FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

فہرست مضامین

(اصول ثلاثہ)

دین کے تین اہم اصول

 

شیخ الاسلام

                محمد بن عبد الوہاب

        ترجمہ: محمد منیر قمر

 

 

 

 

 

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

کتاب : اصول ثلاثہ(دین کے تین اہم اصول)

تألیف: شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب( رحمۃ اللہ علیہ)

ترجمہ: محمد منیر قمر(حفظہ اللہ)

 

 

 

 

دین کے تین اہم اصول

 

 

اگر آپ سے پوچھا جائے کہ وہ کون سے تین اصول ہیں جن کی معرفت حاصل کرنا ہرانسان پر واجب و ضروری ہے؟ تو کہہ دیجئے:

۱۔ بندے کا اپنے رب کی معرفت حاصل کرنا ۔

۲۔ اپنے دین کی معرفت حاصل کرنا۔

۳۔اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معرفت حاصل کرنا۔

 

                پہلا اصول

 

        اللہ تعالیٰ کی معرفت

 

اگر آپ سے استفسار کیا جائے کہ آپ کا رب کون ہے؟ تو آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب اللہ ہے جس نے اپنے فضل و کرم سے میری اور تمام جہانوں کی پرورش کی، وہی میرا معبود ہے اس کے سوا میرا کوئی معبود نہیں اور اس کی ربوبیت و پروردگاری کی دلیل ارشاد کرامی ہے:

        الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ(الفاتحہ:۱)

ہر قسم کی تعریف اللہ تعالی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پرورش کرنے اور پالنے والا ہے۔

اللہ تعالی کی ذات با برکات کے سوا ہر چیز عالم (جہاں)ہے اور میں اس عالم کا ایک فرد ہوں۔

اگر آپ سے یہ سوال کیا جائے کہ آپ نے اپنے رب کوکس چیز کے ذریعے پہنچانا؟ تو کہہ دیجئے کہ اس کی آیات (نشانیوں)اور مخلوقات کے ذریعے سے پہنچانا اور اس کی نشانیوں میں سے رات، دن، سورج اور چاند کا وجود ہے اور اس کی مخلوقات میں سے ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمان ہیں اور جو کچھ ان سب کے اندر اور ان کے مابین ہے۔

اللہ کی نشانیوں کی دلیل ، اس کا یہ ارشاد ہے۔

        وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ   لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ(فصلت:۳۷)

اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سور اور چاند ، سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو بلکہ اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا، اگر فی الواقع تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو۔

اور اس کی مخلوقات کی دلیل اس کا یہ فرمان ہے:

        إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ   أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ   تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ(الاعراف:۵۴)

درحقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دونوں میں پیدا کیا اور پھر پر اپنے عرش بریں پر مستوی ہوا جو رات کو دن ڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے، جس نے سورج ، چاند ستارے پیدا کئے سب اس کے فرمان کے تابع ہیں، خبردار رہو اسی کا خلق ہے اور اسی کا امر ہے، بڑا بابرکت ہے اللہ سارے جہانوں کا مالک و پروردگار۔

اور رب کائنات ہی لائق عبادت اور معبود برحق ہے، اس کی دلیل ارشاد الہٰی ہے:

        يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ،الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ   فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ(البقرۃ، ۲۱۔۲۲)

لوگو، بندگی اختیار کرو اپنے رب کی جو تمہارا اور تم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں، ان سب کا خالق ہے، عجب نہیں کہ تم (دوزخ سے) بچ جاؤ، وہ تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچایا اور آسمان کی چھت بنائی اور اوپر سے پانی برسایا اور اسکے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لئے رزق بہم پہنچایا، بس جب تم یہ جانتے ہو تو دوسروں کو اللہ کا مد مقابل نہ ٹھہراؤ۔

امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

        الخَالِقُ لِھَذِہ الأَشیَاءِھُوَ المُستَحِقُ لِلعِبَادَۃِ(تفسیر ابن کثیر:۵۷۱:۱،طبع مصر)

ان تمام مذکورہ اشیاء کا خالق (پیدا کرنے والا) ہی ہر قسم کی عبادت کا صحیح حقدار ہے۔

 

        اقسام عبادت

 

اللہ تعالیٰ نے جن انواع واقسام کی عبادت کو بجا لانے کا حکم دیا ہے مثلا اسلام، ایمان ، احسان اور ایسے ہی دعا و خوف، امید و رجاء ، توکل، رغبت ، رہبت (ڈر)، خشوع، خشیت، رجوع، استعانت ، استعاذہ(پناہ طلبی)، استغاثہ، ذبح و قربانی اور نذر  ومنت اور ان کے علاوہ اور بھی عبادتیں ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور یہ سب کی سب اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں۔

اس بات کی دلیل یہ ارشاد الہٰی ہے:

        وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا(الجن:۱۸)

اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لئے ہیں لہٰذا ان میں اللہ کےساتھ کسی اور کو نہ پکارو

جس کسی نے ان مذکورہ بالا عبادات میں سے کسی بھی عبادت کو کسی غیر اللہ(فرشتے، ولی، پیر و مرشد) کے لئے کیا وہ مشرک و کافر ہے اور اس کی دلیل یہ ارشاد ربانی ہے:

        وَمَن يَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ لَا بُرْهَانَ لَهُ بِهِ فَإِنَّمَا حِسَابُهُ عِندَ رَبِّهِ   إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُونَ(المؤمنون:۱۱۷)

اور جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارے جس کے لئے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہے بیشک کافر کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔

مذکورہ اقسام کے عبادت ہونے کے دلائل:

دعا کے عبادت ہونے کی دلیل ، حدیث پاک میں نبی اکرم ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے:

 ((الدُّعَاءُ مُخُّ العِبَادۃِ))۔(ترمذی)

دعا عبادت کا مغز(اصل) ہے۔

اور قرآن پاک میں دعا کے عبادت ہونے کی دلیل یہ فرمان ربانی ہے:

        وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ   إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ(غافر: ۶۰)

تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا جو لوگ گھمنڈ میں آ کر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں، ضرور وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔

خوف کے عبادت ہونے کی دلیل یہ ارشاد الہٰی ہے:

        فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (آل عمران:۱۷۵)

پس تم انسانوں سے نہ ڈرنا مجھ سے ڈرنا اگر تم حقیقت میں صاحب ایمان ہو۔

“امید و رجاء” کے عبادت ہونے کی دلیل یہ آیت قرآنی ہے:

        فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا(الکھف:۱۱۰)

پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہئے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔

توکل کے عبادت الہٰی ہونے کی دلیل یہ فرمان الہٰی ہے:

وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ(لمائدۃ:۲۳)

اور اللہ پر بھروسہ (توکل) رکھو اگر تم مومن ہو۔

قرآن پاک کے دوسرے ایک مقام پر یوں ارشاد ہے۔

        وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ(الطلاق:۳)

اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ اس کے لئے کافی ہے۔

“رغبت و رہبت اور خشوع” کے عبادت ہونے کی دلیل یہ فرمان باری تعالیٰ ہے:

        إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا   وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ(النبیاء:۹۰)

یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے اور ہمارے آگے جھکے ہوئے تھے۔

“خشیت” کے عبادت ہونے کی دلیل یہ ارشاد ربانی ہے:

        فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي(البقرۃ:۱۵۰)

تم ان (ظالموں) سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو

“انابت و رجوع” کے عبادت ہونے کی دلیل یہ آیت ہے:

        وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ(الزمر:۵۴)

اور پلٹ آؤ اپنے رب کی طرف اور مطیع بن جاؤ اس کے۔

“استعانت” کے عبادت ہونے کی دلیل یہ ارشاد الہٰی ہے:

        إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ(الفاتحہ:۵)

ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔

حدیث شریف میں”استعانت” کے عبادت ہونے کے متعلق یہ ارشاد رسالت مآب ﷺ ایک بیّن دلیل ہے:

 ((وَاِذَا استَعَنتَ فَاستَعِن بِاللہِ))

جب تم مدد طلب کرو تو اللہ تعالی سے طلب کرو۔

استعاذہ)پنا طلبی) کے عبادت ہونے کی دلیل یہ آیت قرآنی ہے:

قلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ،مَلِكِ النَّاسِ(الناس:۱۔۲)

کہو میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب، انسانوں کے بادشاہ(اللہ) کی۔

“استغاثہ” کے عبادت ہونے کی دلیل یہ فرمان ربانی ہے:

        إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ(الانفال:۹)

(اس وقت کو یاد کرو) جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری فریاد سن لی۔

“ذبح قربانی” کے عبادت ہونے کی دلیل یہ آیت قرآنی ہے:

        قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،لَا شَرِيكَ لَهُ   وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ(الانعام:۱۶۲۔۱۶۳)

کہو، میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت(قربانی) میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے جسکا کوئی شریک نہیں اور اس کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سراطاعت جھکانے والا میں ہوں۔

اور حدیث پاک میں اسکی دلیل یہ ارشاد رسالت مآب ﷺ ہے:

 ((لَعَنَ اللّہُ مَن ذَبَحَ لِغَیرِ اللّہِ))۔ مسلم

جس نے کسی غیر اللہ(نبی، ولی، پیر و مرشد، صاحب مزار) کے تقرب کے لئے جانور ذبح کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے۔

“نذر” کے عبادت الہٰی ہونے کی دلیل یہ ارشاد ہے:

        يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا(الانسان:۷)

(یہ لوگ ہیں) جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی۔

 

                        دوسرا اصول

 

        دین اسلام کو دلائل کے ساتھ جاننا

 

توحید الہٰی کو دل و جان سے اپناتے ہوئے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے مطیع وسپرد کر دینے، اس کے احکام کی اطاعت کرتے ہوئے اس کا تابع فرمان رہنے اور اس کے ساتھ کسی دوسرے کو ہر گز شریک نہ ٹھہرانے کا نام”دین” ہے۔

دین کے تین درجات ہیں:

۱۔اسلام

۲۔ایمان

۳۔احسان

اور پھر ان تینوں میں سے ہر ایک درجے کے کچھ ارکان ہیں:

 

                        پہلا درجہ

 

        اسلام اور اس کے پانچ ارکان

 

۱۔اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں۔

۲۔نماز قائم کرنا۔

۳۔زکوٰۃ ادا کرنا۔

۴۔رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔

۵۔ بیت اللہ شریف کا حج کرنا۔

 

                        دلائل ارکانِ اسلام

 

        شہادتِ توحید

 

شہادت توحید(اللہ تعالیٰ کے معبود وحدہٗ لاشریک لہٗ ہونے) کی دلیل یہ ارشاد الہٰی ہے:

        شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ   لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ(آل عمران:۱۷)

اللہ نے خود شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور (یہی شہادت) سب فرشتوں اور سب اہل علم نے بھی دی ہے، وہ انصاف پر قائم ہے، اس زبردست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی لائق عبادت نہیں۔

شہادت توحید کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں”لااِلہ” میں ہر اس چیز کی نفی ہے جس کی اللہ تعالی کے سوا پوجا کی جاتی ہے اور”اِلااللہ” میں صرف ایک اللہ کے لئے ہر قسم کی عبادت کا اثبات ہے، بالکل اسی طرح جیسا کہ اس کی بادشاہی میں اس کا کوئی شریک اور حصہ دار نہیں ہے۔

اس شہادت کی تفسیروتشریح اللہ تعالیٰ ہی کے ان فرامین میں واضح طور پر موجود ہے، ارشاد ربانی ہے:

        وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ ،إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ ،وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ(الزخرف: ۲۸،۲۷،۲۶)

اور یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا”تم جن کی بندگی کرتے ہو، میرا ان سے کوئی تعلق نہیں، میرا تعلق صرف اس سے ہے جسنے مجھے پیدا کیا، وہی میری رہنمائی کرے گا اور ابراہیم یہی کلمہ(عقیدہ) اپنے اپنی اولاد میں چھوڑ گئے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔

اور فرمان باری تعالیٰ ہے:

        قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ   فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ(آل عمران: ۶۴)

آپ فرما دیجئے “اے اہل کتاب، آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو رب نہ بنائے” اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دیجئے کہ آپ گواہ رہو، ہم تو مسلم(صرف اللہ کی بندگی و اطاعت کرنے والے) ہیں۔

 

        شہادتِ رسالت

 

اس بات کی شہادت کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں ، کی دلیل ارشاد الہٰی ہے:

        لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ(التوبہ: ۱۲۸)

دیکھو تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے، تمہاری فلاح کا وہ خواہشمند ہے، ایمان والوں کے لئے وہ بڑا شفیق اور رحیم ہے۔

حضرت محمدﷺ کے رسول اللہ ہونے کی شہادت دینے کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ کے احکام کی اطاعت کی جائے، آپ نے جو خبر بھی دی ہے اس کی تصدیق کی جائے، آپ نے جن امور سے روکا اور منع کیا ہے، ان سے قطعی اجتناب کیا جائے، اور اللہ تعالی کی عبادت صرف مشروع طریقہ ہی سے کی جائے۔

نماز، زکوٰۃ اور تفسیر توحید کی مشترکہ دلیل خالق کائنات کا یہ ارشاد ہے:

        وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ   وَذَٰلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ(البینہ:۵)

اور ان کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں، اپنے دین کو اس کے لئے خالص کر کے بالکل یکسو ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، یہی نہایت صحیح ودرست دین ہے۔

رمضان المبارک کے روزے رکھنے کی دلیل یہ ارشاد ربانی ہے:

        يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ(البقرۃ:۱۸۳)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم پر روزے فرض کر دیے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔

بیت اللہ شریف کا حج کرنے کی دلیل یہ فرمان الہٰی ہے:

        وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا   وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ(آل عمران: ۹۷)

لوگوں پر اللہ تعالی کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے اور جو کوئی اس حکم کی پیروی سے انکار کرے تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔

 

                        دوسرا درجہ

 

        ایمان اور اس کے ارکان

 

ارشاد نبوی ہے: ایمان کے ستر سے بھی کچھ زیادہ شعبے ہیں، ن میں اعلیٰ ترین درجہ لااِلہ اِلااللہ(اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں) کہنا ہے، ور سب سے ادنیٰ درجہ ایمان ، راستے سے ایذاء و ضرر رساں چیزوں (کانٹے وغیرہ) کو ہٹا نا ہے۔

 ((وَالحَیَاءُ شُعبَۃُ مِنَ الاِیمَانِ))

اور شرم و حیاء بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔(مسلم)۔

ایمان کے چھ ارکان ہیں:

۱۔ اللہ پر ایمان لانا۔

۲۔اس کے فرشتوں پر ایمان لانا۔

۳۔اس کی کتابوں پر ایمان لانا۔

۴۔اسکے رسولوں پر ایمان لانا۔

۵۔روز قیامت پر ایمان لانا۔

۶۔ اچھی و بری تقدیر پر ایمان لانا۔

 

                        دلائل ارکانِ ایمان

 

ایمان کے ان چھ ارکان میں سے پہلے پانچ کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی ہے:

 (البقرۃ:۱۷۷) لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ

نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لئے یا مغرب کی طرف بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ پر اور یوم آخرت پر اور ملائکہ (فرشتوں) پر اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں پر ایمان  ویقین رکھے۔

اور چھٹے رکن”قدیر خیر و شر” یا اچھی و بری تقدیر کی دلیل یہ فرمان الہٰی ہے:

        إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ(القمر:۴۹)

ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے۔

 

                        تیسرا درجہ

 

        احسان

 

احسان کا ایک ہی رکن ہے کہ آپ اللہ تعالی کی عبادت (اس خشوع و خضوع اور انابت و رجوع سے) کریں کہ گویا آپ اسے بچشم خود دیکھ رہے ہیں اور اگر آپ مقام کو نہیں پاسکتے کہ آپ دیکھ رہے ہیں تو کم از کم یہ عالم ضروری ہی ہونا چاہئے کہ وہ آپ کو دیکھ رہا ہے۔

 

                        دلائل احسان

 

احسان کے قرآنی دلائل یہ آیات مبارکہ ہیں:

        إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ(النحل:۱۲۸)

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ سے کام لیتے ہیں اور جو “عبادتوں کو”اچھی طرح کرتے ہیں۔

دیگر فرمان الہٰی ہے:

        وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ ،الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ ،وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ،إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ(الشعراء:۲۱۷۔۲۲۰)

اور اس زبردست اور رحیم پر توکل رکھئے جو آپ کو اس وقت دیکھ رہا ہوتا ہے جب آپ اٹھتے ہیں اور سجدہ گزار لوگوں میں آپ کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے، وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

مزید ارشاد ربانی ہے:

        وَمَا تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَمَا تَتْلُو مِنْهُ مِن قُرْآنٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ(یونس: ۶۱)

اے نبی ﷺ آپ جس حال میں بھی ہوتے ہو اور قرآن میں سے کچھ بھی سناتے ہوں اور لوگو! تم بھی جو کچھ کرتے ہو اس سب کے دوران میں ہم تم کو دیکھتے رہتے ہیں۔

اور دین کے ان تین درجات پر سنت سے دلیل نبی اکرم ﷺ کی یہ مشہور حدیث ہے جو حدیث جبرائیل علیہ السلام کے نام سے معروف ہے:

        عن عمر رضي الله عنه قال “بينما نحن جلوس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم إذ طلع علينا رجل شديد بياض الثياب شديد سواد الشعر لا يرى عليه أثر السفر ولا يعرفه منا أحد حتى جلس إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأسند ركبتيه إلى ركبتيه ووضع كفيه على فخذيه قال يا محمد أخبرني على الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم الإسلام أن تشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتصوم رمضان وتحج البيت إن استطعت إله سبيلا قال صدقت قال فعجبنا له يسأله ويصدقه قال فأخبرني عن الإيمان قال أن تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر وتؤمن بالقدر خيره وشره قال صدقت قال فأخبرني عن الإحسان قال أن تعبد الله كأنك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك قال فأخبرني عن الساعة قال ما المسؤول عنها بأعلم من السائل قال فأخبرني عن أماراتها قال أن تلد الأمة ربتها وأن ترى الحفاة العراة العالة رعاء الشاة يتطاولون في البنيان قال ثم انطلق فلبثت مليا ثم قال لي يا عمر أتدري من السائل قلت الله ورسوله أعلم قال فإنه جبريل أتآكم يعلمكم دينكم”

دیکھیں صحیح بخاری حدیث نمبر (48) اور صحیح مسلم حدیث نمبر (9)

ترجمہ: حضرت عمر فارق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک ایک ایسا آدمی ہماری مجلس میں وارد ہوا جس کے کپڑے نہایت سفید اور بال انتہائی سیاہ تھے، اس پر سفر کر کے آنے کی کوئی علامت (گرد و غبار اور گندگی) نہ تھی اور ہم میں کوئی اس کو جانتا نہیں تھا، وہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے آپ کے گھٹنوں سے گھٹنے ملا کر اور اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ کر دو زانو ہو کر با ادب طریقہ سے بیٹھ گیا اور اس نے کہا اے محمدﷺ مجھے بتایئے کہ اسلام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ آپ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور حضرت محمدﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں، اور یہ کہ آپ نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں، رمضان المبارک کے روزے رکھیں، اور اگر زاد راہ کی استطاعت ہو تو بیت اللہ شریف کا حج کریں، اس نووارد نے کہا آپ ﷺ نے سچ فرمایا، ہم اس کی بات پر متعجب ہوئے کہ پہلے تو آپ ﷺ سے سوال کرتا ہے پھر خود ہی تصدیق بھی کر رہا ہے، اس کے بعد اس نے کہا مجھے بتایئے کہ ایمان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، روز قیامت اور تقدیر خیر و شر پر مکمل ایمان رکھیں، تب اس نے کہا مجھے بتائیں کہ احسان کیا ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا احسان یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس خشوع و خضوع اور انابت و رجوع سے کریں گویا آپ اسے بچشم خود دیکھ رہے ہیں اور اگر آپ اس رتبہ بلند کو نہیں پاسکتے تو کم از کم یہ عالم تو ضرور ہی ہونا چاہئے کہ وہ آپ کو دیکھ رہا ہے، تو اس نے کہا مجھے آپﷺ یہ بتائیں کہ قیامت کب آنے والی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا جس سے سوال کیا جا رہا ہے وہ وقوع قیامت کے بارے میں سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، تو اس نے کہا علامات قیامت ہی بتا دیں، آپ ﷺ نے فرمایا:لونڈی اپنے آقا کو جنم دے گی اور آپ دیکھیں گے کہ ننگے پاؤں ننگے بدن بھیڑ بکریاں چراتے پھرنے والے لوگ بڑی بڑی عمارتیں بنانے میں فخر کریں گے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اتنی باتیں کرنے اور سن لینے کے بعد وہ نووارد تو چلا گیا مگر ہم تھوڑی دیر تک سراسیمہ و خاموش بیٹھے رہے، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے عمر(رضی اللہ عنہ) کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ نووارد کون تھا؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں تو آپ ﷺ نے بتایا کہ یہ جبرائیل امین تھے جو ایک اجنبی کی شکل میں تمہیں امور دین کی تعلیم دینے آئے تھے۔

 

                        تیسرا اصول

 

        رسول اللہﷺ کی معرفت

 

آپ کا نام نامی اسم گرامی محمدﷺ بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم ہے، بنی ہاشم قبیلہ قریش سے اور قریش عرب سے اور عرب حضرت اسماعیل بن ابراہیم خلیل الہ علیہما و علی نبینا افضل الصلوٰۃ والسلام کی اولاد ہیں۔

آپ ﷺ نے جملہ تریسٹھ برس عمر شریف پائی جن میں سے چالیس برس بعثت و نبوت سے پلے اور تیئیس سال بحیثیت نبی ورسول گزارے۔ آپ کی جائے پیدائش مکہ مکرمہ ہے۔

آپ ﷺ کو نزول [اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ](العلق:۱) کے ساتھ شرف نبوت حاصل ہوئی اور نزول [يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ،قُمْ فَأَنذِرْ](المدثر:۱۔۲) کے ساتھ باررسالت سے مشرف ہوئے، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو شرک سے ڈرانے اور توحید کی دعوت دینے کے لئے مبعوث فرمایا، اس بات کی دلیل یہ ارشاد باری تعالی ہے:

        يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ،قُمْ فَأَنذِرْ ،وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ،وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ،وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ،وَلَا تَمْنُن تَسْتَكْثِرُ ،وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ(المدثر:۱۔۷)

اے اوڑھنی لپیٹ کر لیٹنے والے اُٹھو، اور خبردار کرو، اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو اور اپنے کپڑے پاک رکھو، اور گندگی سے دور رہو، اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے، اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو۔

 

        شرح مفردات

 

 (قُم فَأَنذِر)

آپ ﷺ ان لوگوں کو شرک سے ڈرائیں اور توحید کی طرف دعوت دیں۔

 (وَرَبُّکَ فَکَبّر)

توحید کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کریں۔

 (وَثِیَابَکَ فَطَھّر)
        اپنے اعمال کو شرک سے پاک کریں۔
 (وَالرُّجزَفَاھجُر)

الرجز کا معنی اصنام(بت) اور فاھجر (ان سے ہجرت کر) کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اب تک آپ ان سے دور رہے ہیں اسی طرح ان کے بنانے اور پوجنے والوں سے دور رہیں اور ان اصنام اور ان کے سرستار مشرکوں سے بیزار و براءت کا اظہار کریں۔

آپﷺ نے اس اہم بنیادی نقطے پردس سال صرف کئے اور لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دیتے رہے، دس سال کے بعد آپ ﷺ کو آسمانوں کی سیر (معراج) کرائی گئی اور آپﷺ پر پنجگانہ نماز فرض کی گئی، آپ ﷺ تین سال تک مکہ مکرمہ میں نماز ادا کرتے رہے، اس کے بعد آپﷺ کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر جانے کا حکم مل گیا اور بلد شرک سے بلد اسلام کی طرف منتقل ہو جانے کا نام ہجرت ہے اور یہ بلد شرک سے بلد اسلام کی طرف ہجرت اور نقل مکانی کرنا اس امت محمدیہ پر فرض ہے اور یہ فرقہ قیامت تک باقی ہے، اس بات کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے:

        إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنتُمْ   قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ   قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا   فَأُولَٰئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ   وَسَاءَتْ مَصِيرًا ،إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا(النساء:۹۷۔۹۸)

جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے، ان کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے، انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور اور مجبور تھے، فرشتوں نے کہا، کیا اللہ تعالی کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے، یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے، ہاں جو مرد عورتیں اور بچے واقعی بے بس ہیں اور نکلنے کا کوئی راستہ اور ذریعہ نہیں پاتے، بعید نہیں کہ اللہ انہیں معاف کر دے، اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے۔

دیگر ارشاد باری تعالی ہے:

یِا عِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ(العنکبوت:۵۶)

اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو، میری زمین وسیع ہے پس تم میری ہی بندگی بجا لاؤ۔

امام بغوی رحمۃ اللہ نے اس آیت کی شان نزول کے بارے میں کہا ہے:

“یہ آیت ان مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مکہ شریف میں رہ گئے اور جنہوں نے ہجرت نہ کی، اللہ تعالی نے انہیں ایمان کے نام سے ندا دی اور پکارا ہے”

حدیث سے ہجرت کی دلیل رسالت مآبﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے:

 ((لَا تَنقَطِعُ الھِجُوُۃُ حَتَّی تََنقَطِعَ التَوبَۃُ وَلَاتَنقَطِعُ التَوبَۃّحَتَّی تَطلُعَ الشَّمسُ مِن مَغرِبِھَا))

جب تک توبہ کا دروازہ بند نہیں ہو جاتا تب تک ہجرت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوگا جب کہ توبہ کا دروازہ اس وقت تک بند نہیں ہوگا جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع (روز قیامت) جب آپﷺ نے مدینہ منورہ میں اپنے قدم خوب جما لیئے تو آپ ﷺ کو بقیہ احکام و شرائع اسلام مثلاً زکوٰۃ، روزہ، حج، اذان،جہاد، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حکم دیا گیا اور ان امور پر آپ ﷺ ے دس برس گزارے تب آپﷺ نے وفات پائی مگر آپﷺ کا دین قیامت تک باقی رہے گا۔

٭٭٭

 

 

 

 

        دین اسلام اور شریعت محمدیہ کا خلاصہ

 

آپﷺ کا دین(مختصر مگر جامع و مانع خلاصہ) یہ ہے: بھلائی کا کوئی ایسا کام نہیں کہ آپ ﷺ نے امت کو اس کی اطلاع نہ کی ہو اور برائی کا کوئی ایسا کام نہیں کہ جس سے امت کو متنبہ نہ کیا ہو۔

جس بھلائی کی طرف آپ ﷺ نے راہنمائی فرمائی ہے، وہ توحید باری تعالیٰ اور ہر وہ کام جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور برا سمجھتا ہے۔اللہ تعالی نے آپﷺ کو پوری انسانیت (تمام لوگوں) کی طرف مبعوث کیا اور ہر دو عالم جن وانس پر آپﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری فرض قرار دی ہے، اس بات کی دلیل یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

        قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا(الاعراف: ۱۵۸)

اللہ تعالیٰ نے آپﷺ پر دین اسلام کی تکمیل کی (دین و دنیا کے تمام مسائل کا حل پیش کیا اور اس میں کسی قسم کی کوئی تشنگی اور کمی باقی نہیں چھوڑی) جس کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے:

        الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا(المائدۃ:۳)

آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے۔ آپﷺ کے اس دنیا سے وفات پا جانے کی دلیل قرآن پاک میں اللہ تعالی کا یہ ارشاد ہے:

        إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ ،ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِندَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ ﴿٣١﴾(الزمر:۳۰۔۳۱)

اے نبیﷺ آپ کو بھی مرنا ہے اور ان لوگوں کو بھی مرنا ہے، آخر کار قیامت کے روز تم سب اپنے رب کے حضور اپنا مقدمہ پیش کرو گے۔

تمام لوگ مرنے کے بعد(روز محشر جزا وسزا کے لئے) دوبارہ اٹھائے جائیں گے، جس کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے:

        مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَىٰ(طحہ:۵۵)

اس زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیا اور اسی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے اور اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے۔

اور یہ ارشاد ربانی بھی بعث بعد الموت کی دلیل قاطع ہے:

        وَاللَّهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا ،ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا(نوح:۱۷۔۱۸)

اور اللہ نے تم کو زمین سے خاص طور سے پیدا کیا پھر وہ تمہیں اسی زمین میں واپس لے جائے گا اور (قیامت کے روز پھر اسی زمین سے) تم کو یکا یک نکال کھڑا کرے گا۔

دوبارہ اٹھائے جانے کے بعد لوگوں سے حساب و کتاب لیا جائے گا اور ان کے اعمال(حسنہ وسیئہ) کے مطابق انہیں جزا و سزا دی جائے گی، جس کی دلیل یہ فرمان باری تعالیٰ ہے:

        وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى(النجم:۳۱)

اور زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک اللہ ہی ہے تا کہ اللہ برائی کرنے والوں ان کے عمل کا بدلہ دے اور ان لوگوں کو اچھی جزا سے نوازے جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا ہے۔

جس نے (نعث بعدالموت) مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا اکار کیا وہ کافر ہو گیا جس کی دلیل یہ ارشاد ربانی ہے:

        زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا   قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ   وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ(التغابن:۷)

کافروں نے بڑے دعوے سے کہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ ہر گز نہیں اٹھائے جائیں گے، ان سے کہو نہیں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر ضرور تمہیں بتایا جائے گا کہ تم نے (دنیا میں) کیا کچھ کیا ہے اور ایسا کرنا اللہ کے لئے بہر آسان ہے۔

اللہ تعالی نے تمام رسولوں کو(نعیم جنت کی) بشارت دینے اور (عذاب جہنم) سے ڈرانے والے بنا کر بھیجا تھا، جس کی دلیل یہ فرمان الہٰی ہے:

        رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ  (النساء:۱۶۵)

یہ سارے رسول خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے تا کہ ان کو مبعوث کر دینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی عذر باقی نہ رہے۔

رسولوں میں سب سے پہلے رسول حضرت نوح علیہ السلام اور سب سے آخری رسول حضرت محمد مصطفٰی ﷺ ہیں اور آپﷺ خاتم النبیین ہیں، حضرت نوح علیہ السلام کے پہلے رسول(نہ کہ پہل نبی) ہونے کی دلیل یہ ارشاد الہٰی ہے:

        نَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ(انساء:۱۶۳)

اے نبیﷺ ہم نے آپﷺ کی طرف وحی بھیجی ہے جس طرح نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد کے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔

ہر امت کی طرف اللہ تعالی کی حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک رسول بھیجے ہیں جو اپنے امتیوں کو اللہ کی عبادت کا حکم دیتے اور “طاغوت” کی عبادت سے منع کرتے چلے آئے ہیں، جس کی دلیل یہ ارشاد الہٰی ہے۔

        وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ(النحل:۳۶)

ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا اور اس کے ذریعہ سب کو خبر دار کر دیا کہ”اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت سے بچو”۔

اللہ تعالیٰ نے تمام بندوں (جن وانس) پر طاغوت کا انکار و کفر اور اللہ پر ایمان لانا فرض قرار دیا ہے، امام ابن قیم رحمۃ اللہ”طاغوت” کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

جس کی بھی باطل معبود(جس غیر اللہ کی عبادت کی جائے) یا متبوع(جس کی ایسے امور میں اتباع کیا جائے جن میں اللہ تعالی کی معصیت ہو) یا مطاع (جس کی اطاعت امور حلت و حرمت میں اس طرح کی جائے کہ جس میں فرامین الہٰی کی مخالفت ہو) کی وجہ سے بندہ اپنی حدود بندگی(خالص عبادت الہٰی) سے تجاوز کر جائے وہی چیز”طاغوت” ے اور طاغوت تو بے شمار ہیں مگر ان کے سربرآوردہ پانچ ہیں:

۱۔ابلیس لعین۔

۲۔ایسا شخص جس کی عبادت کی جائے اور وہ اس فعل پر رضا مند ہو۔

۳۔ جو شخص لوگوں کو اپنی عبادت کرنے کی دعوت دیتا ہو۔

۴۔ جو شخص علم غیب جاننے کا دعوی کرتا ہو۔

۵۔ جو شخص اللہ تعالی کی نازل کی ہوئی شریعت کے خلاف فیصلہ کرے ۔

اور بات کی دلیل یہ ارشاد باری تعالی ہے:

        لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ   قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ   فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انفِصَامَ لَهَا   وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ(البقرۃ: ۲۵۶)

دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے کیونکہ ہدایت یقیناً گمراہی سے ممتاز ہو چکی ہے اب جو کوئی طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آیا، اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔اور اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

یہی لا الہ الا اللہ(اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں) کا صحیح مفہوم و معنی ہے۔

حدیث پاک میں رسالت مآبﷺ کا ارشاد ہے:

        ((رَاسُ الاَمرِ الاِسلَامُ وَعَمُودُہُ الصَّلَاۃُ وَذِوَۃُسَنَامِہِ الجِھَادُ فِف سَبِیلِ اللہِ)) (طبرانی کبیر، صححہ السیوطی فی جامع صغیر وحسنہ المناوی فی شرحہ) واللہ اعلم۔

اس دین کی اصل چیز”اسلام” ہے ور اس کا ستون نماز ہے اور اسکا اعلیٰ ترین مرتبہ و مقام جہاد فی سبیل اللہ ہے۔

٭٭٭

ماخذ: اردو مجلس ڈاٹ نیٹ

کمپوزنگ: ابو بکر سلفی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید