FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

فہرست مضامین

اسلام میں جسمانی و ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ

 

 

محمد مبشر نذیر

mubashir.nazir@gmail.com

mubashirnazir100@gmail.com

 

 

November 2008

 

 

انتساب

 

 

 

 

تاریخ انسانی کے ان افراد کے نام جو انسان کو انسان کی غلامی سے نکالنے کی جدوجہد میں مصروف عمل رہے۔

 

 


 

دیباچہ

 

انسان نے انسان پر جو ظلم کیے ہیں، ان میں سب سے بڑا ظلم غلامی ہے۔ نسل انسانیت پر اتنے ظلم کسی اور مخلوق نے نہ کیے ہوں گے جتنے خود انسانوں نے دوسرے انسانوں پر کیے ہیں۔ دور قدیم ہی سے انسان کو غلام بنانے کا رواج رہا ہے۔ ایک گروہ جب طاقت اور توانائی کے نئے ذخائر دریافت کر بیٹھتا تو وہ اپنے بھائیوں ہی کے دوسرے گروہوں پر حملہ کر کے انہیں غلام بنا لیتا۔ جہاں طاقت کام نہ آتی، وہاں مختلف ہتھکنڈوں سے اپنے ہی بھائیوں کو ذہنی اور نفسیاتی غلام بنا لیا جاتا۔

جس دور میں دنیا میں غلامی کا سماجی ادارہ اپنے عروج پر رہا ہے ، اسی دور میں دنیا میں اللہ تعالی نے اپنے رسولوں کو دنیا میں بھیجا ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اللہ کے رسول اس دنیا میں آئیں اور اس خلاف انسانیت ادارے سے چشم پوشی برتیں۔ موجودہ دور میں دین اسلام پر جو اعتراضات کئے گئے ہیں ان میں میرے نزدیک سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اسلام نے غلامی کے ادارے کو قبولیت کی سند عطا کی ہے۔

ظاہر ہے کہ اگر یہ الزام درست ہو تو خود اسلام کے بارے میں یہ شبہ پیدا ہو جاتا ہے کہ یہ واقعتاً خدا ہی کا دین ہے بھی یا نہیں کیونکہ خود قرآن میں اللہ تعالی نے مساوات اور عدل کا درس دیا ہے۔ اگر اسلام غلامی کی حمایت کرتا ہے یا کم از کم اسے قبول ہی کرتا ہے تو پھر معاذ اللہ خود اسلام میں تضاد پیدا ہو جاتا ہے کہ ایک طرف انسانیت، مساوات اور عدل کا درس اور دوسری طرف غلامی کی قبولیت؟ اس قسم کا تضاد کم از کم خدا کے دین میں نہیں ہو سکتا۔

اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے میں نے دور جدید کے بہت سے مسلم مفکرین کی کتب کا مطالعہ کیا۔ ان میں روایتی علماء سے لے کر جدید طرز فکر کے علماء اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کے ہاں بہت سے سوالات کو تشنہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں مستشرقین کے لٹریچر کے مطالعے کی بھی تفصیلی ضرورت محسوس ہوئی کیونکہ انہوں نے جس دقت نظر سے اس موضوع کا جائزہ لیا ہے ، اس کا عشر عشیر بھی مسلم علماء کے ہاں موجود نہیں ہے۔ اس صورتحال نے مجھے مجبور کیا کہ میں چودہ صدیوں کے پورے لٹریچر کا تفصیلی مطالعہ کر کے حقیقت کو جاننے کی کوشش کروں۔ یہ کتاب اسی تحقیق کے نتائج پر مشتمل ہے۔

شروع میں میرا خیال تھا کہ اس مسئلے کے حل کے لئے غلامی سے متعلق قرآن مجید کی تمام آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کی تمام احادیث کو اکٹھا کر لیا جائے تو یہ کافی رہے گا۔ جب میں نے مطالعہ شروع کیا تو معلوم ہوا کہ اس مسئلے کہ بہت سی جہتیں (Dimensions) ہیں۔ اس کے نتیجے میں مجھے قرآن و حدیث کے علاوہ بہت سے دیگر علوم کی کتب کا مطالعہ کرنا پڑا جن میں فقہ، اصول فقہ، علم رجال، تاریخ، قدیم و جدید مسلم مفکرین اور مصلحین کی کتب اور مستشرقین کی کتب شامل ہیں۔

اس کتاب میں میں نے یہ بھرپور کوشش کی ہے کہ ہر قسم کی معلومات کا تجزیہ بالکل غیر جانبداری سے کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں قرآن مجید میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ کسی بھی قوم کے بارے میں بھی ناانصافی سے کام نہ لیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مقامات پر میں نے مسلمانوں کی تاریخ اور قوانین پر بھی کڑی تنقید کی ہے اور جہاں جہاں غیر مسلم اقوام کے ہاں کوئی مثبت اقدام ملا ہے تو اس کی تعریف بھی کی ہے۔ یہ کتاب کسی قوم، مذہب یا نقطہ نظر کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد معروضی طور (Objectively) پر چند سوالات کا جواب حاصل کرنا ہے۔

یہ کتاب تحقیق کی تفصیلات کی بجائے اس کے نتائج پر مشتمل ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ یہ اعتراض کریں کہ یہ کتاب اسلام کے حق میں ایک متعصبانہ کتاب ہے۔ ان حضرات سے میری یہ گزارش ہے کہ وہ اس کتاب کے تمام مندرجات کو چھوڑ کر قرآن، حدیث اور مسلم و غیر مسلم اہل علم کے جو اقتباسات میں نے پیش کئے ہیں، صرف ان ہی کا مطالعہ کر لیں۔ اگر انہیں میرے کئے ہوئے ترجمے پر اعتماد نہیں ہے تو بصد شوق خود ترجمہ کر لیں یا کسی اور سے اس کا ترجمہ کروا لیں۔ اس کے بعد اگر وہ میرے بیان کردہ نتائج  سے کسی مختلف نتیجے پر پہنچتے ہیں تو مجھے اپنے نتائج فکر لکھ بھیجیں تاکہ اس مسئلے پر مزید غور و فکر کیا جا سکے۔

اس کتاب کی تیاری کا سارا کریڈٹ میرے دوست محسن علی زین کو جاتا ہے جنہوں نے اس کتاب کے لکھنے کی حقیقی تحریک میرے اندر پیدا کی۔ ان کے علاوہ میں اپنے دوست ریحان احمد یوسفی کا شکر گزار ہوں جن سے اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر میری بحث جاری رہی۔ میں اپنے استاذ محمد عزیر شمس صاحب کا بھرپور شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنا قیمتی وقت نکال کر قدیم مسلم مصنفین کی کتب سے متعلق مجھے نہایت ہی مفید معلومات فراہم کیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میں ان تمام اداروں، محققین اور آئی ٹی ماہرین کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے چودہ صدیوں کے اسلامی لٹریچر کو سافٹ کاپی کی صورت میں انٹرنیٹ پر مہیا کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں جس کام کے لئے کم از کم دو سال درکار تھے، وہ محض دو ماہ میں ممکن ہو سکا ہے۔

کتاب کے آخر میں میں نے اسلام اور غلامی کے حوالے سے ایک ببلیو گرافی (Bibliography) تیار کرنے کی کوشش کی ہے جو اس موضوع پر مزید تحقیق کرنے والوں کے لئے ممد و معاون ثابت ہو گی۔

جو احباب اس کتاب کو پڑھیں، وہ بلا تکلف اس سلسلے میں اپنے تاثرات، آراء اور سوالات لکھ بھیجیں تاکہ ان کی روشنی میں اس کتاب کو مزید بہتر بنا دیا جائے۔ اس کے بعد ارادہ ہے کہ انشاء اللہ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ کر کے غیر مسلم محققین اور مستشرقین تک پہنچایا جائے تاکہ ان کے سامنے حقیقت کو آشکار کیا جا سکے۔ اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

 

محمد مبشر نذیر

mubashirnazir100@gmail.com


 

 

 

 

 

 

حصہ اول: غلامی کا تعارف

 

 

 

 

 

باب 1: غلامی کا تعارف

 

دور قدیم ہی سے دنیا میں انسان، اپنے جیسے دوسرے انسانوں کو اپنا غلام بنایا کرتے تھے۔ غلامی کے آغاز کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ممکن نہیں ہے۔ انسانیت کی معلوم تاریخ میں پائے جانے والے قدیم قوانین کا مجموعہ، بابل کے بادشاہ حمورابی (1796 – 1750 BC) کے قوانین کا ہے۔ یہ قوانین اب سے کم و بیش 3800 سال پہلے بنائے گئے۔ ان قوانین کے مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں عام لوگوں کے علاوہ اولاد کو بھی اپنے والدین کی غلام سمجھا جاتا تھا اور اس کی خرید و فروخت کو بھی ایک نارمل بات سمجھا جاتا تھا۔

 

غلامی کی تعریف

 

غلامی کی متعدد تعریفات کی گئی ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں:

ایک شخص کو دوسرے کی ملکیت میں مال و جائیداد کی طرح دے دیا جائے۔ (انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا)

ایک شخص کی دوسرے پر قبضے کی ایسی حالت کہ جس میں قابض کو وہ تمام اختیارات حاصل ہو جائیں جو اسے اپنے مال و جائیداد پر حاصل ہوتے ہیں۔

(غلامی سے متعلق کنونشن 1927، سیکشن 1، http://www.unhchr.ch  )

مجموعی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ غلامی ایسی حالت کا نام ہے جس میں کوئی انسان دوسرے کے تابع ہو کر اس طرح سے زندگی بسر کرے کہ اس کے تمام فیصلوں کا اختیار اس کے آقا کے پاس ہو۔

 

غلامی کا آغاز

 

جب سیدنا نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسل دنیا کے مختلف علاقوں میں جا کر آباد ہوئی تو انہوں نے ہر جگہ مختلف معاشرے تشکیل دیے۔ غلامی کے آغاز سے پہلے یقینی طور پر وہ فضا تیار ہوئی ہو گی جس میں غلامی کا ادارہ پروان چڑھا ہو گا۔ اس فضا میں طبقاتی نظام اور انسانی عدم مساوات کے نظریوں کا قبول کیا جانا شامل ہے۔

غلامی کے آغاز سے متعلق دو نظریات پیش کئے گئے ہیں۔ ایک نظریہ تو یہ ہے کہ غلامی کا آغاز لا لچ، نفرت، حقارت اور دوسروں پر غلبہ پانے کے جذبات سے ہوا۔ انہی بنیادوں پر قومیں ایک دوسرے پر حملہ کر کے ان کے افراد کو غلام بناتی رہیں۔

دوسرا نظریہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اس کا آغاز رحم کے جذبے سے ہوا تھا۔ جب جنگوں میں دشمن کے بہت سے سپاہی قیدی بنائے گئے تو یہ سوال پیدا ہوا کہ ان کا کیا کیا جائے؟ ایک نقطہ نظر تو سامنے یہ آیا کہ انہیں تہہ تیغ کر دیا جائے۔ اس کے جواب میں دوسرا نقطہ نظر یہ پیش ہوا کہ انہیں قتل نہ کیا جائے بلکہ غلام بنا لیا جائے۔ تیسری صورت انہیں آزاد کر دینے کی تھی لیکن اس میں سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ کہیں دوبارہ تیاری کر کے حملہ آور نہ ہو جائیں، اس وجہ سے غلامی کو ترجیح دی گئی۔

ممکن ہے کہ دونوں نظریات ہی درست ہوں۔ کسی ایک قوم نے لا لچ، نفرت اور غلبے کی بنیاد پر غلامی کا آغاز کیا ہو اور دوسری قوم نے رحم دلی کے جذبے کے تحت غلامی کا آغاز کیا ہو۔ بہرحال یہ طے ہے کہ غلامی کو جب ایک مرتبہ قابل قبول سمجھ لیا گیا تو اس کے بعد اس کی ایسی ایسی خوفناک شکلیں وجود میں آئیں جن کے تذکرے سے انسانیت کی روح کانپ اٹھتی ہے۔

غلامی کی اقسام

 

غلامی کی بنیادی طور پر دو اقسام ہیں: ایک جسمانی و قانونی غلامی اور دوسری ذہنی غلامی۔ جب ایک انسان مختلف ذرائع سے دوسرے کے جسم پر کنٹرول حاصل کر کے اسے اپنا قیدی بنا لے تو یہ جسمانی غلامی کہلاتی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی کسی کو اغوا کر کے یا جنگ میں قید کر کے اپنا غلام بنا لے۔ اس کے برعکس جب کوئی شخص نفسیاتی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے اپنا ذہنی غلام بنا لے تو اسے نفسیاتی غلامی کہا جاتا ہے۔

غلامی خواہ کسی بھی قسم کی ہو، غلامی ہی ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں ایک انسان دوسرے کا محتاج ہو جایا کرتا ہے۔ اس کتاب میں ہم ان دونوں قسم کی غلامی پر بحث کریں گے۔

غلامی کے درجوں میں فرق ہوتا ہے۔ جسمانی غلامی بسا اوقات مکمل غلامی ہوتی ہے جس میں ایک شخص دوسرے کا مکمل غلام ہوتا ہے۔ آقا کو اپنے غلام پر ہر قسم کے حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ وہ چاہے تو اپنے غلام کو قتل کر سکتا ہے ، چاہے تو اس کے جسم کا کوئی حصہ کاٹ سکتا ہے اور چاہے تو اس کا جنسی استحصال کر سکتا ہے۔ بعض اوقات یہ غلامی صرف چند پہلوؤں سے غلامی ہوتی ہے۔ اس کی ایک شکل جاگیردارانہ دور کی مزارعت ہے جس میں جاگیردار کو اپنے مزارعوں پر بہت سے حقوق حاصل ہوا کرتے ہیں۔

بالکل اسی طرح نفسیاتی غلامی کے بھی مختلف درجے ہیں۔ کبھی تو ایک شخص دوسرے سے ایک حد تک ہی متاثر ہوتا ہے اور بعض معاملات میں اپنے نفسیاتی آقا کی پیروی کرتا ہے اور کبھی وہ اس کا مکمل غلام بن کر اس کے اشارہ ابرو پر اپنی جان بھی قربان کر دیا کرتا ہے

 

غلاموں میں اضافے اور کمی کا طریق کار

 

دنیا بھر کے مختلف معاشروں کی تاریخ کا اگر جائزہ لیا جائے تو غلام بنائے جانے کے یہ طریقے معلوم ہوتے ہیں:

بچوں کو اغوا کر کے غلام بنا لیا جائے۔

  • اگر کسی کو کوئی لا  وارث بچہ یا لا  وارث شخص ملے تو وہ اسے غلام بنا لے۔
  • کسی آبادی پر حملہ کر کے اس کے تمام شہریوں کو غلام بنا لیا جائے۔
  • کسی شخص کو اس کے کسی جرم کی پاداش میں حکومت غلام بنا دے۔
  • جنگ جیتنے کی صورت میں فاتحین جنگی قیدیوں کو غلام بنا دیں۔
  • قرض کی ادائیگی نہ کر سکنے کی صورت میں مقروض کو غلام بنا دیا جائے۔
  • پہلے سے موجود غلاموں کی اولاد کو بھی غلام ہی قرار دے دیا جائے۔
  • غربت کے باعث کوئی شخص خود کو یا اپنے بیوی بچوں کو فروخت کر دے۔
  • پروپیگنڈہ اور برین واشنگ کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے کسی کو نفسیاتی غلام بنا لیا جائے۔
  • اگر کسی معاشرے میں ان طریقوں سے بنائے جانے والے غلاموں کی تعداد کم پڑ جاتی تو وہ معاشرہ کسی اور ملک سے غلام خرید کر اپنے غلاموں میں اضافہ کر سکتا تھا۔
  • کسی معاشرے میں غلاموں کی تعداد میں کمی کی یہ صورتیں پائی جاتی تھیں۔
  • غلام کو اس کا آقا اپنی مرضی سے آزاد کر دے۔
  • حکومت کسی غلام کو آزاد قرار دے دے۔
  • غلاموں کو کسی دوسرے ملک میں لے جا کر بیچ دیا جائے۔
  • غلاموں کی آئندہ آنے والی نسل کو آزاد قرار دے دیا جائے۔
  • نفسیاتی غلام کسی طریقے سے اپنے آقا کی ذہنی غلامی سے نکل آئے۔ اس کی تفصیل ہم باب 19-20 میں بیان کریں گے۔

 

غلامی کی بنیادی وجوہات

 

اگر پوری انسانی تاریخ میں غلامی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ غلامی کی بنیادی طور پر تین وجوہات ہوا کرتی ہیں: غربت، جنگ، اور جہالت۔

  • غربت کو اگر غلامی کی ماں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ غربت کے باعث بہت سے انسانوں کو بنیادی ضروریات کے حصول کے لئے دوسروں کا محتاج ہونا پڑتا ہے۔ دنیا کے بہت سے معاشروں میں یہ رواج رہا ہے کہ امراء، غریبوں کو ان کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لئے سود پر قرض دیا کرتے تھے اور ان کی عدم ادائیگی کی صورت میں انہیں اپنا غلام بنا لیا کرتے تھے۔
  • غلامی کی دوسری بڑی وجہ جنگ ہے۔ معلوم انسانی تاریخ میں طاقتور قومیں کمزور اقوام پر حملہ کر کے انہیں اپنا غلام بناتی رہی ہیں۔ بسا اوقات یہ سلسلہ محض قوموں کی غلامی تک محدود رہا کرتا تھا اور بعض اوقات مفتوح قوم کے ایک ایک فرد کو غلام بنا لیا جاتا تھا۔
  • جسمانی غلامی کی تیسری وجہ جہالت ہے۔ یہ نفسیاتی غلامی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ کم تعلیم یافتہ اور ناخواندہ افراد کو طالع آزما اور استحصال کے شوقین افراد پروپیگنڈہ اور برین واشنگ کے ذریعے اپنا نفسیاتی غلام بنا لیا کرتے تھے۔ بہت مرتبہ یہی نفسیاتی غلامی آگے چل کر جسمانی غلامی میں تبدیل ہو جایا کرتی تھی۔

 

دور غلامی اور آسمانی مذاہب

 

دور غلامی قدیم زمانے سے لے کر بیسویں صدی عیسوی تک چلا ہے۔ اسی دور میں اللہ تعالی نے اپنی ہدایت اپنے انبیاء و رسل کے ذریعے انسانیت کو دی ہے۔ یہ ہدایت پہلے سیدنا ابراہیم، اسحاق اور اسماعیل علیہما الصلوٰۃ والسلام کے ذریعے اخلاقی طور پر جاری کی گئی۔ جب سیدنا موسی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں  آسمانی ہدایت کو ایک اجتماعی نظام کی صورت میں رائج کیا گیا تو اس کے قوانین کو تورات کی صورت میں لکھ کر دے دیا گیا۔ یہ اجتماعی نظام سیدنا موسی سے لے کر سیدنا داؤد و سلیمان علیہم الصلوٰۃ والسلام تک اپنی اصل شکل میں رائج رہا۔

بعد کے ادوار میں ان انبیاء کے پیروکار اپنے اصل دین سے دور ہوتے چلے گئے اور ان کا اجتماعی نظام اس صورت میں قائم نہ رہا جس صورت میں سیدنا موسی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسے رائج کیا تھا۔ ان کے دنیا پرست حکمرانوں اور شکم پرست مذہبی راہنماؤں نے آسمانی ہدایت میں تحریف کا سلسلہ شروع کر دیا۔ یہ درست ہے کہ اس قوم میں اچھے اور خوف خدا رکھنے والے لوگوں کی کمی نہ تھی لیکن یہ حضرات تورات کے اصل نظام کو رائج کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے۔

بنی اسرائیل کی سیاسی و مذہبی قیادت کے اس اخلاقی انحطاط کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان پر غلامی کا عذاب مسلط کیا گیا اور پہلے ایران اور پھر روم کی سلطنتوں نے انہیں کثیر تعداد میں غلام بنا کر دنیا بھر میں جلا وطن کیا۔ اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کی طرف پے در پے نبی بھیجے اور ان پر آخری حجت سیدنا عیسی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعے تمام کر دی۔

دوسری طرف اولاد ابراہیم کی دوسری شاخ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی نے اپنے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کو مبعوث فرمایا۔ آپ کو آخری آسمانی ہدایت “قرآن” کی شکل میں دی گئی جس کی تعلیمات کی بنیاد پر آپ نے بالکل سیدنا موسی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرز پر ایک اجتماعی نظام قائم کر دیا۔ اس نظام کی تفصیلات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کی احادیث کے ذخیرے میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بائبل میں سیدنا موسی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے یہ اللہ تعالی نے یہ وعدہ کیا ہے کہ “میں بنی اسرائیل کے بھائیوں (یعنی میں بنی اسماعیل میں) تمہاری مانند ایک رسول برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔”

یہ نظام اپنی اصل شکل میں ساٹھ ستر سال تک قائم رہا۔ اس کے بعد اس میں بھی خرابیاں پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کوششوں کی بدولت قرآن مجید کی ہدایت کو مسخ تو نہ کیا جا سکا لیکن عملی طور پر اس سے انحراف بہرحال موجود رہا۔

آسمانی ہدایت خواہ وہ تورات و انجیل کی شکل میں ہو یا قرآن مجید کی شکل میں، اس میں “عدل” اور “مساوات انسانی”  کو بنیادی اقدار قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی کی دی گئی ہدایت اسی کے فرستادہ رسولوں کے ذریعے ہم تک پہنچی ہے۔ اس ہدایت کی بنیاد پر معلوم تاریخ انسانی میں دو مرتبہ خدائی اجتماعی نظام بھی اپنی اصل شکل میں موجود رہا ہے۔

بچپن ہی سے میرے ذہن میں یہ سوال بار بار پیدا ہوتا تھا کہ ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ اللہ تعالی ایک طرف تو “عدل” اور “مساوات” کی تلقین کرے اور دوسری طرف وہ انسانوں کو غلام بنائے رکھنے کو بھی قبول کر لے۔ ایسا تضاد کسی انسانی قانون میں تو ممکن ہے لیکن اللہ تعالی کی شریعت میں ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ اسی جذبے کے پیش نظر میں نے اللہ تعالی کی دی ہوئی ہدایت کا کھلے ذہن سے تفصیلی مطالعہ کیا۔ اس مطالعے کے جو نتائج نکلے وہ اس کتاب کی صورت میں پیش کر رہا ہوں۔

 

 

غلامی پر ریسرچ کا طریق کار اور اس کے بنیادی اصول

 

اس موضوع پر مسلمانوں کے اہل علم کے ہاں بہت ہی کم مواد موجود ہے۔ زیادہ تر غیر مسلم اسکالرز نے اس ضمن میں کوششیں کی ہیں۔ میں نے ان کی کاوشوں کا تفصیلی مطالعہ بھی کیا ہے۔ میرے نزدیک ان اسکالرز کی تحقیق میں ایک بنیادی غلطی موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ جب وہ “اسلام اور غلامی” کے موضوع پر بات کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم سے لے کر آج تک کے مسلمانوں کا عمل ان کے نزدیک “اسلام” ہوتا ہے۔ اس طریق کار کی بدولت مسلمانوں کا ہر عمل خواہ وہ اسلام کی تعلیمات کے بالکل خلاف ہی کیوں نہ ہو، “اسلام” قرار پاتی ہے۔

یہ طریق کار بالکل غلط ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ کوئی یورپ یا امریکا کے حکمرانوں کی غلطیوں کو لے اور اس کی بنیاد پر عیسائیت پر الزامات عائد کرنے لگے یا روس کے لینن یا اسٹالن کے مظالم کو لے کر اس کی بنیاد پر کارل مارکس کو مطعون کرنے لگے۔ ظاہر ہے یہ طریق غیر علمی ہے۔ کسی بھی مذہب یا فلسفے میں کسی خامی کی نشاندہی کا درست طریقہ یہ ہے کہ اس مذہب یا فلسفے کے اصل مآخذ کو بنیاد بنایا جائے۔ اس کے علاوہ اس مذہب کے بانی اور ان کے قریبی اور مخلص پیروکاروں کے عمل کو دیکھا جائے۔ اس عمل کو دیکھنے کے لئے مستند تاریخ کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر کسی مذہب کی مستند تاریخ موجود نہ ہو تو اس کے بارے میں اچھی یا بری کوئی رائے قائم کر لینا ایک غیر علمی رویہ ہے۔

آسمانی ہدایت کے بارے میں اگر کوئی رائے قائم کرنا مقصود ہو تو اس کے لئے یہ ماخذ دیکھنا ہوں گے۔

  • تورات، زبور یا انجیل جو اب بائبل مقدس کی صورت میں موجود ہے۔ اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ تاریخی طور پر یہ بات ثابت شدہ ہے کہ اس کتاب میں مذہبی راہنماؤں نے تصرفات اور تبدیلیاں کی ہیں۔ اس وجہ سے ان کتب کے مواد کی بنیاد پر کوئی حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہے۔
  • قرآن مجید کے بارے میں تاریخی طور پر یہ تو متعین ہے کہ یہ صد فیصد وہی کتاب ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے اپنی قوم کے سامنے کلام الہی کی حیثیت سے پیش کی تھی۔ اس کتاب کے متن میں کوئی اختلاف موجود نہیں ہے البتہ اس کی متعدد تشریحات (Interpretations) کی گئی ہیں جن میں کسی حد تک اختلاف پایا جاتا ہے۔ ان میں درست تشریح کا انتخاب بہت ضروری ہے۔
  • احادیث و آثار، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم اور آپ کے صحابہ کا تاریخی ریکارڈ ہے۔ اگرچہ بعد کے ادوار میں اس ذخیرے میں بہت سی جعلی احادیث کی ملاوٹ بھی کی گئی ہے۔ محدثین کی عظیم کاوشوں کے نتیجے میں ایسے طریق کار وجود میں آ گئے ہیں جن کی بدولت اصلی اور جعلی احادیث میں فرق کیا جا سکتا ہے۔ صرف اور صرف صحیح حدیث کی بنیاد پر ہی کوئی حتمی رائے قائم کی جا سکتی ہے۔
  • صحیح طریق کار یہ ہے کہ وہ بائبل کو قرآن مجید کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالی کی دی گئی ہدایت کا آخری ورژن ہے اور اس کا متن ہر قسم کی تحریفات سے پاک ہے۔ اگرچہ اس طریقے پر وہی لوگ عمل درآمد کر سکتے ہیں جو قرآن مجید کو اللہ تعالی کی آسمانی ہدایت کا آخری ورژن مانتے ہیں۔
  • احادیث کے بارے میں بھی محدثین کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ کسی حدیث کو صرف اسی صورت میں قبول کیا جا سکتا ہے جب وہ قرآن مجید اور دیگر صحیح احادیث کے مخالف مفہوم پیش نہ کر رہی ہو۔ (دیکھیے خطیب بغدادی کی الکفایہ فی علم الروایۃ اور جلال الدین سیوطی کی تدریب الراوی)
  • اسلام اور غلامی کے موضوع پر تحقیق کرتے ہوئے کچھ ایسے مزید ذرائع ہیں جن سے استفادہ کرنا ضروری ہے کیونکہ اس ضمن میں اہم ترین مواد ان کتب میں موجود ہے۔ اس ضمن میں راہنما اصول یہ ہیں:
  • تاریخ کی کتب کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ مسلمانوں کے ہاں تاریخ کو کافی مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ بنیادی طور پر یہ تھی کہ شروع کی صدیوں میں مسلمانوں کے اندر ایسے فرقے پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے نظریے کو تقویت دینے کے لئے تاریخی روایات کو گھڑ کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ بعد کے ادوار میں جب مورخین نے ان روایات کو اکٹھا کیا تو انہوں نے سچی جھوٹی ہر قسم کی تاریخی روایات کو اپنی کتب میں لکھ دیا۔ انہوں نے ایسا کرتے ہوئے ہر روایت کی سند بھی بیان کر دی تاکہ بعد کا کوئی بھی محقق ان روایات کی چھان بین کرنا چاہے تو کر لے۔ اصلی اور جعلی تاریخی روایات میں فرق کرنا بہت ضروری ہے۔
  • فن رجال کی کتب کا مطالعہ اسلام اور غلامی کی بحث میں نہایت ہی مفید ہے۔ ایسے افراد جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کی احادیث اور آپ کے صحابہ کی روایات کو اگلی نسلوں تک منتقل کرنے میں اپنا کردار ادا کیا، ان کے حالات زندگی فن رجال کی کتب میں ملتے ہیں۔ ان میں سے بہت بڑی تعداد غلاموں اور آزاد کردہ غلاموں کی تھی۔ ان کے حالات زندگی کے مطالعے سے صحابہ و تابعین کے ہاں غلامی کی صورتحال پر نہایت ہی مفید معلومات میسر آتی ہیں۔
  • بعد کی صدیوں میں غلامی کی صورتحال جاننے کے لئے مسلم علماء کی کتب کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ ان میں فتاوی کی کتب میں مختلف ادوار میں غلاموں کی فقہی و قانونی حیثیت کا علم ہوتا ہے۔ حسبہ یعنی محکمہ احتساب سے متعلق علماء کی کتب میں غلاموں سے متعلق حکومتی اصلاحات کی تفصیل ملتی ہے۔ مسلمانوں کے سماجی مصلحین کی کتب سے ان کے دور میں غلاموں کی سماجی حالت کا علم ہوتا ہے۔
  • اسلام اور غلامی کے حوالے سے غیر مسلم مصنفین بالخصوص مستشرقین نے بہت کچھ لکھا ہے۔ متعصب مصنفین کو چھوڑ کر ان میں سے بہت سے غیر متعصب اسکالرز نے اس موضوع پر قابل قدر کام کیا ہے۔ ان حضرات کی کتب میں اس موضوع کے ایسے ایسے پہلوؤں پر بحث کی گئی ہے جو موجودہ دور کے مسلم علماء کے وہم و گمان میں بھی موجود نہ تھے۔ اس موضوع پر تحقیق کے لئے ان غیر متعصب مغربی اسکالرز کی کتب کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔
  • میں نے کوشش کی ہے کہ اس کتاب کی تیاری میں جہاں تک ممکن ہو، ان تمام وسائل سے استفادہ کیا جائے۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس کتاب کا مطالعہ کرتے وقت کھلے ذہن سے اللہ تعالی کی آسمانی ہدایت کا مطالعہ کیجیے اور میرے استدلال میں کہیں کوئی کوتاہی رہ گئی ہو تو اس سے مطلع فرما کر ممنون کریں۔

 

کتاب کی ترتیب

 

اس کتاب کو بنیادی طور پر چھ حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا حصہ صرف ایک باب پر مشتمل ہے جو اس موضوع اور کتاب کے تعارف سے متعلق ہے۔

دوسرے حصے میں اسلام سے پہلے دنیا میں غلامی کی حالت پر بحث کی گئی ہے۔ یہ حصہ پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ اس میں ایران، یونان، قدیم مصر، ہندوستان، چین، قدیم اسرائیل، روم اور عرب میں غلامی کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ قدیم اسرائیل میں غلامی کا مطالعہ اس وجہ سے نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں غلامی سے متعلق تورات کی اصلاحات زیر بحث آئی ہیں۔سلطنت روم کا مطالعہ اس وجہ سے زیادہ اہم ہے کہ اس میں غلامی کے ادارے پر عیسائیت کے اثرات زیر بحث آئے ہیں۔ عرب میں غلامی کا مطالعہ اس وجہ سے نہایت ہے اہم ہے کہ اس کے مطالعے سے ہی ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی اصلاحات سے پہلے عرب میں  غلامی کی کیا صورت رائج تھی۔

تیسرا حصہ سات ابواب پر مشتمل ہے جس میں غلامی سے متعلق اسلام کی اصلاحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ ان اصلاحات میں غلاموں کی آزادی کی تحریک، پہلے سے موجودہ غلاموں سے متعلق اصلاحات اور نئے غلام بنائے جانے پر پابندیوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اس ضمن میں دو مباحث چونکہ نہایت ہی حساس تھے، اس وجہ سے ان پر علیحدہ باب قائم کئے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک لونڈیوں سے متعلق اسلام کی اصلاحات سے متعلق ہے اور دوسرا جنگی قیدیوں سے متعلق۔ اس حصے میں غلامی کے ادارے پر اسلام کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ایک باب اسلام اور نفسیاتی آزادی سے متعلق قائم کیا گیا ہے۔

کتاب کا چوتھا حصہ تین ابواب پر مشتمل ہے۔ اس حصے میں اس دور میں مسلم ممالک میں جسمانی و نفسیاتی غلامی کا جائزہ لیا گیا ہے جب مسلمان بالعموم اپنے دین کی تعلیمات سے دور ہو چکے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کی ہم عصر مغربی تہذیب میں غلامی کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ ان عوامل کی تفصیل سامنے آ سکے جن کے نتیجے میں مغربی دنیا  میں غلامی کے خلاف تحریک پیدا ہوئی۔ اس کے آخر میں مسلم اور یورپی تہذیب میں غلامی کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے۔

پانچواں حصہ غلامی اور موجودہ دور سے متعلق ہے۔ یہ حصہ چار ابواب پر مشتمل ہے۔ اس حصے میں غلامی کے خاتمے کی عالمی تحریک کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ موجودہ دور میں غلامی کی صورتوں کا تجزیہ کرتے ہوئے اس کے خاتمے کا حل پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس حصے کے آخری دو ابواب نہایت ہی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ان میں موجودہ دور میں موجود نفسیاتی غلامی اور اس کے علاج پر بحث کی گئی ہے۔

کتاب کا چھٹا اور آخری حصہ اسلام اور غلامی سے متعلق جدید ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات سے متعلق ہے۔ اس حصے میں دو ابواب ہیں۔ پہلا باب، اسلام اور غلامی کے تعلق کے حوالے سے فلسفیانہ اور تاریخی نوعیت کے سوالات پر مشتمل ہے۔ دوسرے باب میں فقہی اور قانونی معاملات زیر بحث آئے ہیں جن میں ہم نے اپنے علم کی حد تک ان سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حصہ دوم: زمانہ قبل از اسلام میں غلامی کی تاریخ

 

 

 

باب 2: ایران، یونان، چین، مصر اور ہندوستان میں غلامی

 

دور قدیم ہی سے غلامی کم و بیش تمام معاشروں میں موجود رہی ہے۔ کچھ معاشروں میں غلاموں سے متعلق قوانین اور ان کی حالت دیگر معاشروں سے بہتر رہی ہے ، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ غلامی بہرحال ہر معاشرتی نظام کا ایک اہم ادارہ رہی ہے۔ قدیم مصر، چین، ہندوستان، ایران اور بحیرہ روم کے ممالک میں غلاموں کے موجود ہونے کا سراغ ملتا ہے۔

دور غلامی کی کچھ تفصیلات ہم دل پر پتھر رکھ کر یہاں بیان کر رہے ہیں۔ یہ تفصیلات انسان پر انسان کے ظلم کی ایسی بھیانک تصویر پیش کرتی ہیں کہ کلیجہ شق ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ تفصیلات صرف اور صرف دستیاب معلومات کی بنیاد پر ہیں۔ ممکن ہے کہ حقیقت ان سے مختلف ہو۔ اگر تاریخ کے کوئی محقق ان تفصیلات کو غلط ثابت کر سکیں تو سب سے زیادہ خوشی ہمیں ہو گی۔ مختلف تاریخی شخصیتوں کے زمانے کے اندازے بھی، جو دستیاب ہیں پیش کر دیے گئے ہیں۔ اگر یہ بالکل درست نہ بھی ہوں، تب بھی ان سے کم از کم اس شخصیت کے زمانے کا اندازہ ہو جاتا ہے۔

ہم یہ بات واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ان تفصیلات کے بیان کا مقصد کسی قوم یا مذہب کی مذمت یا دل آزاری نہیں ہے۔ ان تفصیلات کو محض ایک علمی تحقیق کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر کسی قوم یا مذہب سے تعلق رکھنے والے کوئی صاحب انہیں دلائل کی بنیاد پر غلط قرار دے سکیں تو ہمیں حق بات کو قبول کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہ ہو گی۔

 

 

ایران بشمول عراق

 

بابل کے بادشاہ حمورابی (1796 – 1750 BC) کے قوانین پتھر کی تختیوں پر لکھے ہوئے ملے ہیں۔ آثار قدیمہ اور قدیم زبانوں کے ماہر ایل ڈبلیو کنگ نے ان قوانین کا ترجمہ کیا ہے جو کہ انٹرنیٹ پر پر دستیاب ہے۔ ان کے لنک http://www.wsu.edu اور http://eawc.evansville.edu ہیں۔

ان قوانین کے مطالعے سے ہم یہ نتائج اخذ کر سکتے ہیں:

  • بابل کے معاشرے میں غلاموں کی حیثیت بھی وہی تھی جو بے جان مال و اسباب اور جائیداد کی ہوا کرتی ہے۔ (قانون نمبر 7, 15-20, 116)
  • زیادہ تر قوانین کا تعلق غلاموں کے مالکوں کے حقوق سے متعلق ہے۔ غلاموں کے حقوق سے متعلق کچھ زیادہ تفصیلات ہمیں ان قوانین میں نہیں ملتیں۔ (قانون نمبر 7, 15-20, 116, 278-280 )
  • اولاد کی حیثیت بھی والدین کے غلام ہی کی ہوا کرتی تھی اور والدین کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنی اولاد کو کسی کے ہاتھ فروخت کر دیں۔ (قانون نمبر 7)
  • غلاموں سے جبری مشقت لی جاتی تھی۔ (قانون نمبر 118)
  • لونڈیوں سے ازدواجی تعلقات رکھے جاتے تھے۔ اگر لونڈی کے مالک کا اس لونڈی سے بچہ پیدا ہو جاتا تو وہ لونڈی ناقابل فروخت تصور کی جاتی تھی۔ اس لونڈی کو کچھ حالات میں آزادی بھی عطا کر دی جاتی تھی۔ اس لونڈی کا درجہ کسی حد تک بیوی کے برابر ہو جاتا تھا لیکن مالک اگر چاہتا تو اسے نوکرانی بنا کر رکھ سکتا تھا۔ آقا کے مرنے کے بعد وہ لونڈی اور اس کے بچے آزاد ہو جایا کرتے تھے۔ (قانون نمبر 119, 146, 171)
  • بابل کے تمام عوام کو بادشاہ کا غلام سمجھا جاتا تھا اور بادشاہ کو انہیں سزا دینے یا جرائم کے باوجود معاف کر دینے کا حق حاصل تھا۔ (قانون نمبر 129)
  • بہت سے غلام براہ راست ریاست کی ملکیت بھی ہوا کرتے تھے۔ (قانون نمبر 175)
  • اگر کوئی غلام کسی آزاد شخص کی بیٹی سے شادی کر لیتا تو اس کے بچوں کو آزاد قرار دیا جاتا تھا۔ (قانون نمبر 175)
  • غلام کی آنکھ نکال دینے یا اس کی ہڈی کو توڑ دینے پر اس کے مالک کو غلام کی نصف قیمت ادا کرنا ضروری تھا۔ قانون میں یہ وضاحت موجود نہیں ہے کہ جان بوجھ کر ایسا کرنے والے کے لئے قصاص کی سزا مقرر تھی یا نہیں۔  (قانون نمبر 199)
  • اگر غلام کسی آزاد شخص کو مار بیٹھتا تو اس کی پاداش میں اس کا کان کاٹ دیا جائے۔ (قانون نمبر 205)
  • طبی معالج کے لئے آزاد شخص کے علاج کا معاوضہ پانچ شیکل (ان کی کرنسی) اور غلام کے علاج کو معاوضہ دو شیکل تھا۔ (قانون نمبر 223)
  • اگر میڈیکل آپریشن کے دوران غلام مر جاتا تو معالج کے لئے ضروری تھا کہ وہ اس کے بد لے دوسرا غلام مالک کو دے۔ (قانون نمبر 219)
  • غلاموں کو ممیز کرنے کے لئے ان کے جسم پر جراحی کے ذریعے کچھ علامتیں کھود دی جاتی تھیں۔ یہ کام ان کے حجام سر انجام دیا کرتے جو جراحت کے ماہر ہوتے۔ ان علامتوں کو کاٹنے یا توڑنے والے شخص کی سزا یہ مقرر کی گئی کہ اس کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔ (قانون نمبر 226)
  • کسی دوسرے شخص کے غلام کو قتل کرنے کی سزا اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ وہ اس کے بد لے میں مالک کو دوسرا غلام دے دے۔ (قانون نمبر 231)
  • اگر غلام یہ دعوی کرتا کہ فلاں اس کا مالک نہیں ہے اور دعوی غلط ثابت ہو جاتا تو غلام کا کان کاٹ دیا جاتا۔ (قانون نمبر 282)

غلامی سے متعلق سائرس اعظم کی اصلاحات

بعد کے ادوار میں ایران میں سائرس اعظم (590 – 530BC) کا دور ایرانی سلطنت کا روشن ترین دور سمجھا جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ سائرس نے غلامی کے خاتمے کے لئے بہت سے اقدامات کئے۔ انہوں نے کثیر تعداد میں اسرائیلی غلاموں کو آزاد کیا اور انہیں اپنے وطن واپس جا کر آباد ہونے کی اجازت دی۔ مسلم محققین کا خیال ہے کہ یہ سائرس ہی ہیں جن کا تذکرہ قرآن مجید میں “ذوالقرنین” کے لقب آیا ہے۔

 

قدیم یونان

 

قدیم یونانی معاشرے کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے ہاں جمہوری نظام قائم کیا تھا۔ اس جمہوری معاشرے میں بھی غلامی نہ صرف موجود تھی بلکہ اس کی جڑیں معاشرتی نظام میں بہت گہری تھیں۔ اس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ہندو مورخ کے ایس لا ل لکھتے ہیں:

قدیم یونانی معاشرہ تین طبقات میں منقسم تھا۔ (سب سے اوپر) یونان کے وہ شہری تھے جو آزاد پیدا ہوئے تھے۔ انہیں تمام حقوق حاصل تھے اور یہ لوگ سیاست میں بھی حصہ لیا کرتے تھے۔ دوسرا طبقہ پیریاسی (perioeci) تھا جو کہ غیر ملکیوں پر مشتمل تھا۔ انہیں سیاسی حقوق حاصل نہ تھے البتہ ان کی حالت غلاموں سے بہتر تھی کیونکہ یہ لوگ بعض اوقات معاشی اور فوجی معاملات چلایا کرتے تھے۔

تیسرا طبقہ ہیلوٹس کا تھا جو غلاموں پر مشتمل تھا۔ یونان میں بہت سے لوگوں کے پاس اپنی زمین نہ تھی اور (مزارعت پر کاشت کرنے کی وجہ سے) انہیں اپنی فصل کا بڑا حصہ جاگیر داروں کو دینا ہوتا تھا۔ اس وجہ سے یہ لوگ قرض لینے پر مجبور ہوتے اور سوائے اپنے جسم و جان کے ان کے پاس کوئی چیز رہن رکھنے کے لئے نہ ہوا کرتی تھی۔ ان لوگوں کو غلام بنا لیا جاتا۔  کہا جاتا ہے کہ ایک وقت میں ایتھنز شہر میں محض 2100 شہری اور 460,000 غلام موجود تھے۔

ہر آقا کے پاس کثیر تعداد میں مرد و عورت غلام ہوا کرتے تھے۔ مرد غلام کانوں اور کھیتوں میں کام کرتے جبکہ خواتین گھروں میں کام کرتیں۔ غلاموں کو اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے سب کچھ کرنا پڑتا تھا۔ پہلے عبرانیوں کے ہاں اور پھر یونانیوں میں غلاموں سے نہایت ہی سخت برتاؤ رکھا جاتا تھا۔ یونان کی تمام شہری ریاستوں میں معاملہ ایک جیسا نہ تھا۔ ایتھنز میں غلاموں سے کچھ نرمی برتی جاتی جبکہ سپارٹا میں ان سے نہایت سخت سلوک کیا جاتا لیکن عمومی طور پر غلام بالکل ہی بے آسرا تھے۔

ڈریکو کے آئین (621 BC) اور سولون کے قوانین سے غلاموں کی حالت کچھ بہتر ہوئی۔ انہیں (افراد کی بجائے) ریاست کی ملکیت قرار دیا گیا اور کچھ بنیادی حقوق بھی فراہم کیے گئے۔ سوائے ریاست کے اب انہیں کوئی اور موت کی سزا نہ دے سکتا تھا۔ بہرحال یہ غلام ہی تھے جنہوں نے (اپنی محنت و مشقت کے باعث) یونانیوں کو سیاست کرنے اور سیاسی فلسفے ایجاد کرنے کا وقت فراہم کیا جس کی بدولت یونانی پوری دنیا میں مشہور ہوئے۔  (Muslim Slave System, Chapter I)

یونانی قوانین میں غلاموں کے مختلف طبقات مقرر کیے گئے تھے۔ ان میں سے ہر طبقے کے حقوق و فرائض ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ وکی پیڈیا کے مقالہ نگاروں نے اپنی تحریر “قدیم یونان میں غلامی (Slavery in Ancient Greek)” میں ان کی کچھ تفصیل بیان کی ہے۔

  • ایتھنز کے غلاموں کو اپنے مالک کی جائیداد سمجھا جاتا تھا۔
  • غلام کو شادی کرنے کی اجازت تھی لیکن قانون کی نظر میں “غلام خاندان” کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ مالک جب چاہتا وہ غلام کے بیوی بچوں کو اس سے الگ کر سکتا تھا۔
  • غلاموں کے قانونی حقوق عام شہریوں کی نسبت بہت کم تھے اور غلاموں کو عدالتی معاملات اپنے آقاؤں  کے توسط سے ہی کرنا پڑتے تھے۔
  • قانونی تفتیش کے علاوہ غلاموں پر بالعموم تشدد نہ کیا جاتا تھا۔ اگر کوئی شخص دوسرے کے غلام پر تشدد کرتا تو اس کا آقا جرمانہ وصول کر سکتا تھا۔ اگر کوئی شخص اپنے غلام پر ظلم کرتا تو کوئی بھی آزاد شہری اس معاملے کو عدالت تک لے جا سکتا تھا۔ سقراط کے بقول، ادنی ترین غلام کو بھی سوائے قانونی تفتیش کے موت کی سزا نہ دی جا سکتی تھی۔
  • ڈریکو کا آئین، جو کہ ایتھنز کا پہلا تحریری آئین مانا جاتا ہے ، میں غلام کے قتل کی سزا بھی موت ہی مقرر کی گئی۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ اگر غلاموں کو بکثرت قتل کر دیا گیا تو یہ معاشرے کے لئے نقصان دہ ہو گا کہ لوگ ایک دوسرے کے غلاموں کو مارنے لگیں گے۔ بہرحال اس آئین کو یہ کریڈٹ دینا پڑے گا کہ اس نے بہرحال غلام اور جانور میں فرق کیا ہے۔
  • ایتھنز میں غلاموں سے بہتر سلوک کیا جاتا۔ نئے غلام کا استقبال پھلوں وغیرہ سے کیا جاتا۔ غلاموں کو اپنے آقاؤں کے دیوتاؤں کی عبادت کی اجازت بھی ہوتی۔
  • ایتھنز میں غلاموں کو الگ سے مال رکھنے کی اجازت نہ تھی لیکن وہ مالک سے آزادی خریدنے کے لئے مال جمع کر سکتے تھے۔
  • ایتھنز میں غلاموں کو اپنے مالکوں کی طرح کسی آزاد لڑکے سے ہم جنس پرستانہ تعلقات رکھنے کی اجازت نہ تھی۔ ایسا کرنے کی صورت میں انہیں پچاس کوڑے کی سزا دی جاتی۔
  • مالکوں کو اس کی اجازت تھی کہ وہ اپنے غلاموں سے ہم جنس پرستانہ تعلقات قائم کر سکیں۔
  • غلاموں کو آزاد کرنے کی روایت موجود تھی۔ آزادی کے بعد کسی کو دوبارہ غلام نہ بنایا جا سکتا تھا۔ بعض غلاموں کو اس بات کی اجازت بھی دی گئی کہ وہ اپنے مالک کو ایک طے شدہ معاوضہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا الگ کاروبار کر سکیں۔

 

چین اور کنفیوشن ممالک

 

چین میں بھی دور قدیم میں غلامی موجود رہی ہے۔ چونکہ تاریخ کے تمام ادوار میں چین ایک زیادہ آبادی والا خطہ رہا ہے اس وجہ سے یہاں غلامی اور نیم غلامی کی مختلف صورتیں موجود رہی ہیں۔ انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا کے مقالہ نگار کے الفاظ میں:

چین میں غلامی شانگ خاندان (اٹھارہویں سے بارہویں صدی قبل مسیح) کے دور سے موجود رہی ہے۔ تفصیلی تحقیق کے مطابق ہان خاندان (206BC – 220CE) کے دور میں چین کی کم و بیش پانچ فیصد آبادی غلاموں پر مشتمل تھی۔ غلامی بیسویں صدی عیسوی تک چینی معاشرے کا حصہ رہی ہے۔ زیادہ تر عرصے میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں بھی غلام انہی طریقوں سے بنائے جاتے تھے جن طریقوں سے دنیا کے دوسرے حصوں میں غلام بنائے جاتے تھے۔ ان میں جنگی قیدی، آبادی پر حملہ کر کے انہیں غلام بنانا اور مقروض لوگوں کو غلام بنانا شامل ہے۔ اس کے علاوہ چین میں قرضوں کی ادائیگی یا خوراک کی کمی کے باعث اپنے آپ کو اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بیچ ڈالنے کا رواج بھی رہا ہے۔ جرائم میں ملوث مجرموں کے قریبی رشتہ داروں کو بھی غلام بنا لیا جاتا۔ بعض ادوار میں اغوا کر کے غلام بنانے کا سلسلہ بھی رائج رہا ہے۔

http://www.britannica.com/eb/article-24156/slavery

چین روم کی طرح مکمل طور پر ایک غلام معاشرہ نہیں بن سکا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ یہاں ہمیشہ سے عام طور پر سستے کارکن موجود رہے ہیں۔ بعض غلاموں سے اچھا سلوک بھی کیا جاتا رہا ہے لیکن اس کے باوجود انہیں بہت سے انسانی حقوق حاصل نہ رہے ہیں۔

کنفیوشس (551 – 479BC) کے فلسفے اور اخلاقیات پر یقین رکھنے والے دیگر ممالک جیسے مشرقی چین، جاپان اور کوریا میں بھی غلامی موجود رہی ہے۔ اسمتھ کے مطابق ابتدائی طور صرف حکومت کو غلام بنانے کی اجازت دی گئی جو کہ جنگی قیدیوں اور دیگر مجرموں کو غلام بنانے تک محدود تھی۔ کچھ عرصے بعد پرائیویٹ غلامی اور جاگیردارانہ مزدوری کا نظام بھی آہستہ آہستہ پیدا ہو گیا۔

 

قدیم مصر

 

مصر میں بھی دنیا کے دوسرے خطوں کی طرح غلامی موجود رہی ہے۔ مصری قوانین کے تحت پوری رعایا کو فرعون کا نہ صرف غلام سمجھا جاتا تھا بلکہ ان سے فرعون کی عبادت کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔ اہرام مصر کی تعمیر سے متعلق جو تفصیلات ہمیں ملتی ہیں، ان کے مطابق اہرام کی تعمیر ہزاروں کی تعداد میں غلاموں نے کی تھی۔ کئی کئی ٹن وزنی پتھر اٹھانے کے دوران بہت سے غلام حادثات کا شکار بھی ہوئے تھے۔

مصر میں زیادہ تر غلام دریائے نیل کی وادی اور ڈیلٹا کے علاقوں میں موجود تھے اور کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔ بہت سے غلام مندروں سے وابستہ ہوا کرتے تھے۔ غلاموں کے ساتھ عام طور پر اچھا سلوک نہیں کیا جاتا تھا۔ یہاں سرکاری غلاموں کا طبقہ بھی موجود تھا جو سرکاری ملازمتیں سرانجام دیا کرتا تھا۔ یہ غلام نسبتاً بہتر حالت میں موجود تھے۔

(دیکھیے http://nefertiti.iwebland.com/timelines/topics/slavery.htm )

مصر میں چوری جیسے جرائم کی سزا کے طور پر غلام بنانے کے رواج کا ذکر قرآن مجید کی سورہ یوسف میں ہوا ہے۔ یہاں یہ وضاحت موجود نہیں ہے کہ ایسے شخص کو ساری عمر کے لئے غلام بنا دیا جاتا تھا یا پھر کچھ مخصوص مدت کے لئے ایسا کیا جاتا تھا۔

مصر میں غربت کے باعث لوگوں میں خود کو فروخت کر دینے کا رجحان بھی موجود تھا۔ مصر کی تاریخ میں سیدنا یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام وہ پہلے ایڈمنسٹریٹر تھے جنہوں نے اس رواج کو ختم کرتے ہوئے کثیر تعداد میں غلاموں کو آزادی عطا کی۔ حافظ ابن کثیر اہل کتاب کے علماء کے حوالے سے لکھتے ہیں:

وعند أهل الكتاب أن يوسف باع أهل مصر وغيرهم من الطعام الذي كان تحت يده بأموالهم كلها من الذهب والفضة والعقار والأثاث وما يملكونه كله، حتى باعهم بأنفسهم فصاروا أرقاء. ثم أطلق لهم أرضهم، وأعتق رقابهم، على أن يعملوا ويكون خمس ما يشتغلون من زرعهم وثمارهم للملك، فصارت سنة أهل مصر بعده. (ابن کثير؛ قصص الانبياء)

اہل کتاب کے علم کے مطابق سیدنا یوسف علیہ السلام نے اہل مصر اور دیگر لوگوں کو سونا، چاندی، زمین اور دیگر اثاثوں کے بد لے کھانے پینے کی اشیاء فروخت کیں۔ جب ان کے پاس کچھ نہ رہا تو انہوں نے خود کو ہی بیچ دیا اور غلام بن گئے۔ اس کے بعد آپ نے انہیں ان کی زمینیں واپس کر دیں اور ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیا اور شرط یہ رکھی کہ وہ کام کریں گے اور فصلوں اور پھلوں کا پانچواں حصہ حکومت کو دیں گے۔ اس کے بعد مصر میں یہی قانون جاری ہو گیا۔

یہی واقعہ بائبل کی کتاب پیدائش کے باب 47 میں موجود ہے۔ سیدنا یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دور اقتدار کے کافی عرصے بعد میں مصر کے قدیم باشندوں میں قوم پرستی کی ایک عظیم تحریک پیدا ہوئی اور بنی اسرائیل کے سرپرست ہکسوس بادشاہوں کو اقتدار سے بے دخل کر کے بنی اسرائیل کو غلام بنایا گیا۔ بنی اسرائیل کے لئے یہ ایک عظیم آزمائش تھی۔ سیدنا موسی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دور میں انہیں آزادی نصیب ہوئی۔ بعد کے ادوار میں بھی مصر میں غلامی موجود رہی ہے۔

 

ہندوستان

 

کے ایس لا ل کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق قدیم ہندوستان میں بھی غلامی موجود رہی ہے البتہ دنیا کے دیگر خطوں کی نسبت یہاں غلاموں سے بہتر سلوک کیا جاتا رہا ہے۔ گوتم بد ھ نے اپنے پیروکاروں کو حکم دیا کہ وہ غلاموں سے صرف اتنا ہی کام لیں جو وہ کر سکیں۔

چندر گپت موریہ (300BC – 100BC) کے دور میں غلاموں سے متعلق قوانین بنائے گئے جن میں یہ شامل تھا کہ غلاموں کو بغیر کسی معقول وجہ کے ان کا مالک سزا نہیں دے سکتا۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو حکومت اس آقا کو سزا دے سکتی ہے۔ اشوک اعظم نے غلاموں سے نرم برتاؤ رکھنے کا حکم دیا۔ غلاموں سے اتنا اچھا سلوک کیا جاتا تھا کہ یونانی سیاح میگاستھینز (350BC – 290BC) یہ سمجھ بیٹھا کہ ہندوستان میں غلامی پائی ہی نہیں جاتی۔

موریہ دور میں لکھی گئی ارتھ شاستر میں آریہ غلاموں کو بہت سے حقوق دیے گئے ہیں۔ وکی پیڈیا کے مقالہ نگار کے مطابق مقروض شخص یا اس کے بیوی بچوں کو صرف عدالتی حکم کے تحت ہی غلام بنایا جا سکتا ہے۔ غلام بننے کے بعد بھی اسے جائیداد رکھنے، اپنی محنت کی اجرت وصول کرنے اور اپنی آزادی خریدنے کا حق رہتا ہے۔ غلامی ایک محدود مدت کے لئے ہوتی ہے جس کے اختتام پر غلام خود بخود آزاد ہو جاتا ہے۔

قدیم ہندوستان کی ایک خصوصیت یہ بھی رہی ہے کہ اس میں عام غلامی کے علاوہ غلامی کی ایک بالکل ہی الگ تھلگ شکل بھی پائی جاتی ہے جس کی مثال دنیا کے کسی اور خطے میں نہیں ملتی۔ یہ یہاں کا ذات پات کا نظام ہے۔ اس نظام کے تحت معاشرے کو چار بنیادی ذاتوں میں تقسیم کیا گیا۔ ان میں برہمن کا کام مذہبی رسومات سر انجام دینا، کھشتری کا کام فوج اور حکومتی معاملات دیکھنا، ویش کا کام تجارت کرنا اور شودر کا کام زراعت، صفائی اور دیگر نچلے درجے کے کام کرنا ہے۔

ذات پات کے نظام کے بارے میں ہندو اہل علم کے ہاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہندوستان کی قدیم کتب کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ تقسیم محض معاشی نوعیت کی تھی۔ ایک پیشے سے تعلق رکھنے والا دوسرے پیشے کو اختیار کر سکتا تھا۔ اس کی مثال ان آیات میں ملتی ہے :

A bard am I, my dad’s a leech, mammy lays corn upon the stones.(Rig Veda, http://www.hinduwebsite.com)

میں شاعر ہوں، میرے والد ایک طبیب تھے اور والدہ پتھروں پر مکئی پیسنے والی ہیں۔ (رگ وید 9.112.3)

(Thus) a Sudra attains the rank of a Brahmana, and (in a similar manner) a Brahmana sinks to the level of a Sudra; but know that it is the same with the offspring of a Kshatriya or of a Vaisya. (Manu Smriti, Sanskrit Text with English Translation, 10:65)

ایک شودر کا بیٹا برہمن بن سکتا ہے اور برہمن کا بیٹا شودر بن سکتا ہے۔ یہی معاملہ کھشتری اور ویش کا بھی ہے۔

بعد کے ادوار میں یہ نظام سختی اختیار کرتا چلا گیا اور میرٹ کی جگہ وراثت نے لے لی۔ مغربی محقق کلارنس اسمتھ کے الفاظ میں:”

غلامی کی جڑوں کو قدیم ہندو کتب میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ آواگون کے عقیدے کے تحت (کسی شخص کے ) غلام ہونے کو اس کے پچھلے جنم کے گناہوں کی سزا قرار دیا گیا۔۔۔۔۔غلامی اور ذات پات کے نظام اگرچہ بعض مشترک پہلو بھی رکھتے تھے لیکن انہیں یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا۔ برہمنوں نے خود کو غلام بنائے جانے سے مستثنی قرار دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے یہ کوشش کی کہ غلام صرف اور صرف نچلے درجے کی ذاتوں سے بنائے جائیں لیکن عملی طور پر غلام کسی بھی ذات کے ہو سکتے تھے۔

(Religions & Abolition of Slavery – a comparative approach, p.2)

آہستہ آہستہ اس نظام نے وہ شکل اختیار کر لی جس میں شودر کو چھونے سے برہمن ناپاک ہو جاتا تھا۔ شودروں کا کام محض بڑی ذاتوں کی خدمت ہی رہ گیا۔ یہ سمجھا جانے لگا کہ بڑی ذاتوں کے افراد اپنی پیدائش سے ہی پاک اور چھوٹی ذاتوں کے لوگ ناپاک ہوتے ہیں۔ اس نظام کی مزید تفصیلات سدھیر برودکار کے آرٹیکل “جاتی ورنا میٹرکس” میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ آرٹیکل اس لنک پر دستیاب ہے۔

http://www.hindubooks.org/sudheer_birodkar/hindu_history/castejati-varna.html

انڈین معاشرے کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ روم، یونان اور مصر کے برعکس یہاں اس قسم کی غلامی کے خلاف بھی بہت سی اصلاحی تحریکوں نے جنم لیا۔ ان میں گوتم بد ھ کی تحریک سب سے قدیم سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ جین مت اور بعد کے ادوار میں بھگتی اور سکھ تحریکیں قابل ذکر ہیں۔ دور جدید میں دلتوں کو بھارتی آئین میں بہت سے حقوق حاصل ہو چکے ہیں اور ذات پات کے قدیم نظام کے خلاف ایک مضبوط تحریک سیکولر انڈیا میں پائی جاتی ہے۔

 

غلامی اور بد ھ حکومتیں

 

گوتم بد ھ (623 – 543BC) نے غلاموں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے غلاموں کی تجارت سے نفع کمانے سے منع فرمایا۔ گوتم بد ھ بذات خود اگرچہ بہار کی ریاست کے ایک شہزادے تھے لیکن انہوں نے خود حکومت نہ کی۔ ان کے پیروکاروں میں سے اشوک اعظم (269 – 232BC) نے بد ھ تعلیمات کی بنیاد پر حکومت قائم کی۔ اشوک نے غلامی کا مکمل خاتمہ کیے بغیر مہاتما بد ھ کی ان تعلیمات پر عمل کرنے کا حکم قانونی طور پر جاری کیا۔

بعد کے ادوار میں سری لنکا اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک میں بد ھ سلطنتیں قائم ہوئیں۔ ان میں اگرچہ غلامی کو تو بڑی حد تک کم کر دیا گیا لیکن غلاموں کی جگہ مزارعت کے نظام (Serfdom) نے لے لی جو غلامی ہی کی ایک نسبتاً بہتر شکل تھی۔ مغربی محقق ویلیم جی کلارنس اسمتھ اس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

قرون وسطی کے یورپ کی طرح، رحم دل بد ھ کے یہ خیالات غلاموں کو مزارعوں (Serfdom) میں تبدیل کر سکتے تھے۔ تیرہویں صدی تک سری لنکا اور جنوب مشرقی ایشیا کے مین لینڈ (برما، تھائی لینڈ، ویت نام وغیرہ) میں، تھیرو وادو (روایتی بد ھ فرقہ) بد ھ سلطنتوں میں مزدوروں کی تعداد غلاموں سے بڑھ چکی تھی۔ اکثر اوقات کی جانے والی فوجی کاروائیوں کا مقصد لوگوں کو قید کر کے انہیں پوری پوری کمیونٹی کی صورت میں زمین سے وابستہ کیا گیا جو بعض اوقات بد ھ عبادت گاہوں کی جاگیر ہوا کرتی تھی۔ قرض ادا نہ کر سکنے والے مقروض جو کہ کثیر تعداد میں تھے، جبری مزارعوں میں شامل کر دیے گئے۔

(Religions & Abolition of Slavery – a comparative approach, p.3)


باب 3: غلامی اور بنی اسرائیل

 

قدیم اسرائیل میں بھی غلامی موجود رہی ہے۔ بنی اسرائیل حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پوتے سیدنا یعقوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولاد تھے۔ سیدنا یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام نے انہیں مصر میں دریائے نیل کے ڈیلٹا کے زرخیز علاقے میں آباد کیا تھا۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ آپ کے دور اقتدار کے کافی عرصے بعد میں مصر کے قدیم باشندوں میں قوم پرستی کی ایک عظیم تحریک پیدا ہوئی اور بنی اسرائیل کے سرپرست ہکسوس بادشاہوں کو اقتدار سے بے دخل کر کے بنی اسرائیل کو غلام بنایا گیا۔

بائبل اور قرآن مجید میں بنی اسرائیل کی جو تاریخ ملتی ہے اس کے مطابق اللہ تعالی نے سیدنا موسی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو فرعون کی طرف مبعوث کیا۔ آپ نے اس کے سامنے جو مطالبات رکھے ان میں ایک خدا پر ایمان لا نے کے ساتھ ساتھ دوسرا مطالبہ یہ بھی تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کر کے انہیں آپ کے ساتھ روانہ کر دے۔ فرعون نے یہ مطالبات منظور نہ کیے۔ ایک طویل جدوجہد کے بعد فرعون اور اس کا لشکر بحیرہ قلزم میں غرق ہوا اور بنی اسرائیل کو اس کی غلامی سے نجات مل سکی۔

بائبل اور قرآن میں بار بار اللہ تعالی بنی اسرائیل اپنا یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ اس نے انہیں غلامی سے نجات عطا کی۔ اس وجہ سے ان پر لا زم ہے کہ وہ اللہ تعالی کی عبادت کریں اور دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے بنیں۔ بائبل کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی غلامی سے نفرت کرتا ہے اور اسے ایک لعنت قرار دیتا ہے۔

آزادی کے بعد سیدنا موسی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں ہی بنی اسرائیل کو موجودہ اردن کے علاقے میں اقتدار ملا اور اس کے لئے تفصیلی قوانین اللہ تعالی کی طرف سے ان کے لئے نازل کیے گئے جن کا مجموعہ تورات ہے۔ موجودہ بائبل بنی اسرائیل کی تاریخ کا مجموعہ ہے جس میں تورات کا متن بھی شامل ہے۔

بائبل کی تاریخ کے مطابق اسرائیلی سلطنت کو ہم دو ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ان کا ایک دور سیدنا موسی (1393BC – 1273BC) سے شروع ہو کر سیدنا سلیمان علیہما الصلوٰۃ والسلام  (1025BC – 953BC) پر ختم ہوتا ہے۔ اس دور میں تورات کی حقیقی تعلیمات اسرائیلی سلطنت کا قانون تھیں۔ بعد کے ادوار میں ایک سیدنا عزیر و نحمیاہ علیہما الصلوٰۃ والسلام کے دور (458BC – 397BC) کو چھوڑ کر بالعموم ان کے حکمرانوں میں دین سے انحراف کا رویہ عام رہا حتی کہ حکمرانوں اور امراء کی خواہشات کے مطابق تورات کے قانون میں بھی تحریفات کی جانے لگیں۔ غلامی سے متعلق تورات کے قوانین کا جائزہ لیتے ہوئے ہمیں اس فرق کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔

بنی اسرائیل کے ہاں بھی غلامی کا ماخذ جنگی قیدی ہی تھے۔ اس کے علاوہ جب وہ کوئی علاقہ فتح کرتے تو وہاں پہلے سے موجود غلاموں کا معاملہ بھی پیش آتا۔ اسرائیلیوں کے مفتوحہ علاقوں میں قرض کی عدم ادائیگی یا جرائم کی سزا کے طور پر غلام بنائے جانے کا سلسلہ بھی موجود تھا۔

 

غلامی سے متعلق تورات کی اصلاحات

 

بنی اسرائیل کے آئیڈیل دور میں جس میں ان کی حکومت براہ راست اللہ تعالی کے مبعوث کردہ انبیاء کرام کے ماتحت تھی، واضح طور پر ہمیں یہ ملتا ہے کہ بنی اسرائیل کو انسانوں سے عمومی طور پر اور غلاموں سے خصوصی طور پر اچھا سلوک کرنا چاہیے۔ ان قوانین کی تفصیل یہ ہے :

  • اچھے سلوک کا یہ دائرہ صرف اسرائیلیوں تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ غیر اقوام کے افراد جنہیں بائبل میں “پردیسی (Gentiles)” کہا گیا ہے ، ان کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کرنا ضروری ہے جیسا کہ اسرائیلیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے : “کوئی پردیسی (غیر قوم کا فرد) تمہارے ساتھ تمہارے ملک میں رہتا ہو تو اس کے ساتھ بد سلوکی نہ کرنا۔ جو پردیسی تمہارے ساتھ رہتا ہو اس سے دیسی (اسرائیلی) جیسا برتاؤ کرنا بلکہ تم اس سے اپنے ہی مانند محبت کرنا کیونکہ تم بھی مصر میں پردیسی تھے۔ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔” (احبار باب 19)

چھ برس بعد غلاموں کی آزادی کا قانون

  • چھ برس کی خدمت کے بعد غلام یا کنیز کو خود بخود آزاد کر دیے جانے کا قانون بنا دیا گیا: “اگر تو عبرانی غلام خریدے تو وہ چھ برس تیری خدمت کرے لیکن ساتویں برس وہ قیمت ادا کیے بغیر آزاد ہو کر چلا جائے۔” (خروج باب 21) “اگر کوئی عبرانی بھائی، خواہ مرد ہو یا عورت، تمہارے ہاتھ بیچا گیا ہو اور وہ چھ سال تمہاری خدمت کر چکے تو ساتویں سال تم اسے آزاد کر کے جانے دینا۔” (استثنا باب 15)
  • چھ برس بعد غلام کی آزادی کے وقت اس سے اعلی درجے کا حسن سلوک کرنے کا حکم دیا گیا۔ “اور جب تم اسے آزاد کر دو تو اسے خالی ہاتھ رخصت نہ کرنا بلکہ اپنے گلہ (مویشیوں)، کھلیان (زرعی پیداوار) اور کولہو (صنعتی پیداوار) میں سے اسے دل کھول کر دینا۔ یاد رکھو ملک مصر میں تم بھی غلام تھے اور خداوند تمہارے خدا نے تمہیں اسے سے خلاصی بخشی۔ اس لیے آج میں تمہیں یہ حکم دے رہا ہوں۔” (استثنا باب 15)
  • چھ برس بعد غلاموں کی اس آزادی کو خوش دلی سے قبول کرنا ضروری قرار دیا گیا: “اپنے خادم کو آزاد کرنا اپنے لیے تم بوجھ نہ سمجھنا۔ کیونکہ اس نے چھ سال تمہارے لیے دو مزدوروں کے برابر خدمت کی ہے اور خداوند تمہارا خدا تمہارے ہر کام میں تمہارے لیے برکت دے گا۔” (استثنا باب 15)

غلام کے ازدواجی حقوق

  • غلام کو شادی کا حق دیا گیا اور اس کے ساتھ اس کے بیوی بچوں کو بھی آزاد کرنے کا حکم دیا گیا: “اگر وہ اکیلا خریدا جائے تو اکیلا ہی آزاد کیا جائے۔ اگر شادی شدہ ہو تو اس کی بیوی کو بھی اس کے ساتھ ہی آزاد کیا جائے۔” (خروج باب 21)
  • غلام کو اس فیصلے کا حق دیا گیا کہ اگر وہ اپنے آقا کی محبت یا اپنی مالی تنگدستی کے باعث آزادی کی ضرورت محسوس نہ کرتا ہو تو بد ستور غلامی میں رہے۔ اس کی وجہ بنیادی طور پر یہ تھی کہ بہت سے غلام اتنی صلاحیت نہ رکھتے تھے کہ وہ آزاد ہو کر اپنا پیٹ پال سکیں۔ ان کے مالک ان کے پورے خاندان کی کفالت کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے، جس کے ختم ہوتے ہی غلام کے روزگار کے چھن جانے کا خدشہ تھا: “اگر وہ غلام یہ اعلان کرے کہ میں اپنے آقا اور اپنی بیوی بچوں سے محبت رکھتا ہوں اور میں آزاد ہو کر نہیں جانا چاہتا، تو اس کا آقا اسے قاضیوں کے پاس لے جائے اور اسے دروازے یا اس کی چوکھٹ پر لا  کر سوئے سے اس کا کان چھید دے۔ تب وہ عمر بھر اس کی خدمت کرتا رہے گا۔” (خروج باب 21 اور استثنا باب 15)

غلام پر تشدد کی حرمت کا قانون

  • غلام پر تشدد کو حرام قرار دے دیا گیا۔ ایسا کرنے والے کو حکومت کی جانب سے سزا دی جائے۔ “اگر کوئی شخص اپنے غلام یا کنیز کو لا ٹھی سے ایسا مارے کہ وہ فوراً مر جائے تو اسے لا زماً سزا دی جائے۔” (خروج باب 21)
  • غلام پر تشدد کے بد لے اسے آزاد کرنے کا حکم دیا گیا۔ “اگر کوئی آدمی اپنے غلام یا کنیز کی آنکھ پر ایسا مارے کہ وہ پھوٹ جائے تو وہ اس کی آنکھ کے بد لے اسے آزاد کر دے۔ اور اگر وہ کسی غلام یا کنیز کا دانت مار کر اسے توڑ ڈالے تو وہ اس کے دانت کے بد لے اسے آزاد کر دے۔” (خروج باب 21)

آزاد شخص کو غلام بنانے کی ممانعت

  • آزاد شخص کو غلام بنانے کی سزا موت مقرر کی گئی۔ “جو کوئی دوسرے شخص کو اغوا کرے، خواہ اسے بیچ دے، خواہ اسے اپنے پاس رکھے اور پکڑا جائے تو وہ ضرور مار ڈالا جائے۔” (خروج باب 21)
  • اگر کوئی مفلسی کے ہاتھوں خود کو بیچنا چاہے تو اس کی ممانعت کر دی گئی۔ “اگر تمہارے درمیان تمہارا ہم وطن مفلس ہو جائے اور اپنے آپ کو تمہارے ہاتھ بیچ دے تو اس سے غلام کی مانند کام نہ لینا۔ بلکہ اس سے ایک مزدور یا تمہارے درمیان کسی مسافر کی طرح سلوک کیا جائے اور وہ (زیادہ سے زیادہ) جوبلی کے سال تک تمہارے لیے کام کرے۔” (احبار باب 25)
  • بنی اسرائیل کو خاص طور پر غلام بنانے کی ممانعت کی گئی۔ “بنی اسرائیل میرے خادم ہیں جنہیں میں مصر سے نکال کر لا یا لہذا ان کو بطور غلام کے ہرگز نہ بیچا جائے۔” (احبار باب 25)

مظلوم غلاموں کی آزادی کا قانون

  • مظلوم غلام اگر بنی اسرائیل کی پناہ میں آ جائے تو اسے آزاد کر دینے کا حکم دیا گیا۔ “اگر کسی غلام نے تمہارے پاس پناہ لی ہو تو اسے اس کے آقا کے حوالے نہ کر دینا۔ اسے اپنے درمیان جہاں وہ چاہے اور جس شہر کو وہ پسند کرے وہیں رہنے دینا۔ اور تم اس پر ظلم نہ ڈھانا۔” (استثنا باب 23)

مقروض کو غلام بنا لینے کی ممانعت

  • سود کو قطعی حرام قرار دے دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سودی قرض، غلامی کا ایک اہم سبب تھے۔ “تم اپنے بھائی سے سود وصول نہ کرنا خواہ وہ روپوں پر، اناج پر یا کسی ایسی چیز پر ہو جس پر سود لیا جاتا ہے۔” (استثنا باب 23)
  • مقروض کی شخصی آزادی کو پوری طرح برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ “جب تم اپنے ہمسائے کو کسی قسم کا قرض دو تو جو شے وہ رہن رکھنا چاہے اسے لینے کے لئے اس کے گھر میں داخل نہ ہو جانا بلکہ باہر ہی کھڑے رہنا۔۔۔۔اگر وہ شخص مسکین ہو تو اس کی رہن رکھی ہوئی چادر کو اوڑھ کر نہ سو جانا۔” (استثنا باب 23)
  • مقروض اگر سات سال تک اپنا قرض ادا نہ کر سکے تو اس کا قرض معاف کر دینے کا حکم دیا گیا۔ “ہر سات سال کے بعد تم قرض معاف کر دیا کرنا۔” (استثنا باب 15)
  • غریب مزدوروں کی مفلسی سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کر دی گئی۔ “تم مزدور کی مفلسی اور محتاجی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھانا خواہ وہ اسرائیلی بھائی ہو یا کوئی اجنبی ہو جو تمہارے کسی شہر میں رہتا ہو۔” (استثنا باب 23)

لونڈیوں کی آزادی سے متعلق خصوصی اصلاحات

  • اگر کوئی آقا اپنی کنیز کے طرز عمل سے خوش نہ ہو تو وہ اسے آزاد کر دے۔ “اگر وہ (کنیز) آقا کو جس نے اسے اپنے لئے منتخب کیا تھا خوش نہ کرے تو وہ اس کی قیمت واپس لے کر اسے اپنے گھر جانے دے۔ اسے اس کنیز کو کسی اجنبی قوم کو بیچنے کا اختیار نہیں کیونکہ وہ اس کنیز کو لا نے کے بعد اپنا کیا ہوا وعدہ پورا نہ کر سکا۔” (خروج باب 21)
  • بیٹوں کی کنیزوں سے بیٹیوں جیسا سلوک کیا جائے اور ان پر بری نظر نہ رکھی جائے۔ “اگر وہ اسے (یعنی کنیز کو) اپنے بیٹے کے لئے خریدتا ہے تو اس کے ساتھ بیٹیوں والا سلوک کرے۔” (خروج باب 21)
  • کنیز کو کسی صورت میں بھی بنیادی حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ خود بخود آزاد ہو جائے گی۔ “اگر وہ کسی دوسری عورت کو بیاہ لائے تو لا زم ہے کہ وہ اس کنیز یعنی پہلی عورت کو کھانے، کپڑوں اور ازدواجی حقوق سے محروم نہ کرے۔ اگر وہ اسے یہ تین چیزیں مہیا نہیں کرتا تو وہ کنیز اپنے آزاد ہونے کی قیمت ادا کیے بغیر واپس جا سکتی ہے۔” (خروج باب 21)
  • تورات کے قانون کے مطابق آزاد شخص کو بد کاری کے جرم میں موت کی سزا مقرر کی گئی تھی۔ لیکن کنیزوں کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کے لئے اس سزا میں تخفیف کر دی گئی۔ “اگر کوئی آدمی کسی ایسی کنیز سے جنسی تعلقات پیدا کر لے جو کسی اور کی منگیتر ہو لیکن نہ تو اس کا فدیہ دیا گیا ہو اور نہ ہی وہ آزاد کی گئی ہو تو کوئی مناسب سزا دینا ضروری ہے تاہم انہیں جان سے نہ مارا جائے کیونکہ وہ عورت آزاد نہیں کی گئی تھی۔” (احبار باب 19)
  • ایسی لا وارث خواتین جو جنگی قیدی کے طور پر اسرائیل میں لا ئی جائیں، کے لئے یہ ضابطہ مقرر کیا گیا کہ ان سے شادی کر لی جائے جو کہ ظاہر ہے کہ خاتون کی اجازت ہی سے ہو سکتی ہے۔ “جب تم اپنے دشمنوں سے جنگ کرنے نکلو اور خداوند تمہارا خدا انہیں تمہارے ہاتھ میں کر دے اور تم انہیں اسیر کر کے لا ؤ اور ان اسیروں میں سے کوئی حسین عورت دیکھ کر تم اس پر فریفتہ ہو جاؤ تو تم اس سے بیاہ کر لینا۔۔۔۔جب وہ تمہارے گھر میں رہ کر ایک ماہ تک اپنے ماں باپ کے لئے ماتم کر چکے تب تم اس کے پاس جانا اور تب تم اس کے خاوند ہو گے اور وہ تمہاری بیوی ہو گی۔ اور اگر وہ تمہیں نہ بھائے تو جہاں وہ جانا چاہے، اسے جانے دینا۔ تم اس کا سودا نہ کرنا، نہ اس کے ساتھ لونڈی کا سا سلوک روا رکھنا کیونکہ تم نے اسے بے حرمت کیا ہے (یعنی اس سے ازدواجی تعلقات قائم کیے ہیں۔)” (استثنا باب 21)

ان آیات کا بغیر کسی تعصب کے مطالعہ کیا جائے تو واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا موسی علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کے خلفاء راشدین کے دور میں غلامی کے خاتمے اور موجود غلاموں کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے حکومت کی سطح پر اقدامات کئے گئے۔ غلاموں پر تشدد کو ممنوع قرار دیا گیا اور ایسا کرنے کی صورت میں انہیں آزاد کر دینے کا حکم دیا گیا۔

غلام بنانے کا ایک اہم راستہ یہ تھا کہ غریب اور مقروض افراد، جو اپنا قرض ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں، کو غلام بنا لیا جائے۔ تورات نے واضح طور پر سود کی حرمت کا اعلان کیا اور تنگدست اور مقروض اگر خود بھی غلام بننا چاہے تو ایسا کرنے کی ممانعت کر دی۔ غربت سے لوگوں کو بچانے کے لئے مزدور کی مزدوری فوراً ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔

جو غلام پہلے سے معاشرے میں موجود تھے، ان کے لئے یہ قانون بنا دیا گیا کہ انہیں چھ سال کی سروس کے بعد آزاد کر دیا جائے۔ یہ آزادی تنگ دلی کے ساتھ نہ ہو بلکہ اس غلام کے ساتھ اس کے بیوی بچوں کو بھی نہ صرف آزاد کیا جائے بلکہ آقا اپنے مال و اسباب میں سے بھی دل کھول کر انہیں نوازے۔ غلاموں پر تشدد کرنے سے منع کر دیا گیا۔ ان خواتین کا خاص طور پر خیال رکھا گیا جو جنگی قیدی کے طور پر بنی اسرائیل کے ہاں آ جائیں۔ ان کے ساتھ ساتھ کنیزوں کے حقوق کا بھی پورا تحفظ کیا گیا۔


باب 4: بنی اسرائیل کے دور انحطاط میں غلامی

 

سیدنا سلیمان علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات کے بعد بہت جلد بنی اسرائیل ایک عظیم اخلاقی انحطاط (Moral Degeneration) کا شکار ہو گئے۔ اس انحطاط کی تاریخ خود ان کے اپنے مورخین نے بیان کی ہے۔ بائبل میں “استثنا” کے بعد کی کتابوں میں اس اخلاقی انحطاط کو بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ان کی اخلاقیات اس درجے میں تباہ ہو چکی تھیں کہ انہوں نے اللہ تعالی کی کتاب تورات کو بھی نہ چھوڑا اور اس میں اپنی مرضی کی تبدیلیاں کرنے لگے۔ “نظریہ ضرورت” کے تحت تورات میں من گھڑت احکام داخل کئے گئے۔

 

دور انحطاط میں غلامی سے متعلق احکام میں تحریف

 

انسانی حقوق کو صرف اسرائیلیوں سے مخصوص کرنے کے لئے تورات میں تحریف

تورات میں انسانی حقوق سے متعلق جو قوانین بنائے گئے تھے، ان کا اطلاق نہ صرف اسرائیلیوں پر ہوتا تھا بلکہ تورات کی کتاب احبار میں آیت نمبر 19:34 کے حکم کے مطابق سلطنت اسرائیل کی حدود میں رہنے والے تمام باشندے، خواہ وہ اسرائیلی ہوں یا نہ ہوں، ان حقوق کے مستحق تھے۔ ان حضرات نے تمام انسانی حقوق کو “عبرانیوں” کے ساتھ خاص کر لیا اور دیگر اقوام کو “Gentiles” قرار دے کر ان کے استحصال کی اجازت دے دی۔ سودی لین دین، جو شریعت موسوی میں حرام تھا اور غلامی کا ایک اہم سبب تھا، کو دیگر اقوام کے معاملے میں جائز قرار دے دیا گیا۔ اس دور میں ان خدائی قوانین میں جو اضافے کئے گئے، وہ خط کشیدہ عبارت میں موجودہ بائبل کے الفاظ بیان کئے گئے ہیں:

  • “تمہارے غلام اور تمہاری کنیزیں ان قوموں میں سے ہوں جو تمہارے ارد گرد رہتی ہیں، انہی سے تم غلام اور لونڈیاں خریدا کرنا۔” (استثنا باب 25)
  • “تمہارے درمیان عارضی طور پر رہنے والوں اور ان کے گھرانوں کے ان افراد میں سے بھی جو تمہارے ملک میں پیدا ہوئے، کچھ کو خرید سکتے ہو اور وہ تمہاری ملکیت ہوں گے۔” (استثنا باب 25)
  • “تم انہیں میراث کے طور پر اپنی اولاد کے نام کر سکتے ہو اور یوں انہیں عمر بھر کے لئے غلام بنا سکتے ہو۔” (استثنا باب 25)
  • “تم چاہو تو پردیسیوں سے سود  وصول کرنا لیکن کسی اسرائیلی بھائی سے نہیں۔” (استثنا باب 23)

غلاموں سے متعلق قوانین میں ترامیم و اضافے

پہلے سے موجود خدائی قوانین میں جو ترامیم کی گئیں، ان کی تفصیل یہ ہے :

  • کتاب خروج باب 21 میں چھ سال کی سروس بعد غلام اور اس کے بیوی بچوں کو آزاد کرنے کا جو حکم دیا گیا تھا، اس میں یہ تبدیلی کر دی گئی کہ “اگر اس کا بیاہ اس کے آقا نے کروایا ہو اور اس عورت کے اس سے بیٹے اور بیٹیاں بھی ہوئی ہوں تو وہ عورت اور اس کے بچے آقا کے ہوں گے اور صرف آدمی آزاد کیا جائے گا۔”
  • کتاب استثنا باب 15 کے مطابق چھ سال بعد آزادی کا حکم مرد اور عورت دونوں قسم کے غلاموں کے لئے تھا۔ اس قانون میں تبدیلی کر کے یہ کہہ دیا گیا کہ “کنیز غلاموں کی طرح (چھ برس بعد) آزاد نہ کی جائے۔” اپنی بیٹیوں کو بائبل کے دیگر صریح احکام کے خلاف بطور کنیز بیچنے کی اجازت دے دی گئی۔ (خروج باب 21)
  • کتاب خروج باب 21 میں غلام پر تشدد کر کے اسے قتل کر دینے کی صورت میں جو سزا تورات نے نافذ کی تھی، اس میں یہ اضافہ کر دیا گیا کہ یہ معاملہ صرف اس صورت میں ہے کہ اگر غلام فوراً مر گیا ہو، “لیکن اگر وہ ایک دو دن زندہ رہے تو اسے سزا نہ دی جائے، اس لئے کہ وہ اس کی ملکیت ہے۔” تحریف کرنے والوں کو یہ خیال نہ آیا کہ غلام اگر تشدد کے نتیجے میں فوراً مر جائے یا ایک دو دن بعد، اس سے اس کے آقا کے جرم کی نوعیت میں کیا فرق واقع ہوا ہے۔ اس کا جرم تو ایک ہی ہے۔
  • جنگی قیدیوں کے لئے یہ قانون بنایا گیا تھا کہ ان میں شامل خواتین سے اسرائیلی ان کی مرضی سے شادی کر سکتے ہیں۔ اس قانون کو تبدیل کر کے صلح کرنے والوں کو بھی غلام بنانے کی اجازت دے دی گئی۔ “جب تم کسی شہر پر حملہ کرنے کے لئے اس کے قریب پہنچو تو اس کے باشندوں کو صلح کا پیغام دو۔ اگر وہ اسے قبول کر کے اپنے پھاٹک کھول دیں تو اس میں کے سب لوگ بیگار میں کام کریں اور تمہارے مطیع ہوں۔ (استثنا باب 20)

حام کی غلامی کا فرضی قصہ

  • کتاب پیدائش میں ایک فرضی قصہ داخل کیا گیا جس کے مطابق سیدنا نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام  کے بیٹے حام نے اپنے والد سے کچھ بد تمیزی کی جس پر انہوں نے حام کو بد دعا دی کہ “حام، اپنے بھائیوں سام اور یافث کا غلام ہو۔” اس قصے کی بدولت انہوں نے حام کی اولاد یعنی افریقیوں کی غلامی کا جواز پیدا کیا۔انہوں نے اس بات کا خیال نہیں کیا کہ اگر حام نے کوئی بد تمیزی کی بھی تھی تو اس کی سزا ان کی پوری اولاد کو دینا کس قانون کے تحت درست ہو گا۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید بار بار یہود کو ان کے آبا ؤ اجداد کے جرائم یاد دلاتا ہے تو ایسا کیوں ہے ؟ اولاد تو اپنے آباء کی غلطیوں کی ذمہ دار نہیں ہے۔ نزول قرآن کے وقت بنی اسرائیہل ایک غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ چونکہ ہم نیک لوگوں کی اولاد ہیں، اس لئے ہماری نجات پکی ہے اور ہم سیدھے جنت میں جائیں گے۔ قرآن مجید نے انہیں ان کی اپنی تاریخ سے مثال پیش کی کہ تمہارے آبا ؤ اجداد کو ان کے جرائم کی سزا ملی ہے ، بالکل اسی طرح تمہیں بھی تمہارے جرائم کی سزا ملے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید نے آباء کے جرم کی سزا اولاد کو ہرگز نہیں دی۔

 

تورات میں کی جانے والی تحریفات پر تبصرہ

 

ممکن ہے موجودہ دور کے یہودی اہل علم ہماری دی گئی تفصیلات سے اختلاف کریں۔ ہم نے تورات کی جن آیات کو بعد کی ایجاد کردہ آیات میں شمار کیا ہے ، وہ انہیں خدا کا حکم ہی سمجھتے ہوں۔ اگر ایسا ہی ہو تو ان سے ہماری گزارش یہ ہو گی کہ وہ ان آیات کی اس آیت سے مطابقت پیدا کر کے دکھائیں جس کے مطابق پردیسیوں (Gentiles)سے وہی سلوک کرنا ضروری تھا جو اسرائیلی سے کیا جائے۔ اس آیت اور ان آیات جن میں غیر اسرائیلیوں کو غلام بنانے کی اجازت دی گئی ہے ، ایک واضح تضاد نظر آتا ہے ، جسے رفع کرنا کسی کے لئے ممکن نہیں ہے۔ آیت کو ہم دوبارہ درج کر رہے ہیں:

“کوئی پردیسی (غیر قوم کا فرد) تمہارے ساتھ تمہارے ملک میں رہتا ہو تو اس کے ساتھ بد سلوکی نہ کرنا۔ جو پردیسی تمہارے ساتھ رہتا ہو اس سے دیسی (اسرائیلی) جیسا برتاؤ کرنا بلکہ تم اس سے اپنے ہی مانند محبت کرنا کیونکہ تم بھی مصر میں پردیسی تھے۔ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔” (احبار باب 19)

ممکن ہے کہ بعض حضرات یہ کہیں کہ ہمیں یہ کیسے علم ہوا کہ یہ تفصیلات بعد کی تحریفات پر مشتمل ہیں۔ اس کے لئے ہمارا استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالی کے نزدیک اس کی تمام مخلوق برابر ہے۔ وہ اپنی پوری مخلوق سے محبت کرتا ہے۔ انسانی جان، مال، آبرو اور آزادی کی حرمت ایسا معاملہ ہے جسے کسی مخصوص گروہ کے ساتھ اللہ تعالی نے کبھی خاص نہیں کیا۔ انسانوں نے تو اپنے مفاد کے لئے ایسا کیا ہے لیکن کائنات کا خدا کبھی ایسا نہیں کر سکتا۔

اللہ تعالی نے اپنی ہدایت کے ہر ورژن میں ایک انسان (نہ کہ صاحب ایمان) کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ یہی معاملہ غلامی کا ہے۔ یہ بنیادی انسانی حقوق ہیں جن کے معاملے میں مذہب، قوم اور رنگ کی بنیاد پر کوئی امتیاز کرنا کبھی درست نہیں ہو گا۔

 

دور انحطاط میں مبعوث ہونے والے انبیاء کرام کی تنبیہات

 

بنی اسرائیل کے دور انحطاط میں اللہ تعالی نے جن انبیاء کو مبعوث فرمایا، انہوں نے بنی اسرائیل کو ان کی غلط کاریوں پر کڑی تنبیہ کی اور انہیں ان نافرمانیوں کی بدولت آنے والے خدائی عذاب سے خبردار کیا۔ ان غلط کاریوں میں “غلام بنانا” بھی شامل تھا۔ کچھ تفصیلات یہ ہیں:

  • بائبل میں سیدنا عاموس علیہ الصلوٰۃ والسلام (793-740BC) کی کتاب اسرائیلیوں پر اللہ تعالی کی طرف سے عذاب کی وارننگ ہے۔ اس میں غزہ کے علاقے کے رہنے والوں کے جو جرائم گنوائے گئے ہیں، ان میں غلام بنانا بھی شامل ہے۔ “غزہ کے تین بلکہ چار گناہوں کے باعث میں اپنے غضب سے باز نہ آؤں گا۔ چونکہ اس نے سارے گروہوں کو اسیر کر لیا اور انہیں ادوم کے ہاتھ بیچ دیا۔ میں غزہ کے شہر پناہ پر آگ بھیجوں گا جو اس کے قلعوں کو کھا جائے گی۔” (عاموس، باب 1)
  • اسی دور انحطاط میں سیدنا یسعیاہ علیہ الصلوٰۃ والسلام (740 – 681BC) کی بعثت ہوئی جنہوں نے غلاموں کو آزاد ہونے کی بشارت دی۔ “اس نے مجھے اس لیے بھیجا ہے کہ میں شکستہ دلوں کو تسلی دوں، قیدیوں (غلاموں) کے لئے رہائی کا اعلان کروں اور اسیروں کو تاریکی سے رہا کروں۔” (یسعیاہ باب 61)

اسی عرصے میں اللہ تعالی نے سیدنا یرمیاہ علیہ الصلوٰۃ والسلام (627 – 580BC) کو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کیا۔ انہوں نے انحطاط زدہ بنی اسرائیل کو ان کے جرائم کی چارج شیٹ پڑھ کر سنائی۔ ان جرائم میں غلام بنانا بھی شامل تھا (یرمیاہ باب 2)۔ بائبل کی کتاب یرمیاہ میں اس کے بعد بنی اسرائیل کو آخری وارننگ دی گئی ہے کہ اگر انہوں نے اللہ تعالی کی شریعت پر عمل کرنا شروع نہ کیا تو پھر ان پر عظیم عذاب آنے والا ہے اور عنقریب اسرائیلیوں کی دونوں سلطنتیں یہوداہ اور اسرائیل تباہ ہونے والی ہیں۔ یہ سزا بنی اسرائیل کے قتل اور انہیں غلام بنا لئے جانے کی صورت میں ان پر نافذ کی جائے گی۔ بعد کی تاریخ گواہ ہے کہ پھر ایسا ہی ہوا۔

 

یہودیوں کے بعد کے ادوار میں غلامی

 

یہودیوں کی ایک خوبی یہ رہی ہے کہ انہوں نے کم از کم اپنی قوم کے بارے میں بائبل کے ان احکامات پر عمل کیا۔ اگر ان کا کوئی ہم مذہب کسی جنگ میں قیدی ہو جائے تو وہ اسے فدیہ ادا کر کے آزاد کرواتے تھے۔ “یہودیوں کی تاریخ” کے مصنف پال جانسن نے اپنی کتاب میں اس رواج کا تذکرہ کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کے دور میں جو یہود مدینہ میں آباد تھے۔ ان کے ہاں بھی یہی معمول تھا جس کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔

ثُمَّ أَنْتُمْ هَؤُلاء تَقْتُلُونَ أَنفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقاً مِنْكُمْ مِنْ دِيَارِهِمْ تَتَظَاهَرُونَ عَلَيْهِمْ بِالإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَإِنْ يَأْتُوكُمْ أُسَارَى تُفَادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ۔ (2:85)

اس کے بعد تم اپنے افراد کو قتل کرتے ہو اور اپنے ایک گروہ کو ان کے گھروں سے جلا وطن کرتے ہو اور ظلم و زیادتی کے ساتھ ان کے خلاف جتھہ بندی کرتے ہو۔ اس کے بعد اگر انہیں جنگی قیدی بنا لیا جائے تو تم ان کا فدیہ دیتے ہو جبکہ انہیں گھروں سے جلا وطن کرنا ہی تمہارے لئے حرام ہے۔ کیا تم کتاب (تورات) کے بعض حصوں کو مانتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو؟

بعد کے ادوار میں یہودی علماء کے ہاں غلامی کے جواز اور عدم جواز کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ ایسین (Essene) فرقے کے علماء نے غلامی کو کھلم کھلا خدا کی مرضی کے خلاف قرار دیا۔ یہی وہ فرقہ ہے جس کے بارے میں تاریخ میں یہ ملتا ہے کہ انہوں نے اپنی کمیونٹی میں غلامی کا مکمل خاتمہ کر لیا تھا۔


باب 5: روم میں غلامی

 

سلطنت روما: عیسائیت سے پہلے

 

غلامی کی بد ترین مثال

سلطنت روم ماضی کی عظیم ترین سلطنت رہی ہے۔ اس کا اقتدار 200BC سے شروع ہو کر کم و بیش 1500 عیسوی تک جاری رہا۔ غلاموں سے متعلق رومی قوانین اپنی ہم عصر سلطنتوں سے کافی مختلف تھے۔ ان قوانین کو غلامی سے متعلق سخت ترین قوانین قرار دیا جا سکتا ہے۔ پروفیسر کیتھ بریڈلے اپنے آرٹیکل “قدیم روم میں غلاموں کی مزاحمت (Resisting Slavery in Ancient Rome)” میں اس دور کی غلامی کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتے ہیں:

روم اور اٹلی میں، 200 قبل مسیح سے لے کر 200 عیسوی تک، کی چار صدیوں میں آبادی کا چوتھائی بلکہ تہائی حصہ غلاموں پر مشتمل تھا۔ اس دوران کروڑوں کی تعداد میں مرد، خواتین اور بچے کسی بھی قسم کے حقوق کے بغیر رہتے رہے ہیں گویا کہ قانونی اور معاشرتی طور پر وہ سرے سے وجود ہی نہیں رکھتے۔ وہ انسان ہی نہیں سمجھے جاتے تھے۔

پلوٹرک کی بیان کردہ معلومات کے مطابق کسی غلام کا نام ہی نہ ہوا کرتا تھا۔ انہیں کوئی چیز اپنی ملکیت میں رکھنے، شادی کرنے یا قانونی خاندان رکھنے کی کوئی اجازت نہ ہوا کرتی تھی۔ غلاموں کا مقصد یا تو محض محنت کرنے والے کارکنوں کا حصول ہوا کرتا تھا یا پھر یہ اپنے آقاؤں کی دولت کے اظہار کے لئے اسٹیٹس سمبل کے طور پر رکھے جاتے تھے۔ اگرچہ کچھ غلاموں کے ساتھ اچھا سلوک اختیار کیا جاتا تھا لیکن ان کے مالکوں کے قانونی اختیارات پر بہت ہی کم قدغنیں عائد کی گئی تھیں۔ غلاموں کو جسمانی سزائیں دینا اور ان کا جنسی استحصال کرنا عام تھا۔

اپنی تعریف کے لحاظ سے ہی غلامی ایک وحشی، متشددانہ اور غیر انسانی ادارہ تھا جس میں غلام کی حیثیت محض ایک جانور کی سی تھی۔ ہمیں بہت ہی کم ایسا ریکارڈ ملتا ہے جس میں غلامی سے متعلق خود رومی غلاموں کے تاثرات کو بیان کیا گیا ہو۔

http://www.bbc.co.uk/history/ancient/romans/slavery_02.shtml

کے ایس لا ل نے رومی غلامی کی مزید خصوصیات بیان کی ہیں:

  • رومی غلام زیادہ تر وہ ہوا کرتے تھے جو یا تو جنگوں میں پکڑے جائیں یا پھر وہ جو اپنے قرضے ادا نہ کر سکیں۔
  • ان غلاموں کو قطعی طور پر کوئی حقوق حاصل نہ تھے۔ انہیں معمولی غلطیوں پر بھی موت کی سزا دی جا سکتی تھی۔
  • غلام اتنی کثیر تعداد میں تھے کہ بادشاہ آگسٹس کے دور میں ایک شخص چار ہزار غلام بطور جائیداد کے چھوڑ کر مرتا تھا۔
  • کثیر تعداد میں موجود غلاموں کو کنٹرول کرنے کے لئے انہیں دائمی ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنا دی جاتی تھیں جو وہ سوتے وقت بھی اتار نہ سکتے تھے۔
  • آقاؤں کی تفریح کے لئے غلاموں کو ایک دوسرے یا وحشی درندوں سے لڑایا جاتا۔ ان غلاموں کو اس کی باقاعدہ تربیت دی جاتی اور ان لڑائیوں کا نتیجہ کسی ایک کی موت کی صورت ہی میں نکلتا۔ ایسے غلاموں کو گلیڈی ایٹر (Gladiator) کہا جاتا تھا۔ فتح یاب غلام کو آزادی دینا اس کے مالکوں اور تماشائیوں کی صوابدید پر منحصر ہوا کرتا تھا۔

غلاموں کی بغاوتیں

غلامی کی اس بد ترین شکل کے نتیجے میں رومی سلطنت میں بہت سی بغاوتیں بھی ہوئیں۔ رومی سلطنت میں غلاموں کی بہت سی بغاوتوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ کیتھ بریڈلے کا آرٹیکل انہی بغاوتوں کے بارے میں ہے۔ ان کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان میں سب سے مشہور بغاوت 73-71BC میں ہوئی جس کا لیڈر مشہور گلیڈی ایٹر اسپارٹکس تھا۔ اس بغاوت میں بہت سے غلاموں نے حصہ لیا اور اس بغاوت کے نتیجے میں سلطنت روما تباہ ہوتے ہوتے بچی۔ بغاوت ناکام رہی اور اسپارٹکس کو قتل کر دیا اور اس کے ہزاروں پیروکاروں کو صلیب پر چڑھا دیا گیا جو کہ رومیوں کا عام طریق کار تھا۔

رومی ہمیشہ ان بغاوتوں سے خائف رہے۔ ایک مرتبہ روم کے سینٹ میں یہ خیال پیش کیا گیا کہ غلاموں کو علیحدہ لباس پہنایا جائے جس سے ان کی الگ سے شناخت ہو سکے لیکن اس خیال کو مسترد کر دیا گیا کیونکہ اس طریقے سے غلام ایک دوسرے کو پہچان کر اپنی قوت سے آگاہ ہو سکتے تھے۔

رومی غلامی اس حد تک خوفناک تھی کہ روم کے مقابلے پر لڑنے والوں کو اگر اپنی شکست کا یقین ہو جاتا تو یہ لوگ اس غلامی سے محفوظ رہنے کے لئے اجتماعی طور پر خود کشی کر لیا کرتے تھے۔ دوسری طرف بعض غلام تنگ آ کر اپنے مالکوں کو بھی قتل کر دیا کرتے تھے۔ ایسی صورت میں یہ قانون بنایا گیا کہ اگر قاتل پکڑا نہ جا سکے تو اس شخص کے تمام غلاموں کو ہلاک کر دیا جائے۔

بہت سے غلاموں نے فرار کا راستہ بھی اختیار کیا۔ رومیوں نے اس کے جواب میں غلاموں کو پکڑنے کی ایک تربیت یافتہ پولیس تیار کی۔ یہ پولیس راستوں اور جنگلوں میں غلاموں کی تلاش کی ماہر ہوا کرتی تھی۔ ان غلاموں کو باقاعدہ جنگلی جانوروں کی طرح شکار کیا جاتا۔ پکڑے جانے والے غلام پر تشدد کے بعد اس کے گلے میں لوہے کا ایک دائمی طوق پہنا دیا جاتا۔

 

سلطنت روما: دور عیسائیت میں

 

سیدنا عیسی علیہ الصلوٰۃ والسلام (33BC – 0CE) کی بعثت بنی اسرائیل میں اس دور میں ہوئی جب اسرائیلی اپنے عروج کا زمانہ دو مرتبہ گزار چکے تھے۔ یہود کا دوسرا عروج سیدنا عزیر علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دور میں ہوا تھا۔ اس کے بعد اسرائیلی دوبارہ اخلاقی انحطاط کا شکار ہو کر پہلے یونان اور پھر روم کی غلامی میں جا چکے تھے۔ آپ کی بعثت کے وقت فلسطین کے علاقے پر اگرچہ ایک یہودی بادشاہ “ہیرودوس” کی حکومت تھی لیکن اس کی ریاست مکمل طور پر رومنائز ہو چکی تھی اور اس کی حیثیت روم کے ایک گورنر کی سی تھی۔

ان کے حکمرانوں کے کردار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ محض ایک رقاصہ کی فرمائش اپنی قوم کے صالح ترین شخص، یحیی (John the Baptist) علیہ الصلوٰۃ والسلام کا سر قلم کر کے اس کے حضور پیش کر دیا گیا تھا۔ سیدنا یحیی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بادشاہ بھی صالح ترین مانتا تھا۔ آپ کا جرم صرف اتنا تھا کہ آپ نے بادشاہ کو اپنی سوتیلی بیٹی سے شادی کرنے سے منع فرمایا تھا۔

 

 

غلاموں اور پست طبقات سے متعلق سیدنا عیسی علیہ السلام کی تعلیمات

سیدنا مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام پر جو لوگ ایمان لائے، وہ معاشرے کے اس طبقے سے تعلق رکھتے تھے جن کا سیاسی اثر و رسوخ نہ ہونے کے برابر تھا۔ آپ کے قریبی صحابہ میں سیدنا پطرس، اندریاس، یعقوب اور یوحنا رضی اللہ عنہم گلیل کی جھیل کے مچھیرے اور سیدنا متی رضی اللہ عنہ محض ایک سرکاری ملازم تھے۔ اس صورت حال میں غلامی سے متعلق کوئی اقدام کرنا آپ کے لئے ممکن نہ تھا۔ آپ نے معاشرے کے پست ترین طبقات کو، جن میں غلام بھی شامل تھے، مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں  کیونکہ آسمان کی بادشاہی ان کے لئے ہے۔ مبارک ہیں وہ جو غمگین ہیں کیونکہ وہ تسلی پائیں گے۔ مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین کے وارث ہوں گے۔ مبارک ہیں وہ جنہیں راستبازی کی بھوک و پیاس ہے کیونکہ وہ سیراب ہوں گے۔ مبارک ہیں وہ جو رحمدل ہیں کیونکہ ان پر رحم کیا جائے گا۔ مبارک ہیں وہ جو پاک دل ہیں کیونکہ وہ خدا کو دیکھیں گے۔ مبارک ہیں وہ جو صلح کرواتے ہیں کیونکہ وہ خدا کے بیٹے (محبوب) کہلائیں گے۔ مبارک ہیں وہ جو راستبازی کے سبب ستائے جاتے ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہی (جنت) انہی کے لئے ہے۔ (متی باب 5)

اے محنت مشقت کرنے والو! اور وزنی بوجھ اٹھانے والو! تم میرے پاس آؤ، میں تمہیں آرام پہنچاؤں گا۔ (متی، 11:28)

آپ نے غلاموں کو آزادی کی بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

خداوند کا روح مجھ پر ہے۔ اس نے مجھے مسح کیا ہے ، تاکہ میں غریبوں کو خوشخبری سناؤں، اس نے مجھے بھیجا ہے تاکہ میں قیدیوں کو رہائی اور اندھوں کو بینائی کی خبر دوں، کچلے ہوؤں کو آزادی بخشوں اور خداوند کے سال مقبول کا اعلان کروں۔ (لوقا باب 4)

آپ نے تمام انسانوں کو برابر اور ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا اور یہود کے علماء، جو سیدنا موسی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جانشینی کا منصب سنبھالے ہوئے تھے، کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

شریعت کے عالم اور فریسی موسی (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی گدی پر بیٹھے ہیں۔ لہذا جو کچھ یہ تمہیں سکھائیں اسے مانو اور اس پر عمل کرو۔ لیکن ان کے نمونے پر مت چلو کیونکہ وہ کہتے تو ہیں مگر کرتے نہیں۔ وہ ایسے بھاری بوجھ جنہیں اٹھانا مشکل ہے ، باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر رکھتے ہیں اور خود انہیں انگلی بھی نہیں لگاتے۔ وہ ضیافتوں میں صدر نشینی چاہتے ہیں اور عبادت خانوں میں اعلی درجے کی کرسیاں، اور چاہتے ہیں کہ بازاروں میں لوگ انہیں جھک جھک کر سلام کریں اور ‘ربی’ کہہ کر پکاریں۔ لیکن تم ربی نہ کہلاؤ کیونکہ تمہارا رب ایک ہی ہے اور تم سب بھائی بھائی ہو۔ (متی باب 23)

انجیل میں آپ کے کچھ ایسے ارشادات پائے جاتے ہیں جن میں آپ نے غلاموں کو اپنے مالکوں کا وفادار رہنے کی تلقین کی ہے لیکن اس سے یہ قطعی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ آپ غلامی کو برقرار رکھنے کے قائل تھے۔ ان ارشادات کا تعلق غلام اور آقا کے تعلقات کو بہتر بنانے سے تھا۔

غلامی کے خاتمے سے متعلق آپ کو علیحدہ سے تعلیم دینے کی ضرورت نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کوئی نئی شریعت نہ لائے تھے۔ غلامی کو ختم کرنے سے متعلق شریعت موسوی میں جو تعلیمات موجود تھیں، انہی پر اگر صحیح روح کے ساتھ عمل کر لیا جاتا تو غلامی کے اثر کو کم کیا جا سکتا تھا۔ آپ نے ارشاد فرمایا:

یہ نہ سمجھو کہ میں موسی کی کتاب، شریعت اور نبیوں کی تعلیمات کو منسوخ کرنے کے لئے آیا ہوں۔ میں ان کو منسوخ کرنے کی بجائے انہیں پورا کرنے کے لئے آیا ہوں۔ (متی، باب 5)

ہاں ایسا ضرور تھا کہ تورات میں علمائے یہود نے جو تحریفات کر رکھی تھیں، ان سے تورات کو پاک کرنا ضروری تھا۔ آپ نے اپنی تعلیمات میں یہود کی شریعت کے ان پہلوؤں کی طرف توجہ ضرور دلائی اور بتایا کہ یہ بوجھ اللہ تعالی نے نہیں بلکہ ان کے مذہبی راہنماؤں نے ان پر عائد کیے ہیں۔ افسوس کہ سیدنا عیسی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سوانح نگاروں نے یہ تفصیلات مکمل طور پر ریکارڈ نہیں کیں البتہ اس کے بعض اشارات انجیلوں میں ملتے ہیں۔ اگر آپ کی مکمل تعلیمات کو ریکارڈ کر لیا جاتا تو یقینی طور پر اس میں ہمیں خدا کی اصل شریعت اور انسانوں کی موشگافیوں کی تفصیلات مل جاتیں۔

سیدنا مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کچھ عرصے بعد عیسائیوں کی اکثریت نے سینٹ پال کو بطور مذہبی راہنما کے قبول کر لیا۔ موجودہ دور کی عیسائیت سینٹ پال کی مذہبی تعبیرات پر مبنی ہے۔ پال نے آقاؤں کو غلاموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا اور یہ کہا کہ “خدا کی نظر میں سب برابر ہیں۔” پال کی تعلیمات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک موسوی شریعت کی سزاؤں کے حق داروں میں  لوگوں کو اغوا کر کے انہیں غلام بنانے والے بھی شامل تھے۔ وہ اپنے شاگرد ٹموتھی کو خط میں لکھتے ہیں:

شریعت (غالباً حدود و تعزیرات مراد ہیں) راستبازوں کے لئے نہیں بلکہ بے شرع لوگوں، سرکشوں، بے دینوں، گناہ گاروں، نا راستوں، اور ماں باپ کے قاتلوں اور خونیوں کے لئے ہے۔ اور ان کے لئے ہے جو زناکار ہیں، لونڈے باز ہیں، بردہ فروشی کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور ایسے بہت سے کام کرتے ہیں جو اس صحیح تعلیم کے خلاف ہے۔ (ٹموتھی اول، باب 1)

انجیل کے بعد کی کتابوں میں عام طور پر غلاموں کو اپنے آقاؤں سے مخلص اور فرمانبردار رہنے کی تلقین ملتی ہے۔ دوسری طرف آقاؤں کو بھی یہ تلقین کی جاتی ہے کہ وہ غلاموں سے اچھا سلوک کریں اور خدا کی نظر میں وہ سب برابر ہیں۔ اس تعلیم کا مقصد آقا اور غلام کے تعلق کو بہتر بنانا معلوم ہوتا ہے کہ تاکہ غلاموں پر موجود سختیوں کو کم از کم عیسائی برادری کی حد تک کم کیا جا سکے۔

تم آزاد لوگوں کی طرح رہو لیکن اپنی آزادی کو بد کاری کا پردہ مت بناؤ بلکہ خدا کے بندوں کی طرح زندگی بسر کرو۔ سب کی عزت کرو، اپنی برادری سے محبت رکھو، خدا سے ڈرو اور بادشاہ کی تعظیم کرو۔ اے غلامو! اپنے مالکوں کے تابع رہو اور ان کا کہا مانو چاہے وہ نیک اور حلیم ہوں یا بد مزاج۔ (پطرس باب 2)

نوکرو! اپنے دنیاوی مالکوں کی صدق دلی سے ڈرتے اور کانپتے ہوئے فرمانبرداری کرو جیسی مسیح کی سی کرتے ہو۔۔۔۔مالکو! تم بھی اپنے نوکروں سے اسی قسم کا سلوک کرو۔ انہیں دھمکیاں دینا چھوڑ دو کیونکہ تم جانتے ہو کہ ان کا اور تمہارا دونوں کا مالک آسمان پر ہے اور اس کے ہاں کسی کی طرف داری نہیں ہوتی۔ (افسیوں باب 6)

نوکرو! اپنے دنیاوی مالکوں کے سب باتوں میں فرمانبردار رہو، نہ صرف دکھاوے کے طور پر انہیں خوش کرنے کے لئے بلکہ خلوص دلی سے جیسا کہ خداوند کا خوف رکھنے والے کرتے ہیں۔۔۔۔۔مالکو! اپنے نوکروں سے عدل و انصاف سے پیش آؤ کیونکہ تم جانتے ہو کہ آسمان پر تمہارا بھی ایک مالک ہے۔ (کلسیوں باب 4)

عیسائیوں میں بعد کے ادوار میں غلامی

اسمتھ کی تحقیق کے مطابق بعد کے ادوار میں بہت سے عیسائی اہل علم نے غلامی کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔ سینٹ اوریجن (154 – 185CE) نے ساتویں سال غلام کی آزادی کے قانون پر عمل کرنے کی تلقین کی۔ سینٹ گریگوری (335 – 394CE) نے غلامی کو فطرت اور انسانیت کے خلاف قرار دیا۔ لیکن عیسائیوں کی اکثریت نے اس کے بالکل مخالف سینٹ آگسٹائن (354 – 430CE) کے نظریات کو ترجیح دی جس کے مطابق “غلامی گناہ گار کے لئے خدا کی سزا ہے۔ غلامی تو جنگی قیدی کے لئے خوش قسمتی ہے کہ وہ مرنے سے بچ گیا۔ غلامی سماجی نظام قائم رکھنے کی گارنٹی ہے اور آقا اور غلام دونوں کے لئے فائدہ مند ہے۔” اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے عیسائیت قبول کر لینے والے غلاموں کو آزاد کر دینے کی تلقین بھی کی۔ چھٹی سے نویں صدی عیسوی کے دوران آرتھوڈوکس فرقے کی جانب سے مسلمانوں کو خاص طور پر غلام بنا لینے کا فتوی جاری کیا گیا۔

سیدنا عیسی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی انسان دوست تعلیمات اور ان کے پیروکاروں کی زبردست دعوتی سرگرمیوں کے کچھ اثرات رومی سلطنت پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے۔ کے ایس لا ل لکھتے ہیں:

انتھونئس پائس (86 – 161CE) کے دور میں آقاؤں سے یہ حق چھین لیا گیا کہ وہ اپنے غلاموں کی زندگی اور موت کا فیصلہ کر سکیں۔ شہنشاہ قسطنطین (274 – 337 CE) کے دور میں یہ قانون بنا دیا گیا کہ آقا کی وراثت تقسیم کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ تقسیم ہونے والے غلاموں میں باپ بیٹے، میاں بیوی، اور بہن بھائی کو الگ نہ کیا جائے۔

روم میں اگرچہ عیسائی تعلیمات کے تحت غلاموں کے حالات قدرے بہتر ہوئے لیکن اس کے باوجود رومی سلطنت کے خاتمے تک غلاموں سے متعلق سخت قوانین موجود تھے۔ اس کی وجہ بنیادی طور پر یہ معلوم ہوتی ہے کہ دنیا کے دیگر علاقوں کی طرح بادشاہوں کو مذہب میں جہاں کوئی چیز اپنے مفاد میں ملتی ہے ، وہ اسے اختیار کر لیتا ہے اور جہاں کوئی چیز اس کے مفاد کے خلاف نظر آتی ہے ، اسے پس پشت پھینک دیتا ہے۔


باب 6: عرب میں غلامی

 

اہل عرب میں بھی غلامی پائی جاتی تھی۔ ان کے ہاں غلامی سے متعلق کچھ ایسے ادارے موجود تھے جن کی مثال دنیا کی دیگر اقوام میں نہیں ملتی۔ چونکہ عرب میں کوئی ایک مرکزی حکومت قائم نہ تھی بلکہ الگ الگ قبائلی ریاستیں پائی جاتی تھیں، اس وجہ سے غلامی کی عملی صورتیں مختلف قبائل میں مختلف تھیں۔

قبل از اسلام، عربوں کی تاریخ سے متعلق ہمارے پاس دیگر اقوام کی نسبت بہت زیادہ مواد موجود ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عربوں کو اپنے نسب اور اپنے آباؤ اجداد کے کارناموں کو محفوظ کرنے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ ان کارناموں کو وہ سینکڑوں اشعار پر مشتمل نظموں اور خطبات کی صورت میں بیان کرتے اور اپنی محفلوں میں بکثرت ان کا تذکرہ کیا کرتے تھے۔ اشعار کو حفظ کرنے کا رواج ان کے ہاں غیر معمولی درجے میں پایا جاتا تھا۔ انہی اشعار اور عربوں کی دیگر روایات کی مدد سے عربوں کی تاریخ مدون کی گئی۔

اس ضمن میں سب سے اعلی درجے کی کاوش ڈاکٹر جواد علی کی “المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام” ہے جو آٹھ جلدوں میں شائع ہو چکی ہے۔ یہ تاریخ کم و بیش چار ہزار صفحات پر محیط ہے۔ انہوں نے غلامی سے متعلق مباحث کو جلد 4 میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔

 

غلاموں کی حیثیت

 

غلاموں کا طبقہ عرب معاشرے میں “حقیر ترین” طبقہ تھا۔ عربوں کے زیادہ تر غلام افریقہ سے لائے گئے تھے۔ ان کے علاوہ سفید رنگت والے رومی غلام بھی ان کے ہاں پائے جاتے تھے۔ یہ زیادہ تر عراق یا شام سے لائے جاتے تھے۔

غلاموں کے لئے لفظ “عبد” استعمال کیا جاتا تھا جس کا استعمال اپنے حقیقی مفہوم میں خدا کے مقابلے پر اس کے بندے کے لئے کیا جاتا تھا۔ مجازی طور پر آقا کو اس کے غلام کا خدا تصور کیا جاتا تھا۔ مالک کے لئے مجازی طور پر “رب” کا لفظ بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

ان غلاموں کی خرید و فروخت جانوروں یا بے جان اشیاء کی طرح کی جاتی تھی۔ مالک کو اپنے غلام پر مکمل حقوق حاصل تھے۔ ملکیت کا یہ حق مقدس سمجھا جاتا تھا۔ غلام کی کسی غلطی پر مالک اسے موت کی سزا بھی دے سکتا تھا۔ ابو جہل نے اپنی لونڈی سمیہ رضی اللہ عنہا کو اسلام قبول کرنے پر اپنے ہاتھوں سے موت کی سزا دی تھی۔ زیادہ غلاموں رکھنے کا مقصد آقاؤں کے جاہ و جلال اور دولت کی نمائش ہوا کرتا تھا۔ بعض امراء کے پاس سینکڑوں کی تعداد میں غلام موجود تھے۔

 

لونڈیوں کی حالت

 

غلاموں کی ایک بڑی تعداد لونڈیوں پر بھی مشتمل تھی۔ انہیں زیادہ تر گھر کے کام کاج کے لئے رکھا جاتا۔ آقا کو لونڈی پر مکمل جنسی حقوق حاصل ہوا کرتے تھے لیکن اگر آقا کسی لونڈی کی شادی کر دے تو پھر وہ خود اپنے حق سے دستبردار ہو جایا کرتا تھا۔ بہت سے آقا اپنی لونڈیوں سے عصمت فروشی کروایا کرتے تھے اور ان کی آمدنی خود وصول کیا کرتے تھے۔ ایسی لونڈیوں کو جنس مخالف کو لبھانے کے لئے مکمل تربیت فراہم کی جاتی تھی۔ شب بسری کے لئے کسی دوست کو لونڈی عطا کر دینے کا رواج بھی ان کے ہاں پایا جاتا تھا۔

عربوں کے ہاں غلاموں کی باقاعدہ تجارت ہوا کرتی تھی۔ ان کے ہاں ایک باقاعدہ طبقہ موجود تھا جس کا کام ہی غلاموں کی تجارت کرنا تھا۔ اس طبقے کو “نخّاس” کہا جاتا تھا۔

 

غلاموں میں اضافے کا طریق کار

 

عربوں میں لڑائی جھگڑا اور بین القبائل جنگیں عام تھیں۔ ان جنگوں میں فاتح، نہ صرف مفتوح کے جنگی قیدیوں کو غلام بناتا بلکہ اس قبیلے کی خواتین اور بچوں کو بھی غلام بنانا فاتح کا حق سمجھا جاتا تھا۔ اس حق کو کہیں پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا سوائے اس کے کہ مفتوح قبیلہ دوبارہ قوت جمع کر کے اپنا انتقام لے سکے۔

  • قرض کی ادائیگی نہ کر سکنے کے باعث بھی لوگوں کو غلام بنا لیا جاتا تھا۔
  • کسی بستی پر حملہ آور ہو کر اسے غلام بنا لینے کا رواج بھی ان کے ہاں عام تھا۔ بچوں کو اغوا کر کے غلام بنا لینے کا رواج عام نہیں تھا لیکن بہرحال پایا جاتا تھا۔
  • غلاموں کی اولاد بھی غلام ہی ہوا کرتی تھی۔
  • غلاموں کو خریدنے کے علاوہ جوئے میں بھی حاصل کیا جاتا تھا۔
  • ایک شخص کے مرنے کے بعد اس کے غلام وراثت میں اسے کی اولاد کو منتقل ہو جایا کرتے تھے۔

 

غلاموں کے حقوق و فرائض

 

  • غلام خطرے کی صورت میں آقاؤں کی حفاظت کا فریضہ بھی سر انجام دیا کرتے تھے۔
  • اکثر مالکان غلاموں کے ساتھ نہایت ہی برا سلوک کیا کرتے تھے۔ غلاموں کو مال رکھنے کی اجازت بھی نہ تھی۔ فصل کٹنے کے وقت غلام کو اپنا حصہ بھی آقا کے حضور پیش کرنا پڑتا تھا۔ یہاں تک کہ ان کی جنگیں غلام لڑا کرتے تھے اور جنگ میں ملنے والا مال غنیمت آقا کی ملکیت ہوا کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی جنگوں میں غلام مخالف فریق سے مل کر اپنے مالکوں سے غداری کر لیا کرتے تھے۔
  • صحرائی دیہاتوں میں بھی غلام ہوا کرتے تھے۔ یہ عام طور پر اپنے مالکوں کے لئے گلہ بانی کیا کرتے۔ ان کی حالت شہری غلاموں کی نسبت عام طور پر بہتر ہوتی تھی کیونکہ ان کے کام کی نوعیت شہری غلاموں کی نسبت اتنی سخت نہیں تھی۔
  • بعض غلاموں کو ان کے مالک یومیہ بنیادوں پر طے شدہ معاوضے پر آزاد چھوڑ دیا کرتے تھے۔ یہ غلام محنت کرتے اور اپنی کمائی میں سے خراج مالک کو ادا کر دیتے۔
  • بعض غلام زرعی زمینوں سے وابستہ تھے۔ یہ کھیتوں میں کام کیا کرتے تھے۔ ان غلاموں کو زمین کے ساتھ ہی اگلے مالک کی طرف منتقل کر دیا جاتا تھا۔

 

عرب میں نیم غلامی

 

غلاموں کے علاوہ کچھ نیم غلام قسم کے طبقات بھی اہل عرب کے ہاں پائے جاتے تھے۔ ان میں سے ایک طبقہ “الادم” یا “الادوم” پایا جاتا تھا۔ یہ مزارعین کا طبقہ تھا جو خود زمین کے مالک نہ ہوا کرتے تھے بلکہ امراء کی جاگیروں پر کام کرتے اور انہیں زمین کا کرایہ ادا کیا کرتے تھے۔ اپنے حالات کے باعث یہ نہایت ہی غریب ہوا کرتے تھے لیکن ان کی حالت بہرحال غلاموں سے بہتر تھی کیونکہ یہ اپنے مالک کی ملازمت ترک کر کے دوسری جگہ جانے کا اختیار رکھتے تھے۔ ان کی مزید خصوصیات یہ ہیں:

  • بعض اوقات جاگیردار، زمین کے کسی مخصوص ٹکڑے کی پیداوار کو اپنے لئے مخصوص کر لیتے۔ ایسا عام طور پر اس زمین کے سلسلے میں کیا جاتا تھا جو نہر یا برساتی نالے کے قریب واقع ہوا کرتی تھی۔ اس طریقے سے اچھی زمین کی فصل جاگیردار لے جاتا اور خراب زمین کی تھوڑی سی پیداوار مزارعوں کے حصے میں آیا کرتی۔
  • نیم غلاموں میں ہاتھ سے کام کرنے والے بھی شامل تھے۔ زیادہ تر یہ لوگ غلام ہوا کرتے تھے لیکن ان میں سے بعض آزاد بھی ہوتے تھے۔ عرب معاشرے میں طبقاتی تقسیم بہت شدید تھی۔ صنعتیں نہایت ہی معمولی درجے کی تھیں اور ہاتھ سے کام کرنے والوں کو نہایت ہی حقیر سمجھا جاتا تھا۔ یہ لوگ نائی، موچی، قلی یا اس قسم کے دیگر کام کرتے۔ عرب خود ان کاموں کو پسند نہیں کیا کرتے تھے۔ اس وجہ سے یہ کام بالعموم غلاموں، غیر ملکیوں اور یہودیوں کے سپرد تھے۔
  • اعلی طبقے کے لوگ ہاتھ سے کام کرنے والے کی کمائی کو حقارت کی نظر سے دیکھا کرتے تھے اور ان کے ہاں یہ بڑی شرم کی بات تھی کہ کوئی انتہائی مجبوری کی حالت میں بھی کسی ایسے شخص سے مالی مدد لے جو ہاتھ سے کما کر کھاتا ہو۔
  • ادنی طبقے سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص سے اعلی طبقے کا کوئی شخص اپنی بیٹی یا بہن کی شادی کرنے کو تیار نہ ہوتا تھا اور اس معاملے میں پورا معاشرہ نہایت ہی حساس تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حیرہ کے بادشاہ نعمان بن منذر کو اس بات کا طعنہ دیا جاتا رہا کہ اس کا نانا ایک چمڑہ رنگنے والا تھا۔
  • ہاتھ سے کام کرنے والوں کو حقیر سمجھے جانے کا بھی یہی معاملہ تھا۔ بخاری (حدیث 4020) کے مطابق ابوجہل کو مرتے وقت اس بات کا افسوس رہا کہ اسے کسانوں نے قتل کیوں کیا کسی سردار نے قتل کیوں نہیں کیا۔

 

ولاء کا ادارہ

 

غلامی کے معاملے میں عربوں کے ہاں ایک ایسا ادارہ پایا جاتا تھا جس کی مثال دنیا کی دیگر اقوام میں نہیں ملتی۔ اگر کوئی شخص اپنے کسی غلام کو آزاد کرتا تو اسے اپنے خاندان کا ہی ایک فرد مان لیا کرتا تھا۔ اس رشتے کو “ولاء” اور  آزاد کردہ غلام کو “مولی” جمع “موالی” کہا جاتا تھا۔ بعض اوقات آزاد کردہ غلام کو یہ اختیار بھی دے دیا جاتا کہ وہ اپنی ولاء، سابق مالک کی بجائے کسی اور سے قائم کر لے۔ اس رشتے کو “ولاء بالعتق” کہا جاتا تھا۔

ولاء کے اس رشتے سے سابق مالک کو فائدہ یہ ہوتا کہ وہ غلام کے مرنے کے بعد اس کا وارث بنتا اور غلام کو فائدہ یہ ہوتا کہ اس کی اگر کسی کو کوئی نقصان پہنچا ہو تو اس کا جرمانہ ادا کرنا سابقہ مالک اور اس کے قبیلے کی ذمہ داری ہوا کرتی تھی۔

ولاء کے اس تعلق کی غلامی کے علاوہ ایک شکل اور بھی تھی۔ عربوں میں اپنی عربیت اور قبیلے سے متعلق انتہا درجے کا تعصب پایا جاتا تھا۔ اگر کوئی غیر ملکی یا کسی دوسرے قبیلے کا فرد ان کے درمیان آ کر رہنا پڑتا تو اس کے لئے لا زم تھا کہ وہ قبیلے کے کسی فرد کے ساتھ ولاء کا رشتہ قائم کرے۔ ایسے لوگوں کو “موالی بالعقد” کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ جس عرب سے ولاء کا رشتہ قائم کیا کرتے تھے، عام طور پر وہ بہت سے حقوق کے حصول کے لئے اس کے محتاج ہوتے۔ اس وجہ سے اس قسم کے موالی بھی کسی حد تک نیم غلامی کی زندگی بسر کیا کرتے تھے۔

مولی خواہ آزاد کردہ غلام ہو یا کسی معاہدے کے تحت مولی بنا ہو، اسے حقیر سمجھا جاتا تھا اور انہیں اپنی بیٹی یا بہن کا رشتہ دینا معیوب سمجھا جاتا تھا۔اگر مولی کی شادی آزاد شخص کی بیٹی سے کر دی جاتی تو اس کا قبیلہ خود کو رسوا سمجھنے لگتا تھا۔ مشہور شاعروں ابو البجیر اور عبدالقیس نے جب اپنی بیٹیوں کی شادی اپنے موالی سے کی تو ان کی باقاعدہ ہجو کہی گئی۔

 

 

غلام کو آزاد کرنے کی صورتیں

 

عربوں میں نیک سیرت افراد کی کمی بھی نہ تھی۔ یہ لوگ غلاموں کی حالت زار پر کڑھتے اور ان سے اچھا برتاؤ کیا کرتے تھے۔ ان کے پاس غلاموں کو آزاد کرنے کا اس کے سوا اور کوئی طریقہ نہ تھا کہ غلاموں کو خرید کر آزاد کیا جائے۔ اس کی ایک مثال سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے دور جاہلیت میں ایک سو غلاموں کو خرید کر آزاد کیا۔

غلاموں کی آزادی کی ایک شکل یہ بھی تھی کہ وہ اپنی آزادی خود خرید سکیں۔ ایسا کرنے کے لئے ان کے مالک کی اجازت ضروری تھی۔ اگر مالک اس بات پر تیار ہو جاتا تو غلام اپنی آزادی کو خرید کر قسطوں میں ادائیگی کر سکتا تھا۔ ابن سعد بیان کرتے ہیں کہ یہ رواج عرب میں بہت ہی کم تھا۔

غلاموں کی آزادی کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ مالک اپنے کسی غلام کو وصیت کر دیتا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو۔ ایسے غلام کو پھر وراثت میں تقسیم نہ کیا جاتا بلکہ مالک کے مرنے کے ساتھ ہی وہ آزاد ہو جایا کرتا تھا۔

“ام ولد” کا تصور بھی اسلام سے پہلے کے عربوں میں پایا جاتا تھا۔ ام ولد ایسی لونڈی کو کہا جاتا تھا جو اپنے مالک سے بچہ پیدا کرے۔ ایسی لونڈی کی خرید و فروخت بھی کی جاتی تھی۔ اگر مالک اس لونڈی کو فروخت نہ کرتا تو مالک کے مرنے کے بعد وہ خود بخود آزاد ہو جایا کرتی تھی۔

 

خلاصہ بحث

 

اسلام سے قبل کے دور میں غلامی کی اس صورتحال کے جائزے سے یہ نتائج نکل سکتے ہیں:

  • ظہور اسلام کے وقت دنیا میں غلاموں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ یہ غلام عرب، روم، افریقہ، ایران، ہندوستان، وسط ایشیا، چین میں موجود تھے۔
  • بعض ممالک میں غلامی اپنی بد ترین شکل میں موجود تھی اور بعض ممالک میں غلاموں کے حالات نسبتاً بہتر تھے۔ عرب اور روم کے غلاموں کی حالت پوری دنیا میں سب سے بد تر تھی۔
  • دنیا کے عام مذاہب اگرچہ غلامی کو مکمل طور پر ختم تو نہ کر سکے لیکن انہوں نے بالعموم غلاموں کی حالت کو بہتر بنانے کی تلقین کی۔ جہاں جہاں مذہبی تعلیمات کے تحت حکومتیں قائم ہوئیں، وہاں عملی اقدامات بھی کیے گئے۔
  • سیدنا موسی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شریعت میں، انسانی کی معلوم تاریخ میں پہلی مرتبہ، غلامی کے خاتمے کے لئے قوانین بنائے گئے اور ان پر بڑی حد تک عمل بھی کیا گیا۔ بعد کے ادوار میں ہونے والی بعض تبدیلیوں کے باعث ان قوانین کے اثر کو محدود کر دیا گیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حصہ سوم: اسلام اور غلامی

 

 

 

 

 


باب 7: اسلام میں غلاموں کی آزادی کی تحریک

 

اسلام اور غلامی کی بحث سے قبل چند امور ذہن نشین کر لینے چاہییں۔پہلی بات تو یہ کہ اسلام نے غلامی کا آغاز نہیں کیا۔ جیسا کہ پچھلے باب میں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے کہ اسلام سے پہلے غلامی موجود تھی۔ اس غلامی کی ایک پیچیدہ اور خوفناک شکل جزیرہ نما عرب اور اس کے گرد و نواح کے ممالک میں موجود تھی۔ پوری دنیا اس وقت غلامی کو برقرار رکھنے کے حق میں تھی اور غلامی کے خلاف کہیں کوئی آواز موجود نہ تھی۔ اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے اس غلامی کے ساتھ کیا معاملہ کیا، اسے جاننے کے لئے عرب اور دیگر ممالک میں موجود غلامی کی صورتحال کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل کے ہاں غلامی کا مطالعہ کرتے وقت ہم نے ان کے آئیڈیل اور دیگر ادوار میں فرق کیا تھا، بالکل اسی طرح مسلمانوں کی تاریخ میں غلامی کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں آئیڈیل اور بعد کے ادوار میں فرق کرنا چاہیے۔ اسلام کا آئیڈیل دور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کے مدینہ ہجرت کرنے سے شروع ہو کر خلافت راشدہ کے خاتمے تک رہا ہے۔ اس کے بعد اگر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور کو بھی اسی میں شامل کر لیا جائے تو اسلام کے آئیڈیل دور کی مدت ساٹھ سال (1 – 60H / 622 – 680CE) کے قریب بنتی ہے۔ اسلامی حکومت قائم ہونے سے پہلے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کی مکی زندگی کے تیرہ سالوں کو بھی اسی میں شمار کر لیا جائے تو یہ مدت کم و بیش 73 سال بنتی ہے۔

آئیڈیل دور کے بعد کے ادوار میں بھی اگرچہ شریعت اسلامی ہی حکومت کا آفیشل قانون رہی ہے لیکن اس سے انحراف کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ایک حدیث کے الفاظ کے مطابق خلافت راشدہ کو “کاٹ کھانے والی بادشاہت” اور پھر “جبر کی بادشاہت” میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ انحراف کے اس دور میں غلامی کے ادارے کی تفصیلات ہم متعلقہ باب میں بیان کریں گے۔

تیسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ لوگ عام طور پر مسلمانوں کی فقہ کی کتب سے قوانین دیکھ کر ان کی بنیاد پر اسلام پر اعتراضات کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ طریق کار بالکل غلط ہے۔ علم فقہ، مسلم فقہاء کی قانون سازی کا ریکارڈ ہے۔ اس ریکارڈ میں ایسے قوانین بھی موجود ہیں جو خالصتاً قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کی سنت کی بنیاد پر ہیں۔ ان کے علاوہ انہی کتب فقہ میں ایسے قوانین بھی موجود ہیں جن کی بنیاد فقہاء کے اپنے اجتہادات ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان اجتہادی قوانین کے لئے دین اسلام کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

دین اسلام صرف اور صرف انہی قوانین کے لئے ذمہ دار ہے جو اس کے اصل ماخذ یعنی قرآن مجید اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کی سنت میں بیان کئے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس باب میں ہم صرف انہی احکامات کا جائزہ لیں گے جو قرآن مجید اور احادیث میں بیان کئے گئے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کی بعثت کم و بیش 609CE میں ہوئی۔ اس دور میں عرب بہت سی چھوٹی بڑی قبائلی ریاستوں کا مجموعہ تھا۔ جزیرہ نما عرب کے اردگرد ایران کی ساسانی اور روم کی بازنطینی سلطنتوں کی حکومت قائم تھی۔ عرب میں یمن کا علاقہ ایران کے اور شام کا علاقہ روم کے ماتحت تھا۔ ان تمام سلطنتوں میں غلامی کی صورتحال کم و بیش وہی تھی جسے ہم پچھلے باب میں بیان کر چکے ہیں۔

دین اسلام کی تعلیمات میں غلامی کو ایک جھٹکے میں ختم نہ کیا گیا بلکہ اس سے متعلق کچھ اہم ترین اصلاحات نافذ کی گئیں۔ ان اصطلاحات کا ایک حصہ تو ان غلاموں سے متعلق ہے جو معاشرے میں پہلے سے ہی موجود تھے اور دوسرا حصہ آئندہ بنائے جانے والے غلاموں سے متعلق ہے۔

جیسا کہ ہم پچھلے باب میں بیان کر چکے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کی بعثت کے وقت عرب میں کثیر تعداد میں غلام موجود تھے۔ غلاموں کا طبقہ عرب معاشرے میں “حقیر ترین” طبقہ تھا۔ ان غلاموں کی خرید و فروخت جانوروں یا بے جان اشیاء کی طرح کی جاتی تھی۔ مالک کو اپنے غلام پر مکمل حقوق حاصل تھے۔ ملکیت کا یہ حق مقدس سمجھا جاتا تھا۔ غلام کی کسی غلطی پر مالک اسے موت کی سزا بھی دے سکتا تھا۔ مجازی طور پر آقا کو اس کے غلام کا خدا تصور کیا جاتا تھا۔ غلاموں کی اولاد بھی غلام ہی ہوا کرتی تھی۔ ایک شخص کے مرنے کے بعد اس کے غلام وراثت میں اسے کی اولاد کو منتقل ہو جایا کرتے تھے۔

زیادہ غلاموں رکھنے کا مقصد آقاؤں کے جاہ و جلال اور دولت کی نمائش ہوا کرتا تھا۔ بعض امراء کے پاس سینکڑوں کی تعداد میں غلام موجود تھے۔ غلام خطرے کی صورت میں آقاؤں کی حفاظت کا فریضہ بھی سر انجام دیا کرتے تھے۔ اکثر مالکان غلاموں کے ساتھ نہایت ہی برا سلوک کیا کرتے تھے۔ غلاموں کو مال رکھنے کی اجازت بھی نہ تھی۔ غلام کو جنگ میں ملنے والا مال غنیمت آقا کی ملکیت ہوا کرتا تھا۔

غلاموں کی ایک بڑی تعداد لونڈیوں پر بھی مشتمل تھی۔ انہیں زیادہ تر گھر کے کام کاج کے لئے رکھا جاتا۔ آقا کو لونڈی پر مکمل جنسی حقوق حاصل ہوا کرتے تھے لیکن اگر آقا کسی لونڈی کی شادی کر دے تو پھر وہ خود اپنے حق سے دستبردار ہو جایا کرتا تھا۔ بہت سے آقا ان لونڈیوں سے عصمت فروشی کا کام لے کر ان کی کمائی خود وصول کیا کرتے تھے۔ ایسی لونڈیوں کو جنس مخالف کو لبھانے کے لئے مکمل تربیت فراہم کی جاتی تھی۔ شب بسری کے لئے کسی دوست کو ایک رات کے لئے لونڈی دے دینے کا رواج بھی ان کے ہاں پایا جاتا تھا۔

غلاموں کے علاوہ کچھ نیم غلام قسم کے طبقات بھی اہل عرب کے ہاں پائے جاتے تھے۔ ان میں سے ایک مزارعین کا طبقہ تھا جو خود زمین کے مالک نہ ہوا کرتے تھے بلکہ امراء کی جاگیروں پر کام کرتے اور انہیں زمین کا کرایہ ادا کیا کرتے تھے۔ بعض اوقات جاگیردار، زمین کے کسی مخصوص ٹکڑے کی پیداوار کو اپنے لئے مخصوص کر لیتے۔ ایسا عام طور پر اس زمین کے سلسلے میں کیا جاتا تھا جو نہر یا برساتی نالے کے قریب واقع ہوا کرتی تھی۔ اس طریقے سے اچھی زمین کی فصل جاگیردار لے جاتا اور خراب زمین کی تھوڑی سی پیداوار مزارعوں کے حصے میں آیا کرتی۔

عرب معاشرے میں طبقاتی تقسیم بہت شدید تھی۔ صنعتیں نہایت ہی معمولی درجے کی تھیں اور ہاتھ سے کام کرنے والوں کو نہایت ہی حقیر سمجھا جاتا تھا۔ یہ لوگ نائی، موچی، قلی یا اس قسم کے دیگر کام کرتے۔ ادنی طبقے سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص سے اعلی طبقے کا کوئی شخص اپنی بیٹی یا بہن کی شادی کرنے کو تیار نہ ہوتا تھا اور اس معاملے میں پورا معاشرہ نہایت ہی حساس تھا۔

ان حالات میں اسلام کا ظہور ہوا۔ اللہ تعالی نے جہاں مسلمانوں کو دیگر معاملات میں بہت سے احکامات دیے، وہاں غلامی سے متعلق بھی احکامات نازل ہوئے۔ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کی تعلیمات میں غلاموں کو آزاد کرنے کی تحریک پیدا کرنے سے متعلق احکامات کو ان عنوانات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے :

  • غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب
  • غلاموں کی آزادی کی مثال قائم کرنا
  • مکاتبت کے ادارے کا قیام
  • حکومتی سطح پر غلاموں کی آزادی کے اقدامات
  • مذہبی بنیادوں پر غلام آزاد کرنے کے احکامات
  • قریبی رشتے دار غلام کی آزادی کا قانون
  • اسلام قبول کرنے والے غلاموں کی آزادی کا قانون
  • اب ہم ان کی تفصیل بیان کرتے ہیں:

غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب

 

غلامی کے خاتمے کا وژن

اللہ تعالی نے وحی کے آغاز ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کے ذریعے مسلمانوں کو غلامی کے خاتمے کے لئے ایک وژن دے دیا تھا۔

وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ۔ (النحل 16:71)

اللہ نے تم میں سے بعض کو دیگر پر رزق کے معاملے میں بہتر بنایا ہے۔ تو ایسا کیوں نہیں ہے کہ جو رزق کے معاملے میں فوقیت رکھتے ہیں وہ اسے غلاموں کو منتقل کر دیں تاکہ وہ ان کے برابر آ سکیں۔ تو کیا اللہ کا احسان ماننے سے ان لوگوں کو انکار ہے ؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کو آغاز وحی سے ہی غلاموں کی آزادی کی ترغیب دی جانے لگی۔ آپ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ انہیں دوران وحی غلاموں کو آزاد کرنے کا خاص حکم دیا جاتا ہے :

حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِلالٍ ، حَدَّثَنَا صَاحِبٌ لَنَا ثِقَةٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم : مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ يُوصِينِي بِالْمَمْلُوكِ ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَجْعَلُ لَهُ حَدًّا إِذَا بَلَغُوا عَتِقُوا. وحديث المملوك صحيح على شرطه وشرط البخاري (بيهقي، شعب الايمان،  عسقلانی، المطالب العالية، باب ابن عباس)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے ارشاد فرمایا، “جبریل مجھے مسلسل غلاموں کے بارے میں نصیحت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے یہ خیال گزرا کہ وہ (اللہ تعالی کی جانب سے) کوئی ایسی حد مقرر فرما دیں گے کہ جس پر پہنچ کر غلام کو آزاد کر دیا جائے۔” بیہقی کہتے ہیں کہ یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے۔

جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کا خیال تھا، یہ حد بعد میں مکاتبت کے قانون میں مقرر کر دی گئی۔ اس کی تفصیل ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ غلامی کے بارے میں اسلام کا یہ وژن اتنا واضح ہے کہ اس کا اعتراف انصاف پسند مستشرقین بھی کرتے ہیں:

For, far from being passive submission to Allah’s inscrutable will, Islam gives each individual the chance to contribute actively towards his own salvation. For instance, in the Koran slavery was taken for granted, in accordance with prevailing practice; but freeing of slaves was encouraged as meritorious. Thus, the Koran, in the seventh century A.D., does not consider slavery an immutable, God-given state for certain groups of human beings, but an unfortunate accident. It was within the reach of man to ameliorate this misfortune. (Ilse Lichtenstadter; Islam & the Modern World)

اسلام محض اللہ کی رضا کے سامنے سر جھکا دینے کا نام نہیں ہے۔ اسلام ہر شخص کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی نجات کے لئے خود متحرک ہو کر کام کرے۔ مثال کے طور پر قرآن یہ بیان کرتا ہے کہ غلامی دنیا میں متواتر عمل کے طور پر موجود ہے لیکن غلام آزاد کرنے کو ایک بڑی نیکی قرار دے کر اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ ساتویں صدی کے قرآن نے غلامی کو ناقابل تبدیلی قرار نہیں دیا کہ یہ ایک ایسی حالت ہے جو خدا نے چند انسانی گروہوں پر مسلط کر دی ہے ، بلکہ (قرآن کے نزدیک) یہ ایک منحوس حادثہ ہے جس کا ازالہ کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔

ابتدائی مسلمان اور غلامی

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے اسلام کی دعوت پیش کی تو حیرت انگیز طور پر اس دعوت نے دو طبقات کو متاثر کیا۔ ان میں سے ایک طبقہ تو وہ تھا جو مکہ کی اشرافیہ سے تعلق رکھتا تھا لیکن وہ موجودہ مذہبی، سیاسی اور معاشرتی نظام سے مطمئن نہ تھا۔ اس طبقے کے اسلام کی دعوت قبول کرنے والے افراد کی مثال سیدنا ابوبکر، عثمان، طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید، ابو عبیدہ، خدیجہ رضی اللہ عنہم ہیں۔ دوسرا طبقہ غلاموں اور نیم غلاموں پر مشتمل تھا جس میں سیدنا بلال، یاسر، سمیہ، عمار، صہیب اور خباب رضی اللہ عنہم شامل تھے۔

یہ مذہبی جبر (Religious Persecution) کا دور تھا۔ جہاں ایک طرف اشرافیہ کے طبقے سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو اپنے بزرگوں کے ہاتھوں جبر کا سامنا کرنا پڑا وہاں غلام طبقے کو تو باقاعدہ جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جانے لگا۔ ان غلاموں کو مکہ کی تپتی ریت اور دہکتی چٹانوں پر لٹا کر بھاری بھرکم پتھر ان کے سینے پر رکھ دیے جاتے۔ اس موقع پر اسلام قبول کرنے والے امیر افراد سامنے آئے اور انہوں نے ان غلاموں کو خرید کر آزاد کرنے کا عمل شروع کیا۔

اگر ہم اس دور میں نازل شدہ قرآنی آیات کا مطالعہ کریں تو یہ معلوم ہو گا کہ قرآن اپنے ماننے والوں کو اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتیں یاد دلا کر غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے :

أَلَمْ نَجْعَلْ لَهُ عَيْنَيْنِ. وَلِسَاناً وَشَفَتَيْنِ. وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ۔ فَلا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ۔ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ۔ فَكُّ رَقَبَةٍ۔ أَوْ إِطْعَامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ۔ يَتِيماً ذَا مَقْرَبَةٍ۔ أَوْ مِسْكِيناً ذَا مَتْرَبَةٍ۔ (90:11-15)

کیا ہم نے اس (انسان) کے لئے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں بنائے اور دونوں نمایاں راستے اسے نہیں دکھائے۔ مگر اس نے دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی کوشش نہیں کی اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ دشوار گزار گھاٹی ہے کیا؟ کسی گردن کو غلامی سے آزاد کروانا، یا فاقے میں مبتلا کسی قریبی یتیم یا مسکین کو کھانا کھلانا۔

ان قرآنی تعلیمات کے نتائج خاطر خواہ نکلے اور اسلام کے آغاز ہی سے یہ بات طے ہو گئی کہ غلام بھی آزاد ہی کی طرح کے انسان ہیں اور آزاد افراد کا یہ فرض ہے کہ وہ ان غلاموں کو برابری کی سطح پر لا ئیں۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی مستشرق ٹاؤن سینڈ لکھتے ہیں:

Numerous slaves also announced their adhesion to the new opinions. Abu Bekr exhausted great wealth for an Arab in purchasing slaves who had been persecuted for their admira tion of Mahommed, and from that day to this Islam has been distinguished by its adherence to one high principle. The slave who embraces Islam is free ; not simply a freed man, but a free citizen, the equal of all save the Sultan, competent de facto as well as de jure to all and every office in the state. (Townsend, Asia vs. Europe)

ان نئے عقائد کو قبول کرنے والوں میں بہت سے غلام بھی تھے۔ ابوبکر نے اپنی دولت، جو کہ کسی عرب کے لئے بڑی دولت تھی، کو ان غلاموں کو خرید کر (آزاد کرنے میں) صرف کیا جو کہ محمد (صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم) پر ایمان لا  چکے تھے۔ اس دن کے بعد آج تک اسلام میں ایک اصول تو طے شدہ ہے۔ ہر وہ غلام جو اسلام قبول کر لے، آزاد ہو جاتا ہے۔ نہ صرف ایک آزاد انسان، بلکہ ایک آزاد شہری جو کہ بادشاہ کے علاوہ دوسرے تمام شہریوں کے برابر اور قانونی اور حقیقی اعتبار سے ہر عہدے کے لئے موزوں سمجھا جاتا ہے۔

ٹاؤن سینڈ کو یہ غلطی لا حق ہوئی ہے کہ غلام کا درجہ بادشاہ سے کم ہے۔ اسلام میں عزت اور مرتبے کا معیار صرف اور صرف تقوی ہے۔ ایک غلام اگر متقی ہے تو اس کا درجہ ایک صحیح اسلامی معاشرے میں کسی بد کار بادشاہ سے کہیں زیادہ ہے۔ ہجرت کے بعد میں مزید ایسی آیات نازل ہوئیں جنہوں نے غلام آزاد کرنے کو بڑی نیکی قرار دیا۔

لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَالْمَلائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ۔ (2:177)

نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے چہروں کو مشرق یا مغرب کی طرف کر لو بلکہ نیکی تو یہ ہے کہ کوئی اللہ، یوم آخرت، فرشتوں، آسمانی کتب، اور نبیوں پر ایمان لائے اور اپنے مال کو اللہ کی محبت میں رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سائلوں اور غلاموں کو آزاد کرنے کے لئے خرچ کرے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے اپنی تعلیمات میں غلام آزاد کرنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

حدثنا أحمد بن يونس: حدثنا عاصم بن محمد قال: حدثني واقد ابن محمد قال: حدثني سعيد بن مرجانة، صاحب علي بن حسين، قال: قال لي أبو هريرة رضي الله عنه: قال النبي صلى الله عليه وسلم: “أيما رجل أعتق امرأ مسلما، استنقذ الله بكل عضو منه عضوا منه من النار۔” قال سعيد بن مرجانة: فانطلقت به إلى علي بن حسين، فعمد علي بن حسين رضي لله عنهما إلى عبد له، قد أعطاه به عبد الله بن جعفر عشرة آلاف درهم، أو ألف دينار، فأعتقه. (بخاری، کتاب العتق، حديث 2517)

ابوہرہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے فرمایا: “جو شخص بھی کسی مسلمان غلام کو آزاد کرتا ہے ، اللہ تعالی اس (غلام) کے ہر ہر عضو کے بد لے (آزاد کرنے والے کے ) ہر ہر عضو کو جہنم سے آزاد کرے گا۔” سعید بن مرجانہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں علی بن حسین (زین العابدین) رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے اپنے ایک غلام کی طرف رخ کیا اور اسے آزاد کر دیا۔ اس غلام کی قیمت عبداللہ بن جعفر دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار لگا چکے تھے۔

اسلام میں آزادی کی اس تحریک کو صرف انسانوں تک ہی محدود نہیں رکھا گیا بلکہ کسی بھی “نسمہ” (یعنی جاندار چیز جس میں انسان، جانور اور پرندے سبھی شامل ہیں) کی آزادی کو ایک نیکی قرار دے دیا گیا۔

وعن ابن عباس قال‏:‏ جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال‏:‏ يا رسول الله أصبت امرأتي وهي حائض فأمره رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يعتق نسمة وقيمة النسمة يومئذ دينار‏. (مجمع الزوائد، کتاب الطهارة)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کے پاس آیا اور کہنے لگا، “یا رسول اللہ! میں نے حالت حیض میں اپنی بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کر لئے ہیں۔” رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے اسے ایک جاندار آزاد کرنے کا حکم دیا۔ آج کے دن جاندار چیز کی (کم سے کم قیمت) ایک دینار ہے۔

غیر مسلم غلاموں کی آزادی

ان آیات و حدیث سے کوئی یہ سمجھ سکتا ہے کہ صرف مسلمان غلام ہی کو آزاد کرنا باعث اجر ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو، جنہوں نے بہت سے غیر مسلم غلاموں کو آزاد کیا تھا، کو بھی اجر ملنے کی بشارت دی۔

حدثنا عبيد بن إسماعيل: حدثنا أبو أسامة، عن هشام: أخبرني أبي: أن حكيم بن حزام رضي الله عنه أعتق في الجاهلية مائة رقبة، وحمل على مائة بعير، فلما أسلم حمل على مائة بعير، وأعتق مائة رقبة، قال: فسألت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت: يا رسول الله، أرأيت أشياء كنت أصنعها في الجاهلية، كنت أتحنث بها؟ يعني أتبرر بها، قال: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (أسلمت على ما سلف لك من خير). (بخاری، کتاب العتق، حديث 2538)

حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اسلام سے پہلے کے زمانے میں سو غلام آزاد کئے اور ضرورت مند مسافروں کو سواری کے لئے سو اونٹ فراہم کئے تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی انہوں نے سو اونٹ ضرورت مندوں کو دیے اور سو غلام آزاد کئے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم سے پوچھا، “یا رسول اللہ! ان نیک اعمال کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو میں دور جاہلیت میں کر چکا؟” آپ نے فرمایا، “جو نیکیاں تم اسلام لا نے سے پہلے کر چکے ہو، وہ سب کی سب قائم رہیں گی۔”

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غیر مسلم غلاموں کو آزاد کیا کرتے تھے۔ ابن ابی شیبہ نے اپنی کتاب “مصنف” میں غیر مسلم غلاموں کی آزادی کا باقاعدہ باب قائم کرتے ہوئے اس میں سیدنا عمر، علی اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کے غیر مسلم غلام آزاد کرنے کا تذکرہ کیا ہے۔

حدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي هِلاَلٍ ، عَنْ أُسَّقٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَمْلُوكًا لِعُمَرَ ، فَكَانَ يَعْرِضُ عَلَيْهِ الإِسْلاَمَ وَيَقُولُ : {لاَ إكْرَاهَ فِي الدِّينِ} فَلَمَّا حُضِرَ أَعْتَقَه. (مصنف ابن ابی شيبة، باب فی عتق اليهودی و النصراني، حديث 12690)

اُسق کہتے ہیں کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کا غلام تھا۔ وہ مجھے اسلام قبول کرنے کی دعوت دیا کرتے تھے اور یہ بھی کہتے تھے، “دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ہے۔” ایک مرتبہ اسق کو ان کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے اسق کو آزاد کر دیا۔

سعيد قال : حدثنا أبو شهاب عن يحيى بن سعيد : أن عمر بن عبد العزيز أعتق عبداً له نصرانياً ، فمات وترك مالاً ، فأمر عمر بن عبد العزيز ما ترك أن يجعل في بيت المال . (سنن سعيد بن منصور؛ كتاب الميراث)

سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے اپنا ایک عیسائی غلام آزاد کیا۔ جب وہ فوت ہوا تو اس کے ترکے میں مال تھا (اور اس کا سوائے عمر بن عبدالعزیز کے اور کوئی وارث بھی نہ تھا۔) عمر نے اس کے ترکے کو بیت المال میں داخل کر دیا۔

یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے اہل علم جیسے امام مالک نے موطاء (پیراگراف نمبر 2258 میں) غیر مسلم غلاموں کو آزاد کرنے کو نیکی قرار دیا ہے۔ اس واقعے کو گولڈ زیہر نے بھی اپنی کتاب “محمد اینڈ اسلام” میں بیان کیا ہے۔

مسلمانوں کے ہاں یہ عمل بھی رائج رہا ہے کہ وہ غیر مسلم غلاموں کو خود بھی آزاد کیا کرتے تھے اور دشمنوں سے بھی خرید کر آزاد کروایا کرتے تھے۔ ڈاکٹر حمید اللہ لکھتے ہیں:

A document of the time of the Umaiyad caliph ‘Umar ibn ‘Abdal-‘Aziz (reported by Ibn Sa’d) says that the payment of the ransoms by the Muslim government includes liberatingeven the non-Muslim subjects who would have been made prisoners by the enemy.(Dr. Hamidullah, Introduction to Islam)

اموی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز (علیہ الرحمۃ) کے دور کے ایک سرکاری کاغذ کے مطابق جسے ابن سعد نے بیان کیا ہے ، مسلمان حکومت کو اپنے ایسے غیر مسلم شہریوں کا فدیہ ادا کرنا چاہیے جو کہ دشمن کی قید میں ہوں۔

قیمتی غلاموں کی آزادی

ایسا ممکن تھا کہ ان آیات اور احادیث کو سن کر لوگ اپنے کاہل اور نکمے قسم کے غلاموں کو تو آزاد کر دیتے لیکن قیمتی اور محنت کرنے والے غلاموں کو بد ستور غلام رکھتے۔ اس کے بارے میں ارشاد فرمایا:

حدثنا عبيد الله بن موسى، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن أبي مراوح، عن أبي ذر رضي الله عنه قال: سألت النبي صلى الله عليه وسلم: أي العمل أفضل؟ قال: (إيمان بالله، وجهاد في سبيله). قلت: فأي الرقاب أفضل؟ قال: (أغلاها ثمنا، وأنفسها عند أهلها). قلت: فإن لم أفعل؟ قال: (تعين صانعا، أو تصنع لا خرق). قال: فإن لم أفعل؟ قال: (تدع الناس من الشر، فإنها صدقة تصدق بها على نفسك). (بخاری، کتاب العتق، حديث 2518)

ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم سے پوچھا، “کون سا عمل سب سے بہتر ہے ؟” آپ نے فرمایا، “اللہ پر ایمان لا نا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔” میں نے عرض کیا، “کس غلام کو آزاد کرنا سب سے افضل ہے ؟” آپ نے فرمایا، “جو سب سے زیادہ قیمتی ہو اور اپنے آقاؤں کے لئے سب سے پسندیدہ ہو۔” میں نے عرض کیا، “اگر میں ایسا نہ کر سکوں تو؟” آپ نے فرمایا، “تو پھر کسی کاریگر یا غیر ہنر مند فرد کی مدد کرو۔” میں نے عرض کیا، “اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں؟” آپ نے فرمایا، “لوگوں کو اپنی برائی سے بچاؤ۔ یہ بھی ایک صدقہ ہے جو تم خود اپنے آپ پر کرو گے۔”

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے غلاموں کو جلدی جلدی آزاد کرنے کی ترغیب دلائی۔ آپ نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ غلام آزاد کرنے کے لئے اپنی موت کا انتظار نہ کریں بلکہ جلد از جلد غلاموں کو آزاد کریں۔

قال أخبرنا قتيبة بن سعيد ، قال : حدثنا أبو الأحوص ، عن أبي إسحاق ، عن أبي حبيبة ، عن أبي الدرداء أن رسول الله r قال الذي يعتق عند الموت كالذي يهدي بعدما شبع . (سنن نسائی الکبری، کتاب العتق، حديث 4873)

ابو دردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا: “جو شخص بھی مرتے وقت غلام آزاد کرتا ہے ، وہ تو اس شخص کی طرح ہے جو (گناہوں سے) اچھی طرح سیر ہونے کے بعد (نیکی کی طرف) ہدایت پاتا ہے۔

لونڈیوں کی آزادی

جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ اس دور میں لونڈیوں کی اخلاقی حالت اچھی نہ تھی۔ نوجوان لونڈیوں کو عصمت فروشی کی تربیت دے کر انہیں تیار کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے کوئی شریف آدمی شادی کرنے کو تیار نہ ہوتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے ان لونڈیوں کی اخلاقی تربیت کر کے انہیں آزاد کرنے کی ترغیب دلائی۔

أخبرنا محمد، هم ابن سلام، حدثنا المحاربي قال: حدثنا صالح بن حيان قال: قال عامر الشعبي: حدثني أبو بردة، عن أبيه قال:  قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (ثلاثة لهم أجران: رجل من أهل الكتاب، آمن بنبيه وآمن بمحمد صلى الله عليه وسلم، والعبد المملوك إذا أدى حق الله وحق مواليه، ورجل كانت عنده أمة يطؤها، فأدبها فأحسن أدبها، وعلمها فأحسن تعليمها، ثم أعتقها فتزوجها، فله أجران. (بخاری، کتاب العلم، حديث 97)

ابو بردہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے فرمایا، “تین قسم کے افراد کے لئے دوگنا اجر ہے : اہل کتاب میں سے کوئی شخص جو اپنے نبی پر ایمان لا یا اور اس کے بعد محمد پر بھی ایمان لا یا۔ ایسا غلام جو اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہے اور اپنے مالکان کی تفویض کردہ ذمہ داریوں کو بھی پورا کرتا ہے۔ ایسا شخص جس کے پاس کوئی لونڈی ہو جس سے وہ ازدواجی تعلقات رکھتا ہو، وہ اسے بہترین اخلاقی تربیت دے، اسے اچھی تعلیم دلوائے، اس کے بعد اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اس کے لئے بھی دوہرا اجر ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے خود اس کی مثال قائم فرمائی۔ آپ نے سیدہ صفیہ اور ریحانہ رضی اللہ عنہما کو آزاد کر کے ان کے ساتھ نکاح کیا۔ اسی طرح آپ نے اپنی لونڈی سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو آزاد کر کے ان کی شادی سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کی۔ آپ نے اپنی ایک لونڈی سلمی رضی اللہ عنہا کو آزاد کر کے ان کی شادی ابو رافع رضی اللہ عنہ سے کی۔

غلاموں کی آزادی میں رسول اللہ کی ذاتی دلچسپی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کو غلاموں کی آزادی سے ذاتی طور پر دلچسپی تھی۔ اوپر بیان کردہ عمومی احکامات کے علاوہ آپ بہت سے مواقع پر خصوصی طور پر غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ بہت سی جنگوں جیسے غزوہ بد ر، بنو عبدالمصطلق اور حنین میں فتح کے بعد آپ نے جنگی قیدیوں کو غلام نہ بنانے کے لئے عملی اقدامات کئے اور انہیں آزاد کروا کر ہی دم لیا۔ اس کے علاوہ بھی آپ مختلف غلاموں کے بارے میں ان کے مالکوں سے انہیں آزاد کرنے کی سفارش کیا کرتے تھے۔

حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا سليمان بن داود حدثنا أبو عامر عن الحسن عن سعد مولى أبي بكر وكان يخدم النبي صلى الله عليه و سلم وكان النبي صلى الله عليه و سلم يعجبه خدمته فقال: يا أبا بكر أعتق سعدا فقال: يا رسول الله ما لنا ما هن غيره قال: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أعتق سعدا. (مسند احمد، باب سعد مولی ابوبکر)

ابوبکر صدیق کے آزاد کردہ غلام سعد رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کی خدمت کیا کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم ان کی خدمت سے بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے، “ابوبکر! سعد کو آزاد کر دو۔” ابو بکر کہنے لگے، “یا رسول اللہ! میرے پاس ان کے علاوہ اور کوئی غلام نہیں ہے۔” آپ نے پھر فرمایا، “سعد کو آزاد کر دو۔” چنانچہ ابوبکر نے سعد کو آزاد کر دیا۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر مقرر فرمایا تو انہیں بہت سی نصیحتیں ارشاد فرمائیں۔ آپ نے غلاموں کی آزادی کو اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کام قرار دیا۔

يا معاذ ما خلق الله شيئا على وجه الأرض أبغض إليه من الطلاق وما خلق الله عز وجل على وجه الأرض أحب إليه من العتاق وإذا قال الرجل لمملوكه أنت حر إن شاء الله فهو حر ولا استثناء له وإذا قال لا مرأته أنت طالق إن شاء الله فله استثناؤه ولا طلاق عليه (ابن عدى ، والبيهقى ، والديلمى عن معاذ )أخرجه ابن عدى (2/279 ، ترجمة 443 حميد بن مالك) ، والبيهقى (7/361 ، رقم 14897) ، والديلمى (5/378 ، رقم 8485) . وأخرجه أيضًا : الدارقطنى (4/35) ، وابن الجوزى فى العلل المتناهية (2/643 ، رقم 1066) . (جمع الجوامع)

اے معاذ! اللہ تعالی نے روئے زمین پر جو چیزیں تخلیق کی ہیں، ان میں طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ کام کوئی نہیں ہے اور اس نے زمین پر جو چیزیں تخلیق کی ہیں ان میں غلام آزاد کرنے سے زیادہ اچھا کام کوئی نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے غلام سے کہے، اگر اللہ چاہے تو تم آزاد ہو تو وہ آزاد ہو جاتا ہے اور اس میں کسی چیز کا استثناء نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ اللہ چاہے تو تمہیں طلاق ہے تو اس صورت میں استثناء موجود ہے اور طلاق واقع نہیں ہو گی۔

کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ غلاموں کو آزاد کرنے کی یہ ترغیب محض ایک ترغیب ہی تو تھی۔ اس میں مسلمانوں کو کسی بات کا قانونی طور پر پابند نہیں کیا گیا تھا۔ اس وجہ سے محض ترغیب دینے کا کیا فائدہ؟

یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی دین اسلام کے احکامات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کے ارشادات سے محبت اور وابستگی سے عدم واقفیت کا نتیجہ ہے۔ صحابہ کرام اور ان کے تربیت یافتہ تابعین تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کی زبان اقدس سے نکلی ہوئی ہر بات کو پورا کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہا کرتے تھے۔ اس کی ایک مثال اوپر گزر چکی ہے جس میں سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ نے حدیث سنتے ہی اپنا قیمتی ترین غلام آزاد کر دیا تھا۔

فقہی اور قانونی اعتبار سے انفرادی طور پر غلام کو آزاد کرنا اگرچہ محض ایک مستحب عمل ہی تھا لیکن بحیثیت مجموعی مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ غلاموں کا درجہ خود تک بلند کریں۔ جب دین کا کوئی حکم مسلمانوں کو بحیثیت اجتماعی دیا جائے تو اس کی ادائیگی حسب استطاعت ہر مسلمان پر ضروری ہوتی ہے۔ امیر افراد پر ان کی طاقت کے مطابق اور غرباء پر ان کی استطاعت کے مطابق۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی کے اس حکم کے نتیجے میں مسلمانوں میں سے امیر و غریب افراد نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے غلامی کے خاتمے کے لئے جو کچھ کیا، اس کی تفصیلات ہم آگے بیان کر رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کی اس ترغیب و تحریک کے نتیجے میں مسلمانوں کے ہاں غلاموں کی آزادی ایک نیک اور متواتر عمل کے طور پر جاری ہو گئی اور موجودہ دور میں غلامی کے مکمل خاتمے تک جاری رہی۔

 

غلاموں کی آزادی کی مثال قائم کرنا

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے غلاموں کو آزاد کرنے کی محض ترغیب ہی نہ دی بلکہ ایسا کرنے کی بذات خود مثال قائم فرمائی۔ آپ جب یہ محسوس فرماتے کہ آپ کا کوئی غلام آزادانہ طور پر زندگی بسر کرنے کے لئے تیار ہو گیا ہے تو اسے آزاد فرما دیتے۔ یہ سلسلہ آپ کی پوری زندگی میں جاری رہا حتی کہ آپ کی وفات کے وقت آپ کے پاس کوئی غلام نہ تھا۔

حدثنا إبراهيم بن الحارث: حدثنا يحيى بن أبي بكير: حدثنا زهير بن معاوية الجعفي: حدثنا أبو إسحاق، عن عمرو بن الحارث،  ختن رسول الله صلى الله عليه وسلم، أخي جويرية بنت الحارث، قال: ما ترك رسول الله صلى الله عليه و سلم عند موته درهما، ولا دينارا، ولا عبدا، ولا أمة، ولا شيئا، إلا بغلته البيضاء، وسلاحه، وأرضا جعلها صدقة. (بخاری، کتاب الوصايا، حديث 2739)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کے برادر نسبتی عمرو بن حارث جو ام المومنین جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہما کے بھائی ہیں، کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے اپنی وفات کے وقت درہم، دینار، غلام، لونڈی اور کوئی چیز نہ چھوڑی تھی۔ ہاں ایک سفید خچر، کچھ اسلحہ (تلواریں وغیرہ) اور کچھ زمین چھوڑی تھی جسے آپ صدقہ کر گئے تھے۔

حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کے کزن سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما جو آپ کی وفات کے وقت آپ کے قریب موجود تھے، بیان کرتے ہیں:

حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا عفان وأبو سعيد المعني قالا: حدثنا ثابت حدثنا هلال بن خباب عن عكرمة عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم التفت إلى أحد فقال: والذي نفس محمد بيده ما يسرني أن أحدا يحول لا ل محمد ذهبا أنفقه في سبيل الله أموت يوم أموت أدع منه دينارين إلا دينارين أعدهما لدين إن كان فمات وما ترك دينارا ولا درهما ولا عبدا ولا وليدة وترك درعه رهونة عند يهودي على ثلاثين صاعا من شعير. (مسند احمد، باب عبداللہ بن عباس)

نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم (اپنی وفات سے پہلے) کسی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا، “اس کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے ، یہ معاملہ میرے لئے آسان نہیں ہے کہ کوئی محمد کے خاندان کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جانے والا سونا دے۔ مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میں آج دو دینار ہی چھوڑ کر فوت ہو جاؤں سوائے اس کے کہ وہ قرض ادا کرنے کے لئے رکھے ہوئے ہوں۔ آپ نے ایسی حالت میں وفات پائی کہ آپ نے ترکے میں کوئی دینار، درہم، غلام، لونڈی نہ چھوڑی۔ آپ نے ترکے میں ایک زرہ چھوڑی جو کہ تیس صاع جو کا قرض لینے کے باعث ایک یہودی کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی۔

ان احادیث کے بارے میں بعض لوگ یہ کہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کے دو بڑے مکاتب فکر یعنی شیعہ اور سنی کا ان پر اتفاق نہیں ہے۔ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ اہل تشیع کا اس معاملے میں اختلاف اس بات پر نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے ترکے میں کوئی غلام یا لونڈی چھوڑی تھی یا نہیں؟ ان کا اختلاف باغ فدک سے متعلق ہے جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کے خاندان کا حق سمجھتے ہیں۔ اہل سنت کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کی چھوڑی ہوئی جائیداد صدقہ تھی اور اسے سرکاری خزانے کا حصہ ہونا چاہیے تھا۔

اگر حضور نے اپنے ترکے میں کوئی لونڈی یا غلام چھوڑا ہوتا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس کا بھی دعوی کرتیں جبکہ اہل تشیع کی روایات ایسی کسی غلام یا لونڈی کے ذکر سے خالی ہیں۔ اس وجہ سے اس معاملے میں سنی اور شیعہ دونوں مکاتب فکر اس بات پر متفق ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے اپنے تمام غلاموں کو آزاد کر دیا تھا۔

حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے جن غلاموں اور لونڈیوں کو آزادی عطا فرمائی ، ان میں زید بن حارثہ، ثوبان، رافع، سلمان فارسی، ماریہ، ام ایمن، ریحانہ رضی اللہ عنہم مشہور ہوئے۔ ابن جوزی نے تلقیح الفہوم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کے جن آزاد کردہ غلاموں کے نام گنوائے ہیں ان کی تعداد 41 ہے جبکہ انہوں نے آپ کی 12 آزاد کردہ لونڈیوں کا تذکرہ کیا ہے۔

بہت سے غلاموں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے مسلمانوں کے بیت المال کی رقم سے خرید کر آزاد فرمایا۔ ان کا درجہ بلند کرنے کے لئے انہیں آپ نے اپنا مولی قرار دے کر انہیں اپنے خاندان میں شامل کر دیا۔ ابن جوزی بیان کرتے ہیں کہ مرض وفات میں آپ نے چالیس غلاموں کو خرید کر آزاد فرمایا۔ (تاریخ الامم و الملوک، ج 4)

غلام آزاد کرنے کی یہ مثال نہ صرف حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے قائم فرمائی بلکہ آپ کے اہل بیت اور قریبی صحابہ نے بھی ایسا ہی کیا۔ اس کی تفصیلات ہم غلاموں کی آزادی کی تحریک کے نتائج کے باب میں بیان کریں گے۔

 

مکاتبت کے ادارے کا قیام

 

مکاتبت کا سماجی ادارہ عرب میں پہلے سے موجود تھا یا نہیں تھا، اس معاملے میں اسلام سے پہلے کی تاریخ عرب لکھنے والے مورخین میں اختلاف ہے۔ اگر یہ ادارہ موجود بھی تھا تو یہ مالک کی مرضی پر ہوا کرتا تھا کہ وہ غلام کو اس طریقے سے آزاد کرے یا نہ کرے۔ ابن سعد بیان کرتے ہیں کہ قدیم عرب میں مکاتبت کا رواج بہت ہی کم تھا۔ (دیکھئے طبقات الکبری، باب ابوعبس بن جبر)

مکاتبت کے ادارے کا قانونی تحفظ

دین اسلام نے اس ادارے کو قانونی شکل دی اور مالکوں کے لئے یہ لا زم قرار دیا کہ جب ان کے غلام ان سے اپنی آزادی خریدنا چاہیں تو وہ اس سے انکار نہ کریں۔ ارشاد باری تعالی ہے۔

وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْراً وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ۔ (النور 24:33)

تمہارے غلاموں میں سے جو مکاتبت کرنا چاہیں، ان سے مکاتبت کر لو اگر تم ان میں بھلائی دیکھتے ہو اور ان کو اس مال میں سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے۔

اس آیت کے الفاظ صریحاً اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ غلام اگر اپنی آزادی کو خریدنے کا طالب ہو تو اس سے مکاتبت کرنا ضروری ہے۔ “اگر تم ان میں بھلائی دیکھتے ہو” سے مراد سب اہل علم بشمول سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نے یہی لیا ہے کہ ان غلاموں کے پاس اتنا مال ہو یا وہ اتنا مال کمانے کی صلاحیت رکھتے ہوں جس سے وہ اپنی آزادی خرید سکیں۔ (دیکھیے مسند ابن ابی شیبہ، حدیث 23306) علامہ بد ر الدین عینی لکھتے ہیں:

واحتجوا أيضا بأن هذه الآية نزلت في غلام لحويطب بن عبد العزى يقال له صبيح سأل مولاه أن يكاتبه فأبى عليه فأنزل الله تعالى هذه الآية فكاتبه حويطب على مائة دينار ووهب له منها عشرين دينارا فأداها وقتل يوم حنين في الحرب. (عينی، شرح البخاری، کتاب المکاتب)

اہل علم نے اس بات سے بھی دلیل حاصل کی ہے کہ (مکاتبت کی یہ آیت) حویطب بن عبدالعزی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہیں صبیح کہا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنے آقا سے مکاتبت کی درخواست کی جس سے انہوں نے انکار کر دیا۔ اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی۔ انہوں نے حویطب سے سو دینار پر مکاتبت کر لی اور اس میں سے بیس دینار انہیں معاف بھی کر دیے۔ انہوں نے یہ رقم ادا کی۔ یہ صاحب جنگ حنین میں شہید ہو گئے۔

اس کے علاوہ مالکان، حکومت اور دیگر صاحب ثروت لوگوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ ایسے غلاموں کی مدد کریں جو مکاتبت کے خواہاں ہوں۔ اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ غلام کی درخواست پر مکاتبت کرنے کو ضروری سمجھتے تھے۔ اس ادارے کو باقاعدہ قانونی تحفظ حاصل تھا۔ چند مثالیں پیش خدمت ہیں:

وقال روح، عن ابن جريج: قلت لعطاء: أواجب علي إذا علمت له مالا أن أكاتبه؟ قال: ما أراه إلا واجبا. وقاله عمرو بن دينار. قلت لعطاء: تأثره عن أحد، قال: لا . ثم أخبرني: أن موسى بن أنس أخبره: أن سيرين سأل أنسا المكاتبة، وكان كثير المال فأبى، فانطلق إلى عمر رضي الله عنه فقال: كاتبه، فأبى، فضربه بالدرة ويتلو عمر: {فكاتبوهم إن علمتم فيهم خيرا}. فكاتبه. (بخاری، کتاب المکاتب، ترجمة الباب عند حديث 2559)

ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھا، “کیا مجھ پر یہ لا زم ہے کہ اگر مجھے علم ہو کہ غلام ادائیگی کر سکتا ہے تو اس سے مکاتبت کر لوں؟” وہ کہنے لگے، “میں اسے ضروری تو نہیں سمجھتا۔” عمرو بن دینار نے ان سے کہا، “کیا آپ کو اس معاملے میں کسی صحابی کے قول و فعل کا علم ہے ؟” وہ کہنے لگے، “نہیں”۔ انہوں نے یہ موسی بن انس کے حوالے سے یہ واقعہ بیان کیا:

سیرین (جو کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے غلام تھے) کے پاس کثیر مال موجود تھا۔ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے مکاتبت کی درخواست کی۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ وہ یہ معاملہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی عدالت میں لے گئے۔ انہوں نے (انس سے) کہا: “مکاتبت کرو۔” انہوں نے پھر انکار کیا۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں درے سے مارا اور یہ آیت تلاوت کی، “ان سے مکاتبت کرو اگر تم ان میں بھلائی دیکھتے ہو۔” اب انس نے مکاتبت کر لی۔ (یہ روایت طبرانی میں متصل سند کے ساتھ موجود ہے۔)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس عمل کے وقت کثیر تعداد میں صحابہ موجود تھے۔ کسی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات سے نہیں روکا کہ وہ انس رضی اللہ عنہ کو سزا کیوں دے رہے ہیں جبکہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اکابر صحابہ مکاتبت کو ضروری قرار دیتے تھے۔ یہ مکاتب جن کا نام سیرین تھا، تابعین کے مشہور امام محمد بن سیرین کے والد تھے۔ بعد کے ادوار میں بھی یہی معاملہ رہا۔

مکاتبوں کے قانونی تحفظ کا یہ عالم تھا کہ مالک کو یہ قطعی اختیار حاصل نہ تھا کہ وہ اس معاملے میں الٹی سیدھی شرائط عائد کر کے مکاتبت کے معاملے کو لٹکا سکے۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَرَادَ مُكَاتَبٌ أَنْ يُعْطِيَ مَوْلاَهُ الْمَالَ كُلَّهُ ، فَقَالَ : لا  آخُذُهُ إلاَّ نُجُومًا ، فَكَتَبَ لَهُ عُثْمَانُ عِتْقَهُ ، وَأَخَذَ الْمَالَ وَقَالَ : أَنَا أُعْطِيكَهُ نُجُومًا ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الرَّجُلَ أَخَذَ الْمَالَ. (مصنف ابن ابی شيبة، حديث 22993)

ایک مکاتب نے ارادہ کیا کہ وہ مکاتبت کی پوری رقم کی یک مشت ادائیگی کر دے۔ مالک کہنے لگا، “میں تو قسطوں ہی میں لوں گا۔” سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی آزادی کا فرمان لکھ کر جاری کر دیا اور اس سے مال لے لیا اور مالک سے فرمایا، “میں تمہیں قسطوں میں ادائیگی کر دیا کروں گا۔” اس شخص نے جب یہ دیکھا تو پورا مال قبول کر لیا۔

حَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ أبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَغَيْرَهُ يَذْكُرُونَ: أَنَّ مَكَاتَباً كَانَ لِلْفُرَافِصَةِ بْنِ عُمَيْرٍ الْحَنَفِي، وَأَنَّهُ عَرَضَ عَلَيْهِ أَنْ يَدْفَعَ إِلَيْهِ جَمِيعَ مَا عَلَيْهِ مِنْ كِتَابَتِهِ، فَأَبَى الْفُرَافِصَةُ، فَأَتَى الْمُكَاتَبُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَدَعَا مَرْوَانُ الْفُرَافِصَةَ فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ فَأَبَى، فَأَمَرَ مَرْوَانُ بِذَلِكَ الْمَالِ أَنْ يُقْبَضَ مِنَ الْمُكَاتَبِ، فَيُوضَعَ فِي بَيْتِ الْمَالِ، وَقَالَ لِلْمُكَاتَبِ : اذْهَبْ فَقَدْ عَتَقْتَ. فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْفُرَافِصَةُ قَبَضَ الْمَالَ. (موطاء مالک، کتاب المکاتب، حديث 2324)

ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن وغیرہ بیان کرتے ہیں کہ فراصہ بن عمیر الحنفی کا ایک مکاتب غلام تھا۔ اس نے اپنے مالک کو یہ پیشکش کی کہ وہ کتابت کی پوری قیمت اکٹھی ادا کر کے مکمل آزاد ہونا چاہتا ہے۔ فرافصہ نے اس سے انکار کر دیا۔ وہ مکاتب مدینہ کے گورنر مروان بن الحکم کے پاس گیا اور اس بات کا ان سے تذکرہ کیا۔ مروان نے فرافصہ کو بلایا اور انہیں ایسا کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے پھر انکار کر دیا۔ مروان نے حکم دیا کہ مکاتب سے پورا مال لے کر اسے بیت المال میں جمع کر دیا جائے۔ اس کے بعد انہوں نے مکاتب سے کہا، ” جاؤ، تم تو آزاد ہو گئے۔” فرافصہ نے جب یہ دیکھا تو پورا مال لے لیا۔

غلاموں میں نفسیاتی تبدیلی کے ذریعے آزادی کی خواہش پیدا کرنے کی کوشش

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے غلاموں میں نفسیاتی تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کی کہ وہ آزادی کے خواہش مند بنیں اور اپنے مالکوں سے مکاتبت کر لیں۔ آپ کا ارشاد ہے :

أخبرنا أحمد بن عمرو بن السرح قال أنا بن وهب قال أخبرني الليث عن بن عجلان عن سعيد ، عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ثلاثة حق على الله عونهم المكاتب الذي يريد الأداء والناكح الذي يريد العفاف والمجاهد في سبيل الله . (سنن الکبری نسائی، کتاب العتق، حديث 4995)

سیدنا ابوہرہرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے فرمایا، “تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کی مدد کو اللہ نے خود پر لا زم کر لیا ہے : ایسا مکاتب جو ادائیگی (کر کے آزاد ہونے) کا ارادہ رکھتا ہو؛ نکاح کرنے والا جو عفت و پاکدامنی کا طالب ہو؛ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا۔

آپ نے بہت سے غلاموں کو فرداً فرداً بھی ترغیب دلائی کہ وہ اپنے مالکان سے مکاتبت کر لیں۔ اس کی مثال سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہیں جن کی مکاتبت چالیس اوقیہ چاندی کے بد لے ہوئی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے اس رقم کو ادا کر دیا تھا (دیکھیے سیرت ابن ہشام)۔

مکاتبین کی مدد کا نظام

اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم مالکوں کو بھی تلقین کیا کرتے تھے کہ وہ قرآن کے حکم کے مطابق غلاموں کو مکاتبت میں سے رقم معاف کر دیں۔ آپ دوسرے لوگوں کو بھی یہ ترغیب دلایا کرتے تھے کہ وہ مکاتبوں کی مدد کریں تاکہ یہ رقم ادا کر کے جلد از جلد مکمل آزاد ہو سکیں۔ صحابہ کرام کا عمل بھی اس کے عین مطابق تھا اور وہ اپنے غلاموں کو مکاتبت کی رقم میں سے حسب توفیق کچھ نہ کچھ معاف کر دیا کرتے تھے اور دوسروں کے مکاتب غلاموں کی مالی مدد کیا کرتے تھے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ : أَنَّ سَهْلَ بْن حُنَيْفٍ حَدَّثَهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه و سلم : مَنْ أَعَانَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللهِ ، أَوْ غَارِمًا فِي عُسْرَتِهِ ، أَوْ مُكَاتَبًا فِي رَقَبَتِهِ ، أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لا  ظِلَّ إلاَّ ظِلُّهُ. (مصنف ابن ابی شيبة، کتاب المکاتب، حديث 23474، مستدرک حاکم، کتاب المکاتب، حديث 2860)

سیدنا سھل بن حنیف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عیہ و اٰلہ و سلم نے فرمایا: “جس شخص نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے، یا تنگدستی کی حالت میں جرمانہ ادا کرنے والے یا آزادی کے طالب مکاتب کی مدد کی، اللہ اسے قیامت کے اپنا خاص سایہ نصیب کرے گا۔ اس دن اس کے علاوہ کوئی اور سایہ بھی نہ ہو گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کی اس ترغیب کا کیا اثر ہوا۔ اس کا اندازہ ان روایات سے لگایا جا سکتا ہے :

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ عَنْ حَبَّانَ بْنِ مُوسَى عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ أَنَّ فُلاَنًا الْحَنَفِىَّ حَدَّثَهُ قَالَ : شَهِدْتُ يَوْمَ جُمُعَةٍ فَقَامَ مُكَاتَبٌ إِلَى أَبِى مُوسَى رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَانَ أَوَّلَ سَائِلٍ رَأَيْتُهُ فَقَالَ : إِنِّى إِنْسَانٌ مُثْقَلٌ مُكَاتَبٌ فَحَثَّ النَّاسَ عَلَيْهِ فَقُذِفَتْ إِلَيْهِ الثِّيَابُ وَالدَّرَاهِمُ حَتَّى قَالَ حَسْبِى فَانْطَلَقَ إِلَى أَهْلِهِ فَوَجَدَهُمْ قَدْ أَعْطَوْهُ مُكَاتَبَتَهُ وَفَضَلَ ثَلاَثُمِائَةِ دِرْهَمٍ فَأَتَى أَبَا مُوسَى فَسَأَلَهُ فَأَمْرَهُ أَنْ يَجْعَلَهَا فِى نَحْوِهِ مِنَ النَّاسِ. (سنن الکبری بيهقى، كتاب قسم الصدقات، حديث 13192)

ایک حنفی بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ کی نماز میں حاضر تھا تو ایک مکاتب سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کھڑا ہوا۔ میں نے وہ پہلا سائل دیکھا تھا جو کہہ رہا تھا، “میں ایسا انسان ہوں جس پر مکاتبت کا بوجھ ہے۔ لوگ اس کی طرف گویا دوڑ پڑے اور اس پر کپڑے اور درہم نچھاور کرنے لگے یہاں تک کہ وہ کہنے لگا، “بس کافی ہے۔” اب وہ اپنے مالکوں کی طرف گیا اور انہیں مکاتبت کی رقم ادا کی۔ اس کے بعد بھی اس کے پاس 300 درہم بچ گئے۔ وہ سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے اس رقم کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ اسے اپنے جیسے اور مکاتبوں کو دے دو۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ صُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ اللهِ : أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ حَثَّ النَّاسَ عَلَى مُكَاتَبِهِ ، فَجَمَعُوا لَهُ فَأَدَّى مُكَاتَبَتَهُ ، وَبَقِيَتْ فَضْلَةٌ فَجَعَلَهَا عَبْدُ اللهِ فِي الْمُكَاتِبِينَ. (مصنف ابن ابی شيبة، حديث 21943)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما لوگوں کو مکاتبت کی ترغیب دلایا کرتے تھے۔ (غلام) ان کے پاس اکٹھے ہو کر آیا کرتے اور وہ ان کی مکاتبت کی رقم ادا کر دیا کرتے تھے۔ ان کے پاس جو بھی مال باقی بچتا، وہ اسے مکاتبوں کی مدد پر ہی صرف کیا کرتے تھے۔

ایک طرف تو یہ معاملہ تھا کہ لوگ مکاتبین کی مدد کیا کرتے تھے اور دوسری طرف مالکان بھی متعدد مرتبہ مکاتبوں کی رقم حیلے بہانے سے چھوڑ دیا کرتے تھے:

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ح قَالَ وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ : كَاتَبَ ابْنُ عُمَرَ غُلاَمًا لَهُ فَجَاءَ بِنَجْمِهِ حِينَ حَلَّ فَقَالَ : مِنْ أَيْنَ هَذَا؟ قَالَ : كُنْتُ أَسْأَلُ وَأَعْمَلُ. فَقَالَ : تُرِيدُ أَنْ تُطْعِمَنِى أَوْسَاخَ النَّاسِ أَنْتَ حُرٌّ وَلَكَ نَجْمُكَ. (سنن الکبری بيهقى، كتاب المکاتب، حديث 21666)

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک غلام کے ساتھ مکاتبت کی۔ وہ ادائیگی کے وقت اپنی قسط لے کر ان کے پاس آیا تو انہوں نے پوچھا، “یہ رقم کہاں سے لائے؟” وہ بولا، “کچھ کام کر کے اور کچھ لوگوں سے مانگ کر لا یا ہوں۔” آپ نے فرمایا، “کیا تم مجھے لوگوں کی میل کھلانا چاہتے ہو۔ جاؤ تم آزاد ہو اور تمہاری قسط بھی تمہاری ہی ہے۔”

حکومت کے اقتصادی نظام (Fiscal System) میں حکومت کا باقاعدہ ایک خرچ یہ مقرر کیا گیا کہ وہ غلام خرید کر آزاد کرے یا پھر مکاتبین کی مدد کرے۔ اس کی تفصیل ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔

مکاتب کا قانونی اسٹیٹس

احادیث میں مکاتبت کے حقوق و فرائض کا جو ذکر آیا ہے ، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مکاتبت کا معاہدہ ہو جانے کے بعد مکاتب کا اسٹیٹس”آزاد” اور “غلام” کے درمیان ہو جایا کرتا تھا۔ مالک کے لئے لا زم ہوا کرتا تھا کہ وہ اسے کام کر کے کمانے کی اجازت دے تاکہ وہ ادائیگی کر کے مکمل آزاد ہو سکے۔ امہات المومنین کو خاص طور پر پردہ کرنے کا جو حکم قرآن میں دیا گیا تھا، غلام اس سے مستثنی تھے  لیکن مکاتبت کی صورت میں انہیں مکاتب سے پردہ کرنا ضروری تھا۔

حدثنا سعيد بن عبد الرحمن قال حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن نبهان مولى أم سلمة عن أم سلمة قالت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا كان عند مكاتب إحداكن ما يؤدي فلتحتجب منه قال أبو عيسى هذا حديث حسن صحيح. (ترمذی، کتاب البيوع، حديث 1261)

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا (جنہوں نے اپنے غلام سے مکاتبت کر لی تھی) کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے فرمایا، “جب تم میں کوئی مکاتبت کرے اور اس نے پوری ادائیگی نہ بھی کی ہو تب بھی اس سے حجاب کرو۔”

حدثنا هارون بن عبد الله البزار حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا حماد بن سلمة عن أيوب عن عكرمة عن بن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال إذا أصاب المكاتب حدا أو ميراثا ورث بحساب ما عتق منه وقال النبي صلى الله عليه و سلم يؤدي المكاتب بحصة ما أدى دية حر وما بقي دية عبد۔ (ترمذی، کتاب البيوع، حديث 1259، مستدرک حاکم، 2865-2866)

ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے فرمایا، “اگر مکاتب کو (کسی جرم میں) سزا دی جائے یا اسے (مالک کے فوت ہو جانے کی صورت میں اس کے ) وارثوں کے حوالے کیا جائے تو ایسا کرتے ہوئے اس کا معاملہ اس کی آزادی کے تناسب سے کیا جائے۔ آپ نے فرمایا، ” (اگر مکاتب کو کسی حادثے میں نقصان پہنچا ہو تو) اس کی دیت کی ادائیگی اس حساب سے کی جائے گی کہ اس نے جتنے (فیصد مکاتبت کی رقم) ادا کی ہو، اسے اتنے (فیصد) آزاد سمجھا جائے گا اور جتنے (فیصد) باقی ہو، غلام سمجھا جائے گا۔

مکاتب کے حقوق و فرائض کے بارے میں اگر تمام روایات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بالعموم مکاتب کو اکثر حقوق وہ دیے گئے ہیں جو کسی آزاد شخص کو حاصل تھے لیکن اس پر زکوٰۃ، حج، جہاد اور حکومتی جرمانے وغیرہ کے معاملے میں وہ ذمہ داریاں عائد نہیں کی گئیں جو کہ آزاد افراد پر عائد کی گئی تھیں۔

حدثنا عبد الباقي بن قانع وعبد الصمد بن علي قالا نا الفضل بن العباس الصواف ثنا يحيى بن غيلان ثنا عبد الله بن بزيع عن بن جريج عن أبي الزبير عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ليس في مال المكاتب زكاة حتى يعتق. (دارقطنى، سنن، كتاب الزكوة)

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے فرمایا، “مکاتب کے مال میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے جب تک وہ مکمل آزاد نہ ہو جائے۔”

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بعض تو اس بات کے قائل تھے کہ مکاتبت کرتے ہی غلام آزاد ہو جاتا ہے اور کی حیثیت سابقہ مالک کے مقروض کی سی ہو جاتی ہے اور بعض اسے ادائیگی کے تناسب سے آزاد قرار دیا کرتے تھے:

عند ابن عباس فإنه يعتق بنفس العقد وهو غريم المولى بما عليه من بد ل الكتابة وعند علي رضي الله تعالى عنه يعتق بقدر ما أدى۔ (عينى، عمدة القارى شرح البخارى)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مکاتب معاہدہ کرتے ہی آزاد ہو جاتا ہے۔ اب وہ اپنے سابقہ مالک کا مقروض ہے کیونکہ اس پر مکاتبت کی رقم کی ادائیگی لا زم ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ جتنی رقم ادا کر دے، اسی تناسب سے آزاد ہو جاتا ہے۔

عدم ادائیگی کے باعث مکاتب کا قانونی تحفظ

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تو یہ قانون بنا دیا تھا کہ اگر مکاتب نصف رقم کی ادائیگی کر چکا ہو اور اس کے بعد وہ باقی رقم ادا نہ بھی کر سکے تب بھی اسے غلامی کی طرف نہ لوٹایا جائے گا۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : إنَّكُمْ تُكَاتِبُونَ مُكَاتَبِينَ ، فَإِذَا أَدَّى النِّصْفَ فَلاَ رَدَّ عَلَيْهِ فِي الرِّقِّ. (مصنف ابن ابی شيبة؛ حديث 20960)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، “تم لوگ مکاتبت کرتے ہو، جب مکاتب آدھی رقم ادا کر دے تو پھر اسے غلامی کی طرف نہ لوٹایا جائے گا۔

یہی بات سیدنا حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ نصف رقم کی ادائیگی کے بعد مکاتب آزاد ہو جاتا ہے اور اس کی حیثیت ایک مقروض شخص کی ہو جایا کرتی ہے۔ (مسند ابن الجعد)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عام طور پر اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ مکاتب کا مالک کسی اور شخص سے رقم لے کر مکاتب کی بقیہ اقساط کو کسی اور شخص کی طرف منتقل کر دے۔ ہاں اگر وہ مکاتب خود اس کی اجازت دے دے تو اسے منتقل کیا جا سکتا ہے۔

حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ بَيْعَ الْمُكَاتَبِ. (مصنف ابن ابی شيبة؛ حديث 23054)

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مکاتب کے منتقل کئے جانے کو سخت ناپسند کیا کرتے تھے۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مکاتب کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا  کہ اگر وہ پوری رقم کی ادائیگی سے پہلے فوت ہو جائے اور اس کے بچے ہوں تو وہ بچے آزاد ہی قرار پائیں گے۔ (بیہقی، معرفۃ السنن والآثار، کتاب المکاتب)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ معمول تھا کہ اگر مکاتبین رقم ادا کرنے سے عاجز ادا آ جاتے تو وہ انہیں بالعموم رقم معاف کر کے آزاد کر دیا کرتے تھے۔

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِى إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَاتَبَ غُلاَمًا لَهُ يُقَالُ لَهُ شَرْفًا بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا فَخَرَجَ إِلَى الْكُوفَةِ فَكَانَ يَعْمَلُ عَلَى حُمُرٍ لَهُ حَتَّى أَدَّى خَمْسَةَ عَشَرَ أَلْفًا فَجَاءَهُ إِنْسَانٌ فَقَالَ مَجْنُونٌ أَنْتَ أَنْتَ هَا هُنَا تُعَذِّبُ نَفْسَكَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَشْتَرِى الرَّقِيقَ يَمِينًا وَشِمَالاً ثُمَّ يُعْتِقُهُمَ ارْجَعْ إِلَيْهِ فَقَلْ لَهُ قَدْ عَجَزْتُ فَجَاءَ إِلَيْهِ بِصَحِيفَتِهِ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ عَجَزْتُ وَهَذِهِ صَحِيفَتِى فَامْحُهَا فَقَالَ لا  وَلَكِنِ امْحُهَا إِنْ شِئْتَ فَمَحَاهَا فَفَاضَتْ عَيْنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ قَالَ أَصْلَحَكَ اللَّهُ أَحْسِنْ إِلَى ابْنىَّ قَالَ هُمَا حُرَّانِ قَالَ : أَصْلَحَكَ اللَّهُ أَحْسِنْ إِلَى أُمَّىْ وَلَدَىَّ قَالَ هُمَا حُرَّتَانِ فَأَعْتَقَهُمْ خَمْسَتَهُمْ جَمِيعًا فِى مَقْعَدٍ. (بیہقی، معرفۃ السنن والآثار، کتاب المکاتب)

زید بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد عبداللہ بن عمر نے ایک غلام، جس کا نام شرف تھا، سے 40,000 درہم پر مکاتبت کی۔ وہ کوفہ کی جانب نکل گیا اور وہاں وہ اسفالٹ کا کام کرنے لگا یہاں تک کہ اس نے 15,000 درہم ادا کر دیے۔ اس کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا، “تم تو پاگل ہو، تم یہاں سخت محنت کر رہے ہو جبکہ عبداللہ بن عمر تو ادھر ادھر سے غلام خریدتے ہیں اور اسے آزاد کر دیتے ہیں۔ تم ان کے پاس جاؤ اور کہو، میں رقم ادا کرنے سے عاجز آ گیا ہوں۔”

(اب وہ واپس ان کے پاس آیا اور اس کے طلب کرنے پر) اس کے پاس اس کی مکاتبت کا معاہدہ لا یا گیا۔ وہ کہنے لگا، “اے ابو عبدالرحمٰن! میں رقم ادا کرنے سے عاجز آ گیا ہوں۔ یہ میرا معاہدہ ہے ، اسے مٹا دیجیے۔” آپ نے فرمایا، “نہیں، ہاں تم ہی غلام رہنا چاہو تو میں اسے مٹا دوں گا۔” جب معاہدہ مٹایا گیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا، “جاؤ، تم آزاد ہو۔” وہ کہنے لگا، “اللہ آپ کے ساتھ بھلائی کرے، میرے دونوں بیٹوں پر بھی احسان کیجیے۔” فرمایا، “وہ دونوں بھی آزاد ہیں۔” کہنے لگا، “میرے دونوں بچوں کی ماؤں پر بھی احسان کیجیے۔” آپ نے فرمایا، “وہ دونوں بھی آزاد ہیں۔” اس طرح آپ نے بیٹھے بیٹھے وہیں ان پانچوں کو آزاد کر دیا۔

متعدد مالکوں کے مشترک غلام کی مکاتبت

بسا اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ ایک شخص متعدد مالکوں کا غلام ہوتا تھا۔ اس کی صورت ایسی ہی تھی جیسا کہ اگر کوئی کسی پارٹنر شپ کمپنی کا ملازم ہو۔ ایسی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے حکم دیا کہ اگر کوئی ایک پارٹنر غلام میں اپنے حصے کو آزاد کرے تو باقی پارٹنر بھی اپنے اپنے حصوں کو آزاد کر دیں۔ اگر وہ ایسا کرنے پر تیار نہ ہوں تو غلام خود بخود مکاتب کا درجہ اختیار کر جائے گا۔ وہ کما کر اپنے باقی مالکان کو ادائیگی کرے گا اور اس معاملے میں اس پر سختی نہ کی جائے گی۔

حدثنا بشر بن محمد: أخبرنا عبد الله: أخبرنا سعيد بن أبي عروبة، عن قتادة، عن النضر بن أنس، عن بشير بن نهيك، عن أبي هريرة رضي الله عنه،  عن النبي صلى الله عليه و سلم قال: (من أعتق شقيصا من مملوكه فعليه خلاصه في ماله، فإن لم يكن له مال، قوم المملوك قيمة عدل، ثم استسعي غير مشقوق عليه). (بخاری، کتاب الشرکة، حديث 2492)

سیدنا ابوہرہرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے فرمایا، “اگر کسی نے غلام میں سے اپنے حصے کو آزاد کر دیا تو اس پر لا زم ہے کہ وہ اپنے مال میں سے اس غلام کو پورا آزاد کروائے۔ اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام کی مناسب قیمت لگوائی جائے اور اسے سے اسے کمانے کو کہا جائے گا اور اس پر سختی نہ کی جائے گی۔

قانون مکاتبت کے اثرات

مکاتبت کا یہ قانون ایک انقلابی قانون تھا۔ غلاموں کی آزادی کے دیگر تمام اقدامات کا تعلق تو ان کے مالکان یا حکومت سے تھا لیکن مکاتبت وہ سماجی ادارہ تھا جس کی بدولت غلام خود اپنی آزادی کی تاریخ رقم کر سکتے تھے۔ یہ آزادی خود ان کی اپنی خواہش کی مرہون منت تھی۔ اس کے لئے حکومت اور مخیر حضرات ہمہ دم ان کی مدد کے لئے تیار تھے۔ اب اگر کوئی کمی باقی رہ گئی تھی تو وہ یہی تھی کہ غلام خود آزادی کا طالب نہ ہو ورنہ اسے آزاد کرنے کے تمام وسائل مہیا کر دیے گئے تھے۔ اس کے بعد وہی لوگ غلامی میں باقی رہ جاتے جو خود غلام رہنا چاہتے تھے۔

اس اقدام کا نتیجہ بہت ہی مثبت نکلا۔ غلاموں میں آزادی خریدنے کی زبردست تحریک پیدا ہوئی۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ یہ آزادی حاصل کرنے کا ایک باعزت طریقہ تھا جس میں مالک کا غلام پر کوئی احسان بھی قائم نہ ہوتا تھا اور غلام کی عزت نفس مجروح کئے بغیر اسے آزادی مل جایا کرتی تھی۔ مکاتبت کے ذریعے مالک کو بھی اپنی وہ رقم واپس مل جایا کرتی تھی جو اس نے غلام کی خدمات کو خریدنے پر صرف کی تھی۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بے شمار مکاتبین کا ذکر اسماء الرجال کی کتابوں میں ملتا ہے۔ یہ حضرات نہ صرف ان سے مکاتبت کر لیا کرتے تھے بلکہ اس میں سے جس قدر رقم کم کر سکتے کر دیتے اور آزادی کے وقت انہیں اپنے مال میں سے بھی بہت کچھ دے دلا کر بھیجا کرتے تھے۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک غلام ابوامیہ سے مکاتبت کی اور جب ان کی آزادی کا وقت آیا تو سیدنا عمر کے پاس کچھ نہ تھا۔ انہوں نے اپنی بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے دو سو درہم ادھار لے کر ابو امیہ کو دیے۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک غلام سے مکاتبت کی اور پھر اس پر خود ہی شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں پوری رقم معاف کر دی۔ (طبقات ابن سعد اور سنن الکبری) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما مکاتبت کرتے تو اس کے آخر میں رقم معاف کر دیا کرتے تھے۔

بعد کے ادوار میں مکاتبت کا ادارہ اتنی ترقی کر گیا کہ قانونی ماہرین کو ان میں باقاعدہ الگ سے مکاتبت کے ابواب قائم کر کے اس سے متعلق قانون سازی کرنا پڑی۔

مکاتبت کی انشورنس کا نظام

موطاء امام مالک کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دور میں مکاتبت کا ادارہ اتنی ترقی کر چکا تھا کہ غلام اجتماعی طور پر بھی مکاتبت کیا کرتے تھے۔ یہ مکاتبت کی انشورنس کا نظام تھا۔ اس میں یہ معاملہ طے کیا جاتا کہ چند غلام مل کر اپنے مالکوں سے مکاتبت کریں گے۔ اگر بیماری یا کسی اور وجہ سے کوئی غلام اپنی ادائیگی نہ کر سکے تو اس کے دوسرے ساتھی اس کی ادائیگی کریں گے۔

 

حکومتی سطح پر غلاموں کی آزادی کے اقدامات

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے غلاموں کو محض آزاد کرنے اور آزاد ہونے ہی کی ترغیب نہ دلائی بلکہ آپ نے مدینہ میں حکومت قائم کرنے کے بعد حکومتی سطح پر اس کا اہتمام بھی فرمایا۔ مدینہ کی اس ریاست کی اقتصادی پالیسی (Fiscal Policy) میں غلاموں کی آزادی کو ایک سرکاری خرچ کی حیثیت دی گئی۔ ریاست کی آمدنی کا ذریعہ زکوٰۃ تھی جسے قرآن مجید میں صدقہ کا نام بھی دیا گیا ہے۔

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاِبْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنْ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ۔ (التوبة 9:60)

یہ صدقات تو دراصل فقرا، مساکین اور سرکاری ملازموں (کی تنخواہوں) کے لئے ہیں، اور ان کے لئے جن کی تالیف قلب مقصود ہو۔ یہ غلام آزاد کرنے، قرض داروں کی مدد کرنے، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور مسافروں کی مدد کے لئے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔

حکومتی سطح پر بھی بہت سے غلاموں کو خرید کر آزاد کیا گیا۔ بعض مکاتبوں کو اپنی رقم کی ادائیگی کے لئے ان کی مدد کی گئی۔ اس کی ایک مثال سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہیں۔ خلفاء راشدین کے دور میں بیت المال سے غلاموں کو خرید خرید کر آزاد کیا جاتا تھا۔ اگر کسی کا کوئی وارث نہ ہوتا تو اس کی چھوڑی ہوئی جائیداد کو بیچ کر اس سے بھی غلام آزاد کئے جاتے۔ چند مثالیں پیش خدمت ہیں:

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ : أَنَّ طَارِقَ بْنِ الْمرقَّع أَعْتَقَ غُلاَمًا لَهُ لِلَّهِ ، فَمَاتَ وَتَرَكَ مَالا ، فَعُرِضَ عَلَى مَوْلاَهُ طَارِقٍ ، فَقَالَ : شَيْءٌ جَعَلْته لِلَّهِ ، فَلَسْت بِعَائِدٍ فِيهِ ، فَكُتِبَ فِي ذَلِكَ إلَى عُمَرَ ، فَكَتَبَ عُمَرُ : أَنِ اعْرِضُوا الْمَالَ عَلَى طَارِقٍ ، فَإِنْ قَبِلَهُ وَإِلاَّ فَاشْتَرَوْا بِهِ رَقِيقًا فَأَعْتِقُوهُمْ ، قَالَ : فَبَلَغَ خَمْسَةَ عَشَرَ رَأْسًا. (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب المیراث، حدیث 32086)

طارق بن مرقع نے ایک غلام کو اللہ کی رضا کے لئے آزاد کیا۔ وہ فوت ہو گیا اور اس نے کچھ مال ترکے میں چھوڑا۔ یہ مال اس کے سابقہ مالک طارق کے پاس پیش کیا گیا۔ وہ کہنے لگے، “میں نے تو اسے محض اللہ کی رضا کے لئے آزاد کیا تھا، میں اس میں سے کچھ نہ لوں گا۔” یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ کر بھیجی گئی کہ طارق مال لینے سے انکار کر رہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا، “اگر وہ قبول کر لیں تو ٹھیک ہے ورنہ اس سے غلام خرید کر آزاد کرو۔” راوی کہتے ہیں کہ اس مال سے پندرہ غلام آزاد کئے گئے۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں تو عرب میں موجود تمام غلاموں کو حکومت کے مال سے خرید کر آزاد کر دیا گیا۔ اس کی تفصیل ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ زکوٰۃ ایک حکومتی ٹیکس تھا جو مسلمانوں پر مذہبی طور پر واجب کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں تو یہاں تک اجازت دے دی گئی کہ اگر کوئی شخص اپنی زکوٰۃ کی رقم سے خود ہی غلام خرید کر آزاد کر دے تو وہ حکومت کو ادائیگی کرتے ہوئے اس رقم کو قابل ادائیگی زکوٰۃ (Zakat Liability) سے منہا کر سکتا ہے۔ ابن زنجویۃ نے کتاب الاموال میں سیدنا ابن عباس اور حسن بصری کا یہ موقف بیان کیا ہے۔

 

مذہبی بنیادوں پر غلام آزاد کرنے کے احکامات

 

اللہ تعالی کو چونکہ غلاموں کی آزادی سے خاص دلچسپی تھی، اس وجہ سے کچھ دینی احکام کی خلاف ورزی کی صورت میں بطور کفارہ انہیں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا گیا۔ ان میں قسم توڑنے، ناجائز طریقے سے طلاق دینے اور غلطی سے کسی کی جان لے لینے کی صورتیں شامل تھیں۔

قسم توڑنے کا کفارہ

لا يُؤَاخِذُكُمْ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمْ الأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ۔ (المائدة 5:89)

تم لوگ جو بغیر سوچے سمجھے قسمیں کھا لیتے ہو، ان پر تو اللہ تمہاری گرفت نہ کرے گا مگر جو قسمیں تم جان بوجھ کر کھاتے ہو، ان پر وہ ضرور تم سے مواخذہ کرے گا۔ (ایسی قسم توڑنے کا) کفارہ یہ ہے کہ تم دس مساکین کو اوسط درجے کا وہ کھانا کھلاؤ جو تم اپنے بال بچوں کو کھلاتے ہو یا انہیں لباس فراہم کرو یا پھر غلام آزاد کرو۔ جسے یہ میسر نہ ہو وہ تین دن کے روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔

ناجائز طریقے سے طلاق دینے کا کفارہ

وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا ذَلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ۔ (المجادلة 58:3)

جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں قرار دے بیٹھیں اور پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرنا چاہیں تو ان کے لئے لا زم ہے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کریں۔ اس سے تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے باخبر ہے۔

غلطی سے کسی کو قتل کر دینے کا کفارہ

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِناً إِلاَّ خَطَأً وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلاَّ أَنْ يَصَّدَّقُوا فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِنْ اللَّهِ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيماً حَكِيماً۔ (النساء 4:92)

کسی مومن کو یہ بات روا نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے مومن کو قتل کرے سوائے اس کے کہ غلطی سے ایسا ہو جائے۔ تو جو شخص غلطی سے کسی مسلمان کو قتل کر بیٹھے وہ ایک مسلمان غلام آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو قانون کے مطابق دیت ادا کرے، سوائے اس کے کہ وہ معاف کر دیں۔

اگر وہ مقتول تمہاری دشمن قوم کا فرد ہے مگر مسلمان ہے تو اس کا کفارہ بھی ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا ہے۔

اگر وہ کسی ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہو جس کے اور تمہارے مابین معاہدہ ہے تو پھر بھی قانون کے مطابق اس کے وارثوں کو دیت کی ادائیگی اور مسلمان غلام آزاد کرنا ضروری ہے۔ جس کے پاس غلام نہ ہوں، اس کے لئے لا زم ہے کہ وہ اللہ سے توبہ کرتے ہوئے دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔

روزہ توڑنے کا کفارہ

ایک حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے روزہ توڑنے پر بھی یہی کفارہ عائد کیا۔

حدثنا موسى: حدثنا إبراهيم: حدثنا ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن: أن أبا هريرة رضي الله عنه قال:  أتى رجل النبي صلى الله عليه و سلم فقال: هلكت، وقعت على أهلي في رمضان، قال: (أعتق رقبة). قال: ليس لي، قال: (فصم شهرين متتابعين). قال: لا  أستطيع، قال: (فأطعم ستين مسكيناً). قال: لا  أجد، فأتي بعرق فيه تمر – قال إبراهيم: العرق المكتل – فقال: (أين السائل، تصدق بها). قال: على أفقر مني، والله ما بين لا بتيها أهل بيت أفقر منا، فضحك النبي صلى الله عليه و سلم حتى بد ت نواجذه، قال: (فأنتم إذاً). (بخاری، کتاب الادب، حديث 6087)

سیدنا ابوہرہرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کے پاس آیا اور کہنے لگا، “میں ہلاک ہو گیا۔ میں نے روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کر لئے ہیں۔” آپ نے فرمایا، “غلام آزاد کرو۔” وہ کہنے لگا، “میرے پاس کوئی غلام نہیں ہے۔” آپ نے فرمایا، “دو مہینے کے لگاتار روزے رکھو۔” وہ کہنے لگا، “مجھ میں اتنی طاقت نہیں ہے۔” آپ نے فرمایا، “پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔” وہ بولا، “میرے پاس یہ بھی تو نہیں ہے۔”

اسی اثنا میں آپ کے پاس کھجوروں کو ایک ٹوکرا لا یا گیا۔ آپ نے فرمایا، “وہ سائل کہاں ہے ؟” اسے ٹوکرا دے کر ارشاد فرمایا، “اسی کو صدقہ کر دو۔” وہ بولا، “مجھ سے زیادہ اور کون غریب ہو گا۔ اللہ کی قسم اس شہر کے دونوں کناروں کے درمیان میرے خاندان سے زیادہ غریب تو کوئی ہے نہیں۔” یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم ہنس پڑے اور آپ کے دانت ظاہر ہو گئے۔ آپ نے فرمایا، “چلو تم ہی اسے لے جاؤ۔”

سورج گرہن پر غلاموں کی آزادی

اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے سورج گرہن کے موقع پر بھی غلام آزاد کرنے کا حکم دیا۔

حدثنا موسى بن مسعود: حدثنا زائدة بن قدامة، عن هشام بن عروة، عن فاطمة بنت المنذر، عن أسماء بنت أبي بكر رضي الله عنهما قالت:  أمر النبي صلى الله عليه و سلم بالعتاقة في كسوف الشمس. (بخاری، کتاب العتق، حديث 2519)

سیدہ اسما بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے سورج گرہن کے وقت غلام آزاد کرنے کا حکم دیا۔

اس بات کا اندازہ کرنا تو مشکل ہو گا کہ ان مذہبی احکام کے نتیجے میں کتنے غلام آزاد ہوئے البتہ یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام غلاموں کو آزاد کرنے سے کتنی دلچسپی رکھتا ہے۔ عربوں کی معاشرت کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ہاں قسم کھانے اور غصے میں بیوی کو ماں قرار دے لینے کے معاملات ہوتے ہی رہتے تھے۔ ایک حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ قسم توڑنے پر چالیس غلام آزاد فرمائے۔

 

قریبی رشتے دار غلام کی آزادی کا قانون

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے اس بات کا حکم دیا کہ اگر کوئی اپنے قریبی رشتہ دار جیسے ماں، باپ، بیٹے، بیٹی، بہن، بھائی وغیرہ کو غلام بنا دیکھے تو اسے خرید کر آزاد کر دے۔ اگر کسی طریقے سے کوئی غلام اپنے ہی قریبی رشتے دار کی ملکیت میں آ جائے تو وہ خود بخود آزاد ہو جائے گا۔

أخبرنا إسحاق بن إبراهيم ، قال : حدثنا جرير عن سهيل ، عن أبيه ، عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى اللّه عليه و سلم لا  يجزي ولد والدا إلا أن يجده مملوكا فيشتريه فيعتقه . (سنن الکبری نسائی، کتاب العتق، حديث 4876)

سیدنا ابوہرہرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے فرمایا، “کسی بیٹے کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے والدین کو غلام دیکھے تو انہیں خرید کر آزاد نہ کرے۔”

حدثنا مسلم بن إبراهيم وموسى بن إسماعيل قالا: ثنا حماد بن سلمة، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، عن النبي صلى اللّه عليه وسلم، وقال موسى في موضع آخر: عن سمرة بن جندب فيما يحسب حماد قال:  قال رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم: “من ملك ذا رحمٍ محرمٍ فهو حرٌّ”. (ابو داؤد، کتاب العتق، حديث 3949، ابن ماجة ، کتاب العتق، حديث 2326)

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے فرمایا، “جو کوئی اپنے ذی رحم کا مالک ہو جائے تو وہ آزاد ہو جائے گا۔

اس بات کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے کہ اس قانون کے تحت کتنے غلام آزاد ہوئے لیکن ان سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے مختلف صورتوں میں غلام آزاد کرنے کی کس حد تک ترغیب دی ہے۔

 

وصیت کے ذریعے غلاموں کی آزادی کا قانون

 

بعض لوگ مرتے وقت یہ وصیت کر جایا کرتے تھے کہ ان کے غلاموں کو آزاد کر دیا جائے۔ ایسے غلام “مدبر” کہلایا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے اسے زیادہ پسند نہیں فرمایا بلکہ حکم دیا کہ غلام کو اپنی زندگی ہی میں جلد سے جلد آزاد کر دیا جائے۔

قال أخبرنا قتيبة بن سعيد ، قال : حدثنا أبو الأحوص ، عن أبي إسحاق ، عن أبي حبيبة ، عن أبي الدرداء أن رسول الله r قال الذي يعتق عند الموت كالذي يهدي بعدما شبع . (سنن نسائی الکبری، کتاب العتق، حديث 4873)

سیدنا ابو دردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا: “جو شخص بھی مرتے وقت غلام آزاد کرتا ہے ، وہ تو اس شخص کی طرح ہے جو (گناہوں سے) اچھی طرح سیر ہونے کے بعد (نیکی کی طرف) ہدایت پاتا ہے۔

یہاں پر بعض لوگوں کو شاید یہ خیال گزرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے خود بھی تو مرض وفات میں چالیس غلاموں کو خرید کر آزاد کیا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم ان چالیس غلاموں سے ساری عمر خدمت لیتے رہے تھے اور عین وفات کے وقت نہیں آزاد فرما دیا تھا۔ آپ نے آخر وقت میں ان غلاموں کو خرید کر آزاد فرمایا۔

اسلام کے قانون وراثت میں وصیت صرف ایک تہائی مال میں کرنے کی اجازت ہے اور دو تہائی مال کے بارے میں قرآن نے واضح طور پر مختلف وارثوں کے حصے مقرر کر دیے ہیں۔ بعض اوقات ایسی صورت پیش آ جاتی کہ ایک شخص نے غلاموں کی آزادی کے علاوہ اور بھی وصیتیں کر رکھی ہیں۔ ایسی صورت میں غلاموں کی آزادی کو فوقیت دی گئی۔ انہیں آزاد کرنے کے بعد اگر مالک کی جائیداد کے ایک تہائی حصے میں سے کچھ باقی بچتا تو اس سے وہ وصیتیں پوری کی جاتی تھیں ورنہ نہیں۔ اس ضمن میں اگرچہ کوئی مرفوع حدیث ہمیں نہیں مل سکی لیکن مسلمانوں کے بڑے اہل علم کا یہی نقطہ نظر رہا ہے۔

حدثنا الحسين بن بشر ثنا المعافى عن عثمان بن الأسود عن عطاء قال من أوصى أو أعتق فكان في وصيته عول دخل العول على أهل العتاقة وأهل الوصية قال عطاء ان أهل المدينة غلبونا يبدؤون بالعتاقة. (دارمی، کتاب الفرائض، حديث 3229)

عطاء کہتے ہیں، “جس نے غلام کی آزادی کے ساتھ ساتھ کوئی اور وصیت بھی کر دی اور وصیت کی مجموعی رقم میں عول داخل ہو گیا (یعنی مجموعی رقم ترکے کے تہائی حصے سے زیادہ ہو گئی) تو اہل مدینہ کی غالب اکثریت کا عمل یہ ہے کہ وہ غلاموں کی آزادی سے ابتدا کرتے ہیں۔

حدثنا المعلى بن أسد ثنا وهيب عن يونس عن الحسن في الرجل يوصي بأشياء ومنها العتق فيجاوز الثلث قال يبدأ بالعتق. (دارمی، کتاب الفرائض، حديث 3227)

حسن (بصری) نے ایسے شخص کے بارے میں، جس نے مختلف کاموں اور غلاموں کی آزادی کی وصیت کی تھی اور مجموعی رقم ایک تہائی سے زائد ہو گئی تھی، ارشاد فرمایا، “ابتدا غلاموں کی آزادی سے کی جائے گی۔”

حدثنا عبيد الله عن إسرائيل عن منصور عن إبراهيم قال يبدأ بالعتاقة قبل الوصية. (دارمی، کتاب الفرائض، حديث 3232)

ابراہیم (نخعی) کہتے ہیں کہ غلاموں کو آزادی وصیت (کے باقی معاملات) سے پہلے دی جائے گی۔

اس تفصیل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تابعین کے جلیل القدر ائمہ انسانی آزادی کو کس قدر اہمیت دیا کرتے تھے۔

 

اسلام قبول کرنے والے غلاموں کی آزادی کے اقدامات

 

دین اسلام میں مسلم اور غیر مسلم ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے غلام کو آزاد کرنے کو ثواب کا کام بتایا گیا ہے۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی روایت جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں میں یہ صراحت موجود ہے کہ غیر مسلم غلام کو آزاد کرنا بھی ثواب کا کام ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل یہی رہا ہے کہ وہ غیر مسلم غلاموں کو بھی آزاد کیا کرتے تھے۔

دنیا بھر کی اقوام کا یہ اصول ہے کہ کسی بھی نیکی یا بھلائی کے کام کا آغاز ہمیشہ اپنے گھر سے ہوتا ہے۔ اگر کسی قوم میں غرباء و مساکین پائے جاتے ہوں اور اس قوم کے امیر لوگ اپنی قوم کے غرباء کو چھوڑ کر دنیا کے دوسرے خطوں میں جا کر رفاہی کام کرنا شروع کر دیں تو یہ رویہ سب کے نزدیک قابل اعتراض ہی ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں غلام آزاد کرنے کے معاملے میں ترجیح انہی غلاموں کو دی گئی جو کہ اسلام قبول کر چکے ہوں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کی مکی زندگی میں مسلمانوں کو اقتدار حاصل نہ تھا۔ اس دور میں یہ طریق کار اختیار کیا گیا کہ جو غلام بھی اسلام قبول کرے، اسے صاحب ثروت مسلمان خرید کر آزاد کر دیں۔ یہ بات ہم تک تواتر سے منتقل ہوئی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دولت کا بڑا حصہ غلاموں کو آزاد کرنے پر صرف کیا گیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

حدثنا أبو نعيم: حدثنا عبد العزيز بن أبي سلمة، عن محمد بن المنكدر: أخبرنا جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال:  كان عمر يقول: أبو بكر سيدنا، وأعتق سيدنا. يعني بلالا. (بخاری، کتاب الفضائل، حديث 3754)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے، “ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور انہوں نے ہمارے سردار یعنی بلال کو آزاد کیا تھا۔”

مدینہ ہجرت کرنے کے بعد مسلمانوں کی ایک حکومت قائم ہو گئی تھی جس کے سربراہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم تھے۔ اس دور میں مسلمان ہونے والے غلاموں کو نہ صرف خرید کر آزاد کرنے کے لئے زکوٰۃ فنڈ کو استعمال کیا گیا بلکہ پورے عرب سے ہجرت کر کے مدینہ آنے والے غلاموں کے لئے یہ قانون بنا دیا گیا۔

حدثنا إبراهيم بن موسى: أخبرنا هشام، عن ابن جريج، وقال عطاء، عن ابن عباس: كان المشركون على منزلتين من النبي صلى الله عليه و سلم والمؤمنين: كانوا مشركي أهل حرب، يقاتلهم ويقاتلونه، ومشركي أهل عهد، لا  يقاتلهم ولا يقاتلونه، وكان إذا هاجرت امرأة من أهل الحرب لم تخطب حتى تحيض وتطهر، فإذا طهرت حل لها النكاح، فإن هاجر زوجها قبل أن تنكح ردت إليه، وأن هاجر عبد منهم أو أمة فهما حران ولهما ما للمهاجرين، ثم ذكر من أهل العهد مثل حديث مجاهد: وأن هاجر عبد أو أمة للمشركين أهل عهد لم يردوا، وردت أثمانهم. (بخاری، کتاب النکاح، حديث 5286)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم اور مومنین کا مشرکین سے معاملہ دو طرح کا تھا۔ بعض مشرکین “اہل حرب” تھے۔ وہ مسلمانوں سے جنگ کرتے اور مسلمان ان سے جنگ کرتے۔ دوسری قسم کے مشرکین “اہل عہد” تھے۔ نہ تو وہ مسلمانوں سے جنگ کرتے اور نہ ہی مسلمان ان سے جنگ کرتے۔ اگر اہل حرب کی کوئی خاتون (مسلمان ہو کر) ہجرت کرتیں تو انہیں حیض آنے اور پھر پاک ہونے تک نکاح کا پیغام نہ بھیجا جاتا تھا۔ جب وہ پاک ہو جاتیں تو ان کے لئے نکاح کرنا جائز ہو جاتا تھا۔ اگر نکاح کرنے سے پہلے ان کا خاوند بھی (مسلمان ہو کر) ہجرت کر کے آ پہنچتا تو ان کا رشتہ برقرار رکھا جاتا۔

اگر اہل حرب کے کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آ جاتے تو انہیں آزاد قرار دے دیا جاتا اور ان کا درجہ مہاجرین کے برابر ہوتا۔۔۔۔اور اگر اہل عہد کے کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آ جاتے تو انہیں واپس لوٹایا نہ جاتا بلکہ ان کی قیمت ان کے مالکان کو بھیج دی جاتی۔

اسی اصول پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر صلح کا معاہدہ طے پا جانے سے پہلے آنے والے دو غلاموں کو آزادی عطا فرمائی۔

حدثنا عبد العزيز بن يحيى الحرَّاني، قال: حدثني محمد يعني ابن سلمة عن محمد بن إسحاق، عن أبان بن صالح، عن منصور بن المعتمر، عن رِبْعيِّ بن حِرَاش، عن عليّ بن أبي طالب قال: خرج عِبْدَانٌ إلى رسول اللّه صلى اللّه عليه و سلم يعني يوم الحديبية قبل الصلح، فكتب إليه مواليهم فقالوا: يامحمد، واللّه ما خرجوا إليك رغبة في دينك، وإنما خرجوا هرباً من الرِّق، فقال ناس: صدقوا يارسول اللّه رُدَّهم إليهم، فغضب رسول اللّه صلى اللّه عليه و سلم وقال: “ما أراكم تنتهون يا معشر قريشٍ حتى يبعث اللّه [عزوجل] عليكم من يضرب رقابكم على هذا” وأبى أن يردَّهم، وقال: “هم عتقاء اللّه عزوجل”. (ابو داؤد، کتاب الجهاد، حديث 2700)

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حدیبیہ کے دن صلح سے پہلے (اہل مکہ کے ) دو غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کے پاس آ گئے۔ ان کے مالکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کو خط لکھا اور کہا، “اے محمد! خدا کی قسم یہ آپ کے دین سے رغبت کے باعث آپ کے پاس نہیں آئے۔ یہ تو محض آزادی حاصل کرنے کے لئے آپ کے پاس آئے ہیں۔”

لوگ کہنے لگے، “یا رسول اللہ! ان کے مالک درست کہہ رہے ہیں۔ آپ انہیں واپس بھجوا دیجیے۔” رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم اس بات پر سخت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے، “اے گروہ قریش! میں سمجھتا ہوں کہ تم اس کام (یعنی غلامی کو برقرار رکھنے) سے اس وقت تک باز نہ آؤ گے جب تک کہ اللہ عزوجل تمہاری طرف کسی ایسے کو نہ بھیجے جو تمہاری گردنوں پر اس کی پاداش میں ضرب لگائے۔” آپ نے انہیں واپس کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا، “وہ اللہ عزوجل کی رضا کے لئے آزاد ہیں۔”

اسی اصول پر آپ نے طائف کے محاصرے کے وقت اعلان فرما دیا تھا کہ اہل طائف کے غلاموں میں سے جو آزادی کا طالب ہو، وہ ہماری طرف آ جائے۔

حدثنا عبد الله حدثني أبي حدثنا يحيى بن زكريا حدثنا الحجاج عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس قال:لما حاصر رسول الله صلى الله عليه و سلم أهل الطائف أعتق من رقيقهم. (مسند احمد، باب عبدالله بن عباس، مصنف ابن ابی شيبة، حديث 34283)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا تو ان کے غلاموں میں سے (ان غلاموں کو جو مسلمانوں کی طرف آ گئے تھے) آزاد فرما دیا۔

مشہور مستشرق ولیم میور اس اعلان کے بارے میں لکھتے ہیں:

آپ نے محصورین کے پاس ایک اعلان بھیجا جس سے وہ لوگ بہت ناراض ہوئے۔ اس اعلان کا مضمون یہ تھا کہ اگر شہر سے کوئی غلام ہمارے پاس آئے گا تو اسے آزاد کر دیا جائے گا۔ تقریباً بیس غلاموں نے اس اعلان سے فائدہ اٹھایا اور وہ اپنے آزادی دینے والے کے سچے اور بہادر پیرو ثابت ہوئے۔

(ولیم میور، The life of Mohamet)

مشہور مورخ بلاذری نے “فتوح البلدان” میں ان میں سے بعض غلاموں کے نام بیان کئے ہیں۔ ان میں سے ایک ابوبکرہ نقیع بن مسروح رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ بکرہ عربی میں چرخی (Pulley) کو کہتے ہیں۔ انہیں یہ نام اس لئے دیا گیا کہ یہ قلعے کی دیوار پر موجود چرخی کے رسے سے لٹک کر نیچے اترے تھے۔ ان میں ایک رومی لوہار ابو نافع بن الازرق رضی اللہ عنہ بھی تھے۔

ایسے تمام غلاموں کو درجہ بلند کرنے کے لئے ان کی ولاء کا تعلق بذات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم سے قائم کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ سب کے سب غلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم کے اپنے خاندان میں شامل کر لئے گئے۔ اس کی تفصیل ہم “ولاء” کی بحث میں بیان کریں گے۔

بعد کے ادوار میں مسلمانوں کے ہاں یہ رسم رائج ہو گئی کہ جو غلام اسلام قبول کر لیتا، وہ اسے اس کے مالکان سے خرید کر آزاد کر دیا کرتے تھے۔ اس طریقے سے بے شمار غلاموں نے آزادی حاصل کی۔

ثم ذكر البيهقى لقصة منام شاهدا من طريق الاعمش ، عن أبى وائل ، عن عبدالله ، وأنه كان من جملة ما جاء به عبيد فأتى بهم أبا بكر ، فلما رد الجميع عليه رجع بهم ثم قام يصلى فقاموا كلهم يصلون معه . فلما انصرف قال : لمن صليتم ؟ قالوا : لله . قال : فأنتم له عتقاء . فأعتقهم . (ابن كثير، سيرة النبوية)

عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جو غلام لئے گئے ان میں سے میں بھی تھا۔ جب سب غلام ان کے سامنے پیش کئے گئے تو وہ ان سے ہٹ کر نماز کے لئے کھڑے ہو گئے۔ یہ سب غلام بھی ان کے ساتھ نماز کے لئے کھڑے ہو گئے۔ نماز کے بعد ابوبکر ان کی طرف مڑے اور پوچھا، “تم نے کس کے لئے نماز پڑھی ہے ؟” وہ بولے، “اللہ کے لئے۔” آپ نے فرمایا، “پھر تم اسی کے لئے آزاد ہو۔” یہ کہہ کر آپ نے ان سب کو آزاد کر دیا۔

حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : مَضَتِ السُّنَّةُ أَنْ لا  يَسْتَرِقَّ كَافِرٌ مُسْلِمًا. (مصنف ابن ابی شيبة، كتاب الجهاد، حديث 23290)

ابن شھاب زہری کہتے ہیں کہ (مسلمانوں میں) یہ معمول کی بات ہے کہ مسلمان کو غیر مسلم کا غلام نہیں بننے دیا جاتا۔

انیسویں صدی کے مستشرق جارج بش لکھتے ہیں:

It has hence become a standing ruleamong his followers always to grant their freedomto such of their slaves as embrace the religion of  the prophet.(George Bush A.M., Life of Mohammed)

 

(محمد کے ) پیروکاروں میں یہ مستقل دستور بن گیا کہ ان کے غلاموں میں سے جو بھی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دین میں داخل ہو، اسے آزاد کر دیا جائے۔

جے ایم وڈنی لکھتے ہیں:

The absolute equality of all men. In theory at least, it knows neither high nor low, rich nor poor ; all stand upon the same level. The strong tie of a common brotherhood. Caste disappears at its touch. Early Christianity possessed somewhat of this, yet not to the same degree. “La Ilaha il Allah” and the slave was free. (J. M. Widney; The Genesis of Evolution of Islam & Judaeo – Christianity)

(اسلام میں) تمام انسانوں کو مستقلاً برابر قرار دیا گیا ہے۔ کم سے کم نظریاتی طور پر، بلند و پست، امیر و غریب سب ایک ہی مقام پر کھڑے ہیں۔ مشترکہ بھائی چارے کا رشتہ بہت ہی مضبوط ہے۔ ذات و نسل سرے سے ہی مفقود ہے۔ ابتدائی دور کی عیسائیت میں بھی اگر اسی درجے میں نہ سی، لیکن کسی حد تک یہی چیز موجود ہے۔ “لا الہ الا اللہ” کہا اور غلام آزاد ہو گیا۔