی غلط کی نشاندہی اور اس پر وار کرنے کا رویہ بھی ہے جس کی وجہ سے اس کا ردّ عمل مثبت ہو جاتا ہے یعنی اس کی تلوار اور وار صرف شخصی دفاع یا تحفظ کے لیے مخصوص نہیں رہ جاتا بلکہ فرد سے آگے نکل کر اجتماع کے دفاع اور تحفظ کا ذمہ لے لیتا ہے۔ اس سے اس کے لہجہ میں ایک تیقن اور حق گوئی پیدا ہو جاتی ہے :۔

خامشی جرم ہے جب منہ میں زباں ہو اکبر

کچھ نہ کہنا بھی ہے ظالم کی حمایت کرنا

 

عجب سی صورتِ حالات میں ہوں

میں جیسے غیر کی بارات میں ہوں

 

راستہ مل جائے گا ہمت اگر کرتے رہیں

ٹھہر جانے سے تو بہتر ہے سفر کرتے رہیں

 

بہت مشکل ہے ان حالوں میں جینا

مگر میں زندگی پر تُل گیا ہوں

 

وفاداری بشرطِ استواری میرا مسلک ہے

ہدف ہوں بے وفائی کا وفا کے گیت گاتا ہوں

 

شبوں کے حبس میں خود سانس بھی لیتا ہوں مشکل سے

صبا بن کر دلوں کے آنگنوں میں مسکراتا ہوں

 

کافر ہوں تو کافر سا ہے کردار بھی میرا

مومن ہے تو مومن سا وہ کردار دکھائے

 

اور اس طرح کے دوسرے شعروں میں جدوجہد کے ساتھ زندگی کرنے کا رویہ صرف فرد کی حد تک نہیں بلکہ یہ جہاد مجموعی معاشرتی برائیوں کے خلاف ہے ، یوں اس کے یہاں احتجاج کی دوسری سطح سماجی ہو جاتی ہے۔ مجموعی معاشرتی صورتِ حال اور طبقاتی اونچ نیچ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بداعمالیوں کی نشاندہی اور برائیوں کے خلاف یہ آواز ایک قومی شعور کی علامت ہے۔ معاشرے کا عمومی زوال وہ پس منظر ہے جس سے اکبر حمیدی کا احتجاج پیدا ہوتا ہے۔ وہ معاشرتی تشدد اور طبقاتی جبر کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اور ایک مثالی معاشرے کا خواب بھی دیکھتا ہے۔ اپنے اس خواب کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتا ہے :۔

“جہاں انسان سچ بول سکے۔ امن سے زندگی بسر کر سکے ، اپنے نظریات کے ساتھ با عزت زندگی گزارنے کی آزادی ہو، جہاں اسے معاشرتی انصاف حاصل ہو۔ میرا خواب ظلم، نفرت اور ہر قسم کے استحصال سے پاک ایک ایسا ہی معاشرہ ہے (شہر بدر)

اس خواب کے حوالے سے وہ ایک کومٹڈ نظریاتی شاعر بنتا ہے لیکن اس نے سیاست کو براہِ راست اپنا موضوع نہیں بنایا اور نہ ہی نظریے کے نام پر وضاحتی یا پروپیگنڈہ شاعری کی ہے۔ اس کے سارے کلام میں واضح طور پر نچلے طبقوں سے ہمدردی کا جذبہ موجود ہے لیکن اُس نے اس جذبے کو ایک فکری احتجاج کی شکل میں پیش کیا ہے۔ اس احتجاج کی چند لہریں ملاحظہ کیجیے :۔

 

شہر اب صالحیں کی نذر ہوا

سب وطن دوست ہیں کٹہروں میں

اونچی آواز میں جو بولتا ہوں

زندگی کر رہا ہوں بہروں میں

 

وہ کیسا خواب دیکھا جا رہا تھا

یہ کیا تعبیر ہوتی جا رہی ہے

 

ہمالیہ پہ بھی گزریں تو ریزہ ریزہ ہو

وہ جبر و صبر کے عالم جو ہم پہ گزرے ہیں

 

بیٹھ رہنے سے کچھ نہیں ہو گا

ظلم سہنے سے کچھ نہیں ہو گا

 

خون بہنے سے کچھ بنے تو بنے

اشک بہنے سے کچھ نہیں ہو گا

 

ناچ اٹھو لہو پہن کر بھی

خاک پہنے سے کچھ نہیں ہو گا

 

ان اشعار میں جبر کے خلاف کچھ کر گزرنے کی جو خواہش ہے وہ اکبر حمیدی کی زندگی سے عملی وابستگی کا اظہار کرتی ہے کہ وہ صرف خواب دیکھنے والا شاعر نہیں بلکہ اس خواب کی تعبیر کے حصول کے لیے عمل کی دعوت بھی دیتا ہے۔ عمل کی یہ دعوت جس مجموعی معاشرتی زوال کے پس منظر میں ابھری ہے۔ اس کا پھیلاؤ صرف ایک معاشرے تک محدود نہیں بلکہ تیسری دنیا کے اکثر ممالک اسی سماجی معاشرتی بلکہ اقتصادی بدحالی کا شکار ہیں۔ اس حوالے سے اکبر حمیدی کا فکری دائرہ خاصا وسیع ہے۔

اکبر حمیدی کے احتجاج کی تیسری لہر سیاسی تشدد سے جنم لیتی ہے ، آج کے دَور میں کسی بھی سماجی زوال کو سیاست سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ایک بُرا سیاسی نظام اکثر معاشرتی خرابیوں کا سبب ہوتا ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے اپنی آزادی کے بعد جس زوال پذیر سیاسی نظام کی جکڑ میں آئے ہیں اُس نے اقتصادی بدحالی ہی کو جنم نہیں دیا بلکہ ایک فکری کم مائیگی کا احساس بھی پیدا کیا ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی تشدد نے ایک مجموعی بد لحاظی کو بھی جنم دیا ہے جس میں بالادست کی طرف سے کمزور کے حقوق غصب کرنے کے ساتھ ساتھ اُسے ایک ذہنی غلامی میں مقید کرنا ہے۔ گویا نو آبادی نظام نے آزادی کے بعد ایک نئی طرح کے نو آبادی نظام کو پیدا کیا ہے جس کا تشدد اور جبر پہلے سے بھی زیادہ ہے۔ فرق یہ ہے کہ پہلے یہ تشدد دکھائی دیتا تھا اب بظاہر آزادی ہے لیکن درونِ خانہ و ہی حیلے ہیں پرویزی۔ اکبر حمیدی نے بڑے واضح انداز میں اس جبر و تشدد کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور جا بجا اپنے ردّ عمل کا اظہار کیا ہے :۔

 

خامشی جرم ہے جب منہ میں زباں ہو اکبر

کچھ نہ کہنا بھی ہے ظالم کی حمایت کرنا

 

حالات کڑے ہیں تو اتارو لہو صدقہ

جینا ہے تو جاں نذر گزارو مِرے پیارو

 

باقی ہے ا بھی رات عدو گھات میں اکبر

جاگو مرے پیارو مرے پیارو مِرے پیارو

 

پکڑے گا نہیں کیا کوئی ظالم کی کلائی
دروازے سے کیا لونگ نہ لشکائے گا کوئی

 

کیا اب یہاں لوگوں کی زبانیں نہ کھلیں گی

الفاظ سے ہونٹوں کو نہ مہکائے گا کوئی

 

پہلے تو گلستاں کو ہی تقسیم کیا تھا

اب وہ گل و بلبل کو بھی تقسیم کریں گے

 

اکبر مجھے لگتا ہے کہ اس موسم گل میں

آئینِ گلستاں میں وہ ترمیم کریں گے

 

کیسے اُس شہر میں لوگوں کا بسیرا ہووے

اس تسلسل سے جہاں دیو کا پھیرا ہووے

 

مجھے لکھو وہاں کیا ہو رہا ہے

یہاں تو پھر تماشا ہو رہا ہے

 

وہ اپنے ہاتھ سیدھے کر رہے ہیں

ہمارا شہر الٹا ہو رہا ہے

 

وہ مہربان ہے گاؤں کے سادہ لوحوں پر

قلیل رزق میں عمریں طویل دیتا ہے

 

دلیل دینے سے مطلب، اپیل سے حاصل

یہاں تو فیصلے اس کا وکیل دیتا ہے

 

آخری دو شعروں میں جس خوبصورتی سے سیاسی فکر اور نظام عدل پر طنز کیا گیا ہے وہ اکبر حمیدی کے با شعور ہونے کی دلیل ہے۔ اسے اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ اس کے وطن عزیز میں لوٹ کھسوٹ کا ایک بازار گرم ہے اور ایک مخصوص طبقہ اس کی دھرتی کی رعنائیوں کو بے رونق کرنے پر تلا ہوا ہے۔ وہ اس طبقہ کو طنز کا نشانہ بھی بناتا ہے اور اس کی سرگرمیوں سے پردہ بھی اٹھاتا ہے لیکن تمام تر سماجی بے انصافیوں اور ظلم و ستم کی فضا کے باوجود اپنی زمین کے ساتھ اس کی محبت اور وفا دیدنی ہے :

 

میں شاعر ہوں وطن کا اور وطن کے گیت گاتا ہوں

وطن کے ذرے ذرے کو میں آنکھوں سے لگاتا ہوں

 

مقدس ہے مجھے ماں کی طرح یہ سر زمیں اکبر

سرِ مغرور اپنا اس کے قدموں میں جھکاتا ہوں

 

سرمئی مرگلہ ہے نظروں میں

میری نظروں میں کوہِ طور نہیں

 

وہ اعتماد جو اپنی زمیں سے پاتا ہوں

نہ کوہِ طور نہ دریائے نیل دیتا ہے

 

کعبۂ جاں ہے مجھے اکبر وطن

غیر کے محلوں سے اپنا گھر بھلا

 

وطن اس کے لیے ماں کا درجہ رکھتا ہے اور وطن کے دُکھ اور درد اس کے لیے ماں کے دکھ ہیں چنانچہ وطن سے اس کی وابستگی ایک سچے جذبے کی دین ہے :۔

 

شکایت اہل خانہ سے ہے ماں کو چھوڑ دوں کیسے

میں دروازے تلک جاتا ہوں جا کر لوٹ آتا ہوں

 

ایسے میں تجھے چھوڑ کے جاؤں گا نہیں ماں

جو گزرے گی جھیلوں گا مگر گھر میں رہوں گا

 

یہ دونوں شعر اس کی حب الوطنی ہی کی دلیل نہیں اس کے منشور کا اعلان بھی ہیں کہ اس کی جدوجہد وطن کے اندر ان عوامل کے خلاف ہے جنہوں نے اس لیلائے وطن کے چہرے کو داغدار بنا دیا ہے۔ یہ جذبہ اس کے اندر پیدا ہونے والی مایوسی کو بھی دور کرتا ہے اور اسے ایک حوصلہ بھی عطا کرتا ہے :۔

 

بہت مشکل ہے ان حالوں میں جینا

مگر میں زندگی پر تُل گیا ہوں

 

اور یہی حوصلہ ایک خوش آئند مستقبل کی نوید بھی ہے :۔

 

چمکیں گے مرے دیس پہ خوشیوں بھرے سورج

دھرتی کے لیے امن کی سوغات بھی ہو گی

 

جب شہر ہے تو شہر کا قانون بھی ہو گا

انساں ہیں تو پھر ان میں مساوات بھی ہو گی

 

موسم ہی نہیں بدلیں گے اس سال میں اکبر

تبدیل یہاں صورتِ حالات بھی ہو گی

 

اکبر حمیدی کی غزل کے یہ وہ رخ تھے جنہیں خارجی عوامل سے تعلق ہے اور اسی سے اس کے یہاں احتجاج کی ایک مؤثر آواز پیدا ہوئی ہے لیکن اس کی شعری کائنات صرف اسی رخ تک محدود نہیں۔ اس میں محبوب اور زلفِ محبوب کے قصے بھی ہیں اور دل گدازی کے سامان بھی۔ چند شعر دیکھیے :

 

میں پیار کی مالا تو پرو لایا ہوں اکبر

اُس بت کے ہیں معیار مگر اور طرح کے

 

یہ سوچ کر کبھی ترکِ وفا نہیں کرتا

کہ بے وفا کو بہت اعتبار ہے مجھ پر

 

کس سے ہم حالِ دل کہیں اکبر

اور ہی رنگ بزمِ یار کے ہیں

 

تجھے اے رونقِ محفل خبر کیا

رہا ہے کوئی تنہا اس برس بھی

 

تمہاری مانگ سے روشن ہوا ہے سب جنگل

تو راستہ بھی کہیں درمیاں سے نکلے گا

 

اُس گلبدن کو دیکھتے رہنے کا شوق ہے

جس نے مری نگاہ کو گل رنگ کر دیا

 

اکبر حمیدی کی شعری دنیا ایک مکمل انسان کی دنیا ہے جس میں خارج اور باطن دونوں پہلو شامل ہیں اور احتجاج کے ساتھ ساتھ جذبوں کی کوملتا بھی موجود ہے جو اس کی فکر کو خارجی سطح سے بلند کر کے باطنی گہرائیوں میں لے جاتی ہے اور ایک نئی دنیا کے اسرار جاننے کی تمنا اسے نئے رنگوں سے آشنا کر دیتی ہے۔ یوں اس کے یہاں جدت اور ترقی کا ایک سنگم ہوتا ہے۔ جمیل ملک نے درست کہا ہے کہ:۔

“اکبر حمیدی کی غزل ادب کی ترقی پسند اور جدید تحریکوں کے زیر اثر پروان چڑھتی ہے۔ شاعر نے ان دونوں تحریکوں کے بہترین عناصر کو سمیٹ کر اپنا غزلیہ پیکر تراشا ہے اور پھر اس میں اپنے مخصوص رنگ و آہنگ سے ایک پل بنا کر ان دونوں تحریکوں کے درمیانی فاصلوں کو کم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔”

یہ توازن اکبر حمیدی کی فنی گرفت کا غماز بھی ہے۔ اس کی غزل کے فنی پیکر میں سانس لیتے امیجز بھی ہیں اور خیال کی گہرائی بھی۔ اسے لفظوں کے دروبست کا سلیقہ ہے۔ “تلوار اُس کے ہاتھ” سے “شہر بدر”تک اس کا فنی اور فکری سفر نئی کروٹوں سے آشنا ہوا ہے اور شہرِ غزل میں اس نے اپنے نام کا اعتبار قائم رکھا ہے۔ وزیر آغا کے لفظوں میں :

“اکبر حمیدی نے مضامین کی ندرت اور اسلوب کی تازہ کاری سے غزل کی مسلسل آبیاری کی ہے۔”

یہ مسلسل سفر اور اس کی عطا اکبر حمیدی کی انفرادیت بھی ہے اور اس کی شاعرانہ عظمت بھی۔

٭٭٭

 

 

 

 

اکبر حمیدی اور جدید غزل

 

                شہزاد احمد

 

نئی غزل کی ابتدا تو پاکستان بننے کے چند برس بعد ہی ہو گئی تھی، مگر اس نئے رجحان کا مطالعہ کرنے کے لیے کوئی باقاعدہ تنقیدی روایت موجود نہیں تھی، نظم کی تنقید کی ابتدا حلقہ ارباب ذوق میں ہو چکی تھی، مگر غزل کے سلسلے میں تنقیدی معیارات وہی تھے جو کلاسیکل غزل کے حوالے سے مقرر کیے جا چکے تھے۔ ان میں البتہ داخلیت اور خارجیت کی اصطلاحوں کا اضافہ ہو گیا تھا۔ خارجیت کو اکثر اوقات معروضیت بھی کہا جاتا تھا اور کبھی کبھی خارجیت اور حقیقت پسندی کی اصطلاحات کو ایک دوسرے کی جگہ بھی استعمال کرنے سے دریغ نہیں کیا جاتا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ شاعر کا اپنی ذات کے بارے میں گفتگو کرنا اگر جرم نہیں ہے تو ایسا رویہ بھی نہیں ہے جس پر شاعر فخر کر سکے ، اس نئے رویے کے پیچھے ایک پوری تحریک کام کر رہی تھی۔ جو کرداریت کے مکتب فکر کی طرح باطن اور فرد دونوں کی نفی کرنے کے لیے پوری طرح تیار تھی۔ لہٰذا کہا گیا کہ جو لکھنے والے اس اصول سے متفق نہیں ہیں ان کی تحریروں کو تحریک کے رسالوں میں جگہ نہ دی جائے۔ بس وہ دن اور آج کا دن دریا نے الٹے رُخ بہنا شروع کر دیا اور پھر ایسی داخلیت کو شاعری کی بنیاد بنایا گیا جو کسی فلسفے یا ما بعد الطبیعیات کی پابند نہیں تھی۔ چنانچہ جدید غزل اپنے مزاج کے لحاظ سے ایک ایسا رویہ ہے جو فرد کی شکست و ریخت کو اہمیت دیتا ہے اور کسی قسم کے مربوط نظامِ فکر کی پابندی قبول نہیں کرتا۔ مگر جس طرح وجودی فلسفے کی بہت سی صورتیں ہیں۔ اسی طرح جدید غزل کو ہم کسی خاص انسانی تعصب تک محدود نہیں رکھ سکتے۔

دوسری اہم بات یہ بھی ہے کہ جس فرد کو موضوعِ گفتگو بنایا گیا ہے۔ وہ معاشرے کا فرد ہے اور ان کے دکھ سکھ کا تعلق بیرونی دنیا سے بہت گہرا ہے۔ لہٰذا ہم خارجیت یا حقیقت پسندی کو جدید غزل سے الگ نہیں کر سکتے۔ فرق صرف اس قدر ہے کہ جدید غزل نے خارجی حوالے کو محض دنیا نہیں سمجھا فرد کا ذاتی مسئلہ قرار دیا ہے۔ اب فرد محض باطن نہیں ہے بلکہ ایک ایسا مرکزی نقطہ ہے جس کا تعلق بیک وقت ظاہر اور باطن کے ساتھ ہے۔ اس رویے کو ہم جینس (Janns) کا نام بھی دے سکتے ہیں۔ جینس ایک رومن دیوتا ہے جس کے دو منہ ہیں ایک منہ سے وہ باہر کی طرف دیکھتا ہے اور دوسرے سے اندر کی طرف:

زندگی جاگ کے ہی سب نے گزاری اکبر

فرق یہ ہے کوئی اندر کوئی باہر جاگے

چنانچہ المیہ تو یہی ہے کہ زندگی کو عام طور محض ایک چہرے سے دیکھا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ محض آدھی سچائی ہے اور آدھی سچائی جھوٹ سے کہیں زیادہ خطرناک شے ہے۔اب تک میں نے جتنی بات کی ہے وہ مجموعی طور پر نئی غزل کے حوالے سے کی ہے۔ مگر اکبر حمیدی کے مجموعہ کلام “تلواراُس کے ہاتھ”کو پڑھتے ہوئے مجھے بار بار اس کا خیال آیا ہے۔ میں کوئی نقاد تو ہوں نہیں کہ مجھے گفتگو کا آغاز کرنے کے لیے کسی باقاعدہ thesis کی ضرورت ہو جس طرح ہم راہ چلتے کوئی نئی بات سوچ لیتے ہیں یا غزل کا کوئی شعر لکھ لیتے ہیں۔ اسی طرح شعر کی تنقید کو بھی خود پر وارد ہونے کا انتظار کیا جا سکتا ہے۔

داخلیت اور خارجیت کی جس بحث کا ذکر میں نے آغاز میں کیا تھا۔ اس کا ایک پرتو اکبر حمیدی کی شاعری میں موجود ہے ، اگرچہ وہ خارجیت کے بہت دلدادہ نظر آتے ہیں مگر باطن سے انکار کہیں نہیں کرتے بلکہ ان کی شاعری میں خارج کو بھی باطن کے حوالے سے دیکھنے کی کوشش بار بار نظر آتی ہے۔ یہ عرض کر دوں کہ جدید شاعری میں بھی بہت سے لوگ باطن کو خارج کے حوالے سے دیکھتے ہیں ان کے “مَیں ” کا بنیادی طور پر معاشرتی حوالہ ہے باطنی نہیں۔اکبر حمیدی کے ہاں جینس کے دونوں رویے موجود ہیں۔ خارج ان کے لیے بہت اہم سہی، آخر گھر، بیوی بچے نوکری اور دوستانے کس کو عزیز نہیں ہوتے۔ مگر یہ زندگی کا وہ رُخ ہے جو شاعری کا موضوع تو بنتا ہے شاعری کی بنیاد نہیں بنتا۔ بنیادی حقیقت تو شاید وہی باطن ہے جسے ہم “مَیں ” کا نام بھی نہیں دے سکتے۔ کیونکہ “میں ” دنیاوی تشخص ہی کا ایک reference ہے۔

دو دماغی نظریے کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ “میں ” بائیں دماغ کا حصہ ہے اور شاعری کی آماجگاہ داہنا دماغ ہے۔ یہ دو الگ الگ منطقے ہیں۔ مگر ان کو ایک اکائی میں پرونے ہی کا نام شاعری ہے۔ مگر اس لمحۂ گریزاں کا حصول کیا کیا ہوتا ہے۔ بقول اکبر حمیدی:

میں ہوں کہ ابھی شست بدلنے نہیں پاتا

اور شاخ بدل جاتا ہے منظر کا پرندہ

معاشرتی اور انفرادی، دونوں سطحوں پر انسان کے لیے ذات (Self) کا مسئلہ ہمیشہ اہم رہا ہے ، آخر یہ ’میں ‘ کون ہے جس کے حوالے سے ہر شخص گفتگو کرتا ہے۔ ہم اسے ’انا‘ یا ’انانیت‘ کے مسئلہ کا بھی نام دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کوئی شخص کئی برس کے بعد اپنے فلسفی دوست کو ملنے گیا، مگر فلسفی اسے پہچان نہ پایا۔ دوست نے کہا کہ میں وہی تمہارا پرانا دوست ہوں جو ایک زمانے میں دن رات تمہارے ساتھ رہا کرتا تھا۔ فلسفی بولا، “تم وہ شخص کیسے ہو سکتے ہو جبکہ سات برس کے دوران انسانی جسم کا ہر خلیہ تبدیل ہو جاتا ہے۔”

میں کہتا ہوں ، ’یہ میرا ہاتھ، میرے پاؤں ہیں ، میرا سر ہے ‘ لیکن اگر مرے جسم کے یہ حصے نہ ہوں تو میرا کوئی وجود نہیں ، یعنی وہ آواز باقی ہی نہیں رہتی جو اپنے آپ کو ’مَیں ‘ کہتی ہے۔ اس مسئلے کا کوئی ایک جواب تو ممکن نہیں مگر اتنا کہا جا سکتا ہے کہ نفسیات اس مقام سے آغاز کرتی ہے جہاں ’میں ‘ کو بطور حقیقت تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ یہ نفسیات کے دائرۂ کار ہی میں نہیں ہے کہ وہ ’میں ‘ کے بارے میں سوال اٹھائے ، اگر ایسا کوئی سوال اٹھایا جائے تو یہ ما بعد النفسیات یا ما بعد الطبیعات کے زمرے میں آتا ہے۔

فرائیڈ اور اس کے مکتب فکر نے اس ’مَیں ‘ کے لیے ایغو (Ego) کی اصطلاح کو استعمال کیا تھا، پھر اس اصطلاح کو استعمال کرنے کے بعد فرائیڈ نے کہا تھا کہ ایغو تین سفاک آقاؤں کے نرغے میں ہے ، ایک طرف تو اس کی جبلی خواہشات ہیں جو ہر قیمت پر اپنی تسکین چاہتی ہیں ، دوسری طرف اس کا سوپر ایغو یا ضمیر ہے ، جو انسان کے اندر معاشرے کی نمائندگی کرتا ہے اور ایغو کو بات بات پر لعن طعن کرتا رہتا ہے۔ تیسری سمت میں بیرونی دنیا ہے جو فرد کو اپنی مرضی پر چلانا چاہتی ہے ، لہٰذا بیچارہ ایغو ہر وقت ان تینوں آقاؤں کو خوش کرنے کی الجھن میں پڑا رہتا ہے۔ اس صورتِ حال کو بدل دینا تو اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا مگر وہ اس صورتِ حال سے نپٹنے کے لیے یا اپنے آپ کو مطمئن رکھنے کے لیے اپنے لیے کچھ واہمے (illusion) تشکیل دے لیتا ہے اور پھر کوشش کرتا ہے کہ وہ ان تینوں سے جان چھڑا کر اپنی بنائی ہوئی ’واہماتی‘ دنیا میں زندگی بسر کر سکے۔

یہ تینوں آقا اس قدر بے رحم ہیں کہ واہمہ بنائے بغیر گزارا ہی نہیں ہے۔ آپ سردیوں میں گرم کپڑے پہنتے ہیں تاکہ اس سردی کا احساس نہ ہو جو باہر موجود ہے۔ گرمیوں میں جب دھوپ بہت تیز ہو تو سیاہ عینک لگالی جاتی ہے تاکہ گرمی کی شدت کم محسوس ہو۔ واہمے بھی لباس اور عینک کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کے وجود سے بیرونی دنیا میں کوئی تبدیلی نہیں آتی مگر ان کو استعمال کرنے والا انسان خود کو محفوظ اور مطمئن محسوس کرتا ہے۔

اسی حوالے سے معاشرتی سطح پر دوسرا اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے لیے کس کردار کا انتخاب کرتا ہے ، ایک مکالمہ نویس کا فلم پروڈیوسر سے جھگڑا ہو گیا تو اس نے کہا “بادشاہ سے لے کر فقیر تک اور غنڈے سے لے کر شریف تک سب کے مکالمے لکھ سکتا ہوں مگر میں نے اپنے لیے شریف آدمی کے مکالموں کا انتخاب کیا ہے۔” شکسپیر نے بھی زندگی کو ایک سٹیج کہا تھا جس میں تمام انسان اپنے کردار ادا کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ شاعر بھی اپنے لیے کسی سماجی کردار کا انتخاب کرتا ہے اور اس کی ساری شاعری اس کے حوالے سے ہوتی ہے۔ مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس کردار کے اندر دو چیزیں ضرور موجود ہوتی ہیں۔ ایک تو اس مثالی شخصیت کا عکس جو شاعر کا مقصود ہوتی ہے اور دوسرے تینوں آقاؤں کے بارے میں بہت حد تک آرزو مندانہ (Wishful) رویہ۔

کہتے ہیں کہ حلقہ ارباب ذوق کے جلسوں میں میرا جی ہر نظم سننے کے بعد اس کے پس منظر میں چھپی ہوئی کہانی کو تلاش کیا کرتے تھے ، اگر یہ کہانی دریافت ہو جائے تو یہی نظم کی کلید ہے ، یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس کے بغیر نظم کو سمجھنا میرا جی کے نزدیک ممکن نہیں تھا۔ اب اگر اس حوالے سے اکبر حمیدی کی شاعری کو دیکھا جائے تو ایک دلچسپ صورتِ حال پیدا ہو جاتی ہے جس کردار کے حوالے سے شاعری کی گئی ہے وہ جیتے جاگتے اکبر حمیدی سے بالکل مختلف تو نہیں ہو سکتا مگر قدرے مختلف ضرور ہو سکتا ہے۔ دوسرے ہم عصر شعرا کی طرح اکبر حمیدی کے مسائل بھی موجود صورتِ حال سے متعلق ہیں۔ ترقی پسند اسے معاشی صورتِ حال کے حوالے سے بیان کرنا پسند کریں گے۔ حال ہی میں جو مدافعتی ادب کی لہر چلی ہے اس سے متعلق لوگ ممکن ہے اسے جبر کے خلاف مدافعت کہنا پسند کریں ، مگر اس کہانی کا مرکزی کردار میرے خیال میں ایک ایسا بے گناہ شخص ہے جسے خواہ مخواہ معتوب کیا جا رہا ہے۔ اس بات سے ہمارا کوئی تعلق نہیں کہ اصل واقعہ کیا ہے۔ ادب کے طالب علم کی حیثیت سے ہم صرف اس رویے تک ہی محدود رہ سکتے ہیں جو شاعر نے شعر لکھتے وقت اختیار کیا ہے اور شاعری ویسے بھی حقیقت کے محض ظاہری رخ کا اظہار نہیں ہوتی۔ اسے کچھ نہ کچھ اپنے باطن میں بھی اترنا ہوتا ہے۔

اکبر حمیدی نے جب مجھ سے ’شہر بدر‘ کا دیباچہ لکھنے کے لیے کہا تھا تو میں نے عرض کیا تھا کہ آپ جیسے خود شعوری کے حامل شاعر کو خود ہی لکھنا چاہیے۔ جب آدمی کے دونوں پاؤں سلامت ہوں تو اسے دوسرے کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر چلنے کی کیا ضرورت ہے لیکن شاید یہ بھی انسانی جبلت ہے کہ وہ محض اس لیے دوسرے کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر چلتا ہے کہ اسے اپنی تنہائی کا احساس نہ ہو۔ جب میں نے ان کی کتاب کا مطالعہ کیا تو مجھ پر کھلا کہ ان کے مجموعے میں کچھ باتیں ناگفتنی بھی ہیں ، وہ معاشرتی سطح پر ایک گھٹن اور دباؤ کا احساس رکھتے ہیں ، اور اس کو محض ایک واہمہ بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ واہمہ تو بار بار ٹوٹتا ہے مگر گھٹن کی یہ فضا ایک تسلسل کے ساتھ سارے مجموعے میں موجود ہے۔ اس کا حل کسی ایک فرد کے پاس نہیں ہے۔ ہم سب کو مل کر ہی معاشرے میں تازہ ہوا کے لیے کھڑکیوں کو کھولنا ہو گا، یاد رکھیے جب ہم دوسرے کے لیے کھڑکیاں بند کرتے ہیں تو خود ہمارے لیے بھی آکسیجن کم ہو جاتی ہے۔

اکبر حمیدی صاحب کا خیال ہے کہ ان کی حالیہ شاعری زیادہ وسعت کی حامل ہے۔ شاید اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ ان کے تخلیقی مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ شاعری کی سطح تک تو یہ اچھی بات ہی کہی جا سکتی ہے ، جیسے کوئی ندی زیادہ بڑی ندی کی صورت اختیار کر لے۔ مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ اس ندی کی روانی میں کچھ شدت بھی آ گئی ہے مگر میری یہ بھی خواہش ہے کہ یہ ندی کناروں ہی کے اندر بہے ، انسان کو حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے بنیادی رویے کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہیے کیونکہ یہی اس کی پہچان ہے۔

جس فضا کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے ، وہ ایک ایسا تناظر ہے جو دوسروں سے کہیں زیادہ اکبر حمیدی میں موجود ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انہوں نے دوسرے تمام معاملات زندگی کو نظر انداز کیا ہے۔ ان کے ہاں محبت، دوستی، رفاقت، رقابت غرض ہر طرح کے مضامین جا بجا نظر آتے ہیں اور غزل کے حوالے سے یہ کوئی ضروری بھی نہیں ہے کہ ہر چیز کے بارے میں الگ انفرادی رویہ رکھا جائے۔ آخر ہم ایک اجتماع کا حصہ بھی تو ہیں جس میں کبھی کبھی ہم اپنی پہچان کو خود ہی گم کر دینا چاہتے ہیں۔ مثلاً قومی شاعری میں یہ رویہ خاص طور پر ابھر کر سامنے آ جاتا ہے۔ اکبر حمیدی نے ماں کے متعلق جو شعر کہے ہیں وہ بھی ذات کی نفی ہی کا اظہار ہیں۔

مجھے لگتا ہے کہ گفتگو قدرے طویل ہو گئی ہے۔ لہٰذا اب میں آپ کے اور شہر بدر کے درمیان حائل نہیں رہنا چاہتا۔ جاتے جاتے اس کتاب کے چند اشعار سنانا چاہتا ہوں۔ یہ میری اپنی پسند ہے ، آپ کی پسند مجھ سے مختلف بھی ہو سکتی ہے۔

 

عجب ہنستی ہوئی آنکھیں ہیں اس کی

مجھے وہ خوش نظر اچھا لگا ہے

 

رات پر رات یہاں آئے چلی جاتی ہے

اب کے تو آپ ہی آئیں تو سویرا ہووے

 

نظر میں پھرتا ہے اک ایک دوست کا چہرہ

کہ رات آئی مجھے دشمنوں کی بستی میں

 

کوئی نادیدہ انگلی اُٹھ رہی ہے

مری جانب اشارہ ہو رہا ہے

 

یہ سوچ کر کبھی ترکِ وفا نہیں کرتا

کہ بے وفا کو بہت اعتبار ہے مجھ پر

 

ستارے جاگتے تھے ساتھ جس کے

وہ اب راتوں کو تنہا جاگتا ہے

 

وہ تو سورج کا استعارہ ہے

بجھتا جائے دیے جلاتا جائے

 

خامشی جرم ہے جب منہ میں زباں ہو اکبر

کچھ نہ کہنا بھی ہے ظالم کی حمایت کرنا

٭٭٭

 

 

 

اکبر حمیدی کے دو نئے مجموعے

ہر اک طرف سے اور شورِ بادباں

                حیدر قریشی

اکبر حمیدی اس عہد کے ایک اہم تخلیق کار ہیں۔مجموعی طور پر مختلف اصناف ادب میں ان کی بیس کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کی خاکہ نگاری ، انشائیہ نگاری، تنقید نگاری اور خود نوشت ،ہر صنف اپنی اپنی جگہ اکبر حمیدی کی تخلیقی صلاحیتوں کی گواہی دیتی ہے۔ شاعری ان کے اظہار کا سب سے پہلا پیمانہ تھا، اسی لئے ان کی سب سے پہلی پہچان بھی شاعری ہے۔زیرِ تبصرہ مجموعہ اکبر حمیدی کا چھٹا شعری مجموعہ ہے۔ اس سے پہلے ان کے پانچ شعری مجموعے “لہو کی آگ”، “آشوب صدا ” ، “تلواراس کے ہاتھ”، “شہر بدر ” اور “دشتِ بام و در” شائع ہو چکے ہیں۔ یہ شعری مجموعہ اکبر حمیدی کے شعری ارتقا کو بہت عمدگی سے ظاہر کرتا ہے۔ بنیادی طور پر اکبر حمیدی غزل کے شاعر ہیں مگر اس مجموعہ میں ۵۶ غزلوں کے ساتھ ان کی سترہ نظمیں بھی شامل ہیں اور چند ہائیکو بھی۔ ہائیکو چونکہ تین مساوی الوزن مصرعوں مشتمل ہیں ،اس لیے میں انہیں ثلاثی کے زمرہ میں شمار کرتا ہوں۔ اکبر حمیدی کی خوبصورت غزلوں اور نظموں کے بارے میں کچھ عرض کرنے کی بجائے اس مجموعہ سے چند اچھے اشعار کا ایک انتخاب اور ایک نظم پیش کر دینا بہتر سمجھتا ہوں۔آفتاب آمد دلیلِ آفتاب

چلتا ہے غیر برہنہ تلوار کی طرح

اس کی گلی ہے کوفے کے بازار کی طرح

پیچیدہ بھی، حسیں بھی، طرح دار بھی بہت

دنیا ہے اس کی زلفِ گرہ دار کی طرح

 

اگر کسی بڑی مسند پہ جا گزیں ہوتا

تو پورا عہد مِرا حاشیہ نشیں ہوتا

 

یہ خود شناسیاں اور ناشناسیاں اکبر

مِری نظر میں ہیں دونوں عذاب اندر کا

 

رکھنا قدم جما کے ہوا تیز ہے بہت

منہ آنا مت ہوا کے ، ہوا تیز ہے بہت

 

جس کے بھی دوست ہوئے باعثِ تکریم ہوئے

ہم کھرے سکے ہیں جیبوں میں کھنکتے جاویں

 

ڈرائنگ روم میں کچا گھڑا رکھا ہوا ہے

کہ ہم نے سوہنی سے رابطہ رکھا ہے

بڑے شہروں میں چھوٹے لوگ آ کر بس گئے ہیں

اسی خاطر تو ہم نے دل بڑا رکھا ہوا ہے

 

کب تلک ملتا رہے گا اسے قسمت کا لکھا

خلقتِ شہر تو محنت کا ثمر چاہتی ہے

زندگی خواب کے گھر میں نہ کٹے گی اکبر

اب یہ لڑکی در و دیوار کا گھر چاہتی ہے

 

عنایت اور ہی جانب ہے اس کی

ہمیں تو بس گزارے دے رہا ہے

جنوبی ایشیا کو جیسے اکبر

یہ دن کوئی ادھارے دے رہا ہے

 

مجھ کو نظر کی وسعت میرے شہر نے دی

میں تو گوجرانوالہ میں لاہور ہوا

اکبر سادہ سا دیہاتی لڑکا تھا

اک شہرن کے عشق میں اور سے اور ہوا

 

یہ کیا ضرور تھا مجھ سے بھی وہ وفا کرتے

نہیں تھی مجھ سے محبت انہیں تو کیا کرتے

ستم گروں سے تو کچھ بھی کہا نہ لوگوں نے

سبھی نے مجھ سے کہا آپ حوصلہ کرتے

 

جانے کب کیا، کیسی صورت پیش آئے

کچھ دانائی، کچھ نادانی ساتھ چلے

 

ترے بدن کو کبھی جو ہمارے ہاتھ لگے

کہیں سے پھول کہیں سے ستارے ہاتھ لگے

 

دعائے زیست کی تکرار بات بات میں ہے

کہ خوفِ مَرگ کہیں اس کی نفسیات میں ہے

کبھی لبوں ، کبھی آنکھوں سے گفتگو کرنا

وہ تن بدن سے شریک اپنی لفظیات میں ہے

غزلوں کے یہ چند اشعار اکبر حمیدی کی غزل اتنا عمدہ تعارف ہیں کہ اس کے بعد کسی تنقیدی رائے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔نظمیں اکبر حمیدی نے منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے کہی ہیں۔اسی لیے ان نظموں میں بھی غزل کا مزاج ملتا ہے۔بطور نمونہ ایک نظم “مبارکیں ہوں ” ملاحظہ کیجئے۔

مبارکیں ہوں ،مبارکیں ہوں ،مبارکیں ہوں

کہ پچھلی آدھی صدی کی مانند اس برس بھی

تمام منصب، تمام اعزاز،سارے اکرام

حضورِ والا تبار ہی کے لیے ہیں مخصوص

میں اس برس بھی ہوا ہوں حاضر

سلامِ اخلاص عرض کرنے

دعائیں دینے ،نیاز مندی کے سارے جذبے

حضور عالی میں نذر کرنے

خدا کرے ایسے سارے موسم

جو پچھلی آدھی صدی سے یونہی رُکے کھڑے ہیں

اسی طرح سے رُکے رہیں سب

تمام منصب، تمام اعزاز، سارے اکرام

حضورِ والا تبار ہی کے لیے ہوں مخصوص

حضور کے آہنی شکنجے سے وقت باہر نکل نہ پائے

نکل نہ پائے ، سنبھل نہ پائے ، بدل نہ پائے

اسی طرح سے ہر اک برس مَیں

مبارکیں عرض کرنے آؤں

مبارکیں ہوں ، مبارکیں ہوں ، مبارکیں ہوں ،

اکبر حمیدی پختہ غزل گو ہیں۔ ان کے ہاں فکر و خیال اور جذبات کی آمیزش سے ایسی دلآویز کیفیت پیدا ہوتی ہے جو قاری کو دیر تک اپنے اثر میں رکھتی ہے۔ان کے اظہار میں سادگی اور بے ساختگی سے کھلی کھلی کیفیت کا احساس ہوتا ہے۔ اس مجموعہ کے فلیپ پر ڈاکٹر وزیر آغا ، سیّد ضمیر جعفری، ڈاکٹر و حید قریشی، فخر زماں ، شہزاد احمد، ظفر اقبال، آفتاب اقبال شمیم اور اسلم سراج الدین کی آراء درج ہیں۔ان آراءسے اکبر حمیدی کی شاعری کے کئی خوبصورت پہلو مزید روشن ہوتے ہیں۔ سید ضمیر جعفری اکبر حمیدی کے بارے میں لکھتے ہیں۔”وہ ایک ایسا فنکار ہے جس کو حال کا قانون قید اور مستقبل کا مؤرخ بری کرتا ہے۔” ظفر اقبال کی یہ رائے بھی صائب ہے۔”اکبر حمیدی نے جو خاص کام کیا ہے ، وہ روز مرہ کے بعض ایسے الفاظ جو جدید اردو غزل میں بالعموم استعمال نہیں کیے جاتے ، اس نے بڑی مہارت سے برت کر غزل کی فضا کو بھی کسی حد تک تبدیل کرنے کی سعی کی ہے۔ یہ اجتہادی رویہ جدید غزل کا منفرد ذائقہ بھی متعین کرتا ہے۔”

(تبصرہ مطبوعہ جدید ادب جرمنی جولائی تا دسمبر ۲۰۰۳ء)

٭٭

 

 

اردو شاعری میں اکبر حمیدی کا تازہ اور ساتواں شعری مجموعہ”شورِ بادباں ” پیشِ نظر ہے۔یہ مجموعہ اکبر حمیدی کی غزل گوئی کے سفر کی اب تک کی کہانی سناتا ہے۔پہلے والی روانی کے ساتھ انہوں نے اس بار کچھ ایسے اوزان میں بھی غزلیں کہی ہیں جن میں انہوں نے پہلے غزل نہیں کہی۔اس سے قادر الکلامی تو ظاہر ہوتی ہے لیکن اکبر حمیدی کی غزل کا جو ایک مخصوص بہاؤ تھا وہ غائب ہو جاتا ہے۔تاہم ایسی غزلیں کم تعداد میں ہیں۔عمومی طور پر اکبر حمیدی اپنے مخصوص انداز میں اپنی غزل کا سفر طے کر رہے ہیں۔اس سفر میں ان کے مزاج کی خوش خیالی اور خیالات کی پرواز دونوں کا ارتقا دیکھا جا سکتا ہے۔چند اشعار سے میری بات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے :

کس روز یہ اصرار ہمارا نہیں ہوتا

کچھ اور بھی،اتنے میں گزارا نہیں ہوتا

 

غزل گلی سے کئی آسماں گزرتے ہیں

زباں سنبھال کے اہلِ زباں گزرتے ہیں

 

کچھ اتنی تیز ہے رفتارِ عالم

زمانے بے نشاں ہونے پہ آئے

 

کہاں تک ذکر قیس و کوہکن کا

بہت ہم نے بھی ٹکریں ماریاں ہیں

جان پیاری ہے تو بس چلتے چلے جاؤ میاں

کیوں کھڑے ہو یہ درِ یار نہیں ہے بھائی

 

زور و زر کا ہی سلسلہ ہے میاں

لفظ کو کون پوچھتا ہے میاں

یہاں تلک بھی ہمیں پائمال ہونا تھا

ہمیں مثال،انہیں بے مثال ہونا تھا

عجیب زاویے اس کی جیومیٹری میں ہیں

کہیں خطوط ، کہیں دائرے نکلتے ہیں

 

عقل بھی،جذبہ بھی،دونوں مِرے ساتھی ہیں مگر

بعض اوقات میں دونوں کو اٹھا دیتا ہوں

سابقہ شعری مجموعوں کے حوالے سے ابھی تک اکبر حمیدی کے ہاں پیش آمدہ صورتحال پر صبر و تحمل،دعا، اور ایمان کی مضبوطی کا تاثر ملتا تھا لیکن اس مجموعہ میں وہ اپنے ان رویوں سے کچھ آگے بڑھے ہیں اور برملا کہنے لگے ہیں :

کب تلک وقت ٹالنا ہو گا

راستہ تو نکالنا ہو گا

 

عقل بھی عشق کرنا جانتی ہے

خود کو بس اعتدالنا ہو گا

 

اگلی نسلوں کو کفر سازی کے

چکروں سے نکالنا ہو گا

“شورِ بادباں ” میں اکبر حمیدی نے کسی بڑے شاعر،ادیب یا نقاد سے کوئی پیش لفظ یا دیباچہ نہیں لکھوایا اور اس سلسلے میں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دیباچے کتاب کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں کیونکہ پھر قارئین دیباچے کے افکار کی روشنی میں ہی کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں۔اکبر حمیدی کا موقف وزن رکھتا ہے۔انہوں نے اپنی وضاحت میں جس نکتے کو ابھارا ہے یقیناً غور طلب ہے۔یوں بھی ایک طویل عرصہ تک شاعری کرنے کے بعد اکبر حمیدی اب اپنی شعری عمر کے اس حصہ میں ہیں جہاں ان کا نام ہی ان کی شاعری کا دیباچہ،پیش لفظ ،معتبر حوالہ اور سب کچھ ہے۔ادب کے سنجیدہ قاری کے لیے اتنا حوالہ ہی بڑا حوالہ ہے کہ وہ اکبر حمیدی کی شاعری کو پڑھ رہا ہے۔

“شورِ بادباں “سے مزید چند اشعار پیش کر کے کتاب کا یہ تعارف مکمل کرتا ہوں۔

ملنا نہیں ، رستہ بھی بدلنا ہو ا مشکل

اس شہر میں اب گھر سے نکلنا ہوا مشکل

 

جن وقتوں میں انجان تھا، آساں تھا بہلنا

اب جان لیا ہے تو بہلنا ہوا مشکل

 

جل اُٹھتے تھے ہم آتشیں نظروں سے بھی اکبر

اب آگ دکھاؤ بھی تو جلنا ہوا مشکل

 

ضد نہ کر آج پہ اتنی اکبر

ورنہ وہ کل سے مکر جائے گا

 

کچھ سال تو آئین بنانے میں لگے ہیں

باقی کے ترامیم کرانے میں لگے ہیں

ان حربوں سے وہ اونچا اڑا سکتا تھا خود کو

جو حربے اسے مجھ کو گرانے میں لگے ہیں

“شورِ بادباں ” اکبر حمیدی کی مجموعی شعری شخصیت کے تاثر کو مزید گہرا کرتا ہے !

(تبصرہ مطبوعہ جدید ادب جرمنی جنوری تا جون ۲۰۰۶ء)

٭٭٭

 

 

 

چند قدم….قدِ آدم کے ساتھ

 

                سیّد ضمیر جعفری

 

“قدِ آدم” قد آور شاعر اور ممتاز انشائیہ نگار پروفیسر اکبر حمیدی کے خاکوں کا مجموعہ ہے۔

میرا بیٹا احتشام پاکستان آرمی میں خدمت کر رہا ہے۔ وہ جب کمیشن کے انٹرویو بورڈ کے سامنے گیا تو چیئرمین نے اُس سے سب سے پہلے وہی گھِسا پٹا سوال کیا کہ “اے نوجوان تُو فوج میں کیوں شامل ہونا چاہتا ہے “۔ احتشام نے جواب دیا “سر میں پیدا ہی ایک فوجی بیرک میں ہوا تھا۔” اور اسی سوال کے جواب پر اس کا انٹرویو ختم کر دیا گیا۔

مجھے بھی اپنی بات شروع کرنے کے لیے فوجی پس منظر کے باعث انگریزی کی ایک عسکری کہاوت ہی یاد آ رہی ہے کہ:”Well begun half the battle is won”

یعنی جنگ کا اچھا آغاز….جنگ کی نصف کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے۔ سو ہم اس کتاب کے نام “قدِ آدم” کے صوری حُسن اور صوتی نغمگی اور معنوی بلاغت پرہی پھڑک اٹھے کہ یہ نام مصنف کی تخلیقی توانائی کا آئینہ دار ہے۔

پچھلے کچھ عرصہ سے اردو ادب کی جتنی نئی کتابیں ہماری نظر سے گزریں ان میں سے اکثریت شاعری، سفرناموں اور خاکہ نگاری پر مشتمل ہیں۔ اس پر یوں لگا کہ جس طرح جدید جنگ “میزائیلوں ” کی بارش ہو کر رہ گئی ہے اسی طرح اردو ادب میں ان دنوں غزلوں ، سفرناموں اور خاکوں کی بارش برس رہی ہے۔

“قدِ آدم” میں چند خاکے مصنف کے اپنے بزرگانِ خاندان کے ہیں اور چند خاکے اس عہد کی چند نامور شخصیتوں کے۔ اکبر حمیدی نے اپنے بعض غیر معروف احباب کو بھی اس قافلۂ محبت میں فراموش نہیں کیا۔

صاحبو….تکنیکی بحث مجھے نہیں آتی۔ فالتو عقل ہم میں تھی ہی نہیں۔ یوں بھی تنقید کو میں الا ما شا اللہ دوسروں کی ٹانگوں پر دوڑنے کی ڈرل (Drill) سمجھتا ہوں۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اس کتاب کو بیحد دلچسپ اور تخلیقی ادب کا ایک اعلیٰ نمونہ پایا۔ اس کے مطالعے کی فرصت مجھے سفر میں ملی اور اس کی چھاؤں میں سارا سفر سوارت ہو گیا۔ کتاب میں ہمارے وزرا کی “گونا گوں مصروفیات” کی طرح واقعی اتنے بوقلموں مناظر تھے کہ مجھے کھڑکی سے باہر جھانکنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔

میں اکبر حمیدی کو جانتا تو ہوں مگر اتنا نہیں کہ ان کا اپنا خاکہ اتار لاتا۔ ان سے ہماری ملاقاتیں روا روی میں گوشت پوست کی گرمی سے محروم……..کاغذی سوشل کانٹریکٹ بلکہ محض کانٹیکٹ (Contact) تھے۔ میری محرومی کہ جب ان سے ملنے کا وقت آیا تو ہمارا اپنا ہی وقت ختم ہو رہا تھا۔ بہرحال جب بھی ان سے ملاقات ہوئی دنیا سمٹتی ہوئی محسوس ہوتی۔ اس شخص کو از سرتا پا اخلاص و محبت کا “سورج مکھی” پایا۔ اس جیسے لوگوں سے مل کر اس صداقت پر بھی یقین تازہ ہو جاتا ہے کہ محبت کے لیے خوبصورت چہرے کی شرط لازمی نہیں۔ اس کا سب سے بڑا سرمایہ اس کی شاعری کی جاگرتی سندرتا اور شکتی کی طرح….اس کی وسیع انسانیت اور عالی ظرفی کا حُسن ہے۔ مجھے اس سے اپنی ایک جھڑپ یاد آ رہی ہے۔ ہمارے رسالہ….”چہارسو” میں ان کی ایک تحریر جس کی چند سطور پر مجھے اس سے تبادلۂ خیال کرنا تھا دفتری ہڑبونگ میں چھاپے خانے میں چلی گئی۔ اس پر مجھے اپنے ادارتی اور اخلاقی فرض کی تکمیل میں ایک معذرت نامہ شائع کرنا پڑا جو ان کو ناگوار گذر سکتا تھا اور یقیناً ناگوار گذرا بھی ہو گا مگر میں نے اس شخص کی پیشانی پر کبھی ہلکا سا بل بھی نہ دیکھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس جھڑپ میں فتح اس کی ہوئی کہ درگزر اور معاف کر دینے کا ظرف انسانی عظمتوں کی بنیادی فضیلتوں میں سے ہے۔

مجھے یہ خاکے نہ نفسیاتی لگے نہ تجزیاتی ، محاکاتی، وارداتی وغیرہ۔ میرے نزدیک ان کی نوعیت تذکراتی، تبصراتی اور واقعاتی ہے مگر مصنف کے کمال فن نے ان کو جو افسانوی “تڑکا” لگایا ہے اس سے یہ تحریر رسمی سوانحی یا دستاویزی نہیں رہی بلکہ ایک تخلیقی ادب پارے میں ڈھل گئی ہے اور ذاتی اور واقعاتی کینوس کے ان خاکوں میں ……..اس شخص کی نگاہ کی براقی اور اظہار کی بلاغت نے خصوصیت کے حصار میں عمومیت کی ایک عجیب وسعت اور کشادگی پیدا کر دی ہے۔ اس نے پیڑ گنوانے سے نہیں بیر کھلانے سے سروکار رکھا مگر بیر کچھ اس طرح سینت سینت کر کھلائے کہ قاری کی نظر پیڑ کی جڑ تک جا پہنچتی ہے۔ مجھے اکبر حمیدی کے خاکے کچھ اپنے محترم حکیم محمد سعید صاحب کی طرح لگے کہ وہ گورنر تھے مگر گورنر معلوم نہیں ہوتے تھے۔ ڈاکٹر وزیر آغا، ڈاکٹر وحید قریشی، جناب مظفر علی سید، پروفیسر غلام جیلانی اصغر، عذرا اصغر، جناب منشا یاد، ڈاکٹر رشید امجد اور انہی کی طرح کی دوسری نامور شخصیتوں کے خاکوں کو پڑھوا لینا کچھ مشکل نہیں کہ کم لوگ ان کو خود ان کی “بھاپ” پر پڑھ جاتے ہیں لیکن اکبر حمیدی نے جس گرفت کے ساتھ اپنے قارئین کو اپنے بزرگانِ خاندان کے ساتھ پڑھوا لیا ہے اس کمال کی جتنی داد دی جائے کم ہو گی۔ اس حصے کو انہوں نے اس قدر جاذب توجہ بنا دیا ہے کہ اب نہ صرف اکبر حمیدی پر خاکہ لکھنا آسان ہو گیا ہے بلکہ ان کے خاندان میں رشتے ناطے کی بات طے کرنی بھی سہل معلوم ہوتی ہے۔ تفنن برطرف کتاب کے اس حصے میں اکبر حمیدی نے پنجاب کے دیہات کی تمدنی اور معاشرتی زندگی کی جیتی جاگتی تصویر کشی کی ہے۔ میرے اہل وطن کی موجودہ نسل اس کو غور سے پڑھ لے کہ کچھ عرصہ بعد یہ زمین شاید اس زندگی سے محروم ہو جائے۔

ان خاکوں نے اس حقیقت کی صداقت کو بھی آشکارا کر دیا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور معمولی لوگ ہی دراصل غیر معمولی لوگ ہوتے ہیں۔ تحریر کی یہ طاقت اور تاثیر اس غیر معمولی تخلیقی صلاحیت کا ثمرہ ہے جس نے اس کی غزل کو ایک منفرد لہجہ اور ایک انوکھا پیرہن بخشا ہے۔ وہ شاعری جو چناروں کو چاندنی اور روز دیکھی چیزوں کو اجنبی پاتی ہے۔

خاکہ نگاری میں اکثر لوگ جارحیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دوسروں کی خامیوں کو دیکھ کر “عقلمند” ہونا آسان ہوتا ہے۔ اکبر حمیدی بڑی حد تک اس سے دامن بچا کر گزرا ہے۔ تاہم وہ خد و خال بیان کرتے کرتے قاری کو تحریر کے قدرتی بہاؤ میں ……..کردار کے اندر بھی گھما پھرا لاتا ہے۔ ایسے خاکے کوئی ایسا خوش سرشت ہی لکھ سکتا تھا جو سائے میں بھی روشنی کو دیکھ لے اور جو مرحوم افراد اور زندہ لوگوں ….اور آئندہ پیدا ہونے والے انسانوں کے درمیان ایک حیاتیاتی تسلسل اور ہمدردانہ ہم آہنگی کا یقین کے ساتھ ادراک رکھتا ہو۔ اس نے اپنے کرداروں کی خامیوں کو “ٹیلی ویژن” کے خبر ناموں کی طرح نشر نہیں کیا مگر یقین کیجیے کہ بعض مقامات پر دوسرے اصحاب کی خوبیاں پڑھتے پڑھتے میری اپنی کئی خامیاں میرے اندر سے اٹھ اٹھ کر آوازیں دیتی رہیں کہ “قبلۂ عالم آداب عرض ہے !” بلکہ مجھے اپنی بعض ایسی غلطیوں کی نشاندہی بھی ہو گئی جو میں آئندہ کرنے والا ہوں !!

صاحبو! اس زمانے میں کہ لوگ اپنے آپ سے محبت کرنا بھول گئے ہیں۔ ان خاکوں میں محبت کی ایسی خوشبو رچی بسی نظر آئی جو انسانوں کو ہلاک کیے بغیر دنیا کو تبدیل کر سکتی ہے !

یہ عام تنقیدی مضامین نہیں۔ یہ تو اُن افراد کے خاکے ہیں جن سے مصنف کے گہرے ذاتی روابط تھے یا جن کو یہ اپنا محسن سمجھتے ہیں۔ بحث کے لیے کسی مسئلے کو سمجھنا ضروری نہیں لیکن کسی شخص کا خاکہ لکھنے کے لیے اس شخص کو سمجھنا ضروری ہے۔

جوش صاحب کے قصے میں ضمناً ایک بات ہمیں بھی یاد آ گئی۔ اکبر حمیدی کو جوش صاحب نے بتایا کہ ورزش وہ شام کے وقت کرتے تھے۔ صبح کو نہیں۔ جبکہ ہمیں ایک ملاقات میں بتایا کہ ورزش وہ صبح کے وقت کرتے تھے شام کو نہیں۔ ورزش کا موسم کے ساتھ گہرا تعلق ٹھہرا اور جوش صاحب تو ہر موسم جینے والے آدمی تھے !!

اس تصنیف کی تخلیق پر مجھے اکبر حمیدی کے لیے اپنی تحسین کا جذبہ حیرت کی حدوں کو چھوتا محسوس ہوتا ہے۔ حیرت اپنی بے خبری پر ہے کہ میں آج تک اکبر حمیدی کے شعر پر ہی فریفتہ رہا ہوں۔ ان کے انشائیے بھی دل پر دستک دیتے رہے۔ مگر خاکہ نگاری کے ضمن میں اور بالخصوص اس کی نثر کی دلکش اور عظیم الشان گرفت کا…. اس سے پہلے …. مجھے صحیح اندازہ نہ تھا۔

ابھی اور بہت باتیں گفتنی تھیں اور ناگفتنی کو تو ہاتھ ہی نہ لگا سکے مگر وہ جو امام غزالی نے کہا کہ زیادہ بولنے میں زیادہ غلطیوں کا احتمال ہوتا ہے لہٰذا اجازت!!

٭٭٭

 

 

 

حرفے چند۔۔چھوٹی دنیا بڑے لوگ

 

                پروفیسر ڈاکٹر سیّد معین الرحمن

 

“قدِ آدم” کے نام سے ان کے خاکوں کا ایک مجموعہ مقبول ہو چکا ہے ، اب “چھوٹی دُنیا بڑے لوگ” کے زیر عنوان ان کے لکھے ہوئے خاکوں کا دوسرا مجموعہ صورت پذیر ہو رہا ہے جو اردو خاکہ نگاری کی پوری تاریخ میں اپنے مزاج کا پہلا اور منفرد مجموعہ ہے۔

“ماں جی” قدرت اللہ شہاب کا ایک معروف خاکہ ہے۔ سلسلہ شہابیہ کے بعض ناموران قلم کے ہاں بھی گھریلو خواتین کا جہاں تہاں ایسا تذکرہ ملتا ہے جس پر خاکے کا گمان کیا جا سکتا ہے۔ آغا بابر بٹالوی نے بھی افراد خانہ کے بڑے سجیلے خاکے تحریر کیے ہیں لیکن یہ کتابی صورت میں نہیں چھپے یا چھپے ہیں تو میرے علم اور دسترس میں نہیں۔

اکبر حمیدی کے زیر نظر مجموعے کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں تمام تر اور یکسر گھریلو افراد کو مرکز نظر بنایا گیا ہے۔ میری نظر اور خبر کی حد تک اس نوع اور نہج کا یہ واحد اور اولین مجموعہ ہے۔ اس میں انہوں نے اپنی دادی، دادا جی کے سوتیلے بھائی، اپنی دوسری والدہ، تایا جی، بڑی تائی، اپنے والد اور اسی طرح خاندان یا اپنے قصبے کے دوسرے افراد کے بڑے متحرک اور یادگار خاکے تراشے ہیں۔

متعارف اور معروف شخصیات کا خاکہ لکھنے اور بالکل غیر معروف افراد کا جان دار اور قابلِ مطالعہ خاکہ پیش کرنے میں آسانی اور دشواری کا جو تناسب ہو سکتا ہے اس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ اکبر حمیدی اس مشکل راہ سے آسان اور کامران گزرے ہیں۔

خاکہ نگاری کو بجا طور پر ایک مشکل فن اور شغل کہا گیا ہے۔ دربارہ خاص رشید احمد صدیقی کا یہ قول کتنا بلیغ اور فصیل ہے کہ:

“ہمارا کسی کے لیے خوش یا نا خوش ہونا ہمارے لیے جتنا آسان ہے ، اتنا ہی یہ مشکل ہے کہ ہم اس شخص کو دوسروں کی پسند یا ناپسند کا موجب بنا دیں۔”

اکبر حمیدی نے بالکل غیر معروف افراد کو پڑھنے والوں کے لیے مانوس اور محبوب بنا دینے میں غیر معمولی کامیابی پائی ہے۔ یہاں پھر رشید صاحب کی بات کا سہارا لینا پڑتا ہے کہ:۔

“جب تک مرقع نگار اپنے معمول کو دوسروں سے واضح طور پر منفرد نہ کر سکے گا، اس وقت تک نہ کوئی شخصیت نگار کا قائل ہو گا، نہ زیر مشق شخصیت کا! یعنی مرقع نگاری کو لازماً ہاتھ کا کام ہونا چاہیے “مشین” کا نہیں۔”

اکبر حمیدی کا کام بیک وقت تخلیقی وفور، شخصی ارتکاز اور دیدہ ریزی اور سوزن کاری سے عبارت ہے۔ نتیجتاً ان کے ہاں “فرد” “فردِ فرید” بن کر ابھرتا ہے ، محض شخص نہیں رہتا، ایک شخصیت بن کر پڑھنے والوں کو اپنے حصار میں لیتا ہے۔ خاکہ نگار کی تراشیدہ ان شخصیات سے دو چار ہو کر زندگی، خوشبو، چاندنی، روشنی اور اچھی قدروں پر ہمارا یقین بڑھتا اور پختہ ہوتا ہے ، اور یہ شخصیات پڑھنے والوں کے لیے بھی کم و بیش اتنی ہی عزیز، محبوب اور مضبوط ہو جاتی ہیں ، جیسی وہ خود، شخصیت یا خاکہ نگار کا اثاثہ اور سہارا رہی ہیں ……..یہ صورت حال بطور خاکہ نگار اکبر حمیدی کی بڑائی اور ان کے کمال فن کی مظہر ہے۔

اکبر حمیدی……..، تخلیقی اور تجزیاتی ذہن اور رویے کے آدمی ہیں۔ دھیمے ، “نکَھے اور تکھے ” …. …. زندگی کے ان کے تجربات ، خالصتاً ان کے “اپنے ” ہیں۔ ان منفرد تجربوں کو نرم لفظی پیراہن عطا کرنے کا سلیقہ بھی ان کی متاع ہے۔ ان کی خیال افروز باتوں سے پڑھنے والوں کو روشنی ملتی ہے۔ ان کا انہماک اور اخلاص، ان کی خوش نفسی اور دردمندی ہمیں روکتی اور متوجہ کرتی ہے۔

خاکوں کا یہ مجموعہ، اردو خاکہ نگاری کے ارتقا اور تاریخ میں ایک منفرد اور ممتاز موڑ اور مقام کا حامل ہے جس سے خاکہ نگاری کا کوئی مبصّر یا مورّخ صرفِ نظر نہیں کر سکے گا لیکن اپنے مزاج و منہاج کا پہلا مجموعہ ہونا ہی اس کا واحد امتیاز نہیں ، اکبر حمیدی جس تخلیقی اور فطری اسلوب میں دیہات کے سوندھے پن اور رویوں کی خوبصورتی کو کشید کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ، اس ہنروری کے حوالے سے بھی “چھوٹی دنیا بڑے لوگ” اردو خاکہ نگاری کی ذیل میں ہمیشہ قابل لحاظ رہے گی اور مستقل جگہ پائے گی۔

اکبر حمیدی نے اپنے اعزہ و اقربا کے خاکوں میں زندگی کے خلوتی و عائلی خانے پر جتنی توجہ دی ہے ، اہلِ قلم کے خاکوں میں اس سے اتنی ہی بے توجہی اختیار کی ہے۔ اکبر حمیدی شخصیت کا تجزیہ کرنے اور بعد ازاں اس کی مدد سے نتیجے تک پہنچنے کی صلاحیت کو بھی بروئے کار لائے ہیں ، خواہ ان کے تجزیئے کو نامناسب اور نتیجے کو غلط ہی کیوں نہ سمجھا جائے۔ بات خاکوں پر ہو رہی ہے تو یہ بتاتا چلوں کہ اکبر حمیدی نے اپنے خاکوں میں حلیہ نگاری یا شخصیت کی ظاہری وضع و قطع کو زیادہ اہمیت نہیں دی مگر جن دو ایک مقامات پر دی ہے وہاں کمال کر دیا ہے۔

(اقتباس از مضمون قدِ آدم ایک مطالعہ ازرفیق سندیلوی)

 

 

 

اکبر حمیدی کی خاکہ نگاری

(“قدِّ آدم ” اور ” چھوٹی دُنیا، بڑے لوگ” کے حوالے سے )

 

                جاوید حیدر جوئیہ

(بورے والا)

یونگ کے نفسیاتی ماڈل میں Persona قدیم رُومیوں کے ڈراموں میں اداکار کے پہننے کا وہ ماسک (Mask) ہوتا تھا، جسے وہ اپنے چہرے پر چڑھا لیتا، اور یوں ناظرین و سامعین سے اپنی’ اصل ‘کو چھپاتا (اور دِکھاتا بھی)۔اس نفسیات میں پرسنیلیٹی(Personality ) کا لفظ بھی Persona ہی سے مشتق ہے۔اس زاویے سے دیکھیں تو ہر شخص’ شخصیت ‘کا حامل نہیں ہوتا۔ شخصیت ہونے کے لیے اُس کا ’ کردار‘ ہونا اوّلین شرط ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ کردار کسی اعلیٰ سماجی حیثیت ہی کا حامِل ہو، بلکہ یہ اس تمثیل کا کوئی ’معمولی ” مگر اہم کردار بھی ہو سکتا ہے ، جو انبوہِ آدم کے اس جمگھٹے میں نہ جانے کب سے جاری ہے ، اور خبر نہیں کب تک جاری رہے گا۔ دیکھا جائے تو ’شخصیت ‘بھی محض باہر کا’ چھلکا ‘ہے۔’ مغز ‘تو اِس کے اندر چھپا ہُوا ہے۔

یونگ کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو لوگ شعوری طور پر بہت’ مضبوط‘ ہوتے ہیں ، اصلاً وہ لا شعوری اور وجدانی سطح پر بے حد کمزور واقع ہوتے ہیں ، جبکہ اس کے بر عکس لاشعوری سطح کے مضبوط لوگ شعوری سطح پر نہایت کوتاہ طاقت ہوتے ہیں۔اس لیے ’ اصل ‘کی پہچان کے لیے ضروری ہے کہ اس ’پرسَونا‘ کی نقاب کُشائی کی جائے۔ گویا شخصی کردار میں ذات(self ) کی پہچان کی جائے۔دوسرے لفظوں میں انسان کی پہچان دراصل خود شناسی (Self recognition ) کا عمل ہے ،جو’ ٹھہر کر دیکھنے ‘کا متقاضی ہوتا ہے۔ جو پہچان عُجلت میں کی جاتی ہے ، وہ پہچان ہوتی ہی نہیں بلکہ محض’سر سری نظر ‘ہوتی ہے ____ بالکل ایک اُچٹتی سی جھلک، جسے بس ایک عارضی سی یاد داشت کا حصہ بننے کی توفیق مِلتی ہے __جیسے کوئی ٹرین کی ٹکٹ کا نمبر یاد نہیں رکھتا۔ جب کہ’ رُک کر‘ اور ’ ٹھہر کر ‘کی گئی پہچان نہ صرف سچّی ،سُچّی اور متاثر کُن ہوتی ہے ، بلکہ ایک طویل المدّت یاد داشت بن کر خود پہچاننے والے کی ذات کا حصہ بھی بنتی ہے ،اُس کی اپنی ذات پر اِس کا براہِ راست اثر ہوتا ہے اور یوں ’ذات ‘ (Self ) ’ایک ‘ کی تنہائی سے ’ دو‘ کی یکتائی میں بدل جاتی ہے۔

زِندگی کی ہمہ ہمی، شور اور جلد بازی نے اِنسان کو تاریخی طور پر بہ تدریج اپنی رَفتار بڑھا ۔۔ذکر قیس و کوہکن کا بہت اشعا لینے پر مجبور کیا ہے۔ رَفتار بڑھ جانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ مہارت کی ضرورت کے ساتھ ساتھ حادثے کا اندیشہ بھی بڑھ جائے۔ ایسے میں اوّل تو کردار نظر ہی نہیں آتے ، اور اگر نظر آ جائیں تو اُن کی ’اصل ‘ پہچان نہیں ہو پاتی۔صرف جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب’ آدمی‘ زیادہ اور شناخت کردہ شخصیتیں کم ہیں اور جو ہیں وہ’ منظورِ نظر شخصیتیں ‘ ہیں۔یہ وہ ’حادثہ ‘ہے جو بعض لکھنے والوں کی تیز رفتاری کے سبب آئے دِن کا واقعہ بن گیا ہے۔یہ حادثہ ہر حادثے کی طرح ’ مہارت‘ کی کمی کے باعث پیش آتا ہے۔ اکبر حمیدی اس حادثے سے اسی لیے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ اُنھوں نے رُکنے اور ٹھہرنے کا انداز اپنایا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ سُرعت مشاہدے کی دُشمن ہے۔ تیزی خوف زدہ بھی کرتی ہے ، اور خوف انسان کو قید کر دیتا ہے۔ آزادی کا پر مسرّت لمحہ صرف اُس وقت نازل ہوتا ہے ، جب خوف کی جگہ محبّت لے لیتی ہے۔

محبّت اصل میں مبالغے ہی کی ایک حالت ہے ، حتیٰ کہ ایک شخصیت کی محبت” تعلّی” بھی ہو سکتی ہے۔خاکہ لکھنے کا عمل بغیر محبت کے انجام نہیں پا سکتا۔ محبت کا یہ سفر خاکہ نگار کی اپنی ذات کے zero point سے آغاز ہوتا ہے۔ آغاز کے بعد خاکہ نگار دھیرے دھیرے ،ایک سیّاح کی طرح ،شاہدِ ذات کے اُن دیکھے اور اُن چھوئے لمس کو پہلی بار محسوس کرنے کی مسرّتِ جاوداں سے ہم کنار ہوتا ہے۔ اس ایک ٹَچ(Touch) کی بدولت وہ شناخت کے ماورائی عمل سے گزرنے لگتے ہیں ___ اور خاکہ مکمل کر لیتے ہیں۔

اصلاً معرفتِ ذات میں یہ عمل صوفی کا بھی ہے ، لیکن صوفی کے بر عکس خاکہ نگار کی تخلیقی وابستگی اُور ’رُک کر دیکھنے ‘ کی صلاحیت کا اِنعام یہ ہے کہ وہ اپنے سفرِ محبت کی رفتار کو ضبطِ نفس کا حصہ بنا لینے اور یوں محبت کے ’جسم ‘کو لباسِ تخلیقیت پہنا نے پر قادر ہوتا ہے۔وہ جمال کا ناظرِ محض نہیں بلکہ اس کا نَو تخلیق کار بھی ہوتا ہے۔اسی لیے ایک اعلیٰ درجے کا خاکہ نگار قصیدے کی تشبیب اور سراپا نگاری سے خود کو بچا لے جاتا ہے۔ وہ ممدوح کے بجائے محبوب کی جمالیاتی تشکیل کرتا ہے۔اگر وہ ایسا نہ کر پائے تو اس کی یہ کاوش ’منثور قصیدے ‘ کے زمرے میں تو شاید آئے ، خاکہ نہیں بن پائے گی۔ زیادہ آسانی سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک کامیاب خاکہ نگار دُوسرے کے نام سے خود اپنی آپ بیتی اور ذاتی سفر نامہ لکھتا ہے۔

اکبر حمیدی نے پنجاب کے گاؤں میں اپنا بچپن،لڑکپن اُور جوانی کا بڑا حصہ گزارا ہے۔ یہاں اُن کی شخصیت نے تہ ہو کر سمٹنا اور پھر پھیلنا سیکھا۔ اسی لیے اُن کی تحریر میں ایک تَہ دار پھیلاؤ والا انسان ہر جگہ مِلتا ہے۔ اُنھوں نے غزَل کی شاعری سے اپنی ادبی زندگی کا آغاز کیا، پھر نثر کی طرَف آئے۔ شاعری کی تہ داری کو نثر کے پھیلاؤ میں انھوں نے کس طرح واسع کیا، یہ معمہ اُن کے قاری کو شاید ہمیشہ ورطۂ حیرت میں رکھے !مزید حیرت کی بات یہ ہے کہُ انھوں نے شاعری اور نثر کو ایک دوسرے کا مثنیٰ بننے سے ہمیشہ روکے رکھا ہے۔خاکوں کے علاوہ دیگر نثری اصناف کی سمت اس مضمون کا رُوئے سخن نہیں ہے ، ورنہ مَیں ضرور تجویز کرتا کہ اکبر حمیدی کے خاکے اُن کی خود نوشت ” جَست بھر زندگی ” کو پڑھنے کے بعد پڑھے جائیں ،تاکہ خاکہ نگاری اور آپ بیتی میں متذکرہ بالا رشتہ ہمیں صاف نظر آئے۔

اُن کے لکھے ہوئے خاکے شگفتنِ گُل کی آپ بیتی ہیں۔ یہ قدرتی اور آرائشی پھول اُن کے اندر چلتی رہنے والی دیہی اور شہری ہواؤں میں کھِلے ہیں ، ہوائیں جو کبھی بادِ صبا تھیں تو کبھی بادِ صر صر۔لیکن حیرت ہے کہ اِن میں قنوطیت کہیں نہیں۔ کردار کی شخصیت اُن کی ذات کا other the بن کر محفوظ رہی ہے ، اور یوں ترفع آشنا بھی ہوئی ہے۔ غالباً اسی لیے اکبر حمیدی کے خاکوں کے کرداروں کی خوبیاں اور خامیاں خود اکبر حمیدی کی ذات کا عکس نظر آتی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ منٹو کے ” گنجے فرشتے ” خاکہ کی “تعریف ” ہیں ، کہ خاکے میں کردار کے اوصافِ حمیدہ کے ساتھ ساتھ( اُن کے گنجے پن )کی” خامیاں ” بھی بیان ہوتی ہیں۔اکبر حمیدی کے خاکوں میں آپ کو” فرشتے ‘ نہیں دِکھائی دیں گے۔ بس خاکی انسان نظر آئیں گے ___ جن کا’ فرشتہ پن‘ اور’ گنجا پن‘ نیچرل ہو گا۔ مطلب یہ کہ وہ کردار کا مضحک نقشہ پیش نہیں کریں گے۔ وہ خامی کی خوبی اور خوبی کی کجی کا امتزاج پیدا کر کے اپنے خاکے کی بُنت کرتے دکھائی دیں گے۔ وہ جزو نہیں بتائیں گے ، بلکہ انسان کو ایک گیسٹالٹ کی طرح بُنیں گے ___ اُن کے خاکوں کے اِنسان اپنے حاصلِ کُل سے بڑھ کر ہوں گے۔ یہ اضافہ اُنھوں نے کردار میں اپنی طرف سے نہیں کیا ہو گا، بلکہ یہ کردار کے دوسری طرف موجود کسی چیزے دیگر پر دال ہو گا۔ و ہ ڈرامائی انداز اختیار نہیں کریں گے ،لیکن کردار کا خاموش رول آپ کو صاف دکھائی دے گا۔وہ واقعات کی Narration سے کہانی نہیں لکھیں گے ، مگر دِل چسپی اُن کے خاکوں میں قاری کو آگے بڑھتے رہنے پر اُکساتی رہے گی۔وہ معمولی کو معمولی ہی رہنے دیں گے _

_ لیکن معمول سے ہٹ کر۔ وہ خاص کو بھی خاص ہی رکھیں گے لیکن اپنے خاص انداز میں۔ اُن کے ہاں ” جُملہ بازی ” بھی کہیں کہیں دکھائی دے گی۔ مگر ” جملہ ” حملے کی طرح نہیں بلکہ حکمتِ عملی کی طرح استعمال کریں گے۔ آپ کو لگے گا کہ اس خاکے میں اسی ایک جملے ،(یا ایک سے زیادہ جُملوں ) کی رُوح خاکے کے تنِ خاکی میں دھڑک رہی ہے ___ رُوح ،جو اس کی اصل ہے لیکن در باطن ہوتے ہوئے بھی جو ظاہر کی دُنیا کو ’زندہ اور ’قائم ‘رکھے ہوئے ہے۔بعض جملے تو ایسے ہوں گے کہ آپ چاہیں گے اِنھیں بدل دیا جائے ، یا اِن کی ساخت کو تبدیل کر دیا جائے۔لیکن کوئی ایسا کر کے دیکھ لے ،یہ کوشش بالکل بے سود ہو گی۔ خاکہ” بے رُوح” ہو جائے گا۔

اچھی نثر کی ایک خصوصیت اس میں طویل و مختصر جملوں کا امتزاج بھی ہے۔ اکبر حمیدی کے خاکوں میں یہ وصف بڑی فنّی مہارت سے کردار کی چھوٹی بڑی خصوصیات کی صورت استعمال ہوتا ہُوا آپ کو نظر آئے گا۔ چھوٹی بات کو بڑا بنا کر اور بڑی بات کو چھوٹا کر کے لکھنا اُن کے مزاج اور وضعِ اُسلوب کے خلاف ہے۔ وہ اپنے کردار کو کوئی ایسی وردی نہیں پہنائیں گے جس پر اعزازاتی فیتے لگے ہوں __بلکہ وہ سرے سے وَردی پہنائیں گے ہی نہیں۔تاہم، اگر کردار کی یونیفارم اُن کے لیے اہم ہو گی بھی تو وہ اُسے جسم سے چِپکی ہُوئی نہیں ، بلکہ کھونٹی سے لٹکتی ہوئی دِکھائیں گے۔ وہ انسان کی دانش پر توجّہ مرکوز کریں گے ، اُس کی بہادری کے گیت گائیں گے ، اُس کی اُولو العزمی کا ذکر کریں گے ، جہدِ مسلسل کی اور فتح مندی کی بات کریں گے۔ محسن کی احسان کاری کے معترف ہوں گے۔(محسن کے تو دشمنوں تک کا ذکر کرنا مناسب سمجھیں گے ) خاکے کا کردار اُن سے خوش ہو نہ ہو، وہ خود ہمیشہ اس سے خوش دِکھائی دیں گے۔اُن کے خاکوں میں تو عقیدت جیسی غیر مشروط اور یک معنی شئے بھی جوش کے بجائے ہوش کے ساتھ پیش ہوئی ہے۔ وہ شہد کے چھتے کی ملکہ مکھی پر خاکہ لکھتے ہیں۔ بہ حیثیت خاکہ نگار وہ کار کے سوار نہیں۔ اس لیے اُن کا View تیز رفتاری اور وِنڈ سکرین سے چھَن کر جزوِ نگاہ نہیں بنتا۔ وہ تو تانگے کی گاہے پچھلی گدّی پر بیٹھ کر کرداروں کا تجزیہ اور مشاہدہ کرتے ہیں ، اور گاہے اگلی گدّی پر بیٹھ کر۔اسی لیے خود اُن کے اُسلوب کی طرح اُن کے خاکوں کے کردار بھی کھلی ہوا کے باسی ہیں۔

اکبر حمیدی کے خاکوں میں بڑی وضعِ احتیاط ہے۔وہ ڈھنگ اور رنگ کو ساتھ ساتھ رَکھتے ہیں۔ رنگ کردار کا، اور ڈھنگ اُن کا اپنا ہوتا ہے۔ اسی لیے ’ تصویر‘ واضح اور حسین ہوتی ہے۔ اُن کا کوئی بھی خاکہ کسی ضائع ہو جانے والی ذات پر نہیں ہے۔اِن خاکوں کے کرداروں کے کوائفِ حیات کا ریکارڈ تو شاید دیمک چاٹ جائے ، لیکن اُن کی اصل زندگی اکبر حمیدی کے خاکوں میں رزقِ خاک کبھی نہیں بنے گی۔

٭٭٭

 

 

 

جست بھر زندگی

 

                منشا یاد

(اسلام آباد)

 

کہا جاتا ہے کہ ہر شخص کی زندگی میں کم از کم ایک ناول ضرور ہوتا ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص اپنے سوانحی حالات قلمبند کرے تو ایک ناول وجود میں آ سکتا ہے بشرطیکہ اس کا ایسا ارادہ ہو اور اس نے کرداروں ‘ مقامات اور واقعات کی طنابوں کو حقائق(Facts) کی مضبوط کھونٹیوں سے نہ باندھ رکھا ہو۔ ممتاز مفتی نے علی پور کا ایلی تھرڈ پرسن یا واحد غائب کے پوائنٹ آف ویو سے لکھا مگر نام و مقام کی طنابوں کو حقائق( Facts )کی کھونٹیوں سے باندھنا ضروری نہ سمجھا۔ اس کے بعد وہ زندگی بھر اصرار کرتے رہے کہ یہ ان کی اپنی سرگذشت ہے مگر اہل نقد و نظر نے اسے ناول ہی قرار دیا۔ مگر “الکھ نگری” میں وہ واقعات کی طنابوں کو کھونٹیوں سے باندھنا نہیں بھولے ‘ اس لئے کسی کو اس میں شک نہیں کہ یہ سوانح ہے ‘ ناول نہیں۔

سوانحی ناول اورسوانح کے اسلوب میں دو سرا فرق یہ ہے کہ اول الذکر میں فکشن کی آمیزش یا اس کی گنجائش موجود ہوتی ہے اور لکھنے والے کو زبان و بیان کی آرائش و زیبائش‘ تشبیہہ‘ استعارے اور تخیل آفرینی کے مواقع حاصل ہوتے ہیں۔جب کہ سوانح میں اس کی گنجائش ہوتی ہے نہ ضرورت۔ اس میں سادگی اور سادہ نگاری تک محدود رہنا پڑتا ہے۔ اس لئے سوانح نگار کا کام اور مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ محفلِ ادب میں بن سنور کر نہیں سادہ لباس میں آتا ہے اور اسے اپنی باتوں اور رویے سے دوسروں کو متاثر کرنا اور خود کو منوانا پڑتا ہے۔ سوانحی ناول کی ایک بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی ایک شخص کی داستان حیات ہوتے ہوئے بھی ہر زمانے میں کئی دوسرے لوگوں کی سرگزشت بھی بن جاتا ہے۔ جبکہ سوانح پر مصنف کے نام کی مہر لگی ہوتی ہے اور اس کے جملہ حقوق محفوظ ہو تے ہیں۔ لیکن اس سے سوانح کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ لکھنے والا اگر اچھا جملہ لکھنے پر قادر ہے اور سادہ الفاظ میں اثر آفرینی پیدا کرنے کا گر جانتا ہے تو اچھے طریقے سے لکھی ہوئی سوانح کمزور ناول پر بھاری ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ سوانح کے مواد اور مندرجات پر منحصر ہے کہ وہ ایک شخص کی ذاتی زندگی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے یا اس کا کینوس زندگی اور فن کی طرح وسیع ہے۔

اکبر حمیدی کی “جست بھر زندگی” ایسی ہی خود نوشت سوانح ہے جو ان کی ذاتی اور شخصی زندگی کی حدود پھلانگ کر دوسروں کی دلچسپی اور غور و فکر کے مطالعے کی چیز بن گئی ہے۔ ان کے تجربات، مشاہدات اور حاصلِ زیست نتائج ہر شخص کے لئے دعوتِ فکر رکھتے اور زندگی کرنے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔ زیادہ دُور جانے کی ضرورت نہیں ، ان کی سوانح پڑھ کر خود مجھے لگا جیسے انہوں نے اپنی نہیں میری سوانح لکھی ہے۔وہی “میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے ” والی بات۔ انہوں نے وہی سارے سوال اٹھائے جو اکثر میرے ذہن میں بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں اور ان سوالوں کے جوابات بھی ویسے ہی دئیے جیسے میں دینامناسب سمجھتا۔ میری اور ان کی سوچ ہی میں نہیں سوانح حیات میں بھی حیرت انگیز مماثلت ہے اور مجھے یقین ہے میرے اور اکبر حمیدی جیسے اور بہت سے ایسے ہوں گے جن کو اس میں اپنا چہرہ نظر آئے گا۔

اس کتاب کی دوسری خوبی یہ ہے کہ ایک پورے دور کی معاشرت کو جو آنکھوں سے اوجھل ہو رہی ہے پوری جزئیات اور سچائی کے ساتھ بیان کرتی اور اسے تاریخ میں محفوظ کرتی ہے۔ اپنے عزیز و اقارب کے رویوں اور ماحول کو بیان کرتے ہوئے وہ اپنے پورے گاؤں ، شہر اور ارد گرد کی زندگی کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ مارکیٹ کمیٹی کی ملازمت کے لئے گوجرانوالہ آتے ہیں تو اکیلے نہیں۔ لگتا ہے پورا فیروز والا ساتھ آ گیا ہے۔ اسلام آباد منتقل ہوتے ہیں تو اپنے ساتھ گاؤں ہی نہیں اسلم سراج، انصر علی انصر اور محمود احمد قاضی سمیت پورا گوجرانوالہ اٹھا لاتے ہیں اور کئی برس گزر جانے کے بعد بھی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں میں چھوٹے شہر کے بڑے لوگوں میں سے بڑے شہر کے چھوٹے لوگوں میں آ گیا ہوں۔ وہ الگ بات ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اکبر حمیدی نے مستقل رہائش کے لئے اسلام آباد ہی کا انتخاب کیا ہے۔

اکبر حمیدی نے اس کتاب کو ادبی کتاب بنانے کا ارادہ کیا اور یہ ہر اعتبار سے ایک ادبی کتاب بن گئی ہے۔ اس میں نہ صرف شعر و ادب سے متعلق شخصیات کا بھر پور ذکر ہے۔ بلکہ اس میں کردار نگاری، خاکہ نویسی، ماحول کی عکاسی، انسانی جذبوں اور جذبات کا اظہار اور ایک خاص ادبی شان و شوکت ملتی ہے۔ ایسی باتوں سے احتراز کیا گیا ہے جو ذوق سلیم پر گراں گزر سکتی ہیں یا جن پر اختلاف رائے پایا جاتا ہو۔ عقائد و نظریات کے اعتبار سے بھی کسی کی دلآزاری نہیں کی گئی۔ اگر والد اہلِ حدیث کی مسجد میں نماز پڑھنے جاتے ہیں یا والدہ کو امام بارگاہ میں مجلس سننا اچھا لگتا ہے تو اس میں کوئی ہرج نہیں سمجھتے۔ ہر کسی کی خواہش کا احترام پایا جاتا ہے۔ زندگی کے چھوٹے چھوٹے اور معمولی واقعات کو ایک بڑے ادیب کی طرح انہوں نے اہم تر بنا دیا ہے اور ان سے بڑے بڑے نتائج اخذ کئے یا پڑھنے والے کو سجھائے ہیں۔ اپنے والد کی گرم مزاجی کی وجہ سے ان کی ملازمت سے برطرفی اور مقدمات کا سامنا کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :

“یہ دو سال کا عرصہ بڑی مصیبت کا عرصہ تھا۔ مجھے یاد ہے اتنے بڑے واقعہ سے ابا جی نے کوئی سبق نہ سیکھا تھا۔ کچھ لوگ دنیا میں سبق سیکھنے کے لئے نہیں ، سبق سکھانے کے لئے آتے ہیں۔ ابا جی انہی لوگوں میں سے تھے ”

کیا اتنے کم الفاظ میں کسی شخص کی پوری شخصیت اور مزاج کا احاطہ کیا جا سکتا ہے ؟ ایسے ہی چھوٹے چھوٹے کومنٹس اور خود کلامیوں سے وہ کرداروں اور صورت حال کی سچی تصویریں پیش کرتے چلے جاتے اور ساتھ ہی اپنی تحریر کو اعتبار بخشتے جاتے ہیں کہ وہ جس سچائی کے دعویدار ہیں وہ ان کی پوری کتاب میں موجود ہے۔وہ محض واقعات بیان نہیں کرتے بلکہ زندگی اور انسانی رویوں پر جگہ جگہ اپنے دانشورانہ کو منٹس دیتے چلے جاتے ہیں۔ اور یہی چیز اس کتاب کو ادبی بناتی اور اس کے لکھے جانے کا جواز مہیا کرتی ہے۔ ایک اقتباس دیکھئے :

“شاندار کردار حسن و رعنائی کا ایسا درخت ہے جس کے سائے میں آئندہ نسلیں حسن و خیر اور تہذیب کا درس لیتی ہیں۔ یہ صدقہ ئِ جاریہ ہے جس سے پوری انسانیت فیض یاب ہوتی ہے جسے دیکھ کر لوگ گھٹیا پن سے احتراز کرنے لگتے ہیں۔ لوگوں میں شاندار زندگی بسر کرنے کی امنگ پیدا ہوتی اور وہ شرافت سیکھتے ہیں۔”

اسی طرح پہلے باب (صفحہ 50) کے ابتدائیے میں وہ جنگل کے استعارے کو جس خوبصورتی سے استعمال کرتے ہیں وہ اعلیٰ درجے کی فکشن کی خوبصورت مثال ہے۔

بعض لوگوں کے نزدیک ایک اچھی خود نوشت کی خوبی یہ ہونی چاہئے کہ اس میں اپنی خوبیوں کے ساتھ خرابیوں کا بھی ذکر ہو، تاکہ ایک طرح کا توازن قائم رہے۔ جہاں تک انسانی کمزوریوں ،کم مائیگیوں اور بد قسمتیوں کا تعلق ہے اکبر حمیدی نے ان کے ذکر سے کہیں اجتناب نہیں کیا۔ بچپن میں جب وہ بگڑا ہوا بچہ تھے اکثر رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے مار کھا کر آتے اور اس کا انتقام اپنی سادہ لوح اور محبت کرنے والی دادی کو زچ کر کے لیتے تھے۔ انہوں نے اپنی اس غیر مناسب عادت کا کھل کر ذکر کیا ہے کہ وہ دادی کو کوئی خاص چیز پکانے کی فرمائش کرتے مگر کھاتے وقت بگڑ جاتے کہ یہ کیوں پکائی ہے اور دادی بے چاری کو منت سماجت کرنا پڑ جاتی۔ ویسے بچپن کی یہ ٹیڑھ ان میں اب تک موجود ہے۔اکبر حمیدی میں 101 خوبیاں ہیں۔ اور خرابی صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ جس بات یا موقف پر ایک بار ڈٹ جائیں لاکھ سرکھپاتے رہو۔ دنیا بھر کی تاویلات لاتے اور دلائل دیتے رہو سرِموُادھر ادھر نہ ہوں گے۔

میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے اپنی خود نوشت میں اپنی ذات سے متعلق کوئی بھی اہم اور قابل ذکر بات چھپائی ہے نہ اپنے کسی رویے کی غیر منطقی توجیح اور وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ اگر اکبر حمیدی جیسے سادہ مزاج دیہاتی اور فطرتاً شریف آدمی کی زندگی میں جو صراط مستقیم پر چلتا ہو، سرے سے کوئی بڑی کمزوری یا سیکنڈل موجود ہی نہ ہو تو داستان رنگین کیسے بنے ؟۔ میں جانتا ہوں خاندانی آدمی کو اپنی ذات سے زیادہ اولاد اور خاندان کی عزت اور وقار عزیز ہوتا ہے۔ وہ چاہے بھی تو غلط راستے پر نہیں چل سکتا۔ پھر بھی ان کی کتاب سیکنڈلز سے یکسر تہی دامن نہیں۔ضروری تو نہیں ہوتا کہ سیکنڈل جنسی ہی ہو۔ اس کتاب میں حلقہ ارباب ذوق میں پھڈا کے عنوان سے ایک سیکنڈل تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ سیکنڈل کا پنجابی ترجمہ پھڈا ہی تو ہے۔ اس میں اکبر حمیدی نے 99 فیصدی سچ لکھا ہے۔ باقی کا ایک پرسنٹ بھی سچ ہی ہے مگر یہ ان کا اپنا سچ ہے۔

اکبر حمیدی کی سوانح حیات میں اور بھی بہت سی خوبیاں ہیں۔ مثلاً انہوں نے عزیز و اقارب ہی کو نہیں اپنے ادبی دوستوں ، استادوں ، محبت کرنے والوں اور مہربانوں کی نیکیوں اور حسنِ سلوک کا کھل کر اعتراف کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اس طرح کتاب میں اور بہت سے لوگوں کے چھوٹے چھوٹے خاکے شامل ہو گئے ہیں جن سے ان کی شخصیت کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کتاب میں ایک اہم شاعر ایک بڑے انشائیہ نگار اور ادیب اور ایک سیلف میڈ انسان کی زندگی کا سفر اور کامیابی کے لئے جدوجہد کا احوال قارئین کو زندگی کے ایک بڑے تجربے سے آشنا کرتا ہے۔ ناول اور افسانہ بھی یہی فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ہم ان کے ذریعے دوسروں کے تجربات اور مشاہدات میں شریک ہوتے ہیں اور کچھ دیر کے لئے ان کی زندگی جیتے ہیں۔ جس سے ہمارا ویژن وسیع ہوتا ہے۔ اکبر حمیدی کی یہ کتاب نیکی، خیر، شرافت اور محبتوں کے فروغ کا پیغام دیتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کا شمار اردو میں لکھی جانے والی چند بہترین ادبی سوانح عمریوں میں ہو گا۔

٭٭٭

 

 

 

اکبر حمیدی کی خود نوشت “جست بھر زندگی”

 

                ڈاکٹر نذر خلیق

(خانپور)

 

اکبری حمیدی ایک ادیب ہی نہیں بلکہ ایک مخلص اور بے ضرر انسان بھی ہیں۔میں انہیں آدمی کے ساتھ ساتھ انسان بھی سمجھتا ہوں۔غالب نے کیا خوب کہا تھا۔

بسکہ دشوار ہے ہر اک کام کا آساں ہونا

آدمی کو بھی میسّر نہیں انساں ہونا

آج اگر غالب زندہ ہوتے تو میں اکبر حمیدی کو ان کے حضور پیش کرتا اور کہتا کہ جناب دیکھئے یہ آدمی بھی ہے اور انسان بھی۔ آدمی تو یہ آدمیت کے تقاضے پورے کرنے کی وجہ سے ہیں اور انسان اس لیے ہیں کہ یہ دوستوں کے دوست ہیں اور دشمنوں کے بھی دوست ہیں۔ان کے ہاں شر والی کوئی بات نہیں ، خوبی ہی خوبی ان کی فطرت میں شامل ہے۔اکبر حمیدی سے میری ملاقات صرف ایک مرتبہ ہوئی ہے لیکن وہی ایک ملاقات میرے لیے ان کو سمجھنے کے لیے کافی بلکہ شافی ثابت ہوئی کیونکہ اکبر حمیدی جیسے دھیمے مزاج اور شگفتہ طبیعت سے مل کر شخصیت کے سارے گوشے وا ہو جاتے ہیں۔اکبر حمیدی سے میری دوسری ملاقات ان کی خود نوشت “جست بھر زندگی”کے حوالے سے ہوئی یعنی “جست بھر زندگی ” پڑھ کر مجھے اکبر حمیدی کی شخصیت کے کئی گوشوں سے آگاہی ہوئی۔ میں نے اپنی طالب علمانہ زندگی میں اور تدریسی امور کے تقاضوں کے سبب بیشتر خود نوشتیں پڑھی ہیں۔مثلاً جوش ملیح آبادی کی “یادوں کی بارات”،قدرت اللہ شہاب کی “شہاب نامہ”،رضا علی کی “اعمال نامہ ” ، اختر حسین رائے پوری کی “گردِ راہ”، ڈاکٹر رشید امجد کی “تمنا بے تاب” اور حیدر قریشی کی “کھٹی مٹھی یادیں “کو پڑھا ہے۔ہر خود نوشت نے اپنے اپنے انداز اور اپنے اپنے تخلیقی دباؤ کے زیرِ اثر اپنے زندگی کے واقعات میں تخیل آمیزی اور شعریت کے رنگ بھرے ہیں۔کہیں افسانویت آ گئی ہے تو کہیں شعریت نے بے ساختگی کو ختم کر دیا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ میں نے جن خود نوشتوں کا ذکر کیا ہے وہ تخلیق کے معیار پر پورا نہیں اترتیں۔در حقیقت خود نوشت لکھنے والا جس انداز کا تخلیق کار ہوتا ہے وہ انداز اس کی خود نوشت میں بھی آ جاتا ہے مثلاً میں یہاں صرف ایک خود نوشت کا ذکر کروں گا اور یہ خود نوشت ڈاکٹر رشید امجد کی خود نوشت “تمنا بے تاب” ہے جس کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔

“مارچ میں سری نگر کے پھرنوں میں گرماہٹ بکھیرتی کا نگڑیاں ٹھنڈی پڑنے لگتی ہیں۔شہر برف کی کینچلی اتار کر نیم گرم سانسیں لیتا ہے۔بادام کے درختوں پر سفید بُور آ جاتا ہے اور شہر کا شہر بادام وری کے سفیدسفید منظر سے لطف اٹھانے کے لیے طرح طرح کے پکوانوں کے ساتھ باغوں میں اُمڈ آتا ہے۔ دو دریاؤں کے درمیاں نواں بازار کے شاہ محلہ میں گلی کے آخر میں بائیں طرف ایک دو منزلہ مکان ہے جس کا لکڑی کا چھجا روائتی وسط ایشیائی طرز کے بیل بوٹوں سے سجا ہوا ہے۔سب سے نیچے تہہ خانہ ہے جس میں سردیوں کے لیے لکڑیاں جمع کی جاتی ہیں۔سارا گھر دائیں طرف ہے ، سامنے ایک چھوٹی سی گلی نما کھلی جگہ ہے جس کا ایک دروازہ جسے م رکزی دروازہ کہنا چاہیے بڑی گلی میں اور دوسرا پچھواڑے میں کھلتا ہے۔ چار پانچ سیڑھیاں چڑھ کر گھر میں داخل ہوتے ہیں۔نچلی منزل میں دو کمرے ہیں اور ان کے درمیانی منزل کی راہ داری نیم تاریکی میں ڈوبی رہتی ہے۔یہاں بھی نیچے کی ترتیب سے دو کمرے ہیں اور درمیان سے سیڑی اوپر جاتی ہے۔ اوپر والا حصہ ہوا دار اور روشن ہے ،سیڑھیوں سے نکلتے ہی دائیں طرف والے حصے میں باورچی خانہ، سٹور اور کھلا سا برآمدہ ہے۔بائیں طرف ایک بڑا کمرا ہے جو سونے کے کام آتا ہے۔ اس سے اوپر پڑچھتی ہے جو تقریباً سارے حصے کا احاطہ کرتی ہے اور اس کے اوپر ٹین کی چھت ، ڈھلوان کی صورت۔ اسی اوپر والے بڑے کمرے میں جو روشن،کشادہ اور ہوا دار ہے اور جس کی گیلری کی ساری کھڑکیاں گلی کی طرف کھلتی ہیں۔ میں نے ۵ مارچ ۰۴۹۱ءکو زندگی کے دشت میں پہلا قدم رکھا۔” (۱)

میں یہ نہیں کہتا کہ ڈاکٹر رشید امجد کا یہ انداز خود نوشت کے اندازِ تحریر سے مختلف ہے یا مناسب نہیں ہے میں صرف کہنا یہ چاہتاہوں کہ تخلیق کار ہمیشہ اپنی خود نوشت اسی انداز میں لکھتا ہے جس انداز میں وہ اپنی مرکزی تخلیق لکھتا ہے۔مثلاً ڈاکٹر رشید امجد عصرِ حاضر کے رجحان ساز اور ایک صاحبِ طرز افسانہ نگار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کی خودنوشت میں بھی افسانویت کا انداز آ گیا ہے۔اکبر حمیدی چونکہ شاعر ، انشائیہ نگار، خاکہ نگار اور نقاد ہیں۔بچوں کی ہلکی پھلکی کہانیاں بھی انہوں نے لکھی ہیں جس کی وجہ سے ان کی خود نوشت میں شاعرانہ ، انشاء پردازانہ اور تنقیدی انداز آ گیا ہے۔اس سلسلے میں حیدر قریشی کی رائے بہت معتبر ہے۔آئیے ان کی رائے ملاحظہ کرتے ہیں۔

“اکبر حمیدی جیسے فعال اور زرخیز تخلیق کار کی یہ خود نوشت سوانح حیات ان کی زندگی کی روداد بھی ہے۔اور ان کے نظریۂ زندگی اور فن کے عقبی دیاروں کو سمجھنے کے لیے ایک معاون کتاب بھی ہے۔زندگی سے بھری ہوئی یہ کتاب موت کے بارے میں کچھ نہیں کہتی صرف زندگی کی بات کرتی ہے ، مثبت طور پر جینے کی بات کرتی ہے۔”(۲)

اکبر حمیدی کی خود نوشت پر بہت سے لوگوں نے لکھا ہے مثلاً ان کی خود نوشت پر لکھنے والوں میں جوگندر پال، ڈاکٹر رشید امجد، جمیل یوسف ، ڈاکٹر پرویز پروازی،ڈاکٹر عطش درانی ، ڈاکٹر اعجاز راہی، پروفیسر ناصر عباس نیّر اور رفیق سندیلوی کے نام نمایاں ہیں۔جوگندر پال کا نام افسانے کی دنیا میں بڑا نام ہے لیکن میرے خیال کے مطابق تخلیق کار اگر اوریجنل ہے تووہ تخلیق و تنقید دونوں میں لکھ سکتا ہے اور کامیابی کے ساتھ لکھ سکتا ہے بلکہ ایک تخلیق کار نقاد پہلے ہوتا ہے کیونکہ تنقیدی نظر ہی تخلیق کو جنم دیتی ہے۔آئیے جوگندر پال کی رائے سے بھی استفادہ کریں۔

“میں اپنے عزیز دوست کو اس آپ بیتی میں اپنے طویل معمول کے غیر معمولی پن کو اتنی پُر کار سادگی سے سمیٹ پانے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔پرانے یونانی کہا کرتے تھے کہ وسیع تر کتھائیں لکھنی ہوں تو صرف راجاؤں ، مہاراجاؤں کی کتھائیں لکھو۔انہیں کیا علم تھا کہ ہمارے جمہوری ادوار میں جب ایک عام سے آدمی کی کتھا کروڑوں عوام کی نمائندگی کا دم بھرنا شروع کرے گی تو اس کی وسعت کا دبدبا مہاراجاؤں کی کتھاؤں سے بھی بڑھ چڑھ کر ہو گا۔”(۳)

یہ ایک حقیقت ہے کہ اکبر حمیدی ایک عام آدمی ہیں کیونکہ ان کے پاس نہ سرمایہ ہے نہ اقتدار وہ ایک کلرک سے ترقی کرتے ہوئے پروفیسر ریٹائر ہوئے اور ہمارے اس عہد میں کلرک ہویا کوئی پروفیسر وہ عام آدمی ہی ہوتا ہے کیونکہ ان دو حضرات کے پاس نا پیسہ ہوتا ہے نہ اقتدار لیکن کلرک ہو یا پروفیسر ان کے پاس حالات کی کڑواہٹ اور زندگی کی تلخیاں ضرور ہوتی ہیں۔یہ زندگی کو قریب سے دیکھتے ہیں اور بڑے بڑے رازوں سے واقف ہوتے ہیں اس لیے ان کی زندگی میں جتنے واقعات ہوتے ہیں وہ شاید عصرِ حاضر کے خود ساختہ بڑے لوگوں کے پاس نہیں ہوتے۔ راجاؤں اور مہاراجاؤں کی زندگی تو عیش و عشرت اور چند گھسے پٹے واقعات تک محدود ہوتی ہے۔ ان کے واقعاتِ زندگی یکسانیت کا شکار ہوتے ہیں بلکہ میں تو کہوں گا کہ تنوع نام کی کوئی چیز ان کی زندگی میں نہیں ہوتی۔یہی وجہ ہے کہ اکبر حمیدی کی خود نوشت (جست بھر زندگی) زندگی کے تنوع اور رنگا رنگی سے بھری ہوئی ہے۔انہوں نے زندگی کو جس نظر سے اور جس زاویے سے دیکھا بے ساختہ انداز میں بیان کر دیا۔ ساختگی اور شاعرانہ انداز کم ہے۔جیسا انداز ان کی شاعری کا ہے یعنی سادگی اورسہلِ ممتنع کا انداز وہی ان کی خود نوشت کا انداز ہے۔ان کی خود نوشت کو پڑھ کر ایک عام آدمی محسوس کرتا ہے کہ جیسے وہ کسی سادہ سے ماحول میں سانس لے رہا ہو۔ڈاکٹر رشید امجد کی اس رائے کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔

“مجموعی طور پر یہ آپ بیتی ایک طویل جدو جہد کی داستان ہے اکبر حمیدی جیسے بے شمار لوگ زندگی کرنے کے اس عمل سے گزرے اور گزر رہے ہیں جس کا اختتام ان فخریہ لمحات پر ہوتا ہے جو اس سارے سفر کی عطا ہیں۔زبان و بیان کی روانی تو انہیں ان کے اندر کے انشائیہ نگار نے عطا کی ہے اور تخیل کی چاشنی ان کے اندر کے شاعرسے ملی ہے یوں یہ آپ بیتی اپنے اندر شاعرانہ مزاج بھی رکھتی ہے اور اس میں نثری تدبیر اور گہرائی بھی ہے۔”(۴)

اکبر حمید ی کی خود نوشت (جست بھر زندگی) کی ایک ایک سطر دل پر اثر کرنے والی ہے اور ان کی زندگی کے کئی گوشے وا کرنے والی ہے۔آج اکبر حمیدی اپنی خود نوشت میں سانس لیتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔آئیے اکبر حمیدی کی خود نوشت سے ایک اقتباس ملاحظہ کریں۔

“میری زندگی کے تین حصے ہیں۔گاؤں کی زندگی، گوجرانوالہ شہر کی زندگی اور پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد شہر کی زندگی مگر ہاں ایک اور زندگی جو ہم سب اند رہی اندر بسر کرتے رہتے ہیں۔میری زندگی کئی طرح کے تجربوں سے بھری پڑی ہے۔میری زندگی میں گنوار سے لے بہت مہذب ،جاہل سے لے کر بہت صاحبِ علم، لفنگے سے لے کر بہت شریف ، مذہبی سے لے کر بہت سخت غیر مذہبی لوگ شامل ہوئے ہیں۔میں نے بہت آسودہ بھی اور بہت نا آسودہ حالات بھی بسر کیے ہیں۔میں نے کلرکی سے لے افسری تک بھگتی ہے۔دسویں گریڈ کی کلرکی اور پھر اٹھارویں گریڈ کی اسسٹنٹ پروفیسر پھر صدرِ شعبہ ارد و۔”(۵)

“جست بھر زندگی “کے اس اقتباس سے پتا چلتا ہے کہ وہ ایک ایسی زندگی گزارتے رہے ہیں جس میں واقعات کی تلخیاں ہوتی ہیں اور زندگی کو قریب سے دیکھا جا سکتا ہے۔یہ اور بات ہے کہ زندگی کا مشاہدہ ہر شخص اپنی تخلیقی اور تنقیدی صلاحیت سے ہی کرتا ہے جو جتنا بڑا تخلیق اور نقاد ہوتا ہے وہ زندگی کا اتنا ہی گہرا مشاہدہ کرتا ہے۔چونکہ اکبر حمیدی ایک تخلیق کار تھے اس لیے انہوں نے زندگی کے تلخ تجربات کو تخلیقی اور تنقیدی نظر سے دیکھا اور اپنی خود نوشت(جست بھر زندگی )میں پیش کر دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات

۱۔ ڈاکٹر رشید امجد ، ’تمنا بے تاب‘ پورب اکادمی اسلام آباد ،طبع دوم مئی ۲۰۰۷ء،ص ۷

۲۔ حیدر قریشی ،جدید ادب شمارہ نمبر ۲ ،جرمنی،جنوری تا جون ۲۰۰۴ء، ص۱۸۹

۳۔ رفیق سندیلوی(مرتب) ’اکبر حمیدی کا فن‘ بُٹر پبلشر اسلام آباد اشاعت اول، اپریل۲۰۰۳ء، ص۱۹۷

۴۔ رفیق سندیلوی(مرتب) ’اکبر حمیدی کا فن‘ بُٹر پبلشر اسلام آباد اشاعت اول، اپریل۲۰۰۳ء، ص۲۰۰

۵۔ اکبر حمیدی ’جست بھر زندگی‘،‘بُٹر پبلشر اسلام آباد اشاعت اول، مارچ ۱۹۹۹ء، ص۵۱

٭٭٭

 

 

 

 

جست بھر زندگی

(خود نوشت)

 

                حیدر قریشی

(جرمنی)

اکبر حمیدی ہمہ جہت شاعر اور ادیب ہیں۔شاعری،انشائیہ نگاری،خاکہ نگاری،کالم نگاری،کے مختلف مقامات سے کامیابی سے گزرنے کے بعد انہوں نے حال ہی میں اپنی خودنوشت سوانح “جست بھر زندگی” شائع کی ہے۔اس کتاب کے گیارہ ابواب ہیں۔اکبر حمیدی نے گوجرانوالہ کے ایک گاؤں سے شروع ہونے والے اپنی زندگی کے مہ و سال کا ایک گوشوارہ سا اس کتاب میں پیش کر دیا ہے۔اس کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اکبر حمیدی نے کس ماحول میں آنکھ کھولی،کس طرح پلے بڑھے ،تعلیم سے لے کر ملازمتوں تک کے احوال،عزیز و اقارب اور دوستوں ،دشمنوں کے حالات۔ادبی زندگی آغاز سے اب تک کس طرح گزری۔غرض اس میں ہمارے ایک عہد کی کئی اہم جھلکیاں اس طرح دکھائی دیتی ہیں کہ ان کے ذریعے سے پورے عہد کے بارے میں واضح تاثر قائم کرنا آسان ہو جاتا ہے۔اکبر حمیدی چونکہ بنیادی طور پر شاعر اور ادیب ہیں اس لئے ان کی زندگی کا یہی رُخ اس کتاب کا سب سے اہم پہلو ہے۔اس زاویے سے اس کتاب کے توسط سے پتہ چلتا ہے کہ اکبر حمیدی کو بعض غزلیں مکمل طور پر نہ صرف خواب میں ہوئیں بلکہ جاگنے کے بعد وہ غزلیں انہیں پوری یاد بھی رہیں۔ اسے یقینی طور پر ان کی وجدانی قوت کا کرشمہ قرار دیا جا سکتا ہے۔بعض غزلیں بر وقت نوٹ نہ کرنے کے باعث بھول بھی گئیں۔

وجدان کے حوالے سے اکبر حمیدی کی زندگی میں ایک درویش کی درویشی کا قصہ بھی دلچسپ ہے۔اسے اکبر حمیدی کے الفاظ میں دیکھتے ہیں :

“ایک اور درویش ہمارے گاؤں میں آیا۔راتوں کو گلیوں میں پھرتا۔علامہ اقبال کے اشعار بلند آواز میں گاتا پھرتا، اپنے آپ کو وقت کا قلندر کہتا۔گاؤں سے شمال کے قریبی قبرستان میں رہتا تھا بہت خوبصورت آدمی تھا۔پینتیس چالیس سال کا گورا چِٹا بھر پور جوان۔کلین شیو ،بہت چمکتا دمکتا۔ہم محلے کے نوجوان اس کے گرویدہ ہو گئے۔ ایک روز اس نے سعید اختر کو جنوب کا اور مجھے شمال کا گورنر مقرر کیا۔اتفاق دیکھئے کہ سعید اختر سندھ میں جا بسا اور میں شمال میں اسلام آباد۔اس قلندر کے ساتھ ہم محلے کے لڑکے اکثرسردائی پیتے تھے۔”

اکبر حمیدی نے اپنی زندگی کی روداد لکھتے وقت جہاں زندگی کے بہت سے واقعات اور نشیب و فراز کو بیان کیا ہے وہیں اپنے تاثرات کو بھی خاصی تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔کسی واقعہ کی نسبت سے کوئی تاثر ایک حد تک مناسب رہتا ہے بعض اوقات اس تاثر یا تشریح کی کسی حد تک ضرورت بھی ہوتی ہے لیکن جب وہ تاثر تقریر یا خطبہ بننے لگے تو اس سے اس کی ادبی قدر و قیمت پر بہر حال فرق پڑتا ہے۔”جست بھر زندگی “میں یہ مسئلہ بار بار سامنے آتا ہے کہ وہ کسی تاثر یا تصور پر خاصی تفصیلی اور تشریحی گفتگو کرنے لگتے ہیں۔ممکن ہے اس کا کوئی مثبت رُخ ہو جو سر دست میرے علم میں نہیں آپایا۔اس خامی کے باوجود اس میں شک نہیں کہ بعض مقامات پر اکبر حمیدی کے تاثرات نے “اقوالِ زرّیں “کا مقام حاصل کر لیا ہے۔اس کی چند مثالیں کتاب سے پیش کرتا ہوں :

٭٭زیادہ فرمانبرداری اور صورتحال سے مرعوبیت انسان کی شخصیت کو کمزور کر دیتی ہے۔انسان فرمانبرداری وہاں کرتا ہے جہاں اس کا چارہ نہیں چلتا۔۔۔فرمانبرداری اور چیز ہے ،شکر گزاری اور بات۔فرمانبرداری میں اپنی ذات کی نفی ہے اور شکر گزاری میں اپنی ذات اور حیثیت کا اثبات”(ص ۶۱)

٭٭میرا خیال ہے خواب ہماری نیندوں کے خیال ہیں اور خیال ہماری بیداری کے خواب۔(ص۵۴)

٭٭اعتقاد کی پختگی اکثر عقل کی خامی بن جاتی ہے۔(ص۳۲۸)

مختلف اصناف میں طبع آزمائی کرنے والے ادیبوں کو عموماً دوستوں اور کر م فرماؤں سے اس قسم کی باتیں سننا پڑتی ہیں کہ اگر خود کو ایک دو اصناف تک محدود رکھتے تو زیادہ بہتر تھا۔اس سلسلے میں میرا موقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ اچھا ادیب اپنی میلانِ طبع کے باعث جن اصناف میں بھی کچھ تخلیق کرتا ہے اس کا ایک کم از کم معیار ضرور دکھائی دے گا۔اور وہ اپنے اس کم از کم معیار سے نیچے جاتا دکھائی نہیں دے گا۔اس کے بر عکس بُرا ادیب ایک ہی صنف میں جان مارتا رہے اس میں بھی وہ بُرا ہی لکھتا رہے گا۔چونکہ اکبر حمیدی بھی کئی میدانوں میں طبع آزمائی کر چکے ہیں اس لئے انہیں بھی اس اعتراض کا سامنا رہا لیکن انہوں نے اس کا بالواسطہ طور پر بہت عمدہ جواب دیا ہے۔

“ایک تخلیق کار زمین کی مانند ہے۔بنجر زمین تھور اگلتی رہتی ہیں۔بعض زمینیں کسی ایک فصل کے لئے مخصوص ہو جاتی ہیں ان میں کچھ اور نہیں اگتا۔بعض زمینیں بہت سی فصلوں کے لئے موزوں ہوتی ہیں۔اب کسان کی ہمت ہے کہ وہ کیا کیا کاشت کرتا ہے اور کون کون سی فصلیں اٹھاتا ہے۔مجھے یاد ہے ہماری تحصیل گوجرانوالہ کی زمین چاول،گندم،گنا،کپاس،مکئی،باجرہ،برسیم غرض کئی فصلوں کے لئے موزوں ہے۔۔کچھ ایسا ہی حال زرخیز ذہن تخلیق کار کا ہے ” (ص۲۴۱)

اکبر حمیدی جیسے فعال اور زرخیز تخلیق کار کی یہ خود نوشت سوانح حیات ان کی زندگی کی روداد بھی ہے اور ان کے نظریۂ زندگی اور فن کے عقبی دیاروں کو سمجھنے کے لئے ایک معاون کتاب بھی ہے۔زندگی سے بھری ہوئی یہ کتاب موت کے بارے میں کچھ نہیں کہتی صرف زندگی کی بات کرتی ہے۔ مثبت طور پر جینے کی بات کرتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

اشتہاروں بھری دیواریں

 

                سلیم آغا قزلباش

 

اکبر حمیدی کا شمار ستر کی دَہائی میں اُبھر نے والے چند اہم انشائیہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ستر کی دہائی کو صنفِ انشائیہ کے دور ثانی سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔اکبر حمیدی کا نام اس حوالے سے بھی قابلِ ذکر ہے کہ انہوں نے ایک تسلسل سے صنفِ انشائیہ میں طبع آزمائی کی ہے جب کہ دوسرے بیشتر انشائیہ نگار اس معاملے میں تسلسل کو برقرار نہیں رکھ سکے۔مزید برآں یہ کہ اکبر حمیدی کو اردو انشائیہ پڑھنے والوں کے ایک بڑے حلقے میں کافی پذیرائی بھی ملی ہے۔تعداد کے اعتبار سے بھی انہوں نے سب سے زیادہ انشائیے قلم بند کیے ہیں۔مقدار کے ساتھ ساتھ معیار کو برقرار رکھنا ایک نہایت مشکل امر ہے۔تاہم اکبر حمیدی نے اس توازن کو ایک بڑی حد تک قائم رکھا ہے۔ان کے انشائیوں کے چار مجموعے پہلے ہی شائع ہو چکے ہیں۔حال ہی میں ان کے انشائیوں کا پانچواں مجموعہ بعنوان “اشتہاروں بھری دیواریں “منصۂ شہود پر آیا ہے۔

اکبر حمیدی کے اس تازہ مجموعے کے کم و بیش تمام انشائیوں میں رجائیت کا پہلو خاصا نمایاں ہے ،یوں بھی ان کا فلسفۂ زندگی مثبت زاویۂ نظر پر استوار رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ طنزیہ لب و لہجے کی کاٹ ان کے انشائیوں میں نہ ہونے کے برابر ہے۔البتہ شگفتنِ ذات کا پہلو ان کے انشائیوں میں تازگی کی خوشبو بھر دیتا ہے۔مثبت سوچ کا زاویۂ نظر اختیار کرنے کی بنا پر وہ ہمیشہ گلاس کو آدھا بھر ا ہوا کہتے ہیں۔دوسری ایک خاص بات جو مجھے ان کے انشائیوں میں نظر آئی ہے وہ خود کلامی یا گفتگو کرنے کا انداز ہے۔صیغۂ واحد متکلم کے استعمال کی وجہ سے قاری اور لکھاری کے مابین فاصلہ کم ہو جاتا ہے۔اور قاری محسوس کرتا ہے کہ ہر بات بلاواسطہ اس پر آشکار ہو رہی ہے۔

انشائیے میں آغاز اور انجام بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ایک اچھے انشائیے کا پہلا جملہ ہی بڑا مو ثر ہوتا ہے جو قاری کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لیتا ہے۔اسی طرح انشائیے کی اختتامی سطور بھی خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ایک منجھا ہوا انشائیہ نگار ،اختتامی سطور کو اس فنی چابکدستی سے احاطہ تحریر میں لاتا ہے کہ وہ بلا شبہ Punch Lineکا درجہ حاصل کر لیتی ہیں۔اکبر حمیدی کے متعدد انشائیوں میں یہ دونوں خصوصیات دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔

فلسفیانہ موشگافی یا دانش کی باتیں سہل و سادہ پیرائے میں بیان کرنا قطعاً آسان نہیں ہوتا۔اس ضمن میں معمولی سی لغزش قلم انشائیے کو بوجھل پن سے ہمکنار کر سکتی ہے ، جس سے انشائیے کی روانی میں تعطل نمودار ہو جاتا ہے۔اکبر حمیدی کے انشائیوں میں دانائی اور حکمت کی باتوں کو اس خوبصورتی سے پیش کیا جاتا ہے کہ کہیں بھی بوجھل پن کا احساس تک نہیں ہوتا۔دوسری طرف شگفتگی کا پہلو اُن کے انشائیوں میں۔۔۔۔Read Abilityیعنی قابلِ مطالعہ ہونے کے عنصر میں اضافہ کر دیتا ہے اور اسی خاصیت کے باعث ان کے انشائیے قارئین کے ایک بڑے حلقے میں ذوق و شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔

اردو انشائیہ کے مخالفین ،یہ الزام ہمیشہ سے عائد کرتے رہے ہیں کہ اردو انشائیہ عصری مسائل پر روشنی نہیں ڈالتا۔یہ الزام سراسرمخالفین کی کج فہمی کا غماز ہے۔میرے نزدیک انشائیہ نے عصری مسائل اور عصریت کے زاویوں کو کمالِ ہنر مندی سے اُجاگر کیا ہے۔فرق صر ف اتنا ہے کہ انشائیہ بالواسطہ طریقے سے اُن مسائل کو چھوتا ہے ،کیوں کہ انشائیہ کوئی تجزیاتی رپورٹ یا اخباری کالم نہیں جو مختلف النوع مسائل اور حالاتِ حاضرہ کو معروضی انداز میں پیش کرنے تک محدود رہے۔اکبر حمیدی کے تحریر کردہ انشائیوں کا مطالعہ کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ ہم عصری مسائل کو بآسانی نشان زد کر سکتے ہیں بلکہ انشائیہ نگار کے زاویۂ نظر سے مختلف النوع مسائل کی ایک نئی حقیقت اور ماہیئت سے بھی آگاہ ہو جاتے ہیں۔

اکبر حمیدی کے انشائیوں میں دروں بینی کا پہلو بھی توجہ طلب ہے وہ مظاہر اور انسانی روابط کے خارجی پہلوؤں کی نشاندہی کرنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے مخفی مفاہیم کو گرفت میں لینے کی کاوش بھی کرتے ہیں۔

اسی لیے ان کے انشائیے ہمیں غور و فکر پر مائل کرتے ہیں۔اس سلسلے میں اکبر حمیدی اپنے اکثر انشائیوں میں۔۔۔سوال اُٹھاتے ہیں اور قارئین کو سوچنے پر آمادہ کرتے ہیں۔وہ ان سوالات کے جوابات خود مہیا کرنے کی سعی نہیں کرتے ،حالانکہ اُٹھائے گئے سوالات کے جوابات اُن کے انشائیوں کے غائر مطالعہ سے قاری از خود اخذ کر سکتا ہے۔بہر کیف دعوتِ فکر کا یہ پیرایہ ان کے انشائیوں کی معنی آفرینی میں اضافہ کر دیتا ہے۔

جس طرح تالاب میں کنکر پھینکنے سے دائرہ در دائرہ لہروں کا ایک سلسلہ نمودار ہو تا ہے جو کناروں تک پھیلتا چلا جاتا ہے۔بالکل اسی طر ح اکبر حمیدی کے انشائیوں میں سوچ کی کنکری ،دائرہ در دائرہ خیالات کو جنم دیتی ہے ،جو ایک دوسرے کو کروٹ دیتے ہوئے پھیلتے چلے جاتے ہیں۔دوسرے یہ کہ ان کے انشائیوں کا مطالعہ کرتے ہوئے لخت لخت ہونے کا احساس پیدا نہیں ہوتا۔میری رائے میں وحدتِ خیال اور وحدتِ تاثر کے پہلوؤں کو انشائیہ کی کامیابی کی واضح دلیل قرار دیا جا سکتا ہے۔اور اکبر حمیدی کے انشائیے اس کسوٹی پر پورے اترتے ہیں۔

“اشتہاروں بھری دیواریں “کے کل صفحات 106ہیں ،سالِ اشاعت 2007ءہے۔مجموعے میں شامل انشائیوں کی تعداد 21ہے۔کتاب کی کمپوزنگ معیاری ہے اور سرورق دیدۂ زیب ہے۔اسے بٹّر پبلشر اسلام آباد نے بڑے سلیقے سے شائع کیا ہے۔کتاب ملنے کا پتہ ہے :

“ہاؤس نمبر2029،سٹریٹ 32،سیکٹر آئی 10/2،اسلام آباد۔”

٭٭٭

 

 

 

 

 

چھوٹی دنیا بڑے لوگ (خاکے….اکبرحمیدی)

 

 

                ڈاکٹر سلیم آغا قزلباش

 

دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ ”خاکہ نگاری“ کی صنف بالعموم علمی و ادبی شخصیات کو قد آور یا غیرمعمولی ثابت کرنے کے لیے بروئے کار لائی جاتی ہے۔ نتیجتاً پیش کردہ شخصیت پردے کے پیچھے چلی جاتی ہے اور اس کا جبہ و عمامہ اُبھر کر سامنے آ جاتا ہے۔ یہ طریقِ کار خاکہ نویسی کی اصل روح کے منافی ہے۔ اسی طرح کسی مقبول و معروف سیاسی یا سماجی شخصیت کا خاکہ قلمبند کرنا بھی ایک دقت طلب کام ہے۔ وجہ یہ ہے کہ لوگ اس مرتبے کی شخصیت کو غیر شعور طور پر عام انسانوں جیسی ضرورتوں اور خواہشوں کا غلام یا تابع مہمل ہونا دیکھنا ہر گز نہیں چاہتے بلکہ وہ تو اُسے ہمیشہ غیر معمولی اوصاف سے مملو دیکھنے کے آرزومند ہوتے ہیں۔ لامحالہ اکثر خاکہ نویس نامور شخصیات کا خاکہ کھینچتے ہوئے مبالغہ آرائی یا مدلل مدآحی کی زد پر آ جاتے ہیں۔ اس نوع کا خاکہ لکھنا عقیدت مندی کی ذیل میں تو آ سکتا ہے مگر اعلیٰ پائے کے خاکوں میں جگہ ہر گز نہیں پا سکتا۔

درحقیقت ایک منجھا ہوا خاکہ نگار زیرطبع شخصیت کی اس طور پیش کش کرتا ہے کہ وہ اپنی جملہ ناہمواریوں اور بوالعجبیوں سمیت سامنے آ جاتی ہے۔ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ مرقع نگاری میں منفی اور مثبت دونوں پہلوﺅں کا امتزاج ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں معروضیت کے مقابلے میں موضیت کا پہلو قدرے نمایاں ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ خاکہ نگار کا ”زیرطبع“ شخصیت سے ذہنی اور جذباتی رابطہ اور تعلق یا اس کا قریبی مشاہدہ و مطالعہ بہرطور لازم ہے۔ بلکہ دیکھا جائے تو ایک معیاری خاکے میں ”جذباتی قربت“ کے پہلو بہ پہلو ”جذباتی علیحدگی“ کا ہونا بھی از بس ضروری ہے، بصورتِ دیگر خاکہ نگاری کا فریضہ صحیح معنوں میں انجام نہیں دیا جا سکتا۔ محض کتابی، اکتسابی اور شنیدہ معلومات کے بل بوتے پر کسی شخصیت کا خاکہ تحریر کرنا بے کار ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ خاکے میں پیش کردہ شخصیت کو ایک خاص حد تک ہی غیرمانوس Defamiliarبنایا جا سکتاہے۔ عدم اعتدالی کی صورت میں شخصیت حقیقت کے بجائے ایک فکشنل یعنی افسانوی کردار میں متشکل ہو جائے گی اور یہی چیز خاکہ نگاری کے فن کو زِک پہنچانے کا باعث بنے گی۔

فنِ خاکہ نویسی دراصل ایک مدھم ہوتی تصویر کے نقوش کو دوبارہ ابھارنے یا Traceکرنے کا وظیفہ ہے۔ متخیلہ کی پنسل جب مدھم ہوتے نقوش کی بازیابی کے لیے ان پر دوبارہ چلتی ہے تو دھندلایا ہوا پیکر ازسرنو نمودار ہونے لگتا ہے، مگر اس میں روغنی تصویر کی طرح رنگوں کا گاڑھا پن نہیں ہوتا بلکہ Drawingکا زاویہ ابھرتا ہے۔ شاید اسی لیے خاکہ نگاری کے لیے Drawing a Sketchکی ترکیب وضع کی گئی جو آج بھی مستعمل ہے۔ دراصل اچھا خاکہ وہی شمار ہوتا ہے جس میں مرقع نگار شخصیت کے مختلف گوشوں اور پہلوﺅں کو اس طور باہم مربوط کر دے کہ اس کی شخصیت کا ایک ڈھیلا ڈھالا سا پیکر نظروں کے سامنے آ جائے یہاں یہ پہلو بھی مدِنظررہے کہ معیاری خاکے میں پیش کی جانے والی شخضیت کے بارے میں معلومات کسی طے شدہ یا منطقی ربط و تسلسل کی لڑی میں پروئی ہوئی نہیں ہوتیں بلکہ خاکہ نویس پیش کردہ شخصیت کے بارے میں اپنے تجزیے اور جائزے کو چھوٹے چھوٹے واقعات، حادثات اور دیگر معلومات کی روشنی میں اپنے ذاتی نقطۂ نظر کی مدد سے اجاگر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان معنوں میں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ”خاکے“ میں متعدد شگاف یا Blind spotsموجود ہوتے ہیں جنہیں ہم خاکہ نگار کی اس شخصیت سے جذباتی اور ذہنی وابستگی کی وساطت سے پُر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یوں ایک شبیہ (Icon) ہمارے سامنے نمودار ہو جاتی ہے۔

خاکہ نویس اور سوانح نگار کے طریقِ کار میں ایک توجہ طلب تفاوت بھی ہے جسے مجملاً بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ سوانح نگار کا رخ عام طور خارج سے داخل کی جانب ہوتا ہے وہ یہ دیکھتا ہے کہ خارجی ماحول، حالات و واقعات اور مختلف و سانحات نے ”شخصیت کی تعمیرمیں کس نوع کا کردار ادا کیا۔ یہاں یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ ”خود نوشت سوانح نگار اپنے حالاتِ زندگی کا نقشہ کھینچتے ہوئے جب مختلف واقعات، حادثات اور سانحات کا تذکرہ کرتا ہے تو اکثر و بیشتر ”خود ترمی“ یا پھر ”خود ستائی“ میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اعتدال کا دامن چھوڑ دیتا ہے۔ اس کے برعکس خاکہ نویس کا رُخ ”داخل سے خارج“ کی جانب ہوتا ہے۔ وہ پیش کردہ شخصیت کے باطنی رنگ روپ کو سامنے لانے کی سعی کرتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے ان خارجی محرکات اور عوامل کو بھی بقدرِ ضرورت اشارةً بیان کرتا ہے جنہوں نے خاکہ میں بیان کردہ شخصیت کو بالواسطہ یا بلاواسطہ طورپر متاثر کیا تھا۔

فنِ خاکہ نگاری کے متذکرہ بالا مختصر جائزے کو ذہن میں رکھتے ہوئے جب ہم اکبرحمیدی کے تحریر شدہ خاکوں کے تازہ مجموعے ”چھوٹی دنیا بڑے لوگ“ پر نگاہ ڈالیں تو ہم بلامبالغہ اسے ایک متوازن اور پُرخلوص کوشش سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ دیہی فضا سے منسلک ایک جیسے ماحول کے پروردہ و پرداختہ لوگوں کے درمیان حدِ

فاصل قائم کرنا اور ان کے شخصی اوصاف کو اس طرح اجاگر کرنا کہ ان میں سے ہر ایک شخصیت کا خاکہ نویس سے رشتہ ناطہ پوری طرح سے سامنے آجائے ایک مشکل مرحلہ تھا جسے اکبرحمیدی نے خوبصورتی سے طے کیا ہے۔ ”چھوٹی دنیا بڑے لوگ“ کے خاکوں کے مطالعے سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ اکبرحمیدی انسانی نفسیات کے ایک زیرک نباض ہیں۔ ان خاکوں میں اکبرحمیدی کی اپنی ذات بھی جلوہ گر ہوئی ہے اور یوں ہمیں پتہ چل جاتا ہے کہ خاکوں میں پیش کردہ شخصیتوں نے اکبرحمیدی کی شخصیت کی تعمیر و تربیت میں کیا کردار ادا کیا تھا۔ ایسے لوگ جن کی زندگیاں دنیاوی آلائشوں سے غیر آلودہ ہوں ان پر قلم اٹھانا آسان نہیں ہوتا۔ مگر اکبرحمیدی نے کمال ہنرمندی سے یہ نہایت مشکل فریضہ بھی انجام دے ڈالا۔ ان کے تحریر کردہ خاکوں میں دلچسپی کا عنصر بدرجۂ اتم موجود ہے اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اکبرحمیدی کی ذات ایک ڈوری کی طرح ان شخصیات سے بندھی ہوئی ہے۔

”چھوٹی دنیا بڑے لوگ“ میں میاں جی، ماںجی، ابا جی، بے بے جی، بابو جی ، بابا جی، عظیم (خورشید بیگم) اور بھائی لیاقت احمد وہ لوگ ہیں جن کا خاکہ نگار سے خون کا رشتہ ہے۔ جبکہ دوسری طرف غلام حیدر، غلام قادر اور ڈاکٹر عبدالرشید تبسم کی شخصیات ہیں جن کے ساتھ خاکہ نگار کا ذہنی تعلق بہرحال کسی نہ کسی صورت میں موجودہے۔ اول الذکر شخصیات اکبر حمیدی کے آبائی گاؤں کی ”چھوٹی دنیا“ سے کسی نہ کسی حوالے سے جڑی ہوئی ہیں۔ مگر اپنی خوبیوں کے باعث ”بڑے لوگوں“ کے زمرے میں شامل کیے جانے کے لائق ہیں۔ ان شخصیات میں متعدد قدرِ مشترک اوصاف موجود ہیں کہ جن کے باعث وہ بعض دفعہ ایک دوسری کا پرتو معلوم ہونے لگتی ہیں۔ علاوہ ازیں اپنی راست گوئی جرأت، دلیری، حوصلہ مندی، اعلیٰ ظرفی، خدا ترسی، ایثار و محبت، اُصول پسندی اور حق گوئی ایسے اعلیٰ و ارفع انسانی اوصافی سے متصف ہونے کے باعث غیر معمولی دکھائی دینے لگتی ہیں۔ تاہم گوشت پوست کی یہ شخصیات، انسانی کمزوریوں سے یکسر تہی بھی نہیں ہیں۔ تاہم یہ کمزوریاں، خامیاں ہر گز نہیں ہیں بلکہ ان کے انسان ہونے کا بین ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ بظاہر یہ جملہ شخصیات اکبرحمیدی کو داغِ مفارقت دے گئیں، مگر اپنی اپنی شخصیت کی ایک انمٹ چھاپ اس کے دل و دماغ پر ثبت کرگئیں۔ اکبرحمیدی ان کے رخصت ہو جانے کے بعد بھی تاحال ان ہستیوں کو خود میں زندہ محسوس کرتا ہے۔ یہ ہستیاں روشن سیاروں کی طرح اس کی ذات کے مرکزہ کے گرد طواف کناں ہیں اور وہ اُن سے پھوٹنے والی روشنی سے آج بھی فیضیاب ہو رہا ہے گویا کہ اکبر حمیدی کی ان سے رُوحانی قربت آج بھی بدستور قائم ہے۔ وہ جب چاہے آنکھیں میچ کر ان کی یادوں کو ذہن کے آنگن میں بلا لیتا ہے اور پھر ان کے ساتھ کچھ لمحات بِتا کر دوبارہ تازہ دم ہو اٹھتا ہے بلکہ زندگی سے مقابلہ کرنے کی شکتی اُس کے تن من میں انگڑائیاں لینے لگتی ہے۔

اکبر حمیدی نے یہ خاکے تحریر کر کے اُن مقناطیسی ہستیوں کی فقط باز آفرینی ہی نہیں کی بلکہ اپنی ذات کو بھی ایک طرح سے از سرِ نو تخلیق کیاہے اور میرے خیال میں یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

اکبر حمیدی کی “اشتہاروں بھری دیواریں “

 

                خاور اعجاز

(ملتان)

 

کسی بھی زبان میں در آنے والی نئی اصناف کے بارے میں ناقدین کے بہت سے تحفظات ہوتے ہیں جن میں سے بعض وقت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں اور بعض اپنی شکل تبدیل کر لیتے ہیں۔ انشائیہ اگرچہ کوئی نئی صنف نہیں کہ اس کے مآ خذ سرسید احمد خان کی تحریروں تک میں موجود دکھائے گئے ہیں البتہ کچھ عرصہ پیشتر یہ صنف جس تحریک کے تحت ادبی منظر نامے پر اجاگر ہوئی ہے اس کی مثال اس سے پیشتر موجود نہیں۔کچھ معترضین نسبتاً کمزور انشائیوں کے حوالے سے اس صنف پر حرف زنی بھی کرتے رہے ہیں یہ دیکھے بغیر کہ ایسی ہی کمزوریاں دوسری اصناف میں بھی پائی جاتی ہیں اور خود اُن میں بھی ! شعرا اور ادبا محض اپنی تحریروں کی وکالت میں زمین آسمان ملاتے رہتے ہیں اور کھُلے دل سے دوسروں کی خوبیوں کا اعتراف کرنے سے گریزاں رہتے ہیں اور اکثر یہ چاہتے ہیں کہ دنیا ان جیسی ہو جائے ، انہی کی زبان بولے اور انہی کی وضع قطع اختیار کر لے۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ اپنی اپنی بولیوں پر اصرار کرنے والوں کا ایک جمگھٹا لگا رہتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہم تعصب کا شکار ہو کر بہت سے ایسے رجحانات کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں جن میں آگے چل کر کوئی بہتر رخ اختیار کر لینے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ انشائیہ اور انشائیہ کی تحریک اس کی ایک مثال کہی جا سکتی ہے جسے کئی ایک نے اپنے اپنے اکھاڑے میں کھینچنے کی کوشش کی لیکن اس نے سب کو پچھاڑ کر میدان میں اپنا جھنڈا گاڑ دیا۔

اکبر حمیدی اس صنف کے ان فدائین میں شامل ہے جنہوں نے اس کو وسیع پیمانے پر متعارف کرایا، اس کی شناخت بنائی اور اس کو اپنا جھنڈا گاڑنے میں بھرپور مدد کی۔وہ دوسروں کی طرح بم باندھ کر معترضین کی صفوں میں دہشت پھیلانے کی بجائے اپنے لفظوں کی طاقت اور اپنے ذہن کی زرخیزی سے اس صنف کو خوبصورت بنانے میں مصروف رہا اور اب یہ صنف واقعی اتنی خوبصورت ہو گئی ہے کہ مخالفین بھی اسے للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگے ہیں۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اکبر حمیدی کی یہ چال اسے انشائیہ کی جنگ کا ایک اعلیٰ جرنیل بناتی ہے جو محض اسلحے پر ہی انحصار نہیں کرتا بلکہ دماغ سے بھی کام لیتا ہے۔وہ اپنے تجربے کی لو میں بات کرتا ہے۔ اس کے ہاں زبان کا مزہ ہے۔ وہ عام باتوں سے ہی اپنی بات بنا لیتا ہے اور یہی انشائیہ نگار کا بہترین ہتھیار ہے۔اپنے انشائیے “رشتے ناطے ” میں وہ کہتا ہے کہ “مَیں نے رشتے ناطے کا دفتر نہ کھولا ہے اور نہ ہی کھولنے کا ارادہ ہے البتہ جب سے مَیں سنِ بلوغت کو پہنچا ہوں ، اس قسم کا ایک دفتر از خود میرے اندر کہیں کھل گیا ہے ” اکبر حمیدی کی اس بات سے یہ اندازہ کرنے میں ذرا بھی دقت نہیں ہوتی کہ اس کی ذات میں رشتے ناطے بنانے کی صلاحیت قدرتی اور خدا داد ہے۔یہی وہ صلاحیت ہے جو کسی بھی شخص کو اپنی ذات میں نئے معانی تلاش کرنے ، اپنے ارد گرد کو نئی نظر سے دیکھنے اور کائنات کے لا متناہی سلسلوں کو دفترِ دل سے جوڑنے میں معاون ہوتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ “ایک ہی جگہ پر، ایک ہی زمین پر بلکہ ایک ہی درخت پر دکھائی دینے والے پتوں کی کہانیاں کتنی مختلف ہیں ! (انشائیہ: دنیا کی کہانی) یہ وہ انشائی رویہ ہے جو دوسروں کو ایک ہی طرح دکھائی دینے والی چیزوں کے بطون میں چھپے اختلافات تک رسائی دیتا ہے ، انہیں ایک دوسرے سے الگ کر کے دکھاتا ہے اور ان کی ایسی جزئیات سامنے لاتا ہے جو انشائیہ نگار کی خوردبین تلے ہی نظر آتی ہیں۔یوں تو یہ کام ایک اچھا مضمون نگار بھی انجام دے سکتا ہے لیکن وہ دنیا جو انشائیہ نگار کو دکھائی دیتی ہے مضمون نگار کے بس کا روگ نہیں ہوتی سو مضمون نگار اکبر حمیدی کو جو مماثلتیں نظر آتی ہیں وہ انشائیہ نگار اکبر حمیدی کے یے اختلافات بن جاتے ہیں ” آپ اگر چاہیں تو بے شک اسے میری ایک خوبی سمجھ لیں یا میری ذہانت، آخر ایک بار ایسا سمجھ لینے میں حرج بھی کیا ہے ! جب کہ مَیں نے کئی مرتبہ آپ کو ذہین سمجھ لینے کی ذہانت کا مظاہرہ کیا ہے ” (انشائیہ: خوشیوں کی تلاش میں )

اب آپ ہی سچ بتائیں کہ دوسروں کو خوشی کی فراہمی کے لیے کوئی لکھاری ایسی ذہانت آمیز تحریر لکھنے کا ملکہ رکھ سکتا ہے سوائے ایک انشائیہ نگار کے۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ انشائیہ نگار اکبر حمیدی۔۔۔ ناقد اکبر حمیدی، مضمون نگار اکبر حمیدی اور شاعر اکبر حمیدی سے نہ صرف مختلف ہے بلکہ چالاک بھی ( آپ اسے ذہین بھی کہہ سکتے ہیں ) وہ بات کو ایسی پرت دیتا ہے کہ وہ عام ہوتے ہوئے بھی اکبر حمیدی کا اختصاص بن جاتی ہے۔اوپر دئیے گئے اکبر حمیدی کے فقروں میں آخری ” ذہانت” پر غور کیجیے اور اسے لفظ “چالاکی” سے بدل کر پڑھیے۔دیکھا ! اکبر حمیدی نے کس چالاکی سے آپ کو اپنی ذہانت کے نرغے میں لے لیا تھا !! بس یہیں انشائیہ نگار اکبر حمیدی کا قائل ہونا پڑتا ہے۔” آپ کو بھی میں ایسا ہی، اپنے سے کچھ کم ہی سہی، مگر ذہین آدمی سمجھتا ہوں ، جو تتلی کی طرح پھول سے دوستی بھی کرتی ہے اس کے رس رنگ بھی اڑاتی ہے مگر شام ہوتے اس کے ساتھ مرجھا نہیں جاتی”( انشائیہ: دوستی کی مخالفت میں )۔ یہاں وہ دوستی کی مخالفت میں اپنا اظہار کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ دوستی کا پھول مرجھا جانے کے باوجود آپ خود کو تر و تازہ رکھیں۔وہ بجلی فیل ہو جانے کو مسئلہ نہیں سمجھتا بلکہ نہ فیل ہونا اس کے لیے مسئلہ بن جاتا ہے۔دیارِ غیر میں بارش اور طوفان کے باوجود بجلی فیل نہ ہونے پر اسے غصہ آیا اور ” یہ اندیشہ بھی لاحق ہوا کہ یہ لوگ (اس کی) عادتیں خراب کر دینے کے درپے تو نہیں ہیں۔۔۔کافر کہیں کے ! “( انشائیہ: جب بجلی فیل ہو جائے ) یقین جانیں آخری تین لفظوں کا جو لطف یہاں آیا شاید آپ کو بھی پہلے کہیں اور نہ آیا ہو !!

اکبر حمیدی کا کہنا ہے کہ ایک سیدھ میں رہنے والوں کو بڑی آسانی سے شکار کیا جا سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ کسی ایک صنف کی سیدھ میں چلتے رہنے کی بجائے کئی اصناف میں آوارہ خرامی کرتا ہے۔اس آوارہ خرامی کو انشائیہ کی فضا اس لیے بھی راس آئی ہے کہ اس صنف میں آوارہ خرامی کی جتنی گنجائش موجود ہے کسی اور میں نہیں اور ویسے بھی اکبر حمیدی شکار ہونا پسند نہیں کرتا، اسے شکار کرنا بھی اچھا نہیں لگتا، وہ دوست پروری کا قائل ہے اور مجھے لگتا ہے کہ انشائیہ نگاری اس کے اِسی دام میں آئی ہوئی ہے !!!

٭٭٭

 

 

اکبر حمیدی کے انشائیے کی کہانی

 

                محمود احمد قاضی

(گوجرانوالہ)

 

ابھی حال ہی میں انشائیہ کی تازہ بہ تازہ کتاب”اشتہاروں بھری دیواریں “سامنے آئی ہے۔بقول اکبر حمیدی یہ اُس کے انشائیوں کی پانچویں کتاب ہے اور یوں اُس نے انشائیوں کی سینچری بھی مکمل کر لی ہے لیکن ساتھ ہی اُس کا کہنا ہے کہ اُس نے ہمیشہ مقدار سے زیادہ معیار پر نظر رکھی ہے۔اور میں کہتا ہوں خوب رکھی ہے کہ یہی چیز اُسے دوسروں سے ممتاز بھی کرتی ہے۔میں اس کی اس بات سے بھی اتفاق کرتا ہوں کہ کوئی بھی صنف بجائے خود بُری یا اچھی نہیں ہوتی بلکہ اگر وہ بری ہے کم تر معیار کی ہے تو بھی لکھنے والے کا ہی عجز ہو گا اور کچھ نہیں۔لیکن یہیں میں ساتھ ہی یہ کہنے کی جسارت بھی کروں گا کہ چند لوگ ایسے ضرور ہوتے ہیں جو کسی بھی صنفِ ادب کا وقار بن جاتے ہیں یا جن کی وجہ سے وہ صنفِ ادب جانی اور پہچانی جا سکتی ہے دوسری اصناف چونکہ یہاں زیرِ بحث نہیں اس لیے میں یہ بر ملا کہہ سکتا ہوں کہ خصوصاً میرے انشائیے سے لگاؤ،اُسے پسند کرنے کی وجہ محض اور محض اکبر حمیدی کا انشائیہ ہے۔کیوں کہ یہ انشائیے سے دیگر کچھ چیز بن جاتی ہے۔میں یہاں کسی الجھن کے بغیر یہ بھی کہتا چلوں کہ اکبر حمیدی جہاں ایک منجھا ہوا،مشّاق غزل گو ہے (گو کہ نقاد نے اُس کی غزل سے بے اعتنائی بھی کی ہے )وہاں وہ ایک پختہ کار اور اپنی ہی طرز کا نثر نگار بھی ہے۔اُس کا اسلوب اتنا سادہ پُرکشش اور دل موہ لینے والا ہے کہ آپ اُس کے انشائیے کے مختلف ابعاد میں اپنے shadayکا لطف اُٹھا سکتے ہیں۔وہ اپنی غزل کے بارے میں کہتا ہے۔

الفاظ توسب میری غزل کے بھی وہی ہیں

لیکن ہیں میرے زیرو زبر اور طرح کے

اور یہی “اور طرح”اُس کے ہر ہر انشائیے میں جاری وساری ہے۔یہ اُس کا زعم یا تعلّی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے ،عین سچ ہے۔

“یہ دنیا مجھے رنگارنگ کہانیوں سے بھری ہوئی خوبصورت کتاب نظر آتی ہے اس کتاب کا آغاز جس دیباچے سے ہوا تھا وہ دیباچہ بذاتِ خود ایک کہانی ہے۔”

(انشائیہ :دنیا ایک کہانی)

میں جس بات سے اکبر حمیدی کے انشائیہ کے حمایت میں آغاز کرنا چاہتا تھا وہ اکبر حمیدی نے خود ہی کہہ دی اوپر کی سطروں کو پھر سے پڑھیے۔آپ کو لگے گا کہ اکبر حمیدی نے ایک کلید ہمیں دے دی ہے کہ اُس کا انشائیہ دوسروں سے مختلف اور جدا اہمیت کا حامل کیوں ہے۔اُس کا انشائیہ ایک کہانی،بھی تو ہے۔اُس کے اندر ایک کہانی کار ازل سے چھپا بیٹھا ہے اور وہ انشائیے کے پردے کے پیچھے سے نمودار ہوتا ہے۔ اسی لیے اُس کا رنگ اور ہے ڈھنگ مختلف ہے۔وہ ذہنوں پر کاری وار نہیں کرتا بلکہ ملائمت سے وہ بات بھی کہہ ڈالتا ہے جس کو کہنے کے لیے دوسروں کو شاید بہت بھاری ہتھیاروں کی ضرورت پڑتی ہے۔

“بادشاہ تو پھر بادشاہ ہوتے ہیں۔میں اُن پاگلوں کی بات کر رہا ہوں جو جمہوریت کے نا م پر بادشاہت کرتے ہیں۔میرا خیا ل ہے کہ اس دنیا کے پاگل خانے میں صرف عام آدمی یا تخلیق کار ہی نارمل ذہن کے لوگ ہیں اور دنیا کا توازن انہی لوگوں کے باعث قائم ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اس دنیا کے بڑے پاگل خانے میں اپنا ذہنی توازن قائم رکھے ہوئے ہیں۔”(انشائیہ :دنیا ایک کہانی)

کیا اُس کے الفاظ ایک طرح کی فلاسفی اور وزڈم سے بھرے ہوئے نہیں ہیں۔یقیناً ہیں لیکن کتنے ہلکے پھلکے۔کتنے جامع اور بھلے لگنے والے ہیں ،یہاں شاعر اکبر حمیدی اور انشائیہ نگار اکبر حمیدی آپس میں معانقہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔اکبر حمیدی یقیناً اپنی زندگی کی طرح ادب میں بھی رکھ رکھاؤاور شان والا دکھائی دیتا ہے۔اُس کے پاس تمکنت تو ہے لیکن یہ محبت سے یوں لتھڑی رہتی ہے کہ بس کچھ نہ پوچھیے۔وہ تو سارا کا سارا بس رس گُلے کے شیرے جیساہے۔جو رس گُلے میں نہ ہو تو وہ بے کار ہوتا ہے۔

میں خود اکثر سوچا کر تا ہوں کہ اگر آپ کو اپنی ذات کا صحیح جلوہ دکھانا مقصود ہو توذرا اپنے خول سے باہر نکل کر دیکھئے۔ہر وقت ادیب ،شاعر ،مفکّرہی نہ بنے رہا کریں۔آپ ایک عام آدمی بھی تو ہیں۔خوشی سے گلے ملنے کے لیے تو آپ کو اونچے آدرشوں کے چبوتروں سے نیچے اُترنا ہی پڑے گا۔تبھی تو آپ حکیم الامّت ہوتے ہوئے بھی ،ایک بڑے شاعر ہوتے ہوئے بھی اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ فالودے کو فالودہ ہی کہا جاتا ہے ،آپ کہتے ہیں۔۔ ’پھلودہ‘ آپ ایسا کہہ کر بھی وہی رہیں گے جو کہ آپ ہیں لیکن ایسا کرنے سے بس ذرا خلقِ خدا کے زیادہ قریب آ جائیں گے اور یُوں آپ آسودگی کے ساتھ سانس بھی لے سکیں گے۔

کسی نے جیسے چپکے سے مجھے کہا ہو

“حمیدی صاحب ،آپ چیزیں ہمیشہ اپنی ہی قیمت پر خریدتے ہیں۔کبھی دوسرے کی قیمت پر بھی لے لیا کریں آپ کے پاس اگر اُسے دینے کے لیے پیسے ہیں تو اُس کے پاس آپ کو دینے کے لیے خوشیاں ہیں اور خوشیاں ہمیشہ پیسوں سے زیادہ قیمتی ہوتی ہیں۔”

(انشائیہ:خوشیوں کی تلاش میں )

دیکھا آپ نے اکبر حمیدی کا استادانہ فن لیکن جو کہ اُس نے بچوں جیسی سیرت کے ساتھ ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنا کر پیش کیا ہے۔اُس کی نثر ہمیشہ مجھے ہمیشہ تھرکے صحراؤں کی تپش کے درمیان ٹھنڈے پانی کا پیالہ لگی ہے اور اس ایک پیا لے پر کئی بادشاہیاں قربان کی جا سکتی ہیں۔

“تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں ضرورت سے زیادہ مہذب اور کلچرڈ ہو جاتی ہیں وہ پھر اتنی کمزور ہو جاتی ہیں کہ جلد ہی کسی دوسری خونخوار قوم کے شوقِ فتوحات جسے ’شوقِ فضول کہنا زیادہ موزوں ہے ،کی خونخواری کا شکار ہو جاتی ہیں۔”

“یہ قیمتی باتیں اختلافی بھی ہو سکتی ہیں اور آپ ان سے اختلاف کر سکتے ہیں مگر میرے ’اندر کا آدمی ‘اکثر مجھے ایسی باتیں بتاتا رہتا ہے۔”

اب دیکھئے کہ تاریخ کا شعور اُس کے لہو میں کیسے لہراتا ہے وہ یہاں مبلّغ بن کر نہیں سوچتا اور تبھی وہ اختلافی باتیں کرنے کی جرأت رکھتا ہے۔میں اُسے جانتا ہوں وہ تو ہے ہی اختلافی۔۔۔اچھائی اور برائی کے اُس کے اپنے معیارات ہیں جنہیں وہ کہنے سے ہچکچاتا نہیں۔۔۔لیکن اُس کا سچ کھردرا نہیں۔کان پھاڑ دینے والا نہیں۔۔۔ایک ہلکی سی سرگوشی کی طرح ہے۔۔۔آپ سے کچھ کہہ کے اپنے راستے کا موڑ مڑ جا نے والا۔۔۔۔آپ پر دباؤ ڈالنے والا بالکل نہیں۔۔۔وہ بُرے سے نفرت نہیں کرتا۔البتہ بہت زیادہ اچھائی بھی اُس کے نزدیک ایک

’کڑتن “جیسی ہے۔وہ جب لگے بندھے اُصولوں ،نصب العینوں اور جامع خیالات سے اختلاف کرتا ہے تو یُوں ہی نہیں کرتا بلکہ ایسا کرتے ہوئے ہمیں “قیمتی باتیں “بتاتا چلا جاتا ہے جو کہ شاید دوسروں کے نصیب میں کم ہی ہوتی ہیں۔

“کانٹا ایک بگڑا ہوا ایک بچہ ہی سہی۔مگر ہم نے اُس کی اصلاح کرنے اور اُسے معاشرے کے لیے مفید بنانے کے لیے اب تک کتنی کوشش کی ہے ؟”

“آخر ہم کب تک ’جہاں پھول وہاں کانٹا ‘کی رٹ لگا تے رہیں گے کبھی ہمیں ’جہاں کانٹا وہاں پھول ‘کے الفاظ بھی کہہ کے دیکھ لینا چاہیئے ”

(انشائیہ :پھولوں میں گھرا کانٹا)

دیکھا آپ نے یہ ہے اصل اکبر حمیدی۔۔۔اپنی ہی فوک وزڈم کے ساتھ۔۔۔خود اعتمادی کی دولت سے مالامال ایک شخص۔۔جو اپنے الفاظ بھی برتتا ہے تو ایک سخی کی طرح ناں کہ ایک شُوم کی طرح۔ اُس کی انشائی نثر ایسی ہی خوبیوں ،فکر انگیزیوں سے بھری پڑی ہے وہ ایک سچا اور کھرا فنکار ہے جو وقت کی سُولی پر چڑھتے ہوئے بھی مسکراتا ہے لیکن ظلم کے چانٹے کے سامنے کبھی بھی اپنا دوسرا گال پیش نہیں کرتا بلکہ مزاحمت کرتا ہے۔

اس کتاب میں ویسے تو سبھی انشائیے ہمیں کچھ نہ کچھ کہنے پر اکساتے ہیں۔سوچنے پر مجبور کرتے ہیں لیکن انشائیہ”اشتہاروں بھری دیواریں “اس ضمن میں اپنا فریضہ کچھ زیادہ ہی اثر انگیزی سے ادا کرتا نظر آتا ہے۔

“سچ پوچھئے تو یہ کائنات مجھے شہروں بھری دنیا نظر آتی ہے ،جس کی دیواریں ،سب دیواریں اشتہاروں سے بھری ہیں بلکہ خود انسان جہاں کہیں بھی ہے ،دیوار بن گیا ہے اور اس دیوار پر نظر یوں ، اعتقادوں ،ملکوں ،قوموں ،نسلوں ،جہتوں ،مشغلوں کے اشتہار چسپاں ہیں جو کئی طرح کے تضادات سے بھرے ہیں اصل انسان تو اِن اشتہاروں کے نیچے کہیں چھپ گیا ہے۔غائب ہو گیا ہے۔”

اُسے شاید اِسی “غائب ہو جانے والے “انسان کی تلاش ہے تبھی وہ ایک فنکار کا فریضہ ادا کرتا ہوا ہم سے براہ راست مکالمہ کرتا ہے اور یہ ایک زندہ آدمی کا زندہ آدمیوں سے مکالمہ ہے۔مُردے اُس کا موضوع نہیں ہیں۔”

٭٭٭

 

 

 

 

ٹوٹنے میں جلدی نہ کریں !

 

 

                خلیق الر حمن

(اسلام آباد)

 

اکبر حمید ی کو پہلے پہل مَیں نے حلقہ ارباب ذوق اسلام آبا د کے اجلاسوں میں دیکھا۔ سرو قد کی اِس سنجیدہ اور متین شخصیت کو ابتدا میں مَیں نے زیادہ اہمیت نہ دی۔ مگر حلقے کی تنقید ی نشستوں میں اُن کی منطقی، مدلل اور ٹھوس گفتگو حاضر ین کو قائل کر لیتی۔ عموماً ایسا ہوتا کہ پیش کی جانے والی تخلیق کے حق یا مخالفت میں ایک نقطہ نظر سا بن جاتا اور لوگ ایک ہی بات پر متفق ہو جاتے ، اور بات پر جیسے مہر تصدیق ثبت ہو جاتی ،اِس صورت حال میں اکثر اکبر حمید ی کی رائے لوگوں سے مختلف اور متضاد ہو تی۔ اس بات سے قطع نظر کہ احباب اُن کی رائے کو بھی اپنی تنقید ی گفتگو کا نشا نہ بنا لیں گے ،وہ بے دھڑک اپنے خیالات کا اظہار کر دیا کرتے۔ خاص طور پر نئے لکھنے والوں کے لئے اُن کی گفتگو میں نرم گوشہ ہوتا، اور تنقید میں بہت گنجائشیں محسوس ہوتیں۔ نوجوان لکھنے والوں کے لئے اُن کی رائے ہمیشہ مثبت اور حوصلہ مند ہوتی۔ جس پر کئی پُر جوش اور سخت گیر نقاد بہت شور مچاتے اور اِس بات کو سراسر حمایت جان کر اپنی اپنی تنقیدی کسوٹیوں کے بے رحم پیمانے لے کر چڑھ دوڑتے۔لیکن مَیں نے دیکھا کہ اکبر حمیدی اور اُن کی قبیل کے دیگر بڑے ادیب ہمیشہ نئے لکھنے والوں کو تھپکیاں دے دے کر آگے بڑنے کا حوصلہ دیتے ر ہے۔ اور اُن کے اِس حربے اور رویے نے ہمیشہ اچھے اور سنجید ہ ادب کو پروان چڑھانے اور پھلنے پھولنے میں مد د ہی دی۔ اِس بات کا اندازہ مجھے خاص طور پر اُس وقت بھی ہوا جب مَیں نے پہلے پہل حلقہ میں اپنی نظمیں تنقید کے لئے پیش کر نا شروع کیں۔ خامی خوبی سے تو کوئی لکھنے والا مبرا نہیں ، لیکن نئے لکھنے والوں کو قلم تھما کر لکھنے کا ڈھنگ بتانا اور آگے چلتے چلے جانے کا رستہ دکھانا ، کسی سچے ،ہمدرد اور نیک نیت ادیب ہی کا منصب ہو سکتا ہے۔ اور یہ بات مَیں نے اکبر حمید ی جیسے بڑے لکھنے والے لوگوں سے سیکھی اور دل میں بٹھا لی۔

رفتہ رفتہ اکبر حمید ی کے خلوص ، محبت اور دوستی نے مجھے اُن کے قریب ہونے کو موقع فراہم کیا۔ مجھے یہ بات کہنے میں خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ مَیں نے اُن کی رفاقت میں ،دوستی اور محبت کا سچا انسانی خلوص دیکھا ہے۔ مَیں نے جب اور جہاں اُن کو یاد کیا ،جب کسی کا م، یا بات کا اُن سے تقاضا کیا ، وہ ہمیشہ مجھے چشم و دل وا کیے نظر آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میرے دل میں اُن کے لئے بہت عزت ،احترام، اپنائیت اور محبت ہے۔اور مَیں اُن کی صحت ، تندرستی اور درازیِ عمر کی دُعا کیا کر تا ہوں۔

کئی بار جب مَیں زندگی کی کسی اُلجھن یا مشکل میں گرفتار ہوا، تو ذہنی کتھارسس کے لئے اکبر حمید ی کے پاس جا بیٹھا ،اور اُن کی بالواسطہ گفتگو سے حوصلہ اور ہمت لے کر واپس لوٹا۔اُن کی خود نوشت کا یہ جملہ جو کہ اُن کی بائیوگرافی کا ماٹو بھی کہا جا سکتا ہے ، کہ”ٹوٹنے میں جلد ی نہ کریں ” بار ہا میرے شعور کی پنہائیوں میں گونجتا رہا ہے۔ ذاتی زندگی کے معاملات ہوں ، دوستی یا تعلق داری کے ،یا علم و ادب کے ،اکبر حمید ی سے ہمیشہ مَیں نے رہنمائی، ہمت اور حوصلہ پایا ہے۔دل جیتنے اور محبت جتانے میں اُن کا انداز، مختلف ،انوکھا،وارفتہ اور والہانہ ہے۔ میری پہلی کتاب “کنول جھیل کا گیت ” شائع ہوئی تو مَیں نے اُنہیں اپنائیت اور محبت سے کتاب پیش کی۔ چند روز گزرے تو اکبر حمید ی کا خط موصول ہوا ، جس میں اُنہوں نے مجھے خوب خوب سراہا ا ور پیشین گوئی کی کہ ایک دن تم نظم میں بڑا نام کماؤ گے ، ستائش اور شاباشی کے علاوہ مجھ سے شاعری میں بہت سی اُمیدیں بھی وابستہ کیں۔ نئے لکھنے والے کے لئے یہ مواقع اور حوصلہ افزائی بہت معنی رکھتی ہے۔ اور مجھے اب اِس کا اندازہ ہو تا ہے کہ اکبر حمیدی ایسی مواقع کی نزاکت اور اہمیت کو بہت اچھی طرح سمجھتے اور برتتے ہیں۔ اُن کے خط سے مجھے بہت حوصلہ ملا ،اور جس طرح اعلیٰ ظرفی اور کھلے دل سے اُنہوں نے کلمات کہے ، اُس نے میرے اعتماد میں بے پناہ اضافہ کیا۔مَیں اِس معاملے میں بے حد خوش قسمت ہوں کہ مجھے ہمیشہ اپنے سینئرز کی طرف سے بہت توجہ اور حوصلہ مندی میسر آئی ،اور بہت سے بڑ ے لکھنے والوں نے میرے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کیا ہے۔ لیکن اکبر حمید ی کا مقام میرے دل میں بہت اُونچا ہے۔

مَیں دل سے یہ بات مانتا ہوں کہ اکبر حمیدی بڑے شاعر و ادیب ہونے کا ساتھ ساتھ ایک بہت اچھے انسان اور مخلص دوست بھی ہیں۔گھر داری اور اُس سے وابستہ رشتوں میں بھی وہ سراپا خلوص و محبت نظر آتے ہیں۔ رشتے داری ، دوست داری اور تعلق داری میں وہ ہمیشہ سے ہی ایک پسندیدہ شخص رہے ہیں۔ اگر چہ وہ میرے ماموں جان منشا یاد کے بھی گہرے اور پرانے دوست ہیں ، اور اب تو مجھے بھی اکبر حمیدی کے دوستوں میں شمار ہونے اور اس گنتی میں شمار ہونے کا شرف حاصل ہے ،یہ بات الگ کہ مجھے اپنے ماموں سے دوستی اور بے حد محبت کا دعویٰ بھی ہے ، اوراُن سے میری دوستی ،ماموں بھانجے جیسے خون کے رشتے ، عمروں کے تفاوت اور مخصوص احترام کے باوجود بے تکلفی سے قائم ہے۔ جس میں منشا یاد کی محبت اور ادبی قربت کا بہت عمل دخل ہے۔

میری والدہ کی بیماری ، رحلت اور اُس کے بعد کے کرب انگیز دنوں میں اکبر حمیدی نے میری بہت دلگیری کی۔ہم دونوں کے گھروں میں چند گلیوں کا ہی تو فرق تھا ، مَیں اکثر اُن کے پاس جا بیٹھتا ،اور ہم گھنٹوں باتیں کیا کرتے۔ وہ اپنی زندگی کے نشیب و فرازسے مجھے آگا ہ کرتے اور اپنے تجربات کے آئنے میں مجھے بہت کچھ بتا تے اور سمجھاتے رہتے۔ وہ اکثر کہتے کہ” ٹوٹنے میں جلد ی نہ کرو”۔ اور یہ بھی کہ “جب مشکل گھڑی آئے تو اپنی ہی ذات کی اوٹ میں ہو جانا چاہئے “اُن کا یہ شعر زندگی کی ایسی ہی اٹل حقیقتوں کو سمجھنے کے لئے کتنا موزوں ہے

کہیں بھی رہ، در و دیوار جگمگا کے رکھ

اگر چراغ ہے چھوٹا تو لَو بڑھا کے رکھ

اُن کا کہنا تھا کہ گاہے گاہے اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کا تجزیہ ضرور کرتے رہنا چاہئے ، لیکن کبھی خود کو معتوب اور کم تر نہیں سمجھناچاہیے۔اپنی ذات کی ہمت افزائی کرنا اور اپنے ساتھ دوستی کو بڑھاتے رہنا بہت ضروری ہے۔

ایسے میں تو خو د سے بھی بچھڑ جا ؤ گے اکبر

تم خود سے خفا رہتے ہو اچھا نہیں کرتے

جہاں تک اکبر حمیدی کے فن کا تعلق ہے اُس کا دائرہ کار وسیع ہے۔ ناقدین نے اُن کے فن کی تمام اصناف اور جہات پر کھُل کر رائے زنی کی ہے۔ اُن کی غزل، انشائیہ اور خاکہ نگاری نے ادب کے قدردانوں کو خوب خوب متاثر کیا ہے۔نثر میں اُن کے انشائیے اور خاکے متاثر کن ہیں ، خاص طور پر قریبی رشتہ داروں پر لکھے اُن کے خاکے قاری کے دل میں اُتر جاتے ہیں۔اِن خاکوں میں جو لگاوٹ اور اپنائیت ہے وہ پڑھنے والے کو اپنی ہی بپتا نظر آنے لگتی ہے۔ خون کے رشتوں کی اُنسیت اور خوشبو ہمیں اپنی سانسوں میں اُتر تی محسو س ہوتی ہے۔ مَیں نے یہ خاکے شوق سے بار بار پڑھے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے جملوں میں خاکہ نگار اپنے بچپن ، گزرے ایام ،گاؤں اور گھر آنگن کا حقیقی اور چمکتا ہوا نقشہ کھینچ کر رکھ دیتا ہے۔ یہ خاکے پڑھتے ہوئے ہمارے لبوں پر کبھی مسکراہٹ دوڑ جا تی ہے اور کبھی آنکھوں میں نمی سی چمک کر رہ جاتی ہے۔ اکبر حمیدی کے یہ خاکے پڑھ کر روح میں ایک اُداس سا انبساط پیدا ہو جا تا ہے۔

اُن کے انشائیے بھی اپنی طرز کے منفرد انشائیے ہیں ، نہ صرف اسلوب اور تخلیقیت کی سطح پر بلکہ موضوعاتی سطح پر بھی وہ ہمیں چونکا دیتے ہیں۔ یہ دیکھ کر کہ انشائیہ نگار کا ذہن چیزوں کی عمومیت میں کس گہرائی پر جا کر مشاہدہ کر رہا ہے ،اور وہ کسی ایک نقطے پر دائرے کی صورت ہر ہر زاویے سے نگاہ ڈالتا چلا جا تا ہے اور ہمیں محسوس ہونے لگتا ہے کہ جیسے پڑھتے ہوئے شعور میں حیرت و انبساط کی کھڑکیاں سی کھلتی چلی جا رہی ہیں۔

اکبر حمیدی ہمارے اُن چند بڑے اور سینئر لکھنے والوں میں سے ہیں ، جنہوں نے ہمیشہ حلقہ ارباب ذوق میں اپنی نگارشات پیش کی ہیں اور اُس میں کبھی تامل اور ہچکچا ہٹ کا اظہار نہیں کیا۔شاعری کے ساتھ ساتھ اُن کے خاکے ، انشائیے ، مضامین اور خود نوشت کے ابواب حلقے کے پلیٹ فارم پر تنقید کے لئے تواتر سے پیش کئے جاتے رہے ہیں ، اور اکبر حمیدی ہمیشہ خنداں پیشانی اور کشادہ دلی سے تنقید سنتے اور سخت سے سخت بات سننے اور سہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی تخلیقات میں معنویت کی تہہ داریاں پوشیدہ ہوتی ہیں۔صاف اور سیدھی بات میں بھی مفہوم اور معنی کا ایک سلیقہ اورسبھاؤ موجود رہتا ہوتا ہے۔ قریب کی بات دُور اور دُور کی بات قریب آ کر سر گوشیاں سی کر نے لگتی ہے۔ یہ ہنر اور طرز اد ا، زندگی بھر کی ادبی ریاضتوں کی ہی دین ہوا کر تی ہے ، بات اتنی سیدھی اور سہل بھی نہیں جتنا لوگ عموماً سمجھ لیتے ہیں۔

لیکن مَیں اِس بات کا بھی ہمیشہ قائل رہا ہوں کہ بڑے سے بڑا لکھنے والا بھی کبھی نہ کبھی ، کہیں نہ کہیں ٹھوکر ضرور کھا تا ہے۔ اس کی لکھت میں بھی فیزز اور پاز ضرور آتے ہیں۔ جہاں وہ اعلیٰ ادب تخلیق کر جاتا ہے وہاں اُس سے کچھ ایسی تخلیقات بھی ضرورسر زد ہوتی ہیں جن کی سطح خود اس کے اپنے ادبی معیارات کو نہیں چھو پاتیں۔ ایسا کم و بیش ہر ادیب کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور اس کا علم لکھنے والے کو خود بھی نہیں ہو پاتا۔ اس کا فیصلہ قارئین اور وقت کیا کر تے ہیں ،اور اِس بات کے امکانات تو اُس وقت اور بھی بڑھ جاتے ہیں جب لکھنے والے کے تخلیقی دھارے کی جہات پھیلی ہوئی بھی ہوں ، اور بہتے ہوئے دریا کے پاٹ دونوں اطراف سے زیادہ وسیع ہوں۔ لیکن دریا کی گہرائی کا اندازہ تو دریا میں اُترنے سے ہی ہوتا ہے۔ اس معاملے میں مَیں اکبر حمید ی کا طرف دار ہوں کہ وہ حوصلہ مند اور جی دار تخلیق کار ہیں۔ اسِ بات کے اندیشے سے کہ وہ کسی نئی صنف میں نا کامیاب بھی رہ سکتے ہیں وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹتے ، بلکہ اُنہوں نے جس صنف میں بھی طبع آزمائی کی ہے وہ اُس میں سرخرو ہوئے ہیں۔ اگر چہ تخلیق کار کسی ایک ہی صنف میں اپنا عروج حاصل کر پاتا ہے لیکن راستے تلاش کرنے کا اُسے پورا حق حاصل ہے اور لکھنے والوں میں اپنے تخلیقی سوتوں کو نئے شگافوں اور نئی سمتوں میں منتقل کر نے کا شعور اور حوصلہ ضرور ہونا چاہئے۔

اکبر حمیدی کی غزل بھی اپنی طرز کی ایک الگ پہچان رکھتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے مصرعوں میں وہ زندگی کے معاملات ، پیچیدگیوں اور اُلجھنوں کی طرف انتہائی نزاکت سے سہولت کے ساتھ اشارے کر جاتے ہیں اُن کی غزل بوجھل تشبیہوں اور گھمبیر فارسی تراکیب سے آلودہ نہیں۔ غزل میں انوکھا اور نیا طرز تکلم پیدا کرنا اکبر حمیدی کا خاصا ہے۔ عام بات چیت کا انداز اُن کے ہاں نمایاں ہے۔ مَیں نے غزل کے معاملے میں بھی اُن کے ہاں ظفر اقبال جیسی جرات مند ی دیکھی ہے۔ اِس بات سے قطع نظر کے شعر کی جمالیات یا معنیاتی سطح متاثر بھی ہو سکتی ہے وہ بے دھڑک زبان اور خیال کے انوکھے پن کو برت دیتے ہیں۔۔ جس سے بسا اوقات شعر آسمان کو چھو جا تا ہے اور کبھی بساط بھر اُڑان حاصل نہیں کر پاتا۔ مگر اکبر حمیدی کی غزل اپنے مزاج اور اپنی فضا کو قائم رکھتی ہے۔ تمام اشعار قریب قریب ایک ہی موضوع اور فضا کے آس پاس رہتے اور موڈ کو قائم رکھتے ہیں۔ غزل کے اہم شعراء کی طرح اکبر حمیدی کے بھی بہت سے اشعار خاص و عام میں مقبول ہیں اور وہ برصغیر کے چند سینئر اور خصوصی غزل گووں میں شمار ہو تے ہیں۔

کوئی بتائے اگر جانتا ہو رازِ حیات

یہ قافلے یہاں کس سلسلے میں ٹھہر ے ہیں

ہواس باختہ لوگوں کو گم شدہ نہ کہو

یہ چلتے چلتے کہیں راستے میں ٹھہر ے ہیں

کس آسمان سے گزرا ہے درد کا دریا

ستارے ٹوٹ کر آبِ رواں میں آنے لگے

خامشی جرم ہے جب منہ میں زباں ہو اکبر

کچھ نہ کہنا بھی ہے ظالم کی حمایت کرنا

کندن ہی بن کے نکلوں گا زندہ رہا اگر

اپنے لہو کی آگ میں ڈالا گیا ہوں مَیں

اپنی خود نوشت “جست بھر زندگی “میں اُنہوں نے اپنی ذات کے بہت سے معاملات ، اسرار اور بھیدوں کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ جس کے باعث مجھے اُن کی شخصیت کو سمجھنے اور جاننے کا موقع میسر آیا۔ یہ جان کر، کہ وہ لڑکپن اور نوجوانی میں ضدی اور اکھڑ رہے ہیں اور وہ کبھی بھی اُس گھی کے مصداق نہ تھے جسے سیدھی اُنگلی سے نکالا جا سکتا ہو۔ مگر ادب کی دوستی اور تربیت نے اُنہیں بچا لیا۔ اُن کا کہنا ہے کہ اگر وہ ادب تخلیق نہ کرتے تو شاید وہ اچھے انسان نہ ہوتے۔اِسی بات کے سبب میرے دل میں شعر و ادب کی توقیر دوگنی ہو گئی ہے ، کیونکہ ادب کی دُنیا میں بھی مَیں نے اکبر حمید ی جیسے خلوص و محبت اور مہر و مروت کے انسان دوست لوگ کم ہی دیکھے ہیں۔

ہر اِک طرف سے ہے منظر بہشت کا اکبر

وہ انجمن میں کئی زاویوں سے بیٹھے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

اکبر حمیدی سے گفتگو

 

                اصغرؔ عابد

(اسلام آباد)

 

سوال:ادب میں فکری تحریکوں کے حوا لے سے پوچھنا ہے کہ برِ صغیر میں اِن تحریکوں کے ہمارے ادبی موسموں پر کیا اثرات بنے ؟کچّے پکے رنگ ہمارے ذہنوں میں کیا نقش گری کر سکے ؟

جواب:بڑا ادب ہمیشہ کسی نہ کسی فکری تحریک سے وابستہ ہوتا ہے مثلاً آپ جانتے ہیں کہ غالبؔ تک تمام ادب سیکولر تحریک کے زیرِ اثر رہا۔اِس وقت تک کا ادب خواہ وہ خسروؔ ہوں۔میرؔ صاحب ہوں۔غالبؔ ہو یا میرامنؔ کی کہانیاں ہوں۔وہ سب ادب شعوری یا غیر شعوری طور پر سیکولرازم سے وابستہ تھا۔خسروؔکے محبوب نے سب چھاپ تلک چھین کر اُنہیں محض انسان کی شکل میں پسند کیا۔میرؔ صاحب قشقہ کھینچ کر دیر میں جا بیٹھے (قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھے کب کا ترکِ اسلام کیا)اسلام ترک کرنے سے مراد علامتی انداز میں مذہبی فرقہ واریت کو ترک کرنا ہے۔غالبؔ نے ’’ملّتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں‘‘ کا نعرہ لگایا۔جوش ایمان بالا نسان کی ترکیب پیش کرتے ہیں۔یہ تحریک دراصل انسان دوستی کی تحریک تھی جو برِ صغیر میں صوفیا ء کا ہمیشہ سے مسلک رہا ہے اور اس انسان دوستی کے ذریعے لاکھوں لوگوں نے ان کے حلقۂ ارادت کو قبول کر لیا تھا۔یہی انسان دوستی مذہبوں، ملّتوں سے بالا تر رہ کر برِصغیر میں ہمیشہ اردو ادب کو قوت اور کشش عطا کرتی رہی۔ادب حقیقت میں انسان کی آواز ہے اور انسان سب سے پہلے انسان ہے اور پھر اِس کے بعد وہ جو بھی ہے۔لیکن اگر وہ انسان نہیں اور آدمی سے انسان کے مرتبے تک نہیں پہنچا تب وہ کچھ بھی نہیں۔

ترقی پسندتحریک نے ’’انسان دوستی‘‘ کے اِس نظرئیے کو ترقی پسند تحریک کے نام سے اختیار کیا۔اور یہی تحریک دراصل اردو ادب کی بڑی تحریک ہے جس نے اردو ادب کے حال کو اُس کے ماضی سے منسلک اور وابستہ رکھا، انسان دوستی کے برعکس جو بھی تحریک پیش کی گئی وہ ناکام ہوئی۔آپ جانتے ہیں حسنؔ عسکری صاحب کی اسلامی

ادب کی تحریک کیوں ناکام ہو گئی؟اس لیے کہ وہ انسان کو لخت لخت کرنے کی تھی اور چونکہ تخلیقِ ادب کا کام ہمیشہ سے بہت پڑھے لکھے اور ذہین لوگوں کے پاس رہا ہے اس لیے انہوں نے اس تحریک کے ذریعے لخت لخت ہونے سے انکار کر دیا۔میں سمجھتا ہوں ادب میں بھی (Survival of the fittest)کا اُصول کار فرما ہے جو تحریک اپنے عہد سے زیادہ مربوط، موزوں اور طاقتور ثابت ہوئی ہے وہی زندہ رہی ہے اور اُس نے زندگی کا سفر طے کیا ہے۔پھر جدیدیت کی تحریک نے انسانی بطون کی طرف متوجہ کیا۔بیسویں صدی گذشتہ کئی صدیوں کی نسبت زیادہ فروغِ علم کی صدی ہے اس لیے جدیدیت بھی ایک بڑے حلقے میں مقبول ہوئی۔ترقی پسند تحریک نے انسان کے خارج پر زور دیا اور جدیدیت نے داخل پر مگر دونوں نے اپنا اپنا کردار ادا کیا۔پھر ایک درمیانی راستہ نئی جدیدیت کی تحریک کے ذریعے بنایا گیاجس میں پہلی دونوں تحریکوں کے اہم عناصر شامل کر لیے گئے۔میں سمجھتا ہوں اِس وقت شعوری یا غیر شعوری طور پر نئی جدیدیت کے تحت ادب تخلیق ہو رہا ہے۔میں ذاتی طور پر پورے آدمی کے ادب کا قائل ہوں اور اِس کا اظہار میں اس سے کئی سال پہلے خصوصاً اپنے شعری مجموعے ’’دشتِ بام و در ‘‘مطبوعہ 1996ء میں کر چکا ہوں۔غرض میں سمجھتا ہوں کہ اردو ادب کے موسم بنانے اور تبدیل کرنے میں فکری تحریکوں کا بہت بڑا حصہ رہا ہے۔مگر بنیادی طور پر انہی تحریکوں کا حصہ ہے جن کی بنیاد انسان دوستی کے وسیع المشرب نظرئیے پر استوار ہے۔اس کے علاوہ جو چھوٹی موٹی واعظانہ یا تبلیغی تحریکیں ہیں وہ دراصل ادبی تحریکیں نہیں ہیں کیونکہ ان کا تعلق انسان دوستی کے نظرئیے سے نہیں ہے بلکہ ان کے پیچھے کچھ اور مقاصد کار فرما رہے ہیں۔سو یہ کچّے پکّے رنگ ہمیشہ وقت کی بارشوں میں بہہ جاتے ہیں۔ زندگی کا سفر طے کرنا تو کجا شروع بھی نہیں کر پاتے۔

سوال:ہمارے ہاں ادب زوال پذیر ہے یا ادبی رحجانات کو نمائشی اثرات کی دیمک کھوکھلا کر گئی ہے ؟

جواب:ہمارے ہاں ادب کبھی زوال پذیر نہیں رہا۔آپ تاریخِ ادب پر نگاہ ڈال کر دیکھئے ادب کا ہر عہد بے حد با ثروت دکھائی دے گا۔خسروؔ، نظیر، میرؔ، غالبؔ، اقبالؔ، فیضؔ، کرشن چندر، بیدی، منٹو، ندیم، ناصر کاظمی اور وزیرآغا۔۔۔۔۔غرض ہر عہد میں یہ کارواں آپ کو رواں دواں ملے گا۔پھر اردو ادب نے ہر زندہ ادب کی طرح نئی تحریکوں کو خوش آمدید کہا ہے۔بیانیہ، علامت، تجرید۔۔۔اصناف کے طور پر نئی نظم، انشائیہ، نثری نظم، ہائیکو، ماہیا، یہ کامیاب صنفی تحریکیں ہیں جنہوں نے پوری قوت سے اردو ادب میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ابھی اور تحریکیں بھی مثلاً ماہیا زور آزمائی میں مصروف ہیں۔اردو ادب کے ہمیشہ زندہ رہنے کی وجہ اِس کے تخلیق کار ہیں اور ہ تخلیق کار ہر عہد میں آپ کو روشن ستاروں کی طرح دکھائی دیں گے۔ضرورت اِس بات کی ہے کہ ادب کے بہترین حصّے کو نظر میں رکھا جائے جس طرح سپورٹس میں بہترین کارکردگی کو ریفر کیا جاتا ہے۔جہاں تک ادب پر نمائشی اثرات کا تعلق ہے تو یہ معمول کی کاروائی ہے۔ادب لکھنا پکّے لنگوٹ والوں کا کام ہے۔میرا تجربہ ہے کہ اچھا جملہ ہو یا اچھا شعر ہو تو سو پردوں میں بھی ہو گا تو سامنے آئے گا۔ہاں بعض اوقات ہمارے جیسے نا انصاف معاشرے میں تھوڑی تاخیر ہو جا تی ہے اور نمائشی اثرات کچھ دیر کے لیے غالب نظر آتے رہتے ہیں مگر نمائشی اثرات تو کچّے رنگ ہیں۔یہ میک اَپ تو پانی کے دو ہی چھینٹوں سے غائب ہو جاتا ہے۔سو اِک ذرا صبر کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں۔طاقتور رجحانات اور انسان سے۔۔۔ پورے انسان سے۔۔۔وابستہ ادب کو ہی زندہ رہنا ہے۔البتہ ضرورت اِس بات کی بھی ہے کہ پرنٹ میڈیا اور سکرین میڈیا فروغِ ادب کے لیے کام کرے اور ذاتی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر اپنے فرائض اد ا کرے کہ میڈیا کا اس عہد پر بلا شبہ بہت اثر ہے۔

سوال:ادب اور صحافت کہاں ایک ہو سکتے ہیں ؟ہمارے سماجی رویوں نے ادب و صحافت کے منصبی تقدس کو کس حد تک مجروح یا مفتوح کیا ہے ؟

جواب:ادب اور صحافت ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔اور اِسی میں ادب کی زندگی ہے۔ایک زمانہ تھا کہ ہمارے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں فارسی زبان وادب کا غلبہ تھا اور چونکہ اِس وقت تک ہمارے ادب پر بھی فارسی شعرو ادب کا غلبہ تھا اس لیے ہماری نئی نسلیں ادب کے مرصّع اسلوب اور دبیز اندازِ اظہار کو بخوبی سمجھ سکتی تھیں۔خود شاعروں، ادیبوں پر اس اندازِ اظہار کا غلبہ رہا۔اقبالؔ، ن۔م۔ راشد،میرا جیؔ،مجید امجدؔ،اختر حسین جعفری(شاعروں پر زیادہ تر۔۔۔۔اور افسانہ نگاروں پر کم تر)اسی فارسیت کے زیرِ اثر رہے۔مگر پھر فارسی ہمارے تعلیمی اداروں سے غائب کر دی گئی۔عربی سے رشتہ جڑا، یا جوڑنے کی کوشش کی گئی مگر وہ کلچر ہمارے مزاجوں سے خاصہ مختلف تھا اس لیے اظہارو بیان کو متاثر نہ کر سکاجس طرح فارسی اسلوب نے متاثر کیا تھا۔پھر انگریزی زبان و ادب کے سیدھے سچّے صحافت سے قریب اسلوب کا زمانہ آ گیا۔یہ ایک الگ بحث ہے کہ ہمارے فارسیّت زدہ ادب کا نئی نسلوں کے حوالے سے کیا مستقبل ہو گا؟کیا ہماری آج کی نسل اقبال کو۔راشد کو۔میراؔ جی کو سمجھ پائے گی؟فی الحال اس سے بحث نہیں لیکن اردو ادب نے اظہار کے نئے تقاضوں کو بڑا خندہ پیشانی سے قبول کر لیا۔۔۔انگریزی اندازِ بیان کی طرح اردو میں آج گہری سے گہری بات کو آسان زبان میں کہہ دیا جاتا ہے اور یہی صحافت کا عوامی انداز ہے۔میں اِسے صحت مند رجحان کہوں گاجس سے ادب صحافت سے قریب آتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔آج سبھی اردو روزناموں نے ادبی صفحات شائع کرنا شروع کر رکھے ہیں۔گویا خود صحافت بھی ادب کی طرف بازو اٹھائے ہوئے ہے۔اردو ادب و صحافت کا ایک واضح سنگم دکھائی دینے لگا ہے۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ صحافت نے ادب کے ذریعے سے اپنی مقبولیت میں اضافہ کر لیا ہے اور دوسرے انداز سے دیکھا جائے تو صحافت نے ادب کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے۔پھر یہ بھی کہ صحافت نے ادب کوظہار کے عوامی پیرائے کی طرف متوجہ کیا ہے ، فکری سطح پر ادب اپنی ادبی شان کو بحال رکھے ہوئے ہے کیونکہ آج کا ادب آسان انداز میں مشکل بات کہنے کا فن ہے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ ادب نے محض اپنے پیرہن کو ہلکا پھلکا کیا ہے تاکہ آج کے تیز رفتار سفر کو جاری رکھ سکے اور اجنبی دکھائی نہ دے۔ہمارے سماجی رویّے دوسرے شعبوں کی نسبت ادب کے شعبے میں نسبتاً بہتر ہیں۔ایک پسماندہ معاشرے سے اس سے بہتر رویّوں کی توقع فی الحال بے جا ہے۔ہمارے اس قسم کے سماجی رویّوں نے منصبی تقدس کو مجروح تو کیا ہے مگر مفتوح نہیں کیا۔ادبی کتابوں پر اور ادبی کام پر آج بھی غیر مستحق لوگوں کو ایوارڈ دئیے جا رہے ہیں کیونکہ ان کی لابی طاقتور ہے اور با اثر ہے۔پچھلے بیس برسوں کے ایوارڈ یافتہ ناموں کی فہرست دیکھنے سے بعض نام بار بار نظر آئیں گے۔آخر کیوں؟کیا ان کے علاوہ اور لوگوں نے معیاری ادب نہیں لکھا؟بعض نام دیکھ کر آپ ویسے ہی حیران ہو جائیں گے کہ ان کا سرے سے کوئی قابل ذکر کام ہی نہیں۔تاہم بہت سے غیر مستحق لوگوں میں دو تین مستحق نام بھی نظر آنے لگے ہیں۔میرے خیال میں پرائڈ آف پرفارمنس صرف ایک بار دیا جانا چاہئے۔اور کسی مصنف کو ایک ہی صنف کی کتاب پر دو بار ایوارڈ دس سال سے پہلے نہیں دیا جانا چاہئے۔سکرین میڈیا پر جس طرح چند لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے یہ اہلِ اختیار کے لیے سوچنے کی بات ہے۔بہرحال ایسے سماجی رویّوں کی نشاندہی تسلسل سے ہونی چاہئے۔اور ان کے خلاف لکھا جانا چاہیئے۔جنگل میں راستہ بنانے کے لیے وقت بھی چاہیئے اور مسلسل جدوجہد بھی۔میرے خیال میں پرنٹ میڈیا کا رویّہ قدرے بہتر ہے اور ابھی مزید بہتر ہونا چاہیئے۔

سوال: کتاب ہمارے ہاں بے حیثیت شے بن گئی ہے اور صاحبِ کتاب بے قیمت فرد معاشرہ۔اگر نہیں تو پھر کیا صورت ہے ؟

جواب:نہیں جی کتاب بھی بے حیثیت شے نہیں بنی ہے اور صاحبِ کتاب بھی بے قیمت فردِمعاشرہ نہیں ہے۔۔۔آپ خود سوچئے جس معاشرے میں لوگوں کو روٹی کے لالے پڑے ہوں۔سامنے دنیا بھر کے خوانِ نعمت بچھے ہوں اور وہاں سے اپنی پسند کے دو لقمے بھی اُٹھا نہ سکیں تب کتاب کہاں سے خریدیں اور کس وقت بیٹھ کر پڑھیں۔لوگوں کو ذرا سی معا شی سہولتیں دیجیے۔تھوڑی سی فراغت عطا کیجئے تب آپ دیکھیں گے ان کے ہاتھ سب سے پہلے کتاب کی طرف بڑھیں گے۔قاری ہمارا بہت قابلِ رحم ہے۔ہم اُسے روٹی تک تو دیتے نہیں اور اُس سے تقاضہ کرتے ہیں کہ کتاب خریدے۔پھر بھی اس دور میں کتاب بہت چھپ رہی ہے اور پڑھی جا رہی ہے۔میں نے لوگوں کے دلوں میں کتاب کی محبت یہاں تک دیکھی ہے کہ بے تعلق اور معمولی سے تعلق والے لوگ بھی مصنّف سے کتاب مانگ لیتے ہیں۔اس لیے کہ وہ پڑھنا چاہتے ہیں۔یہ درست ہے کہ ان کے پاس خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔مصنّف سے کوئی ایسا زیادہ تعلق بھی نہیں ہے مگر سبک سر ہو کر ہی سہی، کتاب کی محبت میں وہ پھر بھی کتاب مانگنے لگتے ہیں۔ لائبریریاں کتابوں سے اور قارئین سے بھری نظر آئیں گی۔یہی کتاب کی اور صاحبِ کتاب کی وقعت ہے۔ہاں ناشروں کے مسائل الگ ہیں اور وہ مصنّفوں کا استحصال کر رہے ہیں۔نیشنل بک فاؤنڈیشن اور اکادمی ادبیات کو اس سلسلے میں قانون سازی کر کے مصنّفین کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہئیں۔

سوال:آپ صاحبِ قلم بن گئے صاحبِ سیف کیوں نہ بنے یا کوئی دوسرا میدان کیوں نہ چنا؟

جواب: اصغر عابد میں آپ کو یہ راز بتا دوں کہ خدا کا شکر ہے کہ میں صاحبِ قلم بن گیا۔اگر میں صاحبِ قلم نہ ہوتا تو صاحبِ سیف ہوتا اور بہت بری طرح کا صاحبِ سیف ہوتا یعنی قاتل۔خونی۔ظالم۔سنگدل۔میں جاٹوں کے اُس قبیلے سے تعلق رکھتا ہوں جس کے لوگ بُٹر کہلاتے ہیں اور قتل و غارت گری کے لیے مشہور ہیں۔میرے بچپن اور نوجوانی تک میرے گاؤں کا ماحول(جب میں گاؤں میں رہتا تھا )بہت پر امن اور پرسکون تھا۔میرے قبیلے کے دوسرے دیہاتوں میں رہنے والے لوگ ہمارے ہاں آتے اور ہمیں طعنے دیتے کہ تم کیسے بُٹر ہو کہ سال میں پانچ سات بندے بھی نہیں مارتے۔ہم تو جب تک دس بیس بندے نہ پھڑکا لیں ہمارا گزارہ ہی نہیں ہوتا، میرے گاؤں کے لوگوں نے بہرحال اس پرامن ماحول کو بحال رکھا۔مگر اب میرے گاؤں میں چار پانچ قتل ہونے معمول بن گیا ہے اس لیے میں نے گاؤں جانا چھوڑ دیا ہے۔سال میں ایک دو بار بڑی مشکل سے اور مجبوری سے جاتا ہوں ورنہ اب گاؤں جانے کو میرا جی نہیں چاہتا ویسے بھی میں نے اپنے شیطان سے دوستی کر لی ہے۔اس نے کہا تھا ’’اکبر حمیدی تم رحمان نہ بننا میں شیطان نہیں رہتا ‘‘میں نے کہا ’’تم انسان بن جاؤ میں بھی انسان رہوں گا‘‘اس معاہدے پر ہم دونوں بڑی شرافت سے عمل کر رہے ہیں۔رہی دوسرا میدان چننے کی بات تو مجھے پروفیسر کہلوانا اچھا لگتا تھا سو میں نے اس خواہش کے لیے باقاعدہ ایگزیکٹو کی ملازمت سے انکار کیا اور اس قربانی کے باعث خداوند کریم نے میری خواہش کو پورا کر دیا۔اب بھی یقین جانئے میں صرف اتنے ذرائع چاہتا ہوں جن سے میں اور

میرے بچے عزت و آبرو سے زندگی بسر کر سکیں۔اگر کبھی اس سے زیادہ ملا تو میں انکار کر دوں گا۔مجھ میں انکار کی طاقت اور حوصلہ ہے۔

سوال:آپ نے شعر کہے۔خاص طور پر غزل اور وہ بھی زیادہ تر چھوٹی بحر میں۔اس کی خاص وجہ یعنی کیا منصوبہ بندی کے تحت ایسا ہوا ؟

جواب:میں غزل شروع سے کہہ رہا ہوں اور اب نظم بھی۔میں ان کاموں میں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کا قائل ہوں مثلاً نئی نظم کا فارمیٹ اور اسلوب غزل سے بہت مختلف ہے۔گو میں نے نظمیں بھی کہیں اور وہ چھپیں بھی مگر ابھی میں نظم کے آہنگ سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کر رہا ہوں اور پوری طرح نہیں ہو پایا کیونکہ غزل فا رمیٹ کے اعتبار سے زیادہ بہت روایتی ہے اور نئی نظم اپنی وسعت کے اعتبار سے زیادہ بھیدوں بھری ہے اور میں اس کے بھید بھاؤ جاننے میں لگا ہوں۔غزل میں چھوٹی بحر مجھے زیادہ پسند ہے اور لمبی بحر میں لکھنے سے مجھے الجھن ہوتی ہے۔اگرچہ لمبی بحروں میں اوروں نے اچّھی اچّھی غزلیں بھی کہی ہیں مگر یہ بحریں میرے مزاج سے ہم آہنگ نہیں اس لیے چھوٹی بحر زیادہ اختیار کی گئی مگر یہ نیچرل ہوا۔کوشش سے نہیں۔باقی ادبی کاموں میں میری منصوبہ بندی کا دخل ضرور ہے کہ میں سوچ سمجھ کر کام کرنے والا آدمی ہوں مگر چھوٹی بحر خود ہی میرے ہاں زیادہ شامل ہوئی۔چھوٹی بحر یں یا میڈیم بحریں میرے لیے سہولت کا باعث بنتی ہیں اور میں اپنی توجہ اوزان کے معرکے سر کرنے کی بجائے بات کہنے پر مبذول رکھتا ہوں۔ہمارے ہاں بعض حضرات تو محض اوزان کی شاعری کر رہے ہیں، یعنی نئے نئے غیر مانوس اوزان میں غزلیں کہہ کر وہ اس سے شعر کا نیا پن ظاہر کرنا چاہتے ہیں اور سادہ قاری اسے شعر کا نیا پن سمجھنے بھی لگتا ہے۔چھوٹی بحر تیز تیر کی طرح ہوتی ہے۔اس کے تاثر کو الفاظ تیز کرتے ہیں کیونکہ ان کی تعداد کم ہوتی۔لمبی بحروں میں الفاظ کا ہجوم ہوتا ہے اور تخلیق کار کی ذرا سی کم مشقی سے یا کم فہمی سے یہ ہجوم تاثیر کا راستہ روک کر کھڑا ہو جاتا ہے۔الفاظ کو راستے سے ہٹانا۔ان سے کام لینا۔ان کی چھانٹی کرنا۔انہیں بولانا اور انہیں نچانا ایک بہت طاقتور شاعری کا کام ہے۔بعض شاعر ساری زندگی لغت کی شاعری کرتے رہتے ہیں۔اور خوشامدیوں یا غرض مندوں کی واہ واہ کے باعث وہ زندگی بھر یہ سمجھ نہیں پاتے کہ ان کے ساتھ الفاظ کیا کھیل کھیل رہے ہیں۔لفظ تو ایک جن ہے اسے فہم وفراست اور فن کے منتر سے ہی کِیلا جا سکتا ہے ورنہ وہ ساری عمر سر پر سوار رہتا ہے اور شاعر کو نچاتا رہتا ہے۔لفظ کو سر سے اتارنا، اسے قابو میں لانا، اور اس سے کام لینا تین بڑے مرحلے ہیں۔اور انہیں سر کرنے کے لیے بہت طاقت بھی چاہئے اور سمجھ بھی۔فن میں لفظ دوست بھی ہے اور دشمن بھی، جب وہ اظہارِ بیگانگی کرنے لگے۔

سوال:نثر میں آپ نے انشائیے لکھے۔۔۔۔سرگودھا کے مزاج کے،۔۔آپ نے تنقید بھی لکھی۔۔۔۔اب خاکوں کا مجموعہ آیا۔۔۔۔بچّوں کی کہانیاں بھی شائع ہو گئیں۔۔۔اور سب سے بڑھ کر خود نوشت سوانح نگاری۔۔۔ذرا تفصیل بتائیے ؟

جواب:میں نے انشائیے لکھے۔۔۔۔مگر جناب سرگودھا کے مزاج کے نہیں۔۔۔اپنے مزاج کے۔ہر شخص کا ایک مزاج ہوتا ہے اور ہونا چاہیے۔ہاں میں نے انشائیہ لکھنے کے لیے ڈاکٹر وزیر آغاسے رہنمائی حاصل کی اور اب بھی حاصل کر رہا ہوں۔انشائیہ کو سمجھنے میں اور لکھنے میں یعنی اس کے پیٹرن میں مَیں نے اُن سے بہت کچھ سیکھاتاہم انشائیہ لکھا، اپنے مزاج اور اپنے خیالات و افکار کے مطابق۔اس میں نئے نئے تجربات بھی کیے۔میں نے انتہائی دُکھ بھرے اسلوب میں بھی انشائیہ لکھا جیسے ’’میں سوچتا ہوں ‘‘تاریخی انشائیہ بھی لکھا جیسے ’’نظام سقّہ‘‘فلسفیانہ، نفسیاتی، کیفیاتی انشائیے بھی لکھے۔خالص نظریاتی انشائیہ بھی لکھا اور اب ایک انشائیہ مکالماتی انداز میں لکھا ’’ٹیلیفون کال‘‘ یہ ایک مسلسل مکالمہ ہے۔یوں میں نے انشائیہ کے متن میں بھی اور متن سے باہر بھی تجربے کیے۔انشائیے میں میرے چار مجموعے شائع ہوئے ہیں۔خاکے بھی لکھے۔کچھ میرے خاندان کے لوگوں کے ہیں اور کچھ شاعر ادیب دوستوں کے۔بچّوں کے لیے کہانیاں فرصت کے دنوں میں لکھیں۔یہ کہانیاں ’’عقلمند بچّوں کی کہانیاں‘‘ کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوئیں۔نیشنل بُک فاؤنڈیشن آف پاکستان کی طر ف سے ان کہانیوں پر ایوارڈ بھی دیا گیا۔اب خود نوشت سوانح حیات’’جست بھر زندگی‘‘ شائع ہوئی ہے۔یہ قدرے بڑی کتاب ہے سوا تین سو صفحات سے کچھ زیادہ۔اس کا بہت زور دار رسپانس آ رہا ہے اور یہ کتاب تیزی سے فروخت بھی ہو رہی ہے۔اب تو ختم ہونے والی ہے۔کچھ ہی کاپیاں میرے پاس ہیں جو میں نے اپنی ضرورت کے لیے رکھی ہیں۔دو ماہ میں یہ ایڈیشن تقریباً ختم ہو گیا ہے۔شروع میں زیادہ اصناف میں لکھنے پر بعض لوگ خفا ہو رہے تھے مگر ان کی گفتگو میں بشاشت کا اظہار ہوتا ہے۔اور یہ اس لیے کہ میری سب تحریروں نے قارئین میں اعتماد حاصل کر لیا ہے۔میں خود بھی اپنی تحریروں سے مطمئن ہوں۔زیادہ اصناف میں لکھنا میری ضرورت ہے۔ایک صنف میری اظہاری ضرورتوں کو پورا نہیں کر پاتی۔میرے پاس زندگی کے متنوع تجربے ہیں اور رنگا رنگ سوچیں ہیں۔میں ایک کمرے کے گھر میں رہائش نہیں رکھ سکتا۔مجھے سب طرح کے کمروں والا گھر چاہئے سومیں اسے تعمیر کر رہا ہوں۔خاصا تعمیر ہو گیا ہے اور میں اپنی رہائش اس بڑے گھر میں لے آیا ہوں۔گذشتہ ایک ڈیڑھ سال میں خاکوں کا مجموعہ ’’چھوٹی دنیا بڑے لوگ‘‘ شائع ہوا۔بچّوں کے لیے کہانیاں چھپیں۔انشائی مجموعے ’’جھاڑیاں اور جگنو‘‘ اور ’’پہاڑ مجھے بلاتا ہے ‘‘شائع ہوا۔کئی ایک مضامین وغیرہ لکھے۔خود نوشت شائع ہوئی۔غزلیں، نظمیں اور ہائیکو بھی لکھے۔

سوال:زندگی کے بارے میں آپ کیا کہیں گے۔خاص طور پر عمرانی تہذیب کے پسِ منظر میں ؟

جواب: زندگی تیز رفتار گھوڑے کی سواری ہے اور یہاں ہر لمحے پاؤں رکاب میں جمائے رکھنے کی ضرورت ہے۔ہمارے ہاں زندگی جنگل کا سفر ہو گئی ہے اور اس سفر میں مسافر کو ہر جھاڑی پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔زندگی ایڈجسٹ منٹ ہے جو جتنی اچھّی ایڈجسٹ منٹ کر سکے گا اتنا ہی کامیاب رہے گا۔جس طرح مَیں ایک وقت میں بہت سی اصنافِ ادب میں لکھ رہا ہوں اسی طرح میں ایک وقت میں بہت سی باتیں سوچ سکتا ہوں۔بہت سے کام کر سکنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔بہت سی سمتوں میں بیک وقت دیکھ سکتا ہوں۔میرے ذہن کی، میری ذات کی بہت سی پرتیں ہیں۔ہر پرت میں میرا ایک دفتر ہے۔اور میں ہر دفتر میں بیٹھا کام کرتا نظر آؤں گا۔

دوسروں کی طرح مجھے بھی زندگی کے مسائل پیش آئے ہیں اور پیش آ رہے ہیں۔شاید بہت سے لوگوں سے زیادہ۔مگر میں نے عام لوگوں سے بڑھ کر ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔خدا کا شکر ہے کہ میری زندگی نے ہمیشہ مجھے راستہ دیا ہے اور میں اپنے آپ کو ایک کامیاب اور مطمئن آدمی سمجھ سکتا ہوں۔میں نے ہمیشہ دوسروں سے مل کر رہنا چاہا ہے۔مگر اپنی پسند کے لوگوں سے۔زندگی ضائع کرنے کے لیے نہیں ملی اور میں اپنے شیشے پتھروں پررکھنے کا قائل نہیں ہوں۔میں انسان دوست،روشن خیال،سیکولر،نرم دل،محبت کرنے والا بے ضررانسان ہوں۔ہیومن ازم اور انہی باتوں نے میری زندگی کو کامیاب بنایا ہے۔مگر اس قسم کا فرماں بردار نہیں جو ہر حالت میں وفا داری نبھائے چلا جائے۔میں با وفا ہوں۔وفادار نہیں۔دوستیاں کبھی ترک نہیں کرتا۔بشرطیکہ کوئی دوست مجھے اُٹھا کر بحرِ الکاہل میں نہ پھینک دے۔میرے خیال میں یہی زندگی کے صحت مند اور متوازن روّیے ہیں۔میں نے دوستی کی قیمت پر یا عزتِ نفس کی قیمت پر کبھی کوئی چیز نہیں خریدی۔مجھے خوشی ہے کہ میری انہی اخلاقی قدروں کو میرے دوستوں اور عزیزوں نے ہمیشہ پسند کیا ہے۔

سوال:ادیب اور معاشرہ۔۔۔۔۔۔پرانا سوال ہے۔۔۔۔مگر آ پ کی رائے کیا بنتی ہے ؟

جواب:ادیب معاشرے کا سب سے زیادہ ذمہ دار فرد ہوتا ہے جو ساری زندگی اپنے معاشرے کی خدمت کے لیے بسر کرتا ہے۔جو ہر ظالم،منافق،غیر ہموار زمانے میں اپنے لوگوں کے لیے آواز اُٹھاتا ہے۔جب سیاست دان ملک و قوم کے نام پر، مذہبی آدمی اللہ، رسولﷺ کے نام پر،تاجر حب الوطنی کے نام پراستحصال کر رہا ہوتا ہے تب ایک ادیب ہی تو ہوتا ہے جو ایسی سماجی نا انصافیوں کے خلاف اپنے معاشرے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا ہے اور وقت کے صفحے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتا ہے۔ادیب کا احتجاج ہمارے معاشرے میں اس طرح کا نہیں ہوتا ہے جس طرح یورپ کے بعض ممالک میں، تاہم میں اپنے خصوصی معاشرتی ماحول میں ادیبوں کا عملی سیاست میں حصہ لینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہر خراب زمانے میں ادب نے ہی صحت مند اپوزیشن کا کردار ادا کیا ہے۔میں نے ایک غزل میں کہا تھا۔

غزل تو قائدِ حزبِ مخالف ہی رہی اکبرؔ

ہمارے عہد میں کیوں وقت کا فرمان ہو جاتی

سوال:جدید نظم کا کیا مستقبل ہے ؟

جواب: جدید نظم کا مستقبل شاندار ہے۔جس نظم کو میرا ؔجی، مجید امجدؔ، ن۔م۔راشدؔ، وزیرآغاجیسے شاعر ملے ہوں اس کی خوش بختی کا کیا ٹھکانہ ہے۔میں جدید نظم کا بہت قائل ہوں۔غزل کے مخالفین نے مجھے نظم مخالف سمجھ رکھا ہے۔میں کسی صنف کی مخالفت کو ایک فضول بات سمجھتا ہوں۔میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ نئی نظم کے نئے شاعر اسے ابلاغ و اظہار کی دھند سے باہر نکالیں تاکہ وہ غزل کی طرح اپنا حلقہ وسیع کر سکے۔میں نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی اختلافی بات ہے ، کیا وہ نہیں چاہتے کہ ان کی بات سمجھ میں آئے۔جدید نظم کی نسبت مجھے نثری نظم(یہی نام زیادہ معروف ہے )زیادہ پر کشش نظر آتی ہے۔اپنے عروضی سقم کے باوجود نثری نظم بہت طاقتور میڈیم ہے۔خصوصاً کشور ناہید اور سلیم آغا قزلباش کی نثری نظمیں دل و دماغ میں اتر جانی والی ہیں۔جدید نظم کو غزل سے نہیں کہ یہ دونوں بالکل الگ الگ میڈیم ہیں۔حقیقت میں نثری نظم سے خطرہ ہے۔اگر نثری نظم کو کشور ناہید اور سلیم آغا قزلباش کے پائے کے دو چار شاعر بھی اور مل گئے تب جدید نظم میں اور نثری نظم میں زندگی موت کا رَن پڑے گا۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جب میں جدید نظم کے شاعروں کو اظہار و ابلاغ کے مسائل کی طرف متوجہ کرتا ہوں تو وہ برا مانتے ہیں خصوصاً سیتہ پال آنند صاحب تو اتنے جذباتی ہو جاتے ہیں کہ غزل پر فائر کھول دیتے ہیں۔اب انہیں کون سمجھائے کہ حضور یہ فائر خود آپ کو ہی لگ رہا ہے۔غزل کے کیا کیا مخالفین آئے اور چلے گئے۔ترقی پسند تحریک اور جدیدیت جنہیں متحارب تحریکیں سمجھا جاتا ہے۔غزل کی مخالفت میں متحد تھیں۔آلِ احمد سرورؔاور جوشؔ صاحب نے غزل کی مخالفت کر کے وقت ضائع کیا۔مگر غزل ہر عہد میں آگے ہی بڑھتی رہی۔اقبال نظم کے بہت بڑے شاعر ہیں مگر اپنی وسعتِ خیال کے اظہار کے لیے انہیں غزل کو اختیار کرنا پڑا۔سچّی بات یہ کہ نظم کے بڑے شاعر اتنے بڑے شاعر نہیں ہیں جتنے بڑے غزل کے بڑے شاعر ہیں۔مگر میرا موقف یہ ہے کہ ہمارے عہد میں جدید نظم اور غزل اپنے مزاج اور ذائقے کے اعتبار سے بہت مختلف ہیں۔ان کی آپس میں کوئی مخالفت نہیں اور نہ ہی کوئی ایک دوسری کی جگہ لے سکتی ہے۔تسلسلِ خیال کے لیے جو لطف نظم میں ہے وہ غزلِ مسلسل میں نہیں آسکتا۔اور متنوّع مضامین اور تیزیِ طبع اور دھماکہ خیزی اور وسعتِ فکر کے لحاظ سے جو متاع غزل کو حاصل ہے۔وہ نظم کو حاصل نہیں ہوسکتا۔نظم ایک عالمی میڈیم ہے اور غزل میں مقامیت زیادہ ہے اور یہ خصوصیات اچھّی ہیں۔ان میں کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں۔عالمی مواصلات کے لیے مقامی مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی مقامی مسائل کے لیے عالمی معاملات سے چشم پوشی کی جا سکتی ہے۔سو جدید نظم بہت نفیس، بہت پرُلطف میڈیم ہے جو وقت کی ضرورت ہے۔

سوال:غزل پر جو حملے ہو رہے ہیں کیا غزل واقعی ختم ہو رہی ہے ؟

جواب:غزل پر ہمیشہ نظم نگاروں نے ، نقادوں نے ، متعدد ادبی تحریکوں نے حملے کیے مگر غزل نے خود ہی اپنا دفاع کیا۔نقادوں نے بہت کم دفاع کیا اور تحریکیں تو ہمیشہ غزل کو گردن زدنی قرار دیتی رہیں۔غزل ہو یا کوئی بھی اور صنفِ اظہار، جب تک اس میں اعلیٰ درجے کے تخلیق کار آتے رہیں گے۔اسے کوئی مار نہیں سکتا اور غزل سدا بہار صنفِ سخن ہے۔ہاں غزل اپنی کشش کے باعث بہت زیادہ لکھی جا رہی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اچھّے لوگوں سے ہر سال غزل کا انتخاب شائع کروایا جائے۔اکادمی ادبیات نے یہ سلسلہ شروع کیا تھا مگر ان کے کروائے ہوئے اکثر انتخاب اچھّے نہیں ہوئے کیوں کہ اکادمی والے سفارشی لوگوں سے اور ذاتی مراسم والے لوگوں سے یہ کام کرواتے ہیں۔اسے بہتر اور غیر جانبدار لوگوں سے کروانے کی ضرورت ہے۔

سوال:دبستانِ سرگودھا ہمیشہ سخت تنقید کا نشانہ بنتا رہا؟کیا واقعی؟

جواب:ڈاکٹر وزیر آغا اور ان کے دوستوں سے یہاں ہمیشہ نا انصافی ہوئی ہے۔یہ لوگ ہمیشہ حزبِ مخالف سمجھے گئے۔ادب کے حزبِ اقتدار نے ہمیشہ ان کی کردار کشی کی ہے اور انہیں پروپیگنڈے اور اپنے اثر ورسوخ کے ذریعے ہمیشہ معتوب ومحروم رکھا۔اس کی ایک وجہ ڈاکٹر وزیر آغا صاحب کی ادبی سیاست سے کنارہ کشی ہے۔اگر وہ چاہیں تو احمد ندیم قاسمیؔ کی طرح ادبی سیاست میں فعال کردار اد ا کر سکتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں ان کی گوشہ گیری خود ان کے لیے اور ان کے دوستوں کے لیے بعید نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔

سوال:لکھنے والے کی فکر اور اس کی اپنی شخصیّت یا کردار ؟کیا یہ دونوں ایک ہونا ضروری ہیں ؟یا کوئی اور صورت بھی ہوسکتی ہے ؟

جواب:اصغر عابدؔ صاحب !لکھنے والے کی فکر اور اس کی شخصیّت یا کردار ہوتے ہی ایک ہیں۔لکھنے والے کی تحریریں ہی اس کی شخصیّت اور کردار ہیں۔وہ دنیا کے سامنے کسی خارجی دباؤ یا ترغیب کے لیے جھوٹ بول سکتا ہے مگر اپنی تحریر میں جھوٹ نہیں بول سکتا۔اگر آپ کسی لکھنے والے کو جاننا چاہتے ہیں تو اس کی تحریریں دیکھیں۔وہ اپنے تخلیقی گھر میں اصل حالت میں دکھائی دے گا۔لکھنے والے کا سماجی کردار ہمارے جیسے معاشرے میں اس کے اصل کردارسے مختلف ہو سکتا ہے۔یہ اس کی مجبوری ہے۔اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو خارجی جابرانہ قوّتوں کے ہاتھوں زندہ نہیں بچّے گا۔غالبؔ نے خارجی ماحول کے خلاف کردار اختیار کیا اور زندگی بھر قرضوں، جیلوں، نفرتوں، محرومیوں، دشمنیوں کا نشانہ بنا رہا۔منٹو سب کی نظروں کے سامنے بیچ لاہور کسمپرسی کی موت مرا۔مجید امجدؔ بے یار ومدد گار موت کا لقمہ بنا۔شکیب جلالی ؔکی خود کشی ابھی کل کی بات ہے۔سو میں سمجھتا ہوں لکھنے والے کو کوئی انفرادی سیاسی کردار ادا نہیں کرنا چاہئے۔ہمارا معاشرہ یورپ اور دوسرے ترقی یافتہ معاشروں سے بہت مختلف ہے۔ایسے کرداروں کو منفی کہہ کر جان سے مار دیا جاتا ہے۔ہمارے معاشرے میں ولّن بہت طاقتور ہے اوراس وِلّن نے کئی طرح کی نیک نامیوں اور پاک دامانیوں کے لباس پہن رکھے ہیں۔اس لیے ایک کھرے ادیب کو صرف کھرا ادب ہی تخلیق کرنا چاہئے جو ذات سے کائنات تک پھیلا ہوا ہو مگر ادب پوسٹر نہ بنے۔اپنی تخلیقی شان بحال رکھے اور زندہ رہے۔ادب کا اپنا الگ طرح کا کھرا پن ہے۔سڑک پر کھڑے ہو کر گالیاں دینا اس کا منصب نہیں۔اس نے اپنی تخلیق کا نشتر استعمال کرنا ہے۔اس طرح کہ معاشرے کو گندے خون سے پاک کر دے۔تاہم ادیب کا کھرا پن ایک عام آدمی کے کھرے پن سے بہت مختلف ہے۔

سوال:اوہ!۔۔۔اکبر حمیدی ؔ صاحب، آپ کی ابتدائی، وسطی اور اب موجودہ زندگی کے بارے میں تو پوچھا نہیں اب تک؟

جواب: 1978ءتک میں گاؤں فیروز والہ اور شہر گوجرانوالہ میں رہا۔1979ء میں اسلام آباد آنا شروع کیا اور 1980ءمیں پورے کا پورا یہاں آ گیا1989ء میں اور 2000ء میں لندن میں باقاعدہ ایک ماہ رہائش رکھی۔اب مستقل رہائش اسلام آباد میں ہے۔بہت سے خار زاروں، سبزہ زاروں اور گلزاروں میں سے گذرا ہوں مگر اب جو سوچتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ میں زندگی کا توانائیوں بھرا حصّہ اور دن کا بیشتر وقت صحرا سے شہر پہنچنے کے راستے میں بسر کر کے شہر اس وقت پہنچا ہوں جب شام تو نہیں مگر شام سے ذرا پہلے کا وقت ہے۔مجھے دوپہر تک تو شہر پہنچ جانا چاہئیے تھا۔تب میں شاید شہر کی رونقوں سے زیادہ لطف اندوز ہوسکتا۔کبھی میں نے شعر کہا تھا غزل میں۔

نہ پہنچے تو بھی اکبرؔ دُکھ نہ ہو گا

کہ ہم صحرا کے رستے جا رہے ہیں

سوال:احمد ندیم قاسمیؔ کی خوبیاں تو بتائیے اور یہیں ڈاکٹر وزیر آغا کی خامیوں کی بھی نشاندہی کر دیجئے ؟

جواب: (مسکراتے ہوئے )اچّھے بچّے ایسی باتیں نہیں کرتے اور آپ اچھّے بچّے ہیں۔میں دونوں شخصّیتوں کا معترف ہوں اور اُن سے جونئیر ہوں۔وہ ادب کے بڑے لوگ ہیں۔

سوال:پنجابی میں آپ نے صرف شعر میں اظہار کیا؟کیوں؟

جواب: میں چاہتا تھا کہ پنجابی میں ایسی غزل کہوں جو پنجاب کے کلچر کی نمائندگی کرے۔میرے خیال میں پنجابی میں اردو غزل لکھی جا رہی ہے اور اس میں پنجابی کی بجائے اردو غزل کا کلچر ہے۔میری غزل کا مجموعہ ’’بکّی غزل پنجاب ‘‘چھپا جو خالص پنجابی غزل ہے۔اس کے دیباچے میں میری طرف سے کچھ ایسی سخن گسترانہ باتیں آ گئی ہیں جو پنجابی شاعروں، ادیبوں کو اچھّی نہیں لگیں اس لیے کوئی میری کتاب کا ذکر کرنے پر تیار نہیں۔’’بکّی غزل پنجاب‘‘ کی غزل توجہ طلب ہے۔پنجابی میں نثر لکھنے کی توفیق نہیں ملی۔وقت بھی نہیں ملا۔

سوال:علاقائی ادب و زبان کی تہذیبی وقعت اور لوک دانش کے خصوصی حوالوں سے اس ادب کی فکری وسعتوں کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ؟

جواب:علاقائی ادب کے سال بہ سال انتخاب شائع ہونے چاہئیں۔اکادمی کے رسالے ’’ادبیات ‘‘ کے معیار کے علاقائی ادبی رسالے شائع ہونے چاہئیں۔پنجابی اور خصوصاً پشتو زبان وادب تہذیبی اور بالخصو ص لوک دانش کے معاملے میں بہت با ثروت ہیں۔پشتو ضرب الامثال تھوڑی سی ترجمہ ہوئی ہیں جو لوک حکمت و دانش کا بہت قیمتی سرمایہ ہیں۔ایسے ہی تراجم سندھی، بلوچی اور پنجابی ضرب الامثال کے ہونے چاہئیں۔

سوال:وہ باتیں کیجیے جو پوچھی نہیں جا سکیں ؟

جواب:آپ وہ باتیں جان جائیے جو کہی نہیں جا سکیں!۔۔۔۔ہاں،اردو ماہیا کا ذکر نہیں ہوا۔میں سمجھتا ہوں اردو ماہیا کی خوش بختی ہے کہ اسے حیدر قریشی جیسا طاقتور تخلیق کار اور مستعد محرک ملاجس نے اردو ماہئے کو ایک تحریک کی شکل میں تبدیل کر دیا۔حیدر قریشی نے اعلیٰ درجے کا ماہیا بھی لکھا اور تنقیدی اور تحقیقی سطح پر بھی ایک تاریخی کردار ادا کیا جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔یہ پکّی سیاہی سے لکھا گیا ہے اب اس صنف کو اچھّے شاعروں کی ضرورت ہے۔

٭٭٭

 

 

 

                منشا یاد(اسلام آباد)

جھاڑیاں اور جگنو

 

اکبر حمیدی شاعر اور خاکہ نگار کے طور پر بھی اپنی تخلیقی صلاحیت اور حیثیت منوا چکے ہیں اور انشائیہ نگاری میں بھی وہ صف اول کے ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے انشائیوں کے دو مجموعے ’’جزیرے کا سفر‘‘ اور ’’تتلی کے تعاقب میں‘‘ شائع ہو چکے ہیں اور ادبی پارکھوں سے تحسین پا چکے ہیں۔ ’’جھاڑیاں اور جگنو‘‘ ان کا تیسرا مجموعہ ہے۔

اکبر حمیدی انشائیے کی فنی اور تکنیکی ضرورتوں اور اس کے مزاج سے بخوبی آگاہ ہیں۔ میرے خیال میں ایک عمدہ انشائیے کی اولین خوبی یا ضرورت اس کی عمدہ نثر ہے۔ انشائیہ نگار محض کسی خیال یا بات کا سادہ زبان میں اظہار و بیان نہیں کرتا اسے ادبی نفاست اور تخلیقی خوشبو بھی عطا کرتا ہے اور جس طرح سمندر قطروں سے مل کر سمندر بنتا ہے اسی طرح کوئی فن پارہ لفظوں اور جملوں سے وجود میں آتا ہے۔ اس لیے بنیادی طور پر انشائیہ نگار کو شاعر اور افسانہ نگار کی طرح لفظوں کے بہترین استعمال کا سلیقہ ہونا چاہیے اور انشائیہ تو ایک بھی ڈھیلے ڈھالے جملے بلکہ کسی ایک لفظ کے بے محل استعمال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ذرا سی کوتاہی غفلت یا تن آسانی مخمل میں ٹاٹ کا پیوند ثابت ہو سکتی ہے۔ اکبر حمیدی لفظ آشنا ہے اور خوبصورت تخلیقی جملہ لکھنے پر قادر۔ چنانچہ اس کی نثر زندہ رواں دواں اور تکلف و تصنع سے پاک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے انشائیے دل میں اترتے اور اس کے جملے قلب و نظر کو روشن کرتے چلے جاتے ہیں۔ کوئی سا بھی موضوع ہو اس کی نثر کہیں سپاٹ یا بے رنگ نہیں ہونے پاتی۔ اپنی ادبی اور تخلیقی شان برقرار رکھتی ہے۔ ضرورت اور موقع کے مطابق وہ بیانیہ، علامتی یا استعاراتی تمثیلی لہجہ اور اسلوب اختیار کر لیتے ہیں جیسے ’’نئی اور پرانی گاڑیاں‘‘ میں وہ جسم کو گاڑی قرار دے کر زندگی اور اس کے پیچ در پیچ سارے سفر کی کوتا گاڑی ہی کے حوالے یا استعارے میں بیان کرتے چلے جاتے ہیں جس سے تحریر میں دلکشی اور دوہری معنویت پیدا ہو جاتی ہے۔

’’خاندان، معاشرے ، ملک اور قومیں بھی ایسی گاڑیاں ہیں جو لمحہ بہ لمحہ حالِ دل بیان کر رہی ہیں۔ پڑھے لکھے معاشروں کے لوگ ان کی زبان سمجھ لیتے ہیں اور حادثہ پیش آنے سے قبل ہی گاڑی کے نقائص دور کر لیتے ہیں جب کہ ان پڑھ اور نیم خواندہ لوگ اس زبان کو نہ سمجھ سکنے کے باعث حادثوں کے شکار ہو جاتے ہیں۔‘‘

اسی طرح اونچی ناک، باورچی خانہ، جامن کا پیڑ اور ریلوے پھاٹک محض سامنے کی چیزیں نہیں رہتیں۔ اپنے لغوی معنی سے اوپر اٹھ کر تمثیل اور علامت کا روپ دھار لیتی ہیں اور وسیع تر معنی اور مفاہیم کا احاطہ کر لیتی ہیں۔ ناک شخصی اور قومی تفاخر، حمیت اور خودی و خود داری کے دروبست کھولتی چلی جاتی ہے اور باورچی خانہ زندگی کی رنگا رنگ اشیائے خورد و نوش کے حوالے سے تفہیم کراتا ہے۔

’’زندگی بھی مجھے ایک ایسا ہی باورچی خانہ دکھائی دیتی ہے۔ ’’جامن کا پیڑ‘‘ جو مصنف کے گھر کے صحن میں موجود ہے اور پھل نہیں دیتا ہے۔ اس کو کاٹ دینے کی بحث ہو رہی ہے۔ دیکھیے مصنف ہمیں کس نتیجے پر لے جاتا ہے۔

’’کیا پھل صرف وہی ہو سکتا ہے جس سے ہم پیٹ بھر سکیں؟ کیا اس کے سرسبز و شاداب پتے پھل نہیں ہیں؟۔ کیا اس کا خنک سایہ پھل نہیں ہے ؟ کیا دل میں پھول کھلانے والی خوشبو پھل نہیں ہے اور کیا وہ حسن و زیبائش پھل نہیں ہے جو جامن کا پیڑ ہمیں فراوانی سے دے رہا ہے۔‘‘

’’ریلوے پھاٹک‘‘ اکبر حمیدی کے بہترین انشائیوں میں شمار ہوتا ہے۔ مصنف کو بچپن میں جب وہ گاؤں میں رہتا تھا کئی میل دُور واقع ریلوے پھاٹک پر جا کر ریل گاڑی دیکھنے کا شوق تھا۔ پھاٹک کے اس پار شہر کی چمڑہ منڈی تھی جس کی بدبو دُور تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس طرف گندم یا چاول کی لہلہاتی فصلیں، اکا دُکا آہستہ خرام بیل گاڑیاں اور پرندوں کی چہکار۔ پھاٹک کے اس پار دھُول اُڑاتا شور مچاتا شہر۔ ریل گاڑی جس کی بھرپور نمائندگی کرتی ہے۔ یہ دیہاتی بچہ صرف اسے گزرتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔ اس میں سوار ہونے یا شہر میں داخل ہونے کی خواہش نہیں رکھتا۔ ریلوے پھاٹ دراصل دو تہذیبوں کا سنگم ہے۔ پہلی اسے عزیز ہے کہ وہ خوداس کا حصہ ہے اور اسے فطرت کے قریب تر محسوس کرتا ہے۔ دوسری تہذیب کا تعلق شہر صنعت اور مشین سے ہے جسے وہ دیکھنا ضرور چاہتا ہے مگر اس کا حصہ بننا پسند نہیں کرتا اور اب کہ اسے شہر میں رہتے کئی برس گزر گئے ہیں تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ:۔

’’جیسے اب بھی میں شہر سے ادھر ریلوے پھاٹک پر کھڑا ہوں دھُول اڑاتی دوڑتی دھاڑتی گاڑیاں میری آنکھوں میں کنکر مٹی اُچھالتی میرے سامنے سے گزرتی چلی جا رہی ہیں۔ سارا منظر وہی ہے۔ سب کچھ وہی۔ بس اتنا سا فرق ہے کہ اب یہ گاڑیاں میرے اندر سے گزر رہی ہیں اور ریلوے پھاٹک میرے باہر ہے ‘‘۔

دراصل پھاٹک کے اس طرف یا اُس طرف ہونا دو رویے ہیں۔ اور اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ اب پھاٹک کس طرف ہے …………اصل مسئلہ تو رویے کا ہے آپ ادھر رہ کر بھی فطرت کو اپنے قریب محسوس کر سکتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں انشائیے میں عنوانات افسانے کے برعکس زیادہ اہمیت نہیں رکھتے اگر رکھتے بھی ہیں تو اکبر حمیدی کے انشائیوں میں ان کی حیثیت اور اہمیت ثانوی ہے۔ عنوان یا موضوع تو دراصل بات شروع کرنے کا بہانہ ہے۔ اور باتوں کا ان کے پاس انبوہ ہے۔ مگر اکبر حمیدی کو اس انبوہ سے کام کی باتیں چن کر ایک فن پارے کے روپ میں پیش کرنے کا سلیقہ آتا ہے۔

اکبر حمیدی کے انشائیے دراصل اس کی اپنی باتیں ہیں جو اس پر گزریں، اس نے سنیں، سہیں، سوچیں یا اسے سوجھیں۔ یہ اس کی اپنی باتیں ہیں مگر ایسی کہ پڑھنے والے کو بھی اپنی لگیں۔ میٹھی رسیلی باتیں۔ بات سے بات نکلتی ہے۔ مگر نکلتی ہی نہیں چلی جاتی ہے۔ مضمون نگاری کے برعکس جس میں ہر پہلو اور مخفی گوشے کو کھنگالا اور اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے کسی لطیف نکتے کی دریافت کے ساتھ ہی اپنا چھوٹا سا تخلیقی دائرہ مکمل کر لیتی اور ختم ہو جاتی ہے۔

’’دراصل انسانی ذہن کے لیے توازن ایک ایسی بیماری ہے جو کبھی اسے غیر معمولی درجے تک نہیں بیٹھنے دیتی۔ غیر معمولی مقام پر تو ایسے ذہن فائز ہوتے ہیں جو توازن کی بیماری کا شکار نہیں ہوتے بلکہ عدم توازن کا جوہر دکھاتے ہوئے بہت غیر معمولی باتیں سوچتے ہیں۔ غیر معمولی خیالات تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ معمولی ذہنوں کو یہ باتیں بہت عجیب لگتی ہیں حالانکہ عجیب تو وہ ذہن ہیں جو ساری زندگی کوئی عجیب بات نہیں سوچ سکتے۔ ’’روشنی کا غبارہ‘‘ یا اس قسم کے معقولوں ایسے خوبصورت جملے جن سے اس کے انشائیے لبالب ہیں۔ بیک وقت دماغ کے ساتھ ساتھ دل کو بھی موہ لیتے ہیں اور یادداشت کا حصہ بن جاتے ہیں۔

’’ماضی توماں کی طرح ہوتا ہے جب چاہیں اس کی آغوش میں سر رکھ کر سو جائیں۔‘‘

’’جتنے ڈالر کا بارو عراق پر گرایا گیا تھا اگر امریکہ اتنے ڈالر عراق کو نقد دے دیتا تو وہ کویت پر قبضہ بڑی خوشی سے چھوڑ دیتا۔‘‘

’’رفاقت کہیں نہ کہیں ختم ہو جاتی ہے باقی سفر تو اکیلے ہی طے کرنا پڑتا ہے۔ خواہ کتنا بڑا ہجوم ہمراہ ہو۔‘‘

’’باتوں کو سوچنا اور سوچتے رہنا اکثر مفید ثابت ہوتا ہے۔‘‘

’’خدا نے مجھے انسان پیدا کیا تھا اور میرا خیال ہے واپسی پر وہ مجھ سے صرف یہی پوچھے گا کہ میں انسان رہا ہوں کہ نہیں۔‘‘

’’سورج بنانے والے نے سورج کا دیا اپنی حیثیت کے مطابق بنایا ہے کہ جتنا بڑا وہ خود ہے اتنا ہی بڑا اس کا گھر اور دیا۔‘‘

’’میرا خیال ہے ہر دس سال بعد فرد کی زندگی کا منظر نامہ تبدیل ہو جاتا ہے۔‘‘

’’ترجیح تو باسکٹ بال کی گیند ہے جو ہمیں اس لیے دی جاتی ہے کہ ہم اسے آگے دوسروں کی طرف بڑھا دیں۔ گیند کو اپنے ہاتھوں میں روکے رکھنا فاؤل ہے۔‘‘

’’جھاڑیاں میرا ماضی ہیں۔ جگنو مستقبل اور حال میں خود ہوں۔‘‘

اکبر حمیدی خیر اور حُسن کا سفیر ہے۔ کوئی شخص ایسی زندگی کا تصور نہیں کر سکتا جس میں اول سے آخر تک خیر ہی خیر ہو لیکن برے یا برا محسوس ہونے والے لوگوں، رویوں اور خیالات سے دل برداشتہ ہونے اور خود کو اذیت و کوفت میں مبتلا کرنا کسی طرح صحت مند رویہ نہیں۔ چنانچہ اکبر حمیدی منفی باتوں اور رویوں کے مثبت پہلو دریافت کرتا اور انہیں اور زندگی کو قابل برداشت بنانے کی سعی کرتا ہے۔

’’خدا کے فضل سے میں ایک بگڑا ہوا بچہ ہوں…………یہ بگڑا ہوا بچہ ہر انسان کے اندر موجود ہوتا ہے مگر اکثر پسماندہ معاشروں اور پابند تہذیبوں میں خوف ترغیب تعلیم تہذیب تربیت اور اخلاقی قدروں کے بے پناہ دباؤ کے ذریعے اس بچے کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ تب معاشرہ خود غرض اور منافق کرداروں تلے دب جاتا ہے اور ننگا بادشاہ شہر بھر سے اپنی جامہ زیبی کی داد وصول کرتا رہتا ہے۔

اکبر حمیدی کا اسلوب دوستانہ ہے اس کی سوچ روشن اور سائنٹیفک ہے۔ اس کا مشاہدہ لسبیط اور تجربہ شہری اور دیہی زندگی پر محیط ہے۔ پڑھتے ہوئے ذہن میں کھلبلی سی مچی رہتی ہے۔ اس کا نظریۂ حیات زندگی کو ارفع سطح پر دیکھنے کی آرزومندی ہے۔ اس نے ہرقسم کے خیالات کے لیے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ یادوں کے حوالے سے ساری یادوں کو اندر آنے دیتے ہیں وہ الگ بات ہے بعض کو کرسی بعض کو کھری چارپائی اور بعض کو صوفے پر بٹھاتے ہیں۔ان کے پہلے دو مجموعوں میں بھی ایسے انشائیے فراوانی سے شامل تھے جن کو ہم پرنسپل ایسے کہتے ہیں۔ زیرنظر مجموعے میں ان کی تعداد اور زیادہ ہے۔ یعنی ایسے انشائیے جن کا مواد یا خمیر اپنی ذاتی زندگی اور احوال سے لیا گیا ہے۔ یوں زندگی کے معاملات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ مصنف کی سوانح کے بارے میں بھی دلچسپ اور مفید معلومات فراہم ہوتی جاتی ہیں۔

موضوعات کی رنگا رنگی اور تنوع اظہار و اسلوب کی دلکشی، نکتہ آفرینی، بصیرت افروزی اور گہری معنویت اور سب سے بڑھ کر زیریں سطح پر شگفتگی اکبر حمیدی کے انشائیوں کو کامیاب اور بڑا بناتی ہیں اور انہیں ایک معقول اور صف اول کا انشائیہ نگار اگر آپ خوردو نوش کی لطافتوں سے آگاہ ہیں تو آپ نے یقیناً روح کیوڑہ کی خوشبو سے مہکتا، برف کی کرچیوں کا قلفے کی ملائی میں گھلا ملا، شیرینی میں ڈوبا دودھیا سطح پر تیرتی تخم ملنگاں والا فالودہ ضرور کھایا یا پیا ہو گا۔ نازکی دیکھیے کہ کھانے کی چیز ہے جسے پی بھی سکتے ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی فالودہ بنتے بھی دیکھا ہے۔ میں نے ایک بار دیکھا تھا۔ چاولوں کے آٹے کی گاڑھی گاڑھی پی کو ایک چھلنی سے گزار کر ٹھنڈے پانی کے مٹکے میں ڈالتے جاتے تھے اور بھدے گرم قوام سے لمبی لمبی اجلی اور نرم نرم سویاں بنتی اور تہہ نشین ہوتی جاتی تھیں۔ مجھے اکبر حمیدی کی انشائیہ نگاری فالودہ بننے کے عمل اور اس کا مطالعہ فالودہ نوش کرنے کے مصداق لگتے ہیں۔ وہ زندگی معاشرت مشاہدہ تحریر علم فلسفہ سائنس اور آرٹ کو ملا کر ایک قوام تیار کرتے ہیں۔ پھر اس ملغوبے کو فن کی چھلنی سے گزارتے اور ادب کے مٹکے میں ڈال دیتے ہیں۔ پڑھتے وقت آپ کو فالودہ پینے کی لذات اور شیرینی کا احساس ہوتا اور روح کیوڑہ کی مہک آتی رہتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

اکبر حمیدی کا فن

 

                خلیق الرحمن

اکبر حمیدی کا شمار ایسے فنکاروں میں ہوتا ہے ، جنہوں نے اپنی فکریات کو کئی شیڈز اور سمتیں دی ہیں۔ وہ عصر حاضر کے ایک اہم با شعور شاعر، متحرک ذہن انشائیہ نگار اور صاحب اسلوب خاکہ نگار ہیں۔ ان کے فنی رموز کو جانچنے اور پرکھنے کے لیے ابھی تک جو کاوشیں ہوئی ہیں، انھیں کتابی صورت میں یکجا کرنے کا سہرا رفیق سندیلوی کے سر ہے۔ یہ مضامین جو بعنوان ’اکبر حمیدی کا فن ‘ کی صورت میں مرتب ہو کر سامنے آئے ہیں، اکبر حمیدی کی شخصیت اور فن کو پرکھنے کا ایک متین اور سنجیدہ موقع فراہم کرتے کہیں۔ (۳۹) مضامین پر مشتمل یہ کتاب اکبر حمیدی کی شاعری اور نثری اصناف کے حوالے سے ترتیب دی گئی ہے ، جن میں ہمارے عہد کے معزز اور ممتاز ترین ناقد اور فنکار شامل ہیں۔ اہم نوعیت کے نکات اور ادبی و علمی بحثوں کے متعلقات پر بھی آراء سامنے آئی ہیں۔ ادب کے سنجیدہ قاری کے لیے یہ کتاب ایک اہم تنقیدی اضافہ قرار دی جا سکتی ہے۔

اکبر حمیدی کی زندگی مسلسل محنت، ریاضت اور جستجو سے عبارت ہے، انھوں نے ایک متوسط درجے کے گھرانے میں آنکھ کھولی، لیکن زندگی کے سفر میں انھوں نے ہمیشہ اگلی منزلوں اور کامیابیوں پر نگاہ رکھی، قدم قدم چلتے رہے اور با لآخر اس مقام تک پہنچے، جہاں ان کی ہمتوں اور تخلیقی کاوشوں کی تشفی بھی ممکن ہوئی اور فنکارانہ انا کی تسکین بھی۔ زندگی کے مادی مسائل میں عام آدمی کی طرح جائز طریقوں اور راستوں کا انتخاب کیا اور اپنی طے شدہ منزلوں کے ہدف تک پہنچے۔ ہر چند زندگی کے ان راستوں میں محنت، لگن اور جستجو انہیں مزید کامرانیوں اور آسودگیوں سے ہمکنار بھی کر سکتی تھی، مگر وہ اپنے (نظریہ اکتفا ) کے تحت خود ہی معاشی، تعلیمی اور سماجی زندگی کی حدوں میں رہے اور دوسروں کی نظر میں رہے جو ابھی کم تھا، اسے بہت جانا۔ انسانی خواہشات اور مادی وسائل میں کم اور زیادہ کی توجیہہ یوں بھی آج تک ممکن نہیں ہو سکی۔

اکبر حمیدی کی زندگی مسلسل تگ و دو سے عبارت ہے، انھوں نے اپنے خاندانی معاملات اور مشکلات کے حوالے سے در حقیقت اہم کامیابیاں حاصل کیں اور اپنے بے حد محدود وسائل میں رہتے ہوئے کامیابی سے زندگی کا سفر طے کیا ، گاؤں سے گوجرانوالہ شہر اور گوجرانوالہ سے اسلام آباد تک کا سفر ان کی زندگی میں سنگ میل کی حیثیت اختیار کر گیا، جہاں انھوں نے نہ صرف اپنی کاوشوں سے اہل خانہ کی زندگیوں میں اہم اور مثبت تبدیلی پیدا کی، بلکہ اپنے لیے بھی پر وقار اور قابل احترام مقام پیدا کیا۔ ادبی اور فنی سطح پر انھوں نے خلوص، نیک نیتی، دل جمعی اور مستقل مزاجی کو اپنائے رکھا۔

اکبر حمیدی کے فنی سفر پر نگاہ ڈالیں تو ان کا فن ارتقائی منازل طے کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ نظم سے نثر کی طرف آتے ہوئے انھوں نے اپنے بہت سے ہمعصروں کے مقابل زیادہ جرات اور بے باکی کا مظاہرہ کیا ہے اور ہمہ جہت اصناف کو اپنا کر اپنی تخلیقی جہتوں اور وسعتوں کے جہاں تلاش کیے اور آباد کیے ہیں۔ بعض نے اپنے مزاج کی احتیاط پسندی یا پھر ناکامی کے امکان کے خوف سے خود کو محض ایک آدھ صنف سخن تک محدود رکھا لیکن اکبر حمیدی نے اردو اور پنجابی شاعری کے علاوہ انشائیہ نگاری، خاکہ نگاری، نظم ، ہائیکواور سوانح عمری تک ادبی اصنا ف میں خود کو پھیلایا ہے۔ اس بے باک رویے میں انھیں زیادہ کامیابی ہی حاصل ہوئی ہے۔ اور شاعری کی صنف میں اپنے عصر کے جدید غزل گو شعراء میں اکبر حمیدی کی آواز بھی سرخرو ہوئی ہے۔ انشائیے اور خاکہ نگاری میں انھوں نے ایک الگ اسلوب اور مزاج تشکیل دیا ہے۔ اور اپنے انداز کے طرز احساس کی پہچان بنائی ہے۔

اکبر حمیدی کا کہنا ہے کہ میں یک صنفی فنکار نہیں ہوں بلکہ اس معاملے میں میں غالب کا طرفدار ہوں۔ میں نے اپنے تخلیقی امکانات میں نئی جہات اور مقام تلاش کئے ہیں۔ یہ شعر شاید ان کے اسی احساس کا آئینہ دار ہے۔

نہ چلے گی ہواؤں کی سازش

چارجانب سے آ رہا ہوں میں

اکبر حمیدی کے تمام ناقدین نے انھیں ایک روشن خیال، انسان دوست اور وطن پرست فنکار قرار دیا ہے ،ایک ایسا فنکار جو نامساعد اور نا موافق حالات میں بھی عزم و ہمت سے آگے بڑھنے اور مشکلات کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ ان کے اس عزم اور سوچ کا اظہار ان کی سرگزشت (جست بھر زندگی) میں باربار ہوا ہے۔ یعنی (ٹوٹنے میں جلدی نہ کریں) یہ انداز فکر ہمیں اکبر حمیدی کی شاعری سے لیکر ان کی ہر صنف سخن میں دکھائی دیتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ جب ہماری زندگیوں میں کوئی افتاد نازل ہو جائے، یا ہم کسی سانحہ سے دوچار ہو جائیں، تو دکھ کے اس بارگراں میں ہمیں اپنی ذات کی اوٹ میں ہو جانا چاہئے، یہ اوٹ ہمیں حقیقتوں کو قبول کرنے اور ان کا سامنا کرنے کی ہمت دیتی ہے اور ہمیں زندگی کی بے رحمی اور سفاکی کے سپرد ہونے سے محفوظ رکھتی ہے۔

اکبر حمیدی کے چھ شعری مجموعوں کی شاعری نے انسانی زندگی اور اس سے وابستہ مسائل سے براہ راست مکالمہ کیا ہے، انھوں نے اپنے عہد کے انسان کے باطن میں چھپی تنہائیوں ، کجیوں اور اداسیوں کو بھی پیش کیا ہے اور خارج سے جڑی محرومیوں، نا انصافیوں ، منافقتوں اور خوابوں کو بھی اپنی فکر کا موضوع بنایا ہے۔ اپنے سماج کے انسان کے خوف، بے یقینی ، عدم تحفظ اور طبقاتی جبر کے خلاف انھوں نے ایسا لہجہ اختیار کیا ہے، جس میں احتجاج اور بغاوت کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ اکبر حمیدی کی شاعری میں خارج کے عناصر ، اقتصادی بدحالی، زوال پذیر سیاسی نظام اور خرابیوں کی طرف صراحت سے اشارے ہوئے ہیں۔ دو شعر دیکھئیے،

خامشی جرم ہے جب منہ میں زباں ہو اکبرؔ

کچھ نہ کہنا بھی ہے ظالم کی حمایت کرنا

ہماری جنگ اندھیروں سے ہے ہوا سے نہیں

دیا جلا کے نہ یوں سامنے ہوا کے رکھ

لیکن باوجود اس مایوس کن صورت حال کے، اکبر حمیدی کی رجائیت متوازی دھارے کی طرح ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہے۔ ایسے بہت سے شعر ان کی غزلوں میں کثرت سے دکھائی دیتے ہیں۔

ایک سی صورت حالات نہیں رہ سکتی

دن بھی نکلے گا سدا رات نہیں رہ سکتی

ہم تو خوشبو ہیں ہمارا راستہ روکے گا کون

کس بلندی تک وہ دیواریں اٹھا لے جائے گا

کہیں بھی رہ در و دیوار جگمگا کے رکھ

اگر چراغ ہے چھوٹا تو لو بڑھا کے رکھ

ان موضوعات کے علاوہ اکبر حمیدی کے ہاں غزل کی کو ملتا، لطافت، نزاکت، رومانی اور جمالیاتی لب و لہجے کی بھی کمی نہیں۔ ایسے اشعار انھوں نے سرشاری اور وارفتگی سے کہے ہیں، کہ پڑھنے والا بے ساختہ داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتا ، چند ایک اشعار ملاحظہ ہوں۔

ایسے میں تو خود سے بھی بچھڑ جاؤ گے اکبر

تم خود سے خفا رہتے ہو، اچھا نہیں کرتے

ہر اک طرف سے ہے منظر بہشت کا اکبرؔ

وہ انجمن میں کئی زاویوں سے بیٹھے ہیں

کس آسمان سے گزر ا ہے درد کا دریا

ستارے ٹوٹ کے آب رواں میں آنے لگے

اک نظر ہی وہ مسکرائے تھے

آج تک جگمگا رہا ہوں میں

زیست ہمیشہ مجھ سے تھوڑی دور رہی

جیسے نار کوئی بیگانی ساتھ چلے

ان کی پنجابی شاعری ’بکی غزل پنجاب‘ کی چھوٹی بحریں برجستگی، بے ساختگی اور سہل ممتنع کی چاشنی سے لبریز ہیں۔ وہ پنجابی کا سچا اور ٹھیٹ لہجہ اختیار کرتے ہوئے ایک نکیلا اور منفرد اسلوب اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ غزلیں زیادہ تر ردیف کے بغیر ہیں، لیکن قافیہ، ردیف کی غنائیت کو کسی طرح بھی مجروح نہیں ہونے دیتا، اور شعر کی نزاکت و لطافت اپنے اصلی مزاج کے ساتھ قائم رہتی ہے۔ چند غزلوں کے اشعار دیکھیں۔

جیڈی تیز ہوا اوڈا وڈ امچ

اوہدی وات نہ آئی خبراں دا گھڑمچ

ساڈی بازی جان دی ویکھ نہ ماریں کھچ

 

ایویں نہ پیا اٹھن پو بکل مار کے بیٹھا رہو

کیہا بھلیکھا لگ گیا بیجی کنک تے اگے جو

چنگا کاروبار اے ساڈا لینا اک تے دینے سو

 

نہ کوئی عزت ، نہ کوئی پت ڈاہڈی ہوئی پھتیا پھت

باہر کوئی حال نہ پچھے اندر جاواں چُکی اَت

 

بند او یکھ نہ سکدے ڈاہی پھرن مصلے

وڈیاں بوٹاں دے سبھے آ گئے تھلے

میں ہاں پاکستانی مارو مینوں کھلے

جہاں تک اصناف نثر کا تعلق ہے ، اکبر حمیدی نے اس طرف قدرے تاخیر سے رجوع کیا، مگر دیر آید ، درست آید، کے مصداق وہ ناہموار، راستے پہ بھی کامیابی سے چلتے رہے، ان کا تخلیقی دریا کناروں کے بند توڑ کر نئی زمینوں کی طرف چلا ، تو کھلے میدان میں آ کر کہیں پر سکون اور دھیما بھی ہوا ، اور کہیں نشیب کی طرف گرتے ہوئے مزید تندی و تیزی بھی دکھاتا رہا۔ چنانچہ نثر و نظم میں ان کی آمد و آورد کے دورانیے بھی آتے رہے ، اور بے ساختگی اور شعوری عمل کی کارفرمائی بھی کہیں نہ کہیں موجود رہی۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار غزلوں ، نظموں، انشائیوں، خاکوں، مضامین ، ہائیکو، اور یادداشتوں میں ان کی تخلیقی تھکاوٹ کا کبھی کبھی شائبہ بھی محسوس ہونے لگتا ہے۔ مگر یہ عارضی لمحات ان تخلیقی گھٹاؤں کی اوٹ ہو جاتے ہیں جن سے موسلادھار بارش برستی اور زمین سیراب ہوتی ہے۔

رفیق سندیلوی کی نئی مرتب شدہ کتاب، اکبر حمیدی کا فن، ایک ایسی اہم اور یاد گار دستاویز ہے جس میں اکبر حمیدی کا فن بہت حد تک اپنے امکانات کے ساتھ منظر عام پر آیا ہے۔ اس کتاب میں اکبر حمیدی کو ان کے ہمعصر فنکاروں اور ناقدوں نے اپنے اپنے نقطہ نظر سے دیکھا، جانچا اور پرکھا ہے، اس قدر ہمہ جہت پہلوؤں سے جائزہ لینے اور پرکھنے کے باوجود ابھی بھی اکبر حمیدی کے ہاں ایسے امکانات اور پرتیں دریافت کی جا سکتی ہیں ، جن میں ان کے فن کی مزید تشریح اور توجیہہ ہو سکے۔ تاہم عمومی طور پر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اکبر حمیدی کے فن پر اس کتاب میں اہم اشارے موجود ہیں۔ رفیق سندیلوی نے اپنی تنقیدی بصیرت سے کام لیتے ہوئے مضامین کے انبار سے چند اہم نوعیت کے مضامین کا چناؤ کر کے اسے بے جا طوالت اور ضخامت سے محفوظ رکھا ہے۔

اکبر حمیدی کے انشائیوں کے ضمن میں ناقدین نے ان کے فن انشائیہ کو بحیثیت مجموعی سراہا ہے، ان کی انشائیوں کی پہلی کتاب، جزیرے کا سفر، کا پیش لفظ لکھتے ہوئے ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں کہ، اکبر حمیدی ایک ایسے انشائیہ نگار ہیں جن کے انشائیے مزاح یا طنز سے آشنا ہوئے بغیر بھی حد درجہ تازہ اور قابل مطالعہ ہیں، جبکہ پروفیسر نظیر صدیقی نے دوسری کتاب، تتلی کے تعاقب میں، کے پیش لفظ میں لکھا ہے، کہ اکبر حمیدی انشائیے کے ابتدا، اور انجام کے فن سے آگاہ ہیں اور اچھا جملہ لکھنا جانتے ہیں۔ منشا یاد نے بھی اپنے مضمون میں اکبر حمیدی کو لفظ آشنا اور خوبصورت تخلیقی جملہ لکھنے پر قادر انشائیہ نگار قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اکبر حمیدی اپنے انشائیوں میں ضرورت کے مطابق بیانیہ ، علامتی، یا استعاراتی، تمثیلی لہجہ اور اسلوب اختیار کر لیتے ہیں۔ رفیق سندیلوی کا اپنے مضمون میں کہنا ہے کہ، اکبر حمیدی کی انشائیے کی قلمرو میں آمد رائیگاں نہیں گئی۔ اکبر حمیدی اپنے ذہن کو آزاد رکھ کر جمالیاتی آہنگ کے ساتھ نتائج کو برقی لہروں کی طرح انشائیے کی بین السطور میں ادھر ادھر بکھیر دیتا ہے۔ اس کے انشائیے ذات و کائنات کا سیر نامہ ہیں۔

خاکہ نگاری میں اکبر حمیدی نے اپنے سوانحی واقعات اور خاندانی و ذاتی تعلقات کے حوالے سے ایک انشائی اور افسانوی لب ولہجہ اختیار کیا ہے۔ یوں یہ خاکے، انتہائی ذاتی ہوتے ہوئے بھی بہترین ادب پارے قرار دئیے جا سکتے ہیں۔ خاص طور پر میاں جی، اباجی، بے بے جی اور عظیم یعنی خورشید بیگم کے خاکے جیتے جاگتے انسانوں کی سچی، انمول اور دلکش تصویریں ہیں، اور انہیں پڑھتے ہوئے قاری خاکوں اور کرداروں کی فضا میں داخل ہو جاتا ہے۔ جبکہ اکبر حمیدی کے بہت سے ناقدین نے اہل قلم پر لکھے گئے خاکوں میں اس شدت احساس اور فنی رچاؤ کا شکوہ کیا ہے، دراصل خاکہ لکھتے ہوئے اکبر حمیدی جس جذباتی لگاوٹ کا اظہار خاندانی افراد کے حوالے سے روا رکھتے ہیں، وہ شاید اہل قلم کے معاملے میں انہیں میسر نہیں ، یہی وجہ ہے کہ یہ خاکے احساس اور کیفیت کی سطح پر اتر کر قاری کو گرفت میں نہیں لیتے۔ پھر بھی ان کی انشائیوں کی دونوں کتابوں، قدآدم ، اور ، چھوٹی دنیا بڑے لوگ، میں موجود چند ایک خاکے تو ایسے ہیں جو انھیں خاکے جیسی اہم صنف سخن میں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔

اکبر حمیدی کی خود نوشت، جست بھر زندگی، ایک محتاط شخص کے سچ کی روداد ہے۔ جس نے قدم قدم ، طویل اور ناہموار، رستے عزم و ہمت سے طے کئے ہیں۔ یہ متوسط طبقے کے ایک با شعور شخص کی داستان ہے، جسے دعویٰ ہے کہ ، عام آدمی ، کی روداد بیان کر رہا ہے۔ اکبر حمیدی کی یہ آپ بیتی ، ہمیں سماجی روابط، رشتوں ناتوں ، سماجی اور معاشی رکاوٹوں اور کامیابیوں کی چلتی پھرتی تصویریں دکھاتی چلی جاتی ہے۔ کہیں کہیں انھوں نے اپنی ذاتی نفسی کمزوریوں کو بھی نشان زد کیا ہے اور اپنے بارے میں کسی قسم کی مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیا۔ اس آپ بیتی میں انھوں نے لا یعنی واقعات اور معاملات سے بھی اجتناب کیا ہے۔

یوں انھوں نے تمام عمر ادب کو زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا کر، اسے نہایت سنجیدگی اور ذمہ داری سے نبھایا ہے۔ انھوں نے اپنی پوری توانائی سے ان تخلیقی جہات میں لگن ، خلوص نیت اور محنت سے کام کیا ہے اور اپنے خواب ، نظریات اور آدرش کی افشاں سے اسے جگمگایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر لکھتے ہوئے مجھے انہی کے ایک مصرعے کے مصداق کہنا پڑتا ہے کہ اکبر حمیدی ادب کی اس انجمن میں ہمارے سامنے کئی زاویوں سے بیٹھے ہیں۔ ان کا شعر ہے۔

ہر اک طرف سے ہے منظر بہشت کا اکبرؔ

وہ انجمن میں کئی زاویوں سے بیٹھے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

تبصرہ نگار:حیدر قریشی

 

جست بھر زندگی(خود نوشت) مصنف: اکبر حمیدی

 

اکبر حمیدی ہمہ جہت شاعر اور ادیب ہیں۔ شاعری، انشائیہ نگاری، خاکہ نگاری، کالم نگاری، کے مختلف مقامات سے کامیابی سے گزرنے کے بعد انہوں نے حال ہی میں اپنی خودنوشت سوانح “جست بھر زندگی” شائع کی ہے۔ اس کتاب کے گیارہ ابواب ہیں۔ اکبر حمیدی نے گوجرانوالہ کے ایک گاؤں سے شروع ہونے والے اپنی زندگی کے مہ و سال کا ایک گوشوارہ سا اس کتاب میں پیش کر دیا ہے۔ اس کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اکبر حمیدی نے کس ماحول میں آنکھ کھولی، کس طرح پلے بڑھے، تعلیم سے لے کر ملازمتوں تک کے احوال، عزیز و اقارب اور دوستوں، دشمنوں کے حالات۔ ادبی زندگی آغاز سے اب تک کس طرح گزری۔ غرض اس میں ہمارے ایک عہد کی کئی اہم جھلکیاں اس طرح دکھائی دیتی ہیں کہ ان کے ذریعے سے پورے عہد کے بارے میں واضح تاثر قائم کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اکبر حمیدی چونکہ بنیادی طور پر شاعر اور ادیب ہیں اس لئے ان کی زندگی کا یہی رُخ اس کتاب کا سب سے اہم پہلو ہے۔ اس زاویے سے اس کتاب کے توسط سے پتہ چلتا ہے کہ اکبر حمیدی کو بعض غزلیں مکمل طور پر نہ صرف خواب میں ہوئیں بلکہ جاگنے کے بعد وہ غزلیں انہیں پوری یاد بھی رہیں۔ اسے یقینی طور پر ان کی وجدانی قوت کا کرشمہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ بعض غزلیں بروقت نوٹ نہ کرنے کے باعث بھول بھی گئیں۔

وجدان کے حوالے سے اکبر حمیدی کی زندگی میں ایک درویش کی درویشی کا قصہ بھی دلچسپ ہے۔ اسے اکبر حمیدی کے الفاظ میں دیکھتے ہیں:”ایک اور درویش ہمارے گاؤں میں آیا۔ راتوں کو گلیوں میں پھرتا۔ علامہ اقبال کے اشعار بلند آواز میں گاتا پھرتا، اپنے آپ کو وقت کا قلندر کہتا۔ گاؤں سے شمال کے قریبی قبرستان میں رہتا تھابہت

خوبصورت آدمی تھا۔ پینتیس چالیس سال کا گورا چِٹا بھر پور جوان۔ کلین شیو، بہت چمکتا دمکتا۔ ہم محلے کے نوجوان اس کے گرویدہ ہو گئے۔ ایک روز اس نے سعید اختر کو جنوب کا اور مجھے شمال کا گورنر مقرر کیا۔ اتفاق دیکھئے کہ سعید اختر سندھ میں جا بسا اور میں شمال میں اسلام آباد۔ اس قلندر کے ساتھ ہم محلے کے لڑکے اکثرسردائی پیتے تھے۔ ”

اکبر حمیدی نے اپنی زندگی کی روداد لکھتے وقت جہاں زندگی کے بہت سے واقعات اور نشیب و فراز کو بیان کیا ہے وہیں اپنے تاثرات کو بھی خاصی تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔ کسی واقعہ کی نسبت سے کوئی تاثر ایک حد تک مناسب رہتا ہے بعض اوقات اس تاثر یا تشریح کی کسی حد تک ضرورت بھی ہوتی ہے لیکن جب وہ تاثر تقریر یا خطبہ بننے لگے تو اس سے اس کی ادبی قدر و قیمت پر بہر حال فرق پڑتا ہے۔ “جست بھر زندگی “میں یہ مسئلہ بار بار سامنے آتا ہے کہ وہ کسی تاثر یا تصور پر خاصی تفصیلی اور تشریحی گفتگو کرنے لگتے ہیں۔ ممکن ہے اس کا کوئی مثبت رُخ ہو جو سر دست میرے علم میں نہیں آپایا۔ اس خامی کے باوجود اس میں شک نہیں کہ بعض مقامات پر اکبر حمیدی کے تاثرات نے “اقوالِ زرّیں”کا مقام حاصل کر لیا ہے۔ اس کی چند مثالیں کتاب سے پیش کرتا ہوں:

٭٭زیادہ فرمانبرداری اور صورتحال سے مرعوبیت انسان کی شخصیت کو کمزور کر دیتی ہے۔ انسان فرمانبرداری وہاں کرتا ہے جہاں اس کا چارہ نہیں چلتا۔۔۔ فرمانبرداری اور چیز ہے، شکرگزاری اور بات۔ فرمانبرداری میں اپنی ذات کی نفی ہے اور شکر گزاری میں اپنی ذات اور حیثیت کا اثبات”(ص ۶۱)

٭٭میرا خیال ہے خواب ہماری نیندوں کے خیال ہیں اور خیال ہماری بیداری کے خواب۔ (ص۵۴)

٭٭اعتقاد کی پختگی اکثر عقل کی خامی بن جاتی ہے۔ (ص۳۲۸)

مختلف اصناف میں طبع آزمائی کرنے والے ادیبوں کو عموماً دوستوں اور کرم فرماؤں سے اس قسم کی باتیں سننا پڑتی ہیں کہ اگر خود کو ایک دو اصناف تک محدود رکھتے تو زیادہ بہتر تھا۔ اس سلسلے میں میرا موقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ اچھا ادیب اپنی میلانِ طبع کے باعث جن اصناف میں بھی کچھ تخلیق کرتا ہے اس کا ایک کم از کم معیار ضرور دکھائی دے گا۔ اور وہ اپنے اس کم از کم معیار سے نیچے جاتا دکھائی نہیں دے گا۔ اس کے بر عکس کمزور یا برا ادیب ایک ہی صنف میں جان مارتا رہے اس میں بھی وہ کمزور یا برا ہی لکھتا رہے گا۔ چونکہ اکبر حمیدی بھی کئی میدانوں میں طبع آزمائی کر چکے ہیں اس لئے انہیں بھی اس اعتراض کا سامنا رہا لیکن انہوں نے اس کا بالواسطہ طور پر بہت عمدہ جواب دیا ہے۔

اس جواب میں ان کی زمینداری ان کے بہت کام آئی ہے۔

“ایک تخلیق کار زمین کی مانند ہے۔ بنجر زمین تھور اگلتی رہتی ہیں۔ بعض زمینیں کسی ایک فصل کے لئے مخصوص ہو جاتی ہیں ان میں کچھ اور نہیں اگتا۔ بعض زمینیں بہت سی فصلوں کے لئے موزوں ہوتی ہیں۔ اب کسان کی ہمت ہے کہ وہ کیا کیا کاشت کرتا ہے اور کون کون سی فصلیں اٹھاتا ہے۔ مجھے یاد ہے ہماری تحصیل گوجرانوالہ کی زمین چاول، گندم، گنا، کپاس، مکئی، باجرہ، برسیم غرض کئی فصلوں کے لئے موزوں ہے۔۔ کچھ ایسا ہی حال زر خیز ذہن تخلیق کار کا ہے ” (ص۲۴۱)

اکبر حمیدی جیسے فعال اور زر خیز تخلیق کار کی یہ خود نوشت سوانح حیات ان کی زندگی کی روداد بھی ہے اور ان کے نظریۂ زندگی اور فن کے عقبی دیاروں کو سمجھنے کے لئے ایک معاون کتاب بھی ہے۔ زندگی سے بھری ہوئی یہ کتاب موت کے بارے میں کچھ نہیں کہتی صرف زندگی کی بات کرتی ہے۔ مثبت طور پر جینے کی بات کرتی ہے۔ ٭٭٭

ماخذ: جدید ادب، شمارہ ۱۱، مدیر: حیدر قریشی

کچھ متن کا حصول پنجند لائبریری کے وقاص سے حاصل ہوا

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید