FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

عہد نامہ قدیم

 

 

 کتاب ۱۲۔ سلاطین دوم

 

 

 

 

                   جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

 

 

 

 

 

 

 

۱۲۔کتاب سلاطین دوم

 

 

 

 

 

 

باب:  1

 

 

1 اخی اب کے  مرنے  کے  بعد موآب نے اسرائیل کے  خلاف بغاوت کی۔

2 ایک دن اخزیاہ سامر یاہ میں  اپنے  گھر کی چھت پر تھا کہ اخزیاہ لکڑی کے  چھجّے  سے  نیچے  گرا۔ وہ بری طرح زخمی ہوا۔ اخزیاہ نے  پیغام رسانوں  کو بلایا اور ان سے  کہا “عقرون کے  دیوتا بعل زبوب کے  کاہنوں  کے  پاس جاؤ۔ ان سے  پو چھو کہ کیا میں  اپنے  زخموں  سے  اچھا ہو جاؤں  گا۔”

3 لیکن خداوند کے  فرشتے  نے  ایلیاہ تشبی سے  کہا ” بادشاہ اخزیاہ نے  پیغام رساں  سامریہ سے  بھیجے  ہیں  جاؤ ان سے  ملو۔ ان کو کہو ‘ اسرائیل میں  صرف ایک خدا ہے  اس لئے  پھر تم لوگ سوالات پو چھنے  کے  لئے  کیوں  بعل زبوب عقرون کے  دیوتا کے  پاس جا رہے  ہو؟ ”

4 بادشاہ اخزیاہ سے  یہ باتیں  کہو۔ تم نے  پیغام رسانوں  کو بعل زبوب سے  سوالات کرنے  کے  لئے  بھیجا چونکہ تم نے  ایسا کیا خداوند کہتا ہے  : تم اپنے  بستر سے  نہیں  اٹھو گے  تم مر جاؤ گے۔ ” تب ایلیاہ یہ الفاظ اخزیاہ کے  خادموں  سے  کہہ کر نکل گیا۔

5 پیغام رساں  اخزیاہ کے  پاس واپس آئے۔ اخزیاہ نے  پیغام رسانوں  سے  کہا ” تم اتنی جلدی کیوں  واپس آئے ؟ ”

6 پیغام رسانوں  نے  اخزیاہ سے  کہا ” ایک آدمی  ہم سے  ملنے  آیا وہ ہم سے  بولا بادشاہ کے  پاس واپس جاؤ اور اس کو کہو کہ خداوند یہ کہتا ہے   ‘ اسرائیل میں  ایک خدا ہے ! پھر تم پیغام رسانوں  کو اپنے  سوالات کا جواب پوچھنے  عقرون کے  دیوتا بعل زبوب کے  پاس کیوں  بھیجے  ہو؟ ” چونکہ تم نے  یہ باتیں  کیں  اس لئے  تم اپنے  بستر سے  نہیں  اٹھو گے   تم مر جاؤ گے۔ ”

7 اخزیاہ نے  پیغام رسانوں  سے  کہا ” وہ آدمی  جو تم سے  ملا اور ساری باتیں  کہی اسے  بیان کرو۔”

8 پیغام رسانوں  نے  اخزیاہ کو جواب دیا ” وہ آدمی  بالوں  سے  بنے  کپڑے  پہنا تھا۔ اپنے  کمر میں  چمڑے  کا کمر بند کسے  ہوئے  تھا۔” تب اخزیاہ نے  کہا ” وہ ایلیاہ تشبی تھا۔”

9 اخزیاہ نے  ایک سپہ سالار اور ۵۰ آدمیوں  کو ایلیاہ کے  پاس بھیجا۔ سپہ سالار ایلیاہ کے  پاس گیا۔ اس وقت ایلیاہ ایک پہاڑی کے  اوپر بیٹھا تھا اس سپہ سالار نے  ایلیاہ سے  کہا ” خدا کا آدمی  بادشاہ کہتا ہے   ‘نیچے  آؤ۔”

10 ایلیاہ نے  ۵۰ آدمیوں  کے  سپہ سالار کو جواب دیا ” اگر میں  خدا کا آدمی  ( نبی ) ہوں  تو جنت سے  آ گ نیچے  آئے  اور تمہیں  اور تمہارے  ۵۰ آدمیوں  کو جلا دے۔ ” پھر جنت سے  آ گ نیچے  آئی اور سپہ سالار اور اس کے  ۵۰ آدمیوں  کو تباہ کر دی۔

11 اخزیاہ نے  دوسرے  سپہ سالار کو ۵۰ آدمیوں  کے  ساتھ ایلیاہ کے  پاس بھیجا۔ سپہ سالار نے  ایلیاہ سے  کہا ” خدا کا آدمی  بادشاہ کہتا ہے  جلدی سے  نیچے  آؤ! ”

12 ایلیاہ نے  سپہ سالار اور ۵۰ آدمیوں  سے  کہا ” اگر میں  خدا کا آدمی  ہوں  جنّت سے  آ گ کو نیچے  آنے  دوتا کہ تم کو اور پچاس آدمیوں  کو تباہ کرے۔ ” تب خدا کی آ گ جنت سے  نیچے  آئی اور سپہ سالار اور اس کے  ۵۰ آدمیوں  کو تباہ کر دی۔

13 اخزیاہ نے  تیسرے  سپہ سالار کو بھیجا۔ تیسرا سپہ سالا رایلیاہ کے  پاس آیا سپہ سالار اپنے  گھٹنوں  کے  بل نیچے  گِرا سپہ سالار ایلیاہ سے  گڑگڑ اتے  ہوئے  کہا ” اے  خدا کے  آدمی  میں  تم سے  التجا کرتا ہوں  براہ کرم مجھ پر اور اپنے  اس پچاس خادموں  پر رحم کر۔ میری اور ان کی زندگیوں  کو بخش دے۔

14 جنت سے  آ گ نیچے  آئی تھی اور پہلے  دو سپہ سالاروں  اور ان کے  ۵۰ آدمیوں  کو تباہ کر دی تھی لیکن اب رحم کرو اور ہم کو زندہ رہنے  دو۔”

15 خداوند کے  فرشتے  نے  ایلیاہ سے  کہا ” سپہ سالار کے  ساتھ جاؤ اس سے  ڈرو مت۔” اس لئے  ایلیاہ سپہ سالار کے  ساتھ بادشاہ اخزیاہ سے  ملنے  گیا۔

16 ایلیاہ نے  اخزیاہ کو کہا خداوند یوں  کہتا ہے   ” اسرائیل میں  ایک خدا ہے ! تم کیوں  پیغام رسانوں  کو عقرون کے  دیوتا بعل زبوب سے  اپنے  سوالات کا جواب لینے  بھیجے  ہو؟ چونکہ تم نے  ایسا کیا ہے  اس لئے  تم اپنے  بستر سے  نہیں  اٹھو گے  تم مر جاؤ گے۔ ”

17 اخزیاہ مر گیا جیسا کہ خداوند نے  ایلیاہ کے  ذریعہ کہا۔ اخزیاہ کو بیٹا نہیں  تھا اس لئے  یورام اخزیاہ کے  بعد نیا بادشاہ ہوا۔ جب یہوسفط کا بیٹا یہورام یہوداہ کا بادشاہ تھا تو اس کی حکومت کے  دوسرے  سال کے  دوران یورام حکومت کرنی شروع کی۔

18 جو دوسری سبھی چیزیں  اخزیاہ نے  کیں  وہ کتاب تاریخ سلاطین اسرائیل میں  لکھی ہیں۔

 

 

 

باب:  2

 

 

1 اب خداوند کے  لئے  وقت آ گیا ہے  ایلیاہ کو طوفان کے  ساتھ اوپر جنت میں  اٹھانے  کا۔ ایلیاہ الیشع کے  ساتھ جلجال کو گیا۔

2 ایلیاہ نے  الیشع سے  کہا ” براہ کرم یہاں  ٹھہرو کیونکہ خداوند نے  مجھے  بیت ایل کو جانے  کے  لئے  کہا ہے۔ ” لیکن الیشع نے  کہا ” میں  خداوند کی زندگی اور تمہاری زندگی کی قسم کھاتا ہوں  کہ میں  تمہیں  نہیں  چھوڑوں  گا۔” اس لئے  وہ لو گ بیت ایل چلے  گئے۔

3 بیت ایل کے  نبیوں  کا گروہ الیشع کے  پاس آیا اور اس سے  کہا ” کیا تم جانتے  ہو خداوند تمہارے  آقا کو آج تم سے  لے  لے  گا؟ ” الیشع نے  کہا ” ہاں  میں  یہ جانتا ہوں  اس بارے  میں  بات مت کرو۔”

4 ایلیاہ نے  الیشع سے  کہا ” براہ کرم یہاں  ٹھہرو کیوں  کہ خداوند نے  مجھ سے  کہا کہ یریحو کو جاؤ۔” لیکن الیشع نے  کہا ” میں  خداوند کی زندگی اور تمہاری زندگی کی قسم کھاتا ہوں  کہ میں  تم سے  جدا ہونا نہیں  چاہتا ہوں۔” اس لئے  وہ دونوں  یریحو چلے  گئے۔

5 یریحو میں  نبیوں  کا گروہ الیشع کے  پاس آیا اور اس سے  کہا ” کیا تم جانتے  ہو کہ خداوند تمہارے  آقا کو آج لے  لے  گا؟” الیشع نے  جواب دیا ” ہاں  یہ میں  جانتا ہوں  اس بارے  میں  بات نہ کرو۔”

6 ایلیاہ نے  الیشع سے  کہا ” براہ کرم یہاں  ٹھہرو کیونکہ خداوند نے  مجھے  کہا ہے  کہ دریائے  یردن کو جاؤ۔” الیشع نے  جواب دیا ” میں  خداوند کی زندگی کی اور تمہاری زندگی کی قسم کھاتا ہوں  کہ میں  تم سے  جدا نہیں  ہوں  گا۔” اس لئے  دو آدمی  چلے  گئے۔

7 وہاں  نبیوں  کے  گروہ کے  پچاس آدمی  تھے  جو ان کے  پیچھے  چلے  تھے۔ ایلیاہ اور الیشع دریائے  یردن پر رُک گئے۔ پچاس آدمی  ایلیاہ اور الیشع سے  دور کھڑے  رہے۔

8 ایلیاہ نے  اپنا کوٹ اُتارا اور اس کو لپیٹ کر پانی پر مارا پانی دائیں  اور بائیں  جانب ہٹ گیا۔ تب ایلیاہ اور الیشع نے  سوکھی زمین سے  دریا پار کیا۔

9 ان کے  دریا پار کرنے  کے  بعد ایلیاہ نے  الیشع سے  کہا ” اس سے  پہلے  کہ خدا مجھ کو تم سے  لے  لے  تم مجھ سے  کیا کروانا چاہتے  ہو؟” الیشع نے  کہا ” میں  آپ  کی رُوح کا دو گنا حصّہ اپنے  لئے  چاہتا ہو ں۔ ”

10 ایلیاہ نے  کہا ” تم نے  ایک اور سخت سوال کیا ہے۔ اگر تم مجھے  اپنے  سے  دور لے  جاتے  ہوئے  دیکھو تو وہ تمہیں  ملے  گا جو تم نے  مانگا ہے۔ اگر تم مجھے  اپنے  سے  دور لے  جاتے  ہوئے  نہیں  دیکھتے  ہو تو تم وہ نہیں  پاؤ گے۔ جسے  تم نے  مانگا ہے۔ ”

11 ایلیاہ اور الیشع ایک ساتھ باتیں  کرتے  چل رہے  تھے  اچانک کچھ گھوڑے  اور رتھ آئے  اور ایلیاہ الیشع میں  سے  ہوا۔ گھوڑے  اور رتھ آ گ کی مانند تھی۔ ایلیاہ کو ایک طوفانی ہوا میں  اوپر جنت میں  اٹھا لیا گیا۔

12 الیشع نے  دیکھا اور چلّایا ” میرے  باپ! میرے  باپ! اسرائیل کی رتھ اور اس کے  گھوڑ سوار سپاہی۔ ” الیشع نے  ایلیاہ کو دوبارہ کبھی نہیں  دیکھا۔الیشع نے  اپنے  کپڑوں  کو مُٹھی میں  پکڑ کر انہیں  پھاڑ ڈالا اپنے  غم کو ظاہر کرنے  کے  لئے۔

13 ایلیاہ کا کوٹ زمین پر گر گیا تھا۔ الیشع نے  اسے  اٹھا یا تب وہ گیا اور یردن ندی کے  کنا رے  پر کھڑا ہو گیا۔

14 الیشع نے  ایلیاہ کا کو ٹ لیا اور اس سے  پانی پر مارا اور کہا ” خداوند ایلیاہ کا خدا کہاں  ہے ؟ ” جب وہ پانی پر مارا تو پانی دائیں  اور بائیں  جانب ہٹ گیا اور تب الیشع نے  دریا پار کیا۔

15 جب یریحو میں  نبیوں  کے  گروہ نے  الیشع کو دیکھا انہوں  نے  کہا ” اب ایلیاہ کی رُو ح الیشع پر ہے۔ ” تب وہ الیشع کے  پاس گئے  اور اس کے  آگے  جھکے۔

16 انہوں  نے  ان سے  کہا ” دیکھو ہمارے  پاس پچاس طاقتور آدمی  ہیں  براہ کرم انہیں  جانے  دو اور اپنے  آقا کو تلاش کرنے  دو۔ ہو سکتا ہے  خداوند کی روح ایلیاہ کو اوپر لے  لی ہو اور اس کو پہاڑی کی چوٹی یا کہیں  وادی میں  گرا دی ہو۔” لیکن الیشع نے  جواب دیا! نہیں  ایلیاہ کو تلاش کرنے  کے  لئے  آدمیوں  کو مت بھیجو۔”

17 نبیوں  کے  گروہ نے  اتنی ضد کی کہ وہ اسے  اور زیادہ منع کرنے  سے  شرما گیا۔ تب الیشع نے  کہا ” ٹھیک ہے  ایلیاہ کو تلاش کرنے  کے  لئے  لوگوں  کو بھیجو۔ نبیوں  کے  گروہ نے  پچاس آدمیوں  کو ایلیاہ کو تلاش کرنے  کے  لئے  بھیجا ان لوگوں  نے  تین دن تک تلاش کیا لیکن ان لوگوں  نے  اسے  نہ پایا۔

18 اس لئے  وہ لوگ یریحو گئے  جہاں  الیشع ٹھہرا ہوا تھا ان لوگوں  نے  اس سے  کہا کہ وہ ایلیاہ کو نہ پاس کے۔  الیشع نے  انہیں  کہا ” میں  نے  نہ جانے  کے  لئے  کہا تھا۔”

19 شہر کے  آدمی نے  الیشع سے  کہا ” جناب آپ  اس شہر کو عمدہ جگہ میں  دیکھ سکتے  ہیں  لیکن اس کا پانی خراب ہے  کیوں  کہ زمین سے  فصل نہیں  اُگتی۔”

20 الیشع نے  کہا ” میرے  پاس ایک نیا کٹورہ لاؤ اور اس میں  نمک ڈالو ” اس لئے  وہ اسے  اس کے  پاس لایا۔

21 تب الیشع اس جگہ سے  باہر گیا جہاں  پانی زمین سے  بہہ رہا تھا۔ الیشع نے  پانی میں  نمک کو پھینکا اس نے  کہا ” خداوند نے  کہا ‘ میں  اس پانی کو بالکل خالص بنا رہا ہوں  پھر یہ کبھی موت کا یا زمین کو بنجر بنانے  کا سبب نہیں  بنے  گا۔”

22 تب پانی خالص ہو گیا اور پانی آج ک بھی اچھا ہے  یہ ویسا ہی ہوا جیسا کہ الیشع نے  کہا۔

23 الیشع اس شہر سے  بیت ایل کو گیا۔ الیشع پہاڑ پر سے  شہر جا رہا تھا اور کچھ لڑ کے  شہر کے  باہر آ رہے  تھے  وہ الیشع کا مذاق اُڑانے  لگے۔ انہوں  نے  کہا ” اے  گنجے  آدمی  اوپر جاؤ اے  گنجے  آدمی  اوپر جاؤ! ”

24 الیشع نے  انہیں  مڑ کر دیکھا اس نے  خداوند سے  التجا کی کہ ان کا برا ہو۔ اُسی وقت دو ریچھ جنگل سے  آ کر لڑکوں  پر حملہ کر دیا وہ بیالیس لڑ کے  تھے  جنہیں  ریچھوں  نے  پھاڑ دیا۔

25 الیشع بیت ایل سے  نکلا اور کرمل کی چوٹی پر گیا۔ وہاں  سے  الیشع سامریہ چلا گیا۔

 

 

 

 

باب:  3

 

 

1 اخی اب کا بیٹا یورام سامر یہ میں  اسرائیل کا بادشاہ ہوا۔ اس نے  یہوسفط کی یہوداہ پر بادشاہت کے  اٹھارہویں  سال کے  دوران حکومت کرنی شروع کی۔ اس نے  بارہ سال تک حکومت کی۔

2 یورام نے  وہ کام کئے  جسے  خداوند برا کہا تھا۔ وہ اپنے  باپ اور ماں  کی طرح کام نہیں  کیا تھا۔ کیوں  کہ اس نے  اس ستون کو ہٹا دیا جو اس کے  باپ نے  بعل کی پرستش کے  لئے  بنایا تھا۔

3 لیکن وہ نباط کے  بیٹے  یُر بعام کے  گناہوں  کو جاری رکھا۔ یُربعام اسرائیل کو گناہ کرانے  کا سبب بنا۔ یورام نے  یُربعام کو گناہوں  سے  نہیں  روکا۔

4 میسا موآب کا بادشاہ تھا۔ میسا کی کئی ذاتی بھیڑیں  تھیں۔ میسانے  ایک لاکھ میمنوں  اور ایک لاکھ مینڈھوں  کے  اُون اسرائیل کے  بادشاہ کو دیئے۔

5 لیکن جب اخی اب مر گیا تو موآب کے  بادشاہ نے  اِسرائیل کی حکومت کے  خلاف بغاوت کی۔

6 تب بادشاہ یورام سامریہ کے  باہر گیا اور بنی اسرائیلیوں  کو ایک ساتھ جمع کیا۔

7 یورام نے  قاصدوں  کو یہوداہ کے  بادشاہ یہوسفط کے  پاس بھیجا یورام نے  کہا ” موآب کا بادشاہ میری سلطنت سے  آزاد ہو گیا ہے۔ کیا تم موآب کے  خلاف جنگ کرنے  میرے  ساتھ چلو گے ؟ ” یہوسفط نے  کہا ” ہاں  میں  تمہارے  ساتھ جاؤں  گا۔ ہم ایک ساتھ ایک فوج کی طرح شامل ہوں  گے۔ میرے  لوگ تمہارے  لوگوں  کی طرح ہوں  گے  اور میرے  گھوڑے  تمہارے  گھوڑوں  کی طرح ہوں  گے۔ ”

8 یہوسفط نے  یو رام سے  پوچھا ” ہمیں  کس راستے  سے  جانا ہو گا؟” یورام نے  جواب دیا ” ہمیں  ادو کے  ریگستان سے  جانا ہو گا۔”

9 اس لئے  اسرائیل کا بادشاہ یہوداہ کے  بادشاہ اور ادوم کے  بادشاہ کے  ساتھ گیا انہوں  نے  سات دن تک سفر کیا۔ ان کے  ساتھ کافی مقدار میں  پانی ان کی فوجوں  اور ان کے  جانوروں  کے  لئے  نہیں  تھا۔

10 آ خر کار اسرائیل کا بادشاہ ( یورام )نے  کہا آہ ” میں  سمجھتا ہوں۔ خداوند نے  حقیقت میں  تین بادشاہوں  کو صرف اس لئے  ایک سا تھ لا یا۔تا کہ موآبیوں  کو شکست دے  دیں۔”

11 لیکن یہوسفط نے  کہا ” یقیناً خداوند کے  نبیوں  میں  سے  ایک نبی یہاں  ہے  ہمیں  نبی سے  پو چھنے  دو کہ خداوند کیا کہتا ہے  تب ہمیں  کرنا چاہئے۔ ” اسرائیل کے  بادشاہ کے  خادموں  میں  سے  ایک نے  کہا ” سافط کا بیٹا الیشع یہاں  ہے۔ الیشع ایلیاہ کا خادم تھا۔”

12 یہوسفط نے  کہا “خداوند کا کلاما لیشع کے  ساتھ ہے۔ ” اس لئے  اسرائیل کا بادشاہ یو رام یہوداہ کا بادشاہ یہوسفط ادوم کا بادشاہ الیشع کو دیکھنے  گئے۔

13 الیشع نے  اسرائیل کے  بادشاہ ( یورام ) سے  کہا ” تم مجھ سے  کیا چاہتے  ہو؟ اپنے  والدین کے  نبیوں  کے  پاس جاؤ۔” اسرائیل کے  بادشاہ نے  الیشع سے  کہا ” نہیں  ‘ ہم تم سے  ملنے  آئے  ہیں  کیوں  کہ خداوند نے  ہم تینوں  بادشاہوں  کو ایک ساتھ بُلا یا ہے تا کہ موآبی ہم لوگوں  کو شکست دے  ہم کو تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔ ”

14 الیشع نے  کہا ” میں  یہوداہ کے  بادشاہ یہوسفط کی عزّت کرتا ہوں  اور میں  خداوند قادر مطلق کی خدمت کرتا ہوں  خداوند کی حیات کی قسم میں  یہاں  صرف یہوسفط کی وجہ سے  آیا۔ میں  تم سے  سچ کہتا ہوں  اگر یہوسفط یہاں  نہ ہوتا تو میں  تم لوگوں  پر کوئی توجہ نہ کرتا میں  تمہیں  بالکل نظرانداز کر دیتا۔

15 لیکن اب ایک شخص کو میرے  پاس لاؤ جو بر بط بجاس کے۔ ” جب آدمی نے  بربط بجا یا خداوند کی قوت الیشع پر آئی۔

16 تب الیشع نے  کہا ” یہ وہ ہے  جو خداوند تم سے  کہتا ہے  : وادی میں  گڑھا کھو دو۔

17 یہ وہ ہے  جو خداوند کہتا ہے  : نہ تم ہوا کو دیکھو گے  اور نہ ہی بارش کو لیکن وہ وادی پانی سے  بھر جائے  گی۔ تب تم اور تمہارے  مویشی تازہ پانی پئیں  گے۔

18 اور ایسا کرنا خداوند کے  لئے  آسان بات ہے۔ وہ تمہیں  بھی موآبیوں  کو شکست دینے  دے  گا۔

19 تم لوگ ترقی یافتہ اور طاقتور شہروں  کو جیت لو گے۔ تم ہر اچھے  درخت کو کا ٹو گے  تم پانی کے  تمام چشموں  کو رو کو گے۔ تم ہر کھیت کو پتھر پھینک پھینک کر تباہ کر دو گے۔ ”

20 صبح میں  صبح کی قربانی کے  وقت پانی ادوم کی سمت سے  بہنا شروع ہو گا اور وادی بھر جائے  گی۔

21 جب موآب کے  لوگوں  نے  سُنا کہ بادشاہ ان کے  خلاف لڑنے  آئے  ہیں  تو موآب کے  لوگ ایک ساتھ جمع ہوئے  تمام بوڑھے  آدمی  بھی زرہ بکتر پہنے  ہوئے  سر حد پر انتظار کرنے  لگے۔ ( جنگ کے  لئے  تیار )

22 موآب کے  لوگ اس دن صبح جلداٹھے۔ طلوع ہوتا سورج وادی کے  پانی پر چمک رہا تھا۔ اور یہ موآب کے  لوگوں  کے  خون کی مانند دکھائی دیتا تھا۔

23 موآب کے  لوگوں  نے  کہا ” خون کو دیکھو! بادشاہ اور لوگ ضرور ایک دوسرے  سے  لڑے  ہیں۔ انہوں  نے  ایک دوسرے  کو تباہ کیا ہے  ہم لوگ وہاں  جا کر ان مُردہ لوگوں  کے  پاس سے  قیمتی چیزیں  لیں  گے۔ ”

24 موآبی لوگ اسرائیلی خیمہ میں  آئے  لیکن اسرائیل باہر آئے  اور مو آبی فوج پر حملہ کئے۔ موآبی لوگ اسرائیلیوں  کے  پاس سے  بھا گے  اسرائیلیوں  نے  ان کا موآب میں  لڑنے  کے  لئے  پیچھا کیاہے۔

25 اسرائیلیوں  نے  شہروں  کو تباہ کی۔ انہوں  نے  موآب کے  ہر ایک اچھے  قلعہ پر پتھر پھینکے۔ انہوں  نے  پانی کے  تمام چشموں  کو روک دیا اور انہوں  نے  تمام اچھے  درختوں  کو کاٹ دیئے۔ اسرائیلی مسلسل قِیر حراست تک لڑے۔ سپاہیوں  نے  قیر حراست کو گھیر لیا اور اس پر حملہ بھی کئے۔

26 موآب کے  بادشاہ نے  دیکھا کہ لڑائی اس کے  لئے  بہت مشکل ہے  وہ ۷۰۰ آدمیوں  کو تلواروں  کے  ساتھ لیا اور ادوم کے  بادشاہ کو مار نے  اور فوج کو توڑنے  کے  لئے  بھیجا۔ لیکن وہ ادوم کے  بادشاہ تک پہنچ کر فوج کو توڑ نہ سکے۔

27 تب موآب کے  بادشاہ نے  اپنے  بڑے  بیٹے  کو لیا یہ وہ بیٹا تھا جو اس کے  بعد بادشاہ ہونے  وا لا تھا اور شہر کے  اطراف فصیل پر موآب کے  بادشاہ نے  اپنے  بیٹے  کو جلانے  کا نذرانہ کے  طور پر پیش کیا۔ اس ہیبت ناک واقعہ نے  بنی اسرائیلیوں  کو بہت زیادہ پریشان کیا۔ اس لئے  بنی اسرائیلیوں  نے  موآب کو چھوڑ دیا اور اپنی سرزمین میں  واپس چلے  گئے۔

 

 

باب:  4

 

 

1 نبیوں  کے  گروہ کے  ایک آدمی  کی بیوہ تھی۔ وہ آدمی  مر گیا اس کی بیوی الیشع کے  پاس روئی ” میرا شوہر آپ  کے  خادم کی مانند تھا اب میرا شوہر مر چکا ہے۔ آپ  جانتے  ہیں  کہ وہ خداوند کی تعظیم کرتا تھا لیکن اس پر ایک آدمی  کا قرض باقی ہے  اور اب وہ آدمی میرے  دو بیٹوں  کو غلام بنانے  کے  لئے  لینے  آ رہا ہے۔ ”

2 الیشع نے  جواب دیا ” میں  تمہاری کس طرح مدد کر سکتا ہوں۔ مجھے  کہو کہ تمہارے  گھر میں  تمہارے  پاس کیا ہے ؟ ” عورت نے  کہا ” گھر میں  میرے  پاس کوئی چیز نہیں  ہے  میرے  پاس صرف زیتون کے  تیل کا مرتبان ہے۔ ”

3 تب الیشع نے  کہا ” جاؤ اور اپنے  سارے  پڑوسیوں  سے  خالی مرتبان کو مانگ کر لاؤ۔

4 پھر اپنے  گھر جاؤ اور دروازے  بند کر لو صرف تم اور تمہارے  بیٹے  گھر میں  رہیں  گے۔ پھر ہر ایک مرتبان میں  تیل ڈالو اور اسے  ایک طرف رکھو۔”

5 اس طرح وہ عورت الیشع کے  پاس سے  نکلی اور اپنے  گھر میں  گئی اور دروازہ بند کر دی صرف وہ اور اس کے  بیٹے  گھر میں  تھے  اس کے  بیٹے  مرتبانوں  کو لائے  اور اسے  تیل سے  بھر دیئے۔

6 اس نے  کئی مرتبانوں  کو بھرے  آخر کار اس نے  اپنے  بیٹے  سے  کہا ” ایک اور مرتبان میرے  پاس لاؤ۔” لیکن تمام مرتبان بھرے  ہوئے  تھے  اس لڑکے  نے  عورت سے  کہا ” یہاں  اور کوئی مرتبان خالی نہیں  ہے۔ ” اس وقت مرتبان میں  تیل ختم ہو چکا تھا۔

7 تب اس عورت نے  خدا کے  آدمی  ( الیشع ) سے  جو کچھ ہوا اسے  کہا۔الیشع نے  اس سے  کہا ” جاؤ تیل کو بیچو اور قرض ادا کرو تیل کے  بیچنے  کے  بعد اور قرض ادا کرنے  کے  بعد تم اور تمہارے  بیٹے  جو رقم بچی ہے  اس سے  گذارا کر سکتے  ہیں۔”

8 ایک دن الیشع شونیم کو گیا۔ ایک دولتمند عورت وہاں  رہتی تھی۔ اس عورت نے  الیشع سے  کہا ” وہ اس کے  گھر پر ٹھہرے  اور کھانا کھائے۔ اس لئے  جب بھی الیشع وہاں  گیا وہ اس کے  ساتھ ٹھہرا ور کھانا کھایا۔

9 عورت نے  اپنے  شوہر سے  کہا ” دیکھو! میں  دیکھ سکتی ہوں  کہ الیشع ایک مقدس خدا کا آدمی  ہے  وہ ہمارے  گھر سے  ہر وقت گذرتا ہے۔

10 ہمیں  الیشع کے  لئے  چھت پر ایک چھوٹا کمرہ بنانے  دو۔ ہم اس کمرے  کو ایک پلنگ میز چراغ اور کرسی سے  آراستہ کریں  گے تا کہ وہ جب بھی ہمارے  ساتھ رہنے  کے  لئے  آئے  وہ وہاں  رہ سکے۔ ”

11 ایک دن الیشع عورت کے  گھر آیا وہ اس کمرے  میں  گیا اور اس کو جانچا۔

12 الیشع نے  اپنے  خادم جیحا زی سے  کہا ” اس شونیمی عورت کو بلاؤ۔” خادم نے  شونیمی عورت کو بلا یا اور وہ الیشع کے  سامنے  کھڑی ہو ئی۔

13 الیشع نے  اس کے  خادم سے  کہا ” اس عورت سے  کہو ” تم ہماری دیکھ بھال کی خاطر بڑی تکلیف اٹھا ئی۔ اس کے  بدلے  میں  ہم تمہارے  لئے  کیا کر سکتے  ہیں ؟ اگر تم چا ہو تو ہم بادشاہ یا فوج کے  سپہ سالار سے  تمہاری خاطر بات کر سکتے  ہیں  ” عورت نے  جواب دیا ” میں  یہاں  اچھی طرح اپنے  لوگوں  میں  ہوں۔”

14 الیشع نے  جیحازی سے  کہا ” ہم اس کے  لئے  کیا کر سکتے  ہیں ؟ ” جیحازی نے  جواب دیا ” میں  جانتا ہوں ! اس کو بیٹا نہیں  ہے  اور اس کا شوہر ایک بوڑھا آدمی  ہے۔ ”

15 تب الیشع نے  کہا ” اس کو بلاؤ۔” اس لئے  جیحازی نے  اس عورت کو بلا یا وہ آئی اور دروازے  پر کھڑی رہی۔

16 الیشع نے  عورت سے  کہا ” اس وقت سے  دوسرے  بہار کے  موسم تک تمہاری گود میں  تمہارا لڑکا ہو گا۔” عورت نے  کہا ” نہیں  جناب! اے  خدا کے  آدمی  مجھ سے  جھوٹ مت کہو۔”

17 لیکن عورت حاملہ ہوئی اس نے  لڑکے  کو جنم دیا دوسرے  بہار کے  موسم میں  جیسا کہ الیشع نے  کہا تھا۔

18 لڑکا بڑا ہوا۔ ایک دن لڑکا باہر کھیتوں  میں  اپنے  باپ اور ان آدمیوں  کو جو اناج کا ٹ رہے  تھے  دیکھنے  گیا۔

19 لڑکے  نے  اپنے  باپ سے  کہا “آہ میرا سر۔ میرا سر پھٹا جا رہا ہے۔ ” باپ نے  اپنے  نوکر سے  کہا ” اس کو اس کی ماں  کے  پاس لے  جاؤ۔”

20 نوکر لڑ کے  کو ماں  کے  پاس لے  گیا لڑکا ماں  کی گود میں  دوپہر تک بیٹھا اور وہ مر گیا۔

21 عورت نے  لڑکے  کو خدا کے  آدمی  ( الیشع) کے  بستر پر لٹا دیا اور اس کمرے  کا دروازہ بند کر دیا اور باہر چلی گئی۔

22 اس نے  اپنے  شوہر کو بلا یا اور کہا ” براہ کرم اپنے  کسی ایک نوکر اور ایک خچر کو میرے  پاس بھیجو تب میں  جلدی ہی خدا کے  آدمی  کو لینے  جاؤں  گی اور واپس آؤں  گی۔

23 عورت کے  شوہر نے  کہا ” تم آج کیوں  خدا کے  آدمی  کے  پاس جانا چاہتی ہوں ؟ ” یہ کوئی نیا چاند یا سبت کا دن نہیں  ہے۔ ” اس نے  کہا ” فکر نہ کرو ہر چیز ٹھیک ہے۔ ”

24 تب اس نے  خچر پر زین ڈالی اور اپنے  خادم سے  کہا ” جلدی چلو جب تک میں  نہ کہوں  تو آہستہ نہ چلنا۔”

25 عورت کرمل کی چوٹی پر خدا کے  آدمی  کو لینے  گئی۔خدا کے  آدمی نے  دیکھا کہ شونیمی عورت آ رہی ہے۔ وہ ابھی کچھ دور ہی میں  تھی کہ الیشع نے  ملا زم جیحازی سے  کہا “دیکھو اس شونیمی عورت کو۔

26 براہ کرم ابھی دوڑ کر اس سے  ملو اس سے  کہو ‘ کیا ہوا؟ کیا تم بالکل ٹھیک ہو؟ کیا تمہارا شوہر ٹھیک ہے ؟ کیا تمہارا بیٹا بالکل ٹھیک ہے ؟ ” جیحازی شونیمی عورت سے  ان باتوں  کو پو چھا اس نے  جواب دیا ہر چیز ٹھیک ہے۔ ”

27 لیکن شونیمی عورت اوپر پہاڑی پر خدا کے  آدمی  کے  پاس گئی وہ جھک گئی اور الیشع کے  قدم چھو ئی۔جیحازی اس خاتون کو ڈھکیل دینے  کے  لئے  آگے  بڑھا۔لیکن خدا کے  آدمی نے  جیحازی سے  کہا ” اس کو اکیلا چھوڑ دو۔ وہ بہت تناؤ میں  ہے  اور خداوند نے  اس عورت کے  متعلق کچھ ظاہر نہیں  کیا۔خداوند نے  اس خبر کو مجھ سے  پوشیدہ رکھا۔”

28 تب شونیمی عورت نے  کہا ” جناب میں  نے  بیٹے  کے  لئے  کبھی سوال نہیں  کیا تھا میں  نے  تم سے  کہا تھا ‘ مجھے  فریب مت دو۔”

29 تب الیشع نے  جیحازی سے  کہا ” جانے  کے  لئے  تیار رہو میری چھڑی لو اور چلو کسی سے  بات کرنے  کے  لئے  مت رُکو اگر راستے  میں  کسی سے  ملو تو سلام نہ کرو اور اگر تم سے  کوئی سلام کرے  تو جواب نہ دو۔ میری چھڑی کو لڑکے  کے  چہرے  پر رکھو۔”

30 لیکن لڑکے  کی ماں  نے  کہا ” میں  خداوند اور تمہاری زندگی کی قسم کھا تی ہوں  میں  آپ  کے  بغیر یہاں  سے  نہیں  جاؤں  گی۔” اس لئے  الیشع اٹھا اور شونمی عورت کے  ساتھ چلا۔

31 جیحازی شونیمی عورت کے  گھر شونیمی عورت اور الیشع سے  پہلے  پہنچا۔جیحازی نے  چھڑی کو بچے  کے  چہرہ پر رکھا لیکن لڑکے  نے  بات نہیں  کی یا کوئی ایسی نشانی دکھائی نہیں  دی جس سے  ظاہر ہو کہ اس نے  کوئی چیز سنی ہو۔ تب جیحاز ی واپس الیشع سے  ملنے  آیا۔جیحازی نے  الیشع سے  کہا ” لڑکا نہیں  اٹھا۔”

32 الیشع گھر کے  اندر گیا اور وہاں  بچہ اس کے  بستر پر مُردہ پڑا تھا۔

33 الیشع کمرہ کے  اندر گیا اور دروازہ بند کر دیا۔ اب صرف الیشع اور بچہ ہی کمرے  میں  تھے۔ تب الیشع نے  خداوند سے  دُعا کی۔

34 الیشع بستر کے  پاس گیا اور بچے  پر لیٹ گیا۔ الیشع نے  بچّے  کے  منہ پر اپنا منھ رکھا الیشع نے  اپنی آنکھیں  اس کی آنکھوں  پر رکھیں۔ الیشع نے  اس کے  ہاتھ بچے  کے  ہاتھ پر رکھے۔ الیشع اس وقت بچے  کے  اوپر پڑا رہا جب تک کہ بچے  کا جسم گرم نہ ہو گیا۔

35 تب الیشع واپس ہوا اور اپنے  کمرے  کے  اطراف ٹہلنے  لگا وہ پھر دوبارہ گیا اور بچّے  کے  اوپر لیٹ گیا جب تک بچّے  نے  سات مرتبہ چھینکیں  نہ لیں  اور آنکھیں  نہ کھو لیں۔

36 الیشع نے  جیحازی کو بلایا ” شو نیمی عورت کو بلاؤ۔” جیحازی نے  شونیمی عورت کو بلایا اور وہ الیشع کے  پاس آئی اس نے  کہا ” اپنے  بیٹے  کو اٹھا لو۔”

37 تب شونیمی عورت (کمرہ کے  ) اندر گئی اور الیشع کے  قدم بوس ہوئی تب اس نے  بچے  کو اٹھا یا اور باہر گئی۔

38 الیشع دوبارہ جلجال گیا اس وقت زمین پر قحط تھا نبیوں  کا گروہ الیشع کے  سامنے  بیٹھا تھا۔الیشع نے  اپنے  خادم سے  کہا ” بڑا برتن آگ پر رکھو اور کچھ شوربہ نبیوں  کے  گروہ کے  لئے  بناؤ۔”

39 ایک آدمی  باہر کھیت میں  بوٹیاں  لانے  گیا اس کو ایک جنگلی انگور کی بیل ملی اس نے  اس سے  کچھ میوے  لئے۔ اس نے  اس میوہ کو لباس میں  رکھا اور واپس لایا۔ اس نے  میوہ کو کاٹا اور برتن میں  ڈالا لیکن نبیوں  کے  گروہ کو معلوم نہ تھا کہ وہ کس قسم کا میوہ تھا۔

40 تب انہوں  نے  کچھ شوربہ آدمیوں  کو کھانے  کے  لئے  ڈالا لیکن جب انہوں  نے  شوربہ کھا نا شروع کیا انہوں  نے  الیشع کو پکا را ” خدا کے  آدمی  برتن میں  زہر ہے۔ ” پوری غذا ز ہر آلود ہے  اس لئے  انہوں  نے  وہ غذا نہیں  کھا ئی۔

41 لیکن الیشع نے  کہا ” تھوڑا آٹا لاؤ۔” انہوں  نے  آٹا الیشع کے  پاس لایا اور اس نے  اس کو برتن میں  پھینکا۔ تب الیشع نے  کہا ” لوگوں  کے  لئے  شوربہ ڈالوتا کہ وہ کھا پی سکیں۔ ” اس شوربہ میں  کچھ بھی نقصان دہ چیز نہ تھی۔

42 بعل شلیشہ کے  پاس سے  ایک آدمی  اور پہلی فصل کی روٹی خدا کے  آدمی ( الیشع) کے  لئے  لا یا اس آدمی نے  بارلی کے  ۲۰ روٹی کے  ٹکڑے  اور تازہ اناج اس کے  تھیلے  میں  لا یا۔ تب الیشع نے  کہا ” یہ غذا لوگوں  کو دوتا کہ وہ کھا سکیں۔”

43 الیشع کے  خادم نے  کہا ” کیا؟ یہاں  تو ۱۰۰ آدمی  ہیں  میں  ان تمام آدمیوں  کو کیسے  غذا دے  سکتا ہوں ؟ ” لیکن الیشع نے  کہا ” لوگوں  کو کھانے  کے  لئے  غذا دو خداوند کہتا ہے   ” وہ کھائیں  گے  اور پھر بھی غذا بچی رہے  گی۔”

44 تب الیشع کے  خادم نے  کھانا نبیوں  کے  گروہ کے  سامنے  رکھا نبیوں  کے  گروہ نے  کافی سیر ہو کر کھا یا اور پھر بھی کھانا بچا رہا یہ واقعہ ہوا جیسا کہ خداوند نے  کہا۔

 

 

 

باب:  5

 

 

1 نعمان ارام کے  بادشاہ کی فوج کا سپہ سالار تھا۔ نعمان اپنے  بادشاہ کے  لئے  بہت اہم آدمی  تھا۔ نعمان بہت اہم آدمی  تھا کیوں  کہ خداوند نے  اس کو ارام کو فتح کرانے  کے  لئے  استعمال کیا تھا۔ نعمان عظیم اور طاقتور آدمی  تھا لیکن وہ کوڑھ کا مریض بھی تھا۔

2 ارامی فوج نے  کئی سپاہیوں  کے  گروہوں  کو اسرائیل میں  لڑنے  بھیجا سپاہیوں  نے  لوگوں  کو غلام بنایا۔ ایک مرتبہ انہوں  نے  ایک چھوٹی لڑ کی کو اسرائیل کی زمین سے  لیا۔یہ چھوٹی لڑ کی نعمان کی بیوی کی خادمہ ہوئی۔

3 اس لڑ کی نے  نعمان کی بیوی سے  کہا ” میں  چاہتی ہوں  کہ میرا آقا ( نعمان) نبی( الیشع) سے  ملے  جو سامریہ میں  رہتا ہے  وہ نبی نعمان کو اس کی کوڑھ کو شفا دے  سکتا ہے۔ ”

4 نعمان اپنے  آقا (ارام کا بادشاہ ) کے  پاس گیا۔ نعمان نے  ارام کے  بادشاہ سے  وہ باتیں  کہیں  جو باتیں  اسرائیلی لڑ کی نے  کہیں  تھیں۔

5 تب ارام کے  بادشاہ نے  کہا ” اب جاؤ اور میں  اسرائیل کے  بادشاہ کو ایک خط بھیجوں  گا۔” اس لئے  نعمان اسرائیل گیا۔ نعمان اپنے  ساتھ کچھ تحفے  لے  گیا۔ نعمان اپنے  ساتھ ۷۵۰ پاؤنڈ چاندی ۶۰۰۰ سونے  کی مہریں  اور دس جوڑے  کپڑے  لے  گئے۔

6 نعمان ارام کے  بادشاہ کا خط اسرائیل کے  بادشاہ کے  پاس لے  گیا خط میں  یہ لکھا تھا : ” یہ خط یہ بتانے  کے  لئے  ہے  کہ میں  خط پہنچانے  والے  خادم نعمانی کو اس لئے  بھیج رہا ہوں تا کہ تم اس کو کوڑھ کی بیماری سے  شفاء دے  سکو۔”

7 جب اسرائیل کے  بادشاہ نے  خط پڑھا اس نے  اپنے  کپڑے  پھاڑ ڈالے  یہ ظاہر کرنے  کے  لئے  کہ وہ غمزدہ اور پریشان ہے۔ اسرائیل کے  بادشاہ نے  کہا ” کیا میں  خدا ہوں ؟ “نہیں ! میرے  پاس زند گی اور موت پر قابو پانے  کے  لئے  طاقت نہیں۔ تو پھر کیوں  ارام کے  بادشاہ نے  ایک کوڑھی کو علاج کے  لئے  میرے  پاس بھیجا ہے۔ وہ ضرور ہم لوگوں  کے  خلاف لڑائی لڑنے  کے  لئے  کچھ بہانہ ڈھونڈنے  کی کوشش کر رہا ہے۔ ”

8 الیشع خدا کے  آدمی نے  سنا کہ اسرائیل کے  بادشاہ نے  اپنے  کپڑے  پھاڑ لئے۔ اس لئے  الیشع نے  بادشاہ کو پیغام بھیجا آپ  نے  کیوں  اپنے  کپڑے  پھاڑے ؟ نعمان کو میرے  پاس آنے  دو تب اسے  معلوم ہو گا کہ اسرائیل میں  ایک نبی ہے۔

9 اس لئے  نعمان اس کے  گھوڑوں  اور رتھ کے  ساتھ الیشع کے  گھر آیا اور دروازہ کے  سامنے  کھڑا رہا۔

10 الیشع نے  خبر رساں  کو نعمان کے  پاس بھیجا۔ خبر رساں  نے  کہا ” جاؤ اور دریائے  یردن میں  سات مرتبہ دھو ڈالو تب تمہاری جِلد کو شفاء ہو گی اور تم پاک اور صاف ہو جاؤ گے۔ ”

11 نعمان غصہ ہوا اور نکل گیا۔ اس نے  کہا ” میں  سمجھا تھا الیشع کم از کم باہر آئے  گا اور میرے  سامنے  کھڑا ہو گا اور خداوند اپنے  خدا کا نام پکارے  گا۔ میں  سمجھا وہ اپنا ہاتھ میرے  جسم پر پھیرے  گا اور جذام کو شفا بخشے  گا۔

12 دمشق کے  دو دریا ابانہ اور فر فر تمام اسرائیل کے  پانی سے  بہتر ہیں۔ کیا میں  ان دمشق کے  دریاؤں  میں  نہیں  دھو سکتا اور پاک صاف نہیں  ہو سکتا۔” نعمان بہت غصہ میں  تھا اور جانے  کے  لئے  پلٹا۔

13 لیکن نعمان کے  خادم اس کے  پاس گئے  اس سے  بات کئے  انہوں  نے  کہا ” باپ! اگر نبی تمہیں  بڑی چیز کرنے  کے  لئے  کہے  تو کیا تم اسے  نہیں  کرو گے ؟ لیکن وہ تم سے  ایک آسان کام کرنے  کے  لئے  کہا ” دھوؤ تم پاک اور صاف ہو گے۔ ”

14 اس لئے  نعمان نے  وہی کیا جو خدا کے  آدمی  ( الیشع )نے  کہا۔ نعمان نیچے  گیا اور دریائے  یردن میں  سات مرتبہ دھو یا اور نعمان پاک اور صاف ہو گیا۔ نعمان کی جلد بالکل ملائم ہو گئی جس طرح بچّے  کی ہوتی ہے۔

15 نعمان اور اس کے  تمام گروہ خدا کے  آدمی  الیشع کے  پاس واپس آئے  وہ الیشع کے  سامنے  کھڑا ہوا اور کہا ” دیکھو اب میں  جان گیا ہوں  سوائے  اسرائیل کے  تمام زمین پر کوئی خدا نہیں  اب براہ کرم میری جانب سے  تحفہ قبول کیجئے۔ ”

16 لیکن الیشع نے  کہا ” میں  نے  خداوند کی خدمت کی میں  خداوند کی زندگی کی قسم کھاتا ہوں  میں  کوئی تحفہ قبول نہیں  کروں  گا۔” نعمان نے  بہت کو شش کی کہ الیشع تحفہ لے  لے  لیکن الیشع نے  انکار کیا۔

17 تب نعمان نے  کہا ” اگر تم یہ تحفہ قبول نہیں  کرنا چاہتے  تو کم از کم میرے  لئے  یہ کیجئے  مجھے  کچھ مٹی اسرائیل سے  لینے  دو۔ جنہیں  ٹوکروں  میں  دو خچروں  پر لادوں  گا۔ کیوں  کہ دوبارہ میں  جلانے  کا نذرانہ یا قربانی کبھی بھی دوسرے  خداؤں  کو نہیں  پیش کروں  گا۔ میں  قربانی صرف خداوند کو پیش کروں  گا۔

18 اور اب میں  خداوند سے  دعا کرتا ہوں  کہ اس کے  لئے  مجھے  معاف کر : آئندہ جب بھی میرا آقا ( ارام کا بادشاہ ) رمّون کی ہیکل میں  عبادت کرنے  کے  لئے  جائے  گا وہ مورتیوں  کے  آگے  جھکے  گا اور وہ سہارے  کے  لئے  مجھ پر جھکنا چا ہے  گا۔ اس لئے  مجھے  بھی رمّون کی ہیکل میں  جھکنا چاہئے۔ اگر اس طرح کی بات ہو تی ہے  تو اب میں  خداوند سے  معافی مانگتا ہوں۔”

19 تب الیشع نے  نعمان سے  کہا ” سلامتی سے  جاؤ۔” اس لئے  نعمان الیشع کو چھوڑا اور کچھ دور گیا۔

20 لیکن خدا کے  آدمی  الیشع کے  خادم جیحازی نے  کہا ” دیکھو میرے  آقا ( الیشع)نے  نعمان ارامی کو بغیر تحفہ قبول کئے  جانے  دیا جسے  وہ لا یا تھا۔ میں  خداوند کی زندگی کی قسم کھاتا ہوں  میں  نعمان کے  پیچھے  جاؤں  گا اور اس سے  کچھ لوں  گا۔”

21 اس لئے  جیحازی نعمان کے  پاس دوڑا۔ نعمان نے  دیکھا کوئی اس کے  پیچھے  دوڑ رہا ہے  وہ رتھ سے  نیچے  اُترا جیحازی سے  ملنے۔ نعمان نے  کہا ” کیا سب ٹھیک ہے ؟ ”

22 جیحازی نے  کہا ” ہاں  سب کچھ ٹھیک ہے۔ ” میرے  آقا ( الیشع)نے  مجھے  بھیجا ہے  اس نے  کہا ” دیکھو دو نوجوان آدمی  میرے  پاس آئے  وہ افرائیم کے  پہاڑی ملک کے  نبیوں  کے  گروہ سے  تھے۔ براہ کرم انہیں  ۷۵ پاؤنڈ چاندی اور دو جوڑا کپڑا انہیں  دے  دو۔”

23 نعمان نے  کہا ” براہ کرم ۱۵۰ پاؤنڈ لے  لو۔نعمان نے  جیحازی کو چاندی لینے  کے  لئے  منایا۔نعمان نے  ۱۵۰ پاؤنڈ چاندی دو تھیلوں  میں  رکھا اور دو جوڑا کپڑا لیا۔ تب نعمان نے  یہ چیزیں  جیحازی کو دیں۔

24 جب جیحازی پہاڑ پر آیا تو اس نے  یہ چیزیں  خادموں  سے  لیں  اور انہیں  روانہ کر دیا۔ پھر جیحازی نے  اُن چیزوں  کو گھر میں  چھپا دیا۔

25 جیحازی اندر آیا اور اس کے  آقا ( الیشع) کے  سامنے  کھڑا ہوا۔ الیشع نے  جیحازی سے  کہا ” تم کہاں  گئے  تھے  جیحازی؟ ” جیحازی نے  کہا ” میں  کہیں  بھی نہیں  گیا۔”

26 الیشع نے  جیحازی سے  کہا ” یہ سچ نہیں  ہے  میرا دِل تمہارے  ساتھ تھا جب نعمان اپنی رتھ سے  تم سے  ملنے  کے  لئے  پلٹا۔ یہ وقت رقم کپڑے   زیتون انگور بھیڑیں  گائیں  یا مرد اور عورت خادماؤں  کو لینے  کا نہیں۔

27 اب تم کو اور تمہارے  بچوں  کو نعمان کی بیماری ہو گی اور تم ہمیشہ ( کوڑھی ) جذامی رہو گے۔ ” جب جیحازی الیشع کے  پاس سے  نکلا تو جیحازی کی جلد برف کی طرح سفید تھی جیحازی جُذام سے  بیمار تھا۔

 

 

 

باب:  6

 

 

1 نبیوں  کے  گروہ نے  الیشع سے  کہا ” ہم اس جگہ جہاں  ٹھہرے  ہیں  ہمارے  لئے  بہت چھوٹی ہے۔

2 ہمیں  دریائے  یردن جانے  اور کچھ لکڑی کاٹنے  دو ہم میں  سے  ہر ایک ایک ایک لٹھا لے  گا اور ہم لوگ وہاں  اپنے  رہنے  کے  لئے  ایک جگہ بنائیں  گے۔ ” الیشع نے  جواب دیا ” ٹھیک ہے  جاؤ اور کرو۔”

3 ان میں  سے  ایک آدمی نے  کہا ” برائے  کرم ہمارے  ساتھ چلئے۔ ” الیشع نے  کہا ” ٹھیک ہے  میں  تمہارے  ساتھ چلوں  گا۔”

4 اس طرح الیشع نبیوں  کے  گروہ کے  ساتھ گیا۔ جب وہ دریائے  یردن پہنچے  انہوں  نے  کچھ درختوں  کو کاٹنا شروع کیا۔

5 اور جب ان میں  سے  ایک شخص درخت کاٹ رہا تھا تو اس کی کلہاڑی دستے  سے  باہر نکل گئی اور پانی میں  گر گئی اس آدمی نے  پکا را ” اے  آقا میں  نے  وہ کلہاڑی مانگ کر لایا تھا۔”

6 خدا کے  آدمی  ( الیشع )نے  کہا ” وہ کہاں  گری۔” اس آدمی نے  وہ جگہ بتائی جہاں  کلہاڑی گری تھی۔ تب الیشع نے  ایک لکڑی کاٹی اور اسے  پانی میں  پھینکا اور لکڑ ی نے  کلہاڑی کو پانی کے  اوپر تیرا دیا۔

7 الیشع نے  کہا ” کلہاڑی کو اٹھاؤ۔” تب وہ آدمی  وہاں  پہنچا اور کلہاڑی اٹھا لیا۔

8 ارام کا بادشاہ اسرائیل کے  خلاف جنگ کر رہا تھا۔ اس نے  جنگی افسروں  کے  ساتھ ایک نشست منعقد کی۔ اس نے  کہا ” اس جگہ پر چھپ جاؤ اور جب اسرائیلی یہاں  سے  ہو کر نکلیں  تو حملہ کرو۔”

9 لیکن خدا کے  آدمی  ( الیشع )نے  ایک پیغام اسرائیل کے  بادشاہ کو بھیجا الیشع نے  کہا ” ہوشیار رہو اس جگہ سے  مت جاؤ ارامی سپاہی وہاں  چھپے  ہوئے  ہیں۔”

10 اسرائیل کے  بادشاہ نے  ان آدمیوں  کو خبر بھیجی کہ اس جگہ کے  متعلق خدا کے  آدمی  ( الیشع )نے  خبر دار کیا ہے  اور اسرائیل کے  بادشاہ نے  بہت سے  آدمیوں  کو بچا لیا۔

11 ارام کا بادشاہ بہت پریشان تھا ارام کے  بادشاہ نے  اپنے  فوجی عہدیداروں  کو بلایا اور کہا ” مجھے  کہو کہ اسرائیل کے  بادشاہ کے  لئے  کون جا سوسی کر رہا ہے۔ ”

12 ارام کے  بادشاہ کے  ایک افسرنے  کہا ” میرے  آقا و بادشاہ ہم میں  سے  ایک بھی جاسوس نہیں۔ الیشع نبی جو کہ اسرائیل سے  ہے  اسرائیل کے  بادشاہ سے  کئی خفیہ باتیں  کہہ سکتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ باتیں  بھی جو آپ  نے  اپنے  سونے  کے  کمرے  میں  کریں۔”

13 ارام کے  بادشاہ نے  کہا ” جاؤ پتہ کرو الیشع کہاں  ہے۔ میں  اپنے  لوگوں  کو اسے  پکڑنے  کے  لئے  بھیجوں  گا۔” خادموں  نے  ارام کے  بادشاہ سے  کہا ” الیشع نے  دوتان میں  ہے۔ ”

14 تب ارام کے  بادشاہ نے  گھوڑے  اور رتھ اور ایک بڑی فوج کو دوتان روانہ کیا۔ وہ رات میں  پہنچے  اور شہر کو گھیر لیا۔

15 الیشع کا خادم اس دن صبح جلدی اٹھا۔ خادم باہر گیا اس نے  دیکھا گھوڑوں  اور رتھوں  کے  ساتھ فوج شہر کے  اطراف تھی۔ الیشع کے  خادم نے  الیشع سے  کہا ” آہ میرے  آقا ہم کیا کر سکتے  ہیں ؟ ”

16 الیشع نے  کہا ” ڈرو مت وہ فوج جو ہمارے  لئے  جنگ کرتی ہے  اس فوج سے  بڑی ہے  جو ارام کے  لئے  جنگ کرتی ہے۔ ”

17 تب الیشع نے  دُعا کی اور کہا ” خداوند میں  التجا کرتا ہوں  کہ میرے  خادم کی آنکھیں  کھول دے تا کہ وہ دیکھ سکے۔ خداوند نے  نوجوان کی آنکھیں  کھول دیں  اور خادم نے  دیکھا کہ پہاڑ گھوڑوں  اور آ گ کی رتھوں  سے  بھری ہوئی ہے  وہ سب الیشع کے  اطراف تھے۔

18 ارامیوں  کے  وہ گھوڑے  اور رتھ الیشع کے  پاس نیچے  آئے۔ الیشع نے  خداوند سے  دعا کی اور کہا ” میں  دعا کرتا ہوں  کہ تم ان لوگوں  کو اندھے  کر دو۔” اس لئے  خداوند نے  الیشع کی عبادت و منت کی وجہ سے  ارامی فوج کو اندھا بنا دیا۔

19 الیشع نے  ارامی فوج سے  کہا ” یہ صحیح راستہ نہیں  ہے  یہ صحیح شہر نہیں  ہے  میرے  ساتھ آؤ میں  تمہیں  اس آدمی  کے  بارے  میں  بتاؤں  گا جس کی تمہیں  تلاش ہے۔ ” تب الیشع ارامی فوج کو سامریہ کی طرف لے  گیا۔

20 جب وہ سامریہ پہنچے  تو الیشع نے  کہا ” خداوند ان آدمیوں  کی آنکھیں  کھول دے تا کہ یہ دیکھ سکیں۔” تب خداوند نے  ان کی آنکھیں  کھول دیں  تب ارامی فوج نے  دیکھا کہ وہ لوگ سامریہ میں  ہیں۔

21 اسرائیل کے  بادشاہ نے  ارامی فوج کو دیکھا۔ اسرائیل کے  بادشاہ نے  الیشع سے  کہا ” میرے  باپ کیا مجھے  ان کو مار ڈالنا چاہئے ؟ کیامیں  انہیں  مار ڈا لوں ؟ ”

22 الیشع نے  جواب دیا ” نہیں  ان کو  جان سے  مت مارو تم ان لوگوں  کو جو جنگ کے  دوران حراست میں  آتے  ہیں  انہیں  اپنی تلواروں  تیروں  کمانوں  سے  نہیں  مارو گے۔ ارامی فوج کو روٹی اور پانی دو انہیں  کھانے  اور پینے  دو پھر انہیں  اپنے  آقا کے  پاس جانے  دو۔ ”

23 اسرائیل کے  بادشاہ نے  ضرورت سے  زیادہ کھا نا ارامی فوج کے  لئے  تیار کروایا۔ ارامی فوج کھا یا پیا اور پھر اسرائیل کے  بادشاہ نے  ارامی فوج کو واپس ان کے  گھر بھیج دیا۔ ارامی فوج اپنا وطن اپنا آقا کے  پاس پہنچی۔ ارامیوں  نے  مزید سپاہیوں  کو اسرائیل کی سر زمین پر دھا وا کرنے  نہیں  بھیجا۔

24 یہ ہو جانے  کے  بعد ارام کے  بادشاہ بن ہدد نے  اپنی تمام فوج کو جمع کیا۔ اور شہر سامر یہ کو محصور اور حملہ کرنے  گیا۔

25 سپاہیوں  نے  لوگوں  کو شہر میں  غذا لانے  نہیں  دیا اس لئے  سامر یہ میں  خوفناک بھکمری آئی۔ یہ سامریہ کا بہت برا وقت تھا یہ اتنا برا وقت تھا کہ ایک گدھے  کا سر ۸۰ چاندی کی مہروں  میں  بکا اور کبوتر کی گوبری ۵ چاندی کی مہروں  میں  بکا۔

26 اسرائیل کا بادشاہ شہر کے  اطراف گھوم پھر رہا تھا ایک عورت نے  اسے  پکارا عورت نے  کہا ” میرے  آقا و بادشاہ براہ کرم میری مدد کرو۔”

27 اسرائیل کے  بادشاہ نے  کہا ” اگر خداوند تمہاری مدد نہیں  کرتا میں  تمہاری مدد کیسے  کروں ؟ میرے  پاس تمہیں  دینے  کے  لئے  کچھ بھی نہیں  ہے۔ نہ کھلیان میں  اناج ہے  اور نہ ہی مئے  کی کولہو میں  مئے۔ ”

28 تب اسرائیل کے  بادشاہ نے  عورت سے  پوچھا تمہیں  کیا تکلیف ہے ؟ ” عورت نے  جواب دیا ” اس عورت نے  مجھ سے  کہا ‘ اپنا بیٹا میرے  حوالے  کرو تا کہ ہم اس کو مار کر آج کھا سکیں۔ پھر ہم اپنے  بیٹے  کو کل کھائیں  گے۔ ‘

29 اس لئے  ہم نے  اپنے  بیٹے  کو پکایا اور کھا یا پھر دوسرے  دن میں  نے  اس عورت سے  کہا ‘ تم اپنا بیٹا دو تاکہ ہم اس کو ماریں  اور کھائیں۔ لیکن اس نے  اپنے  بیٹے  کو چھپا لیا۔”

30 جب بادشاہ نے  عورت کے  الفاظ سنے  تو وہ اتنے  غصے  میں  تھا کہ اس نے  اپنے  کپڑے  پھاڑ لئے۔ جب وہ دیوار کے  پار سے  گزرا تو لوگوں  نے  دیکھا کہ بادشاہ اپنے  کپڑوں  کے  نیچے  موٹے  کپڑے  پہنا ہے  جو یہ ظاہر کرتا ہے  وہ غصہ میں  ہی نہیں  بلکہ غمزدہ بھی ہے۔

31 بادشاہ نے  کہا ” خدا مجھے  سزا دے  اگر سافط کے  بیٹے  الیشع کا سر آج شام تک اس کے  جسم پر قائم رہا تو۔”

32 بادشاہ نے  الیشع کے  پاس خبر رساں  کو بھیجا۔ الیشع اس کے  گھر میں  بیٹھا تھا اور بزرگ اس کے  ساتھ بیٹھے  تھے۔ خبر رساں  کے  پہنچنے  سے  پہلے  الیشع نے  بزرگوں  سے  کہا ” دیکھو قاتل کا بیٹا ( اِسرائیل کا بادشاہ ) آدمیوں  کو میرا سر کاٹنے  کے  لئے  بھیج رہا ہے۔ جب خبر رساں  پہنچیں  تو دروازہ بند کر دو اور دروازہ کو پکڑو اور اس کو اندر آنے  نہ دو۔ میں  اس کے  آقا کے  پیروں  کی آواز سنتا ہوں  جو اس کے  پیچھے  سے  آ رہی ہے۔ ”

33 جب الیشع ابھی بزرگوں  (قائدین ) سے  باتیں  کر ہی رہا تھا خبر رساں  وہاں  آیا اور پیغام دیا پیغام یہ تھا : ” یہ مصیبت خداوند کی طرف سے  ہے  میں  خداوند کا اور کیوں  انتظار کروں ؟ ”

 

 

 

باب:  7

 

 

1 الیشع نے  کہا ” خداوند کا پیغام سُنو خداوند کہتا ہے  : کل اسی وقت کافی مقدار میں  غذا ہو گی اور دوبارہ سستی ہو گی ایک شخص عمدہ آٹے  کی ایک ٹوکری یا دو ٹوکریاں  بارلی کی صرف ایک مثقال میں  سامریہ کے  دروازے  کے  قریب بازار میں  خریدے  گا۔”

2 تب وہ افسر جو بادشاہ کے  اہم تجویز پیش کرنے  وا لوں  میں  سے  ایک تھا خدا کے  آدمی  کو جواب دیا۔ اور کہا کہ اگر خداوند جنت میں  کھڑکیاں  بھی بنائیں  تو بھی ایسا واقعہ نہ ہو گا۔ الیشع نے  کہا ” تم یہ اپنی آنکھوں  سے  دیکھو گے  لیکن تم یہ غذا نہیں  کھاؤ گے۔ ”

3 وہاں  شہر کے  دروازے  پر چار آدمی  تھے  جو جذام کی بیماری جھیل رہے  تھے  انہوں  نے  ایک دوسرے  سے  کہا ” ہم یہاں  کیوں  بیٹھے  موت کا انتظار کر رہے  ہیں ؟

4 یہاں  سامریہ میں  کھانے  کے  لئے  کچھ نہیں  اگر ہم شہر میں  جاتے  ہیں  تو ہم وہاں  مر جائیں  گے  اگر ہم یہاں  ٹھہرتے  ہیں  تو مر جائیں  گے۔ اس لئے  ارامی خیمہ کو چلنا ہو گا اگر وہ زندہ رہنے  دیں  تو ہم رہیں  گے  اگر وہ مار ڈالتے  ہیں  تو ہم مر جائیں  گے۔ ”

5 اس لئے  غروب آفتاب کے  وقت چاروں  جذامی ارامی چھاؤنی کو گئے۔ وہ ارامی چھاؤنی کے  کنارے  تک گئے  وہاں  کوئی نہیں  تھا۔

6 خداوند نے  ارامی فوج کی رتھوں  کو گھوڑوں  اور بڑی فوج کی آوازوں  کو سنا یا تھا اس لئے  ارامی سپاہیوں  نے  ایک دوسرے  سے  بات کی اور کہا ” اسرائیل کے  بادشاہ نے  ہمارے  خلاف لڑنے  کے  لئے  حتیّ اور مصر کے  بادشاہوں  کو کرایہ پر حاصل کیا۔”

7 ارامی شام میں  جلد ہی بھاگے  وہ ہر چیز کو چھوڑ دیئے  انہوں  نے  ان کے  خیمے   گھوڑے  گدھے  چھوڑے  اور اپنی جان بچا کر بھاگے۔

8 یہ چاروں  جذامی خیمے  کے  کنارے  پہنچے  وہ ایک خیمے  کے  اندر گئے  وہ کھائے  اور پئے  تب چاروں  جذامی چاند ی سونا اور کپڑے  خیمہ کے  باہر لے  گئے  انہوں  نے  ان چیزوں  کو چھپایا اور دوسرے  خیمے  میں  داخل ہوئے۔ انہوں  نے  چیزوں  کو خیمہ کے  باہر لے  آئے  اور انہیں  چھپا دیا۔

9 تب یہ جذامی نے  ایک دوسرے  سے  کہا ” ہم بُرائی کر رہے  ہیں  یہ وہ دن ہے  جو خوشخبری لاتا ہے۔ اگر ہم خاموش رہے  اور سورج کے  طلوع ہونے  کا انتظار کرتے  ہیں  تو یقیناً ہمیں  سزا ملے  گی۔ اس لئے  ہمیں  بادشاہ اور بادشاہ کے  محل میں  رہنے  والوں  کو خوشخبری سنانی ہو گی۔”

10 اس لئے  یہ جُذامی آئے  اور شہر کے  پہریداروں  کو بُلا یا۔ جُذامیوں  نے  پہریداروں  سے  کہا ” ہم ارامی چھاؤنی میں  گئے۔ لیکن ہم نے  کسی شخص کی آواز نہیں  سنی کوئی شخص وہاں  نہ تھا گھوڑے  اور گدھے  ابھی تک بندھے  ہوئے  تھے  اور خیمہ ابھی تک پڑے  ہیں  لیکن سب لوگ جا چکے  ہیں۔”

11 تب شہر کے  دروازہ کے  پہرے  داروں  نے  چلایا اور بادشاہ کے  گھر کے  لوگوں  کو کہا۔

12 یہ رات کا وقت تھا لیکن بادشاہ بستر سے  اٹھا اور اس نے  اپنے  افسروں  کو کہا ” میں  تمہیں  کہوں  گا کہ ارامی سپاہی ہمارے  ساتھ کیا کرنا چاہتے  ہیں۔ وہ جانتے  ہیں  کہ ہم بھو کے  ہیں  وہ خیمہ چھوڑ کر کھیتوں  میں  چھپے  ہیں  وہ سوچ رہے  ہیں  ‘ جب اسرائیلی شہر کے  باہر آئیں  تو انہیں  زندہ پکڑ لیں  پھر وہ شہر میں  داخل ہوں  گے۔ ”

13 بادشاہ کے  ایک افسرنے  کہا ” کچھ آدمی  شہر میں  بچے  ہوئے  گھوڑوں  میں  سے  پانچ گھوڑ ے  لے۔ تمام اسرائیلیوں  کی مانند ان کی حالت بری ہو گی بلکہ ان تمام اسرائیلیوں  کی مانند جو کہ فنا ہو گئے  ہیں۔ اس لئے  ان آدمیوں  کو یہ دیکھنے  کے  لئے  بھیجا جائے  کہ کیا واقعہ ہوا ہے۔ ”

14 اس لئے  آدمیوں  نے  دو رتھ گھوڑوں  کے  ساتھ لئے  بادشاہ نے  انہیں  آدمیوں  کو ارامی فوج کے  پیچھے  بھیجا۔ اور انہیں  کہا ” جاؤ اور دیکھو کہ کیا ہوا تھا۔”

15 وہ آدمی  ارامی فوج کے  پیچھے  دریائے  یردن تک گئے  سڑکیں  ہتھیاروں  تلواروں  اور کپڑوں  سے  ڈھکی ہوئی تھیں  جنہیں  ارامی فوجوں  نے  جلد بازی میں  پھینک دیا تھا۔ خبر رساں  واپس سامریہ گئے  اور بادشاہ سے  کہا۔

16 تب لوگوں  نے  ارامی خیموں  کی طرف دوڑ پڑے  اور وہاں  سے  قیمتی چیزیں  لیں۔ وہاں  ہر ایک کے  لئے  کافی چیزیں  تھیں  اس لئے  یہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ خداوند نے  کہا کہ ایک شخص ایک عمدہ آٹے  کی ٹوکری یادو بارلی کی ٹوکریاں  صرف ایک مثقال میں  خریدے  گا۔

17 بادشاہ نے  ان افسروں  کو چُنا جو دروازہ کی حفاظت کے  لئے  اس کا اہم تجویز پیش کرنے  والا تھا۔ لوگ دشمنوں  کی چھاؤنی کی طرف غذا کو اکٹھا کرنے  کے  لئے  دوڑے۔ اسی دوران انہوں  نے  اس افسر کو دھکا دیا اور روند دیا جو بعد میں  مر گیا وہ سارے  واقعات ویسے  ہی ہوئے  جیسا کہ خدا کے  آدمی نے  پیشین گوئی کی تھی۔ بادشاہ اپنے  گھر آئے۔

18 الیشع نے  اپنے  پیغام میں  بادشاہ سے  کہا تھا ” ایک آدمی  ایک عمدہ آٹے  کی ٹوکری یا دو بارلی کی ٹوکریاں  صرف ایک مثقال میں  سامریہ کے  دروازہ کے  قریب خریدے  گا۔”

19 لیکن وہ افسرنے  خدا کے  آدمی  کو جواب دیا تھا ” اگر خداوند نے  جنت میں  کھڑکیاں  بھی بنائیں  تو ایسا نہیں  ہو گا۔” اور الیشع نے  افسر سے  کہا تھا ” تم اپنی آنکھوں  سے  یہ دیکھو گے  لیکن اس میں  سے  کوئی غذا تم نہیں  کھاؤ گے۔ ”

20 اور یہی اس کے  ساتھ ہوا لوگوں  نے  اسے  دھکا دیا روندا اور اسے  مار ڈالا۔

 

 

 

باب:  8

 

 

1 الیشع نے  عورت سے  بات کی جس کا بیٹا دوبارہ زندہ ہوا تھا۔ الیشع نے  کہا “تم کو اور تمہارے  خاندان کو دوسرے  ملک کو جانا ہو گا کیوں  کہ خداوند نے  طئے  کیا ہے  کہ یہاں  قحط سالی کا زمانہ آئے  گا اور قحط سالی اس ملک میں  سات سال تک ہو گا۔”

2 اس عورت نے  ویسا ہی کیا جیسا کہ خدا کے  آدمی نے  کہا۔ وہ اپنے  خاندان کے  ساتھ گئی اور فلسطین کی سر زمین میں  سات سال تک رہی۔

3 سات سال ختم ہونے  کے  بعد وہ عورت سر زمین فلسطین سے  واپس ہو ئی۔ عورت بادشاہ کے  پاس گئی اور اس سے  مدد کی درخواست کی۔وہ پوچھنا چاہتی تھی کہ اس کا مکان اور زمین واپس لینے  میں  وہ اس کی مدد کرے۔

4 بادشاہ جیحازی سے  بات کر رہا تھا جو خدا کے  آدمی  (الیشع) کا خادم تھا۔ بادشاہ نے  جیحازی سے  کہا ” براہ کرم تمام عظیم کارنامے  جو الیشع نے  کئے  وہ مجھ سے  کہو۔”

5 جیحازی بادشاہ سے  کہہ رہا تھا کہ الیشع نے  ایک مُردہ آدمی  کو زندگی دی اور اس وقت وہ عورت جس کے  بیٹے  کو نئی زندگی دی گئی تھی آئی اور اپنے  گھر اور زمین واپس لینے  میں  بادشاہ سے  مدد مانگی۔جیحازی نے  کہا ” میرے  آقا و بادشاہ یہ وہی عورت ہے  جس کے  بیٹے  کو الیشع نے  زندہ کیا تھا۔”

6 بادشاہ نے  عورت سے  پو چھا کہ تم کیا چاہتی ہوں  عورت نے  اس کے  سامنے  اپنی درخواست پیش کی۔ تب بادشاہ نے  ایک افسر چنا اور عورت کی مدد کے  لئے  بادشاہ نے  حکم دیا ” عورت کی جو ملکیت ہے  سب اس کو دے دو اور جس دن سے  اس نے  ملک چھوڑا اس دن سے  لے  کر آج کی تاریخ تک اسے  اس کی زمین کی ساری فصل بھی دے  دو۔”

7 الیشع دمشق گیا۔ارام کا بادشاہ بن ہدد بیمار تھا۔ایک شخص نے  بن ہدد کو کہا “خدا کا آدمی  یہاں  آیا ہے۔ ”

8 تب بن ہدد نے  حزائیل سے  کہا ” یہ تحفہ لو اور خدا کے  آدمی  سے  ملنے  جاؤ۔ اس سے  پو چھو کیا میں  اس بیماری سے  اچھا ہو جاؤں  گا۔”

9 اس لئے  حزائیل الیشع سے  ملنے  گیا حزائیل اپنے  ساتھ تحفہ لایا تھا اس نے  دمشق سے  ہر قسم کی اچھی چیزیں  لا یا تھا۔ اس نے  سبھی چیزوں  کو لانے  کے  لئے  ۴۰ اونٹ لیا تھا۔ حزائیل الیشع کے  پاس گیا اور کہا ” آپ  کا مان نے  وا لا ارام کے  بادشاہ بن ہدد نے  مجھے  آپ  کے  پاس بھیجا ہے  وہ جاننا چاہتا ہے  کہ کیا وہ اپنی بیمار ی سے  شفا پائے  گا۔

10 تب الیشع نے  حزائیل سے  کہا ” جاؤ بن ہدد سے  کہو ‘ تم زندہ رہو گے  لیکن حقیقت میں  خداوند نے  کہا تھا کہ وہ مرے  گا۔ ”

11 الیشع نے  حزائیل کو تکنا شروع کیا وہ اس وقت تک دیکھتا رہا جب تک حزائیل پریشان نہیں  ہوا۔تب خدا کے  آدمی نے  رونا شروع کیا۔

12 حزائیل نے  کہا “جناب! آپ  کیوں  رو رہے  ہو؟ ” الیشع نے  جواب دیا ” میں  اس لئے  رو رہا ہوں  کہ میں  ان خوفناک اذیتوں  کو جانتا ہوں  جو تم اسرائیل کو دو گے  تم ان کے  فصیلدار شہروں  کو جلاؤ گے۔ تم ان کے  جوان آدمیوں  کو تلواروں  سے  مار ڈالوں  گے۔ تم ان کے  بچوں  کو مار ڈالو گے  تم ان کی حاملہ عورتوں  کو چیر دو گے۔ ”

13 حزا ئیل نے  کہا ” میں  اتنا بڑا طاقتور آدمی  نہیں  ہوں  کہ ایسا کر سکوں۔” الیشع نے  جواب دیا “خداوند نے  مجھے  بتا یا ہے  کہ تم ارام کے  بادشاہ ہو گے۔ ”

14 تب حزائیل نے  الیشع کو چھوڑا اور اپنے  بادشاہ کے  پاس گیا۔ بن ہدد نے  حزائیل سے  پو چھا ” الیشع نے  تم سے  کیا کہا؟ ” حزائیل نے  جواب دیا ” اس نے  مجھ سے  کہا کہ آپ  زندہ رہیں  گے۔ ”

15 لیکن دوسرے  دن حزائیل جالی دار کپڑا لیا اور اس کو پانی میں  بھگویا۔ اور اس نے  اسے  بادشاہ کے  چہرے  پر پھیلا دیا۔ لیکن جب اسے  اس کپڑے  سے  ڈھانک دیا گیا تو وہ مر گیا۔ اس لئے  حزائیل نیا بادشاہ ہوا۔

16 یہو سفط کا بیٹا یہورام یہوداہ کا بادشاہ بنا۔ یہورام نے  اخی اب کا بیٹا یورام کے  اسرائیل پر بادشاہت کے  پانچویں  سال میں  حکومت کرنی شروع کی۔

17 یہورام ۳۲ سال کی عمر سے  حکو مت کرنی شروع کی۔ اُس نے  یروشلم میں  آٹھ سال حکو مت کی۔

18 لیکن یہورام اِسرائیل کے  بادشاہوں  کی طرح رہا اور وہ سارے  کام کئے  جسے  خداوند نے  بُرا کہا تھا۔ یہورام اخی اب کے  خاندان کے  لوگوں  کی طرح رہا۔ یہورام اس طرح رہا کیوں  کہ اس کی بیوی اخی اب کی بیٹی تھی۔

19 لیکن خداوند نے  یہوداہ کو تباہ نہیں  کیا کیوں  کہ اس نے  اپنے  خادم داؤد سے  وعدہ کیا تھا کہ اس کے  خاندان سے  ایک آدمی  ہمیشہ یہوداہ کا بادشاہ ہو گا۔

20 یہورام کے  وقت میں  ادوم یہوداہ کی حکو مت کے  خلاف بغاوت کی ادوم کے  لوگوں  نے  ان کے  لئے  بادشاہ چُنا۔

21 تب یہورام اور اس کی تمام رتھیں  شعیر کو گئے  ادومی فوج نے  انہیں  گھیر لیا۔ یہورام اور ان کے  افسروں  نے  حملہ کیا اور انہیں  شکست دی تب وہ مُڑے  اور گھر بھاگ گئے۔

22 اس لئے  ادومی کے  یہوداہ کی حکو مت کا سلسلہ ٹوٹا اور وہ آج تک یہوداہ پر حکو مت کرنے  سے  آزاد ہیں۔ اسی وقت لبناہ بھی یہوداہ کی حکو مت سے  آزاد ہوا۔

23 وہ سارے  کام جو یہورام نے  کیا وہ کتاب” تاریخ سلاطین یہوداہ ” میں  لکھا ہے۔

24 یہورام مر گیا اور اس کے  آباء و  اجداد کے  ساتھ شہر داؤد میں  دفن ہوا۔ یہورام کا بیٹا اخزیاہ نیا بادشاہ ہوا۔

25 یہورام کا بیٹا اخزیاہ یہوداہ کا اس وقت بادشاہ ہوا جب اخی اب کا بیٹا یورام کی حکو مت کا بارہواں  سال تھا۔

26 اخزیاہ ۲۲ سال کا تھا جب اس نے  حکو مت کرنی شروع کی۔ اس نے  ایک سال یروشلم پر حکو مت کی۔ اس کی ماں  کا نام عتلیاہ تھا وہ اسرائیل کے  بادشاہ عمری کی بیٹی تھی۔

27 اخزیاہ نے  وہ سارے  کام کئے  جنہیں  خداوند نے  برا کہا تھا۔ اخزیاہ نے  کئی بُرے  کام کئے  جس طرح اخی اب کے  خاندان کے  لوگوں  نے  کئے  تھے  اخزیاہ اسی طرح رہا۔ کیوں  کہ اس کی بیوی اخی اب کے  خاندان سے  تھی۔

28 یورام اخی اب کے  خاندان سے  تھا اخزیاہ یورام کے  ساتھ ارام کے  بادشاہ حزائیل کے  خلاف جنگ لڑنے  رامات جِلعاد گیا۔ ارامیوں  نے  یورام کو زخمی کیا۔

29 بادشاہ یورام یزرعیل واپس گیا تاکہ ان زخموں  سے  شفا یاب ہو سکے۔ اخزیاہ یورام کا بیٹا یہوداہ کا بادشاہ اخی اب کے  بیٹے  یورام کو دیکھنے  یزر عیل گیا۔ کیوں  کہ وہ زخمی تھا۔

 

 

 

 

باب:  9

 

 

1 الیشع نبی نے  نبیوں  کے  گروہ میں  سے  ایک کو بُلایا۔ الیشع نے  اس آدمی  سے  کہا ” تیار رہو اور یہ تیل کی چھوٹی شیشی اپنے  ہاتھ میں  لو۔ رامات جِلعاد کو جاؤ۔

2 جب تم وہاں  پہنچو تو نِمسی کے  بیٹے  یہوسفط اس کے  بیٹے  یا ہو کو دیکھو تب اندر جاؤ اس کے  بھا ئیوں  میں  سے  اس کو اٹھا کر تیار کرو۔ اُس کو اندرونی کمرہ میں  لے  جاؤ۔

3 تیل کی چھوٹی شیشی لو اور یاہو کے  سر میں  تیل ڈالو اور کہو ” خداوند یہ کہتا ہے  کہ میں  نے  تمہیں  اسرائیل کا نیا بادشاہ ہونے  کے  لئے  مسح کیا ہے۔ پھر دروازہ کھو لو اور دوڑو انتظار نہ کرو۔”

4 اس لئے  یہ نوجوان نبی رامات جِلعاد گیا۔

5 جب نوجوان وہاں  پہنچا اس نے  دیکھا سپہ سالار بیٹھے  ہیں۔ نو جوان نے  کہا ” میرے  پاس تمہارے  لئے  ایک پیغام ہے۔ ” یا ہونے  کہا ” ہم سب کوئی یہاں  ہیں  ہم میں  سے  کس کے  لئے  یہ پیغام ہے ؟ ” نو جوان نے  کہا ” سپہ سالار پیغام آپ  کے  لئے  ہے۔ ”

6 یا ہو اٹھا اور گھر کے  اندر گیا تب وہاں  نو جوان نبی نے  یا ہو کے  سر میں  تیل ڈالا۔ اور کہا ” خداوند اسرائیل کا خدا کہتا ہے   میں  خداوند کے  لوگ بنی اسرائیلیوں  پر نیا بادشاہ ہونے  کے  لئے  تیرا مسح کر رہا ہوں۔

7 تمہیں  اخی اب کے  خاندان کو تباہ کرنا چاہئے۔ اس طرح میں  ایزبل کو اپنے  خادموں  کی موت کے  لئے   نبیوں  اور خداوند کے  تمام خادموں  کی موت کے  لئے  جو قتل ہوئے  ہیں  سزا دوں  گا۔

8 اس لئے  اخی اب کا تمام خاندان مرے  گا۔ میں  اخی اب کے  خاندان کے  کسی نرینہ بچّہ کو زندہ نہ رہنے  دوں  گا اس میں  کوئی مضائقہ نہیں  کہ وہ نرینہ بچّہ کوئی غلام ہو یا آزاد اِسرائیلی۔

9 میں  اخی اب کے  خاندان کو نباط کے  بیٹے  یربعام کے  خاندان کی طرح اور اخیاہ کے  بیٹے  بعشا کے  خاندان کی طرح بناؤں  گا۔

10 کتّے  ایزبل کو یزر عیل کے  علاقے  میں  کھائیں  گے  ایزبل دفنا یا نہیں  جائے  گا۔” پھر نو جوان نبی نے  دروازہ کھو لا اور بھا گا۔

11 یا ہو واپس اپنے  بادشاہ کے  پاس گیا۔ ایک افسرنے  یاہو سے  پو چھا ” کیا سب کچھ ٹھیک ہیں ؟ وہ دیوانہ آدمی  تمہارے  پاس کیوں  آیا تھا؟ ” یا ہونے  افسر کو جواب دیا ” اس دیوانہ آدمی  کو اور وہ جو کہتا ہے  تم اسے  خوب جانتے  ہو۔”

12 افسرنے  کہا ” مہربانی سے  ہمیں  سچائی بتاؤ کہ اس نے  کیا کہا ” یا ہونے  افسروں  سے  وہ کہا جو کچھ اس نو جوان نبی نے  کہا تھا۔ یا ہونے  کہا ” وہ کہا ‘ خداوند یہ کہتا ہے  : میں  تمہیں  اسرائیل کا نیا بادشاہ ہونے  کے  لئے  مسح کیا ہوں۔”

13 تب فوراً دوسرے  افسروں  نے  اپنے  لباس اتارے  اور اسے  اس کے  پیروں  کے  نیچے  ننگے  سیڑھیوں  پر بچھا یا۔ پھر انہوں  نے  بگل بجا یا اور اعلان کیا ” یا ہو بادشاہ ہے۔ ”

14 اس لئے  نمسی کا بیٹا یہوسفط یہوسفط کا بیٹا یا ہو یو رام کے  خلاف منصوبہ بنا یا۔ اس وقت یو رام اور اسرائیلی ارام کے  بادشاہ حزائیل سے  رامات جلعاد کو بچانے  کی کوشش کر رہے  تھے۔

15 بادشاہ یو رام ارام کے  بادشاہ حزائیل کے  خلاف لڑا۔ لیکن ارامیوں  نے  بادشاہ یو رام کو زخمی کیا اور وہ زخموں  کی شفا کے  لئے  یزرعیل گیا۔ اس لئے  یاہو نے  افسروں  سے  کہا ” اگر تم یہ قبول کرتے  ہو کہ میں  نیا بادشاہ ہوں  تو پھر کسی آدمی  کو یزرعیل میں  یہ خبر دینے  کے  لئے  شہر سے  فرار ہونے  مت دو۔ ”

16 یورام یزرعیل میں  ٓرام کر رہا تھا اس لئے  یا ہو اپنی رتھ میں  سوار ہوا اور یزرعیل کی طرف بڑھا۔ یہوداہ کا بادشاہ اخزیاہ بھی یو رام سے  ملنے  کے  لئے  یزرعیل کو آیا۔

17 ایک پہریدار یزرعیل کے  مینار پر تھا۔ اس نے  دیکھا کہ ایک بڑا گروہ آ رہا ہے۔ اس نے  کہا ” میں  لوگوں  کے  ایک بڑے  گروہ کو دیکھتا ہوں۔” یو رام نے  کہا “کسی ایک کو گھوڑے  پر ان سے  ملنے  بھیجو اس خبر رساں  کو کہو کہ وہ پو چھے  کہ کیا وہ لوگ امن کے  لئے  آئے  ہیں ؟ ”

18 اس لئے  خبر رساں  گھوڑے  پر سوار ہو کر یا ہو سے  ملنے  گیا خبر رساں  نے  کہا “بادشاہ یو رام کہتا ہے   ‘ کیا تم امن میں  آئے  ہو؟ ” یا ہونے  کہا ” امن کے  بارے  میں  پرواہ نہ کرو میرے  ساتھ آؤ ” پہریدار نے  یو رام سے  کہا ” خبررساں  گروہ کے  پاس گئے  لیکن وہ اب تک واپس نہیں  آیا۔”

19 تب یورام نے  گھوڑے  پر دوسرے  خبر رساں  کو بھیجا۔ یہ آدمی  یا ہو کے  گروہ کے  پاس آیا اور کہا ” بادشاہ یورام کہتا ہے   ‘امن۔” یا ہونے  جواب دیا ” تم امن کے  بارے  میں  کچھ خیال مت کرو۔ میرے  ساتھ آؤ ”

20 پہریدار نے  یو رام سے  کہا ” دوسرا خبررساں  گروہ کے  پاس گیا لیکن وہ بھی واپس نہیں  آیا۔ ایک آدمی  ہے  جو اس کی رتھ پاگل آدمی  کی طرح وہ نمسی کے  بیٹے  یا ہو کی طرح چلاتا ہے۔ ”

21 یو رام نے  کہا ” میری رتھ لاؤ۔” پھر خادم نے  یورام کی رتھ لا ئی۔ اسرائیل کا بادشاہ یورام اور یہوداہ کا بادشاہ اخزیاہ ان کی رتھ لیا اور یا ہو سے  ملنے  چلے۔ وہ یا ہو سے  یزرعیل کی نبوت کی زمین پر ملے۔

22 یو رام نے  یاہو کو دیکھا اور پو چھا “یا ہو! کیا تم امن میں  آئے  ہو؟ ” یا ہونے  جواب دیا ” کوئی امن نہیں  ہے  جب تک تمہاری ماں  ایز بل اپنی فحش حرکتیں  اور جادو گری کرتی ہے۔

23 یو رام بھاگنے  کے  لئے  گھوڑوں  کو موڑا ” اور اخزیاہ سے  کہا اخزیاہ! یہ ایک چال ہے۔ ”

24 لیکن یاہو نے  اپنی کمان کو پوری طاقت سے  کھینچا اور اس کی پیٹھ پر تیر چھوڑا۔ تیر یورام کے  دل سے  پار کر گیا اور وہ رتھ میں  گرا۔

25 یا ہونے  اپنے  رتھ بان بدقر سے  کہا ” یورام کی لاش کو اٹھاؤ اور یزرعیل کی نبوت کے  کھیت میں  پھینکو۔ یاد کرو جب میں  اور تم ایک ساتھ یورام کے  باپ اخی اب کے  ساتھ سوار ہوئے  تھے  تو خداوند نے  کہا تھا یہ واقعہ اس کے  ساتھ ہو گا۔

26 خداوند نے  کہا ‘ کل میں  نے  نبوت اور اس کے  بیٹوں  کا خون دیکھا تھا اس لئے  میں  اخی اب کو اس کھیت میں  سزا دوں  گا۔ ‘ خداوند نے  یہ کہا تھا۔ اِس لئے  یورام کی لاش کو لو اور کھیت میں  پھینکو جیسا کہ خداوند نے  کہا تھا! ”

27 یہوداہ کا بادشاہ اخزیاہ نے  یہ دیکھا وہ باغ سے  فرار ہونے  کی کو شش کی۔ لیکن یا ہو اس کا پیچھا یہ کہتے  ہوئے  کیا ” اخزیاہ کو بھی مار ڈالو! ” اخزیاہ زخمی ہو گیا تھا جب وہ اپنی رتھ میں  اِبلعام کے  قریب جور کی سڑک پر تھا۔ اخزیاہ مجدد کو بھاگ نکلا۔ لیکن وہ وہیں  مر گیا۔

28 اخزیاہ کے  خادم اُس کی لاش کو رتھ میں  یروشلم لے  گئے  انہوں  نے  اخزیاہ کو اس کے  آباء و  اجداد کے  ساتھ اس کی قبر میں  شہر داؤد میں  دفن کئے۔

29 یہ یورام کی بادشاہت کا اسرائیل کے  بادشاہ کی حیثیت سے  گیارہواں  سال تھا۔ تب اخزیاہ یہوداہ کا بادشاہ بنا۔

30 یا ہو یزر عیل کو گیا اور ایز بل نے  خبر سنی تو اس نے  اپنے  کو سنوارا اور بالوں  کو باندھی تب وہ کھڑ کی کے  پاس کھڑی ہوئی اور باہر دیکھی۔

31 یا ہو شہر میں  داخل ہوا۔ ایزبل نے  کہا ” زمری کیا تم امن میں  آئے  ہو؟ تم نے  اپنے  مالک کو مار دیا جیسا کہ اس نے  کیا۔”

32 یا ہونے  اوپر کھڑ کی میں  دیکھا وہ بولا ” میری طرف کون ہے ؟ کون؟ ” دو یا تین خواجہ سراء اس کو کھڑ کی سے  نیچے  دیکھے۔

33 یا ہونے  ان سے  کہا ” ایزبل کو نیچے  پھینکو۔” تب خواجہ سراؤں  نے  ایز بل کو نیچے  پھینکا ایز بل کے  خون کے  چھینٹے  دیواروں  اور گھوڑوں  پر بکھر گئے۔ ایزبل کے  جسم کو گھوڑوں  نے  روندا۔

34 یا ہو گھر کے  اندر گیا کھا یا اور پِیا۔ تب اس نے  کہا ” اب اس بری عورت کے  لئے  ایسا کرو کہ اس کو دفنا دو کیوں  کہ وہ بادشاہ کی بیٹی تھی۔

35 کچھ آدمی  ایز بل کو دفن کرنے  کے  لئے  گئے  لیکن انہوں  نے  اس کی لاش کو نہیں  پایا وہ صرف اس کی کھو پڑی اس کے  پیر اس کے  ہاتھ کی ہتھیلیاں  ہی پاس کے۔

36 اِس لئے  آدمی  واپس آئے  اور یاہو سے  کہا۔ تب یاہو نے  کہا ” خداوند نے  اس کے  خادم ایلیاہ تبشی سے  یہ پیغام دیا تھا۔ ایلیاہ نے  کہا تھا ‘ ایز بل کے  جسم کو یزرعیل کے  علاقہ میں  کتے  کھائیں  گے۔

37 ایزبل کا جسم یزرعیل کے  علاقے  کے  کھیتوں  میں  گو بر کی طرح ہو گا لوگ اس کے  جسم کی شناخت نہیں  کر پائیں  گے۔ ”

 

 

 

باب:  10

 

 

1 سامریہ میں  اخی اب کے  ۷۰ بیٹے  تھے۔ یا ہونے  خطوط لکھے  اور اُنہیں  اور یزرعیل کے  حاکم اور قائدین کے  پاس سامریہ بھیجا۔ اس نے  ان لوگوں  کو بھی خطوط بھیجے  جو اخی اب کے  بیٹوں  کو عروج پر لانے  کے  ذمہ دار تھے۔ خطوط میں  یاہو نے  کہا

2 “جیسے  ہی تمہیں  یہ خطوط ملے  سب سے  قابل آدمی  کو چنو جو تمہارے  باپ کے  بیٹوں  میں  ہو۔ تمہارے  پاس رتھ اور گھوڑے  ہیں  اور تم ایک فصیل دار شہر میں  رہتے  ہو۔ تمہارے  پاس ہتھیار بھی ہیں۔ بیٹے  کو چُن کر اپنے  باپ کی جگہ تخت پر بٹھاؤ۔ پھر اپنے  باپ کے  خاندان کے  لئے  لڑو۔”

3

4 لیکن یزر عیل کے  حاکم اور قائدین بہت زیادہ ڈرے  ہوئے  تھے  انہوں  نے  کہا ” دو بادشاہ ( یورام اور اخزیاہ ) یا ہو کو روک نہ سکے  اس لئے  ہم بھی اسے  روک نہیں  سکتے۔ ”

5 وہ آدمی  جو اخی اب کے  محل کی دیکھ بھال کرتا تھا وہ آدمی  جو شہر کو قابو میں  رکھتا بزرگوں  اور وہ لوگ جو اخی اب کے  بچوں  کو پال پوس کر بڑا کیا انہوں  نے  یاہو کو پیغام بھیجا ” ہم آپ  کے  خادم ہیں  جو آپ  کہیں  ہم وہی کریں  گے۔ ہم کسی کو بادشاہ نہیں  بنائیں  گے  آپ  جو اچھا سمجھیں  وہ کریں۔”

6 پھر یاہو نے  دوسرا خط اُن قائدین کو لکھا جس میں  یہ لکھا تھا ” اگر تم میری مدد اور میری اطاعت کرتے  ہو تو اخی اب کے  بیٹوں  کے  سر کاٹ دو اور میرے  پاس کل اسی وقت یزرعیل کو لاؤ۔” احی اب کو ۷۰ بیٹے  تھے  وہ شہر کے  ان قائدین کے  ساتھ تھے  جو ان کو پال پوس کر بڑا کیا تھا۔

7 جب شہر کے  قائدین کو خط ملا تو انہوں  نے  بادشاہ کے  تمام ۷۰ بیٹوں  کولے  کر مار ڈالا پھر قائدین نے   ان کے  سروں  کو ٹوکریوں  میں  رکھا اور ان ٹوکریوں  کو یزرعیل میں  یا ہو کے  پاس بھیجا۔

8 خبر رساں  یاہو کے  پاس آیا اور اس کو کہا ” وہ بادشاہ کے  بیٹوں  کے  سر لائے  ہیں۔” تب یا ہونے  کہا ” سروں  کو دو قطاروں  میں  شہر کے  دروازہ پر صبح تک رکھو۔ ”

9 صبح کے  وقت یا ہو باہر گیا اور لوگوں  کے  سامنے  کھڑا ہوا اور کہا ” تم لوگ معصوم ہو۔ دیکھو میں  نے  اپنے  آقا کے  خلاف منصوبہ بنایا میں  نے  اس کو مار ڈالا۔ لیکن اخی اب کے  سبھی بیٹوں  کا قتل کس نے  کیا؟ تم نے  انہیں  مار ڈالا۔

10 تم کو جاننا چاہئے  کہ جو کچھ بھی خداوند کہتا ہے  وہ ہو گا۔ اخی اب کے  خاندان سے  متعلق ان باتوں  کو کہنے  کے  لئے  خداوند نے  اپنے  خادم ایلیاہ کو استعمال کیا۔ خداوند نے  جن باتوں  کے  لئے  کہا تھا کہ وہ اسے  کرے  گا تو اب اس نے  ان باتوں  کوکر چکا ہے۔ ”

11 اس لئے  یا ہو یزرعیل کے  رہنے  والے  اخی اب کے  خاندان کے  تمام لوگوں  کو مار ڈالا۔ یاہو نے  تمام اہم آدمیوں  قریبی دوستوں  اور کاہنوں  کو مار ڈالا۔ اخی اب کے  لوگوں  کا کوئی بھی آدمی  زندہ نہیں  رہا۔

12 یا ہو یزرعیل سے  نکل کر سامریہ گیا۔راستہ پر یا ہو ایک جگہ رُکا جس کا نام چرواہے  کی چھاؤنی تھی۔ جہاں  چرواہے  اپنی بھیڑوں  کی اُون کاٹتے  تھے۔

13 یہوداہ کے  بادشاہ اخزیاہ کے  رشتے  داروں  سے  ملا۔یا ہونے  ان سے  کہا ” تم کون ہو؟ ” انہوں  نے  جواب دیا ” ہم یہوداہ کے  بادشاہ اخزیاہ کے  رشتہ دار ہیں  ہم یہاں  بادشاہ کے  بچوں  سے  ملکہ ماں  کے  بچوں  سے  ملنے  آئے  ہیں۔”

14 تب یا ہونے  اپنے  آدمیوں  سے  کہا ” ان کو زندہ لے  لو۔ ” یا ہو کے  آدمی  اخزیاہ کے  رشتہ داروں  کو زندہ پکڑ لئے  جو بیالیس لوگ تھے  یا ہونے  ان کو بیت اِکاد کے  قریب کنویں  پر مار ڈالا۔ یا ہونے  کسی آدمی  کو زندہ نہیں  چھوڑا۔

15 یا ہو وہاں  سے  نکلنے  کے  بعد ریکاب کے  بیٹے  یہوناداب سے  ملا۔ جو یاہو سے  ملنے  ہی آ رہا تھا۔ یا ہونے  اسے  سلام کیا اور پو چھا ” کیا تم میرے  وفادار دوست ہو جیسا کہ میں  تمہارا ہوں ؟ ” یہوناداب نے  جوا ب دیا ” ہاں ! میں  تمہارا وفادار دوست ہوں۔” یا ہونے  کہا ” اگر ایسا ہے  تو مجھے  تمہارا ہاتھ دو۔” اس لئے  یہوناداب نے  اپنا ہاتھ رتھ سے  اس کی طرف بڑھا یا اور یہوناداب اوپر اپنی رتھ میں  کھینچ لیا۔

16 یا ہونے  کہا ” میرے  ساتھ آؤ تم دیکھ سکتے  ہو کہ میری سر گرمی خداوند کے  لئے  کتنی مضبوط ہے۔ ” اس لئے  یہوناداب یا ہو کی رتھ میں  سوار ہوا۔

17 یا ہو سامر یہ کو آیا اور اخی اب کے  خاندان کو مار ڈالا جو اب تک سامریہ میں  زندہ تھے۔ یا ہونے  اُن تمام کو مار ڈالا۔ یا ہونے  وہ چیزیں  کیں  جو خداوند نے  ایلیاہ سے  کہی تھیں۔

18 تب یا ہونے  تمام لوگوں  کو ایک ساتھ جمع کیا۔ یا ہونے  اُن کو کہا ” اخی اب نے  بعل کی تھوڑی سی خدمت کی لیکن یا ہو بعل کی زیادہ خدمت کرے  گا۔

19 اب تمام کاہنوں  اور بعل کے  نبیوں  کو ایک ساتھ بُلاؤ تمام لوگوں  کو جو بعل کی پرستش کرتے  ہیں  ایک ساتھ بُلاؤ کوئی بھی آدمی  اس مجلس میں  آنے  سے  چھوٹ نہ پائے۔ مجھے  ایک عظیم قربانی بعل کو نذر کرنے  کی خواہش ہے۔ کوئی ایک بھی اس مجلس میں  غیر حاضر رہے  تو مار دیا جائے  گا۔” لیکن یا ہو ان سے  فریب کر رہا تھا۔ یا ہو بعل کے  پرستاروں  کو تباہ کرنا چاہتا تھا۔

20 یا ہونے  کہا ” بعل کے  لئے  ایک مقدس مجلس مقرر کرو۔” اور کاہنوں  نے  مجلس کا اعلان کیا۔

21 تب یا ہونے  اسرئیل کی ساری زمین پر پیغام بھیجا تمام بعل کے  پرستار آئے  ایک بھی آدمی  گھر پر نہیں  رہے۔ بعل کے  پرستار بعل کی ہیکل میں  اندر آئے۔ ہیکل لوگوں  سے  بھر گئی تھی۔

22 یا ہونے  اس آدمی  سے  جو لباس رکھتا تھا کہا ” بعل کے  تمام پرستاروں  کے  لئے  لباس لاؤ۔” اور اس آدمی نے  بعل کے  سب پرستاروں  کے  لئے  لباس لا یا۔

23 پھر یا ہو اور ریکاب کا بیٹا یہوناداب بعل کی ہیکل میں  داخل ہوئے۔ یا ہونے  بعل کے  پرستاروں  سے  کہا “چاروں  طرف دیکھو اور تسلّی کرو کہ کہیں  کوئی خداوند کا خادم تم میں  نہ ہو۔ تسلی کر لو کہ صرف وہی لوگ ہیں  جو بعل کی پرستش کرتے  ہیں۔”

24 بعل کے  پرستار بعل کی ہیکل کے  اندر قربانیاں  اور جلانے  کا نذرانہ پیش کرنے  کے  لئے  اندر گئے۔ لیکن باہر یا ہو کے  پاس ۸۰ آدمی  انتظار کر رہے  تھے۔ یا ہونے  انہیں  کہا ” لوگوں  میں  کسی کو بھی فرار ہونے  نہ دو۔ اگر تم میں  سے  کسی نے  بھی بعل کے  پرستاروں  کو فرار ہونے  دیا تو پھر اس کو اپنی زندگی بطور معاوضہ دینی ہو گی۔”

25 یا ہو اپنی قربانی اور جلانے  کا نذرانہ پیش کرنے  کا مرحلہ ختم کرتے  ہی فوراً اپنے  پہرے  داروں  کو اور سپہ سالاروں  کو کہا ” اندر جاؤ اور بعل کے  پرستاروں  کو مار ڈالو کسی بھی آدمی  کو ہیکل کے  باہر زندہ آنے  نہ دو۔” اس لئے  سپہ سالاروں  نے  تیز تلواریں  استعمال کیں  اور بعل کے  پرستاروں  کو مار ڈالا۔ پہریداروں  اور سپہ سالاروں  نے  بعل کے  پرستاروں  کی لا شوں  کو باہر پھینک دیا۔پھر پہریدار اور سپہ سالار ہیکل کے  اندرونی کمرہ میں  گئے۔

26 وہ یاد گار پتھر کو باہر لائے   جو بعل کی ہیکل میں  تھا اور ہیکل کو جلا دیا۔

27 پھر انہوں  نے  بعل کے  یادگار پتھروں  کو تہس نہس کر دیا۔ انہوں  نے  بعل کی ہیکل کو تہس نہس نہیں  کیا انہوں  نے  بعل کی ہیکل کو بیت الخلاء بنا دیا۔ لوگ ابھی تک اس جگہ کو بیت الخلاء کے  طور پر استعمال کرتے  ہیں۔

28 اس طرح سے  یاہو نے  اسرائیل میں  بعل کی پرستش کو ختم کر دیا۔

29 لیکن یاہو پوری طرح سے  ان گناہوں  سے  پلٹا نہیں  جو نباط کے  بیٹے  یربعام نے  بنی اسرائیلیوں  کے  کرنے  کا سبب بنا۔ یا ہونے  بیت ایل اور دان میں  سنہرے  بچھڑوں  کو تباہ نہیں  کیا۔

30 خداوند نے  یاہو سے  کہا ” تم نے  اچھا کیا تم نے  وہی کئے  جنہیں  میں  اچھا کہتا ہوں۔ تم نے  اخی اب کے  خاندان کو اسی طرح تباہ کر دیا جیسا میں  نے  تم سے  چاہا تھا اس لئے  تمہاری نسلیں  اسرائیل پر چار نسلوں  تک حکومت کریں  گی۔”

31 لیکن یاہو پورے  دل سے  خداوند کے  اصولوں  کو پورا کرنے  میں  ہوشیار نہیں  تھا۔ یا ہونے  یُربعام کے  گناہوں  کو کرنا بند نہیں  کیا جس نے  اسرائیل سے  گناہ کروائے  تھے۔

32 اس وقت خداوند نے  اسرائیل کے  علاقوں  کو فتح کرنا شروع کیا۔ ارام کے  بادشاہ حزائیل نے  بنی اسرائیلیوں  کو اسرائیل کی ہر سر حد پر شکست دی۔

33 حزائیل نے  یردن ندی کی مشرقی زمین کو جیت لیا اور جِلعاد کی تمام زمین اور بشمول وہ زمین جو جاد کے  خاندانی گروہ کی روبن اور منسّی کی تھی۔ حزائیل نے  عرو عیر سے  اروناہ کی وادی ہوتے  ہوئے  جِلعاد اور بسن تک کے  تمام زمینات کو جیت لیا۔

34 وہ تمام عظیم کارنامے  جو یا ہونے  کئے  وہ کتاب ” تاریخ سلاطین اسرائیل ” میں  لکھے  ہوئے  ہیں۔

35 یا ہو مر گیا اور اپنے  آباء و  اجداد کے  ساتھ دفن ہوا۔ لوگوں  نے  یا ہو کو سا مریہ میں  دفن کیا۔ یا ہو کا بیٹا یہو آخز اس کے  بعد اسرائیل کا نیا بادشاہ بنا۔

36 یا ہونے  سامریہ میں  اسرائیل پر ۲۸ سال حکو مت کی۔

 

 

باب:  11

1 عتلیاہ اخزیاہ کی ماں  تھی۔ اس نے  دیکھا کہ اس کا بیٹا مر گیا اس لئے  وہ اٹھی اور بادشاہ کے  سارے  خاندان کو مار ڈالی۔ 2 یہوشبع بادشاہ یو رام کی بیٹی اور اخزیاہ کی بہن تھی۔ یو آس بادشاہ کے  بیٹوں  میں  سے  ایک تھا۔یہوشبع نے  یو آس کو لیا جبکہ دوسرے  بچے  مار دیئے  گئے  تھے۔ یہوشبع نے  یو آس کو چھپایا۔ اس نے  یو آس اور اس کی دایہ کو اس کے  کمرہ میں  رکھا۔اس طرح یہوشبع اور دایہ نے  یو آس کو عتلیاہ سے  چھپایا اس طرح یو آس مارا نہیں  گیا۔ 3 تب یوآس اور یہوشبع خداوند کی ہیکل میں  چھپے۔ یو آس وہاں  چھ سال تک چھپا رہا اور عتلیاہ یہوداہ پر حکومت کی۔ 4 ساتویں  سال اعلیٰ کاہن یہویدع نے  کریتوں  کے  سپہ سالاروں  اور پہریداروں  کو بلانے  کے  لئے  بھیجا۔یہویدع نے  ان کو ایک ساتھ خداوند کی ہیکل میں  لا یا پھر اس نے  ان سے  ایک معاہدہ کیا۔ہیکل میں  یہویدع نے  ان کو وعدہ کرنے  پر مجبور کیا۔ تب اس نے  بادشاہ کے  بیٹے  یو آس کو انہیں  دکھا یا۔ 5 پھر یہویدع نے  انہیں  ایک حکم دیا۔ اس نے  کہا ” تمہیں  یہ کام کرنا چاہئے  تمہارے  ایک تہائی لوگوں  کو ہر سبت کے  دن شروع میں  آنا چاہئے۔ تم لوگ بادشاہ کی حفاظت اس کے  گھر پر کرو گے۔ 6 دوسری تہائی کے  سُر کے  دروازہ پر رہنا ہو گا اور تیسری تہائی کو پہریداروں  کے  پیچھے  رہنا ہو گا۔اس طریقے  سے  تم ایک دیوار کی مانند یو آس کی حفاظت کرو گے۔ 7 ہر سبت کے  دن آخر میں  تم میں  سے  دو تہائی خداوند کی ہیکل کی حفاظت کرو گے  اور باقی بادشاہ یو آس کی حفاظت کرو گے۔ 8 تم کو ہر وقت بادشاہ کے  ساتھ رہنا چاہئے  جہاں  کہیں  بھی وہ جائے۔ تم سبھوں  کو بادشاہوں  کو گھیرے  ہوئے  رکھنا چاہئے۔ ہر پہریدار کا ہتھیار اپنے  اپنے  ہاتھ میں  ہو نا چاہئے۔ جو کوئی بھی تمہارے  قریب آئے  فوراً اسے  مار ڈالنا چاہئے۔ ” 9 سپہ سالاروں  نے  کاہن یہویدع کے  دیئے  گئے  ہر حکم کی تعمیل کی۔ ہر سپہ سالار اپنے  آدمیوں  کو لیا۔ ایک گروہ ہفتہ کے  دن بادشاہ کی حفاظت کے  لئے  تھا اور دوسرا گروہ ہفتہ کے  باقی دنوں  میں  بادشاہ کی حفاظت کے  لئے  تھے۔ وہ تمام لوگ کاہن یہویدع کے  پاس گئے۔

10 اور کاہن نے  بھالے  اور ڈھال سپہ سالاروں  کو دیئے  جو داؤد نے  خداوند کی ہیکل میں  رکھے  تھے۔

11 ” یہ پہریدار اپنے  ہاتھوں  میں  ہتھیاروں  کے  ساتھ ہیکل کے  دائیں  کونے  سے  بائیں  کونے  تک کھڑے  رہتے۔ وہ قربان گاہ کے  اطراف اور ہیکل کے  اور بادشاہ کے  اطراف جب وہ ہیکل کو جاتا کھڑے  رہتے۔

12 ان آدمیوں  کو یوآس کو باہر لایا انہوں  نے  اس کے  سر پر تاج پہنا یا اور اسے  خدا کے  اور بادشاہ کے  درمیان ہوئے  معاہدے  کو دیا۔ پھر انہوں  نے  اسے  مسح کیا اور اس کو نیا بادشاہ بنایا۔ انہوں  نے  تالیاں  بجائیں  اور چلّائے   ” بادشاہ کی عمر دراز ہو۔”

13 ملکہ عتلیاہ نے  پہریداروں  اور لوگوں  کی آواز سُنی اس لئے  وہ لوگوں  کے  پاس خداوند کی ہیکل گئی۔

14 عتلیاہ نے  بادشاہ کو ستون کے  پاس کھڑے  دیکھا جو اس کا معمول تھا اس کے  ساتھ سپہ سالار بگل بجانے  والے  اور تمام لوگ کھڑے  تھے۔ وہ بے  حد خوش تھے  اور بگل بجا رہے  تھے۔ اس نے  بگل سُنی اور اپنے  کپڑے  پھاڑ ڈالی یہ ظاہر کرنے  کے  لئے  وہ پریشان ہے۔ پھر عتلیاہ چیخی ” غدر! ” “غدر! ”

15 یہویدع کاہن نے  سپہ سالاروں  کو حکم دیا جو سپاہیوں  کے  انچارج تھے۔ یہویدع نے  ان سے  کہا ” عتلیاہ کو ہیکل کے  باہر لے  جاؤ جو کوئی بھی اس کو بچانے  کی کو شش کرے  اس کو مار ڈالو۔ لیکن انہیں  خداوند کی ہیکل میں  مت مارنا۔”

16 اس لئے  سپاہیوں  نے  عتلیاہ کو پکڑ لیا۔ جیسے  وہ گھوڑوں  کے  داخل دروازہ سے  ہوتے  ہوئے  محل کی طرف گئی سپاہیوں  نے  اسے  وہیں  مار ڈالا۔

17 تب یہو یدع نے  خداوند بادشاہ اور لوگوں  کے  درمیان معاہدہ کیا اس معاہدہ میں  یہ بتایا گیا کہ بادشاہ اور رعایا یعنی لوگ خداوند کے  اپنے  ہی ہیں۔ یہو یدع نے  بادشاہ اور لوگوں  کے  درمیان بھی معاہدہ کیا اس معاہدہ میں  یہ بتایا گیا کہ لوگ بادشاہ کی اطاعت کریں  گے  اور اس کے  کہنے  پر چلیں  گے۔

18 تب تمام لوگ ( جھوٹے  خداوند ) بعل کی ہیکل کو گئے۔ لوگوں  نے  بعل کے  مجسّمہ اور قربان گاہ کو بھی تباہ کیا۔ انہوں  نے  اس کے  ٹکڑے  ٹکڑے  کئے  لوگوں  نے  بعل کے  کاہن متّان کو بھی قربان گاہ کے  سامنے  مار ڈالا۔ اس لئے  یہو یدع کاہن نے  آدمیوں  کو خداوند کی ہیکل کی نگہداشت کا ذمہ دار بنایا۔

19 کاہن نے  لوگوں  کو بتایا۔ وہ خداوند کی ہیکل سے  بادشاہ کے  مکان تک گئے۔ تب بادشاہ یوآس تخت پر بیٹھا۔

20 سب لوگ خوش تھے۔ شہر پر امن تھا اور ملکہ عتلیاہ کو بادشاہ کے  مکان کے  قریب تلوار سے  مار دیا گیا تھا۔

21 یوآس کی عمر سات سال تھی جب وہ بادشاہ بنا۔

 

 

باب:  12

 

 

1 یوآس نے  حکو مت کی ابتداء یا ہو کے  اسرائیل پر حکو مت کے  ساتویں  سال میں  کی۔ یوآس نے  یروشلم پر ۴۰ سال حکو مت کی۔ یوآس کی ماں  کا نام ضبیاہ تھا جو بیر شبع کی تھی۔

2 یوآس نے  وہ کام کئے  جنہیں  خداوند نے  اچھا کہا تھا۔ یوآس نے  اپنی پوری زندگی میں  خداوند کی اطاعت کی۔ اس نے  وہی کام کئے  جو کاہن یہویدع نے  اسے  سکھائے  تھے۔

3 حالانکہ اس نے  اعلیٰ جگہوں  کو تباہ نہیں  کیا۔ لوگ ان عبادت کے  مقامات پر بخور جلاتے  اور جلانے  قربانیاں  پیش کرتے  تھے۔

4 یوآس نے  کاہنوں  سے  کہا کہ خداوند کی ہیکل میں  بہت زیادہ رقم ہے  بلکہ لوگوں  نے  بہت ساری چیزیں  ہیکل کو نذر کی ہیں۔ لوگوں  نے  مردم شماری کے  دوران ہیکل کا محصول ادا کیا ہے  اور لوگوں  نے  اپنی خواہش سے  رقم دیئے۔ تمام پیسوں  کا حساب رکھو اور اس کی مدد سے  تمہیں  خداوند کی ہیکل کی مرمت کرنی چاہئے۔ ہر کاہن کو ان پیسوں  کا جو اس کی خدمت کے  بدلے  لوگوں  سے  ملتا ہے  ہیکل کی مرمت کرنے  میں  استعمال کرنا چاہئے۔

5  6 لیکن کاہنوں  نے  مرمت نہیں  کی۔ تئیسویں  سال جس وقت یو آس بادشاہ تھا اس وقت تک بھی کاہنوں  نے  ہیکل کی مرمت نہیں  کی۔

7 اس لئے  بادشاہ یوآس یہویدع کاہن کو بلایا۔ یوآس نے  اسے  اور دوسرے  کاہنوں  سے  کہا ” تم نے  ہیکل کی مرمّت کیوں  نہیں  کی؟ لوگوں  سے  رقم لینا بند کرو دوسرے  اخراجات بھی بند کرو۔ اور وہ رقم ہیکل کی مرمت کے  لئے  استعمال کرو۔ ”

8 کاہنوں  نے  لوگوں  سے  رقم لینا بند کرنے  کو مان لیا۔ لیکن انہوں  نے  یہ طئے  کیا کہ ہیکل کی مرمّت نہ کریں۔

9 اس لئے  یہویدع کاہن نے  ایک صندوق قربان گاہ کی جنوبی جانب رکھا۔ یہ صندوق دروازہ کے  پاس تھا جہاں  سے  لوگ خداوند کی ہیکل میں  آتے  تھے۔ کچھ کاہن ہیکل کی دہلیز کی حفاظت پر مامور تھے۔ وہ کاہن لوگ رقم کولے  لیتے  تھے  جسے  لوگ خداوند کے  لئے  دیتے  اور وہ اس رقم کو اس صندوق میں  ڈال دیتے  تھے۔

10 جب بھی لوگ ہیکل کو جاتے  رقم کو صندوق میں  ڈالنا شروع کر دیتے۔ جب کبھی بادشاہ کا معتمد اور اعلیٰ کاہن دیکھتے  کہ کافی رقم صندوق میں  ہے  تو وہ آتے  اور صندوق میں  سے  رقم لے  لیتے۔ وہ رقم کو گنتے  اور تھیلے  میں  رکھ لیتے۔

11 تب ان لوگوں  نے  خداوند کی ہیکل میں  کام کرنے  والے  عملے  کو ان کی اُجرت دیا۔ ان لوگوں  نے  دوسرے  معماروں  اور بڑھئی کو بھی اُجرت دیئے  جو خداوند کی ہیکل میں  کام کرتے  تھے۔

12 وہ لوگ اس رقم کو پتھر کے  کام کرنے  وا لوں  اور سنگ تراشوں  کو اُجرت دینے  میں  استعمال کئے۔ ان لوگوں  نے  اس رقم کو لکڑی خریدنے  میں  اور پتھر کے  کاٹنے  میں  اور دوسری چیزیں  جن کی خداوند کی ہیکل میں  مرمت کے  کام کے  لئے  ضرورت ہو تی ہے  استعمال کئے۔

13 لوگوں  نے  خداوند کی ہیکل کے  لئے  رقم دیئے۔ لیکن کاہنوں  نے  اس کو چاندی کے  پیالے   شمعدان سلفچی بگل یا کوئی سونے  یا چاندی کی برتن بنانے  کے  استعمال میں  نہیں  لا یا۔وہ رقم کام کرنے  وا لوں  کی اُجرت کی ادائے  گی میں  صَرف کیا گیا۔ ان عملوں  نے  خداوند کی ہیکل کی مرمت کی۔

14

15 کسی نے  ان تمام رقم کو نہیں  گنا یا کام کرنے  وا لوں  پر زیادتی نہیں  کی کہ اس رقم کا کیا ہوا کیوں  کہ ان کام کرنے  وا لوں  پر بھروسہ تھا۔

16 لوگوں  نے  جرم کا نذرانہ اور گناہ کا نذرانہ پیش کرتے  وقت رقم دیئے۔ لیکن وہ رقم کام کرنے  وا لوں  کی ادائی میں  استعمال نہیں  ہوا وہ رقم کاہنوں  کا تھا۔

17 حزائیل ارام کا بادشاہ تھا۔حزائیل شہر جات کے  خلاف لڑنے  گیا۔حزائیل نے  جات کو شکست دی۔ پھر اس نے  یروشلم کے  خلاف لڑنے  کا منصوبہ بنا یا۔

18 یہوسفط یہورام اور اخزیاہ پہلے  یہوداہ کے  بادشاہ تھے۔ وہ یو آس کے  آباء و  اجداد تھے۔ انہوں  نے  خداوند کو کئی چیزیں  دی تھیں۔ وہ چیزیں  ہیکل میں  رکھی گئی تھیں۔ یو آس نے  بھی کئی چیزیں  خداوند کے  لئے  دی تھیں۔ یو آس نے  وہ تمام چیزیں  اور تمام سونا جو ہیکل میں  اور اس کے  گھر میں  تھا لیا اور اسے  ارام کے  بادشاہ حزائیل کو بھیج دیا۔

19 جو عظیم کارنامے  یو آس نے  کئے  وہ کتاب ” تاریخ سلاطین یہوداہ ” میں  لکھے  ہیں۔

20 یو آس کے  افسروں  نے  اس کے  خلاف منصوبہ بنایا۔ انہوں  نے  یو آس کو ملّو کے  گھر پر مار ڈالا جو سلّا کو جانے  وا لی سڑک پر تھا۔

21 یُو سکار سماعت کا بیٹا اور یہوزبد شومیر کا بیٹا یو آس کے  افسر تھے۔ ان آدمیوں  نے  یو آس کو مار ڈالا۔ لوگوں  نے  یو آس کو اس کے  آباء و  اجداد کے  ساتھ شہر داؤد میں  دفن کیا یو آس کا بیٹا امصیاہ اس کے  بعد نیا بادشاہ ہوا۔

 

 

باب:  13

 

 

1 اخزیاہ کا بیٹا یہوداہ کا بادشاہ یو آس کی بادشاہت کے  تئیسویں  سال کے  دوران یا ہو کا بیٹا یہو آخز سامریہ میں  اسرائیل کا بادشاہ ہوا۔ یہو آخز سترہ سال تک حکومت کی۔

2 یہو آخز نے  وہ کام کئے  جنہیں  خداوند نے  بُرا کہا تھا۔ یہو آخز نے  نباط کے  بیٹے  یر بعام کے  گناہوں  کی پیر وی کی جس نے  بنی اسرائیلیوں  سے  گناہ کر وائے  تھے۔ یہو آخز نے  ان چیزوں  کو نہیں  روکا۔

3 پھر خداوند اسرائیل کے  خلاف بہت غصہ میں  آیا۔ خداوند نے  اسرائیل کو ارام کے  بادشاہ حزائیل اور اس کے  بیٹے  بن ہدد کے  زیر قا بو میں  دے  کر لمبے  عرصے  تک کے  لئے  سزا دی۔

4 تب یہو آخز نے  خداوند سے  التجاء کی کہ ان کی مدد کرے  اور خداوند نے  اس کو سُنا۔ خداوند نے  اسرائیل کی مصیبتوں  کو دیکھا تھا اور کس طرح ارام کے  بادشاہ نے  اسرائیلیوں  کو تکالیف دی تھیں  دیکھا تھا۔

5 اِس لئے  خداوند نے  اسرائیل کو بچانے  کے  لئے  ایک آدمی  کو بھیجا۔ اسرائیلی ارامیوں  سے  آزاد تھے۔ اس لئے  اسرائیلی اپنے  گھروں  کو گئے  جیسا کہ پہلے  کئے  تھے۔

6 لیکن اسرائیلی ابھی تک یُر بعام نے  جو گناہ بنی اسرائیلیوں  سے  کروائے  تھے  ان سے  رُکے  نہیں  تھے۔ بنی اسرائیلیوں  نے  یُر بعام کے  گناہوں  کو جاری رکھا۔ انہوں  نے  آشیرہ کے  ستون کو بھی سامر یہ میں  رکھا۔

7 ارام کے  بادشاہ نے  یہو آخز کی فوج کو شکست دی۔ اس نے  فوج کے  بہت سارے  آدمیوں  کو تباہ کیا اس نے  صرف ۵۰ گھوڑ سوار سپاہی ۱۰ رتھ اور ۱۰۰۰۰ پیدل سپاہی چھوڑے۔ یہو آخز کے  سپاہی ان بھو سوں  کی طرح تھے  جو کھلیان میں  کچلتے  وقت تیز ہوا سے  اڑ جاتے  ہیں۔

8 تمام عظیم کارنامے  جو یہو آخز نے  کئے  وہ ” تاریخ سلا طین اسرائیل ” نامی کتاب میں  لکھے  ہیں۔

9 یہو آخز مر گیا اور اس کے  آباء و  اجداد کے  ساتھ دفن ہوا۔ لوگوں  نے  یہوآخز کو سامر یہ میں  دفن کیا۔ یہو آخز کا بیٹا یہوآس اس کے  بعد بادشاہ ہوا۔

10 یہو آخز کا بیٹا یہو آس سامر یہ میں  اسرائیل کا بادشاہ ہوا۔ یہ واقعہ یہوداہ کا بادشاہ یوآس کی بادشاہت کے  سینتیسویں  سال کا ہے۔ یہوآس نے  اسرائیل پر ۱۶ سال حکو مت کی۔

11 اسرائیل کا بادشاہ یہوآس نے  وہ کام کئے  جنہیں  خداوند نے  برا کہا تھا۔ اس نے  نباط کے  بیٹے  یُر بعام کے  گناہوں  سے  جس نے  اسرائیل سے  گناہ کروائے  تھے  نہیں  روکا۔ یہوآس نے  ان گناہوں  کو جاری رکھا۔

12 سب عظیم کارنامے  جو یہوآس نے  کئے  اور یہوداہ کے  بادشاہ امصیاہ کے  خلاف جو جنگیں  کیں  وہ سب ” تاریخ سلاطین اسرائیل ” نامی کتاب میں  لکھا ہوا ہے۔

13 یہوآس مر گیا اور اس کے  آباء و  اجداد کے  ساتھ دفن ہوا۔ یُر بعام نیا بادشاہ ہوا اور یہوآس کے  تخت پر بیٹھا۔ یہوآس سامریہ میں  اسرائیل کے  بادشاہوں  کے  پاس دفن ہوا۔

14 الیشع بیمار ہوا اور بیماری کی جہ سے  وہ بعد میں  مر گیا۔ اسرائیل کا بادشاہ یہوآس الیشع سے  ملنے  گیا۔ یہوآس الیشع کے  لئے  رویا اور کہا “میرے  باپ میرے  باپ! کیا یہ وقت اسرائیل کی رتھوں  اور اس کے  گھوڑوں  کا ہے ؟ ”

15 الیشع نے  یہوآس سے  کہا ” ایک کمان اور چند تیر لو۔” یہوآس نے  کمان اور چند تیر لئے۔

16 تب الیشع نے  اسرائیل کے  بادشاہ سے  کہا ” کمان اپنے  ہاتھ میں  پکڑو۔” یہوآس نے  اپنا ہاتھ کمان پررکھا۔ تب الیشع نے  اپنا ہاتھ بادشاہ کے  ہاتھ پر رکھا۔

17 الیشع نے  کہا مشرقی کھڑ کی کھو لو۔ یہوآس نے  کھڑ کی کھو لی۔ تب الیشع نے  کہا ” تیر چلاؤ۔” یہوآس نے  تیر چلایا۔ تب الیشع نے  کہا ” وہ خداوند کی فتح کا تیر ہے۔ ارام پر فتح کا تیر۔ تم ارامیوں  کو افیق پر شکست دو گے  اور انہیں  تباہ کرو گے۔ ”

18 الیشع نے  کہا ” تیروں  کو لو۔” یہوآس نے  تیروں  کو لیا تب الیشع نے  اسرائیل کے  بادشاہ سے  کہا ” زمین پر چلاؤ۔” یہوآس نے  تین بار زمین پر مارا۔ تب وہ رکا۔

19 خدا کا آدمی  یہوآس پر غصّہ ہوا۔ الیشع نے  کہا ” تمہیں  پانچ یا چھ مرتبہ مارنا چاہئے  تھا۔ تب ہی تو ارام کو شکست دیئے  ہوتے  جب تک کہ تباہ نہ ہو جاتے  لیکن اب تم ارام کو صرف تین مرتبہ شکست دو گے۔ ”

20 الیشع مر گیا اور لوگوں  نے  اسے  دفن کیا۔ کبھی کبھار موآبی سپاہی بہار کے  موسم میں  ملک پر حملہ کرتے  تھے۔

21 کچھ اِسرائیلی ایک مردہ آدمی  کو دفن کر رہے  تھے۔ اور انہوں  نے  سپاہیوں  کے  گروہ کو دیکھا۔ اسرائیلیوں  نے  جلدی سے  مردہ آدمی  کو الیشع کی قبر میں  پھینک کر بھا گ گئے۔ جیسے  ہی مردہ آدمی  الیشع کی ہڈیوں  سے  چھو گیا۔ مردہ میں  زندگی آ گئی اور اپنے  پیروں  پر کھڑا ہو گیا۔

22 ان تمام دنوں  کے  دوران جب یہو آخز نے  حکو مت کی ارام کا بادشاہ حزائیل اسرائیل کی مصیبت کا باعث ہوا۔

23 لیکن خداوند اسرائیلیوں  پر مہربان تھا۔ خداوند نے  رحم اور ترس سے  اسرائیلیوں  کی طرف پلٹا اس کے  اس معاہدہ کی وجہ سے  جو اس نے  ابراہیم اسحاق اور یعقوب کے  ساتھ کیا تھا۔ خداوند اس لئے  اسرائیلیوں  کو نہ تباہ کرے  گا اور نہ آج تک وہ خداوند کی نظر سے  دور ہانک دیئے  جائیں  گے۔

24 ارام کا بادشاہ حزائیل مر گیا اور اس کے  بعد بن ہدد نیا بادشاہ ہوا۔

25 اس کے  مرنے  سے  پہلے  حزائیل نے  جنگ میں  کچھ شہروں  کو یہوآس کے  باپ یہوآخز سے  لے  لیا تھا۔ لیکن اب یہوآس ان شہروں  کو حزائیل کے  بیٹے  بن ہدد سے  واپس لے  لیا تھا۔ یہوآس نے  بن ہدد کو تین مرتبہ شکست دی اور اسرائیل کے  شہروں  کو واپس لے  لیا۔

 

 

 

باب:  14

 

 

1 یہوداہ کابادشاہ یو آس کا بیٹا امصیاہ یہو آخز کا بیٹا اسرائیل کا بادشاہ یہو آس کی بادشاہت کے  دوسرے  سال بادشاہ ہوا تھا۔

2 امصیاہ کی عمر ۲۵ سال تھی جب اس نے  حکومت کرنی شروع کی۔ امصیاہ نے  یروشلم میں  ۲۹ سال حکومت کی امصیاہ کی ماں  یہوعدّان یروشلم کی رہنے  وا لی تھی۔

3 امصیاہ نے  وہ کام کئے  جو خداوند نے  کہا کہ صحیح ہے۔ لیکن وہ اس کے  آباء و اجداد کی طرح خدا کے  احکامات کی پوری طرح پابندی نہ کر سکا۔ امصیاہ نے  وہی سب کام کیا جو اس کا باپ یو آس کر چکا تھا۔

4 اس نے  اعلیٰ جگہوں  کو تباہ نہیں  کیا۔تا کہ لوگ ابھی تک قربانیاں  اور بخور جلانے  کا نذرانہ ان عبادت کی جگہوں  پر دیتے  رہیں۔

5 جب امصیاہ نے  پوری سلطنت پر مکمل قابو پا لیا تو اس نے  ان افسروں  کو مار ڈالا جنہوں  نے  اس کے  باپ کو مار ڈالا تھا۔

6 لیکن اس نے  قاتلوں  کے  بچوں  کو ہلاک نہیں  کیا محض اُن اصولوں  کی وجہ سے  جو موسیٰ کی شریعت میں  لکھے  ہوئے  ہیں۔ یہ حکم خداوند کی طرف سے  موسیٰ کی شریعت میں  دیا ہے۔ ” بچوں  کے  کچھ کئے  جانے  سے  والدین کو مارا نہیں  جا سکتا۔ اسی طرح والدین کے  کچھ کئے  کی وجہ سے  بچوں  کو جان سے  نہیں  مارا جا سکتا۔ ایک شخص کو موت کی سزا تبھی دی جا سکتی ہے  اگر وہ خود سے  جرم کیا ہو۔ ”

7 امصیاہ نے  ۱۰۰۰۰ ادومیوں  کو نمک کی وادی میں  مار ڈالا۔جنگ میں  امصیاہ نے  سلع کو جیتا اور اس کا نام “یُقتیل ” رکھا وہ جگہ ابھی تک ” یُقتیل ” کہلا تی ہے۔

8 امصیاہ نے  خبر رسانوں  کو اسرائیل کے  بادشاہ یاہو کے  بیٹے  یہو آخز کے  بیٹے  یہوآس کے  پاس بھیجا۔ امصیاہ کا پیغام تھا “آؤ ایک دوسرے  سے  سامنے  ملیں  اور لڑیں۔”

9 اسرائیل کے  بادشاہ یہوآس نے  یہوداہ کے  بادشاہ امصیاہ کو جواب بھیجا۔یہوآس نے  کہا ” لبنان کے  کانٹوں  کی جھاڑی نے  لبنان کے  بلوط کے  درخت کے  پاس پیغام بھیجا اس نے  کہا ” تم اپنی بیٹی کی میرے  بیٹے  سے  شادی کرا دو ” لیکن ایک لبنان کا جنگلی جانور کانٹوں  کی جھاڑی کے  پاس سے  گذرا اور روند ڈالا۔

10 سچ! تم نے  ادوم کو شکست دے  دی ہے  لیکن ادوم پر اپنی جیت کی وجہ سے  تم مغرور ہو گئے  ہو! لیکن گھر پر رہو اور ڈینگ مارو۔ اپنے  لئے  مصیبت نہ لاؤ۔ اگر تم ایسا کرو گے  تو گِر پڑو گے  اور یہوداہ بھی تمہارے  ساتھ گر جائے  گا۔”

11 لیکن امصیاہ نے  یہو آس کی تنبیہ ( اگاہی ) کو نظر انداز کر دیا۔اس لئے  اسرائیل کا بادشاہ یہو آس یہوداہ کے  بادشاہ امصیاہ کے  خلاف لڑنے  یہوداہ میں  بیت شمس گیا۔

12 اسرائیل نے  یہوداہ کو شکست دی۔ یہوداہ کا ہر آدمی  گھر کو بھاگا۔

13 بیت شمس میں  اسرائیل کے  بادشاہ یہو آس نے  یہوداہ کے  بادشاہ امصیاہ کو پکڑا۔امصیاہ یو آس کا بیٹا تھا۔ یو آس اخزیاہ کا بیٹا تھا۔ یہوآس نے  امصیاہ کو یروشلم لے  گیا۔ یہو آس نے  یروشلم کی دیوار افرائیم کے  دروازے  سے  کونے  کے  دروازے  تک تقریباً ۶۰۰فیت توڑ ڈالی۔

14 تب یہوآس نے  سا را سونا اور چاندی اور تمام برتن جو خداوند کی ہیکل میں  تھے  اور بادشاہ کے  گھر سے  خزانہ لے  لیا۔ اور لوگوں  کو بھی اپنا قیدی بنا لیا اور سامریہ کو واپس گیا۔

15 سب عظیم کارنامے  جو یہوآس نے  کئے  بشمول جنگ جو یہوداہ کے  بادشاہ امصیاہ سے  ہو ئی”تاریخ سلاطین اسرائیل ” نامی کتاب میں  لکھی ہوئی ہے۔

16 یہوآس مر گیا اور سامریہ میں  اسرائیل کے  بادشاہوں  کے  ساتھ دفن ہوا۔ یہوآس کا بیٹا یربعام اس کے  بعد نیا بادشاہ ہوا۔

17 یہوداہ کا بادشاہ یو آس کا بیٹا امصیاہ یہوآس کے  مرنے  کے  بعد ۱۵ سال تک زندہ رہا۔

18 تمام عظیم کارنامے  جو امصیاہ نے  کئے  وہ ” تاریخ سلاطین اسرائیل ” نامی کتاب میں  لکھے  ہوئے  ہیں۔

19 لوگوں  نے  امصیاہ کے  خلاف یروشلم میں  ایک منصوبہ بنا یا۔ امصیاہ لکیس کو بھا گا۔ لیکن لوگوں  نے  آدمیوں  کو امصیاہ کے  پیچھے  لکیس تک بھیجا۔ اور ان آدمیوں  نے  لکیس میں  امصیاہ کو مار ڈالا۔

20 لوگوں  نے  امصیاہ کی لاش کو گھوڑوں  پر واپس لائے۔ امصیاہ کو یروشلم میں  اس کے  آباء و اجداد کے  ساتھ شہر داؤد میں  دفن کیا گیا۔

21 تب یہوداہ کے  تمام لوگوں  نے  عزریاہ کو اپنا نیا بادشاہ بنا یا۔ اس وقت عزریاہ ۱۶ سال کا تھا۔

22 امصیاہ کے  مرنے  کے  بعد عزریاہ نے  ایلات کو دوبارہ یہوداہ کے  لئے  حاصل کیا اور اسے  اس شہر کو دوبارہ بنا یا۔

23 اسرائیل کے  بادشاہ یہو آس کا بیٹا یُربعام سامریہ میں  جب حکومت کرنی شروع کی۔ اس وقت یو آس کے  بیٹے  امصیاہ کے  یہوداہ پر بادشاہت کا پندرہواں  سال تھا۔یرُ بعام نے  ۴۱ سال تک حکومت کی۔

24 یُر بعام نے  وہ چیزیں  کیں  جنہیں  خداوند نے  بُرا کہا تھا۔یربعام نے  ان گناہوں  کو جو نباط کے  بیٹے  یربعام نے  بنی اسرائیلیوں  سے  کروائے  اس کو نہیں  رو کا۔

25 یربعام نے  اسرائیل کی زمین کو واپس لی جو لیبو حمات سے  عربا سمندر تک تھی۔ یہ واقعہ ایسا ہی ہوا جیسا اسرائیل کے  خداوند نے  اپنے  خادم جات حفر کے  نبی امتی کے  بیٹے  یُوناہ کو کہا تھا۔

26 خداوند نے  یہ سب اس لئے  کیا کیونکہ اس نے  دیکھا کہ کس طرح بنی اسرائیل مصیبت زدہ ہیں۔حالات اتنی بُری تھی ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی بھی غلاموں  کی مدد کے  لئے  اور بنی اسرائیلیوں  کو آزاد کرنے  کے  لئے  نہیں  تھے۔

27 خداوند نے  یہ نہیں  کہا تھا کہ وہ دنیا سے  اسرائیل کا نام اٹھا لے  گا اسی لئے  خداوند نے  یہوآس کے  بیٹے  یربعام کو بنی اسرائیلیوں  کو بچانے  کے  لئے  استعمال کیا۔

28 تمام عظیم کارنامے  جو یربعام نے  کیا وہ ” تاریخ سلاطین اسرائیل ” نامی کتاب میں  لکھے  ہوئے  ہیں۔ اس میں  وہ قصہ بھی شامل ہے  جس میں  یربعام کو دمشق اور حمات کے  اسرائیل کے  لئے  واپس جیتا ہے۔ ( یہ شہر یہوداہ کے  تھے  )

29 یربعام مر گیا اپنے  آباء و اجداد اور اسرائیل کے  بادشاہوں  کے  ساتھ دفنایا گیا۔یربعام کا بیٹا زکریاہ اس کے  بعد نیا بادشاہ ہو ا۔

 

باب:  15

 

 

1 جب یربعام کی اسرائیل پر بادشاہت کا۲۷ واں  سال تھا تو عزریاہ امصیاہ کا بیٹا یہوداہ کا بادشاہ بنا۔

2 عزریاہ اس وقت سولہ سال کا تھا جب وہ حکومت شروع کی۔ اس نے  یروشلم میں  ۵۲سال حکومت کی۔ عزریاہ کی ماں  یروشلم کی رہنے  وا لی تھی اس کا نام یکولیاہ تھا۔

3 عزریاہ نے  بالکل اپنے  باپ امصیاہ کی طرح وہ کام کیا جسے  خداوند نے  اچھا کہا تھا۔

4 لیکن اس نے  اعلیٰ جگہوں  کو تباہ نہیں  کیا لوگ ابھی تک عبادت کی جگہ پر قربانیاں  اور بخور جلاتے۔

5 خداوند نے  بادشاہ عزریاہ کو جُذام کا مریض بنایا وہ مرنے  کے  دن تک جذامی رہا۔ عزریاہ ایک علیٰحدہ مکان میں  رہا۔بادشاہ کا بیٹا یو تام بادشاہ کے  گھر کی دیکھ بھال کرتا اور لوگوں  کا انصاف کرتا تھا۔

6 عزریاہ نے  جو بڑے  کام کئے  وہ ” تاریخ سلاطین یہوداہ ” نامی کتاب میں  لکھے  ہوئے  ہیں۔

7 عزریاہ مر گیا اور اپنے  آباء و اجداد کے  ساتھ شہر داؤد میں  دفنایا گیا۔ عزریاہ کا بیٹا یوتام اس کے  بعد نیا بادشاہ بنا۔

8 یربعام کا بیٹا زکریاہ اسرائیل میں  سامریہ پر چھ مہینے  کے  لئے  حکومت کی۔عزریاہ کا یہوداہ کے  بادشاہ ہونے  کا ۳۸ واں  سال تھا۔

9 زکریاہ نے  وہ کام کیا جسے  خداوند نے  بُرا کہا۔اس نے  وہی کیا جسے  اس کے  آ باء و اجداد نے  کیا وہ ان گناہوں  کے  کرنے  سے  نہیں  رکا جسے  نباط کے  بیٹے  یربعام نے  اسرائیلیوں  سے  کروائے۔

10 شلوم جو یبیس کا بیٹا تھا زکریاہ کے  خلاف منصوبہ بنا یا۔ شلوم نے  زکریاہ کو ابلیم میں  مار ڈالا۔شلوم اس کے  بعد نیا بادشاہ بنا۔

11 وہ سب دوسری باتیں  جو زکریا نے  کیں  وہ ” تاریخ سلاطین اسرائیل ” میں  لکھی ہیں۔

12 اس طرح خداوند کا کہا سچ ہوا۔خداوند نے  یا ہوسے  کہا تھا کہ اس کی نسل سے  چارپشت تک اسرائیل کے  بادشاہ ہوں  گے۔

13 یبیس کا بیٹا شلوم اسرائیل کا بادشاہ اس دوران جب عُزّیاہ کی یہوداہ پر بادشاہت کا ۳۹ واں  سال تھا۔ شلوم سامریہ میں  ایک مہینہ کے  لئے  حکومت کی۔

14 جادی کا بیٹا مناحم ترضہ سے  سامریہ آیا۔مناحم نے  یبیس کے  بیٹے  شلوم کو مار ڈالا پھر مناحم اس کے  بعد نیا بادشاہ ہوا۔

15 وہ تمام حرکتیں  جو شلوم نے  کیں  بشمول زکریاہ کے  خلاف اس کے  منصوبے  وہ سب کتاب “تاریخ سلاطین اسرائیل ” میں  لکھی ہیں۔

16 شلوم کے  مرنے  کے  بعد مناحم نے  ترضہ سے  تفسح اور اس کے  اطراف کے  علاقے  کو شکست دینی شروع کی۔ اس لئے  لوگوں  نے  شہر کا دروازہ اس کے  لئے  کھولنے  سے  انکار کیا۔ مناحم نے  انہیں  شکست دی وہ اس شہر میں  حاملہ عورتوں  کے  شکم چیر دیئے۔

17 جدی کا بیٹا منا حم جب عزریاہ کا بادشاہ تھا تو اس کی بادشاہت کے  انتالیسویں  سال وہ بادشاہ بنا۔ مناحم نے  سامریہ میں  دس سال حکومت کی۔

18 مناحم نے  وہ کام کیا جنہیں  خداوند نے  برا کہا۔ مناحم ان گناہوں  سے  رکا نہیں  جو نباط کا بیٹا یربعام نے  اسرائیلیوں  سے  کروائے  تھے۔

19 اسُور کا بادشاہ پول اسرائیل کے  خلاف لڑنے  آیا۔ مناحم نے  پُول کو ۰۰۰،۷۵ پاؤنڈ چاندی دیا۔اس نے  ایسا کیا تاکہ پُول مناحم کی بادشاہت کو بہت زیادہ مضبوط بنانے  میں  اس کی مدد کریں  گے۔

20 مناحم نے  دولتمند لوگوں  اور طاقتور لوگوں  پر محصول لگا کر دولت میں  اضافہ کیا۔ مناحم نے  ہر آدمی  پر ۵۰ مثقال چاندی محصول لگا یا۔تب مناحم نے  رقم اسور کے  بادشاہ کو دی۔اس لئے  اسور کا بادشاہ وہاں  سے  نکلا اور اسرائیل میں  نہیں  ٹھہرا۔

21 تمام بڑے  کارنامے  جو مناحم نے  کئے  وہ ” تاریخ سلاطین اسرائیل ” نامی کتاب میں  لکھے  ہوئے  ہیں۔

22 مناحم مر گیا اور اپنے  آباء  و اجداد کے  ساتھ دفنایا گیا۔اس کے  بعد اس کا بیٹا فقحیاہ اس کا جانشین ہوا اور نیا بادشاہ بنا۔

23 جوب عزریاہ یہوداہ کا بادشاہ تھا اس کے  پچاسویں  سال میں  مناحم کا بیٹا فقحیاہ سامریہ میں  اسرائیل کا با دشاہ ہوا۔فقحیاہ نے  دو سال حکومت کی۔

24 فقحیاہ نے  وہ کام کیا جسے  خداوند نے  بُرا کہا۔ فقحیاہ ان گناہوں  سے  نہیں  رُکا جو نباط کے  بیٹے  یربعام نے  بنی اسرائیلیوں  سے  کروائے۔

25 فقحیاہ کی فوج کا سپہ سالار رملیاہ کا بیٹا فِقح تھا۔ فِقح نے  فِقحیاہ کو مار ڈالا۔ اس نے  اس کو سامریہ میں  بادشاہ کے  محل میں  مار ڈالا۔ اس وقت اس کے  ساتھ جلعاد کے  پچاس آدمی  تھے  جس وقت وہ فقحیاہ کو مار ڈالا تھا۔ اس کے  بعد فِقح نیا بادشاہ ہوا۔

26 تمام بڑے  کارنامے  جو فقحیاہ نے  کئے  وہ ” تاریخ سلاطین اسرائیل ” میں  لکھے  ہوئے  ہیں۔

27 جب اخزیاہ یہوداہ کا بادشاہ تھا اس کے  ۵۲ ویں  سال میں  رملیاہ کا بیٹا فِقح سامریہ میں  اسرائیل پر حکومت کرنی شروع کی۔ فِقح نے  سامریہ میں  ۲۰ سال حکومت کی۔

28 فِقح نے  وہ کام کیا جسے  خداوند نے  بُرا کہا تھا۔ فِقح ان گناہوں  کے  کرنے  سے  نہیں  رُکا جنہیں  نباط کے  بیٹے  یربعام نے  بنی اسرائیلیوں  سے  کروائے۔

29 اسُور کا بادشاہ تِگلت پِلا سر اسرائیل کے  خلاف لڑنے  آیا یہ وقت کی بات ہے  جب فِقح اسرائیل کا بادشاہ تھا۔تگلت پِلاسرنے  ایون ابیل بیت معکہ ینوحہ قادس حُصور جلعاد گلیل اور تمام نفتالی علاقہ کو فتح کر لیا۔ تِگلت پِلاسرنے  ان جگہوں  کو قیدی بنا کر اسورلے  گیا۔

30 ایلہ کا بیٹا ہو سیعاہ نے  رملیاہ کے  بیٹے  فقح کے  خلاف منصوبے  بنائے۔ ہو سیعاہ نے  فِقح کو مار ڈالا۔ پھر فقح کے  بعد ہو سیعاہ نیا بادشاہ ہوا۔ یہ بیسویں  سال کے  دوران کا واقعہ ہے  جب عزّیاہ کا بیٹا یوتام یہوداہ کا بادشاہ تھا۔

31 تمام بڑے  کارنامے  جو فقح نے  کئے  تھے  وہ ” تاریح سلاطین اسرائیل ” میں  لکھے  ہوئے  ہیں۔

32 عُزّیاہ کا بیٹا یوتام یہوداہ کا بادشاہ ہوا۔ یہ اسرائیل کے  بادشاہ رملیاہ کے  بیٹے  فِقح کی حکومت کا دوسرا سال تھا۔

33 یوتام ۲۵ سال کا تھا جب وہ بادشاہ ہوا۔ یوتام نے  یروشلم میں  ۱۶ سال حکومت کی۔ یوتام کی ماں  یُروسا تھی جو صدوق کی بیٹی تھی۔

34 یو تام نے  بالکل اپنے  باپ عُزّیاہ کی طرح ایسے  کام کئے  جسے  خداوند نے  ٹھیک کہا۔

35 لیکن اس نے  اعلیٰ جگہوں  کو تباہ نہیں  کیا تھا۔ لوگ ابھی تک ان عبادت کی جگہوں  پر قربانیاں  دیتے  اور بخور جلاتے۔ یوتام نے  خداوند کی ہیکل کا بالائی دروازہ بنایا۔

36 تمام عظیم کارنامے  جو یوتام نے  کئے  وہ ” تاریخ سلاطین یہوداہ میں  لکھے  ہوئے  تھے۔

37 اس وقت خداوند نے  ارام کے  بادشاہ رصین کو اور رملیاہ کے  بیٹے  فِقح کو یہوداہ کے  خلاف لڑنے  بھیجا۔

38 یو تام مر گیا اور اپنے  آباء و  اجداد کے  ساتھ دفنا یا گیا۔ یو تام کے  بعد اس کا بیٹا آخز بادشاہ ہوا۔

 

 

باب:  16

 

 

1 یوتام کا بیٹا آخز اس وقت یہوداہ کا بادشاہ ہوا جب رملیاہ کے  بیٹے  فِقح کی اسرائیل پر بادشاہت کا سترہواں  سال تھا۔

2 آخز جب بادشاہ ہوا تو اس کی عمر ۲۰ سال تھی۔ آخز نے  یروشلم میں  ۱۶ سال حکو مت کی۔ آخز اپنے  آباء و  اجداد داؤد کی طرح نہیں  تھا۔ آخز نے  وہ کام کئے  جنہیں  خداوند نے  اچھا نہیں  جانا تھا۔

3 آخز اسرائیل کے  بادشاہوں  کی طرح رہا۔ یہاں  تک کہ وہ اپنے  بیٹوں  کی آ گ کی قربانی دیتے  تھے۔ اس نے  ان قوموں  کے  ان بھیانک گناہوں  کو کیا جنہیں  خداوند نے  ملک چھوڑنے  کے  لئے  کہا تھا جس وقت اسرائیلی آئے  تھے۔

4 آخز نے  اعلیٰ جگہوں  پر اور پہاڑ یوں  پر اور ہر ہرے  درخت کے  نیچے  قربانیاں  دیں  اور بخور جلائیں۔

5 ارام کا بادشاہ رضین اور اسرائیل کا بادشاہ رملیاہ کا بیٹا فِقح یروشلم کے  خلاف لڑنے  آئے۔ رضین اور فقح نے  آخز کو گھیر لیا مگر اس کو شکست نہ دے  سکے۔

6 ” اس وقت ارام کا بادشاہ رضین ایلات کو ارام کے  لئے  واپس لے  لیا۔ رضین نے   یہوداہ کے  تمام لوگوں  کو جو ایلات میں  رہتے  تھے  بھگا دیا۔ ارامی آئے  تھے  اور ایلات میں  بس گئے  تھے  اور آج بھی وہاں  رہتے  ہیں۔

7 آخز نے  خبر رسانوں  کو تگلت پِلاسر جو اسُور کا بادشاہ تھا اس کے  پاس پیغام بھیجا۔ پیغام یہ تھا :” میں  تمہارا خادم ہوں۔میں  تمہارے  لئے  ایک بیٹے  کی مانند ہوں۔ مہر بانی کر کے  یہاں  آؤ اور مجھے  ارام کے  بادشاہ سے  اور اسرائیل کے  بادشاہ سے  بچاؤ۔ وہ مجھ سے  لڑنے  آئے  ہیں۔”

8 آخز نے  خداوند کے  گھر سے  تمام سونے  اور چاندی اور بادشاہ کے  محل کا تمام خزانہ بھی لیا۔ اور اس نے  اسور کے  بادشاہ کو ایک تحفہ بھیجا۔

9 اسُور کے  بادشاہ نے  آخز کی بات سنی۔اسُور کے  بادشاہ دمشق کے  خلاف لڑنے  گیا۔ بادشاہ نے  اس شہر کو فتح کیا اور دمشق کے  لوگوں  کو قیدی بنا کر قیر لایا۔ اس نے  رضین کو بھی مار ڈالا۔

10 بادشاہ آخز اسُور کے  بادشاہ تگلت پِلاسر سے  ملنے  دمشق گیا۔ آخز نے  دمشق میں  قربان گاہ کو دیکھا۔ بادشاہ آخز نے  ایک اس قربان گاہ کا نمونہ اور نقش کاہن اوریاہ کو بھیجا۔

11 ” تب کاہن اوریاہ نے  اس نمونے  کے  مطابق جو بادشاہ آخز نے  دمشق سے  اسے  بھیجا تھا ایک قربان گاہ بنوا ئی۔ کاہن اوریاہ نے  قربان گاہ کو بادشاہ آخز کے  دمشق سے  وا پس آنے  سے  پہلے  بنا ئی۔

12 جب بادشاہ دمشق سے  آ پہنچا اس نے  قربان گاہ کو دیکھا اس نے  قربان گاہ پر قربانی دی۔

13 قربان گاہ پر آخز نے  جلانے  کا نذرانہ پیش کیا اور پینے  کا نذرانہ اور خون کا چھڑ کاؤ اس قربان گاہ پر کیا۔

14 آخز نے  کانسے  کی قربان گاہ کو جو خداوند کے  روبرو تھی خداوند کی ہیکل کے  سامنے  سے  ہٹا یا اور اس نئی قربان گاہ کو اس جگہ پر رکھا۔ آخز نے  کانسے  کی قربان گاہ کو اپنی ذاتی قربان گاہ کی شمالی جانب رکھا۔

15 آخز نے  کاہن اوریاہ کو حکم دیا اور کہا ” بڑی قربان گاہ کو صبح کی جلانے  کا نذرانہ کے  لئے  اور شام کی اناج کا نذرانہ اور مئے  کا نذرانہ جو ملک کے  سب لوگوں  کی طرف سے  ہو اس کے  لئے  استعمال کرو۔ جلانے  کا نذرانہ اور دوسرے  قربانیوں  کے  سارے  خون کا چھڑکاؤ بڑی قربان گاہ پر کرو۔ لیکن میں  کانسہ کی قربان گاہ کو خدا سے  سوال پوچھنے  کے  لئے  استعمال کروں  گا۔ ”

16 کاہن اوریاہ نے  وہی کیا جیسا کہ بادشاہ آخز نے  حکم دیا تھا۔

17 کانسے  کے  منقش فریم کی گاڑیاں  اور سلفچیاں  کاہنوں  کے  ہاتھ دھونے  کے  لئے  تھیں۔ بادشاہ آخز نے  منقش تختوں  کو اور سلفیچیوں  کو نکال دیا اور گاڑیوں  کو کاٹ ڈالا۔ اس نے  بڑے  حوض کو اور کانسے  کے  بیل جو وہاں  نیچے  چپکے  ہوئے  تھے  نکال دیا۔ اس نے  بڑے  حوض کو ایک پتھر کے  چبوترے  پر رکھا۔

18 معماروں  نے  ایک ڈھکی ہوئی جگہ ہیکل کے  اندر کے  حصے  میں  سبت کی مجلس کے  لئے  بنائی تھی۔ لیکن آخز نے  وہ ڈھکی ہوئی جگہ کولے  لیا۔ آخز نے  بادشاہ کے  لئے  بیرونی داخلہ کو بھی لے  لیا۔ آخز نے  یہ سب خداوند کی ہیکل سے  لیا۔ آخز نے  یہ سب اسُور کے  بادشاہ کے  لئے  کیا۔

19 تمام بڑے  کارنامے  جو آخز نے  کئے  وہ ” تاریخ سلاطین یہوداہ ” کی کتاب میں  لکھا ہوا ہے۔

20 آخز مر گیا اور اپنے  آباء و  اجداد کے  پاس شہر داؤد میں  دفنا یا گیا۔ آخز کا بیٹا حزقیاہ اس کے  بعد بادشاہ ہوا۔

 

 

باب:  17

 

 

1 ایلہ کا بیٹا ہوسیعاہ سامر یہ میں  اسرائیل پر حکو مت کرنی شروع کی۔ یہ یہوداہ کا بادشاہ آخز کی بادشاہت کا بارہواں  سال تھا۔ ہوسیعاہ نے  ۹ سال تک حکو مت کی۔

2 ہوسیعاہ نے  وہ کام کئے  جنہیں  خداوند نے  برا کہا تھا۔ حالانکہ وہ اتنا برا نہیں  تھے  جتنا کہ اسرائیل کے  وہ بادشاہ جنہوں  نے  اس سے  پہلے  حکو مت کی تھیں۔

3 شلمنسر جو اسُور کا بادشاہ تھا وہ ہوسیعاہ کے  خلاف لڑنے  آیا۔ شلمنسرنے  ہوسیعاہ کو شکست دی اور ہوسیعاہ اس کا خادم ہوا۔ اس لئے  ہوسیعاہ نے  شلمنسر کو محصول دینا شروع کیا۔

4 بعد میں  ہوسیعاہ نے  خبر رسانوں  کو مصر کے  بادشاہ کے  پاس مدد مانگنے  کے  لئے  بھیجا۔بادشاہ کا نام “سو” تھا۔ اس سال ہوسیعاہ نے  ہر سال کی طرح اسُور کے  بادشاہ کو تاوان نہیں  دیا۔ اسُور کے  بادشاہ کو معلوم ہوا کہ ہوسیعاہ نے  اس کے  خلاف منصوبے  بنائے  ہیں۔ اس لئے  اسُور کے  بادشاہ نے  ہو سیعاہ کو گرفتار کر لیا اور جیل میں  ڈال دیا۔

5 اسُور کے  بادشاہ نے  اسرائیل کے  کئی مقامات پر حملے  کئے  پھر وہ سامر یہ آیا وہ سامریہ کے  خلاف تین سال تک لڑا۔

6 اسور کے  بادشاہ نے  سامریہ کو اس وقت تک قبضہ کیا جب ہوسیعاہ کی اسرائیل پر بادشاہت کا نواں  سال تھا۔ اسُور کے  بادشاہ نے  کئی اسرائیلیوں  کو قیدی بنایا اور انہیں  اسُورلے  گیا۔ اس نے  انہیں  حلح میں  جوزان کی خابور ندی کے  پاس اور مادیس کے  شہروں  میں  رکھا۔

7 یہ واقعات اس لئے  ہوئے  کہ بنی اسرائیلیوں  نے  خداوند اپنے  خدا کے  خلاف گناہ کئے  تھے۔ یہ خداوند ہی تھا جس نے  بنی اسرائیلیوں  کو مصر کے  باہر لایا تھا۔ خداوند نے  ان کو مصر کے  بادشاہ فرعون کی طاقت سے  بچایا تھا۔ لیکن بنی اسرائیلیوں  نے  دوسرے  خداؤں  کی عبادت کرنی اور اس سے  ڈرنا شروع کیا۔

8 بنی اسرائیلیوں  نے  ان دوسری قوموں  کے  دستور کو اپنا یا جو کہ خداوند کے  ذریعہ اس سر زمین سے  نکالے  جانے  سے  پہلے  یہاں  رہتے  تھے۔ وہ بادشاہوں  کی حکومت کو بھی پسند کیا نہ کہ خدا کے۔

9 اسرائیلیوں  نے  چوری چھپے  خداوند اپنے  خدا کے  خلاف کام کئے  اور وہ برا کام تھا۔ اسرائیلیوں  نے  اعلیٰ جگہ ہر شہر میں  ہر چھوٹے  شہر سے  لے  کر بڑے  شہر تک بنائی۔

10 اسرائیلیوں  نے  یادگار پتھر اور آشیرہ کے  ستون ہر اونچی پہاڑی اور ہر ہرے  درخت کے  نیچے  نصب کئے۔

11 اسرائیلیوں  نے  ان تمام عبادت کی جگہوں  پر بخور جلائے۔ انہوں  نے  یہ سب کام ان قوموں  کی طرح کیا جنہیں  خداوند نے  سر زمین سے  باہر کیا تھا۔ اسرائیلیوں  نے  ایسے  کام کئے  جس سے  خداوند کو غصہ آیا۔

12 انہوں  نے  مورتیوں  کی پرستش اور اس کی خدمت کی حالانکہ خداوند نے  ان اسرائیلیوں  سے  کہا تھا ” تم ویسا کام مت کرو۔”

13 خداوند نے  ہر نبی اور سیر کو استعمال کیا اسرائیل اور یہوداہ کی آ گاہی کے  لئے۔ خداوند نے  کہا ” تم برے  کاموں  سے  دور رہو اور میرے  احکامات اور شریعت کی پابندی و اطاعت کرو۔ ان سب شریعتوں  پر عمل کرو جو میں  نے  تمہارے  باپ داداؤں  کو دیا تھا۔ میں  نے  اپنے  خادموں  اور نبیوں  کو یہ قانون تمہیں  دینے  کے  لئے  استعمال کیا۔”

14 لیکن لوگوں  نے  سنا نہیں۔ وہ اپنے  آباء و  اجداد کی طرح بہت ضدی رہے۔ ان کے  آباء و  اجداد خداوند اپنے  خدا پر یقین نہیں  کرتے  تھے۔

15 لوگوں  نے  خداوند کے  قانون اور اس کے  معاہدہ جو اس نے  ان کے  آباء و  اجداد سے  کیا تھا اس سے  انکار کئے۔ انہوں  نے  خداوند کی تنبیہ کو سننے  سے  انکار کئے۔ انہوں  نے  بتوں  کی پرستش کی جن کی کوئی قیمت نہ تھی۔ وہ اپنے  اطراف کی قوموں  کے  لوگوں  کی طرح رہے۔ انہوں  نے  وہ برے  کام کئے۔ اور خداوند نے  بنی اسرائیلیوں  کو خبردار کیا۔ خداوند نے  ان سے  کہا کہ وہ ان برے  کام کو نہ کریں۔

16 لوگوں  نے  خداوند اپنے  خدا کے  احکامات کو ماننا چھوڑ دیا۔ انہوں  نے  دو سونے  کے  بچھڑے  بنائے۔ انہوں  نے  آشیرہ کے  ستون بنائے۔ انہوں  نے  آسمان کے  ستاروں  کی پرستش کی اور بعل کی خدمت کی۔

17 انہوں  نے  اپنے  بیٹے  اور بیٹیوں  کی قربانی آ گ میں  دیں۔ انہوں  نے  مستقبل کو جان نے  کے  لئے  جادو ٹونا کا استعمال کیا۔ انہوں  نے  وہ کرنے  کے  لئے  اپنے  آپ  کو بیچا جس کے  کرنے  کو خداوند نے  برا کہا تھا۔ انہوں  نے  خداوند کو غصہ دلانے  کے  لئے  وہ کام کئے۔

18 اس لئے  خداوند اسرائیل پر بہت غصہ میں  آیا اور انہیں  اپنی نظروں  سے  دور کر دیا۔ کوئی بھی اسرائیلی نہیں  چھوٹا سوائے  یہوداہ کے  خاندانی گروہ کے۔

19 اس طرح یہوداہ کے  لوگوں  نے  بھی خداوند اپنے  خدا کے  احکامات کی نافرمانی کی۔ وہ بھی بنی اسرائیلیوں  کی طرح ہی رہے۔

20 خداوند نے  تمام بنی اسرائیلیوں  کو رد کر دیا اس نے  ان پر کئی مصیبتیں  نازل کیں۔ اُس نے  لوگوں  کو انہیں  تباہ کرنے  دیا۔ اور آخر کار وہ انہیں  اپنی نظروں  سے  دور کر دیا۔

21 خداوند نے  اسرائیل کو داؤد کے  خاندان سے  الگ کر ڈالا اور اسرائیلیوں  نے  نباط کے  بیٹے  یربعام کو اپنا بادشاہ بنایا۔ یربعام نے  اسرائیلیوں  کو خداوند کی باتوں  پر عمل کرنے  سے  دور کر دیا۔ یُربعام نے  اسرائیلیوں  سے  بڑا گناہ کروایا۔

22 اس لئے  اسرائیلیوں  نے  وہ تمام گناہ کئے  جنہیں  یربعام نے  کیا انہوں  نے  ان گناہوں  کے  کرنے  سے  نہیں  روکا۔

23 پس خداوند نے  اسرائیل کو اپنی نظروں  سے  دور کر دیا اور خداوند نے  کہا کہ ایسا ہو گا۔ اس نے  اپنے  نبیوں  کو لوگوں  سے  کہنے  بھیجا کہ ایسا ہو گا اسی لئے  بنی اسرائیلیوں  کو ان کے  ملک سے  نکال کر اسُور لیجا یا گیا۔ اور وہ آج تک وہیں  ہیں۔

24 اسُور کے  بادشاہ نے  بنی اسرائیلیوں  کو سامر یہ کے  باہر کیا۔ پھر اس نے  لوگوں  کو بابل کوتہ عوّا حمّات اور سِفروائم سے  لایا۔ انہیں  سامر یہ میں  اسرائیلیوں  کی جگہ پر ان لوگوں  کو جلا وطن کر دیا گیا تھا بسایا گیا۔ ان لوگوں  نے  سامریہ پر قبضہ کیا اور اطراف کے  شہروں  میں  بسے۔

25 جب یہ لوگ سامریہ میں  رہنا شروع کئے  انہوں  نے  خداوند کی تعظیم نہیں  کی اس لئے  خداوند نے  شیروں  کو ان پر حملہ کرنے  بھیجا۔ ان شیروں  نے  ان میں  سے  کچھ لوگوں  کو مار ڈالا۔

26 کچھ لوگوں  نے  اسور کے  بادشاہ سے  کہا ” وہ لوگ جنہیں  آپ  لائے  اور سامریہ کے  شہروں  میں  بسائے  وہ اس ملک کے  خداوند کے  قانون کو نہیں  جانتے۔ اس لئے  خداوند ان کے  پاس شیروں  کو ان پر حملہ کرنے  کے  لئے  بھیجا۔ شیروں  نے  ان لوگوں  کو مار ڈالا کیوں  کہ وہ لوگ اس ملک کے  خداوند کے  قانون کو نہیں  جانتے۔ ”

27 اس لئے  اسور کے  بادشاہ نے  یہ حکم دیا :” تم نے  کچھ کاہنوں  کو سامریہ سے  لیا تھا۔ ان میں  سے  ایک کاہن کو بھیجو۔ اس کاہن کو وہاں  جانے  اور رہنے  دو۔ تب وہ کاہن لوگوں  کو اس ملک کے  خداوند کے  قانون کی تعلیم دے  گا۔”

28 اس لئے  کاہنوں  میں  سے  ایک کاہن جسے  اسوریوں  نے  سامریہ سے  لے  گئے  تھے  بیت ایل میں  رہنے  آیا۔ اس کاہن نے  لوگوں  کو سکھا یا کہ کس طرح خداوند کی تعظیم کریں۔

29 لیکن وہ تمام لوگ اپنے  اپنے  خداوند بنا لئے  اور اعلیٰ جگہوں  پر عبادت گاہ میں  رکھ لئے  جنہیں  سامر یوں  نے  بنائے  تھے۔ وہ لوگ جہاں  رہے  ایسا کئے۔

30 بابل کے  لوگ جھوٹے  خداوند سکّات بنات بنائے۔ کوت کے  لوگوں  نے  جھوٹا خداوند نیر گل بنایا۔ حمّات کے  لوگوں  نے  جھوٹا خداوند اشیما بنایا۔

31 عوّا کے  لوگوں  نے  جھوٹے  خداوند نجاز اور ترتاق بنائے۔ اور سِفروائم کے  لوگوں  نے  اپنے  بچوں  کو آ گ میں  جلا کر جھوٹے  خداؤں  ادر ملک اور عنملک کی تعظیم کی۔

32 لیکن ان لوگوں  نے  خداوند کی بھی عبادت کی۔ انہوں  نے  اعلیٰ جگہوں  کے  لئے  کاہنوں  کو چنا۔ یہ کاہن لوگوں  کے  لئے  ان کی عبادت کی جگہوں  پر ہیکل میں  قربانیاں  دیتے۔

33 انہوں  نے  خداوند کی تعظیم کی۔ لیکن انہوں  نے  اپنے  خداؤں  کی بھی خدمت کی۔ ان لوگوں  نے  اپنے  خداؤں  کی ویسی ہی خدمت کی جیسا کہ انہوں  نے  اپنے  ملک میں  کی تھی جہاں  سے  وہ لائے  گئے  تھے۔

34 آج بھی وہ لوگ ویسے  ہی رہتے  ہیں  جیسا کہ گزرے  زمانے  میں  تھے۔ وہ خداوند کی تعظیم نہیں  کرتے۔ وہ اسرائیلیوں  کے  اصول اور احکام کی اطاعت نہیں  کرتے۔ وہ ان قانون اور احکامات کی بھی اطاعت اور پابندی نہیں  کرتے  جو خداوند نے  یعقوب کے  بچوں  ( اسرائیل ) کو دیا تھا۔

35 خداوند نے  بنی اسرائیلیوں  سے  ایک معاہدہ کیا۔ خداوند نے  انہیں  حکم دیا کہ تمہیں  دوسرے  خداؤں  کی تعظیم نہیں  کرنی چاہئے۔ تمہیں  ان کی پرستش نہیں  کرنی چاہئے  اور نہ ہی خدمت کرنی چاہئے  اور نہ ہی قربانی پیش کرنی چاہئے۔

36 لیکن تمہیں  خداوند کے  کہنے  پر چلنا چاہئے۔ خداوند وہی خدا ہے  جس نے  تمہیں  مصر سے  نکال لایا ہے۔ خداوند نے  تمہیں  اپنی عظیم طاقت سے  بچا یا ہے۔ تم کو خداوند کی عبادت اور خوف کرنا اور اس کو قربانی پیش کرنی چاہئے۔

37 تمہیں  اس کے  ان اصول قانون تعلیمات اور احکامات جو اس نے  تمہارے  لئے  لکھے  ہیں  کی پابندی اور اطاعت کرنی چاہئے۔ اور تمہیں  ہر وقت ان چیزوں  کی اطاعت کرنی چاہئے  تمہیں  دوسرے  خداؤں  کی تعظیم نہیں  کرنی چاہئے۔

38 تمہیں  معاہدہ کو جو میں  نے  تم سے  کیا ہے  نہیں  بھولنا چاہئے۔ تمہیں  دوسرے  خداؤں  کی عزت نہیں  کرنی چاہئے۔

39 نہیں ! تم صرف خداوند کی اپنے  خدا کی تعظیم کرو تب وہ تمہیں  تمہارے  سب دشمنوں  سے  بچائے  گا۔

40 لیکن اسرائیلیوں  نے  اسے  نہیں  سنا۔ وہ وہی کرتے  رہے  جو پہلے  کرتے  آئے  تھے۔

41 اس لئے  اب وہ دوسری قومیں  خداوند کی عزت کرتی ہیں۔ لیکن وہ بھی اپنے  بتوں  کی خدمت کرتے  ہیں۔ ان کے  بچّے  اور بچوں  کے  بچے  بھی وہی کام کرتے  ہیں  جو ان کے  آباء و  اجداد کرتے  رہے۔ وہ آج تک بھی وہی کام کرتے  ہیں۔

 

 

 

باب:  18

 

 

1 ایلہ کے  بیٹے  اسرائیل کا بادشاہ ہوسیعاہ کی بادشاہت کے  تیسرے  سال میں  آخز کا بیٹا حزقیاہ یہوداہ کا بادشاہ بنا۔

2 حزقیاہ نے  جب حکو مت شروع کی تو اس کی عمر پچیس سال تھی۔ حزقیاہ نے  یروشلم میں  انتیس سال حکو مت کی۔ اس کی ماں  کا نام ابی تھا جو زکریاہ کی بیٹی تھی۔

3 حزقیاہ نے  بالکل اپنے  آباء و  اجداد داؤد کی طرح وہ کام کیا جسے  خداوند نے  اچھا کہا تھا۔

4 حزقیاہ نے  اعلیٰ جگہوں  کو تباہ کیا۔ اس نے  یادگار پتھروں  کو توڑا اور آشیرہ کے  ستون کو کاٹ ڈالا۔ اس وقت بنی اسرائیل موسیٰ کے  بنائے  ہوئے  کانسے  کے  سانپ کے  لئے  بخور جلاتے  تھے۔ یہ کانسے  کا سانپ ” نحشتان ” کہلاتا۔ حزقیاہ نے  اس کانسے  کے  سانپ کو توڑ کر ٹکڑے  ٹکڑے  کر دیا۔ کیوں  کہ لوگ اس کی پرستش کرنی شروع کر چکے  تھے۔

5 حزقیاہ نے  خداوند اسرائیل کے  خدا پر بھروسہ کیا۔ یہوداہ کے  بادشاہوں  میں  حزقیاہ جیسا کوئی آدمی  نہیں  تھا نہ اس سے  پہلے  نہ اس کے  بعد۔

6 حزقیاہ خداوند کا وفادار تھا۔ اس نے  خداوند کی اطاعت کرنا نہیں  چھوڑا۔ اس نے  ان احکامات کی اطاعت کی جو خداوند نے  موسیٰ کو دیئے  تھے۔

7 خداوند حزقیاہ کے  ساتھ تھا۔ حزقیاہ نے  ہر وہ چیز جسے  کیا اس میں  کامیاب رہا۔ حزقیاہ نے  اسور کے  بادشاہ سے  اپنے  کو آزاد کر لیا۔ حزقیاہ نے  اسور کے  بادشاہ کی خدمت کرنی بند کر دی۔

8 حزقیاہ نے  غزّہ اور اس کے  چاروں  طرف کے  علاقہ کو پانے  تک فلسطینیوں  کو مسلسل شکست دی۔ اس کے  علاوہ اس نے  تمام فلسطینی شہروں  کو شکست دی۔ چھوٹے  شہر سے  لے  کر بڑے  سے  بڑے  شہر تک۔

9 اسور کا بادشاہ شلمنسر سامریہ کے  خلاف لڑنے  گیا۔ اس کی فوج نے  شہر کو گھیر لیا۔ یہ واقعہ حزقیاہ کی یہوداہ پر بادشاہت کے  چوتھے  سال کے  دوران کا ہے۔ ( یہ ایلہ کے  بیٹے  ہوسیعاہ کی بادشاہت کا ساتواں  سال بھی تھا۔)

10 تیسرے  سال کے  خاتمہ پر شلمنسر سامریہ پر قبضہ کر لیا۔ اس نے  سامریہ پر حزقیاہ کی یہوداہ پر بادشاہت کے  چھٹے  سال کے  دوران قبضہ کیا۔ ( ہوسیعاہ کی اسرائیل پر بادشاہت کا یہ نواں  سال بھی تھا )

11 اسُور کے  بادشاہ نے  اسرائیلیوں  کو قیدیوں  کی طرح اسورلے  گیا اس نے  انہیں  حلح اور خابور ( دریائے  جو زان ) اور مادیس کے  شہروں  میں  رکھا۔

12 یہ ہوا اس لئے  کہ اسرائیلیوں  نے  خداوند اپنے  خدا کی اطاعت نہیں  کی تھی۔ انہوں  نے  خداوند کے  معاہدہ کو توڑا۔ انہوں  نے  ان تمام چیزوں  کی اطاعت نہیں  کی جس کا حکم خداوند کے  خادم موسیٰ نے  دیئے  تھے  بنی اسرائیلیوں  نے  خداوند کے  معاہدہ کو نہیں  مانے  یا جو چیزیں  کرنے  کو سکھا یا تھا وہ نہیں  کئے۔

13 حزقیاہ کی بادشاہت کے  چودھویں  سال کے  دوران سنحیریب جو اسُور کا بادشاہ تھا وہ تمام قلعہ دار شہروں  کے  خلاف جنگ لڑنے  گیا۔ سنحیریبنے  ان تمام شہروں  کو شکست دی۔

14 تب یہوداہ کا بادشاہ حزقیاہ نے  اسیریاہ کے  بادشاہ کو لکیس کے  مقام پر ایک پیغام بھیجا۔ حزقیاہ نے  کہا ” میں  نے  برائی کی میرے  ملک پر اپنے  حملے  کو روکو تب تم جو محصول مانگو گے  میں  ادا کروں  گا۔” تب اسُور کے  بادشاہ نے  یہوداہ کے  بادشاہ حزقیاہ کو ۱۱ٹن چاندی اور ایک ٹن سے  زیادہ سونا ادا کرنے  کو کہا۔

15 حزقیاہ نے  تمام چاندی جو خداوند کی ہیکل میں  تھی اور بادشاہ کے  خزانہ میں  تھی دے  دی۔

16 اس وقت حزقیاہ نے  ان سونے  کو کاٹ کر نکالا جو خداوند کی ہیکل میں  دروازوں  اور چوکھٹوں  پر مڑھا گیا تھا۔ بادشاہ حزقیاہ نے  ان دروازوں  اور چوکھٹوں  پر سونا مڑھوایا تھا حزقیاہ نے  یہ سونا اسور کے  بادشاہ کو دیا۔

17 اسُور کے  بادشاہ نے  اپنے  تین سب سے  اہم سپہ سالاروں  کو ایک بڑی فوج کے  ساتھ بادشاہ حزقیاہ کے  پاس یروشلم بھیجا۔ وہ لوگ لکیس سے  نکل کر یروشلم گئے۔ وہ اوپر کے  تالاب کے  نالے  کے  پاس کھڑے  ہوئے  ( اوپری تالاب سڑک پر دھوبیوں  کے  میدان کے  راستے  پر ہے۔ )

18 ان آدمیوں  کو بادشاہ کے  لئے  بلایا گیا۔ خلقیاہ کا بیٹا الیا قیم ( الیاقیم شاہی محل کا نگراں  کار تھا ) شبناہ( معتمد ) آسف کا بیٹا یوآخ ( محافظ دفتر) ان لوگوں  سے  ملنے  باہر آئے۔

19 ان میں  سے  ایک سپہ سالار نے  ان کو کہا ” حزقیاہ سے  کہو اسُور کا عظیم بادشاہ جو کہتا ہے  وہ یہ ہے  : تم اتنے  بھروسے  مند کیوں  ہو؟

20 کیا تم یہ سمجھتے  ہو کہ جنگ لڑنے  میں  مدد کے  لئے  حوصلہ مند نصیحت اور قوت کے  لئے  صرف تمہارا الفاظ ہی کافی ہے ؟ لیکن تم پر کون بھروسہ کرتا ہے  کیوں  کہ تم نے  میری حکو مت کے  خلاف بغاوت کی۔

21 تم ٹوٹی ہوئی بید کی چھڑی کا سہارالے  رہے  ہو۔ یہ چھڑی مصر ہے۔ اگر کوئی آدمی  اس چھڑی کا سہارالے  گا تو یہ ٹوٹے  گی۔ اور اس کے  ہاتھ کو زخمی کر دے  گی۔ مصر کا بادشاہ بھی اسی طرح سب لوگوں  کے  لئے  ہے  جو اس پر بھروسہ کرتے  ہیں۔

22 ہو سکتا ہے  تم کہو گے   ” ہم خداوند اپنے  خدا پر بھروسہ کرتے  ہیں۔” لیکن میں  جانتا ہوں  کہ حزقیاہ نے  تمام اعلیٰ جگہیں  اور قربان گاہیں  لے  لی ہیں  جہاں  لوگ عبادت کرتے  تھے۔ اور حزقیاہ نے  یہوداہ اور یروشلم کے  لوگوں  سے  کہا ” تم کو صرف اس قربان گاہ کے  سامنے  یروشلم میں  عبادت کرنی چاہئے۔ ”

23 اب یہ معاہدہ میرے  آقا کے  ساتھ کرو جو اسُور کا بادشاہ ہے۔ میں  وعدہ کرتا ہوں  کہ ۲۰۰۰ گھوڑے  دوں  گا اگر تم ان پر سواری کرنے  کے  لئے  آدمیوں  کو پا سکو۔

24 تم میرے  آقا کے  افسروں  میں  سے  ایک چھوٹے  درجہ کے  افسر کو بھی شکست نہیں  دے  سکتے۔ تم مصر پر تکیہ اس لئے  کئے  ہو کہ تمہیں  گھوڑ سوار سپاہی اور رتھ ملے۔

25 میں  خداوند کے  بغیر یروشلم کو تباہ کرنے  نہیں  آیا ہوں۔ خداوند نے  خود مجھ سے  کہا ” اس ملک پر حملہ کرو اور اس کو تباہ کرو۔”

26 تب خلقیاہ کا بیٹا الیاقیم شبناہ اور یوآخن ے  سپہ سالار سے  کہا ” براہ کرم ہم سے  ارامی میں  بات کیجئے  ہم وہ زبان سمجھ سکتے  ہیں۔ ہم سے  یہوداہ کی زبان میں  بات مت کیجئے  کیوں  کہ دیوار پر کے  لوگ ہم لوگوں  کی باتیں  سن سکتے  ہیں۔”

27 لیکن ربشاقی نے  ان سے  کہا ” وہ میرے  آقا نے  مجھے  صرف تم سے  اور تمہارے  بادشاہ سے  باتیں  کرنے  کے  لئے  نہیں  بھیجا ہے۔ میں  چاہتا ہوں  کہ ان لوگوں  کو بھی معلوم ہو جو دیوار پر بیٹھے  ہیں۔ وہ اپنا فضلہ اور پیشاب تمہارے  ساتھ کھائیں  اور پئیں  گے۔ ”

28 تب سپہ سالار نے  عبرانی زبان میں  زور سے  پکارا ” عظیم بادشاہ اسُور کے  بادشاہ کے  پیغام کو سنو۔

29 بادشاہ کہتا ہے   ‘ حزقیاہ کو موقع نہ دو کہ وہ تمہیں  فریب دے۔ وہ تمہیں  میری طاقت سے  نہیں  بچا سکتا۔’

30 حزقیاہ کو موقع نہ دو کہ تم اس کی وجہ سے  خداوند پر بھروسہ کرو۔ حزقیاہ کہتا ہے   ” خداوند ہمیں  بچائے  گا۔ اسُور کا بادشاہ اس شہر کو شکست نہیں  دے  گا۔”

31 لیکن حزقیاہ کی بات نہ سنو ” اسور کا بادشاہ یہ کہتا ہے  : ‘ میرے  ساتھ امن بنائے  رکھو۔ اور مجھ سے  ملو تب تم میں  ہر ایک اپنا خود کا انگور اپنا خود کا انجیر کھا سکتا ہے۔ اور اپنے  کنویں  سے  پانی پی سکتا ہے۔

32 یہ تم کر سکتے  ہو جب تک میں  آؤں  اور تم ایسی زمین (ملک ) میں  نہ لے  جاؤں  جو تمہاری اپنی زمین کی طرح ہے۔ یہ اناج اور نئی مئے  کی زمین روٹی اور انگور کے  کھیتوں  کی زمین زیتون اور شہد کی زمین ہے۔ تم وہاں  رہ سکتے  ہو اور تم نہیں  مرو گے۔ لیکن حزقیاہ کی بات نہ سنو کیونکہ وہ تمہارے  ذہن کو بدلنے  کی کوشش کر رہا ہے   ‘ خداوند ہمیں  بچائے  گا۔’

33 کیا کسی دوسری قوموں  کے  خداؤں  نے  اس کی زمین کو اسُور کے  بادشاہ سے  بچا یا ہے ؟ ” نہیں !

34 حمات اور ارفاد کے  خداوند کہاں  ہیں ؟ ” کہاں  ہیں  سفر وائم اور بینع اور عِواہ کے  خداوند؟ ” کیا انہوں  نے  سامریہ کو مجھ سے  بچا یا؟ “نہیں۔

35 کیا کسی خداوند نے  دوسرے  ملکوں  میں  ان کی زمین کو مجھ سے  بچا یا؟ ” نہیں ! کیا خداوند یروشلم کو مجھ سے  بچا سکتا ہے ؟ نہیں ! ”

36 لیکن لوگ خاموش تھے۔ انہوں  نے  ایک لفظ سپہ سالار سے  نہیں  کہا کیوں  کہ بادشاہ حزقیاہ نے  انہیں  ایک حکم دیا تھا۔ اس نے  کہا ” اس کو کچھ نہ کہو۔”

37 الیا قیم خلقیاہ کا بیٹا ( الیاقیم بادشاہ کے  محل کا نگراں  کار تھا) شبناہ ( معتمد) اور آسف کا بیٹا یو آخ ( محافظ دفتر ) حزقیاہ کے  پاس آئے  ان کے  کپڑے  پھٹے  ہوئے  تھے  یہ دکھانے  کے  لئے  کہ وہ پریشان تھے۔ انہوں ے  حزقیاہ کو وہ باتیں  کہیں  جو اُسور کے  سپہ سالار نے  کہا تھا۔

 

 

باب:  19

 

 

1 جب بادشاہ حزقیاہ ان چیزوں  کو سنا اس نے  اس کے  کپڑے  پھاڑ لئے  اور موٹے  کپڑے  ڈال لئے  جو ظاہر کرتے  کہ وہ غمزدہ اور پریشان ہے۔ پھر وہ خداوند کی ہیکل میں  گیا۔

2 بادشاہ حزقیاہ نے  الیا قیم ( الیاقیم شاہی محل کا نگراں  کار ) شبناہ ( معتمد) اور بزرگ کاہنوں  کو آموص کے  بیٹے  یسعیاہ نبی کے  پاس بھیجا وہ ٹاٹ کے  کپڑے  پہنے  تھے  جو ظاہر کرتے  تھے  کہ وہ غمزدہ اور پریشان ہیں۔

3 انہوں  نے  یسعیاہ سے  کہا “حزقیاہ کہتا ہے   ‘ یہ مصیبت کا دن ہے۔ یہ دن بتاتا ہے  کہ ہم بُرے  ہیں۔ بچے  کی پیدا ہونے  کی طرح کا وقت ہے  لیکن ولادت کی طاقت نہیں  ہے۔

4 سپہ سالار کا آقا اسُور کا بادشاہ اس کو زندہ خدا کے  بارے  میں  بُری باتیں  کہنے  کے  لئے  بھیجا۔ہو سکتا ہے  خداوند تمہارا خدا اُن تمام چیزوں  کو سنے  گا یہ بھی ممکن ہو سکتا ہے  کہ خداوند دشمن کو سزادے۔ اس لئے  ان لوگوں  کے  واسطے  دعا کرو جو اب زمین پر بچیں  گے۔ ”

5 بادشاہ حزقیاہ کے  افسران یسعیاہ کے  پاس گئے۔

6 یسعیاہ نے  ان کو کہا ” تمہارے  آقا کو یہ پیغام دو : ‘خداوند کہتا ہے  : ان باتوں  سے  مت ڈرو جنہیں  اسور کے  بادشاہ کے  افسران نے  میرا مذاق اڑاتے  ہوئے  کہا ہے۔ ”

7 میں  اس کے  دل میں  ایسا جذبہ پیدا کروں  گا جس سے  وہ ایک افواہ سنے  گا پھر وہ واپس اپنے  ملک کو بھا گے  گا۔اور میں  اسے  اس کے  ملک میں  تلوار کے  گھاٹ اُتروا دوں  گا۔”

8 سپہ سالار نے  سنا کہ اسور کا بادشاہ لکیس سے  نکل پڑا ہے۔ اس لئے  سپہ سالار نے  اپنے  بادشاہ لبناہ کے  خلاف لڑتے  ہوئے  پایا۔

9 اسور کے  بادشاہ نے  ایک افواہ کوش ( اتھوپیا) کے  بادشاہ تِر ہاقہ کے  متعلق سنی۔افواہ ایسی تھی : ” تِرہاقہ تمہارے  خلاف لڑنے  آیا ہے۔ ” اس لئے  اسور کا بادشاہ نے  خبررسانوں  کو دوبارہ حزقیاہ کے  پاس یہ پیغام دینے  کے  لئے  بھیجا :

10 اسور کے  بادشاہ نے  کہا تم اپنے  آپ  کو بیوقوف مت بناؤ جس خداوند پر تم بھروسہ کرتے  ہواس سے  دھوکہ مت کھاؤ جو یہ کہتا ہے  کہ ” اسور کا بادشاہ یروشلم کو شکست نہیں  دے  گا۔”

11 کیا تم نے  سنا ہے  اسور کے  بادشاہ نے  دوسرے  تمام ملکوں  کے  لئے  جو کیا ہے ؟ ہم نے  انہیں  مکمل طور سے  تباہ کیا۔ کیا تم بچ جاؤ گے ؟ نہیں !

12 ان قوموں  کے  خداؤں  نے  ان کے  لوگوں  کو نہیں  بچائے۔ میرے  آبا ء و اجداد نے  ان تمام کو تباہ کیا۔ انہوں  نے  جوزان حاران رصف اور تلسار میں  عدن کے  لوگوں  کو تباہ کیا

13 حمات کا بادشاہ کہاں  ہے ؟ ارفاد کا بادشاہ کہاں  ہے ؟ شہر سفروائم بینع اور عِواہ کے  بادشاہ کہاں  ہیں ؟ وہ تمام ختم ہو گئے۔

14 حزقیاہ نے  خبر رسانوں  سے  خطوط وصول کئے  اور انہیں  پڑھا۔ تب حزقیاہ خداوند کی ہیکل کو گیا اور خداوند کے  سامنے  خطوط کو ڈالا۔

15 حزقیاہ خداوند کے  سامنے  دعا کی اور کہا ” خداوند اسرائیل کا خدا جو بادشاہ کی طرح کروبی فرشتوں  کے  درمیان بیٹھا ہے۔ تو ہی اکیلا سار ی زمین کے  تمام سلطنتوں  کا خدا ہے۔ تو نے  آسمانوں  اور زمین کو بنایا۔

16 خداوند براہ کرم میری بات سنو۔خداوند! اپنی آنکھیں  کھو لو اور یہ خط دیکھو الفاظ کو سنو جو سخیر یب زندہ خدا کی بے  عزتی کرنے  بھیجا ہے۔

17 خداوند یہ سچ ہے۔ اسور کے  بادشاہوں  نے  ان تمام قوموں  کو تباہ کیا۔

18 انہوں  نے  قوموں  کے  خداؤں  کو آ گ میں  پھینکا۔ لیکن وہ حقیقی خدا نہیں  تھے۔ وہ صرف پتھر اور لکڑی کے  مجسمے  تھے  جو آدمیوں  نے  بنائے  تھے۔ اسی لئے  اسور کے  بادشاہ ان کو تباہ کر سکے۔

19 اس لئے  اب اے  خداوند ہم کو اسور کے  بادشاہ سے  بچا۔ پھر زمین کی تمام بادشاہتیں  جان جائیں  گی کہ تو خداوند ہی صرف خدا ہے۔ ”

20 آموص کے  بیٹے  یسعیاہ نے  یہ پیغام حزقیاہ کو بھیجا اس نے  کہا ” خداوند اسرائیل کا خدا یہ کہتا ہے  : تم نے  اسور کے  بادشاہ سخیر یب کے  خلاف مجھ سے  دعا کی میں  نے  تم کو سنا۔”

21 ” یہ خداوند کا پیغام ہے  سخیریب کے  متعلق ہے  : صیون کی کنواری بیٹی نہیں  سوچتی کہ تم اہم ہو۔ وہ تمہارا مذاق اڑاتی ہے  یروشلم کی بیٹی تمہاری پیٹھ پیچھے  سر ہلا تی ہے۔

22 لیکن تم نے  کس کی بے  عزتی کی کس کا مذاق اُڑا یا؟ کس کے  خلاف تم نے  باتیں  کیں  اور تکبر سے  اپنی آنکھیں  اوپر اٹھا ئی؟ ” مقدس اسرائیل کے  خلاف!

23 تم نے  اپنے  خبررسانوں  کو خداوند کی بے  عزتی کرنے  کو بھیجا۔ تم نے  کہا “میں  کئی رتھوں  کے  ساتھ اونچی چوٹی پر آیا۔ میں  لبنان میں  اندر تک آیا۔میں  نے  اونچے  صنوبر کے  درختوں  کو اور لبنان کے  بہترین فر کے  درختوں  کو کاٹ ڈالا۔میں  لبنان کی اونچی جگہ اور بہترین جنگل تک گیا۔

24 میں  نے  کنویں  کھودا اور نئی جگہوں  سے  پانی پیا۔میں  نے  مصر کے  دریاؤں  کو سکھا دیا اور اس ملک کو روند دیا۔”

25 کیا تم نے  نہیں  سنا خدا نے  کیا کہا؟ ” میں  ( خدا ) بہت پہلے  ہی منصوبہ بنایا قدیم زمانے  ہی سے  میں  نے  یہ منصوبہ بنا یا۔ اور اب میں  ہی اسے  پورا ہونے  دے  رہا ہوں۔میں  نے  تمہیں  طاقتور شہروں  کو ٹکڑے  ٹکڑے  کر چٹانوں  کا ڈھیر بنانے  دیا۔

26 شہر میں  رہنے  والے  لوگوں  میں  قوت نہیں  تھی۔ یہ لوگ خوفزدہ اور پریشان ہو گئے  تھے۔ وہ کھیتوں  کے  ان پودوں  اور گھاس کی طرح ہو گئے  تھے  جو کا ٹ دیئے  جانے  کے  قریب تھے۔ وہ گھر کے  منڈیر پر کے  گھاس کی مانند تھے  جو بڑھنے  سے  پہلے  ہی سوکھ جاتے  ہیں۔

27 مجھے  معلوم ہے  کب تم نیچے  بیٹھتے  ہو کب تم جنگ پر جاتے  ہو اور کب تم گھر واپس آتے  ہو۔ اور میں  جانتا ہوں  جب تم مجھ پر خفا ہوتے  ہو۔

28 ہاں  تم مجھ پر بر ہم تھے۔ میں  نے  تمہارے  مغرور اور توہین آ میز الفاظ سنا۔اس لئے  میں  اپنا ہک تمہاری ناک میں  ڈالوں  گا اور میں  اپنی لگام تمہارے  منھ میں  دوں  گا۔تب میں  تمہیں  پیچھے  لو ٹاؤں  گا اور اس راستے  لوٹا دوں  گا جس سے  تم آئے  تھے۔ ”

29 ” یہ نشان یہ ثابت کرنے  کے  لئے  ہو گا کہ میں  تمہاری مدد کروں  گا۔اِس سال تم یہ اناج کھاؤ گے  جو خود سے  اُگتا ہے۔ دوسرے  سال تم وہ اناج کھاؤ گے  جواس بیج سے  نکلتا ہے۔ تیسرے  سال اس بیجوں  سے  اناج جمع کرو گے  جو تم نے  بوئے  تھے۔ تم انگور کے  پودے  لگاؤ گے  اور ان سے  انگور کھاؤ گے۔

30 ” اور یہوداہ کے  خاندان کے  جو لوگ بچ گئے  ہیں  وہ پھر پھولے  پھلیں  گے  بالکل اسی طرح جس طرح پودا اپنی جڑیں  مضبوط کر لینے  پر ہی پھل دیتا ہے۔

31 کیوں  کہ کچھ لوگ زندہ رہیں  گے  وہ یروشلم کے  باہر چلے  جائیں  گے۔ جو لوگ بھاگ کر صیون کی پہاڑی سے  باہر جائیں  گے۔ خداوند قادر مطلق کی جانفشانی اس کو پورا کرے  گی۔

32 اس لئے  خداوند اسور کے  بادشاہ کے  متعلق یہ کہتا ہے  : وہ اس شہر میں  نہیں  آئے  گا۔ وہ اس شہر میں  ایک تیر بھی نہیں  چلائے  گا۔ وہ اس شہر میں  اپنی ڈھال نہیں  لائے  گا۔وہ شہر کی دیواروں  پر حملے  کے  لئے  مٹی کے  ٹیلے  نہیں  بنائے  گا۔

33 وہ واپس جائے  گا اسی راستے  سے  جس سے  وہ آیا تھا۔ وہ اس شہر میں  نہیں  آئے  گا۔خداوند یہ کہتا ہے !

34 میں  اس شہر کی حفاظت کروں  گا اور اس کو بچاؤں  گا۔ میں  یہ اپنے  لئے  اور اپنے  خادم داؤد کے  لئے  کروں  گا۔”

35 اس رات خداوند کا فرشتہ باہر گیا اور اسوریوں  کے  خیمہ میں  داخل ہوا۔فرشتے  نے  ۱۸۵۰۰۰ لوگوں  کو مار ڈالا۔ جب بچے  ہوئے  سپاہی صبح اٹھے  تو انہوں  نے  تمام لاشوں  کو دیکھا۔

36 اس لئے  اسور کا بادشاہ سخیر یب نکلا اور واپس نینوہ چلا گیا جہاں  وہ رہتا تھا۔

37 ایک دن سخیر یب اپنے  خداوند نسروک کی ہیکل میں  عبادت کر رہا تھا اس کے  بیٹے  ادرملک اور شراضر نے  اس کو تلوار سے  مار ڈالا اور پھر دونوں  اراراط ( ایک قدیم ملک مشرقی ترکی کا علاقہ ) سر زمین کو فرار ہو گئے۔ اور سخیر یب کا بیٹا اسر حدوں  اس کے  بعد نیا بادشاہ ہو ا۔

 

 

باب:  20

 

 

1 اس وقت حزقیاہ بیمار ہوا اور تقریباً موت کے  قریب تھا۔آموص کا بیٹا یسعیا نبی حزقیاہ کے  پاس گیا یسعیاہ نے  حزقیاہ سے  کہا ” خدا کہتا ہے   ‘ اپنے  گھر کے  لوگوں  کو تیار رکھو کیوں  کہ تم مرو گے  تم زندہ نہیں  رہو گے۔ ”

2 حزقیاہ نے  اپنا چہرہ دیوار کی طرف پلٹ دیا۔اس نے  خداوند سے  دعا کی اور کہا

3 ” خداوند یاد کرو!میں  نے  دِل سے  تمہاری سچی خدمت کی ہے  میں  نے  وہ چیزیں  کیں  جو تم نے  اچھی کہیں۔” پھر حزقیاہ بہت رو یا۔

4 یسعیاہ کا درمیانی آنگن کے  چھوڑنے  سے  پہلے  خداوند کا پیغام اسے  ملا۔ خداوند نے  کہا :

5 ” واپس جاؤ اور میرے  لوگوں  کے  قائد حزقیاہ سے  بو لو اس کو کہو ‘خداوند تمہارے  آباء و  اجداد داؤد کا خدا کہتا ہے  : میں  نے  تمہاری دعا سنی اور میں  نے  تمہارے  آنسو دیکھے۔ اس لئے  میں  تمہیں  شفا دوں  گا۔تیسرے  دن تم خداوند کے  گھر تک جاؤ گے۔

6 اور میں  تمہاری زندگی میں  پندرہ سال اور جوڑوں  گا۔ میں  تم کو اور اس شہر کو اسور کے  بادشاہ کی طاقت سے  بچاؤں  گا میں  اس شہر کی حفاظت کروں  گا۔ میں  یہ کروں  گا اپنے  لئے  اور اپنے  وعدہ کے  لئے  جو میں  نے  اپنے  خادم داؤد سے  کیا تھا۔”

7 تب یسعیاہ نے  کہا ” انجیر کا مخلوط بناؤ اور اسے  زخم کی جگہ پر لگاؤ۔” اس لئے  انہوں  نے  انجیر کا مخلوط بنا یا اور حزقیاہ کے  زخم کی جگہ پر لگا یا تب حزقیاہ اچھا ہو گیا۔

8 حزقیاہ نے  یسعیاہ سے  کہا “اس کی نشانی کیا ہو گی کہ خداوند مجھے  تندرست کرے  گاتا کہ میں  خداوند کی ہیکل کو تیسرے  دن جاؤں۔”

9 یسعیاہ نے  پو چھا “تم کیا نشان چاہتے  ہو؟ کیا سایہ کو دس قدم آگے  یا دس قدم پیچھے  جانا چاہئے ؟ یہی نشان خداوند کی طرف ہے  تمہیں  دکھانے  کے  لئے  کہ جو خداوند نے  فیصلہ اور اعلان کر دیا ہے  وہ ضرور کرے  گا۔”

10 حزقیاہ جواب دیا ” سایہ کے  لئے  دس قدم آگے  جانا آسان ہے۔ نہیں  اس کے  بجائے  دس قدم پیچھے  جانے  دو۔”

11 تب یسعیاہ خداوند سے  دعا کی اور خداوند نے  سایہ کو دس قدم پیچھے  ہٹایا۔سایہ آخز کے  گھر کی سیڑ ھیوں  پر سے  دس قدم پیچھے  ہٹا۔

12 اس وقت بلہ دان کا بیٹا مرودک بلہ دان با بل کا بادشاہ تھا۔ اس نے  حزقیاہ کو خطوط اور تحفہ بھیجا۔ مرودک بلہ دان نے  ایسا اس لئے  کیا کیوں  کہ وہ سنا تھا کہ حزقیاہ بیمار ہے۔

13 حزقیاہ نے  بابل کے  لوگوں  کا استقبال کیا اور انہیں  محل کی قیمتی چیزیں  دکھائیں۔ اس نے  ان کو سونا چاندی مصالح قیمتی عطریات اور ہتھیار اور خزانے  کی ہر چیز دکھا ئی۔ حزقیاہ کی حکومت اور محل میں  کوئی چیز ایسی نہ تھی جسے  اس نے  نہ دکھا یا ہو۔

14 تب یسعیاہ نبی بادشاہ حزقیاہ کے  پاس آیا اور اس کو پوچھا ” وہ کون لوگ ہیں  وہ کہاں  سے  آئے  ہیں  انہوں ے  کیا کہا؟ ” حزقیاہ نے  کہا ” وہ بہت دور کے  ملک بابل سے  آئے  ہیں۔”

15 یسعیاہ نے  کہا ” انہوں  نے  تمہارے  محل میں  کیا دیکھا؟ ” حزقیاہ نے  جواب دیا “انہوں  نے  ہر چیز میرے  محل میں  دیکھی ہے  میرے  خزانے  میں  کوئی ایسی چیز نہیں  جسے  میں  نے  نہ دکھائی ہو۔”

16 تب یسعیاہ نے  حزقیاہ سے  کہا “خداوند کی طرف سے  یہ پیغام سنو۔

17 وقت آ رہا ہے  کہ تمہارے  محل کی تمام چیزیں  اور تمہارے  آباء و  اجداد کی چیزیں  جو آج تک بچی ہوئی تھیں  بابل کولے  جائی جائیں  گی کچھ بھی نہیں  رہے  گا۔ خداوند یہ کہتا ہے۔

18 بابل کے  لوگ تمہارے  بیٹوں  کولے  جائیں  گے  اور تمہارے  بیٹے  بابل کے  بادشاہ کے  محل میں  خواجہ سرا ہوں  گے۔ ”

19 تب حزقیاہ نے  یسعیاہ سے  کہا ” خداوند کی طرف سے  یہ بہت اچھا پیغام ہے۔ ” حزقیاہ نے  یہ بھی کہا ” یہ بہت اچھا ہو گا اگر میری زندگی میں  حقیقی امن ہو۔ ”

20 وہ تمام عظیم کارنامے   تالاب بنانے  اور شہر میں  پانی مہیا کرنے  کے  لئے  نہر بنانے  کا کام سمیت جو انہوں  نے  کئے  یہ سب ” تاریخ سلاطین یہوداہ ” میں  لکھا ہوا ہے۔

21 حزقیاہ مر گیا اور اپنے  آباء و  اجداد کے  ساتھ دفن ہوا اور اس کے  بعد حزقیاہ کا بیٹا منسی نیا بادشاہ ہوا ہے۔

 

 

باب:  21

 

 

1 منسّی کی عمر ۱۲ سال تھی جب اس نے  حکو مت کرنی شروع کی۔ اس نے  ۵۵ سال تک یروشلم پر حکو مت کی۔ اس کی ماں  کا نام حفصیباہ تھا۔

2 منسّی نے  وہ کام کئے  جسے  خداوند نے  برا کہا۔ منسّی نے  وہ بھیانک کام کئے  جو دوسری قوموں  نے  کیں  ( اور خداوند نے  ان قوموں  کو زبردستی ملک سے  نکالا جب اسرائیلی آئے۔ )

3 منسی نے  دوبارہ اعلیٰ جگہیں  بنوائی جو اس کے  باپ حزقیاہ نے  تباہ کئے  تھے۔ منسی نے  بعل کے  لئے  قربان گا ہیں  بھی بنوائی۔ اور ایک آشیرہ کا ستون بھی بنوایا بالکل اسرائیل کے  بادشاہ اخی اب کی طرح۔ منسّی نے  آسمانی ستاروں  کی پرستش اور خدمت کی۔

4 منسی نے  جھوٹے  خداؤں  کی تعظیم کے  لئے  قربان گاہیں  خداوند کی ہیکل میں  بنوائیں۔( یہ وہ جگہ ہے  جس کے  متعلق خداوند نے  باتیں  کیں  تھیں  جب اس نے  کہا ” میں  اپنا نام یروشلم میں  رکھوں  گا۔”)

5 منسی نے  خداوند کی ہیکل کے  دو آنگن میں  آسمانی ستاروں  کے  لئے  قربان گاہیں  بنائیں۔

6 منسی نے  اپنے  بیٹے  کو جلانے  کی قربانی کے  طور پر پیش کی اور اسے  قربان گاہ پر جلایا۔ اس نے  مستقبل کو جان نے  کے  لئے  مختلف طریقے  کو اپنا یا۔ اس نے  عاملوں  اور جادوگروں  سے  بات چیت کی۔ منسی نے  زیادہ سے  زیادہ ایسے  کام کئے  جسے  خداوند نے  بُرا کہا جس کی وجہ سے  خداوند غصّہ ہوا۔

7 منسی نے  آشیرہ کی نقش کی ہوئی مورتی بنائی اس نے  اس مجسمہ کو ہیکل میں  رکھا۔ خداوند نے  داؤد کو کہا تھا اور داؤد کے  بیٹے  سلیمان کو اس ہیکل کے  متعلق کہا تھا کہ میں  نے  تمام اسرائیل کے  شہروں  میں  سے  یروشلم کو چنا ہے  میں  اپنا نام یروشلم کے  اس ہیکل میں  ہمیشہ کے  لئے  رکھوں  گا۔

8 میں  بنی اسرائیلیوں  کو وہ زمین جسے  میں  نے  ان کے  آباء و  اجداد کو دی تھی چھوڑنے  نہیں  دوں  گا۔ میں  لوگوں  کو ان کے  ملک میں  رہنے  دوں  گا اگر وہ تمام چیزوں  کی اطاعت کریں  جو میں  نے  حکم دیا ہے  اور میرے  خادم موسیٰ نے  جن کی تعلیم انہیں  دی ہے۔

9 لیکن لوگوں  نے  خدا کی بات نہیں  سنی۔ منسی نے  بہت برے  کام کئے  بہ نسبت دوسری قوموں  کے  جو اسرائیل کے  آنے  سے  پہلے  کنعان میں  رہتے  تھے۔ اور خداوند نے  ان قوموں  کو تباہ کیا تھا جب بنی اسرائیل ان کی زمین لینے  آئے  تھے۔

10 خداوند اپنے  خادم نبیوں  کو یہ باتیں  کہنے  کے  لئے  استعمال کیا

11 ” یہوداہ کا بادشاہ منسی نے  نفرت انگیز کام کئے  اور اموریوں  سے  زیادہ برے  کام اس کے  سامنے  کئے۔ منسی نے  بتوں  کی وجہ سے  یہوداہ کے  لوگوں  سے  گناہ کروائے۔

12 اس لئے  اسرائیل کا خداوند کہتا ہے   ” دیکھو میں  اتنی زیادہ مصیبت یروشلم اور یہوداہ پر لاؤں  گا کہ کوئی بھی سُنے  گا تو دہل جائے  گا۔

13 میں  یروشلم کی اسی پیمانہ کی لکیر سے  انصاف کروں  گا جس سے  میں  نے  سماریہ کا کیا تھا اور انصاف اسی ساہول کی ڈوری سے  کروں  گا جس سے  میں  نے  اخی اب کی نسل کا کیا تھا۔ میں  یروشلم کو اسی طرح سے  پونچھ لوں  گا جس طرح سے  کوئی طشتری کو پونچھ کر اسے  الٹ دیتا ہے۔

14 وہاں  پر پھر بھی میرے  کچھ آدمی  بچے  رہیں  گے  لیکن میں  ان آدمیوں  کو چھوڑ دوں  گا میں  انہیں  ان کے  دشمنوں  کے  حوالے  کر دوں  گا ان کے  دشمن انہیں  قیدی بنائیں  گے۔ وہ ان قیمتی چیزوں  کی طرح ہوں  گے  جو سپاہی جنگ میں  حاصل کرتے  ہیں۔

15 کیوں ؟ کیوں  کہ میرے  لوگوں  نے  وہ چیزیں  کئے  ہیں  جسے  میں  نے  برا کہا تھا۔ انہوں  نے  مجھے  اس دن سے  غصہ میں  لایا جس دن سے  ان کے  آباء و  اجداد مصر سے  باہر آئے۔

16 اور منسی نے  کتنے  ہی بے  گناہ لوگوں  کو مار ڈالا اس نے  یروشلم کو ایک کونے  سے  دوسرے  کونے  تک خون سے  بھر دیا۔ اور وہ تمام گناہ ان لوگوں  سے  زیادہ ہیں  جو اس نے  یہوداہ سے  کروایا۔ منسی نے  یہوداہ سے  وہ چیزیں  کروائیں  جسے  خداوند نے  برا کہا تھا۔”

17 تمام مے  جو منسی نے  کیا بشمول وہ ساری گناہیں  جسے  اس نے  کیا “تاریخ سلاطین یہوداہ ” نا می کتاب میں  لکھے  ہوئے  ہیں۔

18 منسّی مر گیا اور اپنے  آباء و  اجداد کے  ساتھ دفنایا گیا۔ منسّی اس کے  گھر کے  باغ میں  دفن ہوا اس لئے  وہ ” باغ عُزّا ” کہلایا۔ منسّی کے  بعد اس کا بیٹا امون نیا بادشاہ ہوا۔

19 امون جب حکومت کرنی شروع کی تو اس کی عمر بائیس سال تھی۔ اس نے  یروشلم میں  دو سال حکومت کی۔ اس کی ماں  کا نام مثلّمت جو یُطیب کے  حروص کی بیٹی تھی۔

20 امون نے  اپنے  باپ منسّی کی طرح وہ کام کئے  جسے  خداوند نے  برا کہا تھا۔

21 امون بالکل اپنے  باپ کی طرح رہا۔ امون نے  ان بتوں  کی پرستش اور خدمت کی جن کی اس کا باپ کیا تھا۔

22 امون نے  اپنے  آباء و  اجداد کے  خداوند کو چھوڑ دیا اور اس طرح نہیں  رہا جس طرح خداوند چاہتا تھا۔

23 امون کے  خادم اس کے  خلاف منصوبے  بنائے  اور اس کو ان کے  گھر میں  مار ڈالے۔

24 عام لوگوں  نے  ان تمام افسروں  کو مار ڈالا جنہوں  نے  بادشاہ امون کے  خلاف منصوبے  بنائے  تھے۔ اس کے  بعد لوگوں  نے  امون کے  بیٹے  یُوسیاہ کو نیا بادشاہ بنایا۔

25 دوسری چیزیں  جو امون نے  کیں  وہ ” تاریخ سلاطین یہوداہ ” میں  لکھی ہوئی ہیں۔

26 امون کو باغ عُزّا میں  اسی قبر میں  دفنایا گیا۔ امون کا بیٹا یوسیاہ نیا بادشاہ ہوا۔

 

 

باب:  22

 

 

1 یُوسیاہ کی عمر آٹھ سال تھی جب اس نے  حکومت شروع کی۔اس نے  یروشلم میں  ۳۱ سال حکومت کی۔ اس کی ماں  کا نام جدیدہ تھا جو بُصقت کے  عدایاہ کی بیٹی تھی۔

2 یوسیاہ نہ وہ کام کئے  جسے  خداوند نے  پسند کیا۔یوسیاہ اپنے  آباء و  اجداد کی طرح خدا کے  کہنے  پر عمل کیا۔یوسیاہ خدا کی تعلیمات کی اطاعت کی اس نے  بالکل وہی کیا جو خدا نے  چا ہا۔

3 اٹھارویں  سال کے  درمیان جب یوسیاہ بادشاہ تھا وہ مشلام کے  بیٹے  اصلیاہ کے  بیٹے  سافن کو خداوند کی ہیکل میں  بھیجا۔

4 ” یوسیاہ نے  کہا اعلیٰ کاہن خلقیاہ کے  پاس جاؤ اس کو کہو کہ اسے  وہ رقم لینی چاہئے  جو لوگ خداوند کی ہیکل میں  لائے  ہیں۔ دربانوں  نے  اسے  لوگوں  سے  وصول کیا ہے۔

5 کاہنوں  کو یہ رقم عملے  کو ادا کرنے  اور ہیکل کی مرمت کے  لئے  استعمال کرنی چاہئے۔ کاہنوں  کو یہ رقم ان لوگوں  کو اُجرت کے  لئے  دینا چاہئے۔ جو خداوند کی ہیکل کے  کام کی نگرانی کرتے  ہیں۔

6 اس رقم کو بڑھئی پتھر کے  کام کرنے  وا لوں  اور سنگ تراشوں  کے  لئے  استعمال کرو اور اس رقم کا استعمال لکڑی خریدنے  اور پتھر کو تراشنے  میں  جو کہ ہیکل کی تعمیر میں  ضروری ہے  اس کے  لئے  کرو۔

7 جو رقم تم مزدوروں  کو دو تو اسے  گِنو مت ان مزدوروں  پر بھروسہ کر سکتے  ہو۔”

8 اعلیٰ کاہن خلقیاہ سافن سکریٹری سے  کہا ‘ دیکھو میں  نے  شریعت کی کتاب خداوند کی ہیکل میں  پائی ہے۔ ” خلقیاہ نے  کتاب سافن کو دی اور سافن نے  پڑھا۔

9 سکریٹری سافن بادشاہ یوسیاہ کے  پاس گیا اور جو واقعہ ہوا وہ کہا۔سافن نے  کہا “تمہارے  خادموں  نے  جو رقم ہیکل میں  تھی اس کو جمع کیا انہوں  نے  اس رقم کو ان آدمیوں  کو دیا جو خداوند کی ہیکل میں  کام کرتے  ہیں۔”

10 تب سافن سکریٹری نے  بادشاہ سے  کہا ” اور کاہن خلقیاہ نے  یہ کتاب بھی مجھے  دی۔ ” تب سافن نے  بادشاہ کو کتاب پڑھ کر سنا یا۔

11 جب بادشاہ نے  اصول کی کتاب کے  الفاظ سنے  تو اس نے  اپنے  کپڑے  پھاڑے  یہ بتانے  کے  لئے  کہ وہ غمزدہ اور پریشان ہے۔

12 پھر بادشاہ نے  کاہن خلقیاہ سافن کے  بیٹے  اخی قام میکاہ یاہ کے  بیٹے  عکبور سافن سکریٹری اور بادشاہ کے  خادم عسایاہ کو حکم دیا۔

13 بادشاہ نے  یوسیاہ سے  کہا ” جاؤ اور خداوند سے  پو چھو ہم کو کیا کرنا ہو گا؟ خداوند سے  میرے  لئے  لوگوں  کے  لئے  اور تمام یہوداہ کے  لئے  پو چھو۔ اس کتاب کے  الفاظ کے  متعلق پو چھو جو ملی ہے۔ خداوند ہم پر غصّہ میں  ہے  کیوں ؟ کیوں  کہ ہمارے  آباء و اجدادنے  اس کتاب کی تعلیم کو نہیں  مانا انہوں  نے  ان تمام احکامات کی پابندی نہیں  کی جو ہمارے  لئے  لکھی گئی تھیں۔”

14 اس لئے  کاہن خلقیاہ اخی قام عکبور سافن اور عسایاہ خُلدہ کے  پاس گئے  جو نبیہ تھی۔ خُلدہ خُرخس کے  پوتے   تقواہ کے  بیٹے  شُلوم کی بیوی تھی جو بادشاہ کے  کپڑوں  کی نگہداشت کرتا تھا۔ خُلدہ یروشلم میں  دوسرے  ضلع میں  رہتی تھی۔ انہوں  نے  جا کر خُلدہ سے  بات کی۔

15 تب خُلدہ نے  ان کو  کہا “خداوند اسرائیل کا خدا کہتا ہے  : اس آدمی  کو کہو جس نے  تمہیں  میرے  پاس بھیجا ہے۔

16 ‘ خداوند یہ کہتا : میں  اس جگہ پر آفت لا رہا ہوں  اور ان لوگوں  پر جو یہاں  رہ رہے  ہیں۔ یہ آفتیں  وہ ہیں  جو اس کتاب میں  بیان کی گئی ہیں  جسے  بادشاہ نے  پڑھا ہے۔

17 یہوداہ کے  لوگوں  نے  مجھے  چھوڑا اور دوسرے  خداؤں  کے  لئے  بخور جلائیں  انہوں  نے  مجھے  غصّہ دلا یا۔ انہوں  نے  کئی بُت بنائے۔ اسی لئے  میں  اپنا غصّہ اس جگہ کے  خلاف دکھاؤں  گا۔میرا غصّہ ایک آ گ کی مانند ہو گا جسے  رو کا نہیں  جاس کے   گا۔

18 “یہوداہ کے  بادشاہ یوسیاہ نے  تمہیں  بھیجا ہے  خداوند سے  نصیحت پو چھنے  کے  لئے۔ یوسیاہ سے  یہ باتیں  کہو : ‘ خداوند اسرائیل کے  خدا نے  جو الفاظ کہے  تم نے  سنے۔ تم نے  ان چیزوں  کو سنا جو میں  نے  اس جگہ کے  متعلق اور جو لوگ یہاں  رہتے  ہیں  ان کے  متعلق کہا۔ تمہارا دل نرم تھا اور تم پشیمان ہوئے  تھے  ان باتوں  کو سن کر میں  نے  کہا کہ بھیانک چیزیں  اس جگہ پر ( یروشلم ) وقوع پذیر ہوں  گی۔ تم غم کے  اظہار کے  لئے  اپنے  کپڑے  پھا ڑو گے  اور رونا شروع کرو گے۔ اسی لئے  میں  نے  تمہیں  سنا۔ خداوند یہ کہتا ہے  :

19

20 ‘ میں  تمہیں  تمہارے  آباء و  اجداد کے  ساتھ ہونے  کے  لئے  لے  آؤں  گا تم مرو گے  اپنی قبر میں  سلامتی کے  ساتھ جاؤ گے۔ اس لئے  تمہاری آنکھیں  تمام آفتوں  کو نہیں  دیکھیں  گی جو میں  اس جگہ ( یروشلم ) پر لا رہا ہوں۔” تب کاہن خلقیاہ اخی قام عکبور سافن اور عسایاہ نے  یہ پیغام بادشاہ سے  کہا۔

 

 

باب:  23

 

 

1 بادشاہ یوسیاہ نے  یروشلم اور یہوداہ کے  تمام قائدین سے  کہا کہ اس سے  آ کر ملیں۔

2 پھر بادشاہ خداوند کی ہیکل کو گیا۔ یہوداہ کے  تمام لوگ اور جو لوگ یروشلم میں  رہتے  تھے  اس کے  ساتھ گئے۔ کاہن نبی اور تمام لوگ ادنیٰ سے  لے  کر اعلیٰ تک اس کے  ساتھ گئے۔ اور جو لوگ یروشلم میں  رہتے  تھے  اس کے  ساتھ گئے۔ تب اس نے  معاہدہ کی کتاب کو پڑھا۔ یہ وہی شریعت کی کتاب تھی جو خداوند کے  گھر میں  ملی تھی۔ یُوسیاہ نے  کتاب پڑھی اس لئے  تمام لوگ اس کو سن سکے۔

3 بادشاہ ستون کے  پاس کھڑا رہا اور ایک معاہدہ خداوند سے  کیا۔ اس نے  عہد کیا کہ وہ خداوند کی باتوں  پر عمل کرے  گا اور اس کے  احکام کی اطاعت کرے  گا۔ اور وہ معاہدہ اور اصول کی پابندی اپنے  پورے  دل و جان سے  کرے  گا۔ اس نے  عہد کیا کہ وہ معاہدہ کی پابندی کرے  گا۔ جو اس کتاب میں  لکھا ہے۔ تمام لوگ کھڑے  رہے  یہ بتانے  کے  لئے  بادشاہ کے  معاہدہ کا ساتھ دیا ہے۔

4 تب بادشاہ نے  اعلیٰ کاہن خلقیاہ اور دوسرے  کاہنوں  اور دروازوں  کے  محافظوں  کو حکم دیا کہ خداوند کی ہیکل سے  تمام برتن اور چیزیں  جو بعل آشیرہ اور آسمانی ستاروں  کے  اعزاز میں  رکھے  تھے  باہر لے  آئیں۔ تب یُوسیاہ نے  ان چیزوں  کو یروشلم کے  باہر قدرون وادی کے  کھیتوں  میں  جلا دیا پھر اس نے  راکھ کو بیت ایل سے  لے  آیا۔

5 یہوداہ کے  بادشاہوں  نے  عام آدمیوں  کو بطور کاہن خدمت کرنے  کے  لئے  چنا تھا۔ یہ آدمی  ہارون کے  خاندان سے  نہیں  تھے۔ وہ جھوٹے  کاہن یہوداہ کے  ہر شہر میں  اور یروشلم کے  اطراف شہروں  میں  اعلیٰ جگہوں  پر بخور جلاتے۔ وہ بعل کی تعظیم کے  لئے  اور سورج چاند کہکشاں  ( ستاروں  کی جھرمٹ ) اور جنت کے  سبھی ستاروں  کی تعظیم کے  لئے  لوبان جلاتے  تھے۔ لیکن یُوسیاہ نے  ان جھوٹے  کاہنوں  کے  کاموں  کو روک دیا۔

6 یُوسیاہ نے  آشیرہ کے  ستون کو خداوند کی ہیکل سے  نکال دیا۔ اس نے  آشیرہ کے  ستون کو شہر کے  باہر قدرون کی وادی میں  لے  گیا اور اس کو جلا دیا اور جلے  ہوئے  ٹکڑوں  کی راکھ کو چور چور کر کے  عام لوگوں  کی قبروں  پر پھیلا دیا۔

7 تب بادشاہ یوسیاہ نے  مرد فاحشوں  کے  مکانات کو توڑ ڈالا جو خداوند کی ہیکل میں  تھے۔ عورتیں  بھی ان مکانات کو استعمال کرتی تھی اور چھوٹے  خیموں  کی چھت بنا کر جھوٹی دیوی آشیرہ کی تعظیم کرتی تھیں۔

8 اس وقت کاہن قربانیوں  کی نذر کو یروشلم میں  نہیں  لاتے  اور ہیکل میں  قربان گاہ پر پیش نہیں  کرتے  تھے۔ کاہن جو اعلیٰ جگہوں  پر خدمت کرتے  تھے  یہوداہ کے  سبھی شہروں  میں  رہتے  تھے  بخور جلاتے  اور وہ قربانی ان شہروں  کے  اعلیٰ جگہوں  پر پیش کرتے  تھے۔ وہ اعلیٰ جگہیں  جِبعہ سے  بیر سبع تک ہر جگہ تھے۔ وہ کاہن ان کی بغیر خمیری روٹیاں  شہر کے  معمولی لوگوں  کے  ساتھ کھاتے  تھے  بجائے  کاہنوں  کے  لئے  بنی خاص جگہ پر کھانے  کے  جو کہ یروشلم میں  ہیکل میں  تھی۔ بادشاہ یُوسیاہ نے  ان جگہوں  کی بے  حرمتی کی اور کاہنوں  کو یروشلم لایا۔ وہ ان اعلیٰ جگہوں  کو بھی تباہ کیا جو یشوع دروازہ کے  بائیں  جانب تھے۔ ( یشوع شہر کا صوبہ دار تھا۔)

9  10 تُوفت جو بنی ہنوم کی وادی میں  تھی جہاں  لوگ اپنے  بچوں  کو مار ڈالتے  اور انہیں  قربان گاہ پر جلا کر جھوٹے  خداوند مولک کی تعظیم کرتے۔ یُوسیاہ نے  اس جگہ کی بے  حرمتی کیتا کہ لوگ پھر اس کو دوبارہ استعمال نہ کر سکیں۔

11 ” ماضی میں  یہوداہ کے  بادشاہوں  نے  خداوند کی ہیکل کے  داخلی دروازہ کے  قریب کچھ گھوڑے  اور رتھ رکھ کر چھوڑے  تھے۔ یہ ناتن ملک نامی اہم عہدیدار کے  کمرہ کے  قریب تھا۔ گھوڑے  اور رتھ سورج دیوتا کی تعظیم کے  لئے  تھے۔ یوسیاہ نے  گھوڑوں  کو نکالا اور رتھ کو جلا دیا۔

12 ماضی میں  یہوداہ کے  بادشاہوں  نے  اخی اب کی عمارت کی چھت پر قربانگاہیں  بنائی تھیں۔ بادشاہ منسی بھی خداوند کی ہیکل کے  دو آنگن میں  قربانگاہیں  بنائی تھیں۔ یوسیاہ نے  اُن تمام قربان گا ہوں  کو تباہ کر دیا اور ان کے  ٹوٹے  ہوئے  ٹکڑوں  کوقدرون کی وادی میں  پھینک دیا۔

13 ماضی میں  بادشاہ سلیمان نے  کچھ اعلیٰ جگہوں  کو یروشلم کے  قریب بربادی کی پہاڑی پر بنوایا تھا۔اعلیٰ جگہیں  اس پہاڑی کے  جنوبی سمت میں  تھیں۔ بادشاہ سلیمان نے  ان میں  سے  ایک جگہ عشتارات کی عبادت اور تعظیم کے  لئے  بنوائی تھی جو صیدون کے  لوگوں  کی عبادت کی بھیانک چیز تھی۔ بادشاہ سلیمان نے  ایک اور اعلیٰ جگہ بھیانک چیز کموس کی تعظیم کے  لئے  بنوایا تھا جس کی موآبی لوگ عبادت کرتے  تھے۔ بادشاہ سلیمان نے  ایک اور اعلیٰ جگہ بھیانک چیز ملکوم کی تعظیم کے  لئے  بنوائی جس کی عمونی لوگ عبادت کرتے  تھے۔ لیکن بادشاہ یوسیاہ نے  وہ تمام عبادت کی جگہوں  کی بے  حرمتی کی۔

14 بادشاہ یوسیاہ نے  تمام یادگار پتھروں  کو اور آشیرہ ستون کو بھی توڑ دیا۔ پھر اس جگہ پر مردہ آدمیوں  کی ہڈیوں  کو پھیلا دیا۔

15 یُوسیاہ نے  قربان گاہوں  اور اعلیٰ جگہوں  کو بیت ایل میں  بھی توڑ ڈالا۔ نباط کا بیٹا یُربعام نے  اس قربان گاہ کو بنوایا تھا۔ یُربعام نے  اسرائیل سے  گناہ کروائے  یوسیاہ نے  قربان گاہ اور اعلیٰ جگہ دونوں  کو تڑوا دیا۔ وہ قربان گاہ کے  پتھر کو توڑ کر گرد غبار بنا دیا اور اس نے  آشیرہ کے  ستون کو جلا دیا۔

16 یُوسیاہ چاروں  طرف دیکھا اس نے  پہاڑی پر قبروں  کو دیکھا۔ اس نے  آدمیوں  کو بھیجا اور انہوں  نے  ان قبروں  سے  ہڈیاں  لیں۔ پھر انہوں  نے  ان ہڈیوں  کو قربان گاہ پر جلایا۔ اس طرح یوسیاہ نے  قربان گاہ کو تباہ کیا۔ یہ واقعہ خداوند کے  پیغام کے  مطابق ہوا جسے  خدا کے  آدمی نے  اعلان کیا تھا۔ خدا کے  آدمی نے  ان چیزوں  کا اعلان کیا تھا۔ جس وقت یر بعام قربان گاہ کے  پاس کھڑا تھا۔ تب یُوسیاہ چاروں  طرف دیکھا اور خدا کے  آدمی  کی قبر کو دیکھا۔

17 یوسیاہ نے  کہا ” وہ یادگار چیز کیا ہے  جو میں  دیکھتا ہوں ؟ ” شہر کے  لوگوں  نے  اس کو کہا ” یہ خدا کے  آدمی  کی قبر ہے  جو یہوداہ سے  آیا تھا۔ اس خدا کے  آدمی نے  ان کاموں  کے  متعلق کہا تھا جو آپ  نے  بیت ایل میں  قربان گاہ کے  ساتھ کیا۔ اس نے  وہ باتیں  ایک عرصہ پہلے  کہہ چکا تھا۔”

18 یُوسیاہ نے  کہا ” خدا کے  آدمی  کو چھوڑو اس کی ہڈیوں  کو نہ ہٹاؤ۔” اس لئے  انہوں  نے  اس کی ہڈیوں  کو چھوڑا اور اس خدا کے  آدمیوں  کی ہڈیوں  کو بھی جو سامریہ کا تھا۔

19 یُوسیاہ نے  تمام اعلیٰ جگہوں  کی عبادت گاہوں  کو جو سامریہ کے  شہروں  میں  تھیں  تباہ کیا۔ اسرائیل کے  بادشاہوں  نے  ان عبادت گاہوں  کو بنایا تھا۔ اور جس سے  خداوند بہت غصہ ہوا تھا۔ یُوسیاہ نے  ان ہیکلوں  کو تباہ کیا جس طرح اس نے  بیت ایل میں  عبادت کی جگہوں  کو کیا تھا۔

20 یُوسیاہ نے  ان تمام کاہنوں  کو مار ڈالا جو ان اعلیٰ جگہوں  اور قربان گاہوں  پر تھے۔ اس نے  آدمیوں  کی ہڈیوں  کو قربان گاہ پر جلایا۔ اس طریقہ سے  اس نے  تمام عبادت کی جگہوں  کو تباہ کیا پھر وہ یروشلم کو واپس گیا۔

21 تب بادشاہ یوسیاہ نے  تمام لوگوں  کو حکم دیا ” خداوند اپنے  خدا کے  لئے  فسح کی تقریب مناؤ۔ اسے  ایسے  کرو جیسا کہ معاہدہ کی کتاب میں  لکھا ہوا ہے۔ ”

22 لوگوں  نے  اس وقت سے  فسح کی تقریب اس طرح نہیں  منائی تھی جس وقت قضاۃ نے  اسرائیل پر حکومت کی تھی۔ اسرائیل یا یہوداہ کا کوئی بھی بادشاہ کبھی بھی اتنی بڑی فسح کی تقریب نہیں  منائی۔

23 انہوں  نے  یہ فسح کی تقریب خداوند کے  لئے  یوسیاہ کی بادشاہت کے  اٹھارہویں  سال یروشلم میں  منائی۔

24 یوسیاہ نے  جنّات کے  عاملوں  جادوگروں  مورتیوں  بتوں  اور تمام بھیانک چیزوں  کو جسے  یہوداہ اور یروشلم میں  پرستش کرتے  تھے  تباہ کر دی۔ اس نے  اس شریعت کی اطاعت کرنے  کے  لئے  جو اس کتاب میں  لکھے  تھے  جسے  کاہن خلقیاہ نے  خداوند کی ہیکل میں  پایا تھا۔

25 اس سے  پہلے  یوسیاہ کے  جیسا بادشاہ کبھی نہیں  ہوا تھا۔ یوسیاہ خداوند کی طرف سے  اپنے  دل و روح کی گہرائی سے  اور قوّت سے  رجوع ہوا۔ کوئی بھی بادشاہ موسیٰ کے  قانون پر یُوسیاہ کے  جیسا عمل نہیں  کیا اور اس وقت سے  یُوسیاہ کے  جیسا دوسرا بادشاہ کبھی نہیں  ہوا۔

26 لیکن خداوند کا غصہ یہوداہ کے  لوگوں  پر ابھی بھی کم نہیں  ہوا تھا۔ خداوند ابھی بھی ان پر اس لئے  غصہ میں  تھا کیوں  کہ منسّی نے  تمام کام کئے  تھے۔

27 خداوند نے  کہا ” میں  نے  بنی اسرائیلیوں  کو ان کی زمین چھوڑنے  کے  لئے  مجبور کیا۔ میں  وہی یہوداہ کے  ساتھ کروں  گا۔ میں  یہوداہ کو اپنی نظروں  سے  اوجھل کروں  گا میں  یروشلم کو قبول نہیں  کروں  گا۔ ہاں  میں  نے  اس شہر کو چُنا۔ میں  یروشلم کے  متعلق بات کر رہا تھا جب میں  نے  کہا کہ میرا نام وہاں  ہو گا۔ لیکن میں  ہیکل کو تباہ کروں  گا جو اس جگہ پر ہے۔ ”

28 تمام دوسرے  کام جو یُوسیاہ نے  کئے  وہ ” تارریخ سلاطین یہوداہ ” نامی کتاب میں  لکھے  ہوئے  ہیں۔

29 یوسیاہ کے  زمانے  میں  مصر کا بادشاہ فرعون نکوہ اسور کے  بادشاہ کے  خلاف لڑنے  کے  لئے  فرات ندی کے  پاس گیا۔ یوسیاہ مجّدد پر نکوہ سے  ملنے  گیا۔ فرعون نے  یوسیاہ کو دیکھا اور اس کو مار ڈالا۔

30 یوسیاہ کے  عہدے  داروں  نے  اس کی لاش کو رتھ پر رکھا اور مجّدد سے  یروشلملے  گئے۔ انہوں  نے  یوسیاہ کو اس کی ہی قبر میں  دفن کیا۔ تب عام لوگوں  نے  یُوسیاہ کے  بیٹے  یہوآخز کو لیا اور اس کا مسح کیا۔ انہوں  نے  یہوآخز کو نیا بادشاہ بنایا۔

31 جب یہو آخز جب بادشاہ بنا تو اس کی عمر ۲۳ سال تھی اس نے  یروشلم میں  تین مہینے  تک حکو مت کی۔ اس کی ماں  کا نام حموطل تھا جو لبناہ کے  یرمیاہ کی بیٹی تھی۔

32 یہو آخز نے  وہ کام کئے  جسے  خداوند نے  برا کہا تھا۔ یہو آخز نے  وہی کام کئے  جسے  اس کے  آبا ؤ اجداد کر چکے  تھے۔

33 فرعون نکوہ نے  یہو آخز کو حمّات میں  ربلہ کے  مقام پر جیل میں  رکھا۔ اس لئے  یہو آخز یروشلم میں  حکومت نہیں  کر سکا۔ فرعون نکوہ نے  یہوداہ پر جبر کیا کہ ۷۵۰۰ پاؤنڈ چاندی اور ۷۵ پاؤنڈ سونا ادا کرے۔

34 فرعون نکوہ نے  یُوسیاہ کے  بیٹے  الیاقیم کو نیا بادشاہ بنایا۔ الیاقیم نے  اپنے  باپ یُوسیاہ کی جگہ لی۔ فرعون نکوہ نے  الیاقیم کا نام بدل کر یہو یقیم رکھا اور فرعون نکوہ نے  یہو آخز کو مصرلے  گیا۔ یہو آخز مصر میں  مر گیا۔

35 ” یہو یقیم نے  چاندی اور سونا فرعون کو دیا لیکن یہو یقیم نے  عام لوگوں  پر محصول عائد کیا اور اس رقم کو فرعون کو دیا۔ اس لئے  ہر آدمی  اپنے  حصہ کا سونا اور چاندی دیتا۔ اور بادشاہ یہو یقیم رقم فرعون نکوہ کو دیتا۔

36 جس وقت یہو یقیم بادشاہ ہوا اس کی عمر ۲۵ سال تھی۔ اس نے  یروشلم میں  ۱۱ سال حکو مت کی اس کی ماں  کا نام زبودہ تھا جو روماہ کے  رہنے  والے  فدایاہ کی بیٹی تھی۔

37 یہو یقیم نے  وہ کام کئے  جنہیں  خداوند نے  برا کہا تھا۔ یہو یقیم نے  وہی کام کئے  جو اس کے  آباء و  اجداد نے  کئے  تھے۔

 

 

 

باب:  24

 

 

 

 

1 یہو یقیم کے  زمانے  میں  نبوکد نضر بابل کا بادشاہ ملک یہوداہ آیا۔ یہو یقیم نے  نبوکد نضر کی تین سال خدمت کی۔ پھر یہو یقیم نبو کد نضر کے  خلاف ہو گیا اور اس کی حکو مت سے  آزاد ہو گیا۔

2 ” خداوند نے  بابلیوں  ارامیوں  موآبیوں  اور عمّونیوں  کے  گروہوں  کو یہو یقیم کے  خلاف لڑنے  بھیجا۔ خداوند نے  ان گروہوں  کو یہوداہ کو تباہ کرنے  کے  لئے  بھیجا۔ یہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ خداوند نے  کہا۔ خداوند نے  اس کے  خادموں  کو اور نبیوں  کو ان چیزوں  کے  کہنے  کے  لئے  استعمال کیا۔

3 خداوند نے  ان چیزوں  کے  ہونے  کا یہوداہ میں  حکم دیا۔ اس طرح وہ انہیں  اس کی نظروں  سے  دور کرنا چاہتا تھا۔ اس نے  ایسا کیا کیوں  کہ منسی نے  سب گناہ کئے۔

4 ” خداوند نے  ایسا اس لئے  کیا کیوں  کہ منسی نے  کتنے  ہی بے  گناہ لوگوں  کو مار ڈالا تھا۔ منسّی نے  ان کے  خون سے  یروشلم کو بھر دیا تھا اور خداوند ان لوگوں  کو معاف نہیں  کرتا تھا۔

5 دوسرے  کام جو یہویقیم نے  کئے  وہ ” تاریخ سلاطین یہوداہ ” نا می کتاب میں  لکھے  ہوئے۔

6 یہو یقیم مر گیا اور اپنے  آباء و  اجداد کے  ساتھ دفنا یا گیا۔ یہو یقیم کے  بعد اس کا بیٹا یہو یاکین نیا بادشاہ ہوا۔

7 با بل کے  بادشاہ نے  تمام زمین مصر کے  نالے  کے  درمیان اور دریائے  فرات کی زمین کو فتح کیا۔ یہ زمین پہلے  مصر کے  اقتدار میں  تھی۔ اس لئے  مصر کے  بادشاہ نے  مصر کو مزید نہیں  چھوڑا۔

8 یہو یاکین کی عمر اٹھارہ سال تھی جب اس نے  حکو مت شروع کی۔ اس نے  یروشلم میں  تین مہینے  حکو مت کی۔ اس کی ماں  کا نام نُحشتا تھا جو یروشلم کے  اِلناتن کی بیٹی تھی۔

9 یہو یاکین نے   وہ کام کئے  جنہیں  خداوند نے  برا کہا تھا۔ اس نے  سب کچھ وہی کیا جو اس کے  باپ نے  کیا تھا۔

10 اس وقت بابل کے  بادشاہ نبو کد نضر کے  عہدیدار یروشلم آئے  اور اس کو گھیر لیا۔

11 تب نبو کد نضر بابل کا بادشاہ شہر کو آیا۔

12 یہوداہ کا بادشاہ یہو یاکین با بل کے  بادشاہ سے  ملنے  باہر گیا۔ یہو یاکین کی ماں  اس کے  عہدیدار قائدین اور دیگر عہدیدار بھی اس کے  ساتھ گئے۔ تب بابل کے  بادشاہ نے  یہویاکین کو پکڑ لیا۔ یہ نبو کد نضر کی حکو مت کا آٹھواں  سال ہے۔

13 نبو کد نضر یروشلم سے  تمام خزانے  خداوند کی ہیکل سے  لے  لیا۔ اور بادشاہ کے  محل سے  بھی خزانے  لے  لیانبو کد نضرنے  تمام سونے  کے  برتن کو کاٹ ڈالا جو اسرائیل کا بادشاہ سلیمان نے  خداوند کی ہیکل میں  رکھوایا تھا۔ یہ ایسا ہوا جیسا کہ خداوند نے  کہا۔

14 نبو کد نضر یروشلم کے  تمام لوگوں  کو پکڑا۔ اس نے  تمام قائدین اور دوسرے  دولتمند لوگوں  کو پکڑا اور اس نے  ۰۰۰،۱۰ لوگوں  کو قیدی بنا لیا۔ نبو کد نضر نے  فنکاروں  اور کاریگروں  کولے  گیا۔ کوئی آدمی نہیں  بچا سوائے  عام لوگوں  اور غریب ترین لوگوں  کے۔

15 نبو کد نضر یہو یا کین کو قیدی بنا کر بابل لے  گیا۔ نبو کد نضر نے  بادشاہ کی ماں  اس کی بیویوں  عہدیداروں  اور سر زمین کے  اہم شخصیتوں  کو بھی لے  گیا۔ نبو کد نضر انہیں  یروشلم سے  با بل تک قیدیوں  کی شکل میں  لے  گیا۔

16 نبو کد نضر تمام سپاہیوں  جو کہ سات ہزار تھے  اور ہنر مند مزدوروں  اور کاریگروں  جو کہ ایک ہزار تھے  کو بھی لے  گیا۔ یہ تمام آدمی  جنگ کے  لئے  تیار تربیت یافتہ سپاہی تھے۔ بابل کا بادشاہ انہیں  قیدیوں  کی شکل میں  با بل لے  گیا۔

17 بابل کے  بادشاہ نے  متّنیاہ کو نیا بادشاہ بنا یا۔ متّنیاہ یہو یاکین کا چچا تھا۔ اس نے  اس کا نام بدل کر صدقیاہ رکھا۔

18 صدقیاہ ۲۱ سال کا تھا جب وہ حکو مت شروع کی۔ اس نے  یروشلم میں  ۱۱ سال حکو مت کی اس کی ماں  کا نام حمو طل جو یرمیاہ کی بیٹی تھی اور لبناہ کی رہنے  والی تھی۔

19 صدقیاہ نے  وہ کام کئے  جسے  خداوند نے  برا کہا تھا۔ صدقیاہ نے  وہی کام کئے  جو یہو یاکین نے   کیا تھا۔

20 خداوند یروشلم اور یہوداہ پر بہت غصہ ہوا اور انہیں  اپنی نظروں  سے  نکال پھینکا۔ اس وقت صدقیاہ نے  بابل کے  بادشاہ کے  خلاف بغاوت کی۔

 

 

باب:  25

 

 

 

1 صدقیاہ بابل کے  بادشاہ سے  بغاوت کی اور اس کی اطاعت سے  انکار کیا۔ اس لئے  بابل کا بادشاہ نبو کد نضر اور اس کی تمام فوج یروشلم کے  خلاف لڑنے  آئی۔ یہ واقعہ صدقیاہ کی بادشاہت کے  نویں  سال کے  دسویں  مہینے  کے  دسویں  دن ہوا۔ نبو کد نضر نے  اس کی فوج کو یروشلم کے  اطراف رکھا تاکہ لوگ شہر کے  اندر نہ آ سکیں  اور نہ باہر جا سکیں۔

2 نبو کد

3 شہر میں  قحط کا حال بد سے  بد تر ہو رہا تھا۔ چو تھے  مہینے  کے  نویں  دن شہر میں  عام آدمی  کے  لئے  کوئی غذا نہ تھی۔

4 نبو کد نضر کی فوج نے  آخر کار شہر کی فصیل کو توڑا۔ اس رات بادشاہ صدقیاہ اور اس کے  تمام سپاہی خفیہ دروازہ سے  بھا گے۔ جو دو دیواروں  کے  درمیان شاہی باغ کے  قریب تھا۔ دشمن سپاہی شہر کے  اطراف تھے۔ لیکن صدقیاہ اور اس کے  آدمی  صحرا کی سڑک سے  جنوب کی طرف فرار ہو گئے۔

5 با بل کی فوج نے  بادشاہ صدقیاہ کا پیچھا کیا اور اس کو یریحو کے  قریب پکڑا۔ صدقیاہ کے  تمام سپاہیا سکو چھوڑ کر بھا گ گئے۔

6 بابل کے  لوگوں  نے  بادشاہ صدقیاہ کو بابل کے  بادشاہ کے  پاس ربلہ لے  گئے۔ بابل کے  لوگوں  نے  صدقیاہ کو سزا دینے  کا طئے  کئے۔

7 انہوں  نے  صدقیاہ کے  بیٹوں  کو اس کے  سامنے  مار ڈالا پھر صدقیاہ کی آنکھیں  نکال دیں  انہوں  نے  اسے  زنجیروں  میں  باندھ کر با بل لے  گیا۔

8 نبو کد نضر اپنی بادشاہت کے  ۱۹ ویں  سال کے  پانچویں  مہینے  کے  ساتویں  دن یروشلم آیا۔ نبوزرادان نبو کد نضر کے  بہترین سپاہیوں  کا سپہ سالار تھا۔

9 نبوزرادان نے  خدا کی ہیکل کو بادشاہ کے  محل کو اور یروشلم کے  تمام گھروں  کو جلایا۔حتیٰ کے  اس نے  بڑے  گھروں  کو بھی تباہ کیا۔

10 تب بابل کی فوج نے  جو نبوزرادان کے  ساتھ تھی یروشلم کے  اطراف کی دیوار کو گِرا دیا۔

11 نبوز رادان تمام لوگوں  کو جو ابھی تک شہر میں  رہ گئے  تھے  انہیں  پکڑ کر قیدی بنا لیا۔ نبوزرادان نے  سب لوگوں  کو قیدیوں  کی طرح لے  گیا حتیٰٰ کہ جو لوگ اپنے  کو حوالے  کرنے  کی کو شش کئے  انہیں  بھی۔

12 نبوزرادان نے  صرف عام لوگوں  کے  غریب ترین لوگوں  کو وہاں  رہنے  کے  لئے  چھوڑ دیاتا کہ وہ انگور کی اور دوسری فصلوں  کی دیکھ بھال کر سکیں۔

13 بابل کے  سپاہیوں  نے  خداوند کی ہیکل میں  کانسے  کی چیزوں  کو توڑ کر ٹکڑے  ٹکڑے  کر دیئے۔ انہوں  نے  کانسے  کے  ستون کو توڑا کانسے  کی گاڑیوں  کو اور بڑی کانسے  کی حوض کو وڑا۔ تب انہوں  نے  سارا کانسے  بابل کولے  گئے۔

14 بابل کو لوگوں  نے  برتن اور کھرپیاں  اور تمام کانسے  کے  برتن بھی جو خداوند کی ہیکل میں  استعمال کرتے  تھے  لے  گئے۔

15 نبوزرادان نے  تمام آتش دان اور کٹورے  لے  لئے  اس نے  تمام چیزیں  سونے  کی بنی ہوئی اور سونے  کولے  لیا اور تمام چاندی کی چیزیں  اور چاندی بھی لے  لیا۔

16 اُس طرح نبوزرادان نے  جو لیا تھا : دو ( (۲) کانسے  کے  ستون ( ہر ستون ستائیں  فیٹ لمبا ستون پر شہتیر تھے  جو ساڑھے  چارفیٹ لمبے  تھے  وہ کانسے  کے  بنے  تھے۔ اور ان کا نمونہ ایک جال اور اناروں  کی طرح تھا ) دونوں  ستون پر اسی قسم کے  نمونے  تھے  بڑا کانسے  کا حوض گاڑیاں  جو سلیمان نے  خداوند کی ہیکل کے  لئے  بنائی تھیں۔ ان چیزوں  کا کانسہ اتنا وزنی تھا کہ اس کو تولہ نہیں  جا سکتا تھا۔

17

18 ہیکل سے  انفرادی طور نبوزرادان نے  جو لیا تھا سِرایاہ اعلیٰ کاہن صفنیاہ دوسرا کاہن تین آدمی  جو داخلہ کے  پہریدار

19 اور شہر سے  نبوزرادان نے  جو لیا : ایک عہدیدار جو فوج کا نگراں  تھا پانچ بادشاہ کے  مشیر جو ابھی شہر میں  تھے۔ ایک فوج کے  سپہ سالار کے  سکریٹری جو نگراں  کار تھا عام لوگوں  کی گنتی کرتا اور ان میں  کچھ کو سپاہیوں  کے  لئے  چُنا تھا۔ ۶۰ لوگ جو شہر میں  پائے  گئے  انہیں  بھی لے  لیا۔

20 تب نبوزرادان تمام لوگوں  کو بابل کے  بادشاہ کے  پاس حمات کے  علاقہ میں  رِبلہ لے  گیا۔ بابل کے  بادشاہ نے  ان کو  ربلہ میں  مار ڈالا۔ وہ یہوداہ کے  لوگوں  کو ملک سے  جلا وطن کر دیا۔

21

22 نبو کد نضر جو بابل کا بادشاہ تھا اس نے  کچھ لو گوں  کو یہوداہ کی زمین پر چھوڑا۔ وہاں  ایک آدمی  جدلیاہ نامی تھا جو سافن کے  بیٹے  اخی قام کا بیٹا تھا۔ نبوکد نضر نے  جد لیاہ کو یہوداہ کے  لوگوں  پر گورنر بنا یا۔

23 فوج کے  سپہ سالار نتنیاہ کا بیٹا اسمٰعیل قریح کا بیٹا یُوحنان نطوفانی تنحو مت کا بیٹا سِرایاہ معکاتی کا بیٹا یازنیاہ تھے۔ فوج کے  یہ سب سپہ سالار اور ان کے  آدمیوں  نے  سنا کہ با بل کے  بادشاہ جدلیاہ کو گور نر بنا یا ہے۔ اس لئے  وہ جدلیاہ سے  ملنے  مصفاہ گئے۔

24 جدلیاہ نے  ان عہدیداروں  اور ان کے  آدمیوں  سے  وعدہ کیا۔ جدلیاہ نے  ان کو کہا ” بابل کے  عہدیداروں  سے  مت ڈرو۔ یہاں  ٹھہرو اور بابل کے  بادشاہ کی خدمت کرو پھر ہر چیز تمہارے  ساتھ ٹھیک ہو گی۔”

25 اسمٰعیل نتنیاہ کا بیٹا جو الیشمع کا پوتا جو شاہی خاندان سے  تھا ساتویں  مہینہ میں  اسمٰعیل اور اس کے  دس آدمیوں  نے  جِدلیاہ پر حملہ کیا اور تمام یہودیوں  اور بابل کے  لوگوں  کو مار ڈالا جو مصفاہ میں  جدلیاہ کے  ساتھ تھے۔

26 تب فوجی افسران اور تمام لوگ کیا اہم اور کیا غیر اہم سب مصر بھا گ گئے۔ کیوں  کہ وہ بابل کے  لوگوں  سے  ڈ رے  ہوئے  تھے۔

27 بعد میں  اویل مرودک بابل کا بادشاہ ہوا۔ اس نے  یہو یاکین کو جیل سے  نکلنے  دیا۔ یہ یہوداہ کے  بادشاہ یہو یاکین کے  قیدی بنائے  جانے  کے  سینتیسویں  سال ہوا۔ یہ اویل مرودک کی بادشاہت شروع کرنے  کے  بارہویں  مہینے  کی ستائیسویں  دن ہوا۔

28 اویل مرودک نے  یہو یاکین سے  مہر بانی کی باتیں  کیں۔ اس نے  یہو یاکین کو زیادہ اہم جگہ دی بہ نسبت دوسرے  بادشاہوں  کے  جو اس کے  ساتھ بابل میں  تھے۔

29 اویل مرودک نے  یہو یا کین کو قیدیوں  کے  کپڑے  پہننا بند کروایا۔ یہو یاکین نے   اویل مرو دک کے  ساتھ ایک ہی میز پر کھانا کھا یا۔اس نے  اپنی ساری زندگی میں  ہر دن ایسا ہی کیا۔

30 اس طرح بادشاہ اویل مرودک نے  یہو یاکین کو ہر روز ہر قسم کا کھانا زندگی بھر تک دیا۔

٭٭٭

ماخذ:

http://gospelgo.com/a/urdu_bible.htm

پروف ریڈنگ: اویس قرنی، اعجاز عبید

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید