FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

عورت اور اسلام

 

 

مولانا سید جلال الدین عمری
(امیر جماعت اسلامی ہند)

 

ٹائپنگ اور پیشکش: عندلیب

1۔ دیباچہ

موجودہ دور میں اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں یا بالقصد پیدا کی جاتی ہیں ، ان میں ایک یہ بھی ہے کہ اسلام نے عورت کو مرد کے برابر حیثیت نہیں دی ہے اور اس کی تگ و دو پر اتنی پابندیاں عائد کر دی ہیں کہ وہ زندگی کی دوڑ میں لازماً پیچھے رہ جاتی ہے اور ہمیشہ مرد کی دستِ نگر رہتی ہے۔ حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام نے سب سے پہلے مساوات مرد و زن کا عَلم بلند کیا۔ اس نے کہا خدا کی نظر میں عورت اور مرد دونوں برابر ہیں اور ان کی کامیابی اور ناکامی کے اصول بھی ایک ہیں۔ لیکن وہ موجودہ دور کے اس تصّورِ مساوات کو غلط سمجھتا ہے کہ دونوں کو ایک میدان میں کام کی اجازت ہونی چاہیے۔ اس کے بغیر ان کے درمیان مساوات باقی نہیں رہ سکتی۔ اسلام کے نزدیک عورت کو گھر کی اور مرد کو باہر کی ذمہ داری اٹھانی چاہئے۔ اس لیے کہ دونوں کے دائرہ ہائے کار فطری طور پر الگ ہیں۔
عورت پر گھر کی ذمہ داری ڈالنے سے اس کی معاشی جدوجہد پر اثر پڑسکتا تھا اس لئے اسلام نے صرف یہی نہیں کہ اسے معاشی ضمانت دی بلکہ سماجی و معاشرتی لحاظ سے بھی بہت ہی اونچا مقام عطا کیا۔ پھر یہ کہ عورت پر گھر کی ذمہ داری ڈالنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ امورِ خانہ داری کے سوا دنیا کے سارے کام اس کے لیے ممنوع ہیں۔ اسلام کا مقصد صرف یہ ہے کہ عورت اصلاً گھر کی مالکہ اور منتظمہ ہے۔ اسے باہر کی دنیا کو آباد کرنے کی فکر میں گھر کو اجاڑ نہیں دینا چاہئے۔ خانگی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بعد وہ اپنے حالات ، ذوق اور رجحان کے لحاظ سے زندگی کے مختلف میدانوں میں دلچسپی لے سکتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمان خواتین نے اپنے فطری دائرہ میں کام کرتے ہوئے بہت سے شعبوں میں فی الواقع دلچسپی لی اور حیرت انگیز کارنامے انجام دئے۔
اس موضوع پر میری ایک مفصل کتاب “عورت – اسلامی معاشرے میں” ، کئی سال پہلے شائع ہو چکی ہے۔ پیش نظر کتاب کا موضوع بھی یہی ہے۔ اس میں ان گوشوں کو زیادہ واضح کیا گیا ہے جو پہلی کتاب میں مجمل رہ گئے تھے اور ان مباحث کی طرف صرف مجمل اشارے کیے گئے ہیں یا انہیں نظر انداز کر دیا گیا ہے جن پر تفصیل سے اس میں بحث ہو چکی ہے۔ سابقہ کتاب کے مواد کے استعمال سے بھی جہاں تک ہو سکا احتراز کیا گیا ہے اور بڑی حد تک نیا مواد پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس طرح یہ دونوں کتابیں گو ایک ہی موضوع سے متعلق ہیں لیکن ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔
کتاب میں واقعات زیادہ تر دور اوّل کے پیش کیے گئے ہیں۔ اس لئے کہ یہی دور ہمارے لیے اسوہ ہے بعد کے ادوار سے بہت کم مثالیں دی گئی ہیں۔ کہیں کہیں فقہی مسائل کا بھی ذکر آگیا ہے۔ اس سلسلہ میں فقہاء کے مسالک نہیں بیان کئے گئے ہیں اس کے لئے فقہی کتابوں کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔
پوری کتاب قرآن و حدیث اور سیرت کے مستند مآخذ کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ بے دلیل کوئی بات نہیں کہی گئی ہے۔ اس کے باوجود خامیوں کا امکان ہے۔ جن صاحب کو کوئی خامی نظر آئے وہ براہ کرم اس سے مطلع فرمائیں۔ ان شاء اللہ آئندہ اس کی اصلاح کر دی جائے گی۔
جماعت اسلامی ہند نے طے کیا ہے کہ اس سال (1979ء) خواتین کے بارے میں اسلام کے موقف اور مسلمان خواتین کے کارناموں کا خصوصی تعارف کرایا جائے۔ اُمید ہے یہ مختصر سی کتاب اس سلسلہ میں مفید ثابت ہو گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اسے شرف قبولیت سے نوازے ، اس کے ذریعہ دین کا بہتر تعارف ہو اور ہماری خواتین میں وہی جذبہ و عمل اور وہی صلاحیتیں لوٹ آئیں جو دورِ اوّل کی خواتین میں تھیں۔ آمین۔
جلال الدین
25 فروری 1979ء

2 : عورت اور اسلام

چھٹی صدی عیسوی میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلانِ رسالت انسانی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ تھا۔ اس کے نتیجے میں فکر و نظر کی دنیا بدل گئی اور سیرت و کر دار میں انقلاب آ گیا۔ انسان نے نئے ڈھنگ سے سوچنا شروع کیا اور اس کی زندگی نے نیا رخ اختیار کیا۔ اسی کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ عورت کے بارے میں اس کا پورا نقطۂ نظر اور عملی رویہ بدل گیا اور عورت اور مرد کے تعلقات نئی بنیادوں پر قائم ہوئے۔

2.1 : عورت کی محکومی کے خلاف اسلام کی صدائے احتجاج

اسلام سے پہلے عورت کی تاریخ مظلومی اور محکومی کی تاریخ تھی۔ اسے کم تر اور فرو تر سمجھا جاتا تھا ، اسے سارے فساد اور خرابی کی جڑ کہا جاتا اور سانپ اور بچھو سے جس طرح بچا جاتا ہے اس طرح اس سے بچنے کی تلقین کی جاتی تھی۔ بازاروں میں جانوروں کی طرح اس کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔ اس کی کوئی مستقل حیثیت نہیں نہیں تھی بلکہ وہ مرد کے تابع تھی۔ اس کا کائی حق نہیں تھا۔ وہ مرد کے رحم و کرم پر جیتی تھی۔ اسلام نے اس کی محکومی کے خلاف اتنے زور سے آواز بلند کی کہ ساری دنیا اس سے گونج اٹھی اور آج کسی میں یہ ہمّت نہیں ہے کہ اس کی پیچھلی حیثیت کو صحیح اور بر حق کہہ سکے۔ اس نے پوری قوت سے کہا۔

یا أیها الناس اتقوا ربكم الذی خلقكم من نفسٍ واحدةٍ وخلق منها زوجها وبث منهما رجالًا كثیرًا ونساءً واتقوا الله الذی تساءلون به والأرحام إن الله كان علیكم رقیبًا
ترجمہ:
اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیے اور اللہ سے ڈرو جس کے ذریعہ تم ایک دوسرے سے مدد طلب کرتے ہو اور رشتوں کا احترام کرو۔ بے شک اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ حوالہ: النساء – 1

یہ اس بات کا اعلان تھا کہ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان جو جھوٹے امتیازات دنیا نے قائم کر رکھے ہیں وہ سب باطل ہیں۔ ان کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ سارے انسان نفسِ واحد سے پیدا ہوئے ہیں۔ سب کی اصل ایک ہے۔ پیدائشی طور پر نہ تو کوئی شریف ہے اور نہ رذیل ، نہ کوئی اونچی ذات کا ہے اور نہ نیچی ذات کا۔ سب برابر اور مساوی حیثیت کے مالک ہیں۔ خاندان ، قبیلہ ، رنگ و نسل ، ملک و قوم ، زبان اور پیشہ کی بنیاد پر ان کے درمیان کسی بھی قسم کی تفریق غلط اور ناروا ہے۔

2.2 : اسلام – مساوات مرد و زن کا پہلا علمبردار

عورت اور مرد کے درمیان زمانۂ قدیم سے جو فرق و امتیاز تھا یہ اس کی بھی تردید ہے۔ اس میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ انسانِ اوّل کا جوڑا کسی اور نوع سے نہیں تھا بلکہ اسی کی نوع سے تھا۔ کوئی دوسری مخلوق اس کی رفاقت کے لئے اس کے ساتھ لگا نہیں دی گئی تھی بلکہ وہ اسی سے نکالی گئی تھی۔ اس اوّلین جوڑے سے بے شمار مرد اور عورتیں پیدا ہوئے ، ان کے درمیان رشتے اور تعلقات قائم ہوئے اور پوری نسلِ انسانی پھیلی۔ اس لیے دونوں کے درمیان فرق و امتیاز نوعِ انسانی کے ایک بازو اور دوسرے بازو کے درمیان فرق و امتیاز ہے۔ ایک کل کے دو اجزاء کے مابین تفریق ہے۔ مساوات مرد وزن اور دونوں کی یکساں حیثیت کے اظہار کے لیے اس سے بہتر تعبیر کا تصّور نہیں کیا جا سکتا۔
اسی کے ساتھ فرمایا گیا کہ سارے انسان ایک خدا کے بندے اور ایک ماں باپ کی اولاد ہیں اس لیے انہیں ایک طرف تو خدا کی عبادت اور تقویٰ اختیار کرنا چاہئے اور اس سے ڈر کر زندگی گزارنی چاہئے ، دوسری طرف جو رشتے اور تعلقات ان کے درمیان ہیں ان کا احترام کرنا چاہئیے۔ اس میں مرد کے احترام کے ساتھ عورت کے بھی احترام کی تاکید تھی۔

2.3 : عورت اور مرد کی کامیابی ایمان و عمل سے وابستہ ہے

اسلام نے اس تصور ہی کی جڑ کاٹ دی کہ مرد اس لیے با عزت اور سر بلند ہے کہ وہ مرد ہے اور عورت محض عورت ہونے کی وجہ سے فرو تر اور ذلیل ہے۔ اس کے نزدیک عورت اور مرد دونوں برابر ہیں۔ ازلی و ابدی طور پر نہ تو کسی کی برتری لکھ دی گئی ہے اور نہ کسی کی کم تری۔ اس میں سے جو بھی ایمان اور حسنِ عمل سے آراستہ ہو گا وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہو گا اور جس کا دامن بھی ان اوصاف سے خالی ہو گا وہ دونوں ہی جگہ ناکام و نامراد ہو گا۔
من عمل صالحًا من ذكرٍ أو أنثىٰ وهو مؤمنٌ فلنحیینه حیاةً طیبةً ولنجزینهم أجرهم بأحسن ما كانوا یعملون
ترجمہ: جو شخص بھی نیک عمل کرے گا چاہے وہ مرد ہویا عورت اگر وہ مومن ہے تو ہم (اس دنیا میں) اسے اچھی زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں کو ضرور ان اچھے کاموں کا اجر عطا کریں گے۔
حوالہ: ( النحل : 97 )

2.4 : عورت کا میدان کار اس کا گھر ہے

البتہ اسلام کے نزدیک عورت اور مرد کے دائرہ کار جدا جدا ہیں۔ عورت کا میدان عمل اس کا گھر ہے اور گھر سے باہر کی دنیا مرد کی آماجگاہ ہے۔ چنانچہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کو قرآن نے ہدایت کی۔ اور یہی ہدایت ان تمام عورتوں کے لئے ہے جو خدا اور رسول پر ایمان رکھتی ہیں۔
وقرن فی بیوتكن
ترجمہ: اور اپنے گھروں میں سکون سے رہو۔ حوالہ: الاحزاب – 33

2.5 : پہلی وجہ

اسلام نے دو وجوہ سے عورت اور مرد کے دائرہ کار ایک دوسرے سے الگ رکھے ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اس سے دونوں کی عفت و عصمت کی حفاظت ہوتی ہے۔
جب بھی دونوں ایک میدان میں کام کریں گے با عفت زندگی گزارنا ان کے لیے دشوار ہو گا۔ اگر عورت اور مرد مل جل کر درسگاہوں میں تعلیم حاصل کریں ، پارکوں اور میدانوں میں کھیل کود اور تفریح میں حصہ لیں ، بازاروں میں بے تکلفی اور آزادی کے ساتھ لین دین اور کاروبار کریں اور خلوت و جلوت میں بغیر کسی روک ٹوک اور پابندی کے ملتے جلتے رہیں اور پھر یہ سلسلہ دو ایک دن نہیں بلکہ سالہا سال تک دراز ہوتا جائے اور اسی میں بچپن سے لے کر جوانی اور جوانی سے لے کر بڑھاپے تک سارے مراحل طے ہوتے رہیں تو ان کے جنسی جذبات کا بھڑکنا اور بے قابو ہونا یقینی ہے۔
اس کے بعد وہ جنسی بے راہ روی کا آسانی سے شکار ہو سکتے ہیں۔
موجودہ دور میں جہاں کہیں اختلاط مرد و زن کی اجازت دی گئی وہاں اس کا بڑا بھیانک تجربہ ہوا ہے۔ عفت و عصمت اجڑ گئی اور جنیو آوارگی وبائے عام کی طرح پھیل گئی ہے۔ اب اس کی اصلاح بھی اتنی دشوار ہو گیے ہے کہ اسے ایک ایسی سماجی برائی کی حیثیت سے تسلیم کر لیا گیا ہے جس سے نجات کی کوئی صورت نہیں ہے اور اس کے نتائج بد کو بھی چار و نا چار برداشت کیا جا رہا ہے۔
عفت و عصمت بظاہر ایک اخلاقی قدر ہے لیکن اس سے پورے معاشرے کا رخ متعین ہوتا ہے جس معاشرہ میں عفت و عصمت کی کوئی اہمیت نہ ہو وہ آدمی کو ہر طرف سے کھینچ کر زنا اور بد کاری کی طرف لے جاتا ہے اور ایک خاص قسم کا کلچر ، تہذیب ، معاشرت ، ادب اور اخلاق پیدا کرتا ہے اس کی ایک ایک چیز انسان کے جنسی جذبات میں آگ لگاتی اور انہیں بھڑکاتی رہتی ہے۔ اس کے خلاف جو معاشرہ عفت و عصمت کی قدر و قیمت اور عظمت محسوس کرے اس کی تعمیر ایک دوسرے ہی نہج پر ہوتی ہے۔ اس کے ہر عمل سے شرم و حیا اور کردار کی پاکیزگی کا اظہار ہوتا ہے اور ہر طرف تقویٰ و طہارت کی فضا چھائی رہتی ہے۔
اسلام عفت و عصمت کے معاملہ میں بڑا حساس واقع ہوا ہے۔ اس نے عورت اور مرد کے آزادانہ میل جول اور اختلاط سے سختی سے منع کیا ہے ، وہ اس بات کو غلط سمجھتا ہے کہ عورت اور مرد ایک ساتھ مل کر کام کریں خود کو ایسی آزمائش میں ڈال دیں کہ اس سے نکلنا ان کے لیے مشکل ہو جائے۔
اس نے زنا اور بد کاری کے ارتکاب ہی سے نہیں بلکہ اس کے قریب جانے سے بھی منع کیا ہے۔ فرمایا:
ولا تقربوا الزنا إنه كان فاحشةً وساء سبیلًا
ترجمہ: زنا کے قریب مت پھٹکو ۔ اس لیے کہ وہ بے حیائی کا کام ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔ حوالہ: بنی اسرائیل : 32

2.6 : دوسری وجہ

عورت اور مرد کے لئے دو الگ میدانِ کار تجویز کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ دونوں کی قوتیں اور صلاحیتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عورت جسمانی طور پر مرد سے کمزور ہے اور زیادہ محنت و مشقت برداشت نہیں کر سکتی۔ پھر اس کے ساتھ ایسے عوارض بھی لگے ہوئے ہیں جو اسے مسلسل اور سخت محنت سے روکتے ہیں اس کی جوانی کا آغاز ہی ماہواری سے ہوتا ہے اور جب تک وہ بڑھاپے کی حدود میں داخل نہ ہو جائے یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔
اس کے علاوہ اسے حمل و رضاعت کے سخت اور جاں گسل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ ساری کیفیات اس کی صحت ، وقتِ کار اور مزاج پر اثر انداز ہوتی ہیں اور لگاتار جدوجہد اور محنت کی راہ میں مانع ہیں۔ اس لیے فطرت کا تقاضا اور عدل و انصاف سے قریب تر بات یہی ہے کہ عورت پر اس سے کچھ کم بوجھ ڈالا جائے جتنا بوجھ مرد پر ڈالا جاتا ہے۔ محنت و مشقت کے کام مرد کے سپرد کیے جائیں اور عورت کو ان کاموں میں لگایا جائے جو زیادہ محنت طلب نہیں ہیں۔ اسلام نے اس کا حل یہ نکالا ہے کہ عورت گھر سنبھالے اور مرد باہر کی خدمات انجام دے۔
عورت کا مزاج ، رجحان اور نفسیات بھی اسی کا تقاضا کرتے ہیں۔ عورت کے اندر محبت ، دلداری ، ہمدردی و غم خواری ، ایثار و قربانی ، صبر و تحمل ، حلم و بردباری اور خدمت کے جذبات مرد سے زیادہ ہیں، ان کی وجہ سے وہ اپنے ماحول کو مسرت اور خوشی ، راحت اور سکون دلجوئی اور محبت سے بھر سکتی ہے۔ لیکن زندگی کے شوائد اور مشکلات کا سامنا کرنے اور ہر طرح کے نشیب و فراز میں ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی میں جفا کشی ، عزم و ہمت ، پامردی اور شجاعت جیسی صفات پائی جائیں۔ یہ صفات مرد میں زیادہ ہیں۔ گھر اور خاندان نسبتاً پرُ سکون ماحول فراہم کرتے ہیں۔ اس میں عورت کی خوبیاں زیادہ نکھر کر سامنے آسکتی ہیں اور ان سے زیادہ فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے۔ زندگی کے پیچیدہ اور دشوار مسائل کا سامنا مرد کر سکتا ہے۔ اس لیے فطری طور پر اسی کو ان سے عہدہ بر آ ہونا بھی چاہیے۔

2.7 : گھر چھوڑنے میں عورت کا نقصان ہے

عورت کے ساتھ یہ ہرگز کوئی خیر خواہی نہیں ہے کہ اسے اس فطری دائرہ کار سے نکال کر غیر فطری دائرہ میں پہنچا دیا جائے۔ اس میں اس کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ سراسر نقصان ہے۔
سب سے پہلی بات تو یہ کہ عورت جب تک عورت ہے وہ ماں بننے ، حمل و رضاعت کی تکلیفیں برداشت کرنے اور حیض و نفاس کی کیفیات سے گزرنے پر مجبور ہے۔ ان مشکلات اور پیچیدگیوں میں مرد اس کا ساتھ بالکل نہیں دیتا۔ اس کے ساتھ مرد کی ذمہ داریاں بھی اس پر ڈال دینا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔
دوسری بات یہ کہ عورت گھر کی ملکہ ہے۔ وہاں اسے باپ ، بھائی ، شوہر ، اولاد اور خاندان والوں کی محبت بھی حاصل ہوتی ہے اور اس کے حقوق و اختیارات بھی محفوظ ہوتے ہیں۔ عورت اگر گھر کی ذمہ داری نہ اٹھائے تو وہ ان حقوق کا دعویٰ نہیں کر سکتی اس کے بعد اسے زندگی گزارنے کے لیے ایک ایسے میدان میں کام کرنا ہو گا جو حقیقت میں اس کا میدان نہیں ہے اور جہاں اسے اپنے سے زیادہ طاقتور حریف کا قدم قدم پر مقابلہ کر نا پڑے گا۔ اس میں اس کی توقع کم ہی کی جا سکیب ہے کہ وہ مرد سے آگے نکل سکے گی۔

2.8 : گھر کی بنیادی اہمیت ہے

عورت کے لیے عزت و شرف کا مقام اس کا گھر ہے ، بازار نہیں ہے۔ لیکن موجودہ دور میں گھر اور خاندان کی اہمیت پوری طرح محسوس نہں کی جاتی اس لیے جب اسے عورت کا دائرہ کار کہا جاتا ہے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے ، اس کے لیے معاشرہ کا بہت ہی حقیر و ذلیل کام تجویز کیا جا رہا ہے ، اسے وہ حق نہیں دیا جا رہا ہے جو فی الواقع اسے ملنا چاہئے اس طرح اسے مستقل نچلی سطح پر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حالانکہ خاندان کسی بھی سوسائٹی کی بنیاد ہے۔ گھر کی اہمیت بازار اور دفتر سے کم نہیں ہے۔ عورت گھر کی تعمیر کی جو خدمت انجام دیتی ہے وہ ان بہت سے کاموں سے زیادہ اہم ہے جو وہ گھر سے باہر انجام دیتی یا دے سکتی ہے۔ یہاں اس کے بعض پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے۔

2.9 : گھر میں عورت کی خدمات

1۔ انسان بے شمار سیاسی ، سماجی ، اور تہذیبی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ صحت ، مرض ، دولت ، غربت ، تکلیف اور آسائش بھی لگی ہوئی ہے۔ بسا اوقات معاش کے لیے اسے سخت جدوجہد اور محنت کرنی پڑتی ہے ، اپنی اور خاندان کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے بڑی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات میں اسے سب سے زیادہ ضرورت ذہنی سکون اور اطمینان کی ہے۔ گھر یہی سکون اور راحت اسے فراہم کرتا ہے۔ اگر گھر بھی اسے سکون نہ فراہم کرے تو اس کے لیے جینا دو بھر ہو جائے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ عورت گھر کو راحت کدہ اور سکون کا مرکز بنا دے تاکہ یہاں پہنچ کر مرد اپنی ساری تکلیفیں اور پریشانیاں بھول جائے۔ اور تازہ دم ہو کر کشمکش حیات میں اپنا حصہ ادا کرے۔
2۔ یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ بچہ کے لیے ماں کے دودھ سے بہتر کوئی دوسری غذا نہیں ہے۔ اگر ماں گھر پر نہ رہے اور باہر کی مصروفیات اسے دن بھر گھیرے رہیں تو وہ اس کا اہتمام نہیں کر سکتی۔ اس طرح شیر خوارگی کی عمر میں بھی اور اس کے بعد بھی عرصہ تک بچہ کی صحیح پرورش ماں ہی کے ہاتھوں میں ہوسکتی ہے۔ بچے کی صحیح نشو و نما کے لیے صرف اتنی بات کافی نہیں ہے کہ اسے مناسب اور متوازن غذا ملتی رہے بلکہ اس کے لئے محبت ، ہمدردی ، اور ممتا بھی ضروری ہے۔ اگر اسے اپنے قریب ترین ماحول میں یہ جذبات نہ ملیں تو اس کی شخصیت مرجھا کر رہ جائے گی اور ابھرے گی تو بالکل غلط رخ پر ابھرے گی۔ ان جذبات کا مخزن ماں ہی کا سینہ ہے۔ کوئی بھی دوسرا شخص اس کا بدل نہیں بن سکتا۔ جب ماں دن بھر گھر سے باہر رہے گی تو بچہ ان جذبات کے لیے تڑپتا رہے گا اور وہ اسے نہ مل سکیں گے۔
3- بچّہ کی ابتدائی تعلیم و تربیت کے لیے بھی ماں سب سے زیادہ موزوں ہے۔ اس لیے کہ بچّہ کی صحیح تعلیم اسی وقت ہو سکتی ہے جب کہ استاذ بے حد شفیق اور مہربان ہو، اس کی نفسیات اور مزاج سے واقف ہو، اس کی شرارتوں کو برداشت کرے اور صبر و تحمل سے ان کی اصلاح کرے ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بچہ خود بھی اس سے محبت کرے ، اس کی کڑوی باتوں کو بھی خلوص اور خیر خواہی پر محمول کرے اور اس کی سختی بھی اس کے لیے گوارا ہو۔ یہ جذبات ماں اور بچہ کے درمیان جیسے ہوتے ہیں کسی بھی دوسرے دو شخصوں کے درمیان نہیں ہوتے۔
ایک اور پہلو دیکھئے۔ تعلیمی نقطہ نظر سے یہ بات بہت اہم ہے کہ استاذ اور شاگرد کے درمیان براہِ راست تعلق ہو۔ یہ تعلق جتنا قوی ہو گا بچہ اتنا ہی استفادہ بھی کر سکے گا۔ اسی وجہ سے اسکول میں بھی بڑی کلاسس پسندیدہ نہیں سمجھی جاتیں کیونکہ اس میں طالب علم اور استاذ کا تعلق کمزور ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں چھوٹی کلاسیس پسندیدہ سمجھی جاتی ہیں اس لیے کہ اس میں یہ تعلق بڑھتا ہے۔ اس پہلو سے ماں چند بچوں کو جس طرح تعلیم دے سکتی ہے اس طرح ان کی تعلیم اسکول میں نہیں ہو سکتی۔
بہت سے بچوں کی تعلیم اس لئے بھی اچھی نہیں ہوتی کہ گھر پر ان کو بہتر ٹیوٹر نہیں ملتا یا ان کے والدین ٹیوٹر رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ لڑکیوں کو ٹیوٹر کے ذریعہ پڑھانے میں قباحت بھی محسوس ہوتی ہے۔ اگر ماں اس قابل ہو کہ گھر پر بچوں کو تعلیم دے سکے اور اسے اپنی ذمہ داری بھی محسوس کرے تو تعلیم پر ہونے والے اخراجات بھی کم ہوسکتے ہیں اور بہت سی قباحتوں سے بچا بھی جا سکتا ہے۔
یہاں ایک ضمنی لیکن ایک مسلمان کے نقطۂ نظر سے اہم بات یہ ہے کہ آج کل دینی تعلیم کا رجحان کم ہے۔ چند ہی بچے دینی تعلیم حاصل کر پاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بچہ جب اسکول جانے کی عمر کو پہنچتا ہے تو اسکول بھیج دیا جاتا ہے۔ پھر اسے دین کی موٹی موٹی باتیں جاننے اور سیکھنے کا بھی موقعہ نہیں ملتا۔ چنانچہ بہت سے نیک اور خدا ترس لوگوں کے بچے بھی دین کی ابتدائی باتوں سے نا واقف رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باپ کو گھر پر انہیں تعلیم دینے کی فرصت نہیں ہوتی اور ماں یا تو جاہل ہوتی ہے یا اس میں اس کا ذوق نہیں ہوتا۔ اگر ماں اس قابل ہو اور اسے اس کی فکر ہو تو اسکولوں میں تعلیم پانے کے باوجود بچہ دین سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔
تربیت کے نقطۂ نظر سے بھی ماں کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ بچہ کے لیے اصل نمونہ اس کی ماں ہوتی ہے۔ وہ اس کے اخلاق و عادات کا شب و روز مشاہدہ کرتا رہتا ہے اور اس کے رویہ کو دیکھ کر اپنا رویہ متعین کرتا ہے۔ گھر والوں سے اس کی ماں کے اچھے یا بُرے جس قسم کے تعلقات ہوتے ہیں اسی قسم کے تعلقات وہ دوسروں سے قائم کرتا ہے۔ اس معاملہ میں ماں اس کی حقیقی معلم ہوتی ہے اور اس کی سیرت اور اخلاق کا رخ متعین کرتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ گھر کی تعمیر کے بغیر معاشرہ کی تعمر نہیں ہوسکتی۔ اسی وجہ سے اسلام نے عورت کو اس کی تعمیر کے لیے بالکل فارغ کر دیا ہے۔ وہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا بوجھ اس پر ڈالنا نہیں چاہتا۔ حتیٰ کہ معاش کی ذمہ داریوں سے بھی اسے سبک دوش کر دیا ہے۔ اس کے نزدیک گھر کی تعمیر جہاد سے کم اہم نہیں ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کی روایت ہے کہ کچھ عورتوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مرد تو فضیلت والے اعمال اور جہاد کا ثواب حاصل کرتے ہیں ، ہم کیا کریں کہ ہمیں بھی وہ ثواب ملے جو راہِ خدا میں جہاد کرنے والوں کو ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو عورت گھر میں بیٹھی رہے گی وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کا ثواب پائے گی۔ (تفسیرابن کثیر3/ 482)

3 : گھر میں مسلمان عورت کی حیثیت

گھر کی تعمیر میں لگنے کی وجہ سے عورت کی قانونی اور اخلاقی حیثیت کسی طرح مجروح نہیں ہوتی۔ اسلام نے ایک طرف تو اس کے سارے حقوق از روئے قانون محفوظ کر دیے ہیں اور دوسری طرف پورے معاشرہ کو اس کے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کا حکم دیا ہے۔ اسلام ایسی فضا پیدا کرتا ہے کہ عورت جس حیثیت میں بھی رہے عزت و احترام کے ساتھ رہے۔ جب تک یہ فضا باقی ہے اس کی عزت و احترام میں کوئی فرق نہیں آسکتا۔ گھر میں عورت کی 3 نمایاں حیثیتیں ہیں۔ ماں ، بیوی ، اور بیٹی۔ اسلام نے ان تینوں حیثیتوں سے اسے بڑا اونچا مقام عطا کیا ہے۔ اسلام کے حدود مںف رہتے ہوئے کوئی اس سے اس کا مقام چھین نہیں سکتا۔
٭٭٭
پیشکش: عندلیب
ماخذ:
http://www.siratulhuda.com/forums/archive/index.php/t-1403.html
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید