FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

الجھن

(افسانچے و افسانے)

 

 

 

محمد علیم اسماعیل

 

 

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

بڑی تیزی سے اُبھرتا ایک با شعور افسانچہ نگار

 

صوبۂ مہاراشٹر کے ناندورہ ضلع بلڈانہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان فنکار محمد علیم اسماعیل نے اُردو کی ایک مشکل ترین صنف ’’افسانچہ‘‘ کے بال و پر سنوارنے کا دل میں پکّا ارادہ کر لیا ہے اور ایک منصوبہ بند طریقے سے اس میدان میں کامیاب ہونے کے لیے اپنی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اُن کی پہل اس لحاظ سے بالکل منفرد ہے کہ اُنہوں نے دوسرے افسانچہ نگاروں کی طرح بغیر کسی تیّاری کے افسانچے تحریر کرنا شروع نہیں کر دیے بلکہ پہلے افسانچے کے فن پر لکھی گئی کتابوں کا مطالعہ کیا، ملک کے معروف افسانچہ نگاروں کی تصنیفات کا گہرائی سے جائزہ لیا۔ اُس کے بعد اُنہوں نے ملک کے نامور افسانچہ نگاروں سے رابطہ قائم کیا اور اُن سے افسانچے کے رموز و اوقاف سمجھنے کی کوشش کی۔

اُن کی پہلی تحریر مضمون ’’علامہ اقبال کی باتیں‘‘ ۲۰۱۳ میں اُردو ٹائمز ممبئی میں شائع ہوئی۔ اس پہلی کامیابی نے اُنہیں بے انتہا خوشی عطا کی۔ اور پہلا افسانہ ’’حیالی دنیا‘‘ ۲۰۱۶ میں ممبئی اردو نیوز میں شائع ہوا۔ انھوں نے ۲۰۱۵ سے ہی افسانچوں پر محنت شروع کر دی تھی۔

جب اُنہیں یقین ہو گیا کہ اُن کے تصنیف کردہ تخلیقات اُردو ٹائمز ممبئی، انقلاب ممبئی اور ممبئی اردو نیوز جیسے اخبارات کی زینت بن سکتے ہیں تو کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُنہوں نے مکمل دو سال تک اپنے افسانچے کسی اخبار یا رسالے میں اشاعت کی غرض سے نہیں بھیجے۔ Slow and steady wins the race کی معنویت پر عمل کرتے ہوئے اُن کا پہلا افسانچہ ایک انٹرنیشنل رسالہ میں ۲۰۱۷ میں شائع ہوا۔ جو معیاری افسانچے شائع کرنے میں عالمی سطح پر مشہور ہے۔ اب محمد علیم کی افسانچہ نگاری نے رفتار پکڑ لی ہے۔ لیکن اُن کی تیز رفتاری نے افسانچے کے معیار کو کبھی مجروح نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ زیر نظر مجموعہ ’’الجھن‘‘ میں اُن کے افسانچے اس صنف کے شرائط پر کھرے اُترتے ہیں۔ زبان و بیان کو اور پر اثر بنانے کی ضرورت ہے۔ مجھے قوی اُمید ہے کہ مشاہدے کی آنچ میں تپ کر اُس میں مزید نکھار آ جائے گا۔

ڈاکٹر ایم۔ اے۔ حق

 

 

 

 

چنگاریاں ضرور ایک دن شعلہ بنیں گی

 

اردو افسانے اور افسانچے کے میدان میں چار پانچ برسوں سے جو چند نوجوان سامنے آئے ہیں، انھوں نے اردو فکشن کی شمع روشن رکھنے کی امید جگائی ہے۔ اس نسل کے ایک بے حد فعال اور محنتی افسانہ اور افسانچہ نگار محمد علیم اسماعیل ہے۔

مختلف رسائل میں علیم اسماعیل کے متعدد افسانے اور افسانچے میری نظر سے گذرے ہیں۔ جب کبھی میں ان کی تخلیق پڑھتا تو میرے ذہن میں یہی خیال آتا کہ اس ادیب کے اندر چنگاریاں ہیں، جنھیں مناسب رہنمائی اور توانائی کی ضرورت ہے۔ جس کے بعد یہ چنگاریاں ضرور ایک دن شعلہ بنیں گی۔

علیم اسماعیل کے زیادہ تر افسانچے اور افسانے سماجی مسائل کا عکس ہیں، جوان کی امنگیں ہیں، اصلاح کا جذبہ ہے اور کچھ نیا کرنے کی دھن ہے۔ زیادہ تر افسانوں میں اخلاقی درس ہے۔ سماجی تعمیر و تشکیل میں جن مثبت اقدار کی ضرورت ہوتی ہے، اور جو اب ہمارے معاشرے سے ختم ہوتی جا رہی ہیں، علیم کے افسانے اور افسانچے اس کے ثبات میں کوشاں ہیں۔

جہاں تک ان کی تحریروں کو فنی کسوٹی پر جانچنے کی بات ہے تو میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ علیم فن سے واقفیت رکھتے ہیں۔ لیکن ابھی قصے کی پیش کش کو موثر بنانے کے ہنر میں مزید بہتری کی گنجائش ہے۔ ان کے یہاں جذبات ہیں، پیش کرنے کا ڈھنگ بھی ہے لیکن برجستگی اور compactness مشق کی متقاضی ہے۔

‘‘الجھن‘‘ ان کا پہلا مجموعہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ مستقبل میں مزید بہتر افسانے /افسانچے تخلیق کریں گے اور ایک کامیاب افسانہ نگار بن کر ابھریں گے۔ میری دعا ہے کہ ان کی یہ کتاب ان کے ادبی سفر کی پہلی منزل ثابت ہو اور وہ ایسی متعدد منزلیں عبور کریں۔

 

ڈاکٹر اسلم جمشید پوری

 

 

 

 

 

اردو افسانچہ روایت اور محمد علیم اسماعیل

 

اردو ادب میں افسانے کی روایت نے داستان کے بطن سے جنم لیا۔ اور یہ سفر داستان گوئی، قصہ، کہانی سے ہو کر آج افسانچے تک آ گیا۔ دور بدلتا ہے تو اقدار میں تبدیلی نا گریز ہو جاتی ہے۔ مگر اس کے باوجود بنیادی روایتیں اپنی جگہ برقرار رہتی ہیں۔ اسی لیے مختلف ادوار میں مختلف تبدیلیاں وقوع پذیر ہونے کے باوجود افسانے کی ساخت آج بھی برقرار ہے۔

افسانچے کے ساتھ المیہ یہ ہے کہ نو واردانِ بساط عجلت پسندی میں افسانے کے بنیادی ستونوں میں سے محض کسی ایک پر افسانچے کی عمارت کھڑی کرنے کی ناکام کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ جس کے سبب عرصہ گزرنے کے بعد بھی افسانچے کی کٹیا کے دیوار و در واضح نہ ہو سکے ہیں۔ مگر عجلت پسندوں کی اس بھیڑ میں چند جیالے ایسے بھی ہیں جو روایت کے دامن سے لپٹے ہوئے ہیں اور افسانچے کی آبیاری میں اپنا خون جگر صرف کر رہے ہیں۔ محمد علیم اسماعیل کا شمار ایسے ہی فنکاروں میں کیا جائے گا۔ کیونکہ انھیں افسانچے کے توسط سے اپنی بات کہنے کا ہی نہیں پیش کرنے کا بھی سلیقہ ہے۔ توقع ہے کہ جب تک انسانی فطرت میں تجسس کی روش برقرار رہے گی محمد علیم اسماعیل جیسے ادیب اردو کی اس نوزائیدہ روایت کو مضبوط و مستحکم کرتے رہیں گے۔

ایک طرف شاعری نغمگی کے وسیلے سے انسانی دل و دماغ کو سرشار کرتے آ رہی ہے تو دوسری طرف کہانی کہنے اور سننے کی فطرت نے تجسس اور خیالی دنیا کی سیر نے ذہن وقلوب کو مسخر کر کے ادبی ذخار میں اضافہ کیا ہے۔ مصروفیت کی اس مشینی دور میں افسانچہ ادب کے بحر ذخار میں کتنی دور اور دیر تک ساتھ نبھائے گا اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا مگر زمام کار آج محمد علیم اسماعیل جیسوں نے سنبھال رکھی ہے تو روشن مستقبل کی امید بندھتی ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے اس لیے ان کے مزید سفر کے لیے نیک خواہشات۔

اللہ کرے ذوق افسانچہ اور زیادہ۔۔۔

 

معین الدین عثمانی

 

 

 

 

 

کارِ شیشہ گری

 

بڑی خوشی کی بات ہے ہمارے شہر ناندورہ کے نوجوان قلم کار محمد علیم اسماعیل کی تخلیقی سرگرمیاں روز افروز تیز تر تیز ہوتی جا رہی ہے۔ میں نے کئی عرصے پہلے ان کی بچوں کے لیے لکھی ہوئی کہانیاں ممبئی اردو نیوز میں پڑھی تھی۔ ان سے ملاقات کے دوران انہوں نے کئی افسانچے اور منی افسانے بھی سنائے، جو مجھے بے حد پسند آئے تھے۔

شوق کی کوئی منزل نہیں ہوتی شرر ہاتھ آئے تو وہ ستارہ کی طرف لپکتا ہے، اور جب ستارے تک رسائی ہو جائے تو وہ چاند پر کمندیں ڈالنے میں سرگرداں ہو جاتا ہے، علیم اسماعیل بھی ان گوناگوں خوبیوں کے مالک ہے، بڑی فعال اور ہمہ جہت شخصیت ہے۔

موصوف اعلی تعلیم یافتہ، برسر روزگار، ساتھ ہی ساتھ اردو میں نیٹ اور سیٹ کا امتحان بھی پاس کر چکے ہیں۔

اہل ادب جانتے ہیں کہ افسانچے اور منی افسانہ لکھنا کار شیشہ گری سے کم نہیں ہے۔ موصوف نے بھی اس شیشہ گری والی صنف کو اپنے اظہار خیال کا ذریعہ بنایا ہے اور کئی بہترین افسانے و افسانچے تحریر کیے ہیں جو وقفے وقفے سے اخبارات و رسائل کی زینت بنتے رہے ہیں۔

الجھن ان کے افسانچوں اور افسانوں کا مجموعہ ہے جس میں انھوں نے اختصار سے کام لیتے ہوئے نہایت ہی چابکدستی سے اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ فکشن اسو سی ایشن ناندورہ کے صدر بھی ہیں۔ میں اپنے چار مصرعے ان کے عزم اور حوصلے کی نذر کر رہا ہوں۔

 

اس کو نزدیک جا کے دیکھا ہے
خوب جانچا ہے خوب پرکھا ہے

خاک کا ہو نہ ہو مگر ناظمؔ

آدمی جستجو کا پتلا ہے

 

قدرت ناظمؔ ناندورہ

 

 

 

متجسس فنکار

 

انسان اور حیوان میں بنیادی فرق نطق اور شعور کا ہے۔ ان دو خدا داد صلاحیتوں نے انسان کو نہ صرف اشرف المخلوقات کا درجہ دیا بلکہ اسے کائنات کے ان اسرارورموز سے بھی آشنا کیا جو اسے ذہنی اور روحانی ترقی کی معراج تک لے جا سکتے ہیں۔ بولا ہوا لفظ ہو یا لکھا ہوا لفظ، نسل در نسل علم کی منتقلی کا سب سے موثر وسیلہ ہے۔ لکھے ہوئے لفظ کی عمر بولے ہوئے لفظ سے زیادہ ہوتی ہے۔ اسی لئے انسان نے تحریر کا فن ایجاد کیا۔ کتابیں لفظوں کا ذخیرہ ہیں اور اسی نسبت سے مختلف علوم و فنون کا سرچشمہ ہے۔

جب انسان کو کافی فرصت تھی تب وہ ایسے قصے سنتا اور پڑھتا تھا جو کافی طویل ہوتے تھے۔ اس زمانے میں وہ قصے اور کہانیوں میں عقل کو دنگ کر دینے والی چیزوں اور باتوں پر یقین کر لیتا تھا۔ موجودہ زمانے میں انسان کی مصروفیت میں اضافہ ہو گیا جس کی وجہ سے اس نے غیر ضروری طوالت سے بچتے ہوئے داستان سے، ناول، ناول سے ناولٹ، ناولٹ سے افسانہ اور مختصر و منی افسانہ کو اظہار کا وسیلہ بنایا۔ ساتھ ہی فوق فطری عناصر سے دامن بچا کر حقیقی واقعات کو اپنی کہانی کا موضوع بنایا۔ افسانہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس میں زندگی کے پورے واقعات بیان نہیں کئے جا سکتے۔ اس میں زندگی کے کسی ایک رخ یا کردار کے کسی ایک پہلو پر روشنی ڈالی جا تی ہے۔

شہر ناندورہ کے اعلی تعلیم یافتہ نوجوان محمد علیم اسماعیل (مدرس) نے درجہ ہفتم تک نگر پریشد اردو اسکول ناندورہ اور درجہ ہشتم سے درجہ دوازدہم، عنائتیہ ہائی اسکول و جونیئر کالج ناندورہ بعدہ ڈی۔ ایڈ، بی۔ اے، ایم۔ اے، بی۔ ایڈ، ایم ایچ سیٹ اور یو جی سی۔ نیٹ(اردو) جیسے مشکل ترین امتحان میں نمایاں طور پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد بھی لکھنے پڑھنے کے شوق کی وجہ سے چین سے نہیں بیٹھے۔ عموماً ڈگریاں پانے اور ملازمت مل جانے کے بعد لوگ کتابوں سے رشتہ توڑ لیتے ہیں۔ پڑھنے کے اسی شوق نے انھیں کہانی کار و افسانہ نگار بنا دیا۔ موصوف نے اس کتاب کو خود ہی ان پیج میں لکھ کر کتابی شکل میں سیٹنگ بھی خود ہی کی ہے۔ اور انھیں مہاراشٹر اسٹیٹ سرٹیفکٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی (MS-CIT) کے آنلائن امتحان میں سو فیصد نمبرات حاصل کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

الجھن محمد علیم اسماعیل کے افسانچے اور افسانوں کا مجموعہ ہے۔ یہ ایک خوبصورت گلدستہ کے مانند ہے جس میں طرح طرح کی کہانیاں ہیں۔ کہانی ’خیالی دنیا‘ میں جدید ذرائع ابلاغ موبائیل اور واٹس ایپ کی خیالی دنیا میں وقت برباد کرنے کی بجائے حقیقی دنیا سے رشتہ استوار کرنے پر زور دیا گیا۔ کہانی ’’انتظار‘‘ میں ایک ٹیچر کے کرب کو بیان کیا گیا ہے۔ افسانہ ’’تاک جھانک‘‘ ایک غریب بچے کی ٹوٹتی بکھرتی امیدوں کی پر درد کہانی ہے۔ افسانہ ’’خوف ارواح‘‘ ایک بھائی اپنی بہن کی محبت میں کس حد تک جا سکتا ہے، اس بات کو بتایا گیا ہے۔ افسانہ ’’خطا‘‘ میں مصنف نے بتایا ہے کہ ایک چھوٹی سی غلطی کس طرح مشکلات پیدا کر کے زندگی برباد کر سکتی ہے۔

افسانچہ ایجاز و اختصار کا فن ہے۔ تخلیقی تجسس کے بغیر افسانچوں کو سمجھنا مشکل ہے۔ اور جوگندر پال صاحب نے افسانچوں کو سمجھنے کی ذمہ داری قاری کو سونپ دی ہے۔ اس لیے افسانچہ لکھنا کوئی کھیل تماشہ نہیں، محمد علیم اسماعیل ایک متجسس طبیعت کے مالک ہے اور نھوں نے افسانچہ نگاری پر اچھی خاصی پکڑ حاصل کر لی ہے۔ محمد علیم کے افسانچوں کے کلائمکس سے طمانچوں کی گونج سنائی دیتی ہے اور قاری کو ایک نا معلوم و چونکانے والا نشتر لگتا ہے۔

جب کوئی واقعہ محمد علیم کے مشاہدے میں آتا ہے تو اسے اپنے پر اثر پیرائے میں بیان کر کے ایک نئی کہانی وجود میں لانے کی سعی کرتے ہیں۔ جس سے قاری محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ موصوف نے آسان سہل اور سیدھے سادے الفاظ استعمال کر کے مندرجہ بالا کہانیوں کے ذریعے اپنے قلم کا جادو جگانے کی حتی الامکان کوشش کی ہے۔ ہم علم دوست محمد علیم کو اپنی اس کاوش پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ اور امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں ان کے قلم سے اسی طرح اور بھی کتابیں منظر عام پر آئیں۔

 

اعجاز پروانہؔ ناندوروی

 

 

 

سخنِ قلب

 

الحمد للہ۔۔۔۔ میں اللہ رب العزت کا بے حد شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے قرطاس و قلم سے وابستہ کر کے اردو کی خدمت کا ایک موقع فراہم کیا ہے۔ میری کہانیوں کا پہلا مجموعہ الجھن آپ کے پیش خدمت ہے۔ اللہ کرے یہ کوشش مفید اور کار آمد ثابت ہواور آپ تمام اہل نظر کو پسند آئے۔ اللہ رب العزت کے بعد میں ڈاکٹر ایم اے حق، ڈاکٹر اسلم جمشید پوری، معین الدین عثمانی، محمد بشیر مالیر کوٹلوی جنھوں نے اپنی گو نا گوں مصروفیات کے با وجود قیمتی مشوروں سے نوازا، میری رہنمائی کی اور اپنے تاثرات قلمبند کیے۔ قدرت ناظم نے میری ہمت افزائی کی۔ اعجاز پروانہؔ ناندوروی اور اشفاق انصاری نے پروف ریڈنگ کے فرائض انجام دیے۔ وسیم خان شارپ لائن نے سرورق ڈیزائن کیا۔ ایڈوکیٹ شیخ یوسف (بڑے بھائی) نے میری تعلیم و تر بیت میں اہم رول ادا کیا۔ فرحانہ(بیوی)، قدم قدم پر میری مدد کی اور ساتھ ہی ساتھ اساتذہ کرام اور تمام دوست احباب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

اس کتاب کی کہانیاں مختلف اخبارات میں شائع شدہ ہیں۔ امید کرتا ہوں کتاب الجھن آپ کو پسند آئے گی۔

اردو افسانچہ: ۔ اردو میں سب سے پہلے افسانچے تحریر کرنے کا سہرا سعادت حسن منٹو کے سر جاتا ہے۔ وہ اردو افسانچہ نگاری کے موجد ہیں۔ ان کے افسانچوں کا مجموعہ ’سیاہ حاشیے اردو افسانچوں کا پہلا مجموعہ ہے۔ سیاہ حاشیے کی پہلی اشاعت اکتوبر 1948 ء میں ہوئی جس میں کل 31 افسانچے شامل ہیں۔ منٹو نے جب سیاہ حاشیے کے افسانچے لکھے اس وقت انھیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ اردو میں ایک نئی صنف کا آغاز کر رہے ہیں اور اردو میں افسانچے کی بنیاد ڈال رہے ہیں، انھوں نے صرف تقسیم ہند اور فسادات سے متاثر ہو کر یہ افسانچے تحریر کیے۔ اس لیے ناقدین نے سیاہ حاشیے کے کچھ افسانچوں میں فنی لوازمات کی کمی کی شکایت کی ہیں۔

تیکھے موضوع، اختصار، زبان کی چابکدستی، کہانی پن اور غیر متوقع اختتام اچھے افسانچوں کی خوبی ہیں۔ افسانچہا یک سطری، دو سطری سے ایک دو صفحات کا بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن میرے خیال سے افسانچے کو پانچ سے دس سطری ہونا چاہیے۔ ایک یا دو سطری افسانچوں میں اکثر تشنگی قائم رہتی ہے اور وہ کامیاب افسانچے بن نہیں پاتے۔

ڈاکٹر اسلم جمشید پوری منٹو کا افسانچہ ’’رعایت‘‘ کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’یہاں منٹو کی رعایتِ لفظی، فنی چابکدستی، موضوع پر گرفت، عنوان کی برجستگی وغیرہ نے مل کر ایک ایسا فن پارہ گھڑا ہے کہ منٹو کے قلم کے جادو کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ لفظوں میں سادگی ہے، سلاست ہے، کوئی سنسنی خیزی نہیں، کوئی فحاشی نہیں، ظلم و زیادتی کے ڈھول نہیں اور نہ ہی قاری کو دہشت زدہ کرنا مقصد ہے۔‘‘

ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کی تحقیق کے مطابق ’’سیاہ حاشیے کے عہد میں اردو میں لفظ افسانچہ رائج نہیں تھا، افسانچے سے قبل ان کے لیے مِنی کہانی، مختصر ترین افسانہ، مختصر مختصر کہانی، مِنی افسانہ وغیرہ متعدد الفاظ استعمال کیے جاتے تھے لیکن جو گندر پال نے ۱۹۶۲ء میں لفظ ’افسانچہ‘ کا استعمال کیا اور آج رائج لفظ ’افسانچہ‘ انہیں کا دیا ہوا ہے۔

جوگندر پال لکھتے ہیں کہ ’’افسانچے کے اختصار کا اہم ترین پہلو یہی ہے کہ اس کے معانی افسانچہ نگار کے دوٹوک فیصلے کی بجائے قاری کے تخلیقی تجسس سے انجام پاتے ہیں۔‘‘

رتن سنگھ نے افسانچوں کو عنوانات کی قید سے آزاد رکھا ہے۔ ’مانک موتی‘ ان کے افسانچوں کا مجمو عہ ہے۔ انھوں نے افسانچوں کو عنوان کے بجائے نمبر شمار دیے ہیں۔ وہ طوالت یا اختصار کے سبب کہانیوں کو خانوں میں تقسیم کرنا نہیں چاہتے۔

نورالحسنین کے الفاظ میں ’’افسانچہ نگاری پلاٹ اور خیالات کے بوجھ کے ساتھ ساتھ لفظوں کے پل سراط سے گزرنے کا عمل ہے۔ افسانچہ نگاری کا فن دو دھاری تلوار پر چلنے کا عمل ہے۔ ایک ایک لفظ کا انتخاب ایک امتحان ہوتا ہے۔‘‘

محمد بشیر مالیر کوٹلوی کہتے ہیں ’’ایک کامیاب افسانچہ میں اسے ہی مانتا ہوں جسے پڑھ کر محسوس ہو کہ اس افسانچہ کو بنیاد بنا کر ایک طویل افسانہ بھی تخلیق کیا جا سکتا تھا۔ ‘‘ڈاکٹر اسلم جمشید پوری بھی محمد بشیر مالیر کوٹلوی کی اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور مزید کہتے ہیں ’’افسانچہ کھیل تماشا نہیں ہے اور نہ ہی لطیفہ بازی بلکہ افسانچہ کا موضوع بھر پور مواد کا تقاضا کرتا ہے۔ افسانچوں میں اضافی خوبی کے طور پر طنز کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔‘‘

ڈاکٹر عظیم راہی کے مطابق ’’افسانچہ زندگی کے کسی چھوٹے سے لمحے کی تصویر دکھا کر ایک مکمل کہانی قاری کے ذہن میں شروع کر دینے کا نام ہے۔‘‘

رونق جمال کی نظر میں ’’افسانچے کا اختتام دھماکہ خیز ہونا چاہئے۔ قاری کے ذہن میں آخری جملہ کسی خطر ناک بم دھماکے کی مانند گونجنا ہی افسانچے کی کامیابی ہے۔ ‘‘اسی کے ساتھ وہ فلسفے، تیر و نشتر اور کہاوتوں کو افسانچوں کے نام پر شامل کرنے کی مخالفت کر تے ہیں۔ معین الدین عثمانی کے مطابق ’’کم سے کم لفظوں میں کسی واقعہ کو افسانوی لوازمات کے ساتھ ہنر مندی سے برتنے پر افسانچہ وجود میں آ سکتا ہے۔‘‘

سعادت حسن منٹو کے بعد صنف افسانچہ کے دامن کو تھامنے والا ایک اہم اور معتبر نام جوگندر پال کا ہے۔ اس کے بعد رتن سنگھ، محمد بشیر مالیر کوٹلوی، ڈاکٹر ایم اے حق، ڈاکٹر عظیم راہی، ڈاکٹر اسلم جمشید پوری، رونق جمال، ڈاکٹر نحشب مسعود، ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی، ڈاکٹر نذیر فتح پوری وغیرہ نے افسانچہ نگاری کو استحکام بخشا ہے۔ ڈاکٹر عظیم راہی ایک اچھے افسانچہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ افسانچے کی تنقید کی بنیاد ڈالنے والے بھی ہیں۔ انہوں نے 2008 میں ’’ اردو میں افسانچہ کی روایت: تنقیدی مطالعہ‘‘ کتاب لکھ کر افسانچے کی تنقیدی بنیاد ڈالنے کا کام کیا ہے۔ اور محمد بشیر مالیر کوٹلوی نے 2015 میں ’’افسانہ، افسانچہ تکنیکی تناظر میں‘‘ کتاب لکھ کر افسانچے کی تکنیک سے روشناس کرایا ہے۔

افسانچوں سے مجھے دلی لگاؤ ہے۔ اس لیے فنِ افسانچہ کی باریکیوں کو جاننے کی خواہش دل میں لیے ہوئے، اپنے تشنہ لبوں کے ساتھ ایم اے حق صاحب سے موبائل پر دوران گفتگو میں نے افسانچے کے فن پر کرید کرید کر کئی سوالات کیے اور انھوں نے بھی ہر بار بڑے اچھے طریقے سے مجھے ہر سوال کا جواب سمجھایا اور میری الجھنیں دور کیں۔ واٹس ایپ پر میرے افسانچوں پر کھلے دل سے رائے دی ورنہ آج کل کے بڑے ادیب نئے لکھنے والوں سے بات کرنا بھی کہاں پسند کرتے ہیں۔ جو بڑے ادیب نئے لکھنے والوں کو نظر انداز کرتے ہیں وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ غالب کی شہرت میں سب سے بڑا ہاتھ ان کے شاگردوں کا ہی ہے۔ ایم اے حق صاحب سے موبائل پر متعدد دفعہ دوران گفتگو افسانچے کے فن کے متعلق کیے گئے سوالات کے جوابات کا نچوڑ اس طرح ہے:

’’اختصار افسانچے کی خوبی، طوالت افسانچے کی موت اور منظر کشی افسانچے کی دشمن ہے۔ افسانچے کی شروعات ایسی ہو کہ قاری مطالعہ کرنے کے لیے مجبور ہو جائے۔ الفاظ جملے اور مکالموں کی تکرار نہ ہو بلکہ یہ نپے تلے ہو۔ اختصار اتنا زیادہ بھی نہ ہو کہ ابہام پیدا ہو جائے۔ اور طوالت اتنی زیادہ بھی نہ ہو کہ ہر بات کھل کر بیان کر دی جائے۔ افسانچہ ایک لائن کا بھی ہو سکتا ہے اور دو صفحات کا بھی۔ گھسے پٹے واقعات سے دامن بچانا بھی ضروری ہے۔ عنوانات دور حاضر کے مسائل اور حالات زندگی پر مبنی ہو۔ عنوان سے کلائمکس کا پتا نہ چلنے پائے۔ اختتام و کلائمکس چونکا دینے والا ہو۔ لو گوں میں ذہانت کی سطح کافی اونچی ہوتی جا رہی ہے اور ایک مشہور کہاوت ہے کہ عقلمند کو اشارہ کافی ہے اور اشارہ ہمیشہ مختصر ہوتا ہے۔ فرض کیجیے آپ ٹرین میں سفر کر رہے ہیں۔ آپ کے پاس افسانوں کی کتاب ہے۔ آپ کے مقابل میں ایک ایسا شخص بیٹھا ہے جو ادب سے و مطالعے سے بے بہرا ہے۔ وہ شخص کتاب اٹھائے گا، دس پیج کے ایک افسانے پر نظر دوڑائے گا اور واپس رکھ دے گا۔ اس کے بر عکس اگر آپ کے پاس افسانچوں کی کتاب ہو گی تو وہ اسی وقت دو تین افسانچے پڑھ ہی لے گا، پڑھ کر لطف اندوز ہو گا، دھیرے دھیرے مطالعے کا شوق پیدا ہو گا اور وہ افسانوں کی طرف راغب ہو گا۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ افسانچے ادب کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، نہیں تو ادبی ذوق والے حضرات تو ادب کے مطالعے سے اپنی پیاس بجھا ہی رہے ہیں۔ افسانچہ در اصل افسانے کی بونسائی (Bonsai) شکل ہے۔ پلاٹ، کردار، مکالمے، کلائمکس، پیغام وغیرہ اجزائے ترکیبی کو افسانچے میں بڑی مہارت کے سا تھ استعمال کیا جاتا ہے۔ آج افسانچہ وقت کی ضرورت ہے اور یہ صنف دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔‘‘

اس تمام گفتگو کے بعد میں افسانچے کی تعریف اس طرح کروں گا ’’اختصار، رعایت لفظی، اور غیر متوقع اختتام کے ساتھ ایک طویل کہانی قاری کے ذہن میں شروع کر دینے کو افسانچہ کہتے ہیں۔‘‘

اردو افسانہ: ۔ قصہ سننا اور سنانا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ آج انسان کی مصروفیت بڑھ گئی ہے۔ جب اس کے پاس فرصت تھی تو وہ طویل قصے، لمبی لمبی کہانیاں اور داستانیں پسند کرتا تھا۔ زمانے کا ورق پلٹا۔ انسان کی مصروفیت بڑھی تو اس نے زندگی کے حقیقی واقعات کو موضوع بناتے ہوئے غیر ضروری طوالت سے دامن بچایاتوناول وجود میں آیا۔ مصروفیت میں اور اضافہ ہوا تو ناول کی جگہ افسانہ آ گیا اور افسانے کے بعد افسانچہ۔ اب تو یہ عالم ہے کہ واٹس ایپ یا فیس بک پر تھوڑا طویل مسیج ہو تو یہ لکھنا پڑھتا ہے ’’ ایک بار ضرور پورا پڑھنا۔‘‘

بچپن میں ہر کسی کو کہانی سننے و پڑھنے کا بڑا شوق ہوتا ہے۔ اور بچپن کے نقوش انسان کے ذہن پر مرتے دم تک قائم رہتے ہیں۔ اس لیے کہانی سننا و پڑھنا بچے، جوان، بوڑھے، مرد عورت، عام خاص اور عالم جاہل ہر کسی کو اچھا لگتا ہے۔ جس کہا نی میں بوریت نہ ہو اور لطافت کی چاشنی ہو، جو ذہن کی لطف اندوزی کا سر و سامان بنے تو ایسی کہانی کو قاری ختم کر کے ہی دم لیتا ہے۔

کتابوں سے محبت کی شاید یہ آخری صدی ہے۔ آج ہاتھوں نے کتابیں چھوڑ کر موبائل تھام لیا ہے۔ ہاتھوں کی انگلیاں موبائل کی رنگین اسکرین کا لمس لینے کے لیے بے قرار ہے۔ آج لوگوں کے پاس پڑھنے کا وقت مشکل سے نکلتا ہے۔

اردو مختصر افسانے کا باقاعدہ آغاز بیسوی صدی میں پریم چند کے ہاتھوں ’’دنیا کا سب سے انمول رتن‘‘ افسانے سے ہوا۔ پریم چند نے حقیقت نگاری اور اصلاح پسندی سے کام لیا۔ کرشن چندر کے یہاں رومانیت و حقیقت نگاری کی بہترین آمیزش ملتی ہے۔ بیدی نے گھریلو زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات کا انتخاب کیا اور منٹو نے جنسیات کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔ عصمت نے متوسط طبقے کے مسلمان گھرانوں کے لڑکے اور لڑکیوں کے مسائل کو اپنے افسانوں میں پیش کیا، قراۃ العین حیدر نے شعور کی رو تکنیک کا استعمال کر کے اعلی طبقے کو ہی اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے افسانہ نگاروں نے اردو افسانے کو اپنے خون جگر سے سینچا ہے۔

افسانے میں کردار کی شخصیت کے اہم پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ جس افسانے میں افسانہ نگار کا نقطہ نظر فن پر حاوی ہو جاتا ہے اس افسانے کی فضا بوجھل معلوم ہوتی ہے۔ افسانے میں ماحول کی تصویر کھینچ کر وہ فضا بنائی جاتی ہے جو افسانہ نگار پیش کرنا چاہتا ہے۔ افسانے میں فضا آفرینی اہم ہوتی ہے۔ اس سے افسانے میں جان پڑتی ہے۔ افسانے میں جزئیات کے ذریعہ فضا اور ماحول تخلیق کر کے منظر کو زندہ جاوید بنا دیا جاتا ہے۔ منظر نگاری کا تعلق کہانی کے مرکزی کردار سے ہوتا ہے اور کبھی کبھی منظر نگاری مبہم بھی ہو جاتی ہے۔ پروفیسر طارق چھتاری مضمون ’’جدید افسانے کا فن‘‘ میں لکھتے ہیں:

اگر اسے یہ کہنا ہے کہ۔۔۔۔۔۔ ’’یہ بات اس کی سماعت پر گراں گزری۔۔۔۔۔۔ ‘‘ تو نئے افسانہ نگاروں نے اسے اس طرح پیش کیا ہے۔۔۔۔۔۔ ’’یہ بات سن کر اس کے ذہن میں سانپ رینگنے لگے اور پھر کئی سانپ کانوں کے سوراخوں سے باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگے۔ اس کے کانوں کے سوراخ بند ہو گئے اور ذہن پر ایک بڑا پتھر آ کر ٹک گیا۔‘‘

آج کے افسانوں میں منظر نگاری پورے آب و تاب کے ساتھ اس طرح رواں دواں ہے کہ وہ منظر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے ہم ذہن کے پردے پر وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ منظری اسلوب کی چند مثالیں یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔ محمد حمید شاہد کا افسانہ ’’کفن کہانی‘‘ کا اقتباس:

’’ جب وہ آخری سانسیں لے رہی تھی تو کہانی لکھنے کی یہی خواہش میرے اندر یوں سر پٹخ رہی تھی جیسے چودہویں کی رات، سمندر کی بپھرتی لہریں، ساحل پر سر پٹختی ہیں۔ مگر اس کی ٹھہر ٹھہر کر آتی سانسوں کے سنگ، ہونٹوں پر سرسراتے نرم گرم لفظوں کی مہک نے میرے قلم کو ایک لفظ تک تخلیق نہ کرنے دیا۔ اور جب اس کے ہونٹوں پر سارے لفظ غروب ہو گئے، اور وہاں چپ اندھیرے نے جالا بن دیا، تو یوں لگا، میں نے یہ کہانی نہ لکھ ڈالی، تو میرا سینہ پھٹ جائے گا۔ مگر قلم چپ تھا اور لفظ اس سے پرے کھڑے تھر تھر کانپ رہے تھے۔‘‘

افسانے کا کینوس بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ اس لیے کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ بات کہی جاتی ہے۔ افسانے میں زبان بہت شگفتہ و دلنشین، انداز بیان دلکش اور تجسس کا عنصر (آگے کیا ہونے والا ہے)ہوتا ہے جس سے قاری شروع سے آخر تک پوری طرح گرفت میں رہتا ہے۔ مکالمے مختصر، دلچسپ اور کرداروں کے عین مطابق ہوتے ہیں۔ افسانہ آغازسے ہی قاری کو اپنی گرفت میں قید کر لیتا ہے۔ افسانے کا انجام معلوم کرنے کے لیے قاری بے قرار ہو جاتا ہے، تجسس کا یہ عنصر آخر تک قائم رہتا ہے اور اختتام میں قاری کے دل پر تاثر و گہرا نقش چھوڑ جاتا ہے۔ جو افسانہ قاری کے دل کو چھو جائے تو سمجھو اس میں تاثر کا عنصر ہے۔

کہتے ہیں کہ افسانہ اور کہانی میں فرق ہے، کہانی ایک کچی مرغی ہے اور افسانہ پکی ہوئی جس میں ضرورت و ذائقے کے مطابق ضروری چیزیں شامل کر دی جاتی ہے۔ کچھ نقاد مانتے ہیں کہ کہانی اور افسانے میں کوئی فرق نہیں کیا جا سکتا لیکن کچھ کہتے ہیں کہ کہانی اور افسانے میں فرق ہے۔

قدوس جاوید نے اپنے مضمون ’’معاصر اردو افسانہ اور وژن‘‘ مطبوعہ سہ ماہی فکر و تحقیق، جولائی۔ ستمبر 2017 میں محمد حمید شاہد کی تصنیف ’’اردو افسانہ: صورت و معنی‘‘ سے دس نکات مرتب کیے ہے جس میں سے دو تین نکات اس طرح ہے:

٭ کہانی کسی واقعہ یا قصہ کو من و عن ’کہہ جانے‘ یا بیان کر دینے کا نام ہے۔ اور افسانہ اس کہانی میں شامل ہو کر، اس کے کرداروں کے باطن میں جھانک کر، نفس مضمون کے پیچھے کار فرما عوامل تک کو ٹٹولنے یا کم از کم ان کی نشاندہی کا نام ہے۔

٭ کہانی زیادہ تر سیدھی ہوتی ہے اور افسانہ گچھے دار ہوتا ہے۔ افسانہ کسی ایک پہلو یا واقعہ کو بیان کرتا ہے۔ اس میں واضح طور پر کسی ایک چیز کی ترجمانی اور مصوری ہوتی ہے۔

٭ کہانی میں بیانیہ تیز ہوتا ہے، اور افسانہ میں علت و معلول کی وجہ سے، جزئیات کے استعمال اور تہہ داری کی وجہ سے بیانیہ تھوڑا سست ہوتا ہے۔

سلیم آغا قزلباش کے افسانہ اور کہانی کے باہمی فرق کے مضمون سے رضی شہاب نے اپنی تصنیف ’’افسانے کی شعریات‘‘ میں جو نکات مرتب کیے ہیں ان میں سے دو تین نکات اس طرح ہیں:

٭ کہانی میں کردار کے ’’اعمال‘‘ پر زیادہ زور صرف کیا جاتا ہے جبکہ افسانہ میں کردار کے ذہنی واقعات (Mental Event) کا اظہار ہوتا ہے۔ یعنی کردار کی (باطنی کشا کش) افسانہ میں نمایاں کی جاتی ہے جبکہ کہانی میں کردار کی خارجی زندگی، عمل اور ردعمل کا اظہار موجود ہوتا ہے۔

٭۔ افسانے میں فکر کا پہلو جبکہ کہانی میں عمل کا پہلو حاوی ہوتا ہے۔ کہانی کا ڈھانچہ اکہرا ہوتا ہے جبکہ افسانے کا پیچیدہ۔ کہانی افسانے کے لیے کچا مواد ہے۔ کہانی میں معروضی پن جبکہ افسانے میں موضوعیت کا پلڑا بھاری ہوتا ہے۔

٭ کہانی میں واقعات کو اہمیت حاصل ہوتی ہے جب کہ افسانہ میں اس کردار کو تفوق حاصل ہوتا ہے جس پر واقعہ یا حادثہ گزرا ہو۔

دور حاضر کا افسانہ زندگی کے حقیقی پہلوؤں یا واقعات کا تجربہ اور مشاہدہ ہے۔ افسانہ نگار سادہ بیانیہ یا علامتی و تجریدی اسلوب اختیار کر کے اپنے افسانے کو پیش کرتا ہے۔ افسانے میں افسانہ نگار کا نقطہ نظر، خیالات اور جذ بات و احساسات بھی سرایت کر جاتے ہیں۔ کہانی میں کردار کی خارجی زندگی اور افسانے میں ذہنی کیفیات و باطنی کشمکش نمایاں کی جاتی ہیں۔ کہانی کی بہ نسبت افسانے میں فضا آفرینی اور منظر نگاری کا پلڑا بھاری ہوتا ہے، یہ دو اجزا ء جس افسانے میں جاندار ہوتے ہیں وہ افسانہ اتنا ہی شاندار ہوتا ہے۔

مشہور و معروف نقاد پروفیسر شمس الرحمن فاروقی کے مطابق افسانے میں زبان کو برتنے کے پیرائے پر خاص توجہ دی جانی چاہیے۔ وہ شاعری اور افسانے کی شعریات کو ایک بتاتے ہوئے ’افسانے کی حمایت میں‘ ارشاد فرماتے ہیں:

’’میں یوں ہی احمقوں کی طرح دروازے میں کھڑا ہوں اور کمرے میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو دیکھنے اور پہچاننے کی کوشش کر رہا ہوں اور یہ خیالات بھی میرے ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ مجھے اجنبیوں کے درمیان یوں چلے آنے میں بہت تکلف محسوس ہو رہا ہے۔ میں طبعاً شرمیلا ہوں، لوگوں کی طرف آنکھ بھر کر دیکھتا نہیں۔ میں امید میں ہوں کہ یہاں شاید میرا کوئی شناسا نکل آئے۔۔۔

یہاں شاید میرا کوئی شناسا نکل آئے۔

شاید یہاں میرا شناسا کوئی نکل آئے۔

یہاں شاید کوئی میرا شناسا نکل آئے۔

شاید کوئی میرا شناسا یہاں نکل آئے۔

شاید میرا یہاں کوئی شناسا نکل آئے۔

میرا کوئی شناسا یہاں شاید نکل آئے۔

کوئی شاید یہاں میرا شناسا نکل آئے۔

یہاں کوئی شاید میرا شناسا نکل آئے۔

اس ایک جملے کو کئی کئی طرح سے لکھا جا سکتا ہے۔ یہ ہماری زبان کی خوبی ہے، فارسی، عربی، انگریزی، فرانسیسی، کسی میں یہ بات نہیں۔ ایسا جملہ لکھنے کی نوبت آئے تو میں بار بار سوچتا ہوں کہ کون سا پیرایہ سب سے بہتر ہو گا۔ معنی کا تھوڑا تھوڑا سا فرق ہر ایک میں ہے۔ میں متبادل جملوں کو بار بار دل میں دہراتا ہوں، روانی، آہنگ، نشست معنی، ہر طرح سے پرکھتا جانچتا ہوں۔ پھر ایک پیرایہ اختیار کرتا ہوں۔ کیا اور لکھنے والے بھی اس طرح سوچتے ہیں؟ یا کیا افسانہ نگار کے لئے ضروری نہیں کہ وہ زبان کی فطرت اور جملوں کی ماہیت کے بارے میں اتنا غور کرے، اس قدر غور کرے؟ کیا یہ ذمہ داری صرف شاعر کی ہے؟ کیا افسانہ نگار کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ جوں توں کر کے بات بیان کر دے؟ ہندی، انگریزی، خلاف محاورہ، بے محاورہ، کیا افسانے میں جو کچھ لکھو سب چلتا ہے؟ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ بعض لوگ تو کہتے ہیں کہ افسانے یعنی فکشن اور شاعری کی شعریات ایک ہے۔ جو چیز شاعری میں غلط ہے وہ افسانے میں بھی غلط ہے، بلکہ کچھ زیادہ ہی، کیونکہ افسانے کو عروضی وزن کا سہارا نہیں ہوتا۔ تو میں کچھ بیوقوفوں کی طرح دروازے میں کھڑا دیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ یہاں شاید میرا کوئی شناسا نکل آئے۔‘‘

مشہور معروف افسانہ نگار سلام بن رزاق صاحب نے افسانے کی تعریف اس طرح کی ہے: ’’میرے نزدیک ایک عمدہ افسانے کی تعریف یہی ہے کہ جسے پڑھنے کے بعد قاری وہ نہ رہے جو پڑھنے سے قبل تھا۔‘‘

افسانوی خصوصیات، لوازمات آج بھی زیر بحث ہے۔ رضی شہاب ’افسانے کی شعریات‘ میں لکھتے ہیں:

’’تا ہم سوال یہ ہے کہ آخر افسانہ کس بلا کا نام ہے؟ شمس الرحمن فاروقی نے ’افسانے کی حمایت میں‘ کئی جگہ اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ سب سے پہلے ضروری ہے کہ افسانہ کیا ہے؟ متعین کر لیا جائے۔ انھوں نے افسانوی خصوصیات، لوازمات اور ضروریات کا تذکرہ کیا ہے اور مختلف مقامات پر افسانے کی مختلف توجیہات بھی کی ہیں البتہ کہیں بھی واضح طور پر اس کی نشاندہی نہیں کی ہے کہ افسانہ کہتے کسے ہیں۔ ویسے اگر دیکھا جائے تو اب تک اس راز سے پردہ نہیں اٹھا ہے کہ آخر کس چیز کا نام افسانہ ہے۔‘‘

پروفیسر طارق چھتاری نے اپنے مضمون ’جدید افسانے کا فن‘ میں کہانی پن، لا شعوری خیالات کی تصدیق اور افسانے کے فن کو مثالوں حوالوں سے بڑی اچھی طرح سمجھایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’افسانے کا فن بنیادی طور پر کہانی کہنے کا فن ہے۔ اگر کسی افسانے میں ’’کہانی پن‘‘ نہیں ہے تو وہ افسانہ مضمون، انشائیہ یا محض نثر کا ایک ٹکڑا ہی معلوم ہو گا۔ 1960ء کے بعد اردو میں ایسی کہانیاں بھی لکھی گئی ہیں جن میں کہانی پن کا فقدان ہے یا ان کا عدم وجود برابر نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر سریندر پرکاش کی کہانی ’’تلقارمس‘‘ میں یہ عنصر قطعاً مفقود ہے۔ کسی افسانے میں کہانی پن ہے یا نہیں، اسے پرکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جب کوئی کہانی پڑھ چکے تو اس افسانے کی کہانی زبانی سنانے کو کہا جائے، اگر اس میں کہانی پن ہو گا تو خواہ کیسی بھی تجریدی کہانی کیوں نہ ہو اور واقعات کو کتنا ہی توڑ مروڑ کر یا ان کی ترتیب بگاڑ کر کیوں نہ پیش کیا گیا ہو، زبانی بیان کرتے وقت سنانے والا لا شعوری طور پر اپنے حساب سے واقعات کو ترتیب دے کر کہانی سنا دے گاجیسے انور سجاد کی کہانی ’’مرگی‘‘ جو ایک تجریدی کہانی ہے اور بظاہر اس کی ہیئت نظر نہیں آتی لیکن اس میں کہانی پن موجود ہے اور اس کو زبانی سنانا عین ممکن ہے۔‘‘

’’خیالات دو قسم کے ہوتے ہیں: شعوری خیالات اور لا شعوری خیالات۔ شعوری خیالات سے مراد وہ خیالات ہیں جو انسان کے شعور میں ہوتے ہیں اور وہ ان خیالات سے بخوبی واقف ہوتا ہے، نیز وقتاً فوقتاً ان کا اظہار بھی کرتا رہتا ہے۔ لاشعوری خیالات انسان کے ذہن کے کسی گوشے میں چھپے وہ خیالات ہیں جن کا ان کو واضح علم نہیں ہوتا۔ ذہن کی کسی گہرائی میں ان کو محسوس تو کرتا ہے لیکن انہیں الفاظ کے پیرائے میں ڈھالنے سے قاصر نظر آتا ہے۔ اگر کوئی افسانہ نگار اپنی تخلیق کے ذریعے قاری کے لا شعوری خیالات کو اس کے ذہن کی گہرائی سے نکالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ تخلیق قاری کی پسندیدہ تخلیق بن جاتی ہے۔‘‘

’’یہ ضروری نہیں کہ ہر کہانی میں ایک ہی تاثر ہو، اب بہت سی ایسی کہانیاں لکھی جا رہی ہیں جو بیک وقت کئی تاثر قاری کے ذہن پر چھوڑتی ہیں اور ان میں کلائمکس بھی بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ مندرجہ بالا تمام عناصر ہر کہانی میں موجود ہو۔ ان میں سے چند عناصر کی موجودگی بھی کہانی کو کامیاب بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی کہانی میں تمام عناصر موجود ہو پھر بھی وہ کہانی ’ناکام کہانی‘ بن جائے۔‘‘

دور حاضر کا افسانہ نگار معاشرے سے غافل نہیں، وہ معاشرے کی برائیوں اور برے کرداروں پر برابر نشتر چلا رہا ہے، زندگی سے قریب ہو کر زندگی کی تلخ حقیقتوں کی ترجمانی کر رہا ہے، تخلیقی رنگ میں زندگی کے مسائل، کشمکش، اتار چڑھاؤ، خارجی اور داخلی تصادم، خوشی و مسرت، عداوت، کدورت، بغاوت، نفرت، حسد وغیرہ کو موضوع بنا کر، سماج اور معاشرے میں زندگی سے جوجھ رہے کرداروں کو ہیرو بنا کر زندگی کی حقیقی تصویر پیش کر رہا ہے۔ آج پوری توانائی کے ساتھ افسانے اور غزل کی تخلیق ہو رہی ہے، اخباروں اور رسائل میں غزل، افسانے اور افسانچے ہی نظر آ رہے ہیں۔ خیالی پلاؤ بنانا اور ہوا میں محل تعمیر کرنا یہ باتیں آج کے افسانوں میں نہیں۔ افسانہ لکھنا ایک فن ہے ہر قسم کی تحریر فن نہیں ہوتی۔ افسانہ لکھنا راتوں رات نہیں آ جاتا، اس کے لیے محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی کسی میں افسانہ لکھنے کی صلاحیت خداداد بھی ہو سکتی ہے۔ افسانے کی دنیا میں بہت سے انقلاب آتے رہے ہیں۔ ابتداء سے آج تک اردو افسانے نے بے شمار کروٹیں بدلی ہیں اور بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ پلاٹ، کردار، مرکزی کردار، نقطہ نظر اور وحدت تاثر کے بغیر افسانے لکھے گئے۔ آخر علامتی افسانے نے جنم لیا۔ اس وقت ایسے افسانے تخلیق کیے گئے جس میں اجزائے ترکیبی کا فقدان تھا۔ جس کی وجہ سے افسانے میں کشش باقی نہ رہی۔ لیکن دھیرے دھیرے یہ احساس عام ہوا کہ کم از کم افسانے میں کہانی پن کا ہونا ضروری ہے۔ اور اب ایسے ہی افسانے مقبول ہیں۔ افسانے کا کوئی بھی موضوع نیا یا پرانا نہیں ہوتا ہے۔ بس اس موضوع کو برتنے کا انداز جدا ہوتا ہے۔ افسانے کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اسے ایک ہی نشست پڑھا جائے اور مشہور ہے کہ آدھے گھنٹے میں پڑھا جائے۔ کہتے ہیں کہ واقعات کو من و عن بیان کر دینا افسانہ نہیں ہوتا اور بیانیہ کے بغیر افسانہ قائم نہیں ہو سکتا۔ افسانہ تخلیق کرنا ایک فن ہے اور کہانی پن، کردار، مکالمے، حقیقت نگاری، جزئیات نگاری، زبان و اسلوب، زماں و مکاں، تصادم، عروج اور خاتمہ اس کے اجزائے ترکیبی ہیں۔ پیشکش کا انوکھا دلچسپ انداز، زبان و بیان کی چاشنی، زبان پر گرفت، پر اثر اسلوب اور فضا آفرینی یہ سب مل کر ایک کہانی کو افسانہ بنا ہی دیتے ہیں۔ افسانے میں نئے نئے تجربات کی بہت گنجائش ہوتی ہے، اور آج نت نئے تجربات ہو رہے ہیں اور افسانہ عہد حاضر کی سب سے مقبول نثری صنف بن گیا ہے اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اردو افسانے کا مستقبل بھی روشن ہی ہے۔

 

محمد علیم اسماعیل

 

 

 

افسانچے

 

شرمندگی

 

رات کا وقت۔۔۔۔ پورا ہال فانوس کی روشنی سے جگ مگ۔۔۔۔ شہر کے ایک بڑے رئیس کے جنم دن کی پارٹی میں ریشمی اور مخملی کپڑوں سے ڈھکی ٹیبل کرسیاں نیم برہنہ خواتین سے پردہ کر رہی تھیں۔

 

 

جانور

 

ایک کتیا کے پیچھے دو کتّے لگے ہوئے تھے۔

دونوں بھی ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر رہے تھے۔

دونوں میں لڑائی ہوئی اور طاقتور نے کمزور کو بھگا دیا۔

دوسری جانب چار انسانوں نے ایک ساتھ مل بانٹ کے کھایا۔

اور پکڑے جانے کے خوف سے شکار کو پتھر سے کچل کچل کر مار ڈالا۔

 

 

چور

 

ملت نگر کے لوگوں نے ایک چور کو لاتوں گھوسوں سے پیٹ پیٹ کر ادھ مرا کر دیا۔۔۔۔۔ اور الیکشن میں سرور خان کو دوسری دفعہ جتا کر اپنا لیڈر منتخب کیا۔۔۔۔۔۔ چور نے صرف پچاس روپے چرائے تھے اور خان صاحب نے پچھلی منسٹری میں صرف پچاس لاکھ کا گھوٹالا کیا تھا۔

 

 

نظریہ

 

بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی سے کہا ’’تم ماں کو تمہارے پاس رکھتے ہو، بڑی اچھی بات ہے۔ سوچ رہا ہوں کچھ دنوں کے لیے ماں کو میرے پاس رکھ لوں۔‘‘ چھوٹے بھائی نے جواب دیا ’’نہیں بھائی۔۔۔۔ میں ماں کو رکھتا نہیں، اس کے پاس رہتا ہوں۔ یہ سن کر بڑے بھائی کے دماغ پر ہتھوڑے برسنے لگے۔

 

 

 

فری

 

’’بیٹا تم رات دن انٹرنیٹ استعمال کرتے ہو!! ! یہ اچھی بات نہیں ہے کچھ کام کاج بھی کرو۔‘‘

’’پاپا آپ بھی نا____ یہ انٹرنیٹ فری ہے۔‘‘

’’یہ انٹرنیٹ تمہارے لیے فری ہے یا تم اس کے لیے؟؟ ؟ ‘‘

 

 

عبادت

 

حاجی صاحب تہجد کی نماز پڑھ کر بیٹھے ہی تھے۔۔۔۔ بار بار بج رہی موبائل کی بیل سے ان کی بیٹی نیند سے جاگ گئی اور کہنے لگی ’’ ابو چاچو کا فون آیا ہے۔‘‘ انھوں نے بچی کو ڈانٹتے ہوئے کہا ’’ اٹھانا مت۔۔۔۔ میں اب اس سے بات نہیں کرتا۔‘‘

 

 

 

کمیشن

 

’’تم مجھے ہیروئن کا رول دلوا دو تو میں اپنی فیس کا تیس فی صد حصہ تمھیں بطور کمیشن ادا کروں گی۔‘‘

اس نے معنی خیز نظروں سے اس خوبصورت لڑکی کے ادھ کھلے جسم کو دیکھتے ہوئے کہا ’’اور اس سے پہلے۔۔۔۔؟ ‘‘

 

قبولیت

 

آبروریزی کے بعد سماج کے فرق آمیز برتاؤ سے جوجھ رہی لڑکی کو اس نے بھی بڑی حقارت سے دیکھا۔ اور ملک کی مشہور ہیروئن سنی لیونی کے حسن کا جلوہ دیکھنے کے لیے ٹکٹ کاؤنٹر پر لگی قطار میں کھڑا ہو گیا۔

 

 

حساب برابر

 

بل زیادہ نہ آئے یہ سوچ کر وہ ہمیشہ وہاں کا ٹیلی فون استعمال کرتے تھے جہاں وہ کام کرتے تھے لیکن۔۔۔۔۔۔ ان کے گھر بھی ایک نوکر کام کرتا تھا۔

 

 

گنہگار

 

ماہ رمضان کی رونقیں۔۔۔

مسجد میں نمازیوں کا ہجوم۔۔۔

عبادت میں مشغولیت، گناہوں سے توبہ۔۔۔

اور ماہ رمضان کے بعد صرف ایک آدھی صفوں پر مشتمل گنہگار ہی باقی تھے۔

 

 

 

حلال

 

پہلی دکان۔۔۔ دوسری دکان۔۔۔ تیسری دکان۔۔۔

بینک سے ملی سود کی رقم اور جوے میں جیتے ہوئے پیسوں سے، وہ سنت طریقے سے زبح کیے گئے جانور کے حلال گوشت کی تلاش میں دور تک آ گیا تھا۔

 

اعتماد

 

سرکاری اردو اسکول میں طلبا کی تعداد دن بہ دن کم ہو رہی تھی جس کی وجہ سے ٹیچرس کی منظور پوسٹ بھی ختم ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔ پھر ایک دن اسکول میں سر پر ستوں کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں اساتذہ والدین کو سرکاری اسکول میں پڑھائی کے فائدے بتا رہے تھے۔۔۔۔۔۔ اور ان کے خود کے بچے انگریزی اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

 

 

گرم خون

 

محبوبہ قے پہ قے کیے جا رہی تھی یہ دیکھ کر اس کو غصہ آ گیا اور چلا کر پوچھا ’’میں نے دوائی لا کر دی تھی تو نے وقت پر لی کیوں نہیں؟ ‘‘

کچھ روز بعد اس کی کنواری بہن بھی الٹی کیے جا رہی تھی، یہ دیکھ کر اس کا خون کھول گیا اور اس نے تلوار اٹھا لی۔

 

ظرف

 

مالکن اور نوکرانی دونوں کا جنم دن ایک ہی تاریخ کو تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو نذرانے پیش کیے۔

مالکن نے نوکرانی کی حیثیت کے موافق ایک سستا تحفہ دیا اور نوکرانی نے مالکن کی حیثیت کے مطابق ایک قیمتی و اچھا تحفہ دیا۔

 

 

انسان

 

سنیما ہال۔۔۔۔

ہاؤس فل۔۔۔۔

فلم شعلے۔۔۔۔

’’بسنتی ان کتوں کے سامنے مت ناچنا۔‘‘

پورا ہال واہ!! ! واہ!! ! سے گونج اٹھا۔۔۔۔

اور وہ فوراً سنیما ہال سے باہر آ گیا۔۔۔

پھر چین کی سانس لیتے ہوئے من ہی من کہنے لگا۔۔ میں تو انسان ہوں۔۔

 

 

مستقبل

 

وہ ایک کال سنٹر پر کام کرتی ہے، ایسا اس نے اپنے شوہر سمیر سے کہا تھا جبکہ وہ ایک وائس چیٹ سروس پر کام کر رہی تھی۔ وہاں رومینٹک وائس چیٹ کر کے لوگوں کا دل بہلانا اس کا کام تھا۔

’’میں تھک ہار کرآفس سے رات میں گھر آتا ہوں اور تم کال سنٹر پر چلی جاتی ہو۔ میں برانچ منیجر ہوں۔ میری تنخواہ سے جب ہمارا گزارا ہو جاتا ہے تو پھر تم کیوں۔۔۔۔۔۔؟؟ ؟ ‘‘

سمیر کی بات مکمل سنے بغیر ہی روشنی غصے سے بولی ’’میں ہماری آنے والی زندگی کو خوشحال بنانے کے لیے ہی تو کام کر رہی ہوں۔‘‘

اس مسئلے کو لے کر دونوں میں کئی بار بحث و تکرار ہو ئی تھی۔ روشنی کبھی اپنے مستقبل کی دہائی دیتی تو کبھی اپنے کیرئیر کو بنانے کی بات کرتی۔

پھر ایک روز ایک کسٹمرکی اسے کال آئی۔ وہ کہہ رہا تھا ’’ہمارے صاحب کو ایک ایسی لڑکی سے بات کرنی ہے جو ان سے ملے، ان کے ساتھ بیٹھے، وقت گزارے، خوب باتیں کرے، اور ان کے اکیلے پن کو دور کرے اس کی قیمت جو بھی ہو گی ادا کی جائے گی۔‘‘

روشنی نے کہا ’’ ٹھیک ہے مل جائے گی۔۔۔ نام اور ایڈریس بتائیں‘‘

’’وہ برانچ منیجر ہے اور ان کا نام سمیر۔۔۔۔۔‘‘ ایڈریس سنے بغیر ہی کال کٹ چکی تھی۔

 

 

 

خاموش دھماکہ

 

وہ دروازے کی چوکھٹ پر کھڑی تھی۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو رہی تھیں۔

’’اب یہاں کس لیے آئی ہے۔ ہمیں تجھ سے یہ امید بالکل بھی نہیں تھی، کتنی ذلیل حرکت کی ہے تو نے۔۔۔۔۔۔ اب ہمارا تجھ سے کوئی رشتہ نہیں۔ خدا نے ہمیں اولاد کی خوشی سے محروم رکھا اس لیے کتنے ارمانوں سے تجھے گود لیا تھا ہم نے۔۔۔۔۔۔ اب یہاں تیرے لیے کوئی جگہ نہیں جا وہیں۔۔۔۔۔۔ اسی کے پاس۔۔۔۔۔۔ جس کے ساتھ منھ کالا کیا ہے‘‘ چاچی نے چیختے ہوئے غصے سے کہا۔

’’اس لیے تو یہاں آئی ہوں چاچی‘‘ اس نے روتے ہوئے بھرائی آواز میں گھر کے ایک کونے میں سہمے ہوئے کھڑے چاچا کی طرف دیکھ کر کہا۔

 

 

خوراک

 

سبھی کی زبانوں پر تالے لگے ہوئے تھے لیکن سوچ پر پہرے نہیں تھے۔ ایک وزیر اپنی مجلس میں کہہ رہا تھا ’’یہ ملک بدل رہا ہے۔ اب کوئی بھوکا نہیں رہے گا۔‘‘ اور محفل میں امڈی بھیڑ میں ایک حساس شخص سوچ رہا تھا ’’آج آپ نے تو پیٹ بھر کھانا کھلا دیا۔۔۔۔ ویسے تو ہم روز دھوکا کھا رہے ہیں۔ نیتا مال، پولس رشوت اور جوان سرحد پر گولیاں۔۔۔۔ ہر جاندار کی اپنی اپنی خوراک ہے۔‘‘

 

 

افسوس

 

ایک مہینے پہلے اس نے جس لڑکے کا رشتہ ٹھکرا دیا تھا۔۔۔

آج اس کی ماں کا انتقال ہو گیا۔۔۔

یہ خبر سن کر اس لڑکی کو بہت افسوس ہوا کہ۔۔۔

ایک اچھا رشتہ ہاتھ سے نکل گیا۔۔۔

 

 

دوغلا پن

 

جلسہ گاہ میں کافی بھیڑ تھی۔ ہندو مسلم بھائی چارے کو فروغ دینے کی غرض سے منعقد پروگرام میں ایک منسٹر ملک میں صوفی پیغامات کو عام کرنے کی بات بڑے زور شور سے کہہ رہا تھا۔ میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ میں فوراً اٹھا اور جلسہ گاہ سے باہر نکل گیا۔ ابھی کچھ ہی دنوں قبل ان کے آدمیوں نے صوفیائے کرام کی بہت سی درگاہوں کو زمین بوس کر دیا تھا۔

 

محنت

 

اس کے گھر کی دیواریں بڑی مضبوط تھیں۔ ایک کیل بھی دیوار میں آسانی سے ٹھوکا نہیں جاتا اور ٹیڑا ہو جاتا۔ دیواروں کو مضبوط بنانے کے لیے اس نے بہتر سے بہتر لوازمات استعمال کیے تھے۔ لیکن اپنے چھوٹے بھائی سے آشنائی بڑی نا تواں تھی۔ چھوٹا بھائی جب بھی پہلا قدم بڑھاتا وہ کیل کی طرح ٹیڑا ہو جاتا۔

 

 

بال کی کھال

 

بال کی کھال کھینچنا اور اچھی بھلی چیزوں میں کیڑے نکالنا۔۔۔۔

صاف شفاف کپڑوں میں داغ دھبے تلاش کرنا، اس کی عادت ہی نہیں فطرت بھی تھی۔

وہ زندگی بھر شادیوں کے کھانوں میں عیب تلاش کرتا رہا۔

اپنی زندگی بھر کی کمائی ایک دن کی دعوت پر لگا دینے والا دلہن کا باپ جب اس کی باتیں سنتا تو دل چھلنی ہو جاتا۔

آج اس کی لخت جگر کی شادی میں کسی نے کھانے میں نقص تلاش کیا تو اسے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیل دیا ہو۔

 

 

غیرت

 

وہ میری شرافت کا فائدہ اٹھاتی رہی اور میں بد نامی و تماشے سے ڈر کر اس کی ہر بات مانتا رہا۔ میری شرافت حد سے زیادہ بڑ گئی تھی اور بزدلی بن گئی تھی۔ اچھی زندگی کے سارے خواب اس کے ظلم و زیادہ تیوں سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہو گئے تھے اور میں اس کا مقید ہو گیا تھا۔ جب برداشت کی حد اپنی عروج کو پہنچ گئی تب میں نے بزدلی کی چوڑیاں توڑ کر غیرت کی ہتھکڑیاں پہن لیں۔ اور میں بیوی کی غلامی سے آزاد ہو گیا۔

 

زندگی

 

وہ جب راستے سے چلتی تو بہت سے دلوں پر چھریاں چل جاتی تھیں۔ اس کے کئی چاہنے والے تھے۔۔۔۔ جو اس پر جان چھڑکتے تھے لیکن وہ مجھے اور صرف مجھے ہی چاہتی تھی۔ وہ زندگی میں بہت پیاری لگنے لگی تھی۔ اس کے بغیر جینا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی تھا۔ اس کی قربت زندگی کے لمحات کو حسین بنا دیتی تھی۔ میں نے اس سے کئی بار کہا تھا ’’میں تمہارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔‘‘ پھر یوں ہوا کہ وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی اور میں مرا بھی نہیں۔۔۔ مجھے بھی دوسری مل گئی۔

 

ذمّہ داری

 

ماں پچھلے پندرہ دنوں سے بیمار تھی۔ مہینے کا آخری دن ہونے کی وجہ سے زبیدہ کا ہاتھ خالی تھا۔ ابّا کے انتقال کے بعد گھر کی تمام ذمہ داریوں کا بوجھ اسی کے سر تھا۔ وہ ایک پرائیویٹ اسکول میں ٹیچر تھی۔ ماں کی دوا ختم ہو چکی تھی اور آج دوا لانی ضروری تھی۔ زبیدہ کی گھبراہٹ 10 سالہ منّو سے دیکھی نہیں گئی تو اس نے اپنی بہن سے کہا ’’ باجی آپ بالکل پریشان نہ ہو میرے پاس کچھ پیسے ہیں‘‘ اس نے اپنے بستے سے 35 روپئے نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ تڑاخ —- ایک زوردار طمانچہ منّو کے گال پر پڑا۔ ’’ کہاں سے لایا ہے رے اتنے روپے۔۔۔۔ کیا چوری۔۔۔۔”

’’نہیں باجی میں نے چوری نہیں کی ہے۔ آپ جو مجھے اسکول جاتے وقت روزانہ ایک روپے ناشتہ کے لیے دیتی تھیں نا۔۔۔۔ میں اس میں سے 50 پیسے بچا لیا کرتا تھا۔‘‘ یہ کہہ کر منّو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

 

 

سر درد

 

’’پانی۔۔۔۔ پانی۔۔۔۔ پانی‘‘

پیاس کی شدت میں وہ بار بار آواز دے رہی تھی۔

’’بیٹا تھوڑا پانی لانا۔۔۔۔ بہو ایک گلاس پانی۔۔۔۔ کوئی تو پانی لاؤ بہت پیاس لگی ہے۔‘‘

اسی وقت بیٹا باہر سے گھر میں داخل ہوا۔۔۔۔ ماں کی آواز سنی اور بیوی کی طرف جھنجھلا کر دیکھا۔۔۔۔ بیٹے کے چہرے کے تاثرات بدل گئے اور اس نے ساتھ لائی سوڈے کی بوتل بیوی کو دیتے ہوئے کہا ’’ آپ آج کل کتنا پانی پیتی ہیں امی، آپ کی کرکری سے سر درد ہوتا ہے۔‘‘

اور اپنے بیٹے کو پہلی آواز پر ہی پانی پلا دینے والی ماں خاموش ہو گئی۔

 

ناٹک

 

فلم میں غریبوں کی بے بسی دیکھ کر تین گھنٹوں میں کئی بار اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو کر چھلک پڑا تھا۔۔۔۔ سنیما گھر سے باہر نکلا تو ایک غریب عورت اپنے ننگے بچے کے ساتھ بھیک مانگ رہی تھی اور وہ منہ ہی منہ بڑبڑا رہا تھا۔۔۔۔ ’’ناٹک کرتی ہے سالی۔‘‘

 

 

 

قیامت

 

راستے سے گزرتی ہوئی لڑکی کو دیکھ کر اس نے اپنے دوست سے کہا ’’پتلی کمر۔۔۔۔ سیکسی چال۔۔۔۔ غضب کا فگر۔۔۔۔ ماں قسم قیامت ہے قیامت۔۔۔۔!! ! ‘‘

لڑکی جب پلٹی تو وہ بھی فوراً مڑ گیا، ’’او ہو ’چھوٹی ‘۔۔۔ سالا غلطی ہو گئی۔‘‘

 

شرط

 

ان کی لڑکی کے لیے بہت رشتے آئے تھے۔

لیکن وہ انھیں ٹھکرا چکے تھے۔

اپنے اصولوں کے وہ پابند تھے کہ جہیز کے بالکل خلاف تھے۔

لیکن۔۔۔۔۔۔۔ لڑکا سرکاری نوکری والا دیکھ رہے تھے۔

 

 

ندامت

 

بہن نے اپنے بھائی کا لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے کہا ’’بھائی جان۔۔۔ آپ کی فیس بک سرچ ہسٹری میں صرف میں ہی نہیں ہوں۔‘‘ اور وہ ندامت کے پسینے میں ڈوب گیا۔

 

 

مصروفیت

 

بابا نے عوام کو یوگا کی طرف موڑا۔ لوگ اپنا کام دھندا چھوڑ کر یوگا کرنے میں مصروف ہو گئے اور با با کام دھندے میں۔۔۔۔۔

 

درندے

 

خوبصورت، جوان، نازک اندام، دبلی پتلی دو دوشیزائیں، حسن و جمال کی مالکائیں سنسان جنگل سے اپنے قدموں کی چاپ سنتے ہوئے چلی جا رہی تھیں اور انھیں ابھی ایک طویل راستہ طے کرنا تھا۔ دونوں اکیلے گزر رہی تھیں، دونوں کی کیفیت جدا جدا تھی، ایک بڑی بیباکی سے بنا ڈر و جھجھک کے آگے بڑھ رہی تھی، جبکہ دوسری ایک بھیانک خوف و دہشت کے سائے تلے چل رہی تھی اور اپنی عفت مآب کی حفاظت کی فکر اس کے قدم با قدم تھی۔

’’کیا تجھے ڈر نہیں لگتا؟ ‘‘ دوسری نے سوال کیا۔

’’اس جنگل میں ڈر کس بات کا!! ! یہاں کے سارے خونخوار درندے تو آبادیوں میں چلے گئے ہیں۔‘‘

 

 

سوال

 

لڑکی کے والدین نے غریب شریف لڑکے کے رشتے سے انکار کر کے امیر بگڑے ہوئے لڑکے کے رشتے کو یہ کہتے ہوئے قبول کر لیا کہ اللہ ہدایت دینے والا ہے تو گھر کے ایک سمجھدار بچے نے سوال کیا کہ پھر دولت دینے والا کون ہے؟

 

 

انسانیت

 

اس شخص کی جانب ایک ہینڈسم نوجوان مسلسل دیکھے جا رہا تھا۔ ایک طرح کی خوشی و مسرت اس نوجوان کے چہرے سے جھلک رہی تھی۔ اور وہ شخص محو حیرت تھا کہ اسے دیکھ کر تو لوگوں کے چہروں پر سوائے نفرت کے اور کچھ تاثرات آتے ہی نہیں۔ وہ ایک غریب، بے گھر، مزدور تھا۔۔۔۔ اور ابھی دو دن ہی ہوئے عید کا تہوار گزر گیا۔ اس نے بہت سے افراد کو عید کی مبارکباد دی۔۔۔۔ سبھی نے دور سے ہی راستہ بدل لیا لیکن کسی نے بھی اسے گلے نہیں لگایا۔ ہاں اس کے پاس نئے کپڑے نہیں۔۔۔۔ اس لیے لوگوں نے ’چھی گندا‘ کہہ کر حقارت کی نظروں سے دیکھا۔ پھر آج یہ نوجوان اتنے پیار سے اس کی جانب کیوں دیکھے جا رہا ہے۔ اس شخص کو ایسا محسوس ہوا، وہ نوجوان گلے ملنا چاہتا ہے۔ وہ جھٹ سے اٹھا اور اس سے ہم آغوش ہو گیا۔۔۔۔ اچانک ایک جھٹکا لگا۔۔۔۔ اس وقت اسے اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ۔۔۔۔ آدمی تو نفرت کا مجسمہ بن گیا ہے اور۔۔۔۔ انسانیت انسان سے نکل کر کپڑوں کی دکان کے باہر کھڑے اس بت میں آ گئی ہے۔

 

 

حق بات

 

وزیر تعلیم اسکولوں کو دی جانے والی سرکاری امداد اور بچوں کے تعلیمی معیار کا معائنہ کر رہے تھے۔ تمام ملازمین نے تعریف کے پھول برسائے لیکن ایک اسکول کے صدر مدرس نے سرکار کی جانب سے دی جانے والی چیزوں کو گھٹیا درجے کی بتا کر بہت سی خامیاں گنوائیں۔

وزیر صاحب نے سبھی باتیں بغور سنیں اور جاتے جاتے ایجوکیشن آفیسر کو یہ حکم دیا کہ۔۔۔۔ ’’اس اسکول کا تعلیمی معیار کمزور ہے اس لیے اس ہیڈ ماسٹر کو معطل کر دو۔‘‘

 

غلط فہمی

 

ایک نیتا نے الیکشن جتنے سے پہلے کہا تھا کہ اگر عوام نے مجھے الیکشن جتا دیا تو سبھی کے بینک اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے جمع ہوں گے۔ تب لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ پیسے حکومت کی جانب سے جمع ہوں گے۔ پھر الیکشن جتنے کے بعد اس نے اچانک نوٹ بندی کرا دی۔ اور لوگوں نے پرانے نوٹوں کو نئے نوٹوں سے بدلنے کے لیے خود بینک کی لائن میں کھڑے ہو کر اپنے اپنے اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے جمع کیے۔

 

 

عقل

 

ٹی وی پر ایک اہم موضوع پر بحث ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ دوران بحث ایک لیڈر نے کہا ’’ایسے اہم موضوعات پر بحث و مباحثہ میں عورتوں کو شامل نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ عورتیں کم عقل ہوتی ہیں۔‘‘ اسی وقت بحث میں شامل ایک خوبصورت جوان عورت نے اس لیڈر کی جانب غصے بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے زلف کو انگلی میں الجھا کر آنکھوں کے سامنے لا یا، پھر ایک جھٹکے کے ساتھ لٹ کو پیچھے کیا، نچلے ہونٹ کو دانتوں میں دبا کر رسیلا کر کے کس قدر ڈھیلا چھوڑ دیا اورمست نشیلی نگاہوں سے مسکراکر اس لیڈر کی جانب دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔ اب لیڈر صاحب کی عقل نے کام کرنا بند کر دیا۔

 

شکایت

 

الیکشن میں میری ڈیوٹی بطور الیکشن آفیسر نمبر 3 لگی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔ اکثر میرے دماغ میں شکایتیں یوں سر پٹختی تھیں کہ اپنے ملک کے لوگ ووٹ کی اہمیت نہیں جانتے۔۔۔۔۔۔ اسی الیکشن میں ایک نمائندے کے آبجیکشن پر یہ بات سامنے آئی کہ 56 نمبر پر جس خاتون نے ووٹ کیا ہے اس کا چھ مہینے پہلے ہی انتقال ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔ اور میری شکایت دور ہوئی، یہاں تو مردے بھی ووٹ کی اہمیت جانتے ہیں۔

 

 

ایک فون کال

 

مختلف جگہوں سے بلائے گئے پولیس کے عہدے داروں کی ایک کرائم مٹینگ چل رہی تھی۔

ایک نے کہا ’’وہ قاتل جو ہزاروں بے گناہوں کا قتل کر کے بھاگ گیا ہے، ہماری دسترس سے بچ نہیں سکتا۔‘‘

دوسرے نے کہا ’’وہ لٹیرا جو بینکوں سے کروڑوں روپے لوٹ کر فرار ہو گیا ہے، اب ہماری گرفت سے زیادہ دور نہیں۔‘‘

تیسرے نے کہا ’’ان دونوں مجرموں کو ہم گھسیٹ کر اپنے ملک واپس لے آئیں گے اور انھیں کڑی سے کڑی سزا دلوائیں گے۔۔۔۔‘‘ اسی وقت بڑے صاحب کا فون آیا اور سبھی مٹینگ کو درمیان میں ہی ختم کر کے جانے لگے۔۔۔۔

بڑے صاحب نے فون پر کہا تھا ’’بھرے بازار میں ایک چور نے میرا پاکٹ مار دیا ہے، جاؤ پہلے اسے پکڑو‘‘

 

 

فکر

 

ڈاکٹر نے ایک بزرگ شخص سے کہا ’’آپ کی آنکھیں بالکل ٹھیک ہیں۔‘‘ اور وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا ’’آج بازار جاتے وقت بیٹی تو کہہ رہی تھی کہ اس نے برقعہ پہنا ہے۔ نجانے وہ کیسا برقعہ تھا!! ! کہ اس پر اور ایک برقعہ پہننے کی ضرورت تھی۔‘‘

 

ترقی

 

شلوار قمیص آہستہ آہستہ اوپر کو چڑ ھ رہے تھے اور بدن سے چپک رہے تھے۔۔۔ ڈوپٹہ کا سائز دھیرے دھیرے کم ہو رہا تھا۔ اور قمیص کا گلا آگے و پیچھے سے نیچے کی طرف جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔ ایک باپ نے اپنی بچی کے پہناوے میں ہو رہی تبدیلی کا معائنہ کرنے کے بعد جب ناراضگی ظاہر کی تو بیٹی نے کہا ’’پاپا۔۔۔۔۔۔ کیا مصیبت ہے۔ کیا آپ کسی کو ترقی کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے؟ ‘‘

 

 

عورت

 

ایک مشہور مصنف کی کتاب ’’سماج میں عورت کا مقام‘‘ کی رسم اجراء میں۔۔۔۔۔۔ مصنف نے اپنی تقریر میں عورتوں کو۔۔۔ بے حیائی کا جامہ پہنے ٹکٹکی لگا کر گھورنے والے نوجوانوں پر خوب تیکھے تیر برسائے۔ پروگرام کے اختتام میں سبھی حاضرین کو ایک ایک کتاب تقسیم کی گئی۔۔۔ مجھے بھی ایک کتاب ملی۔۔۔ جس کے سر ورق پر ایک خوبصورت نیم عریاں عورت کی تصویر تھی۔

 

آج کا راون

 

خود کے ہی پتلے کو آتشی تیر کے وار سے نذر آتش کرنے کے بعد اس نے عوام سے کہا ’’اب کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ برائی پر اچھائی کی جیت ہوئی۔۔۔۔ جاؤ سکون کی نیند سو جاؤ۔۔۔۔۔۔ راون جل چکا ہے۔‘‘

 

 

ملال

 

موت کے بعد اسے جلا دیا گیا۔۔۔۔

اس کی روح جسم سے نکل گئی۔۔۔۔

اور کہنے لگی۔۔۔

عجیب شخص تھا جب پتا تھا کہ موت کے بعد جلنا ہے تو کیوں زندگی بھر دوسروں سے جلتا رہا۔

 

درد

 

درد کیا ہوتا ہے اور دکھ کسے کہتے ہیں۔۔۔۔ کوئی اس سے پوچھے جس نے اپنا درد پیا ہو اور دکھوں کے ساتھ جیا ہو۔۔۔۔ کسی اپنے قریبی رشتہ دار کی موت پر اسے اتنا دکھ نہیں ہوا۔ بڑے اطمینان سے اس نے انتقال کی خبر برداشت کر لی۔۔۔۔ بس ایک پل کے لیے اظہارِ غم۔۔۔۔ لیکن اس سے کئی گنا زیادہ درد اسے اس وقت ہوا جب۔۔۔۔۔۔ موبائل چارجنگ پر لگایا اور ایک گھنٹہ بعد پتا چلا کہ بجلی کے بورڈ کا سوئچ آف تھا۔

 

 

مقابلہ

 

وہ ہر کام میں دوسرے سے مقابلہ آرائی کرتا اور اولیت حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا۔ اس بات کا احساس اس کے ساتھ نماز پڑھنے والوں نے بھی کیا تھا۔

 

تبدیلی

 

’’سنو۔۔۔۔۔۔ بیٹا جماعت کا وقت ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔ چلو جلدی۔‘‘

’’جی ابو۔۔۔۔۔۔ بس آپ چلئے آگے۔۔۔۔۔۔ میں آتا ہوں۔‘‘

وہ ہر وقت ابو کی باتوں کو ٹال دیتا تھا اور ہر روز نیا بہانا اس کے پاس ہوتا تھا، اس بات کو لے کر ابو بڑے پریشان تھے۔

پھر اچانک لڑکے کے برتاؤ میں حیرت انگیز تبدیلی آئی۔۔۔۔۔۔ اسے دیکھ کر ابو بھی بہت خوش ہوئے کہ لڑکا اذان سے پہلے ہی مسجد چلا جاتا ہے۔

اس بات کا حوالہ دیتے ہوئے ابو محلے کے آوارہ لڑکوں کو نماز کی تلقین کر رہے تھے۔ لیکن انھیں کیا پتا کہ بیٹے کو ایک لڑکی سے عشق ہو گیا ہے جس کا گھر مسجد کے سامنے ہی ہے۔

 

 

کامیابی

وہ کئی روز سے سرکاری آفس کے چکر کاٹ رہا تھا۔ لیکن ہر بار اس کو ٹال دیا جاتا تھا۔ ’’آج بڑے صاحب دورے پر گئے ہیں۔۔۔ شکایت لکھ کر لائیے۔۔۔ آپ غلط ٹیبل پر آ گئے ہیں دوسرے ٹیبل پر انکوائری کیجیے‘‘ اس طرح ہر روز نئے نئے بہانے بنا کر اسے کھڑے کھڑے ہی واپس کر دیا جاتا تھا۔ وہ کئی بار بڑے صاحب سے مل بھی چکا تھا لیکن انھوں نے کبھی اس کی بات کو پوری طرح سنا ہی نہیں تھا۔ پھر ایک دن وہ اس سرکاری آفس کے قریب سے گزر رہا تھا۔ نا امیدیوں کا دامن تھامے وہ آفس کی طرف بڑھ گیا، اتفاق سے بڑے صاحب باہر ہی کھڑے مل گئے۔ انھوں نے اسے اپنی کیبن میں بلایا اور کرسی پر بیٹھنے کو کہا۔۔۔ اس کے لیے چائے منگوائی۔۔۔ اس کی بات کو بغور سنا۔۔۔ اس کی شکایت درج کرائی۔۔۔ شکایت پر ایکشن لینے کا حکم نامہ بھی جاری کر دیا۔۔۔ اور وہ حیران سا، کبھی بڑے صاحب کو، کبھی اپنی خوبصورت جوان بیوی کو دیکھ رہا تھا۔

 

 

 

یہ کیسے۔۔۔۔۔۔

مسٹر کھنّہ کے سر میں درد ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔ آفس سے رخصت لے کر جلد گھر آ گئے تھے۔

’’کہاں تھی تم میں کب سے انتظار کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ موبائل بھی بند آ رہا ہے‘‘ مسٹر کھنّہ نے ابھی ابھی گھر آئی اپنی بیوی سے پوچھا۔

’’موبائل کی بیٹری آف ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔ دل مچل رہا تھا اور طبعیت بھی گھبرا رہی تھی تو ڈاکٹر کے پاس گئی تھی۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ میں۔۔۔۔۔۔ پریگنینٹ ہوں‘‘ مسز کھنّہ نے پرس رکھتے ہوئے جواب دیا۔

اچانک ایک زور دار طمانچہ اس کے گال پر پڑا۔ ابھی وہ کچھ کہنا ہی چاہ رہی تھی کہ مسٹر کھنہ کی آواز نے اس کا منہ بند کر دیا ’’یہ کیسے۔۔۔۔۔۔ دو سال پہلے میں خود کی نسبندی کروا چکا ہوں۔‘‘

 

 

وراثت

 

پیشہ ور آئی ٹی جانکار کے ذریعے جب باپ کو یہ معلوم ہوا کہ ہائی اسکول میں پڑھائی کر رہا اس کا لڑکا رات میں کمپیوٹر پر گندی گندی ویڈیوز دیکھتا ہے تو اسے بہت غصہ آیا۔۔۔۔۔۔ بچے کو خوب پھٹکار لگائی، ’’یہ آج کل کے بچے بہت بد چلن ہو گئے ہیں۔‘‘

بیٹا پہلے تو کافی دیر تک باپ کی ڈانٹ سنتا رہا۔ پھر دھیرے سے گویا ہوا ’’میں نے فیس بک پر پڑھا ہے یہ خراب و آوارہ بچوں کی پہلی کھیپ نہیں ہے، آج کل کے بچے اس لیے بگڑ رہے ہیں کیوں کہ انھیں ویسے ہی والدین ملے ہیں۔ اور باپ خاموش ہو گیا۔

 

 

پیغام

 

فساد برپا ہوا تھا۔۔۔۔ بے قصوروں کی لاشیں گر رہی تھیں، سرکاری ملکیت جل کر راکھ ہو رہی تھی اور پولس والے اپنی جان بچا کر بھاگ رہے تھے۔ لوٹ مار توڑ پھوڑ اور قتل و غارت گری سے سہمے ہوئے چہروں پر ایک خوف راج کر رہا تھا۔ اس پورے ہنگامے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ میڈیا والوں کو اگر خوب پیٹا جائے تو رپورٹینگ ایمانداری سے ہوتی ہے۔ دل کو دہلا دینے والے مناظر دھڑا دھڑ واٹس ایپ، فیس بک پر ارسال ہوئے تھے۔ جس کی وجہ سے دیکھتے ہی دیکھتے تشدد کی آگ پوری ریاست میں اور آس پڑوس کی ریاستوں میں پھیل گئی تھی۔ یہ خون خرابا، وحشت و بربریت کا ننگا ناچ پورے ملک کو نہ کھا جائے اس لیے متاثر ریاستوں میں انٹر نیٹ سروس بند کر دی گئی تھی اور ملک کے وزیر اعظم بذریعہ انٹر نیٹ عوام کو شانتی بنائے رکھنے کا پیغام دے رہے تھے۔

 

 

نیک کام

 

ملک کے پردھان منتری نے اعلان کیا ’’ آج آدھی رات یعنی ۸ نومبر ۲۰۱۶ کی رات بارہ بجے سے حال میں جاری پانچ سو روپے اور ایک ہزار روپے کے کرنسی نوٹ لیگل ٹینڈر نہیں رہیں گے یعنی یہ کرنسی قانوناً غیر منظور ہو گی۔ پانچ سو اور ایک ہزار کے پرانے نوٹوں کے ذریعے لین دین کی سہولت آج آدھی رات سے دستیاب نہیں ہو گی۔‘‘

ٹی وی پر یہ خبر سنتے ہی رام لال کے ہوش اڑ گئے۔ اس نے اپنے بیٹے کے ہاتھوں میں ایک تھیلا تھما یا اور کہا ’’جاؤ۔۔۔۔ اسے گنگا میں بہا کر گنگا میّا کو پرسنن (خوش) کر دو۔۔۔۔‘‘

بیٹے نے دیکھا تو پورا تھیلا پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹوں سے بھرا ہوا تھا، وہ سوچنے لگا ’’جلد کسی کو سو روپے نہ دینے والے ہمارے باپو جی کتنے نیک انسان ہیں۔‘‘

رام لال نے تھوڑی سکون کی سانس لی، نوٹ بندی کے اعلان کے بعد وہ جعلی نوٹوں کو لے کر بڑا پریشان تھا۔

 

 

دوست

 

آج معین کالج کے میدان میں بڑا اداس بیٹھا تھا۔ اسی وقت اس کا نیا دوست سمیر وہاں آیا اور پوچھنے لگا کہ کچھ سوچ رہے ہو، تب معین نے جواب دیا ’’کل میری کاظم کے ساتھ لڑائی ہو گئی تو امّی نے کہا کہ ایسے جھگڑالو دوستوں کے ساتھ مت رہو۔۔۔۔ اب تک چار دوست بدل چکا ہوں۔۔۔۔ کسی کے ساتھ توتو میں میں ہو جاتی ہے تو کسی کے ساتھ ہاتھا پائی – – – -‘‘

سمیر نے برجستہ جواب دیا ’’چار دوست تو بدل چکے ہو اس بار خود کو بدل کر دیکھو۔‘‘

 

امید

 

جاڑے کی رات میں پہاڑوں سے اترنے والی سردی جسم میں ہڈیوں تک گھسی جا رہی تھی اور بوڑھی ماں اپنے کمرے میں سردی سے سکڑتی، بخار سے تپتی، کھانستی جا رہی تھی۔ بخار کی تپش سے پورے بدن میں آگ لگی ہوئی تھی اور کھانسی کی شدت جب بڑھ جاتی تو سانس لینا مشکل ہو جاتا۔ اپنی تکلیف میں مبتلا بوڑھی ماں کو یہ امید تھی کہ بیٹا اس کے پاس ضرور آئے گا۔ ادھر بیٹا طے شدہ وقت کے مطابق اپنی معشوقہ سے ملنے چلا گیا۔

 

 

بربادی

 

برسات کے چار مہینے یوں ہی گزر گئے لیکن آسمان سے پانی کی ایک بوند تک نہیں برسی۔۔۔۔ پوری فصل برباد ہو گئی۔۔۔۔ تب اس نے ایک فیصلہ کیا اوربال بچوں کے ساتھ گاؤں چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے شہر چلا گیا۔۔۔۔ لیکن کچھ دنوں بعد ہی وہ واپس گاؤں لوٹ آیا۔۔۔۔ کسی نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا ’’یہاں تو فصل برباد ہوئی تھی اگر وہاں اور رہتا تو۔۔۔۔ نسل بر باد ہو جاتی۔‘‘

 

عمل

 

مسجد میں بیٹھے وہ دونوں رفع یدین کرنے اور نہ کرنے پر بحث کر رہے تھے۔

ایک نمازی کو دیکھ کر ان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔

نماز پڑھنے والے کے دونوں بازو نہیں تھے۔

 

لڑائی

 

بچپن کے ایک دوست کو قیمتی کار سے اترتے دیکھ کر اس نے پوچھا ’’مجھے یاد ہے اپنا کالج کا وہ زمانہ جب تیرے پاس امتحان کی فیس ادا کرنے کے پیسے بھی نہیں ہوتے تھے۔ اب کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے یا کوئی لاٹری لگ گئی ہے جو تو اتنا امیر ہو گیا؟ ویسے تو کرتا کیا ہے؟ ‘‘

اس کے ہونٹوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ رقص کرنے لگی اور اس نے رازدارانہ انداز میں کہا ’’کچھ خاص نہیں، پہلے غریبی سے لڑتا تھا، اب غریبوں کے لیے لڑتا ہوں۔‘‘

 

 

اختیار

 

اس سے پہلے کسی لڑکی کو مجبور کرنے میں اتنی محنت نہیں کرنی پڑی تھی۔

اس کی گِڑگڑاہٹ اب خاموش سمندر کا روپ لے چکی تھی۔

اس کے چہرے پر پسینے کی بوندیں ابھر آئی تھیں جو خوبصورتی میں چار چاند لگا رہی تھیں۔

تھوڑی دیر پہلے میں اس سے بہت باتیں کرنا چاہتا تھا پر اب سارا نشہ اتر چکا تھا۔

ایسے کاموں کے لیے میں ہوٹل میں ایک کمرا بک کر لیتا تھا۔

’’سر۔۔۔۔ اب مجھے یہ نوکری مل جائے گی نا۔۔۔۔۔ مجھے اس نوکری کی بہت ضرورت ہے‘‘ اپنی بے ترتیب سانسوں کو سنبھالتے ہوئے اس نے سوال کیا۔

شرٹ پہنتے ہوئے میں نے صرف اتنا کہا ’’ہاں فکر مت کرو اب تمہارا جاب پکا ہے، میں کمپنی کا C.E.O ہوں اور یہ میرے اختیار میں ہے۔‘‘

گھر پہنچ کر مجھے خیال آیا کہ ہوٹل کے باتھ روم میں نہاتے وقت میں اپنی گھڑی بھول گیا ہوں۔

پھر یوں ہوا کہ کچھ ہفتوں بعد بیوی کے باتھ روم میں ایک گھڑی دیکھ کر میرے حواس معطل ہو گئے۔۔۔۔ گھڑی میرے ڈرائیور کی تھی۔

 

 

مسیحائی

 

آبرو ریزی کے بعد اٹھارہ سال کی ایک خوبصورت لڑکی کو سماج میں دوبارہ عزت و مقام دلانے کے لیے گاؤں میں پنچایت بلائی گئی۔ ستّر سال کے ایک با عزت و با وقار بزرگ نے کھڑے ہو کر اپنی بات اس طرح رکھی ’’اس لڑکی کو سماج کے فرق آمیز اور حقارت بھرے برتاؤ سے بچانے کے لیے اور دوبارہ زندگی کے دھارے میں لانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم میں سے کوئی شخص سامنے آئے اور اس لڑکی کو اپنے گھر کی بہو بنائے۔‘‘

مجمع میں سے آواز آئی ’’آخر کون اس لڑکی کو اپنی بہو بنائے گا۔۔۔۔ یہ سب ہم سے نہیں ہو گا۔‘‘

پھر ایک آواز ابھری ’’بدنامی کا یہ داغ کوئی برداشت نہیں کرے گا۔۔۔۔ تو ہم کیوں یہ بوجھ اٹھائیں۔‘‘

پھر ایک آواز سر بلند ہوئی ’’آپ کا لڑکا بھی تو جوان ہے۔۔۔۔ آپ ہی پہل کیوں نہیں کرتے۔‘‘ اور چاروں طرف سنناٹا چھا گیا۔

 

 

 

 

افسانے

 

الجھن

 

رات کا آخری پہر تھا اور میں گہری نیند میں تھا۔ کسی نے میرا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور آنگن میں لے آیا۔ گھر کے آنگن میں بہت ساری قبریں ابھر آئی تھیں اور عجیب سی ڈراؤنی آوازیں کانوں کے پردوں سے ٹکرا رہی تھیں۔ محسوس ہو رہا تھا اگر یہ آوازیں بند نہ ہوئی تو کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے اپنے کانوں کو بند کر لیا۔ لیکن آوازیں اب بھی آ رہی تھیں جیسے کسی گہرے کنویں سے آ رہی ہوں جو ایک دوسرے میں خلط ملط ہو گئی تھیں۔ میں چیخنے لگا، چلانے لگا، گھر کے افراد کو مدد کے لیے پکارنے لگا۔ پر سبھی گہری نیند میں سو رہے تھے۔ میں گھر سے باہر نکل آ گیا۔ دھیرے دھیرے آوازیں دور ہوتی گئیں اور ایک سکون فضا میں پھیلتا چلا گیا۔ میں نے چین کی سانس لی۔ چیخ و پکار سناٹے میں تبدیل ہوتی چلی گئی اور وہ آوازیں بالکل بند ہو گئی تھیں۔

اب میں اکیلا ایک سنسان راستے پر چل رہا تھا۔ ٹَک ٹَک جوتوں کی آواز میرے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ یہ آواز بڑی بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ پھر اچانک میں نے اپنے پیروں کی طرف دیکھا۔ پیروں میں کچھ بھی نہیں تھا۔ میں ننگے پیر تھا۔ اب دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ میں نے اپنی رفتار تیز کر دی۔ جو آواز اب تک بھلی معلوم ہو رہی تھی اسی آواز سے اب ڈر لگ رہا تھا۔ میں نے اپنے سائے کو دیکھا۔ سر، ہاتھ اور پاؤں کا سایہ کسی بھیڑیے کی طرح نظر آ رہا تھا۔ یہ دیکھ کر ڈر دبے پاؤں رگ رگ میں گھس آیا تھا۔ مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ میں دھیرے دھیرے بھیڑیا بنتا جا رہا ہوں اور میرا جسم تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ چلتے چلتے شدید گرمی کا احساس ہوا تب میں نے اپنی قمیض اتار پھیکی۔ میں نے دیکھا، میرے سینے پر ایک بڑا سا کالا داغ تھا۔ میں سوچ میں پڑ گیا، یہ داغ آیا کیسے؟ ٹَک ٹَک کی آواز پیچھا کرتے ہوئے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ تب تھوڑا مڑ کر دیکھا پر دور دور تک کوئی دکھائی نہیں دیا۔ میں تیز چلنا چاہتا تھا لیکن اور زیادہ تیز چلا نہیں جا رہا تھا۔ ہانپتے ہانپتے برا حال ہو گیا تھا لیکن میں رک بھی نہیں سکتا تھا۔ راستہ صاف نظر نہیں آ رہا تھا کیوں کہ فضا میں دھند گہری تھی۔

ضمیر کہہ رہا تھا رک کر تھوڑا آرام کر لے۔ نفس کہہ رہا تھا اب رکنا مناسب نہیں۔ ضمیر اور نفس کی کشمکش میں کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا جائے۔ چلتے چلتے میں تھک گیا تھا۔ اور ٹَک ٹَک کی آواز تیز رفتاری سے برابر پیچھا کر رہی تھی۔ اب چلا بھی نہیں جا رہا تھا۔ پھر یوں محسوس ہوا، وہ آواز بالکل قریب آ گئی ہو اور اب پکڑ ہی لے گی۔ میں نے ہمت کر کے اپنی رفتار بڑھائی اور پوری قوت کے ساتھ بھاگنے لگا۔ ٹَک ٹَک کی آواز تیز ہوتی گئی۔ میں بھاگتا گیا اور آواز بڑھتی گئی۔ دم گھٹنے لگا تھا۔ میں گھبرا گیا اور ہڑبڑا کے اٹھا، آنکھیں کھولی تو الارم میں ٹِک ٹِک کی آواز شور مچا رہی تھی۔

ہر روز جیسے جیسے رات کی تاریکی اجالے کو نگلنے لگتی ویسے ویسے میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتیں۔ جاگ جاگ کر کئی راتیں گزر چکی تھیں۔۔۔۔ رہ رہ کر کانوں میں سیٹیاں بجتیں۔۔۔۔ سر کبھی ہلکا تو کبھی بھاری لگتا۔۔۔۔ ایک پہاڑ کی مانند نہ کٹنے والا وقت۔۔۔۔ بے چینی اور الجھن کا سایہ میرے وجود پر محیط ہو گیا۔۔۔۔ میری زندگی بد تر بن گئی تھی۔ اب یاد نہیں رہا تھا کہ میٹھی نیند کا مزہ میں نے کب چکھا تھا۔

پھر دوسرے روز سانسیں پھولنے لگی تھیں، دم گھٹتا جا رہا تھا، کوئی میرے سینے پر سوار ہو گیا تھا۔ میں اٹھنا چاہتا اور سینے پر سوار شخص کو ڈھکیلنا چاہتا تھا لیکن میرے ہاتھ پیروں نے حرکت کرنا بند کر دی تھی۔ بس ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو میں سویا تھا، نیند کا غلبہ تھوڑا گہرا کیا ہوا کوئی قوت میرے اوپر حاوی ہو گئی۔ میں زور زور سے بیوی کو آواز دینے کی کوشش کر رہا تھا ’’مجھے جگاؤ، مجھے اٹھاؤ نہیں تو میرا دم نکل جائے گا‘‘ لیکن میرے منہ سے آواز ہی نہیں نکل رہی تھی۔ جب میں نے اس شخص کا چہرہ دیکھا جو میری سانسوں کا دشمن بنا ہوا ہے تو میرے ہوش اڑ گئے، حواس معطل ہو گئے اور پیروں کے نیچے سے زمین کھسک گئی۔۔۔۔۔۔ یہ تو میرا ہی چھوٹا بھائی ہے جو اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ میں کچھ دعائیں پڑھنا چاہتا تھا لیکن میری زبان سے ایک لفظ بھی ادا نہیں ہو رہا تھا۔ مانو میری سانسیں اب اکھڑنے ہی والی تھیں کہ اچانک میری آنکھ کھل گئی اور میں نے پایا کہ میں ہانپ رہا تھا، سانسیں تھک چکی تھیں، سینہ پھڑ پھڑا رہا تھا اور یوں محسوس ہوا کہ موت چھوکر چلی گئی ہو۔ ایک انجانا خوف میرے اوپر راج کرنے لگا اور ڈر دبے پاؤں چل کر میرے وجود میں بھر گیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے بھی آنکھیں بند کر لینا اب مجھے ہیبت ناک نظر آ رہا تھا۔ تاریک و سنسان سرد رات میں تنہا اپنے وجود کو لیے خود کے قدموں کی پیمائش کی چاپ سنتے ہوئے میں گھر کے آنگن میں چلا آیا تھا، میں آیا نہیں کوئی قوت مجھے یہاں لائی تھی۔ کوئی اندیکھی طاقت میرے قدموں کو کھینچ رہی تھی۔

وہ میرا چھوٹا بھائی جسے میں بہت پیار کرتا تھا۔ اپنے ہاتھوں سے اسے کھانا کھلاتا، میلے میں لے جاتا۔ لیکن اب وہ مجھے مارنا چاہتا ہے اور اپنے پاس بلانا چاہتا ہے۔ میری شادی سے پہلے کا ذکر ہے ایک دفعہ اس کے پیر میں چوٹ آئی گئی تھی، خون بہت بہہ رہا تھا۔ اس کی تکلیف برداشت کے باہر تھی اور کوئی رکشہ بھی نہیں مل رہا تھا۔ اپنے کاندھوں پر لیے تیز قدموں سے چلتا ہوا میں اسپتال پہنچا لیکن ڈاکٹر کی بے توجہی اور علاج میں ہوتی دیری نے اس کی تکلیف میں شدید اضافہ کر دیا تھا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، میں نے ڈاکٹر کا گریباں پکڑ لیا، ڈاکٹر نے گھبرا کر نرس کو آواز دی، اسے سٹریچر پر ڈال کر اندر لے گئے اور ضروری علاج کیا۔ اور وہ جلد صحت یاب ہو گیا تھا۔

میری شادی کو اٹھارہ مہینے ہو گئے تھے اور اس کی شادی ہونے صرف چار دن ہی باقی تھے۔ وہ اپنی شادی کو لے کر بہت خوش تھا لیکن شادی سے چار دن پہلے ہی چل بسا۔ گھر میں کسی بات کی کمی نہ تھی، بڑا سا گھر، 40 ایکڑ باغاتی زمین اور دو ہی بھائی۔ دونوں ایک دوسرے پر جان نچھاور کرتے، ایک دوسرے کا دکھ دیکھ کر تڑپ اٹھتے، دونوں کی پسند ایک جیسی تھی اور اپنی پسندیدہ ہر چیز ایک دوسرے کو دے دینے پر آمادہ رہتے تھے۔ دونوں سائے کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ رہتے تھے۔

ایک روز جب میں نے اخبار میں وہ خبر پڑھی تو رہی سہی نیند بھی غائب ہو گئی اور میں گہری سوچ میں ڈوب گیا، سر چکرا رہا تھا، سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی، آنکھوں میں اندھیرا چھا رہا تھا اور بوجھل قدموں سے چلنا بھی دشوار ہو گیا تھا۔ وہ خبر۔۔۔۔۔۔ ’’اپنے بھائی کو نہایت ہی عزیز رکھنے والے ایک شخص نے زمین کی لالچ میں اسی بھائی کا قتل کر کے گھر کے آنگن میں دفن کر دیا تھا۔۔۔۔ آج اس راز کا پردہ فاش۔۔۔۔ قاتل کو پھانسی کی سزا‘‘ اور ایک خوف تیزی سے میرا پیچھا کرنے لگا۔ ہر وقت یہی سوچ اور کبھی نہ ختم ہونے والی الجھن ’’ کیا میں بھی پکڑا جاؤں گا۔۔۔۔ کیا مجھے بھی پھانسی ہو گی؟ ‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

انتظار

 

پریشاں ہو چکا میرا وجود پریشانی کے لق دق صحرا میں چلنے کے لیے مجبور تھا۔ لیکن ہر منزل پر سراب ہی سراب دکھائی دیتا تھا۔ میں اذیت سے گھرا گھر کی جانب قدم بڑھائے جا رہا تھا۔ زمین کا سینہ چیر کر اس میں سما جانے کو دل چاہ رہا تھا۔ اب تک استقلال کا دامن ہاتھ سے چھوٹا نہیں تھا لیکن اب پائے ثبات میں لغزش آ رہی تھی، انتظار کے راستوں پر چلتے چلتے پاؤں چھلنی ہو گئے تھے، مصیبتوں کے گرداب میں گرفتار ہو کر دنیا کی ہر شے سے دل اوب چکا تھا، پریشانیوں کے انبار سے زنبیل بھر گئی تھی، ذہن منتظر ہوتے ہوتے منتشر، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت منجمد اور طبیعت مکدر ہو گئی تھی۔ کل تک میری کلاس میں جن کی زبان تک نہ کھلتی تھی آج ان کی زبان خنجر کی طرح چل رہی تھی۔ میں عالم از خود رفتگی میں اسکول سے گھر کی طرف جا رہا تھا، اسی دوران پیچھے سے آواز آئی ’’دیکھو وہ جا رہا ہے بن پگاری فل ادھیکاری‘‘ اور قہقہے کانوں میں پڑتے ہی ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے پشت پر خنجر سے وار کیا ہو، پلٹ کر دیکھا تو ہوش و حواس معطل ہو گئے، کرب و ایذا سے دل تڑپ اٹھاجیسے جسم کا سارا خون خشک ہو گیا ہو۔ خاموش مجسمے کی طرح مسلسل ایک منٹ انھیں ہی دیکھتا رہا۔ وہ ایک منٹ ایسا لگا جیسے صدیاں بیت گئی ہوں۔ میں وہاں سے جلد نکل جانا چاہتا تھا لیکن قدموں میں آگے بڑھنے کی طاقت ہی نہ رہی۔ طبیعت گھبرا گئی اور سانسیں بے ترتیب ہونے لگیں۔ اس کی مجھے امید نہ تھی کیوں کہ وہ میرے ہی اسٹوڈنٹ تھے۔

اپنی بے ترتیب سانسوں کو سنبھالتے ہوئے گھر پہنچا تو بیوی نے روز کی طرح دماغ چاٹنا شروع کر دیا ’’آپ یہ نوکری چھوڑ کیوں نہیں دیتے، کوئی دوسرا کام تلاش کر لیجیے، آخر کب تک ہم تنگ دستی کی زندگی جیتے رہیں گے‘‘ میں پہلے ہی پریشان تھا، اپنے دکھ میں مبتلا کہ جو طالب علم تھے میرے طاعن بن گئے تھے، اس بات کا مجھے بے حد افسوس تھا اور ساتھ بیوی بھی میری جان کھانے بیٹھ گئی۔ میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا ’’کیسے چھوڑ دوں، میرے دوست نے ایک اسکول پر آٹھ سال تک مفت میں کام کیا اور لوگوں کے کہنے پر کہ اس اسکول کا کوئی مستقبل نہیں، نوکری چھوڑ دی۔ نوکری چھوڑنے کے ایک سال بعد ہی اس اسکول کو گرانٹ مل گئی اور وہ بے چارہ پشیمانی میں پڑ گیا۔ حیرت و افسوس کا سِحر اس پر حاوی ہو گیا اور اس کی تمام حسرتیں دل ہی دل میں دبی رہ گئیں۔ جب لوگ اس پر ہنسنے لگے تو اس نے مجھ سے کہا تھا ’’وقت کا رونا بے وقت کی ہنسی سے اچھا ہوتا ہے۔۔۔۔ وقت از دست رفتہ و تیر از کمان جستہ باز نیاید۔‘‘ کہیں میرے ساتھ بھی ایسا نہ ہو جائے کہ میں نوکری چھوڑ دوں اور اسکول کو گرانٹ مل جائے۔ اگر ایسا ہوا تو میری بارہ سالوں کی محنت بیکار چلی جائے گی، لوگ مجھ پر ہنسیں گے، مجھے بے وقوف کہیں گے، اور کوئی کاروبار شروع کروں بھی تو کیسے نہ زر بل ہے نہ زور بل۔‘‘

بیوی کو سمجھانے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔۔۔۔ نہ وہ خاموش ہوئی اور نہ میری اذیت کم ہوئی۔ ہر وقت اس کی زبان سے حرف شکایت ادا ہوتے تھے۔ ’’اس نوکری کے لیے میں نے تو پہلے ہی منع کر دیا تھا لیکن میرے ابا نے مجھ سے کہا تھا کہ ایک دو سال میں تنخواہ شروع ہو جائے گی، کچھ روپیوں کی ضرورت ہو تو مجھ سے مانگ لینا، اب وہ بھی تھک گئے ہیں آخر کب تک ہمارا خرچ برداشت کریں گے اور گرانٹ کب ملے گی کوئی میعاد طے شدہ نہیں۔‘‘

قینچی کی طرح چلتی ہوئی اس کی زبان کو خاموش کرانے کے لیے میں نے کہا کہ تھوڑا اور صبر کرو اور خدا پر بھروسا رکھو۔ اس کو سب کی فکر ہے اور مجھے بھی اس کی ذات سے پوری امید ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر تو ایک پتا بھی نہیں ہلتا اور کچھ ہی دنوں کی تو بات ہے۔ ساری تیاریاں ہو چکی ہیں بس اب آخری انسپکشن باقی ہے۔ گرانٹ کے لیے درخواست فارم ہم جمع کر چکے ہیں۔ اب امید ہے کہ بہت جلد ہی گرانٹ مل ہی جائے گی۔

ایک پھٹی ہوئی کتاب کے اوراق کی طرح بکھر کر میں ریزہ ریزہ ہو گیا تھا۔ صبر کر رہا تھا اور سوچتا تھا بیوی بھی صبر سے کام لے۔ ہمیشہ ایک بے چینی، اور کئی سوالات ذہن میں ایک ساتھ امڈتے چلے آتے تھے۔ اور میں خیالات میں غرق ہو جاتا تھا ’’ حکومت مہاراشٹر نے ایک نیا قانون جاری کر کے ریاست کے تیرہ سو اسکولوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے اور وجہ بتائی کہ ان اسکولوں میں بچوں کی تعداد بہت کم ہے۔ لیکن میں حکومت سے یہ پوچھتا ہوں کہ جس اسکول میں میں پڑھاتا ہوں وہاں بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور میں بارہ سال سے مفت میں پڑھا رہا ہوں تو ہماری اسکول کو اب تک گرانٹ کیوں نہیں ملی؟ ‘‘ یہی سب سوچتے ہوئے میں نے نہایت ہی رنج و غم کے ساتھ بیوی کو یہ خبر سنائی۔ اور سوچ رہا تھا کہ وہ اس خبر پر افسوس ظاہر کرے گی لیکن اس نے کہا ’’چلو اچھا ہوا، ورنہ ان اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے سیکڑوں بچے تمہاری طرح بے روزگار ہو جاتے۔ میں تو کہتی ہوں یہ تعلیم حاصل کرنا جوا کھیلنے کے برابر ہے، جس میں انسانی زندگی داؤ پر لگی ہوتی ہے۔ آخر تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی نوکریاں کہاں ملتی ہیں؟ اور پھر کوئی چھوٹا موٹا کام کرنے میں ان تعلیم یافتہ لوگوں کو شرم آتی ہے۔ بڑے بڑے اور امیر لوگوں کو دیکھئے انھوں نے کہاں اتنی تعلیم حاصل کی ہے۔ بارہویں پاس ملک کی شکشا منتری ہے، ایک منسٹر نے جعلی ڈگریاں خریدی ہیں اور چائے والا پردھان منتری ہے، ایسی کئی مثالوں سے سماج بھرا پڑا ہے۔ ان لوگوں کو دیکھو، نہ تعلیم میں اپنا سر کھپایا، نہ بھری جوانی میں سر کے بال سفید کیے، بڑی خوش ہوئی، حکومت نے بہت اچھا فیصلہ لیا جو تیرہ سو اسکولوں کو بند کر دیا۔‘‘ میں اسے سمجھا رہا تھا ’’تم ایسا کیوں سوچتی ہو‘‘ لیکن میں محسوس کر رہا تھا، وہ تو میرے ہی دل کی بات تھی جو میں بھی کہنا چاہتا تھا لیکن الفاظ کا جامہ پہنانے سے قاصر تھا۔

ہر کلاس میں کچھ شرارتی لڑکے ہوتے ہیں، میری بھی کلاس میں ایک تھا۔ لاکھ سمجھانے کے باوجود وہ شرارت کرتا تھا۔ اس ایک کی وجہ سے پوری کلاس بار بار ڈسٹرب ہو جاتی تھی۔ ایک معمولی سی سزا دینے کے دوسرے دن اس کا باپ جو ایک سیاسی اثر ورسوخ رکھنے والی شخصیت تھا، اسکول میں آ دھمکا اور مجھے سبھی کے سامنے سخت لہجے میں دھمکی دی۔ ہیڈ ماسٹر صاحب بھی مجھ پر ہی ناراض ہوئے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب لوگ ٹیچر کو دیوتا کی طرح مانتے تھے اور پورے گاؤں میں کوئی بھی کام اس کے مشورے کے بغیر نہیں ہوتا تھا لیکن زمانہ بدل گیا ہے اور بچے بھی بدل گئے ہیں۔

گزرے واقعے کے دوسرے ہی روز ہیڈ ماسٹر نے فوری میٹنگ طلب کی اور ٹیچرز اسٹاف سے کہا ’’یہ مت بھولیے کہ ہم ایک نان گرانٹ اسکول کے کرمچاری ہیں۔ اور حکومت کے قانون کے مطابق ہم کسی بھی بچے کو سزا نہیں دے سکتے۔ مارنا تو دور کی بات ہے زبان سے ڈانٹ بھی نہیں سکتے۔ غیر تعلیمی کاموں کا بوجھ کیا کم ہے!! ! اوپر سے ہر ایرا غیرا ہم پر دھونس جماتا ہے۔ اور حکومت بھی ہم کو چور سمجھتی ہے۔

مالی پریشانیوں کی وجہ سے ہم لوگ پہلے ہی منتشر المزاجی کا شکار ہیں۔ اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ سے سبھی اساتذہ ان تمام باتوں کا دھیان رکھیں گے۔‘‘ مٹینگ ختم ہو چکی تھی، سب اپنے اپنے گھر جا چکے تھے لیکن میں بد حواسی میں کھویا وہیں بیٹھا ہوا تھا۔ اور مستقبل میں ہونے والے نقصان کو دیکھ رہا تھا۔ کرتا بھی کیا، بے بس تھا سرکاری فرمان کے آگے۔ ہاتھ لگانے تک کا حق چھین لیا تھا کمھار سے۔۔۔۔ پھر کہتے ہیں کہ ہمیں برتن صاف ستھرے مضبوط اور اچھے چاہیے۔

انہی دنوں اسکول کے چیئرمین نے ایک فرمان جاری کیاجس میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ بہت جلد اسکول کا انسپکشن ہونے والا ہے، آنے والی افسران کی ٹیم کی خوب خاطر کرنی ہے، تاکہ وہ اسکول کو اچھے ریمارکس دیں اور ہمیں جلد گرانٹ ملے۔ اس کے لئے ایک ایک ٹیچر کو پچاس پچاس ہزار روپے کا انتظام کرنا ہو گا۔ اور سبھی ٹیچرز فکر کی گہرائیوں میں ڈوب گئے۔ رقم کا انتظام کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے لگے تھے۔ کسی نے بیوی کے زیورات فروخت کر دیے تو کسی نے قرض لے لیا، کسی نے زمین بیچی تو کسی نے اپنا گھر گروی رکھ دیا۔ میں نے بھی بیوی کے گہنے بیچ دیے۔ رات دن ایک کر کے، بھاگتے دوڑتے، لڑکھڑاتے، دل میں امید کا دیا جلائے کہ جلد تنخواہ شروع ہو پیسوں کا انتظام کیا۔

پھر ایک دن افسران کی ایک ٹیم اسکول کے انسپکشن کے لیے آئی، ہم نے تمام تیاریاں کر رکھی تھیں، نہایت ہی شائستگی سے افسر ان کی خوب سے خوب تر خاطر مدارت اور آؤ بھگت کی گئی۔ میں خوشی خوشی گھر آیا اور بتایا کہ انسپکشن بہت اچھا ہوا ہے۔ ہماری اسکول کو بہت اچھے پوائنٹس ملے ہیں۔ اب بہت جلد گرانٹ مل جائے گی۔ میرا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ خوشی کی پھلجھڑیاں چاروں طرف پھوٹتی نظر آ رہی تھیں۔ لیکن چشم انتظار کو سکون پذیری حاصل نہ ہو سکی۔ جیب خرچ کے پیسے تک کی پریشانی، بیوی اور بچی کی کوئی خواہش وقت پر پوری نہ ہو سکی۔ جب میری بیٹی دوسرے ٹیچرز سے میرا مقابلہ کرتی تو میں صرف یہ کہہ دیتا کہ بیٹا وہ گرانٹیڈ اسکول کے ٹیچرز ہیں۔

گھر کے سبھی افراد کثرت سے اصرار کرتے تھے ’’یہ نوکری چھوڑ دو‘‘۔۔۔۔ لیکن پھر وہی بات ذہن میں گردش کرتی ہوئی چلی آتی تھی، کہیں میرے ساتھ بھی وہی نہ ہو جو میرے دوست کے ساتھ ہوا تھا۔ پھر وقت اپنی رفتار سے چلتا رہا۔ کئی بار تنہائی میں نے بھی سوچا تھا کہ نوکری چھوڑ دوں پھر خیال آتا نوکری چھوڑ دی تو گاؤں میں سوائے مزدوری کے کوئی دوسرا کام نہیں ملتا اور پاس اتنا پیسہ بھی نہیں ہے کہ اپنا کوئی کاروبار شروع کر سکوں، محنت مزدوری اب مجھ سے ہو گی نہیں، انتی طاقت اب رہی نہیں۔۔۔۔ اور لوگ کیا کہیں گے۔

نان گرانٹ اسکول پر بارہ سال سے مفت کام کرتے کرتے تھک چکا تھا۔ پل پل لڑائی اپنے آپ سے مجھے ہر وقت کشمکش میں مبتلا رکھتی تھی۔ شب تنہائی میں ہیبت ناک خیالات میرے حوصلوں کو پست کر دیتے تھے۔ آنکھوں سے نیند غائب ہوتی گئی۔ رات بھر بے چینی اور ہر وقت اپنے اندر ایک خالی پن کا احساس، کبھی کبھی جی میں آتا کہ تمام غموں سے آزاد ہو جاؤں اور سوچ و فکر کو دور دریا میں پھینک آؤں۔ دھیرے دھیرے بالوں میں سفیدی اترتی گئی، نظر کی عینک لگ گئی، آنکھوں پر لگی عینک تو لوگوں نے دیکھی لیکن اس کے پیچھے چشم پر آب کسی کو نظر نہ آئی۔ اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ گھونٹ کر سال در سال گزرتے گئے۔۔۔۔ وقت پر لگا کر اڑتا رہا اور میں نان گرانٹ پر ہی ریٹائر ہو گیا۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

خطا

 

یہ میرے ہاتھ قلم و قرطاس کی جانب کیوں بڑھ رہے ہیں۔ رہ رہ کر چند لکیریں تحریر کرنے کی خواہش میرے باطن میں یوں انگڑائیاں لے رہی ہے جیسے بنا پانی کے مچھلیاں پھڑپھڑاتی ہو۔ یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے میں نے آج کچھ تخلیق نہ کی تو میرا سینہ پھٹ جائے گا۔ ایک ان دیکھی قوت نے مجھے ڈھکیل کر ٹیبل کے سامنے رکھی کرسی پر بٹھا دیا ہے۔ میرے ہاتھ میں قلم تھما دی گئی ہے۔ کاغذ الٹ پلٹ کر قلم کے نیچے آ رہے ہیں۔ قلم خودبخود چلنے لگا ہے اور ایک بے اختیاری تحریر جنم لے رہی ہے جس کے لفظ لفظ سے درد کی چنگاریاں پھوٹ رہی ہیں۔۔۔

ڈیئر حیا۔۔۔۔۔۔،

میں تم سے کہتا نا تھا کہ تم نے ایک ایسی خطا کی ہے جس کی سزا تم آج تک بھگت رہی ہو۔ اور تمھارے چہرے پر سنجیدگی جالا بن دیتی تھی۔ چہرے کی تمازت کی میں تاب نہ لا پاتا اور اپنی بات کو بدل کر ہنسی میں اڑا دیتا اور کہتا، میں تو مذاق کر رہا تھا۔ حالانکہ اس نازک موضوع پر میں آج تک کوئی گفتگو نہ کر سکا تھا۔ اور کرتا بھی کیسے کہ تم نے ابھی تک کوئی موقع ہی نہیں دیا تھا۔ شاید تم چاہتی تھیں کہ میں اس موضوع پر کوئی بات نہ کروں۔ اور میں تمہارے ہاؤ بھاؤ کو سمجھ لیتا تھا۔

سب سے پہلا زخم تم کو تمہارے اپنوں نے دیا تھا۔ جب پہلی بار تمھیں لڑکے والے دیکھنے آئے تھے تو شاید تمھیں معلوم نہیں ہو گا کہ تمہارے پاپا نے ان سے کہا تھا، ابھی ابھی تو ہماری لڑکی نے سروس جوائن کی ہے۔ اس کی پڑھائی پر ہم نے ایک موٹی رقم خرچ کی ہے۔ ابھی چار پانچ سال ہم شادی کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ یہ وہی تھے جنھیں دن رات پاپا پاپا کہتے تمہارا منہ تھکتا نہ تھا۔

اس کے بعد جو تمھیں زخم لگے وہ تمہاری اپنی غلطیوں کا نتیجہ تھے۔ اب یاد کرو ان دنوں کو جب تم ہاسٹل میں رہ کر بی۔ اے کر رہی تھیں۔ تمہاری سبھی سہیلیوں نے بوائے فرینڈ بنا رکھے تھے۔ بوائے فرینڈ بنانے کا ایک فیشن چل نکلا تھا۔ تمہاری سہیلیوں نے اس فیشن کے بہت سے فائدے بتائے تھے لیکن تم ان سب سے الگ تھیں۔

تمہاری سہلیاں آپس میں باتیں کر رہی تھیں۔

’’آج میں نے جاوید کو خوب الو بنایا۔‘‘

’’راحیل نے مجھے اپنی موٹر سائیکل پر بٹھا کر بہت گھمایا، ہم نے بہت انجوائے کیا خوب مزہ آیا۔‘‘

’’میرے بوائے فرینڈ نے میرا مہینے بھر کا انٹرنیٹ اور ٹاک ٹائم رچارج کروا دیا۔‘‘

’’میں نے ابھی نیا مرغا پھنسایا ہے پہلے والا بڑا کنجوس تھا کمبخت۔‘‘

تم انھیں سمجھاتیں اور بے راہ روی سے روکتیں، یہ سب ٹھیک نہیں۔ تب وہ الٹا تمھیں ہی سبق پڑھانے لگتیں اور کہتیں کہ بی۔ اے کے نصاب میں موجود ناول میں امراؤ جان اداؔ کہتی ہے، ایک نہ ایک کو اپنا بنا کر رکھنا چاہیے اس کے بہت سے فائدے ہیں۔

پھر یوں ہوا کہ تمہارے پاپا نے تمھیں خرچ کے لیے رقم بھیجنا بند کر دی۔ تم شکایت کرتی بھی تو کس سے کہ بچپن میں ہی تم اپنی والدہ کو کھو چکی تھیں۔ حالانکہ تم اپنے پاپا کی اکلوتی بیٹی تھیں لیکن گھر میں جب سے سوتیلی ماں آئی تھیں پاپا کی محبت ماند پڑ گئی تھی اور وہ اپنی نئی بیوی بچوں میں مگن ہو گئے تھے۔ تب تم نے بوائے فرینڈ بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ حالانکہ تمھیں جلد کوئی لڑکا پسند نہ آیا تھا۔ پھر تم نے ایک سیدھے سادھے شریف لڑکے فواد کے دل سے کھیلنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ تم صرف کھیلنا چاہتی تھیں، اپنی دوسری سہیلیوں کی طرح۔

ایک دفعہ شام کے وقت تم گیلری میں کھڑی تھیں۔ فضاؤں کے شرابی جھونکے تمھارے چہرے کو چھو کر گزر رہے تھے۔ تم دھیرے دھیرے قدم بڑھا کر گیلری میں چہل قدمی کرنے لگی تھیں۔ دن بھر سورج کی تپش سے تم گھٹن کا شکار ہوئی تھیں لیکن شام کی نرم گرم ہواؤں کی مستانہ سرسراہٹ تمھیں مسرت بخش رہی تھی۔ تم گیلری میں کھڑی تھیں اور فواد گیلری کے نیچے سے گزر رہا تھا۔ تم نے اپنی نشیلی و ترچھی نگاہوں کے تیروں سے اس کے دل پر ایسا وار کیا کہ اس کی روح کو چھلنی کر دیا تھا۔ اور سڑکوں پر بکھرے پڑے مرجھائے سوکھے پتے کھڑکھڑا کر ہوا میں اڑنے لگے تھے۔ وہ مسکرایا اور تم پلکیں جھکا کر شرما گئی تھیں۔

حالانکہ وہ پہلے سے ہی تمھیں چاہتا تھا لیکن کبھی اپنی بات زبان تک نہیں لا پایا تھا۔ دور دور سے تمھیں اور تمہارے کھلکھلاتے چہرے کو دیکھتا اور خاموشی سے اپنے جذبات کو دبا کر بیٹھ جاتا تھا۔ تمہاری ترچھی نگاہوں کے تیروں نے آگ میں تیل ڈالنے کا کام کیا تھا۔ تم اسے بے چین کر رہی تھیں۔ اتنا بے چین کہ وہ خود آ کر تم سے اپنی محبت کا اظہار کر بیٹھے۔ اور تمہاری فرمائشوں کو پورا کرے۔

بد قسمتی یہ ہوئی کہ فواد طبیعت سے بڑا ہی شرمیلا نکلا۔ تم جب بھی اس کے سامنے ہوتی تھیں اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتیں۔ اس کی زبان اظہار محبت کرنے سے تو رہی ایک لفظ بھی ادا کرنے سے قاصر تھی۔ جب کہ تم نے اظہار کرنے کے کئی موقعے اسے دیے تھے۔ اس سے پہلے تمھیں یہ سب پسند نہیں تھا لیکن ایک غیر مرئی طاقت تمھیں مجبور کر رہی تھی شاید تم پر اپنی سہیلیوں کی صحبت کا اثر ہو گیا تھا۔

پھر ایک دن فواد نے تمہارے ہاتھ میں ایک خط تھما دیا جس میں لکھا تھا، ’’ایک لمبی سوچ و سمجھ اور ایک مکمل ارادے کے بعد جسم کی تمام قوت جمع کر کے انگلیوں کو دی ہے۔ تاکہ قلم کے ذریعہ تمھیں اپنے دل کا حال لکھ سکوں۔ جب تم کالج میں آئی تھیں، محبت سے دور اپنی دنیا میں کھوئی ہوئی تھیں، ایک آوارہ پنچھی کی طرح گلیوں میں گھوما کرتی تھیں اور ایک رنگین تتلی کی طرح پھولوں پر جھولا کرتی تھیں تب سے تم سے پیار کرتا ہوں۔ اب تو ہر وقت اس دل کو تمہارا خیال ہوتا ہے، دیکھ لوں ایک نظر تو سکون حال ہوتا ہے۔ بے چینی بے قراری یہ کیا درد ہے خدایا، انتظار کا ایک پل ایک سال ہوتا ہے۔‘‘

اس کے بعد تم دونوں کا رومانس شروع ہو گیا۔ وہ بہت خوش رہنے لگا تھا۔ ہر وقت تمہارے ہاسٹل کے سامنے سے گزرنا اس کا معمول ہو گیا تھا۔ اس کی خوشی کا کوئی ٹھکا نا نہیں رہا۔ وہ راستے پر چلتے چلتے خوشی کے مارے ودڑ پڑتا اور من ہی من میں کچھ سوچ کر مسکرانے لگتا۔ اس کے پیر زمین پر ٹکتے ہی نہیں تھے۔ وہ چلتا کم دوڑتا زیادہ تھا۔ وہ غریب ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ یہ لڑکے بھی کالج میں اپنی غریبی کو اس طرح چھپاتے ہیں جیسے کوئی خطرناک بیماری ہو۔ تم فرمائشیں کرتی رہیں اور وہ پوری کرتا رہا۔ ساتھ ہی ساتھ تمھیں اس کا چپکو پن بالکل پسند نہیں تھا پر تم انکار بھی نہیں کر سکتی تھیں۔ تم تو صرف کھیل رہی تھیں، اس کے جذبات سے، اس کی زندگی سے، اس کی خوشیوں سے۔۔۔ اور کس لیے۔۔۔ اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے، موج مستی اور انجوائے کرنے کے لیے۔ حالانکہ تم پہلے ایسی نہیں تھیں لیکن وقت اور زمانے کے ساتھ تم نے بھی اپنا رنگ بدل لیا تھا۔

جب امتحانات کے نتائج آئے، تم اچھے نمبرات سے کامیاب ہو گئیں اور وہ فیل ہو گیا تھا۔ بار بار کوشش کرنے کے باوجود وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ اور ہوتا بھی کیسے ہر وقت وہ تمہارے خیالات میں ہی کھویا رہتا تھا۔ تمھیں ایک کمپنی میں ملازمت مل گئی۔ تمہارا مقصد پورا ہو گیا تھا۔ اور اب تم یہ کھیل ختم کرنا چاہتی تھیں۔ لیکن تمہیں کیا پتا تھا کہ کھیل اب شروع ہونے والا تھا۔ تمھیں کمپنی میں ساتھ کام کر رہے ایک ہینڈسم نوجوان دانش سے محبت ہو گئی تھی۔ وہ بھی تمھیں بہت پسند کرنے لگا تھا۔ تم دونوں شادی کے خواب دیکھنے لگے تھے۔

تم نے فواد سے کہہ دیا تھا، اب تم ہمیں اجنبی لگتے ہو۔ یہ سنتے ہی دور کہیں بجلی کڑکی۔ اور وہ حیرت کا پتلا بن گیا تھا۔ اس کے پیر زمین میں دھنستے چلے گئے اور دیدے پھٹے کے پھٹے رہ گئے تھے۔ دل جڑتے جڑتے ٹوٹ گئے، ہاتھ ملتے ملتے چھوٹ گئے کیسا کھیل یہ تم نے کھیلا تھا۔ فواد خشک آنکھوں سے رونے لگا تھا۔ اس نے ایک سرد آہ بھری اور صرف اتنا کہہ پایا تھا، حیا۔۔۔ میں تمہارے بنا کیسے رہ سکتا ہوں؟ میں تو جیتے جی مر جاؤں گا۔ لیکن تمہارا فیصلہ اٹل تھا۔ اس کے بعد وہ حیران و سرگرداں رہنے لگا تھا۔

جب دانش اور تمہارے محبت کے قصوں کی بھنک فواد کو لگی تب غصہ اس کے وجود میں بھر گیا اور اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ تمھیں بدنام کر کے ہی دم لے گا۔ اس نے تم دونوں کے ساتھ ساتھ نکالے ہوئے فوٹوز انٹر نیٹ، سوشل میڈیا پر وائرل کر دیے۔ جس میں چند فوٹو ایسے بھی تھے جو تم دونوں کی محبت کی کہانی بیان کر رہے تھے۔ وہ ہر کسی سے کہتا، ہم دونوں کے جسمانی تعلقات تھے۔

یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہر طرف چہ میگوئیاں ہونے لگی تھیں۔ گلی بازار، چوک چوراہوں اور ہر چپے چپے پر تمہاری ہی باتیں ہو رہی تھیں۔ تم چرچہ کا موضوع بنی ہوئی تھیں۔ جب تم باہر نکلتیں تب تم پر طعنے کسے جاتے اور لوگ تمہاری طرف انگلی سے اشارہ کر کے کہتے ’’دیکھو وہ جا رہی ہے۔‘‘

یہ سب دیکھ کر دانش نے شادی سے انکار کر دیا۔ اور تم تشتّت سے گھر گئی تھیں۔ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد تمہارے دل میں فواد کے لیے نفرت بھر گئی تھی۔ دانش سے شادی ٹوٹنے کے بعد بھی تمھیں بہت لڑکے دیکھ کر گئے پر واپس نہیں آئے تھے۔ کوئی اگر جھوٹی بدنامی کر دے تو وہ لڑکی لڑکے والوں کی نظر میں مشکوک ہو جاتی ہے۔ یہاں تو ایک حقیقت سر اٹھائے کھڑی تھی۔ اور چاروں طرف دھواں اڑتا دیکھ تم ذہنی انتشار کا شکار ہو گئی تھیں۔

ہم دونوں آنکھوں میں ترقی کے خواب لیے گاؤں سے شہر میں بی۔ اے کرنے ساتھ ساتھ آئے تھے۔ تم ایک خواب تھی میرے لیے لیکن تم نے میری چاہت کو کبھی محسوس ہی نہیں کیا۔ فواد بڑا خوش نصیب ثابت ہوا کہ اسے تمہاری عاطِفَت میسر ہوئی۔ وہ بڑا ہی مخلص مزاج لڑکا تھا جو کالج میں میرا بھی ایک اچھا دوست بن گیا تھا۔ میں اس کی قسمت پر رشک کرنے لگا تھا پر کسے معلوم تھا کہ بد نصیبی چہرہ بدل کر آئی تھی۔ تم ایسی ویسی لڑکی بالکل بھی نہیں تھیں۔ جب سوچتا ہوں وہ تمام باتیں تو حیرت ہوتی ہے مجھے کہ میرے پڑوس میں رہنے والی ایک شوخ چنچل، اصول پسند لڑکی اتنا کیسے بدل سکتی ہیں۔

خوبرو مسکراہٹ قابل دید تھی۔۔۔۔ جب تم مسکراتیں تب گالوں میں دونوں جانب بھنور کی طرح پڑتے دباؤ سے نظریں ہٹانا مشکل ہو جاتا۔ اور قہقہے لگاتیں تب ایسا لگتا تھا کہ ساری خوشیاں تمہارے قدموں میں آ پڑی ہیں۔ میں بھول نہیں سکتا ہمارا بچپن۔ تمہارا ہنسنا کھیلنا، بھاگنا دوڑنا، اچھلنا کودنا سب یاد ہے مجھے۔ تمہاری نشاط مزاجی پر ہر کوئی رشک کرتا تھا۔ تم پڑھائی میں بھی اچھی تھیں۔

تم اپنے مقصد میں فیل ہو گئی ہو۔ ایک وقتی فائدے کے لیے حسین زندگی کے سارے خوابوں کو تابوت میں بند کر چکی ہو۔ اگر تم عاقبت اندیشی سے کام لیتیں تو یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا۔ عجیب و غریب خیالات تمہارے وجود کو بے چین کر دیتے ہیں۔ ڈراؤنے خواب پیچھا کرتے رہتے ہیں۔ کبھی دیکھتی ہو فواد پاگل کتے کی طرح تمہارے پیچھے دوڑ رہا ہے۔ اس کے منہ سے دونوں جانب تیز نوکیلے دانت باہر نکل آئے ہیں۔ دانش دور کھڑا دیکھ رہا ہے۔ وہ آئے تمھیں بچائے تم امید کرتی ہو۔ لیکن وہ اپنی جگہ پر ساکت و جامد کھڑا قہقہے لگا رہا ہے۔ تم تیز دوڑنا چاہتی ہو لیکن قدم اٹھ نہیں رہے ہیں۔ دوسری جانب تمہارے پاپا کھڑے ہیں۔ وہ ابھی بہت دور ہیں۔ وہ تمہاری طرف لپکنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ بے بس ہیں کیونکہ ان کے پیر زمین میں دھستے چلے جا رہے ہیں۔ ایک فلک شگاف چیخ بلند ہوتی ہے اور تم خود کو آرام کرسی پر پاتی ہو۔ کبھی فواد تمہارے بال پکڑ کر خاردار جھاڑیوں میں سے گھسیٹتے ہوئے لے جا رہا ہے اور تم کہہ رہی ہو، جتنا مارنا ہے مار پر میرا پیچھا چھوڑ دے پھر بیٹھے بٹھائے چونک پڑتی ہو۔ کبھی بندوق چھ کی چھ گولیاں اس کے سینے میں اتار دیتی ہو اور ہر بار ٹریگر دبانے کے ساتھ کہتی ہو مجھے نفرت ہے تجھ سے، نفرت، نفرت، نفرت۔۔۔۔۔۔ اور جاگ جاتی ہو۔

میں ہر وقت تمہاری ہی باتیں کرتا تھا اپنے دوستوں سے۔ مانو میرے دل و دماغ پر تم نے قبضہ کر لیا ہو۔ میرے دوست مجھے دیکھ کر راستہ بدل لیتے تھے۔ ایک دو اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد میں پھر تمہارا ہی ذکر چھیڑ دیتا تھا۔ تب میرے دوست مجھ سے سوال کرتے، تو اس کے متعلق اتنا کیسے جانتا ہے؟ اور میں سوچ میں پڑ جاتا کہ مجھے مجھ کو سمجھنے میں ابھی نجانے کتنے سمندر پار کرنے تھے لیکن میں تمہارے متعلق سب کچھ جان گیا تھا۔ تمہاری زندگی کے تمام واقعات میری آنکھوں کے سامنے بکھرے پڑے تھے۔ میں تمہارا چہرہ دیکھ کر تمہارے ذہن کی کلبلاہٹ اور دل کی کیفیت بآسانی بیان کر سکتا تھا۔ عالم تو یہ تھا کہ جب میں کوئی دوسرے موضوع پر بات کر رہا ہوتا اس وقت بھی تمہارا ہی خیال میرے دل و دماغ کی دیواروں سے ٹکرانے لگتا اور میں خیالات کی لہروں میں بہتا ہوا چلا جاتا۔

وقت کسی کے لیے رکتا نہیں۔ ایام فرفر گزرتے جا رہے ہیں۔ زندگی تیز و تند دریا کی مانند بہتی جا رہی ہے۔ دیکھتے دیکھتے تمہاری جوانی ڈھلتی جا رہی ہے۔ اب کتنی بھونڈی ہو گئی ہو تم، کتنی بھدی لگ رہی ہو، کوئی کشش باقی نہیں، اب خود تم بھی آئینہ دیکھنے سے کتراتی ہو۔ تمہارا کسیلا بدن اب تھل تھل ہو کر کتنا پھیل گیا ہے۔ کالی کالی غزال سی آنکھیں گدلا گئی ہیں۔ چمچماتا پر نور چہرہ مٹیالا ہو گیا ہے۔ کالے ریشمی گھنے بالوں نے جاروب کی شکل اختیار کر لی ہیں۔ ایک نوخیز لڑکی سے اب تم عورت بن گئیں ہو، تصویر عبرت بن گئیں ہو۔

آج بھی فواد کی افسردہ ویران آنکھیں تمہاری منتظر ہیں۔ وہ آنکھیں بڑی حسرتوں سے سونی راہوں پر تمہاری تلاش میں بھٹکتی رہتی ہیں۔ بے خواب آنکھوں سے نیند جیسے غائب ہو گئی ہے۔ نحیف ناتواں دل میں رہ رہ کر امیدوں کے شعلے مچلنے لگتے ہیں۔ کمزور ہوتا جسم ان شعلوں کی تپش میں جھلس کر رہ جاتا ہے۔ میرے دل کے جذبات کاغذ پر کود پڑے ہیں پر تمھیں بھیجنے کی سکت کہاں۔

تمہارا خیرخواہ

تابش

٭٭٭

 

 

 

 

خوفِ ارواح

اسے یاد ہے۔ وہ رات بہت بھاری ہو گئی تھی، جب وہ شہر سے اپنے گاؤں جا رہا تھا۔ رات کے گیارہ بج گئے تھے اور وہ پیدل چل رہا تھا۔ چاروں طرف سیاہ تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ اندھیرے میں جب وہ وہاں سے گزر رہا تھا نجانے کیسی کیسی آوازیں اس کے کانوں میں پارہ بھر رہی تھیں۔ اُن آوازوں کو وہ سننا تو نہیں چاہتا تھا پر کان اسی پر لگے ہوئے تھے۔ خود کی آوازِ پا صاف سنائی دے رہی تھی جو اسے کھٹک رہی تھی نا گوار معلوم ہو رہی تھی۔ دل کی دھڑکنیں ریل کے انجن کی طرح دھک دھک کر رہی تھیں۔ اس جانب وہ دیکھنا تو نہیں چاہتا تھا لیکن نا چاہتے ہوئے بھی نظریں ترچھی ہو رہی تھیں۔ پیپل کا وہ قدیم درخت اور اس کی شاخوں سے لٹکی ہوئی لاشوں کا تصور اسے اپنی جانب کھینچ رہا تھا۔ وہ تیز قدموں سے چل رہا تھا لیکن قدم کہیں کے کہیں پڑ رہے تھے۔ وہ بجلی کی رفتار سے گزر جانا چاہتا تھا پر قدم ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کوئی اس کے قدموں پر چل رہا ہو۔ اس وقت وہ تمام کہانیاں جو اس نے اس پیپل کے درخت کے متعلق سن رکھی تھیں ذہن میں تازہ ہو گئی تھیں۔

وہ بھُلا نہیں پا رہا تھا۔ اُن تمام واقعات کو جو ذہن پر نقش جاوداں ہو گئے تھے۔ اس وقت اسے رامو والا واقعہ یاد آ گیا تھا۔ جو اس کے ذہن پر ایک فلم کی طرح چل رہا تھا۔ واقعہ کچھ اس طرح تھا کہ ایک دفعہ آدھی رات کے وقت گاؤں کا ایک شخص رامو ٍ، پسینے میں شرابور، ہانپتا کانپتا، جس کی آنکھیں جھپکنا ہی بھول گئی تھیں، بھاگتے دوڑتے گاؤں میں آیا تھا۔ خوف و دہشت سے اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کی حالت ایسے خراب ہوئی جیسے حالت نزع میں ہو۔ گاؤں والوں نے اسی وقت دوا خانے میں ایڈمٹ کیا۔ لاکھ علاج کے باوجود وہ اچھا نہ ہو سکا۔ گھبراہٹ سے اس کا منہ ایسا کھلا کے پھر بند نہ ہوا۔ لوگ کہتے تھے کہ اس نے مرتے مرتے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اپنی باتیں بتائی کہ پیپل کے درخت کے پاس اس نے بغیر سر کا آدمی دیکھا، جو اس کا پیچھا کر رہا تھا۔ یہ سن کر ہر کسی کے چہرے پر موت تانڈو کرنے لگی۔ ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے اس کی موت ہوئی۔

وہ ابھی راستے میں ہی تھا، گھر نہیں پہنچا تھا۔ رات کے بارہ بجنے میں کچھ وقت باقی تھا۔ اور وہ دعا گو تھا کہ جلد سے جلد گھر پہنچ جائے لیکن راستہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ وہ طویل النظر میں مبتلا تو نہیں تھا پھر بھی سوائے اس درخت کے تمام چیزیں دھندلی نظر آ رہی تھیں۔

چلتے چلتے پھر اسے اپنی ماں کی کہی ہوئی ایک بات یاد آ گئی تھی۔ ماں نے اس سے کہا تھا ’’حادثات میں جن کی موت ہو جاتی ہیں اور جو لوگ خود کشی کر لیتے ہیں کہتے ہیں کہ ان کی ارواح اس پیپل کے درخت کے اردگرد بھٹکتی رہتی ہیں۔‘‘وہ جب بھی روحوں کی کہانی سنتا تھا اس کی روح کانپ جاتی تھی۔ بچپن سے ہی اسے بھوتوں سے بہت ڈر لگتا تھا۔ رامو کا واقعہ، ماں کی کہی ہوئی باتیں اور بہت سے واقعات اس کے خیالات میں گردش کرتے ہوئے چلے آئے تھے۔ جس کی وجہ سے اس کے خوف میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔

وہ آگے بڑھتا جا رہا تھا پھر ایسا لگا کہ کوئی اس کا تعاقب کر رہا ہو جس سے بچنے کے لیے وہ دوڑنے لگا تھا۔ سینے میں ایک چبھن ہو رہی تھی۔ دم اکھڑ رہا تھا، الجھ رہا تھا، الٹ رہا تھا۔ پھر وہ ایک جگہ دم بخود کھڑا ہو گیا۔ تب ایسا لگا جیسے پلک جھپکتے ہی کوئی قوت اسے اپنے حلقہ آغوش میں لے لے گی۔ اپنی سانسوں کو اوپر کھینچتے ہوئے وہ لمبی لمبی سانسیں لینے لگا۔ پھر ساکت و صامت حالت کو توڑتے ہوئے تیزی سے سرپٹ دوڑا کہ گھر کی چوکھٹ پر ہی جا کر دم لیا۔ گھر پر جب بھی رات میں پیپل کے درخت کا ذکر ہوتا وہ سبھی کے درمیان بیٹھ جاتا تھا۔ اس کا گاؤں ایک چھوٹا دیہات تھا۔ جہاں سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بڑا شہر تھا۔ دن میں ایک دفعہ ایک بس آتی۔ گاؤں میں چند بنیادی ضروریات کی چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں ملتا۔ دیگر اشیاء خرید نے کے لیے شہر ہی جانا پڑتا اور زیادہ تر لوگ پیدل ہی سفر کرتے۔ گاؤں اور شہر کے درمیانی راستے میں ایک بہت پرانے پیپل کے درخت کے پاس رات بارہ بجے کے وقت راہ پر خطر ہو جاتی۔ اس وقت اس درخت کے پاس سے گزرنا خطرِ عظیم سے کھیلنے اور موت کو دعوت دینے کے برابر تھا۔ اور کئی درد ناک واقعات بھی ہو چکے تھے۔ آس پاس کے گاؤں اور قریب کے شہروں میں بھی یہ دہشت زدگی پھیلی ہوئی تھی۔ اس جگہ کو لوگ موت کا دہانہ بھی کہتے تھے جہاں دل دہلا دینے والی موت رقص کرتی ہوئی نظر آتی تھی۔

پھر ایک دن برداشت نہ ہونے والی جب وہ دلخراش خبر آئی تب وہ گھر میں ہی تھا۔ ایک ہلچل سی مچ گئی تھی۔ کوئی بتا نہیں رہا تھا کہ آخر ہوا کیا ہے۔، ہر کسی سے پوچھنے پر بھی کوئی معقول جواب نہیں مل رہا تھا۔ پھر اسے کچھ اندازہ ہو گیا۔ تب ہی وہ دل تھام کر اٹھا اور جب وہ خبر سنی تو دل پکڑ کر بیٹھ گیا۔ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ منہ سے ایک آہ نکلی اور خاموشی چھا گئی۔ آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک قطرہ نہیں گرا۔ سب لوگ سوچتے تھے کہ وہ روئے اور خوب روئے۔ بار بار اسے سواتی کی لاش کے پاس لے جاتے اور کہتے دیکھ تیری پیاری بہن، تیری سواتی اب اس دنیا میں نہیں رہی، وہ مر گئی ہے۔ لیکن وہ خاموش اور آنکھیں خشک۔۔۔۔۔۔ جب سواتی کو آغوشِ لحد کے سپرد کیا گیا اور قبر نے اپنی گود میں لے لیا تب اس کی آنکھوں سے ایک سیلاب پھوٹ پڑا۔ گھر کے سبھی افراد پر ایک قہر ٹوٹ پڑا۔ برداشت نہ ہونے والی حقیقت سے ٹکرا کر ماں کا کلیجا پاش پاش ہو گیا۔ ابّا پر بد حواسی طاری ہو گئی۔ وہ در و دیوار پر دیکھنے لگے اور اسی سے ہی بات کرنے لگے تھے۔

سواتی شہر میں موجود کالج سے گاؤں آ رہی تھی اور سڑک حادثے میں اس کی موت ہو گئی۔ وہ بھول نہیں سکا تھا زندگی کے وہ حسین لمحات جب وہ اور اس کی پیاری بہن سواتی ساتھ ساتھ ہنستے، کھیلتے، بھاگتے، دوڑتے اور تھک جاتے تھے۔ جب وہ اسکول جانے لگا تو اپنے کمرۂ جماعت کی بجائے سواتی کے ساتھ اسی کے کمرۂ جماعت میں بیٹھ جایا کرتا تھا۔ سواتی کا ساتھ اور اس کی ہر بات رہ رہ کر اسے یاد آتی۔

سواتی کی موت کے بعد خواب شیریں کے لیے وہ ترس گیا تھا۔ کروٹوں میں راتیں کٹ جاتی تھیں۔ وہ خواب گراں کا مزہ چکھنا چاہتا تھا۔ پھر ایک روز بڑی مشکل سے اسے نیند آئی اور سواتی خواب میں آ گئی۔ وہ مشکل میں تھی۔ کچھ کہنا چاہتی تھی اور دوسرے ہی پل خواب پریشاں سے وہ جاگ گیا۔ پھر کئی کروٹیں بدلیں پر نیند آنکھوں سے دور تھی۔ بے چینی کے سبب طبعیت میں بل پڑ رہے تھے۔ نظریں گھڑی کی طرف گئیں۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ اچانک ذہن کچھ سوچنے لگا۔ آدھی رات کا وقت اور دور دور تک پھیلا سناٹا چیخ چیخ کر کچھ کہہ رہا تھا۔ وہ اپنے کمرے میں کچھ ڈرا سہما ہوا کھڑکیاں دروازے بند کر کے سونے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ وہ فرش پر لیٹا ہوا تھا اور اچانک اس کا دھیان پنکھے کی آواز کی جانب مڑ گیا۔ اب وہ پنکھے کو تکے جا رہا تھا۔ پنکھے کی چر ررر چر ررر کی آوازیں تو روز آتی تھیں لیکن اب تک اس آواز پر اس کا دھیان نہیں گیا تھا۔ اب وہ آواز خوف پیدا کر رہی تھی۔ شاید پنکھے کا بیرنگ خراب ہو گیا تھا۔ وہ چر رر رر۔۔۔۔ چر رر رر کی آوازیں ڈراونی آوازوں میں تبدیل ہو رہی تھیں۔ اس نے گھڑی کی طرف دیکھا، بارہ بجنے میں کچھ تیس منٹ باقی تھے۔ بستر سے اٹھ کھڑا ہوا، شرٹ پہنا، جوتے پہنے اور گھر کا دروازہ کھول کر باہر کی جانب جھانکا تو دو کُتّے رو رہے تھے اور کہیں دور سے گھنگروؤں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ نجانے اس وقت ذہن میں کیا بات سمائی کہ وہ گھر سے باہر نکل پڑا۔ کچھ وقت ساکت و جامد کھڑے رہنے کے بعد دھیرے دھیرے پیپل کے درخت کی طرف بڑھنے لگا۔ اس وقت قدموں میں ڈگمگاہٹ نہیں تھی اور نہ ہی دل کسی بات کا ڈر محسوس کر رہا تھا۔ آہستہ آہستہ درخت کی جانب قدمزن ہوا۔ قدموں میں پہلے جیسی لڑکھڑاہٹ بھی نہیں تھی اور وہ خودبخود اٹھ رہے تھے۔ چلتے چلتے وہ رک گیا۔ درخت اب اس کے سامنے تھا۔۔۔۔۔ کچھ وقت خاموش کھڑے رہنے کے بعد وہ چیخ پڑا۔ پھر رات بھر اس پیپل کے درخت کے گرد گھومتا، اس کی شاخوں کو ہلا ہلاکر چیخ چیخ کر اپنی فریاد سناتا اور اسے بلاتا رہا۔ رات یوں ہی گزر گئی لیکن اس کی مراد پوری نہ ہو سکی اور ایک سر توڑ کوشش و ریاض شاقہ کو کامیابی نہ مل سکی۔

صبح وہاں سے گزرنے والے لوگ اسے گھر لائے۔ دیکھتے ہی ماں زار و قطار رونے لگی اور روتے روتے کہہ رہی تھی ’’سُنیل۔۔۔۔ بیٹا تو جانتا ہے نا اس پیپل کے درخت پر روحوں کا بسیرا ہے۔ تجھے تو بھوتوں سے بہت ڈر لگتا ہے بیٹا۔۔۔۔ پھر تو وہاں کیوں گیا تھا۔‘‘ وہ دیوار پر ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا اور ماں سے کہا ’’بھوتوں کا ڈر میرے اندر سے ختم ہو گیا ماں۔۔۔۔ جن ارواح سے میں خوف کھاتا تھا وہ خوف اب مجھ میں نہیں رہا ماں۔۔۔۔ مجھے سواتی سے ملنا ہے ماں۔‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

شوکت پہ زوال

 

آج فرحان خان تذبذب میں تھے۔ وہ بڑے پریشان نظر آ رہے تھے۔ کوئی فکر ان کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔ گھر کے آنگن میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک ٹہلتے جاتے تھے۔ کچھ دیر رکتے پھر بیٹھ جاتے۔ کبھی پانی پیتے اور پھر سے ٹہلنے لگتے۔ جب انھیں کسی طرح بھی سکون نہ حاصل ہوا تو اپنے دونوں بیٹوں کو بلایا اور نصیحت کرنے لگے ’’تمہارا ووٹ اس بات کی شہادت، گواہی اور سفارش ہے کہ وہ امیدوار اس کام کے قابل ہے اور اس منصب کا اہل ہے۔ تمہارا ووٹ صرف تمہاری ذات تک محدود نہیں، اس کا نفع اور نقصان معاشرے کے تمام افراد تک پہنچتا ہے۔ اس کا صحیح استعمال اجر و ثواب کا ذریعہ بنے گا اور غلط استعمال سے منتخب نا اہل، نا قابل امیدوار سے ہونے والی تمام برائیوں میں تم بھی برابر کے شریک سمجھے جاؤ گے اور آخرت میں اس کے جواب دہ ہو گے۔ اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ اپنے ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر قوم و ملت کی بھلائی کی خاطر سچی گواہی دیں گے۔ یاد رکھو اتحاد زندگی اور انتشار موت ہے۔‘‘

دونوں لڑکے فیاض اور فیض اپنے ابو کی باتوں کو بڑی غور سے سن رہے تھے۔ بڑے لڑکے فیاض نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور سگریٹ کا پاکٹ باہر نکالا۔ پھر اس پاکٹ میں سے ایک سگریٹ نکال کر اپنے لبوں میں تھام لیا۔ اس کے بعد سگریٹ کا خالی پاکٹ درمیان میں رکھ کر بولا ’’جس طرح سگریٹ کے پاکٹ پر کینسر والی تصویر کے باوجود لوگ سگریٹ پینا نہیں چھوڑتے بالکل اسی طرح آج کل کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ کونسا امیدوار اچھا ہے اور کونسا برا۔ ہر کو ئی اپنا فائدہ دیکھتا ہے۔ تو ہم کیوں نہ اپنا فائدہ دیکھیں۔‘‘

فیاض کی بات ابھی ختم ہی نہیں ہوئی تھی کہ فیض بول پڑا ’’ہمارے خاندان کے لیے جو شادی خانہ بن رہا تھا اس کا کام ابھی آدھا باقی ہے۔ میں نے ایک امیدوار سے بات کی ہے کہ اگر وہ یہ کام مکمل کرا دیتا ہے تو ہمارے پورے خاندان کے ووٹ اس کو ہی ملیں گے۔‘‘ اس امیدوار نے مجھ سے وعدہ بھی کیا ہے کہ کل سے کام شروع ہو جائے گا۔

اپنے دونوں لڑکوں کی باتیں سن کر فرحان خان غصے میں آ گئے اور بول پڑے ’’تمہارے سامنے سر پھوڑ نے کی بجائے اگر میں کسی پتھر پر اپنا سر پٹک لیتا تو وہ دیوتا بن جاتا۔ اور یہ بات بھی ذہین نشین کر لو کہ الیکشن کے بعد اس شادی خانے کو غیر قانونی بتا کر اس پر بلڈوزر چلا دیا جائے گا۔‘‘ انھوں نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے اور آسمان کی طرف دیکھ کر بولے ’’یا اللہ میرے گھر کا یہ منظر ہے تو پورے ملک کا کیا حال ہو گا۔‘‘ پھر ان کی زبان سے علامہ اقبال کا یہ شعر نکلا۔۔۔۔

قوت فکر و عمل پہلے فنا ہوتی ہے پھر کسی قوم کی شوکت پہ زوال آتا ہے

فرحان خان غصے سے گھر میں جا کر بیٹھ گئے۔ گھر میں بچے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ ایک شیر، ہرن اور بکری تینوں نے ایک ساتھ ایک ہی ندی پر پانی پیا اور اپنی پیاس بجھائی۔ اس کے بعد شیر کتے کی طرح دم ہلاتے ہوئے ہرن اور بکری کے پیروں میں بیٹھ گیا۔ ٹی وی پر جب یہ نظارہ بچوں نے دیکھا تو اپنے دادا جی فرحان خان سے سوال کیا ’’دادا جی یہ شیر، ہرن اور بکری کو کیوں نہیں کھا رہا ہے؟‘‘ فرحان خان نے اپنا سر جھٹکتے ہوئے جواب دیا ’’بیٹا ہمارے ملک کی طرح جنگل میں بھی الیکشن ہونے والا ہے۔‘‘

فیاض گھر سے کسی کام سے نکلا تھا۔ راستے میں دوستوں نے پکڑ لیا اور بتایا ’’آج بہت بڑی الیکشن سبھا ہونے والی ہے۔ تمہارے گھر کے جتنے ووٹ ہیں ان سب کے الیکشن کارڈ بھی ساتھ لے لو۔ آج ووٹ کی تعداد کے حساب سے پیسے مل جائیں گے۔۔۔۔ چلو چلتے ہیں۔‘‘ اور وہ الیکشن سبھا میں چل دیے۔ سبھا میں امیدوار بھاشن دے رہا تھا۔ ’’میرے پیارے دیش واسیو! آج پی ایچ ڈی والے بھی چپراسی کی نوکری مانگ رہے ہیں۔ امیر، امیر ہو رہا ہے اور غریب، غریب۔ مہنگائی آسمان چھو رہی ہے۔ دیش کا نوجوان بے روزگار ہے۔ میرے کسان بھائی آتم ہتیا کر رہے ہیں۔ عورتیں سُرکشت نہیں۔ کرپشن۔۔۔۔ رشوت لینا دینا یہ عام بات ہو گئی ہے۔

میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر آپ نے ہمیں الیکشن جیتا دیا تو ہم دوسرے ملکوں میں جمع کالے دھن کا ایک ایک روپیہ واپس اپنے دیش لا کر آپ کے بینک کھاتوں میں جمع کرا دیں گے۔ بچوں کو مفت اور اچھی شکشا دیں گے۔ بس ضرورت ہے کہ ایک بار آپ ہمیں اپنی سیوا کا موقع دیں۔‘‘ یہ جذباتی تقریر سن کر لوگ بہت متاثر ہوئے اور عوام کو خوشی کی ایک نئی کرن نظر آنے لگی۔ تقریر پر تالیوں کے شور نے عوام کے اعتماد میں اور اضافہ کر دیا۔ فیاض بھی تقریر سے بہت متاثر ہوا۔ اس نے اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے اس امیدوار کے حق میں خوب نعرے لگائیں۔

سبھا ختم ہونے کے بعد فیاض حجام کی دوکان پر اپنے بال بنا رہا تھا۔ حجام نے فیاض سے کہا ’’کیا کہتے ہو فیاض میاں، کس کی جیت ہو گی؟‘‘

’’جیت تو اسی کی ہو گی بھائی جو لوگوں کے بینک کھاتوں میں لاکھوں روپئے جمع کرائے گا، اور پیسوں کے لیے سب ان کو جتا دیں گے تم دیکھ لینا‘‘

’’کیا لگتا ہے تمھیں، کیا سچ مچ لوگوں کے کھاتوں میں پیسے جمع ہوں گے؟۔‘‘

’’اب بھروسا تو کرنا ہی ہو گا بھائی اس کے سوا کوئی چارہ نہیں، اور مہنگائی نے بھی ناک میں دم کر دیا ہے۔‘‘

’’ہاں! صحیح کہتے ہو فیاض، کوئی بھی کام بنا رشوت اب نہیں ہوتا اور اوپر سے مہنگائی کا قہر‘‘

فیاض کو ووٹ کی تعداد کے حساب سے پیسے بھی مل گئے۔ اس نے اسی امیدوار کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔

ایک دن فیاض اور فیض کسی کام کے سلسلے میں گھر سے باہر جا رہے تھے۔ راستے میں ان کی چند دوستوں سے ملاقات ہوئی۔ دوستوں نے کہا ’’آج بہت بڑی الیکشن سبھا ہونے والی ہے، چلو چلتے ہیں۔‘‘

دونوں نے کہا ’’نہیں یار آج کام ہے۔ چند ضروری چیزیں خریدنے جا رہے ہیں۔‘‘

’’بھائی آج تو چلنا ہی پڑے گا اور زیادہ وقت بھی نہیں لگے گا اس کے بعد اپنا کام کر لینا۔‘‘

فیض نے کہا ’’پہلے ضروری سامان خرید کر گھر دے آتے ہیں اس کے بعد چلے جائیں گے۔‘‘

فیاض نے کہا ’’ نہیں پہلے سبھا میں چلتے ہیں اس کے بعد گھر کا کام کریں گے۔‘‘

اور دونوں جلسے میں چلے گئے۔ وہاں امیدوار بھاشن دے رہا تھا۔ ملک کی ترقی کی باتیں کرتے کرتے وہ بھڑکاؤں بھاشن دینے لگا۔ ماحول خراب ہوتا دیکھ امیدوار کے پی اے نے ان کے کان میں کہا ’’صاحب ماحول بہت خراب ہو رہا ہے۔ تھوڑی سی چنگاری آگ لگا سکتی ہے۔ اگر فساد ہو گیا تو بے گناہ نوجوان مارے جا سکتے ہیں، بچے یتیم ہو سکتے ہیں، لوگ بے گھر ہو سکتے ہیں، اور بھی بہت نقصانات ہو سکتے ہیں۔‘‘

امید وار نے کہا ’’کیا تمہارے بچے بھی اس سبھا میں شامل ہیں‘‘

’’نہیں صاحب میرے بچے تو امریکہ میں پڑھ رہے ہیں۔‘‘

’’تو پھر خاموش بیٹھ اور تماشہ دیکھ‘‘

اس کے بعد امیدوار نے ایسا بھڑکاؤ بھاشن دیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے پورے جلسے کا ماحول خراب ہو گیا۔ بھگدڑ مچ گئی اور لاٹھیاں چلنے لگیں۔ جو لوگ ایک دوسرے کے ہر کام میں شانہ بشانہ ہوتے تھے وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے۔ پورا علاقہ نذر آتش کر دیا گیا۔ انسانیت حیوانیت میں تبدیل ہو گئی۔ میدان میں ہر طرف خون میں لت پت لاشیں پڑی تھیں۔ جب سب کچھ ختم ہو گیا تب پولس آئی اور گرفتاریاں ہونے لگیں۔ شک کی بنیاد پر بے گناہوں کوستایا جانے لگا۔ فیاض کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسے دہشت گرد قرار دے کر جیل میں ڈال دیا گیا۔ شر پسند عناصر کے دباؤ میں پولس تو ایک طرف عدلیہ بھی بے اثر ہو چکی تھی۔ تلاشی مہم جاری تھی۔ لا شوں کے انبار میں خون میں لت پت فیض کی لاش پڑی تھی۔ اس کے ہاتھ کی مٹھی بند تھی، بند مٹھی کھولی گئی۔ اس میں ایک کاغذ کا ٹکڑا نکلا جس میں لکھا تھا۔۔۔۔ اباکی دوائی، منے کا کھلونا، گڑیاں کا بستہ، ماں کی چپل، کھانے کا تیل اور سبزی لانا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

قربان

 

ننھی ننھی معصوم آنکھوں میں آنسو لیے رانی دروازے کو تکے جا رہی تھی اس کو معلوم تھا کہ چاہے وہ کتنی ہی منت کرے مگر دادی کے ڈر سے کوئی بھی اسے اسپتال لے کر نہیں جائے گا۔ وہ بڑی بے صبری سے ہر اُس شخص کا انتظار کرتی جو اسپتال سے آنے والا ہوتا۔ سہیل سے رانی بہت ہی پیار کرتی تھی حالانکہ سہیل اسے ذرا بھی اہمیت نہیں دیتا تھا مگر سہیل کا تلخ مزاج کبھی اس کے پیار میں کمی نہ کرتا۔ سہیل اُس کا اکلوتا بھائی تھا اور تین دن سے اسپتال میں بے ہوش پڑا تھا۔ اس کی حالت دیکھ کر ہر کوئی فکر مند تھا، بات بھی ایسی تھی سہیل حالانکہ ۱۶ برس کا تھا مگر کبھی اتنا بیمار نہ پڑا تھا کہ اسے اسپتال لے جایا جاتا۔ تین دن پہلے کھیلتے کھیلتے اچانک بے ہوش ہو گیا اور ابھی تک اس کی حالت میں کوئی خاص فرق نہ تھا۔ بیماری کا پتا لگانے کے لیے ڈاکٹر نے کئی چیک اپ کرواے مگر کسی سے کچھ حاصل نہ ہوا۔ دادی سہیل پر جان نچھاور کرتی تھیں، اور کیوں نہ کرتی ایک ہی تو چراغ تھا گھر کا، رانی کو تو وہ کسی گنتی میں نہ لاتی تھیں۔ جس طرح داستانوں میں جادوگر کی جان طوطے میں ہوا کرتی ہے ٹھیک دادی کی جان بھی سہیل میں تھی۔ رانی عمر میں سہیل سے چھوٹی ضرور تھی مگر اس سے کہیں زیادہ سمجھدار اور فرمانبردار تھی۔ ایک لڑکی ہونے کی وجہ سے اس کی یہ خوبیاں سوائے اس کی ماں شبنم کے علاوہ کسی کو نظر نہ آتیں۔ دادی تو رانی سے حد سے زیادہ بد دل تھیں۔ اصل میں دادی لڑکوں کو لڑکیوں پر زیادہ فوقیت دیتی تھیں۔

جس دن رانی نے ان کے گھر میں جنم لیا اس دن سے شبنم کی بھی اہمیت اس گھر میں کم ہو گئی تھی اب شبنم کا وہ رتبہ نہ رہا جو پہلے تھا۔

دس برس کی رانی کو دادی ایسے ایسے طنزیہ جملوں اور فقروں سے نوازتیں جن کا مطلب بھی رانی کو سمجھ میں نہ آتا۔ اس معصوم کو یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ دادی اسے منحوس کیوں کہتی ہیں، اگر اس کی پیدائش کے بعد اس کے والد کا انتقال ہو گیا تو اس میں رانی کا کیا قصور تھا، اس نے تو اپنے والد کا چہرہ تک نہیں دیکھا۔ دادی جب سہیل کو پیار کرتیں، رانی دور کھڑی ترستی نگاہوں سے ان کو دیکھتی مگر دادی کو نہ کبھی رانی پر ترس آتا۔

جس روز رانی پانچویں کلاس میں اوّل آئی تو بڑی امید کے ساتھ اس نے اپنا رپورٹ کارڈ دادی کو دکھایا اور کہا۔۔۔۔۔۔ دادی یہ دیکھئے میں کلاس میں اوّل آئی ہوں۔ آج تو مجھے آپ انعام بطور اپنی گود میں بٹھا لیجیے۔ شبنم دور سے سب دیکھ رہی تھی اور دعا کر رہی تھی کہ آج دادی اس کی تمنا پوری کر دیں۔ لیکن دادی نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا بس اب اور کچھ نہ کہنا اول آئی ہو تو مجھ پر احسان کیا ہے۔ یہ سنتے ہی شبنم باورچی خانے سے آئی اور رانی کا بازو پکڑ کر اوپر کمرے میں لے گئی۔ دادی کی چارپائی باورچی خانے کے ٹھیک سامنے پڑی رہتی تھی جہاں سے دادی بیٹھی بیٹھی حکم چلایا کرتی تھیں۔ ان کی باتیں رانی کے دادا کو بھی پسند نہ تھیں لیکن اپنی اہلیہ سے کچھ کہتے ہوئے ڈرتے تھے۔

سہیل اور رانی میں اکثر لڑائی ہوتی تو دادی پورا ماجرا سننے سے پہلے ہی فیصلہ کر دیتیں کہ غلطی کس کی ہے اور سزا دینے کا ان کا ایک ہی طریقہ تھا کہ رانی کا کھانا بند کر دیتیں۔ اس وجہ سے رانی کی صحت اپنی ہم عمر بچوں کے مقابل ٹھیک نہ تھی۔ شبنم کبھی اپنی ساس سے چھپ کر اسے کھانا کھلا دیتی مگر ایسے موقعے کم ہی نصیب ہوتے اور رانی کو ہفتے میں ایسے موقعوں کا سامنا کئی بار کرنا پڑتا۔ بچی ہونے کے ناطے رانی دادی کے سب ظلم تھوڑی ہی دیر بعد بھول جاتی، رانی کو دادی سے بے حد لگاؤ اور محبت تھی۔

آج جب دادی اسپتال سے گھر آئیں تو رانی دور سے دیکھ کر بھاگتی ہوئی آئی۔ دادی سہیل بھائی کی طبیعت کسی ہے؟ اب تو وہ ہوش میں ہے نا؟ ڈاکٹر صاحب کب انھیں گھر آنے کی اجازت دیں گے؟

دادی نے آنکھیں نکالتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔ دور ہٹ منحوس گھر میں آتے ہی ٹے ٹے سننی پڑتی ہے، تجھے کوئی ملال نہیں سارا دن کھیلتی رہتی ہے، چل ہٹ یہاں سے۔۔۔۔۔۔ روتی ہوئی رانی باورچی خانے کی طرف دوڑی۔ شبنم کے گلے لگ کر روتے روتے بولی۔۔۔۔ امّی ہم دادی کا گھر چھوڑ کر چلے کیوں نہیں جاتے۔ شبنم نے کہا، کہاں جائیں گے بیٹا!

ماموں کے گھر۔۔۔۔ ماموں مجھے پیار کرتے ہیں وہ غصہ بھی نہیں کرتے مجھ پر۔

مگر وہ ہمارا گھر نہیں ہے رانی وہ تو ماموں کا ہے۔ شبنم نے رانی کے آنسو پوچھتے ہوئے کہا۔

وہ ماموں کا گھر اور یہ دادی کا۔ ہمارا کوئی گھر کیوں نہیں ہے اَمّی۔۔۔۔ شبنم کی آنکھیں بھر آئیں، اور کچھ کہہ نہ سکی۔

شبنم خود ان سوالوں کے جواب تلاش نہ کر سکی تھی!پھر رانی کو کیا جواب دیتی۔

شبنم سہیل کو لے کر پہلے ہی فکر مند تھی، دن رات اسپتال میں رہتی اور اگر دو گھڑی کے لیے گھر میں آتی تو دادی کے طنزیہ تیر سیدھے اس کے دل کو چھلنی کر دیتے۔ لاکھ سمجھانے کے بعد بھی دادی کی سوچ نہیں بدلی گھر کی تمام پریشانیوں کی ذمہ دار رانی کو ہی ٹھہراتی اور رہی سہی کسر اب یہ کہ سہیل اس روز رانی کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک بے ہوش ہو گیا۔

کئی چیک اپ ہونے کے بعد اب اس کے دل کا چیک اپ ہونے والا تھا اس لیے گھر میں ایک مایوسی کا طوفان برپا تھا۔ دادی رانی کا بُرا سایہ سہیل پر نہیں پڑنے دینا چاہتی تھیں اس لیے لاکھ فریاد و التجا کرنے کے بعد بھی اسے کوئی اسپتال نہیں لے گیا۔ گھر میں جب بھی کوئی آتا رانی اس سے سوالوں کی برسات کر دیتی۔ سہیل نے رانی کو کبھی ایک بہن کی طرح سمجھا ہی نہیں، دادی کے لاڈ پیار نے اس کا دماغ آسمان پر چڑھا دیا تھا مگر رانی کی ان باتوں سے صاف ظاہر تھا کہ وہ سہیل سے کس قدر محبت کرتی ہے۔

رات سبھی سے کاٹے نہیں کٹ رہی تھی چونکہ شبنم کئی روز سے اسپتال میں تھی۔ اس لیے آج رات دادی سہیل کے پاس تھیں۔ اور شبنم گھر آئی تو تھی آرام کرنے مگر اسے کسی طرح سکون نہیں مل رہا تھا۔ نیند کا تو دور دور تک پتہ نہ تھا، گھڑی دیکھتی رہی اور اسی طرح صبح بھی ہو گئی۔ شبنم جلدی جلدی گھر کا کام کر کے سہیل کے پاس جانا چاہتی تھی اور ایک مشین کی طرح کام میں مصروف تھی رانی جلدی سے ناشتہ کرو۔ مجھے اسپتال جانا ہے آج مجھے بھی لے کر چلیے امّی رانی نے معصوم سا چہرہ بناتے ہوئے کہا!

نہیں بیٹا۔۔۔۔ تم پھر چلی جانا آج بھائی کی رپورٹ آنی ہے نا۔ آج ضد نہ کرو۔ شبنم نے شفقت سے رانی کے سر پر ہاتھ رکھا۔ اب چلو ناشتہ کر لو۔ اتنے ہی دیر میں دادی اسپتال سے آئی ان کے چہرے پر اداسی چھائی تھی لگ رہا تھا کہ دادی آج زندگی کی بازی ہار گئی ہیں۔ دادی کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں بہہ رہی تھیں، شبنم سمجھ گئی کہ بُری خبر ہے۔

سہیل ٹھیک ہے؟ آپ کیوں رو رہی ہیں؟ رپورٹ آ گئی؟ شبنم جتنے سوال کرتی دادی اتنا ہی پھوٹ پھوٹ کر روتیں۔ سہیل کے دل میں سوراخ ہے شبنم اس کی حالت بہت خراب ہے۔ دادی نے لرزتی آواز میں کہا۔

شبنم کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ نہ چپل کا خیال رہا اور نہ ہی سر پر دوپٹہ کا، بس بھاگتی چلی گئی اسپتال کی طرف۔ دادی سہیل بھائی کو کیا ہوا ہے؟ آپ کیوں رو رہی ہیں؟ بولیے نا بھائی کب آئیں گے؟ رانی سوالوں پر سوال کیے جا رہی تھی مگر دادی اس معصوم کوہی بُرا بھلا کہنے لگیں۔ منحوس سب تیری وجہ سے ہو رہا ہے کھا کر ہی دم لے گی میرے بچے کو دور ہٹ۔ دفع ہو جا۔ نہ میرا بچہ تیرے ساتھ کھیلتا اور نہ ہی اسے یہ سب ہوتا۔

رانی بولی میں۔۔۔۔ میں نے کیا کیا ہے؟ دادی بولی تیرا منحوس سایہ ہمارے گھر پرنہ پڑتا تو یہ سب کچھ نہ ہوتا۔ جب تیرا سایہ اس گھر سے دور ہو گا تب تو سہیل آئے گا۔

رانی روتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی اسے رہ رہ کر دادی کے الفاظ یاد آ رہے تھے کہ تو منحوس ہے تیری وجہ سے سہیل بیمار ہوا تو چلی جائے گی تو سہیل آ جائے گا۔ رانی کو اس بات کا یقین ہو گیا کہ اگر وہ اس گھر سے چلی جائے گی تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

سہیل سے رانی بے حد محبت کرتی تھی۔ لیکن اس حد تک یہ تو کسی کو علم ہی نہ تھا۔ وہ روتے

ہوئے چھت کی منڈیر پر کھڑی ہو گئی اور آنکھیں بند کر کے چھت سے چھلانگ لگا دی۔ اس کے ہاتھ میں وہ کاغذ، جس پر اُس نے لکھا تھا میرا دل بھائی کو دے دینا خون سے لت پت ہو گیا۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

تاک جھانک

 

وہ اپنی تمناؤں کو سینے میں دبا کر آخر کب تک رکھتا۔ اس کا بھی دل چاہتا دوسرے بچوں کی طرح اس کے پاس بھی اچھا اور نیا بستہ ہو، نئے جوتے اور اچھا یونیفارم ہو۔ اگرچہ وہ ابھی لڑکپن میں ہی تھا مگر اپنی غریبی اور گھر کے نا گفتہ بہ حالات کو بخوبی سمجھتا تھا۔ حالات سے سمجھوتا کرنا اور اپنی خواہشات کا گلا گھونٹنا اس نے سیکھ لیا تھا۔ جب اس سے صبر کا باندھ سنبھالا نہیں جاتا تب وہ امی کو بڑی خاموشی سے اپنی بات بتاتا ا اور کسی چیز کی طلب کرتا تو امی اسے سمجھانے لگتیں یہ سب چیزیں پھر کبھی لیں گے، دوسرے ہی پل سوچنے لگتیں جب میرے بچے کا لڑکپن ہی نہیں رہے گا دل میں تڑپ اور خواہش ہی نہیں رہے گی تو یہ سب چیز یں اس کے کس کام کی۔۔۔۔۔۔ اس کے دل و دماغ میں خواہشات سے لبریز شکایتیں خوب سر پٹختی تھیں لیکن وہ انھیں جلد زبان تک نہیں لاتا تھا۔ جب اسکول میں بچوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا تو اس نے اپنی امی سے کہا ’’مجھے نیا بستہ چاہیے، اسکول کے بچے کہتے ہیں کہ میرے بستے سے کتابیں تاک جھانک کرتی ہیں۔‘‘

’’بیٹا ابھی تمہارے ابو کام کی تلاش میں باہر گئے ہیں، شام کو جب گھر آئیں گے تو میں ان سے تمہارے بستے کے متعلق بات کروں گی اور ہم آپ کے لیے نیا بستہ، نئے جوتے اور نیا ڈریس لے آئیں گے۔‘‘ وہ اپنی امی کی بات سن کر خوشی سے اچھل پڑا اور کھیل کود میں مشغول ہو گیا۔

شام کے وقت جب دانیال کے ابو گھر آئے تو اُن کا اداس چہرا چیخ چیخ کر یہ کہہ رہا تھا، آج بھی کوئی کام نہیں ملا۔ ایک ایک کر کے تمام زیورات بک گئے تھے۔ اب گھر میں کوئی ایسی چیز بھی نہیں تھی جو بک سکتی تھی۔ گھر میں ایک بکری تھی جو پہلے ہی اس مفلسی کی بھینٹ چڑ ھ چکی تھی۔ جس شخص کے گھر میں مفلسی ننگا ناچ رہی ہو اور قرض خواہ ہر وقت دروازے پر دستک دے رہے ہوں وہ شخص اور کر بھی کیا سکتا تھا۔ دانیال کے ابو ایک پڑھے لکھے انسان تھے لیکن گاؤں میں سوائے مزدوری کے کوئی دوسرا کام ملتا ہی نہیں تھا۔

’’سنو جی۔۔۔۔۔۔ کئی بار سینے کے بعد بھی دانیال کا بستہ بہت پھٹ چکا ہے، جوتوں کی حالت بھی بہت خستہ ہو گئی ہے۔ میں سوچ رہی ہوں ہم اس کے لیے ایک نیا بستہ، جوتے اور ڈریس بھی خرید لیں گے۔‘‘ دانیال کی امی نے ڈرتے ڈرتے دھیمے لہجے میں اپنے دل کی بات رکھی۔

’’دیکھوں۔۔۔۔۔۔ تم اچھی طرح جانتی ہو میں جہاں کام کرتا تھا مالک نے نکال دیا۔ وہ کہتا ہے کہ میں بہت کمزور ہو چکا ہوں، اب مجھ سے وزنی بوجھ اٹھایا نہیں جاتا۔ ہم نے جن کا کھیت ٹھوکے (کرائے)پر لیا ہے وہ ایڈوانس مانگ رہے ہیں۔ تین دن پہلے چھوٹے بھائی سے جو رقم لی تھی اب وہ ختم ہو رہی ہے۔ ایک ایک کر کے تمہارے تمام زیور بک گئے ہیں۔ میرے دوست احباب اور میرے سگے بھائی جب میری پریشانیوں کو دیکھتے تو میرے ہاتھ میں کچھ نہ کچھ تھما دیتے تھے لیکن اب وہ مجھے دیکھ کر راستہ بدلنے لگے ہیں۔ آخر کب تک کسی کی پھیلی ہوئی ہتھیلی کو بھرا جا سکتا ہے۔‘‘ زندگی کی بازی ہارے ہوئے شخص کی طرح انھوں نے اپنی بیوی کو بات سمجھائی۔

دانیال کی امی سمجھ گئیں وہ کچھ بھی خریدنے کے موڈ (mood) میں نہیں ہیں اس لیے وہ دانیال کو سمجھانے کی ناکام کوشش کرتی رہیں، اور دانیال خاموشی سے ماں کی طرف دیکھتا رہا۔ دانیال کی ماں نے جب اس کے پھٹے ہوئے بستے، پرانے جوتے اور ڈریس کی بات اپنے بھائی سے کی تو بھائی نے کہا ’’ایسی بات ہے تو دانیال کو یہ سب میں دلا دیتا ہوں۔‘‘

یہ سن کر وہ بہت خوش ہوا، ماموں جان اسے نیا بستہ دلانے والے ہیں، لیکن نجانے کس طرح یہ بات ممانی کو معلوم ہو گئی، ماموں جان کے گھر ایک تماشا ہو گیا، اور اسے نیا بستہ نہیں مل سکا۔ وہ پھر سے اداس ہو گیا تھا۔ اس کے بے تاب سینے میں سلگتی ہوئی خوشی کی پھلجھڑیاں ماند ہو گئی تھیں۔ امید کی ایک کرن اور اس کے بعد مایوسی اس کا مقدر بن گئی تھی۔ وہ روزانہ اپنا پھٹا ہوا بستہ لے کر اسکول جاتا، جس سے کتابیں جھانکتی رہتیں۔ اس بات کو لے کر اس کے دوست اس کا خوب مذاق اڑاتے۔

ایک دن وہ اسکول سے خوشی خوشی اُچھلتے کودتے گھر آیا تو ماں نے پوچھا ’’کیا بات ہے آج بہت خوش ہو۔‘‘

’’پتا ہے آج ہمارے اسکول میں اسکول کے چیئر مین صاحب آئے تھے۔۔۔۔۔۔ انھوں نے ہم سے بہت سی باتیں کیں، بہت سے سوالات پوچھے اور جن سوالات میں بچے کمزور تھے ان کی مشق کرانے کی ہمارے ٹیچر کو ہدایت کی۔۔۔۔۔۔ اور آخر میں انھوں نے ہم سے کہا ’’ کل ہمارے اسکول میں ایک پروگرام ہے۔ جس میں منسٹر صاحب شریک ہوں گے اور ہم ان کے ہاتھوں سب بچوں کو ایک نیابستہ اور نیا ڈریس دیں گے اور ہاں انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم لوگوں کو تمام سوالات یاد کر کے اسکول آنا ہے۔‘‘

وہ ماں جس نے قدم قدم پر اپنی خوشیوں کی قربانیاں دی تھیں، جو اپنے بچوں کو دنیا کی ہر خوشی دینا چاہتی تھیں، جو اپنے حصے کا بھی بچوں کو کھلا دیتیں اور خود بھوکا سو جاتیں۔ اس ماں نے جب یہ سنا تو اس کے چہرے پر بھی خوشی پھیل گئی، آنکھوں میں چمک آ گئی، ایک درد بھری خوشی سینے میں اٹھی اور بدن کا کرب قطرہ قطرہ ہو کر آنکھوں کے راستے ٹپ ٹپ برسنے لگا۔

’’ماں۔۔۔۔۔۔ چیئر مین صاحب کتنے بھلے انسان ہیں نا‘‘

’’ہاں بیٹا۔۔۔۔۔۔ اللہ ان کو اور ترقی دے‘‘

کل نیا بستہ اور نیا ڈریس ملنے والا ہے، اس خوشی میں دانیال کو رات بھر نیند بھی نہیں آئی۔ وہ رات بھر نیا بستہ اور نیا ڈریس کے متعلق سوچتا اور من ہی من خوش ہوتا۔ پھر اس نے سوچا اب سوجانا چاہیے ورنہ نیند کا خمار آنکھوں میں باقی رہنے کی وجہ سے کل صبح کو ئی پریشانی نہ ہو جائے۔ لیکن ایک عجیب سی خوشی جو اس کے سینے میں پھڑ پھڑا رہی تھی اس خوشی کے مارے اس کی آنکھیں جھپکنا ہی بھول گئی تھیں۔

رات اس پر بڑی بے رحم ہو گئی تھی جو جلد کٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ صبح ہوئی وہ جلدی جلدی تیار ہو کر وقت سے ایک گھنٹہ قبل ہی اسکول پہنچ گیا۔ دھیرے دھیرے وقت گزرنے لگا اور ایک ایک کر کے بچے اسکول آنے لگے۔ میدان میں دعا ہوئی اور دعا کے بعد تمام بچے اپنے اپنے کمرۂ جماعت میں بیٹھ گئے۔

انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور وہ وقت بھی آ پہنچا جب اس کے ہاتھوں میں نیا بستہ تھا۔ اس نے فوراً اپنی تمام کتابیں نئے بستے میں منتقل کر دیں۔ منسٹر صاحب آئے اور چلے بھی گئے لیکن اس کی خوشی کا کوئی ٹھکا نا نہیں رہا تھا۔ خوشی کی پھلجھڑیاں پھر انگڑائیاں لینے لگی تھیں اور اس کے ذہن کے اسکرین پر کئی مناظر ابھر نے لگے۔ وہ سوچنے لگا جب امی کو نیا نویلا بستہ دکھاؤں گا تو وہ کتنا خوش ہوں گی۔ اب اس کے پاؤ زمین پر نہیں ٹھہرتے تھے، وہ پنکھ لگا کر اڑ جانا چاہتا تھا اور جلد گھر پہنچ کر امی کو بستہ دکھانا چاہتا تھا۔ جلد گھر پہنچنے کی خواہش رہ رہ کر اس کے دل میں مچل رہی تھی۔ اس کی آنکھیں چمک اٹھی تھیں، چہرا کھل گیا تھا، وہ ہر لمحہ چہک اٹھتا اور اچھل پڑتا۔ وہ اپنے انگ انگ سے اٹھتی لہروں کو چھٹی ہونے تک دبا دینا چاہتا تھا۔ رفتہ رفتہ وہ وقت بھی آ گیا جب چھٹی ہونے میں چند لمحات باقی تھے۔

اسی وقت صدر مدرس صاحب نے مائک ہاتھ میں پکڑا اور جو کچھ کہا وہ سن کر اسے اپنے کانوں پر بھروسا نہیں ہوا۔ وہ اپنی جگہ پر ایک پتھر کی مورت بنا چپ چاپ کھڑا رہا، کچھ لمحے بیت جانے کے بعد اس نے اپنے سامنے کھڑے لڑکے سے پوچھا کہ ’’صدر مدرس صاحب نے کیا کہا؟‘‘

اس لڑکے نے بتایا کہ صدر مدرس نے کہا ’’بچو!۔۔۔۔۔۔ یہ تمام بستے منسٹر صاحب کے آنے کی وجہ سے کرائے پر لائے گئے تھے۔ اب تم سب بستے واپس کر دو۔‘‘

یہ سننا تھا کہ وہ پھر اداس ہو گیا تھا۔ اور تمام بچوں کی طرح اس نے بھی اپنی تمام کتابیں نئے بستے سے پرانے پھٹے ہوئے بستے میں منتقل کر دیں اور بستہ واپس کر دیا۔ اس پر ایک طرح کی بد حواسی طاری ہو گئی تھی۔ اسی بد حواسی میں گم سم وہ خیالات میں کھویا ہوا سڑک پار کر رہا تھا سامنے سے آنے والی ایک تیز رفتار کار نے اسے اڑا دیا۔ دوسرے لمحے خون میں لت پت اس کی لاش سڑک پر پڑی تھی اور کچھ کتابیں بستے سے باہر نکل کر آس پاس بکھر گئی تھیں جیسے اردگرد جمع ہو کر اس کی موت کا ماتم کر رہی ہو اور کچھ بستے میں ہی سے سڑک کی جانب تاک جھانک کر رہی تھیں، جہاں سے کچھ دیر قبل منسٹر صاحب کا قافلہ ہارن بجاتا ہوا گزرا تھا۔ یا خدا۔۔۔۔۔۔ یہ غریبوں کے بچے بھی تو بچے ہی ہوتے ہیں۔۔۔ پھر انھیں دکھوں کے نجانے کتنے سمندر پار کرنے پڑتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

 

خیالی دنیا

 

وہ ایک ذہین و محنتی لڑکا تھا اور بڑے ہی اچھے اخلاق کا مالک تھا۔ فیس بک پر اس کے دوستوں کی تعداد ہزاروں میں تھی، اتنے ہی فالورز ٹویٹر پر تھے اور واٹس اپ کانٹیک بھی کچھ کم نہیں تھے۔ وہ ہمیشہ آن لائن رہتا، ہر کسی کی فرینڈ رکوسٹ قبول کرتا، کبھی کسی کو بلاک نہیں کرتا، کسی کا دل دکھے ایسا کوئی کمینٹ نہیں کرتا، وہ بہت سے گروپس کا ایک سرگرم رکن تھا۔ وہ ہر اچھی پوسٹ کو دل کھول کر لائک و شیئر کرتا اور اپنی پوسٹ سبھی دوستوں کو ٹیگ کرتا، اس کی پوسٹ آتے ہی لائک اور کمینٹ کی بوچھار ہو جاتی، سبھی دوست اسے بہت پسند کرتے، وہ روزانہ اپنے اسٹیٹس کو موثر خیالات سے اور ڈیسک ٹاپ فوٹو دلکش تصویر سے تبدیل کر دیتا اور اپنے دوستوں کے تبدیل کیے گئے اسٹیٹس بھی روز پڑھتا تھا۔ ایک دن اس کو اپنے ایک جگری دوست سہیل کا اسٹیٹس اور ڈیسک ٹاپ فوٹو خالی (Blank) نظر آیا تب اس نے اپنے دوست کو فوراً یہ مسیج بھیجا۔

’’جہاں ڈیسک ٹاپ فوٹو ہر روز تبدیل ہوتی ہو اور اسٹیٹس بھی برابر بدل جاتا ہو جس سے طبعیت کی خوش مزاجی، خوش حالی، رنگینی، اور بیباکی کا پتہ چلے وہاں آج اتنی خاموشی، بے رنگی، اداسی اور مایوسی کیوں چھائی ہے۔‘‘

ایک روز کی بات ہے وہ فیس بک پر آن لائن تھا تب ہی اس کے موبائل پر ایک مسیج آیا کہ ’’آپ کا انٹر نیٹ ڈاٹا کم ہے۔‘‘ اس نے سوچا کہ پورا ڈاٹا ختم ہونے سے پہلے ہی نیٹ کا ریچارج کر لیتا ہوں۔ یہ سوچ کے وہ اٹھا اپنی گاڑی نکالی اور تیزی سے چل پڑا۔ موبائل اس کی جینس ( پتلون) کی جیب میں تھا تب ہی واٹس ایپ کے مسیج آنے کی رنگ ٹون بجی اور وہ یہ سمجھ گیا کہ واٹس ایپ پر کسی کا مسیج آیا ہے تب اس نے ایک ہاتھ سے گاڑی چلاتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے موبائل اپنی جیب سے نکالا اور مسیج دیکھنے لگا۔ اسی وقت سامنے تیز رفتار سے آنے والی ایک کار اسے دکھائی نہیں دی اور وہ ٹکرا گیا۔ کار والا موقع واردات سے بھاگ گیا تھا اور وہ اوندھے منہ زخمی حالت میں خون میں لت پت پڑا ہوا تھا۔ وہ بہت دیر تک ایسے ہی پڑا رہا اس کے آس پاس خون کے بڑے بڑے دھبے جم گئے تھے۔ پھر کچھ لوگوں نے اسے دوا خانے پہنچایا۔ اس کے موبائل سے اس کے گھر کا نمبر نکالا گیا جو ہوم ’’HOME‘‘ نام سے محفوظ تھا۔ گھر والے فون پر خبر سنتے ہی دوڑے دوڑے اسپتال میں چلے آئے۔ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم اسے آئی۔ سی۔ یو۔ (ICU) روم میں لے گئی۔ آئی۔ سی۔ یو روم کے باہر کھڑے ماں، باپ، بھائی اور بہن درد بھری نگاہوں اور خوف زدہ چہروں سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اور ہر بار ان کے دل سے اس کی سلامتی کی دعا نکلتی جاتی تھی۔ ڈاکٹر صاحب جب آئی۔ سی۔ یو۔ روم سے باہر آئے تب گھر کے سبھی افراد نے انھیں گھیر لیا اور حسرت بھری نگاہوں سے ان کی طرف دیکھنے لگے۔ ڈاکٹر صاحب نے صرف اتنا کہا کہ ’’خون بہت بہہ چکا ہے ہم کوشش کر رہے ہیں باقی اللہ مالک ہے۔‘‘ یہ سنتے ہی ماں کی آنکھوں سے بے اختیار آنسوں جاری ہو گئے۔ بہن ماں کو سمجھا رہی تھی لیکن چھپ چھپ کر بہن بھی روتی جاتی تھی۔ باپ اور بھائی دونوں کے آنسوں سوکھ گئے تھے پر دل رو رہا تھا، دونوں پیسوں کا انتظام کرنے نکل گئے۔ دو دن تک گھر کے سبھی افراد کی پریشانی کا عالم دیکھا نہ گیا اور دو دن سے کسی کے پیٹ میں ایک دانہ نہ گیا۔ آج جب دو دن بعد وہ ہوش میں آیا تو اس کے سامنے ماں، باپ، بھائی اور بہن اپنی پریشان فکروں کو لیے کھڑے تھے اور اس کی صحت یابی کی دعا کر رہے تھے۔ جب اس نے دیکھا کہ آج وہی لوگ اس کے لیے پریشان تھے جن کے لیے کبھی بھی اس کے پاس وقت نہیں ہوتا تھا۔ تو اس کی آنکھوں سے بھی بے اختیار آنسوں جاری ہو گئے۔ ماں، باپ، بھائی اور بہن اسے دیکھ دیکھ خوش ہو تے جاتے تھے۔ اور وہ بھی انھیں دیکھ کر خوش ہو رہا تھا کیونکہ آج وہ خیالی دنیا سے نکل کر حقیقی دنیا میں آ گیا تھا۔ ٭٭٭

 

 

 

مَٹھّا

 

’’کتنی دفعہ سمجھایا تمھیں۔

کیا کمی چھوڑی تھی میں نے۔

جی جان سے تمھیں پڑھاتا ہوں۔

دو سوالات کے جواب نہیں دے سکتے۔

اسکول میں پڑھنے آتے ہو یا ٹائم پاس کرنے۔۔۔ مٹھا کہیں کے۔۔۔‘‘

اس روز ان تینوں پر میں گرج دار آواز میں خوب چلایا کیوں کہ وہ میرے سوالات کے جوابات دے نہیں پائے تھے۔ کبھی کبھی مجھے بہت غصہ آتا تھا، ان تینوں پر۔ ان کی وجہ سے مجھے کئی بار شرمندگی اٹھانی پڑی تھی۔ جب کبھی بھی صدر مدرس یا شعبۂ تعلیم کے کسی ادھیکاری کی وزٹ ہوتی تب میں ان سے کہتا میری کلاس میں پچیس بچے ہیں جس میں سے صرف ان تینوں کو چھوڑ کر باقی سب اچھے ہیں۔ پتا نہیں یہ تینوں کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔ کتنا بھی سمجھاؤ ان مٹھوں کو لیکن یہ مٹھے ہی رہیں گے۔ اور ایسا بھی نہیں کہ دوران تدریس یہ حاضر نہیں رہتے۔۔۔۔ رہتے ہیں۔۔۔۔ اور روزاسکول آتے ہیں۔ لیکن نجانے کیوں ان کے دماغ میں کوئی بات نہیں گھستی اور کسی بات کا ان پر اثر بھی نہیں ہوتا۔ ویسے تو ایسی بھی کوئی بات نہیں کہ جب میں پڑھاتا ہوں تو ان تینوں پر توجہ نہیں دیتا۔ میں تو سبھی بچوں پر یکساں محنت کرتا ہوں۔ جو سب کو پڑھتا ہوں وہی انھیں بھی پڑھاتا ہوں۔ اس کے بعد بھی یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ ان کی سمجھ میں کچھ کیوں نہیں آتا۔ اور یوں بھی نہیں کہ میں ان بائیس بچوں کو الگ سے پڑھا تا ہوں۔ لوگ تو یہی سوچتے ہوں گے کہ میں ان تین بچوں کو نہیں پڑھاتا۔

پچیس میں سے بائیس بچے تو ترقی کر رہے تھے لیکن وہ تینوں میری جماعت کے نام پر کلنک۔۔ تھے۔۔ کلنک۔

ایک دن کسی کام سے قریبی دیہات میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اس دیہات میں میں گیا تو تھا پکے روڈ سے لیکن جب وہاں سے واپس آ رہا تھا تو گاؤں کے ایک شخص نے بتایا کہ شہر جانے کا ایک شارٹ کٹ راستہ بھی ہے، جو پگڈنڈی نما ہے اور اس راستے سے موٹرسائیکل آسانی سے جا سکتی ہے۔ پکے راستے سے تیس منٹ اور کچے راستے سے دس منٹ۔۔۔۔ لہذا میں کچے راستے سے نکل پڑا۔

خوبصورت قدرتی نظارے، تا حد نظر سر سبز و شاداب زمین، ہرے بھرے لہلہاتے ہوئے کھیتوں کو دیکھتے ہوئے اور مناظر قدرت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک کھیت پر پڑی۔ اس کھیت پر سیاہ پلاسٹک کی باریک باریک نلیوں کا جال بچھا ہوا تھا۔ میں پہلے تو چونک پڑا کہ یہ کیا ہے۔ پھر مجھے خیال آیا کہ اسے مراٹھی میں ٹھِبک سِنچن (Drip irrigation) کہتے ہیں۔ اور اردو میں عمل تقطیر یا قطرہ سنچائی۔

اس کے متعلق تو میں جانتا ہی تھا کہ یہ فصل کی آبپاشی کی ایک ایسی تکنیک ہے جس میں پلاسٹک کی نلیوں کے نظام کے ذریعے پانی آہستہ آہستہ، قطرہ قطرہ، براہ راست، انفرادی طور سے پودوں کی جڑوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ لیکن پھر بھی میں نے اس کھیت میں کام کر رہے کسان سے اس کے فائدے پوچھے تو اس نے مجھ سے سوال کیا، کیا آپ کو نہیں پتا؟ میں نے کہا ہاں جانتا تو ہوں اتنا، جتنا میں نے پڑھا ہے، پر آپ اسے استعمال کر تے ہیں تو آپ کا تجربہ کیا کہتا ہے، یہ جاننا چاہتا ہوں۔

اس نے مجھ سے کہا گرو جی اس کے تو فائدے ہی فائدے ہیں۔

شاید وہ مجھے پہچانتا ہو گا اسی لئے تو اس نے گرو جی کہا لیکن میں اسے نہیں جانتا تھا۔

اس نے مزید بتایا اس سے پہلے ایسا ہوتا تھا کہ جب ہم کھیت میں پانی چھوڑتے تھے تو اس وقت پوری فصل اور پورے پودوں کو پانی مل جائے اس طرح نہیں ہوتا تھا۔ زیادہ تر تو یوں ہوتا تھا کہ جن پودوں کو پانی کی ضرورت ہوتی تھی انھیں پانی ملتا ہی نہیں تھا۔ اور کسی پودے کو ضرورت نہ ہونے پر بھی اچھا خاصا پانی مل جاتا تھا۔ جس کی وجہ سے فصل کے کچھ پودے اچھے تو کچھ سوکھ کر لاغر ہو جاتے تھے۔ لیکن جب سے میں نے یہ ٹھبک سنچن لگایا ہے تب سے تمام پودوں کو پانی مل رہا ہے اور ان کی ضرورت کے مطابق مل رہا ہے۔ دیکھیے گرو جی یہ جو تین پودے ہیں نا۔ یہ دوسرے پودوں کے مقابلے میں تھوڑے کمزور نظر آ رہے ہیں لیکن یہ پہلے اتنے کمزور تھے کہ سوکھ کر کانٹا ہو گئے تھے اور دم توڑنے ہی والے تھے کہ اس ٹھبک سنچن نے ان کی ضرورت کے مطابق ان تک پانی پہنچایا اور آج ان کی حالت میں سدھار ہے۔

تین۔۔ تین۔۔۔ تین پودے۔۔۔ یہ سنتے ہی میرے دماغ میں ہلچل سی مچ گئی اور مجھے اپنی کلاس کے تین کمزور بچے یاد آ گئے۔

جو بالکل ان تین پودوں کی طرح دم توڑنے کیا سٹیج پر تھے اور اسکول سے اکتا گئے تھے۔

اس وقت میرے ضمیر کی آواز ابھری اور مجھ سے کہنے لگی جن تین بچوں پر تو نے خصوصی طور پر توجہ دینی تھی، ان کی ضرورت کے مطابق ان پر محنت کرنی تھی، ان تین بچوں کو تو نے کیا دیا؟ ان کو سست، کاہل جیسے ناموں سے پکار کر ان کے حوصلوں کو پست کیا، ہر وقت انھیں ٹارچر کیا۔ اگر تو انھیں ہمت دیتا اور ان کی پریشانی کو سمجھ کر حسب ضرورت ان کی رہنمائی کرتا تو ممکن ہے وہ دم توڑنے کی اسٹیج پر نہ ہوتے اور دوسرے پودوں کی طرح وہ بھی تر و تازہ اور پر رونق ہو کر کھل کھلا رہے ہوتے۔ تو نے حقیقت جانے بناہی ان پر بڑا ظلم کیا ہے۔ ہو سکتا ان تینوں کے گھروں کا ماحول پڑھائی کے لیے سازگار نہ ہو۔ محنت تو تجھے صرف ان تین بچوں پر ہی کرنی تھی۔ باقی کے بچے تو اپنے ساتھ ایک ماحول لے کر آئے تھے۔ اور تو نے تینوں کو بے کار، ناکارہ اور نکمے جیسے الفاظ سے نواز کر انھیں احساس کمتری کا شکار بنا دیا۔

ارے ہاں!! ! اب مجھے یاد آیا۔ پرسوں کی ہی تو بات ہے۔ میں اپنے لڑکے کو ریاضی کا ہوم ورک کروا رہا تھا اور دسیوں مرتبہ سمجھانے کے باوجود وہ غلطیوں پر غلطیاں کیے جا رہا تھا۔ تب جذبات میں آ کر میری آواز بلند ہو گئی تھی۔ اور میرا ہاتھ اٹھنے کے قریب ہی تھا کہ بیگم نے روکتے ہوئے کہا تھا، اس طرح غصہ کر کے آپ بچوں کو سکھا نہیں پائیں گے۔ آپ کے ایسے رویے سے تو تعلیم ان پر بوجھ بن جائے گی۔ اور میں نے کہا تھا کہ اچھا اب تم مجھے سمجھاؤ گی کہ کیسے پڑھانا ہے!! ! تم اپنا کام کرو، مجھے لیکچر مت دو۔ اس کے بعد لڑکا سہم گیا تھا۔۔۔۔ ڈر گیا تھا اور نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی غلطیوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔

ہاں!! ! میں نے بیگم کی بات پر اکیلے میں غور کیا۔ وہ صحیح تھی کہ تمام بچوں کے سیکھنے کی رفتار یکساں نہیں ہوتی اور یوں بھی نہیں ہوتا کہ سبھی طلبہ یکساں تعلیمی سطح پر ہوں لیکن اس کے باوجود میرے برتاؤ میں کچھ تبدیلی نہیں آئی تھی۔

اب میں نے من ہی من طے کیا کہ کل اسکول جاتے ہی سب سے پہلے اس بات کا پتہ لگاؤں گا کہ وہ بچے کہاں کمزور ہیں۔ تعلیمی مطالعے کی کس سطح پر ہے۔ اور ان کی کمزوری کی وجہ کیا ہے۔ ٹھبک سنچن کی طرح خود ان کے پاس جا کر، ان کی ضرورت کے مطابق ان کی رہنمائی کروں گا۔ ان پر محنت کر کے ان کی کمزوری کو دور کرنے کی کوشش کروں گا۔ ان شاء اللہ بہت جلد ان تینوں کو دوسرے تمام بچوں کی طرح ہرے بھرے وہ لہلہاتے ہوئے بنا دوں گا۔ میں صبح سے ہی ان پر کام کرنا چاہتا تھا۔ رات بھر پل پل دوڑتے خیالات کا جھنڈ دشمنوں کی طرح میرے ذہن پر وار کرتا رہا۔ جانے کیوں طبعیت مغموم ہو گئی تھی۔ رنجیدگی نے چاروں طرف کشمکش اور اضطراب کا جال بن دیا تھا۔ کروٹیں تبدیل ہوتی رہیں۔ کوئی دم سکون نا ملا اور رات بھرمیں سو نہیں سکا۔

دوسرے دن ایک مقصد کے ساتھ میں اسکول گیا۔ بچے دھیرے دھیرے اسکول آ رہے تھے۔ میں پہلے ہی اسکول پہنچ چکا تھا۔ ان تمام بچوں میں میری نظریں صرف انھیں ہی ڈھونڈ رہی تھیں۔ مجھے آج سے ہی ان پر کام کرنا تھا، محنت کرنا تھا۔ تینوں میں سے ایک اسکول کے گراؤنڈ میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر مایوسی اور نا امیدی دیکھ کر مجھے بہت ترس آیا۔ آج پہلی بار میں نے اسے ہمدردی کی نظروں سے دیکھا تھا۔ اس کے خشک مٹیالے چہرے سے اداسی برس رہی تھی۔ بوسیدہ کپڑوں سے غربت ٹپک رہی تھی۔ ملگجی آنکھوں سے معصومیت جھلک رہی تھی۔ اور طبعیت سہمی سہمی نظر آ رہی تھی جسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے ایک انجانے خوف نے اپنی گرفت میں کر رکھا ہو۔ اس کی حالتِ ناداری چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ وہ اسکول اپنی مرضی سے نہیں آیا تھا بلکہ اسے لا کر پٹخ دیا گیا تھا۔

اور میں بار بار انھیں مٹھا۔۔ مٹھا۔۔ کہہ کر ان کی روح کو جھنجھوڑ رہا تھا۔ وہ تو معصوم تھے، بے بس تھے، ایک بے زبان جانور کی طرح۔ جو اپنی بات چاہ کر بھی کہہ نہیں سکتے۔ اور کوئی سننے کے موڈ میں ہو تب نا۔ میں بھی بچوں کی کہا سنتا ہوں۔ ایک روز بلیک بورڈ کے سامنے کھڑا ہو کر تھوڑی دیر بک بک کرنے کے بعد میں اپنے اینڈرائڈ موبائل میں کھو گیا تھا۔ اسی وقت ایک بچے نے مجھ سے کہا کہ سر میری سمجھ میں نہیں آیا اور میں اس پر برس پڑا تھا کہ تُو تو پکانا لائق ہے، دکھتا نہیں میں ضروری کام کر رہا ہوں، چپ چاپ اپنی جگہ بیٹھ جا۔ اس کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات اور اس کے بڑھتے ہوئے قدموں کو میں نے اپنے عتاب کی قبر میں دفن کر دیا تھا۔ جبکہ میں ہی تو انھیں کہتا تھا جو جتنا زیادہ پوچھتا ہے اتنا زیادہ سیکھتا ہے۔

پچیس میں سے چوبیس بچے اسکول آ چکے تھے۔ باقی رہا ایک کمزور بچہ جس کا نام ارمان تھا۔ جسے ابھی تک میری نظر یں تلاش کر رہی تھیں، آیا نہیں تھا۔ بچے اپنی اپنی کلاسیس میں جا چکے تھے۔ جماعتوں میں پڑھائی شروع ہو چکی تھی۔ وقت کافی ہو چکا تھا۔ نظریں اس کا انتظار کر رہی تھیں۔ جب زیادہ وقت گزر گیا تو میری بے چینی اور بڑھ گئی۔ تب میں نے ایک بچے کو اس کے گھر روانہ کیا کہ اسے بلا لائے۔ بلانے گیا بچہ واپس آیا تو وہ اکیلا ہی تھا۔

میں نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ ۔۔۔ کیا ارمان نہیں آیا؟

’’نہیں سر۔۔۔۔ وہ نہیں آیا اور اس کے ابا نے کہے کہ ارمان ساتویں جماعت میں آ گیا ہے لیکن ابھی تک اسے پڑھنا لکھنا بھی نہیں آ رہا ہے۔ اس سے تو بہتر یہی ہے کہ وہ کچھ محنت مزدوری کرے اور ہمارا سہارا بنے۔ اس لیے ارمان اب سے کام پر جائے گا، اسکول نہیں آئے گا۔‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

 

اشک پشیمانی کے

 

خون میں لت پت، مجبور و لاچار ہو کر وہ سڑک کے درمیان پڑی تھی۔ آنے جانے والے لوگ دور دور سے دیکھ رہے تھے۔ وہ تڑپ رہی تھی اور جانکنی کے عالم میں اپنی پوری قوت مجتمع کرتے ہوئے مدد کو پکار رہی تھی، پر کوئی مدد کے لیے آگے نہیں بڑھ رہا تھا، اس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔ پھر ایک کار رکی، اس میں سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اسے اپنی کار میں ڈال کر اسپتال لے گیا۔ روشنی نے سورج کو بہت روکا تھا کہ یوں انجان راہوں میں گاڑی روک کر کسی کی مدد کے لیے بھاگنا اسے پریشانیوں میں مبتلا کر سکتا ہے پر سورج سے رہا نہیں گیا اور اس نے اسے اسپتال پہنچا کر ہی دم لیا۔ گھر پہنچتے ہی پولیس اسٹیشن سے فون آیا اور سورج کو پولیس تھانے بلایا گیا۔

اس پر روشنی کافی جھلا گئی۔ اس نے جھنجلاتے ہوئے اپنے شوہر سورج سے کہا ’’اس لیے میں نے آپ کو روکا تھا، اب کام کاج چھوڑ کر کاٹو پولیس اسٹیشن اور کورٹ کچہری کے چکر، کہیں یہ مدد کرنا تمہارے گلے کی ہڈی نہ بن جائے۔‘‘

’’کسی بھی حادثے کے وقت زخمیوں کو فوراً اسپتال پہچانا ہمارا فریضہ ہے، کیا پتا کسی کی زندگی بچ جائے۔ قانونی کاروائی میں اگر کچھ پریشانی ہوتی ہے تو کیا ہوا۔ انسانیت تو ہر قانون سے اعلی و افضل ہے، جب انسان ہی انسان کی مدد نہیں کرے گا تو کون کرے گا!‘‘

’’تم ہر بات میں اپنی چلاتے ہو کبھی میری بات بھی سن لیا کرو‘‘

’’تم بات سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتی ہو اس لیے ہم دونوں میں اکثر بحث ہو جاتی ہے۔‘‘

چند روز بعد روشنی نے سورج سے کہا ’’بہت دن ہو گئے ہم کہیں گھومنے نہیں گئے، چلو کہیں گھومنے چلتے ہیں۔‘‘

’’ ٹھیک ہے بولو کہاں چلیں‘‘

’’ایسا کرتے ہیں، اجنتا ایلورا کے غار دیکھنے چلتے ہیں‘‘

سورج نے ہامی بھرتے ہوئے اپنی کار نکالی، روشنی نے ضر وری سامان ساتھ لے لیا اور دونوں مشہور زمانۂ غار دیکھنے نکل پڑے۔ سفر اچھا کٹ رہا تھا اور ان کی کار ہوا سے باتیں کر رہی تھیں۔ اسی دوران راستے میں ایک بکری اپنے چار بچوں کے ساتھ جا رہی تھی، اس میں سے ایک بچے کا پیر کہیں پھنس گیا اور وہ پیچھے رہ گیا، وہ چلا رہا تھا پر بکری کو اس کی خبر نہ ہوئی۔ سورج نے جب یہ منظر دیکھا تو اس نے اپنی کار روکی، اس بچے کا پھنسا ہوا پیر نکالا اور اسے آزاد کیا۔

یہ دیکھ کر روشنی بولی ’’ آپ کی یہ بھلائی کی عادت کسی دن بہت بڑی مصیبت میں ڈال دے گی‘‘ سورج جواب میں صرف مسکرایا اور کار کا اسٹیرنگ سنبھال کر گاڑی کو بیک کرنے لگا۔ اجنتا ایلورہ سے واپسی کے بعد ایک دن روشنی اپنے موبائل میں گم سڑک پار کر رہی تھی۔ سامنے سے آنے والی گاڑیوں کا اسے احساس ہی نہ ہوا اور وہ سڑک حادثے کا شکار ہو گئی۔ اس کے سر میں گہری و اندرونی چوٹیں آئیں، خون بہت بہہ گیا۔ کئی دنوں تک وہ زیر علاج رہی تب کہیں جا کر اسے ہوش آیا۔

جب وہ ہوش میں آئی تو ڈاکٹر نے اسے بتایا ’’تم بڑی خوش قسمت ہو کہ ایک انجان شخص تمھیں بروقت اسپتال لے آیا۔ اگر وہ شخص وقت پر تمھیں نہ لاتا تو آج تم موت کے منہ میں جاچکی ہوتی، اور اگر تمہاری جان بچ بھی جاتی تو تم کوما میں ہوتیں۔‘‘

ڈاکٹر نے روشنی کو یہ بھی بتایا کہ وہ شخص اسے اسپتال پہنچا کر چلا گیا۔ یہ سنتے ہی روشنی کو بڑا جھٹکا لگا اور اسے اپنے شوہر سورج سے کی جانے والی بحثیں یاد آ گئیں۔ اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ وہ انجان شخص کون تھا کسی کو نہیں معلوم، روشنی تقریباً دو ماہ بستر علالت پر رہنے کے بعد گھر واپس آ گئی ہے لیکن اس کی نگاہیں اب بھی اسی انجان شخص کو ڈھونڈتی ہیں۔ اب روشنی اکثر سوچتی رہتی ہے کہ اگر اس مسیحا نے وقت پر اس کی مدد نہ کی ہوتی تو آج وہ اس دنیا میں نہ ہوتی۔ وہ اس سے مل کر ایک مرتبہ اس کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہے۔ اس حادثے کے بعد اس کی نظروں میں سورج کی اہمیت اب ایک دیوتا کی ہو گئی ہے جو اکثر زمین پر اتر کر مدد کے متمنی افراد کی مدد کرتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

وفا

 

باپ بیٹے میں آج پھر تو تو میں میں ہو گئی تھی۔ بیٹے نے کہا ’’آپ ہماری زندگی کو اور جہنم کیوں بنا رہے ہیں۔ آپ ہم کو اکیلا چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔‘‘ باپ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں، اور بھر رائی آواز میں کہا ’’جب سب کی پریشانی کی وجہ میں ہوں تو میں اس گھر میں کر کیا رہا ہوں؟ ۔ بیٹا۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ تم ہمیشہ خوش رہو۔۔۔۔۔۔ تم جیو اپنی زندگی۔۔۔۔ میں چلا اس گھر سے۔۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر باپ جانے لگا تو بیٹے نے روک لیا اور کہا ’’آپ یوں ہی چلے جائیں گے تو اس میں ہماری بدنامی ہو گی، لوگ ہم کو برا کہیں گے۔ میں آپ کو آشرم چھوڑ دوں گا، آپ اپنی تیاری کر لیں۔‘‘

وقت شام کو بیٹا اپنے بوڑھے باپ کو آشرم چھوڑنے جا رہا تھا۔‘‘ دونوں باپ بیٹے خاموش گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے راستے پر چلتے جا رہے تھے۔ خیالات کا ہجوم دونوں کے دماغ میں برابر امڈ رہا تھا۔ باپ سوچنے لگا ’’جو روز مجھ سے کہانی سنے بنا نہیں سوتا تھا آج وہ میری کوئی بات نہیں سنتا۔‘‘ یہ وہی بیٹا تھاجس کو نوکری ملنے پر باپ نے پورے محلے میں مٹھائی بانٹی تھی۔ اسی باپ نے اپنے بیٹے کا رشتہ بہت بڑے گھر میں کر کے بہت خوشی منائی تھی اور ہم غریب ہیں، گھر چھوٹا، آنے والی بہو بڑے گھر کی یہ سوچ کر گھر کو عالیشان بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ جب بہو گھر آئی خوشیاں ساتھ لائی لیکن ان خوشیوں کی عمر زیادہ لمبی نہ ہوئی۔ بہو نے جلد اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا اور کچھ ہی دنوں میں گھر کا منظر ہی بدل گیا۔

بیٹا اپنے بوڑھے باپ کو آشرم میں چھوڑ کر بس سے گھر واپس جا رہا تھا۔ راستے میں اس نے دیکھا کہ پل پر کھڑے ایک شخص نے اپنی گود میں کھیل رہی بلّی کو ندی میں پھینک دیا۔ بلّی بار بار اپنے آپ کو پانی سے اوپر لانے کی کوشش کرتی اور پھر ندی کی گہرائی میں چلی جاتی۔

اسی بس میں اس کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی۔ وہ شخص اس کے والد کا بہت پرانا دوست تھا۔ اس شخص نے اسے پہچان لیا اور کہا ’’دیکھو۔۔۔۔ بیٹا یہ تمہارے بچپن کی تصویر ہے جس میں تمہارے والد تم اور میں بھی ہوں۔‘‘ اس نے تصویر ہاتھوں میں لی اور پوچھا ’’یہ تصویر کہاں کی ہے؟‘‘ اس شخص نے کہا ’’یہ فوٹو شہر کے مشہور کالج کے گراؤنڈ کی ہے۔ یہ کالج کی زمین تمہارے والد کی تھی۔ تمہاری بیماری میں بہت پیسہ خرچ ہو گیا تھا۔ علاج کے لیے مزید پیسوں کی ضرورت تھی اور کہیں سے بھی انتظام نہیں ہو رہا تھا اس لیے تمہارے والد نے تمہارے علاج کے لیے یہ زمین فروخت کر دی۔ وہ بڑے خوش قسمت ہیں کہ انھیں تم جیسا خدمت گزار بیٹا ملا ہے۔ بیٹا۔۔۔ یہ سب اچھی پرورش کا نتیجہ ہے۔ میں نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر کبھی دھیان ہی نہیں دیا۔‘‘ یہ سنتے ہی اسے ایک جھٹکا لگا اور محسوس ہوا کہ بلّی کی طرح اسے ندی کی گہرائی میں پھینک دیا گیا ہے اور اس کا دم گھٹتا جا رہا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

پریشانی

 

وہ ہر بات مان لیا کرتی تھی۔۔۔۔ بلا تا مل۔۔ ہر حکم سر آنکھوں پر۔۔۔۔ جب میں کچن میں کوئی کام کرتی تو وہ میرے ہاتھوں سے چھین لیتی اور کہتی اب آپ کی بیٹی بڑی ہو گئی ہے، آپ صرف آرام کیجیے۔ جب میں اسے کہتی کہ ایک راج کمار آئے گا تجھے گھوڑے پر بٹھا کر لے جائے گا، تیرے سارے ناز اٹھائے گا تو وہ شرما جاتی اور کہتی مجھے نہیں کرنا شادی وادی۔

میری امید بھری خشک آنکھوں نے اس کے لیے کئی خواب بنے تھے۔ جب وہ تھوڑی بڑی ہوئی تو بھاگتی دوڑتی، اچھلتی کودتی پورے گھر کو روشن کرنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہماری نظروں کے سامنے وہ نجانے کب بڑی ہو گئی، پتا ہی نہیں چلا۔۔۔۔ کالج جانے لگی۔۔۔۔ ایک دن ہم سب اس کی نانی کے گھر جا رہے تھے۔ راستے میں ہماری گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ وہ مجھ سے اس طرح لپٹ گئی جیسے میرا غلاف بن گئی ہو، میرے حصے کے بھی سارے زخم اسے لگے۔ اس کا پیر بری طرح زخمی ہو گیا تھا، بہت خون بہا، مجھے ایک خراش تک نہیں آئی اور اس کا ایک پیر کاٹنا پڑا۔

زخم بھر جانے کے بعد وہ کالج جانے لگی تھی۔ ’’اپاہج۔۔۔۔ معذور۔۔۔۔ لنگڑی‘‘ جیسے لفظوں کی چاروں طرف گونجتی آوازیں اس کے کانوں کو نا گوار گزرتی تھیں۔ سب اس کا مذاق اڑانے لگے تھے اور اس نے کالج جانا بند کر دیا۔

اس کے بابا ہر وقت کہتے تھے ’’میری گڑیا کی شادی بڑی دھوم دھام سے کروں گا۔۔۔۔ سب دیکھتے رہ جائیں گے۔۔۔۔ دیکھ لینا۔‘‘

انھیں ہر وقت اب اس کی شادی کی فکر ستانے لگی تھی، چہرے پر ہمیشہ کھیلتی کودتی مسکراہٹ نجانے کہاں غائب ہو گئی تھی، ہر وقت ما تھے پر فکر کی لکیریں میری جان نکال لیتی تھی، ان کی یہ حالت اب مجھ سے دیکھی نہیں جاتی تھی۔ جو بھی رشتہ آتا اس کی محرومی کو دیکھ کر لوٹ جاتا تھا۔

ایک روز وہ ہال میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔ اسی وقت میں نے اسے چائے بنا نے کا حکم دیا، وہ اٹھی، کچن میں گئی، گیس کا چولہا جلانے کے لیے لائٹر شروع کیا، ایک زور کا دھماکہ ہوا، لمبی لمبی آگ کی لپٹیں اٹھیں، وہ جل کر خاک ہو گئی اور میں خاموش کھڑی، آنکھوں سے جاری بے اختیار آنسوؤں کے ساتھ اس کے بابا کی طرف دیکھ کر من ہی من میں بول رہی تھی ’’میں نے آپ کی پریشانی دور کر دی۔‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

 

کرب

 

ماہ رمضان کی آمد کا بے صبری سے انتظار اور اس بابرکت مہینے میں مختلف قسموں کی چیزوں کا مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ صرف روزہ دار ہی اس کی اصل لذت کا تذکرہ کر سکتا ہے۔ بازار مختلف رنگین قمقموں سے سج چکے تھے۔ کہیں کہیں مسجدیں بھی سجائی جا چکی تھیں۔ ساتھ ہی بازار بھی لذت دار میووں، پھلوں اور مشروبات سے شرابور تھے۔ واقعی ماہ رمضان رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔ کہتے ہیں اس ماہ میں جو شخص ۱۱مہینوں میں جتنی کمائی نہیں کرتا اتنی کمائی اس ایک مہینے میں کر لیتا ہے۔ بازار، فٹ پاتھ اور ہوٹلوں میں افطاری کے لیے طرح طرح کی اشیاء بڑی بہترین طریقوں سے سج دھج کر خرید و فروخت کے لیے تیار تھیں۔ نمازی، روزہ دار اور دیگر افراد کی چہل پہل سے رونقیں بہار بکھر رہی تھیں۔ بچے، بوڑھے اور خواتین بازاروں اور فٹ پاتھ پر افطاری کی خرید و فروخت میں بڑے مصروف ترین نظر آ رہے تھے۔ لوگ وقتی طور سے سجائے گئے جگہوں اور ہوٹلوں کے باہر جمع ہو کر اپنی اپنی پسندیدہ چیز یں خرید رہے تھے۔ اس مہینے میں اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر صلہ رحمی کا معاملہ ضرور فرماتا ہے۔ ان مصروف جگہوں کے درمیان ایک پھٹی پرانی ساڑی میں ملبوس نہایت ضعیف الجثہ خاتون ساڑی کے پلو سے بار بار اپنے ماتھے پر بہنے والے پسینے کو پوچھتی ہوئیں افطاری کی اشیاء فروخت کرنے کی غرض سے فٹ پاتھ کے ایک کونے میں خریداروں کے انتظار میں منہمک تھیں۔ پر افسوس کہ خریدار اس بے چاری خاتون کے آمنے سامنے سے آ جا رہے تھے لیکن کوئی بھی اس سے کچھ بھی نہیں خرید رہا تھا۔ یہ ضعیف خاتون روزانہ گاہکوں کا انتظار کرتیں اور اذان کی آواز کانوں میں پڑتے ہی پورا سامان لیے گھر کی طرف لوٹ جاتیں۔ آج بھی شام کے وقت وہ بڑی امیدوں سے افطاری کا سامان لیے اللہ کے نیک بندوں، روزہ داروں کو فروخت کرنے کی غرض سے اسی مقام پر بیٹھ گئیں۔ اور روزمرہ کی طرح ساڑی کے پلو سے ماتھے کا پسینہ پوچھتی رہیں۔ اس کے لب پر کسی کے لیے بھی کوئی شکوہ نہیں تھا۔ یکا یک اس کے ٹھیلے کے سامنے ایک شاندار قیمتی کار آ کر رک گئی۔ خاتون کی نظریں اس کار پر پڑیں، کچھ پل بعد کار کا دروازہ کھلا۔ اس میں سے سفید پوشاک پہنے ایک سفید داڑھی والے عمر دراز بابا باہر نکلے، خاتون کے قریب گئے انھیں میٹھے لہجے میں سلام کیا۔ ان کے پاس بیٹھ گئے جیسے وہ ان کی والدہ ہو۔ انھوں نے خاتون سے پورے سامان کی قیمت پوچھی اور قیمت ادا کر کے وہ سارا افطاری کا سامان لے کر چلے گئے۔ کسی کے پوچھنے پر ضعیف خاتون نے پہلے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو آسمان کی طرف اُٹھا کر اللہ کا شکر ادا کیا اور اس خریدار کو ڈھیروں دعائیں دینے لگیں اور اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہنے لگیں، میرا بیٹا اور بہو مجھ پر زیادتی کر کے یہ اشیاء فروخت کرنے بھیجتے ہیں۔ نہ بکنے پر کئی مرتبہ مجھے بھوکی بھی سونا پڑتا ہے۔ لیکن آج اللہ کے فضل و کرم سے میرا پورا سامان بک گیا۔ آج گھر پہنچ کر حساب دوں گی اور پیٹ بھر کھانا کھاکر پر سکون نیند سو جاؤں گی۔ یہ کہتے ہوئے خاتون کے آنکھ سے آنسو جاری ہو گئے۔

٭٭٭

 

 

 

 

تاثرات

 

وسیم عقیل شاہ ممبئی۔۔۔ علیم اسماعیل ہماری نسل کے تازہ دم افسانہ نگار ہیں انھوں نے کم وقت میں کافی کچھ اچھا لکھ لیا۔ تاہم مجھے ان کی تین کہانیاں ’’انتظار‘‘، ’’خوف ارواح‘‘ اور ’’خطا‘‘ زیادہ پسند ہیں۔ دلچسپ یہ کہ ان میں کرداروں کے پاکیزہ جذبات قارئین کے احساسات سے بہت جلد وابستگی اختیار لیتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ یہ کہانیاں پہلے الہامی صورت لیے علیم اسماعیل کے ذہن و قلب پر نقش ہوئی ہوں گی۔

 

پروفیسر مبین نذیر مالیگاؤں۔۔۔ علیم اسماعیل ایک نبض شناس قلم کار ہیں۔ جنھوں نے قلیل مدت میں اپنی منفرد شناخت بنائی ہے۔ ان کے افسانوں میں عصری حسیت، موضوع کی جدت و ندرت اور تنوع کے ساتھ ساتھ روایت و جدے دیت کا امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ درس و تدیس سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ان کے یہاں تعلیم سے متعلق تخلیقات کثرت سے پائی جاتی ہیں۔

عقیلہ دہلی۔۔۔ تمہاری کہانی ’’خطا‘‘ وقتی فائدے کے لیے کسی کو استعمال کرنے کا عبرتناک المیہ ہے۔ جس میں ٹوٹتی بکھرتی امیدیں، دم توڑتی خواہشات اور کشمکش حیات کو دلکش انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

تنویر کوثر یوپی۔۔۔ علیم عصر حاضر کے ابھرتے ہوئے افسانہ نگار ہیں۔ ان کے افسانے حقیقی زندگی کے ترجمان ہوتے ہیں۔ زر، زن اور زمین کی ہوس میں خونی رشتے کب خود غرضی کا چولا پہن لے کوئی نہیں بتا سکتا۔ افسانہ ’’الجھن‘‘ ایک ایسی ہی کہانی ہے جس میں دو بھائیوں کا مضبوط بندھن نفسانیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور کہانی کا اختتام قاری کو چونکا دیتا ہے۔

ایاز الدین اشہر۔۔۔ افسانہ ’خوف ارواح‘ کا طرز تحریر کی جادوگری اور پیشکش کی دلکشی کیا خوب ہے۔ قلم کار نے ایک بھائی کی اپنی بہن سے والہانہ محبت کو بڑے ہی اچھے ڈھنگ سے پیش کیا ہے۔

 

 

 

شخصی کوائف

 

نام۔۔۔۔۔۔ محمد علیم

والد محترم۔۔۔۔۔۔ محمد اسماعیل

والدہ محترمہ۔۔۔۔۔۔ محمودہ بی (مرحومہ)

بڑے بھائی۔۔۔ ایڈوکیٹ شیخ یوسف

قلمی نام۔۔۔۔۔۔ محمد علیم اسماعیل

تعلیمی لیاقت۔۔۔ ایم اے۔ بی ایڈ۔ یو جی سی نیٹ۔ ایم ایچ سیٹ(اردو)

جائے پیدائش۔۔۔۔۔۔ ناندورہ( ضلع بلڈانہ، مہاراشٹر)

ادبی بلاگ۔۔۔ bahareurdu22.blogspot.in

پہلی کاوش۔۔۔ علامہ اقبال کی باتیں (مضمون۔ مطبوعہ اردو ٹائمز ممبئی۔ (30/10/2013

پہلا افسانہ۔۔۔ خیالی دنیا (مطبوعہ ممبئی اردو نیوز۔ (31/08/2016

پہلا افسانچہ۔۔۔ شرمندگی(مطبوعہ عالمی انوارِ تخلیق رانچی موسم گرما 2017)

ملازمت۔۔۔ درس و تدریس ( شعبۂ تعلیم ضلع پریشد بلڈانہ، مہاراشٹر)

ادبی مشاغل۔۔۔۔۔۔ افسانچہ نگاری، افسانہ نگاری اور مضمون نگاری

انعامات و اعزازات

1۔ ’’آئی سی ایم گریٹ سکسیس ایوارڑ 2015‘‘۔۔۔ آئی۔ سی۔ ایم انسٹی ٹیوٹ ناندورہ کی جانب سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کورس میں صد فیصد نمبرات حاصل کرنے پر۔

2۔ آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس اسوسی ایشن ناندورہ کی جانب سے یو جی سی نیٹ اور ایم ایچ سیٹ امتحانات کوالیفائی کرنے پر 22اپریل 2018 کو اعزاز کیا گیا۔

3۔ مہا راشٹر کی ریاستی تنظیم اموس۔ AMUSS کی جانب سے ’’ طالبِ ادب ایوارڈ 2018‘‘

عہدے

صدر۔۔۔ فکشن اسو سی ایشن ناندورہ (FAN)

ضلع نائب صدر۔۔۔ اکھل مہاراشٹر اردو شکشک سنگھٹنا، ضلع بلڈانہ، مہاراشٹر (AMUSS)

رکن۔۔۔ آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس اسوسی ایشن ناندورہ (AIITA)

رکن۔۔۔ ادبِ اسلامی ناندورہ

رکن۔۔۔ مہاراشٹر پراتھمک شکشک سنگھ، ناندورہ

رابطہ

08275047415

mohdalim82@gmail.com

https: //www.facebook.com/mohd.alim.965

ADRESS

Mohd Alim Ismail

Ward No.15, Behind Police Station

At.Post.Taluka-Nandura(443404)

Dist-Buldana(Maharashtra)

PIN-443404

٭٭٭

تشکر: مصنف جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

ان پیج سے تبدیلی تدوین اور ای نک کی تشکیل: اعجاز عبید

 

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل