FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فرانس میں حجاب پر پابندی کا جائزہ

 

 

غازی عبدالرحمن قاسمی

For the last few years a voice is being raised for legislation against “Hijab”in Europe. France, Belgium, Spain, Germany, etc are among these countries. However some European countries are silent about this matter. Most of the European countries, without interfering with the religious creeds of their citizens, consider the eastern people the equal citizens of their country maintaining the solidarity of their country, want to see the Muslims equal participants in the progress of the country. The general’s concept of “Hijab” found in Europe at present is the main cause of restriction on “Hijab” in France and the grounds on which legislation was made against “Hijab” their critical analysis and the effects of this ban have been presented in this article.

مغربی دنیا مذہب سے اس قدر دور جاچکی ہے  کہ ان کی اکثریت میں مذہب کے تقدس کا احساس ختم ہو چکا  ہے۔ان کے لیے سب کچھ ان کی موجودہ تہذیب ہے۔ جس نے ان کی مذہبی اقدار کو اس طرح ڈھانپ لیا ہے کہ وہ دوسرے مذاہب بالخصوص اسلامی تعلیمات کو برداشت کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں۔

اہل یورپ کے نزدیک ان کے کلچر و تہذیب کا تقاضا ہے کہ اہل مشرق جو یورپ میں مقیم ہیں وہ اپنی اسلامی تہذیبی اقدار کو ترک کر کے ہمارے کلچر رہن سہن کو اپنائیں۔

جن ترقی یافتہ مغربی ملکوں میں حجاب اور برقع پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ ان ملکوں میں اسلام کی مقبولیت غیر معمولی طور پر بڑھ رہی ہے۔ اورغیرمسلم مردوں کے ساتھ تعلیم یافتہ عورتیں خاصی تعداد میں اسلام قبول کر رہی ہیں اس لہر نے ان  لوگوں کو پریشان کر دیا ہے۔ بصورت دیگر یورپ میں مقیم بالخصوص خواتین کا باپردہ لباس نسلی منافرت میں اضافہ کا باعث بن سکتا ہے۔

اس وقت خاص طور پر9/11کے  حادثہ کے بعد دنیا کے سارے مذاہب اور نظریات پس منظر میں چلے گئے ہیں کوئی ان کی طرف مڑ کر نہیں دیکھتا سب کی نظر اسلام پر مرکوز ہو گئی ہے۔

حقیقت یہ ہے۔  کہ اسلامی تعلیمات جن سے مسلمانوں کی انفرادیت اور امتیاز کا پتہ چلتا ہے۔ اس کے خلاف بڑی دیدہ ریزی سے تحقیق کر کے اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔اور اس کا تعلق کسی نہ کسی طرح دہشت گردی،شدت پسندی سے جوڑا جا رہا ہے۔ اوراس کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔

مغربی اقوام دنیا کے لہو لعب میں اس قدر محو ہو چکی ہے کہ یہ لوگ مذہب، خدا، انبیاء پر تمسخر سے اور توہین رسالتﷺ سے بھی باز نہیں آتے۔ ایسی بیباک مغربی اقوام کے نزدیک مذہبی اقدار بے حقیقت ہو کر رہ گئی ہیں اور خصوصاًَاسلامی اقدار ان کے نزدیک نا قابل برداشت ہیں۔

چنانچہ یہی وجہ ہے کہ کبھی مسجد کے میناروں  کی تعمیر پر پابندی کی بات ہوتی ہے۔ بلکہ  سوئٹزلینڈ میں مساجد کے میناروں کی تعمیر پر پابندی عائد کی جاچکی ہے۔ اور کبھی حجاب و نقاب اور برقع کے خلاف مذمتی قراردادیں پیش کی جا رہی ہیں۔ اور ہالینڈ کی پارلیمنٹ سے اٹھنے والی اسلام اور امیگریشن مخالف آوازیں اس کا ثبوت ہیں۔

کیا آج کے اس جدید دور میں کسی ترقی یافتہ قوم سے ایسی توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ حجاب اور برقعہ کو موضوع بنائے اورلباس انسانیت و شرافت پر پابندی عائد کرنے کے لئے قانون سازی کرے اور اس کی مخالفت کرنے والوں پر قید کی سزا متعین کرے۔؟

ایک وقت تھا جب لوگ غاروں میں رہتے تھے،تہذیب و تمدن سے سے دور تھے۔ان کے سماج میں شرم و حیاء اور عصمت و عفت کا کوئی تصور نہیں تھا کیا اب اس ترقی یافتہ دور میں وہی ماحول پیدا کرنے کی کوشش ہے؟ اور ترقی یافتہ قومیں اسی تمدن کی طرف واپس لوٹ رہی ہیں۔؟

اگر یہ خیال غلط ہے تو پھر یہ سوال ابھر تا ہے کہ آج کی مادی وسائنسی ترقی کے دور میں کیا حجاب اور برقعہ جو مسلمانوں  کا شریفانہ لباس ہے۔ وہ موضوع بحث بننے کی چیز ہو سکتی ہے۔؟کیا دنیا کی کسی مہذب اور روادار قوم اور حکومت کو اس کا حق ہے کہ ملک کا آزاد شہری کیا پہنے کیا کھائے اور کس مذہب اور نظریہ کی اتباع کرے۔؟کیااسی کا نام رواداری و شخصی آزادی اور جمہوری برابری ہے۔؟

شعائر اسلام اور اسلامی تہذیب کی کشش کا خوف ہے۔ جو تیزی سے یورپی معاشرے میں اپنے اثرات و نفوذ کا دائرہ وسیع کرتا جا رہا ہے۔جس کی وجہ سے برقعہ اور حجاب ان ترقی یافتہ قوموں کی عریاں دم توڑتی تہذیب کے لئے ایک چیلنج بن گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ یورپ میں کچھ عرصہ سے  حجا ب کے خلاف قانون سازی کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔جن میں فرانس،بیلجیئم،اسپین،جرمنی  وغیرہ شامل ہیں۔تاہم بعض یورپ کے ممالک اس معاملہ میں خاموش ہیں۔ یورپ کی بیشتر حکومتیں اپنے شہریوں کے مذہبی عقائد میں دخل اندازی کئے بغیر اہل مشرق (مسلمان شہریوں )کو مملکت کا برابر کا شہری سمجھتے ہوئے ملک کی یکجہتی کو قائم کر کے ملکی ترقی میں مسلمانوں کو برابر کا شریک دیکھنا چاہتی ہیں۔چنانچہ اس وقت  یورپ میں حجاب کے حوالہ سے جو تاثر ہے۔ اس کا اجمالی تذکرہ کرتے ہوئے فرانس نے جن بنیادوں پر  حجاب کے خلاف قانون سازی کی ہے۔ اس  کا جائزہ لیا جائے گا۔

 

برطانیہ کا حجاب کے بارے میں موقف

 

برطانیہ میں حجاب پر پابند ی نہیں ہے۔ اور نہ ہی اس کا امکان ہے۔برطانیہ کا کہنا ہے کہ اِس بات کا امکان بہت ہی کم ہے کہ وہ فرانس کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مسلم خواتین کے نقاب پہننے پر پابندی عائد کرے۔

برطانیہ میں امیگریشن کے وزیر ” ڈیمئن گرین”نے اخبار”سنڈے ٹیلیگراف”کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:

“کہ لوگوں سے یہ کہنا ہے۔ وہ عام مقامات پر کیا پہنیں اور کیا نہ پہنیں، برطانوی اصولوں کے خلاف ہے۔ اور یہ روایتی برداشت اور معاشرے میں باہمی احترام کی اقدار کے بھی منافی ہے۔”ڈیمئن گرین نے مزید  کہا” کہ ایسے مواقع آتے ہیں جہاں کسی کا چہرہ دیکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔”لیکن انہوں نے اس چیز کی بھی وضاحت کی”اس بات کے امکانات بہت کم ہیں، کہ برطانوی پارلیمان اس حوالے سے کوئی قانون پاس کرے کہ لوگ کیا پہنیں اور کیا نہیں۔؟”

اور اسی قسم کا جواب امریکی صدر باراک اوبامہ نے دیا جب ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا آپ کا بھی امریکا میں حجاب پر پابند ی لگانے کا ارادہ ہے؟

تو صدر باراک اوباما نے کہا:

“In the United State our basic attitude to tell people what to wear is that we’re not going”

“یونائیٹڈ اسٹیٹ میں ہمارا رویہ یہ نہیں کہ ہم لوگوں کو بتائیں کہ انہیں کیا پہننا ہے۔”

 

بیلجئم میں حجاب پر پابندی

 

بیلجیم کی پارلیمنٹ نے عوامی مقامات پر برقعہ پہننے پر پابندی عائد کر دی ہے۔بیلجیم کی پارلیمنٹ میں رائے شماری میں ایک سو چونتیس ارکان نے برقعہ پر پابندی کے حق میں ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں ایک بھی ووٹ نہیں آیا۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے پر پندرہ سے پچیس یورو جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ سات دن قید بھی ہو سکتی ہے۔ آج نیوز کے مطابق بلجیم میں نقاب پر پابندی کا بل پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ایوان زیریں سے منظوری کے بعد اب یہ بل حتمی قانون سازی کے لئے سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔ایوان میں بل پیش کرنے والے رکن پارلیمنٹ “باسکولائن”کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد کسی مذہب پر حملہ کرنا نہیں بلکہ یہ اقدام اس بات کا مظہر ہے کہ بیلجئیم خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہتا ہے۔

 

اسپین میں حجاب پر پابندی

 

طویل عرصے تک مسلمانوں کے زیرِ حکومت رہنے والے ملک اسپین میں بھی حجاب پر پابندی کے بارے میں بحث و مباحثے جاری ہیں چنانچہ اس کے دو بڑے شہروں میں پابندی عائد کی جاچکی ہے۔

اسپین کے شہر میں برقع پر پابندی کا قانون منظور کر لیا گیا ہے۔،جس کے بعد خواتین عوامی مقامات پر برقع نہیں پہن سکیں گی۔اس فیصلے کے نتیجے میں” لیڈا”اسپین کا پہلا شہر بن گیا ہے۔ جہاں برقع پہننے پر مکمل پابندی ہے۔ واضح رہے کہ لیڈا  کی تین فیصد آبادی مسلمان ہے۔ جبکہ اسپین میں مسلمانوں کی کل آ بادی تقریباً دس لاکھ ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسپین کے لیڈا  ٹاؤن کے حکام نے خواتین کو پردہ نہ کرنے کے قانون پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ لیڈا میونسپل نے رواں برس جون میں برقعے اور حجاب پر پابندی کا قانون پاس کیا تھا۔

اسپین کے دوسرے بڑے شہر “بارسلونا “میں حجاب پر پابندی کا فیصلہ کر لیا گیا اوراس کا  اطلاق موسم گرما کے بعد سے ہوگا۔”بارسلونا “کی بلدیہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عوامی مقامات پر برقعہ، نقاب یا حجاب پہنے پر پابندی ہوگی۔اس پابندی کا اطلاق رواں سال موسم گرما کے بعد سے ہوگا۔

 

فرانس میں حجاب پر پابندی

 

فرانس میں حالیہ چند سالوں سے حجاب کے خلاف جو تحریک چل رہی تھی وہ قانونی شکل اختیار کر گئی ہے۔پہلے یہ پابندی  صرف تعلیمی اداروں تک محدود تھی اور اسے سکول،یونیفارم اور ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دیا گیا،لیکن اب اس پر عمومی طور پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ جس کا نفاذ اا،اپریل 2010سے کر دیا گیا ہے۔

برقعہ پر پابندی سے متعلق بل کا مسودہ فرانسیسی وزیر قانون و انصاف” مائیکل ایلیٹ مرئی “نے اجلاس میں پیش کیا تھا۔ اور جس کی کابینہ نے اتفاق رائے سے منظوری دے دی۔ اس وقت فرانس میں مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد رہائش پذیر ہے۔ فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق فرانس جہاں یورپی ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ مسلمان رہائش پذیر ہیں اور انیس سو خواتین برقع پہنتی ہیں۔ مسلمانوں کے شدید تحفظات کے باوجود فرانس میں حجاب پر پابندی کا قانون نافذ کر دیا گیا۔پیرس میں نئے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے ساٹھ سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔نئے قانون کے تحت عوامی مقامات اور عدالتوں میں چہرہ چھپانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ایسا کرنے والے کسی بھی عورت کو پولیس اسٹیشن بلاکر نقاب اتارنے کو کہا جائے گا۔اور حکم عدولی پر ڈیڑھ سو یورو جرمانہ کیا جائے گا۔ اور اگر کسی مرد نے  کسی مسلم خاتون کو برقعہ پہننے پر مجبور کیا یا اِس کی ترغیب بھی دی تو ایساکرنے والے کو ایک سال قید اور پندرہ ہزار یورو جرمانے لگانے کا بھی قانون پاس کر لیا گیا ہے۔

 

فرانس کا شہریت دینے سے انکار

 

بلکہ فرانس کی حکومت نے ایک غیر ملکی شخص کو اس بنیاد پر شہریت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ جس نے اپنی بیوی کو زبردستی نقاب پہننے کا حکم دیا تھا۔اس آدمی کی موجودہ شہریت کے بارے میں نہیں بتایا گیا ہے۔ لیکن وہ فرانس میں مستقل طور پر اپنی فرانسسی بیوی کے ساتھ رہائش پذیر ہونے کے لیے شہریت چاہتا تھا۔

امیگریشن کی وزیر “ایرک بسون”کا کہنا ہے۔:

”  کہ شہریت دینے سے اس لیے انکار کیا گیا ہے کہ اس آدمی نے اپنی بیوی کی آزادی پر پابندی لگانے کی کوشش کی تھی اور اسے چہرہ ڈھانپنے والے نقاب کے بغیر گھر سے باہر آنے جانے کی اجازت نہیں تھی۔”ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ” منگل کو ایک ایسے آدمی کی شہریت کی درخواست کو مسترد کرنے کے حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس کے بارے میں معلوم ہوا کہ اس نے اپنی بیوی حکم دیا تھا کہ وہ سر سے پاؤں تک کا برقع پہنے۔”انھوں نے مزید کہا کہ “تحقیقات اور انٹرویو کے دوران معلوم ہوا کہ اس شخص نے اپنی بیوی کو مجبور کیا تھا کہ مکمل اسلامی نقاب پہنے اور چہرہ ڈھانپے بغیر گھر سے باہر آنے جانے کی آزادی کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔”ایرک بسون نے شہریت روکنے کے حکم نامے پر دستخط کرنے کے بعد حتمی منظوری کے لیے وزیر اعظم کے پاس بھیج دیا ہے۔

 

فرانس کے صدر نکولس سرکوزی کے بیانات

 

فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے ملک کی قومی شناخت کے حوالے سے سرکاری افسروں، اساتذہ‘ طلبہ اور ان کے والدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا  :

” کہ نہ تو برقع یا حجاب مذہبی علامت ہے۔ اور نہ ہی اس سیکولر ملک میں اس کے لیے کوئی گنجائش ہے۔ ”

صدر نکولس سرکوزی نے پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے برقع کے بارے میں اس طرح اظہار خیال کیا:

“ہم اپنے ملک میں خواتین کو جال کے پیچھے قید نہیں دیکھ سکتے، جس میں وہ معاشرے سے منقطع ہوں اور ہر قسم کی شناخت سے محروم ہوں۔ یہ جمہوریہ فرانس کا خواتین کے وقار کا نظریہ نہیں ہے۔ برقع مذہب کی علامت نہیں ہے۔ یہ حکم برداری کی علامت ہے۔، اس کو فرانس کی سرزمین پر خوش آمدید نہیں کیا جائے گا۔”

فرانس کے صدر کے مذکورہ بالا بیانات بڑی وضاحت سے ان کے موقف کو بیان کر رہے ہیں۔

 

فرانس میں حجاب پر پابندی کی وجوہات

 

چہرے کے حجاب پر پابندی کے خلاف جو مذمتی قرار داد منظور ہوئی اور جو فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے پردے کے خلاف دلائل اور وجوہات پارلیمنٹ میں  بیان کی ہیں وہ درج ذیل ہیں۔

٭       چہرہ کا پردہ فرانس کی اقدار کے خلاف ہے۔ اور اس سے فرانسیسی ثقافت کی توہین ہوتی ہے۔قرارداد کے مطابق اسلامی پردہ سے مرد اور عورت کی تفریق ہوتی ہے۔

٭       عورتوں کی  آزادی چھین کر انہیں قیدی بنا دینے کے مترادف ہے۔

٭       پردہ عورتوں کو غلام اور مجبور بنا کر رکھ دیتا ہے۔

٭       یہ عورتوں کوزبردستی فرمانبردار اور تابعدار بنا دینا ہے۔

٭         پردہ عورتوں کو ان کی بنیاد سے ہٹا دیتا ہے۔ سماجی زندگی سے کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔

٭       عورتوں کو ان کی شناخت سے محروم کر دیتا ہے۔

٭       عورتوں کو کپڑے میں ملفوف کر کے ان کے چہرے چھپا دیتا ہے۔عورتوں سے ان کا وقار چھین لیتا ہے۔

فرانس میں  حجاب پر پابندی کے جو دلائل اور وجوہات بیان کی گئی ہیں ان کو تین نکات کی صورت میں تقسیم کر کے پھر ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔

٭   چہرہ کا پردہ فرانس کی اقدار کے خلاف ہے۔ اور اس سے فرانسیسی ثقافت کی توہین ہوتی ہے۔

 

جائزہ

 

فرانس کا چہرے کے حجاب پر پابندی لگانا محض اس لیے کہ اس سے فرانسیسی ثقافت کی توہین ہوتی ہے۔ اس پر غور کرنے سے پہلے اس بات کا جائز ہ لینا ہوگا کہ یورپ کا قانون مذہبی آزاد ی کے بارے میں کیا کہتا ہے۔

یورپی کنونشن برائے تحفظ حقوق انسانی (European Convention for the protection of Human Right, 1950) کے آرٹیکل نمبر ۹ کے مطابق :

۱۔        خیال و ضمیر اور مذہب کی آزادی کا ہر ایک کو حق ہے۔اس حق میں مذہب اور عقیدے کی تبدیلی بھی ہے۔ اور یہ آزادی یا تو تنہا یا دوسروں کے ساتھ مل کر جلوت اور خلوت میں ہر ایک کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ اپنے مذہب،و عقیدہ،عبادت،تعلیمات،معمولات،رسموں اور رواجوں کو کھلے بندوں ظاہر کرسکے۔

۲۔       مذہب یا عقیدہ کو ظاہر کرنے کی آزادی ایسی تحدیدات کی پابند ہوگی جو قانون نے وضع کی ہیں۔اور ایک جمہوری معاشرے میں عوامی امن و امان،صحت و اخلاق یا دوسرے کے حقوق اور آزادیوں کے لیے ضروری ہے۔

یونیورسٹی آف ٹورانٹو میں قانون کے پروفیسرڈاکٹر محمد افضل کہتے ہیں:

” یورپ اور امریکہ میں آئین کی بنیاد مذہبی آزادی پر ہے۔اور نجی زندگی میں مسلمانوں کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اپنی زندگی اسلامی عقائد کے مطابق گزاریں، لیکن وہ عقیدے کی بنیاد پر ایسا کوئی کام نہیں کر سکتے جو آئین سے متصادم ہو۔”

جب یورپی قانون میں مذہبی آزادی موجود ہے۔ ہر شخص اپنے مذہب و عقیدے کے مطابق عمل کرنے میں نہ صرف آزاد ہے۔ بلکہ عقیدہ کی تبدیلی کا بھی حق رکھتا ہے۔ تو پھر مسلمانوں کے لیے  حجاب پر پابندی کیا ان کی مذہبی آزاد ی میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف نہیں ہے؟

رہا یہ سوال کہ حجاب فرانس کی ثقافت کے خلاف ہے۔؟فرانس کے اس موقف کا جائز ہ لینے سے قبل اس بات کو سامنے رکھنا ضروری ہے کہ کہ ہر تہذیب کے پیچھے ایک فکر ہوتی ہے۔ اور اس فکر پر ایک نظام قائم ہوتا ہے۔ اور اس نظام کے جملہ اجزا اس فکر کو تقویت دیتے ہیں۔ایسے اجزا ء اس نظام میں نہیں ٹھہر سکتے جو اس کی بنیادی فکر سے ہم آہنگ نہ ہوں۔یا تو یہ اجزاء تقویت پاکر آہستہ آہستہ اس فکر کو مردہ بنا دیں گے۔پا پھر اس تصادم میں خود مردہ ہو جائیں گے۔فکر و نظام کے اس عملی مظہر کو”  تہذیب”کہا جاتا ہے۔ گو یا یہ نظر یہ و عمل کے اشتراک ہی کی ایک صورت ہوتی ہے۔

موجودہ مغربی تہذیب کی بنیاد مادہ پرستی (Materialism)پر ہے۔ اس میں مذہب کی بنیادی تعلیمات (خوف خدا،فکر آخرت وغیرہ)کی بجائے صرف اسی کام کو وقعت دی جاتی ہے۔ جو مادی اعتبار سے مفید ہو۔گویا افادیت پسندی (Utilitarianism)اس تہذیب کی روح ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مغربی تہذیب ایک بالغ شخص کو کھلی چھٹی دینے کی قائل ہے۔ وہ اخلاقی قدروں کی پامالی اس کا حق آزادی شمار کیا جاتا ہے۔ اور حلال و حرام کی پروا کیے بغیر مال کمائے تو یہ اس کا معاشی حق تسلیم کیا جاتا ہے۔ عورت،مردوں کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرے تو یہ اس کا تمدنی حق سمجھا جاتا ہے۔ اور مرد و عورت بے راہ روی پر اتر آئیں تو یہ ان کا جنسی حق تسلیم کیا جاتا ہے۔ معاشرے کی اکثریت اپنی کسی لذت  اور  خواہش کی تکمیل کے لیے ایک ناجائز کام کو جائز کرانا چاہے۔ تو یہ حق جمہوریت کی رو سے ممکن ہے۔

مغربی تہذیب کی انہی فکر ی بنیادوں پر جب عمل درآمد ہو ا تو معاشرے میں بے شمار بگاڑ پید ا ہوئے،اور یہ بات واضح ہے کہ جب خواہشات  کی تکمیل کے لیے اخلاقی و مذہبی پابندیوں کی رعایت نہ کی جائے تو پھر معاشرہ میں جو انارکی پھیلے گی اس کا تصور ہی لرزا دینے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں خاندانی ادارہ تباہ ہو چکا ہے۔ نوجوانی میں تو عیش کی جا سکتی ہے۔ مگر بڑھاپے میں اپنی سگی اولا د بھی اولڈ ہاوس چھوڑ آتی ہے۔ خاندانی نظام کی تباہی کی وجہ سے عورت کو اپنا معاش خود تلاش کرنا پڑتا ہے۔

اسلامی تہذیب میں عورتوں کو سہولیات اور حقو ق دیے گئے ہیں وہ بھی روز روشن کی طرح واضح ہیں۔یورپ میں اس وقت جو اسلام کو پذیرائی مل رہی ہے۔ بالخصوص عورتوں کی اسلا م کی طرف رغبت نے ان کو پریشان کر دیا ہے۔،اور اسلام کی مقبولیت سے وہ بے حد خائف ہیں۔ چنانچہ مستقبل میں انہیں سیاسی حلقوں پر اپنی گرفت کمزور پڑتی نظر آ رہی ہے۔ اس لیے وہ اپنے سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے تہذیب و ثقافت کی آڑ میں اسلام کے بارے میں غلط اور بے بنیاد باتیں عام کر رہے ہیں۔

سوئٹزلینڈ میں مساجد کے میناروں کی تعمیر پر پابندی،فرانس میں  حجاب و نقاب اور برقع کے خلاف قانون سازی اور ہالینڈ کی پارلیمنٹ سے اٹھنے والی اسلام اور امیگریشن مخالف آوازوں پر  مغربی آئین کے ایک ماہرپروفیسر کا تبصرہ پڑھیے۔

جرمنی کے شہر نیورمنبرگ میں قائم “ایرلنگن”یونیورسٹی میں اسلام اور مغربی آئین کے ایک ماہر، پروفیسر” ماتھیاس روہ”لکھتے ہیں:

” کہ ان اقدامات کا اسلام اور مغرب کے درمیان تعلقات پر یقیناً منفی اثر ہو رہا ہے۔، لیکن یہ اقدامات  اکثریت کی نہیں بلکہ ایک ایسی  قدامت پسند اقلیت کی سوچ کی ترجمانی کرتے ہیں جو یورپ میں اسلام کے کردار کے بارے میں بعض حلقوں کے شکوک و شبہات کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔”

اور مغربی ممالک میں اسلام اور مغربی  آئین کے بعض ماہرین کا کہنا ہے۔:

” کہ مسلمان مغرب میں سماجی دھارے کا حصہ یقیناً ہیں۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ مسلم دنیا اور مغربی ممالک میں سیاسی اور معاشی مسائل کی طرف عوام اور حکمرانوں کی توجہ مبذول کرانے کے لیے مذہب کی زبان کا سہارا نہ لیا جائے،کیونکہ ایسی سوچ عوام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے بجائے ان میں انتشار پیدا کرتی ہے۔ جو موجودہ مسائل کے حل کے بجائے بہت سے نئے مسائل کو جنم دیتی ہے۔”

مذکورہ بالا بیانات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ فرانس میں  حجاب پر پابندی ثقافت کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ ثقافت کی آڑ میں سیاسی مفاد ہے۔اور اگر یہ مفروضہ تسلیم کر لیا جائے کہ حجاب پر پابندی سے مقصود یکسانیت پیدا کرنا ہے۔ تو اس کے جواب میں،مغربی ممالک کے بعض ماہرین کی یہ رائے وزن رکھتی ہے کہ ایسے اقدامات سے عوام ایک پلیٹ فارم پر جمع نہیں ہوگی بلکہ ان میں انتشار بڑھے گا جو کہ موجودہ مسائل کو حل کرنے کی بجائے نئے مسائل پیدا کرے گا۔

اور جن حلقوں میں  اسلام کے کردار کے بار ے میں شکوک و شبہات ہیں ان کے حل کے لیے مسلمانوں سے ان کی رائے لی جائے۔ اسی نکتہ کو بیان کرتے ہوئے یونیورسٹی آف ٹورانٹو میں قانون کے پروفیسرڈاکٹر محمد افضل کہتے ہیں :

” اسلامی قوانین دراصل کیا ہیں اورمسلم اقلیتی ممالک میں ان کا دائرہ کار کیا ہے۔؟ اس کی وضاحت کے لیے ضروری ہے کہ مغرب سے مسلمانوں کی ایک متحد آواز سامنے آئے جو سب کے لیے ان سوالوں کے جواب دے سکے۔”

ڈاکٹر افضل نے اس نکتہ کو بہت اچھے طریقہ سے اٹھا یا کہ اسلامی قوانین کی وضاحت کے لیے مغرب میں رہنے والے مسلمانوں کی متحدہ آواز آئے تواسلام کے حوالہ سے پیدا ہونے والے شکوک و شبہات ختم ہوسکتے ہیں مگر یہ تو تب ہے۔ جب مسلمانوں سے اس بارے میں استفسار ہو جہاں ان کے جذبات اور تحفظات کو نظر انداز کر کے فیصلہ سنادیا جائے تو وہاں ان کے موقف کو کون سنے گا ؟

 

٭   اسلامی پردہ سے مرد اور عورت کے درمیان فرق ہوتا ہے۔

 

جائزہ

 

فرانس کا  حجاب پر پابندی کی قرارداد میں یہ موقف اختیار کرنا کہ  اسلامی پردہ سے مرد اور عورت کی تفریق ہوتی ہے۔اس کا جائزہ لینے سے قبل یہ بات دیکھ لی جائے کہ اسلام، مرد و عورت کے درمیان ہر معاملہ میں تفریق کا پہلو سامنے رکھتا ہے۔ یا اس نے مساوات کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔ اور تفریق ومساوات کا پس منظر کیا ہے؟

یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ طلوع اسلام سے قبل عورت جن مصائب و مشکلات کا شکار تھی وہ ایک تاریخ کا دردناک اور المناک پہلو ہے۔  اسلام نے عورت کو جو مقام عطا کیا وہ اسے کسی مذہب اور تہذیب نے عطا نہیں کیا۔مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس نے مردو عورت میں بلا امتیاز مساوات کا حکم دیا ہے۔ تاہم بہت سارے مقامات پر مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوات کا لحاظ کیا گیا۔

حضرت عائشہؓ کی روایت ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا :

((إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ)) 

“بے شک عورتیں مردوں کی نظیر ہیں۔ ”

اس حدیث کا مفہوم بیان کرتے ہوئے ابن قیم ؒ  (م 751ھ )لکھتے ہیں :

أن النساء والرجال شقیقان ونظیران لا یتفاوتان ولا یتباینان فی ذلك وهذا یدل على أنه من المعلوم الثابت فی فطرهم أن حكم الشقیقین والنظیرین حكم واحد۔۔۔۔ وإعطاء أحدهما حكم الآخر

“بے شک عورتیں اور مرد حضرات دونوں ایک دوسرے کی نظیر ہیں جن میں کوئی فرق نہیں اور اس حدیث نے اس بات پر بھی دلالت کی ان کی فطرت سے جو چیز ثابت ہے۔ وہ یہ ہے کہ ان دونوں نظیروں کا حکم ایک ہے۔ اور ان میں سے ایک کو حکم کر نا،دوسرے کا بھی حکم ہوگا۔”

حافظ ابن حجر ؒ (م 852ھ )لکھتے ہیں:

والنساء   شقائق  الرجال فی الأحكام الا ما خص

“اور عورتیں مردوں کی مثل ہیں احکام میں، مگر و ہ احکام جن کی تخصیص کی گئی ہے۔ ”

علامہ ابن نجیم ؒ (م970ھ ) لکھتے ہیں :

أن كل حكم ثبت للرجال ثبت للنساء لأنهن   شقائق  الرجال إلا ما نص علیه

“بے شک ہر وہ حکم جو مردو ں کے لیے ثابت ہو وہ عورتوں کے لیے بھی ثابت ہوگا اس لیے کہ عورتیں،مردوں کی مثل ہیں سوائے اس حکم کے جس کے بارے میں صراحت  آ جائے۔”

علامہ شامی ؒ (م 1252ھ )لکھتے ہیں :

لأن النساء شقائق الرجال فی التكالیف 

“عورتیں احکام شرعیہ کے مکلف ہونے میں مردوں کی نظیر ہیں۔”

مذکورہ بالا تشریحات سے معلوم ہوا کہ احکام شرعیہ کے مکلف ہونے میں مرد و عورت میں مساوات ہے۔ چنانچہ  قرآن وسنت میں جہاں مردوں کو خطاب کیا گیا ہے۔ تو وہ عورتوں کو بھی شامل ہوگا۔مگر جب کوئی ایسی دلیل آ جائے جو اس حکم کا عورتوں کے ساتھ خاص ہونا بیان کر دے تو پھر وہ حکم عورتوں کے ساتھ ہی  خاص ہو گا۔

چنانچہ شیخ عطیہ بن محمدسالمؒ(م 1420ھ)”النساء شقائق الرجال”کی تشریح میں لکھتے ہیں :

وكل ما شرع للرجل فهو مشروع للمرأة إلا ما جاء تخصیص المرأة به، ومن الأحكام التی تشمل الرجل والمرأة على حد سواء أحكام الحج، فالحج هو نصیب المرأة من الجهاد، وكل ما شرع للرجل فی الحج فهو للمرأة كذلك إلا ما جاء استثناؤها فیه كاللباس والاضطباع والرمل والإسراع بین الصفا والمروة والحلق ونحو ذلك مما ینافی حشمة المرأة ووقارها وخلقتها التی خلقها الله علیها

“اور ہر وہ چیز جو مرد کے لیے مشروع کی گئی ہے۔ وہ عورتوں کے لیے بھی مشروع ہے۔ مگر یہ کہ عورتوں کے ساتھ اس کے حکم کے خاص ہونے پر کوئی دلیل ہو، اور ان احکام کی مثال جو مردوں اور عورتوں دونوں کو ایک ہی طریقہ سے شامل ہیں، ان میں سے حج کے احکام ہیں۔حج جہاد سے عورت کا حصہ ہے۔اور ہر وہ طریقہ جو مشروع کیا گیا مرد کے لیے حج میں وہ عورت کے لیے بھی ہے۔ مگر وہ امور جن میں عورتو ں کے لیے مردوں سے حکم کا استثنا ء کر لیا گیا مثلاً حج کا لباس،اصطباغ،رمل،صفا و مروہ کے درمیان تیز چلنا اور حلق اور اسی طرح کے وہ کام جو عورت کی شان و شوکت اور احترام کے منافی ہیں۔اور اس تخلیق کے منافی ہیں جن پر اللہ تعالی نے عورتو ں کو پیدا کیا۔”

لہذا معلوم ہوا کہ جو احکامات مردو ں کے لیے شرعاً ثابت ہیں بالکل وہی احکامات عورتوں کے لیے ثابت ہیں۔لیکن وہ احکامات جو شرعی نصوص کے ذریعے کسی ایک کے لیے مخصوص کر دیے گئے ہوں تو انہیں اس قاعدہ اور کلیہ سے مستثنی قرار دے دیا جاتا ہے۔

شریعت مطہر ہ میں اس کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں جن میں مردو عورت کو برابری کا درجہ دیا گیا ہے۔

مال و دولت کی محبت اور اس کی ملکیت کی خواہش میں دونوں برابر ہیں۔

جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے:

﴿ وَاِنَّه لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ﴾ 

“اور بے شک وہ مال کی محبت میں بڑا سخت ہے۔”

انسانی تکریم میں بھی مردو عورت برابر ی کا درجہ رکھتے ہیں۔

جیساکہ ارشاد باری تعالی   ہے۔:

 ﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰهُمْ عَلٰی كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا﴾ 

“اور ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی ہے۔ اور خشکی اور دریا میں اسے سوار کیا اور ہم نے انہیں ستھری چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں فضیلت عطا کی۔”

شیطان کے فتنہ سے بھی دونوں کو یکساں طور پر خبر دار کیا گیا۔

جیسا کہ ارشا د باری ہے۔:

﴿ یٰبَنِیْ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا  ۭاِنَّه یَرٰىكُمْ هُوَ وَقَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ  ۭاِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَاءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ ﴾ 

“اے آدم کی اولاد! تمہیں شیطان نہ بہکائے جیسا کہ اس نے تمہارے ماں باپ کو بہشت سے نکال دیا ان سے ان کے کپڑے اتروائے تاکہ تمہیں ان کی شرمگاہیں دکھائے وہ اور اس کی قوم تمہیں دیکھتی ہے۔ جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا دوست بنا دیا ہے۔ جو ایمان نہیں لاتے۔”

اور اس لحاظ سے بھی مردو عورت کو برابری کا درجہ عطا کیا کہ انبیاء ورسل علیھم السلام کو دونوں کے لیے یکساںطورپر بھیجا گیا۔

جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے۔:

 ﴿ یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَـقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ  ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴾

“اے آدم کی اولاد!گر تم میں سے تمہارے پاس رسول آئیں جو تمہیں میری آیتیں سنائیں پھر جو شخص ڈرے گا اور اصلاح کرے گا ایسوں پر کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ وہ غم کھائیں گے۔”

اور اس کے علاوہ دونوں میں یہ مساوات بھی پائی جاتی ہے کہ اللہ تعالی نے دونوں سے ایک ساتھ عہد لیا۔

جیسا کہ ارشاد باری ہے:

 ﴿ وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِیْ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰی اَنْفُسِهِمْ  اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ  ۭ قَالُوْا بَلٰی ڔ شَهِدْنَا ڔ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَ﴾ 

“اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان کی جانوں پر اقرار کرایا کہ میں تمہارا رب نہیں ہوں انہوں نے کہا ہاں ہے۔ ہم اقرار کرتے ہیں کبھی قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہمیں تو اس کی خبر نہیں تھی۔”

اور حق زندگی میں بھی مرد و عورت میں مساوات پائی جاتی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں جب کسی شخص کے ہاں بیٹی ہوتی تو اس کی جو حالت ہوتی قرآن کریم منظر کشی کرتے ہوئے اس طرح بیان کرتا ہے۔:

 ﴿ وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّهُوَ كَظِیْمٌ یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْءِ مَا بُشِّرَ بِه  اَیُمْسِكُه عَلٰی هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّه فِی التُّرَابِ   اَلَا سَاءَ مَا یَحْكُمُوْنَ ﴾ 

“اور جب ان میں سے کسی کی بیٹی کی خوشخبری دی جائے اس کا منہ سیاہ ہو جاتا ہے۔ اور وہ غمگین ہوتا ہے۔اس خوشخبری کی برائی باعث لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے۔ آیا اسے ذلت قبول کر کے رہنے دے یا اس کو مٹی میں دفن کر دے دیکھو کیا ہی برا فیصلہ کرتے ہیں۔”

قبل ازاسلام نہ جانے کتنی معصوم جانوں کو زندہ دفن کیا گیا۔مگر جب اسلام کا ظہور ہوا تو زمانہ جاہلیت کے اس فعل قبیح کی مذمت کرنے کے لیے اللہ تعالی کا یہ قول نازل ہوا :

 ﴿ وَاِذَا الْمَوْءدَةُ سُىِلَتْ بِاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ﴾ 

“اور جب زندہ درگور لڑکی سے پوچھا جائے کہ اس کو کس گناہ کی بنا پر قتل کیا گیا تھا؟”

اسلام شرعی تکلیف اور جز ائے اخروی میں بھی مرد و عورت کے درمیان مساوات قائم کرتا ہے۔

جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

﴿فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ اَنِّىْ لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ  بَعْضٍ﴾

“پھر ان کے رب نے ان کی دعا قبول کی کہ میں تم میں سے کسی کام کرنے والے کا کام ضائع نہیں کرتا خواہ مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک دوسرے کے جز ہو۔”

اوراسی طرح دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا :

 ﴿ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَلَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا﴾ 

“اور جو کوئی اچھے کام کرے گا مرد ہے۔ یا عورت در آنحالینکہ وہ ایماندار ہو تو وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور کھجور(کی  گھٹلی) کے شگاف برابر بھی ظلم نہیں کیے جائیں گے۔”

شرعی حدو د اورسزاؤں میں بھی مردو عورت کے مساوات کا پہلو اختیار کیا گیا ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْٓا اَیْدِیَهُمَا جَزَاۗءًۢ بِمَا كَسَـبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ ۭ   وَاللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ ﴾ 

“اور چور خواہ مرد ہو یا عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ دو یہ ان کی کمائی کا بدلہ اور اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا ہے۔ اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔”

مذکورہ بالا مثالوں سے یہ بات واضح ہوئی کہ اسلام نے مردو عورت کے درمیان بہت سے امور میں مساوات کو ملحوظ رکھا ہے۔ اور جن امور میں مرد و عورت کے درمیان فرق ہے۔ ان میں سے  چند ایک درج ذیل ہیں۔مثلاً

۱۔        مرد کے لیے طلاق کا اختیار

۲۔       تعدد ازواج کی اجازت

۳۔       گواہی میں فرق

۴۔       وراثت میں مرد کا حصہ زیادہ ہونا

۵۔       عورتوں کے لیے مطلقہ اور بیوہ ہونے کی صورت میں عدت

۶۔       زیب و زینت اورلباس میں فرق۔

ان امور میں شریعت نے جو فرق کیا ہے۔ اس کی تفصیل قرآن و حدیث و کتب فقہ میں موجود ہے۔ مگر واضح رہے کہ ان احکام میں جو فرق ہے۔ اس میں بھی  مقصود عورت کا احترام اور توقیر ہے۔ نہ اس کی تذلیل اور تحقیر مقصود ہے۔ جیساکہ شیخ عطیہ  بن محمد سالم ؒ کا قول ماقبل میں ذکر کیا گیا۔

لیکن اس مقام پر،صرف مردو عورت کے لیے زیب و زینت اورلباس میں فرق کو واضح کیا جائے گا کہ شریعت نے اس میں مسئلہ میں فرق کیوں کیا۔؟

عورت کی جسمانی ساخت میں نزاکت اور کشش مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ جو بہت سے فتنوں کا سبب اور ذریعہ بن سکتی ہے۔اس لیے کہ عورتوں کی محبت اور دل میں ان کی طرف خواہش فطرت کا تقاضا ہے۔

ارشاد ربانی ہے۔:

﴿ زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَاۗءِ﴾

“لوگوں کو مرغوب چیزوں کی محبت نے فریفتہ کیا ہوا ہے۔ جیسے عورتیں۔”

اور خاص طور پر جب عورت بے حجاب ہو تو پھر شیطانی خیالات اور برے وسواس جنم لینا شروع کرتے ہیں۔

جیسا کہ حدیث میں ہے:

((إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِی صُورَةِ شَیْطَانٍ وَتُدْبِرُ فِی صُورَةِ شَیْطَانٍ فَإِذَا أَبْصَرَ أَحَدُکُمْ امْرَأَةً فَلْیَأْتِ أَهْلَهُ فَإِنَّ ذَلِکَ یَرُدُّ مَا فِی نَفْسِهِ ))

“عورت شیطان کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ اور شیطانی صورت میں پیٹھ پھیرتی ہے۔ پس جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو دیکھے تو اپنی بیوی کے پاس آئے اس سے جو خیال دل میں آیا تھا وہ لوٹ جائے گا۔”

اور جب عورت “حجاب “میں باہر آئے گی تو ہر دیکھنے والا یہ سمجھے گا کہ  یہ شریف اور عفیفہ عورتیں ہیں۔اور ان  کے بارے میں منفی سوچ سے وہ نہ صرف بچے گا بلکہ ان کے بارے میں غلط تاثر قائم کر کے ستانے کی یا اخلاق سے گری حرکت کرنے کی جرات بھی نہ کرسکے گا۔

ارشاد باری تعالی ٰ ہے:

﴿یٰٓاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَاۗءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَۭ﴾ 

“اے نبی!اپنی بیویوں سے اور اپنی بیٹیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنے اوپر چادریں لٹکایا کریں۔اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی۔”

عورت کاحسن و جمال اور زیب و زینت کی نمائش،بے باکانہ چہل پہل مردوں کے جذبات میں شورش اور دل و دماغ میں غلط قسم کی سوچیں پیدا کرتی ہے۔، جس سے وہ غلط راستوں کی طرف جانکلتا ہے۔ تو شریعت نے اس کے لیے ” تبرج جاہلیت”کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے پابندی لگائی۔

ارشاد ربانی ہے۔:

﴿ وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى ﴾  

“اور اپنے گھروں میں بیٹھی رہو اور گزشتہ زمانہ جاہلیت کی طرح بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو۔”

چونکہ ان احکامات سے مقصود عورت کی ہی عزت و آبرو کا تحفظ ہے۔ لہذا اس لیے عورتوں کے لیے اس قسم کا لباس اور زینب و زینت کا حکم دیا گیا جس سے اس کی عزت و آبرو کا تحفظ رہے جو شخص غیر جانبدار ہو کر ان حقائق کو سامنے رکھے گا وہ بھی اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ لباس اور زیب و زینت کے معاملہ میں مردو عورت کے درمیان فرق کا ہونا خود اس کے حق میں بہتر ہے۔ لیکن اگر مرد و عورت کے درمیان ہر وہ فرق جو شریعت نے کیا ہے۔ اس سے صرف نظر کر کے  مساوات کا یہ معنی لیا جائے کہ عورت و مرد میں فطری و طبعی لحاظ سے کوئی فرق نہیں اور ہر وہ کام جو مرد کریں،وہی کام ان کے شانہ بشانہ ہو کر عورتیں بھی کریں تواس قسم کی مساوات کا نہ اسلام قائل ہے۔ اور نہ ہی اس کا قیام ممکن ہے۔

اور اگر اسے ممکن بنانے کی کوشش کی جائے تو یہ فطرت کے خلاف ایک ایسی جنگ ہوگی جس کا نتیجہ معاشرتی نظام کی تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

 

٭   ” حجاب”عورتوں کی آزادی سلب کر کے ان کو قید کرنے کے مترادف ہے۔جوان کو شناخت سے محروم کر کے ان کا وقار چھین لیتا ہے۔جس سے وہ سماجی زندگی سے کٹ جاتی ہیں۔

 

جائزہ

 

فرانس کا یہ موقف اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت کی اور زبردست مغالطہ کی وجہ سے ہے۔ اسلام میں مرداور عورت کے درمیان حجاب اور حد بندی کا  جو تصور ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ عورتوں کی دنیا مردوں سے بالکل الگ اور مختلف ہے۔؟اگر ایسا ہوتا تو حجاب کے احکام شریعت میں نہ ہوتے،قرآن کریم نے عورت کے گھر سے باہر نکلنے پر پابندی نہیں لگائی،بلکہ عورت کو زمانہ جاہلیت کی طرح بناؤ سنگھار کر کے نکلنے پر منع کیا گیا۔

اور ضرورت کے وقت گھر سے نکلنے کی اجازت ہے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے۔:

((قَدْ أُذِنَ لَکُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَاجَتِکُنَّ)) 

“تحقیق تمہیں اپنی حاجت کے لئے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔”

اور اس حکم کو عورت کے لیے “قید” قرار دینا،غلط فہمی ہے۔ اس لیے کہ انسان کو معاشرے میں مکمل آزادی سے جینے کا حق نہیں دیا گیا۔اسے زندگی میں ہرقسم کی آزادی حاصل نہیں ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس کی آزادی کو محدود آزادی کہا جائے جس سے کسی دوسرے کی آزادی بھی متاثر نہ ہو اور وہ اپنے دین اور اس کی تعلیمات سے بھی دور نہ ہو۔کیا یورپین ممالک میں اتنی آزادی ہے کہ جو شخص اپنی مرضی سے جو چاہے۔ کرے ؟کوئی شخص جیسے چاہے۔ دوسروں کے حقوق کو متاثر کرے ؟جہاں چاہے۔ گاڑی راستے کے درمیان میں کھڑی کر دے ؟یا ایسی جگہ جہاں پارکنگ منع ہو،اور روڈ پر مقرر ہ رفتار سے تیز گاڑی چلائے ؟وغیرہ ذالک اسی قسم کی بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں کہ مطلقاً اور مکمل آزادی دنیا کے کسی ملک و معاشرے میں نہیں ہے۔ لیکن یہ محدود آزادی ہے۔ جو ہر شخص کو حاصل ہے کہ وہ کام اپنی مرضی سے کیا جا سکتا ہے۔ جس سے کسی دوسرے کی آزادی متاثر نہ ہو،اگر کسی شخص کی آزادی متاثر ہو تو اس کام سے فوری روک دیا جائے گا۔اور یہ کہا جائے گا کہ آپ کو حق نہیں کہ آپ دوسروں کے حقوق متاثر کریں۔اسی طرح اسلام نے مرد و عورت کو محدود آزادی دی ہے۔ ایسے کام یا امور جن سے دوسروں کو یا خود اپنا نقصان ہو منع کیا ہے۔ حدیث میں ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا:

((لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ)) 

“نہ نقصان اٹھانا ہے۔ اور نہ نقصان پہنچانا ہے۔ ”

وہ خاتون  جو  بناؤ سنگھار کر کے بے حجاب ہو کر  پبلک مقامات پر آتی ہے۔ اور اپنے پوشیدہ حسن کو دوسروں پر ظاہر کرتی ہے۔  اس کا یہ عمل مردوں کے لئے تحریک کاسبب بنتا ہے۔، اور ان میں  ہیجانی  کیفیت پیدا کرنے کا باعث ہے۔ لہذا اگر عورتوں سے کہا جائے کہ وہ  اپنے حسن کا مظاہرہ یا اپنی زینت کو عیاں نہ کریں تو یہ چیز ان کو قید کرنا نہیں ہے۔

باقی حجاب سے مقصود عورت کو شناخت اور اس کے وقار سے  محروم کرنا نہیں ہے۔ حجاب کی حدبندی دراصل بے راہ روی کی  روک تھام کے  یہ ایک بہت بڑا فتنہ ہے۔ اور اس سے بڑے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے یہی ایک مسئلہ پیدا نہیں ہوتا کہ ایک نوجوان لڑکی یا نوجوان لڑکا بے راہ روی کا  شکار ہو رہے ہیں۔یہ تو بالکل ابتدائی چیز ہے۔ اور شاید یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اولاً اس کا نقصان انفرادی ہے۔لیکن  اس کا سلسلہ خاندانوں تک پہنچتا ہے۔بے روک ٹوک اور بے لگام روابط خاندانوں اور معاشروں  کے لئے “سم قاتل” کا درجہ رکھتے ہیں۔ کیونکہ خاندانوں اور معاشروں  کا دار و مدار باہمی تعاون و تناصر اور مردو عورت کے صاف ستھرے اور جائز تعلقات پر مبنی ہے۔  اگر مرد و عورت کے تعلقات کسی غلط ذریعہ سے قائم ہوں اور وہ ناجائز راستوں سے تسکین حاصل کرنے لگیں  تو خاندان اور معاشرے کی  محکم بنیاد  یں ہل کر رہ جائیں،اور ان کی وہی درگت ہوگی جو آج بد قسمتی سے مغربی دنیا بالخصوص شمالی یورپ کے ممالک اور امریکا میں ہوئی ہے۔جہاں کسی قسم کے حجاب کا تصور نہیں،ہر طرف لطف اندوزی،ہیجان خیزی اور شہوت پرستی کی لذت اندوزی کا سامان ہو رہا ہے۔ او رایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ جو جنسی ہیجان کا باعث بنتے ہیں۔جس کے نتیجے میں بے راہ روی بڑھتی جا رہی ہے۔

 

فرانس میں حجاب پر پابندی کے اثرات

 

فرانس کے حجاب پر پابندی لگانے سے درج ذیل اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

٭       مغرب میں جہاں ایک طرف حجاب کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔، وہیں دوسری طرف مسلم، غیر مسلم اور نومسلم خواتین کا حجاب سے رشتہ و تعلق مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔، بلکہ خود فرانسیسی خواتین، جن میں اسلام کی پیاس اور کشش پہلے سے موجود ہے۔حجاب کی جانب مائل ہو رہی ہیں۔

اور یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ حجاب کی مخالفت کے نتیجے میں دنیا بھر میں حجاب و حیاء کے بارے میں شعور و بیداری اور اس کی پاسداری کا عزم و ولولہ نہ صرف ایک تحریک کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ بلکہ حجاب و حیاء کی تحریک مزید مستحکم و توانا ہو رہی ہے۔

٭       حجاب  کے خلاف قانون کی منظوری سے فرانسیسی پارلیمنٹ کے فیصلے نے نہ صرف یہ ثابت کر دیا ہے کہ یورپ و مغرب اسلام اور انسانی حقوق کے دشمن ہیں بلکہ اس فیصلے کے مستقبل میں دوررس مضمرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ حجاب  پر پابندی کے نتیجے میں فرانسیسی حکومت کے خلاف نفرت اور اشتعال میں اضافہ ایک فطری امر ہے دنیا بھر میں فرانس ایک اسلام دشمن ملک کی حیثیت سے جانا پہچانا جائے گا۔

٭       اس پابندی کی وجہ سے جہاں یورپ کی سماجی اور معاشرتی ساکھ متاثر ہو رہی  ہے۔،وہیں دوسری جانب یورپ کو اس کا معاشی خمیازہ بھی بھگتنا پڑے گا،کیونکہ یورپ نے یہ پابندی نہ صرف یورپی خواتین پر نافذ کی ہے۔ بلکہ جو خواتین سیاح کی حیثیت سے یورپ آئیں گی،یا جو خواتین باپردہ یورپ میں داخل ہوں گی وہ اس نئے قانون کی زد میں آئیں گی۔حجاب پر پابندی کے قانون کے اطلاق سے یورپ کو جو معاشی نقصان ہو گا اس کا اعتراف ٹریول کمپنیوں نے بھی کیا۔

گلف سے وابستہ ٹریول کمپنی نے بتایا ہے۔ کہ

” فرانس میں ہزاروں سیاح مشرق وسطیٰ سے آتے ہیں،وہ سیاح اب یہاں کا رخ نہیں کریں گے۔”

اورینٹ ٹریولز نے کہا:

” کہ مسلمان اپنے نجی معاملات خصوصاً اپنے گھر کی خواتین کے حوالے  سے بہت  حساس ہوتے ہیں اور جب انہیں اس بات کا خدشہ ہو گا کہ ان کی خواتین کو اب یورپ میں ہراساں کیا جائے گا تو وہ یورپ آنے کے بجائے کہیں اور جانے کو ترجیح دیں گے،جہاں انہیں بغیر کسی خوف کے تفریح کے مواقع میسر آسکیں۔”ٹریول کمپنیوں کے تجزیے کے مطابق مشرق وسطیٰ کے لوگوں کے لیے برطانیہ کے بعد فرانس دوسرا بڑا تفریحی مقام ہے۔ اور پیرس کے بازاروں اور تفریحی مقامات پر باپردہ خواتین اکثر دیکھی جاتی ہیں۔

بہرکیف ہر عمل کا ایک رد عمل ہوتا ہے۔ جو بسااوقات مثبت اثرات کی بجائے منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ فرانس کی حالیہ “حجاب “پر پابندی سے نہ صرف فرانس کے حوالہ سے منفی اثرات مرتب ہوں گے بلکہ عمومی طور پر یورپ کی سیاسی اور سماجی و معاشی ساکھ بھی متاثر ہوگی جو کہ خود ان کے حق میں نقصان دہ ہے۔

 

خلاصہ بحث

 

اسلام دین فطرت ہے۔ اس کی تعلیمات تمام انسانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔اسلام نے جس طرح  زندگی کے مختلف شعبوں کے لیے نہایت مفید اور کارآمد احکام دیے ہیں اسی طرح نظام عفت و عصمت کو بھی بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ اسی سلسلہ میں احکامات حجاب دیے گئے ہیں۔جن پر عمل درآمد کرانے کا مقصد عورتوں کو قید کرنا یا ان کی آزادی سلب کرنا نہیں ہے۔ بلکہ انہی کی زندگی کو تحفظ دینا ہے۔

اسلام میں حجاب  کا حکم معاشرے میں مرد اور عورت کے درمیان غیر ضرور ی اختلاط سے روکنے کے لیے ہے۔ کیوں کہ مردو عورت کی بلاوجہ قربت اور بے مقصد میل جول معاشرتی زندگی کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس حکم حجاب سے اسلام معاشرتی زندگی کو پاکیزہ بنانا چاہتا ہے۔ اس لیے کہ بے پردگی جہاں عورتوں کے لیے نقصان ہے۔ وہیں پر معاشرہ میں کام کرنے والے مردوں کے افکار میں انتشار کا سبب ہے۔ ان کی سوچنے وسمجھنے کی صلاحیتیں متاثر ہوں گی اور وہ اپنے اصل کام اور مقصد سے بھٹک کر فضول اور غلط راستوں پر چل پڑیں گے۔ یورپ میں حجاب کے خلاف جو غلط باتیں پھیلائی جا رہی ہیں ان کا مقصد اسلام کے قریب آنے والوں کو دور کرنا ہے۔ اورفرانس نے جن بنیادوں پر حجاب کے خلاف قانون سازی کی ہے۔ وہ اپنے سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ہے۔ اوراس سلسلہ میں اسلام کے بارے میں غلط باتیں منسوب کرنا خلاف حقیقت ہے۔ اسلامی تعلیمات روز روشن کی طرح واضح ہیں جن کا غیر جانبدارانہ مطالعہ اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کا  خود جواب دے دیتا ہے۔ بہرکیف معاشرتی زندگی کو پاک اور محفوظ و صحت مند بنانے لیے  احکامات حجاب کی پاسداری ضروری ہے۔

٭٭٭

تشکر: مصنف جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید