FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

فہرست مضامین

ادب ملاقات

سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں

 

                خلیل الرحمن جاوید

 

 

 

                ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

 

بوقتِ ملاقات ایک مسلمان کادوسرے مسلمان پر پہلا حق’’ سلام‘‘ہے۔ دنیا کی تمام مہذب قوموں میں ملاقات کے وقت پیار ،محبت، جذبۂ اکرام اورخیرسگالی کا اظہار کرنے اور مخاطب کو مانوس ومسرور کرنے کے لیے کوئی خاص کلمہ کہنے کا رواج ہے، مثلاً:ہندو ملاقات کے وقت “نمستے” کہتے ہیں، جبکہ عصرِ حاضر کے بعض روشن خیال اپنے تہذیبی ارتقاء Good Nightاور Good Morning کہہ کر، “صبح بخیر”، “شب بخیر” اور ’’آداب عرض‘‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، سیدنا عمران بن حصین رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ قبل از اسلام عرب کی عادت تھی، کہ جب وہ آپس میں ملاقات کرتے تو ایک دوسرے کو “حَیَّاکَ اللّٰہُ” (اللہ تم کو زندہ رکھے) “أنْعَمَ اللّٰہُ بِکَ عَیْنًا” (اللہ تعالیٰ تمہاری آنکھ کو ٹھنڈا کرے) “أَنْعِمْ صَبَاحًا” (تمہاری صبح خوش گوار ہو) وغیرہ الفاظ استعمال کیا کرتے تھے، جب ہم لوگ جاہلیت کے اندھیرے سے نکل کر اسلام کی روشنی میں آ گئے تو ہمیں اس کی ممانعت کر دی گئی، یعنی اس کے بجائے “اَلسَّلَامُ عَلِیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ” کی تعلیم دی گئی، جس کے معنی ہیں “تم ہر تکلیف اور رنج و مصیبت سے سلامت رہو” : لفظ “سلام” اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سےایک ہے اور “السلام علیکم” کے معنی ہیں، ’’اللہ تمہارا محافظ ہو،تم پر سلامتی ہو‘‘

 

                “سلام” کی جامعیت و معنویت

 

(۱) “سلام” نہایت جامع دعائیہ کلمہ ہے جو پیار و محبت اور اکرام کے اظہار کے لیے بہترین لفظ ہے اوراس کی کئی معنوی خصوصیات ہیں:

 

(۲) اس کلمہ میں صرف اظہارِ محبت ہی نہیں؛ بلکہ حق محبت کی ادائیگی بھی ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ تمام آفات اور آلام سے محفوظ رکھے۔

 

(۳) سلام کرنے والا اپنی زبانِ حال سے اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ یہ وعدہ بھی کرتا ہے کہ تم میرے ہاتھ اور زبان سے مامون و محفوظ ہو۔

 

(۴) یہ کلمہ اپنے سے چھوٹوں کے لیے شفقت، مرحمت اور پیار و محبت کا کلمہ بھی ہے اور بڑوں کے لیے اکرام و تعظیم کا اظہار بھی ہے۔

 

(۵) قرآن مجید میں یہ کلمہ انبیاء ورسل علیہم السلام کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور اکرام اور بشارت کے استعمال ہوا ہے اوراس میں عنایت اور محبت کا رس بھرا ہوا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

 

سَلَامٌ عَلٰی نُوْحٍ فِي الْعَالَمِیْنَ، سَلاَمٌ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ، سَلاَمٌ عَلٰی مُوْسٰی وَہَارُوْنَ، سَلاَمٌ عَلٰی اِلْیَاسِیْنَ، سَلاَمٌ عَلی الْمُرْسَلِیْنَ، سَلاَمٌ عَلٰی عِبَادہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

 

(۶) تمام ایمان والوں کو نماز میں بھی اس لفظ سے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام پر دُرود وسلام بھیجنے کی تلقین کی گئی ہے، جس کا مظاہرہ ہر نمازی التحیات میں کرتا ہے۔

 

(۷) آخرت میں مؤمنین کے جنت میں داخلہ کے وقت کہا جائے گا :

أُدخلُوہا بسلامٍ، سلامٌ عَلَیکُمْ بما صَبَرْتُم (معارف الحدیث۶/۱۴۹)

 

                سلام کی اہمیت و فضیلت

 

سلام، اسلام کا شعار، سلام جنتیوں کا سلام، اللہ سے قریب کرنے والا، محبتوں کو فروغ دینے والا، نفرتوں، کدورتوں اور عداوتوں کو مٹانے والا ، باہمی تعلق و اعتماد کو جنم دینے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو باہم سلام کا رواج دینے اور عام کرنے کی بڑی تاکید فرمائی، اسلامی سلام کی سنت سیدنا آدم علیہ السلام سے چلی آ رہی ہے: چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو انہیں ارشاد فرمایا: اے آدم! فرشتوں کی اس جماعت کے پاس جاؤ اور ان کو سلام کرو، چنانچہ سیدنا آدم علیہ السلام گئے اور انھیں سلام کیا، فرشتوں نے جواباً عرض کیا وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم یہ سلام تمہاری اور تمہاری اولاد کا تحیہ ہے۔ (بخاری کتاب الاستیذان ۲/۲۱۹) آپ بھی اسے ادا کیجیے اور اپنے لیےدوسروں کے دِل میں جگہ کیجیے۔

 

                سلام پھیلائیے ، محبت بڑھائیے

 

عَنْ أَبِي ہُرَيْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ حَتَّی تُؤْمِنُوا وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّی تَحَابُّوا أَوَلَا أَدُلُّکُمْ عَلَی شَيْئٍ إِذَا فَعَلْتُمُوہُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَکُمْ

 

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جنّت میں داخل نہیں ہو گے جب تک کہ ایمان نہیں لاؤ گے اور پورے مؤمن نہیں بنو گے جب تک کہ آپس میں محبّت نہیں کرو گے، کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں؟ جب تم اس پر عمل کرو گے تو آپس میں محبّت کرنے لگ جاؤ گے، وہ یہ ہے کہ آپس میں ہر ایک کو سلام کیا کرو۔(صحیح مسلم)

 

                نماز میں ہاتھ کے اشارے سے سلام

 

1) عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ صُہَيْبٍ قَالَ مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْہِ فَرَدَّ إِلَيَّ إِشَارَۃً وَقَالَ لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّہُ قَالَ إِشَارَۃً بِإِصْبَعِہِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ بِلَالٍ وَأَبِي ہُرَيْرَۃَ وَأَنَسٍ وَعَائِشَۃَ (سنن ابی داؤد:925)

 

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ ، صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے میں ان کے پاس سے گزرا تو سلام کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اشارے سے جواب دیا راوی کو شک ہے کہ شاید صہیب نے یہ بھی کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی سے اشارہ کر کے جواب دیا اس باب میں سیدنا بلال اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہے۔

 

2) عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قُلْتُ لِبِلَالٍ کَيْفَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْہِمْ حِينَ کَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْہِ وَہُوَ فِي الصَّلَاۃِ قَالَ کَانَ يُشِيرُ بِيَدِہِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَحَدِيثُ صُہَيْبٍ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُہُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ بُکَيْرٍ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قُلْتُ لِبِلَالٍ کَيْفَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ حَيْثُ کَانُوا يُسَلِّمُونَ عَلَيْہِ فِي مَسْجِدِ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ کَانَ يَرُدُّ إِشَارَۃً وَکِلَا الْحَدِيثَيْنِ عِنْدِي صَحِيحٌ لِأَنَّ قِصَّۃَ حَدِيثِ صُہَيْبٍ غَيْرُ قِصَّۃِ حَدِيثِ بِلَالٍ وَإِنْ کَانَ ابْنُ عُمَرَ رَوَی عَنْہُمَا فَاحْتَمَلَ أَنْ يَکُونَ سَمِعَ مِنْہُمَا جَمِيعًا(جامع ترمذی368)،

 

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کہ میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی حالت میں تمہارے سلام کا جواب کیسے دیا کرتے تھے انہوں نے فرمایا: ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے، ابوعیسی ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے اور صہیب کی حدیث حسن ہے ہم اسے لیث عن بُکَیر سے روایت کے علاوہ نہیں جانتے زید بن اسلم سے مروی ہے کہ سیدناابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے کہا جب لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد بنو عمرو بن عوف میں نماز پڑھتے ہوئے سلام کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح جواب دیتے تھے، انہوں نے کہا کہ اشارہ کر دیتے تھے امام ترمذی فرماتے ہیں : میرے نزدیک یہ دونوں احادیث صحیح ہیں ، کیونکہ صہیب رضی اللہ عنہ اور واقعہ بلال رضی اللہ عنہ دونوں الگ الگ ہیں اگرچہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ ان دونوں سے روایت کرتے ہیں ہو سکتا ہے سیدناابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے سنا ہو۔

 

                نماز میں زبان سے سلام کا جواب نہیں

 

عَنْ عَبْدِ اللہِ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ فِي الصَّلَاۃِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْہِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا وَقَالَ إِنَّ فِي الصَّلَاۃِ شُغْلًا(صحیح بخاری1199)

 

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی حالت میں سلام کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جواب دیتے تھے، جب ہم لوگ نجاشی کے پاس سے واپس ہوئے ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جواب نہیں دیا اور فرمایا :نماز میں اللہ تعالیٰ کی طرف دھیان ہوتا ہے۔

 

فائدہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت ملک حبشہ کا بادشاہ ایک عیسائی تھا جس کا لقب نجاشی تھا چونکہ یہ ایک عالم تھا اس لیے جب توریت و انجیل کے ذریعے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی برحق ہونا معلوم ہوا تو وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لا کر اللہ کے اطاعت گزار بندوں میں شامل ہو گئے، جب 9ہجری میں ان کا انتقال ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت افسوس ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ ان کے جنازے کی غائبانہ نماز پڑھائی، یاد رہےکہ یہ نماز بغیر کسی پیشگی اشتہار بازی کے پڑھائی گئی اور یومِ جمعہ کا انتظار بھی نہیں کیا گیا۔

 

انہیں چونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ عقیدت تھی اس لیے جب مسلمان مکہ میں کفار کے ہاتھوں بڑی اذیت ناک تکالیف میں مبتلا ہو گئے اور ان کی جانوں کے لالے پڑ گئے تو اکثر صحابہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایماء پر ان کے ملک کو ہجرت کر گئے انہوں نے اپنے ملک میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی آمد کو اپنے لیے دین و دنیا کی بہت بڑی سعادت سمجھ کر صحابہ کی بہت زیادہ خدمت کی اور ان کے ساتھ بہت زیادہ حسن سلوک کے ساتھ پیش آئے بعد میں جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو علم ہو گیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے جا چکے ہیں تو وہ بھی مدینہ چلے آئے۔

 

چنانچہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حبشہ سے واپس آنے والے قافلے میں، میں بھی شریک تھا جب ہم لوگ مدینے پہنچ کر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز پڑھ رہے تھے ہم نے حسب معمول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سلام کا جواب نہ دیا پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے استفسار پر فرمایا: نماز خود ایک بہت بڑا شغل ہے یعنی نماز میں قرآن مجید و تسبیحات اور دعا مناجات پڑھنے کا شغل ہی اتنی اہمیت و عظمت کا حامل ہے کہ ایسی صورت میں کسی دوسرے آدمی سے سلام و کلام کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے یا یہ کہ نمازی کا فرض ہے کہ نماز میں پورے انہماک کے ساتھ مشغول رہے اور جو کچھ نماز میں پڑھے اس پر غور کرے اور نماز کے سوا کسی دوسری جانب خیال کو متوجہ نہ ہونے دے، اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں کسی کے سلام کا جواب دینا یا کسی سے گفتگو کرنا حرام ہے ، کیونکہ اس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے،البتہ اشارے سے سلام کا جواب دینا شارع علیہ السلام سے ثابت ہےجیساکہ ماقبل احادیث میں گزر چکا ہے :

 

                اختتام نماز پر دائیں اور بائیں جانب سلام

 

عَنْ عَبْدِ اللہِ عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ حَتَّى أَرَى بَيَاضَ وَجْہِہِ فَمَا نَسِيتُ بَعْدُ فِيمَا نَسِيتُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ (المعجم الکبیر للطبرانی:ج10 ص125،( 10179)

 

سیدنا ابن مسعود tفرماتے ہیں: کہ میں جو باتیں بھول گیا، سو بھول گیا، لیکن یہ بات نہیں بھولا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اختتام نماز پر دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔

 

                سلام کا جواب دینا واجب ہے

 

عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَہَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَعِيَادَۃِ الْمَرِيضِ وَإِجَابَۃِ الدَّاعِي وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ وَرَدِّ السَّلَامِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَنَہَانَا عَنْ آنِيَۃِ الْفِضَّۃِ وَخَاتَمِ الذَّہَبِ وَالْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالْقَسِّيِّ وَالْإِسْتَبْرَقِصحیح بخاری: كِتَابُ الجَنَائِزِ، (1239)

 

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا اور سات سے منع فرمایا: جنازے کے پیچھے چلنے کا، مریض کی عیادت کرنے کا اور پکارنے والے کو جواب دینے کا، دعوت قبول کرنے کا، مظلوم کی مدد کرنے کا، قسم کو پورا کرنے کا، سلام کا جواب دینے کا اور چھینکنے والے کی چھینک کا جواب دینے کا ہمیں حکم دیا، اور چاندی کے برتن، سونے کی انگوٹھی، حریر، و دیباج، قسی، اور استبرق (یہ ریشم کی چار مختلف اقسام ہیں)کے استعمال سے ہمیں منع فرمایا۔

 

                ایک آدمی کا سلام پوری مجلس کے لیے کافی ہے

 

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ أَبُو دَاوُد رَفَعَہُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ يُجْزِئُ عَنْ الْجَمَاعَۃِ إِذَا مَرُّوا أَنْ يُسَلِّمَ أَحَدُہُمْ وَيُجْزِئُ عَنْ الْجُلُوسِ أَنْ يَرُدَّ أَحَدُہُمْ (سنن ابی داؤد: كِتَاب الْأَدَبِ، بَابُ مَا جَاءَ فِي رَدِّ الْوَاحِدِ عَنِ الْجَمَاعَۃِ،(5210)،

 

(سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے، کہ اگر جماعت گزرے اور اس میں سے ایک آدمی سلام کرے تو (پوری جماعت کے لیے) کافی ہے اور بیٹھے ہوئے لوگوں میں سےبھی اگر ایک آدمی جواب دے دے تو کافی ہے۔

 

                غائب شخص کے سلام کا جواب کیسے دِیا جائے؟

 

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَہَا يَا عَائِشَۃُ ہٰذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْکِ السَّلَامَ فَقَالَتْ وَعَلَيْہِ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ تَرَی مَا لَا أَرَی تُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ (صحیح بخاری: كِتَابُ بَدْءِ الخَلْقِ، بَابُ ذِكْرِ المَلاَئِكَۃِ،(3217)

 

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے ان سے فرمایا: اے عائشہ! یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں تمہیں سلام کہتے ہیں انہوں نے جواب دیا وعلیہ السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ اور رسول اکرمﷺ سے کہا کہ آپﷺ وہ دیکھتے ہیں جو میں نہیں دیکھ سکتی۔

 

فائدہ: اس سے اندازہ لگائیں کہ جس ماں کو فرشتوں کاسردار اور اللہ کا مقرب ترین فرشتہ سلام کرتا ہو وہ   ماں خود کتنی عظیم ہوگی؟۔

 

                منکرتقدیرکوسلام نہ کرو

 

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَجُوسَ ہَذِہِ الْأُمَّۃِ الْمُکَذِّبُونَ بِأَقْدَارِ اللہِ إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوہُمْ وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْہَدُوہُمْ وَإِنْ لَقِيتُمُوہُمْ فَلَا تُسَلِّمُوا عَلَيْہِمْ (سنن ابن ماجہ: افتتاح الكتاب في الإيمان وفضائل الصحابۃ والعلم ، بَابٌ فِي الْقَدَرِ ،(92)

 

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والے ہیں اگر وہ بیمار ہو جائیں تو ان کی عیادت نہ کرو، اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازوں پر نہ جاؤ اور اگر تم ان سے ملو تو سلام نہ کرو۔ (فرقہ قدریہ کی طرف اشارہ ہے)

 

                اہلِ کتاب کو سلام میں پہل نہ کرو

 

عَنْ أَبِي ہُرَيْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبْدَئُوا الْيَہُودَ وَلَا النَّصَارَی بِالسَّلَامِ فَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَہُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوہُ إِلَی أَضْيَقِہِ (صحیح مسلم: كتاب الْآدَابِ ، بَابُ النَّہْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَہْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْہِمْ ،(2167)

 

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: یہود اور نصاری کو سلام کرنے میں ابتداء نہ کرو اور جب تمہیں ان میں سے کوئی راستہ میں ملے تو اسے تنگ راستہ کی طرف مجبور کر دو۔

 

سلام کرنے میں ابتداء نہ کرو، کا مطلب یہ ہے کہ انھیں سلام کرنے میں پہل نہ کرو، کیونکہ سلام میں پہل کرنا درحقیقت اسلامی تہذیب کا بخشا ہوا ایک اعزاز ہے جس کے مستحق وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اسلامی تہذیب کے پیرو ہوں اور مسلمان ہوں اس اعزاز کا استحقاق ان لوگوں کو حاصل نہیں ہو سکتا جو دین کے دشمن اور خدا کے باغی ہوں، اسی طرح ان باغیوں اور دشمنوں کے ساتھ سلام اور اس جیسی دوسری چیزوں کے ذریعے الفت و محبت کے مراسم کو قائم کرنا بھی جائز نہیں ہے۔

 

کیونکہ ارشادِ باری تعالی ہے۔

 

لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللہَ وَرَسُولَہُ ( المجادلۃ 22)

 

آپ ایسی کوئی قوم نہ پائیں گے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اور ان لوگوں سے بھی دوستی رکھتی ہو جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہوں۔

 

ہاں اگر وہ لوگ سلام میں خود پہل کریں اور السلام علیک یا السلام علیکم کہیں تو اس کے جواب میں صرف علیک یا علیکم کہہ دیا جائے۔

 

حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ جو دین کے دشمن ہیں اور اپنے مکر و فریب اور سازشوں کے ذریعہ اسلامی پرچم کو سرنگوں کرنا چاہتے ہیں، اس سلوک کے مستحق ہیں کہ جب وہ راستےمیں ملیں تو ان پر راستہ تنگ کر دیا جائے تاکہ وہ سکڑ کر گزرنے پر مجبور ہو جائیں تاکہ اسلام کی عظمت و شوکت اور مسلمانوں کا رُعب و دبدبہ اور غیر مسلم کی ذلّت و پستی ظاہر ہو، کیونکہ یہ اسلامی حمیّت کی بات ہے۔

 

                جب اہلِ کتاب کو سلام میں پہل کرنا ضروری ہو

 

1: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَہُ: أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ، أَخْبَرَہُ: أَنَّ ہِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْہِ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، وَكَانُوا تِجَارًا بِالشَّأْمِ، فَأَتَوْہُ – فَذَكَرَ الحَدِيثَ – قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَقُرِئَ، فَإِذَا فِيہِ: بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللہِ وَرَسُولِہِ، إِلَى ہِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ، السَّلاَمُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الہُدَى، أَمَّا بَعْدُ (صحیح بخاری: كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ ، بَابٌ: كَيْفَ يُكْتَبُ الكِتَابُ إِلَى أَہْلِ الكِتَابِ ،(6260)

 

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابوسفیان بن حرب نے انہیں بتایا کہ ہرقل نے انہیں قریش کی ایک جماعت میں بلا بھیجا، جو شام میں تجارت کی عرض سے گئی ہوئی تھی وہ لوگ اس کے پاس گئے پھر پوری حدیث بیان کی اور کہا کہ ہرقل نے رسول اکرمﷺ کا خط منگوایا جسے پڑھا گیا، اس میں لکھا ہوا تھا۔

 

(بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللہِ وَرَسُولِہِ إِلَی ہِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ السَّلَامُ عَلَی مَنْ اتَّبَعَ الْہُدَی أَمَّا بَعْدُ)

 

یہ تحریر اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے ہرقل کی طرف بھیجی گئی ہے جو روم کا بڑا حاکم ہے۔ سلام ہے اس پر جو راہِ ہدایت کی اتباع کرے: امابعد۔

 

2: عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ قَالَ: انْتَہَيْتُ إِلَى عَائِشَۃَ أَنَا وَعَمَّارٌ وَالْأَشْتَرُ، فَقَالَ عَمَّارٌ: السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا أُمَّتَاہُ، فَقَالَتْ: السَّلَامُ عَلَى مَنْ اتَّبَعَ الْہُدَى، حَتَّى أَعَادَہَا عَلَيْہَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: أَمَا وَاللہِ إِنَّكِ لَأُمِّي وَإِنْ كَرِہْتِ، قَالَتْ: مَنْ ہٰذَا مَعَكَ؟ قَالَ: ہٰذَا الْأَشْتَرُ، قَالَتْ: أَنْتَ الَّذِي أَرَدْتَ أَنْ تَقْتُلَ ابْنَ أُخْتِي؟ قَالَ: نَعَمْ، قَدْ أَرَدْتُ ذَلِكَ وَأَرَادَہُ، قَالَتْ: أَمَا لَوْ فَعَلْتَ مَا أَفْلَحْتَ، أَمَّا أَنْتَ يَا عَمَّارُ ، فَقَدْ سَمِعْتَ أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ: إِلَّا مَنْ زَنَى بَعْدَمَا أُحْصِنَ،أَوْ كَفَرَ بَعْدَمَا أَسْلَمَ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا فَقُتِلَ بِہَا (مسنداحمد: مُسْنَدُ النِّسَاء: مُسْنَدُ الصِّدِّيقَۃِ عَائِشَۃَ بِنْتِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا، (24304)

 

عمرو بن غالب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں، عمار اور اشتر ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عمار نے کہا اماں جان! السلام علیک انہوں نے جواب میں فرمایا: السلام علی من اتبع الھدی (اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرے) عمار نے دو تین مرتبہ انہیں سلام کیا اور پھر کہا کہ بخدا آپ میری ماں ہیں اگرچہ آپ کو یہ بات پسند نہ ہو، انہوں نے پوچھا یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ عمار نے بتایا کہ یہ اشتر ہے، انہوں نے فرمایا: تم وہی ہو جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، اشتر نے کہا جی ہاں! میں نے ہی اس کا ارادہ کیا تھا اور اس نے بھی یہی ارادہ کر رکھا تھا، انہوں نے فرمایا: اگر تم ایسا کرتے تو تم کبھی کامیاب نہ ہوتے اور اے عمار! تم نے یا میں نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے، الا یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ ہو، شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرے، اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو جائے، یا کسی شخص کو قتل کرے، جس کے بدلے میں اسے قتل کر دیا جائے۔

 

3: وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: كَتَبَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ إِلَى أَہْلِ فَارِسٍ يَدْعُوہُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ: بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى رُسَيْمَ وَمِہْرَانَ وَمَلَأِ فَارِسٍ، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْہُدَى أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّا نَدْعُوكُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَبَيْتُمْ فَأَعْطُوا الْجِزْيَۃَ عَنْ يَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ، فَإِنْ أَبَيْتُمْ فَإِنَّ مَعِي قَوْمًا يُحِبُّونَ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللَّہِ كَمَا تُحِبُّ فَارِسُ الْخَمْرَ. وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْہُدَى (مجمع الزوائد: كِتَابُ الْجِہَادِ، بَابٌ مِنْہُ فِي الدُّعَاءِ إِلَى الْإِسْلَامِ وَفَرَائِضِہِ وَسُنَنِہِ(9593)،

 

سیدنا ابووائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اہلِ فارس (ایران کے زعماء اور سرداروں) کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے یہ مکتوب بھیجا: آیت (بسم اللہ الرحمن الرحیم) خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی طرف سے رستم ومہران کے نام جو زعماء ایران میں سے ہیں، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْہُدَى اس شخص پر سلامتی ہو جو حق و ہدایت کی پیروی کرے۔ بعد ازاں! واضح ہو کہ ہم تمہیں اسلام (قبول کرنے) کی دعوت دیتے ہیں، اگر تم اسلام قبول نہیں کرتے ہو تو ذلت و خواری کے ساتھ اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کرو اور اگر تم اس (جزیہ ادا کرنے) سے (بھی) انکار کرو گے تو تمہیں آگاہ ہو جانا چاہئے کہ ہلاکت و پشیمانی تمہارا مقدر بن چکی ہے، کیونکہ بلا شک و شبہ میرے ساتھ ایسے لوگوں کی جماعت ہے جو خون بہانے کو (یا خدا کی راہ میں اپنی جان قربان کر دینے کو) اسی طرح پسند کرتے ہیں جس طرح ایران کے لوگ شراب کو پسند کرتے ہیں اور سلامتی ہو اس پر جو حق و ہدایت کی پیروی کرے۔

 

نوٹ:

 

شراب کی مثال دینے کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح تم ایرانیوں کو شراب کے نشہ میں کیف وسرور حاصل ہوتا ہے اسی طرح میری جماعت کے لوگوں کو اللہ کی راہ میں قتل و قتال میں سرمستی وسرشاری حاصل ہوتی ہے یا ان کو اللہ کی راہ میں جان لینے اور جان دینے میں وہی خوشی اور وہی لذت حاصل ہوتی ہے جو تم شراب میں محسوس کرتے ہو۔ (واللہ اعلم بالصواب)

 

                اہلِ کتاب کے سلام کا جواب’’ علیکم‘‘ ہے

 

1: عَنْ عَائِشَۃَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا أَنَّ الْيَہُودَ دَخَلُوا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْکَ فَلَعَنْتُہُمْ فَقَالَ مَا لَکِ قُلْتُ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ فَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ عَلَيْکُمْ (صحیح بخاری: كِتَابُ الجِہَادِ وَالسِّيَرِ، بَابُ الدُّعَاءِ عَلَى المُشْرِكِينَ بِالہَزِيمَۃِ وَالزَّلْزَلَۃِ، (2935)

 

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ یہودی ایک روز رسول اکرمﷺ کے پاس آئے اور کہا’’ السّام علیکم‘‘ یعنی تم پر موت آئے (نعوذ باللہ)۔ تو میں نے ان پر لعنت کی، آپﷺ نے فرمایا: تمہیں کیا ہو گیا ہے میں نے کہا آپﷺ نے نہیں سنا جو ان لوگوں نے کہا، فرمایا: تم نے نہیں سنا، جو میں نے کہہ دیا ’’علیکم‘‘ یعنی تم پر ہو۔

 

2: عَنْ عَائِشَۃَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا أَنَّ الْيَہُودَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْکَ قَالَ وَعَلَيْکُمْ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ السَّامُ عَلَيْکُمْ وَلَعَنَکُمْ اللہُ وَغَضِبَ عَلَيْکُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ مَہْلًا يَا عَائِشَۃُ عَلَيْکِ بِالرِّفْقِ وَإِيَّاکِ وَالْعُنْفَ أَوْ الْفُحْشَ قَالَتْ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ رَدَدْتُ عَلَيْہِمْ فَيُسْتَجَابُ لِي فِيہِمْ وَلَا يُسْتَجَابُ لَہُمْ فِيَّ (صحیح بخاری: كِتَابُ الأَدَبِ، بَابُ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّﷺ فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا،(6030)

 

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ یہود نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور کہا السَّامُ عَلَيْکَ آپ نے فرمایا: وَعَلَيْکُم،م المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے کہا: السَّامُ عَلَيْکُمْ وَلَعَنَکُمُ اللّٰہُ وَغَضِبَ عَلَيْکُم (تم پر ہلاکت ہو اور اللہ تم پر لعنت کرے اور تم پر اپنا غضب نازل کرے) رسول اکرمﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! اس کو چھوڑو، نرمی اختیار کرو، اور سختی سے بچو فرمایا: بد گوئی سے بچو، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا، کیا آپ نے نہیں سنا، جو ان لوگوں نے کہا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے نہیں سنا جو میں نے جواب دیا، میری دعا ان کے حق میں قبول ہوتی ہے لیکن ان کی دعا میرے حق میں قبول نہیں ہوتی۔

 

3: عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ إِنَّ أَہْلَ الْکِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَکَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْہِمْ قَالَ قُولُوا وَعَلَيْکُمْ قَالَ أَبُو دَاوُد وَکَذَلِکَ رِوَايَۃُ عَائِشَۃَ وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُہَنِيِّ وَأَبِي بَصْرَۃَ يَعْنِي الْغِفَارِيَّ (سنن ابی داؤد: كِتَابُ الأَدَبِ، بَابٌ فِي السَّلَامِ عَلَى أَہْلِ الذِّمَّۃِ (5207)

 

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ کے صحابہ نے عرض کیا کہ رحمت عالمﷺ کے اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں تو ہم کیسے جواب دیں؟ آپ نے فرمایا: کہو وعلیکم اور تم پر بھی یعنی اگر واقعتاً تم نے سلامتی کی دعا کی ہے تو تم پر بھی اور اگر موت کی بدعا کی ہے کہ تو وہ بھی تم پر ہی ہو۔

 

امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا ابو عبدالرحمن الجہنی اور سیدنا ابو بصرہ الغفاری رضی اللہ عنہما نے اسی طرح روایت کیا ہے۔

 

                سلام کرنا ایمان کی علامت ہے

 

عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُمَا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَی إِلَيْکُمْ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ کَانَ رَجُلٌ فِي غُنَيْمَۃٍ لَہُ فَلَحِقَہُ الْمُسْلِمُونَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ فَقَتَلُوہُ وَأَخَذُوا غُنَيْمَتَہُ فَأَنْزَلَ اللہُ فِي ذَلِکَ إِلَی قَوْلِہِ تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاۃِ الدُّنْيَا تِلْکَ الْغُنَيْمَۃُ قَالَ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ السَّلَامَ (صحیح بخاری: كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ، بَابُ {وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا}

[النساء: 94] ،(4591)

 

عمرو بن دینار، عطاء، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کی کہ(وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰى اِلَيْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا۔ الخ) (4۔ النسآء:94) اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ کچھ مسلمان کسی جہاد سے واپس آرہے تھے کہ انہیں راستہ میں ایک گڈریا ملا تو اس نے مسلمانوں سے السلام علیکم کہا، مسلمانوں نے اس کو مار ڈالا اور اس کی تمام بکریاں لے لیں، چنانچہ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی ابن عباس نے اس آیت میں السلام کا لفظ پڑھا ہے۔

 

                ہر جان، اَنجان کوسلام کرو

 

1: عَنْ يَزِيدَ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُوْ لَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ قَالَ تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَی مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ (صحیح بخاری: كِتَابُ الإِيمَانِ، بَابٌ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ مِنَ الإِسْلاَمِ، (12)، (28)وغیرہ

 

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اکرمﷺ سے پوچھا کہ کس قسم کا اسلام بہتر ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا: کھانا کھلاؤ اورسلام کرو جس کو جانتے ہو اور جس کو نہ جانتے ہو (سب کو)

 

2: عَنْ الطُّفَيْلَ بْنَ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ کَانَ يَأْتِي عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ فَيَغْدُو مَعَہُ إِلَی السُّوقِ قَالَ فَإِذَا غَدَوْنَا إِلَی السُّوقِ لَمْ يَمُرَّ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ عَلَی سَقَاطٍ وَلَا صَاحِبِ بِيعَۃٍ وَلَا مِسْکِينٍ وَلَا أَحَدٍ إِلَّا سَلَّمَ عَلَيْہِ قَالَ الطُّفَيْلُ فَجِئْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ يَوْمًا فَاسْتَتْبَعَنِي إِلَی السُّوقِ فَقُلْتُ لَہُ وَمَا تَصْنَعُ فِي السُّوقِ وَأَنْتَ لَا تَقِفُ عَلَی الْبَيِّعِ وَلَا تَسْأَلُ عَنْ السِّلَعِ وَلَا تَسُومُ بِہَا وَلَا تَجْلِسُ فِي مَجَالِسِ السُّوقِ قَالَ وَأَقُولُ اجْلِسْ بِنَا ہَاہُنَا نَتَحَدَّثُ قَالَ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ يَا أَبَا بَطْنٍ وَکَانَ الطُّفَيْلُ ذَا بَطْنٍ إِنَّمَا نَغْدُو مِنْ أَجْلِ السَّلَامِ نُسَلِّمُ عَلَی مَنْ لَقِيَنَا (مؤطا امام مالک: السَّلاَمُ، جَامِعُ السَّلاَمِ، (3353)

 

طفیل بن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آتے اور صبح صبح ان کے ساتھ بازار کو جاتے، طفیل کہتے ہیں جب ہم بازار میں پہنچے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہر ایک ردی بیچنے والے پر اور ہر دکاندار پر اور ہر مسکین پر اور ہر کسی پر سلام کرتے ایک روز میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا انہوں نے مجھے بازار لے جانا چاہا میں نے کہا تم بازار میں جا کر کیا کرو گے نہ تم بیچنے والوں کے پاس ٹھہرتے ہو نہ کسی اسباب کو پوچھتے ہو اس سے یہیں بیٹھے رہو ہم تم باتیں کریں گے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اے پیٹ والے اور طفیل (بڑے) پیٹ والے تھے، ہم بازار میں صرف سلام کرنے جاتے ہیں، ہر اس کو سلام کرتے ہیں جس سے ملاقات ہوتی ہے۔

                انجان کو سلام نہ کرنا قیامت کی علامت ہے

 

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَۃِ أَنْ يُسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَى الرَّجُلِ لَا يُسَلِّمُ عَلَيْہِ إِلَّا لِلْمَعْرِفَۃِ (مسند الإمام أحمد بن حنبل رحمہ اللہ: مُسْنَدُ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ رضی اللہ عنہ} (3846)

 

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: یہ بات قیامت کی علامات میں سے ہے کہ انسان صرف اپنی جان پہچان والے کو سلام کرے۔

 

                خواتین کوسلام کرنا

 

عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ کَانَتْ فِينَا امْرَأَۃٌ تَجْعَلُ عَلَی أَرْبِعَائَ فِي مَزْرَعَۃٍ لَہَا سِلْقًا فَکَانَتْ إِذَا کَانَ يَوْمُ جُمُعَۃٍ تَنْزِعُ أُصُولَ السِّلْقِ فَتَجْعَلُہُ فِي قِدْرٍ ثُمَّ تَجْعَلُ عَلَيْہِ قَبْضَۃً مِنْ شَعِيرٍ تَطْحَنُہَا فَتَکُونُ أُصُولُ السِّلْقِ عَرْقَہُ وَکُنَّا نَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ فَنُسَلِّمُ عَلَيْہَا فَتُقَرِّبُ ذَلِکَ الطَّعَامَ إِلَيْنَا فَنَلْعَقُہُ وَکُنَّا نَتَمَنَّی يَوْمَ الْجُمُعَۃِ لِطَعَامِہَا ذَلِکَ (صحیح بخاری: كِتَابُ الجُمُعَۃِ ، بَابُ قَوْلِ اللّٰہِ تَعَالَى:{فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلاَۃُ فَانْتَشِرُوا فِي الأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّہِ} [الجمعۃ: 10] ،(938))

 

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم میں ایک عورت تھی جو اپنے کھیت میں نہر کے کنارے چقندر بویا کرتی تھی، جب جمعہ کا دن آتا تو چقندر کی جڑوں کو اکھاڑتی اور اسے ہانڈی میں پکاتی، پھر جو کا آٹا پیس کر اس ہانڈی میں ڈالتی، تو چقندر کی جڑیں گویا اس کی بوٹیاں ہو جاتیں، اور ہم جمعہ کی نماز سے فارغ ہوتے تو اس کے پاس جا کر اسے سلام کرتے، وہ کھانا ہمارے پاس لا کر رکھ دیتی اور ہم اسے چاٹتے تھے، اور ہم لوگوں کو اس کے اس کھانے کے سبب سے جمعہ کے دن کی تمنا ہوتی تھی۔

 

                بچوں سے سلام میں پہل کرنا

 

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ أَنَّہُ مَرَّ عَلَی صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْہِمْ وَقَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُہُ (صحیح بخاری: كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ ، بَابُ التَّسْلِيمِ عَلَى الصِّبْيَانِ ،(6247)

 

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ وہ بچوں کے پاس سے گزرتے تو انھیں سلام کرتے اور کہتے کہ نبی کریمﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔

 

                بول و براز کے وقت سلام کا جواب نہ دیں

 

عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَبُولُ فَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْہِ (صحیح مسلم: كِتَابُ الْحَيْضِ ، باب ترك ردّ السّلام أثناء البول ِ،(369،370)

 

سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی گزرا اور نبی کریمﷺ پیشاب کر رہے تھے اس نے سلام کیا آپﷺ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔

 

                اپنے گھر والوں کوسلام کرنا

 

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَا بُنَيَّ إِذَا دَخَلْتَ عَلَی أَہْلِکَ فَسَلِّمْ يَکُنْ بَرَکَۃً عَلَيْکَ وَعَلَی أَہْلِ بَيْتِکَ قَالَ أَبُو عِيسَی ہٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ (جامع ترمذی: أَبْوَابُ الِاسْتِئْذَانِ وَالْآدَابِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّى اللَّہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ ، بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ إِذَا دَخَلَ بَيْتَہُ ،(2698))

 

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرمﷺ نے مجھے فرمایا: اے بیٹے جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تو سلام کیا کرو۔ اس سے تم پر بھی برکت ہوگی اور گھر والوں پر بھی۔ اِمام ابوعیسیٰ (امام ترمذی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

 

                ناراضگی میں بھی اہلیہ کو سلام کرنا

 

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: انہوں نے ان لوگوں کا واقعہ بیان کیا جنہوں نےان پر تہمت لگائی تھی اور اللہ نے ان کی پاکیزگی کا اعلان کیا، زہری نے کہا کہ ان میں سے ہر ایک نے اس حدیث کا ایک ایک ٹکڑا بیان کیا ان میں سے بعض ایک دوسرے سے زیادہ یاد رکھنے والے اور بیان کرنے میں معتبر تھے اور ان میں سے ہر ایک کی حدیث کو جو انہوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سےنقل کی ہے میں نے یاد رکھا اور ان میں ایک روایت دوسرے کی تصدیق کرتی ہے ان لوگوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول نقل کیا کہ رسول اکرمﷺ جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ان میں سے جس کا نام نکل آتا اس کو ساتھ لے جاتے ایک جنگ میں (غزوہ بنی مصطلق) جانے کے لیے قرعہ اندازی کی، تو میرا نام نکل آیا میں آپﷺ کے ساتھ روانہ ہو گئی یہ واقعہ پردہ کی آیت اترنے کے بعد کا ہے میں ہودج میں سوار رہتی اور ہودج سمیت اتاری جاتی ہم لوگ اسی طرح چلتے رہے یہاں تک کہ جب رسول اکرمﷺ اپنے اس غزوہ سے فارغ ہوئے اور لوٹے (واپسی میں) ہم لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو رات کے وقت آپﷺ نے روانگی کا اعلان کردیا جب آپﷺ نے روانگی کا اعلان کیا تو میں اٹھی اور چلی یہاں تک کہ لشکر سے آگے بڑھ گئی جب میں اپنی حاجت سے فارغ ہوئی اور اپنے ہودج کے پاس آئی میں نے اپنے سینہ پر ہاتھ پھیرا تو معلوم ہوا کہ میرا جزع اظفار کا ہار ٹوٹ کر گر گیا میں واپس ہوئی اور اپنا ہار ڈھونڈنے لگی اس کی تلاش میں مجھے دیر ہو گئی جو لوگ میرا ہودج اٹھاتے تھے آئے اور اس ہود کو اٹھا کر اس اونٹ پر رکھ دیا جس پر میں سوار ہوتی تھی وہ لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں اس ہودج میں ہوں اس زمانہ میں عورتیں عموماً ہلکی پھلکی ہوتی تھیں بھاری نہ ہوتی تھیں ان کی خوراک قلیل تھی اس لیے جب ان لوگوں نے ہودج کو اٹھایا تو اس کا وزن انہیں خلاف معمول معلوم نہ ہوا اور اٹھا لیا مزید برآں میں ایک کم سن لڑکی تھی، چنانچہ یہ لوگ اونٹ کو ہانک کر روانہ ہو گئے لشکر کے روانہ ہونے کے بعد میرا ہار مل گیا میں ان لوگوں کے ٹھکانے پر آئی تو وہاں کوئی نہ تھا میں نے اس مقام کا قصد کیا جہاں میں تھی اور یہ خیال کیا کہ وہ مجھے نہ پائیں گے تو تلاش کرتے ہوئے میرے پاس پہنچ جائیں گے میں اسی انتظار میں بیٹھی ہوئی تھی کہ نیند آنے لگی اور میں سوگئی صفوان بن معطل جو پہلے سلمی تھے پھر ذکوانی ہو گئے لشکر کے پیچھے تھے صبح کو میری جگہ پر آئے اور دور سے انہوں نے ایک سویا ہوا آدمی دیکھا تو میرے پاس آئے اور (مجھ کو پہچان لیا) اس لیے کہ پردہ کی آیت اترنے سے پہلے انہوں نے مجھے دیکھ رکھا تھا، صفوان کے ( انا للہ وانا الیہ راجعون) پڑھنے سے میں جاگ گئی وہ میرا اونٹ پکڑ کر پیدل چلنے لگے یہاں تک کہ ہم لشکر میں پہنچ گئے جب کہ لوگ ٹھیک دوپہر کے وقت آرام کرنے کے لیے اتر چکے تھے، پس ہلاک ہو گیا وہ جسے ہلاک ہونا تھا اور تہمت لگانے والوں کا سردار عبداللہ بن ابی بن سلول تھا (جس نے صفوان کے ساتھ مجھ پر تہمت لگائی) خیر ہم لوگ مدینہ پہنچے اور میں ایک مہینہ تک بیمار رہی تہمت لگانے والوں کی باتیں لوگوں میں پھیلتی رہیں اور مجھے اپنی بیماری کی حالت میں شک پیدا ہوا کہ نبی کریمﷺ اس لطف سے پیش نہیں آتے تھے جس طرح (اس سے قبل) بیماری کی حالت میں لطف سے پیش آیا کرتے تھے اب تو صرف تشریف لاتے سلام کرتے پھر پوچھتے تو کیسی ہے؟ (پھر چلے جاتے) مجھے اس کی بالکل خبر نہ تھی یہاں تک کہ میں بہت کمزور ہو گئی (ایک رات) میں اور مسطح کی ماں مناصع کی طرف (رفع حاجت کے لیے) نکلیں ہم لوگ رات ہی کو جایا کرتے تھے اور یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ ہم لوگوں کے بیت الخلا ہمارے گھروں کے قریب نہ تھے اور عرب والوں کے پچھلے معمول کے موافق ہم لوگ جنگل میں یا باہر جا کر رفع حاجت کرتے تھے میں اور اُمِّ مسطح بنت ابی رُھم دونوں چلے جا رہے تھے کہ وہ اپنی چادر میں اٹک کر گر پڑیں اور کہا کہ مسطح ہلاک ہو جائے، میں نے اس سے کہا تو نے بہت بری بات کہی ایسے آدمی کو برا کہتی ہو جو بدر میں شریک ہوا، اس نے کہا اے بی بی! کیا تم نے نہیں سنا، جو یہ لوگ کہتے ہیں؟ اور اس نے مجھ سے تہمت لگانے والوں کی بات بیان کی یہ سن کر میرا مرض اور بڑھ گیا، جب میں اپنے گھر واپس آئی تو میرے پاس رسول اکرمﷺ تشریف لائے اور فرمایا: تو کیسی ہے؟ میں نے عرض کیا مجھے اپنے والدین کے پاس جانے کی اجازت دیجئے اور اس وقت میرا مقصد یہ تھا کہ اس خبر کی بابت ان سے تحقیق کروں، رسول اکرمﷺ نے مجھے اجازت دیدی میں اپنے والدین کے پاس آئی تو میں نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ لوگ کیا بیان کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا بیٹی تو ایسی باتوں کی پرواہ نہ کر جو عورت حسین ہو اور اس کے شوہر کو اس سے محبت ہو اور اس کی سوکنیں ہوں تو اس قسم کی باتیں بہت ہوا کرتی ہیں، میں نے کہا سبحان اللہ اس قسم کی بات سوکنوں نے تو نہیں کی ایسی بات تو لوگوں میں مشہور ہو رہی ہے میں نے وہ رات اس حال میں گزاری کہ میرے آنسو نہ تھمتے تھے اور نہ مجھے نیند آئی پھر جب صبح ہوئی تو رسول اکرمﷺ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو جب وحی اترنے میں دیر ہوئی بلایا اور اپنی بیوی کو جدا کرنے سے متعلق ان دونوں سے مشورہ کرنے لگے اسامہ چونکہ جانتے تھے کہ آپﷺ کو اپنی بیویوں سے محبت ہے اس لیے انہوں نے ویسا ہی مشورہ دیا اور کہا میں آپ کی بیویوں میں بھلائی ہی جانتا ہوں،لیکن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، اللہ تعالیٰ نے آپﷺ پر تنگی نہیں کی،ان کے علاوہ عورتیں بہت ہیں اور لونڈی (بریرہ رضی اللہ عنہا) سے دریافت کیجئے! وہ آپﷺ سے سچ سچ بیان کرے گی رسول اکرمﷺ نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا: اے بریرہ !کیا تو نے عائشہ رضی اللہ عنہا میں کوئی ایسی بات دیکھی ہے جو تجھے شبہ میں ڈالے؟ بریرہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے ان میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جو عیب کی ہو بجز اس کے کہ وہ کم سن ہیں اور گوندھا ہوا آٹا چھوڑ کرسوجاتی ہیں اور بکری آ کر کھا جاتی ہے رسول اکرمﷺ اسی دن خطبہ دینے کھڑے ہو گئے اور عبداللہ بن ابی بن سلول کے مقابلہ میں مدد طلب کی اور آپﷺ نے فرمایا: کون ہے جو میری مدد کرے؟ اس شخص کے مقابلہ میں جس نے مجھے میرے گھر والوں سے متعلق اذیت دی حالانکہ بخدا میں اپنے گھر والوں میں بھلائی دیکھتا ہوں اور جس مرد کے ساتھ تہمت لگائی اس میں بھی بھلائی ہی دیکھتا ہوں، وہ گھر میں میرے ساتھ ہی داخل ہوتا تھا، یہ سن کر سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یارسول اللہﷺ میں آپﷺ کی مدد کے لیے تیار ہوں اگر وہ قبیلہ اوس کا ہے تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا اور اگر وہ ہمارے بھائی خزرج کے قبیلہ کا ہے تو جیسا حکم دیں عمل کروں گا، یہ سن کر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو قبیلہ خزرج کے سردار تھے کھڑے ہوئے، اس سے پہلے وہ مرد صالح تھے لیکن حمیّت نے انہیں اکسایا اور کہا اللہ کی قسم نہ تو اسے مار سکے گا اور نہ تو اس کے قتل پر قادر ہے پھر اسید بن حضیر کھڑے ہوئے اور کہا تو جھوٹ کہتا ہے اللہ کی قسم ہم اس کو قتل کر دیں گے تو منافق ہے منافقوں کی طرف سے جھگڑا کرتا ہے اوس و خزرج دونوں لڑائی کے لیے ابھر گئے یہاں تک کہ آپس میں لڑنے کا ارادہ کیا جب کہ رسول اکرمﷺ منبر پر ہی تشریف فرما تھے آپﷺ منبر سے اترے اور ان سب کے اشتعال کو رفع کیا، یہاں تک کہ وہ لوگ خاموش ہو گئے اور آپﷺ بھی خاموش ہو گئے اور میں سارا دن روتی رہی نہ تو میرے آنسو تھمتے اور نہ مجھے نیند ہی آتی صبح کو میرے پاس والدین آئے میں دو رات اور ایک دن روتی رہی یہاں تک کہ میں خیال کرنے لگی تھی کہ رونے سے میرا کلیجہ شق ہوجائے گا وہ دونوں بیٹھے ہوئے تھے اور میں رو رہی تھی کہ اتنے میں ایک انصاری عورت نے اندر آنے کی اجازت مانگی میں نے اسے اجازت دے دی وہ بیٹھ گئی اور میرے ساتھ رونے لگی ہم لوگ اس حال میں تھے کہ رسول اکرمﷺ تشریف لائے اور بیٹھ گئے حالانکہ اس سے پہلے جب سے کہ میرے متعلق تہمت لگائی گئی کبھی نہیں بیٹھے تھے ایک مہینہ تک انتظار کرتے رہے لیکن میری شان میں کوئی وحی نازل نہیں ہوئی آپﷺ نے تشہد پڑھا پھر فرمایا :اے عائشہ! تمہارے متعلق مجھ کو ایسی ایسی خبر ملی ہے اگر تو بَری ہے تو اللہ تعالیٰ تمہاری پاکیزگی ظاہر کر دے گا اور اگر تو اس میں مبتلا ہو گئی ہے تو اللہ سے مغفرت طلب کر اور توبہ کر اس لیے کہ جب بندہ اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہے پھر توبہ کر لیتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے جب رسول اکرمﷺ نے اپنی گفتگو ختم کی تو میرے آنسو دفعتہً رک گئے یہاں تک ایک قطرہ بھی میں نے محسوس نہیں کیا اور میں نے اپنے والد سے کہا کہ میری طرف سے رسول اکرمﷺ کو جواب دیجئے انہوں نے کہا بخدا میں نہیں جانتا کہ رسول اکرمﷺ کو کیا جواب دوں پھر میں نے اپنی ماں سے کہا کہ میری طرف سے رسول اکرمﷺ کو جواب دیجئے انہوں نے کہا بخدا میں نہیں جانتی کہ رسول اکرمﷺ کو کیا کہوں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں کمسن تھی اور قرآن مجید زیادہ نہیں پڑھا تھا میں نے عرض کیا کہ بخدا میں جانتی ہوں کہ آپﷺ نے وہ چیز سن لی ہے جو لوگوں میں مشہور ہے اور آپﷺ کے دل میں بیٹھ گئی ہے اور آپﷺ نے اس کو سچ سمجھ لیا ہے اگر میں یہ کہوں کہ میں بَری ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں بری ہوں تو آپﷺ میری بات کو سچا نہ جانیں گے اور اگر میں کسی بات کا اقرار کر لوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں بَری ہوں تو آپﷺ مجھے سچاسمجھیں گے اللہ کی قسم! میں نے اپنی اور آپﷺ کی مثال سیدنا یوسف کے والد کے سوا نہیں پائی جب کہ انہوں نے فرمایا تھا: کہ صبر بہتر ہے اور اللہ ہی میرا مدد گار ہے ان باتوں میں جو تم بیان کرتے ہو پھر میں نے بستر پر کروٹ بدل لی مجھے امید تھی کہ اللہ تعالیٰ میری پاکدامنی ظاہر فرما دے گا لیکن اللہ کی قسم مجھے یہ گمان نہ تھا کہ میرے متعلق وحی نازل ہوگی اور اپنے دل میں اپنے آپ کو اس قابل نہ سمجھتی تھی کہ میرے اس معاملہ کا ذکر قرآن میں ہوگا، بلکہ میں سمجھتی تھی کہ رسول اکرمﷺ کوئی خواب دیکھیں گے جس میں اللہ تعالیٰ میری پاکدامنی ظاہر کر دے گا پھر اللہ کی قسم آپﷺ اس جگہ سے ہٹے بھی نہ تھے اور نہ گھر والوں میں سے کوئی باہر گیا تھا کہ آپﷺ پر وحی نازل ہونے لگی اور آپﷺ پر وہی تکلیف کی حالت طاری ہو گئی جو نزول وحی کے وقت طاری ہوا کرتی تھی سردی کے دنوں میں بھی آپﷺ کی جبین اطہر سے پسینے کے قطرات موتیوں کی مثل نمودار ہوئے، جب وحی کی کیفیت سے آپ باہر آئے، تو خوشی سے آپ کا چہرہ انور چمک رہا تھا، اور وہ سب سے پہلا جملہ جو آپ نے ارشاد فرمایا: آپﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے عائشہ! اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہاری پاک دامنی بیان کر دی ہے، مجھ سے میری ماں نے کہا کہ اٹھو! اور رسول اکرمﷺ کا (شکریہ) ادا کرو میں نے کہا نہیں! اللہ کی قسم! میں ان کا شکریہ ادا نہیں کروں گی، میں تو صرف اللہ کا شکریہ ادا کروں گی(جس نے میرے آنسو اپنے دامنِ رحمت سے پونچھے ہیں) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی

 

(اِنَّ الَّذِيْنَ جَا ءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَۃٌ مِّنْكُمْ)

 

آخر آیت تک جب اللہ تعالیٰ نے میری برات میں یہ آیت نازل کی تو ابوبکر صدیق نے جو مسطح بن اُثاثہ کی ذات پر اس کی قرابت کے سبب خرچ کرتے تھے انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم میں مسطح کی ذات پر خرچ نہیں کروں گا کیونکہ اس نے عائشہ پر تہمت لگائی تھی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت

 

وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ يُّؤْتُوْا اُولِي الْقُرْبٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَالْمُہٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰہِ ډوَلْيَعْفُوْا وَلْيَصْفَحُوْااَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰہُ لَكُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ

 

نازل فرمائی، سیدنا ابوبکر کہنے لگے میں تو اللہ کی قسم پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو بخش دے پھر مسطح کو وہی دینا شروع کر دیا جو برابر دیتے تھے اور رسول اکرمﷺ زینب بنت جحش سے میرے متعلق پوچھتے تھے اور فرماتے اے زینب کیا تو جانتی ہے؟ اور تو نے کیا دیکھا ہے؟ تو انہوں نے کہا میں اپنے کان اور اپنی آنکھ کو بچاتی ہوں اللہ کی قسم میں تو ان کو اچھا ہی جانتی ہوں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ وہی میری ہم سر تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو پرہیزگاری کے سبب بچا لیا تھا۔ (صحیح بخاری: كِتَابُ الشَّہَادَاتِ، بَابُ تَعْدِيلِ النِّسَاءِ بَعْضِہِنَّ بَعْضًا ،(2661)

 

                ایک دوسرے کو سلام بھجوانا

 

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَی ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ إِنَّ فُلَانًا يُقْرِئُکَ السَّلَامَ قَالَ إِنَّہُ بَلَغَنِي أَنَّہُ قَدْ أَحْدَثَ فَإِنْ کَانَ قَدْ أَحْدَثَ فَلَا تُقْرِئْہُ مِنِّي السَّلَامَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَکُونُ فِي أُمَّتِي أَوْ فِي ہَذِہِ الْأُمَّۃِ مَسْخٌ وَخَسْفٌ وَقَذْفٌ وَذَلِکَ فِي أَہْلِ الْقَدَرِ [1]

 

امام نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی سیدناابن عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کرنے لگا کہ فلاں نے آپ کو سلام کہا ہے، فرمایا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس نے دین میں نئی بات ایجاد کی ہے اگر واقعی اس نے بدعت ایجاد کی ہے تو اسے میری طرف سے سلام مت کہنا، کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت (یا اس امت) میں صورتیں بگڑیں گی اور زمین میں دھنسایا جائے گا اور سنگباری ہوگی اور یہ سب کچھ منکرین تقدیر کے ساتھ ہوگا۔

 

                زندوں اور مردوں کے سلام میں فرق

 

عَنْ أَبِي تَمِيمَۃَ الْہُجَيْمِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِہِ قَالَ طَلَبْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَيْہِ فَجَلَسْتُ فَإِذَا نَفَرٌ ہُوَ فِيہِمْ وَلَا أَعْرِفُہُ وَہُوَ يُصْلِحُ بَيْنَہُمْ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ مَعَہُ بَعْضُہُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللہِ فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِکَ قُلْتُ عَلَيْکَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللہِ عَلَيْکَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللہِ عَلَيْکَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ إِنَّ عَلَيْکَ السَّلَامُ تَحِيَّۃُ الْمَيِّتِ إِنَّ عَلَيْکَ السَّلَامُ تَحِيَّۃُ الْمَيِّتِ ثَلَاثًا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلُ أَخَاہُ الْمُسْلِمَ فَلْيَقُلْ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَالَ وَعَلَيْکَ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَعَلَيْکَ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَعَلَيْکَ وَرَحْمَۃُ اللہِ [2]

 

سیدنا ابوتمیمہ ہجیمی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ایک شخص کا قول نقل کرتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کو تلاش کرنے کے لیے نکلا تو آپﷺ کو نہ پا کر ایک جگہ بیٹھ گیا اتنے میں چند لوگ آئے نبی کریمﷺ بھی انہی میں تھے، میں آپﷺ کو نہیں پہچانتا تھا، آپﷺ لوگوں کے درمیان صلح کرا رہے تھے، جب آپﷺ فارغ ہوئے تو کچھ لوگ آپﷺ کے ساتھ اٹھے اور کہنے لگے یارسول اللہﷺ!میں نے جب یہ دیکھا تو میں بھی کہنے لگا علیک السلام یارسول اللہﷺ (تین مرتبہ اسی طرح کیا)، آپﷺ نے فرمایا: بےشک علیک السلام میّت کا سلام ہے، اسے تین مرتبہ دہرایا، پھر آپﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جب کوئی شخص اپنے کسی بھائی سے ملے تو کہے السلام علیکم و رحمۃ اللہ پھر آپﷺ نے میرے سلام کا جواب دیتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا: وعلیک و رحمۃ اللہ، (یہ الفاظ تین مرتبہ دُہرائے)۔

 

                سیدنا آدم علیہ السلام اور فرشتوں کا سلام

 

عَنْ أَبِي ہُرَيْرَۃَ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَالَ خَلَقَ اللہُ آدَمَ وَطُولُہُ سِتُّونَ ذِرَاعًا ثُمَّ قَالَ اذْہَبْ فَسَلِّمْ عَلَی أُولَئِکَ مِنْ الْمَلَائِکَۃِ فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَکَ تَحِيَّتُکَ وَتَحِيَّۃُ ذُرِّيَّتِکَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ فَقَالُوا السَّلَامُ عَلَيْکَ وَرَحْمَۃُ اللہِ فَزَادُوہُ وَرَحْمَۃُ اللہِ فَکُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَلَی صُورَۃِ آدَمَ فَلَمْ يَزَلْ الْخَلْقُ يَنْقُصُ حَتَّی الْآنَ [3]

 

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان (کے قد) کی لمبائی ساٹھ گز تھی پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :جاؤ اور فرشتوں کو سلام کرو اور جو کچھ وہ جواب دیں اسے غور سے سنو! وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا حضرت آدم علیہ السلام نے فرشتوں کے پاس جا کر کہا السلام علیکم انہوں نے کہا السلام علیک و رحمۃ اللہ انہوں نے لفظ و رحمۃ اللہ زیادہ کیا پس جو شخص بھی جنت میں داخل ہوگا وہ آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوگا(آدم علیہ السلام ساٹھ گز کے تھے لیکن اب تک مسلسل آدمیوں کا قد کم ہوتا رہا)۔

 

اور ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا، اس ارشاد گرامی کے معنی میں علماء کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے، بعض حضرات تو یہ کہتے ہیں کہ یہ ارشاد گرامی احادیث صفات میں سے ہے جس کے حقیقی مفہوم و مطلب تک رسائی ممکن نہیں ہے اس لیے اس بارے میں کوئی تاویل و توجیہ کرنے کے بجائے سکوت ہی بہتر ہے، جیسا کہ اس قسم کے ان اقوال و ارشادات کے بارے میں سکوت اختیار کیا جاتا ہے جو متشابہات کہلاتے ہیں علماء سلف اسی قول کی طرف مائل ہیں ۔

 

جبکہ بعض حضرات اس ارشاد گرامی کی مختلف تاویلیں کرتے ہیں، ان کے نزدیک یہاں اللہ کی صورت سے مراد اللہ کی صفت ہےجس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صفت پر بنایا اور ان کو صفات کے ساتھ موصوف کیا جو صفات کریمہ باری تعالیٰ کا پر تو ہیں ، چنانچہ اللہ نے ان کو، حیّ، عالم، قادر، متکلم، سمیع اور بصیر بنایا۔

 

بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ صورتہ کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف، شرف و عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے ہے، جیسا کہ روح اللہ اور بیت اللہ میں روح اور بیت کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے اس صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اس لطیف و جمیل صورت پر پیدا کیا جو اسرار و لطائف پر مشتمل ہے اور جس کو اس نے اپنی قدرت کاملہ کے ذریعہ اپنے پاس سے عطا کیا۔

 

بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ صورتہ کی ضمیر حضرت آدم علیہ السلام کی طرف راجع ہے یعنی اللہ نے آدم علیہ السلام کو انہی کی صورت پر بنایا مطلب یہ ہے کہ وہ ابتداء آفرینش سے ہی شکل پر تھے دوسرے انسانوں کی طرح ان کی تخلیق اس تدریجی طور پر نہیں ہوئی تھی کہ پہلے وہ نطفہ تھے پھر مضغہ ہوئے پھر جنین ، پھر طفل ، پھر صبی اور پھر پورے مرد ہوئے ، بلکہ وہ ابتداء ہی میں تمام اعضاء و جوارح، کامل شکل و صورت اور ساٹھ گز قد کے پورے انسان بنائے گئے تھے، لہٰذا اللہ نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر بنایا سے مراد آدم علیہ السلام کی تخلیق و پیدائش کی حقیقت کو واضح کرنا ہے اور چونکہ دیگر صفات کے برخلاف قد کی لمبائی ایک غیر معروف چیز تھی اس لیے اس کو خاص طور پر ذکر کیا۔

 

و رحمۃ اللہ کا لفظ فرشتوں نے زیادہ کیا اس کے ذریعہ سلام کے جواب کے سلسلے میں ایک تہذیب و شائستگی اور ادب و فضیلت کی طرف اشارہ کیا گیا ، چنانچہ افضل طریقہ یہی ہے کہ اگر کوئی شخص السلام علیکم کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہا جائے اسی طرح اگر کوئی السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہے تو اس کے جواب میں وعلیک السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہا جائے ایک روایت میں و رحمۃ اللہ کے بعد و مغفرۃ کا لفظ بھی منقول ہے لیکن وہ سندًاصحیح نہیں ہے، رہی یہ بات کہ فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کے سلام کے جواب میں وعلیک کے بجائے السلام علیک کیوں کہا تو ہو سکتا ہے کہ ملائکہ نے بھی یہ چاہا ہو کہ سلام کرنے میں وہ خود ابتداء کریں ، جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے کہ جب دو آدمی ملتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک سلام میں ابتداء کرنا چاہتا ہے تو دونوں ہی ایک دوسرےکو السلام علیکم کہتے ہیں لیکن یہ بات واضح رہے کہ جواب کے درست و صحیح ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ جواب سلام کے بعد واقع ہو نہ کہ دونوں ایک ساتھ واقع ہوں جیسا کہ فَاسْتَمِعْ مَا يُحَيُّونَکَ سے واضح ہوتا ہے ، اس لیے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اگر دو شخص ملیں اور دونوں ایک ہی ساتھ السلام علیکم کہیں تو دونوں میں سے ہر ایک پر جواب دینا واجب ہو گا۔

 

حدیث کا آخری جملہ، تقدیم و تاخیر، پر دلالت کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کا قد ساٹھ گز تھا ان کے بعد لوگوں کے قد بتدریج کو تاہ ہوتے گئے پھر جنت میں داخل ہوں گے تو سب کے قد دراز ہو جائیں گے جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کا قد تھا۔

 

یہ روایت مختصر ہے جبکہ ترمذی شریف میں مفصل بیان کی گئی ہے ملاحظہ فرمائیں، سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو بنایا اور ان کے جسم میں روح پھونکی تو ان کو چھینک آئی انہوں نے الحمدللہ کہا اس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کی توفیق و اجازت سے خدا کی حمد کی اللہ نے ان کی حمد کے جواب میں فرمایا: یرحمک اللہ یعنی تم پر اللہ کی رحمت نازل ہو۔ اور پھر فرمایا: آدم فرشتوں کی اس جماعت کے پاس جاؤ جو وہاں بیٹھی ہوئی ہے اور کہو کہ السلام علیکم (چنانچہ آدم علیہ السلام ان فرشتوں کی جماعت کے پاس گئے اور ان کو سلام کیا) فرشتوں نے جواب میں کہا کہ علیک السلام و رحمۃ اللہ ۔ اس کے بعد آدم علیہ السلام اپنے پروردگار کے پاس آئے یعنی اس جگہ لوٹ کر آئے جہاں پروردگار نے ان سے کلام کیا تھا اللہ نے ان سے یہ فرمایا: (یعنی السلام علیکم و رحمۃ اللہ) تمہاری اور تمہاری اولاد کی دعا ہے جو آپس میں ایک دوسرے کو دیں گے پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: حالانکہ اس کے دونوں ہاتھ بند تھے کہ ان دونوں ہاتھوں میں سے جس کو چاہو پسند کر لو، حضرت آدم علیہ السلام نے کہا کہ میں نے اپنے پروردگار کے داہنے ہاتھ کو پسند کر لیا اور میرے پروردگار کے دونوں ہاتھ داہنے اور برکت والے ہیں اللہ نے اس ہاتھ کو کھولا تو آدم علیہ السلام نے کیا دیکھا کہ اس میں آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی صورتیں ہیں انہوں نے پوچھا کہ پروردگار یہ کون ہیں؟ پروردگار نے فرمایا: یہ تمہاری اولاد ہے حضرت آدم علیہ السلام نے یہ بھی دیکھا کہ ہر مسلمان کی عمر اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھی ہوئی ہے پھر ان کی نظر ایک ایسے انسان پر پڑی جو سب سے زیادہ روشن تھا جو ان کے روشن ترین لوگوں میں سے ایک تھا آدم علیہ السلام نے اس انسان کو دیکھ کر پوچھا کہ میرے پروردگار یہ کون ہے؟ پروردگار نے فرمایا: یہ تمہارا بیٹا داؤد ہے اور میں نے دیکھا کہ اس کی عمر چالیس سال لکھی ہے حضرت آدم علیہ السلام نے کہا کہ پروردگار اس کی عمر کچھ اور بڑھا دیجیے، پروردگار نے فرمایا: یہ وہ چیز ہے جس کو میں اس کے حق میں لکھ چکا ہوں حضرت آدم علیہ السلام نے کہا کہ پروردگار اگر اس کی عمر لکھی جا چکی ہے تو میں اپنی عمر سے ساٹھ سال اس کو دیتا ہوں پروردگار نے فرمایا: تم جانو اور تمہارا کام جانے گویا اس معاملہ میں ہم تمہیں اختیار دیتے ہیں۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں: کہ اس کے بعد حضرت آدم علیہ السلام جنت میں رہے جب تک کہ اللہ نے چاہا اور پھر ان کو جنت سے زمین پر اتارا گیا اور حضرت آدم علیہ السلام برابر اپنی عمر کے سالوں کو گنتے رہے یہاں تک کہ ان کی عمر نو سو چالیس سال ہوئی تو موت کا فرشتہ روح قبض کرنے کے لیے ان کے پاس آیا حضرت آدم علیہ السلام نے ان سے کہا کہ تم نے جلدی کی میری عمر تو ایک ہزار سال مقرر کی گئی ہے فرشتے نے کہا کہ یہ صحیح ہے لیکن آپ نے اپنی عمر کے ساٹھ سال اپنے بیٹے داؤد کو دیے ہیں حضرت آدم علیہ السلام نے اس سے انکار کیا اور ان کی اولاد بھی انکار کرتی ہے نیز حضرت آدم علیہ السلام اس ممانعت کو بھول گئے تھے جو حق تعالیٰ کی طرف سے مشہور درخت کا پھل کھانے سے متعلق تھی اور ان کی اولاد بھی بھولی تھی رسول اللہﷺ نے فرمایا: اس دن سے لکھنے اور گواہ بنانے کا حکم دیا گیا۔ (ترمذی)

 

اس کے دونوں ہاتھ بند تھے: ان الفاظ سے اس ہیبت خدائی کو بیان کرنا مقصود ہے کہ جس طرح کوئی شخص اپنے ہاتھوں میں کوئی چیز بند کر کے اس کو چھپا لیتا ہے، اور میرے پروردگار کے دونوں ہاتھ داہنے بابرکت ہیں، یہ جملہ یا تو حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا تھا جس کو نبی کریمﷺ نے نقل کیا، یا نبی کریمﷺ کا اپنا کلام ہے۔ بہر صورت حق تعالیٰ کی طرف ہاتھ اور داہنے ہاتھ کی نسبت کی گئی ہے، البتہ علماء نے ان الفاظ کے کئی معنی اور تاویلات بیان کی ہیں ،جو کسی طرح مناسب نہیں ہیں، کیونکہ قرآن وسنّت میں اللہ تعالیٰ کی ذات،صفات اور وجودِ باری تعالی سے متعلق جو کچھ وارد ہو ا ہے اسے بلا تاویل ماننا چاہئے ،البتہ ہاتھ ہوں یا دیگر اعضاء ان کی کیفیت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

 

جیسا کہ امام مالک رحمہ اللہ کا مشہور قول ہے:

 

كَمَا قَالَ الْإِمَامُ مَالِكٌ لَمَّا سُئِلَ عَنِ الِاسْتِوَاءِ: الِاسْتِوَاءُ مَعْلُومٌ وَالْكَيْفُ مَجْہُولٌ وَالْإِيمَانُ بِہِ وَاجِبٌ وَالسُّؤَالُ عَنْہُ بِدْعَۃٌ [4]

 

ان سے جب عقیدہ اِستویٰ علی العرش سے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا:

 

اِستویٰ معلوم ہے،کیفیت مجہول ہے،اس پر ایمان رکھنا واجب ہے اور(کیفیت سے متعلق ) سوال کرنا بدعت ہے۔

 

’’ جو سب سے زیادہ روشن تھا ‘‘ اس عبارت سے ذہن میں ایک خلجان پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اس سے تمام انبیاء پر حضرت داؤد علیہ السلام کی فضیلت لازم آتی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس موقع پر حق تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے حضرت داؤد علیہ السلام کو ایک طرح کی امتیازی شکل و صورت میں ظاہر کیا تاکہ اس کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام ان کے بارے میں سوال کریں اور اس سوال پر وہ صورت حال مرتب ہو جو آگے پیش آئی یعنی حضرت آدم علیہ السلام کا حضرت داؤد علیہ السلام کو اپنی عمر میں سے ساٹھ سال دینا اور پھر ملک الموت کے آنے پر اس سے انکار کرنا اور یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے روشن ترین ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ تمام صفات کمالیہ میں سب سے ترجیح رکھتے تھے ،لہٰذا ہو سکتا ہے کہ مذکورہ بالا مصلحت کے پیش نظر اس عالم میں حق تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کی شکل و صورت میں ایک طرح کی خاص نورانیت ودیعت فرمائی ہو اور وہ اس عالم میں بھی اس نورانیت سے متصف رہے ہوں ، چنانچہ پیغمبروں میں سے ہر ایک نبی کسی نہ کسی خاص صفت سے متصف رہا ہے اور اس صفت میں ان کو امتیازی حیثیت و خصوصیت حاصل رہی ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ محض اس خاص صفت کی بناء اس نبی کو دیگر تمام انبیاء پر فضیلت و فوقیت کا درجہ حاصل ہو۔

 

’’ میری عمر تو ایک ہزار سال مقرر کی گئی ہے‘‘ ظاہر ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے یہ بات بالکل صحیح کہی تھی، کیونکہ حق تعالیٰ نے ان کی عمر ایک ہزار سال مقرر کی تھی البتہ اس بات کے ضمن میں ان کا مذکورہ انکار پوشیدہ تھا انہوں نے صریحاً یہ بات نہیں کہی کہ میں نے اپنی عمر سے داؤد کو کچھ نہیں دیا ،جیسا کہ اس طرح کی بعض صورتیں دیگر انبیاء علیہم السلام سے بھی صادر ہوئی ہیں یا یہ کہا جائے کہ حضرت آدم علیہ السلام کا مذکورہ بیان بطریق نسیان تھا یعنی انہیں یہ یاد نہیں رہا تھا کہ وہ اپنی عمر میں سے ساٹھ سال داؤد کو دے چکے ہیں اس لیے انہوں نے ملک الموت کے سامنے اس کا انکار کیا۔

 

                تین مرتبہ سلام کرنا

 

عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ کَانَ إِذَا تَکَلَّمَ بِکَلِمَۃٍ أَعَادَہَا ثَلَاثًا حَتَّی تُفْہَمَ عَنْہُ وَإِذَا أَتَی عَلَی قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْہِمْ سَلَّمَ عَلَيْہِمْ ثَلَاثًا [5]

 

عبداللہ بن انس رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ جب کوئی بات کہتے تو تین مرتبہ اس کو کہتے، تاکہ اچھی طرح سمجھ لیا جائے اور جب چند لوگوں کے پاس تشریف لاتے اور ان کو سلام کرتے، تو تین مرتبہ سلام کرتے۔

٭٭

حوالہ جات

 

[1] سنن ابن ماجہ:كِتَابُ الْفِتَنِ ، بَابُ الْخُسُوفِ ،(4061)، [حكم الألباني] حَسَنٌ

[2] جامع ترمذی: أَبْوَابُ الِاسْتِئْذَانِ وَالْآدَابِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّى اللَّہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ، بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاہِيَۃِ أَنْ يَقُولَ عَلَيْكَ السَّلَامُ مُبْتَدِئًا،،(2721)، [حكم الألباني] صَحِيحٌ

[3] صحیح بخاری: كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ، بَابُ خَلْقِ آدَمَ صَلَوَاتُ اللَّہِ عَلَيْہِ وَذُرِّيَّتِہِ،(3326)

[4] مرقاۃ المفاتيح شرح مشكاۃ المصابيح:كِتَابُ الْإِيمَانِ،بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّۃِ، (151)، ج1 ص236

[5] صحیح بخاری: كِتَابُ العِلْمِ، بَابُ مَنْ أَعَادَ الحَدِيثَ ثَلاَثًا لِيُفْہَمَ عَنْہُ،(95)

٭٭٭

ماخذ:

http://usvah.org

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید