FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

ارمغانِ ابتسام

 

اکتوبر تا دسمبر ۲۰۱۶ء، حصہ ۳

 

                مدیر: نوید ظفر کیانی

 

 

 

کتابی چہرے

 

میجر عاطف مرزا۔ فنکارِ طرحدار، میرا یار

 

                خادم حسین مجاہد

 

عاطف مرزا ایک مکمل فنکار ہے کیونکہ فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والی ہر چیز کا نہ صرف ذوق رکھتا ہے بلکہ اِن میں سے اکثر میں کما حقہ، مہارت بھی رکھتا ہے۔ وہ محض فنکار ہی نہیں، نہایت اَدب پرور اور فن پرور بھی ہے۔ میں مضافات سے تعلق رکھنے والا ایک گمنام ادیب تھا، میری اولین حوصلہ افزائی کرنے اور شہر کے ادبی حلقوں میں متعارف کرانے والا میرا دوست یہ عاطف مرزا ہی تھا جس سے میری دوستی اب اتنی پرانی ہو چکی ہے کہ ہم خاموشی کی زبان میں بھی ایک دوسرے کا مطلب سمجھ جاتے ہیں۔

شوخی اس کی فطرت میں شامل ہے اور یاروں کے ساتھ اس کا خلوص مثالی ہے۔ وہ لکھنے میں ہی نہیں، کھانے میں بھی چٹخارے کا قائل ہے اور اس کی گفتگو تو ہوتی ہی ہمیشہ لذیذ ہے، جسے گھنٹوں سن کر بھی ہم کبھی بور نہیں ہوئے۔

عاطف مرزا کے والد تدریس سے وابستہ تھے۔ اُنہوں نے اُردو سپیکنگ ہونے کے باوجود پنجابی میں بھی ایم اے کیا اور آفیسری سے ریٹائر ہوئے۔ اُنہوں نے جوانی میں کچھ شاعری بھی کی جو کاغذات کھنگالتے ہوئے عاطف مرزا کے ہاتھ لگ گئی، بس پھر کیا تھا، یہ شاعر بننے پر تل گئے اور شاعری اور عروض سے دست و گریباں ہو گئے۔ وراثتی اثرات تھے، ان کا شوق یا طفریٰ مناسبت۔ یہ جلد ہی شاعری کے اسرارورموز پا گئے اور مشاعروں میں جا کر اچھے بھلے شاعروں کی غلطیاں نکالنے لگے۔ میری زیادہ توجہ زبان کی طرف تھی اور ان کی فن کی طرف۔ اِس لئے شہر والے اپنی شاعری کو ہمارے شر سے محفوظ رکھنے کے لئے ادبی پروگراموں اور مشاعروں کی اطلاع ہم سے چھپایا کرتے تھے۔ مگر ہمیں کسی نہ کسی طرح خبر ہو ہی جاتی تھی۔ اور ہم وہاں پہنچ کر اپنی صلاحیتوں کا کھل کر اظہار کرتے۔ بزرگوں کا مؤقف تھا کہ ’’خطائے بزرگاں خطا است‘‘ جبکہ ہمارا خیال تھا کہ غلطی کوئی بھی کرے اس کی اصلاح ضروری ہے ورنہ کل کو وہ سند بن جائے گی۔ بہرحال منتظمین کی منت سماجت پر ہم نے اپنی صلاحیتیں ہوٹنگ تک محدود کر دیں تو اُنہوں نے سکھ کا سانس لیا۔

قدرتی طور پر عاطف مرزا شوخ طبع ہیں، کچھ اس وجہ سے اور کچھ میری صحبت میں اُنہوں نے سنجیدہ کے ساتھ ساتھ مزاحیہ شاعری بھی شروع کر دی جو سنجیدہ شاعری کی طرح نپی تلی تھی بلکہ سنجیدہ شاعری سے زیادہ کامیاب ٹھہری، اِس لئے اُنہوں نے دونوں کا سلسلہ جاری رکھا بلکہ ساتھ ساتھ مزاحیہ نثر بھی لکھنا شروع کر دی جو اکثر ’’ پاک فوج‘‘ کے رسالے ’’ہلال‘‘ میں دیکھنے کو ملتی رہتی ہے۔ نظم کی طرح نثر میں بھی اُن کی طبعی شوخی نمایاں ہے لیکن اس میں تفکر کا رنگ بھی ہے اور اس کی وجہ اِن کا بے تحاشہ مطالعہ ہے۔ کالج دور میں سب طلبہ کو ہفتے میں صرف دو کتابیں لینے کی اجازت تھی لیکن اَدب سے تعلق کی وجہ سے ہم دونوں ہفتے کے کسی بھی دن کتاب لے سکتے تھے۔ اِس سہولت کا ہم نے بے تحاشہ فائدہ اٹھایا اور بی ایس سی کی کلاس میں اُردو ادب کے حافط ہو گئے۔ اس کا نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا تھا کہ بی ایس سی ہمارے لئے بھاری پتھر بن گئی۔

شعر و ادب کے علاوہ آرٹ بھی عاطف مرزا کا جنون ہے، بلکہ وہ فطری طور پر آرٹسٹ ہے اس نے کسی آرٹس کالج میں کوئی تعلیم حاصل نہیں کی پھر بھی کیلی گرافی، کارٹون گرافی، پینٹنگ اور پورٹریٹ بنانے میں مہارت رکھتا ہے اور صرف اس کے شوق کی بدولت اس نے ہر فن کے اساتذہ کے کام کو توجہ اور غور سے دیکھا اور پھر شروع ہو گیا۔ اس کی کیلی گرافی کی نمائش بھی ہو چکی ہے اور اس کے خوبصورت فن پارے فیس بک پر اس کے پیج پر بھی ملاحظہ کئے جا سکتے ہیں۔ قرآنی آیات کی خطاطی اور پاکستان سے وابستگی کی علامات اس کی کیلی گرافی اور پینٹنگ کے مرکزی مظاہر ہیں جو کہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ایک خالص مسلمان اور سچا پاکستانی ہے۔

ہر فنکار کی طرح عاطف مرزا ہر کام میں ترتیب نفاست اور اکملیت کا قائل ہے اوردوسروں سے بھی اس کا مطالبہ یہی ہوتا ہے۔ اپنے پیشہ ورانہ فرائض میں بھی اس کا رویہ یہی ہے اِس لئے لوگ اسے سخت گیر باس سمجھتے ہیں لیکن وہ طبعاً مہربان ہے، اس لئے اس کے ماتحتوں کو کبھی پریشانی نہیں ہوتی۔ بس اُنہیں اس کے اصولوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ گھر میں اس کی طبعی نرمی اور دوستانہ انداز بیوی بچوں کے لئے بڑی سہولت کا باعث ہے کیونکہ وہ گھریلو ذمہ داریوں میں ان کی بے حد مدد کرتا ہے۔ ہاسٹل میں اسی وجہ سے اس کے دوستوں نے اسے گھریلو کا خطاب دیا تھا۔ اس نے والد صاحب کی خواہش پر فوج کا پیشہ اختیار کیا کیونکہ انہوں نے ہجرت کے دُکھ اٹھائے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ ان کا فرزند ہندوستان سے اس کا بدلہ لے۔ یہی وجہ ہے کہ عاطف مرزا مکمل فوجی ہے جو ایک اشارے پر دشمن پر ٹوٹ پڑنے کو تیار ہے۔ فنونِ لطیفہ میں اس کی دلچسپی در اصل اس کے اندر کے لاوے کو باہر نکالنے کا ایک ذریعہ بھی ہے کیونکہ جب اس نے دیکھا کہ مال جان اور عصمتوں کی قربانیوں سے حاصل کئے گئے پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے تو ایک لاوا سا اس کے اندر پکنے لگا جو نہ نکلتا تو ہر چیز تباہ کر دیتا۔

٭٭٭

 

 

 

 

ڈاکٹر سمیر عبدالمجید۔ ایک مصری ہمزہ کی تلاش میں

 

                ڈاکٹر امواج السّاحل

 

اُس شخص سے پہلی ملاقات ہی ۱۹۷۴ئ  میں کچھ ایسے ڈرامائی انداز میں ہوئی تھی کہ بھولتا ہی نہیں وہ۔ ۔ ۔ ہوا یوں کہ اُس دن میری روم میٹ کی دونوں بہنیں ملتان سے لاہور آئی ہوئی تھیں کہ باجی ہمیں لاہور کی سیر کرنی ہے، اُن کو دیکھ کر میرا بھی دل للچایا کہ اب لاہور آئے ہیں تو صرف پڑھائی کرنا تو اس شہرِ بے مثال کے ساتھ نا انصافی ہو گی اور اس طرح داتا صاحب کی ناراضی کا خطرہ ہے، کوئی آفت ہی نہ آ جائے ہم پر یا شہر پر، اس لئے ان کا ساتھ دینا ضروری سمجھا اور کلاس چھوڑ کر ان تینوں کے ساتھ چڑیا گھر کا رخ کر لیا۔ اچھی طرح گھوم پھر کر دیکھا، اور ناقابل فراموش نیل گائے یعنی سینگوں والی ہرنی دیکھی، جس سے شعرائے کرام آنکھوں کی تشبیہ دیتے نہیں تھکتے، شاعروں نے تو پتہ نہیں کیسے اس کی آنکھ کو دیکھا ہو گا، میں نے تو بہت غور سے دیکھا کہ آخر اس میں کیا ایسی بات ہے، تقریباً پندرہ منٹ کے غور و خوض کے بعد سمجھ میں آیا کہ اس کی آنکھیں بڑی تو ہیں ہی، مگر جو خاص بات ہے وہ یہ ہے کہ سرمگیں ہیں، جیسے کاجل کی دھار کسی نے ڈال دی ہو۔ ۔ ۔ تو سمجھ میں آیا کہ شعرائے کرام اسی آنکھ سے کیوں تشبیہ دیتے ہیں۔ جب دوپہر کی گرمی نے اپنا رنگ دکھایا اور بھوک بھی چمک اٹھی تو ہوسٹل کی یاد آئی اور ہم نے یونیورسٹی بس کا رخ کیا، اس زمانے میں آگے کا حصہ طالبات کے لئے ہوتا تھا، جس کو مردانہ حصے سے ایک جالی سکے ذریعے الگ کیا ہوا تھا، اس جالی میں کنڈیکٹر کے آنے جانے کے لئے دروازہ بھی تھا، وہاں پر بیٹھنے کو جگہ نہ ملی تو ہم چاروں کھڑی ہو گئیں، اب پیچھے سے اچانک عربی میں ہوٹنگ شروع ہو گئی۔

’’یہاں آ جاؤ لڑکیو!‘‘

’’یہ کبھی بھی نہیں آئیں گی۔ ۔ ۔ یہ مصر تھوڑی ہے، جہاں لڑکی اور لڑکا ساتھ ساتھ بیٹھتے ہیں !‘‘

’’سچ ایسے ہے وہاں ؟‘‘

’’تو اور کیا تمہارے ہاں ایسے نہیں ہوتا؟‘‘

’’نہیں مگر ہر کسی کو آزادی ہے جہاں چاہے بیٹھے۔‘‘

’’یہاں تو پوری قوم کمپلیکس کا شکار ہے، لڑکیاں اتنا ڈرتی ہیں لڑکوں سے۔ ۔ ۔ اب یہ بیچاری سارا ٹائم کھڑی رہیں گی مگر یہاں آ کر نہیں بیٹھیں گی۔‘‘

’’او لڑکیو آ جاؤ!!‘‘

میری ساتھی لڑکیوں نے پوچھا ’’تمہیں سمجھ آ رہی ہیں اِن کی باتیں ؟‘‘

میں نے جواب دیا ’’ہاں !‘‘

انہوں نے کہا تو پھر بتاؤ!!‘‘

تومیں نے بتا دیا کہ وہاں بیٹھنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔

لڑکیوں نے کہا ’’اُن کو جواب دو!‘‘

میں نے لیت و لعل کی۔ ۔ ۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ سب کو معلوم ہو کہ میں عربی بول لیتی ہوں، مگر لڑکیوں کے چیلنج پر کہ پھر تمہیں عربی آتی ہی نہیں ہم سے جھوٹ بولتی ہو، بولنا پڑا۔

میں نے عربی میں کہا ’’کہاں آئیں ہم؟ کہاں ہے سیٹ؟‘‘

سب سے پہلے تو بس میں سناٹا چھا گیا، وہ عرب خود بھی ششدر رہ گئے پھر انہوں نے جواب دیا کہ یہ سیٹ ہے۔‘‘

میں نے کہا کہ ’’ ہم چار ہیں چار سیٹیں چاہئیں۔‘‘

اُنہوں نے کہا کہ ’’ ہم دیں گے آپ آئیں تو۔ ۔ ۔‘‘

میں تو گھبرا رہی تھی مگر ساتھی لڑکیوں نے ہمت بندھائی اور ہم پیچھے والے پورشن میں چلی گئیں، وہاں ایک تین کی سیٹ خالی تھی، اور ایک دو والی پر ایک لڑکا بیٹھا تھا، میں نے کہا اس کو اٹھائیں، وہ اٹھ گیا، اور ہم بیٹھ گئیں، اب مجھ پہ سوالوں کی بوچھا ر ہونے لگی، ہر کوئی پوچھنے لگا تم کہاں سے ہو؟ میں ان کو کہتی رہی آپ کو کیا؟ وہ تین تھے، آخر ایک نے مصری لہجے میں کہا تم قطر سے آئی ہو، اب میں جھوٹ نہ بول سکی اور بتایا، میں نے کہا تو تم خیریہ کے شوہر ہو؟ اس نے کہا کہ ہاں۔ (خیریہ سے میری ملاقات چند دن پہلے ہوسٹل میں ہو چکی تھی) دوسرے دو نوجوانوں میں ایک عراق سے تھا دوسرا فلسطین سے۔ اس طرح تعارف ہو اجو کئی سال تک چلا۔ اس کا نام سمیر عبدالحمید تھا۔ اور وہ اُردو میں ڈاکٹریٹ کرنے آیا ہوا تھا۔ اکثر عربی ڈپارٹمنٹ میں اس سے ملاقات ہوتی تھی۔ وہ اساتذہ سے گپ شپ لگانے آ جاتا تھا، کہتا تھا اس قوم کے پاس جنرل نالج بالکل نہیں ہے، میں بتاتا ہوں کہ میں مصر سے ہوں ان کو نہیں معلوم کہ مصر دنیا کے نقشے پہ کہاں ہے۔ اس کی بیوی نے بھی کسی انگلش کے کورس میں داخلہ لیا ہوا تھا، اُن کی رہائش ہمارے ہوسٹل کے بہت ہی نزدیک گیسٹ ہاؤس میں تھی۔ ہم شاپنگ سینٹر کو جاتے تو راستے میں اگر اُن کی رہائش گاہ کا دروازہ ہوتا تو حال چال پوچھ لیتے تھے۔ دونوں ہی میاں بیوی بہت خوبصورت تھے، سمیر بحیرہئروم کے باسیوں جیسے نقش و نگار کا مالک تھا، یعنی درمیانہ قد، گوری رنگت، نہ دبلا نہ لاغر درمیانہ جسم۔ اکثر ٹی شرٹ اور پینٹ پہنتا تھا۔ خیریہ تو بہت گوری تھی اور نقوش بھی بہت جاذب تھے۔ وہ پہلے تو عربی فراک پہنتی تھی مگر بعد میں اس نے پاکستان ڈریس پہننا شروع کر دیا تھا۔

اولڈ کیمپس کے ساتھ ہی انارکلی ہے وہاں میں ایک دن شاپنگ کرنے گئی تو وہ دونوں بھی وہاں پھر رہے تھے۔ سلام دعا ہوئی۔ کچھ میں نے دکاندار کے ساتھ اُن کی بات کا ترجمہ کر دیا، واپسی پہ چلتے چلتے ایکدم کہنے لگا ’’ایک بات تو بتاؤ، یہ آپ لوگوں نے ہمزہ کہاں پھینک دی؟‘‘

سچی بات ہے مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آئی یہ کہہ کیا رہا ہے، پھر اس نے وضاحت کی، یہ ہمزۂ قطع نہیں ہوتی عربی میں ؟میں نے کہا ہوتی تو ہے کہنے لگا تو کہاں گئی؟ اردو میں اس کا وجود ہی نہیں ہے، کیا تم نے نوٹ نہیں کیا؟ اب اسے کیا بتاؤں کہ ہمیں خرچے پورے کرنے کے لئے نوٹ ملیں تو کچھ نوٹ بھی کریں۔

میں نے کہا ’’نوٹ تو کیا ہے، مگر اس کا جواب نہیں ملا۔‘‘

کہنے لگا ’’غضب خدا کا اسلام، ایمان کسی لفظ میں ہمزہ نہیں ملتی، حتی کہ جو قرآن یہاں چھپتا ہے اس میں بھی کسی لفظ میں نہیں ہے، یہ آخر ماجرا کیا ہے ؟‘‘

میں نے کہا ’’بھئی مجھے تو اُردو نہیں آتی مجھے کیا پتہ، یہ تو تمہارا فیلڈ ہے تمہیں پتہ ہونا چاہئے۔‘‘

کہنے لگا ’’تم سرچ کرو اس پر۔‘‘

میں نے کہا ’’میں تو نہیں کر سکتی، کیونکہ مجھے اُردو میں سرچ کرنا آتا ہی نہیں ہے، میں تو عربی میں اپنا کام کر لوں تو بڑی بات ہے، یہ تو تم خود کرو یا پھر کسی اُردو ڈپارٹمنٹ والے سے کہو۔‘‘

اور بات آئی ہو گئی۔ ان سے ملاقاتیں بہرحال جاری رہیں، مگر پھر اس نے کوئی ذکر نہیں کیا۔

پھر ایک دن، ان کے گھر میں تھی میں تو کہنے لگا ’’میں نے تم سے ایک بات پوچھنی ہے !‘‘

میں نے کہا ’’پوچھ لو۔‘‘

کہنے لگا ’’سچ سچ بتانا، جھوٹ نہیں بولنا۔‘‘

مجھے بہت تشویش ہوئی کہ اللہ جانے کیا پوچھے گا۔ ان عرب نوجوانوں کا کچھ پتہ نہیں ہوتا کب اظہار عشق کر دیں، بہت احتیاط سے بات کرنی پڑتی ہے، چند دن پہلے ہی میرے شوہر سے ملا تھا وہ، میں نے سوچا خدا خیر کرے، ادھر وہ بار بار کہہ رہا تھا سچ سچ بتانا، ادھر میں خود کو اس کے اظہار عشق کے جواب کے لئے تیار کر رہی تھی، بیوی کو کہنے لگا تم جاؤ، فلاں کام کرو میں ذرا اس سے بات کر لوں، اب تو میرا واقعی خون خشک ہونے لگا، آخر کار بولا تو یہ کہا۔ ۔ ۔ تم پاکستانی لوگ فروٹ پر نمک ڈال کر کیوں کھاتے ہو؟ میری ایک دم ہنسی چھوٹ گئی، کہنے لگا دیکھا، ایسے ہی ہر کوئی ہنس کر دکھا دیتا ہے، بتاتا کوئی نہیں اصل بات کیا ہے۔ میری جان میں جان آئی تو سنجیدہ ہو کر میں نے کہا کہ یہ ایک رواج ہے جو سب ایک دوسرے کی تقلید میں کرتے ہیں، کہنے لگا اللہ نے رنگا رنگ ذائقے والے فروٹ پیدا کئے ہیں اور تم لوگ نمک ڈال کر سب کا ذائقہ ایک جیسا کر دیتے ہو، لطف نہیں اٹھاتے نعمتوں کا۔ میں نے کہا کہ بھئی میں تو نمک نہیں ڈالتی، کہنے لگا ڈالنا بھی مت کبھی۔

میں جب گھر گئی تو اپنی کزن کو بتایا اس نے کہا اسے کہنا کہ یہ ہمارا قومی راز ہے جسے ہم افشاء ہرگز نہیں کریں گے۔ اگلے سال پھر ایک دن انارکلی میں دور سے عربی میں مجھے آواز دے رہا تھا، بیوی بھی ساتھ تھی، میں رک گئی جب پاس پہنچے تو کہنے لگا ’’تمہیں ہمزہ ملی؟‘‘

میں نے کہا ’’مجھے کہاں وقت ملا تلاش کرنے کا۔ ۔ ۔ ؟‘‘

کہنے لگا ’’مجھے تو مل گئی۔‘‘

میں نے پوچھا ’’کہاں ؟‘‘

اس نے بتایا کہ غدر کے زمانے کا کسی نواب کا لکھا ہوا خط ملا ہے جس میں ہمزہ موجود ہے۔

میں کہا ’’چلو مبارک ہو آپ کو‘‘

کہنے لگا ’’میں نہ کہتا تھا کہ ہمزہ ضرور عربی کے ساتھ آئی ہے یہاں آ کر کہیں گری ہے، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ عربوں نے یہاں کے لوگوں کو عربی زبان بغیر ہمزہ کے سکھائی ہو۔‘‘

اُس کی بیوی نے کہا کہ یہ بات یہاں مارکیٹ میں کرنے والی ہے ؟ گھر میں کرتے ؟

کہنے لگا ’’اب ملاقات نہیں ہوتی ناں۔ کیونکہ یہ بھی فائنل میں ہے بزی ہے میں بھی اپنے تھیسز میں بزی ہوں، میں نے سوچا کہ ابھی بتا دوں۔‘‘

وہ کہہ رہی تھی ’’لوگ تم کو پاگل کہیں گے۔‘‘

اُس کا کہنا تھا ’’کونسا کسی کو عربی آتی ہے یہاں۔ ۔ ۔‘‘

ایک دفعہ (وہیں انارکلی میں )کہنے لگا ’’تم نے بہادر شاہ ظفر کا نام سنا ہے ؟‘‘

میں نے کہا ’’نہیں !‘‘

اُس نے کہا ’’ضرور پڑھنا اس کے بارے میں اور اس کی شاعری۔‘‘

پھر مجھے بتایا کہ اس کا اُردو کا فیورٹ شعر بہادر شاہ ظفر کا ہے۔

کتنا ہے بدنصیب ظفرؔ دفن کے لیے

دو گز زمین بھی نہ مِلی کُوئے یار میں

اس کی بیوی نے مطلب پوچھا، وہ تو دکاندار کے ساتھ بزی ہو گیا تھا میں نے ترجمہ کر دیا، وہ کہنے لگی ’’بھلا مرنے کے بعد محبوبہ کی گلی میں دفن ہونے کا کیا فائدہ ہو گا اسے ؟‘‘

اسے کہنے ’’لگا یہ تمہاری سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔‘‘

میں نے اسے بتایا کہ یہ جلاوطنی کی شاعری ہے۔ جیسے عربی میں احمد شوقی اور محمود سامی البارودی وغیرہ کی ہے، تو اس کی سمجھ میں آ گئی بات۔

ایم اے ختم کر کے میں تو آ گئی، مگر پی ایچ ڈی کے سلسلے میں کبھی کبھی جانا ہوتا تھا، تو اس سے ملاقات ہوتی تھی، پھر ایک دفعہ میں گئی تو پتہ چلا کہ وہ اپنا تھیسز ختم کر کے جا چکا ہے۔ اس دوران اُن کے ہاں ایک بیٹی کی پیدائش بھی ہوئی۔ یہاں کی اردو بک شاپ میں اُس کی لکھی ہوئی دو کتابیں پڑی ہیں۔ ایک عربی زبان میں اُردو سیکھنے کے لئے، اور ایک اردو بولنے والوں کے لئے عربی سیکھنے کی۔ ملتان کی بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں عربی ڈپارٹمنٹ کی لائبریری میں بھی دیکھی ہیں یہ دونوں کتابیں۔ جامعۃ القاہرہ کے اردو ڈپارٹمنٹ سے اس کا تعلق تھا۔

اب بھی کبھی کبھی ہم اس کو یاد کرتے ہیں تو وہ منظر نظروں کے سامنے آ جاتا ہے جب وہ پردیسی طالب علم انارکلی میں ہمزہ تلاش کر رہا ہوتا تھا۔

٭٭٭

 

 

 

میرا دوست حمزہ

 

                بی بی شیریں

 

میرا بہترین دوست حمزہ۔ ۔ ۔ بے شمار خوبیوں کا مالک ہے۔ خوش اخلاق، ملنسار، لفظوں کا جادوگر۔ موقع، بے موقع شعر کہنے کا عادی، رکشے , ٹرک، پان کے سٹال کے باہر لکھا، شاید ہی کوئی شعر ہو جو اسے ازبر نہ ہو۔ دیکھنے میں سانولا، سجیلا، بانکا نوجوان۔ ۔ ۔ آنکھوں کو نامعلوم وجوہات کی بناء پر سرمے سے لادے رکھتا ہے۔ ماتھے پہ ہمہ وقت ایک چمکتی، خمدار لٹ سجی رہتی ہے، بال تیل میں ڈوبے رہتے ہیں گمان گزرتا ہے کہ مساج نہیں کرتا بلکہ تیل کے کنستر میں سر ڈال کے مدھانی کی طرح خوب گھماتا ہے۔ سارا گاؤں اسے جانتا ہے۔ حلقۂ یاراں میں موصوف کی وجہِ شہرت ان کے عشقیہ مزاج ہیں۔ حسن پرست ایسا ہے کہ کسی واجبی شکل صورت کی لڑکی کو دیکھ کے بھی خدا کی حمد کہے اور پوچھے ’’آخر کوئی لڑکی اتنی حسین کیسے ہو سکتی ہے۔‘‘

موصوف کا مزاج عاشقانہ عین بچپن سے ہے۔ پہلا عشق گو کہ اتنی پرانی بات تو نہیں ہے مگر چونکہ پہلے عشق سے لے کر حالیہ عشق تک کئی عشقیہ حادثات رونما ہو چکے ہیں اس لیے اب صحیح وقت اور اعداد و شمار بارے متذبذب ہی رہتے ہیں۔ ذہن پہ زور دیتے ہوئے ایک دن بتایا تھا کہ پہلا عشق چھٹی جماعت میں اُردو کی استانی شگفتہ سے ہوا تھا۔ اُنہیں دیکھتے ہی ننھے حمزو نے معصومیت سے خود سے پوچھا تھا ’’کوئی لڑکی اتنی حسین کیسے ہو سکتی ہے۔‘‘ انجام اس عشق کا وہی ہوا جو ہر شاگرد، استانی والے یکطرفہ عشق کا ہوتا ہے، ایسے عشق ناکامی اپنی کُنڈلی میں لکھوا کر ہی پیدا ہوتے ہیں۔

عشق ناکام نہیں ہوا بلکہ بہت زیادہ ناکام ہوا۔ ہوا یوں کہ محبت کے جذبے سے سرشار بے خوف حمزو نے استانی جی کو دل، پھولوں، کبوتروں، بیل بوٹیوں سے مزین محبت نامہ لکھ ڈالا۔ اُردو کے ساتھ نالائق نے وہی سلوک کیا جو صلاح الدین ایوبی نے سومنات کے مندر کے ساتھ کیا تھا، نہ املا کا خیال نہ ہجے کا لحاظ، ڈرائنگ بدبخت کی اچھی تھی کاش اُردو بھی ہوتی۔ محبت نامہ پڑھنے کی دیر تھی کہ استانی جی اپنے نام کے انتہائی برخلاف رویے پہ اتر آئیں۔ حمزو کے حصے میں زناٹے دار تھپڑ آئے جو بہرحال اس کی عشقیہ تاریخ کا تاریک باب ہیں۔ آج تک معصوم جان سمجھ نہیں پایا کہ جلال استانی جی کو اُس کے جذبات پہ آیا تھا یا اُردو کی بے حرمتی کی جسارت پر، خیر ’’گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں‘‘ اور حمزو گرا تو کیا گرا ترین نکلا۔ عشق کے میدان میں کبھی پاس کے گرلز سکول میں زیرِ تعلیم کسی لڑکی نے تو کبھی ماسٹر جی کی بیٹی نے حمزو کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ’’آخر کوئی لڑکی اتنی حسین کیسے ہو سکتی ہے۔‘‘

وقت گزرتا گیا اور حمزو نے بالآخر جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھ لیا اب وقت تھا تمام تر تجربے اور مہارت کے ساتھ کامیاب عشق کرنے کا، عزائم بلند ہوں تو قسمت یاوری کرتی ہی ہے۔ پڑوس والا مکان کب سے خالی تھا۔ نئے کرائے داروں کی ایک دو روز قبل ہی آمد ہوئی تھی۔ ایک دوپہر چھت پہ بیٹھے حمزو کی نظر ساتھ والی چھت پہ موجود اسلم کبوتر باز پر پڑی جو اسے پہلی ہی نظر میں کافی ناگوار گزرا ہاں البتہ جو خوشگوار گزرا بلکہ گزری وہ تھی اسلم کی بہن نسرین۔ حمزو سوچ میں پڑ گیا ’’آخر کوئی لڑکی اتنی حسین کیسے ہو سکتی ہے۔‘‘

اب کے مگر ایک الجھن بھی تھی آخر یہ سب پیاری لڑکیاں ایسے اوٹ پٹانگ لڑکوں کی بہنیں کیوں نکلتی ہیں۔ حمزو کا ذہن سوچوں کا جال بُن رہا تھا، اسلم کبوتر ایسا نامعقول شخص اس کا سالا بنے گا؟ کیا خوب حق ادا ہو گا لفظ ’’سالا‘‘ کا۔ ۔ ۔ خیر پھول کے ساتھ کانٹے بھی ہوتے ہیں، یہاں بھی تھے، اسے تو نظر اس گلاب پر رکھنی تھی جو کہ اس نے رکھی اور خوب رکھی۔

جولائی کی تپتی دوپہر میں نسرین کا انتظار کرتا یہ سانولا عاشق سانولا ترین ہوتا جا رہا تھا۔ اکثر سوچتا، نسرین کیسی نا سمجھ ہے، آخر چھت پر کیوں نہیں آتی؟ کیا وہ نہیں جانتی جولائی کی دھوپ کی افادیت کو؟ عشق حمزو کا آخری حدوں کو چھو رہا تھا۔ دوسری طرف نسرین بیچاری چونکہ روحانیت سے دور دور تک لاتعلق تھی سو کوئی الہام یا وجدان اسے نہ ہو پایا کہ امرود کے پودے کی اوٹ سے ہمہ وقت جھانکنے والا یہ عاشق اب بالکل پک کے تیار ہو چکا تھا۔

وہ محبت ہی کیا جس میں ہجر کا مرحلہ نہ آئے، سو یہاں بھی آ گیا۔ حمزو کے قریبی دوست کو کسی کام سے شہر جانا تھا، زبردستی اس غریب کو بھی ساتھ گھسیٹ لیا۔ تین دن یعنی بہتر گھنٹے، کوئی پوچھے کسی عاشق پر کیا گزرتی ہے۔ معشوقہ سے دور با دلِ نخواستہ حمزو گیا اور جیسے تیسے وقت گزار کے واپس آیا۔ گاؤں پہنچتے ہی دیکھا تو گلی کچھ سجی دھجی نظر آئی آگے بڑھا تو پڑوس میں جشن کا سماں تھا۔ ایک عجیب سی مسرت نے حمزو کو آ گھیرا ’’آخر نگوڑے اسلم نے ساری زندگی کبوتر ہی تو نہیں اڑانے تھے، وہ بیاہا جائے گا تو نسرین کی باری آئے گی۔‘‘ حمزو کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ گھر داخل ہوتے ہی پتہ چلا کہ سب پڑوس میں شادی میں شرکت کے لیے گئے ہیں سو یہ بھی چل دیا۔ رخصتی کا وقت تھا۔ دلہن خراماں خراماں دولہا کے ہمراہ دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ حمزو کی نظر دلہن پہ پڑی۔ زبان گنگ، آنکھیں حیران اور دل۔ ۔ ۔ دل دھڑکنا بھول گیا تھا۔ دلہن بنی نسرین واقعی بہت حسین لگ رہی تھی۔ حمزو کی دنیا تاریک ہو چکی تھی۔ سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔ اسے یقین ہو گیا کہ کامیاب عشق کچھ نہیں ہوتا، کوئی حسینہ اس سے محبت کے لیے نہیں بنائی گئی اور وہ اب کبھی عشق نہیں کر پائے گا۔ اُس کا یہ خیال باقی رہا جب تک کہ اس کی نظر نسرین کے ساتھ چلتی اس کی سہیلی بانو پہ نہیں پڑ گئی۔ ٹوٹے دل پہ ہاتھ رکھے دُکھی حمزو مسلسل خود سے پوچھ رہا تھا ’’آخر کوئی لڑکی اِتنی حسین کیسے ہو سکتی ہے ؟‘‘

٭٭٭

 

 

 

چھجو بھگت کا چیلا

 

                میم سین بٹ

 

اِن سے ملئے، یہ ادیب، صحافی اور کالم نگار کہلاتے ہیں اپنے اصل نام سے زیادہ قلمی نام سے مشہور ہیں، بعض خواتین و حضرات انہیں منڈا سیالکوٹیا بھی کہتے ہیں، تصویر میں اصل عمر سے آدھے کے لگتے ہیں چہرہ دیکھ کر بھی ان کی عمر کا درست اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تاہم سر کے بالوں میں اتر آنے والی چاندی بھانڈا پھوڑ دیتی ہے ان کا چہرہ کتابی، آنکھیں بادامی بلکہ چلغوزی، دانت بڑے، کان چھوٹے، ناک ستواں، قد متوسط، جسم فربہی مائل جبکہ رنگت گرمیوں میں گندمی اور سردیوں میں صاف رہتی ہے شاید اسی لئے تصویر صرف موسم سرما کے دوران کھنچواتے ہیں موسم گرما میں اس سے پرہیز اور ساون بھادوں کے موسم میں تو مکمل پرہیز کرتے ہیں۔

دل کے اچھے اور زبان کے بہت برے ہیں، صنف نازک کو اپنے دل کے قریب نہیں پھٹکنے دیتے بلکہ زبان اور قلم کے ذریعے خواتین و حضرات کو خود سے دور کرتے رہتے ہیں اس کے باوجود ان میں مروت اس قدر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے کہ اگر کسی کو خود بھی فون کریں تو اس انتظار میں رہتے ہیں کہ جسے کال کر رہے ہیں وہی فون بند کریں لہٰذا ان کے ان کے اپنے موبائل کا کارڈ ختم ہونے پر کال خودبخود کٹ جاتی ہے، کسی سے ملاقات کے لیے جائیں تو بھی یہی کلیہ اختیار کرتے ہیں بعض بے تکلف میزبان تو بالآخر ان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور جو بیچارے ان سے بھی زیادہ تکلف اور مروت کے مارے ہوتے ہیں وہ طویل ملاقات سے بچنے کے لیے اہلخانہ سے کہلوا دیتے ہیں کہ وہ گھر پر نہیں ہیں۔

عملی صحافت میں آئے انہیں دو عشرے سے زیادہ مدت ہو گئی ہے، نیوز ڈیسک پر آنے سے پہلے رپورٹنگ کے زمانے میں بڑی بڑی مونچھیں بھی رکھتے تھے لیکن اب اسے اپنا زمانہ جاہلیت قرار دیتے ہیں۔ اس دور کی تصویر میں ان کے چہرے پر ابابیل اپنے پر پھیلائے بیٹھی دکھائی دیتی ہے ماضی کی تصاویر دیکھنے سے ٹاپ ٹین ہی لگتے ہیں اور اسے خود بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اگر ادب و صحافت کی طرف نہ آ گئے ہوتے تو یقیناً ٹاپ ٹین بن جاتے اور شاید اب تک کسی اصلی یا جعلی پولیس مقابلے میں پار ہو چکے ہوتے۔

انہیں بچپن ہی میں کہانیاں پڑھنے کا شوق پیدا ہو گیا تھا بچوں کے لیے ٹارزن، عمرو عیار وغیرہ کی کہانیوں اور بچوں کی دنیا، بچوں کا باغ، تعلیم و تربیت اور پیغام جیسے رسائل کے بعد بچوں کے ناول پڑھنے کا آغاز انہوں نے اے حمید، اشتیاق احمد، مقبول جہانگیراور نصیر الدین حیدر وغیرہ سے کیا تھا پھر ابن صفی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے تھے جن کے فوت ہونے اور ان کے جاسوسی ناول دس دس بار پڑھنے کے بعد یہ اے حمید کے مداح ہو گئے تھے ان کی ہر تحریر ڈھونڈھ کر پڑھ ڈالی تھی، اے حمید کی ریل گاڑی کے ذریعے بلا ٹکٹ آوارہ گردیاں انہیں بے حد پسند رہی ہیں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے لڑکپن کے دوران خود بھی سیالکوٹ اور نارووال کے درمیان ٹرین کے ذریعے اچھی خاصی آوارہ گردیاں کر چکے ہیں۔

اے حمید کے علاوہ ابن انشاء، ڈاکٹر شفیق الرحمان، مشتاق احمد یوسفی، عطاء الحق قاسمی اور ڈاکٹر یونس بٹ کی تحریریں بھی انہیں پسند ہیں، اے حمید کے انداز تحریر سے تو بہت ہی زیادہ متاثر ہیں اور رانجھا رانجھا کرتے خود بھی رانجھا بنتے جا رہے ہیں، اے حمید مرحوم کی طرح انہیں بھی ماضی بہت اچھا لگتا ہے اور لکھتے وقت ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے رہتے ہیں اگر ان پر اعتراض کیا جائے کہ یہ ناسٹلجیا کا شکار ہو گئے ہیں تو فوراً اثبات میں سر ہلا کر علامہ اقبال کے یہ اشعار پڑھ دیں گے :

ہاں یہ سچ ہے چشم بر عہد کہن رہتا ہوں میں

اہلِ محفل سے پرانی داستاں کہتا ہوں میں

یادِ عہدِ رفتہ میری خاک کو اکسیر ہے

میرا جو ماضی ہے میرے حال کی تفسیر ہے

سامنے رکھتا ہوں اس دور نشاط افزاء کو میں

دیکھتا ہوں دوش کے آئینے میں فردا کو میں

اُنہیں علامہ اقبال کی نظم ’’پرندے کی فریاد‘‘ بہت پسند ہے ان کی تحریریں پڑھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کا تحت الشعور یہ نظم گنگناتا رہتا ہے :

آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ

وہ ڈالیاں چمن کی وہ میرا آشیانہ

علامہ اقبال کا ان کی شخصیت پر گہرا اثر پایا جاتا ہے بلکہ دونوں کی شخصیت میں بہت سی باتیں مشترک ہیں یہ بھی سیالکوٹ شہر کے ایک متوسط کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اور ان کا برج بھی عقرب ہے عمر میں علامہ اقبال سے ایک دن بڑے اور نوے سال چھوٹے ہیں یہ بھی سست الوجود ہیں اور انہوں نے بھی زندگی کا بیشتر حصہ چارپائی یا فرش پر نیم دراز رہ کر لکھتے پڑھتے اور احباب کے ساتھ گپ شپ کرتے ہوئے گزارا ہے یہ بھی مغربی بود و باش بالخصوص انگریزی لباس کے سخت خلاف ہیں کالج کے زمانے تک مجبوری کے عالم میں پتلون اور شرٹ پہن لیتے تھے اب برسوں سے سردیوں میں کھدر جبکہ گرمیوں میں کاٹن کی شلوار قمیض پہنتے ہیں، عام بول چال کے لیے پنجابی زبان کو ترجیح دیتے ہیں انہیں بھی پھلوں میں آم پسند ہیں، یہ بھی ایلوپیتھی ادویات کا استعمال پسند نہیں کرتے اور طب یونانی کے طریقہ علاج کو ترجیح دیتے ہیں یہ بھی دل کے بڑے کمزور ہیں اور خون بہتا ہوا دیکھ کر بے ہوش ہو جاتے ہیں عید الضحیٰ پر جانور کی قربانی کے وقت گھر سے باہر نکل جاتے ہیں۔

تعلیمی نصاب سے انہیں زیادہ دلچسپی کبھی نہیں رہی البتہ سالانہ امتحانات سے پہلے اتنی تیاری ضرور کر لیتے تھے کہ فیل ہونے اور والدین کے ہاتھوں پٹنے سے بچ جاتے تھے البتہ اپنی شرارتوں کے باعث سکول میں اساتذہ سے کبھی کبھار اور گھر میں والدہ کے ہاتھوں آئے روز مار کھاتے رہتے تھے جس نے انہیں بعد ازاں باغی بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، یہ شروع ہی سے مزاج کے بڑے تیز ہیں ان کی زبان میں مٹھاس کم اور ترشی زیادہ پائی جاتی ہے اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ میٹھا برائے نام اور نمک بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں اسی لئے شوگر سے تو محفوظ ہیں لیکن ان کا بلڈ پریشر ہائی رہتا ہے اور مزاج کے خلاف کوئی بات سن کر تو آگ بگولہ ہی ہو جاتے ہیں، لڑکپن میں بڑے جھگڑالو ہوتے تھے مخالفین اور دوست احباب میں ’’لڑاکا‘‘ کے نام سے مشہور تھے کالج میں لڑائی آخری ثابت ہوئی تھی بعد ازاں ادب کے مطالعہ نے انہیں صرف زبانی کلامی لڑائی جھگڑے تک محدود کر دیا تھا غالباً انہوں نے کسی کتاب میں پڑھ لیا تھا کہ آپا دھاپی شریفوں کا شیوہ نہیں اور شریف لوگ انہیں شروع ہی سے اچھے لگتے ہیں شاید اسی لئے سیاست میں شریف برادران کے حامی ہیں اور ان کی حمایت میں سیاسی مخالفین کے خلاف اپنے قلم سے کلاشنکوف کا کام لیتے رہتے ہیں۔

ان کی تعلیم و تربیت بھی عجیب و غریب ماحول میں ہوئی تھی ان کے ددھیال کا تعلق پی پی پی جبکہ ننھیال کا پی این اے سے تھا، زمانہ طالب علمی کے دوران اپنے سیکنڈ کزن کے ساتھ اسلامی جمعیت طلبہ میں رہے مگرفرسٹ کزن کے ساتھ جماعت اہلسنت (بریلوی)کے علماء کی محفلوں میں بھی شریک ہوتے رہے تھے جبکہ ان کے اپنے خاندان کا تعلق اہلحدیث مسلک سے تھا تاہم ننھیال کی طرف جھکاؤ کے باعث انہوں نے اپنے والدین کے ساتھ حنفی( بریلوی ) مسلک اختیار کر لیا تھا، عملی اعتبار سے تو امام ابوحنیفہ کے مقلد جبکہ نظری اعتبار سے فقیہی معاملات میں غیر مقلد ہیں اور اس کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ رسی تو جل چکی ہے مگر ابھی بل نہیں گئے، یہ بزرگان دین کا تو احترام کرتے ہیں لیکن انہیں پیر ماننے والوں کے پیچھے ڈنڈا لے کر پڑ جاتے ہیں ہر شعبے میں پیر پرست لوگ انہیں پسند نہیں حالانکہ ان کی اپنی شخصیت میں ایک چھوٹا موٹا سا مرید چھپا بیٹھا ہے جو ادب، صحافت، ثقافت اورسیاست کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی بعض ’’ برگزیدہ ہستیوں‘‘ کو پیروں کی طرح مانتا ہے لیکن یہ خود اسے پیری مریدی تسلیم نہیں کرتے کیونکہ ان میں سے کسی شخصیت کی چوکھٹ پر جا کر سجدہ ریز نہیں ہوتے شاید اپنے اندر کے غیر مقلد سے ڈر جاتے ہیں، یہ خود کو معتدل مزاج قرار دیتے ہیں انتہا پسندی یعنی کٹر پن انہیں پسند نہیں اسی لئے بیک وقت ملاؤں اور ملحدوں کے ’’کٹر‘‘ مخالف ہیں بالخصوص ترقی پسندوں کے خلاف خوب لکھتے رہتے ہیں غالباً ڈاکٹر انور سدید کا ریکارڈ توڑنا چاہتے ہیں۔

یہ لگی لپٹی رکھنے کے قائل نہیں جو بھی بات پسند نہ آئے اسے پتھر کی طرح دوسروں کے منہ پر دے مارتے ہیں اور نتیجے کے طور پر دوستوں کو بھی ناراض کر بیٹھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے دشمنوں کی تعداد دوستوں سے بہت زیادہ ہے اور اس میں روز بروز اضافہ ہی کرتے جاتے ہیں، ان سے پہلی بار ملنے والوں کو فوری طور پر اندازہ ہو جاتا ہے کہ عقرب برج کی حامل شخصیت سے پالا پڑ گیا ہے اور وہ لوگ محتاط ہو جاتے ہیں جنہیں برجوں کے طلسم کدہ سے دلچسپی ہوتی ہے جنہیں نہیں ہوتی وہ بیچارے مارے جاتے ہیں ویسے یہ عام طور پر اپنے شناختی نشان کی طرح بالکل بے ضرر ثابت ہوتے ہیں لیکن انہیں اگر کوئی چھیڑ بیٹھے تو پھر جب تک بچھو کی طرح اپنا زہر اس پر انڈیل نہیں لیتے انہیں چین نہیں آتا، ادلے کا بدلہ ان کے پسندیدہ محاوروں میں شامل ہے عقرب ہونے کی وجہ سے یہ نقاد تو پیدائشی ہیں لیکن حلقہ ارباب ذوق کے جلسوں میں چودہ، پندرہ برسوں کی مسلسل حاضری نے انہیں بڑا زہریلا تنقید نگار بنا دیا ہے، عام طور پر علامہ اقبال کا یہ شعر گنگناتے پائے جاتے ہیں :

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی نا خوش

میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

علامہ اقبال اور عطاء الحق قاسمی کی ابتدائی زندگی کی طرح یہ بھی برادری ازم کے قائل رہے ہیں اور کشمیریوں کو ہر معاملے میں ترجیح دیتے رہے ہیں عطاء الحق قاسمی کے والد مرحوم کی طرح انہیں بھی پتا چل جاتا ہے کہ کون کشمیری ہے اور کون نہیں البتہ یہ ابھی مولانا بہاء الحق قاسمی مرحوم کے درجے تک نہیں پہنچے جن کی نگاہ ڈی این اے ٹیسٹ کا کام کرنے لگ گئی تھی لڑکپن میں عطاء الحق قاسمی کا ایک دوست انہیں ماڈل ٹاؤن ملنے آیا تو مولانا بہاء الحق قاسمی نے اسے دیکھ کر اپنے صاحبزادے سے کہا تھا کہ ’’یہ لڑکا مجھے کشمیری لگتا ہے، عطاء الحق قاسمی نے جواب دیا کہ ’’ نہیں اباجی! سعید کے والد پنجابی شیخ ہیں‘‘ جس پر مولانا بہاء الحق قاسمی مرحوم نے کہا تھا کہ ’’ وہ پنجابی شیخ ہی ہو گا مگر یہ لڑکا ضرور کشمیری ہے۔‘‘

ان کے بیشتر قریبی دوست کشمیری ہیں تاہم ان کا اختلاف بھی زیادہ تر ان سے ہی رہتا ہے شاید اس لئے کہ وہ ان کے ہم مزاج ہیں، ان میں لسانی عصبیت بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے مادری زبان پنجابی میں گفتگو کرنا پسند کرتے ہیں اور اگر اردو میں بات کرنی پڑ جائے تو گویا انہیں موت ہی پڑ جاتی ہے شاید اسی لئے حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس میں انہوں نے کبھی بحث میں حصہ نہیں لیا حالانکہ لکھتے پڑھتے اردو میں ہیں البتہ صرف اردوداں حضرات کے ساتھ اردو میں بات کر لیتے ہیں اور ان سے ایسے لہجے میں اردو بولتے ہیں جیسے ان پر احسان کر رہے ہوں بڑے متعصب پنجابی ہیں، انگریزی زبان و ادب سے بھی انہیں کوئی لگاؤ نہیں در اصل ’’ فرنگیوں‘‘ سے نفرت انہیں ورثے میں ملی ہے ان کے دادا مجلس احرار اسلام میں شامل رہے تھے لہٰذا فرنگی کلچر یعنی انگریزی لباس ہی نہیں زبان کے بھی خلاف ہیں اور اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں ان کی زبان یا قلم سے کہیں انگریزی کا کوئی لفظ نہ پھسل جائے، اردو زبان کی صحت خراب کرنے والی پاکستانی فلمی اداکاراؤں کے علاوہ ایف ایم ریڈیو اور ٹی وی چینلز کی میزبان خواتین بھی انہیں بڑی زہر لگتی ہیں۔

کھانے میں انہیں دال چاول اور نان ٹکیاں پسند ہیں اس کے علاوہ چنے پٹھورے، حلوہ پوری، ساگ اور مکئی کی روٹی بھی بڑے شوق سے کھاتے ہیں، بھلے اور لوبیا چاٹ انہیں بے حد مرغوب ہے، چھوٹا بڑا گوشت اور مچھلی نہیں کھاتے، دودھ اور اس سے بننے والی اشیا ء مکھن، دہی، دیسی گھی، لسی، چائے وغیرہ بھی استعمال نہیں کرتے، در اصل بچپن میں ٹائیفائیڈ کے ہاتھوں موت کے منہ سے واپس آنے کے بعد انہوں نے دودھ اور گوشت کا مکمل بائیکاٹ کر دیا تھا اور ضدی طبعیت کے باعث اب تک اپنے فیصلے پر سختی سے قائم ہیں اس سے ان کی استقامت کا پتا چلتا ہے بقول شاعر۔ ۔ ۔

’’بائیکاٹ‘‘ کیا ہے تو قائم بھی رہو ظفرؔ

آدمی کو صاحبِ کردار ہونا چاہیے

ان کے بعض دوست احباب انہیں کڑاہی گوشت، تکے کباب اور چائے و مشروب مغرب وغیرہ پینے کی ترغیب دیتے رہتے ہیں لیکن یہ ’’صاحب کردار‘‘ کہلوانے کے لیے سختی کے ساتھ انکار کر دیتے ہیں، گرمیوں میں ٹھنڈا پانی جبکہ سردیوں میں سیاہ کافی اورسبز چائے کا قہوہ پیتے ہیں، انہیں ’’ چجھو بھگت کا سچا چیلا‘‘ بھی قرار دیا جا سکتا ہے، چھجو بھگت کو ماننے والے جھوٹ نہیں بولتے تھے، گوشت نہیں کھاتے تھے، شراب نہیں پیتے تھے اور شادی بھی نہیں کرتے تھے، یہ بھی سبزی خور اور صوفی بلکہ برہمچاری ہیں، ان کے پسندیدہ صوفی شاعروں میں سے شاہ حسین، وارث شاہ اور بلھے شاہ نے شادی نہیں کرائی تھی غالباً یہ بھی سمجھتے ہیں کہ صوفی بزرگ شاعروں کی پیروی کے لیے عورت سے دور رہنا ضروری ہے۔ ویسے بھی یہ عام ادیبوں، شاعروں اور صحافی دانشوروں کی طرح آزادی پسند ہیں لہٰذا شادی سمیت کسی بھی قسم کی غلامی کو ذہنی طور پر قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔

٭٭٭

 

 

 

مستنصر حسین تارڑ

 

                یوسف عالمگیرین

 

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مستنصر حسین تارڑ اَدب میں جٹ برادری کی نمائندگی کرتے ہیں جن کا اصل کام تو زمین کو سنوارنا ہوتا ہے لیکن اُنہوں نے لفظوں کو سنوارنے کا کام اپنے ذمے لیا ہے۔

مستنصر حسین تارڑ کو بچپن سے ہی ادب سے لگاؤ تھا۔ لہٰذا اپنے والدین کی زمینداری میں اُنہوں نے دلچسپی ظاہر نہ کی اور ادب کو ہی اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ یہ ادب سے محبت کا ہی نتیجہ تھا کہ کلاس روم میں لحاف لے کر چلے جاتے تھے گویا یہ لحاف کی اہمیت کو اس وقت بھی بخوبی سمجھتے تھے۔ عصمت چغتائی کا لحاف تو اُنہوں نے بعد میں پڑھا ہو گا۔

مستنصر حسین تارڑ میٹھی میٹھی باتیں کرنے والے آدمی ہیں۔ یہی انداز سابق نگران وزیر اعظم (معراج خالد )مرحوم کا بھی رہا ہے۔ مجوزہ یکسانیت شاید لاہور کے لکشمی مینشن کی بدولت طے ہوئی ہے جہاں یہ ان کے پڑوسی تھے۔ اتفاق کی بات ہے کہ سعادت حسن منٹو بھی لکشی مینشن میں ہی رہتے تھے۔ اُن کی کھڑکیوں کے جتنے بھی شیشے ٹوٹا کرتے تھے وہ مستنصر حسین تارڑ کی باؤلنگ سے ہی ٹوٹتے تھے، گویا یہ بال تو پھینکتے ہی رہے ہیں لیکن غلط ڈایریکشن میں۔ ویسے بھی ہمارے ہاں بال پھینکنے اور پتہ پھینکنے کو ایک ہی چیز سمجھا جاتا ہے۔ اپنے سفر ناموں میں مستنصر حسین تارڑ نے پتے پھینکنے کا بھر پور مظاہرہ کیا ہے۔ بال پھینکنے کو بعض مسلمان تو درکنار ہندو بھی اچھا نہیں سمجھتے۔ اسی لئے پاکستانی کرکٹروں کو بال ٹھاکرے کی موجودگی میں بال پھینکنے میں کافی دشواری پیش آتی رہی ہے۔

مستنصر حسین تارڑ بہت خوش قسمت آدمی ہیں کیونکہ بیرون ملک جیسا سفر یہ لگاتے ہیں کوئی اور نہیں لگا سکتا، شاید اسی لئے بعض اوقات سفر پہ سفر لگا لیتے ہیں۔ اب کسی آدمی کے انتظار میں ہر سٹیشن پہ ایک حسینہ پھول اٹھائے کھڑی ہو تو کون کافر اِس خوبصورت سفر سے دستبردار ہو گا۔ عطا الحق قاسمی ایک دفعہ ہوائی جہاز میں سفر کر رہے تھے کہ ان کے ساتھ بیٹھی ہوئی خاتون بار بار اُن کے کندھے کی جانب جھک جاتی۔ اُس نے یہی عمل دو تین بار دوہرایا تو انہوں نے کہا ’’بی بی سیدھی ہوکے بیٹھو، میں عطا الحق قاسمی ہوں مستنصر حسین تارڑ نہیں۔‘‘

مستنصر حسین تارڑ کو لکھنے کا شوق گھر سے ملا ہے۔ اُنہیں بہت اچھا لکھنے کا شوق کہاں سے ملا ہے اس کے بارے میں تو وہ خود ہی بتا سکتے ہیں۔ اُن کے والد ظفر علی خان ’’زمیندار‘‘ میں کام کرتے تھے، یوں یہ ادب اور صحافت کے عین وسط میں پروان چڑھے۔ تارڑ صاحب بچپن میں ایک آدمی کے ہتھے بھی چڑھ گئے تھے، جس نے تھوڑی سی برفی کھلائی اور اپنے ساتھ ٹرین میں بٹھا لیا۔ اِتفاق سے کسی واقف کار نے اُنہیں دیکھ لیا اور بازیاب کروا کے گھر پہنچا دیا اور یوں اردو ادب ایک اچھے ادیب سے محروم ہوتے ہوتے رہ گیا۔

مستنصر حسین تارڑ کو لکھنے سے عشق ہے اور وہ اِتنے انہماک سے لکھتے ہیں کہ جیسے سچ لکھ رہے ہوں۔

مجھے بعض اوقات عطا الحق قاسمی اور مستنصر تارڑ کے کام میں گہری مماثلت دکھائی دیتی ہے۔ دونوں نے ڈرامہ، سفر نامہ، کالم نگاری اور مزاح پر طبع آزمائی کی۔

مستنصر حسین تارڑ کی حال ہی میں ۷۵ویں سالگرہ منائی گئی ان کو دیکھ کر یوں لگتا جیسے انہوں نے ۷۵ ویں سالگرہ نوجوانی میں ہی منا لی ہے۔ کوئی خوبصورت سوچ اور دلپذیر شخصیت کے بل بوتے پر اتنا تر و تازہ اور خوبرو رہ سکتا ہے، یہ ناممکنات میں سے لگتا ہے۔

شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ مستنصر حسین تارڑ عام زندگی میں بہت ڈسپلنڈ واقع ہوئے ہیں۔ اپنے رائٹنگ روم میں لکھ رہے ہوں تو گھر والے چاہتے ہوئے بھی کوئی کال تھرو نہیں کر سکتے کہ کال تھرو کرنے والی نہیں کال ملانے والی چیز ہے۔

مستنصر حسین تارڑ نے لکھنے کو عبادت جانا ہے اور اپنے حروف میں کبھی ملاوٹ نہیں ہونے دی۔ اس لئے ان کے لفظوں میں عداوت اور گراوٹ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ وگرنہ ہمارے ہاں بہت سے ادیبوں اور کالم نگاروں کے مضمون کا عنوان پڑھ کے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ انہوں نے یہ کالم کس کے خلاف لکھا ہے۔

نیچر سے محبت کرنے والے مستنصر حسین تارڑ کی، نیچر، محبت سے بھر پور ہے۔ انہوں نے تمام عمر محبتیں ہی وصول کی ہیں اور محبتیں ہی تقسیم کی ہیں۔ عہد حاضر میں مستنصر حسین تارڑ ایسی شخصیات دمِ غنیمت ہیں کہ معاشرے کی خوبصورتیاں ان ایسی شخصیات کے دمِ قدم سے ہوتی ہیں۔ خدا کرے یہ ہمیشہ خوشبوئیں بکھیرتے رہیں اور محبتیں تقسیم کرتے رہیں۔

٭٭٭

 

 

 

 

نظمالوجی

 

 

غزل کا اغوا

(اپنی غزل پہ تضمین دیکھ کر اوریجنل شاعر کی فریاد)

 

                ڈاکٹر مظہر عباس رضوی

 

یہ شور کرتا تھا شاعر غزل کے ایواں میں

چھپی ہے کیسے غزل میری اُن کے دیواں میں

وہ چاہے کرتے کسی بھی حسین پر قبضہ

انہوں نے کیوں کیا میری زمین پر قبضہ

ستم تو یہ ہے قوافی بھی سارے چھین لئے

سپیرا رہ گیا ہے صرف اپنی بین لئے

زمین میری ہے، اِس پر ردیف میرا ہے

کہ جو غزل کا ہے محور، ردیف میرا ہے

نہیں ہے کوئی بھی شعرِ نحیف قابلِ ذکر

غزل میں صرف ہے میرا ردیف قابلِ ذکر

اگرچہ لکھتے ہیں اِس میں وہ اپنا افسانہ

مگر چرایا ہے میرا ہی سارا پیمانہ

گرہ لگائی ہے کچھ ایسے میرے مصرعے پر

مرے خیال کو اُلٹا کے رکھ دیا یکسر

کہیں تو نام پہ تضمین کے یہ کام کیا

کہ پورا مصرعے کا مصرعہ نگل لیا میرا

اُجاڑا اس طرح اشعار کا چمن میرا

کہ مجھ سے چھین لیا موضوعِ سخن میرا

’’کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے‘‘

کہ کیوں انہیں مرے مصرعے پہ حال آتا ہے

غزل کہی تھی فقط میں نے جانِ جاں کے لئے

لکھی نہ تھی کوئی یارانِ نکتہ داں کے لئے

جو شعر سرقہ ہوئے کو بہ کو تلاش کروں

’’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں‘‘

سناؤں کس کو میں دُکھڑا، کروں میں کیا فریاد

وہ میرے حصے کی بھی کھا گئے ہیں ساری داد

رپٹ یہ درج کراؤں گا جا کے تھانے میں

کہ ڈالو چوٹّے شاعر کو جیل خانے میں

٭٭٭

 

 

 

 

مسائرے

 

                احمد علوی

 

روز دس دس مسائرے ہوں گے

سارے بوگس مسائرے ہوں گے

ایک ہفتے میں انشاء اللہ اب

سات سے دس مسائرے ہوں گے

ایک ساعری بنا یے چیئرمین

سہر میں بس مسائرے ہوں گے

ٹیٹوے ہوں گے سرفراز فقط

اتنے بوگس مسائرے ہوں گے

ہو گی تقریب بھی جو ختنہ کی

اس میں بھی بس مسائرے ہوں گے

بھانڈ نقال کوی گائیں گے

اب تو سب رس مسائرے ہوں گے

موت پر لیڈران کی اب تو

اپنے فیسس مسائرے ہوں گے

کوئی اُردو پڑھے پڑھے نہ پڑھے

کچھ نہیں بس مسائرے ہوں گے

٭٭٭

 

 

 

 

چند چٹکلے

 

                ڈاکٹر سعید احمد سعدی

 

عاقل و بالغ و کنجوس ہے اب عشق مرا

مکھی سے بڑھ کے مکھی چوس ہے اب عشق مرا

ٹھیک کو ٹھیک سمجھتا ہے، یہ اب رانگ کو رانگ

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

اک روز ایک چرسی بیٹھا جو آ کے بس میں

تھی سیٹ اُس کی ساری ملّا کے دسترس میں

بدبو سی تھی چرس کی لڑکے کے ہر نفس میں

ملّا نے اُس کو ڈانٹا اور طیش میں یہ بولا

کھوئے ہوئے ہو لڑکے دنیا کی کس ہوس میں

تم جا رہے ہو سیدھے دوزخ کے اک قفس میں

لڑکے نے چیخ ماری اور بولا ’’بس کو روکیں !

غلطی سے چڑھ گیا ہوں دوزخ کی آج بس میں !

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

اک دن یہ اک گدھے نے کہا دوسرے سے یار

آنے لگا ہوں تنگ اس مالک بُرے سے میں

یہ مارتا ہے چھانٹے سے صبح و مسا مجھے

رو بھی سکوں نہ لگ کے کسی کے گلے سے میں

اُس نے کہا کہ چھوڑ دو ظالم کو تم ابھی

تم کو ابھی ملاتا ہوں مالک نئے سے میں

اُس نے کہا کہ چھوڑ کے جاؤں تو کس طرح

اُمیدِ یار رکھتا ہوں اس باؤلے سے میں

کہتا ہے اپنی دفترِ چنچل سے روز یہ

شادی کروں گا تیری کسی دن گدھے سے میں

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

یہ مچھر بھی ردیف و قافئے میں بھنبھناتے ہیں

بڑے ہی سُر میں غزلیں کان میں آ کر سناتے ہیں

خیالِ خاطرِ احباب رکھنے سے ہیں یہ عاری

جو دے نہ داد ان کو رات بھر ٹیکے لگاتے ہیں

یقیناً کوئی نسبت شاعروں اور مچھروں میں ہے

غضب ڈھاتے ہیں دونوں جب ترنم میں یہ گاتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

اے مرغِ مسلّم

 

                حسیب احمد حسیب

 

اے مرغ مسلم ! سامنے آ!!

محجوب نہ ہو مستور نہ ہو

 

کیوں میری نظر سے دور ہوا

یوں میری نظر سے دور نہ ہو

 

کیا تیرے سوا کچھ کھاؤں میں

کوئی ایسا بھی مجبور نہ ہو

 

دل تیری دعائیں کرتا ہے

یوں کھانوں سے مفرور نہ ہو

 

بس آ بھی جا اب یوں نہ ستا

تو اتنا بھی مغرور نہ ہو

٭٭٭

 

 

 

 

آلو کا پراٹھا

                (ایک وقوعہ دو لمرک)

 

                شوکت جمال

 

۱

 

تم نے جو کھلایا ہے یہ آلو کا پراٹھا

من کو میرے بھایا ہے یہ آلو کا پراٹھا

یہ دل یہ جگر اُس پہ لٹا دوں

اور اُس کو گلے سے میں لگا لوں

جس نے بھی بنایا ہے یہ آلو کا پراٹھا

 

۲

 

کیوں سر میں سمایا ہے یہ آلو کا پراٹھا!

پہلی دفعہ کھایا ہے یہ آلو کا پراٹھا؟

پاگل نہ بنو حد میں رہو تم

غصے سے پڑوسی کے ڈرو تم

ہمسائے سے آیا ہے یہ آلو کا پراٹھا!

٭٭٭

 

 

 

 

دہشت گرد

 

                نوید ظفر کیانی

 

ناکے پر پولیس نے مجھ کو روک لیا

مخبر نے کر دی تھی اطلاع پہلے سے

شہر میں دہشت گردی کا کچھ خطرہ تھا

سو پولیس نے ہر مشکوک کو گھیرا تھا

اور مشکوک تھا مجھ سے بڑھ کر کون بھلا

مشقِ سخن کی خواری سے جو حلیہ تھا

اُس نے مجھ کو جیل سے بھاگا مجرم سا کر رکھا تھا

یوں بھی گزشتہ شب آنکھوں میں کاٹی تھی

سر کے بال تھے ایسے بکھرے بکھرے سے

جیسے کانٹے ہوں سیہہ کے

لالوں لال تھے دیدے

باہر کو نکلے

چہرے پر تھے بارہ بجے

ہینڈ اپ کر کے خوب تلاشی لی پولیس نے پھر میری

مجھ کو سر تا پا الٹایا پلٹایا

اور پھر بالآخر اُن کو

مل ہی گیا تھا میری دہشت گردی کا اک ایویڈینس

میری جیب سے اک سہ غزلے کی صورت

٭٭٭

 

 

 

 

شش

 

                عبدالحکیم ناصف

 

دِن حسیں رنگین راتیں، تیری بھابھی سُن نہ لے

نوجوانی کی وہ گھاتیں، تیری بھابھی سُن نہ لے

 

گرلز کالج کے دریچے، جھاڑیاں دیوار و دَر

ہم لگاتے تھے جو گھاتیں، تیری بھابھی سُن نہ لے

 

کہکشاں، اوجِ ثریا، ماہِ نور اور کائنات

چار تھیں کُل کائناتیں، تیری بھابھی سُن نہ لے

 

دھیرے دھیرے گفتگو کر تُو خدا کے واسطے

پڑ نہ جائیں مجھ کو لاتیں، تیری بھابھی سُن نہ لے

 

وہ سویّاں دار زلفیں، وہ پٹاخے دار گال

چاند راتیں، شب براتیں، تیری بھابھی سُن نہ لے

 

عمر کے بازار میں ملتے نہیں دلکش قلم

صرف ملتی ہیں دواتیں، تیری بھابھی سُن نہ لے

 

پہلے بھی دو شوق تھے اور اب بھی ہیں دو شوق بس

’’فاعلاتن، فاعلاتیں‘‘، تیری بھابھی سُن نہ لے

 

لڑکیوں کے یار موبائلز نمبر دے ذرا

پھر سے ہوں گی وارداتیں، تیری بھابھی سُن نہ لے

 

ایک ہی بیگم پہ ناصفؔ اکتفا اپنا نہیں

اور بھی ہیں بیگماتیں، تیری بھابھی سُن نہ لے

٭٭٭

 

 

 

 

 

ایک غزل پر تنقید

 

                محمد ادریس قریشی

 

اِس غزل کا جو ہے مطلع تھوڑا چھوٹا رہ گیا

شعر نمبر دو میں، برخوردار! گھپلا رہ گیا

شعر کے اینگل ذرا تھوڑے نوکیلے رہ گئے

ہے ردیف اِس میں مگر کچھ پیچ ڈھیلے رہ گئے

شعر نمبر چار کے تو وزن سے کاندھا گیا

لفظ جو باندھا ہے یہ کس کر نہیں باندھا گیا

بھینس گائے بکریوں پر شعر ہیں کچھ ٹاپ کے

کھوپڑی میں کس قدر بھوسا بھرا ہے آپ کے

بچ نہیں پایا ہے کوئی قافیہ بھی وار سے

شعر بھرتی ہو گئے ہیں اِس میں کچھ بیکار سے

اِس میں ایطائے جلی کا بھی بڑا جنجال ہے

اور شتر گربہ کی خوبی سے یہ مالا مال ہے

حلوے والا شعر پڑھ کر لگ رہی ہے بھوک سی

مصرعۂ ثانی میں اِک ترکیب ہے مشکوک سی

تھال میں حلوہ بچانے کی تو عادت ہی نہیں

حلوے والی ’’ح‘‘ گرانے کی اجازت ہی نہیں

اِس میں تشبیہیں نہیں ہیں استعارہ بھی نہیں

آپ کیوں روئے ابھی تو میں نے مارا بھی نہیں

شعر نمبر پانچ میں تو بھائی سکتہ رہ گیا

اور مقطع لگ رہا ہے کوئی بکتا رہ گیا

پوچھتے ہیں آپ اب کس بحر میں ہے یہ غزل

جس سے مرضی پوچھ لیں، یہ بحر ہے بحرِ چول

٭٭٭

 

 

 

مجھ سے پہلی سی محبت

 

                ڈاکٹر عزیز فیصل

 

میرے لپ ٹاپ میں وڈیو ہیں نہ فوٹو تیرے

کیا کہوں کن سے ہیں رنگے ہوئے البم میرے

تو کہ آتی تھی نظر ان میں بڑی اوٹ پٹانگ

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

 

ہے رقیبوں کے تسلط میں ترا دو بٹا تین

کیا کیا جائے کہ ہے بیچ میں دیوار چین

عقل کہتی ہے خبردار نہ دیوار پھلانگ

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

 

میرا معمول ہے آتا ہوں میں گھر رات گئے

آنکھ کھلتی ہے مری دن کے کوئی بارہ بجے

تیرے کہنے پہ کروں نقل میں کیا مرغ کی بانگ

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

 

اب کہاں تیرے رہے میں اور مرے ڈالر و ین

تجھ پہ خرچے کو سمجھتا ہوں میں اب پاگل پن

لسٹ شاپنگ کی ترے ہاتھ میں ہے شارٹ کہ لانگ

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

 

عاقل و بالغ و کنجوس ہے اب عشق مرا

مکھی سے بڑھ کے مکھی چوس ہے اب عشق مرا

ٹھیک کو ٹھیک سمجھتا ہے یہ اب رانگ کو رانگ

مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ

٭٭٭

 

 

 

 

سالگرہ مبارک

 

                عتیق الرحمٰن صفی

 

تمہیں رنڈوے، کنوارے بھی مبارکباد کہتے ہیں

کئی بابے بچارے بھی مبارکباد کہتے ہیں

مبارکباد دانشور ہی دیتے ہیں جنم دن پر

مگر پاگل یہ سارے بھی مبارکباد کہتے ہیں

تمہیں ملبوسِ سادہ نے مبارکباد بھیجی ہے

سبھی لہنگے شرارے بھی مبارکباد کہتے ہیں

سنو کشمش کے کنبے سے مبارکباد آئی ہے

تمہیں بے بس چھوہارے بھی مبارکباد کہتے ہیں

مبارک تم کو دیتے ہیں ٹریفک سارجنٹ ایسے

سبھی سگنل اشارے بھی مبارکباد کہتے ہیں

تمہیں سرحد سے توپوں نے مبارکباد دے دی ہے

تمہیں جنگجو طیارے بھی مبارکباد کہتے ہیں

مبارک کی ٹیونیں ہیں غضب کاغذ کے باجے میں

تمہیں گیسی غبارے بھی مبارکباد کہتے ہیں

اُدھر گوبھی نے ہے تم کو مبارکباد بھیجی تو

اِدھر آلو بخارے بھی مبارکباد کہتے ہیں

ابھی کہکاف سے مجھ کو زکوٹا جن نے بتلایا

وہاں کے سب ادارے بھی مبارکباد کہتے ہیں

مبارک کی صدائیں آ رہی ہیں بَیس منٹوں سے

تمہیں اونچے چبارے بھی مبارکباد کہتے ہیں

تمہیں وِش کرنے آیا ہے پرنس اِک کاکروچوں کا

تمہیں شاہی نظارے بھی مبارکباد کہتے ہیں

مبارک تم کو دیتی ہیں سبھی خاموشیاں مل کر

تمہیں جلسوں کے نعرے بھی مبارکباد کہتے ہیں

تمہارے اِس جنم دن پر ابھی تک نیند میں ہیں جو

تمہیں اُن کے ہلارے بھی مبارکباد کہتے ہیں

تمہیں اِملی کی چٹنی اور سموسوں نے کیا ہے وِش

تمہیں لڈّو کرارے بھی مبارکباد کہتے ہیں

جہاں اب تک نہ چھپ پائی تمھاری اِک غزل دیکھو

تمہیں وہ سب شمارے بھی مبارکباد کہتے ہیں

تمھارے بعد مشکل سے گزارے کر رہے ہیں جو

تمہیں اُن کے گزارے بھی مبارکباد کہتے ہیں

جنم دن پر سبھی سچ مچ مبارک دینے آئے ہیں

تمہیں جھوٹوں کے لارے بھی مبارکباد کہتے ہیں

مبارک دینے آئی ہیں زمانے بھر کی سب چیزیں

تمہیں شوہر تمہارے بھی مبارکباد کہتے ہیں

کسی بھی خاص ریزن سے میں جن کو لکھ نہیں پایا

تمہیں وہ استعارے بھی مبارکباد کہتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

اللہ بچائے

 

                ڈاکٹر نشتر امروہوی

 

سونے کے واسطے نہ جگانے کے واسطے

میں شعر لکھ رہا ہوں ہنسانے کے واسطے

 

ڈائی سے کالا سر کا ہر اک بال ہو گیا

مونچھیں رنگیں تو جان کا جنجال ہو گیا

منہ پر الرجی ہو گئی، یہ حال ہو گیا

اچھا بھلا تھا سُوج کے فٹبال ہو گیا

 

اب یہ سفید بال ہٹانے کے واسطے

مونچھیں منڈائیں عمر چھپانے کے واسطے

 

گزری تمام عمر مری مار دھاڑ میں

داڑھی بڑھا رہا ہوں میں اب اس جگاڑ میں

جو مستحق عوام ہے وہ جائے بھاڑ میں

پیسہ بٹور لوں گا میں داڑھی کی آڑ میں

 

میں آپ کے لئے نہ زمانے کے واسطے

ملّا بنا ہوں صرف کمانے کے واسطے

 

معشوق کے جو اپنی وہ خاوند ہو گئے

مخمل میں جیسے ٹاٹ کا پیوند ہو گئے

شلوار میں ہو جیسے کمربند ہو گئے

چھوٹے ہوئے انار کی مانند ہو گئے

 

شوہر ہوں اب تو صرف کمانے کے واسطے

بیگم کما کے لاتی ہیں کھانے کے واسطے

 

سنسد میں کیا خبر تھی وہی لوگ آئیں گے

تابوت بھی شہید کے جو بیچ کھائیں گے

دو دو ٹکے کے لوگ کروڑوں کمائیں گے

جو زیر تھے وہ بن کے زبر پیش آئیں گے

 

سوئے ہوئے ضمیر جگانے کے واسطے

کچھ تو کرو یہ ملک بچانے کے واسطے

٭٭٭

 

 

 

 

چھتری

 

                اقبال شانہ

 

ڈر کے بارش سے کھول دی چھتری

تیز آئی ہوا، گئی چھتری

اُڑ رہا ہوں ہوا میں تقریباً

کیسے چھوڑوں نئی نئی چھتری

کون ڈرتا ہے ابر و باراں سے

احتیاطاً خرید لی چھتری

بھیگنا ہے میاں بہر صورت

کیوں میں کھولوں پھٹی ہوئی چھتری

جانے کب وہ چلے گئے یارو

میرے ہاتھوں میں رہ گئی چھتری

ہو رہی ہے کبھی کبھی بارش

کھولتا ہوں کبھی کبھی چھتری

سخت حیراں ہوں خودبخود کیسے

اُن کو دیکھا تو کھل گئی چھتری

بارشیں بند ہو گئیں شانہؔ

میں نے جس دن خرید لی چھتری

٭٭٭

 

 

 

 

بچاؤ بچاؤ

 

                عتیق الرحمٰن

 

وہ حکومت کے بہانے آئے

جو بچا مال، اُڑانے آئے

پھر بھری اپنی تجوری، لیکن

قوم کو بھیک منگانے آئے

قوم کو نیند کی گولی دے کر

خواب غفلت میں دھنسانے آئے

روشنی آنکھ سے چھینی، لیکن

خواب پھر بھی وہ دکھانے آئے

حکمرانی ہے گدھوں کی اب تو

فیک ڈگری جو چلانے آئے

ہم نے ہی لات گدھوں سے کھائی

ہوش پھر بھی نہ ٹھکانے آئے

ان رگوں میں تو بچا کچھ بھی نہیں

پھر سے کیوں جونک لگانے آئے

مرد ناکام ہوئے ہیں سارے

ولولہ لے کے زنانے آئے

ناچتے عمر ہماری گزری

کوئی ہم کو نہ نچانے آئے

مل کے مانگیں یہ دعا سب ہی عتیقؔ

کوئی پھر سے نہ ستانے آئے

٭٭٭

 

 

 

 

ڈائریکٹری

 

مشتاق احمد یوسفی

 

                تحقیق و تحریر: کے ایم خالد

 

حوالہ : حلقہ ارباب مزاح 001

( ماخذ :ویکی پیڈیا، ایکپریس نیوز ویب سائٹ، پاکستان کنکشن ویب سائٹ، مشتاق احمد یوسفی شہ پارے، بازگشت بلاگ پوسٹ، دنیا نیوز ویب سائٹ، ڈان نیوز ویب سائٹ )

 

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک، مشتاق احمد یوسفی کو ’’ادبی کٹہرے میں‘‘ میں کھڑا کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’اس نے اُردو مزاح کو اس مشکل مقام پر پہنچا دیا ہے جس سے آگے لے جانا کسی دوسرے مزاح نگار تو کیا اس کے اپنے بس میں نہیں‘‘۔ ’’ لوگ اس کی کتابیں اتنی بے دردی سے خرید اور بیچ رہے ہیں جس سے کئی دوسرے لکھنے والوں کی حق تلفی ہوتی ہے‘‘۔

ڈاکٹر ظہیر فتح پوری نے ان کے بارے میں لکھا ’’ہم اردو مزاح کے عہد یو سفی میں جی رہے ہیں‘‘۔

ڈاکٹر نور الحسن نقوی لکھتے ہیں ’’یوسفی کی تحریروں کا مطالعہ کرنے والا پڑھتے، پڑھتے سوچنے لگتا ہے اور ہنستے ہنستے اچانک چپ ہو جاتا ہے اکثر اس کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں‘‘۔

ڈاکٹر ناصر مستحسن لکھتے ہیں ’’ مشتاق احمد یوسفی ایک رجحان ساز اور صاحب اسلوب مزاح نگار ہیں انہوں نے بلاشبہ اردو ادب کو مزاح کے میدان میں بے پایاں عزت دی اردو مزاح کا کوئی بھی دور ان کے بغیر نامکمل ہے‘‘۔

وہ جے پور جسے ’’ پنک سٹی‘‘بھی کہتے ہیں ضلع ٹونک، راجھستان میں ۴ستمبر۱۹۲۳ئ  کو پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم راجپوتانہ سے حاصل کی، معاشیات میں ماسٹر ڈگری مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے حاصل کی تقسیم ہند کے بعد کراچی تشریف لائے اور مسلم کمرشل بینک میں ملازمت اختیار کی۔ وہ کئی بینکوں کے سربراہ بھی رہے اور پاکستان بینکنگ کونسل کے چیئرمین کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ وہ آج کل کراچی میں مقیم ہیں۔

ان کا پہلا باقاعدہ مطبوعہ مضمون ’’صنف لاغر‘‘ جو طباعت کے لئے سب سے پہلے معروف ادبی جریدے ماہنامہ ’’ادب لطیف‘‘ کے مدیر میرزا ادیب نے شائع کیا ان کی باقاعدہ ادبی زندگی کا آغاز ۱۹۵۵ئ  کے زمانے سے ہوا۔

مشتاق احمد یوسفی کی کتابیں

چراغ تلے ۱۹۶۱ء  ( مکتبہ جدید لاہور، مکتبہ دانیال کراچی )

خاکم بدھن ۱۹۶۹ء  (مکتبہ دانیال کراچی )

زر گزشت ۱۹۷۶ء  (مکتبہ دانیال کراچی )

آب گم ۱۹۹۰ء (مکتبہ دانیال کراچی )

شام شعر یاراں ۲۰۱۴ء  (عرشیہ پبلی کیشنز )

مشتاق احمد یوسفی نے بہت سے ٹی وی پروگرامز میں شرکت کی اس کے علاوہ ان کے دیار غیر میں نجی طور ریکارڈڈ ادبی پروگرامز بھی مختلف ویب سائٹس پر دستیاب ہیں ان کا اب تک آخری پروگرام ’’بزبان یو سفی‘‘ ہے جو جیو چینل نے پیش کیا۔

مشتاق احمد یوسفی کو مختلف ایوارڈز سے بھی نواز گیا ان میں کمال فن ایوارڈ، آدم جی ایوارڈ، بابائے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ، ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز حکومت پاکستان کی طرف سے دیا گیا۔

ان کی تحریریں اردو کے اخبارات کے علاوہ اردو کی تمام قابل ذکر ویب سائٹس پر موجود ہیں۔ فیس بک پر ان کے پیج مشتاق احمد یوسفی کے نام سے موجود ہے۔

ان کی کتابوں سے چند فقرے

’’دنیا میں جتنی لذیذ چیزیں ہیں ان میں سے آدھی تو مولوی صاحبان نے حرام کر دی ہیں اور باقی  آدھی ڈاکٹر صاحبان نے‘‘۔

’’مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے‘‘۔

’’ کسی نے مرزا صاحب سے پوچھا۔ آپ کے خیال میں محبت شادی سے پہلے ہونی چاہئے یا شادی کے بعد ؟جس پر مرزا صاحب نے ارشاد فرما یا، اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ محبت شادی سے پہلے ہو بعد، مگر بیوی کو اس کی ہوا بھی نہیں لگنی چاہئے‘‘۔

’’چھوٹے ملکوں کے موسم بھی تو اپنے نہیں ہوتے، ہوائیں اور طوفان بھی دوسرے ملکوں سے آتے ہیں، زلزلوں کا مرکز بھی سرحد پار ہوتا ہے‘‘۔

’’اسلام آباد در حقیقت جنت کا نمونہ ہے، جنت کا نمونہ اس اعتبار سے کہ یہاں جو بھی آتا ہے حضرت آدم کی طرح نکالا جا تا ہے‘‘۔

اردو مرکز لاس اینجلس ورلڈ فیمس اکیڈمی آف لیٹرز ۲۰۰۸ئ  کے ایک ادبی اجلاس میں مشتاق احمد یوسفی پاکستان کے معروف شاعر جون ایلیا کے بارے میں ایک طویل بیان سے ایک ابتدائیہ ’’ایک زمانے میں جب ہم جوان تھے اور جون ایلیا ایسے ہی تھے جیسے اب ہیں تو ہم رسالوں میں ان کی غزلیں یہ سمجھ کر بڑے شوق اور بے تابی سے پڑھتے تھے کہ یہ کسی آوارہ اینگلو انڈین لڑکی کا کلام ہے۔ پھر ان سے اچانک مسلم کمرشل بینک میں ملاقات ہو گئی، میں وہاں ملازم تھا رمضان کا مہینہ تھا اور اس دن میں حسب معمول روزے سے نہیں تھا مجھے السر کی شکایت تھی اور جون ایلیا کی صحت بھی اتنی خراب تھی کہ پانی تک سے پرہیز کرتے تھے فرماتے تھے غسل کے لئے پانی ایک کار آمد شئے ہے بشرطیکہ ہفتے میں ایک بار سے زیادہ نہ ہو اس واسطے کہ ’’راحتیں اور بھی غسل کی راحت کے سوا‘‘۔

٭٭٭

 

 

تبصرے

 

احمدؔ علوی پِن ڈرائیو کے آئینے میں

 

                نوید ظفرؔ کیانی

 

احمدؔ علوی کے نام پر ذہن میں از خود ایک ایسے بچے کا تصور ابھرتا ہے جس کی شربتی آنکھوں میں شوخی اور الہڑ پن لشکارے مار رہا ہے۔ اُس کے ہاتھوں میں بہت سی پھلجڑیاں ہیں جسے وہ زمانے کی بسیط ظلمت میں لے کر نکلا ہے۔ اُس کی پھلجڑیوں سے رنگ برنگے شرارے پھوٹ رہے ہیں۔ وہ زمانے کے ملگجے اندھیروں میں طرارے بھرتا پھر رہا ہے۔ جہاں جہاں جاتا ہے، گونا گوں قسم کی روشنیوں کے ننھے ننھے ستارے بکھیرتا چلا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ قلانچیں بھرتے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ وہ سب لوگ اُن رنگ برنگی روشنیوں کے ستارے چُن رہے ہیں اور خوشی سے قلقاریاں مار رہے ہیں۔ ہر طرف موج میلہ ہے اور اس موج میلے کا مرکزی کردار ہے احمد علوی۔

احمد علوی نام کا شوخ و شنگ بچہ محض سرمستی اور الہڑ پن سے دوڑتا نہیں پھرتا بلکہ بسا اوقات اُس کے انداز میں شوخی اور شرارت بھی عود کر آتی ہے۔ جب کبھی بھی زمانے کے بدصورت اور تاریک چہروں والے بھوتوں پر اُس کی نظر پڑتی ہے تو وہ اپنی رنگ برنگی روشنیوں والی پھلجڑی سونت کر اُن پر جھپٹ پڑتا ہے۔ بھوت روشنیوں کی یلغار سے خوفزدہ ہو کر اُلٹے قدموں پیچھے پلٹتے ہیں اور دوڑ لگا دیتے ہیں۔ بچہ تاریکی کے بھوتوں کو بھاگتا ہوا دیکھتا ہے تو خوشی سے کھلکھلا اُٹھتا ہے۔ اُس کی مترنم کھلکھلاہٹوں کی لے پر پھلجڑیوں کے رنگ برنگی روشنیوں والے ستارے رقص کرنے لگتے ہیں اور ایسا سماں بندھ جاتا ہے کہ چاند بھی بادلوں کا لحاف ہٹا کر بڑی دلچسپی سے یہ تماشہ دیکھنے لگتا ہے۔

آپ میری اس خیال آرائی کو محض میری fantasy سمجھ سکتے ہیں لیکن یقین کیجئے کہ میں پوری ایمانداری سے سمجھتا ہوں کہ وہ ظرافت نگار جو مستقل اپنے چلبلے فن کی شمع جلائے ہوئے ہیں، مستقل اسی طلسمِ ہوشربا کا حصہ ہیں اور احمد علوی اُنہیں میں سے ایک ہے۔

احمد علوی ایک ایسا خوش فکر شاعر ہے جو اپنے اندازِ فکر کی لطافت سے ایسی انبساط آگیں کیفیت پیدا کر دیا ہے جو پڑھنے والوں کی توجہ کو مقناطیس کی مانند کھینچتی ہے۔ اُن کے ہاں زبان و بیان کے ساتھ ساتھ اندازِ بیان میں بھی ندرت موجود ہے۔ وہ جس موضوعِ سخن کا انتخاب کرتے ہیں، اُس سے پورا پورا انصاف کرتے ہیں۔ وہ بڑی سنجیدگی اور تواتر کے ساتھ ادبِ لطیفہ کی تخلیق میں مشغول ہے۔

اس کی نظموں اور غزلوں کے موضوعات میں سنجیدگی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ مزاح گو شاعر اور سنجیدگی، یہ بات بعید از قیاس لگتی ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ کسی متین بلکہ سنگین موضوع پر خامہ فرسائی کرنا اور اپنے اندزِ بیان سے اُسے رنگین بنا دینا بھی ایک فن ہے جو ہر کسی کا بودا نہیں ؎

یہ اُس کی دین ہے جسے پروردگار دے

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اُن کے اندازِ بیان کی شعوری و غیر شعوری شرارتوں سے کاوشوں میں موجود فکاہی عنصر پڑھنے والوں پر چھاتا بردار فوج کی طرح حملہ آور ہوتا ہے اور اُسے مطالعہ کے بعد بھی ہینڈز اپ کئے رکھتا ہے۔ ذرا اس قطعہ میں دیکھئے کہ وہ کس معصومیت، سادگی اور روانی سے کیسی کیسی پھلجڑیاں چھوڑے جاتے ہیں۔

لندن کو اُڑ گئے وہ ہنی مون کے لئے

میں لڑکیوں کو شعر سنانے میں رہ گیا

وہ خوش نصیب نسل بڑھانے میں لگ گیا

میں بد نصیب بچے کھلانے میں رہ گیا

الفاظ میں سلاست اور روانی ایسی ہے کہ پڑھنے والا بہے چلا جاتا ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ اندازِ بیان کی سادگی اس کی ریڈر شپ کے اسکوپ کو خاصی متنوع بنا دیتی ہے، جیسے بعض کتابوں پر لکھا ہوتا ہے ’’چھ سے ساٹھ سال کے بچوں کے لئے۔‘‘

ان کے ہاں مزاح خالصاً آمد کا شاخسانہ ہے ۔ ان کی باغ و بہار شخصیت کی برجستگی اورشستگی اس کے فنی محاسن کی از خود آبیاری کرتی ہے۔ تاہم یہ آمد بھی دردمندی اور آگہی کے مسلسل ریاض کا پیشِ خیمہ ہوتی ہے۔ موجودہ دور کی علاقائی سیاست اور سماجی پس منظر مزاح گو شاعر کو ہجو اور استہزا کی جانب راغب کرتا ہے لیکن احمد علوی اس باب میں بھی فکری توازن کو برقرار رکھتا ہے۔ اگرچہ بسا اوقات اُن کا لہجہ خاصا تلخ اور کھردرا بھی ہو جاتا ہے لیکن یہ بھی اُن کی شخصیت کا ایک مثبت پہلو ہے کہ وہ اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے قائل نہیں۔ بادشاہ کی طرف ترت انگشت نمائی کر دیتا ہے کہ ’’بادشاہ سلامت، آپ ننگے ہیں۔‘‘

وہ بڑی بہادری اور جانفروشی سے معاشرے کے اُن منفی عناصر کو للکارتے ہیں جن پر ہاتھ ڈالنا بھڑوں کے چھتے کو چھیڑنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ اِس موقع پر احمدؔ علوی اپنے قلم کو آتش فشاں کے بہتے ہوئے لاوے میں ڈبو لیتا ہے۔

سُرخ گجرات میں کیسر کی ہے رنگت یارو

کتنی مکروہ ہے ووٹوں کی سیاست یارو

یہ ہنر سیکھئے جا کر نریندر مودی سے

کس طرح ہوتی ہے لاشوں پہ حکومت یارو

(حکومت)

چھوڑ دے چھوڑ دے بڑ بولا پن

کچھ رکھا کر زبان پر قابو

کیا مصلّہ بچھاؤں تیرے لئے

ایک رکعت کا بھی نہیں ہے تو

(راج ٹھاکرے )

کچھ سمجھ ہے تو دھو کے میں مت آئے

یہ نہ ہندو کے ہیں نے مسلماں کے ہیں

باپ کو اپنے یہ باپ کہتے نہیں

یہ وفادار بس کرسی امّاں کے ہیں

(لیڈر)

یہ تو وہ احمد علوی ہے جو سماجی بھوتوں پر با آوازِ بلند ’’لاحول‘‘ پڑھتا ہے لیکن ’’پن ڈرائیو‘‘ میں ایک ایسا احمد علوی بھی دکھائی دیتا ہے جو بذلہ سنجی اور شوخ بیانی میں بھی فرد ہے۔ باتوں باتوں میں ایسی دلچسپ بات کہہ جانے والا احمد علوی کہ سننے والا پھڑک اُٹھے۔

جب پڑوسن سے لڑ گئیں آنکھیں

کالا ایک اِک بال کر بیٹھے

پڑھے لکھے تو راکٹوں کے تجربے کیاکیئے

پہونچ گئے ہیں چاند پر لڈّن میاں جگاڑ سے

سو کوششوں سے آئے تھے چندیا پہ چار بال

’’دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں‘‘

بوب کٹ زلفیں کٹا لی ہیں مرے محبوب نے

کیسے شانوں پر لکھوں زلفیں پریشاں ہو گئیں

دوسرے طنز و مزاح نگاروں کی طرح طنزیہ اندازِ بیان بھی احمد علوی کا ایک امتیازی وصف ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ جس مزاح نگار میں بلٹ اِن (built in)طنز کے ڈنک نہ ہوں، وہ یا تو بے مقصد مزاح نگار ہے یا پھر وہ اپنے شعری وجدان میں درست سمت پر سفر نہیں کر رہا ہے۔ ایک شاعر اپنے زمانے کے تمام مسائل اور دکھوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ اُس کی شاعری ہر قسم کی تلخانہ شیرینی سے ناکوں ناک ہوتی ہے، تاہم ایک اچھا طنز نگار رہی ہے جو کسی معاشرے کی ناہمواری پر اس نیت سے نشتر آزمائی کرتا ہے کہ اُس کے ناسوروں کا علاج کر سکے۔

احمد علوی کا شعری اسلوب بھی طنز کے ’’ اندازِ احتجاج‘‘ سے مزیّن ہے۔ پن ڈرائیو میں وہ جا بجا ناوک فگن نظر آتا ہے۔

 

ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے کر اردو سر ہیں کالج میں

غالب گاف سے پڑھنے والے لیکچرر ہیں کالج میں

 

اس کی قسمت بدل نہیں سکتی

ہاتھ میں ٹھیکرا ہی رہتا ہے

چاہے بن جائے وہ کروڑی مل

بھک منگا بھک منگا ہی رہتا ہے

 

وہ کانوینٹ گرل ہے کافی پڑھی لکھی

روداد حسب و نسب کی اب انسٹینٹ بھیج

رشتہ بنے گا بینک کا بیلینس دیکھ کر

تصویر نہیں بینک کا اسٹیٹمینٹ بھیج

 

اور اب ذرا امریکی صدر براک اوبامہ کو امن کا نوبل انعام ملنے پر اُن کا یہ قطعہ ملاحظہ ہو:

سوچتا ہوں امن کا کیسے فرشتہ بن گیا

جس کا کلچر ہی ہمیشہ سے رہا بندوق کا

اَمن کا نوبل پرائیز مل گیا کیسے اُسے

قتل گردن پر ہے جس کی اَن گنت مخلوق کا

پن ڈرائیو میں جس صنفِ سخن کی مقدار سب سے زیادہ ہے وہ ہیں ان کے قطعات۔ اِس فن میں اِنہیں خصوصی تخصیص حاصل ہے۔ قطعہ نگاری کا سب سے بڑا حُسن اس کی حقیقت نگاری ہے۔ شاعر کسی بھی واقعے کو بنیاد بنا کر چار مصرعوں پر مشتمل ایک خیال کو یکجا کرتا ہے۔ احمد علوی کے قطعات میں شگفتگی، دلکشی اور تازگی پائی جاتی ہے۔ اُن کے بعض قطعات ایسے بھی ہیں جس میں اُن کے اندازِ بیان نے آفاقیت بھرکر رکھ دی ہے۔

’’پرانا شعر‘‘ کے عنوان سے ان کا ایک قطعہ ملاحظہ کیجئے :

جتنے آل انڈیے ہیں ڈائس پر

سیڑھیاں شہرتوں کی چڑھتے ہیں

اِن کا استاد ہی نہیں کوئی

شعر سارے چرا کے پڑھتے ہیں

اِن کے قطعات طنز کی کاٹ سے لبالب بھرے ہوئے ہوتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ شگفتگی کی ایک دبیز تہہ بھی اس پر پڑی ہوئی ملتی ہے جس سے پڑھنے والے بہت حظ لیتے ہیں :

فرشتے بھی کلرکوں کی طرح ہوتے ہیں لا پروا

جو تخلیقِ خداوندی بھی سرکاری نکلتی ہے

یہاں پہچان ہو کیسے مونث اور مذکر کی

جسے نورا سمجھتے ہیں وہی ناری نکلتی ہے

پیروڈی لفظ پیروڈیا سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں جوابی نغمہ۔ اس سے مراد ایسی ادبی طرز تخلیق ہے، جس میں کسی نظم یا نثر کی اس طرح نقل کر کے مزاح کا رنگ پیدا کیا جاتا ہے کہ پیروڈی کا لفظی و بحری اہتمام جوں کا توں رہے، تھوڑے سے الفاظ کے رد و بدل یا تبدیلی سے مضمون میں ایسی مضحکہ خیزی پیدا کرنا ہے جس سے نفسِ مضمون کی ایسی کی تیسی ہو کر رہ جائے۔ احمد علوی کو پیروڈی میں یدِ طولیٰ حاصل ہے۔ احمدؔ علوی کی پیروڈی میں یہی خاص بات ہے کہ وہ کسی فن پارے کی پیروڈی کرتے وقت پیروڈی کے جملہ لوازمات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہیں جس سے اُن کی پیروڈی پڑھنے کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ پن ڈرائیو میں آپ کو بہت سی پیروڈیاں پڑھنے کو ملیں گی۔ بھارت کا ایک مشہور فلمی گانا جب اِن کی فکرِ رساکے ہتھے چڑھا تو اس کا کیا حشر ہوا، ملاحظہ فرمائیے :

تم چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو

اچھّی طرح سکا ہوا شامی کباب ہو

۔ ۔ ۔

آنکھیں ہیں جیسے چہرے پہ قبریں کھدی ہوئی

زلفیں ہیں جیسے راہوں میں جھاڑی اگی ہوئی

جانِ بہار تم تو کباڑی کا خواب ہو

تم چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو

۔ ۔ ۔

ایسا نہیں کہ مرتے ہیں بس تم پہ نوجواں

آہیں تمہارے عشق میں بھرتے بڑے میاں

بدبو ہے جس میں شوز کی تم وہ جراب ہو

تم چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو

ایک اور فلمی گانے کی پیروڈی ملاحظہ ہو:

آپ کی نظروں نے سمجھا ووٹ کے قابل مجھے

ڈاکوؤں اور رہزنوں میں کر دیا شامل مجھے

ماشاء اللہ آج تو تعلیم کا میں ہوں وزیر

کم سے کم اب تو نہ کہیئے اَن پڑھ و جاہل مجھے

توڑ دی ہیں میری ٹانگیں اس کے ابآ جان نے

اب بھی محبوبہ سمجھتی ہے مری کامل مجھے

دل بدلنے کے لیئے مجھ کو ملے ہیں دو کروڑ

دل کی اے دھڑکن ٹھہر جا مل گئی منزل مجھے

کل میں ڈرتا تھاپلس سے اب ڈرے مجھ سے پلس

زندگی کی ساری خوشیاں ہو گئیں حاصل مجھے

پھر تو کر سکتا ہوں میں بھی چار سے چھے شادیاں

ساتھ میں بیوی کے مل جائیں اگر دو مِل مجھے

 

اِسی طرح ساحر لدھیانوی کی ایک معروف نظم کی پیروڈی بھی خاصے کی چیز ہے۔ اِس پیروڈی میں اُن کا جارحانہ رنگ، بقول ایک پنجابی محاورے کے ’’بلیاں دے دے کر‘‘ جھلکیاں مار رہا ہے۔

یہ کھٹمل یہ مکھّی یہ مچھر کی دنیا

یہ لنگور بھالو یہ بندر کی دنیا

یہ کتّوں گدھوں اور خچر کی دنیا

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے

یہ عورت یہ مردوں یہ چھکّوں کی دنیا

نہتوں کی ہتھیار بندوں کی دنیا

یہ ڈاکو پولس اور غنڈوں کی دنیا

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے

یہ چوروں یہ لچّوں لفنگوں کی دنیا

یہ کمزوروں کی اور دبنگوں کی دنیا

تپِ دق کے بیمار چنگوں کی دنیا

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے

یہ بش جونیئر اور اوباموں کی دنیا

یہ امریکیوں کے غلاموں کی دنیا

یہ ملآ عمر اور اساموں کی دنیا

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے

جنابوں کی عزت مآبوں کی دنیا

یہ اچھوں کی دنیا خرابوں کی دنیا

یہ چمچوں کو ملتے خطابوں کی دنیا

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے

یہ بندوق کٹّوں طمنچوں کی دنیا

یہ فٹ بال کی اور کنچوں کی دنیا

خوشامد میں مشغول چمچوں کی دنیا

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے

ہوائی جہازوں کی ریلوں کی دنیا

حوالات کی اور جیلوں کی دنیا

یہ ٹرکوں کی دنیا یہ ٹھیلوں کی دنیا

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے

رئیسوں کی دنیا یہ کڑکوں کی دنیا

یہ بے کار آوارہ لڑکوں کی دنیا

ٹریفک سے بد حال سڑکوں کی دنیا

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے

لطیفہ ایک چھوٹی سی حکایت کا نام ہے جس کے اثرات بہت مثبت ہوتے ہیں۔ بقول خواجہ عبدالغفور:

’’لطیفے کا یہ اعجاز ہے کہ روتوں کو ہنسا دے، مردہ دلوں کو زندہ دلی عطا کرے، قنوطیت اور یاسیت کو نابود کر دے، اعصابی تناؤ اور اضمحلال کو دور کر دے، یہ ایک شگوفہ ہوتا ہے لیکن عام فہم اور زود فہم۔ ذرا سے میں موڈ بدل دے مزاج کو شگفتگی بخش دے۔‘‘

لطیفوں پر منظوم چھاپے مارنے کا بھی احمد علوی کا اپنا ہی انداز ہے۔ نہایت نپے تلے انداز میں لطیفوں کو یوں دبوچ لیتے ہیں کہ دیکھا کیجئے۔ ذرا دیگ کی مخبری کے لئے چاول کا یہ دانہ تو ملاحظہ کیجئے :

یہ کہا میں نے پڑوسی سے مدد کر دیجئے

چند مہماں آ گئے ہیں چارپائی چاہئے

چارپائی کے لئے قبلہ نے کر لی معذرت

اپنے گھر کی محترم نے یوں بیاں کی کیفیت

صرف دو ہی چار پائی ہیں مرے گھر میں جناب

رات بھر جن پر رہا کرتے ہیں چاروں محو خواب

ایک پر سوتا ہوں میں اور میرے ابّا محترم

دوسری پر میری بیوی اور مری امّی بہم

سن کے ان کی بات کو میں رہ گیا حیرت زدہ

بیش قیمت زندگی کیوں کر رہے ہو بے مزا

اس طرح ضائع جوانی کا نہ تم حصہ کرو

چارپائی دونہ دو پر ڈھنگ سے سویا کرو

آخر میں احمد علوی کا ایک قطعہ ملاحظہ ہو جس میں قریب قریب ہر مزاح نگار کا الیہ بیان کیا گیا ہے۔

مذاق خود کا ہی خود کو اڑانا ہوتا ہے

اُداس چہروں کو مشکل ہنسانا ہوتا ہے

ہے پل صراط سے باریک راہِ طنزو مزاح

دیا ہواؤں کے رُخ پر جلانا ہوتا ہے

٭٭٭

 

 

 

سہ ماہی کی کتاب

 

پِن ڈرائیو میں احمد علوی کا طنزیہ انداز

 

                روبینہ شاہین بیناؔ

 

طنزو مزاح ایک دودھاری دشنہ کی مانند ہے، اصنافِ ابلاغ میں طنز و مزاح کا استعمال عموماً ایک ساتھ ہوتا ہے، یعنی دو سگے بھائیوں کی طرح لیکن تیکنیکی طور پر اِن میں خاصا فرق ہے۔ ظرافت خالصاً مزاح ہے اور مزاح لکھنے والا کسی پر چوٹ نہیں کرتا بلکہ وہ پڑھنے یا سننے والے کو زندگی کی تلخیوں اور اداسیوں سے دور لے جاتا ہے اور آناً فاناً اُسے ایک ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جو زندگی کے عمرانی، سماجی، معاشی یا سیاسی دکھڑوں سے ماورا ہوتی ہے۔ یہ لمحاتی فرار انسانی زندگی کے لئے از حد ضروری ہے کیونکہ زندگی کا مسلسل غم یا اداسی پتھر پر گرتی ہوتی پانی کی اُن قطروں کے مترادف ہیں جو پتھر کا سینہ چیر کر رکھ دیتے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ کسی با شعور انسان کے لئے اُس کی حسیاتی صحت کو برقرار رکھنے اور اُس کی توانائی اور تازگی کی بحالی کی خاطر مزاح کی متواتر خوراک انتہائی ضروری ہے۔

مزاح یا ظرافت کا سگا بھائی ’’طنز‘‘ ہے۔ طنز کسی بے ہدف تیر کی طرح نہیں ہوتا۔ اس کا نشانہ معاشرے کے وہ غیر ہموار رویے رکھنے والے افراد ہوتے ہیں جو ظاہری طور پر معاشرے کے اہم رکن ہوتے ہیں اور اس قدر طاقت کے حامل ہوتے ہیں کہ معاشرے کے عام و خواص اُن پر انگشت نمائی کی جرأت نہیں رکھتے۔ ایسے میں طنز اُن کی مدد کو آگے بڑھتا ہے۔ طنز تیز چبھتے ہوئے پوشیدہ معنی رکھتا ہے لیکن کثیف اور ثقیل نہیں ہوتا۔ یہ معاشرے کے کسی عنصر پر تنقیدی نقطۂ نظر کی غمازی کرتا ہے لیکن اس کے اثرات خاصے گہرے ہوتے ہیں، تنقید سے قدرے بے اعتدالی کا شکار ہوتا ہے۔ اس کے باوجود اس میں ’’ہجو‘‘ جیسا زہر بھرا ہوا نہیں ہوتا، عموماً مثبت اندزِ فکر کے ساتھ ناقدانہ اسلوبِ بیان میں لعن و طعن اورسرزنش کی چبھن لئے ہوئے۔

خواجہ عبدالغفار اپنی کتاب ’’طنز و مزاح کا تنقیدی جائزہ‘‘ میں طنز پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’طنز تنقید ہے، صدائے احتجاج ہے، دشنامِ یار ہے، تبصرہ ہے، تازیانہ ہے۔ اس کا مقصد اصلاح ہے، پگڑی اچھالنا ہے، احساسِ برتری کا مظاہرہ کرنا ہے، بیہودہ اشخاص اور اشیاء کا مضحکہ اُڑانا ہے۔‘‘

عصرِ حاضر میں ہمارے اردگرد بہت سی ایسی قوتیں مجتمع ہو گئی ہیں جنہوں نے مقدور بھر ہمیں طلسم سامری کے حصار میں جکڑ رکھا ہے۔ یہ قوتیں ایک طرف تو اُن سماجی عناصر پر مشتمل ہیں، جنہوں نے جائز یا ناجائز طریقے سے اثر و رسوخ اور دولت کا انبار اکٹھا کر رکھا ہے اور اب وہ معاشرے کے دوسرے افراد کو کسی کمزور کیڑے مکوڑے سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ وہ رہتے تو دوسرے افراد کے درمیان ہیں لیکن اُنہیں اپنے جیسا نہیں سمجھتے۔ بیجا احساسِ برتری سے مغلوب ہو کر وہ دوسروں پر ہر آئے دِن اپنی دولت اور اثر و رسوخ کی دھاک جماتے پھرتے ہیں۔

اِسی طرح دوسری طرف کسی بھی قوم کے سیاست کے ناہموار پہلوؤں نے بھی طنز نگاروں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ دورِ جدید کی سیاست میں لیڈروں کی سیاسی قلابازیاں اور لوٹا برداریاں ایک عمومی رویہ بن کر رہ گیا ہے۔ سیاسی وفاداریاں کی خرید و فروخت اور ہرے چراگاہوں کی طرف گھوڑوں کا کوچ کر جانا معاشرے کے عام افراد کے لئے خاصے اچنبھے کی بات ہے۔ اسی ناقابلِ قبول سیاسی حالات نے ایسی سچوئشن پیدا کر دی ہے کہ سیاسی طاقت کا پلڑا اُن عناصر کی طرف جھک جاتا ہے جو جمہوری تقاضوں سے عہدہ برا ہونے کی صلاحیت سے یکسر پیدل ہیں۔ افلاطون نے غالباً اسی موقع کے لئے کہا تھا:

Those who are too smart to engage in politics, are punished by being governed by those who are being dumber.

ہمارے ادیبوں اور شاعروں نے ہمیشہ اِس ناہموار اور ناقابلِ قبول حالات کے خلاف مقدور بھر مزاحمت کی ہے۔ اُردو کا مزاحمتی ادب اِس کا بیّن ثبوت ہے۔ اس میں فیض احمد فیضؔ، حبیب جالبؔ، ساحرؔ لدھیانوی وغیرہ قابلِ ذکر شاعر ہیں۔ اِسی طرح کچھ شاعر ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنے اسلوبِ سخن کو طنز و مزاح کے شیریں زہر میں بجھا رکھا ہے اور مسلسل قلم سونتے مصروفِ جہاد ہیں۔ ماضیِ قریب و بعید میں اس سلسلے میں اکبرؔ الٰہ آبادی، دلاور فگارؔ، مسٹر دہلوی، سیدضمیر جعفری وغیرہ قابلِ ذکر ہیں جبکہ موجودہ دور میں بھی بہت سے شاعر ہیں جو اس راستے کے مسافر ہیں، اُن میں بھارت کے شاعر جناب احمدؔ علوی کا نام سرِ فہرست ہے۔

احمدؔ علوی کے طنز کا دائرۂ عمل خاصا وسیع ہے۔ اُنہوں نے زندگی کے کسی پہلو سے اغماض نہیں برتا، ہر اُس موضوع کو گدگدایا ہے جس کا تعلق عوام سے ہے۔ سماجی اور عمرانی ناہمواریوں پر اُس کا طرزِ بیان خاصا لطیف اور ہمدردانہ ہے۔ وہ ایک دائرے کے اندر رہ کر انتہائی شگفتہ بیانی اور بذلہ سنجی کے ساتھ خندہ آور وار کرتے ہیں۔ مثلاً اُن کی ’’مایوسی‘‘ کا ایک انداز ملاحظہ فرمائیے :

لندن کو اُڑ گئے وہ ہنی مون کے لئے

میں لڑکیوں کو شعر سنانے میں رہ گیا

وہ خوش نصیب نسل بڑھانے میں لگ گیا

میں بد نصیب بچے کھلانے میں رہ گیا

احمد علوی کو استہزاء کے خرد مندانہ وار کرنا خوب آتے ہیں۔ وہ اس اچھوتے انداز سے وقوعے کا بیان کرتے ہیں کہ بیساختہ ہونٹوں پر تبسم بکھر بکھر جاتا ہے۔ ایک خانگی معرکے کا بیان ملاحظہ فرمایئے :

غصے میں بیوی یہ بولی شوہر سے

تم نے تو بس ظلم ہی مجھ پر ڈھائے ہیں

میں ہی تم کو پھوٹی آنکھ نہیں بھاتی

سب سے تم نے پیار کے پیچ لڑائے ہیں

بولا شوہر بات اگر یہ سچی ہے

پھر یہ بچے کس کے گھر سے آئے ہیں

بنٹی، ببلی، سونو، مونو، کیا تم نے

انٹر نیٹ سے ڈاؤن لوڈ کرائے ہیں

تیرا میرا جن سے مہکا ہے آنگن

پھول یہ کس کی کوشش نے مہکائے ہیں

انٹر نیٹ کا سرور کب سے ڈاؤن ہے

سارے بچے پین ڈرائیو سے آئے ہیں

احمد علوی کو مذاق کرنا اور مذاق اُڑانا خوب آتا ہے۔ عموماً سیاسی معاملات کے بیان میں اُن کے انداز میں خندۂ استہزاء کا تاثر اُبھرتا ہے جو بظاہر کچھ عجیب بات نہیں کیونکہ بات بارڈر کے اِس طرف کی کی جائے یا اُس طرف کی، لیڈرانِ قومی کے بارے میں رائے عامہ میں بال برابر فرق نہیں۔ اُن کے لہجے کی تلخی میں بھی ایسی گدگداتی ہوئی لہر برآمد ہوتی ہے کہ سننے والا ٹھٹھا مار کر ہنس دیتا ہے۔ اُن کا قطعہ ’’شیطان کا پھوپھا‘‘ ملاحظہ فرمایئے :

جیب میں کرتے کی وعدوں کا پٹارا نکلا

ذہنِ لیڈر میں فقط جھوٹ کا ملبہ نکلا

مانگنے ووٹ جو آیا تھا فرشتہ بن کے

یہ فرشتہ بھی تو شیطان کا پھوپا نکلا

یا پھر لیڈروں کا روڈ شو پڑھئے اور سر دھنئے (صرف اپنا):

ذرا دیکھو تو ان کی سادہ لوحی

ہماری موت پر مرنے لگے ہیں

الیکشن کا ہوا اعلان جب سے

فرشتے روڈ شو کرنے لگے ہیں

ذرا اُن کی اس طنز و مزاح کی دیگ میں سے چاول کا یہ والا دانہ چکھئے :

ہونے لگا ہے اونچا اب قد یہاں ہمارا

اخبار میں چھپا ہے جھوٹا بیاں ہمارا

اب قومی لیڈروں میں اپنا شمار ہو گا

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

احمد علوی ایک مزاح گو شاعر ہے لیکن اُن کا مزاح، مزاح برائے مزاح نہیں بلکہ ایک واضح مقصد لئے ہوئے ہے۔ وہ جن باتوں کو غلط سمجھتے ہیں، اُنہیں غلط ہی کہتے ہیں، اس ضمن میں کسی قسم کے سمجھوتے کے قائل نہیں۔

احمدؔ علوی کا تعلق ایک ایسے علاقے سے ہے جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اور ان کا سابقہ ایک ایسی اکثریت سے ہے جس کے بارے میں تاثر ہے کہ وہ اقلیتوں سے عموماً اور مسلمانوں سے خصوصاً بغض رکھتے ہیں۔ ماضی میں کانگریس کی حکومت رہی ہے جو لبرل ازم کی پرچارک تھی چنانچہ مسلمانوں کے مسائل کا کچھ نہ کچھ دال دلیا ہو ہی رہتا تھا تاہم بدقسمتی سے اِس وقت بھارت میں ایک ایسی جماعت کی حکومت ہے جو اسلام دشمنی کے لئے مشہور ہے اور جو مسلمانوں سے نفرت کے نعرے پر ووٹ لے کر حکومت میں آئی ہے چنانچہ اُس نے ملک میں ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ جہاں کسی فنکار کا مسلمانوں کے ایشو پر بات کرنا خاصا مشکل کام ہے۔ احمد علوی کمال جرأت مندی سے اس دشواری سے بھی عہدہ برا ہوتے نظر آتے ہیں۔ مثلاً ڈاڑھی کو طالبانی علامت کہنے پر وہ رقمطراز ہیں :

مبارک ہو نیائے مورتی کو

تمہارے نیائے کا کوئی ہے ثانی

ہے داڑھی گر علامت طالباں کی

تو کیا پی ایم بھی ہے طالبانی؟

مسئلۂ کشمیر پر بات کرنا تو کجا، اس کا استعاراً ذکر کرنا بھی بھارت میں آپ کی حُب الوطنی پر سوالیہ نشان لگانے کے لئے کافی ہے۔ خصوصاً اس کی متنازعہ حیثیت کی وجہ سے وہاں کے لوگوں پر بھارتی تشدد کا بیان کسی کو بھی غدار ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ بھارت میں بہت سے ایسے شعراء گزرے ہیں جو اپنی انسانیت پسندی شاعری کی وجہ سے معروف ہیں، ان میں ساحرؔ لدھیانوی قابلِ ذکر ہیں۔ ساحرؔ نے ’’ ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق‘‘ کے بارے میں تو استفسار کیا ہے لیکن وہ ’’ ثنا خوانِ تقدیسِ بھارت‘‘ سے کشمیر کے بارے میں ایک سوال بھی نہ پوچھ سکے۔ یہاں پہنچ کر اُن کے پر بھی جل اُٹھے۔ احمدؔ علوی کے ہاں یہ موضوع موجود ہے۔ وہ کمال جرأت سے اپنی ایک نظم میں بھی سوال کرتا نظر آتا ہے۔

نہائی لہو میں یہ تصویر کیوں ہے

سلگتا یہ آسام و کشمیر کیوں ہے

جدا ہند سے ان کی تقدیر کیوں ہے

جنہیں ناز ہے ہند پر وہ کہاں ہیں

اور پھر

ملا کوئی لیڈر نہ معقول اب تک

سدھاری نہ ہم نے کوئی بھول اب تک

سلگتے ہیں کشمیر کے پھول اب تک

جنہیں ناز ہے ہند پر وہ کہاں ہیں

اسی طرح اسی حوالے سے اپنی صحافت پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

سُرخ نکسل وادیوں کی ذہنیت تو زرد ہے

ان کی دہشت گردیوں پہ سب کا لہجہ سرد ہے

ہم نوا کشمیریوں کا کوئی کیا ہمدرد ہے

پتھروں سے لڑنے والی قوم دہشت گرد ہے

نکسلی اپنے ہیں دشمن وادیِ کشمیر ہے

ملک میں قومی صحافت کی یہی تصویر ہے

بش کو جوتا پڑا تو بہت سوں نے اس کا ٹھٹھا اُڑایا اور امریکہ کی انسانیت دشمنی پر انگشت نمائی کی۔ احمد علوی بھی اس جہاد میں شامل نظر آتے ہیں۔

وہ ہے دنیا کا نامور غنڈہ

اس پہ تنقید کس کے بوتے کی

اس کو کیسے کہوں سپر پاور

جس کی اوقات ایک جوتے کی

’’پن ڈرائیو‘‘ میں جس نظم نے مجھے بہت زیادہ آزردہ خاطر کیا وہ اُن کی نظم ’’ ٹھاکرے اور جناح‘‘ ہے۔ اس نظم میں مجھے احمد علوی ایک ایسا احمد علوی نظر آتا ہے، جس کا وجدان اور آگہی اُنہیں عناصر کی پروردہ لگی ہے جس کے وہ نقاد ہیں۔ پہلے ذرا اس نظم کے ابتدائی دو بند ملاحظہ کیجئے :

اُس نے مسلم کو کیا تھا گمراہ

تو مراٹھوں کو کر رہا ہے تباہ

تیرا اور اُس کا ایک جیسا گناہ

پھر بھی غدّار نہیں تو واواہ

 

وہ تھا تقسیم وطن کا مجرم

تیرا اپرادھ بھی نہیں ہے کم

جس طرح تھا جناح مسلم کا

تو مراٹھوں کا قائدِ اعظم

بھلا محمد علی جناح اور بال ٹھاکرے کا کیا مقابلہ۔ ’’بدھو میاں بھی حضرتِ گاندھی کے ساتھ ہیں ؟‘‘ ایک انتہائی متعصب اور تنگ نظر ہندو لیڈر جس کا کام کچھ اور نہیں، مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے خلاف نفرت کے شعلے بھڑکانا ہے۔ جس کے ہاتھ لاکھوں انسانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ جو ایک موالی سے زیادہ حیثیت کا حامل نہیں۔ دوسری طرف قائدِاعظم محمد علی جناح کی صورت مسلمانانِ برِصغیر کو ایک نجات دھندہ مل گیا تھا۔ قائدِ اعظم نے بھارت کے نام نہاد اکثریتی کمیونٹی سے دوستی کے لئے اتمام حجت کے طور پر ہر حد تک گئے۔ اُنہوں نے تو سیاست کا آغاز ہی کانگریس سے کیا اور خلوصِ دل سے چاہا کہ برِ صغیر میں موجود تمام اقوام مل جل کرسیاسی طور پر مشترکہ طور پر آزادی کی جد و جہد کریں لیکن ہندو نیتاؤں کے اِسی انداز کے انتہا پسندانہ رویوں نے اُن کے جد و جہد کا رُخ تبدیل کر دیا جن پر احمد علوی انگشت نمائی کرتے پھرتے ہیں۔ اگر بال ٹھاکرے سے کسی کا تقابلی جائزہ بنتا ہے تو وہ ہمارے ایک موجود لیڈر ’’الطاف حسین‘‘ ہو سکتے ہیں جن کی سیاست عین اُنہیں خطوط پر استوار ہے جن پر بال ٹھاکرے کی ہے، فرق صر اِتنا ہے کہ الطاف حسین کو ایک صوبے کے متعصب اور تنگ نظر اکثریت کی حمایت حاصل ہے، جو لگ بھگ اپنی منطقی انجام کو پہنچ چکی ہے جبکہ بال ٹھاکرے کے انڈے بچے بھارت میں خوب پنپ رہے ہیں اور اپنے مضر اثرات سے دنیائے امن کو تہ و بالا کرنے میں مگن ہیں۔

خیر، اِس بحث کا یہاں کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اِس موضوع کی تفہیم اس قدر اختصار کی متحمل نہیں ہو سکتی، تاہم۔ ۔ ۔

زخم الفاظ کے نہیں بھرتے

زخم تلوار کے بھر جاتے ہیں

کام ہوتا نہیں جو تیروں سے

تیرے دو لفظ ہی کر جاتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

پِن ڈرائیو سے انتخاب

 

                ادارہ

 

بدن پہ سوٹ اُردو کا گلے میں ٹائی اُردو کی

انہیں معلوم ہے گہرائی اور گیرائی اُردو کی

بجاتے ہیں ہر اک محفل میں یہ شہنائی اُردو کی

کہ ساری عمر کھائی ہے فقط بالائی اُردو کی

پروفیسر یہ اُردو کے جو اردو سے کماتے ہیں

اسی پیسے سے بچوں کو یہ انگریزی پڑھاتے ہیں

(اُردو کے پروفیسر)

 

اُردو ادب کا یہ بھی المیہ ہے دوستو

منزل ہے سب کی ایک ہی اور ایک راہ ہے

غالب پہ ہے تمام ہر اک نقدِ شاعری

غالب سے آگے سوچنا تک بھی گناہ ہے

(اُردو کا نقّاد)

 

سکوں گھر میں نہیں جن کو میسّر

زبانی ہا تھا پائی کر رہے ہیں

ستائے ہیں جو اپنی بیویوں کے

وہ شعراء کی کھنچائی کر رہے ہیں

(کھنچائی)

 

مشاعرے جو کراتے ہیں چندہ کر کر کے

انہیں کو صرف میں فر شی سلام کرتا ہوں

یہ لوگ مجھ کو سمجھتے ہیں شاعر اعظم

میں جاہلوں کا بہت احترام کرتا ہوں

(فرشی سلام)

 

وہ جو آنکھوں کو لال کر بیٹھے

ہم بھی شادی کی ٹال کر بیٹھے

بن گئی فوج بچوں کی گھر میں

دونوں مل کر کمال کر بیٹھے

ایک مچھلی بھی پھانسی نہ ہم نے

کانٹا دریا میں ڈال کر بیٹھے

اک عربی حسینہ پہ مر کے

خرچ سارے ریال کر بیٹھے

جب پروسن سے لڑ گئیں آنکھیں

کالا اک اک بال کر بیٹھے

جس نے تھانے میں پیٹا تھا ہم کو

پھر اسی کا خیال کر بیٹھے

(ہزل)

 

جن میں اکثر مری بکواس چھپا کرتی ہے

وہ رسالوں کے یہ انبار نہیں پڑھ سکتی

اس لئے آج بھی محفوظ ہے شادی اپنی

میری بیوی مرے اشعار نہیں پڑھ سکتی

(شادی)

 

حسینوں پر نہیں ڈالی کبھی گندی نظر ہم نے

انہیں جنّت سے ہم نکلی ہوئی پریاں سمجھتے ہیں

ہمیشہ ان کو دیکھا ہم نے پاکیزہ نگاہوں سے

کہ ہر خاتون کو ہم بچوں کی امّاں سمجھتے ہیں

(اقبالیہ بیان)

 

باپ کے بعد بن گیا دادا

میری آنکھوں پہ چڑھ گیا چشمہ

میرے ہاتھوں میں آ گیا رعشہ

اڑ گئے بال ہو گیا گنجا

زندگی سے یہی گلا ہے مجھے

تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے

(نذرِ احمد فراز)

 

جو نکلے برش پکاسو سے ایک بار گدھے

بنے فنون لطیفہ کے شاہکار گدھے

گدھوں کی پینٹنگ تو واقعی میں جادو تھی

گدھوں کی قوم جو منت کش پکاسو تھی

تمام جانور اعزاز سے رہے محروم

مگر گدھوں سے سجے ہیں سبھی کے ڈرائنگ روم

بڑھی ہوئی جو گدھوں کی بہت پرائیز ہے

گدھا تمام امیروں میں رکگنائیز ہے

کسی نے شیر کو اعزاز یہ نہیں بخشا

مرے خیال میں خچّر گدھے سے بہتر تھا

مصوری کے لیئے کیوں چنے پکا سو نے

سمجھ میں کچھ نہیں آتا گدھے پکاسو نے

گدھوں سے اس کو یقیناً تھی کچھ نہ کچھ نسبت

سمجھ میں آئی پکاسو کو گدھوں کی عظمت

حویلیوں میں امیروں کی گدھے پہونچائے

بنے امیری کی پہچان گدھوں کے سائے

رئیس گھر میں لگائیں گدھوں کی تصویریں

کہ چمکیں برش سے کیسے گدھوں کی تقدیریں

گدھے جو بوجھ اٹھائیں یتیم ہوتے ہیں

جو پوٹریٹ میں چھائیں عظیم ہوتے ہیں

گدھے کہ سمجھا جنہیں سب نے قابل نفرت

انہیں گدھوں کو پکاسو نے بخش دی شہرت

گدھے کا آرٹ بنایا بڑا کمال کیا

کہ پینٹر نے گدھے پن کو لازوال کیا

گدھے جو بیچنے نکلو ٹکوں میں بکتے ہیں

گدھوں کے پوٹریٹ پر ڈالروں میں بکتے ہیں

بنے ہیں برش کی جنبش سے آنجناب گدھے

یہ بے مثال گدھے اور یہ لاجواب گدھے

پرکھ نہ اصل کی ہو گی کبھی زمانے میں

کہ نقل اصل سے ہے قیمتی زمانے میں

نہ ہوتے طنزیہ شاعر اگر گدھے ہوتے

کسی امیر کے بنگلے میں ہم سجے ہوتے

(پکاسو کے گدھے )

 

کیا مِلیں کپڑوں کی نذرِ باد و باراں ہو گئیں

دخترانِ قوم جو سڑکوں پہ عریاں ہو گئیں

رات اور دن ہو رہی ہیں قافیہ پیمائیاں

آج کی غزلیں بنا سوئی کی گھڑیاں ہو گئیں

رو رہے آپ اک پرچون کی دوکان کو

مملکت کتنی جہاں میں نذر خوباں ہو گئیں

جب سے اپنے شہر میں آئیں بلو لائین بسیں

مشکلیں کچھ مرنے والوں کی بھی آساں ہو گئیں

بوب کٹ زلفیں کٹا لی ہیں مرے محبوب نے

کیسے شانوں پر لکھوں زلفیں پریشاں ہو گئیں

(ہزل)

 

قورمہ ٹوسٹ بٹر یاد آیا

پھر مجھے لقمۂ تر یاد آیا

لوز موشن ہوئے جب بھی مجھ کو

پر تکلّف وہ ڈنر یاد آیا

جب ہوا ساس بہو کا جھگڑا

ففٹی سیون کا غدر یاد آیا

بن گیا اس کی گلی کا کتآ

پھر اسے گھاٹ نہ گھر یاد آیا

جس گھڑی صاف ہوئی جیب مری

دستِ بیگم کا ہنر یاد آیا

(ہزل)

 

سوتے ہوئے کلوا کو جب آتے ہیں خرّاٹے

موسیقی نئی فلم کی بن جاتے ہیں خرّاٹے

معلوم یہ ہوتا ہے بھوکمپ کوئی آیا

جس وقت فضاؤں میں لہراتے ہیں خرّاٹے

یہ شکل بھی ہے یارو اک فنِ لطیفہ کی

ٹھمری تو کبھی دادرا سنواتے ہیں خرّاٹے

خوابوں میں حسینائیں بھی آنے سے ڈرتی ہیں

جب نیند میں یارو بس رہ جاتے ہیں خرّاٹے

آواز کہ ہو جیسے سو کے وی کا جر نیٹر

یوں کان پہ نقّارے بجواتے ہیں خرّاٹے

کانپ اٹھتا ہے کہتے ہیں کہ عرشِ معلی بھی

خرّاٹوں سے جس شب میں ٹکراتے ہیں خرّاٹے

(خرّاٹے )

 

لاٹری میں ایک دن اپنا بھی نمبر آ گیا

نیلے نوٹوں کا نشہ ہم پر آخر چھا گیا

سوچا کر کے دیکھیں ہم بھی کچھ امیری چونچلے

جا کے بازاروں میں لوٹیں خرچ کرنے کے مزے

باپ کے ہوتے ہوئے بچے ہمارے تھے یتیم

آج کھلوا دیں انہیں بادام کی آئیس کریم

بیس سالوں سے میں بیگم کر رہا ہوں تم کو مس

آؤ دلوا دوں تمہیں سونے کا بھاری نیکلس

اب گھما لاؤں تمہیں شملہ مسوری نینی تال

گھر سے ہم نکلے نہیں شادی کو گذرے بیس سال

آؤ مستی میں گذاریں ہم بھی کچھ دن گھوم کر

ہم نے بیگم سے کہا بیگم چلو ہنی مون پر

بولی بیگم تھک چکی ہوں مان لو میری یہ بات

آج تو ہنی مون پر لے جاؤ امّاں جی کو ساتھ

(ہنی مون)

 

مرغی مرغی کی شادیاں ہوں گی

مرغ مرغے کی چونچ چومے گا

فیصلہ عدلیہ کا آیا ہے

بیل کے ساتھ بیل گھومے گا

 

سرد اور گرم سے یہ بنتی ہے

فلسفہ ہے یہی انرجی کا

دخل انساں کا نہیں قدرت میں

یہ نہیں کام اپنی مرضی کا

 

صرف آدم سے کام چل جاتا

پیدا کرتا نہ خدا حوّا کو

غیر فطری عمل ہے ہم جنسی

ہے پتہ منصفی کے ابّا کو

 

عدلیہ کو نہیں ہے کیا معلوم

پیڑ پودوں میں بھی ہیں مادہ و نر

نیگٹیو پوزٹیو کے ملنے سے

شاخ در شاخ ہیں ثمر آور

 

آج سائنس کا یہ کہنا ہے

یہ جو ہیں مان سون کے بادل

ان میں بھی نر و مادہ ہوتے ہیں

جن کے ملنے سے ہے زمیں جل تھل

 

یہ چرندوں میں بھی نہیں ملتی

یہ پرندوں میں بھی نہیں ملتی

اشرف المخلوقات کی عادت

گندے کیڑوں میں بھی نہیں ملتی

 

تار جب سرد گرم ملتے ہیں

تب کہیں گھر کے بلب جلتے ہیں

یہ ہی لاجک ہے سب مشینوں کا

ایسے ہی کارخانے چلتے ہیں

 

ضد نہ جس شے کی ہو زمانے میں

ایسی شے بے وجود ہوتی ہے

زندگی میں مخالفت کے طفیل

زندگی کی نمود ہوتی ہے

 

دے جو بے ہودگی کو سرٹیفکٹ

کام یہ تو نہیں عدالت کا

اس کو ٹھہرائے صحیح قانوناً

طوق ڈالے گلے میں لعنت کا

 

گندگی مغربی تمدّن کی

ارضِ مشرق میں لا رہے ہو کیوں

ان کے کردار کا یہ گندہ پن

اپنی عادت بنا رہے ہو کیوں

(ہم جنسیت)

 

قیمے کی، قورمے کی، یا شامی کباب کی

اب کیا مثال دوں میں تمہارے شباب کی

دو شوہروں سے آئی ہے لے کر طلاق وہ

ہم نے بھی خوامخواہ ہی نیّت خراب کی

پیسے بہت ہیں آپ پر مر کے تو دیکھیے

اٹھّے گی دھوم دھام سے میّت جناب کی

پاگل ہمارے عشق میں کیٹرینا کیف ہے

خوابوں میں اچھی لگتی ہیں باتیں یہ خواب کی

بیوی بھی ان کو کہنے لگی اب تو بھائی جان

تبدیل کر دی عشق نے صورت جناب کی

(پیروڈی)

 

اس سے شادی کے لیئے ہر مہ جبیں تیار تھی

چار شادی کر چکا تھا پانچویں تیار تھی

اس کا سہرا، شیروانی بالیقیں تیار تھی

کیا خبر تھی قبر بھی اس کی وہیں تیار تھی

 

اس اچانک موت نے ارمان چوپٹ کر دیئے

پانچویں شادی کے سب سامان چوپٹ کر دیئے

(اچانک موت)

 

راہ چلتے اتفاقاً مل گیا تھا ایک دن

قید بوتل میں دھوئیں کی شکل میں تھا ایک جن

 

دیکھ کر جن نے مجھے بوتل کے اندر سے کہا

اے شریف النفس انساں درد میرا سن کے جا

 

ایک جادوگر نے پکڑا تھا مجھے بنگال سے

قید ہوں بوتل کے اندر میں ہزاروں سال سے

 

دن مہینے سال صبح و شام آؤں گا بہت

مجھ کو کر آزاد تیرے کام آؤں گا بہت

 

اک دھوئیں کی شکل میں ظاہر ہوا پر تول کر

کر دیا آزاد جن کو میں نے بوتل کھول کر

 

اہل دانش کا ہے کہنا آسماں ہو یا زمیں

زندگی میں دوست آزادی سے بڑھ کر کچھ نہیں

 

تو نے آزادی کی وہ نعمت چکھائی ہے مجھے

قید سے برسوں کی آزادی دلائی ہے مجھے

 

اب سے تو آقا ہے میرا اور میں تیرا غلام

آج سے آساں سمجھ مشکل سے مشکل اپنا کام

 

رنگ برنگی تتلیوں میں خوشبوؤں کا ذکر ہوں

محترم جن میں غزل کا شاعر خوش فکر ہوں

 

چھے کتابیں لکھ چکاہوں ساتویں تیار ہے

شاعر اعظم ہوں میری ہر غزل شہکار ہے

 

جان کر میرا تعارف جن بہت گھبرا گیا

التجا سن کر مری سکتہ سا جن کو آ گیا

 

حکم تیرا میں کسی صورت بجا سکتا نہیں

تو غزل کہتا ہے میں مصرعہ پچا سکتا نہیں

 

نیم سے بھی تلخ ہے آقا رہائی کی یہ قند

میرے محسن تو مجھے کر دے ابھی بوتل میں بند

(بوتل کا جن)

٭٭٭

 

پِن ڈرائیو

 

                ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی

 

احمد علوی کی پن ڈرائیو میں

موجزن ہے ہنسی خوشی کا جام

ان کے طنز و مزاح سے ہے عیاں

کتنا ظالم ہے عہدِ نو کا نظام

جن کا مخفی ہے ظاہر و باطن

کرتے ہیں ان کا راز طشت از بام

جن کے چہروں پہ ہے کنسی عنقا

گُگگُداتا ہے ان کو ان کا کلام

شہر دہلی میں ہیں وہ رونقِ بزم

بھیجتے ہیں مجھے سلام و پیام

پن ڈرائیو پہ ان کے یہ گوشہ

ان کے حق میں ہے اک حسیں انعام

٭٭٭

 

 

 

 

جستہ جستہ

 

                کاتبِ تحریر

اکبرؔ  الہٰ آبادی کاتبوں کی ’’غلط نوازیوں‘‘ سے بہت دل برداشتہ خاطر رہتے تھے۔ مولانا ظفر الملک علوی (ایڈیٹر ماہنامہ الناظر) کو ایک خط (مطبوعہ الناظر، یکم جنوری ۱۹۱۰ء ) میں تحریر فرماتے ہیں۔

’’اپنے مسودات خود نہیں پڑھ سکتا۔ کاتب کو ہدایت میں نہایت دقت ہوتی ہے۔ کاتب صاحب ایسے ’’ذی استعداد‘‘ ہیں کہ ’’کونسلوں میں سیٹ‘‘ کو ’’گھونسلوں میں بیٹ‘‘ لکھ دیتے ہیں۔‘‘

 

                ضرورت برائے رشتہ

ایک دوشیزہ جس کی عمر ۱۸ برس (گزشتہ دس سال سے )، اعلی تعلیم یافتہ (ایم اے۔ ٹی۔ آر۔ آئی۔ سی )، دراز قد ( ساڑھے تین فٹ) حسین و جمیل( خود کو سمجھتی ہے )کو ایسا لڑکا جو اعلی تعلیم یافتہ(عامر لیاقت جیسا) رنگت جیسی بھی ہو(کالی نہ ہو)، شکل میں شاہ رخ جیسا، باڈی میں سلمان جیسا، قد میں سنجے دت جیسا، آواز میں عاطف اسلم جیسا، دولت میں بل گیٹس جیسا، نیک سیرت مولانا طارق جمیل۔ ۔ ۔ جیسادرکار ہے۔ عمر کی کوئی قید نہیں (۳۰ سے زیادہ نہ ہو)۔  نوٹ اِن تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ گونگے اور بہرے کو ترجیح دی جائے گی۔

ارسلان بلوچ

 

                زور آور شاعر

وہ اپنے مکان کے چبوترے پر ڈُھکّی لگائے بیٹھے رہتے تھے کہ کوئی شاعر ادھر سے گزرے اور وہ اس کو اپنا کلام سنائیں۔ اور جب کوئی شاعر ان کے ہتھے چڑھ جاتا تھا وہ اس کو اپنے کمرے میں لے آتے، بڑی مدارت کرتے اور اپنا کلام سنانے لگتے تھے

یہاں تک تو کوئی عجیب بات نہیں تھی، ہزاروں شاعروں کو ہَوکا ہوتا ہے اپنا کلام سنانے کا مگر ان میں یہ عجیب بات تھی جب وہ کسی شاعر کو پھانس کر اپنے کمرے میں لے آتے تھے تو ان کا سُدھا ہوا ملازم کمرے کے تینوں دروازوں میں باہر سے زنجیر لگا دیا کرتا تھا کہ پھنسا ہوا شاعر بھاگ نہ سکے۔ جب باہر سے دروازے بند ہو جاتے تھے تو وہ الماری کھول کر اپنا دیوان نکال لاتے اور غزلیں سنانا شروع کر دیا کرتے تھے اور سننے والا جب ان کو داد دیتا تھا تو ہر داد پر، بڑے تحکمانہ انداز سے وہ حکم دیتے تھے ’’کھڑے ہو جائیے‘‘ اور جب وہ حیرت زدہ ہو کر کھڑا ہو جاتا تھا تو اس کو اس طرح بھینچ کر گلے لگاتے تھے کہ ان کی پسلیاں بولنے لگتی تھیں۔

ذرا تصور کی آنکھوں سے یہ سماں دیکھیئے کہ گمنام پٹھان شاعر صاحب، اپنا کلام سنارہے ہیں اور سننے والا واہ، واہ، سبحان اللہ کہہ رہا ہے اور اس بیچارے داد دینے والے کو بار بار یہ حکم دیا جا رہا ہے ’’کھڑے ہو جائیے، کھڑے ہو جائیے‘‘ اور جب وہ تھکا ماندہ کھڑا ہو جاتا ہے تو اس کو بڑے زور سے گلے لگایا جا رہا ہے۔ العظم با للہ، کوئی حد بھی اِس عذابِ مسلسل کی۔

اور ایک صاحب نے تو یہاں تک بیان کیا تھا کہ جب بار بار کھڑے ہونے اور ہر بار گلے ملنے سے تھک کر انھوں نے یہ کہا کہ اب مجھ میں بار بار کھڑے ہونے کا دم باقی نہیں رہا ہے تو ان پٹھان شاعر صاحب نے اپنے تنبیہہ الغافلین ڈنڈے کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا ’’اٹھیئے، نہیں تو اس سے آپ کا سر توڑ دوں گا۔‘‘

یادوں کی بارات از  جوشؔ ملیح آبادی

 

                ٭٭

کچھ دنوں میں ایک دوست کی شادی ہونے والی تھی۔

میں نے پوچھا ’’یار مجھے اپنی شادی میں دعوت دو گے کہ نہیں۔‘‘ بڑی معصومیت سے کہنے لگا ’’یار لڑکی والوں نے تھوڑے لوگ مانگے ہیں پتا نہیں مجھے بھی ابو لے کے جاتے ہیں کہ نہیں۔‘‘

ارسلان بلوچ

 

                ٭٭

کل صبح بائیک چلاتے ہوئے غلطی سے بائیک کی لائٹ بند کرنا بھول گیا تقریباً ۱۵۰ لوگوں نے مجھے کہا ہو گا کہ بھائی لائٹ اُوف کر لیں۔ ۔ خیر میں نے لائٹ بند کر دی۔

لیکن کل ساری رات میں لائٹ بند کر کے گھومتا رہا مگر کسی نے نہیں کہا کہ بھائی لائٹ اُون کر لیں۔ ۔ ۔ بڑے آئے واپڈا کے طرفدار۔

ارسلان بلوچ

 

                ٭٭

عمومی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ سردار یعنی سکھ ایک بیوقوف قوم ہے لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ سردار ہی تو ایک سمجھدار قوم ہے جس میں رواج ہے کہ دُولہے کو شادی والے دن ہاتھ میں تلوار دی جاتی ہے اور یہ سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ شادی کوئی گُڈی گُڈے کا کھیل نہیں بلکہ ایک ایسی مسلسل جنگ کا آغاز ہے جو ہمیشہ ہوتی رہے گی۔ ۔ ۔ بلکہ یہ ایک خاص قسم کی جنگ ہے جس میں آغاز سے پہلے خوب خوشیاں منائی جاتی ہیں۔

ارسلان بلوچ

 

                ٭٭

آج سے دس بارہ سال پہلے جب دولہا منہ دِکھائی کے طور پر دلہن کو کوئی تحفہ دیتا تھا تو دلہن کے منہ سے اچانک خوشی سے نکلتا تھا۔ ۔ ۔ ہائے گولڈ رنگ، ہائے سلور رنگ ہائے ڈائیمنڈ رنگ۔ ۔ ۔ لیکن آج کل آواز آتی ہے ہائے آئی فون سِکس، ہائے سیمسنگ گلیکسی، ہائے سمارٹ فون۔

ارسلان بلوچ

 

                ٭٭

خواتین کی خواندگی کا عالم یہ ہے کہ ایک خاتون کی سرکردگی میں ایک سروے ٹیم بلوچستان گئی، وہاں کئی قصبوں اور گاؤں میں پھرنے کے بعد ٹیم نے بتایا کہ اس سارے سفر کے دوران ہمیں صرف ایک پڑھی لکھی خاتون نظر آئی اور یہ خاتون وہ تھی جس کی سرکردگی میں یہ سروے ٹیم بلوچستان گئی تھی۔ اب ظاہر ہے کہ ہمارے ہاں اتنے ان پڑھ ہیں تو ان کی نمائندگی کے لئے بھی ان پڑھ ہی چاہئیں تاکہ وہ اسمبلی میں اس اکثریت کے مسائل بتا سکیں۔ اس لئے ہمارے ہاں سیاست دانوں میں ہائی تعلیم یافتہ وہ ہوتا ہے جو ہائی جماعت تک گیا ہو۔ یوں بھی پڑھے لکھے نورتن ہوتے ہیں، اکبر بننے کے لئے اَن پڑھ ہونا ضروری ہے۔ ہمارے ایک وزیر سے ایک غیر ملکی صحافی نے پوچھا۔ ’’آپ کی تعلیم؟‘‘ جواب ملا۔ ’’ایم اے، کر لیتا اگر میٹرک میں رہ نہ جاتا۔‘‘

وکٹر ہو گیو نے کہا ہے ’’بے روزگاری ماں ہے جس کا ایک بچہ لوٹ مار اور ایک بچی بھوک ہے۔‘‘ ہمارے ہاں اس زچہ بچہ کی صحت کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ یہ سب سن کر میرا ایک دوست کہنے لگا ’’اس سے تو لگتا ہے ایک بے روزگار سے زیادہ مظلوم دنیا میں کوئی نہیں۔‘‘

ہم نے کہا ’’ایک بے روزگار سے زیادہ مظلوم بھی دنیا میں ہیں۔‘‘

بولا ’’کون؟‘‘

ہم نے کہا ’ ’دو بے روزگار۔‘‘

ڈاکٹر یونس بٹ

 

                سوال جواب

سوال میں ہائی سکول میں پڑھتا ہوں لیکن کورس کی کتابوں کے علاوہ لائبریری کے رسالوں اور کتب کے مطالعے کا بھی شوق ہے۔ آپ سے پوچھنا ہے کہ ایک طرف تو خودی کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے ادھر ایک بڑے مشہور شاعر نے ’’اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہئے‘‘ کی خواہش ظاہر کی ہے، بھلا کس پر عمل کیا جائے ؟

جواب ہم نے آپ کے سوال کے سلسلے میں تین شاعروں، چار نقادوں اور پانچ پروفیسروں سے رابطہ قائم کیا، لیکن وہ اب تک خاموش ہیں۔ جوں ہی ہمیں کوئی تسلی بخش جواب ملا، فوراً شائع کر دیں گے۔ مطمئن رہیں۔

دریچے از شفیق الرّحمٰن

 

                موٹر سائیکل

میرا دوست ’’ف‘‘ کہتا ہے محبت بڑا بے زبان جذبہ ہے، یعنی اظہار کے لئے زبان کا محتاج نہیں۔

’’ف‘‘ کہتا ہے میں موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھنے والے کے انداز سے اس کے چلانے والے کے ساتھ رشتے کا اندازہ لگا سکتا ہوں۔ اگر موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھی خاتون کے بجائے چلانے والا شرما رہا ہو تو سمجھ لیں وہ اس کی ’’اہل خانہ‘‘ ہے اور اگر وہ اس طرح بیٹھے ہوں کہ دیکھنے والے شرما رہے ہوں تو سمجھ لیں ’’اہل کھانا‘‘ ہے۔

موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھنا بھی ایک فن ہے۔ خواتین منہ ایک طرف کر کے یوں بیٹھتی ہیں کہ جیسے ابھی اترنے والی ہوں۔ بلکہ بعض اوقات بیٹھی ہوئی نہیں بٹھائی ہوئی لگتی ہیں۔ کچھ خواتین تو خوفزدہ مرغی کی طرح پروں میں کئی بچے چھپائے ہوئے ہوتی ہیں۔ لگتا ہے سفر نہیں‘‘suffer ’’ کررہی ہیں۔ چند یوں بیٹھی ہوتی ہیں جیسے چلانے والے کی اوٹ میں نماز پڑھ رہی ہوں۔ بعض تو دور سے کپڑوں کی ایک ڈھیری سی لگتی ہیں۔ جب تک یہ ڈھیری اتر کر چلنے نہ لگے، پتا نہیں چلتا اس کا منہ کس طرف ہے ؟

نئی نویلی دلہن نے خاوند کو پیچھے سے یوں مضبوطی سے پکڑ رکھا ہوتا ہے جیسے ابھی تک اس پر اعتبار نہ ہو۔ جبکہ بوڑھی عورتوں کی گرفت بتاتی ہے کہ انہیں خود پر اعتبار نہیں۔

جب میں کسی شخص کو سائیکل کے پیچھے بیٹھے دیکھتا ہوں جس نے اپنے جیسا انسان سائیکل میں جوت رکھا ہوتا ہے تو میرے منہ سے بددعا نکلتی ہے۔ مگر جب میں کسی کو موٹر سائیکل کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چلانے والے پر اعتماد کئے بیٹھے دیکھتا ہوں تو میرے منہ سے اس کے لئے دعا نکلتی ہے کیونکہ اس سیٹ پر مجھے اپنی پوری قوم بیٹھی نظر آ رہی ہوتی ہے۔

شیطانیاں از ڈاکٹر یونس بٹ

 

                کلامِ مجید

کرنل مجید نے ایک دفعہ پطرس بخاری سے کہا ’’اگر آپ اپنے مضامین کا مجموعہ چھپوائیں تو اس کا نام صحیح بخاری رکھیں۔‘‘

پطرس نے جواب دیا ’’اور اگر آپ اپنی نظموں کا مجموعہ چھپوائیں تو اس کا نام کلام مجید رکھیں۔‘‘

 

                استفسارات و جوابات

سوال مجھے جس لڑکی سے محبت ہے وہ حسین ہونے کے علاوہ انٹیلیکچول بھی ہے۔ میں “ڈاکٹر ” ہوں اس لیے علم و ادب میں دلچسپی رکھنے کی قطعاً فرصت نہیں۔ ابھی تک پیغام نہیں بھجوایا کیوں کہ میرے خیال میں وہ ولی دکنی، ہربٹ سپینسر، ابو نواس اور بھرتری ہری کے جانب مائل ہے، جب کبھی اس سے ملتا ہوں، یہی نام سننے میں آتے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں ؟ آپ کے مشورے کا منتظر ہوں۔

 

جواب ہمارے خیال آپ کو فوراً پیغام بھیجنا چاہئے، اتنے حضرات کے موجودگی میں ذرا سی دیر بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

دریچے از ڈاکٹر شفیق الرحمٰن

 

                محبت

کون ہے جو پیار نہیں کرتا مگر کسی کو نہیں معلوم کہ اس کا مفہوم اور مقصود کیا ہے ؟ ہر شخص اپنے طور پر اس کی تشریح کرتا ہے۔ کسی نے شیریں سے پیار کیا تو کسی نے شیریں کے نام پر اس کے باپ کی دولت پر نظر جمائی، کون زندہ رہ گیا، یہ سب جانتے ہیں۔

محبت کے بارے میں لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ بہت سوں کا کہنا ہے کہ محبت وہ بیماری ہے جو شادی کا کڑوا گھونٹ پینے ہی سے ختم ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں دل لگانے کا مشورہ بہت ہی چھوٹی عمر میں مل جاتا ہے۔ بزرگ کہتے ہیں ’’بیٹا دل لگا کر پڑھا کرو!‘‘

محبت کا پوسٹ مارٹم از ایم ابراہیم

 

                ہیر رانجھا

بیکار باتیں نہ کرو۔ ۔ ۔ یہ تو حسن و عشق ہی کی سرزمین ہے۔ ۔ ۔ میں نے تمہارے یہاں کی کہانیاں سنی ہیں۔

پڑھی ہیں ! وہ کون تھے ؟

ہیر اور رانجھا!

ان کا تو نام ہی نہ لو۔ ۔ ۔ ! عمران برا سا منہ بنا کر بولا۔

کیوں ! ان کی داستان تو ساری دنیا میں مشہور ہے۔

بعد کے حالات سے تم واقف نہیں ہو۔ خبروں پر سنسر ہو گیا تھا اور بعد کے حالات دنیا کو نہیں معلوم ہو سکے تھے۔

کیسے حالات؟

’’وہ دونوں راوی کے کنارے ملا کرتے تھے۔ عشق ہو گیا۔ ہیر در اصل وہاں کپڑے دھونے آیا کرتی تھی۔ رانجھا اس کا ہاتھ بٹانے لگا۔ ہاتھ کیا بٹانے لگا ہیر کو تو الگ بٹھا دیتا اور خود ہی اس کے کپڑے دھو دھا کر ڈھیر لگا دیتا۔ اچانک ایک دن اس نے محسوس کیا کہ اسے تقریباً ڈھائی سو کپڑے روزانہ دھونے پڑتے ہیں۔ تب اسے ہوش آیا اور بری طرح بوکھلا گیا۔ اس نے ہیر کی طرف دیکھا جو کچھ دور گھاس پر بیٹھی لسی پی چکنے کے بعد نسوار کی چٹکی چلانے جا رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ مگر وہ صرف دیکھ کر ہی رہ گیا کچھ بولا نہیں۔ لیکن اسے چونکہ تشویش ہو گئی تھی اس لیے وہ نچلا نہیں بیٹھا! کپڑے تو اسے بہرحال دھونے پڑتے تھے اس سے جو وقت بچتا تھا اس معمے کو حل کرنے میں صرف کر دیتا۔ اب اسے ہیر سے عشق جتانے کا بھی کم موقع ملتا تھا۔ ویسے وہ لسی کا گھڑا سامنے رکھے بیٹھی اس کا دل بڑھایا کرتی تھی آخر ایک دن یہ راز کھل ہی گیا۔ بیچارے رانجھے کو معلوم ہوا کہ ہیر کے بھائی نے مال روڈ پر ایک بہت بڑی لانڈری کھول رکھی ہے۔ بس وہ غریب وہیں پٹ سے گرا اور ختم ہو گیا۔ یہ ہے اصلی داستان ہیر رانجھا کی۔

سوالیہ نشان از ابنِ صفی

 

                پدری زبان

جوش نے پاکستان میں ایک بہت بڑے وزیر کو اُردو میں خط لکھا لیکن اس کا جواب اُس نے انگریزی میں دیا۔ جواب میں جوشؔ نے انہیں لکھا ’’جنابِ والا، میں نے تو آپ کو اپنی مادری زبان میں خط لکھا تھا۔ لیکن آپ نے اس کا جواب اپنی پدری زبان میں تحریر فرمایا ہے۔‘‘

 

                عاشق اور رقیب

عاشق نے ہمیشہ محبوب کو ملزم سمجھا، اس پر اپنے اسپیئر پارٹس کی چوری کا الزام لگایا۔ دل، جگر، نیند وغیرہ کی گمشدگی کا پرچہ بھی محبوب کے نام کٹوایا، یہاں تک کہ اس کو سرِعام قاتل کہا۔ اس دنیا میں جلسے جلوسوں کا بانی بھی عاشق ہی ہے کہ اس نے سب سے پہلے محبوبہ کا جلوس نکالا۔

عاشق، شاعر اور پاگل تینوں پر اعتبار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ خود کسی پر اعتبار نہیں کرتے۔ اس دنیا میں جس شخص کی بدولت عاشق کی تھوڑی بہت عزت ہے وہ رقیب ہے۔ جب رقیب نہیں رہتا تو اچھے خاصے عاشق اور محبوب میاں بیوی بن جاتے ہیں۔ کہتے ہیں رقیب اور عاشق کی بھی نہیں بنتی حالانکہ رقیب ہی تو دنیا کا واحد شخص ہوتا ہے جس سے اس کا اتفاق رائے ہوتا ہے، جسے عاشق پسند کرتا ہے وہ بھی اسے پسند کرتا ہے، جسے یہ منتخب کرتا ہے وہی اس کا انتخاب ہوتا ہے، یہی نہیں وہ بھی اس پر جان دیتا ہے جس پر عاشق۔ بلکہ سچا اور حقیقی عشق تو ہوتا ہی وہ ہے جس میں رقیب ہو۔

ڈاکٹر یونس بٹ

                مِیرا

بارشوں کے موسم میں جہاں مختلف حشرات الارض، کیڑے مکوڑے اور ’’سپ سلونگ‘‘ وغیرہ نکلتے ہیں، وہاں ہر دوسرے تیسرے سال برسات میں اداکارہ میرا کا ایک آدھ نام نہاد شوہر بھی کسی کونے کھدرے سے ضرور ہی برآمد ہو جاتا ہے۔ اس سال بارشیں جوں جوں تھمتی جا رہی تھیں، ہماری حیرت بھی توں توں ہی بڑھتی جا رہی تھی کہ امسال بھی بارشوں کے موسم میں نہ تو سیلاب آئے، نہ لاہور کی کوئی قابل ذکر تاریخی عمارت یا حویلی منہدم ہوئی، نہ شہباز قلندر کے زائرین کو ماسوائے ایک آدھ کے کوئی لمبا چوڑا حادثہ پیش آیا، نہ ہمارے دوست عزیزی ناہنجار کو ہیضہ ہوا اور نہ ہی فلمسٹار میرا کے کسی مبینہ شوہر نے اپنے ظہور کا اعلان کیا۔

خیر میرا کی طرف سے ہماری حیرت بھی میرا ہی کی طرح کافی ’’کم عمر‘‘ واقع ہوئی ہے۔ کل ہی اس کا ایک اور مبینہ شوہر عتیق الرحمن نامی منظر عام پر آ گیا۔ اس شخص کا کہنا ہے کہ وہ اب تک میرا پر مبلغ پانچ کروڑ روپے خرچ کر چکا ہے۔ یہ بات اس آدمی کے دماغی توازن کا اندازہ کرنے کے لیے کافی ہونی چاہئے۔ ہمارے دوست عزیزی ناہنجار کا دعویٰ ہے کہ یہ شخص یا تو پاگل ہے اور یا پھر جھوٹ بول رہا ہے کیونکہ فلمسٹار میرا پر پانچ کروڑ خرچ کرنے والے کو پہلی فرصت میں ہی کسی اچھے ڈاکٹر سے دماغی صحت کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا چاہئے۔

فلمسٹار میرا اور بارشوں کا موسم از آفتاب اقبال

 

                بیگم صاحبہ

جہاں تک ہماری بیگم صاحبہ کا تعلق ہے تو جناب ان سے بہتر خاتون شاید ہی اس کرۂ ارض پر موجود ہو۔ ان کے جنتی ہونے کی یہی دلیل کافی ہے کہ پچھلے کئی سال سے ہمیں برداشت کرتی چلی آ رہی ہیں، تاہم یہ عارضہ انہیں بھی بڑی شدّت سے لاحق ہے کہ تعریف کا اثر ان پر بھی تقریباً وہی ہوتا ہے جو خربوزوں اور ڈرائیوروں پر ہوا کرتا ہے۔ آپ بھی بہت جلد ’’چوڑ‘‘ ہو جاتی ہیں۔ خیر، اس موضوع پر مزید کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ’’فی الحال ہمارا گھر سے نکلنے کا قطعاً کوئی ارادہ نہیں۔‘‘

مشتاق احمد یوسفی

 

                اسٹاک مارکیٹ اور چنے کی دال

مجھے اسٹاک مارکیٹ کے بارے میں زیادہ علم نہیں، بس ٹی وی پر کچھ پوائنٹس کے گھٹنے بڑھنے کا سنتا رہتا ہوں۔ آج بھی کچھ پوائنٹ پڑھنے کا سُنا۔ ۔ ۔ غور کرنے پر میرے موٹے دماغ میں جو کچھ آیا وہ کچھ یوں تھا کہ ’’اگر پہلے اسٹاک مارکیٹ میں ۱۰۰۰ روپوں کی سرمایہ کاری تھی تو ان اسٹاک مارکیٹ میں ۱۳۰۰ روپے کی سرمایہ کاری ہے۔ ترقی تو ہے۔ ۔ ۔ ابھی اس ترقی پر پوری طرح خوش نہ ہوا تھا کہ بیگم نے آواز دی ’’آدھا کلو چنے کی دال تو لا دیجئے !‘‘ اور ۱۴۰ روپے فی کلو کے حساب سے آدھا کلو دال کے ۷۰ روپے ادا کئے اورواپسی میں دماغ میں جو کچھ آیا وہ یہ تھا کہ ’’ پہلے اسٹاک مارکیٹ میں چنے کی دال میں سرمایہ کاری کرتی تو ۵۲ روپے کلو کے حساب سے ۱۰۰۰ روپوں میں تقریباً ۲۰ کلا دال خریدی جا سکتی تھی اور اب اسٹاک مارکیٹ میں چنے کی دال میں سرمایہ کاری کی جائے تو ۱۳۰۰ روپے میں ۹ کلو سے زیادہ دال نہیں خریدی جا سکتی۔

اعظم نصر

                پٹواریات

کہا جاتا ہے کہ سندھ میں نئے پٹواریوں کی نوکریوں کے لئے سینکڑوں نوجوان کوششیں کر رہے ہیں، مگر یہ نہیں بتاتے کہ وہ پٹواری ہی کیوں بننا چاہتے ہیں، وجہ ظاہر ہے کہ پٹواری کے پاس ہی زمینوں کا حدود اربعہ اور کھیتوں کی حدود کا نقشہ ہوتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس کا کھیت کہاں سے کہاں تک ہے مگر اس بار کے سیلاب میں تمام نقشے مٹ گئے، تمام حدود فنا ہو گئیں، اب تو اندازے سے بتانا بھی مشکل ہے کہ کونسا گاؤں کہاں آباد تھا کیونکہ بے شمار گاؤں صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹ گئے ہیں، جہاں کہیں ایک بڑا باغ تھا وہاں شاید دوچار درخت ہی سلامت رہ گئے ہیں، گھروں کا حال یہ ہے کہ پہلے وہ کھنڈر بنے پھر یہ کھنڈر بھی معدوم ہو گئے۔ ۔ ۔ اب نئی حد بندیاں ہوں گی، نئے سرے سے تعین کیا جائے گا لیکن اپنے گھروں کا تعین کرانے والے سیکڑوں لوگ اب دنیا میں موجود نہیں ہیں لہٰذا پٹواری کی ملازمت کے خواہش مندوں سے یہ پوچھنا بے کار ہے کہ آخر وہ پٹواری ہی کیوں بننا چاہتے ہیں، ظاہر ہے کہ پٹواری ہی بتائے گا کہ جہاں اب ویرانہ ہے وہاں آبادی کہاں کہاں تھی اور پٹواری کی یہ صوابدید اور کھیتوں کی نئی حد بندیاں کس قدر منفعت بخش ہوں گی اس کا اندازہ مشکل نہیں ہے کیونکہ وہ جو غریب دیہاتی تھے صرف وہی مرے ہیں، جاگیرداروں اور وڈیروں میں سے کسی کے بارے میں نہیں سنا کہ وہ سیلاب کے ہاتھوں داعیِ جل کو لبیک کہہ گیا۔

اطہر شاہ جیدی

 

                جذباتی افسانے

ترقی پسند افسانوں کے بعد جذباتی افسانے آتے ہیں۔ جذباتی افسانوں میں جذبات اور احساسات کی شدت کو نمایاں طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ مختلف جذبوں کے زیر اثر افسانے کے کردار عجیب و غریب حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک افسانے میں سریش کو جب پتہ چلتا ہے کہ وہ کسی وجہ سے نرملا سے شادی نہیں کر سکتا تو وہ نرملا کو اس طرح مخاطب کرتا ہے۔ ’’نرملا! تم آج سے میری بہن ہو۔‘‘

’’تمہاری بہن؟‘‘ نرملا نے گھبرا کر کہا۔

’’ہاں ہاں میری بہن۔‘‘ سریش نے بہن کے لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ ’’میں سچ کہہ رہا ہوں۔ تم آج سے میری بہن ہو۔ کاش کہ تم عمر میں مجھ سے پانچ دس سال بڑی ہوتیں اور میں تمہیں ’’ماں‘‘ کہہ سکتا۔‘‘

اسی طرح ایک افسانے میں دو بھائی ایک ہی لڑکی سے محبت کرتے ہیں مگر جب چھوٹے بھائی کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بڑا بھائی ان دونوں کی مشترکہ محبوبہ سے شادی کرنے کو تلا ہوا ہے تو وہ مندر میں دیوی یا دیوتا کے سامنے اس لڑکی کا ہاتھ اپنے بڑے بھائی کے ہاتھ میں دے کر خود سادھو بن کر زندگی گزارنے کا حلف اٹھاتا ہے۔ جذباتی افسانوں میں قہقہے، آنسو، سسکیاں، قسمیں، ہچکولے کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ عموماً انجام خودکشی ہوتا ہے اور محبت کے دیوتا کے سامنے عجیب و غریب قربانیاں دی جاتی ہیں۔

سنگ و خشت از کنہیا لال کپور

 

                دیہاتی افسانے

جذباتی افسانوں کے بعد ایک آدھ نمونہ دیہاتی افسانوں کا بھی ملاحظہ فرمائیے۔ یہ افسانے اپنے دلکش ماحول اور طرزِ تحریر کی سادگی کی وجہ سے بے حد مقبول ہیں۔ ان میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ کوئی ایسی بات تحریر نہ کہ جائے جو غیر فطری یا غیر دیہاتی ہو۔ چنانچہ تشبیہیں، استعارے، محاورے سب دیہاتی ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض دفعہ احساسات تک دیہاتی ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ً بیگماں کا قد کماد کے پودے کی طرح لمبا اور اس کے گال ٹماٹر کی طرح سرخ تھے۔ اس کی آنکھیں جگنو کی طرح چمکتی تھیں اور اس کی باتیں شکر سے زیادہ میٹھی تھیں۔ وہ جب اُپلے بناتی تو اس کے گوبر سے لت پت ہاتھ اس طرح معلوم ہوتے جیسے کسی دلہن نے دل کھول کر مہندی لگائی ہے۔ اس وقت شیرو اس کو دیکھ کر اس طرح بیتاب ہو جاتا جس طرح گائے کو ملنے کے لئے بچھڑا۔ وہ اپنا ہل کندھوں سے اتار کر پھینک دیتا اور بیگماں کی طرف اس طرح دیکھتا گویا وہ بیگماں نہیں بلکہ کپاس کا خوبصورت پھول ہے۔ اس وقت اس کے دل میں خیال آتا کہ وہ بیگماں کو اپنے مضبوط بازوؤں میں پکڑ لے اور اسے اس زور سے بھینچے کہ اس کا چہرہ انار کے پھول کی طرح سرخ ہو جائے۔

سنگ و خشت از کنہیا لال کپور

 

                اچھا! تو گویا آپ اُس لحاظ سے کہہ رہے ہیں !

ماسٹر فاخر حسین کی اپنی انگریزی کی عمارت فنِ تعمیر کے کمال کا ’’نادر نمونہ اور یکے از ہفت عجائباتِ عالم‘‘ تھی۔ مطلب یہ کہ بغیر نیو کی تھی، بیشتر جگہ تو چھت بھی نہیں تھی اور جہاں تھی، اسے چمگادڑ کی طرح اپنے پیروں کی اَڑواڑ سے تھام رکھا تھا۔ اس زمانے میں انگریزی بھی اردو میں پڑھائی جاتی تھی لہٰذا کچھ گِرتی ہوئی دیواروں کو اُردو اشعار کے برمحل پشتے تھامے ہوئے تھے۔ بہت ہی ’’منجھے اور گھِسے‘‘ ہوئے ماسٹر تھے۔ سخت سے سخت مقام سے آسان گزر جاتے تھے۔ مثلاً ’’پرسنگ‘‘ کروا رہے ہیں۔ اپنی دانست میں نہایت آسان سوال سے ابتداء کرتے۔ بلیک بورڈ پر ’’ٹُو گو‘‘ لکھتے اور لڑکوں سے پوچھتے، اچھا بتاؤ یہ کیا ہے ؟ ایک لڑکا ہاتھ اٹھا کر جواب دیتا، “سمپل انفینی ٹِو”، اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے فرماتے، بالکل ٹھیک۔ لیکن دیکھتے کہ دوسرا اُٹھا ہوا ہاتھ ابھی نہیں گِرا۔ اس سے پوچھتے، ’’آپ کو کیا تکلیف ہے ؟‘‘وہ کہتا، نہیں سر! ’’ناؤن انفینی ٹِو‘‘ ہے۔ فرماتے، “اچھا آپ اُس لحاظ سے کہہ رہے ہیں “۔ اب کیا دیکھتے ہیں کہ کلاس کا سب سے ذہین لڑکا ابھی تک ہاتھ اُٹھائے ہوئے ہے۔ اُس سے کہتے، ’’آپ کا سگنل ابھی تک ڈاؤن نہیں ہوا۔ کہیے، کہیے !‘‘ وہ کہتا یہ ’’گرنڈیل انفینی ٹِو‘‘ ہے جو ریفلیکسِو ورب‘‘ سے مختلف ہوتا ہے۔ ’’نیسفیلڈ‘‘ گریمر میں لکھا ہے۔ اس مرحلے پر ماسٹر فاخر حسین پر واضح ہو جاتا کہ:

گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم

لیکن بہت سہج اور نکتہ فہم انداز میں فرماتے، ’’اچھا! تو گویا آپ اُس لحاظ سے کہہ رہے ہیں‘‘!

اتنے میں نظر اُس لڑکے کے اُٹھے ہوئے ہاتھ پر پڑی جو ایک کانوینٹ سے آیا تھا اور فر فر انگریزی بولتا تھا۔ اس سے پوچھا ’’ویل، ویل، ویل؟‘‘

اس نے جواب دیا:

Sir, I am afraid, this is an intransitive verb!

فرمایا، ’’اچھا! تو گویا آپ اُس لحاظ سے کہہ رہے ہیں !‘‘

آبِ گم از مشتاق احمد یوسفی

 

                عید اور سیاستدان

سیاستدان تو عید یوں ملنے نکلتے ہیں، جیسے الیکشن کمپین پر نکلے ہوں۔ جیتنے سے پہلے وہ عید مل کر آگے بڑھتے ہیں اور جیتنے کے بعد عید مل کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پنجاب کے ایک سابق گورنر کا عید ملنے کا انداز نرالا ہوتا تھا۔ ان کا حافظہ ہمارے ایک ادیب دوست جیسا تھا جو ایک ڈاکٹر سے اپنے مرضِ نسیان کا علاج کروا رہے تھے، دو ماہ کے مسلسل علاج کے بعد ایک دن ڈاکٹر نے پوچھا ’’ اب تو نہیں بھولتے آپ ؟‘‘

’’بالکل نہیں، مگر آپ کون ہیں اور کیوں پوچھ رہے ہیں ؟‘‘

افراتفریح از ڈاکٹر محمد یونس بٹ

 

                تشریح

اکبر الہٰ آبادی کو جملوں کے مذاق میں بھی اچھا خاصا دخل تھا۔ اپنے اِس مصرع کی

پہلے بی۔ اے تھے اور اب بیمار ہیں

کی تشریح کرنے لگے، فرمایا کہ ’’اگر بیمار کے ’’بی‘‘ (B) کو (Bee) یونی ’’شہد کی مکھی‘‘ سمجھ لو اور ’’مار‘‘ کو مار ہی رہنے دو تو مصرع کے معنیٰ صاف سمجھ میں آ سکتے ہیں یعنی بی۔ اے کرنے کے بعد آج کل کے نوجوان بیچارے مکھیاں مارتے رہتے ہیں۔

 

                استفسارات و جوابات

سوال میرا خیال ہے کہ قدرت ایسی اشیائے مدرکہ سے مل کر بنی ہے جو ایک دوسرے کے کُل اور جزو کی حیثیت سے شامل ہیں، جہاں اضدادی اسلوبِ تفکر تمام اشیائے مدرکہ کو سمجھنے کے لئے کیا گیا ہے وہاں فلسفیانہ دقیقہ رسی، توازنِ اتصال اور اضدادی مادیت کو قوتیاتی رتبہ حاصل ہے۔ کائنات کی حیاتِ مادی ہی مقدم ہے۔ اس کی حیاتِ روحانی ثانوی اور استخراجی ہے۔ اعصابی کیفیتیں اور نا آسودہ جبلتیں در اصل خارجی چیزوں اور ان کے ارتقا کا عکس نہیں ہیں بلکہ خارجی چیزیں ہیں اور ان کا ارتقا حقیقت کی شکل میں اور تصور کا محض عکس ہیں جو وجودِ کائنات سے قبل تھا۔ مفکروں کے نزدیک کائنات اور جملہ نظامات ابدی اور استقراری ہیں اور خیالِ نفسِ ناطقہ پر عالمِ بالا لے ترشحات کا نتیجہ ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کائنات کا ارتقا تجویز اور تردید کے تصادم سے عبارت ہو گا تو پھر تدریجی وقفے کے بعد نقطۂ تغیر کب ظہور پذیر ہو گا؟ وہ کون سی تردید ہو گی جو تجویز سے متصادم ہو کر نئی ترکیب کو وجود میں لائے گی؟

جواب اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

دریچے از ڈاکٹر شفیق الرحمٰن

 

                آؤ لیڈری سیکھیں

لوگ بڑا آدمی بننے کی غیر شعوری خواہش میں لاکھوں روپئے دے کر میڈیسن اور انجنیرنگ میں داخلہ لیتے ہیں کوئی امریکہ یا لندن جاتا ہے تو کوئی آسٹریلیا وغیرہ۔ جب مزید بڑے ہونے کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں تو پھر کسی لڑکی کے امیر باپ سے لاکھوں کا جوڑا جہیز لے کر اپنی لگائی ہوئی رقم سود سمیت حاصل کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد ڈاکٹر مریضوں کو لوٹتے ہیں اور انجینئر عوام کو۔ کئی ایسے ہوتے ہیں جو سالے یا بہنوئی کی مدد سے خلیج پہنچ کر شیخوں کے رحم و کرم پر زندگی گزارتے ہیں۔ چند ایک شریف حضرات ضرور ایسے ہوں گے جن کو لوٹنے کے مواقع نہیں ملتے کیونکہ مولوی اس وقت تک مولوی ہوتا ہے جب تک اسے پولیس جیسی اوپر کی آمدنی والی نوکری نہیں ملتی۔ خیر کیوں نہ ہم آپ کو ایک ایسا پیشہ بتائیں جس میں نہ آپ کو لاکھوں کا سرمایہ لگانا پڑے نہ برسوں لکھنے پڑھنے میں سر کھپانا پڑے اور نہ ملازمت کر کے ایسی ایسی شکلوں کے Bosses کو خوش رکھنے پر مجبور ہونا پڑے جنہیں دیکھ کر یہ قول یاد آتا ہے کہ اللہ غلام بنائے لیکن غلام کی صورت نہ بنائے آمین۔ بہرحال بغیر کوئی ملازمت کئے بھی آپ نہ صرف بڑے آدمی کہلائیں بلکہ لاکھوں کی آمدنی گھر چل کر آتی رہے ؟

یہ صرف لیڈری کے پیشے میں ممکن ہے۔

میری باتوں پہ ہنستی ہے دنیا از علیم خان فلکی

٭٭٭

تشکر: مدیر جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید