FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

گلاب لہجے میں

 

غزلیں

 

               زرقا مفتی

 

 

 

 

 

 

ترے سخن نے کہاں سے یہ دلکشی پائی

سکوت میں بھی ترے ہم نے نغمگی پائی

 

کلام ہم سے بھی کرتے گلاب لہجے میں

سماعتوں میں نہاں آرزو یہی پائی

 

ترے مزاج کے موسم بدلتے ہیں پل پل

تری وفا میں ادائے ستم گری پائی

 

نظر زمانے کی اک پل میں کھا گئی اس کو

کبھی کبھار ذرا سی بھی گر خوشی پائی

 

بھٹک رہے تھے خرد تیری پیروی میں ہم

جنوں کی راہ چلے ہیں، تو آگہی پائی

 

خراج لے رہی ہے زندگی بھی سانسوں سے

حریمِ ذات میں یہ کیسی بے بسی پائی

 

حریف جذبے ہویدا ہیں اپنے چہرے پر

ہنسی لبوں پہ سجی، آنکھ نے نمی پائی

 

نکل کے خلد سے آ تو گئے زمیں پر ہم

اماں ملی کہیں ہم کو، نہ آشتی پائی

 

چمن میں سوگ ہے کس کا؟ کہ اس دفعہ ہم نے

بہار میں بھی خزاں کی سی ابتری پائی

٭٭٭

 

 

 

 

 

پل بھر رکی بہار خزاں میں بدل گئی

چاہت کی چاندنی بھی اماوس میں ڈھل گئی

 

تتلی بنی میں اُڑتی رہی تیز دھوپ میں

خواہش کے پر جلے تو مری روح جل گئی

 

سہمی ہوئی ہیں خوف سے کلیاں چمن میں کیوں

کیا پھر کسی گلاب کو لے کر اجل گئی

 

اب دشتِ آرزو میں ہے بے برگ ہر شجر

اس موسمِ فراق میں ہر شاخ جل گئی

 

لا کر مرے قریب تجھے دور کر دیا

تقدیر مرے ساتھ کوئی چال چل گئی

 

انجان اس قدرتو مرے حال سے ہوا

جو رہ گئی تھی دل میں محبت نکل گئی

 

پھر تیری ہر خطا کو فراموش کر دیا

تیرے نئے بہانے سے پل میں بہل گئی

 

شرطیں تری اصول ترے مان کر سبھی

میں موم کی طرح ترے سانچے میں ڈھل گئی

٭٭٭

 

 

 

 

 

حیات اپنا راستہ بدلتی رہی

ادھر عمر چپکے سے ڈھلتی رہی

 

خود اپنا ہی تابوت سر پر لئے

میں تنہا تھی، تنہا ہی چلتی رہی

 

وہ لمحوں میں کیوں اجنبی بن گیا

جسے کہہ کے ہمدم بہلتی رہی

 

وہ آوارہ بادل اُسے کیا خبر

کڑی دھوپ میں مَیں جو جلتی رہی

 

جو وعدوں کو تیرے بھلانا پڑا

مری زندگی ہاتھ ملتی رہی

 

کبھی کوئی پل تو مرے نام کر

تمنا یہ دل ہی میں پلتی رہی

 

وہ ساحل بنا مجھ کو تکتا رہا

میں لہروں کی صورت مچلتی رہی

٭٭٭

 

 

 

 

 

ہر چاک اب جگر کا سلا دینا چاہیئے

پُر خار حسرتوں کو جلا دینا چاہئیے

 

جب عشق کا نصاب ہی تبدیل ہو گیا

تو نام بھی وفا کا مٹا دینا چاہیئے

 

ہر شخص ہے غلام یہاں اپنے نفس کا

اخلاص کی روش کو بھُلا دینا چاہیئے

 

برباد ہو چکا ہے مرے دل کا یہ چمن

خوابوں کی تتلیوں کو اُڑا دینا چاہیئے

 

مانوس ہو چکے ہیں اندھیروں سے اس قدر

تاروں کو اور قمر کو بجھا دینا چاہیئے

 

اس دیس میں ٹھکانے کے دن بیت ہی گئے

موسم ہے ہجرتوں کا بتا دینا چاہیئے

 

پندار کی شکست نے بےحال کر دیا

اپنی انا کے بُت کو گرا دینا چاہیئے

 

آواز اب ضمیر کی سنتا نہیں کوئی

احساس کی چُبھن کو مٹا دینا چاہیئے

 

ایمان کا ترازو گناہوں سے لد چکا

اب حشر ہی خُدا کو اُٹھا دینا چاہیئے

 

ہم بوجھ زندگی کا اُٹھائیں گے کب تلک

اب دار پر جبیں کو جھکا دینا چاہیئے

٭٭٭

 

 

 

 

 

دُنیا کو ملا چین ، مجھے رنج ملا ہے

ہر اشکِ تمنا کا لہو رنگ ہوا ہے

 

آلام کی کثرت کا گلہ جب بھی کیا ہے

اعمال کے نامے میں ہوئی درج خطا ہے

 

فردا کے دلاسے پہ فقط میں ہی رہوں کیوں

امروز کی راحت پہ بھی کچھ حق تو مرا ہے

 

یہ لوگ کسی حال میں خوش ہو نہیں سکتے

بے فیض زمانے سے کنارا ہی بھلا ہے

 

یاجوج و ماجوج ہیں یا کوئی بلا ہے

دُنیا میں کیا پھیلی یہ قیامت کی وبا ہے

 

ابلیس کی مانند تکبّر میں رہا ہے

انسان تو ہر دور میں فرعون بنا ہے

 

یہ ظلم یہ بے داد نئی بات نہیں ہے

ان اہلِ حشم کا تو وطیرہ یہ رہا ہے

 

کیا فرض نیابت کا نبھائے گا خُدایا

تشکیل کو آدم کی یہ انسان چلا ہے

 

ایمان کو چھوڑا ہے وسواس میں گھِر کر

اوہام کی دُنیا میں یوں غرقاب ہوا ہے

 

ق

 

معمور ترے نور سے یہ کون و مکاں ہیں

ان چاند ستاروں میں تری ہی تو ضیا ہے

 

عرفان کی ضو دے کے مجھے شمس بنا دے

پتھر کو ضیا دے کے قمر تو نے کیا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

حنا کا رنگ ہتھیلی سے تو جدا نہ ہوا

وہ میرے ساتھ رہا پر کبھی مرا نہ ہوا

 

خزاں نصیب رہے ہم گلوں کی رُت میں بھی

بہار آئی پر اپنا چمن ہرا نہ ہوا

 

زمانے بھر کی جفاؤں کا شکوہ کر نہ سکے

تری جفا کا بھی ہم سے کبھی گلہ نہ ہوا

 

ہمیں یقیں تھا تمہاری تمام باتوں پر

تمہارا ایک بھی وعدہ مگر وفا نہ ہوا

 

میں جی ہی لیتی تری یاد کے سہارے پر

ترے بغیر بھی جینے کا حوصلہ نہ ہوا

 

ندامتوں کا تو ہر آن مینہ برستا رہا

شجر وفا کا  جوسوکھا تو پھر ہرا نہ ہوا

٭٭٭

 

 

 

 

چاہتیں ہیں فقط فسانوں میں

تلخیاں گھل گئیں زبانوں میں

 

جھوٹ ہی تھا ترے بیانوں میں

میں بہلتی رہی بہانوں میں

 

تم مجھے چھوڑ کر ابھی جو گئے

ڈھونڈنا پھر مجھے زمانوں میں

 

دل کی ترغیب پر اُٹھے نہ قدم

ذہن اُلجھا رہا گمانوں میں

 

کھو گئی ہے خوشی نہ جانے کہاں

دکھ ہی دکھ ہے سبھی ترانوں میں

 

خوف کے پہرے ہیں دلوں پر اور

سانپ وحشت کے ہیں گمانوں میں

 

ہو گئی سرد آگ جذبوں کی

بے حسی بڑھ گئی جوانوں میں

 

سادگی میں عداوتیں نہ تھیں

سانجھ دکھ سکھ کی تھی گھرانوں میں

 

عیش دُنیا کے سب میسر ہیں

پر سکوں ہی نہیں مکانوں میں

٭٭٭

 

 

 

 

 

گلشن مرا ویران ہے

ہر اک شجر بے جان ہے

 

پنچھی اُڑانیں بھر چکے

آنے لگا طوفان ہے

 

سایہ ہی اپنے ساتھ ہے

ہر اک ڈگر ویران ہے

 

بے نام ہے میری طرح

قصہ بلا عنوان ہے

 

ظالم میرے حالات سے

تو ہی ذرا انجان ہے

 

جھوٹے بہانے مت بنا

جھوٹا ترا پیمان ہے

 

تجھ کو بھلا تو دوں

مگر کیا بھولنا آسان ہے

 

دل کی تباہی دیکھ کر

یہ عقل بھی حیران ہے

 

ملنا ہے اب تو موت سے

باقی یہی ارمان ہے

ززز

 

 

 

 

 

مری آرزو رہی بے ثمر، میں نے حسرتوں کو جلا دیا

جو ملا تھا مجھ کو نصیب سے اُسے میں نے خود ہی گنوا دیا

 

چلی جس طرف تھیں رکاوٹیں، ہیں بہت کٹھن یہ مسافتیں

ہیں قدم قدم نئے امتحاں، مجھے زندگی نے تھکا دیا

 

مرے دل کے تو ہی قریب تھا، ترے غم بھی مجھ کو عزیز تھے

تری ہمرہی کے غرور میں، میں نے اس جہاں کو بھلا دیا

 

میں نے دیکھے خواب ادھار کے، جو ترے وجود پہ بار تھے

بڑی سہل تھی تری زندگی، اسے کیوں عذاب بنا دیا

 

 

دل مضطرب کو تلاش تھی، تری چاہتوں کی پیاس تھی

تو نے ہاتھ مجھ سے چھڑا لیا، مرے ہر بھرم کو مٹا دیا

 

وہ جو رشتے دل کے قریب تھے وہی آج ہم سے بگڑ گئے

جو چھپی تھیں دل میں کدورتیں، اُنہیں فاصلوں نے بڑھا دیا

 

کہیں ظلم کی ہے زیادتی ، کہیں خوف اور ہراس ہے

یہ محبتوں کی زمین تھی اسے کارزار بنا دیا

٭٭٭

 

 

 

 

 

ہم سے تھے سب ہی خفا سو چلے آئے گھر سے

کیسے بھولیں گے وہ آزار جو پائے گھر سے

 

روک لیتی ہے انا چار قدم چلتے ہی

یوں نہ لوٹیں گے منانے کوئی آئے گھر سے

 

دلِ ناکام کو تو اب بھی یہی حسرت ہے

کوئی اس کے لئے آنسو ہی بہائے گھر سے

 

اس ستم گر نے مجھے زخم دیا ہے ایسے

وار کرتی ہو بلا جیسے پرائے گھر سے

 

جسے ملنے کی تمنا میں رُکی ہیں سانسیں

وائے حسرت کوئی اُس کو تو بلائے گھر سے

 

ہر طرف شور ہے ماتم کی صدا آتی ہے

کب ٹلیں گے یہ سیہ موت کے سائے گھر سے

 

آگ نفرت کی ترا گھر بھی جلا سکتی ہے

دوسروں کو جو جلاتی  نظر آئے گھر سے

 

حادثوں سے نہیں محفوظ خدا کا گھر بھی

پھر بھی دو چار نمازی نکل آئے گھر سے

 

دوڑ مادے کی اگر یوں نہ تھکائے ہم کو

بے سکونی کی وبا بھی چلی جائے گھر سے

 

ڈگریاں بکنے لگیں زر کے عوض مکتب میں

علم کا جو بھی خریدار ہے آئے گھر سے

٭٭٭

 

 

 

 

 

کیا ہوا تیرا شرف تیری خلافت کیا ہوئی؟

رشک تھا جس پر فرشتوں کو ولایت کیا ہوئی؟

 

کیا ہوئی نسبت سلف سے اور عقیدت کیا ہوئی؟

ناز تھا ملت کو جس پر وہ فراست کیا ہوئی؟

 

وہ پرانی وضعداری اور مروت کیا ہوئی؟

پاس رشتوں کا گیا سچی محبت کیا ہوئی؟

 

دل بدلتے ہی اچانک اجنبی کیوں ہو گئے؟

ساتھ چھوٹا عمر بھر کا وہ رفاقت کیا ہوئی؟

 

روٹھی ہیں جب سے بہاریں یہ چمن مہکا نہیں

پھول کی خوشبو کلی کی وہ نزاکت کیا ہوئی؟

 

دامنِ شب میں گناہوں کے سوا کچھ بھی نہیں

وہ دعائے نیم شب اور وہ عبادت کیا ہوئی؟

 

عیش میں ڈوبا ہے دل اور عقل پر چھائی ہوس

ہوش کر غافل تری چشمِ بصیرت کیا ہوئی؟

 

رنگ و بو کے سیل میں کیوں بہہ گئی تہذیب بھی

سو گئی غیرت تمھاری اور حمیت کیا ہوئی؟

 

زاغ پہنے مور کے پر ذات اپنی بھول کر

تن تو بدلا من نہ بدلا پھر ذکاوت کیا ہوئی؟

٭٭٭

 

 

 

 

 

نہیں ہوں قید یہاں یہ مدار اپنا ہے

قفس نہیں ہے فقط یہ حصار اپنا ہے

 

عنایتوں پہ تری انحصار اپنا ہے

وفا شعاروں میں تیرے شمار اپنا ہے

 

انا اٹل ہے تری دل کٹھور ہے تیرا

ہمیں بھی جان سے بڑھ کر وقار اپنا ہے

 

تمہارے اذن کی محتاج میری ہر خواہش

تمہاری خو پہ کہاں اختیار اپنا ہے

 

یہ رشتۂ  دل و جاں برقرار ہے کیسے؟

جگر لہو ہے تو دل بھی فگار اپنا ہے

 

ہمارے شہر میں رونق ترے ہی دم سے تھی

ترے ہی جانے سے اُجڑا دیار اپنا ہے

 

مری اُداس نگاہیں ٹکی ہیں چوکھٹ پر

وبالِ جان بنا انتظار اپنا ہے

 

تمہیں بتائیں گے جو دل میں ہم نے ٹھانی ہے

فلک پہ چاند بھی تو راز دار اپنا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

کڑی دھوپ میں سائباں کوئی تو ہو

کوئی ہم نشیں، مہرباں کوئی تو ہو

 

غموں کے فسانے،خوشی کے ترانے

سنائیں کسے راز داں کوئی تو ہو

 

کہاں سے ملے گی دوا دردِ دل کی

کوئی چارہ گر ، آستاں کوئی تو ہو

 

رُتوں کے بدلتے ہی لوٹیں گے پنچھی

چمن میں بچا آشیاں کوئی تو ہو

 

لگا لیں گلے موت کو بھی خوشی سے

جو مرنے پہ چشمِ رواں کوئی تو ہو

 

بھٹکتے پھریں گے کہاں تک جنوں میں

نئی منزلوں کا نشاں کوئی تو ہو

 

کہاں لے چلے وقت کے ہم کو دھارے

جہا ں جا رکیں گے وہاں کوئی تو ہو

 

نگاہیں اُٹھائیں مگر کس کی جانب

زمیں پر جھکا آسماں کوئی تو ہو

٭٭٭

 

 

 

 

 

سوز جب دل میں نہیں آہ بھی دلگیر نہیں

کیا عجب ہے کہ ترے نالوں میں تاثیر نہیں

 

جانتی ہوں ترے دل میں مری تصویر نہیں

تیری نظروں میں مرے جذبوں کی توقیر نہیں

 

سوچ پہروں میں ہے گو پاؤں میں زنجیر نہیں

بے بسی اپنی مگر لائقِ تشہیر نہیں

 

دل پہ ناکام اُمیدوں کے اندھیرے چھائے

بجھ گئی آرزو اور آس کی تنویر نہیں

 

غمِ فرقت میں تری یاد کے پہرے کے تلے

قیدِ تنہائی سے بڑھ کر کوئی تعزیر نہیں

 

جس حسیں شہر کو خوابوں سے تھا آباد کیا

اب مرے نام وہاں کوئی بھی جاگیر نہیں

 

بخوشی موت کے پہلو میں بھی سو جاتے مگر

موت بیماریِ دل کے لئے اکسیر نہیں

 

ظلم کی چکی میں ہم پستے رہیں صدیوں تک

لوحِ محفوظ پہ ایسی کوئی تحریر نہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

چکا دئیے یوں ہی سب قرضِ دوستاں میں نے

پرائی آگ میں جھوکا یہ آشیاں میں نے

 

خسارے کا کیا سودا، گنوائے جان و دل

کمائے درد ہی، پائی خوشی کہاں میں نے

 

ترے خلوص کے قصے سنائے سب کو ہی

بھرم ترا رکھا یوں ہی کہاں کہاں میں نے

 

دبائی دل میں ہی تلخی جلی کٹی سن کر

لبوں پہ پھر بھی تبسم رکھا عیاں میں نے

 

فلک کو دوش دے ڈالا ترے ستم کا بھی

کیا ہے آپ ہی دشمن یہ آسماں میں نے

 

ہمارے بیچ یہی دوریاں مناسب ہیں

یہ تیری مرضی ہے، جس کو کیا بیاں میں نے

 

ہے اوڑھی درد کی چادر، بچھونا غم کا ہے

چُنے ہیں یاس کے پتھر، کیا مکاں میں نے

 

تھکن سے چُور تھی میں روح منتشر سی تھی

سو دے دی جان ،کیا پار امتحاں میں نے

٭٭٭

 

 

 

 

 

جو حال اپنا خراب ہو گا

قصور اُن کا جناب ہو گا

 

وہ دور ہم سے اگر رہے تو

نصیب اپنا خراب ہو گا

 

گمان اب تک یہی ہے دل میں

کبھی تو ہم سے خطاب ہو گا

 

بچھڑ کے اُن سے ہمارے دل میں

عجیب سا اضطراب ہو گا

 

خزاں کی رُت میں کہیں تو دیکھو

امید کا اک گلاب ہو گا

 

وہ آج پھر روبرو ہیں میرے

یہ خواب ہے یا سراب ہو گا

 

چلے ہیں جن منزلوں کی جانب

وہیں پہ رُکنا عذاب ہو گا

 

ق

 

فریبِ دنیا حسین ہے پر

سنا ہے اک دن حساب ہو گا

 

سیاہ نامے میں درج شاید

کوئی تو کارِ ثواب ہو گا

 

رحیم ہے رب، تو کیوں یہ واعظ

ڈرا رہا ہے عتاب ہو گا

٭٭٭

 

 

 

اشکوں میں اب لہو کو بہایا نہ جائے گا

دل میں کوئی ملال بھی لایا نہ جائے گا

 

وہ لاکھ منّتیں کرے جایا نہ جائے گا

اب جان کر فریب تو کھایا نہ جائے گا

 

ہر اک ستم کا حال سنایا نہ جائے گا

ہر زخم تو جگر کا دکھایا نہ جائے گا

 

تو روٹھ کر گیا تو منایا نہ جائے گا

پھر خواب میں بھی تجھ کو بلایا نہ جائے گا

 

مانا ترے غرور کو میں توڑ نہ سکی

اپنی انا کو بھی تو ہرایا نہ جائے گا

 

ہم تو تری نظر میں گنہگار ہی رہے

ہم سے کوئی ثواب کمایا نہ جائے گا

 

تم سے کوئی پرانا تعلّق نہیں رہا

رشتہ کوئی نیا بھی بنایا نہ جائے گا

 

جو جھوٹ سے بنیں تھیں عمارات ڈھے گئیں

اب ریت کا محل بھی بنایا نہ جائے گا

 

آنکھوں پہ گر شکوک نے جالا سا بن دیا

پردہ وہ نفرتوں کا ہٹایا نہ جائے گا

 

دائم رہے بہار مہکتا رہے چمن

مہمان اب خزاں کو بنایا نہ جائے گا

٭٭٭

 

 

 

 

 

چاند نکلا تھا ترے رُخ پہ اُجالا کرنے

شبنمی خواب سے لمحوں کو سُہانا کرنے

 

آئے تھے دل میں تُمہارے ہی ٹھکانہ کرے

زندگانی کے ہر ایک پل کو تمہارا کرنے

 

یہ مرا دل کہ چلا تیری تمنا کرنے

رات دن تیرے ہی سپنوں سے سنہرا کرنے

 

ہم چلے تھے یوں ہی لہروں کو کنارا کرنے

ڈوبتے وقت بھی تنکے کو سہارا کرنے

 

جھوٹے وعدوں سے محبت کو فسانہ کرنے

روز آتا تھا نیا ایک بہانہ کرنے

 

پھر چلی آئی تری یاد دوانہ کرنے

نذر اشکوں کی چڑھاؤ، یہ تقاضا کرنے

 

کون آیا تھا یہاں غم کا مداوا کرنے

لوگ بیٹھے تھے مرے دُکھ کا تماشا کرنے

 

ساتھ میرا گھڑی بھر کو ہی گوارا کر لے

جا رہی ہوں تیری دُنیا سے کنارا کرنے

 

روک لیتے دمِ آخر ہی اشارہ کر کے

آئے ہو راہِ عدم مجھ کو روانہ کرنے

٭٭٭

 

 

 

ہر گھڑی آزردگی اچھی نہیں

آنکھ میں ہر پل نمی اچھی نہیں

 

بے سبب نوحہ گری اچھی نہیں

اسقدر بے چارگی اچھی نہیں

 

اتنی بے مایہ تری ہستی نہیں

نا خُدا کی بندگی اچھی نہیں

 

کیوں مری قسمت بدلتی ہی نہیں

اے فلک یہ کج روی اچھی نہیں

 

کیا ملے گا بستی بستی گھوم کر

ایسی بھی آوارگی اچھی نہیں

 

دل چُرا کر لے گئی بس اک نظر

یہ تری جادوگری اچھی نہیں

 

حُسن کو مستور ہی رہنے دیجئے

ہائے یہ بے پردگی اچھی نہیں

 

تجھ سے میرے دل کی ہے ہراک خوشی

بن ترے یہ زندگی اچھی نہیں

 

بات میری بھی صنم رکھ لے کبھی

اتنی بھی تو خودسری اچھی نہیں

 

تیر یہ طعنوں کے ہم پر مت چلا

دل جلوں سے دل لگی اچھی نہیں

 

کانچ کے رنگین سپنے مت سجا

چھوڑ دے شیشہ گری اچھی نہیں

 

رُک نہ جائے سوچ کا بہتا سفر

ذہن کی آلودگی اچھی نہیں

٭٭٭

 

 

 

گلشنِ ہستی کا ہر باب سنوارا ہوتا

تو نے کچھ وقت مرے ساتھ گُزارا ہوتا

 

زرد چہرے پہ کوئی رنگ اُتارا ہوتا

تیری چاہت نے مرا روپ سنوارا ہوتا

 

میں ہتھیلی پہ ترا نام حنا سے سے لکھتی

تیری آنکھوں میں کوئی شوخ اشارا ہوتا

 

میں رواجوں کی صلیبوں کو اُٹھاتی کیسے

رسمِ دُنیا کو نبھانے کا نہ یارا ہوتا

 

تو مرے خواب نگر سے یوں گیا ہے جیسے

دو گھڑی اور ٹھہرتا تو خسارہ ہوتا

 

زندگی تیرے بنا گزر جاتی اگر

تو نہ ہوتا تیری یادوں کا سہارا ہوتا

٭٭٭

 

 

 

خبر آئے ہمیں اُن کی نہ ہی کوئی جواب آئے

خفا ہو کر گئے ایسے نہ پھر واپس جناب آئے

 

کبھی اپنی کہے مجھ سے کبھی میری وہ سُن جائے

صنم میرا کبھی پڑھنے مرے دل کی کتاب آئے

 

یہ دل تو ہر گھڑی دیدار کی خواہش میں رہتا ہے

مگر چتون یہ کہتی ہے کہ آئے اور حجاب آئے

 

یہ سب بے تابیاں، یہ رت جگے مجھ کو گوارا ہیں

سکوں تجھ کو ملے حصے میں میرے اضطراب آئے

 

اکیلی ہی چلی آئی خوشی جب بھی ملی ہم کو

یہ غم جب بھی چلے آئے ہمیشہ بے حساب آئے

 

رہیں ہم تشنہ لب ان یاس کے صحراؤں میں کب تک

سفر میں اب تلک جو بھی نظر آئے سراب آئے

 

زمیں والو! تمہارے ہی گناہوں کا ثمر ہے یہ

تمھیں سہنا ہی ہو گا اب فلک سے جو عتاب آئے

 

بھروسہ جو کئے بیٹھے ہو تم اپنے مقدر پر

بھلا کیسے تمہاری زندگی میں انقلاب آئے

 

ستم کی انتہا کر دی ہے ان ارضی خداؤں نے

فنا ہو یہ جہاں، اب تو قضا آئے،عذاب آئے

٭٭٭

 

 

 

 

 

زیست کے سفر میں اوروں کی پیروی کب تک

عزم کی ارادوں کی یہ شکستگی کب تک

 

اک خلش سی یہ دل میں اور بے کلی کب تک

شور سا درونِ دل ہے یہ سنسنی کب تک

 

یہ روش بغاوت کی ایسی خود سری کب تک

کیوں خُدا سے ہے نومیدی یہ کافری کب تک

 

آزمائے گی آخر ہم کو زندگی کب تک

رنگ لائیں گے یہ اشکِ سحر گہی کب تک

 

کب یہاں سکوں ہو گا، ہو گی آشتی کب تک

یہ عداوتیں کب تک اور دشمنی کب تک

 

ان غموں سے رکھنی ہے ہم کو دوستی کب تک

منتظر رکھے گی آخر ہمیں خوشی کب تک

 

چار سو اندھیرے قسمت میں تیرگی کب تک

اے فلک ستاروں کی ایسی کج روی کب تک

 

حسرتیں چھپا کر سب چپ رہے کوئی کب تک

ہم رکھیں گے دل کی ہر بات ان کہی کب تک

٭٭٭

 

 

 

یہ بارشِ سنگ اب کے قیامت سی لگی ہے

یہ شہرِ خرابہ ہے ،ملامت کی گلی ہے

 

بدنام کیا تجھ کو نہ تہمت ہی دھری ہے

ہر ایک جفا میں نے تو چُپ چاپ سہی ہے

 

مایوس اندھیروں میں مری ذات گھری ہے

مہتاب جلا ہے، نہ کبھی دھوپ جلی ہے

 

تدبیر مسلسل ہے، زمانے سے ٹھنی ہے

تقدیر مقابل ہے، ہرانے پہ تُلی ہے

 

پھر شور اُٹھا، ضبط کی دیوار گری ہے

کیا آج یہاں غم کی ہوا تیز چلی ہے

 

اک شوخ تمنا جو مرے دل میں پلی ہے

بیدرد زمانے کی نظر اس پہ گڑی ہے

 

آباد ہوا تو یہ خوشی مجھ کو بڑی ہے

کیوں فکر مجھے اب بھی ترے غم کی پڑی ہے

 

اک اور نیا وار مرے دل پہ ہوا ہے

ہے درد پُرانا مگر چوٹ نئی ہے

 

پھر رات ڈھلی خواب ترے دیکھ رہی ہوں

صد شکر کسی طور ملاقات ہوئی ہے

 

معلوم نہیں کب سے تمہیں سوچ رہی ہوں

تصویر تمہاری ہی مرے دل میں سجی ہے

٭٭٭

 

 

 

حسیں خوابوں خیالوں کی کمی برداشت کرتے ہیں

بڑی بے کیف ہے یہ زندگی، برداشت کرتے ہیں

 

تکلّم میں تکلّف اجنبی برداشت کرتے ہیں

مگر ہم کیوں تری یہ خامشی برداشت کرتے ہیں

 

مناجاتیں، گلے، شکوے سبھی برداشت کرتے ہیں

مروت جو برتتے ہیں وہی برداشت کرتے ہیں

 

ہمیں تسلیم ہیں اپنی سبھی کوتاہیاں لیکن

تری یہ کج ادائی بھی ہمی برداشت کرتے ہیں

 

تخیّل میں ترا پیکر تراشا تھا کبھی ہم نے

حقیقت میں ترا ہر رنگ بھی برداشت کرتے ہیں

 

بس اپنی ہی محبت کا بھرم رکھنے کی خاطر ہم

تری دوری، تری بیگانگی برداشت کرتے ہیں

 

سہی جاتی نہیں ہم سے تپش غم کے الاؤ کی

بجھا کر داغِ دل ہم تیرگی برداشت کرتے ہیں

 

سرابوں کے تعاقب میں کٹی ہے زندگی اپنی

بڑے ہی حوصلے سے ہم تشنگی برداشت کرتے ہیں

 

چُرا لائیں زمانے سے خوشی کے جھلملاتے پل

کئی برسوں سے دل کی بے کلی برداشت کرتے ہیں

 

گزاری ہیں کئی صدیاں غلامی میں غریبوں نے

ستم سہتے ہیں بیکس، مفلسی برداشت کرتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

گِلے سب مٹانے کے دن آ رہے ہیں

اُنہیں پھر منانے کے دن آ رہے ہیں

 

یہ چلمن گرانے کے دن آ رہے ہیں

کہ جلوہ دِکھانے کے دن آرہے ہیں

 

صَبا نے کہا ہے یہ چپکے سے آ کر

’’چمن کو سجانے کے دن آ رہے ہیں‘‘

 

اُداسی کو اوڑھے شجر سو رہے ہیں

انہیں اب جگانے کے دن آ رہے ہیں

 

خزاں نے جو گلشن میں ڈالے تھے ڈیرے

اُنہیں اب اُٹھانے کے دن آ رہے ہیں

 

کہو پنچھیوں سے کہ لے آئیں تنکے

نشیمن بنانے کے دن آرہے ہیں

 

جُدائی کی گھڑیاں بِتائی ہیں کیسے

اُنہیں یہ بتانے کے دن آ رہے ہیں

 

چُرا لے گئے تھے جو نیندیں ہماری

اُنہیں ابَ ستانے کے دن آرہے ہیں

 

دَمِ ہجر کھائے تھے جو زخم دل نے

اُنہیں اب سِلانے کے دن آ رہے ہیں

 

جو چُپکے سے دل میں مرے پل رہی تھی

خلِش وہ مٹانے کے دن آرہے ہیں

 

سیاہی مقدر کی دھُلنے لگی ہے

نصیبہ جگانے کے دن آ رہے ہیں

 

خُوشی نے مرے دل پہ دی ہے یہ دستک

غموں کو بھُلانے کے دن آرہے ہیں

٭٭٭

 

 

 

خطا سے کچھ نہ ہوا اور سزا سے کچھ نہ ہوا

قدم بہک ہی گئے اتقا سے کچھ نہ ہوا

 

بھنور تھے پیر میں گرداب میں تھی ہستی مری

عجب ہے کیا کہ مرے نا خُدا سے کچھ نہ ہوا

 

رفاقتوں میں بھی تیری محبتیں نہ ملیں

ہتھیلیوں پہ سجی اس حنا سے کچھ نہ ہوا

 

تلاش کرتی رہی خواب راستوں پہ تجھے

خضر سے کچھ نہ ہوا راہنما سے کچھ نہ ہوا

 

اتھاہ اندھیرے رہے میرے دل کی دُنیا میں

ترے جمال کی سیمیں ضیا سے کچھ نہ ہوا

 

زمانے بھر میں چرچا ہے مرے مسیحا کا

شفا مجھے نہ ہوئی اور دوا سے کچھ نہ ہوا

 

عتاب بن کہ وہ آیا، گرج برس کے گیا

ستم گری کے سوا کج ادا سے کچھ نہ ہوا

 

گلے لگا کے شکستہ خیال و خواب جئے

ستم کی دھوپ، غموں کی ہوا سے کچھ نہ ہوا

 

نہ جانے اُس کی نظر کس جہان میں گم ہے

ادا سے کچھ نہ ہوا اور وفا سے کچھ نہ ہوا

 

یہ جاں لبوں پہ مچلتی رہی تڑپتی رہی

مری ریاضتوں کی انتہا سے کچھ نہ ہوا

٭٭٭

 

 

جینا تو اک عذاب جہانِ دگر میں ہے

ہے موت میں نجات یا غم سے مفر میں ہے

 

دنیا نہیں ٹھکانہ ترا تو سفر میں ہے

دو چار دن قیام ترا اس نگر میں ہے

 

کیسا ہے یہ کمال، کیا تیرے ہنر میں ہے؟

جادو ہے یا طلسم، کیا تیری نظر میں ہے؟

 

نہ دل پہ اختیار ہے نہ خو پہ بس رہا

ملتا نہیں مزاج ترے ہی اثر میں ہے

 

آنکھوں کے ہر سوال کا بس ایک ہے جواب

جو لُطف ہے قرار میں کب وہ حذر میں ہے

 

 

افسوس ناتمام سبھی خواہشیں رہیں

اس بات کا ملال مری چشمِ تر میں ہے

 

ساون کی یہ پھوار جلاتی ہے دل مرا

ہے آگ سی بدن میں دھواں سا جگر میں ہے

 

دکھ کا نہیں شمار، خوشی کی رَمَق نہیں

اک رنگ انتظار کا شام و سحر میں ہے

 

کب دور تک چلے ہیں محبت کے سلسلے

لُٹنے کا احتمال مجھے اس سفر میں ہے

 

اوہام کا سفینہ تلاطم میں گھر گیا

اثبات اور نفی کے انوکھے بھنور میں ہے

٭٭٭

 

 

 

ستاروں سے دمکتے ہیں جو موتی نوکِ مژگاں پر

اُترنے دو انہیں اب تو کسی ہمدم کے داماں پر

 

اُٹھا دیں کیوں وہی یادیں تو نے طاقِ نسیاں پر

خوشی کے رنگ لاتی تھیں کبھی جو روئے تاباں پر

 

بتانی ہے جسے لمحہ بہ لمحہ زندگی اپنی

ملے گا کیا نظر رکھ کر اُسے دنیا کے ساماں پر

 

بہار آئی ہے پھر لے کر دھنک رنگوں کے پیراہن

خزاں کا ماتمی چولا سجا ہے دل فگاراں پر

 

کبھی تارے چمکتے ہیں کبھی رہتا اندھیرا ہے

کئی موسم بدلتے ہیں مرے دل کے شبستاں پر

 

یہاں رونق ابھی تو جگمگاتی زندگی کی تھی

کسی نے سحر کر ڈالا ہے کیا شہرِ نگاراں پر

 

مٹا دیں بستیاں کتنی بلائے ناگہانی نے

کسی انسان نے کیا پھر ستم ڈھایا ہے انساں پر

 

شبِ ظلمت کو ٹالا ہے گھڑی بھر کے لئے میں نے

نظر اک آخری کر لوں ذرا شہرِ خموشاں پر

 

امیروں کے مقابر تو یہاں زر سے مزیّن ہیں

کبھی اک پھول بھی دیکھا نہیں گورِ غریباں پر

٭٭٭

 

 

 

 

 

خواب آنکھوں نے بنے ہیں جانِ جاناں کیا کیا

پل رہے ہیں مرے دل میں ہائے ارماں کیا کیا

 

رنگ بھرتی ہیں چمن میں یہ بہاراں کیا کیا

گل کھلاتی ہے نسیمِ غمِ پنہاں کیا کیا

 

اک ادائے ناز سے جیت لوں گی اُس کا دل

پھر نظر باندھ لے گی وعدہ و پیماں کیا کیا

 

لوٹ آئیں گی بہاریں یہ چمن مہکے گا

تیرے آ جانے سے روشن ہوئے امکاں کیا کیا

 

دلربا خواب کی پریاں خوشیوں کے جگنو

دل کے ہمراہ ہو گیا آج یہ رقصاں کیا کیا

 

تیری چاہت میں میں خود کو ہی کہیں کھو بیٹھی

اس محبت میں اٹھائے میں نے نقصاں کیا کیا

 

اپنی جاں بیچنے نکلے تو یہ ہم نے جانا

گلشنِ ہستی میں ہے موت سے ارزاں کیا کیا

 

ابر سے برسے شرر راکھ ہوئی فصلِ گل

برقِ قاتل نے اجاڑے ہیں گلستاں کیا کیا

 

رات جب گہری ہوئی درد کے تارے چمکے

داغِ دل زخمِ جگر ہوا فروزاں کیا کیا

 

دکھ خدا کو بھی ہوا ہے دیکھ کر یہ عالم

ظلم انساں پہ یہاں کرتا ہے انساں کیا کیا

 

اوڑھ کر خاکِ جگر پیتے ہیں خونِ حسرت

اور ہمیں دکھلائے گی گردشِ دوراں کیا کیا

٭٭٭

 

 

کیا عمر بیت جائے گی یوں ہی ملال میں

گر کج روی رہے گی زمانے کی چال میں

 

ق

دیکھی نہیں کوئی کمی اُس ﷺخوش خصال میں

یکتا وہﷺ اپنے وصف میں، یکتا کمال میں

 

خیرہ کرتی نگاہ کو ضیاء حسن کی مگر

’’گم ہو گئی ہے اُن کی تجلی جمال میں‘‘

 

اشکِ رواں کا سیل ندامت کو لے گیا

مصروف تھی یہ چشم میری عرضِ حال میں

 

تعریف میں حضورﷺ کی کیسے بیاں کروں

کھلتی نہیں زبان مری انفعال میں

ق

 

نورِ ہُدیٰ ہے چشمِ بصیرت کے واسطے

حاصل ہے ورنہ صرف خسارہ ہی مآل میں

 

تاعمر پھر غلام رہے گا تو نفس کا

اُلجھا رہا اگر یوں ہی خواہش کے جال میں

 

انسان تو کھلونا ہے قدرت کے ہاتھ میں

داعی ہے خدائی کا کس احتمال میں

 

ملت میں اتحاد ہے نہ اثبات جہد میں

اس قوم کا نصیب ہے رہنا زوال میں

٭٭٭

 

 

 

 

 

گُلوں کے رنگ کھلتے تھے، ستارے رقص کرتے تھے

تمھارے ساتھ ہی سے تو یہ سب منظر نکھرتے تھے

 

تری اُلفت میں جاناں ہم بھی سجتے تھے سنورتے تھے

خوشا وہ دن کہ جب ہم یوں ہی خود پہ ناز کرتے تھے

 

تری مرضی پہ چلتے تھے تری خفگی سے ڈرتے تھے

ترا ہی نام جپتے تھے ترا ہی دم تو بھرتے تھے

 

نہ وعدہ تم نبھاتے تھے نہ میرا مان رکھتے تھے

بہانے خوب کرتے تھے صفائی سے مُکرتے تھے

 

کبھی ہنس کر، کبھی رو کر ستم برداشت کرتے تھے

دبا دیتے تھے دل میں ہی اندیشے جو اُبھرتے تھے

 

سجاتے تھے حسیں خوابوں سے اپنے دل کی دُنیا ہم

تمہاری کج ادائی سے وہ سب سپنے بکھرتے تھے

 

حکایت اپنے ہی دل کی کبھی تم سے نہ کہہ پائے

اگر کہنے بھی ہم لگتے تو تم کب کان دھرتے تھے

 

ادھورے تھے سبھی رشتے ادھوری اپنی چاہت تھی

جتا دیتے یہ ہم تم پر مگر کہنے سے ڈرتے تھے

 

تجھے معلوم ہے کیسے مرے دن رات کٹتے تھے

تری فرقت میں ظالم ہم نہ جیتے تھے نہ مرتے تھے

 

کبھی بجھنے نہ دیتے تھے چھپا لیتے تھے آنچل میں

تمہاری یاد کے جُگنو جو پلکوں پہ اُترتے تھے

 

خسارے کے سبھی سودے کئے تھے عمر بھر ہم نے

مگر یوں ہی مقدر پر ہمیشہ نام دھرتے تھے

٭٭٭

 

 

 

روٹھ کر یوں مجھے ستاؤ کبھی

غیر کے ناز تم اٹھاؤ کبھی

 

دوریوں کو ذرا گھٹاؤ کبھی

پردہ نفرت کا یہ گراؤ کبھی

 

زندگی مری بھی مہکنے لگے

گُل سے خوشبو چُرا کے لاؤ کبھی

 

کب سے بے خواب ہیں مری آنکھیں

پھر انہیں خواب تم دکھاؤ کبھی

 

اشک اپنے چھپا کے ہنستی رہوں

یہ سبق تم مجھے پڑھاؤ کبھی

 

وقت کے ساتھ میں بدل جاؤں

یہ چلن بھی مجھے سکھاؤ کبھی

 

ان غموں کو فریب د ے کر تم

درد کی آگ کو بجھاؤ کبھی

 

آنکھ میں اٹکے یاد کے موتی

پانیوں میں انہیں بہاؤ کبھی

 

چھوڑ کر مجھ کو ہو گئے تنہا

دل کسی اور سے لگاؤ کبھی

 

منزلیں خود قریب آئیں گی

تم قدم توذرا بڑھاؤ کبھی

 

جیت کر سب نہال ہوتے ہیں

“ہار کے بعد مسکراؤ کبھی”

٭٭٭

 

 

 

 

دل تو جلتا ہے مگر اس سے دھواں ہوتا نہیں

ہیں جگر پر زخم کتنے پر نشاں ہوتا نہیں

 

شاخِ حسرت پر نہیں کھلتا کوئی بھی گُل نیا

دل میں بھی اب چشمۂ خواہش رواں ہوتا نہیں

 

ہر کوئی اپنے لئے آنسو بہاتا ہے یہاں

جانے والوں کے لئے محوِ فغاں ہوتا نہیں

 

کیا کروں اس دل پہ کچھ بس ہی نہیں چلتا مرا

بے وفا تجھ سے کبھی یہ بدگماں ہوتا نہیں

 

وقت کی گردش تجھے بھی لے گئی جانے کہاں

تجھ کو ہونا تھا جہاں اب تو وہاں ہوتا نہیں

 

کتنی پرتوں میں چھپا ہے اصلی چہرہ تیرا

’’تیری صورت پر بھی اب تیرا گماں ہوتا نہیں‘‘

٭٭٭

 

 

 

دل کے زخموں کی دوا مانگتے ہیں

اک مسیحا سے شفا مانگتے ہیں

 

روزَ مرَ مر کے جیئے جاتے ہیں

ہم بھی جینے کی دُعا مانگتے ہیں

 

جانتے ہیں کج ادا ہے وہ صنم

پھر بھی اُلفت کا صلہ مانگتے ہیں

 

ہم نے قسمت سے تجھے مانگا ہے

کچھ نہیں اس کے سوا مانگتے ہیں

 

جو کٹے تیری اسیری میں صنم

عمر بھر کی وہ سزا مانگتے ہیں

 

دل کے صحرا کو جو گلشن کر دے

وہ بہاروں سی فضا مانگتے ہیں

 

بے خبر یوں تو مری چاہ سے نہ بن

تجھے معلوم ہے کیا مانگتے ہیں

 

کوستے رہتے ہیں پہروں خود کو

جب کبھی تیرا بُرا مانگتے ہیں

 

فکرِ جنت ہو مبارک تم کو

ہم تو دنیا میں مزا مانگتے ہیں

 

عمر گزرے گی گناہوں میں یہاں

پھر بھی بخشش کی دُعا مانگتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

اے صنم تیری محبت کا فسانہ کیا ہوا

چاند تارے توڑ لانے کا بہانہ کیا ہوا

 

عاشقی کے نام پر اب کون مرتا ہے یہاں

حسن پر جو جاں لٹا دے وہ دوانہ کیا ہوا

 

جب نظر تم سے ملی ہم خود ہی گھائل ہو گئے

لوٹ کر خود کو لگا جو وہ نشانہ کیا ہوا

 

اب کبھی وہ چاند آنگن میں اُترتا ہی نہیں

جن دنوں دورِ قمر تھا وہ زمانہ کیا ہوا

 

جب خزاں مہماں بنی پامال گلشن کر گئی

شاخِ گُل پر جو بنا تھا آشیانہ کیا ہوا

 

خامشی ہے ہر طرف اور ہے صبا ماتم کناں

اے چمن تیرے عنادِل کا ترانہ کیا ہوا

 

گوشہ ء عزلت کہاں؟ ہے ہر طرف ہنگام سا

وہ جو تھا جنت نشاں میرا ٹھکانہ کیا ہوا

 

وہ ادا ہے نہ حیا ہے اب نظر جھکتی نہیں

اُن حسیں آنکھوں پہ تھا جو شامیانہ کیا ہوا

 

چھن گئی میراث اپنی کھو گیا جذبِ دروں

علم کی دولت ہنر کا وہ خزانہ کیا ہوا

 

دشمنوں کو جیت لے بن کر محبت کی صدا

دل کو چھو لے جو کلامِ عارفانہ کیا ہوا

 

فاصلے کیوں بڑھ گئے ان پیڑھیوں کے درمیاں

مشرقی اقدار کا حامل گھرانہ کیا ہوا

٭٭٭

 

 

 

دل بدلتے ہی بدل جاتی ہے گھر کی صورت

پھر بھلی لگتی ہے دیوار نہ در کی صورت

 

اپنے ہونٹوں پہ سجائی ہے ہنسی مشکل سے

اشک آنکھوں میں چھپائے ہیں گہر کی صورت

 

دل کی دُنیا پہ اُداسی کے اندھیرے چھائے

کون چمکے گا یہاں شمس و قمر کی صورت

 

روز کتنے ہی حسیں خواب یہاں مرتے ہیں

موت نے دیکھ لی ہے کیوں مرے گھر کی صورت؟

 

بجھ گیا دل کا دیا، خواہشوں کے مرتے ہی

دل میں جلتے نہیں ارمان شرر کی صورت

 

زیست کی تپتی ہوئی راہیں جلاتیں نہ مجھے

تو اگر رہتا مرے ساتھ شجر کی صورت

 

ق

ظلم کی آندھی نے گہنا دیا ہے سورج کو

مدتوں سے نہیں دیکھی ہے سحر کی صورت

 

موت بھی مفت کسی کو نہیں ملتی ہے جہاں

ایسی دُنیا میں بھلا کیا ہو گُزر کی صورت

 

ہم سیہ بخت فلاکت میں جئے ہیں برسوں

کاش ہوتی کوئی قسمت سے مفر کی صورت

 

پھر زمیں پر ہے ضرورت کسی چارہ گر کی

اے خُدا بھیج ملائک ہی بشر کی صورت

٭٭٭

 

 

میں وفا کرتی ہوں اور آپ خطا کہتے ہیں

جان سے جانے کو کیا آپ وفا کہتے ہیں؟

 

کبھی اچھا تو کبھی مجھ کو بُرا کہتے ہیں

جو بھی کہتے ہیں، حضور آپ بجا کہتے ہیں

 

کاغذی پھول سی بے لُطف ہے چاہت اُس کی

ہم جسے اپنی محبت کا خُدا کہتے ہیں

 

ریشمی خواب چُرا کر جو گئے تھے میرے

وہ سلا دیں گے ستاروں کی ردا کہتے ہیں

 

ایسے عاشق تو کہیں ملتے نہیں دُنیا میں

جو حسینوں کی جفا کو بھی ادا کہتے ہیں

 

راہِ اُلفت میں جو ہستی بھی لُٹا دے اپنی

لوگ اُس کو ہی محبت کا گدا کہتے ہیں

 

وہ جو اک شوخ مرے دل میں رہا کرتا تھا

اُس کی فُرقت میں ہی جینے کو سزا کہتے ہیں

 

کیسی حکمت ہے مرے چارہ گروں کی دیکھو

زہرِ تنہائی کو اکسیر دوا کہتے ہیں

 

غیر کے ناز پہ ہو تم تو فدا سنتی ہوں

’’یہ اگر سچ ہے تو ظالم اسے کیا کہتے ہیں‘‘

٭٭٭

 

 

 

خواب آنکھوں نے بنے ہیں شب ہجراں کیا کیا

پل رہے ہیں دلِ مجبور میں ارماں کیا کیا

 

دل چُرانے کے لئے ناز سہوں گی تیرے

جانے پھر ہوں گے صنم وعدہ و پیماں کیا کیا

 

لوٹ آئیں گی بہاریں یہ چمن مہکے گا

تیرے آ جانے سے روشن ہوئے امکاں کیا کیا

 

دلربا خواب کی پریاں خوشی کے جھلمل پل

دل کے ہمراہ ہوا آج یہ رقصاں کیا کیا

 

تیری چاہت میں صنم خود کو کہیں کھو بیٹھی

اس محبت میں اٹھائے میں نے نقصاں کیا کیا

 

اپنی جاں بیچنے نکلے تو یہ ہم نے جانا

گلشنِ ہستی میں ہے موت سے ارزاں کیا کیا

 

ابر سے برسے شرر راکھ ہوئی فصلِ گل

برقِ قاتل نے اجاڑے ہیں گلستاں کیا کیا

 

رات جب گہری ہوئی درد کے تارے چمکے

زخم سینے میں ہوئے ہائے فروزاں کیا کیا

 

ڈھیل ظالم کو خدا نے دے رکھی ہے کتنی

ظلم انساں پہ یہاں کرتا ہے انساں کیا کیا

 

اوڑھ کر خاکِ جگر پیتے ہیں خونِ حسرت

اب دکھائے گی ہمیں گردشِ دوراں کیا کیا

٭٭٭

 

 

 

 

 

چاند جب بھی سُرمئی آنچل ذرا سرکائے ہے

دل مچل کر کیوں مرا سینے سے باہر آئے ہے

 

شام ڈھلتے ہی غمِ فرقت مری جاں کھائے ہے

چشمِ گریاں بے ارادہ خونِ دل ٹپکائے ہے

 

ہوش کھویا، نیند روٹھی، چین لُٹتا جائے ہے

ہائے کیا کہیئے کہ دل کے ساتھ کیا کیا جائے ہے

 

اک اشارہ کر کے وہ پھر اجنبی بن جائے ہے

ہر گھڑی ظالم صنم یوں ہی مجھے تڑپائے ہے

 

جان لیوا وہ تغافل، وہ ادائے دلبری

کیا کہوں کہ تو مجھے کیوں یاد ہر پل آئے ہے

 

تو ہی تو ہے چار سو بلبل میں تو گل میں بھی تو

عکس تیرا مجھ کو پیہم آئینہ دکھلائے ہے

 

دن مہینے سال گزرے، فاصلے بڑھتے گئے

پھیر لیں اُس نے نگاہیں ملنے سے کترائے ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

ترے بغیر یہ دل پُر ملال ہوتا ہے

ترے فراق میں اک پل بھی سال ہوتا ہے

 

کبھی گلہ جو کروں حسبِ حال ہوتا ہے

ترے غضب کا مگر احتمال ہوتا ہے

 

دل و نظر کا کہاں کچھ کمال ہوتا ہے

کہ قُربتوں کا سبب اب تو مال ہوتا ہے

 

فریب و مکر سے بچنا محال ہوتا ہے

بڑا حسین ریا کا یہ جال ہوتا ہے

 

محبتوں کی نہیں قدر اب زمانے میں

منافقت سے ہی اب دل نہال ہوتا ہے

 

مرے جگر پہ جو ہوتا ہے کوئی وار نیا

ستم شعار ترا ہی کمال ہوتا ہے

 

یہ دل مچلتا ہے جس کے فراق میں اکثر

حصول اُس کا ہمیشہ محال ہوتا ہے

 

گزر کے جب بھی کسی امتحان سے آئی

ترے لبوں پہ نیا اک سوال ہوتا ہے

 

جفا کی بات ہو یا ذکر کج ادائی کا

ترا چلن خود اپنی مثال ہوتا ہے

 

دُعا کے واسطے جب میرے ہاتھ اُٹھتے ہیں

بجُز ترے مجھے کس کا خیال ہوتا ہے

 

فلک کے چاند زمیں کے گلاب چہروں میں

ترا ہی عکس ترا ہی جمال ہوتا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

آرزوئے گُلشن میں خار ہاتھ آئے ہیں

ہم نے چاہا تھا کیا کیا اور کیا یہ لائے ہیں

 

راہِ عشق میں ہم کو ہاتھ آئی نارسائی

روگ جان و دل کا یہ ہم خرید لائے ہیں

 

گل کئے چراغ اپنے، ملنے چاند سے آئے

تارے اپنے دامن میں کالی رات لائے ہیں

 

آرزوئے راحت میں بے کلی ملی ہم کو

آہ! کتنے ہی آزار آج ہم نے پائے ہیں

 

کیا دھنک، کہاں جگنو، کون سی بھلا تتلی؟

تھی تلاش خوشیوں کی، غم ہی پاس آئے ہیں

 

گردشیں زمانے کی اب بدل نہیں سکتیں

جو نصیب لکھوا کر ہم وہاں سے لائے ہیں

 

دل کے سارے زخموں کو آپ یوں ہی رہنے دیں

آنسوؤں میں خوں اپنا آج رو کے آئے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

تو ہی بتا کہ کیا کہوں حال دلِ فگار کا

کھلنے لگا ہے اب مجھے عہد ترے قرار کا

 

پہرہ ہے دھڑکنوں پہ بے نام سے اضطرار کا

کون چُرا کے لے گیا رنگ مرے سنگھار کا

 

عکس کسی کا اب بھلا کیسے میں دیکھ پاؤں گی

ٹوٹ چکا ہے آئینہ جب میرے اعتبار کا

 

خواب خزینے لُٹ گئے دل کی تجوری خالی ہے

آس اُمیدیں راستہ ڈھونڈتی ہیں فرار کا

 

دل میں ترے بھرا ہے جو، ظرف نہیں ،غرور ہے

جھوٹی انا کو تو نے خود نام دیا وقار کا

 

آج اُفق پہ بجھ گیا آس کا اک ستارہ اور

آنکھ میں یوں ٹھہر گیا رنگ یہ انتظار کا

 

میرے لبوں پہ تلخیاں،دل میں بھرا غبار ہے

مجھ کو کبھی ملا نہیں کندھا بھی غم گُسار کا

 

دنیا سمٹ رہی ہے تو رشتے بکھر رہے ہیں کیوں

کس نے چمن میں بو دیا بیج یہ انتشار کا

 

اوڑھ لی زرد سی خزاں رنگ ردا گلاب نے

’’پر بھی قفس سے جو گرا بلبلِ بے قرار کا‘‘

٭٭٭

 

 

 

رشتے بنا چکے ہیں کئی اس نگر میں ہم

راحت وطن کی یاد کریں کیا سفر میں ہم

 

چہرہ خوشی کا دیکھے زمانہ گزر گیا

گھُٹ گھُٹ کے جی رہے ہیں غموں کے اثر میں ہم

 

ٹھنڈک ملی کچھ ایسی محبت کی آگ میں

جلتے رہے خوشی سے وفا کے شرر میں ہم

 

خود کو بھلائے بیٹھے ہیں ہم تیری یاد میں

تیرے ہی غم کا درد لئے ہیں جگر میں ہم

 

ساتھی کوئی ملا نہ کوئی ہم سفر بنا

ڈھونڈا کئے یہاں سے وہاں دنیا بھر میں ہم

 

یہ راستے ہمیں کہاں لے جائیں کیا خبر

جب کھو چکے ہیں اپنا پتہ رہگزر میں ہم

 

تو زندگی کی راہ میں جب سے ہوا ہے گم

کرتے رہے تلاش تجھے ہر خبر میں ہم

 

اک دوسرے کے بیری ہوئے بھائی بھی جہاں

رہتے ہیں نفرتوں سے بھرے اُس نگر میں ہم

 

ہم بے سبب زمانے سے کیوں کر گلہ کریں

جب طاق ہو سکے نہ کسی بھی ہنر میں ہم

٭٭٭

 

 

 

 

میری جانب تیرا مائل وہ ذرا ہو جانا

جس طرح دہر کی دولت کا عطا ہو جانا

 

نام آتے ہی ترا لَب پہ دُعا ہو جانا

ہو یہ ممکن مرے نالوں کا رَسا ہو جانا

 

میری قسمت میں نہ تھا وعدہ وفا ہو جانا

تھا یہ لازم مرے شکوے کا بجا ہو جانا

 

دلِ بسمل کے تڑپنے کا سبب اتنا ہے

اے مسیحا ترا مجھ سے خفا ہو جانا

 

دل لگانے کی بھلا اور سزا کیا ہو گی

روتے روتے غمِ فُرقت میں فنا ہو جانا

 

تیری بیگانہ روی مار نہ ڈالے مجھ کو

یہ ترا روٹھ کے جانا یوں خفا ہو جانا

 

یہ کرامات کسی اور کو حاصل ہیں کہاں

اک نظر سے ہی مریضوں کو شفا ہو جانا

 

کس طرح لوٹ کے آتا تومری دُ نیا میں

تھا مقدر میں یوں ہی تجھ سے جُدا ہو جانا

 

اب نہ مجنوں کے نہ فرہاد کےِ قصّے چھیڑو

تم کو آتا نہیں اُلفت میں فِد ا ہو جانا

٭٭٭

 

 

 

 

 

زندگی کیسی ملی؟ مجھ سے ہی اُکتائی ہوئی

اس جہاں میں میری ہمدم بس یہ تنہائی ہوئی

 

خوشیاں مجھ سے سدا رہتی ہیں کترائی ہوئی

ہر گھڑی رہتی ہے ماتم کی فضا چھائی ہوئی

 

کل وہاں اپنی تو غیروں سی پذیرائی ہوئی

’’ہائے کیسی اُس بھری محفل میں رسوائی ہوئی‘‘

 

اب توہے تصویر تیری دل میں دھندلائی ہوئی

میں بھلا دوں گی تجھے یہ ہے قسم کھائی ہوئی

 

آس کی جھولی میں نے کب سے ہے پھیلائی ہوئی

اب تلک کیوں نہ مری عرضی کی سُنوائی ہوئی

 

ہے عبادت میں تصنع، اتقا میں ہے ریا

پھر بھلا کس کام کی میری جبیں سائی ہوئی

 

ہو گئی انجانے میں ہی دامِ اُلفت کی اسیر

دل ہوا نادان تو بے بس یہ دانائی ہوئی

 

یوں تو دُنیا نے سبق کتنے ہی پڑھائے مجھے

تجھ کو پڑھ کر ہی مکمل میری پڑھائی ہوئی

 

تجھ سے تھے کتنے گلے اور لب پہ تھے کتنے سوال

سامنے آتے ہی تیرے سلب گویائی ہوئی

 

ہوش کھویا ہے محبت میں، گنوایا ہے قرار

اب تلک تو اس خسارے کی نہ بھر پائی ہوئی

 

پھر ستاروں کے جلو میں آ گیا ماہِ تمام

تو نہیں تو کس لئے یہ بزم آرائی ہوئی

٭٭٭

 

 

ہم بچھڑ جائیں کبھی تو ہمیں سوچا کرنا

حسرتوں سے در و دیوار کو دیکھا کرنا

 

یاد جب آؤں تو ملنے مجھے آیا کرنا

میری تُربت کو گُلابوں سے سجایا کرنا

 

زہر تنہائی کا یوں اشکوں میں گھولا کرنا

تم مری یاد میں چھپ چھپ کے بھی رویا کرنا

 

شکوہ کرنا، نہ کسی اور سے الجھا کرنا

تم مرے بعد فقط خود سے ہی روٹھا کرنا

 

تم ستاروں میں فلک کے ہمیں ڈھونڈا کرنا

اور کبھی چاندنی راتوں میں نہ سویا کرنا

 

بے وفائی کی کبھی مجھ پہ نہ تُہمت دھرنا

جو بھی کہتی رہے دنیا نہیں پروا کرنا

 

اب نہ کرنا کوئی دعوائے محبت ہر گز

’’پھر نہ اس طرح کسی اور کو رُسوا کرنا‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

 

لوٹ کر چین مرا دکھ مجھے انعام کیا

تری چاہت نے صنم بس یہی اکرام کیا

 

دو گھڑی کے ساتھ نے کیسا یہ ہنگام کیا

’’دلِ دیوانہ کو سرگشتہء اوہام کیا‘‘

 

تو بھی چپ بیٹھا رہا ہم بھی رہے مہربہ لب

خامشی میں بولتی نظروں کو پیغام کیا

 

بے طلب ملتے رہے آ کے گلے درد و الم

یوں ہی اس دل کو بھی آسودہء آلام کیا

 

ترے ہی نام سے ہر صبح کا آغاز کیا

تو نے تو میری وفا کو یوں ہی الزام کیا

 

سوکھے پتوں کی طرح روند دیا قدموں تلے

یہ مری بکھری تمناؤں کا انجام کیا

 

واعظوں نے ہمیں برگشتۂ ادیان کیا

دین کو فرسودہ ایمان کو ابہام کیا

 

نئی ایجادات نے انساں کو حیران کیا

سوچ کو سلب کیا ذہن کو بھی خام کیا

 

ڈھال کر نت نئے بُت آزادیِ افکار نے

نئی تہذیب کو گرویدۂ اصنام کیا

٭٭٭

 

 

 

 

 

حسرتیں میری سبھی خواب مٹا دیتے ہیں

سامنے اس کو مرے لا کے بٹھا دیتے ہیں

 

فاصلے کیوں یہ محبت کو گھٹا دیتے ہیں

دور رہ کر وہ مجھے دل سے بھلا دیتے ہیں

 

ایک مجھ کو ہی برا کیوں وہ بنا دیتے ہیں

روز الزام نیا مجھ پہ لگا دیتے ہیں

 

آگ نفرت کی لہو سے جو بجھا دیتے ہیں

تیر پر تیر بھی کھا کر وہ دعا دیتے ہیں

 

عرش تک جاتے ہیں اور تخت ہلا دیتے ہیں

نالے بے کس کے اثر اپنا دکھا دیتے ہیں

 

عدل کے نام پہ زنجیر لگا دیتے ہیں

داعیِ حق کو مگر سولی چڑھا دیتے ہیں

 

اپنی سطوت کے لئے اپنی حکومت کے لئے

جبر اور ظلم سے یوں دھاک بٹھا دیتے ہیں

 

رہزنوں سے اسے پھر کیوں وہ بچا لیتے ہیں

کارواں بر سرِمنزل جو لٹا دیتے ہیں

 

زہر امروز کا پی کر یہ قرینہ آیا

خواہشوں کو یوں تھپکتے ہیں سلا دیتے ہیں

 

اشک اپنے جو کبھی دل میں چھپا لیتے ہیں

ان ہی قطروں کو گہر ہم بھی بنا دیتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

یاد کے زخم اب سلانے ہیں

نقش دل سے سبھی مٹانے ہیں

 

راز دل میں کئی چھپانے ہیں

اشک چھپ کر ہمیں بہانے ہیں

 

اُن سے ملنے کے سو بہانے ہیں

اُن سے کہنے کو سو فسانے ہیں

 

سب کی نظروں میں ہم سیانے ہیں

بس تری چاہ میں دِوانے ہیں

 

ہاں مر ے ہوش تو ٹھکانے ہیں

پھر سے سپنے نئے سجانے ہیں

 

سوجتن ہم نے ہیں کئے لیکن

مِنَتّوں سے بھی وہ نہ مانے ہیں

 

جن کی نسبت سے جانتا ہے جہاں

وہ مجھے اب تلک نہ جانے ہیں

 

جو مر ے درد کو نہ جان سکے

دل کے دُکھڑے اُنہیں سُنانے ہیں

٭٭٭

تشکر: شاعرہ جنہوں نے فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید