FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

گلدستہ اردو محفل مشاعرہ ۲۰۱۶ء

 

۵/ اگست تا ۸/ ستمبر ۲۰۱۶ء

 

                صدارت: اعجاز عبید مہمان خصوصی: منیر انور

                منتظمینِ مشاعرہ: محمد خلیل الرحمٰن،محمد  تابش صدیقی، حسن محمود جماعتی، مقدس حیات، بلال اعظم

 

 

حرفے چند

 

یادش بخیر، ایک زمانہ تھا جب مشاعرے واقعی اہلِ ذوق کی دلچسپی کے سامان ہوتے تھے۔ اب دھیرے دھیرے یہ روایت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اب مشاعروں میں یا تو غزل گو کی بجائے، ’غزل گا‘ شعراء کی بھر مار ہوتی ہے، یا  کسی سے غزل لکھوا کر پڑھنے والی حسین شاعرات۔ یا کچھ تحت میں پڑھنے والے بھی اپنے آؤ بھاؤ بلکہ ’اینٹیکس‘ کا مظاہرہ کر کے سستی جذباتیت والے اشعار  سنا کر داد سمیٹتے ہیں۔ اکثر ہندوستان میں تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ شعرا کرام اردو رسم الخط سے بھی واقف نہیں اور دیو ناگری میں ا پنا کلام لکھ کر لاتے ہیں!! مشاعروں میں شرکت کرنے والے حقیقی شعرا اور شاعرات سے معذرت کہ روئے سخن ان کی طرف نہیں ہے۔

ان حالات میں انٹر نیٹ پر فعال فورم ’اردو محفل‘ نے اپنی گیارھویں سالگرہ کے جشن میں ایک آن لائن مشاعرے  کا انعقاد کیا۔  اردو محفل یوں بھی انٹر نیٹ کی دنیا میں اردو ادب اور اردو کمپیوٹنگ کے میدانوں میں اپنی اہمیت منوا چکی ہے۔اردو رسم الخط میں اگر آپ، مثلاً، نصف مصرع لکھ کر گوگل کو تلاش کرنے کی زحمت دیں تو پہلے ہی صفحے پر دو تین روابط اردو محفل کے سامنے آ جائیں گے جن میں سے کسی ربط پر وہ مکمل غزل بھی مل سکتی ہے۔

اسی محفل کی سالگرہ کی تقریب جو جولائی تا اگست منائی جاتی ہے، اس بار پھر ایک دل کش محفل کا آن لائن انعقاد کیا گیا، جو ایک ماہ سے بھی زائد عرصے تک چلتا رہا۔

ماضی کے مشاعروں میں ایک روایت گلدستوں کی بھی ہوتی تھی۔ یعنی کسی مشاعرے میں شریک تمام شعرائے کرام  کا سارا کلام ایک جگہ جمع کر کے ’گل دستے‘ کے نام سے شائع کر دیا جاتا تھا۔ زیر نظر ای بک اسی آن لائن وقوعے کی روداد پر مشتمل ہے۔

یوں تو اپنی بزرگی کی وجہ سے صدارت  راقم کے سپرد کی گئی تھی۔ لیکن اس کو گلدستے کی شکل میں ترتیب دینے کا  کام بھی میں ہی انجام دے رہا ہوں۔

اردو محفل کے سارے اراکین کا بہت بہت شکریہ

اعجاز عبید

 

 

 

گلدستہ

 

محمد خلیل الرحمن:

تمام تعریفیں اللہ رب العزت کے لیے کہ جس کے قبضے میں ہماری جان ہے، جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔ جس نے اردو محفل کو رونق بخشی اور اردو کی اس ویب سائیٹ کو اس قابل بنایا کہ اس محفل نے گیارہ سال کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیے۔

ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی ہم نے شعروں کا میلہ سجایا ہے۔ اردو تہذیب میں مشاعرے کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اردو محفل پر اس آن لائن مشاعرے کا اہتمام کیا گیا ہے جو ایک نئی روایت کو جنم دے گا۔

اس مشاعرے میں ایک کے بعد ایک شعراء کو اسی طرح دعوتِ کلام دی جائے گی جس طرح کسی بھی مشاعرے میں دی جاتی ہے۔

اردو محفل کی گیارہویں سالگرہ کی تقریبات کے سلسلہ کی آخری کڑی اردو محفل عالمی مشاعرہ کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ جس کی صدارت فرما رہے ہیں محترم المقام جناب اعجاز عبید صاحب اور مہمان خصوصی ہیں محترم منیر انور صاحب۔ محفل کے باقاعدہ آغاز سے پہلے انتہائی ادب سے ملتمس ہیں صدر محفل محترم جناب اعجاز عبید صاحب سے کے آپ مسند صدارت پر تشریف فرما ہوں۔ اس کے ساتھ ہی ادب سے گزارش ہے محفل کے مہمان خصوصی محترم منیر انور صاحب آپ بھی اپنی مسند پر تشریف فرما ہوں۔ اب صدر محفل کی اجازت سے محفل مشاعرہ کا آغاز کیا جاتا ہے۔

سب سے پہلے پیش کرتے ہیں نعتِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم۔ پڑھیے نبی کے نام پر۔ صلِ علیٰ، صلِ علیٰ

 

زمیں پہ نازشِ انساں محمد عربی

فلک پہ نور کا ساماں محمدِ عربی

 

دکھی دلوں کے لیے چارہ ساز ذکرِ نبی

ہر ایک درد کا درماں محمدِ عربی

 

تمہارے دم سے ہے ’’ تصویرِ کائنات میں رنگ‘‘

تمہی حیات کا عنواں محمدِ عربی

 

مٹے ہیں فاصلے کون و مکاں کے آج کی شب

ہیں آج عرش پہ مہماں محمدِ عربی

 

ہر امّتی کی شفاعت خدا کی مرضی سے

تمہاری شان کے شایاں محمدِ عربی

 

شفیعِ امّتِ مرحوم، ہادیِ برحق

گواہ آپ کا قرآں محمدِ عربی

 

تمہارے بعد نہ ہو گا کوئی خدا کا نبی

ہیں آپ ختمِ رسولاں محمدِ عربی

 

خلیل کو بھی دکھا دیجیے رخِ انور

اسے ہے بس یہی ارماں محمدِ عربی

 

اب عرض ہیں مصرع طرح پر دو شعر

 

غیر کے لب پر ہے اور شاید تمہارے دل میں ہے

“ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے ”

 

اک نظر ہم پر پڑی اور نیم بسمل کر دیا

زہر کی تاثیر کیسی اس سمِ قاتل میں ہے

 

ایک غزل کے چند اشعار پیش خدمت ہیں۔

 

رات دن بس اِک تماشا چاہیے

دِل کے بہلانے کو کیا کیا چاہیے

 

اتفاقاً بھول جاتے ہیں تجھے

التزاماً یاد رکھنا چاہیے

 

کتنا زخمی آج انساں ہو گیا

اس کو اب کوئی مسیحا چاہیے

 

اجنبی ہیں راستے، تنہا سفر

شکل کوئی اب شناسا چاہیے

 

اِس بھری محفِل میں تنہا ہیں خلیل

آج تو بس کوئی اپنا چاہیے

 

حضرتِ داغ کی زمین میں ایک غزل

 

’’حضرتِ دل آپ ہیں کِس دھیان میں ‘‘

یوں بھی آتے ہیں کبھی میدان میں

 

وہ لجا کر کچھ اگر کہہ نہ سکے

کہہ دیا کِس نے ہمارے کان میں

 

روکنے کا یوں بہانہ ہو گیا

ہم نے پیالہ رکھ دیا سامان میں

 

خلق اُن کے دیکھنا ہوں گر تمہیں

دیکھ لو بس جھانک کر قرآن میں

 

ہار کر بھی پا لیا اُن کو خلیلؔ

فائدہ ہی فائدہ نقصان میں

 

اب ہم دعوتِ کلام دے رہے ہیں جناب عباس صوابین کو کہ وہ اپنا کلام پیش کریں۔

 

عباس صوابین:

بہت بہت شکریہ سر جی۔

السلام علیکم۔

 

غزل

میرا اب درد کم نہیں ہوتا

پھر بھی چہرے پہ غم نہیں ہوتا

 

دل تو میرا اداس ہے لیکن

آنکھ میں میری نم نہیں ہوتا

 

درد سینے میں دفن رہتا ہے

ہاتھ میں جب قلم نہیں ہوتا

 

دل سے جو بات بھی نکلتی ہے

اثر اس کا عدم نہیں ہوتا

 

سلسلہ تیری آہ کا شاہین

اک ذرا بھی تو کم نہیں ہوتا

 

محمد تابش صدیقی:

سلسلہ تیری آہ کا شاہین

اک ذرا بھی تو کم نہیں ہوتا

یہ تھے جناب عباس صوابین، جو اپنا کلام پیش کر رہے تھے۔

اب میں دعوتِ کلام دے رہا ہوں مشاعرے کے ایک اور منتظم جناب محمد بلال اعظم صاحب کو، کہ وہ آئیں اور اپنا کلام پیش کریں۔

 

جناب بلال اعظم:

اردو محفل اور تمام منتظمین کو گیارہویں سالگرہ کے موقع پر عالمی اردو مشاعرہ کے کامیاب انعقاد پر دلی مبارکباد

سب سے پہلے ایک نعت کے دو اشعار

 

جب حشر کا دن ہو، تری قربت ہو میسر

کیا اتنی اجازت ہے مرے پیارے محمدﷺ

 

جو کچھ بھی ملا ہے، ترے صدقے میں ملا ہے

کافی یہی نسبت ہے میرے پیارے محمدﷺ

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کچھ متفرق اشعار پیش کرنے کی اجازت چاہوں گا

 

پھر وہی شامِ غریباں کا دھواں آنکھوں میں

پھر وہی ہاتفِ غیبی کی صدا، جانے دے

 

میری دریوزہ گری بھی مجھے اب راس نہیں

سو مرے کوزہ گرِ حرفِ دعا! جانے دے

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

تم چاند کی کرنوں کو سنبھالے ہوئے رکھو

وہ نور کی صورت سرِ محرابِ دعا آئے

 

لفظوں کا اجالا ہے جو تم دیکھ رہے ہو

خوشبو سی سماعت ہے، تمہیں کون بتائے

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

یہی ہیں وہ، جنہیں زعمِ شناوری تھا بہت

کنارِ نیل جو پہنچے تو ناؤ چاہتے ہیں

 

یہ پارسا جو طریقت کی بات کرتے ہیں

یہ داغ داغ ہیں، اپنا بچاؤ چاہتے ہیں

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

اور آخر میں ایک غزل کے ساتھ اجازت چاہوں گا

 

ایک دنیا ہے مرے در پئے آزار جدا

پھر بھی ملتا نہیں مجھ کو کوئی غم خوار جدا

 

کچھ مرے عہد کی قسمیں بھی جدا ٹھہری ہیں

کچھ مرے دوست، ترا وعدۂ ایثار جدا

 

کرب کی خاک سے خلوت میں تراشے ہوئے جسم

خون تھوکیں سرِ بازار، سرِ دار جدا

 

کفِ قاتل کی شکن بھی تو الگ ہے سب سے

اور مقتول کی ٹوٹی ہوئی تلوار جدا

 

میری دستار پہ چھینٹے ہیں لہو کے میرے

اے فلک ناز مرے، ہے مری دستار جدا

 

یوں تو مسند پہ بھی اطوار نرالے تھے مگر

سرمدِ شعر کی سج دھج ہے سرِ دار جدا

 

تم نے اِس بار تخاطب ہی بدل ڈالا ہے

ورنہ یاروں سے ہوئے یار کئی بار جدا

 

ایک حلقہ سا کھنچا ہے مرے چاروں جانب

پھر بھی دیوار سے ہے سایۂ دیوار جدا

 

ہم نے ہر بار تمدن کو زمیں برد کیا

ہم نے رکھے ہیں ثقافت کے بھی معیار جدا

 

محمد تابش صدیقی:

کفِ قاتل کی شکن بھی تو الگ ہے سب سے

اور مقتول کی ٹوٹی ہوئی تلوار جدا

میری دستار پہ چھینٹے ہیں لہو کے میرے

اے فلک ناز مرے، ہے مری دستار جدا

یہ تھے جناب محمد بلال اعظم، کہ جنہوں نے اپنے خوبصورت کلام سے قارئین کو محظوظ کیا۔

اب میں دعوت دے رہا ہوں جناب سیدسجاداطہرموسوی۔ صاحب کو کہ وہ آئیں اور اپنا کلام پیش کریں۔

جناب سید سجاد اطہر موسوی

 

سیدسجاداطہرموسوی:

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

السلام علیکم و رحمہ اللہ و برکاتہ

اردو محفل فورم کے محترم منتظمین اور محفلین کو محفل کے گیارھویں سالگرہ بہت بہت مبارک ہو

ایک طرحی اور ایک غیر طرحی کلام آپ کی بصارتوں کی نذر اور التماس دعا

 

طرحی کلام

“ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے جو اس محفل میں ہے ”

 

عشق تیرا وہ حقیقت ہے جو میرے دل میں ہے

آب دریا کا اثر کچھ پردہ ساحل میں ہے

 

میری میت میں سبب کیوں ڈھونڈتے ہو موت کا

قتل کا واضح اثر جب ترکش قاتل میں ہے

 

وقت کی رفتار کا کرتے ہو کیوں اکثر سوال

جب ضیاع وقت شامل عادت کاہل میں ہے

 

مجھ سے مت نالان ہونا تجھ سے جب مانگوں ہنسی

پیار کی خواہش ہمیشہ لہجۂ سائل میں ہے

 

ہر پریشانی سے ہٹ کر ہے تمہارا انتظار

ہجر سے تیرے ہماری زندگی مشکل میں ہے

 

موت سے میری اگر ممکن ہے پھولوں کی حیات

خوش رہو یہ زندگی پھر آخری منزل میں ہے

 

غم نہ کھا جو تجھ پہ گزرا ہے ستم کا مرحلہ

اس کی اعلان سزا، فکر شہہ عادل میں ہے

 

ڈھونڈتے ہو کیوں علاج غم ادھر کوئی ادھر

تیرے ہر غم کا مداوا نسخہ کامل میں ہے

 

میں رہوں یا نہ رہوں زندہ رہے اہل ادب

“ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے جو اس محفل میں ہے ”

 

داستان عشق ہے اطہر رموز زندگی

میرا مقصود سخن، ہر بیت کے حاصل میں ہے

سیدسجاداطہرموسوی

یکم اگست ۲۰۱۶میلادی

———————————————

 

رسم الفت سے ہوں انجان خدا خیر کرے

عشق برسا گیا باران خدا خیر کرے

 

درد ہے دل میں مگر آنکھوں کی خیرات ہوئی

اشک سے کر گئی درمان خدا خیر کرے

 

آنکھ روتی رہی زخموں کو چھپانے کے لئے

دل میں تھا اشکوں کا طوفان خدا خیر کرے

 

جب تلک پردہ حیرت سے نہ نکلے سورج

ہے سدا شام غریبان خدا خیر کرے

 

روٹھنے والے بتا لوٹ کے۔ کب آؤ گے

تجھ سے ملنے کا ہے ارمان خدا خیر کرے

 

عرش والے کی اجازت تو ضروری ہے مگر

کب تلک ہو گا یہ امکان خدا خیر کرے

 

ہجر کی حد ہوئی اے راحت جاں ! آ جاؤ

ساری دنیا ہے پریشان خدا خیر کرے

 

آفتاب فلک عدل و سخا،دنیا میں

ظلم کا زور ہے ہر آن خدا خیر کرے

 

حامی بے کس و مظلوم یہاں کوئی نہیں

ہیں سبھی خستہ و نالان خدا خیر کرے

 

تیری الفت کی نشانی ہے کلام اطہر

یوں ہوا عشق کا سامان خدا خیر کرے

بہت شکریہ

 

محمد تابش صدیقی:

موت سے میری اگر ممکن ہے پھولوں کی حیات

خوش رہو یہ زندگی پھر آخری منزل میں ہے

یہ تھے جناب سید سجاد اطہر موسوی صاحب جنہوں نے اپنے خوبصورت کلام سے مشاعرے کو رونق بخشی۔

اب میں دعوت دوں گا جناب نوید ظفر کیانی صاحب کو کہ وہ آئیں اور اپنا کلام پیش کریں۔

جناب نوید ظفر کیانی

 

نوید ظفر کیانی:

بہت بہت شکریہ تابش صاحب

اہلیانِ اردو محفل فورم محفل کو گیارھویں سالگرہ بہت بہت مبارک ہو۔ ایک عدد طرحی اور ایک غیر طرحی غزل کے ساتھ حاضر ہوں۔

 

اب چراغاں کب کسی بھی آرزوئے دل میں ہے

زندگانی مسترد کردہ کسی فائل میں ہے

 

دل کا خوں ہونا کسی اپنے کے ہاتھوں ہے روا

جو بہت پیارا ہے ہم کو فرقۂ قاتل میں ہے

 

دیکھ لی ہیں زندگی میں ہر طرح کی مشکلیں

اب تو جو مشکل بھی ہے معمول کی مشکل میں ہے

 

کشتیوں کے ساتھ کرتا ہے سفر اپنا شروع

یہ جو ہے گرداب یہ بھی کنبۂ ساحل میں ہے

 

قہقہے، موسیقی کی آواز، باتیں۔ ۔ ۔ ۔ سب سراب

میں کہاں میرا اکیلا پن ہے جو محفل میں ہے

 

زندگی ہے وقت کے بے رحم صحرا میں مگر

بہرِ فردا اب بھی کوئی واہمہ محمل میں ہے

نوید ظفر کیانی

————————–

 

دلِ درد آشنا رکھے ہوئے ہیں

بدن میں کربلا رکھے ہوئے ہیں

 

کسی کے رنگ میں ڈھلتے نہیں ہیں

ہم اپنی کیمیا رکھے ہوئے ہیں

 

ہمیں تفہیمِ دنیا کے معمے

خلا اندر خلا رکھے ہوئے ہیں

 

کوئی منزل نہیں منزل ہماری

اِک آتش زیرِ پا رکھے ہوئے ہیں

 

لڑائی ظلمتِ شب سے ہے جاری

سرِ بام اک دیا رکھے ہوئے ہیں

 

ہمارے سامنے ہیں پر وہ یوں ہیں

نہ ہونے کی ادا رکھے ہوئے ہیں

 

جو موسم پہن کر آئے ہیں سورج

وہ دامن میں گھٹا رکھے ہوئے ہیں

 

دلیلِ خامشی کام آ رہی ہے

کسی کو بے نوا رکھے ہوئے ہیں

 

محمد تابش صدیقی:

کوئی منزل نہیں منزل ہماری

اِک آتش زیرِ پا رکھے ہوئے ہیں

لڑائی ظلمتِ شب سے ہے جاری

سرِ بام اک دیا رکھے ہوئے ہیں

یہ تھے جناب نوید ظفر کیانی صاحب جو اپنا خوبصورت کلام مشاعرہ میں پیش کر رہے تھے۔

اب میں دعوتِ کلام پیش کر رہا ہوں محترمہ مریم افتخار صاحبہ کو، کہ وہ آئیں اور اپنا کلام پیش کریں۔

محترمہ مریم افتخار

 

مریم افتخار:

شکریہ تابش بھائی!

سب سے پہلے تو اردو محفل اور تمام منتظمین کو گیارہویں سالگرہ کے موقع پر عالمی اردو مشاعرہ کے کامیاب انعقاد پر دلی مبارکباد!

میں اپنی پہلی غزل، اپنے شاعری کے سب سے پہلے استاد کے نام کرتی ہوں، جنہوں نے مجھے غزل لکھنا سکھایا اور علمی و ادبی میدان میں ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔ میری پہلی غزل محمد بلال اعظم بھائی کے نام!

 

عرض کِیا ہے :

اِک شور تھا جو اندر، وہ آج مچ گیا ہے

اُتنا ہی اب عیاں ہُوں، جِتنا کبھی نہاں تھا

 

مَیں تیری زندگی میں، اخبار گُزرے دِن کا

یُونہی پڑا یہاں تھا، یُونہی پڑا وہاں تھا

 

اتنا نہ ہو سکا تُم، میری خبر ہی لَیتے

میرا پتا وہی تھا، میرا وہی مکاں تھا

 

لو آ گئی خبر یہ، وہ شخص مر رہا ہے

اور جب مَیں مر رہا تھا، وہ شخص تب کہاں تھا؟

 

ہاں ! بد نصِیب ہُوں مَیں اور کب کا مر گیا ہُوں

ویسے بھی باغیوں کو، کب راس یہ جہاں تھا؟

 

آیا نہ راس مُجھ کو، اپنا ہی آپ، ہائے !

‘تھا میں ہی دائیں بائیں اور میں ہی درمیاں تھا’

 

تھے اور بھی سخن ور، محفل میں آ کے بیٹھے

لیکن جو سب سے سادہ، میرا ہی وہ بیاں تھا

****

 

اور اب دوسری غزل مصرع طرح کی زمین میں :

انتساب: سب محفلین کے نام:)

 

حُسن کی وہ اِک جھلک جو پردۂ محمل میں ہے

حُسن ایسا نہ کبھی دیکھا مہِ کامل میں ہے

 

زلف بکھرا کر نہ تُم آیا کرو یُوں سامنے

حوصلہ کب اِتنا تیرے عاشقِ عادل میں ہے ؟

 

عمر ساری چلتا جاؤں،حُسنِ جاناں کی قسم!

ہم سفر تجھ سا ہو تَو پھر رکھا کیا منزل میں ہے ؟

 

تخلیہ! اے ناصحا! مجھ کو اکیلا چھوڑ دے

یاد اُس کی جلوہ فرما آج میرے دل میں ہے

 

جو صنم کل تھا تراشا وہ خُدا بن بیٹھا آج

زندگی آزر کی اب تَو، ہاں ! بہت مشکل میں ہے

 

مجھ سے آشفتہ مزاجوں کا نہ ہے واں کوئی کام

“ذکر میرا مُجھ سے بہتر ہے کہ اُس محفل میں ہے ”

 

تُو ہی تُو ہے ہر طرف اور بس تِرا ہی ہے خیال

بس یہی ہے سب سے اُولیٰ، جو مِرے حاصل میں ہے

شکریہ!

 

محمد تابش صدیقی:

جو صنم کل تھا تراشا وہ خُدا بن بیٹھا آج

زندگی آزر کی اب تَو، ہاں ! بہت مشکل میں ہے

مجھ سے آشفتہ مزاجوں کا نہ ہے واں کوئی کام

“ذکر میرا مُجھ سے بہتر ہے کہ اُس محفل میں ہے ”

یہ تھیں محترمہ مریم افتخار صاحبہ، جنہوں نے اپنے کلام سے مشاعرے کی رونق بڑھائی۔

اب میں دعوتِ کلام دے رہا ہوں جناب صفی حیدر صاحب کو، کہ وہ آئیں اور اپنا کلام پیش کریں۔

جناب صفی حیدر

 

صفی حیدر:

شکریہ تابش بھائی۔ ۔ ۔ ۔ تمام محفلین و منتظمین کو محفل کی گیارہویں سالگرہ مبارک ہو۔ ۔ ۔

مرزا اسد اللہ خان غالب کی غزل کی زمین میں مصرع طرح پر ایک تخلیقی کاوش پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ عرض کیا ہے۔ ۔ ۔

 

یاد میری شمع بن کر اس کی بزمِ دل میں ہے

” ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے ”

 

غیر کا پہلو نشیں وہ خوش ادا محفل میں ہے

کچھ کمی تو ہے جو میرے عشقِ لا حاصل میں ہے

 

میری فطرت ہے سرِ تسلیم خم کرنے کی خو

ناز پرور تم بتا ؤ کیا تمھارے دل میں ہے

 

اس لیے پھرتا ہوں میں رستے میں مانندِ غبار

جو مسافت میں مزہ ہے وہ کہاں منزل میں ہے

 

جان لی تیغِ تبسم سے کئی عشاق کی

قتل کرنے کا سلیقہ خوب تر قاتل میں ہے

 

کیا ہے لازم ہاتھ پھیلے بندہ پرور کے حضور

تم سخی ہو دیکھ لو خود کیا طلب سائل میں ہے

 

لا تعلق ہوں میں خود سے بے خبر دنیا سے ہوں

بس ترا دیدار میری حسرتِ کامل میں ہے

 

ایک نقطے میں سمٹتا حسن ایسے ہے صفی

دلکشی بے مثل دیکھی اس کے لب کے تل میں ہے

 

محمد تابش صدیقی:

غیر کا پہلو نشیں وہ خوش ادا محفل میں ہے

کچھ کمی تو ہے جو میرے عشقِ لا حاصل میں ہے

اس لیے پھرتا ہوں میں رستے میں مانندِ غبار

جو مسافت میں مزہ ہے وہ کہاں منزل میں ہے

 

یہ تھے جناب صفی حیدر صاحب، جو اپنے خوبصورت کلام سے مشاعرہ میں خوشبو بکھیر رہے تھے۔

اب میں دعوتِ کلام دوں گا محترمہ لا المیٰ صاحبہ کو، کہ وہ آئیں اور اپنا کلام پیش کریں۔

محترمہ لا المیٰ

 

لا المیٰ:

عزیزانِ محفل !

آداب۔

ہمارے ترکش میں تو چند ناوکِ نیم کش، صورتِ اشعار پڑے ہیں۔ اگر ہماری یہ مشقِ ستم (مشقِ سخن ) آپ کے ادبی ذوق کو خدا نخواستہ گھائل کر دے تو اس کے لیے پیشگی معذرت قبول فرمائیے۔ 🙂

دو پرانی غزلیں جو مجھے پسند ہیں، پیشِ خدمت ہیں :

 

غمِ دو جہاں سے گئے ہیں

لو ہم اپنی جاں سے گئے ہیں

 

ملیں گے کسی کو نہ اب ہم

زمان و مکاں سے گئے ہیں

 

ہنر تھا نہ خوبی نہ انداز

سو نام و نشاں سے گئے ہیں

 

زمیں نکلی پیروں تلے سے

کبھی آسماں سے گئے ہیں

 

دمِ مرگ جتنے یقیں تھے

مرے وہ گماں سے گئے ہیں

 

محبت ہوئی جن کو المیٰ

وہ سود و زیاں سے گئے ہیں

 

دوسری غزل۔ ..

 

اگر تو ہے بشر مٹی

پھِراُس کا ہر سفر مٹی

 

ڈھلی ہے جب سے قالب میں

ہوئی ہے در بدر مٹی

 

سراپا خاک کر ڈالا

یہ دِل مٹی جگر مٹی

 

اٹے ہیں گرد سے منظر

دِکھے شام و سحر مٹی

 

کوئی تخلیق رہ میں ہے

جدھر دیکھو اُدھر مٹی

 

صدائے کُن سے پہلے تھے

یہ برگ و گُل،شجر مٹی

 

جو اُترے قبر میں الٰمی

ہوئے سارے ہُنر مٹی

 

اب ایک نگاہ مصرع طرح پر کی گئی اس قافیہ پیمائی پر بھی ڈالیے۔

 

ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے

شوخیِ گفتارِ جاناں ! کہہ ترے جو دل میں ہے

 

اُس پہ ہے بارِ محبت، صورتِ کوہِ گراں

آہ! دیکھو وہ تن آساں، کس قدر مشکل میں ہے

 

پہلو میں ہو جامِ ساگر، اور ایسی تشنگی

مے کشی سے یوں کنارہ، کیوں خوئے ساحل میں ہے

 

اس طرح پائی ہے ہم نے، پائے لغزش کی سزا

اک قدم ہے راستے میں، دوسرا منزل میں ہے

 

غمگسارو! رنج مجھ کو، نارسائی کا نہیں

میرا کُل سامان حسرت، زیست کے حاصل میں ہے

بہت نوازش۔

 

مقدس حیات:

اُس پہ ہے بارِ محبت، صورتِ کوہِ گراں

آہ! دیکھو وہ تن آساں، کس قدر مشکل میں ہے

ڈھلی ہے جب سے قالب میں

ہوئی ہے در بدر مٹی

کوئی تخلیق رہ میں ہے

جدھر دیکھو اُدھر مٹی

یہ تھیں محترمہ لا المیٰ صاحبہ۔

اب ہم گذارش کریں گے محترم محمد فائق صاحب سے کہ وہ اپنے دلنشیں کلام سے اہلِ محفل کے ذوق کی تسکین کا سامان کریں۔

محترم محمد فائق صاحب۔

 

محمد فائق:

السلام علیکم

تمام احباب کو محفل کی گیارھویں سالگرہ بہت بہت مبارک ہو

میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ آپ جیسے سخن شناس احباب کے درمیان مجھے بھی اپنے سیدھے سادھے اشعار پیش کرنے کا موقع ملا

ایک مطلع اور چند اشعار غزل کے حاضرِ خدمت ہیں

 

غزل

وہ اپنی ہتک آپ بلانے کو چلے تھے

جو نام و نشاں میرا مٹانے کو چلے تھے

 

سچ پوچھو تو آنکھوں میں بھی اشکوں کا تھا فقدان

اور تشنگی صحرا کی بجھانے کو چلے

 

افسوس کہ وہ خود بھی تھے گمراہِ زمانہ

جو راستہ بتلانے زمانے کو چلے تھے

 

جن سے نہ ہوئی پھولوں کی گلشن میں حفاظت

گلزار وہ صحرا میں کھلانے کو چلے تھے

 

کچھ اور نظر آنے لگا زخم جگر کا

کیا کہتے کہ ہم زخم چھپانے کو چلے تھے

 

پتھر بھی جو روتے تو تعجب نہیں ہوتا

ہم حالِ شکستہ جو سنانے کو چلے تھے

 

اپنوں سے تو رکھا نہ تعلق کوئی فائق

رشتہ تو زمانے سے نبھانے کو چلے تھے

 

مصرع طرح۔ ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے

مطلع

آرزو خود سے شناسائی کی میرے دل میں ہے

پر کہاں امکان اس کا حال و مستقبل میں ہے

 

بات دل کی کیا ہمارے وہ تمہارا ہے اسیر

کوئی وقعت بھی ہماری کیا تمہارے دل میں ہے

 

اس کی جانب جو گیا وہ لوٹ کر آیا نہیں

بس خدا جانے کشش کیسی تری محفل میں ہے

 

غیر ممکن ہے وہ آئے گا جنازے پر مرے

اہمیت کوئی کہاں میری دلِ قاتل میں ہے

 

کل بھی ہم مقتول تھے اور آج بھی مقتول ہیں

بوکھلاہٹ پھر بھی آخر کیوں صفِ باطل میں ہے

 

واجباً گرچہ نہیں ہے ِ احتیاطاً ہے ِ مگر

ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے

 

میں بھی ہوں فائق ذرا شعر و سخن سے آشنا

بے سبب موجودگی میری کہاں محفل میں ہے

اب اجازت چاہوں گا شکریہ

محتاجِ دعا

 

حسن محمود جماعتی:

غیر ممکن ہے وہ آئے گا جنازے پر مرے

اہمیت کوئی کہاں میری دلِ قاتل میں ہے

کل بھی ہم مقتول تھے اور آج بھی مقتول ہیں

بوکھلاہٹ پھر بھی آخر کیوں صفِ باطل میں ہے

واجباً گرچہ نہیں ہے ِ احتیاطاً ہے ِ مگر

ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے

یہ تھے محترم محمد فائق صاحب جو اپنے منفرد انداز میں آپ سے مخاطب تھے۔

اب میں زحمت کلام دوں گا محترم مانی عباسی صاحب کو۔ آپ تشریف لائیں اور محفل میں اپنا کلام پیش کریں

 

مانی عباسی:

آداب۔ ۔ ۔ ابتدا ایک فی البدیہہ غزل سے

 

مانی اپنے من میں گر جھانکا کروں

عیب اوروں کے نہ یوں ڈھونڈا کروں

 

لوگ اس قابل نہیں اس دور کے

اب کسی سے میں محبت کیا کروں ؟

 

بولنے مجھ کو پڑیں گے لاکھ جھوٹ

تا کہ ثابت خود کو میں سچا کروں

 

بک رہا ہوں ایک میٹھے بول پر

یار! خود کو سستا اور کتنا کروں ؟

 

گفتگو سانسوں سے کریں سانسیں اور

لب سے لب پر اک غزل لکھا کروں

 

دیکھ کر ان میں سنوارو خود کو تم

اپنی آنکھوں کو میں آئینہ کروں ؟؟؟

 

خوں سے لت پت وادیِ کشمیر ہے

ایسے میں اب ذکرِگیسو کیا کروں ؟

 

اور کوئی بھاتا نہیں اس الّو کو

دل کا مانی میں کروں تو کیا کروں

 

چاہتا ہوں گر برے اچھے بنیں

میں بروں کے ساتھ اچھا کروں

 

بھول جاؤں ؟ یاد رکھوں ؟ سوچ لوں ؟

یوں کروں ؟ ایسا کروں ؟ ویسا کروں؟

 

اے خدا اتنی تو مجھ کو چھوٹ دے

میرا جب جی چاہے مر جایا کروں

 

پڑا پاؤں ہوں جوڑے ہاتھ بھی ہیں پر نہیں بنتے

ترے کوچے کے پنچھی میرے نامہ بر نہیں بنتے

 

خبر ان کو ہو کیسے وسعتِ افلاک کی ہائے

یہ وہ کرگس ہیں جو پرواز میں شہپر نہیں بنتے

 

اسے کیا علم ہے کیا قطرۂ نیساں حقیقت میں

شکم میں جس صدف کے عنبر و گوہر نہیں بنتے

 

کوئی فرعون کہہ دے گا کہ موسیٰ کو ہزیمت دو

بس اک اس خوف سے ہم لوگ جادوگر نہیں بنتے

 

تھی لطفِ وصل تو اوقات سے باہر کی شہ اے دل

مگر کچھ خواب کیوں پلکوں کے ہم بستر نہیں بنتے

 

بیاں ہے شعبدہ بازی فقط گفتار کے غازی

یہ زاہد گلشنِ  ملت کے برگ و بر نہیں بنتے

 

یہ اہلِ عشق اہلِ اشک بھی ہوتے ہیں مانی جی

تمہیں کس نے کہا یہ یارِ  چشمِ  تر نہیں بنتے

 

ہمارا ہر عمل جب تابعِ قرآن ہوتا تھا

یقیں کیجے کہ تب جینا بہت آسان ہوتا تھا

 

مری دنیا خوشی کے پنچھیوں کا آشیانہ تھی

یہ تب کی بات ہے جب آدمی انسان ہوتا تھا

 

عوض قرضوں کے حرمت قوم کی بیچی نہ جاتی تھی

جسے اب فائدہ کہتے ہیں وہ نقصان ہوتا تھا

 

وکالت کفر کی کرتے نہ تھے ابلاغ والے تب

قلم کاروں کی سچائی پہ سب کو مان ہوتا تھا

 

یہ پختون اور سندھی یہ بلوچی اور پنجابی

سبھی اک تھے سبھی کی شان پاکستان ہوتا تھا

 

یہ وہ ہے جس کی مٹی کی مہک ایمان ہوتا تھا

یہ وہ ہے جو نشانِ عزمِ عالی شان ہوتا تھا

 

آخر میں ایک پرانی غزل

 

اب ایسا ظلم تو اے حضرتِ صیّاد مت کیجے

قفس سے عشق ہے ہم کو ہمیں آزاد مت کیجے

 

بلائے ہجر کو یوں تیشۂ فرہاد مت کیجے

یہ کوہِ چشم ہے یاں جوئے اشک ایجاد مت کیجے

 

اجی قبلہ! زمانہ منکرِ توحید سمجھے گا

خدا کا گھر ہے دل۔ ..دل میں صنم آباد مت کیجے

 

خیالِ مرگ باعث بن گیا ہے دل کی راحت کا

دکھا کر خواب جینے کا اسے نا شاد مت کیجے

 

ہے اظہارِ فنِ نشتر زنی کا شَوق مژگاں کو

جگر پر تیر ہنس کے کھائیے فریاد مت کیجے

 

نہیں ان کار مانی کو کہ ربط ان کو عدو سے ہے

مگر یہ کیا نصیحت ہے کہ ان کو یاد مت کیجے

 

اب اجازت چاہوں گا۔ ۔ ۔ اللہ حافظ۔ ۔ ۔

نوٹ:بطور قاری شامل رہوں گا مشاعرے میں

 

حسن محمود جماعتی:

اے خدا اتنی تو مجھ کو چھوٹ دے

میرا جب جی چاہے مر جایا کروں

کوئی فرعون کہہ دے گا کہ موسیٰ کو ہزیمت دو

بس اک اس خوف سے ہم لوگ جادوگر نہیں بنتے

تھی لطفِ وصل تو اوقات سے باہر کی شہ اے دل

مگر کچھ خواب کیوں پلکوں کے ہم بستر نہیں بنتے

بیاں ہے شعبدہ بازی فقط گفتار کے غازی

یہ زاہد گلشنِ  ملت کے برگ و بر نہیں بنتے

یہ تھے محترم مانی عباسی صاحب۔ جنہوں نے بھرپور انداز میں اپنے کلام سے محفل کو رونق بخشی۔

اب اپنے ایوان سے اگلے مہمان شاعر محترم سیّد کاشف صاحب کو دعوت سخن دوں گا، آپ تشریف لائیں اور محفل سے مخاطب ہوں۔

 

سید کاشف:

تمام احباب کو محفل کی گیارھویں سالگرہ بہت بہت مبارک ہو۔

مشاعرے کے منتظمین اور شرکاء نے اس مشاعرے میں چار چاند لگا دیے ہیں۔

یہ خاکسار بھی چند بے ڈھب سے اشعار غزل کے نام پر لے کر حاضرِ خدمت ہے۔

پہلے ایک زیرِ ترتیب غزل سے چند اشعار

———————————–

نگاہِ ناز نے بھٹکا دیا تھا تقریباً

تُو ریگزارِ محبّت سے بال بال بچا !

 

ذرا سا بیٹھ کے پھر سوچ لے محبّت پر

یہ چند لمحے خرچ کر کے ماہ و سال بچا !

 

شکار گھات لگائے تھا خود شکاری پر

وہی ہوا کہ شکاری بچا، نہ جال بچا !

 

صفِ عدو سے نکل کر تو دوستوں میں ہے اب

جو وار پشت سے ہو، اس کو اب سنبھال، بچا !

———————————–

 

ایک تازہ غزل پیش کر رہا ہوں۔ آپ احباب کی توجہ چاہوں گا۔

مطلع عرض کیا ہے۔

سرابِ زندگی میں ہوں رواں آہستہ آہستہ !

بڑھا جاتا ہے رنجِ رفتگاں آہستہ آہستہ !

 

بھلا لگتا ہے جب میں دیکھتا ہوں ایک آہنگ میں

ہوا میں پٹ ہلاتی کھڑکیاں آہستہ آہستہ !

 

یہ سگریٹ منظرِ شامِ غریباں پیش کرتی ہے

بھرا کرتی ہے کمرے میں دھواں آہستہ آہستہ!

 

بہت ہی سست ہے منظر کلی سے پھول بننے کا

نہاں ہوتا ہے آخر خود، عیاں آہستہ آہستہ!

 

سبق لے سیکھ لے دل گفتگو میں خود ستائش کی

بھری جاتی ہیں کیسے چسکیاں آہستہ آہستہ!

 

کسی کی یاد سے چونکا ہوں یا پھر واقعی یہ ہے

گھلی ہیں چائے میں کچھ تلخیاں آہستہ آہستہ!

 

اور غزل کا مقطع پیش کر رہا ہوں۔

میں شہرِ غم میں کاشف ایسی تاریخی جگہ پر ہوں

گَلی دیوارِ گریہ بھی جہاں آہستہ آہستہ !

سیّد کاشف

———————————–

 

مشاعرے کے لئے ایک طرحی غزل بھی پیش کرنے کی اجازت چاہوں گا۔

چچا غالب کی غزل کا مصرع ہو اور دل نا مچلے ! ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا !

 

بے قراری کا یہ جُز، کیا قربتِ منزل میں ہے ؟

یا خمیرِ ذات کا حصّہ ہے، میری گِل میں ہے ؟

 

دم بہ دم اک جستجو، دریا بہ دریا جُو بہ جُو

ہے مزا جو اس تگ و دو میں، کہاں حاصل میں ہے !

 

پھر نئے طوفاں سے ہوں گے برسرِ پیکار ہم

اس توقع کی وجہہ کچھ دوریِ ساحل میں ہے

 

اک سراب آرزو سے ہم ہوئے ہیں دستکش

پیش انجانا سفر اب اک نئی منزل میں ہے

 

اے نشاطِ امتحاں، مدّت وہ دل کو شاق ہے

عرصۂ امن و اماں، جو ہر پسِ مشکل میں ہے !

 

میری کاوش کے قصیدے کل عدو کے لب پہ تھے

“ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے “!

 

ڈھونڈ لائے کاش وہ روشن نگیں غیروں سے تُو

اصل میں گھر جس کا تیرے سینۂِ غافل میں ہے

 

شاخ سے گرتے ہوئے پتّے پہ دل چھوٹا نہ کر

جانے کس کس زندگی کا حل اسی مشکل میں ہے

 

عالمِ امکاں میں سب نقشِ قدم ہیں معتبر !

اور اسبابِ سفر کاشف رہِ منزل میں ہے

سیّد کاشف

—————————-

ایک بار پھر تمام منتظمین کو اس کامیاب مشاعرے کے انعقاد پر دلی مبارکباد۔

 

محمد تابش صدیقی:

دم بہ دم اک جستجو، دریا بہ دریا جُو بہ جُو

ہے مزا جو اس تگ و دو میں، کہاں حاصل میں ہے !

شاخ سے گرتے ہوئے پتّے پہ دل چھوٹا نہ کر

جانے کس کس زندگی کا حل اسی مشکل میں ہے

یہ تھے جناب سید کاشف ، جو مشاعرہ کو اپنے کلام سے معطر کر رہے تھے۔

مشاعرہ شعراء کے خوبصورت کلام سے سجتا ہوا آگے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دنیا بھر سے افراد کی شرکت کے باعث مشاعرہ کی رفتار کچھ کم ہی رہتی ہے۔ لیکن امید ہے کہ شعراء کا جاندار کلام اسے زندہ رکھے گا اور قارئین کی دلچسپی کا سامان مہیا ہوتا رہے گا۔

اب میں دعوتِ کلام دے رہا ہوں جناب منیب احمد فاتح صاحب کو، کہ وہ آئیں اور اپنے کلام سے مشاعرے کو مہکائیں۔

 

جناب منیب احمد فاتح:

مجھے اس شاندار مشاعرے میں شریک ہونے کا موقع دیا گیا۔ اس کے لیے آپ سب کا شکرگزار ہوں۔

زیادہ نہیں، بس دو ہی غزلیں لے کر حاضر ہوا ہوں۔ پہلی مصرع طرح کے مطابق ہے۔ عرض کیا ہے :

 

ناخدایا گوہر مقصود کس ساحل میں ہے ؟

جوش زن موج تمنائے معانی دل میں ہے

 

کیوں چلوں طے کردہ راہوں پر مثال گوسفند

جستجو دل کی تلاش رہبر کامل میں ہے

 

چشمِ مہر و ماہ مثلِ دیدۂ جوہر بنی

ایک عالم انتظار جوہر قابل میں ہے

 

حاملِ خاصیتِ صحرا نوردی اب بھی ہیں

ہے جنوں محمول لیلیٰ پر اگر محمل میں ہے

 

مدعا پانے کا دعویٰ کون کر پائے منیب

عزمِ آغازِ سفر مدعو ہر اک منزل میں ہے

 

بعد اس کے،

 

گم نہ رہ سوچ میں تو دیکھ کے چل کچھ مت سوچ

ذہن کی بھول بھلیوں سے نکل کچھ مت سوچ

 

دل اندھیرے کا تری آگ سے ہو جائے گا موم

موم بتی کی طرح چپکے پگھل کچھ مت سوچ

 

روشنی بانٹ اگر سینہ ترا روشن ہے

کیوں ہیں اوروں کے بجھے دل کے کنول کچھ مت سوچ

 

معرفت ڈھونڈ سرِ راہِ طلب زیرِ شجر

میرے گوتم! پسِ دیوارِ محل کچھ مت سوچ

 

بیج بو بیج یہ دنیا ہے عمل کی کھیتی

فصل ناکام رہے گی کہ سپھل کچھ مت سوچ

 

اژدھا ڈر کا مقابل ہو تو تلوار نکال

وہم کے سانپ کو پتھر سے کچل کچھ مت سوچ

 

زندگی جنگ ہے لمحات سے لڑنا ہے تجھے

جیتنا چاہے تو دورانِ جدل کچھ مت سوچ

 

خود کو مصروف رکھ اس آج کے عرصے میں منیب

کل کا سوچیں گے جب آ جائے گا کل کچھ مت سوچ

 

بہت شکریہ!

 

محمد تابش صدیقی:

کیوں چلوں طے کردہ راہوں پر مثال گوسفند

جستجو دل کی تلاش رہبر کامل میں ہے

بیج بو بیج یہ دنیا ہے عمل کی کھیتی

فصل ناکام رہے گی کہ سپھل کچھ مت سوچ

یہ تھے جناب منیب احمد فاتح، جنہوں نے اپنے کلام اور آواز سے قارئین و سامعین کو محظوظ کیا۔

اب میں دعوتِ کلام دے رہا ہوں محترمہ نمرہ صاحبہ کو، کہ وہ آئیں اور اپنا کلام پیش کریں۔

محترمہ نمرہ

 

حسن محمود جماعتی:

بوجوہ کسی مصروفیت کے محترمہ نمرہ صاحبہ شریک نہ ہو پائیں۔

محفل کی کاروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے اگلی سخن ور محترمہ نور سعدیہ شیخ صاحبہ کو اس شعر کے ساتھ دعوت دے رہا ہوں

یہ اور بات کہ وہ منبر پہ آ کے کچھ نہ کہے

خاموش لوگ بلا کے خطیب ہوتے ہیں

 

نور سعدیہ شیخ:

سب سے پہلے تو اہلیان محفلین کو دلی مبارک باد !

سب حاضرین کو السلام علیکم

میں کچھ متفرق اشعار پیش کرنا چاہوں گی۔ ۔ ۔ نیا تو کچھ خاص لکھ نہیں پائی ہوں اس لیے پرانا کلام ہی حاضر خدمت ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

حمدیہ اشعار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

تو نورِ سماوی، تو نور زمانی

نبی سارے تیری ہیں نوری نشانی

 

محمدؐمیں تیری ہے حکمت مکمل

بشر کی وہ صورت میں تیرا تجمل

=======

 

نعتیہ اشعار

مقامِ حرا، معرفت سے ضُو پائی

نبوت سے ظلمت جہاں کی مٹائی

 

خشیت سے جسمِ مطہر تھا کانپا

خدیجہ نے کملی سے انہیں تھا ڈھانپا

 

منور، منقی تجلی سے سینہ

پیامِ خدا سے ملا پھر سفینہ

 

چراغِ الوہی جلا مثلِ خورشید

تجلی میں جس کی، خدا کی ملے دید

=========

اسے میرے احساس ہی سے ہے نفرت

بجھا چاہتا ہے چراغِ محبت

 

مداوا غمِ دل کا ہو گا بھی کیسے

کہ زخموں سے ہونے لگی ہے محبت

===================

خواب دیکھوں میں بہارِ شوق کا

مت مچا تو شور اب زنجیر سے

 

سب تمنائیں ہوئیں اب نور ختم

مت ڈرا ہمدم مجھے تقدیر سے

===============

 

فراق یار کا ہر لمحہ بے قرار ہوا

سرابِ دشت مرے عشق کا گماں ٹھہرا

 

حریمِ دل کے بیابان میں ڈھونڈتے پھرتے

غزالِ دشت نے پھر نغمۂ فغاں چھیڑا

 

صدائے نغمۂ آہو کا سحر طاری تھی

وصالِ یار حقیقت نہیں فسانہ ہے

 

مگر فسانہ حقیقت سے کچھ بعید نہ تھا

کشان غم کی تپش سے جو اضطراب بڑھا

 

ترے خیال کی شدت نے مجھ کو آ تھاما

وصالِ یار کے لمحوں سے پیارا ہجر مجھے

=======================

 

ہم نشیں تو خزاں کی بات نہ کر

ہے تخئیل سے دور اک وادی

آج کل میں وہاں مکیں ہوتے،

خود ہی تجھ سے میں اب بچھڑ رہی ہوں،

یوں سمجھنا کہ اب بکھر رہی ہوں،

بیچ حائل سراب کا پردہ !

اس کی جھالڑ کو توڑ کے میں نے

سب نہاں کو عیاں کیا میں نے

شان سے جو براجمان تھے تم

دل کی وہ راجدھانی میں خود سے

توڑ کے زخمی ہاتھ کیا کرتی؟

خون رستا رہا کبھو کا ہے !

دل کے برباد کاخ و کو کرتی؟

جا بجا اس میں تیرے تھے شیشے

کانچ کی طرح جانے کیوں بکھرے

خستگی پر غشی سی طاری ہے

یہ گماں ہے نزع کی باری ہے

اک صنم خانہ دل کا ٹوٹا ہے

ہم نشیں تو خزاں کی بات نہ کر

موسموں کی، رتوں کی بات نہ کر

چاہتوں کی، وفاؤں کی باتیں

فاصلوں کی عطا نہیں ہوتی

چاہتوں کی قضا نہیں ہوتی

=========

 

محمد تابش صدیقی:

مداوا غمِ دل کا ہو گا بھی کیسے

کہ زخموں سے ہونے لگی ہے محبت

سب تمنائیں ہوئیں اب نور ختم

مت ڈرا ہمدم مجھے تقدیر سے

یہ تھیں محترمہ نور سعدیہ شیخ صاحبہ جو قارئین کے سامنے اپنے خوبصورت منظوم خیالات کا اظہار کر رہیں تھیں۔

اب میں دعوتِ کلام دینے جا رہا ہوں محترمہ ایمان قیصرانی صاحبہ کو، کہ وہ محفل مشاعرہ میں اپنا کلام پیش کریں۔

محترمہ ایمان قیصرانی

 

ایمان قیصرانی:

لیجئے ہم بھی حاضر، تاخیر کی معذرت

 

غزل

 

تو اپنی زات کے زنداں سے گر رہائی دے۔

تو مجھ کو پھر میرے ہمزاد کچھ دکھائی دے۔

 

بس ایک گھر ہو خدائی میں کائنات مری،

مرے خدا ! مجھے اتنی بڑی خدائی دے۔

 

میں اُسکو بھولنا چاہوں تو گونج کی صورت،

وہ مجھ کو روح کی پاتال میں دکھائی دے۔

 

بجھا چکا ہے زمانہ چراغ سب لیکن !

یہ میرا عشق کہ ہر راستہ دکھائی دے۔

 

ہمارے شہر کے سوداگروں کی محفل میں،

وہ ایک شخص کہ سب سے الگ دکھائی دے۔

 

اُسے غرور عطا ہے، کوئی تو اب آئے،

جو اُس کے دست میں بھی کاسہِ گدائی دے۔

 

پلٹ بھی سکتی ہوں ایماں فنا کی راہوں سے،

اگر کوئی مجھے اُس نام کی دُھائی دے۔

——

 

غزل

ایک ادھورے خواب کا منظر آنکھوں میں تحریر ہوا ہے۔

راتوں کا وہ چاند بنا ہے، صبحوں کی تعبیر ہوا ہے۔

 

درد سے جس کی خوب بنی ہو، جس نے دل پہ چوٹ سہی ہو،

وہ ہی شیلے، کیٹس بنا ہے، وہ ہی غالب، میر ہوا ہے۔

 

ہجر کی اندھی شش جہتوں میں، ذات کی سجدہ گاہوں میں

عشق ہمارا مرشد اولیٰ، عشق ہی قبلہ پیر ہوا ہے۔

 

کیا کیا منظر دکھلائے ہیں، وقت کے رستے زخموں نے

دکھ کا گہرا سناٹا اب آنکھوں میں تحریر ہوا ہے۔

 

آنکھ کی رتھ پر بیٹھا سپنا، اس کا نام ہی جپتا ہے۔

جس غزنی کے ہاتھ سے میرا دل مندر تسخیر ہوا ہے۔

 

صرف نظر سے کیسے کیسے کم ظرفوں کو ظرف ملا ہے

اور ہماری آنکھ کا تنکا ہر اِک کو شہتیر ہوا ہے۔

 

آج بھی میرے سر کی چادر، تیرے عشق کا حجرہ ہے۔

آج بھی تیرا نقش کف پا، قدموں کی زنجیر ہوا ہے۔

 

لفظ بنے ہیں میری شہرت، عشق ہوا ہے وجہ شہرت

ایک کئیے ہے ہر سو رسوا، ایک مری تشہیر ہوا ہے۔

 

عشق دھمالیں ڈالتی آئی رانجھا رانجھا کرتے ہیر

لیکن کیا کوئی رانجھا اب تک، عشق میں مثل ہیر ہوا ہے۔

 

ایماں ایک زمیں زادے کے عشق کا ہے اعجاز فقط

یہ جو ایک سخن دیوی سے شعر نگر تعمیر ہوا ہے۔

 

مقدس حیات:

کیا کیا منظر دکھلائے ہیں، وقت کے رستے زخموں نے

دکھ کا گہرا سناٹا اب آنکھوں میں تحریر ہوا ہے

آنکھ کی رتھ پر بیٹھا سپنا، اس کا نام ہی جپتا ہے

جس غزنی کے ہاتھ سے میرا دل مندر تسخیر ہوا ہے

یہ تھیں جنابہ ایمان قیصرانی صاحبہ جو اپنے کلام سے محفل کو محظوظ فرما رہی تھیں۔

اب ہم دعوت کلام دیں گے جناب واسطی خٹک صاحب کو کہ تشریف لائیں اور اپنے کلام سے نوازیں

جناب واسطی خٹک صاحب۔

 

واسطی خٹک:

السلام علیکم سب کو

سلام کے بعد ایک غزل حاضر ہے

 

شرارتیں بھی، محبت بھی، بدگمانی بھی

عجیب سی ہے صنم ! آپ کی کہانی بھی

 

تمہارے قرب کی لذت سے ہو گئے واقف

بسر کریں گے، بنا تم یہ زندگانی بھی

 

سنا ہے شوق ہے اس کو پرانے قصوں کا

اسے سنانا کسی دن مری کہانی بھی

 

وہی تو ایک حسینہ ہے میرے گاؤں کی

ملی ہے موت بھی جس سے و زندگانی بھی

 

وہ بادلوں کے گرجنے سے ڈر رہی ہے خٹکؔ

مجھے قبول نہیں اب برستا پانی بھی

 

ایک اور بھی برداشت کیجیے

 

جب پڑی اس کی ضرورت مجھ کو

تب ملی خوب عداوت مجھ کو

 

پہلے مشغول رہا غیبت میں

اب عطا کر دی ہے تہمت مجھ کو

 

جب کبھی پایا ہے تنہا اس کو

نہ ہوئی بات کی ہمت مجھ کو

 

وہ جفا کار جفا کر گزرا

اس نے بخشی ہے یہ دولت مجھ کو

 

پھر تو اس کو بھی پریشاں پایا

جب ہوئی اور سے چاہت مجھ کو

شکریہ

 

حسن محمود جماعتی:

منفرد اور دل نشیں انداز میں واسطی خٹک صاحب کچھ یوں محو سخن تھے،

سنا ہے شوق ہے اس کو پرانے قصوں کا

اسے سنانا کسی دن مری کہانی بھی

وہ بادلوں کے گرجنے سے ڈر رہی ہے خٹکؔ

مجھے قبول نہیں اب برستا پانی بھی

اب میں ملتمس ہوں محترم فیصل عظیم فیصل صاحب سے۔ آپ تشریف لائیں اور محفل میں اپنا کلام پیش کریں۔

 

فیصل عظیم فیصل:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شکریہ محمود چاہت کا محبت کا کہ اب

مجھ کو شاعر کہہ رہے ہو گو کہ ذرہ ہوں یہاں

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

خوب صورت موسموں میں بارشیں نفاق کی

محو حیرت ہوں کہ پانی کس قدر بادل میں ہے

 

سوچتا ہے ہر کوئی محفل میں بیٹھا ہے عبث

میں ہوں بہتر مجھ سے بہتر کون اس منزل میں ہے

 

محفلیں چاہت سے پر ہوں اور باتیں پیار کی

کون جانے کس قدر نفرت تمہارے دل میں ہے

 

یہ تو ممکن ہی نہیں ہے غیب ہم بھی جان لیں

آج دعوے علم کے، سب قبضہ جاہل میں ہے

 

گفتگو ہے گفتگو ہے خامشی ہر دل میں ہے

ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے

 

بدظنی سے بچ کے رہنا رحمتوں کی آس پر

راہ چلنا ان(ص) کی جن ہر ادا کامل میں ہے

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

ایک پرانا کلام جو مجھے بہت عزیز ہے ایک بار پھر سے حاضر خدمت ہے

 

تم لوٹ کے آ جاؤ

ہم انتظار میں ہیں

اب بات کرو ہم سے

ہم انتظار میں ہیں

جب عمر ختم ہو گی

ہم موت سے کہ دیں گے

مت جان ہماری لو

ہم انتظار میں ہیں

پھر بہہ نکلیں آنسو

سب لوگ کہیں گے یوں

تم لوٹ کے آ جاؤ

ہم انتظار میں ہیں

 

محمد تابش صدیقی:

سوچتا ہے ہر کوئی محفل میں بیٹھا ہے عبث

میں ہوں بہتر مجھ سے بہتر کون اس منزل میں ہے

محفلیں چاہت سے پر ہوں اور باتیں پیار کی

کون جانے کس قدر نفرت تمہارے دل میں ہے

یہ تھے جناب فیصل عظیم فیصل صاحب جو اپنا کلام پیش کر رہے تھے۔

اب میں دعوتِ کلام دینے جا رہا ہوں، جناب امجد علی راجا صاحب کو، کہ وہ آئیں اور قارئینِ مشاعرہ کو اپنے کلام سے محظوظ کریں۔

جناب امجد علی راجا صاحب

 

امجد علی راجا:

محترم صدرِ محفل، محترم مہمانِ خصوصی، محترم انتظامیہ اور تمام محترم محفلین کی خدمت میں آداب

ہر محفل کے کچھ آداب ہوتے ہیں، محفلِ مشاعرہ کے تو خاص آداب ہوتے ہیں لیکن میرا کلام پڑھتے وقت صرف اس بات کا خیال رکھا جائے کہ آپ کی زوجہ محترمہ کی نظر میرے کلام پر نہ پڑ جائے (بصورتِ دیگر ذمہ داری آپ کی اپنی ہو گی)۔

امید ہے کہ آپ سب میرے اشعار کی گہرائی میں غوطہ زن ہونے کی بجائے صرف داد دینے پر ہی اکتفا کریں گے۔ اشعار کا مطلب آپ بعد میں سمجھتے رہیئے گا۔ سمجھ آ گئے تو آپ کے نصیب بصورتِ دیگر یقین کر لیجیئے گا کہ الہامی کلام ہے۔

 

زلفِ دراز شان ہے حسن و جمال کی

نسوانیت ادھوری ہے اس کو نکال کر

بیگم! اسی کی چھاؤں میں رہتے ہیں عاشقین

رسوا کرو نہ زلف کو سالن میں ڈال کر

 

کتابوں میں بہت نقصان اٹھا کر

دکاں پر رکھ لئے جوتے جرابیں

چراغ علم یوں روشن کیا پھر

سر فٹ پاتھ رکھ دیں سب کتابیں

 

چار دفتر میں ہیں، اک گھر میں ہے اور اک دل میں ہے

چھ حسینوں میں گھرا امجد بڑی مشکل میں ہے

 

ذکر سن کر چھ حسینوں کا نہ گھبرا جانِ من

اک حسینہ کے لئے اب بھی جگہ اس دل میں ہے

 

ساس کے پہلو میں بیوی کو جو دیکھا، ڈر گیا

یا الٰہی خیر ہو خنجر کفِ قاتل میں ہے

 

دے رہا تھا لیڈروں کو گالیاں جو جو بھی وہ

“میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے ”

 

میں تو سمجھا تھا کہ جاں لیوا ہے بیماری مری

موت کا سامان لیکن ڈاکٹر کے بل میں ہے

 

دیکھ کر کل رات فیشن شو میں بوفے حسن کا

آ گئے ہم گھر مگر دل اب بھی اس محفل میں ہے

 

میری دل جوئی کو آنے لگ پڑیں ہمسائیاں

فائدہ کیا کیا مرا بیگم تری کِلکِل میں ہے

 

دیکھئے، رشوت نہیں لایا، سفارش بھی نہیں

ایک بھی خوبی بھلا اس کی پروفائل میں ہے ؟

 

آپ جو فائل دبا کر بیٹھے ہیں دو ماہ سے

آپ کا نذرانہ عالی جاہ! اسی فائل میں ہے

 

ہے غلط فہمی کہ خوش فہمی مگر لگتا ہے یہ

ذکرِ امجد اب تو اردو کی ہر اک محفل میں ہے

 

(So Boring)

ایک جنجال ہے سسرال مرا، سو بورنگ

اس پہ شوہر بھی نہ قابو میں ہوا، سو بورنگ

 

مر گئے چھوڑ کے دولت کے خزانے دادا

جشن کے بدلے ہوئی قل کی دعا، سو بورنگ

 

گولڈ کی رنگ، آئی فون، نہ پرفیوم کوئی

پیار میں اس نے بس اک پھول دیا، سو بورنگ

 

گو کہ افسر ہے مگر ہے وہ بہت نالائق

اپنے خرچے پہ وہ حج کرنے گیا، سو بورنگ

 

چھ مہینے سے وہ چپکی ہے اسی لڑکے سے

آج کے فاسٹ زمانے میں وفا، سو بورنگ

 

شعر تو کہتے ہیں بجلی کے اجالے میں مگر

ان کے ہر شعر میں جلتا ہے دیا، سو بورنگ

 

ڈش کوئی مرغ کی کھائے تو کوئی بات بھی ہو

دال پہ کرتا ہے وہ شکر ادا، سو بورنگ

 

میں نے لکھا اسے اردو میں محبت نامہ

ہائے، انگریز کی بچی نے کہا، سو بورنگ

 

میری پر لطف غزل بزم میں سن کر لوگو

کس چھچھورے نے لگائی ہے صدا، “سو بورنگ”

 

یہاں میں اپنی بیوی کا شکریہ ضرور ادا کرنا چاہوں گا جس کے تعریفی اور تنقیدی رویے نے اس مشاعرے کے لئے کلام مکمل کرنے میں میری بہت حوصلہ افزائی فرمائی، حالانکہ بحیثیتِ بیوی یہ کافی مشکل کام تھا۔

شکریہ بیگم۔

 

حسن محمود جماعتی:

محفل مشاعرہ کے دھنک رنگ میں اک نئے رنگ کا، منفرد ڈھنگ اور آہنگ سے کچھ یوں اضافہ کر رہے تھے محترم امجد علی راجا صاحب،

 

کتابوں میں بہت نقصان اٹھا کر

دکاں پر رکھ لئے جوتے جرابیں

چراغ علم یوں روشن کیا پھر

سر فٹ پاتھ رکھ دیں سب کتابیں

 

ساس کے پہلو میں بیوی کو جو دیکھا، ڈر گیا

یا الٰہی خیر ہو خنجر کفِ قاتل میں ہے

دے رہا تھا لیڈروں کو گالیاں جو جو بھی وہ

“میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے ”

گو کہ افسر ہے مگر ہے وہ بہت نالائق

اپنے خرچے پہ وہ حج کرنے گیا، سو بورنگ

میں نے لکھا اسے اردو میں محبت نامہ

ہائے، انگریز کی بچی نے کہا، سو بورنگ

معاشرتی سچائیوں کو بہت خوبصورت انداز میں مزاح میں ڈھالا محترم امجد علی راجا صاحب نے، آپ کی نظر یہ شعر،

غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا

کہ وہ شخص لب و لہجہ دل نشین رکھتا تھا

انہیں کلمات کے ساتھ محفل کی کاروائی آگے بڑھاتے ہوئے اگلی مہمان سخن ور محترمہ نمرہ صاحبہ کو دعوت کلام دے رہا ہوں۔ آپ تشریف لائیں اور محفل سے ہم کلام ہوں۔

 

نمرہ:

منتظمین اور دیگر افراد کے شکریے کے ساتھ ایک غزل۔

 

اور کیا ساماں بہم بہرِ تباہی چاہیے

حسنِ لب بستہ سے ذوقِ کم نگاہی چاہیے

 

جانثاری مشغلہ ہی سمجھیے عشاق کا

روزِ محشر آپ کی لیکن گواہی چاہیے

 

آبلوں کی جستجو میں دشت گردی خوب، پر

علم کچھ منزل کا بھی نادان راہی چاہیے

 

ہم لیے پھرتے ہیں کاندھوں پر جہاں داری کا بوجھ

اور ضد یہ ہے، غرورِ کج کلاہی چاہیے

 

بسکہ طالب اپنے دل پر اختیارِ کل کے ہیں

کب سکندر کی سی ہم کو بادشاہی چاہیے

 

آرزو یاں کچھ نہیں جز ایک اقرارِ گنہ

اور واں اصرار، تیری بے گناہی چاہیے

 

شعر گوئی کارِ لاحاصل سہی، پر سچ یہ ہے

مشغلہ آخر کوئی خواہی نخواہی چاہیے

 

اور مصرع طرح پر میری طبع آزمائی:

 

قیس کو دشت جنوں میں بڑھ کے ہے زنجیر سے

اک کسک کہ جستجوئے عشق لاحاصل میں ہے

 

عشق کا ہر مرحلہ پہلے سے ہے دشوار تر

دل خدا جانے کہاں ہے، کون سی منزل میں ہے

 

چین سے رہنے نہیں دیتی کہیں اک پل مجھے

ایک سیمابی سی کیفیت کہ آب و گل میں ہے

 

مار ڈالے گی ہمیں پتھر دلی کے باوجود

کچھ ستاروں سی چمک جو دیدۂ سائل میں ہے

 

بحر کی موجوں کو گر بھاتا ہے ساحل کاسکون

بے کراں ہونے کی حسرت موجۂ ساحل میں ہے

 

بے نیازی کا وہ عالم ہے، تسلی یہ نہیں

ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے

 

حسن محمود جماعتی:

ہم لیے پھرتے ہیں کاندھوں پر جہاں داری کا بوجھ

اور ضد یہ ہے، غرورِ کج کلاہی چاہیے

بے نیازی کا وہ عالم ہے، تسلی یہ نہیں

ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے

بہت خوبصورت اور منفرد انداز میں محو کلام تھیں محترمہ نمرہ صاحبہ۔

اب میں اپنے ایوان سے دعوت سخن دے رہا ہوں محترم ذوالفقار نقوی صاحب کو آپ تشریف لائیں اور اپنا کلام پیش کریں۔

 

ذوالفقار نقوی:

السلام علیکم منتظمین و قارئین کرام۔ ۔ ۔ ۔

حکم کی تعمیل میں ایک ادنیٰ سی کوشش پیش خدمت ہے۔ ۔ ۔ ۔

 

غزل

مجھے زمان و مکاں کی حدود میں نا رکھ

صدا و صوت کی اندھی قیود میں نا رکھ

 

میں تیرے حرف دعا سے بھی ماورا ہوں میاں

مجھے تُو اپنے سلام و درود میں نا رکھ

 

کلیم وقت کے در کو جبیں ترستی ہے

امیر شہر کے بیکل سجود میں نا رکھ

 

نظام قیصر و کسری کی میں روانی ہوں

وجوب عین ہوں صاحب شہود میں نا رکھ

 

بچھا یقیں کا مصلی درون ہستی میں

نیاز و راز کے قصے نمود میں نا رکھ

 

پس وجود جہاں میری خاک ہی تو ہے

رموز ہستی دوراں وُرود میں نا رکھ

ذوالفقار نقوی۔ ۔ انڈیا

 

السلام علیکم۔ ۔ ۔ تاخیر کے لئے معذرت۔ ۔ ۔ میرا نیٹ ایک مسئلہ تھا۔ ۔ ۔ ۔

بہر حال حکم کی تعمیل میں ایک اور غزل پیش خدمت ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

دشت میں دھوپ کی بھی کمی ہے کہاں

پاؤں شل ہیں مگر بے بسی ہے کہاں

 

لمس دشت بلا ہی کی سوغات ہے

میرے اطراف میں بے حسی ہے کہاں

 

خاک میں خاک ہوں، بے مکاں بے نشاں

میرا ملبوس تن خسروی ہے کہاں

 

میرا سوز دروں مائل لطف ہو

مجھ میں شعلہ فشاں وہ نمی ہے کہاں

 

پھونک دے بڑھ کے جو تیرگی کا بدن

میری آنکھوں میں وہ روشنی ہے کہاں

 

صوت و حرف تمنا سے ہو با خبر

ایسی ادراک میں نغمگی ہے کہاں

ذوالفقار نقوی۔ ۔ ۔ انڈیا

 

مقدس حیات:

میں تیرے حرف دعا سے بھی ماورا ہوں میاں

مجھے تُو اپنے سلام و درود میں نا رکھ

کلیم وقت کے در کو جبیں ترستی ہے

امیر شہر کے بیکل سجود میں نا رکھ

 

لمس دشت بلا ہی کی سوغات ہے

میرے اطراف میں بے حسی ہے کہاں

محترم ذوالفقار نقوی صاحب کے پر کیف کلام کے بعد ہم اب دعوتِ کلام دیتے ہیں محترم حسن محمود جماعتی صاحب کو کہ وہ اپنا کلام پیش فرما کر مشاعرے کی رونق کو بڑھائیں۔

محترم حسن محمود جماعتی صاحب

 

حسن محمود جماعتی:

بہت بہت شکریہ مقدس آپ کا۔

صدر محفل کی اجازت سے۔ ۔ ۔ ۔

سب سے پہلے صدر محفل و میر محفل کو آداب اور سلام عرض ہے۔

جملہ محفلین، اراکین، قارئین، ناظرین، حاضرین، وابستگان اور مہمانان کو ہماری ہر دل عزیز اور بہت ہی پیاری “اردو محفل” کی گیارہویں سالگرہ بہت بہت مبارک ہو۔

؎ پھلا پھولا رہے یا رب چمن ہماری امیدوں کا

دعا ہے باری تعالی ہماری اس اردو محفل کو اسی طرح شاد آباد اور پر رونق رکھے ہمیں اس محفل سے اور آپس میں محبت عطا کرے۔

اجازت کے ساتھ۔ ۔ ۔ ۔

اس شعر سے آغاز کرتا ہوں، عرض کیا ہے کہ۔ ۔ ۔

 

؎ لکھا نہیں جو مقدر میں دینے والے نے

ملا نہیں تو پھر اس پر ملال کیسا ہے

 

ایک قطعہ ملاحظہ فرمائیں۔

؎ ہاں دل کی تسلی کے لیے بات ٹھیک ہے

یہ اور بات خوف سا چھایا ہے آپ پر

 

دامن ہمارا چھوڑ کے جی لیں گے آپ بھی

لیکن ہمارا آج بھی سایہ ہے آپ پر

 

اس قطعہ اور غزل کے ساتھ اجازت۔ ۔ ۔ ۔ ۔

؎ وسعت ذات میں کھویا ہوں تجھے پایا ہے

جس جگہ دیکھتا ہوں یہ ترا سایہ ہے

میں کہ افلاک کی گردش کو کہاں چھو سکتا

یہ ترا لمس افق پار تلک لایا ہے

 

لے کے حسن و خمار پہلو میں

کب سے بیٹھا ہے یار پہلو میں

 

قتل کرنے کو ایک کافی ہے

کر سلیقے سے وار پہلو میں

 

اُن سے پہلو تہی نہیں ہوتی

جن کا رہتا ہو پیار پہلو میں

 

عشق کرنے کا ہے مزہ جب ہی

ہو رقابت کا خار پہلو میں

 

زندگی دیر تک نہیں چلتی

ہجر کا لے کے بار پہلو میں

 

آگ نفرت کی کیا جلائے ہمیں

تیرے غم کی ہے نار پہلو میں

 

جب محبت کو ہم نے دفنایا

اک بنایا مزار پہلو میں

 

ہم حسن شوق سے جھکائیں گے سر

وہ سجائے جو دار پہلو میں

والسلام شکریہ

حسن محمود جماعتی

 

تابش صدیقی:

لکھا نہیں جو مقدر میں دینے والے نے

ملا نہیں تو پھر اس پر ملال کیسا ہے

قتل کرنے کو ایک کافی ہے

کر سلیقے سے وار پہلو میں

اُن سے پہلو تہی نہیں ہوتی

جن کا رہتا ہو پیار پہلو میں

یہ تھے جناب حسن محمود جماعتی صاحب جو اپنے خوبصورت کلام سے مشاعرہ کو مہکا رہے تھے۔

آن لائن مشاعرہ میں شعراء اور انتظامیہ کی موجودگی مختلف اوقات میں ہونے کے سبب تاخیر ہوتی ہے۔ صبح کے وقت میں دفتری اوقات کے باعث بھی مشاعرہ میں ٹھہراؤ آ جاتا ہے۔

قارئین سے گزارش ہے کہ خاطر جمع رکھیے، مشاعرہ جاری ہے، اور شعراء کے میسر ہوتے ہی آگے بڑھے گا۔

امید ہے کہ اپنے تبصروں سے مشاعرہ کی رونق بڑھاتے رہیں گے۔

اب میں دعوتِ کلام دینے جا رہا ہوں جناب ارشد خان صاحب کو کہ وہ آئیں اور اپنا کلام محفل مشاعرہ میں پیش کریں۔

جناب ارشد خان

 

ارشد خان:

تمام سخن شناس احباب کو دل کی گہرائیوں سے السلام علیکم

اور اردو محفل کا بہت بہت شکریہ کہ مجھ ناچیز کو اس مشاعرہ میں شرکت کا موقع دیا۔ اور اب جناب برداشت کی جیے میرا ٹوٹا پھوٹا کلام

سب سے پہلے اک نظم

عنوان ہے “شکایت”

 

مجھے تم سے شکایت ہے

فقط اک ہی شکایت بس

تمہیں نفرت ہے مجھ سے

یہ نہیں شکوہ

کرو تم شوق سے نفرت

نہیں پرواہ

مگر اتنی گزارش ہے

خدا کے واسطے

میری محبت کو

ہوس کا نام مت دینا

متاعِ جاں محبت اور ہوس میں

فرق ہوتا ہے

محبت میں بدن کا تو

تصور ہی نہیں ہوتا

فقط احساس ہوتے ہیں

جنہیں میں نام بھی

دینے سے قاصر ہوں

کبھی یہ ختم ہو جائے نہیں ممکن

مگر اے جانِ محبوبی

ہوس میں کچھ نہیں ہوتا

فقط دو جسم ہوتے ہیں

بہت ہی عارضی عرصے کو رہتے ہیں

متاعِ جاں محبت اور ہوس میں

فرق ہوتا ہے

مجھے تم سے محبت ہے

 

اور اب ایک غزل پیشِ خدمت ہے

 

مسکن تھا میرا دل کبھی تیرا متاعِ جاں

معلوم اب نہیں مجھے رہتی ہے تو کہاں

 

دل کش تھا اس کے نور سے کچھ اس قدر سماں

محفل پہ ہو گیا تھا پرستان کا گماں

 

نورِ سحر وہ حور شمائل مرے لئے

ہے شام کی شفق بھی وہی آرزوئے جاں

 

واقف تمہارے قرب کی لذت سے جب ہوا

جینے میں کیا مزا ہے یہ مجھ پہ ہوا عیاں

 

سب ہیں تری طرح غمِ جاناں میں مبتلا

قصے شبِ فراق کے ارشد نہ کر بیاں

 

اور مزید چند اشعار

بے پروں کی اڑانے والے لوگ

ہیں بھروسہ اٹھانے والے لوگ

 

زخم اپنے چھپائے پھرتے ہیں

یہ سدا مسکرانے والے لوگ

 

دشت کی سمت جا نکلتے ہیں

تیری محفل سے جانے والے لوگ

 

کس قدر خوش نصیب ہوتے ہیں

شبِ فرقت نہ پانے والے لوگ

 

اپنے گھر کے ہی آدمی نکلے

میرے گھر کو جلانے والے لوگ

 

جانے کب آسماں سے اترے ہیں

تم پہ انگلی اٹھانے والے لوگ

شکریہ احباب برداشت کرنے کا

 

محمد تابش صدیقی:

زخم اپنے چھپائے پھرتے ہیں

یہ سدا مسکرانے والے لوگ

اپنے گھر کے ہی آدمی نکلے

میرے گھر کو جلانے والے لوگ

یہ تھے جناب ارشد خان صاحب جو اپنے کلام سے قارئین کو محظوظ کر رہے تھے۔

اب میں دعوتِ کلام دینے جا رہا ہوں جناب فقیر شکیب احمد صاحب کو کہ وہ آئیں اور اپنا کلام پیش کریں۔

جناب شکیب احمد صاحب

 

 

شکیب احمد:

سب سے پہلے تو معذرت چاہوں گا کہ دیر میں حاضر ہوا۔ منتظمین اور میرا وقت مختلف ہونے کی وجہ سے یہ زحمت ہوئی۔ تمام شعراء کے کلام سے لطف اندوز ہوا۔ محمد بلال اعظم بھائی کی غزل تو سفر میں گنگناتے ہوئے پڑھی گئی۔ اور امجد علی راجا بھائی کے پہلے دو طرحی شعر تو فوراً یاد ہو گئے۔ ہم تو اب بھی دہرا کر مزہ لیے جا رہے ہیں۔ فردا فردا سب کے کلام پر تبصرہ ان شاء اللہ تبصروں کی لڑی میں کرتا ہوں۔

طرحی مصرع پر سوچا تو تھا کہ طبع آزمائی کروں گا، لیکن وقت ہی نہیں نکل پایا۔ یہ سفر کے دوران چند اشعار موزوں ہوئے تھے، جس میں سے کچھ بھی زیرِ غور ہیں۔ چنانچہ دو ہی اشعار پیش کر رہا ہوں۔ بقیہ ان شاء اللہ پھر سہی۔

نذرِ آتش کر دیے اوراقِ قرآں آپ نے

اس متن کا کیا کرو گے جو ہمارے دل میں ہے

 

رحم کن بر حالِ عشاقِ مجازی یا رحیم

کوئی زلفِ فتنہ گر میں گُم ہے کوئی تل میں ہے

 

اور ایک عدد تازہ غزل آپ کی باذوق سماعتوں کی نذر

غزل

عاشق و موسیٰ میں اب ایسا بھی کیا امتیاز؟

ہم بھی ہیں مشتاق کر، ہم سے بھی راز و نیاز

 

سود و زیاں سے پرے، صرف خدا کے اسیر

اہلِ تصوف وہ ہیں، جن پہ ہے خالق کو ناز

 

طیش میں وہ ہیں تو کیا، ایک یہی در تو ہے

اور کہاں پر کریں دستِ سوالی دراز

 

ذاتِ حبیبِ حزیں، تیری تڑپ کے نثار

سب کے لئے جاں گسل، سب کے تئیں جاں گداز

 

پیرِ حرم کیا کرے ؟ قوم کی دانست میں

نقلِ فرنگی ہے آج کارگر و کارساز

 

کشمکشِ زندگی سے ہے عروجِ امم

جہدِ مسلسل میں ہے رفعتِ قومی کا راز

 

آپ کی مانند سب رند نہیں ہیں شکیب

دیجیے گا کب تلک بادہ کشی کا جواز

دعاگو و  دعا جو

فقیر شکیب احمد

 

محمد تابش صدیقی:

عاشق و موسیٰ میں اب ایسا بھی کیا امتیاز؟

ہمبھی ہیں مشتاق کر، ہم سے بھی راز و نیاز

کشمکشِ زندگی سے ہے عروجِِ امم

جہدِ مسلسل میں ہے رفعتِ قومی کا راز

یہ تھے جناب شکیب احمد صاحب، جو اپنے خوبصورت کلام سے قارئین کی دلچسپی کا سامان کر رہے تھے۔

اب میں دعوتِ کلام دینے جا رہا ہوں، محفل کی ہر دل عزیز شخصیت، قادر الکلام شاعر جناب راحیل فاروق صاحب کو، کہ وہ آئیں اور مشاعرہ کو اپنے خوبصورت کلام سے رونق بخشیں۔

جناب راحیل فاروق

 

راحیل فاروق:

بہت بہت شکریہ، تابش بھائی۔

سب سے پہلے تو میں منتظمین کو اس نادر الوقوع مشاعرے کے انعقاد پر، جس کے دوسالہ ہونے کے قوی امکانات ہیں، دل سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ امید ہے کہ اگلی سالگرہ پر نیا دھاگا کھولنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

میرا خوب صورت کلام (بقولِ محمد تابش صدیقی، دروغ بر گردنِ راوی) پیشِ خدمت ہے۔

پہلے ایک غیر طرحی غزل:

 

میرے طبیب کی قضا میرے سرھانے آ گئی

چارہ گرانِ عشق کی عقل ٹھکانے آ گئی

 

رات کی خیمہ گاہ میں شمع جلانے آ گئی

آ گئی مہرباں کی یاد، آگ لگانے آ گئی

 

بندہ نواز، کیا کروں ؟ مجھ کو تو خود نہیں خبر

فرش میں عرش کی کشش کیسے نجانے آ گئی؟

 

جس کے وجود کا پتا موت کو بھی نہ مل سکا

اس کی گلی میں زندگی شور مچانے آ گئی

 

خاک ہوا تو دیکھیے، خاک پہ فضل کیا ہوا

کوچۂِ یار کی ہوا مجھ کو اڑانے آ گئی

 

تیرے وصال کی قسم، تیرے جمال کی قسم

ایک بہار عشق پر آ کے نہ جانے آ گئی

 

فاتح بھائی کے حکم کی تعمیل میں یہ غزل اب میری آواز میں بھی سنیے :

اور اب طرحی غزل ملاحظہ فرمائیے :

 

عشق مشکل میں ہے، ضبط اس سے بڑی مشکل میں ہے

دل تمنا میں گیا، پھر بھی تمنا دل میں ہے

 

کچھ نہ کچھ تاب و تواں باقی ابھی بسمل میں ہے

پوچھ لیجے، آخر ایسی بات کیا قاتل میں ہے ؟

 

جس کے باعث حسن ہے بدنام ازل سے، غافلو!

وہ خرابی اصل میں عاشق کے آب و گل میں ہے

 

انتظارِ وصل میں ہے کیا مزا، مت پوچھیے

پوچھیے مت، کیا مزا اس سعیِ لاحاصل میں ہے

 

خود شناسی کے سفر میں کیا نہیں پائی مراد

یہ وہ منزل ہے کہ جس کی راہ بھی منزل میں ہے

 

نام ہی کا رہ گیا ہوں یوں بھی اب راحیلؔ میں

“ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے ”

 

عموماً شاعر کمی کوتاہی کی معافی نہیں مانگتے، مگر کوئی ہو گئی ہو تو مجھے، تابش بھائی اور فاتح بھائی کو معاف فرمائیے گا۔

والسلام!

مقدس:

انتظارِ وصل میں ہے کیا مزا، مت پوچھیے

پوچھیے مت، کیا مزا اس سعیِ لاحاصل میں ہے

خود شناسی کے سفر میں کیا نہیں پائی مراد

یہ وہ منزل ہے کہ جس کی راہ بھی منزل میں ہے

نام ہی کا رہ گیا ہوں یوں بھی اب راحیلؔ میں

“ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے ”

اپنے پر خیال کلام سے اہلِ محفل کے ذوق کی تسکین کا سامان کر رہے تھے محترم راحیل فاروق صاحب۔

اب میں ملتمس ہوں محترم محمد احمد صاحب سے کہ وہ اپنے کلام سے مشاعرے کی رونق بڑھائیں۔ فرماتے ہیں :

آنا چاہتا ہے مجھ سے ملنے وہ

راہ میں آن بان پڑتی ہے

اُس کی لاٹھی تو ہے ہی بے آواز

چوٹ بھی بے نشان پڑتی ہے

آ گیا ہوں فرازِ طور پہ میں

دونوں جانب ڈھلان پڑتی ہے

جناب محمد احمد صاحب

 

محمد احمد:

عزیزانِ محفل اور اساتذہ کی خدمت میں خاکسار کا سلام!

سب سے پہلے تو مبارکباد دینا چاہوں گا مشاعرے کے منتظمین کو کہ جنہوں نے شبانہ روز محنت اور لگن سے یہ محفل سجائی۔ محترم خلیل الرحمٰن بھائی، حسن محمود بھائی، بلال اعظم بھائی اور تابش بھائی، اس خوبصورت مشاعرے کے انعقاد کے لئے آپ تمام احباب کی کاوشیں لائقِ صد ستائش ہیں۔ سب سے بڑھ کر میں شکریہ ادا کروں گا اپنی پیاری سی بہنا مقدس کا کہ جو ہر چند شعر و شاعری سے خاطر و خواہ دلچسپی نہیں رکھتی پھر بھی ہم بھائیوں اور دیگر محفلین کی دل جوئی کے لئے اس مشاعرے کے انتظام و انصرام میں پیش پیش ہے۔ شکریہ مقدس ! جیتی رہو۔

اور اب بات کو مختصر کرتے ہوئے اساتذہ کرام کی اجازت سے ایک غزل کے کچھ اشعار پیش کر نے کی جسارت کر رہا ہوں۔

 

عشق اک دشت ہائے وحشت تھا

دل بنَا ہی برائے وحشت تھا

 

بے قراری سکوں کی زیریں تہہ

اور سکوں بر بِنائے وحشت تھا

 

اشک قطرہ نہ تھا، سمندر تھا

غمِ دل آبنائے وحشت تھا

 

تھی ازل سے ہی بے قرار ہوا

اس کی فطرت میں پائے وحشت تھا

 

اک تڑپ بانسری کی لے میں تھی

ساز گویا صدائے وحشت تھا

 

کیا اُسے حالِ دل سناتے ہم

نغمۂ دل نوائے وحشت تھا

 

ایک اور رنگ کی ایک دوسری غزل کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔

بن کر جو کوئی سامنے آتا ہے آئینہ

خیمے میں دل کے آکے لگاتا ہے آئینہ

 

وہ کون ہے یہ مجھ سے کبھی پوچھتا نہیں

میں کون ہوں یہ مجھ کو بتاتا ہے آئینہ

 

اس عکس کے برعکس کوئی عکس ہے کہیں

کیوں عکس کو برعکس دکھاتا ہے آئینہ

 

خود کو سجائے جاتے ہیں وہ آئینے کو دیکھ

جلووں سے اُن کے خود کو سجاتا ہے آئینہ

 

خود آئینے پہ اُن کی ٹھہرتی نہیں نظر

کیسے پھر اُن سے آنکھ ملاتا ہے آئینہ

 

یہ میرا عکس ہے تو مگر اجنبی سا ہے

کیوں کر مجھے مجھی سی چھُپاتا ہے آئینہ

 

کب دل کے آئینے میں کھلا کرتے ہیں گُلاب

کب آئینے میں پھول کھلاتا ہے آئینہ

 

آویزہ دیکھتے ہیں وہ جھُک کر قریب سے

یا اُن کو کوئی راز بتاتا ہے آئینہ

 

جب میرا عکس مجھ سے مماثل نہیں رہا

کیوں میرا عکس مجھ کو دکھاتا ہے آئینہ

 

اس آئینے میں عکس کسی کا ہے رات دن

احمدؔ یہ عشق دل کو بناتا ہے آئینہ

شکریہ۔

 

محمد تابش صدیقی:

اک تڑپ بانسری کی لے میں تھی

ساز گویا صدائے وحشت تھا

یہ میرا عکس ہے تو مگر اجنبی سا ہے

کیوں کر مجھے مجھی سی چھُپاتا ہے آئینہ

کب دل کے آئینے میں کھلا کرتے ہیں گُلاب

کب آئینے میں پھول کھلاتا ہے آئینہ

 

یہ تھے جناب محمد احمد صاحب جو مشاعرہ کو اپنے خوبصورت کلام کی خوشبو سے مہکا رہے تھے۔

اب میں دعوتِ کلام دینے جا رہا ہوں جناب محمد حفیظ الرحمٰن صاحب کو، کہ وہ آئیں اور محفل مشاعرہ میں اپنا کلام پیش کریں۔

جناب محمد حفیظ الرحمٰن

 

محمد حفیظ الرحمٰن:

تمام حاضرینِ مشاعرہ کی خدمت میں السلام علیکم اور تمام منتظمین کو اس بے مثال مشاعرے کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد کے بعد مصرعِ طرح پر ایک غزل کے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں۔

 

فرق ہے واضح جو لا حاصل میں اور حاصل میں ہے

ہاں وہی جو دورئ منزل میں اور منزل میں ہے

 

جو کشاکش زندگی بھر خون رُلواتی رہی

کاروانِ زندگی اب تک اُسی مشکل میں ہے

 

وہ سمجھتے تھے کہ بس اِک ضرب میں قصّہ تمام

جان باقی اب تلک میرے تنِ بسمل میں ہے

 

حق کے پیروکار ہیں بے خوف اور سینہ سپر

دید کے قابل ہے جو لرزہ صفِ باطل میں ہے

 

آ گئے پیں چھوڑ کر ساحل کو ہم یہ سوچ کر

دیکھتے ہیں لُطف کتنا دورئ ساحل میں پے

 

پائیے جذب و کشش ایسی بھلا کِس چیز میں

جو کسی کے چمپئ رُخسار کے اِک تِل میں پے

 

جن کو اپنے حال پر حاصل نہیں کچھ اختیار

وہ بھلا کیا جان سکتے ہیں جو مستقبل میں ہے

 

دِل میں ہنگامہ ہے برپا اِک ذرا سی بات پر

جو زباں تک آنہ پائی اور ابھی تک دِل میں ہے

 

کارواں میں ڈھونڈتا پھرتا ہے مجنوں ہر طرف

کون جانے اُس کی لیلیٰ کون سے محمل میں ہے

 

حُسن کے جلوے ہیں بکھرے جس طرف اُٹھّے نگاہ

جانے کیا تاثیر اِس خطے کے آب و گِل میں ہے

 

اور کِس منظر میں، کِس جا، ہم کو مِل پائے حفیظ

حُسن اور وہ دلرُبائی، جو مہِ کامل میں ہے

 

محمد تابش صدیقی:

آ گئے ہیں چھوڑ کر ساحل کو ہم یہ سوچ کر

دیکھتے ہیں لُطف کتنا دورئ ساحل میں ہے

حُسن کے جلوے ہیں بکھرے جس طرف اُٹھّے نگاہ

جانے کیا تاثیر اِس خطے کے آب و گِل میں ہے

یہ تھے جناب محمد حفیظ الرحمٰن صاحب جو اپنے کلام سے مشاعرہ کی رونق بڑھا رہے تھے۔

اب میں دعوتِ سخن دینے جا رہا ہوں جناب نوید رزاق بٹ صاحب (ابنِ منیب) کو کہ وہ آئیں اور اپنے کلام سے قارئینِ محفل کو محظوظ فرمائیں۔

جناب ابنِ منیب

 

ابنِ منیب:

جنابِ صدر، محترم مہمانِ خصوصی، شعرائے کرام، اور عزیز قارئین، السلام علیکم و رحمۃ اللہ

میں اردو محفل اور محترم جناب محمد تابش صدیقی صاحب کا بے حد شکر گزار ہوں کہ اُنہوں نے اس اہم مشاعرے میں شرکت کی دعوت دی۔ سائبر دنیا میں اتنے طویل عرصہ تک اردو زبان کی بہترین خدمت پر اردو محفل کی انتظامیہ اور متحرک اراکین سبھی بہت سی مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ اس کے ساتھ صاحبِ صدر کی اجازت سے اپنے کلام سے دو غزلیات، دو مختصر نظمیں اور ایک نمکین غزل پیش کرنا چاہوں گا۔

 

غزل

اپنے پیارے ساتھ چلیں تو

رستے منزِل ہو جاتے ہیں

 

چھوڑو مے اور مے خانوں کو

ہم تُم محفل ہو جاتے ہیں

 

وقت پہ گَر نہ آنکھ کھُلے تو

سپنے قاتِل ہو جاتے ہیں

 

روتا ہے جب پھُوٹ کے اَمبر

ہم بھی شامِل ہو جاتے ہیں

 

ڈوب رہا ہے دیکھو کوئی

بڑھ کر ساحِل ہو جاتے ہیں !

 

جلدی منزِل چاہنے والے

جلدی بد دِل ہو جاتے ہیں

 

دیکھیں جب وہ پیار سے صاحِب!

شِکوے مشکل ہو جاتے ہیں

————————————-

غزل

 

ذِکر تیرا جہاں، وہاں ٹھہرے

درد والے کہاں کہاں ٹھہرے !

 

اشک راہی ہیں اور تُو منزل

تُو ہی آئے نہ کارواں ٹھہرے

 

جو بھی کرنا ہے جلد ہی کر لو

وقت کس کے لئے مِیاں ٹھہرے

 

اپنی وُسعت سے کچھ زمیں والے

آسمانوں کے آسماں ٹھہرے

 

شیخ بانٹے ہے نفرتیں، رِند بھی!

دل جو ٹھہرے تو اب کہاں ٹھہرے ؟

 

بیچ کھایا جنہوں نے کلیوں کو

ہائے گُلشن کے پاسباں ٹھہرے !

 

کچھ تعلق نہیں تھا دُنیا سے

چار پَل کو مگر یہاں ٹھہرے

————————————–

“بیماری”

 

پنچھی جو پَلے ہوں پنجروں میں *

پرواز کو سمجھیں بیماری

جو ہونٹ سِلے ہوں صدیوں سے

آواز کو سمجھیں بیماری

جو تار کبھی نہ تڑپے ہوں

وہ ساز کو سمجھیں بیماری!

 

(* پہلا شعر مصنف اور فلمساز الیگزندرو جودوروسکی کے قول کا ترجمہ ہے )

———————————

“ڈیجیٹل شاعری – فوٹو”

 

زندگی کی فوٹو کے

ایک ایک پِکسَل سے

روشنی تِری جھلکے

اور تُو نہیں تو پھر

اِک سیاہ پردے پر

گمشدہ نشاں ہوں میں

وہم ہُوں، گُماں ہُوں میں !

———————————-

نمکین غزل

 

اُس کو دیکھ کے “اچھے اچھے ”

تھوڑے لِبرَل ہو جاتے ہیں

 

چھوڑو چھُپ چھُپ کر مِلنے کو

ہم تم لِیگَل ہو جاتے ہیں

 

سَوتی قوموں کے بالآخر

سپنے رَینٹَل ہو جاتے ہیں

 

“رایَل” کہنے سے کیا بھیا

پنکھے رایَل ہو جاتے ہیں ؟

 

شعر ہمارے سُن کر بلبل

سَینٹِیمنٹَل ہو جاتے ہیں

 

سردی میں سویڈن کی صاحب!

شکوے ڈَینٹَل ہو جاتے ہیں

 

ایک بار پھر اردو محفل کے تمام احباب کا بے حد شکریہ۔

والسلام،

ابنِ مُنیب

 

مقدس:

اشک راہی ہیں اور تُو منزل

تُو ہی آئے نہ کارواں ٹھہرے

جو بھی کرنا ہے جلد ہی کر لو

وقت کس کے لئے مِیاں ٹھہرے

اپنی وُسعت سے کچھ زمیں والے

آسمانوں کے آسماں ٹھہرے

یہ تھے جناب ابنِ منیب صاحب جو اپنے کلام سے مشاعرہ کی رونق بڑھا رہے تھے۔

اب ہم دعوتِ کلام دیتے ہیں محترم مزمل شیخ بسمل صاحب کو کہ جن کا کہنا ہے :

دل میں ڈر اور ہاتھ میں ساغر لئے پھرتا رہا

گو بظاہر رند تھا پر صاحبِ ایماں بھی تھا

امتزاجِ حسن و عشق ایسی فریبی چیز ہے

تھے پریشاں وہ فقط، اور میں یہاں حیراں بھی تھا

محترم مزمل شیخ بسمل صاحب اپنا کلام پیش کر کے مشاعرے کی رونق بڑھائیں۔

 

مزمل شیخ بسملؒ:

عزیزانِ محفل، خصوصاً جنابِ صدر اعجاز عبید صاحب اور مہمانِ خصوصی جناب منیر انور صاحب کی خدمت میں سلام عرض ہے۔

میں شکر گذار ہوں اس مشاعرہ کے منتظمین، خصوصاً خلیل الرحمن صاحب، تابش صدیقی صاحب، عزیزہ مقدس حیات اور حسن محمود جماعتی صاحب کا جنہوں نے مشاعرے میں شرکت کے لیے مجھے لائق سمجھا۔

عرض ہے کہ میں کوئی شاعر نہیں ہوں۔ البتہ خود کو ادب کا ایک سنجیدہ قاری ماننے میں کسی انکسار کو حائل نہیں جانتا۔ چند ہی تک بندیاں کی ہیں جو کہ اس لائق نہیں کہ پیش کی جا سکیں۔ اور اب ایک عرصے سے طبیعت پر انتہا کا جمود طاری ہے جس کا سبب شاید میری غیر ادبی و غیر تخلیقی مشغولیات اور رسمی تعلیم و تعلم کے سلسلوں کا بارِ گراں ہے جو کہ اب بھی مزید کئی سال کا طلبگار ہے۔ لیکن برتر حقیقت یہی ہے کہ یہ اوپر ساری خامہ فرسائی اپنی کم مایگی اور نالائقی کے اعتراف سے بچنے کا حیلہ ہی ٹھہری۔ اور یہ جو “بسمل” اپنے نام کے ساتھ لگا رکھا ہے اس کی وجہ قطعاً یہ نہیں کہ میں شاعر ہوں۔ اس کی اصل وجہ کچھ اور ہے۔ بہر حال، اب چونکہ میرا نام پکارا جا چکا ہے، اور سوائے اس کے کوئی راہِ نجات نہیں کہ کچھ “موزوں سطریں ” نذرِ محفل کر کے جان کی امان پاؤں۔ اساتذہ اور پختہ کار شعرا سے درخواست ہے کہ اس ناقص کی یہ گستاخی (جس کا ایک نظم کی صورت میں یہاں ارتکاب کر رہا ہوں ) در گزر فرمائیے گا۔

 

نظم

(مزمل شیخ بسملؔ)

تمہیں اب کیا بتاؤں میں ؟

کہ میں نے ہجر کی ہر شام کس مشکل سے کاٹی ہے

اندھیرے میں مصلّے پر دعائیں مانگنا میرا

وہ سارے دن

وہ سب راتیں

تمھاری آرزو کرنا

مرے آنسو کا میرے “گال” ہی پر خشک ہو جانا

تمہیں اب کیا بتاؤں میں ؟

کہ میرا جنوری کی سرد اور تاریک راتوں میں

یوں کمبل اوڑھ کر لیٹے ہوئے کچھ سوچتے رہنا

کبھی سوچوں میں گم یک دم کوئی آنسو نکل آنا

مری بیچارگی کو تم کبھی آ کر کے دیکھو تو

تمھیں اب کیا بتاؤں میں ؟

کہ جب اپریل آتا ہے

تمہاری یاد لاتا ہے

کبھی موسم نہیں بھی ہو

مگر برسات ہوتی ہے

کبھی یادوں میں تم آ کر مجھے بے حد ستاتے ہو

کبھی دن ختم ہو جانے پے بھی یادیں نہیں جاتیں

تمہیں اب کیا بتاؤں میں ؟

کہ میں کس حال میں ہوں اب

یہ ویرانی ہے کیوں دل پر

مری آنکھوں کے حلقے ہر کسی پر کیوں نمایاں ہیں

مرے چہرے پے لکھی ہر کہانی دکھ بھری کیوں ہے

مری سانسوں سے آہوں کی یہ آوازیں کیوں آتی ہیں

تمھیں اب کیا بتاؤں میں ؟

کہ اب بھی ساری تصویروں میں کتنے پر کشش ہو تم

تمہاری ہر ادا اوروں سے کتنی مختلف سی ہے

مگر مجھ سے بچھڑ کر تم بھی کچھ مرجھا گئے ہو اب

تمہارے بن یہاں میں بھی بہت غمگین رہتا ہوں

بہت شکوے ہیں اس دل میں مگر خاموش رہتا ہوں

تمہیں کیا کیا بتاؤں میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

بھلا کیا کیا سنو گے تم؟

تمہیں اب کیا بتاؤں میں ؟

 

محمد خلیل الرحمٰن:

تمھیں اب کیا بتاؤں میں ؟

کہ اب بھی ساری تصویروں میں کتنے پر کشش ہو تم

تمہاری ہر ادا اوروں سے کتنی مختلف سی ہے

مگر مجھ سے بچھڑ کر تم بھی کچھ مرجھا گئے ہو اب

تمہارے بن یہاں میں بھی بہت غمگین رہتا ہوں

بہت شکوے ہیں اس دل میں مگر خاموش رہتا ہوں

تمہیں کیا کیا بتاؤں میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

 

جناب مزمل شیخ بسمل اپنی خوبصورت نظم پیش کررہے تھے اور داد سمیٹ رہے تھے۔

 

بلا کشانِ محبّت کی رسم جاری ہے

وہی اٹھانا ہے پتھر جو سب سے بھاری ہے

 

یہی متاع ہے میری، یہی مرا حاصل

نہالِ غم کی لہو سے کی آبیاری ہے

جی ہاں ! اب ہم دعوتِ کلام دینے جا رہے ہیں اردو محفل کی ہر دل عزیز شخصیت استادِ محترم جناب محمد وارث صاحب کو کہ وہ ہمارا مان بڑھائیں۔ استقبال کیجیے۔ جناب محمد وارث۔

 

محمد وارث:

السلام علیکم،

سب سے پہلے تو اس لاجواب محفل کے خوبصورت مشاعرے کے مشفق و مہربان و سلیقہ و ہنر مند منتظمین محترم خلیل صاحب، مقدس بہن، تابش صدیقی صاحب، جماعتی صاحب اور بلال صاحب کو مبارکباد۔

اب چونکہ مجھے یاد فرمایا گیا ہے، منتظمین کی مہربانی سے، تو عرض کروں کہ بلا مبالغہ سات آٹھ سال بعد کچھ کہنے کی کوشش کی ہے۔ دو چار غزلوں سے خود پر شاعر ہونے کی تہمت لگوا رکھی ہے اور اب تو طبیعت بالکل بھی ادھر نہیں آتی لیکن حکم حاکم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پرانی غزلیں اور رباعیاں سنانے کا فائدہ نہیں کہ ہیں ہی کتنی سو مرتا کیا نہ کرتا کہ مصداق نئی غزل کہنی ہی پڑی۔ مصرع طرح کی بحر میرے مزاج سے ہٹ کر تھی سو بدل دی بلکہ بدل گئی اور قافیہ بھی الف کی قید سے آ گیا، ردیف بہرحال وہی ہے اور شعر پانچ ہی ہیں گویا فرض ہی پورا کیا ہے 🙂

سوختنی ہی سہی لیکن سُن لیجیے۔ صدرِ مشاعرہ محترم و معظم جنابِ اعجاز عبید صاحب کی اجازت سے :

عرض کیا ہے

ذکرِ عُقبیٰ ہی محافِل میں ہے ؟

فکرِ دُنیا بھی تو حاصِل میں ہے

 

نقش بندِ حرَم آ دیکھ ذرا

اصلِ تاریخ مَقاتِل میں ہے

 

تیر و توپ و تبَر اور چنگ و رباب

معرکہ کیسا مقابِل میں ہے

 

ہیچ ہے راحتِ منزل یارو

لطف سارا تو مراحِل میں ہے

 

تُند خو بحر ہوں وارث، مرا چین

وُسعتِ بازوئے ساحِل میں ہے

والسلام

 

محمد تابش صدیقی:

ذکرِ عُقبیٰ ہی محافِل میں ہے ؟

فکرِ دُنیا بھی تو حاصِل میں ہے

ہیچ ہے راحتِ منزل یارو

لطف سارا تو مراحِل میں ہے

یہ تھے جناب محمد وارث صاحب، جو اپنی خوبصورت غزل سے مشاعرہ کو زندگی بخش رہے تھے۔

اب میں دعوتِ کلام دینے جا رہا ہوں، محفل کے ایک اور محترم شاعر جناب سید عاطف علی صاحب کو کہ وہ آئیں اور اپنے کلام سے مشاعرہ کی رونق بڑھائیں۔

دیوانہ وار جشن بہاراں کو چھوڑ کر

مستانہ وار فصل خزاں ڈھونڈتے رہے

خاطر میں لائے خار مغیلاں کبھی نہ ہم

گم گشتہ وہ ہی محمل جاں ڈھونڈتے رہے

دریا تھا ساتھ ساتھ مگر تشنگی نہ تھی

صحرا میں آ کے آب رواں ڈھونڈتے رہے

جناب سید عاطف علی

 

سید عاطف علی:

صدرمشاعرہ اعجاز صاحب محترم مہمانِ خصوصی منیر انور صاحب، تمام شعرائے کرام، اور عزیز قارئین، السلام علیکم و رحمۃ اللہ

اپنی معذرت بھی پیش کرتا ہوں کچھ ذاتی مسائل اور مصروفیات کے سبب اور یہاں حج کی سرگرمیوں کے آغاز کی وجہ سے جو تاخیر کا سبب بنے۔

مبارکباد خلیل صاحب کو، مقدس بہن کو، تابش صدیقی صاحب کو، جماعتی صاحب کو اور بلال صاحب کو او دیگر وابستگان محفل کو کہ ایسی موقر ادب کی محفل سجا ئی کہ تشنہ لبوں کو سیراب کیا اور بہتیرے رنجوروں کو مسرور کرنے کا سامان کیا۔

میری شرکت باعث صد مسرت ہے کہ اس کا اہل نہیں، سو احباب کی ایسی تکریم کے شکریئے کا حق ادا کرنے قاصر ہوں۔

کچھ نہ کچھ پیش کرنا بھی کیوں کہ مسرت کا ایک لاینفک حصہ تھا سو اپنے حصے کے پراگندہ خیالات پیش کرنے کا ارادہ بھی کیا۔ اور اسی نسبت سے ماحضر پیش خدمت کرنے کی جسارت اجازت کے ساتھ کرتا ہوں۔

عرض ہے کہ۔

 

ایک ان سے جو بھول ہو جائے

اپنی محنت وصول ہو جائے

 

وہ دعا، لب پہ جو نہیں آتی

یا الٰہی !!!!! قبول ہو جائے

 

جس کو مل جائے عشق کا پیغام

وہ وفا کا رسول ہو جائے

 

بے جنوں، جو چلے ترا رستہ

اپنے قدموں کی دھول ہو جائے

 

تیرے ہاتھوں جو سنگ بھی نکلے

آتے آتے وہ پھول ہو جائے

 

میرا ہونا بھی تیرے ہونے کا

رمز شان نزول ہو جائے

 

زخم دل مندمل ہوا چاہے

تجھے دیکھے تو پھول ہو جائے

 

دیکھ کر تیرے عارض گلگوں

گل سے شبنم خجول ہا جائے

 

ایک طرحی جسارت بھی اہل محفل کی نذرعرض کر کے اجازت چاہوں گا۔

۔

کیا ہوئے وہ قافلے کیا ناقہ و محمل میں ہے

اک یہی نو حہ برابر میرے آب و گل میں ہے

 

کس غریب شہر کی چھت سے گزر آیا ہے آج

کرب کی کیسی جھلک دیکھ اس مہ کامل میں ہے

 

چکھ لیا فردوس میں ممنوع پھل جس کے سبب

اک وہی شعلہ فروزاں آج بھی ہر دل میں ہے

 

چھوڑ کر صحرا سمندر پر برستا ہے یہ ابر

دل ازل سے آج تک الجھا سی مشکل میں ہے

 

ڈوبتے سورج ! مجھے بھی ساتھ لے کر ڈوب جا

آج کیسا درد یہ نظارۂ ساحل میں ہے

 

تیرے ہاتھوں ایک جام آتشیں سے ہے وہ حال

نہ تو وہ ماضی میں ہے اور نہ ہی مستقبل میں ہے

 

مارو کژدم کیا ہیں ثعبان و عصا کے سامنے

آزمالو زور کتنا بازوئے باطل میں ہے

 

جانتے ہیں وہ جو رہتے ہیں سدا گرم سفر

راستے ہوں پر خطر تو کیا دھرا منزل میں ہے

 

میر و مرزا کیوں نہ ہوں نازاں وہاں فردوس میں

“آپ” جیسا اک سخنور جب یہاں محفل میں ہے

 

نام میرا ؟۔ ان کے لب؟۔ یہ کیا کہا ؟۔ پھر کہہ ندیم!

“ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے ”

اجازت چاہوں گا۔

آداب و تسلیمات۔

 

محمد تابش صدیقی:

کس غریب شہر کی چھت سے گزر آیا ہے آج

کرب کی کیسی جھلک دیکھ اس مہ کامل میں ہے

نام میرا ؟۔ ان کے لب؟۔ یہ کیا کہا ؟۔ پھر کہہ ندیم!

“ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے ”

یہ تھے جناب سید عاطف علی، جنہوں نے اپنے عمدہ کلام سے قارئینِ مشاعرہ کے ذوق کی تسکین فرمائی۔

ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے درمیان ایک کہنہ مشق شاعر محترم جناب ظہیر احمد ظہیر موجود ہیں۔ اب میں مزید کسی تاخیر کے ان کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آئیں اور اپنے کلام کی خوشبو سے مشاعرہ کو معطر فرمائیں۔

یہ طبیعت مجھے اپنا نہیں بننے دیتی

جیسے سب ہیں مجھے ویسا نہیں بننے دیتی

آنکھ ایسی ہے کہ دیکھے نہیں جاتے حالات

سوچ ایسی ہے کہ اندھا نہیں بننے دیتی

دُور اندر سے کہیں ایک اُبھرتی ہوئی چیخ

میرے احساس کو بہرا نہیں بننے دیتی

ظلم ایسا ہے کہ دنیا کی زبانیں خاموش

یہ خموشی مجھے گوں گا نہیں بننے دیتی

محترم جناب ظہیر احمد ظہیر

 

ظہیر احمد ظہیر:

محترم شرکاءِ محفل السلام علیکم!

سب سے پہلے تو اس خوبصورت محفل مشاعرہ کو سجانے کے لئے منتظمین جناب خلیل صاحب، مقدس صاحبہ، تابش صدیقی، حسن محمود اور بلال اعظم صاحبان کا از حد شکریہ لازم ہے۔ اتنی خوبصورت محفل بہت دنوں کے بعد کہیں نظر آئی۔ اللہ تعالیٰ سلامت رکھے۔ بہت ممنون ہوں کہ مجھے اس میں شرکت کا موقع دیا گیا۔

صدرِ مشاعرہ محترمی و مکرمی استادِ گرامی جنابِ اعجاز عبید صاحب کی اجازت سے کچھ اشعار پیش کرتا ہوں۔

پہلے ایک تازہ غزل۔

 

قریۂ سیم و زر و نام و نسب یاد آیا

پھر مجھے ترکِ تعلق کا سبب یاد آیا

 

ہجر میں بھول گئے یہ بھی کہ بچھڑے تھے کبھی

دور وہ دل سے ہوا کب، ہمیں کب یاد آیا

 

کارِ بیکار جسے یاد کہا جاتا ہے

بات بے بات یہی کارِ عجب یاد آیا

 

۔ ق۔

پارۂ ابر ہٹا سینۂ مہتاب سے جب

عشوۂ ناز سرِ خلوتِ شب یاد آیا

عارضِ شب ہوئے گلنار، صبا شرمائی

جب ترا غمزۂ غمازِ طلب یاد آیا

 

پھر مری توبۂ لرزاں پہ قیامت گزری

پھر مجھے رقصِ شبِ بنتِ عنب یاد آیا

 

یاد آئے ترے کم ظرف بہکنے والے

جامِ کم کیف بصد شور و شغب یاد آیا

 

چاندنی، جھیل، ہوا، زلفِ پریشاں، بادل

دل و جاں ہم نے کہاں کھوئے تھے اب یاد آیا

ک

یا لکھے کوئی بجز نوحۂ قرطاس کہ حیف

بے ادب خامۂ ارزاں کو ادب یاد آیا

 

آپ کی اجازت سے ایک اور تازہ غزل پیش کرنا چاہتا ہوں۔

 

میں اشکبار ہوں نا ممکنہ کی خواہش میں

نمک مثال گھلے جا رہا ہوں بارش میں

 

دیا ہے میں نے ہی دشمن کو وار کا موقع

مرا بھی ہاتھ ہے اپنے خلاف سازش میں

 

خمارِ شام، غمِ تیرگی، امیدِ سحر

عجیب عکس ہیں بجھتے دیئے کی تابش میں

 

بجا ہے طعنۂ باطل مری دلیلوں پر

ہزار جہل بھی شامل ہیں میری دانش میں

 

یہ جبرِ راہ گزر ہے، سفر نہیں میرا

کہ دل شریک نہیں منزلوں کی کاوش میں

 

وہ عکس ہوں جو کسی آنکھ سے بچھڑ کے ظہیر

بھٹک رہا ہے وصالِ نظر کی خواہش میں

 

ایک دو غزلوں کے کچھ منتخب اشعار پیش خدمت ہیں۔

 

راز درپردۂ دستار و قبا جانتی ہے

کون کس بھیس میں ہے خلقِ خدا جانتی ہے

 

کون سے دیپ نمائش کے لئے چھوڑنے ہیں

کن چراغوں کو بجھانا ہے ہوا جانتی ہے

 

اک مری چشمِ تماشہ ہے کہ ہوتی نہیں سیر

فکرِ منزل ہے کہ رُکنے کو برا جانتی ہے

 

اور کیا دیتی محبت کے سوا ارضِ وطن

ماں تو بیٹوں کے لئے صرف دعا جانتی ہے

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

دونوں سرے ہی کھو گئے، بس یہ سرا ملا

اپنی خبر ملی ہے نہ اُس کا پتہ ملا

 

اُس کو کمالِ ضبط ملا، مجھ کو دشتِ ہجر

لیکن سوال یہ ہے کہ دنیا کو کیا ملا

 

رو رو کے مٹ گیا ہوں تو مجھ پر ہوئی نظر

بینائی کھو گئی تو مجھے آئنہ ملا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اور اب آخر میں مصرعِ طرح پر کچھ طبع آزمائی۔

 

گھر بسانے کی تمنا کوچۂ قاتل میں ہے

زندگی مصروف اک تحصیلِ لاحاصل میں ہے

 

شورِ طوفاں قلقلِ مینا ہے پیاسوں کے لئے

اک پیالے کی طرح ساگر کفِ ساحل میں ہے

 

چاک کو دیتے ہیں گردش دیکھ کر گِل کا خمیر

اک پرانی رسم ہم کوزہ گرانِ گِل میں ہے

 

مرکزِ دل سے گریزاں ہے محیطِ روزگار

دائرہ کیسے بنے، پرکارِ جاں مشکل میں ہے

 

دے گیا ہے ڈوبتا سورج اجالے کی نوید

ایک تازہ دن کہیں تقویم کی منزل میں ہے

 

عیب اُنہی کی آنکھ میں ہو عین ممکن ہے ظہیر

جو سمجھتے ہیں کہ خامی جوہرِ کامل میں ہے

خواتین و حضرات بصر خراشی کے لئے معذرت چاہتا ہوں۔ برداشت کرنے کا بہت بہت شکریہ۔ السلام علیکم۔

 

مقدس:

چاندنی، جھیل، ہوا، زلفِ پریشاں، بادل

دل و جاں ہم نے کہاں کھوئے تھے اب یاد آیا

کیا لکھے کوئی بجز نوحۂ قرطاس کہ حیف

بے ادب خامۂ ارزاں کو ادب یاد آیا

دیا ہے میں نے ہی دشمن کو وار کا موقع

مرا بھی ہاتھ ہے اپنے خلاف سازش میں

خمارِ شام، غمِ تیرگی، امیدِ سحر

عجیب عکس ہیں بجھتے دیئے کی تابش میں

اپنے پر خیال کلام سے اہلِ محفل کے ذوق کی تسکین کا سامان کر رہے تھے محترم ظہیر احمدظہیر صاحب۔

اور اب ہم دعوتِ کلام دیتے ہیں ہر دلعزیز محترم فاتح الدین فاتح صاحب کو، جن کا کہنا ہے کہ:

جا اس کے در پہ عرقِ ندامت لیے ہوئے

جامِ انا کو بیچ کے کاسہ خرید لا

ارزانیوں پہ اپنی پشیماں ہے کس قدر

اے میرے خواب! اس کا سراپا خرید لا

یوسف کو بیچ مصر کی بازار گہ کے بیچ

یونان سے تُو زہر کا پیالہ خرید لا

ایک اور جگہ کہتے ہیں کہ:

نالۂ شعر میں آثارِ اثر چاہتا ہوں

گو ہوں درماندہ مگر دستِ ہنر چاہتا ہوں

بے کراں ایک سمندر ہے محبت میری

چار اطراف میں اعجازِ اثر چاہتا ہوں

محترم فاتح الدین فاتح صاحب۔

 

فاتح الدین فاتح :

سب سے پہلے تو انتظامیہ کی ہمت کو داد پیش کرتا ہوں اور شکریہ ادا کرتا ہوں جو اپنے مصروف اوقات میں سے مستقل مزاجی سے خصوصی وقت نکال کر مشاعرے کی نظامت کے فرائض احسن طریقے سے سر انجام دے رہے ہیں۔ اس کے بعد صدر گرامی کی اجازت سے دو اشعار، دو غزلیں اور مصرع طرح پر اپنی کوشش آپ کی سماعتوں اور بصارتوں کی نذر کرتا ہوں :

کیف و سُرور و لذّتِ نظّارگی تو دیکھ

ہر یک مَسامِ جاں ہے بصارت لیے ہوئے

 

میری حدیثِ دل پہ ترا تبصرہ ستم

تیرا سخن ہے ضُعفِ روایت لیے ہوئے

(فاتح)

—————————

 

میری اوقات، سیکھتا ہوں فُنون

تیرا منصب، کہے تُو کُن، فَیَکُون

 

خواب میں خواب سی حلاوتِ وصل

کون دے ہجرتی کو تیرے بدون

 

خاک قاتل ہے خاک ہی مقتول

خاک مدفن ہے خاک ہی مدفون

 

عکس اپنا ہی اجنبی سا لگے

وقت کے چاک پر وہ بگڑی جُون

 

چشمِ قاتل میں احمری ڈورے

ہاں، جدھر دیکھیے اُدھر ہی خون

 

سر میں سودا تھا، پھُوٹتا ہی رہا

نقشِ دیوار ہو گیا ہے جنون

 

یہ جہاں ہو یا وہ جہاں فاتحؔ

جس کی طاقت اسی کا ہے قانون

(فاتح)

—————————

 

کیسی ادا تھی کر دیا شامل بوسۂ نطق بہانے میں

کیا کوئی اس کا ثانی ہو گا روٹھا یار منانے میں

 

لوحِ وجود میں پیوستہ تھا، روح و قلب سے وابستہ

اپنا آپ گنوا بیٹھے ہیں ہم اک نام مٹانے میں

 

شامِ عنایتِ دزدیدہ کی یاد میں بیتا اپنا دن

مت پوچھو کیا جشن سہے ہیں ہجر کی رات منانے میں

 

دکھتی رگ سے بھی واقف ہے اور میری برداشت سے بھی

ورنہ کیا تفریق بچی تھی اپنے اور بیگانے میں

 

ایک شرابِ طہور کی خاطر کس کس کو ہم ترک کریں

قدم قدم پر نشّے بچھے ہیں دنیا کے مے خانے میں

 

کوئی طنابیں خاطر میں کب لاتا ہے طوفانِ عدم

دیر ہی کتنی لگتی ہے یہ خیمۂ جاں اڑ جانے میں

(فاتح)

—————————

 

اور اب پیش ہے مصرع طرح پر غزل کی کوشش۔ ۔ ۔ حالانکہ یہ مصرع طرح میں نے ہی تجویز کیا تھا لیکن ایک عرصے سے جو بانجھ پن طاری ہے اس کے باعث یہ پانچ چھے اشعار کہنا بھی کارِ دشوار تھا اور جیسے تیسے کر کے ہی کیے ہیں گر قبول افتد زہے عز و شرف:

کیا کمالِ جذب پنہاں جذبۂ کامل میں ہے

منزلِ مجذوب گویا جادۂ منزل میں ہے

 

کل تلک اک نرخرہ کٹنے ہی کی آواز تھی

آج برپا شور محشر کوچۂ قاتل میں ہے

 

انجمن تھا جو مری اور میرا سب کچھ تھا کبھی

اب فقط اک دوست ہے اور یاروں کی محفل میں ہے

 

منحصر لوحِ مورخ پر سبھی عدل و ستم

عدل جیسے قصّۂ نوشیرواں عادل میں ہے

 

لٹ گیا باغ محبت اور ثمر برباد لیک

کُو کُو کُو کُو کی صدا ہی نغمۂ کوئل میں ہے

 

داخلہ ممنوع میرا، تذکرہ جاری ہے یہ

ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے

(فاتح)

 

محمد خلیل الرحمٰن:

کیف و سُرور و لذّتِ نظّارگی تو دیکھ

ہر یک مَسامِ جاں ہے بصارت لیے ہوئے

میری حدیثِ دل پہ ترا تبصرہ ستم

تیرا سخن ہے ضُعفِ روایت لیے ہوئے

کیسی ادا تھی کر دیا شامل بوسۂ نطق بہانے میں

کیا کوئی اس کا ثانی ہو گا روٹھا یار منانے میں

لوحِ وجود میں پیوستہ تھا، روح و قلب سے وابستہ

اپنا آپ گنوا بیٹھے ہیں ہم اک نام مٹانے میں

جی محفلین یہ تھے اردو محفل کے ہردل عزیز شاعر جو اپنی خوبصورت شاعری اور خوب صورت آواز سے محفل کے ماحول کو گرمارہے تھے

یاور ماجد اردو شاعری کا ایک معتبر نام ہے۔ یاور صاحب کی دل پر اثر کرنے والی غزلوں سے ہم سب واقف ہیں۔

خواہشوں کی ہوا سنبھلنے دے

دشتِ حسرت مجھے نکلنے دے

یہ لکیریں ہی میری مجرم ہیں

اے گئے وقت ہاتھ ملنے دے

وہی جو کہ توڑا تھا پچھلے برس

وہی عہد میرا پھر اس سال ہے

دعوتِ کلام دیتے ہیں جناب یاور ماجد صاحب کو۔ استقبال فرمائیے !

 

یاور ماجد:

پیارے احباب، اگر یہ کہا جائے کہ اردو محفل انٹرنیٹ پر اردو ادب کا سب سے سنجیدہ اور بہترین فورم ہے تو قطعاً مبالغہ نہیں ہو گا۔ آپ لوگوں نے ایک خوبصورت محفل سجا رکھی ہے۔ اس مشاعرے میں دعوت پیارے دوست فاتح کے توسط سے ملی، فورم کے ایڈمن حضرات اور اس مشاعری کے منتظمین کا بے حد شکرگزار ہوں کہ انہوں نے عزت بخشی۔

بہت سارے شاعر اپنا خوبصورت کلام پیش کر چکے ہیں، ان کے لئے بہت داد۔

احباب کے لئے پہلے ایک پرانی غزل کے چند اشعار پیش ہیں

 

چلو گمان سہی کچھ تو مان ہی ہوتا

جو میرے سر پہ کوئی آسمان ہی ہوتا

 

میں بے امان رہا اپنے گھر میں رہ کر بھی

کوئی بھی ہوتا یہاں، بے امان ہی ہوتا

 

جہاں پہ بسنا تھا ہر ایک لامکانی کو

ضرور تھا کہ وہ میرا مکان ہی ہوتا؟

 

تو اختیار میں کچھ لفظ ہی عطا ہوتے !!

دیا جو درد ہے مجھ سے بیان ہی ہوتا!

 

نہ رہتا فاصلہ گر مجھ میں اور زمانے میں

تو میرے اور مرے درمیان ہی ہوتا

 

ضرور تھا کہ کمالِ بیاں عطا کرتے ؟

ضرور تھا کہ مرا امتحان ہی ہوتا؟

 

نہیں گلہ کوئی یاؔور پہ بحرِ غم میں کہیں

مرے سفینے پہ اک بادبان ہی ہوتا

 

اور خصوصاً اس مشاعرے کے لئے کہی گئی غزل۔ یہ زندگی میں شاید پہلا موقع ہے کہ کسی دوست کی فرمائش پر کسی خاص زمین میں غزل کہی ہے۔

 

روح سے پوچھو کہ آخر کون سی مشکل میں ہے ؟

وزن تو تھوڑا سا ہی اب جسم کی اس سِل میں ہے

 

پیتا جائے، پیتا ہی جائے ہے ہر اک لہر کو

تشنگی ہی تشنگی لیکن لبِ ساحل میں ہے

 

تیری یادوں کا خزینہ دل میں ہے رکھا ہوا

اور اک مارِ سیہ بیٹھا ہوا اس بِل میں ہے

 

آنسوؤں سے چیر لیں گے آئی جب کوئی کرن

اک دھنک رنگوں بھری اپنے بھی مستقبل میں ہے

 

ایک مرکز، ایک میں اور عمر بھر کی گردشیں

فاصلہ اک مستقل راہی میں اور منزل میں ہے

 

لغو ہے لفظوں کا فن، لیکن ہم اس کا کیا کریں

یہ جو اک لذّت ہماری سعئِ بے حاصل میں ہے

یاور ماجد

 

محمد تابش صدیقی:

میں بے امان رہا اپنے گھر میں رہ کر بھی

کوئی بھی ہوتا یہاں، بے امان ہی ہوتا

جہاں پہ بسنا تھا ہر ایک لامکانی کو

ضرور تھا کہ وہ میرا مکان ہی ہوتا؟

آنسوؤں سے چیر لیں گے آئی جب کوئی کرن

اک دھنک رنگوں بھری اپنے بھی مستقبل میں ہے

ایک مرکز، ایک میں اور عمر بھر کی گردشیں

فاصلہ اک مستقل راہی میں اور منزل میں ہے

یہ تھے جناب یاور ماجد صاحب جو اپنے کلام سے مشاعرہ کو معطر فرما رہے تھے۔

٭

دشت میں موجودگی کے آخری ذرے تلک

ریت کا ٹیلا ہوا سے دوستی کرتا رہا

رات کی آغوش میں گرتے رہے بجھتے رہے

میں کئی روشن دنوں کی پیروی کرتا رہا

اپنی ہٹ دھرمی پہ خوش ہوں اپنی ضد پر مطمئن

جو مجھے کرنا نہیں تھا میں وہی کرتا رہا

کبھی خوشبو میں کبھی پھول میں ظاہر ہونا

کیا ضروری تھا ترا ذات سے باہر ہونا

کیسے ہونا ہے ترا حدِ خرد سے آگے

کیسے ہونا ہے مرا صرف بظاہر ہونا

کیسے ہو سکتا ہے عرفانِ الٰہی کا ثبوت

یہ مرا کشف و کرامات میں ماہر ہونا

 

منصور آفاق موجودہ دور کے منجھے ہوئے شعراء میں ایک معتبر نام ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ وہ اردو محفل مشاعرہ میں ہمارے درمیان موجود ہیں۔ اب میں بغیر کسی تاخیر کے جناب منصور آفاق صاحب کو دعوتِ کلام دیتا ہوں کہ وہ آئیں اور اپنے کلام سے مشاعرہ کی رونق بڑھائیں ۔

جناب منصور آفاق

 

منصور آفاق:

ایک پاؤں ماضی میں ہے ایک مستقبل میں ہے

کیا کہوں روزِ ازل سے کوئی کس مشکل میں ہے

 

سارے ہیں مدہوش زر کے میکدہ میں اہلِ حق

اور مر جانے کی جرات لشکرِ باطل میں ہے

 

ایک دریا کی ہوائے دلربا ہے اور میں

یاد کی آوازِ پا بھی نغمۂ ساحل میں ہے

 

حوصلہ دینے مجھے ساری خدائی آ گئی

دیکھنے آئے تھے وہ کتنی تڑپ بسمل میں ہے

 

مانگتا ہے جاکے بیعت ہر گلی میں خود یزید

ان دنوں ظلِ الہ بھی آدمی کے ظل میں ہے

 

جھک رہے ہیں ’ کہ‘ جبلت میں یہی رکھا گیا

خوف کا آسیب اپنے سینۂ بزدل میں ہے

 

ڈھونڈھ لینا ہے کسی دن آخرش امکان نے

موت کا جو کوڈ اپنے جین کی فائل میں ہے

 

دیکھنا انگلی گھمانی دھیان سے ہر مرتبہ

صفر سے پہلے کا نمبر فون کے ڈائل میں ہے

 

کچھ نہیں تو پھوک ہی گنے کا دے جو جل مرے

زندگی اپنی ملازم تیری شوگر مل میں ہے

 

بنک بیلنس بے تحاشا اور بنگلے بے شمار

یہ کرامت وقت کے ہر مرشدِ کامل میں ہے

 

وہ کسی میرا کے پاکیزہ الاپوں میں نہیں

جو ترنم خیز چھن چھن یار کی پائل میں ہے

 

ویسے رنگ و نور کے انوار پیرس میں نہیں

روشنی جو اپنی شامِ سرمئی مائل میں ہے

 

بول پاکستان! تیری نکہتوں کی ریل کار

کونسی وادی میں ہے اب کونسی منزل میں ہے

 

دور سے آواز دیتا آ رہا ہے کوئی قیس

قافلے والو رکو میرا خدا محمل میں ہے

 

آخرش ہونی تو ہے اک دن رسائی اُس تلک

جو مکاں اپنا زمینِ غیر مستعمل میں ہے

 

ایسے تو میں ہر جگہ موجود ہو سکتا نہیں

یہ کرشمہ اسمِ اللہ ذات کے عامل میں ہے

 

سبز ہونی چاہئے اس کی نمو ہر حال میں

اک لکیر سرخ جو چلتی خطِ فاصل ہے

 

کھیل کوئی ہارنے کے واسطے منصور کھیل

لطف جو لا حاصلی میں وہ کہاں حاصل میں ہے

 

محمد تابش صدیقی:

ایک دریا کی ہوائے دلربا ہے اور میں

یاد کی آوازِ پا بھی نغمۂ ساحل میں ہے

حوصلہ دینے مجھے ساری خدائی آ گئی

دیکھنے آئے تھے وہ کتنی تڑپ بسمل میں ہے

جھک رہے ہیں ’ کہ‘ جبلت میں یہی رکھا گیا

خوف کا آسیب اپنے سینۂ بزدل میں ہے

 

یہ تھے جناب منصور آفاق صاحب جو اپنے عمدہ اور منفرد کلام سے مشاعرہ کو مزین کر رہے تھے۔

مشاعرہ بالآخر اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے۔ اب میں بلا تاخیر دعوت دینا چاہوں گا مشاعرہ کے مہمانِ خصوصی جناب منیر انور صاحب کو کہ وہ آئیں اور مشاعرہ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار بھی فرمائیں اور اپنے خوبصورت کلام سے بھی قارئینِ مشاعرہ کے ذوق کی تسکین کا سامان کریں۔

 

ہمارا کیا ہے کہ ہم وہ ستم ظریف ہیں جو

یقین کرتے رہے ہیں گمان پر اکثر

لکیریں ہاتھ کی اکثر بگڑ گئیں انور

ستارے ٹوٹ گئے آسمان پر اکثر

٭

یہ اور بات کہ اب مصلحت شعار ہوئے

قریب میرے بھی ورنہ کبھی رہے ہو تم

کوئی رفیق نہ منزل نہ کوئی رخت سفر

یہ کس خمار میں، کس سمت کو چلے ہو تم

فضائیں اس کی تمہیں اب بھی یاد کرتی ہیں

کہ جس دیار میں کچھ دن رہے بسے ہو تم

استقبال کیجئے

جناب منیر انور صاحب

 

منیر انور:

بہت شکریہ اردو محفل۔ میں سب احباب کو اس کامیاب مشاعرہ کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اچھی چیزیں پڑھنے کو ملیں۔ امید ہے کہ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا اور مزید بہتری آئے گی۔ کچھ اشعار پیش کرتا ہوں۔ سب سے پہلے حمد رب جلیل اس کے بعد نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم پھر ایک غزل پیش کرتا ہوں۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

جناب صدر کی اجازت سے

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

حضورِ ربِ دو عالم غلام حاضر ہے

سب اپنے نقش لئے نا تمام حاضر ہے

 

یہ تیرا بندہ، یہ سائل ترا، ترا انور

بصد خلوص بصد احترام حاضر ہے

 

فقط ہے تجھ ہی سے روشن یہ کائناتِ ضمیر

حضورِ نور یہ ظلمت کی شام حاضر ہے

 

طلب یہ ہے کہ ملے آگہی کا سوز دروں

لئے زباں پہ مقدس کلام حاضر ہے

 

ترے کرم کی امیدیں سجائے پلکوں پر

مقام والے ترا بے مقام حاضر ہے

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

نعت رسول مقبول، خاتم النبین صلی اللہ علیہ و سلم

۔ ۔

نہ مال و زر نہ کلاہ و قبا سے مطلب تھا

انہیں ہمیشہ خدا کی رضا سے مطلب تھا

 

کسی بھی شخص سے مطلوب کچھ نہ تھا ان کو

فقط کرم سے غرض تھی، عطا سے مطلب تھا

 

کچھ اور چاہتے کب تھے خدا کے بندوں سے

خدا کی راہ میں ان کی وفا سے مطلب تھا

 

رسولِ پاک انہیں لائے راستی کی طرف

کہ جن کو ظلم سے، کذب و ریا سے مطلب تھا

 

وہ برگزیدہ پیمبر وہ منتخب بندے

انہیں کہاں کسی حرص و ہوا سے مطلب تھا

 

کیا معاف سبھی کو فقط خدا کے لئے

انہیں سزا کی بجائے ہُدیٰ سے مطلب تھا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

حالات حاضرہ پر چند اشعار

 

بغض دلوں میں بھرتے ہو کچھ شرم کرو

ڈالر، پونڈ پہ مرتے ہو کچھ شرم کرو

 

اپنے گھر پر، اپنے لوگوں پر لوگو

کیا کیا تہمت دھرتے ہو کچھ شرم کرو

 

جس تھالی میں کھاتے عمر گذاری ہے

چھید اسی میں کرتے ہو کچھ شرم کرو

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آخر میں ایک غزل کے ساتھ اجازت چاہوں گا

 

تو اگر پیاس آشنا ہوتا

میرا صحرا ہرا بھرا ہوتا

 

خامشی باوقار ہے جیسے

معتبر تیرا بولنا ہوتا

 

اختلافی بیان سے پہلے

کاش تم نے مجھے سنا ہوتا

 

سوچ کر بولتے تو ممکن ہے

جو ہوا ہے نہیں ہوا ہوتا

 

حاسدوں کی کہاں کمی تھی ہمیں

تم نہ ہوتے تو دوسرا ہوتا

 

عمر بھر گھر جلائے ظالم نے

کسی دل کا سکوں رہا ہوتا

 

کم نسب دشمنوں سے مل بیٹھا

اس سے اچھا تھا مر گیا ہوتا

 

کائنات ضمیر زندہ ہے

ورنہ میں تیرا ہم نوا ہوتا

 

تیرے ہونٹوں پہ مہر ہوتی اگر

میرے ہاتھوں میں آئینہ ہوتا

 

در بہ در خاک چھاننے والے

مجھ سے پیمان کر لیا ہوتا

 

وہ میسر نہیں رہا ورنہ

میں اسے کب کا کھو چکا ہوتا

 

کس قدر سوچتے ہو تم انور

ارے اظہار کر دیا ہوتا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بہت شکریہ محفلین۔ اللہ حافظ

 

محمد تابش صدیقی:

ترے کرم کی امیدیں سجائے پلکوں پر

مقام والے ترا بے مقام حاضر ہے

٭

کیا معاف سبھی کو فقط خدا کے لئے

انہیں سزا کی بجائے ہُدیٰ سے مطلب تھا

٭

خامشی باوقار ہے جیسے

معتبر تیرا بولنا ہوتا

اختلافی بیان سے پہلے

کاش تم نے مجھے سنا ہوتا

سوچ کر بولتے تو ممکن ہے

جو ہوا ہے نہیں ہوا ہوتا

یہ تھے محترم جناب منیر انور صاحب جو گلہائے عقیدت اور خوبصورت غزل پیش کر رہے تھے۔ ہم ان کے ممنون ہیں کہ انہوں نے اردو محفل مشاعرہ میں وقت دے کر مشاعرہ کی رونق بڑھائی اور اور ہماری حوصلہ افزائی کا باعث بنے۔

اور اب مشاعرہ کے اختتام پر میں ملتمس ہوں صدرِ مشاعرہ استادِ محفل محترم جناب اعجاز عبید صاحب سے کہ وہ آئیں اور اردو محفل مشاعرہ کے حوالے سے اپنی گذارشات بھی پیش کریں اور اپنے کلامِ معطر سے بھی مشاعرہ کو مہکائیں۔ آپ اردو ادب کے حوالے سے نہ صرف ایک معتبر نام ہیں بلکہ اردو کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے بھی ایک اہم حیثیت رکھتے ہیں۔

دعا کرو کہ دعا میں مری اثر ہو جائے

میں اس کا نام نہ لوں، اور اسے خبر ہو جائے

بس اب یہ آخری خواہش بچی ہے، اس کے حضور

یہ حرف سادہ مرا حرف معتبر ہو جائے

بس اک شرار خسِ خشک جاں کو کافی ہے

چلو کہ آج تماشہ یہ رات پھر ہو جائے

٭

کون مجرم ہے کہ دوری ہے وہی پہلی سی

پاس آ کر چلے جانے کی ادا کس کی تھی

دل تو سلگا تھا مگر آنکھوں میں آنسو کیوں آئے

مل گئی کس کو سزا اور خطا کس کی تھی

شام آتے ہی اتر آئے مرے گاؤں میں رنگ

جس کے یہ رنگ تھے، جانے وہ قبا کس کی تھی

٭

نہایت ادب و احترام کے ساتھ بغیر کسی تاخیر کے مائک سونپتا ہوں محترم اعجاز عبید صاحب کو۔

 

اعجاز عبید:

تمام محفلینس کو سلام عرض ہے۔

سب سے پہلے تو میں اس بات کی یاد دہانی کر دوں جو ممکن ہے کہ سب کے ذہن سے محو ہو چکا ہو کہ یہ پیاری پیاری محفل اردو محفل کی گیارھویں سالگرہ کی تقریب میں رکھی گئی ہے۔ اس لیے سب سے پہلے تو میں بانیان محفل، اور ان میں مَیں بزعم خود، خود کو بھی شمار کرتا ہوں، کو مبارکباد دوں۔ نبیل نقوی جن کے ذہن میں پہلی بار یہ خیال آیا کہ اردو کی ترویج کے لیے ایسی ایک محفل شروع کی جائے، اور زکریا اجمل ( زیک)  اور دوسرے بانیوں نے جو اب محفل میں فعال نہیں ہیں، اس پر لبیک کہا۔ تو نبیل اور زیک کو محفل کی سالگرہ ایک بار پھر بہت بہت مبارک ہو۔ اور ان کے بعد نئے منتظم ابن سعید  (سعود عالم) اور پھر تمام محفلینس ہی نہیں، تمام اردو دنیا کو بھی مبارک ہو۔

پہلی بار اس مشاعرے کا انعقاد اس پیمانے پر ہوا ہے کہ بہت سے اردو شاعری کے اہم ناموں نے محض اس محفل میں شرکت کے لئے اردو محفل کی رکنیت حاصل کی ہے۔ میں ان نئے ممبران کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ ادریس آزاد، یاور ماجد اور ایمان قیصرانی کے نام ذہن میں آ رہے ہیں۔ یہ خوش آئند ہے۔ اور اس کا تمام تر کریڈٹ منتظمین مشاعرہ کو جاتا ہے۔ میں محمد خلیل الرحمن، محمد تابش صدیقی، حسن محمود جماعتی، مقدس حیات اور محمد بلال اعظم کو مبارکباد دیتا ہوں۔

بزرگی کے اپنے فائدے اور نقصانات ہیں۔ ایک فائدہ تو یہی ہوتا ہے کہ سب ادبدا کر اس کو صدارت کی کرسی پر بٹھا دیتے ہیں۔ تو محض یہی وجہ ہے کہ میں یہاں صدارتی خطاب جھاڑنے کا شرف حاصل کر رہا ہوں۔ دوسرے بزرگوں کو بھی کبھی کبھی موقع دینا چاہیے۔ میں محمد یعقوب آسی کی کمی بھی محسوس کر رہا ہوں جو نہ جانے کس بات پر ناراض ہیں۔ بہر حال۔

مشاعرے میں شعرائے کرام نے واقعی بہت عمدہ کلام پیش کیا۔ تمام کی خدمت میں داد تحسین پیش کرتا ہوں۔

میں خود کو تو آج کل ’سابق شاعر‘ کہنے لگا ہوں۔ آج کل خاموشی ہی ایسی طاری تھی۔ بہر حال اس مشاعرے کی وجہ سے کچھ جمود ٹوٹا ہے۔ جو آپ کی خدمت میں پیش ہے۔

پہلے ایک پرانی غزل: جس کے ایک شعر سے اپنے ایک مجموعے کا نام بھی برآمد کیا تھا۔ شاید کچھ لوگوں نے اس مجموعے میں پڑھ لی ہو گی۔ اب دوبارہ سہی! تو عرض ہے :

 

ہزار یادوں نے محفل یہاں سجائی۔ ۔ ۔ پر

جو نیند آتی ہے سولی پہ بھی، سو آئی۔ ۔ پر

 

سلگتی ریت کو دو دن میں بھول جائیں نہ ہم

یہ ایک شعر ہے اپنی برہنہ پائی پر

 

میں فرشِ خاک پہ لیٹوں تو سوتا رہتا ہوں

ہزار خواب اترتے ہیں چار پائی پر

 

نہ جانے کب مری آنکھوں سے اشک چھن جائیں

بھروسہ اب نہیں کرتا ہے بھائی بھائی پر

 

عطا کرے مجھے اقلیمِ شعر کی شاہی

یہ شک نہیں ہے مجھے تیری کبریائی پر

 

اب کچھ تازہ اشعار۔ چار عدد تو یہ ہیں۔

عرض کیا ہے۔

اپنی دھرتی سے تکوں، عرش بریں سے دیکھوں

ایک ہی شکل نظر آئے، کہیں سے دیکھوں

 

آج یہ خواب جہاں ٹوٹا، جہاں چھوٹا ہے

کاش پھر سے نظر آئے، تو وہیں سے دیکھوں

 

ذرۂ خاک ہوں کیا اس کو دکھائی دوں گا

وہ ستارہ ہے، اسے اپنی زمیں سے دیکھوں

 

میرا اللہ مری آنکھوں سے اوجھل ہی سہی

اس کو سجدہ کروں، اور اپنی جبیں سے دیکھوں

 

مزید تازہ، یہ بھی چار عدد، لیکن یہ طے نہیں کہ ردیف قوافی کیا ہوں گے۔ دو غزلیں کہی جائیں، یا ’ایطا‘ کا اعتراف کر کے ایک ہی غزل میں شامل کر دوں۔

 

آبلے پھوٹ بہیں، چھاؤں گھنی ہو جائے

اور پھر جشنِ غریب الوطنی ہو جائے

 

ظلم ڈھا لے تو، کرم جان کے کر لوں گا قبول

یوں نہ ہو، تیری کہیں دل شکنی ہو جائے

 

زلف کی چھاؤں کہیں ہے تو کہیں سایۂ دار

کچھ بھی مل جائے، مری شب بسری ہو جائے

 

دل کی دل میں ہی رکھیں، ہونٹوں کو سی لیجے عبید

یہ خطا، کیا پتا، گردن زدنی ہو جائے

 

اور آخر میں ٹوٹے پھوٹے کچھ اشعار جو دی گئی طرح میں ممکن ہو سکے ہیں۔ صاف لگتا ہے کہ زبردستی کے ہیں !!

 

غالباً کچھ کہہ رہا ہے یہ سمندر کا سکوت

اب کہاں وہ اضطراب اس موجۂ ساحل میں ہے

 

ہاتھ بھی تھامے ہو، چھپ کر وار بھی کرتے ہو تم

یہ کہاں کی دوستی ہے جو تمہارے دل میں ہے

 

اور یہ نمکین شعر:

بھائی مجنوں، اپنی لیلیٰ کو تو ڈھونڈھو اور جا

یہ تو میری ہی محل ہے جو کہ اس محمل میں ہے

 

اب اس خوش گوار محفل کو ختم کیا جائے۔ اردو محفل اور تمام اراکین کے لئے ڈھیروں دعاؤں کے ساتھ اب اجازت۔

 

محمد تابش صدیقی:

نہ جانے کب مری آنکھوں سے اشک چھن جائیں

بھروسہ اب نہیں کرتا ہے بھائی بھائی پر

عطا کرے مجھے اقلیمِ شعر کی شاہی

یہ شک نہیں ہے مجھے تیری کبریائی پر

٭

آج یہ خواب جہاں ٹوٹا، جہاں چھوٹا ہے

کاش پھر سے نظر آئے، تو وہیں سے دیکھوں

ذرۂ خاک ہوں کیا اس کو دکھائی دوں گا

وہ ستارہ ہے، اسے اپنی زمیں سے دیکھوں

میرا اللہ مری آنکھوں سے اوجھل ہی سہی

اس کو سجدہ کروں، اور اپنی جبیں سے دیکھوں

٭

صدرِ مشاعرہ کے ان تاثرات اور خوبصورت کلام کے ساتھ ہی اردو محفل مشاعرہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ تمام شعراء کا شکریہ کہ جنہوں نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر مشاعرہ کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کیا۔ قارئینِ مشاعرہ کا بھی شکریہ کہ جنہوں نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر شعراء اور منتظمین کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ اور مشاعرہ میں پے در پے آنے والے تعطل کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔

محمد خلیل الرحمٰن صاحب کا تہِ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے نہ صرف یہ کہ اپنی مصروفیات میں سے وقت نکالا بلکہ مجھ جیسے نو آموز منتظم کو انگلی پکڑ کر چلایا۔

مقدس بہن کا بھی ممنون ہوں کہ شاعری میں عدم دلچسپی کے باوجود اردو محفل کی محبت میں مشاعرہ کی کامیابی کے لئے اہم کردار ادا کیا۔ ایک وقت جب مشاعرہ شروع ہونے سے پہلے ہی مشاعرہ کے انعقاد کے حوالے سے مسائل کا سامنا تھا، تو مقدس بہن نے ہی حوصلہ دیا اور مشاعرہ ہر صورت میں ہونے کی یقین دیانی کروائی۔

حسن محمود جماعتی بھائی کا شکر گذار ہوں کہ جنہوں نے باحسن و خوبی مشاعرہ کے انتظامات میں اپنا کردار ادا کیا۔

محمد بلال اعظم بھائی کا بھی شکریہ کہ جنہوں نے شدید تعلیمی مصروفیات کے باوجود مشاعرہ کے انتظامات میں حصہ لیا۔

مشاعرہ کے انتظامات میں اگر کوئی کمی بیشی رہ گئی ہو تو نا تجربہ کاری سمجھ کر معاف کر دیجئے گا۔

جو شعراء شرکت کرنا چاہتے تھے اور بوجوہ ان کو اطلاع نہ ہو سکی، ان سے بھی معذرت کا خواست گذار ہوں،

اس دعا کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ اللہ تعالیٰ محفل کو ہمیشہ پھلتا پھولتا رکھے۔ اور ہمارے درمیان محبتوں کو قائم دائم رکھے۔ رنجشوں اور کدورتوں کو بھول جانے اور معاف کر دینے کا حوصلہ عطا فرمائے۔ آمین

جزاک الل

٭٭٭

ترتیب، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید