FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

ذکیہ زبیری کی دس منتخب کہانیاں

 

 

انتخاب و ترجمہ: عامر صدیقی

 

 

 

 

 

 

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل
کنڈل فائل

 

 

 

تعارف

 

ذکیہ زبیری، پیدائش: یکم اپریل ۱۹۴۲ء، لکھنؤ، اتر پردیش۔ میدان: کہانی، شاعری، مولفہ۔ کچھ اہم تخلیقات: کہانیوں کا مجموعہ: سانکل (۲۰۱۴ء)۔ تالیف: برطانیہ میں اردو قلم (برطانیہ میں مقیم آٹھ اردو افسانہ نگاروں کی کہانیوں کا ہندی ترجمہ، ۲۰۱۰ء)، سمندر پار غزل سنسار (دنیا بھر سے اکیس ہندی غزل نگاروں کی غزلوں کا مجموعہ، ۲۰۱۰ء)۔ اعزازات: ڈی اے وی کالج، یمنا نگر کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں خدمات پر خصوصی اعزاز (۲۰۰۷ء)، سمیت کئی ملکی اور غیر ملکی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازا گیا۔

٭٭٭

 

 

 

 

کچا گوشت

 

 

بانس بھر کا قد اور دس گرہ لمبی کی زبان۔!  اور جب یہ کی زبان قینچی کی مانند چلتی تو برج بہاری بہادر بھی بغلیں جھانکتے دکھائی دیتے۔ بھڑ کے چھتے کو چھیڑنے سے پہلے سوچنا چاہئے تھا نہ کہ پنچایت کے سرپنچ بنے بیٹھے ہیں۔ اور دبدبہ ایسا کہ پرندہ بھی پر مارتے ڈرے۔

پھر مدن موہن بیچارے کی کیا مجال کہ ان کی مرضی کے خلاف پلک بھی جھپکائے۔ شبّو تو بالشت بھر کی تتّیا بنی ہر وقت بھنبھناتی پھرتی اور جہاں ہوتا بیٹھ کر ڈنک مار کر اڑ جاتی۔

مدن موہن چار بہنوں پر ایک بھائی۔ اوپر والے نے مزاج اور ذہن بھی خوب دیا تھا۔ ابھی اسکول میں ہی تھا کہ سرپنچ بہادر نے ہونہار بروا کے چکنے پات بھانپ لئے تھے اور اس کی ماں سے کہہ کر اس کو گھر میں بلانا شروع کر دیا تھا۔ گھر کے چھوٹے چھوٹے کاموں کے ساتھ ساتھ کچھ لکھت پڑھت کے کام بھی کروا لیا کرتے تھے۔

شروع شروع میں تو مدن موہن کو بھی بھلا معلوم ہوتا۔ کام کم تھا اور کھانا اچھا ملتا تھا، مگر کچھ ہی دنوں میں اس کا حال بھی ایک سوئس نائف جیسا ہو گیا۔ سوئس نائف کی خوبی بھی ایسی ہی ہوتی ہے کہ کہنے کو تو چاقو ہوتا ہے مگر کھولیں تو اس میں دسیوں کام کے لائق پرزے نکل آتے ہیں۔ قینچی، اسٹیپلر، اِنچ ٹیپ، ناخن گھسنے کی ریتی اور ٹوتھ پک وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح بے چارہ مدن موہن اس چھوٹی عمر سے ہی سوئس نائف بن گیا تھا۔

اس کے کاموں میں شامل تھا، برج بہاری کے موٹے بدن کو دبانا، مالش کرنا، کپڑے دھونا، استری کرنا، کھانا کھلانا، نہاتے وقت پیٹھ سیمل مل کر میل چھڑانا، سائیکل اور یکّے پر بیٹھا کر گھمانے اور سیر کو لے جانا، لکھائی پڑھائی کا کام کرنا، حساب کتاب دکھانا، روز صبح اخبار پڑھ کر سنانا اور خبروں کی اونچ نیچ سمجھانا۔

برج بہاری بیٹھک میں آتے تو اخبار منہ کے سامنے ایسا تانے بیٹھے رہتے جیسے پورا اخبار آج ہی چاٹ ڈالیں گے۔ یا پھر ہو سکتا ہے کہ اپنے لوگوں سے منہ چھپانے کا ہی کوئی طریقہ ہو۔ گاؤں والوں پر شیخی بگھارتے کہ پورا اخبار پڑھ کر پوری دنیا کی خبر رکھتا ہوں اور گاؤں والوں کے سامنے پورے رعب سے پوچھتے، ’’مدن موہن، تجھے پڑھنا لکھنا کس نے سکھایا؟‘‘

مدن موہن بیچارا اپنی سنجیدہ دبی آواز میں طوطے کی طرح رٹے ہوئے انداز میں جواب دیتا، ’’سر جی آپ نے۔ آپ نے ہی لکھنا پڑھنا سکھایا ہے۔‘‘یہ جواب دے کر پاؤں کے انگوٹھے سے زمین پر لکھنے لگتا اور سوچتا کہ میں کالج میں پڑھ رہا ہوں یا پھر سر جی سے؟  پھر اپنے آپ کو سمجھاتے ہوئے سوچتا کہ کتابی تعلیم سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے عملی تعلیم۔

بس اتنا سوچ کر ہی مدن موہن کانپ کانپ جاتا کہ کہیں برج بہاری اس کے خیالوں کو تاڑ نہ جائیں۔ سرپنچ نے گاؤں کے بھولے بھالے رہائشیوں کے ذہنوں میں ایک عجب سا ڈر بیٹھا رکھا تھا کہ جس کے دل میں جو بھی خیال اٹھتا ہے وہ سرپنچ کی پوتھی میں پہلے سے ہی لکھا ہوتا ہے۔ ہر گاؤں والا سرپنچ کو بھگوان کا سوروپ ہی مانتا۔ اسی لیے کئی بار چاہتے ہوئے بھی بیچارے گاؤں والے برج بہاری کے خلاف کبھی ایک لفظ بھی نہیں نکال پاتے۔ ویسے سچ یہ بھی ہے کہ جس کسی نے سرپنچ کے خلاف کچھ بھی بولا، اس پر اچانک کچھ ایسا حادثہ ہو جاتا کہ وہ اچانک لاپتہ ہو جاتا اور کچھ ہی دنوں میں لوگ اسے بھول بھی جاتے۔ گاؤں والوں کے ڈر کا لطف برج بہاری دھیمے دھیمے مسکرا کر لیتا۔

مدن موہن کے من میں کبھی کبھی یہ سوال بھی سر اٹھاتا کہ پتا جی واپس کیوں نہیں آ جاتے؟  اگر وہ آ جاتے تو سرپنچ جی کا کام سنبھال لیتے اور وہ تسلی سیپڑھائی کر پاتا۔ اسے پڑھنے کا بہت شوق تھا، مگر برج بہاری اس بات کا خیال رکھتا تھا کہ کوئی اتنا نہ پڑھ جائے کہ اس کے سامنے وہ خود ان پڑھ لگنے لگیں۔

مدن موہن کے والد جگموہن سال پہلے فوج میں بھرتی ہو گئے تھے۔ ان کی پوسٹنگ کشمیر میں ہو گئی اور وہ وہاں دہشت گردوں کے خلاف لڑنے چلے گئے۔ انہیں کہاں پتہ تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو برج بہاری کی دہشت کے سائے میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ جاتے ہوئے اپنے بیٹے کو سمجھا بھی گئے تھے کہ ہمیشہ برج بہاری کو اپنا باپ سمجھے۔ گاؤں کا سرپنچ باپ برابر جو ہوتا ہے۔

آج مدن موہن کو باپ کے نام سے چڑ ہونے لگی ہے۔ وہ سمجھتا تھا کہ باپ کندھوں پر بیٹھ کر کھیتوں کو سیر کرواتا ہے، اگر گاؤں کے شرارتی لڑکے مارنے کو دوڑیں تو باپ کے پیچھے چھپا جا سکتا ہے، باپ کے ساتھ کاموں میں ہاتھ بٹایا جاتا ہے اور پھر ہنستے کھیلتے اپنے باپ سے کل کو خود باپ بننے کا علم پا لیتے ہیں۔

یہاں برج بہاری جو لوگوں کا باپ بنا بیٹھا تھا، اس میں سب کچھ موجود تھا بس باپ کے سوا۔ پھر بھی مدن موہن اس سوچ کو اپنے دماغ سے ایک جھٹکے میں اتار پھینکتا، روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہو جاتا۔ اسے خود پر حیرانی بھی ہوتی کہ اسے برج بہاری سے کچھ لگاؤسا بھی ہونے لگا۔

دنیا کی اونچ نیچ پر بیٹھا آنسو بہا رہا تھا مدن موہن، جب پوسٹ میں نے آ کر اسے ایک لفافہ تھما دیا۔ نام اسی کا پتہ اسی کا۔ آج تک کبھی کسی نے اسے خط نہیں لکھا۔ پھر یہ خط؟  کون بھیج سکتا ہے اسے؟  تقریباً بچوں کی طرح خوشی ہوئی اسے۔ خط کھولا۔ سب سے پہلے خط کی آخری لائن پڑھی کہ بھیجنے والا کون ہے۔ تم سب کا پتا جگموہن!  اب آنسوؤں کو کون روکتا، بہنے لگے۔ تحفظ کا احساس جاگ اٹھا۔ بھاگا بھاگا ماں کے پاس پہنچا کیونکہ بچپن سے اپنی ہر خوشی ماں کے ساتھ بانٹتا، مگر اپنے غم صرف اپنی تنہائی کے حوالے کر دیتا۔ ماں نے بھی خط کا سنا تو کہہ اٹھی، ’’خط!  سنا بیٹا۔‘‘

کشمیر کے حالات، قتل و غارت گری، گولہ بارود، بیواؤں کی سسکیاں اور دہشت گرد۔ سبھی کچھ موجود تھا اس خط میں۔ ’’تم سب کی بہت یاد آتی ہے۔ یہاں آ کر بہت بڑی غلطی کر بیٹھا۔ چھٹی تک نہیں ملتی۔ سچ تو یہ ہے کہ وہاں بھی ڈر تھا اور یہاں بھی ڈر!  نہ جانے کبھی اس ڈر سے نجات ملے گی بھی یا نہیں۔ نہ جانے مجھ جیسے لوگ پیدا ہی کیوں ہوتے ہیں۔ عقل پر پتھر پڑے تھے کہ پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے آگ میں کود پڑا۔ موہن بیٹا، تو اپنی پڑھائی دل لگا کر کرنا۔ اور ہاں، میرے پیچھے سرپنچ کو ہی اپنا مائی باپ سمجھنا۔‘‘

موہن کی اماں خط کو ہاتھ میں لئے اداس ہی بیٹھی رہی، سوچتی رہی اس کا شوہر کتنا بھولا ہے، کہتا ہے۔ سرپنچ باپ جیسا ہے۔ اگر سرپنچ باپ جیسا ہے تو پھر بھلا مجھ سے ایسی باتیں کیسے کہہ لیتا ہے۔ ابھی کچھ ہی دن پہلے کی تو بات ہے۔ مینا کو بلا بھیجا اور حکم دیا۔ ’’مدن موہن سیانا ہو گیا ہے، اب اس کا بیاہ کر ڈال۔ گھر میں بہو آ جائیں گے تو میرا بھی بھلا ہو جائے گا، بڑھاپے میں کام آئے گی۔‘‘

مینا نے سر جھکا کر کہا تھا، ’’سیمی تو ابھی پڑھ رہی ہے۔ بیاہ کیلئے کمسن بھی ہے۔‘‘برج بہاری نے جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا، ’’بہو تو میں نے ڈھونڈ لی ہے۔‘‘

’’سرپنچ جی، کون ہے وہ؟‘‘

’’ارے بھئی شبّو!  شبّو! ۔ اپنی شبّو۔‘‘برج بہاری نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ مینا کبھی سرپنچ جی کو دیکھتی تو کبھی زمین کو اپنے پاؤں کے انگوٹھے سے کریدنے لگتی۔ ہکا بکا سی ہو گئی۔ زمین بھربھری سی محسوس ہونے لگی۔ شبّو! ۔ اس سے تو شاید گاؤں کا کتا بھی شادی نہ کرے۔ آخر جانور بھی تو اپنی پسند سے منہ لگاوے ہے!  شبّو تو کسی اور ہی دنیا سے آئی لگتی ہے۔

’’تم نے سنا نہیں مینا؟  میں کچھ کہہ رہا ہوں۔‘‘

مینا سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ برج بہاری آخر کیوں اس پڑھے لکھے گبرو جوان بیٹے کی قربانی مانگ رہا ہے۔

’’یہ بات اپنے دماغ میں بیٹھا لو تم۔ مدن موہن کا بیاہ شبّو سے ہی ہو گا۔ چل اب جا کر بیاہ کی تیاری کر۔ خرچہ پانی مجھ سے مانگ لینا اور ہاں، سن، اب تو بھی اپنے بارے میں سوچنا شروع کر۔ کب تک جگموہن کی راہ تکتی رہے گی؟  ارے جنگ میں جا کر کبھی کوئی واپس آیا ہے جو جگموہن آئے گا۔ تجھے محسوس نہیں ہوتا کہ تیرا یہ صندلی بدن کتنا پیاسا ہے۔ اس کی پیاس بجھا دے تو اب۔‘‘مینا نظریں جھکائے ہمیشہ کی طرح انجان بن گئی۔ جواب دینے سے ڈرتی تھی کہ سرپنچ جی کے منہ کیسے لگے۔ اکیلی عورت یہاں ہوس کے میدان میں اپنی جنگ آپ لڑ رہی تھی۔ سوچتی ہے، کاش!  ہم عورتیں بھی اپنے شوہروں کے ساتھ ہی لڑنے مرنے چلی جایا کرتیں۔ اپنے سہاگ کی خدمت کرتیں اور شوہروں کے ساتھ ساتھ اپنی جان دے دیتیں۔ کم سے کم گاؤں کے سرپنچ نما گدھوں سے بچاؤ تو ہو جاتا۔ خاوند تو چلے جاتے ہیں اپنے ہم وطنوں کو دہشت گردوں کی گولیوں سے بچانے اور یہاں گدھوں کی دہشت سے اپنی آبرو بچاتی، لڑتی پھرتی ہیں ان کی عورتیں جنہیں یہ گدھ بس کچا گوشت سمجھ کر ہڑپ لینا چاہتے ہیں۔

یہی سب سوچتی مینا گھر کی طرف چلی جا رہی تھی کہ سامنے سے شبّو مٹکنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مینا کے اندر اسے دیکھ کر ایک ابال سا اٹھا۔ لگتا تھاجیسے قدرت اس کی گردن بنانا ہی بھول گئی تھی۔ جسم لمبا اور چھوٹی ٹانگیں۔ کندھے کو ایک طرف جھکائے ہوئے تھی۔ وہ اپنی چھوٹی چھوٹی ٹانگوں سے مینا کی طرف تقریباً بھاگی چلی آ رہی تھی۔ اسے پہلے ہی معلوم تھا کہ سرپنچ آج مدن موہن کی ماں کو کیا فیصلہ سنانے والا ہے۔ سارا گاؤں اسے بدھو سمجھتا تھا، مگر وہ اپنے معاملے میں پورا کائیاں تھی۔

مینا نے جلدی سے پگڈنڈی بدلی اور کھیت کھیت ہوتی گھر کی جانب تیز تیز قدموں سے چلنے لگی۔ وہ سوچتی جا رہی تھی کہ جب سے سیانی ہوئی ہے برج بہاری کو سر پر سوار پایا ہے۔

برج بہاری اپنے ماں باپ کی درجن بھر اولادوں میں سے ایک تھا۔ اب تو اسے اپنا نمبر بھی ٹھیک سے یاد نہیں۔ باپ بچپن میں ہی چل بسا تھا۔ ماں نے اکیلے ہی پرورش کی تھی۔ بچپن سے ہی برج بہاری کو پنچایت لگانے کا شوق تھا۔ باتیں خوب بگھارنی آتی تھیں۔ گانا بجانا، کھانا پینا سب طرح کے شوق تھے۔ اس نے ایک فوج بنا رکھی تھی جس کا سپہ سالار بن کر وہ حکم چلایا کرتا۔ جو بھی اس کا حکم نہیں مانتا اسے برج بہاری کی ڈانٹ ملتی۔ چھوٹی سی عمر میں ہی برج بہاری اچھا خاصا دادا بن گیا تھا۔ اب وہ اپنی ماں کی ڈانٹ کی پرواہ بھی کہاں کرتا تھا۔

اب لوٹ مار بھی برج بہاری کی سرگرمیوں کا اہم حصہ بن گئی تھی۔ کھیتوں، کھلیانوں، باغات اور گھروں سے جو چاہتا اٹھوا لیتا۔ نہ جانے کیوں سبھی اس کا کہا سنتے اور مانتے۔ اس کی گوری صورت میں شاید کچھ ایسی کشش ہو گی کہ وہ کسی سے بھی اپنی بات منوا لیتا۔ اس کی زبان میں کچھ ایسا جادو تھا کہ وہ اپنے غلط کاموں کو بھی صحیح ثابت کر لیتا۔ گاؤں کے بڑے بوڑھے تک اس کی چکر بازی کے جال میں پھنس جاتے۔ اپنی بات چیت کے اسی تیزی کی وجہ سے وہ نوجوانوں کا سہارا لے کر گاؤں کا سرپنچ بن بیٹھا۔ گاؤں کے تمام قاعدے قانون پیچھے رہ گئے کہ کسی بڑے بزرگ کو ہی سرپنچ ہونا چاہئے۔ جمہوریت میں غنڈے بدمعاش بہت کام آتے ہیں۔ پنچایت کے انتخابات میں صرف وہی ووٹ ڈالنے جا سکے جنہیں برج بہاری کے غنڈوں نے جانے دیا۔ اس کے بعد سے آج تک کوئی بھی اسے سرپنچ کی گدّی سے ہٹا نہیں پایا۔ گاؤں کے بزرگ کبھی کبھی سر جوڑ کر بیٹھتے اور گاؤں کے اچھے دنوں کو یاد کر کے آہیں بھرتے۔ اور پھر اپنے بوڑھے جسم کو گھسیٹتے ہوئے گھر کی طرف جاتی ہوئی پگڈنڈیوں میں گم ہو جاتے۔ جب کبھی کوئی برج بہاری کے خلاف آواز اٹھاتا، تو اس کی ایسی بے عزتی ہوتی کہ سامنے والا شرم سے مر مر جاتا۔ سچ بولنے والا مجرم بن جاتا اور گناہ گار برج بہاری اپنی راج گدّی پر بے شرم مسکراہٹ بکھیرتا رہتا۔

اس اسی بے شرمی نے شبّو تک کو نہ چھوڑا تھا۔ شراب کے نشے میں شبّو بھی خوبصورت لگتی ہو گی، تبھی تو ایک دن گاؤں کی دائی کو بلا کر شبّو کو اس کے حوالے کرتے ہوئے کہا، ’’دیکھ دائی اماں!  اس گاؤں کی چھوریاں کہاں کہاں سے سامان اٹھا لاتی ہیں!  اب میں کن کن باتوں کا خیال رکھ سکتا ہوں۔‘‘

شبّو سب سن رہی تھی۔ خاموشی سے دائی اماں کے پیچھے پیچھے چلی گئی۔ مگر چار دن بعد ہی لوٹ آئی۔ اب وہ بھیگی بلی نہیں، زخمی شیرنی لگ رہی تھی۔ گاؤں والوں کے سامنے سرپنچ کی لمبی ناک کاٹنے کو تیار۔ وہ چلائے جا رہی تھی، ’’سرپنچ جی تم تو گاؤں والوں کے مائی باپ ہو۔ اب اس منحوس کو اپنی بیوی بناؤ۔ بھلا اس ابھاگن سے اب کون شادی کرے گا؟‘‘

سرپنچ گھبرا گیا۔ ہمیشہ ایک وار سے دو کام نکالنے والا برج بہاری لگ بھگ حیران تھا۔ ایک طویل عرصے کے بعد اس نے خود کو مجبور محسوس کیا تھا۔ ہر پریشان عورت سے چنگی وصول کرتا تھا۔ پھر معاملے کی تہہ تک پہنچ کر ہی رکتا۔ مگر یہ شبّو تو پوری تتّیا نکلی۔ جسم پر چپک کر خون چوسنے لگی۔ مگر برج بہاری نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی تھیں۔ اس کے دماغ میں ایک ترکیب آئی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ۔ سامنے دکھائی دیا مٹی کا مادھو، مدن موہن!  ارے دماغ میں پہلے یہ کیوں نہیں آیا؟  قربانی کا بکرا سامنے کھڑا ہے اور سرپنچ پریشان!  یہ ضرور بات مان جائے گا اور شبّو سے شادی کر لے گا۔ یہی سوچ کر اس نے مینا سے شبّو کی شادی کی بات چلائی تھی۔

اور مینا اس شادی کی بات سن کر پیلی پڑ گئی تھی۔ ایکدم خاموش!  کوئی جواب نہیں۔ شبّو، بے چین برج بہاری کے ارد گرد بھنبھنا رہی تھی۔ پہلی بار برج بہاری کی کوئی کمزوری اس کے ہاتھ لگی تھی۔ مگر جب برج بہاری نے مدن موہن کے ساتھ شادی کی رشوت دی تو شبّو کھل اٹھی۔ اس کی مردانگی کو وہ ہمیشہ ہی للچائی نظروں سے دیکھا کرتی تھی۔ اسے لگا کہ اب تو قسمت کھل گئی۔ سارے گاؤں ناچی ناچی پھری۔ نیوتا بھی خود ہی تقسیم کرنا شروع کر دیا۔

شبّو کی چھوٹی بہن نکٹو نے جب شبّو کی یہ آن بان دیکھی تو وہ بھی گھس گئی سرپنچ جی کی خدمت کرنے۔ ایسی گھسی کی کئی دنوں تک باہر ہی نہیں نکلی۔ کچھ گاؤں والے باتیں بھی بنانے لگے تھے کہ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ مگر ایسے بھی تھے جو سرپنچ کو بھگوان کاسو روپ مانتے۔ نکٹو ان کے حساب سے ثواب کما رہی تھی۔ سرپنچ کو جب کوئی نیا شکار ملتا، توبس خود ہی پکاتا اور خود ہی کھاتا۔ ویسے کبھی کبھی کچھ بچا کھچا اپنے ان ساتھیوں کے سامنے بھی پھینک دیتا، جو منہ سے رال ٹپکاتے شکار کو گھورتے رہتے۔ اور پھر ساتھیوں پر رعب گانٹھتا، ’’بھائی ہم اکیلے کبھی نہیں کھا سکتے۔ بانٹ کر کھانے کا مزہ ہی الگ ہے۔‘‘

سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی ساتھی لوگ خاموش رہ جاتے۔ ایسا اکثر ہوتا کہ کوئی نئی لڑکی یا عورت دکھائی دیتی اور برج بہاری تین چار یا اس سے زیادہ دنوں کیلئے اپنے کمرے میں بند ہو جاتا۔ اور پھر جب باہر آتا تو پنچایت لگا کر بیٹھ جاتا۔ ایسا چیختا چنگھاڑتا جیسے باہر بیٹھے رات دن کام کرنے والے تو عیش کر رہے تھے اور وہ نکٹو جیسی کسی کے ساتھ بند کمرے میں ان کی ٹوٹی ناک جوڑ رہا تھا۔ سبھی ساتھی سب کچھ سمجھتے تھے مگر صرف اپنی قسمت کی لکیروں سے ناراضگی کا اظہار کر لیتے۔

جب گاؤں والوں تک خبر پہنچی کہ برج بہاری، مدن موہن کی شادی شبّو کے ساتھ کروانے پر تلا ہوا ہے تو وہ بھونچکے رہ گئے۔ کیا نا انصافی ہے!  کتنا ظلم ہے؟  بیچارے مدن موہن نے ایسا کون سا گناہ کر دیا تھا جس کی اتنی بڑی سزا اس کو دی جا رہی ہے۔ کتنی خدمت کرتا ہے بیچارا سرپنچ جی کی اور اس کا یہ بدلہ!

مینا اپنے بیٹے کیلئے گاؤں بھر سے خوشامد کرتی پھری۔ اس کے بیٹے کو سرپنچ کی ہوس کی بھینٹ چڑھایا جا رہا تھا۔ کوئی تو ان پر رحم کر کے برج بہاری سے بات کرے۔ شبّو سے شادی کی خبر سن کر مدن موہن جیسے منوں بوجھ کے نیچے دب گیا تھا۔ مگر وہاں تو سب برج بہاری کے غضب سے ڈرے ہوئے تھے۔ انصاف مانگے تو کون؟  شبّو کے علاوہ بھلا کس میں دم تھا کہ برج بہاری کے خلاف آواز اٹھا سکے۔ بھلا وہ کیوں کچھ کہتی۔ اس کے ہی تومن کی کر رہے تھے سرپنچ جی۔ وہ کب سے اپنی چھوٹی چھوٹی دھنسی ہوئی آنکھیں لگائے ہوئے بیٹھی تھی۔ وہ اپنی ہونے والی شادی کیلئے خود ہی کبھی درزی کے پاس پہنچ جاتی تو کبھی رنگریز کے پاس۔

اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ کوئی بھی اس کی خوشی میں شامل ہونے کے لیے تیار نہیں ہو رہا تھا۔ سبھی مدن موہن کے سوگ میں جھلس تھے۔ سب کے منہ پر ایک ہی بات تھی کہ بیچارا بے موت ہی مارا جائے گا۔ شبّو جب خوشی میں دانت نکالتی تو پائیریا سے متاثر دوچار مسوڑھے فضا میں بدبو پھیلا دیتے۔ مگر اسے کیا فرق پڑتا۔ وہ ہر وقت گنگناتی اور ٹھمک ٹھمک کے ادھر سے ادھر پھدکتی رہتی۔ سنار کے پاس جا کر ماتھے کا ٹیکہ اپنی چھوٹی سی پیشانی پر سجا کر دیکھتی۔ گھنگھرالے سیاہ بال چھپر کی طرح چہرے کے چاروں طرف چھا جاتے۔ چھوٹی گردن، تنگ پیشانی، باہر کو نکلے دانت، ڈارون کی تھیوری کا کوئی شاہکار معلوم ہوتی تھی۔

مدن موہن ابھی تک کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ ساری عمر گدھا بن کر خدمت کی سرپنچ کی۔ باپ جیسا سمجھا۔ کبھی کبھی اپنے من کو سمجھانے لگتا کہ سرپنچ بھی اس سے محبت کرتا۔ نہانے کے لئے خوشبودار صابن اور سال بھر میں دو جوڑے کپڑے بھی لے کر دیتا ہے۔ اور آج تو سرپنچ نے بہت سے نئے کپڑے بنوا کر دیئے ہیں اور نیا جوتا بھی۔ جی چاہتا ہے کہ اسی نئے جوتے سے سرپنچ کی خدمت کرے۔ اب تو شادی کا دن سر پر کھڑا ہے۔

دلہن بنی شبّو کیلئے وقت کاٹنا مشکل ہو رہا تھا۔ وہ بے چین تھی مدن موہن کو دولہے کے روپ میں دیکھنے کیلئے۔ پنڈت جی نے پوجا شروع کر دی۔ مدن موہن کو آواز دی۔ مگر وہ گھر میں ہوتا تو آتا نہ۔ کسی نے بتایا کہ اس نے مدن موہن کو شام کے وقت برگد والے مندر کی طرف جاتے دیکھا تھا۔ ایک ایک کر کے سبھی لوگ اٹھ کر گھروں کو واپس جانے لگے۔

اب شبّو بھی تھکنے لگی تھی۔ برج بہاری بھی ابھی تک نہیں پہنچے تھے۔ شبّو نے اپنے دلہن والے کپڑوں کی بھی پروا نہیں کی، بس اٹھی اور چل دی سرپنچ کے گھر کی طرف۔

٭٭٭

 

 

 

 

ڈھیٹ مسکراہٹیں

 

’’ارے بھئی رانی میری ایڑی کو گدگدا کیوں رہی ہو۔ کیا کرتی ہو بھئی۔ یہ کیا ہو رہا ہے۔ یہ گیلا گیلا کیا ہے۔ ارے اب تو جلن بھی ہو رہی ہے۔ اٹھو جاگو بھی، دیکھو کیا ہو گیا ہے!‘‘

رانی نے انگڑائی لیتے ہوئے کروٹ بدلی اور پھر سے منھ ڈھک کر سو گئی۔

سر جی بولتے رہے، بڑبڑاتے رہے۔ کراہتے بھی رہے۔ رانی خدمت کر کر کے تنگ آ چکی تھی۔ چھوٹی سی بیماری کو پہاڑ بنا دیا کرتے تھے سر جی۔ مگر آج شاید سچ مچ تکلیف میں تھے۔ ایک بار پھر زور سے آواز لگائی، ’’رانی سن نہیں رہی ہو۔؟  میں تڑپ رہا ہوں اور جلن سے جان نکل رہی ہے۔‘‘

رانی ایک جھٹکے سے اٹھی اور ایڑی سے چادر اٹھائی تو دیکھا خون رس رہا تھا اور اچانک وہاں سے ایک چوہا کود کر بھاگا۔ رانی چیخ پڑی۔ گھگھی بندھ گئی اس کی، ’’سر جی چوہا۔ چوہا۔ سر جی۔ بھاگا چوہا۔ وہ۔ بھا۔ لگتا ہے اسی نے کاٹی ہے آپکی ایڑی۔‘‘

یہ سنتے ہی سر جی ٹھنڈے پڑ گئے۔ بدحواسی میں کچھ بھی اناپ شناپ بکنے لگے۔ ’’رانی ڈاکٹر کو بلاؤ۔ نوکروں کو آواز دو۔ اور ہاں ہر طرف چوہے دان لگوا دو ایک چوہا بھی نظر نہ آئے ہمارے گھر کے آس پاس۔ ذرا میری ایڑی کو بھی تو دیکھو۔ کچھ کرو جلدی سے۔ چوہے کا کاٹا تو خطرناک ہوتا ہے۔ زہر پھیل جاتا ہے!‘‘

ڈاکٹر کے انجکشن کے بعد جب طوفان تھوڑا تھما، تب کہیں جا کر رانی کو کچھ سوچنے کا موقعہ ملا۔ اس نے اپنے شوہر کی جانب دیکھا۔ دوبارہ گہری نیند سو گئے تھے۔ وہ شادی کے پہلے دن سے ہی اس کے لئے ’’سر‘‘ بن گئے تھے جو کہ وقت کے ساتھ چلتے چلتے ’’سر جی‘‘ میں تبدیل ہو گیا تھا۔ رانی کو بہت شوق تھا کہ اس کا شوہر اس کا دوست بن جائے، مگر شومیِ قسمت دونوں کی عمروں میں دس سال کا فرق آڑے آ گیا۔

اچانک رانی کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکان ابھر آئی۔ اس کے ذہن میں کھرچ کھرچ کر یادیں اپنی موجودگی کا احساس دلانے لگیں۔ اس کی بددعا پر سر جی کیسی شیطانی ہنسی ہنسے تھے۔ رانی کے دل و دماغ پر یہ بات کہیں بیٹھ گئی تھی کہ چوہے کا سر جی کی زندگی میں لازمی ہی کوئی نہ کوئی اہم مقام بنے گا۔ سلونی اس کے دماغ کو مسلنے لگی تھی۔

اس دن گھر میں اسے کچھ ایسی آوازیں سنائی دی تھیں۔

’’سالی!  حرام خور!‘‘

’’میں تو کہتا ہوں۔ کیا کہا؟ ۔ نہیں آ رہی؟ ۔ میں ذرا کھڑکی کے پاس جاتا ہوں۔ یہ سالے موبائل بھی من مانی کرتے ہیں۔۔ ہاں اب بولو۔ آواز صاف ہو گئی ہے۔ وہ موٹی بھینس ہو گئی ہے۔ بکتی ہے۔ دھندہ خوب چل رہا ہے۔ تمام لوگ اسی کی پرچون کی دوکان سے سودا سلف خریدتے ہیں۔ نہیں یار ایسا نہیں۔ اس کا بیٹا الو کا پٹھا ہے۔ کاہل اعظم۔ ماں کو استعمال کر رہا ہے۔۔ نہیں بھائی کتنی بار بتایا کہ قرضہ لینے دونوں ساتھ آئے تھے۔۔ وہ مکار تقریباً پاؤں پکڑنے ہی والی تھی۔ وہ تو میں نے ہی پاؤں ہٹا لئے۔ میرے تو جوتے ہی گندے ہو جاتے۔ ارے تم فون پر ہو یا پھر کٹ گیا؟ ۔ سالے فون بھی۔‘‘

’’سر یہ بتائیے کہ اب کرنا کیا ہے؟‘‘

’’کرنا کیا ہے۔ پکڑو سالی کو۔ ارے بھائی اڑھائی لاکھ کا معاملہ ہے۔ نہیں دیتی تو پولیس کو ڈالو بیچ میں۔ پولیس اڑھائی کے پانچ نکلوا لے گی۔ تب ہوش آئیں گے ٹھکانے۔ حرام زادی کے۔ نہیں نہیں وہاں کی پولیس نہیں۔ یہاں کا انسپکٹر میرا جاننے والا ہے۔ ہاں، میں اس سے بات کرتا ہوں۔ بڑا ظالم اور رشوت خور ہے۔ تم فون بند کرو۔‘‘

’’انسپکٹر صاحب، یار تم کو اس سے کیا مطلب کہ کتنا بڑا بینک ہے؟  تم اپنا حصہ اسی سے حاصل کر لینا۔ ہاں!  میری طرف سے کھلی چھوٹ ہے۔‘‘

’’پھر تو میں سر، اگلے ہفتے ہی آپکے پیسے نکلوا لوں گا۔‘‘

’’اب میاں، اتنی بھی ڈینگ نہ مارو!  ہم نے پوری کوشش کر کے دیکھ لی ہے۔ تم کو کوئی سخت قدم اٹھانا ہو گا۔ آسانی سے ماننے والی نہیں ہے۔‘‘

’’کیا بات کرتے ہو۔ چوڑیاں پہن رکھی ہیں کیا تم نے؟‘‘

’’نہیں سر، ہم تو سیدھے اس کے گھر پہنچ گئے تھے۔ باہر نکالا اسے، ڈرایا، دھمکایا۔ مگر وہ تو پیر ہی پکڑنے لگی۔ کہتی ہے کہ قرضہ یہ کہہ کر لیا تھا کہ سال بھر بعد اتارنا شروع کریں گے۔ ابھی تو چھ ہفتے ہی اوپر ہوئے ہیں اور بڑے صاحب پیچھے پڑ گئے ہیں۔ منیجر کو روز روز بھیج دیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے اس کے پاس اور کوئی کام ہی نہیں۔ روز میرے گھر آ کر بیٹھ جاتا ہے۔ میں تو اس کے آنے سے ہی ڈر جاتی ہوں۔ اس کی نظر اچھی نہیں ہے انسپکٹر صاحب۔‘‘

’’اوئے سن زنانی۔ میری طرف دیکھ۔ میری نظر کیسی ہے؟  میں تو تجھے ایسا پیلوں گا کہ تو زندگی بھر دیکھتی ہی رہ جائے گی۔‘‘

انسپکٹر نے واپس آ کر صاحب جی کو پوری رپورٹ دی اپنی پہلی ملاقات کی۔ جنرل منیجر صاحب کو متاثر کرنے کے لئے ایک ایک جملے کو کئی کئی بار دوہرایا۔

انسپکٹر صاحب پہلی ہی ملاقات میں آنے والے کل کا پروگرام بنا بیٹھے تھے۔ سلونی کی ٹخنے تک چڑھی گلابی شلوار میں سے موٹی موٹی گول پنڈلیاں جھانک رہیں تھیں – وہ بھی گلابی گلابی۔ پیر موٹے موٹے گدی دار ڈبل روٹی جیسے، مگر کھردرے کھردرے۔ موٹے موٹے ناخن۔ گہری لال نیل پالش، شاید سال بھر پہلے لگائی تھی، اب دیوار کے چونے کی طرح جگہ جگہ سے اکھڑی ہوئی تھی۔ لگتا تھا کہ ان پیروں کو زندگی میں کبھی بھی جھانوے سے نہیں رگڑا گیا ہو۔ ٹیڑھے میڑھے نوکیلے میل بھرے موٹے موٹے ناخن۔

انسپکٹر نے بہت باریکی سے ’’سر جی‘‘ کا کام کیا تھا۔ اس کو خوب اچھی طرح سے دیکھ لیا تھا۔ انسپکٹر جب چلنے لگا تو سلونی نے ہاتھ جوڑ کر گڑگڑاتے ہوئے کہا، ’’انسپکٹر جی رحم کرو۔ ہم غریب لوگ ہیں۔ غریبی سے تنگ آ کر قرضہ لینا پڑ گیا۔ منیجر صاحب نے تو خود ہی کہا تھا کہ بینک سے پیسے لے کر کوئی دھندہ شروع کر لو۔ بڑے صاحب سے بھی انہوں نے ہی ملایا تھا۔ اب سب بھول گئے کہ میں نے دھندہ چل جانے پر پیسہ واپس کرنے کا وعدہ کیا تھا۔‘‘

’’اری، دھندے کی اولاد، اگر وہ دھندہ نہیں چلتا تو کوئی اور دھندہ کر لے!‘‘

’’ساب جی، تھک گئی ہوں۔‘‘

’’ابھی سے تھک گئی ہے؟  ابھی تو تم نے مجھے دیکھا ہی نہیں۔‘‘

’’دیکھ تو رہی ہوں، انسپکٹر ساب گذارش بھی کر رہی ہوں۔ اور کیا کروں؟‘‘

’’بیٹا کہاں ہے تیرا؟‘‘

’’اندر گھر میں بیٹھا ہے۔ بری طرح سے ڈرا ہوا ہے۔‘‘

’’گھر میں کیوں بیٹھا ہے؟  کام پر کیوں نہیں جاتا؟‘‘

’’ماں، یہ انسپکٹر جی کیوں آئے ہوئے ہیں؟‘‘اتنے میں بیٹے نے باہر سے آتے ہوئے پوچھا۔

’’ارے یہ تو باہر سے آ رہا ہے۔ توُ تو کہہ رہی تھی کہ گھر کے اندر بیٹھا ہے۔‘‘

’’ساب جی زمانہ ہی ایسا ہے۔ بیٹوں کو گھر میں نہ بٹھائیں تو ہم کو تو گدھ نوچ ڈالیں۔‘‘

’’توُ تو جھوٹ بول رہی تھی!  مجھ سے جھوٹ؟  جانتی نہیں ہے، پولیس کا انسپکٹر ہوں۔ کمرے میں بند کر کے سب اگلوا لوں گا۔ سمجھی کے نہیں!‘‘

’’سر جی، آپ سمجھے نہیں۔ اپنی عزت بچانے کے لئے بیٹے کا جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔‘‘

’’توُ کیا سمجھتی ہے بیٹے سے میں ڈر جاؤں گا؟  اس پر کوئی بھی الزام لگا کر چار دن کے لئے حوالات کی ہوا کھانے بھیج دوں گا؟ ۔ اچھا اب بتا سر جی کے ساڑھے تین لاکھ کب دے رہی ہے؟‘‘

’’انسپکٹر جی، ساڑھے تین نہیں اڑھائی لاکھ۔‘‘

’’تو پھر میرا حصہ کہاں گیا؟‘‘کم سے کم ایک لاکھ تو میرا بھی بنتا ہے نہ۔ چل اب جلدی جلدی بتا کہ کب اتار رہی ہے قرضہ۔ یا پھر اتاروں تیری گلابی شلوار؟‘‘

’’ہائے ہائے، انسپکٹر جی، کیسی باتیں کرتے ہو؟  بھلا شلوار اتارنے سے کیا پیسے مل جائیں گے؟‘‘

’’بہت زبان چلاتی ہے۔ زبان کاٹ کر گلابی شلوار میں ڈال دوں گا۔‘‘

’’انسپکٹر جی میری گلابی شلوار کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو؟  میں کہہ تو رہی ہوں تھوڑا ٹیم دے دو۔ میں ایک ایک پیسہ اتار دوں گی۔‘‘

’’چل میں اب چلتا ہوں۔ دو دن کا اور ٹیم دیا۔ بیٹے کو کام پر بھیجنا نہ بھولنا۔‘‘

’’سر جی بڑی دبنگ زنانی ہے۔ برابر سے زبان چلاتی ہے۔ میں نے بہت کوشش کی روپیوں کی بات کرنے کی پر گھما پھرا کر چکر دینے کی کوشش کرتی رہی۔‘‘

’’انسپکٹر اگر تم کو چکر دینے کی کوشش کرتی ہے تو اس کا مطلب ہوا منیجر سچ ہی بول رہا تھا کہ کام کی بات پر آنے ہی نہیں دیتی۔‘‘

’’سر جی وہ موٹی بھینس اپنا نام سلونی بتاتی ہے۔‘‘

’’ارے بھائی کبھی جوانی میں رہی ہو گی سلونی۔ ویسے اب کیا عمر ہو گی اس کی؟‘‘

’’یہی کوئی تیس پینتیس سر جی۔‘‘

’’یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ بیس کا تو بیٹا ہی ہے اس کا۔‘‘

’’چلیے چالیس سمجھ لیجیے سر جی۔ مگر کیا گدرائی ہوئی ہے سر جی!‘‘

’’تمہارا دماغ چکرا گیا لگتا ہے انسپکٹر جو مجھ سے ایسی باتیں کر رہے ہو۔ کبھی کسی کی ہمت نہیں ہوئی مجھ سے اس طرح بات کرنے کی۔‘‘

’’سر جی آپ ہی تو اس کی عمر پوچھ رہے تھے۔ میں نے تو بس تھوڑی ڈیٹیل میں بتا دی۔‘‘

’’کام کی بات کرو انسپکٹر، پیسوں کا کیا ہوا۔‘‘

’’سر جی وقت مانگ رہی ہے، یعنی کہ وقت مانگ رہی ہے۔ میں نے دو دن کا کہہ دیا ہے۔‘‘

’’کیا پورے پیسے اتار دے گی؟ ۔ مانگے کتنے ہیں؟‘‘

’’وہی جو آپ نے کہے تھے۔‘‘

’’اپنا حصہ مجھ سے مت مانگنا۔ بینک ایسے ویسے کام نہیں کرتا۔‘‘

’’سر جی بینک تو آپ خود ہی ہو۔ یہاں کون بیٹھا ہے جو آپ سے پوچھ تاچھ کر سکے۔‘‘

’’دھیان سے بولا کرو انسپکٹر۔ جو منہ میں آتا ہے بول دیتے ہو۔ تم جیسے لوگوں کے منہ پر بھی تو پلاسٹر لگانا ہوتا ہے نہ۔ وہ کام ہمارا بینک نہیں کرتا۔ ہمیں آپ ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کس کو کیا دینا ہے۔ بھئی کام تو نکالنا ہوتا ہے نہ۔‘‘

’’سر جی میرا حصہ تو آپ ہی کو دینا ہو گا۔ اس کمینی سے تو آپ ہی کے پیسے نکلوانے مشکل لگ رہے ہیں۔‘‘

’’ارے بھائی تم نے مانگے تو ہوتے۔‘‘

’’سر جی، رونے پیٹنے لگی۔ میرے بھی پاؤں پکڑنے لگی۔ میں نے تو ایک ٹھڈا بھی مارا۔ گر پڑی۔ موٹی موٹی پنڈلیاں کیلے کے تنے کی طرح، چکنی چکنی گول گول، گلابی شلوار کے باہر جھانکنے لگیں۔‘‘

’’انسپکٹر، تم مزے لوٹ کر آئے ہو۔‘‘

’’نہیں نہیں، سر جی بھگوان قسم، نہیں۔‘‘

’’ارے بھابھی جی، آپ!  نمستے۔‘‘ رانی کو بیٹھک کی جانب آتے ہوئے دیکھ کر انسپکٹر کھڑا ہو گیا۔ ’’اچھا سر جی میں چلا، رپورٹ دیتا رہوں گا۔‘‘

رانی نے چہرے پر مسکراہٹ لائے بغیر نمستے کا ایک سپاٹ سا جواب دیا اور سر جی کے ہاتھ میں گھر کا فون تھماتے ہوئے کہا، ’’لیجیے، آپکے منیجر کا فون ہے۔‘‘

شوہر بہادر نے فون ہاتھ میں لیتے ہوئے اپنا حکم بھی سنا دیا، ’’رانی، ناشتہ لگوا دو آج بینک جلدی جانا ہے۔‘‘

’’آپ کو تو روز ہی جلدی جانا ہوتا ہے اور دیر سے واپس آنا ہوتا ہے۔ ویسے یہ انسپکٹر روز روز کیوں آ کر ہمارے گھر میں بیٹھ جاتا ہے۔ پولیس والوں کا اس طرح ہمارے گھر آنا اچھا نہیں لگتا۔ آپ اسے بینک میں ہی بلا کر مل لیا کیجئے۔ میرے گھر کو پاک ہی رہنے دیجیے۔‘‘

’’تم کہنا کیا چاہتی ہو، کہ بینک ناپاک ہوتا ہے؟‘‘

’’ہوتا نہیں، بنا دیا جاتا ہے۔ جیسے اہلکار ہوتے ہیں ویسا ہی ماحول بنتا ہے۔ آپ شاید بھول گئے کہ منیجر ابھی بھی فون لائن پر موجود ہے۔‘‘

’’تم باہر جاؤ تو بات کروں۔‘‘ رانی نے ان کی جانب شک بھری نظروں سے دیکھا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔

کھانے کے کمرے میں میز پر چیزیں رکھنے کی آوازیں آنے لگیں۔ کباب اور گرم گرم آملیٹ کی خوشبو پھیل گئی۔ ’’سر جی، آ جائیے نہیں تو پراٹھے ٹھنڈے ہو جائیں گے۔‘‘

سر جی اپنے منیجر سے بات ختم کرنے کے بعد ہی آئے اور آتے ہی بولے، ’’ارے بھئی، سوجی کا حلوہ کہاں ہے؟‘‘

’’آج پراٹھے بنوائے تھے، اس لئے سوجی کا حلوہ نہیں بنوایا۔ میٹھی سوئیاں بنی ہیں۔‘‘

’’چلو ٹھیک ہے۔ آج اس وقت تو چل جائے گا مگر رات کے کھانے پر بنوا لینا۔ ہاں بھنے قیمے کے ساتھ ساتھ بکری کے گوشت کا اسٹو بھی بنوانا۔ پوری کے ساتھ اچھا لگے گا۔‘‘

رانی سنتی رہی۔ ہاں ہاں کرتی رہی اور سوچتی رہی کہ ہارٹ اٹیک کے بعد سے ڈاکٹر نے سادہ کھانا کھانے کی ہدایت کی تھی، وزن کم کرنے کو کہا تھا، سگریٹ بالکل بند کرنے کو کہا تھا، ورزش اور سیر کرنے کی تاکید کی تھی۔ مگر سر جی کو تو اپنی من مانی کرنی ہوتی ہے۔ مگر رانی ہمت نہیں کر پائی کہ انہیں کو یاد دلا سکے۔

سر جی کو تو یہ بھی پسند نہیں تھا کہ انہیں کوئی نام لے کر پکارے۔ پہلی بار ہی رانی کے ایسا کرنے پر انہوں نے اسے جھڑک دیا تھا۔ پھر رانی تو عمر میں بھی ان سے دس بارہ سال چھوٹی تھی۔ کئی بار تو لوگ باگ اسے سر جی کی بیٹی ہی سمجھ لیتے تھے۔

سر جی کو اس بات کا بھی خاصا غرور تھا کہ ان کی بیوی ان سے اتنی چھوٹی ہے۔ یار دوستوں سے مونچھوں پر تاؤ دے کر کہتے، ’’میاں اتنی چھوٹی لڑکی سے شادی کرنے کے لئے بڑی ہمت چاہئے۔ بیچاری چھوٹی لڑکیاں، شادی کے بعد بوڑھے شوہر میں اپنا جیون ساتھی، اپنا دوست ڈھونڈتے ڈھونڈتے اپنا پوری زندگی ختم کر دیتی ہے۔ اس کا اپنا وجود تو کچلا جاتا ہے، مگر اس کی زندگی اپنے بوڑھے شوہر کو کبھی باپ کی طرح تو کبھی مالک کی طرح دیکھ بھال میں گزر جاتی ہے۔‘‘ رانی گھر کی رانی تو بن گئی، مگر کبھی بھی سر جی کے سپنوں کی رانی نہیں بن پائی۔

سر جی تو شاید سپنے دیکھتے ہی نہیں تھے۔ کھڑا کھیل کھیلتے تھے۔ رات کو شراب کے نشے میں ڈوبے ہوئے جب آتے تو رانی کو لازمی آواز لگاتے، جوتے اتارنے کے لئے۔ بس پھر لڑھک جاتے بستر پر۔ سارا گھر جیسے شیر کی گرج سے گونجنے لگتا۔ ان دھواں دھار خراٹوں میں رانی کو نیند نہ جانے کیسے آتی ہو گی۔

خراٹوں سے بھی کہیں زیادہ رانی شراب کی بدبو سے پریشان رہتی۔ آواز کا علاج تو ہو سکتا ہے، کان میں روئی ٹھونس کر۔ مگر ناک میں روئی ٹھونسنے سے تو دم گھٹنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ حالانکہ رانی کا دم تو ویسے ہی گھٹتا رہتا تھا سر جی کے سامنے۔

صبح سویرے دروازے پر گھنٹی بجی۔ رانی دوڑی دروازے کی اور تاکہ گھنٹی کے شور سے سر جی کی نیند میں خلل نہ پڑے۔ مگر اس کے دروازے تک پہنچتے پہنچتے سر جی کی دہاڑ سنائی دے گئی، ’’رانی، منیجر ہو گا۔ اس کو بیٹھک میں بٹھا دو اور چائے بھجوا دو ہم دونوں کے لئے۔‘‘

’’سر جی، بڑا غضب ہو گیا۔ انسپکٹر تو دن رات سلونی کے گھر کے چکر لگاتا رہتا ہے۔ نہ معلوم کیا گھٹ رہا ہے دونوں میں۔‘‘

’’تم کو کیسے معلوم ہے کہ انسپکٹر روز روز چکر لگا رہا ہے؟‘‘

منیجر ہڑبڑا گیا، سنبھلتے ہوئے بولا، ’’آتے جاتے لوگ تو دیکھتے ہیں نہ سر جی۔ وہی بات کو ہر طرف پھیلاتے ہیں۔‘‘

’’یار میں نے تو سنا ہے کہ تم پیسہ لانے کے بجائے الٹے اسے پیسے دے آئے ہو – اس موٹی بھینس کو۔‘‘

’’سر جی ایسی کوئی خاص موٹی بھی نہیں ہے۔ گدرا انار ہے!‘‘

’’تم تو اس کے پیار کے جال میں پھنسے ہوئے لگتے ہو۔‘‘

’’پیار ویار کیا سر جی، دو چار بار دل بہلا لینے کو پیار تھوڑے ہی کہتے ہیں۔ پریم تو میں اپنی بیوی سے ہی کرتا ہوں۔‘‘

’’تبھی پرائی عورتوں کی چوکھٹیں چاٹتے پھرتے ہو۔‘‘

’’نہیں سر جی، ایسا نہیں ہے۔ سلونی جیسی ملے تو۔‘‘

’’سنو۔ اٹھو اور باہر نکلو یہاں سے۔ یہ شریفوں کا گھر ہے۔ یہاں یہ غنڈہ گردی کی باتیں نہیں ہونی چاہئے۔‘‘ سر جی نے دیکھ لیا تھا کہ رانی قریب ہی کھڑی گل دان میں پھول لگا رہی تھی۔ فوراً باتوں کا رخ ہی بدل دیا سر جی نے۔ بڑے استاد ہیں سر جی۔ منیجر اور انسپکٹر تو ان کے سامنے کچھ بھی نہیں۔

منیجر کے باہر جاتے ہی سر جی نے آواز دی، ’’رانی ذرا گھر والا فون دینا تو۔‘‘

’’گھر والے فون سے تو آپ کو گندے لوگوں کو فون بھی نہیں کرنا چاہئے۔ فون بھی ناپاک ہو جاتا ہے۔‘‘

’’ارے بھئی اگر تم اتنی بڑی سنیاسن ہو گئی ہو تو پہن لو بھگوا چولا، چمٹا بجاتی ہوئی چلی جاؤ ہری دوار۔‘‘

رانی چپ رہی۔ وہ سمجھدار ہے، شوہر سے بحث میں نہیں پڑنا چاہتی۔ وہ اپنی بات کہنے سے چوکتی بھی نہیں مگر لڑائی بھی نہیں کرتی۔ اسی لئے من ہی من سر جی دکھانے کو تو شیر بنے رہتے ہیں مگر اصل میں رانی سے رعب کھاتے ہیں۔

جیسے ہی رانی کمرے سے باہر نکلی، سر جی نے موبائل سے انسپکٹر کو فون ملایا۔ سگنل کمزور تھے۔ بھائیں بھائیں کی آواز ہو کر کال بند ہو گئی۔ ’’یہ۔ موبائل بھی من مانی کرتے ہیں۔‘‘ سر جی نے کھینچ کر موبائل دیوار پر دے مارا۔ سامنے دیوار پر رانی اور سر جی کی بڑی سی فوٹو لگی ہوئی تھی۔ موبائل فون سیدھا جا کر فوٹو میں سر جی کے منہ سے ٹکرایا۔ شیشہ مکڑی کے جالے کی طرح چکنا چور تو ہوا مگر وہیں چپکا رہا، نیچے نہیں گرا۔ ساتھ میں رانی کی تصویر ویسے ہی مسکراتی رہی جیسے کہہ رہی ہو، ’’سر جی، ابھی تو فوٹو پر اٹیک ہوا ہے، آیندہ کیا پتہ!‘‘

رانی سب سمجھتی تھی کہ منیجر، انسپکٹر اور اس کا اپنا پتی مل کر کیسی کیسی باتیں کرتے ہیں۔ پتی کا تہذیب نام کی چڑیا سے کچھ بھی لینا دینا نہیں تھا۔ جنگلی پودوں کی طرح اس کا جنم ہوا تھا اور ویسے ہی جیسے تیسے بڑا ہو گیا تھا۔ تگڑم باز تھا، اس لئے بی اے پاس کرتے ہی بینک میں کسی بھی طرح نوکری پا لی۔ اپنے افسروں کو خوش رکھنا آتا تھا، اس لئے ترقی ہو جاتی۔ اب ایسے شہر میں تبادلہ ہو گیا تھا جہاں کے لوگ پیسے والے تھے۔ ان کا ایمان بھی پیسہ ہی تھا۔ پولیس والوں کے تو یہاں مزے تھے۔

مزے تو سر جی کے بھی تھے۔ بینک سے ایڈوانس دیتے اور اپنی بچت اپنے اکاؤنٹ میں جمع کرا دیتے۔ کروڑوں کے مالک بن گئے تھے بینک کو چوس رہے تھے پر سلونی کے ڈھائی لاکھ روپے وصولنے کے لئے جان لگائے دے رہے تھے۔ کبھی منیجر کو اور کبھی انسپکٹر کو بار بار اس کے گھر بھیجتے اور مزے لے لے کر اس کی پنڈلیوں اس کے بدن کے رنگ اس کے الجھے ہوئے بالوں کے بارے میں پوچھتے۔ گلابی شلوار کے ذکر سے جھر جھرا جاتے۔

یہ پوری کوشش کرتے کی یہ دونوں وہاں زیادہ دیر تک رکنے نہ پائیں۔ ٹائم کا پورا حساب مانگتے۔ اور یہ بھی کہتے جب بیٹا گھر میں ہو تبھی جایا کرو۔ مگر پکڑو اسے گردن سے۔ حرام کا پیسہ نہیں ہے۔ بینک کو کیا حساب دیا جائے گا۔

’’دیکھو بھئی انسپکٹر اگر یہ کیس تم سے نہیں سنبھل رہا تو جواب دے دو میں کسی اور کو لگاؤں۔‘‘

انسپکٹر آیا ہوا مال کیسے جانے دیتا۔ جلدی سے بولا، ’’سر جی آپ کا کہا مانتا ہوں۔ لے جاتا ہوں اور بھی سپاہی اس کے گھر اور وہی کام کرتا ہوں جو چوہے والا آپ کا آئیڈیا ہے۔‘‘

’’ارے انسپکٹر اس وقت تو میں بھی وہاں ہونا چاہوں گا۔ تماشا دیکھوں گا۔ جب اس کے بدن کا ایک ایک انگ الگ الگ کانپے گا۔ کرتے سے جوانی باہر نکل پڑے گی۔‘‘

’’جی سر جی تو رکھ لیتے ہیں یہ پروگرام آج سے دو دن کے بعد۔ سب افسروں کی چھٹی ہو گی۔ کوئی سننے والا بھی نہیں ہو گا۔‘‘

ان دو دنوں کے دوران انسپکٹر دو بار اس کے گھر ہو آیا بیٹے کو باہر بھیج کر۔ یہی لالچ دیتا کہ تیرے پیسے معاف کروا دوں گا سر جی سے کہہ کر۔

اور آج دو دن بعد سر جی کو بھی ساتھ دیکھ کر خوش ہو گئی سلونی کہ سر جی پیسے معاف کرنے آئے ہیں۔

مگر ساتھ میں تو دو لیڈی کانسٹیبل بھی تھیں۔ ان لوگوں نے پہنچتے ہی ایک گندی سی گالی دے کر کہا کہ سر جی کے پیسے کھا کر بیٹھی ہے، دیکھ کیسی جوانی پھوٹ رہی ہے۔ ابھی نکلواتے ہیں تجھ سے پیسے۔

سلونی پریشان ہو گئی۔ ہاتھ پیر جوڑ نے لگی کی تھوڑا اور ٹائم دے دیا جائے۔ ایک لاکھ اس نے جوڑ لئے ہیں۔ بیٹا گیا ہوا ہے کہیں سے ادھار مانگنے۔ سر جی تو خوش ہو گئے چلو اچھا ہوا بیٹا نہیں ہے یہاں۔ سر جی اس کو اس کی کالی کوٹھری میں لے گئے۔

’’سر جی یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ رحم کرو سر جی۔ میں تو انسپکٹر اور منیجر کو آپ کے نام سے ڈرایا کرتی تھی۔ وہ دونوں حرامی ٹھٹھا مار مار کر ہنسا کرتے تھے۔ ایک دوجے کو آنکھ بھی مارا کرتے تھے۔ نہیں نہیں سر جی آپ تو میرے باپ جیسے ہیں۔ کیسی گلابی شلوار؟  سر جی یہ تو لال تھی۔ رنگ اڑ گیا ہے۔‘‘

’’رنگ تو اب تیرا اڑے گا، ایسے تھوڑے ہی چھوڑ دوں گا۔‘‘

’’نہیں، نہیں۔ نہیں۔ سرجی۔ سرجی۔‘‘

سلونی کی ہائے ہائے کا شور باہر قطار میں لگے سب سنتے رہے۔ ڈھیٹ مسکراہٹیں ان کے چہروں پر دکھائی دے رہی تھیں۔ اپنی اپنی باری کی راہ دیکھ رہے تھے۔

سر جی سینہ پھلا کر نکلے ہی تھے کہ دونوں بھینس جیسی موٹی پولیس والیاں لائن توڑ کر اندر گھس گئیں اور اپنی ڈیوٹی بجانے لگیں۔ اس کی گلابی شلوار کو کھینچ کر دونوں پائینچے نیچے سے باندھ دیئے اور اوپر سے نیفے کے پاس سے ہاتھ اندر ڈال کر چوہا اندر چھوڑ دیا اور شلوار اوپر سے کس کر باندھ دی۔ سلونی کو اس وقت تک کچھ سمجھ میں نہیں آیا، جب تک چوہے نے اس کی شلوار میں دوڑنا نہیں شروع کیا۔ وہاں سلونی کی چیخ پکار سننے والا کوئی نہیں تھا، سب ایک آواز یہی کہہ رہے تھے۔ ’’اب نکال پیسے کہاں چھپا کر رکھے ہیں۔‘‘ وہ تڑپ رہی تھی اور سب ہنس رہے تھے۔ اس کی آواز آسمان سے ٹکراتی دھرتی پر پھیل کر گم ہو جاتی۔ ہاتھ اس کے بندھے ہوئے تھے۔ عورتوں کو عورت ہونے کا واسطہ دیتی پر وہاں تو سب درندے تھے۔ تماشا دیکھنے آئے تھے پیسہ نکلوانے کے نام پر۔

سر جی گھبرا کر اٹھ کر بیٹھنے لگے، ادھر ادھر ٹٹولنے لگے کہ کہیں چوہا ان کے پاجامے کے اندر تو نہیں گھس گیا۔ سردی لگ کر بخار چڑھنا شروع ہو گیا تھا۔ ایڑی درد اور جلن سے پھٹی جا رہی تھی اور سوج بھی گئی تھی۔ ڈاکٹر بلاؤ، ڈاکٹر بلاؤ!  پاگلوں کی طرح چیخ رہے تھے سرجی۔ ارے رانی میرے پائینچے کا خیال رکھنا کوئی نیچے سے باندھ نہ دے۔

٭٭٭

 

 

 

 

بیچاری ایڈیٹ!

 

لال پیلی اور نیلی روشنیاں۔ گول گول چھوٹے بڑے رنگین شیشے کے فانوس اور لٹکتے ہوئے قمقمے۔ کمرے میں بیٹھے سبھی مردوں عورتوں کے زندہ دل قہقہے اور ان کے کپڑوں میں بس دو ہی رنگ خاص روپ سے ابھرتے دکھائی دے رہے تھے۔ لال اور کالا!

عورتوں کے لال بلاؤز، تکونے نیچے کٹ والے گلے، جو عورتوں کے عورت ہونے کی بھرپور گواہی دے رہے تھے۔ کولہوں پر پھنسی ہوئی اسکرٹ۔ بس لال اور کالے ڈریس۔ مردوں کے کالے سوٹ جو کہ خوشی اور غم دونوں موقعوں پر پہن لئے جاتے ہیں۔ گلے سے لٹکی لال دھاری دار یاسادی لال سپاٹ ٹائیاں، بالکل رینکا کے زندگی کی طرح سپاٹ۔

جم مارشل اپنے چہیتے گروپ کے ساتھ گھرا بیٹھا تھا۔ ریڈ وائن، وہائٹ وائن اور اکڑوں بیٹھا چھوٹا، موٹا سا وہسکی آن دی راکس کا آدھا خالی گلاس، جم کے سامنے پڑا ہوا تھا۔ اس کے چہرے کا سفید رنگ، لال ہو گیا تھا اور سردیوں میں پسینے کے قطرے منہ پر ابھر رہے تھے۔ ارتھ شاستر اور سیاست کے داؤ پیچ، الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے ممکنہ طریقے چل رہے تھے۔ جم کی آواز سے خود اعتمادی جھلک رہی تھی، کیونکہسٹی الیکشن ہارنے کے بعد وہ ابھی ابھی لندن اسمبلی کا الیکشن جیت کر آیا تھا۔ مخالف پارٹی کے بڑے نامی کونسلر کو ہرایا تھا اور اب پھر سے میئر کا الیکشن لڑنے کا پلان بنا رہا تھا۔ موسیقی کی آواز دھیمی پڑ گئی تھی جم کی آواز کے سامنے۔ جم افق کا پنچھی بنا اونچے آسمانوں میں تیرتا ہوا، سب کو اوپر سے نیچے دیکھ رہا تھا، لیکن اس کی بصارت کے دائرے میں رینکا کہیں نہیں فٹ ہو پا رہی تھی۔

رینکا اپنی جانب سے سج دھج کر بجلی گرانے کے لئے تیار ہو کر آئی تھی – مخمل کا لال کوٹ پہنے، بالوں کو اونچا کر کے باندھے اور ایک لال گلاب بالوں میں سجا کر جس کا لال رنگ اس کی لال لپ اسٹک سے میچ کر رہا تھا۔ وہ کمرے میں آتے ہی ٹھٹک گئی۔ ہوٹل کا یہ کمرہ اتنا سجا سجایا، اہلکاروں، کونسلروں اور ممبرز سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ کمرہ بھرا ہوا تھا، لیکن رینکا خود کو خالی سا محسوس کرنے لگی۔ یہ ساری سجاوٹ، یہ تمام جگمگاہٹ، اس کی کوششوں کے بغیر ہو کیسے گئی۔ اس کو بھنک بھی نہیں پڑی اور یہ سب ہو گیا؟  پہلے تو جم اس کے مشورے کے بنا کچھ بھی نہیں کرتا تھا۔ در اصل جم کے سبھی کاموں کو فقط رینکا ہی سرانجام دیتی تھی۔

اتنا بڑا کام، نہ تو اس کی کوئی مدد مانگی اور نہ ہی کوئی بات کی!  وہ تو جم کی رگ رگ سے واقف تھی۔ جم کی بھلائی کا دھیان رکھتے ہوئے کیمپیننگ کی تیاری کرنا اور سب کو حکم دینا کی کون کس ٹیم میں ہو گا اور کس سڑک پر جانا ہے۔ کرسمس کی پارٹی میں کتنے لوگ آئیں گے۔ کون اہم ذمے داری لے گا۔ یہ سب فیصلے تو وہ ہی لیا کرتی تھی۔ جم کی انتخاب میں ہوئی ہار کے بعد جیسے وہ جم کو بھی ہار چکی تھی۔ وہ دباؤ سا محسوس کرنے لگی۔ آج وہ سب کچھ ہو گیا، جس کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ پھر بھی اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے، گردن اونچی کی اور جم کے سامنے پہنچ گئی۔ جم کی ایک طرف اس کی پارٹنر بیٹھی تھی تو دوسری طرف پارٹی کی ملکی نمائندہ۔ وہ پارٹی نمائندے کے ساتھ بات چیت میں مشغول تھا۔ ہاری ہوئی رینکا نے کہا، ’’ہیلو جم۔ کیسے ہو؟‘‘

جم نے فقط وضعداری نبھاتے ہوئے کہا، ’’ہیلو رینکا، بہت دنوں بعد دکھائی دی ہو۔ سب ٹھیک ہے۔‘‘ اور وہ واپس پارٹی نمائندے کی جانب متوجہ ہو گیا۔

بھیگی آنکھیں لئے رینکا وہاں سے واپس مڑ گ ئی۔ ایک وہ بھی زمانہ تھا، جب سب کے بیٹھنے کی ترتیب رینکا طے کیا کرتی تھی۔ آج اسے خود ہی نہیں پتہ تھا کہ اسے بیٹھنا کہاں ہے۔ وقت کتنی تیزی سے بدل جاتا ہے۔

تیزی جم کی شخصیت کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ رینکا کو یاد ہے کہ جم کیمپیننگ کے دوران بہت تیز چلتا تھا۔ لگ بھگ دوڑنے لگتا تھا۔

اس دن بھی وہ اتنا ہی تیز چل رہا تھا۔ رینکا لگ بھگ دوڑ ہی رہی تھی اس کو پکڑنے کے لئے۔

پر اس تک پہنچنا نا ممکن لگ رہا تھا۔ دوڑتے دوڑتے چلا چلا کر سوال کرتی جاتی تھی کہ اب کس سڑک پر کیمپیننگ کرنے جانا ہے۔ یہی سوال پیٹر اس سے بار بار بغیر دوڑے پوچھ رہا تھا کہ اب کس سڑک پر کیمپیننگ کے لئے پوری ٹیم کو لے چلوں؟

جم مارشل ہر ہفتہ اور اتوار کو کیمپیننگ رکھ لیتا۔ بال بچے تو تھے نہیں جن کوئی ذمہ داری ہوتی۔ بیوی اپنے کاموں میں مصروف ہوتی، ہومیوپیتھی کالج سے ڈگری لی ہوئی تھی۔ جو علوم و فنون ہمارے یہاں سے دم توڑ چکے ہیں، وہ ابھی برطانیہ میں زندہ ہیں۔ ہومیوپیتھی سے اچھی خاصی آمدنی ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی اس کی بیوی وقت نکال کر کبھی کبھی کیمیپننگ کر لیا کرتی۔ مگر دوسرے کارکن آنا کانی کرتے چھٹی کے دن گھر گھر دروازہ کھٹکھٹانے سے۔ جم مارشل بگڑ جاتا کہ رینوکا اس کے لئے دوسروں کو کیوں نہیں منا لیتی۔!

ہر سیاسی پارٹی کا دارومدار بہت کچھ اس کے کارکنان پر ہی منحصر ہوتا ہے۔ جتنے فعال، محنتی اور پارٹی سے عقیدت رکھنے والے کارکن ہوتے ہیں اتنی ہی پارٹی مقبول بنتی ہے۔

رینوکا نے آتے ہی سارے کارکنوں کی ایک فہرست بنا کر فوج میں بھرتی کرنے جیسی پلٹن تیار کر لی تھی۔ شیما وغیرہ دیکھتی رہ گئیں کہ رینوکا کس طرح کام کرتی ہے۔ کتنی تندہی سے۔ کام کے درمیان کس طرح مگن ہوتی ہے۔ ناک کو سکیڑ کر اس اوپری حصے پر بڑی بڑی سلوٹیں اور اسی سے لگی پیشانی پر کھڑی کھڑی موٹی موٹی لکیریں، کبھی ناک کو پھلا لیتی تو کبھی پچکا دیتی، لیکن صاف پتہ لگتا کہ اندر کوئی منصوبہ بنا رہی ہے، جو کہ فوراً کاغذ پر اتر آئے گا اور اس کے مطابق سب کو فعال کر کے سڑک پر گھر گھر بھاگنا پڑے گا۔ ایک دھن رہتی رینوکا کو، کہ جیسے بھی ہو جم کا کام پورا ہو جائے۔ زیادہ سے زیادہ ووٹرز کی شناخت ہو جائے اور چار سال کے بعد دوبارہ جم مارشل ہی ایم پی بنے۔ چاہتے تو سب یہی تھے پر رینوکا کی طرح کسی نے جان کی بازی نہیں لگائی ہوئی تھی۔

جب تک رینوکا آفس نہیں آتی تو سب کی گفتگو کا موضوع وہی ہوتی۔ کوئی تو آنکھ مار کر اس کی باتیں کرتا، تو کوئی ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ جما کر اور تو کوئی بھونڈے انداز میں آواز کس کر۔ لیکن جیسے ہی وہ آ جاتی تو سب اسی سے باتیں کرنے لگتے، ایسے جیسے اتنی دیر سے خاموش بیٹھے ہوں اس کے انتظار میں اور اس سے باتیں کرنے کو بے چین۔ یا سیاسی بحث میں مصروف ہوں۔

نفاق کا بھی ایک حیرت انگیز مقام ہوتا ہے سیاست میں، جو اس کا اٹوٹ انگ بھی سمجھا جاتا ہے۔ جھوٹ بولنا بھی برا نہیں سمجھا جاتا۔ جھوٹ بول کر کوئی کام سر انجام دے جانا سیاست کی دنیا میں داؤ کہلاتا ہے۔ کارکنوں میں سے شاید ہی رینوکا کو کوئی پسند کرتا ہو، لیکن اسے کیا فکر وہ تو جم کی ہی پسند بن کر رہنا چاہتی تھی۔ سب سے بھڑنے کو تیار۔ جم یہ سب اپنی سہولت کے مطابق لگتا تھا۔ وہ بھی اسے اپنی ڈھال بنائے ہوئے تھا۔

ڈھال تو وہ تھی۔ وار بھی کرتی تھی، لیکن ڈانٹ بھی جی بھر کر کھاتی تھی۔ ایسا لگتا جیسے جم نے اسے غلطی کرنے کا حق نہیں دیا ہے۔ ایک بار تو جم غصے سے پاگل ہوا جا رہا تھا۔ وہ کچھ کینوس شیٹس لانا بھول گئی تھی۔ عادت تو اس نے خود ہی خراب کی تھی۔ ہمیشہ فالتو شیٹس رکھ لاتی تھی۔ اس دن بالکل صحیح حساب سے لائی تھی، پر جم کو اپنی مرضی چلانا بالکل پسند نہیں تھا۔ فیصلہ وہ خود ہی لیتا۔ ناراض ہو کر اس کو ’’یو ایڈیٹ‘‘ تک کہہ دیا۔

مگر رینوکا نہ جانے کس مٹی کی بنی ہے۔ اس جم کی کوئی بات بری ہی نہیں لگتی۔ پھر چاہے وہ محبت سے کہے یا ڈانٹ سے۔ وہ صرف ڈھٹائی سے ہنستی رہی۔ کچھ لوگوں کو برا بھی لگا۔ انہیں محسوس ہوا کہ اتنی بے عزتی کے بعد وہ پارٹی چھوڑ جائے گی۔ مگر دوسرے ہی دن وہ پھر سے موجود تھی۔ کچھ لوگوں نے ٹوہ لینے کی کوشش کی تو وہ بھول چکی تھی کہ جم نے اس کی بے عزتی کی بھی تھی۔ پجارن کے لغت میں بے عزتی جیسا لفظ ہوتا ہی نہیں۔ جب کسی کو خدا مان ہی لیا تو پھر برا کیا ماننا۔ یہی اس کی سوچ تھی۔

اگست کی چھٹیوں کے بعد کی پہلی کیمپیننگ تھی۔ وہ ہمیشہ کی طرح ’جم جم‘ کرتی اس کے آگے پیچھے بھاگ رہی تھی۔ مگر آج وہ پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر ہی ’’یس رینوکا۔ یس رینوکا‘‘ کہتا جاتا اور بھاگتا جاتا۔ جب اس نے تیسری بار آواز دی تو زور سے ’’شٹ اپ‘‘ کی گونج ارد گرد پھیل گئی اور سڑک بدلنے کا وقت آ گیا۔ سب چپ تھے۔ کوئی بھی تیار نہیں تھا ’’شٹ اپ‘‘ سننے کیلئے۔ سب بہت محتاط چل رہے تھے، جیسے بس بھاگنے والے ہوں۔

جم مارشل مختصر سے سائز کا سرخ ٹائی لگائے۔ یہ سرخ رنگ کی ٹائی ہی اس کی سیاسی پارٹی کی علامت تھی، ورنہ رویے تو اس کا نادر شاہ جیسا تھا۔ وہ ناراض ہو کر دوسری سڑک کی طرف چل پڑا۔ سڑک کے بیچوں بیچ آئی لینڈ تھا۔ ٹکرا کر گرتے گرتے بچا۔ لیکن رینوکا اسے سنبھالنے کیلئے وہاں پہنچ چکی تھی۔

سنبھالنا تو سب چاہتے تھے۔ مگر رینوکا نے جم مارشل اور دوسرے کارکنوں کے درمیان کچھ اس طرح کی دیوار کھینچ دی تھی کہ اس کو پھلانگنا ممکن نہیں تھا۔ کوشش تو سبھی کرتے پر رینوکا درمیان میں آ جاتی۔ ایم پی سے قربت کون نہیں چاہتا تھا۔ شیما تو سب کچھ کرتے کرتے پیچھے دھکیل دی گئی تھی۔

شیما پجارن نہیں کچھ اور بننے آئی تھی۔ وہ اصلی سوشلسٹ سوچ کی مالک تھی۔ الیکشن لڑ کر لوکل حکومت میں کام کرتے ہوئے وہ لوگوں کی مدد کرنا چاہتی تھی۔ پر رینوکا نے سب کچھ ملیا میٹ کر دیا تھا۔ جب سے رینوکا آئی تھی سارے کاموں پر دھرنا دے کر بیٹھ گئی تھی۔ چڑتے تو سبھی تھے اس سے، لیکن جم مارشل سے ڈرتے بھی تھے، اس کا کام کرنے کا مطلب تھا ڈانٹ ڈپٹ۔ بے عزتی۔

چھوٹا سا دفتر جو پارٹی کے دبدبے والے علاقے میں ہی تھا۔ جہاں زیادہ تر ووٹ اسی پارٹی کو ملتے تھے۔ دفتر اتنا چھوٹا تھا کہ چائے بنانے کا چھوٹا سا کونا ٹوائلٹ کے برابر میں بنانا پڑا تھا۔ شیما کبھی بھی وہاں کی چائے نہ پیتی، اس کو گھن آتی وہاں چائے بنانے میں۔

رینوکا نے آتے ہی وہ کونا بھی سجا دیا اور جم کے لئے الگ سے چائے کا مگ اور گلاس لا کر رکھ دیا۔ مگر جم نہ تو وہاں کی چائے پیتا اور نہ ہی پانی۔ پانی بھی منرل واٹر کی بوتل سے براہ راست منہ لگا کر ہی پی لیتا۔ جب اس کو پیاس لگتی تو اپنے پرانے چمڑے کے بیگ سے جیسا پرانے دنوں کے پوسٹ میں لے کر آیا کرتے، جس میں دسیوں خانے ہوتے اور ہر خانے میں شاید ہر گھر کی کہانی ہوتی یا بادامی رنگ کے پوسٹ کارڈ۔

جم مارشل، بیگ کے ہر خانے میں شاید رینوکا کے لئے ڈانٹ پھٹکار اور گالیاں ہوتیں۔ جب سے رینوکا آئی تھی، اس نے ایک چھوٹی سی میز اور فولڈنگ کرسی لا کر ایک کونا جم کے لئے سیٹ کر دیا تھا۔ دوسروں کے لئے جگہ مزید تنگ ہو گئی تھی، پر اس سے کیا، اس کا بھگوان تو کونے میں سجا دیا گیا تھا۔ اسی پر پانی کی پلاسٹک کی شفاف ہلکے سے نیلے رنگ کی بوتل بھی رکھ دی تھی۔ گہرے نیلے رنگ کا ڈھکن سیل لگی ہونے کے سبب ذرا مشکل سے کھلتا۔ جم بوتل اٹھاتا ہی کہ رینوکا دوڑ کر پہنچ جاتی اور بوتل کی سیل خود توڑتی۔ سیل سخت ہوتی، اس لئے وہ ڈھکن پر اتنی طاقت لگاتی کہ ہاتھ کے ساتھ ساتھ پورا جسم بھی اینٹھ جاتا۔ بوتل کی سیل ٹوٹنے کی آواز آتی۔ پانی گٹ گٹ کرتا گلاس میں گرتا۔ گلاس کو ایک ہاتھ میں اٹھا کر دوسرا ہاتھ نیچے رکھ کر انتہائی ادب سے جھک کر اپنے بھگوان کو پیش کر دیتی۔

جم کاغذات پر نظریں گڑائے، پانی کا گلاس ایسے ہاتھ میں لیتا، جیسے بہت بڑا احسان کر رہا ہو۔ پیاس تو سب کو لگی ہوتی، مگر ان کے پاس پیاس کو بجھانے والی رینوکا نہیں ہوتی۔ جم پانی پیتا تو گٹ گٹ کی آواز نہیں آتی، خاموشی سے پانی سُوت لیتا، آس پاس لوگوں کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ پانی پی رہا ہے۔ برطانیہ کے باشندے ہر کام خاموشی سے بغیر آواز کئے کر ڈالتے ہیں۔ بھارت میں بھی تو خاموشی سے آ گئے تھے اور لگ بھگ دو سو سال تک خاموشی سے ہی اسے اندر سے کھوکھلا کرتے رہے، پھر بھی ٹکے رہے۔

ایسے ہی چائے، پانی، شراب سب کچھ بغیر آواز کے پی جاتے ہیں۔ غصہ بھی۔ پر ان کا خیال ہوتا ہے کہ ’’ڈونٹ گیٹ اینگری۔ گیٹ ریوینج‘‘ یعنی کہ غصہ کبھی نہ کرو۔ بس بدلہ لے لو۔ کچھ ممالک میں کچھ لوگ چائے کو بھی پلیٹ میں ڈال کر ایسا سڑکتے ہیں کہ آس پاس سب کو پتہ چل جاتا ہے کہ پڑوس میں کیا ہو رہا ہے!  انتخابات کے دنوں میں بھی یہ لوگ آواز نہیں نکالتے۔ کہیں نہ لاؤڈاسپیکر ہوتا ہے اور نہ ہی سڑک پر چلا چلا تقریر یں کر کے اپنا مسئلہ بیان کیا جاتا ہے۔ جھوٹے وعدے نہ کریں تو جیت کیسے ہو گی!  جو جتنا بڑا جھوٹ بول لے اور وہ جھوٹ نہ لگے تو وہی ’’جھوٹا سچ‘‘ ہوتا ہے اور اسی بات پر اقتدار بدل جاتا ہے۔ رینوکا کیلئے جھوٹ کا لفظ جم نے ریزرو کر لیا تھا، ہر بات پر ’’یو آر لائنگ‘‘ کہہ دیتا۔ وہ ہنستے ہوئے کہتی ’’نو جم آئی ایم ناٹ۔‘‘لیکن اسی جھوٹ کے سہارے تمام ساتھیوں کو پیچھے دھکیل چکی تھی۔

’’رینوکا، کیا ہم چلنے کے لئے تیار ہیں؟‘‘

’’یس جم، ہم تیار ہیں۔‘‘

’’پوسٹل ووٹس کے فارم رکھ لئے؟‘‘

’’ہاں جم۔‘‘

’’کیا کافی لوگوں کے ناموں کی لسٹیں رکھ لی ہیں؟‘‘

’’یس جم۔‘‘

آفس میں سننے والے پریشان ہوتے تھے کہ یہ سارے کام رینوکا کس طرح پہلے ہی سے کر کے رکھ لیتی ہے!

وہ کہتے، اگر رینوکا، جم کے ساتھ رہ گئی تو اگلی بار پھر جم جیت جائے گا۔ رینوکا کی بھی یہی تمنا تھی کی جم دوبارہ جیت جائے۔ پہلے تو اس وجہ سے جیت گیا تھا کہ دوسری پارٹی کا ایم پی ہی ناکارہ تھا، دوسری بار جو بھی جم کی مخالفت میں کھڑا کیا گیا۔ وہ ٹک نہ سکا۔

جم مارشل کی جیت رینوکا کی جیت ہوتی۔ کتنا خوش ہوتی۔ کیک اور مٹھائی بانٹتی، پھول نچھاور کرتی۔

چوتھے الیکشن کی تیاری زوروں پر تھیں۔ تیاری تو ہمیشہ ہی زوروں میں ہوتی ہے، مگر اس بار جیتنے کے معاملے میں کچھ خدشات ظاہر کئے جا رہے تھے۔ مسئلہ کچھ سنگین نوعیت کا لگ رہا تھا۔ رینوکا کے ہوتے ہوئے کس ہمت ہو سکتی ہے، جو جم کو نیچا دیکھا سکے۔

وہ فکر مند ہوئی تھی، جب جم مارشل پر کاغذ کے زیادہ اور غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ سب کو بار بار صفائی دے رہی تھی کہ جم تو اپنے شہریوں کو خط لکھتے ہیں تو اس پر کیوں یہ الزام لگایا جا رہا ہے۔ جم سے بڑھ کر ایماندار تو کوئی اور ایم پی ہے ہی نہیں۔ جم تو وقت کے معاملے میں بھی کتنا محتاط ہے۔ وہ اپنے کام کو جتنا وقت دیتا ہے اور کوئی منسٹر یا ایم پی نہیں دیتا۔

دوسرے ممبران پارلیمنٹ پر تو ایک اور گھر بنا لینے کا بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے یہ اطلاع عام نہیں کی۔ پر جم ان لوگوں کے مقابلے میں تو صاف ستھرا ہے۔ رینوکا، جم کے ساتھ اس کے گھر نہیں جاتی، لیکن اس کی دیکھ بھال گھر جائے بی بغیر ہی اتنی کر دیتی کہ اس کو گھر جانے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی تھی۔ کام سے سیدھا جم کے آفس آ جاتی۔ کبھی کبھی اس کا شوہر معلوم کرنے آ جاتا کہ وہ ٹھیک ٹھاک ہے یا ہو سکتا ہے اس کو رینوکا کا یہاں اتنا طویل وقت بیٹھے رہنا، پریشان کرتا ہو۔ رینوکا کو کیا پرواہ۔ ایم پی کے سامنے شوہر جیسی بیکار اور فالتو چیز کی بھلا کیا مجال!

مئی کے پہلے ہفتے میں انتخابات ہوئے اور جم تھوڑے سے ووٹ سے ہار گیا۔ رینوکا مچل گئی کہ میں پھر سے گنتی کرواؤں گی۔ یہ ممکن نہیں کہ جم ہار جائے۔ جم منع کرتا رہا پر وہ نہ مانی۔ دوبارہ گنتی ہوئی، اس بار معلوم ہوا کہ وہ مزید ایک ووٹ سے ہارا تھا۔ رینوکا زور زور سے رونے لگی۔ وہ بڑبڑاتی بھی جاتی تھی کہ یہ نا ممکن ہے ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ جم ہار نہیں سکتا۔ جم کبھی نہیں ہار سکتا۔ وہ صرف شکست دے سکتا ہے۔ اس کو جم نے کندھے سے پکڑ کر سمجھانا چاہا، لیکن اس کی ہچکیاں بندھی ہوئی تھیں۔

آج ہوٹل کے اتنے بھرے ہوئے کمرے میں جہاں روشنیوں کی بارش ہو رہی تھی۔ ’’سائیلنٹ نائٹ، ہولی نائٹ / آل از کام، آل از برائٹ‘‘ جیسا کرسمس کا گیت، میٹھے سروں میں ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔ رینوکا کے اندر کیا طوفان چل رہا تھا، کسی کو نہیں معلوم ہوا۔

وہ اندر آئی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کی وہ کدھر جائے؟  اس وی آئی پی والی سیٹ پر تو جم نے کسی اور کو بٹھایا ہوا تھا۔ اور دوسرا کوئی اس کو اپنے پاس بیٹھنے کی دعوت بھی نہیں کر رہا تھا۔ سبھی انجان تھے۔ وہ اپنا بڑا سا سیاہ ہینڈ بیگ لٹکائے ہوئے، جس میں وہ جم کی اپاؤنٹمنٹ ڈائری، اس کے دسیوں کاغذات، اس کیلئے سینڈوچ اور فالتوکنویسنگ شیٹس بھر کر چلا کرتی تھی۔ جو کہ اتنا وزنی ہونے کے باوجود بھاری نہیں لگتا تھا۔ آج جیسے اسی خالی بیگ کے وزن سے اس کے کندھے جھکے جا رہے تھے۔ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی باہر جانے والے دروازے کے قریب والی میز پر اکیلی آ کر بیٹھ گئی۔

آج رینوکا جی بھر کر زور زور سے رونا چاہ رہی تھی۔ کیونکہ آج وہ تو ہار گئی تھی، مگر جم اپنی جیت کا جشن نئے دوستوں کے ساتھ منا رہا تھا۔ بھلا ایسے میں اسے چپ کون کرائے گا؟

٭٭٭

 

 

 

 

بس ایک قدم

 

’’نہیں میں نہیں آؤں گی۔‘‘ شیلی کو اپنی آواز میں موجود خود اعتمادی پر، خود ہی یقین نہیں ہو پا رہا تھا اور وہ خاموش ہو گئی۔

ٹیلیفون کی دوسری جانب سے آواز چھن چھن کر باہر آ رہی تھی، ’’ہیلو، ہیلو، فون بند نہ کریں۔ پلیز!‘‘

’’نہیں، میں فون بند نہیں کر رہی۔ مگر میں آؤں گی نہیں۔‘‘ اس دفعہ آواز میں اتنی سختی نہیں تھی۔

’’مگر آپ نے تو، آپ نے تو وعدہ کیا تھا۔ ایک بار آنے میں کوئی نقصان تھوڑے ہی ہو جائے گا آپ کا۔‘‘

شیلی کی سوچیں اسے پریشان کرنے لگی ہے۔ آخر کب تک ایسے ہی زندگی جیتی رہے گی۔ یہ زندگی بار بار تو حاصل نہیں ہوتی۔ اگلا جنم کہاں لے گی، کیسی ہو گی وہ زندگی۔

اگر گھنشیام کو کہیں معلوم ہو جائے کہ وہ پُنر جنم کے بارے میں سوچ رہی ہے تو اس کی سوچ پر بھی پہرے بٹھا دے گا۔ دنیا میں آج پہرے داروں کو مشکلات کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تمام پہرے داروں کو چکما دے کر آج کے نوجوان بچے بچیاں اپنے آپ کو بموں سے اڑا رہے ہیں۔ کیوں ایسا گناہ کرتے ہیں یہ نوجوان؟

گناہ سے ہی تو ڈرتی ہے شیلی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ زندگی میں کتنے پھول سمیٹ چکی ہوتی۔ صبح چڑیوں کی طرح چہچہاتی، اڑتی پھرتی، اونچے گگن میں پرواز بھرتی، تھک کر اس کی گود میں آ گرتی، جی بھر کر پیار کرتی۔ شیلی کو تو اس پسینے کی بدبو بھی خوشبو لگتی۔

فون کی گھنٹی پھر بجی۔ اس نے ایسے لپک کر اٹھایا جیسے اسی فون کی طرف کان لگے تھے۔ ’’شیلی، شیلی!‘‘وہ صرف اس کا نام لئے جا رہا تھا۔ شیلی نے مدھم آواز میں کہا، ’’ہاں۔‘‘ اور پھر خاموش ہو گئی۔ اپنے جذبات کو قابو میں کرتی رہی۔

’’شیلی، پلیز ہاں کہہ دو۔ میں آ کر لے جاؤں گا۔‘‘

’’دیکھو۔ آنے کا کوئی مسئلہ نہیں، پر میں ایسا کر نہیں سکتی۔‘‘

وِدھو کی آواز میں محبت تھی، عقیدت تھی، چاہت تھی، لیکن وہ یہ سب سمجھنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ ڈرتی تھی، گھبراتی تھی۔ گھنشیام سے، دنیا والوں سے اور اپنے آپ سے بھی۔ آج اس نے ایک بار پھر وِدھو کو انکار کر دیا۔ مگر سوچ بھی رہی ہے کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہے؟  آخر وِدھو کی بات مان لینے میں حرج ہی کیا ہے!  وہ بے چارہ کب تک انتظار کرے گا؟

انتظار تو گھنشیام کا کرنا پڑتا ہے۔ صبح سے جو انتظار شروع ہوتا ہے، اس کا کہیں کوئی اختتام نہیں ہوتا۔ اس کی پوری زندگی ہی انتظار کی کڑیوں سے پیوست ہے۔ پہلے چائے بنا کر، پھر ناشتہ لگا کر میز پر انتظار کرتی ہے کہ گھنشیام جی نیچے اتریں تو وہ بھی چائے کا اپنا پہلا گھونٹ پی سکے۔

صبح ہوتے ہی اسے باتھ روم خالی ہونے کا بھی انتظار کرنا ہوتا ہے۔ یہاں لندن میں ہر کمرے کے ساتھ اٹیچ باتھ روم تو ہے نہیں۔ گھر میں ایک ہی باتھ روم ہے، جس میں گھنشیام گھس جاتے ہیں اور باقی سب کو اپنی باری کا انتظار کرنا ہوتا ہے اور پھر سگریٹ کے دھوئیں سے بھرے باتھ روم میں جا کر دھواں پینا ہوتا ہے۔

صبح کے اس انتظار کی عادت تو پڑ چکی تھی۔ کاٹنے دوڑتا تھا شام کا انتظار، جو رات کو گیارہ بجے سے پہلے کبھی ختم نہیں ہو پاتا تھا۔ مگر آج کل کچھ نیا محسوس کرنے لگی ہے۔ رات کی دلہن تاروں بھرا سیاہ گھونگھٹ اٹھاتی، دن کی روشنی اس کے چہرے سے شرارت کرتی تو وہ سہم جاتی۔ اسے وِدھو کی انگلیوں کا لمس محسوس ہوتا۔

جب بچے چھوٹے تھے، گھنشیام خود تو رات کو دیر سے آتا تھا، مگر حکم یہ تھا کہ بچے جاگتے رہیں اور اس سے ملنے کے بعد ہی سوئیں۔ بچے بھوکے بیٹھے رہتے۔ ان کو بھی بچپن ہی سے انتظار کی عادت ڈالی جا رہی تھی۔ اسی لیے بڑے ہوتے ہی چڑیا کے بچوں کی طرح پنکھ نکلتے ہی اڑ گئے۔

بیٹا تو انگریز لڑکی سے بیاہ رچا کے خود ہی رخصت ہو گیا۔ اگر کبھی ماں بے چین ہو کر ملنا چاہتی تو سنہرے بالوں اور سبز آنکھوں والی بیوی کہتی، ’’ان سے کہو کہ لنچ لے کر وہ لوگ یہیں آ جائیں تو ہم ساتھ ساتھ کھالیں گے۔‘‘ شیلی کو یہ بھی منظور تھا کہ چلو اسی بہانے بہو بیٹے دونوں سے ملاقات ہو جائے گی۔ گھنشیام ناک بھوں چڑھاتا کہ چھٹی کے دن وہ گھر میں ہی رہنا چاہتا ہے، آرام کرنا چاہتا ہے، ’’تم یہ کیا فضول کا پروگرام بنا لیتی ہو؟‘‘

’’بچوں سے ملنے جانا فضول کام ہوتا ہے کیا؟‘‘

’’شیلی، تم بحث بہت کرتی ہو۔ تم خود تو سارے ہفتے گھر میں بیٹھی آرام کرتی ہو، میں سارے ہفتے مزدوری کرتا ہوں۔ کیا ایک دن آرام کرنے کا بھی حق نہیں مجھے؟‘‘

شیلی اس بات کو بار بار سوچتی ہے اور اپنے اندر ہی مسکرا لیتی ہے۔ مرسیڈیز میں بیٹھ کر مزدوری کرنے والے کی ذہنیت سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔

اپنی کومل لمبے لمبے ناخنوں والے ہاتھوں کو اکثر حسرت سے دیکھا کرتی تھی شیلی۔ ایک بار ایک سنگتراش نے اس خوبصورت انگلیوں کو دیکھ کر کہا تھا، ’’اپنے ہاتھوں کا انشورنس کروا لیجئے آپ۔ ویسے اگر کچھ وقت کے لئے اپنے ہاتھ مجھے دے دیں تو میں ان ہاتھوں کو پتھروں میں تراش دوں۔‘‘ایسی باتوں پر جھینپ جایا کرتی تھی۔ آج وہی ہاتھ پانی میں دھل دھل کر کھردرے اور سخت ہو گئے تھے۔ ویزلین ہینڈ کریم بھی ہارنے لگی تھی۔۔ بھارت میں تو وہ سیدھی سادی پامولو کی سبز ویزلین لگایا کرتی تھی یا پھر بلائی میں گلیسرین ملا کر۔

یہاں کے دودھ پر تو بالائی ہی نہیں آتی۔ دودھ ابالا ہی نہیں جاتا۔ ابال آتا ضرور ہے مگر اس کی تقدیر میں۔ پھر بھی وہ لکشمن ریکھا کو توڑ نہیں پاتی۔ کیا سیتا نے لکشمن ریکھا کو جان بوجھ کر توڑا ہو گا؟  کیا اس کے ہاتھ کی لکیروں کو بھی رام نے گھنشیام کی ہی طرح مٹا دیا تھا؟

روشنی کی ایک ہلکی سی لکیر ضرور دکھائی دی ہے۔ وِدھو!  مگر اس کی موجودگی نے بھی خوف اور دہشت زیادہ ہی پیدا کی ہے۔ لندن آنے کے بعد اب تک شیلی نے ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں لیا تھا اور گھنشیام نے حکم سنا دیا تھا، ’’اب آپ کو ڈرائیو کرنا پڑے گا۔ بچوں کو اسکول لے جانا ہو گا۔‘‘

’’مگر میرے پاس تو لائسنس ہی نہیں ہے۔‘‘ شیلی کی گھبراہٹ پیشانی سے بہنے لگی تھی۔

’’انٹرنیشنل لائسنس کا مطلب سمجھتی ہیں آپ؟  ایک ہزار روپے دیے تھے ایجنٹ کو۔ تب جا کر کہیں بنا تھا۔‘‘گھنشیام کی آواز گونجی۔

’’مگر کار کہاں ہے؟‘‘

’’جائیے، نیچے جا کر دیکھئے۔‘‘

’’آپ یہیں بتا دیجئے نہ۔‘‘

’’ارے کہا نہ، نیچے جا کر دیکھئے۔‘‘

دن بھر کی تھکی شیلی خوش تھی کہ آج گھنشیام دفتر سے کچھ جلدی واپس آ گیا تھا۔ مگر شوہر کے ساتھ محبت کے دو میٹھے بول بھلا کہاں نصیب میں تھے۔ حکم، بس حکم!  شیلی نیچے چل پڑی۔۔ گھر کے دروازے کے باہر ایک سیکنڈ ہینڈ فورڈ ایسکورٹ کھڑی تھی۔ سنہری رنگ کی گاڑی!  شیلی کو گھنشیام کا سرپرائز بالکل پسند نہیں آیا۔ کار دیکھ کر خوشی تو کیا ہونی تھی، دل بیٹھنے لگا۔ بھارت میں ایک بڑی سی کار تھی مرسیڈیز اور ایک ڈرائیور بھی تھا۔ یہاں یہ پھٹیچر سی کار اسے خود چلانی ہو گی۔

ٹھیک ہے کہ یہاں لندن میں سب لوگ اپنا کام خود ہی کرتے ہیں۔ مگر ایسی گاڑی!  ادھر گھنشیام تقریباً بھونچکا سا کھڑا تھا۔ اسے امید تھی کہ شیلی اس سرپرائز کو دیکھ کر تعریف کرے گی، خوش ہو جائے گی۔ شیلی کے سپاٹ جواب نے اسے حیران ہی کر دیا، ’’میں نے آپ سے کار کی فرمائش کب کی تھی؟‘‘

’’ارے ہر چیز کی فرمائش نہیں کی جاتی، مسز مہرا! ۔ اس ملک میں ٹی وی، فرج، کار، ریڈیو وغیرہ سبھی ضرورت کی چیزیں ہیں۔ یہاں انہیں عیش و آرام کی اشیاء نہیں مانتے۔ کار کے بغیر کیا میرے بچوں کو پیدل گھسیٹیں گی آپ؟  گھر کا سودا سلف کیا پیدل جا کر لائیں گی؟  اور پھر مجھے صبح شام ٹیوب اسٹیشن لائے، لے جائے گا کون؟‘‘گھنشیام جب غصہ ہوتا تو شیلی کو مسز مہرا کہہ کر بلاتا اور تم سے آپ پر اتر آتا۔

کون کا سوال خوب تھا۔ اس کار نے شیلی کی زندگی میں گرماہٹ لانے کی جگہ سردیوں کی کڑکڑاہٹ اس کی ہڈیوں میں بھر دی تھی۔ ہاں وہ جنوری کی ایک رات تھی۔ شیلی ٹیوب اسٹیشن کے باہر کھڑی اپنے صبر کا امتحان لے رہی تھی۔ برفانی رات کے ساڑھے گیارہ بجے کا سناٹا اور سفیدی مل کر کچھ ایسا ماحول بنا رہے تھے کہ شیلی کومحسوس ہو رہا تھا جیسے کہ چاروں طرف سفید سفید بھوت چل رہے ہیں۔ برف کے روئی سے پھاہے اس کی گاڑی کی ونڈ اسکرین سے ٹکراتے۔ وہ گھبرا کر وائپر چلا دیتی۔ وائپر فوجی جوان کی طرح لیفٹ رائٹ کرنے لگتے، بس آرڈر ملنے کی دیر ہوتی۔

وائپروں کو دیکھ کر شیلی ایک گہری سوچ میں ڈوب جاتی ہے۔ آرڈر ملتے ہی جو وائپر لیفٹ رائٹ کرنے لگتے ہیں اور بغیر سانس لئے نصف چکر میں پھنس جاتے ہیں، جب ان کا ربڑ گھس جاتا ہے تو انہیں نکال کر پھینک دیا جاتا ہے۔ شیلی کی زندگی بھلا اس سے الگ کہاں ہے۔ اس کی صبح بھی ادھوری سی ہوتی اور شام کے اوپر سے ہوتی ہوئی رات۔ جیسے بن بلائی مہمان۔ وائپر سا نصف چکر!

ساڑھے گیارہ بجے والی سفید رات میں خوف ذرا زیادہ ہی سمایا ہوتا ہے۔ ایسے میں آہستہ آہستہ گاڑی اسٹیشن میں داخل ہوئی۔ گاڑی کی کھڑکیوں میں سے روشنی باہر جھانکتی دکھائی دیتیں اور ہر روشنی کے درمیان سے ایک گولہ سا منعکس ہوتا کیونکہ مسافروں کے کندھے ٹرین کی دیوار کی اوٹ میں ہوتے۔ ہاں!  کچھ طویل قامت انسانوں کے گول سر اوپر کو ہوتے تو وہ بے سر کے بھوت سے بن جاتے۔ شیلی سڑک پر کار کے اندر سے ہی ان روشنی کے گولوں میں سے گھنشیام کا سر تلاش کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ انتظار بس انتظار ہی بنا رہتا۔

وقت کی سوئیاں آگے بڑھتی جا رہی تھیں۔ سفید رات کے سائے مزید بھیانک بنتے جا رہے تھے۔ ایک تشویش یہ تھی کہ گھنشیام آئے کیوں نہیں۔ اور دوسری فکر یہ کہ بچے اکیلے ڈر رہے ہوں گے۔ گھنشیام نے اپنی مرسیڈیز میں تو ٹیلیفون بھی لگوایا ہوا ہے۔ بھلا اس سیکنڈ ہینڈ گاڑی میں کون فون فٹ کروائے گا۔۔ آج تو شیلی نے سردی اور برف کے مارے کار بند بھی نہیں کی۔ بس پٹرول پھنکتا رہا۔

تشویش کی حالت میں بھی شیلی کی سوچ رک نہیں پا رہی ہے۔ گاڑی میں بیٹھے ہوئے بھی اسے لگتا ہے کہ وہ ڈری ڈری سی، دیوار کا سہارا لئے کھڑی ہے۔ اس کی قسمت میں یہی لکھا تھا۔ گھنشیام خود بھی تو ایک موٹی تازی دیوار ہی ہے۔ رات کو گھر آ کر بچوں کو جاگتے دیکھ کر ایک فاتحانہ سی مسکراہٹ بکھیرتا ہے۔ چپ چاپ بیٹھا کھانا کھا لیتا ہے۔ کسی بچے سے کوئی بات نہیں۔ بس ٹی وی کے سامنے بیٹھا بیٹھا اپنے گلے سے بے سرے راگ نکالنے لگتا ہے۔ ان بے سری تانوں سے گھبرا کر بچے ایک ایک کر کے اپنے کمروں کی جانب کھسک لیتے ہیں۔

اب شیلی کرے تو کیا؟  ویسے اسے یقین ہے کہ اس کی نو سال والی بڑی بیٹی بچوں کی دیکھ بھال کر رہی ہو گی۔ حالات کو دیکھتے ہوئے وہ بچوں کی ماں نمبر دو بن گئی ہے۔ اپنے چھوٹے بھائی اور بہن کو سمجھاتی اور اماں کو پریشان کرنے اور شرارت کرنے سے روکتی۔۔ محسوس ہوتا کہ جیسے بچے بھی بچپن ہی میں بڑے ہو گئے تھے۔ شیلی فیصلہ نہیں کر پاتی تھی کہ اس غیر معمولی عمل پر ہنسے یا روئے۔ مگر اس کا اپنا رونا یا ہنسنا بھی کہاں اس کے اپنے بس میں تھا۔ ان کا کنٹرول بھی تو گھنشیام کے ہاتھ میں تھا۔

شیلی بے جان دیوار کا سہارا لیتے ہوئے سنبھل سنبھل کر پھسلتی ہوئی، مضبوطی سے زمین پر پاؤں جماتی ہوئی دروازے تک پہنچی اور برف سے ٹھنڈے ہاتھوں سے چابی کو کی ہول کے اندر لے جانے کی کوشش کرنے لگی۔ نشانہ چوک چوک جاتا۔ چابی دروازے سے بار بار ٹکرائی تو کون؟  کون؟  کرتے گھنشیام نے دروازہ کھولا۔ گھنشیام کے سرد رویے کے مقابلے میں چاروں طرف پھیلی برف کی ٹھنڈک میں گرماہٹ محسوس ہونے لگی، ’’ارے آپ گھر پہنچ گئے۔ کیسے؟‘‘

’’یہ کیا بیہودہ سوال ہے؟ کیا گھر نہیں آتا؟‘‘

’’مگر آپ نے تو مجھے آخری اسٹیشن پر آنے کو کہا تھا۔‘‘

’’ارے بھئی، تو اس میں کون سا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اگر میں جلدی گھر پہنچ گیا؟‘‘

’’میں تو وہاں ڈیڑھ گھنٹے کھڑی رہی۔ آپ کا انتظار کرتی رہی!‘‘

’’ایسی کیا مصیبت آ گئی۔ گرم گاڑی میں ہی تو بیٹھی تھیں نہ؟‘‘

برفانی رات کو بھی شیلی کے کان جلنے لگے۔ اس کے غصے کی گرمی بھی اس کے اندر کی برف کو پگھلا نہ سکی۔ بدن کے کانپنے میں سردی، خوف اور غصہ، تینوں شامل تھے۔ فوری طور پر گیس کے چاروں برنر جلا دئیے۔ کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئی۔ رات کے ساڑھے بارہ بجے گرم کھانا، کھانے کی میز پر لگایا۔ تقریباً دوڑتے ہوئے بچوں کو بلانے گئی۔ تینوں ایک ہی پلنگ پر آڑے ترچھے ایک دوسرے پر ہاتھ رکھے ہوئے، گہری نیند میں سو رہے تھے۔ ایک دوسرے کے اوپر ہاتھ رکھ کر تسلی دیتے ہوئے بچے کہ ’’ڈرو نہیں ہم جو ہیں۔‘‘ شیلی کھڑی انہیں دیکھتی رہی اور آہستہ آہستہ ان پر لحاف اڑھانے لگی۔

’’ارے بھائی کیا اب میز بھی مجھ ہی کو صاف کرنی پڑے گی؟  بچوں کو لے کر آؤ اور کچن کلیئر کرو!‘‘نیچے سے گھنشیام کی اونچی آواز نے اسے دہلا دیا۔

شیلی صرف سوچ سکتی تھی بولنے کی اجازت اسے بالکل نہیں تھی۔ گھنشیام کی محفل میں ہونٹ سلے رکھنے کا حکم تھا۔ شیلی نے ڈرتے ڈرتے ہی سوچنے کا حوصلہ کر لیا۔ کیا بات کہی ہے گھنشیام جی نے!  کیا میز بھی میں ہی صاف کروں؟  یعنی کھانا کھانے کی تکلیف تو میں نے اٹھا لی اب کیا میز بھی!

’’میرے بچے بھوکے ہی سو گئے۔۔ بس اسی لیے۔۔‘‘ شیلی کی روہانسی آواز جملے کو پورا نہیں کر پائی۔

’’کیا بچے اپنے میکے سے لائیں تھیں آپ؟ ۔ یہ میرے کچھ نہیں لگتے؟ کم سے کم بیٹیاں تو پکے طور پر میری ہیں۔ بیٹے کے بارے میں اب کیا کہوں؟‘‘

’’کیا کہہ رہے ہیں؟  اتنی گری بات!‘‘

’’ایک بات آپ اچھی طرح سمجھ لیجئے۔ آپ کا بیٹا بدتمیز ہے۔ مجھے پھوٹی آنکھ نہیں بھاتا۔ اس میں مجھے اپنے جیسی کوئی بات نہیں دکھائی دیتی۔ بالکل ایول لگتا ہے۔‘‘

’’ایول!  اپنی اولاد کو آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں۔‘‘

’’یار اب تم ہر وقت بحث مت کیا کرو۔ سارے دن کا تھکا ہارا واپس آتا ہوں۔ اور یہاں بھی چین نہیں۔ سنو، چائے لا دینا ٹی وی والے کمرے میں۔‘‘

جب تک شیلی چائے بنا کر لے جا پاتی، گھنشیام اونچی آواز میں ٹی وی دیکھتا ہوا خراٹے لینا شروع کر دیتا۔ شیلی بس یہی سوچتی رہ جاتی کہ کیا اسے چائے لانے میں تاخیر ہو گئی۔ ایک نگاہ اس گوشت کے ہلتے لوتھڑے پر ڈالتی ہے۔ رحم آ جاتا ہے۔ کتنا تھکا ہوا ہے۔ چلو جوتے اتار دیتی ہوں۔

’’او ہوں۔ کیا کرتی ہو، بھئی!  سونے دو۔‘‘

واپس کچن کی صفائی شروع کر دیتی ہے۔ جب بجلی بند کر کے نکلنے لگتی ہے تو یاد آتا ہے کہ اس نے خود تو کھانا کھایا ہی نہیں۔ گھنشیام کے ساتھ کھانے کے چکر میں وہ خود تو بھوکی ہی رہ گئی۔

بھوکی تو وہ زیادہ تر رہ جاتی ہے۔ اس کی تو کوئی بھوک مٹ نہیں ہو پاتی۔ سوچتی ہے۔ آخر گھنشیام اتنا سیر اور مطمئن کیسے رہ لیتا ہے؟  دونوں کی عمر میں فرق بھی تو کتنا ہے۔ اگر کچھ ایک سال اور بڑا ہوتا تو اس کا باپ ہو سکتا تھا۔ سوچتے ہی کانپ سی گئی۔ ایسا خیال بھی اس کے دل میں کس طرح آیا؟ اپنے ہی شوہر کو اپنا باپ!

کچن کا دروازہ آہستہ سے بند کیا، کہیں گھنشیام جاگ نہ جائے۔ اکیلی ہر سیڑھی پر دبا دبا کر پاؤں رکھتی ہوئی اوپر پہنچ کر حسرت بھری نگاہ سے اس کمرے کی طرف دیکھتی ہے جسے گھنشیام اور شیلی کا بیڈروم کہا جاتا ہے۔ بچوں کے کمرے میں پہنچ جاتی ہے۔ خالی پلنگ اس کا انتظار کر رہا ہے۔ منہ چڑا رہا ہے۔ آخر وہ ہے کیا؟  کچھ ایسے ہی سوال اسے پریشان کئے رہتے ہیں۔ اور اس کی تھکاوٹ اس کی آنکھوں کو آخرکار بند ہونے پر مجبور کر دیتی ہے۔

بچے بھی بہت اکثر یہ سوال کر بیٹھتے ہیں، ’’اماں، آپ اپنے کمرے میں کیوں نہیں سوتی ہیں؟‘‘

’’مجھے اکیلا کمرہ اچھا نہیں لگتا بیٹا۔‘‘

’’تو پاپا سے کہیے نہ کہ وہ اوپر آ کر سویا کریں۔‘‘

’’وہ نہیں آتے بیٹا۔‘‘

’’کیوں؟‘‘بیٹا پوچھ لیتا ہے۔

’’مجھے نہیں معلوم بیٹا!‘‘جھوٹ بولے یا سچ؟  فیصلہ نہیں کر پاتی۔

آج تک سمجھ نہیں پائی ہے کہ آخر اس میں کمی کیا ہے۔ چوبیس گھنٹے لونڈی کی طرح کام کرتی ہے اور یہ انسان کہتا ہے کہ بیٹا نہ جانے کہاں سے لے آئی ہو۔ اسے ایول کہتا ہے!  شیطان تو خود ہے۔ کاش!  وہ ایسا کچھ کر پاتی۔ اب بھی کیا کمی ہے اس میں؟  اب بھی لوگ مڑ مڑ کر دیکھتے ہیں۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنی بات کہہ جاتے ہیں۔ ان کے آس پاس کے لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ اس کی راتیں سسکتی، بلکتی اور اکیلی ہیں۔

گھنشیام کو گھمنڈ ہے کہ وہ پیسہ کماتا ہے۔ ٹھیک ہے کہ دفتر جاتا ہے، کام کرتا ہے۔ مگر دفتر میں اس کے نیچے کام کرنے والی دو دو سیکرٹیریز ہیں۔ ایک سیاہ فام ہے اور دوسری گوری اسکاٹش۔ دفتر کا سارا کام وہ اکیلے تو نہیں ہی کرتا۔ پھر اتنا تھکنے کا ڈرامہ کیوں کرتا ہے۔ اس کی مدد کیلئے تو گھر میں کوئی نوکرانی بھی نہیں ہے۔ وہ اکیلی ہی تو بچوں کو بڑا کر رہی ہے۔ ساری اہمیت گھنشیام خود کیوں لے لیتا ہے۔ کون زیادہ اہم ہے؟  وہ جو پیسہ کما کر لاتا ہے یا وہ جو اس کی دوسری نسل کی تعلیم و تربیت کر رہی ہے، اس کے گھر کو سنبھال سنوار رہی ہے؟  آج شیلی نے سوچنے کے لئے پوری طور پر کمر کس لی ہے۔ کیا وہ گھر کی نوکرانی بھر ہے، بس؟ اچانک گھبرا جاتی ہے۔ نہیں اسے ایسا نہیں سوچنا چاہئے۔ اگر اس کی سوچ کی بھنک گھنشیام کو مل گئی تو؟ اس کے جسم نے جھرجھری لی!

بس سر کو ایک ہلکا سا جھٹکا، اس کے تمام خیالات کو باہر پھینکنے کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔ ایک بار پھر گھر کی دوڑ بھاگ میں لگ گئی۔ مگر آج اس کے خیالات اسے چین نہیں لینے دے رہے۔ بس احتجاج پر کمر بستہ ہیں۔ اسے ایک کٹہرے میں کھڑا کر رہے تھے۔ جوابات مانگ رہے تھے۔ ’’تم گھنشیام سے اتنی ڈرتی کیوں ہو؟‘‘اس سوال کا جواب وہ تلاش نہیں کر پا رہی تھی۔

پھر سوچتی ہے، ’’شاید میں کاہل ہوں۔ ہاں، میں ہوں کاہل!  عیش و آرام کی عادی ہو گئی ہوں۔ ماں باپ نے جیسے ایک مخملی ڈبے میں سنبھال کر رکھا تھا۔ یہاں بھی قالین پر چلنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ یہاں اس ملک میں تو باتھ روم میں بھی قالین بچھا رہتا ہے۔ کیا واقعی گھنشیام نے اس کے لئے کچھ ایسا کیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اس کی زندگی بھرا حسان مند رہے؟  یہ سب تو برطانیہ میں سب کے گھروں میں ہے۔ پھر بھی اسے لے کر گھنشیام طعنے دیتا رہتا ہے۔ پہلے تو رانی بنا کر لے آیا۔ اب تیر اور طعنے!

مردوں کے بارے میں سوچ کر ہی وہ مایوس سی ہونے لگتی۔ اسے ہر مرد کود غرض، خود پسند، تنگ نظر اور بے غیرت دکھائی دینے لگا ہے۔ وہ بیچاری اس سے آگے مزید گالیاں سوچ ہی نہیں پاتی۔

لگتا ہے کہ شاید خود ہی کمزور ہے وہ۔ ورنہ کیوں پاگلوں کی طرح لگی ہوئی ہے کام کاج میں؟ مگر کام تو بچوں کا کرتی ہے، تو پھر؟

اس نے تو ساری زندگی ہی گھنشیام کی خواہشات پر قربان کر دی۔ بغیر آستین والا بلاؤز نہیں پہنا، پورے جسم کو اس طرح ڈھک کر رکھا، جیسے برقع پہن رکھا ہو۔ گھٹنوں تک اس کے طویل بال، لوگ دور سے دیکھ کر بھی سراہا کرتے تھے۔ مگر گھنشیام کا کہنا تھا کہ دیہاتی لگتے ہیں۔ بس کندھے تک کٹوا دئیے۔۔ اس دن ماں کی بہت یاد آئی تھی۔ بچپن میں وہ اس کے بالوں میں ناریل کا تیل لگایا کرتی تھی اور رات کو ایک چوٹی کس کر باندھ کر سونے دیتی تھیں کیونکہ بال رات کو ہی بڑھتے ہیں۔ صبح اٹھ کر دو چوٹیاں باندھی جاتی تھیں۔ دونوں کندھوں سے لٹکتی، رنگ برنگے ربن والی چوٹیاں لئے اتراتی گھومتی تھی شیلی۔

اس کے بالوں کی تعریف، گھنشیام کے تمام دوست کرتے تھے۔ شاید اسی لیے گھنشیام کو لمبے بال گنوارپن کی نشانی لگتے۔ آج جب پیچھے مڑ کر سوچتی ہے تو سمجھ آتا ہے کہ گھنشیام کے دوست اس سے سیدھے سیدھے فلرٹ بھی کرتے تھے۔ سب کو معلوم تھا کہ گھنشیام رات کو دیر دیر تک اپنے دفتر میں اپنی سکریٹری کے ساتھ رہتا ہے اور گھر میں نوجوان بیوی آنسو بہاتی رہتی ہے۔

آج شیلی کو بار بار میکہ یاد آ رہا ہے۔ بالوں کے بعد یاد آیا وہ درزی، جو گھر میں ہی ناپ لے کر کپڑے سیا کرتا تھا۔ معصوم شیلی اس درزی کو بہت توجہ سے کپڑے کاٹتے اور پیروں سے چلنے والی سلائی مشین سے سیتے دیکھتی تھی، سوال پوچھتی۔ اتنے ہی دھیان سے ماسٹر جی کے جواب سنتی۔ بس اسی طرح دیکھتے دیکھتے ہی وہ کپڑے سینے بھی سیکھ گئی۔ مگر یہاں لندن شہر میں بھلا کون کپڑے سیتا ہے؟  ہر کوئی سلے سلائے کپڑے، ڈپارٹمنٹ اسٹور سے خرید لیتا ہے۔ بچے، گھنشیام، شیلی خود بھی سلے سلائے کپڑے خریدتے ہیں۔ بھارت جاتی ہے تو بلاؤز وہیں سے سلوا لاتی ہے۔

شیلی کو کھانا بنانے، پروسنے اور کھلانے میں خاص قسم کی مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے اسے ہفتہ اور اتوار کا انتظار بھی رہتا تھا۔ میز پر اس کا چھوٹا سا خاندان جب کھانے کے لئے بیٹھتا، وہ سب کو گرما گرم پھولے ہوئے پھلکے بنا کر دیتی۔ بھارتی تہذیب میں پلی بڑھی لڑکی تہذیب و روایات کو سمجھتی۔ مگر گھنشیام کو گھر کی لکشمی کے معنی معلوم نہیں تھے۔ اس کی لکشمی ہمیشہ اس کے پرس میں اور جیب میں دبی رہتی۔ شیلی کو آج تک نہیں معلوم کہ اس کے شوہر کی تنخواہ کتنی تھی، بونس کتنا ملتا تھا، اور کن کن بینکوں میں کس کس کرنسی میں اس کے اکاؤنٹ ہیں۔

در اصل آج اسے محسوس ہو رہا ہے کہ وہ گھر کی مالکن نہیں، بلکہ ایک خریدی ہوئی باندی کی زندگی جیتی رہی ہے۔ بچوں کو گھڑسواری، پیانو، کراٹے، ہوم ورک سب کرواتی رہی ہے۔ گھنشیام کے کپڑے نکال کر میچنگ ٹائی، موزے، کف لنک، رو مال نکالنا اور پھر جوتے پالش کرنا۔

بچپن میں اس کے اپنے جوتے، بھائیوں کے جوتے رام لال بابا پالش کیا کرتے تھے۔ وہ فوج سے ریٹائر حوالدار تھے۔ چوکیداری کرتے تھے۔ گھرکے تمام لوگوں کے جوتے فوجی سطح پر چمکتے تھے۔ رام لال بابا کے پالش کئے گئے چمکتے جوتوں میں شیلی اپنا منہ دیکھ دیکھ کر ہنسا کرتی اور بابا کو فخر ہوتا کہ فوج چھوڑنے کے بعد بھی وہ جوتے فوجی طریقے سے ہی پالش کرتے ہیں۔ شیلی، گھنشیام کے جوتے پالش کرنے کے بعد ان میں اپنا چہرہ دیکھنے کی کوشش کرتی۔ مگر آج چہرہ دھندلا دکھائی دیتا ہے!

فوج میں تو وِدھو بھی تھا۔ کیا وہ بھی اپنے جوتے ایسے ہی پالش کرتا ہو گا۔ وِدھو کا خیال بھر ہی جوتے پالش کرنے جیسے غیر پر کشش کام میں بھی رومانس بھر دیتا ہے۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ وہ تو وِدھو کو بہت بار کہہ بھی چکی ہے کہ اس کے دل میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو وِدھو سوچ رہا ہے۔ کیا وہ جھوٹ کہتی ہے کہ وہ ایک وفادار بیوی اور ذمے دار ماں ہے؟  وِدھو کے بارے میں سوچنے سے ہی وہ کیوں کھل اٹھتی ہے۔ گھنشیام تک پوچھنے سے باز نہیں آتے، ’’آپ آج کل دھیمے دھیمے مسکراتی کیوں رہتی ہیں؟‘‘کیا اس کی سوچ میں تبدیلی آ رہی ہے؟ کیا وہ جھوٹ بولنے لگی ہے؟ سوچتی کچھ ہے اور کرتی کچھ ہے۔

دو دن سے وِدھو نے فون بھی نہیں کیا۔ کہیں گھنشیام نے کچھ کہہ تو نہیں دیا؟ فون پر بدتمیزی کرنا جیسے گھنشیام کا پیدائشی حق ہے۔ ٹیلیفون گھنشیام کے نام میں ہے۔ گھر کا مالک بھی وہی ہے۔ یہ اس کے موڈ پر منحصر ہے کہ شیلی کی بات اس کے کسی جاننے والے سے کروائے یا نہیں کروائے۔

وِدھو کتنا مختلف قسم کا انسان ہے؟  کتنی تعریف کرتا ہے اس ملک کی، ’’شیلی جی مجھے کسی نے اس ملک میں آنے کے لئے زبردستی تو نہیں کی۔ اپنی مرضی سے آیا، کمایا کھایا اور اپنے گھر والوں کو پیسے بھیجے۔ ہمارے لوگ یہاں کی سوشل سیکورٹی کا پورا فائدہ اٹھاتے ہیں، اپنے بچوں کو مفت کی پڑھائی کرواتے ہیں، این ایچ ایس، میں مفت علاج کرواتے ہیں مگر اپنا ملک اسے بتاتے ہیں، جسے چھوڑ آئے ہیں۔‘‘گھنشیام بھی تو یہی کرتا ہے۔ بس ہندوستانی یا پھر پاکستانی چینل دیکھتا رہتا ہے۔ کرکٹ سے لے کر موسم تک، برطانیہ کی سبھی چیزوں کی برائیاں کرتا رہتا ہے۔ ایک طرف گھنشیام، منفی سوچوں کا ابلتا گرم چشمہ اور دوسری طرف وِدھو، پیار کی ٹھنڈی پھوار۔

کسی کا کسی سے مقابلہ کرنا بری عادت ہے۔ پھر وِدھو اور گھنشیام میں تو کسی بھی قسم کا مقابلہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔ گھبرا گئی ہے شیلی۔ آج یہ بار بار وِدھو کیوں چلا آ رہا ہے اس کی سوچوں کے دائرے میں۔

فون کی گھنٹی بجی ہے۔ شیلی دوڑ کر فون اٹھا لیتی ہے۔ ’’ہیلو۔ ہیلو۔ ہیلو!‘‘سنائی دیتے ہوئے بھی اسے آواز سنائی نہیں دے رہی۔ وہ گھبرا رہی ہے۔ وِدھو کا نام سوچا اور فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ بھلا ایسا کیسے ہو گیا۔ اس کی ادھیڑ بن سے بے خبر فون، ٹوں ٹوں کرنے لگا اور بالآخر بند ہو گیا۔ کیا اسے فون کر لینا چاہئے؟

اگر اب فون آیا تو وہ تحمل سے بات کرے گی۔ آرام سے ہیلو کرے گی۔ حال چال پوچھے گی۔ پھر اس کی ہر اس بات کا جواب دے گی، جو وہ پوچھے گا۔ وِدھو تو شیلی کی ہر بات بہت توجہ سے سنتا ہے۔ کئی بار تو وہ اتنی خاموشی سے سنتا ہے کہ شیلی کو لگتا ہے جیسے وہ سن ہی نہیں رہا۔ مگر مہینوں بعد بھی وہ شیلی کی بات کو لفظ بہ لفظ دوہرا دیتا ہے۔

’’ارے تم نے میری پوری بات سن لی تھی۔‘‘ شیلی حیرت سے پوچھتی۔

’’آپ کی بات میرے لئے الہامی آواز سے کم نہیں ہوتی۔ یہ بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی الہامی آواز کو نہ سنے؟‘‘ شیلی سوچنے لگتی ہے کہ کیا وہ کبھی بھی ایسی باتیں کر سکتی ہے؟  اس نے تو زندگی میں جب بھی منہ کھول دیا، یہی سنائی دیا، ’’تم چپ رہو جی، تمہیں کیا معلوم!‘‘اور وہ گھبرا کر خاموش ہو جاتی اور جلدی جلدی اپنے آس پاس دیکھتی کہ جب اسے احمق قرار دیا جا رہا تھا تو کسی نے سن تو نہیں لیا۔

شیلی کے موبائل فون کی گھنٹی دوبارہ چہچہانے لگی۔ اس نے اپنے موبائل کی ٹون میں، چڑیوں کی چہچہاہٹ اور آبشار کے نرم اورپرسکون موسیقی کے ساتھ لگا رکھی تھی۔ اس موسیقی کو سنتے ہوئے اسے محسوس ہونے لگا کہ یہ آواز اسے اس آبشار کے پاس لے جا رہی ہے، جو پہاڑی سے نکل کر زمین کی طرف بڑھ رہا ہے۔ محبت اس کے انگ انگ میں ہے۔ آبشار اوپر سے شور مچاتا ہوا چلتا ہے، نیچے آتے آتے زیادہ روشن اور سریلا ہو جاتا ہے۔ پھر زمین کی گود میں سما جاتا ہے۔ دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔ پاس پڑے پتھر اس ملن پر مسکراتے ہیں، کیونکہ جاتے جاتے آبشار ان پتھروں کو بھی چھوتا، سہلاتا، نہلاتا، پاک کرتا ہوا محبوبہ کی آغوش میں کھو جاتا ہے۔ کھو جانے کو جی تو چاہتا ہے اس کا بھی۔ مگر کیسے؟

فون شاید اپنی خاموشی سے پریشان ہو کر ایک بار پھر چہچہانے لگا۔ اس نے لپک کر اٹھا لیا۔ فون کان سے چپکا لیا تاکہ آواز کسی اور تک پہنچ نہ پائے۔ فون پکڑے پکڑے ٹہلنے لگی۔ سانس رکی سی جا رہی تھی۔ دھیان سے سن رہی تھی، شاید جو کچھ بھی کہا جا رہا تھا۔ بالکل کھو گئی صرف اتنا بول پائی۔ ’’مگر وِدھو۔‘‘

پھر خاموش ٹہلنے لگی۔ چہرے پر ایک خاص چمک تھی۔ آنکھوں میں زندگی جی رہی تھی۔ شیلی بس، ہوں، ہاں، اچھا، ٹھیک، کہے جا رہی تھی، ’’نہیں، وِدھو۔ ضد نہ کرو!‘‘فون رکھ دیا۔

سوفے پر بیٹھ گئی شیلی۔ ذہن میں ہلچل مچی ہے۔ جائے یا نہیں جائے۔ نہیں نہیں۔ کیا یہ ٹھیک ہو گا؟  اسے بس ایک قدم ہی تو آگے بڑھانا ہے اور ایک نئی دنیا اس کا انتظار کر رہی ہے۔

ایک جھٹکے سے اس نے اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا۔ دروازے کی طرف بڑھی اور باہر نکل گئی۔ دروازہ بند ہونے کی آواز آئی اور گم ہو گئی۔

٭٭٭

 

 

 

 

بابل مورا

 

 

’’ماں میں نے کہہ دیا، میں یہ گھر نہیں چھوڑو گی۔‘‘

’’کیوں نہیں چھوڑے گی اور کیسے نہیں چھوڑے گی؟‘‘

’’کیونکہ یہ میرا گھر ہے۔‘‘

’’یہ کس نے کہہ دیا تجھ سے؟‘‘

’’یہ میرے ڈیڈ کا گھر ہے!‘‘

’’میں تجھے یہاں نہیں رہنے دوں گی، کیونکہ تو ’فل ‘کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں ہے۔‘‘

’’میں کیوں رہوں اس کے ساتھ؟  اب تو تمہیں بھی، اس تین سال کی جیل کاٹنے والے مجرم کو گھر میں نہیں آنے دینا چاہئے۔‘‘

’’لیزا یہ مجھ نہیں ہو گا۔‘‘

’’کیوں نہیں ہو گا؟  کیا میں تمہاری بیٹی نہیں ہوں؟‘‘

’’تو اب اٹھارہ سال کی ہو گئی ہے، کیوں نہیں جا کر اس کونسلر کے پیچھے پڑ جاتی ہے کہ تجھ کو ایک کمرے کا فلیٹ دلوا دے۔‘‘

’’جب میرے پاس اپنا گھر ہے تو میں کیوں جاؤں؟‘‘

’’پھر تجھے فل کے ساتھ ہی رہنا ہو گا، اسی گھر میں!!‘‘

لیزا سوچنے لگی۔ کتنی کٹھور اور بے حس ہو گئی ہے اس کی ماں!  فل کی وجہ اپنی اٹھارہ سال کی بیٹی کو گھر سے نکل جانے کو کہہ رہی ہے۔ وہ گھبرانے لگی۔ اگر یہ شیطان گھر میں واپس آ گیا تو کچھ پتہ نہیں اس کے ساتھ کیسا سلوک کرے۔ شاید اسی طرح پھر سے دروازے سے نکل کر بھاگے گا بے شرم وحشی۔۔ ۔

اُس دن۔!!

وہ کمرے کے دروازے سے باہر بھاگنے ہی والا تھا کہ لیزا بجلی کی تیزی سے پلٹی، کہنیوں کو نرم بستر کے اوپر زور سے دبا کر جسم کو سہارا دیا اور شکاری کتے کی طرح دونوں ہاتھ اس کی بغلوں کے نیچے سے ڈال کر اس کو دبوچا اور گردن کے پیچھے کندھے کے نیچے، پوری طاقت سے دانت ایسے گڑا دئیے، کہ جنہیں نکالتے ہی خون بہنے لگا۔

’’اوہ گاڈ، اوہ گاڈ‘‘ کی مکروہ سی آواز کمرے میں چاروں طرف چکر لگانے لگی اور وہ چکراتا ہوا کمرے سے باہر، تنگ سیڑھیاں آڑا ترچھا ہوتا ہوا نیچے بھاگا۔ ہاتھ سے گردن کا پچھلا حصہ چھپائے ہوئے تھا تاکہ کوئی باہر دیکھ نہ لے کہ گردن کے نیچے کس شیرنی نے اس کے گندے کالے خون کی ہولی کھیلی ہے!  وہ تو کلینک بھی نہیں جا سکتا تھا کہ وہاں کیا بتائے گا؟  کہ کیا گناہ کر کے آیا ہے!  نینسی کو تو وہ منا لے گا، لیکن اسے کام سے واپس آنے میں ابھی کافی وقت تھا۔

لیزا وقت کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتی تھی۔ ماں کا انتظار بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ لیکن غصہ اور ہچکچاہٹ دونوں ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو رہے تھے۔ پولیس اسٹیشن تو پڑوس میں ہی تھا۔ اس ایریا کی کرپشن کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ایک چھوٹی پولیس چوکی وہیں بنا دی تھی۔ کبوتر کے کابک کی طرح بنے ہوئے فلیٹوں میں سے ایک گراؤنڈ فلور والے فلیٹ میں پولیس اسٹیشن تھا۔ پولیس خود بھی سامنے کے دروازے بند کر کے بیٹھتی۔ پچھلے دروازے سے آنے جانے کا کام لیا جاتا۔ جب کبھی وہ باہر نکلتے تو مسلح نکلتے اور دو تین ایک ساتھ ہوتے۔

لیزا، پولیس چوکی کے پچھلے دروازے پر تیزی سے بھاگتی ہوئی پہنچی۔ نیلے ڈینہم کے شارٹس، اس کی لمبی لمبی گلابی ٹانگوں کے اوپر ٹیڑھے ہو کر پھنسے ہوئے تھے۔ چھوٹی سی کرتی، جس سے اس کی پتلی سی کمر جھانک رہی تھی، وہ کرتی بھی اس کی غصے سے بھری چال کے ساتھ غصے سے ڈول رہی تھی۔ اس کے سنہرے رنگ کے بال، جو اس وقت الجھے ہوئے سر کے چاروں طرف بکھرے پڑے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے گلابی پانی میں آگ لگی ہو۔

آگ تو اس کے اندر سلگ رہی تھی۔ مگر وہ ڈر بھی رہی تھی کی ابھی جس کو دانتوں سے ادھیڑ چکی تھی، پھر کہیں سے نکل کر نہ آ جائے۔ وہ چوکی کے پچھلے دروازے پر کھڑی گھنٹی کے بٹن سے ہاتھ نہیں ہٹا رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے اس کا ہاتھ گھنٹی سے چپک گیا ہو۔ کبھی ایک پاؤں دوسرے پر رکھتی تو کبھی دوسرا پہلے پر۔ اس سے تکلیف کا احساس ہو رہا تھا یا شاید اونچی نیچی زمین پیروں میں چبھ رہی تھی۔

نہ جانے دونوں بہنوں کہاں ہوں گی، کہیں وہ ان دونوں کو بھی!  نہیں، نہیں، نہیں۔ میں ایسا نہیں ہونے دوں گی!  میں نینسی کو سب بتا دوں گی۔ گھر سے نکلوا دوں گی اس کو!  یہ پولیس نہ جانے کہاں مر گئی ہے؟  دروازہ کیوں نہیں کھلتا؟

’’ہیلو لیزا!‘‘

اس نے پلٹ کر دیکھا تو واپس سارجنٹ لینگلی کھڑا ہوا تھا۔

’’کیسے آنا ہوا؟‘‘

چند پلوں کیلئے لیزا کا جی چاہا کہ اپنے باپ کی طرح، اپنے دونوں ہاتھ سارجنٹ کے گرد لپیٹ کر سینے پر سر رکھ کر اپنے اندر کے مقید غصے کو آنسوؤں کے ساتھ اس کے سینے میں جذب کر دے۔ اپنے دکھ ہمیشہ کی طرح اپنے باپ کی جھولی میں ڈال کر خود ہلکی ہو جائے۔ یہی تو ہوا کرتا تھا بچپن میں جب وہ اپ سیٹ ہوتی تو اپنے ڈیڈ سے لپٹ جاتی اور آنسوؤں کا کٹورہ اس کے سینے میں انڈیل دیتی۔ باپ کی قمیض جب بھیگنے لگتی تو ’’ارے لیزا تو رو رہی ہے؟‘‘ کہتے ہوئے اسے گود میں اٹھا کر زور سے لپٹا کر سر پر پیار کرتا اور اس وقت تک لپٹائے رکھتا، جب تک لیزا ہی اپنا سر باپ کے کندھوں سے اٹھا کر اس کے منہ کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اپنی طرف نہ گھما لیتی۔ دونوں کی آنکھیں ملتیں، آنکھوں ہی آنکھوں میں دونوں ایک دوسرے کے تئیں محبت کا یقین دلا لیتے اور پھر باپ لیزا کو زور سے گدیلے سوفے پر پٹخ دیتا۔ پھر خوب ہنستا اور لیزا کو چھیڑتا، ’’کتنی وزنی ہو گئی ہے، میرے ہاتھ ٹوٹے جا رہے تھے۔‘‘

’’لیزا کھانا کھایا تم تینوں نے؟‘‘

’’نہیں ڈیڈ، ابھی ممی گھر نہیں آئی!‘‘

’’کام سے چھٹی کو تو کافی دیر ہو گئی ہے!!‘‘

’’آتی ہی ہوں گی ڈیڈ۔‘‘

’’مگر۔‘‘

’’آؤ لیزا اندر جائیں گی۔‘‘سارجنٹ لینگلی نے فکر میں ڈوبی لیزا کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔

باہر لگی نمبروں کی تختی پر اس نے کوڈ نمبر ملایا اور ہینڈل گھما کر دروازہ کھولتے ہوئے پہلے لیزا کو اندر چلنے کو کہا۔

خوفزدہ لیزا، اندر جاتے ہوئے جھجکی۔ مگر سارجنٹ لینگلی نے ہلکے سے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اندر کر دیا اور فوری طور پر بجلی کا بٹن دبایا تو تین چار بلب ایک ساتھ جل اٹھے۔ چھوٹا سا ایک کمرے باہر ہی بنا ہوا تھا، ایک اونچی سی لکھنے پڑھنے والی میز رکھی ہوئی تھی، تین چار کرسیاں پڑی ہوئی تھیں۔ سارجنٹ نے لیزا کو بیٹھ جانے کا اشارہ کیا اور خود دوسرا دروازہ کھول کر دوسرے کمرے کے اندر چلا گیا۔ وہاں سے ٹیل فون پر باتوں کی آوازیں آنے لگیں۔ اپنے ساتھیوں سے آپریشن کا نتیجہ معلوم کر رہا تھا۔ لیزا سمجھ گئی تھی کہ آج شاید اس علاقے میں چھاپہ پڑا ہے۔ ایسا اکثر ہوتا تھا۔ کوئی مجرم کہیں بھی جرم کرتا، مگر آ کر چھپتا اسی علاقے میں تھا۔

’’یس لیزا ہاؤ کین آئی ہیلپ یو؟‘‘

سارجنٹ نے ہاتھ میں ایک رائٹنگ پیڈ اور پنسل پکڑی ہوئی تھی، جس کے پیچھے ربڑ لگا ہوا تھا۔

لیزا چونک گئی۔ گھبرا سی گئی۔ میں یہاں کیوں آ گئی۔ اب میں کیا بتاؤں۔ کیسے بتاؤں!  ماں کے بارے میں بھی بتانا ہو گا۔ یہ ہے کون؟ کیسے آیا ہمارے گھر میں؟

کتنا اچھا ہے اس کا اپنا باپ، کتنا شریف، نہ جانے کیوں ماں نے اس سے طلاق لے لی!!

دیکھنے میں بھی تو کتنا خوبصورت ہے میرا باپ!  یہ کمینہ تو دیکھنے میں ہی گدھ لگتا ہے۔ ماں شاید بس پھنس گئی ہو گی۔!!

میرے باپ کے پاس تو نوکری بھی تھی۔ یہ تو حرام خور ہے۔ نہ جانے کیوں میری ماں نے خوش و خرم خاندان کو شمشان گھاٹ بنا دیا؟

’’ہیلو لیزا، کیسے آنا ہوا؟‘‘

لیزا نے اپنا چہرہ اپنی پتلی لمبی انگلیوں والے ہاتھوں سے چھپا لیا اور آنکھیں موند کر، سر میز پر ٹکا دیا۔ ایک طویل سانس کے ساتھ ڈری ہوئی شرمندہ سی کانپتی ہوئی آواز میں بولنے کی کوشش کی، مگر آواز حلق میں پھنس کر اٹک گئی۔

’’کم آن لیزا، بولو جو سچ ہے۔‘‘

لیزا اپنی آنکھیں بند کر کے، شترمرغ کی طرح سمجھ رہی تھی کہ وہ چھپ گئی ہے اور اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔

پھر اس نے جھجکتے ہوئے کہنا شروع کیا۔ حادثے کی تفصیلات کچھ اس رفتار سے دے رہی تھی، کہ درمیان نہ تو کوئی کوما تھا اور نہ ہی فل اسٹاپ۔ ایک سانس میں بس طوطے کی طرح جو کچھ غبار اندر بھرا ہوا تھا۔ سب اگل دیا

’’وہ زیادہ تر میری چھوٹی بہنوں کے ساتھ کمپیوٹر پر گیم کھیلتا رہتا ہے یا پھر ٹی وی کے سامنے بیٹھا کرسپ کھاتا رہتا ہے اور گہرے بھورے رنگ کے قالین پر بکھیرتا رہتا ہے۔ ٹی وی سے زیادہ، اس کے منہ سے نکلی کر ر، کرر کی آوازیں، کانوں کو بے چین کر دیتی ہیں۔ جتنا کھاتا ہے، اتنا ہی فرش پر گراتا اور پھر بغیر صاف کئے، وہ نینسی کے پاس کمرے میں گھس جاتا ہے اور تھوڑے ہی وقت کے بعد نکل کر کچن میں پہنچ جاتا ہے اور دوسرے دن کا تمام کھانا کھا جاتا ہے۔ کبھی کبھی تو صبح کے ناشتے کے لئے ٹوسٹ بھی نہیں بچتے ہیں۔ نینسی جب صبح ناشتا بنانے جاتی ہے تو یہ دیکھ کر پیار سے ہنستی ہے اور باہر نکل جاتی ہے بریڈ لانے۔ نجانے کیوں اسے غصہ نہیں آتا؟  ہم بہنوں میں سے اگر کوئی ایسا کرے تو گلا پھاڑ پھاڑ کر چیختی ہے اور ہم میں سے ایک کو دوڑاتی ہے بریڈ لانے کے لئے۔ وہ پڑا سوتا رہتا ہے اور نینسی کمرے کا دروازہ باہر سے بند کر دیتی ہے کہ کہیں شور سے اٹھ نہ جائے۔‘‘

سارجنٹ، لیزا کو ہمدردی بھری نظروں سے پڑھتا جا رہا تھا، کتنی گہری چوٹ لگی ہے اس چھوٹی سی عمر میں۔ کیا یہ اس کرب سے کبھی نکل بھی پائے گی؟  وہ چپ چاپ سننا چاہتا تھا لیزا کے دکھ۔

سارجنٹ کی ٹیم واپس آ گئی تھی۔ لیزا کو وہاں بیٹھا دیکھ کر سب اندر والے کمرے میں چلے گئے۔

’’لیزا، پانی پیو گی؟‘‘

’’ہاں!‘‘لیزا نے جلدی سے کہا۔ اس کا گلا خشک جا رہا تھا، مگر سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کہاں رکے اور کب پانی مانگے۔ وہ تو جلد از جلد معلوم کرنا چاہ رہی تھی کہ سارجنٹ بتائے کہ اب آگے وہ کیا کار روائی کرے گا؟  اس کو کیا سزا دے گا؟  کیا اس کے ڈیڈی پھر سے واپس آ جائیں گے؟  ہر قدم پر ڈیڈی کو یاد کر رہی تھی لیزا۔

سارجنٹ نے اس درمیان اپنی ٹیم سے بھی سوال کر لیا، ’’کیا ریڈ (RAID) سے کچھ نتیجہ بھی نکلا؟‘‘

’’ہاں ایک لڑکا پکڑا گیا ہے اور دو فرار ہو گئے۔‘‘

گراہم پارک کا روز کا یہی تماشا تھا۔ نہ معلوم کہاں سے سارے جہاں کے غنڈے بدمعاش یہیں آ کر بس گئے تھے اور بیچارے سیدھے سادھے لوگ ان چکروں میں پس رہے تھے۔

سارجنٹ نے جیسے ہی پانی کا گلاس لیزا کے ہاتھ میں دیا، وہ ایک ہی سانس میں گٹاگٹ حلق سے اتار گئی۔ اس کی معصوم، گلابی شیشے کی طرح چمکتی گردن سے پانی نیچے اترتا ہوا صاف محسوس ہو رہا تھا۔ اس کے خشک ہونٹوں میں کچھ تراوٹ آئی۔ دانتوں سے ہونٹ کاٹنے لگی۔ پھر بے چین ہو کر سر میز پر رکھ کر آنکھیں بند کر لیں۔

’’لیزا پھر کیا ہوا؟‘‘

لیزا نے سارجنٹ کی جانب سر اٹھا کر دیکھا اور آنسو بہنے لگے۔ سارجنٹ خاموشی سے بیٹھا رہا۔ لیزا کے اندر کا دکھ بہہ جانے دینا چاہ رہا تھا۔ پانی سوکھے حلق سے نیچے اترا تو غم آنکھوں سے بہہ نکلا۔

وہ میرے ساتھ بھی ایسے ہی کھیلنا چاہتا تھا، جیسے میری بہنوں کے ساتھ کھیلتا ہے۔ وہ ضد کرتا ہے کہ میں بھی اس کے ساتھ بیٹھ کر فلم دیکھوں اور کرسپ کھاؤں۔ مجھے ’’او لیول‘‘ کی تیاری کرنی ہے، کہہ کر میں نے ہمیشہ پیچھا چھڑایا۔ مجھے اس کی حرکتیں اچھی نہیں لگتی تھیں۔ وہ ایک غیر ذمے دار، ذہنی طور پر بیمار اور خود غرض انسان لگتا تھا اور پھر میرے ڈیڈ کی جگہ لے کر بیٹھ گیا تھا۔ نہ معلوم میری ماں کو اس میں کیا نظر آیا تھا۔ نوکری بھی نہیں کرتا تھا۔ میرے ڈیڈ تو روز سویرے پیدل کام پر چلے جاتے۔ کار نینسی کے لئے چھوڑ جاتے۔ سنیچر اتوار ہم تینوں بہنوں کو پارک میں لے جاتے یا بچوں کی فلم دکھانے لے جاتے۔ کبھی کبھی میکڈونلڈ میں بھی کھلاتے۔ ممی کو شاپنگ کرنے لے جاتے۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی کام ہی کیا کرتے۔ گھر کی کوئی بھی چیز ٹوٹتی تو خود ہی جوڑ لیا کرتے، مگر جب ان کا اپنا دل ٹوٹا تو ہم میں سے کوئی بھی نہ جوڑ سکا۔‘‘

’’میں نے ماں سے بہت منت سماجت کی کہ ڈیڈ کو نہ چھوڑے، طلاق نہ لے، پر اس پر نہ جانے کیا بھوت سوار تھا کہ ہمارا رونا پیٹنا بھی اس کی سوچ کو تبدیل نہ کر سکا۔ ڈیڈ بیچارے نہ جانے کہاں رہنے چلے گئے۔ اتنی محنت سے تو انہوں نے یہ گھر بنایا تھا، مگر ہمارے آرام کی خاطر انہوں نے قربانی دی اور نینسی کو گھر دے دیا تاکہ ہم بہنوں کو تکلیف نہ ہو۔ میرے ڈیڈ جب ہم سے ملنے آتے تو میں سویرے ہی سے اٹھ کر بیٹھ جاتی ان کے انتظار میں۔ میں انہیں دور ہی سے پہچان لیتی کیونکہ طویل قامت اور ہینڈسم ہیں میرے ڈیڈ۔ مگر اب جھک کر چلنے لگے ہیں، شاید کھانے پینے کا خیال نہیں رکھتے۔‘‘وہ اداس ہو گئی۔

’’لیزا تمہارے پیروں میں جوتے کیوں نہیں ہیں؟‘‘

سارجنٹ، لیزا کو اس مسئلے کی طرف لانا چاہتا تھا اور لیزا مسئلے سے دور بھاگ رہی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا اتنی گھناؤنی حرکت سارجنٹ سے کیسے کہے!

سارجنٹ بات کی تہہ تک پہنچ چکا تھا، لیزا کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے اسے بڑے پولیس اسٹیشن میں شفٹ کر دیا تھا، جو اس چھوٹی سی چوکی کے قریب ہی تھا۔ روتھ ایک تجربہ کار افسر ہے، وہ لیزا سنبھال لے گی۔ اسی لیے سارجنٹ نے کیس پی سی روتھ کے حوالے کر دیا تھا۔

’’ہیلو لیزا۔ میں روتھ ہوں۔‘‘

لیزا چونکی اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔

’’لیزا پھر کیا ہوا؟‘‘روتھ نے اپنی میٹھی اور مہربان آواز میں لیزا سے آگے بات کرنے کو کہا۔

’’ہم سب بکھر گئے۔‘‘ لیزا نے سانس کو اندر کو کھینچتے ہوئے کہا۔ ’’دونوں بہنیں، فل کو اپنے ساتھ کھیلنے والا کھلونا ہی سمجھتی رہیں۔ اس کے ساتھ خوب اچھل کود کرتی رہتیں۔ انہی کے بہانے تو ماں نے فل کا آنا جانا اس گھر میں شروع کروایا تھا۔ مگر مجھے اس کا اس طرح ہمارے خاندان کا حصہ بن جانا، کبھی بھی پسند نہیں آیا تھا۔ چھٹی کے دن صبح سویرے ہی سے آ دھمکتا تو سارا دن میرے گھر والوں کے ساتھ ہی گزار دیتا۔ میرے ڈیڈی کو تو ماں چھٹی کے دن بھی کام پر بھیج دیتی اوور ٹائم کرنے کیلئے، اس وجہ سے کہ فیملی بڑی تھی، پونجی بھی زیادہ چاہیے تھی۔ وہ خود چھٹی کے دن گھر پر ہی رہتی۔ سارے ہفتے کے کپڑے دھونے لانڈریٹ میں جاتی۔ فل بھی اس کے ساتھ میلے کپڑوں کا بیگ بنا کر جاتا۔‘‘لیزا کو فل ہمیشہ گندگی سے بھرا بیگ ہی محسوس ہوتا تھا۔ اس فل میں کوئی کلاس یا ذہانت نہیں دکھائی دیتی تھی۔ وہ ایک کھلندڑا تھا۔ غیر ذمہ دار۔ صرف کھانے کے لئے جینے والا جانور!

لیزا سوچتی ماں اس کو کیوں اس طرح گھر میں گھسائے رہتی ہے؟  کہیں ماں میری ارینجڈ میرج کے چکر میں تو نہیں ہے۔ یہ تو ہمارا کلچر نہیں ہے۔ میں کیوں ماں کی پسند سے شادی کروں!  میں تو اپنے بوائے فرینڈ کو اپنے ڈیڈی سے سب سے پہلے ملواؤں گی۔ میں شادی کروں گی، جیسے ڈیڈ نے کی تھی۔ پہلے سے کسی کو پارٹنر نہیں بناؤں گی۔ میں شادی کروں گی۔ ایز اے ورجن گرل شادی کروں گی۔ وہی میرا ویڈنگ گفٹ ہو گا، میرے اپنے بُنے ہوئے خوابوں کو۔

’’یس مس لیزا جانسن لیٹ اس ڈو دی جاب!‘‘

لیزا اچھل پڑی۔ روتھ اسے غور سے دیکھ رہی تھی، شاید اس کے دکھوں کو بغیر سنے ہی پڑھ لینا چاہتی تھی۔

’’آج کتنی گرمی ہے!  درجہ حرارت تیس ڈگری تک پہنچ گیا ہے۔ مجھے بھی بہت گرمی لگ رہی ہے۔ میرے فلیٹ کے کمرے بالکل مرغی کے دڑبے جیسے ہیں۔ ہم تینوں بہنیں ایک بوکس روم جیسی تہہ خانے میں رہتی ہیں۔ میں سب سے بڑی ہوں۔ میرا باپ ہم تینوں سے بہت محبت کرتا تھا۔ اس کو میری ماں نے ہم سب سے الگ کر دیا۔ آج کل وہ بیمار ہے اور تنہا بھی ہے۔ میں۔ میں تو۔۔‘‘

’’لیزا بتاؤ یہاں کیسے آنا ہوا؟‘‘

وہ پھر سوچ میں پڑ گئی۔ اٹھی اور باہر جانے لگی۔

’’مجھے کچھ نہیں بتانا ہے۔‘‘

’’لیزا ایسا نہیں کرو۔ پولیس ہمیشہ مدد کرتی ہے۔ پولیس سے کچھ نہیں چھپاتے۔ تمہاری عزت میرا فرض ہے۔‘‘روتھ نے پیار سے مدھم مگر گمبھیر آواز میں کہا۔

لیزا پھٹ پڑی۔ ’’میں ’’او لیول‘‘ کے ایگزام کیلئے پڑھ رہی تھی، نینسی یعنی میری ماں کام پر گئی ہوئی تھی، بہنیں اسکول میں تھیں، فل نہ جانے کب گھر میں آ گیا، مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔ چپکے سے میرے کمرے میں داخل ہو کر دیکھیں یہ سب کیا کر دیا۔‘‘

’’دیکھئے آفیسر، وہ وحشی میرے بالوں کو اپنے منہ کے اوپر لپیٹ لپیٹ کر کھینچنے لگا۔ بالوں کو چوس چوس کر بری طرح گیلا کر دیا۔ نا جانے کب سے میرے سنہرے بالوں پر نظر گڑائے بیٹھا تھا اور پھر میرے جسم کو سہلانے لگا اور روتھ آخر میں بھیڑیوں کی طرح بھنبھوڑ کر رکھ دیا۔‘‘وہ کانپنے لگی اور اس نے اپنے الجھے ہوئے لمبے بال گردن سے ہٹائے اور لال لال خون جمے نشان پوری گردن پر دکھائے۔

’’جب وہ نکل کر بھاگنے لگا تو میں نے بھی پیچھا کر کے دروازے ہی پر پکڑا اور دانت گاڑ دئیے اس کی پیٹھ میں، مگر ابھی تک چین نہیں آ رہا ہے مجھے۔ آج جو ایک لڑکا پکڑا گیا ہے، اس کی گردن کے پیچھے کندھے کے نیچے بھی دانتوں کے نشانات ہیں، مگر وہ بتا نہیں رہا کہ کس نے کاٹا۔‘‘

’’لیزا تم فکر مت کرو ڈی این اے ٹیسٹ سے سب کچھ ثابت ہو جائے گا اور ہاں وقت آنے پر تمہیں پریگنینسی ٹیسٹ بھی کروانا ہو گا، اس کی سزا تو پکی ہے۔‘‘

’’کتنے سالوں کی؟‘‘

’’سزا کا فیصلہ کورٹ کرے گی، ہم قانون کے بارے میں کچھ نہیں بول سکتے۔ پر جرم بہت سنگین ہے۔ اس کی سزا لمبی ہونی چاہئے، تم انڈر ایج جو ہو۔‘‘

پریگنینسی ٹیسٹ کا سن کر وہ ڈر سی گئی تھی۔ مگر یہ سن کر جیسے مطمئن ہوئی۔ پیلے رنگ کے چہرے پر تھوڑا سا رنگ دکھائی دینے لگا۔ لیکن ایک دم سے کھڑی ہو گئی، ’’آفیسر مجھے خود سے گھن آ رہی ہے۔ میں پاک نہیں رہی۔ میں ناپاک ہو گئی ہوں۔ میرے پاس سے بد بو آ رہی ہے نا؟  اب میں نرس کیسے بنوں گی۔ مریضوں کو کیسے چھو سکوں گی۔ اپنی بہنوں سے پیار کیسے کروں گی۔ اپنے ڈیڈی کوکیسے اپنے دکھ بتاؤ گی؟‘‘

وہ دھم سے کرسی پر بیٹھ گئی اور میز پر سر کو مارنے لگی۔

لیزا کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا، جیسے جیسے اسے احساس ہو رہا تھا، اپنا کچھ کھو جانے کا، لٹ جانے کا۔ اپنے ہی گھر میں آنکھوں کے سامنے ڈاکہ پڑ جانے کا اور اپنی مجبوری کا۔ اس کے ڈیڈی نے اسے کچھ ضابطے دیئے تھے۔ رومن کیتھولک ہونے کے ضابطے۔ وہ اپنے یسوع مسیح کی بتائی باتوں پر چلنا چاہتی تھی، کیونکہ اس کے ڈیڈی کو وہی باتیں پسند تھی۔ نینسی ہمیشہ مذہب کے خلاف بات کرتی۔ مذاق اڑاتی مذہب کا۔ اس کے مطابق مذہب کے مطابق چلنے والے دقیانوسی ہوتے ہیں، پسماندہ لوگ۔ جمعہ مناتی کہ ہنری ہشتم نے مذہب کو جدید چولا پہنا دیا، ورنہ آج بھی ہم کتنے پیچھے رہ گئے ہوتے۔ اس کے ڈیڈی ہمیشہ درمیانی راستے کی بات کرتے۔ بہنیں خود ہی بڑی بہن کو دیکھ کر اسی کے نقش قدم پر چلنا چاہتی تھیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ پہلے بڑے بچے کو اچھی تربیت دے دینے سے، بعد کے بچے خود ہی اس کے پیچھے چلنے لگتے ہیں۔

لیزا کی یہ حالت دیکھ کر پی سی روتھ نے صرف کندھے پر ہلکا سا ہاتھ رکھ دیا اور خاموش کھڑی رہی۔ ’’لیزا اب تمہیں ہسپتال جائیں گے چیک اپ کے لئے۔‘‘

’’کیا تمہیں یقین نہیں آ رہا، جو میں بک رہی ہوں؟‘‘

’’نہیں لیزا ایسا نہیں۔ یہ سب کورٹ کی ضروریات ہوتی ہیں۔‘‘

پھر لیزا سوچنے لگی کہ گھر میں سکھ چین ہو جائے گا اور اب وہ اپنے ڈیڈی کے دئیے گھر میں مزے سے رہ سکے گی۔ اپنی بہنوں کی بھی دیکھ بھال کر سکے گی۔ وہ بھی محفوظ رہیں گی اس بھیڑیئے سے۔ نہیں معلوم جیل کب تک جائے گا۔

نینسی نے کچھ دنوں سے لیزا کو سمجھانا شروع کر دیا تھا کہ او لیول کا امتحان دینے کے بعد اپنے علاقے کے کونسلر سے مشورہ کر کے اپنے لئے ایک بیڈروم کے فلیٹ کا مطالبہ کرے۔ ہاؤسنگ ڈپارٹمنٹ والے فوراً تو سنتے نہیں ہیں۔ دنیا بھر کی انکوائری کرتے ہیں۔ اس طرح جیسے ہی اٹھارہ سال کی ہو گی، الگ فلیٹ میں رہ سکے گی۔

’’یہ کیسی ماں ہے؟‘‘لیزا سوچتی۔ یہاں تو بچے گھر چھوڑ کر فرار ہونے کے چکر میں ہیں اور یہ مجھے الٹا بھگانے کے چکر چلا رہی ہے۔ میں نے تو نہیں سوچا کہ مجھے فلیٹ لے کر الگ ہونا ہے۔ تو پھر ماں کو کیا جلدی پڑی ہے؟  ہمارے ڈیڈی تو ہم تینوں بہنوں کے لئے ہی تو گھر چھوڑ کر گئے ہیں تاکہ ہم خوش و خرم رہیں۔

وہ خود ہی ماں کے اس رویہ سے فکر مند رہتے تھے، پر ہچکچاہٹ ہوتی تھی، ایسی گندی باتیں بیوی کے بارے میں سوچتے ہوئے۔ اس کی دھلی دھلائی، صاف ستھری بیٹیوں نے اسی ماں کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ ’’میری بیٹیاں تو مدر میری کی طرح مقدس، معصوم اور خوبصورت ہیں۔‘‘

کتنا پیار کرتے تھے ہمارے ڈیڈی ہم سے، مجھے تو کتنا بڑا ہو جانے تک کندھے پر اٹھا لیتے اور پورے گھر کے چکر لگاتے۔ یہ سوچ کر لیزا کو اپنے بڑے ہو جانے پر ہلکی سی کسک محسوس ہوتی۔

یہ سوچ کر کہ اگر آج ڈیڈی ہوتے اور میں اپنے مضبوط ڈیڈی کے توانا کندھوں پر بیٹھ جاتی تو میری ٹانگیں تو زمین کو ہی چومتی رہتیں۔ وہ یہ سوچ کر چکرانے لگی کہ اس دن انہی لمبی ٹانگوں سے خون کی باریک سی کنواری لکیر بہہ کر گھٹنوں اور ٹخنوں تلک پہنچ کر ویسے ہی کھو گئی، جیسے دریا اپنے وجود کو سمندر میں ڈال کر گم ہو جاتی ہیں۔ گم وہ بھی تھی اس ادھیڑ بن میں کہ ماں نے کونسلر کے پاس جانے کی رٹ کیوں لگائی ہوئی ہے؟

اسے اندر سے محسوس ہوتا تھا کھوکھلا پن۔ ٹوٹ گئی تھی وہ جیسے، جب اس ادھ کھلی کنواری کا پریگنینسی ٹیسٹ ہوا تھا۔ یسوع مسیح نے اپنا کرم برقرار رکھا اور اس کا ٹیسٹ نگیٹو نکلا۔ اگر ایسا نہ ہوتا۔ اس کا متضاد ہو جاتا تو کیا وہ جی سکتی تھی اس گناہ کے بیج کو لے کر!  کبھی نہیں، کبھی نہیں!  حالانکہ اب وہ اس مشکل مسئلے سے باہر آ گئی تھی، مگر؟

مسائل نے تو اس کا گھر ڈھونڈ لیا تھا۔ گھر تو اسی دن دکھوں کی سپر مارکیٹ بن گیا تھا، جس دن وہ دم ہلاتا کتا اس گھر میں آیا تھا۔ اب وہ فل کو ایسے ہی خطاب سے یاد کرتی۔ اس کی اتنی بڑی قربانی دینے کے بعد اس کی اپنی ماں اب عقل سے کام لے گی، لیزا سوچتی۔ یہی ایک امید اس کو سہارا دئیے ہوئے تھی۔ مگر ماں، اس کے بڑے ہو جانے پر اس وجہ سے خوش ہے کہ اب وہ الگ فلیٹ میں شفٹ ہو جائے گی۔

ماں!  میں کیوں بے ایمانی کروں!  میرے پاس تو رہنے کو گھر موجود ہے اور ہاں ڈیڈی کو تو کونسل سے فلیٹ بھی مل گیا ہے۔ میں کیوں کونسل پر بوجھ بنوں؟  میرے بدلے وہ فلیٹ کسی حقدار شخص کو مل جائے گا۔

لیزا جتنی ایماندار تھی، ماں نینسی اتنی ہی چالباز۔ اس کا تو خمیر ہی گندگی سے اٹھا ہے۔ کوئی سوچ صراط مستقیم پر چلتی ہی نہیں تھی۔ الجھی باتیں کرتی اور اسی میں الجھا دیتی تمام رشتوں کو۔

’’لیزا، آج ہفتہ ہے، کونسلر دس سے ساڑھے گیارہ بجے تک گراہم پارک لائبریری کے ایک کمرے میں بیٹھتی ہے۔ تو پونے دس بجے ہی جا کر بیٹھ جا۔ شاید تیرا پہلا نمبر ہی آ جائے گا۔ سنا ہے کونسلر دکھی لوگوں کی تکلیف کومحسوس کرنے والی عورت ہے۔‘‘

’’ماں تم نے جو دکھ دیا ہے، اس کو کونسلر تو کیا دنیا کا کوئی بھی شخص نہیں دھو سکتا۔ میں نے کہہ دیا ہے۔ نہ تو میں کونسلر کے پاس جاؤں گی اور نہ ہی الگ فلیٹ میں۔ میں اپنی بہنوں کے ساتھ اپنے ڈیڈی کے دئیے ہوئے گھر ہی میں رہوں گی۔‘‘

’’میری بات مان لے لیزا۔ ضد نہ کر۔ اب اس گھر میں بھیڑ بڑھ رہی ہے۔‘‘

’’آج تک تو گھر میں بھیڑ نہیں محسوس ہوئی۔ اب اچانک کیا ہو گیا ہے ماں؟  میں کوئی بے گھر نہیں ہوں۔ جس کے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہ ہو۔ میں اس لیے نہیں جاؤں گی کہ کسی ضرورت مند کا حصہ مارا جائے گا اور اس وجہ سے اور بھی نہیں جاؤں گی کہ میرے پاس گھر ہے۔ میں بے گھر نہیں ہوں۔ ہاں بے ماں کی ضرور محسوس کرنے لگی ہوں!‘‘

اس دن پہلی بار لیزا کے رویے میں کڑواہٹ کی ملاوٹ محسوس ہو رہی تھی۔ لیزا کی شہد کی طرح میٹھا لہجہ شیونگ بلیڈ کی طرح کاٹتا چیرتا چلا جا رہا تھا۔

نینسی تو بے حس ہو چلی تھی۔ خود غرض اور لا پرواہ۔ صرف اپنے بارے میں سوچنا اور اپنے ہی لئے جینا اور پھر اپنی بے چارگی کے دکھڑے رونا۔

اور۔

کتنی بے چین تھی نینسی اس دن۔

اس دن سے برسوں تک ملاقات والے دن، تین گھنٹے جانا اور تین گھنٹے آنا کرتی رہی۔ لیزا کو کوستی رہی کہ اس کی وجہ سے فل جیل گیا، اس کا بھی تو سوتیلا باپ ہوا۔ اس کو باپ کا کوئی خیال نہیں!

آج جب وہ واپس آنے والا ہے تو سویرے ہی سے نینسی اپنا بیڈروم سجانے میں مصروف ہے۔ اپنے موٹے موٹے کالے گندگی بھرے ناخنوں میں سے کھود کھود کر گندگی نکالنے کے بعد انہیں گہرے سرخ رنگ کی بیر بہوٹیاں بنا رہی ہے۔ بالوں میں بھی رولر لگائے گھوم رہی ہے کہ گھنگھریالے بال ذرا گھنے لگیں گے ورنہ سر کی جلد جگہ جگہ سے دکھائی دینے لگی ہے۔ بلاؤز کے ساتھ سیاہ چمڑے کی منی اسکرٹ، گھٹنوں سے دس انچ اوپر کولہوں پر پھنسی، پہن کر باہر نکلی اور ماڈل بن کر کھڑی ہو گئی۔ دونوں چھوٹی بیٹیوں سے رائے لینے لگی کہ میں کیسی لگ رہی ہوں؟  وہ دونوں دیکھ کھلکھلانے لگیں اور لیزا کی نظر سیدھی اس کی ٹانگ پر ابھری ہوئی رگوں پہ جا ٹکی۔ جیسے دنیا کے تمام دریا نیلاہٹ بچھائے ہیں اور کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے خون جمے ٹیلے بھی نظر آ رہے ہیں۔

وہ کمرے سے باہر نکل گئی، ماں کا سرخ ساٹن کا بلاؤز پر نظر ڈالتے ہوئے، جس سے اس کے اعضاء باہر کو ابل پڑ رہے تھے۔ نینسی نے بیٹیوں کو بھونچکا دیکھ کر خود ہی سوچا کہ بلاؤز اتنی اونچی ہونی چاہئے کہ اس کی گوری کمر اور پیٹ نظر آئے۔ کمرے کا زرد بیمار سا بلب نکال کر سرخ روشنی والا بلب لگا دیا کہ کمرا دیکھتے ہی فل کے ہوش اڑ جائیں اور!

اسے کیا معلوم فل کو تو کچا خون منہ کو لگ چکا ہے!

اور آج اس سے کہیں زیادہ بے چین ہے لیزا!  اسے جب احساس ہوا کہ آج وہ شکاری واپس آ رہا ہے اور ماں اس کو اسی گھر میں واپس لا رہی ہے، جہاں اس کی اپنی بیٹی کی زندگی بھر کی تپسیا۔ کنواری رہنے کی تپسیا۔ یسوع مسیح کے بتائے راستوں پر چلنے کی تمنا، مدر میری کی طرح مقدس رہنے کی خواہش اور باپ کے سکھائے اصولوں پر قائم رہنے کی امنگ۔ سبھی کچھ تو تحلیل ہو چکا ہے۔ لیکن یہ نینسی اب بھی باز نہیں آتی۔ کیا دونوں بہنوں کی بھی قربانی لے گی؟  ایسا نہیں ہونے دیں گے، کبھی نہیں۔

کونسلر کے سامنے کھڑی گڑ گ      ڑا رہی ہے، ’’میں کچھ نہیں جانتی مجھے الگ فلیٹ چاہئے۔ ایک کمرے کا چاہئے۔ میں اپنا گھر چھوڑ دوں گی۔ چھوڑ دوں گی اپنا گھر۔ ہاں چھوڑ دوں گی اپنے ڈیڈی کا گھر۔‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

 

میرے حصے کی دھوپ

 

 

گرمی اور اس پر بلا کی اُمس!

کپڑے جیسے جسم سے چپکے جا رہے تھے۔ شمو ان کپڑوں کو سنبھال کر جسم سے الگ کرتی، کہیں پسینے کی تیزی سے گل نہ جائیں۔ اماں نے کہہ دیا تھا، ’’اب شادی تک اسی جوڑے سے گزارا کرنا ہے۔‘‘

زندگی بھر جو لوگوں کے یہاں سے جمع کئے چار جوڑے تھے، وہ شمو کے جہیز کے لئے رکھ دیئے گئے، ٹین کے زنگ لگے صندوق میں کپڑا بچھا کر۔ کہیں لڑکی کی ہی طرح کپڑوں کو بھی زنگ نہ لگ جائے۔

اماں کی عمر اسی انتظار میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی کہ شمو کے ہاتھ پیلے کر دیں۔ شادی کی خوشیاں تو کیا، بس یہی خیال خوش رکھتا تھا کہ شمو اپنے ڈولے میں بیٹھے تو باقی لڑکیاں جو قطار لگائے انتظار کر رہی ہیں، ان کی بھی باری آئے۔ اماں کے فکر اور پریشانی تبھی تو ختم ہو سکتی ہے۔

شمو کو دیکھنے تو کئی لوگ آئے، مگر کسی نے پکے رنگ کی شکایت کی تو کسی کو شمو کی ناک چپٹی لگی۔ یہاں تک کہ کسی کسی تو شمو کی بڑی بڑی کالی آنکھیں بھی چھوٹی لگیں۔ ہر گاہک کے جانے کے بعد شمو اپنے آپ کو گھنٹوں ٹوٹے ہوئے آئینے میں دیکھا کرتی۔

کبھی اپنی ناک کو چٹکی سے پکڑ پکڑ کر اونچا اور پتلا کرتی یا کبھی آنکھیں کھینچ کھینچ کر اور بڑا کرنے کی کوشش کرتی۔ اور نہیں تو صابن سے رگڑ رگڑ کر منہ ہی گھسنا شروع کر دیتی۔ پھٹے تو لئے سے، جس کے روئے پونچھ پونچھ کر جھڑ چکے تھے، جوتے کی طرح چمکانے کی کوشش کرتی۔ ان ساری کوششوں سے تھک جاتی تو گہری سانس لیتے ہوئے دھم سے پلنگ پر گر جاتی۔

بیچارہ پلنگ، اسے پلنگ کہنا الزام ہی مانا جا سکتا تھا۔ ہاں اسے جھلنگا کہا جا سکتا تھا۔ اس کے لیٹتے ہی پلنگ زمین سے جا لگتا۔ شاید اماں نے پلنگ بھی شمو کے جنم کے آس پاس ہی خریدا ہو گا۔ بیچارہ ابھی بھی جھکولے دے رہا تھا۔

شمو گھنٹوں بے سدھ سی پڑی رہتی اور بے چین ماں کو ادھر سے ادھر چلتا پھرتا دیکھتی رہتی۔ اسی طرح پڑے پڑے آنکھ لگ جاتی جب تک کہ مچھر آ کر بھنبھنا نہیں دیتے۔ سارے مچھر ایک سر میں بھنبھناتے ہوئے جب حملہ کرتے تو کبھی اپنے کانوں پر ہاتھ مارتی یا کبھی دوپٹے سے منہ ڈھانپنے کی کوشش کرتی۔ دوپٹے کے بڑے بڑے سوراخوں سے تاک جھانک کرتے ہوئے مچھر ایک بار پھر شمو کو بے چین کر دیتے۔

کاش!  اس کے گھونگھٹ سے بھی کوئی ایسے ہی تاک جھانک کرتا۔ وہ شرماتی، لجاتی، اقرار کے انداز میں انکار کرتی اور پھر۔ پھر اپنے آپ کو کسی کو سونپ دیتی۔ مگر وہ کب آئے گا؟  کیا اس کے سپنے بغیر کسی راج کمار کے آئے ہی ٹوٹ جائیں گے؟

کب تک اسی طرح اسی گھر میں اماں کے بچوں کی دیکھ بھال کرتی رہے گی؟  وہ گہری اور بے فکر نیند بھی نہ سو پاتی، کیونکہ اماں سے زیادہ خود اس کو اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کا خیال رہتا۔ اسی طرح کے ہزاروں خیالوں سے الجھتی رہتی اور نہ جانے کب نیند کی گود میں پہنچ جاتی۔ دن بھر بیل کی طرح کام کر کے جسم پھوڑے کی طرح دکھ رہا ہوتا۔ سونے میں ہلکے ہلکے کراہنے کی آواز آتی رہتی۔ آناً فاناً میں مرغوں کی بانگیں، مسجد کے ملاؤں سے مقابلہ کرنے لگتی اور شمو اور زور سے منہ ڈھانپ لیتی، کانوں کو تکئے سے دبا کر بند کرنے کی ناکام کوشش کرتی۔ مگر تکیہ بھی پیوندوں کی زیادتی اور روئی کی گٹھلیوں کے سبب کانوں کو چبھتا۔

اماں کی آواز کانوں میں نشتر کی طرح چبھتی، ’’اٹھ شمو بیٹی!  گڈو کو غسل خانے لے جا، ورنہ صبح ہوتے ہوتے بستر بھگو دے گا۔‘‘

شمو لیٹے لیٹے سوچتی کیسا بستر؟  کیا ایک بوسیدہ چادر جو سوراخوں کی کثرت سے جالی بن گئی ہے، چادر کہلائے جانے کے حقدار بھی ہے؟  اگر گڈو بھگونے کی کوشش بھی کرے تو بھگو نہیں پائے گا، کیونکہ سب کچھ چھن جائے گا۔ اماں کی آواز پھر سے آتی، ’’ارے شمو، اٹھ نہ بیٹی، ابھی تک پڑی سوئے جا رہی ہے!  سورج سر پر چڑھا آ رہا ہے اور توُ ہے کہ تیری نیند ہی نہیں ٹوٹتی۔ تیری عمر میں تو تیرے سمیت میرے چار بچے ہو چکے تھے اور اللہ رکھے، آخری دو تو تیرے ہی لگتے ہیں۔ اب اٹھ بھی جا بیٹی، اٹھ جا!‘‘

شمو، یہ سوچتی رہتی کہ اماں نے اپنی شادی تو مزے سے کم عمری میں رچا لی اور اب میری باری آئی ہے تو انھیں کوئی بر ہی نہیں ملتا۔ پھر وہ اپنے پکے رنگ کو الزام دینے لگتی۔ اس میں اماں کا کیا دوش، یہ تو اللہ کی مرضی ہے۔

بیچاری شمو!  اسے کیا معلوم کہ اس کے سلونے حسن میں جو کشش ہے وہ دنیا کے کسی اور رنگ میں نہیں ہے۔ اس کرشن رنگ میں وہ قوت ہے جو محبت کی گرمی اور دوسروں کی مصیبتیں جذب کر لینے کی طاقت رکھتا ہے۔ مگر اس کے لئے رادھا اور میرا جیسی من کی آنکھوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہر آنے والا شمو کی ظاہری کمزوریوں کو دیکھتا، اس کے من کے اندر کی تھاہ لینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔

بیچاری شمو!  جب رات گئے لیٹتی، کوٹھری کی چھت سے ٹپکتی بارش کی پھواریں اس کو بھگوتی رہتی۔ وہ بستر کے ہر کونے، ہر پٹّی میں پناہ لے کر تھک جاتی تو اس کے گلے سے گنگناہٹ ابھرنے لگتی –

اماں میرے بھیّا کو بھیجو ری کہ ساون آیا

اماں میرے بھیّا کو بھیجو ری کہ ساون آیا

کہ ساون آیا

کہ ساون آیا

کہ ساون۔

اور پھر پلنگ کی بے ڈھنگی کھردری موٹی سی پٹّی سے لپٹ کر نیند کے آغوش میں گم ہو جاتی۔ جوانی کی نیند بھی تو کتنی مست ہوتی ہے۔ تمام دکھ اور درد سمٹ کر نیند کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ اماں کو شمو کی بے سد ھ جوان نیند سے خاصی چڑ تھی۔ پر اماں جیسے اپنی جوانی کی نیند بھول ہی گئی تھی۔ اسی نیند نے تو بچوں کی ایک فوج کھڑی کر دی تھی۔

ابا نے تو کبھی اماں کو بے سدھ سونے کا طعنہ نہیں دیا۔ وہ تو خوش ہوتے تھے جب اماں ہاتھ پیر ڈھیلے چھوڑ کر دوپٹے کی گٹھری بنا کر سر کے نیچے رکھ لیتی اور سوجاتی۔ جسم کا ہر انگ ابا کو دعوت دے رہا ہوتا۔ ماں جھلنگے پلنگ پر پڑی بڑے سُر میں خراٹے لے رہی ہوتی اور چند مہینوں بعد ہی ہم بڑے بھائی بہنوں کو خوشخبری سناتی، ’’سنو بچوں، تمہارا ننھا منا سا بہن یا بھائی آنے والا ہے۔ اب مجھے پریشان نہ کرنا اور اپنے تمام کام خود کرنے کی کوشش کرنا، کیونکہ مجھ سے اب نہیں ہوتے یہ کام کاج۔ کام کروں یا بچے پیدا کروں؟  مجھے گائے بھینس سمجھ لیا ہے تمہارے باپ نے!  ہر سال گابھن کر دیتا ہے، جانوروں کی طرح۔‘‘

شمو سوچتی، اماں کو کیا فرق پڑتا ہے۔ مزے اڑاتی ہے آپ اور رعب مارتی ہے ہم پر۔ سارا کام تو مجھے ہی سنبھالنا پڑتا ہے۔ یہ بھی نہیں کہ بچے ہی خوبصورت پیدا کر دے کہ کسی راہ چلتے کی ہم پر نظر پڑے تو مسکرا ہی دے۔ ہم چار دن تو اس کو سوچ سوچ کر خوش ہو لیتے۔ اس کے خواب دیکھ لیا کرتے۔ فلمی گانا گاتے وقت اسی سے سب کچھ جوڑ لیا کرتے۔ یہ سوچتے ہی شمو کے جسم پر جوش ہو اٹھا۔

ایسا لگتا جیسے شمو بیچاری پر جوانی تو آئی ہی نہیں۔ سیدھے بچپن سے اٹھ کر جوان ہو گئی۔ جیسے کسی ذہین بچے کو ڈبل پروموشن دے دی گئی ہو اور بچہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ جانے کے دکھ میں نہ تو رو سکے اور نہ ہی آگے بڑھ جانے کی خوشی میں ہنس سکے۔ غریب کی زندگی بھی کچھ یوں ہی آگے بڑھتی جاتی ہے۔

شمو کو کبھی سمجھ نہیں آیا کہ وہ اپنی چھوٹی بہن، رانی کا کیا کرے۔ وہ اس سے بس ایک ہی سال چھوٹی ہے۔ لیکن اس کے جسم کی اٹھان شمو کے مقابلے کہیں زیادہ زرخیز ہے، رنگ ذرا کھلتا ہوا پر نقش وہی نکٹے، چپٹے۔ اس کی ادائیں نرالی تھیں، نہ کسی سے ڈر، نہ خوف۔ ایک دم بن داس، چھوٹی چھوٹی آنکھوں کو ٹیڑھی کر کے بات کیا کرتی، بات بات پر کھلکھلا کر ہنس دیتی، اور ہنستے ہوئے جھول سی جاتی۔ وہ جو کپڑے پہنے ہوتی، اونچے نیچے، بے میل سے، کہیں کہیں سے سلائی کھل جانے پر، ان کپڑوں سے جوانی جھانک رہی ہوتی۔ وہ ایک ایسی بیری تھی جس کے سبب گھر میں کنکروں کی آمد بنی رہتی۔ محلے کے ہر لڑکے کو رانی جانتی تھی، ہر لڑکا اس کا دوست تھا، اس کا دیوانہ تھا۔

شمو اس معاملے میں بھی اس کی ماں کا کردار نبھاتی تھی۔ اونچ نیچ سمجھاتی۔ پر رانی کی چنچل طبیعت کو کون لگام دیتا؟  پارے کی طرح بیقرار اور چنچل!  گھر کے اندر گھٹن کا ماحول تناؤ پیدا کرتا۔ ماں بیٹیاں چپ چپ، پریشان پریشان، ہر وقت کا لیکچر۔ فکر یہی رہتی کہ اگلے وقت پکے گا کیا۔ رانی کو یہ سب بیکار لگتا، کوفت زدہ!  وہ تو ایک چھلاوہ تھی، کبھی یہاں کبھی وہاں۔ کس وقت کس کی جھگی میں بیٹھی باتیں بگھار رہی ہو گی، یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا۔

اماں کہہ کہہ کر تھک گئی تھی، ’’رانی، تو ناک کٹائے گی، ناک!‘‘ رانی ایک نہیں سنتی۔ سارا دن لڑکے لڑکیوں کے ساتھ باہر گھومنا، کھانا اور کھیلنا، بس یہی اس کا معمول تھا۔ بے فکری کی وجہ سے رنگ نکھرتا جا رہا تھا اور بدن گدرانے لگا تھا۔ ہفتوں پہلے دھلے بال بھی سلجھے سلجھے، کالے کالے، چمکتے چمکتے رہتے تھے۔ بدبو سے کیا ہوتا ہے؟  بدبو بھی تو جوان تھی۔ جوانی کی بدبو کو گلی کے لڑکے خوب اچھی طرح سمجھتے تھے۔ رانی کا تو کام ہی تھا ہر وقت بولتے رہنا، فلمی ڈائیلاگ بھی بول لیتی اور گانے گاتی لہک لہک کر۔

اماں کا پیٹ اکثر پھولا اور جی کانپتا رہتا کہ وہ دوسری لڑکیوں کو کیسے سنبھالے گی۔ اگر رانی کو لگام نہ لگا سکی تو ہو گا کیا؟  چنی منی تو پیدا ہوتے ہی پولیو کی مار کھا گئیں۔ آج تک گھسٹ گھسٹ کر چل لیتی ہیں، تو وہ بھی اللہ میاں کی مہربانی ہی ہے۔ ورنہ ان چاروں ٹانگوں کی بھی دیکھ بھال کرنی پڑتی۔ کون دیتا پہرہ اتنی ساری لڑکیوں کی قسمت پر؟  لڑکیوں کے تو دیکھتے ہی دیکھتے پنکھ نکل آتے ہیں، چڑیوں کی طرح آزاد اڑنا چاہتی ہیں۔ پتہ بھی نہیں چلتا کہ کب اور کیا ہو گیا۔ ان بد نصیبوں کو بھگوان نے بھائی بھی دیا تو ایک ہی۔ وہ بد قسمت تو اپنی عمر سے زیادہ ہی چھوٹا اور معصوم ہے۔ اس پر تو کوئی ذمے داری بھی نہیں ڈالی جا سکتی۔ اور بیچاری اماں!  اس کے پاس وقت ہی کہاں بچتا تھا، بچوں کی بھوک مٹاتی یا ان کی دیکھ بھال کرتی؟  ابا نے تو بچوں کی پلٹن کھڑی کر کے، اماں کے حوالے کر کے، خود جنت میں جا کر گھر بسا لیا۔ اماں کو زندگی اور موت کے بیچ ہچکولے کھانے کیلئے اکیلا چھوڑ گئے۔ اماں کس کو دیکھتی!  کس کس کا خیال رکھتی؟  حالانکہ سامنے کھڑی فوج کے سبھی سپاہی اس کی اپنی کوکھ کے جائے تھے۔

رانی بستی والوں کو حیران کئے رکھتی تھی۔ روزانہ اس کی شکایتیں سن سن اماں پریشان رہتی۔ کئی بار تو کہہ بھی دیتی، ’’اگر توُ نہ پیدا ہوئی ہوتی، کلموہی، تو دنیا میں کیا کمی رہ جاتی؟‘‘ویسے کسی نہ کسی وقت تو اماں اپنی سبھی بیٹیوں کے بارے میں یہی سوچتی۔ اس کی پوری زندگی اپنے بیٹے پر ہی مرکوز تھی۔ بچیاں!  کریں بھی تو کیا؟  کیا پڑھائی کریں؟  کیا امید رکھیں اس بستی کے اسکولوں سے؟  اسکول تو ویسے ہی پریشان بچوں کا جمگھٹا لگتے تھے۔ اوپر سے اساتذہ تو بچوں سے بھی زیادہ پریشان اور دکھی لگتے۔ ان کے چہروں پر فکرات اور الجھنوں کی لکیریں صاف دکھائی دیتی تھیں۔ شاید ان کے اپنے گھروں کی بھی وہی پریشانیاں تھیں، پھر بیچارے بچوں کو کیا خاک پڑھاتے!

رانی بتا رہی تھی کہ حساب کی مسکا چکر جغرافیہ کے ٹیچر سے چل رہا ہے۔ یہ سن کر اماں نے سر پکڑ لیا اور رانی کی خوب پٹائی لگائی تھی، ’’کرم جلی، اپنے استادوں کے بارے میں ایسی الول جلول باتیں نہیں کرتے، ارے وہ تو اللہ کے بندے ہوتے ہیں۔‘‘پر اماں کو کیا معلوم کہ ہر گھر میں ایک شمو بستی ہے۔ چکر چلا کر شاید حساب والی مس اپنا حساب چکانے کی کوشش کر رہی ہو۔ ورنہ غریب کی لڑکیوں کا جوڑ تو شاید بھگوان کے یہاں ہی بیٹھا رہ جاتا ہے اور لڑکیاں بیٹھے بیٹھے گیلی لکڑیوں کی طرح سلگتی رہتی ہیں۔

رانی نے اپنی ان حرکتوں سے کئی جوڑے بنوائے اور کئی بنتے جوڑے ٹوٹ بھی گئے۔ چھیڑ چھاڑ اس کی عادت تھی۔ جہاں کسی لڑکے کو کسی لڑکی سے بات کرتے دیکھا اور لے اڑی۔ سارے محلے میں آج کل کے صحافیوں کی طرح جھوٹی سچی خبر آگ کی طرح پھیلا دیتی۔ جس کسی کے دل میں گدگدی نہ بھی ہوئی ہوتی، رانی کی باتیں سن کر ہونے لگتی۔ اور ایسا ہی ہوا، بہت دنوں بعد اس بستی میں جوان لڑکے لڑکی کا بیاہ ہوا اور حساب کی ’’مس‘‘ جغرافیہ کے ’’سر‘‘ کے ساتھ وداع ہو گئی۔ رانی کو خوشی ہوئی کہ اسے اب دونوں مضمونوں کو پڑھنے سے چھٹکارا مل جائے گا۔ ویسے رانی کو فرق کہاں پڑتا تھا۔ وہ تو ہر کلاس میں پی ایچ ڈی کر کے ہی آگے بڑھتی۔ پندرہ کی ہو گئی تھی، مگر کسی بھی طرح بس تیسری جماعت میں پہنچ پائی تھی۔

چنچل رانی ایک شام اماں سے چھیڑ چھاڑ کرتی رہی کہ اماں نے اتنا جہیز جمع کر لیا ہے، مگر لڑکے ہی نہیں ملتے۔ رانی تھی بہت تگڑمی۔ بچپن سے سارے محلے کی انسپیکشن کرنا اس کا پسندیدہ شغل تھا۔ گھر گھر کے حالات معلوم کرنا، پھر ان کا پرچار، وہ اپنی ذمے داری سمجھتی تھی۔ اماں کو بتائے بنا انکل جی کے یہاں اس نے برتن مانجنے کی چھوٹی سی نوکری کر لی تھی۔ یوں تو انکل جی کی آڑ میں تو آج کل بہت کچھ ہونے لگا تھا۔ صرف انکل جی کہہ دینا ہوتا تھا۔ بس!  انکل جی کو پاسپورٹ مل جاتا تھا کہیں بھی جانے کا۔

رانی کو اتنے پیسے مل جاتے تھے کہ چاٹ کھا لیتی، سرخی خرید لیتی، کبھی موٹے موٹے گول گول ہونٹوں کو لال لال رنگ لیتی، کبھی ناخنوں کی حدوں سے باہر کو پھیلی ہوئی بے ترتیب نیل پالش پوتے، جوانوں و بوڑھے مردوں کے ایمان ڈگمگاتی رہتی۔ دھڑ لے سے گھر گھر کی خبر اور خیریت معلوم کیا کرتی۔

انکل جی اور آنٹی جی دونوں ہی اس کے کام سے بہت خوش رہتے۔ مضبوط با زوؤں سے پتیلیاں چما چم چمکا دیا کرتی۔ انکل جی کی آنکھیں اس کو دیکھ کر پتیلیوں سے بھی کہیں زیادہ چمک جاتیں۔ آنٹی جی روز بروز اس کے کام بڑھاتی جاتیں پر مزدوری نہ بڑھاتیں۔ بدلے میں رات کی باسی روٹی پر دال رکھ کر کھانے کو دے دیتیں۔ رانی کے لئے وہی دال، ملٹی وٹامن کا کام کرتی۔ ایسی نکھری جا رہی تھی کہ دوسری بہنیں اسے سنڈریلا سمجھ کر جلنے لگی تھیں۔

ایک دن موقع دیکھ کر انکل جی نے اس کی عمر پوچھ ہی لی۔ ساڑھے اٹھارہ سال!  انکل جی نے کچھ حساب لگایا۔ انگلیوں پر نہیں، من ہی من۔ آنکھیں نچائیں اور رانی کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے، ’’تیرے گھر میں آئینہ ہے؟‘‘رانی کو آنکھوں کے آئینے میں سب کچھ نظر آ گیا۔ ذرا اِترا کر بولی، ’’انکل جی مجھے آنٹی جی بہت اچھی لگتی ہیں۔ کتنی جوان بھی ہیں۔ آپ سے تو بہت چھوٹی ہیں۔‘‘

’’ارے تو کیا ہوا؟  مرد کو عمر سے نہیں جانچا جاتا۔‘‘

’’پھر کیسے جانچا جاتا ہے؟‘‘رانی نے زبان اینٹھا کر کہا، جیسے مذاق اڑا رہی ہو۔

انکل جی لڑکھڑا گئے۔ عمر کا احساس ہوتے ہی بول پڑے، ’’تمہاری کوئی بڑی بہن بھی ہے کیا؟‘‘

’’ہاں، ہے تو!‘‘ رانی نے ’تو‘ کو اتنا لمبا کھینچ دیا اور پھر چھوٹی چھوٹی کالی کالی آنکھوں سے، جن میں لگا کاجل باہر کو ابلا پڑ رہا تھا، گھما کر جھپک کر ٹیڑھی کرتے ہوئے دوبارہ آواز لگائی، ’’انکل جی، بولو نہ!  کہاں کھو گئے؟‘‘

انکل جی تو الجھ گئے تھے۔ کھوئے کہاں تھے؟  رانی کے کندھے پر رکھا ہاتھ اتنا ہلکا پڑ گیا تھا کہ محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا کہ کہاں گیا ان کا وہ ہاتھ۔

رانی نے سارے محلے میں گھوم گھوم کر دوستیاں بنا بنا کر اور دوستی نہ نبھا کر جو پی ایچ ڈی کی تھی، تجربے کی پی ایچ ڈی، اس پر انکل جی جیسے کئی ایک قربان کئے جا سکتے تھے۔ غریب لڑکی جن جن راہوں سے جتنی منزلیں طے کرتی ہے، ہر منزل کی اپنی ایک کہانی ہوتی ہے۔

نہ جانے ایسی کتنی کہانیوں سے رانی گزر چکی تھی۔ اب تو اس کو ایک ہی دھن تھی، شمو کی شادی!  باجی راستے سے ہٹے تو اس کا کام بنے!  رانی نے پھٹ سے شمو کی باتیں شروع کر دیں، ’’باجی کے نقش بہت تیکھے ہیں، رنگ کھلتا ہوا سانولا ہے، لمبی اور پتلی ہیں میری باجی، سلائی بہت اچھی کرتی ہیں، کھانا بھی بہت مزے کا پکاتی ہیں!  میرے اکلوتے بھائی کو بھی اسی نے پالا ہے، بچے اچھے پال لیتی ہے۔‘‘

انکل جی تو کالی چھوٹی چھوٹی چمکتی آنکھوں، بھرے بھرے موٹے موٹے ہونٹ اور کالے کالے بالوں میں الجھ گئے تھے، پر وہ بھی تجربہ کار تھے، ’’تمہاری باجی کی عمر کیا ہو گی بھلا؟‘‘

’’یہی کوئی پچیس سال۔‘‘

’’شادی کیوں نہیں ہوئی ابھی تک؟‘‘ڈوبتی ہوئی آواز انکل کے حلق سے باہر آئی۔

’’ارے انکل، اگر اس کی شادی ہو جاتی تو پھر بھائی کی دیکھ بھال کون کرتا؟‘‘

’’بھائی کتنا بڑا ہے؟‘‘

’’بیس کا ہو گا؟‘‘

’’کیا کرتا ہے؟‘‘

’’بہت اچھے لوگوں کی صحبت میں پڑ گیا ہے۔ اسے پڑھا رہے ہیں اور اوپر سے خرچ کرنے کو پیسے بھی دیتے ہیں۔ ماں اس کے لائے پیسوں سے ہی ہمارا جہیز بنا رہی ہے، اسی کیلئے چار ہی دن پہلے ہی، ٹین کا چمکتا ہوا صندوق بھی آ گیا ہے۔ جب پیسے لائے گا، تو برتن خریدے گی ماں۔‘‘ منٹوں میں رانی نے اپنی قینچی دار زبان سے گھر کی تمام پول کھول دی اور انکل جی کو غور سے دیکھتی رہی کہ کہیں کھسک نہ جائیں، بدل نہ جائیں۔ انکل جی نے باجی کی عمر پر اعتراض کرتے ہوئے دوسری شادی کر لینے کا احسان رانی کے کندھوں پر ڈال دیا۔ بہت دور کی سوچ لی تھی انکل جی نے، شادی کے بعد رانی کا آنا جانا بھی تو لگا رہے گا، کبھی نہ کبھی تو پکڑ میں آ ہی جائے گی۔ آنٹی جی کو تو جیسے بھول ہی گئے تھے۔

رانی خود حیران تھی کہ آنٹی جی کو کیسے سمجھائیں گے؟  کیا بتائیں گے؟  یہ سچ مچ کی شادی کریں گے بھی یا یوں ہی کہہ رہے ہیں۔ وہ بے چین تھی اماں کو یہ خوشخبری سنانے کو۔ مگر کہے گی کیا؟  گھبرا کر بولی، ’’انکل جی، آپ اماں سے خود ہی بات کر لیجیے نا!‘‘

انکل جی کی آواز جیسے کسی گہرے کنوئیں میں سے باہر آئی، ’’اچھا!‘‘ انہوں نے کہہ تو دیا، مگر لگا جیسے کنوئیں میں جھانکتے ہوئے گہرائی سے آواز گونج کر بار بار کانوں سے ٹکرا رہی ہے، اور پانی میں کھچڑی بال، چہرے کی گہری لکیریں بھی نظر آ رہی ہیں۔ رنگ اپنے چہرے کا دکھائی نہیں دے رہا تھا کیونکہ کنوئیں کے اندھیرے میں گھل مل گیا تھا۔

رانی کو آنٹی جی پر رحم آنے لگا، ’’انکل جی پھر آنٹی جی کا کیا ہو گا؟‘‘

’’ارے ہونا کیا ہے، پہلی بیوی کے تمام حق تو انہیں ملیں گے ہی۔‘‘

’’تو پھر باجی؟‘‘

وہ بات پوری بھی نہیں کر پائی تھی کہ انکل جی نے ایسے سر کو لہرایا کہ ان کے چمکتے بالوں والے سر میں لگے تیل سے رانی کی آنکھیں چوندھیا گئیں۔ رانی مسکرا دی۔ انکل جی شرما گئے۔ ماتھے پر آئے پسینے کو رو مال نکال کر پونچھنے لگے۔ رانی کو جلدی پڑی تھی ماں کو خوشخبری سنانے کی۔ آخر اس نے باجی کے لئے بر ڈھونڈ ہی لیا۔ جی تو چاہ رہا تھا کہ اماں سے کہے، ’’باجی کے لئے لڑکا ڈھونڈ لیا ہے!‘‘ انکل جی چاہے جیسے ہیں آخر ہیں تو انسان کا بچہ۔ اب یہ الگ بات ہے کہ انکل جی اپنے بچوں کے گھر بھی بسا چکے ہیں۔

آج بہت دنوں بعد ماں کے مرجھائے چہرے اور سوکھی آنکھوں میں چمک محسوس ہوئی۔ ماں انکل جی سے ملنے کو بے چین سی تھی۔ وہ چاہ رہی تھی کہ شمو آج جلدی سو جائے تو وہ رانی سے پوری کہانی سنے۔ اگر شمو نے صاف منع کر دیا تو مشکل ہو جائے گی۔ مگر شمو آج کسی اور وجہ سے پریشان ہے، ’’اماں، مجھے نہیں پسند بھیا کا طریقہ۔ اچانک اتنی دیر رات تک غائب رہنے لگا ہے۔ ٹھیک ہے لوگ اچھے ہیں پیسے بھی دیتے ہیں، مگر ماں گھر کو بھلا تو نہیں دینا چاہیے نا!‘‘

اماں اس کی باتوں پر کوئی دھیان نہیں دیتی۔ اس کو تو جلدی پڑی ہے کہ شمو سو جائے تو وہ رانی سے کاناپھوسی شروع کر سکے۔ تینوں چھوٹی لڑکیاں اپنے حالات سے بے خبر پڑی سو رہی تھیں۔ سونے میں ہنستی بھی تھیں اور روتی بھی۔ ابھی رانی کی طرح ان کو فکر نہیں ہوتی تھی ہاتھ پیلے کرانے کی۔ بس ایک ہی تمنا تھی، اچھا پہننے کو مل جائے اور پیٹ بھر کھانا نصیب ہو جائے۔

اماں نے موقع ڈھونڈ کر رانی سے انکل جی کے بارے میں معلوم کیا اور پیشانی کی لکیریں کچھ اور گہری ہو گئیں۔ سوچ کر بولیں، ’’اگر الگ گھر لے کر رکھیں تو کیا برا ہے؟  بیچاری شمو کب تک جھلنگے پلنگ کی بان کو توڑتی رہے گی۔ شمو نکلے تو تیرا راستہ کھلے۔ میں بھلا کب تک بیٹھی رکھوالی کرتی رہوں گی جوان بیٹیوں کی؟  بہنیں اپنے اپنے گھر جائیں تو بہو گھر لانے کی سوچوں۔ پھر نئے رشتے بنتے ہیں تو نئے نئے چہرے بھی سامنے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اب تو گڈو بھی جوان ہے، بھلا کب تک بہنوں کی خدمت کرتا رہے گا بیچارہ۔‘‘

’’کیسی خدمت!‘‘ سوچ رہی تھی رانی۔ کل تک تو اسے غسلخانے جانے تک کی تمیز نہیں تھی۔ بس دو سالوں سے ہی تو کہیں سے پیسے لانے لگا ہے۔ عجیب سا بد تہذیب بھی ہو گیا ہے۔ جب دیکھو بہنوں کو بھاشن دینا شروع کر دیتا ہے۔ اماں خوش ہیں۔ ان کا بیٹا کماؤ جو ہو گیا ہے۔ ’’رہنے دو اماں، ابھی تک کتابیں کہاں ٹھیک سے پڑھ پاتا ہے۔‘‘ رانی بیچ میں ٹپک ہی پڑی۔ اماں بھلا گڈو کی مخالفت کہاں کچھ سن سکتی تھیں۔ بس ایک ہتھڑ پڑا رانی کی پیٹھ پر، چٹپٹا سا!

انکل جی کی بے چینی ان کے قابو سے باہر ہوتی جا رہی تھی۔ شمو نے بھی ہاں کر دی تھی۔ وہ بھی زندگی کی پگڈنڈی بدلنے کو تیار تھی۔ تھک گئی تھی اپنی بد رنگ زندگی سے، بس ایک ہی کام تھا، سیوا، سیوا، سیوا۔

گھر میں اچانک اجالا پھیل گیا تھا۔ اس کا دکھ کسی کو نہیں تھا کہ ان سب کا دھیان رکھنے والی بہن اپنے سے دوگنی عمر والے انکل جی کی آنٹی نمبر دو بننے جا رہی تھی۔ ابھی سے سوچا جانے لگا کہ شمو کے پلنگ پر کون سوئے گا۔

اماں کو بھی یہ خیال نہیں آیا تھا کہ گھر کا چولہا چوکا، سلائی بنائی، صفائی دھلائی اور ٹوٹے ہوئے ٹرانزسٹر سے گھر میں سنگیت کا ماحول کون بنائے گا۔ شمو کی سانولی سلونی رنگت، گھنے کالے بال، بڑی بڑی سوچتی آنکھیں، سب کچھ یہاں اس چھوٹی سی چار دیواری کے گھر سے اٹھ کر ’’انکل جی‘‘ کے آنگن میں جا بسے گا۔ انکل جی کو جوانی بھی ملے گی اور ایک ٹرینڈ نوکرانی بھی۔ ایک مضبوط بدن نوکرانی جو سوچتی زیادہ ہے اور بولتی کم۔

شمو کا کسی کو بھی دھیان نہیں آیا کہ اس کے دل کے اندر کیا کچھ بھونچال ہو رہا ہے۔ اسے سب سے زیادہ فکر اپنے بیٹے جیسے بھائی کی ہو رہی تھی۔ فکر تو اس کی زندگی کا ایک اہم حصہ تھی۔ اگر شمو اس گھر کو ماں بن کر نہ سنبھالتی، تو اماں تو بس بچے پیدا کرنے کی مشین ہی بنی رہتی۔ وہ تو اوپر والے کا بھلا ہو جس نے ابا کو یاد کر لیا۔

شمو، گڈو کے لئے بے چین رہتی۔ جب سے باہر نکلنا شروع کیا ہے، پیسے کو کما کر لانے لگا ہے۔ ایمان بھی پختہ ہو گیا ہے۔ بہنوں پر نظر رکھنے لگا ہے، خاص طور پر رانی کی چنچلتا پر۔ شمو کی شادی کے بھی حق میں تھا، ’’تو کیا ہوا اگر انکل جی کی دوسری بیوی بن رہی ہے۔ اس کی تو پوری اجازت ہے ہمارے مذہب میں۔‘‘ شمو حیران!  جس بچے کو اپنے ہاتھوں سے کھلایا، نہلایا، دھلایا، سمجھایا آج وہی اس کی قسمت کا فیصلہ کرنے بیٹھ گیا کیونکہ مذہبی ہو گیا تھا۔

گڈو نے شمو کے ہاتھ میں روپیوں کی گڈی دیتے ہوئے کہا، ’’باجی، یہ سارا پیسہ صرف شادی کے کاموں میں ہی خرچ ہو گا۔ میں آج رات ذرا گھر آنے میں لیٹ ہو جاؤں گا۔‘‘

شمو نے اپنے زندگی میں کبھی اتنے روپے ہاتھ میں نہیں پکڑے تھے۔ نوٹوں کی اس گڈی کا لمس ہی اسکوانکل جی کے آنگن میں لے اڑا۔ دلہن بن گئی وہ۔ اپنی آنکھوں میں آپ ہی خود کو ’’انکل جی‘‘ کی بانہوں میں سونپ دیا۔ بار بار سوچتی کہ وہ روپے اماں کے ہاتھوں میں دے دے یا صرف شادی کے کاموں کے لئے رکھ لے۔ سوچتے سوچتے آنکھ لگ گئی اور آج وہی جھلنگا پلنگ اس کے لئے دلہن کی سیج بن گیا۔

ساری رات دلہن کی سیج پر پڑی شمو، آج سورج چڑھنے کے بعد جاگی تو گھر میں سبھی چلتے پھرتے نظر آئے۔ رانی سویرے ہی اپنی انسپیکشن ڈیوٹی نبھانے  جا چکی تھی۔ شمو سوچ رہی تھی، کاش!  میں بھی رانی کی طرح دوسرے نمبر پر جنم لیتی تو میری زندگی بھی ایسی چنچل، لا پرواہ سی ہوتا۔ رانی کتنی بھاگیہ وان ہے، اس پر کوئی روک ٹوک نہیں، جو چاہے جیسا چاہے وہی ہو جاتا ہے۔ رانی ہے بھی تو اتنی پیاری بہن اور پھر آج اسی کے سبب میرا بھی تو گھر بسنے والا ہے۔ میں دلہن بنوں گی۔ انکل جی کے آنگن میں جا بسوں گی۔ صاف ستھرا گھر ہو گا میرا۔ سب کو وہیں بلا کر مل لیا کروں گی۔ انکل جی کے پاس، انہیں کے ساتھ، انہیں کے قدموں میں زندگی گزار دوں گی، بس۔

آج شمو کا گھر کے کام میں دل نہیں لگ رہا۔ نیم دل سے رسوئی میں کام کر رہی ہے۔ ہر آہٹ پر چونک چونک جاتی ہے۔ کبھی مسکراتی ہے تو کبھی پیشانی پر بل سے پڑ جاتے ہیں۔ جھنجھلا کر چھلنی بنی ہوئی اوڑھنی سر پر کھینچ کر ڈال لیتی ہے۔ سوچنے لگتی ہے۔ شرما جاتی ہے۔ جب رسوئی میں انکل جی کے لئے ناشتہ بنائے گی تو وہ خود آ کر رسوئی میں اس کا ہاتھ بٹائیں گے۔ ہاتھ پکڑ کر کمرے میں چلنے کو کہیں گے۔ سارا کام چھوڑ کر ان سے لپٹ جائے گی۔ اس کے ہاتھ میں پکڑی پتیلی دھڑام سے گرتی ہے اور جیسے سارے برتن اکٹھے چلّانے لگتے ہیں۔ شور مچانے لگتے ہیں، ہوا؟  ہوا؟  وہ شرما جاتی ہے۔ کیسے بتائے کہ وہ ان کی بانہوں میں گئی اور یہ حادثہ ہو گیا۔

دروازے پر پڑتی دستک سب کو چوکنا کر دیتی ہے۔ اماں جانتی ہے کون ہو گا۔ انکل کو دیکھنے کی چاہ میں جلدی سے دروازہ کھولتی ہے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ پلٹ کر رسوئی کی طرف دیکھتی ہے۔ شمو تو وہیں کھڑی ہے۔ پھر انکل جی کے ساتھ گھونگھٹ کاڑھے کون کھڑی ہے؟  انکل جی بوسکی کا کرتا اور سفید پاجامہ پہنے صحن کے بیچو بیچ آ کھڑے ہوتے ہیں۔ پسینے سے سرابور۔ گھبرائی آواز میں اماں سے آشیرواد دینے کو کہتے ہیں۔

ہمیشہ کی طرح ماں کچھ بھی سوچ نہیں پا رہی۔ شمو سب سمجھ جاتی ہے۔ ایک بار پھر وہی اماں کی ڈیوٹی انجام دیتی ہے۔ گھونگھٹ اٹھا کر رانی کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے گھٹی آواز میں کہتی ہے، ’’ہمیشہ خوش رہو۔‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

ماریا

 

 

سبھی ایک دوسرے سے آنکھیں چرا رہے تھے۔

عجب سا ماحول تھا۔ ہر انسان اخبارات کو اتنا اونچا اٹھائے پڑھ رہا تھا کہ ایک دوسرے کا چہرہ تک دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ صرف کپڑوں سے اندازہ ہوتا تھا کہ کون ایشیائی ہے اور کون برطانوی، ورنہ چہرے تو سبھی کے ڈھکے ہوئے تھے اور جو مجرم تھے وہ پرسکون اور بے فکر بیٹھے تھے، جیسے انہوں نے کوئی جرم کیا ہی نہ ہو۔ مجرم پیدا کرنے والی تو بس مائیں تھیں۔

کچھ سر پھرے تو یہاں تک کہہ دیتے تھے کہ بھگوان کا بھی تو یہ جرم ہی ہے جس نے اس مخلوق کی تخلیق کی۔ کیا ملا اسے؟  کیا حاصل ہوا؟  ہر پل ہر لمحہ اپنے باغی بندوں کے ہاتھوں ذلیل ہی تو ہوتا رہتا ہے!  ہر گھڑی اسے چنوتی دی جاتی ہے، للکارا جاتا ہے۔ کتنے لوگ سچے دل اور بنا کسی غرض کے اسے یاد کرتے ہیں؟  صرف شکایتیں، فریادیں۔ اور بس مصیبت ہی میں اسے یاد کیا جاتا ہے۔

بالکل اسی طرح ماریا کی ماں مار تھا بھی اپنی بیٹی کے وقت سے پہلے ماں بننے کی گھڑی سے شرمندہ شرمندہ، بھاری بھاری قدموں سے، کلینک سے باہر نکل رہی تھی۔ جاتے جاتے اپنی ہی طرح کی دو تین ماؤں سے اس کی ملاقات ہو گئی۔ سب نے نظریں جھکا لیں۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے سبھی قبرستان میں مردے دفن کرنے جا رہے ہوں۔ سب کے چہرے اداس اداس، بے رونق، مرجھائے مرجھائے سے لگ رہے تھے۔ جیسے سب کچھ لٹ گیا ہو، کچھ نہ بچا ہو۔

مار تھا بھی جدھر کو قدم اٹھے، چل دی۔ کچھ اندازہ ہی نہیں تھا کہ کدھر جا رہی ہے۔ پتلی سی ایک پگڈنڈی تھی جس کے دونوں جانب شاہ بلوط کے درخت اپنے ہرے ہرے پتوں سے نجات پا چکے تھے۔ کالی کالی شاخیں لئے ننگ دھڑنگ، لجائے لجائے، شرمندہ شرمندہ سے کھڑے تھے۔ زرد اور آتشی رنگ میں رنگے ہوئے پتے، مار تھا کے قدموں کے نیچے دب دب کر ایسے کراہ رہے تھے، جیسے کسی بچے کا گلا گھونٹا جا رہا ہو۔ جو ہاتھ بڑھا بڑھا کر مدد مانگ رہا ہو، گڑ گ  ڑا کر فریاد کر رہا ہو کہ مجھے بچاؤ، مجھے بچاؤ۔ میرا کیا قصور ہے؟  میں نے کیا جرم کیا ہے؟  مجھے کس بات کی سزا دی جا رہی ہے؟

مار تھا گھبرا کر تیز تیز اور لمبے لمبے قدم اٹھانے لگی، مگر آواز بھی ویسی ہی تیز ہوتی چلی گئی۔ مار تھا کا گلا روندھ گیا۔ قدم رک گئے اور وہ پاس ہی پڑی ایک بینچ پر بیٹھ گئی۔ آنکھیں ڈبڈبا گئیں اور پھر سب کچھ دھندلا دھندلا دکھائی دینے لگا۔ آنکھوں سے موٹے موٹے اور گرم گرم آنسو گالوں پر بہنے لگے۔ جیسے اس کے آنسوؤں میں ساری کائنات ڈوب گئی ہو، غرق ہو گئی ہو۔ آنکھیں بند تھیں پر سب کچھ دیکھ رہی تھیں۔ درختوں کی اوٹ سے کلینک کی عمارت دکھائی دے رہی تھی۔ مگر مار تھا بار بار اس حقیقت سے آنکھیں چرا رہی تھی کہ کہیں کوئی یہ نہ سمجھ جائے کہ ماریا کو اس نے وہاں چھوڑا ہوا ہے۔ پھر ہر شخص کے دماغ میں ہزاروں سوال اٹھیں گے۔ ہونٹوں تک آئیں گے اور ان کا اظہار کیا جائے گا۔

مار تھا کس کس کو جواب دے گی؟  کتنے جھوٹ بولے گی؟  ایک جھوٹ سے دسیوں سوال مزید پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ایک بار ہمت کر کے سچ بول دیا جائے، تو صرف ایک ہی جواب، تمام سوالوں کا جواب بن جاتا ہے۔ مگر سچ بولا کیسے جائے؟  بے حد کڑوا سچ!  چبھنے والا سچ کیسے ہونٹوں تک لایا جائے؟  کیسے ادا کیا جائے؟  بیچاری مار تھا اسی ادھیڑ بن میں بیٹھی روتی رہی، سسکتی رہی۔ پت جھڑ کی مار کھائے پتوں کو کچلتے ہوئے راہگیر آتے رہے جاتے رہے۔ مار تھا بیٹھی، پتوں کی چیخ پکار سنتی رہی۔ گھڑی دیکھی، ابھی بہت وقت باقی تھا۔ کیا کرے؟  کدھر جائے؟

قدرت کا تماشا بھی خوب ہے۔ تعمیر میں وقت لگتا ہے جبکہ تباہی کچھ ہی پلوں میں ہو جاتی ہے۔ دم گھٹا جا رہا تھا۔ کھلے آسمان کے نیچے بھی سانس لینا دوبھر ہو رہا تھا۔ مار تھا کا جی گھبرانے لگا اور بے اختیار جی چاہنے لگا کہ دوڑ کر کسی اندھیرے کمرے میں جا کر، کسی کی بانہوں میں منہ چھپا کر اپنے سارے دکھ، اس کی سفید ٹی شرٹ کی آستین میں خشک کر دے۔ وہ اپنا دایاں ہاتھ مار تھا کے بالوں میں پھیرتا رہے، پیشانی پر پیار کرتا رہے اور کہتا رہے، ’’سب ٹھیک ہو جائے گا، سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘

مار تھا کی گہری گہری سانسیں اور آہیں سن سن کر سینے سے لگا لے اور میٹھی میٹھی ڈپٹ کے سے انداز میں اپنی نرم اور کانوں میں شہد گھولتی آواز میں کہے، ’’تم تو پاگل ہو۔‘‘ کس قدر انتظار رہتا تھا اس کے منہ سے پاگل نامی لفظ سننے کا۔ جب وہ پاگل کہتا تو مار تھا بھی کہتی، ’’تم دیوانے ہو!‘‘ وہ اور زور سے گلے لگا لیتا اور پیار کرتا۔

مار تھا سانس روکے اس کی آغوش میں بچوں کی طرح لیٹی رہتی۔ حفاظت کا احساس کس قدر اعتماد پیدا کرتا ہے!  پیار میں کتنا یقین پیدا ہو جاتا ہے!  چاہت کن حدوں کو چھونے لگتی ہے!  یہ صرف سچی محبت اور ایک دوسرے سے خلوص برتنے والے اور ایک دوسرے پر یقین رکھنے والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔ کبھی مار تھا کا سر اس کے کندھوں پر ہوتا اور کبھی اس کا سر مار تھا کے پہلو میں۔ ایسا محسوس ہوتا جیسے اس کا اپنا بچہ گود میں چھپا ہوا ہو۔ بھائی ہو، باپ ہو، شوہر ہو یا بچے، عورت تو ایک ماں ہوتی ہے۔ وہ ہر وقت اپنی ممتا نچھاور کرنے کو مجبور ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح کبھی کبھی ساری رات اس کا گھنے اور چمکدار بالوں والا خوبصورت سر اپنے پہلو میں چھپائے پڑی رہتی۔ بالوں میں انگلیاں پھیرتی، پیشانی چومتی اور ٹھوڑی اور گردن کو محسوس کرتی۔

کبھی کبھی وہ سوتے میں آواز دیتا۔ مار تھا جواب میں پیار کر کے اپنے وجود کا احساس دلوا کر بالکل بچوں کی طرح اس کے سر کو اور زور سے بھینچ کر سلا دیتی۔ وہ پھر ایک معصوم بچے کی طرح اطمینان کر لیتا کہ مار تھا گئی نہیں ہے، اور پھر گہری نیند سو جاتا۔ اچانک الارم کی گھنٹی سے دونوں جاگ جاتے اور ایک دوسرے سے لپٹ جاتے کہ یہ جدائی کی گھڑی کیسے برداشت کریں گے۔ تھوڑی دیر میں کار روانہ ہو رہی ہوتی اور وہ کھڑکی میں سے جھانک کر ہاتھ ہلا رہا ہوتا، ایک قیدی کی طرح۔ چاہتے ہوئے بھی وہ اس کو رخصت نہیں کر پاتا تھا۔ اندھیرے میں مار تھا کو جاتے دیکھتا تو گھبرا جاتا اور منت سماجت کرتا کہ تھوڑی اور روشنی ہو جانے دو، پھر چلی جانا۔ وہ جس روشنی کی بات کرتا وہ تو فقط اس کے وجود سے تھی۔ جہاں وہ ہوتا، روشنی ہی روشنی ہوتی۔ اس سے دوری ہی اندھیرا پیدا کرتی۔ چاہے سورج کتنی بھی تیز روشنی کیوں نہ پھیلا رہا ہو۔ یعنی وہ نہیں تو کچھ نہیں۔ اور گاڑی سڑک پر پھسلتی چلی جاتی۔

مار تھا شیشہ اتار کر ہاتھ ہلاتی۔ ہاتھوں سے اشارہ کر کے بوسوں کی بوچھاڑ کرتی۔ جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتی، وہ ہاتھ ہلاتا رہتا اور دوسرے ہی لمحے ٹیلیفون کی گھنٹی بجتی۔ مخمور سی آواز کانوں میں رس گھول رہی ہوتی۔ ’’اب کہاں تک پہنچ گئیں؟  کیسی ہو؟  ڈر تو نہیں رہیں؟‘‘

مار تھا اپنی آواز میں اعتماد پیدا کرتے ہوئے کہتی، ’’نہیں، ڈر کس بات کا؟  تم جو ساتھ ہو!‘‘

جب تک گھر نہ پہنچ جاتی وہ فون پر ہمت بڑھاتا رہتا۔ گانا سناتا رہتا اور بار بار معلوم کرتا کہ اب وہ کہاں تک پہنچ گئی۔

مار تھا بتاتی کہ وہ گھر کے اندر جا رہی ہے۔ وہ فوراً اداس ہو جاتا اور کہتا، ’’تم بہت یاد آ رہی ہو۔‘‘اور جد کرتا، ’’چھوڑ کر مت جایا کرو، بس اب ہمیشہ کے لئے آ جاؤ۔‘‘

مار تھا اسے دلاسے دیتی، بہلاتی، پیار سے سہلاتی اور گھر میں داخل ہو کر فوراً سو جانے کی ہدایت دیتی۔ روندھی روندھی آواز میں شب بخیر کہتی اور فون بند کر دیتی۔

جب بھی دونوں ملتے ایک ایک لمحہ جی بھر کر پیار کرتے۔ مار تھا تو اس پر واری واری جاتی۔ اور جب بچھڑتے تو جی بھر کر اداس ہو جاتے۔ ایک انجان سا احساس کہ معلوم نہیں کہ اب کل کیا ہو گا؟  اسی طرح دونوں نے برسوں ساتھ ساتھ گزار دیئے تھے۔ اور آج جب مار تھا اکیلی ہے، بغیر پتوں کے درختوں کے نیچے تنہا اور اداس بیٹھی تھی۔ یہ درخت بھی مار تھا کو اپنی زندگی کا تسلسل دکھائی دے رہے تھے۔ جو زندگی کی بہاریں دیکھنے کے بعد پت جھڑ کے ہتھے چڑھ چکے تھے۔ جن کی خوبصورتی اور جوانی، پت جھڑ کی بھینٹ ہو چکی تھی۔ اب فقط پیلے، سنہرے، بھورے اور نارنگی پتے ہی، بہار گزر جانے کی کہانی کہہ رہے تھے۔

مار تھا، بے چینی سے ماریا کا انتظار کر رہی تھی۔ انتظار کی تڑپ کے ساتھ ساتھ رہ رہ کر اس کا خیال آ رہا تھا۔ اس کی کسک محسوس کر رہی تھی۔ اس کا اکیلا پن کھائے جا رہا تھا۔ وہ کتنا مضبوط سہارا ہوتا، جب جب وہ مشکل میں ہوتی۔ کوئی بھی پریشانی ہوتی تو وہ کہتا، ’’تم کیوں پریشان ہوتی ہو؟  میں جو ہوں۔‘‘ اور آج جب مار تھا کو ایک چاہنے والے سہارے کی ضرورت ہے تو وہ کتنی اکیلی ہے!

ماریا، جو اس کی ساتھی ہوتی، جس کو اسے ہمیشہ اپنا دوست، اپنی ساتھی اور اپنا سہارا سمجھتی رہی، وہ اسے بتائے بغیر سب کچھ کر گزری۔ ماں کے بھروسے کو کس قدر ٹھیس پہنچائی۔ اس تڑپ کو فقط وہی سمجھ سکتا۔ مار تھا کو پھر وہ یاد آنے لگا۔ اور آنسو بندشوں کو توڑ کر باہر آنے کے لئے بیتاب ہو گئے۔

اچانک گھڑی پر جو نظر پڑی، تو پایا کہ وقت ہو گیا ہے۔ مار تھا تیزی سے اٹھی اور تیز تیز قدم بڑھاتی کلینک کی طرف روانہ ہو گئی۔ اب یہ پتے تڑپ تڑپ کر خاموش ہو گئے تھے۔ مار تھا کی چال میں بھی ٹھہراؤ آ چکا تھا۔ آنسو بھی کافی حد تک تھم گئے تھے۔ کلینک کی گھنٹی بجاتے ہی دروازہ کھل گیا، اور مار تھا نے داخل ہوتے ہی ریسیپشن پر بیٹھی ایک تجربہ کار نرس سے پوچھا، ’’ماریا کہاں ہے، کیسی ہے، وہ ٹھیک ہے نہ؟  کیا اس نے ماریا کو دیکھا ہے؟‘‘مار تھا لگاتار سوال کرتی گئی، بولتی گئی۔ اس نرس کو جواب دینے کا موقع تک نہیں دیا۔

تھوڑا سا وقفہ ملا تو نرس نے پوچھا، ’’ماریا کا پورا نام کیا ہے؟  عمر کیا ہے؟‘‘

ماریا کا نام جیسے مار تھا کے حلق میں اٹک گیا ہو۔ جیسے اس کا جی چاہ رہا ہو کہ ماریا کا نام چھپا لے۔ کہیں یہاں بیٹھی تمام عورتوں کو نہ معلوم ہو جائے کہ ماریا نے کیا کیا ہے۔ اور عمر کے بارے میں تو سوچتے ہی جیسے اس پر بیہوشی سی چھانے لگی تھی۔ پندرہ سال کی کنواری ماں!  مار تھا ایک بار پھر کانپ اٹھی۔ شرم سے پانی پانی ہونے لگی۔ وہ نرس ماریا کو لے کر آ چکی تھی۔ ماں بیٹی کی نظریں ملیں۔ دونوں کی آنکھیں نم ہو اٹھیں۔ دونوں نے نظریں جھکا لیں۔

ماریا نے ماں کے کندھے پر سر رکھ دیا۔ ماں نے اس کے ہاتھ پکڑ لئے۔ ہاتھ بالکل ٹھنڈے برف ہو رہے تھے۔ ماں اپنے ہاتھوں سے جلدی جلدی اس کے ہاتھ مل مل کر گرم کرنے لگی۔ ماں کو محسوس ہوا کہ ماریا کا رنگ سنگ مرمر کی طرح سفید ہو رہا ہے۔ ہونٹوں کا گلابی رنگ اڑ چکا ہے۔ گھنے سنہرے بال الجھے ہوئے کندھوں پر پڑے ہوئے ہیں۔ ماریا میں ماں کی سی پاکیزگی پیدا ہو چکی تھی۔ ماں اس کو پکڑ کر دھیرے دھیرے چلاتی ہوئی کار تک لائی۔ مار تھا خود کو اتنا کمزور محسوس کر رہی تھی، جیسے کار چلانے کی طاقت ہی نہ ہو۔ اس نے ہمت کر کے ماریا سے معلوم کیا کہ ایسا کون تھا، جس کے لئے ماریا یہ قربانی دے گزری۔ ماریا نے ماں کو کوئی جواب نہیں دیا اور اس کی گود میں منہ چھپا لیا۔

مار تھا اور زیادہ اداس ہو گئی۔ اس کو پھر اس کا خیال آ گیا۔ وہ بھی مار تھا کی گود میں ایسے ہی منہ چھپا لیتا تھا۔ گھنٹوں اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹا رہتا اور کہتا، ’’میرا جی چاہتا ہے کہ وقت یہیں ٹھہر جائے۔‘‘

مار تھا کی گود میں اسے بے حد سکون ملتا۔ مار تھا بھی اس کو لٹائے گھنٹوں ایک ہی جگہ پر بیٹھی رہتی۔ ہلتی بھی نہیں تھی۔

ماریا کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے ماں نے دوبارہ پوچھا، ’’ماریا ایسا کون تھا؟ جس کی محبت میں تو نے اپنے آپ کو برباد کر لیا؟‘‘

ماریا نے چہرے کو اور زیادہ اندر گھساتے ہوئے گھٹی آواز میں کہا، ’’ماں جس کے پاس تم جاتی تھیں!‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

 

کنڈی

 

 

کیا اس نے اپنے گرنے کی کوئی حد طے نہیں کر رکھی؟

سیما کے آنسوؤں نے بھی بہنے کی سرحدیں توڑ دی ہیں۔ انکار کر دیا رکنے سے۔ آنسو بے تحاشہ بہے جا رہے ہیں۔

وہ چاہ رہی ہے کہ سمیر کمرے میں آئے اور ایک بار پھر اپنے ننھے منے ہاتھوں سے سوکھا دھنیا منہ میں رکھنے کو کہے، تاکہ اس کے آنسو رک سکیں۔ بچپن میں ایسا ہی ہوا کرتا تھا کہ سمیر، ماں کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو دیکھ کر بے چین ہو اٹھتا اور لپک کر مصالحوں کی الماری کے پاس پہنچ جاتا، اچک اچک کر مصالحے کی بوتلیں کھینچنے لگتا، پنجوں کے بل کھڑے کھڑے جب تھک جاتا تو کرسی کھینچ کر لاتا اور اوپر چڑھ کر بوتل میں سے ثابت دھنیا نکال کر ماں کے منہ میں ڈال دیتا تاکہ ماں کی آنکھوں سے پیاز کاٹنے سے جو آنسو بہہ رہے ہے وہ دھنیا منہ میں رکھنے سے رک جائیں۔

سیما مسکرا دیتی سمیر کی معصومیت بھری محبت پر۔ وہ شرما جاتا۔ ماں کی ٹانگوں سے لپٹتے ہوئے کہتا، ’’میں نے سوجی آنٹی کو کہتے ہوئے سنا تھا، جب آپکے ساتھ آپکے بال بنوانے گیا تھا۔‘‘ ماں کھو گئی ہے وقت کے ان سہانے سپنوں میں جب سمیر ہر وقت سیما کے ساتھ ہی رہنا چاہتا تھا۔

’’ماں!  میں ڈرتا ہوں کہیں آپ کو کچھ ہو نہ جائے، اسی لئے میں آپکے ساتھ ساتھ آتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنے پیارے پیارے ہاتھوں سے سیما کے چہرے کو پکڑ کر اپنی طرف موڑ لیتا۔

آج انہی ہاتھوں نے اس کے بدن، اس کے دل و دماغ کو چور چور کر دیا ہے۔ نیل کے نشان نے اس کی تیس برسوں کی تپسیا کو تار تار کر دیا ہے۔ نیل کا نشان تو وقت کے ساتھ دھندلا ہو کر مٹ جائے گا، لیکن دل پر لگا یہ جھٹکا۔ یہ زخم کیسے بھرے گا۔ رِستا رہے گا۔ کیا یہ میرے دیئے ہوئے ضابطے ہیں؟  سیما کچھ سمجھ نہیں پا رہی، بالکل خالی ہو گئی تھی۔

سمیر گھر میں فقط اپنے پتا سے ڈرتا تھا۔ بچوں کو ڈرانا سیما کی فطرت میں شامل نہیں تھا۔ بس یہی جی چاہتا تھا کہ ہر دم دل میں سمائے رکھے اپنے بچوں کو۔ خاص طور سے سمیر کو۔ ایک ہی تو بیٹا تھا، وہ بھی بیچ کا، نگلیکٹیڈ۔ سینڈوچ بنا ہوا۔ بہنیں تنگ کرتیں تو جواب میں ان سے بڑھ چڑھ کر وہ پریشان کرتا۔ بڑی والی تو سہہ لیتی، پر چھوٹی اتنا چلاتی کہ سنبھالنا مشکل ہو جاتا اور پھر سمیر کی دھنائی تو پکی ہوتی۔ وہ بھی پک گیا تھا مار کھا کھا کر۔ مار تو اس کو پڑتی پر چوٹ ہمیشہ سیما کو لگتی۔ دھڑادھڑ شیشے کے برتن جب برسنا شروع ہوتے تو کبھی ہاتھوں اور دوپٹے کے پلو سے سمیر کا سر چھپاتی تو کبھی کہنیاں اونچی کر کے ان کے پیچھے اپنا منہ بچاتی۔

سمیر کو اپنی چھاؤں میں لے کر بھاگتی تو پیچھے سے ایک جوتا اس کی کمر پر پڑتا۔ وہ جوتے کی چوٹ کو سہہ جاتی۔ اسے اطمینان اس بات کا ہوتا کہ جوتا اس کے لخت جگر کے جسم تک نہیں پہنچ پایا۔

’’ماں آپ کانفرنس میں جائیں گی نہ؟‘‘

’’ہاں، سوچ تو رہی ہوں ’’

’’کب سے شروع ہے کانفرنس؟‘‘

’’۱۵ ستمبر سے۔‘‘

’’آپ کتنے دنوں کے لئے جائیں گی؟‘‘

’’ہمیشہ کے طرح تین راتیں چار دن۔ مگر میں نے ابھی فیصلہ نہیں کیا ہے کہ جاؤنگی یا نہیں۔‘‘ سیما نے جواب دیا

’’ماں آپ کو لازمی جانا چاہیے، اگر ایک بار سلسلہ ٹوٹ گیا تو پھر آپ آیندہ بھی نہیں جانا چائیں گی۔‘‘ سمیر نے اتنے اپنے پن سے کہا کہ سیما نے اسی وقت فیصلہ کر لیا کہ سمیر ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہے۔ عمر کے اس پڑاؤ پر پہنچ کر بہت سے کام وقت سے پہلے ہی چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔ سیما وقت سے پہلے بوڑھی نہیں ہو گی۔ وہ ہمیشہ کہتی تھی کہ عمر کو روکنا اور آگے بڑھانا بہت کچھ اپنے ہی ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ کانفرنس میں لازمی حصہ لے گی۔

سیما کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ لیبر پارٹی کی کانفرنس میں آئی تھی یا امیروں کی پارٹی میں!  ہر پالیسی، اولڈ لیبر سے ہٹ کر نیو لیبر کو چھوتی ہوئی ٹوری پارٹی کی گود میں جا بیٹھی تھی۔ سیما اکتانے لگی تھی۔ آخر کیوں آ گئی؟  کیا سب کچھ بدل جائے گا۔ کیا ہر اچھی چیز اسی لئے بدل جائے گی کیونکہ بدلاؤ زندگی کی سچائی ہے؟

’’ارے ماں آپ واپس بھی آ گئیں؟  ابھی تو کانفرنس چل رہی ہے۔ صبح ٹی وی پر دکھا بھی رہے تھے۔‘‘ سمیر اس دن کام سے آیا تو ماں گھر میں موجود تھی۔

ماں نے دیکھا۔ بیٹے کے ساتھ ایک لڑکی بھی تھی۔ ظاہر ہے اس کی آنکھوں میں ایک سوال ابھرا، جو زبان تک نہیں آیا۔ مگر بیٹے کو سوال سمجھ میں آ گیا۔

’’ماں اس سے ملو یہ نیرا ہے۔‘‘

’’ہیلو نیرا!‘‘ ماں نے پوچھا، ’’کچھ کھاؤ پیو گے تم لوگ، یا پھر باہر سے کھا کر آ گئے ہو؟‘‘سیما کو باہر کھانا بالکل پسند نہیں تھا۔ وہ صحت کی خرابی کے لئے ہمیشہ باہر کے کھانے کو ہی الزام دیتی تھی۔ کھانا گھر کا اور تازہ پکا ہونا ضروری ہے۔ وہ خود تو شاکا ہاری تھی۔ پر دوسروں کو فقط ریڈ میٹ کھانے سے روکتی تھی۔ مگر اس کی سنتا کون تھا؟  پتی دیو تو دونوں وقت ریڈ میٹ ہی کھاتے تھے۔ بیف کے بہانے اپنی اماں کو بھی یاد کیا کرتے تھے کہ کیا کباب بناتی تھیں بس مزہ آ جاتا تھا۔ اف۔ بیف!  سیما اپنے ہونٹوں کو بھینچ لیتی۔ سانس روک لیتی کہ کہیں اس کو بیف کی مہک نہ آ جائے۔

’’یس ماما ڈارلنگ ہم کھا ہی کر آئے ہیں، کیونکہ آپ تو تھیں نہیں اسی لئے باہر ہی کھا لیا تھا۔‘‘

سیما آج کی نسل کے مزاج کو سمجھتی تھی، اسی لئے سوال ہمیشہ سوچ سمجھ کر پوچھا کرتی تھی۔ اب تو زمانہ ہی بدل گیا تھا۔ پہلے بچے اپنے ماں باپ سے سوال پوچھتے ڈرتے تھے۔ آج کل ماں باپ احتیاط برتتے ہیں۔

پھر بھی سیما نے سمیر کو قریب بلا کر معلوم کرنا چاہا یہ نیرا کون ہے اور رات کو گھر میں کیوں لایا ہے۔ کیا اسے ابھی واپس بھی لے جانا ہے؟

’’ماں رات کو یہیں سو جائے گی۔‘‘ سمیر نے تھوڑا جھجکتے اور آواز کو کافی گمبھیر بناتے ہوئے جواب دیا۔

سیما اس کے مزید قریب آ گئی اور تقریباً سرگوشی کرتے ہوئے بولی، ’’مجھے یہ پسند نہیں ہے اور اگر واپس آ کر تمہارے پتا سنیں گے تو مجھ پر بہت ناراض ہو نگے۔‘‘

’’وہ آئیں گے تو یہ چلی جائے گی۔‘‘

’’نہیں بیٹے ہمارا یہ کلچر نہیں ہے۔ یہاں تمہاری بہن کے سات آٹھ سال کے بچے آتے ہیں، وہ کیا سمجھ پائیں گے اس رشتے کو، ان کو کیا بتایا جائے گا۔‘‘

’’ماں دس از ناٹ مائی پرابلم!‘‘

سیما نے اسی وقت سمیر کی آواز اور چہرے کے تاثرات پڑھ لئے تھے۔ سینتیس برس سے جھیل رہی تھی سمیر کے دوہرے اصولوں کو۔

جہاں ماں اور بہنوں کا معاملہ ہوتا فوراً دیسی بن جاتا اور اپنے معاملے میں مغربی سوچ رکھتا۔

سیما سب سہہ لیتی۔ اس کے دماغ میں سمیر کے بچپن کی پٹائی کی یادیں چھپی ہوئی ہیں۔ اس کو رحم آ جاتا اور وہ چپ ہو جاتی۔ لیکن اس نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کے یہ فیصلے سمیر کے لئے کتنے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، وہ تو ماں کے پیار سے لبالب تھی۔ بیٹے کی کمزوریاں بھی پیار کے آگے دب جاتیں۔

سیما اوپر پہنچی تو معلوم ہوا کے اس کے کمپیوٹر پر تو نیرا کا راج ہے۔ اس کے مطلب ہوئے جس دن وہ گئی تھی، اسی دن نیرا آ گئی ہو گی۔ تو پھر کیا۔ نہیں نہیں سمیر ایسا نہیں ہے۔ اس نے نیرا کو دوسرے کمرے میں شفٹ کرنا چاہا تو سمیر آ پہنچا۔

’’ماں اسے رات کو نیند نہیں آتی تو آپ کا کمپیوٹر یوز کرتی ہے۔‘‘

’’بیٹے میری کمپنی کا کمپیوٹر ہے، میں نہیں چاہتی اس کو کوئی اور بھی ہاتھ لگائے۔‘‘

’’کم آن ماں۔‘‘

سیما نے کہا، ’’اچھا آج رہنے دو، میں بھی تھکی ہوئی ہوں اور کل تو یہ چلی ہی جائے گی۔‘‘

’’نہیں ماں اس کا رہنے کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔‘‘

’’ارے تو پھر کہاں سے اٹھا لائے ہو؟‘‘سیما نے ناراض ہوتے ہوئے، مگر آواز کو بنا اونچا کئے پوچھا۔ سیما کو ہمیشہ سے نفرت تھی اونچی آواز میں غصہ کرنے سے۔ اس کا خیال ہے جب کوئی غلط بات کو صحیح بات ثابت کرنا چاہتا ہے تبھی زور زور سے بولنے لگتا ہے۔ اور پھر آگے والے کی بھی تو کوئی عزت ہوتی ہے، چاہے بڑا ہو یا چھوٹا!  اکثر اس کا پتی سوچتا کہ سیما چلا کر ایکسپلین نہیں کر رہی تو اس کے مطلب ہے جھوٹ بول رہی ہے۔ سیما سوچتی اس بات میں لازمی پرورش کا ہاتھ ہوتا ہے۔ کیسے ماحول میں کون پلا ہے، ایسے ہی حالات میں اصلیت معلوم ہو پاتی ہے۔

وہ اپنے کمرے میں سونے چلی گئی۔

تین دن کی کانفرنس نے تھکا دیا تھا، کچھ تو دکھی کر دینے والی نئی سیاست تھی، دل دکھنے کا احساس ہونے لگتا ہے۔ میں نے اس لئے تو نہیں اس پارٹی کہ ممبرشپ لی تھی!!

وہ بور ہو کر پہلے ہی چلی آئی تھی اور یہاں آ کر بھی اسے دکھ ہی ہوا تھا۔ عورت جدھر جاتی ہے ادھر دکھ ہی جھیلنے پڑتے ہیں۔ سمیر کے بارے میں سوچنے لگی۔ کہتا ہے کہ جب باپ آئے گا تو نیرا یہاں سے چلی جائے گی۔ تو کیا وہ یہ سوچ رہا ہے کہ اس کی ماں کو یہ طور طریقے پسند ہیں۔ وہ پھر گھبرانے لگی کہ کل ویک اینڈ ہے۔ بٹیا اور دونوں بچے آئیں گے، داماد جی تو چھٹی والے دن بھی کام کرتے ہیں۔ سسر کے اوپر تو وہ پڑ گئے ہیں۔ سیما نے بھی چھٹی کا دن پتی کے ساتھ کبھی نہیں بتایا تھا۔ وہ ویک اینڈ گھر میں رک جاتے تھے تو ایسا لگتا جیسے بہت بڑا احسان کر رہے ہیں۔ پورے دن ٹی وی کے سامنے آرام کرسی پر لیٹے نخرے دکھاتے رہتے اور سیما نخرے اٹھانے کی مشین بن چکی تھی۔

نخرے تو سبھی اٹھواتے تھے، کیونکہ اس کا قصور تھا پتی کا کہنا ماننا اور ہر تیرہویں مہینے ایک نیا سا پیارا سا ماڈل پیدا کر دینا۔ بیٹے کی باری میں بھی سیما کو منیجر کے ساتھ ہی بھیجا تھا، پہلے چیک اپ کے لئے۔ اس کو کتنی شرم آ رہی تھی کی ڈاکٹر سمجھے گی کہ منیجر ہی آنے والے بچے کا باپ ہے۔ ہوا وہی جس کا ڈر تھا۔ ’’اپنے پتی کو بھی اندر بلا لو۔‘‘ ڈاکٹر نے کہا تھا۔ حالانکہ منیجر اس کے پتی سے زیادہ جوان اور خوش مزاج تھا پر سیما کو یہ ریمارک اچھا نہیں لگا۔ وہ اسی وقت بہت کچھ سوچنے پر مجبور سی ہو گئی۔ شرمندہ تو منیجر بھی تھا۔ وہ کب چاہتا تھا کہ اس سے بڑی عمر کی خاتون کو اس کی بیوی سمجھا جائے۔

منیجر نے سیما سے پہلے ہی صاحب کو جا کر خوشخبری دے دی تھی کہ بیٹا ہے تو سنا کہ وہ خوش ہوئے تھے۔ اتنے ہی خوش وہ آج بھی تھے بیٹے سے!

بچہ پیدا کرنے کیلئے سیما، بڑی بہن کے پاس بھیج دی گئی تھی۔

وہاں بھی گھر میں اکیلے ہی وقت کاٹنا ہوتا کیونکہ بہن ڈاکٹر تھیں۔ پھر بھی وہ خوش تھی کہ جب بیٹا لے کر جائے گی تو سب کتنے خوش ہوں گے اور شاید بیٹے سے کھیلنے کے لئے پتی بھی جلدی گھر آ جایا کریں گے۔

بیٹا ہوا تو سیما کی ٹیل بون اکھاڑ کر آیا۔ چھ مہینے تو بستر ہی میں پڑے پڑے بیٹے کی دیکھ بھال کی۔ ساری رات روتا تھا۔ سیما اکیلے جاگ جاگ کر ساتھ ساتھ خود بھی رونے لگتی تھی۔ کتنا اچھا ہوتا تھا پرانے زمانے میں کہ گھر کا ہر بچہ سب کا بچہ سمجھا جاتا تھا۔ سبھی مل جل کر پال لیا کرتے تھے۔ اب تو سبھی کچھ بکھر گیا تھا۔

آج اس نیل کی جلن، اس ہڈی کے درد سے کہیں زیادہ محسوس ہو رہی ہے، جو سمیر کے پیدا ہونے پر اکھڑی تھی۔ دوسرے کمرے میں کھٹ پٹ کی آواز ہوتی تو سیما کو امید بندھتی کہ شاید اب بس سمیر آ کر اپنی مضبوط بانہوں میں ماں کو سنبھالے گا اور شرمندگی کے آنسو بہائے گا، ماں کے آ نسوؤں کے ساتھ۔ اور اس کا درد اس کی جلن سب ٹھیک ہو جائے گا۔

مگر وہ تو بیٹھا اس جوان لڑکی کی دلجوئی کر رہا تھا اور ایکسپلین کر رہا تھا کہ آج جو کچھ بھی ہوا وہ ماں کی عمر زیادہ ہو جانے اور کام بڑھ جانے کے ساتھ ہی ادھیڑ عمری کی وجہ سے ہوا ہے۔ وہ آیندہ خیال رکھے گا کہ گھر کا ماحول ٹھیک رہے۔ نیرا دھیرے دھیرے مدھم سروں میں اس کے کان میں رس گھولتی جاتی اور وہ اور زیادہ ماں کے جہالت بھرے رویے سے شرمندہ ہوتا جاتا۔

آج سیما کو جل کی بہت یاد آئی۔ کتنی مہذب اور کتنی گھریلو نیلی آنکھوں والی انگریز لڑکی تھی وہ۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ اس دیش کہ پیدائش ہو۔ سمیر سے کتنا پیار کرتی اور سیما سے اکثر کہتی، ’’سیما، یور سن از سو ہینڈسم۔ اٹ واز لو ایٹ فرسٹ سائٹ۔‘‘

سیما اس کی چٹکی لینے کو کہتی، ’’ایسا تو کوئی ہینڈسم نہیں، تمہاری نظر ہی کمزور ہو گی!‘‘

وہ سیما سے لپٹ جاتی، ’’آپ کتنی شیطان ہیں۔‘‘ ساس بہو کے یہ مذاق چلتے رہتے۔ سیما خوب جی بھر کر پیار سے اپنے بیٹے کو دیکھا کرتی کہ سچ ہی تو کہتی ہے جل، ہے تو سندر میرا بیٹا۔ جل کو سمیر کہ گہری آواز اور صحیح انگریزی بولنے کا انداز بھی بہت اچھے لگتے۔ وہ اس بارے میں بھی سیما سے بے دھڑک بات کرتی۔

سیما سوچتی میں نے کتنا اچھا کیا جو پتی کی مخالفت کے باوجود بھی شادی ہونے دی ان دونوں بچوں کی۔ اس نے پتی کے سامنے پہلی بار زندگی میں منہ کھولا تھا کہ سمیر کو وہی کرنے دیا جائے جو وہ چاہتا ہے، اب تو وہ نوکری بھی کر رہا تھا۔ ایک فلیٹ بھی خرید لیا تھا شہر کے بیچو بیچ، ٹیمز کے کنارے۔ کرائے پر دے رکھا تھا۔ سیما کو کتنا غرور ہوتا اپنے سندر بیٹے پر کہ وہ فقط سندر ہی نہیں ہے سمجھدار بھی ہے۔ کیسے پٹا کرتا تھا بیچارہ!  ایک دم سے سیما اداس ہو جایا کرتی اور دعا کرتی کہ اے بھگوان اب میرے بچے کو کبھی بھی ایسے دکھ نہ دیکھنے پڑیں۔ جو جھیلنا تھا اس نے بچپن میں جھیل لیا ہے۔

کبھی کبھی تو وہ بھگوان کو چنوتی بھی دینے لگتی کہ خبردار! ۔ میرے پیارے بیٹے کو اپنی حفاظت میں ہی رکھنا ورنہ!  آپ ہی مسکرا دیتی۔ ہے!  پربھو یہ اولاد بھی کیا بلا ہوتی ہے؟  کیوں اتنا پیار ہوتا ہے ان سے!  یہ جواب میں تو کچھ بھی نہیں دیتے پھر بھی برا نہیں لگتا۔ ان کے غلط رویے بھی بھلا دیئے جاتے ہیں۔

پر پتی کی چوٹ تو ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ میں کیوں نہ یاد رکھوں میری اولاد تھوڑی ہے میرا پتی۔ ان کی ماں تو سب بھلا دیتی تھیں۔ اس کے یہاں تو پورا خاندان ساتھ ہی رہتا تھا۔ کیسے کیسے چلاتے تھے اس کے پتی اپنی ماں پر۔ وہ بھی خوب چلاتی تھیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے پکے گانے کا کی مشق ہو رہی ہو۔ دونوں میں سے پہلے جو تیور دھ اور تیور نی والے انترے میں جاتا وہی اپنی جیت سمجھ لیتا اور سامنے والے کو سر پکڑ کر بیٹھ جانا ہوتا۔ جیسے گھور برسات کے بعد پرنالہ مدھم سروں میں بہہ رہا ہو۔ اماں کی آنکھوں سے ایسے ہی آنسو بہہ رہے ہوتے۔ سیما ان کے پاس جا کر بیٹھ جاتی اور آہستہ سے پتی کی جانب سے معافی مانگنے لگتی۔ پتی نے تو کبھی بھی ماں سے معافی نہیں مانگی تھی۔ وہ تو پیسے والے بیٹے تھے۔ ماں نے تو ان کو فقط جنم دیا تھا۔ محنت تو انہوں نے آپ ہی کی تھی بڑا آدمی بننے کے لئے۔

بن تو گئے تھے بڑے آدمی پر اصولوں کا ذکر تو ان کے لغت میں تھا ہی نہیں۔ معمولی بات تھوڑی تھی کہ ماں کو مہینے کے پیسے دیتے تھے۔ تو کیا حساب مانگنا ان کا حق نہیں بنتا تھا!  بیچاری اماں!  پڑھی لکھی تو تھیں نہیں۔ حساب یاد کیسے رکھ پاتیں؟

سیما نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کبھی اس کا بیٹا باپ کے نقش قدم پر چلے گا۔ انہی کو ٹھیک اور صحیح ٹھہرائے گا۔ جل یہ بھی تو بڑے غرور سے کہا کرتی تھی، ’’سیما میں کتنی لکی ہوں کہ میرا سمیر اپنے باپ سے بالکل الگ ہے۔ ہر طرح سے، سندر تو ہے ہی پر کھلے خیالات کا بھی ہے۔ شفاف ہے اپنے خیالوں میں۔ صاف ستھرا۔‘‘

آج سیما کا جی خود سے زیادہ جل کو یاد کر کر کے رو رہا تھا۔ سمیر کا ضمیر نہ جانے کیا کیا سوچا کرتا۔ کانوں میں شوں شوں کہ آواز گونجنے لگی۔ ڈاکٹروں نے ٹنٹس بتا دیا۔ ’’یہ بیماری تو اکثر لوگوں کو ہو جاتی ہے۔ بہت عام ہے آج کل۔ اکثر پریشانیوں سے ہوتی ہے۔‘‘ جل نے سمیر کو تسلی دینے کے لئے کہا اور سویرے جلد اٹھنے کے خیال سے جلدی ہی سو گئی۔ وہ بھی اپنی کمپنی میں اونچے عہدے پر کام کرتی تھی، صبح سویرے اٹھ کر سمیر کا ناشتہ بھی بناتی، گھر کو صاف ستھرا کرنے کے بعد ہی گھر سے نکلتی۔ سیما کو جل کی ساری عادتیں بے حد پسند تھیں۔ اسی لئے ساس بہو میں گاڑھی چھنتی تھی۔ دونوں جیسے سہیلیاں بن گئی تھیں۔ انگریز تو ویسے بھی کبھی ایک دوسرے سے عمر نہیں پوچھتے۔ اور نہ ہی ان کا پتہ، ان کا پیشہ یا کون کون سی کار چلاتا ہے یا کیسے آتا جاتا ہے۔ کسی کو کسی کی کوئی کھوج نہیں رہتی آپس میں فقط دوستی کا رشتہ ہوتا ہے یا نہیں بھی ہوتا۔ تو بھی دشمنی نہیں ہوتی۔

سمیر، جل سے ناراض رہنے لگا تھا۔ وہ سیما سے کہتی، ’’نہ جانے سمیر کو کیا ہو گیا ہے۔ دیر میں گھر آتا ہے۔ پوچھنے پر کچھ بھی نہیں بتاتا۔ کبھی کبھی کھانا بھی نہیں کھاتا۔ میں آفس سے آ کر پکا کر رکھتی ہوں۔ سیما میں بھی تمہاری طرح ہی تازہ کھانا کھلاتی ہوں سمیر کو۔ فرج میں رکھے کھانے میں تو ساری غذائیت فنا ہو جاتی ہے۔ پر سمیر گرم گرم کھانا دیکھ کر بھی نہیں کھاتا۔‘‘

’’ایک دن مجھے اپنے گھر انوائٹ کرو، سمیر کے سامنے ہی، میں آ جاؤں گی اور سب کچھ خود ہی دیکھ کر پھر سمیر سے بات کروں گی۔‘‘ پریشان سیما نے اپنی گمبھیر آواز میں کہا۔

’’اماں، اس کو میرا کوئی خیال نہیں۔ ٹنٹس ہو گیا ہے۔ راتوں کو نیند نہیں آتی۔ ساری رات پنکھا چلا کر سوتا ہوں۔ تب کہیں جا کر چین ملتا ہے، جب پنکھے کی آواز کان کی شوں شوں کی آواز سے تال ملا لیتی ہے۔‘‘

”تو اس میں جل کا کیا قصور؟‘‘سیما نے سمیر سے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔

’’بیوی ہے میری میرا خیال رکھنا اس کا فرض ہے۔‘‘

’’کیا کھانا نہیں بناتی یا گھر گندہ رکھتی ہے یا برابر سے کما کر نہیں لاتی؟‘‘ایک ہی سانس میں سیما نے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔ وہ اس وقت ایک عورت بن کر دوسری عورت کی جانب سے ایک مرد سے سوال کر رہی تھی۔ اپنے بیٹے سے نہیں۔

’’پھر بھی، جب میں راتوں کو جاگتا ہوں تو اس کو بھی جاگنا چاہیے۔ یہ تو کانوں میں میوزک سننے کا پلگ لگا کر سو جاتی ہے، گانے سنتے سنتے۔‘‘ سمیر نے اپنی کڑواہٹ ایک ہی سانس میں اگل دی۔ سیما سناٹے میں رہ گئی۔ ہے رام!  بالکل باپ، پورا باپ!  یہ کیا ہو گیا کب ہو گیا۔ کیوں ہو گیا!  میں تو خوش تھی کہ اچھی مہذب لڑکی سے شادی کرے گا تو انسان بنا رہے گا۔ یہ تو جانور کا جانور ہی رہ گیا۔ بالکل خاموش ہو گئی سیما۔

ڈاک لینڈ کے اپارٹمنٹ کے ساتھ ہی ٹیم دریا میں کھڑی تمام کشتیاں جیسے ڈوبنے لگی ہوں۔ ان کشتیوں میں رہنے والے جیسے مدد کو پکار رہے ہوں۔ اس کو جل کی آواز بھی کہیں دور سے سنائی دے رہی تھی۔ مدد کیلئے چلاتے ہوئے۔ اپنے پتی کی موہنی صورت کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ایک ٹک دیکھتے ہوئے۔ جیسے آج وہ اس کے چہرے کے خدوخال کو اپنے من میں بیٹھا لینا چاہتی ہو۔ ہمیشہ کے لئے۔

’’ماں، میں اس کو دو فلیٹس، آپکے دیئے تمام زیور اور پانچ ہزار پاؤنڈ کیش بھی دے رہا ہوں۔ زیور دینے میں آپ کو پریشانی تو نہیں ہو گی، کیونکہ آپ عورتوں کو زیور سے بہت پیار ہوتا ہے؟‘‘

کتنا کڑوا بولتا ہے، یہ میرا بیٹا تو لگتا ہی نہیں، جیسے باپ کہیں اور سے لے آیا ہو۔ ’’میرا تو جی چاہ رہا ہے، میں اس کو اپنے زیور ہی نہیں، بلکہ اپنے حصے کی جو کچھ بھی خوشیاں رہ گئی ہیں، وہ بھی دے دوں۔‘‘

’’کیوں ایسا جی کیوں چاہ رہا ہے۔ مجھ سے خونی رشتہ ہے یا اس سے؟‘‘ خون کا رشتہ کیا ہوتا ہے۔ اس کا کیا فائدہ ہوتا ہے، اس کی کیا اہمیت ہوتی ہے اور دلوں کے رشتے کا کیا، یہ باتیں تم نہیں سمجھو گے۔

سمیر دفتر ہی میں تھا تو جل، سیما کے پاس آ گئی۔ سیما سے اس کے کندھے پر سر رکھ کر رونے کی باقاعدہ اجازت مانگی اور سیما کے آنکھ اٹھا کر دیکھنے سے پہلے ہی، اس سے لپٹ کر اس کے کندھے بھگو دیئے۔ اپنے دکھ جیسے اس کے کندھوں پر ڈال دیئے ہوں۔ خاموشی سی بیگ اٹھایا اور جانے لگی تو سیما نے کچھ کہنا چاہا، لیکن وہ چلی گئی۔

آج نہ جانے اس کو جل کیوں اتنی یاد آ رہی ہے؟  شاید وہ ہوتی تو سمیر کو سمجھا لیتی، لیکن یہ نیرا کونہ جانے کہاں سے اٹھا لایا ہے۔ میں اس طرح اس کو اپنے گھر میں نہیں رہنے دوں گی۔

’’اگر آپ یہ سمجھ رہی ہیں کہ میں اس کے ساتھ کوئی غلط رشتہ رکھتا ہوں تو ماں یہ بیمار ذہنیت کی علامت ہے۔ یہ فقط ایک دوست ہے۔ جیسے کوئی لڑکا دوست ہوتا ہے۔ یہ پریشان ہے، اس لئے کچھ دنوں کے لئے یہاں لے آیا ہوں۔‘‘

’’تو آج کل بیلا کہاں گئی؟‘‘

’’وہ فرانس گئی ہوئی ہے اپنے گھر والوں کے پاس۔‘‘

’’کب تک آئے گی؟‘‘

’’مجھے نہیں معلوم۔ وہیں بیٹھ کر اپنی تھیسس بھی لکھے گی۔‘‘

’’کیا اب آئے گی ہی نہیں۔‘‘سیما نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

سیما کو ویسے تو پسند وہ بھی نہیں تھی۔ پر کم بری تھی۔ جل اس کو بہت یاد آتی تھی، لیکن کبھی بھی اس کا ذکر نہیں کرتی۔ سوچتی سمیر کو دکھ ہو گا کہ ماں میری مدد نہیں کرنا چاہتی میرے لئے دوسری بیوی کی تلاش میں۔

سمیر اگر پختہ سوچ کا حامل ہوتا تو سیما بیاہ کیلئے لڑکیوں کی لائن لگا دیتی۔ پر اس کو بیٹے پر بھروسہ ہی نہیں تھا۔ کہیں سیما کی پسند کی لڑکی آ گئی تو سمیر اس کے ساتھ نہ جانے کیا سلوک کرے گا۔ لو میرج کا جنازہ تو اٹھ چکا تھا۔

’’ماں آپ سے کتنی بار بتایا ہے کہ بیلا آکسفورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہی ہے، آپ بار بار غلط سوال کیوں پوچھتی ہیں۔ وہ اپنے ماں باپ کے پاس گئی ہے۔ اب خالی تھوڑے بیٹھے گی، جب تک وہاں ہے تھیسس لکھتی رہے گی۔‘‘ اچھی بھلی ڈانٹ پڑ گئی تھی سیما کو۔ ہر وقت اتنی پڑھی لکھی اور ایگزیکٹو پوزیشن کی ماں کو کیسا الو سمجھا کرتا تھا۔

صرف الو سمجھتا تو بھی شاید اتنا برا نہ لگتا کیونکہ الو کہ فوٹو تو نشانی ہوتی ہے عقلمندی کی۔ گدھا بھی سمجھے تو بھی سیما برا نہیں مانے گی۔ کیونکہ وہ بھی ایک محنتی جانور ہوتا ہے اور اپنی طاقت سے بڑھ کر کام کرتا ہے۔ سمیر اس کو ایک ناکارہ عورت سمجھتا ہے۔ جب بچپن میں پٹا کرتا تھا تو گود میں گھس گھس کر کہتا تھا، ’’اگر آپ نہ ہوتیں تو یہ پتاجی تو مجھے مار ہی ڈالتے۔ ماں آپ بھی تو بڑی پوزیشن پر ہیں، پھر آپ کیوں نہیں تھکتیں؟‘‘ آج اسے اپنی ماں میں کوئی اچھے گن دکھائی ہی نہیں دیتے۔ کیسے سب کچھ بدل جاتا ہے۔ میرے اپنے ہی بیٹے میں اپنے ننہال کا ایک بھی گن نہیں آیا۔ سارا اثر اپنے پتا کے خون کا دکھائی دیتا ہے۔

سیما نے سوچا اب خود ہی جا کر برف نکالے اور سینک کرے۔ شاید کچھ آرام آ جائے۔ کینسر کے بعد سے بائیں بریسٹ کے پاس کا حصہ کچھ زیادہ ہی حساس ہو گیا ہے۔ بغل سے سات لنف نوڈس نکال دیئے گئے تھے۔ اس لئے ادھر کے حصے میں چوٹ کا اثر دوگنا ہوتا تھا۔ آج تو چوٹ ادھر ہی لگی تھی، فقط جسم پر ہی نہیں اس کے پندار کو کتنی بڑی ٹھیس لگی تھی، یہ صرف وہی جانتی تھی۔

سوچا پہلے جا کر کپڑے بدل لے۔ اب تک تو سب سو گئے ہوں گے۔ اس کو منانے کوئی نہیں آئے گا۔ کپڑے بدلنے گئی تو بازوؤں کو دیکھ کر آنکھیں موند لیں۔ دونوں بازوؤں پر جیسے کالے رنگ کے بازو بند باندھ دیئے گئے ہوں۔ کینسر والی طرف کا نیل لگ بھگ کالا ہو چلا تھا۔ وہیں تو جلن ہوئے جا رہی تھی۔

وہ شرم سے گڑی جا رہی تھی کہ آج یہ نوبت آ گئی ہے کہ سمیر اس نیرا کی بدولت اس پر ہاتھ اٹھا دے۔ اپنی پوری طاقت اس پر نکال دی۔ کیسے دروازے کے اوپر رکھ کر دونوں بازو بھینچ دیئے تھے کہ اب رہیے یہیں۔ باہر نہ نکلئے گا۔ اگر آپ نے نیرا کی بے عزتی کی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔

سیما خود کو چھڑوانے کے لئے دہائی دیتی رہی، لیکن ایسا لگتا تھا جیسے سمیر باپ کا بدلہ اس سے لے رہا ہو۔ باپ ہی کی طرح وحشی بن گیا تھا، چہرہ ویسا ہی بھیانک ہو گیا تھا۔ ہاں وہی چہرہ جسے وہ سندر کہتی رہی ہے۔ وہی چہرہ سانس روکے غرا رہا تھا ماں پر کہ آپ نے نیرا کو گھر سے جانے کو کہہ کر اس کی بے عزتی کی ہے۔ اس کے بدلے میں وہ ماں کی عزت کا جنازہ نکال رہا تھا۔

بیٹی کو جب معلوم ہوا کہ ماں کانفرنس سے جلدی آ گئی ہے تو وہ بھی ملنے چلی آئی اور نیچے کچن میں بچوں کو کھلانے پلانے میں مصروف ہو گئی۔ اگر وہ اس وقت اوپر ہوتی تو سیما تو شرم سے گڑ ہی جاتی۔

وہ ابھی اپنے دکھ کو ٹھیک سے محسوس بھی نہیں کر پائی تھی کہ دروازے پر گھنٹی بجی۔ دروازہ سیما کی بیٹی نے ہی کھولا۔ سیما بھول ہی گئی تھی کہ بیٹی اورنواسی ابھی گھر میں ہی ہیں۔ باہر پولیس کھڑی تھی۔ بیٹی نے پولیس کو فون کر کے بلوا لیا تھا۔ یعنی وہ سب سن رہی تھی۔ وہ یہیں کی پلی بڑھی ہے۔ اس دیس کے حق اور قانون سے پوری طرح واقف ہے۔ مگر ان کے خاندان میں پہلی بار پولیس گھر میں آئی تھی۔ سیما کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ پولیس کو کیا کہے۔ بیٹی نے آگے بڑھ کر ساری بات پولیس کو سمجھا دی۔

پولیس کی آواز سن کر سمیر اور نیرا بھی نیچے آ گئے۔ سمیر گھبرا گیا۔ نیرا کے جیسے ہوش ہی اڑ گئے تھے۔ پولیس نے سیما سے سیدھے ایک ہی سوال کیا تھا، ’’کیا آپ اپنے بیٹے کو ابھی گھر سے نکالنا چاہتی ہیں؟‘‘

سمیر کے چہرے پر بدحواسی دیکھ کر سیما کو ٹھیک وہی محسوس ہوا، جیسے وہ بچپن میں اپنے پتا کے ہاتھوں پٹ رہا ہو۔ اس کے اندر کی ماں جیسے ٹوٹ رہی تھی۔ پولیس دیکھ کر شاید وہ بھی بری طرح سے گھبرا گئی تھی۔

اس گھبراہٹ میں بھی سیما نے بیٹے کو اکیلا نہیں چھوڑا، ’’نہیں آفیسر، میرے بیٹے کا اس گھر پر پورا حق ہے۔ مگر میں اس آوارہ لڑکی کو اس گھر میں نہیں رہنے دوں گی۔‘‘

پولیس نے سمیر کو حکم دیا کہ لڑکی کو اسی وقت گھر سے باہر کرے۔ نیرا کے ساتھ ہی شاید بیٹے اور ماں کا رشتہ بھی گھر سے باہر چلا گیا تھا۔ ماں وہی تھی۔ وہیں کھڑی تھی۔

نیرا کو کہیں چھوڑ کر سمیر گھر واپس آ گیا ہے۔ گھر کے عیش و آرام سے دور رہ پانا، شاید اس کے لئے ممکن بھی نہیں تھا۔ اس کی نظروں میں ماں کے لئے بس ایک ہی احساس تھا۔ سیما فیصلہ نہیں کر پا رہی کہ وہ احساس کیا ہیں۔ غصہ۔ نفرت۔ یا پھر!!

کبھی کہتا ہے، آپ کانفرنس میں ضرور جائیں اور کبھی دوستوں کے ساتھ باہر کھانا کھانے کا مشورہ دیتا ہے۔ ’’ماں جب پاپا آپ کو نہیں لے جاتے تو آپ خود جانا شروع کیجئے۔‘‘ اور آج جب ماں نے اس کو نیرا کے ساتھ کمرے میں اندھیرے میں بند دیکھ کر سمجھانا چاہا تو جو منہ میں آیا بکتا چلا گیا۔ بازاری زبان!  بالکل بازاری!

بھلا کون اپنی ماں کو چھنال کہہ سکتا ہے۔ اپنے یاروں کے ساتھ گھومتی ہیں۔ کیا فرق رہ گیا پتی اور بیٹے میں۔ وہ بھی تو اپنی کمزوریاں چھپانے کے لئے یہی الزام لگاتا رہا ہے۔ سمیر کی زبان کی چوٹ جتنی گہری لگی تھی، اتنا تو بازوؤں پر پڑے نیل کے نشان کا درد بھی نہیں چبھ رہا تھا۔ اپنی جوانی کا ایک ایک لمحہ۔ ایک ایک قطرہ۔ اکلوتے بیٹے کے نام لکھ دیا تھا۔ سوچتی تھی کہ باپ کے وقت کی بھرپائی بھی وہ ہی کرے گی۔ آج اس عمر میں، ماں پر اتنا بڑا الزام!

بیٹی رات کو گھر میں ہی رہ گئی ہے۔ وہ اور اس کا پتی اپنے پتا کے کمرے میں آرام سے سو رہے ہیں۔ سیما بدن کے درد سے لڑ رہی ہے۔ روح کے گھاؤ سہلا رہی ہے۔ منہ میں دھنیے کے بیجوں کا ذائقہ ہے، مگر دل میں ایک ڈر بھی ہے۔ کہیں اپنے غصے میں سمیر اس کا قتل تو نہیں کر دے گا؟  یہ نہیں ہو سکتا۔ آخر بیٹا ہے۔ بھلا ایسا کیسے کر سکتا ہے۔ مگر دل کا ڈر اسے سونے نہیں دے رہا۔ بستر پر کروٹیں بدل رہی ہے۔

اچانک بستر سے اٹھتی ہے سیما اور اندر سے کمرے کی کنڈی چڑھا دیتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

سیپ میں بند گھٹن

 

 

آج وہ گھٹ رہی تھی کہ روی چپ کیوں ہے!!

جب روی کی بڑی بڑی شربتی آنکھوں میں شیلا کی گہری کالی کالی آنکھوں نے جھانکا تھا تو روی نے اپنی آنکھیں ایسے بند کر لی تھیں، جیسے اس نے شیلا کے پورے وجود کو اپنی لمبی لمبی پلکوں والی آنکھوں میں سما لیا ہو۔ اس کو اپنے سائے میں محفوظ کر لیا ہو۔ موتی کو سیپ میں بسا لیا ہو ہمیشہ کے لئے!

اس شام اس پارٹی میں دونوں، آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے، بالکل لیزر لائٹ کی طرح ایک دوسرے کا پیچھا کرتے رہے۔ جیسے ہی شیلا چپکے سے اس کی طرف دیکھنے کی ہمت کرتی، وہ ایک دم سے اپنی نظروں سے پیار کی ہلکی سی پھوار برسا دیتا اور دونوں میٹھی سی مسکراہٹ کے ساتھ آس پاس کے لوگوں کی جانب جلدی جلدی دیکھنے لگتے کہ کہیں کسی اور کو ان کے ستاروں بھرے آسمان اور ہر طرف بکھری چاندنی کا احساس تو نہیں ہو گیا!  آج چیختے چنگھاڑتے آرکسٹرا سے بھی ان کو بانسری کی سریلی دھن سنائی دے رہی تھی۔ شہنائی کی آواز گونج رہی تھی۔ ہر جانب توانائی کی بچت کرنے والی بتیوں کی مری مری سی دودھیا روشنی بھی، ان کو نیلی نیلی چاندنی برساتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔

عینی اور شیام کی یہ ساتویں ویڈنگ اینیورسری تھی۔ دونوں ایسے کھلے جا رہے تھے جیسے انہوں نے آج ٹینس کا مکس ڈبل ٹورنامنٹ جیت لیا ہو۔ سیوین ایئرزاَچ سے وہ بھی ڈرے ہوئے تھے۔ انگریزوں نے بھی یہ وہم بیٹھایا ہوا تھا کہ اگر سات سال شادی کے نکل جائیں تو سمجھو شادی آگے بھی چلے گی۔ حالانکہ اب تو دو سال بھی گزر جانے پر لوگ خود کو مبارک بادیں دیتے دیکھے گئے ہیں۔ اب ایک دوسرے کی کمزوریوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت اور معاف کر دینے کی قوت شاید لوگوں کی لغت سے رخصت ہو گئی ہے!

روی نے کتنی بار شیام کو فون کر کے معلوم کرنا چاہا تھا کہ وہ خاتون کون تھی جو اس کے فنکشن میں آئی تھی، جسے دیکھ کر روی کو اپنی بیوی سے اور زیادہ چڑ سی ہونے لگی تھی۔ ایسی بھی تو لڑکیاں ہوتی ہیں، جن کی آواز میں بھیرویں کے کومل سر ہو۔ جن کے دیکھنے سے رواں رواں جھوم اٹھے اور جو مدھرتا میں سنگیت کی دھن بن جائے۔ شیام نہ جانے کیوں روی کا سوال ہر بار ٹال جاتا، پر دوسرے دوستوں کو خود ہی اس کا نمبر بتا دیتا۔

ایک دن شیلا کہیں جانے کے لئے باہر نکل رہی تھی کہ دروازے کی گھنٹی بجی اور اس نے یہ سوچتے ہوئے کہ کون اس وقت بنا بتائے چلا آ رہا ہے۔ دروازے کو چین پر لگا کر جھری سے ایک آنکھ سے جھانکتے ہوئے پوچھا، ’’کون ہے۔‘‘

آواز میں تھوڑی سی گھبراہٹ تھی، ’’معاف کیجیے گا میں بغیر بتائے چلا آیا ہوں، اس دن شیام کے یہاں آپ سے ملاقات ہوئی تھی۔ باتیں بھی ہوئی تھیں کی آپ نے کہاں پڑھائی کی ہے اور آپ آج کل کیا کرتی ہیں؟‘‘

’’جی ٹھیک ہے آ جائیے، میرے پتی بھی بس نیچے آنے ہی والے ہیں۔‘‘ کہتے ہوئے شیلا نے چین ہٹا کر دروازہ کھول دیا۔ اندر آتے ہوئے، آنے والے نے سر سے ہیٹ اتار کر جھکتے ہوئے انگریزی تعظیم بجا لایا اور شیلا نے جلدی سے ہاتھ پیچھے کر لئے کہ کہیں گھٹنے موڑتے ہوئے ہاتھ کو چومنے کے لئے دبوچ نہ لے۔ اس کو کچھ کچھ یاد تو آیا تھا کہ یہ جناب کہاں ملے تھے، لیکن ان کا گھر آ جانا کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی وہ۔ پتی کے نیچے اترنے کی آواز سے وہ پھر سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ اور ہاتھ ملاتے ہوئے بتایا کہ فلم پروڈیوسر ہے۔

’’کیسے آنا ہوا؟‘‘پتی نے سیدھا سوال پوچھ لیا، سوچتے ہوئے کہ آج شیلا کہ چوری پکڑی گئی۔ وہ فلموں میں جانا چاہ رہی ہے۔ پتی کو پہلے دن سے یہ خیال پریشان کرتا رہتا تھا کہ خوبصورت بیوی سے شادی کر کے نباہ لینا آسان بات نہیں ہے۔ ’’شیلا جی یہ آپ کو کہاں ملے؟‘‘ پتی کے سیدھے سوال سے پروڈیوسر صاحب گھبرا گئے۔ شیلا نے بتا دیا لیکن تفصیل سے بتانا مناسب نہیں سمجھا، کیونکہ سچی بات یہ تھی کہ اسے خود ہی نہیں معلوم تھا کہ یہ جناب کیوں تشریف لائے ہیں۔

’’آپ لوگوں سے مل کر بہت خوشی ہوئی، پھر کبھی آؤں گا، جب آپ لوگ باہر نہیں جا رہے ہو نگے۔‘‘ اور تیز تیز ڈگ بھرتے خود ہی کنڈی کھول جیسے آئے تھے، ویسے ہی چلے گئے۔

شیلا کھڑی سوچتی رہی۔ کاش ان کی جگہ وہ آ گیا ہوتا۔ وہ اجنبی جس نے اسے پھر سے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ وہ جس کو ہر وقت دیکھنے کا جی چاہتا رہتا ہے۔ جس کی ہنسی اسے ہواؤں میں، بارش کی رم جھم میں اور باد نسیم کی سرسراہٹ میں بھی سنائی دیتی ہے۔ بھلا اس نے خود سے کیوں نہیں اس اجنبی کا اتا پتہ معلوم کر لیا!  وہ خود ہی پہل کر لیتی۔ اس نے سوچا وہ کوشش کرے گی۔ ضرور کرے گی۔

اس دیس میں یہاں کا یہ کلچر بن گیا ہے۔ اگر گزارا نہیں ہوتا تو چھٹکارہ حاصل کر لو۔ آخر بھارت نے بھی تو انگریزوں سے چھٹکارہ حاصل کیا تھا۔ وہ بھی کچھ ایسا ہی کرے گی۔ چھٹکارہ پا لے گی، چھوڑ دے گی پتی کو۔ پر کس کے لئے؟  وہ اندر ہی اندر پریشان ہو گئی اپنے اس طرح کے خیال پر۔ جلدی سے پتی سے کہا، ’’چلئے نہ۔‘‘ پتی اسے گھورے جا رہے تھے۔ وہ اسے اور مزید کس کر باندھنا چاہ رہے تھے۔ دونوں کے خیال ایک دوسرے کی مخالف سمت میں، ایک ہی وقت میں وقت کی دھارا کے ساتھ بہے جا رہے تھے۔

ابھی شیلا اپنے لمبے بالوں کو لہراتی ساڑی کا پلو سنبھالتی، نکلنے ہی والی تھی کی اس کے موبائل کی سریلی گھنٹی اس کے پرس میں بجنے لگی۔

’’پہچانا نہیں آپ نے؟‘‘کھنکتی سی آواز شیلا کے چھوٹے چھوٹے سرخ ہوتے ہوئے کانوں سے ٹکرائی۔

’’نہیں پہچانا۔ ارے آپ!  آپ کو میرا فون نمبر کیسے مل گیا؟ اس نے دیا۔ ارے کمال ہو گیا۔ آپ ہی ہیں نہ؟‘‘

’’کون، آپ ہی؟‘‘

’’میرا نام ’’آپ ہی‘‘ نہیں ہے!‘‘

’’میرا مطلب ہے آپ جو وہاں تھے؟‘‘

’’کہاں تھے؟‘‘

’’میں سمجھ گئی۔‘‘اور وہ خوشی کے مارے آگے کچھ بول ہی نہیں سکی۔

’’آپ چپ کیوں ہو گئیں۔ میں آپکی آواز سننے کے لئے کب سے مارا مارا پھر رہا ہوں۔‘‘

’’آواز سننے کو بے چین تو ہوا جا سکتا ہے، پر مارا مارا کیوں پھرنا پڑتا ہے؟‘‘ شیلا نے آواز کی کپکپاہٹ پر قابو پاتے ہوئے پوچھا۔

’’ہر فنکشن میں پہنچ جاتا ہوں فقط اس امید میں کہ آپ آئی ہوں گی۔ اس دن شیام کے گھر بھی اسی امید میں چلا گیا تھا، پھر آشا کے گروپ کے ساتھ ’’لو ایٹ فرسٹ سائٹ‘‘ بھی دیکھنے چلا گیا۔ ویسے آپ کا نام کیا ہے؟‘‘

’’میں کیوں بتاؤں، پہلے آپ بتائیے؟‘‘

’’آپ نے کبھی سورج کی جانب دیکھا ہے؟‘‘

’’ہاں، دیکھنے کی بہت کوشش کی تھی، مگر جل جاتی تھی اس کی گرم گرم کرنوں سے۔‘‘

’’میں بھی چاند کی ٹھنڈی کرنوں کی کومل لمس سے تھر تھر کانپنے لگتا تھا۔‘‘

’’ایسا تو کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔‘‘

’’تو پھر کیا ہوتا تھا؟‘‘

’’بس کچھ ہوتا تھا۔ جس کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

’’آپ تو سچ مچ کی فلسفی ہیں۔‘‘

’’نام بتائیں اپنا۔‘‘ اس نے ’اپنا‘ پر زور دیتے ہوئے کہا۔

’’روی ہے میرا نام۔‘‘

’’میں شیلا ہوں۔‘‘

’’شیلا کی جوانی۔‘‘ اس نے گاتے ہوئے شرارت سے کہا اور کھنکتی ہوئی ہنسی ہنسنے لگا۔ شیلا کھو گئی اس پہلے دن کے ملن میں جب وہ بار بار زور زور سے ہنستا اور شیلا مجبور ہو جاتی اس کی جانب دیکھنے پر۔

’’شیلا جی آپ کو معلوم ہے نہ کہ آپ فقط سندر ہی نہیں، آپ کی آواز کی مٹھاس، مندر کا مدھر سنگیت ہے، مسجد کی پاک اذان ہے۔ گرجے کی پاکیزگی ہے آپکی آواز میں۔‘‘

شیلا یہ سب سننے کے لئے جیسے بے قرار بیٹھی تھی۔ بالکل چپ چاپ ایک ایک لفظ جیسے لکھتی جا رہی ہو۔ ان گدگدا دینے والے لفظوں کو بار بار سننا چاہ رہی ہو۔ وہ خاموش رہی، جب تک وہ بولتا رہا۔ نہ جانے کیا کیا کہہ گیا اپنی دھن میں۔ جیسے آج شراب کی دوکان پر شراب بغیر پیسوں کے لٹائی جا رہی ہو۔ وہ پیار کے نشے میں جیسے چور ہوتی جا رہی ہو۔ لڑکھڑا گئی ہو۔ پر کسی کے مضبوط ہاتھوں نے اسے سنبھال لیا ہو۔ فنکشن میں وہ سفید کرتے پاجامے میں سب سے الگ دکھائی پڑ رہا تھا۔ اس کی سوچوں کا راج کمار لگ رہا تھا۔ اگر وہ دوسری عورتوں کی جانب پل بھر بھی دیکھتا تو شیلا بے قرار ہو جاتی۔ نہ جانے کیوں!  شیلا کو وہ اپنا سا محسوس ہونے لگا تھا۔

شیلا شش و پنج پڑی ہوئی تھی کہ کدھر جائے کس سے جڑی رہے اور کس سے ناطہ توڑ لے؟

چوبیس سال کالے پانی کہ سزا کاٹنے کے بعد، اب وہی اکیلا پن، وہی ویرانی، وہی تاریکی، اس کو اپنے زندگی کے ساتھی محسوس ہونے لگے تھے۔ زندگی کے ساتھی جس نے پوتر اگنی کے نارنگی دھنک رنگوں کے کنارے کنارے پھیرے لگا کر ساتھ نبھانے کا عہد لیا تھا۔ وہ تو غیروں کے ساتھ سارا دن کچھ کام کے بہانے اور کچھ کام زیادہ سے زیادہ کامیابی پانے کی لالچ میں۔ دوسروں کو اپنے سے بہت پیچھے چھوڑ دینے کی چاہت میں۔ کبھی یہ فیصلہ نہ کر سکا کی زیادہ بہتر طریقے سے جینے کا کون سا انداز ہونا چاہیے۔ بیوی اور بچوں کے درمیان وقت گزارنا، اسے وقت کی بربادی لگتی۔ اس قیمتی وقت میں تو کچھ اچھے کام کئے جا سکتے ہے، کچھ کام نکالنے والے لوگوں سے مل لوں گا، بزنس ملے گا، پروموشن ملی گی۔ بچے اور شیلا مل کر گذارش کرتے پتی اور پتا سے کہ آج چھٹی کا دن ہمارے سنگ گھر میں گذار لیجیے۔

’’پاپا میرے ساتھ کھیلنے والا کوئی نہیں ہے۔ مجھے ٹیبل ٹینس کھیلنا ہے، آج تو سنڈے ہے، آپ چلئے میرے ساتھ کھیلنے۔ پاپا منع نہیں کیجیے گا۔ پلیز پاپا!‘‘

’’اب میرا یہی کام رہ گیا ہے کہ میں تیرا جی بہلاؤں؟  مزدوری توُ کرے گا؟  تیرے پیٹ کا دوزخ کون بھرے گا؟‘‘

ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں گدیلے قالین پر گاؤ تکیے نیچے دبا کر بیٹھے بیٹھے چائے اور کافی کے ساتھ سگریٹ کا دھواں اڑاتے اور گھنٹی بجا بجا کر لمبی گوری سنہرے بالوں والی اور کالی پتلی کمر والی، آگے پیچھے سے گول گول جسم والی سیکریٹریوں کو بار بار کمرے میں بلا کر خدمت کروانے کو، وہ مزدوری کرنا کہتا تھا۔ پر بولتا ایسے تھا جیسے، سیدھا جھونپڑپٹی سے اٹھ کر آیا ہو۔ شاید وہ آخری دن تھا جب بیٹے نے باپ سے لاڈ میں کچھ مانگا ہو۔ اب ملے ہوئے کو ٹھکرانا ہی اس کی عادت بن گئی تھی۔ اسکول سے دیر میں آنے لگا، وہیں کھیلتا رہتا۔ آخری بچہ ہوتا جو کھیل کے میدان سے رخصت کیا جاتا۔ ویسے بھی وہ بڑا سا بستہ لاد کر بس ہی سے سکول بھیجا جاتا کہ عیاشی کی عادت نہ پڑے۔ ایک ہی تو بیٹا ہے بگڑ نہ جائے!

شیلا محسوس کرتی کہ وہ نہ جانے کب سے ایک آدرش انسان کی شبیہ بنائے ہوئے تھی۔ وہ نہ جانے کہاں سے اور کیسے اس کی زندگی میں بس چلا آیا اور بالکل ایسے سماتا جا رہا ہے جیسے ’’جگ سا پزل‘‘ میں ٹیڑھے میڑھے ٹکڑے ایک دوسرے میں فٹ ہوتے جاتے ہیں اور تصویر اپنی خوبصورتی اور تکمیل کے ساتھ آگے بڑھتی جاتی ہے اور آخر میں ایک ایسی تصویر تیار ہوتی ہے، جس کے ٹکڑے دیکھنے سے محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ ایک دوسرے سے جڑ کر یہ ایسی تصویر بنے گی۔ روی اور شیلا، عینی اور شیام کی پارٹی کو اپنے لئے بھاگیوان مان کر چل رہے تھے۔

شیلا کی دیکھ بھال، روی ایسے کرتا جیسے نہ جانے کب سے ترسا ہوا ہو۔ بچوں کی طرح اس کے لئے کھانا خود نکال کر پروستا اور جب وہ کھا رہی ہوتی تو اسے ایک ٹک دیکھتا رہتا۔ شربتی پتلیوں میں چمک کے دو ستارے نظر آنے لگتے تھے۔ کپڑے بھی استری کرنے کو کھڑا ہو جاتا تھا۔ شیلا بالکل چکرائی رہتی۔ اس نے آج تک سپنے میں نہیں سوچا تھا کہ مرد ایسے بھی دیکھ بھال کر سکتے ہیں۔ وہ سمجھتی تھی کہ مہینے میں ایک بار پتی نے ہتھیلی پر تنخواہ رکھ دی تو وہی ہو گئی مزدوری پورے مہینے کی۔ اب پتی دیو عیش کریں گے اور بیوی مزدوری۔ اس کی، اس کے گھر کی اور اس کے بچوں کی۔ روی تو ایسا نہیں تھا، وہ کام پر بھی جاتا اور بیوی کو بھی ترغیب دلاتا کہ وہ بھی لکھے پڑھے، پینٹنگ کرے یا سوشل ورک کرے، گھر میں بیٹھ کر وقت نہ برباد کرے۔ کیونکہ اکیلا پن انسان کا دشمن ہوتا ہے، الٹے سیدھے خیالات جنم لینے لگتے ہے۔ یہ کیسا انسان ہے!  کبھی کبھی ڈرنے لگتی کہ یہ سب کہیں ختم نہ ہو جائے، وہ بدل نہ جائے!

بدلاؤ تو زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ احساس بھی نہیں ہوتا ہے اور چپکے سے جیسے اسٹیشن پر ریل گاڑی پھسلتی ہوئی داخل ہو جاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے جگہ بدل جاتی ہے۔ ساتھی بدل جاتے ہیں۔ منزل قریب آ کر پھر کھو جاتی ہے وہ اسی آنکھ مچولی سے ڈرا کرتی تھی۔ وہ چاہتی تھی روی کے ساتھ ایک ہی اسٹیشن پر بیٹھی رہے اور ریل گاڑی کبھی نہ آئے۔

اسے روی کے ساتھ ناؤ میں سیر کرنا بھلا لگتا۔ لہروں سے کھیلنا، پانی کے چھینٹے روی کے منہ پر ڈالنا، اس کا سفید ململ کا کلف لگا لکھنوی کڑھائی والا کرتا، جس سے اس کے مضبوط بازو جھلک رہے ہوتے، جب اس کا کرتا بھیگ کر اس کے جسم سے چپک جاتا تو بھی وہ ہنستا رہتا، جیسے کہہ رہا ہو شیلا، تم کو کیا معلوم تمہارے ہاتھوں سے برسایا ہوا یہ پانی میرے لئے آب حیات ہے۔ اس میں اپنا پن ہے۔ زندگی کی سچائی ہے۔ یہی تو جینا ہے!

صبح سے لے کر سورج ڈھلنے تک بڑی بڑی شیشوں والی بلڈنگ میں میز پر سر جھکائے اور کانوں میں ٹیلیفون لگائے وقت گذار دینا ہی تو زندگی نہیں ہوتا۔ ہاں پیسہ تو ہوتا ہے۔ مگر پیسہ کمانے کے چکر میں دل بہلانے کا وقت کھو چکا ہوتا ہے۔ اس وقت کو روک لینے کا من نہیں کرتا، لیکن اس وقت کو، جس میں تم پانی کی بوچھاڑ کر رہی ہو، تمہارے ہونٹ تمہارا ایک ایک انگ، تمہارے الجھے ہوئے ہوا میں لہراتے بال، لہروں کے ساتھ ساتھ میرے من میں ہلچل مچا دیتے ہیں، جکڑ لینے کا من کرتا ہے۔

جکڑ تو گئی تھی شیلا اور پکڑ لیا تھا اس کے پوس ماگھ کے سوکھے جیون کو ساون بھادوں بن کر روی نے۔ روی تھوڑے وقت کے لئے جیسے ہی گھر پہنچتا، فوراً فون کر کے اداس آواز میں کہتا کہ اس کو اندھیرا اچھا نہیں لگتا۔ اس کو شیلا سے جدا ہونا پڑتا ہے۔ گھر پہنچتے ہی سویرے پورب سے پھوٹتی ہوئی لالی کی راہ دیکھنے لگتا۔ مرغے کی اذان جس سے وہ بہت گھبرایا کرتا کہ اس کی نیند ٹوٹ جاتی تھی۔ اب اس کا منتظر رہتا کہ جلدی اذان کی آواز آئے تو وہ نکل پڑے شیلا کے کوچے۔ سردی کی کڑکڑاتی صبح کو گاتا ہوا، پیار کے نشے میں مست، وہ شیلا کے پاس ہوتا۔

دونوں کو اپنی راہوں کا کوئی پتہ نہیں تھا کہ کدھر کو جا رہی ہے۔ فقط یہ احساس تھا کہ دو متوالے جن کو کبھی خوشی نہیں ملی تھی، اب وہ خوشیوں پر سوار ناچتے پھر رہے ہیں۔ ہر ایک بات پر جی بھر کر ہنستے ہیں دونوں۔ شیلا کی کھنکھناتی ہنسی پر روی جھوم اٹھتا۔ اس کے اپنے گھر میں جیسے ہنسی کا قحط پڑا ہو۔

روی اتنا اچھا باپ تھا کہ اپنی بیٹی کے بارے میں ہر دم شیلا سے بات کرتا رہتا کہ وہ کیسے اس کی زندگی میں بھی خوشیاں بھر دے۔ وہیں اس کا پتی دامودر تو فقط شیلا سے یہی شکایت کرتا رہتا کہ شیلا اس کے دیر تک آفس میں بیٹھنے پر ناراضگی ظاہر کرتی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ شیلا بچوں کو بھی سمجھا دے کہ ان کو بھی کوئی شکایت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس بار وہ پوری کوشش کر رہا ہے کہ اسے ڈبل پروموشن مل جائے، اس سے تنخواہ بھی ڈبل ہو جائے گی۔ کام تو پیٹ کے لئے کرتا تھا، بچوں کو تو پیدا کروانے کی اس کی ذمے داری تھی۔ بچے کی ہر کمزوری شیلا کے سبب تھی اور ہر اچھی بات دامودر سے ورثے میں ملی تھی۔ دھن دولت چھپاتا اپنی عیاشی کے لئے۔ شیلا کو کبھی نہیں معلوم ہونے دیتا کہ اس کی آمدنی کتنی ہے اور پیسے کہاں چھپا کر رکھ رہا ہے۔

روی تو اپنی پوری تنخواہ اپنی بیوی کو دے دیتا تھا، کبھی نہ پوچھتا کہ وہ ان پیسوں سے کیا کر رہی ہے۔ اس کا ماننا تھا کہ بیوی تو گھر کی لکشمی ہوتی ہے۔ اپنے اصولوں کو اپنی آپس کی کھٹ پٹ میں نہ آنے دیتا۔ شیلا اکثر سوچتی اگر اس کے پتی کے بھی کچھ اصول ہوتے تو آج وہ روی کے پیچھے کیوں پاگل ہوتی۔

وہ چھوڑ دے گی اس کو۔ چوبیس برس تو نبھا لئے۔ کیا اس نے اپنے پورے زندگی کی بلی دینے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے!

ٹھیکیدار تو دامودر تھا، اپنے گھر والوں کی زندگیوں کو اپنے طور سے جینے کے لئے مجبور کرنے کا ٹھیکیدار، کوئی حق نہیں دے رکھا تھا۔ سمتوں کی پہچان وہ کراتا تھا۔ مشرق کو جنوب اور جنوب کو مشرق کہہ دے تو وہی صحیح ہوتا۔ اور روی کو اگر شیلا کہہ دے، آج اس کا روی شمال سے نکلے گا تو روی اپنے آنے کی سمت بدل دیتا۔ نہ جانے کیسا اجنبی تھا!  جو پہلے دن سے اپنا سا ہی لگتا تھا۔

دونوں کے زندگی کا ایک حصہ بیتا جا رہا تھا اسی ادھیڑ بن میں کہ ساتھ کیسے رہ سکیں گے!  کوئی راہ نظر نہ آتی۔ کوئی حل سمجھ نہیں آتا۔ ساتھ رہنے کی خواہش زور پکڑتی جاتی۔ جی چاہتا سانجھ کی بیلا، جب جانور بھی پیروں کی مٹی جھاڑ کے ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ رات گذارتے ہیں۔ پنچھی بھی چوں چوں کر خاندان کو اکٹھا کر لیتے ہے۔ جب تک ان کا جوڑا نہیں آ جاتا گھونسلے سے ہلکی ہلکی ہلچل سی سنائی دیتی رہتی ہے۔ مگر شیلا اور روی چاہتے ہوئے بھی ایسا نہیں کر پا رہے تھے۔ ان کو تھوڑا سا وقت بھی الگ کاٹنا کٹھن ہوتا جا رہا تھا۔ اندھیری راتیں نوچنے کو دوڑتیں۔ راتیں کم طویل ہوتیں، مگر ان کی لمبائی میلوں لمبی لگنے لگتی، جب وہ تاریک راہ اپنے ساتھی سے جدا ہو کر کاٹنی پڑے۔ لوگ چلتے چلتے تھک جاتے ہیں، پر روی اور شیلا جیسے ہار ماننے کو تیار نہیں تھے۔

معاشرے کی ہار سے کون بچ سکا ہے؟

’’روی اگر تم وقت پر گھر نہیں آئے تو میں پولیس کو بتا دوں گی کہ تم شیلا کے ساتھ وقت گذارتے ہو۔ تمہارا جی گھر میں نہیں لگتا۔ تم کو کس بات کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ مجھے بتاؤ میں پوری کروں گی۔ اس کتیا سے پیچھا چھڑاؤ، اس کا تو پتی بیچارہ بھی مطمئن نہیں ہے اس سے۔ کتنا بے قرار تھا اپنی بیوی کے لئے، جب وہ تمہارے ساتھ گل چھرے اڑا رہی تھی۔ کتنا بھلا مانس ہے کہ اس کو بال پکڑ کر باہر نہیں نکال دیا۔ تمہارے لکھی نظموں کی کاپیاں بنا لی ہے میں نے۔ میں تمہیں کورٹ لے جاؤنگی۔ چھوڑوں گی نہیں۔ ایسا سمجھاؤں گی کہ یاد رکھو گے!

روی بالکل چپ کھڑا سنتا رہا۔ اس سے لڑا نہیں جاتا تھا۔ آواز بھی اونچی نہیں کر پاتا۔ بیوی چلائے جا رہی تھی۔ جتنا وہ چلا رہی تھی، اتنا ہی وہ گھٹتا جا رہا تھا۔

ناؤ میں بیٹھا ہچکولے کھا رہا تھا۔ شیلا اپنی لمبی لمبی گلابی انگلیوں کے نشیلے جام سے اس کے اوپر دریا کے ٹھنڈے، چاندی جیسے چمکتے پانی کا چھڑکاؤ کر رہی تھی، لیکن وہ دور کہیں انگاروں پر بیٹھا تھا۔ وہ بھگوئے جا رہی تھی، روی کی ہنسی جیسے پتھرا گئی تھی۔ اس کی شربتی آنکھوں کا رنگ معدوم پڑ گیا تھا۔ آنکھوں میں دو چمکتے ہوئے ستارے بھی ڈوب گئے تھے!!

٭٭٭

 

 

 

 

 

ہری دوب کی کچی سوگند

 

 

’’کیوں اتنا کام کرتے ہو؟‘‘

’’فیملی کے لئے!‘‘

’’جو بھی کماتے ہو ہماری فیملی کے لئے کافی ہے۔‘‘

’’شینا میں تم کو بہت سکھی اور ہنستا مسکراتا دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘

’’میں خوش رہوں گی، جب تم یہ لیپ ٹاپ اور اس کا کام آفس میں چھوڑ کر آیا کرو گے۔‘‘

’’ارے یار کیسی بات کرتی ہو؟  یہ آفس کا تھوڑے ہی ہے، یہ تو میرا اپنا ہے۔‘‘

’’تمہاری اپنی تو میں ہوں میں!‘‘ شینا نے لاڈ سے اتراتے ہوئے کہا۔

ایش نے جلدی سے لیپ ٹاپ کو ایک طرف سرکا دیا اور شینا کا چہرہ اپنے لمبی لمبی انگلیوں والے بڑے بڑے ہاتھوں کے گھیرے میں لے لیا۔ شینا کھل اٹھی۔

’’اچھا چلو کھانا لگاؤ، بھوک بہت تیز لگی ہوئی ہے۔‘‘

شینا مستی سے جھومتی، موٹی سی چوٹی پیٹھ کے اونچے نیچے ابھاروں کے اوپر لہراتی کچن کی جانب چل پڑی۔

جلدی جلدی کھانا گرم کر کے پھلکے بنانے کھڑی ہوئی تو ایش کو کھانے پر آنے کے لئے آواز دی۔

ایش نے شاید سنا نہیں یا اگر سنا بھی تو فیس بک نے سر اٹھانے نہیں دیا۔

’’ایش آؤ نہ جلدی۔ گرم گرم پھلکے تیار ہیں۔‘‘ ایش نے کوئی جواب بھی نہیں دیا اور آیا بھی نہیں۔ وہ بڑبڑانے لگی، ’’مردوں کی بڑی بری عادت ہوتی ہے، کھانا مانگ تو لیتے ہیں پر کھانے جلدی نہیں آتے۔ ہم بے چاریاں ان کو گرم گرم پھلکے کھلانے کے لئے تڑپتی رہتی ہیں۔ جب یہ روٹی ٹھنڈی ہی کھانا چاہتے ہیں تو ہم کیوں نہیں پہلے سے پکا کر رکھ دیتی ہیں۔‘‘ آج اس کا من مخالفت پر آمادہ ہو رہا تھا۔ ’’اسے بھی تو ڈومیسٹک وائیلنس کہا جا سکتا ہے!‘‘ پھر خود ہی مسکرا دی۔ کہ بیچارے ایش کے لئے ایسے ہی برا بھلا سوچنے لگ پڑی تھی۔

’’ایش اب آ بھی جاؤ کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے۔‘‘

’’بس آیا!‘‘ ایش نے جلدی سے جواب دیا اور چپل ڈھونڈنے لگا۔ ایک چپل میز کے کافی نیچے گھس گئی تھی، ’’شینا، چپل نہیں مل رہی۔‘‘

وہ دوڑی کہ جلدی سے چپل ڈھونڈ دے۔ لیپ ٹاپ ابھی بھی اس کی گود میں ہی تھا، اسی لئے جھک نہیں پا رہا تھا۔

’’ایش میں سارا دن کام کر کے تھک جاتی ہوں جلدی سے کھا لو تو میں بھی نہا کر سونے آ جاؤں۔‘‘

وہ گھر کے سارے کام خود ہی کرتی۔ نوکرانی کا جھنجھٹ نہیں پالنا چاہتی تھی۔ نوکرانیاں بھی تو آج کل بہت مہنگی پڑتی ہیں۔ تنخواہ کے ساتھ شوہر بھی لے اڑتی ہیں۔ میگھا کے گھر کیسی کڑک نوکرانی آتی ہے۔ ساڑی کا پلو ایسے کس کر جسم کے اوپر لپیٹے ہوتی ہے، لگتا ہے کہ جیسے ایک ایک انگ ساڑی پھاڑ کر باہر نکل آئے گا۔ آنکھوں میں کاجل، کالے تیل لگے چمکیلے بالوں کا جوڑا۔ گول، گوری اور گدرائی پنڈلیاں۔ چھوٹے بڑے سائز کی چپل۔ جو بھی فری میں مل جائے۔ کسی بھی نمبر کی چپل پہننے سے شاید انگلیوں پر زور پڑنے کے سبب پیروں کی انگلیاں دور دور ہو جاتی ہیں اور پنجے پھیل جاتے ہیں۔ پر پیروں کی کس کو پرواہ۔ پنڈلیوں تک ہی جا کر نگاہ ٹھہر جاتی ہے۔ میگھا کا شوہر تو دوسرے شہر رہتا ہے۔ اس کا اکیلا پن دور کرنے کے لئے شوہر نے ایک نوکرانی رکھ دی ہے۔ اسی لئے تو وہ سکھ اٹھا رہا ہے نوکرانی کا بھی اور فیس بک کا بھی۔

شینا سارے دن گھر باہر کے کام نبٹا کر تھوڑی دیر کے لئے فیس بک کھول کر گھر والوں سے باتیں کر کے ماں باپ کو نواسے نواسی کے فوٹو دکھاتی اور ان کو باتوں سے خوش کر کے پھر گھر کے کاموں میں لگ جاتی۔ شینا سوچتی، ’’فیس بک کی وجہ سے میکے جانے کا چانس بھی مارا جاتا ہے۔ اگر یہ فیس بک نہ ہوتی تو سویرے سویرے ماں باپ کے درشن بھی نہ ہو پاتے۔ فیس بک بھی خوب چیز ہے۔ کیسے کیسے لوگ اپنے تمام معمولات دنیا جہان کے ساتھ شیئر کر لیتے ہیں۔ پرائیویسی نام کی کوئی چیز تو بچی ہی نہیں۔‘‘

’’ارے شینا کھانے کے بعد کی چائے کیا بھول گئیں؟‘‘

’’لا رہی ہوں ذرا برتن دھونے لگی تھی۔‘‘

’’شینو رانی بعد میں دھو لینا۔ چائے کی تڑپ تم کیا سمجھو!  تم نے چائے سے محبت تو کی نہیں ہے۔‘‘

’’ایش میں نے تم سے محبت کی ہے، تم ہی میری چائے ہو۔ بغیر دودھ کی چائے۔‘‘ دونوں زور سے ہنس پڑے۔

’’اچھا سنو چائے بڑے والے مگ میں دینا اور بھر کر دینا مجھے ذرا زیادہ کام کرنا ہے آج۔‘‘

’’یہ چائے ہے یا پیٹرول! تلسی کی چائے بنا دوں صحت کے لئے اچھی ہوتی ہے۔‘‘

’’مجھے کوئی مندر تھوڑے ہی جانا ہے بس بستر میں لیٹ کر کام کرنا ہے۔ تم جلدی سے نہا کر آ جاؤ۔‘‘

شینا کا ہاتھ جلدی سے بلاؤز کے چھوٹے چھوٹے ہک کھولنے میں مصروف ہو گیا۔ پلو سے سینہ ڈھکتی ہوئی جلدی سے نہانے بھاگی۔

باتھ روم سے باہر نکل کر لمبے لمبے چمکتے بالوں کو کمرے کے سامنے ہی تو لئے سے جھٹک جھٹک کر سکھانے لگی تھی۔ در اصل وہ ایش کو دور ہی سے للچانا چاہ رہی تھی۔ وہ ہیئر ڈرائر سے بالوں کو سکھانا پسند بھی نہیں کرتی تھی۔ بال سوکھے، روکھے ہو جاتے ہیں۔ ایش کو اس کے بال بھی تو پسند تھے۔ نہائے ہوئے، ہلکے ہلکے، گیلے گیلے، صندل والے شیمپو کی بھینی بھینی پھیلتی ہوئی خوشبو ایش کو مخمور کر دیتی۔

شینہ کمرے میں پہنچی تو ایش ایک ہاتھ سے لیپ ٹاپ کو پیٹ پر رکھے، لیٹا ہوا تھا۔ دوسرا ہاتھ نہ جانے کہاں تھا، شینا کو دکھائی نہیں دیا۔ آنکھیں کچھ بند کچھ کھلی ہوئی تھیں، گرم گرم سانسیں اندر باہر ہو رہی تھیں۔ شینا نے چپکے سے لیپ ٹاپ کو ہٹانا چاہا، اس نے جلدی سے بند کر کے کروٹ بدلی اور لیپ ٹاپ اپنے نیچے ہی دبا لیا۔ فیس بک کا پورا خاندان اس کے سینے کے نیچے دفن ہو گیا۔ شینا اس کے پیچھے ہی لپٹ کر لیٹ گئی۔ تھوڑا کسمسائی۔ گلے میں بانہیں ڈالیں پر ایش دم سادھے پڑا رہا۔ شینا تھکی ہوئی تھی، وہ جلدی ہی سریلے سریلے خراٹے لینے لگی۔

وہ شاید سپنا دیکھ رہی تھی۔ پر یہ کیسا سپنا!  ایش کی آواز کانوں میں گونج کر گم ہو جاتی تھی۔

شینہ پہلے تو مدھم مدھم گہری گھٹی ہوئی آواز سنتی رہی، پھر گہری نیند میں چلی گئی۔

ایش نے جھک کر کان لگا کر شینا کی سانسیں محسوس کیں، پھر گھور کر غور سے دیکھا، جیسے مردے کی ناڑی دیکھی جاتی ہے کہ مر گیا ہے یا زندہ ہے!  شینا سو گئی تھی۔ وہ خوش ہو گیا۔

ایش کو جلدی پڑی تھی، یہ جاننے کی کہ فیس بک پر جو سوال پوسٹ کیا تھا، اس پر کیا کیا کمینٹس آئے۔ ساتھی لوگ اس کی لگائی چنگاری میں گھاسلیٹ چھڑک رہے ہوتے۔ وہ اپنی شرارتی مسکان بکھیرتا اور اپنی فیس بک سہیلیوں کی محفل میں کھو جاتا۔

’’سالی!  کتنا نیچا گلا پہنے ہے۔ ایوریسٹ کی دو پہاڑیوں کے بیچ باریک سی پگڈنڈی نیچے کو اترتی چلی جا رہی ہے۔ من چاہتا ہے اس پر دوڑ پڑوں۔ یہ دیکھو میگھا کو۔ اونچی اسکرٹ پہن کر ننگی ٹانگیں دکھا رہی ہے۔ ایک ٹانگ تو جیسے کمان بنی ہوئی ہو۔‘‘

ان تصویروں پر کلکس آنا شروع ہو گئے۔ وہ دیکھتا رہا پر وہ فقط کلک ہی تک محدود نہیں رہنا چاہتا تھا۔ یہ اس کی دو ہزار فیس بک فرینڈز میں سے ایک تھیں۔

’’آپکی آنکھیں بہت سندر ہیں۔‘‘

’’کوئی نئی بات کرئے۔ یہ تو بہت بار سن چکی ہوں۔‘‘

’’آپکی پوشاک بہت سندر بنی ہے، کہاں سے سلوائی؟‘‘

’’آپ کو بھی بنوا دوں؟‘‘

’’ابھی میری شادی نہیں ہوئی۔‘‘

’’اچھا تو آپ بیچلر ہیں!‘‘

’’اور آپ؟‘‘

’’میں بھی۔‘‘

جیسے ہی یہاں دال گلتی نظر آئی، وہ پہاڑیوں کے بیچ دوڑ گیا۔

’’۔‘‘

’’آپکے فقط ہونٹ ہی نہیں سبھی کچھ سندر ہے۔‘‘

’’سبھی سے کیا مطلب؟‘‘

’’وہی جو کچھ نظر آ رہا ہے۔‘‘

’’کیا نظر آ رہا ہے؟‘‘

آج اس نے ٹھان لیا تھا کہ گھبرائے گی، نہیں کھل کر بات کرے گی۔ مرد جیسے دل کی ہر بات کھل کر بولتا ہے تو ہم عورتیں کیوں بیٹھی شرماتی رہیں!  کیا ہمارا دل نہیں ہوتا کی ہم بھی وہی سب کچھ کریں جو مرد کرتے ہیں۔ اب تو باہر ملکوں میں سنا ہے کہ عورتیں، چرچ کی پادری بھی بن سکتی ہیں۔ تو کیا ہم رنگینیاں نہیں منا سکتے مردوں ہی کی طرح!

شینا نے کروٹ بدلی تو ایش چونک گیا اور فوراً لیپ ٹاپ کا ڈھکن نیچے گرا کر لیپ ٹاپ بند کر دیا۔ وہاں جو کچھ بھی تھا، وہیں گھٹ کر رہ گیا پر ایش کے من میں ہلچل مچی رہی۔

’’آؤ ایش سو جاؤ۔ کیا کر رہے ہو؟‘‘

’’آفس کا کام پورا کر رہا تھا۔‘‘

’’ایش، اتنی محنت مت کرو۔ تھک جاؤ گے۔ تمہیں کچھ ہو گیا تو میں جی نہ سکوں گی۔‘‘

ایش کو شینا کی یہ سب باتیں فالتو کی لگ رہی تھیں۔ وہ تو ان چتروں کو دیکھنا چاہتا تھا، جن کا صحیح نام پتہ بھی نہیں معلوم تھا۔ شینا تو ان سے کہیں زیادہ خوبصورت تھی۔ پر وہ، وہ تو اپنی تھی۔

صبح اٹھ کر ایش آفس جلدی جانے کی تیاری کرنے لگا۔ ’’آج جلدی کیوں جا رہے ہو؟‘‘

’’جلدی آنے کے لئے۔‘‘

شینہ کو خوشی ہوئی کی ایش کو آخر پھنسا ہی لیا اپنی لمبی زلفوں کے ریشمی جال میں۔

آج وہ بھی کھانا پکا کر، نہا دھوکر ایش کے انتظار میں بیٹھ گئی تھی۔

’’کیا کہیں جا رہی ہو؟‘‘ایش نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا۔

شینا کھسیانی سی ہو گئی۔

’’نہیں ایش، میں کہیں نہیں جا رہی۔ بس تمہارے لئے تیار ہوئی ہوں۔‘‘

’’اس کا کیا مطلب؟  میں تو جلدی اپنا کام کرنے کے لئے آیا ہوں۔‘‘

’’کیا آج پھر لیپ ٹاپ کے سنگ ہی جیو گے؟‘‘

’’ہاں شینا اسی کے تو پیسے کھاتا ہوں۔‘‘

شینہ نے سوچا لیپ ٹاپ کمبخت کہلاتا ہی ہے ’’گود کا کھلونا‘‘ اور آئی پیڈ تو وہ ٹھہرا ’’آنکھوں کی سینک‘‘ بیچارہ ایش انہی دونوں مشینوں کے ساتھ جی رہا ہے۔ اور میں کاموں کی مشین بنی ہوئی ہوں۔ مجھے ایش کے لئے وقت نکالنا چاہیے۔

شینا پریشان رہنے لگی تھی کہ کہیں ایش پر کام کا بوجھ بڑھ تو نہیں گیا ہے۔ کہیں بیمار نہ ہو جائے وہ۔ ایش سے پیار سے کہتی، ’’ایش گھر آ کر گھر کے ہو جایا کرو۔‘‘ جیسے پہلے ہم دونوں سنگ سنگ ہوا کرتے تھے۔ میں جہاں بھی ہوتی تم چھوٹے سے بچے کی طرح میرے پیچھے پیچھے وہیں آ جایا کرتے تھے۔ اگر میں رسوئی میں کھانا پکا رہی ہوتی تو تم پلو کے نیچے سے میری کمر کو مضبوطی سے پکڑ کر لپٹ جایا کرتے۔ کمرے میں لے جاتے۔ روٹی جل جاتی۔ توا تپتا رہتا اور تم۔۔ کتنا شور مچاتی۔ ہنستے جاتے اور پیار کرتے جاتے۔ تمہارے کھنکتے قہقہے تو مجھے پیارے لگتے پر تم بھی میری موتی جڑی مسکان پر فدا رہتے، تم یہ کہتے، شینا تمہارے منہ سے کبھی بھی بری مہک نہیں آتی۔

’’میں ہمیشہ سچ جو بولتی ہوں۔ ممی کہا کرتی تھیں کی جھوٹ بولنے والوں کے منہ سے بدبو آتی ہے۔‘‘

وہ ڈرتی کہیں ہمارے رشتوں میں بدبو تو نہیں بس گئی۔ سماج کی برائیوں کی بدبو۔ گندے دوستوں کی بساند۔ جلنے والوں کی چراند!  وہ سوچتی۔

میں تو اپنی بیٹی کا رشتہ پکا کرنے سے پہلے ہی کہہ دوں گی کہ لڑکا اگر شراب پیتا ہے تو کوئی بات نہیں۔ ڈرگس بھی لیتا ہے تو بھی چلے گا۔ مگر اگر فیس بک کا نشہ کرتا ہے تو نہیں ہو گا یہ بیاہ۔ بس کہہ جو دیا۔ نہیں!  ڈرگ اور شراب سے فقط اس کا اپنا نقصان ہو گا۔ مگر یہ فیس بک تو ایک بھٹیار خانہ ہے۔ دیمک کی طرح رشتوں کو چاٹتا جاتا ہے۔ کسی کا کچھ معلوم ہی نہیں چلتا کہ کون کس سے نتھی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ کسی کی بیوی اس کے ساتھ اور اس کی بیوی دوسرے کے ساتھ۔ کون کس کا دوست ہے اور کس کا دشمن!  یہ کھیل ایک محلے، ایک شہر، ایک دیس تک محدود نہیں رہتے۔ یہاں تو تمام تہذیبیں سکڑ کر ایک فیس بک میں بند ہو جاتی ہیں۔ شاید اسی کو گلوبلائیزیشن کہتے ہیں۔

اور۔

آج پھر وہ شینا کو رسوئی میں بھیج کر لیپ ٹاپ پیٹ پر رکھ کر بستر میں پسر گیا۔ اتنی جلدی ہوتی تھی کہ آفس سے آ کر اوپر کے کپڑے اتار کر پھینک دیتا، انڈروئیر اور باریک باریک سوراخوں والی سفید بنیان میں ہی لیٹ جاتا۔ ایک ہاتھ لیپ ٹاپ اور دوسرا ہاتھ کہیں اور کھو جاتا۔ آج اس نے پھر میگھا اور اونچے ایوریسٹ والے فوٹو کھولی اور مصروف ہو گیا۔

آج ایک کمینٹ بہت اچھا لگا پر فوٹو نہیں تھی۔ بس چہرے کا ایک سایہ تھا۔ معلوم ہی نہیں پڑ رہا تھا کہ عورت ہے یا مرد۔ لکھا تھا، ’’میں یہاں ہوں ادھر دیکھو۔‘‘

’’کون ہے؟‘‘

’’ارے کون ہے؟‘‘

’’ارے بھئی یہ کہاں سے آ گئی؟‘‘

’’پر ہے کون؟‘‘

ہاہا کار سی مچ گئی۔

سبھی نے پوچھنا شروع کر دیا۔

سب ٹوٹ پڑے۔ خاندانی جائیداد بٹ رہی ہو جیسے یا جیسے کوئی نیا مردہ آ گیا ہو۔ گدھ ٹوٹ پڑے ہوں۔ چہرہ دیکھے بنا ہی بس شبہ ہو گیا تھا ہو نہ ہو۔ ہے کوئی لڑکی!  سب کو نسوانی بو آ رہی تھی۔

ایش نے لکھا۔ ’’چھپنے والے سامنے تو آ۔‘‘

’’مجھے دیکھ کر بیہوش ہو جائیے گا۔‘‘

ایش نے سب سے زیادہ کلکس لگائے اور ہر تھوڑی دیر میں فوٹو کی فرمائش کر دیتا۔ اس نے لکھا، ’’آپ پہلے اپنی فوٹو لگائیے۔‘‘

ایش یہ نہیں کرنا چاہتا تھا کہ کہیں پکڑا نہ جائے۔ اس کی اپنی ایک دنیا تھی۔ وہ کہیں بھی ہوتا وہی تصویر اس کو چاروں جانب سے جکڑی ہوتی۔ اس گرفت کی چبھن بڑی سہانی محسوس ہوتی۔ وہ شام کو آفس سے گھر آ کر ان سے سب کچھ کر لینے کی اور کہہ دینے کی جلدی میں ہوتا۔ ہر الجھن تصویروں سے ہی باتیں کر کے سلجھا لیتا۔

شینا پیاسی رہتی، اس کی ہنسی اس کے پیار کی۔ اب تو سنتا سنگھ اور بنتا سنگھ بھی کہیں حاشیے پر کھو گئے۔ شاید ان کے گھر فیس بک ابھی تک نہیں پہنچی تھی۔

’’آپ فوٹو لگائیے۔‘‘ کوئی بار بار ریکوئسٹ کئے جا رہا تھا۔

’’آپ سامنے کیوں نہیں آتیں؟‘‘

’’شرماتی ہوں۔‘‘

’’ایک بار اس محفل میں شامل ہو جانے کے بعد شرم ورم سب ہوا ہو جاتی ہے۔ رشتے بن جاتے ہیں۔ انوکھے رشتے۔ ہم سب ہی ایک دوسرے کے پریوار بن جاتے ہیں۔ انجانے۔ ان دیکھے لوگ۔ جیتا جاگتا، ہنستا بولتا پریوار دیوار کے اس پار چلا جاتا ہے۔ اس کا کام ہوتا ہے فقط انتظار کرنا یا اسی پریوار کا حصہ بن جانا۔ اس سے گھر میں سکون تو آ جاتا ہے پر سناٹا بڑھ جاتا ہے۔‘‘

’’آپ کے گھر کا کیا حساب کتاب ہے؟‘‘

’’میں تو ابھی پھنسا ہی نہیں ان چکروں میں۔‘‘

’’یہ خبر تو اچھی ہے۔‘‘

’’کیا آپ بھی!!‘‘

’’بس یوں ہی سمجھ لیجیے۔ گھر میں سناٹا بڑھ گیا ہے۔‘‘

’’تو پھر تو ملنا چاہئے، ہم تو شاید ایک ہی روگ کے رو گی ہیں۔‘‘

’’بس کینسر نہ ہو۔‘‘

ایش بہت خوش تھا، آج ڈریس والی نے بھی جلوہ دکھا دیا تھا۔ اس کے ایوریسٹ کی برف پگھل چکی تھی، ہونٹ دیکھ کر سور کی تھوتھنی بھی پیاری لگنے لگتی تھی۔ کیوں لگاتی ہیں ایسی عورتیں اپنی فوٹو؟

وہ لوگوں کو ٹیگ کرتی، اگر کوئی نہ پھنستا تو سوال کرتی۔ ’’آپ ٹیگ کیوں نہیں ہوتے؟‘‘

’’میرے پاس کوئی وجہ نہیں ہے۔‘‘

’’کیسے ہیں آپ؟‘‘

’’ٹھیک ہوں۔‘‘

’’اور سنائیے۔‘‘

’’کیا سنائیں؟‘‘

اب ایش کو انتظار تھا اس بے چین کر دینے والی رو گی کا۔

آج ایش کی وال پر بہت کچھ لگایا گیا، لیکن اس نے کسی کو کوئی جواب نہیں دیا۔ اکثر لڑائیاں مول لے لیتا ہے دیوار پر لکھے ریمارکس پر۔ اس کو دنیا کے ہر موضوع پر بولنا اچھا لگتا، کیونکہ اس کے پاس گیان تھا۔ لوگ جلتے بھی تھے۔ کچھ داد دے کر بات کو آگے بڑھاتے بھی تھے اور سیکھتے بھی تھے۔

………

’’ایش آج میری سہیلی کی پہلی کتاب کی تقریب رونمائی ہے۔‘‘

’’بہت مبارک۔‘‘ایش نے جلدی سے کہا۔

’’ایش میں چاہ رہی ہوں ہم چل کر مبارک باد دیں۔‘‘

’’ارے یار ایشو رانی، میں تو تھکا ہارا مزدور آدمی، بس اب تو کھانا کھلا دو، گرم گرم اپنے پیارے پیارے ہاتھوں سے۔‘‘

’’نہیں نہیں ایش آج میں نہیں مانوں گی۔ تم کو چلنا پڑے گا۔ کتنے دن ہو گئے ہیں میں تمہارے ساتھ کہیں نہیں گئی۔‘‘

’’شینو میں بھی تو کہیں نہیں گیا۔‘‘

’’تم تو روز آفس جاتے ہو اور۔ وہاں سے آ کر پھر انہیں کے ساتھ وقت بتاتے ہو۔‘‘

ایش کچھ چونک سا گیا۔

’’کہاں جانا ہو گا۔ کتنی دور؟‘‘

’’کلا بھون۔‘‘

’’کہاں چلو گی۔ بہت دور ہے۔‘‘

’’کار میں چلا لوں گی۔‘‘

’’چلو یہ بات پکی۔‘‘

وہ ساتھ بیٹھ گیا آئی فون ہاتھ میں لے کر، اسی سے بے آواز باتیں کرتا رہا۔ اسی میں کھویا رہا۔ شینا کالی چمکتی سڑک کو بنا پلک جھپکائے گھورتی ہوئی کار چلائے جا رہی تھی۔

چلچلاتی گرمی کی پیلی پیلی دھوپ، پیلے آسمان میں موٹے تازے گدھ، جیسے تازہ تازہ پارسیوں کے مردے کو نبٹا کر آئے ہوں اور دھرتی کی جانب غوطہ لگا لگا کر زندگی کے بھاری پن کو ہلکا کر رہے ہوں۔ گدھ آسمان میں واپس تیرنے لگتے۔ شینا پلک جھپکا کر گدھوں کو دیکھتی پھر تیزی سے کالی کولتار کی چمکتی سڑک پر گاڑی دوڑانے لگتی۔۔ سڑک اسے فیس بک کی دیوارجیسی محسوس ہونے لگتی، جس پر بن بلائے گدھ منڈرا رہے ہوتے۔ سب اپنی اپنی بڑائی کر رہے ہوتے۔ بالکل ویسے ہی جیسے نرگس کا پھول، پانی میں اپنا ہی عکس دیکھنے میں مگن ہوتا، خود پر نثار رہتا اور خود اپنے سے ہی پیار کرتا۔ فیس بک کے رسیا، فیس بک کے گہرے سمندر میں اپنا ہی عکس دیکھ رہے ہوتے۔

کبھی ایش کی ہنسی سے چونک جاتی۔ اور ایش بھی اپنی ہی ہنسی سے گھبرا جاتا کہ شینا سے کیا بتائے گا کہ کس بات پر ہنسا ہے۔

’’ارے ایش جی آپ!  آپ نے تو بتایا ہی نہیں کی آپ یہاں آ رہے ہیں۔ رات کو تو کتنی دیر تک ہم ساتھ تھے۔‘‘

’’ایش رات میں تو میرے ساتھ تھا۔‘‘سوچ رہی تھی شینا۔ ’’آج کل اس ماڈرن ٹیکنالوجی کے سبب رشتوں اور فاصلوں کا کچھ پتہ ہی نہیں چلتا۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اجنبیوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور انہیں کوبرسوں سے جانتے ہوں۔‘‘ یہ باتیں دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے پکڑے ہی کر رہے تھے۔ شینا وہاں منٹ بھر کے لئے رکی کہ شاید ایش اس کا تعارف کرانا چاہے گا، تاہم پھر وہ کھسک گئی۔ چائے پانی کے وقت بڑے ہال میں دیکھا کہ کسی عورت سے گلے مل رہا ہے تو کسی کو بیٹی کہہ کر سینے سے لگا رہا ہے اور اسی عورت کا بار بار ہاتھ میں ہاتھ لئے کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ نہیں معلوم پڑتا کہ کون کس کا ہاتھ پکڑے ہے۔ ہاتھ ایک دوسرے میں بس گڈ مڈ ہوتے۔

تو یہ ہے فیس بک کا خاندان!!

اس کو ایک اخبار کی خبر یاد آ گئی کہ آج کل ’’ریڈ لائٹ ایریا‘‘ میں بھی فیس بک کا بہت زور ہے۔ برے بھلے، عزت دار کمینے، امیر غریب، ادیب شاعر اور سیاست دان سبھی ایک ہی بک میں بند ہیں۔ اس کو یہ بھی یاد آیا کہ ایک مذہبی رہنما نے کہہ دیا ہے کہ اس کی جماعت کو ماننے والے لوگ فیس بک کا استعمال نہیں کریں گے۔ کاش ایش بھی اسی دھرم کو مانتا ہوتا۔ مگر ایش تو ناستک ہے۔

آج اس کو وہ سب باتیں یاد آئیں، جن کو وہ بے مطلب سمجھا کرتی تھی۔ تو کیا ایش اب اس کا نہیں رہا؟  فقط اس کا جسم یہاں ہوتا ہے اور من نہ جانے کہاں کہاں فیس بک میں بھٹک رہا ہوتا ہے۔ بیچارہ!  کتنا بیوقوف ہے۔ میں تو اس کو بہت سمجھدار مان کر چل رہی تھی اور شاید ایماندار بھی۔

ایش گھر پہنچتے ہی تھکن کا شور مچاتا ہوا بستر میں کھو گیا اس کی اپنی بھیڑ میں۔ آج شینا بستر میں نہیں آئی۔

ایش بے چین تھا چھپنے والی کیلئے۔ جیسے ہی اس کی وال پر پہنچا اس نے اپنی تصویر لگانے کی بات مان لی تھی۔ ’’بھیج رہی ہوں اپنی فوٹو۔ پہلے یہ بتائیے، وعدہ کیجئے ملنے کا۔‘‘

’’ہاں ہاں سو بار وعدہ۔ آپ بتائیے کب اور کہاں؟‘‘

وہ سوچتی رہی اسی پارک میں پہاڑی کے پیچھے۔ پھولوں کی سیج پر۔ دوب کی کچی کچی سوگندھ۔ دھرتی سے اٹھتی مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو۔ وہ جیسے آج پھر سے اس کی محبوبہ بن گئی۔ فیس بک کی محبوبہ۔ جیسے وہ دونوں۔ بیاہ سے پہلے ملا کرتے۔

’’لیجیے فوٹو دیکھئے۔‘‘ شینا نے اپنی فوٹو لگا دی۔

ہر جان سے لائیکس کی بوچھاڑ ہونے لگی۔ اور ایش!

(۱۔ دوب: چھوٹی قسم کی عمدہ گھاس جو زمین پر جال کی شکل میں پھیلتی ہے، گھوڑا خصوصاً  اور دیگر مویشی عموماً اسے رغبت سے کھاتے ہیں )

٭٭٭

تشکر: مترجم جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

 

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل
کنڈل فائل