FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

عہد نامہ قدیم

 

                   ۹۔ سیموئیل اول

 

                   جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

 

 

 

 

 

 

کتاب 1 سیموئیل

 

 

 

 

 

باب:  1

 

 

1 القا نہ نام کا ایک شخص تھا۔ وہ افرائیم کے  پہاڑی علا قہ رامہ کا باشندہ تھا۔القا نہ صوف خاندان سے  تھا۔ القانہ یروحام کا بیٹا تھا۔ یروحام الیہو کا بیٹا تھا۔ الیہو توحو کا بیٹا تھا۔ توحُو صوف کا بیٹا تھا جو افرائیم کے  خاندانی گروہ سے  تھا۔

2 القانہ کی دو بیویاں  تھیں۔ ایک بیوی کا نام حنّہ اور دوسری بیوی کا نام فِننّہ تھا۔ فننّہ کو اولاد تھی لیکن حنّہ کو نہیں  تھی۔

3 القانہ ہر سال اپنے  شہر رامہ کو چھوڑ کر شیلاہ شہر کو جاتا تھا۔ شیلاہ میں  خداوند قادر مطلق کی عبادت کرتا اور خداوند کو قربانی نذر کر تا۔ شیلاہ وہ جگہ تھی جہاں  حُفنی اور فینحاس خداوند کے  کاہن کی حیثیت سے  خدمت کئے  تھے۔ حُفنی اور فینحاس عیلی کے  بیٹے  تھے۔

4 القانہ ہر وقت قربانی نذر کرتا تھا وہ ہمیشہ قربانی کا ایک حصّہ اپنی بیوی فنّنہ کو دیتا تھا فننّہ کے  بچّوں  کو بھی دیتا تھا۔

5 القانہ نے  قربانی کی نذر کا حصّہ ہمیشہ حنّہ کو دو گنا حصہ دیا کیوں  کے  یہ وہی تھی جس سے  وہ پیار کیا کرتا تھا۔ لیکن خداوند نے  حنّہ کو اولاد سے  محروم رکھا تھا۔

6 فننّہ ہمیشہ حنّہ کے  حالات کو بد تر کرنے  کے  لئے  اسے  پریشان کر تی ہوئی اس کو غصّہ دلاتی رہی۔ کیوں  کہ خداوند نے  حنّہ کو بچہ سے  محروم رکھا تھا۔

7 ہر سال ایسا ہی ہوتا تھا۔ ہر بار ان کا خاندان شیلاہ میں  خداوند کے  گھر جاتا تھا فننّہ ہمیشہ حنّہ کو غصّہ دلاتی۔ ایک دن القا نہ قربانی پیش کر رہا تھا تو حنّہ پریشان ہو کر رونے  لگی وہ کچھ بھی نہیں  کھا ئی۔

8 اس کے  شو ہر القا نہ نے  اس سے  پو چھا ” حنّہ! تم کیوں  رو رہی ہو؟ ” تم کھا نا کیوں  نہیں  کھا تی ہو تم کیوں  رنجیدہ ہو؟ تمہیں  سوچنا چاہئے  میں  تیرے  لئے  دس بیٹوں  سے  بڑھ کر ہوں۔ ”

9 کھانے  پینے  کے  بعد حنّہ خاموشی سے  اٹھی اور خداوند کی بارگاہ میں  دعا کرنے  چلی گئی۔ کاہن عیلی خداوند کی مقدس عمارت کے  دروازے  کے  قریب کر سی پر بیٹھے  تھے۔

10 حنّہ بہت رنجیدہ تھی۔ جب اس نے  خداوند سے  دعا کی تو بہت روئی۔

11 اس نے  خدا سے  ایک خاص وعدہ کیا وہ بولی! ” اے  خداوند قادر مطلق اگر تو میرے  غمزدہ حالات کو سچ مچ دیکھو اور میرے  بارے  میں  سوچ تو مجھے  مت بھول مجھے  ایک بیٹا دے  اگر تو ایسا کرتا ہے  تو میں  اس بیٹا کو تمہیں  دوں  گی۔ وہ ایک نذیری ہو گا۔ وہ زندگی بھر نہ مئے  پئے  گا اور نہ ہی نشہ کرے  گا اور نہ ہی کوئی اس کے  سر پر استرا پھیرے  گا۔ ”

12 حنّہ ایک طویل عرصہ تک خداوند سے  دعا کی۔ جب حنّہ دعا کر رہی تھی تو عیلی نے  اس کی طرف دیکھا۔

13 حنّہ اپنے  دل میں  دعا کر تی تھی اس کے  ہونٹ ہلتے  لیکن الفاظ آواز سے  ادا نہیں  کر تی۔ اس لئے  عیلی نے  سو چا وہ پی ہوئی ہے۔

14 عیلی نے  حنّہ سے  کہا ” تم بہت زیادہ پی چکی ہو اور یہ وقت ہے  کہ مئے  کو الگ رکھو۔”

15 حنّہ نے  جواب دیا ” نہیں  جناب! میں  نے  کوئی مئے  یا جو کی مئے  نہیں  پی ہے۔ میں  بہت زیادہ تکلیف میں  ہوں۔ میں  خداوند سے  اپنے  مسائل بیان کر رہی تھی۔

16 مجھے  ایک خراب عورت مت سمجھو۔ در اصل وجہ یہ ہے  کہ میں  بہت زیادہ غم میں  مبتلاء ہوں  اس لئے  میں  لمبے  عرصے  سے  دعا کر رہی ہوں۔ ”

17 عیلی نے  جواب دیا ” تم پر سلامتی ہو اور اسرائیلا خدا تمہاری سبھی خواہشوں  کو پورا کرے۔ ”

18 حنّہ نے  کہا ” تیری خادمہ پر تیری نظر کرم ہو۔ ” تب وہ اٹھی اور کچھ کھائی۔ وہ اب اور رنجیدہ نہیں  تھی۔

19 دوسرے  دن صبح القانہ کا خاندان اٹھا انہوں  نے  خداوند کی عبادت کی اور اپنے  گھر رامہ کو واپس ہوئے۔

20 اگلے  سال اس وقت تک حنّہ حاملہ ہوئی اور وہ ایک بیٹا کو جنم دی۔ حنّہ نے  اس بچہ کا نام سموئیل رکھا۔ اس نے  کہا ” اس کا نام سموئیل ہے  کیوں  کہ میں  نے  خداوند سے  اس کو مانگا تھا۔ ”

21 اسی سال القانہ اور اس کا سارا خاندان قربانی پیش کرنے  اور اپنے  وعدہ کو پورا کرنے  کے  لئے  شیلاہ گئے۔

22 لیکن حنّہ اس کے  ساتھ نہیں  گئی۔ اس نے  القانہ سے  کہا ” جب میرا بیٹا بڑا ہو کر ٹھوس غذا کھانے  کے  قابل ہو جائے  گا تب ہی میں  اس کو شیلاہ لے  جاؤں  گی اور تب ہی میں  اس کو خداوند کو نذر کروں  گی۔ وہ ایک نذیری ہو گا۔ وہ شیلاہ میں  رہے  گا۔ ”

23 حنّہ کا شوہر القانہ نے  اس سے  کہا ” جو تم بہتر سمجھو وہ کرو۔ تم اس وقت تک گھر پر رہو جب تک کہ لڑ کا بڑا ہو کر ٹھوس غذا کھانے  کے  قابل نہ ہو جائے۔ تمہارا خدا اپنا کہا کو پورا کرے۔ ” اس لئے  حنّہ گھر پر اپنے  لڑ کے  کی دیکھ بھال کے  لئے  اس وقت تک رہی جب تک کہ وہ بڑا ہو کر ٹھوس غذا کھانے  کے  لائق نہ ہو گیا۔

24 جب لڑکا بڑا ہو کر ٹھوس غذا کھانے  کے  قابل ہوا تو حنّہ اس کو شیلاہ میں  خداوند کے  گھر لے  گئی۔ حنّہ اپنے  ساتھ تین سال کا ایک بیل بیس پاؤنڈ آٹا اور مئے  کی ایک بوتل بھی لے  گئی۔

25 وہ خداوند کے  سامنے  گئے۔ القانہ نے  بیل کو ذبح کر کے  خداوند کو قربانی دی جیسا کہ وہ کرتا تھا۔ تب حنّہ لڑکے  کو عیلی کو دی۔

26 حنّہ نے  عیلی سے  کہا ” معاف کرنا جناب میں  وہی عورت ہوں  جو آپ  کے  قریب کھڑی خداوند کی عبادت کر رہی تھی۔ میں  وعدہ کر تی ہوں  کہ میں  سچ کہہ رہی ہوں۔

27 میں  نے  اس لڑکے  کے  لئے  دُعا کی تھی۔ اور خداوند نے  میری دعا سُن لی۔

28 اب میں  اسے  اس کے  بدلے  میں  خداوند کو دیتی ہوں  کہ وہ ساری عمر خداوند کی خدمت کرے  گا۔” تب حنّہ نے  اپنے  بیٹے  کو وہاں  چھوڑا اور خداوند کی عبادت کی۔

 

 

 

باب:  2

 

 

1 حنّہ نے  کہا ” میرا دل خداوند میں  خوش ہے۔

2 کوئی مقدس خدا نہیں  میرے  خداوند کی مانند۔ کوئی چٹان نہیں  خدا کی طرح اور نہ کوئی چٹان ہے  ہمارے  خدا کی طرح۔

3 ڈینگیں  مارنا بند کرو اور غرور کی باتیں  نہ کرو۔ کیوں  کہ خداوند خدا ہر چیز کو جانتا ہے۔ خدا لوگوں  کو راہ دکھاتا ہے  اور اِن کا انصاف کرتا ہے۔

4 طاقتور سورماؤں  کی کمانیں  ٹوٹے  گی لیکن کمزور لوگ بہادر بن جائیں  گے۔

5 جو لوگ گز رے  وقتوں  میں  زیادہ غذا رکھتے  تھے  اب انہیں  غذا کے  لئے  کام کرنا پڑے  گا۔ لیکن جو لوگ پہلے  بھو کے  تھے  وہ اب غذا پا کر موٹے  ہو رہے  ہیں  جو عورتیں  بچے  نہیں  جن سکتی تھیں  اب انہیں  سات بچے  ہیں۔ لیکن جن عورتوں  کے  کئی بچے  تھے  وہ غمگین ہیں  کیوں  کہ اس کے  بچے  چلے  گئے۔

6 خداوند لوگوں  کو موت دیتا ہے  اور انہیں  زندگی دیتا ہے۔ خداوند لوگوں  کو قبر میں  بھیجتا ہے۔ اور وہی ان کو قبر سے  اٹھاتا ہے۔

7 خداوند کچھ لوگوں  کو غریب بناتا ہے  وہ دوسروں  کو امیر بناتا ہے۔ خداوند ہی لوگوں  کو ذلت دیتا ہے۔ اور وہی لوگوں  کو عزت بخشتا ہے۔

8 خداوند غریب لوگوں  کو دھول سے  اٹھاتا ہے۔ وہ ان کو سکون دیتا ہے  جو غمزدہ ہیں۔ خداوند غریبوں  کو اہم بناتا ہے  اور انہیں  بادشاہوں  کے  ساتھ بٹھاتا ہے  اور وہاں  بھی بٹھاتا ہے  جو جگہ معزز مہمانوں  کے  لئے  مخصوص ہے۔ دنیا کی بنیاد خداوند کی ہے۔ اس نے  دنیا کو اس پر قائم کیا ہے۔

9 خداوند اپنے  مقدس لوگوں  کی حفاظت کرتا ہے  اور ٹھو کریں  کھانے  سے  بچاتا ہے۔ لیکن بدکار لوگ تباہ ہوں  گے  وہ اندھیروں  میں  گریں  گے۔ ان کی طاقت انہیں  جیتنے  میں  مدد نہیں  دے  گی۔

10 خداوند اس کے  دشمن کو تباہ کرتا ہے۔ خدا قادرِ مطلق جنت سے  ان کے  خلاف چلائے  گا۔ خداوند دُور دراز کی جگہوں  کا بھی انصاف کرے  گا۔ وہ اپنی طاقت اپنے  بادشاہ کو دے  گا۔ وہ اپنے  خاص بادشاہ کو طاقتور بنائے  گا۔”

11 القانہ اور اس کا خاندان واپس اپنے  گھر رامہ کو گئے۔ لڑکا شیلاہ میں  ہی رہا اور عیلی کی نگرانی میں  خداوند کی خدمت کی۔

12 عیلی کے  لڑکے  بُرے  آ دمی تھے  انہوں  نے  خداوند کی پرواہ نہ کی۔

13 جب لوگ عبادت خانہ میں  اپنی قربانی کا نذرانہ لے  کر آئے   تو کاہنوں  کا دستور یہ تھا کہ جب گوشت پکتا تھا تو وہ نوکروں  کو ایک خاص تین شا خ والے  کانٹے  کے  ساتھ بھیجتے  تھے۔

14 کاہن کے  خادم گوشت کو اس برتن سے  جس برتن میں  گوشت پکایا گیا تھا نکالنے  کے  لئے  اس کانٹے  کا استعمال کرتے  تھے۔ کاہن صرف وہی گوشت کھاتے  تھے  جسے  صرف اسی کانٹے  سے  نکالا جاتا تھا۔ کاہن یہی سلوک ان سبھی اسرائیلیوں  کے  ساتھ کیا کرتے  تھے  جو قربانی پیش کرنے  کے  لئے  شیلاہ آتے  تھے۔

15 لیکن عیلی کے  لڑکے  نے  ایسا نہیں  کیا یہاں  تک کہ چربی کو قربان گاہ پر جلانے  سے  پہلے  ان کے  خادم ان لوگوں  کے  پاس جاتے  جو قربانی پیش کرتے  اور کہتے   کاہن کے  لئے  بھون نے  ( کباب ) کے  واسطے  کچھ گوشت دو کیونکہ وہ تم سے  اُبلا ہوا گوشت نہیں  بلکہ صرف کچّا گوشت لے  گا۔ ”

16 قربانی پیش کرنے  والے  آدمی  کہتے   ” پہلے  چربی جلاؤ تب تم کو جو کچھ لینا ہو لو۔” تب کاہن کے  خادم کہتے   ” نہیں  گوشت مجھے  ابھی دو اگر تم نہیں  دو گے  تو میں  تم سے  لے  لوں  گا۔”

17 خداوند کی نظر میں  یہ بہت بڑا گناہ تھا کیونکہ عیلی کے  بیٹوں  نے  خداوند کے  نذرانے  کے  ساتھ توہین آمیز سلوک کیا۔

18 لیکن سموئیل نے  خداوند کی خدمت کی۔ سموئیل نوجوان مدد گار تھا جو لمبا کتانی چغہ پہنا رہتا۔

19 سموئیل کی ماں  ہر سال سموئیل کے  لئے  ایک چھوٹا چغہ بنا تی اور جب وہ اپنے  شو ہر کے  ساتھ قربانی پیش کرنے  کے  لئے  شیلاہ جا تی تو اس چغہ کو وہ سموئیل کو دے  دیتی۔

20 عیلی القانہ کو اور اس کی بیوی کو دُعائیں  دیتا۔ عیلی کہتا ” خداوند تمہیں  حنّہ سے  اس لڑکے  کے  بدلے  جس کو اس نے  خداوند کو دیا اور بھی بچے  دے۔ ” پھر القانہ اور حنّہ گھر واپس چلے  گئے۔

21 خداوند حنّہ پر مہربان تھا اس کو تین لڑکے  اور دو بیٹیاں  ہوئیں  اور لڑکا سموئیل ( مقدّس جگہ ) پر خداوند کے  پاس بڑا ہوا۔

22 عیلی بہت بوڑھا تھا۔ اس نے  ان بُرے  حرکتوں  کے  بارے  میں  بار بار سُنا جو اس کے  لڑکے  شیلاہ میں  اسرائیلیوں  کے  ساتھ کر رہے  تھے۔

23 عیلی نے  اپنے  لڑکوں  سے  پوچھا ” تم یہ سب بُرے  کام کیوں  کرتے  ہو جو کہ میں  نے  سنا سبھی لوگ اس بارے  میں  بات کرتے  ہیں ؟

24 عیلی نے  اپنے  لڑکوں  سے  کہا ” لوگوں  نے  مجھے  تمہارے  بُرے  کاموں  کے  متعلق کہا ہے  جو تم نے  یہاں  کئے۔ تم یہ بُرے  کام کیوں  کرتے  ہو؟ اے  بیٹو یہ بُرے  کام نہ کرو۔ خداوند کے  لوگ تمہارے  متعلق بُری باتیں  کہہ رہے  ہیں۔

25 اگر ایک آدمی  دوسرے  آدمی  کے  خلاف گناہ کرے  تو خدا اس کی مدد کر سکتا ہے  لیکن اگر ایک آدمی  خداوند کے  خلاف گناہ کرے  تو کون اس آدمی  کی مدد کر سکتا ہے ؟ ” لیکن عیلی کے  بیٹوں  نے  ان کی نصیحت سے  انکار کیا۔ اس لئے  خداوند نے  عیلی کے  بیٹوں  کی زندگی کو لینے  کا فیصلہ کیا۔

26 اسی دوران لڑکا سموئیل قد و قامت میں  بڑھ رہا تھا خداوند اور لوگوں  دونوں  میں  مقبول ہو رہا تھا۔

27 ایک خدا والا شخص عیلی کے  پاس آ۷یا اور کہا ” حداوند نے  یہ باتیں  کہی ہیں  ‘ تمہارے  باپ دادا فرعون کے  خاندان کے  غلام تھے۔ لیکن میں  اس وقت تمہارے  آباء و اجداد پر ظاہر ہوا۔

28 میں  نے  سارے  اسرائیلی گروہوں  میں  سے  تمہارے  خاندانی گروہ کو چُنا میں  تمہارے  خاندانی گروہ کو میرے  کاہن ہونے  کے  لئے  چُنا۔ میں  نے  انہیں  اپنی قربان گاہ پر قربانی پیش کرنے  کے  لئے  چُنا۔ میں  نے  انہیں  بخور جلانے  کے  لئے  اور چغہ پہن نے  کے  لئے  چُنا۔ میں  نے  تمہارے  خاندانی گروہ کو ان قربانی میں  سے  جسے  اسرائیل کے  لوگ مجھے  پیش کرتے  تھے  گوشت کھانے  دیا۔

29 تو پھر تم ان قربانیوں  اور عطیات کی قدر کیوں  نہیں  کرتے  تم اپنے  بیٹوں  کی عزت مجھ سے  زیادہ کرتے  ہو۔ تم گوشت کے  بہترین حصّوں  سے  موٹے  ہو گئے  ہو حالانکہ بنی اسرائیل وہ گوشت میرے  لئے  لاتے  ہیں۔ ”

30 ” اسرائیل کے  خداوند خدا نے  وعدہ کیا ہے  کہ تمہارے  والد کا خاندان ہمیشہ اس کی خدمت کرے  گا۔ لیکن اب خداوند یہ کہتا ہے  کہ ایسا کبھی نہ ہو گا میں  ان لوگوں  کو عزت دوں  گا جو میری عزت کرتے  ہیں  لیکن بُرے  حادثات ان لوگوں  کے  ساتھ ہوتے  ہیں  جو میری عزت کرنے  سے  انکار کرے۔

31 وقت تیزی سے  آ رہا ہے  جب میں  تمہیں  اور تمہارے  سارے  خاندان کو تباہ کر دوں  گا۔ کوئی بھی تمہارے  خاندان میں  بوڑھاپے  تک زندہ نہ رہے  گا۔

32 اچھی باتیں  اسرائیلیوں  کی لئے  ہوں  گی لیکن تم صرف بُرے  بُرے  حادثات اپنے  گھر میں  ہوتا دیکھو گے۔ تمہارے  خاندان میں  کوئی بھی بوڑھے  ہونے  تک زندہ نہ رہے  گا

33 ایک آدمی  ہے  جس کو میں  کاہن کی حیثیت سے  اپنی قربان گاہ پر خدمت کے  لئے  بچاؤں  گا۔ وہ بہت بوڑھے  ہو کر زندہ رہے  گا۔ وہ اس وقت تک جئے  گا جبکہ اس کی آنکھیں  اور طاقت جا چکی ہو نگی۔ تمہاری تمام نسلیں  تلواروں  سے  ہلاک ہوں  گی۔

34 تمہارے  لئے  یہ ایک نشانی ہے  کہ یہ سب چیزیں  ہوں  گی۔ تمہارے  دونوں  بیٹے  حُفنی اور فینحاس ایک ہی دن مر جائیں  گے۔

35 میں  ایک وفادار کاہن کو اپنے  لئے  چن لوں  گا۔ وہ میری بات سنے  گا اور جو میں  چاہوں  وہی کرے  گا۔ میں  اس کے  خاندان کو قوت بخشوں  گا۔ وہ ہمیشہ میرے  چنے  ہوئے  بادشاہ کے  سامنے  خدمت کرے  گا۔

36 تب تمام لو گ جو تمہارے  خاندان میں  بچے  ہیں  وہ آئیں  گے  اور اس کاہن کے  سامنے  جھک جائیں  گے۔ وہ لوگ چھوٹی رقم یا روٹی کے  ٹکڑے  کی بھیک مانگیں  گے۔ وہ کہیں  گے   ” برائے  کرم کاہن جیسی ہمیں  ملازمت دوتا کہ ہمیں  کچھ کانے  کو ملے۔ ”

 

 

 

 

باب:  3

 

 

1 لڑکا سموئیل نے  عیلی کے  ماتحت میں  خداوند کی خدمت کی۔ ان دنوں  اکثر خداوند نے  براہ راست لوگوں  سے  باتیں  نہ کی۔ وہاں  رو یا عام نہ تھی۔

2 ایک رات عیلی جس کی آنکھیں  اتنی کمزور ہو گئیں  تھیں  کہ وہ بمشکل دیکھ سکتا تھا اپنے  بستر پر پڑا تھا۔

3 خداوند کا چراغ ابھی تک جل رہا تھا سموئیل خداوند کی مقدس عمارت میں  اپنے  بستر پر پڑا تھا۔ خدا کا مقدّس صندوق اس مقدس عمارت میں  تھا۔

4 تب خداوند نے  سموئیل کو پکا را۔ سموئیل نے  جواب دیا ” میں  یہاں  ہوں۔”

5 سموئیل نے  سو چا کہ عیلی اس کو پکار رہا ہے  اس لئے  وہ عیلی کی جانب دوڑا۔ اس نے  عیلی سے  کہا ” کیا تم نے  مجھے  پکا را؟ میں  یہاں  ہو ں۔” لیکن عیلی نے  کہا ” میں  نے  تمہیں  نہیں  پکا را واپس بستر پر جاؤ۔” سموئیل بستر پر واپس گیا۔

6 دوبارہ خداوند نے  پکا را ” سموئیل! ” سموئیل دوبارہ عیلی کے  پاس دوڑا اور کہا ” جیسا کہ تم نے  مجھے  پکا را میں  یہاں  ہوں  ” عیلی نے  کہا ” میں  نے  تمہیں  نہیں  پکا را واپس بستر پر جاؤ۔”

7 سموئیل نے  ابھی تک خداوند کو نہیں  جانا تھا۔ خداوند نے  ابھی تک براہ راست اسے  پکا را تھا۔

8 خداوند نے  تیسری مرتبہ سموئیل کو پکا را۔ سموئیل دوبارہ اٹھا اور عیلی کے  پاس گیا۔سموئیل نے  کہا ” جیسا کہ تم نے  مجھے  پکا را میں  یہاں  ہوں۔” تب عیلی سمجھ گیا کہ خداوند اس لڑکے  کو پکار رہا تھا۔

9 عیلی نے  سموئیل سے  کہا ” بستر پر جاؤ اگر وہ دوبارہ پکارے  تو کہو ‘ کہئے  خداوند میں  آپ  کا خادم ہوں  میں  سُن رہا ہوں۔”‘

10 خداوند آیا اور وہاں  کھڑا رہا وہ پکا را جیسا کہ پہلے  کہا تھا اس نے  کہا ” سموئیل! سموئیل! ” سموئیل نے  کہا ” کہئے  میں  آپ  کا خادم ہوں  اور سُن رہا ہوں  ”

11 خداوند نے  سموئیل سے  کہا ” میں  بہت جلد اسرائیل میں  کچھ کروں  گا۔ جو لوگ اس کے  متعلق سنیں  گے  تو انہیں  حیرت ہو گی۔

12 میں  ہر وہ چیز شروع سے  آخر تک کروں  گا جو پیشین گوئی میں  نے  عیلی اور اس کے  خاندان کے  بارے  میں  کی تھی۔

13 میں  نے  عیلی سے  کہا کہ میں  اس کے  خاندان کو ہمیشہ کے  لئے  سزا دوں  گا۔ میں  وہ کروں  گا کیوں  کہ اس کو معلوم ہے  کہ اس کے  بیٹے  غلط کر رہے  ہیں۔ لیکن وہ ان کو قابو کرنے  میں  ناکام رہا۔

14 اسی لئے  میں  نے  وعدہ کیا کہ قربانیاں  اور اجناس کے  نذرانے  عیلی کے  خاندان سے  گناہوں  کو کبھی دور نہیں  کریں  گے۔ ”

15 سموئیل بستر پر پڑا رہا جب تک کہ صبح نہ ہو ئی۔ وہ جلدی اٹھا اور خداوند کے  گھر کا دروازہ کھو لا۔ سموئیل عیلی سے  رویا کے  متعلق کہتے  ہوئے  ڈررہا تھا۔

16 لیکن عیلی نے  سموئیل سے  کہا ” سموئیل میرے  لڑکے ! ” سموئیل نے  جواب دیا “ہاں  جناب۔”

17 عیلی نے  پو چھا ” خداوند نے  تم سے  کیا کہا؟ مجھ سے  کچھ مت چھپاؤ وہ تمہیں  سزا دے  اگر تم نے  خدا کے  پیغام کا کوئی بھی حصّہ مجھ سے  چھپا یا تو۔”

18 اس لئے  سموئیل نے  عیلی سے  ہر چیز کہی۔ سموئیل نے  عیلی سے  کسی چیز کو نہیں  چھپایا۔ عیلی نے  کہا ” وہ خداوند ہے  جو کچھ وہ سوچتا ہے  وہ صحیح ہے  کرنے  دو۔”

19 خداوند سموئیل کے  ساتھ اس وقت بھی تھا جب وہ بڑا ہوا۔ خداوند نے  سموئیل کے  کسی پیغام کو جھوٹا نہ ہونے  دیا۔

20 تب دان سے  بیر سبع کے  تمام اسرائیلیوں  نے  جانا کہ سموئیل خداوند کا سچا پیغمبر ہے۔

21 اور خداوند شیلاہ میں  سموئیل پر ظاہر ہوتا رہا خداوند خود بطور کلام سموئیل پر نا زل ہوا۔ سموئیل کے  متعلق تمام اسرائیل میں  خبریں  پھیل گئیں۔ عیلی بہت بوڑھا تھا۔ اس کے  لڑکے  خداوند کے  سامنے  بُرے  کام کر رہے  تھے۔

 

 

باب:  4

 

 

1 اس وقت اسرائیلی فلسطینیوں  کے  خلاف لڑنے  باہر گئے  تھے۔ اسرائیلیوں  نے  اپنی چھاؤنی ابن عزر پر لگا یا۔ جب کہ فلسطینیوں  نے  اپنی چھاؤنی افیق پر لگا ئی۔

2 فلسطینی اسرائیلیوں  پر حملہ کرنے  کے  لئے  تیار ہو گئے  جنگ شروع ہو ئی۔ فلسطینیوں  نے  اسرائیلیوں  کو شکست دی فلسطینیوں  نے  اسرائیلی فوج کے  تقریباً۴۰۰ سپاہیوں  کو مار دیا۔

3 اسرائیلی سپاہی اپنی چھاؤنی وا پس ہوئے۔ اسرائیلی بزرگوں  ( قائدین )نے  خداوند سے  پو چھا ” خداوند نے  آج ہم لوگوں  کو فلسطینیوں  کے  ذریعہ کیوں  شکست دی؟ ہمیں  خداوند کے  معاہدے  کے  صندوق کو شیلاہ سے  لانے  دو۔ اس طرح سے  خدا ہمارے  ساتھ ہمارے  دشمنوں  کے  خلاف جنگ میں  جائے  گا اور ہمیں  فتح یاب ہونے  میں  مدد کرے  گا۔”

4 اسی لئے  لوگوں  نے  آدمیوں  کو شیلاہ روانہ کیا آدمی  خداوند قادر مطلق کے  معاہدے  کے  صندوق لے  آئے۔ صندوق کے  اوپر کروبی فرشتے  ہیں  اور وہ تاج کی مانند ہیں  جیسا کہ خداوند اس پر بیٹھا ہو۔ عیلی کے  دو بیٹے  حُفنی اور فنیحاس صندوق کے  ساتھ آئے۔

5 جیسے  ہی خداوند کے  معاہدہ کا صندوق چھاؤنی میں  آیا۔ تمام اسرائیلی بلند آواز سے  پکارے  اس پکار سے  زمین دہل گئی۔

6 فلسطینیوں  نے  اسرائیل کی پکار کو سنا اور ان لوگوں  نے  پو چھا کہ لوگ اسرائیلی چھاؤنی میں  اتنا شور کیوں  مچا رہے  ہیں ؟ تب فلسطینیوں  نے  جانا کہ خداوند کا مقدس صندوق اسرائیلی چھاؤنی میں  لایا گیا ہے۔

7 فلسطینی ڈر گئے۔ اور وہ بولے   ” خدا ان لوگوں  کی چھاؤنی میں  آیا ہے۔ ہم لوگ مصیبت میں  ہیں  ایسا پہلے  کبھی نہیں  ہوا تھا۔

8 ہم لوگ مصیبت میں  ہیں  کون ہمیں  ان زبر دست دیوتاؤں  سے  بچائے  گا؟ یہ وہی دیوتا  ہیں  جنہوں  نے  مصریوں  کو ہر قسم کے  خوفناک بیماریوں  سے  مارا۔

9 فلسطینیو بہادر بنو! آدمیوں  کی طرح لڑو۔ اگر تم آدمیوں  کی طرح نہیں  لڑو گے  تو تم عبرانیوں  کی خدمت ویسا ہی کرو گے  جیسا کہ وہ لوگ تمہاری کئے۔

10 اس لئے  فلسطینیوں  نے  سخت لڑائی کی اور اسرائیلیوں  کو شکست دی ہر اسرائیلی سپاہی اپنے  خیموں  کی طرف بھا گے۔ یہ اسرائیلیوں  کی بڑی درد ناک شکست تھی۔ ۰۰۰،۳۰ اسرائیلی سپاہی مارے  گئے۔

11 فلسطینیوں  نے  خدا کے  مقدس صندوق کولے  لیا اور عیلی کے  دونوں  لڑ کے  حفنی اور فنیحاس کو قتل کر دیا۔

12 اس دن ایک شخص جو بنیمین کے  خاندان کے  گروہ سے  تھا جنگ کے  میدان سے  بھا گا اس نے  اپنے  کپڑے  پھاڑ ڈالے  اور اپنے  سر پر خاک ڈال لی یہ بتانے  کے  لئے  کہ وہ بے  حد رنجیدہ ہے۔

13 عیلی ایک کرسی پر شہر کے  دروازے  کے  قریب بیٹھا تھا جس وقت یہ آدمی  شیلاہ میں  آیا۔ عیلی خدا کے  مقدس صندوق کے  متعلق فکر مند تھا۔ اس لئے  وہ وہاں  بیٹھا انتظار کر رہا تھا اور دیکھ رہا تھا۔ تب بنیمینی شخص شیلاہ میں  آیا اور بری خبر سُنا ئی۔ شہر کے  سب لوگ بلند آ وا ز میں  رونا شروع کر دیئے۔

14 “عیلی ۹۸ سالہ بوڑھا تھا عیلی نا بینا تھا اس لئے  وہ دیکھ نہیں  سکتا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ لیکن وہ لوگوں  کے  رونے  کی بلند آواز کو سن سکتا تھا۔ عیلی نے  پوچھا ” یہ لوگ اتنا کیوں  شور مچا رہے  ہیں ؟ ” بنیمینی آدمی  عیلی کی طرف دوڑا اور کہا جو کچھ ہوا بتا۔

15 16 بنیمین آدمی نے  عیلی سے  کہا ” میں  وہ ہوں  جو کہ جنگ کے  میدان سے  آیا ہوں۔ میں  وہ ہوں  جو آج جنگ کے  میدان سے  بھاگ آیا ہوں۔ ” عیلی نے  پوچھا ” کیا ہوا اے  میرے  بیٹے ؟ ”

17 بنیمینی آدمی نے  جواب دیا ” اسرائیلی فلسطین سے  بھا گ گئے  اور صرف اسرائیلی فوج ہی بہت سارے  سپاہی نہیں  کھوئے  بلکہ تمہارے  دو بیٹے  حفنی اور فنیحاس بھی مارے  گئے  خدا کا مقدس صندوق بھی قبضہ میں  کر لیا گیا۔”

18 جیسے  ہی بنیمین شخص نے  خدا کے  مقدس صندوق کے  متعلق کہا عیلی اپنی کرسی کے  پیچھے  کی طرف شہر کے  پھا ٹک کے  نزدیک گر گیا اور گردن ٹوٹ گئی وہ بوڑھا اور موٹا تھا اس لئے  وہ مر گیا۔ عیلی نے  اسرائیل کو چالیس سال تک راہ دکھائی۔

19 عیلی کی بہو فینحاس کی بیوی حاملہ تھی۔ اس کے  بچہ پیدا ہونے  کا وقت قریب تھا۔ اس نے  سنا کہ خدا کا مقدس صندوق لے  لیا گیا۔ اس نے  یہ بھی سنا کہ اس کا خسر عیلی اور اس کا شوہر فینحاس دونوں  مر چکے  ہیں۔ جیسے  ہی اس نے  خبر سنی تو اس کے  درد زہ شروع ہوا اور بچہ جننے  لگی۔

20 جب وہ مرنے  کے  قریب تھی۔تو ایک وہ عورت جو اس کی مدد کر رہی تھی اس نے  کہا ” تمہیں  فکر کرنے  کی ضرورت نہیں  تم کو ایک لڑ کا پیدا ہوا ہے۔ ” لیکن عیلی کی بہو نہ تو جواب دے  سکی اور نہ ہی توجہ دے  سکی۔

21 ” عیلی کی بہو نہ تو جواب دے  سکی اور نہ ہی توجّہ دے  سکی۔ اسرائیل کی شان و شوکت (حشمت ) اس سے  چھین لی گئی ہے۔ ” اس نے  ایسا کیا کیوں  کہ صرف خدا کا مقدس صندوق ہی نہیں  لے  لیا گیا تھا بلکہ اس کے  خُسر اور شوہر بھی مر چکے  تھے۔

22 اس نے  کہا ” اسرائیل کی شان و شوکت اس سے  ہٹا دی گئی ” کیوں  کہ خدا کا مقدس صندوق قبضہ کر لیا ہے۔

 

 

 

باب:  5

 

 

1 فلسطینی خدا کا مقدس صندوق ابن عزر سے  اُشدود لے  گئے۔

2 فلسطینی خدا کے  مقدس صندوق کو دجون کی ہیکل میں  لے  گئے  اور اسے  دجون کے  مجسمہ کے  نزدیک رکھا۔

3 دوسرے  دن صبح اشدود کے  لوگ دجون کے  مجسمہ کو اوندھا پڑا دیکھ کر تعجب میں  پڑ گئے۔ دجون خداوند کے  مقدّس صندوق کے  سامنے  گرا ہوا تھا۔ اشدود کے  لوگوں  نے  دجون کے  مجسمہ کو واپس اس جگہ پر رکھا۔

4 لیکن دوسری صبح جب اشدود کے  لوگ اٹھے  انہوں  نے  پھر دجون کے  مجسمہ کو دوبارہ زمین پر پا یا۔ دجون خداوند کے  صندوق کے  سامنے  گرا ہوا تھا۔ اس دفعہ دجون کا سر اور ہاتھ ٹو ٹ کر چوکھٹ پر پڑا ہوا تھا۔ صرف دجون کا دھڑ ہی ایک ٹکڑے  میں  تھا۔

5 یہی وجہ ہے  کہ آج بھی دجون کے  کاہن اور لوگ جو اشدود میں  دجون کی ہیکل میں  جاتے  ہیں  تو جب وہ ہیکل میں  داخل ہوتے  ہیں  تو چوکھٹ پر قدم نہیں  رکھتے  ہیں۔

6 خداوند نے  اشدود کے  آس پاس کے  لوگوں  کی زندگی کو بہت دشوار بنا دیا تھا۔خداوند نے  انہیں  کئی تکلیفیں  دیں  وہ ان کے  جسم میں  پھوڑا پھنسی ہونے  کا سبب بنا۔ اس نے  ان لوگوں  کو چوہیوں  سے  بھی ناک میں  دم کر دیا تھا جو کہ ان کے  سارے  جہا زوں  اورزمین میں  دوڑتے  تھے۔ وہ بہت زیادہ ڈر گئے  تھے۔ یہ اشدود اور آس پاس کے  لوگوں  میں  ہو ئی۔

7 اشدُدو کے  لوگوں  نے  وہ دیکھا جو کچھ ہو رہا تھا۔ انہوں  نے  کہا ” اسرائیل کے  خدا کا مقدس صندوق یہاں  نہیں  رہ سکتا۔ خدا ہم کو اور ہمارے  دیوتا دجون کو سزا دے  رہا ہے۔ ”

8 اس لئے  اشدود کے  لوگوں  نے  سبھی فلسطینی قائدین کو ایک ساتھ بلا یا اور ان سے  پو چھا ” ہمیں  اسرائیل کے  خدا کے  مقدس صندوق کے  ساتھ کیا کر نا چاہئے۔ ” فلسطینی حکمرانوں  نے  جواب دیا ” اسرائیل کے  خدا کے  مقدس صندوق کو جات لانے  دو۔” اس لئے  وہ مقدس صندوق جاتلے  گئے۔

9 لیکن خدا کے  مقدس صندوق کو جات کولے  جانے  کے  بعد خداوند نے  اس شہر کو سزا دیا۔ اور لوگ بہت خوفزدہ ہو گئے۔ خدا نے  لوگوں  کو تکالیف میں  مبتلا کیا۔ جات کے  جوان اور بوڑھے  کے  جسم میں  پھوڑا پھنسی ہو گئے۔

10 اس لئے  فلسطینیوں  نے  حدا کے  مقدس صندوق کو عقرون بھیجا۔ لیکن جیسے  ہی یہ عقرون پہنچا تو عقرون کے  لوگوں  نے  اس کے  خلاف شکایت کی۔انہوں  نے  کہا ” تم اسرائیل کے  خدا کے  مقدس صندوق کو کیوں  ہمارے  شہر عقرون لا رہے  ہو؟ کیا تم ہمیں  ہمارے  لوگوں  کو مار ڈالنا چاہتے  ہو؟ ”

11 عقرون کے  لوگوں  نے  تمام فلسطینی حاکموں  کو ایک ساتھ بُلا یا۔ عقرون کے  لوگوں  نے  حاکموں  سے  کہا ” اسرائیلی کے  خدا کے  مقدس صندوق کو اس کی جگہ واپس لے  جاؤ اس سے  پہلے  کہ یہ ہم کو اور ہمارے  لوگوں  کو مار ڈالے۔ ” عقرون کے  لوگ بہت ڈرے  ہوئے  تھے۔ خدا نے  اس جگہ ان کی زندگی بہت سخت کر دی تھی تھی۔

12 بہت سے  لوگ مر گئے۔ اور جو لوگ مرے  نہیں  انہیں  پھوڑا پھنسی ہو گئی۔ عقرون کے  لوگ بلند آوا ز سے  جنت کی طرف پکار نے  لگے۔

 

 

 

باب:  6

 

 

1 فلسطینیوں  نے  مقدس صندوق کو اپنی زمین پر سات مہینے  تک رکھا۔

2 فلسطینیوں  نے  ان کے  کاہنوں  اور جادو گروں  کو بُلا یا۔ فلسطینیوں  نے  کہا ” ہمیں  خداوند کے  صندوق کو کیا کرنا چاہئے ؟ ” ہمیں  کہو کہ کس طرح یہ صندوق کوا سکی جگہ واپس کریں ؟ ”

3 کاہنوں  اور جادوگروں  نے  جواب دیا ” اگر تم اسرائیل کے  خدا کے  مُقدّس صندوق کو واپس کرو تو اُسے  خالی مت بھیجو۔ بلکہ تمہیں  جرم کی قربانی کے  نذرانہ کے  ساتھ اسے  بھیجنا چاہئے  اسرائیل کے  خدا کو خوش کرنے  کے  لئے۔ تب ہی تم تندرست ہو گے  اور تم سمجھ جاؤ گے  کہ وہ کیوں  تمہیں  سزا دینا بند نہیں  کیا۔”

4 فلسطینیوں  نے  پو چھا ” کس قسم کے  نذرانے  ہمیں  اسرائیل کے  خدا کو بھیجنا ہو گا ہمیں  معاف کرنے  کے  لئے ؟ ” کاہن اور جادوگروں  نے  جواب دیا ” پانچ فلسطینی قائدین میں  سے  ہر شہر کے  لئے  ایک قائد ہے۔ تم سب لوگوں  اور تمہارے  قائدین کو یہی مسائل درپیش ہیں۔ اس لئے  تمہیں  پانچ سونے  کے  نمونے  بنانا چاہئے  جو کہ دیکھنے  میں  وہ پھوڑا پھنسی جیسے  لگیں  اور تمہیں  پانچ سونے  کی چوہیوں  کے  نمونے  بنانا چاہئے۔

5 اس لئے  تمہیں  ان پھوڑے  پھنسی اور ان چوہیوں  کا مجسمہ بنا نا چاہئے  جو تمہاری زمین کو برباد کرتے  ہیں۔ یہ سب مٹجسمے  اسرائیل کے  خدا کو دیکر اسے  عزت بخشو۔ تب ہو سکتا ہے  کہ وہ تمہیں  تمہارے  خداؤں  کو اور تمہاری زمین کو سزا دینا رو ک دے۔

6 فرعون اور مصریوں  کی طرح ضدّی نہ بنو۔ جب خدا نے  مصریوں  کو سخت سزا دی تھی تو ان لوگوں  نے  وہ اسرائیلیوں  کو جانے  کی اجازت دے  دی تھیں۔

7 ” اس لئے  تمہیں  ایک نئی گاڑی بنانی چاہئے  اور دو ایسی گائیں  جو فی الحال ہی بچھڑے  دیئے  ہوں  لانی چاہئے۔ یہ گائیں  کبھی بھی کھیت میں  کام نہ کی ہوں۔ گایوں  کو گاڑی سے  جوڑو تا کہ وہ اسے  کھینچ سکیں  اور بچھڑوں  کو گاؤ شالہ میں  رکھو تا کہ وہ اپنی ماؤں  کے  پیچھے  نہ جا سکیں۔

8 خداوندکے  مقدس صندوق کولے  کر تمہیں  اس گاڑی پر ضرور رکھنا چاہئے۔ تمہارے  گنا ہوں  کی معافی کے  لئے  سونے  کے  مجسمے  خدا کے  لئے  تمہارے  نذرانے  ہیں۔ تمہیں  سونے  کے  مجسمے  کو پیٹی میں  رکھنا چاہئے  جو کہ خدا کے  مقدس صندوق کے  بغل میں  ہے  اور اسے  اس کے  راستے  پر بھیجو۔

9 گاڑی کو دیکھو۔ اگر گاڑی بیت شمس اسرائیل کی اپنی سر زمین میں  جا تی ہے  تو خداوند نے  ہی یہ بڑی بیماری ہمیں  دی ہے۔ لیکن اگر گائیں  سیدھے  بیت شمس نہیں  جا تی ہیں  تو ہم کو معلوم ہو گا کہ اسرائیل کے  خدا نے  ہمیں  سزا نہیں  دی ہے۔ اور ہماری بیماری اتفاقی ہوئی تھی۔”

10 کاہن اور جادوگروں  نے  جیسا کہا فلسطینیوں  نے  ویسا ہی کیا۔ فلسطینیوں  نے  دو گائیں  جو بچھڑے  دیئے  تھے  پائے۔ فلسطینیوں  نے  گایوں  کو گاڑی سے  جوڑا اور بچھڑوں  کو گاؤ شالہ میں  رکھا۔

11 تب فلسطینیوں  نے  خداوند کے  مقدس صندوق کو گاڑی پر رکھا۔ اوراس کے   ساتھ سونے  کے  پھوڑوں  اور چوہیوں  کے  مجسمے  کی تھیلی کو بھی گاڑی پر رکھے۔

12 گائیں  سیدھے  بیت شمس گئیں۔ گائیں  لگاتا رسڑک ہی سڑک بغیر دائیں  بائیں  مُڑے  پو را راستہ ڈکارتی چلی گئیں۔ فلسطینی حاکم ان کے  پیچھے  پیچھے  بیت شمس کے  شہری حدود تک گئے۔

13 بیت شمس کے  لوگ وادی میں  اپنے  گیہوں  کی فصل کاٹ رہے  تھے۔ جب انہوں  نے  نگاہ اٹھا کر مقدس صندوق کو دیکھا تو وہ لوگ بہت خوش ہوئے۔

14 گاڑی بیت شمس کے  یشوع کے  کھیتوں  کے  پاس آئی۔ اس کھیت میں  گاڑی ایک بڑی چٹان کے  پاس رُک گئی۔ لاویوں  نے  خداوند کے  مقدس صندوق نیچے  اُتارا۔ انہوں  نے  اس تھیلی کو بھی لے  لیا جس میں  سونے  کے  نمونے  تھے۔ لاویوں  نے  خداوند کے  مقدس صندوق کو اور تھیلی کو بڑی چٹان پر رکھا۔ اس دن بیت شمس کے  لوگوں  نے  خداوند کی قربانی پیش کی۔ بیت شمس کے  لوگوں  نے  گاڑی کو کاٹ دیا۔ ان لوگوں  نے  گایوں  کو مار ڈالا اور اسے  خداوند کے  لئے  قربانی کے  طور پر پیش کی۔

15 16 پانچ فلسطینی حاکم نے  بیت شمس کے  لوگوں  کو یہ چیزیں  کرتے  ہوئے  دیکھا تب پانچوں  فلسطینی حاکم اسی دن عقرون واپس ہو گئے۔

17 فلسطینیوں  نے  سونے  سے  بنے  پھوڑے  کے  مجسمے  کو جرم کے  نذرانے  کے  طور پر خداوند کو بھیجے۔ انہوں  نے  ایک ایک مجسمہ ہر ایک شہر : اشدود غزّہ اسقلون جات اور عقرون کے  لئے  بھیجے۔

18 فلسطینیوں  نے  سونے  سے  بنے  چوہیوں  کے  بنے  مجسمے  بھی بھیجے۔ ان کے  سونے  کے  بنے  چوہیوں  کے  مجسمے  ان پانچوں  حکمرانوں  کے  شہروں  کی تعداد کے  مطابق تھی۔ شہروں  کی چاروں  طرف دیوار تھی اور ان کی چاروں  طرف کے  گاؤں  ان میں  شامل تھے۔ بیت شمس کے  لوگوں  نے  خداوند کے  مقدس صندوق کو چٹان پر رکھا وہ چٹان ابھی تک بیت شمس کے  یشوع کے  کھیت میں  ہے۔

19 خداوند نے  بیت شمس کے  کھچ آدمیوں  کو ہلاک کر دیا۔ کیوں  کہ ان لوگوں  نے  خداوند کی مقدس صندوق کی طرف دیکھا ہاں  اس نے  ان میں  سے  ۷۰ آدمیوں  کو ہلاک کیا۔ اس لئے  لوگوں  نے  ماتم کیا کیوں  کہ خداوند نے  انہیں  شدید طریقے  سے  ہلاک کیا۔

20 اس لئے  بیت شمس کے  لوگوں  نے  کہا ” ہم میں  سے  کوئی نہیں  ہے  جو اس خدائے  تعالیٰ کے  قریب اس کے  مقدس صندوق کی دیکھ بھال کے  لئے  آئے  اور پھر یہاں  سے  مقدس صندوق کو کہاں  لے  جانا چاہئے۔

21 تب انہوں  نے  قریت یعریم کے  لوگوں  کے  پاس یہ کہلوانے  کے  لئے  قاصد بھیجے   فلسطینیوں  نے  خداوند کے  مقدس صندوق کو لائے  ہیں۔ ہمارے  پاس آؤ اور اس کو اپنے  وہاں  لے  جاؤ۔

 

 

 

باب:  7

 

 

1 قریت یعریم کے  آدمی  آئے  اور خداوند کے  مقدس صندوق کولے  گئے  انہوں  نے  خداوند کے  صندوق کو پہاڑی پر ابینداب کے  مکان کولے  گئے۔ انہوں  نے  ایک خاص تقریب ابینداب کے  بیٹے  الیعزر کو مخصوص ( تقدیس) کرنے  کے  لئے  کہ وہ خداوند کے  صندوق کی حفاظت کرے   منعقد کیا۔

2 صندوق قریت یعریم میں  ایک طویل عرصہ تک رہا۔ وہ صندوق وہاں  ۲۰ سال رہا۔

3 سموئیل نے  بنی اسرائیلیوں  کو کہا ” اگر تم حقیقت میں  اپنے  دل سے  خداوند کی طرف سے  واپس آ رہے  ہو تو تمہیں  اپنے  اجنبی دیوتاؤں  کو پھینکنا چاہئے۔ تمہیں  اپنے  عستارات کے  بتوں  کو پھینکنا چاہئے۔ تمہیں  صرف خداوند کی خدمت کر نا چاہئے۔ تب خداوند تمہیں  فلسطینیوں  سے  بچائے  گا۔”

4 اس لئے  اسرائیلیوں  نے  ان کے  بعل اور عستارات کے  مجسّموں  کو پھینک دیا۔ اسرائیلیوں  نے  صرف خداوند کی خدمت کی۔

5 سموئیل نے  کہا ” تمام اسرائیلیوں  کو مصفاہ پر ملنا چاہئے۔ میں  خداوند سے  تمہارے  لئے  دعا کروں  گا۔”

6 اسرائیلی مصفاہ پر جمع ہو کر ملے  انہوں  نے  پانی پی لیا اور اس کو خداوند کے  سامنے  چھِڑکا۔ اس طرح انہوں  نے  روزہ رکھنا شروع کیا۔ وہ اس دن کچھ بھی نہیں  کھا یا اور اپنے  گناہوں  کا اقرار کیا۔ انہوں  نے  کہا ” ہم نے  خداوند کے  خلاف گناہ کیا ” اس لئے  سموئیل نے  بحیثیت اسرائیلی منصف کے  مصفاہ میں  خدمت کی۔

7 فلسطینیوں  نے  سنا کہ اسرائیلی مصفاہ پر مل رہے  ہیں۔ فلسطینی قائدین اسرائیلیوں  کے  خلاف وہاں  لڑنے  گئے۔ اسرائیلیوں  نے  سنا کہ فلسطینی آ رہے  ہیں  تو وہ ڈر گئے۔

8 اسرائیلیوں  نے  سموئیل سے  کہا ” ہمارے  خداوند خدا سے  فریاد کرنے  سے  مت روکو۔ ان سے  دعا کرو کہ ہمیں  فلسطینیوں  سے  بچائے۔ ”

9 سموئیل نے  ایک میمنہ لیا اس نے  خداوند کو اسے  جلانے  کی قربانی کے  طور پر پیش کیا۔ سموئیل نے  خداوند سے  اسرائیل کے  لئے  دعا کی اور خداوند نے  اس کی دعا کا جواب دیا۔

10 جب سموئیل قربانی جلا رہا تھا تو فلسطینی اسرائیل سے  لڑنے  کے  لئے  اور نزدیک آ گئے  تب خداوند نے  فلسطینیوں  کے  بہت قریب گرجدار آواز پیدا کی۔ گرج نے  فلسطینیوں  کو ڈرا دیا اور انہیں  گھبرا دیا۔ ان کے  قائدین ان کو  قابو نہ کر سکے۔ اس لئے  اسرائیلیوں  نے  فلسطینیوں  کو آسانی سے  شکست دی۔

11 بنی اسرائیل مصفاہ سے  باہر دوڑے  اور فلسطینیوں  کا تعاقب کیا۔ انہوں  نے  بیت کرہّ تک تمام سپاہیوں  کو جسے  وہ پکڑے  تھے  ہلاک کیا۔

12 اس کے  بعد سموئیل نے  ایک پتھر لیا اور اسے  مصفاہ اور شین کے  درمیان یادگار کے  طور پر نصب کر دیا۔ سموئیل نے  پتھر کا نام ” مدد کا پتھر ” رکھا۔ سموئیل نے  کہا ” خداوند نے  سارے  راستے  اس جگہ تک ہم لوگوں  کی مدد کی۔”

13 فلسطینیوں  کو شکست ہوئی وہ پھر دوبارہ اسرائیل کی زمین پر داخل نہ ہوئے۔ خداوند سموئیل کی ساری زندگی فلسطین کے  خلاف تھا۔

14 اسرائیلیوں  نے  شہروں  پر دوبارہ قبضہ کر لیا جسے  فلسطینیوں  نے  ان لوگوں  سے  لے  لئے  تھے۔ فلسطینیوں  نے  عقرون سے  جات تک کے  شہروں  پر قبضہ کیا تھا۔ لیکن اسرائیلی دوبارہ ان شہروں  کو جیت لئے  ان شہروں  کے  اطراف کی زمین کو بھی لے  لی۔ اسرائیل اور اموریوں  کے  درمیان بھی امن تھا۔

15 سموئیل نے  زندگی بھر اسرائیل کی رہنمائی کی۔

16 سموئیل ایک جگہ سے  دوسری جگہ گیا اور بنی اسرائیلیوں  کو پرکھتا رہا۔ ہر سال اس نے  ملک کے  اطراف سفر کیا وہ بیت ایل جِلجال اور مصفاہ گیا۔ اس طرح وہ منصف بنا اور اسرائیل میں  ان تمام مقامات پر حکومت کی۔

17 لیکن سموئیل کا گھر رامہ میں  تھا اس لئے  سموئیل ہمیشہ رامہ کو ہی واپس جاتا تھا۔ سموئیل نے  اس شہر سے  اسرائیل پر انصاف اور حکومت کی اور سموئیل نے  رامہ میں  خداوند کے  لئے  ایک قربان گاہ بنائی۔

 

 

 

باب:  8

 

 

1 جب سموئیل بوڑھا ہوا اس نے  اپنے  بیٹوں  کو اسرائیل کے  لئے  منصف بنایا۔

2 سموئیل کے  پہلے  لڑ کے  کا نام یوئیل تھا۔ اس کے  دوسرے  لڑ کے  کا نام ابیاہ تھا۔ یوئیل اور ابیاہ بیر سبع میں  منصف تھے۔

3 لیکن سموئیل کے  بیٹے  اس کے  راستے  پر نہیں  چلے۔ یوئیل اور ابیاہ نے  رشوت قبول کی وہ خفیہ طریقہ سے  رقم لے  کر عدالت کے  فیصلے  میں  تبدیلی کر دیتے  تھے۔ انہوں  نے  لوگوں  کو عدالت میں  دھو کہ دیا۔

4 اس لئے  تمام اسرائیلی ( قائدین ) مل بیٹھے۔ وہ سموئیل سے  ملنے  رامہ گئے۔

5 بزرگ قائدین نے   سموئیل سے  کہا ” آپ  کو محسوس کر نا چاہئے  کہ آپ  بہت بوڑھے  ہو گئے  ہیں  اور آپ  کے  بیٹے  آپ کی راہوں  پر نہیں  چل رہے  ہیں۔ اس لئے  آپ  سے  التجا ہے  کہ اب ہمیں  ایک بادشاہ دوسری قوموں  کی مانند ہم پر حکومت کرنے  کے  لئے  دو۔”

6 سموئیل نے  سوچا کہ ان لوگوں  پر حکومت کرنے  کے  لئے  بزرگوں  کا بادشاہ سے  التجا کر نا غلط ہے  اس لئے  اس نے  خداوند سے  دعا کی۔

7 خداوند نے  سموئیل سے  کہا ” لوگ جو کہتے  ہیں  وہ کرو انہوں  نے  تمہیں  ردّ نہیں  کیا انہوں  نے  مجھے  اپنی بادشاہت سے  ردّ کیا۔

8 وہ ویسا ہی کر رہے  ہیں  جیسا وہ تب سے  کرتے  آ رہے  ہیں  جب میں  ان کو  مصر سے  باہر لایا تھا۔ لیکن انہوں  نے  مجھے  چھوڑ دیا اور دوسرے  دیوتاؤں  کی خدمت کی۔ وہ تم سے  بھی ویسا ہی کر رہے  ہیں۔

9 اِس لئے  لوگوں  کی سنو اور وہ جو کہتے  ہیں  وہ ضرور کرو۔تا ہم ان کو خبر دار کرو کہ بادشاہ ان لوگوں  سے  کیا کر سکتا ہے۔ ”

10 ان لوگوں  نے  بادشاہ کے  لئے  پوچھا اِس لئے  سموئیل نے  ان لوگوں  سے  ہر چیز کے  متعلق کہا جو خداوند نے  کہا۔

11 سموئیل نے  کہا ” اگر تمہارے  پاس بادشاہ ہے  تم پر حکومت کر رہا ہے  وہ کیا کرے  گا پتہ ہے  وہ تمہارے  بیٹوں  کولے  لے  گا وہ تمہارے  بیٹوں  پر زبردستی کرے  گا کہ اس کی خدمت کریں۔ وہ ان پر زبردستی کرے  گا کہ سپاہی بنیں۔ انہیں  رتھ سے  لڑ نا چاہئے  اور اس کی فوج میں  گھوڑ سوار سپاہی بننا چاہئے۔ تمہارے  بیٹے  محافظ بنیں  گے  بادشاہ کی رتھ کے  آگے  دوڑیں  گے۔

12 بادشاہ تمہارے  بیٹوں  پر زبردستی کرے  گا کہ سپاہی بنیں  ان میں  کچھ ۱۰۰۰ آدمیوں  پر افسر ہوں  گے۔ اور دوسرے  پچاس آدمیوں  پر افسر ہوں  گے۔ بادشاہ تمہارے  کچھ بیٹوں  پر زبردستی کرے  گا کہ اس کے  کھیت کو بوئیں  اور فصل کاٹیں  وہ تمہارے  کچھ بیٹوں  پر زبردستی کرے  گا کہ اس کی رتھ کے  لئے  کچھ چیزیں  بنائیں۔

13 ” تمہاری چند بیٹیوں  پر زبردستی کرے  گا کہ اس کے  لئے  عطر بنانے  والے  کی طرح کام کرے  اور تمہاری کچھ بیٹیوں  پر زبردستی کرے  گا کہ اس کے  باورچیوں  اور نان بائیوں  کی طرح کام کرے۔

14 ” ایک بادشاہ تمہارے  بہترین کھیتوں  کو اور انگور و زیتون کے  باغوں  کو بھی لے  گا۔ وہ چیزیں  تم سے  لے  لے  گا اور اپنے  افسروں  کو دے  گا۔

15 وہ تمہارے  اناج اور انگور کا دسواں  حصّہ لے  گا وہ یہ چیزیں  اپنے  خادموں  اور افسروں  کو دے  گا۔

16 یہ بادشاہ تمہارے  سب سے  اچھے  مردوں  اور عورت خادموں  جوان مردوں  اور تمہارے  گدھے  اور مال مویشی کو اپنے  کام کے  لئے  لے  لے  گا۔

17 اور تمہارے  ریوڑ کا دسواں  حصّہ لے  لے  گا۔” اور تم سب خود اس بادشاہ کے  غلام بن جاؤ گے۔

18 اور جب وہ وقت آئے  گا اس دن تم اس بادشاہ کی وجہ سے  جسے  تم نے  چُنا ہے  روؤ گے۔ لیکن اس وقت خداوند تمہاری نہیں  سنے  گا۔

19 لیکن لوگ سموئیل کی نہیں  سنیں  گے  انہوں  نے  کہا ” نہیں  ہم لوگ ایک بادشاہ چاہتے  ہیں  جو ہم پر حکومت کرے۔

20 تاکہ ہم بھی دوسری قوموں  کی مانند ہو سکیں۔ہمارا بادشاہ ہم پر حکومت کرے۔ وہ لڑائی کرنے  میں  ہماری رہنمائی کرے  اور ہمارے  لئے  جنگیں  لڑے۔ ”

21 سموئیل نے  لوگوں  کی باتیں  سنی اور تب ان کے  الفاظ کو خداوند کے  ہاں  دہرایا۔

22 خداوند نے  جواب دیا ” تمہیں  ان کی باتوں  کو سننا چاہئے  انہیں  ایک بادشاہ دو۔ تب سموئیل نے  بنی اسرائیلیوں  سے  کہا ” اچھا تمہیں  بادشاہ ملے  گا۔ اب تم لوگ واپس گھر جاؤ۔”

 

 

 

باب:  9

 

 

1 قیس بنیمین خاندان کے  گروہ کا ایک اہم آدمی  تھا۔ قیس ابی ایل کا بیٹا تھا۔ ابی ایل صرور کا بیٹا تھا۔ صرور بکورت کا بیٹا تھا۔ بکورت افیح کا بیٹا تھا جو بنیمین سے  تھا۔

2 قیس کا ساؤل نامی ایک بیٹا تھا۔ ساؤل ایک جوان اور خوبصورت آدمی  تھا۔ ساؤل کے  جیسا کوئی بھی خوبصورت نہیں  تھا۔ وہ کھڑا ہوتا تو اس کا سر اسرائیل کے  کسی بھی شخص کے  سر سے  اونچا رہتا تھا۔

3 ایک دن قیس کے  گدھے  کھو گئے  اس لئے  قیس نے  اپنے  بیٹے  ساؤل سے  کہا ” خادموں  میں  سے  ایک کولے  جا کر گدھوں  کو تلاش کرو۔”

4 ساؤل گدھوں  کو دیکھنے  کے  لئے  چلا گیا۔ ساؤل افرائیم کی پہاڑ یوں  میں  گیا پھر ساؤل سلیسہ کے  اطراف میں  گیا لیکن ساؤل اور اس کا خادم قیس کے  گدھوں  کو نہ پاس کے۔  اس لئے  ساؤل اور خادم سعلیم کے  اطراف گئے  لیکن گدھے  وہاں  بھی نہ تھے  اس لئے  ساؤل نے  بنیمین کی سر زمین کی طرف سفر کیا لیکن پھر بھی وہ اور اس کا خادم گدھوں  کو نہ پاس کے۔

5 جب ساؤل اور خادم صُوف نامی شہر پہنچے  تو ساؤل نے  اپنے  خادم سے  کہا ” کہ اب واپس چلنا ہے۔ میرے  والد گدھوں  کے  متعلق سوچنا چھوڑ دیں  گے  اور ہمارے  تعلق سے  فکر مند ہوں  گے۔

6 لیکن خادم نے  ساؤل کو جواب دیا کہ خدا کا آدمی  اس شہر میں  ہے  لوگ جس کی بہت عزت کرتے  ہیں۔ وہ جو بات کہتا ہے  ہمیشہ سچ ہوتی ہے۔ اس لئے  اس شہر میں  چلیں۔ ہو سکتا ہے  خدا کا آدمی  ہمیں  کہے  کہ ہمیں  پھر کہاں  جانا ہو گا۔

7 ساؤل نے  اپنے  خادم سے  کہا ” یقیناً ہم شہر میں  جا سکتے  ہیں  لیکن ہم اس کو کیا دے  سکتے  ہیں ؟ ” ہمارے  پاس کچھ تحفہ نہیں  ہے  کہ خدا کے  آدمی  کو دیں۔حتیٰ کے  ہمارے  تھیلے  کی غذا بھی ختم ہو گئی۔ہم کیا دے  سکتے  ہیں ؟ ”

8 دوبارہ ساؤل نے  خادم سے  کہا ” دیکھو میرے  پاس پاؤ مثقال چاندی ہے۔ ہم لوگ اس رقم کو خدا کے  آدمی  کو دے  دیں  اور تب وہ ہمیں  کہے  گا کہ ہم کو کہاں  جانا چاہئے ؟ ”

9 اس نے  یہ کہا کیوں  کہ پہلے  زمانے  میں  اسرائیل میں  جب لوگ خدا سے  رجوع کرنا چاہتے  تو وہ لوگ یہ کہتے   ” ہم لوگوں  کو سیر کو دیکھنے  کے  لئے  جانے  دو ” نبی اس وقت سیر کہلاتا تھا۔

10 ساؤل نے  خادم سے  کہا ” یہ اچھا خیال ہے  چلو۔ ” اس طرح وہ شہر گئے  جہاں  خدا کا آدمی  تھا۔ جب ساؤل اور خادم شہر کی طرف پہاڑی پر چڑھ گئے  تھے  تو وہ چند جوان عورتوں  سے  ملے  جو نوجوان تھیں  اور پانی لینے  جا رہی تھیں۔ ان دونوں  نے  نوجوان عورتوں  سے  پوچھا ” کیا سیر یہاں  ہے ؟ ”

11 12 نوجوان عورتوں  نے  جواب دیا ” ہاں  وہ ٹھیک تمہارے  سامنے  شہر میں  ہے۔ تمہیں  اب جلدی کرنا چاہئے  کیوں  کہ وہ آج ہی شہر آیا ہے۔ اسوجہ سے  لوگ عبادت کی اونچی جگہ پر قربانیاں  پیش کر رہے  ہیں۔

13 تم ان کو شہر میں  داخل ہوتے  ہی پا سکتے  ہو اس سے  پہلے  کہ وہ عبادت کی جگہ پر کھانا کھانے  کے  لئے  چلے  جائے۔ لوگ اس کے  آنے  سے  پہلے  قربانی کا کھا نا نہیں  کھاتے  ہیں  کیوں  کہ ایک وہی ہے  جو پہلے  قربانی کے  کھانے  کو خیر و برکت بخشتا ہے۔ اس کے  برکت بخشنے  کے  بعد ہی مہمان کھا نا شروع کریں  گے۔ اس لئے   اب اوپر جاؤ تمہیں  اسے  اسی وقت تلاش کرنا چاہئے۔ ”

14 تب ساؤل اور اس کا خادم دونوں  شہر گئے  جیسے  ہی وہ لوگ شہر میں  داخل ہو رہے  تھے  تو ان لوگوں  نے  دیکھا کہ سموئیل ان کی طرف آتے  ہوئے  اپنے  راستے  عبادت گاہ کی اونچی جگہ کی طرف جا رہے  تھے۔

15 ایک دن پہلے  خداوند نے  سموئیل سے  کہا تھا۔

16 ” کل اس وقت میں  ایک آدمی  کو تمہارے  پاس بھیجوں  گا وہ بنیمین کے  خاندانی گروہ سے  ہو گا۔ تمہیں  اسے  مسح کرنا ہو گا اور اس کو میرے  بنی اسرائیلیوں  پر نیا قائد بنانا ہو گا۔ یہ آدمی  میرے  لوگوں  کو فلسطینیوں  سے  بچائے  گا۔ میں  نے  دیکھا ہے  کہ میرے  لوگ تکلیف میں  ہیں  میں  اپنے  لوگوں  کی چیخیں  سن چکا ہوں۔ ”

17 جب سموئیل نے  ساؤل کو دیکھا تو خداوند نے  اس سے  کہا ” دیکھو یہ وہ آدمی  ہے  جس کے  متعلق میں  تم سے  کہہ چکا ہوں  یہی وہ ہے  جو میرے  لوگوں  پر حکومت کرے  گا۔ ”

18 ساؤل شہر کے  گیٹ کے  پاس سموئیل سے  ملا اور اس سے  پوچھا ” برائے  مہر بانی کیا آپ  بتا سکتے  ہیں  کہ سیر کا گھر کہاں  ہے۔ ”

19 سموئیل نے  جواب دیا ” میں  سیر ہوں  میرے  آگے  آگے  عبادت گاہ کی جگہ کی طرف چلو۔ تم اور تمہارا خادم آج میرے  ساتھ کھاؤ گے۔ میں  تمہیں  کل صبح تمہارے  تمام سوالوں  کا جواب دوں  گا۔ اور کل صبح میں  تم کو تمہارے  راستے  پر بھیج دوں  گا۔

20 اور گدھوں  کے  متعلق فکر مند مت ہو جو تین دن پہلے  کھو گئے  ہیں  وہ سب مل چکے  ہیں۔ لیکن وہ کون ہے  جسے  سارے  اسرائیلی بہت چاہتے  ہیں ؟ وہ تم اور تمہارے  باپ کا خاندان ہے  جس کو وہ بہت زیادہ چاہتے  ہیں۔ ”

21 ساؤل نے  جواب دیا ” لیکن میں  بنیمین خاندان کے  گروہ کا ایک فرد ہوں  یہ اسرائیل میں  سب سے  چھوٹا خاندانی گروہ ہے  اور میرا خاندان بنیمین خاندان کے  گروہ میں  سب سے  چھوٹا ہے۔ تم کیوں  کہتے  ہو کہ اسرائیلی مجھے  چاہتے  ہیں ؟ ”

22 تب سموئیل ساؤل اور اس کے  خادم کو کھانے  کی جگہ کے  پاس لایا۔ تقریباً تیس آدمی  کھانے  کے  لئے  اور قربانی کی نذر میں  حصہ لینے  کے  لئے  جمع تھے۔ سموئیل نے  ساؤل اور اس کے  خادم کو میز پر بہت ہی اہم جگہ دی۔

23 سموئیل نے  باورچی سے  کہا ” گوشتلے  آؤ جو میں  نے  دیا تھا یہ وہ حصّہ جسے  میں  نے  تم سے  بچانے  کو کہا تھا۔ ”

24 باورچی ران لے  آیا اور میز پر ساؤل کے  سامنے  رکھا۔ سموئیل نے  کہا ” گوشت کھاؤ جو تمہارے  سامنے  رکھا ہے۔ یہ تمہارے  لئے  بچایا گیا ہے  اس خاص موقع کے  لئے  جب میں  نے  لوگوں  کو اکٹھا بُلایا تھا۔ ” اس طرح ساؤل نے  سموئیل کے  ساتھ اس دن کھا یا۔

25 جب وہ کھانا ختم کئے  وہ عبادت کی جگہ سے  نیچے  آئے  اور واپس شہر گئے  تو سموئیل نے  اپنے  گھر کی چھت پر ساؤل سے  باتیں  کیں  تب پھر سموئیل نے  ساؤل کے  لئے  بستر تیار کیا اور ساؤل چھت پر سو گیا۔

26 دوسرے  دن وہ لوگ صبح سویرے  اٹھ گئے۔ ٹھیک جس وقت سورج اٹھ رہا تھا سموئیل نے  ساؤل کو چھت پر پکارا اور کہا ” اٹھو تیار ہو جاؤ میں  تمہیں  تمہارے  راستے  پر بھیجوں  گا ” ساؤل اٹھا اور گھر کے  باہر سموئیل کے  ساتھ گیا۔

27 جیسے  وہ لوگ شہر کے  باہر چلے  اور شہر کے  کنارے  پہنچے   سموئیل نے  ساؤل سے  کہا ” اپنے  نوکر سے  کہو کہ ہم لوگوں  سے  آگے  چلے۔ تاہم تم آؤ اور کھڑے  ہو جاؤ تاکہ میں  تم کو خدا کے  پیغام کو سنا سکوں۔ ”

 

 

 

باب:  10

 

 

1 سموئیل نے  ایک خاص تیل کا مرتبان لیا۔ سموئیل نے  تیل کو ساؤل کے  سر پر انڈیل دیا۔ سموئیل نے  ساؤل کا بوسہ لیا اور کہا ” خداوند نے  تمہیں  مسح کیا (چُنا ) ہے۔ لوگوں  کے  لئے  تمہیں  قائد بنا یا ہے۔ تم خداوند کے  لوگوں  کو قابو میں  کرو گے  تما نہیں  دشمنوں  سے  بچاؤ گے  وہ سارے  جو ان کے  اطراف ہیں۔ خداوند نے  تمہیں  ان لوگوں  کے  اُوپر حاکم چُنا۔ یہاں  ایک نشان ہے  جو ثابت کرے  گا کہ یہ سچ ہے۔

2 آج مجھے  چھوڑنے  کے  بعد تم ضلضع میں  بنیمین کی سرحد پر راخِل کے  مقبرہ کے  قریب دو آدمیوں  سے  ملو گے۔ وہ دو آدمی  تم سے  کہیں  گے  کسی نے  ان گدھوں  کو پایا ہے  جسے  تم تلاش کر رہے  ہو۔ اب وہ تمہارے  لئے  فکرمند ہے  وہ کہہ رہا ہے  ” میں  اپنے  بیٹے  کے  متعلق کیا کروں ؟ ”

3 سموئیل نے  کہا ” تب تک تم چلتے  رہو گے  جب تک تم تبور میں  بلوط کے  بڑے  پیڑ تک پہنچ نہیں  جا تے۔ وہاں  تمہیں  تین آدمی  ملیں  گے۔ وہ تین آدمی  بیت ایل میں  خدا کی عبادت کے  لئے  راستے  پر سفر کرتے  ہوں  گے۔ ایک آدمی  کے  ساتھ بکریوں  کے  تین بچے  ہوں  گے  دوسرا آدمی  تین روٹی کے  ٹکڑے  لئے  ہو گا اور تیسرا آدمی  مئے  کا بوتل لئے  ہو گا۔

4 یہ تینوں  آدمی  تمہیں  سلام کریں  گے  وہ تمہیں  دو روٹی کے  ٹکڑے  پیش کریں  گے  اور تم ان سے  دو روٹی کے  ٹکڑے  قبول کرو گے۔

5 تب تم جبعہ ایلو ہم جاؤ گے  وہاں  اس جگہ پر ایک فلسطینی قلعہ ہے  جب تم اس شہر میں  پہنچو گے  تو کئی نبی نکل آئیں  گے۔ یہ نبی عبادت گاہ سے  نیچے  آئیں  گے۔ وہ پیشین گوئی کریں  گے۔ وہ بین طنبور اور بانسری بجا رہے  ہوں  گے۔

6 تب تم پر خداوند کی عظیم رُوح اُترے  گی۔ تم بدل جاؤ گے۔ تم ایک علحٰدہ آدمی  ہو جاؤ گے۔ تم ان نبیوں  کے  ساتھ پیشین گوئی کرنا شروع کرو گے۔

7 ان سارے  نشانات کے  بعد جو تم کرنا چاہتے  ہو اسے  کرو کیوں  کہ خدا تمہارے  ساتھ ہو گا۔

8 مجھ سے  پہلے  تم جلجال جاؤ تب میں  تم سے  آ کر ملوں  گا۔ اور میں  جلانے  کی قربانی پیش کروں  گا لیکن تم کو سات دن تک انتظار کر نا چاہئے  تب میں  آؤں  گا اور کہوں  گا کہ کیا کرنا ہے۔ ”

9 جیسے  ہی ساؤل سموئیل سے  رخصت ہونے  کے  لئے  پلٹا خدا نے  ساؤل کی زندگی بدل دی۔ یہ سب واقعات اس دن ہوئے

10 ساؤل اور اس کا خادم جبعہ ایلو ہم گئے۔ اس جگہ پر ساؤل نبیوں  کے  گروہ سے  ملا۔ ساؤل پر خدا کی رُوح اُتر آئی اور ساؤل نے  بھی دورسے  نبیوں  کی طرح پیشین گوئی کی۔

11 کچھ ایسے  لوگ تھے  جو ساؤل کی پیشین گوئی کرنے  سے  پہلے  جانتے  تھے  اس لئے  وہ ایک دوسرے  سے  پو چھے  قیس کے  بیٹے  کو کیا ہوا ہے ؟ ” کیا ساؤل بھی نبیوں  میں  سے  ایک ہے ؟ ”

12 جبعہ ایلو ہم سے  ایک آدمی نے  جواب دیا ” ہاں ! اور ایسا معلوم پڑتا ہے  کہ یہ ان کا قائد ہے۔ اس لئے  یہ ایک مشہور کہاوت بنی : ” کیا ساؤل نبیوں  میں  سے  ایک ہے ؟ ”

13 جب وہ پیشین گوئی کرنی ختم کی ساؤل اپنے  مکان کے  قریب عبادت کی جگہ گیا۔

14 ساؤل کے  چچا نے  ساؤل اور اس کے  خادم سے  پو چھا ” تم کہاں  گئے  تھے ؟ ” ساؤل نے  کہا ” ہم گدھوں  کو تلاش کرنے  گئے  تھے۔ جب ہم انہیں  نہ پاس کے   توہم سموئیل سے  ملنے  گئے۔ ”

15 ساؤل کے  چچا نے  کہا ” مہربانی کر کے  مجھے  کہو سموئیل نے  تمہیں  کیا کہا؟ ”

16 ساؤل نے  جواب دیا ” سموئیل نے  ہم کو صرف اتنا کہا کہ گدھے  پہلے  ہی مل گئے  ہیں۔” ساؤل نے  ہر چیز اپنے  چچا کو نہیں  بتا ئی۔ سموئیل نے  جو کچھ بادشاہت کے  متعلق ساؤل کو کہا تھا اس نے  اس کو نہیں  بتا یا۔

17 سموئیل نے  سبھی بنی اسرائیلیوں  سے  مِصفاہ میں  ایک ساتھ خداوند کے  حضور ملنے  کو کہا۔

18 سموئیل نے  بنی اسرائیلیوں  سے  کہا ” خداوند اسرائیل کا خدا کہتا ہے   ‘ میں  نے  اسرائیلی کو مصر سے  باہر نکالا میں  نے  تمہیں  نقصان پہنچانے  کی کو شش کی بچا یا۔’

19 لیکن تم نے  بدلے  میں  آج خدا کو ردّ کر دیا ہے۔ تمہارا خدا تم کو تمام تکالیف اور مسائل سے  بچاتا ہے  لیکن تم نے  کہا ‘ نہیں  ہم بادشاہ چاہتے  ہیں  جو ہم پر حکومت کرے۔ ‘ اب آؤ اور خداوند کے  سامنے  اپنے  خاندان اور خاندانی گروہ کے  ساتھ کھڑے  ہو جاؤ۔”

20 ان لوگوں  میں  سے  ایک کو بادشاہ چُننے  کے  لئے  سموئیل نے  اسرائیل کے  تمام خاندانی گروہ کو اپنے  نزدیک آنے  دیا اس لئے  پہلے  بنیمین کے  خاندانی گروہ کو چُنا اور اس سے  ایک بادشاہ کو چنا گیا۔

21 سموئیل نے  بنیمینی گروہ کے  ہر خاندان سے  کہا کہ ایک ایک کر کے  آگے  چلے۔ مطری کا خاندان چُنا گیا۔ تب سموئیل نے  مطری خاندان کے  ہر فرد سے  کہا کہ ایک ایک کر کے  آ گے  نکلے۔ قیس کے  بیٹے  ساؤل کو چُنا گیا۔ لیکن جب لوگوں  نے  ساؤل کی کھو ج کی تو وہ اسے  نہیں  ملے۔

22 تب انہوں  نے  پھر خداوند سے  رجوع کیا اور پو چھا ” کیا وہ آدمی  یہاں  آ چکا ہے ؟ ” خداوند نے  جواب دیا ” ہاں ! مال و اسباب کے  پیچھے  چھپا ہوا ہے۔

23 لوگ دوڑے  اور ساؤل کو قربان گاہ کے  پیچھے  سے  باہر لے  آئے  ساؤل لو گوں  میں  کھڑا رہا ساؤل سب سے  اونچا تھا۔

24 سموئیل نے  تمام لوگوں  سے  کہا ” دیکھو یہ آدمی  کو خداوند نے  چُنا ہے  کوئی بھی ساؤل جیسا لوگوں  میں  نہیں  ہے۔ ” تب لوگوں  نے  پکا را ” بادشاہ کی عمر دراز ہو! ”

25 سموئیل نے  بادشاہت کے  اُصول لوگوں  کو سمجھائے  وہ ان اُصولوں  کی کتاب میں  لکھا اس نے  کتاب کو خداوند کے  سامنے  رکھا تب سموئیل نے  لوگوں  کو گھر جانے  کے  لئے  کہا۔

26 ساؤل بھی جبعہ میں  اپنا گھر چلا گیا۔ خدا نے  کچھ بہا در آدمیوں  کے  دِلوں  کو چھوا اور یہ بہا در آدمی  ساؤل کے  ساتھ ہو گئے۔

27 لیکن چند شریروں  نے  کہا ” یہ آدمی  ہم کوکس طرح بچا سکتا ہے ؟ ” انہوں  نے  ساؤل کی بُرائی کی اور اس کو نذر پیش کرنے  سے  اِنکار کیا۔ لیکن اسؤل نے  کچھ نہ کہا۔

 

 

 

باب:  11

 

 

1 تقریباً ایک مہینہ بعد عمّونی ناحس اور اس کی فوج نے  یبیس جلعاد کو گھیر لیا۔ یبیس کے  تمام لوگوں  نے  ناحس سے  کہا ” اگر تم ہم سے  معاہدہ کرو تو ہم تمہاری خدمت کریں  گے۔ ”

2 لیکن عمونی ناحس نے  جواب دیا ” میں  تم لوگوں  کے  ساتھ تب تک کوئی معاہدہ نہیں  کروں  گا جب تک میں  سبھی بنی اسرائیلیوں  کو پریشان کرنے  کی غرض سے  تمہارے  شہر کے  سبھی آدمیوں  کی داہنی آنکھ نکال نہ لوں۔”

3 یبیس کے  قائدین نے   ناحس سے  کہا ” ہم سات دن کا وقت لیں  گے  ہم تمام اسرائیل میں  قاصد بھیجیں  گے۔ اگر کوئی بھی ہماری مدد کو نہ آئے  تو ہم تمہارے  پاس آئیں  گے  اور اپنے  کو تمہارے  حوالے  کر دیں  گے۔ ”

4 قاصد جبعہ آئے  جہاں  ساؤل رہتا تھا۔ انہوں ے  لوگوں  کو خبر دی تب لوگ زار و قطار رونے  لگے۔

5 اس وقت ساؤل اپنے  بیلوں  کے  ساتھ کھیتوں  میں  گیا ہوا تھا۔ ساؤل کھیت سے  آیا ہی تھا کہ وہ لوگوں  کے  رونے  کی آواز سنی تو اس نے  پو چھا ” لوگوں  پر کیا مصیبت آئی ہے۔ وہ لوگ کیوں  رو رہے  ہیں ؟ ” تب لوگوں  نے  ساؤل سے  وہی کہا جو یبیس کے  قاصدوں  نے  پہلے  کہا تھا۔

6 خدا کی روح ساؤل کے  اوپر آئی جب اس نے  لوگوں  کے  جوابوں  کو سنا تو وہ بہت غصہ میں  آ گیا۔

7 ساؤ ل نے  بیلوں  کی ایک جوڑی لے  کر ان کو  ٹکڑے  ٹکڑے  میں  کاٹا۔ تب وہ ان بیلوں  کے  ٹکڑوں  کو قاصدوں  کو دیا۔ اس نے  قاصدوں  کو حکم دیا کے  ان ٹکڑوں  کو اسرائیل کی ساری سر زمین پرلے  جائے۔ اس نے  ان سے  کہا کہ یہ پیغام سارے  بنی اسرائیلیوں  کو دے  : آؤ! ساؤل اورسموئیل کی ہدایت پر چلو اگر کوئی آدمی  نہ آئے  اور مدد نہ کرے  تو پھر وہی باتیں  اس کی گایوں  کے  ساتھ ہوں  گی! ” تب خداوند کا خوف لوگوں  کے  اوپر چھا گیا۔ وہ سب ایک ساتھ ایک تن ہو کر ساؤل کے  ساتھ شامل ہونے  کے  لئے  آئے۔

8 ساؤل نے  بزق میں  آدمیوں  کو ایک ساتھ جمع کیا تقریباً ۰۰۰۰۰ ۳ آدمی  اسرائیل سے  اور ۰۰۰ ۳۰یہوداہ سے  تھے۔

9 ساؤل اور اس کی فوج نے  یبیس کے  قاصدوں  سے  کہا ” یبیس جلعاد کے  لوگوں  سے  کہو کہ کل دوپہر تم بچائے  جاؤ گے۔ ” قاصدوں  نے  ساؤل کے  پیغام کو یبیس کے  لوگوں  سے  کہا۔ یبیس کے  لوگ بہت خوش تھے۔

10 تب یبیس کے  لوگوں  نے  ناحس عمّونی سے  کہا ” کل ہم تمہارے  پاس آئیں  گے  تب تم جو چاہو وہ کر سکتے  ہو۔”

11 دوسرے  دن صبح ساؤل نے  اپنے  سپاہیوں  کو تین گروہوں  میں  علیٰحدہ کیا۔ سورج کے  طلوع ہونے  کے  وقت ساؤل اور اس کے  سپاہی عمونی چھاؤنی میں  داخل ہوئے  اور اس وقت عمونی محا فظوں  کو بدل رہے  تھے۔ حملہ کر دیا اور اس نے  عمونیوں  کو دوپہر سے  پہلے  شکست دے  دیا اور جو زندہ بچ گئے  تھے  وہ اس طرح بکھیر دیئے  گئے  کہ دو سپاہی بھی ایک ساتھ نہ رہے۔

12 تب لوگوں  نے  سموئیل سے  کہا ” کہاں  ہیں  وہ لو گ جنہوں  نے  کہا تھا کہ وہ نہیں  چاہتے  ہیں  کہ ساؤل بادشاہ کی طرح ان پر حکومت کرے ؟ ” ان لوگوں  کو یہاں  لاؤ ہم انہیں  ہلاک کریں  گے۔ ”

13 لیکن ساؤل نے  کہا ” نہیں  آج کسی ایک کو بھی نہ مارو کیونکہ خداوند نے  آج اسرائیل کو رہائی دی ہے۔

14 تب سموئیل نے  لوگوں  سے  کہا ” آؤ ہم لوگ جلجال چلیں۔ جلجال میں  ہم دوبارہ ساؤل کو بادشاہ بنائیں  گے۔ ”

15 تمام لوگ جلجال گئے  وہاں  خداوند کے  سامنے  لوگوں  نے  ساؤل کو بادشاہ بنا یا انہوں  نے  قربانی کی نذر خداوند کو پیش کی۔ ساؤل اور سب بنی اسرائیلیوں  نے  خوشیاں  منائیں۔

 

 

 

باب:  12

 

 

1 سموئیل نے  تمام اسرائیلیوں  سے  کہا : ” برائے  مہربانی دیکھو میں  نے  وہ سب کچھ کر دیا ہے  جس کی تمہیں  خواہش تھی۔ میں  نے  تم لوگوں  پر ایک بادشاہ بنا دیا ہے۔

2 اور اس طرح اب تمہارے  پاس ایک بادشاہ ہے  جو تمہاری رہنمائی کر سکتا ہے۔ تا ہم میں  بوڑھا ہوں  لیکن میرے  بیٹے  تمہارے  ساتھ ہوں  گے  جب میں  جوان تھا تب ہی سے  تمہارا قائد رہا ہوں۔

3 میں  یہاں  ہوں  اگر میں  کچھ بُرائی کیا ہوں  تو تمہیں  چاہئے  کہ ان تمام باتوں  کو خداوند سے  اور اس کے  چُنے  ہوئے  بادشاہ سے  کہو کیا میں  نے  کسی کی گائے  یا گدھا چرایا ہے ؟ کیا میں  نے  کسی کو نقصان پہنچا یا ہے ؟ کیا میں  نے  رشوت کے  طور پر رقم قبول کیا ہے تا کہ کسی کے  کئے  ہوئے  جرم کو نظر انداز کر جاؤں ؟ اگر میں  نے  کسی سے  بھی کوئی چیز لی ہے  تو میں  اسے  تمہیں  واپس دوں  گا۔”

4 اسرائیلیوں  نے  جواب دیا ” نہیں ! تم نے  کبھی ہمارے  ساتھ کوئی بُرا نہیں  کیا۔ تم نے  ہمیں  کبھی دھوکہ نہیں  دیا یا کوئی چیز ہم سے  کبھی نہیں  لی۔”

5 سموئیل نے  اسرائیلیوں  سے  کہا ” خداوند اور اس کے  چُنے  ہوئے  بادشاہ آج گواہ ہیں  انہوں  نے  سُنا جو تم نے  کہا۔ وہ جانتے  ہیں  کہ تم مجھ میں  کوئی بُرائی نہ پاس کے۔ ” لوگوں  نے  جواب دیا ” ہاں ! خداوند گواہ ہے ! ”

6 تب سموئیل نے  لوگوں  سے  کہا ” خداوند نے  دیکھا ہے  کہ کیا واقعہ ہوا۔ خداوند ہی وہ جو موسیٰ اور ہارون کو چنا اور وہی ہے  جو تمہارے  آباء و اجداد کو مصر سے  باہر لا یا۔

7 اس لئے  اب یہاں  کھڑا ہوتا کہ میں  ان تمام اچھی چیزوں  کے  بارے  میں  جو کہ خداوند نے  تمہارے  اور تمہارے  باپ دادا کے  لئے  کیا بتا سکو ں۔

8 یعقوب مصر کو گئے۔ بعد میں  مصر یوں  نے  ان کی نسلوں  کو زندگی کو مشکل میں  ڈالا۔ اس لئے  وہ خداوند کے  سامنے  مدد کے  لئے  روئے۔ خداوند نے  موسیٰ اور ہا رون کو ان لوگوں  کے  پاس بھیجا اور انہوں  نے  تمہارے  آباء و اجداد کو مصر سے  باہر لائے  اور اس جگہ کو انہیں  رہنے  کے  لئے  دکھا یا۔

9 ” لیکن تمہارے  آباء و اجداد اپنے  خداوند خدا کو بھول گئے  اس لئے  خداوند خدا نے  انہیں  سسیسرا کا غلام ہونے  دیا۔ سیسرا حُصور میں  فوج کا سپہ سالار تھا۔ تب خداوند نے  ان کو فلسطینیوں  کے  اور موآب کے  بادشاہ کا غلام ہونے  دیا۔ وہ سب تمہارے  آباء و اجداد کے  خلاف لڑے۔

10 لیکن تمہارے  آباء و  اجداد خداوند کے  سامنے  مدد کے  لئے  زار و قطار روئے۔ اور کہا ” ہم نے  گناہ کئے  ہم خداوند کو چھوڑ دیئے  اور ہم نے  جھوٹے  خداؤں  بعل اور عستارات کی خدمت کی لیکن اب ہم کو ہمارے  دشمنوں  کی قوت سے  بچاؤ تب ہم تمہاری خدمت کریں  گے۔ ‘

11 ” اس لئے  خداوند نے  یُر بعل ( جِد عون ) برق اِفتاح اور سموئیل کو بھیجا۔ خداوند نے  تمہیں  تمہارے  اطراف کے  دشمنوں  سے  بچا یا اور تم محفوظ رہے۔

12 لیکن ناحس تم نے  عمونیوں  کے  بادشاہ کو دیکھا کہ تمہارے  خلاف لڑنے  آ رہا ہے۔ تم نے  کہا ” نہیں  ہمیں  بادشاہ چاہئے  جو ہم پر حکومت کرے  تم نے  ایسا کہا اس کے  باوجود بھی خداوند تمہارا خدا پہلے  ہی تمہارا بادشاہ تھا۔

13 اب یہ بادشاہ جسے  تم نے  چنا ہے  خداوند نے  اس بادشاہ کو تم پر مقرر کیا ہے۔

14 تمہیں  خداوند سے  ڈرنا اور عزت کرنی چاہئے۔ تم کو اس کی خدمت کرنی اور اس کے  احکامات پر بھی عمل کرنا چاہئے۔ تم کو کسی بھی حالات میں  اس کے  خلاف نہ ہو نا چاہئے۔ تم اور تمہارے  بادشاہ کو جو تم پر حکومت کر رہا ہے  خداوند اپنے  خدا کی ہدایت پر چلنا چاہئے۔ اگر تم اسے  کرو گے  تب یقیناً خدا تم کو بچائے  گا۔

15 لیکن اگر تم نے  خداوند کی اطاعت نہ کی اور تم اس کے  خلاف ہو گئے  تو وہ بھی تمہارے  خلاف ہو گا جیسا کہ وہ تمہارے  آباء و  اجداد کے  خلاف تھا۔

16 ” اب خاموش کھڑے  رہو اور اس کے  عظیم کارناموں  کو دیکھو جو خداوند تمہاری آنکھوں  کے  سامنے  کرے  گا۔

17 اب گیہوں  کی فصل کا وقت ہے  میں  خداوند سے  دعا کروں  گا میں  اس سے  کہوں  گا کہ بجلی کی کڑک اور بارش بھیجے۔ تب تم جان جاؤ گے  کہ تم نے  اپنے  لئے  بادشاہ مانگ کر خداوند کے  ساتھ بہت بُرا کیا ہے۔ ”

18 اس لئے  سموئیل نے  خداوند سے  دعا کی۔ اسی دن خداوند نے  بجلی کی کڑک اور بارش کو بھیجا اور لوگ سچ مچ خداوند اور سموئیل سے  ڈرے۔

19 سب لوگوں  نے  سموئیل سے  کہا ” اپنے  خداوند خدا سے  اپنے  خادموں  کی خاطر دعا کروتا کہ ہم لوگ نہیں  مریں  گے۔ کیونکہ ہم لوگوں  نے  اپنے  کئی گناہ بادشاہ کو مانگنے  کی وجہ سے  بڑھا دیئے  ہیں۔”

20 سموئیل نے  جواب دیا ” خوف مت کرو۔ یہ سچ ہے  کہ تم نے  وہ سب بُرائیاں  کیں  لیکن خداوند کی اطاعت کو مت چھوڑو۔ اپنے  دل کی گہرائی سے  خداوند کی خدمت کرو۔

21 بے  فائدہ بتوں  کو پوجتے  ہوئے  خدا سے  منہ مت موڑو۔ بُت تمہاری نہ ہی مدد کر سکتے  ہیں  اور نہ ہی بچا سکتے  ہیں  وہ کچھ بھی نہیں  ہیں۔

22 لیکن خداوند اپنے  لوگوں  کو نہیں  چھوڑے  گا۔ تمہیں  اپنا بنانے  سے  خدا کو خوشی ملتی ہے۔ اس لئے  وہ اپنے  نام کی خاطر تمہیں  نہیں  چھوڑے  گا۔

23 جہاں  تک میرا تعلق ہے  میں  تمہاری بھلائی کے  لئے  دعا کرنا نہیں  چھوڑوں  گا۔ اگر میں  تمہاری بھلائی کے  لئے  دعا کر نا چھوڑ دوں  تو میں  خداوند کے  خلاف گناہ کر رہا ہوں  گا۔ میں  تمہیں  صحیح راستے  کی تعلیم دینا جاری رکھوں  گاتا کہ اچھی زندگی جیو۔

24تا ہم تمہیں  خداوند کی فرمانبرداری کرنی چاہئے  اور وفاداری سے  اس کی خدمت کرنی چاہئے۔ تمہیں  ان تعجب خیز کام کو یاد رکھنا چاہئے  جو اس نے  تمہارے  لئے  کئے۔

25 لیکن اگر تم مخالف ہو کر بُرا ئیاں  کرو گے۔ ” تب خدا تم کو اور تمہارے  بادشاہ کو تباہ کرے  گا۔”

 

 

 

 

باب:  13

 

 

1 اس وقت ساؤل ایک سال بادشاہ رہ چکا تھا۔ تب اس کے  بعد اس نے  اسرائیل پر دو سال حکومت کی تھی

2 وہ اسرائیل سے  ٍ۳۰۰۰ آدمیوں  کو چُنا۔ اس کے  ساتھ ۲۰۰۰ آدمی  بیت ایل کی پہاڑی شہر مکماس میں  ٹھہرے  تھے۔ ۱۰۰۰ آدمی  ایسے  تھے  جو یونتن کے  ساتھ بنیمین میں  جبعہ میں  ٹھہرے  تھے۔ ساؤل نے  فوج اور آدمیوں  کو اُن کے  گھر بھیج دیا۔

3 یونتن نے  فلسطینیوں  کو اُن کے  خیمہ پر جِبع میں  قتل کر ڈالا۔ دوسرے  فلسطینیوں  نے  اس کے  متعلق سنا۔ ساؤل نے  کہا ” عبرانیوں  کو جان نے  دو کہ کیا ہوا ہے  ” اس لئے  ساؤل نے  لوگوں  سے  کہا ” کہ ساری اسرائیل کی سر زمین پر نگل بجا کر اعلان کر دو۔

4 جب باقی اسرائیلیوں  نے  یہ واقعہ سنا تو وہ بولے   ” ساؤل نے  فلسطینی خیمہ پر حملہ کر دیا ہے  اس لئے  اب فلسطینی کو اسرائیلیوں  سے  نفرت ہو گئی ہے۔ ” بنی اسرائیلیوں  کو جِلجال میں  ساؤل کے  ساتھ ملنے  کے  لئے  بلایا گیا۔

5 فلسطینی اسرائیل سے  لڑنے  جمع ہوئے۔ فلسطینیوں  کے  پاس ۳۰۰۰ رتھ تھے   ۶۰۰۰ گھوڑ سوار اور ان لوگوں  کے  پاس اتنے  ہی سپاہی تھے  جتنے  کہ سمندری ساحل پر بالو تھے۔ فلسطینیوں  نے  مکماس (مکماس بیت آون کے  مشرق میں  ) میں  خیمہ ڈالا۔

6 اسرائیلیوں  نے  دیکھا کہ وہ مصیبت میں  ہیں  کیوں  کہ سپاہیوں  نے  اپنے  کو پھندے  میں  پھنسے  ہوئے  محسوس کئے۔ اس لئے  لوگ چھپنے  کے  لئے  غاروں  میں  چٹانوں  کی دراڑوں  میں  کنوؤں  میں  اور زمین کے  گڑھوں  میں  بھا گے۔

7 کچھ عبرانی تو دریائے  یردن کے  پار سر زمین جاد اور جِلعاد بھی گئے۔ ساؤل ابھی تک جلجال میں  ہی تھا اس کی فوج کے  تمام آدمی  خوف سے  کانپ رہے  تھے۔

8 سموئیل نے  کہا کہ وہ ساؤل سے  جلجال میں  ملے  گا۔ ساؤل وہاں  سموئیل کے  لئے  سات دن انتظار کیا لیکن سموئیل جِلجال نہیں  آیا۔ تب سپاہیوں  نے  ساؤل سے  رخصت ہو نا شروع کیا۔

9 اس لئے  ساؤل نے  کہا ” میرے  لئے  جلانے  کی قربانی اور بخور کا نذرانہ لاؤ۔” تب ساؤل نے  جلانے  کی قربانی پیش کئے۔

10 جیسے  ہی ساؤل نے  قربانی کا نذرانے  پیش کرنا ختم کیا سموئیل وہاں  آیا تب ساؤل باہر اس سے  ملنے  گیا۔

11 سموئیل نے  پو چھا ” تم نے  کیا کیا؟ ” ساؤل نے  جواب دیا ” میں  نے  دیکھا کہ سپاہی مجھے  چھوڑ کر جا رہے  ہیں۔ اور تم یہاں  وقت پر نہیں  تھے  اور فلسطینی مکماس میں  جمع ہو رہے  تھے۔

12 میں  نے  سو چا ” فلسطینی یہاں  آئیں  گے  اور جلجال میں  مجھ پر حملہ کریں  گے  اور میں  نے  خداوند سے  اب تک مدد نہیں  مانگا تھا۔ اس لئے  میں  نے  جلانے  کی قربانی پیش کرنے  کی جرأت کی۔”

13 سموئیل نے  کہا ” تم نے  بے  وقوفی کی تم نے  خداوند اپنے  خدا کی فرماں  برداری نہیں  کی۔ اگر تم خدا کے  احکام کی تعمیل کرتے  تو تب وہ تمہارے  خاندان کوا سرائیل پر ہمیشہ حکو مت کرنے  دیتا۔

14 لیکن اب تمہاری بادشاہت قائم نہیں  رہے  گی۔ خداوند اس آدمی  کو دیکھ رہا تھا جو اس کی اطاعت کی۔ خداوند نے  اس آدمی  کو پا لیا اور خداوند اس کے  لوگوں  کے  لئے  اس کو نیا قائد چُن رہا ہے۔ تم نے  خداوند کے  احکام کی پا بندی نہیں  کی اس لئے  خداوند نئے  قائد کو چُن رہا ہے۔ ”

15 تب سموئیل اٹھا اور جِلجال سے  روانہ ہوا۔

16 ساؤل اس کا بیٹا یونتن اور سپاہی بنیمین میں  جِبعہ میں  رُکے۔ جبکہ فلسطینی مکماس میں  خیمہ زن ہوئے  تھے۔

17 فلسطینیوں  نے  طئے  کیا کہ اس خطّے  میں  رہنے  والے  اسرائیلیوں  کو سزا دیں  اس لئے  ان کے  بہترین سپاہیوں  نے  حملہ شروع کیا۔ فلسطینی فوج تین گروہوں  میں  بٹ گئی۔ ایک گروہ عُفرہ کی سڑک پر سعال کے  قریب شمال کو گیا۔

18 دوسرا گروہ ( جنوب مشرق) بیت حورون کی سڑک اور تیسرا گروہ (مشرق) سرحد کی سڑک پر گیا وہ سڑک وادی ضبوعیم پر صحرا کی طرف دکھائی دی۔

19نی اسرائیل فولاد سے  کوئی چیز بنا نہ سکے  اِسرائیل میں  وہاں  کوئی لوہار نہیں  تھا۔ فلسطینیوں  نے  اسرائیلیوں  کو نہیں  سکھا یا تھا کہ لو ہے  سے  کس طرح چیزیں  بنائی جاتی ہیں  کیوں  کہ فلسطینیوں  کو ڈر تھا کہ اسرائیلی لو ہے  سے  تلوار اور بر چھے  بنائیں  گے۔

20 صرف فلسطینی ہی لو ہے  کے  اوزار کو تیز کرتے  تھے  اِس لئے  اگر اسرائیلی کو اُنکے  ہل کھُر پی کُلہاڑی درانتی کو تیز کرنے  کی ضرورت ہو تی تو ان کو فلسطینیوں  کے  پاس جانا پڑتا تھا۔

21 فلسطینی لو ہار ہل اور کھر پی کو تیز کرنے  کے  لئے  آٹھ گرام چاندی لیتے  اور چار گرام چاندی کُدال کلہاڑی اور لو ہے  کے  دوسرے  اوزار کے  لئے  لیتے  تھے۔

22 اس لئے  جنگ کے  دن کسی بھی اسرائیلی سپاہی کے  پاس جو ساؤل کے  ساتھ تھے  لوہے  کی تلواریں  اور برچھے  نہ تھے۔ صرف ساؤل اور اس کے  بیٹے  یونتن کے  پاس لو ہے  کے  ہتھیار تھے۔

23 فلسطینی سپاہیوں  کا ایک گروہ مکماس سے  آگے  گیا تھا۔

 

 

باب:  14

 

 

1 ایک دن ساؤل کا بیٹا یُونتن نو جوان آدمی  سے  جو اس کا ہتھیار لئے  ہوئے  تھا بات کر رہا تھا۔ یونتن نے  کہا ” ہم لوگوں  کو وادی کی دوسری طرف فلسطینیوں  کے  خیمہ میں  چلنا چاہئے۔ ” لیکن یونتن نے  اس کے  بارے  میں  اپنے  باپ سے  نہ کہا۔

2 ساؤل جبعہ کے  نکاس پر مُجرون میں  انار کے  درخت کے  نیچے  بیٹھا تھا۔ یہ کھلیان کے  قریب تھا۔ ساؤل کے  ساتھ تقریباً ۶۰۰ آدمی  تھے۔

3 ان لوگوں  کے  درمیان اخیاہ نامی آدمی  تھا۔ وہ کاہن کا چغہ پہنے  تھا۔ اخیاہ یکبود کے  بھائی اخیطوب کا بیٹا تھا۔ یکبود فینحاس کا بیٹا تھا۔ فینحاس عیلی کا بیٹا تھا۔ عیلی شیلاہ میں  کاہن تھا۔ ان لوگوں  نے  نہیں  جانا کہ یُونتن وہاں  سے  پہلے  ہی نکل گیا ہے۔

4 پہاڑی راستے  کے  ہر طرف جس سے  ہو کر یونتن فلسطینی خیمہ میں  جانے  کا منصوبہ بنا یا تھا بڑی بڑی نکیلی چٹانیں  تھی نکیلی چٹان کا نام بوصیص تھا۔ دوسری طرف کی بڑی چٹان کا نام سنہ تھا۔

5 ایک چٹان کا رُ خ شمال کی طرف مکماس کا جانب تھا اور دوسری بڑی چٹان کا رُخ جنوب کی جبع کی جانب تھا۔

6 یونتن نے  اس کے  نوجوان مددگار سے  کہا ” جو اس کا ہتھیار لئے  ہوئے  تھا۔ ” آؤ! ہم اجنیوں  کی فوجوں  کے  خیمہ کی طرف چلیں۔ ہو سکتا ہے  خداوند ہمیں  ان لوگوں  کو شکست دینے  میں  مدد کرے  گا۔ کوئی بھی چیز خداوند کو نہیں  رو ک سکتی ان لوگوں  کو بچانے  سے   چا ہے  ہم لوگوں  کے  پاس سپاہی کم ہوں  یا زیادہ۔”

7 نوجوان آدمی  جو یونتن کا ہتھیار لئے  ہوئے  تھا ان سے  کہا ” جو آپ  بہتر سمجھیں  وہی کریں  آپ  جو بھی فیصلہ کریں  میں  اس میں  آپ  کے  ساتھ رہوں  گا۔”

8 یونتن نے  کہا ” چلو ہم وادی کو پار کریں  اور فلسطینی محافظین کے  پاس جائیں۔ ہم انہیں  اپنے  آپ  کو دیکھنے  دیں  گے۔

9 اگر وہ ہم سے  کہتے  ہیں  ‘ وہاں  ٹھہرو جب تک ہم تمہارے  پاس نہ آئیں  ‘ تو ہم جہاں  ہیں  وہیں  ٹھہریں  گے۔ ہم اوپر ان لوگوں  تک نہیں  جائیں  گے۔

10 لیکن اگر فلسطینی آدمی  کہتے  ہیں  ‘ اوپر یہاں  آؤ ‘ ہم اوپر ان کے  پاس کود پڑیں  گے  کیوں  کہ وہ خدا کی طرف سے  نشان ہو گا اس کے  معنی ہوں  گے  خداوند نے  ہمیں  ان کو شکست دینے  کی اجازت دی ہے۔ ”

11 اس لئے  ان دونوں  نے  فلسطینیوں  کو خیمہ میں  اپنے  آپ  کو دکھائے۔ محافظین نے   کہا ” دیکھو! عبرانی سوراخوں  سے  باہر آئے  ہیں  جس میں  وہ چھپے  ہوئے  تھے۔ ”

12 فلسطینیوں  نے  قلعہ میں  یونتن اور اس کے  مددگار کو پکا را ” یہاں  اوپر آؤ ہم تم کو سبق سکھائیں  گے۔ ” یونتن نے  اس کے  مددگار کو کہا ” میرے  ساتھ پہاڑی کے  اوپر آؤ خداوند اسرائیل کو فلسطینیوں  کی شکست دینے  کے  لئے  موقع دے  رہا ہے۔ ”

13 اس لئے  یونتن اپنے  ہاتھوں  اور پیروں  کے  سہا رے  اوپر پہاڑی پر چڑھ گیا اس کا مدد گار اس کے  پیچھے  تھا۔ یونتن اور اس کے  مددگار نے  فلسطینیوں  پر حملہ کیا۔ پہلے  حملے  میں  انہوں  نے  تقریباً ڈیڑھ ایکڑ کے  رقبہ میں  بیس فلسطینیوں  کو ہلاک کیا۔ یونتن نے  فلسطینیوں  پر حملہ کیا اور انہیں  گرا دیا۔ اس کا مددگار اس کے  پیچھے  آیا اور ان کو ہلاک کیا۔

14 15 کھیت میں  خیمہ میں  اور سبھی سپاہیوں  میں  خوف کا لہر پھیلا ہوا تھا۔ حتیٰ کہ محافظ فوج اور چھا پہ مار سپاہی بھی ڈر گئے  تھے۔ زمین ہلنے  لگی تھی ہر ایک آدمی  خوفزدہ تھا۔

16 بنیمین کی زمین میں  جبعہ میں  ساؤل کے  محافظین نے   فلسطینیوں  کو دیکھا کہ وہ ادھر اُدھر بھا گ رہے  ہیں۔

17 تب ساؤل نے  اس فوج سے  کہا ” جو کہ اس کے  ساتھی تھے  آدمیوں  کو گِنو میں  جاننا چاہتا ہوں  کہ کس نے  چھاؤنی چھوڑا۔” انہوں  نے  آدمیوں  کو گنا۔ تب انہوں  نے  جانا کہ یونتن اور اس کا ہتھیار لے  جانے  وا لا پہلے  ہی جا چکا ہے۔

18 ساؤل نے  اخیاہ سے  کہا ” حدا کا مقدس صندوق لاؤ۔” ( اس وقت خدا کا صندوق وہاں  اسرائیلیوں  کے  پاس تھا۔)

19 ساؤل اخیاہ کاہن سے  بات کر رہا تھا۔ ساؤل خدا کی جانب سے  نصیحت کا منتظر تھا لیکن پریشانی اور شور فلسطینی خیمہ میں  بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ ساؤل بے  چین ہو رہا تھا۔ آ خرکار ساؤل نے  کاہن اخیاہ سے  کہا ” یہ کافی ہے  اپنے  ہاتھ نیچے  کرو اور دعا کرنا بند کرو۔”

20 ساؤل نے  اس کی فوج کو اکٹھا کیا اور جنگ پر گیا۔ فلسطینی سپاہی حقیقت میں  پریشان تھے  وہ ان کی ہی تلواروں  سے  ایک دوسرے  سے  لڑ رہے  تھے۔

21 وہاں  وہ عبرانی تھے  جنہوں  نے  ماضی میں  فلسطینیوں  کی خدمت کی تھی اور فلسطینی خیمہ میں  ٹھہرے  تھے۔ لیکن اب یہ عبرانی اسرائیلیوں  میں  ساؤل اور یونتن کے  ساتھ مل گئے۔

22 تمام اسرائیلی جو افرائیم کے  پہاڑی شہر میں  چھپے  تھے  سنا کہ فلسطینی سپاہی بھاگ رہے  ہیں  اس لئے  یہ اسرائیلی بھی جنگ میں  شریک ہوئے  اور فلسطینیوں  کا پیچھا کرنا شروع کیا۔

23 اس لئے  خداوند نے  اس دن اسرائیلیوں  کو بچا یا۔ جنگ بیت آون کے  پار پہنچ گئی۔ پوری فوج ساؤل کے  ساتھ تھی سا کے  پاس تقریباً۰۰۰ ۱۰ آدمی  تھے۔ جنگ افرا ئیم کے  پہاڑی ملک سمیت ہر ایک شہر میں  پھیل گئی۔

24 اُس دن ساؤل نے  ایک بڑی غلطی کی۔ اس نے  اپنے  آدمیوں  کو مجبور کیا کہ وہ عہد پر چلے۔ اس لئے  اسرائیلی سپاہی اس دن کمزوری اور پریشانی میں  تھے  کیونکہ ساؤل ان لوگوں  کو اس عہد کے  بندھن میں  رکھا تھا کہ اگر کوئی آدمی  آج رات کے  پہلے  کچھ کھاتا ہے  تو وہ ملعون ہو گا۔ پہلے  میں  اپنے  دشمن سے  بدلہ لینا چاہتا ہوں۔ اس لئے  کوئی بھی اسرائیلی سپاہی کھانا نہیں  کھا یا۔

25 لڑائی ہونے  کی وجہ سے  لوگ جنگلوں  میں  چلے  گئے  تب انہوں  نے  دیکھا کہ زمین پر شہد کا چھتّہ ہے۔ اسرائیلی شہد کے  چھتّہ کے  پاس گئے  لیکن وہ اس کو کھا نہ سکے  کیونکہ وہ عہد کو توڑنے  سے  ڈرتے  تھے۔

26 27 لیکن یونتن کو اس عہد کے  متعلق معلوم نہ تھا۔ اس نے  اپنے  باپ کو لوگوں  سے  عہد کو پورا کرنے  کے  لئے  مجبوراً وعدہ کراتے  ہوئے  نہیں  سنا تھا۔ یونتن کے  ہاتھ میں  ایک چھڑی تھی اس نے  چھڑی کے  سِرے  سے  اس شہد کے  چھتّہ کو دبا دیا اور کچھ شہد نکالا اس نے  کچھ شہد کھا یا اور اپنی طاقت کو دو بارہ حاصل کیا۔

28 سپاہیوں  میں  سے  ایک نے  یونتن سے  کہا ” تمہارے  والد نے  سپاہیوں  سے  زبردستی عہد کیا ہے  تمہارے  والد نے  کہا ہے  کوئی بھی آدمی  جو آج کھائے  گا اس کو سزا ملے  گی اس لئے  آدمیوں  نے  کوئی چیز نہیں  کھائی اسی وجہ سے  آدمی  کمزور ہیں۔ ”

29 یونتن نے  کہا ” میرے  والد نے  سرزمین پر بڑی تکلیف لائی ہیں۔ دیکھو میں  شہد کو تھوڑا سا چکھنے  سے  کس قدر بہتر محسوس کر رہا ہوں۔

30 اگر لوگ دشمنوں  کی لوٹ میں  سے  اتنا کھاتے  جتنا کھانا چاہتے  تھے  تو وہ ان میں  سے  اور زیادہ لوگوں  کو مارتے۔ ”

31 اس دن اسرائیلیوں  سے  فلسطینیوں  کو شکست دی وہ ہر طرح سے  ان سے  مکماس سے  ایالون تک لڑے۔ اس لئے  لوگ بہت تھکے  ہوئے  اور بھو کے  تھے۔

32 انہوں  نے  فلسطینیوں  سے  بکریاں  گائے  اور بچھڑے  لئے  تھے۔ اتنے  بھو کے  ہونے  کی وجہ سے  لوگوں  نے  وہیں  جانوروں  کو ذبح کیا اور اسے  کھائے۔ اور خون ابھی تک ان جانوروں  میں  تھا ہی۔

33 ایک شخص نے  ساؤل سے  کہا ” دیکھو لوگ خداوند کے  خلاف گناہ کر رہے  ہیں  وہ گوشت کھا رہے  ہیں  جس میں  ابھی تک خون ہے۔ ” ساؤل نے  کہا ” تم نے  گناہ کئے ! اب یہاں  پر ایک بڑے  پتھر کو لُڑھکاؤ۔”

34 تب ساؤل نے  کہا ” آدمیوں  کے  پاس جاؤ اور ان سے  کہو ہر آدمی  میرے  سامنے  بکریوں  اور بیلوں  کو لائے  اور اسے  ذبح کرے  اور اسے  کھائے۔ لیکن ان گوشت کو کھا کر جس میں  ابھی خون ہو خداوند کے  خلاف گناہ مت کرو۔” اس رات ہر شخص اپنا جانور لا یا اور اسے  وہیں  ذبح کیا گیا۔

35 تب ساؤل نے  ایک قربان گاہ خداوند کے  لئے  بنا ئی۔ یہ پہلی قربانگاہ تھی۔ جسے  اس نے  خداوند کے  لئے  بنا ئی۔

36 ساؤل نے  اپنے  تمام لوگوں  کو حکم دیا ” آج رات ہم لوگ فلسطینیوں  کا تعاقب کریں  گے  اور صبح اجالا ہونے  تک لوَ ٹیں  گے   تب پھر ان سبھوں  کو مار دیں  گے۔ ” فوج نے  جواب دیا ” جو آپ  بہتر سمجھیں  وہ کر سکتے  ہیں۔” لیکن کاہن نے  کہا ” یہ بہتر ہو گا کہ خدا سے  پو چھ لیں

37 اس لئے  ساؤل نے  خداوند سے  پو چھا ” کیا مجھے  فلسطینیوں  کا تعاقب کرنا چاہئے ؟ ” کیا تم ہمارے  ذریعہ فلسطینیوں  کو شکست دے  گا۔ لیکن خدا نے  ساؤل کو کوئی جواب نہ دیا۔

38 اس لئے  ساؤل نے  حکم دیا ” تمام قائدین کو میرے  پاس لاؤ۔ ہمیں  معلوم کرنے  دو کہ وہ کیا گناہ ہے  جس کی وجہ سے  خدا نے  ہمیں  جواب نہ دیا۔

39 میں  قسم سے  کہتا ہوں  ( حلف ) خداوند کی کہ کون اسرائیل کو بچاتا ہے۔ حتیٰ کہ میرا بیٹا یونتن بھی اگر گناہ کرے  گا تو اس کو مرنا ہو گا۔” لوگوں  میں  سے  کسی نے  بھی ایک۔آ لفظ نہ کہا۔

40 تب ساؤل نے  تمام اسرائیلیوں  سے  کہا ” تم اس طرف کھڑے  رہو میں  اور میرا بیٹا یونتن دوسری طرف کھڑے  رہیں  گے۔ ” سپاہیوں  نے  جواب دیا ” جیسی آپ  کی مرضی جناب۔”

41 تب ساؤل نے  دعا کی ” خداوند اسرائیل کے  خدا تو نے  آج اپنے  خادموں  کو کیوں  جواب نہیں  دیا؟ اگر میں  یا میرا بیٹا یونتن نے  گناہ کیا ہے  تو خداوند اسرائیل کے  خدا اور یم دے۔ اگر تمہارے  بنی اسرائیلیوں  نے  گناہ کئے  ہیں  تو تمیم دے۔ ” ساؤل اور یونتن کو چن لیا گیا اور لوگ آزاد رہے  تھے۔

42 ساؤل نے  کہا ” ان کو دوبارہ پھینکو یہ بتانے  کے  لئے  کہ کون قصور وار ہے  میں  یا میرا بیٹا یونتن۔” یونتن چنا گیا۔

43 ساؤل نے   یونتن سے  کہا ” مجھے  کہو تم نے  کیا کیا ہے ؟ ” یونتن نے  جواب دیا ” میں  نے  اپنی چھڑی کے  سِرے  سے  تھوڑا شہد چکھا میں  یہاں  ہوں  اور مرنے  کے  لئے  تیار ہوں۔”

44 ساؤل نے  کہا ” میں  نے  خدا سے  قسم کھائی اور کہا کہ اگر میں  قسم میں  پو را نہ ہوا تو یونتن مر جائے۔ ”

45 لیکن سپاہیوں  نے  ساؤل سے  کہا ” یونتن آج اسرائیل کے  لئے  عظیم فتح اور جلال لا یا ہے۔ کیا یونتن کو مرنا چاہئے ؟ کبھی نہیں  ہم خدا کی حیات کی قسم کھاتے  ہیں  کوئی بھی یونتن کو نقصان نہ پہنچائے  گا۔ یونتن کے  سر کا ایک بال بھی زمین پر نہ گرے  گا۔ خدا نے  فلسطینیوں  کے  خلاف لڑنے  میں  اس کی مدد کی۔” اس طرح لوگوں  نے  یونتن کو بچا لیا اور وہ مارا نہیں  گیا۔

46 ساؤل نے  فلسطینیوں  کا تعاقب نہیں  کیا۔ فلسطینی واپس ان کی جگہ چلے  گئے۔

47 ساؤل نے  مکمل اسرائیل پر قابو پا لیا۔ساؤل نے  تمام دشمنوں  سے  لڑا جو اسرائیل کے  اطراف رہتے  تھے۔ ساؤل نے  موآب عمونین ادوم ضوباہ کا بادشاہ اور فلسطینیوں  سے  لڑا۔ ساؤل نے  اسرائیل کے  دشمنوں  کو جہاں  بھی گیا شکست دی۔

48 ساؤل بہت بہادر تھا وہ عمالیقیوں  کو شکست دی اور وہ اسرائیل کو دشمنوں  سے  بچا یا جو ان کو لوٹنے  کی کو شش کر رہے  تھے۔

49 ساؤل کے  بیٹے  یونتن اِسوی اور ملکیشوع تھے۔ ساؤل کی بڑی بیٹی کا نام میرب تھا اور چھوٹی لڑکی کا نام میکل تھا۔

50 ساؤل کی بیوی کا نام اخینوعم تھا۔ اخینوعم اخیمعص کی بیٹی تھی۔ ساؤل کی فوج کے  سپہ سالار کا نام ابنیر  تھا وہ نیر کا بیٹا۔ نیر ساؤل کا چچا تھا۔

51 ساؤل کا باپ قیس تھا۔ اور نیر کا باپ ابنیر  تھا۔ ابنیر  کا باپ ابی ایل تھا۔

52 ساؤل کی پوری دورِ حکومت میں  فلسطینیوں  کے  خلاف ہمیشہ گھمسان کی جنگ ہو تی تھی۔ جہاں  کہیں  بھی ساؤل نے  اگر اچھا سپاہی یا بہا در آدمی  دیکھا تو اس نے  اسے  اپنے  کام میں  لے  لیا۔

 

 

 

باب:  15

 

 

1 ایک دن سموئیل نے  ساؤل سے  کہا ” میں  وہی ہوں  جسے  خداوند نے  تجھے  مسح کر کے  بنی اسرائیلیوں  پر بادشاہ بنانے  کے  لئے  بھیجا ہے۔ خداوند کا پیغام سنو!

2 خداوند قادر مطلق کہتا ہے  : ‘ جب اسرائیلی مصر کے  باہر آئے۔ عمالیقیوں  نے  ان کو کنعان سے  جانے  کے  لئے  روکا میں  نے  دیکھا عمالیقیوں  نے  جو کیا ہے۔

3 اب جاؤ عمالیقیوں  کے  خلاف لڑو۔ تم کو مکمل طور سے  عمالیقیوں  اور اُن کی ہر چیز کو تباہ کرنی چاہئے۔ کسی چیز کو رہنے  نہ دو تمہیں  تمام مردوں  عورتوں  اور ان کے  بچوں  کو مار ڈالنا چاہئے۔ تم کو ان کی گائیں  بکریاں  اور اونٹوں  اور گدھوں  کو بھی مار دینا چاہئے۔ ”

4 ساؤل نے  اپنی فوج کو طلائم پر جمع کیا جہاں  پر وہ سب ۰۰۰۰ ۲۰ ہزار پیدل سپاہی اور ۰۰۰ ۱۰ ہزار آدمی  جو یہوداہ سے  تھے۔

5 تب ساؤل شہر عمالیق گیا اور خشک ندی میں  گھات لگا یا۔

6 ساؤل نے  قینی کے  لوگوں  سے  کہا ” چلو جاؤ عمالیقیوں  کو چھوڑ دو تب میں  تم لوگوں  کو عمالیقیوں  کے  ساتھ تباہ نہیں  کروں  گا۔ تم لوگوں  نے  اسرئیلیوں  پر مہربانی کی جب وہ مصر سے  باہر آئے  تھے۔ ” اس لئے  قینی کے  لوگوں  نے  عمالیقیوں  کو چھوڑا۔

7 ساؤل نے  عمالیقیوں  کوشکست دی۔ وہ ان سے  لڑا اور ان کا پیچھا حویلہ سے  شور تک کیا جو مصر کی سرحد پر ہے۔

8 اجاج عمالیقیوں  کا بادشاہ تھا۔ساؤل نے  اجاج کو زندہ گرفتار کیا۔ ساؤل نے  اجاج کو زندہ چھوڑا لیکن اجاج کی فوج کے  تمام آدمیوں  کو مار ڈالا۔

9 ساؤل اور اسرائیلی سپاہیوں  نے  ہر ایک چیز کو تباہ کرنا نہیں  چا ہا اس لئے  ان لوگوں  نے  اجاج اور سب سے  اچھے  بھیڑوں  مویشیوں  اور جو کچھ بھی اچھا تھا اسے  زندہ چھوڑ دیا۔ یعنی کہ جانوروں  کو جو فائدہ مند تھے  اسے  زندہ رکھا اور جو کمزور اور بیکار تھے  انہیں  تباہ کر دی۔

10 تب سموئیل کو خداوند سے  ایک پیغام ملا۔

11 خداوند نے  کہا ” ساؤل نے  میرے  کہنے  پر عمل کرنا چھوڑ دیا۔ اس لئے  میں  رنجیدہ ہوں  کہ میں  نے  اس کو بادشاہ بنا یا۔ میں  جو کچھ اس کو کہتا ہوں  وہ نہیں  کر رہا ہے۔ ” تب سموئیل بہت غصہ میں  آیا اور خداوند کو پوری رات پکا را۔

12 سموئیل دوسری صبح جلد اٹھا اور وہ ساؤل سے  ملنے  گیا۔ لیکن لوگوں  نے  سموئیل سے  کہا ” ساؤل یہوداہ میں  کرمِل نامی شہر کو گیا۔ ساؤل وہاں  اپنی یادگار میں  پتھر نصب کرنے  گیا۔ساؤل نے  کئی جگہوں  کا سفر کرتے  ہوئے  آخر کار جلجال چلا گیا ” اس لئے  سموئیل وہیں  گیا جہاں  ساؤل تھا۔ ساؤل نے  ابھی عمالیقیوں  سے  لی گئی مال غنیمت کا پہلا حصہ ہی نذر چڑھا یا تھا۔ وہ انچیزوں  کو جلانے  کی قربانی کے  طور پر خداوند کو چڑھا رہا تھا۔

13 سموئیل ساؤل کے  پاس گیا اور ساؤل نے  سلام کیا۔ ساؤل نے  کہا ” خداوند تم پر فضل کرے۔ ” میں  نے  خداوند کے  احکامات کی تعمیل کی۔”

14 لیکن سمو ئیل نے  کہا ” وہ کونسی آواز ہے  جو میں  سن رہا ہوں۔ میں  مویشیوں  کی آٰواز سننے  کے  لئے  کیوں  ٹھہروں۔”

15 ساؤل نے  کہا ” سپاہیوں  نے  انہیں  عمالیقیوں  سے  لیا ہے۔ سپاہیوں  نے  بہترین بھیڑ اور مویشیوں  کو خداوند کے  واسطے  جلانے  کی قربانی پیش کرنے  کے  لئے  بچا یا ہے۔ لیکن ہم نے  اس کے  سوا ہر چیز تباہ کر دی ہے۔ ”

16 سموئیل نے  ساؤل سے  کہا ” ٹھہرو! میں  تجھے  بتاؤں  گا کہ گذشتہ رات خداوند نے  مجھ سے  کیا کہا۔” ساؤل نے  جواب دیا” اچھا! تو کہو کیا اس نے  کہا؟”

17 سموئیل نے  کہا ” زمانہ ماضی میں  تم نے  سوچا تھا کہ تم اہم آدمی  نہیں  ہو۔ لیکن پھر بھی تم اسرائیل کے  خاندانی گروہ کے  قائد ہوئے۔ خداوند نے  بھی اسرائیل پر تمہیں  بادشاہ چُنا۔

18 خداوند نے  تمہیں  حکموں  کے  ساتھ باہر بھیجا اس نے  حکم دیا ‘ جاؤ اور تمام عمالیقیوں  کو تباہ کرو۔ وہ بُرے  لوگ ہیں  ان تمام کو تباہ ہو جانے  دو۔ ان سے  لڑو جب تک کہ وہ پو رے  مارے  نہ جائیں۔’

19 لیکن تم نے  خداوند کی کیوں  نہیں  سُنی تم نے  لوٹ کے  مال کو جھپٹ لیا اس لئے  تم نے  وہ کیا جس کو خداوند نے  بُرا سمجھا۔”

20 ساؤل نے  سموئیل سے  کہا ” لیکن میں  نے  خداوند کی اطاعت کی جہاں  خداوند نے  بھیجا میں  وہاں  گیا۔ میں  نے  عمالیقی بادشاہ اجاج کو گرفتار کیا اور عمالیقیوں  کو تباہ کیا۔

21 اور سپاہیوں  نے  جلجال سے  ان کے  بہترین بھیڑیں  اور مویشی خداوند اپنے  خدا کی قربانی کی نذر کے  لئے  لیں۔

22 لیکن سموئیل نے  جواب دیا ” خداوند کس چیز سے  زیادہ خوش ہوتا ہے۔ جلانے  کے  نذرانے  اور قربانی سے  یا خداوند کے  احکامات کی فرمانبرداری سے ؟ ” اس کو قربانی پیش کرنے  سے  بہتر ہے  کہ خدا کی اطاعت کریں۔ خدا کو ایک فربہ مینڈھے  کی قربانی دینے  سے  بہتر ہے  کہ خدا کے  کہنے  کو سنیں۔

23 خداوند کی فرمانبرداری سے  انکار کرنا اتنا ہی خراب ہے  جتنا کہ جا دو کا گناہ کرنا اور غیب دانی کرنا ضدّی اور مغرور رہنا اتنا ہی بُرا ہے  جتنا کہ بُتوں  کی پرستش کرنے  کا گناہ کرنا۔ تم نے  خداوند کے  احکامات کی فرمانبرداری سے  انکار کر کے  ان کا نا فرمان رہا۔ اس لئے  خداوند نے  تمہیں  بھی بادشاہ ہونے  سے  روک دیا۔”

24 تب ساؤل نے  سموئیل سے  کہا ” میں  گناہ کیا ہوں  کیوں  کہ میں  نے  خداوند کے  احکامات اور تمہاری ہدایت کی خلاف ورزی کی۔ اصل میں  لوگوں  سے  خوفزدہ تھا اس لئے  میں  نے  وہ کیا جو انہوں  نے  چا ہا۔

25 اس لئے  اب میں  تم سے  استدعا کرتا ہوں  میرے  گناہوں  کو معاف کرو! میرے  ساتھ آؤ خداوند کی عبا دت کرو۔”

26 لیکن سموئیل نے  ساؤل سے  کہا ” میں  تمہارے  ساتھ واپس جانا نہیں  چاہتا۔ تم نے  خداوند کے  احکام سے  انکار کیا اور اب خداوند تمہیں  اسرائیل کا بادشاہ ہونے  سے  انکار کرتا ہے۔ ”

27 جب سموئیل جانے  کے  لئے  پلٹا ساؤل نے  سموئیل کا چغہ جھپٹ کر پکڑا اور چغہ پھٹ گیا۔

28 سموئیل نے  ساؤل سے  کہا ” تم نے  آج میرا چغہ پھاڑ دیا اسی طرح خداوند نے  آج تمہاری اسرائیل کی بادشاہت پھاڑ دی۔ خداوند نے  تمہارے  دوستوں  میں  سے  ایک کو بادشاہت دے  دی ہے۔ جو کہ تم سے  بہتر ہے۔

29 اس کے  علاوہ اسرائیل کا خداوند جو ابد الآ باد ہے  نہ کبھی دھو کہ دیتا ہے  اور نہ کبھی اپنا ذہن بدلتا ہے  وہ انسان نہیں  ہے  کہ وہ اپنا ذہن بدلے۔ ”

30 ساؤل نے  جواب دیا ” ہاں  میں  نے  گناہ کیا لیکن براہِ کرم میرے  ساتھ واپس آؤ۔ بنی اسرائیلیوں  اور قائدین کے  سامنے  مجھے  عزت دو۔ میرے  ساتھ واپس آؤ تا کہ میں  خداوند تمہارے  خدا کی عبادت کروں۔ ”

31 سموئیل ساؤل کے  ساتھ واپس گیا اور ساؤل نے  خداوند کی عبادت کی۔

32 سموئیل نے  کہا ” عمالیقیوں  کے  بادشاہ اجاج کو میرے  پاس لاؤ۔” اجاج سموئیل کے  پاس آیا۔ اجاج زنجیروں  سے  بندھا تھا ” اجاج نے  سوچا یقیناً اب موت کا خطرہ ٹل گیا۔”

33 لیکن سموئیل نے  اجاج سے  کہا ” تمہاری تلواروں  نے  بچوں  کو ان کی ماؤں  سے  چھینا ہے  اس لئے  اب تمہاری ماں  کا بچہ نہ رہے  گا ” اور جلجال میں  سموئیل نے  خداوند کے  سامنے  اجاج کے  ٹکڑے  ٹکڑے  کر دیئے۔

34 تب سموئیل رامہ چلا گیا اور ساؤل واپس اپنا گھر جبعہ چلا گیا۔

35 اس کے  بعد سموئیل نے  ساؤل کو دوبارہ کبھی زندگی بھر نہ دیکھا۔ سموئیل ساؤل کے  لئے  بہت رنجیدہ تھا اور خداوند کو بہت افسوس تھا کہ اس نے  ساؤل کو اسرائیل کا بادشاہ بنا یا۔

 

 

 

باب:  16

 

 

1 خداوند نے  سموئیل سے  کہا ” کب تک تم ساؤل کے  لئے  رنجیدہ ہو گے ؟ میرے  یہ کہنے  کے  بعد بھی کہ میں  ساؤل کا اسرائیل کا بادشاہ ہونے  سے  انکار کرتا ہوں  تم اس کے  لئے  رنجیدہ ہو۔ اپنا سینگ تیل سے  بھرو اور بیت اللحم کو جاؤ۔ میں  تم کو یستی نامی ایک آدمی  کے  پاس بھیج رہا ہوں۔ یسی بیت اللحم میں  رہتا ہے  میں  اس کے  بیٹوں  میں  سے  ایک کو نیا بادشاہ چُنا ہوں۔”

2 لیکن سموئیل نے  کہا ” میں  نہیں  جا سکتا اگر ساؤل یہ خبر سنے  گا تب وہ مجھے  ہلاک کرنے  کی کوشش کرے  گا۔” خداوند نے  کہا ” بیت اللحم جاؤ اپنے  ساتھ ایک بچھڑا لے  جاؤ اور کہو! میں  خداوند کو قربانی دینے  کے  لئے  آیا ہوں۔’

3 یسی کو قربانی پر مدعو کرو۔ تب میں  تمہیں  بتاؤں  گا کہ کیا کرنا ہے۔ تمہیں  اس آدمی  پر جسے  میں  بتاؤں  گا تیل چھڑکنا چاہئے۔ ”

4 سموئیل نے  وہی کیا جو خداوند نے  اسے  کرنے  کو کہا تھا۔ سموئیل بیت اللحم گیا۔ بیت اللحم کے  بزرگ ( قائدین ) ڈرسے  کانپ گئے  وہ سموئیل سے  ملے  اور پو چھے   ‘ کیا آپ  صلح کا پیغام لے  کر آئے  ہیں ؟ ”

5 سموئیل نے  جواب دیا ” ہاں ! میں  صلح کے  خیال سے  خداوند کو قربانی نذر کرنے  کے  لئے  آیا ہوں۔ اپنے  آپ  کو تیار کرو اور آؤ میرے  ساتھ قربانی پیش کرنے  میں  حصہ لو۔” تب سموئیل نے  یسّی کو اور اس کے  بیٹوں  کو پاک کیا اور قربانی کی نذر کے  لئے  مدعو کیا۔

6 جب یسیّ اور اس کے  بیٹے  آئے  تو سموئیل نے  الیاب کو دیکھا ” سموئیل نے  سو چا یقیناً یہی وہ آدمی  ہے  جسے  خداوند نے  چنا ہے۔ ”

7 لیکن خداوند نے  سموئیل سے  کہا ” الیاب طویل القامت اور خوبصورت ہے۔ لیکن اس کے  بارے  میں  ایسا مت سوچو کہ بہ لمبا ہے۔ خدا ان چیزوں  کو نہیں  دیکھتا جو لوگ دیکھتے  ہیں۔ لوگ صرف آدمی  کا ظاہر دیکھتے  ہیں  لیکن خداوند اس کے  دل کو دیکھتا ہے۔ الیاب صحیح آدمی  نہیں  ہے۔ ”

8 تب یسی نے  اس کے  دوسرے  لڑکے  ابینداب کو بُلا یا۔ ابینداب سموئیل کے  پاس آیا لیکن سموئیل نے  کہا ” نہیں  یہ وہ آدمی  نہیں  جسے  خداوند نے  چُنا ہے  ”

9 تب یسی نے  سمّہ سے  کہا کہ وہ سموئیل کے  پاس آئے  لیکن سموئیل نے  کہا ” نہیں  خداوند نے  اس آدمی  کو بھی نہیں  چُنا ہے۔ ”

10 یسّی نے  اپنے  ساتوں  بیٹوں  کو سموئیل کو دکھا یا لیکن سموئیل نے  یسی سے  کہا ” خداوند نے  ان میں  سے  کسی کو بھی نہیں  چُنا ہے۔ ”

11 تب سموئیل نے  یسی سے  کہا ” کیا تمہارے  سارے  بیٹے  ہیں ؟ ” یسی نے  جواب دیا نہیں  میرا اور بھی ایک چھوٹا بیٹا ہے  لیکن وہ باہر ہے  اور بھیڑوں  کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ سموئیل نے  کہا ” اس کو بُلاؤ یہاں  لے  آؤ ہم کھانے  کے  لئے  نہیں  بیٹھیں  گے  جب تک وہ یہاں  نہ آئے۔ ”

12 یسی نے  کسی کو اپنے  چھوٹے  بیٹے  کو بُلانے  بھیجا۔ یہ بیٹا سُرخ چہرہ وا لا نوجوان تھا اور اس کی آنکھیں  خوبصورت تھیں  دراصل وہ بہت ہی خوبصورت تھا۔ خداوند نے  سموئیل سے  کہا ” اٹھو اور اسے  مسح ( چنو) کرو وہ شخص یہی ہے۔ ”

13 سموئیل نے  سینگ لیا جس میں  تیل تھا اور خاص تیل کو یسی کے  چھوٹے  بیٹے  پر اس کے  بھا ئیوں  کے  سامنے  چھڑکا۔ خداوند کی رُوح عظیم طاقت کے  ساتھ اس دن داؤد پر آئی۔ تب سموئیل را مہ کو اپنے  گھر واپس گیا۔

14 خداوند کی روح نے  ساؤل کو چھوڑا تب خداوند نے  ایک بد روح کو ساؤل پر بھیجا جس نے  اس کو بہت تکلیف دی۔

15 ساؤل کے  خادموں  نے  اس کو کہا ” خدا کی طرف سے  ایک بد روح تم کو پریشان کر رہی ہے۔

16 ہم کو حکم دو تاکہ ہم کسی کو تلاش کریں  جو بربط بجاتا ہو۔ اگر بد روح خداوند کی طرف سے  تم پر آتی ہے  تو یہ آدمی  جب بربط بجائے  گا اور وہ بد روح تم کو چھوڑ دے  گی اور تم خود کو بہتر محسوس کرو گے۔ ”

17 اس لئے  ساؤل نے  اپنے  خادموں  سے  کہا ” جاؤ اور ایک ایسے  آدمی  کو تلاش کرو جو اچھی طرح بربط بجاس کے   اور اسے  میرے  پاس لاؤ۔”

18 خادموں  میں  سے  ایک نے  کہا ” ایک آدمی  کو میں  جانتا ہوں  جس کا نام یسّی ہے  بیت اللحم میں  رہتا ہے۔ میں  نے  یسّی کے  بیٹے  کو دیکھا وہ اچھی طرح سے  بربط بجا سکتا ہے۔ وہ بہادر بھی ہے  اور اچھی طرح لڑتا ہے۔ وہ ہوشیار ہے  اور خوبصورت ہے  اور خداوند اس کے  ساتھ ہے۔ ”

19 اس لئے  ساؤل نے  یسّی کے  پاس قاصد بھیجے۔ انہوں  نے  یسّی سے  کہا ” تمہارا ایک لڑ کا داؤد نام کا ہے  جو تمہاری بھیڑوں  کی رکھوالی کرتا ہے  اس کو میرے  پاس بھیجو۔”

20 پھر یسّی نے  ساؤل کے  لئے  کچھ تحفہ تیاّر کئے۔ یسّی نے  ایک گدھا کچھ روٹی اور مئے  کی بوتل اور بکری کا بچہ لیا۔ یسّی نے  وہ چیزیں  داؤد کو دیں  اور اس کو ساؤل کے  پاس بھیجا۔

21 اس طرح داؤد ساؤل کے  پاس گیا اور اس کے  سامنے  کھڑا ہوا۔ ساؤل نے  داؤد کو بہت چاہا پھر ساؤل نے  داؤد کو اپنا مدد گار بنا لیا۔

22 ساؤل نے  یسّی کو خبر بھیجی کہ داؤد کو میری خدمت کے  لئے  رہنے  دو میں  اس کو بہت پسند کرتا ہوں

23 جب کسی بھی وقت خدا کی طرف سے  بد روح ساؤل پر آتی تو داؤد اس کی بربط لے  کر بجاتا۔ بد روح ساؤل کو چھوڑ دیتی اور وہ بہتر محسوس کرتا۔

 

 

 

باب:  17

 

 

1 فلسطینیوں  نے  اپنی فوجوں  کو ایک ساتھ جنگ کے  لئے  جمع کئے۔ وہ یہوداہ میں  شوکہ میں  ملے۔ ان کا خیمہ شوکہ اور غریقہ کے  درمیان افسد میم شہر میں  تھا۔

2 ساؤل اور اسرائیلی سپاہی اکٹھے  ہوئے۔ ان کا خیمہ ایلہ کی وادی میں  تھا۔ اسرائیل کے  سپاہیوں  نے  فلسطینیوں  کے  خلاف لڑنے  کے  لئے  صف آرائی کی۔

3 فلسطینی ایک پہاڑی پر تھے۔ اسرائیلی دوسری پہاڑی پر تھے  اور دونوں  کے  درمیان ایک وادی تھی۔

4 فلسطینیوں  کے  خیمہ میں  ایک غیر معمولی سپاہی تھا اس کا نام جو لیت تھا۔ وہ جات کا تھا۔ وہ نو فیٹ سے  زیادہ اونچا تھا۔ وہ فلسطینی خیمہ سے  باہر آیا۔

5 اس کے  سر پر کانسے  کا ٹوپا (ہلمیٹ) تھا۔ وہ مچھلی کی کھال نُما زرہ بکتر پہنے  ہوئے  تھا۔ یہ زرہ بکتر کانسے  کا تھا اور ۱۲۵ پاؤنڈ وزنی تھا۔

6 جو لیت اپنے  پیروں  پر کانسے  کے  حفاظتی زرہ بکتر پہنے  ہوئے  تھا۔ اس کے  پاس کانسے  کا بھا لا تھا جو اس کی پیٹھ پر بندھا ہوا تھا۔

7 جو لیت کے  بھالے  کی لکڑی والا حصہ جولاہے  کی لکڑی کے  ڈنڈا کی طرح بڑا تھا۔ بھالے  کا پھل پندرہ پاؤنڈ وزنی تھا۔ جو لیت کے  مدد گار اس کے  سامنے  ڈھال کو لئے  چل رہے  تھے۔

8 ہر روز جولیت باہر آتا اور اسرائیلی سپاہیوں  کو پکار کر للکارتا ” تمہارے  سپاہی قطار باندھے  کیوں  جنگ کے  لئے  تیّار کھڑے  ہیں ؟ تم ساؤل کے  خادم ہو۔ میں  فلسطینی ہوں  اس لئے  ایک آدمی  کو چنو اور اس کو مجھ سے  لڑنے  کے  لئے  بھیجو۔

9 اگر وہ آدمی  مجھے  مار دے  تو ہم فلسطینی تمہارے  غلام ہوں  گے۔ لیکن میں  اگر تمہارے  آدمی  کو مار دوں  تب میں  جیتا اور تم ہمارے  غلام ہو گے  تم کو ہماری خدمت کرنی ہو گی۔”

10 فلسطینیوں  نے  یہ بھی کہا ” آج میں  یہاں  کھڑا ہوں  اور اسرائیلی فوجوں  کو رسوا کر رہا ہوں  اور للکار رہا ہوں۔ اپنے  درمیان میں  سے  ایک آدمی  کو چنو اور میرے  ساتھ لڑنے  کے  لئے  اسے  بھیجو۔”

11 ساؤل اور اسرائیلی سپاہیوں  نے  جولیت نے جو کہا وہ سُنا اور وہ بہت ڈر گئے۔

12 داؤد یسّی کا بیٹا تھا۔ یسّی بیت اللحم کے  افراد خاندان سے  تھا۔ یسّی کے  آٹھ بیٹے  تھے۔ ساؤل کے  زمانے  میں  یسی بوڑھا آدمی  تھا۔

13 یسی کے  تین بڑے  بیٹے  ساؤل کے  ساتھ جنگ پر گئے  تھے۔ پہلا بیٹا الیاب تھا۔ دوسرا بیٹا ابینداب تھا اور تیسرا بیٹا سمّہ تھا۔

14 داؤد یسی کا سب سے  چھوٹا بیٹا تھا۔ تین بڑے  بیٹے  ساؤل کی فوج میں  پہلے  ہی سے  تھے۔

15 لیکن داؤد نے  کبھی کبھی ساؤل کو چھوڑ کر بیت اللحم میں  اپنے  باپ کی بھیڑوں  کی رکھوالی کرنے  کے  لئے  چلا جاتا۔

16 فلسطینی ( جو لیت ) ہر صبح و شام باہر آتا اور اسرائیلی فوج کے  سامنے  کھڑا رہتا۔ جو لیت اس طرح اسرائیل کا چالیس دن تک مذاق اُڑاتا رہا۔

17 ایک دن یسی نے  اپنے  بیٹے  داؤد سے  کہا ” یہ پکے  اناج کی ٹوکری لو اور یہ دس روٹی کے  ٹکڑے  اپنے  بھائیوں  کے  لئے  خیمہ میں  لے  جاؤ۔

18 اور دس ٹکڑے  پنیر کے  بھی افسروں  کے  لئے  جو تمہارے  بھائیوں  کے  ۱۰۰۰ سپاہیوں  پر حاکم ہیں  لے  جاؤ۔ دیکھو تمہارے  بھائی کیا کر رہے  ہیں۔ اس لئے  کچھ ایسی چیزیں  لاؤ جس سے  مجھے  پتہ چلے  کہ تمہارے  بھائی ٹھیک ٹھاک ہیں۔

19 تمہارے  بھائی ساؤل کے  ساتھ ہیں  اور تمام اسرائیلی سپاہی ایلہ کی وادی میں  ہیں۔ وہ وہاں  فلسطینیوں  کے  خلاف لڑتے  ہیں۔”

20 صبح سویرے  داؤد نے  دوسرے  چرواہے  کو بھیڑوں  کی رکھوالی کرنے  کو دی۔ داؤد نے  کچھ کھانے  کو لیا اور یسّی کے  حکم کے  مطابق ایلہ کی وادی کی طرف نکل پڑا۔ جب داؤد خیمہ میں  پہنچا تو سپاہی جو جنگ کے  لئے  با ہر نکل رہے  تھے  جنگ کے  لئے  للکارا۔

21 اِسرائیلی اور فلسطینی قطار باندھے  جنگ کے  لئے  تیّار تھے۔

22 داؤد نے  کھانے  اور دوسر ی اشیاء کو اس آدمی  کے  پاس چھوڑا جو رسدوں  کی نگہبانی کرتا تھا۔ اور وہ اس جگہ دوڑا جہاں  اسرائیلی سپاہی تھے۔ اس نے  اپنے  بھا ئیوں  کی خیر و عافیت کے  متعلق پو چھا۔

23 جب وہ اپنے  بھا ئیوں  سے  باتیں  کر رہا تھا۔ فلسطینی فوج کا بہادر سپاہی جو لیت جو کہ جات کا تھا فلسطینی فوجی صفوں  سے  نکل کر وہاں  آیا۔ وہ اسرائیلیوں  کو پھر للکار رہا تھا کسی آدمی  کو میرے  ساتھ لڑنے  کو بھیجو۔ داؤد نے  اس کی باتوں  کو سُنا۔

24تا ہم جب اسرائیلی سپاہیوں  نے  اسے  دیکھا تو اس کے  پاس بھا گے  کیوں  کہ وہ لوگ اس سے  خوفزدہ تھے۔

25 ایک اسرائیلی آدمیوں  نے  کہا ” کیا تم نے  اس کو دیکھا ہے ؟ ” دیکھو اس کو وہ جولیت ہے۔ وہ باہر آتا ہے  اور اسرائیلیوں  کا بار بار مذاق اُڑاتا ہے۔ جو کوئی اس کو مارے  گا امیر ہو جائے  گا۔ بادشاہ ساؤل اس کو بہت ساری رقم دے  گا۔ اور اپنی بیٹی کی شادی بھی اس سے  کرائے  گا جو جولیت کو مار ڈالے  گا۔ اور ساؤل اس آدمی  کے  خاندان کو بھی اسرائیل میں  آزاد رکھے  گا۔”

26 داؤد نے  ان آدمیوں  سے  پو چھا جو اس کے  قریب کھڑے  تھے۔ ” وہ کیا کہتا ہے ؟ اس فلسطینی کو ہلاک کرنے  کا اور اس بے  عزتی کا بدلہ لینے  کا کیا انعام ہے ؟ آخر یہ جو لیت ہے  کون؟ وہ تو صرف ایک اجنبی ہے۔ جو لیت کوئی بھی نہی لیکن فلسطینی ہے۔ وہ ایسا کیوں  سوچتا ہے  کہ وہ زندہ خدا کی فوج کے  خلاف کہے۔ ”

27 اِسرائیلیوں  نے  داؤد سے  انعام کے  متعلق کہا کہ جو آدمی  جولیت کو مارے  گا وہ انعام پائے  گا۔

28 داؤد کے  بڑے  بھائی الیاب نے  سُنا کہ داؤد سپاہیوں  سے  باتیں  کر رہا ہے۔ الیاب داؤد پر غصّہ ہوا۔ اور اُس سے  پو چھا ” تم یہاں  کیوں  آئے  ہو؟ کچھ بھیڑوں  کو تم نے  صحرا میں  کس کے  ساتھ چھوڑا ہے ؟ میں  جانتا ہوں  تم یہاں  کس منصوبے  سے  آئے  ہو۔ تم نے  وہ کرنا نہیں  چاہا جو تمہیں  کرنے  کو کہا گیا تھا میں  جانتا ہوں  کہ تمہارا دل کتنا شریر ہے ! تم یہاں  صرف جنگ کا نظارہ کرنے  آئے  ہو۔”

29 داؤد نے  کہا ” ایسا میں  نے  کیا کیا؟ ” میں  نے  کوئی غلطی نہیں  کی میں  صرف باتیں  کر رہا تھا۔”

30 داؤد چند دوسرے  لوگوں  کی طرف پلٹا اور ان سے  وہی سوال کیا؟ انہوں  نے  داؤد کو وہی پہلے  کی طرح جوابات دیئے

31 جو باتیں  داؤد نے  کہا تھا کچھ آدمیوں  نے  سن لیا تھا اور اس کی اطلاع ساؤل کو کر دی گئی تھی تب ساؤل نے  داؤد کو بلا بھیجا۔

32 داؤد نے  ساؤل سے  کہا ” اس آدمی  کی وجہ سے  کسی کی ہمت پست نہ ہونے  دو۔ میں  تمہارا خادم ہوں  کیا میں  جاؤں  گا اور اس فلسطینی کے  خلاف لڑوں  گا؟

33 ساؤل نے  جواب دیا ” تم باہر نہیں  جا سکتے  اور فلسطینی ( جولیت ) سے  نہیں  لڑ سکتے۔ تم تو صرف ایک لڑ کا ہو اور جو لیت جب بچہ تھا تب سے  جنگیں  لڑتا رہا ہے۔ ”

34 لیکن داؤد نے  ساؤل کو کہا ” میں ! آپ  کا خادم اپنے  باپ کے  بھیڑوں  کی رکھوالی کر رہا تھا۔ ایک بار ایک شیر اور ایک ریچھ نے  میرے  بھیڑوں  پر حملہ کیا جھنڈ میں  سے  ایک بھیڑ کولے  گیا۔

35 میں  نے  ان جنگلی جانوروں  کا پیچھا کیا میں  نے  ان پر حملہ کیا اور اُن کے  منھ سے  بھیڑ کولے  لیا۔ وہ جنگلی جانور مجھ پر حملہ آور ہوا لیکن میں  نے  اس کی گردن کے  نیچے  پکڑا اور اُس کو مار ڈالا۔

36 اگر میں  ایک شیر اور ایک ریچھ دونوں  کو مار نے  کے  قابل ہوں  تو یقیناً ہی اس اجنبی جو لیت کو بھی مار نے  کے  قابل ہوں۔ جولیت مارا جائے  گا کیوں  کے  اس نے  زندہ خدا کی فوج کا مذاق اُڑا یا ہے۔

37 تب داؤد نے  کہا ” خداوند نے  مجھے  شیر اور ریچھ سے  بچا یا اور وہی ایک ہے  جو مجھے  اس فلسطینی سے  بچائے  گا۔ ساؤل نے  داؤد سے  کہا ” جاؤ! خداوند تمہارے  ساتھ ہو۔”

38 ساؤل نے  اپنا کپڑا داؤد پر ڈالا ساؤل نے  کانسے  کا ٹوپ داؤد کے  سر پر رکھا اور زرّہ بکتر اس کے  جسم پر پہنایا۔

39 تب داؤد نے  اپنی تلوار اپنے  زرہ بکتر کے  اوپر باندھا۔ تب وہ چلنے  کی کوشش کی لیکن اس نے  اسے  کبھی استعمال نہیں  کیا تھا۔ داؤد نے  ساؤل سے  کہا ” میں  ان چیزوں  کے  ساتھ چل نہیں  سکتا کیوں  کہ میں  ان کو کبھی استعمال نہیں  کیا ہوں۔” تب داؤد نے  ان سب چیزوں  کو نکال دیا۔

40 داؤد نے  اپنی چھڑی ہاتھوں  میں  لی ندی سے  اس نے  پانچ چکنے  پتھر چُنے  اور اسے  اپنے  چرواہی کے  تھیلا میں  رکھا۔ غلیل کو ہاتھ میں  رکھ لیا اور پھر وہ فلسطینی کے  پاس پہنچا۔

41 فلسطینی ( جولیت ) دھیرے  دھیرے  داؤد کے  قریب آتا گیا۔ جو لیت کے  مددگار اس کے  سامنے  ڈھال لئے  چل رہے  تھے۔

42 جولیت نے  داؤد کو دیکھا اور ہنسا۔ جولیت نے  دیکھا کہ داؤد ایک خوبصورت سرخ چہرہ والا لڑ کا ہے۔

43 جولیت نے داؤد سے  کہا ” یہ چھڑی کس لئے  لے  جا رہے  ہو؟ کیا تم ایک کتے  کی طرح میرا پیچھا کرنے  آئے  ہو؟ ” تب جولیت نے  اپنے  دیوتاؤں  کا  نام لے  کر اس پر لعنت کیا۔

44 جولیت نے  داؤد سے  کہا ” یہاں  آؤ! ا تاکہ میں  تمہارے  جسم کو ٹکڑوں  میں  پھاڑ سکوں  جو جنگلی جانوروں  اور پرندوں  کے  لئے  خوراک ہو گی۔”

45 داؤد نے  فلسطینی ( جو لیت) سے  کہا ” تم میرے  پاس تلوار برچھا اور بھا لا کے  ساتھ آئے  ہو لیکن میں  تمہارے  پاس اسرائیلی فوج کے  خدا خداوند قادر مطلق کے  نام پر آیا ہوں  جس کا تم مذاق اڑا رہے  ہو۔

46 آج خداوند تم کو میرے  ذریعہ شکست دے  گا۔ میں  تم کو مار ڈالوں  گا۔آج میں  تمہارا سر کا ٹوں  گا۔ تمہارے  جسم کو فلسطینی سپاہیوں  کی لاشوں  کے  ساتھ پرندوں  اور جنگلی جانوروں  کے  سامنے  ان کے  خوراک کے  لئے  رکھا جائے  گا۔ تب پوری دنیا جانے  گی کے  اسرائیل میں  ایک خدا ہے۔

47 سب لوگ جو یہاں  جمع ہیں  جان لیں  گے  کہ خداوند کو لوگوں  کو بچانے  کے  لئے  تلواروں  اور برچھوں  کی ضرورت نہیں  یہ جنگ خداوند کے  متعلق ہے۔ اور خداوند تم سب فلسطینیوں  کو شکست دینے  کے  لئے  ہماری مدد کرے  گا۔”

48 اور جب فلسطینی داؤد پر حملہ کرنے  اٹھا اور داؤد پر حملہ کرنے  کے  لئے  اس کے  پاس پہنچا تو داؤد جو لیت سے  ملنے  جنگ کے  میدان کی طرف تیزی سے  دوڑا۔

49 داؤد اپنے  تھیلے  سے  ایک پتھر لیا اور اس کو غُلیل میں  رکھا اور اسے  چلا دیا۔ پتھر غُلیل سے  نکلا اور جو لیت کی پیشانی پر لگا۔ پتھر اس کے  سر میں  گھس گیا اور جو لیت اوندھے  مُنہ زمین پر گر گیا۔

50 اس طرح داؤد نے  فلسطینی کو صرف ایک غلیل اور ایک پتھر سے  شکست دی۔ اس نے  فلسطینی کو چوٹ مارا اور اس کا قتل کر ڈالا۔ داؤد کے  پاس تلوار نہ تھی۔

51 اس لئے  وہ دوڑا اور فلسطینی کے  پیچھے  کھڑا ہو ا۔ تب داؤد نے  جو لیت ہی کی تلوار اس کی نیام سے  لی اور جولیت کا سر کاٹ دیا اور اس طرح داؤد فلسطینی کو مار ڈالا۔ جب دوسرے  فلسطینیوں  نے  دیکھا کہ ان کا ہیرو مر گیا اور پلٹے  اور بھا گے۔

52 اسرائیل اور یہوداہ کے  سپاہی اپنی جنگ کا نعرہ لگاتے  ہوئے  فلسطینیوں  کا جات کی سر حد اور عقرون کے  داخلہ تک پیچھا کئے۔ انہوں  نے  بہت سے  فلسطینیوں  کو مار ڈالا۔ ان کی لاشیں  شعریم کے  سڑکوں  سے  لے  کر جات اور عقرون تک بکھری پڑی تھیں۔

53 فلسطینیوں  کا پیچھا کرنے  کے  بعد اسرائیلی فلسطینی خیمہ میں  واپس آئے  اور کئی چیزوں  کو خیمہ سے  لے  لی۔

54 داؤد فلسطینی کے  سر کو یروشلم لے  گیا۔ داؤد نے  فلسطینی کے  ہتھیاروں  کو اپنے  خیمہ میں  رکھا۔

55 ساؤل نے  داؤد کو جولیت سے  لڑنے  کے  لئے  جاتے  دیکھا تو ساؤل نے  فوج کے  سپہ سالارا بنیر سے  کہا ” ابنیر  اس نوجوان کا باپ کون ہے ؟ ” ابنیر  نے  جواب دیا ” جناب میں  قسم کھا کر کہتا ہوں  میں  نہیں  جانتا۔”

56 بادشاہ ساؤل سے  کہا ” معلوم کرو کہ اس نوجوان کا باپ کون ہے ؟ ”

57 جب داؤد جو لیت کو مار کر واپس آیا۔ ابنیر  اس کو ساؤل کے  پاس لا یا۔ داؤد اب تک فلسطینی کا سر پکڑے  ہوئے  ہی تھا۔

58 ساؤل نے  اس کو پو چھا ” نوجوان تمہارا باپ کون ہے ؟ ” داؤد نے  جواب دیا ” میں  تمہارے  خادم بیت اللحم کے  یسّی کا بیٹا ہوں۔

 

 

باب:  18

 

 

1 جب داؤد ساؤل سے  اپنی باتیں  ختم کی یونتن داؤد کا دوست ہو گیا۔ وہ داؤد کو اتنا چاہتا جتنا کہ وہ اپنے  آپ  کو۔

2 ساؤ ل نے  اس دن سے  داؤد کو اپنے  ساتھ رکھا۔ ساؤل نے  داؤد کواس کے  باپ کے  پاس واپس گھر جانے  نہ دیا۔

3 یُونتن داؤد کو بہت چاہتا تھا۔ یونتن نے  داؤد سے  ایک معاہدہ کیا۔

4 یونتن نے  اپنا کو ٹ جو پہنے  ہوئے  تھے  داؤد کو دیا۔ وہ اس کو اپنی وردی بھی دے  دی۔ یونتن نے  اس کو اپنی کمان تلوار اور اپنا کمر بند بھی دے  دیئے۔

5 ساؤل نے  داؤد کو لڑنے  کے  لئے  مختلف جنگوں  پر بھیجا۔ اور داؤد بہت ہی کامیاب رہا تب ساؤل نے  داؤد کو سپاہیوں  کا نگراں  کار بنا دیا۔ اس سے  سبھی خوش ہوئے  حتیٰ کہ ساؤل کے  افسران بھی۔

6 داؤد فلسطینیوں  کے  خلاف لڑنے  کے  لئے  باہر جائے  گا۔ جنگ کے  بعد گھر واپسی پر اسرائیل کے  شہر کی عورتیں  داؤد سے  ملنے  آئیں  گی۔ وہ ہنستی ناچتی یا باجے  اور بانسری بجاتی انہوں  نے  یہ سب ساؤل کے  سامنے  کیا۔

7 خوشیاں  مناتے  ہوئے  عورتوں  نے  گانا گیا ” ساؤل نے  ہزاروں  دشمنوں  کو مار ڈالا۔ لیکن داؤد نے  لاکھوں  کو مار دیا۔”

8 عورتوں  کے  گانے  سے  ساؤل پریشان ہوا اور وہ بہت غصّہ میں  آیا۔ ساؤل نے  سوچا ” عورتیں  کہتی ہیں  داؤد نے  لاکھوں  دشمنوں  کو مار دیا اور وہ کہتی ہیں  میں  صرف ہزار دشمنوں  کو ہی مارا ہوں۔ اور اس کو صرف بادشاہت کی کمی ہے۔ ”

9 اس لئے  اس وقت سے  ساؤل نے  داؤد کو نفرت اور حسد کی نگاہ سے  دیکھا۔

10 دوسرے  دن خدا کی طرف سے  ایک بد روح نے  ساؤل کو قابو کیا۔ وہ اپنے  گھر میں  وحشی ہو گیا۔ داؤد نے  بر بط بجایا جیسا انہوں  نے  پہلے  بجا یا تھا۔ اس وقت ساؤل کے  ہاتھوں  میں  برچھا تھا۔

11 ساؤل نے  سو چا ” میں  بھا لا سے  داؤد کو دیوار میں  چپکا دوں  گا۔” ساؤل نے  دو دفعہ داؤد پر بھا لا پھینکا لیکن داؤد دونوں  دفعہ بچ گیا۔

12 ساؤل داؤد سے  ڈرا ہوا تھا۔ کیوں  کہ خداوند داؤد کے  ساتھ تھا اور خداوند نے  ساؤل کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔

13 ساؤل نے  داؤد کو اپنے  پاس سے  دور بھیج دیا۔ ساؤل نے  داؤد کو ۰۰۰ ۱ سپاہیوں  کا سردار بنا یا۔ داؤد نے  جنگ میں  سپاہیوں  کی سرداری کی۔

14 خداوند داؤد کے  ساتھ تھا۔ اس لئے  داؤد ہر چیز میں  کامیاب ہوا۔

15 ساؤل نے   دیکھا کہ داؤد بہت ہی کامیاب ہے  تو ساؤل داؤد سے  بہت ہی زیادہ خوفزدہ ہوا۔

16 لیکن اسرائیل اور یہوداہ کے  تمام لوگ داؤد کو چاہنے  لگے۔ وہ اس کو اس لئے  چاہتے  تھے  کہ وہ جنگوں  میں  ان کی رہنمائی کرتا تھا اور ان کے  لئے  لڑتا تھا۔

17 ساؤل نے  داؤد سے  کہا ” یہاں  میری بڑی بیٹی میرب ہے  میں  اسے  تمہاری بیوی ہونے  کے  لئے  دینا چاہتا ہوں۔ میں  صرف اتنا چاہتا ہوں  کہ تم میرا جنگجو رہو اور میرے  لئے  خداوند کی جنگیں  لڑو۔” یہ ایک چال تھی جو ساؤل نے  نائی تھی۔ اس طرح اس نے  سوچا ” میں  داؤد کو نہیں  ماروں  گا۔ میں  فلسطینیوں  سے  اس کو مروا دوں  گا۔”

18 لیکن داؤد نے  کہا ” میں  نہ تو کوئی اہم خاندان سے  ہوں  اور نہ ہی میں  کوئی اہم آدمی  ہوں  میری ہستی بادشاہ کی لڑ کی سے  شادی کرنے  کی نہیں  ہے۔ ”

19 اس وقت جب ساؤل کی بیٹی کی شادی داؤد سے  ہوئی تھی تب ساؤل نے  خود سے  اس کی شادی محول کے  عدری ایل سے  کر دی۔

20 ساؤل کی دوسری لڑکی میکل داؤد سے  محبت کرتی تھی۔ لوگوں  نے  ساؤل سے  کہا کہ میکل داؤد کو چاہتی ہے۔ اس سے  ساؤل خوش ہوا۔

21 ساؤل نے  سوچا ” میں  میکل کے  ذریعہ ساؤل کو پھانسوں  گا۔ میں  میکل کو داؤد سے  شادی کرنے  دوں  گا اور تب میں  فلسطینیوں  کو اسے  مار نے  دوں  گا۔” اس لئے  ساؤل نے  داؤد سے  دوسری بار کہا ” تم میری بیٹی سے  آج شادی کر سکتے  ہو۔”

22 ساؤل نے  اپنے  افسروں  کو حکم دیا ساؤل نے  انہیں  کہا ” داؤد سے  تنہائی میں  بات کرو۔ اس سے  کہو دیکھو! بادشاہ تمہیں  چاہتا ہے  اس کے  افسر تمہیں  چاہتے  ہیں  تمہیں  اس کی لڑکی سے  شادی کرنی چاہئے۔ ”

23 ساؤل کے  افسروں  نے  داؤد سے  یہ سب باتیں  کہیں  لیکن داؤد نے  جواب دیا ” کیا تم سمجھتے  ہو کہ بادشاہ کا داماد بننا آسان ہے ؟ ” میں  ایک غریب آدمی  ہوں  اور میں  ایک اونچا مرتبہ کا آدمی  نہیں  ہوں۔”

24 ساؤل کے  افسروں  نے  ساؤل سے  جو کچھ داؤد نے  کہا تھا کہہ دیا۔

25 ساؤل نے  اُن سے  کہا ” داؤد سے  یہ کہو کہ اے  داؤد بادشاہ نہیں  چاہتا کہ تم اس کی بیٹی کے  لئے  رقم ادا کرو۔ ساؤل اپنے  دشمنوں  سے  بدلہ لینا چاہتا ہے۔ اس لئے  اس کی بیٹی سے  شادی کرنے  کی قیمت ۱۰۰ فلسطینیوں  کی چمڑیاں  ہیں۔ یہ ساؤل کا خفیہ منصوبہ تھا۔ ساؤل سمجھا کہ فلسطینی داؤد کو مار دیں  گے۔ ”

26 ساؤل کے  افسروں  نے  وہ باتیں  داؤد سے  کہیں۔داؤد خوش ہوا کہ اس کو بادشاہ کا داماد بننے  کا موقع ملا ہے۔ اس لئے  اس نے  جلد ہی کچھ کر دکھا یا۔

27 داؤد اور اس کے  آدمی  فلسطینیوں  سے  لڑنے  باہر گئے۔ انہوں  نے  ۲۰۰ فلسطینیوں  کو ہلاک کیا۔ داؤد نے  ان فلسطینیوں  کی چمڑی کو لا یا اور پورے  کا پو را بادشاہ کو دے  دیا جیسا کہ ضرورت تھیتا کہ وہ بادشاہ کا داماد بن سکے۔ ساؤل نے  داؤد کو اپنی بیٹی میکل سے  شادی کرنے  دی۔

28 ساؤل نے  دیکھا کہ خداوند داؤد کے  ساتھ ہے۔ ساؤل نے  یہ بھی دیکھا کہ اس کی بیٹی میکل داؤد سے  محبت کرتی ہے۔

29 اس لئے  ساؤل داؤد سے  اور زیادہ ڈر گیا۔ساؤل ہر وقت داؤد کے  خلاف رہنے  لگا۔

30 فلسطینی سپہ سالار باہر جا کر اسرائیلیوں  سے  لڑنا شروع کئے۔ لیکن ہر وقت داؤد نے  انہیں  شکست دی۔داؤد ساؤل کا بہترین افسر تھا۔ داؤد مشہور ہوا۔

 

 

 

باب:  19

 

 

1 ساؤل نے  اپنے  بیٹے  یونتن اور اس کے  افسروں  سے  کہا کہ داؤد کو مار ڈالے۔ لیکن یونتن داؤد کو بہت چاہتا تھا۔

2 یونتن نے  داؤد کو خبردار کیا ” ہوشیار رہو! ساؤل موقع دیکھ رہا ہے  کہ تمہیں  مار ڈالے۔ صبح میں  کھیت میں  جا کر چھپ جاؤ۔ میں  اپنے  باپ کو کھیت میں  لاؤں  گا۔ ہم وہاں  کھڑے  رہیں  گے  جہاں  تم چھپے  رہو گے۔ میں  اپنے  باپ سے  تمہارے  متعلق بات کروں  گا تب میں  جو اپنے  باپ سے  سنوں  گا وہ تمہیں  کہوں  گا۔”

3

4 یونتن نے  اپنے  باپ ساؤل سے  داؤد کے  بارے  میں  بات کی۔ اس نے  داؤد کے  متعلق اچھی باتیں  کہیں۔ وہ اپنے  باپ سے  بولا آپ  بادشاہ ہیں  اور داؤد آپ  کا خادم داؤد نے  آپ  کے  ساتھ کوئی بُرائی نہیں  کی۔ اس لئے  اس کے  ساتھ آپ  بھی کچھ بُرا نہ کریں۔ وہ آپ  کے  لئے  کچھ بُرا نہیں  کیا دراصل وہ جو بھی کیا وہ آپ  کے  لئے  بہت فائدہ مند رہا۔

5 اپنی زندگی کو خطرے  میں  ڈال کر داؤد نے  اس فلسطینی ( جولیت ) کو مار ڈالا۔ تب خداوند نے  تمام اسرائیل کے  لئے  عظیم فتح دی۔ آپ  نے  دیکھا اور خوش ہوئے۔ آپ  کیوں  داؤد کو ضرر پہنچانا چاہتے  ہیں ؟ ایک معصوم آدمی  کو مار کر آپ  کیوں  گناہ کرنا چاہتے  ہیں ؟ اس کو مار نے  کی کوئی وجہ نہیں  ہے  آپ  پھر اسے  کیوں  مارنا چاہتے  ہیں ؟

6 ساؤل نے  یونتن کی باتیں  سنیں۔ساؤل نے  وعدہ کیا۔ ساؤل نے  کہا “خداوند کی حیات کی قسم داؤد نہیں  مارا جائے  گا۔”

7 اس لئے  یونتن نے  داؤد کو پکا را اور ہر چیز اس سے  کہا جو کہی گئی تھی۔ تب یونتن نے  داؤد کو ساؤل کے  پاس لا یا اور داؤد پہلے  کی طرح ساؤل کے  پاس رہا۔

8 اور پھر سے  جنگ شروع ہوئی اور داؤد فلسطینیوں  سے  لڑنے  کے  لئے  باہر گیا۔ اس نے  ان لوگوں  کو شکست دی اور وہ لوگ وہاں  سے  بھاگ گئے۔

9 لیکن اب بد روح خداوند کی طرف سے  ساؤل پر آئی۔ ساؤل اپنے  گھر میں  بیٹھا ہوا تھا۔ ساؤل کے  ہاتھ میں  بھا لا تھا۔ داؤد بر بط بجا رہا تھا۔

10 ساؤل نے  بھا لا داؤد کے  جسم پر پھینکنے  کی کو شش کی لیکن داؤد راستے  سے  اچک پڑا۔ بھا لا داؤد سے  ہٹ کر دیوار میں  گھس گیا اسی رات داؤد بھا گ گئے۔

11 ساؤل نے  آدمیوں  کو داؤد کے  گھر بھیجا۔ آدمیوں  نے  داؤد کے  گھر کی نگرانی کی وہ وہاں  ساری رات ٹھہرے  رہے۔ وہ داؤد کو صبح مار ڈالنے  کے  انتظار میں  تھے۔ لیکن داؤد کی بیوی میکل نے  اس کو ہوشیار کیا۔اس نے  کہا ” تمہیں  آج کی رات بھا گ جانا چاہئے  اپنی زندگی بچا لو۔ اگر ایسا نہ کرو گے  تو کل تم مار دیئے  جاؤ گے۔ ”

12 تب میکل نے  داؤد کو کھڑکی سے  باہر جانے  دیا۔ داؤد بھا گ کر فرار ہو گیا۔

13 میکل نے  گھریلو دیوتا کو لیا اور اسے  بستر پر رکھا تب اس نے  اس کو لباسوں  سے  ڈھک دیا۔ اس نے  بکری کے  بالوں  کو بھی لیا اور اس کے  سر پر رکھی۔

14 ساؤل نے  قاصدوں  کو بھیجا کہ داؤد کو قیدی بنا لے  لیکن میکل نے  کہا ” داؤد بیمار ہے۔

15 آدمیوں  نے  واپس ساؤل کے  پاس جا کر اس کی اطلاع دی لیکن اس نے  قاصدوں  کو واپس بھیجا کہ داؤد کو دیکھے۔ انہوں  نے  ان لوگوں  کو یہ حکم بھی دیا ” داؤد کو میرے  پاس لاؤ۔ اگر وہ بستر پر بھی پڑا ہوا ہو تو بھی اسے  لاؤتا کہ میں  اسے  مار سکوں۔”

16 قاصد داؤد کے  گھر گئے  وہ گھر کے  اندر داؤد کولے  نے  گئے۔ لیکن وہ لوگ تعجب میں  پڑ گئے  جب ان لوگوں  نے  ایک مجسمہ کو دیکھا جس کا بال بکری کا تھا۔

17 ساؤل نے   میکل سے  پو چھا ” تم نے  میرے  ساتھ اس طرح دغا کیوں  کی؟ ” تم میرے  دشمن کو فرار کرنے  کی ذمہ دار ہو۔ میکل نے  ساؤل کو جواب دیا ” اس نے  خود مجھے  یہ کہہ کر دھمکی دی کہ اگر تو مجھے  نہیں  جانے  دی تو میں  تجھے  مار ڈالوں  گا۔”

18 جس وقت داؤد وہاں  سے  بھا گا اور سموئیل کے  پاس رامہ گیا۔داؤد نے  سموئیل سے  ہر وہ بات کہی جو ساؤل نے   اس کے  ساتھ کی وہ لوگ ایک ساتھ نیبوت گئے  اور وہاں  ٹھہرے۔

19 ساؤل نے  سنا کہ داؤد رامہ کے  قریب نیبوت میں  ہے۔

20 ساؤل نے  آدمیوں  کو داؤد کو گرفتار کرنے  کو بھیجا۔ جب وہ لوگ وہاں  آئے  تو انہوں  نے  دیکھا کہ سبھی نبی پیشین گوئیاں  کر رہے  ہیں۔ سموئیل گروہ کی رہنمائی کرتا وہاں  کھڑا تھا۔ خدا کی طرف سے  رُوح ساؤل کے  قاصدوں  پر آئی اور وہ لوگ پیشین گوئیاں  کرنا شروع کیں۔

21 ساؤل نے   اس کے  متعلق سنا اور وہ دوسرے  قاصدوں  کو بھیجا لیکن انہوں  نے  بھی پیشین گوئی کرنی شروع کیں۔ اس لئے  ساؤل نے  تیسری مرتبہ قاصدوں  کو بھیجا اور انہوں  نے  بھی پیشین گوئی کرنی شروع کیں۔

22 آ خرکار ساؤل خود رامہ گیا۔ساؤل سیخوں  میں  کھلیان سے  ہوتے  ہوئے  بڑے  کنویں  کے  پاس آیا۔ ساؤل نے  پو چھا ” سموئیل اور داؤد کہاں  ہیں ؟ ”

23 تب ساؤل رامہ کے  قریب نیوت کو گیا۔ خدا کی روح ساؤل پر آئی اس نے  بھی پیشین گوئی کرنی شروع کی۔ساؤل اور رامہ کے  قریب نیوت پہنچنے  تک سارے  راستے  میں  پیشین گوئی کی۔

24 تب ساؤل اپنے  کپڑے  اُتار دیئے۔ ساؤل پو را دن اور پوری رات ننگا رہا۔س طرح سے  ساؤل بھی سموئیل کے  سامنے  میں  پیشین گوئی کر رہا تھا۔ اس لئے  لوگوں  نے  پو چھا ” کیا ساؤل بھی نبیوں  میں  سے  ایک ہے ؟ ”

 

 

 

باب:  20

 

 

1 داؤد رامہ کے  قریب نیوت سے  بھا گ گیا۔ داؤد یونتن کے  پاس گیا اور اس کو پو چھا ” میں  نے  کیا غلطی کی ہے ؟ میرا گناہ کیا ہے ؟ تمہارا باپ مجھے  کیوں  مار ڈالنے  کی کو شش کر رہا ہے ؟ ”

2 یونتن نے  جواب دیا ” یہ سچ نہیں  ہو سکتا میرا باپ تمہیں  مار ڈالنے  کی کوشش نہیں  کر رہا ہے۔ وہ مجھ سے  کہے  بغیر کچھ نہیں  کرتا ہے  وہ بہت اہم یا چھوٹی بات ہی کیوں  نہ ہو میرا باپ ہمیشہ مجھ سے  کہے  گا۔ وہ مجھے  کیوں  نہیں  کہے  گا کہ وہ تم کو مار ڈالنا چاہتا ہے۔ نہیں  یہ سچ نہیں  ہے۔ ”

3 لیکن داؤد نے  جواب دیا ” تمہارا باپ اچھی طرح جانتا ہے  کہ میں  تمہارا دوست ہوں۔ تمہارے  باپ نے  اپنے  آپ  سے  کہا ‘ یونتن کو اس کے  متعلق نہیں  معلوم ہونا چاہئے   اگر وہ یہ جان جائے  تو وہ پریشان ہو جائے  گا۔’ لیکن خداوند کی حیات اور تیری جان کی قسم کہ میرے  اور موت کے  بیچ صرف ایک قدم کا فاصلہ ہے۔ ”

4 یونتن نے  داؤد سے  کہا ” تم مجھ سے  جو کرنے  کو کہو گے  میں  ہر وہ چیز کروں  گا۔”

5 تب داؤد نے  کہا ” دیکھو کل نئے  چاند کی تقریب ہے  اور مجھے  بادشاہ کے  ساتھ کھانا کھانا ہے۔ لیکن مجھے  جانے  دو اور دوسرے  دن شام تک کھیت میں  چھپے  رہنے  دو۔

6 اگر تمہارا باپ غور کرے  کہ میں  چلا گیا ہوں  تو ان سے  کہو کہ داؤد نے  مجھ سے  سنجیدگی سے  کہا تھا کہ اسے  بیت اللحم اپنے  شہر کو بھاگ جانے  دو۔ جیسا کہ ان کا خاندان قربانی کی سالانہ تقریب میں  مصروف ہے۔

7 اگر تمہارا باپ کہتا ہے  بہت اچھا تو میں  محفوظ ہوں  لیکن اگر وہ بہت غصّہ میں  آئے  تو تک جان لینا کہ وہ مجھے  مارنا چاہتا ہے۔

8 یونتن میرے  ساتھ مہربان رہو تم نے  مجھ سے  خداوند کے  سامنے  ایک معاہدہ کیا ہے۔ اگر میں  قصوروار ہوں  تب تم خود مجھے  مار ڈالنا لیکن تم مجھے  اپنے  باپ کے  پاس متلے  جاؤ۔”

9 یونتن نے  جواب دیا ” نہیں  میں  وہ نہیں  کروں  گا اگر مجھے  معلوم ہوا کہ میرا باپ تمہیں  مارنا چاہتا ہے  تو میں  یقیناً تمہیں  ہوشیار کروں  گا۔”

10 داؤد نے  کہا ” اگر تمہارا باپ تمہیں  سخت جواب دیتا ہے  مجھے  کون خبردار کرے  گا؟ ”

11 تب یونتن نے  کہا ” آؤ ہم باہر اس کھیت میں  جائیں۔” اس لئے  یونتن اور داؤد دونوں  مل کر کھیت میں  گئے۔

12 یونتن نے  داؤد سے  کہا ” میں  خداوند اسرائیل کے  خدا کے  سامنے  وعدہ کرتا ہوں  کہ میں  اپنے  باپ کے  منصوبے  کے  بارے  میں  تین دن کے  اندر پتہ لگاؤں  گا۔ اگر ان کا منصوبہ تمہارے  لئے  اچھا ہے  تو میں  فوراً ہی تمہیں  معلوم کراؤں  گا۔

13 اگر میرا باپ تمہیں  تکلیف دینا چاہتا ہے  تو میں  تمہیں  واقف کراؤں  گا اور میں  تم کو یہاں  سے  حفاظت سے  جانے  دوں  گا اگر میں  ایسا نہ کروں  تو خداوند مجھے  اس کا بدلہ دے۔ خداوند تمہارے  ساتھ رہے  جیسے  وہ میرے  باپ کے  ساتھ رہا تھا۔

14 مجھ پر مہربان رہو جب تک میں  رہوں  اور میرے  مرنے  کے  بعد بھی۔

15 میرے  خاندان پر مہربانی رکھنا بند مت کر۔ جب خداوند زمین پر تمہارے  سبھی دشمنوں  کو تباہ کرنے  میں  تمہاری مدد کرتا ہے۔

16 اس لئے  یونتن نے  یہ کہتے  ہوئے  داؤد کے  خاندان کے  ساتھ عہد کیا : خداوند داؤد کے  دشمنوں  کو سزا دے۔ ”

17 تب یونتن نے  داؤد سے  اس کی محبت کے  معاہدے  کو دہرانے  کے  لئے  کہا۔ یونتن نے  ایسا اس لئے  کیا کیوں  کہ وہ داؤد کو اتنا چاہتا تھا جتنا کہ خود کو۔

18 یونتن نے  داؤد سے  کہا ” کل نئے  چاند کی تقریب ہے  میرا باپ اس طرف غور کرے  گا کہ تم چلے  گئے  ہو کیونکہ تمہاری نشست خالی ہو گی۔

19 تیسرے  دن اسی جگہ پر جاؤ جہاں  تم پہلے  چھپے  تھے  جب یہ مصیبت شروع ہوئی تھی اور اس پہاڑی کے  بغل میں  انتظار کرو۔

20 تیسرے  دن میں  اس پہاڑی پر ایسے  جاؤں  گا جیسے  میں  کسی کو نشانہ بنا رہا ہو ں۔ میں  تین تیر چلاؤں  گا۔

21 تب میں  لڑکے  کو کہوں  گا کہ جا کر تیروں  کو دیکھے۔ اگر ہر چیز ٹھیک ہے   تب میں  لڑکے  کو صاف طور سے  کہوں  گا دیکھو تیر تمہارے  آگے  ہے۔ جاؤ اور اسے  لے  آؤ۔ اگر میں  ایسا کہوں  توتم چھپنے  کی جگہ سے  باہر آ سکتے  ہو کیونکہ کوئی خطرہ نہیں  ہے۔ اور میں  خداوند کی حیات کی قسم کھا کر وعدہ کرتا ہوں  کہ تم یقیناً محفوظ ہو۔

22 لیکن اگر مصیبت ہے  تو میں  لڑکے  سے  کہوں  گا تیر بہت دور ہے  جاؤ انہیں  لاؤ۔ میں  ایسا کہوں  تو تمہیں  وہاں  سے  نکل جانا چاہئے  خداوند تمہیں  دور بھیج رہا ہے۔

23 اور جہاں  تک ہمارے  معاہدہ کا تعلق ہے  جو ہم لوگوں  نے  کیا یادرکھو خداوند ہمیشہ ہمیشہ کے  لئے  اس کا گواہ ہے۔ ”

24 تبد اؤد کھیت میں  چھُپ گیا۔

25 بادشاہ دیوار کے  پاس بیٹھا کرتا تھا۔ یونتن ساؤل کے  دوسری طرف بیٹھا۔ ابنیر  ساؤل کے  بعد بیٹھا لیکن داؤد کی جگہ خالی تھی۔

26 اس دن ساؤل نے  کچھ نہ کہا ” کیونکہ وہ سوچا! داؤد کے  ساتھ ضرور کچھ ہوا ہے  جس سے  وہ ناپاک ہو گیا ہے۔ غالباً وہ ناپاک ہے۔ ”

27 اگلے  دن مہینے  کے  دوسرے  دن دوبارہ داؤد کی جگہ خالی تھی۔ تب ساؤل نے  اس کے  بیٹے  یونتن سے  کہا ” یسی کا بیٹا نئے  چاند کی تقریب میں  کل اور آج کیوں  نہیں  آیا؟ ”

28 یونتن نے  جواب دیا ” داؤد نے  سنجیدگی سے  مجھ سے  بیت اللحم جانے  کے  لئے  میری اجازت مانگی۔

29 داؤد نے  کہا ” مجھے  جانے  دو میرا خاندان بیت اللحم میں  قربانی نذر کر رہا ہے  اور میرے  بھائی نے  مجھے  وہاں  رہنے  کا حکم دیا ہے۔ اب اگر میں  تمہارا دوست ہوں  تو مجھے  جانے  دو۔’ یہی وجہ ہے  کہ وہ بادشاہ کی تقریب میں  حاضر نہ ہوا۔

30 ساؤل یونتن پر بہت غصہ کیا اس نے  یونتن سے  کہا ” تم ایک لونڈی کے  بیٹے  جو میرے  حکم کی فرمانبرداری سے  انکار کرتے  ہو اور تم ٹھیک اسی کی طرح ہو۔ میں  جانتا ہو کہ تم یسی کا بیٹا داؤد کی طرف ہو۔ تم اپنی ماں  اور اپنے  لئے  ذلّت کا باعث ہو۔

31 جب تک یسی کا بیٹا زندہ رہے  گا تب تم نہ بادشاہ بنو گے  اور نہ ہی تمہاری بادشاہت ہو گی۔ داؤد کو ہمارے  پاس لاؤ کیونکہ اسے  ضرور مار ڈالنا چاہئے ! ”

32 یونتن نے  اپنے  باپ سے  پو چھا ” داؤد کو کیوں  مار ڈالنا چاہئے ؟ اس نے  کیا غلطی کی ہے ؟ ”

33 لیکن ساؤل نے   اپنا بھا لا یونتن پر پھینکا اور اس کو مار ڈالنے  کی کوشش کی۔ تب یونتن جان گیا کہ اس کا باپ داؤد کو ہر طرح سے  مار ڈالنے  کا تہیہ کر چکا ہے۔

34 یونتن بہت غصہ میں  آ کر کھانے  کے  میز سے  اٹھ گیا۔ نئے  چاند کی تقریب کے  دوسرے  دن وہ کچھ نہیں  کھایا۔ وہ غصہ میں  تھا کیوں  کہ ساؤل نے  اسے  ذلیل کیا اور کیونکہ ساؤل داؤد کو مارنا چاہتا تھا۔

35 دوسری صبح یونتن باہر کھیت کو گیا جیسا انہوں  نے  طئے  کیا تھا۔ یونتن اپنے  ساتھ ایک چھوٹے  لڑکے  کو لا یا۔

36 یونتن نے  لڑکے  سے  بولا ” بھا گو۔ تیروں  کو تلاش کرو جو میں  نے  چلائے۔ ” لڑکے  نے  اسے  کھوجنے  کے  لئے  بھاگنا شروع کیا اور اسی دوران یونتن نے  بچے  کے  سر کے  اوپر تیر چلا یا۔

37 لرکا بھاگ کر اس جگہ گیا جہاں  تیر پڑے  تھے۔ لیکن یونتن نے  اسے  بلا یا اور کہا ” تیر تو بہت دور ہے۔ ”

38 تب یونتن چلا یا جلدی کرو جاؤ اور انہیں  لاؤ یہاں  کھڑے  مت رہو لڑکا تیر اٹھا یا اور واپس اپنے  مالک کے  پاس لا یا۔

39 لڑکے  کو کچھ پتہ نہ تھا کہ کیا ہوا؟ صرف یونتن اور داؤد ہی جان گئے۔

40 یونتن نے  اپنی کمان اور تیر لڑکے  کو دیئے  تب یونتن نے  لڑکے  کو کہا ” واپس شہر جاؤ۔”

41 جب لڑکا نکل گیا تو داؤد پتھر کے  ڈھیر کے  نیچے  سے  باہر آیا۔ داؤد نے  زمین تک اپنے  سر کو جھکاتے  ہوئے  یونتن کو سلام کیا وہ اس طرح تین بار سلام کیا۔ تب داؤد یونتن گلے  ملے  اور ایک دوسرے  کو چُوما۔ وہ دونوں  ایک ساتھ روئے  لیکن داؤد یونتن سے  زیادہ رو یا۔

42 یونتن نے  داؤد سے  کہا ” تم سلامتی سے  جا سکتے  ہو اس لئے  کہ میں  خداوند کا نام لے  کر دوستی کا عہد کیا ہوں۔ ہم نے  کہا تھا کہ خداوند ہمیشہ کے  لئے  ہماری اور ہماری نسلوں  کے  درمیان گواہ ہو گا۔ تب داؤد چلا گیا اور یونتن واپس شہر آ گیا۔”

 

 

 

باب:  21

 

 

1 داؤد نوب نامی شہر کو اخیملک کاہن سے  ملنے  گیا۔ اخیملک داؤد سے  ملنے  باہر گیا۔ اخیملک ڈرسے  کانپ رہا تھا۔اخیملک نے  داؤد سے  پو چھا ” تم اکیلے  کیوں  ہو؟ تمہارے  ساتھ کوئی آدمی  کیوں  نہیں  ہے ؟ ”

2 داؤد نے  اخیملک کو جواب دیا بادشاہ نے  مجھے  خاص حکم دیا ہے۔ اس نے  مجھ سے  کہا کہ اُس خاص کام کے  لئے  میں  کسی کو معلوم نہ ہونے  دوں۔ کوئی بھی آدمی  کو یہ جو میں  نے  تمہیں  کرنے  کو کہا ہے۔ میں  نے  اپنے  آدمیوں  سے  کہہ دیا ہے  کہ وہ کہاں  ملیں۔

3 اب یہ بتاؤ کہ تمہارے  پاس کھانے  کے  لئے  کیا ہے ؟ مجھے  کھانے  کے  لئے  پانچ روٹی کے  ٹکڑے  دو یا جوکچھ بھی تمہارے  پاس کھانے  کے  لئے  ہو۔

4 کاہن نے  داؤد سے  کہا ” میرے  پاس معمولی روٹیاں  تو نہیں  ہیں۔ لیکن میرے  پاس تھوڑی مقدس روٹی ہے۔ تمہارے  افسر یہ کھا سکتے  ہیں  اگر ان کے  جنسی تعلقات کسی عورت سے  نہ ہوں۔

5 داؤد نے  کاہن کو جواب دیا ” ہم لوگ ان دنوں  کسی عورت کے  ساتھ نہیں  رہے  ہیں۔ میرے  آدمی  اپنے  جسموں  کو ہر وقت پاک رکھتے  ہیں  جب ہم باہر لڑنے  کے  لئے  جاتے  ہیں  حتیٰ کہ معمولی کام پر بھی۔ اور آج کے  لئے  تو خاص طور پر سچ ہے  کیوں  کہ ہمارا کام بہت خاص ہے۔ ”

6 سوائے  مقدس روٹی کے  اور کوئی روٹی نہ تھی اس لئے  کاہن نے  داؤد کو وہ روٹی دی۔ یہ وہ روٹی تھی جو کاہن مقدس میز پر خداوند کے  سامنے  رکھتے  تھے  ہر روز وہ یہ روٹی نکال لیتے  اور تاز ی روٹی اس کی جگہ رکھتے۔

7 اس دن ساؤل کے  افسروں  میں  سے  ایک وہاں  تھا وہ ادومی دوئیگ تھا۔ دوئیگ ساؤل کے  چرواہوں  کا قائد تھا۔ دوئیگ کو وہاں  خداوند کے  سامنے  رکھا گیا تھا۔

8 داؤد نے ا خیملک سے  پو چھا ” کیا تمہارے  پاس یہاں  بھا لا یا تلوار ہے ؟ ” میرے  پاس تلوار یا کوئی اور ہتھیار لینے  کے  لئے  وقت نہیں  تھا کیونکہ بادشاہ کے  خاص مقصد کو بہت جلدی کرنا تھا۔”

9 کاہن نے  جواب دیا ” یہاں  جو تلوار ہے  وہ جو لیت کی فلسطینی تلوار ہے  یہ وہ تلوار ہے  جو تم نے  اس سے  لی تھی جب تم نے  اس کو ایلہ کی وادی میں  مار ڈالا تھا۔ وہ تلوار عبا کے  پیچھے  ہے  کپڑے  میں  لپیٹی ہو ئی۔ تم اگر چاہو تو یہ لے  سکتے  ہو۔” داؤد نے  کہا ” وہ مجھ کو دو کوئی تلوار جو لیت کی تلوار کی مانند نہیں  ہے۔

10 اس دن داؤد ساؤل کے  ہاں  سے  بھا گ گیا۔ داؤد جات کے  بادشاہ اکیس کے  پاس گیا۔”

11 اکیس کے  افسروں  نے  یہ پسند نہیں  کیا انہوں  نے  کہا ” یہ داؤد ہے  اسرائیلی کی سرزمین کا بادشاہ یہ وہ آدمی  ہے  جس کے  گیت اسرائیل گاتے  ہیں۔ وہ ناچتے  اور گانا گاتے  ہیں  :

12 ان لوگوں  نے  جو کہا داؤد کو بہت پریشان کیا۔ وہ جات کے  بادشاہ اکیس سے  ڈرا ہوا تھا۔

13 اس لئے  داؤد نے  اکیس اور اس کے  افسروں  کے  سامنے  اپنے  کو دیوانہ دکھانے  کا بہانہ کیا وہ ان کے  ساتھ دیوانہ آدمی  کی طرح رہا وہ پھاٹک کے  کواڑوں  پر کھرونچ کا نشان بنا دیتا۔ اپنے  تھوک کو اپنی داڑھی پر گرنے  دیتا تھا۔

14 اکیسنے  اپنے  افسروں  سے  کہا ” تم سب کو یہ صاف معلوم ہونی چاہئے  کہ یہ آدمی  پاگل ہے۔ تب تم اس کو میرے  پاس کیوں  لائے  ہو؟ ”

15 میرے  پاس تو ویسے  ہی بہت سے  دیوانے  ہیں۔ میں  تم لوگوں  سے  یہ نہیں  چاہتا کہ تم اس آدمی  کو میرے  گھر پر دیوانگی کے  کام کرنے  کو لاؤ اس آدمی  کو میرے  گھر میں  دو بارہ نہ آنے  دینا۔”

16

 

باب:  22

 

 

1 داؤد نے  جات کو چھوڑا۔ داؤد عدُلّام کے  غار میں  بھا گ گیا۔ داؤد کے  بھا ئیوں  اور رشتہ داروں  نے  سنا کہ داؤد عدُ لّام میں  ہے  وہ داؤد سے  ملنے  وہاں  گئے۔

2 کئی آدمی  داؤد کے  ساتھ ہو گئے۔ ان میں  سے  کچھ آدمی  مصیبت میں  تھے   کچھ بہت زیادہ قرض لئے  ہوئے  تھے   اور کچھ رنجیدہ تھے۔ داؤد ان لوگوں  کا قائد بن گیا۔ اس کے  ساتھ تقریباً ۴۰۰ آدمی  تھے۔

3 داؤد عدُلّام سے  نکلا اور موآب میں  مصفاہ میں  گیا۔ داؤد نے  موآب کے  بادشاہ سے  کہا ” براہ کرم میرے  باپ اور ماں  کو آ کر آپ  اپنے  پاس ٹھہرنے  دیجئے  جب تک میں  خدا سے  نہ معلوم کروں  کہ وہ میرے  ساتھ کیا کر رہا ہے۔ ”

4 اس لئے  داؤد نے  اپنے  والدین کو موآب کے  بادشاہ کے  پاس چھوڑا۔ اور وہ لوگ تب تک وہیں  رکے  جب تک داؤد پہاڑ کے  قلعہ پر چھپا رہا۔

5 لیکن جات نبی نے  داؤد سے  کہا ” پہاڑ کے  قلعہ میں  مت ٹھہرو اور یہوداہ کی سر زمین پر جاؤ۔” اس لئے  داؤد پہاڑ کا قلعہ چھوڑا اور جات کے  جنگل کی طرف گیا۔

6 ساؤل نے  سنا کہ لوگ داؤد اور اس کے  لوگوں  کے  بارے  میں  جان گئے  ہیں۔ساؤل جبعہ کی پہاڑی کے  درخت کے  نیچے  بیٹھا تھا۔ ساؤل کے  ہاتھ میں  اس کا بھا لا تھا۔ اس کے  تمام افسران اس کے  اطرا ف کھڑے  تھے۔

7 ساؤل نے  اپنے  افسروں  سے  جو اس کے  اطراف کھڑے  ہوئے  تھے  کہا ” بنیمین کے  لو گوں  سنو! کیا تم سمجھتے  ہو یسی کا بیٹا ( داؤد ) تمہیں  کھیت یا باغات دے  گا؟ کیا تم جانتے  ہو کہ داؤد تمہیں  ترقی دے  کر ایک ہزار آدمیوں  پر سپہ سالار بنائے  گا اور ۱۰۰ آدمیوں  پر افسر بنائے  گا؟

8 کیا یہی وجہ ہے  کیوں  تم لوگ میرے  خلاف سازش کر رہے  ہو؟ تم میں  سے  کسی نے  بھی نہیں  بتا یا کہ میرے  بیٹے  نے  یسی کے  بیٹے  کے  ساتھ معاہدہ کیا۔ تم میں  سے  کسی نے  میرے  لئے  افسوس نہ کیا اور نہ ہی بتا یا کہ میرے  بیٹے  نے  میرے  ایک افسر کی ہمت افزائی کی کہ گھات لگا کر مجھ پر حملہ کرے۔ اور وہ ان لمحوں  میں  ( فی الحال ) مجھ پر حملہ کرنے  کے  لئے  انتظار کر رہا ہے۔ ”

9 دوئیگ ادومی ساؤل کے  افسروں  کے  ساتھ وہاں  کھڑا تھا۔ دوئیگ نے  کہا ” میں  نے  یسی کے  بیٹے  (داؤد) کو نوب میں  دیکھا داؤد اخیطوب کے  بیٹے  اخیملک سے  ملنے  آیا۔

10 اخیملک نے  داؤد کے  لئے  خداوند سے  دعا کی۔اخیملک نے  داؤد کو کھانا بھی کھلا یا اور اخیملک نے  داؤد کو فلسطینی جو لیت کی تلوار دی۔”

11 بادشاہ ساؤل نے  چند آدمیوں  کو حکم دیا کہ کاہن کو اس کے  پاس لے  آئے۔ ساؤل نے  ان سے  کہا کہ اخیطوب کے  بیٹے  اخیملک اور اس کے  سب رشتے  داروں  کو لائے۔ اخیملک کے  رشتے  دار  نوب میں  کاہن تھے۔ وہ سب بادشاہ کے  پاس آئے۔

12 ساؤل اخیملک سے  کہا ” اخیطوب کے  بیٹے  سُنو!

13 ساؤل نے  اخیملک سے  پو چھا ” تم نے  اور یسی کے  بیٹے  ( داؤد )نے  میرے  خلاف کیوں  خُفیہ پلان بنا یا۔ تم نے  داؤد کو کھانا اور تلوار دی۔ تم نے  اس کے  لئے  خدا سے  دعا کی۔ اور نتیجہ یہ ہے  کہ ان لمحوں  میں  وہی داؤد گھات لگا کر مجھ پر حملہ کرنے  کے  لئے  انتظار کر رہا ہے۔

14 اخیملک نے  جواب دیا ” لیکن جناب آپ  کا وہ کون افسر ہے  جو داؤد جیسا وفادار ہے۔ داؤد تمہارا اپنا داماد ہے  اور وہ تمہارے  محافظوں  کا سردار ہے  تمہارا سارا خاندان داؤد کی عزت کرتا ہے۔

15 وہ پہلا موقع نہ تھا کہ میں  نے  خدا سے  داؤد کے  لئے  دُعا کی۔ ایسی بات بالکل نہیں  ہے  مجھے  یا میرے  کسی رشتہ دار کو الزام نہ دو۔ہم تمہارے  خادم ہیں  مجھے  کچھ معلوم نہیں  کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ ”

16 لیکن بادشاہ نے  کہا ” اخیملک تم اور تمہارے  تمام رشتے  دار یقیناً مریں  گے۔ ”

17 تب بادشاہ اپنے  ساتھ کھڑے  محافظ کو کہا ” جاؤ اور خداوند کے  سبھی کاہنوں  کو مار ڈالو۔ ایسا اس لئے  کرو کیوں  کہ وہ سب کاہن کے  داؤد کے  طرفدار ہیں۔ انہیں  معلوم تھا کہ داؤد بھا گ رہا تھا لیکن انہوں  نے  مجھ سے  نہیں  کہا۔”تا ہم بادشاہ کا کوئی بھی سپاہی خداوند کے  کاہن کے  خلاف ہاتھ اٹھانا نہیں  چاہتا تھا۔

18 اس لئے  بادشاہ نے  دوئیگ کو حکم دیا۔ ساؤل نے  کہا ” دوئیگ تم جاؤ اور کاہنوں  کو مار ڈالو۔” اس لئے  دوئیگ ادومی گیا اور کاہنوں  کو مار ڈالا اس دن دوئیگ نے  ۸۵ کاہنوں  کو مار ڈالا۔

19 نوب کاہنوں  کا شہر تھا۔دوئیگ نے  نوب کے  تمام لوگوں  کو مار ڈالا۔ دوئیگ نے  اپنی تلوار سے  مردوں  عورتوں  بچوں  اور گود کے  بچوں  کو بھی مار ڈالا اور دوئیگ نے  ان کی گائیں  گدھے  اور بھیڑوں  کو مار ڈالا۔

20 لیکن ابی یاتر فرار ہو گیا۔ ابی یاتر اخیملک کا بیٹا تھا۔ اخیملک اخیطوب کا بیٹا تھا۔ ابی یاتر بھا گا اور داؤدسے  مل گیا۔

21 ابی یاتر نے  داؤد سے  کہا کہ ساؤل نے  خداوند کے  کاہنوں  کو مار ڈالا۔

22 تب داؤد نے  ابی یاتر سے  کہا ” میں  نے  دو ئیگ ادومی کو اس دن نوب میں  دیکھا تھا اور میں  جانتا تھا کہ وہ یقیناً ساؤل کو بتا دے  گا۔ میں  خود تمہارے  خاندان کی موت کا ذمہ دار ہو ں۔

23 میرے  ساتھ ٹھہرو اس کے  لئے  مت ڈرو جو تمہیں  مار ڈالنا چاہتا ہے   اور مجھے  بھی مار ڈالنا چاہتا ہے۔ تم میرے  پاس حفاظت میں  رہو گے۔ ”

 

 

 

باب:  23

 

 

1 لوگوں  نے  داؤد سے  کہا ” دیکھو فلسطینی قعیلہ کے  خلاف لڑ رہے  ہیں۔ وہ کھلیانوں  سے  اناج لوٹ رہے  ہیں۔”

2 داؤد نے  خداوند سے  پو چھا ” کیا میں  جاؤں  اور ان فلسطینیوں  سے  لڑوں ؟ ” خداوند نے  داؤد کو جواب دیا ” ہاں  جاؤ فلسطینیوں  پر حملہ کرو قعیلہ کو بچاؤ۔”

3 لیکن داؤد کے  آدمیوں  نے  کہا ” دیکھو ہم یہاں  یہوداہ میں  ہیں  اور ہم خوف زدہ ہیں۔ ذرا سوچو تو سہی کہ ہم جب وہاں  جائیں  گے  جہاں  فلسطینی فوج ہے  کتنے  ڈرے  ہوئے  ہوں  گے۔ ”

4 داؤد نے  دوبارہ خداوند سے  پو چھا اور خداوند نے  داؤد کو جواب دیا ” قعیلہ کو جاؤ فلسطینیوں  کو شکست دو میں  تمہاری مدد کروں  گا۔”

5 اس لئے  داؤد اور اس کے  آدمی  قعیلہ گئے۔ داؤد کے  آدمیوں  نے  فلسطینیوں  کو شکست دی اور ان کے  مویشی لے  لئے۔ اس طرح داؤد نے  قعیلہ کے  لوگوں  کو بچا یا۔

6 ( جب ابی یاتر داؤد کے  پاس بھاگ کر گیا تھا توابی یاتر نے  ایک چغّہ اپنے  ساتھ لیا تھا۔ )

7 لوگوں  نے  ساؤل سے  کہا کہ داؤد قعیلہ میں  ہے۔ ساؤل نے  کہا ” خدا نے  داؤد کو میرے  حوالے  کیا اور داؤد خود اپنے  جال میں  پھنس گیا ہے۔ وہ ایسے  شہر میں  گیا جس میں  پھا ٹک اور سلاخیں  ہیں۔”

8 ساؤل نے  جنگ کے  لئے  اپنی ساری فوج کو ایک ساتھ بلا یا انہوں  نے  اپنی تیاری قعیلہ جانے  اور داؤد اور اس کے  آدمیوں  پر حملہ کرنے  کے  لئے  کی۔

9 داؤد کو پتہ چلا کہ ساؤل اس کے  خلاف منصوبے  بنا رہے  ہیں۔ داؤد نے  ابی یا تر کاہن سے  کہا ” چغہ لاؤ! ”

10 داؤد نے  دُعا کی ” خداوند اسرائیل کا خدا! میں  نے  سنا ہے  کہ ساؤل قعیلہ کے  خلاف لڑنے  کے  لئے  آنے  کا منصوبہ بنا رہا ہے  کیوں  کہ میں  قعیلہ میں  ہوں۔

11 کیا ساؤل قعیلہ آئے  گا؟ کیا قعیلہ کے  لوگ مجھے  ساؤل کے  حوالے  کریں  گے ؟ خداوند اسرائیل کا خدا میں  تمہارا خادم ہوں  برائے  مہربانی مجھے  کہو۔” خداوند نے  جواب دیا ” ساؤل آئے  گا۔”

12 داؤد نے  دوبارہ پو چھا ” کیا قعیلہ کے  لوگ مجھے  اور میرے  آدمیوں  کو ساؤل کے  حوالے  کریں  گے ؟ ” خداوند نے  جواب دیا ” وہ کریں  گے۔ ”

13 اِس لئے  داؤد اور اس کے  آدمیوں  نے  قعیلہ چھوڑ دیا تقریباً وہ ۶۰۰ آدمی  تھے  جو داؤد کے  ساتھ گئے۔ داؤد اور اس کے  آدمی  ایک جگہ سے  دوسری جگہ گھومتے  رہے۔ ساؤل کو پتہ چل گیا کہ داؤد قعیلہ سے  بچ نکلا اس لئے  ساؤل اس شہر کو نہیں  گیا۔

14 داؤد ریگستان میں  قلعوں  میں  ٹھہرا۔ وہ زیف کے  ریگستان کے  پہاڑیوں  میں  بھی ٹھہرا۔ ہر روز ساؤل داؤد کو تلاش کرتا تھا لیکن خداوند نے  ساؤل کو داؤد کو پکڑنے  نہیں  دیا۔

15 داؤد زیف کے  ریگستان میں  ہوریش میں  تھا وہ ڈر گیا تھا کیوں  کہ ساؤل اس کو مار نے  کے  لئے  آ رہا تھا۔

16 لیکن ساؤل کا بیٹا یونتن ہوریش میں  داؤد سے  ملنے  گیا۔ یُونتن نے  داؤد کو یقین دلانے  میں  مدد کی کہ خدا اس کی مدد کرے  گا۔

17 یونتن نے  داؤد سے  کہا ” ڈرو مت میرا باپ ساؤل تمہیں  نہیں  مار سکتا۔ تم اسرائیل کا بادشاہ بنو گے  اور میں  تمہارے  بعد دوسرے  مقام پر ہوں  گا۔ میرا باپ بھی یہ جانتا ہے۔ ”

18 یُونتن اور داؤد نے  خداوند کے  سامنے  ایک معاہدہ کیا۔ تب یونتن گھر گیا لیکن داؤد ہوریش میں  ٹھہرا۔

19 زیف کے  لوگ ساؤل کے  پاس جِبعہ آئے۔ انہوں  نے  اس سے  کہا ” داؤد ہمارے  علاقے  میں  چھپا ہوا ہے۔ داؤد ہوریش کے  پہاڑی قلعہ میں  ہے  جو کے  یشیمن کے  جنوبی حصّے  میں  حکیلہ پہاڑ پر ہے۔

20 اے  بادشاہ جب آپ  چاہیں  یہاں  نیچے  آئیں  اسے  تمہارے  حوالے  کرنا ہم لوگوں  کی ذمّہ داری ہو گی۔”

21 ساؤل نے  جواب دیا ” خداوند تم کو برکت دے  کیوں  کہ تم نے  مجھ پر مہربانی کی۔

22 داؤد کے  ٹھکانے  کے  بارے  میں  مزید معلومات حاصل کرو یہ معلوم کرو کہ وہ کہاں  ٹھہرا ہے ؟ اور یہ معلوم کرو کہ کس نے  داؤد کو وہاں  دیکھا ہے ؟ میں  تم سے  یہ پوچھنا چاہتا ہوں  کیوں  کہ مجھے  کہا گیا تھا کہ داؤد بہت ہوشیار ہے۔

23 تمام چھپنے  کی جگہوں  کو دیکھو جسے  داؤد استعمال کرتا ہے  تب میرے  پاس واپس آ کر ہر بات کہو تب میں  تمہارے  ساتھ جاؤں  گا۔ اگر داؤد اس علاقہ میں  ہے  تو میں  اسے  پکڑوں  گا۔ اگر مجھے  یہوداہ کے  سارے  خاندانوں  میں  سے  اسے  تلاش کرنے  کے  لئے  مجبور ہونا پڑے  میں  تب بھی ان کا پتہ لگاؤں  گا۔”

24 تب زیف کے  لوگ واپس زیف چلے  گئے  اور ساؤل وہاں  بعد میں  گیا۔ اس وقت داؤد اور اس کے  آدمی  معون کے  ریگستان میں  تھے۔ وہ یشیمن کے  جنوب میں  ریگستان کے  علاقے  میں  تھے۔

25 ساؤل اور اس کے  آدمی  داؤد کو دیکھنے  گئے۔ لیکن لوگوں  نے  داؤد کو خبردار کیا۔ انہوں  نے  اس کو کہا ” ساؤل اس کو تلاش کر رہا ہے  تب داؤد معون کے  ریگستان میں  ” چٹان” پر گیا۔ ساؤل نے  سنا کہ داؤد معون کے  ریگستان کو جا چکا ہے  اِس لئے  ساؤل داؤد کو تلاش کرنے  اُس جگہ گیا۔

26 ساؤل چوٹی کے  ایک طرف تھا داؤد اور اس کے  آدمی  اسی چوٹی کے  دوسری طرف تھے۔ داؤد ساؤل سے  دور چلے  جانے  کے  لئے  جتنا جلدی وہ کر سکتا تھا کو شش کر رہا تھا۔ ساؤل اور اس کے  سپاہی چوٹی کے  اطراف داؤد اور اس کے  آدمیوں  کو پکڑنے  جا رہے  تھے۔

27 تب ایک قاصد ساؤل کے  پاس آیا۔ قاصد نے  کہا ” جلدی آؤ! فلسطینی ہم پر حملہ کر رہے  ہیں۔”

28 اِس لئے  ساؤل نے  داؤد کا پیچھا کرنا چھوڑ دیا اور فلسطینیوں  سے  لڑنے  نکل گیا۔ اسی لئے  لوگوں  نے  اس جگہ کو ” پھسلتی چٹان” کہا۔

29 داؤد نے  معون کا ریگستان چھوڑ دیا اور عین جدی کے  قریب پہاڑ کے  قلعہ کو گیا۔

 

 

 

باب:  24

 

 

1 جب ساؤل فلسطینیوں  کو ہرانے  کے  بعد واپس آیا تب لوگوں  نے  اس سے  کہا کہ داؤد عین جدی کے  ریگستان کے  علا قے

2 اس لئے  ساؤل نے  پو رے  اسرائیل سے  ۰۰۰ ۳ آدمیوں  کو چُنا۔ اور وہ لوگ داؤد اور اس کے  آ دمی کو تلاش کرنے  کے  لئے  نکل پڑے۔ وہ لوگ جنگلی بکریوں  کی چٹان کے  قریب تھے۔

3 جب ساؤل سڑک کے  کنارے  بھیڑ شالاؤں  کے  پاس آیا جہاں  قریب میں  ایک غار تھا۔ تو ساؤل اس غار کے  اندر رفع حاجت کے  لئے  گیا۔ اس وقت داؤد اور اس کے  آدمی  غار کے  پیچھے  بیٹھے  تھے۔

4 داؤد کے  لوگوں  نے  اس سے  کہا ” آج وہ دن ہے  جس کے  بارے  میں  خداوند نے  تفصیل سے  باتیں  کیں  تھیں۔ خداوند نے  تم سے  کہا تھا۔’ میں  تمہارے  دشمنوں  کو تمہیں  دوں  گا تب تم جو چاہو اس کے  ساتھ کر سکتے  ہو۔”

5 بعد میں  داؤد کو ساؤل کے  چغّہ کے  ایک کونے  کاٹنے  کا افسوس ہوا۔

6 داؤد نے  اپنے  آدمیوں  سے  کہا ” مجھے  امید ہے  کہ خداوند مجھے  دوبارہ اپنے  آقا کے  خلاف اس طرح کچھ کرنے  سے  روکتا ہے  کیونکہ ساؤل خداوند کا مسح کیا ہوا ( چُنا ہوا ) بادشاہ ہے  مجھے  ساؤل کے  خلاف کچھ نہیں  کرنا چاہئے  کیونکہ وہ خداوند کا مسح کیا ہوا (چُنا ہوا ) بادشاہ ہے۔ ”

7 داؤد نے  یہ باتیں  اپنے  آدمیوں  کو روکنے  کے  لئے  کہیں۔ داؤد نے  اپنے  آدمیوں  کو ساؤل پر حملہ کرنے  نہیں  دیا۔ساؤل نے  غار کو چھوڑ دیا اور اپنے  راستے  پر چلا گیا۔

8 داؤد غار سے  باہر آیا۔ داؤد نے  ساؤل کو پکا را ” میرے  آقا بادشاہ! ”

9 داؤد نے  ساؤل سے  کہا “آپ  کیوں  سنتے  ہیں  جب لوگ یہ کہتے  ہیں  ” ہوشیار رہو داؤد آپ  کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے ؟ ”

10 میں  آپ  کو نقصان پہنچانا نہیں  چاہتا آپ  اسے  اپنی آنکھوں  سے  دیکھ سکتے  ہیں۔ خداوند نے  آج مجھے  آپ  کو غار میں  مار ڈالنے  کی اجازت دی تھی۔ لیکن میں  نے  آپ  کو نہیں  مارا۔ میں  نے  آپ  پر رحم کیا۔میں  نے  کہا ‘ میں  اپنے  آقا کو نقصان نہیں  پہنچاؤں  گا۔ اس لئے  کہ ساؤل خداوند کا چُنا ہوا بادشاہ ہے۔ ‘

11 میرے  آقا برائے  مہربانی دیکھئے   میرے  ہاتھ میں  اپنے  چغّہ کے  ٹکڑے  کو دیکھئے۔ ہاں  میں  نے  آپ  کے  چغّہ کے  ایک کونے  سے  اسے  کاٹ لیا تھا لیکن میں  نے  آپ  کو نہیں  مارا۔ شاید کہ یہ آپ  کو یقین دلائے  کہ میں  آپ  کو نقصان پہنچانے  کا کوئی منصوبہ نہیں  بناتا ہوں۔ میں  نے  آپ  کے  خلاف کوئی گناہ نہیں  کیا لیکن آپ  میرا پیچھا کر رہے  ہو اور مجھے  مار ڈالنا چاہتے  ہیں۔

12 خداوند کو فیصلہ کرنے  دو کہ میرے  اور آپ  کے  بیچ کیا ہوتا ہے۔ وہ آپ  کی نا انصافی کا بدلہ لے  گا۔ لیکن میں  آ پکے  خلاف نہیں  لڑوں  گا۔

13 ایک قدیم کہاوت ہے  :

14 آپ  کس کا پیچھا کر رہے  ہیں  اسرائیل کا بادشاہ کس کے  خلا ف لڑنے  آ رہا ہے۔ آپ  ایسے  کسی کا پیچھا نہیں  کر رہے  ہیں  جو آپ  کو نقصان پہنچائے  گا۔ یہ اُسی طرح ہے  جیسے  آ پ کسی مُردہ کُتے  یا مچھر کا پیچھا کر رہے  ہیں۔

15 خداوند کو منصف ہو کر فیصلہ کرنے  دو کہ ہم لوگوں  میں  سے  کون صحیح ہے۔ خداوند کو جانچنے  اور میرے  حالات کا بچاؤ کرنے  دیجئے۔ وہ میرے  حق میں  فیصلہ کرے  اور تیرے  گرفت سے  بچائے۔ ”

16 اور اس وقت جب داؤد نے  کہنا ختم کیا تو ساؤل نے  پو چھا ” کیا یہ تمہاری آواز ہے ؟ داؤد میرے  بیٹے   تب ساؤل رونا شروع کیا۔ ساؤل بہت رو یا۔

17 ساؤل نے  کہا ” مجھ سے  بہتر آدمی  ہو کیونکہ تم نے  مجھ سے  شریفانہ برتاؤ کیا لیکن میں  تمہیں  نقصان پہنچانے  کی کوشش کر رہا ہوں۔

18 تم نے  اچھی باتوں  کے  تعلق سے  کہا جو تم نے  کیا۔ خداوند مجھے  تمہارے  پاس لا یا لیکن تم نے  مجھے  نہ مارا۔

19 جب کوئی آدمی  اپنے  دشمن کو پکڑتا ہے  تو وہ اسے  بغیر نقصان پہنچائے  جانے  نہیں  دیتا ہے۔ لیکن تم نے  یہ کیا۔ تم نے  میرے  ساتھ شریفانہ برتاؤ کیا خداوند تمہیں  اس کی اچھی جزا دے !

20 اور اب میں  جانتا ہوں  کہ تم یقیناً نئے  بادشاہ بنو گے  اور اسرائیل کی بادشاہت تمہارے  ہاتھ میں  ہو گی۔

21 اب ضرور وعدہ کرو کہ تم میری نسلوں  کو ہلاک نہیں  کرو گے  یا تم میرا نام میرے  باپ کے  خاندان سے  نہیں  مٹاؤ گے۔ ”

22 اس لئے  داؤد نے  ساؤل سے  وعدہ کیا کہ وہ ساؤل کے  خاندان کو ہلاک نہیں  کرے  گا تب ساؤل اپنا گھر واپس ہو گیا۔ داؤد اور اس کے  آدمی  پہاڑ کے  قلعہ کو گئے۔

 

 

 

باب:  25

 

 

1 سموئیل مر گیا۔ سبھی بنی اسرائیل جمع ہوئے  اور سموئیل کی موت پر غم کا اظہار کئے۔ انہوں  نے  سموئیل کو اس کے  گھر رامہ میں  دفن کیا۔ تب داؤد فاران کے  ریگستان میں  چلا گیا۔

2 معون میں  ایک بہت دولتمند آدمی  رہتا تھا اس کے  پاس ۳۰۰۰ بھیڑیں  اور ۱۰۰۰ بکریاں  تھیں۔ وہ آدمی  کرمل میں  اپنی تجارت کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ وہ وہاں  اپنی بھیڑوں  کا اُون کاٹنے  گیا۔

3 اس آدمی  کا نام نا بال تھا وہ کا لب کے  خاندان سے  تھا۔ نابال کی بیوی کا نام ابیجیل تھا وہ ایک خوبصورت اور عقلمند عورت تھی۔ لیکن نابال کمینہ اور ظالم آدمی  تھا۔

4 داؤد ریگستان میں  تھا جب اس نے  سنا کہ نابال اپنی بھیڑوں  کا اُون کاٹ رہا ہے۔

5 داؤد نے  دس نوجوانوں  کو نا بال سے  بات کرنے  کے  لئے  بھیجا۔ داؤد نے  اُن سے  کہا ” نابال کے  پاس جاؤ اور اس کو میری طرف سے  سلام کہو۔”

6 داؤد نے  انہیں  یہ پیغام نابال کے  لئے  دیا ” میں  امید کرتا ہوں  کہ تم اور تمہارے  خاندان خیریت سے  ہیں۔ میں  اُمید کرتا ہوں  کہ جو کچھ تمہارا ہے  وہ ٹھیک ٹھا ک ہے۔

7 میں  نے  سنا کہ تم اپنی بھیڑوں  سے  اُون کا ٹ رہے  ہو۔ تمہارے  چرواہے  کچھ وقت تک ہم لوگوں  کے  ساتھ رہے  تھے   اور ہم لوگوں  نے  انہیں  کوئی تکلیف نہیں  دی تھی۔ جب تک وہ لوگ کرمل میں  رہے  ان لوگوں  کا کوئی بھی سامان چوری نہیں  ہوا۔

8 اپنے  خادموں  سے  پو چھو اور وہ بتائیں  گے  کہ یہ سب سچ ہے۔ براہ کرم ان جوانوں  پر مہربانی رکھو۔ ہم تمہارے  پاس خوشی کے  وقت آئے  ہیں۔ مہربانی کر کے  اِن نوجوان آدمیوں  کو جو کچھ تم دے  سکتے  ہو دو۔ براہ کرم یہ میرے  لئے  کرنا۔ تمہارا دوست داؤد۔”

9 داؤد کے  آدمی  نابال کے  پاس گئے  اور اس سے  ملے  انہوں  نے  اس کو داؤد کا پیغام پہنچا یا اور اس کے  جواب کا انتظار کیا۔

10 لیکن نابال ان کے  ساتھ کمینگی سے  پیش آیا۔ اس نے  پو چھا ” داؤد کون ہے ؟ اور یہ یسّی کا بیٹا کون ہے ؟ ” وہاں  کئی غلام ہیں  جو ان دنوں  اپنے  آقاؤں  کے  پاس سے  بھا گ گئے  ہیں۔

11 میرے  پاس روٹی اور پانی ہے  اور میرے  پاس جانوروں  کا گوشت بھی ہے  جن کو میں  نے  اپنے  ان خادموں  کے  لئے  ذبح کیا ہے  جو میری بھیڑوں  کا اُون کاٹتے  ہیں۔ کیا تم مجھ سے  امید رکھتے  کہ میں  یہ کھانا ان لوگوں  کو دوں  جنہیں  میں  جانتا بھی نہیں۔”

12 داؤد کے  آدمی  واپس ہوئے  اور ہر بات جو نابال نے  کہی وہ داؤد سے  کہا۔

13 تب داؤد نے  اپنے  آدمیوں  سے  کہا ” اپنی تلواریں  باندھو!” اس لئے  ان میں  سے  ہر ایک نے  تلواریں  باندھ لی۔ داؤد نے  بھی اپنی تلوار باندھ لی۔ تقریباً ۴۰۰ آدمی  داؤد کے  ساتھ گئے  اور ۲۰۰ آدمی  سامان کے  پاس ٹھہرے۔

14 اس دوران نابال کے  خادموں  میں  سے  ایک نے  نابال کی بیوی ابیجیل سے  کہا ” کیا آپ  اسے  یقین کریں  گے۔ داؤد نے  قاصدوں  کو ریگستان سے  ہمارے  آقا کو مبارکباد دینے  بھیجا۔ لیکن اس نے  ان لوگوں  سے  بُرا برتاؤ کیا۔

15 یہ آدمی  ہمارے  ساتھ بہت اچھے  تھے۔ کھیت میں  جب وہ ہمارے  ساتھ تھے  تو ہم لوگوں  کا کچھ نقصان نہیں  ہوا اور کچھ بھی چُرایا نہیں  گیا تھا۔

16 داؤد کے  آدمیوں  نے  دن اور رات ہماری حفاظت کی۔ ان لوگوں  نے  ہم لوگوں  کی حفاظت کی۔ وہ ہم لوگوں  کے  چاروں  طرف دیوار کی طرح تھے   جب ہم بھیڑوں  کے  جھنڈ کی رکھوا لی کرتے  ہوئے  ان کے  ساتھ تھے۔

17 اب اس معاملے  میں  سوچو اور فیصلہ کرو کہ تم کو کیا کرنا چاہئے  کیونکہ میرے  آقا (نابال ) اور ان کے  خاندان کے  لئے  بھیا نک مصیبت آ رہی ہے۔ نابال ایسا شریر ہے  کہ اس کے  من کو بدلنے  کے  لئے  اس سے  بات کرنا بھی ناممکن ہے۔ ”

18 ابیجیل جلدی سے  ۲۰۰ روٹیاں  کے  دو بھرے  ہوئے  مئے  کے  تھیلے   پانچ بھیڑیں  پکی ہوئی دو کوارٹ پکا ہوا  اناج ایک سو کشمش کے  گچھے  اور دوسو سوکھے  دبے  ہوئے  انجیر کی ٹکیا۔ اس نے  انہیں  گدھوں  پر رکھی۔

19 تب ابیجیل نے  خادموں  سے  کہا ” چلو میں  تمہارے  پیچھے  پیچھے  چلوں  گی۔” اس نے  اپنے  شوہر سے  نہیں  کہا۔

20 اور تب جونہی وہ گدھے  کی سواری کر رہی تھی اور پہاڑی کی آڑ سے  اتر رہی تھی تو داؤد اور اس کے  لوگ اترتے  ہوئے  اس کی طرف آ رہے  تھے۔ تب وہ ان لوگوں  کے  پاس پہنچی۔

21 ابیجیل سے  ملنے  کے  پہلے  ہی سے  داؤد کہہ رہا تھا میں ے  نابال کی جائیداد کی ریگستان میں  حفاظت کی۔ اس لئے  نابال نے  ایک بھی بھیڑ نہیں  کھو یا۔ میں  نے  یہ سب کچھ بغیر کچھ لئے  کیا۔ میں  نے  اس کے  لئے  اچھا کیا لیکن وہ میرے  ساتھ بُرا کرتا رہا۔

22 خدا مجھے  سزا دے  اگر میں  نے  نابال کے  خاندان میں  سے  ایک بھی مرد کو کل صبح تک چھوڑ دوں۔

23 لیکن جب ابیجیل نے  داؤد کو دیکھا تو وہ جلد ہی اپنے  گدھے  سے  نیچے  اتری۔ اور خود بخود زمین پر گر گئی اور داؤد کے  سامنے  سجدو کیا۔

24 اس کے  قدموں  پر پڑتے  ہوئے  وہ کہی ” میرے  مالک پو رے  الزام صرف مجھ پر ہو۔ بہر حال برائے  مہربانی جو مجھے  کہنا ہے  اسے  سن۔

25 اس بدنام آدمی  نابال پر توجہ مت دو۔ نابال اتنا ہی بُرا ہے  جتنا کہ اس کے  نام۔ وہ سچ مچ میں  اتنا ہی بیوقوف اور شریر ہے  جتنا کہ اس کا نام کا مطلب۔ وہ سچ مچ میں  ایک بدکردار آدمی  ہے۔ جہاں  تک میرا تعلق ہے  میں  اس آدمی  کو نہیں  دیکھی جسے  تم نے  بھیجا۔

26 اس لئے  میرے  مالک میں  خداوند کی حیات اور تیری زندگی کی قسم کھا تی ہوں  خداوند نے  تمہیں  معصوموں  کا خون کرنے  سے  باز رکھا۔ تمہارے  سبھی دشمن اور وہ سبھی جو تمہیں  نقصان پہنچانا چاہتے  ہیں  نابال کے  جیسا ہو جائے۔

27 اب میں  یہ نذرانہ آپ  کے  لئے  لا رہی ہوں۔ براہ کرم یہ چیزیں  اپنے  آدمیوں  کو دیجئے۔

28 برائے  مہربانی مجھے  معاف کیجئے۔ کیونکہ یقیناً ہی خداوند ان کے  خاندان کو مضبوطی سے  قائم رکھے  گا۔ ہاں  میرا مالک خداوند کے  لئے  جنگ لڑے  گا۔ لوگ آپ کے  اندر کچھ بھی بُرائی نہیں  پائیں  گے۔

29 اگر کوئی آدمی  آپ کو مار نے  کے  لئے  آپ  کا پیچھا کرتا ہے  تو خداوند آپ  کا خدا آپ  کی زندگی بچائے  گا۔ لیکن خداوند آپ  کے  دشمنوں  کی زندگی کو غلیل کے  پتھر کی طرح دور پھینک دے  گا۔

30 خداوند نے  اچھی چیزیں  کیں  جو آپ  کے  لئے  کرنے  کا وعدہ کیا تھا وہ تمہیں  اسرائیل کا قائد بنائے  گا۔

31 اسے  میرے  مالک کے  لئے  رکاوٹ نہ ہونے  دو اسے  اپنے  ضمیر پر بوجھ نہ ہونے  دو کہ تم نے  قانون اپنے  ہاتھ میں  لیا اور معصوم لوگوں  کو مارا۔ اس لئے  جب خداوند تمہارے  لئے  اچھا کرتا ہے  تو برائے  مہربانی مجھے  یاد رکھنا۔”

32 داؤد نے  ابیجیل کو جواب دیا ” خداوند اسرائیل کے  خدا کی حمد کرو۔ تمہیں  مجھ سے  ملنے  کے  لئے  بھیجنے  پر خدا کی حمد کرو۔

33 خدا تم پر تمہاری اچھی سمجھ کے  لئے  اپنا فضل کرے۔ تم نے  مجھے  آج قانون ہاتھ میں  لینے  اور معصوم لوگوں  کو مار نے  سے  باز رکّھا۔

34 یقینا خداوند اسرائیل کا خدا ہے۔ اگر تم مجھ سے  ملنے  جلد ہی نہ آتیں  تو نابال کے  خاندان کا ایک آدمی  بھی کل صبح تک زندہ نہ رہتا۔”

35 تب داؤد نے  ابیجیل کے  نذرانوں  کو قبول کیا۔داؤد نے  اس سے  کہا ” سلامتی سے  گھر جاؤ جو تم نے  مانگا میں  نے  سن لیا ہے  اور تیری التجا کو پو را کیا جائے  گا۔”

36 ابیجیل واپس نابال کے  پاس گئی۔ نابال گھر میں  تھا۔ نابال ایک بادشاہ کی طرح کھا رہا تھا۔ نابال پیا ہوا تھا اورا چھا محسوس کر رہا تھا اس لئے  ابیجیل نے  نابال سے  دوسری صبح تک کچھ نہیں  کہا۔

37 دوسرے  دن صبح جب نابال کا نشہ اتر گیا تھا تب اس کی بیوی نے  اس سے  ہر وہ بات کہی جو ہوئی تھی۔ نابال کو دل کا دورہ پڑا اور چٹان کی طرح سخت ہو گیا۔

38 تقریباً دس دن بعد خداوند نے  نابال کو موت دی۔

39 داؤد نے  سنا کہ نابال مر گیا۔ تب اس نے  کہا ” خداوند کا حمد ہو! نابال نے  میرے  بارے  میں  ہمیشہ بُری باتیں  کہی تھیں۔ لیکن خداوند نے  میری مدد کی۔ خداوند نے  مجھے  بُرائی کرنے  سے  رو کا۔ اور خداوند نے  نابال کو موت دی کیوں  کہ اس نے  بہت بُرائی کی تھی۔ تب داؤد نے  ابیجیل کو خبر بھیجی۔داؤد نے  اس کو بیوی بننے  کے  لئے  پوچھا۔

40 داؤد کے  خادم کرمل گئے  اور ابیجیل سے  کہے   ” داؤد نے  خود ہی ہم لوگوں  کو تمہیں  لانے  کے  لئے  بھیجا ہے  داؤد چاہتا ہے  کہ تم اس کی بیوی بنو۔”

41 ابیجیل نے  اپنا چہرہ زمین کی طرف جھکا دیا وہ بولی ” میں  تمہاری خادمہ عورت ہوں  میں  خدمت کرنے  تیار ہوں۔ میں  اپنے  آقا کے  (داؤد کے  ) خادموں  کے  پیر دھونے  تیار ہوں۔”

42 ابیجیل جلدی سے  گدھے  پر سوار ہوئی اور داؤد کے  قاصدوں  کے  ساتھ چلی گھی۔ ابیجیل اپنے  ساتھ پانچ خادماؤں  کو لا ئی۔ وہ داؤد کی بیوی بنی۔

43 داؤد نے  یزر عیل اور اخینوعم سے  بھی شادی کی۔ اخینوعم اور ابیجیل دونوں  داؤد کی بیویاں  تھیں۔

44 داؤد نے  ساؤل کی بیٹی میکل سے  بھی شادی کی تھی لیکن ساؤل نے  اس کو اس کے  پاس سے  لے  لیا تھا اور اس کو فلطی نامی آ دمی جو لیس کا بیٹا تھا اسے  دے  دیا تھا۔ فلطی شہر حلّیم کا رہنے  وا لا تھا۔

 

 

 

باب:  26

 

 

1 زیف کے  لوگ ساؤل سے  ملنے  جِبعہ کو گئے  انہوں  نے  ساؤل سے  کہا ” داؤد حکیلہ کی پہاڑی پر چھپ رہا ہے  یہ پہاڑی یشیمن کے  پار ہے۔ ”

2 ساؤل زیف کے  ریگستان کو گیا۔ ساؤل ۰۰۰،۳ اسرائیلی سپاہیوں  کے  سا تھ داؤد کو کھوجنے  گیا۔

3 ساؤل نے  اس کا خیمہ حکیلہ کی پہاڑی پر قائم کیا خیمہ سڑک کے  قریب تھا جو یشیمن کے  دوسری طرف تھی۔ داؤد ریگستان میں  ٹھہرا تھا۔ داؤد کو معلوم ہوا کہ ساؤل نے  اس کا وہاں  پیچھا کیا ہے۔

4 اس لئے  داؤد نے  جاسوس بھیجے۔ داؤد کو پتہ چلا کہ ساؤل حکیلہ آ چکا ہے۔

5 تب داؤد اس جگہ گیا جہاں  ساؤل نے  خیمہ ڈالا تھا۔ اس نے  وہاں  دیکھا جہاں  ساؤل اور ابنیر  سو رہے  تھے۔ نیر کا بیٹا ابنیر  ساؤل کی فوج کا سپہ سالار تھا۔ ساؤل ان کے  خیمہ کے  درمیان میں  سو رہا تھا۔ فوج اس کے  اطراف تھی۔

6 داؤد نے  اخیملک حتّی اور ضرویاہ کے  بیٹے  ابیشے  سے  بات کی۔ ( ابیشے  یوآب کا بھائی تھا۔) اس نے  ان سے  پو چھا ” میرے  ساتھ کون ساؤل کے  خیمہ میں  جائے  گا؟ ” ابیشے  نے  جواب دیا ” میں  آپ  کے  ساتھ جاؤں  گا۔”

7 رات ہوئی داؤد اور ابیشے  ساؤل کی چھاؤنی میں  گئے۔ وہاں  ساؤل اپنی چھاؤنی کے  بیچ میں  بہت گہری نیند میں  تھا۔ اور اس کا بھا لا اس کے  سر کے  قریب زمین میں  دھنسا ہوا تھا۔ ابنیر  اور دوسرے  سپاہی ساؤل کے  اطراف سوئے  ہوئے  تھے۔

8 ابیشے  نے  داؤد سے  کہا ” آج خدا نے  تمہارے  دشمن کو شکست دینے  کا موقع دیا ہے۔ مجھے  اس کے  ہی بھا لا سے  اسے  ایک ہی جھٹکا میں  زمین میں  پیوست کر دینے  دو۔ دوسرے  وار کی ضرورت نہیں  ہو گی۔”

9 لیکن داؤد نے  ابیشے  سے  کہا ” ساؤل کو مت مارو۔ کوئی بھی ایسا نہیں  ہے  جو خداوند کے  چُنے  ہوئے  بادشاہ پر حملہ کرے  اور بے  گناہ رہے۔

10 خداوند کی حیات کی قسم خداوند خود ساؤل کو سزا دے  گا۔ ہو سکتا ہے  ساؤل فطری موت مرے  یا ہو سکتا ہے  ساؤل جنگ میں  مارا جائے۔

11 لیکن میں  دعا کرتا ہوں  کہ خداوند مجھے  اس کے  ذریعہ چُنے  گئے  بادشاہ کے  خلاف ہاتھ اٹھانے  نہ دے۔ اب بھا لا اور پانی کا مرتبان اس کے  سر کے  پاس سے  اٹھاؤ اور یہاں  سے  باہر چلیں۔”

12 اس لئے  داؤد نے  پانی کا مرتبان اور بھا لا لیا جو ساؤل کے  سر کے  قریب تھا۔ تب دونوں  نے  ساؤل کی چھاؤنی کو چھوڑا کسی نے  نہیں  جانا کہ کیا ہوا۔ کسی نے  نہ دیکھا اور نہ کوئی جاگا۔ ساؤل اور اس کے  سپاہی سو گئے  تھے  کیوں  کہ خداوند نے  ان پر گہری نیند طاری کر دی تھی۔

13 داؤد وادی کی دوسری طرف گیا۔ وادی کی دوسری طرف داؤد پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا ہوا جہاں  پر ساؤل کا خیمہ تھا۔ داؤد اور ساؤل کے  خیمے  کے  بیچ بہت زیادہ دوری تھی۔

14 داؤد نے  فوج کو اور نیر کے  بیٹے  ابنیر  کو بھی آواز سے  پکارا ” ابنیر  مجھے  جواب دو! ” ابنیر  جواب دیا ” کون ہو تم؟ تم بادشاہ کو کیوں  پکار رہے  ہو؟ ”

15 داؤد نے  جواب دیا ” تم ایک دلیر آدمی  ہو کیا تم نہیں  ہو؟ اسرائیل میں  تم سے  اچھا اور کوئی نہیں  کیا یہ صحیح نہیں  ہے ؟ تب تم نے  اپنے  بادشاہ آقا کی حفاظت کیوں  نہیں  کی؟ ایک معمولی آدمی  تمہارے  آقا بادشاہ کو مار نے  کے  لئے  تمہارے  خیمہ میں  آیا۔

16 تم نے  جو کیا اچھا نہیں  کیا۔ میں  خداوند کی حیات کی قسم کھاتا ہوں  کہ تم اور تمہارے  لوگ مارے  جانے  کے  مستحق ہیں  کیوں  کہ تمہارے  لوگ اور تم نے  اپنے  مالک خداوند کے  چنے  ہوئے  بادشاہ کی حفاظت نہیں  کی۔ ثبوت کے  طور پر تم خود ہی دیکھ سکتے  ہو کہ پانی کا جگ اور بھا لا جو کہ بادشاہ کے  سر کے  پاس تھا اب کہاں  ہے ؟ ”

17 ساؤل داؤد کی آواز کو جان گیا اور کہا ” داؤد میرے  بیٹے ! کیا یہ تمہاری آواز ہے ؟ ” داؤد نے  جواب دیا ” ہاں  یہ میری آواز ہے  میرے  آقا و بادشاہ۔”

18 داؤد نے  یہ بھی کہا ” جناب! آپ  میرا پیچھا کیوں  کر رہے  ہیں ؟ ” میں  نے  کیا برا کیا ہے ؟ میں  کس چیز کے  لئے  قصور وار ہوں ؟ ”

19 میرے  آقا و بادشاہ میری بات سنو : اگر خداوند تیرا میرے  اوپر غصہ ہونے  کا سبب بنتا ہے  تب اس کو ایک نذرانہ قبول کرنے  دو۔ اگر کوئی آدمی  تیرا مجھ پر غصہ ہونے  کا سبب ہو تو خداوند ان لوگوں  کو ملعون کرے۔ لوگوں  نے  مجھے  خداوند کی دی ہوئی زمین کو چھوڑنے  کے  لئے  مجبور کیا ہے۔ لوگوں  نے  مجھ سے  کہا ” جاؤ اور اجنبیوں  کے  ساتھ رہو اور دیوتاؤں  کی خدمت کرو۔

20 مجھے  غیر ملکی زمین پر خداوند کی موجودگی سے  بہت دور نہ مرنے  دو۔ اسرائیل کا بادشاہ ایک پسو کا شکار کرنے  کے  لئے  نکل پڑا وہ اس آدمی  کی مانند ہے  جو پہاڑوں  پر تیتر کا شکار کرتا ہے۔ ”

21 تب ساؤل نے  جواب دیا ” میں  نے  گناہ کیا ہے  واپس آؤ میرے  بیٹے  کیوں  کہ تم نے  آج میری زندگی کو بیش قیمتی تصور کیا ہے   میں  تمہیں  اور زیادہ دکھ نہیں  دوں  گا۔ میں  نے  بیوقوفی کی حرکت کی میں  نے  بڑی غلطی کی۔ ”

22 داؤد نے  جواب دیا ” بادشاہ کا بھا لا یہاں  ہے  اپنے  کسی نوجوان کو یہاں  آ کر لے  جانے  دو۔

23 خداوند ہر آدمی  کو اس کے  کئے  ہوئے  کا بدلہ دیتا ہے۔ اگر وہ صحیح کرتا ہے  تو صِلہ دیتا ہے  اگر غلطی کرتا ہے  تو سزا دیتا ہے۔ آج خداوند نے  مجھ کو تمہیں  شکست دینے  کا موقع دیا ہے  لیکن میں  خداوند کے  چنے  ہوئے  بادشاہ کو نہیں  ماروں  گا۔

24 آج میں  نے  تمہیں  دکھا یا کہ تمہاری زندگی میرے  لئے  بہت اہم ہے  اسی طرح خداوند دکھائے  گا کہ میری زندگی اس کے  لئے  بیش قیمتی ہے۔ خداوند مجھے  میری ہر مصیبت سے  مجھے  بچائے  گا۔”

25 تب ساؤل نے  داؤد سے  کہا ” داؤد! میرے  بیٹے  خدا تم پر فضل کرے  تم عظیم کام کرو گے  تم کامیاب ہو گے۔ ” داؤد اپنے  راستے  سے  چلا گیا اور ساؤل اپنے  گھر واپس ہو گیا۔

 

 

 

باب:  27

 

 

1 لیکن داؤد نے  اپنے  آپ  میں  سو چا ” ساؤل مجھے  چند دن میں  پکڑے  گا۔ بہترین کام جو کر سکتا ہوں  وہ یہ کہ میں  فلسطینی زمین کو فرار ہو جاؤں۔ تب ساؤل مجھے  اسرائیل میں  تلاش کر رہا ہو گا۔ اس طرح میں  ساؤل سے  فرار ہوں  گا۔”

2 اس لئے  ساؤل اور اس کے  ۶۰۰ آدمیوں  نے  اسرائیل چھوڑا وہ معوک کے  بیٹے  اکیس کے  پاس گئے  اکیس جات کا بادشاہ تھا۔

3 داؤد اس کے  آدمی  اور ان کے  خاندان والے  اکیس کے  ساتھ جات میں  رہے  داؤد کے  ساتھ اس کی دو بیویاں  تھیں  وہ یزر عیل کی اخینوعم اور کرمل کی ابیجیل تھیں  ابیجیل نابال کی بیوہ تھی۔

4 لوگوں  نے  ساؤل سے  کہا کہ داؤد جات کو بھاگ گیا ہے  اس لئے  ساؤل نے  اس کو تلاش کرنا بند کر دیا۔

5 داؤد نے  اکیس سے  کہا ” اگر تم مجھ سے  خوش ہو تو مجھے  ملک کے  کسی ایک شہر میں  جگہ دو۔ میں  صرف تمہارا خادم ہوں۔ مجھے  وہاں  رہنا ہو گا یہاں  تمہارے  ساتھ اس شاہی شہر میں  نہیں۔”

6 اس دن اکیسنے  داؤد کو صقلاج شہردیا اور صقلاج ہمیشہ سے  یہوداہ کے  بادشاہوں  کا تھا۔

7 داؤد فلسطینیوں  کے  ساتھ ایک سال اور چار مہینے  رہا۔

8 داؤد اور اس کے  آدمی  گئے  اور جسوریوں  عمالیقیوں  اور جزریوں  پر چھا پا مارا ( قدیم زمانے  میں  یہ لوگ شور اور مصر کی حد تک پھیلی ہوئی زمین میں  رہتے  تھے۔ )

9 داؤد نے  اس علاقے  کے  لوگوں  کو شکست دی۔ داؤد نے  ان کی سب بھیڑ مویشی گدھے   اونٹ اور کپڑے  لے  لئے  اور انہیں  واپس اکیس کے  پاس لا یا لیکن داؤد نے  ان لوگوں  میں  سے  کسی کو زندہ نہ چھوڑا۔

10 داؤد نے  ایسا کئی بار کیا ہر وقت اکیس نے  داؤد سے  پو چھا وہ کہاں  لڑا اور کون سی چیزیں  لی۔ داؤد نے  کہا ” میں  نے  یہوداہ کے  جنوبی علاقے  کے  خلاف لڑا ” میں  نے  یہوداہ کے  جنوبی علاقے  کے  خلاف لڑا “یر حمیل کے  جنوبی علاقہ کے  خلاف لڑا یا کہا کہ میں  نے  قینیوں  کے  جنوبی علاقہ کے  خلاف لڑا۔

11 داؤد نے  کبھی کسی مرد یا عورت کو زندہ جات نہیں  لا یا۔ داؤد نے  سو چا ” اگر ہم نے  کسی کو زندہ رہنے  دیا تو وہ آدمی  اکیس سے  کہہ سکتا ہے  کہ میں  نے  حقیقت میں  کیا کیا۔” داؤد جب تک فلسطین کی سرزمین میں  رہا ہر وقت یہی کیا۔

12 اکیس داؤد پر بھروسہ کیا اور خود ہی سوچا۔داؤد نے  خود کو اپنے  اسرائیلی لوگوں  سے  کامل نفرت انگیز بنا دیا ہے  کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے  لئے  میری خدمت کرے۔ ”

 

 

 

باب:  28

 

 

1 بعد میں  فلسطینیوں  نے  اپنی فوجوں  کو اسرائیل کے  خلاف لڑنے  کے  لئے  جمع کیا۔ اکیسنے  داؤد سے  کہا ” کیا تم سمجھتے  ہو کہ تمہیں  اور تمہارے  آدمی  کو میرے  ساتھ اسرائیل کے  خلاف لڑنے  کے  لئے  جانا چاہئے ؟ ”

2 داؤد نے  جواب دیا ” یقیناً تب تم دیکھ سکتے  ہو کہ میں  تمہارے  لئے  کیا کر سکتا ہوں ! ” اکیسنے  کہا ” اچھا! میں  تمہیں  اپنا محافظ بناؤں  گا تم ہمیشہ میرا بچاؤ کرو گے۔ ”

3 سموئیل مر گیا۔ سبھی اسرائیلیوں  نے  سموئیل کی موت پر غم کاا ظہار کیا۔ انہوں  نے  سموئیل کو اس کے  شہر رامہ میں  دفن کیا۔ پہلے  ساؤل نے  مُردہ روحوں  سے  رابطہ رکھنے  وا لوں  اور قسمت کا حال بتانے  وا لوں  کو اسرائیل چھوڑنے  پر مجبور کیا۔

4 فلسطینی جنگ کے  لئے  تیار ہوئے۔ وہ شُو نیم آئے  اور اس جگہ ان کا خیمہ بنا یا ساؤل نے  تمام اسرائیلیوں  کو جمع کیا اور جلبوعہ میں  خیمہ بنا یا۔

5 ساؤل نے   فلسطینی فوج کو دیکھا اور وہ ڈر گیا اس کا دل شدید طریقے  سے  کانپ اٹھا۔

6 ساؤل نے  خداوند سے  دعا کی لیکن خداوند نے  سنا نہیں۔ خدا نے  ساؤل سے  خواب میں  بات نہیں  کی۔ خدا نے  اس کو جواب دینے  کے  لئے  اوریم کو استعمال نہیں  کیا۔ اور خدا نے  نبیوں  کو ساؤل سے  بات کرنے  کے  لئے  استعمال نہیں  کیا۔

7 آخر کار ساؤل نے  اپنے  افسروں  سے  کہا ” میرے  لئے  ایک عورت دیکھو جو مُردوں  کی روحوں  سے  رابطہ رکھے۔ تا کہ میں  جا کر اس سے  پوچھوں  کہ اس جنگ کا نتیجہ کیا ہو گا؟ ” اس کے  افسروں  نے  جواب دیا ” وہاں  عین دور شہر میں  ایک ایسی ہی عورت ہے۔ ”

8 ساؤل معمولی آدمی  کے  کپڑے  پہن کر خود کا بھیس بدل دیا۔ اس رات ساؤل اور اس کے  دو آدمی  اس عورت کو دیکھنے  گئے۔ ساؤل نے   عورت سے  کہا ” تم مجھے  ضرور رُوحوں  کے  ذریعہ مستقبل بتاؤ۔ تم اس آدمی  کے  پریت ( بھوت ) کو بُلاؤ۔ جس کا میں  نام دوں۔”

9 لیکن عورت نے  ساؤل سے  کہا ” تم جانتے  ہو ساؤل نے  کیا کیا اس نے  تمام عورتوں  پر زبردستی کی اور پیشین گوئی کرنے  والوں  پر زبردستی کی کہ اسرائیل کی سر زمین چھوڑ دیں۔ تم مجھے  پھانسنے  کی کوشش کر رہے  ہو اور مجھے  مار نے  کی۔ ”

10 ساؤل نے  خداوند کے  نام کو عورت سے  عہد کرنے  کے  لئے  استعمال کیا اس نے  کہا ” خداوند کی حیات کی قسم تمہیں  یہ کرنے  کی سزا نہیں  دی جائے  گی۔”

11 عورت نے  پو چھا ” تم کسے  چاہتے  ہو کہ میں  تمہارے  لئے  یہاں  بُلاؤں ؟ ”

12 اور جب عورت نے  سموئیل کو دیکھا تب چیخ ماری اور ساؤل سے  کہا ” تم نے  مجھے  دھوکہ دیا تم ساؤل ہو۔

13 بادشاہ نے  کہا ” ڈرو مت بلکہ مجھے  کہو تم کیا دیکھتی ہو؟ ” عورت نے  کہا ” ایک رو ح زمین سے  باہر آ رہی ہے۔ ”

14 ساؤل نے  پو چھا ” وہ کیسا دکھائی دیتا ہے ؟ ” عورت نے  جواب دیا ” وہ ایک بوڑھا آدمی  دکھائی پڑتا ہے  جو ایک خاص لبادہ پہنا ہے۔ ” تب ساؤل نے   جانا کہ وہ سموئیل ہے  ساؤل جھک گیا اس کا چہرہ زمین پر ٹِک گیا۔

15 سموئیل نے  ساؤل سے  کہا ” تم نے  مجھے  کیوں  پریشان کیا تم مجھے  اوپر کیوں  لائے ؟ ” ساؤل نے  جواب دیا ” میں  مصیبت میں  ہوں۔ فلسطینی میرے  خلاف لڑنے  آئے  ہیں  اور خدا نے  مجھے  چھوڑ دیا ہے  خدا میری نہیں  سنتا ہے  وہ نبیوں  یا خواب کے  ذریعہ مجھے  جواب نہیں  دیتا ہے۔ اس لئے  میں  نے  تمہیں  پکا را۔ میں  چاہتا ہوں  کہ کیا کرنا ہے  تم مجھے  کہو۔”

16 سموئیل نے  کہا ‘ ‘ خداوند نے  تمہیں  چھوڑ دیا اب وہ تمہارے  پڑوسی ( داؤد) کے  ساتھ ہے  اس لئے  تم مجھے  کیوں  پریشان کر رہے  ہو۔

17 خداوند ویسا ہی کر رہا ہے  جیسا اس نے  تمہارے  لئے  میرے  ذریعے  اعلان کیا تھا۔ وہ تمہاری بادشاہت کو تم سے  چھین لیا اور اسے  تمہارے  دوست داؤد کو دیا۔

18 خداوند نے  عما لیقی پر بہت غصّہ کیا۔ اور چا ہا کہ تم اسے  تباہ کرو لیکن تم نے اس کے   حکم کی نا فرمانی کی۔ اسی لئے  آج خداوند تمہارے  ساتھ ایسا کر رہا ہے۔

19 خداوند فلسطینیوں  کو تمہیں  اور اسرائیلیوں  کو شکست دینے  کی اجازت دے  گا۔ کل تم اور تمہارا بیٹا میرے  ساتھ یہاں  ہو گے۔ ”

20 ساؤل فوراً زمین پر گرا اور وہیں  پڑا رہا۔ وہ سموئیل کے  پیغام سے  خوفزدہ تھا۔ وہ بہت کمزور بھی تھا کیوں  کہ اس نے  تمام دن اور رات کچھ نہیں  کھا یا تھا۔

21 جب عورت ساؤل کے  پاس آئی اس نے  دیکھا کہ وہ کتنا ڈرا ہوا ہے۔ اس نے  اس سے  کہا ” دیکھو میں  تمہاری خادمہ ہوں  میں  تمہاری اطاعت کی ہوں  میں  نے  اپنی زندگی کو خطرے  میں  ڈال کر میں  نے  وہ کیا جو تم مجھ سے  کروانا چاہتے  تھے۔

22 اس لئے  برائے  مہربانی میری سنو اب مجھے  تمہیں  کچھ کھانے  کے  لئے  دینے  دو۔ تب تمہیں  اپنی راہ پر چلنے  کی طاقت آئے  گی۔”

23 لیکن ساؤل نے  انکار کیا اس نے  کہا ” میں  نہیں  کھانا چاہتا ” ساؤل کے  افسران بھی عورت کے  ساتھ مل کر اور اس سے  درخواست کئے  کہ کھائے  آخر کار ساؤل نے  ان کی بات سنی۔وہ فرش سے  اٹھا اور بستر پر بیٹھا۔

24 عورت کے  پاس گھر پر ایک موٹا بچھڑا تھا اس نے  جلدی سے  اس بچھڑے  کو ذبح کیا پھر اس نے  کچھ آٹالے  کر گوندھا اور بغیر خمیر کے  کچھ روٹی بنائی۔

25 عورت ساؤل اور اس کے  افسروں  کے  سامنے  کھانا لائی اور ان لوگوں  نے  کھانا کھا یا اور تب اسی رات وہ اٹھے  اور چل پڑے۔

 

 

 

باب:  29

 

 

1 فلسطینی افق پر اپنے  سپاہیوں  کے  ساتھ جمع ہوئے۔ اسرائیلیوں  نے  یزرعیل میں  چشمہ کے  پاس خیمہ ڈالا۔

2 فلسطینی حاکم اپنے  ۱۰۰ آدمیوں  اور ۱۰۰۰ آدمیوں  کے  گروہ کے  ساتھ آگے  بڑھ رہے  تھے۔ داؤد اور اس کے  آدمی  اکیس کے  ساتھ پیچھے  سے  قدم بڑھا رہے  تھے۔

3 فلسطینی کپتانوں  نے  پو چھا ” یہ عبرانی یہاں  کیا کر رہے  ہیں ؟ ” اکیسنے  فلسطینی کپتانوں  سے  کہا ” یہ داؤد ہے۔ داؤد ساؤل کے  افسروں  میں  سے  تھا داؤد ایک طویل عرصہ سے  میرے  ساتھ ہے  میں  نے  داؤد میں  کوئی غلطی نہیں  دیکھی جب سے  کہ وہ ساؤل کو چھوڑ کر میرے  پاس آیا ہے۔ ”

4 لیکن فلسطینی کپتان اکیس پر غصّہ میں  آئے۔ انہوں  نے  کہا ” داؤد کو واپس بھیجو۔” اس کو اس شہر کو واپس جانا چاہئے  جو تم نے  اس کو دیا ہے۔ وہ ہمارے  ساتھ جنگ پر نہیں  جا سکتا۔ اگر وہ ہم لوگوں  کے  ساتھ جنگ کے  میدان میں  آتا ہے   تو وہ ہم لوگوں  کے  خلاف ہو جائے  گا ہمدردی پھر سے  حاصل کرنے  کا ان کے  لئے  تعجب خیز موقع نہیں  ہے ؟

5 داؤد ہی آدمی  ہے  جس کے  متعلق اسرائیلی گانا گاتے  اور ناچتے  ہیں  : ” ساؤل نے  ہزار دشمنوں  کو مار دیا ہے۔ لیکن داؤد نے  دسوں  ہزار کو مارا ہے ! ”

6 اس لئے  اکیسنے  داؤد کو بُلا یا اور کہا ” خداوند گواہ ہے  کہ تم میرے  وفادار ہو۔ میں  بہت خوش ہوں  گا اگر تم میری فوج میں  خدمت کرو۔ جب سے  تم میرے  پاس آئے  ہو تم نے  کوئی غلطی نہیں  کی ہے۔ بہر حال فلسطینی حاکم نے  تم کو منظور نہیں  کیا۔

7 سلامتی سے  لوٹ جاؤ اور فلسطینی حاکموں  کو پریشان کرنے  کے  لئے  کچھ نہ کرو۔”

8 داؤد نے  پو چھا ” میں  نے  کیا غلطی کی ہے ؟ ” تم نے  مجھ میں  کوئی بُرائی دیکھی ہے  جس دن سے  میں  تمہارے  پاس آیا ہوں ؟ ” نہیں ! میرے  خداوند بادشاہ کے  دشمنوں  سے  مجھے  لڑنے  کے  لئے  کیوں  نہیں  جانے  دیتے۔ ”

9 اکیسنے  جواب دیا ” مجھے  یقین ہے  تم ایک اچھے  آدمی  ہو۔ تم خدا کے  فرشتے  کی مانند ہو بہر حال فلسطینی کپتان کہتا ہے  وہ ہمارے  ساتھ جنگ میں  نہیں  جا سکتا۔

10 صبح سویرے  ہی تم اور تمہارے  لوگ اس قصبے  میں  جاؤ جسے  میں  نے  تمہیں  دیا ہے۔ تم اور وہ آدمی  جو تمہارے  ساتھ آیا ہے  سویرے  اٹھو اور سورج طلوع ہونے  پر اس جگہ کو چھوڑ دو۔”

11 اس لئے  داؤد اور اس کے  آدمی  صبح سویرے  اٹھے  اور ملک فلسطینی کو واپس چلے  گئے۔ اور اسی وقت فلسطینی یزر عیل کو چلے  گئے۔

 

 

 

باب:  30

 

 

1 داؤد اور اس کے  آدمی  صِقلاج گئے  اور تین دن بعد وہاں  پہنچے۔ اس وقت عمالیقیوں  نے  نیگیو کے  علاقے  کو فتح کر لیا تھا اور صقلاج پر حملہ کیا تھا۔ صقلاج پر حملہ کرنے  کے  بعد ان لوگوں  نے  شہر کو جلا دیا تھا۔

2 انہوں  نے  تمام عورتوں  اور ان سبھی جوان اور بوڑھے  کو جو شہر میں  تھے  گرفتار کر لیا۔ انہوں  نے  لوگوں  میں  سے  کسی کو ہلاک نہیں  کیا وہ صرف وہاں  سے  انہیں  لے  گئے۔

3 جب داؤد اور اس کے  آدمی  صقلاج آئے  تو انہوں  نے  شہر کو جلتا ہوا پایا ان کی بیویوں  اور بچوں  کو عمالیقیوں  نے  گرفتار کیا۔

4 داؤد اور اس کی فوج کے  دوسرے  آدمی  اس وقت تک بلند آواز سے  روتے  رہے  جب تک کہ کمزوری کے  سبب وہ رونے  کے  قابل نہ رہے۔

5 عمالیقی داؤد کی دو بیویوں  پر یزرعیل کی اخینوعم اور کرمل کے  نا بال کی بیوہ ابیجیل کولے  گئے  تھے۔

6 فوج کے  تمام آدمی  رنجیدہ تھے  اور غصّہ میں  تھے  کیوں  کہ ان کے  بیٹے  بیٹیوں  کو قیدی بنا لیا گیا۔ وہ آدمی  داؤد کو پتھروں  سے  مار ڈالنے  کی بات کر رہے  تھے۔ اس بات سے  داؤد بہت پریشان ہوا۔ لیکن داؤد نے  خداوند اپنے  خدا میں  طاقت پا ئی۔

7 داؤد نے  کاہن ابی یاتر سے  کہا ” ایفود لے  آؤ” اور ابی یاتر داؤد کے  پاس ایفود لے  آیا۔”

8 تب داؤد نے  خداوند سے  دعا کی ” کیا میں  ان لوگوں  کا پیچھا کروں  جو ہمارے  خاندانوں  کولے  گئے  ہیں ؟ کیا میں  انہیں  پکڑوں ؟ ” خداوند نے  جواب دیا ” ان لوگوں  کو پکڑو۔ تم لوگ ان لوگوں  کو پکڑو گے۔ تم لوگ اپنے  خاندان کو بچاؤ گے۔ ”

9 داؤد نے  اپنے  ساتھ ۶۰۰ آدمیوں  کو لیا اور بسور کے  نالا پر گئے۔ اس کے  تقریباً ۲۰۰ آدمی  اس جگہ ٹھہرے  وہ زیادہ کمزور اور مسلسل تھکے  ہوئے  تھے۔ اس لئے  داؤد اور ۴۰۰ آدمیوں  نے  عمالیقیوں  کا پیچھا کرنا شروع کیا۔

10

11 داؤد کے  آدمیوں  نے  کھیت میں  ایک مصری کو پایا وہ لوگ اس کو داؤد کے  پاس لے  آئے۔ انہوں  نے  اس مصری کو کچھ پانی اور غذا کھانے  کے  لئے  دیا۔

12 انہوں  نے  مصری کو ایک انجیر کی ٹکیہ اور دو کشمش کے  خوشے  دیئے۔ اس نے  کھانے  کے  بعد راحت محسوس کی تین دن اور تین رات سے  اس نے  کوئی غذا اور پانی نہیں  لیا تھا۔

13 داؤد نے  مصری سے  پوچھا ” تمہارا آقا کون ہے  تم کہاں  سے  آئے  ہو۔” مصری نے  جواب دیا ” میں  مصری ہوں۔ میں  ایک عمالیقی کا غلام ہوں  تین دن پہلے  میں  بیمار ہوا اور میرے  آقا نے  مجھے  چھوڑ دیا۔

14 وہ ہم ہی ہیں  جنہوں  نے  نیگیو کے  علاقے  پر حملہ کیا جہاں  کریتی رہتے  ہیں۔ ہم نے  یہوداہ کی سر زمین پر حملہ کیا اور نیگیو کے  علاقے  پر بھی جہاں  کالب کے  لوگ رہتے  ہیں۔ ہم نے  صِقلاج کو بھی جلایا۔”

15 داؤد نے  مصری سے  پو چھا ” کیا تم مجھے  ان لوگوں  کے  بارے  میں  بتاؤ گے  جو ہمارے  خاندانوں  کولے  گئے ؟ ” مصری نے  جواب دیا ” اگر تم خدا کے  سامنے  مخصوص عہد کرو۔ تب میں  ان کے  بارے  میں  بتانے  میں  تمہاری مدد کروں  گا۔ لیکن تمہیں  وعدہ کرنا چاہئے  کہ تم مجھے  ہلاک نہیں  کرو گے  یا میرے  آقا کو واپس نہیں  کرو گے۔ ”

16 مصری نے  داؤد کو عمالیقیوں  کے  یہاں  پہنچا یا۔ وہ زمین پر چاروں  طرف کھا پی رہے  تھے  وہ فلسطین اور یہوداہ سے  جو چیزیں  لائے  تھے  اس سے  تقریب منا رہے  تھے۔

17 داؤد نے  ان پر حملہ کیا اور مار دیا۔ وہ سورج کے  طلوع ہونے  سے  دوسرے  دن رات تک لڑتے  رہے  کوئی بھی عمالیقی فرار نہیں  ہوا سوائے  ۴۰۰ آدمیوں  کے  جو اپنے  اونٹوں  پر چھلانگ لگائے  اور چلے  گئے۔

18 داؤد نے  عمالیقیوں  سے  ہر چیز واپس لے  لی بشمول اس کی دو بیویاں  بھی۔

19 کوئی چیز بھی نہیں  کھو ئی۔ انہوں  نے  تمام بچوں  اور بوڑھوں  کو پا لیا۔ انہوں  نے  ان کے  تمام بیٹوں  اور بیٹیوں  کو بھی پا لیا۔ اور ان کی تمام قیمتی اشیاء بھی پا لیں۔ انہوں  نے  ہر چیز واپس لی جو عمالیقیوں  نے  ان سے  لے  لی تھیں۔ داؤد ہر چیز واپس لا یا۔

20 داؤد نے  تمام بھیڑ اور دوسرے  مویشی لے  لئے۔ داؤد کے  آدمیوں  نے  ان جانوروں  کو دوسرے  مویشی کے  آگے  آگے  لے  گیا۔ داؤد کے  آدمیوں  نے  کہا ” وہ داؤد کا انعام ہے۔ ”

21 داؤد ۲۰۰ آدمیوں  کے  پاس آیا جوبسور کے  نالا پر ٹھہرے  تھے۔ یہ آدمی  بہت کمزور اور تھکے  ہوئے  تھے  داؤد کے  ساتھ نہ جاس کے   تھے۔ یہ آدمی  داؤد سے  ملنے  اور سپاہیوں  کے  استقبال کرنے  کو باہر آئے۔ بسور نالا کے  آدمی  داؤد اور اس کی فوج جیسے  ہی قریب آئی ان سے  ملے  اور داؤد نے  ان لوگوں  کی خیر و عافیت پو چھی۔

22 وہاں  کچھ خراب آدمی  تھے  جو گروہ میں  مصیبتیں  لاتے  تھے  جو داؤد کے  ساتھ گئے  تھے۔ انہوں  نے  مصیبتیں  لانے  وا لوں  سے  کہا ” یہ ۲۰۰ آدمی  ہمارے  ساتھ نہیں  گئے  اس لئے  ہم نے  جو چیزیں  لی ہیں  کچھ نہ دیں  گے۔ یہ آدمی  صرف ان کی بیویاں  اور بچوں  کولے  سکتے  ہیں۔”

23 داؤد نے  جواب دیا ” نہیں  میرے  بھا ئیو ایسا نہ کرو! خداوند نے  ہم کو جو دیا ہے  اس کے  متعلق سو چو۔ خداوند نے  دشمنوں  کو جس نے  ہم پر حملہ کیا ان کو شکست دینے  دی۔

24 کوئی بھی اس بات پر تمہارے  ساتھ راضی نہیں  ہو گا۔ ان آدمیوں  کا حصہ جو سامان کے  پاس ٹھہرے  ہیں  اور ان کا جو آدمی  جنگ میں  گئے  ہیں  برا بر ہو گا۔”

25 داؤد نے  اسے  اسرائیل کے  لئے  حکم اور اُصول بنا یا۔ یہ اصول آج بھی جاری ہے۔

26 داؤد صقلاج آیا۔ تب اس نے  ان چیزوں  میں  سے  جو عمالیقیوں  سے  لی تھیں  کچھ کو اپنے  دوستوں  کو بھیجا جو یہوداہ کے  قائدین تھے۔ داؤد نے  کہا ” تمہارے  لئے  ایک تحفہ ہے  ان چیزوں  میں  سے  جو ہم نے  خداوند کے  دشمنوں  سے  لی ہیں۔”

27 داؤد نے  ان چیزوں  میں  سے  جو عمالیقیوں  سے  حاصل ہوئیں  تھیں  کچھ کو بیت ایل نیگیو یتیر کے  قائدین کو بھیجا۔

28 عرو عیر سِفموت اِستموع

29 رکِل یرحمیل اور قین کے  شہروں۔

30 حُرمہ رعا سان عتاک۔

31 اور حُبرون کو بھیجا۔ داؤد نے  ان چیزوں  میں  سے  کچھ کو ان سبھی جگہوں  کے  قائدین کو بھیجا جہاں  داؤد اور اس کے  لوگ رہتے  تھے۔

 

 

 

باب:  31

 

 

1 فلسطینی اسرائیل کے  خلاف لڑے  اور اسرائیلی فلسطین سے  بھا گ گئے  بہت سارے  اسرائیلی کوہستان جلبوعہ پر مارے  گئے۔

2 فلسطینی ساؤل اور اس کے  بیٹوں  سے  بڑی بہادری سے  لڑے۔ فلسطینیوں  نے  ساؤل کے  بیٹوں  یُونتن اور ابینداب اور ملکیشوع کو مار ڈالا۔

3 ساؤل کے  چاروں  طرف جنگ بہت سخت اور گھمسان ہو گئی۔ تیر اندازوں  نے  ساؤل پر تیر بر سائے  اور وہ بری طرح زخمی ہوا۔

4 ساؤل نے  اپنے  خادم سے  کہا ” جو کہ اس کا ہتھیار لا رہا تھا ” اپنی تلوار لو اور مجھے  مار دو تاکہ وہ غیر مختون مجھے  چوٹ پہنچانے  اور مذاق اڑانے  نہ آئیں۔” اس کا ہتھیار لے  جانے  والا خادم ڈرا ہوا تھا اور اس کو مار نے  سے  انکار کر دیا۔ اس لئے  ساؤل نے  اپنی تلوار لے  کر خود کو ہلا ک کر لیا۔

5 ہتھیار لے  جانے  والے  نے  دیکھا کہ ساؤل مر چکا ہے۔ اس لئے  اس نے  بھی اپنی تلوار سے  خود کو ساؤل کے  نزدیک مار ڈالا۔

6 اس طرح ساؤل اس کے  تین بیٹے   اس کا ہتھیار لے  جانے  والا اور اس کے  سبھی دوسرے  آدمی  اسی دن مر گئے۔

7 اسرائیلی جو یزرعیل وادی کے  دوسری طرف اور یردن کے  دوسری طرف رہتے  تھے  دیکھے  کہ اسرائیلی فوج بھاگ رہی ہے  اور انہوں  نے  جانا کہ ساؤل اور اس کے  بیٹے  مر گئے۔ تب وہ لوگ اپنے  شہر چھوڑ کر بھاگ گئے۔ تب فلسطینی آئے  اور ان شہروں  میں  رہے۔

8 دوسرے  دن فلسطینی مرے  ہوئے  لوگوں  کی چیزیں  لینے  واپس گئے۔ انہوں  نے  ساؤل اور اس کے  تینوں  بیٹوں  کو کوہستان جلبوعہ پر مرے  ہوئے  پائے۔

9 فلسطینیوں  نے  ساؤل کا سر کاٹ لیا اور اس کا زرہ بکتر لے  لیا۔ فلسطینیوں  نے  خوشخبری کو اپنے  بتوں  کی ہیکلوں  اور اپنے  لوگوں  کو کہنے  کے  لئے  قاصدوں  کو پورے  ملک میں  بھیجا۔

10 انہوں  نے  ساؤل کی زرہ بکتر کو عستارات کی ہیکل میں  رکھا۔ فلسطینیوں  نے  ساؤل کے  جسم کو بھی بیت شان کی دیوار پر لٹکایا۔

11 یبیس جِلعاد کے  لوگوں  نے  ان تمام کارناموں  کے  متعلق سنا جو فلسطینیوں  نے  ساؤل کے  ساتھ کیا۔

12 اس لئے  یبیس کے  تمام سپاہی بیت شان گئے  وہ ساری رات چلتے  رہے۔ تب انہوں  نے  ساؤل کے  جسم کو بیت شان کی دیوار سے  اتارا۔ تب وہ ان لاشوں  کو یبیسلے  آئے  وہاں  یبیس کے  لوگوں  نے  ساؤل اور اس کے  تینوں  بیٹوں  کی لا شوں  کو جلائی۔

13 تب انہوں  نے  ساؤل اور اس کے  بیٹوں  کی ہڈیاں  لیں  اور انہیں  یبیس میں  درخت کے  نیچے  دفن کر دیا۔ تب یبیس کے  لوگوں  نے  غم کا اظہار کیا وہ سات دنوں  تک کھانا نہیں  کھائے۔

٭٭٭

ماخذ:

http://gospelgo.com/a/urdu_bible.htm

پروف ریڈنگ: اویس قرنی، اعجاز عبید

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید