FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

امروز

 

 محبت کا لوک گیت جسے نام کی ضرورت نہیں

 

 

                سلیم باشا

 

 

 

یہ انٹرویو 2007 میں دہلی میں امروز کی رہائش گاہ پر کیا گیا۔

 

اصل نام اندر جیت ہے کہ یہی والدین نے رکھا تھا۔ باپو کا نام کرپال سنگھ تھا۔ میں چار سال کا تھا جب ماں یہ دنیا چھوڑ گئی۔ سکھ بچہ تھا، لہٰذا لمبے بال دھونا، نہلانا، صاف رکھنا، جوڑا باندھنا، یہ سب ایک باپ کے لیے بہت مشکل تھا۔ ایک دن باپو نے میرے سَر کے بال کاٹ کر مجھے مونا بنا دیا۔ سچ بات تو یہ ہے کہ مجھے بہت خوشی ہوئی، ایک جھنجھٹ سے نجات مل گئی تھی مگر گاؤں بھر میں لوگوں کی باتیں بھنبھناتی رہتیں اور ان کے طعنوں کی مکھیاں ہمیں کہیں چین نہ لینے دیتیں۔ سکول میں میرے ٹیچر اور ہیڈ ماسٹر نے بھی سخت بازپرس کی لیکن ہمیں کوئی پشیمانی نہیں تھی۔ سکول والوں کے رویے سے تنگ آ کر اک دن میرے باپو نے مجھے شہر کے سکول میں داخل کرا دیا۔

 

امروز گزرے وقت کو مٹھی میں لینے کا جتن کر رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ وہ 1926ء میں لائل پور کے پاس ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ میری دادی مجھے ہر پھیرے پر گھر کا گھی دیتی تاکہ شہر میں کم زور نہ پڑ جاؤں۔ ایک بار دادی نے واپسی پر مجھے گھی دیتے ہوئے کہا: پُترا آخری بار گھی لے جا۔ میں کچھ نہ سمجھا۔ واپس شہر آ گیا۔ دوسرے تیسرے دن ہی دادی کے مرنے کی خبر پہنچ گئی۔

 

بچھڑا ہوا بچپن اور کھویا ہوا ماضی امروز کی آنکھوں میں بھیگ رہا تھا۔ نمی تو میری آنکھوں میں بھی تھی۔ لیکن اس نمی میں خوشی کی لہر بھی تھی۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کسی دن اچانک یوں اڑ کر امرتا جی کے گھر پہنچ جاؤں گا۔ میں 19فروری2007ء کی شب لاہور سے دہلی جانے والی بس میں سوار ہو کر اجیت کور کی دعوت پر سارک رائٹرز کانفرنس میں شرکت کے لیے پہنچا تھا۔ لیکن میری روح امرتا جی کے گھر کی منڈیر پر پہلے بھی کئی بار اتر چکی تھی۔

 

دہلی میں میرا دوسرا دن تھا۔  سارک تنظیم کے تحت ہونے والا یہ تین روزہ پروگرام ہندوستان کی خوب صورت ریاست اڑیسہ کے تین تاریخی شہروں میں منعقد ہو رہا تھا۔ ایک رات دہلی میں گزارنے کے بعد دوسرے دن پچھلے پہر ہماری ٹرین اڑیسہ کے شہر بھبنیشور روانہ ہوئی لیکن میری روح تو جیسے دہلی ہی رہ گئی۔ جیسے تیسے یہ پروگرام ختم ہوئے میں اپنے وفد کے ہم راہ دہلی لوٹ آیا۔

 

اگلے روز ہمیں دہلی یونی ورسٹی کے پنجابی ڈیپارٹمنٹ نے اپنے کیمپس میں مدعو کیا۔ شعبہ پنجابی کے انچارج ڈاکٹر شیلی، امیہ کنورجی، کبیر سنگھ جیسے لوگوں نے ہمارا سواگت کیا اور آخر میں حسبِ معمول مشاعرہ جم گیا۔ امیہ کنور کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ امرتا پریتم کی سہیلی ہیں، دوسرے لفظوں میں ان کو امرتا کے گھر کا فرد ہی کہہ لیں۔ میں نے موقع پا کر امیہ جی سے امرتا جی کے گھر جانے کی خواہش ظاہر کی۔ دوسرے ہی دن امیہ جی نے امروز سے بات کر کے اس کا انتظام کر دیا اور فون پر مجھے اطلاع دی کہ امروز جی دہلی کے حوض خاص میں اپنے گھر ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔ میں جھٹ تیار ہوا کر اجیت کور کے دفتر جا پہنچا۔ دن کے ٹھیک 11 بجے ہم امرتا پریتم کے گھر کی گھنٹی بجا رہے تھے۔ امرتا کی بہو کملا دیوی نے دروازہ کھولا۔ وہ دہلی کی عام لڑکیوں کے برعکس گوری چٹی اور مسکراتی ہوئی لڑکی تھی۔ وہ ہمیں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر لے گئی جہاں پر امروز پیار بھری بانہیں کھولے ہمیں خوش آمدید کہنے کو تیار کھڑے تھے۔

 

امروز ایسے دھیمے اور ملوک انسان ہر کسی کے دل میں سما جاتے ہیں۔ میں دیکھ رہا تھا کہ اُن کی ہنرمند انگلیوں اور خوب صورت ذہن نے پورے گھر کے اندر قوس قزح کے رنگ دیواروں پر بکھیرے ہوئے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ہم کسی طلسم ہوش ربا میں آ چکے تھے۔ رنگ لہروں کی شکل میں ہمارے اردگرد بادلوں کی مانند اُڑتے پھر رہے تھے۔ جگہ جگہ امرتا پریتم کا مسکراتا ہوا اور سوچتا ہوا چہرہ پاس آ آ کر ہمیں دیکھتا اور پھر جا کر اپنے فریم کے اندر جابستا۔ آخر مجھے اس خواب ناک ماحول کے سحر سے امروز کی نظم نے نکالا:

 

سارے رنگ، سارے شبد

مل کے پیار دی تصویر نئیں بن سک دے

پیار دی تصویر ویکھی جا سکدی اے

پل پل محبت جی رہی زندگی دے آئینے وچ

زندگی تصویر وی اے تے تقدیر وی اے

من چاہے رنگاں نال بن جائے تے تصویر

تے ان چاہے رنگاں نال بنے تاں تقدیر

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

آرٹسٹ کو اپنا علاحدہ انداز اپنانا چاہیے۔ میں لاہور آرٹ کالج میں تھا۔ اُن دنوں ہر سال جو طالب علم فرسٹ آتا تھا اس کو شہر کا مشہور ڈیزائنر سرفراز اپنے سٹوڈیومیں لے جاتا تھا، اپنا اسسٹنٹ بنا کر۔ جب میں اول آیا تووہ ایک اچھی آفر لے کر میرے پاس بھی آیا۔ میں نے پوچھا مجھے کیا کرنا ہو گا، بولا میں ڈرائنگ کرتا ہوں تم اس میں رنگ بھرو۔ میں نے فوراً انکار کر دیا اور کہا یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا۔ میں جو بھی کروں گا اپنا کروں گا۔

 

میں نے آرٹ ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کیا۔ مگر میری طبیعت میں لوگوں کا حکم ماننا خصوصاً تخلیقی ذہن کے لئے بہت مشکل ہے۔ مغل اعظم بن رہی تھی۔ اُس کے پبلسٹی انچارج نے مجھے بلایا۔ میرا کام وہ جانتا تھا۔ میں چلا گیا۔ وہ مجھے باہر ویٹنگ میں بٹھا کر بھول گیا یا شاید وہ میرا امتحان لے رہا تھا کہ مجھ میں کتنا حوصلہ ہے۔ انتظار کرتے کرتے تھک گیا تو میں یہ کہہ کر گھر لوٹ آیا کہ اگر آصف خان کو میری ضرورت ہوئی تو میرے پاس آ جائے ورنہ مجھے ایسے کام نہیں کرنا۔ پھر وقت اُس کو میرے گھر لایا اور یوں مجھے اس تاریخی فلم میں کام کا موقع ملا۔ اب میں گھر میں رہ کر کام کرتا ہوں۔ جس سے میری ضرورت ہوتی ہے وہ آ جاتا ہے اور کام لے لیتا ہے۔ میں اپنی ضرورت سے زیادہ کما لیتا ہوں۔ بس یہی کافی ہے۔ غریبی صرف اُس وقت ہوتی ہے جب آپ کے اخراجات آمدن سے بڑھ جاتے ہیں۔ میرے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ میں پوتے پوتی کے اکاؤنٹ میں جمع کروا دیتا ہوں۔

 

میں مصوری کرنے لگا اور خطاطی بھی۔ خطاطی کر رہا ہوتا تو دیکھتا، اگر پھُول لکھ رہا ہوں تو اس میں پھول دکھائی دے یا پتھر لکھوں تو لفظ میں پتھر جیسی سختی اور مضبوطی ہو۔ میں لفظوں کے اوصاف دیکھ کر خطاطی کرتا ہوں۔

 

“شمع” دہلی ایک بڑا رسالہ تھا جس کی اشاعت اپنے زمانے میں ایک لاکھ سے بھی بڑھ کر تھی۔ جامع مسجد دہلی کے سامنے ایک چھوٹے سے سیٹ اپ سے جنم لینے والا یہ پرچہ ہر پڑھے لکھے گھر کی زینت بن گیا۔ میں اس رسالے میں بہ طور ڈیزائنر اور خطاط کے بھرتی ہو گیا۔ رسالہ خوب کما رہا تھا۔ اپنی بلڈنگ بنی، گاڑیاں آ گئیں۔ پھر تقسیم ہو گئی۔ اُردو کی بجائے ہندی رسم الخط رائج ہو گیا۔ مسلمان بھی ہندی پڑھنے لگے۔ یوسف دہلوی صاحب کا پہلے گھر بکا، پھر رسالے کی عمارت بِکی، پھر چاروں بیٹے چھوٹے چھوٹے فلیٹوں میں رہنے لگے۔ کمائی ختم ہو گئی۔ رسالہ بھی بند ہو گیا۔

 

ہنری ملر نے کہا تھا “ایک دن آئے گا جب سارے آرٹ دم توڑ دیں گے بس زندگی باقی رہ جائے گی”۔ میرا نقطہ نظر ہنری ملر سے مِلتا جُلتا ہے۔ میرے خیال میں تمام آرٹ راستے ہیں اور زندگی منزل ہے۔

 

امروز فن کی کہکشاں پر چہل قدمی کر رہے تھے اور میرے دل میں اصل سوال مچل رہا تھا کہ امرتا جی سے کیسے ملاقات ہوئی؟

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

ہمارے گھر میں امرتا کی تصویر آویزاں تھی۔ یہ باپو نے “پریت لڑی” میگزین سے کاٹ کر فریم کروا لی تھی۔ اُن دنوں امرتا جی نے اپنا نام بنا لیا تھا۔ میں سائیکل پر کالج جانے لگا تھا۔ میری خواہش ہوتی کہ میں امرتا جی سے ملوں مگر خود کو ابھی چھوٹا سمجھ کر اس خیال کو جھٹک دیتا۔ ان دنوں میں نے اپنا نام اندر جیت سے بدل کر امروز رکھ لیا تھا۔ مجھے ایسا نام چاہیے تھا جو کسی اور کا نہ ہو۔ کچھ لوگ میرے نام سے دھوکا کھا جاتے ہیں اور مجھے مسلمان سمجھتے ہیں۔

ایک بار بہت دل چسپ واقعہ ہوا۔ ایک پنجابی لکھاری نے کہیں پینے پلانے کی محفل میں اپنی طرف سے جھوٹ بک دیا کہ میں اچھی طرح جانتا ہوں امروز کو۔ وہ شراب پی کر امرتا کے دروازے پر پڑا رہتا ہے۔ بات اُس سے پہلے ہمارے گھر پہنچ گئی اور وہ بعد میں آیا۔ امرتا جی اُس کے ساتھ باتیں کر رہی تھیں۔ میں پہلے دونوں کے لیے پانی لے کر گیا اور پھر چائے بنا کر لے گیا۔ امرتا نے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا اسے پہچانتے ہو۔ اُس نے کہا نہیں۔ امرتا بولی تم تو بڑی اچھی طرح جانتے ہو اسے۔ یہ وہی امروز ہے جو شراب پی کر میرے دروازے پر پڑا رہتا ہے۔ اب وہ لگا معافیاں مانگنے۔ اصل میں جتنے بڑے بڑے ادیب شاعر بنے پھرتے ہیں یہ سب جب شراب پی لیتے ہیں تو ان کے پاس ایک ہی موضوع ہوتا ہے اور وہ ہے

عورت۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

ماں باپ بندے کو اپنی مرضی کے ملتے ہیں نہ اپنے بچے۔ مرضی کا تو اپنا آپ بھی کب کسے ملا ہے۔ خون کے رشتے بظاہر تو رشتے لگتے ہیں مگر فی الحقیقت اکثر رشتے اصل مفہوم سے محروم ہوتے ہیں۔ صرف من چاہے رشتوں میں زندگی ہوتی ہے۔ میں روزانہ دیکھتا تھا امرتا پریتم کو، اتنی بڑی شاعرہ، بسوں میں دھکے کھا رہی ہوتی۔ وہ ریڈیو پروگرام کرنے جاتی تھی۔ میں اوپر ایک فلیٹ میں رہتا تھا۔ امرتا جی کی جد و جہد سے بھرپور زندگی کو دیکھتا اور دل ہی دل میں افسوس کرتا۔ کبھی سوچتا کہ میں اپنی کچھ چیزیں بیچ کر موٹرسائیکل خرید لوں اور امرتا کو بس کے دھکوں سے بچا کر روزانہ ریڈیو سٹیشن چھوڑ آیا کروں۔ ایک روز واقعی میں نے بائیک لے لیا۔ اب میرا سفر آسان ہو گیا تھا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ امرتا جی کو نہیں مجھے ہوا تھا کہ اس نے میرے من میں سُندرتا کو بڑھاوا دیا تھا۔ میرا ان دنوں امرتاسے کوئی رشتہ تو نہیں تھا مگر مجھے اچھا لگتا کہ میں اُس کے کام آؤں۔ امرتا کے قریب رہ کر مجھے اُس کی ذاتی زندگی میں جھانکنے کا موقع ملا۔

 

امرتا کی شادی 16سال کی عمر میں پریتم سنگھ سے ہو گئی تھی۔ موصوف اپنے گھر میں نکھٹو مشہور تھے۔ اس کے باپ نے دہلی میں ایک ہٹی بنا دی تھی اور ساتھ ہی اس کی شادی غریب گھرانے کی امرتا سے کر دی۔ دوسرا بیٹا جو ہوشیار تھا اُسے کاروبار میں ساتھ ملا لیا اور اس کی شادی بھی سرحد کی ایک امیر پٹھان فیملی میں کرا دی۔ یہ بہو جہیز بھی خوب لائی تھی اور ساتھ ہی گوشت کھانے کی عادت بھی۔ چناں چہ خصوصی طور پر گھر میں ایک خانساماں رکھا گیا جو صرف اس لاڈلی بہو کے لیے ماس پکانے پر مامور تھا۔ دوپہر کو ایک آدمی بہ طور خاص مال روڈ بھیجا جاتا، جو وہاں کی بڑی بیکری سے بہو کی چائے کے لیے پیسٹری لے کر آتا۔ اُدھر یہ چونچلے اور اِدھر امرتا اپنا ذاتی خرچ ریڈیو کی کمائی سے چلاتی تھی۔ پریتم سنگھ کہنے کو جیون ساتھی تھا مگر اُس کا تعلق بیوی سے صرف بستر کا تھا یا گھر کے کام کاج کے لیے رکھی گئی نوکرانی جیسا۔ گھر میں کھانا پکانے کے لیے روزانہ صبح 10 روپے دیتا، وہ بھی بن مانگے کبھی نہ ملتے۔ اکثر امرتا اُسے دروازے پر رخصت کرنے اس لیے آتی کہ اسے خرچ لینا ہوتا تھا۔ ایک دن پریتم سنگھ کہنے لگا، آج تو اتوار ہے چھٹی ہے۔ تو امرتا نے جواب دیا شام کا کھانا بھی نہیں بنے گا اس کی بھی چھٹی کر لینا۔

 

غریب گھر کی بہو کے ساتھ سسرال والوں کا رویہ بھی سوتیلے بچوں والا تھا۔ ایک بار امرتا گھر میں اکیلی تھی۔ جسم سخت بخار میں جل رہا تھا۔ ساس کو پتا چلا۔ آئی، حالت دیکھی، پھر کچن میں گئی۔ وہاں برتنوں کا ڈھیر دیکھا جو اس کے بیٹے نے کھانے کھا کھا کر لگایا ہوا تھا۔ گھر بھی گندا پڑا تھا۔ لیکن اسے ایک تنکا تک اٹھا کر درست کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ الٹا مشورے دے کر چلتی بنی کہ طبیعت سنبھلے تو سب سے پہلے اُٹھ کر برتن دھونا، گھر صاف کر لینا، آیا گیا تو رہتا ہی ہے، گندا گھر بُرا لگتا ہے۔

 

امرتا جب اپنے گھر سے بہت دُکھی ہوتی تو میرا دروازہ کھٹکھٹاتی۔ ایک دن جب میں نے دروازہ کھولا تو وہ بولی اب مجھے تمہارا دروازہ بھی کھٹکھٹانا پڑے گا۔ یہ مجھے اچھا نہیں لگتا۔ میں نے فوراً دوسری چابی اُسے دے دی۔ وہ چابی پکڑ کر دیر تک کبھی مجھے کبھی چابی کو دیکھتی رہی۔

 

کمرہ اپنے آپنوں گھر بندا ویکھ رہیا سی

تے میں اوس دیاں اکھاں دے وچ

اک رشتہ بندا ویکھ رہیا ساں

 

مجھ سے امرتا جی نے پوچھا تم کیا بننا چاہتے ہو۔ میں نے جواب دیا لوک گیت۔ ہاں میں لوک گیت بننا چاہتا ہوں۔

 

میں اک لوک گیت بے نام

ہوا دے وچ کھِڑدا

ہوا دا حصہ

جنھوں چنگا لگے اوہ چیتا بنالوّے

ہور چنگا لگے تاں اپنا وی لوّے

جی آئے تاں گا وی لوّے

میں اک لوک گیت صرف لوک گیت

جسنوں ناں دی کدے وی لوڑ نئیں

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

میں ایک دوست کے گھر پے انگ گیسٹ کے طور پر رہا۔ دونوں میاں بیوی رات کو خوب لڑتے۔ ایک صبح میں نے دوست کی بیوی سے پوچھا آپ رات بھر انگریزی بول بول کر کیوں لڑ رہے تھے۔ وہ کہنے لگی وہ میرے ساتھ ملاپ چاہتے تھے مگر میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ اُوپر سے وہ کہتا ہے دِس اِز مائی رائٹ۔ میں نے بات سُن کر کہا یہ آپ کے میاں بیوی کے ریلیشن کی نفی ہے۔ دوسرے کی مرضی کے بغیر اُس کے جسم کو چھُونا بھی پاپ ہے، ریپ ہے۔ یہ ریپ ہر گھر میں ہو رہا ہے بیویوں کے ساتھ بھی اور شوہروں کے ساتھ بھی۔ پھر اس ریپ کے نتیجے میں جو اولاد پیدا ہوتی ہے بغیر مرضی کی اولاد وہ بھی ناجائز ہی ہوتی ہے۔

 

تمام نر جانور، پرندے اپنی مادہ سے ملاپ سے قبل اس کا دل لبھاتے اور مائل کرتے ہیں۔ یہ سبق انسان نے نہیں سیکھا۔ زبردستی کرتا ہے بیوی کے ساتھ۔ اور یہ زیادتی جسمانی کے ساتھ حقوق کی بھی مسلسل جاری ہے۔ جب سے انسانی زندگی وجود میں آئی ہے تب سے۔ انسان کو اپنے اردگرد کے غیر انسانی ماحول سے انسپائریشن لینی ہو گی تب ہو سکتا ہے وہ صحیح معنوں میں بندہ بن جائے۔

 

بندے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ اُسے عورت سیکس سے آگے دکھائی نہیں دیتی۔ ایک بار امرتا جی نے مجھے پوچھا: تم نے کبھی Woman with Mind مصور کیا ہے ؟میں سوچنے لگ گیا۔ پھر میں نے ساری کتابیں میگزین دیکھ ڈالے جن میں عورت کو پینٹ کیا گیا تھا۔ سب نامور مصوروں، مجسمہ سازوں نے عورت کو جسم کے حوالے سے ہی دیکھا تھا۔ یعنی سیکس سے آگے کسی نے سوچا ہی نہیں۔ اگر کسی نے عورت کے جسم کو نظرانداز کر کے سوچا ہوتا تو شاید آج نسل انساں کچھ اور ہوتی۔ آرٹ گیلریوں میں عورت ننگے جسم کے ساتھ ملتی ہے، عورت خود بھی عورت کو اسی انداز میں پیش کر رہی ہے۔ امرتا نے دوسرا سوال کیا: آدمی کا عورت کے ساتھ تعلق اچھا یا پائیدار کیوں نہیں ہو رہا؟ میں نے جواب دیا آدمی نے ابھی تک عورت کے ساتھ صرف سو کر دیکھا ہے، اُس کے ساتھ جاگ کر کبھی نہیں دیکھا۔ اگر دیکھا ہوتا تو مرد اپنی زندگی حتیٰ کہ اپنی نسل، سب کچھ بدل چکا ہوتا۔

 

ذہین عورت کے ساتھ آپ چائے تو پی سکتے ہیں باتیں بھی کر سکتے ہیں مگر اُسے جیون ساتھی بنانے کی ہمت نہیں کر سکتے کیوں کہ ذہین عورت کی موجودگی میں آپ کی سوچ کی چڑیا پر نہیں مار سکتی۔ میں نے اپنے سے کئی گنا ذہین عورت کے ساتھ رہنا شروع کیا اور پھر اس کی صحبت میں خود بھی میچور ہو گیا۔

 

امرتا ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ دلیر بھی تھی، نہایت دلیر۔ کسی سے ڈرتی نہ تھی۔ اپنے خاوند سے بھی نہیں۔ ویسے خاوند کتنا ہی سخت کیوں نہ ہو ساتھ رہتے ہوئے بیوی کا ڈر نکل جاتا ہے۔ کیا کر لے گا زیادہ سے زیادہ۔ آزادی تو امرتا کے مزاج میں تھی ہی۔ اس نے ایک دن اپنے خاوند کو علیحدگی کے لیے کہہ دیا۔ وہ اسے مذاق سمجھالیکن یہ حقیقت تھی۔ میں امرتا کی زندگی میں داخل ہو چکا تھا۔ اُس نے روایتی خاوند کی طرح تنگ کرنا شروع کر دیا اور زندگی بھر طلاق نہ دینے کا فیصلہ بھی سنایا۔ پریتم سنگھ کے لیے withdraw کرنا بہت مشکل کام تھا خصوصاً اُس وقت جب اُس کے دو بچے امرتا کی گود میں تھے۔ ویسے بھی یہ گھر امرتا کا تھا اور پھر زندگی بھی تو امرتا کی اپنی تھی جس کو اپنے انداز سے گزارنے کا اُسے حق تھا۔ پریتم سنگھ کو چاہیے تھا کہ وہ خود ہی سب کچھ چھوڑ دیتا مگر وہ ایک بڑا آدمی نہیں تھا لہٰذا اُسے امرتا کا فیصلہ سننا پڑا۔

 

پریتم سنگھ روز مجھے دیکھتا تھا کہ میں اُس کے بچوں کو صبح سکول چھوڑ کر آتا ہوں اور پھر دوپہر کو واپس بھی لاتا ہوں۔ گھر کے سوداسلف سے لے کر چھوٹے بڑے کسی کام کے لیے امرتا کو مجھے کہنا بھی نہ پڑتا۔ ایک ذمہ داری میں نے اپنے سر لے لی تھی۔ بچے تو پریتم سنگھ کے تھے، موٹرسائیکل اُس کے پاس بھی تھی وہ چاہتا تو یہ ذمہ داری وہ خود بھی نبھا سکتا تھا۔

 

جو بندہ آپ کا ہے وہ آپ کو رُلائے گا نہیں اور جو رُلاتا ہے وہ آپ کا نہیں۔ یہ امرتا ہی نے کہا ہے کہ اگر مرد کو جنس کی حاجت نہ ہو تو ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی عورت کو روٹی بھی نہ دے۔

 

جاگدے بندےنوں

زندگی ہر موڑ تے اُڈیکدی ملدی اے

تے سُتّےنوں زندگی

چُپ چاپ بائی پاس کر جاندی اے

 

بندہ وہاں رہتا ہے، جہاں وہ پیار کرتا ہے۔ چاہے اُس کا جسم کسی اور جگہ پر رہے اور جہاں بندے کا جسم ہوتا ہے پیار نہیں ہوتا وہاں پر وہ غیر حاضر ہی رہتا ہے۔

 

جو کبھی نہیں ہوا

وہ آج ہو رہا ہے

اور آج نے روز آنا ہے

زندگی کو آدرش کے ساتھ جینے کے لیے

آدرش کے ساتھ وداع کے لیے

اور آدرش کے ساتھ وداع ہونے کے لیے

 

اسی لیے میں نے اپنا کوئی بچہ پیدا نہیں کیا۔ میں امرتا کے بیٹے نوراج کو اپنا بیٹا سمجھتا ہوں مگر اُس کے خیال میں اُس کی ماں کا اُس کے باپ سے علیحدگی کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ اُس نے آج تک مجھے بھی قبول نہیں کیا اور نہ اپنی ماں کے ساتھ میرے تعلق کو درست مانا۔ وہ یہ بات ماننے کو تیار ہی نہیں کہ ماں کی خوشی بھی کوئی شے ہے۔ حالاں کہ نوراج نے خود اپنی پہلی بیوی کو جس سے اُس نے محبت میں گرفتار ہو کر بیاہ کیا تھا، چھوڑ دیا اور اب دوسری بیوی کے ساتھ بھی اُس کا رویہ اپنے باپ جیسا ہی ہے۔ اُس کی طبیعت پر باپ کا بہت اثر ہے۔ اُس کے باپ کی ساری زندگی اُس کے سامنے ہے جو کسی طور بھی آئیڈیل نہیں۔ اگر ہوتی تو وہ اپنے باپ کے ساتھ علیحدگی کے بعد زندگی گزارتا اور ماں کو چھوڑ دیتا۔ اُس کا باپ تمام عمر قرض لے کر اپنا کام چلاتا رہا اور امرتا اُس کے قرضے اپنی کمائی سے اُتارتی رہی۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

نوراج اپنی تعلیم کے سلسلے میں بروڈا میں تھا۔ وہاں اسے ایک گجراتی لڑکی سے عشق ہو گیا۔ اُس کے گھر والے ایک پنجابی کے ساتھ لڑکی کو بیاہنے پر تیار نہیں تھے۔ امرتا سے بات ہوئی تو اُس نے بیٹے سے کہا وہ راضی نہیں ہیں تو کیا ہوا میں تو راضی ہوں، تم اسے یہاں لے آؤ۔ یوں دونوں کی شادی ہو گئی۔ گھر میں رونق ہو گئی۔ ایک بار اُس لڑکی کی سال گرہ کا اہتمام میں نے اور امرتا نے مل کر کیا۔ کیک لائے، موم بتیاں جلا کر بہو کو بلایا۔ اُس نے سال گرہ کا ماحول دیکھا تو پھوٹ پھوٹ کر رو دی اور بولی آنٹی انکل ہم دونوں آپ سے شرمندہ ہیں کیوں کہ ہم دونوں میں علیحدگی ہو گئی ہے۔

 

پیاس

ایک بندہ جیون دی شدت نال

بڑا پیاسا سی

ایس پیاس نال ٹُردا ٹُردا

اوہ اِک چشمے تک پہنچ جاندا اے

پیاس دی شدت اینی

جے اوہ ویکھ وی نئیں سکیا پچھان وی نئیں سکیا

جے ایہہ چشمہ زندگی دا پانی نئیں

پیاسے پانی دا اے

پانی پین لئی جدوں اوہ پانی دے کول ہویا

پیاسے پانی نے بندےنوں پی لیا

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

انسان اور اس کے اردگرد کی ہر شے بدلتی ہے یا بدلتے رہنا چاہتی ہے۔ تبدیلی ہی مستقل ہے۔ مگر مذہب اپنی جگہ ساکن کھڑا ہے۔ وہ بدلا ہے اور نہ ہی اپنے اندر کسی نئی شے کا داخلہ پسند کرتا ہے۔ مذہب چلانے والے نہ تو زمانے کے حالات کو دیکھ کر مذہب سے کچھ نکالنے کو تیار ہیں اور نہ ہی زمانے سے کچھ اچھا لینے کو۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ مذہب سے بے زار ہوتے جا رہے ہیں۔ مذاہب کے پیروکار اب ایڈیٹر بھی بن گئے ہیں وہ اپنے اپنے مذہب سے اصل چیزوں کی جگہ اپنے پسند کی چیزیں replace کرتے جا رہے ہیں۔ گورو رجنیش کہتا ہے ’’روشنی چلی گئی ہے راکھ باقی رہ گئی ہے۔ ”

 

سب مذہب مردہ نیں

جیوندیاں شیواں تے سوری کَہ لیندیاں نیں

پر مُردہ کیہ کہن دے

جے کَہ سکدے ہوندے تے ۱۹۴۷ تے

سوری کہندے، سارے مذہب

نظربند

مذہب اپنے آپ وچ نظربند

اپنی ہون تک

لوکی اپنی مانتاواں وچ نظربند

اپنی عمر تک

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

چون!

مذہب وی جے ساڈی چون ہوندا

دوستاں وانگ ہم سفر وانگ

اوہ ساڈے نال ٹردا

اسی اوہ دے نال ٹردے

اوہ ساڈی زندگی دا اک زندہ حصہ ہوندا

اسی اوہ دے نال جیوندے

تے اوہ ساڈے نال جیوندا

 

جاگا ہوا بندہ ہی انقلاب بنتا ہے۔ بھیڑ کو جگایا نہیں جا سکتا صرف اکیلا آدمی جاگ سکتا ہے۔ مذہب کے نام پر لوگوں کو استعمال کیا جاتا ہے مگر جاگتا انسان کبھی اُن کے کہنے میں نہیں آتا۔ ہمارا سنجوگ پیار کے رشتے کا ہے نکاح کے کاغذ کا نہیں۔ ہمیں کسی مذہب کی ڈگری کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ ہم دونوں نے اکٹھے رہنا تھا، یہی بہت تھا۔

 

امرتا نے ساحر سے عشق کیا، سچا عشق۔ یہ عشق امرتا کی اپنی شخصیت کے اندر سے پھوٹی ہوئی خوش بو تھا۔ امرتا کے اپنے خیالات کا سحر۔ مگر امرتا کی شادی پریتم سنگھ سے ہوئی۔ ایک نامکمل شادی۔ ایسی شادی کو دو جسموں کی قید تو کہا جا سکتا ہے مگر شادی نہیں۔ ایک دن کسی مہمان نے میرا اور امرتا جی کا ہاتھ دیکھا۔ امرتا کے ہاتھ میں اُسے بہت دولت نظر آئی اور میرے میں صرف گزارا لکھا تھا۔ میں نے امرتا کا ہاتھ پکڑ کر کہا، چلو ٹھیک ہے ہم دونوں ایک ہی لکیر پر گزارا کر لیں گے۔

 

امرتا نے خاوند سے علیحدگی کے بعد مجھے اپنے گھر بلا لیا۔ یہ 1964ء کی بات ہے۔ میں پٹیل نگر والے گھر کو چھوڑ کر اپنے مختصر سامان کے ساتھ امرتا کے گھر میں آ گیا۔ یہ گھر امرتا نے آنہ آنہ جوڑ کر بنایا تھا۔ اس میں پریتم سنگھ نے ایک ٹکا بھی نہ لگایا تھا۔ ہند سرکار نے جب امرتا کو ساہتیہ ایوارڈ دیا تو اس کے ساتھ جو 5ہزار روپے کی رقم تھی، اس سے امرتا نے دہلی میں یہ چھوٹا سا پلاٹ لیا تھا۔ اُن دنوں میں ایک ایڈورٹائزنگ فرم میں بطور آرٹ ڈائریکٹر کام کرتا تھا۔ بارہ تیرہ سو مل جاتے تھے۔ گزارا ٹھیک ٹھاک ہو جاتا، مگر میرے اندر کا باغی مجھے پابند ہو کر کام کرنے نہیں دیتا تھا۔ میں کسی کا حکم نہیں مان سکتا تھا۔

 

میں نے اپنا پلاٹ بیچ کر اور کچھ جمع شدہ رقم سے ایک تجربہ کیا۔ ایک مکان کرائے پر لیا۔ کچھ کاریگر منگوائے۔ کپڑے رنگنے اور پھر ان کو سینے یعنی ریڈی میڈ آرٹسٹک کلوتھنگ کا تجربہ۔ مگر یہ تجربہ ناکام ہو گیا۔ سب کچھ چلا گیا۔ میرا پلاٹ، میری رقم، میری محنت اور سب سے بڑھ کر میرا وقت۔ ہاتھ کیا آیا سلک کی ایک قمیض اور ایک ساڑھی۔ کبھی کبھی امرتا کو پیسوں کے ضیاع پر افسوس ہوتا تو میں کہتا، اتنی مہنگی ساڑھی تو کسی ملکہ نے بھی نہیں پہنی ہو گی تمھیں تو فخر کرنا چاہیے اس پر۔

 

امرتا نے زندگی میں بہت لکھا مگر اتنا لکھنے کے باوجود بھی اس کی رائلٹی سے صرف چائے پی جا سکتی تھی، روٹی نہیں کھا سکتے تھے۔ میں نے بھی اپنی زندگی میں سوچ لیا تھا کہ اپنا رزق کمرشل کاموں سے کماؤں گا مگر پینٹنگ صرف اپنے اندر کو مطمئن کرنے کے لیے کروں گا۔ پینٹنگ کو سراہا جانا کافی نہیں ہے اس سے پیٹ نہیں بھرتا، بس نام ملتا ہے۔ ایک بار میں اور امرتا فرانس کے میوزیم میں پکاسو کی پینٹنگز دیکھ رہے تھے۔ میں نے امرتا سے پوچھا کیا خیال ہے، کچھ سمجھ آیا۔ جواب ملا میں اسے پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں دیکھ سکتی۔ میں نے بتایا ایک بار ایک کروڑ پتی بندہ پکاسو کے پاس آیا اور کہا مجھے آپ کی دو پینٹنگز خریدنا ہیں۔ پکاسو سٹوڈیو کے اندر گیا۔ اس وقت ایک تصویر مکمل تھی۔ پکاسو نے اس کے دو ٹکڑے کیے اور اسے کروڑ پتی کے حوالے کر دیا۔ اس دولت مند شخص کوپکاسو کا نام چاہیے تھا، آرٹ نہیں۔ پکاسو چاہے اُس ایک پینٹنگ کے آٹھ ٹکڑے کر کے دے دیتا تو وہ خرید لیتا۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

امروز کے کام میں فلمی ٹچ بھی نظر آتا ہے جیسے فلمی پوسٹرز میں بڑا گلیمرس میک اپ۔ وہی انداز ان کے بنائے ہوئے میر تقی میر، غالب، سوبھاسنگھ (مصور) کے پورٹریٹ اور کچھ عورتوں کی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ میں اپنے دل کی بات آخر زبان پر لے ہی آیا۔

 

امروز نے ہنستے ہوئے کہا آپ نے درست اندازہ لگایا۔ آپ خود مصور ہیں اس لیے کام کی باریکیوں پر آپ کی نظر گئی ہے۔ اصل میں لاہور کا لکشمی چوک نئے مصوروں کے لیے بڑا پیر خانہ ہے، میں نے بھی دو سال تک وہاں فلموں کے بڑے بڑے بورڈ بنائے ہیں۔ وہاں، میں اپنے کالج کے زمانے میں جایا کرتا تھا۔ بڑا اُستادی شاگردی والا ماحول ہوتا تھا۔ ہم فٹوں اور گزوں کے حساب سے تصویریں بناتے تھے۔ آج کل تو پینافلیکس نے اس فن کو زندہ در گور کر دیا ہے جیسے کہ خطاطوں کے کام کو کمپیوٹر کمپوزنگ نے ہڑپ کر لیا ہے۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

ایک پبلشر امرتا جی کے پاس بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک موٹا سا قلم تھا۔ کہنے لگا پتا ہے میں اس قلم سے رائٹر کو قتل بھی کر سکتا ہوں۔ یہ سُن کر امرتا اُس کے چہرے کو غور سے دیکھنے لگی۔ میں یہ فقرہ سن کر چونک گیا اور فوراً بولا، جی بالکل آپ اس قلم کے ساتھ قتل بھی کر سکتے ہیں اور خود کشی بھی۔ امرتا میرا جواب سن کر مطمئن ہو گئی۔ اُسے میری حاضر جوابی کا بہت مان تھا۔ ایک بار اُس نے میرے اپنے رشتے پر کوِتا کہی:

 

باپ، ویر، دوست تے خاوند

کسے لفظ دا کوئی نئیں رشتہ

اج جدوں تینوں تکیا

سارے اکھر گوہڑے ہو گئے

 

وہ کہتی تھی اگر مجھے امروز نہ ملتا تو میں یہ نظم کبھی نہ لکھ پاتی۔ مل کر رہتے ہوئے رشتے بھی مل جاتے ہیں۔ کبھی وہ میری ماں بن جاتی کبھی میں اس کا باپ نظر آنے لگتا۔ ہے ناں عجیب بات۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

میں اور امروز باتیں کر رہے تھے کہ امرتا جی کی ایک سہیلی تارا مناکشی شیکھری آ گئی۔ اُس نے ہم دونوں کو پرنام کیا اور امرتا پریتم کی تصویر کے سامنے کھڑے ہو کر آنکھیں بند کر لیں۔ پھر ایک دم پلٹی اور بولی: امروز جی میں اپنی دھی دے ویاہ دا کارڈ دین آئی ہاں۔ امروز نے کہا: اچھا مبارک ہو کہاں ہو رہی ہے اس کی شادی؟ وہ بڑے مان سے بولی۔ آج میری سہیلی امرتا زندہ ہوتی تو کتنا خوش ہوتی اور یہ دعوت نامہ اصل میں امرتا جی کے لیے ہے۔ میری بیٹی نے ایک مسلمان لڑکے کو پسند کر لیا ہے۔ امروز نے کہا مریم کی شادی میں ہم ضرور آئیں گے۔ مناکشی نے لڑکے کی عادات اور اچھی باتوں کو گنوانا شروع کر دیا تو امروز نے کہا سب سے بڑی بات پریم کی ہے، باقی سب چھوڑ دو۔ اس کے بعد امروز جی نے میرا تعارف کرایا کہ یہ پاکستانی پنجاب سے مجھے ملنے آئے ہیں۔ مناکشی کے اندر کا پنجابی جاگ اُٹھا، اُس نے پھر اپنی سریلی آواز میں کئی پنجابی گیت سنائے۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

یہ جانتے ہوئے بھی کہ امرتا ساحر سے پیار کرتی ہے۔ میں امرتا سے پیار کرتا ہوں۔ اس محبت میں کبھی کمی نہ آئی۔ میں اُسے سکوٹر پر بٹھا کر سٹوڈیو لے جاتا تو وہ میرے پیچھے بیٹھی میری کمر پر ساحر ساحر لکھتی رہتی۔ مجھے اس میں بھی راحت ملتی۔ امرتا کے خیال میں یہ بوجھ مجھے اپنی کمر پر روزانہ اٹھانا پڑتا تھا۔ میرے دل میں ساحر کے لیے کبھی حسد یا رقابت کا جذبہ پیدا نہیں ہوا۔ ہم تو فقط دوست تھے۔ امرتا مجھے ہر صورت میں قبول تھی۔ ساحر کے عشق میں مبتلا بھی، دیوانگی میں بھی۔ ایک بار ایک جوتشی نے ہمارے ہاتھ دیکھ کر کہا۔ تمھارا دونوں کا ساتھ صرف ڈھائی کے ہندسے میں قید ہے۔ یہ ڈھائی گھنٹے بھی ہو سکتے ہیں، دن بھی، ہفتے بھی اور مہینے سال بھی۔ امرتا نے فوراً کہا اور ڈھائی جنم بھی تو ہو سکتے ہیں۔

 

امرتا نے “رسیدی ٹکٹ” میں لکھا ہے : “امروز مجھ سے ساڑھے چھ سال چھوٹا ہے۔ اب مجھ سے دھوپ اور بارش نہیں سہی جاتی لیکن اُسے ان سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اکثر ہنس کر کہتی ہوں :خدا ایک جوانی تو سب کو دیتا ہے لیکن اُس نے مجھے دو جوانیاں دی ہیں۔ میری جوانی ختم ہو گئی تو دوسری اُس نے مجھے امروز کی صورت میں دے دی۔ جس کے حصے میں دو جوانیاں آئیں۔ اس کے آج کو مستقبل کا کیا دُکھ ہو سکتا ہے۔ ”

 

میرے نزدیک کوئی رشتہ اس سمے تک رشتہ ہے جب تک وہ کوئی بندھن نہ بنے۔ رشتے اکثر نیچرل رنگ میں آزاد نہیں ہوتے۔ ان کو کبھی مذہب، کبھی قانون اور کبھی سماج اپنے ہاتھ میں باندھے کھڑا رہتا ہے۔

 

راہ

کسے دی راہ تے ٹرنا

اپنے راہ دی خودکشی اے

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

دو دوست تھے۔ ایک بہت وجیہہ۔ دوسرا اچھا شاعر تھا مگر ظاہری حُسن سے محروم۔ خوب صورت دوست کو ایک ایسی لڑکی سے عشق ہو گیا، جسے دوسرا بھی خاموشی سے چاہتا تھا۔ وہ روزانہ اپنے شاعر دوست سے خط لکھوا کر لڑکی کو بھیجتا۔ دونوں فوج میں ملازم تھے۔ عاشق دوست جو کہ امیر بھی تھا، اس نے لڑکی کو پروپوز کیا اور پھر اُن کی شادی ہو گئی۔ شادی کے بعد لڑکی کو خاوند میں وہ چیز نظر نہیں آئی جو کہ اس کی تحریروں میں عیاں تھی۔

 

پھر یوں ہوتا ہے کہ شادی شدہ دوست جنگ میں کام آ جاتا ہے اور رائٹر زخمی ہو کر گھر آ جاتا ہے۔ لڑکی اپنے خاوند کے سارے خط اُٹھا کر اسے ملنے جاتی ہے اور کہتی ہے تم یہ خط پڑھتے جاؤ اور میں انھیں آنکھیں بند کر کے سُن کر اپنے شوہر کو محسوس کرنا چاہتی ہوں۔ وہ پڑھنا شروع کر دیتا ہے۔ ایک دم لائٹ چلی جاتی ہے مگر وہ پڑھتا رہتا ہے۔ لڑکی آنکھیں کھولتی ہے تو وہ دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے کہ وہ اندھیرے میں بھی برابر پڑھے جا رہا ہے۔ اُس کے پوچھنے پر وہ بتا دیتا ہے کہ یہ خطوط اُسی نے، دوست کے کہنے پر، لکھے تھے۔ اب وہ لڑکی بڑی عجیب سی کیفیت کے ساتھ گھر لوٹتی ہے۔ ساری رات ادھیڑ بن میں رہتی ہے۔ صبح صبح اُسے پہلی خبر یہ ملتی ہے کہ زخمی رات کو مر گیا۔ لڑکی کہتی ہے۔

 

I loved one man but lost him twice

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

جب میں مالی لحاظ سے خود کو کم زور محسوس کرنے لگا تو میرا جی چاہا میں بھی بمبئی کی فلم نگری جا کر اپنا ہُنر آزماؤں۔ جوانی کا زمانہ تھا۔ ایسا فیصلہ کرنے کی ہمت تھی مجھ میں۔ امرتا سے بات کی تو کہنے لگی: ایتھے وی اوہو ربّ اے جہڑا اوتھے وے۔ لیکن مجھ پر اپنے ہُنر کو آزمانے کا بھوت سوار تھا۔ امرتا نے اجازت دے دی۔ میں نے دن رات ایک کر کے اپنے پورٹ فولیو کے طور پر کچھ فرضی فلموں کے پوسٹر بنا لیے۔ بمبئی میں محبوب اور شانتا رام جی بڑے ڈائریکٹر تھے۔ دونوں ان پڑھ لیکن دونوں وہ کام کر گئے جو آج کے کوالیفائیڈ لوگوں سے نہیں ہو رہا۔ دلیپ کمارسے میری کچھ جان پہچان تھی۔ انھوں نے محبوب صاحب سے میرے ملنے کا سبب پیدا کیا اور میرے کام کی تعریف بھی کر دی۔ محبوب صاحب کے سٹوڈیو میں سارے آرٹسٹ تنخواہ پر کام کرتے تھے، جیسا کہ اس زمانے کا رواج تھا۔ وشوا ناتھ اُن کے آرٹسٹ تھے جن کے فلمی پوسٹرز کا میں مداح تھا۔ میرے ٹیسٹ کے لیے ایک تصویر دی گئی جس میں رنگ بھرنا تھے۔ یہ دلیپ صاحب جی کی پورٹریٹ تھی جس کے گرد محل کے در و دیوار اور ستون تھے۔ میں نے سب سے پہلے دلیپ جی کے پورٹریٹ کا کٹ آؤٹ بنا کر پس منظر کچھ خوب صورت پہاڑوں اور بادلوں میں بدل دیا اور آخر میں تصویر میں واٹر کلر سے رنگ بھر دیے۔ محبوب صاحب کو میرا یہ کام اتنا پسند آیا کہ انھوں نے مجھے اپنی تمام فلموں کے پوسٹر بنانے کو کہہ دیا۔ یہ مجھے بعد میں پتا چلا کہ یہی کام وشوا ناتھ جی سے کروایا گیا تھا مگر وہ مسترد ہو گیا تھا۔ نوکری لگ گئی۔ میں پیسے کما رہا تھا۔ ایسے میں انکشاف ہوا کہ وشوا ناتھ جی سے کام لے کر مجھے دیا جا رہا ہے۔ مجھے یہ سن کر بہت دُکھ ہوا۔ میں نے دلیپ کمار سے کہا میں یہ کام نہیں کر سکتا۔ وہ سینئر ہیں اور میں ان کے کام سے ہمیشہ متاثر ہوا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں مَیں کسی کی روزی پر ڈاکہ نہیں ڈال سکتا۔ وشوا ناتھ جی کو پتا چلا تو وہ مجھے روکنے نکلے مگر میں وہاں سے واپس آنے کی ٹھان چکا تھا۔ میں نے امرتا جی کو تار دیا کہ واپس آ رہا ہوں۔ جب میری ٹرین دہلی سٹیشن پر رکی تو امرتا میرے استقبال کے لیے وہاں موجود تھی۔ جسم لرزتا ہوا اور بخار میں مبتلا، بہ مشکل لڑکھڑاتی ہوئی آگے بڑھی۔ میں نے کہا یہ کیا حال بنا لیا۔ ہنس کر کہنے لگی: اب تم آ گئے ہو، سب روگ دور ہو جائیں گے۔ واقعی دو روز میں امرتا بھلی چنگی ہو کر ہمیشہ کی طرح مسکرانے لگی۔ Osho نے کہہ رکھا ہے :

 

Create your own happiness otherwise there is none.

 

جو خود خوشی پیدا نہ کر سکیں اُن کے لیے کوئی خوشی نہیں ہے۔ بدھا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر گیان کی تلاش میں گھر سے نکلا اور 12 برس اس تپسیامیں گزار دیے۔ گھر واپس آیا تو اس کی دھرم پتنی نے سوال کیا: جو کچھ تم نے 12سال باہر رہ کر سیکھا ہے کیا گھر میں وہ نہیں پایا جا سکتا تھا۔ بدھا کا جواب تھا۔ پایا جا سکتا تھا مگر مجھے سمجھ نہیں آ سکتی تھی۔ بیوی نے کہا آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں، چپ چاپ کیوں نکل گئے تھے۔ اگر عورت اپنے مرد کو مرنے کے لیے جنگ پر بھیج سکتی ہے تو جوگ کے لیے بھی قربانی دے سکتی ہے۔ مرد نے عورت کو ہمیشہUnderestimate کیا ہے۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

“پریت لڑی” پنجابی کا سب سے بڑا رسالہ تھا۔ یہ تقسیم سے پہلے بھی اتنا ہی پڑھا جاتا تھا جتنا کہ بعد میں۔ پنجابی کے بڑے بڑے ادیب اس میں چھپتے جن میں امرتا جی بھی شامل تھیں۔ پروفیسر موہن سنگھ جی، جن کا امرتا جی نے ہر جگہ احترام سے ذکر کیا ہے اور “رسیدی ٹکٹ” میں تو انھیں اپنا استاد بھی تسلیم کیا ہے، وہ بھی اس رسالے کا ایک حصہ تھے۔ پروفیسر موہن جی دل ہی دل میں امرتا سے پریم بھی کرتے تھے۔ “پریت لڑی” والے گور بخش جی نے ایک آئیڈیل سکول بھی بنایا جو کہ ماڈرن نقطہ نظر سے بچوں کی تربیت کرتا تھا۔ اس نے پریت نگر کے نام سے امرتسر میں ایک ماڈل ولیج قائم کیا گیا جس میں ادیب، شاعر اور آرٹسٹ لوگوں کو مناسب قیمت پر گھر بنا کر دیے گئے۔ خشونت سنگھ، کرتار سنگھ دُگل، اجیت کور، بلونت گارگی اور امرتا جی کے لیے بھی یہیں گھروں کا انتظام کیا گیا۔ یہ بلاشبہ ایک شان دار آئیڈیا تھا مگر بدقسمتی سے یہ عمدہ خیالستان تقسیم کی چھری کے نیچے آ گیا۔ گاؤں بارڈر کی حدود میں آنے سے سب کچھ ختم ہو گیا، گھر بھی اور آئیڈیا بھی۔

 

شِو کمار بٹالوی اُن دنوں لڑکا تھا۔ لیکن شاعری میں اس کا نام بننا شروع ہو چکا تھا۔ اُس کا گور بخش کی بیٹی مینا سے عشق ہو گیا۔ دونوں جانب خطوط کا سلسلہ بھی چل نکلا۔ عشق چھپتا نہیں ہے جلد ہی اس کی ہوا  گور بخش جی نے بھی سونگھ لی۔ اُس نے پہلے تو اپنی بیٹی کو خاموشی سے روس بھجوا دیا اور پھر شو کمار کو جھڑک کر اُس سے تمام خطوط رکھوا لیے۔ شو کمار گلیوں میں مارا مار پھرتا جدائی کے گیت لکھنے لگا جس میں اس کا یہ مشہور گیت بھی شامل ہے :

 

مائے نی مائے

میں اک شکرا یار بنایا

اوہ دے سر تے کلغی تے پیریں جھانجر

اوہ چوگ چو گیندا آیا

چُوری کُٹاں کھاندا نائیں

اساں دِل دا ماس کھوایا

اِک اُڈاری ایسی ماری

اوہ نہ مڑ وطناں تے آیا

مائے نی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میں اک شکرا یار بنایا

 

وہ شکرا واقعی مُڑ کے نہ آیا۔ اُس کی شادی، اُس کے باپ نے، باہر ہی کر دی۔ یوں شِو کو برہا کا سلطان بنا دیا گیا۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

امرتا نے گور بخش سنگھ جی کو اپنا بزرگ مان رکھا تھا۔ وہ زندگی کے فیصلوں میں اُن کی رائے کا احترام کرتی تھی۔ جب وہ پریتم سنگھ سے علیحدگی کا سوچ رہی تھی اُن دنوں گور بخش جی سے بھی اس نے مشورہ کیا۔ انھوں نے امرتسر آ کر “پریت لڑی” کی ادارت سنبھالنے کو کہہ دیا۔ امرتا جی نے ایک سائیکالوجسٹ سے اپنا علاج بھی کروایا تھا۔ اُس کو ساری بات بتائی تو ڈاکٹر نے کہا آپ اپنے خاوند سے اُس وقت تک طلاق نہ لیں جب تک آپ کو اپنا پرفیکٹ میچ نہ مل جائے۔ گور بخش کے حوالے سے ڈاکٹر نے کہا، اس شخص کا ماضی بتاتا ہے کہ اس نے اپنی بیٹی کے ساتھ دشمنی کی، اس کا گھر بننے نہیں دیا۔ وہ آپ کو بھی سُکھی نہیں دیکھ سکے گا۔

 

یوں تو امرتا جی اور میرے بارے میں اُردو، ہندی اور پنجابی کے مختلف رسالوں میں ہر روز کچھ نہ کچھ چھپتا ہی رہتا مگر “پریت لڑی” میں ایک کہانی “کسوٹی” امرتا جی کے خلاف چھپنے پر ہمیں بہت دُکھ ہوا۔ امرتا گور بخش جی کو اپنے باپ کے مانند سمجھتی تھی۔ اسی مان پر انھیں خط لکھا کہ آپ کو میرے متعلق ایسی کہانی چھاپنے سے پہلے خود پڑھ لینا چاہیے تھی۔ امرتا جی نے لکھا میں حیران ہوں کہ یہ کہانی جو بہ طور کہانی بھی بُری ہے اور جس نیت سے لکھی گئی ہے وہ بھی بری ہے تو آپ نے اسے اپنے پرچے میں کیوں چھپنے دیا۔ یُوں لگتا ہے آپ نے اپنے پرچے کو بھی گھٹیا اور سکینڈل زدہ چیزیں چھاپنے والوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ یوں آپ نے اپنے آپ کے ساتھ بھی اچھا نہیں کیا۔

 

سائیکالوجسٹ نے امرتا کو دوسرامشورہ گور بخش سنگھ کی ایڈیٹر شپ کی آفر کو قبول نہ کرنے کا دیا۔ یوں امرتا جی اور میں نے “ناگ منی” نکالنے کا ارادہ کر لیا۔

 

پرچہ نکالنے کے لیے ہمیں بڑے پاپڑ بیلنے پڑے۔ پنجابی کے ایک بہت بڑے ادیب نے شہر کے تمام پرنٹنگ پریس والوں کو ہمارا پرچہ چھاپنے سے روک دیا۔ گو ہمارا پہلا قدم ہی اٹھنے سے پہلے باندھ دیا گیا۔ بہ حیثیت آرٹسٹ میری پرنٹنگ کے شعبے کے لوگوں سے شناسائی تھی، اس مرحلے پر وہ کام آ گئی۔ دہلی کے ایک کونے میں چھوٹا سا پریس تھا، جہاں فقط سہرے اور بسوں میں بکنے والے چھوٹے چھوٹے قصے، کہانیوں کے کتابچے یا نیم حکیموں کے پمفلٹ چھپتے تھے، “ناگ منی” وہاں چھپنے لگا۔

 

میں اور امرتا جب پرچے کا، اپنے اپنے حصے کا، کام کر لیتے یعنی جب تحریروں کا چناؤ، ان کی کتابت اور رسالے کے تمام صفحات کا ڈیزائن، لے آؤٹ وغیرہ مکمل ہو جاتا تو ہم یہ فائل اٹھا کر ٹیکسی میں اُس پرنٹنگ پریس پر پہنچ جاتے۔ امرتا چوں کہ سگریٹ پینے کی عادی تھی اور اسے کچھ دیر بعد سگریٹ کی طلب ہوتی تھی۔ امرتا پریس سے نکل کر ٹیکسی میں بیٹھ جاتی اور ڈرائیور ایک لمبی سڑک پر گاڑی چلاتا چلا جاتا۔ جب سگریٹ آدھا جل چکتا تو ڈرائیور کو واپسی کا کہہ دیتی۔ سگریٹ کے مکمل ہونے پر امرتا دوبارہ پرنٹنگ پریس کے اندر داخل ہوتی اور یوں باقی کام شروع ہو جاتا۔

 

امرتا کو سگریٹ کی عادت کیوں کر پڑی۔ یہ دل چسپ سوال ہے اور اس کے پیچھے بھی اُن کا پیار کا رشتہ ہے۔ جب ساحر لدھیانوی امرتا سے ملنے آتے تھے تو امرتا کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتے ہوئے سگریٹ بھی پیتے جاتے تھے۔ امرتا ان کی باتیں سنتی لیکن ساتھ ہی ساتھ ساحر کے چھوڑے ہوئے سگریٹ کے تمام ٹوٹے بھی سنبھال کر رکھ لیتی اور پھر ساحر کے جانے کے بعد اُن ٹکڑوں کو سلگا کر اپنی پریت کو منور کرتی۔ میں نے پیار کرنا بھی امرتا سے سیکھا کہ جس کو چا ہو اُس کی خامیوں کو بھی اپنا لو۔ آپ نے یہ باتیں امرتا کی زبانی “رسیدی ٹکٹ” میں بھی پڑھی ہوں گی۔

 

رسالے کی پالیسی ہم نے یوں مرتب کی کہ اس میں کوئی اشتہار کبھی نہیں چھپا۔ نہ ہم نے پرچے کو کمائی کا ذریعہ بنانا چاہا۔ ہم نے فیصلہ کر لیا کہ جیسے ہم جی رہے ہیں پرچے کو بھی ہمارے انداز میں جینا پڑے گا۔ بغیر کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے، اپنی انا کے ساتھ، جھوٹ اور کمپرومائز کی آلائش کے بغیر۔ میں اور امرتا اس رسالے کے پہلے لائف ٹائم پارٹنر نقد سو، سو روپے دے کر بنے۔

 

“ناگ منی” کو ایڈیٹر اور آرٹسٹ گھر ہی میں مل گئے، بلا معاوضہ۔ پرچے کو بک سٹال پر بکنے کے لیے بھی نہیں رکھا گیا۔ خریداروں کو بہ ذریعہ وی پی بھیجا جاتا۔ اس کی قیمت بھی بہت کم رکھی گئی۔ صرف ایک روپے سے آغاز ہوا اور ۲۰۰۲ء میں جب بند ہوا تو اس کی قیمت ۱۰ روپے تھی۔ ایک معیار ضرور قائم کیا۔ تحریر بُری ہوتی تو بڑے سے بڑے ادیب کو بھی چھانٹ کر علاحدہ کر دیا جاتا۔

 

سرورق پر ہمیشہ ایک معیاری نظم چھاپی جاتی۔ کبھی عورت کو سرورق کی زینت نہ بنایا گیا۔ ہمارے پرچے کے معیار کو دیکھ کر ہم پر تنقید کرنے والے ادیب بھی ہمارے گھر چکر لگانے لگے۔ ’’ناگ منی‘‘ میں کسی کا کچھ چھپ جانا، اعزاز بن گیا۔ کئی نئے لکھنے والوں، جیسا کہ سارہ شگفتہ وغیرہ، کو ہم نے متعارف کرایا۔ وہ اُردو میں لکھتی تھی اور آج تک اُس سے ملاقات بھی نہ ہوئی۔ وہ ہمیں خط لکھ کر اپنی چیزیں بھیج دیتی تھی اور ہم چھاپ دیتے۔ اکثر اردو میں ہوتیں مگر ہم ویسے ہی چھاپتے لیکن گورمکھی رسم الخط میں۔

 

سارہ شگفتہ ایک بدقسمت عورت تھی۔ اس نے اپنی خانگی زندگی کو اپنی کام یابی کا ذریعہ سمجھنے کی کوشش کی۔ اُس کے خیال میں کام یاب عورت وہ ہے جو کام یاب بیوی ہو۔ اور اس کام یابی کے حصول میں اُس نے اوپر تلے، شادیوں کے، چار تجربے کیے مگر ایک تجربہ بھی خوش گوار نہ نکلا۔ ہر بار وہ امبڑی کے دروازے پر آ کر سانس لیتی اور پھر اپنے جسم کو ایک نئی آزمائش کے لیے تیار کرتی، جیسے کوہ پیما، جو پہاڑ پر چڑھائی سے پہلے بیس کیمپ میں اپنی تیاریاں کرتے ہیں، پھر سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں۔ اسے ہر بار، خاوند کے گھر سے واپسی پر، صرف ماں کے گھر کا دروازہ کھلا ہوا ملتا۔ باقی رشتے دار حتیٰ کہ سگے بھائی بھی اسے فراموش کر چکے تھے۔

 

ایک بار اُس نے اپنی چٹھی میں ایک دل خراش واقعہ لکھا۔ اُس کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ اُس نے گھر کی دیکھ بھال کے لیے اپنے بھائی کی بیٹی کو اپنے ہاں بُلا لیا جس کی عمر بہ مشکل ۱۲ سال تھی۔ اُس کے خاوند نے ایک دن موقع پا کر اُس بچی کو پکڑ لیا اور اپنی ہوس کا نشانہ بنانا چاہا۔ سارہ نے شور سنا اور خاوند کو یہ قبیح حرکت کرتے دیکھا تو اپنی نوزائیدہ بیٹی کو اس کے سامنے ڈال کر کہا، تم نے جو کچھ کرنا ہے اس کے ساتھ کر لو مگر پرائی بیٹی کو چھوڑ دو۔

 

سارہ کو امرتا نے کئی بار ہندوستان منتقل ہونے کو کہا مگر اُس نے کبھی اس مشورے پر کان نہیں دھرا۔ احمد سلیم گاہے گاہے امرتا کو سارہ شگفتہ کی زندگی کی صورت حال سے آگاہ کرتے رہتے۔ پھر وہ ہسپتال جا پہنچی۔ اس کی چٹھیاں ہسپتال سے بھی آتی رہیں، جیل سے بھی اور پاگل خانے سے بھی۔ اس کے بعد آخری اطلاع اُس کی خود کشی کی آئی۔

میرے خیال میں اس جہاں میں تمام تخلیق کار Misfit ہیں یہ کسی اور نگر کے، کسی اور جہاں کے باشندے ہیں یا کسی اور فضا کے پرندے ہیں جو غلط جگہوں اور نامناسب ماحول میں اُتار دیے گئے ہیں۔ موت ہی ان کو نجات دلاتی ہے۔

 

کچھ لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ “ناگ منی” نے شِو کمار بٹالوی کو متعارف کرایا۔ وہ تو پیدائشی طور پر بڑا شاعر تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ “پریت لڑی” سے ناراض ادیبوں نے “ناگ منی” کا رخ کیا جن میں شِو کمار بھی تھا۔ اس کو تو وہاں پر دل کی چوٹ لگی تھی وہ بھلا وہاں کیسے ٹھہرتا۔ شِو کمار اس گھر میں آ کر رہتا۔ اپنی نظموں اور گیتوں کو اونچی آواز میں گاتا رہتا۔ ایک بار امرتا نے کہا: چپکے سے اس کو ریکارڈ کر لو۔ میں نے ٹیپ ریکارڈر کا ریکارڈنگ بٹن دبایا مگر کچھ خرابی کے باعث ریکارڈنگ نہ ہو سکی۔ شاید اس کی آواز ریکارڈ کرنا ہمارے مقدر میں نہ تھا۔ پھر ہم اُس کو صرف سننے لگے۔ آج بھی جب اُس کی یاد آتی ہے تو اپنے دل کے بٹن کو دبا کر اُس کی آواز کو سن لیتا ہوں۔ ہمارے گھر کے دروازے پر اُس نے لکھا تھا۔

 

“اَج دن چڑھیا تیرے رنگ ورگا”

 

ہندی کی مشہور ادیبہ مہا دیوی ورما ایک بار ریل کے تھرڈ کلاس ڈبے میں سفر کر رہی تھی۔ اُس نے ایک ادیب کو دیکھ کر منہ دوسری جانب کر لیا کہ کوئی دیکھ نہ لے اتنی بڑی ادیبہ تھرڈ کلاس میں بیٹھی ہے۔ مگر امرتا کو کبھی اس بات کا complex نہیں رہا۔ اُس نے میرے ساتھ فٹ پاتھ پر بیٹھ کر بھی چائے پی۔ بسوں میں سفر کیا۔ حالاں کہ وہ اس جد و جہد کے دور میں بھی ایک بہت بڑی ادیبہ کے طور پر خود کو منوا چکی تھی۔

 

پنجابی کے اکثر لکھاری اپنی کتاب چھپوانے کے لیے پبلشروں کی منتیں کرتے پائے جاتے ہیں، رائیلٹی تو بہت دور کی بات ہے۔ مگر امرتا اپنی کتاب چھپنے سے پہلے اس کی رائیلٹی کی بات کرتی تھی۔ میں نے آج تک امرتا کے منہ سے لفظ سوری نہیں سُنا۔ اُس نے زندگی بھر ایسا کام کیا ہی نہیں جس پر اُسے سوری کہنا پڑے۔ البتہ بہت سے لکھاریوں کو امرتا سے سوری کہتے میں نے کئی بار دیکھا۔

 

خوشونت سنگھ نے ایک بار کہیں لکھا۔ امرتا نے پوری زندگی میں ایک ہی نظم لکھی ہے “اج آکھاں وارث شاہنوں “۔ تو کیا باقی ساری زندگی امرتا نے کچھ نہیں لکھا۔ وہ تو یہ بھی کہتے تھے امرتا کی ساری زندگی کی کہانی بس اتنی ہے کہ ایک چھوٹے سے “رسیدی ٹکٹ” پر آ جائے۔ امرتا نے خوشونت سنگھ کی اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی سوانح عمری کا نام “رسیدی ٹکٹ” رکھا کیوں کہ اسے اپنے تخلیقی وجود پر اعتماد تھا۔

 

دیوندرستیارتھی بزرگ لکھاری ہیں۔ انہوں نے ایک بار کسی جگہ لکھا۔ امرتا اپنے بیٹے کی عمر کے بندے کے ساتھ اکیلی رہتی ہے۔ وہ لکھ کر بھول گیا یا پھر “ناگ منی” کی کشش اُسے ہمارے دروازے تک لے آئی۔ امرتا نے وہ پڑھ کر خاموشی اختیار کی اور ہمیشہ کی طرح کوئی جواب نہ دیا کیوں کہ “انڈین” اور “واہگہ چار” کے لکھاری امرتا اور میرے تعلق پر اس طرح کی باتیں اکثر لکھتے اور چھاپتے رہتے تھے۔ ہمارا دروازہ چوں کہ کھلا رہتا تھا، وہ صاحب سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آ رہے تھے کہ امرتا نے آتے دیکھ لیا۔ امرتا نے پوچھا، کیوں آئے ہو؟ اُس کو اپنا کہا یاد آ گیا۔ فوراً بولا معافی مانگنے آیا ہوں۔ امرتا نے جواب میں اتنا کہا یہ معافی کی جگہ نہیں۔ تم وہیں پر جا کر معافی مانگو جہاں تم نے جرم کیا تھا۔ وہ الٹے قدموں لوٹ گیا۔

 

پنجابی کا کوئی اخبار رسالہ ایسا نہیں تھا جس میں ہمارے متعلق کچھ نہ کچھ زہر نہ اگلا گیا ہو۔ میری کوشش ہوتی کہ اس میں سے یہ سب کچھ امرتا کے دیکھنے سے پہلے نکال کر پھاڑ دوں۔ امرتا کے خلاف تو ادیبوں نے ایک محاذ تو ہمیشہ سے کھڑا کیا ہوا تھا اور اس کی وجہ صرف امرتا کا تخلیقی ذہن تھا۔ یہ بات اُن کے حلق سے کبھی نہ اُتری کہ ایک عورت اُن سے بڑھ کر لکھے اور جانی جائے۔ یہاں پر پنجابی کے ایک بڑے لکھاری بلونت گارگی کی مثال دیتا ہوں۔ اُس نے بہت سے ادیبوں شاعروں کے خاکے لکھے ہیں۔ کئی بارہ اُس نے امرتا کے بارے میں بھی برا لکھا اور ہر بار ہمارے ہاں آ کر معافی بھی مانگی۔

 

اندر جیت گجرال جو کہ ہمارے سابقہ پردھان منتری بھی رہے اُن کے چھوٹے بھائی ستیش گجرال جو کہ ایک بڑے اچھے مصور ہیں انہوں نے دہلی میں اپنی تصویروں کی نمائش کا اہتمام کیا۔ مختلف شعبوں کے بڑے بڑے لوگ اس نمائش میں موجود تھے۔ بلونت گارگی اور اجیت کور بھی تھے۔ ایک خوب صورت لڑکی نے مصور کے پاس آ کر کہا کہ مجھے آپ کی فلاں تصویر بہت اچھی لگی ہے۔ کیا آپ وہ پینٹنگ مجھے دے سکتے ہیں۔ آرٹسٹ گڑبڑا گیا۔ ہر تخلیق کار تھوڑاسا کنجوس بھی ہوتا ہے۔ تاہم اس نے خود کوسنبھالا اور شرارتاً کہا، ہاں بے شک لے جاؤ لیکن تمھیں اپنے تمام کپڑے اُتار کر اُس تصویر تک جانا ہو گا اور اسی حالت میں تصویر کو دیوار سے اُتار کر لے جانا ہو گا۔ لڑکی نے ایک نظر مصور کے چہرے پر ڈالی اور پھر یک بہ یک اُس نے اپنے تمام کپڑے اُتار دیے۔ ننگی حالت میں پینٹنگ کی جانب چلتی گئی اور سٹول پر چڑھ کر تصویر اتار لی، کپڑے پہنے اور تصویر لے کر گھر چلی گئی، ساری محفل ہکا بکا کھڑی رہ گئی۔

 

اس واقعے کو دونوں لکھاریوں نے اپنے اپنے انداز میں لکھا ہے۔ اجیت کور نے لکھا کہ وہ اپنی ایک سہیلی کے ساتھ اُس لڑکی کے گھر تک گئی۔ وہ سہیلی اُس پینٹنگ کو خریدنا چاہتی تھی۔ لیکن وہ لڑکی بالکل گنگ تھی۔ اب وہ پہلے والی شوخ اور مسکراتی ہوئی لڑکی نہ تھی۔ ایک بُت کی صورت خاموش بیٹھی تھی۔ پینٹنگ کمرے کی ایک دیوار کے ساتھ اُلٹی پڑی ہوئی تھی، جیسے کوئی بے کار شے۔ جب میری سہیلی نے پینٹنگ مانگی تو اس نے اشارے سے کہا کہ وہ پڑی ہے، اُٹھا کے لے جاؤ۔ امرتا نے اجیت کور کی انھی خوبیوں کی بنا پر کہا تھا کہ اس کے پاس بجھے ہوئے الفاظ کو جلانے کا ہنر ہے۔

 

مگر بلونت گارگی نے اس واقعے کو جب لکھا تو اس میں جنس کو حوالہ بنایا۔ اس نے لڑکی کے خطوط پر دل کھول کر لکھا۔ جو کچھ اس نے لکھا اس کے اپنے ذہن کاشاخسانہ تھا۔

 

ہم فن کار لوگ زندگی کو خوب صورت بنانے کے لیے مصوری بھی کرتے ہیں، شاعری بھی کرتے ہیں اور موسیقی کے سُروں سے بھی لوگوں کو بہلاتے ہیں مگر خود اس خوب صورتی کے عمل سے دُور رہتے ہیں شاید اسی لیے یہ دنیا خوب صورت نہیں ہے۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

ایک مرتبہ کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ نے بھارتی رائٹرز کو روس کے دورے کے لیے تیار کیا۔ اس فہرست میں امرتا کا نام بھی شامل تھا۔ پنجابی رائٹرز نے جب امرتا کا نام دیکھا تو ہر ڈالی پر علاحدہ بیٹھے توتوں کی طرح نت نئے اعتراض کرنے لگے۔ بہت سے اس کوشش میں لگ گئے کہ کسی طرح امرتا کا نام اس لسٹ سے نکل جائے۔ کچھ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ امرتا کی موجودگی سے ہماری خواتین کے اخلاق پر بُرا اثر پڑے گا۔ امرتا اس ساری صورتِ حال سے بے خبر تھی۔ ایک دن سجاد ظہیر امرتا کے پاس آئے۔ وہ کچھ الجھن میں دکھائی دے رہے تھے۔ بولے بھارتی لکھاریوں کا ایک وفد رشیا جا رہا ہے۔ میری خواہش ہے کہ تم بھی اس میں شامل ہو جاؤ لیکن پنجابی رائٹرز نے تمھارے نام پر بہت اعتراض کیا ہے۔ سجاد ظہیر نے امرتا کو مشورہ دیا کہ اگر وہ ایک خط کمیونسٹ پارٹی کے صدر کے نام لکھ دیں جس میں روس جانے کی خواہش ہو، تو کام بن سکتا ہے۔ امرتا نے سجاد ظہیر کو کورا جواب دے دیا اور کہا آپ نے کیوں میرے لیے اتنا تردّد کیا۔ اس مقصد کے لیے آپ کو یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔ رہی بات رشیا جانے کی تو آپ نے یہ کیسے سوچا کہ میں کسی وفد کے ساتھ جانا چاہتی ہوں۔ میں تو جس ملک جانا چا ہوں گی، اکیلے جانا پسند کروں گی۔ اگر روس کو میری ضرورت ہوئی تو وہ مجھے الگ سے دعوت بھیج دے گا۔ 1960۰ء میں روسی ادیبوں کی جانب سے امرتا جی کو دعوت نامہ آ گیا۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ امرتا نے زندگی بھر کسی وفد کے ساتھ سفر نہیں کیا۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

امرتا کے پتا جی مذہبی آدمی تھے۔ انھوں نے امرتا کے حوالے سے یہی چاہا تھا کہ وہ مذہبی کوِتا ہی لکھے۔ لیکن امرتا ان پابندیوں کی قائل نہیں تھی۔ اس نے پوری حیاتی کسی پابندی کو قبول نہیں کیا۔ ایک بار میں اور امرتا کہیں دور سیر کے لیے گئے۔ وہاں بھگوان گنیش جی کی مورتی امرتا کو بہت پیاری لگی۔ وہ اسے خرید کر گھر لے آئی۔ کچھ دنوں بعد دُوردرشن والے اُن کا انٹرویو کرنے گھر آئے۔ اپنی عادت کے مطابق وہ باتیں بھی کرتے جاتے اور گھر کے کونوں کھدروں کی فلم بندی بھی کرتے جا رہے تھے۔ لائبریری میں رکھا گنیش جی کا بُت دیکھ کر انھوں نے امرتا سے کہا۔ میڈم ہمیں مورتی کے ساتھ آپ کا شاٹ لینا ہے۔ امرتا مورتی کے پاس کھڑی ہو گئی تو ڈائریکٹر کو کچھ اور سوجھا، کہنے لگا: آپ اس بُت کی پوجا کرتے ہوئے پوز بنائیں۔ امرتا نے کہا نہ میں نے عبادت کی، نہ کروں گی، ہاں تم کہو تو اس مورتی کو میں پیار کر لیتی ہوں۔ ما تھا نہیں ٹیکوں گی۔ پیار کا شارٹ لینا ہو تو لے لو۔

 

آدمی کا مسئلہ ہے کہ جس کے ساتھ مکالمہ نہ کر سکے اُس کا بُت بنا لیتا ہے، پتھر کا بھی اور دِل میں بھی۔ پھر اُس کو پوجنے لگتا ہے۔ زندگی حال میں جینے کا نام ہے، ماضی میں نہیں۔ جو گزر گیا اس کے غم میں پریشان ہونے میں دانائی نہیں ہے۔ مذہب حکم تو دیتا ہے مگر کوئی حکم یا بات مانتا نہیں ہے۔ امرتا پریتم کسی مذہب کو نہیں مانتی تھی۔ اس کے عقیدے پر بات ایک فقرے میں یوں کہی جا سکتی ہے :

 

She is religious but without any religion

 

جیسے وہ اپنے بچوں کے باپ کو اُس کے آخری وقت میں گھر اُٹھا کر لے آئی تھی اور پھر اُس کی مرتے دم تک خدمت کرتی رہی۔ اُس کی آخری رسوم ادا کیں۔ یہ کام کوئی مذہب والا نہ کرتا اور نہ مذہب اس کی اجازت دیتا ہے۔ یہ تو مذہب سے بالاتر سوچ والے بندے کا کام ہے۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

ایک دن رابعہ بصری سے ایک صوفی ملنے آئے۔ نماز کے بعد قرآن پڑھنے کو مانگا۔ صوفی نے دیکھا کہ اس میں سے ایک آیت کو نکال دیا گیا تھا، پوچھا یہ کیا؟ رابعہ بصری نے کہا، میں نے دنیا کو محبت کی نظر سے دیکھا ہے اور نفرت کو ختم کرنا چاہا ہے، اس لیے شیطان سے نفرت والی آیت نکال دی ہے۔ نفرت کو محبت کے ساتھ replace کیا جا سکتا ہے مگر نفرت کے جواب میں نفرت دینے سے محبت جنم نہیں لے سکتی۔ جیسے اندھیرے کی ضد روشنی ہے۔ روشنی کریں تو اندھیرا غائب ہو سکتا ہے مگر اندھیرے کے سامنے اندھیرا رکھ کر روشنی نہیں پیدا کی جا سکتی۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

امن

ہتھ وچ پھڑیا پھل

بغیر بولے کہہ سکدا اے

کہ میں امن لئی آں

ہتھ وچ پھڑی تلوار

بول کے وی نئیں کہہ سک دی

کہ میں امن لئی آں

 

اتہاس کہندا اے

بندہ سولائزیشن تو پہلا وحشی تے جنگلی سی

۱۹۴۷ کہندا اے

بندہ اجے وی وحشی ای

 

میں پوچھے بغیر نہ رہ سکاکہ امرتا جی کی زندگی میں آپ پر نظم کیوں نہیں اُتری؟

اُتری بالکل اُتری۔ نظم تو کبھی بھی نہیں رُکی۔ اُس سمے زندگی پر نظم اُترتی رہی اب کاغذ پر اُتر رہی ہے۔ یہ سلسلہ کبھی نہیں رُکا۔

تو اکھر اکھر کوِتا

تے کوِتا کوِتا زندگی

مجھے احساس تھا میں نظم لکھ سکتا ہوں اور پھر لکھنا شروع بھی کر دیا۔ احساس کبھی جھوٹا نہیں ہوتا۔ بندہ خود جھوٹ بولتا ہے۔

اُڈدے کاغذ تے

میں نظماں لکھ دا ہاں

تینوں کنیاں ملیاں

کنیاں نئیں ملیاں

مینوں یاد نئیں

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

اب تو میری نظموں کا مجموعہ بھی چھپ گیا ہے جس کا نام ہے “جشن جاری اے “۔ پنجابی اکیڈیمی دہلی کی جانب سے اس کتاب کو ایوارڈ دیا گیا ہے اور۳۰ ہزار روپیہ نقد بھی۔

 

مجھے محسوس ہواجیسے واقعی امروز کے اندر باہر ’جشن جاری ہے ‘۔

 

مجھے محسوس ہی نہیں ہوتا، یقین بھی ہے کہ امرتا جی میرے پاس کھڑی ہے، بیٹھی ہے، چل پھر رہی ہے اور ساتھ ساتھ مجھے دیکھ کر مسکراتے ہوئے باتیں بھی کر رہی ہے۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

امرتا نے ہندی میں لکھنا شروع کیا تب جا کر گھر کے حالات کچھ ٹھیک ہوئے۔ لگ بھگ ایک لاکھ روپے مہینے کی آمدن ہونے لگی لیکن امرتا ہمیشہ سے دل کی بہت امیر تھی۔ بُرے سے بُرے حالات میں بھی کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ایک بار اندرا گاندھی نے پنجابی لکھاریوں کو اپنے پاس بلایا۔ میٹنگ کے بعد فوٹوگرافی ہونے لگی۔ وزیر اعظم درمیان میں اور ادیب شاعر دائیں بائیں ایک دوسرے کو کندھے مارتے ہوئے اپنی جگہ بنانے کے چکر میں تھے۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر امرتا اس گروپ سے نکل کر، ایک درخت کے نیچے کھڑے ہو کر تماشا دیکھنے لگی۔ اندرا گاندھی نے امرتا کو الگ تھلگ کھڑے دیکھا تو فوراً سمجھ گئی کہ اصل تخلیق کار کون ہے۔ اس کے بعد وہ امرتا کی سہیلی بن گئی۔ اکثر بلا کر ڈھیر ساری باتیں کرتی اور شاعری بھی سُنتی۔ اندرا کے بعد راجیو گاندھی بھی امرتا کی باتوں کو غور سے سنتا تھا۔ ایک بار اُس نے کچھ ادیبوں اور وزیروں کو اپنے ہاں بلایا اور کسی موضوع پر سب کو بولنے کا کہا۔ امرتا نے جو کہا، اُس کو میٹنگ کے بعد راجیو نے ریکارڈنگ چلوا کر اپنی کابینہ کو سنوایا اور کہا کہ یہ ہوتی ہے سچ کی آواز۔ انھی دنوں راجیو گاندھی نے امرتا کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کر دیا۔ امرتا نے انکار کیا کہ میں سیاست اور الیکشن کو پسند نہیں کرتی۔ جواب میں راجیو نے صرف یہ کہا: اسی لیے تو ہم نے آپ کو الیکشن اور سیاست سے بچا کر سینٹ کے لیے منتخب کیا ہے۔

 

امرتا جب راجیہ سبھا کے اجلاس میں شرکت کے لیے جاتی تومیں اس کا ڈرائیور بن جاتا۔ وہاں امرتا میٹنگ میں ہوتی اور میں پارکنگ میں گاڑی کے اندر ہی بیٹھا اس کا انتظار کرتا رہتا۔ ان دنوں میں نے وقت گزارنے کا یہ حل نکالا کہ اوشو کی کتابیں ساتھ لے جاتا۔ گورو رجنیش کو انھی دنوں میں صحیح طور پر سمجھ پایا۔ اجلاس کے ختم ہونے پر جب امرتا پارکنگ کے دروازے پر آ کر اعلان کراتی کہ امروز صاحب گاڑی لے کر آ جائیں۔ اعلان کرنے والا مائیک پر کہتا امرتا پریتم کا ڈرائیور گاڑی لے کر گیٹ پر آ جائے۔ میں آواز سنتے ہی گیٹ پر گاڑی لے آتا۔ امرتا اکثر کہتی کہ تمھیں ڈرائیور بنا کر میں نے کچھ اچھا نہیں کیا۔ میں جواب دیتا کہ میں تمھارا ڈرائیور ہی تو ہوں۔ اچھا اب چھوڑو اور اوشو کی یہ لائنیں پڑھو اور یوں یہ چھ سال کا عرصہ، راجیہ سبھا کا بھی کٹ گیا۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

کبھی کبھی ہم لمبی ڈرائیو پر چلے جاتے۔ ایک بار مدھیہ پردیش جا رہے تھے کہ راستے میں ایک پولیس والے نے گاڑی روکی اور ساری گاڑی چیک کی، کچھ نہ ملا تو جانے دیا۔ آگے جا کر امرتا نے پوچھا وہ گاڑی میں کیا ڈھونڈ رہا تھا۔ میں نے کہا شراب۔ حالاں کہ عقل کے اندھے کو یہ بھی نظر نہیں آیا کہ سب سے نشیلی شے تو میرے پہلو میں بیٹھی ہے۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

باتیں کرتے کرتے امروز مجھے گھر کی چھت پر لے گئے۔ پوری چھت گملوں اور پودوں سے بھری ہوئی تھی۔ امروز نے مجھے ان گملوں کے بیچ میں رکھی دو کرسیوں اور میز کی طرف اشارہ کر کے بیٹھنے کو کہا اور خود ڈول میں پانی بھر بھر کر پودوں کو سیراب کرنا شروع کر دیا۔ میں نے غور کیا کہ پودے کافی تعداد میں ہیں اور امروز 80 برس کے۔ میں فوراً اٹھا اورپاس پڑی چھوٹی سی بالٹی اٹھائی اور پودوں کو نہلانا شروع کر دیا۔ امروز دیکھ کر خوش ہوئے اور بولے پاشا تمھیں ایک بات بتاؤں۔ میں اور امرتا دونوں صبح ناشتے کے بعد ان کرسیوں پر آن بیٹھتے تھے۔ پھر امرتا ان پودوں کو پیار کرتیں، ان کو پانی دیتیں اور میں امرتا کو اخبار پڑھ کے سناتا تھا۔ میں نے امروز سے کہا آپ روزانہ اتنے سارے پودوں کو پانی دیتے ہیں۔ ہاں بالکل۔ لیکن یہ تو بہت زیادہ ہیں۔ یار کتنے زیادہ ہیں۔ میں نے جواب دیا پورے 99 ہیں، ایک کم ایک سو۔ امروز ہنس کر بولے۔ امرتا کے بعد اب ان کو پانی دینا بھی میری عبادت میں شامل ہے۔ اگر میں نے ایک دن بھی چھٹی کر لی تو امرتا کیا سوچے گی۔ وہ سامنے بیٹھی یہی تو دیکھ رہی ہے۔ میں اسی لیے تو کبھی اس گھر کو چھوڑ کے کہیں نہیں جاتا۔ کوئی مجھے امریکہ سے بلاتا ہے تو کوئی برطانیہ، کینیڈا سے۔ میری بہن اور اس کے بچے امرتسر میں رہتے ہیں۔ چند دن پہلے میں امرتسر اپنی بہن کے پوتے کی شادی میں گیا تھا۔ صرف تین دن مشکل سے کاٹے اور واپس آ گیا۔ میرا اور کہیں دل نہیں لگتا۔ اب لوگوں کو کیا پتا میں یہاں امرتا کے گھر دیا جلائے بیٹھا ہوں۔ سو لوگ اُس کے نام پر چلے آتے ہیں۔ آپ پاکستان سے چل کر آئے ہیں اور آپ کے ہوتے ہوئے کتنے لوگ یہاں آئے۔ اگر میں یہاں نہ رہوں گا تو پھر ان کو کون اٹینڈ کرے گا۔ اب یہی میری عبادت ہے یہی میری زندگی اور یہی میری کمائی۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

امرتا کے ناولوں پر فلمیں بھی بنی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے اُن کے ناول “پنجر” پر ہندی کے ایک ڈائریکٹر نے فلم بنائی ہے آپ نے دیکھی؟

 

ہاں میں نے پہلے ناول پڑھا تھا اور پھر فلم بھی دیکھی، بہت کمال کی فلم بنی ہے، میں نے کہا۔

 

اکثر یہ ہوتا ہے کہ جب کسی ناول پر فلم بنتی ہے تو اس کو مکمل طور پر سلور سکرین پر منتقل نہیں کیا جاتا۔ مغرب میں یہ تجربات زیادہ ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ناولوں پر فلمیں بنتی رہی ہیں۔ یہاں بھی پورا ناول استعمال نہیں ہوا۔ یہی کچھ “پنجر” کے ساتھ بھی ہوا، اس ناول میں رشید کے دو بچے بھی ہیں جن کی بدولت ہیروئن اپنے بھائی کو بارڈر پر ملنے کے بعد چھوڑ کر واپس آ جاتی ہے لیکن ڈائریکٹر نے اس صفائی سے ان بچوں کو غائب کر دیا جیسے وہ تھے ہی نہیں حالاں کہ وہ بچے اہم کریکٹر بن سکتے تھے۔

 

ڈائریکٹر نے یہ کہانی کو امرتاسے لینے کے بعد پہلی شوٹنگ سے پہلے ہی گھر آ کر 3 لاکھ روپے امرتا کے قدموں میں ڈھیر کر دیے تھے۔ اتنی بڑی رقم دینے کے باوجود اس نے کہا: امرتا جی میں اس سے زیادہ دے سکتا تو مجھے خوشی ہوتی۔

 

مجھے اس بات پر بہت دُکھ پہنچتا ہے جب پاکستان اور لہندے پنجاب میں گورمکھی کو سکھوں کی زبان قرار دیا جاتا ہے حالاں کہ جتنی perfect صوتی اعتبار سے یہ لیپی ہے وہ فارسی نہیں ہو سکتی۔ میں آپ کے سامنے بیٹھا اُردو میں کیوں لکھ رہا ہوں۔ اس لیے کہ یہ مجھے گورمکھی سے زیادہ آتی ہے۔ میں نے اُردو فارسی رسم الخط میں، ایک عمر خطاطی کی ہے، شمع رسالے کی ملازمت کے دوران، مگر میرا ووٹ اب بھی گورمکھی کے لیے ہے کیوں کہ اس میں تمام ماترے موجود ہیں۔ آپ اردو زبان کو اندازوں سے پڑھتے ہیں جیسے میرا اور مِیرا میں فرق نہیں ہو سکتا جب تک نیچے زیر نہ ڈالی جائے اسی طرح عَلم اور عِلم والی مثالیں ہیں، ڈھونڈیں تو سینکڑوں اور بھی مل جائیں گی۔ گورمکھی سکھوں کی نہیں پورے پنجاب کی زبان ہے اور اس کو پورے پنجاب میں پڑھا لکھا جانا چاہیے۔ نئی نسل جو خصوصاً مغرب میں پروان چڑھی اور آباد ہے ان کے لیے فارسی اور گورمکھی دونوں اجنبی ہیں مگر انھوں نے اپنے لیے Roman میں حل ڈھونڈ لیا ہے۔ یہ اُن کی مجبوری بھی ہے اور سہولت بھی۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

میں بات کا رخ ایک بار پھر امروز، امرتا اور ساحر کی تکون کی طرف موڑا۔

 

میں نے ساحر کو دوست اور ساتھی سمجھا۔ کبھی رقیب نہ جانا۔ کبھی کوئی منفی جذبہ ہمارے بیچ نہیں آیا۔ میں نے اُسے نہ کبھی بُری نظر سے دیکھا، نہ بُرے ذہن سے سوچا اور نہ برے دل سے سمجھا۔ ہمیشہ اسے اچھا اور پیارا انسان پایا۔ کمال کا شاعر اور خوب صورت باتیں کرنے والا دوست۔ میں نے امرتا اور ساحر کے تعلق پر ایک طویل نظم بھی لکھی ہے جس کا ایک بند ہے :

 

چاہت

 

نو سو میل کا فاصلہ

کوئی فاصلہ نہیں تھا

اور بھی ہوں گے ان دِکھ فاصلے

جو طے نہیں ہوئے

چلتے تو یہ سب فاصلے کبھی فاصلے ہی نہ رہتے

چاہت تو، کہتے ہیں ہزاروں میل چلتی رہتی ہے

اُس کی محبت گواہ ہے، تاریخ گواہ ہے

وقت کے ساتھ دونوں، کوِتا سے بہترین کِوتا تک

نظم سے بہترین نظم تک پہنچ گئے

پر زندگی تک نہیں پہنچے

پہنچ جاتے تو دونوں کی زندگی بھی

کوِتا ہو جاتی، نظم ہو جاتی

 

اس نظم میں کوِتا سے مراد امرتا پریتم اور نظم سے مراد ساحر ہے۔ یہ نظم ان دونوں کا ایک مطالعہ ہے جسے میں نے دونوں کے سامنے بیٹھ کر کیا ہے۔ امرتا نئی دہلی میں رہتی تھی اور ساحر بمبئی میں۔ درمیان میں آٹھ سو کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ یہ فاصلہ مِٹ سکتا تھا مگر ساحر کا دھیان اس طرف نہیں تھا، گھر بسانے کی طرف امرتا کے ساتھ اکٹھے جیون بنانے کی طرف۔ ویسے بھی عشق ایک دوسرے کو پانے کا نام نہیں ہے یہ تپش تو دُور رہ کر ہی بڑھتی ہے۔

 

امرتا رات بھر پڑھتی اور لکھتی رہتی تھی۔ آپ دیکھ رہے ہیں میرے اور امرتا کے کمروں کے درمیان یہ ایک راہ داری ہے جس کے بیچ میں کچن ہے۔ میں اپنے کمرے میں اپنی ٹیبل پر بیٹھ کر آرٹ میں اُلجھا رہتا اور امرتا اپنے کمرے میں کتابوں اور قلم سے نبرد آزما رہتی۔ رات ڈیڑھ بجے اُسے چائے کی طلب ہوتی تھی مگر وہ مجھے نہ کہتی۔ مجھے پتا ہوتا تھا۔ میں چُپکے سے کچن میں جا کر چائے بناتا اور پھر آرام سے امرتا جی کے بستر کے ساتھ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر الٹے قدموں لوٹ آتا۔ نہ میں کچھ کہتا اور نہ وہ کچھ بولتی۔ اکثر وہ آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتی تھی۔ مجھے معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس وقت تخلیقی ماحول میں تیر رہی ہے اس لیے کلام مناسب نہیں۔

 

امرتا سے محبت تو موہن سنگھ بھی کرتے تھے۔ عمر میں وہ امرتا کے والد جیسے تھے۔ لیکن امرتا ان کی عزت بہ حیثیت اُستاد شاعر کرتی تھی اور اپنے دل میں ان کے لیے عقیدت کا جذبہ رکھتی تھی۔ مگر استادجی اپنے دوستوں کی محفلوں میں محبت کا اظہار کرتے پائے گئے۔ ایک بار انھوں نے ایک نظم جائیداد لکھ ڈالی جس میں انھوں نے اپنے عشق کو ڈھکے چھپے الفاظ میں بیان کیا۔ امرتا کے لیے چُپ رہنا مشکل ہو گیا۔ جو کہانیاں پھیل رہی تھیں ان میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ امرتا کی خاموشی سے کئی مطلب نکل سکتے تھے۔ اس کا ڈراپ سین اُس دن ہوا جب پروفیسر صاحب کپورسنگھ جی کے ساتھ ہمارے گھر آئے۔ امرتا خوف اور شرمندگی کے عالم میں تھی اور احترام بھی ملحوظ خاطر تھا۔ امرتا نے اپنی باڈی لینگویج سے یہ باور کرا دیا کہ ادھر ایسا کچھ نہیں ہے۔ کپورسنگھ سمجھ دار آدمی تھا اُس نے موہن سنگھ سے کہا:

 

“Don’t misunderstand her, she doesn’t love you”

 

امرتا نے یہ فقرہ سُنا تو کچھ ہمت بندھی اور بولی: پروفیسر صاحب میں آپ کی دوست ہوں اور آپ کا احترام بھی کرتی ہوں اور کیا چاہیے آپ کو۔ پروفیسر صاحب کچھ نہ بولے، اٹھے اور چلے گئے۔ اس کے بعد انھوں نے ایک اور نظم لکھ ڈالی جس میں امرتا کے الفاظ دہرائے۔

 

“میں آپ کی دوست ہوں آپ کا احترام کرتی ہوں آپ کو اور کیا چاہیے ”

 

پیار جیسی کوئی اور شے نہیں ہے۔ جب “رسیدی ٹکٹ” میں امرتا نے پروفیسر موہن سنگھ کے بارے میں لکھا تو وہ ہمارے گھر آئے اور شکوہ کیا کہ آپ نے یہ کیوں لکھ دیا۔ اچھا ہوتا اگر یہ بھرم بنا رہتا۔ امرتا آپ نے اچھا نہیں کیا۔ پیار کا بھرم نہیں رہا۔ یہ حقیقت ہے کہ پیار ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ تیسری بات منافقت ہے اور کچھ نہیں۔

 

اکثر کٹر سکھ کہتے ہیں امرتا سگریٹ پیتی ہے اس لیے ہم اس کی کتابوں کو گھر کی لائبریری میں نہیں رکھتے۔ اس طرح وہ ایک بڑی رائٹر کو پڑھنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔

 

جب امرتا نے اپنی نظم وارث شاہ والی لکھی تھی تو بھی بہت سے لکھاریوں اور مذہبی حلقوں نے شور مچایا تھا۔ سکھ کہتے تھے امرتا نے ایک مسلمان شاعر کو کیوں آواز دی اُسے گورو نانک جی کو پکارنا چاہیے تھا۔ یہ تو تخلیق کار کو پابند کرنے والی بات ہے۔ آپ خود کوئی نظم لکھیں اور جسے چاہے آواز دے لیں۔ امرتا کو جتنا مذہبیوں نے برا بھلا کہا اور شاید کسی نے نہیں کہا ہو گا۔ لیکن امرتا نے کبھی کسی کو جواب نہیں دیا۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

جب مہاتما بدھ ہندوستان واپس آئے تو اُن کے بارے میں مذہبی گروہوں کی جانب سے مشہور کیا جا چکا تھا کہ یہ ربّ کو نہیں مانتے۔ مہاتما ایک برہمن کے پاس گئے تو اس نے غصے اور نفرت میں آپ کے چہرے پر تھوک دیا۔ آپ نے بڑے تحمل سے تھوک کو اپنی چادر سے صاف کیا اور کہا آپ نے کچھ اور کہنا ہے۔ وہ برہمن پہلے تو حیران ہوا پھر کھسیانا ہو کر یہ سوچتے ہوئے وہاں سے کھسک گیا کہ اس نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اور مہاتما کا رد عمل کتنا مختلف رہا۔ خیر وہ دوسرے دن مہاتما کی خدمت میں حاضر ہوا اور قدموں میں گر کر معافیاں مانگنے لگا۔ بُدھ نے اُسے اٹھا کر سامنے بٹھا لیا اور کہا: تم تو، کل والے انسان ہی نہیں ہو، پھر معافی کِس بات کی۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

میں ایک بار پاکستان گیا تھا، لائل پور دیکھنے اور لہور دیکھنے، جہاں میں نے اپنی زندگی کی جد و جہد کا آغاز کیا تھا۔ لکشمی چوک گیا اور ہیرا منڈی بھی۔ پتا ہے کیوں ؟ میں وہاں زاہدہ پروین سے ملنے گیا تھا۔ میں اُس کی کافیوں کا بڑا مداح تھا۔ جب کوئی آدمی کسی فن کار سے متاثر ہوتا ہے تو لازماً اُس کا ایک امیج اپنے من میں بنا لیتا ہے جو کہ بہت سندر ہوتا ہے۔ میں زاہدہ پروین کے ریکارڈ خرید کر رکھ لیتا تھا۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب میرے پاس گراموفون بھی نہیں تھا، مگر خرید کر اس لیے رکھ لیتا تھا کہ جب گراموفون میرے پاس آئے گا تو شاید اس وقت یہ ریکارڈ مارکیٹ سے نہ مل سکیں۔

 

میں صبح سویرے ہی ہیرا منڈی پہنچ گیا حالاں کہ اس وقت اس بازار کے سبھی لوگ سوئے ہوتے ہیں۔ پولیس نے پوچھا، کدھر جانا ہے۔ میں نے کہا زاہدہ پروین سے ملنے جانا ہے۔ پولیس والوں کے بعد، زاہدہ پروین کے گھر کے کارندوں نے پوچھا: کیوں ملنا ہے ؟ میں نے کہا میں اتنی دور، ہندوستان سے انھیں ملنے آیا ہوں۔ وہ سوئی ہوئی تھیں، اُن کو جگا کر لایا گیا۔ زاہدہ پروین کو دیکھ کر میں ایسے خوش ہوا جیسے کسی بچے کی خواہش پوری ہو گئی ہو۔ مگر زاہدہ پروین کے چہرے پر ناگواری تھی۔ انھوں نے کہا، اچھا مطلب کی بات کریں کیوں آئے ہیں مجھ سے ملنے ؟ میں اپنا مدعا دہرایا تو بولیں : اچھا! حیرت ہے آپ میری کافیاں سُن کر اتنی دور سے ملنے چلے آئے ہیں ! بہ ہر حال اس میں میری اپنی حماقت کا عمل دخل بھی تھا۔

 

ملکہ پکھراج ہندوستان آئیں۔ امرتا نے اُن کو سُنا۔ بہت اچھا گانے والی ہیں۔ امرتا نے ان سے پوچھا آپ کو خود کون سا گانے والا اچھا لگتا ہے۔ ملکہ پکھراج نے جواب دیا حامد علی بیلا۔ وہ نہ پیسوں کے لیے گاتا ہے اور نہ شہرت کے لیے۔ وہ صرف اپنے مرشد کے عشق اور اپنی روح کی تسکین کے لیے گاتا ہے۔ امرتا خود بھی بیلا کی آواز کی دیوانی تھی۔ جب تک ریڈیو لاہور کی نشریات دہلی میں سنائی دیتی رہیں، ہم اس آواز سے اپنی روحوں کو تازہ کرتے رہے اور پھر جب ریڈیو پر یہ ممکن نہ رہا تو بازار سے کیسٹیں وغیرہ لے آتے۔

 

پاکستان سے الیاس گھمن ہمارے ہاں وارث شاہ صاحب کے مزار کی چادر لے کر آئے۔ انھوں نے امرتا کو پنجاب کی بیٹی اور مرشد وارث شاہ کی اصل وارث قرار دیا۔ سبز چادر اوڑھ کر امرتا ایک بچے کی طرح خوش نظر آئی۔ ایسے بچے کی طرح، جس کی کوئی بہت بڑی خواہش پوری ہو گئی ہو۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

گلزار کے بارے میں آپ نے کل کچھ کہا تھا۔ وہ بہت اچھا لکھنے والا ہے۔ اس سے بڑا ڈائریکٹر اور سب سے بڑھ کر بہت بڑا انسان ہے۔ ابھی کچھ دیر بعد ہم دونوں مارکیٹ تک جائیں گے وہاں سے میں آپ کو وہ سی ڈی خرید کر دینا چاہتا ہوں جو گلزار نے امرتا کی نظموں پر تیار کی ہے۔ اس سی ڈی کے آخر میں اس نے میری ایک نظم بھی شامل کی ہے۔ اس کی تقریب رونمائی میں اُس نے مجھے جہاز کا ٹکٹ بھجوا کر بمبئی بلایا تھا۔

 

گلزار کے اندر کا دیہاتی آدمی اُس کی تحریروں میں جا بہ جا جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ Creative آدمی کا Nostalgia عمر بھر اُس کے سنگ سفر کرتا ہے اور یہ دُکھ اُس وقت دو آتشہ ہو جاتا ہے جب انسان ہجرت کے عمل سے گزر کے آیا ہو۔ اُس کی اپنی دھرتی، اپنے لوگ، اپنا ماحول، درخت پرندے سب کچھ اسے ایک گم گشتہ جنت کی یاد دلاتے رہتے ہیں۔

 

گلزار اور راکھی کا میل ہم سب کو بہت اچھا لگا۔ دونوں بہت سمجھ دار اور تخلیقی ذہنوں کے مالک مگر دونوں کا بس نہ سکنا سمجھ میں نہ آیا۔ امرتا اور پریتم سنگھ کی علاحدگی تو سمجھ میں آتی ہے کہ دونوں میں ذہنی ہم آہنگی نہ تھی لیکن گلزار اور راکھی دونوں ہی آرٹسٹ تھے۔ پھر یہ انجام کیوں ؟ دُکھ ہوتا ہے۔

 

دھرتی سے علاحدگی کا دُکھ بندے کو مار دیتا ہے۔ ۱۹۴۷ء میں جہاں لاکھوں لوگ قتل ہوئے وہاں لاکھوں بے گھر بھی ہوئے اور لاکھوں گھر اُجڑے بھی۔ لکھاریوں کو بھی اس آگ سے گزرنا پڑا۔ امرتا، گلزار، پروفیسر موہن سنگھ، اجیت کور، شِو کمار بٹالوی اور گجرال جیسے دانش وروں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے۔ منٹو، جوش، حمید اختر، احمد راہی، جیسے بڑے نام اُدھر پاکستان چلے گئے۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

اس دوران میں ایک پیاری سی لڑکی کی ذرا سی دیر کے لیے آ کر ماحول پر طاری اداسی کو معدوم کر گئی۔ اس نے اپنا نام پریان کا بتایا۔ امروز نے شرارتی لہجے میں مجھے بتایا:یہ میرے پوتے کی گرل فرینڈ ہے۔ نوراج کا بیٹا جو آج کل ممبے میں کمپیوٹر اینی میشن میں کام کرتا ہے، اُس نے بڑی اچھی فیلڈ چن لی ہے۔ نوراج کی اولاد اس کے بالکل برعکس ہے۔ دونوں پوتا اور پوتی مجھ سے بے انتہا پیار کرتے ہیں۔ پوتی کالج میں پڑھ رہی ہے اور پوتا کما رہا ہے۔ مجھے پنجابی ساہتیہ اکیڈمی کی جانب سے جو ۳۰ ہزار روپے کتاب پر ایوارڈ کے ساتھ ملے تھے وہ میں نے آدھے آدھے دونوں کے اکاؤنٹ میں ڈال دیے ہیں۔ مجھے اس عمر میں پیسوں کی کیا ضرورت۔ میرا خرچہ میرے آرٹ ورک سے نکل آتا ہے۔

 

اجیت کور امرتا کی بڑی پیاری سہیلی تھی۔ اس کی بیٹی بھی بڑی پیاری ہے ارپنا، جو آرٹسٹ ہے۔ کبھی امرتا اور میں نے چاہا تھا کہ ارپنا ہماری بہو بن جائے مگر شاید ان دونوں کا سنجوگ نہیں لکھا تھا۔ اجیت کور نے اپنی آرٹ اکیڈیمی کے لیے گورنمنٹ کو درخواست دے رکھی تھی۔ اپنے ادارے کا ایک لیٹر پیڈ بھی بنا رکھا تھا جس پر امرتا پریتم کا نام بہ طور پریذیڈنٹ لکھا ہوا تھا۔ امرتا اس بات سے بے خبر تھی۔ ایک بار سرکار کے ایک افسر نے امرتا کو جگہ کی منظوری کی مبارک باد دی۔ امرتا نے پوچھا کون سی جگہ؟ تو اس نے اجیت کور کی درخواست کے حوالے سے ساری بات بتا دی۔ امرتا کو رنج ہوا کہ اُس کا نام استعمال ہوا مگر اسے بے خبر رکھا گیا۔ اس نے فوراً اجیت کور کو فون کیا اور لیٹر پیڈ سے اپنا نام ہٹانے کو کہا۔ اجیت کور نے بھی غصے میں آ کر ایک چٹھی لکھ دی۔ یوں دونوں کی بول چال بند ہو گئی۔ اسی میں امرتا نے اپنی زندگی کا آخری سانس لیا اور دنیا سے رخصت ہو گئی۔ امرتا کی موت کی خبر سن کر اجیت کور نے فون کیا اور پوچھا کہ کیا وہ آ جائے۔ میں نے کہا، آپ کا اپنا گھر ہے۔ وہ امرتا کے آخری دیدار کو آئیں اور امرتا کو یاد کر کے بہت روئیں۔

 

اداسی ایک بار پھر گہری ہو گئی۔ میں امرتا پریتم کے کمرے میں، بستر کے سامنے لگے صوفے پر جا کر بیٹھ گیا۔ ڈریسنگ ٹیبل پر چھوٹے چھوٹے فریموں میں امرتا کی تصاویر بچوں کے ساتھ اور امروز کے ساتھ گروپ میں تھیں۔ ایک اور تصویر میں امرتا وزیر اعظم اندرا گاندھی سے پدم شری ایوارڈ لینے کے بعد کھڑی مسکرا رہی تھیں۔ دو بڑے بڑے فریموں میں اُن کی لکھی ہوئی نظمیں ٹنگی تھیں۔ میں نے امروز سے پوچھا۔ یہ کون سی نظمیں ہیں۔ انھوں نے بتایا یہ نظمیں نہیں گیت ہیں، فلمی گیت، جو امرتا نے ایک پنجابی فلم ہیر رانجھا کے لیے لکھے تھے۔ یہ فلم تو مکمل نہ ہو سکی مگر اس کے گیت ریکارڈ ہو گئے۔ یسُوداس کی آواز میں :

 

سچ وی تُو سپنا وی تُو

غیر وی تُو اپنا وی تُو

 

یوں لگتا تھا ہیر نے ہیر کے گانے لکھے کیوں کہ ہیر ہی اتنا ڈوب کر لکھ سکتی تھی۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

امرتا کو پنجاب کی ایک یونیورسٹی کی جانب سے 15 لاکھ روپے کا انعام دینے کا اعلان کیا گیا۔ پنجابی لکھاریوں اور انتظامیہ میں کچھ لوگوں نے شور مچایا کہ ایک رائٹر کو پندرہ لاکھ دینے کی بہ جائے پندرہ رائٹرز کو ایک ایک لاکھ دے دیا جائے۔ اس کے جواب میں فیصلہ کرنے والی اتھارٹی نے صرف اتنا کہا۔

“کیا پندرہ لکھاری مل کر ایک امرتا بن جائیں گے ؟

 

یہ گھر امرتا نے ساہتیہ اکیڈیمی کی جانب سے ملنے والی انعام کی رقم سے پلاٹ کی شکل میں خریدا تھا۔ پائی پائی جوڑ کر اس کی تعمیر ہوئی۔ امرتا کو کرائے کے مکان سے بڑی چڑ تھی۔ ایک دن وہ اکیلی آ کر اس زیرِ تعمیر گھر کے، جب کہ ابھی دروازے اور کھڑکیاں بھی نہ لگائی گئی تھیں، ڈھانچے میں گزار گئی۔ اس نے یہاں ایک نظم بھی لکھی۔ امرتا نے دوسرے دن مجھے بتایا اور یہ بھی کہا کہ مجھے بالکل ڈر نہیں لگا۔ میں نے جواب دیا ڈر تمھیں کیسے لگنا تھا تم تو نظم لکھنے میں مگن تھی۔ اس گھر کی ایک ایک اینٹ پیار اور محبت کے گارے سے جوڑی گئی ہے اور اس کی چھت باہمی اعتماد پر قائم ہے۔ اس گھر کو عاشقوں کی جنت بھی کہا جاتا ہے۔

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

میں جب سے اس گھر میں آیا تھا، امروز کے سامنے بیٹھا ان کی باتوں جیسی نظمیں اور نظموں جیسی باتیں سُن رہا تھا۔ اچانک امرتا جی کے آخری دن کی بات شروع ہو گئی۔

 

ہم صبح جاگے تو حسب معمول ناشتے کے بعد میں نے امرتا کے کمرے میں جا کر انھیں دیکھا، وہ سو رہی تھیں۔ میں پھر آ کر ڈائیننگ ٹیبل پر یہیں اسی جگہ بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد بہو اُن کے کمرے میں گئی میں اخبار پڑھ رہا تھا۔ بہو بھی چکر لگا کر آ گئی۔ اتنے میں دن کے دس بج گئے۔ ہمیں تشویش ہوئی کہ اتنی دیر تک کیوں سو رہی ہیں۔ پہلے تو صبح سویرے اٹھ جایا کرتی تھیں۔ میں نے جا کر اُن کی نبض پر ہاتھ رکھ دیا۔ جسم بالکل ٹھنڈا ہو رہا تھا۔ فوراً ڈاکٹر کو بلوایا۔ اس نے نبض دیکھتے ہی کہا: امرتا جی کے سانس پورے ہو چکے ہیں۔

 

امرتا نے اپنی زندگی میں ہی کہہ دیا تھا کہ انھیں سفید کفن نہ پہنایا جائے اور نہ ننگا کر کے نہلایا جائے۔ ایک سوٹ انھوں نے اپنے آخری سفر کے لیے سلوا کر رکھا ہوا تھا۔ انھوں نے اپنی بہو کو بتا رکھا تھا کہ یہی سوٹ پہنا کر لے جانا۔ مرنے کی کوئی بھی رسم کسی گوردوارے میں نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ زندگی میں کبھی گوردوارے نہیں گئیں تو مرنے پر بھی نہ لے جایا جائے۔

 

میں کبھی کسی کی موت پر نہیں رویا۔ حتیٰ کہ اپنی امرتا کی موت پر بھی۔ رونا مجھے اُس وقت آتا ہے جب کوئی مجھے بہت زیادہ عزت دیتا ہے، پیار دیتا ہے۔ امرتا پریتم کی موت پر مجھے اس لیے رونا نہیں آیا کہ اُسے جو تکلیف تھی اس سے نجات کی بس یہی ایک صورت باقی رہ گئی تھی۔ میرا المیہ یہ ہے کہ میں اُس کے دکھ کو شیئر نہیں کر سکتا تھا۔ اب اگر قدرت نے اس کی تکلیف ختم کر دی تو اس پر رونا کیسا؟ امرتا کو بھی احساس تھا کہ جو تکلیف اُسے لاحق تھی، ٹھیک ہونے والی نہیں تھی۔ ایک دن وہ اپنی بیماری سے گھبرا کر مجھے کہنے لگی۔ امروز میں نے سُنا ہے سائنائیڈ زندگی کو پلک جھپکنے میں ختم کر دیتا ہے۔ تو ایسا کر مجھے کہیں سے تھوڑا لا دے۔ میں خاتمہ چاہتی ہوں اس مرض سے بھی اور حیاتی سے بھی۔ میں نے ہنس کر کہا جھلی نہ ہو تو آج کل کہاں سے ملتا ہے خالص سائنائیڈ۔ ملاوٹ والے سے تکلیف اور بھی بڑھ جائے گی۔ یوں میں اُسے آخری وقت تک دلاسے دیتا رہا۔ اب وہ جہاں ہے وہاں سے مجھے دیکھ دیکھ کر مسکراتی ہے۔

 

رات کے دو بج رہے تھے۔ میں نے اپنا سامان سمیٹا۔ امروز نے مجھے امرتا پریتم کی تصویریں، “ناگ منی” کا ایک پرچہ، اپنے بنائے ہوئے کچھ اس کیچ اور نئے سال کا اپنا ڈیزائن کردہ کیلنڈر کے تحفے میں دیے۔ میں نے امرتا پریتم کے دروازے کو بوسہ دیا اور آہستہ آہستہ’عاشقوں کی جنت‘ سے باہر آ گیا۔

٭٭٭

ماخذ:

http://www.laaltain.com/%d8%a7%d9%85%d8%b1%d9%88%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%84%d9%88%da%a9-%da%af%db%8c%d8%aa-%d8%ac%d8%b3%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%aa-%d9%86%db%81/

http://www.laaltain.com/%d8%a7%d9%85%d8%b1%d9%88%d8%b2-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%84%d9%88%da%a9-%da%af%db%8c%d8%aa-%d8%ac%d8%b3%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%aa-%d9%86%db%81-2/

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید