FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

غبارِ خاطر

 

 

               مولانا ابو الکلام آزاد

صرف تین خطوط

 

 

 

خط نمبر ۳

 

قلعۂ احمد نگر

17 دسمبر 1942ء

صِدیقِ مکرم

وقت وہی ہے مگر افسوس، وہ چائے نہیں ہے جو طبعِ شورش پسند کو سرمستیوں کی اور فکر عالم آشوب کو آسودگیوں کی دعوت دیا کرتی تھی۔

پھر دیکھیے اندازِ گل افشانیِ گفتار

رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے

وہ چینی چائے جس کا عادی تھا، کئی دن ہوئے ختم ہو گئی، اور احمد نگر اور پُونا کے بازاروں میں کوئی اس جنسِ گرانمایہ سے آشنا نہیں

یک نالۂ مستانہ ز جائے نہ شنیدیم

ویراں شود آں شہر کہ مے خانہ نہ دارد

مجبوراً ہندوستان کی اسی سیاہ پتی کا جوشاندہ پی رہا ہوں جسے تعبیر و تسمیہ کے اس قاعدے کے بموجب کہ:

برعکس نہند نام زنگی کافُور

لوگ چائے کے نام سے پکارتے ہیں، اور دودھ میں ڈال کر اس کا گرم شربت بنایا کرتے ہیں:

در ماندۂ صلاح و فسادیم، الحذر

زیں رسم ہا کہ مردمِ عاقل نہادہ اند

اس کارگاہِ سُودو زیاں میں کوئی عشرت نہیں کہ کسی حسرت سے پیوستہ نہ ہو۔ یہاں زلال صافی کا کوئی جام نہیں بھرا گیا کہ دُردِ کدُورت اپنی تہہ میں نہ رکھتا ہو۔ بادۂ کامرانی کے تعاقب میں ہمیشہ خمارِ ناکامی لگا رہا، اور خندۂ بہار کے پیچھے ہمیشہ گریۂ خزاں کا شیون برپا ہوا۔ ابوالفضل کیا خوب کہہ گیا ہے۔ قدحے پُر نہ شد کہ تہی نہ کردند، د صفحہ تمام نہ شد کہ ورق برنہ گردید:

نیکو نہ بود ہیچ مرا دے بہ کمال

چوں صفحہ تمام شد ورق بر گردد

امید ہے، کہ آپ کی “عنبرین چائے” کا ذخیرہ جس کا ایک مرتبہ رمضان میں آپ نے ذکر کیا تھا، اس نایابی کی گزند سے محفوظ ہوگا:

امید کہ چوں بندہ تنک مایہ نہ باشی

مے خوردن ہر روزہ زعاداتِ کرام است

معلوم نہیں، کبھی اس مسئلہ کے دقائق و معارف پر بھی آپ کی توجہ مبذول ہوئی ہے یا نہیں؟ اپنی حالت کیا بیان کروں؟ واقعہ یہ ہے کہ وقت کے بہت سے مسائل کی طرح اس معاملہ میں بھی طبیعت کبھی سوادِ اعظم کے مسلک سے متفق نہ ہو سکی۔ زمانے کی بے راہ رویوں کا ہمیشہ ماتم گسار رہنا پڑا:

ازاں کہ پیرویے خلق گمرہی آرد

نہ می رویم بہ راہے کہ کارواں رفتہ ست

چائے کے باب میں ابناءِ زمانہ سے میرا اختلاف صرف شاخوں اور پتوں کے معاملہ ہی میں نہیں ہوا کہ مفاہمت کی صورت نکل سکتی بلکہ سرے سے جڑ میں ہوا یعنی اختلاف فرع کا نہیں، اصل الاصول کا ہے:

دہن کا ذکر کیا، یاں سر ہی غائب ہے گریباں سے

سب سے پہلا سوال چائے کے بارے میں خود چائے کا پیدا ہوتا ہے۔ میں چائے کو چائے کے لیے پیتا ہوں، لوگ شکر اور دودھ کے لیے پیتے ہیں۔ میرے لیے وہ مقاصد میں داخل ہوئی، ان کے لیے وسائل میں۔ غور فرمائیے۔ میرا رخ کس طرف ہے اور زمانہ کدھر جا رہا ہے؟

تو و طوبٰے و ماو قامتِ یار

فکرِ ہرکس بقدرِ ہمتِ اوست

چائے چین کی پیداوار ہے اور چینیوں کی تصریح کے مطابق پندرہ سو برس سے استعمال کی جا رہی ہے لیکن وہاں کبھی کسی کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں گزری کہ اس جوہرِ لطیف کو دودھ کی کثافت سے آلودہ کیا جا سکتا ہے۔ جن جن ملکوں میں چین سےبراہ راست گئی مثلاً روس، ترکستان، ایران۔ وہاں کبھی بھی کسی کو یہ خیال نہیں گزرا۔ مگر سترھویں صدی میں جب انگریز اس سے آشنا ہوئے تو نہیں معلوم ان لوگوں کو کیا سوجھی، انہوں نے دودھ ملانے کی بدعت ایجاد کی۔ اور چونکہ ہندوستان میں چائے کا رواج انہی کے ذریعے ہوا اس لیے یہ بدعتِ سیئہ یہاں بھی پھیل گئی۔ رفتہ رفتہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ لوگ چائے میں دودھ ڈالنے کی جگہ دودھ میں چائے ڈالنے لگے۔ بنیاد ظلم در جہاں اندک بود۔ ہر کہ آمد براں مزید کرد۔ اب انگریز تو یہ کہہ کر الگ ہو گئے کہ زیادہ دودھ نہیں ڈالنا چاہیے، لیکن ان کے تخمِ فساد نے جو برگ و بار پھیلا دیے ہیں، انہیں کون چھانٹ سکتا ہے؟ لوگ چائے کی جگہ ایک طرح کا سیال حلوہ بناتے ہیں۔ کھانے کی جگہ پیتے ہیں، اور خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے چائے پی لی۔ ان نادانوں سے کون کہے کہ:

ہائے کمبخت، تو نے پی ہی نہیں

پھر ایک بنیادی سوال چائے کی نوعیت کا بھی ہے، اور اس بارے میں ایک عجیب عالمگیر غلط فہمی پھیل گئی ہے۔ کس کس سے جھگڑیے اور کس کس کو سمجھائیے

روز و شب عربدہ با خلقِ خدا نہ تواں کرد

عام طور پر لوگ ایک خاص طرح کی پتی کو جو ہندوستان اور سیلون میں پیدا ہوتی ہے، سمجھتے ہیں چائے ہے، اور پھر اس کی مختلف قسمیں کر کے ایک کو دوسرے پر ترجیح دیتے ہیں اور اس ترجیح کے بارے میں باہم ردّ و کد کرتے ہیں۔ ایک گروہ کہتا ہے سیلون کی چائے بہتر ہے۔ دوسرا کہتا ہے، دارجلنگ کی بہتر ہے، گویا یہ بھی وہ معاملہ ہوا کہ:

در رہِ عشق نہ شد کس بہ یقیں محرم راز

ہر کے بر حسبِ فہم گمانے دارد

حالانکہ ان فریب خوردگانِ رنگ و بو کو کون سمجھائے کہ جس چیز پر جھگڑ رہے ہیں، وہ سرے سے چائے ہے ہی نہیں:

چوں نہ دید مذ حقیقت رہِ افسانہ زوند

دراصل یہ عالمگیر غلطی اس طرح ہوئی کہ انیسویں صدی کے اوائل میں جب چائے کی مانگ ہر طرف بڑھ رہی تھی ہندوستان کے بعض انگریز کاشتکاروں کو خیال ہوا کہ سیلون اور ہندوستان کے بلند اور مرطوب مقامات میں چائے کی کاشت کا تجربہ کریں۔ انہوں نے چین سے چائے کے پودے منگوائے اور یہاں کاشت شروع کی۔ یہاں کی مٹی نے چائے پیدا کرنے سے تو انکار کر دیا مگر تقریباً اسی شکل و صورت کی ایک دوسری چیز پیدا کر دی۔ ان زیاں کاروں نے اسی کا نام چائے رکھ دیا، اور اس غرض سے کہ اصلی چائے سے ممتاز رہے، اسے کالی چائے کے نام سے پکارنے لگے:

غلطی ہائے مضامیں مت پوچھ لوگ نالہ کو رسا باندھتے ہیں

دنیا جو اس جستجو میں تھی کہ کسی نہ کسی طرح یہ جنس کمیاب ارزاں ہو، بے سوچے بوجھے اسی پر ٹوٹ پڑی اور پھر تو گویا پوری نوعِ انسانی نے اس فریب خوردگی پر اجماع کر لیا۔ اب آپ ہزار سر پیٹیے، سنتا کون ہے:

اسی کی سی کہنے لگے اہلِ حشر کہیں پرسشِ داد خواہاں نہیں

معاملہ کا سب سے زیادہ درد انگیز پہلو یہ ہے کہ خود چین کے بعض ساحلی باشندے بھی اس عالمگیر فریب کی لپیٹ میں آ گئے اور اسی پتی کو چائے سمجھ کر پینے لگے۔ یہ وہی بات ہوئی کہ بدخشانیوں نے لال پتھر کو لعل سمجھا، اور کشمیریوں نے رنگی ہوئی گھانس کو زعفران سمجھ کر اپنی دستاریں رنگنی شروع کر دیں:

چو کفر از کعبہ بر خیز، کجا ماند مسلمانی!

نوعِ انسانی کی اکثریت کے فیصلوں کا ہمیشہ ایسا ہی حال رہا ہے۔ جمعیت بشری کی یہ فطرت ہے کہ ہمیشہ عقلمند آدمی اکا دکا ہوگا۔ بھِیڑ بے وقوفوں ہی کی رہے گی۔ ماننے پر آئیں گے تو گائے کو خدا مان لیں گے۔ انکار پر آئیں گے تو مسیح کو سُولی پر چڑھا دیں گے۔ حکیم سنائی زندگی بھر ماتم کرتا رہا:

گاؤ را دارند باور در خدائی عامیاں

نو رح باورند ارند از پئے پیغمبری

اسی لیے عرفاء طریق کو کہنا پڑا:

انکاریے خلق باش، تصدیق انیست مشغول بہ خویش باش توفیق انیست

تبعیتِ خلق باش از حقت باطل کرد ترکِ تقلید گیر، تحقیق انیست

یہ تو اصول کی بحث ہوئی۔ اب فروع میں آئیے۔ یہاں بھی کوئی گوشہ نہیں جہاں زمین ہموار ملے۔ سب سے اہم مسئلہ شکر کا ہے۔ مقدار کے لحاظ سے بھی اور نوعیت کے لحاظ سے بھی:

دردا کہ طبیب صبر می  فرماید دیں نفسِ حریص را شکر می  باید

جہاں تک مقدار کا تعلق ہے، اسے میری محرومی سمجھیے یا تلخ کامی، کہ مجھے مٹھاس کے ذوق کا بہت کم حصہ ملا ہے۔ نہ صرف چائے میں بلکہ کسی چیز میں بھی زیادہ مٹھاس گوارا نہیں کر سکتا۔ دنیا کے لیے جو چیز مٹھاس ہوئی، وہی میرے لیے بدمزگی ہو گئی۔ کھاتا ہوں تو منہ کا مزہ بگڑ جاتا ہے۔ لوگوں کو جو لذت مٹھاس ملتی ہے، مجھے نمک میں ملتی ہے۔ کھانے میں نمک پڑا ہو مگر میں اوپر سے اور چھڑک دوں گا۔ میں صباحت کا نہیں ملاحت کا قتیل ہوں:

و للناس فی ما یعشقون مذاھبُ

گویا کہہ سکتا ہوں کہ “اخی یوسف اصبح و انا املح منہ” کے مقام کا لذت شناس ہوں۔

گرنکتہ دانِ عشقی، خوش بشنوایں حکایت

اس حدیث کے تذکرہ نے یارانِ قصص و مواعظ کی وہ خانہ ساز روایت یاد دلا دی کہ “الایمان حلو و المؤمن یحبّ الحلویٰ” (یعنی ایمان مٹھاس ہے اور جو مومن ہے وہ مٹھاس کو محبوب رکھے گا) لیکن اگر مدارج ایمانی کے حصول اور مراتبِ ایقانی کی تکمیل کا یہی معیار ٹھہرا، تو نہیں معلوم اِن تہی دستانِ نقدِ حلاوت کا کیا حشر ہونے والا ہے۔ جن کی محبتِ حلاوت کی ساری پونجی چائے کی چند پیالیوں سے زیادہ نہیں ہوئی اور ان میں بھی کم شکر پڑی ہوئی، اور پھر اس کم شکر پر بھی تاسف کہ نہ ہوتی تو بہتر تھا۔ مولانا شبلی مرحوم کا بہترین شعر یاد آ گیا:

دو دل بودن دریں رہِ سخت تر عیبے ست سالک را

خجل ہستم ز کفرِ خود کہ دارد بوئے ایماں ہم

بچوں کا مٹھاس کا شوق ضرب المثل ہے، مگر آپ کو سن کر تعجب ہوگا کہ میں بچپنے میں بھی مٹھاس کا شائق نہ تھا۔ میرے ساتھی مجھے چھیڑا کرتے تھے کہ تجھے نیم کی پتیاں چبانی چاہئیں، اور ایک مرتبہ پسی ہوئی پتیاں کھلا بھی دی تھیں۔

اسی باعث سےدایہ طفل کو افیون دیتی ہے

کہ تا ہو جائے لذت آشنا تلخیِ دَوراں سے

میں نے یہ دیکھ کر کہ مٹھاس کا شائق نہ ہونا نقص سمجھا جاتا ہے، کئی بار بہ تکلف کوشش کی کہ اپنے آپ کو شائق بناؤں، مگر ہر مرتبہ ناکام رہا۔ گویا وہی چندر بھان والی بات ہوئی کہ:

مرا دلے ست بہ کفر آشنا، کہ چندیں بار

بہ کعبہ بردم و بازش برہمن آوردم

بہرحال یہ تو شکر کی مقدار کا مسئلہ تھا، مگر معاملہ اس پر ختم کہا ہوتا ہے؟

کوتہ نظر ببیں کہ سخت مختصر گرفت

ایک دقیق سوال اس نوعیت کا بھی ہے۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ جو شکر ہر چیز میں ڈالی جا سکتی ہے، وہی چائے میں بھی ڈالنی چاہیے۔ اس کے لیے کسی خاص شکر کا اہتمام ضروری نہیں۔ چنانچہ باریک دانوں کی دوبارہ شکر جو پہلے جاوا اور ماریشس سے آتی تھی اور اب ہندوستان میں بننے لگی ہے، چائے کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہے۔ حالانکہ چائے کا معاملہ دوسری چیزوں سے بالکل مختلف واقع ہوا ہے۔ اسے حلوے پر قیاس نہیں کرنا چاہیے۔ اس کا مزاج اس قدر لطیف اور بے میل ہے کہ کوئی بھی چیز جو خود اسی کی طرح صاف اور لطیف نہ ہوگی فوراً اسے مکدر کر دے گی۔ گویا چائے کا معاملہ بھی وہی ہوا کہ:

نسیمِ صبح چھو جائے، رنگ ہو میلا

یہ دوبارہ شکر اگرچہ صاف کیے ہوئے رس سے بنتی ہے مگر پوری طرح صاف نہیں ہوتی۔ اس غرض سے کہ مقدار کم نہ ہو جائے، صفائی کے آخری مراتب چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ جونہی اسے چائے میں ڈالیے، معاً اس کا ذائقہ متاثر اور لطافت آلودہ ہو جائے گی۔ اگرچہ یہ اثر ہر حال میں پڑتا ہے، تاہم دودھ کے ساتھ پیجیے تو چنداں محسوس نہیں ہوتا۔ کیونکہ دودھ کے ذائقہ کی گرانی چائے کے ذائقہ پر غالب آ جاتی ہے۔ اور کام چل جاتا ہے، لیکن سادہ چائے پیجیے تو فوراً بول اٹھے گی۔ اس کے لیے ایسی شکر چاہیے جو بلّور کی طرح بے میل اور برف کی طرح شفاف ہو۔ ایسی شکر ڈلیوں کی شکل میں بھی آتی ہے اور بڑے دانوں کی شکل میں بھی۔ میں ہمیشہ بڑے دانوں کی شفاف شکر کام میں لاتا ہوں، اور اس سے وہ کام لیتا ہوں جو مرزا غالب گلاب سے لیا کرتے تھے:

آسودہ باد خاطر غالب کہ خوئے است

آمیختن بہ بادۂ صافی گلاب را

میرے لیے شکر کی نوعیت کا یہ فرق ویسا ہی محسوس اور نمایاں ہوا، جیسا شربت پینے والوں کے لیے قند اور گڑ کا فرق ہوا۔ لیکن یہ عجیب مصیبت ہے کہ دوسروں کو کسی طرح بھی محسوس نہیں کر سکتا۔ جس کسی سے کہا، اس نے یا تو اسے مبالغہ پر محمول کیا، یا میرا وہم و تخیّل سمجھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یا تو میرے ہی مُنہ کا مزہ بگڑ گیا ہے یا دنیا میں کسی کے مُنہ کا مزہ درست نہیں۔ یہ نہ بھُولئیے کہ بحث چائے کے تکلفات میں نہیں ہے۔ اس کی لطافت و کیفیت کے ذوق و احساس میں ہے۔ بہت سے لوگ چائے کے لیے صاف ڈلیاں اور موٹی شکر استعمال کرتے ہیں، اور یورپ میں تو زیادہ تو ڈلیوں ہی کا رواج ہے، مگر یہ اس لیے نہیں کیا جاتا کہ چائے کے ذائقہ کے لیے یہ کوئی ضروری چیز ہوئی، بلکہ محض تکلّف کے خیال سے کیونکہ اس طرح کی شکر نسبتاً قیمتی ہوتی ہے۔ آپ انہیں معمولی شکر ڈال کر چائے دے دیجیے بے غل و غش پی جائیں گے اور ذائقہ میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں کریں گے۔

شکر کے معاملہ میں اگر کسی گروہ کو حقیقت آشنا پایا تو وہ ایرانی ہیں۔ اگرچہ چائے کی نوعیت کے بارے میں چنداں ذی حس نہیں مگر یہ نکتہ انہوں نے پا لیا ہے۔ عراق اور ایران میں عام طور پر یہ بات نظر آئی تھی کہ چائے کے لیے قند کی جستجو میں رہتے ہیں اور اسے معمولی شکر پر ترجیح دیتے تھے، کیونکہ قند صاف ہوتی ہے، اور وہی کام دیتی ہے جو موٹے دانوں کی شکر سے لیا جاتا ہے۔ کہہ نہیں سکتا کہ اب وہاں کیا حال ہے۔

اور اگر “تعرف الاشیاء باضدادہا” کی بنا پر کہ چائے کے معاملہ میں سب سے زیادہ خیرہ مذاق گروہ کون ہوا؟ تو میں بلا تامّل انگریزوں کا نام لوں گا یہ عجیب بات ہے کہ یورپ اور امریکہ میں چائے انگلستان کی راہ سے گئی اور دنیا میں اس کا عالمگیر رواج بھی بہت کچھ انگریزوں ہی کا منّت پذیر ہے، تاہم یہ نزدیکان بے بصر حقیقت حال میں اتنے دُور جا پڑے کہ چائے کی حقیقی لطافت و کیفیت کا ذوق انہیں چھو بھی نہیں گیا۔ جب اس راہ کے اماموں کا یہ حال ہے تو ان کے مقلّدوں کا جو حال ہوگا معلوم ہے:

آشنا را حال این ست، وائے بر بیگانہ

انہوں نے چین سے چائے پینا تو سیکھ لیا مگر اور کچھ سیکھ نہ سکے۔ اول تو ہندوستان اور سیلون کی سیاہ پتی ان کے ذوق چائے نوشی کا منتہاءِ کمال ہوا۔ پھر قیامت یہ ہے کہ اس میں بھی ٹھنڈا دودھ ڈال کر اسے یک قلم گندہ کر دیں گے۔ مزید ستم ظریفی دیکھیے کہ اس گندے مشروب کی معیار سنجیوں کے لیے ماہرینِ فن کی ایک پوری فوج موجود رہتی ہے۔ کوئی اِن زیاں کاروں سے پوچھے کہ اگر چائے نوشی سے مقصود انہی پتیوں کو گرم پانی میں ڈال کر پی لینا ہے تو اس کے لیے ماہرینِ فن کی دقیقہ سنجیوں کی کیا ضرورت ہے؟ جو پتی بھی پانی کو سیاہی مائل کر دے، اور ایک تیز بو پیدا ہو جائے، چائے ہے، اور اس میں ٹھنڈے دودھ کا ایک چمچہ ڈال کر کافی مقدار میں گندگی پیدا کر دی جا سکتی ہے۔ چائے کا ایک ماہرِ فن بھی اس سے زیادہ کیا خاک بتلائے گا؟

ہیں یہی کہنے کو وہ بھی، اور کیا کہنے کو ہیں؟

اگرچہ فرانس اور براعظم میں زیادہ تر رواج کافی کا ہوا، تاہم اعلیٰ طبقہ کے لوگ چائے کا شوق بھی رکھتے ہیں، اور ان کا ذوق بہرحال انگریزوں سے بدرجہا بہتر ہے۔ وہ زیادہ تر چینی چائے پئیں گے، اور اگر سیاہ چائے پئیں گے بھی تو اکثر حالتوں میں بغیر دودھ کے یا لیموں کی ایک قاش کے ساتھ جو چائے کی لطافت کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ اور نکھار دیتی ہے۔ یہ لیموں کی ترکیب دراصل روس، ترکستان اور ایران سے چلی۔ سمرقند اور بخارا میں عام دستور ہے، کہ چائے کا تیسرا فنجان لیمونی ہوگا۔ بعض ایرانی بھی دَور کا خاتمہ لیمونی ہی پر کرتے ہیں۔ یہ کمبخت دودھ کی آفت صرف انگریزوں کی لائی ہوئی ہے:

سر ایں فتنہ زجائیست کہ من می دانم

اب اِدھر اِک اور نئی مصیبت پیش آ گئی ہے۔ اب تک تو صرف شکر کی عام قسم ہی کے استعمال کا رونا تھا۔ لیکن اب معاملہ صاف صاف گُڑ تک پہنچنے والا ہے۔ ہندوستان قدیم میں جب لوگوں نے گُڑ کی منزل سے آگے قدم بڑھانا چاہا تھا تو یہ کیا تھا کہ گُڑ کو کسی قدر صاف کر کے لال شکر بنانے لگے تھے۔ یہ صفائی میں سفید شکر سے منزلوں دور تھی مگر نا صاف گُڑ سے ایک قدم آگے نکل آئی تھی۔ پھر جب سفید شکر عام طور پر بننے لگی تو اس کا استعمال زیادہ تر دیہاتوں میں محدود رہ گیا۔ لیکن اب پھر دنیا اپنی ترقیِ معکوس میں اُسی طرف لوٹ رہی ہے جہاں سے سیکڑوں برس پہلے آگے بڑھی تھی۔ چنانچہ آج کل امریکہ میں اس لال شکر کی بڑی مانگ ہے۔ وہاں کے اہلِ ذوق کہتے ہیں کافی بغیر اس شکر کے مزہ نہیں دیتی، اور جیسا کہ قاعدۂ مقررہ ہے، اب ان کی تقلید میں یہاں کے اصحابِ ذوق بھی “براؤن شوگر” کی صدائیں بلند کرنے لگے ہیں۔ میری یہ پیشین گوئی لکھ رکھیے کہ عنقریب یہ براؤن شکر کا ہلکا سا پردہ بھی اٹھ جائیگا اور صاف صاف گُڑ کی مانگ ہر طرف شروع ہو جائے گی۔ یارانِ ذوقِ جدید کہیں گے گُڑ کے ڈلے ڈالے بغیر نہ چائے مزہ دیتی ہے نہ کافی۔ فرمائیے، اب اس کے بعد باقی کیا رہ گیا ہے جس کا انتظار کیا جائے؟

وائے گر در پسِ امروز بود فردائے

شکر اور گُڑ کی دنیائیں اس درجہ ایک دوسرے سے مختلف واقع ہوئی ہیں کہ آدمی ایک کا ہو کر پھر دوسرے کے قابل نہیں رہ سکتا۔میں نے دیکھا ہے کہ جن لوگوں نے زندگی میں دو چار مرتبہ بھی گُڑ کھا لیا، شکر کی لطافت کا احساس پھر ان میں باقی نہیں رہا۔ جواہر لال چونکہ مٹھاس کے بہت شائق ہیں، اس لیے گُڑ کا بھی شوق رکھتے ہیں۔میں نے یہاں ہزار کوشش کی کہ شکر کی نوعیت کا یہ فرق جو میرے لیے اِس درجہ نمایاں ہے، انہیں بھی محسوس کراؤں، لیکن نہ کرا سکا اور بالآخر تھک کے رہ گیا۔

بہرحال زمانہ کی حقیقت فراموشیوں پر کہاں تک ماتم کیا جائے:

کو تہ نہ تواں کرد کہ ایں قصہ دراز است

آئیے، آپ کو کچھ اپنا حال سناؤں۔ اصحابِ نظر کا قول ہے کہ حُسن اور فن کے معاملہ میں حب الوطنی کے جذبہ کو دخل نہیں دینا چاہیے۔

متاعِ نیک، ہر دکان کہ باشد

پر عمل کرنا چاہیے۔ چنانچہ میں بھی چائے کے باب میں شاہدانِ ہند کا نہیں، خوبانِ چین کا معتقد ہوں:

دوائے دردِ دل خو ازاں مفرح جوئے کہ در صراحیِ چینی و شیشہ حلبی ست

میرے جغرافیہ میں اگر چین کا ذکر کیا گیا ہے تو اس لیے نہیں کہ جنرل چنگ کائی شک اور میڈم چنگ وہاں سے آئے تھے، بلکہ اس لیے کہ چائے وہیں سے آتی ہے:

مئے صافی ز فرنگ آید و شاہد ز تتار

ما نہ دانیم کہ بسطامے و بغدادے ہست

ایک مدت سے جس چینی چائے کا عادی ہوں، وہ وہائٹ جیسمین (White Jasmine) کہلاتی ہے۔ یعنی “یاسمین سفید” یا ٹھیٹ اردو میں یوں کہیے کہ “گوری چنبیلی”:

کسیکہ محرم راز صبا ست، مے داند

کہ باوجود خزاں، بوئے یاسمن باقی ست

اس کی خوشبو جس قدر لطیف ہے، اُتنا ہی کیف تُند و تیز ہے۔ رنگت کی نسبت کیا کہوں؟ لوگوں نے آتش سیال کی تعبیر سے کام لیا ہے:

مے میانِ شیشۂ ساقی نگر

آتشے گویا بہ آب آلودہ اند

لیکن آگ کا تخیل پھر ارضی ہے اور اس چائے کی علویت کچھ اور چاہتی ہے۔ میں سورج کی کرنوں کو مٹھی میں بند کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ یوں سمجھیے، جیسے کسی نے سورج کی کرنیں حل کر کے بلوریں فنجان میں گھول دی ہیں، ملا محمد مازندرانی صاحبِ بت خانہ نے اگر یہ چائے پی ہوتی تو خانخاناں کی خانہ ساز شراب کی مدح میں ہر گز یہ نہ کہتا

نہ می ماند ایں بادہ اصلاً بہ آب

تو گوئی کہ حل کردہ اند آفتاب

لڑائی کی وجہ سے جہازوں کی آمدورفت بند ہوئی تو اس کا اثر چائے پر بھی پڑا۔ میں کلکتہ کے جس چینی اسٹور سے چائے منگوایا کرتا تھا، اس کا ذخیرہ جواب دینے لگا تھا۔ پھر بھی چند ڈبے مل گئے اور بعض چینی دوستوں نے بطور تحفہ کے بھی بھیج کر چارہ سازی کی۔ جب کلکتہ سے نکلا تو ایک ڈبہ ساتھ تھا۔ ایک گھر میں چھوڑ آیا تھا۔ بمبئی سے گرفتار کر کے یہاں لایا گیا تو سامان کے ساتھ وہ بھی آ گیا۔ اور پھر قبل اس کے کہ ختم ہو، گھر والا ڈبہ بھی پہنچ گیا۔ اس طرح یہاں اور چیزوں کی کتنی ہی کمی محسوس ہوئی ہو، لیکن چائے کی کمی محسوس نہیں ہوئی، اور اگر چائے کی کمی محسوس نہیں ہوئی تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ کسی چیز کی کمی بھی محسوس نہیں ہوئی:

حافظ د گرچہ می طلبی از نعیم دھر ؟

مے می خوری و طرّہ دلدار می کشی!

اس کی فکر کبھی نہیں ہوئی کہ یہ آخری ڈبہ چلے گا کب تک؟ کیونکہ خواجۂ شیراز کی موعظت ہمیشہ پیشِ نظر رہتی ہے:

تا ساغرت پرست، بنو شان و نوش کُن

یہاں ہمارے زندانیوں کے قافلہ میں اس جنس کا شناسا کوئی نہیں ہے۔ اکثر حضرت دودھ اور دہی کے شائق ہیں اور آپ سمجھ سکتے ہیں کہ دودھ اور دہی کی دنیا چائے کی دنیا سے کتنی دُور واقع ہوئی ہے؟ عمریں گُزر جائیں پھر بھی یہ مُسافت طے نہیں ہو سکتی کہاں چائے کے ذوقِ لطیف کا شہرستانِ کیف و سرور، اور کہاں دودھ اور دہی کی شکم پُری کی نگری!

اک عمر چاہیے کہ گوارا ہو نیشِ عشق رکھی ہے آج لذتِ زخمِ جگر کہاں؟

جواہر لال بلاشبہ چائے کے عادی ہیں اور چائے پیتے بھی ہیں، خواص یورپ کی ہم مشربی کے ذوق میں بغیر دودھ کی۔ لیکن جہاں تک چائے کی نوعیت کا تعلق ہے شاہراہِ عام سے قدم باہر نہیں نکال سکتے اور اپنی لیپچو و پیپچو ہی کی قسموں پر قانع رہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں اِن حضرات کو اس چائے کے پینے کی زحمت دینا نہ صرف بے سُود تھا، بلکہ “وضع الشئ فی غیر محلہٖ” کے حکم میں داخل تھا:

مۓ بہ زہاد مکن عرضہ کہ این جوہرِ ناب

پیشِ ایں قوم بہ شورابۂ زمزم نہ رسد

ان حضرات میں صرف ایک صاحب ایسے نکلے جنہوں نے ایک مرتبہ میرے ساتھ سفر کرتے ہوئے یہ چائے پی تھی اور محسوس کیا تھا، کہ اگرچہ بغیر دودھ کی ہے مگر اچھی ہے۔ یعنی بہتر چیز تو دہی دودھ والا گرم شربت ہوا جو وہ روز پیا کرتے تھے مگر یہ بھی چنداں بری نہیں۔ زمانے کی عالمگیر خیرہ مذاقی دیکھتے ہوئے یہ ان کی صرف “اچھی ہے” کی داد بھی مجھے اتنی غنیمت معلوم ہوئی کہ کبھی کبھی اُنہیں بُلا لیا کرتا تھا کہ آئیے، ایک پیالی اس “اچھی ہے” کی بھی پی لیجیے:

عمرت دراز باد کہ ایں ہم غنیمت است

ان کے لیے صرف “اچھی” ہوئی۔ یہاں چائے کا سارا معاملہ ہی ختم ہو جائے اگر یہ “اچھی ہے” ختم ہو جائے۔ غالب کیا خوب کہہ گیا ہے:

زاہد از ما خوشۂ تا کے بہ چشمِ کم مبیں

ہیں، نمی دانی کہ یک پیمانہ نقصان کردہ ایم

مگر ایک ڈبہ کب تک کام دے سکتا تھا؟ آخر ختم ہونے پر آیا۔ چیتہ خان نے یہاں دریافت کرایا۔ پونا بھی لکھا۔ لیکن اس قسم کی چائے کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ اب بمبئے اور کلکتہ لکھوایا ہے۔ دیکھیے کیا نتیجہ نکلتا ہے، ایک ہفتہ سے وہی ہندوستانی سیاہ پتی پی رہا ہوں اور مستقبل کی امیدوں پر جی رہا ہوں:

نہ کُنی چارہ لبِ خشک مسلمانے را

اے بہ ترسا بچگان کردہ مے ناب سبیل !

آج کل چینی ہندوستان کے تمام شہروں میں پھیل گئے ہیں اور ہر جگہ چینی ریستوران کھل گئے ہیں۔ چونکہ احمد نگر انگریزی فوج کی بڑی چھاؤنی ہے، اس لیے یہاں بھی ایک چینی ریستوران کھل گیا ہے۔ جیلر کو خیال ہوا کہ ان لوگوں کے پاس یہ چائے ضرور ہوگی۔ اس نے خالی ڈبا بھیج کر دریافت کرایا۔ انہوں نے ڈبا دیکھتے ہی کہا کہ یہ چائے اب کہاں مل سکتی ہے؟ لیکن تمہیں یہ ڈبا کہاں سے ملا؟ اور اس چائے کی یہاں کیا ضرورت پیش آئی؟ کیا چین کا کوئی بڑا آدمی یہاں آ رہا ہے؟ جو وارڈر بازار گیا تھا اُس نے ہرچند باتیں بنائیں مگر ان کو تشفّی نہیں ہوئی۔ دوسرے دن سارے شہر میں یہ افواہ پھیل گئی کہ میڈم چنگ کائی شک قلعہ کے قیدیوں سے ملنے آ رہی ہے، اور اس کے لیے چینی چائے کا اہتمام کیا جا رہا ہے:

بہ بیں نقشِ املہا چہ باطل اُفتادست

چائے کے ڈبے کی تہ میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ پتیوں کا چُورا بیٹھ جایا کرتا ہے اور اُسے ڈبے کے ساتھ پھینک دیا کرتے ہیں۔ یہ آخری ڈبا ختم ہونے پر آیا تو تھوڑا سا چُورا اِس کی تہ میں بھی جمع تھا۔ میں نے چھوڑ دیا کہ اسے کیا کام لاؤں۔ لیکن چیتہ خان نے دیکھا تو کہا، آج کل لڑائی کی وجہ سے “ضائع مت کرو” کا نعرہ زبانوں پر ہے، یہ چورا بھی کیوں نہ کام میں لایا جائے؟ میں نے بھی سونچا کہ:

بہ دُرد و صاف تر احکم نیست، دَم درکَش

کہ ہر چہ ساقئ ماریخت عین الطاف است

چنانچہ یہ چُورا بھی کام میں لایا گیا، اور اُس کا ایک ایک ذرّہ دم دے کر پیتا رہا۔ جب فنجان میں چائے ڈالتا تھا، تو ان ذروں کی زبانِ حال پُکارتی تھی:

ہر چند کہ نیست رنگ و بُویم

آخر نہ گیاہِ باغِ او یم!

اس تخیل نے کہ اِن ذرّوں کے ہاتھ سے کیف و سرُور کا جام لے رہا ہُوں، تو سنِ فکر کی جولانیوں کے لیے تازیانہ کا کام دیا، اور اچانک ایک دوسرے ہی عالم میں پہنچا دیا۔ ہا، مرزا بیدل نے میری زبانی کہا تھا:

اگر دماغم دریں شکستاں خمارِ شرمِ عدم نہ گیرد

زچشمکِ ذرہ جام گیرم بہ آں شکوہے کہ چم نہ گیرد

دریں قلمرو کفِ غبارم، بہ ہیچ کس ہمسری نہ دارم

کمالِ میزانِ اعتبارم بس ست کز ذرّہ کم نہ گیرد

اس تجربے کے بعد بے اختیار خیال آیا کہ اگر ہم تشنہ کام کی قسمت میں اب سرجوشِ خُم کی کیفیتیں نہیں رہی ہیں، تو کاش اس تہِ شیشۂ ناصاف ہی کے چند گھونٹ مل جایا کریں، غالب نے کیا خوب کہا ہے:

کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے، ورنہ

یُوں ہے کہ مجھے دُردِ تہہِ جام بُہت ہے

شکر کے مسئلہ نے بھی یہاں آتے ہی سر اٹھایا تھا، مگر مجھے فوراً ہی اس کا حل مل گیا، اور اب اس طرف سے مطمئن ہوں۔ موٹے دانوں کی صاف شکر تھوڑی سے میرے سفری سامان میں تھی جو کچھ دنوں تک چلتی رہی۔ جب ختم ہو گئی تو میں نے خیال کیا کہ یہاں ضرور مل جائے گی۔ نہیں ملی تو ڈلیوں کے بکس تو ضرور مل جائیں گے۔ لیکن جب بازار میں دریافت کرایا تو معلوم ہوا، امن کے وقتوں میں بھی یہاں اِن چیزوں کی مانگ نہ تھی، اور اب کہ جنگ کی رکاوٹوں نے راہیں روک دی ہیں اِن کا سُراغ کہاں مل سکتا ہے؟ مجبوراً مِصری منگوائی اور چاہا کہ اُسے کُٹوا کر شکر کی طرح کام میں لاؤں۔ لیکن کُوٹنے کے لیے ہاون کی ضرورت ہوئی۔ جیلر سے کہا۔ ایک ہاون اور ہاون دستہ منگوا دیا جائے۔ دوسرے دن معلوم ہوا کہ یہاں نہ ہاون ملتا ہے نہ دستہ۔ حیران رہ گیا کہ کیا اِس بستی میں کبھی کسی کو اپنا سر پھوڑنے کی ضرورت پیش نہیں آتی؟ آخر لوگ زندگی کیسے بسر کرتے ہیں؟

حدیثِ عشق چہ داند کسے کہ در ہمہ عمر

بہ سر نہ کوفتہ باشد در سرائے را

مجبوراً میں نے ایک دوسری ترکیب نکالی۔ ایک صاف کپڑے میں مصری کی ڈلیاں رکھیں اور بہت سا ردی کاغذ اوپر تلے دھر دیا، پھر ایک پتھر اٹھا کر ایک قیدی کے حوالے کیا، جو یہاں کام کے لیے لایا گیا ہے کہ اپنے سر کی جگہ اسے  پِیٹ:

دریں کہ کوہکن از ذوق داد جاں چہ سخن؟

ہمیں کہ تیشہ بر سر دیرزد، سخن باقی ست

لیکن یہ گرفتارِ آلات و وسائل بھی کچھ ایسا:

سرگشتۂ خمارِ رسُوم و قیُود تھا!

کہ ایک چوٹ بھی قرینہ کی نہ لگا سکا۔ مصری تو کُٹنے سے رہی۔ البتہ کاغذ کے پرزے پرزے اڑ گئے اور کپڑے نے بھی اس کے روئے صبح کا نقاب بننے سے انکار کر دیا۔

چلی تھی برچھی کِسی پر، کسی کے آن لگی!

بہرحال کئی دنوں کے بعد خدا خدا کر کے ہاون کا چہرۂ زشت نظر آیا۔ “زشت” اس لیے کہتا ہوں کہ کبھی ایسا انگھڑ ظرف نظر سے نہیں گُزرا تھا۔ آجکل ٹاٹا نے ایک کتاب شائع کی ہے۔ یہ خبر دیتی ہے کہ ہزاروں برس پہلے وسط ہند کے ایک قبیلہ نے ملک کو لوہے اور لوہاری کی صنعت سے آشنا کیا تھا۔ عجب نہیں کہ یہ ہاون بھی اُسی قبیلہ کی دست کاریوں کا بقیہ ہو، اور اس انتظار میں گردشِ لیل و نہار کے دن گِنتا رہا ہوں کہ کب قلعہ احمد نگر کے زندانیوں کا قافلہ یہاں پہنچتا ہے اور کب ایسا ہوتا ہے کہ انہیں سر پھوڑنے کے لیے تیشہ کی جگہ ہاون و دستہ کی ضرورت پیش آتی ہے:

شوریدگی کے ہاتھ سے سر ہے وبالِ دوش

صحرا میں اے خُدا کوئی دیوار بھی نہیں!

خیر کچھ ہو، مصری کوٹنے کی راہ نکل آئی، لیکن اب کُٹی ہوئی مصری موجود ہے، تو وہ چیز موجود نہیں جس میں مصری ڈالی جائے:

اگر دستے کنم پیدا، نہ می یا بم گریباں را

دیکھیے، صرف اتنی بات کہنی چاہتا تھا کہ چائے ختم ہو گئی، مگر بائیس صفحے تمام ہو چکے اور ابھی تک بات تمام نہیں ہوئی:

یک حرفِ بیش نیست سراسر حدیثِ شوق

ایں طرفہ ترکہ ہیچ بہ پایاں نمی رسد!

 

ابو الکلام

 

 

خط نمبر ۱۵

 

قلعۂ احمد نگر

5 دسمبر 1942ء

صدیق مکرم

پانچویں صلیبی حملہ کی سرگزشت ایک فرانسیسی مجاہد “Crusader’ ژے آن دو ژواین ویل(Jean De Jain Ville) نامی نے بطور یادداشت کے قلم بند کی ہے۔ اس کے کئی انگریزی ترجمے شائع ہو چکے ہیں۔ زیادہ متداول نسخہ ایوری مینس لائبریری کا ہے۔

پانچواں صلیبی حملہ سینٹ لوئس (Lewis) شاہ فرانس نے براہ راست مصر پر کیا تھا۔ دمیاط (Demietta) کا عارضی قبضہ، قاہرہ کی طرف اقدام، ساحل نیل کی لڑائی، صلیبیوں کی شکست، خود سینٹ لوئس کی گرفتاری اور زرِ فدیہ کے معاہدہ پر رہائی، تاریخ کے مشہور واقعات ہیں، اور عرب مؤرخوں نے ان کی تمام تفصیلات قلم بند کی ہیں۔ لوئس رہائی کے بعد عکہ (Acre) آیا جو چند دوسرے ساحلی مقامات کے ساتھ صلیبیوں کے قبضہ میں باقی رہ گیا تھا، اور کئی سال وہاں مقیم رہا۔ ژواین ویل نے یہ تمام زمانہ لوئس کی ہمراہی میں بسر کیا۔ مصر اور عکہ کے تمام اہم واقعات اس کے چشم دید واقعات ہیں۔

لوئس 1248ء میں فرانس سے روانہ ہوا۔ دوسرے سال دمیاط پہنچا۔ تیسرے سال عکہ، پھر 1254ء میں فرانس واپس ہوا۔ یہ سنین  اگر ہجری سنین سے مطابق کیے جائیں تو تقریباً 646ھ اور 656ھ ہوتے ہیں۔

ژواین ویل جب لوئس کے ہمراہ فرانس سے روانہ ہوا تو اس کی عمر چوبیس برس کی تھی۔ لیکن یہ یادداشت اس نے بہت عرصہ کے بعد اپنی زندگی کے آخری سالوں میں لکھی۔ یعنی 1309)ء ،708ھ) میں۔ جب اس کی عمر خود اس کی تصریح کے مطابق پچاسی برس کی ہو چکی تھی، اور صلیبی حملہ کے واقعات پر نصف صدی کی مدت گذر چکی تھی، اس طرح کوئی تصریح موجود نہیں جس کی بنا پر خیال کیا جا سکے کہ مصر اور فلسطین کے قیام کے زمانہ میں وہ اہم واقعات قلم بند کر لیا کرتا تھا۔ پس جو کچھ اس نے لکھا ہے، وہ پچاس برس پیشتر کے حوادث کی ایک ایسی روایت ہے، جو اس کے حافظہ نے محفوظ کر لی تھی، با ایں ہمہ اس کے بیانات جہاں تک واقعات جنگ کا تعلق ہے، عام طور پر قابلِ وثوق تسلیم کیے گئے ہیں۔

مسلمانوں کے دینی عقائد و اعمال اور اخلاق و عادات کی نسبت اس کی معلومات ازمنۂ وسطی کی عام فرنگی معلومات سے چنداں مختلف نہیں۔ تاہم درجہ کا فرق ضرور ہے چونکہ اب یورپ اور مشرق وسطیٰ کے باہمی تعلقات جو صلیبی لڑائیوں کے سائے میں نشوونما پائے رہے تھے۔ تقریباً ڈیڑھ سو برس کا زمانہ گذر چکا تھا، اور فلسطین کے نو آباد صلیبی مجاہد اب مسلمانوں کو زیادہ قریب ہو کر دیکھنے لگے تھے، اس لیے قدرتی طور پر ژو این ویل کے ذہنی تاثرات کی نوعیت سے مختلف دکھائی دیتی ہے جو ابتدائی عہد کے صلیبیوں کے رہ چکے ہیں، مسلمان کافر ہیں، ہیدین (Heathen) ہیں، پے نیم (Paynim) ہیں، پے گن (Pagan) ہیں، مسیح کے دشمن ہیں۔ تاہم کچھ اچھی باتیں بھی انکی نسبت خیال میں لائی جا سکتی ہیں اور ان کے طور طریقہ میں تمام باتیں بری نہیں ہیں۔ مصری حکومت اور اس کے ملکی اور فوجی نظام کے بارے میں اس نے جو کچھ لکھا ہے وہ ستر فیصد کے قریب صحیح ہے۔ لیکن مسلمانوں کے دینی عقائد و اعمال کے بیانات میں پچیس فیصد سے زیادہ صحت نہیں۔ پہلی معلومات غالباً اس کی ذاتی ہیں، اس لیے صحت سے قریب تر ہیں۔ دوسری معلومات زیادہ تر فلسطین کے کلیسائی حلقوں سے حاصل کی گئی ہیں، اس لیے تعصّب و نفرت پر مبنی ہیں۔ اس عہد کی عام فضا دیکھتے ہوئے یہ صورتِ حال چنداں تعجّب انگیز نہیں۔

ایک عرصہ کے بعد مجھے اس کتاب کے دیکھنے کا یہاں پھر اتفاق ہوا۔ ایک رفیقِ زنداں نے ایوری مینس لائبریری کی کچھ کتابیں منگوائی تھیں، ان میں یہ بھی آ گئی۔ اس سلسلہ میں دو خصوصیت کے ساتھ قابل غور ہیں۔

قیام عکہ کے زمانے میں لوئس نے ایک سفیر سلطانِ دمشق کے پاس بھیجا تھا جس کے ساتھ ایک شخص ایوے لا برتیاں (Yevo La Bretan) بطور مترجم ساتھ گیا تھا۔ یہ شخص مسیحی واعظوں کے ایک حلقہ سے تعلق رکھتا تھا اور “مسلمانوں کی زبان” سے واقف تھا۔ “مسلمانوں کی زبان” سے مقصود یقیناً عربی ہے۔ ژو این ویل اس سفارت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے:

“جب سفیر اپنی قیام گاہ سے سلدان (سلطان) کے محل کی طرف جا رہا تھا تو لا برتیاں کو راستہ میں ایک مسلمان بڑھیا عورت ملی۔ اس کے داہنے ہاتھ میں ایک برتن آگ کا تھا بائیں ہاتھ میں پانی کی صراحی تھی۔ لا برتیاں نے اس عورت سے پوچھا “یہ چیزیں کیوں اور کہاں لے جا رہی ہو؟” عورت نے کہا “میں چاہتی ہوں اِس آگ سے جنت کو جلا دوں اور پانی سے جہنم کی آگ بجھا دوں تاکہ پھر دونوں کا نام و نشان باقی نہ رہے” لا برتیاں نے کہا کہ “تم ایسا کیوں کرنا چاہتی ہو؟” اس نے جواب دیا “اس لیے کہ کسی انسان کے لیے اس کا موقعہ باقی نہ رہے کہ جنت کے لالچ اور جہنم کے ڈر سے نیک کام کرے۔ پھر وہ جو کچھ کرے گا صرف خدا کی محبت کے لیے کریگا۔” (Memoires of The Crusades: 240)

اس روایت کا ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ بجنسٖہ یہی عمل اور یہی قول حضرت رابعہ بصریہ سے منقول ہے۔ اِس وقت کتابیں یہاں موجود نہیں، لیکن حافظہ کی مدد لے کر یہ کہہ سکتا ہوں کہ قُشیری، ابو طالب مکی، فرید الدین عطار، صاحب عرائس المجالس، صاحبِ روح البیان اور شعرانی، سب سے یہ مقولہ نقل کیا ہے اور اسے رابعہ بصریہ کے فضائلِ مقامات میں سے قرار دیا ہے۔

رابعہ بصریہ پہلے طبقہ کی کبارِ صُوفیہ میں شمار کی گئی ہیں۔ دوسری صدی ہجری یعنی آٹھویں صدی مسیحی میں ان کا انتقال ہوا۔ اُن کے حالات میں سب لکھتے ہیں کہ ایک دن اِس عالم  میں گھر سے نکلیں کہ ایک ہاتھ میں آگ کا برتن تھا دوسرے میں پانی کا کوزہ۔ لوگوں نے پوچھا کہاں جا رہی ہو، جواب میں بجنسٖہ وہی بات کہی جو لا برتیاں نے دمشق کی عورت کی زبانی نقل کی ہے۔ “آگ سے جنت کو جلا دینا چاہتی ہوں،  پانی سے دوزخ کی آگ بجھا دینی چاہتی ہوں تاکہ دونوں ختم ہو جائیں اور پھر لوگ عبادت صرف خدا کے لیے کریں۔ جنت اور دوزخ کے طمع و خوف سے نہ کریں۔” قدرتی طور پر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دوسری صدی ہجری کی رابعہ بصریہ کا مقولہ کس طرح ساتویں صدی ہجری کی ایک عورت کی زبان پر طاری ہو گیا جو دمشق کی سڑک سے گزر رہی تھی؟ یہ کیا بات ہے کہ تعبیرِ معارف کی ایک خاص تمثیل (پارٹ) جو پانچ سو برس پہلے بصرہ کے ایک کُوچہ میں دکھائی گئی تھی بعینٖہ اب دمشق کی ایک شاہراہ پر دہرائی جا رہی ہے؟ کیا یہ محض افکار و احوال کا تَوَارد ہے، یا تکرار اور نقالی ہے؟ یا پھر راوی کی ایک افسانہ تراشی؟

ہر توجیہ کے لیے قرائن موجود ہیں اور معاملہ مختلف بھیسوں میں سامنے آتا ہے (1) یہ وہ زمانہ تھا جب صلیبی جماعتوں کی قوت فلسطین میں پاش پاش ہو چکی تھی،  ساحل کی ایک چھوٹی سی دھجی کے سوا ان کے قبضہ میں اور کچھ باقی نہیں رہا تھا اور وہاں بھی امن اور چین کی زندگی بسر نہیں کر سکتے تھے۔ رات دن کے لگاتار حملوں اور محاصروں سے پامال ہوتے رہتے تھے۔ لوئس اُن کی اعانت کے لیے آیا لیکن وہ خُود اعانت کا محتاج ہو گیا۔ جنگی قوت کے افلاس سے کہیں زیادہ ان کا اخلاقی افلاس اُنہیں تباہ کر رہا تھا۔ ابتدائی عہد کا مجنونانہ مذہبی جوش و خروش جو تمام یورپ کو بہا لے گیا تھا، اب ٹھنڈا پڑ چکا تھا اور اب اس کی جگہ ذاتی خود غرضیاں اور صلیبی حلقہ بندیوں کی باہمی رقابتیں کام کرنے لگی تھیں، پے در پے شکستوں اور ناکامیوں سے جب ہمتیں پست ہوئیں۔ تو اصل مقصد کی کشش بھی کمزور پڑ گئی اور بد عملیوں اور ہوس رانیوں کا بازار گرم ہو گیا۔ مذہبی پیشواؤں کی حالت امراء اور عوام سے بھی بدتر تھی۔ دینداری کے اخلاص کی جگہ ریاکاری اور نمائش ان کا سرمایۂ پیشوائی تھا۔ ایسے افراد بہت کم تھے جو واقعی مخلص اور پاک عمل ہوں۔

جب اُس عہد کے مسلمانوں کی زندگی سے اِس صورت حال کا مقابلہ کیا جاتا تھا تو مسیحی زندگی کی مذہبی اور اخلاقی پستی اور زیادہ نمایاں ہونے لگتی تھی۔ مسلمان اب صلیبیوں کے ہمسایہ میں تھے اور التوائے جنگ کے بڑے بڑے وقفوں نے باہمی میل جول کے دروازے دونوں پر کھول دیئے تھے۔ صلیبیوں میں جو لوگ پڑھے لکھے تھے ان میں سے بعض نے شامی عیسائیوں کی مدد سے مسلمانوں کی زبان سیکھ لی تھی اور ان کے مذہبی اور اخلاقی افکار و عقائد سے واقفیت پیدا کرنے لگے تھے۔ کلیسائی واعظوں کے جو حلقے یہاں کام کر رہے تھے اُن میں بھی بعض متجسس طبیعتیں ایسی پیدا ہو گئی تھی جو مسلمان عالموں اور صوفیوں سے ملتیں اور دینی اور اخلاقی مسائل پر مذاکرے کرتیں۔ اِس عہد کے متعدد عالموں اور صوفیوں کے حالات میں ایسی تصریحات ملتی ہیں کہ صلیبی قسیس و رُہبان ان کے پاس آئے اور باہمین خطوطن پرت ا تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبیددگر سوال و جواب ہوئے۔ بعض مسلمان علماء جو صلیبیوں کے ہاتھ گرفتار ہو گئے تھے، عرصہ تک اُن میں رہے اور ان کے مذہبی پیشواؤں سے مذہبی مباحث کئے۔ شیخ سعدی شیرازی کو اسی عہد میں صلیبیوں نے گرفتار کر لیا تھا، اور اُنہیں عرصہ تک طرابلس میں گرفتاری کے دن کاٹنے پڑے تھے۔

اس صورتِ حال کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ صلیبیوں میں جو لوگ مخلص اور اثر پذیر طبیعتیں رکھتے تھے وہ اپنے گروہ کی حالت کا مسلمانوں کی حالت سے مقابلہ کرتے۔ وہ مسلمانوں کا مذہبی اور اخلاقی تفوق دکھا کر عیسائیوں کو غیرت دلاتے کہ اپنی نفس پرستیوں اور بد عملیوں سے باز آئیں اور مسلمانوں کی دیندارانہ زندگی سے عبرت پکڑیں۔ چنانچہ خود ژو این ویل کی سرگزشت میں جا بجا اِس ذہنی انفعال کی جھلک اُبھرتی رہتی ہے۔ متعدد مقام ایسے ملتے ہیں جہاں وہ مسلمانوں کی زبانی اس طرح کے اقوال نقل کرتا ہے جس سے عیسائیوں کے لیے عبرت اور تنبُہ کا پہلو نکلتا ہے۔ اِسی دمشق کی سفارت کے سلسلہ میں اس نے جان دی آرمینین (John the Armenian) کے سفرِ دمشق کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ یہ شخص دمشق اس لیے گیا تھا کہ کمانیں بنانے کے لیے سینگ اور سریش خریدے۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے دمشق میں ایک عمر رسیدہ مسلمان ملا جس نے میری وضع قطع دیکھ کر پوچھا “کیا تم مسیحی ہو؟” میں نے کہا ہاں۔ مسلمان شیخ نے کہا “تم مسیحی آپس میں ایک دوسرے سے اب زیادہ نفرت کرنے لگے ہو اسی لیے ذلیل و خوار ہو رہے ہو۔ ایک زمانہ وہ تھا جب میں یروشلم کے صلیبی بادشاہ بالڈوین (Baldwin) کو دیکھا تھا۔ وہ کوڑھی تھا اور اس کے ساتھ مسلح آدمی صرف تین سو تھے۔ پھر بھی اس نے اپنے جوش و ہمت سے سالادین (صلاح الدین) کو پریشان کر دیا تھا۔ لیکن اب تم اپنے گناہوں کی بدولت اِتنے گِر چکے ہو کہ ہم جنگلی جانوروں کی طرح تمہیں رات دن شکار کرتے رہتے ہیں۔”

پس ممکن ہے کہ لا برتیاں ایسے ہی لوگوں میں سے ہو جنہیں مسلمان صوفیوں کے اعمال و اقوال سے یک گونہ واقفیت حاصل ہو گئی ہو، اور وہ وقت کے ہر معاملہ کو عیسائیوں کی عبرت پذیری کے لیے کام میں لانا چاہتا ہو۔ لا برتیاں کی نسبت ہمیں بتایا گیا ہے کہ مسیحی واعظوں کے حلقہ سے وابستگی رکھتا تھا اور عربی زبان سے واقف تھا۔ کچھ بعید نہیں کہ اُسے اُن خیالات سے واقفیت کا موقع ملا ہو جو اُس عہد کے تعلیم یافتہ مسلمانوں میں عام طور پر پائے جاتے تھے۔ چونکہ رابعۂ بصریہ کا یہ مقولہ عام طور پر مشہور تھا اور مسلمانوں کے میل جول سے اُس کے علم میں آ چکا تھا، اس لیے سفرِ دمشق کے موقعہ سے فائدہ اٹھا کر اس نے ایک عبرت انگیز کہانی گھڑ لی۔ مقصود یہ تھا کہ عیسائیوں کو دین کے اخلاصِ عمل کی ترغیب دلائی جائے اور دکھایا جائے کہ مسلمانوں میں ایک بڑھیا عورت کے اخلاصِ عمل کا جو درجہ ہے، وہ اُس تک بھی نہیں پہنچ سکتے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ خود ژو این ویل کے علم میں یہ مقولہ آیا ہو اور اس نے لا برتیاں کی طرف منسوب کر کے اسے دمشق کے ایک بروقت واقعہ کی شکل دے دی ہو۔

ہمیں معلوم ہے کہ انیسویں صدی کے نقادوں نے ژو این ویل کو صلیبی عہد کا ایک ثقہ راوی قرار دیا ہے۔ اس میں بھی شک نہیں کہ وہ بظاہر ایک دیندار اور مخلص مسیحی تھا، جیسا کہ اس کی تحریر سے جا بجا مترشح ہوتا ہے۔ تاہم یہ ضروری نہیں کہ ایک دیندار راوی میں دینی و اخلاقی اغراض سے مفید مقصد روایتیں گھڑنے کی استعداد نہ رہی ہو۔ فن روایت کی گہرائیوں کا کچھ عجیب حال ہے۔ نیک سے نیک انسان بھی بعض اوقات جعل و صناعت کے تقاضوں سے اپنی نگرانی نہیں کر سکتے۔ وہ اس دھوکے میں پڑ جاتے ہیں کہ اگر کسی نیک مقصد کے لیے ایک مصلحت آمیز جعلی روایت گھڑ لی جائے تو کوئی برائی کی بات نہیں۔ مسیحی مذہب کے ابتدائی عہدوں میں جن لوگوں نے حواریوں کی نام سے طرح طرح کے نوشتے گھڑے تھے اور جنہیں آگے چل کر کلیسا نے غیر معروف و مدفون (Apocrypha) نوشتوں میں شمار کیا، وہ یقینا بڑے ہی دیندار اور مقدس آدمی تھے۔ تاہم یہ دینداری انہیں اس بات سے نہ روک سکی کہ حواریوں کے نام سے جعلی نوشتے تیار کر لیں۔

تاریخ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں جن لوگوں نے بے شمار جھوٹی حدیثیں بنائیں، ان میں ایک گروہ دیندار واعظوں اور مقدس زاہدوں کا بھی تھا۔ وہ خیال کرتے تھے کہ لوگوں میں دینداری اور نیک عملی کا شوق پیدا کرنے کے لیے جھوٹی حدیثیں گھڑ کر سنانا کوئی برائی کی بات نہیں۔ چنانچہ امام احمد بن حنبل کو کہنا پڑا کہ حدیث کے واعظوں میں سب سے زیادہ خطرناک گروہ ایسے ہی لوگوں کا ہے۔

اس سلسلہ میں یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ یہ زمانہ یعنی ساتویں صدی ہجری کا زمانہ صوفیانہ افکار و اعمال کے شیوع و احاطہ کا زمانہ تھا۔ تمام عالم اسلامی خصوصاً بلاد مصر و شام میں وقت کی مذہبی زندگی کا عام رجحان تصوف اور تصوف آمیز خیالات کی طرف جا رہا تھا۔ ہر جگہ کثرت کے ساتھ خانقاہیں بن گئی تھیں۔ اور عوام اور امراء دونوں کی عقیدت مندیاں انہیں حاصل تھیں، تصوف کی اکثر متداول مصنفات تقریباً اسی صدی اور اس کے بعد کی صدی میں مدون ہوئیں۔ حافظ ذہبی جنہوں نے اس زمانہ سے ساٹھ ستر برس بعد اپنی مشہور تاریخ لکھی ہے۔ لکھتے ہیں کہ اس عہد کے تما م لوگ اور امراء اسلام صوفیوں کے زیر اثر تھے۔ مقریزی نے تاریخ مصر میں جن خانقاہوں کا حال لکھا ہے۔ ان کی بڑی تعداد تقریبات اسی عہد کی پیداوار ہے۔ ایسی حالت میں یہ کوئی تعجب انگیز بات نہیں کہ جن صلیبیوں کو مسلمانوں کے خیالات سے واقفیت حاصل کرنے کا موقعہ ملا ہو، وہ مسلمان صوفیوں کے اقوال پر مطلع ہو گئے ہوں کیونکہ وقت کا عام رنگ یہی تھا۔

2: یہ بھی ممکن ہے کہ لابرتیاں ایسے لوگوں میں سے ہو جن میں افسانہ سرائی اور حکایت سازی کا ایک قدرتی تقاضا پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگ بغیر کسی مقصد کے بھی محض سامعین کا ذوق و استعجاب حاصل کرنے کے لیے فرضی واقعات گھڑ لیا کرتے ہیں دنیا میں فن روایت کی آدھی غلط بیانیاں راویوں کے اسی جذبۂ داستاں سرائی سے پیدا ہوئیں۔ مسلمانوں میں وعاظ و قصاص کا گروہ یعنی واعظوں اور قصہ گویوں کا گروہ محض سامعین کے استعجاب و توجہ کی تحریک کے لیے سیکڑوں روایتیں برجستہ گھڑ لیا کرتا تھا اور پھر وہی روایتیں قید کتابت میں آ کر ایک طرح کے نیم تاریخی مواد کی نوعیت پیدا کر لیتی تھیں۔ ملا معین واعظ کاشفی وغیرہ کی مصنفات ایسے قصوں سے بھری ہوئی ہیں۔

3: یہ بھی ممکن ہے کہ واقعہ صحیح ہو، اور اس عہد میں ایک صوفی عورت موجود ہو جس نے رابعہ بصریہ والی بات بطور نقل و اتباع کے یا واقعی اپنے استغراق حاصل کی بنا پر دہرا دی ہے۔

افکار و احوال کے اشباہ و امثال ہمیشہ مختلف وقتوں اور مختلف شخصیتوں میں سر اٹھاتے رہتے ہیں اور فکر و نظر کے میدان سے کہیں زیادہ احوال و واردات کا میدان اپنی یک رنگیاں اور ہم آہنگیاں رکھتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ ساتویں صدی کی ایک صاحب حال عورت کی زبان سے بھی اخلاق عمل اور عشق الہی کی وہی تعبیر نکل گئی ہو جو دوسری صدی کی رابعہ بصریہ کی زبان سے نکلی تھی۔ افسوس ہے کہ یہاں کتابیں موجود نہیں ہیں ورنہ ممکن تھا کہ اس عہد کے صوفیاء دمشق کے حالات میں کوئی سراغ مل جاتا۔ ساتویں صدی کا دمشق تصوف و اصحاب تصوف کا دمشق تھا۔

یہ یاد رہے کہ تذکروں میں ایک رابعہ شامیہ کا بھی حال ملتا ہے۔اگر میرا حافظہ غلطی نہیں کرتا تو جامی نے بھی نفحات کے آخر میں ان کا ترجمہ لکھا ہے۔ لیکن ان کا عہد اس سےبہت پیشتر کا ہے۔ اس عہد کے شام میں ان کی موجودگی تصور میں نہیں لائی جا سکتی۔

4: آخری امکانی صورت جو سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ اس عہد میں کوئی نمائش پسند عورت تھی جو بطور نقالی کے صوفیوں کے پارٹ دکھایا کرتی تھی، اور وہ لابرتیاں سے دو چار ہو گئی۔ یا یہ سن کر کہ عکہ کی مسیحی سفارت آ رہی ہے قصداً اس کی راہ میں آ گئی۔ مگر یہ سب سے زیادہ بعید اور دور از قرائن صورت ہے جو ذہن میں آ سکتی ہے۔

ژو این ویل نے ایک دوسرا واقعہ “دی اولڈ مین آف دی ماؤنٹین” کی سفارت کا نقل کیا ہے۔ یعنے کوہستان الموت کے “شیخ الجبال” کی سفارت کا۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ “شیخ الجبال” کے لقب سے پہلے حسن بن صباح ملقب ہوا تھا پھر اس کا ہر جانشین اسی لقب سے پکارا جانے لگا۔ فرقہ باطنیہ کی دعوت کا یہ عجیب و غریب نظام تاریخ عالم کے غرائب حوادث میں سےہے۔ یہ بغیر کسی بڑی فوجی طاقت کے تقریباً ڈیڑھ سو برس تک قائم رہا اور مغربی ایشیا کی تمام طاقتوں کو اس کی ہولناکی کے آگے جھکنا پڑا۔ اس نے یہ اقتدار فوج اور مملکت کے ذریعہ حاصل نہیں کیا تھا۔ بلکہ صرف جانفروش فدائیوں کے بے پناہ قاتلانہ حملے تھے۔ جنہوں نے اسے ایک ناقابل تسخیر طاقت کی حیثیت دے دی تھی۔ وقت کا کوئی پادشاہ، کوئی وزیر، کوئی امیر، کوئی سر بر آوردہ انسان ایسا نہ تھا جس کے پاس اس کا پراسرار خنجر نہ پہنچ جاتا ہو۔ اس خنجر کا پہنچنا اس بات کی علامت تھی کہ اگر شیخ الجبال کی فرمائش کی تعمیل نہ کی جائے گی تو بلا تامل قتل کر دیے جاؤ گے۔ یہ فدائی تمام شہروں میں پھیلے ہوئے تھے وہ سائے کی طرح پیچھا کرتے اور آسیب کی طرح محفوظ سے محفوظ گوشوں میں پہنچ جاتے۔

صلیبی جنگ آزماؤں کا بھی ان سے سابقہ پڑا۔ کئی ٹمپلر (Templer) اور ہاسپٹلر (Hospitaller) فدائیوں کے خنجروں کا نشانہ بنے اور بالآخر مجبور ہو گغے کہ “شیخ الجبال” کی فرمائشوں کی تعمیل کریں۔ یروشلم (بیت المقدس) جب صلیبیوں نے فتح کیا تھا اور بالڈوین تخت نشین ہوا تھا تو اسے بھی ایک سالانہ رقم بطور نذر کے الموت بھیجنی پڑی تھی۔ فریڈرک ثانی جب 1229ء میں سلطان مصر کی اجازت لے کر یروشلم کی زیادت کے لیے آیا تو اس نے بھی اپنا ایک سفیر گرانقدر تحفوں کے ساتھ شیخ الجبال کے پاس بھیجا تھا۔ یورپ میں قلعہ الموت کے عجائب کی حکایتیں انہیں صلیبیوں کے ذریعہ پھیلیں جو بعد کی مصنفات میں ہمیں طرح طرح کے ناموں سے ملتی ہیں۔ انیسویں صدی کے بعض افسانہ نگاروں نے اسی مواد سے اپنے افسانوں کی نقش آرائیاں کیں اور بعض اس دھوکے میں پڑ گئے کہ شیخ الجبال سے مقصود کوہستان شام کا کوئی پراسرار شیخ تھا جس کا صدر مقام لبنان تھا۔

ژو این ویل لکھتا ہے:

“عکہ میں پادشاہ (لوئس) کے پاس کوہستان کے “اولڈ مین” کے ایلچی آئے۔ ایک امیر عمدہ لباس میں ملبوس آگے تھا اور ایک خوش پوش نوجوان اس کے پیچھے۔ نوجوان کی مٹھی میں تین چھریاں تھیں جن کے پھل ایک دوسرے کے دستے میں پیوست تھے۔ یہ چھریاں اس غرض سے تھیں کہ اگر پادشاہ امیر کی پیش کردہ تجویز منظور نہ کرے تو انہیں بطور مقابلہ کی علامت کے پیش کر دیا جائے۔ نوجوان کے پیچھے ایک دوسرا نوجوان تھا۔ اس کے بازو پر ایک چادر لپٹی ہوئی تھی۔ یہ اس غرض سے تھی کہ اگر پادشاہ سفارت کا مطالبہ منظور کرنے سے انکار کر دے تو یہ چادر اس کے کفن کے لیے پیش کر دی جائے (یعنی اسے متنبہ کر دیا جائے کہ اب اس کی موت ناگزیر ہے)”۔

امیر نے پادشاہ سے کہا  “میرے آقا نے مجھے اِس لیے بھیجا ہے کہ میں آپ سے پوچھوں۔ آپ اِنہیں جانتے ہیں یا نہیں؟ پادشاہ نے کہا میں نے ان کا ذکر سنا ہے۔ امیر نے کہا پھر یہ کیا بات ہے کہ آپ نے اِس وقت تک انہیں اپنے خزانے کے بہترین تحفے نہیں بھیجے، جس طرح جرمنی کے شہنشاہ، ہنگری کے پادشاہ، “بابل” کے سُلدان (سلطان) اور دورے سلاطین انہیں سال بسال بھیجتے رہتے ہیں؟ ان تمام پادشاہوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کی زندگیاں میرے آقا کی مرضی پر موقوف ہیں۔ وہ جب چاہے، اِن کی زندگیوں کا خاتمہ کا دے سکتا ہے۔”

اس مکالمہ میں شہنشاہِ جرمنی اور شاہِ ہنگری کے سال بسال تحائف و نذور کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے صرف ایک ہی مرتبہ اپنے زمانہ ورودِ فلسطین میں تحفے نہیں بھیجے تھے بلکہ ہر سال بھیجتے رہتے تھے۔ “سلدانِ بابلی” سے مقصود سلطانِ مصر ہے۔ کیونکہ صلیبی زمانے کے فرنگی عام طور پر قاہرہ کو “بابل” کے نام سے پکارتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ جس بابل کا ذکر کتبِ مقدسہ میں آیا ہے، وہ یہی شہر ہے۔ چنانچہ اس دَور کی تمام رزمیہ نظموں میں بار بار “بابل” کا نام آتا ہے۔ ایک صلیبی نائٹ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ کافروں کو رگیدتا ہوا ایسے مقام تک چلا گیا جہاں سے “بابل” کے سربفلک منارے صاف دکھائی دیتے ہیں۔

اس کے بعد  ژو این ویل لکھتا ہے کہ اُس زمانہ میں شیخ الجبال ٹمپل اور ہاسپٹل کو ایک سالانہ رقم بطورِ خراج کے دیا کرتا تھا کیونکہ ٹمپلر اور ہاسپٹلر اس کے قاتلانہ حملوں سے بالکل نڈر تھے اور وہ اِنہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا۔ شیخ الجبال کے سفیر نے کہا کہ “اگر پادشاہ میرے آقا کی فرمائش کی تعمیل نہیں کرنا چاہتا تو پھر یہی کرے کہ جو خراج ٹمپل کو ادا کیا جاتا ہے، اُس سے میرے آقا کو بری الذِّمہ کرا دے۔” پادشاہ نے یہ پورا معاملہ ٹمپلرس کے حوالے کر دیا۔ ٹمپلرس نے دوسرے دن سفیر کو بلایا اور کہا، تمہارے آقا نے بڑی غلطی کی ہے کہ اس طرح کا گستاخانہ پیغام پادشاہِ فرانس کو بھیجا۔اگر پادشاہ کے احترام سے ہم مجبور نہ ہوتے جس کی حفاظت تمہیں یہ حیثیت سفیر کے حاصل ہے۔ تو ہم تمہیں پکڑ کے سمندر کی موجوں کے حوالے کر دیتے۔ بہرحال اب ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ یہاں سے فوراً رخصت ہو جاؤ اور پھر پندرہ دن کے اندر الموت سے واپس آؤ۔ لیکن اس طرح واپس آؤ کہ ہمارے پادشاہ کے نام ایک دوستانہ خط اور قیمتی تحائف تمہارے ساتھ ہوں۔ اِس صورت میں پادشاہ تمہارے آقا سے خوشنود ہو جائے گا اور ہمیشہ کے لیے اِس کی دوستی تمہیں حاصل ہو ائے گی۔” چنانچہ سفیر اس حکم کی تعمیل میں فوراً رخصت ہو گئے اور ٹھیک پندرہ دن کے اندر شیخ کا دوستانہ خط اور قیمتی تحائف لے کر واپس ہوئے۔

ژو این ویل کی روایت کا یہ حصہ محلِ نظر ہے اور عرب مؤرخوں کی تصریحات اس کا ساتھ نہیں دیتیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ صلیبی جماعتیں اپنے عروج و اقتدار کے زمانے میں مجبور ہوئی تھیں کہ اپنی جانوں کی سلامتی کے لیے شیخ الجبال کو نذرانے بھیجتی رہیں حتیٰ کہ فریڈرک ثانی نے بھی ضروری سمجھا تھا کہ اس طرح کی رسم و راہ قائم رکھے۔ پھر یہ بات کسی طرح سمجھ میں نہیں آ سکتی کہ 1251ء میں جبکہ صلیبیوں کی تمام طاقت کا خاتمہ ہو چکا تھا اور وہ فلسطین کے چند ساحلی مقامات میں ایک محصور و مقہور گروہ کی مایوس زندگی بسر کر رہے تھے، کیوں اچانک صورتِ حال منقلب ہو جائے اور شیخ الجبال ٹمپلروں سے خراج لینے کی جگہ خراج دینے پر مجبور ہو جائے؟ اِتنا ہی نہیں، بلکہ اِن تباہ حال ٹمپلروں سے اس درجہ خوف زدہ ہو کہ ان کے حاکمانہ احکام کی بلا چون و چرا تعمیل کر دے؟

جو بات قرینِ قیاس معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ ٹمپلروں اور ہاسپٹلروں کے تعلقات شیخ الجبال سے قدیمی تھے، اور اس وابستگی کی وجہ سے ہر طرح کی ساز باز اس کے کارندوں کے ساتھ کرتے رہتے تھے۔ شیخ الجبال نے جب لوئس کی آمد کا حال سنا اور یہ بھی سنا کہ اس نے ایک گرانقدر فدیہ دے کر سلطانِ مصر کی قید سے رہائی حاصل کی ہے، تو حسبِ معمول اسے مرعوب کرنا چاہا اور اپنے سفیر قاتلانہ حملوں کے مرموز پیاموں کے ساتھ بھیجے۔ لوئس کے معلوم ہو چکا تھا کہ ٹمپلروں سے شیخ کے پرانے تعلقات ہیں۔ اُس نے معاملہ اُن کے سپرد کر دیا، اور انہوں سے بیچ میں پڑ کر دونوں کے درمیان دوستانہ علاقہ قائم کرا دیا۔ پھر طرفین سے تحائف ایک دوسرے کے بھیجے گئے اور دوستانہ خط و کتابت جاری ہو گئی۔ عرب مؤرخوں کی تصریحات سے بھی صورت حال کا ایک ایسا ہی نقشہ سامنے آتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ شیخ الجبال اور صلیبیوں کے باہمی تعلقات اس درجہ بڑھے ہوئے تھے کہ صلیبیوں نے کئی بار اس کے فدائیوں کے ذریعہ بعض سلاطینِ اسلام کو قتل کرانا چاہا۔

لیکن پھر ژو این ویل کے بیان کی کیا توجیہ کی جائے؟

معاملہ دو حالتوں سے خالی نہیں۔ ممکن ہے کہ ٹمپلروں نے حقیقتِ حال مخفی رکھی ہو، اور شیخ الجبال کے طرزِ عمل کی تبدیلی کو اپنے فرضی اقتدار و تحکم کی طرف منسوب کر دیا ہو۔ اس لیے ژو این ویل پر اصلیت نہ کھل سکی اور جو کچھ اس نے سنا تھا، یادداشت میں لکھ دیا۔ یا پھر ماننا پڑے گا کہ خود ژو این ویل کی دینی اور قومی عصبیت بیان حقیقت میں حائل ہو گئی۔ اور اس نے صلیبیوں کا غیر معمولی تفوّق اور اقتدار دکھانے کے لیے اصل واقعہ کو یک قلم اُلٹ دیا۔ ژو این ویل نے صلیبیوں نے کی شکستوں کی سرگزشت جس بے لاگ صفائی کے ساتھ قلم بند کی ہے، اُسے پیشِ نظر رکھتے ہوئے غالباً قریب صواب پہلی ہی صُورت ہوگی۔

اس روایت کی کمزوری اِس بات سے بھی نکلتی ہے کہ ٹمپلروں کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ اُنہوں نے سفیروں سے کہا پندرہ دنوں کے اندر شیخ کا جواب لیکر واپس ہو۔ یعنی سات دِن جانے میں صَرف کرو سات دن واپس آنے میں۔ یہ ظاہر ہے کہ اس زمانے میں عکہ اور الموت کی باہمی مُسافت سات دن کے اندر طے نہیں کی جا سکتی تھی۔ مستوفی نے نزہۃ القلوب میں اُس عہد کی منزلوں کا جو نقشہ کھینچا ہے۔ اس سے ہمیں معلوم وہ چکا ہے کہ شمالی ایران کے قافلے بیت المقدس تک کی مسافت دو ماہ سے کم میں طے نہیں کر سکتے تھے۔ اور الموت تک پہنچنے کے لیے تو ایران سے بھی آگے کی مزید مُسافت طے کرنی پڑتی ہوگی۔ ہاں برید یعنی گھوڑوں کی ڈاک کے ذریعہ کم مدت میں آمدورفت ممکن ہوگی لیکن سفیروں کا برید کے ذریعہ سفر کرنا مستبعد معلوم ہوتا ہے۔

ژو این ویل لکھتا ہے شیخ الجبال نے لوئس کو جو تحفے بھیجے تھے، ان میں بلور کا تراشا ہوا ایک ہاتھی اور ایک جی راف (Giraffe) یعنی زرافہ بھی تھا نیز بلور کے سیب اور شطرنج کے مہرے تھے۔ یہ اسی طرح کی بلوری مصنوعات ہوں گی جن کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ الموت کا باغِ بہشت اِن سے آراستہ کیا گیا تھا۔ بلوری مصنوعات مغربی ایشیا میں پہلے چین سے آتی تھیں۔ پھر عرب صنّاع بھی بنانے لگے تھے۔

اس کے بعد اُس سفارت کا حال ملتا ہے جو لوئس نے شیخ الجبال کے پاس بھیجی تھی۔ اس سفارت میں بھی ہمارا پرانا دوست لا برتیاں بور مترجم کے نمایاں ہے اور اس کی زبانی شیخ کا ایک مکالمہ نقل کیا گیا ہے۔ لیکن پورا مکالمہ بعید از قیاس باتوں پر مبنی ہے اور قابلِ اعتنا نہیں۔ بعض حصے صریح بناوٹی معلوم ہوتے ہیں۔ یا سر تا سر غلط فہمیوں سے وجود پذیر ہوئے ہیں۔ مثلاً شیخ الجبال نے سینٹ پیٹر (پطرس) کی تقدیس کی اور کہا  “ہابیل کی روح نوح میں آئی، نوح کے بعد ابراہیم میں، اور پھر ابراہیم سے پیٹر میں منتقل ہوئی۔ اس وقت جبکہ “خدا زمین پر نازل ہوا تھا” (یعنی حضرت مسیح کا ظہور ہوا تھا!)۔

ممکن ہے کہ شیخ نے یہ بات ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ حضرت مسیح کا منکر نہیں ہے یہ کہا ہو کہ وحی الٰہی کا ظہور پچھلے نبیوں میں ہوا تھا، اُسی کا ظہور حضرت مسیح میں ہوا اور لابرتیاں نے اِسے دوسرا رنگ دے دیا۔

ژو این ویل شیعہ سنی اختلاف سے واقف ہے،لیکن اُس کی تشریح یُوں کرتا ہے:

“شیعہ محمد (ص) کی شریعت پر نہیں چلتے۔ علی کی شریعت پر چلتے ہیں۔ علی محمد (ص) کا چچا تھا۔ اسی نے محمد (ص) کو عزت کی مسند پر بٹھایا۔ لیکن جب محمد (ص) نے قوم کی سرداری حاصل کر لی تو اپنے چچا کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگا اور اس سے الگ ہو گیا۔ یہ حال دیکھ کر علی نے کوشش کی کہ جتنے آدمی اپنے گرد جمع کر سکتا ہے جمع کر لے اور پھر انہیں محمد (ص) کے دین کے علاوہ ایک دوسرے دین کی تعلیم دے۔ چنانچہ اِس اختلاف کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو لوگ اب علی کی شریعت پر عامل ہیں، وہ محمد (ص) کے ماننے والوں کو بے دین سمجھتے ہیں۔ اِسی طرح پیروانِ علی کو بے دین کہتے ہیں۔”

پھر لکھتا ہے:

“جب لابرتیاں شیخ الجبال کے پاس گیا تو اُسے معلوم ہوا کہ شیخ، محمد (ص) پر اعتقاد نہیں رکھتا۔ علی کی شریعت ماننے والا ہے۔”

ژو این ویل کا یہ بیان تمام تر اُن خیالات سے ماخوذ ہے، جو اس عہد کے کلیسائی حلقوں میں عام طور پر پھیلے ہوئے تھے، اور پھر صدیوں تک یورپ میں نسلاً بعد نسل ان کی اشاعت ہوتی رہی۔ یہ بیانات کتنے ہی غلط ہوں، تاہم ان بیانات سے تو بہرحال غنیمت ہیں جو صلیبی حملہ کے ابتدائی دور میں ہر کلیسائی واعظ کی زبان پر تھے مثلاً یہ بیان کہ “موہامت” (Mohamet) ایک سونے کا خوفناک بت ہے جس کی مسلمان پوجا کرتے ہیں۔ چنانچہ فرانسیسی اور تلیانی (اٹالین) زبان کے قدیم ڈراموں میں ترواگاں (Tervagant) اور (Trivigante) کو مسلمانوں کے ایک ہولناک بت کی حیثیت سے پیش کیا جاتا تھا۔ یہی لفظ قدیم انگریزی میں آ کر ٹروے گینٹ (Tervgant) بن گیا، اور اب ٹرمے گینٹ (Termagant) ایسی عورت کے لیے بولنے لگے ہیں جو وحشیانہ اور بے لگام مزاج رکھتی ہو۔

ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ شیخ الجبال کون تھا؟ یہ زمانہ تقریباً 649ھ کا زمانہ تھا۔ اس کے تھوڑے عرصہ بعد تاتاریوں کی طاقت مغربی ایشیا میں پھیلی، اور انہوں نے ہمیشہ کے لیے اس پراسرار مرکز کا خاتمہ کر دیا۔ پس غالباً یہ آخری شیخ الجبال خورشاہ ہوگا۔ یہاں کتابیں موجود نہیں اس لیے قطعی طور پر نہیں لکھ سکتا۔

صلیبی جہاد نے ازمنہ وسطٰی کے یورپ کو مشرق وسطٰی کے دوش بدوش کھڑا کر دیا تھا۔ یورپ اُس عہد کے مسیحی دماغ کی نمائندگی کرتا تھا۔ مشرق وسطٰی مسلمانوں کے دماغ کی، اور دونوں کی متقابل حالت سے اِن کی متضاد نوعیتیں آشکارا ہو گئی تھیں۔ یورپ مذہب  کے مجنونانہ جوش کا علم بردار تھا۔ مسلمان علم و دانش کے علمبردار تھے۔ یورپ دعاؤں کے ہتھیار سے لڑنا چاہتا تھا۔ مسلمان لوہے اور آگ کے ہتھیاروں سے لڑتے تھے۔ یورپ کا اعتماد صرف خدا کی مدد پر تھا۔ مسلمانوں کا خدا کی مدد پر بھی تھا۔ لیکن خدا کے پیدا کیے ہوئے سروسامان پر بھی تھا۔ ایک صرف روحانی قوتوں کا معتقد تھا۔ دوسرے نے نتائجِ عمل کے ظہور کا۔  معجزے ظاہر نہیں ہوئے، لیکن نتائجِ عمل نے ظاہر ہو کر فتح و شکست کا فیصلہ کر دیا۔

ژو این ویل کی سرگزشت میں بھی یہ تضاد تقابل ہر جگہ نمایاں ہے۔ جب مصری فوج نے منجنیقوں (Petrays) کے ذریعہ آگ کے بان پھینکنے شروع کیے تو فرانسیسی جن کے پاس پرانے دستی ہتھیاروں کے سوا کچھ نہ تھا، بالکل بے بس ہو گئے۔ ژو این ویل اس سلسلے میں لکھتا ہے:

“ایک رات جب ہم ان برجیوں پر جو دریا کے راستے کی حفاظت کے لیے بنائی گئی تھیں، پہرہ دے رہے تھے، تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں نے ایک انجن جسے پٹریری (یعنی منجنیق) کہتے ہیں، لا کر نصب کر دیا اور اس سے ہم پر آگ پھینکنے لگے۔ یہ حال دیکھ کر میرے لارڈ والر نے جو ایک اچھا نائٹ تھا، ہمیں یوں مخاطب کیا”اس وقت ہماری زندگی کا سب سے بڑا خطرہ پیش آ گیا ہے۔ کیونکہ اگر ہم نے ان برجیوں کو نہ چھوڑا اور مسلمانوں نے اِن میں آگ لگا دی تو ہم بھی برجیوں کے ساتھ جل کر خاک ہو جائیں گے۔ لیکن اگر ہم برجیوں کو چھوڑ کر نکل جاتے ہیں تو پھر ہماری بے عزتی میں کوئی شبہ نہیں۔ کیونکہ ہم ان کی حفاظت پر مامور کیے گئے تھے۔ ایسی حالت میں خدا کے سوا کوئی نہیں جو ہمارا بچاؤ کر سکے۔ میرا مشورہ آپ سب لوگوں کو یہ ہے کہ جونہی مسلمان آگ کے بان چلائیں، ہمیں چاہیے کہ گھٹنے کے بل جھک جائیں اور اپنے نجات دہندہ خداوند سے دعا مانگیں کہ اس مصیبت میں ہماری مدد کرے۔ چنانچہ سب سے ایسا ہی کیا۔ جیسے ہی مسلمانوں کا پہلا بان چلا۔ ہم گھٹنوں کے بل جھک گئے اور دعا میں مشغول ہو گئے۔ یہ بات اتنے بڑے ہوتے تھے، جیسے شراب کے پیپے، اور آگ کا شعلہ جو اِن سے نکلتا تھا، اُس کی دُم اتنی لمبی ہوتی تھی جیسے ایک بہت بڑا نیزہ۔ جب یہ آتا تو ایسی آواز نکلتی جیسے بادل گرج رہے ہوں، اس کی شکل ایسی دکھائی دیتی جیسے ایک آتشیں اَژدہا ہوا میں اُڑ رہا ہو۔ اِس کی روشنی نہایت تیز تھی۔ چھاؤنی کے تمام حصے اس طرح اُجالے میں آ جاتے جیسے دِن نکل آیا ہو۔”

اس کے بعد خود لوئس کی نسبت لکھتا ہے:

“ہر مرتبہ جب بان چھوٹنے کی آواز ہمارا ولی صفت پادشاہ سنتا تھا، تو بستر سے اٹھ کھڑا ہوتا تھا اور روتے ہوئے ہاتھ اٹھا اٹھا کر نجات دہندہ سے التجائیں کرتا۔ مہربان مولیٰ! میرے آدمیوں کی حفاظت کر! میں یقین کرتا ہوں کہ ہمارے پادشاہ کی اِن دعاؤں نے ہمیں ضرور فائدہ پہنچایا۔”

لیکن فائدہ کا یہ یقین خوش اعتقادانہ وہم سے زیادہ نہ تھا۔ کیونکہ بالآخر کوئی دُعا بھی سُودمند نہ ہوئی اور آگ کے بانوں نے تمام برجیوں کو جلا کر خاکستر کر دیا۔

یہ حال تو تیرھویں صدی مسیحی کا تھا۔ لیکن چند صدیوں کے بعد جب پھر یورپ اور مشرق کا مقابلہ ہوا،تو اب صورت حال یکسر اُلٹ چکی تھی۔ اب بھی دونوں جماعتوں کے متضاد خصائص اسی طرح نمایاں تھے، جس طرح صلیبی جنگ کے عہد میں رہے تھے۔ لیکن اتنی تبدیلی کے ساتھ کہ جو دماغی جگہ پہلے یورپ کی تھی ، وہ اب مسلمانوں کی ہو گئی تھی اور جو جگہ مسلمانوں کی تھی، اسے اب یورپ نے اختیار کر لیا تھا۔

اٹھارویں صدی کے اواخر میں جب نپولین نے مصر پر حملہ کیا تو مراد بک نے جامع ازہر کے علماء کو جمع کر کے ان سے مشورہ کیا تھا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ علماء ازہر نے بالاتفاق یہ رائے دی تھی کہ جامع ازہر میں صحیح بخاری کا ختم شروع کر دینا چاہیے کہ انجاحِ مقاصد کے لیے تیر بہدف ہے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا لیکن ابھی صحیح بخاری کا ختم، ختم نہیں ہوا تھا کہ اہرام کی لڑائی نے مصری حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ شیخ عبدالرحمن الجبرتی نے اس عہد کے چشم دید حالات بیان کیے ہیں اور بڑے ہی عبرت انگیز ہیں۔ انیسویں صدی کے اوائل میں جب روسیوں نے بخارا کا محاصرہ کیا تھا تو امیرِ بخارا نے حکم دیا کہ تمام مدرسوں اور مسجدوں میں ختم خواجگان پڑھا جائے۔ اُدھر روسیوں کی قلعہ شکن توپیں شہر کا حصار منہدم کر رہی تھیں۔ اِدھر لوگ ختمِ خواجگان کے حلقوں میں بیٹھے، “یا مقلب القلوب یا محوّل الاحوال” کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ بالآخر وہی نتیجہ نکلا جو ایک ایسے مقابلہ کا نکلنا تھا۔ جس میں ایک طرف گولہ بارود ہو، دوسری طرف ختم خواجگان!

دُعائیں ضرور فائدہ پہنچاتی ہیں مگر اُنہی کو پہنچاتی ہیں جو عزم و ہمت رکھتے ہیں۔ بے ہمتوں کے لیے تو وہ ترکِ عمل اور تعطلِ قویٰ کا حیلہ بن جاتی ہیں۔

ژواین ویل نے اس آتش فشانی کو “یونانی آگ” (greek fire) سے تعبیر کیا ہے اور اسی نام سے اس کی یورپ میں شہرت ہوئی۔ غالباً اس کی وجہ تسمیہ یہ تھی کہ جس مواد سے یہ آگ بھڑکتی تھی، وہ قسطنطنیہ میں صلیبیوں نے دیکھا تھا اور اس لیے اسے یونانی آگ سے پکارنے لگے تھے۔

آتش فشانی کے لیے روغنِ نفط یعنی مٹی کا تیل کام میں لایا جاتا تھا۔ مٹی کے تیل کا یہ پہلا استعمال ہے جو عربوں نے کیا۔ آذربائیجان کے تیل کے چشمے اُس زمانے میں بھی مشہور تھے۔ وہیں سے یہ تیل شام اور مصر میں لایا جاتا تھا۔ ابنِ فضل اللہ اور نویری نے اِس کے استعمال کا مفصل حال لکھا ہے۔

آتش فشانی کے لیے دو طرح کی مشینیں کام میں لائی جاتی تھیں۔ ایک تو منجیق کی قسم کی تھی جو پتھروں کے پھینکنے کے لیے ایجاد ہوئی تھی۔ دوسری، ایک طرح کا آلہ کمان کی شکل کا تھا اور توپ کی بیڑیوں کی طرح زمین میں نصب کر دیا جاتا تھا۔ اس کی مار منجیق سے بھی زیادہ دور تک پہنچتی تھی۔ ژو این ویل نے پہلے کو (Petray) سے اور دوسرے کو (Swivel Crossbow) سے موسوم کیا ہے۔ ‘منجیق’ کا لفظ اسی یونانی لفظ کی تعریب ہے جس سے انگریزی کا (Mechanic) فرانسیسی کا (Mechnicus) اور جرمن کا (Mechankus) نکلا ہے۔ یہ آلہ عربوں نے رومیوں اور ایرانیوں سے لیا تھا لیکن دوسرا خود عربوں کی ایجاد تھا۔ چنانچہ اسے عربی میں “مدفع” کہتے تھے۔ یعنی پھینکنے والا آلہ، یہی “مدفع” بعد کو توپ کے لیے  بولا جانے لگا۔

عربی میں مٹی کے تیل کے لیے “نفط” کا لفظ مستعمل ہوا، یہی “نفط” ہے جس نے یورپ کی زبانوں میں (Naphthlene – Naphtha) وغیرہ کی شکل اختیار کر لی ہے۔

ابوالکلام

 

 

 

خط نمبر ۱۹

چڑیا چڑے کی کہانی

 

قلعۂ احمد نگر                                                                                                         17 مارچ 1943ء

صدیق مکرم

زندگی میں بہت سی کہانیاں بنائیں۔ خود زندگی ایسی گزری جیسے ایک کہانی ہو:

ہے آج جو سرگزشت اپنی
کل اس کی کہانیاں بنیں گی
آئیے آج آپ کو چڑیا چڑے کی کہانی سناؤں:

دگر ہا شنیدستی، ایں ہم شنو
یہاں کمرے جو ہمیں رہنے کو ملے ہیں، پچھلی صدی کی تعمیرات کا نمونہ ہیں۔ چھت لکڑی کے شہتیروں کی ہے اور شہتیروں کے سہارے کے لیے محرابیں ڈال دی ہیں نتیجہ یہ ہے کہ جا بجا گھونسلہ بنانے کے قدرتی گوشے نکل آئے اور گوریّاؤں کی بستیاں آباد ہو گئیں۔ دن بھر ان کا ہنگامۂ تگ و دو گرم رہتا ہے۔ کلکتہ میں بالی گنج کا علاقہ چونکہ کھلا اور درختوں سے بھرا ہوا ہے اس لیے وہاں بھی مکانوں کے برآمدوں اور کارنسوں پر چڑوں کے غول ہمیشہ حملہ کرتے رہتے ہیں۔ یہاں کی ویرانی دیکھ کر گھر کی ویرانی یاد آ گئی

اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالب

ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے!
گزشتہ سال جب اگست میں یہاں ہم آئے تھے تو ان چڑیوں کی آشیاں سازیوں نے بہت پریشاں کر دیا تھا۔ کمرہ کے مشرقی گوشہ میں منہ دھونے کی ٹیبل لگی ہے۔ ٹھیک اِس کے اوپر نہیں معلوم کب سے ایک پرانا گھونسلہ تعمیر پا چکا تھا۔ دن بھر میدان سے تنکے چُن چُن کر لاتیں اور گھونسلے میں بچھانا چاہتیں۔ وہ ٹیبل پر گر کے اسے کوڑے کرکٹ سے اَٹ دیتے۔ اِدھر جگ بھروا کے رکھا، اُدھر تنکوں کی بارش شروع ہو گئی۔ پچھم کی طرف چارپائی دیوار سے لگی تھی۔ اِس کے اوپر نئی تعمیروں کی سرگرمیاں جاری تھیں۔ اِن نئی تعمیروں کا ہنگامہ اور زیادہ عاجز کر دینے والا تھا۔ ان چڑیوں کو ذرا سی تو چونچ ملی ہے اور مٹھی بھر کا بدن نہیں، لیکن طلب و سعی کا جوش اِس بلا کا پایا ہے کہ چند منٹوں کے اندر بالشت بھر کلفات کھود کے صاف کر دیں گی۔ حکیم ارشمیدس (Archimedes) کا مقولہ مشہور ہے:

Dos Mol Pau Sto Kai Ten Gen Kineso

“مجھے فضا میں کھڑے ہونے کی جگہ دے دو، میں کرۂ ارضی کو اس کی جگہ سے ہٹا دوں گا۔”

اس دعوے کی تصدیق اِن چڑیوں کی سرگرمیاں دیکھ کر ہو جاتی ہے۔ پہلے دیوار پر چونچ مار مار کر اتنی جگہ بنا لیں گی کہ پنجے ٹیکنے کا سہارا نکل آئے۔ پھر اس پر پنجے جما کر چونچ کا پھاوڑا چلانا شروع کر دیں گی، اور اِس زور سے چلائیں گی کہ سارا جسم سکڑ سکڑ کر کانپنے لگے گا اور پھر تھوڑی دیر بعد دیکھیے تو کئی انچ کلفات اُڑ چکی ہوگی۔ مکان چونکہ پرانا ہے، اِس لیے نہیں معلوم کتنی مرتبہ چونے اور ریت کی تہیں دیوار پر چڑھتی رہی ہیں۔ اب مل ملا کر تعمیری مسالہ کا ایک موٹا سا دَل بن گیا ہے۔ ٹوٹتا ہے تو سارے کمرے میں گرد کا دھواں پھیل جاتا ہے، اور کپڑوں کو دیکھیے تو غبار کی تہیں جم گئی ہیں۔

اِس مصیبت کا علاج بہت سہل تھا یعنی مکان کی ازسرِ نو مرمت کر دی جائے اور تمام گھونسلے بند کر دیے جائیں۔ لیکن مرمت بغیر اس کے ممکن نہ تھی کہ معمار بلائے جائیں، اور یہاں باہر کا کوئی آدمی اندر قدم رکھ نہیں سکتا۔ یہاں ہمارے آتے ہی پانی کے نل بِگڑ گئے تھے۔ ایک معمولی مستری کا کام تھا، لیکن جب تک ایک انگریزی فوجی انجینئر کمانڈنگ آفیسر پروانۂ راہداری لے کر نہیں آیا، ان کی مرمت نہ ہو سکی۔

چند دنوں تک تو میں نے صبر کیا، لیکن پھر برداشت نے صاف جواب دے دیا اور فیصلہ کرنا پڑا کہ اب لڑائی کے بغیر چارہ نہیں

من و گزر و میدان و افراسیاب
یہاں میرے سامان میں ایک چھتری بھی آ گئی ہے۔ میں نے اٹھائی اور اعلانِ جنگ کر دیا۔ لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد معلوم ہو گیا کہ اس کوتاہ دستی کے ساتھ اِن حریفانِ سقف و محراب کا مقابلہ ممکن نہیں۔ حیران ہو کر کبھی چھتری کی نارسائی دیکھتا، کبھی حریفوں کی بلند آشیانی۔ بے اختیار حافظ کا شعر یاد آ گیا:

خیالِ قدِّ بلند تو می کند دلِ من
تو دستِ کوتہ من بین و آستین دراز
اب کسی دوسرے ہتھیار کی تلاش شروع ہوئی۔ برآمدہ میں جالا صاف کرنے کا بانس پڑا تھا۔ دوڑتا ہوا گیا اور اُسے اٹھا لایا۔ اب کچھ نہ پوچھئے کہ میدانِ کارزار میں کِس زور کا رن پڑا۔ کمرہ میں چاروں طرف حریف طواف کر رہا تھا اور میں بانس اُٹھائے دیوانہ وار اس کے پیچھے دَوڑ رہا تھا۔ فردوسی اور نظامی کے رجز بے اختیار نکل رہے تھے

بہ خنجر زمین را مَیستان کنم،
بہ نیزہ ہوا را نَیستان کنم
آخر میدان اپنے ہی ہاتھ رہا، اور تھوڑی دیر کے بعد کمرہ اِن حریفان سقف و محراب سے بالکل صاف تھا:

بہ یک تاختن تا کجا تا ختم
چہ گردن کشاں را سراند اختم
اب میں نے چھت کے تمام گوشوں پر فتحمندانہ نظر ڈالی۔ اور مطمئن ہو کر لکھنے میں مشغول ہو گیا۔ لیکن ابھی پندرہ منٹ بھی پورے نہیں گزرے ہوں گے کہ کیا سُنتا ہُوں۔ حریفوں کی رجز خوانیوں اور ہوا پیمائیوں کی آوازیں پھر اُٹھ رہی ہیں۔ سر اٹھا کے جو دیکھا تو چھت کا ہر گوشہ ان کے قبضہ میں تھا میں فوراً اُٹھا اور بانس لا کر پھر معرکۂ کارزار گرم کر دیا۔

بر آرم دیا راز ہمہ لشکرش
بہ آتش بسوزم ہمہ کشورش
اِس مرتبہ حریفوں نے بڑی پامردی دکھائی۔ ایک گوشہ چھوڑنے پر مجبور ہوتے تو دُوسرے میں ڈٹ جاتے لیکن بالآخر میدان کو پیٹھ دکھانی ہی پڑی۔ کمرے سے بھاگ کر برآمدہ میں آئے اور وہاں اپنا لاؤ لشکر نئے سرے سے جمانے لگے۔ میں نے وہاں بھی تعاقب کیا، اور اس وقت تک ہتھیار ہاتھ سے نہیں رکھا کہ سرحد سے بُہت دُور تک میدان صاف نہیں ہو گیا تھا۔

اب دشمن کی فوج تِتّر بِتّر ہو گئی تھی مگر یہ اندیشہ باقی تھا کہ کہیں پھر اکٹھی ہو کر میدان کا رُخ نہ کرے۔ تجربے سے معلوم ہوا تھا کہ بانس کے نیزہ کی ہیبت دشمنوں پر خُوب چھا گئی ہے۔ جس طرح رُخ کرتا تھا، اُسے دیکھتے ہی کلمۂ فرار پڑھتے تھے۔ اس لیے فیصلہ کیا کہ ابھی کچھ عرصہ تک اسے کمرہ ہی میں رہنے دیا جائے۔ اگر کسی اِکا دُکا نے رُخ کرنے کی جُرات بھی کی تو یہ سربفلک نیزہ دیکھ کر الٹے پاؤں بھاگنے پر مجبور ہو جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ سب سے پُرانا گھونسلہ مُنہ دھونے کی ٹیبل کے اوپر تھا۔ بانس اس طرح وہاں کھڑا کر دیا گیا کہ اس کا سرا ٹھیک ٹھیک گھونسلے کے دروازے کے پاس پہنچ گیا تھا۔ اب گو مستقبل اندیشوں سے خالی نہ تھا تاہم طبیعت مطمئن تھی کہ اپنی طرف سے سر و سامانِ جنگ میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔ میر کا یہ شعر زبانوں پر چڑھ کہ بُہت پامال ہو چکا ہے تاہم موقعہ کا تقاضا ٹالا بھی نہیں جا سکتا۔

شکست و فتح نصیبوں سے ہے ولے اے میر
مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا،
اب گیارہ بج رہے تھے۔ میں کھانے کے لیے چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا تو کمرہ میں قدم رکھتے ہی ٹھٹک کے رہ گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ سارا کمرہ پھر حریف کے قبضہ میں ہے اور اس اطمینان و فراغت سے اپنے کاموں میں مشغول ہیں، جیسے کوئی حادثہ پیش آیا ہی نہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ جس ہتھیار کی ہیبت پر اس درجہ بھروسہ کیا گیا تھا، وہی حریفوں کی کامجوئیوں کا ایک نیا آلہ ثابت ہوا۔ بانس کا سِرا جو گھونسلے سے بالکل لگا ہوا تھا،گھونسلے میں جانے کے لیے اب دہلیز کا کام دینے لگا ہے۔ تنکے چُن چُن کر لاتے ہیں،اور ان نو تعمیر دہلیز پر بیٹھ کر بہ اطمینان تمام گھونسلے بچھاتے ہیں۔ ساتھ ہی چُوں چُوں بھی کرتے جاتے ہیں۔ عجیب نہیں یہ مصرعہ گنگنا رہے ہوں کہ:

عُدو شود سببِ خیر گر خُدا خواہد
اپنی وہمی فتح مندیوں کا یہ حسرت انگیز انجام دیکھ کر بے اختیار ہمت نے جواب دیدیا۔ صاف نظر آ گیا کہ چند لمحوں کے لیے حریف کو عاجز کر دینا آسان ہے مگر اُن کے جوشِ استقامت کا مقابلہ کرنا آسان نہیں، اور اب اس میدان میں ہار مان لینے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں رہا۔

بیا کہ ما سپراند اختیم اگر جنگ است
اب یہ فکر ہوئی کہ ایسی رسم و راہ اِختیار کرنی چاہیے کہ ان ناخواندہ مہمانوں کے ساتھ ایک گھر میں گزارہ ہو سکے۔ سب سے پہلے چارپائی کا معاملہ سامنے آیا۔ یہ بالکل نئی تعمیرات کی زد میں تھی۔ پرانی عمارت کے گرنے اور نئی تعمیروں کے سر و سامان سے جس قدر گرد و غبار اور کوڑا کرکٹ نکلتا۔ سب کا سب اسی پر گرا۔ اس لیے اسے دیوار سے اتنا ہٹا دیا گیا کہ براہِ راست زد میں نہ رہے۔ اِس تبدیلی سے کمرہ کی شکل ضرور بگڑ گئی، لیکن اب اس کا علاج ہی کیا تھا؟ جب خود اپنا گھر ہی اپنے قبضہ میں نہ رہا تو پھر شکل و ترتیب کی آرائشوں کی کسے فکر ہو سکتی تھی؟ البتہ مُنہ دھونے کے ٹیبل کا معاملہ اتنا آسان نہ تھا۔ وہ جس گوشے میں رکھا گیا تھا، صرف وہی جگہ اس کے لیے نکل سکتی تھی، ذرا بھی ادھر ادھر کرنے کی گنجائش نہ تھی۔ مجبوراس یہ انتظام کرنا پڑا کہ بازار سے بہت سے جھاڑن منگوا کر رکھ لیے اور ٹیبل کی ہر چیز پر ایک ایک جھاڑن ڈال دیا۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد انہیں اٹھا کر جھاڑ دیتا اور پھر ڈال دیتا۔ ایک زیادہ مشکل مسئلہ فرش کی صفائی کا تھا۔ لیکن اُسے بھی کسی نہ کسی طرح حل کیا گیا۔ یہ بات طے کر لی گئی کہ صبح کی معمولی صفائی کے علاوہ بھی کمرے میں بار بار جھاڑو پھر جانا چاہیے ایک نیا جھاڑو منگوا کر الماری کی آڑ میں چھُپا دیا۔ کبھی دن میں دو مرتبہ، کبھی تین مرتبہ کبھی اس سے بھی زیادہ اس سے کام لینے کی ضرورت پیش آتی۔ یہاں ہر دو کمرے کے پیچھے ایک قیدی صفائی کے لیے دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ ہر وقت جھاڑو لیے کھڑا نہیں رہ سکتا۔ اور اگر رہ بھی سکتا تو اس پر اتنا بوجھ ڈالنا انصاف کے خلاف تھا۔ اس لیے یہ طریقہ اختیار کرنا پڑا کہ خود ہی جھاڑو اٹھا لیا، اور ہم سایوں کی نظریں بچا کے جلد جلد دو چار ہاتھ مار دیے۔ دیکھیے ان ناخواندہ مہمانوں کی خاطر تواضع میں کنّاسی تک کرنی پڑی۔

عشق ازیں بسیار کر دست و کند
ایک دن خیال ہوا کہ جب صلح ہو گئی تو چاہیے کہ پوری طرح صلح ہو۔ یہ ٹھیک نہیں کہ رہیں ایک ہی گھر میں، اور رہیں بیگانوں کی طرح۔ میں نے باورچی خانے سے تھوڑا سا کچا چاول منگوایا، اور جس صوفے پر بیٹھا کرتا ہوں، اس کے سامنے کی دری پر چند دانے چھٹک دیے۔ پھر اس طرح سنبھل کے بیٹھ گیا، جیسے شکاری دام بچھا کے بیٹھ جاتا ہے۔ دیکھیے، عرفی کا شعر صورت حال پر کیسا چسپاں ہوا ہے

فتادم دام بر کنجشک و شادم، یادِ آں ہمت
کہ گر سیمرغ می آمد بدام، آزاد می کردم!
کچھ دیر تک تو مہمانوں کی توجہ نہیں ہوئی۔ اور اگر ہوئی بھی تو ایک غلط اندازِ نظر سے معاملہ آگے نہیں بڑھا۔ لیکن پھر صاف نظر آ گیا کہ معشوقانِ ستم پیشہ کے تغافل کی طرح یہ تغافل بھی نظر بازی کا ایک پردہ ہے۔ ورنہ نیلے رنگ کی دری پر سفید سفید ابھرے ہوئے دانوں کی کشش ایسی نہیں کہ کام نہ کر جائے۔

حور و جنت جلوہ بر زاہد دہد، در راہ دوست
اندک اندک عشق در کار آور د بیگانہ را
پہلے ایک چڑیا آئی اور ادھر ادھر کودنے لگی۔ بظاہر چہچہانے میں مشغول تھی مگر نظر دانوں پر تھی۔ وحشی یزدی خوب کہہ گیا ہے:

چہ لطف ہا کہ دریں شیوۂ نہانی نیست
عنایتے کہ تو داری بمن بیانی نیست
پھر دوسری آئی اور پہلی کے ساتھ مل دری کا طواف کرنے لگی۔ پھر تیسری اور چوتھی بھی پہنچ گئی۔ کبھی دانوں پر نظر پڑتی، کبھی دانہ ڈالنے والے پر۔ کبھی ایسا معلوم ہوتا کہ جیسے آپس میں کچھ مشورہ ہو رہا ہے۔ کبھی معلوم ہوتا ہر فرد غور و فکر میں ڈوبا ہوا ہے۔ آپ نے غور کیا ہوگا کہ گوریّا جب تفتیش اور تفحص کی نگاہوں سے دیکھتی ہے تو اس کے چہرے کا کچھ عجیب سنجیدہ انداز ہو جاتا ہے۔ پہلے گردن اٹھا کر سامنے کی طرف دیکھے گی۔ پھر گردن موڑ کے داہنے بائیں دیکھنے لگے گی۔ پھر کبھی گردن کو مروڑ دے کر اوپر کی طرف نظر اٹھائے گی اور چہرے پر تفحص و استفہام کا کچھ ایسا انداز چھا جائے گا، جیسے ایک آدمی ہر طرف متعجبانہ نگاہ ڈال ڈال کر اپنے آپ سے کہہ رہا ہو کہ آخر یہ معاملہ ہے کیا؟ اور ہو کیا رہا ہے؟ ایسی متفحص نگاہیں اس وقت بھی ہر چہرہ پر ابھر رہی تھیں۔

پایم بہ پیش از سر ایں کُو نمی رَود
یاراں خبر دہید کہ ایں جلوہ گاہِ کیست؟
پھر کچھ دیر کے بعد آہستہ آہستہ قدم بڑھنے لگے۔ لیکن براہِ راست دانوں کی طرف نہیں۔ آڑے ترچھے ہو کر بڑھتے اور کترا کر نکل جاتے۔ گویا یہ بات دکھائی جا رہی تھی کہ خدانخواستہ ہم دانوں کی طرف نہیں بڑھ رہے۔ دروغِ راست مانند کی یہ نمائش دیکھ کر بے اختیار ظہوری کا شعر یاد آ گیا:

بگو حدیثِ وفا، از تو با درست،بگو
شوم فدائے دروغے کہ راست مانندست
آپ جانتے ہیں کہ صید سے کہیں زیادہ صیاد کو اپنی نگرانیاں کرنی پڑتی ہیں، جونہی ان کے قدموں کا رخ دانوں کی طرف پھرا، میں نے دم سادھ لیا، نگاہیں دُوسری طرف کر لیں، اور سارا جسم پتھر کی طرح بے حس و حرکت بنا لیا۔ گویا آدمی کی جگہ پتھر کی ایک مورتی دھری ہے۔ کیونکہ جانتا تھا، اگر نگاہِ شوق نے مضطرب ہو کر ذرا بھی جلد بازی کی، تو شکار دام کے پاس آتے آتے نکل جائے گا۔ یہ گویا نازِ حسن اور نیازِ عشق کے معاملات کا پہلا مرحلہ تھا۔

نہاں از و بہ رُخش داشتم تماشائے
نظر بہ جانبِ ما کرد و شہ مسارشدم
 

خیر، خدا خدا کر کے اس عشوۂ تغافل نما کے ابتدائی مرحلے طے ہوئے، اور ایک بتِ طنّاز نے صاف صاف دانوں کی طرف رُخ کیا۔ مگر یہ رُخ تھا۔ ہزار تغافل اِس کے جلو میں چل رہے تھے۔ میں بے حس و حرکت بیٹھا دل ہی دل میں کہہ رہا تھا:

بہ ہر کُجا ناز سر بر آرد، نیاز ہم پائے کم نہ دارد
توؤ خرامے و صد تغافل، من و نِگاہے و صد تمنا
ایک قدم آگے بڑھتا تھا تو دو قدم پیچھے ہٹتے تھے۔ میں جی ہی جی میں کہہ رہا تھا کہ التفات و تغافل کا یہ ملا جلا انداز بھی کیا خوب انداز ہے۔ کاش تھوڑی سی تبدیلی اس میں کی جا سکتی۔ دو قدم آگے بڑھتے۔ ایک قدم پیچھے ہٹتا۔ غالب بھی کیا خوب کہہ گیا ہے:

وداع و وصل جدا گانہ لذتے دارد
ہزار بار بِرَد، صد ہزار بار بیا
التفات و تغافل کی اِن عشوہ گریوں کی ابھی جلوہ فروشی ہو ہی رہی تھی کہ ناگہاں ایک تنومند چڑے نے جو اپنی قلندرانہ بے دماغی اور رندانہ جراتوں کے لحاظ سے پورے حلقہ میں ممتاز تھا، سلسلۂ کار کی درازی سے اکتا کر بے باکانہ اقدام اٹھا دیا۔ اور زبانِ حال سے یہ نعرۂ مستانہ لگاتا ہوا، بہ یک دفعہ دانوں پر ٹوٹ پڑا کہ:

ز دیم بر صفِ رنداں د ہر چہ بادا باد
اِس ایک قدم کا اٹھنا تھا کہ معلوم ہوا، جیسے اچانک تمام رُکے ہوئے قدموں کے بندھن کھل پڑے۔ اب نہ کسی قدم میں جھجک تھی، نہ کسی نگاہ میں تذبذب، مجمع کا مجمع بہ یک دفعہ دانوں پر ٹوٹ پڑا۔ اور اگر انگریزی محاورہ کی تعبیر مستعار لی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ حجاب و تامل کی ساری برف اچانک ٹوٹ گئی۔ یا یوں کہیے کہ پگھل گئی۔ غور کیجئے، تو اس کارگاہِ عمل کے ہر گوشہ کی قدم رانیاں ہمیشہ اسی ایک قدم کے انتظار میں رہا کرتی ہیں۔ جب تک یہ نہیں اٹھتا۔ سارے قدم زمین میں گڑے رہتے ہیں۔ یہ اُٹھا اور گویا ساری دنیا اچانک اٹھ گئی:

نامردی و مردی قدمے فاصلہ دارد
اِس بزمِ سُود و زیاں میں کامرانی کا جام کبھی کوتاہ دستوں کے لیے نہیں بھرا گیا وہ ہمیشہ انہی کے حصے میں آیا جو خود بڑھ کر اٹھا لینے کی جرات رکھتے تھے۔ شاد عظیم آبادی مرحوم نے ایک شعر کیا خوب کہا تھا:

یہ بزمِ مے ہے، یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں، مینا اُسی کا ہے
اِس چڑے کا یہ بے باکانہ اقدام کچھ ایسا دل پسند واقع ہوا، کہ اُسی وقت دل نے ٹھان لی، اِس مرد کار سے رسم و راہ بڑھانی چاہیے۔ میں نے اس کا نام قلندر رکھ دیا۔ کیونکہ بے دماغی اور دارستگی کی سرگرانیوں کے ساتھ ایک خاص طرح کا بانکپن بھی ملا ہوا تھا۔ اور اس کی وضعِ قلندرانہ کو آب و تاب دے رہا تھا:

رہے اِک بانکپن بھی بے دماغی میں تو زیبا ہے
بڑھا دو چینِ ابرو پر ادائے کج کلاہی کو
دو تین دن تک اسی طرح ان کی خاطر تواضع ہوتی رہی۔ دِن میں دو تین مرتبہ دانے دری پر ڈال دیتا۔ ایک ایک کر کے آتے، اور ایک ایک دانہ چن لیتے کبھی دانہ ڈالنے میں دیر ہو جاتی تو قلندر آ کر چوں چوں کرنا شروع کر دیتا کہ وقت معہود گزر رہا ہے۔ اس صورت حال نے اب اطمینان دلا دیا تھا کہ پردۂ حجاب اٹھ چکا۔ وہ وقت دور نہیں کہ رہی سہی جھجک بھی نکل جائے گی۔

اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں!
چند دنوں کے بعد میں نے اس معاملہ کا دوسرا قدم اٹھایا۔ سگرٹ کے خالی ٹین کا ایک ڈھکنا لیا۔ اِس میں چاول کے دانے ڈالے، اور ڈھکنا دری کے کنارے رکھ دیا۔ فوراً مہمانوں کی نظر پڑی۔ کوئی ڈھکنے کے پاس آ کر منہ مارنے لگا۔ کوئی ڈھکنے کے کنارے پر چڑھ کر زیادہ جمعیتِ خاطر کے ساتھ چگنے میں مشغول ہو گیا۔ آپس میں رقیبانہ ردّ و کد بھی ہوتی رہی۔ جب دیکھا کہ اس طریقِ ضیافت سے طبیعتیں آشنا ہو گئی ہیں تو دوسرے دن ڈھکنا دری کے کنارےسے سے کچھ ہٹا کر رکھا۔ تیسرے دن اور زیادہ ہٹا دیا۔ اور بالکل اپنے سامنے رکھ دیا۔ گویا اس طرح بتدریج بُعد سے قُرب کی طرف معاملہ بڑھ رہا تھا۔ دیکھیے بُعد و قُرب کے معاملہ نے عالیہ بنت المہدی کا مطلع یاد دلا دیا:

و حبب، فان الحب داعیۃ الحب
وکم من بعید الدار مستوجب القرب
اتنا قریب دیکھ کر پہلے تو مہمانوں کو کچھ تامل ہوا ۔ دری کے پاس آ گئے مگر قدموں میں جھجک تھی اور نگاہوں میں تذبذب بول رہا تھا۔ لیکن اتنے میں قلندر اپنے قلندرانہ نعرے لگاتا ہوا آ پہنچا، اور اس کی رندانہ جرأتیں دیکھ کر سب کی جھجک دور ہو گئی۔ گویا اِس راہ میں سب قلندر ہی کے پیرو ہوئے۔ جہاں اس کا قدم اٹھا، سب کے اٹھ گئے، وہ دانوں پر چونچ مارتا، پھر سر اٹھا کے اور سینہ تان کے زبانِ حال سے مترنم ہوا:

وما الدہر، اِلا من رواۃ قصائدی
اذا قلت شعرا، اَصبح الدہر منشدا
جب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا، تو پھر ایک قدم اور اُٹھایا گیا اور دانوں کا برتن دری سے اٹھا کے تپائی پر رکھ دیا۔ یہ تپائی میرے بائیں جانب صوفے لگی رہتی ہے اور پوری طرح میرے ہاتھ کی زد میں ہے۔ اس تبدیلی سے خوگر ہونے میں کچھ دیر لگی، بار بار آتے اور تپائی کا چکر لگا کر چلے جاتے۔ بالآخر یہاں بھی قلندر ہی کو پہلا قدم بڑھانا پڑا اور اس کا بڑھنا تھا کہ یہ منزل بھی پچھلی منزل کی طرح سب پر کھل گئی۔ اب تپائی کبھی تو ان کی مجلس آرائیوں کا ایوانِ طرب بنتی اور کبھی باہمی معرکہ آرائیوں کا اکھاڑا۔

جب اس قدر نزدیک آ جانے کے خوگر ہو گئے تو میں نے خیال کیا، اب معاملہ کچھ اور آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ ایک دن صبح یہ کیا کہ چاول کا برتن صوفے پر ٹھیک اپنی بغل میں رکھ دیا اور پھر لکھنے میں اس طرح مشغول ہو گیا کہ گویا اس معاملے سے کوئی سر و کار نہیں:
دل و جانم بتو مشغول و نظر بر چپ و راست
تا نہ دانند رقیباں کہ تو منظورِ منی!
تھوڑی دیر کے بعد کیا سنتا ہوں کہ زور زور سے چونچ مارنے کی آواز آ رہی ہے۔ کنکھیوں سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ ہمارا پرانا دوست قلندر پہنچ کیا ہے اور بے تکان چونچ مار رہا ہے۔ ڈھکنا چونکہ بالکل پاس دھرا تھا، اس لیے اس کی دم میرے گھٹنے کو چھو رہی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد دوسرے یارانِ تیز گام بھی پہنچ گئے؛ اور پھر تو یہ حال ہو گیا کہ ہر وقت دو تین دوستوں کا حلقہ بے تکلف میری بغل میں اچھل کود کرتا رہتا۔ کبھی کوئی صوفے کی پشت پر چڑھ جاتا، کبھی کوئی جست لگا کر کتابوں پر کھڑا ہو جاتا، کبھی نیچے اُتر آتا اور چوں چوں کر کے واپس آ جاتا۔ بے تکلفی کی اس اچھل کود میں کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ میرے کاندھے کو درخت کی ایک جھکی ہوئی شاخ سمجھ کر اپنی جست و خیز کا نشانہ بنانا چاہا، لیکن پھر چونک کر پلٹ گئے، یا پنجوں سے اسے چھوا اور اوپر ہی اوپر نکل گئے۔ گویا ابھی معاملہ اس منزل سے آگے نہیں بڑھا تھا، جس کا نقشہ وحشی یزدی نے کھینچا ہے:

ہنوز عاشقی و دِلربائیے نہ شدہ است
ہنوز زوری و مرد آزمائیے نہ شدہ است
ہمیں تواضع عام است حسن رابا عشق
میانِ ناز و نیاز آشنائیے نہ شدہ است
بہرحال رفتہ رفتہ ان آہوانِ ہوائی کو یقین ہو گیا کہ یہ صورت ہمیشہ صوفے پر دکھائی دیتی ہے، آدمی ہونے پر بھی آدمیوں کی طرح خطرناک نہیں ہے۔ دیکھیے محبت کا افسوں جو انسانوں کو رام نہیں کر سکتا، وحشی پرندوں کو رام کر لیتا ہے:

درسِ وفا اگر بود زمزمۂ محبتے
جمعہ بہ مکتب آورد طفل گریز پائے را
بار ہا ایسا ہوا کہ میں اپنے خیالات میں محو، لکھنے میں مشغول ہوں؛ اتنے میں کوئی دلنشیں بات نوک قلم پر آ گئی یا عبارت کی مناسبت نے اچانک کوئی پر کیف شعر یاد دلا دیا، اور بے اختیار اس کی کیفیت کی خود رفتگی میں میرا سر و شانہ ہلنے لگا، یا منہ سے “ہا” نکل گیا، اور یکایک زور سے پروں کے اڑنے کی ایک پھر سی آواز سنائی دی۔ اب جو دیکھتا ہوں تو معلوم ہوا کہ ان یارانِ بے تکلف کا ایک طائفہ میری بغل میں بیٹھا بے تامل اپنی اچھل کود میں مشغول تھا۔ اچانک انہوں نے دیکھا کہ یہ پتھر اب ہلنے لگا ہے، تو گھبرا کر اڑ گئے۔ عجب نہیں، اپنے جی میں کہتے ہوں، یہاں صوفے پر ایک پتھر پڑا رہتا ہے، لیکن کبھی کبھی آدمی بن جاتا ہے۔

 

٭٭٭

نا مکمل

تدوین اور پروف ریڈنگ اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید