FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فی ظلال القرآن

قرآن کے سائے میں

 

سورۃ الفاتحہ وسورۃ البقرۃ کی مکمل تفسیر

حصہ چہارم

 

                شہید اسلام سید قطب رحمہ اللہ

ترجمہ:سید معروف شاہ شیرازی

الموحدین ویب سائٹ کی پیشکش

 

 

 

 

 

درس ۱۳ ایک نظر میں

 

 

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کی ہدایات دیں۔ مختلف موضوعات پر قانون وضع کئے گئے ہیں۔ ان ہدایات اور قوانین کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان سے ایک خدائی نظام زندگی وجود میں آتا ہے جو انسان کی پوری زندگی پر حاوی ہے۔ اس راہنمائی اور اس قانون سازی کے درمیان اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک نظام تربیت بھی عطا کر دیا ہے۔ یہ ایک بہترین نظام اصلاح ہے۔ اس لئے کہ اللہ نفس انسانی کی حقیقت کے بارے میں اس کی ظاہری اور خفیہ رسم و راہوں کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہے اللہ تعالیٰ نفس انسانی کے ہر پہلو کو لیتا ہے۔ اور مختلف انسانوں کی ایسی تصویر بناتا ہے، جس کے خدوخال واضح ہوتے ہیں۔ جس میں تمام مطلوبہ خصائص واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ جب انسان الفاظ کی اس تصویر کو آئینہ دماغ میں رکھ کر، انسانوں کی بھیڑ میں ان اوصاف کے حاملین کی تلاش میں نکلتا ہے، تو یوں لگتا ہے کہ گویا وہ لوگ گلیوں اور بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں۔ زمین پر دوڑتے پھرتے ہیں اور ایک انسان انگلی رکھ کر بتا سکتا ہے کہ یہ ہیں وہ لوگ جن کا تذکرہ قرآن نے کیا ہے۔

اس سبق میں انسانوں کی دواقسام کے واضح خدوخال بیان کئے گئے ہیں۔ یہ اقسام عام طور پر انسانوں میں پائی جاتی ہیں۔ پہلی قسم نمائشی، شریر اور زبان دراز لوگوں کی ہے۔ ایسا شخص اپنی ذات کو پوری زندگی کا محور بنا لیتا ہے۔ ایسا شخص بظاہر بہت ہی بھلا معلوم ہوتا ہے، لیکن جب اندرون کھلتا ہے تو گندگی ہی گندگی ہوتی ہے۔ اسے جب اصلاح احوال اور اللہ خوفی کی طرف دعوت دی جائے تو حق کی طرف نہیں آتا۔ اپنی اصلاح نہیں کرتا، اپنے وقار کا خیال اسے گناہ پر جما دیتا ہے۔ اپنے غرور کی وجہ سے وہ سچائی اور بھلائی سے منہ پھیر لیتا ہے وہ کھیتوں کو غارت کرتا ہے اور نسل انسانی کو تباہ کرتا ہے۔

دوسری قسم ان مومنین صادقین کی ہے جو اپنی پوری ہستی کا سودا رضائے الٰہی کے حصول کے عوض کر لیتے ہیں۔ پوری زندگی بیچ دیتے ہیں۔ اس کا کچھ حصہ بھی رہنے نہیں دیتے۔ اپنی سعی اور عمل، اپنی تمام تگ و دو میں، وہ اپنا کوئی حصہ نہیں رکھتے۔ وہ اپنے آپ کو فنا   کر دیتے ہیں اور ہمہ تن اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔

انسانوں کے یہ دو معیاری نمونے پیش کرنے کے بعد اب مسلمانوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ کسی تردد، کسی جھجھک، مطالبہ خوارق و معجزات کے بغیر پورے پورے دین اسلام میں داخل ہو جائیں۔ بنی اسرائیل کی طرح نہ بنیں، جنہوں نے قدم قدم پر خوارق و معجزات کا مطالبہ کیا، اللہ کی اس نعمت یعنی اسلامی نظام زندگی کی نعمت کو چھوڑ کر کفر کا راستہ اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”پوری طرح اسلام میں داخل ہو جاؤ۔ “اشارہ اس طرف ہے کہ اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے اور تمہیں اپنی پوری زندگی کو اس نظام میں ڈھالنا ہے اس نظام پر عمل کرنا ہے۔ (تفصیل آگے آ رہی ہے )

ایمان کی نعمت عظمیٰ اور مسلمانوں پر اس کی امن و آشتی کی چھاؤں کے مقابلے میں، کفار کے غلط نقطۂ نظر کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے۔ یہ لوگ اپنے ناقص تصور زندگی کی وجہ سے مسلمانوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ لیکن بتا دیا جاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک کس کی کیا قدر (Value)ہے۔ “مگر قیامت کے روز پرہیزگار لوگ ہی ان کے مقابلے میں عالی مقام ہوں گے۔ ”

اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ لوگوں کے درمیان اختلاف رائے کس طرح پیدا ہو گیا اور یہ کہ اس کا حل صرف یہ ہے کہ وہ معیار حق کی طرف پلٹیں اور اسے اپنا حاکم تسلیم کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ حق کا یہ معیار اللہ کی کتاب ہے، جو نازل ہی اس لئے کی گئی ہے تاکہ لوگوں کے درمیان حق کے بارے میں جو اختلاف رائے پیدا ہو گیا ہے، اس میں ان کے درمیان فیصلہ کرے۔

اس مناسبت سے بتا دیا جاتا ہے کہ اس معیار حق کتاب اللہ کے حاملین کی راہ میں بے شمار مشکلات ہیں۔ امت مسلمہ کو بتایا جاتا ہے کہ اس کی راہ میں سختیاں ہیں، مصیبتیں ہیں، نہ صرف تمہاری راہ میں بلکہ تاریخ انسانی مین جس جماعت نے بھی اس امانت کا بوجھ اٹھایا، اس کا حال یہی رہا ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو اس بار امت کے اٹھانے کے لئے تیار کرسکے۔ جسے بہرحال اس نے اٹھانا ہے۔ اور تاکہ وہ خوشی خوشی اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے تیار ہو، اطمینان کے ساتھ۔ جب بھی فضا میں خطرات کی آلودگی ہو، جب بھی اسے یہ نظر آتا ہو کہ صبح دور ہے، وہ اللہ کی نصرت کے بارے میں پر امید رہے۔

اس سبق میں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی جماعت کی ٹریننگ اور تربیت کے قانون سازی کے ساتھ ساتھ اسلامی نظم و تربیت بھی سکھایاجا رہا ہے۔ اس تربیت کے مختلف پہلو بیان کئے جاتے ہیں جن کا زمزمہ نہایت خوشگوار اور پر تاثیر ہے اور یہ سب کچھ ان ہدایات و وضع قوانین کے اثنا میں ہو رہا ہے جن سے اسلامی نظام بنتا ہے جو انسان کی پوری زندگی پر حاوی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

درس ۱۳ تشریح آیات (۲۰۴ تا ۲۱۴)

 

“انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں اور اپنی نیک نیتی پروہ بار بار اللہ کو گواہ ٹھہراتا ہے۔ مگر حقیقت میں وہ بدترین دشمن حق ہوتا ہے۔ جب اسے اقتدار حاصل ہوتا ہے، تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھوپ اس لئے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے، کھیتوں کو غارت کرے اور نسلوں کو تباہ کرے۔ حالانکہ اللہ (جسے وہ گواہ بنا رہا ہے )فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو، تو اپنے وقار کا خیال اسے گناہ پر جما دیتا ہے۔ ایسے شخص کے لئے تو بس جہنم ہی کافی ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ دوسری طرف انسانوں ہی میں کوئی ایسا بھی ہے جو رضائے الٰہی کی طلب میں اپنی جان کھپا دیتا ہے اور ایسے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے۔ ” (۲۰۴ تا ۲۱۴)

 

نفس انسانی کے یہ عجیب خدوخال، کسی ماہر فن عکاس کی قلم سے ہیں اور یہ اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ یہ کلام کسی انسان کاکلام نہیں ہے۔ یہ تصویر کسی انسان کی بنائی ہوئی نہیں ہے۔ اس کلام اور اس نفسیاتی عکاسی کا سرچشمہ انسانی دماغ ہرگز نہیں ہے۔ کیونکہ کوئی انسان اس قدر مختصر الفاظ میں، اتنی مختصر عکاسی کے ساتھ، اس طرح انسانی نفسیات کی گہرائیوں تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور نفس انسانی کے ایسے گہرے خدوخال سامنے نہیں لا سکتا۔ جو اس قدر وسیع بھی ہوں اور اس قدر واضح بھی۔

اس کلام کا ہر لفظ تصویر کی ایک لکیر ہے، جو انسان کے کسی خدوخال، کسی خصوصیت کا اظہار کرتی ہے، جلد ہی یہ نقش و نگار چلتے پھرتے زندہ انسانوں کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ جس کی تصویر کھینچی گئی ہے۔ وہ ایک الگ شخصیت بن جاتی ہے، جس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ لاکھوں انسانوں میں سے، اسے الگ کیا جا سکتا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ شخص جس کی مصوری قرآن نے کی ہے۔ الفاظ میں تصویر کشی بھی ایک قسم کی تخلیق ہے جس طرح زندہ چیزیں دست قدرت سے، رات اور دن پیدا ہوتی رہتی ہیں۔

اب یہ زندہ شخصیت ہے۔ گویا بھی ہے اور چلتی پھرتی ہے۔ اور اس کی ذات نیکی کا خلاصہ اور اخلاص کا پتلا ہے۔ محبت ویکسوئی کا نمونہ اور بلند ہمت ہے، بھلائی و نیکی اور طہارت و پاکیزگی کی ایک تڑپ ہے۔ جو اس کے اندر پائی جاتی ہے۔

اور یہ دوسری شخصیت جس کی باتیں بھلی معلوم ہوتی ہیں جو بہت زبان دراز ہے۔ اس کی آواز کڑاکے دار ہے، بات کرتا ہے تو بھلائی، نیکی اور اصلاح کی بات کرتا ہے۔ اپنی نیک نیتی پر اللہ کو گواہ ٹھہراتا ہے تاکہ اس کی بات زیادہ موثر اور واضح ہو۔ اور اس کی یکسوئی اور خلوص میں شبہ نہ ہو، اس سے بظاہر نیکی اور اللہ خوفی کا اظہار ہو، حالانکہ یہ شخص فی الحقیقت اللہ کا بدترین دشمن ہے۔ اس کا نفس کینے اور جھگڑے سے بھر پڑا ہے۔ اس میں محبت اور شرافت کا ہلکا سا پرتو بھی نہیں یہ محبت و بھلائی سے یکسر محروم ہے۔ احسان و ایثار اس میں نام کو نہیں۔

اس شخص کا ظاہر اس کے باطن سے الٹ ہے۔ اس کا عیاں اس کے نمایاں سے دور ہے۔ وہ جھوٹ کو بڑی چابکدستی سے سچ کا رنگ دے سکتا ہے لیکن جب عمل کا میدان آتا ہے تو وہ یہاں عیاں ہو جاتا ہے۔ حقیقت پردے سے باہر آ جاتی ہے اور ا س کا شر وفساد، اور اس کا فتنہ کھل کر سامنے آ جاتا ہے اس کی دشمنی اور کینہ پروری عیاں ہو جاتے ہیں وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الأرْضِ لِيُفْسِدَ فِيہَا وَيُہْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّہُ لا يُحِبُّ الْفَسَادَ”جب اسے اقتدار حاصل ہوتا ہے تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھوپ اسی لئے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے، کھیتوں کا غارت کرے، اور نسل انسانی کوتباہ کرے۔ حالانکہ اللہ فساد کو ہرگز پسندنہیں کرتا۔ ”

جب وہ کسی عملی کام کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کا رجحان شروفساد، سنگدلی اور ظلم کی جانب ہوتا ہے۔ ہر معاملے میں سخت جھگڑالو۔ وہ کھیتوں کو غارت کرتا ہے، کھیتوں کے پھل، سبزیاں اور روئیدگی وسرسبزی چھین لیتا ہے اور نسل انسانی کو بھی برباد کر دیتا ہے۔

وہ ہر قسم کی بھلائی کا دشمن ہے۔ کھیتوں کو غارت کر دیتا ہے۔ پھل اور سبزیاں اور غلے تباہ ہو جاتے ہیں۔ سرسبزی اور شادابی کی جگہ خشکی و ویرانی آبستی ہے۔ اور اس کا غلبہ نسل انسانی کی ہلاکت کا باعث ہوتا ہے۔

زندگی کی ہلاکت سے مراد وہ کینہ و شر اور وہ غدروفساد ہے، جو اس بد اخلاق شخص کے وجود میں پرورش پا رہی تھی لیکن یہ شخص اسے اپنی چرب زبانی اور شیریں کلامی، نیکی کے مظاہرے اور اصلاح و شرافت اور بھلائی و تقویٰ کی نمائش کے ذریعے چھپائے رکھتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا اور ان مفسدین کو بھی پسند نہیں کرتا جو اس کائنات میں فساد پھیلانے کا موجب بنتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے اس قسم کے لوگ ہرگز پوشیدہ نہیں رہ سکتے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ طمع کاری اور یہ پالش کارگر نہیں ہوسکتی، ہاں انسانوں میں کبھی کبھار یہ روغن سازی اور طمع کاری دھوکہ دے سکتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کو اس قسم کے بد اخلاق اور بد فطرت شخص کی ملمع سازی دھوکہ نہیں دے سکتی۔ ہاں عوام الناس جن کے سامنے خفیہ راز نہیں ہوتے اور ظاہر داری انہیں دھوکہ دے سکتی ہے۔ ان کی نظروں میں ضرور اس قسم کے لوگ کسی قدر وقعت رکھتے ہیں۔

سیاق کلام آگے بڑھتا ہے۔ یہی تصور سامنے ہے کچھ لکیریں مزید کھینچی جاتی ہیں اور کچھ نشانات اور واضح ہو کر سامنے آتے ہیں۔ وَإِذَا قِيلَ لَہُ اتَّقِ اللَّہَ أَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالإثْمِ فَحَسْبُہُ جَہَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِہَادُ”جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو اپنے وقار کیا خیال اس کو گناہ پر جما دیتا ہے۔ ایسے شخص کے لئے توبس جہنم کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ ”

جب اسے اقتدار حاصل ہوتا ہے تو وہ زمین میں فساد برپا کرتا ہے، کھیتوں کو غارت کرتا ہے، انسانی نسل کو تباہ کرتا ہے، تباہی و بربادی کا دور دورہ ہوتا ہے۔ ایسے شخص کے سینے میں شروفساد اور کینہ کا جو لاوا پک رہا تھا وہ پھوٹ کر باہر نکل آتا ہے۔ جب اس قسم کا شخص یہ سب کچھ کرنے لگتا ہے اور اسے نصیحت کی خاطر اللہ خوفی کی یاددہانی کے لئے اللہ کے غضب سے بچنے کے لئے اور اس محسن سے حیا کرنے کے لئے صرف یہ کہا جاتا ہے :”اللہ سے ڈرو”(اتق اللہ)تووہ سخت بگڑتا ہے کہ کیوں ا س کے سامنے یہ جرأت کی گئی۔ یہ بات اسے کیوں کہی گئی، یہ تو بری چیز ہے۔ اسے نیکی کی طرف متوجہ کرنے والے ہیں کون؟اس پر اعتراض کرنے والوں کو یہ جرأت کیسے ہوئی۔ کیا یہ لوگ اسے ہدایت دے رہے ہیں چنانچہ اسے اپنے وقار کا خیال، حق پر نہیں، انصاف پر نہیں، بھلائی پر نہیں بلکہ گناہ پر جما دیتا ہے۔ وہ جرم کو عزت سمجھنے لگتا ہے۔ خطا کو صواب سمجھتا ہے۔ گناہ کو نیکی تصور کرتا ہے اور حق کے مقابلے میں اکڑ جاتا ہے۔ گردن فرازی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بڑی ڈھٹائی سے اتراتا ہے۔ حالانکہ پہلے خود اس کی حالت یہ تھی کہ یہ اپنی نیک نیتی پر ہر وقت اللہ کو گواہ ٹھہراتا، اور ہر وقت بھلائی، نیکی، یکسوئی اور حیا چشمی کا مظاہرہ کرتا۔

یہ ایک آخری (Touch)ہے، جس سے اس تصویر کے خدوخال پورے ہو جاتے ہیں۔ یہ واضح تر ہو جاتی ہے اور اس کی کئی اقسام بھی سامنے آ جاتی ہیں۔ یہ تصویر اب زندہ متحرک مثالوں کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ کسی تردد کے بغیر آپ یہ کہہ سکتے ہیں :”وہ ہے !وہ ہے !وہ ہے !جس کی تصویر قرآن مجید نے ان الفاظ میں کھینچی ہے۔ غرض ایسے لوگ تمہیں زندہ اشخاص کی صورت میں ہر دور میں اور ہر جگہ نظر آئیں گے۔ ”

ان صفات کفر پر جم جانے، گناہ کو وطیرہ بنا لینے، حق کے ساتھ دشمنی اختیار کرنے، سنگدلانہ فساد بپا کرنے اور فسق و فجور پھیلانے غرض ان سب صفات کے مقابلے میں اللہ کا صرف ایک ہی تازیانہ آتا ہے۔ تازیانہ عبرت!جو اس قماش کے لوگوں کے لئے موزوں اور ان کے حالات کے مطابق ہے کیا؟ فَحَسْبُہُ جَہَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِہَادُ”ایسے لوگوں کے لئے تو جہنم ہی علاج ہے جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ ”

کافی ہے ان کے بس، کفایت یہ کفایت کرتی ہے، جہنم جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ جہنم جس میں ایسے مفسدین کو الٹا کر کے گرایا جائے گا اور شیطان کا تمام لشکر اس میں الٹا کر کے گرایا جائے گا۔ جہنم جس کی آگ دل کو جلا ڈالے گی۔ جس کی جلن بجلی کی طرح دل سے چیخیں نکال دے گی۔ جہنم جو ہر چیز کو نیست و نابود کر دے گی، جلا کر راکھ کر دے گی۔ جہنم جس کے شعلے خوفناک و غضبناک ہوں گے ……..یہ جہنم ہی اس کا علاج ہے، بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔

غور کیجئے !کس قدر حقارت آمیز تصویر ہے جہنم کی۔ اس حقیر ٹھکانے کی۔ کس قدر بدحال ہو گا وہ شخص جس کا یہ ٹھکانہ ٹھہرے۔ ابھی ابھی دنیا میں یہ شخص اکڑ کر چلتا تھا۔ پھولا ہوا پھرتا تھا اور کبر و غرور کا عالم یہ تھا کہ برائی پر بھی جمن جاتا تھا، لیکن اب کہاں ہے ؟مقام ذلت میں !

یہ تو ہے ایک قسم کے لوگوں کی تصویر۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ دوسرا بھی بھی دیکھئے۔ اس دنیا میں کچھ اچھے لوگ بھی تو ہیں۔ ذرا ان نفوس قدسیہ پر بھی نظر ڈالیں۔ ان کے مقابلے میں وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَہُ ابْتِغَاء َ مَرْضَاۃِ اللَّہِ وَاللَّہُ رَء ُوفٌ بِالْعِبَادِ”دوسری طرف انسانوں ہی میں کوئی ایسا بھی ہے جو رضائے الٰہی کی طلب میں اپنی جان کھپا دیتا ہے اور ایسے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے۔ ”

لفظ یشری کا مفہوم وسیع ہے یعنی فروخت کر دینا اپنی جان کو، پوری جان کو، پوری کی پوری حوالہ کر دیتا ہے۔ اپنے لئے کچھ بھی نہیں چھوڑتا، لیکن اس سودے میں قیمت کیا وصول کرتا ہے ؟صرف رضائے الٰہی کی امید۔ اب اس کا نفس اس کا اپنا نہیں رہا ہے۔ نہ نفس کے بعد اس کے لئے کچھ رہ گیا ہے، بے دھڑک اس نے سب کچھ بیچ ڈالا۔ بے خطر سب کچھ دے دیا اور لیا بھی کچھ نہیں۔ تمام پونجی، تمام وجود بیچ ڈالا، اللہ کو دے دیا۔ غیر اللہ کے لئے نفس کا کوئی حصہ بچا کر نہ رکھا گیا۔

ایک تعبیر یہ بھی ہوسکتی ہے :اس نے اپنے نفس کو بیچا نہیں، بلکہ خریدا ہے۔ اس کا نفس اغراض دنیا وی کا غلام تھا۔ اس نے اسے خرید لیا۔ خرید کر آزاد کر دیا۔ آزاد کر کے اللہ تعالیٰ خالص اللہ کا کر دیا۔ اب اس نفس کے ساتھ کسی کا کوئی حق وابستہ نہیں ہے۔ صرف اللہ کا حق ہے۔ مالک کا حق ہے۔ یہ شخص دنیا کی تمام اغراض، تمام مقاصد کو قربان کر دیتا ہے اور اپنے نفس کو قابض کر کے اللہ کے لئے کر دیتا ہے۔ بعض روایات میں ان آیات کے نزول کا موقعہ بھی بیان کیا گیا ہے۔

ابن کثیر نے لکھا ہے :”ابن عباس رضی اللہ عنہما، انس رضی اللہ عنہ، سعید بن مسیب رحمہ اللہ، ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ اور ایک پوری جماعت صحابہ و تابعین کا کہنا ہے :یہ آیت صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ مکہ مکرمہ میں مشرف بہ اسلام ہوئے ہجرت کی تیاری کرنے لگے۔ لوگوں نے کہا کہ تم اپنی دولت کے ساتھ نہیں جا سکتے۔ اگر جانا ہی چاہتے ہو تو دولت یہاں چھوڑ دو اور انہوں نے ان کی شرائط کے مطابق جان چھڑائی۔ تمام دولت ان کے حوالے کر دی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ان کے حق میں نازل فرمائی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور آپ کے بعض دوسرے رفقاء کی ملاقات ان سے حرہ کے گرد و نواح میں ہوئی۔ انہوں نے اس سے کہا:سودا نفع بخش ہے۔ “انہوں نے کہا:”اچھا آپ لوگ ہیں !اللہ آپ کی تجارت میں کبھی خسارہ نہ کرے۔ معاملہ کیا ہے ؟”انہوں نے انہیں پورا قصہ سنایا اور اطلاع دی کہ تمہارے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے۔

روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان سے کہا :”صہیب نے اس سودے میں بہت ہی نفع کمایا ہے۔ ”

ابن مردویہ رحمہ اللہ نے محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ، محمد بن عبداللہ رحمہ اللہ، سلیمان بن داؤد، جعفر بن ابی سلیمان ضبی، عوف رحمہ اللہ، اور ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ کے واسطوں سے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے۔ فرماتے ہیں :”جب میں نے مکہ مکرمہ سے رسول اللہﷺ کی طرف ہجرت کا ارادہ کریا تو مجھے اہل قریش نے کہا صہیب !جب تم آئے تھے تو تمہارے پاس ایک کوڑی نہ تھی، اب تم جاتے ہو تو مال کے ساتھ۔ یہ نہ ہوسکے گا۔ میں نے ان سے کہا :اگر میں اپنی دولت تمہارے لئے چھوڑ دوں تو کیا تم مجھے جانے دو گے ؟انہوں نے کہا:”بڑی خوشی سے۔ “میں نے اپنی دولت ان کے حوالے کر دی انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ میں نکل پڑا۔ مدینہ پہنچا۔ اس ماجرا کی اطلاع رسولﷺ نے پائی تو آپ نے فرمایا:”صہیب خوب کمایا صہیب خوب کمایا۔ “دو مرتبہ آپ نے فرمایا۔

چاہے آیت اس واقعے میں نازل ہوئی ہو یا اس واقعے پر رسولﷺ اور صحابہ نے اسے منطبق پایا۔ لیکن ا س کا مفہوم ایک حادثہ ایک فرد کے مقابلے میں بہت ہی وسیع ہے۔ یہ تو ایک نفس کی نفسیاتی کیفیت کی ایک تصویر ہے۔ اس میں لوگوں کی ایک قسم کے خدوخال بتائے گئے ہیں۔ اس کی مثالیں جگہ جگہ ملتی ہیں، دیکھی جا سکتی ہیں۔

یہ دو فیچر ہیں، دو تصاویر ہیں، پہلی تصویر ہر شخص پر منطبق ہوتی ہے جس میں دو رنگی ہو، نمائش ہو۔ چرب زبان ہو، سنگ دل ہو، شریف النفس ہو، سخت جھگڑالو ہو اور اس کی فطرت فاسدہ ہو چکی ہو ……..دوسری تصویر ہر اس شخص کی ہے جو مومن ہو۔ خالص الایمان ہو، اللہ کے لئے یکسو ہو، اس نے اغراض دنیا کو خیر باد کہہ دیا ہو۔ یہ دونوں انسانوں کے دو معروف نمونے ہیں۔ تخلیق قلم سے ان کی یہ عجیب معجزانہ تصاویر ہیں۔ لوگوں کے سامنے ان دونوں تصاویر کی نمائش ہو رہی ہے۔ لوگ ایک طرف قرآن کے اعجاز بیان پر غور کرتے ہیں اور دوسری طرف اس پر حیران ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس اعجاز سے انسانوں میں فرق کیا ہے۔ ایک ہی انسان ہے مگر مومن اور وہی انسان ہے، مگر منافق۔ ایک ہی شکل مگر ذائقہ جدا ……..لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ میٹھی میٹھی باتوں سے دھوکہ نہ کھاؤ، محض چرب زبانی کی وجہ سے کسی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کر لو، میٹھی میٹھی ذائقہ دار باتوں کے پیچھے حقیقت بھی تلاش کرو۔ نیز الفاظ اور بناوٹی لفاظی، خوش ذائقہ ریاکاری کے پس منظر میں معنی بھی دیکھو اور ساتھ ہی ساتھ بتا دیا کہ ایمانی قدریں کیا ہیں ؟

دو تصاویر آئل پینٹنگ (Oil Painting)کی دو چادریں، ایک بدکار منافقت کا نمونہ اور دوسری خالص ایمان کا نمونہ۔ ان کو سامنے رکھ کر، ان کے سائے میں رک کر، تحریک اسلامی کو پکارا جاتا ہے۔ اہل ایمان کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس نام سے جو ان کا جانا پہچانا ہے ایمان والو!پورے کے پورے اسلام میں آ جاؤ!شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو !ہوشیار ہو جاؤ!اس بین خطاب کے بعد بھی کہیں پائے خیال پھسل نہ پڑے۔

 

“اے ایمان لانے والو!تم پورے کے پورے اسلام میں آ جاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ جو صاف صاف ہدایات تمہارے پاس آ چکی ہیں۔ اگر ان کو پا لینے کے بعد بھی تم نے لغزش کھائی، تو خوب جان رکھو کہ اللہ تم سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے۔ ” (٢٠٨،٢٠٩)

 

اہل ایمان کو بلایا جاتا ہے ایمان کے لقب کے ساتھ جو انہیں بہت ہی پیاری ہے، جو انہیں امتیاز بخشتی ہے۔ انہوں اوروں سے ممتاز بناتی ہے۔ جو ان کے اور ان کے پکارنے والے، ان کے اپنے رب کے درمیان واحد رابطہ ہے۔ اہل ایمان کو پکار کر دعوت دی جاتی ہے کہ پورے پورے اسلام میں آ جاؤ!

اس دعوت کا پہلا اور ابتدائی مفہوم یہ ہے کہ اہل ایمان کلیتاً اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں۔ اور ان کا پورا وجود، اپنے چھوٹے اور بڑے سے بڑے معاملے میں، اللہ کے لئے ہو جائے۔ ان کے تصور اور ان کے شعور، ان کی نیت اور ان کے عمل، ان کی خواہش اور ان کی قناعت کا کوئی حصہ بھی آزاد نہ رہ جائے۔ وہ پورے کے پورے اسلام میں آ جائیں۔ پورے کے پورے اللہ کے تابع ہو جائیں۔ اور ہر معاملے میں اللہ کے ہوں اور اللہ کے فیصلے پر راضی ہوں۔ وہ اپنی لگام اس ہاتھ میں، مکمل یقین و اطمینان کے ساتھ تھما دیں جو ان کی قیادت کر رہا ہے۔ اور انہیں پورا یقین ہو کہ ان کا قائد بھلائی خیر خواہی اور صحیح راہنمائی کے سوا کچھ بھی نہیں چاہتا۔ وہ اطمینان کر لیں کہ جس راہ پر وہ گامزن ہیں، جس منزل کی طرف وہ رواں دواں ہیں وہی حق ہے اور اسی میں دنیا و آخرت کی فلاح ہے۔

اس مرحلے پر، اہل ایمان کو مکمل تسلیم کی دعوت دینے سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ ابھی تک مسلمانوں کی صفوں میں ایسے لوگ پائے جاتے تھے جن کے دلوں میں تردد تھا، خلجان تھا جو ابھی تک اس بات پر مطمئن نہ تھے کہ انہوں نے ظاہراً اور باطناً ہر طرح سے پوری پوری اطاعت کرنی ہے۔ اور یہ کوئی اچنبھے کی بات بھی نہیں ہے۔ تحریکات میں ایک طرف اگر مطمئن، پختہ کار اور مطیع فرمان لوگ ہوتے ہیں، تو ساتھ ساتھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن میں کمزوریاں ہوتی ہیں۔ یہ پکار اور یہ دعوت ایسی ہے جو ہر وقت اہل ایمان کو دی جاتی رہے گی کہ وہ مخلص ہو جائیں، یکسو ہو جائیں۔ ان کے دل کی دھڑکنیں، ان کے شعور اور میلانات اللہ کے حکم اور اللہ کے ارادے سے ہم آہنگ ہو جائیں۔ وہ اللہ کے ہو جائیں جو انہیں ان کے نبی اور ان کے اپنے نظام کی طرف لے جاتا ہے، بغیر کسی ترد د، بغیر کسی خلجان کے اور پوری یکسوئی کے ساتھ۔

اور ایک مومن جب اس دعوت کو قبول کرتا ہے، شرح صدر کے ساتھ اور پورے طور پر، تو وہ ایک ایسی دنیا میں قدم رکھتا ہے، جو امن کی دنیا ہے، جو سلامتی کی دنیا ہے۔ وہ ایک ایسے جہاں میں داخل ہو جاتا ہے جو اطمینان کا جہاں ہے۔ جو رضا اور سکون کا جہاں ہے، وہ ایک ایسے عالم میں جا پہنچتا ہے جس میں نہ حیرانی ہے نہ پریشانی، جس میں فساد ہے نہ گمراہی جہاں ہر شخص اور ہر ذی روح کے ساتھ بن پڑتی ہے۔ جہاں وجود اور موجودات کے ساتھ ہم آہنگی ہوتی ہے۔ جہاں نفس انسانی کے خفیہ ترین اور پوشیدہ ترین گوشوں میں بھی سکون ہے اور انسان کی ظاہری اور اجتماعی زندگی میں سکون ہے۔ ایسا عالم، جس کی زمین میں امن وسکون اور جس کے ایمان پر بھی اطمینان و قرار۔

اس سلامتی کا قلب مومن پر پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ اسے اپنے اللہ اور اپنے رب کے بارے میں ایک صحیح تصور ملتا ہے۔ یہ تصور خالص بھی ہے اور ستھرابھی۔ یہ کہ وہ واحد معبود ہے صرف اسی کی طرف مومن متوجہ ہوتا ہے اور وہی اس کا قبلہ ہوتا ہے۔ پھر اس پر مومن مستقلاً جم جاتا ہے اس کا دل مطمئن ہو جاتا ہے۔ نہ اب مختلف راستے رہتے ہیں نہ مختلف قبلے رہتے ہیں۔ اب وہ حالت نہیں رہی وہ نہایت ہی اطمینان، نہایت ہی وثوق اور نہایت صحت اور نہایت صفائی کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے۔

وہ ایک ایسا آلہ ہے جو عزیز اور طاقتور ہے، جو غالب اور قادر ہے۔ جب مومن اس کی طرف پھرتا ہے تو وہ سچائی کی ایک زبردست قوت کی طرف پھرتا ہے، جو اس کائنات کی واحد قوت ہے۔ اب یہ اطمینان واستراحت کی زندگی بسر کرے گا اور اسے کسی جھوٹی قوت کا کوئی ڈر نہ ہو گا۔ وہ کسی چیز سے خوف نہ کھائے گا وہ ایسے معبود کی بندگی کرے گا جو عزیز اور طاقتور ہے۔ جو غالب اور صاحب قدرت ہے۔ اس لئے اب اسے کسی چیز کی محرومی کا کوئی خوف نہ ہو گا۔ نہ وہ ایسی طاقتوں سے خوف کھائے گا نہ ایسی طاقتوں سے توقع کرے گا جن کے پاس نہ دینے کی طاقت ہے اور نہ محروم کرنے کی قوت ہے۔

وہ ایک عادل اور حکیم الٰہ ہے۔ اس کی قوت اور اس کی قدرت ہی مظالم کے خلاف ضمانت ہے۔ خواہشات نفسانیہ کے خلاف ضمانت ہے، کھوٹ کے خلاف ضمانت ہے۔ وہ جاہلیت کے بتوں جیسا معبود نہیں ہے۔ جن کے تصور کے ساتھ سفلی جذبات اور شہوات کا تصور لازم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک شخص اسلام میں داخل ہوتا ہے تو وہ باطل معبودوں کو چھوڑ کر ایک مضبوط ذات کا سہارا لیتا ہے۔ جہاں سے انصاف ملتا ہے، امن ملتا ہے اور خصوصی رعایت و اکرام حاصل ہوتا ہے۔

وہ ایک ایسا رب ہے جو نہایت مہربان ہے۔ نہایت مشفق ہے، منعم ہے۔ وہاب ہے، گناہ معاف کرنے والا، توبہ قبول کرنے والا ہے۔ وہ مصیبت زدہ کی پکار کو سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔ اس کی مصیبت کو دور کرتا ہے، لہٰذا ایک مسلمان اس کے سایہ عطوفت میں مانوس و مامون ہوتا ہے۔ سلامتی میں اور بہرہ مندی میں ہوتا ہے۔ اگر ضعیف ہو جائے تو اس پر رحم ہوتا ہے۔ اگر تائب ہو جائے تو معاف کر دیا جاتا ہے۔

اسلام میں آنے کے بعد ایک مومن کو اسلام سب سے پہلے اپنے اس رب کی صفات سے روشناس کراتا ہے۔ مومن ان صفات کا مطالعہ کرتا جاتا ہے۔ اس صفت میں اسے ایسا مفہوم ملتا ہے جس سے اس کا دل مانوس ہوتا جاتا ہے۔ اس کی روح مطمئن ہوتی چلی جاتی ہے اور اسے اپنے اس معبود کی طرف سے حمایت، بچاؤ، مہربانی، رحمت، عزت، شرافت وسکون اور امن کی گارنٹی ملتی ہے۔

سلامتی کے جس نظام میں یہ مومن داخل ہوتا ہے، اس سے اسے بندے اور خدا کے مابین تعلق کے بارے میں صحیح تصور ملتا ہے۔ نیز یہ اللہ اور بندے کے تعلق، اس کائنات کے ساتھ انسان کے تعلق کے بارے میں صحیح فکر دیتا ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے سچائی کے ساتھ اس کائنات کی تخلیق کی۔ اس کائنات میں پھر اس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ پورا پورا پیدا کیا۔ پھر اس نے اس کائنات میں انسان کو ایک حکمت کے تحت پیدا کیا۔ اس لئے اسے یوں ہی آزاد نہ چھوڑ دیا جائے گا۔ اللہ نے تمام کائناتی ماحول کو ایسا بنایا ہے کہ یہ سب کا سب اور اس کی ہر چیز انسانوں کے لئے ممد حیات ہے۔ پھر زمین کے اندر جتنی چیزیں ہیں ان پر انسان کا اقتدار قائم کیا۔ اللہ کے نزدیک بھی انسان بڑی ذی شرف مخلوق ہے۔ اس زمین پر وہ اللہ کا خلیفہ اور نائب ہے۔ اس منصب خلافت کے چلانے میں خود اللہ اس کا مددگار ہے۔ اور پھر اس انسان کے اردگرد پھیلی ہوئی یہ کائنات بھی اس کی ہمدم ہے، ا س کے ساتھ مانوس ہے۔ کائنات کی روح انسان کی روح سے ہم آہنگ ہے۔ یہ کائنات بھی اللہ کی تسبیح کرتی ہے اور انسان بھی اس کی تمجید کرتا ہے۔ کائنات کیا ہے بلکہ ارض وسماوات میں ایک میلہ ہے جو قادر مطلق نے اس انسان کی فرحت طبع کے لئے قائم کیا ہے اور اسے دعوت دی ہے کہ وہ اس میلے میں شریک ہو۔ اس کے خلا کو بھر دے اور اس کے ساتھ مانوس ہو جائے۔ اسے کہا گیا ہے کہ وہ اس کائنات عظیم کی ہر چیز کے ساتھ محبت کرے، اس کے ہر انداز کے ساتھ پیار کرے، اس کائنات میں تو بے شمار ہمدم ہیں اور وہ بھی خصوصی دعوت پر اس میلے میں وارد ہیں، اس کے ہر انداز کے ساتھ پیار کرے، اس کائنات میں تو بے شمار ہمدم ہیں اور وہ بھی خصوصی دعوت پر اس میلے میں وارد ہیں، غرض کائنات کی سب چیزیں بے جان یا زندہ سب کی سب اس جشن نو بہاراں کے ارکان ہیں اور پیار کے مستحق ہیں۔

آشتی کا یہ نظام مسلمان کو ایک نظریۂ حیات عطا کرتا ہے۔ اس نظریہ کے ساتھ وہ اگر ایک حقیر پودے کو دیکھتا ہے، جسے پانی کی ضرورت ہے اور پھر اسے سیراب کر دیتا ہے، اس کی نشوونما میں معاون ہوتا ہے، اس کی راہ میں حائل مشکلات کو دور کرتا ہے، تو اس نظریۂ حیات کے مطابق محض اس فعل پر بھی وہ ماجور ہو گا۔ کیا حسین نظریہ ہے !کیا ہی قیمتی نظریہ ہے !جو ایک ماننے والے کی روح کو امن سے بھر دیتا ہے۔ وہ اس پوری کائنات کا ہمدم بن جاتا ہے اور ہر موجود کو گلے لگاتا ہے۔ وہ اس طرح بن جاتا ہے کہ ایک قمقمے کی طرح اپنی ہر طرف امن وسلامتی اور رفق و محبت کی ضو پاشی کرتا رہتا ہے۔

پھر اس نظام میں عقیدہ آخرت ہے۔ مومن کی روح اور مومن کی دنیا میں یہ عقیدہ بہت اہم رول ادا کرتا ہے۔ اس پر سلامتی کا فیضان ہو جاتا ہے۔ اس کی زندگی سے ہر قسم کی بے چینی، پریشانی، مایوسی اور جھنجھلاہٹ دور ہو جاتی ہے۔ کیونکہ حساب و کتاب اس دنیا ہی میں ختم نہیں ہو جاتا، ضروری نہیں ہے کہ پوری پوری چیز اس دنیا میں چکا دی جائے۔ اصل حساب و کتاب تو عادل مطلق کی عدالت میں ہو گا۔ اس لئے اگر وہ بھلائی کرتا ہے، اللہ کی راہ میں جدوجہد کرتا ہے اور اس دنیا میں کامیاب نہیں ہوتا اور اسے اس کا کوئی صلہ نہیں ملتا تو اسے کوئی ندامت نہیں ہوتی۔ اسے اس پر کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی کہ اس دنیا میں، دنیا والوں کے معیاروں کے مطابق، اسے کوئی صلہ نہیں ملا، نہیں ملا تو نہ ملے۔ عنقریب اسے اللہ کی میزان کے مطابق مل جائے گا اور پورا پورا۔ جب اس دنیا میں حقوق کی غیر منصفانہ تقسیم ہوتی ہے۔ اس کے منشاء کے خلاف تقسیم ہوتی ہے تو وہ “عدل”کے معاملے میں مایوس نہیں ہوتا، عدالت تو لازماً لگنے والی ہے۔ جس کا افسر رب العباد ہے، جو اپنے عباد پر ظلم و زیادتی کا ارادہ ہی نہیں کرتا چہ جائیکہ ظلم کرے۔

اس دنیا میں ایک مجنونانہ کشمکش برپا ہے۔ اس کشمکش میں بالعموم بلند اقدار پامال ہو رہی ہیں، آبروئیں لٹ رہی ہیں۔ بے شرمی اور بے حیائی سے حقوق پامال ہوتے ہیں، لیکن مومن سلامتی و آشتی کے اس نظام حیات میں داخل ہونے والا مومن اس سے دور رہتا ہے۔ یہ عقیدہ آخرت ہی ہے، جو اسے گندگی سے دور رکھتا ہے، وہ تو آخرت پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔ وہاں داد و دہش ہے، وہاں تلافی مافات ہے۔ وہاں عطا و غنا ہے۔ یہ دنیا باہمی مسابقت کا ایک میدان ہے۔ باہمی حسد و منافقت کی ایک جنگاہ ہے۔

زندگی کا یہ تصور قلب مومن پر سکون وسلامتی اور صبر و قناعت کی بارش کر دیتا ہے۔ جب وہ اس دوڑ میں حصہ لینے والوں کی حرکات کو دیکھتا ہے تو اسے یہ بھلی معلوم نہیں ہوتیں۔ انسان میں قدرتاً یہ شعور ہوتا ہے کہ زندگی مختصر ہے۔ فرصت کے لمحات تھوڑے ہیں۔ زندگی کی اس دوڑ میں پھر یہ شعور شدید سے شدید تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ لیکن اسلامی نظریۂ حیات کا عقیدہ آخرت پیاس کی اس شدت کو کم کر دیتا ہے۔

پھر امن و آشتی کے اس نظام میں، انسان کو وجود میں لانے کی غرض و غایت اور اس کا مقصد تخلیق اللہ کی بندگی اور اللہ کی غلامی کو قرار دیا جاتا ہے۔ وہ پیدا ہی اس لئے ہوا ہے کہ اللہ کی غلامی کرے، حقیقت یہ ہے کہ اس طرح، یہ انسان کی ایک بلند اور روشن افق پر ایک بلند ستارہ بن جاتا ہے۔ اس کا خمیر اور اس کا شعور بلند ہو جاتے ہیں۔ اس کے اعمال اور اس کی سرگرمیاں بلند ہو جاتی ہیں۔ اس کے وسائل اور اس کے ذرائع پاک ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے تمام اعمال اور تمام سرگرمیوں میں اللہ کا غلام بن جاتا ہے۔ اس کا کمانا اور ا س کا خرچ کرنا بھی عبادت بن جاتے ہیں۔ وہ دنیا میں منصب خلافت حاصل کرتا ہے اور یہاں اسلامی نظام زندگی قائم کرتا ہے تو بھی عبادت کرتا ہے۔ بندگی، عبادت اور غلامی کے اس تصور کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک مسلم نہ غدار ہوتا ہے نہ بدکار، وہ نہ فریب کار ہوتا ہے نہ دھوکہ باز، نہ ظالم ہوتا اور نہ جبار، وہ حصول مقصد کے لئے ناپاک ذرائع کام میں نہیں لاتا، نہ وہ خسیسانہ وسائل سے کام لیتا ہے۔ وہ منزل تک پہنچنے کے لئے بے تاب بھی نہیں ہوتا۔ وہ عجلت اور جلد بازی نہیں کرتا اور وہ اپنے آپ کو دنیاوی مشکلات میں نہیں پھنساتا۔ وہ خالص نیت کے ساتھ، مسلسل عمل کے ساتھ، اپنی طاقت کے حدود میں رہتے ہوئے، اپنے نصب العین کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی خوف اور کوئی لالچ اس کے نفس پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ زندگی کے اس سفر کے مختلف مراحل میں کسی مرحلے میں بھی وہ بے چین نہیں ہو جاتا۔ اس لئے کہ ہر قدم پر وہ اللہ کی عبادت میں ہوتا ہے۔ ۔ وہ ہر خطرے کو انگیز کرتا ہے۔ اس لئے کہ وہی اس کا مقصد تخلیق ہے۔ غرض وہ ہر سرگرمی اور ہر میدان میں بلندیوں کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اپنے اللہ رب العالمین اور اپنے خالق کی سمت میں۔ مومن کا یہ شعور کہ وہ اللہ کی تقدیر کا ہمدم ہے۔ شاہراہ تقدیر پر گامزن ہے۔ وہ اللہ کی بندگی میں ہے، وہ ارادۂ الٰہی کا مظہر ہے، اس کی روح پر طمانیت کی بارش کر دیتا ہے۔ اس کا پیمانہ دل سکون و قرار سے لبریز ہو جاتا ہے۔ کسی تحیر کے بغیر، کسی بے چینی کے بغیر، کسی جھنجھلاہٹ کے بغیر اور مصائب و مشکلات کو خاطر میں لائے بغیر اپنے نشان منزل کی طرف رواں دواں ہوتا ہے۔ وہ اللہ کی اعانت اور نصرت سے مایوس نہیں ہوتا۔ اسے یہ خوف بھی نہیں رہتا کہ اس کا نصب العین نظروں سے اوجھل ہو جائے گا یا اس کا اجر ضائع ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے ساتھ، اللہ کے دشمنوں کے ساتھ برسر جنگ بھی ہوتا ہے لیکن اس کی روح میں ٹھہراؤ اور سکون ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ نہ جاہ و منصب کے لڑ رہا ہوتا ہے، نہ دولت اور غنیمت کے لڑتا ہے اور نہ اغراض دنیا میں سے کسی غرض کے لئے برسر پیکار ہے۔

قلب مومن یہ شعور لئے ہوئے ہے کہ وہ اس پوری کائنات میں سنت اللہ کا ہمقدم ہے۔ اس کا قانون قانون فطرت ہے۔ اس کا رخ اسی سمت ہے جو فطرت کائنات کی سمت ہے۔ پس اس کے اور اقوائے فطرت کے درمیان کوئی تصادم نہیں، حقائق فطرت کے ساتھ اس کی کوئی لڑائی نہیں۔ اس لئے مومن کی فطری قوتیں اور اس کائنات کی قوتیں ہم آہنگ ہو جاتی ہیں۔ ان کے درمیان ٹکراؤ کے نتیجے میں یہ قوتیں بکھر نہیں جاتیں۔ منتشر نہیں ہو جاتیں بلکہ اس کائنات کی تمام قوتیں ایک مسلمان کی قوتوں کے ساتھ آ ملتی ہیں۔ یہ قوتیں بھی اسی روشنی کے ساتھ منزل تلاش کرتی ہیں جس کے ساتھ مرد مومن تلاش کرتا ہے۔ غرض کائنات کی تمام قوتیں اللہ کی سمت میں رواں دواں ہیں اور مرد مومن بھی اسی طرف رواں دواں ہے۔

اسلام نے، مسلمانوں کے لئے جو فرائض مقرر کئے ہیں وہ فطری ہیں۔ فطرت کی تصحیح کے لئے ہیں۔ سب کے سب انسانی طاقت کے حدود میں ہیں۔ ان میں انسان کے مزاج اور ا س کے عناصر تکوینی کا پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔ اسلام انسان کی قوتوں میں سے کسی قوت کو بھی مہمل نہیں رہنے دیتا، ہر قوت کام میں لگی ہوئی ہے۔ نشوونما اور تعمیر و ترقی میں اپنا پارٹ ادا کر رہی ہوتی ہے۔ وہ انسان کی روحانی اور جسمانی ضروریات میں سے کسی کو نظرانداز نہیں کرتا، بلکہ وہ بڑی آسانی، بڑی نرمی، بڑی فراخ دلی کے ساتھ انسان کے تمام دواعی فطرت کو پورا کرتا ہے۔ اس لئے ان عبادات پر عمل پیرا ہوتے وقت اسے کوئی پریشانی نہیں ہوتی، بے چینی کا مقابلہ نہیں کرنا ہوتا۔ وہ ان عبادات و فرائض پر اپنی طاقت و قدرت کے مطابق عمل پیرا ہوتا ہے۔ اور بڑی طمانیت قلب کے ساتھ، بڑے روحانی سکون کے ساتھ مسلسل اپنی منزل طے کرتا چلا جاتا ہے۔ کدھر ؟اپنے خالق معبود کی طرف۔

اسلام، یعنی ربانی نظام زندگی جس معاشرے کو جنم دیتا ہے، وہ معاشرہ بھی امن وسلامتی کا مینار ہے۔ یہ مینار ایک اونچے مقام سے مسلسل امن و آشتی کی ضو پاشی کر رہا ہے۔ یہ معاشرہ اس نظام کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ جس کی کونپلیں اس قیمتی اور حسین نظریۂ حیات کے شجر سے پھوٹتی ہیں جو قلب مومن میں جاگزیں ہے، یہ معاشرہ حفظ نفس، حفظ آبرو اور حفظ مال کی خدائی تحفظات (Guaranties)کے سائے میں نشوونما پاتا ہے۔

ایسا معاشرہ، جس کے سپوت بھائی بھائی ہوں، ایک دوسرے کے ساتھ پیار کرنے والے ہوں، ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوں، ایک دوسرے کا سہارا ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ اجتماعی طور پر ضامن (Social Sureties)ہوں اور جس اک ہر جز دوسرے اجزاء کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ تاریخ ایک بار تواسلام ایسے معاشرے کو عملاً وجود میں لایا۔ بہت اعلیٰ و اصفیٰ شکل میں، اپنی ترقی یافتہ صورت میں، اسلامی تاریخ کے بعد کے ادوار میں بھی ایسے معاشرے وجود آتے رہے جو اپنے معیار کے اعتبار سے بے شک بعض کم رہے، بعض اچھے رہے، لیکن اپنی کمزوریوں کے باوجود وہ ان تمام معاشروں سے اونچے رہے جو کبھی بھی وجود میں آئے، چاہے جاہلیت قدیمہ کے دور میں ہوں، چاہے جاہلیت جدیدہ کے دور میں ہوں بلکہ ان تمام معاشروں سے بھی جو اگرچہ جاہل نہ ہوں۔ لیکن ان میں جاہلیت کی آمیزش آ گئی ہو۔ جو جاہلیت کے ساتھ آلودہ ہو چکے ہیں اور جن کی فکر میں اور جن کے نظم اجتماعی میں صرف دنیاوی تصورات ہی کارفرما ہوں۔

یہ معاشرہ یعنی اسلامی معاشرہ ایسا ہوتا ہے جس کے افراد و اجزاء میں صرف ایک رابطہ ہوتا ہے یعنی نظریۂ حیات کا رابطہ۔ یہ بہت ہی وسیع نظریاتی معاشرہ ہوتا ہے۔ تمام قومیات، تمام ملکی حدود، تمام زبانیں اور تمام رنگ اس کے مقابلے میں پگھل کر فنا ہو جاتے ہیں۔ غرض تمام غلط افکار قومیت، لسانیت، وطنیت اور رنگ ونسل کے تمام فکری فتنے جن کا انسان کی انسانیت کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہوتا وہ سب کے سب پگھل کر اس وسیع الاساس اسلامی معاشرے میں جذب ہو جاتے ہیں۔

ذرا سنئے !اس معاشرے کے بارے اللہ کی ہدایات :”بے شک مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ (سورۃ الحجرات:۱۰)”۔ اس معاشرے کی بہترین تصویر رسولﷺ نے ایک مشہور حدیث میں کھنچی ہے :”باہمی محبت، باہمی رحم، باہمی مہربانی کے لحاظ سے، مومنین کی مثال ایک جسم واحد کی سی ہے۔ جسم میں سے ایک عضو بھی تکلیف میں ہو تو تمام جسم بے آرام ہو جاتا ہے۔ پورا جسم جاگتا ہے اور پورے جسم میں بخار کی حالت پیدا ہو جاتی ہے۔ “(روایت امام احمد)

ذرا دیکھئے اس معاشرے کے عمومی آداب کیسے حسین ہیں اور جب کوئی احترام کے ساتھ تمہیں سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر طریقہ کے ساتھ جواب دو یا کم از کم (نساء :۸۶)۔ اسی طرح “اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑ کر چل، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔ (لقمان:۸)”بدی کو نیکی سے رفع کر جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی، وہ جگری دوست بن گیا۔ “(حم سجدہ:۳۴)”اے لوگو!جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مرد کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے اور جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں (الحجرات:۶)”۔ “اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے گا؟دیکھو تم خود اس سے گھن کھاتے ہو۔ اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے رحیم ہے۔ “(الحجرات:۱۲)

یہ معاشرہ ایسا ہے جو اپنے کو یہ ضمانتیں (Securities)دیتا ہے :”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کے آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کئے پر پریشان ہو۔ ”

“اے لوگو دیت   اپنے آ ج نطن نے دے اور ہاجو ایمان لائے ہو، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ تجسّس نہ کرو۔ “اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک گھر والوں کی رضا نہ لے لو، اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج دو(النور:۷۲)۔ “ہر مسلمان دوسرے مسلمان پر حرام ہے یعنی اس کا خون، اس کی عزت اور اس کا مال۔ ”

یہ پاک معاشرہ ایساہے کہ اس میں فحاشی نہیں پھیل سکتی۔ اس میں بے حیائی کو پسند نہیں کیا جاتا۔ اس میں فتنے کا رواج نہیں۔ اس میں عریانی نہیں پھیلتی۔ آنکھیں پوشیدہ مقامات جسم کی طرف ملتفت ہی نہیں ہوتیں۔ اس میں لوگوں کی عصمتیں آزاد شہوت رانی سے محفوظ ہوتی ہیں۔ اس میں جنسی خواہشات اور خون اور گوشت کا ملاپ اس طرح آزاد نہیں ہوتا جس طرح نظام جاہلیت میں ہوتا ہے، خواہ جاہلیت قدیمہ ہو یا جدیدہ۔ اس سلسلے میں اسلامی معاشرہ پر ربانی ہدایات کی حکمرانی ہوتی ہے اور وہ ہر وقت اپنے رب کی بات سنتا ہے۔ آپ بھی سنیں :”جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحاشی پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ (نور:۱۹)” “زانیہ عورت اور زانی مرد دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو۔ اگر تم اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور ان کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے۔ (نور:۴)”

“اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ نہ لے کر آئیں، ان کو اسی کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو، اور وہ خود ہی فاسق ہیں۔ (النور:۳۱)”۔ “اے نبی مومنین مردوں سے کہو اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے، اور اے نبی مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظر بچا کر رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤسنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے کہ جو خود ظاہر ہو جائے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔ وہ اپنے بناؤ سنگھارنہ ظاہر کریں مگر ان لوگوں کے سامنے شوہر، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں، اپنے لونڈی غلام، وہ زیردست مرد جوکسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ وہ اپنے پاؤں پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو، اس کا لوگوں کو علم ہو جائے۔ اے مومنو!تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے۔ (الاحزاب:۳۳)”پھر قرآن مجید خود رسول اللہﷺ کی عورتوں سے بھی خطاب کرتا ہے جو کرۂ ارض پر پاکیزہ ترین عورتیں تھیں، پاکیزہ ترین گھر، پاکیزہ ترین خاندان میں اور پھر پاکیزہ ترین دور میں۔

“نبی کی بیویو!تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑ جائے بلکہ صاف سیدھی بات کرو۔ اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور سابق دور جاہلیت کی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم اہل بیت نبی سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے۔ ”

ایسے معاشرہ میں بیوی کو خاوند پر اعتماد ہوتا ہے۔ خاوند کو بیوی پر اعتماد ہوتا ہے۔ والدین وسرپرست اپنی حرمتوں اور عصمتوں کے بارے میں مطمئن ہوتے ہیں۔ لوگوں کو اپنے دلوں اور اپنے اعصاب پر اعتماد ہوتا ہے۔ نظروں سے فتنے اوجھل ہوتے ہیں، اس لئے وہ دلوں کو ممنوعات کی طرف کھینچ ہی نہیں سکتے۔ اس کے مقابلے میں آج کل مغربی ممالک حال یہ ہے کہ دزدیدہ نگاہوں کا تبادلہ ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔ اس معاشرے کے افراد کو ہر وقت خواہشات کو دبانا پڑتا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ کئی قسم کی نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کے اعصاب میں ہر وقت تناؤ ہوتا ہے جبکہ اسلام کا پاکیزہ اور عفت مآب معاشرہ ہر وقت تھما ہوا ہے۔ اس معاشرے پر ہر وقت امن، پاکیزگی اور سلامتی کے کشادہ پردوں کا سایہ ہوتا ہے۔

اور سب سے آخر میں یہ کہ معاشرہ ہر اس شخص کو جو کام کرنے کی قدرت رکھتا ہے، رزق حلال اور روزگار کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ معاشرہ ہر معذور شخص کو شریفانہ زندگی اور مناسب ضروریات زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔ جو شخص عفت اور پاکدامنی کی زندگی بسر کرنا چاہتا ہے، اس معاشرے میں اس کے لئے جائز نکاح کی سہولتیں ہوتی ہیں۔ اسے صالح رفیقہ حیات ملتی ہے۔ یہ ایسا معاشرہ ہوتا ہے کہ اگر اس کے کسی محلے میں کوئی بھوک سے مر جائے تو وہ تمام محلہ کو موت کا قانوناً ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ اور ان پر تعزیری شرائط عائد کرتا ہے، بعض فقہاء اور قانون دانوں نے لکھا ہے کہ اہل محلہ کو بطور تاوان اس شخص کی دیت ادا کرنی ہو گی۔

اور پھر ایک نئے پہلو سے دیکھئے، ی معاشرہ اپنے افراد کو شہری آزادیوں کی ضمانت دیتا ہے۔ اس میں لوگوں کی شرافت، ان کی عزتیں اور ان کے جان و مال ازروئے قانون محفوظ ہوتے ہیں۔ اس بات کی ضمانت خود شارع مطلق رب ذوالجلال دیتا ہے، جو مطاع ہے اور اس معاشرے میں اس کی ہر بات قانون ہے۔ لہٰذا اس معاشرے میں محض شک کی بنیاد پر کوئی نہ پکڑا جائے گا۔ کسی کی دیوار کو پھاند کر کوئی کسی کا حق تنہائی چھین نہ لے گا۔ کوئی شخص کسی کے خلاف تجسس نہ کرسکے گا۔ اس معاشرے میں اگر کسی کا خون بہا تو وہ لغو نہ جائے گا بلکہ قصاص نافذ ہو گا۔ کسی کا مال چوری یا ڈاکے میں نہ جائے گا کیونکہ اس میں حدود نافذ ہیں۔

پھر اس معاشرے کا سیاسی نظام شوریٰ تعاون اور آزادی رائے اور ضمانت حق تنقید (نصح)پر قائم ہوتا ہے۔ اس معاشرے میں انصاف اور قانون کی نظروں میں سب لوگ برابر ہوتے ہیں۔ اس کا ہر فرد یہ شعور رکھتا ہے کہ ا س کے بارے میں ہر قانونی فیصلہ اللہ کی جانب سے ہے۔ اللہ کے قانون کا فیصلہ ہے، اس میں نہ حاکم وقت کا دخل ہے، نہ اس کے کسی حاشیہ نشین کا دخل ہے اور نہ ہی اہل کار ان سرکار کے رشتہ داروں کا دخل۔

الغرض پورے انسانی معاشروں میں یہ واحد معاشرہ ہے، جس میں انسان، انسان کے تابع نہیں ہے، بلکہ تمام انسان حاکم ہوں یا محکوم ہر صورت میں اللہ اور اس کی شریعت کے تابع ہیں۔ حاکم ہوں کہ محکوم دونوں اللہ کی شریعت کو نافذ کرتے ہیں، چنانچہ سب کے سب برابری اور مساوات کے ساتھ، پورے ایمان، پورے یقین اور پورے وثوق کے ساتھ، اللہ رب العالمین اور احکم الحاکمین کے سامنے قدم بقدم کھڑے ہوتے ہیں۔

یہ سب معانی المسلم کے مفہوم میں داخل ہوتے ہیں، جو آیت میں استعمال ہوا ہے اور جس میں مومنین کو پورا پورا داخل ہونے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیں۔ اس طرح کہ ان کے لئے ان کے نفس کا کچھ حصہ بھی نہ رہے۔ سب کا سب اللہ کا ہو جائے، اطاعت و انقیاد میں اور تسلیم و رضا میں۔

امن وسلامتی کے اس مفہوم کا صحیح ادراک تب ہی ہوسکتا ہے جب ہم ان معاشروں مطالعہ کریں، جو اسلام سے متعارف نہیں ہیں یا اسلام سے متعارف تو ہیں لیکن پھر بھی اس سے بیگانہ ہو گئے ہیں اور دوبارہ نظام جاہلیت کی طرف پلٹ گئے ہیں اور مختلف ادوار میں انہوں نے اپنے لئے مختلف نام اور مختلف عنوان تجویز کئے۔ ان معاشروں کی حالت یہ ہے کہ وہ بے یقینی میں مبتلا ہیں۔ ایمان سے خالی ہیں۔ ان کے افراد نفیساتی اور اعصابی پریشانیوں اور بے چینیوں کا شکار ہیں۔ یہ معاشرے تہذیبی ترقی کے اعلیٰ معیار تک پہنچے ہوئے ہیں۔ ان میں ساری سہولتیں اپنے انتہاء کو پہنچی ہوئی ہیں اور وہ تمام سہولتیں وافر ہیں جنہیں کوئی بھی گم کردہ راہ جاہلی تہذیب ترقی کے لئے ضروری سمجھتی ہو۔

اس مثال کا مطالعہ کیجئے۔ سویڈن دنیا کے تمام ممالک میں زیادہ ترقی یافتہ ہے جس کے ہر فرد پر قومی دولت سے پانچ سو پونڈ سالانہ خرچ کیا جاتا ہے۔ جہاں ہر آدمی کے لئے علاج و معالجے کی ضمانت حاصل ہے۔ جہاں علاج کے نقد رقم دی جاتی ہے، اور ہسپتالوں میں علاج مفت ہے۔ جہاں ہر مرحلہ تعلیم میں تعلیم بالکل مفت ہے، جہاں ہر طالب علم کو کپڑوں کا الاؤنس دیا جاتا ہے۔ اور لائق طالب علموں کو قرض بھی دیا جاتا ہے، جہاں حکومت تین سو پونڈ شادی الاؤنس دیتی ہے تاکہ گھریلوسامان خریدا جا سکے۔ غرض ان کے علاوہ متعدد سہولیات اور آسانیاں ہیں جو وہاں عوام کو میسر ہیں لیکن اس مادی ترقی اور تہذیبی سہولتوں کے نتائج کیا ہیں ؟جبکہ ان فرزندان تہذیب کے دل ایمان سے خالی ہیں۔

اس قوم کا حال یہ ہے کہ آزادانہ جنسی اختلاط کی وجہ سے جسمانی لحاظ سے پوری قوم مسلسل رو بزوال ہے۔ آزادانہ جنسی اختلاط، فتنہ انگیز عریانی اور آزادانہ جنسی بے راہ روی کی وجہ سے ہر چھٹی شادی طلاق پر منتج ہوتی ہے۔ جدید نسل بری طرح منشیات کی عادی ہو چکی ہے۔ ان منشیات کے استعمال سے یہ لوگ اس روحانی خلا کو بھرتے ہیں اور بے یقینی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عدم اطمینان کا نعم البدل تلاش کرتے ہیں۔ نفسیاتی بیماریاں، اعصابی بیماریاں اور جنسی بیماریاں وبا کی طرح ان کے دماغ، ان کے اعصاب اور ان کی روح پر حملہ آور ہیں اور ہزاروں آدمی ان میں بری طرح مبتلا ہیں۔ اس بے چینی کی انتہا اس وقت ہوتی ہے، جب ایک شخص تنگ آ کر خودکشی کا فیصلہ کرتا ہے۔

امریکہ کا حال بھی ایسا ہے بلکہ اس سے بھی بدتر ہے۔ اور روس کے حالات تو اس سے بھی بدتر ہیں۔

یہ تلخی اور بدبختی مقدر ہے ہر اس شخص کے لئے جس کا دل فرحت ایمان سے خالی ہے، بشاست ایمانی سے خالی۔ ایسا شخص ہرگز امن وسلامتی سے لطف نہیں اٹھا سکتا، جس میں پوری طرح داخل ہونے کی دعوت، مسلمانوں کو دیجا رہی ہے تاکہ وہ اس کے سائے میں امن و آرام اور قرار وسکون سے خوش و خرم رہیں۔

 

“اے ایمان والو!تم پورے کے پورے اسلام میں، امن میں داخل ہو جاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو، کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ “( ٢٠٨)

 

اس دعوت کے ساتھ ساتھ کہ تم پورے کے پورے، اس امن وسلامی (اسلام)میں داخل ہو جاؤ، مسلمانوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ تم ہرگز شیطان کی پیروی نہ کرنا۔ کیونکہ راستے دو ہی ہیں۔ ایک اسلام کا، سلامتی کا راستہ اور شیطان کے نقش قدم والا راستہ۔ ایک طرف ہدایت کی راہ ہے، دوسری طرف گمراہی کی راہ ہے۔ ایک طرف اسلام ہے، اور دوسری طرف جاہلیت ہے۔ یا اللہ کا راستہ یا شیطان کا راستہ یا اللہ کی ہدایت اور یا شیطان کی غوایت ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے موقف کے فیصلہ کن انداز کو اچھی طرح سمجھے، چنانچہ اس سلسلے میں وہ کسی تردد، کسی حیرانی کیو قریب نہ آنے دے اور مختلف راستوں کو دیکھ کر ایک منٹ کے لئے بھی متحیر نہ ہو۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک مومن کو یہ آزادی نہیں دی گئی کہ وہ زندگی کے متعدد نظاموں میں سے کسی ایک نظام حیات کو اپنے لئے چن لے۔ یا ایک دو نظاموں کے اجزا کو ملا کر ایک تیسرا نظام گھڑ لے۔ اس کے صرف دوراستے ہیں، حق یا باطل، ہدایت یا ضلالت، اسلام یا جاہلیت، اللہ کا نظام زندگی ہے یا شیطان کی گمراہی ہے۔ یہاں اس آیت میں ایک تو اللہ مسلمانوں کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ پورے کے پورے سلامتی کے اس نظام میں آ جائیں۔ دوسرے انہیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ وہ شیطان کی پیروی کریں۔ یہاں ان کے ضمیر اور شعور کو بیدار کیا جا رہا ہے۔ انہیں شیطان کی جدی عداوت یاد دلا کر چوکنا کیا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے شیطان کے تمہارے ساتھ جو دشمنی ہے وہ کوئی پوشیدہ اور چھپی ہوئی دشمنی نہیں ہے۔ یہ بالکل بین اور واضح ہے۔ اسے تو صرف وہ شخص بھول سکتا ہے جو غافل ہو۔ اور غفلت اور ایمان ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔

اب بتایا جاتا ہے کہ اگر ان ہدایات اور واضح ہدایات کے بعد بھی تم لغزش کھاتے ہو تو تمہارا انجام اچھا نہ ہو گا۔ فَإِنْ زَلَلْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاء َتْكُمُ الْبَيِّنَاتُ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ”جو صاف صاف ہدایات تمہارے پاس آ چکی ہیں، اگر ان کے پا لینے کے بعد پھر تم نے لغزش کھائی، تو خوب جان رکھو کہ اللہ سب پر غالب اور حاکم ہے۔ ”

وہ عزیز ہے اور غالب ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ وہ قوت اور غلبے کا مالک ہے۔ اگر وہ اللہ کی ہدایات کی خلاف ورزی کریں گے تو انہیں اللہ کی قوت قاہرہ کا سامنا کرنا ہو گا۔ اور وہ حکیم ہے، صاحب حکمت ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ اس نے تمہارے لئے جو نظام زندگی تجویز کیا ہے، وہ بہتر ہے اور جس سے اس نے تمہیں روکا ہے وہ دراصل تمہارے لئے برا ہے اور اگر وہ اللہ کے احکام کی پیروی نہیں کریں گے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے نہیں چبیں گے تو انہیں سخت خسارہ ہو گا۔ ا س لئے اس تعقیب اور خلاصے کے دونوں حصے دراصل سخت تنبیہ ہیں اور ایک ڈراوا ہیں۔

اب یہاں سے تنبیہ و تخویف کے لئے ایک جدید اسلوب اختیار کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلام میں پورے نہ آنے اور شیطان کی پیروی اختیار کرنے پر نتائج کیا ہوسکتے ہیں۔ اب خطاب کا انداز ترک کر کے غائب کے صیغے استعمال کئے جاتے ہیں۔

 

“کیا اب وہ اس کے منتظر ہیں کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے۔ فرشتوں کے پرے ساتھ لئے، خود سامنے آ موجود ہو اور فیصلہ ہی کر ڈالا جائے۔ آخر کار سارے معاملات پیش تو اللہ ہی کے حضور ہونے والے ہیں۔ ” (٢١٠)

 

ھل، کے لفظ کے ساتھ عربی میں ایسا سوال ہوتا ہے جس میں ناپسندیدگی کا اظہار بھی ہو۔ اس کے جواب میں وہ وجوہات بیان کی گئیں ہیں جن کی وجہ سے بعض مخالفین، اسلام کو قبول کرنے میں پس و پیش کر رہے ہیں اور پورے کے پورے اسلام میں داخل نہیں ہوتے۔ وہ کیا وجہ ہے جس کی وجہ سے وہ اسلام کی اس دعوت کو قبول نہیں کرتے ؟وہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ اسی طرح بغیر کسی وجہ کے انتظار کرتے رہیں گے، اور اللہ تعالیٰ بادلوں کا کا چتر لگائے آ جائے گا۔ فرشتے آ جائیں گے ؟بالفاظ دیگر کیا یہ لوگ اس خوفناک دن کا انتظار کر رہے ہیں۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے ہوئے آئیں گے اور فرشتے صفیں باندھے ہوئے ہوں گے کوئی بات نہ کرے گا۔ مگر وہ شخص جسے بات کی اجازت ہو گی اور وہ بات بھی درست کر رہا ہو گا۔

اچانک……..ہم اس تہدید آمیز سوال کے بارے میں سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ گویا وہ دن پہنچ ہی گیا اور فیصلہ ہو ہی گیا۔ معاملہ ختم ہی ہو گیا۔ لوگوں کے سامنے اچانک وہ منظر آ جاتا ہے، جس سے انہیں ڈرایا جا رہا تھا۔ جس کی طرف اشارہ ہو رہا تھا۔ قُضِيَ الأمْرُ(“اور فیصلہ ہوہی گیا)”وقت کا دفتر لپیٹ کر رکھ دیا گیا۔ فرصت کے اوقات ختم ہو گئے۔ نجات مشکل ہو گئی۔ اب تو گویا لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہیں۔ اس اللہ کے سامنے جس کے آگے سارے معاملات کو پیش ہونا ہے : وَإِلَى اللَّہِ تُرْجَعُ الأمُورُ”تمام امور نے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔ ”

یہ قرآن مجید کا انوکھا انداز ہے۔ تمام دوسری تقاریر اور تحریروں سے یہ انداز اسے امتیازی حیثیت دیتا ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ قرآن مجید، چند لمحوں کے اندر اندر کسی بھی منظر کو زندہ و متحرک صورت میں پیش کرتا ہے۔ انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ گویا وہ اس منظر کے سامنے کھڑا ہے اور وہ دیکھتا ہے، سنتا ہے، اور اپنی آنکھوں سے گویا اس منظر کا معائنہ کر رہا ہے۔

کب تک یہ لوگ پیچھے رہیں گے اور اس سلامتی میں داخل نہ ہوں گے۔ خوفناک دن ان کے انتظار میں ہے۔ بلکہ وہ اچانک ان پر آنے ہی والا ہے۔ اور سلامتی ان کے قریب ہے۔ دنیا کی سلامتی اور آخرت کی سلامتی، جس دن آسمان پر بادل پھٹے پھٹے ہوں گے اور فرشتے اتر رہے ہوں گے۔ جس دن روح اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہوں گے، کوئی نہ بولے گا سوائے اس کے جسے رحمان اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے، وہ دن جب فیصلہ اللہ کرے گا۔ وہ دیکھو گویا اس نے معاملات چکا دئیے اور سب معاملات کو آخر کار اللہ کے حضور پیش ہونا ہی ہے۔ وَإِلَى اللَّہِ تُرْجَعُ الأمُورُ

اب اس انداز کلام میں اچانک ایک اور تبدیلی آتی ہے۔ روئے سخن رسول اللہﷺ کی طرف جاتا ہے۔ آپﷺسے کہا جاتا ہے کہ ذرا بنی اسرائیل سے تو پوچھئے، بنی اسرائیل ان لوگوں کے سرخیل تھے جو دعوت اسلامی کو قبول کرنے میں متردد تھے اور پس و پیش کرتے تھے۔ اسی صورت میں ان کے بارے میں کہا گیا ہے “اللہ نے بے شمار واضح نشانیاں انہیں دکھائیں لیکن پھر بھی انہوں نے دعوت کو قبول نہ کیا۔ لیکن انہوں نے ایمان کی نعمت اور سلامتی کے مقابلے میں کفر کو اختیار کیا۔ حالانکہ یہ انعامات بذریعہ رسول خود ان کے ہاں بھیجی گئیں تھیں۔ ”

 

“بنی اسرائیل سے پوچھو کیسی کھلی کھلی نشانیاں ہم نے انہیں دکھائی ہیں (اور پھر یہ بھی انہی سے پوچھ لو کہ )اللہ کی نعمت پانے کے بعد جو قوم اس کو شقاوت سے بدلتی ہے اسے کیسی سخت سزا دیتا ہے۔ ” (٢١١)

 

بات پھر بنی اسرائیل کی طرف پلٹتی ہے اور یہ ایک قدرتی امر ہے۔ ڈرایا جاتا ہے کہ بنی اسرائیل جیسا موقف اختیار نہ کرو، اس میں تو ہلاکت ہے۔ جو تردد اور انکار حق کا موقف ہے۔ بغاوت اور سلامتی سے دور بھاگنے کا موقف ہے۔ ہٹ دھرمی اور بار بار طلب معجزات کا موقف اور معجزات دیکھ کر بھی بغض و عناد رکھتے اور انکار کرتے چلے جانے کا موقف۔ یہ ہیں وہ مقامات جہاں یہ قدم ڈگمگا سکتے ہیں، پائے استقامت پھسل سکتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو پہلے سے خبردار کر دیتا ہے، تاکہ مسلمان بنی اسرائیل کی طرح تلخ انجام تک نہ پہنچ جائیں۔

سَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَمْ آتَيْنَاہُمْ مِنْ آيَۃٍ بَيِّنَۃٍ”بنی اسرائیل سے پوچھو کیسی کھلی کھلی نشانیاں ہم نے انہیں دکھائی ہیں (اور پھر یہ بھی انہی سے پوچھ لو کہ)اللہ کی نعمت پانے کے بعد جو قوم اس کو شقاوت سے بدلتی ہے اسے کیسی سخت سزا دیتا ہے۔ ”

سوال سے مراد یہ نہیں ہے کہ رسولﷺ جائیں اور بنی اسرائیل سے سوال کریں اور وہ پھر کوئی جواب دیں۔ یہ تو اسالیب قرآن میں سے ایک اسلوب ہے۔ مقصد یہ یاد دلانا ہے کہ بنی اسرائیل کے سامنے بکثرت معجزات پیش کئے گئے۔ بے شمار کھلی نشانیاں ان کے سامنے آتی رہیں۔ بعض نشانیاں تو ان کی ضد اور مطالبے پر دکھائی گئیں اور بعض معجزات اللہ تعالیٰ نے از خود اس وقت کی کسی مصلحت کی خاطر صادر فرمائے، لیکن کثرت معجزات کے باوجود ان کا طرز عمل کیا تھا، تردد اور وعدہ خلافی، ہٹ دھرمی اور پس و پیش کرنا لیکن مسلسل یہ لوگ امن وسلامتی کے اس سایہ سے دور رہے جو صرف حظیرہ ایمان پر سایہ فگن ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس پر ایک عام تعقیب آتی ہے وَمَنْ يُبَدِّلْ نِعْمَۃَ اللَّہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاء َتْہُ فَإِنَّ اللَّہَ شَدِيدُ الْعِقَابِ”اللہ کی نعمت پالینے کے بعد جو قوم اسے شقاوت سے بدلتی ہے، اسے اللہ سخت سزا دیتا ہے۔ “یہاں جس نصیحت کا ذکر ہو رہا ہے وہ نصیحت اسلام ہے یا اس سے مراد ایمان کی نعمت ہے۔ دونوں تقریباً مترادف ہیں۔ اللہ کی نعمت کو شقاوت سے بدل دینے کی اعلیٰ مثال تاریخ بنی اسرائیل میں ملے گی۔ جب انہوں نے نعمت کو شقاوت سے بدلا تو اطمینان اور سکون و قرار سے محروم ہو گئے۔ انہوں نے تسلیم و رضا سے انکار کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے آگے سرتسلیم خم نہ کیا۔ انہوں نے ہمیشہ شک اور تردد کا رویہ اپنایا۔ قدم قدم پر معجزات طلب کرتے رہے۔ ہر مرحلے پر دلائل پوچھتے رہے لیکن نہ معجزات سے انہیں اطمینان ہوا نہ دلائل بینات سے وہ قائل ہوئے۔ نہ انہوں نے اللہ کے نور اور ہدایت سے استفادہ حاصل کیا۔ اور “اللہ کے عذاب شدید سے ڈرو”اس کی اعلیٰ ترین مثال بھی تاریخ بنی اسرائیل ہے۔ اور اس کے انجام بد کا انتظار وہ سب لوگ، ہر دور میں اور ہر جگہ کرتے ہیں جو نعمت اسلام کے مقابلے میں شقاوت اور بدبختی کو اختیار کرتے ہیں اور پھر وہ اس پر فخر کرتے ہیں (تاریخ شاہد ہے کہ ایسے لوگ ایسے ہی انجام سے دوچار ہوئے جس طرح بنی اسرائیل)

انسانیت نے جب بھی اس نعمت عظمیٰ کو بیچ کر شقاوت اور بدبختی حاصل کی، اسے آخرت سے بھی پہلے اس کی اس دنیاوی زندگی میں سخت سے سخت سزا دی گئی۔ ذرا کرۂ ارض پر پھیلی ہوئی اس بدبخت انسانیت کی حالت زار پر نگاہ تو ڈالئے !کیا وہ ایک شدید عذاب میں مبتلا نہیں ہے ؟دیکھتے نہیں کہ وہ ہر جگہ کس بدبختی اور تلخی ہی پاتی ہے۔ ہر جگہ حیرت و اضطراب کا شکار ہے۔ انسان، انسان کو کھائے جا رہا ہے بلکہ انسان خود اپنی جان اور اپنے اعصاب کو کھائے جا رہا ہے۔ فرد انسانیت کی تلاش میں دوڑتا ہے۔ اور انسانیت فرد کی متلاشی ہے۔ لیکن دونوں خالی سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ غرض عالم انسانیت میں اس وقت ایک مہلک خلا ہے۔ اس خلا کو بعض نام نہاد تہذیب مغرب کے فرزند بھرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر کبھی مسکرات کے استعمال سے اور کبھی منشیات کے کثرت استعمال سے۔ بعض اوقات ان لوگوں سے ایسی حرکات ہو جاتی ہیں کہ انسان حیران ہو جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ وہ بھاگ رہے ہیں اور کوئی خوفناک غول ان کے تعاقب میں ہے۔

فرزندان تہذیب مغرب کی صرف شکل و صورت ہی کا مطالعہ کیجئے۔ یہ عجیب عجیب شکلیں بناتے ہیں، اور پھر ان کی نمائش کرتے ہیں۔ کوئی عورت سرجھکائے ہوئے ہے۔ کسی نے سینہ بالکل ننگا کر رکھا ہے، کوئی منی اسکرٹ پہنے ہوئے ہے، کسی نے ایسا ٹوپ بنایا ہے جیسے کوئی حیوان سر پر رکھا ہوا ہے۔ بعض نے ایسی تائیاں باند ھ رکھی ہیں، جن پر ہاتھی کی تصویر ہے، ایسی قمیصیں پہنی ہیں جن پر شیر یا ریچھ کی تصویر ہے۔

دراصل ایک نظر دیکھئے !ان کے مجنونانہ رقص، ہیجان انگیز گانے، متکلفانہ طرز زندگی، تقریبات اور مجالس میں شوخ لباس، انوکھی اور جاذب نظر شکلیں بنا کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا، اور عجیب و غریب طرح اپنے آپ کو ممتاز کر کے جذبات کی تسکین کرنا ہے۔

ایک نظر ان لوگوں کی بدلتی ہوئی خواہشات پر بھی نظر ڈالئے۔ خواہشات بدل جاتی ہیں، خاوند بدل جاتے ہیں، دوست بدل جاتے ہیں، لباس بدل جاتے ہیں، ہر موسم میں، بلکہ ہر صبح و شام میں۔

یہ سب چیزیں ظاہر کرتی ہیں کہ یہ معاشرہ قلق اور بے چینی اور حیرت و اضطراب میں مبتلا ہے۔ جس میں کوئی اطمینان نہیں ہے۔ جس میں کوئی امن نہیں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان اقوام کی حالت خوفناک حد تک گر گئی ہے۔ چنانچہ یہ لوگ اپنے معاشرے اور اپنی تہذیب سے فرار اختیار کئے ہوئے ہیں۔ لیکن افسوس کہ وہ کوئی راہ نہیں پاتے۔ یوں لگتا ہے جیسے فرزندان تہذیب کی روح خالی ہے۔ خود اپنے سایے سے بھاگ رہے ہیں، گویا کہ جنات اور بھوت ان کا پیچھا کر رہے ہیں۔

کیا یہ عذاب الٰہی نہیں ہے۔ یقیناً یہ عذاب ہے اور ہر اس شخص کے لئے جو اسلامی نظام زندگی اختیار نہیں کرتا۔ جو اللہ کی یہ پکار نہیں سنتا يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّۃً”اے ایمان لانے والو!امن وسلامتی میں داخل ہو جاؤ پورے کے پورے۔ ”

غرض اللہ کے انعامات پر پختہ یقین کسی چیز سے بھی نہیں بدلتا الّا یہ کہ کسی کو خداوند کریم کا یہ عذاب گھیر لے تو یقیناً پختہ ایمان ختم ہو جاتا ہے۔ العیاذباللہ۔

اس سے پہلے بیان ہوا کہ جو لوگ دعوت اسلامی قبول کرنے میں پس و پیش کر رہے ہیں اور نعمت کے مقابلے میں شقاوت اور بدبختی لے رہے ہیں، ایک سخت عذاب ان کے انتظار میں ہے۔ اب یہاں بتایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کی جنت کیا ہے اور ان کا انجام کیا ہو گا اور کافروں کا کیا حال ہے اور ان کا انجام کیا ہو گا ؟بتایا جاتا ہے کہ اشخاص کی قدر وقیمت معلوم کرنے اور احوال اور اقدار حیات کے ناپ تول کے لئے مسلمانوں کا ترازو کیا ہے ؟اور کافروں کا ترازو کیا ہے ؟

 

“جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے، ان کے لئے دنیا کی زندگی بڑی محبوب و دل پسند بنا دی گئی ہے۔ ایسے لوگ ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں، مگر قیامت کے روز پرہیزگار لوگ ہی ان کے مقابلے میں عالی مقام ہوں گے۔ رہا دنیا کا رزق تو اللہ کو اختیار ہے، جسے چاہے بے حساب دے دے۔ ” (٢١٢)

 

کافروں کے لئے اس دنیا کی حقیر عارضی چیزوں اور چھوٹی چھوٹی ضروریات کو ہی اہم اور مزین بنایا گیا ہے۔ یہ چیزیں انہیں اتنی بھلی لگیں کہ وہ انہی کے ہو کر رہ گئے۔ اور آگے نہ بڑھے۔ ان کی نظریں انہی پر ٹک گئیں اور ان سے آگے حقائق تک نہ پہنچ سکیں۔ ان لوگوں کو ان حقیر چیزوں کے علاوہ، بلند اقدار کا علم ہی نہیں ہے اور جو شخص دنیا میں پھنس جاتا ہے، دنیا کی آخری حد پر جا کے ہی دم لیتا ہے۔ ممکن نہیں کہ ان کی عقل و فکر ان بلند مقاصد تک رسائی اختیار کرسکے جو مرد مومن کی توجہ کا مرکز ہیں اور جن کو مومن کی نگاہ بلند نے بہت دور اور بلند آفاق میں پا لیا ہے۔

بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک مومن بنیادی ساز وسامان کو بالکل ہی نظر انداز کر دیتا ہے۔ اس لئے نہیں کہ وہ دوں ہمت ہے، اس لئے نہیں کہ اس میں حصول دنیا کا جوہر نہیں ہے۔ اس لئے بھی نہیں کہ منفی الفکر ہے اور دنیا کی ترقی و کمال میں اسے کوئی دلچسپی نہیں ہے، یہ محض اس لئے ہوتا ہے کہ وہ ایک نہایت ہی بلند مقام سے، اس عارضی دنیا پر نگاہ غلط انداز ڈالتا ہے، باوجود اس کے کہ وہ اس دنیا میں اللہ کا نائب ہے، اس کی دیکھ بھال اس کی ذمہ داری میں ہے۔ وہ اس کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیتا ہے، وہ اس کی تہذیب اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے، لیکن وہ اس مقام کی تمام بوقلمونیوں میں سے اپنے لئے اس اعلیٰ مقصد کو تلاش کر کے چن لیتا ہے جو بہت ہی اعلیٰ ہے، ارفع ہے، اور قیمتی ہے۔ اس کی نگاہ انتخاب اس پر پڑتی ہے کہ اس دنیا کے لئے ایک نظام زندگی چاہئے۔ انسانیت ٹھیکریاں اور خزف تلاش کرتی پھرتی ہے، اس کی راہنمائی اس کان تک جانی چاہئے جہاں موتی ہی موتی ہیں۔ لوگوں کے سروں پہ اور زمین کی چوٹیوں پر اللہ کا علم بلند ہونا چاہئے تاکہ انسانیت اس مقام بلند تک ترقی کرسکے۔ انسانیت اس دنیا کی ذلیل و حقیر چیزوں سے نظریں اٹھا کر آگے بھی دیکھے کہ اس قصر دنیا سے آگے اور جہاں بھی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں کے دل میں ایمان کی چنگاری نہیں ہے وہ بڑے مقاصد، اعلیٰ نصب العین اور وسعت فکر و نظر سے محروم ہوتے ہیں اور ایسے لوگ دنیا کے غلام ہوتے ہیں اور بندگان دنیا کہلاتے ہیں۔

یہ کوتاہ ہمت اور زمین کی آلائشوں میں گھرے ہوئے بونے قد کے لوگ، یہ دنیا وی اغراض کے بندے اور مطلب پرست، بڑی حقارت سے ایمان داروں پر نظر ڈالتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ ان لوگوں نے دنیا کی تمام آلودگیوں، تمام کدورتوں اور تمام حقیر سازوسامان کو ان کفار کے لئے کھلا چھوڑ دیا ہے اور اپنے سینوں میں پاک آرزو ہائے عالیہ لئے پھرتے ہیں، ان آرزوؤں کا تعلق ان کی ذات ہی سے نہیں ہوتا، بلکہ وہ تمام انسانیت کی آرزوئیں ہوتی ہیں۔ ان تمناؤں کی تعلق ان کا ذات ہی سے نہیں ہوتا، بلکہ یہ ان کے نظریۂ حیات کی تمنائیں ہوتی ہیں۔ بلکہ وہ تمام انسانیت کی آرزوئیں ہوتی ہیں۔ ان تمناؤں کا تعلق ان کا ذات ہی سے نہیں ہوتا، بلکہ یہ ان کے نظریۂ حیات کی تمنائیں ہوتی ہیں۔ اب یہ کفار ذرا اور گہری نظر اور سنجیدگی سے دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ ان آرزوؤں کے حصول کے لئے نہ صرف یہ کہ دنیا کو ترک کئے ہوئے ہیں بلکہ وہ اس جدوجہد میں تھک کر چور چور ہو گئے، وہ ان کی خاطر بڑی سے بڑی مشکلات کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ان بونے لوگوں نے جن دنیاوی لذائذ کو زندگی کی روح سمجھ رکھا ہے اور جو ان کا بلند ترین مقصد ہے، ان پر ان اولوالعزم لوگوں نے لات ماردی ہے۔ غرض ایسے حالات میں یہ بونے اور دوسرے درجے کے لوگ ان لوگوں کی زندگیوں پر نظر دوڑاتے ہیں جو صحیح معنوں میں مومن ہیں تو یہ لوگ ان کے مقاصد بلند تک نہیں پہنچ سکتے۔ ان کی زندگی کے راز کو نہیں پا سکتے۔ تو پھر کیا ہوتا ہے ؟وہ بے اختیار ان سے مذاق کرتے ہیں، ان کے حال پر انہیں ہنسی آتی ہے، پھر وہ ان کے نظریات کا مذاق اڑاتے ہیں اور انہوں نے جو طرز عمل اختیار کر رکھا ہوتا ہے اس پر منہ چڑاتے ہیں زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا الْحَيَاۃُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا”جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے ان کے لئے دنیا کی زندگی بڑی محبوب اور دل پسند بنا دی گئی ہے۔ ایسے لوگ ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ”

لیکن جس ترازو میں یہ کفار، زندگی کی قدروں کو تولتے ہیں، وہ حقیقی ترازو نہیں ہے۔ سچائی کا ترازو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اور اللہ کے ترازو میں ایمان والوں کا کیا وزن ہے اور کیا قدر و قیمت ہے وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَہُمْ يَوْمَ الْقِيَامَۃِ”مگر قیامت میں پرہیز گار مومن ہی ان کفار کے مقابلے میں عالی مقام ہوں گے۔ ”

یہ ہے سچائی کا ترازو اور پھر ہے بھی دست قدرت میں۔ اہل ایمان کو چاہئے کہ وہ اپنی اس قدر و قیمت کا تعین اس ترازو سے کریں۔ وہ منزل کی طرف بڑھتے چلیں اور ان احمقوں کی حماقتوں کی طرف توجہ ہی نہ کریں، مذاق اڑانے والوں کے مذاق کی طرف دھیان ہی نہ دیں، کافروں کی گھٹیا اقدار کو خاطر ہی میں نہ لائیں۔ اس لئے کہ اہل ایمان تو ان کفار کے مقابلے میں، دار آخرت میں بلند مرتبت ہوں گے۔ آخری حساب جب ہو گا تو اہل ایمان کا حساب زیادہ نکلے گا، اور اس بات پر اللہ گواہ ہے جو احکم الحاکمین ہے۔

اللہ نے ان کے لئے بھلائی رکھ چھوڑی ہے، وہ رزق سے بھی زیادہ کشادہ ہے یعنی روح کی غذا ہے، وہ یہ دولت انہیں دنیا میں بھی عطا کرے گا اور آخرت میں بھی۔ یا دنیا و آخرت دونوں میں جو وہ مناسب سمجھے، کیونکہ وہ مختار ہے۔ حکیم ہے، وہی سمجھتا ہے کہ ان کے لئے بھلائی کس میں ہے۔ رزق دنیا کی اہمیت ہی کیا ہے وَاللَّہُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاء ُ بِغَيْرِ حِسَابٍ”دنیا کا رزق تو اللہ کو اختیار ہے، جسے چاہے بے حساب دے۔ ”

وہی داتا ہے، جسے چاہتا ہے دیتا ہے، جس پر چاہتا ہے عطیات کی بارش کر دیتا ہے، وہ کبھی کفار کو دنیاوی شان و شوکت دیتا ہے اور یہ اس کی حکمت ہوتی ہے۔ اس میں ان کی کوئی فضیلت نہیں ہوتی۔ وہ اپنے مختار بندوں کو بھی دنیا و آخرت دونوں میں دیتا ہے۔ ہر قسم کی داد و دہش کا سرچشمہ وہی ہے لیکن برگزیدہ لوگوں کے لئے اس کی پسند ہی اعلیٰ اور دیرپا ہوتی ہے۔

انسانی زندگی میں ہر وقت انسانوں کے یہ دونوں نمونے پائے جاتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی قدر و قیمت اپنے فکر و عمل کی قدر اللہ رب العزت سے اخذ کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی کی صفات اور زمین کی عارضی چیزوں، اور چھوٹے چھوٹے مقاصد سے بلند ہو جاتے ہیں۔ ان لوگوں کی انسانیت ایک ٹھوس حقیقت ہوتی ہے۔ یہ لوگ زندگی کے حکمران ہو جاتے ہیں، زندگی کے غلام نہیں ہوتے۔ بعینہٖ اسی طرح ایسے لوگوں کے مقابلے میں کچھ دوسرے لوگ ہیں، جن کے لئے دنیا کی زندگی کو محبوب بنا دیا گیا ہے۔ وہ دنیا کی عارضی ساز وسامان کے غلام بنا دیئے گئے ہیں۔ وہ بنیادی اقدار کے غلام ہیں۔ یہ لوگ ضروریات زندگی کے دام میں گرفتار ہیں اور دنیا کے اس گندے دلدل میں ایسے پھنسے ہیں کہ اب اس سے نکل ہی نہیں سکتے۔

لیکن اس افتادہ مخلوق خدا کے پاس جتناسازوسامان ہو، ان پر مرد مومن ایک نہایت ہی بلند مقام سے نظر ڈالتا ہے۔ اگرچہ اپنی جگہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ خوش قسمت ہیں۔ صاحب فضل و کرم ہیں اور ایمان والے محروم ہیں۔ کبھی تو یہ لوگ ایمان والوں کے ساتھ ہمدردی کرتے ہیں اور کبھی ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ حالانکہ وہ خود ہمدردی کے مستحق ہیں، خود وہ قابل رحم و قابل شفقت ہیں۔

زندگی کے اعلیٰ قدروں کے بیان اور اہل ایمان کے بارے میں کافروں کے موقف کی وضاحت اور خود اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کفار کے وزن اور مقام کے تعین کے بعد، اب اگلی آیات میں وہ اصل کہانی بیان کی جاتی ہے کہ لوگوں کے درمیان تصورات و نظریات اور اقدار و مقاصد کے بارے میں اختلاف رائے شروع کیسے ہوا ؟اور پھر وہ اصول بتا دیا جاتا ہے جس پر اختلاف کرنے والے یہ لوگ ایسے اختلافات ختم کرسکتے ہیں اور عدالت کی وہ ترازو بتائی جاتی ہے جو ان کے اختلافات کے بارے میں، ان لوگوں کے درمیان، آخر کار یہ فیصلہ دے گی۔

 

“ابتداء میں سب لوگ ایک ہی طریقے پر تھے، (پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہو گئے )تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت دینے والے اور کج روی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے۔ اور ان کے ساتھ کتاب برحق نازل کی تاکہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہو گئے تھے، ان کا فیصلہ کرے۔ اختلافات ان لوگوں نے کیا جنہیں حق کا علم دیا جا چکا تھا۔ انہوں نے روشن ہدایات پا لینے کے بعد، محض اس لئے حق کو چھوڑ کر مختلف طریقے نکالے کہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے، پس جو لوگ انبیاء پر ایمان لے آئے، انہیں اللہ نے اپنے اذن سے اس حق کا راستہ دکھایا جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا، اللہ جسے چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہے۔ ” (٢١٣)

 

یہ ہے وہ کہانی۔ پہلے سب لوگ ایک امت ہی کے افراد تھے۔ ایک تصور زندگی اور ایک ہی طرز عمل تھا۔ یہ اشارہ ہے اس چھوٹے انسانی خاندان کی طرف، جو حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا کی ان اولاد پر مشتمل تھا۔ اور ابھی ابن آدم کے درمیان افکار و نظریات کا اختلاف پیدا نہ ہوا تھا۔ یہاں یہ بات ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کرۂ ارض پر انسانی زندگی کا آغاز ایک چھوٹے سے خاندان سے محض اس لئے کیا کہ انسانی زندگی میں خاندانی نظام خشت اول کی حیثیت رکھتا ہے۔ ابتدا میں انسانیت پر ایک ایسا دور گزرا ہے، جس میں سب انسان ایک ہی سطح کے تھے، ان کا ایک ہی رخ تھا، ایک ہی نظریہ تھا۔ وہ صرف ایک ہی خاندان کی شکل میں تھے۔ رفتہ رفتہ ان کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔ انسان ترقی کر گئے۔ پھر ادھر ادھر بکھر کر بسنے لگے ان کے بود و باش کے طریقوں میں اختلاف ہو گیا۔ ان کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو خوبیاں ودیعت کی تھیں وہ ظاہر ہونے لگیں۔ یہ خوبیاں اللہ نے تخلیق کے وقت ان کے اندر رکھ دی تھیں۔ کسی میں کم تھیں کسی میں زیادہ۔ اس کی حکمت اللہ ہی کے علم میں ہے اور زندگی کی بوقلمونی کے لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ کسی میں کچھ استعداد اور کسی کا کچھ رجحان۔

قدرت کی اسکیم کے مطابق لوگوں کے درمیان نقطۂ نظر کا اختلاف پیدا ہو گیا، لہٰذا انسانیت نے اگلے درجے میں قدم رکھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کے لئے نبی بھیجے جو بشارت دینے والے اور ڈرانے والے تھے وَأَنْزَلَ مَعَہُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيہِ”اور ان کے ساتھ برحق کتاب نازل کی تاکہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہو گئے، ان کا فیصلہ کرے۔ ”

یہاں وہ عظیم حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے یہ کہ لوگوں کے درمیان اختلاف رائے ایک طبعی امر ہے۔ کیونکہ اختلاف ان کی تخلیق کے اصولوں میں سے ایک اصل ہے۔ اس اختلاف ہی کے نتیجے میں وہ اسکیم رو بعمل آتی ہے جس کی خاطر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ یعنی زمین پر نیابت الٰہی اور منصب خلافت کے چلانے میں انسان کو مختلف قسم کے فرائض سرانجام دینے تھے، ان کے لئے مختلف قسم کے لوگ اور گوناگوں قابلیتیں رکھنے والوں کی ضرورت تھی، تاکہ یہ سب افراد مل کر نظام خلافت کو پوری ہم آہنگی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچائیں اور اس کرۂ ارض کی تعمیر و ترقی کے لئے اللہ تعالیٰ کی تیار کردہ اسکیم کو رو بعمل لائیں اور ہر شخص اس میں اس کے لئے طے شدہ رول ادا کرے، لہٰذا ضروری ہے کہ مختلف فرائض کی ادائیگی کے لئے لوگوں کی صلاحیتیں بھی مختلف ہوں اور جس طرح انسان کی ضروریات ہیں اسی طرح انسانوں کی استعداد بھی مختلف ہو:وَلَا یَزَالُونَ مُختَلِفِینَ اِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّکَ وَلِذَٰلِکَ خَلَقَھُم”اور یہ لوگ یونہی مختلف رہیں گے۔ ماسوائے ان کے جن پر اللہ رحم فرمائے اور اسی اختلاف کے لئے تو اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے۔ ”

قابلیتوں اور فرائض کے اس قدرتی اختلاف کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان افکار کا اختلاف جنم لیتا ہے، ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ ان کا طریقہ کار اور پھر آخر کار ان کا نظام زندگی بدل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ یہ فطری اختلافات مطلوب حد تک ہونے ضروری ہیں۔ البتہ ان اختلافات کو ایک وسیع دائرے کے اندر رہنا چاہئے اور یہ اختلافات تعمیری ہونے چاہیئں اور سیدھے ہونے چاہئیں۔ یہ وسیع دائرہ کیا ہے جس کے اندر یہ محدود ہوں ؟وہ ایمانی تصور حیات کا دائرہ ہے اور یہ اس قدر وسیع ہے کہ مختلف استعداد رکھنے والے لوگ، مختلف طاقتوں کے مالک لوگ، اور مختلف قابلیتوں کے لوگ اس کے اندر پوری ہم آہنگی کے ساتھ کام کرسکتے ہیں۔ ایمانی تصور حیات ان اختلافات یعنی فطری اختلافات کو نہ دباتا ہے اور نہ ہی بالکل ان کا قتل عام کرتا ہے بلکہ ان کو ایک تنظیم میں لاتا ہے اور ہم آہنگ کرتا ہے اور ان سب کے رخ کو اصلاح و ترقی کی شاہراہ کی طرف موڑ دیتا ہے۔

اندریں حالات میں ایک ایسے معیار کا وجود ضروری ہو گیا کہ باہم ٹکراؤ کی اس صورت میں لوگ اس کی طرف رجوع کریں۔ جو ایک حاکم عادل ہو، جس کے سامنے فریقین پیش ہوں اور جس کا قول فیصل ہو، جس کے بعد بحث وتکرار ہی نہ رہے، وہ ایسا ہو کہ سب لوگ اس کے ذریعہ ذوق یقین اپنے اندر پیش کریں فَبَعَثَ اللَّہُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَأَنْزَلَ مَعَہُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا”تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت دینے والے اور کج روی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے اور ان کے ساتھ کتاب برحق نازل کی تاکہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلاف رونما ہو گئے تھے، ان کا فیصلہ کرے۔ ”

ہمیں چاہئے کہ لفظ بالحق پر غور کریں۔ یہ دراصل اس امر پر قول فیصل ہے کہ حق وہی ہے جو کتاب اللہ میں ہے۔ اور اس حق کو اس لئے اتارا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے مختلف تصورات، ان کے طریقہ ہائے کار اور ان کی اقدار کے لئے بمنزلہ دیانت دار منصف ہے اور تمام اختلافات میں فیصلے کا آخری مقام ہے۔ اس کے سوا سچائی کہیں نہیں ملے گی، اس کے ساتھ کوئی متوازی منصف نہیں ہے، اس کی بات کے بعد پھر کوئی بات نہیں ہے، یہ حق جو ایک اور لاشریک ہے، اس کے بغیر تمام اختلافات اور نظریات میں اسے حکم بنائے بغیر، اور بغیر کسی مزید مقدمہ بازی اور بغیر کسی اعتراض کے اس کے حکم کو حکم آخر تسلیم کئے بغیر اس زندگی کی گاڑی سیدھی پٹری پر روانہ نہیں ہوسکتی۔ ہرگز نہیں ہوسکتی۔ لوگوں کے درمیان موجود شدید اختلافات ختم نہیں ہوسکتے۔ زمین پرامن قائم نہیں ہوسکتا اور کسی صورت میں بھی، ان تدابیر کے بغیر، انسان امن وسلامتی میں داخل نہیں ہوسکتا۔

لوگ اپنے تصورات اور قوانین حیات کہاں سے لیں ؟اس کا جواب یہ ہے کہ قوانین حیات اور نظام حیات کے سرچشمے کے تعین کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے کتاب اللہ کی اس حیثیت کو تسلیم کیا جائے کہ تمام اختلافات کا آخری فیصلہ کتاب اللہ ہی سے ہو گا۔ نیز یہ کہ یہ دوئی قبول نہیں کرتا۔ اللہ پاک نے اس کتاب کو نازل فرمایا اور حق کے ساتھ نازل فرمایا۔ وہ منبع ایک ہی ہے۔ اس میں تعدد ممکن نہیں اور یہ وہی منبع ہے جہاں سے کتاب اللہ کا نزول ہوا اور اس لئے ہوا کہ وہ اختلافی امور میں قوت فیصلہ ہو، معیار حق ہو۔

وہ کتاب اپنی ماہیت کے اعتبار سے ایک ہی ہے۔ سب رسول اسی ایک کتاب کو لے کر آتے رہے ہیں، لہٰذا تمام آسمانی کتابیں ایک ہی کتاب ہیں اور تمام ملتیں بھی دراصل ایک ہی ملت ہیں اور ان کتب ورسل کے تصورات حیات بھی دراصل ایک ہی ہیں۔ ایک اللہ، ایک معبود، تمام انسانوں کے لئے ایک ہی قانون ساز، البتہ مختلف ادوار اور مختلف ملل و نحل اور مختلف طرز ہائے زندگی اور مختلف قسم کے ادوار کے لئے تفصیلی اور جزوی احکام میں قدرے فرق ہوا۔ اور تمام حذف و اضافہ کے بعد آخری مستقل اور مکمل صورت قرآنی تعلیمات اور ان تعلیمات کے ذریعہ زندگی کو بغیر کسی رکاوٹ کے ترقی کی راہ پر آزادانہ طور پر ڈال دیا گیا، تاکہ انسانی زندگی اپنے وسیع دائرے میں، اللہ کی راہنمائی اور ہدایت کی روشنی میں، اللہ کی شریعت اور زندہ نظام زندگی کے مطابق اپنے وسیع حدود میں ترقی کرتی چلی جائے۔

کتاب اللہ کے بارے میں قرآن کریم کا یہ فیصلہ ہی دراصل تمام نظریات اور تمام عقائد کے بارے میں صحیح اسلامی نقطہ نظر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اصل میں ہر نبی اسی ایک دین کو لے کر آیا جو چند بنیادی عقائد یعنی عقیدۂ توحید وغیرہ پر مشتمل رہا ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ ہر امت نے اپنے رسول کے اٹھ جانے کے بعد رفتہ رفتہ اپنے اصل دین سے انحراف اختیار کر لیا اور غلط روایات اور کہانیوں کا ایک ایسا انبار جمع ہوا کہ اس کے اندر دین اصل الاصول دب کر رہ گئے۔ لوگ اصل دین سے دور جا پڑے۔ یوں ضرورت پیش آتی ہے کہ ایک جدید رسالت ایک جدید نبی کے ذریعے بھیجی جائے۔

جدید نبی ضرور آتا رہا لیکن دراصل دین اسلام کی تجدید ہی ہوتی رہی۔ خرافات کا جو انبار دین میں داخل ہو چکا تھا یہ رسول اس کی نفی کرتا رہا۔ اور اس دور کے حالات کے مطابق لوگوں کو ایک نظام ایک قانون دیا جاتا رہا۔ ایک نظام معاشرت کی بنیاد رکھتا رہا، تاآنکہ قرآن نازل ہوا اور اب دینی نظریات و عقائد کے بارے میں قرآن کریم ہی لائق اتباع ہے اور حق ہے۔

بعض غیر مسلم علماء جب تاریخ مذاہب و عقائد پر بحث کرتے ہیں تو ان کا منہاج بحث یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر نبی کی تعلیمات کو نبی ماقبل سے مختلف ثابت کرتے ہیں، یوں گویا وہ نظریاتی ارتقاء ثابت کرتے ہیں۔ بعض مسلم محققین بھی اس منہج بحث سے متاثر ہو جاتے ہیں اور غیر شعوری طور پر وہ بھی ادیان کے اصل نظریات و عقائد میں تغیر و تبدل ڈھونڈتے ہیں۔ یہ انداز بحث مستشرقین اور مذاہب کے بارے میں خود مغرب کے اہل تحقیق اختیار کرتے ہیں۔

ایمان کے اصل تصور میں تسلسل اور ثبات کا یہ نظریہ ہی اس کتاب کا مقصد نزول ہے، جسے سچائی کے ساتھ نازل کیا گیا ہے اور اس لئے نازل کیا گیا کہ وہ لوگوں کے درمیان، ان کے اختلافی مسائل کے بارے میں فیصلہ کرے۔ ہر دور میں، ہر رسول، نبی کے بارے میں اور ابتدائی زمانوں سے لے کر آج تک تمام مسائل کے بارے میں کرے۔

اس بات کی ضرورت تھی کہ ایک ایسی ترازو موجود ہو جس کے مطابق سب لوگ اپنے نظریات و عقائد کی قیمت معلوم کریں۔ ایک قول فیصل ہو جس کے بعد بحث ختم ہو جائے، نیز اس بات کی بھی اشد ضرورت تھی کہ اس ترازو اور اس قول فیصل کا سرچشمہ انسانی نہ ہو۔ یہ ترازو اور قول فیصل اس ذات کا ہو جو انسانی خواہشات سے متاثر نہ ہو، وہ انسانی نقائص سے بھی پاک ہو اور اس سرچشمے میں انسان کی طرح جہالت بھی نہ ہو۔ پھر اس قسم کی ترازو قائم کرنے کے لئے لامحدود علم کی ضرورت ہے۔ ہر واقعہ کا علم ضروری ہے، خواہ ہو چکا ہے، ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے۔ یہ علم ہو بھی مطلق یعنی وہ علم نہ زمانے کی قید سے مقید ہو کر ایک ہی چیز زمانے کے اعتبار سے جدا ہو جاتی ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل قرار پاتی ہے۔ ایک چیز یقینی، ظنی اور مجہول کہلاتی ہے۔ ایک ہی چیز کبھی حاضر ہوتی ہے کبھی غائب ہوتی ہے۔ کبھی قابل مشاہدہ ہوتی ہے اور کبھی چھپی ہوئی۔ پھر مکان کی قید سے ایک ہی چیز قریب ہوتی ہے، پھر وہی بعید ہوتی ہے۔ کبھی دائرہ نظر میں ہوتی ہے کبھی پس پردہ ہوتی ہے، یا کبھی محسوس ہوتی ہے اور کبھی غیر محسوس ہوتی ہے، غرض ایسے اللہ و معبود کے علم کی ضرورت ہے جو یہ جانے کہ کیا پیدا کیا اور کس نے پیدا کیا۔ اسے معلوم ہو کہ مفید کیا ہے اور کیا سب کے لئے مفید ہے۔

اس قسم کی میزان قائم کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ میزان قائم کرنے والا ضروریات سے بے نیاز ہو، نقص سے پاک ہو، فنا سے مبر ا ہو، کوئی چیز اس سے بچ نہ سکتی ہو، اور موت اسے لاحق نہ ہوتی ہو، وہ طمع سے پاک ہو، اسے کسی چیز کی رغبت نہ ہو اور نہ کسی کا ڈر ہو۔ وہ اس پوری کائنات پر غالب ہو اور ا س کی ہر چیز اور ہر شخص پر حکمرانی ہو۔ غرض میزان اس اللہ اور معبود کی ہو جو خواہشات سے پاک، ضروریات سے پاک اور اس میں کوئی قصور اور کمی نہ ہو۔

رہی خود انسان کی عقل و دانش، تو اس کے لئے تو یہی کافی ہے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات پر نظر رکھے، بدلتے ہوئے ماحول پر اس کی نظر ہو، نئی نئی ضروریات اس کے سامنے ہوں اور پھر وہ ان حالات میں ایک متعین وقت اور ایک مخصوص صورتحال میں، ہم آہنگی پیدا کرے، لیکن اس صورت میں جب انسان کے پاس کوئی معیار حق موجود ہو، جس کے ذریعہ انسان اپنی غلطی اور اپنی راستی کا اندازہ کرسکے۔ اپنی راست روی اور کج روی معلوم کرسکے، برسر حق اور برسر باطل ہونے کا اندازہ کرسکے اور یہ سب فیصلے اسی معیار کے مطابق ہی ہوں۔ صرف یہی ایک صورت ہے جس کے مطابق زندگی صحیح ڈگر پر چل سکتی ہے۔ اور لوگ اس بات پر مطمئن ہوسکتے ہیں کہ ان کے امور سیاست و قیادت رب معبود کے ہاتھ میں ہیں۔

یہ کتاب سچائی کے ساتھ اس لئے نہیں اتاری گئی کہ یہ لوگوں کے درمیان قدرتی صلاحیتیوں کے امتیازات ختم کر دے۔ متنوع وسائل حیات کو ختم کر دے، مختلف طور طریقوں اور مختلف قابلیتوں کا فرق اور امتیاز مٹا ڈالے بلکہ اس کتاب کا مقصد ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اگر لوگوں کے درمیان کسی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو حق کے مطابق فیصلہ کر دے۔

اس حقیقت کو اگر صحیح طرح ذہن نشین کر لیا جائے تو اس کے منطقی نتیجہ کے طور پر اسلام کا تاریخی نقطہ نظر اچھی طرح سمجھاجا سکتا ہے۔ وہ یہ کہ اسلام اس کتاب کو، جسے اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ نازل فرمایا، لوگوں کے اختلافی امور میں ایک لازمی حاکمیت کا درجہ دیتا ہے۔ وہ اس کتاب کو انسانی زندگی کا اصل الاصول قرار دیتا ہے۔

اب قافلہ حیات کو دیکھا جائے گا کہ اگر وہ اس اصل سے متفق ہے، اس کے مطابق جا رہا ہے، اس اصول پر قائم ہے، تو وہ راہ حق پر ہے۔ اگر قافلہ نظام حیات سے نکل جائے اور کچھ دوسرے اصولوں پر چل پڑے، تو معلوم ہو جائے گا کہ اب یہ قافلہ راہ باطل پر گامزن ہو گیا ہے۔

اگر تاریخ انسان کے کسی دور میں تمام کے تمام انسان اس نظام باطل پر راضی بھی ہو جائیں تب بھی وہ اس باطل کو حق میں نہیں بدل سکتے۔ باطل، باطل ہی رہے گا۔ اس لئے کہ لوگ حق و باطل کھرے اور کھوٹے کو معلوم کرنے کا معیار ہی نہیں ہیں۔ وہ حکم نہیں ہیں۔ لوگ اگر خود کسی بات کا فیصلہ کر لیں تو وہ حق نہیں بن جائے گی اور نہ یہ کہ اگر پوری انسانی آبادی کوئی فیصلہ کر دے تو وہ دین بن جائے گا۔

اسلام کا نظریہ ہے کہ اگر لوگ کسی بات پر عمل پیرا ہیں۔ اگر لوگ کسی بات کے قائل ہو گئے ہیں، اگر سب لوگ کسی غلط اصول پر اپنی زندگیاں استوار بھی کر لیں تب بھی وہ قول، وہ فعل اور وہ اصول حق میں نہیں بدل جاتا۔ اگر وہ اللہ کی کتاب کے خلاف ہو، لوگوں کا اجتماع اس باطل کو اصول دین میں داخل نہیں کر دیتا، نہ لوگوں کے اس عمل سے وہ اصول دین کی تعبیر و تشریح بن جائے گا۔ ایسی باتوں پر اگر صدیوں عمل ہوتا رہا ہے۔ تب بھی اس کے معنی یہ نہیں کہ اب وہ جائز ہو گئی ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے اور اس کی بڑی اہمیت ہے۔ اصول دین میں لوگوں نے کئی نئی چیزیں داخل کر دی ہیں اور صرف اس صورت میں ہم ان چیزوں کو دین سے علیحدہ کرسکتے ہیں کہ کتاب اللہ کو حکم مانیں۔ خود اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ مختلف مراحل میں لوگوں نے اصول دین سے انحراف کیا اور یہ انحراف رفتہ رفتہ بڑھ رہا ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا چونکہ ایک عرصہ سے لوگوں کی زندگی کا اجتماعی نظام اس انحراف پر استوار ہو گیا ہے اس لئے اب یہ انحراف ہی اسلامی نظام کی واقعی اور عملی شکل ہے۔ ہرگز نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا۔

اگر تاریخ میں اسلام سے کوئی انحراف ہوا ہے اور تعامل بن گیا تو اسلام اس کا ذمہ دار نہیں ہے۔ یہ انحراف اب بھی ایک غلطی تصور ہو گی۔ اسے حجت نہ سمجھا جائے گا اور نہ وہ کوئی نظیر قرار پائے گا۔ اس لئے جو لوگ نئے سرے سے اسلامی نظام زندگی قائم کرنا چاہتے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ ان تمام انحرافات کو اکھاڑ پھینکیں، ان کو کالعدم قرار دیں۔ اور سب لوگ اس کتاب کی طرف لوٹ آئیں جو نازل ہی اس لئے کی گئی ہے کہ حق کے ساتھ لوگوں کے اختلاف کا فیصلہ کرے اور ان کے درمیان حکم ہو۔

جب یہ کتاب آئی تو لوگ ہر طرف سے خواہشات میں گھرے ہوئے تھے۔ لوگوں پر ان کی خواہشات غالب تھیں۔ خوف اور لالچ مرغوبات اور کجروی لوگوں کو اللہ کی اس کتاب کی حاکمیت سے دور کئے ہوئے تھی۔ لوگوں نے حق کی طرف لوٹنا چھوڑ دیا تھا۔ محض خواہشات نفسیانیہ کی بنا پروَمَا اخْتَلَفَ فِيہِ إِلا الَّذِينَ أُوتُوہُ مِنْ بَعْدِ مَا جَاء َتْہُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَہُمْ”اختلاف ان لوگوں نے کیا جنہیں حق کا علم دیا جا چکا تھا، انہوں نے روشن ہدایات پا لینے کے بعد محض اس لئے حق کو چھوڑ کر مختلف طریقے نکالے کہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے۔ ”

بغی سے مراد حسد ہے۔ لالچ میں منافست ہے۔ حرص میں مقابلہ اور خواہشات نفسانیہ کی حسدہے۔ غرض یہ حسد اور منافست ہی ہے جس نے لوگوں کو اسلامی تصور حیات اور اسلامی نظام زندگی کے بارے میں اختلاف کو ہوا دینے پر آمادہ کیا۔ لوگ تفرقہ بازی، عناد اور بحث و تکرار میں مبتلا رہے۔

اس اصول کے مطابق مذہبی اختلافات کا تاریخی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اگر اصول دین کے بارے میں کبھی دو آدمیوں کے درمیان اختلاف ہو ا ہے تو دو میں سے ایک کے دل میں حسد ضرور تھا، یا دونوں ہی حسد کا شکار تھے لیکن اگر ان فریقین میں ایمانی قوت موجود ہو تو پھر اتحاد و اتفاق کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے فَہَدَى اللَّہُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيہِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِہِ”پس جو لوگ انبیاء پر ایمان لے آئے انہیں اللہ نے اپنے اذن سے اس حق کا راستہ دکھایا، جس میں ان لوگوں نے اختلاف کیا تھا۔ ”

اہل ایمان کو اس لئے ہدایت نصیب ہوئی کہ ان کے دل صاف تھے، ان کی روح یکسو تھی، ان کے دلوں میں حق تک پہنچنے کی امنگ تھی۔ اگر حالات ایسے ہوں تو پھر حق تک پہنچنا اور اس پر جم جانا بہت ہی آسان ہو جاتا ہے وَاللَّہُ يَہْدِي مَنْ يَشَاء ُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ”اللہ جسے چاہتا ہے، راہ راست دکھا دیتا ہے۔ ”

وہ راہ کون سی ہے جس کی طرف یہ کتاب راہنمائی کرتی ہے ؟وہ نظام جو حق پر قائم ہوتا ہے اور حق پر چلتا ہے اور حق پر جما رہتا ہے۔ لوگوں کی خواہشات کے مطابق کبھی ادھر ادھر نہیں بدلتا۔ انسانوں کی مرغوبات اور ان کے رجحانات کے ہاتھ میں ایک کھلونا بن کر نہیں رہ جاتا۔

اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے راہ مستقیم کے لئے چن لیتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ کون لوگ ہیں جن میں قبولیت حق کی استعداد ہے اور پھر اس پر جم سکتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو سلامتی کی راہ پا لیتے ہیں بلکہ سلامتی کے دائرے میں داخل ہو جاتے ہیں۔ یہی لوگ غالب ہوں گے۔ اگرچہ دنیاپرستوں کی نظروں میں ان کی کچھ قدر و قیمت نہیں ہوتی اور یہ لوگ محروم تصور ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ دنیا پرست ان کا مذاق اڑاتے ہیں، جس طرح کافر مومنین کا مذاق اڑاتے ہیں۔

اب تک جو ہدایات دی گئیں ان کا مقصد یہ تھا، جماعت مسلمہ کے دل میں ایک مکمل واضح اور جامع تصور حیات قائم ہو جائے۔ یہ ہدایات یہاں ختم ہو جاتی ہیں۔ اب جماعت مسلمہ کو توجہ دلائی جاتی ہے کہ وہ ذرا ان اہل ایمان کے حالات کا مطالعہ کرے، جو اپنے مخالف دشمنان اسلام، مشرکین اور اہل کتاب کے اختلاف رائے رکھتے تھے، پھر ان نظریاتی اختلافات کی وجہ سے ان پر بے شمار مصیبتیں آئیں۔ ان اختلافات کی بنا پر بڑی بڑی جنگیں لڑی گئیں، لوگوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹے اور وہ چور چور ہو گئے۔

جماعت مسلمہ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ یہ سنت اللہ ہے جو زمانہ قدیم سے چلی آ رہی ہے۔ یوں اہل ایمان کو عام لوگوں سے علیحدہ کر دیا جاتا ہے اور انہیں جنت میں داخل کرنے کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ تاکہ وہ ا س میں داخل ہوں اور ا س کے مستحق ہوں۔ سنت اللہ یہ ہے کہ نظریاتی لوگ اپنے نظریات کی مدافعت کریں۔ وہ اپنے عقائد و نظریات کے لئے مشکلات، تکالیف اور دکھ و درد برداشت کریں۔ انہیں کبھی فتح نصیب ہو گی کبھی شکست لیکن وہ ہر حال میں اپنے نظریات پر ثابت قدم رہیں گے، کوئی سختی انہیں متزلزل نہ کرسکے گی۔ کوئی قوت انہیں ڈرا نہ سکے گی۔ مشکلات اور آزمائشوں کے پے درپے حملوں میں وہ ہمت نہ ہاریں۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو وہ لوگ اللہ کی نصرت کے مستحق ہو جائیں گے۔ کیونکہ وہ اللہ کے دین کے امین بن گئے ہیں اور جو امانت ان کے سپردکی گئی ہے اس میں وہ دیانت دار ہیں۔ وہ اس کو بچانے کی قابلیت رکھتے ہیں اور اس کے لئے وہ جنت کے بھی مستحق ہیں۔ ان کی روحیں خوف سے آزاد ہو گئی ہیں، وہ ذلت سے آزاد ہو گئے ہیں۔ وہ عیش و آرام کے حریص نہیں رہے۔ بلکہ انہیں اب خود اپنی زندگی کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ایسے حالات میں اللہ کے یہ سپاہی آب و گل کی اس دنیا سے بہت ہی دور ہو جاتے ہیں اور جنت اور اللہ کے زیادہ قریب ہو جاتے ہیں۔

 

“پھر کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت کا داخلہ تمہیں مل جائے گا، حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گزرا ہے، جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکا ہے۔ ان پر سختیاں گزریں، مصیبتیں آئیں اور مارے گئے حتیٰ کہ وقت کا رسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی (اس وقت انہیں تسلی دی گئی) ہاں اللہ کی مدد قریب ہے۔ ” (٢١٤)

 

یہ تھا اللہ تعالیٰ کا خطاب، پہلی اسلامی جماعت سے۔ فرماتے ہیں کہ میری ایک سنت ہے کہ میں اپنے بندوں میں سے جس کے ہاتھ میں اپنا علم پکڑاتا ہوں۔ جنہیں میں اس دنیا میں اپنا امین بنا لیتا ہوں، جن کے ذریعے میں اسلامی نظام قائم کرتا ہوں، اور شریعت نافذ کرتا ہوں انہیں پہلے مصائب کی بھٹی میں ڈال کر ان کی تربیت کرتا ہوں، یہ میری تاریخی سنت ہے۔

ذرا انسانی تاریخ میں اسلامی تحریکات کا مطالعہ تو کرو۔ یہ خطاب صرف مدینہ طیبہ کی پہلی تحریک اسلامی کے لئے مخصوص نہ تھا، بلکہ یہ خطاب ہر اس تحریک کے لئے ہے جسے اللہ تعالیٰ اس کائنات میں یہ عظیم رول ادا کرنے کے لئے منتخب کر لیتا ہے جو اسلامی نظام کے داعی ہوں، ان سے یہ خطاب ہے۔

یہ ایک عظیم، دور رس اور خوفناک تجربہ ہے، رسولوں کا چیخ اٹھنا، رسولوں کے ساتھ مومنین کا پکار اٹھنا، سب کا بیک آواز پکار اٹھنا کہ کب آئے گی اللہ کی مدد؟”اس سوال ہی سے مصائب و شدائد کا اندازہ کیا جا سکتا ہے جنہوں ان خدا رسیدہ لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا، یقیناً وہ مصائب و شدائد ناقابل برداشت ہوں گے، جنہوں نے ایمان سے بھرے ہوئے ان دلوں کو متاثر کر لیا اور ان کے منہ سے بھی یہ کربناک چیخ نکل ہی گئی “کب آئے گی اللہ کی مدد؟”

اللہ کی سنت ہے کہ جب ایمان سے بھرے ہوئے یہ دل ان ہلا مارنے والے مصائب کو برداشت کر لیتے ہیں تو پھر اللہ کی بات پوری ہو جاتی ہے اور اس کی مدد آ پہنچتی ہے أَلا إِنَّ نَصْرَ اللَّہِ قَرِيبٌ”ہاں اللہ کی مدد قریب ہے۔ ”

ہاں اللہ کی نصرت محفوظ ہوتی ہے، ان کے لئے جو اس کے مستحق ہوتے ہیں اور اس کے مستحق وہ لوگ ہوتے ہیں جو آخر وقت تک ثابت قدم رہتے ہیں۔ جو تنگی اور مصیبت میں ثابت قدم رہتے ہیں جو لوگ مصائب کے مقابلے میں کھڑے رہتے ہیں۔ شدائد کی آندھیوں کے آگے جھکتے نہیں، جنہیں یہ یقین ہوتا ہے کہ صرف اللہ ہی ہے جو امداد و نصرت دے سکتا ہے (اور جب اس کی مشیئت ہو گی وہ نصرت دے گا )حالت یہ ہو جائے کہ مصائب انتہاء کو پہنچ جائیں اور اہل ایمان کا کوئی اور سہارا نہ رہے۔ اللہ کے سوا کسی اور نصرت و امداد کا کوئی ذریعہ نہ رہے۔ صرف اللہ ہی نصرت باقی رہ جائے اور اہل ایمان بھی صرف اللہ ہی کی طرف نظریں اٹھائے ہوئے ہیں۔

یہ ہے وہ حالت جس کی بنا پر اب تو مومنین داخلہ جنت کے مستحق ہو جاتے ہیں۔ وہ جنت میں داخل ہوتے ہیں، آزمائش و امتحان کے بعد، صبر و اثبات کے بعد، صرف اللہ کی ہی طرف یکسو ہو جانے کے بعد صرف اللہ کے لیے اپنا شعور خالص کر دینے کے بعد اور اللہ کے سوا ہر چیز اور ہر سبب بھول چکنے کے بعد۔

اسلامی جدوجہد اور اس کے دوران میں مصائب و شدائد پر صبر کے نتیجے میں انسان کو ایک عظیم قوت عطا ہو جاتی ہے۔ انسان کو اپنی ذات پر حاکمیت حاصل ہو جاتی ہے۔ اذیت و مصیبت کی بھٹی میں نفس انسانی کے عناصر صاف وشفاف ہو جاتے ہیں۔ اسلامی نظریۂ حیات میں گہرائی۔ زندگی اور قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ نہ نظریہ زندہ اور تابندہ ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے اس نظریہ کے اعداء کی آنکھیں بھی چکا چوند ہو جاتی ہیں اور یہ وہ مقام ہوتا ہے۔ جہاں پھر یہ دین کے ازلی دشمن بھی فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہونے لگتے ہیں۔

ہر مسئلہ حق میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ آغاز سفر میں حاملین حق کو مشکلات پیش آتی ہیں، لیکن جب وہ ثابت قدمی دکھائیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کے دشمن اور محارب بھی ان کی طرف جھکتے ہیں اور اس نظریۂ حیات کے شدید ترین دشمن اور اس کے طاقتور مخالف بھی ہتھیار ڈالتے ہیں اور اس کی دعوت کی نصرت اور امداد کرنے لگتے ہیں لیکن اگر یہ نتیجہ نہ بھی نکلے، تو بھی اس سے زیادہ عظیم نتائج نکلتے ہیں۔

دعوت اسلامی کے حاملین کی روح تمام دنیاوی فتنوں، تمام دنیاوی خرابیوں پر غالب آ جاتی ہے۔ یہ روح حرص ولالچ اور عیش و عشرت کی غلامی سے آزاد ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ آخر میں جا کر مرد مومن کو اپنی زندگی کا لالچ بھی نہیں رہتا۔ جب نفس انسانی اس مقام تک پہنچ جائے تو وہ پوری کائنات کو جیت لیتا ہے۔ ان تمام دلوں کو جیت لیتا ہے جو اس مقام تک مشکلات پر غالب ہو کر پہنچتے ہیں۔ یہ وہ نفع ہے جو تمام مصائب تمام سختیوں پر بھاری ہے۔ جو اہل ایمان اس مقام تک پہنچنے کے لئے برداشت کرتے ہیں، یہ وہ اہل ایمان جو اللہ کے علم کے امین ہیں۔ جو اللہ کے دین، اس کی شریعت اور اس کی امانت کے اٹھانے والے ہیں۔

یہ آزادی ہی اہل ایمان کو، اس جہاں میں داخلہ جنت کے اہل بناتی ہے۔ یہ ہے اصل راہ۔ یہ وہ راہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے روز اول تحریک اسلامی کو دکھائی۔ ہر دور میں اٹھنے والی ہر اسلامی تحریک کے لئے یہی راہ ہے۔

یہی ہے راہ ایمان و جہاد کی راہ، آزمائش و ابتلا کی راہ، صبر و ثبات کی راہ، صرف اللہ وحدہ لاشریک کی طرف رخ۔ پھر دیکھئے کہ کس طرح مدد آتی ہے، پھر دیکھئے کہ انعامات کی بارش کس طرح ہوتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

درس ۱۴ ایک نظر میں

 

جیسا کہ واضح ہے، سورت کے اس حصے میں احکام کے سوال و جواب کی فضا ہے۔ جیسا کہ ہم آیت یسئلونک عن الاھلۃ کی تفسیر میں بیان کر آئے ہیں کہ یہ ایک ایسا منظر ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کس قدر بیدار تھا، جماعت کے افراد کے دلوں پر کس طرح چھایا ہوا تھا اور یہ کہ مسلمان اپنی روزمرہ کی زندگی کے ہر معاملے میں اپنے نظریے کا حکم معلوم کرنے کے لئے کس قدر بے تاب تھے تاکہ ان کا طرز عمل ان کے نظریۂ حیات کے مطابق ہو اور یہ ایک صحیح مسلمان کی پختہ علامت ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اسلام کا حکم معلوم کرنے کی کوشش کرے۔ اور وہ اس وقت تک عملی قدم نہ اٹھائے جب تک یہ معلوم نہ کر لے کہ اس بارے میں اسلام کا کیا حکم ہے ؟جس چیز کو اسلام برقرار رکھے وہ اس کا دستور اور قانون بن جائے اور جسے اسلام ترک کر دے وہ اس کے لئے ممنوع اور حرام ہو جائے۔ یہ حساسیت دراصل اس نظریۂ حیات پر پختہ ایمان کی علامت ہے۔

یہودیوں، منافقین اور مشرکین نے، اسلام کی بعض اصلاحات کے خلاف جو اعتراضات شروع کر رکھے تھے وہ اس سلسلے میں وہ سازش کے طور پر حملے کر رہے تھے، ان سے متاثر ہو کر یا ان کی اصل حقیقت اور حکمت معلوم کرنے کی خاطر بعض مسلمان بھی سوالات اٹھا رہے تھے۔ ان اصلاحات کے خلاف یہودی سخت زہریلا پروپیگنڈا کرتے تھے اور بعض مسلمان اس سے متاثر بھی ہو جاتے۔ ایسے مواقع پر قرآن مجید کا کوئی حصہ نازل ہوتا اور مسئلہ زیر بحث کا فیصلہ کر دیتا۔ مسلمان یقین حاصل کر لیتے، سازشیں ختم ہو جاتیں۔ فتنے اپنی موت آپ مر جاتے اور سازشیوں کی سازش خود ان کے گلے پڑ جاتی۔

ان سوالات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں قرآن مجید چومکھی فکری جنگ لڑ رہا تھا، کبھی یہ معرکہ خود مسلمانوں کے دل و دماغ میں برپا ہے۔ کبھی مسلمانوں کی صفوں میں اور کبھی ان دشمنان اسلام کے خلاف ہے جو اسلام سے برسر پیکار تھے اور اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے۔

یہ سبق بھی اس فکری جنگ کا حصہ ہے اور اس میں بعض سوالا ت کے جوابات دیئے گئے ہیں۔ مثلاً انفاق، اس کی مقدار، اس کے مصرف اور مال کی قسم جس سے انفاق کیا جائے، کے بارے میں سوال، حرام مہینوں میں لڑنے کے بارے میں سوال، شراب اور جوئے کے بارے میں سوال، یتیموں کے بارے میں سوال، ان سب سوالا ت کے اسباب وہی تھے جن کا ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں اور آیات پر بحث کے وقت تفصیلات عرض ہوں گی ان شاء اللہ!

٭٭٭

 

 

 

 

درس نمبر ۱۴ تشریح آیات(۱۲۵ تا ۲۲۰)

 

“لوگ پوچھتے ہیں ہم کیا خرچ کریں ؟”جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر، رشتے داروں پر، یتیموں اور مسکینوں پر اور مسافروں پر خرچ کرو اور جو بھلائی بھی تم کرو گے اللہ اس سے باخبر ہو گا۔ ” (٢١٥)

 

اس سوال سے پہلے انفاق فی سبیل اللہ کے بارے میں متعدد آیات نازل ہو چکی تھیں۔ جن حالات میں تحریک اسلامی کا آغاز ہوا، ایسے حالات میں انفاق فی سبیل اللہ نہایت ضروری ہوتا ہے، تاکہ اسلامی جماعت مصائب و مشکلات اور ان جنگی معرکوں میں دشمنوں کا مقابلہ کرسکے، جو اسے درپیش آنے والے تھے۔ انفاق کی اہمیت ایک دوسری وجہ سے بھی اس دور میں زیادہ ہو گئی تھی، مثلاً یہ کہ تحریک اسلامی میں ساتھیوں کے درمیان اجتماعی تکافل کے قیام کی بھی اشد ضرورت تھی۔ افراد جماعت کے مابین ظاہری امتیازات کو ختم کرنے کی ضرورت تھی، تاکہ ہر فرد یہ سمجھے کہ وہ ایک جسم کا عضو ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے اور نہ کوئی چیز ان سے روکی جاتی ہے۔ شعوری طور پر ایک جماعت کے قیام کے لئے اجتماعی تکافل اور انفاق کا نظام قائم کرنا بہت ضروری ہے۔ افراد جماعت کی کارکردگی میں اضافہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کی ضروریات کا لحاظ رکھا جائے۔

ایسے حالات میں بعض مسلمانوں نے سوال کیا تھا کہ وہ کیا خرچ کریں ؟سوال تو یہ تھا کہ وہ کیا خرچ کریں ؟نوعیت انفاق کیا ہو؟جواب میں انفاق کی صفت اور انفاق کے مصارف بیان کئے گئے :

قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ”جو مال بھی تم خرچ کرو”اس تعبیر میں دو اشارے ہیں۔ ایک یہ کہ جو چیز بھی تم خرچ کرو اسے خیر ہونا چاہئے۔ دینے والے کے لئے بھی خیر ہو، لینے والے کے لئے بھی۔ اس معاشرے کے لئے بھی جس میں یہ لین دین ہو رہا ہے اور اپنی ذات میں بھی وہ خیر ہو۔ اس طرح ہو کہ عمل بھی پاک۔ تحفہ بھی پاک۔ چیز بھی پاک۔

دوسرا اشارہ یہ ہے کہ خرچ کرنے والے کو اچھی طرح سوچ کر اپنے مال سے اعلیٰ تر چیز خرچ کرنی چاہئے۔ ا س کے پاس جو بہترین چیزیں ہوں انہیں خرچ کرے۔ اس میں دوسروں کو شریک کرے۔ انفاق سے دل پاک ہو جاتا ہے۔ نفس کا تزکیہ ہوتا ہے اور دوسروں کا فائدہ ہوتا ہے۔ ان کی اعانت ہو جاتی ہے۔ پھر تلاش کر کے اپنے مال میں سے بہتر چیز خرچ کرنا ایک ایسا اقدام ہے جس سے دل میں طہارت آ جاتی ہے۔ نفس انسانی پاک وصاف ہو جاتا ہے اور انفاق کو اپنانے کا اعلیٰ مفہوم سامنے آتا ہے۔

لیکن یہ محض اشارہ ہے اور اسے لازم اور فرض قرار نہیں دیا گیا۔ جبکہ دوسری آیت میں اس کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں مناسب ہے کہ اوسط درجے کا مال اللہ کی راہ میں دیا جائے۔ نہ بہت قیمتی ہو اور نہ بالکل ردی ہو، البتہ آیت میں یہ اشارہ ہے کہ نفس پر قابو پانے کے لئے بہتر مال خرچ کیا جائے اور اہل ایمان کو اس پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہی قرآن کریم کا انداز تربیت ہے یعنی بذریعہ ترغیب اور آمادگی اصلاح کی جاتی ہے۔

انفاق کا طریقہ اور مصرف کیا ہے ؟اس سوال کا جواب یہ ہے فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالأقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ”اپنے والدین رشتے داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو۔ ”

انفاق کرنے والے اور ان لوگوں کے درمیان مخصوص روابط ہیں۔ بعض افراد اور انفاق کرنے کے درمیان نسبتی رشتہ ہے۔ بعض کے درمیان رحم کے رشتے ہیں۔ بعض کے ساتھ محض رحم و شفقت کا رشتہ ہے اور بعض کے ساتھ نظریات کے وسیع حدود میں صرف انسانی ہمدردی کا تعلق ہے۔ اور سب کو ایک ہی آیت میں سمودیا گیا ہے۔ والدین، اقربین، یتامی، مساکین، مسافر، ان سب کو اسلامی نظریۂ حیات کے وسیع دائرے میں ضروریات اور بوقت ضرورت معاونت کی گارنٹی حاصل ہے۔

انفاق کے مصارف میں وہی ترتیب ہے جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے۔ نیز بعض دوسری آیات میں بھی اس کی وضاحت کی گئی اور بعض احادیث میں اس کی مزید تفصیل اور تشریح کا ذکر ہے۔ صحیح مسلم میں ایک روایت ہے جس میں رسولﷺ نے ایک شخص سے کہا:”پہلے اپنے نفس سے آغاز کرو اور اس پر صدقہ کرو۔ اس سے زیادہ ہو تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو، اگر پھر بھی کچھ بچ جائے تو رشتے داروں پر خرچ کرو، اگر ان سے بھی بچ جائے …….”

مصارف کی اس ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے نفس انسانی کی تربیت اور اس کی قیادت اور راہنمائی کے لئے کیا حکیمانہ اور سادہ انداز اختیار کیا ہے۔ اسلام انسان کے ساتھ اس کی حقیقت کے مطابق معاملہ کرتا ہے۔ اس کی فطرت۔ اس کے میلانات اور اس کے رجحانات کے عین مطابق۔ اسلام انسان کو ساتھ لے کر اس طرح چلتا ہے جس طرح بچہ پیدا ہوتا ہے پھر وہ کھڑا ہو جاتا ہے اور ایک متعین مقام پر ہوتا ہے۔ اسلام اس کا ہاتھ پکڑ کر قدم بقدم اسے لے کر چلتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کی یہ رفتار اس کی فطرت، اس کے رجحانات اور اس کی استعداد کے تقاضوں کے مطابق ہوتی ہے۔ وہ تدریج کے ساتھ اپنے ساتھ پوری زندگی کو نشوونما اور ترقی دیتا جاتا ہے۔ وہ بلندی کی طرف جا رہا ہوتا ہے۔ لیکن تنگی اور تھکاوٹ کا اسے احساس تک نہیں ہوتا۔

اسلام کی ترقی کا انداز یہ نہیں ہے کہ کسی کو بیڑیاں اور ہتھکڑیاں پہنا کر اور اسے گھسیٹ کر بلندیوں تک لے جایا جائے۔ نہ ہی اس کی فطری قوتوں اور فطری رجحانات کو دبایا جاتا ہے کہ وہ ایک پرندے کی طرح پنجرے میں بند ہو جائے اور پھڑپھڑائے اسے راہ ترقی پر اس طرح نہ لے جایا جائے کہ ترقی نہ رہے بلکہ ظلم بن جائے۔ یا اسے ٹیلوں اور پہاڑیوں سے اڑاتے ہوئے لے جایا جائے۔ بلکہ اسے آہستگی اور نرمی سے اوپر کی طرف لے جایا جائے۔ قدم زمین پر ہوں، آنکھیں آسمان پر ہوں اور دل افق کے ساتھ لٹکا ہوا ہو اور اس کی روح عرش کی بلندیوں میں واصل باللہ ہو۔

یہ بات تو اللہ کے علم میں تھی کہ انسان میں حب ذات کا داعیہ ہے۔ اس لئے اللہ نے حکم دیا کہ پہلے اپنی ذات کے لئے بقدر کفایت سامان مہیا کرو۔ ذات کے بعد پھر دوسرے رشتہ داروں پر انفاق کا حکم دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے کھانے پینے کی پاک چیزوں کو جائز قرار دیا۔ اسے ترغیب دی کہ وہ ان حلال چیزوں سے لطف اٹھا۴ے۔ البتہ یہ پابندی لگا دی کہ عیاشی اور غرور سے دور رہے۔

انفاق و صدقہ تو تب شروع ہوتا ہے جب انسان بقدر کفایت خود اپنی ضروریات پوری کر لے۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں :”بہترین صدقہ تو وہ ہے جو ضروریات پورا کر کے دیا جائے اور اوپر کا ہاتھ نچلے ہاتھ سے زیادہ بہتر ہے اور شروع اپنے خاندان سے کرو۔ ”

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں :”رسول اللہﷺ کے پاس ایک شخص ایک انڈے کے برابر سونا لے کر حاضر ہوا۔ اس نے عرض کیا اللہ کے رسولﷺ یہ مجھے کان سے ملا ہے۔ آپﷺ اسے لے لیں۔ یہ صدقہ ہے اور اس کے سوا میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ رسول اللہﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا۔ وہ رسولﷺ کے داہنے جانب سے لے آیا اور وہی بات دہرائی، تو آپﷺ نے پھر منہ پھیر لیا۔ پھر بائیں جانب سے ا ٓیا اور وہی بات دہرائی۔ رسولﷺ نے پھر منہ پھیر لیا۔ پھر وہ پیچھے کی طرف سے آیا اور وہی بات دہرائی۔ اس پر رسولﷺ نے اس سونے کو لے لیا اور اسے اس پر دے مارا۔ اگر اسے لگی ہو تو یاد رکھنا۔ آپﷺ نے فرمایا:”تم میں ایک صاحب میرے پاس وہ سب کچھ لے کر آ جاتا ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے اور کہتا ہے یہ صدقہ ہے، اور پھر بیٹھ جاتا ہے لوگوں سے بھیک مانگنے۔ بہترین صدقہ وہ ہے جو غنا پر کیا جائے۔ ”

یہ حقیقت اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی کہ انسان سب سے پہلے اپنے قریبی افراد خاندان سے محبت کرتا ہے، اپنی اولاد سے اور اپنے والدین سے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کی ذات کے بعد انفاق کے لئے ان افراد کو مستحق قرار دیا تاکہ وہ اپنی دولت کا کچھ حصہ ان پر خوشی و رضا کے ساتھ خرچ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں انسان کے اس فطری میلانات کا لحاظ رکھا ہے، جو بے ضرر ہیں، بلکہ ان کا لحاظ رکھنے میں بھلائی اور حکمت پوشیدہ ہے۔ اور اس حکمت کے ساتھ ساتھ بعض ایسے افراد کی کفالت بھی ہو جاتی ہے جو صدقہ دینے والے کے قریبی رشتہ دار بھی ہیں اور خود امت مسلمہ کے بھی افراد ہیں۔ اگر ان حضرات کی اعانت ان کے اس قریبی رشتہ دار نے نہ کی تو وہ محتاج ہوں گے۔ ان کے لئے اپنے اس قریب رشتہ دار سے امداد حاصل کرنا زیادہ بہتر ہے، بہ نسبت اس کے کہ وہ کسی دور کے شناسا یا غیر شناسا شخص سے امداد لینے پر مجبور ہو جائیں۔

پھر یہ فائدہ مزید ہے کہ اس کے ذریعہ انسان کی پہلی تربیت گاہ یعنی خاندان کے اندر امن و محبت میں اضافہ ہو گا اور افراد خاندان کے درمیان روابط مضبوط ہوں گے جو ایک عظیم انسانیت کی تعمیر میں خشت اول کی حیثیت رکھتا ہے۔

اپنے قریبی رشتہ داروں کے بعد انسان فطرتاً اپنے جملہ رشتہ داروں کو درجہ بدرجہ اور تعلقات و روابط کے مطابق ترجیح دیتا ہے اور خالق فطرت اس بات سے خوب واقف ہے۔ اور یہ کوئی بری بات بھی نہیں ہے کیونکہ یہ رشتہ دار بھی بہرحال امت کا ایک حصہ ہیں اور اسلامی معاشرے کے اجزاء ہیں۔ چنانچہ ایک دولت مند مسلمان اپنے قریبی رشتے داروں کے دائرہ سے ایک قدم اور باہر نکل آتا ہے۔ اس کی پیش رفت بدستور اس کے فطری رجحانات اور میلانات کی سمت میں ہے اور ان کے دور کے رشتے داروں کی ضرورت بھی پوری ہو رہی ہے اور دور کے رشتے داروں کے ساتھ محبت اور رشتے کے تعلقات بھی استوار ہو رہے ہیں۔ یوں اسلامی جماعت کی ابتدائی یونٹ کے باہم تعلقات مربوط ہو جاتے ہیں اور روابط قوی ہو جاتے ہیں۔

اپنی ذات اور قریب و بعید رشتے کے لوگوں پر خرچ کرنے کے بعد بھی اگر کچھ بچ رہتا ہے تو پھر اسلام کا حکم یہ ہے کہ معاشرے کے ان ضعفاء پر خرچ کرو جنہیں دیکھ کر ہی ایک آدمی شرافت، جذبہ رحمت اور جذبہ اشتراک میں جوش میں آ جاتا ہے اور ایک شریف انسان ایسے کمزور لوگوں کی امداد کے تیار ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگوں میں یتیم سب سے پہلے درجے میں آتے ہیں جو چھوٹے بھی ہوتے ہیں اور کمزور بھی۔ پھر ان مساکین کا درجہ ہے جن کے پاس اخراجات کے لئے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ لیکن وہ اپنی شرافت اور سفید پوشی کی وجہ سے۔ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ پھر مسافروں کا نمبر آتا ہے جن کے پاس اگر مال و دولت ہوتا ہے لیکن ان سے دور گھر میں اور اس کے حصول میں رکاوٹیں ہوتی ہیں۔

ابتدائی دور میں ن، تحریک اسلامی میں ایسے لوگوں کی کثرت تھی۔ یہ لوگ اپنی دولت مکہ مکرمہ میں چھوڑ کر ہجرت کر آئے تھے، اور اب یہ لوگ اسلامی معاشرے کے افراد تھے۔ اسلام تحریک اسلامی کے خوش حال لوگوں کی راہنمائی کرتا ہے کہ وہ ایسے نادار لوگوں پر خرچ کریں۔ اس سلسلے میں اسلام ان لوگوں کے پاک فطری رجحانات کو ابھارتا ہے اور ان کی تطہیر کرتا ہے اور بڑی نرمی اور تدریج کے ساتھ ان لوگوں کو نصب العین تک پہنچا دیتا ہے۔ پہلے ان خوش حال لوگوں کے نفوس کا تزکیہ کیا جاتا ہے۔ اور وہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں وہ طیب نفس کے ساتھ خرچ کرتے ہیں، خرچ پر راضی ہوتے ہیں۔ بغیر کسی تنگی اور بغیر کسی جبر کے، اپنے اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ معاشرے کے ضعیف اور محتاج لوگوں کو ان کی ضروریات مل جاتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ تمام افراد معاشرہ باہم پیوست ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کے کفیل اور مددگار بن جاتے ہیں لیکن اس اجتماعی کفالت میں نہ جبر ہے اور نہ کسی کا نقصان ہے۔ اسلام کی یہ راہنمائی نہایت ہی لطیف۔ نہایت ہی خوشگوار اور نہایت ہی دوررس ہے۔ اس میں بھلائی ہی بھلائی ہے۔ یہ راہنمائی نہ جابرانہ ہے، نہ مصنوعی ہے اور نہ س میں کسی قسم کا تشدد ہے۔

انفاق فی سبیل اللہ کے اس کفالتی انتظام کا سررشتہ بھی افق اعلیٰ سے ملا دیا جاتا ہے۔ اس لئے انفاق کر کے دل مومن میں تعلق باللہ کا ایک جوش پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کی داد و دہش میں، اس کے قول و فعل میں، اس کے ضمیر و نیت میں اور اس کے فہم و شعور میں، غرض اس کی پر چیز میں تعلق باللہ پیدا ہو جاتا ہے وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّہَ بِہِ عَلِيمٌ”اور جو بھی بھلائی تم کرو گے، اللہ اس سے باخبر ہو گا۔ “اللہ تعالیٰ اس انفاق سے بھی باخبر ہے۔ اس کی غایت سے بھی خبردار ہے، اس کے پس منظر میں جو نیت ہے اس کا بھی اسے علم ہے۔ اس لئے یہ انفاق ہرگز ضائع نہیں ہوسکتا۔ وہ اللہ کے کھاتے میں لکھا گیا ہے اور اس کھاتے میں کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی۔ وہ لوگوں کے حقوق میں کوئی کمی نہیں کرتا اور نہ ان پر کسی قسم کا ظلم کرتا ہے، لیکن اس پر ریاکاری کا کچھ اثر ہوتا ہے نہ دھوکہ بازی اس کے ہاں چل سکتی ہے۔

یوں قرآن کی یہ راہنمائی دلوں کو لے کر افق اعلیٰ کی بلندیوں تک جا پہنچتی ہے۔ یہ دل صاف و شفاف ہو جاتے ہیں، یکسو ہو جاتے ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہو جاتے ہیں، لیکن بڑی نرمی کے ساتھ، بڑی دھیمی رفتار کے ساتھ، بغیر کسی مصنوعی طریقے کے، بغیر کسی جابرانہ ذریعے کے۔ یہ ہے وہ نظام تربیت جسے اللہ تعالیٰ نے وضع کیا ہے جو علیم بھی ہے اور خبیر بھی ہے۔ اور اس نظام تربیت کے اصولوں کے مطابق اسلامی نظام زندگی تیار ہوتا ہے۔ یہ نظام انسان کی نکیل اپنے ہاتھ میں لے کر ایک عام انسان کی قیادت سنبھالتا ہے۔ وہ جہاں بھی ہو وہاں سے اس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور اسے عروج و کمال کے اس مقام بلند تک لے جاتا ہے جہاں تک یہ انسانیت اسلام سے قبل اپنی پوری تاریخ میں پہنچ سکی ہوتی۔ ہاں انسانیت نے یہ مقام بلند اگر کبھی حاصل کیا ہے تو وہ صرف اسلامی نظام زندگی کے سایہ میں، اسلام کے صراط مستقیم پر چل کر۔

انفاق فی سبیل اللہ کے بعد، جہاد فی سبیل اللہ کا حکم آ جاتا ہے اور اس میں بھی اسلام نے وہی منہاج تربیت اختیار کیا ہے جو انفاق کے سلسلے میں اختیار کیا گیا ہے۔

 

“تمہیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لئے بہتر ہو۔ اور ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لئے بری ہو۔ اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔ ” (٢١٦)

 

قتال فی سبیل اللہ بہت بار گراں فریضہ ہے۔ اس کے باوجود یہ ایسا ہے کہ اس کی ادائیگی واجب ہے۔ اس لئے کہ اس میں ایک مسلمان کے لئے بھی بڑی خیر ہے، اسلامی جماعت کے لئے بھی خیر کثیر ہے بلکہ اس میں پوری انسانیت کی عظیم بھائی ہے۔ یہ فریضہ محض سچائی کے لئے ہے، بھلائی کے لئے ہے اور اصلاح احوال کے لئے ہے۔

اسلام چونکہ ایک فطری دین ہے، اس لئے وہ ہر معاملے میں اپنا موقف اور نقطہ نظر بھی عین فطرت کے مطابق اختیار کرتا ہے۔ اس فریضے کی ادائیگی میں جو مشقتیں اور دشواریاں ہیں اللہ ان کا انکار نہیں کرتا۔ نہ اسے آسان اور ہلکا تصور کیا جاتا ہے۔ نہ اس بات کا انکار کیا جاتا ہے کہ نفس انسانی اسے بتقاضائے فطرت ناپسند کرتا ہے اور اسے بھاری سمجھتا ہے۔ اسلام نہ فطرت کا انکار کرتا ہے۔ نہ کسی معاملے میں نظام فطرت سے متصادم ہوتا ہے۔ نہ انسان پر اس کے ان فطری احساسات کو حرام قرار دیتا ہے، جن کے انکار کا کوئی جواز نہیں ہے۔ جن کو کالعدم نہیں گردانا جا سکتا۔ البتہ اسلام ان فطری احساسات کا علاج ایک دوسرے طریقے سے کرتا ہے۔ اسلام فطرت کی ان تاریکیوں کو ایک جدید قسم کی روشنی سے ختم کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تم جو فرض عائد کیا گیا ہے بے شک وہ شاق ناپسندیدہ ہے، لیکن اس کے پس منظر میں ایک عظیم مصلحت ہے جس کی وجہ سے وہ بہت ہی ہلکا ہو جاتا ہے، آسان ہو جاتا ہے۔ اس کی مشقت کم ہو جاتی ہے۔ اور اس کے ذائقے کی کڑواہٹ کم ہو جاتی ہے۔ اس کے ذریعہ ایک پوشیدہ بھلائی وجود میں آتی ہے۔ اس پوشیدہ بھلائی کو انسان کی سطحی نظر اچھی طرح نہیں دیکھ سکتی۔ اس نقطہ نظر کو پا لینے کے بعد، انسانی روح پر معرفت کے لئے دروازے کھل جاتے ہیں اور ان کے ذریعہ انسان اس معاملے کی حقیقت تک پہنچ سکتا ہے۔ اب انسان جہاد و قتال کے مسئلے پر ایک نئے زاویہ سے نگاہ ڈالتا ہے۔ اور پھر جب انسان مشکلات سے دوچار ہوتا ہے اور مصائب میں گھر ا ہوتا ہے، تو اس کے روح کے اس زاویہ ار معرفت کے اس نئے دروازے سے اس کے قلب و نظر پر ٹھنڈی ٹھنڈی خوشگوار ہوا چلتی ہے اور اسے اطمینان نصیب ہوتا ہے اس لئے کہ عین ممکن ہے شاید ان مشکلات کے بعد آسانیاں ہوں اور کسے خبر ہے کہ شاید پسندیدہ امر کا انجام یہ نہ ہو گا۔ یہ تو وہی ہے جو دور دراز انتہاؤں کا علم رکھنے والا ہے جبکہ تمام لوگ اس علم کے ایک حصہ سے بھی خبردار نہیں ہیں۔

جب نفس انسانی پر یہ خوشگوار بادنسیم چلتی ہے تو اس پر ٹوٹنے والے تمام مصائب اور مشقتیں اور سختیاں آسان ہو جاتی ہیں۔ امید و بقا کے دریچے کھل جاتے ہیں، سخت تپش میں بھی دل ٹھنڈک محسوس کرتا ہے اور یقین وامید کے ساتھ اطاعت اور ادائے فرض کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔

اسلام فطرت کے ساتھ یوں معاملہ کرتا ہے کہ وہ انسان کے فطری رجحانات پر کوئی نکیر نہیں کرتا۔ اور نہ ہی انسان کو کسی مشکل فرض کے سرانجام دینے پر محض آرڈر اور حکم کے ذریعہ مجبور کرتا ہے، بلکہ وہ انسان کی تربیت کر کے اسے اطاعت پر آمادہ کرتا ہے۔ امید کا دائرہ وسیع کر دیتا ہے۔ وہ اسے یہ تعلیم دیتا ہے کہ ادنیٰ چیز کو خرچ کر کے اعلیٰ ترین حاصل کرو، وہ انسان کو ذاتی خواہشات کے مقابلے میں نہیں بلکہ خوشی و رضا سے کھڑا کرتا ہے تاکہ انسان کی فطرت کو اس بات کا احساس ہو کہ اللہ کا رحم و کرم اس کے شامل حال ہے کیونکہ وہ انسانی کمزوریوں سے خوب واقف ہے۔ وہ وہ معترف ہے کہ انسان پر جو فریضہ عائد کیا گیا ہے وہ ایک مشکل کام ہے۔ وہ اس کی مجبوریوں سے بھی واقف ہے اور انسان کی بھی قدر کرتا ہے اور بلند ہمتی، التجا اور امید کے ذریعے اسے مسلسل آگے بڑھانے کی ہمت بھی دیتا رہتا ہے۔

یوں اسلام انسانی فطرت کی تربیت کرتا ہے، وہ فرائض پر ملول نہیں ہوتی، صدمات کی ابتلا میں جزع وفزع نہیں کرتی اور نہ مصائب شروع ہوتے ہی وہ ہمت ہار بیٹھتی ہے۔ اگر مشکلات کے مقابلے میں کمزوری ظاہر ہو جائے تو شرمندہ ہو کر صاف گرہی نہیں جاتی بلکہ ثابت قدم رہنے کی سعی کرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ اسے عند اللہ معذور سمجھا جائے گا۔ اسے یہ امید ہوتی ہے کہ اللہ اس کی امداد کرے گا اور اپنی طرف سے قوت بخشے گا اور مصائب کا مقابلہ کرنے کا پختہ ارادہ کر لیتی ہے۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ان مشکلات کی تہہ میں کچھ خیر پوشیدہ ہو۔

مشکلات کے بعد آسانیاں آ جائیں۔ تھکاوٹ اور ضعف کے بعد بہت بڑا آرام نصیب ہو جائے۔ یہ فطرت محبوبات و مرغوبات پر فریفتہ نہیں ہوتی اس لئے کہ عیش و عشرت کا نتیجہ حسرت بھی تو ہوسکتی ہے۔ محبوب کی تہہ سے مکروہ بھی برآمد ہوسکتا ہے۔ کبھی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ روشن تر امیدوں کے پس پردہ ہلاکت اور مصیبت انتظار کر رہی ہو۔

تربیت کا یہ عجیب نظام ہے۔ بہت ہی گہرا اور بہت ہی سادہ۔ یہ نظام نفس انسانی کے سرچشموں، اس کے پوشیدہ گوشوں اور اس کے مختلف گزر گاہوں کا شناسا ہے۔ یہ نظام تربیت سچائی اور صداقت سے کام لیتا ہے۔ ا س میں جھوٹے اشارے، جھوٹے تاثرات اور نظر فریب جعل سازی نہیں ہوتی۔ پس یہ حقیقت ہے انسان کا ناقص اور ضعیف ذہن کسی بات کو ناپسند کرے حالانکہ وہ خیر ہی خیر ہو۔ اور یہ بھی حق ہے کہ انسان کسی چیز کو پسند کرے اور اس کا جانثار ہو۔ لیکن اس میں شر ہی شر ہو۔ اور یہ بھی حق ہے کہ اللہ جانتا ہے اور انسان نہیں جانتے۔ لوگوں کو عواقب اور انجام کا کیا علم ہے۔ وہ کیا جانیں کیونکہ پردہ گرا ہوا ہے اور پس پردہ کیا ہے ؟غرض لوگوں کو ان حقائق کا علم نہیں ہوسکتا جو ہماری خواہشات، جہالت اور نفس کے تابع نہیں ہیں۔

قلب انسانی کے اندر یہ ربانی احساس، اس کے دریچے کھول دیتا ہے۔ اس کے سامنے ایک نئی دنیا نمودار ہو جاتی ہے۔ یہ دنیا اس محدود دنیا سے بالکل مختلف ہے جسے ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں۔ اس کی نظروں کے سامنے کچھ دوسرے عوامل بھی آ جاتے ہیں جو اس کائنات کی گہرائیوں میں کام کر رہے ہوتے ہیں، جو معاملات کی کایا پلٹ دیتے ہیں، جو نتائج کی اس ترتیب کو الٹ دیتے ہیں جن میں انسان کو تمنا ہوتی ہے یا وہ ان کی توقع کئے ہوئے ہوتا ہے۔ جب قلب مومن تن بہ تقدیر اس ربانی احساس کے تابع ہو جاتا ہے، تو پھر وہ پر امیدہو کر کام کرتا ہے۔ اسے امید بھی ہوتی ہے اور اللہ کا ڈر بھی، لیکن وہ تمام نتائج برضا و رغبت دست قدرت کے سپرد کر دیتا ہے جو حکیم ہے اور علیم ہے۔ جس کا علم سب کو گھیرے ہوئے ہے۔ یہ ہے دراصل سلامتی کے کھلے دروازے کا داخلہ۔ نفس انسانی کو اسلام کا صحیح شعور اس وقت تک نصیب نہیں ہوسکتا، جب تک اس میں یہ یقین پیدا نہ ہو جائے کہ خیر اسی میں ہے جسے اللہ نے خیر بتایا، بھلائی اس میں ہے کہ اپنے رب کی اطاعت وفرمانبرداری اختیار کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کو آزمانے اور اللہ سے براہین طلب کرنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔ پختہ یقین، پرسکوں امید اور سعی پیہم ہی سلامتی کے دروازے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو انہی دروازوں سے داخل ہونے کی دعوت دیتا ہے اور حکم دیتا کہ نیمے دروں اور نیمے بیروں میں نہیں بلکہ پورے پورے ان دروازوں میں داخل ہو جاؤ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بڑے سادہ عجیب لیکن بہت گہرے منہاج کے ساتھ اس سلامتی کی طرف لے جا رہا ہے۔ بڑی نرمی، بڑی آسانی اور دھیمی رفتار سے۔ سلامتی کے اس راستے پر وہ انہیں اس طریقے سے لے جا رہا ہے کہ آخرکار وہ ان پر قیام امن کے لئے قتال بھی فرض کر دیتا ہے۔ سلامتی کیا چیز ہے ؟سلامتی یہ ہے کہ میدان جنگ میں انسان کی روح اور اس کا ضمیر مطمئن اور امن وسلامتی سے رہیں۔

قرآن کریم کی اس آیت میں قتال کی نسبت سے جو اشارہ کیا گیا ہے، وہ قتال تک ہی محدود نہیں ہے۔ قتال تو ان امور کی ایک واضح مثال ہے جسے نفس انسانی فطرتاً پسند نہیں کرتا۔ لیکن اس میں نتائج کے اعتبار سے بھلائی ہوتی ہے۔ یہ نکتہ دراصل مومن کی پوری زندگی میں اس کا فلسفہ حیات ہے۔ اس کے تمام واقعات زندگی پر اس کا پرتو ہوتا ہے۔ انسان توکسی معاملے میں یہ نہیں جانتا کہ خیر کہاں ہے اور شر کہاں ہے ؟بدر کے دن مسلمان نکلے کہ قریش کے قافلے کو لوٹ لیں اور ان کے مال تجارت پر قبضہ کر لیں۔ اللہ نے ان سے غنیمت کا وعدہ بھی کر رکھا تھا، وہ سمجھتے تھے کہ یہی قافلہ اور اس کا مال تجارت بس انہیں ملنے ہی والا ہے۔ ان کے تصور میں بھی یہ نہ تھا کہ انہیں قریش کی فوج کے ساتھ دوچار ہونا پڑے گا، لیکن اللہ کا کرنا یہ تھا کہ قافلہ بچ نکلا اور ان کاسامنا قریش کی ساز وسامان سے لیس فوج سے ہو گیا اور اس کے نتیجہ میں اہل اسلام کو وہ کامیابی نصیب ہوئی جس کی آواز بازگشت پورے جزیرۃ العرب میں سنی گئی۔ اب دیکھئے کہ مسلمانوں کی کامیابی کے مقابلہ میں قافلہ اور اس کے تجارتی سامان کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ؟اب دیکھئے، مسلمانوں نے اپنے لئے جو پسند کیا اس کی قدر و قیمت کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جو اختیار کیا اس کی قدر و قیمت کیا ہے ؟حقیقت یہ ہے کہ اللہ جانتا ہے اور لوگ نہیں جانتے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ساتھی نوجوان اپنا کھانا بھول گیا یعنی مچھلی۔ جب پتھر کے پاس پہنچے تو مچھلی دریا میں چلی گئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام آگے چلے گئے اور اپنے خادم سے کہا لاؤ ہمارا ناشتہ آج کے سفر میں توہم بری طرح تھک گئے ہیں۔ خادم نے کہا آپ نے دیکھا، یہ کیا ہوا؟جب ہم اس چٹان کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے، اس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کر دیا کہ میں اس کا ذکر آپ سے کرنا بھول گیا۔ مچھلی تو عجیب طریقے سے نکل کر دریا میں چلی گئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا :اسی کی تو ہمیں تلاش تھی، چنانچہ وہ دونوں اپنے نقش قدم پر واپس ہوئے اور وہاں انہوں نے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا۔ یہی وہ مقصد تھا جس کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سفر اختیار کیا۔ اگر مچھلی کا واقع نہ ہوتا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نہ لوٹتے اور وہ پورا مقصد فوت ہو جاتا جس کے لئے انہوں نے یہ تھکا دینے والا سفر اختیار کیا تھا۔

ہر انسان اگر تامل کرے تو وہ بعض مخصوص تجربوں میں ا س سچائی کو دریافت کرسکتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کئی ایسے تجربات سے دوچار ہوا جو اسے ناپسند تھے۔ لیکن ان کے پس پردہ وہ خیر عظیم کارفرما تھی۔ اور کئی پر ذائقہ اور لذیذ چیزیں بھی تھیں۔ لیکن ان کی تہہ میں شر عظیم نہا تھا۔ کئی ایسے مقاصد ہوتے ہیں کہ جن سے انسان محروم ہو جاتا ہے اور اسے اپنی اس محرومی کا بے حد صدمہ بھی ہوتا ہے لیکن ایک عرصہ کے بعد نتائج دیکھ کر انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے محروم رکھ کر دراصل بلائے عظیم سے نجات دی تھی۔ کئی مصائب و شدائد ایسے جاں گسل ہوتے ہیں، کہ انسان بڑی ناخوش گواری سے ان کے کڑوے گھونٹ بھرتا ہے اور قریب ہوتا ہے کہ ان مصائب کی سختی کے نتیجے میں اس کی جان ہی نکل جائے، لیکن ایک طویل عرصہ نہیں گزرتا کہ ان سختیوں کے نتائج اتنے اچھے نکلتے ہیں جتنے ایک طویل پر آسائش زندگی کے نتیجے میں اچھے نہ ہوسکتے تھے۔

یہ ہے منہاج تربیت جس کے مطابق اللہ نفس انسانی کو لیتا ہے کہ وہ ایمان لے آئے، اسلام میں داخل ہو جائے اور آنے والے نتائج اللہ کے سپرد کر دے۔ اس کا کام صرف یہ ہے کہ بقدرِ استطاعت، ظاہری جدوجہد کے میدان میں اپنی پوری قوت لگا دے۔

تحریک اسلامی کو امن وسلامتی کی طرف لے جایا جا رہا تھا کہ وہ پوری کی پوری سلامتی کے نظام میں داخل ہو جائے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی حرام مہینوں میں قتال کے بارے میں فتویٰ بھی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں

 

“لوگ پوچھتے ہیں کہ ماہ حرام میں لڑنا کیسا ہے ؟کہو اس میں لڑنا بہت برا ہے، مگر راہ خدا سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام کا راستہ اللہ پرستوں پر بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برا ہے اور فتنہ خونریزی سے شدید تر ہے۔ وہ تو تم سے لڑتے ہی جائیں گے حتیٰ کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہارے دین سے تم کو پھیر لے جائیں (اور یہ خوب سمجھ لو کہ )تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا، اس کے اعمال دنیا و آخرت میں ضائع ہو جائیں گے۔ ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ بخلاف اس کے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنا گھر بار چھوڑا اور جہاد کیا ہے، وہ رحمت الٰہی کے جائز امیدوار ہیں اور اللہ ان کی لغزشوں کو معاف کرنے والا اور اپنی رحمت سے انہیں نوازنے والا ہے۔ ” (٢١٧۔٢١٨)

 

متعدد روایات میں آیا ہے کہ یہ آیات عبداللہ ابن حجش کے سریہ کے بارے میں نازل ہوئیں ہیں۔ رسول اللہﷺ نے انہیں ایک سیل شدہ خط دیا اور آٹھ افراد ان کے ساتھ روانہ کئے جو سب کے سب مہاجر تھے، انصار کا ان میں کوئی نہ تھا۔ آپﷺ نے عبداللہ کو حکم دیا کہ وہ دو رات دن کے سفر سے پہلے اس خط کو نہ کھولے۔ جب اس نے مقررہ وقت پر خط پڑھا تو اس کی عبارت یہ تھی جب تم میرے اس خط کو پڑھو تو آگے بڑھو یہاں تک کہ وادی بطن نخلہ میں جا اترو۔ جو مکہ اور طائف کے درمیان ہے۔ یہاں تم قریش کے حالات نگاہ میں رکھو اور ہمیں ان کی اطلاع دیتے رہو۔ لیکن اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی اپنے ساتھ لے جانے پر مجبو ر نہ کرنا۔ یہ واقعہ بدر کبریٰ سے پہلے کا ہے۔ عبداللہ بن حجش نے خط پڑھ کر کہا “سر آنکھو ں پر “۔ اس کے بعد اپنے ساتھیوں سے کہا کہ رسولﷺ نے تو مجھے حکم دیا ہے میں بطن نخلہ جاؤں۔ وہاں قریش کو نگاہ میں رکھوں اور ان کے حالات کی اطلاع رسولﷺ کو دوں۔ رسول اللہﷺ نے مجھے اس سے منع کیا ہے کہ میں تم میں سے کسی کو اپنے ساتھ لے جانے پر مجبور کروں۔ تم میں سے جو شخص شہادت کا درجہ حاصل کرنا چاہتا ہے اور اسے اس کا شوق ہے تو وہ چلے اور اگر کوئی اسے ناپسند کرتا ہے تو واپس ہو جائے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں رسول اللہﷺ کے حکم کو بجا لاؤں گا۔ چنانچہ وہ آگے چلا اور اس کے تمام ساتھی اس کے ساتھ ہولیے، کوئی بھی ان میں پیچھے نہ مڑا۔ وہ مجاز کے راستے گئے اور ابھی اس راستے پر ہی تھے کہ سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان کا اونٹ گم ہو گیا۔ وہ عبداللہ بن حجش کے قافلے کے پیچھے رہ گئے تاکہ اونٹ تلاش کر لیں۔ باقی چھ افراد آگے بڑھ گئے۔ جب یہ بطن نخلہ پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ قریش کا ایک قافلہ جا رہا ہے، جس کے اونٹوں پر سامان تجارت لدا ہوا ہے۔ اس قافلے میں عمرو الحضرمی اور تین دوسرے افراد تھے۔ عمرو کو قتل کر دیا گیا اور دو گرفتار ہوئے اور ایک بھاگ نکلا۔ انہوں نے پورے قافلے کے سامان کو قبضے میں کر لیا۔ اس دستے کا یہ خیال تھا کہ حملے کا دن جمادی الاخر کا آخری دن ہے۔ حالانکہ دراصل حملے کا دن رجب کا پہلا دن تھا۔ اور حرام مہینوں کا آغاز ہو گیا تھا، جن کا احترام عرب بھی بہت زیادہ کرتے تھے اور اسلام نے بھی ان کے احترام کو برقرار رکھا تھا۔ جب یہ دستہ اس قافلے اور قیدیوں کو لے مدینہ پہنچا اور رسول اللہﷺ کے سامنے غنیمت پیش کیا تو آپﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں حرام مہینوں میں لڑنے کا حکم دیا ہی کب تھا؟قافلہ اور قیدی کھڑے کر دیئے گئے اور آپﷺ نے ان کے لینے سے انکار فرمایا۔ جب رسول اللہﷺ نے یہ فرمایا تو لوگ گھبرا گئے اور انہوں نے یقین کر لیا کہ ان سے ایک عظیم جرم کا ارتکاب ہو گیا ہے، وہ تو مارے گئے۔ مسلمان بھائیوں نے بھی انہیں سخت سست کہا کہ انہوں نے یہ کیا کیا؟قریش مکہ نے کہا محمدﷺ اور اس کے ساتھیوں نے حرام مہینوں کی حرمت کو ختم کر دیا ہے، انہوں نے ان میں خونریزی، مال کو چھین لیا اور لوگوں کو قید کر لیا۔ یہودیوں نے اس واقعے سے رسولﷺ کے لئے فال بد نکالی۔ انہوں نے کہا:عمروالحضرمی کو واقد بن عبداللہ نے قتل کیا :”عمرو”یعنی جنگ کی عمارت بن گئی “حضرمی”یعنی جنگ سرسبز ہو گئی”واقد”جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔

غرض اس واقعے کے بعد، گمراہ کن پروپیگنڈے کا طوفان برپا ہو گیا اور اسے مختلف مکارانہ طریقوں سے اہل عرب کے درمیان پھیلایا گیا۔ اور اس میں رسولﷺاور آپ کے ساتھیوں کو ایک ایسے شخص کی شکل میں پیش کیا گیا جو عربوں کے تمام مقدسات کا انکار کرتا ہے اور صدیوں سے قائم روایات کو پامال کر رہا ہے۔ اور جب بھی مصلحت کا تقاضا ہو وہ ہر بندھن کو توڑتا ہے۔ (نعوذ باللہ)اس پروپیگنڈا کے طوفان بدتمیزی کے دوران، اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں، جنہوں نے بات کو کاٹ کر رکھ دیا اور معاملے کا فیصلہ سچائی کے ساتھ کر دیا گیا۔ رسولﷺ نے مال غنیمت اور قیدیوں کو قبول فرما لیا:

يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيہِ قُلْ قِتَالٌ فِيہِ كَبِيرٌ”لوگ پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنا کیسا ہے ؟کہو:اس میں لڑنا بہت برا ہے۔ “یہ آیات نازل ہوئیں۔ انہوں نے حرام مہینوں میں لڑائی جھگڑے کو تو برا اور گناہ کبیرہ قرار دیا اور کہا یہ تو ٹھیک ہے، لیکنوَصَدٌّ عَنْ سَبِيلِ اللَّہِ وَكُفْرٌ بِہِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَہْلِہِ مِنْہُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّہِ وَالْفِتْنَۃُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ”مگر راہ اللہ سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام کا راستہ اللہ پرستوں کا بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا، اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برا ہے اور فتنہ خونریزی سے شدید تر ہے۔ ”

یہ جنگ مسلمانوں نے شروع نہ کی تھی، دشمنی کا آغاز انہوں نے کیا تھا۔ یہ تو مشرکین ہی تھے جنہوں نے پہل کی۔ انہی لوگوں نے اللہ کی راہ میں لوگوں کو روکا، انہی لوگوں نے اللہ سے کفر کیا۔ انہی لوگوں نے اللہ پرستوں کو مسجد حرام سے روکا۔ انہی لوگوں نے اللہ کی راہ سے روکنے کے لئے ہر گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا۔ انہوں نے خود بھی اللہ کا انکار کیا اور لوگوں کو بھی اللہ کا منکر بنایا۔ انہوں نے مسجد حرام کی حرمت کا بھی انکار کیا اور اس کی حرمت کو توڑا۔ اس میں مسلمانوں کو اذیت دی اور ہجرت سے پہلے پورے تیرہ سال تک، وہ مسلمانوں کو اذیتیں دے دے کر انہیں ان کے دین سے روکتے رہے۔ پھر انہوں نے اس پر بھی اکتفا نہ کیا بلکہ انہوں نے مسجد حرام کے باشندوں کو ان کے گھروں سے نکالا حالانکہ وہ قابل احترام اور امن کی جگہ تھی۔ انہوں نے حرم کے تقدس کا کوئی خیال نہ رکھا اور اس کے احترام کے کسی اصول پر عمل نہ کیا۔

اللہ کے نزدیک باشندگان حرم کو ان کے گھروں سے نکالنا حرام مہینوں میں جنگ کرنے سے زیادہ برا ہے۔ اور لوگوں کو محض دین اور نظریہ کی وجہ سے مصائب میں مبتلا کرنا اور انہیں تکالیف پہنچانا قتل سے بھی زیادہ برا ہے۔ چونکہ مشرکین مکہ نے اعلانیہ ان دو کبائر کا ارتکاب کر لیا تھا، لہٰذا ان کا یہ استدلال کہ مسلمانوں نے حرام مہینوں کے احترام کا کوئی خیال نہیں کیا، یا بیت الحرام کی حرمت کا کوئی خیال نہیں کیا، یہ محض پروپیگنڈا ہے اور ساقط الاعتبار ہے۔ چنانچہ ان آیات کے ذریعہ خود مسلمانوں کا موقف واضح ہو کر سامنے آ گیا کہ مسلمان تو درحقیقت ان لوگوں کے خلاف برسرپیکار ہیں جو حرم مقدس کا کوئی احترام نہیں کرتے۔ دراصل حرم شریف اور حرام مہینوں کے احترام کو اپنے لئے ایک پردہ اور پناہ بنا لیا ہے جس کی آڑ میں یہ لوگ جب چاہیں قداست اور پاکی کا ڈھنڈورا پیٹیں اور جب چاہیں اس تقدس کو پامال کر دیں۔ مسلمانوں کا یہ فرض تھا کہ یہ لوگ جہاں ملیں انہیں ختم کر دیں کیونکہ یہ لوگ باغی اور شرپسند ہیں، کسی احترام کا کوئی لحاظ نہیں رکھتے، کسی جعلی پردے کے پیچھے من مانی کرنے نہ دیتے۔ کیونکہ ان کے دل میں کوئی حقیقی احترام نہیں ہے۔

حرمتوں کے شعار اور روایات دراصل ایک حق بات تھی مگر اس سے وہ ناجائز فائدہ اٹھاتے تھے، کفار مکہ ماہ حرام کی بے حرمتی کاجو پروپیگنڈا کر رہے تھ، وہ تو محض ظاہرداری تھی، اس کے پردے میں چھپ کر دراصل وہ ثابت یہ کرنا چاہتے تھے، مسلمان زیادتی کر رہے ہیں اور یہ ان کا موقف درست نہیں ہے۔ حالانکہ ظلم و زیادتی کی ابتدا خود انہوں نے کی۔ یہ وہی تھے جنہوں نے بیت الحرام کی حرمت کا کوئی خیال نہ کیا۔

اسلام زندگی کا ایک حقیقت پسندانہ نظم ہے۔ وہ محض مثالوں اور نظریاتی شکلوں پر مبنی نہیں ہے وہ انسانی زندگی کا حقیقت پسندانہ مطالعہ کرتا ہے۔ اس کی مشکلات، اس کے میلانات اور اس کے واقعی حالات پر نظر رکھتا ہے۔ اس کی حقیقت پسندانہ راہنمائی کرتا ہے۔ وہ اس زندگی کو زمین پر بطور حقیقت واقعیہ چلاتا ہے اور آہستہ آہستہ اسے ترقی کی سمت میں لے جاتا ہے۔ وہ اس کے مسائل کو اس طرح حل کرتا ہے کہ وہ حل ایک عملی حل ہو۔ محض خام خیالی اور فلسفیانہ تخلیات ہی نہ ہوں بلکہ وہ ایسا حل پیش کرتا ہے جو عملی دنیا میں چل بھی سکے۔

اب ذرا قریش کی حالت کو دیکھئے۔ یہ لوگ سخت ظالم اور سرکش تھے، مقامات مقدسہ میں کچھ حیثیت ہی نہ رکھتے تھے۔ وہ حرمتوں کے تقدس کے قائل ہی نہ تھے۔ وہ ہر اچھے اخلاق، ہر دینداری اور ہر اچھے نظریہ کو کچل رہے تھے۔ حق کے مقابلے میں اکڑ گئے تھے اور لوگوں کو حق قبول کرنے سے روکتے تھے۔ مومنین کو انہوں نے فتنوں میں مبتلا کر رکھا تھا، اور انہیں سخت اذیتیں پہنچاتے تھے، وہ انہیں مسجد حرام سے نکال رہے تھے حالانکہ عربوں کی روایات کے مطابق مسجدحرام اور بیت الحرام دار الامان تھے اور ان میں انسان کیا، حیوانوں اور کیڑوں مکوڑوں کو بھی امن امان حاصل تھا، لیکن ان سب حقائق کے باوجود ان لوگوں نے ان حرمتوں کی آڑ میں پوری دنیا کو سر پر اٹھا رکھا تھا، اور ان حرمتوں کا ڈھنڈورا پیٹ رہے تھے۔ وہ چلاتے تھے دیکھو، یہ ہے محمدﷺ اور اس کے ساتھی، انہوں نے حرام ماہ کی حرمت کو پامال کر دیا۔

اب دیکھئے اسلام ان کے مقابلے میں کیا رویہ اختیار کرتا ہے۔ کیا اسلام ان کے مقابلے میں کوئی نظری، مثالی اور خیالی جواب لاتا ہے اور مسئلے کا نظریاتی جائزہ لیتا ہے۔ اگر اسلام اس معاملے میں کوئی خیالی حل پیش کرتا ہے تو یقیناً وہ آئیڈیل ضرور ہوتا لیکن نتیجہ یہ ہوتا کہ مسلمانوں کی حالت یہ ہوتی کہ ان کو غیر مسلح کر دیا جاتا۔ جب کہ ان کا مقابلہ ایک ایسے شریر اور سرکش دشمن سے تھا، جو ہر ہتھیار استعمال کرتا تھا اور کوئی حربہ استعمال کرنے سے دریغ نہ کرتا تھا۔ ہرگز نہیں، اسلام کبھی بھی یہ رویہ اختیار نہیں کرتا کیونکہ اس کا مقابلہ ایک حقیقی صورت حال سے تھا۔ اس نے اس صورت حال کا مقابلہ کرنا تھا۔ اور اسے اپنے راستے سے ہٹانا تھا۔ اسلام شر وفساد کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتا تھا۔ وہ اس زمین کے اختیارات ایک صالح قوت کے ہاتھ میں دینا چاہتا تھا، وہ اختیارات اور قیادت ایک صالح جماعت کے ہاتھ میں دینا چاہتا تھا۔ اس لئے وہ ہرگز یہ نہ کرسکتا تھا کہ یہ حرمتیں مفسدوں اور باغیوں کے لئے قلعہ بن جائیں اور اس کے اندر پناہ لے کر یہ لوگ پاک طینت صالح اور تعمیری کام کرنے والوں پر وار کریں۔ اور جوابی حملے سے بالکل محفوظ بیٹھے ہوں۔

اسلام تو ان لوگوں کے مقابلے میں حرمتوں کا بہت خیال رکھتا ہے جو خود ان کا لحاظ رکھیں اور وہ حرمتوں کے اصول و درایت کا سختی سے پابند ہے۔ لیکن وہ ہرگزکسی کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ خود تو ان حرمتوں کا کوئی خیال نہ کرے، ان کو خوب توڑ ے اور اپنے لئے انہیں ایک حصار قرار دے رہے ہیں اور اس کی اوٹ سے نیک بندوں کو اذیت دے، بھلے لوگوں کو قتل کرے اور ہر برائی کا مزے سے ارتکاب کرے اور ان حرمتوں کی اوٹ میں جوابی حملے سے محفوظ و مامون رہے اور لوگوں کو تلقین کرے کہ ان حرمتوں کا لحاظ رکھو۔

اسلام نے ہر معاملے میں یہی پالیسی اختیار کی ہے، مثلاً اسلام میں غیبت حرام ہے، لیکن فاسق کی غیبت، غیبت ہی نہیں ہے۔ اگر وہ اپنے فسق و فجور میں مشہور ہو تو جو لوگ اس کے فسق و فجور کے نتیجے میں داغہائے سینہ رکھتے ہیں۔ وہ معاف ہیں۔ اسلام الجہر (بد گوئی )کو حرام قرار دیتا ہے لیکن اس شخص کو مستثنیٰ کیا جاتا ہے، جس پر ظلم کیا گیا ہو، اگر کوئی مظلوم ہے تو وہ اس ظالم کے خلاف علی الاعلان بد گوئی کرسکتا ہے کیونکہ یہ اس کا حق ہے۔ اگر ظالم کے خلاف آواز نہ اٹھائی گئی، اس نیت سے کہ وہ غیبت ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم ظالم کو ایک اچھے اصول کی پناہ دیتے ہیں حالانکہ وہ اس بات کا مستحق نہیں ہے کہ وہ اس اصول سے فائدہ اٹھائے۔

لیکن برابر کے اس معاملے میں باوجود اسلام اپنا معیار گرنے نہیں دیتا، وہ اپنی اونچی سطح سے اتر کر ان شریروں اور ظالموں کی سطح تک نہیں اترتا۔ وہ اپنے مخالفین کے مقابلے میں اوچھے ہتھیار استعمال کرتا ہے، نہ غیر اخلاقی وسائل یا قابل نفرت ذرائع۔ وہ مسلمانوں کو صرف یہ حکم دیتا ہے کہ ظالموں کے ہاتھ توڑ دو، ان سے لڑائی کرو، ان کو قتل کر دو۔ اور زندگی کے ماحول کو ان سے پاک کر دو، کھلے طور پر اور علی الاعلان۔

اصل مسئلہ ہے قیادت کا، جب قیادت پاک لوگوں کے ہاتھ میں آ جائے، جو مومن ہوں، سلیم الفطرت ہوں اور جب زمین کو ان لوگوں کی نجاست سے پاک کر دیا جائے جو کسی حرمت کا لحاظ نہیں رکھتے اور تمام مقدسات کو پامال کرتے ہیں تب جا کر تمام مقدسات کی حرمت بحال ہو گی اور اس طرح بحال ہو گی جس طرح اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔

یہ ہے اسلام۔ صریح، واضح، قوی اور باطل کا سر پھوڑنے والا جس میں کوئی لگی لپٹی نہیں۔ کوئی ہیر پھیر نہیں۔ نہ وہ کسی دوسری طاقت کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ کوئی ہیرا پھیری کرے یا اس سے کوئی دھوکہ دے۔ اور یہ ہے قرآن مجید جو مسلمانوں کو ایک مضبوط موقف عطا کرتا ہے۔ اس قدر مضبوط جس پر ان کے قدم ڈگمگا نہ پائیں۔ وہ راہ اللہ میں آگے ہی بڑھتے جائیں اور اللہ کی اس زمین کو ہر قسم کے شر وفساد سے پاک کر دیں۔ قرآن مجید ان کے دل و دماغ کو شیشے کی طرح صاف نقطہ عطا کرتا ہے، وہ ان کے دلوں میں کسی قسم کا قلق، کسی قسم کا خلجان نہیں رہنے دیتا، شبہات ووساوس ان کے دلوں سے ختم کر دیئے جاتے ہیں۔ قرآن صاف صاف کہتا ہے دیکھو!وہ شر ہے، فساد ہے، نافرمانی ہے اور باطل ہے، لہٰذا اسے کوئی حرمت اور کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ اس باطل کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ ان حرمتوں کو ڈھال بنا کر خود ان کی حرمتوں پر ضربیں لگائے۔ قرآن مجید واضح طور پر یہ ہدایت کرتا ہے کہ اپنی منزل کی طرف بڑھتے چلو، یقین کے ساتھ، اطمینان کے ساتھ، اپنے ضمیر کی سلامتی کے ساتھ اور اپنے اللہ کے ساتھ جڑے ہوئے۔

اس حقیقت کے بیان اور اچھی طرح ذہن نشین کرنے اور مسلمانوں کو دلجمعی اور صبر و ثبات دینے کے بعد اب انہیں بتایا جاتا ہے کہ جس شر سے ان کا مقابلہ ہے وہ کوئی سطحی شر نہیں ہے وہ بہت ہی گہری برائی ہے۔ دشمنوں کا منصوبہ بہت ہی گہرا ہے اور وہ اس پر بطور اصول جمے ہوئے ہیں۔

وَلا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا”اور وہ تم سے لڑتے ہی جائیں گے حتیٰ کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہارے دین سے تم کو پھیر کر لے جائیں۔ ”

یہ ہے صحیح رپورٹ، جو علیم و خبیر کی طرف سے ہے اور جو بتاتی ہے کہ شر اپنے ناپاک موقف پر کس قدر مصر ہے، کفار، مسلمانوں کو اپنے دین سے ہٹانے کے لئے کس قدر زور لگا رہے ہیں اور یہ کہ مسلمانوں کے دشمنوں کا یہ ایک مستقل نصب العین ہے، وہ چاہتے ہیں کہ انہیں کسی طرح اسلام سے دور کر دیں۔ دشمنان اسلام کا یہ نصب العین ایسا مستقل نصب العین ہے کہ یہ کسی دور میں اور کسی علاقے میں کبھی تبدیل نہیں ہوا۔ زمین پر اسلام کا وجود ہی ان کو ناگوار ہے۔ دین کے دشمن اس سے ہمیشہ خائف رہے ہیں۔ ہر دور میں یہ لوگ اسلامی جماعت اور اسلامی تحریک سے خائف رہتے ہیں۔ نفس اسلام سے انہیں چڑ ہے، انہیں اس سے سخت اذیت ہوتی ہے۔ وہ ہر وقت اس سے خوف کھاتے ہیں۔ اسلامی نظام کی قوت اور اس کی سنجیدگی سے ہر باطل پرست خائف رہتا ہے۔ اللہ کا ہر باغی اس سے مرعوب ہوتا ہے۔ ہر مفسد اسلام کا ناپسندکرتا ہے۔ اسلام بذات خود کفر سے ایک جنگ ہے۔ اسلام کی روشن سچائی، اس کا پائیدار نظام زندگی اور اس کا پائیدار طریق کار ہی باطل کے لئے چیلنج ہے۔ ان خوبیوں کی وجہ سے اسلام بذات خود کفر اور فساد کے لئے اعلان جنگ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باطل پرست، باغی اور مفسد کبھی اسلام کو برداشت نہیں کرتے۔ وہ ہر وقت اس ٹوہ میں لگے رہتے ہیں کہ اہل اسلام کو کسی نہ کسی طرح فتنے میں ڈال دیں۔ انہیں واپس کفر کی طرف لے آئیں۔ چاہے کفر کی کوئی صورت ہی وہ اختیار کریں لیکن اسلام کو چھوڑ دیں۔ جب تک اس کرۂ ارض پر کوئی ایسی جماعت بھی موجود ہے جس کا نصب العین اسلامی نظام زندگی ہے، جو اسلام کی پیروکار ہو اور اسلام میں زندہ رہنا چاہتی ہو۔ اس وقت تک باطل پرست اپنے باطل پر اور اپنے فساد پر پر امن طور پر گامزن نہیں رہ سکتے۔ اس لئے وہ تحریک اسلامی سے ہر وقت خائف رہتے ہیں۔

اسلام کے یہ دشمن، مسلمانوں کے خلاف کئی قسم کی جنگ لڑتے ہیں اور اس میں قسم قسم کے ہتھیار استعمال کرتے ہیں، لیکن ان کا مقصد ایک ہی رہتا ہے اور ہمیشہ وہی ان کے پیش نظر رہتا ہے یہ کہ اگر ان کا بس چل سکے تو یہ لوگ صادق مسلمانوں کو اپنے دین سے پھیر دیں۔ جب ان کا کوئی ہتھیار ناکارہ ہو جاتا ہے تو یہ فوراً دوسرا ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ جب ان کا ایک ہتھیار کند ہو جاتا ہے تو یہ لوگ دوسرا ہتھیار تیز کر لیتے ہیں، لیکن علیم وخبیر کی یہ سچی رپورٹ اپنی جگہ قائم ہے اور مسلمانوں کو ان مخالفین کے ہتھکنڈوں سے خبردار کرتی ہے کہ وہ ہتھیار نہ ڈالیں۔ مسلمانوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ان کفار کی سازشوں کے مقابلے میں ثابت قدم رہیں۔ ان کے ساتھ جنگ پیش آئے تو اس میں صبر و تحمل سے کام لیں۔ اور اگر ایسا نہ کریں گے تو دنیا و آخرت میں خسارہ اٹھائیں گے۔ وہ ایسے عذاب سے دوچار ہوں گے جو کسی عذر سے معاف نہ ہو گا اور جو کسی جواز سے کم نہ ہو گا:

وَمَنْ يَرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِينِہِ فَيَمُتْ وَہُوَ كَافِرٌ فَأُولَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَۃِ وَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ہُمْ فِيہَا خَالِدُونَ”تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا، ا س کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہو جائیں گے۔ ایسے لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے۔ ”

حبطت حبوط سے نکلا ہے۔ عرب کہتے ہیں حبطت الناقۃ، یعنی اونٹنی پھول گئی۔ جب وہ کوئی ایسی چیز لے جس سے وہ پھول جائے اور آخر کار مر جائے (جس طرح شفتل اور بعض دوسرے چاروں سے جانور پھول جاتے ہیں )۔ قرآن مجید نے اس لفظ کو کفار کے اعمال کے لئے استعمال کیا ہے جس سے حسی اور معنوی مفاہیم کا تطابق بھی معلوم ہوتا ہے۔ جس طرح اونٹنی بظاہر پھول کر بڑی ہو جاتی ہے لیکن اس کا انجام ہلاکت ہوتا ہے۔ اس طرح کفار کے اعمال بہت ہی بڑے اور پھولے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن انجام ان کا کچھ نہیں ہوتا بلکہ تباہ ہو جاتے ہیں۔

یہی حال اس شخص کا ہو گا، جو اسلام کو سمجھنے اور اس کا تجربہ کر لینے کے بعد، اس سے روگردانی کرے گا۔ محض اذیتوں اور مصیبتوں سے گھبرا کر۔ اگر وہ حد سے گزر جائیں تو اس کا انجام یہی ہو گا جس کا اللہ نے ذکر فرمایا :کہ دنیا و آخرت میں اس کے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور آخرت میں وہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہیں گے۔

جو دل ایمان کا ذوق آشنا ہو جائے، صحیح طرح وہ اسلام کو سمجھ لے، اس بات کا امکان ہی نہیں کہ وہ فی الواقع اسلام کو چھوڑ دے اور راہ ارتداد اختیار کرے۔ الا یہ کہ کسی کا دل و دماغ اس قدر فاسد ہو جائے جس کی اصلاح کی کوئی صورت نہ رہے لیکن یہ حکم ان لوگوں کا نہیں ہے جو ناقابل برداشت عذاب سے بچنے کے لئے تقیہ اختیار کر لیں۔ اللہ رحیم و کریم ہے، اس نے مسلمانوں کو اجازت دی ہے کہ جب مصائب اس کی قوت برداشت سے بڑھ جائیں تو وہ ظاہری رواہ روی اختیار کر لیں بشرطیکہ ان کا دل اسلام پر ثابت قدم ہو، قلب ایمان پر مطمئن ہو۔ لیکن اللہ نے کسی صورت میں بھی کفر حقیقی اور ارتداد حقیقی اختیار کرنے کی کوئی رخصت نہیں دی۔ یوں کہ وہ کافر ہو کر رہ جائے نعوذ باللہ من ذلک۔

اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ تنبیہ اور تحذیر روز قیامت تک اپنی جگہ پر قائم ہے۔ مسلمان کے لئے اس بات کا کوئی عذر نہیں ہے کہ وہ مصائب اور شدائد سے تنگ آ کر اپنا دین ایمان چھوڑ دے۔ اور ایمان واسلام سے منحرف ہو جائے اور اس حق کو ترک کر دے جو اس نے چکھا اور جانا۔ بلکہ یہ ایک مسلمان کا فرض ہے کہ جس قدر ممکن ہو وہ مجاہدہ کرے۔ جبر و ثبات سے کام لے اور سخت جانی سے کام لے۔ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جو اس پر ایمان لے آئیں اور پھر اس کی راہ میں مصائب برداشت کریں یونہی نہیں چھوڑ دیتا۔ وہ ان کی تکالیف پر انہیں جزائے خیر دیتا ہے اور وہ دو باتوں میں سے ایک ضروری ہوتی ہے یا اس کی نصرت آ جاتی ہے اور مومن کامیاب ہو جاتا ہے اور یا اسے شہادت کا مقام بلند حاصل ہو جاتا ہے۔

جن لوگوں کو اللہ کی راہ میں اذیت دی جائے۔ وہ اللہ کی خصوصی رحمت کے امیدوار ہوتے ہیں اور جس کا دل ایمان سے معمور ہو وہ کبھی بھی مایوس نہیں ہوتاإِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ ہَاجَرُوا وَجَاہَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّہِ أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَۃَ اللَّہِ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَحِيمٌ”جولوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنا گھر بار چھوڑا اور جہاد کیا، وہ رحمت الٰہی کے جائز امید وار ہیں اور اللہ ان کی لغزشوں کو معاف کرنے والا اور اپنی رحمت سے انہیں نوازنے والا ہے۔ ”

جب ایک مومن رحمت خداوندی کا امیدوار ہو تو اللہ اسے کبھی نامراد نہیں لوٹاتے۔ مہاجرین و انصار کے مخلص مومنین نے، اگرچہ وہ قلیل تعداد میں تھے، اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کو اپنے کانوں سے سنا تھا، انہوں نے جہاد کیا، مشکلات پر صبر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ بعض کو شہادت نصیب ہوئی اور بعض کو نصرت خداوندی پہنچی۔ دونوں خیر ہیں۔ دونوں اللہ کی رحمت ہیں۔ یہ لوگ اللہ کی مغفرت اور اللہ کی رحمت کے مراتب پر فائز ہو گئے کیونکہ اللہ غفور ہے اور رحیم ہے۔ یہ ہے طریقہ مومن۔

اب سیاق کلام بعٓض منہیات کی طرف آتا ہے۔ شراب اور جوئے کے احکام بیان ہوتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں ان لذات میں سے ہیں۔ جن میں عرب کانوں تک غرق تھے۔ کیونکہ اس دور میں اس کے سامنے کچھ اونچے مقاصد نہ تھے جن وہ اپنے آپ کو مصروف رکھتے اور یوں ان کی قیمتی قوتیں کام میں صرف ہوتیں۔

يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيہِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُہُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِہِمَا

“پوچھتے ہیں :شراب اور جوئے کا کیا حکم ہے ؟کہو ان دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے۔ اگرچہ ان میں لوگوں کے لئے کچھ منافع بھی ہیں مگر ان کا گناہ فائدے سے بہت زیادہ ہے۔ ”

اس وقت شراب اور جوئے کی حرمت کا حکم نازل نہ ہوا تھا، لیکن قرآن مجید میں کوئی ایسی آیت بھی نہیں ہے جس سے اس کی حلت کا ثبوت ملتا ہو، لیکن اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جس راستے پر لے جانا چاہتا تھا، اس کی مرضی یہ تھی کہ وہ انہیں اس راہ پر قدم بقدم لے جائے اور خود اپنی نگرانی میں اس امت کو اس رول کے لئے تیار کرے جس کے کے لیے اس نے اسے برپا کیا۔ یہ رول اس قدر عظیم تھا کہ اس کے ساتھ شراب اور جوئے جیسے مخرب الاخلاق و مخرب اوقات کام چل ہی نہ سکتے تھے۔ عمر کا ٹکڑے ٹکڑے کر دینا، فہم کا پریشان کر دینا اور جدوجہد کے حصے بخرے کر دینا اس رول اور اس منصب کے مناسب نہیں۔ اس کے حاملین ان نکتوں کی طرح نہیں ہوسکتے، جن کا کوئی کام اس کے سوا نہیں ہوتا کہ وہ کام و دہن اور گوشت پوست کی لذت کے پیچھے دوڑتے پھریں۔ نہ وہ ایسے لوگوں کی طرح ہوتے ہیں جن کا کوئی نظریہ نہ ہو اور ذہن و شعور کا خلا، خوفناک خلا، ان کے تعاقب میں ہو اور وہ اس خلا کو شراب کی مدہوشی اور جوئے کی مشغولیت سے بھرنا چاہتے ہیں :نہ وہ ایسے لوگوں کی طرح ہوتے ہیں کہ جو نفسیاتی مریض ہیں اور خود اپنے سایے سے بھاگ رہے ہیں اور شراب و قمار کی پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ حاملین جاہلیت ہمیشہ ان مفاسد میں مبتلا رہے ہیں۔ آج بھی وہ اس میں مبتلا ہیں اور مستقبل میں بھی جاہلیت کا یہی نشان ہو گا۔ البتہ یہ بات ایک حقیقت ہے کہ اسلام اپنے مخصوص نظام تربیت کے مطابق، نفس انسانی کو بڑی سہولت میں لے کر چلتا ہے اور بڑی تدریج اور ترقی کے ساتھ اس کی تربیت کرتا ہے۔

آیت زیر بحث کے سلسلے میں پہلی کڑی ہے۔ یہ پہلا قدم ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی چیز یا کوئی فعل بذات خود شر ہی شر ہو، ہوسکتا ہے کہ شر میں خیر کا پہلو بھی کوئی پہلو موجود ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ خیر اور بھلائی میں شر کا کوئی پہلو ہو۔ لیکن جائز، حلال و حرام اور امر و نہی کا دارومدار دراصل غالب خیر یا غالب شر کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ جوئے اور شراب میں شر کا پہلو چونکہ غالب ہے اس لئے یہ ان چیزوں کی حرمت کے لئے علت بن جائے گا۔ اگرچہ یہاں ان اشیاء کی حرمت کی صراحت نہیں کی گئی۔

یہاں اسلامی نظام تربیت اور قرآنی منہاج تعمیر اور ربانی طرز تعلیم کا ایک انداز کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ یہ نہایت ہی حکیمانہ انداز تربیت ہے۔ اسلام کی اکثر ہدایات و فرائض اور قانون سازی میں تتبع اور استقراء سے معلوم ہو گا کہ یہی منہاج اختیار کیا گیا ہے۔ خمر اور میسر کے بارے میں اس ہدایت کی مناسبت سے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام تربیت کے ایک اصول کی طرف یہاں ایک اشارہ کر دیں :

۱۔         اگر کسی امر و نہی کا تعلق کسی ایسے اصول سے ہو جس کا تعلق اسلام کے نظریات و عقائد سے ہو تو اسلام پہلی فرصت میں اس کا قطعی اور اٹل فیصلہ کر دیتا ہے۔

۲۔        اگر کسی امر و نہی کا تعلق کسی ایسے مسئلہ سے ہو جو بطور عادت معمول بہ ہو یا بطور رسم چلا آتا ہو، تو اسلام اس کے بارے میں اصلاحی قدم اٹھانے سے پہلے انتظار کرتا ہے۔ تدریج، رفق اور سہولت سے اس میں کوئی قدم اٹھاتا ہے اور اقدام سے پہلے ایسے حالات تیار کرتا ہے، جن میں نفاذ قانون اور نفاذ حکم کے لئے راہ اچھی ہموار ہو جاتی ہے۔

مثلاً مسئلہ توحید اور مسئلہ شرک کے بارے میں اسلام نے پہلی فرصت میں فیصلہ کن بات کر دی۔ عقائد شرکیہ پر فیصلہ کن حملہ کیا۔ بغیر کسی تردد، بغیر کسی جھجھک کے، بغیر کسی رکھ رکھاؤ کے، بغیر کسی سودے بازی کے، بغیر کچھ لو اور کچھ دو پالیسی کے۔ پہلے ہی مرحلے میں ایک ایسا وار کیا کہ شرک کا تانا بانا ادھیڑ کر رکھ دیا۔ کیونکہ یہ مسئلہ اسلامی نظریۂ حیات کا اساسی مسئلہ، اعتقاد کا مسئلہ تھا۔ اس کے بغیر ایمان مکمل ہی نہ ہوسکتا تھا۔ اس کی صفائی کے بغیر اسلام اپنی جگہ پر قائم ہی نہیں رہ سکتا تھا

شراب اور جوا ایسے معاملات تھے جن کا تعلق (Custom)سے تھا۔ عادت بد ایک ایسی بیماری ہے جس کا علاج معالجہ ضروری ہے۔ اس لئے اس کے علاج کے لئے قرآن کریم نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ ان چیزوں کے خلاف دینی شعور بیدار کیا گیا، مسلمانوں کے دماغ میں قانون سازی کرنے کے لئے وہ دلائل بٹھائے گئے جن کی وجہ سے ان چیزوں کو حرام قرار دیا جا سکتا ہے۔ مثلاً یہ کہ جوئے اور شراب میں جو مضرات اور قباحتیں ہیں وہ ان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں جوان میں ہیں۔ اس منطقی دلیل میں اسی طرف اشارہ تھا کہ ان چیزوں سے پرہیز کرنا زیادہ بہتر اور مناسب ہے۔ اس کے بعد دوسرا قدم سورۃ نساء کے ذریعہ کیا گیا يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاۃَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ تم جو کہتے ہو اسے سمجھنے لگو پھر نماز پڑھو۔ “اب نماز کے پانچ اوقات ہیں اور اکثر اوقات ایک دوسرے کے بہت ہی قریب ہیں۔ ان کے مابین اتنا وقت نہیں ہوتا کہ ایک شخص شراب پئیے، نشہ میں ہو جائے اور پھر اسے افاقہ ہو جائے۔ یوں عملاً اس کے اوقات میں کمی کر دی گئی۔ یوں نشے کے مخصوص اوقات میں نفس میں جو اشتیاق پیدا ہوتا ہے اسے توڑ دیا گیا۔ یہ بات عام طور پر مشہور ہے کہ نشے کے عادی نشے کے اوقات میں طلب محسوس کرتے ہیں یعنی جن اوقات میں عام طور پر وہ نشہ کرتے ہیں۔ اگر کوشش کر کے کسی طرح وہ وقت گزار دیا جائے تو پھر نشے کی حدت طلب ختم ہو جاتی ہے اور اگر مسلسل اس طرح کیا جائے تو اس پر غلبہ پایا جا سکتا ہے جب یہ دو مرحلے طے ہو گئے تو پھر آخری اور قطعی حکم نازل ہوا اور شراب اور جوئے کو قطعاً حرام قرار دے دیا گیا۔ يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأنْصَابُ وَالأزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوہُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ”اے ایمان لانے والو!یہ شراب اور جوا، یہ آستانے اور پانسے، یہ سب شیطانی گندے کام ہیں۔ ان سے پرہیز کرو۔ امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہو گی۔ ”

اس اصول کی دوسری مثال غلامی ہے۔ غلامی اس وقت کے اجتماعی اور اقتصادی نظام کا ایک لازمی حصہ تھی۔ اس وقت کا یہ ایک مسلم بین الاقوامی قانون (International Law)تھا اور اقوام کا یہ رواج تھا کہ جنگی قیدیوں کو غلام بنا لیا جاتا تھا اور ان سے کام لیا جاتا تھا۔ ان بین الاقوامی اجتماعی حالات کی ظاہری شکل و صورت کو تبدیل کرنے سے پہلے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ ان اسباب میں تبدیلی کی جائے جن کی وجہ سے یہ حالات رونما ہوئے اور ان بین الاقوامی روابط کو بدلا جائے جن کے نتیجے میں غلامی کے ذرائع وجود میں آتے ہیں۔ بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی رسومات میں بین الاقوامی سمجھوتوں اور معاہدوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے اس نے قیام غلامی کے سلسلے میں کوئی حکم نہیں دیا۔ نہ قرآن مجید میں کوئی آیت اتری ہے جس میں یہ کہا گیا ہو کہ جنگی قیدیوں کو غلام بنا لیا جائے۔

جس وقت اسلامی نظام زندگی کا آغاز ہوا، تو اس وقت غلامی کا ایک عالمی نظام رائج تھا، اور یہ مسئلہ صرف غلامی اور جنگی قیدیوں کا نہ تھا، بلکہ غلامی بین الاقوامی تجارت کا بھی ایک حصہ تھی۔ اور جنگی قیدیوں کو غلام بنانا ایک بین الاقوامی معروف ضابطہ تھا۔ اور اس پر بین الاقوامی اور مقامی جنگوں میں حصہ لینے والے تمام فریق عمل کرتے تھے۔ اس لئے ضروری تھا کہ اسلام اس عالمی اور اجتماعی مسئلے کے مکمل حل کے لئے ٹھوس اقدامات کرتا۔

اسلام نے ابتدائی طور پر جو کچھ کیا وہ یہ تھا کہ اس نے اس جبر، تشدد اور استحصال کو ختم کر دیا جو غلامی کا خاصہ تھا، اس نے کوشش کی کہ غلامی کا یہ نظام ہی ختم ہو جائے۔ غلامی ختم کرنے کے لئے اسلام نے کوئی انتہائی قدم نہیں اٹھایا۔ نہ اس نے ایک جھٹکے کے ساتھ اس وقت کے اجتماعی نظام کو درہم برہم کرنے کوشش کی، اس طرح کہ جھٹکے کے بعد اس کے نتائج کو کنٹرول نہ کیا جا سکے یا اس تحریک کی قیادت ہی مشکل ہو جائے۔ غرض غلامی کے سرچشمے بند کرنے کے ساتھ ساتھ غلاموں کی زندگی کی سہولیات میں اضافہ کیا۔ ان کو مناسب زندگی گزارنے کی ضمانت دی اور وسیع حدود میں انہیں شریفانہ زندگی بسر کرنے کی اجازت دے دی۔

اسلام نے سب سے پہلے دو ذرائع کے علاوہ غلامی کے تمام سرچشمے بند کر دئیے۔ ایک یہ کہ کوئی شخص جنگی قیدی بن جائے اور اس کے نتیجے میں وہ غلام بن جائے۔ دوسرا یہ کہ اس شخص کا باپ غلام ہو تو اس کا بیٹا بھی غلام ہو گا۔ یہ بھی اس لئے کہ اسلامی نظام کے دشمن معاشروں میں مسلمان اسیروں کو غلام بنا لیا جاتا تھا، اور یہ اس وقت کا معروف طریقہ تھا، اور اسلام اس وقت کوئی بین الاقوامی غالب قوت نہ تھا کہ وہ ان دشمن معاشروں کو اس بات پر مجبور کرسکتا کہ وہ نظم غلامی سے دستبردار ہو جائیں، جس پر پوری دنیا کا اجتماعی اور اقتصادی نظام قائم تھا۔ اگراسلام یک طرفہ طور پر غلامی کے نظام کو ختم کر دیتا تو نتیجہ یہ ہوتا کہ اسلامی ضابطے کا اجراء صرف ان اسیروں پر ہوتا جو مسلمانوں کے ہاتھ میں تھے۔ جبکہ خود مسلمانوں کے قیدی اس وقت کے نظام کے مطابق غلام ہی رہ جاتے۔ اس طرح اسلام دشمن بڑی جرأت سے اسلام کے خلاف لڑتے، اس خیال سے کہ اگر وہ قید ہوئے تو رہا ہو جائیں گے جبکہ جو مسلمان ان کے ہاتھ آئیں گے وہ غلام بن جائیں گے اور قبل اس کے کہ اسلامی حکومت کا اقتصادی نظام مستحکم ہوتا۔ غلاموں کی جو نسل اس وقت عملاً موجود تھی، اگر اسے آزاد کر دیا جاتا تو ان غلاموں کا اس وقت کے معاشرے میں آمدن کا کوئی ذریعہ نہ ہوتا، نہ ان کی کفالت کرنے والا کوئی ہوتا اور نہ ہی وہ کسی خاندان کے اجزاء تصور ہوتے، نہ ان کے کسی کے ساتھ رشتے ناطے کے تعلقات ہوتے جو انہیں معاشرتی اور اخلاقی بے راہ روی سے بچاتے۔ اس حالت میں ایک تو ان لوگوں کے معاشی حالات خراب ہوتے جن کی غلامی سے یہ آزاد ہوتے۔ اور دوسرے خود یہ لوگ اسلامی معاشرہ کو ایک گری پڑی نسل کی حیثیت سے، خراب اور گندہ کر دیتے جبکہ خود مسلمان مالکان کے حالات بھی اچھے نہ تھے اور اسلامی معاشرہ بھی بالکل نیا تھا۔ غرض یہ تھی اس وقت کی صورتحال اور اس کے پیش نظر، اس کے مطابق قرآن مجید نے صرف یہ کیا کہ اسلامی قانون میں کوئی ایسی دفعہ نہیں رکھی جس کے مطابق جنگی قیدیوں کو لازماً غلام بنا لیا جائے بلکہ قرآن مجید نے صرف یہ حکم دیافَإِذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوہُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء ً حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَہَا”پس جب ان کافروں سے تمہاری مد بھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو اس کے بعد (تمہیں اختیار ہے )احسان کرو یا فدیے کا معاملہ کر لو، تاآنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔ ”

قرآن مجید نے یہ بھی نہیں کہا کہ جنگی قیدیوں کو غلام نہ بنایا جائے۔ بلکہ اس معاملے کو اسلامی حکومت کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے۔ تاکہ وہ موقع و محل کے اعتبارسے جو موقف مناسب ہو وہ اختیار کرے۔ یا فریقین کے قیدیوں کا باہمی تبادلہ ہو جائے اور جن لوگوں کا غلام بنانا ہی مناسب ہوا انہیں غلام بنا لے۔ اس صورت میں معاملہ وہی ہی ہو گا جو کہ محارب قوت معاملہ کرے گی۔

اسی طرح غلامی کے دوسرے سر چشمے بند ہو جانے سے غلاموں کی تعداد کم ہوتی چلی گئی۔ جبکہ اس وقت مختلف ذریعوں سے لوگوں کو غلام بنا لیا تھا۔ غلاموں کی جو قلیل تعداد رہ گئی تھی اسے بھی اسلامی نظام مختلف تدابیر کے ذریعہ کم سے کم کئے جا رہا تھا۔ مثلاً جب کوئی غلام دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتا اور پھر وہ دشمن کے کیمپ کو چھوڑ کر اسلامی کیمپ میں داخل ہو جاتا تو وہ آزاد قرار پاتا۔ پھر اسلام نے ہر غلام کو یہ حق دیا کہ وہ اپنے مالک سے آزادی کا سودا کرسکتا ہے۔ اور اس سودے کا معاوضہ ادا کرنے کے سلسلے میں مالک کے ساتھ اسے تحریری یا زبانی ایگریمنٹ کرنے کا پورا پورا اختیار ہے۔ یہ معاہدہ ہونے کے بعد جسے مکاتبت کہتے تھے غلام آزاد ہو جاتا تھا۔ آزادانہ کاروبار کرسکتا تھا۔ چاہے اپنے مالک ہی کی نوکری کر لیتا۔ وہ اپنی کمائی کا خود مالک ہوتا تھا۔ چاہے دوسری جگہ آزادانہ کام کرتا اور مالک کو مقررہ رقم ادا کر دیتا۔

مکاتبت کے ساتھ یہ غلام اس معاشرے کا ایک مستقل فرد بن جاتا تھا۔ ایسے افراد کے لئے اسلام کے نظام زکوٰۃ کا ۱/۷حصہ مقرر ہے۔ اس کے علاوہ بھی مسلمانوں کے لئے یہ بات ضروری قرار دی گئی کہ وہ ایسے افراد کو مالی امداد دیں تاکہ وہ اپنی گردن کو غلامی کے جوئے سے آزاد کرسکیں۔ اس کے علاوہ جو اسلامی نظام نے مختلف معاملات میں افراد معاشرہ پر کفارات (Fines)واجب کئے اور کفارے کی شقوں میں ایک شق یہ ہوا کرتی ہے کہ کسی غلام کو آزاد کر دیا جائے۔ مثلاً قتل خطاء کی بعض صورتوں میں، قسم کے کفارے میں ظہار کے کفارے میں، ان تدابیر کا نتیجہ یہ نکلا کہ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ غلامی کا وجود ہی ختم ہو گیا۔ اور یہ چیز طبعی موت مر گئی۔ اگر اسے یکلخت ختم کر دیا جاتا تو اس وقت کے معاشرے میں بے حد افراتفری پیدا ہو جاتی، اور معاشرے میں فتنہ وفساد برپا ہو جاتا۔

سوال یہ ہے کہ دور نبوی کے بعد اسلامی معاشرے میں غلامی ختم ہونے کے بجائے غلامی میں اضافہ کیوں ہو گیا ؟اس کا جواب یہ ہے کہ بعد کے ادوار میں غلامی میں اضافہ محض اس لئے ہو گیا تھا، کہ مسلمانوں نے اسلامی زندگی سے انحراف کر لیا تھا، جوں جوں مسلمان اسلامی نظام سے دور ہوتے گئے، خرابیاں زیادہ ہوتی گئیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کا قصور تھا، اسلامی نظام زندگی کا اس میں کوئی قصور نہ تھا۔ دور نبوی کے بعد اگر لوگوں نے اسلامی نظام زندگی سے انحراف کیا، تھوڑا کیا یا زیادہ کیا اور اسلامی نظام زندگی کے اصولوں کو اچھی طرح نافذ نہ کیا، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلامی نظام میں کچھ خرابی ہے۔ اسلامی تاریخ کے سلسلے میں ہمارا جو نقطہ نظر ہے وہ ہم اس سے پہلے بیان کر آئے ہیں۔ اگر اسلامی نظام سے انحراف کے نتیجے میں کچھ ناپسندیدہ حالات، اسلامی تاریخ کے کسی دو رمیں، کبھی پیدا ہو گئے تھے۔ تو ان حالات کو اسلام کے اسر نہیں تھوپا جا سکتا۔ ایسے حالات کو اسلامی تاریخ کی کوئی کڑی نہ گردانا جائے گا۔ اس لئے کہ اسلام میں کوئی تبدیلی نہیں آ گئی۔ نہ اس کے اصولوں میں نئے اصولوں کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اگر تبدیلی آئی ہے تو لوگوں میں تبدیلی آئی ہے۔ لوگ اسلام سے اس قدر دور ہو گئے کہ ان کا اسلام سے کوئی واسطہ ہی نہ رہا۔ اور ان کی تاریخ اسلامی تاریخ کا حصہ نہ رہی۔

اب اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ نئے سرے سے اسلامی نظام قائم ہو، تو وہ اسلامی نظام زندگی کا آغاز اسلامی تاریخ کے اس مقام سے ہرگز نہ کرے گا جہاں اسلامی تاریخ ختم ہو جاتی ہے، بلکہ اب اسلامی نظام زندگی کے قیام ازسر نو اسلامی اصولوں کی روشنی میں کیا جائے گا۔ خالص اسلامی اصولوں کی روشنی میں !

یہ ایک اہم حقیقت ہے کہ نظریہ اور نقطہ نظر کے اعتبار سے بھی اور اسلامی نظریہ اور اسلامی نظام کے قیام کی تحریک کے نشوونما کے نقطہ نظر سے بھی۔ اس نکتے کی تاکید یہاں دوبارہ اس لئے کی جا رہی ہے کہ اسلام کی تاریخ اور اسلامی نظام زندگی کے درمیان لوگوں کے ذہنوں میں سخت الجھاؤ پیدا ہو گیا ہے، حالانکہ اسلامی نظام زندگی اور مسلمانوں کی تاریخ چیزے دیگر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ لوگ صحیح اسلامی تحریک اور صحیح اسلامی نظام زندگی کے درمیان فرق نہیں کر پاتے۔ اس دھوکے میں وہ تمام مستشرقین مبتلا ہیں، جنہوں نے اسلامی تاریخ پر قلم اٹھایا ہے۔ بعض لوگ جان بوجھ کر اسلامی تاریخ کو یہ رنگ دیتے ہیں اور بعض لوگ فی الواقعہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔

اب اس اگلی آیات میں، اسلامی اصول حیات کے بارے میں چند سوالات کا جواب دیا گیا ہے۔ یہ سوالات مختلف لوگوں نے مسائل سمجھنے کے لئے کئے تھے :

 

“پوچھتے ہیں :ہم کیا خرچ کریں ؟کہو جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو، اس طرح اللہ تمہارے لئے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے، شاید کہ تم دنیا و آخرت دونوں کی فکر کرو۔ ” (۲۲۹)

 

اس سے پہلے بھی انہوں نے سوال کیا تھا، کہ وہ کیا خرچ کریں ؟اس کے جواب میں خرچ کی نوعیت اور مصرف کی تشریح کر دی گئی۔ یہاں بھی سوال تو وہی ہے، جواب میں خرچ کی مقدار اور اس کا درجہ بتایا گیا ہے۔ عفو کے معنی عربی میں فاضل اور زیادہ کے ہوتے ہیں۔ جو مال ذاتی ضروریات سے زیادہ ہو۔ ضروریات سے مراد ایسی ضروریات جو عیاشی اور نمائشی نہ ہوں۔ اسے خرچ کیا جا سکتا ہے اور مصرف کی ترتیب وہی ہے جو اس سے پہلے بیان ہو چکا ہے۔ قریب سے قریب تر کا حق زیادہ ہے اور اس کے بعد دوسرے لوگ درجہ بدرجہ ہیں۔

انفاق کا حکم صرف ادائیگی زکوٰۃ ہی سے پورا نہیں ہو جاتا۔ کیونکہ اس آیت کو نہ تو زکوٰۃ نے منسوخ کیا ہے اور نہ مخصوص کیا ہے۔ جیسا کہ میں سمجھا ہوں۔ زکوٰۃ کی ادائیگی سے ایک فرض ادا ہو جاتا ہے لیکن اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ادا کنندہ بس دوسری معاشرتی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہو گیا بلکہ زکوٰۃ کے بعد بھی انفاق کا حکم علی حالہ باقی رہتا ہے۔ زکوٰۃ مسلمانوں کے بیت المال کا حق ہے اور اسے وہ حکومت حاصل کرے گی جو اللہ کی شریعت نافذ کرے۔ اور یہ حکومت بھی اسے اس کے معلوم و معروف مصارف پر خرچ کرے گی۔ لیکن اس کے بعد بھی مسلمانوں کی جانب سے اور خود مسلمان بھائیوں کی جانب سے عائد شدہ ذمہ داریاں بدستور قائم رہتی ہیں۔ پھر زکوٰۃ تو ایک خاص شرح سے فرض کی گئی ہے۔ اور یہ ممکن نہیں ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے تمام فاضل دولت سرمایہ دار کے ہاتھ سے نکل جائے۔ لیکن آیت زیر بحث تو واضح طور پر بتاتی ہے کہ العفو پورا کا پورا خرچ ہونا چاہئے۔

اس سلسلے میں ایک واضح حدیث بھی موجود ہے۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں :اِنَّ فِی المَالِ حَقًّا سَوِی الزَّکوٰۃٍ”بے شک دولت میں زکوٰۃ کے سوا بھی حق ہے۔ ”

ایسا حق، جسے صاحب ثروت اللہ کی رضا کے لئے خود مناسب جگہ خرچ کرتا ہے اور یہ خرچ کی اعلیٰ صورت ہے، کامل صورت۔ اگر وہ خود خرچ نہیں کرتا اور اسلامی نظام کو نافذ کرنے والی حکومت کو اس کی ضرورت ہوتی ہے تو اسے اختیار ہے کہ وہ یہ دولت اس صاحب ثروت سے حاصل کرے اور اسلامی جماعت کے ان افراد پر خرچ کر دے جو امداد کی مستحق ہیں۔ تاکہ صاحب ثروت نہ اسے عیش و عشرت اور عیاشی کے کاموں میں استعمال کرسکے اور نہ ہی ذخیرہ کر کے معطل کر دے۔ دولت کی گردش روک دے اور اس پر سانپ بن کر بیٹھ جائے كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّہُ لَكُمُ الآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ، فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَۃِ”اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے۔ شاید کہ تم دنیا اور آخرت دونوں کی فکر کرو۔ ”

اس آیت میں فرمایا گیا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے احکام بیان کرتا ہے اور اس لئے بیان کرتا ہے کہ تم لوگ دنیا و آخرت دونوں کے بارے میں غور و فکر سے کام لو۔ اس لئے کہ صرف دنیا کے بارے میں غور و فکر کرنے سے، وجود انسانی کی حقیقت، انسان کی زندگی اور ا س کے فرائض کے درمیان باہمی ربط کی اصل حقیقت کے بارے میں نہ عقل انسانی صحیح تجزیہ کرسکتی ہے۔

اور نہ ہی اسلام کے قلب و نظام زندگی اور اس کی قدروں کی صحیح تصویر بنائی جا سکتی ہے۔ اس لئے کہ دنیا تو زندگی کا ایک حصہ ہے۔ اور بہت ہی ادنیٰ اور مختصر حصہ ہے۔ اگر انسان اپنے نظریات اور اپنے نظام کی اساس اس مختصر اور سطحی نقطہ نظر پر رکھے تو اس کے نتیجے میں کبھی انسان نہ کسی صحیح تصور حیات تک پہنچ سکتا ہے اور نہ زندگی میں کوئی صحیح طرز عمل اختیار کرسکتا ہے۔ پھر انفاق کا ذاتی طور پر دنیا سے بھی تعلق ہے۔ اور آخرت سے بھی تعلق ہے۔ انفاق سے اس کی دولت میں جو کمی آتی ہے اس کے نتیجے میں اسے دل کی صفائی اور قلب ونظر کی پاکیزگی، اس دنیا میں نصیب ہو جاتی ہے۔ پھر انفاق کرنے والا جس معاشرے میں رہتا ہے اس معاشرے کے ساتھ اس کی آشتی ہو جاتی ہے، صلح ہو جاتی ہے اور افراد کے درمیان تعلقات مضبوط ہو جاتے ہیں۔ لیکن ابنائے معاشرہ کا ہر فرد ہوسکتا ہے یہ باتیں ہ سوچ سکے اس لئے، آخرت کا عقیدہ اور شعور اور جزائے اخروی کی امید اور آخرت میں جو درجات ہیں اور جو قدریں ہیں ان کا خیال تو ہر شخص کے ذہن میں وزن رکھتا ہے اور اس سے انفاق کا پلڑا بھاری ہو جاتا ہے۔ اس سے نفس انسانی مطمئن ہو جاتا ہے، اسے سکون و آرام نصیب ہوتا ہے۔ ترازو نفس انسانی کے ہاتھ میں آ جاتا ہے جو ہر وقت معتدل رہتا ہے اور کسی وقت بھی کھوئی قدروں اور آنکھوں کو چکا چوند کرنے والے دنیاوی معیارات سے اس کے ترازو کو ہلکا نہیں کرسکتے۔

 

“پوچھتے ہیں یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟کہو جس طرز عمل میں ان کے لئے بھلائی ہو، وہی اختیار کرنا بہتر ہے۔ اگر تم اپنا اور ان کا خرچ اور رہنا مشترکہ رکھو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ آخر وہ تمہارے بھائی بند ہی تو ہیں۔ برائی کرنے والے اور بھلائی کرنے والے دونوں کا حال اللہ پر روشن ہے۔ اللہ چاہتا تو اس معاملے میں تم پر سختی کرتا۔ مگر وہ صاحب اختیار ہونے کے ساتھ صاحب حکمت بھی ہے۔ ” (٢٢٠)

 

اجتماعی تکافل (Social Security)اسلامی معاشرے کا سنگ اول ہے۔ اسلامی جماعت کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے نادار اور ضعیف لوگوں کو خیال رکھے، یتیموں کا بالخصوص، جو نابالغ ہیں اور ماں باپ کے سائے سے محروم ہو گئے ہیں۔ چونکہ وہ کمزور ہیں اس لئے وہ اجتماعی امداد اور اجتماعی حمایت کے مستحق ہیں۔ اسلامی معاشرے کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کی پرورش کرے اور ان کے اموال اور ان کی جائدادوں کی حفاظت کرے۔ بعض اولیاء (Guardians)ایسے تھے جو یتیموں اور خود اپنے کھانے پینے کا انتظام یکجا کرتے تھے۔ نیز انہوں نے اپنے اور یتیموں کے اموال یکجا کر کے تجارت میں لگایا ہوا تھا۔ بعض اوقات اس طرح یتیموں کو نقصان ہوتا تھا۔ اس پر قرآن مجید کی آیات اتریں جن میں مسلمانوں کو یتیموں کا مال کھانے سے سخت ڈرایا گیا۔ اس پر بعض نیک لوگوں نے اس قدر احتیاط شروع کر دی کہ انہوں نے یتیموں کا مال کھانا بھی الگ کر دیا۔ اب صورتحال یہ ہو گئی کہ کسی کے پاس اگر یتیم ہوتا تو وہ یتیم کے مال سے اس کے لئے کھانا تیار کرتے۔ اگر کچھ بچ جاتا تو وہ دھرا رہتا اور دوسرے وقت اسے کھاتا یا ضائع ہو جاتا اور پھینک دیا جاتا۔ یہ اس قدر زیادہ تشدد تھا جسے اسلام کا مزاج گوارا نہ کرتا تھا۔

علاوہ ازیں بعض اوقات اس میں یتیم کو نقصان بھی ہوتا چنانچہ، یہ آیات نازل ہوئیں اور مسلمانوں کو تلقین کر دی گئی کہ وہ اعتدال اور آسانی کا راستہ اختیار کریں، جس میں اس کی مصلحت ہو۔ درحقیقت ان کے لئے خیر خواہی کا جذبہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں الگ تھلگ کر دیا جائے۔ اگر اکھٹا رہنے سہنے اور کھانے پینے کے انتظام میں یتیم کی بھلائی ہے تو ساتھ رکھنا چاہئے۔ کیونکہ یتیم بھی بہرحال اولیاء کے بھائی بند ہی تو ہیں ہیں۔ تمام مسلمان ہیں اور بھائی بھائی ہیں۔ سب کے سب ایک عظیم اسلامی خاندان کے افراد ہیں۔ اللہ بھلائی کرنے والے اور برائی کرنے والے دونوں کے حال سے باخبر ہے۔ اللہ کے ہاں ظاہری شکل و صورت پر ہی فیصلے نہ ہوں گے، نیت اور نتائج کو بھی دیکھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تکلیف میں ڈالنا پسندنہیں کرتا نہ امر و نہی میں ان پر کوئی تکلیف لانا چاہتا ہے یا ان کو مشقت میں ڈالنا چاہتا ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو تکلیف میں ڈال دیتا، لیکن اللہ کا یہ ارادہ نہ تھا، وہ تو عزیز و حکیم ہے۔ وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے لیکن وہ حکیم ہے۔ آسان بھلائی اور اصلاح کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا۔

یوں تمام معاملات کا ربط خدائے لایزل سے قائم ہو جاتا ہے۔ تمام معاملات کو اس اصلی محور کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے۔ جس کے گرد پورا نظریہ حیات گھومتا ہے۔ جس کے گرد پوری زندگی گھومتی ہے۔ یہ ہوتا ہے حال اس نظام قانون کا جو کسی نظریۂ حیات پر مبنی ہوتا ہے۔ اس قانون کے نفاذ کی ضمانت، انسان کے خارج، انسان کی ذات سے علیحدہ کسی اور ذریعہ سے فراہم نہیں ہوتی۔ بلکہ انسان کے ضمیر کے اندر گہرائیوں میں سے اس قانون پر عمل کرنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے اور ہر شخص اس پر از خود عمل کرتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

درس ۱۵ ایک نظر میں

 

 

یہ سبق گویا عائلی قوانین پر مشتمل ایک ضابطہ ہے۔ اس میں خاندانی نظام کی شیرازہ بندی کی گئی ہے۔ خاندان تحریک اسلامی کی تنظیم کی اساس ہے۔ خشت اول ہے۔ اس اساس کو اسلام نے ہر پہلو سے مضبوط کیا ہے۔ اس پر بے حد توجہ دی گئی ہے۔ اسے بڑی تفصیل سے منظم کیا ہے۔ اسے ہر طرح سے بچا کر رکھا گیا ہے۔ اسے دور جاہلیت کی انارکی سے پاک کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اتنی کوشش کی گئی ہے کہ قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں جگہ جگہ اس سلسلے میں ہدایات دی گئی ہیں اور ان میں وہ تمام بنیادیں فراہم کر دی گئی ہیں جو تحریک اسلامی کی تنظیم کے ابتدائی حلقے کی تنظیم اور تعمیر کے لئے ضروری تھیں۔

اسلام کا اجتماعی نظام ایک قسم کا خاندانی نظام ہے۔ اس کی اساس خاندان پر ہے۔ اس لئے کہ انسان کے لئے اس کے رب کا تجویز کردہ نظام ہے۔ اس میں انسان کی فطرت کی تمام ضروریات، تمام خصوصیات اور تمام بنیادی باتوں کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔

خاندانی نظام کی جڑیں ابتداءً تخلیق تک جا پہنچتی ہیں۔ اس کی کونپلیں شاخ فطرت سے پھوٹتی ہیں۔ انسان بلکہ تمام حیوانات کی تخلیق ہی خاندانی نظام پر ہے۔ قرآن مجید سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔ وَمِنْ كُلِّ شَيْء ٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ “اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں۔ شاید کے تم اس سے سبق لو۔ ”

ایک دوسری آیت میں فرماتے ہیں سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الأزْوَاجَ كُلَّہَا مِمَّا تُنْبِتُ الأرْضُ وَمِنْ أَنْفُسِہِمْ وَمِمَّا لا يَعْلَمُونَ”پاک ہے وہ ذات جس نے تمام جوڑوں کو پیدا کیا، ان تمام چیزوں سے سے جو زمین اگاتی ہے۔ انسانی نفوس سے اور ان تمام دوسری چیزوں سے جو وہ نہیں جانتے۔ ”

اب انسان کا مزید نقطہ نظر سے جائزہ لیا جاتا ہے اور اسے وہ پہلا انسان یاد دلایا جاتا ہے جس کے واسطہ سے یہاں انسانوں کی بستی کا آغاز ہوا۔ پہلی انسانی آبادی ایک جوڑا تھا۔ پھر اس کی اولاد پیدا ہوئی، پھر اس سے انسانیت اور انسانی آبادی پھیل گئی۔ يَا أَيُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالا كَثِيرًا وَنِسَاء ً وَاتَّقُوا اللَّہَ الَّذِي تَسَاء َلُونَ بِہِ وَالأرْحَامَ إِنَّ اللَّہَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا “لوگو!اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیئے۔ اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قربت کے تعلقات بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔ ”

دوسری جگہ ہے يَا أَيُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا “لوگو!ہم نے تم کو ایک مرد ا اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ ”

پھر بتایا جاتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان ایک فطری جاذبیت ہے۔ اس لئے نہیں کہ مرد و عورت علی الاطلاق اکٹھے ہوں، بلکہ ان کے درمیان انس و محبت کا نتیجہ پیدا ہونا چاہئے کہ وہ خاندان کی بنیاد ڈالیں اور گھرانے تعمیر ہوں :وَمِنْ آيَاتِہِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْہَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّۃً وَرَحْمَۃً “اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔ “ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُم وَاَنتُم لِبَاسٌ لَّھُنَّ”وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔ ” نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لأنْفُسِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّہَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوہُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ”تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تمہیں اختیار ہے۔ جس طرح چاہو اپنی کھیتی میں جاؤ مگر اپنے مستقبل کی فکر کرو اور اللہ کی ناراضگی سے بچو۔ خوب جان لو کہ تمہیں ایک دن اس سے ملنا ہے۔ “واللّٰہ جعل لکم من بیوتکم سکنا”حقیقت ہے کہ اللہ نے تمہارے گھروں کو تمہارے لئے جائے سکون بنایا ہے۔ ”

یہ فطرت ہے کہ جو اپنا کام کرتی ہے اور یہ خاندان ہی ہے جو ابتدائی تخلیق اور پھر انسان کی تعمیر و تربیت میں فطرت عمیق مقاصد کی بجا آوری کے لئے لبیک کہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام زندگی میں خاندانی نظام ایک فطری اور طبعی نظام ہے جس کا سر چشمہ انسان کی تخلیق کے آغاز سے پھوٹا ہے۔ (آدم و حوا سے )اگر گہرا مطالعہ کیا جائے تو ا کائنات کی تمام اشیاء کا آغاز تخلیق بھی اسی نظام کے مطابق ہوا ہے۔ اس طرح اسلام نے فطرت کے منہاج کو اپنایا ہے، جس طرح اس کائنات کی دوسری اشیاء کی تخلیق خاندانی نظام کے اسلوب پر ہوتی ہے۔ اسی طرح نظام کی اساس بھی خاندان کو قرار دیا گیا کیونکہ انسان بھی بہرحال اس کائنات کا ایک جزء ہے۔

خاندان دراصل ایک قدرتی نرسری ہے۔ جہاں چھوٹے بچوں کی صحیح دیکھ بھال اور تربیت ہوسکتی ہے۔ صرف اس نرسری میں وہ صحیح طرح روحانی، عقلی اور جسمانی نشوونما پا سکتے ہیں۔ خاندان کے سایہ میں بچے میں محبت، شفقت اور اجتماعی ذمہ داری (Reciprocal Responsibility)کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ اور اس نرسری میں اس پر جو رنگ چڑھتا ہے، وہ پوری زندگی میں قائم رہتا ہے۔ بچے کو خاندان کی نرسری میں جو سبق ملتا ہے اسی کی روشنی میں وہ زندگی۔ عملی زندگی کے لئے آنکھیں کھولتا ہے، اسی کی روشنی میں وہ حقائق حیات کی تشریح کرتا ہے اور اسی کی روشنی میں زندگی میں عمل پیرا ہوتا ہے۔

تمام زندہ مخلوقات میں طفل آدم کی طفولیت سب سے طویل ہوتی ہے۔ تمام زندہ چیزوں سے زیادہ۔ وجہ یہ ہے کہ ہر زندہ ذی روح کا عہد طفولیت دراصل باقی زندگی کے لئے تیاری، تربیت اور ٹریننگ کا زمانہ ہوتا ہے۔ اس میں بچے کو اس رول کے لئے تیار کیا جاتا ہے جو اس نے باقی زندگی میں ادا کرنا ہوتا ہے۔ چونکہ دنیا میں انسان نے جو فرائض سر انجام دینے ہیں وہ عظیم فرائض ہیں۔ جو رول زمین پر انسان نے ادا کرنا ہوتا ہے وہ ایک عظیم رول ہے، اس لئے اس کا عہد طفولیت بھی نسبتاً لمبا رکھا گیا ہے تاکہ اسے مستقبل کی ذمہ داریوں کے لئے بطریق احسن تیار کیا جا سکے اور اسے اچھی طرح ٹریننگ دی جا سکے۔ اس لئے دوسرے حیوانات کے مقابلے میں وہ والدین کے ساتھ رہنے کے لئے زیادہ محتاج ہے لہٰذا ایک پرسکون خاندانی ماحول، مستقل خاندانی نرسری انسانی نظام زندگی کے لئے لازمی ہے۔ انسانی فطرت کے زیادہ قریب اور اس کی تشکیل اور نشوونما اور اس کی زندگی میں اس کے کردار کے لئے موزوں تر ہے۔

دور جدید کے تجربات نے اس بات کو یقین تک پہنچا دیا ہے کہ خاندانی گہوارے کے مقابلے میں لوگوں نے بچوں کی نگہداشت کے جو انتظامات بھی کئے وہ سب کے سب ناقص رہے اور وہ خاندان کے نعم البدل ثابت نہیں ہوسکے۔ بلکہ ان انتظامات میں سے کوئی انتظام بھی ایسانہیں ہ جس میں بچے کی نشوونما کے لئے مضر پہلو نہ ہوں یا جس میں اس کی معیاری تربیت ممکن ہوسکے۔ خصوصاً اجتماعی نرسری کا وہ نظام جسے دور جدید کے بعض مصنوعی اور جابرانہ نظام ہائے حیات نے محض اس لئے قائم کیا کہ وہ اللہ کے قائم کردہ مضبوط فطری اور صالح خاندانی نظام کی جگہ لے سکے۔ محض اس لئے کہ یہ لوگ دین کی دشمنی میں مبتلا ہو گئے اور دین پر اندھا دھند حملے کر کے اس کی ہر چیز کے خلاف ہو گئے۔ اس لئے خاندانی نظام کو جبراً ختم کر کے اس کی جگہ بچوں کے لئے نرسریاں قائم کر دیں۔ اگرچہ بعض اوقات ایسی نرسریاں حکومت کے تحت بھی قائم ہوئیں مثلاً دینی حدود و قیود سے آزاد مغربی ممالک نے ماضی قریب میں جو وحشیانہ جنگیں لڑیں۔ وہ سب کے سامنے ہیں۔ ان جنگوں میں وحشیوں نے لڑنے والوں اور پر امن شہریوں میں کوئی تمیز نہ کی، اس کے نتیجے میں لاتعداد لا وارث بچے ماں باپ کے سایہ کے بغیر رہ گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ کی بعض حکومتیں ان بچوں کے لئے اجتماعی نرسریاں قائم کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ علاوہ ازیں مغرب کے جاہلی تصور حیات کے نتیجہ میں وہاں کے انسان کے لئے مناسب اجتماعی اور اقتصادی نظام کے مقابلے میں بد شکل اقتصادی اور معاشرتی نظام وجود میں آیا اور جس میں نوزائیدہ بچوں کی مائیں اس پر مجبور ہو گئیں کہ وہ اپنے لئے خود کمائیں اور مجبوراً بتقاضائے ضروریات بچوں کی اجتماعی نرسریاں وجود میں آئیں۔ یہ نظام نہ تھا بلکہ ایک لعنت تھی۔ اس نے بچوں کو ماؤں کی مامتا اور خاندان کے زیرسایہ ان کی تربیت سے محروم کر دیا، بیماروں کو نرسری میں پھینک دیا گیا، نرسری کا نظام بچوں کی فطرت اور ان کے نفسیاتی ساخت سے متصادم تھا اس لئے نتیجہ یہ نکلا کہ اس قسم کے بچے ذہنی الجھنوں کا شکار ہو گئے اور انہیں بے شمار نفسیاتی پریشانیاں لاحق ہو گئیں۔

تعجب انگیز بات یہ ہے کہ ہمارے بعض معاصرین ان حقائق کے باوجود اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عورت کے لئے ملازمت کا اختیار کرنا ترقی اور آزادی کی علامت ہے۔ اور ا س بات کا ثبوت ہے معاشرہ رجعت پسندی سے آزاد ہو گیا ہے۔ آپ نے دیکھا!ان لوگوں کے نزدیک آزادی اور ترقی اس لعنت کا نام ہے جس کی وجہ سے اس دنیا میں انسان کی سب سے قیمتی ذخیرہ یعنی بچوں کی نفسیاتی صحت اور ان کی اخلاقی ترقی تو ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ حالانکہ بچے انسانیت کے مستقبل کا سرمایہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس قیمتی سرمایہ کو ضائع کر کے انسان کیا فائدہ حاصل کرتا ہے ؟صرف یہ خاندان کی آمدنی میں حقیر سا اضافہ ہو جاتا ہے بجائے اس کے کہ وہ اپنی اولاد کی کفالت کرے۔ یہ صورتحال اس لئے پیش آئی کہ مغربی جاہلیت اور جدید مشرقی جاہلیت اور اس کے فاسد اجتماعی نظام نے بچوں کے لئے والدہ کی کفالت کی خاطر والدہ کی ملازمت کی حوصلہ شکنی کرنے سے انکار کیا۔ اور صورت یہ ہو گئی کہ اگر کوئی عورت ملازمت نہیں کرتی تو اس کے ساتھ رشتہ کرنے کے لئے بھی کوئی تیار نہ ہوتا۔ حالانکہ ملازمت سے وہ جو کچھ کماتی وہ اس عظیم سرمایہ کی تربیت اور نگہداشت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ اس لئے بچے انسانیت کا نہایت ہی قیمتی اور نایاب سرمایہ ہیں۔

نرسریوں کے تجربات سے سب سے پہلے جو چیز ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے دو سال کے عرصہ میں بچہ فطری اور نفسیاتی طور پر اس بات کا محتاج ہوتا ہے کہ اسے مستقلاً والدین کی گود میں ہونا چاہئے۔ بالخصوص والدہ کے معاملے میں تو اس کی ضرورت یہ ہے کہ والدہ مستقلاً صرف اس کی خدمت گزار ہو اور اس کے ساتھ اس میں کوئی دوسرا بچہ بھی شریک نہ ہو۔ اس کے بعد ایک عرصہ تک پھر اسے یہ ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے ماں اور باپ ہوں اور اس کی نسبت ان کی طرف ہو۔ پہلی ضرورت نرسری کے سلسلہ میں ممکن نہیں ہے اور دوسری صورت سوائے اس کے کہ خاندانی نظام موجود ہو ممکن الحصول نہیں ہے۔

جو بچہ ان دوسہولتوں سے محروم رہے وہ توانائی اور نفسیاتی لحاظ سے ناقص رہے گا۔ ایسے بچے لازماً کسی نہ کسی نفسیاتی الجھن کا شکار ہوتے ہیں۔

اگر کسی کو کوئی ایسا حادثہ پیش آ جائے اور وہ ان دونوں سہولتوں میں سے کسی ایک سے محروم ہو جائے تو یہ حادثہ اس بچے کے لئے تباہ کن ہوتا ہے لیکن ہمیں تعجب ہے کہ ہم کدھر جا رہے ہیں ؟ذرا اس غافل اور بے خبر جاہلیت پر غور کریں، جس کی کوشش یہ ہے کہ نرسری کا نظام عام کر دیا جائے اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو ایسے تباہ کن حادثوں سے دوچار کیا جائے اور پھر جاہلیت کے بعض وہ تماشائی جو اسلام کی عطا کردہ امن وسلامتی سے محروم ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہلاکت، چھوٹے چھوٹے بچوں کی ہلاکت و تباہی ترقی اور آزادی ہے۔ ثقافت و تہذیب ہے۔

یہی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اسلامی نظام حیات نے، اپنے اجتماعی نظام کی بنیاد “خاندان”پر رکھی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا یہ تھی کہ مسلمان امن سلامتی کے دائرے میں داخل ہو جائیں۔ اور اسلام کے زیر سایہ سلامتی اور چین کی زندگی بسرکریں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے خاندانی نظام کے استحکام پر بہت زیادہ توجہ کی ہے۔ اس لئے کہ اسلام کے اجتماعی نظام میں خاندان بنیادی یونٹ قرار پانے والا تھا۔ چنانچہ قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں خاندانی نظام کے استحکام کے لئے، اس کے مختلف پہلوؤں کو منظم کیا گیا ہے اور اس کے لئے بنیادی مواد فراہم کیا گیا ہے۔ چنانچہ سورۂ بقرہ ان سورتوں میں سے ایک ہے۔

اس سورت میں خاندانی نظام کے سلسلے میں جو آیات نازل ہوئی ہیں ان میں نکاح، معاشرت، ایلا، طلاق، نفقہ، متعہ، رضاعت اور حضانت کے اہم مسائل بیان کئے گئے ہیں، لیکن یہاں ان احکام کو خاص احکام کی شکل میں بیان نہیں کیا گیا جیسا کہ عام طور پر قانون کی کتابیں پڑھنے والے کتب قانون میں مجرد دفعات اور احکام پاتے ہیں۔ ہرگز نہیں !یہ احکام ایسی فضا میں وارد ہوتے ہیں کہ انسان کا دل و دماغ اسے بحیثیت ایک عظیم اصول کے لیتے ہیں۔ انسانی زندگی کے لئے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نظام زندگی کا ایک عظیم اصول اور اس نظریۂ حیات کا عظیم اصول جس سے اسلامی نظام زندگی کی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ اور یہ کہ اس اصول اور اس قانون کا تعلق براہ راست اللہ تبارک و تعالیٰ سے ہے۔ یہ قانون اس کے ارادے، اس کی حکمت، اس کی مشیئت سے ملا ہوا ہے۔ اور یہ اصول اس نظام زندگی کا ایک اہم حصہ ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پسند کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ساتھ اللہ کی رضا و غضب، ثواب و عتاب وابستہ ہوتے ہیں اور ان احکام کا تعلق اسلامی نظریۂ حیات سے ہوتا ہے۔ اگر کوئی ان پر عمل کرے گا، تو وہ شخص مسلم کہلائے گا۔ اگر عمل نہ کرے گا تو مسلم نہ کہلائے گا۔

انسان پہلی ہی نظر میں اس معاملے کی نزاکت اور اہمیت کو سمجھ لیتا ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی اس کی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اس نظام کا ہر جز خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو ا اہمیت کا حامل ہے۔ خود اللہ تعالیٰ اس نظام کا نگران ہے اور اس طرف اس کی خاص توجہ ہے۔ اور یہ کہ اس نظام کی ہر چھوٹی اور بڑی بات مقصد بالذات ہے اور اللہ کے ہاں ایک عظیم مقصد کے لئے اسے رکھا گیا ہے۔ اور یہ کہ اس انسان کی ذات کی نگرانی خود اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔ پھر تحریک کی تعمیر و تربیت کا کام بھی خود ذات باری اپنی نگرانی میں فرماتی ہے اور اس تعمیر اور نشوونما اور ٹریننگ کی غرض صرف یہ ہے کہ تحریک اسلامی کو اس عظیم رول کے لئے تیار کرنا ہے، جو اس نے اس کائنات میں ادا کرنا ہے، پھر انسان یہ محسوس کر لیتا ہے کہ اس نظام زندگی کے کسی حصے پر عمل نہ کرنا، اسے کمزور کرنا، اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینا ہے۔ ایسے افراد شدید غضب کے مستحق ہو جاتے ہیں۔

پھر یہ احکام بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کئے جاتے ہیں، جب تک ایک حکم ختم نہیں ہو جاتا، اس کے مالہ وماعلیہ بیان نہیں کر دیئے جاتے، اس وقت تک دوسرے حکم کا آغاز نہیں کیا جاتا۔ پھر ہر حکم کے بعد تعقیبات اختتامیہ تبصرے اور نتائج بیان کئے جاتے ہیں۔ بعض اوقات تو یہ تعقیبات اور تنبیہات بیان احکام کے درمیان ہی آ جاتی ہیں، جن سے مقصود یہ بتلانا ہوتا ہے کہ یہ معاملہ اہمیت کا حامل ہے۔ بالخصوص وہ تعقیبات، جن کا تعلق ضمیر و احساس اور دل کے تقویٰ سے ہوتا ہے کیونکہ یہ بیدار تقویٰ، احساس اطاعت اور ضمیر کی نگرانی کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ ان احکام کے بجا لانے میں حیلہ سازی سے کام لیا جائے۔

پہلا حکم یہ ہے کہ مسلمان مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کریں نہ اپنی عورتوں کا نکاح کر کے مشرک کے حوالہ کریں۔ اس کی وجوہات یہ بتائی گئی ہیں أُولَئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللَّہُ يَدْعُو إِلَى الْجَنَّۃِ وَالْمَغْفِرَۃِ بِإِذْنِہِ وَيُبَيِّنُ آيَاتِہِ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ يَتَذَكَّرُونَ”یہ لوگ تمہیں آگ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے اذن سے تم کو جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے اور وہ اپنے احکام واضح طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے، توقع ہے کہ وہ سبق لیں گے اور نصیحت قبول کریں گے۔ ”

دوسرا حکم حیض کے دوران عورتوں سے مباشرت کرنے کے مسئلے کے متعلق ہے۔ اس پر جو تعلیق و تبصرہ ہے، اس میں اس فعل کو محض قضائے شہوت کے چند جسمانی منٹ کے تلذذ سے بلند کر کے، اعلیٰ مقاصد اور انسانی فریضے کے اعلیٰ مقام تک بلند کیا جاتا ہے۔ بلکہ بتایا گیا ہے کہ یہ انسان کے ذاتی اور نجی فرائض میں سے ایک اہم فریضہ ہے اور اس کا تعلق خالق تعالیٰ کی اس اسکیم سے ہے کہ اس کی مخلوق اس کی عبادت اور اس کے ڈر کی وجہ سے پاک وصاف ہو جائے۔

فَإِذَا تَطَہَّرْنَ فَأْتُوہُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّہُ إِنَّ اللَّہَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِينَ (٢٢٢)نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لأنْفُسِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّہَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوہُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ”پھر جب وہ پاک ہو جائیں، تو ان کے پاس جاؤ اس طرح جیسا کہ اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے، اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے، جو بدی سے باز رہیں اور پاکیزگی اختیار کریں۔ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں۔ تمہیں اختیار ہے، جس طرح چاہو، اپنی کھیتی میں جاؤ مگر اپنے مستقبل کی فکر کرو اور اللہ کی ناراضی سے بچو۔ خوب جان لو کہ تمہیں ایک دن اس سے ملنا ہے۔ اور اے نبی جو تمہاری ہدایات لیں انہیں خوشخبری دے۔ ”

تیسرے حکم میں قسموں کے بارے میں احکام ہیں بعد میں چونکہ ایلا اور طلاق کے احکام بیان ہوں گے۔ اس لئے یہاں بطور تمہید قسموں کے بارے میں عمومی حکم دے دیا۔ اللہ کے نام کی قسمیں کھانے کا ربط بھی، اللہ پر پختہ یقین اور اللہ خوفی سے قائم کر دیا گیا ہے۔ ایک جگہ کہا گیا وَاللّٰہُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ”اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ “اور دوسری جگہ ہے وَاللّٰہ غَفُورٌ حَلِیمٌ”اللہ بہت درگزر کرنے والا بردبار ہے۔ ”

چوتھا حکم ایلا کاہے اور اس کے آخر میں یہ تعقیب ہے فَإِنْ فَاء ُوا فَإِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (٢٢٦)وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلاقَ فَإِنَّ اللَّہَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ”اگر انہوں نے رجوع کر لیا تو اللہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔ اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو تو جانے رہیں کہ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ ”

پانچواں حکم مطلقہ عورت کی عدت کے بارے میں ہے۔ اور اس حکم کے ساتھ بھی متعدد تعقیبات پیوستہ ہیں۔

لا يَحِلُّ لَہُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّہُ فِي أَرْحَامِہِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّہِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ”اور ان کے لئے یہ جائز نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو کچھ خلق فرمایا ہو، اسے چھپائیں، انہیں ہرگز ایسا نہ کرنا چاہئے اگر وہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہیں۔ ”

اور چھٹا حکم طلاقوں کی تعداد کے بارے میں ہے اور طلاق کی حالت میں مہر اور نفقہ واپس لینے کے احکام ہیں۔ ان احکام کے بعد بھی یہ تعقیبات وارد ہیں۔

وَلا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوہُنَّ شَيْئًا إِلا أَنْ يَخَافَا أَلا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّہِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّہِ فَلا جُنَاحَ عَلَيْہِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِہِ”اور تمہارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو، اس میں سے کچھ واپس لے لو، البتہ یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ زوجین کو اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو، ایسی صورت میں اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہیں گے تو ان کے دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہو جانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرے۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ حدود الٰہی سے تجاوز کریں وہی ظالم ہیں۔ ”

اور یہ کہ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلا جُنَاحَ عَلَيْہِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّہِ يُبَيِّنُہَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ”اور یہ دوسرا شخص بھی اسے طلاق دے دے تب اگر پہلا شوہر اور یہ عورت دونوں یہ خیال کریں کہ حدود الٰہی پر قائم رہیں گے، تو ان کے لئے ایک دوسرے کی طرف رجوع کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، جنہیں وہ ان لوگوں کی ہدایت کے لئے واضح کر رہا ہے، جو (ان حدود کو توڑنے کا انجام)جانتے ہیں۔ ”

ساتواں حکم یہ ہے کہ اگر تم عورت کو طلاق دو تو یا پھر صحیح طرح اسے الگ کر دو اور یا صحیح طرح اسے اچھے طریقے سے رخصت کر دو اور اس حکم پر اللہ تعالیٰ کا تبصرہ یہ ہے۔ ………………………………………… فَأَمْسِكُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلا تُمْسِكُوہُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہُ وَلا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّہِ ہُزُوًا وَاذْكُرُوا نِعْمَۃَ اللَّہِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَۃِ يَعِظُكُمْ بِہِ وَاتَّقُوا اللَّہَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ بِكُلِّ شَيْء ٍ عَلِيمٌ”یابھلے طریقے سے انہیں روکو یا بھلے طریقے سے رخصت کرو۔ محض ستانے کی خاطر انہیں نہ روکے رکھنا کہ یہ زیادتی ہو گی اور جو ایسا کرے گا، وہ درحقیقت آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا۔ اللہ کی آیات کا کھیل نہ بناؤ۔ بھول نہ جاؤ کہ اللہ نے کس نعمت عظمیٰ سے تمہیں سرفراز کیا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکم اس نے تم پر نازل کی ہے اس کا احترام ملحوظ رکھو۔ اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے۔ ”

دوسری ہدایت یہ ہے :

ذَلِكَ يُوعَظُ بِہِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكُمْ أَزْكَى لَكُمْ وَأَطْہَرُ وَاللَّہُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ”یہ تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت نہ کرنا، اگر تم اللہ اور آخر پر ایمان لانے والے ہو، تمہارے لئے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے کہ اس سے باز رہو۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ”

آٹھواں حکم رضاعت اور اجرت پر دودھ پلانے اور اس کی اجرت کے متعلق ہے۔ اور مفصل احکام بیان کرنے کے بعد اس پر یہ نصیحت کی جاتی ہے وَاتَّقُوا اللَّہَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ”اللہ سے ڈر و اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو، سب اللہ کی نظر میں ہے۔ ”

نواں حکم اس عورت کی عدت کے بارے میں ہے جس کا خاوند فوت ہو گیا ہو، اس پر یہ تعقیب با پروانہ آزادی فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ”پھر جب ان کی عدت پوری ہو جائے توانہیں اختیار ہے کہ اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے، جو چاہیں فیصلہ کریں، تم پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ اللہ تم سب کے اعمال سے باخبر ہے۔ ”

دسواں حکم دوران عدت عورت کو اشارۃً نکاح دینے کے بارے میں ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ تعقیب و تبصرہ آتا ہے۔ عَلِمَ اللَّہُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَہُنَّ وَلَكِنْ لا تُوَاعِدُوہُنَّ سِرًّا إِلا أَنْ تَقُولُوا قَوْلا مَعْرُوفًا وَلا تَعْزِمُوا عُقْدَۃَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَہُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوہُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ غَفُورٌ حَلِيمٌ”اللہ جانتا ہے کہ ان کا خیال تمہارے دل میں تو آئے گا ہی مگر دیکھو، خفیہ عہد و پیمان نہ کرنا، اگر کوئی بات کرنی ہے تو معروف طریقے سے کرو۔ اور عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ اس وقت تک نہ کرو جب تک کہ عدت پوری نہ ہو جائے۔ خوب سمجھ لو کہ اللہ تمہارے دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ لہٰذا اس سے ڈرو اور یہ بھی جان لو کہ اللہ بردبار ہے۔ (چھوٹی چھوٹی باتوں سے )درگذر فرماتا ہے۔ ”

گیارہواں حکم اس مطلقہ عورت کے بارے میں ہے، جس کے ساتھ مباشرت نہ ہوئی ہو، ایسی عورت کا مہر مقرر نہ کیا گیا ہو تو حکم یا ادا کر دیا ہو تو حکم۔ اس پر یہ وجدانی تبصرہ دیکھئے۔

وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَلا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّہَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ”اور اگر تم (مرد)نرمی سے کام لو، تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو۔ تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے۔ ”

بارہواں حکم مطلقہ عورتوں کے بارے میں اور جس کا خاوند فوت ہو چکا ہے۔ اس کے بارے میں ہے کہ ایک سال تک نان و نفقہ دو۔ اس حکم پر آخر میں حکم ہوتا ہے وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ”اور مطلقہ عورتوں کا حق ہے کہ انہیں مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔ ”

اب ان سب احکام کے بیان کرنے کے بعد ان سب پر ایک جامع تبصرہ کیا جاتا ہے : كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّہُ لَكُمْ آيَاتِہِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ”اس طرح اللہ اپنے احکام تمہیں صاف صاف بتاتا ہے۔ امید ہے کہ تم سمجھ بوجھ کرکام کرو گے۔ ”

یہ سب احکام عبادت ہیں۔ نکاح میں اللہ کی بندگی ہے۔ مباشرت اور اضافہ نسل میں اللہ کی بندگی ہے۔ طلاق اور جدائی بھی اللہ کی غلامی اور بندگی ہے۔ عدت اور دوران عدت طلاق سے رجوع بھی بندگی ہے، نفقہ اور رخصتی کا سازوسامان بھی اللہ کی بندگی ہے۔ معروف طریقے سے عورت کو روک کر بیوی بنا لینا بھی بندگی ہے۔ ورنہ اچھے طریقہ سے ہمیشہ کے لئے رخصت کر دینا بھی اللہ کی بندگی، فدیہ دینا بھی بندگی ہے۔ عوض دینا بھی بندگی دودھ پلانا بھی بندگی ہے اور دودھ سے چھڑانا بھی اللہ کی بندگی اور اطاعت ہے۔ غرض ہر حرکت اور ہر پیش آمد واقعہ میں ایک مسلمان کا طرز عمل اگر خدائی ہدایات کے مطابق ہے تو بندگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان احکام کے عین وسط میں اچانک نماز کا حکم بھی آ جاتا ہے۔ یعنی خوف میں بھی نماز اور امن میں بھی نماز فرماتے ہیں حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاۃِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّہِ قَانِتِينَ (٢٣٨)فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالا أَوْ رُكْبَانًا فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّہَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ”اپنی نمازوں کی نگہداشت رکھو، خصوصاً ایسی نماز کی جو محاسن صلوٰۃ کی جامع ہو۔ (یا بیچ والی نماز)اللہ کے آگے اس طرح کھڑے ہو، جیسے فرمانبردار غلام کھڑے ہوتے ہیں، بدامنی کی حالت ہو تو خواہ پیدل ہو، خواہ سوار جس طرح ممکن ہو، نماز پڑھو اور جب امن میسر آ جائے تو اللہ کو اس طریقے سے یاد کرو جو اس نے تمہیں سکھایا ہے، جس سے پہلے تم ناواقف تھے۔ ”

آپ دیکھیں نماز کا یہ حکم عائلی احکام کے درمیان واقعہ ہے۔ ابھی عائلی احکام ختم نہ ہوئے تھے کہ درمیان میں نماز کا ذکر آ گیا۔ تاکہ نماز کی عبادت کا حکم دوسری عبادات زندگی کے درمیان خلط ہو جائے۔ یہ خلط اس لئے ہوا کہ یہ اسلام کے مزاج کے عین مطابق ہے۔ اور اسلامی نظریۂ حیات کی رو سے یہ کلی بندگی اور ہر کام میں عبادت وجود انسان کی اصل غرض و غایت ہے۔ اس پورے سبق کا انداز بیان، اس طرف بہت ہی لطیف انداز میں اشارہ کرتا ہے۔ یہ کہ یہ سب چیزیں عبادت ہیں، جس طرح نماز کے معاملے میں احکام الٰہی کی اطاعت عبادت ہے، اسی طرح ان دوسرے عائلی معاملات میں بھی احکام الٰہی کی اطاعت عبادت ہے۔ زندگی ایک اکائی ہے اور عبادات سب کی سب ایک ہی نوعیت کی ہیں۔ تو احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور یہ سب احکام ہی زندگی کا وہ نظام ہیں جو اللہ تعالیٰ نے تجویز کیا ہے۔

ان تمام احکام میں، جس طرح اللہ کی عبادت اور بندگی کا ماحول، اللہ کی اطاعت و عبادت کا رنگ ہے اور اللہ کی غلامی کا پرسکون سایہ ہے، اسی طرح ان میں واقعی زندگی کے ماحول کو بھی نظرانداز نہیں کیا گیا۔ انسان کی طبعی ساخت اور اس کی فطری خواہشات سے بھی قطع نظر نہیں کی گئی اور اس کرۂ ارض پر انسانوں کی انسانی ضروریات کو بھی اچھی طرح پورا کیا گیا ہے۔

اسلام جو قانون بناتا ہے وہ انسانوں کے ایک گروہ کے لئے بنا رہا ہے، وہ یہ قانون بہرحال فرشتوں کے لئے نہیں بنا رہا ہے۔ نہ اڑتے ہوئے تخیلات کے عالم میں کسی فرضی مخلوق کے لئے۔ اس لئے عام ہدایات اور قانون سازی یا شرعی احکام کے ذریعے، جب اسلام انہیں اللہ کی بندگی کی فضا تک بلند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ حقیقت اچھی طرح اس کے سامنے ہوتی ہے کہ وہ سب کچھ ایک انسان کے لئے کر رہا ہے۔ یہ کہ بندگی ایک بشر نے کرنی ہے اور انسانوں میں انسانی جذبات و میلانات پائے جاتے ہیں۔ ان میں ضعف ہے اور کئی قسم کی کمزوریاں ہیں۔ ان کو ضروریات لاحق ہوتی ہیں اور ماحول سے متاثر ہوتے ہیں، وہ جذبات رکھتے ہیں اور با شعور مخلوق ہیں۔ ایک طرف ان میں روحانی اشراق ہے تو دوسری طرف انسانی کثافتیں بھی ہیں اور اسلامی نظام زندگی میں ایک ایسا نظام ہے جوان سب امور کا خیال رکھتا ہے۔ اور ان کے باوجود انسان کو ایک پاک بندگی کی راہ پر لگا دیتا ہے۔ ایک روشن چراغ انہیں دکھاتا ہے۔ ہدایت کا روشن چراغ۔ لیکن بغیر کسی جبر کے، بغیر کسی مصنوعی ذریعہ کے، وہ اپنے تمام نظام زندگی کی بنیاد اس پر قائم کرتا ہے کہ یہ انسان بہر حال انسان ہے !

یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ایلا کو جائز قرار دیا۔ یعنی ایک مرد کے جائز ہے کہ وہ ایک مقررہ وقت تک عورت کے ساتھ مباشرت نہ کرنے کی قسم کھا لے۔ لیکن شرط یہ ہے یہ قسم چار ماہ سے زیادہ نہ ہو گی۔ پھر اسلام طلاق کی گنجائش رکھتا ہے۔ اور اس کے باقاعدہ قانون سازی کرتا ہے۔ اس کے احکام اور نتائج کو بھی منظم طریقے سے قانونی ضابطہ کا پابند کر دیتا ہے۔ ایسے حالات میں ازروئے قانون طلاق کی گنجائش رکھی گئی ہے، جبکہ دوسری طرف خاندانی نظام کی بنیادوں کو پوری طرح مستحکم کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ خاندانی تعلقات کو مزید پختہ کرنے کی سعی کی گئی ہے اور افراد خاندان کے باہمی ربط کو محض معاشرتی فائدوں سے بلند کر کے اسے اطاعت خداوندی اور عبادت رب کا بلند تصور دے دیا گیا ہے۔ یہ وہ توازن ہے جو اسلامی نظام زندگی کے عملی پہلوؤں کو واقعی بہت ہی بلند اور ایک حقیقی مثالی نظام کر دیتا ہے۔ جو مثالی ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی طاقت اور وسعت کے دائرے کے اندر بھی رہتا ہے۔ اور یوں لگتا ہے کہ یہی نظام ہے جو فی الواقعہ ایک عام انسان کے لئے بنایا گیا ہے۔

نظام کیا ہے فطرت کی سہولتیں ہی سہولتیں ہیں۔ مرد اور عورت دونوں کے لئے حکیمانہ سہولیات ہیں۔ اگر ایک تشکیل شدہ خاندان، جس کی بنیاد مرد و عورت کے نکاح سے پڑی تھی کامیاب نہیں ہوتا، اس ابتدائی انسانی خلیہ(Cell)میں امن وسکون قائم نہیں ہوسکتا تو اللہ وہ ذات ہے جو جاننے والا خبردار ہے، وہ لوگوں کے بارے میں وہ کچھ جانتا ہے، جو وہ خود بھی نہیں جانتے۔ اس لئے ذات باری نے یہ نہ چاہا کہ وہ مرد و عورت کے رابطہ نکاح کو ناقابل انفکاک بنا دے اور اس طرح ابتدائی انسانی جوڑے کو انس و محبت کے گہوارے کے بجائے ایک قید خانہ بنا دے۔ میاں بیوی ایک دوسرے کو دیکھنا چاہتے ہوں مگر جدائی محال ہو، ان کے دلوں میں سب شکوک و شبہات سیلابی شکل اختیار کر گئے ہیں لیکن بچنے کی کوئی صورت نہ ہو۔ میاں بیوی کے تعلقات شبہات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں دب کر رہ گئے ہوں لیکن روشنی کی طرف نکل آنے کی کوئی صورت نہ ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تومیاں بیوی کے جوڑ اور اس چھوٹے خاندان کو اس لئے بنایا تھا کہ وہ دارالسکون ہو، دار الامن ہو۔ اگر اس سے یہ مقصد پورا نہ ہو رہا ہو اور اس لئے نہ ہو رہا ہو کہ فریقین کی فطرت اور طبائع میں اختلاف ہو، تو پھر ایسی صورت میں بہتر یہی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان جدائی ہو جائے اور اس بیمار خاندان کو ختم کر دیا جائے اور وہ دوبارہ کوشش کریں کہ جڑسکیں لیکن جدائی کا فیصلہ بھی محض سرسری اختلافات کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ اس خاندان کو بچانے کے لئے تمام وسائل کام میں لائے جاتے ہیں۔ اس لئے کہ اسلامی نظام زندگی میں انسانی اجتماع میں خاندان مقدس ترین اکٹھ ہے۔ لیکن جدائی کی صورت میں بھی ایسے احکام دیئے گئے ہیں کہ نہ خاوند کو نقصان پہنچے نہ بیوی کو۔ نہ بچے کو اور نہ ہی جنین کو۔

یہ ہے وہ ربانی نظام زندگی، جسے اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے تشکیل دیا۔

جب انسان اس نظام کی بنیادوں پر غور کرتا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے تجویز کیا ہے اور پھر اس نظام کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اس معاشرے، پاک معاشرے پر نگاہ ڈالتا ہے جس میں امن وسلامتی کا دور دورہ ہوتا ہے اور پھر اس کے مقابلے میں اس نظام زندگی کا مطالعہ کرتا ہے، جو اس وقت فعلاً انسانی زندگی میں قائم و رائج تھا۔ تو نظر آتا ہے کہ دونوں کے درمیان زمین وآسمان کا فرق ہے۔ اور اسلامی معاشرہ ایک مثالی معاشرہ ہے۔ اور اگر اسلامی معاشرے کا مقابلہ مشرق و مغرب میں آج کے جدید جاہلی معاشروں سے کیا جائے تو بھی یہ مثالی معاشرہ ایک اونچے مقام پر نظر آتا ہے، حالانکہ ان جدید جاہلی معاشروں کے حامی اپنے آپ کو بڑا ترقی یافتہ معاشرہ سمجھتے ہیں۔ اس تقابلی مطالعہ کے نتیجے میں اچھی طرح احساس ہو جاتا ہے کہ اسلام نے شرافت، پاکیزگی اور امن وسکون کا اونچا معیار قائم کیا ہے۔ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اس اونچے مقام تک انسانوں کو پہچانے کے لئے قانون بنایا۔ خصوصاً عورت کو تو اس نظام میں خصوصی رعایتیں دی گئیں ہیں۔ بہت بڑی حرمت اور شرافت اسے عطا کر دی گئی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جو مستقیم الفطرت عورت بھی ان خصوصی رعایتوں پر غور کرے، جو اللہ نے اسلامی نظام میں عورتوں کو دی ہیں، وہ بے اختیار اللہ تعالیٰ کے ساتھ بے پناہ محبت کرنے لگے گی، بشرطیکہ وہ استقامت فکر سے غور کرے۔

اب دیکھئے آیات کی تشریح و تفصیلات

٭٭٭

 

 

 

 

درس نمبر ۱۵ تشریح آیات (۲۲۱ تا۲۴۲)

 

“اور تم مشرک عورتوں سے ہرگز نکاح نہ کرنا، جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ ایک مومن لونڈی ایک مشریف شریف زادی سے بہتر ہے۔ اگرچہ وہ تمہیں بہت پسند ہو۔ اور اپنی عورتوں کے نکاح مشرک مردو ں سے کبھی نہ کرنا، جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ ایک مومن غلام مشرک شریف سے بہتر ہے، اگرچہ وہ تمہیں بہت پسند ہو۔ یہ لوگ تمہیں آگ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے اذن سے تم کو جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اور وہ اپنے احکام واضح طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے، توقع ہے کہ وہ سبق لیں گے اور نصیحت قبول کریں گے۔” (٢٢١)

 

نکاح یعنی شادی بنی آدم کے دو افراد کے درمیان بہت گہرا، بہت مضبوط اور بہت ہی دائمی رشتہ ہے۔ اس رشتے کے دونوں فریق ایک دوسرے کے وسیع مطالبات پورے کرتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ فریقین کے دل ایک ہوں، وہ ایک ہی لاینحل گروہ میں بندھے ہوئے ہوں، لیکن دونوں کا ملاپ تب ممکن ہے جب اس غرض و غایت میں اتحاد ہو، جس پر معاہدہ نکاح کا انعقاد ہوا ہے۔ اور وہ ذات متحد ہو جس کی طرف یہ دونوں متوجہ ہوں۔ جہاں تک دینی عقائد و نظریات کا تعلق ہے وہ انسان کی زندگی اور ان کی شخصیت پر بہت ہی گہرے اثرات رکھتے ہیں۔ انسان پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ انسانی شعور کو ایک خاص کیفیت عطا کرتے ہیں۔ یہ اس کی تاثر کی حد مقرر کرتے ہیں اور نفس کی خواہشات کو محدود کرتے ہیں اور پوری زندگی میں نفس انسانی کی راہنمائی و اعانت کرتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات مذہبی عقیدہ پس پشت چلا جاتا ہے۔ اور ا س میں ٹھہراؤ سا پیدا ہو جاتا ہے۔ اس سے اکثر لوگوں کو یہ مغالطہ ہو جاتا ہے کہ شاید دین کا تصور نفس انسانی کے لئے کوئی ضروری تصور نہیں۔ یہ ایک عارضی شعور ہے اور بعض فکری فلسفے اور بعض اجتماعی نظام دینی شعور کی جگہ لے سکتے ہیں اور یوں ہم مذہب اور دین سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ ایک وہم ہے اور نفس انسانی کی حقیقت اور اس کی نفسیات سے بے خبری کی دلیل ہے۔ اور اس کے عناصر ترکیبی کو نہ سمجھنے کی دلیل ہے۔ یا یہ لوگ جان بوجھ کر نفس انسانی اور اس کے منابع اور اس کی عملی صورتحال سے جان بوجھ کر تغافل کرتے ہیں۔

مکہ کے ابتدائی دور میں اگرچہ مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان شعور و اعتقاد اور نظریاتی اعتبار سے مکمل جدائی ہو گئی تھی لیکن فریقین کے درمیان معاشرتی اور عائلی روابط کے اعتبار سے کلی طور پر جدائی کرنا ناممکن تھا اور نہ ہی مناسب تھا۔ اس لئے کہ اس وقت کے حالات کے مطابق ضرورت اس بات کی تھی کہ اس قسم کی اصلاحات مناسب وقت کے بعد اچھی طرح حکیمانہ طور پرکی جائیں۔ لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تحریک اسلامی کو مدینہ طیبہ میں ایک مستقل مستقر بخشا، اور اعتقادی تشخص کی طرح اس کا اجتماعی تشخص بھی قائم ہو گیا۔ چنانچہ اب موقع آ گیا اور اب عائلی زندگی کی تحدید جدید کا کام شروع ہو گیا اور یہ آیات نازل ہوئیں۔ ان کی رو سے مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان نئے نکاح پر پابندی لگا دی گئی۔ رہے وہ نکاح جو پہلے سے قائم تھے تو ان کے بارے میں کوئی حکم نہ تھا۔ یہ سن چھ ہجری تک قائم رہے۔ چھ ہجری کو صلح حدیبیہ کے موقع پر آیات نازل ہوئی:

يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاء َكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوہُنَّ اللَّہُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِہِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوہُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلا تَرْجِعُوہُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لا ہُنَّ حِلٌّ لَہُمْ وَلا ہُمْ يَحِلُّونَ لَہُنَّ …………….وَلا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ”اے لوگو!جو ایمان لائے ہو۔ مومن عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو(ان کا مومن ہونے کی )جانچ پڑتال کر لو، اور ان کے ایمان کی حقیقت تو اللہ ہی خوب جانتا ہے، پھر جب تمہیں معلوم ہو جائیں کہ وہ مومن ہیں، تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ وہ کفار کے لئے حلال ہیں اور نہ کفار ان کے لئے حلال ہیں …………….اور تم خود بھی کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رکھو۔ “غرض ان آیات کے نزول سے مسلمانوں اور کافروں کے درمیان عائلی تعلقات منقطع کر دیئے گئے۔

اب یہ بات حرام ہو گئی کہ کوئی مسلمان مشرک عورت سے نکاح کرے یا کوئی مشرک کسی مسلمان عورت سے نکاح کرے۔ یہ بات حرام کر دی گئی کہ جب دو دل ایک نظریۂ حیات پر اکٹھے نہیں ہوسکتے تو ان کے لئے نکاح میں اکٹھا ہونا بھی ممکن نہیں ہے لہٰذا یہ حرام ہے۔ کیونکہ اسلام رشتہ نکاح کو بہت مضبوط رشتہ قرار دیتا ہے اور وہ ایک مضبوط رشتہ استوار کرنا چاہتا ہے جبکہ نظریۂ حیات کے اتحاد کے بغیر ہر رشتہ کمزور، ڈھیلا کھوٹا اور ناکارہ ہو گا۔ کیونکہ دونوں فریق اللہ کے معاملے میں ملے ہوئے نہیں ہیں۔ اللہ کے نظام زندگی پر وہ متفق نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے میاں بیوی کو پیدا کیا اور اسے انسانی شرافت دے کر اس مقام حیوانیت سے بلند کر دیا۔ اس کا منشا یہ ہے کہ یہ تعلق محض حیوانی تعلق نہ ہو، نہ محض شہوت رانی کے لئے ایک طریقہ ہو۔ اسلام اس تعلق کو ایک بلند مقام دیتا ہے بہت بلند اللہ کے پاس۔ زندگی کی پاکیزگی، نشوونما اور نرمی کے بارے میں اس کا جو منصوبہ ہے وہ اسے پاکیزہ تعلقات زن و شوئی کے نتیجے کو پورا کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَلا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ”اور مشرک عورتوں سے نکاح اس وقت تک نہ کرنا جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ “اگر وہ ایمان لے آئیں تو پھر وہ رکاوٹ دور ہو جاتی ہے۔ اب دونوں دل اللہ کے ہاں مل گئے ہیں۔ اور دوانسانوں کا یہ خاندانی ربط اب پرامن رہ گیا اور اس رکاوٹ سے پاک ہو گیا جو ان کے باہمی تعلق کو خراب کر رہی تھی۔ یہ باہمی تعلق صحیح وسالم رہ گیا اور ان کا اتحاد نظریۂ حیات کے نتیجے میں قوی تر ہو گیا۔ اب یہ نظریۂ حیات کا عقد قرار پایا۔ صرف کاروباری عقد نہ رہا۔ وَلأمَۃٌ مُؤْمِنَۃٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَۃٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ”اور ایک مومن لونڈی، ایک مشرک شریف زادی سے بہتر ہے۔ اگرچہ تمہیں بہت ہی پسندہو۔ “یہ پسندیدگی محض انسانی طبیعت کی بنا پر ہے۔ اس میں انسان کے بلند افکار کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اس پسندیدگی کا دائرہ صرف اعضاء اور حواس تک محدود ہوتا ہے۔ حالانکہ دل کا حسن زیادہ گہرا اور زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ مسلمان عورت غلام ہو، آزاد نہ ہو، تو اسلام کے ساتھ اس کا جونسب ہے۔ وہ اسے اس مقام شرافت سے زیادہ بلند کر دیتا ہے جو ایک کافرہ کو بطور حسب حاصل ہے۔ یہ نسب اللہ کا نسب ہے اور انسانی انساب میں یہ سب سے اعلیٰ نسب ہے وَلا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ”اور اپنی عورتوں کے نکاح مشرک مردوں سے کبھی نہ کرنا، جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ ایک مومن غلام مشرک شریف سے بہتر ہے۔ “یہی مسئلہ تکرار کے ساتھ دوسری صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ محض تاکید اور بیان کی زیادتی زیادہ گہرائی کے لئے۔ علت دونوں کی ایک ہی ہے أُولَئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللَّہُ يَدْعُو إِلَى الْجَنَّۃِ وَالْمَغْفِرَۃِ بِإِذْنِہِ وَيُبَيِّنُ آيَاتِہِ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ يَتَذَكَّرُون”ایسے لوگ تمہیں آگ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے اذن سے تم کو جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے اور وہ اپنے احکام کو واضح طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے، توقع ہے کہ وہ سبق لیں گے اور نصیحت قبول کریں گے۔ ”

راستے دونوں کے بالکل جدا ہیں۔ دونوں کا نظریہ اور دعوت بالکل جدا ہے۔ کس طرح یہ دو متضاد نظریات رکھنے والے اکٹھے رہ سکتے ہیں اور ایسا جوڑ جس پر آئندہ نسلوں کی زندگی کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔

مشرکین اور مشرکات آگ کی طرف بلاتے ہیں ؟پھر کون ہے جو اپنی جان کو آگ کے حوالے کرنا چاہتا ہے ؟

یہ آخری حقیقت ہے اور بات آ کر یہاں ختم ہو جاتی ہے۔ پہلے سے حقیقت کو ظاہر کر دیا جاتا ہے کہ یہ دراصل دعوت الی النار ہے۔ اس لئے اس راستے پر جو بھی جاتا ہے اس کی آخری منزل آگ ہی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کفار کی اس دعوت سے مومنین کو ڈراتا ہے : وَيُبَيِّنُ آيَاتِہِ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ يَتَذَكَّرُون”اور وہ اپنے احکام واضح طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے، توقع ہے کہ وہ سبق لیں گے اور نصیحت قبول کریں گے۔ ”

اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی اس واضح نصیحت کو قبول نہیں کرے گا، اسے پلے نہیں باندھے گا تو وہ خود ملامت ہو گا۔

یہاں یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ اہل کتاب کی پاکدامن عورتوں کے ساتھ نکاح کرسکتے ہیں، حالانکہ ان کے اور مسلمانوں کے عقیدے کے درمیان بہت بڑا اختلاف ہے۔ لیکن اہل کتاب کی عورتوں کا معاملہ دوسروں سے مختلف ہے۔ مسلمان مرد اور اہل کتاب عورت اصل عقیدے میں تو بہرحال متحد ہیں۔ دونوں اللہ تعالیٰ کا تسلیم کرتے ہیں البتہ تفصیلات شرعیہ میں دونوں کے درمیان اختلاف ہے۔

فقہاء کے درمیان اس کتابیہ عورت کے بارے میں اختلاف نہیں ہے، جو اس کی قائل ہے کہ اللہ تینوں کا ایک ہے۔ اور یہ کہ حضرت مسیح مریم الٰہ ہیں یا یہ کہ حضرت عزیر کے بارے میں اختلاف نہیں ہے، جو ا س کی قائل ہے کہ اللہ تینوں کا ایک ہے۔ اور یہ کہ حضرت مسیح بن مریم الٰہ ہیں یا یہ کہ حضرت عزیر، اللہ کے بیٹے ہیں۔ کیا یہ عورت مشرکہ کی تعریف کی تعریف میں آ کر حرام ہو جائے گی ؟یا اسے کتابیہ سمجھا جائے گا اور سورہ مائدہ کی اس آیت میں شامل ہو گی :

الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ “آج تمہارے لئے ساری پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں۔ ان قوموں کی محفوظ عورتیں جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی۔ ”

جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ ایسی عورت اس آیت میں داخل ہے اور اس کے ساتھ نکاح جائز ہے۔ لیکن میرا خیال ہے ان کہ ان لوگوں کی رائے درست ہے جو ایسی عورت سے نکاح کو حرام سمجھتے ہیں۔ امام بخاری نے حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے، فرماتے ہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا”کیا اس سے بھی مشرک ہوسکتی ہے جو کہے کہ اس کا رب حضرت عیسیٰ ہیں۔ ”

ہاں مسلمان عورت کا نکاح کتابی مرد سے منع ہے۔ کیونکہ یہ صورت اس سے اپنے نتائج کے اعتبار سے مختلف ہے کہ ایک مسلم مرد تو یہ نکاح کرے۔ اسلامی قانون کی رو سے اولاد باپ کے نام پکاری جاتی ہے۔ جس طرح بیوی اپنے خاندان کو چھوڑ دیتی ہے اور شوہر کے خاندان کا ایک حصہ بن جاتی ہے اور خاوند کی زمین پر بستی ہے اور شوہر کے خاندان کا ایک حصہ بن جاتی ہے۔ جبکہ یہ امر واقع ہے کہ اگر کوئی مسلم کتابیہ سے شادی کرتا ہے تو وہ مسلمان قوم کی طرف چلی آتی ہے۔ اس کی اولاد مسلمان ہوتی ہے۔ اور مسلمان کے نام سے پکاری جاتی ہے۔ چنانچہ اس عورت اور اس کے خاندان پر اسلامی فضا غالب ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر ایک مسلمان عورت کا نکاح اہل کتاب مرد سے ہو جائے تو صورت حال بالکل اس کے برعکس ہو جاتی ہے۔ مسلمان عورت اپنی قوم سے دور رہے گی۔ اپنے فطری ضعف کی وجہ سے اور مخالف دین کے غلبہ کی وجہ سے اس کی اسلامی حیثیت کمزور ہوسکتی ہے اور پھر اس کے بچے بھی اہل کتاب ہی ہوتے۔ اور ان کا دین والدہ کے دین سے علیحدہ ہوتا حالانکہ اسلام کی پالیسی ہمیشہ یہ ہے کہ وہ ہر جگہ غلبہ کی پوزیشن اختیار کرے گا۔

لیکن ان قرآنی احکام کے باوجود بعض عملی اور انتظامی وجوہات کی بنا پر کسی مسلمان کے لئے غیر ملکی عورت سے شادی مکروہ قرار دی جا سکتی ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہی وجوہات کی بنا پر اسے ناپسند فرمایا۔ ابن کثیر نے ابن جریر کی یہ رائے نقل کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایسی شادیوں کو اس لئے ناپسند فرماتے تھے کہ اس طرح مسلمان عورتوں کو نظر انداز کیا جا سکتا تھا۔ نیزا س کے علاوہ دوسری وجوہات بھی ہوسکتی تھیں۔

یہ روایت ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی عورت سے شادی کر لی۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا:”اسے طلاق دے دو “اس پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”کیا تمہارا خیال یہ ہے کہ وہ مجھ پر حرام ہے اس لئے میں اسے گھر سے نکال دو”حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”نہیں یہ میرا عقیدہ نہیں ہے کہ وہ حرام ہے۔ لیکن میں اس بات سے خائف ہوں کہ تم اس کے مقابلے میں مومن عورتوں کو حقیر سمجھو گے۔ “اور ایک دوسری روایت میں خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسلمانوں کو مسلمان عورت یا عیسائی عورت سے نکاح کرنا چاہئے۔

اور آج ہم تجربہ سے دیکھتے ہیں کہ اس قسم کی بیویاں ایک مسلمان خاندان کے لئے مصیبت ہوتی ہیں۔ بطور حقیقت واقعہ ہم اس کا انکار نہیں کرسکتے کہ یہودی عیسائی اور لادینی عورت اپنی اولاد کو اپنے رنگ میں رنگ دیتی ہے۔ اور ایسی شادیوں کے نتیجے میں ایسی نسل وجود میں آتی ہے جو اسلام سے بہت دور ہوتی ہے اور خصوصاً جاہلیت کے اس جدید معاشرے میں، جس میں ہم رہ رہے ہیں اور جو اپنے آپ کو اسلامی معاشرہ کہلاتا ہے۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس معاشرہ کے لئے لفظ اسلام کا استعمال بطریقہ مجاز ہی ہوسکتا ہے، جس میں لوگوں کا تعلق اسلام کے ساتھ اس قدر کمزور ہو گیا ہے، جیسے کسی نے کچا دھاگہ پکڑا ہوا ہو اور جب کسی ایسے گھرانے میں ایک غیر مسلم داخل ہوتی ہے تو یہ تعلق بھی ختم ہو جاتا ہے۔

 

“پوچھتے ہیں حیض کا کیا حکم ہے ؟کہو وہ ایک گندگی کی حالت ہے۔ اس میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ، جب تک کہ وہ پاک صاف نہ ہو جائیں۔ پھر جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاؤ۔ اس طرح جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے۔ اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو بدی سے باز رہیں اور پاکیزگی اختیار کریں۔ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں۔ تمہیں اختیار ہے، جس طرح چاہو، اپنی کھیتی میں جاؤ، مگر اپنے مستقبل کی فکر کرو اور اللہ کی ناراضی سے بچو۔ خوب جان لو کہ تمہیں ایک دن اس سے ملنا ہے۔ اور اے نبی !جو تمہاری ہدایات کو مان لیں انہیں (صلاح وسعادت کی )خوشخبری دے دو۔ ” (٢٢٢۔٢٢٣)

 

زن و شوہر کے باہمی تعلقات پر یہ ایک دوسری نظر ہے۔ اچٹتی نظر۔ اس طبیعی تعلق کو اللہ کی طرف ذرا بلند کر دیا جاتا ہے۔ جسم انسانی کے اعضائے رئیسہ کی شدید ترین طبیعی اور حیوانی لذتیت یعنی مباشرت کو بھی بلند مقصدیت عطا کر دی جاتی ہے۔ اور اس میں بھی ایک گونہ تقدس کا رنگ آ جاتا ہے۔

زن و شوہر کے باہمی تعلق میں مباشرت بھی ایک وسیلہ اور ذریعہ ہے۔ بذات خود مقصد نہیں ہے۔ یہ حیات انسانی کے ایک گہرے راز اور بلند مقصد کا ذریعہ ہے۔ نسل کشی اور زندگی کا تسلسل اور یہ نقطہ نظر آخرکار ہمیں اللہ ت پہنچاتا ہے۔ باوجود اس کے کہ دوران حیض مباشرت سے مرد وزن دونوں کے لئے مضرات یقینی ہیں لیکن اس کے باوجود محض حیوانی لذت تو بہرحال موجود ہوتی ہے، پھر کیوں اس کی ممانعت کی گئی۔ اس لئے کہ اس صورت میں وہ مقصد اعلیٰ پورا نہیں ہوسکتا۔ نیز یہ وجہ بھی ہوتی ہے کہ اس دوران طبع سلیم بھی مباشرت سے ابا کرتی ہے۔ کیونکہ جس طرح خارج سے اسلامی قانون اس عرصہ میں مباشرت سے روکتا ہے، اسی طرح ذات انسانی کے اندر سے فطرت سلیمہ بھی اسے روکتی ہے۔ اس لئے کہ بجائی کے لئے یہ موزوں موسم نہیں ہے۔ اس موسم میں فصل نہیں اگ سکتی۔ نہ اس بجائی سے زندگی کے کھیت میں کسی پودے کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکی کے دنوں میں مباشرت میں لذت بھی پوری پوری ہوتی ہے اور وہ فطری مقاصد بھی پورے ہوتے ہیں، جن کے لئے یہ نظام وضع کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے ایام حیض کے بارے میں سوال کا یہ جواب دیا گیا وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ ہُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاء َ فِي الْمَحِيضِ وَلا تَقْرَبُوہُنَّ حَتَّى يَطْہُرْنَ”پوچھتے ہیں حیض کیا حکم ہے ؟”وہ ایک گندگی کی حالت ہے، اس میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ۔ جب تک کہ وہ پاک نہ ہو جائیں۔

لیکن اس کے بعد بھی تم اس میں بالکل آزاد نہیں ہو کہ اپنی خواہشات کے مطابق جو چاہو کرو۔ ایام حیض کے بعد بھی تم امر و نہی کے پابند ہو۔ گویا مباشرت بھی ایک فریضہ حیات ہے۔ اس میں بھی تم اس کے نازل کردہ حدود وقیود کے پابند ہو۔ فَإِذَا تَطَہَّرْنَ فَأْتُوہُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّہُ”پھر جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاؤ، اس طرح جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے۔ ”

یعنی رحم کی جانب سے دوسری جانب سے نہیں کیونکہ مقسد مطلق شہوت رانی ہی نہیں بلکہ مقصد زمین پر سلسلہ حیات کو بھی جاری رکھنا ہے۔ مباشرت کے نتیجے میں اولاد کی دولت حاصل کرنا ہے۔ جس کا آنا اللہ نے مقرر فرما دیا ہے۔ اللہ حلال اور جائز چیز کو مقرر فرماتے ہیں اور اسے فرض قرار دیتے ہیں۔ مسلمان اس حلال کا متلاشی ہوتا ہے، جو اس کے لئے اس کے رب نے لکھ دیا ہے۔ وہ اپنے لئے خود کوئی منصوبہ نہیں بناتا۔ اللہ اپنے بندوں کے لئے جو فرائض مقرر فرماتا ہے، وہ سب اس لئے ہیں کہ اس کے یہ بندے پاک وصاف ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو بدی سے باز رہیں۔ اگر ان سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو اس کی طرف رجوع کریں۔ اور اس کی مغفرت کے طلبگار ہو کر اس کی جانب سے لوٹ آئیں۔

إِنَّ اللَّہَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِينَ”اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے، جو بدی سے باز رہیں اور پاکیزگی اختیار کریں۔ ”

یہ ہے قرآن مجید کے خوشگوار سایوں میں سے ایک ظل، ایک چھاؤں۔ اس میں زن و شو کے باہمی تعلقات کے مختلف رنگوں میں سے ایک رنگ کو تصویر کی شکل دی گئی ہے۔ جو قرآنی تعلیمات کے ساتھ مناسب ہے اور جو قرآنی منصوبہ حیات کے عین مطابق ہے۔ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ”تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، جس طرح چاہو اپنی کھیتی میں جاؤ۔ ”

یہاں اس آیت میں زن و شوئی تعلقات کی نوعیت اور اس کے خاص پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یعنی اس تعلق کے مقاصد کیا ہیں اور اس کا اصلی رجحان کیا ہونا چاہئے۔ اس کے سب پہلو یہاں نہیں بیان کئے گئے۔ دوسرے مقامات پر ان مقامات کی مناسبت سے کچھ دوسرے پہلو بھی نمایاں کئے گئے ہیں۔ مثلاً ایک جگہ یہ فرمایا گیا ہے ہُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَہُنَّ”وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔ “…………….دوسری جگہ فرمایا:وَمِنْ آيَاتِہِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْہَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّۃً وَرَحْمَۃً إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ”اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے، تمہاری جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت و رحمت پیدا کی۔ ”

غرض ان تعبیرات میں سے ہر تعبیر اس عمیق و عظیم تعلق کا کسی نہ کسی پہلو کو ظاہر کرتی ہے، ہر جگہ جو پہلو مناسب ہو۔ یہاں سیاق کلام ایسا ہے جس کے ساتھ “کھیتی “کی تعبیر زیادہ مناسب تھی۔ کیونکہ یہاں تر و تازگی، پیدائش اور نشوونما کی فضا ہے۔ اس لئے کھیتی کے لفظ سے اس تعلق کی تعبیر کی گئی اور حکم دیا گیا کہ جس طرح چاہو اپنی عورتوں کے پاس جاؤ مگر رحم کی جانب سے جہاں سے پیداواری عمل ہوتا ہے۔ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ “تم اپنی کھیتی میں آؤ جس طرح چاہو۔ ”

لیکن ساتھ ساتھ اس ملاپ کا مقصد اصلی بھی نہ بھولو، اسے عبادت اور اللہ خوفی سمجھو اور اس لئے اگر تم اس میں بھی اللہ کے بیان کردہ حدود و قیود کی پابندی کرو گے تو یہ تمہارے لئے توشہ آخرت ہو گا۔ اور یقین رکھو کہ ایک دن تمہیں اللہ کے سامنے جانا ہے اور وہاں تم اپنے تمام اعمال کا صلہ پاؤ گے۔ وَقَدِّمُوا لأنْفُسِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّہَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوہُ”مگر اپنے مستقبل کے لئے کچھ آگے بھیجو، اللہ کی ناراضی سے بچو، خوب جان لو کہ تمہیں ایک دن اس سے ملنا ہے اور اے نبی، جو تمہاری ہدایات کو مان لیں انہیں خوشخبری دے دو۔ ”

آیت یہاں ختم ہو جاتی ہے اور مسلمانوں کو خوشخبری دی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بہت بڑی بھلائی تیار کی ہوئی ہے اور اس بھلائی میں وہ بھلائیاں بھی شامل ہیں جو انہوں نے اپنے کھیت میں بوئی ہیں۔ کیونکہ مومن جو کچھ بھی کرتا ہے وہ خیر ہے اور اللہ اس پر اس کا ثواب دیتا ہے۔ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ “مومنین کو خوشخبری دیجئے۔ ”

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ایک فطری اور سادہ نظام زندگی ہے۔ وہ انسان کو بحیثیت انسان لیتا ہے۔ اس کے رجحانات اور میلانات کو تسلیم کرتا ہے۔ وہ بلندی اور پاکیزگی کے نام پر فطرت کے ساتھ جنگ نہیں کرتا۔ ۔ وہ انسانوں کی ان ضروریات کو گندگی قرار نہیں دیتا، جن پر ان کا بس ہی نہ چلے۔ اور بلکہ وہ قرار دیتا ہے کہ زندگی کی ترقی، نشوونما اور تسلسل کے لئے، یہ اس کا فریضہ حیات ہیں اور فطری فریضہ ہیں۔ اسلام کی کوشش تو یہ ہے کہ انسان کی انسانیت برقرار رہے۔ اسے اس انسانیت کے دائرے کے اندر ترقی دے۔ اسے اللہ سے جوڑ دے، اس کے جسمانی میلانات بھی پورے کرے، پہلے جسمانی تقاضوں اور انسانی شعور کا امتزاج پیدا کر دے اور پھر اس پر دینی شعور کا رنگ غالب کر دے۔ اور یوں عارضی جسمانی تقاضے پورے کرتے ہوئے، اس تلذذ کو دائمی انسانی فرائض کے ساتھ مربوط کر دے اور یہ سب کچھ دینی وجدان اور دینی شعور کے ماحول میں ہو۔ غرض ایک ہی لمحہ میں ایک ہی وقت میں، ایک ہی رخ میں یہ دینی شعور اور جسمانی تلذذ انسان کی اس چھوٹی سی ہستی میں جمع ہو جاتے ہیں۔ وہ زمین میں اللہ کا خلیفہ ہو۔ اور اس وجہ سے ہو کہ اس کی اس ہستی میں اللہ تعالیٰ نے مختلف النوع طاقتیں ودیعت فرمائی ہیں۔ دینی شعور اور جسمانی تقاضے۔ یہ ہے اسلامی نظام اور یہ ہے انسان کی فطرت۔ چونکہ اللہ خالق فطرت بھی ہے اور اسلامی نظام زندگی بھی اس کی طرف سے آیا ہے۔ اس لئے اس نظام میں تمام فطری تقاضوں کو پورا کیا گیا ہے۔ اور تمام دوسرے نظامہائے زندگی جو من جانب اللہ نہیں ہیں وہ فطرت سے متصادم ہیں اور بعض میں یہ تصادم کم ہے اور بعض میں بہت ہی زیادہ ہے۔ اس لئے ان کا انجام ہلاکت و بربادی ہے۔ ان نظاموں میں افراد کی بھی کم بختی ہے اور جماعتوں کی بھی ہلاکت ہے۔ اس لئے کہ اللہ جانتا ہے اور انسان نہیں جانتا۔

ایام حیض میں مباشرت کے مسائل کے بعد ایلا کا حکم بیان کیا جاتا ہے۔ ایلا کا مفہوم یہ ہے کہ خاوند یہ قسم کھائے کہ وہ بیوی کے ساتھ مباشرت نہیں کرے گا۔ قبل اس کے کہ قسم ایلا کا بیان ہو، نفس قسم کے بارے میں بھی ہدایات دے دی جاتی ہیں۔ گویا قسم تمہید ہے ایلا کے لئے۔

 

“اللہ کے نام کو ایسی قسمیں کھانے کے لئے استعمال نہ کرو، جن سے مقصود نیکی اور تقویٰ اور بندگان اللہ کی بھلائی کے کاموں سے باز رہنا ہو۔ اللہ تمہاری ساری باتیں سن رہا ہے اور سب کچھ جانتا ہے جو بے معنی قسمیں تم بلا ارادہ کھا لیا کرتے ہو، ان پر اللہ گرفت نہیں کرتا، مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو، ان کی باز پرس وہ ضرور کرے گا۔ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے۔ جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں، ان کے لئے چار مہینے کی مہلت ہے۔ اگر انہوں نے رجوع کر لیا، تو اللہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔ اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو مانے رہیں کہ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ ” (۲۲۴ ۔ ۲۲۷)

 

وَلا تَجْعَلُوا اللَّہَ عُرْضَۃًکی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ سے روایت ہے کہ تم اپنی قسم کو اس لئے استعمال نہ کرو کہ تم بھلائی کے کچھ کام نہ کرو گے بلکہ قسم کا کفارہ ادا کرو اور بھلائی کرتے چلے جاؤ۔ یہی تفسیر مسروق، شعبی ابراہیم نخعی مجاہد، طاؤس، سعید بن جبیر، عطاء ، عکرمہ، مکحول، زہری، حسن، قتادہ، مقاتل بن حیان، ربیع بن انس، ضحاک، عطاخراسانی، السدی سے منقول ہے۔ تفصیل دیکھئے ابن کثیر میں۔

اسی کی تائید میں امام مسلم رحمہ اللہ کی روایت ہے جو کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں “جو کوئی ایسی قسم کھا بیٹھے کہ اس کے توڑ میں خیر ہو، اسے چاہئے کہ وہ قسم کا کفارہ ادا کرے۔ اور وہ کام کرتا رہے جس میں بھلائی ہے۔ ”

اسی طرح امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ سے نقل کیا ہے، رسولﷺفرماتے ہیں :اللہ کی قسم تم میں سے کوئی شخص اپنے اہل و عیال کے بارے میں قسم کو پورا کرے۔ تو وہ زیادہ گناہ گار ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ کفارہ دے دے، جو اللہ نے فرض کیا ہے۔

ان احادیث کی روشنی میں مفہوم یہ ہو گا کہ اللہ کے نام کی قسم کھا لینا تمہیں نیکی، تقویٰ اور اصلاح بین الناس کے کاموں سے کہیں روک نہ دے۔ اگر تم اس قسم کی کوئی قسم کھا بیٹھے ہو تو اسے توڑ دو، نیکی کے کام جاری رکھو اور حلف توڑنے کا کفارہ ادا کرو۔ کیونکہ نیکی، تقویٰ اور بھلائی کے کاموں پر عمل کرنا اس سے بہتر ہے کہ کوئی اپنی قسم کو پورا کرے۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ آپ کے رشتہ دار کا نام مسطح تھا، آپ ان کے ساتھ امداد و تعاون فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر افک کے معاملے میں غیر شعوری طور پر یہ بھی شریک ہو گیا تھا، اور اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قسم اٹھا لی کہ وہ اس کے ساتھ کوئی امداد نہ کریں گے۔ اس پر سورۃ النور کی یہ آیت نازل ہوئیوَلا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَۃِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُہَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّہِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّہُ لَكُمْ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَحِيمٌ”تم میں سے جو لوگ صاحب فضل اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار، مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے۔ انہیں معاف کر دینا چاہئے، درگزر کرنا چاہئے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے۔ “اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی قسم کو توڑ دیا اور کفارہ ادا کیا۔

اللہ تعالیٰ رؤف و رحیم ہے، اس لئے اس نے کفارہ اس قسم پر عائد کیا ہے جو قصد و ارادہ سے ہو، جس میں قسم کھانے والا قصداً قسم کھا لے۔ اور اس کا ارادہ یہ ہو کہ اس نے جس چیز پر قسم کھائی ہے وہ اس کا ارتکاب نہ کرے گا، لیکن عام طور پر لوگ بلا ارادہ اور بلا قصد جو قسمیں کھا لیتے ہیں ان پر کفارہ عائد نہیں کیا گیا۔

لا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّہُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ وَاللَّہُ غَفُورٌ حَلِيمٌ”جو بے معنی قسمیں تم بلا ارادہ کھا لیا کرتے ہو، ان پر اللہ گرفت نہیں کرتا مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو، ان کی باز پرس وہ ضرور کرے گا۔ اللہ بہت درگز رکرنے والا ہے۔ ”

ابوداؤد نے اپنی سند سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :قسم میں لغو یہ ہے کہ آدمی گھر میں کہے ہرگز نہیں اللہ کی قسم، یا کہے ہاں اللہ کی قسم۔ ابن جریر نے عروہ کے واسطہ سے اس روایت کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوف نقل کیا، فرماتی ہیں جن بے معنی قسموں پر اللہ کی گرفت نہیں ہے وہ یہ ہیں، کہ کوئی کہے ہرگز نہیں اللہ کی قسم یا کہے ہاں اللہ کی قسم، حسن بن حسن سے ایک مرسل حدیث میں ہے رسول اللہﷺ ایک گروہ پر سے گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے۔ رسولﷺ کے ساتھ ایک صحابی بھی تھے۔ ایک شخص ان میں سے اٹھا اور چلایا اللہ کی قسم میرا تیر نشانے پر لگ گیا اور تمہارا نشانہ ٹھیک نہیں لگا، اللہ کی قسم، رسولﷺ کے ساتھ جو صحابی جا رہا تھا اس نے کہا اللہ کے رسولﷺ ، یہ شخص تو اپنی قسم میں حانث ہو گیا۔ اس پر رسولﷺنے فرمایا، ہرگز نہیں، تیر اندازی کا مقابلہ کرنے والوں کی قسمیں لغو ہیں۔ بے معنی ہیں ان میں نہ کفارہ ہے اور نہ ہی کوئی عذاب ہے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں، لغو قسم یہ ہے کہ کوئی شخص غصے کی حالت میں قسم کھا بیٹھے۔ نیز ان سے یہ روایت ہے کہ یمین لغو یہ ہے کہ تم اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام قرار دو۔ اس میں تم پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔

حضرت سعید ابن المسیب سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ دو انصار بھائیوں کے درمیان میراث کا تنازعہ تھا، ایک نے دوسرے سے کہا کہ وہ اسے اس کا حصہ دے دے، اس پر اس نے قسم کھا لی کہ اگر تم نے دوبارہ مجھ سے اپنا حصہ طلب کیا تو میرا تمام مال خانہ کعبہ کے لئے وقف ہوا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کعبہ غریب نہیں ہے۔ کعبہ کو تیرے مال کی ضرورت نہیں ہے، اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو اور اپنے بھائی سے بات کرو۔ میں نے رسولﷺ سے سنا ہے کہ اللہ کی معصیت میں تم جو قسم کھاؤ وہ کوئی قسم نہیں ہے اور نہ وہ کوئی نذر ہے۔ نہ صلہ رحمہ قطع کرنے کی کوئی قسم واجب ہے۔ نہ اس چیز کی قسم جس کے تم مالک ہو۔

ان روایات سے جو چیز معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ قسم میں اگر اس کام کے کرنے اور چھوڑنے کی نیت نہ ہو، جس پر قسم کھائی گئی ہے تو یہ قسم بے معنی ہے اور اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔ وہی قسم، قسم کہلائے گی کہ قسم کھانے والا کسی بات کے کرنے یا کسی کام سے رکنے کا پختہ ارادہ کرے جس پر وہ قسم کھا رہا ہے۔ ایسی قسم اگر توڑ دی جائے تو اس پر کفارہ واجب ہو گا۔ اور اگر اس قسم کی قسم کسی اچھے کام سے رکنے کے لئے ہو یا کسی برے کام یا برے فعل کے ارتکاب کے لئے ہو، تو ایسی قسم کا توڑنا لازمی ہے۔ رہا وہ شخص جو کسی ایسے امر پر قسم کھائے جس کے بارے میں اسے یقین ہو کہ وہ جھوٹا ہے تو بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ اس قسم کا کوئی کفارہ نہیں ہے، نہ کسی کے کفارے سے ا س گناہ کی تلافی ممکن ہے۔

امام مالک رحمہ اللہ مؤطا میں فرماتے ہیں، اس سلسلے میں سب سے اچھی جو بات میں نے سنی ہے وہ یہ ہے کہ یمین لغو وہ ہے کہ انسان کسی بات پر قسم کھائے اور جان رہا ہو کہ وہ جھوٹا ہے، گناہ گار ہے، اس طرح کرنے سے وہ کسی کو خوش کر رہا ہو، یا کسی کا حق مارنا چاہتا ہو، یہ عظیم گناہ ہے اور کفارہ سے اس کی تلافی نہیں ہوسکتی۔

جس قسم کے توڑنے میں خیر ہو، بھلائی ہو، اس کے حکم کے آخر میں فرمایا جاتا ہے وَاللَّہُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ”اللہ سننے والا اور علم رکھنے والا ہے۔ “اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ تم جو کچھ کہتے ہو وہ اسے سنتا ہے لیکن وہ یہ بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ خیر کس میں ہے اس لئے وہ یہ حکم دیتا ہے۔

اور لغو و بے معنی قسم اور سچی قسم کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ “غفور رحیم “معاف کرنے والا اور رحیم ہے کہ وہ بندوں کے ہر فعل پر مواخذہ نہیں کرتا۔ جب ان کے منہ سے غلطی سے جو نکل جائے وہ اس پر مواخذہ نہیں کرتا۔ وہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو معاف کر دیتا ہے۔ بشرطیکہ بندہ اس کی طرف لوٹ آئے۔ ان دونوں تبصروں اور نتائج سے قسم کے یہ معاملات سب کے سب اللہ سے جڑ جاتے ہیں اور ایک مسلمان کا دل ہر قول میں اور ہر فعل میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔

قسم کے قاعدہ کلیہ کے بیان کے بعد اب مسئلہ ایلا کا بیان شروع ہوتا ہے، جو قسم ہی ایک قسم ہے۔ ایک خاوند قسم کھا لے کہ وہ اپنی بیوی کے پاس نہیں جائے گا۔ یا محدود وقت کے لئے تو اس قسم کو شرعی اصطلاح میں ایلا کہا جاتا ہے۔ لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِہِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَۃِ أَشْہُرٍ فَإِنْ فَاء ُوا فَإِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (٢٢٦)وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلاقَ فَإِنَّ اللَّہَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ”جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں ان کے لئے چار مہینے کی مہلت ہے۔ اگر انہوں نے رجوع کر لیا، تو اللہ معاف کرنے والا رحیم ہے۔ اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو، تو جانے رہیں کہ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ ”

میاں بیوی کی زندگی میں ایک طویل رفاقت ہوتی ہے، جس میں مختلف قسم کے حالات پیش آتے رہتے ہیں۔ مختلف نفسیاتی کیفیات زوجین پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں۔ اور ان کے بے شمار اسباب ہوتے ہیں۔ ان حالات میں جب شدت آ جاتی ہے تو زوجین مباشرت تک کے تعلقات قطع کر دیتے ہیں۔ یہ عارضی جدائی اور قطع تعلق بیوی کے لئے سخت دشوار ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کی ذات پر نفسیاتی اور اعصابی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بحیثیت ایک عورت اس کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔ غرض ہر قسم کے تعلقات زن و شوئی ختم ہو کر رہ جاتے ہیں اور حسن معاشرت کے تمام بندھن ٹوٹ کر رہ جاتے ہیں اور اگر یہ کیفیت غیر متعین مدت تک رہے تو پورا خاندان تباہ ہو کر رہ جائے۔

اسلام نے ابتداء ہی سے ایلا کو حرام قرار نہیں دیا۔ ا س لئے ہوسکتا ہے کہ بعض حالات میں وہ ترش مزاج بیوی کے لئے ایک مفید علاج ہو، بالخصوص ایسی بیوی کا علاج جسے اپنی نسوانیت پر بہت ناز ہو۔ جو کبر و غرور میں مبتلا ہو اور اپنے غرور یا ناز و ادا کے ذریعہ مرد کو ذلیل کرنا چاہتی ہو، یا وہ سمجھتی ہو کہ وہ مرد کو جس طرح چاہے زیر کرسکتی ہے۔ نیز بعض اوقات اس عرصہ میں ذہنی کوفت اور تھکاوٹ دور کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ جس طرح بعض اوقات آدمی پر غصے کی کیفیت طاری ہوتی ہے اور اس کے بعد دل کا غبار نکل جاتا ہے اور زندگی کی گاڑی نئے سرے سے بڑی قوت اور خوشی سے چل پڑتی ہے۔

لیکن اسلام نے مرد کو بھی اس معاملے میں مکمل آزاد نہیں چھوڑ دیا۔ ہوسکتا ہے کہ بعض اوقات وہ حد سے گزر جائے اور عورت کے ساتھ ظلم و زیادتی شروع کر دے۔ اور اسے ذلیل کر کے رکھ دے۔ اس کی حالت اس طرح ہو جس طرح کوئی چیز فضا میں معلق ہو، نہ وہ بیوی بن کر رہ سکے اور نہ وہ آزاد ہو کہ کسی دوسری جگہ گھر بسا سکے۔

اس لئے، متعدد صورتوں، مختلف قسم کے حالات اور زندگی کے عملی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلام نے یہ فیصلہ کیا کہ ایلا اور تعلق زن و شوئی کے بائیکاٹ کے لئے انتہائی مدت چار ماہ ہے۔ اس سے زیادہ کسی خاوند کو اجازت نہ ہو گی کہ وہ بائیکاٹ کرے۔ چار ماہ کی مدت بھی صانع فطرت نے اس لئے مقرر کی ہے اس میں عورت کی فطری خواہشات اور قوت برداشت کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اپنے فطری تقاضے پورے کرنے کے لئے اپنے خاوند کی بجائے کسی دوسرے کسی دوسرے ناجائز ذریعہ کی طرف رجوع کرے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک رات خفیہ طور پر نکلے۔ لوگوں کے حالات معلوم کرنے کے لئے۔ ان کی ضروریات معلوم کرنے کے لئے۔ ایک گھر سے انہیں آواز آئی ایک عورت یہ شعر گا رہی تھی۔

رات لمبی ہے۔ اور اس کا ہر پہلو تاریک ہو گیا!

میں جاگ رہی ہوں !کیوں ؟

اللہ کی قسم !اللہ کی قسم جو نگہباں ہے، جو دیکھ رہا ہے !

اگر یہ اللہ نہ ہوتا تو میری چارپائی کے چاروں کونے جھٹکا کھا رہے ہوتے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی حفصہ سے پوچھا، کہ عورت خاوند کے بغیر کتنا عرصہ رہ سکتی ہے۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا چھ ماہ یا چار ماہ۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ میں اپنے فوجیوں میں سے کسی کو بھی چھ ماہ سے زیادہ باہر نہ رکھوں گا۔ اسی پر آپ نے احکامات جاری کر دئیے کہ فوجیوں کو چھ ماہ سے زیادہ عرصہ کے لئے اپنے گھروں سے دور نہ رکھا جائے۔

بہرحال ان معاملات میں مختلف لوگوں کے مختلف مزاج ہوتے ہیں۔ لیکن چار ماہ کا عرصہ ایک مرد کے لئے کافی ہے کہ وہ اس میں اپنے نفس اور اپنے جذبات کو آزمائے۔ ان چار مہینوں میں یا تو وہ لوٹ آئے اور میاں بیوی کے درمیان از سر نو ایک صحت مند عائلی زندگی کا آغاز ہو جائے اور اپنی بیوی کو گلے لگائے۔ اور اپنے بستر پر لوٹ آئے اور یا یہ کہ چار ماہ کے عرصہ میں بھی وہ اپنے آپ کو اس قابل نہ پائے کہ تعلقات کی پھر سے تجدید ہو اور قطع تعلق مجبورا جاری ہو، اگر حالات دوسری صورت ہی کے ہوں تو پھر قرآن کا حکم یہ ہے کہ عقدۃً نکاح کو کھل جانا چاہئے۔ بیوی کو طلاق دے کر اسے آزاد کر دینا چاہئے۔ یا وہ خود طلاق دے دے اور اگر وہ نہ دے تو قاضی اس کی طرف سے طلاق دے دے تاکہ میاں بیوی سے ہر دو اس امر میں آزاد ہو جائیں کہ وہ اپنے لئے کسی دوسرے جوڑے سے نئی صحت مند عائلی زندگی کا آغاز کرسکیں۔ بیوی کے لئے بھی یہی شریفانہ اور پاکیزہ راستہ ہے اور مرد کے لئے بھی یہی خوشگوار اور فرحت بخش راستہ ہے۔ اور یہی مناسب ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو سنجیدہ راستہ ہے، جو منصفانہ راستہ ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر زندگی کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے ورنہ کشیدہ تعلقات کی صورت میں زندگی، دونوں فریقوں کی زندگی، منجمد ہو کر رہ جاتی ہے۔ قسم اور ایلا کے مسائل آخر کار طلاق پر منتہی ہوئے۔ اس مناسبت سے یہاں طلاق کے تفصیلی احکام دیئے گئے۔ نیز طلاق کے ساتھ دوسرے متعلقہ مسائل مثلاً عدت، فدیہ، نفقہ، رخصتی کا سامان اور دوسرے نتائج وغیرہ۔ سب سے پہلے عدت اور رجوع کے مسائل۔

 

“جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، وہ تین مرتبہ ایام ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکیں رکھیں، اور ان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو کچھ خلق فرمایا ہو، اسے چھپائیں انہیں ہرگز ایسا نہ کرنا چاہئے۔ اگر وہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتی ہیں۔ ان کے شوہر تعلقات درست کر لینے پر آمادہ ہوں، تو وہ اس عدت کے دوران میں انہیں پھر اپنی زوجیت میں واپس لے لینے کے حق دار ہیں۔ عورتوں کے لئے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں۔ جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں۔ البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے۔ اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا موجود ہے۔ ” ( ٢٢٨)

 

اپنے آپ کو روکیں رکھیں ذرا اپنے جذبات پر کنٹرول کریں۔ تین مرتبہ ایام ماہواری تک یا تین مرتبہ ایام ماہواری سے پاک ہونے تک، اپنے آپ کو روکیں رکھیں۔ میں نے قرآن مجید کی اس تعبیر اور انداز بیان پر بہت غور کیا، لطیف نفسیاتی حالت کی یہ عجیب تصویر کشی ہے۔ مفہوم اور مقصد یہ ہے کہ تین دفعہ ایام ماہواری آنے یا ان سے پاک ہونے تک دوسری شادی کرنے سے باز رہیں۔ لیکن اس عقلی اور قانونی مفہوم کے علاوہ قرآن کریم کا طرز تعبیر کچھ اور بھی بتاتا ہے۔ انداز تعبیر روکے رکھیں، لگام کھینچ لیں باوجود اچھلنے کودنے کے روکے رکھیں، اس تعبیر سے اس نفسیاتی کیفیت کی طرف اشارہ ہے جو ایسے حالات میں پائی جاتی ہے۔ ایسے حالات میں بالعموم مطلقہ عورت کو اس بات کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ وہ جلد از جلد نئی زندگی کا آغاز ایک نئے شوہر کی قیادت میں کر دے۔ یہ کیفیت فطری ہے۔ ایسے حالات میں عورت پر شدید اعصابی دباؤ ہوتا ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ وہ ثابت کر دکھائے کہ سابقہ تجربہ ازدواج میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے۔ ۔ اس میں کوئی جسمانی نقص نہیں ہے۔ وہ کسی وقت بھی، دوسرے شوہر کے لئے پرکشش بن سکتی ہے اور جدید ازدواجی زندگی کا آغاز کرسکتی ہے جبکہ یہ جذبہ اور احساس مرد میں نہیں ہوتا، اس لئے طلاق کا حق اس کے ہاتھ میں ہے، طلاق کا وار اس نے کیا ہے اور عورت نے اس وار کو برداشت کیا ہے۔ اس لئے عورت سے یہ کہا گیا ہے کہ ذرا نفس کو روکے رکھو، اس کی لگام کو کم از کم تین ماہ تک کھینچے رکھو۔ یوں قرآن مجید ایک لفظ اور ایک انداز تعبیر سے نفسیاتی کیفیت کی فضا ظاہر کر دیتا ہے۔ اس نفیساتی کیفیت کو ملحوظ خاطر رکھ کر ہدایات دیتا ہے اور ضابطہ بندی کرتا ہے۔

وہ اس عرصہ کے لئے اپنے نفوس کو روکھے رکھیں تاکہ ان کے رحم سابق زوجیت کے آثار سے پاک ہو جائیں اور پھر وہ نئے سرے سے ازدواجی زندگی کا آغاز کرسکیں، اگر چاہیں لا يَحِلُّ لَہُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّہُ فِي أَرْحَامِہِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِالہَِر وَالْيَوْمِ الآخِرِ”اور ان کے لئے یہ جائز نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں کو کچھ خلق فرمایا ہو، اسے چھپائیں۔ انہیں ہرگز ایسا نہ کرنا چاہئے اگر وہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہیں۔ ”

ان کے رحم میں حالت حمل ہے یا حالت حیض ان کے لئے جائز نہیں ہے کہ اسے چھپائیں۔ رحم میں جو کچھ ہے، اسے اللہ تعالیٰ کی خالقیت سے وابستہ کر دیا گیا ہے۔ تاکہ ان کے دلوں میں اللہ خوفی پید ا ہو۔ انہیں اللہ اور یوم آخرت پر ایمان و یقین کی غیرت دلا کر کہا جاتا ہے کہ اگر تم مومن ہو تو تمہیں ہرگز کسی چیز کو چھپانا نہیں چاہئے۔ یہاں یوم آخرت کا ذکر اس لئے ہوا کہ یوم آخرت یوم الجزاء ہے۔ اس دنیا میں جو چیز احکام خداوندی کے بجا لاتے ہوئے فوت ہو جائے وہ ایک مومن کو وہاں بطور اجر ملتی ہے۔ یہاں چونکہ عورتوں کے لئے حکم ہے کہ باوجود اس کے کہ ان کے جذبات کو ٹھیس لگی ہے وہپ اپنے نفوس کو روکے رکھیں۔ اس لئے کہا گیا ہے کہ جزاء آنے والی ہے۔ ہاں اگر وہ پردہ داری کریں گی اور جو کچھ ان کے رحم میں ہے صاف صاف اس کا اظہار نہ کریں گی تو اس پر سزابھی ہے۔ اس سے تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ کیا کوئی چیز اللہ سے چھپائی جا سکتی ہے ؟لہٰذا مت چھپاؤ۔ کسی بات سے اثر لے کر، کسی مطلب کے لئے۔ کسی خواہش سے مغلوب ہو کر، کہیں خلق اللہ کو نہ چھپا لو۔

یہ تو تھا ایک پہلو، دوسرا پہلو یہ ہے کہ قطعی جدائی سے پہلے، ایک وقفہ کی ضرورت ہے۔ معقول وقفہ۔ اس وقفے میں فریقین جدائی کے بعد اپنے جذبات کو اچھی طرح آزما لیں۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے دل میں محبت کی کوئی چنگاری باقی ہو اور پھر محبت سلگ اٹھے۔ ہوسکتا ہے کہ جذبات محبت میں پھر تلاطم برپا ہو جائے اور وہ ایک دوسرے سے آ ملیں۔ ہوسکتا ہے کہ ان کی سوچ جذبات، کوتاہی یا کبر و غرور کے نیچے دب گئی ہو اور وقفے میں انہیں سوچ آ جائے۔ جب غصہ فرو ہو جائے، جب طیش اتر جائے، جب نفس مطمئن ہو جائے اور وہ اسباب جو موجب فراق بن گئے تھے دب جائیں، کچھ عقل کی باتیں سامنے آ جائیں، سوچ کی نئی راہیں کھل جائیں۔ جب اسباب کو عظیم سمجھ کر فراق کا فیصلہ کر لیا گیا تھا وہ اس وقفے میں معمولی نظر آنے لگ جائیں اور فریقین میں از سر نو زندگی کا آغاز کرنے کا داعیہ پیدا ہو جائے۔ یا اس عرصہ میں کسی اور حسن عمل اور حسن تدبیر سے حالات کا رخ بدل جائے۔ اس لئے یہ بات نہایت ضروری تھی کہ ایک طلاق کے بعد متعلقہ تین ایام ماہواری یا ان کے پاک ہونے کا انتظار کرے۔ اسلام میں طلاق مشروع ہے۔ لیکن اللہ اور رسول کو سخت ناپسندیدہ بھی ہے۔ یہ کاٹ دینے کا عمل ہے اور اسے صرف اس وقت اختیار کرنا چاہئے، جب علاج کا کوئی طریقہ، جوڑنے کا کوئی حربہ کام نہ آسکے۔ (قرآن مجید میں دوسری جگہ تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے کہ طلاق واقع ہونے سے پہلے صلح و صفائی کے لئے سخت کوشش ہونی چاہئے۔ نیز یہ بھی ہدایت ہے کہ طلاق ایسی حالت میں دینی چاہئے کہ عورت ایام ماہواری سے پاک ہو چکی ہو، اور ابھی مرد نے اس کے ساتھ مباشرت نہ کی ہو، محض اس لئے طلاق دینے یا یا طلاق کا آخری شکل دیتے وقت مرد کو سوچ بچار کی کافی مہلت ملے۔ اگر حیض کی حالت ہے تو مرد طلاق دینے کے لئے طہر کا انتظار کرے گا۔

جہاں تک پہلی طلاق کا تعلق ہے، یہ ایک تجربہ ہے۔ اس تجربہ سے میاں بیوی دونوں یہ معلوم کر لیتے ہیں کہ ان کے جذبات اور احساسات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔ اگر دوران عدت انہوں نے محسوس کر لیا کہ وہ ایک دوسرے کی رفاقت میں زندگی کا آغاز نئے سرے سے کرسکتے ہیں تو راستہ کھلا وَبُعُولَتُہُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلاحًا “ان کے شوہر تعلقات درست کر لینے پر آمادہ ہوں۔ تو وہ اس عدت کے دوران پھر انہیں اپنی زوجیت میں واپس لینے کے حق دار ہیں۔ ”

فِي ذَلِكَیعنی اس میں، اس سے مراد عدت کے دوران میں انتظار اور تربص کے زمانے میں۔ بشرطیکہ تعلقات زوجیت کو نئے سرے سے اختیار کرنے کا ارادہ ہو محض عورت کو اذیت دینا مقصود نہ ہو، محض انتقام لینے کی خاطر اسے ایسی زندگی کی طرف لوٹانا مقصود نہ ہو، جس میں کانٹے ہی کانٹے ہوں۔ یا محض غرور کی خاطر یہ رجوع نہ ہو۔ یا محض اس لئے نہ ہو کہ اگر میں نے رجوع نہ کیا تو اسے کوئی دوسرا خاوند نکاح میں لے لے گا، جو میرے لئے شرم کی بات ہے : وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ”عورتوں کے لئے بھی معروف طریقے پر وہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں۔ “یعنی اس حالت میں مطلقات کے لئے ایسے حقوق ہیں جس طرح ان پر واجبات ہیں وہ مکلف ہیں کے دوران عدت میں اپنے آپ کو روکے ہوں، ان کے رحموں میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ خلق فرمایا ہے اسے چھپائیں نہیں۔ خاوند کا فرض ہے کہ اگر وہ رجوع کرتا ہے تو خالص نیت سے ہو، اس سے عورتوں کو تکلیف دینا مقصود نہ ہو، نہ اذیت دینا ہو، اس پر مزید یہ کہ دوران عدت نان و نفقہ کی بھی حق دار ہوں گی جیسا کہ عنقریب بیان ہو گا۔ اس لئے کہ وہ ازروئے قانون کی رو سے ہوئی ہیں۔ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْہِنَّ دَرَجَۃٌ”البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے۔ “اس درجہ سے مراد یہ ہے کہ مردوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دوران عدت اگر چاہیں تو مطلقہ عورت کو دوبارہ اپنی زوجیت میں لوٹا سکتے ہیں۔ یہ حق اللہ تعالیٰ نے مرد کو اس لئے دیا ہے کہ طلاق کا حق مرد کا ہے۔ بعض لوگوں نے اس فقرے سے یہ مفہوم لیا ہے کہ عمومی طور پر مردوں کو عورتوں پر برتری حاصل ہے۔ یہ حضرات اس سے مراد یہ نہیں لیتے کہ صرف مرد کو حق مراجعت حاصل ہے چانچہ وہ حق مراجعت عورت کو بھی دیتے ہیں کہ عورت کو بھی اختیار ہے کہ وہ واپس چلی آئے اور مرد کو اپنی زوجیت میں لے لے، لیکن ان حضرات کا یہ استدلال نہایت ہی سقیم، بے محل اور بے موقع ہے۔ یہ حق، حق طلاق کے ساتھ وابستہ ہے اور صرف مرد ہی کو حاصل ہے۔

اب آخری تبصرہ اور نتیجہ وَاللَّہُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ”اللہ سب پر غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے۔ “یعنی اللہ قوت اور اقتدار اعلیٰ کا مالک ہے۔ لہٰذا وہ ہر قسم کا حکم نافذ کرنے کا مجا زہے۔ اور پھر یہ کہ حکیم و دانا ہے۔ اس کے احکام بھی حکیمانہ ہیں۔ اس آخری تبصرے کا اثر یہ ہے کہہ مختلف وجوہات اور مختلف حالات سے متاثر ہو کر تم اللہ کے احکام سے منحرف نہ ہو جاؤ، انہیں پس پشت نہ ڈال دو۔

اب آنے والا حکم طلاقوں کی تعداد کی تحدید کے بارے میں ہے۔ یہ کہ مطلقہ کو یہ حق ہے کہ وہ پورا مہر حاصل کرے۔ یہ حرام ہے کہ وہ مرد طلاق کے وقت اس سے کچھ لے سکتا ہے۔ ہاں ایک صورت ایسی ہے جس میں مرد کو حق ہے کہ وہ اگر چاہے تو واپس لے سکتا ہے۔ اگر صورتحال یہ ہو کہ عورت کو مرد سے سخت نفرت ہو، اور وہ اس کے ساتھ حدود الٰہی کی پابندی کرتے ہوئے زندگی گزارنے کے اہل نہ ہو، خطرہ ہو کہ وہ کسی معصیت میں مبتلا ہو جائے یعنی خلع کی وہ حالت جس میں عورت، فدیہ کے بدلے اپنی آزادی خریدنا چاہتی ہو۔ اس صورت میں مرد کو حق ہے کہ وہ کچھ لے لے۔

 

“طلاق دو بار ہے۔ پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کر دیا جائے اور رخصت کرتے وقت ایسا کرنا تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو، اس میں سے کچھ واپس لے لو، البتہ یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ زوجین کو اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو۔ ایسی صورت میں اگر انہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہیں گے۔ تو ان کے درمیان یہ معاملہ ہو جانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرے۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں۔ ان سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ حدود الٰہی سے تجاوز کریں، وہی ظالم ہیں۔ ” (٢٢٩)

 

وہ طلاق جن کے بعد، فریقین ازدواجی زندگی کا آغاز کرسکتے ہیں دو ہیں۔ اگر خاوند ان دوسے بھی آگے بڑھ جائے تو پھر ان کے درمیان ازدواجی تعلقات صرف اس صورت میں قائم ہوسکتے ہیں، جس کی تشریح اگلی آیات میں آ رہی ہے۔ یعنی یہ کہ پہلے وہ کسی دوسرے خاوند سے جدا ہو جائے۔ صرف اس صورت میں پہلے خاوند کے لئے، جس نے تین طلاقوں کا حق استعمال کر لیا تھا، یہ جائز ہے کہ اس عورت سے دو بار نکاح کرے بشرطیکہ یہ عورت ازسر نو اس کے ساتھ نکاح کرنے پر راضی ہو۔

اس پابندی کے عائد ہونے کی وجہ کے بارے میں بعض روایات میں آتا ہے کہ اسلامی دور آغاز میں بھی (جاہلیت کی طرح)طلاقوں کی تعداد مقرر نہ تھی۔ اور مرد کو یہ حق بھی حاصل تھا کہ وہ ہر طلاق کے دوران عدت رجوع کرسکے۔ چنانچہ بعض لوگ اسی طرح طلاق دیتے، پھر رجوع کرتے اور یوں ہی یہ سلسلہ چلتا رہتا۔ اسلامی دور میں انصار میں سے ایک صاحب کی اپنی بیوی کے ساتھ ان بن ہو گئی، اس نے بیوی سے کہا اللہ کی قسم نہ میں تجھے اپنے قریب چھوڑوں گا اور نہ ہی تجھے اپنے سے جدا کروں گا۔ اس نے کہا کیونکر ہو گا؟اس نے کہا میں تجھے طلاق دوں گا، لیکن جب عدت کا وقت قریب آئے گا تو میں رجوع کر لوں گا۔ وہ پریشان ہوئی اور اس نے رسول اللہﷺسے یہ شکایت کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ وحی آئی الطَّلاقُ مَرَّتَانِ”طلاقیں دو ہیں۔ ”

اللہ نے اسلامی نظام کے نزول احکام میں حکیمانہ پالیسی اختیار کی جب بھی کسی حکم کی ضرورت پڑی، حکم نزال کر دیا گیا۔ اور اس طرح بتدریج پورے احکام نازل ہو گئے۔ اور اسلامی زندگی کے اصول مکمل کر لئے گئے۔ اب جو کام رہ گیا تھا وہ جزوی اور نئے حالات پر ان اصولی احکام کی تطبیق کا تھا کہ اصول کی روشنی میں جزئیات کے حل معلوم کئے جائیں۔

اس پابندی کے نتیجے میں طلاقوں کی تعداد محدود ہو گئی۔ اب وہ سابقہ صورت حال باقی نہ رہی کہ خاوند مسلسل طلاق دیتا جائے اور اس کو بازیچۂ اطفال بنا دے۔ اب طریق کار یہ ہو گیا کہ جب مرد عورت کو ایک مرتبہ طلاق دے دے تو وہ دوران عدت کسی قانونی پیچیدگی کے بغیر اپنی بیوی سے رجوع کرسکتا ہے۔ اور اگر یوں ہی عدت گزر جائے تو عورت جدا ہو جائے گی جسے فقہ میں “بائنہ “کہتے ہیں۔ اب بھی عدت کا عرصہ گزر جانے کے بعد وہ محض رجوع سے واپس نہیں لے سکتا۔ بلکہ اسے ایک نئے نکاح کے ذریعہ، اور ایک نیا مہر مقرر کر کے عورت کی رضا سے اسے واپس نکاح میں لانا ہو گا۔ ایک طلاق کے بعد مرد عورت کو دوران عدت میں واپس لے لے، رجوع کر کے یا عدت گزرنے کے بعد وہ نکاح تازہ کر لے اور جدید مہر کے ساتھ عورت کو واپس کر لے دونوں صورتیں جائز ہیں۔

اس کے بعد اگر دوسری مرتبہ یہ خاوند پھر اسے ایک طلاق دے دیتا ہے تو بھی اسے یہی حق حاصل ہو گا۔ یعنی دوران عدت میں رجوع اور بعد از عدت نکاح جدید۔ لیکن اگر وہ تیسری مرتبہ طلاق دے دے تو اس صورت میں یہ عورت اس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہو جائے گی۔ فقہی اصطلاح میں اسے عظیم جدائی (بینونت کبریٰ)کہتے ہیں۔ تیسری مرتبہ طلاق دیتے ہی عورت بائن ہو جائے گی یعنی جدا تصور ہو گی۔ اب یہ مرد دوران عدت رجوع کا حق استعمال نہیں کرسکتا، نہ وہ نکاح جدید کرسکتا ہے۔ الا یہ کہ اس عورت کا نکاح کسی دوسرے مرد سے ہو جائے اور یہ دوسرا خاوند اپنی ازدواج زندگی کے دوران اسے طلاق دے دے، پھر رجوع نہ کرے یا یہ دوسرا خاوند بھی تین طلاقوں کا حق استعمال کرے اور عورت ہمیشہ کے لئے جدا ہو جائے تو پھر پہلے مرد کے لئے جائز ہے کہ وہ اس عورت کو اپنے نکاح میں لے لے۔ لیکن یہ سب کام اپنی قدرتی رفتار سے ہونا چاہئے۔

پہلی طلاق ایک کسوٹی اور ایک معیار ہے جیسا کہ ہم اوپر کہہ آئے ہیں۔ دوسری طلاق دوبارہ آزمائش اور ایک آخری تجربہ ہے۔ دوسری طلاق کے بعد اگر زندگی کی گاڑی چل پڑے تو فبہا ورنہ تیسری طلاق اس بات کا بین ثبوت فراہم کر دیتی ہے کہ زوجین کے درمیان طبائع اور مزاجوں کا اختلاف بہت ہی بنیادی نوعیت کا ہے اور ناقابل اصلاح ہے۔

بہرحال طلاق بھی ایک آخری علاج ہے۔ کوششوں کے بعد بھی اگر فریقین کے درمیان مصالحت کا کوئی امکان نہ رہے تو پھر یہی بہتر ہے کہ دائمی جدائی ہو جائے۔ اگر دو طلاقیں ہو جائیں تو پھر بیوی کو یا تو معروف طریقے سے رکھنا ہے اور نرمی و محبت کا نئے سرے سے آغاز کرنا ہے اور پا پھر بھلے انداز میں حسن و خوبی کے ساتھ، احسان کے ساتھ، شرافت کے ساتھ اس کو رخصت کر دینا ہے، یعنی تیسری مرتبہ طلاق دے کر، جس کے بعد عورت کو پھر زندگی کی نئی لائن اختیار کرنی ہوتی ہے۔ یہ ہے حقیقت پسندانہ قانون سازی، جو انسان کے حقیقی و اخلاقی زندگی کو سامنے رکھ کر کی گئی ہے۔ اور جو عائلی زندگی کے پیچیدہ مسائل کا بہترین اور عملی (Practical)حل پیش کرتی ہے۔ اس قانون سازی میں ایسی شدت بھی نہیں ہے جو مفید نہ ہو، انسان کو ایسے اخلاقی نظام میں ڈھالنے کی کوشش نہیں کرتی جو اس کی جبلت سے متصادم ہو، نہ یہ قانون سازی انسان اور اس کی قوتوں کو مہمل چھوڑنے پر اصرار کرتی ہے، اگر یہ اسے یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں کوئی فائدہ نہ ہو۔

ازدواجی زندگی کے دوران مرد نے عورت کو جو مہر دیا ہے، یا اس پر مختلف قسم کے جو اخراجات کئے ہیں، مرد کے لئے جائز نہیں ہے کہ تیسری مرتبہ طلاق کے بعد، وہ اس سے کوئی چیز واپس لینے کا حق دار بن جاتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ عورت کو ذاتی اسباب کی بنا پر ذاتی جذبات اور بمقتضائے طبیعت مرد ناپسند ہو اور عورت یہ محسوس کرتی ہو کہ اس نفرت اور کراہت کی وجہ سے وہ اس خاوند کے ساتھ حدود الٰہی کی پابندی کرتے ہوئے زندگی بسر نہیں کرسکتی۔ وہ اس قابل نہیں ہے کہ اس کے ساتھ حسن معاشرت سے پیش آئے۔ اس کے ادب کا خیال رکھے یا اس کی عزت و آبرو بچائے اور عفیفانہ زندگی بسرکرسکے تو ایسے حالات میں عورت کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ مرد سے طلاق طلب کرے۔ اس صورت میں یہ عورت چونکہ محض ذاتی وجوہات کی بنا پر اس مرد کے جذبات مجروح کرتی ہے اور اس کے خاندان اور گھر کو خراب کر رہی ہے۔ اور اس میں بیچارے مرد کا کوئی ذاتی قصور نہیں ہے۔ اس لئے اس عورت کا فرض ہے وہ مہر واپس کر دے۔ یہ محض اس لئے کہ عورت اللہ کی معصیت سے بچے، اس کی حدود توڑنے کا موقع اسے نہ ملے، اور نہ اپنے نفس پر اور نہ دوسروں پر مصیبت لانے کے مواقع پیدا ہوں۔

یہ ہے اسلامی نظام زندگی، جس میں لوگوں کو پیش آنے والے تمام واقعی حالات زندگی کی رعایت کی گئی ہے۔ اس میں انسانی جذبات اور فطری پسند وناپسند کا بھی خاطر خواہ لحاظ رکھا گیا ہے، جن پر خود انسان کو کنٹرول نہ ہو، بیوی کو بھی مجبور نہیں کیا گیا کہ وہ اپنی پوری زندگی ایک ایسے شخص کے ساتھ بسر کر دے جسے وہ پسند ہی نہیں کرتی، اس سے طبعاً متنفر ہے، اور ساتھ ہی مرد کے حقوق کو بھی نظر انداز نہیں کرتی۔ جس میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے۔ اس طبعی نفرت اور مزاج کی ناہمواری کے پیدا کرنے میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے۔

اس آیت کی اہمیت اور اس کے دوررس نتائج تک پہنچنے کے لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم قارئین کے سامنے وہ واقعی حالات بھی رکھ دیں جن حالات کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بنایا اور اسے نافذ کیا گیا۔ ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے اس ربانی نظام زندگی میں کس حقیقت پسندی، کس دقت نظری، کس میانہ روی اور عدل و انصاف کے کس اونچے معیار کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔

امام مالک رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب مؤطا میں روایت کی ہے کہ حبیبہ بنت سہل انصاری، ثابت ابن قیس ابن شماس کی بیوی تھیں۔ رسول اللہﷺ صبح اندھیرے منہ گھر سے باہر نکلے تو دیکھا کہ صبح کی تاریکی میں حبیبہ کھڑی ہیں۔ رسولﷺ نے فرمایا کون ہوسکتی ہیں یہ ؟کہنے لگی میں حبیبہ بنت سہیل ہوں جناب۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا!ایسے وقت میں کیسے ؟کہنے لگی اللہ کے رسولﷺ میں کسی صورت میں بھی ثابت ابن قیس کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔

اس کے بعد ثابت بن قیس بلائے گئے تو رسولﷺ نے فرمایا!ثابت، یہ حبیبہ ہے اس نے میرے سامنے تمہارے بارے میں وہ باتیں کی ہیں جو اللہ کو منظور ہوں گی۔

اس پر حبیبہ نے کہا اللہ کے رسولﷺ”اس نے مجھے جو کچھ دیا ہے وہ میرے پاس محفوظ ہے۔ ”

اس پر رسولﷺ نے ثابت سے کہا اس سے لے لو چنانچہ اس نے وہ سب کچھ لے لیا اور حبیبہ اپنے اہل خاندان کے پاس چلی گئی۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ثابت ابن قیس ابن شماس کی بیوی رسولﷺ کے پاس آئیں۔ کہنے لگیں میں اس کسی بے دینی و بد اخلاقی کا الزام نہیں لگاتی۔ لیکن میں نہیں چاہتی کہ ہم مسلمان ہو کر کفر کا ارتکاب کریں۔

رسولﷺنے فرمایا!”کیا تم اس باغ کو واپس کر دو گی جو اس نے تمہیں (بطور مہر)دیا ہے ؟”

اس نے کہا :”ہاں “رسولﷺ نے فرمایا:”ثابت !اپنا باغ واپس لے لو اور اسے ایک طلاق دے دو۔ ”

ایک دوسری روایت میں ذرا زیادہ تفصیل آئی ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ ابو جریر رحمہ اللہ نے عکرمہ رحمہ اللہ سے دریافت کیا:کیا خلع کی کوئی شرعی حقیقت ہے ؟عکرمہ رحمہ اللہ نے جواب دیا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے اسلام میں پہلا خلع عبداللہ ابن ابی کی بہن کا ہوا۔ وہ رسولﷺکے پاس آئیں اور کہا:اللہ کے رسولﷺ ، میرا سر اس چیز کے سر کے ساتھ ہرگز جمع نہیں ہوسکتا۔ میں نے پردے کا ایک کونا اٹھایا اور اسے چند آدمیوں کے درمیان آتے ہوئے دیکھا۔ وہ سب میں سیاہ رنگ تھا، سب میں کوتاہ قد اور سب میں قبیح صورت تھا۔ ”

اس پر اس کے خاوند نے کہا :”رسولﷺمیں نے تو اسے بہترین جائیداد عطا کر دی ہے۔ ایک ہی باغ تھا میرا جو میں نے اسے دے دیا ہے کیا وہ میرا باغ واپس کر دے گی؟”

رسولﷺنے عورت سے دریافت کیا تمہاری رائے کیا ہے ؟اس نے کہا:ہاں اگر وہ چاہتا ہے تو میں اسے واپس کر دوں گا۔ “ابن عباس کہتے ہیں :”اس پر رسولﷺنے دونوں کے درمیان تفریق کرا دی۔ ”

ان تمام روایات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیا نفسیاتی صورت حال تھی، جو رسولﷺکے سامنے آئی۔ رسولﷺنے اس صورتحال کو اس طرح قبول کر لیا کہ یہ کیس ناقابل علاج ہے۔ تشدد اور سختی سے اس کا علاج ممکن نہیں ہے اور نہ اس میں ازدواجی زندگی میں کوئی مفید مثال قائم ہوسکتی ہے۔ کہ عورت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایسی تلخ معاشرت پر مجبور کر کے رکھ دیا جائے۔ اس لئے رسولﷺنے اس صورت حال کا اصل اسلامی نظام زندگی کے مطابق، اسلامی منہاج کے مطابق، پیش کر دیا جو بے حد عملی ہے۔ واضح ہے۔ حقیقت سے اچھی طرح باخبر ہو، کہ اس نفس کے اندر کیا جذبات کام کر رہے ہیں۔ کیا رجحانات ہیں۔

پھر ایسی تمام صورتوں میں سنجیدہ طرز عمل یا طفلانہ طرز عمل، اور سچائی کی راہ یا فریب کاری کی راہ اختیار کرنے کے لئے واحد نگراں صرف اللہ خوفی اور اس کی پکڑ کا ڈر ہی ہوسکتا تھا، اس لئے ان احکام کے خاتمہ پر تنبیہ کر دی گئی کہ یہ ہیں اللہ کی حدود۔ ان سے تجاوز مت کرنا۔

تِلْكَ حُدُودُ اللَّہِ فَلا تَعْتَدُوہَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّہِ فَأُولَئِكَ ہُمُ الظَّالِمُونَ”یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو اور جو حدود الٰہی سے تجاوز کریں، وہی ظالم ہیں۔ ”

یہاں تھوڑی دیر کے لئے رکیے !یہاں ہمارے سامنے قرآن مجید نے ایک ہی مضمون کو مختلف حالات میں مختلف انداز میں بیان کیا ہے۔ مضمون ایک، حالات مختلف، اس لئے انداز بیان اور ۔

اس صورت میں روزے پر بحث کرتے ہوئے آخر میں یہ تنبیہ فرمائی گئی تھی تِلْكَ حُدُودُ اللَّہِ فَلا تَقْرَبُوہَا”یہ اللہ کی حدیں ہیں، ان کے قریب مت پھٹکو اور یہاں یہ کہا گیا ہے۔ تِلْكَ حُدُودُ اللَّہِ فَلا تَعْتَدُوہَا”یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں ان سے تجاوز نہ کرو۔ “سوال یہ ہے کہ انداز میں یہ اختلاف کیوں ہے ؟

حقیقت یہ ہے کہ سابقہ مقام ایسا تھا، جس میں اللہ تعالیٰ نے ایسی چیزوں سے روکا تھا، جو طبعاً سخت ناپسندیدہ ہیں بلکہ ایک مادہ پرست کے لئے خلاصہ حیات ہیں وہاں فرمایا گیا تھا:

“تمہارے لئے روزوں کے زمانے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کر دیا ہے۔ وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔ اللہ کو معلوم ہو گیا کہ تم لوگ چپکے چپکے اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے۔ مگر اس نے تمہارا قصور معاف کر دیا اور تم سے درگزر فرمایا۔ اب تم اپنی بیویوں کے ساتھ شب باشی کرو اور جو لطف اللہ نے تمہارے لئے جائز کر دیا ہے اسے حاصل کرو۔ نیز راتوں کو کھاؤ پیو یہاں تک کہ تم کو سیاہی شب کی دھاری سے سپیدہ صبح کی دھاری سے نمایاں نظر آ جائے۔ تب یہ سب کام چھوڑ کر اپنا روزہ پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہوتو بیوی سے مباشرت نہ کرو۔ یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں، ان کے قریب نہ پھٹکنا۔ ” تِلْكَ حُدُودُ اللَّہِ فَلا تَقْرَبُوہَا

ان آیات میں جن چیزوں کی ممانعت کر دی گئی ہے، وہ سب ایسی ہیں کہ انسان ازروئے طبیعت انہیں بے حد چاہتا ہے۔ اس لئے یہاں حکم دیا گیا کہ ان کے قریب نہ پھٹکنا، قریب ہی نہ ہونا، انسان ضعیف ہے، ہوسکتا ہے کہ ان چیزوں کی جاذبیت کا مقابلہ نہ کرسکے اور ان میں مبتلا ہو جائے، ان کے پھندے میں بس کہیں پھنس ہی نہ جائے۔

اب یہاں سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی چیزوں سے منع کیا گیا ہے جو بذات خود ناپسندیدہ ہیں۔ گھریلو اختلافات، جھگڑے بذات خود ناپسندیدہ ہیں۔ یہاں خطرہ اس بات کا نہیں ہے کہ کوئی لڑائی جھگڑے کا شوق کرے، بلکہ خطرہ اس بات کا ہے کہ بامر مجبوری اگر کوئی مبتلا ہو ہی جائے تو اس میں حدود سے تجاوز نہ کرے۔ معقول حدود میں رہے، حدیں توڑ ہی نہ دے۔ اس لئے یہاں حکم یہ نہیں دیا گیا کہ قریب ہی مت جاؤ بلکہ یہ حکم دیا گیا کہ حدود سے آگے ب نہ بڑھو۔ انداز بیان میں یہ لطیف فرق اس لئے ہوا ہے کہ موقع و محل میں اختلاف ہے۔ دونوں مواقع و محل کے اس قدر لطیف فرق میں بالکل جدا ہیں۔ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ وہ موقع و محل کے اس قدر لطیف فرق میں بھی انداز بیان مختلف اختیار کرتا ہے۔

احکام طلاق کا سلسلہ جاری ہے۔ چلتے جائیے :

 

“پھر اگر (دو بار طلاق دینے کے بعد)تیسری بار طلاق دے دی، تو وہ عورت پھر اس کے لئے حلال نہ ہو گی، الا یہ کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے ہو اور وہ اسے طلاق دے دے۔ تب اگر پہلا شوہر اور عورت دونوں یہ خیال کریں کہ حدود الٰہی قائم رکھیں گے تو ان کے لئے ایک دوسرے کی طرف رجوع کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں، جنہیں وہ ان لوگوں کی ہدایت کے لئے واضح کر رہا ہے۔ جو (جو اس کی حدوں کو توڑنے کا انجام جانتے ہیں۔ )” (٢٣٠)

 

جیسا کہ ہم اوپر کہہ آئے ہیں، تیسری بار طلاق اس بات کی دلیل ہے کہ میاں بیوی کے یہاں بنیادی اختلاف موجود ہے۔ اس قدر گہرا کہ اصلاح کی کوئی سبیل نہیں ہے۔ تو اس صورت میں مناسب یہی ہے کہ میاں بیوی کو ہمیشہ کے لئے جدا کر دیا جائے اور ہر ایک کو آزاد کر دیا جائے کہ وہ اپنے لئے جدید رفیق حیات تلاش کریں اور ازسر نو عائلی زندگی کا آغاز کریں۔ اور اگر خاوند محض ژاوہ گوئی، جلد بازی اور کبر و غرور کی وجہ سے یہ طلاقیں دے رہا ہو تو پھر بھی تیسری طلاق دینے کو نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس لئے کہ اس نازک معاملے میں ژاوہ گوئی کے لئے بھی کوئی حد ہونی چاہئے۔ اس لئے طلاق کی گنجائش اس لئے نہیں رکھی گئی کہ اسے مذاق بنا دیا جائے۔ یہ تو اس لئے مقرر ہوئی ہے کہ بعض قابل علاج اور ناقابل اصلاح کیسوں میں اسے استعمال کرنا چاہئے۔ اس لئے ایسے جوڑے کو بھی علیحدہ کر دینا چاہئے جس کے دل میں اس مقدس عقد کا کوئی احترام اور اس کا تقدس نہیں ہے۔ اور خاوند بار بار طلاق کو استعمال کر رہا ہے اور اس معاملے میں کوئی احتیاط نہیں کرتا۔

یہاں یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ ایک غیر ذمہ دار خاوند کی جانب سے لفظ طلاق کے نتیجے میں ایک بے گناہ عورت کا امن وسکون کیوں تباہ کیا جاتا ہے۔ اس کی زندگی کو کیوں خطرے میں ڈالا جا رہا ہے ؟جواب یہ ہے کہ انسانی معاشرے میں فی الحقیقت ایسے واقعات سے دوچار ہوتے ہیں، جن کا علاج ضروری ہوتا ہے، ایسے قضیے ہوتے ہیں جن کا فیصلہ ضروری ہے، قانون سازی ضروری ہے۔ اگر ہم یہ علاج نہ کریں جو قرآن کریم نے بتایا جو قرآن کریم نے بتایا، اس قانون پر فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے دیا ہے تو بتائیے کیا کریں۔ کیا ہم اس عورت کو اس مرد پر ٹھونس دیں لو یہ تمہاری بیوی ہے، تم چاہو نہ چاہو، یہ تمہاری بیوی ہے۔ تم سوبار طلاق دو ہم تمہاری طلاق کو تسلیم نہیں کرتے۔ تمہاری طلاق بے اثر ہے، حالانکہ اس شخص کے دل میں بیوی کا کوئی احترام نہیں ہے۔ اس کے ذرہ بھر محبت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک عورت کے لئے اس سے بڑی اہانت اور کیا ہوسکتی ہے ؟ازدواجی تعلقات کی اس سے زیادہ اور تذلیل کیا ہوسکتی ہے ؟اسلام میں عورت کا احترام ضروری ہے۔ مرد و زن کے باہمی تعلقات کو اسلام مقدس رشتہ سمجھتا ہے۔ اس رشتے کو محض رشتہ تلذز ہی نہیں سمجھتا بلکہ اسے فریضہ حیات اور اللہ کی عبادت اور بندگی کا درجہ دیتا ہے۔ وہ خاوند جو طلاق کو ایک مذاق بنا دیتا ہے تو اگر اس نے ایک طلاق دی ہے یا دوسری طلاق دی ہے اور قبل از رجوع عورت بائن ہو گئی ہے، جدا ہو گئی ہے تو اس کی سزا یہ ہے کہ اگر وہ دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہے تو اس عورت کو دوبارہ راضی کرے گا۔ نکاح ہو گا اور اسے مہر ادا کرنا ہو گا۔ اور اگر وہ تیسری طلاق دیتا ہے تو پھر اس کی یہ سزا ہے کہ وہ عورت اس پر حرام ہو گئی ہے مکمل حرام اگرچہ اب یہ پشیمان ہو جائے۔ اب اس عورت کی دوسری شادی اور اس میں بھی ناکامی سے قبل یہ اس کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتا۔ مزید یہ کہ مہر بھی اسے دینا پڑے گا اور جو کچھ عورت کو دیا ہے اس کی واپسی سے بھی یہ محروم ہو گا۔ ہر حال میں اسے دوران عدت نفقہ بھی ادا کرنا ہو گا۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم انسانی نفسیات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں۔ انسان کی زندگی کے عملی پہلوؤں پر غور کریں۔ ہمیں ایسی تخیلاتی دنیا میں نہیں ٹھہرنا چاہئے چاہے جس کا عملی وجود، ا س کرہ ارض پرنہ ہو، انسان کی عملی زندگی میں وہ خیالی تصور قابل عمل نہ ہو۔

اب اگر یہ عورت تیسری طلاق کے بعد، جیسا کہ قدرتی طور پر ہوتا ہے، دوسرے خاوند سے شادی کر لیتی ہے اور یہ دوسرا خاوند بھی اتفاقًا اس عورت کو طلاق دے دیتا ہے، تو پھر یہ بیوی اور اس کا پہلا خاوند اگر چاہیں تو دوبارہ معاہدہ نکاح کرسکتے ہیں، اب ان کے لئے کوئی ممانعت نہیں ہے۔ صرف یہ شرط ہے (قانونی نہیں )اخلاقی اور ایمانی شرط ہے۔

إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّہِ”اگر ان دونوں کا خیال یہ ہو کہ وہ حدود الٰہی پر قائم رہ سکیں گے۔ “اور ویسا معاملہ نہ ہو گاجس طرح پہلے ہوا۔ کیونکہ اسلام میں رشتہ نکاح محض خواہش نفس کی پیروی کا نام نہیں ہے۔ یہ محض داعیہ شہوت کی تشفی کے لئے کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ اور اسلامی معاشرہ میں میاں بیوی کو اس آزاد نہیں چھوڑ دیا گیا کہ بس وہ آزاد شہوت رانی کریں، جب چاہیں نکاح کر لیں، جب چاہیں ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں۔ ان کو حدود الٰہی کی پابندی کرنی ہو گی۔ اسلام کا نظام ازدواج تو حیات انسانی کی شیرازہ بندی ہے، زندگی کے لئے ایک فریم ہے۔ اگر زندگی اس فریم سے باہر نکل آئے تو وہ زندگی اللہ کو مطلوب نہیں ہے۔ وہ اللہ کو پسند نہیں ہے۔

وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّہِ يُبَيِّنُہَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ”یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں جنہیں وہ ان لوگوں کی ہدایت کے لئے واضح کر رہا ہے۔ جو (اس کی حدوں کو توڑنے کا انجام )جانتے ہیں۔ ”

اپنے بندوں پر اللہ کی یہ عظیم رحمت ہے کہ اس نے اپنی حدیں کھول کر بیان فرما دی ہیں۔ ان میں کوئی شبہ اور کوئی پیچیدگی نہیں چھوڑی گئی۔ ان سب کو واضح کر دیا گیا ہے لیکن ان لوگوں کے لئے جو جانتے ہیں، جو قدر کرتے ہیں جو لوگ ان حدوں کو صحیح طرح جانتے ہیں وہ ان حدود پر جا کر رک جاتے ہیں۔ اگر وہ ان حدود کو پار کر جائیں تو آگے قابل مذمت جاہلی دنیا ہے۔ اور اندھی جاہلیت ہے۔

اب ان مردو کو ہدایات دیجا رہی ہیں جو طلاق کا حق استعمال کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تم مطلقہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ شریفانہ رویہ اختیار کرو اور طلاق کے متصلاً بعد کے تلخ دور میں بھی معروف طریقے کے مطابق حسن سلوک کا رویہ اختیار کرو۔

 

“اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہونے کو آ جائے، تو یا بھلے طریقے سے انہیں روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت کر دو۔ محض ستانے کی خاطر انہیں نہ روکے رکھنا یہ زیادتی ہو گی اور جو ایسا کرے گا، وہ درحقیقت اپنے اوپر ظلم کرے گا۔ اللہ کی آیات کا کھیل نہ بناؤ۔ بھول نہ جاؤ کہ اللہ نے کس نعمت عظمیٰ سے تمہیں سرفراز کیا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکمت اس نے تم پر نازل کی ہے، اس کا احترام ملحوظ رکھو، اللہ سے ڈرو، اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے۔ جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو پھر اس میں مانع نہ ہو، کہ وہ اپنے زیر تجویز شوہروں سے نکاح کر لیں، جبکہ وہ معروف طریقے سے باہم مناکحت پر راضی ہوں۔ تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی جرأت ہرگز نہ کرنا، اگر تم اللہ اور روز آخر پر ایمان لانے والے ہو، تمہارے لئے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے کہ اس سے باز رہو۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ “( ٢٣١ ۔ ٢٣٢)

 

زندگی کے رشتے کٹ رہے ہوں یا جڑ رہے ہوں، ہر صورت میں اسلام یہ ہدایات دیتا ہے کہ احسان، حسن سلوک اور معروف و مستحسن طرز عمل کو فضا پر غالب رہنا چاہئے۔ اگر رشتے ٹوٹ رہے ہوں تو نیت یہ نہ ہو کہ فریق مخالف کو اذیت دی جائے، اسے بطور پالیسی دکھ پہنچایا جائے۔ جدائی اور طلاق کی فضا میں نفوس اور مزاج ایک دوسرے سے کھنچے رہتے ہیں، ایسے حالات میں حسن سلوک کا یہ اعلیٰ و ارفع معیار صرف اس صورت میں قائم کیا جا سکتا ہے کہ اس کی اساس کسی ایسے اصول پر رکھی گئی ہو جو اس دنیاوی زندگی کے حالات سے بلند تر ہو۔ ایسا اصول جو دلوں سے حسد اور بغض اور کینہ نکال دے، زندگی کے آفاق کو وسیع تر کر دے، زندگی کو موجود اور حاضر سے وسیع کر کے غیر موجود اور دوسرے جہاں کو وسیع کر دے۔ یہ اساس صرف اللہ پر ایمان کی اساس ہوسکتی ہے۔ آخرت پر ایمان کی اساس ہوسکتی ہے۔ یہ اساس ہوسکتی ہے کہ انسان انعامات الٰہی پر غور کرے۔ جن میں سب سے بڑی نعمت، نعمت ایمان ہے۔ پھر اس نے ہر شخص کو قدر کے مطابق جو فراخی رزق دیا ہے اس پر غور کرے۔ پھر ہر شخص کو جو صحت اور توانائی دی ہے، اس پر غور کرے تو انسان کے سوچ کی سطح بلند ہوسکتی ہے۔ پھر اللہ کا خوف دل میں موجود ہو، اور یہ امید بھی ہو کہ جو ازدواجی زندگی ناکام ہو گئی ہے جو نقصانات و اخراجات ضائع ہو چکے، ان کے عوض اللہ تعالیٰ نعم البدل عطا کرسکتا ہے۔ غرض یہ ہے وہ اساس جسے وہ آیات پیش کر رہی ہیں، جن کا مقصد صرف یہ ہے کہ رشتہ کٹ رہا ہو یا جڑ رہا ہو، ہر صورت میں ایثار، بھلائی اور احسان کا رویہ اختیار کرنا چاہئے۔

زمانہ جاہلیت میں عورت پر جو مظالم ممکن تھے، ہوا کرتے تھے۔ بچپن میں اس پر مظالم ہوتے تھے، اسے زندہ درگور کر دیا جاتا، اگر زندہ دفن کرنے سے بچ جاتی تو وہ ذلت، مشقت اور سخت اہانت کی زندگی بسر کرتی۔ پھر جب وہ ازدواجی زندگی میں قدم رکھتی تو اسے مرد کے عام سامان اور مال کی طرح ایک مال ہی سمجھا جاتا ہے۔ مال بھی اس درجے کا کہ اس مقابلے میں گھوڑے کی قیمت زیادہ ہوتی۔

بہت زیادہ اگر ناچاقی کے نتیجے میں خاوند اسے طلاق دے دیتا تو ی عضو معطل کی طرح پابند رہتی اور جب تک طلاق دینے والا خاوند رحم کھا کر اسے اجازت نہ دیتا وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرسکتی یا اس کے اہلِ خاندان غیرت میں آ کر اسے بند کر دے۔ اور اگر طلاق دینے والا شخص پشیمان ہو کر رجوع کرنا چاہتا تو یہ لوگ اسے اس کے پاس واپس جانے سے روکتے۔

عمومی طور پر عورت کو حقارت آمیز نظروں سے دیکھا جاتا۔ معاشرے میں اسے گھٹیا درجے کی شئے تصور کیا جاتا۔ غرض عرب معاشرہ میں عورت کی وہی حیثیت تھی جس طرح اس دور کے دوسرے جاہل معاشروں میں عورت کی حیثیت تھی۔

ایسے حالات میں اسلامی نظام کا نزول ہوتا ہے۔ اب ریگستان عرب کی طوفانی اور گرم ہواؤں کے بجائے۔ مصیبت زدہ عورت باد نسیم کے خوشگوار جھونکے محسوس کرتی ہے، جس کے کچھ نمونے ان آیات میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اب عورت کے بارے میں یہ نقطہ نظر دیا جاتا ہے کہ مرد و عورت دونوں ہی ایک ہی نفس سے پیدا کئے گئے ہیں۔ دونوں کا خالق ایک ہے۔ ازدواجی تعلقات کو محض ذریعہ لذت کے بجائے عبادت اور احسان کا درجہ دیا گیا۔ اسے فریضۂ حیات کا درجہ دیا گیا۔ یہ اس وقت اور ایسے حالات میں دیا گیا جبکہ عورتوں کی کسی انجمن نے کوئی مطالبہ نہ کیا تھا، نہ عورت اس وقت ان حقوق کی اہمیت سے واقف تھی۔ نہ اس وقت عورت کے سرپرست مردوں نے عورت کے حقوق کے لئے کوئی مطالبہ کیا تھا، نہ ایسا کوئی مطالبہ ان کے تصور ہی میں تھا، یہ تو اللہ کی رحمت اور فضل کی ایک عام بارش تھی، جس سے بیک وقت مرد اور عورت دونوں فیض یاب ہوئے اور پوری انسانیت اور انسانی زندگی کو سیراب کیا۔ وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاء َ فَبَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَأَمْسِكُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلا تُمْسِكُوہُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا”اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہونے کو آ جائے، تو بھلے طریقے سے انہیں روک لو، یا بھلے طریقے سے رخصت کر دو۔ محض ستانے کی خاطر انہیں نہ روکے رکھنا کہ یہ زیادتی ہو گی۔ ”

فَبَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ میعاد جو گزشتہ آیت میں مقرر کی گئی ہے، وہ پوری ہونے کو آ جائے۔ اگر عدت ختم ہونے کو آ جائے تو پھر دو طریقے ہیں یا تو معروف طریقے سے۔ اصلاح احوال کی نیت سے روک لو، یعنی طلاق سے رجوع کر لو۔ امساک معروف کا یہی مفہوم ہے۔ اگر اصلاح نیت سے روکنا مطلوب نہیں ہے تو پھر رجوع نہ کرو اور عدت پوری ہونے دو تاکہ عورت کی طلاق، طلاق بائنہ ہو جائے۔ یہ ہے معنی تسریح باحسان کا۔ یعنی بغیر کسی قسم کی ایذارسانی کے، بغیر فدیہ طلب کرنے کے اور بغیر کسی قسم کی جاہلانہ پابندی کے کہ وہ فلاں جگہ شادی نہ کرے گی یا فلاں حدو د کے اندر شادی نہ کرے گی۔ وَلا تُمْسِكُوہُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا”محض ستانے کی خاطر انہیں روکے نہ رکھنا۔ ”

جیسا کہ ہم اوپر ایک انصاری کی روایت نقل کر آئے ہیں جس نے اپنی بیوی سے کہا تھا کہ نہ تو میں تمہیں زوجیت میں لوں گا اور نہ ہی تمہیں طلاق دوں گا۔ یہ ہے برے طریقے سے روکے رکھنا۔ محض ستانے کے لئے روکے رکھنا۔ اسلام ایسے روکنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس سلسلے میں ان آیات میں بار بار نہیں آئی ہے۔ یہ مکرر تاکید اس لئے ہے کہ اس وقت کی عربی سوسائٹی میں یہ ظلم عام تھا۔ بلکہ یہ ظلم ہر اس سوسائٹی میں عام ہوسکتا ہے جسے اسلام نے مہذب نہ بنایا ہو اور جسے ایمان نے اونچا نہ کر دیا ہو۔

یہاں اب قرآن مجید انسان کے فہم و شعور میں جو ش پیدا کرتا ہے، انسان کے جذبات شرم و حیا کو بیدار کرتا ہے۔ اور ساتھ ساتھ انہیں اپنے برے انجام سے بھی ڈراتا ہے۔ یہ سب ذرائع محض اس لئے استعمال کئے جا رہے ہیں کہ انسان کی زندگی سے جاہلیت کے آثار کو ایک ایک کر کے مٹا دیا جائے اور اسے شرافت و عزت کے اس بلند مقام تک پہنچا دیا جائے جہاں تک اسے اسلامی نظام زندگی ہاتھ پکڑ کر لے جانا چاہتا ہے۔

وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہُ وَلا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّہِ ہُزُوًا وَاذْكُرُوا نِعْمَۃَ اللَّہِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَۃِ يَعِظُكُمْ بِہِ وَاتَّقُوا اللَّہَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ بِكُلِّ شَيْء ٍ عَلِيمٌ”اور جو ایسا کرے گا وہ درحقیقت آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا۔ اللہ کی آیات کا کھیل نہ بناؤ۔ بھول نہ جاؤ کہ اللہ نے کس نعمت عظمیٰ سے تمہیں سرفراز کیا ہے۔ اور وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکمت اس نے تم پر نازل کی ہے، اس کا احترام ملحوظ رکھو۔ اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے۔ ”

جو شخص عدت گزرنے والی عورت کو محض ستانے کے لئے یا اسے نقصان پہنچانے کے لئے روکے رکھتا ہے، وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتا ہے۔ آخر یہ بیچاری عورت بھی تو بنت آدم ہے اور اس طرح اس کی بہن ہے۔ اس کی جنس ہے۔ اگر یہ اس پر ظلم کرتا ہے تو گویا خود اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے۔ پھر وہ اپنی جان پر بھی ظلم کرتا ہے کہ وہ معصیت کر کے اسے مستوجب سزا ٹھہرا رہا ہے۔ اور راہ اطاعت اسے ہٹا رہا ہے۔ یہ ہے وہ پہلا احساس جو ان آیات میں لایا جا رہا ہے۔

معاشرت اور طلاق کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے جو آیات بیان کی ہیں وہ بین ہیں، ظاہر ہیں، اور بالکل سیدھی ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اجتماعی زندگی کی تنظیم صداقت اور سنجیدگی پر ہونا چاہئے۔ کوئی شخص ان آیات کو کھیل نہ بنائے، انہیں عورت کو محض تکلیف دینے اور اسے ایذا پہنچانے کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ یہ رخصتیں تو اللہ تعالیٰ نے اس لئے دیں کہ معاشرتی زندگی امن و قرار کی جگہ بن جائے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو رجوع کرنے کا حق اس لئے دیا ہے میاں بیوی کی شکر رنجی ختم ہو جائے اور ان کے درمیان ازدواجی زندگی کا از سر نو آغاز ہو جائے۔ اس لئے نہیں کہ مرد اس حق کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس عورت کو ایذا دینے اور اس پر تشدد کرنے کے لئے استعمال کرے۔ اگر کوئی شخص اس حق کو اس مطلب کے لئے استعمال کرے گا تو وہ آیات الٰہی کا کھیل بنا رہا ہے اور ان سے مذاق کر رہا ہے۔ یہ صورت حال ہمارے موجودہ جاہلی معاشرے میں بہت عام ہے۔ لوگ فقہی رخصتوں اور فقہی مسائل کو آڑ بنا کر ان کی بنا پر دھوکہ، ایذا رسانی اور شر وفساد کا کام کر رہے ہیں۔ نیز مرد کو جو طلاق اور رجعت کا حق دیا گیا ہے، اس سے بھی یہ لوگ بہت ہی غلط فائدہ اٹھاتے ہیں، ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی آیات کا کھیل بناتے ہیں اور انہیں اپنی حیلہ سازیوں کے لئے استعمال کرتے ہیں اور اس سارے عمل میں انہیں شرم بھی نہیں آتی۔

اللہ تعالیٰ یہاں انسان کے جذبۂ حیا اور اعتراف نعمت کو بیدار فرماتے ہیں۔ انہیں یاد دلایا جاتا ہے کہ ان پر اللہ نے جو انعام و اکرام کیا ہے ذرا اس پر بھی غور کریں۔ ان پر اس نے اپنی کتاب نازل فرمائی، حکمت و دانائی کے ذخائر سے انہیں نوازا۔ اس وقت کے اہل ایمان کو نعمت الٰہی کا یاد دلانا۔ دراصل اس عظیم انقلاب کی طرف ان کو متوجہ کرنا تھا، جو ان کی پوری زندگی میں تحریک اسلامی کی وجہ سے رونما ہو گیا تھا۔ ان مسلمانوں کے لئے انعامات الٰہی کا یاد دلایا جانا ایک گہرے مفہوم کا حامل تھا۔ شاید آج کے لوگ اس کا اچھی طرح تصور بھی نہیں کرسکتے۔

اہل ایمان، یہ محسوس کرتے تھے کہ انعامات الٰہی میں سے پہلا انعام ان پر یہ ہے کہ جو اس کرۂ ارض پر ایک امت کی حیثیت سے موجود ہیں، ذرا غور کریں کہ عرب اور اعراب اسلام کے آنے سے پہلے تھے کیا ؟ان کی کیا حقیقت تھی ؟ان کی کوئی قابل ذکر حیثیت نہ تھی۔

ان کو دنیا نہ جانتی تھی اور نہ ہی دنیا عربوں کو کچھ سمجھتی تھی۔ وہ قبائل کی شکل میں ٹکڑے ٹکرے تھے۔ نہ ان کا کوئی وزن تھا اور نہ کوئی قیمت تھی۔ ان کے پاس کوئی پیغام نہ تھا کہ وہ یہ پیغام انسانیت کو دیتے اور یوں وہ پہچانے جاتے۔ بلکہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جو وہ خود استعمال کرتے اور دوسری اقوام سے کم از کم بے نیاز تو ہو جاتے۔ غرض وہ تہی دامن تھے، کچھ بھی نہ تھا ان کے پاس۔ نہ کوئی مادی چیز ان کے پاس تھی، نہ کوئی معنوی چیز، نہ مصنوعات اور نہ ہی نظریات۔ وہ فقراء کی طرح غربت کی زندگی بسر کرتے تھے۔ ایک قلیل تعداد ایسی تھی جنہیں خوشحال کہا جا سکتا تھا، لیکن ا سکی خوشحالی بھی ایسی تھی جیسے بدویانہ زندگی ہوتی ہے۔ مثلاً کوئی بدوی کسی ایسی جگہ خیمہ زن ہو جہاں زیادہ شکار ملتا ہو، یعنی یہ خوشحالی بھی بہت سادہ اور ابتدائی قسم کی تھی، جسے آج کی دنیا میں خوش حال بھی نہیں کہا جا سکتا۔

عقل، روح اور ضمیر کے لحاظ سے وہ بالکل تہی دامن تھے۔ عقائد بالکل مہمل، بے ہودہ اور بہت ہی سادہ قسم کے تھے۔ زندگی کا تصور ان کے دماغ میں تھا، وہ بالکل سادہ، ابتدائی اور قبائلی قسم کا تھا۔ ان کی زندگی کا ہم مشغلہ لوٹ مار اور ڈاکے ڈکیتی تک محدود تھا۔ اس سے اگر زیادہ کوئی چیز تھی تو وہ یہ تھی کہ لوگ سخت منتقم المزاج تھے۔ لہو و لعب، شراب و کباب اور جوئے اور قمار کے دلدادہ تھے۔ غرض زندگی کے ہر پہلو میں یہ لوگ بالکل ابتدائی حالت میں تھے۔

یہ تھا قعر مذلت جس میں عرب گرے ہوئے تھے اور یہ تھا اسلام جس نے اس سے انہیں نجات دلائی بلکہ انہیں از سرنو پیدا کیا۔ نئی زندگی دی۔ انہیں پیدا کیا اور عظیم وجود انہیں عطا کیا۔ ایسا وجود جسے پوری انسانیت سے پہچانا۔ اسلام نے انہیں ایک ایسا پیغام دیا، جو انہوں نے پوری انسانیت کو عطا کیا۔ یو ں عرب بھی اس پیغام کی وجہ سے نامور ہو گئے۔

اسلام نے ان کو ایک عظیم نظریۂ حیات دیا، مکمل نظریۂ حیات۔ اس نظریہ حیات نے اس کائنات کی وہ تشریح، دل لگتی تشریح کی جو اس سے قبل کسی نظریۂ حیات نے نہ کی تھی۔ اس نظریۂ حیات نے انہیں قیادت کا مقام عطا کیا اور انہوں نے انسانی تاریخ میں پوری انسانیت کی قیادت کی۔ بہت اعلیٰ و ارفع قیادت کی۔ برادری اقوام میں ان کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اس نظریۂ حیات اور اس پیغام کی بدولت انہوں نے اقوام عالم کی صف میں ایک عالی مقام اور مرتبہ بلند حاصل کیا بلکہ ان کی شخصیت امور عالم میں ممتاز شخصیت بن گئی۔ پھر اس نظریۂ حیات نے انہیں ایک ایسی عظیم قوت کی شکل میں نمودار کیا کہ پوری دنیا اس قوت سے خائف ہو گئی اور اسے قابل قدر اہمیت دینے لگی۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ عربوں کے اردگرد پھیلی شہنشاہیتوں کے خدام سمجھے جاتے تھے۔ یا ایسی گری پڑی قوم اور بدوی قبائل سمجھے جاتے تھے، جن کی طرف سرے سے کوئی متوجہ ہی ہوتا۔ اور پھر سب سے ممتاز چیز یہ کہ اس فقر کے مقابلے میں اسلام نے ان لوگوں کو عظیم دولت و ثروت سے نوازا۔ دولت کے دروازے ہر طرف سے کھل گئے اور تمام دنیا کی ثروت ان کے پاس جمع ہو گئی۔ اور سب سے بڑی چیز یہ کہ اسلام نے امن وسلامتی دی۔ نفس کی سلامتی، گھر کا امن اور معاشرے کا سکوں دیاجس میں عیش و عشرت سے زندگی بسر کرنے لگے۔ ان کے دل مطمئن ہو گئے، ان کے شعور و ضمیر میں فرحت آ گئی اور جو نظام زندگی انہوں نے پایا وہ اس پر جم گئے۔ اور انہیں وہ سربلندی دی، وہ اونچا مقام دیا کہ جہاں سے وہ پوری انسانیت کے گم کردہ راہوں پر نظر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ جاہلیت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں راہ حیات گم کئے ہوئے ہیں اور ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں اور پوری دنیا کی یہی حالت ہے۔ اس مقام بلند پر انہیں احساس ہو جاتا ہے کہ فی الواقعہ وہی اعلون ہیں، وہی سربلند ہیں اور اللہ نے انہیں دولت دی ہے جس سے پوری آباد دنیا محروم ہے۔

ان حالات میں جب قرآن مجید اہل ایمان عربوں کو اپنے انعامات یاد دلاتا ہے تو ان انعامات کی فہرست دینے یا اس دعوت تذکیر پر ان کو زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ خود ان کی پوری زندگی ہی انعامات الٰہیہ کی ایک نمونہ تھی۔ وہی لوگ تھے جو جاہلیت کے زمانے میں ایک عرصے تک پس رہے تھے اور وہی ہیں جو اب اسلامی نظام حیات کی برکات سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ وہ اپنی آنکھوں سے اس عظیم انقلاب کا مشاہدہ کر رہے تھے جس کے بارے میں انسان تصور بھی نہ کرسکتا تھا اور جو اسلام اور قرآن کا ایک زندہ معجزہ تھا۔ وہ اللہ کی کتاب اور اس میں بیان کردہ حکیمانہ فلسفہ حیات کی صورت میں اس نعمت عظمیٰ کا یاد کیا، دیکھ ہی رہے تھے وہ اس کا زندہ نمونہ تھے۔ قرآن انہیں خطاب کر کے کہہ رہا تھا وَمَا أَنْزَلَ عَلَيْكُمْجو تم پر نازل کیا گیا، انہیں مخاطب کر کے کہا گیا تم پر، تاکہ وہ اس انعام کی عظمت کا شعور پیدا کرسکیں۔ اس کی گہرائی تک پہنچ سکیں اور یہ دیکھ سکیں کہ یہ انعام الٰہی ان کے لئے ہے، ان پر حاوی ہے اور ان کے ساتھ چمٹا ہوا ہے۔ اللہ یہ آیات حکمت ان پر نازل کر رہا ہے جو آیات اسلامی نظام زندگی کی تشریح وتکمیل کر رہی ہیں اور مسلمانوں کا عائلی ضابطہ بھی اسی ربانی نظام کا ایک حصہ ہے۔

اب ذرا آخری احساس دیکھئے۔ آخری بار چٹکی بھری جاتی ہے۔ متنبہ کیا جاتا ہے کہ جاگو، سوچو کہ اللہ تو علیم بذات الصدور ہے۔ جانو کہ وہ جاننے والا ہے، سنبھل کر رہو وَاتَّقُوا اللَّہَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ بِكُلِّ شَيْء ٍ عَلِيمٌ”اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے۔ “حیا اور شکر کے بعد اب یہاں خوف اور خبرداری کے جذبات کو بیدار کیا جا رہا ہے۔ یوں نفس انسانی کو ہر طرف سے گھیر کر اسے حسن سلوک، مشفقانہ طرز عمل اور سچائی کا رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

پھر مزید یہ کہ اگر ایک بیچاری کو تم نے طلاق دے دی ہے، اپنی رفاقت کے لائق نہیں سمجھا تو اسے پابند نہ بناؤ۔ اگر وہ عدت پوری کر دیتی ہے تو اب اسے ہر طرح سے، ہر طرف سے آزاد چھوڑ دو۔ اگر وہ اس سابق خاوند کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے اور دونوں اس پر راضی ہو گئے ہیں تو تم اسے اپنی عزت کا مسئلہ نہ بناؤ اور اسے ایسا کرنے دو وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاء َ فَبَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَلا تَعْضُلُوہُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَہُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَہُمْ بِالْمَعْرُوفِ”اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں، تو پھر اس میں مانع نہ ہو، کہ وہ اپنے زیر تجویز شوہروں سے نکاح کر لیں، جبکہ وہ معروف طریقے سے باہم مناکحت پر راضی ہوں۔ ”

ترمذی میں معقل بن یسار سے روایت ہے کہ اس نے اپنی بہن کا نکاح مسلمانوں میں سے کسی سے کرا دیا تھا۔ وہ اس کے پاس کچھ عرصہ رہی پھر اس نے اسے ایک طلاق دے دی لیکن رجوع نہ کیا اور عدت ختم ہو گئی۔ اس کے بعد وہ اسے چاہنے لگا اور عورت اسے چاہنے لگی۔ اب دوسرے پیغام دینے والوں کے ساتھ اس نے بھی دوبارہ اس کا پیغام دیا۔ اس پر معقل نے اسے کہا :اے ذلیل بن ذلیل، میں نے تجھے اپنی بہن دے کر تمہیں اعزاز بخشا، تجھے نکاح کر کے دے دی لیکن تو نے اسے ناحق طلاق دے دی۔ اللہ کی قسم! اب وہ کبھی تمہارے پاس نہ لوٹے گی۔ اور قیامت تک، معقل کہتا ہے :اللہ کو اس بات کا علم تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو چاہتے ہیں اس لئے یہ آیات نازل ہوئیں وَإِذَا طَلَّقْتُمُ……………. لا تَعْلَمُونَجب معقل نے سنا کہ یہ آیات نازل ہو گئی ہیں تو اس نے کہا :میرا رب سنتا ہے۔ میں مطیع فرمان ہو۔ اس کے بعد اس نے اس شخص کو بلایا اور کہا کہ میں تمہیں اپنی بہن نکاح کر کے دیتا ہوں اور میں تمہارا احترام کرتا ہوں۔

اللہ نے جان لیا کہ میاں بیوی دونوں صدق دل سے ازدواجی زندگی کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ اور ایک دوسرے کی طرف مائل ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فوراً ہمدردانہ انداز میں ان کی خواہش کو قبول کر لیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں پر کس قدر شفقت و رحمت ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ کس نرمی چاہتا ہے۔ جماعت مسلمہ کو کس قدر تربیت دیجا رہی ہے۔ اسلامی نظام زندگی کے زیر سایہ وہ مہذب انسان بن رہے ہیں اور اسلامی نظام کے زیر سایہ ان پر ربانی عنایات کی بارش ہو رہی ہے۔ زندگی کے پر موڑ پر ان کی بہترین راہنمائی کیجا رہی ہے۔

اس ممانعت اور تنبیہ کے بعد اب مسلمانوں کے ضمیر اور ان کے وجدان کو جگایا جا رہا ہے ذَلِكَ يُوعَظُ بِہِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكُمْ أَزْكَى لَكُمْ وَأَطْہَرُ وَاللَّہُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ”تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہرگز نہ کرنا، اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان لانے والے ہو، تمہارے لئے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ”

اللہ ورسول پر ایمان ہی وہ عامل ہے جس کی وجہ سے یہ نصیحت دلوں کی تہوں تک پہنچ جاتی ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب یہ دل اس دنیا سے زیادہ تر وسیع دنیا یعنی دار آخرت سے معلق ہوں۔ جب دلوں کی پسند وناپسند اللہ کی رضا کے تابع ہو جاتی ہے۔ جب دلوں میں یہ شعور پیدا ہو جاتا ہے کہ اللہ، جو طرز عمل اختیار کرنے کی ہدایت کرتا ہے، وہی اعلیٰ ہوتا ہے، وہی شائستہ ہوتا ہے اور وہی پاکیزہ ہوتا ہے لہٰذا اہل ایمان کا فرض ہے کہ وہ اسے اپنائیں اور پاکیزگی اور شائستگی اختیار کریں، اپنے لئے بھی اور اپنے پورے معاشرے کے لئے بھی۔ آخر میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ جو ذات تمہارے لئے لائحہ عمل کا انتخاب کرتی ہے، وہ ذات وہ ہے، جو سب کچھ جانتی ہے لہٰذا تمہارا فرض ہے کہ تسلیم و رضا کی حالت میں اس کی ہر بات پر لبیک کہو۔

یو اللہ تعالیٰ عائلی زندگی کے ان چھوٹے چھوٹے معاملات کو بلند کر کے عبادت کے مقام تک پہنچا دیتے ہیں۔ ان معاملات کا تعلق بھی اللہ کی رسی سے ہو جاتا ہے۔ ان کو زمین کی آلودگیوں سے پاک کر دیا جاتا ہے۔ زندگی کی گندگیوں سے صاف کر دیا جاتا ہے اور یہ معاملات اب محض دنیاوی کھینچا تانی یا محض خاندانی اور معاشرتی کشمکش نہیں رہتے جو بالعموم طلاق کے وقت ایک فضا بن جاتی ہے، بلکہ ان کو پاک کر کے خدائی تعلیم کے ساتھ وابستہ کر دیا جاتا ہے۔

اگلا حکم طلاق کے بعد، بچے کی پرورش اور دودھ پلانے کے بارے میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر اوقات محض تکمیل طلاق سے میاں بیوی کے باہمی معاملات ختم نہیں ہو جاتے۔ اکثر اوقات بچے رہ جاتے ہیں جن کی پرورش میں دونوں نے حصہ لیا ہوتا ہے۔ جواب بھی دونوں کے لئے باہمی رابطے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ اگر والدین کی باہم نہیں نبھتی تو چھوٹے لوگوں کا قصور کیا ہے ؟ان کے لئے تو مناسب اور تفصیلی گارنٹی ہونی چاہئے تاکہ وہ عملی زندگی میں قدم رکھنے کے قابل بن سکیں، ایسی گارنٹی جو سب حالات میں ان کے لئے مفید ہو:

 

“جو باپ چاہتے ہوں کہ ان کی اولاد پوری مدت رضاعت تک دودھ پئے، تو مائیں اپنے بچوں کو کامل دوسال دودھ پلائیں۔ اس صورت میں بچے کے باپ کو معروف طریقے سے انہیں کھانا کپڑا دینا ہو گا۔ مگر کسی پر اس کی وسعت سے زیادہ بڑھ کر بار نہ ڈالنا چاہئے۔ نہ تو ماں کو اس وجہ سے تکلیف میں ڈالا جائے کہ بچہ اس کا ہے، نہ ہی باپ کو اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ بچہ اس کا ہے۔ دودھ پلانے والی کا یہ حق جیسا کہ بچے کے باپ پر ہے، ویسا ہی اس کے وارث پر بھی ہے۔ لیکن اگر فریقین باہمی رضامندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں، تو ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اگر تمہارا خیال اپنی اولاد کو کسی غیر عورت سے دودھ پلوانے کا ہو تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ اس کا جو کچھ معاوضہ طے کر دو، وہ معروف طریقے پر ادا کرو۔ اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو، سب اللہ کی نظر میں ہے۔ ” (٢٣٣)

 

مطلقہ والدہ، اپنے بچوں کے بارے میں بالخصوص دودھ پینے والے بچوں کے بارے میں بری الذمہ نہیں ہے۔ اس پر اس سلسلے میں فرائض عائد ہوتے ہیں۔ یہ فرائض اللہ تعالیٰ کی جانب سے عائد ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو آزاد نہیں چھوڑ دیا کیونکہ ایسے حالات میں، اگر عورت کو …………….اپنی فطرت کے مطابق آزاد چھوڑ دیا جائے تو کشیدہ تعلقات کی وجہ سے کوئی غلط فیصلہ بھی کرسکتی ہے اور اس غلط فیصلے کے نتیجے میں بچہ ضائع ہوسکتا ہے، اسے نقصان پہنچ سکتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ یہاں بچوں کے لئے ضابطہ وضع فرماتے ہیں اور والدہ پر فرض کر دیتے ہیں کہ وہ ایسے حالات میں کوئی ایسا رویہ اختیار نہ کرے جس سے بچے کو نقصان پہنچے۔ اللہ ہم سے بھی، ہمارے ساتھ زیادہ محبت ہے۔ وہ سب سے زیادہ مہربان ہے بلکہ والدین سے بھی زیادہ رحیم و کریم ہے۔ ماں کا فرض ہے کہ وہ پورے دوسال تک بچے کو دودھ پلائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ اس بات سے واقف ہیں کہ اصول صحت کے لحاظ سے بچے کے لئے دوسال کے عرصہ تک دودھ پینا ضروری ہے۔ صحت کے اصولوں کے لحاظ سے بھی اور نفسیاتی اصولوں کے اعتبار سے بھی لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَۃَ”جو لوگ پوری مدت رضاعت تک دودھ پلانا چاہیں۔ “جدید اصول صحت اور جدید اصول نفسیات کی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحت اور نفسیات دونوں اعتبار سے بچے کو اپنی ماں کی گود میں ہونا ضروری ہے۔ تاکہ دونوں لحاظ سے وہ صحیح نشوونما پا سکے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی نعمت نے اس وقت کا انتظار نہ کیا کہ مسلمان از خود، اصول فطرت کے ان رازوں تک رسائی حاصل کریں اور پھر ان پر عمل پیرا ہوں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ صدیوں تک بچوں کی قیمتی نسل کو انسان کی جہالت کے حوالے نہیں فرما سکتے تھے۔ اللہ تو اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے۔ بالخصوص ان چھوٹے اور بے بس بچوں پر تو وہ بہت مہربان ہے۔ کیونکہ وہ اس کے رحم و شفقت کے زیادہ محتاج ہیں۔

لیکن والدہ پر جو فرض عائد کیا گیا ہے، اس کے مقابلے میں اسے حق بھی دیا گیا ہے اور یہ حق والد کے ذمہ ہے یہ کہ وہ والدہ کو معروف طریقے کے مطابق نفقہ اور لباس فراہم کرے۔ اور اس کے ساتھ حسن سلوک کرے، کیونکہ بچوں کے معاملے میں دونوں شریک ہیں۔ اور دودھ پینے والے اس چھوٹے بچے کے مقابلے میں دونوں مسئول ہیں، وہ اسے دودھ پلائے گی اور دیکھ بھال کرے گی اور والد اس کی ماں کو نفقہ اور لباس فراہم کرے گا۔ دونوں اپنے فرائض ادا کریں گے۔ اپنی اپنی طاقت کی حدود میں۔ لا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلا وُسْعَہَا”کسی پر ا س کی وسعت سے بڑھ کر بار نہ ڈالا جائے۔ ”

اور یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ والدین میں کوئی بھی اس بچے کو اذیت وانتقام کاوسیلہ بنائے لا تُضَارَّ وَالِدَۃٌ بِوَلَدِہَا وَلا مَوْلُودٌ لَہُ بِوَلَدِہِ”نہ تو ماں کو اس وجہ سے تکلیف میں ڈالا جائے کہ بچہ اس کا ہے، نہ ہی باپ کو اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ بچہ اس کا ہے۔ ”

ماں کو بچے سے بے حد محبت ہوتی ہے۔ وہ بچے کے سوا زندہ نہیں رہ سکتی۔ باپ کے لئے یہ مناسب نہیں کہ ماں کی محبت سے ناجائز فائدہ اٹھائے اور اسے ایسی شرائط پر مجبور کر دے جو معروف نہ ہوں۔ نہ ہی ماں کے لئے یہ مناسب ہے کہ وہ والد کی مجبوری اور اس کی محبت سے غلط فائدہ اٹھائے اور اس پر ایسا بوجھ ڈالے جو اس کی قوت برداشت سوے زیادہ ہو، یا ضد میں آ کر سرے سے انکار کر دے۔

اگر والد فوت ہو جائے تو اس کے ورثاء پر یہی فرائض عائد ہوتے ہیں جو بچے کے والد پر عائد ہوتے ہیں۔ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ”اور وارث پر بھی اس کے ورثاء کے ایسے ہی حقوق ہیں جس طرح والد پر ہیں۔ “وارث کا یہ فرض ہے کہ وہ دودھ پلانے والی کو خرچہ اور کپڑے دے، معروف طریقے کے مطابق اور حسن سلوک کے ساتھ۔ اس لئے معاشرہ کی اجتماعی ذمہ داریاں پوری کی جا سکیں۔ ایک طرف میت کی میراث وارثوں کو ملے تو دوسری طرف میت کے ذمہ جو عائد فرائض ہیں وہ بھی وارثوں پر عائد ہوں۔ اس طرح اگر کبھی ایسا ہو کہ بچے کا والد فوت ہو جائے توبچہ ضائع نہ ہو۔ یوں اسلامی نظام میں ایسے بچے اور اس کی والدہ دونوں کے حقوق ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جاتے ہیں۔

ان تمام احتیاطی تدابیر کے بعد اب قرآن مجید حالت رضاعت کی ایک دوسری صورت کی طرف متوجہ ہوتا ہے فَإِنْ أَرَادَا فِصَالا عَنْ تَرَاضٍ مِنْہُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلا جُنَاحَ عَلَيْہِمَا”اگر فریقین باہمی رضامندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں، تو ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ “اگر والد اور والدہ یا وارث اور والدہ باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کر لیں کہ دوسال کا عرصہ پورا ہونے سے پہلے ہی بچے کا دودھ چھڑا لیں، اس لئے کہ اسی میں بچے کی مصلحت ہے، مثلاً اصول صحت کے اعتبارسے یا اور کسی وجہ سے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بشرطیکہ یہ فیصلہ دونوں فریقوں کی رضامندی اور مشورے سے ہو۔ اور اس میں بچے کے لئے کوئی مصلحت ہو، جس کی تربیت ان دونوں کے حوالہ سے ہے، جس کی دیکھ بھال ان دونوں پر منجانب اللہ فرض ہے۔

یہی حکم اس صورت میں ہے کہ والدہ کی خواہش یہ ہو کہ وہ اجرت پر کسی بچے کو کسی کا دودھ پلائے۔ بشرطیکہ بچے کا مفاد اس میں ہو، بشرطیکہ وہ دودھ پلانے والی کو طے شدہ اجرت ادا کرے۔ اور اس کے ساتھ بھی حسن سلوک اختیار کر کے۔ وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلادَكُمْ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ”اگر تمہاراخیال اپنی اولاد کو کسی غیر عورت سے دودھ پلوانے کا ہو، تو اس میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ اس کا جو کچھ معاوضہ طے کر دو، معروف طریقے سے ادا کرو۔ “یہ ادائیگی اس بات کی ضمانت ہو گی کہ دودھ پلانے والی بچے کے ساتھ اچھا سلوک رکھے گی۔ اس کی خدمت کرے گی اور اس کی ہر ضرورت کو پوری کرے گی۔ اور آخر کار پھر اس سارے معاملہ کو اللہ کے ساتھ وابستہ کر دیا جاتا ہے۔ تقویٰ کے ساتھ وابستہ کر دیا جاتا ہے۔ اس گہرے اور لطیف شعور سے وابستہ کر دیا جاتا ہے، جو وہ کام کرسکتا ہے جو دوسرے ذرائع سے نہ کیا جا سکتا ہو یا نہ کرایا جا سکتاہو وَاتَّقُوا اللَّہَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ”اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ جو کچھ کام تم کرتے ہو، سب اللہ کی نظر میں ہے۔ “یہ ہے وہ آخری ضمانت۔ پختہ گارنٹی اور یہی وہ آخری ضمانت ہے جو قابل اعتماد ہے۔

مطلقات یعنی مطلقہ عورتوں کے بارے میں احکام بیان کرنے اور طلاق کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاملات کے بارے میں قانون سازی کے بعد، اب اس عورت کا حکم بیان ہوتا ہے، جس کا خاوند فوت ہو جائے۔ اس کی عدت کا حکم، عدت کے اختتام کے بعد اسے نکاح ثانی کی پیشکش دینے کے بارے میں اور دوران عدت کنایوں سے خواہش نکاح کرنے کے سلسلے میں احکام:

 

“تم میں سے جو لوگ مر جائیں، ان کے پیچھے اگر ان کی بیویاں زندہ ہوں، تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے دس دن روکے رکھیں، پھر جب ان کی مدت پوری ہو جائے، تو انہیں اختیار ہے، اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے جو چاہیں کریں۔ تم پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ اللہ تم سب کے اعمال سے باخبر ہے۔ زمانہ عدت میں خواہ تم ان پر بیوہ عورتوں کے ساتھ منگنی کا ارادہ اشارے کنایے میں ظاہر کر دو، خواہ دل میں چھپائے رکھو، دونوں صورتوں میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ ان کا خیال تو تمہارے دل میں آئے گا ہی۔ مگر دیکھو، خفیہ عہد و پیمان نہ کرنا۔ اگر کوئی بات کرنی ہے تو معروف طریقے سے کرو۔ اور عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ اس وقت تک نہ کرو جب تک کہ عدت پوری نہ ہو جائے۔ خوب سمجھ لو کہ اللہ تمہارے دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ لہٰذا ا س سے ڈرو اور یہ بھی جان لو کہ اللہ بردبار ہے۔ (چھوٹی چھوٹی )باتوں سے درگزر فرماتا ہے۔ ” (۲۳۴، ۲۳۵)

 

دور جاہلیت میں، جس عورت کا خاوند فوت ہو جاتا، وہ بیچاری سخت مصیبت میں مبتلا ہو جاتی۔ اہل خاندان، مرد کے اہل خاندان اور پورا معاشرہ اس پر ظلم کرتا۔ عربوں میں رواج یہ تھا کہ جب اس کا خاوند فوت ہو جاتا تو وہ ایک خستہ حال مکان میں چلی جاتی، سب سے بے کار کپڑے پہن لیتی۔ وہ ایک سال تک خوشبو نہ لگا سکتی اور نہ ہی زیب و زینت کا کوئی کام کرسکتی۔ اس کے بعد یہ زمانہ جاہلیت چند جاہلانہ رسومات کی ادائیگی پر ختم ہو جاتا، جو سب کی سب توہین آمیز اور گری ہوئی تھیں۔ جیسا کہ جاہلیت کی دوسری رسومات ہوا کرتی تھیں۔ مثلاً وہ اونٹ کی مینگنی لیتی اور اسے پھینکتی۔ کسی سواری مثلاً گدھے یا بکری پر سوار ہوتی وغیرہ وغیرہ لیکن جب اسلام آیا تو اس نے اس بیچاری کو ان تمام مصیبتوں سے چھڑایا۔ اس کے کندھوں سے یہ تمام بوجھ اتار دیئے۔ اس کے بعد وہ بیک وقت دو مصیبتوں میں گرفتار نہ ہوتی، ایک تو خاوند فوت ہو جائے اور دوسرے اہل خاندان اس کے ساتھ برا سلوک کریں۔ اس پر شریفانہ زندگی کے تمام دروازے بند کر دیں اور مطمئن ہو کر عائلی زندگی گزارنے کے لئے آزاد نہ ہونے دیں۔ اسلام نے اس کی عدت چار ماہ اور دس دن مقرر کئے بشرطیکہ حاملہ نہ ہو، ورنہ اس کی عدت وضع حمل ہو گی، یہ عدت مطلقہ کی عدت سے قدرے طویل ہے۔ اس میں ایک طرف تو اس کا رحم صاف ہو گا۔ یہ شبہ نہ رہے گا کہ سابق خاوند کے کچھ آثاراس میں ہیں۔ اور چار ماہ دس دن کے انتظار میں یہ فائدہ بھی ہو گا کہ خاوند کے اہل خاندان کے جذبات بھی مجروح نہ ہوں گے، کیونکہ ادھر خاوند فوت ہوا، ادھر عورت دوسرے خاوند کی تلاش میں نکل پڑے تو خاوند کے اہل خاندان لازماً اسے محسوس کریں گے۔ اس عدت کے دوران میں اچھے کپڑے زیب تن کرنے کی اجازت ہو گی، البتہ وہ ایسے کپڑے نہ پہنے گی جن کی وجہ سے لوگ اسے نکاح ثانی کا پیغام دیں۔ اور جب عدت ختم ہو جائے تو اب وہ مکمل آزاد ہے، اس پر کسی کا کوئی اختیار نہیں ہے، نہ اس کے اپنے خاندان کی طرف سے اور نہ ہی اس کے خاوند کے خاندان کی طرف سے۔ وہ معروف طریقے سے اپنے لئے جو شریفانہ رویہ اختیار کرنا چاہے، قرآن وسنت کے مطابق وہ آزادانہ طور پر اپنے لئے اختیار کرسکتی ہے۔ مسلمان عورتوں کے لئے وہ زیب و زینت جائز ہے وہ اسے اختیار کرسکتی ہے وہ پیغام نکاح حصول کرسکتی ہے۔ وہ جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔ اب اس کی راہ میں کوئی جاہلی رسم رکاوٹ نہیں ہے۔ اور نہ کوئی کھوٹا تکبر و غرور اسے روک سکتا ہے۔ اب اس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی رقیب و نگراں نہیں ہے وَاللَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ”جو تم کام کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے۔ ”

یہ تو تھی عورت۔ اب اللہ تعالیٰ مردوں کو بھی ہدایات دیتے ہیں جو اس عورت کو نکاح میں لانا چاہتے ہیں، لیکن وہ عدت گزار رہی ہے۔ ان کو ایسی ہدایت دی جاتی ہے کہ جس میں ذاتی آداب، اجتماعی آداب، فریقین کے جذبات و میلانات اور ایسے مرحلے کے مصالح اور تقاضوں سب کو ملحوظ رکھا گیا ہے :

وَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِہِ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَاء ِ أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ”زمانۂ عدت میں خواہ تم ان بیوہ عورتوں کے ساتھ منگنی کا ارادہ اشارے کنایے میں ظاہر کر دو، خواہ وہ دل میں چھپائے رکھو، دونوں صورتوں میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ”

دوران عدت عورت کے ساتھ، میت کے خاندان کی کچھ ایسی یادیں وابستہ ہوتی ہیں، جو ابھی تک زندہ ہوتی ہیں۔ پھر ابھی تک اس بات کا امکان بھی ہوتا ہے کہ اس کے رحم میں حمل کے آثار نمایاں ہو جائیں یا حمل واضح ہے اور عدت وضع حمل تک متعلق ہے۔ یہ تمام حالات ایسے ہیں، جن میں کوئی شریف عورت مناسب نہیں سمجھتی کہ بصراحت جدید ازدواجی زندگی کے سلسلے میں کوئی بات کرسکے، کیونکہ ایسے حالات میں ایسی باتوں کا ہونا مناسب نہیں ہوتا۔ اس طرح عورت کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور ابھی یادیں تازہ تازہ ہوئی ہیں۔

ان آداب کا لحاظ کرتے ہوئے، اشارے، کنایے میں بات کرنے کو جائز قرار دیا گیا ہے، لیکن بصراحت کوئی معاملہ طے کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اشارہ ایسا ہو کہ س سے عور ت یہ سمجھ جائے کہ یہ مرد اسے بحیثیت رفیقہ حیات لینے میں دلچسپی رکھتا ہے، لیکن کنایات میں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اس اشارے کنایے کی یہ مثال بیان کی ہے۔ مجھے ایک رفیقہ حیات کی ضرورت ہے۔ مجھے عورتوں سے دلچسپی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی صالح رفیقہ حیات مل جائے۔

اسی طرح قرآن کریم نے دلی رغبت اور خواہش کی بھی کوئی ممانعت نہیں کی ہے۔ بشرطیکہ اس کی کوئی صراحت نہ کی گئی ہو اور نہ ہی اشارہ کنایہ سے ظاہر کی گئی ہو۔ اس لئے کہ دلی خواہش پر انسان کوئی ضبط نہیں کرسکتا۔ دل پر کوئی کنٹرول کس طرح کرسکتا ہے :

عَلِمَ اللَّہُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَہُنَّ “اللہ جانتا ہے کہ ان کا خیال تو تمہارے دل میں آئے گاہی۔ ”

یہ اللہ تعالیٰ نے اس لئے جائز قرار دیا ہے کہ یہ فطری میلان ہے۔ اور بذات خود نکاح جائز ہے۔ اس میں کسی قسم کی ممانعت نہیں ہے۔ یہاں بعض خارجی اسباب کی بنا پر اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ بصراحت شادی کا پیغام دوران عدت میں نہ دیا جائے۔ کوئی عملی قدم نہ اٹھایا جائے۔ اسلام فطری میلانات کا قلع قمع کرنا نہیں چاہتا۔ بلکہ وہ انہیں تہذیب کے دائرے میں لاتا ہے اور ان کی اصلاح کرتا ہے۔ وہ انسان کے طبیعی جذبات کو دباتا نہیں بلکہ ان کی ضابطہ بندی کرتا ہے۔ اس معاملے میں وہ صرف ایسی پابندیاں عائد کرتا ہے جو شعور کی پاکیزگی کے خلاف ہوں اور جو ضمیر کی طہارت کے منافی ہوں : وَلَكِنْ لا تُوَاعِدُوہُنَّ سِرًّا”مگر ان کے ساتھ خفیہ عہد و پیمان نہ کرو۔ “اس پر کوئی مواخذہ نہ ہو گا کہ تم منگنی کی طرف اشاروں کنایوں میں عورت کی توجہ مبذول کر دو۔ یا تم دل ہی دل میں نکاح کی خواہش رکھو۔ ممنوع یہ ہے کہ تم خفیہ طور پر عدت گزارنے سے پہلے ہی نکاح کا کوئی معاہدہ کر لو۔ یہ فعل آداب نفسیات کے خلاف ہے، سابقہ خاوند کی یادوں کو مجروح کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ازدواجی زندگی کے دو ادوار کے درمیان عرصہ عدت کو حد فاصل رکھا ہے، ہمیں ایسا کرنے سے حیاء آنا چاہئے اور ایسا کرنے سے انقضائے عدت تک باز رہنا چاہئے إِلا أَنْ تَقُولُوا قَوْلا مَعْرُوفًا”اگر کوئی بات کرنی ہے تو معروف طریقے سے کرو۔ ”

جس میں کوئی ناپسندیدہ بات نہ ہو، کوئی فحش بات نہ ہو اور کوئی ایسی بات نہ ہو، جس کے ذریعے اللہ کے وہ حدود ٹوٹتے ہوں، جو اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے مقرر کئے ہیں وَلا تَعْزِمُوا عُقْدَۃَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَہُ”اور عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ اس وقت تک نہ کرو جب تک کہ عدت پوری نہ ہو جائے۔ “یہاں قرآن مجید کے الفاظ قابل غور ہیں۔ یہ نہیں کہا :”تم نکاح نہ کرو”یا “عقد نکاح نہ باندھو”بلکہ یہ کہا ہے :”عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ نہ کرو۔ “”مقصد یہ ہے کہ دوران عدت عقد نکاح باندھنے سے سخت گریز کرو۔ یہاں تک کہ اس کا فیصلہ بھی نہ کرو۔ “کیونکہ فیصلہ عقد کے نتیجے ہی میں عقد وجود میں آتا ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔

قرآن مجید کی اس قسم کی لطیف طرز ادا کی طرف ہم اوپر آیت تِلکَ حُدُودُاللّٰہِ فَلَا تَقرَبُوھَا “یہ اللہ کی حدیں ہیں، ان کے قریب ہی نہ جاؤ۔ “میں بیان کر آئے ہیں۔ یعنی قرآن مجید محض ایک لفظ کے انتخاب کے ذریعہ ایک ایسے مفہوم کی طرف اشارہ کر دیت ہے جو نہایت ہی لطیف و دقیق ہوتا ہے وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنْفُسِكُمْ”خوب سمجھ لو کہ اللہ تمہارے دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ لہٰذا اس سے ڈرو۔ “یہاں آ کر قرآن مجید اپنے منہاج کے عین مطابق قانون سازی اور اللہ خوفی کو باہم مربوط کر دیتا ہے، بتاتا ہے کہ اللہ جو قانون بنا رہا ہے وہ تمہارے دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے۔ مرد وزن کے باہمی تعلقات کا گہرے میلانات اور خفیہ جذبات سے گہرا تعلق ہے۔ اس تعلق میں دل کو دل سے ربط ہوتا ہے، ایک دوسر کی محبت دلوں کی تہوں تک پہنچی ہوئی ہوتی ہے۔ اس لئے یہاں انہیں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اللہ تو تمہارے ہر راز سے واقف ہے۔ تمہارے دلی بھیدوں کا جاننے والا ہے۔ خبردار رہو!اس سے ڈرو! اور اللہ کے حدود اور اللہ کے قانون کے سلسلے میں تمہاری حیلہ سازی یا کوئی بات خفیہ اور راز، اس کے مقابلے میں نہ رہ سکے گی۔ خبردار!

اب تک انسانی ضمیر کو خوف دلا کر متنبہ کر کے جھنجھوڑ دیا گیا، وہ جاگ اٹھا اور اس کے اندر احتیاط اور اللہ خوفی پیدا کر دی گئی۔ تو خدائے رحیم شفیق و کریم دیر کئے بغیر خود اسے تسلی بھی دے دیتے ہیں، اطمینان قلب کا سامان بھی فراہم کر دیا جاتا ہے۔ یقین دلایا جاتا ہے کہ وہ تو غفور و رحیم ہے۔ وہ نہایت بردبار ہے اور سزا دہی میں جلدی نہیں کرتا۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ غَفُورٌ حَلِيمٌ”اور جان لو کہ اللہ بردبار ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں سے درگزر فرماتا ہے۔ “وہ تو بخشنے والا ہے اور اس دل کی خطا معاف کر دیتا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کا شعور ہو، جو اپنی پوشیدہ اور نہفتہ بھیدوں کے بارے میں محتاط ہو۔ وہ حلیم اور بردبار ہے۔ سزا دہی میں جلدی نہیں کرتا، اس انتظار میں کہ بیچارہ بندہ عاجز بندہ، شاید باز آ جائے اور توبہ تائب ہو جائے۔

سلسلہ عائلی احکام جاری ہے، اب اس عورت کے احکام آتے ہیں جس کو رخصتی سے پہلے طلاق دے دی جائے۔ یہ صورت ان سے مختلف ہے، جن میں مطلقہ عورتوں کے ساتھ شب باشی ہو چکی ہو، جن کا بیان پوری طرح ہو چکا ہے۔ یہ ایسی صورت ہے جو اکثر بیشتر آتی رہتی ہے، اس صورت میں حقوق الزوجین یہ ہیں :

 

“تم پر کچھ گناہ نہیں، اگر اپنی عورتوں کو طلاق دے دو، قبل اس کے کہ ہاتھ لگانے کی نوبت آئے یا مہر مقرر ہو۔ اس صورت میں انہیں کچھ نہ کچھ دینا ضرور چاہئے۔ خوشحال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور غریب اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ سے دے۔ یہ حق ہے نیک آدمیوں پر۔ اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی ہو، لیکن مہر مقرر کیا جا چکا ہو تو اس صورت میں نصف مہر دینا ہو گا۔ یہ اور بات ہے کہ عورت نرمی برتے (اور مہر نہ لے )یا وہ مرد، جس کے اختیار میں عقد نکاح ہے، نرمی سے کام لے (اور پورا مہر دے دے )اور تم (یعنی مرد)نرمی سے کام لو، یہ تو تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو۔ تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے۔ ” (۲۳۶، ۲۳۷)

 

اس میں دو حالتیں ہیں۔ پہلی حالت یہ ہے مطلقہ کو اپنی وسعت کے مطابق کچھ سازوسامان دے۔ اس سے تو ایک تو عورت کی دلجوئی ہو گی اور نفسیاتی طور پر دونوں خاندانوں کے درمیان خوشگواری پیدا ہو گی اور دوسرے یہ کہ اسے کچھ نہ کچھ مالی فائدہ ہو گا۔ اس طرح کی جدائی سے عورت اپنے لئے کرب اور درد محسوس کرتی ہے۔ یہ اس کے لئے عمر بھر کا طعنہ اور دشمنی بن جاتی ہے۔ ایسے حالات میں اگر اسے بطور تحفہ کچھ دے دے تو اس سے نفسیاتی طور پر اس عورت کے برے احساسات میں کمی آسکتی ہے اور دونوں خاندانوں کے درمیان کشمکش، کشیدہ تعلقات کے بادل چھٹ سکتے ہیں اور یہ تحفہ اس قسم کا اظہار محبت ہوسکتا ہے اور ساتھ ہی اعتراف جرم اور معذرت بھی۔ اس سے خود مرد کی جانب سے بھی اس بات کا اظہار ہو گا کہ وہ خود بھی اس طلاق اور جدائی پر متاسف ہے، معذرت خواہ ہے۔ یہ کہ یہ باہمی تعلقات کی یہ ایک ناکام کوشش تھی لیکن یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے باہمی حسن سلوک کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا جائے۔ اس لئے یہاں وصیت کی گئی کہ اس صورت میں عورت کو کچھ نہ کچھ ضرور دیا جائے معروف طریقے کے مطابق تاکہ فریقین کے درمیان انسانی بنیادوں پر انس و محبت قائم رہ سکے اور ٹوٹے ہوئے تعلقات کی اچھی یادیں باقی رہیں۔ لیکن قرآن مجید ساتھ ساتھ یہ ہدایات بھی کر دیتا ہے کہ خاوند پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔ غنی اپنی مقدرت کے مطابق اور نادار آدمی اپنی وسعت کے مطابق دے عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُہُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُہُ”خوشحال آدمی اپنی مقدر ت کے مطابق اور غریب اپنی مقدرت کے مطابق۔ ”

اشارہ کیا جاتا ہے کہ یہ تحفہ معروف طریقے کے مطابق احسان سے ہوتا ہے کہ خشک دلوں میں تازگی پیدا ہو جائے اور باہمی تعلقات کی فضا پر جو گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں وہ چھٹ جائیں۔ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ”یہ تحفہ ہے معروف طریقے کے مطابق اور یہ حق ہے نیک آدمیوں پر۔ ”

دوسری صورت یہ ہے کہ مباشرت سے پہلے ہی طلاق دے دی جائے، لیکن نکاح کے ساتھ مہر بھی مقرر کر دیا گیا ہو۔ اس صورت میں مہر کا نصف حصہ واجب ہو گا۔ یہ تو ہے قانون، لیکن قرآن مجید قانون کے بجائے معاملہ مہربانی حسن سلوک اور سہولت پر چھوڑ دیتا ہے۔ عورت اور اگر وہ بالغ ہے تو اس کے ولی نکاح کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ معاف کرے اور اپنے قانونی حق سے دستبردار ہو جائے۔ ایسے کشیدہ حالات میں جو فریق اپنے حق سے دستبردار ہو جاتا ہے، دراصل بہت ہی شریف النفس، خوش اخلاق، بردبار اور معاف کرنے والا ہوتا ہے۔ وہ کسی ایسے شخص کے مال کو بھی ا سی کے پاس رہنے دیتا ہے، جس کے ساتھ اب دوسرے تعلقات باقی نہیں رہے۔ لیکن قرآن مجید آخر تک اس کوشش میں ہے کہ ان کے درمیان کدورتیں صاف ہو جائیں۔ ان میں کوئی کدورت نہ رہے اور دل ہلکے ہو جائیں وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَلا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّہَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ”اور اگرتم نرمی سے کام لو تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسب ہے۔ آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو، تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے۔ ”

سب سے آخر میں تقویٰ کے احساس کو تیز کیا جاتا ہے۔ باہمی حسن سلوک اور احسان کے رویہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ اپنے دلوں میں یہ شعور پیدا کرو کہ اللہ تعالیٰ دیکھنے والا ہے اور نگران ہے تاکہ تمہارے باہمی تعلقات میں حسن سلوک، نرمی اور احسان کی فضا غالب رہے، چاہے تعلقات رشتہ داری کامیاب ہوں یا ناکام ہو چکے ہوں۔ دلوں کو صاف اور خالی رہنا چاہئے اور ہر حال میں تعلق باللہ قائم اور پختہ رہنا چاہئے۔

مندرجہ بالا تمام احکام میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ دلوں کا رابطہ اور تعلق باللہ مضبوط ہو جائے اور یہ سعی کی گئی ہے کہ باہمی معاشرت میں نیکی اور احسان کو عبادت سمجھا جائے، ایسی فضا کے عین بیچ میں نماز کا ذکر کر دیا جاتا ہے جو اسلام کی سب سے بڑی اور اہم عبادت ہے۔ حالانکہ ابھی تک عائلی احکام کا بیان جاری تھا اور وہ ختم نہ ہوئے تھے۔ ابھی ایک حکم یہ باقی تھا کہ جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے۔ اس کے حق میں یہ وصیت کی جائے کہ اسے ایک سال تک گھر سے نہ نکالا جائے اور نان و نفقہ دیا جائے۔ دوسرا یہ کہ مطلقہ عورتوں کو بالعموم کچھ نہ کچھ سامان بطور تحفہ دے دیا جائے۔ اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ جس طرح نماز ایک عبادت ہے اس طرح ان احکام پر عمل کرنا عبادت ہے۔ یہ دونوں امور اللہ کی بندگی میں آتے ہیں۔ یہ ایک بہت ہی لطیف اشارہ ہے اور یہ اشارہ انسان کی تخلیق کے بارے میں ہے، اسلامی نقطہ نظر کے عین مطابق ہے۔ اللہ انسان کے بارے میں فرماتے ہیں وَمَاخَلَقتُ الجِنَّ وَالاِنسَ اِلَّا لِیَعبُدُونِ “میں نے جن وانس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔ “(عبادت اور بندگی صرف ان چیزوں میں نہیں ہے جو شعائر عبادات ہیں بلکہ ہر وہ کام عبادت ہے جس میں انسان اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور ا س کا مقصد، اس کام سے صرف یہ ہو کہ اللہ کی اطاعت کی جائے۔ )

حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاۃِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّہِ قَانِتِينَ (٢٣٨)فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالا أَوْ رُكْبَانًا فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّہَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ(٢٣٩)

“اپنی نمازوں کی نگہداشت رکھو، خصوصاً اس نماز کی جو درمیان میں ہے۔ اللہ کے آگے اس طرح کھڑے ہو جیسے فرمان بردار غلام کھڑے ہوتے ہیں۔ بدامنی کی حالت ہو، تو خواہ پیدل ہو، خواہ سوار ہو، جس طرح ممکن ہو نماز پڑھو۔ اور جب امن میسر آ جائے تو اللہ کو اس طریقے سے یاد کرو جو اس نے تمہیں سکھایا دیا ہے۔ جس سے تم پہلے ناواقف تھے۔ “یہاں حکم دیا جاتا ہے نماز کی حفاظت کرو۔ یعنی اسے اپنے وقت پر، تمام ارکان نماز صحیح ادا کرتے ہوئے تمام شرائط پوری کرتے ہوئے ادا کرو۔ راجح قول یہ ہے کہ صلوٰۃ وسطی سے نماز عصر مراد ہے۔ یو م احزاب کے موقع پر رسولﷺنے فرمایا:”ہمیں ان لوگوں نے درمیانی نماز سے مشغول کر دیا، نماز عصر سے، اللہ ان کے گھروں اور دلوں کو آگ سے بھر دے۔ “نماز عصر کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے کیا گیا کہ اکثر اوقات قیلولہ کے بعد نماز آتی ہے اور اس کے قضا ہونے یا موخر ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔

راجح قول یہ ہے کہ قنوت کے معنی عاجزی اور خشوع کے ہیں۔ نماز میں اس کی یاد کی طرف یکسو ہو جانے کا مفہوم بھی اس میں داخل ہے۔ ایک وقت تک سخت ضرورت کے وقت مسلمان، نماز کے دوران، ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کر لیا کرتے تھے۔ اس آیت کے نزول کے بعد مسلمانوں نے جان لیا کہ اللہ کے ذکر، خشوع اور یکسوئی کے سوا کوئی اور شغل نماز کے دوران جائز نہیں ہے۔

اگر حالت خوف و خطر کی ہو اور ممکن نہ ہو کہ قبلہ رخ ہو کر نماز ادا کی جا سکے تو بھی نماز ادا ہو گی۔ اسے موقوف نہ کیا جائے گا۔ اگر کوئی سواری پر سوار ہے یا کوئی خطرے کی حالت میں ہے مدافعت پر مامور ہے تو اس کے لئے جس طرح ممکن ہو، اس طرف منہ کر کے پڑھ لے۔ اشارے سے پڑھے اور رکوع وسجود کے لئے خفیف اشارہ کرے۔ یہ نماز اس سے مختلف ہے، جسے صلوٰۃ الخوف کہا جاتا ہے۔ اور جس کی تفصیل سورت نساء میں بیان کی گئی ہے۔ وہ نماز ایسی حالت میں ادا ہوتی ہے، جہاں ایسے حالات ہوں کہ مسلمانوں کا صف میں کھڑا ہونا ممکن ہو، یوں امام کھڑا ہو اور ایک صف آ کر ایک رکعت پڑھ لے۔ پھر دوسری صف آ جائے اور وہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لے۔ اور دوسری صف اس کی حفاظت میں کھڑی رہے۔ یہاں جس نماز کا ذکر کیا گیا ہے، اس سے مراد وہ نماز ہے، جو ایسے حالات میں ادا کی جا رہی ہو جہاں جنگ عملاً شروع ہو، تلواریں چل رہی ہوں، فائرنگ ہو رہی ہو اور صف بستہ ہونا ممکن نہ ہو۔

یہ ایک عجیب بات ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نماز کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ مسلمانوں کو یہاں اشارہً بتایا جاتا ہے کہ خوف اور شدائد جنگ کی انتہائی حالت میں بھی نماز پڑھنی چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قدر خوف میں، عین جنگ کے وقت، تلوار ہاتھ میں ہو بلکہ دشمن کی تلوار سر پر ہے، لیکن نماز کی ادا ہو رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نماز مردِ مومن کا اسلحہ ہے، اس کا سامان جنگ ہے۔ وہ مومن ایک دفاعی تدبیر ہے۔ ایسے حالات میں مومن نماز میں کھڑا ہو جاتا ہے تو وہ اللہ تک پہنچ جاتا ہے اور یہی وقت ایسا ہوتا ہے جس میں اللہ تک پہنچنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں، جس میں انسان چاروں طرف سے خطرات میں گھرا ہوا ہو، اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ قریب ہو جاتا ہے۔

کیا خوب دین ہے ہمارا۔ یہ عبادت کا نظام ہے۔ مختلف شکلوں اور مختلف عنوانوں سے عبارت، جن میں نماز ایک جلی سرخی ہے۔ اس عبادت کے ذریعے یہ دین، انسان کو بلند مقام تک پہنچاتا ہے۔ اس عبادت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مومن کو شدائد کے وقت ثابت قدم کر دیتا ہے۔ اس عبادت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ، امن و امان کے دور میں ایک مومن کو مہذب بنا دیتا ہے۔ اس عبادت ہی کے ذریعہ ایک مومن پورے کا پورا ایک ایسی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے جو امن وسکون کی دنیا ہے۔ جہاں اس پر اطمینان اور سلامتی کی بارش ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عبادت کی سخت تاکید عین ایسے حالات میں بھی کی جاتی ہے جبکہ تلواریں سروں کو کاٹ رہی ہوں اور گردنوں کو اڑا رہی ہوں۔

اور اگر بالکل امن و امان کی حالت ہو جائے تو پھر نماز وہی ہے، جس کی تعلیم دی ہے اور مزید انہیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنا چاہئے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان باتوں کی تعلیم دی جن سے وہ واقف نہ تھے :فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّہَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ”اورجب امن میسر آ جائے تو اللہ کو اس طریقے سے یاد کرو، جو ا س نے تمہیں سکھایا ہے۔ جس سے پہلے تم واقف نہ تھے۔ “لوگ جانتے ہی کیا تھے، اگر اللہ تعالیٰ انہیں نہ سکھاتا، اگر اللہ تعالیٰ زندگی کے ہر موڑ پر لمحہ لمحہ ان کی راہنمائی نہ فرماتا۔

ازدواجی زندگی کے احکام اور طلاق کے احکام کے دوران، نماز کی یہ سرسری بحث بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اس سے مقصود مسلمانوں کے دل میں عبادت اور بندگی کا وہ جامع تصور بٹھانا ہے جو اسلامی نظام زندگی کا اصل الاصول ہے یعنی امتثال امر عبادت ہے چنانچہ پھر اصل موضوع یعنی عائلی احکام کو یہاں مکمل کر دیا جاتا ہے :

 

“تم میں سے جو لوگ وفات پائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑ رہے ہوں، ان کو چاہئے کہ اپنی بیویوں کے حق میں، یہ وصیت کر جائیں کہ ایک سال تک ان کو نان و نفقہ دیا جائے اور وہ گھروں سے نہ نکالی جائیں۔ پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو اپنی ذات کے معاملے میں، معروف طریقے سے وہ جو کچھ بھی کریں اس کی کوئی ذمہ داری تم پر نہیں ہے، اللہ سب پر غالب، اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے۔ اس طرح جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، انہیں بھی مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔ اس طرح اللہ اپنے احکام تمہیں صاف صاف بتاتا ہے۔ امید ہے کہ تم سمجھ بوجھ کر کام کرو گے۔ ” (۲۴۰ تا ۲۴۲)

 

پہلی آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جس عورت کا خاوند فوت ہو، اپنی وفات سے پہلے وہ اپنی عورت کے بارے میں ضرور یہ وصیت کر جائے کہ اسے گھر سے ایک سال کے عرصہ تک کم از کم نہ نکالا جائے اور ایک سال تک اسے اجازت ہو کہ وہ اس کے مال سے اخراجات کرے۔ گھر سے نہ نکلے اور اگر وہ مناسب سمجھتی ہے کہ اس کے حالات ابھی نکاح ثانی کے لئے مناسب نہیں یا اس کے جذبات ابھی تک مجروح ہیں تو ایک سال تک گھر میں رکی رہے۔ لیکن یہ حق عورت کا ہے اور چار ماہ دس دن کی عدت گزارنے کے بعد بہرحال وہ آزاد ہو جاتی ہے اور اگر وہ گھر سے نکلنا چاہے تو نکل سکتی ہے کیونکہ عدت تو اس پر فرض ہے اور گھر میں رہنا اس پر فرض نہیں ہے بلکہ یہ اس کا حق ہے جس کا استعمال کرنا اس پر لازمی نہیں ہے۔ بعض مفسرین نے یہ کہا کہ یہ آیت، آیت عدت کے ذریعہ منسوخ ہو گئی ہے۔ لیکن میرا خیال یہ ہے کہ نسخ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ دونوں آیات کے محل میں اختلاف ہے۔ جیسا کہ ہم کہہ آئے ہیں عدت اس کے ذمہ ایک فریضہ ہے، جو اس نے ادا کرنا ہے اور ایک سال کا عرصہ اس کا حق ہے جس کا استعمال کرنا اس پر لازم نہیں ہے۔

فَإِنْ خَرَجْنَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِہِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ”پھر اگر وہ خود نکل جائیں، تو اپنی ذات کے معاملے میں، معروف طریقے سے، وہ جو کچھ بھی کریں، اس کی کوئی ذمہ داری تم پر نہیں ہے۔ “علیکم(تم پر)سے مراد مسلمانوں کا اجتماعی نظام ہے، جو ہر فعل کا ذمہ دار ہے جو اسلامی معاشرہ میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔ اسلامی نظام زندگی میں، ہر نظریے کا معاملہ، ہر فرد کا معاملہ، اور ہر واقعہ کی ذمہ داری معاشرے پر ہے۔ اگر اسلامی معاشرے میں بھلائی ہو یا برائی دونوں کا اجر اور باز پرس اسلامی معاشرے سے بھی ہو گی۔ اسلامی جماعت کی حقیقت اور اس کے فرائض کی نوعیت کا اندازہ اس اشارے سے بھی اچھی طرح ہو جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریک اسلامی کا قیام ضروری ہے تاکہ اسلامی نظام زندگی کا قیام عمل میں آسکے۔ قیام کے بعد پھر اس نظام کی حفاظت کی جا سکے اور یہ نگرانی ہوتی رہے کہ اسلامی معاشرے کا کوئی فرد اس نظام کی خلاف ورزی یا اس سے بغاوت کا ارتکاب تو نہیں کر رہا ہے۔ اس لئے کہ افراد جماعت کے ہر چھوٹے بڑے کام کی آخری مسؤلیت اسلامی جماعت ہی کے کاندھوں پر ڈالی گئی ہے۔ یہاں لفظ “تم پر”استعمال کر کے اس حقیقت کو اسلامی جماعت کے ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی کہ یہ حقیقت اسلامی جماعت اور اس کے ہر فرد کے حس و شعور میں اچھی طرح جاگزیں ہو جائے اور آخری تبصرہ وَاللَّہُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ”اللہ مقتدر اعلیٰ و دانا ہے۔ “وہ مقتدر اعلیٰ ہے اس لئے اسے حق ہے جو قانون بنائے لیکن جو قانون بنائے گا، حکیمانہ ہو گا۔ مقتدر ہے، صاحب قوت ہے، نافرمانی پر تمہیں سزا دے سکتا ہے۔

دوسری آیت میں اللہ خوفی کی دعوت دیتے ہوئے حکم دیا گیا کہ ہر مطلقہ عورت کو رخصت کرتے وقت کچھ نہ کچھ سامان ضرور دیا جائے : وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ”جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، انہیں بھی مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔ ”

بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ چونکہ مطلقات کے بارے میں سابقہ آیات میں تفصیلی احکام آ چکے ہیں، اس لئے یہ آیت ان آیات کی وجہ سے منسوخ تصور ہو گی۔ لیکن یہاں اسے منسوخ سمجھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے کہ متاع یعنی کچھ نہ کچھ دے دینا نفقات واجبہ سے علیحدہ ایک چیز ہے۔ اس سلسلے میں قرآن مجید نے جو احکامات اب تک دیئے ہیں، ان کی حقیقت پر غور کیا جائے تو ہر مطلقہ عورت کے لئے تحفہ کیے طور پر کچھ نہ کچھ دئیے جانے کی گنجائش رکھنا اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔ چاہے اس کے ساتھ مباشرت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ اس کا مہر مقرر کیا گیا ہو یا مقرر نہ کیا جا سکا ہو۔ اس لئے طلاق کی وجہ سے فریقین کے تعلقات میں خشکی پیدا ہو جاتی ہے، دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف وحشت اور نفرت پیدا ہو جاتی ہے، چنانچہ ایسے موقع پر اس قسم کے حسن سلوک سے تعلقات میں تازگی پیدا ہو سکتی ہے، دلوں کی باہمی وحشت دور ہوسکتی ہے۔ یہ واحد گارنٹی ہے، جس کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ اور جس سے جماعت مسلمہ کے تعلقات درست ہوسکتے ہیں۔

اب تیسری آیت اس میں ان تمام عائلی احکام پر تبصرہ ہے جو اس پورے سبق میں بیان کئے گئے ہیں۔ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّہُ لَكُمْ آيَاتِہِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ”اس طرح اللہ اپنے احکام تمہیں صاف صاف بتاتا ہے، امید ہے کہ تم سمجھ بوجھ کر کام کرو گے۔ ”

اسی طرح اس بیان کی طرح جو اس پورے سبق میں بیان احکام کے سلسلے میں تمہاری نظروں سے گزرا، جو محکم، دقیق، الہامی اور اثر انگیز بیان ہے۔ اس طرح، اللہ صاف صاف اپنے احکام بیان کرتا ہے، اس امید پر کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو گے، تمہیں عقل آ جائے اور تم ان احکام میں تدبر کرو گے، غور و فکر سے کام لو گے، ان کی تہہ میں جو حکمت کارفرما ہے اسے پانے کی کوشش کرو گے۔ ان میں اللہ کی شان رحمت جو جھلک ہے اسے دیکھ سکو گے، ان میں تمہارے لئے جو انعامات پوشیدہ ہیں انہیں جان سکو گے۔ سہولت اور تیسیر کی نعمت، سادگی اور صفائی کی نعمت، پختگی اور قطعیت کی نعمت اور پھر ان کی وجہ سے پوری زندگی پر امن وسلامتی کی موسلا دھار بارش کی نعمت۔

اے کاش!لوگ اسلامی نظام کو سمجھتے۔ کاش !وہ اس پر غور کرتے۔ اگر وہ اسے صحیح طرح سمجھتے تو ان لوگوں کا اسلامی نظام سے وہ تعلق نہ ہوتا جو آج ہے، بلکہ وہ اسلامی نظام کے مطیع ہو جاتے، اس کے ہر حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتے، ان کے دل قبولیت کے لیے ہر وقت تیار ہوتے، ان کے دل اس کی ہر ہدایت پر راضی ہوتے اور ان کے قلوب اور ان کی روح، امن وسلامتی اور یقین اطمینان سے بھر جاتے۔ کاش !کہ وہ سوچتے کاش کہ وہ سمجھتے۔

٭٭٭

 

 

 

 

درس ۱۶ایک نظر میں

 

اس سبق کی اہمیت اور اس میں امم سابقہ کے جو واقعات بیان کئے گئے ہیں ان کی صحیح قدر و قیمت تب ہی ذہن میں بیٹھ سکتی ہے، جب ہم پہلے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ قرآن امت مسلمہ کی ایک زندہ کتاب ہے، یہ کتاب اس کے لئے ایک رہنمائے ناصح ہے۔ یہ اس کی مرشد ہے۔ یہ اس کا مدرسہ ہے جہاں وہ امن سے زندگی کا سبق حاصل کرتی ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی اسلامی جماعت کے لئے اس کتاب کو ضابطہ ترتیب قرار دیا۔ جس نے اپنے وقت پر اس کتاب کی روشنی میں اسلامی نظام قائم کر کے دنیا کے سامنے پیش کیا اور یہ کہ پہلی اسلامی جماعت کو اس منصب پراس وقت فائز کیا گیا، جب اس کتاب کے مطابق اسے اچھی تیار کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کے لئے یہ مقام متعین کیا ہے کہ وہ تحریک اسلامی کا ایک زندہ راہنما ہو گی اور یہ کہ رسولﷺکی وفات کے بعد اس تحریک کی آنے والی نسلوں کے لئے یہ کتاب زندہ قائد کا کام سرانجام دے گی۔ ان آنے والی نسلوں کی تربیت کرے گی اور انہیں اس قائدانہ رول کے لئے تیار کرے گی، جس کے لئے اس کتاب نے اس تحریک کی ہرنسل کے ساتھ پختہ وعدہ کر رکھا ہے کہ جب بھی تحریک اسلامی اس کتاب کو اپنا ہادی اور راہنما تسلیم کرے گی، جب بھی اس کی ہدایت کو اپنائے گی، جب بھی تحریک اپنا یہ عہد پورا کرے گی کہ وہ مطیع فرمان ہے اور اپنا نظام زندگی اس کتاب سے اخذ کرے گی، اس کتاب کو باعث عزت سمجھے گی، اور تمام نظاموں پر اس کو غالب کرے گی تو تحریک اسلامی دنیا میں اعلیٰ مقام پائے گی۔ سب سے برتر ہو گی اور یہ اللہ کا وعدہ ہے، یہ اس کتاب کا وعدہ ہے۔

یاد رکھو !قرآن مجید محض ایک کتاب تلاوت ہی نہیں ہے یہ تو ایک مکمل دستور حیات ہے۔ یہ تو دستور ترتیب ہے۔ یہ تودستور عمل ہے اور پوری زندگی کے لئے راہ عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں امم سابقہ کے تجربے اور ان کے واقعات بھی بیان کئے گئے ہیں تاکہ ان سے جماعت مسلمہ عبرت حاصل کرے، اس لئے یہ کتاب نازل ہی اس لئے ہوئی کہ اس سے اس جماعت کی ترتیب ہو۔ اس کتاب میں آدم علیہ السلام سے لے کر رسول اللہﷺ کے دور تک تمام کرۂ ارض پر ان تمام ایمانی دعوتوں کے تجربات بیان کئے گئے ہیں۔ یہ تمام دعوتی تجربات امت مسلمہ ے لئے تا قیامت زاد راہ ہیں۔ نفس انسانی کے تجربات اور حیات انسانی کے مختلف واقعاتی تجربات اس کتاب میں ضبط ہیں تاکہ امت مسلمہ اپنی راہ ورسم سے باخبر ہو جائے، اپنے لئے زاد راہ کا ساز وسامان تیار کرے اور اس راہ میں ان متنوع تجربات کا ذخیرہ اس کے لئے مشعل راہ ہو۔

یہی وہ مقاصد ہیں جن کی خاطر قرآن مجید میں بکثرت قصص بیان ہوئے، یہ قصے مختلف نوعیت رکھتے ہیں اور ہر قصے میں امت کے لئے واضح اشارات پائے جاتے ہیں۔ قرآن مجید نے اور اقوام کی نسبت، بنی اسرائیل کے قصے زیادہ تعداد میں نقل کئے ہیں، جس کی متعدد وجوہات ہیں۔ ان میں سے کچھ وجوہات ہم نے فی ظلال القرآن پارۂ اول کی تفسیر میں، آغاز ذکر بنی اسرائیل کے موقع پر بیان کئے ہیں۔ کچھ وجوہات اس بارے میں مختلف مقامات پر ہم نے بیان کی ہیں۔ بعض وجوہات یہاں کی مناسبت سے پیش خدمت ہیں۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی کہ امت مسلمہ کی بعض آنے والی نسلیں ان حالات سے گزریں گی، جن سے بنی اسرائیل گزرے۔ مسلمان اپنے دین اور اپنے نظریۂ حیات کے معاملے میں وہی موقف اختیار کریں گے جو بنی اسرائیل نے اختیار کیا۔ اس لئے قرآن مجید نے درحقیقت سرد لبراں، قصص بنی اسرائیل کی صورت میں بیان کیا ہے تاکہ مسلمانوں کی آنے والی نسلیں ان سے نصیحت حاصل کریں اور عبرت پکڑیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے آنے والی نسلوں کے ہاتھ میں ایک صاف آئینہ تھما دیا تاکہ وہ ہر وقت اس میں اپنی شکل دیکھ سکیں، اور زندگی کی گزر گاہوں میں، جو نشیب و فراز آتے رہتے ہیں، ان کے بارے میں پیشگی ہدایات ان کے پاس ہوں۔

امت مسلمہ کی تمام نسلوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اس کتاب الٰہی کو خوب سمجھ بوجھ کر پڑھیں۔ وہ اس کی ہدایات پر اس طرح غور کریں کہ گویا یہ ہدایات آج اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو رہی ہیں، تاکہ آج کے مسائل کو ان کی روشنی میں حل کیا جائے اور انسانیت کے لئے آج کے سفر میں، اس کے مستقبل کی تاریکیاں روشن کرے۔ اس کتاب کو محض کلام جمیل سمجھ کر اور نہایت ہی حسن قرأت سے پڑھ کر ہی نہ بیٹھ جاؤ یا اسے یہ سمجھ کر نہ پڑھو کہ یہ ایک رفتہ و گزشتہ حقیقت کی محض ایک روئیداد ہے۔ اور اس حقیقت کو اس کرۂ ارض پر اب دوبارہ نہیں دہرایا جاتا۔

ہم اس قرآن مجید سے اس وقت تک فائدہ نہیں اٹھا سکتے جب تک اس میں ہم روزمرہ کی واقعاتی زندگی کے حقائق کے بارے میں ہدایات تلاش نہ کریں۔ آج کے مسائل کا حل اور کل کے مسائل کی منصوبہ بندی، بعینہ اسی طرح جس طرح پہلی جماعت اسلامی اس کتاب کو اس طرح لیتی تھی۔ وہ اپنے تمام موجودہ مسائل کا حل اس کتاب میں تلاش کرتی تھی۔ جب بھی ہم قرآن مجید کو، اس فہم و تدبر کے ساتھ پڑھیں گے، ہمیں جس چیز کی تلاش ہو گی وہ ہمیں اس میں ملے گی۔ بلکہ ہم اس میں ایسی عجیب ہدایات پائیں گے، جن تک کسی ایسے شخص کا ذہن نہیں پہنچ سکتا، جو اس کتاب کو غفلت سے پڑھتا ہے، ہمیں ا س کا ہر کلمہ، اس کا ہر لفظ، اس کی ہر عبارت اور اس کی ہر ہدایت زندۂ جاوید نظر آئے گی۔ چلتی پھرتی نظر آئے گی، زندہ و متحرک نظر آئے گی اور صاف صاف اشارہ کرتی نظر آئے گی وہ ہے تمہاری راہ!وہ ہے نشان راہ !یہ کتاب کہے گی یہ کرو اور اس سے بچو، وہ کہے گی :یہ تمہارا دوست ہے اور یہ دشمن ہے۔ وہ کہے گی :یہ احتیاط کرو اور یہ تیاری کرو۔ غرض یہ کتاب ہماری زندگی کے ہر حال کے بارے میں ہم سے طویل اور مفصل گفتگو کرے گی اگر ہم اس انداز سے قرآن مجید کا مطالعہ کریں تو یقیناً ہمیں اس میں زندگی بھی ملے گی اور زندگی کا سازوسامان بھی ملے گا۔ اور تب ہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو صحیح طرح سمجھ سکیں گے يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّہِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ “اے لوگو!جو ایمان لائے ہو، جب اللہ اور رسول تمہیں اس بات کی طرف بلائیں، جو تمہیں زندہ کرتی ہے، تو اس پر لبیک کہیں۔ “قرآن کریم دراصل زندگی کی طرف دعوت ہے۔ دائمی زندگی اور تازہ بتازہ زندگی کی دعوت ہے۔ وہ تمہیں ایسی زندگی کی طرف دعوت نہیں دیتا جو گزر چکی ہے اور جو صفحات تاریخ کا ایک ورق بن چکی ہے۔

اب اس تمہید کی روشنی میں ذرا اس پورے سبق پر ایک نظر دوڑائیں۔ اس سبق میں امم سابقہ کے تجربات میں سے دو تجربے پیش کئے گئے ہیں۔ امت مسلمہ جن عملی تجربات سے گزری، ان دو تجربات کو بھی اس ذخیرہ میں شامل کیا جا رہا ہے۔ امت کے سامنے یہ تجربات رکھ کر اسے، ان حالات کے لئے تیار کیا جا رہا ہے جو اس کی زندگی میں پیش آنے والے ہیں۔ اس لئے کہ وہی ایمانی نظریۂ حیات کی وارث ہے اور امم سابقہ کے تجربات کے اس، سرسبز کھیت کی دہقانی اب اس امت کے حصے میں ہے اور اسے میدان میں ایک اہم رول ادا کرنا ہے۔

پہلا تجربہ ایسے لوگوں کا ہے جس کا نام قرآن مجید نے نہیں لیا۔ یہ واقعہ قرآن مجید نے پورے اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے، لیکن جس مقصد کے لئے اسے لایا گیا ہے وہ اچھی طرح پورا ہو جاتا ہے۔ یہ ایسے لوگوں کا تجربہ ہے جو أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِہِمْ وَہُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ “موت کے ڈر سے اپنے گھر بار چھوڑ کر نکلے تھے اور ہزاروں کی تعدد میں تھے۔ “لیکن انہیں خروج و فرار اور اس خوف وہراس نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا اور وہ جس انجام سے ڈر کے بھاگ رہے تھے اور جو اللہ نے ان کے لئے مقدر کر رکھا تھا، اس نے انہیں آ لیا۔ ان سے اللہ نے کہا: مُوتُوا مر جاؤ۔ ثُمَّ أَحْيَاہُمْ”پھر اس نے ان کو زندگی بخشی “نہ ان کی جدوجہد انہیں موت سے بچا سکی اور نہ دوبارہ زندگی حاصل کرنے کے لئے ان کو کچھ جدوجہد کرنی پڑی۔ دونوں حالات میں اللہ کی مشیئت نے فیصلہ کیا۔

اس تجربہ کی روشنی میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے متوجہ ہوتے ہیں اور انہیں قتال فی سبیل اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب دیتے ہیں۔ اس لئے کہ زندگی دینے والا بھی وہ ہے اور مال دینے والا بھی وہ ہے۔ وہ اس بات پر قادر ہے کہ زندگی قبض کرے اور مال واپس لے لے۔

دوسرا تجربہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد، تاریخ بنی اسرائیل سے لیا گیا ہے۔ اس دور میں ان کی مملکت تباہ ہو چکی تھی۔ ان کے مقدسات لوٹ لئے گئے تھے۔ وہ دشمنوں کے سامنے ذلیل و خوار ہو گئے تھے۔ انہوں نے اپنے نبی کی تعلیمات اور اپنے رب کی ہدایات کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ اور اس وجہ سے وہ ذلت اور خواری میں مبتلا ہو گئے تھے۔ لیکن اس گراوٹ کے بعد وہ پھر اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے اپنے کپڑے جھاڑے اور نئے سرے سے تیار ہوئے اور ان کے دلوں میں نظریۂ حیات پھر سے زندہ ہو گیا اور ان کے دلوں میں اپنے نظریۂ حیات کے لئے پھر سے ولولہ جہاد پیدا ہوا اور اپنے نبی سے کہنے لگے : ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّہِ”ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کر دو تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں۔ ”

قرآن مجید جس الہامی انداز میں اس تجربے کا بیان کرتا ہے، ا س سے تمام حقائق کھل کر سامنے آ جاتے ہیں اور اس میں دور اول کی تحریک اسلامی کے لئے جس طرح واضح اشارات پائے جاتے ہیں، اسی طرح ہر دور کی اسلامی جماعت کے لئے واضح ہدایات موجود ہیں۔

اس قصے سے جو عام عبرت حاصل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ مومنین کی ایک مٹھی بھر تعداد نے ثابت قدمی کا ثبوت دیا اور ا س کے نتیجے میں بنی اسرائیل کو ایک عظیم کامیابی نصیب ہوئی، اگرچہ اس پورے واقعہ میں لشکر اسلام کو بار بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس مہم میں کئی نقائص تھے جو سامنے آئے، متعدد کمزوریاں بار بار سامنے آتی رہیں۔ لشکر کشی کے مختلف مراحل میں، فوج در فوج لوگ الگ ہوتے رہے اور نافرمانیاں کرتے رہے، لیکن ان سب کمزوریوں کے باوجود بنی اسرائیل کا یہ اٹھنا، آلودگیاں جھاڑ کر اٹھنا اور نظریۂ حیات کو لے کر اٹھنا، مٹھی بھر ثابت قدم مومنین کی وجہ سے کامیاب رہا۔ اس کامیابی کے نتیجے میں بنی اسرائیل کو نصرت، عزت اور استقرار حاصل ہوا، حالانکہ اس سے پہلے وہ شکست فاش کھا چکے تھے۔ انتہائی ذلت کی زندگی بسر کر رہے تھے، طویل عرصہ تک جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے تھے اور ان پر دوسری اقوام مسلط تھیں۔ اس کامیابی کے نتیجے میں بنی اسرائیل میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام کی حکومت قائم ہوئی، جن کے دور میں بنی اسرائیل کی حکومت اپنے عروج کو پہنچی اور ان حضرات کا دور ان کی تاریخ کا سنہرا دور قرار پایا۔ جس کے بارے میں بنی اسرائیل فخریہ انداز میں بات کرتے ہیں اور اس مقام تک بنی اسرائیل اپنی نبوت کبریٰ کے دور میں بھی نہ پہنچے تھے۔ یہ تمام کامیابی نتیجہ ہے اس نظریاتی قیام کا، جبکہ انہوں نے نظریۂ حیات کو جاہلیت کے ڈھیروں کے نیچے سے نکالا اور ایک قلیل جماعت اس نظریہ کو لے کر اس ثابت قدمی سے اٹھی اور جالوت کی عظیم افواج سے ٹکرا گئی اور کامیاب رہی۔

اس تجربے کے دوران بعض جزوی مسائل کے بارے میں بھی ہدایات دی گئی ہیں، جن کی اس دور میں اسلامی جماعت کو بہت ضرورت تھی اور اس کے لئے بہت اہم تھیں۔ مثلاً یہ کہ اجتماعی جوش و خروش بعض اوقات قائد کو دھوکے میں ڈال دیتا ہے۔ اگر وہ محض ظاہر بینی سے کام لے اور حقیقت تک پہنچنے کی کوشش نہ کرے۔ اس لئے قائدین کا فرض ہے کہ وہ کارکنان کو کسی سخت معرکے میں ڈالنے سے پہلے انہیں آزمائے۔ اس واقعہ میں بنی اسرائیل کے اصحاب رائے، نبی وقت کے پاس گئے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ کوئی بادشاہ مقرر کر دیں، جس کی قیادت میں وہ اپنے دین کے دشمنوں سے لڑیں، اس لئے کہ ان دشمنوں نے ان سے حکومت چھین لی ہے، ان کی دولت پر قابض ہو گئے ہیں، وہ ان مقدسات سے بھی محروم کر دیئے گئے ہیں جو آل موسیٰ علیہ السلام اور ہارون کے عہد میں ان کے پاس محفوظ تھے۔ جب نبی وقت نے ان سے، ان کے اس ارادے کے بارے میں تسلی چاہی اور ان سے کہا : قَالَ ہَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلا تُقَاتِلُوا”کہیں ایسا تو نہ ہو گا کہ تم کو لڑائی کا حکم دیا جائے اور تم پھر نہ لڑو۔ “انہوں نے نبی کے اس سوال اور طلب یقین دہانی کو اچھا نہ سمجھا۔ یہ بات ان پر ناگوار گزری اور ان کا جوش و خروش انتہا کو پہنچ گیا اور کہنے لگے قَالُوا وَمَا لَنَا أَلا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّہِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَا”بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم راہ اللہ میں نہ لڑیں، جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکال دیا گیا ہے۔ اور ہمارے بال بچے ہم سے جدا کر دئیے گئے ہیں ؟”لیکن اس جوش و خروش کی آگ جلد ہی بجھ گئی۔ جذبات کا طوفان ختم ہو گا۔ اور اس راہ کے مختلف مراحل میں وہ بیٹھتے گئے۔ جیسا کہ اس واقعہ میں تفصیلات آئی ہیں یا سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْہِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا إِلا قَلِيلا مِنْہُمْ”مگر جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا تو ایک قلیل تعداد کے سوا، وہ سب پیٹھ موڑ گئے۔ “بنی اسرائیل کی تو یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ وعدہ خلافی کرتے ہیں، اپنے عہد سے پھر جاتے ہیں اور اپنے ساتھی کو آدھی راہ میں چھوڑ دیتے ہیں، لیکن ایسے واقعات انسانی جماعتوں میں بہرحال پائے جاتے ہیں اور خصوصاً ان جماعتوں میں جو اپنے ایمان و یقین کے اعتبار سے، اور اپنی اعلیٰ تربیت کے اعتبار سے ابھی اعلیٰ معیار تک نہ پہنچی ہوں۔ اس لئے جماعتی زندگی کا یہ منظر بھی، ہر دور کی جماعت مسلمہ کے سامنے پیش کیا جانا ضروری تھا، تاکہ ہر دور کی مسلم جماعت بنی اسرائیل کے اس تجربے سے فائدہ اٹھائے۔

اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے ظاہری جوش و خروش، جذباتی اور فوری اقدام کی آزمائش صرف ایک مرتبہ ہی نہ ہو بلکہ بار بار کارکنوں کو آزمانا چاہئے۔ جب بنی اسرائیل کے اپنے مطالبے پر قتال فرض ہوئی تو ان کی اکثریت نے پیٹھ پھیر لی۔ وہی قلیل تعداد رہی جس نے اپنے نبی کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو قائم رکھا۔ اور یہ وہی لوگ تھے جو پہلے تو نبی وقت کے طالوت کی سربراہی پر لڑتے رہے کہ وہ بادشاہت کے قابل ہی نہیں ہے۔ لیکن جس وقت اس کی بادشاہی کی علامت ظاہر ہو گئی اور نبی اسرائیل کو اس کی قیادت میں وہ مقدسات واپس مل گئے جو دشمنوں کے قبضے میں چلے گئے تھے اور جنہیں فرشتوں نے اٹھا کر واپس کیا، تب بنی اسرائیل قیادت پر تو راضی ہوئے لیکن ان کی اکثریت پہلے مرحلے ہی میں جہاد سے مکر گئی۔ اور وہ پہلی آزمائش ہی میں، جو ان کے قائد نے قائم کی، ناکام ہو گئے۔

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِالْجُنُودِ قَالَ إِنَّ اللَّہَ مُبْتَلِيكُمْ بِنَہَرٍ فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَيْسَ مِنِّي وَمَنْ لَمْ يَطْعَمْہُ فَإِنَّہُ مِنِّي إِلا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَۃً بِيَدِہِ فَشَرِبُوا مِنْہُ إِلا قَلِيلا مِنْہُمْ”پھر جب طالوت لشکر لے کر چلا، تو اس نے کہا:”ایک دریا پر اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہونے والی ہے۔ جو ا س کاپانی پئے گا وہ میرا ساتھی نہیں۔ میرا ساتھی صرف وہ ہے، جو اس سے پیاس نہ بجھائے، ہاں ایک آدھ چلو کوئی پی لے، مگر ایک گروہ قلیل کے سوا سب ہی دریا سے سیراب ہوئے۔ “لیکن یہ قلیل تعداد بھی آخر تک ثابت قدم نہ رہ سکی۔ یہ قلیل تعداد ایک زندہ خطرہ کے مقابلے میں آئی، جب انہوں نے دشمن کی کثرت اور ان کی قوت کو دیکھا تو حوصلے پست ہو گئے۔ دل متزلزل ہو گئے فَلَمَّا جَاوَزَہُ ہُوَ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَہُ قَالُوا لا طَاقَۃَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِہِ”پھر جب طالوت اور اس کے ساتھی مسلمان دریا پار کر کے آگے بڑھے تو انہوں نے طالوت سے کہہ دیا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ “اس شرمناک موقف کے مقابلے میں صرف چنے ہوئے مٹھی بھر لوگ ڈٹ گئے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ پر اعتماد کیا۔ اور اس پر یقین کیا اور انہوں نے کہا: كَمْ مِنْ فِئَۃٍ قَلِيلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً كَثِيرَۃً بِإِذْنِ اللَّہِ وَاللَّہُ مَعَ الصَّابِرِينَ”بارہا ایسا ہوا کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آ گیا ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے۔ “یہ تھا وہ قلیل گروہ جس نے پلڑا بھاری کر دیا۔ اور اللہ کی امداد آ گئی اور بنی اسرائیل عزت اور استقرار کے مالک بن گئے۔

اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک صالح، دانشمند اور مومن قیادت کی شان کیا ہوتی ہے ؟طالوت کی قیادت میں یہ تمام صفات موجود ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طالوت لوگوں کی نفسیات سے اچھی طرح واقف تھے۔ انہوں نے بنی اسرائیل کا ظاہری جوش و خروش دیکھ کر دھوکہ نہ کھایا۔ پھر انہوں نے صرف ایک ہی تجربہ پر اکتفا نہ کیا۔ انہوں نے اپنے فوجیوں کے عزم اور اطاعت امر کا، اصل معرکہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی امتحان لیا۔ جو لوگ ان آزمائشوں میں نا پختہ پائے گئے انہیں جدا کر کے پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ پھر اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے مشکل سے مشکل حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری۔ ایک ایک تجربہ کے بعد ان کی فوج گھٹتی ہی رہی لیکن وہ بڑھتے چلے گئے اور ہمت نہ ہاری۔ آخر کار ان کے ساتھ مٹھی بھر لوگ ہی جمے رہے لیکن چنے ہوئے لوگ منتخب مجاہد تھے۔ اب وہ خالص قوت ایمان اور اللہ کے بھروسہ کے بل بوتے پر معرکے میں کود پڑے اور اللہ کا وعدہ تو ایمان والوں سے سچا ہوتا ہی ہے۔

اس معرکہ میں جو آخری عبرت ہے وہ یہ ہے کہ جو انسان اللہ سے لو لگا لیتا ہے تو اس کی اقدار بدل جاتی ہیں، اس کے تصورات کے پیمانے بدل جاتے ہیں، کیونکہ اس کی نظر صرف اس دنیا کے اس محدود دائرے پر ہی نہیں ہوتی بلکہ وہ اس دنیا سے بہت ہی آگے، ایک وسیع دائرے میں جا کر سوچتا ہے۔ جو تمام معاملات کا اصل الاصول ہے۔ یہ مٹھی بھر اہل ایمان جو ثابت قدم رہے جو معرکے میں کود پڑے، اور جنہوں نے اللہ کی نصرت حاصل کی، وہ بھی تو اپنی قلت دیکھ رہے تھے کہ ان کی تعداد کم ہے۔ اور ان کے دشمن تعداد میں بہت ہی زیادہ ہیں اور جنہیں دیکھ کر ان کے دوسرے بھائی یہ پکار چکے قَالُوا لا طَاقَۃَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِہِ”ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں۔ “لیکن اس مٹھی بھر ایماندار جماعت نے اس صورت حال کے بارے میں وہ فیصلہ نہ کیا۔ اس نے بہت ہی مختلف فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا كَمْ مِنْ فِئَۃٍ قَلِيلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً كَثِيرَۃً بِإِذْنِ اللَّہِ وَاللَّہُ مَعَ الصَّابِرِينَ”بارہا ایسا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آ گیا ہے۔ “اس کے بعد یہ گروہ مٹھی بھر ایمانداروں کا گروہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے : رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ”اے ہمارے رب !ہم پر صبر کا فیضان کر۔ ہمارے قدم جما دے اور کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر۔ “یہ جماعت محسوس کرتی تھی کہ قوتوں کا ترازو کافروں کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ وہ تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس لئے اس گروہ نے اللہ سے نصرت طلب کی اور اس نے وہ امداد اس ہاتھ سے وصول کر لی جس کا وہ ہاتھ مالک تھا، اور جس کو وہ ہاتھ عطا کرسکتا تھا۔ جب اہل ایمان اللہ تک پہنچ جاتے ہیں تو ان کے پیمانے بدل جاتے ہیں، ان کی اقدار بدل جاتی ہیں اور جب دل میں صحیح ایمان پیدا ہو جاتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ دل کی دنیا میں اللہ کے ساتھ معاملہ کرنا زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ ہم اس ظاہری اور جھوٹی دنیا کے معیاروں کے مطابق کوئی معاملہ کریں۔

اس سطور میں ہم نے ان تمام اشارات کا احاطہ نہیں کر لیا، جو اس قصے میں پائے جاتے ہیں۔ اس لئے کہ قرآنی اشارات اور حکمتوں کا القاء ہر اس شخص پر اس کے حالات کے مطابق ہوتا ہے اور نیز اس مقدار کے مطابق ہوتا ہے جس قدر اس کو ضرورت ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود ہر شخص اپنا حصہ لے لیتا ہے، پھر بھی اشارات اور حکم کا بڑ ا حصہ محفوظ ہوتا ہے اور مختلف حالات میں اپنی اپنی مقسوم کے مطابق، ان اشارات کا انکشاف ہوتا رہتا ہے۔

غرض اس عمومی تبصرے کے بعد اب مناسب ہے کہ آیات پر تفصیلاً بحث کی جائے۔

 

“تم نے ان لوگوں کے حال پر کچھ غور کیا، جو موت کے ڈر سے اپنے گھر بار چھوڑ کر نکلے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں تھے ؟اللہ نے ان سے فرمایا:مر جاؤ۔ اور پھر اس نے ان کو دوبارہ زندگی بخشی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ انسان پر بڑا فضل فرمانے والا ہے، مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ ” (٢٣٣)

 

یہ لوگ کون تھے ؟جو ہزاروں میں تھے اور جو موت کے ڈر کے مارے اپنے گھروں سے نکلے۔ یہ کس سرزمین کے باشندے تھے ؟تاریخ کے کس دور میں نکلے یہ لوگ ان کے بارے میں تاویلات و توجیہات کے انبار میں اپنے آپ کو گم نہیں کرنا چاہتا۔ اگر اللہ تعالیٰ کو ان کے بارے میں کچھ بتانا مقصود ہوتا تو وہ ضرور بتا دیتا۔ جیسا کہ قرآن مجید کے بعض دوسرے متعین قسم کے قصص کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔ یہاں مطلب صرف عبرت کا حصول اور مسلمانوں کو نصیحت کرنا ہے۔ مقصد یہ نہیں کہ قصہ بذاتِ خود مطلوب ہے تاکہ اس کے اشخاص، مقام واقعہ اور زمان واقعہ کی تفصیلات دی جائیں۔ یہاں اگر مکان و زمان کا تعین بھی کر لیا جائے تو بھی اس سے معنی و مطلب میں نہ اضافہ ہوتا ہے اور نہ کمی۔ یعنی واقعہ سے عبرت لینا۔

یہاں مقصود صرف یہ ہے کہ موت و حیات کے ظاہری اسباب اور ان اسباب سے بھی آگے اس کی اصل حقیقت کے بارے میں مسلمانوں کے نقطہ نظر کو درست کر دیا جائے۔ اور یہ بتا دیا جائے کہ موت وحیات کا فیصلہ اس دنیا میں نہیں ہوتا۔ یہ فیصلے قادر مطلق اور مدبر الکون کرتا ہے۔ اور یہ کہ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے نوشتہ پر مکمل اطمینان کر لینا چاہئے۔ اور اس دنیا میں انسان کو بغیر کسی خوف و خطر اور بغیر کسی جزع و فزع کے اپنے فرائض سر انجام دینے چاہئیں۔ تقدیریں لکھنے والا موجود ہے اور زندگی اور موت کا آخری فیصلہ صرف اس کے ہاتھ میں ہے۔

یہاں مقصد یہ کہنا ہے کہ موت کے ڈر سے موت ٹل نہیں جاتی اور جزع و فزع کرنے سے، چیخنے پکارنے سے، زندگی میں اضافہ نہیں ہو جاتا، نہ ان سے قضائے الٰہی ٹل سکتی ہے۔ نہ اجل ان سے ذرا بھی موخر ہوسکتی ہے۔ اللہ ہی ہے جو زندگی عطا کرتا ہے۔ وہی زندگی کی بخشش کرتا ہے اور وہی ہے جو زندگی واپس لے لیتا ہے۔ دونوں حالات میں اس کا فضل انسان کے شامل حال ہوتا ہے۔ لیتا ہے پھر اس کا فضل ہے اور اگر دیتا ہے پھر فضل ہے۔ زندگی دینے کے پس منظر میں اور زندگی نہ دینے کے پس منظر میں دونوں حالات میں اس کی عظیم حکمت عملی کارفرما ہوتی ہے۔ ان دونوں حالات میں لوگوں کی مصلحت ہے۔ دونوں صورتوں میں لینے اور دینے میں اللہ کا فضل ہمارے شامل حال ہوتا ہے : إِنَّ اللَّہَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَشْكُرُونَ (٢٤٣)”حقیقت یہ ہے کہ اللہ انسان پر بڑا فضل فرمانے والا ہے، مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ ”

ان لوگوں کا جمع ہونا، پھر ہزاروں کی تعداد میں جمع ہونا، پھر اپنے گھروں سے نکل پڑنا اور موت کے ڈر سے نکل پڑنا، لازماً ایسے حالات میں جزع و فزع، ہائے ہو کا عالم ہو گا۔ ان کا یہ بھاگنا کسی جنگجو دشمن کے ڈر سے ہو یا کسی سخت وبائی بیماری کے پھوٹ پڑنے کی وجہ سے ہو، چاہے وجہ جو بھی ہو، اس سے موت کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا فَقَالَ لَہُمُ اللَّہُ مُوتُوا “اللہ نے فرمایا:مر جاؤ۔ ”

اللہ تعالیٰ نے کس طرح انہیں کہا؟وہ کس طرح مر گئے ؟کیا وہ اسی مصیبت کی وجہ سے مر گئے، جس کی وجہ سے نکلے تھے یا وہ کسی دوسرے ایسے سبب کی وجہ سے مر گئے جس کا انہیں وہم و گمان بھی نہ تھا۔ اس کی کوئی تفصیل قرآن مجید نے نہیں دی ہے۔ کیونکہ ان تفصیلات کی اس مقصد کے لئے کوئی ضرورت نہ تھی یعنی عبرت انگیزی۔ بتانا یہ ہے کہ جزع و فزع اور خوف وہراس کی وجہ سے وہ اس چیز سے بچ نہ سکے جس کی وجہ سے وہ بھاگ رہے تھے۔ وہ موت سے بچ نہ سکے اور اللہ کے فیصلے کو رد کرنے کی کوئی سبیل نہ تھی۔ اگر وہ اللہ کی طرف لوٹ آتے اور صبر و ثبات اور سنجیدہ رویہ اختیار کرتے تو یہ زیادہ بھلا ہوتا۔

ثُمَّ أَحْيَاہُمْ”پھر اس نے ان کو دوبارہ زندگی بخشی۔ “کسی طرح اس نے ان لوگوں کو زندہ کر دیا ؟کیا انہی لوگوں کی موت کے بعد معجزانہ طور پر زندہ کر دیا گیا۔ یا ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا کئے جو طاقتور اور بہادر تھے اور آباء و اجداد کی طرح آہ و بکا کرنے والے نہ تھے۔ ان باتوں کی تفصیل بھی قرآن مجید نے پیش نہیں فرمائی۔ اس لئے ہمیں بھی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہم اس کی تشریح میں طرح طرح کی تاویلات شروع کر دیں اور بے سند روایات کے انباروں میں خوامخواہ اپنے آپ کو گم کر دیں، جیسا کہ بعض تفاسیر میں ذکر ہوا ہے۔ جو کچھ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے، بغیر کسی جدوجہد و مشقت کے ان کو دوبارہ زندگی دے دی، حالانکہ انہوں نے موت سے بچنے کے لئے جو آہ و بکا کیا تھا، اس سے ان کی موت رک نہ سکی۔

خلاصہ یہ ہے کہ آہ و بکا اللہ کے فیصلے کو روک نہیں سکتی۔ جزع و فزع سے زندگی محفوظ نہیں ہو جاتی۔ زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور یہ ایک شخص کو اس کی اپنی جدوجہد کے بغیر ہی دی جاتی ہے۔ اگر یہ ہے حقیقت تو پھر بزدلو!تمہاری آنکھیں نیند کے لئے ترس جائیں اور تمہیں کبھی چین نہ ملے :

وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّہِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ(٢٤٤)

“اللہ کی راہ میں جنگ کرو اور خوب جان رکھو کہ اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ ”

یہاں اس حادثے کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے، بلکہ اس کی مغز سامنے آ جاتی ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں کی نسلوں میں سے پہلی نسل کے سامنے اس واقعہ کو کس غرض کے لئے بیان کیا گیا تھا۔ یہ کہ کہیں زندگی کی محبت کی وجہ سے تم گھروں ہی میں نہ بیٹھ جاؤ۔ موت کے ڈر سے کہیں پیچھے نہ ہٹ جاؤ۔ ان وجوہات سے کہیں جہاد فی سبیل اللہ ترک نہ کر دو۔ موت و حیات تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور تم صرف اللہ کی راہ میں لڑو۔ کسی اور مقصد کے لئے نہ لڑو۔ صرف اللہ کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو جاؤ اور اس کے سوا تمام جھنڈوں کو ترک کر دو۔ اس کی راہ میں لڑو اور یاد رکھو وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ”خوب جان رکھو کہ وہ سنتا ہے اور جانتا ہے۔ “وہ بات سنتا ہے اور اس کے پس منظر کو بھی جانتا ہے۔ وہ سنتا ہے، اور دعا قبول کرتا ہے، اور یہ بھی جانتا ہے کہ انسان کی زندگی اور اس کے قلب و نظر کے لئے کیا مفید ہے اور کیا نہیں ہے۔ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اپنی جدوجہد جاری رکھو۔ تمہارا کوئی عمل بھی ضائع نہ ہو گا۔ اور وہی ہے جو زندگی دیتا ہے اور وہی ہے جو زندگی واپس لیتا ہے۔

جہاد فی سبیل اللہ قربانی اور خرچ کا دوسرا نام ہے۔ قرآن مجید کے اکثر مقامات میں جہاد و قتال کے ساتھ ساتھ مال خرچ کرنے اور انفاق فی سبیل اللہ کا تذکرہ بھی ہوتا ہے۔ بالخصوص رسولﷺکے دور میں تو انفاق فی سبیل اللہ کی اہمیت اور زیادہ اس لئے تھی کہ آپﷺ کے دور میں جہاد فی سبیل اللہ میں لوگ رضاکارانہ طور پر حصہ لیتے تھے اور مجاہدین اپنا خرچہ خود برداشت کیا کرتے تھے۔ بعض اوقات ایساہوتا تھا کہ وہ جذبہ جہاد سے تو سرشار ہوتے تھے لیکن وہ مال سے محروم ہوتے تھے اور ان کے پاس اسلحہ اور سواری نہ ہوتی۔ اس لئے نادار مجاہدین کی سہولیات کے لئے ضروری تھا کہ لوگوں کو بار بار انفاق فی سبیل اللہ کی طرف متوجہ کیا جاتا رہے۔ اس لئے قرآن مجید بہت ہی موثر انداز میں انفاق کی دعوت دیتا ہے :

 

“تم میں سے کون ہے، جو اللہ کو قرض حسن دے تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس کر دے۔ گھٹانا بھی اس کے اختیار میں ہے اور بڑھانا بھی، اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے۔ ” (٢٤٥)

 

جس طرح موت و حیات اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اگر اللہ نے زندگی لکھی ہوئی ہے تو موت آ ہی نہیں سکتی، اسی طرح مال انفاق فی سبیل اللہ سے نہیں جاتا۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے نام قرض حسن ہوتا ہے۔ اللہ اس کا ضامن ہے اور وہ اس قرض کو بڑھا چڑھا کر کئی گنا دے گا۔ دنیا میں بھی ایسے شخص کا مال بڑھے گا اسے سعادت و برکت نصیب ہو گی اور آخرت میں بھی سکون اور راحت نصیب ہو گی۔ اور آخرت میں تو ایسے شخص کے لئے بے شمار سازوسامان اور انعام و اکرام ہو گا۔ اسے اللہ کا قرب نصیب ہو گا اور اللہ راضی ہو گا۔

انسان حرص اور بخل کی وجہ سے غنی نہیں ہوتا۔ غنا و فقر تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ انفاق اور خرچ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے : وَاللَّہُ يَقْبِضُ وَيَبْسُط”گھٹانا بھی اللہ کے اختیار میں ہے اور بڑھانا بھی۔ ”

اور آخر کار تم سب نے اللہ کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ جب تم چار و ناچار اللہ کی طرف روانہ ہو گئے اور اس دنیا سے رخصت ہو گے، تو اس وقت تمہیں مال و دولت سے کیا فائدہ ہو گا: وَإِلَيْہِ تُرْجَعُونَ”اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے۔ “اور اگر اسی کی طرف بہرحال جانا ہے تو پھر موت سے ڈرنا کیا؟جزع و فزع سے کیا حاصل ؟نہ موت کاڈر اس لئے کہ اللہ کی طرف تو جانا ہے۔ نہ فقر ومسکنت کا ڈر، اس لئے کہ بہرحال اس دنیا کو چھوڑ کر جانا ہی ہے۔ تو پھر مومنین کو چاہئے کہ وہ اللہ کی راہ میں زور و شور کے ساتھ جہاد شروع کریں۔ وہ جان بھی پیش کریں اور مال بھی۔ وہ یقین کر لیں کہ اس دنیا میں ان کے گنے چنے سانس ہیں۔ زندگی محدود ہے۔ ان کا رزق مقرر ہے۔ ان کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ جرأت و بہادری کی زندگی گزاریں۔ شریفانہ اور آزادانہ زندگی بسر کریں۔ آخر کار جانا انہوں نے اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے ہے۔

ان آیات کی تشریح، ایمانی ہدایات کی توضیح اور تربیتی ہدایات کے اظہار کے بعد مناسب ہے کہ قرآن مجید کے حسن ادا اور اظہار خیال کی فنی خوبیوں کو بھی کچھ وقت دیں۔ مناسب نہیں کہ یوں ہی گزر جائیں أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِہِمْ وَہُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ”کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا؟جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکلے۔ انداز تعبیر ایسا ہے، جیسا کہ یہ لوگ ہزارہا کی تعداد میں صفیں باندھیں کھڑے ہیں اور ان کا معائنہ ہو رہا ہے۔ (جس طرح گارڈ آف آنر کا معائنہ ہوتا ہے )، قرآن نے صرف دو الفاظ استعمال کر کے ان لوگوں کا پورا نقشہ کھینچ دیا ہے أَلَمْ تَرَ کیا آپ نے نظر نہیں ڈالی۔ ان دو الفاظ کے سوا، کوئی اور انداز تعبیر وہ نقشہ نہیں کھینچ سکتا تھا جو ان دو الفاظ نے پردۂ تخیل پر منقش کر دیا۔ یوں لگتا ہے کہ گویا یہ لوگ صف بستہ کھڑے ہیں اور ہم انہیں دیکھ رہے ہیں۔

ان کی حالت یہ ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ گھروں سے نکل پڑے ہیں، ڈرے سہمے، پھٹی پھٹی نظروں سے ادھر ادھر دیکھ رہے ہیں۔ اب قرآن مجید صرف ایک لفظ استعمال کرتا ہے اور یہ تمام لوگ میدان معائنہ کی بجائے اب میدان مقتل میں پہنچ جاتے ہیں۔ گویا گارڈ آف آنر کیا معائنہ کرنے والا حاکم مطلق ایک کاشن دیتا ہے مُوتُوا “مر جاؤ”اور نقشہ بدل جاتا ہے۔ اس لفظ سے احساس دلایا جاتا ہے کہ موت کے سامنے بند نہیں باندھے جا سکتے۔ تمہارا طرز عمل غلط ہے۔ یہ لفظ بتاتا ہے کہ اللہ کے فیصلے کا کاشن کی طرح نافذ ہوتے ہیں۔ ادھر لفظ نکلتا ہے، ادھر اس پر عمل ہو جاتا ہے۔ جس طرح پریڈ کے میدان میں ہوتا ہے۔

ثُمَّ أَحْيَاہُمْ”پھر ان کو زندہ کر دیا۔ “کیونکر؟اس کی کوئی تفصیل یہاں نہیں۔ اللہ قادر ہے، مالک ہے۔ موت و حیات کی زمام اس کے ہاتھ میں ہے۔ بندوں کے ہر معاملے میں خود وہ متصرف ہے۔ اس کا کوئی ارادہ مسترد نہیں ہوسکتا۔ وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ یہ انداز تعبیر ہی بتا دیتا ہے کہ اللہ کے ہاں موت و حیات کے فیصلے کس طرح ہوتے ہیں اور امر الٰہی کے نفاذ کا منظر کیا ہوتا ہے۔ یوں جیسے پریڈ کا میدان اور کاشن پر کاشن۔

اوپر ہمارے پردۂ تخیل پر موت و حیات کا منظر تھا۔ روح کو مٹھی میں لے لینے، قبض کرنے اور پھر یکلخت اسے آزاد کرنے کے مناظر تھے۔ اس کے متصلاً مابعد جب رزق کا معاملہ آتا ہے تو قرآن مجید اس کے لئے قبض اور بسط کے الفاظ استعمال کرتا ہے وَاللَّہُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ”اللہ مٹھی بند کرتا ہے اور کھولتا ہے۔ “تنگی رزق و فراخی رزق کی یہ تعبیر اس لئے اختیار کی تاکہ قبض روح اور اعادۂ روح کے سابقہ مضامین سے متناسق الفاظ آ جائیں۔ یہ دونوں جگہ الفاظ کا اختصار، معانی کا استحضار قرآن مجید کا عظیم الشان اعجاز ہے۔

ایک طرف عجیب منظر کشی ہے۔ دوسری طرف استعمال الفاظ میں عجیب تناسق اور ہم آہنگی ہے۔ معانی چلتے پھرتے نظر آتے ہیں اور حسن ادا کی تو کوئی انتہاء نہیں ہے۔

اب قرآن مجید دوسرا تجربہ امت مسلمہ کے سامنے رکھتا ہے۔ اس کے کردار بنی اسرائیل ہیں۔ واقعہ حضرت موسیٰ کے زمانہ مابعد کا ہے :

 

“پھر تم نے اس معاملے پر غور کیا، جو موسیٰ کے بعد سرداران بنی اسرائیل کو پیش آیا تھا؟انہوں نے اپنے نبی سے کہا ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کر دو تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں۔ نبی نے پوچھا !کیا کہیں ایسا تو نہ ہو گا کہ تم کو لڑائی کا حکم دیا جائے اور پھر تم نہ لڑو؟وہ کہنے لگے :بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم راہ اللہ میں لڑیں، جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکال دیا گیا اور ہمارے بال بچے ہم سے جدا کر دئیے گئے ہیں ؟”مگر جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا؟تو ایک قلیل تعداد کے سوا وہ سب پیٹھ موڑ گئے، اور اللہ ان میں سے ایک ایک ظالم کو ہے۔ ” ( ٢٤٦)

 

کیا تو نے نہیں دیکھا، گویا یہ ابھی ابھی کا واقعہ ہے اور دیکھا ہوا منظر ہے۔ بنی اسرائیل کے سردار جمع ہوئے ہیں۔ ان کے اکابرین اور اہل الرائے کا ایک عظیم اجتماع ہے۔ وہ اپنے نبی وقت کے پاس آتے ہیں۔ سیاق کلام میں نبی کا نام نہیں لیا جاتا، اس لئے کہ مقصد قصہ گوئی نہیں ہے۔ اگر نبی کا نام لیا جائے تو اس سے قصے کی مقصدیت میں کوئی اضافہ نہیں ہو جاتا۔ بنی اسرائیل میں نبیوں کی کثرت تھی ان کی طویل تاریخ میں بے شمار نبی مبعوث ہوئے۔ غرض یہ سردار اور یہ امراء جمع ہیں۔ وہ نبی وقت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ان کے اوپر ایک بادشاہ مقرر فرما دیں، جس کی کمانڈ میں وہ فی سبیل اللہ جہاد کریں۔ اس جنگ کے لئے وہ فی سبیل اللہ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔ اس لئے کہ وہ جنگ کی نوعیت کا اظہار بھی کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے دلوں میں ایمان نے کروٹ لی ہے۔ ایمان پیدا ہو کر کھڑا ہو گیا اور اپنے آپ کو جھاڑ کر اقدام کے تیار ہو گیا۔ ان کا یہ شعور زندہ ہو گیا کہ وہ تو ایمان اور نظریۂ حیات کے حاملین ہیں۔ وہ تو حق اور سچائی کے علمبردار ہیں۔ ان کے دشمن ضلالت، کفر اور باطل کے علمبردار ہیں۔ ان کے سامنے اب ایک منزل ہے، جہاد فی سبیل اللہ کی منزل۔

غرض مقصد کی یہ وضاحت، مقصد کا تعین اور مقصد کی قطعیت سے کامرانی اور فتح مندی کی نصف منزل طے ہو جاتی ہے۔ اس لئے مومن کے ذہن میں سب سے پہلے یہ بات واضح ہو کر بیٹھ جانی چاہئے کہ وہ حق پر ہے اور اس کا دشمن باطل پر ہے۔ اس کے شعور میں مقصد متعین ہو۔ خالص اللہ کے لئے ہو۔ اس میں کسی دوسری چیز کی آمیزش نہ ہو اور نہ ہی اس میں کوئی التباس ہو جس کی وجہ سے اسے معلوم نہ ہو کہ وہ کدھر جا رہا ہے ؟

نبی نے چاہا کہ وہ نیت کی پختگی اور عزم کی سچائی کے بارے میں تسلی کر لیں۔ معلوم کر لیں کہ آیا وہ اس قدر عظیم ذمہ داری کے اٹھانے کا بل بوتا بھی نہیں رکھتے ہیں یا نہیں۔ وہ اس معاملے میں سنجیدہ ہیں۔ سوچ سمجھ کر مطالبہ کر رہے ہیں : قَالَ ہَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلا تُقَاتِلُوا”نبی نے پوچھا !کہیں ایسا تو نہ ہو گا کہ تم کو لڑائی کا حکم دیا جائے اور پھر تم نہ لڑو۔ “آیا ایسا ممکن ہے کہ تم پر جہاد فرض کر لیا جائے اور تم اس سے پیٹھ پھیر لو ؟اب تم تو آزاد ہو۔ جہاد نہ کرو۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ تمہارے اس مطالبے کو مان لیتے ہیں اور تم کو جہاد کا حکم دیا جاتا ہے تو پھر یہ تم پر فرض ہو جائے گا۔ پھر تم انکار نہ کرسکو گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک نبی کو ایسا ہی سوال کرنا چاہئے کہ وہ معاملہ کی تاکید و توثیق کرے۔ انبیاء کے کلمات اور ان کی باتیں مذاق نہیں ہوا کرتیں۔ ان کے احکام میں نہ تردد ہوتا ہے اور نہ ہی ذرہ بھر تاخیر ہوسکتی ہے۔

نبی وقت کے اس استفسار پر ان کا جوش و خروش عروج تک پہنچ گیا۔ سردار نے بتایا کہ جنگ ناگزیر ہو چکی ہے۔ اس کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہیں رہا ہے۔ درستی حالات کامدار اب صرف جہاد اور جہاد فی سبیل اللہ پر ہے۔ جنگ متعین ہے اور اس میں تردد کی کوئی گنجائش نہیں قَالُوا وَمَا لَنَا أَلا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّہِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَا”کہنے لگے :بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم راہ اللہ میں نہ لڑیں جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکالا گیا ہے اور ہمارے بال بچے ہم سے جدا کر دئیے گئے ہیں ؟”معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں بات واضح ہے۔ انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ جنگ ضروری ہے۔ ان کے دشمن اللہ کے دشمن ہیں۔ اللہ کے دین کے دشمن ہیں۔ انہیں گھروں سے نکال دیا گیا ہے۔ ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا گیا ہے۔ اس لئے ان دشمنوں کے ساتھ جنگ کرنا واجب ہے۔ بلکہ ان کے سامنے واحد راستہ ہی یہ ہے کہ وہ ان دشمنان حق کے ساتھ جنگ کریں۔ اس لئے اس سلسلے میں ان سے بار بار پوچھنا اور تکرار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو عزم صمیم ہے اور ہم یہ عزم کئے ہوئے ہیں۔

لیکن یہ وقتی بہادری، اور حالات امن کی یہ جرأت مندی زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔ قرآن مجید جلہد ہی تصویر کا دوسرا رخ سامنے کر دیتا ہے فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْہِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا إِلا قَلِيلا مِنْہُمْ”مگر جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا تو ایک قلیل تعداد کے سوا وہ سب پیٹھ موڑ گئے۔ ”

یہاں آ کر بنی اسرائیل کی ایک اہم خصوصیت معلوم ہو جاتی ہے۔ اپنی تاریخ میں وہ سخت وعدہ خلاف رہے ہیں، عہد کر کے فوراً پھر جائیں گے۔ جب حکم دیا جائے تو اطاعت سے پہلو تہی کریں گے۔ فرائض کی ادائیگی میں پیچھے رہتے ہیں۔ حق سے منہ موڑتے ہیں اور باہمی اختلافات ان کا شعار ہوتا ہے۔ لیکن یہ صفات ہر اس جماعت میں پائی جاتی ہیں جن کی ایمانی تربیت مکمل نہ ہوئی ہو۔ جن کو دیر تک گہری اور اعلیٰ معیار کی تربیت سے نہ گزارا گیا ہو۔ یہ ایک ایسی کمزوری ہے، جس پر تحریک کی قیادت کو خبردار رہنا چاہئے اور اس کی فکر کرنی چاہئے۔ مشکلات راہ میں اس کا خیال رکھنا چاہئے۔ یہ نہ ہو کہ مشکلات میں کمزوریاں سامنے آ جائیں اور معاملات مشکل ہو جائیں۔ ایسے حالات میں ان تمام انسانی جماعتوں کو پیش آتے رہتے ہیں جن کی صفوں میں ابھی تک کمزور لوگ موجود ہوں اور جن کو پگھلا کر میل کچیل سے صاف نہ کیا گیا ہو۔

اس روگردانی پر اللہ تعالیٰ صرف یہ تبصرہ فرماتے ہیں وَاللَّہُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ”اللہ ان میں سے ایک ایک ظالم کو جانتا ہے۔ “یہ بنی اسرائیل کے لئے سخت نکیر ہے۔ ان لوگوں نے پہلے جہاد کا مطالبہ کیا۔ جہاد فرض کیا گیا اور قبل اس کے کہ یہ لوگ میدان جہاد کو جائیں، انہوں نے انکار کر دیا۔ حالانکہ تعداد میں یہ بہت زیادہ ہیں۔ بہت ہی ذلیل ہیں یہ لوگ۔ ذلت کے ساتھ ساتھ ظالم بھی ہیں۔ اپنے نفس کے لئے ظالم، نبی کے لئے بھی ظالم، حق کے لئے بھی ظالم۔ انہوں نے حق کو پہچانا اور پھر اسے اہل باطل کے ہاتھوں ذلیل ہونے دیا۔

جو شخص سچائی اور یقین کو پہچان لے اور یقین کرے کہ وہ حق پر ہے۔ یہ جان لے کہ اس کا دشمن باطل پر ہے۔ جس طرح بنی اسرائیل کے سرداروں نے جان لیا تھا، اور نبی سے مطالبہ کر دیا تھا کہ وہ ان کے لئے ایک بادشاہ مقرر کر دے تاکہ اس کی سرکردگی میں وہ دشمنوں سے، اللہ کی خاطر جنگ کریں اور پھر یہ شخص پیٹھ پھیر لے اور دشمن کے مقابلے میں علم جہاد بلند نہ کرے اور نہ ہی تکالیف اٹھائے، سب کچھ جانتے ہوئے تو یہ شخص ظالم ہے، اور اسے اس ظلم کی سزا دی جائے گی۔ وَاللَّہُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ”اور اللہ ایک ایک ظالم کو جانتا ہے۔ ”

 

“ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ نے طالوت کو تمہارے لئے بادشاہ مقرر کیا ہے۔ یہ سن کر وہ بولے :”ہم پر بادشاہ بننے کا وہ کیسے حق دار ہو گیا؟اس کے مقابلے میں بادشاہی کے ہم زیادہ مستحق ہیں۔ وہ تو کوئی بڑا مالدار آدمی نہیں ہے۔ “نبی نے جواب دیا:”اللہ نے تمہارے مقابلے میں اس کو منتخب کیا ہے اور اس کو دماغی اور جسمانی دونوں قسم کی اہلیتیں فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہیں اور اللہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جسے چاہے دے، اللہ بڑی وسعت رکھتا ہے اور سب کچھ اس کے علم میں ہے۔ ” (٢٤٧)

 

اس بحث و تکرار اور سوال و جواب سے بنی اسرائیل کی ایک اور خصوصیت کا اظہار ہوتا ہے، جس کا تذکرہ اس سورت میں بارہا ہوا ہے۔ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ ان کے لئے ایک بادشاہ مقرر ہو، جس کی قیادت میں رہ کر، وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ کریں، لیکن بادشاہ کے تقرر کا اعلان ہوتے ہی انہوں نے سرجھکالئے، گردنیں پھیر لیں اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے بادشاہ کی تقرری اور نبی کی جانب سے اس کی اطلاع پر اس معاملے میں بحث و تکرار میں مشغول ہو گئے۔ طالوت کی بادشاہت پر ناک بھنویں چڑھانے لگے۔ یہ کیوں ؟اس لئے کہ وہ طالوت کے مقابلے میں اپنے آپ کو موروثی طور پر زیادہ مستحق رکھتے ہیں۔ طالوت ایک تو شاہی خاندان سے نہ تھا، دوسرے یہ کہ وہ کوئی دولت مند آدمی نہ تھا کہ دولت کی بنا پر وراثت کے استحقاق کو نظر انداز کر دیا جائے۔ غرض یہ تاریک خیالی اور یہ لجاجت بنی اسرائیل کی مستقل خصوصیت ہے۔

نبی وقت نے بتایا کہ وہ ذاتی خصوصیات کی وجہ سے زیادہ مستحق ہے اور یہ کہ اس کے انتخاب میں حکمت کارفرما ہے : قَالَ إِنَّ اللَّہَ اصْطَفَاہُ عَلَيْكُمْ وَزَادَہُ بَسْطَۃً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللَّہُ يُؤْتِي مُلْكَہُ مَنْ يَشَاء ُ وَاللَّہُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ”اللہ نے تمہارے مقابلے میں اس کو منتخب کیا ہے اور اس کو دماغی اور جسمانی دونوں قسم کی اہلیتیں فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہیں اور اللہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جسے چاہے دے، اللہ بڑی وسعت رکھتا ہے اور سب کچھ اس کے علم میں ہے۔ ”

وہ ایسا شخص ہے جسے اللہ نے چنا ہے۔ یہ تواس کی صفت ہے۔ اس کو دماغی اور جسمانی قابلیتیں دی ہیں۔ یہ اس کی دوسری ترجیح ہے اور پھر اللہ جسے چاہے اپنا ملک عطا کر دے۔ وہ اس کا ملک ہے۔ دنیا اس کی ہے۔ وہ متصرف و مختار ہے۔ اپنے بندوں میں سے جس کو چن لے۔ وہ بڑی وسعت والا ہے۔ بڑے علم والا ہے۔ اس کے فضل و کرم پر کوئی خازن مقرر نہیں۔ اس کی داد و دہش کے لئے کوئی حد و قید نہیں ہے۔ وہی جانتا ہے کہ بھلائی کس میں ہے۔ وہی جانتا ہے کہ کس موقع پر کیا فیصلہ بہتر ہے ؟

یہ ایسے معاملات ہیں جن کے بارے میں ایک مسلمان کا نقطہ نظر درست ہونا چاہئے۔ اور اس کا ذہن کدورت سے صاف ہونا چاہئے۔ لیکن کیا کیا جائے معاملہ بنی اسرائیل سے آ پڑا ہے۔ ان کے نبی اس بات سے خوب واقف ہیں۔ نبی وقت جانتا ہے کہ نبی اسرائیل کا مزاج ان بلند حقائق کا متحمل ہی نہیں ہے۔ حالات ایسے ہیں کہ فہمائش کے لئے وقت نہیں ہے۔ معرکہ حق و باطل سرپر ہے۔ اس لئے مناسب یہی ہے کہ وقت کی کمی کے باعث ان کے سامنے ایک ایسا معجزہ ظاہر کر دیا جائے جس سے ان کے دل نرم ہو جائیں۔ وہ بے حد متاثر ہوں اور انہیں اس قیادت پر اطمینان ہو جائے اور وہ یقین کر لیں :

 

“ان کے نبی نے کہا :اللہ کی طرف سے اس کے بادشاہ مقرر ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کے عہد میں وہ صندوق تمہیں واپس مل جائے گا، جس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لئے سکون قلب کا سامان ہے، جس میں آل موسیٰ اور آل ہارون کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہیں اور جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں۔ اگر تم مومن ہو، تو یہ تمہارے لئے بہت بڑی نشانی ہے۔ ” (٢٤٨)

 

تیہ کی سرگردانی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے زمانہ مابعد میں اس دور کا واقعہ ہے جبکہ حضرت ہوشع نبی تھے۔ اس دور میں بنی اسرائیل کے دشمنوں نے ان پر حملہ کیا۔ ان سے ان کا علاقہ بھی چھین لیا اور وہ تبرکات بھی چھین لئے جو ان کے پاس ایک بکس میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کے خاندانوں سے محفوظ چلے آرہے تھے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس بکس میں تورات کا وہ نسخہ بھی محفوظ تھا، جو کوہ طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے دیا گیا تھا۔ نبی وقت نے اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے علامت قرار دیا کہ یہ معجزہ تمہارے سامنے رونما ہو گا۔ یہ بکس تمہارے پاس لوٹ آئے گا۔ فرشتے اسے اٹھائے ہوئے ہوں گے تاکہ ان کے دلوں پر اطمینان کی بارش ہو جائے۔ نبی وقت نے فرمایا کہ یہ معجزہ اس بات کا شاہد صادق ہو گا کہ اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے بشرطیکہ تمہارے دلوں میں ایمان ہو۔

سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معجزہ رونما ہوا اور تب جا کر ان لوگوں کو یقین ہوا کہ طالوت اللہ کی جانب سے مقرر ہیں۔

اب طالوت نے ان لوگوں کو منظم کیا جنہوں نے جہاد میں شریک ہونے سے انکار نہ کیا تھا، اور انہوں نے نبی وقت کے ساتھ جو پختہ عہد کیا تھا، وہ اس پر قائم تھے۔ یہ سب باتیں قرآن مجید نے، اپنے اسلوب قصص کے عین مطابق ترک کر دیں۔ قرآن کا اسلوب یہ ہے کہ وہ کسی قصے کے ایک منظر کے بعد متصلاً دوسرا منظر پیش کر دیتا ہے۔ اور درمیان کی غیر ضروری کڑیاں چھوڑ دیتا ہے (دیکھئے میری کتاب التصویر الفنی فی القرآن)۔ چنانچہ یہاں بھی جو منظر پیش ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت طالوت لشکر اسلام کو لے کر دشمن کی طرف مارچ کر رہے ہیں :

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِالْجُنُودِ قَالَ إِنَّ اللَّہَ مُبْتَلِيكُمْ بِنَہَرٍ فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَيْسَ مِنِّي وَمَنْ لَمْ يَطْعَمْہُ فَإِنَّہُ مِنِّي إِلا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَۃً بِيَدِہِ فَشَرِبُوا مِنْہُ إِلا قَلِيلا مِنْہُمْ

“پھر جب طالوت لشکر لے کر چلا، تو اس نے کہا :”ایک دریا پر اللہ کی طرف تمہاری آزمائش ہونے والی ہے۔ جو اس کا پانی پئے گا وہ میرا ساتھی نہیں۔ میرا ساتھی صرف وہ ہے کہ جو اس سے پیاس نہ بجھائے ہاں ایک آدھ چلو کوئی بھر لے، مگر ایک گروہ قلیل کے سوا وہ سب اس دریا سے سیراب ہوئے۔ ”

یہاں پہلے قدم پر ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت طالوت کا انتخاب کیوں فرمایا تھا۔ وہ ایک سخت معرکہ سرکرنے جا رہے تھے، لیکن ان کے ساتھ جو فوج تھی وہ شکست خوردہ لوگوں پر مشتمل تھی۔ یہ لوگ اپنی طویل تاریخ میں بار بار ہزیمت اٹھا چکے تھے۔ اور بار بار ذلت اٹھانے کے خوگر ہو گئے تھے۔ ۔ اور مقاتلہ ایک فاتح اور غالب قوم کی فوج کے ساتھ تھا۔ اس لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ وہ اس ظاہریہ شان و شوکت والی فوج کے مقابلے میں ایک ایسی فوج لے کر جائیں جن کے ضمیر قوت، پوشیدہ قوت سے بھرے ہوئے ہوں، یہ پوشیدہ قوت، قوت ارادہ ہی ہوسکتی ہے۔ اتنا پختہ ارادہ کہ وہ ہر خواہش اور ہر رجحان کو ضبط کرسکے۔ وہ محرومیت اور شدائد کے مقابلے میں چٹان کی طرح کھڑا ہوسکے۔ جو ضروریات اور لازمی حاجات سے بھی بلند ہو جائے۔ وہ اطاعت حکم کو ترجیح دے اور اس سلسلے میں مشکلات اور تکلیفات کو انگیز کرے۔ آزمائش کے بعد آزمائش سے گزرتا چلا جائے، لہٰذا اس چنے ہوئے، اللہ کے پسند کئے ہوئے کمانڈر کا فرض تھا کہ وہ اپنی فوج کی قوت ارادی کو آزمائے۔ اس کی ثابت قدمی اور صبر کو پرکھے کس حد تک وہ خواہشات نفس اور مرغوبات کے مقابلے میں ٹھہر سکتے ہیں۔ کس قدر وہ ضروریات زندگی سے محرومی اور مشکلات برداشت کرسکتے ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ کمانڈر نے یہ حکم فوج کو اس وقت دیا جبکہ وہ سخت پیاسے تھے۔ پیاس سے نڈھال ہو رہے تھے۔ یہ جاننے کے لئے کہ کون ہے جو صبر کرتا ہے اور کون ہے جو پیٹھ پھیر کر واپس ہو جاتا ہے، الٹے پاؤں پھرتا ہے اور کنج عافیت میں بیٹھ جاتا ہے چنانچہ اس مختار کمانڈر کی فراست صحیح ثابت ہوئی۔

فَشَرِبُوا مِنْہُ إِلا قَلِيلا مِنْہُمْ”ایک گروہ قلیل کے سب اس سے سیراب ہوئے۔ “انہوں نے پیا لیکن خوب پیٹ بھر کر حالانکہ ان کو اجازت یہ دی گئی تھی کہ وہ صرف ہاتھ سے ایک آدھ چلو بھر کر پی لیں۔ اس قدر کہ پیاس کی تیزی ختم ہو جائے۔ لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ وہ واپس ہونا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کی اکثریت نے گویا ہتھیار ڈال دئیے۔ پیاس کے سامنے، اور پیٹھ پھیر لی دشمن سے، اس لئے یہ جدا ہو گئے۔ یہ اس قابل ہی نہ تھے کہ طالوت اور اس کے ساتھیوں کے ذمہ جو مہم سرکرنی تھی اس میں ان کو شریک کیا جائے۔ بہتری اسی میں تھی۔ دانشمندی یہی تھی کہ وہ اس فوج سے الگ ہو جائیں جس نے فی الواقعہ جنگ لڑنی ہے۔ یہ دراصل کمزوری، شکست اور ناکامی کا بیج تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ فوج کی کامیابی عظیم تعداد کی وجہ سے نہیں ہوا کرتی بلکہ پختہ ارادے اور مضبوط ایمان، مضبوط دل اور مستقبل مزاجی سے ہوا کرتی ہے۔

اس تجربہ سے معلوم ہوا کہ صرف چھپی ہوئی نیت ہی کافی نہیں بلکہ عملی تجربہ بھی ضروری ہے۔ میدان جنگ میں قدم رکھنے سے پہلے اس راہ کے نشیب و فراز سے واقفیت ضروری ہے۔ اس تجربے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے جو قائد چنا تھا وہ کس قدر اولوالعزم تھا۔ اس کی ہمت کی بلندی تو دیکھو کہ اکثر لوگوں نے اعلان جہاد کے وقت ہی انکار کر دیا لیکن اس کا ارادہ متزلزل نہ ہوا۔ پھر پہلے تجربہ ہی میں اس کی فوج کی اکثریت ناکام رہی اور انہوں نے پیٹھ پھیر لی۔ لیکن وہ ثابت قدم رہا اور اپنی راہ پر گامزن رہا۔

یہاں پہلے تجربے نے جیش طالوت کو اگرچہ چھان کر رکھ دیا، کمزور لوگ اگرچہ الگ ہو گئے تھے لیکن اب بھی تجربات کا سلسلہ جاری ہے :

فَلَمَّا جَاوَزَہُ ہُوَ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَہُ قَالُوا لا طَاقَۃَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِہِ

“پھر جب طالوت اور اس کے ساتھی مسلمان دریا پار کر کے آگے بڑھے تو انہوں نے طالوت سے کہہ دیا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے ی طاقت نہیں ہے۔ “اب یہاں آ کر فی الواقعہ وہ ایک قلیل تعداد میں رہ گئے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ دشمن کے پاس ایک عظیم قوت ہے۔ جالوت جیسا کمانڈر اس کی قیادت کر رہا ہے۔ وہ مومن ہیں انہوں نے اپنے نبی کے ساتھ جو کیا تھا، اس پر وہ اب بھی قائم ہیں۔ لیکن اب وہ اپنی آنکھوں سے حالات کو دیکھ رہے ہیں، وہ صدق دل سے محسوس کر رہے ہیں کہ وہ اس عظیم قوت کے ساتھ مقابلے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اب یہ آخری اور فیصلہ کن تجربہ ہے۔ یہ تجربہ کہ کون دنیا کی ظاہری قوت پر بھروسہ کرتا ہے اور کون ہے جو ظاہری قوت کے مقابلے میں اللہ کی عظیم قوت پر بھروسہ کرتا ہے۔ ایسے معاملات میں صرف وہ لوگ ہی ثابت رہ سکتے ہیں جن کا ایمان مکمل ہو چکا ہو، ان کے دل اللہ تک پہنچ چکے ہوں۔ ان کی قدریں بدل چکی ہوں۔ وہ خیر و شر کا امتیاز اپنے ایمان کی روشنی میں متعین کرتے ہوں، ان ظاہری حالات کی روشنی میں نہیں جن میں عوام الناس گرفتار ہوتے ہیں۔

یہاں آ کر اب وہ مٹھی بھر گنے چنے اہل ایمان کھل کر سامنے آ جاتے ہیں۔ وہ لوگ جن کی تعداد کا یقین ایمان کی روشنی میں ہوتا ہے۔ جن کا پیمانہ ظاہر بیں کے پیمانوں سے مختلف ہوتا ہے :

 

“لیکن جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انہیں اللہ سے ملنا ہے انہوں نے کہا بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آ گیا ہے۔ ” (٢٤٩)

 

یہ ہے اصول ان لوگوں کا جنہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ ایک دن اللہ کے سامنے پیش ہوں گے، کہ بار بار ایسا ہوا ہے کہ کم لوگ کثیر تعداد پر غالب آ گئے ہیں۔ اس لئے کہ وہ مصائب و شدائد کے مختلف مراحل سے گزر کر، کٹھن حالات سے دوچار ہو کر، مقام برگزیدگی اور مقام عالی پر فائز ہو چکے ہوتے ہیں اور غالب اس لئے ہوتے ہیں کہ طاقت کا سرچشمہ ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ وہ اس عظیم قوت تک رسائی پا چکے ہوتے ہیں، جو تمام قوتوں کا سرچشمہ ہوتی ہے، تمام قوتوں پر غالب ہوتی ہے جس کے احکام نافذ ہوتے ہیں جو اپنی مخلوق کے مقابلے میں جبار ہے، جو دنیا کے جباروں کو پاش پاش کر دیتی ہے، جو ظالموں کو ذلیل کر دیتی ہے اور بڑے بڑے گردن فرازوں پر غلبہ پالیتی ہے۔

ان کو یہ کامیابی اللہ کے اذن سے ہوتی ہے، خود ان میں کوئی کمال نہیں ہوتا۔ اس کا حقیقی سبب اللہ تعالیٰ کی ذات برتر ہوتی ہے۔ وَاللَّہُ مَعَ الصَّابِرِينَ اس لئے کہ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہوتا ہے۔ وہ اس لئے کامیاب ہوتے ہیں کہ اذن الٰہی ایسا ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں کہہ کر یہ مٹھی بھر لوگ ثابت کر دیتے ہیں کہ یہ ہیں وہ لوگ جو معرکہ حق و باطل کے لئے چن لئے گئے ہیں۔

اب ہم اس کہانی کو لے کر ذرا آگے بڑھتے ہیں۔ کیا دیکھتے ہیں کہ نہایت ہی قلیل افراد پر مشتمل ایک گروہ ہے جسے یہ یقین ہے کہ وہ ایک دن اللہ کے سامنے پیش ہوں گے۔ اسے اس ملاقات کا پورا یقین ہے اور یہی یقین اس کی اس مصابرت کا سرچشمہ ہے۔ یہ گروہ اپنی قوت حکم الٰہی اور اذن اللہ میں تلاش کرتا ہے۔ اسے اللہ پر پورا بھروسہ ہے، اس لئے اسے اپنی کامیابی کو پورا یقین ہے اور یہ گروہ ان لوگوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے جو اللہ کے ہاں صابرین کہلاتے ہیں۔ غرض یہ گروہ جو صابر ہے ثابت قدم ہے اور غیر متزلزل، ضعف و قلت کے باوجود خائف نہیں۔ یہ گروہ اچانک میدان معرکہ میں ایک عظیم قوت کے مقابلے میں کود پڑتا ہے اور فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ یہ تجدید عہد کرتا ہے۔ اس کے دل اللہ تک جا پہنچتے ہیں، صرف اللہ سے نصرت مانگتے ہیں اور اس ہولناک معرکے میں کود پڑتے ہیں۔

 

“اور جب وہ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابلے پر نکلے تو انہوں نے دعا کی “اے ہمارے رب !ہم پر صبر کا فیضان کر، ہمارے قدم جما دے اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر”آخر کار اللہ کے اذن سے انہوں نے کافروں کو مار بھگایا اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت سے نوازا اور جن جن چیزوں کا چاہا، علم دیا۔ ” (۲۵۰، ۲۵۱)

 

یہ ہے صحیح طریقہ “اے ہمارے رب !ہم پر صبر کا فیضان کر۔ “یہ ایسی تعبیر ہے جس سے فیضان صبر کا پورا منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے اللہ کی طرف سے فیضان اس طرح ہوتا ہے جس طرح ایک برتن بھر کر ان پر انڈیل دیا جائے اور ان کا پیالہ دل اس سے لبریز ہو جائے۔ اس کے نتیجے میں ان پر طمانیت اور سکینت نازل ہو جاتی ہے اور وہ اس ہولناک معرکے کے تیار ہو جاتے ہیں۔ “ہمارے قدم جما دے۔ “اس لئے کہ قدم اس کے دست قدرت میں ہیں۔ وہی ہے جو ان کو اپنی جگہ ثابت کرتا ہے کہ متزلزل نہ ہوں، پھسلیں نہیں، جگہ چھوڑ کر نہ جائیں “اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب فرما۔ “موقف واضح ہے ایمان کا مقابلہ کفر کے ساتھ ہے حق باطل کے مقابلے میں صف آراء ہے اسی لئے اللہ کو پکارا جاتا ہے کہ اللہ اپنے دوستوں کی مدد فرما، جو تیرے کافر دشمنوں کے مقابلے میں صف آراء ہیں۔ ان لوگوں کے ضمیر میں کوئی شک و شبہ نہیں، کوئی خلجان نہیں، ان کی فکر میں کوئی کھوٹ نہیں اور نصب العین کی صحت اور طریق کار کے تعین میں کوئی شک نہیں۔

نتیجہ وہی ہوا جس کے وہ منتظر تھے، جس کا انہیں پوری طرح یقین تھا فَہَزَمُوہُمْ بِإِذْنِ اللَّہِآخر کار انہوں نے کافروں کو مار بھگایا “اللہ کے اذن سے “کا لفظ استعمال کر کے یہ بتایا جاتا ہے کہ فتح و نصرت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اور مسلمانوں کو اس معاملے میں اپنا ذہن اچھی طرح صاف کر لینا چاہئے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کے اذن سے ہوتا ہے، اس قوت کی منشا کے مطابق ہوتا ہے جو اس کائنات کو چلا رہی ہے۔ مومن تو دراصل قدرت کا ایک ہاتھ ہیں۔ ان کے ذریعے اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، جو چاہتا ہے ان کے ذریعے نافذ کرتا ہے۔ وہ خود مختار نہیں ہیں نہ ان کے ہاتھ میں کوئی قدرت ہے۔ نہ ان کے پاس کوئی طاقت ہے۔ اللہ ان کے ذریعے اپنی مشیت نافذ کرتا ہے۔ اس لئے وہ جو چاہتا ہے، ان کے ذریعے وہ چیز صادر ہو جاتی ہے۔ یہ ہے وہ حقیقت جو مرد مومن کے دل کو ایمان، اطمینان اور یقین و سکون سے بھر دیتی ہے۔ مومن اللہ کا غلام ہے۔ اللہ نے اسے اہم رول ادا کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ اور یہ اللہ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس اہم روک کے لئے مومنین کا انتخاب کیا تاکہ وہ اس قدر اہم رول ادا کرے۔ یعنی وہ اللہ کی تقدیر کو حقیقت بنانے والا ہو۔ اس اہم رول کے لئے اسے چن لینے کے بعد اللہ مزید فضل و کرم کا اظہار یوں کرتا ہے کہ یہ اہم رول ادا کرنے کا اعزاز حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ اسے اس کا ثواب بھی عطا کرتا ہے۔ اگر اللہ کا یہ کرم نہ ہوتا تو ہرگز ایسا نہ کرتا۔ اور اگر اللہ کی کرم نوازی نہ ہوتی تو اس پروہ ثواب نہ دیتا۔ پھر مرد مومن کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ ضرور اپنی منزل مقصود تک پہنچے گا۔ اس کا مقصد پاک ہوتا ہے۔ اس کا طریقہ کار پاکیزہ ہوتا ہے۔ کیونکہ جہاد فی سبیل اللہ سے اس کی کوئی ذاتی غرض وابستہ نہیں ہوتی۔ وہ تو اللہ کی مشیئت کا نافذ کنندہ ہوتا ہے۔ اس کے ارادے کا تابع ہوتا ہے اور اس مقام کا وہ مستحق بھی اس لئے ہوا کہ اس کی نیت صاف ہے۔ وہ اطاعت کا عزم صمیم کئے ہوئے ہے اور پر خلوص طریقے سے اللہ کی طرف متوجہ ہے۔

قرآن مجید حضرت داؤد کا نام لے کر کہتا ہے وَقَتَلَ دَاوُدُ جَالُوتَ”اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا”داؤد بنی اسرائیل کا ایک چھوٹا سا لڑکا تھا۔ جبکہ جالوت ایک شہنشاہ اور خوفناک قائد تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیئت تھی کہ وہ مسلمانوں کو موقع پر ہی یہ سبق دے دے کہ معاملات ہمیشہ اس طرح نہیں چلتے رہتے جس طرح بظاہر نظر آتے ہیں۔ بلکہ معاملات کا فیصلہ حقائق کے مطابق ہوتا ہے۔ اور حقائق کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہوتا ہے۔ واقعات کی قدریں اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔ مومنین کا فرض یہ ہے کہ ان کے ذمے جو ڈیوٹی ہے وہ بس اسے ادا کر دیں۔ اللہ کے ساتھ انہوں نے جو عہد باندھا ہوا ہے اسے پورا کر دیں، اس کے بعد فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیں، وہ جو چاہتا ہے وہی ہو گا۔ دیکھئے اللہ نے چاہا کہ اس جبار اور طاقتور بادشاہ کا کام اس چھوٹے سے نوجوان کے ہاتھوں تمام کر دے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ وہ جبار و قہار لوگ جن سے ضعفاء ڈرتے رہتے ہیں، جب اللہ چاہتا ہے کہ وہ ختم ہو جائیں تو ایسے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔ ایک دوسری پوشیدہ حکمت یہ تھی کہ مشیئت الٰہی میں یہ بات طے شدہ تھی کہ طالوت کے بعد داؤد نظام حکومت اپنے ہاتھ میں لے لیں اور اس کے بعد داؤد کے بیٹے سلیمان تک یہ نظام پہنچے تاکہ سلیمان علیہ السلام اور داؤد علیہ السلام کا دور بنی اسرائیل کا سنہری دور بنے۔ اس لئے کہ بنی اسرائیل محض اسلامی نظریۂ حیات لے کر اٹھے۔ بڑے عرصہ تک وہ گمراہی کی حالت میں پھرتے رہے۔ بار بار نقص عہد اور نافرمانی کرتے رہے، لیکن جب بھی انہوں نے اسلامی نظریۂ حیات کے مطابق انقلاب برپا کیا تو بطور جزاء اللہ تعالیٰ نے انہیں بام عروج پر پہنچایا وَآتَاہُ اللَّہُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَۃَ وَعَلَّمَہُ مِمَّا يَشَاء ُ”اور اللہ نے اسے سلطنت و حکمت سے نوازا اور جن جن چیزوں کا چاہا اس کو علم دیا۔ ”

حضرت داؤد بیک وقت نبی اور بادشاہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو زرہ اور دوسرا سامان جنگ کی تیاری کی مہارت دی تھی، جن کی تفصیلات قرآن مجید نے دوسری جگہ دی ہیں۔ یہاں اس قصے کو لانے کا مقصد چونکہ اور ہے اس لئے یہاں تفصیلات ترک کر دی ہیں۔

جب بات یہاں تک پہنچ گئی اور اعلان ہو گیا کہ فتح نظریۂ حیات اور پختہ عقائد کی ہو گی، مادیت کو شکست ہو گی، کثرت تعداد کو نہیں بلکہ ہمت بلند کو کامرانی ہو گی۔ اس لئے یہاں وہ بلند حکمت بیان کر دی جاتی ہے۔ وہ فلسفہ بتایا جاتا ہے، جو حق و باطل کے اس ٹکراؤ کے پس پشت کارفرما ہے۔ اللہ نے جہاد و قتال اس لئے نہیں فرض کیا کہ مال غنیمت حاصل کیا جائے، لوٹ مار کی جائے، دنیا میں عزت و برتری حاصل کی جائے، بلکہ اسلام کا فلسفہ جنگ یہ ہے کہ یہ جنگ دراصل بھلائی اور شر کا ٹکراؤ ہے۔ یہ اس لئے کہ کرۂ ارض پر حق و صداقت اور خیر کو غلبہ حاصل ہو اور شر مغلوب ہو۔ اس لئے ہے کہ طاقت کو اصلاح فی الارض کے لئے استعمال کیا جائے۔

 

“اگر اللہ اس طرح انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے ہٹاتا نہ رہتا، تو زمین کا نظام بگڑ جاتا۔ لیکن دنیا کے لوگوں پر اللہ کا بڑا فضل ہے۔ ” (۲۵۱)

 

اب اشخاص پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ واقعات اختتام پذیر ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے ایک مختصر فقرے میں، اس کرۂ ارض پر مختلف طاقتوں کے ٹکراؤ، مختلف قوتوں کی باہمی منافست اور زندگی کے میدان میں آگے بڑھنے کی سعی اور جدوجہد کا عظیم فلسفہ بیان کر دیتے ہیں۔ اب اسکرین پر کرۂ ارض کا وسیع و عریض میدان ہے۔ اس میدان میں لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ دھکم پیل شروع ہے، کھینچا تانی شروع ہے، مختلف لوگوں کے سامنے مختلف مقاصد ہیں اور حصول مقاصد کے لئے ہر ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ہر شخص کی یہ کوشش ہے کہ وہ گیند لے جائے لیکن سب کی ڈوری اللہ جل شانہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے آگے بڑھا دیتا ہے، جسے چاہتا ہے ڈوری کھینچ لیتا ہے۔ اس اژدہام میں جو لوگ بھلائی اصلاح اور ترقی کے لئے کوشش کر رہے ہیں آخر کار نتیجہ یہ ہے کہ وہ آگے بڑھ جاتے ہیں اور دست قدرت تمام اہل باطل کی لگام کھینچ لیتا ہے۔

اگر لوگ ایک دوسرے کے خلاف صف آراء نہ ہوتے اور ان کا مزاج، جس پر انہیں پیدا کیا گیا ہے ایک دوسرے سے مختلف نہ ہوتا، ان کے ظاہری رجحانات اور ان کے قریبی مقاصد باہم متعارض نہ ہوتے، تو زندگی باسی ہو کر متعفن ہو جاتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے مزاج مختلف بنائے تاکہ وہ اپنی تمام قوتوں کو کام میں لا کر ایک دوسرے کی مزاحمت کریں، ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی سعی کریں وہ سستی اور جمود کو ختم کریں، اپنی خفیہ قوتوں کو بیدار کریں، ہر وقت چوکنے رہیں۔ زمین کے خفیہ ذخائر کی تلاش کریں۔ زمین کی خفیہ قوتوں اور پوشیدہ اسرار کو دریافت کریں اور آخر کار اصلاح، بھلائی اور ترقی کا دور دورہ ہو۔

لیکن یہ سارا کام اللہ تعالیٰ کس طرح کرتے ہیں ؟ایک صالح، ہدایات یافتہ اور مخلص جماعت کے قیام سے، جو اس سچائی سے واقف ہو، جسے اللہ تعالیٰ نے سچائی قرار دیا ہو، وہ اس طریقہ کار سے بھی واقف ہو، جو طریقہ کار اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے۔ اسے یہ یقین ہو کہ وہ اس کرۂ ارض پر سچائی کو غالب کرنے اور باطل کا مقابلہ کرنے کے لئے من جانب اللہ مامور ہے۔ اسے یہ یقین ہو کہ ا س کی نجات اسی میں ہے کہ وہ بلند رول ادا کرے۔ وہ صرف اسی صورت میں نجات پا سکتی ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لئے مشکلات برداشت کرے۔ اور یہ سب کچھ وہ اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے اور حصول رضائے الٰہی کے لئے کرے۔

جب ایسی جماعت قائم ہوتی ہے اور جدوجہد کرتی ہے تو پھر امر و نہی نافذ ہوتا ہے، اللہ کی تقدیر ظاہر ہوتی ہے۔ سچائی، بھلائی اور اصلاح کا کلمہ بلند ہو جاتا ہے۔ اس کشمکش، باہمی منافست اور باہمی مدافعت کا حاصل اس قوت کے ہاتھ آتا ہے جو اس کرۂ ارض پر بھلائی اور تعمیر کی علمبردار ہوتی ہے، وہ اس کشمکش کے نتیجے میں آگے بڑھتے ہیں اور ان کو درجات کمال کی انتہاؤں کو پہنچا دیا جاتا ہے جو ان کے لئے مقرر اور مقدر تھا۔ سب سے آخر میں، اس پورے قصے پر ایک تعقیب ہے :

 

“یہ اللہ کی آیات ہیں، جو ہم ٹھیک ٹھیک تم کو سنا رہے ہیں اور تم یقیناً ان لوگوں میں سے ہو جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ ” (٢٥٢)

 

یہ آیات عالی مقام ہیں، دوررس مقاصد کی حامل ہیں، اور اللہ تعالیٰ خود ان کو اپنے نبی کو پڑھ کر سناتے ہیں نَتْلُوہَا عَلَيْكَ

“ہم خود تم کو سنارہے ہیں۔ “ہم خود سنارہے ہیں۔ کس قدر عظیم بات ہے۔ انتہائی مہیب حقیقت ہے یہ۔ سوچنے کی بات ہے کہ خود رب ذوالجلال ان آیات کو پڑھ کر سنا رہا ہے اور جو بالحق سچائی کے ساتھ۔ خود ذات باری یہ آیات سنارہی ہے جسے سنانے کا حق ہے۔ جس کے حکم پر یہ آیات نازل ہو رہی ہیں، جس کے حکم سے یہ انسانوں کا دستور العمل بنی ہیں۔ اللہ کے سوا یہ مقام کسی کو حاصل نہیں ہے۔ اس لئے جو شخص انسانوں کے لئے از خود کوئی نظام تجویز کرتا ہے وہ مفتری ہے۔ وہ حق تعالیٰ پر افتراء باندھتا ہے۔ وہ خود اپنے ظلم کر رہا ہے اور بندوں پر بھی ظلم کر رہا ہے۔ وہ ایک ایسا دعویٰ کر رہا ہے جس کا وہ مستحق نہیں ہے۔ وہ باطل پرست ہے اور اس بات کا مستحق نہیں کہ اس کی اطاعت کی جائے۔ اطاعت تو امر الٰہی کے لئے مخصوص ہے۔ پھر اس کی اطاعت کی جانی ہے جو اللہ تعالیٰ سے ہدایت لیتا ہے۔ اس کے سوا کوئی مستحق اطاعت نہیں ہے۔

وَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ”تم یقیناً ان لوگوں میں سے ہو، جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ “یہی وجہ ہے باری تعالیٰ خود تم پر آیات کی تلاوت فرماتے ہیں اور پوری انسانی تاریخ کے تمام تجربات سے تمہیں آگاہ کر رہے ہیں۔ قافلہ اہل ایمان کے تمام تجربے، تمام مراحل کے نشیب و فراز تمہیں بتائے جا رہے ہیں اور تمام مرسلین کی میراث تمہارے حوالے کیجا رہی ہے۔

چنانچہ یہاں یہ سبق ختم ہو جاتا ہے، جو تحریکی تجربات کیے ذخیرہ سے بھر پڑا ہے۔ اس سبق پر فی ظلال القرآن کا یہ دوسرا حصہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ جس میں تحریک اسلامی کو مختلف سمتوں میں لے جایا گیا اور مختلف میدانوں اسے پھرایا گیا۔ اور اسے اس عظیم رول کے لئے تربیت دی گئی جس کو اس نے کرۂ ارض پر ادا کرنا تھا، جسے اللہ تعالیٰ نے اس کا نگران مقرر کیا اور اسے امت وسط قرار دیا تاکہ وہ زمانہ آخر تک لوگوں کے لئے اس ربانی نظام زندگی کی حامل ہو۔

٭٭٭

ماخذ:

http://www.box.com/s/8dax98x4ps69rae6c7ym

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید