FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

موجِ تبسّم

 

 

 

 

                مجید امجد

جمع و ترتیب: فرخ منظور

 

 

 

 

 

موجِ تبسّم

 

ستاروں کو نہ آتا تھا ابھی تک مسکرا اٹھنا

دیے بن کر یوں ایوانِ فلک میں جگمگا اٹھنا

حسیں غنچوں کے رنگیں لب تھے ناواقف تبسم سے

چمن گونجا نہ تھا اب تک عنادل کے ترنم سے

نہ پروانے تھے جلتے شمعِ سوزاں کے شراروں میں

نہ آئی تھی ابھی ہمت یہ ننھے جاں نثاروں میں

ابھی گہوارۂ ابرِ بہاری میں وہ سوتی تھی

نہ بجلی یوں شرر بار اور خرمن سوز ہوتی تھی

نہ اب تک ارتعاشِ نغمہ تھا بربط کے تاروں میں

نہ اب تک گونجنے پائے تھے نغمے نغمہ زاروں میں

نہ اب تک آبشاریں پتھروں سے سر پٹکتی تھیں

نہ اب تک رونے دھونے میں یوں راتیں انکی کٹتی تھیں

سمجھتا تھا نہ دل اب تک نشاط و رنج و کلفت کو

نہ چھیڑا تھا ابھی تک اس نے اپنے سازِ الفت کو

ابھی تیروں کو ترکش ہی میں ڈالے دیوتا کیوپڈ

کھڑا خالی کماں کو تھا سنبھالے دیوتا کیوپڈ

جہاں پر حکمراں تھی ایک ہیبت خیز خاموشی

مصیبت ریز ، خوف آمیز ، ہول انگیز خاموشی

 

یکایک بجلیاں ٹوٹیں فغانِ بزمِ ہستی میں

ہزاروں جاگ اٹھے فتنے اس دنیا کی بستی میں

خموش و پرسکوں عالم میں دوڑی روحِ بیتابی

ہوئی ہر ذرّۂ رقصاں میں پیدا شانِ سیمابی

سمندر کی روانی ہو گئی تبدیل طوفاں میں

پڑا نورس گلوں کے قہقہوں کا غل گلستاں میں

شبستانوں سے رندوں کی صدائے ہاؤ ہُو اٹھی

دبستانوں سے بلبل کی نوائے ہاؤ ہُو اٹھی

پٹکنے لگ گئی سر جوئے کہساری چٹانوں سے

مچل کر بجلیاں ٹوٹیں زمیں پر آسمانوں سے

اٹھایا شور افزا آبشاروں نے رباب اپنا

سنایا گا کے سبزے کو گزشتہ شب کا خواب اپنا

حیاتِ تازہ یوں دوڑی دلوں کی کائناتوں میں

کہ جیسے برق چمکے برشگالی کالی راتوں میں

یمِ ہستی میں کف و نور کا سیلِ رواں آیا

ریاضِ دہر میں اک رنگ و بو کا کارواں آیا

جہاں بس رہ گیا بن کر طلسمِ کیف و سر مستی

نشوں کی ایک دنیا اور کیفیات کی بستی

فلک اک گنبدِ زریں زمیں اک بقعۂ نوریں

یہ ساری کائناتِ شش جہت اک جلوۂ رنگیں

یہ موج بحر امکاں جلوۂ موجِ تبسم ہے

چمک کر جو ترے لب پر فروغ افزائے عالم ہے

تبسم جس کی رنگینی ترے ہونٹوں پہ رقصاں ہے

تبسم آہ جس کا رقص مضرابِ رگِ جاں ہے

 

1932ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

اقبال

 

اقبال ! کیوں نہ تجھ کو کہیں شاعرِ حیات

ہے تیرا قلب محرم اسرارِ کائنات

سرگرمیِ دوام ہے تیرے لئے حیات

میدانِ کارزار ہے تجھ کو یہ کائنات

مشرق تری نظر میں ہے امید کا افق

مغرب تری نگاہ میں ہے غرقِ سئیآت

یورپ کی ساری شوکتیں تیرے لئے سراب

ہنگامۂ تمدنِ افرنگ ، بے ثبات

اسلامیوں کے فلسفے میں دیکھتا ہے تُو

مظلوم کائنات کی واحد رہِ نجات

تیرا کلام جس کو کہ بانگِ درا کہیں

ہی اس کے نقطے نقطے میں قرآن کے نکات

بھولے ہوؤں کو تُو نے دیا درسِ زندگی

زیبا ہے گر کہیں تجھے خضرِ رہِ حیات

سینے میں تیرے عشق کی بیتاب شورشیں

محفل میں تیری قدس کی رقصاں تجلیات

عریاں تری نگاہ میں اسرار کن فکاں

مضمر ترے ضمیر میں تقدیرِ کائنات

 

دنیا کا ایک شاعرِ اعظم کہیں تجھے

اسلام کی کچھار کا ضیغم کہیں تجھے

 

1933ء

٭٭٭

 

 

 

 

ہوائی جہاز کو دیکھ کر

 

یہ تہذیب اور سائنس کی ترقی کا زمانہ ہے

رہے گا یوں بھلا کب تک درندوں کی طرح انساں

یہ علم و دانش و حکمت کا ادنیٰ سا کرشمہ ہے

ہوا میں لگ گیا اڑنے پرندوں کی طرح انساں

 

وہ دیکھو ہیں فضا میں مائل پرواز طیارے

گرجتے ، گھومتے ، گرتے ، سنبھلتے اور چکراتے

فضائے آسماں کی سیر کرنے والے سیّارے

وہ دیکھو جا رہے ہیں گنگناتے ، گونجتے ، گاتے

 

ادھر وہ خوش نصیب اور صاحب اقبال انساں ہیں

جنہیں بخشی گئی ان برق پاروں کی عناں گیری

اُدھر وہ ذوق علم و فن سے مالا مال انساں ہیں

جنہیں سونپی گئی دنیائے حکمت کی جہانگیری

 

اِدھر ہم لوگ ہیں کیفیت فکر و نظر جن کی

جہاں میں قوتِ پرواز سے محروم رہتی ہے

اِدھر ہم لوگ ہیں دنیا میں جن کی مضمحل ہستی

حیاتِ جاوداں کے راز سے محروم رہتی ہے

 

اگر یہ آرزو انساں کے دل میں جلوہ گر ہو گی

کہ چھن جائیں نہ عیش سرمدی کی نزہتیں اُس سے

تو اس کی زندگی تابندہ تر پائندہ تر ہو گی

فقط سعیِ مسلسل سے فقط ذوقِ تجسس سے

 

دسمبر 1934ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

آہ یہ خوش گوار نظارے !

 

ساملی کیا ہے اک پہاڑی ہے

خوبصورت ، بلند اور شاداب

اس کی چیں بر جبیں چٹانوں پر

رقص کرتے ہیں سایہ ہائے سحاب

اس کی خاموش وادیاں ، یعنی

ایک سویا ہوا جہانِ شباب

اس کی سقفِ بلند کے آگے

آسماں ایک سرنگوں محراب

شام کے وقت کوہ کا منظر

جیسے بھولا ہوا طلسمی خواب

جھومتے ، ناچتے ہوئے چشمے

پھوٹتا ، پھیلتا ہوا سیماب

دُوب کی رینگتی ہوئی بیلیں

پتھروں سے پٹے ہوئے تالاب

آہ یہ خوش گوار نظارے

خلد کے شاہکار نظارے

 

چیل کے اف یہ بے شمار درخت

اور یہ ان کی عنبریں بو باس

سنبلیں کونپلوں سے چھنتے ہوئے

یہ نسیمِ شمال کے انفاس

سایہ ہائے دراز کے نیچے

سر نگوں جھاڑیوں کا خوف و ہراس

چیل کی چوٹیوں پہ صبح کے وقت

سبز پتوں کا زر نگار لباس

یہ دھواں جھونپڑوں سے اٹھتا ہوا

کوہ کے اس طرف افق کے پاس

یہ برستی ہوئی گھٹا کا سماں

قلبِ شاعر پہ بارشِ احساس

آہ یہ خوش گوار نظارے

خلد کے شاہکار نظارے

 

مرغزاروں میں تا بحدّ نظر

لطف افزا فضا مہکتی ہوئی

شب کو دہقاں کے تنگ جھونپڑے سے

سرخ سی روشنی جھلکتی ہوئی

ابر میں کوندتی ہوئی بجلی

دامن آتشیں جھٹکتی ہوئی

کوہ کی سر بلند چوٹی سے

اک نئی تازگی ٹپکتی ہوئی

آہ یہ خوش گوار نظارے

خلد کے شاہکار نظارے

 

وادیوں کا ہر ایک خار حقیر

امتدادِ زمانہ کی تصویر

قدسیوں کی ادائے کج نگہی

صبح کے آفتاب کی تنویر

جلوہ ہائے شفق کی عریانی

ایک رنگین خواب کی تعبیر

زمہریری ہوا کے جھونکوں سے

ڈبڈبائی ہوئی سی چشم اثیر

آہ یہ خوش گوار نظارے

خلد کے شاہکار نظارے

 

چاہتا ہوں کہ اپنی ہستی کو

سرمدی کیف میں ڈبو جاؤں

چاہتا ہوں کہ ان فضاؤں کی

وسعتِ بیکراں میں کھو جاؤں

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں میں

جذب ہو جاؤں، جذب ہو جاؤں

آہ یہ خوش گوار نظارے

خلد کے شاہکار نظارے

 

1934ء

٭٭٭

 

 

 

گاؤں

 

یہ تنگ و تار جھونپڑیاں گھاس پھوس کی

اب تک جنہیں ہوا نہ تمدن کی چھو سکی

ان جھونپڑوں سے دور اس پار کھیت کے

یہ جھاڑیوں کے جھنڈ یہ انبار ریت کے

یہ سادگی کے رنگ میں ڈوبا ہوا جہاں

ہنگامۂ جہاں ہے سکوں آشنا جہاں

یہ دوپہر کو کیکروں کی چھاؤں کے تلے

گرمی سے ہانپتی ہوئی بھینسوں کے سلسلے

ریوڑ یہ بھیڑ بکریوں کے اونگھتے ہوئے

جھک کر ہر ایک چیز کی بو سونگھتے ہوئے

یہ آندھیوں کے خوف سے سہمی ہوئی فضا

جنگل کی جھاڑیوں سے سنکتی ہوئی ہوا

یہ شام کے مناظر رنگیں کی خامشی

اور اس میں گونجتی ہوئی جھینگر کی راگنی

بچے غبارِ راہگزر پھانکتے ہوئے

میدان میں مویشیوں کو ہانکتے ہوئے

برفاب کے دفینے اگلتا ہوا کنواں

یہ گھنگھروؤں کی تال پہ چلتا ہوا کنواں

یہ کھیت ، یہ درخت ، یہ شاداب گرد و پیش

سیلابِ رنگ و بو سے یہ سیراب گرد و پیش

مست شباب کھیتیوں کی گلفشانیاں

دو شیزۂ بہار کی اٹھتی جوانیاں

یہ نزہت مظاہرِ قدرت کی جلوہ گہ

ہاں ہاں یہ حسن شاہدِ فطرت کی جلوہ گہ

 

دنیا میں جس کو کہتے ہیں گاؤں یہی تو ہے

طوبیٰ کی شاخ سبز کی چھاؤں یہی تو ہے

 

جولائی 1935ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

حُسن

 

یہ کائنات مرا اک تبسمِ رنگیں

بہارِ خلد مری اک نگاہِ فردوسیں

ہیں جلوہ خیز زمین و زماں مرے دم سے

ہے نور ریز فضائے جہاں مرے دم سے

گھٹا ؟ نہیں یہ مرے گیسوؤں کا پرتو ہے !

ہوا ؟ نہیں مرے جذبات کی تگ و دو ہے !

جمالِ گل ؟ نہیں بے وجہ ہنس پڑا ہوں میں

نسیم صبح ؟ نہیں سانس لے رہا ہوں میں

یہ عشق تو ہے اک احساس بے خودانہ مرا

یہ زندگی تو ہے اک جذبِ والہانہ مرا

 

ظہور کون و مکاں کا سبب ! فقط میں ہوں

نظام سلسلہ روز و شب ! فقط میں ہوں

 

1953ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

غزل

 

 

عشق کی ٹیسیں جو مضرابِ رگِ جاں ہو گئیں

روح کی مدہوش بیداری کا ساماں ہو گئیں

 

پیار کی میٹھی نظر سے تو نے جب دیکھا مجھے

تلخیاں سب زندگی کی لطف ساماں ہو گئیں

 

اب لبِ رنگیں پہ نوریں مسکراہٹ ؟ کیا کہوں

بجلیاں گویا شفق زاروں میں رقصاں ہو گئیں

 

ماجرائے شوق کی بے باکیاں ان پر نثار

ہائے وہ آنکھیں جو ضبطِ غم میں گریاں ہو گئیں

 

چھا گئیں دشواریاں پر میری سہل انگاریاں

مشکلوں کا اک خیال آیا کہ آساں ہو گئیں

 

فروری 1937ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

نَو وارد

 

نازنیں ! اجنبی شہر محبت ہوں میں

میں ترے دیس کے اطوار سے ناواقف ہوں

دیدۂ شوق کی بیباک نگاہوں پہ نہ جا

کیا کروں جرأتِ گفتار سے ناواقف ہوں

چل پڑا ہوں ترے دامن کو پکڑ کر لیکن

اس کٹھن جادۂ پر خار سے ناواقف ہوں

مست ہوں عشرتِ آغاز کی سرمستی میں

میں ابھی عاقبت کار سے ناواقف ہوں

سونگھنی ہے تری زلفوں سے ابھی بوئے جنوں

ابھی دامن کے پھٹے تار سے ناواقف ہوں

دیکھ لوں تجھ کو تو بے ساختہ پیار آتا ہے

پیار آتا ہے مگر پیار سے ناواقف ہوں

دل میں یہ جذبۂ بیدار ہے کیا ؟ تو ہی بتا

میں تو اس جذبۂ بیدار سے ناواقف ہوں

 

اک مسافر ہوں ترے دیس میں آ نکلا ہوں

اور ترے دیس کے اطوار سے ناواقف ہوں

 

ستمبر 1937ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

یہی دنیا ۔۔۔۔۔ ؟

 

عشق پیتا ہے جہاں خوننابہ دل کے ایاغ

آنسوؤں کے تیل سے جلتا ہے الفت کا چراغ

جس جگہ روٹی کے ٹکڑے کو ترستے ہیں مدام

سیم و زر کے دیوتاؤں کے سیہ قسمت غلام

جس جگہ حبِ وطن کے جذبے سے ہو کر تپاں

سولی کی رسی کو ہنس کر چومتے ہیں نوجواں

جس جگہ انسان ہے وہ پیکرِ بے عقل و ہوش

نوچ کر کھاتے ہیں جس کی بوٹیاں مذہب فروش

جس جگہ یوں جمع ہیں تہذیب کے پروردگار

جس طرح سڑتے ہوئے مردار پر مردار خوار

جس جگہ اٹھتی ہے یوں مزدور کے دل سے فغاں

فیکٹری کی چمنیوں سے جس طرح نکلے دھواں

جس جگہ سرما کی ٹھنڈی شب میں ٹھٹھرے ہونٹ سے

چومتی ہے رو کے بیوہ گال سوتے لعل کے

جس جگہ دہقاں کو رنجِ محنت و کوشش ملے

اور نوابوں کے کتوں کو حسیں پوشش ملے

تیرے شاعر کو یقیں آتا نہیں ، رب العلا!

جس پہ تو نازاں ہے اتنا ، وہ یہی دنیا ہے کیا؟

 

دسمبر 1937ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

جوانی کی کہانی

 

نہ چھیڑ اے دل ! جوانی کی کہانی

کسی کی دلستانی کی کہانی

 

وہ سوزِ زندگی افروز کا ذکر !

وہ دردِ جاودانی کی کہانی

 

وہ دکھ کی جاگتی راتوں کا قصہ !

وہ اشکوں کی روانی کی کہانی

 

بہاریں مستیوں کی داستانیں

خماریں سرگرانی کی کہانی

 

مسرّت آشنا غم کا فسانہ

غم آگیں شادمانی کی کہانی

 

وہ ہونٹوں سے لگے جاموں کا قصہ

وہ آتش موج پانی کی کہانی

 

مری آنکھوں میں آنسو جھوم آئے

نہ چھیڑ اے دل جوانی کی کہانی

 

دسمبر 1937ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

شرط

 

تجھ کو یہ ڈر ہے کہ ناموس گہِ عالم میں

عشق کے ہاتھوں نہ ہو جائے تو بدنام کہیں !

آج تک مجھ سے جو شرما کے بھی تو کہہ نہ سکی

وہ ترا راز زمانے میں نہ ہو عام کہیں !

کسی شب ایسا نہ ہو نالۂ بے تاب کیساتھ

تیرے ہونٹوں سے نکل جائے مرا نام کہیں !

روزنِ در سے لگی ، منتظر ، آنکھوں کا حال

جا کے تاروں سے نہ کہہ دے شفقِ شام کہیں !

اس کی پاداش میں ساقیِ فلک چھین نہ لے

مرے ہونٹوں سے ترے ہونٹوں کا یہ جام کہیں

یہ تری شرط وفا ہے کہ وفا کا قصہ

دیکھ ! سن پائے نہ گردش گرِ ایّام کہیں

 

ہاں مری روح پہ مسطور ہے یہ شرط تری

مجھے منظور ہے منظور ہے یہ شرط تری

 

تو یقیں رکھ ، کہ ترے عشق میں جیتے جیتے

عدم آباد کی آغوش میں سو جاؤں گا

ایک دن دل سے جب آوازِ شکست آئے گی

اس کے آہنگِ فنا رقص میں کھو جاؤں گا

موت کے دیو کی آنکھوں سے ٹپکتا ہے جو

جذب اس شعلۂ جاں سوز میں ہو جاؤں گا

 

اور خدا پوچھے گا وہ راز بہ اصرار ترا

اس کے اصرار سے ٹکرائے گا انکار مرا

 

دسمبر 1937ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

لمحاتِ فانی

 

بہشتو ، چاندنی راتیں تمہاری

ہیں رنگیں ، نقرئی ، مخمور ، پیاری

 

مگر وہ رات ، وہ میخانہ ، وہ دَور

وہ صہبائے محبت کا چھلکنا !

وہ ہونٹوں کی بہم پیوستگی ۔۔۔۔۔۔ اور

دلوں کا ہم نوا ہو کر دھڑکنا !

 

بہشتو ، اس شبِ تِیرہ پہ صدقے

رُپہلی ، چاندنی راتیں تمہاری

 

خدائے وقت ! تُو ہے جاودانی

ترا ہر سانس روحِ زندگانی

 

مگر وہ وقت جب تیرہ خلا میں

ستاروں کی نظر گم ہو رہی تھی

اور اس دم میری آغوشِ گنہ میں

قیامت کی جوانی سو رہی تھی

 

خدائے وقت ! اس وقتِ حسیں پر

تصدّق تیری عمرِ جاودانی

 

مارچ 1938ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

نفیرِ عمل

 

آہ کب تک گلۂ شومئ تقدیر کریں

کب تلک ماتمِ ناکامئ تدبیر کریں

کب تلک شیونِ جورِ فلک پیر کریں

کب تلک شکوہ بے مہرئ ایام کریں

 

نوجوانانِ وطن ! آؤ کوئی کام کریں

 

آج برباد خزاں ہے چمنستانِ وطن

آج محروم تجلی ہے شبستانِ وطن

مرکز نالہ و شیون ہے دبستانِ وطن

وقت ہے چارۂ دردِ دل ناکام کریں

 

نوجوانانِ وطن ! آؤ کوئی کام کریں

 

آؤ اجڑی ہوئی بستی کو پھر آباد کریں

آؤ جکڑی ہوئی روحوں کو پھر آزاد کریں

آؤ کچھ پیرویِ مسلکِ فرہاد کریں

یہ نہیں شرطِ وفا بیٹھ کے آرام کریں

 

نوجوانانِ وطن ! آؤ کوئی کام کریں

 

ایک ہنگامہ سا ہے آج جہاں میں برپا

آج بھائی ہے سگے بھائی کے خوں کا پیاسا

آج ڈھونڈے سے نہیں ملتی زمانے میں وفا

آؤ اس جنسِ گراں مایہ کو پھر عام کریں

 

نوجوانانِ وطن ! آؤ کوئی کام کریں

 

جامِ جم سے نہ ڈریں شوکتِ کَے سے نہ ڈریں

حشمت روم سے اور صولت رَے سے نہ ڈریں

ہم جواں ہیں تو یہاں کی کسی شے سے نہ ڈریں

ہم جواں ہیں تو نہ کچھ خدشۂ آلام کریں

 

نوجوانانِ وطن ! آؤ کوئی کام کریں

 

رشتۂ مکر و ریا توڑ بھی دیں ، توڑ بھی دیں

کاسئہ حرص و ہوا پھوڑ بھی دیں ، پھوڑ بھی دیں

اپنی یہ طرفہ ادا چھوڑ بھی دیں ، چھوڑ بھی دیں

آؤ کچھ کام کریں ، کام کریں ، کام کریں

 

نوجوانانِ وطن ! آؤ کوئی کام کریں

 

مئی 1938ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

سرِ بام !

 

لو آ گئی وہ سرِ بام مسکراتی ہوئی

لیے اچٹتی نگاہوں میں اک پیامِ خموش

یہ دھندلی دھندلی فضاؤں میں انعکاسِ شفق

یہ سونا رستہ ، یہ تنہا گلی ، یہ شامِ خموش

گلی کے موڑ پہ اک گھر کی مختصر دیوار

بچھا ہے جس پہ دھندلکوں کا ایک دامِ خموش

یہ چھت کسی کے سلیپر کی چاپ سے واقف

کسی کے گیتوں سے آباد یہ مقامِ خموش

کسی کے ہونٹوں کے اعجاز سے یہ چاروں طرف

تبسموں کے ضیا پاروں کا خرامِ خموش

کسی کے مد بھرے نینوں سے یہ برستا خمار

کسی کی نقرئی باہوں کا یہ سلامِ خموش

منڈیر پر بصد انداز کہنیاں ٹیکے

کھڑی ہوئی ہے کوئی شوخِ لالہ فام خموش

 

لیے اچٹتی نگاہوں میں اک پیامِ خموش

 

جون 1938ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

التماس

 

مری آنکھ میں رتجگوں کی تھکاوٹ

مری منتظر ، راہ پیما نگاہیں

 

مرے شہرِ دل کی طرف جانے والی

گھٹاؤں کے سایوں سے آباد راہیں

 

مری صبحِ تیرہ کی پلکوں پہ آنسو

مری شامِ ویراں کے ہونٹوں پہ آہیں

 

مری آرزوؤں کی معبود ! تجھ سے

فقط اتنا چاہیں ، فقط اتنا چاہیں

 

کہ لٹکا کے اک بار گردن میں میری

چنبیلی کی شاخوں سی لچکیلی باہیں

 

ذرا زلفِ خوش تاب سے کھیلنے دے

جوانی کے اک خواب سے کھیلنے دے

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

قیدی

 

سخت زنجیریں ہیں قیدی ! سخت زنجیریں ہیں یہ

 

ان کو ڈھالا ہے جہنم کی دہکتی آگ میں

انکی کڑیاں موت کے پھنکارتے ناگوں کے بیچ

انکی لڑیاں زندگی کی الجھنوں کے سلسلے

انکی گیرائی کے آگے تیری تدبیریں ہیں ہیچ

 

تیری تدبیریں ؟ عبث سب تیری تدبیریں ہیں یہ

سخت زنجیریں ہیں قیدی ، سخت زنجیریں ہیں یہ

 

بیڑیاں ، قیدی ترے پاؤں میں ہیں تاگے نہیں

دیکھ پاپی ! اپنے سر پر تیز سنگینوں کی چھت

چار سُو لوہے کی سیخوں کی فصیلِ بیکراں

تو ادھر بے دست و پا بے حس و حرکت بے سکت

اور ادھر اس سوچ میں ہیں تیرے ظالم پاسباں

 

دکھ کی کالی کوٹھڑی سے تو کہیں بھاگے نہیں

بیڑیاں ، قیدی ! ترے پاؤں میں ہیں تاگے نہیں

 

ستمبر 1938ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

کون ؟

 

زمانے پہ چھاتی ہیں جب کالی راتیں

مرے دل سے کون آ کے کرتا ہے باتیں ؟

چمکتے ہیں جب جھلملاتے ستارے

مرے من میں کیوں کوندتے ہیں شرارے ؟

اٹھاتی ہے جب کہکشاں چندرگاگر

ابلتا ہے کیوں میرے اشکوں کا ساگر ؟

گزرتے ہیں جب بادلوں کے سفینے

دھڑک اٹھتے ہیں کیوں امیدوں کے سینے ؟

کلی جب ہے شبنم کے جھومر سے سجتی

مری روح میں کس کی بنسی ہے بجتی ؟

گلستاں میں جب پھول کھلتے ہیں ہر سُو

مجھے کس کی زلفوں کی آتی ہے خوشبو ؟

یہ کیا بھید ہے کوئی بے نام ہستی

ہے آباد جس سے مرے من کی بستی

ہر اک لحظہ اک خوشنما روپ دھارے

مری روح سے کر رہی ہے اشارے

 

میں اس شکلِ موہوم کو ڈھونڈتا ہوں

میں اس سرِمکتوم کو ڈھونڈتا ہوں

 

نومبر 1938ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

شاعر

 

میں شاعر ہوں میری جمالیں نگہ میں

ذرا بھی نہیں فرق ذرے میں مہ میں

جہاں ایک تنکا سا ہے میری رَہ میں

 

ہر اک چیز میرے لئے ہے فسانہ

ہر اک دُوب سے سن رہا ہوں ترانہ

مرے فکر کے دام میں ہے زمانہ

 

میں سینے میں داغوں کے دیپک جلائے

میں اشکوں کے تاروں کا بربط اٹھائے

خیالوں میں نغموں کی دنیا بسائے

 

رہِ زیست پر بے خطر جا رہا ہوں

کہاں جا رہا ہوں ، کدھر جا رہا ہوں

نہیں جانتا ہوں ، مگر جا رہا ہوں

 

یہ دنیا یہ بے ربط سی ایک زنجیر

یہ دنیا یہ اک نامکمل سی تصویر

یہ دنیا نہیں میرے خوابوں کی تعبیر

 

میں جب سوچتا ہوں کہ انساں کا انجام

ہے مٹی کے اک گھر کی آغوشِ آرام

تو سینے میں اٹھتا ہے اک دردِ بے نام

 

میں جب دیکھتا ہوں کہ یہ بزمِ فانی

غمِ جاودانی کی ہے اک کہانی

تو چیخ اٹھتی ہے میری باغی جوانی

 

یہ محلوں ، یہ تختوں ، یہ تاجوں کی دنیا

گناہوں میں لتھڑے رواجوں کی دنیا

محبت کے دشمن سماجوں کی دنیا٭

 

یہاں پر کلی دل کی کھلتی نہیں ہے

کوئی چق دریچوں کی ہلتی نہیں ہے

مرے عشق کو بھیک ملتی نہیں ہے

 

اگر میں خدا اس زمانے کا ہوتا

تو عنواں کچھ اور اس فسانے کا ہوتا

عجب لطف دنیا میں آنے کا ہوتا

 

مگر ہائے ظالم زمانے کی رسمیں

ہیں کڑواہٹیں جن کی امرت کے رس میں

نہیں میرے بس میں ، نہیں میرے بس میں

 

مری عمر بیتی چلی جا رہی ہے

دو گھڑیوں کی چھاؤں ڈھلی جا رہی ہے

ذرا سی یہ بتی جلی جا رہی ہے

 

جونہی چاہتی ہے مری روح مدہوش

کہ لائے ذرا لب پہ فریادِ پر جوش

اجل آ کے کہتی ہے خاموش ! خاموش !

 

نومبر 1938ء

 

٭ساحر لدھیانوی کے ایک مشہور گیت کے بعض مصرعے اسی بند سے ماخوذ ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

 

صبحِ نَو

 

اے دوست ! ہو نوید کہ پت جھڑ کی رت گئی

چٹکی ہے میرے باغ میں پہلی نئی کلی

پھر جاگ اٹھی ہیں راگنیاں آبشار کی

پھر جھومتی ہیں تازگیاں سبزہ زار کی

 

پھر بس رہا ہے اک نیا عالم خمار کا

پھر آ رہا ہے لوٹ کے موسم بہار کا

 

اے دوست ! اس سے بڑھ کے نہیں کچھ بھی میرے پاس

یہ پہلا پھول بھیج رہا ہوں میں تیرے پاس

کومل سا ، مسکراتا ہوا ، مشک بار پھول

پروردگارِ عشق کا یہ بے زباں رسول

آتا ہے اک پیام رسانی کے واسطے

بسرے دنوں کی یاد دہانی کے واسطے

اے دوست ایک پھول کی نکہت ہے زندگی

اے دوست ایک سانس کی مہلت ہے زندگی

وہ دیکھ پَو پھٹی ، کٹی رات اضطراب کی

اچھلی خطِ افق سے صراحی شراب کی

 

آ آ یہ صبح نَو ہے غنیمت ، مرے حبیب !

آیا ہے پھر بہار کا موسم ! زہے نصیب !

 

دسمبر 1938ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

ریل کا سفر

( مدّو کی جھنگ )

 

کراچی کو جاتی ہوئی ڈاک گاڑی

دھوئیں کے سمندر میں تیراک گاڑی

مسافت کو یوں طے کیے جا رہی ہے

سفر کو غٹا غٹ پیے جا رہی ہے

یہ چٹیل سے میداں یہ ریتوں کے ٹیلے

ہیں جن پر بچھے دوب کے زرد تیلے

یہ کپاس کی کھیتیوں کی بہاریں

یہ ڈوڈوں کو چنتی ہوئی گل عذاریں

گھنے بن کی پھلواڑیوں کی تگ و دَو

اور ان پر بگولوں کی زلفوں کے پرتو

یہ چھوٹی سی بستی ، یہ ہل اور یہ ہالی

یہ صحرا میں آوارہ ، بھیڑوں کے پالی

یہ حیران بچے یہ خاموش مائیں

یہ گوبر کی چھینٹوں سے لتھڑی قبائیں

یہ نہروں میں بہتا ہوا مست پانی

یہ گنوں کی رت کی سنہری جوانی

یہ اینٹوں کا آوا ، یہ اونٹوں کی ڈاریں

یہ کیکر کے پیڑوں کی لمبی قطاریں

درختوں کے سایوں سے آباد رستے

یہ آزاد راہی ، یہ آزاد رستے

بدلتے چلے جا رہے ہیں نظارے

نئے سے نئے آ رہے ہیں نظارے

یہ صحرا جو نظروں کو برما رہا ہے

مرے ساتھ بھاگا چلا آ رہا ہے

نظر ایک منظر پہ جمتی نہیں ہے

یہ موج آ کے ساحل پہ تھمتی نہیں ہے

کنواں بن میں برباد سا اک پڑا ہے

کسی یادِ رنگیں میں ڈوبا ہوا ہے

بہت دور ادھر ایک محمل دواں ہے

دلہن کوئی میکے کو شاید رواں ہے

کھجوروں کا جھرمٹ نظر آ رہا ہے

پتا رودِ راوی کا بتلا رہا ہے

وہ گاڑی کے پہیوں کی دلدوز آہٹ

وہ اڑتے ہوئے بگلوں کی پھڑ پھڑاہٹ

یہ شام دلآرا یہ پل کا نظارا

نگاہوں سے چھپتا ہوا وہ کنارا

وہ اٹھتا ہوا مرتعش ناتواں سا

بہت دور اک جھونپڑے سے دھواں سا

وہ ویراں سی مسجد ، وہ ٹوٹی سی قبریں

وہ تارا شفق کے گلابی دھوئیں میں

نیا رنگ ہر دم دکھاتے ہیں منظر

نہیں ختم ہونے میں آتے ہیں منظر

ہر اک شے میں حرکت ہے جولانیاں ہیں

ہر اک ذرے میں وجد سامانیاں ہیں

کشش ہے فسوں ہے نہ جانے وہ کیا ہے

جو گاڑی کو کھینچے لیے جا رہا ہے

 

مرا خطۂ نور و رنگ آ گیا ہے

مرا سکھ بھرا دیس جھنگ آ گیا ہے

 

دسمبر 1938ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

یہ سچ ہے

 

یہ سچ ہے اس کی دنیا میں کوئی قیمت نہیں ہوتی

پڑا رہتا ہے جب تک بحر کی آغوش میں موتی

 

یہ سچ ہے پھول جب تک شاخ سے توڑا نہیں جاتا

کسی کے گیسوئے پُر پیچ میں جوڑا نہیں جاتا

 

شراب ناب جب تک بٹ نہیں جاتی کٹوروں میں

جھلک سکتی نہیں ان مد بھری آنکھوں کے ڈوروں میں

 

یہ سچ ہے جب ندی اپنی روانی چھوڑ دیتی ہے

تو اس کے ساز کے تاروں کو فطرت توڑ دیتی ہے

 

یہ سچ ہے اپنے جوہر کھو رہا ہوں دیس میں رہ کر

گزرتی زندگی کو رو رہا ہوں دیس میں رہ کر

 

اسی ماحول تک محدود ہے نغمہ مری نَے کا

فضا کی تنگیوں میں گھٹ رہا ہے دم مری لَے کا

 

مجھے آفاق کی پہنائیاں آواز دیتی ہیں

مجھے دنیا کی بزم آرائیاں آواز دیتی ہیں

 

مگر میں چھوڑ کر یہ دیس پیارا جا نہیں سکتا

بھلا کر میں ان آنکھوں کا اشارا جا نہیں سکتا

 

وہ آنکھیں جن کی اشک افشانیاں جانے نہیں دیتیں

وہ جن کی ملتجی حیرانیاں جانے نہیں دیتیں

 

1938ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

انقلاب

 

مری آنکھوں میں برستے ہوئے آنسو نہ رہے

دل کی دنیا نہ رہی ، درد کے پہلو نہ رہے

آہوں سے روح کی اگنی کی بھبک جاتی رہی

خشک ہونٹوں سے شرابوں کی مہک جاتی رہی

نیند کا چین گیا جاگنے کی بات گئی

نشوں کا دن گیا اور مستیوں کی رات گئی

ذروں کے سینوں میں مہتابوں کی دنیا نہ رہی

قرمزی رنگوں میں گم خوابوں کی دنیا نہ رہی

ڈال رکھا تھا تخیل نے جو رنگیں پردا

رخِ ہستی سے ہے اٹھنے لگا رفتہ رفتہ

اب حقیقت مری آنکھوں کے قریب آتی ہے

نظر اب دنیا کی تصویر مہیب آتی ہے

اب تبسم مجھے غنچوں کا رلا دیتا ہے

دل کے شعلوں کا ہر اک جھونکا ہوا دیتا ہے

حسن کے ناز و ادا جانتا ہوں جانتا ہوں

اس کا سحر اس کا فسوں مانتا ہوں مانتا ہوں

چاند کی قاش سے ماتھے کی صباحت ! سچ ہے

پھول کی طرح حسیں چہرے کی رنگت ! سچ ہے

مست نظروں میں شرابوں کی ملاوٹ ! سچ ہے

سرخ ہونٹوں میں نباتوں کی گھلاوٹ ! سچ ہے

دیکھتی ہیں مگر اب میری نگاہیں کچھ اور !

اب مرے فکر پہ ہیں کھل گئیں راہیں کچھ اور

اب ہر اک شے کی حقیقت پہ گماں رکھتا ہوں

اپنی تخیّل کے قدموں پہ جہاں رکھتا ہوں

دیکھتا ہوں کہ نہیں کچھ بھی یہاں میرے بغیر

خس و خاشاک کا ہے ڈھیر جہاں میرے بغیر

 

حسن اک دھوکا ہے اور عشق بھی خود بھول ہے اک

تتلی کیوں گل پہ گرے تتلی ہی خود پھول ہے اک

 

جنوری 1939ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

یہیں پہ رہنے دے صیّاد ، آشیانہ مرا

 

یہ باغ تیرا ہے یہ پھول تیرے ہیں چن لے

گلوں کے ریشوں سے دام حسیں کوئی بُن لے

ابھی بچھا نہ اسے ، ایک التجا سن لے

 

مرے بغیر اجڑ جائے گا ٹھکانہ مرا

یہیں پہ رہنے دے صیاد ، آشیانہ مرا

 

یہ سچ ہے ، تیرے چمن سے چرایا ہے میں نے

یہ ایک تنکا یہیں سے اٹھایا ہے میں نے

کہ جس پہ اپنا بسیرا بسایا ہے میں نے

 

ترے چمن میں تھا حق اس قدر بھی کیا نہ مرا ؟

یہیں پہ رہنے دے صیاد ، آشیانہ مرا

 

یہیں پہ بیٹھ کے میں چپکے چپکے رو لوں گا

کلی کلی مجھے چھیڑے گی ، میں نہ بولوں گا

نہ گاؤں گا ، میں زباں تک نہ اپنی کھولوں گا

 

تری فضاؤں پہ گر بار ہے ترانہ مرا

یہیں پہ رہنے دے صیاد ، آشیانہ مرا

 

تجھے ہے یاد ؟ یہاں ایک پنچھی رہتا تھا

وہ جس کے نغموں کی رہ میں زمانہ بہتا تھا

یہاں سے جانے لگا وہ تو رو کے کہتا تھا

 

“رفیق ! جاتا ہوں ! پھر جانے کب ہو آنا مرا

ترے سپرد یہ چھوٹا سا آشیانہ مرا”

 

اندھیرے میں کوئی پتہ جو سرسراتا ہے

تو اب بھی راتوں کو دل میرا چونک جاتا ہے

سمجھتا ہوں وہ مرا ہم سرود آتا ہے

 

ہے جس کی ایک امانت یہ آشیانہ مرا

یہ ٹوٹی ٹہنی یہ برباد سا ٹھکانہ مرا

 

کبھی تو آئے گا وہ مژدۂ امید لئے

اک اور جنت گُل پوش کی کلید لئے

اک اور گلشنِ آزاد کی نوید لئے

 

بلا کے نام باندازِ محرمانہ مرا

وہ آ کے سر پر اٹھا لے گا آشیانہ مرا

 

وہ دیکھ! شاخیں ہلی ہیں ۔۔۔۔۔۔ وہ آ رہا ہو گا

حسین کلیاں کھلی ہیں ۔۔۔۔۔۔ وہ آ رہا ہو گا

رتیں رتوں سے ملی ہیں ۔۔۔۔۔۔ وہ آ رہا ہو گا

 

یہیں ، ادھر ہی ، وہ سُکھ سنگتی پرانا مرا

یہیں پہ رہنے دے صیاد ، آشیانہ مرا

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

صبحِ جدائی

 

اب دھندلی پڑتی جاتی ہے تاریکیِ شب ، میں جاتا ہوں

وہ صبح کا تارا ابھرا ، وہ پو پھوٹی ، اب میں جاتا ہوں

 

جاتا ہوں ، اجازت ! جانے دو ، وہ دیکھو اجالے چھانے کو ہیں

سورج کی سنہری کرنوں کے خاموش بلاوے آنے کو ہیں

 

وہ پھولوں کے گجرے جو تم کل شام پرو کر لائی تھیں

وہ کلیاں جن سے تم نے یہ رنگیں سیجیں مہکائی تھیں

 

دیکھو ان باسی کلیوں کی پتی پتی مرجھائی ہے

وہ رات سہانی بیت چکی ، آ پہنچی صبحِ جدائی ہے

 

اب مجھ کو یہاں سے جانا ہے ، پُر شوق نگاہو ! مت روکو

او میرے گلے میں لٹکی ہوئی لچکیلی باہو ! مت روکو

 

ان الجھی الجھی زلفوں میں دل اپنا بسارے جاتا ہوں

ان میٹھی میٹھی نظروں کی یادوں کے سہارے جاتا ہوں

 

جاتا ہوں ، اجازت ! وہ دیکھو غُرفے سے شعاعیں جھلکی ہیں

پگھلے ہوئے سونے کی لہریں مینائے شفق سے چھلکی ہیں

 

کھیتوں میں کسی چرواہے نے بنسی کی تان اڑائی ہے

ایک ایک رسیلی سُر جس کی پیغام سفر کا لائی ہے

 

مجبور ہوں میں ، جانا جو ہوا ۔۔۔۔۔ دل مانے نہ مانے جاتا ہوں

دنیا کی اندھیری گھاٹی میں اب ٹھوکریں کھانے جاتا ہوں

 

اگست 1939ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

 

قیصریت

 

ایک قطرہ سلطنت کی موج کا

اک سپاہی بادشہ کی فوج کا !

دوش پر تیر و کماں باندھے ہوئے

جا رہا تھا رختِ جاں باندھے ہوئے

چوم کر اس کے گلابی گال کو

جاتے دم کہتا تھا اپنے لال کو

“دیکھتی ہے راستہ امی تری

جاؤ بیٹا ! جاؤ ! میں آیا ابھی ”

بچہ مڑ کر چل پڑا ماں کی طرف

اور سپاہی خونی میدان کی طرف

 

 

وہ سپاہی جنگ میں مارا گیا

ڈوب اس کی زیست کا تارا گیا

لاش اسکی جوئے خوں میں بہہ گئی

کشتوں کے پشتوں میں کھو کر رہ گئی

لٹ گیا جب اس کی دلہن کا سہاگ

تھام لی شیطان نے اس کے دل کی باگ

اس نے کر لی ایک اور شادی کہیں

حسن اور خوئے وفا ؟ ممکن نہیں

 

اس سپاہی کا وہ اکلوتا یتیم

آنکھ گریاں ، روح لرزاں ، دل دو نیم

بادشہ کے محل کی چوکھٹ کے پاس

لے کے آیا بھیک کے ٹکڑے کی آس

اس کے ننگے تن پہ کوڑے مار کر

پہرے داروں نے کہا دھتکار کر

کیا ترے مرنے کی باری آ گئی

دیکھ وہ شہ کی سواری آ گئی

وہ مڑا چکرایا اور اوندھا گرا

گھوڑوں کے ٹاپوں تلے روندا گیا

دی رعایا نے صدا ہر سمت سے

“بادشاہِ مہرباں ! زندہ رہے ”

 

جون 1939ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

قیدی دوست

 

میرے قیدی دوست ! تو مغموم سا رہتا ہے کیوں ؟

لگ کے زنداں کی سلاخوں سے کھڑا رہتا ہے کیوں ؟

 

رات دن پتھرائی آنکھوں سے مجھے تکتا ہے تو

بات وہ کیا ہے جو مجھ سے کہہ نہیں سکتا ہے تو

 

تیرے سینے کی نوائے راز کو سنتا ہوں میں

جب تری زنجیر کی آواز کو سنتا ہوں میں

 

لیکن اے ساتھی نہ گھبرا ، مژدہ ہو ، کل رات کو

سنتری دہرا رہے تھے راز کی اس بات کو

 

” حکم آیا ہے کہ اس زنداں میں ہیں جتنے اسیر

جن کے دکھیارے دلوں میں ہیں کھٹکتے غم کے تیر

 

ایک آہن پوش کشتی پر انہیں کر کے سوار

بھیج دو اس بحر کے پُر خوف طوفانوں کے پار ”

 

 

دیکھ ! افق پر صبح کی دھندلاہٹوں کے درمیاں

وہ نظر آیا سفینے کا سنہری بادباں !

 

اب ہماری قید گہ کے قفل کھولے جائیں گے

اس سفینے پر ہر اک بدبخت کو لے جائیں گے

 

اس جگہ اک دوسرے کے متصل بیٹھیں گے ہم

چند گھڑیوں کے لئے آپس میں مل بیٹھیں گے ہم

 

اپنی اپنی داستاں رو رو کے کہہ جائیں گے ہم

چند لمحوں کے لئے نشّوں میں بہ جائیں گے ہم

 

بیڑیوں پر تیری رکھ کے اپنی سیمائے نیاز

میں پڑھوں گا میرے قیدی دوست ! الفت کی نماز

 

اتنے میں کشتی کنارے سے لپٹ جائے گی دوست

اور مرے سجدوں کی عمرِ شوق کٹ جائے گی دوست

 

پھر قدم رکھتے ہی ساحل پر جدا ہو جائیں گے

از سر نو قیدیِ دامِ بلا ہو جائیں گے

 

جون 1939ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

آوارگانِ فطرت سے !

 

(1)

 

بتا بھی مجھ کو ارے ہانپتے ہوئے جھونکے

ارے او سینۂ فطرت کی آہِ آوارہ !

تری نظر نے بھی دیکھا کبھی وہ نظارہ

کہ لے کے اپنے جلو میں ہجوم اشکوں کے

کسی کی یاد جب ایوانِ دل پہ چھا جائے

تو اک خراب محبت کو نیند آ جائے

 

(2)

 

ابد کنار سمندر ! تری حسیں موجیں

الاپتی ہیں شب و روز کیسے بھیانک راگ

بتا کبھی ترے طوفاں بجھا سکے ہیں وہ آگ

جو دفعتاً سلگ اٹھتی ہے دکھ بھرے دل میں

جب ایک بچھڑے ہوئے کا پیام آتا ہے

کسی کا روح کے ہونٹوں پہ نام آتا ہے

 

(3)

 

حسین چاند ! ستاروں کی انجمن کے ایاغ !

بتا کبھی تری کرنوں کے سیمگوں سائے

اک ایسے شہر خموشاں پہ بھی ہیں لہرائے

جہاں پہ ایک ابھاگن نے جب جلا کے چراغ

کسی کی قبر پہ مدھم سی روشنی کی ہو !

تو سونے والے نے بھی جاگ کر صدا دی ہو

 

دسمبر 1939ء

٭٭٭

کمپوزنگ: فرخ منظور

ماخذ: اردو محفل

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید