FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

ترجمہ دعوت القرآن

 

 

                   شمس پیرزادہ

 

 

۲۔سورۂ  توبہ تا  سورۂفرقان

 

 

 

( ۹) سورۂ التَّوبَہْ

 

 

۱– بری الذمہ ہونے کا اعلان ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکین سے جن سے تم نے معاہدے کیے تھے۔

۲– اب تم زمین میں چار مہینے چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم اللہ کو شکست نہیں دے سکتے اور اللہ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے۔

۳– اور لوگوں کے لیے اعلان عام ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حج اکبر کے دن کہ اللہ مشرکین سے بری الذمہ ہے اور اس کا رسول بھی۔ اگر اب بھی تم توبہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر نہیں مانتے تو جان رکھو تم اللہ کے قابو سے باہر نہیں جا سکتے۔ اور (اے پیغمبر!) کافروں کو درد ناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔

۴– البتہ وہ مشرکین اس سے مستثنیٰ ہیں جن سے تم نے معاہدہ کر رکھا ہے اور اس کے بعد انہوں نے اس کو نباہنے میں کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی۔ ایسے لوگوں کے معاہدے کو ان کی مدت ختم ہونے تک پورا کرو کہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے۔۔

۵– پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو ان مشرکین کو جہان پاؤ قتل کرو اور انہیں پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دین تو انہیں چھوڑ دو۔ بلاشبہ اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۶– اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص تم سے امان طلب کرے تو اسے امان دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔ پھر اسے اس کے امن کی جگہ پہنچا دو۔ یہ اس لیے کہ یہ لوگ جانتے نہیں ہیں۔

۷– ان مشرکین کو کوئی عہد اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کس طرح قائم رہ سکتا ہے۔ بجز ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا۔ تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کہ اللہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

۸– (ان کے سوا دوسرے مشرکین کا عہد) کس طرح باقی رہ سکتا ہے جب کہ ان کا حال یہ ہے کہ اگر وہ تم پر قابو پائیں تو تمہارے بارے میں نہ قرابت کا لحاظ کریں اور نہ عہد کا۔ وہ اپنی زبان سے تم کو خوش کرنے کی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے دل اس سے انکاری ہیں اور ان میں زیادہ تر لوگ فاسق ہیں۔

۹– انہوں نے اللہ کی آیتوں کے بدلہ حقیر قیمت قبول کر لی اور اللہ کی راہ سے روکنے لگے بہت بری حرکت ہے جو یہ کرتے رہے ہیں۔

۱۰– کسی مؤمن کے معاملہ میں نہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ عہد و پیمان کا۔ یہی لوگ ہیں جو زیادتی کرنے والے ہیں۔

۱۱– لیکن اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو جاننے والے ہیں۔

۱۲– اور اگر یہ عہد کرنے کے بعد اپنی قسمیں توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر طعنہ زنی کرنے لگیں تو کفر کے پیشواؤں (لیڈروں ) سے لڑو کہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں (ان سے لڑو) تاکہ وہ باز آ جائیں۔

۱۳– کیا تم ایسے لوگوں سے نہ لڑو گے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور رسول کو (اس کے وطن) سے نکالنے کا قصد کیا اور تمہارے خلاف جنگ کرنے میں پہل کی ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ اگر تم مومن ہو تو (تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ) اللہ اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو۔

۱۴– ان سے جنگ کرو۔ اللہ تمہارے ہاتھوں ان کو عذاب دے گا اور انہوں رسوا کرے گا اور ان پر تم کو غالب کرے گا۔ اور ایمان رکھنے والوں کے دل ٹھنڈے کرے گا۔

۱۵– اور ان کے دلوں کی جلن دور کرے گا اور اللہ جس کو چاہے گا توبہ کی توفیق بخشے گا۔ اللہ علم والا حکمت والا ہے۔

۱۶– کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یوں ہی چھوڑ دیے جاؤ گے حالانکہ اللہ نے ابھی تو یہ دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کن لوگوں نے جہاد کیا اور اللہ اور اس کے رسول اور مؤمنین کے سوا کسی کو اپنا معتمد نہیں بنایا۔ تم جو کچھ کرتے ہو اس سے اللہ با خبر ہے۔

۱۷– مشرکین اس لائق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ خود اپنے اوپر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان کے سارے عمل ضائع ہو گئے اور دوزخ میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

۱۸– اللہ کی مسجدوں کو آباد تو وہی لوگ کر سکتے ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے ایسے لوگوں کے بارے میں یہ توقع بجا ہے کہ وہ راہیاب ہوں گے۔

۱۹– کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے کے کام اور مسجد حرام کی خدمت کو ان لوگوں کے عمل کا درجہ دے رکھا ہے جو اللہ اور روز آخر پر ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ اللہ کے نزدیک دونوں یکساں نہیں ہیں اور اللہ ظالموں پر راہ نہیں کھولتا۔

۲۰– جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے جان و مال سے جہاد کیا۔ ان کا درجہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا ہے اور وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔

۲۱– ان کا رب انہیں خوش خبری دیتا ہے اپنی رحمت اور خوشنودی کی اور ایسے باغوں کی جہاں ان کے لیے ابدی نعمت ہو گی۔

۲۲– وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یقیناً اللہ کے پاس (دینے کے لیے ) بہت بڑا اجر ہے۔

۲۳– اے ایمان والو! اگر تمہارے باپ اور تمہارے بھائی ایمان کے مقابلہ میں کفر کو عزیز رکھیں تو ان کو اپنا دوست نہ بناؤ اور تم میں سے جو لوگ ان کو دوست بنائیں گے تو (یاد رکھو) ایسے ہی لوگ ظالم ہیں۔

۲۴– کہو اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی تمہارے بیویاں، تمہارا خاندان اور وہ مال جو تم نے حاصل کیا ہے اور وہ تجارت جس کے مندا پڑ جانے کا تم کو اندیشہ ہے اور وہ گھر جو تم کو پسند ہیں تمہیں اللہ سے، اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ عزیز ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرمائے۔ اور اللہ نا فرمانوں پر راہ نہیں کھولتا۔

۲۵– اللہ بہت سے موقعوں پر تمہارے مدد کر چکا ہے۔ اور حنین کے دن بھی جب کہ تمہیں اپنی کثرت کا غرہ تھا مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔۔

۲۶– پھر اللہ نے اپنی رسول پر اور مومنوں پر اپنی سکینت نازل فرمائی اور ایسی فوجیں اتاریں جو تم کو نظر نہیں آئیں۔ اور کفروں کو سزا دی اور یہی بدلہ ہے کافروں کا۔

۲۷– پھر اس کے بعد اللہ جس کو چاہتا ہے توبہ کی توفیق دیتا ہے اور اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۲۸– اے ایمان والو ! مشرکین بالکل نجس ہیں لہٰذا اس سال کے بعد یہ مسجد حرام کے پاس آنے نہ پائیں۔ اور اگر تمہیں معاشی تنگی کا اندیشہ ہے تو اللہ چاہے گا تو اپنے فضل سے تمہیں غنی کر دے گا۔ اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔

۲۹– اہل کتاب میں سے جو لوگ اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں رکھتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے اسے حرام نہیں ٹھہراتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ مغلوب ہو کر جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔

۳۰– یہود کہتے ہیں عُزَیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ کہتے ہیں مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ محض باتیں ہیں جو وہ اپنے منھ سے نکال رہے ہیں ان لوگوں کی باتوں کی نقل اتارتے ہوئے جو ان سے پہلے کافر ہوئے۔ اللہ ان کو غارت کرے۔ یہ کس طرح باطل کا شکار ہو رہے ہیں !

۳۱– انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے علماء اور مشائخ کو رب (خدا ) بنا لیا ہے۔۔ اور مسیح ابن مریم کو بھی۔ حالانکہ انہیں صرف ایک معبود کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا۔۔ وہ جس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ پاک ہے وہ اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں۔

۳۲– یہ لوگ اللہ کی روشنی (نور) کو اپنی پھونکوں سے بجھا دینا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ اپنی روشنی پوری کیے بغیر رہنے والا نہیں ہے اگرچہ کافروں کو ناگوار ہو

۳۳– وہی ہے جس نے اپنی رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے اگرچہ مشرکوں کو ناگوار ہو۔

۳۴– اے ایمان والو ! اہل کتاب کے علماء اور مشائخ میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو لوگوں کا مال باطل طریقہ سے کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا اور چاندی کو خزانہ بنا کر رکھتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو درد ناک عذاب کی خوش خبری دے دو

۳۵– جس دن جہنم کی آگ میں اسے تپایا جائے گا اور اس سے ان کی پیشانیوں، پہلوؤں، اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا۔ تو چکھو اب اپنے خزانہ جمع کرنے کا مزہ۔

۳۶– مہینوں کی صحیح تعداد اللہ کے نزدیک بارہ ہے جو اللہ کے نوشتہ میں جس روز کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا لکھی ہوئی ہے جن میں چار مہینے حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے۔ لہٰذا ان میں اپنے نفس پر ظلم نہ کرو۔ اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں۔ اور جان رکھو کہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں

۳۷– نَسِی (مہینہ کو اس کی جگہ سے پیچھے ہٹا دینا ) کفر میں سراسر زیادتی ہے۔ جس کے ذریعہ کافروں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ کسی سال اس (مہینہ) کو حلال کر لیتے ہیں اور کسی سال حرام تا کہ اللہ کے حرام کیے ہوئے مہینوں کو تعداد پوری کر لیں اور ساتھ ہی اللہ کے حرام ٹھہرائے ہوئے مہینوں کو حلال کر لیں۔ ان کے برے اعمال ان کی نگاہوں میں خود نما بنا دیئے گئے ہیں اور اللہ کافروں کی رہنمائی نہیں کرتا۔ ہیں اور اللہ کافروں کی رہنمائی نہیں کرتا۔

۳۸– اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا گیا کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو زمین سے چمٹ کر رہ گئے ؟ کیا تم نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا ؟ دنیوی زندگی کا سامان تو آخرت کے مقابلہ میں بہت تھوڑا ہے۔

۳۹– اگر تم جہاد کے لیے نہ نکلو گے تو وہ تمہیں درد ناک سزا دے گا۔ اور تمہاری جگہ کسی دوسرے گروہ کو لا کھڑا کر ے گا اور تم اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے۔ اللہ ہر بات پر قادر ہے۔

۴۰– اگر تم اس کی مدد نہ کرو گے تو (کچھ پروا نہیں ) اللہ اس کی مدد ایسے وقت کر چکا ہے جب کافروں نے اسے نکال دیا تھا اور وہ دو میں کا دوسرا تھا، جب وہ دونوں غار میں تھے۔ جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اس وقت اللہ نے اس پر اپنی سکینت نازل کی اور ایسے لشکروں سے اس کی مدد کی جو تم کو نظر نہ آئے۔ اور کافروں کا بول پست کر دیا اور اللہ کا بول بالا رہا۔ اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔

۴۱– نکل کھڑے ہو خواہ ہلکے ہو یا بوجھل اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان کے ساتھ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم جانو۔

۴۲– اگر فائدہ فوری ہوتا اور سفر بھی سہل ہوتا تو یہ ضرور تمہارے پیچھ ہولیتے لیکن انہیں یہ مسافت دراز معلوم ہوئی۔ اب یہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ اگر ہمارے بس میں ہوتا تو ہم ضرور تمہارے ساتھ نکلتے یہ اپنے کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں اور اللہ جانتا ہے یہ بالکل جھوٹے ہیں۔

۴۳– (اے نبی !) اللہ نے تمہیں معاف کر دیا، تم نے انہیں کیوں اجازت دے دی ؟ (تم اجازت نہ دیتے ) جب تک کہ تم پر یہ کھل نہ جاتا کہ کون لوگ سچے ہیں اور یہ معلوم نہ کر لیتے کہ کون لوگ جھوٹے ہیں۔

۴۴– جو لوگ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ اپنے مال اور جان سے جہاد نہ کرنے کی رخصت تم سے کبھی نہ طلب کریں گے۔ اور اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے۔

۴۵– رخصت تو وہی لوگ طلب کرتے ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں رکھتے اور جن کے دل شک میں پڑے ہوئے ہوئے ہیں۔ اور وہ اپن شک میں ڈانواں ڈول ہیں۔

۴۶– اگر ان کا ارادہ نکلنے کا ہوتا تو اس کے لیے کچھ سامان ضرور کر لیتے لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا ناپسند ہوا. اس لیے ان کو اس سے باز رکھا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھے رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ۔

۴۷– اگر وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو تمہارے لیے خرابی ہی کا باعث بنتے اور تمہارے درمیان ان کی دوڑ دھوپ فتنہ انگیزی کے لیے ہوتی اور تم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کی بات پر کان دھرنے والے ہیں۔ اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

۴۸– اس سے پہلے بھی انہوں نے فتنہ برپا کرنے کی کوشش کی تھی۔ اور تمہارے خلاف ہر طرح کی تدبیریں کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ حق آ گیا اور اللہ کا حکم غالب ہوا۔ اور جب کہ ایسا ہونا ان کو ناگوار تھا۔

۴۹– ان میں کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے مجھے رخصت دے دیجیے اور فتنہ میں نہ ڈالیے۔ سن لو یہ فتنہ میں گر چکے اور جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔

۵۰– اگر تمہیں بھلائی پہنچتی ہے تو انہیں بری لگتی ہے اور اگر تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں اچھا ہوا ہم نے پہلے ہی احتیاط سے کام لیا اور وہ اس طرح پلٹتے ہیں کہ خوشی سے پھولے نہیں سما تے۔

۵۱– کہو، ہمیں وہی کچھ پیش آئے گا جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا ہے۔ وہی ہمارا مولیٰ ہے اور مومنوں کو چاہیے کہ اسی پر بھروسہ کریں۔

۵۲– کہو، تم ہمارے لیے جس بات کا انتظار کرتے ہو وہ اس کے سوا کیا کہ دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی ہے۔ اور ہم تمہارے لیے جس بات کے منتظر ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ یا تو اپنے پاس سے کو ئی عذاب بھیج دے یا ہمارے ہاتھوں تمہیں سزا دلوائے۔ اب تم بھی انتظار کرو، ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والے ہیں۔

۵۳– کہو، خوشی سے خرچ کرو یا ناگواری کے ساتھ انفاق قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ تم فاسق لوگ ہو۔

۵۴– ان کے انفاق قبول نہ کیے جانے کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا اور رماز کے لیے آتے ہیں تو کاہلی کے ساتھ آتے ہیں اور خرچ کرنے ہیں تو ناگواری کے ساتھ خرچ کرتے ہیں

۵۵– تم ان کے مال اور اولاد کو دیکھ کر تعجب نہ کرو، اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ ان کے ذریعے ان کو دنیا کی زندگی میں عذاب دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں

۵۶– وہ اللہ کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں بلکہ وہ گھبرائے ہوئے لوگ ہیں۔

۵۷– اگر وہ کوئی پناہ کی جگہ یا کوئی غار یا کوئی چھپنے کی جگہ پالیں تو پوری سرکشی کے ساتھ اس کی طرف بھاگ کھڑے ہوں

۵۸اور ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو صدقات کے معاملہ میں تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ اگر ان کو اس میں سے کچھ دیا جائے تو خود ہوتے ہیں اور نہ دیا جائے تو ناراض ہوتے ہیں۔

۵۹– اگر وہ اس پر راضی ہوتے جو اللہ اور اس کے رسول نے انہیں دیا اور کہتے کہ “ہمارے لیے اللہ کافی ہے وہ ہمیں اپنے فضل سے عطا فرمائے گا اور اس کا رسول بھی۔ ہم اللہ ہی کی طرف راغب ہیں ” تو ان کے حق میں بہتر ہوتا۔

۶۰– صدقات تو صرف محتاجوں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے ہیں جو صدقات کے کام پر مامور ہوں اور وہ جن کے دلوں میں (اسلام)کی انسیت پیدا کرنا ہو نیز اس لیے ہیں کہ گردنیں چھڑانے میں اور قرض داروں کا بوجھ ہلکا کرنے میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں پر خرچ کیے جائیں۔ یہ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے۔ اور اللہ علم والا حکمت والا ہے۔۔

۶۱– ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو نبی کو اذیت پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ شخص کان کا کچا ہے۔ کہو وہ تمہارے لیے گوش خیر ہے، اللہ پر ایمان رکھتا ہے، مومنوں کی بات پر یقین کرتا ہے اور جو لوگ تم میں سے ایمان رکھتے ہیں ان کے لیے سر تا سر رحمت ہے۔ اور جو لوگ اللہ کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

۶۲– وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں حالانکہ اگر وہ مومن ہیں تو اللہ اور اسے کا رسول اس کا زیادہ حق دار ہے اسے راضی کریں۔

۶۳– کیا انہیں معلوم نہیں کہ جو اللہ اور اس کے رسول کیا مخالفت کرتا ہے اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جسمیں وہ ہمیشہ رہے گا۔ یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔

۶۴– منافق ڈر رہے ہیں کہ ان پر (مسلمانوں پر) کوئی ایسی سورت نازل نہ ہو جائے جو ان کو ان (منافقین) کے دلوں کے بھید سے آگاہ کر دے۔ کہو مذاق اڑاؤ۔ اللہ اس چیز کو ظاہر کرتے والا ہے جس سے تم ڈرتے ہو۔

۶۵– اور اگر تم ان سے پوچھو تو جواب دیں گے ہم تو یوں ہی باتوں میں مشغول تھے اور ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ کہو کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے ہو ؟

۶۶– بہانے نہ بناؤ۔ تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے۔ اگر ہم تمہارے کسی گروہ سے درگذر کر بھی لیں تو دوسرے گروہ کو ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہ مجرم ہے۔

۶۷– منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہیں۔ برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کو بند دکھتے ہیں۔ یہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا۔ یقیناً یہ منافق بڑے فاسق ہیں۔

۶۸– اللہ نے منافق مردوں، منافق عورتوں اور کافروں سے جہنم کی آگ کا وعدہ کر رکھا ہے جسمیں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہی ان کے لیے کافی ہے، ان پر اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے قائم رہنے والا عذاب ہے۔

۶۹– تمہارا حال بھی وہی ہوا جو تمہارے پیش روؤں کا تھا۔ وہ تم سے کہیں زیادہ طاقتور تھے۔ اور مال و اولاد میں بھی بڑھ چڑھ کر تھے۔ تو (ان کا کیا حال ہوا؟)انہوں نے اپنے حصہ کا فائدہ اٹھا لیا اور تم نے بھی اپنے حصہ کا فائدہ اسی طرح اٹھا لیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں نے اٹھا یا تھا۔ اور تم بھی اسی طرح الجھتے رہے جو طرح وہ الجھتے رہی(۔ یہی لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہو گئے اور یہی لوگ ہیں تباہ ہونے والے۔

۷۰– کیا انہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ نوح، عاد اور ثمود کی قومیں، ابراہیم کی قوم، اہل مدین اور وہ بستیاں جو الٹ دی گئیں۔ ان کے رسول ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے۔ پھر ایسانہیں ہو کہ اللہ نے ان پر ظلم کیا ہو بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے رہے۔

۷۱– اور مؤمن کر اور مؤمن عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کو اللہ اپنی رحمت سے نوازے گا۔ یقیناً اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔

۷۲– مومن مردوں عورتوں سے اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ انہیں ایسے باغوں سے نوازے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی۔ وہ ا ن میں ہمیشہ رہیں گے اور ان جاودانی باغوں میں پاکیزہ مکانات ہوں گے اور انہیں اللہ کی خوشنودی حاصل ہو گی جو سب سے بڑی چیز ہے۔ یہی عظیم کامیابی ہے۔

۷۳– اے بنی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے پہنچنے کی۔

۷۴– یہ اللہ کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے ایسا نہیں کہا حالانکہ انہوں نے ضرور کفر کی بات کہی اور اسلام لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کیا اور وہ کچھ کرنا چاہا جو کر نہ سے۔ ان کی خفگی محض اس بنا پر ہے کہ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں غنی کر دیا اور اس کے رسول نے بھی اگر یہ توبہ کر لیں تو ان کے حق میں بہتر ہے اور اگر منہ پھیر لیں گے تو اللہ انہیں دنیا میں بھی درد ناک سزا دے گا اور آخرت میں بھی اور روئے زمین پر ان کا نہ کوئی حمایتی ہو گا اور نہ مدد گار۔

۷۵– اور ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے اپنے فضل سے ہمیں عطا فرمایا تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور نیک بن کر رہیں گے۔

۷۶– لیکن جب اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطاء فرمایا تو وہ بخل کرنے لگے اور اپنے عہد سے پھر گئے اور وہ ہیں ہی نیک روی سے یکسر پھرے ہوئے۔

۷۷– اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے ان کے دلوں میں اس کے حضور پیشی کے دن تک کے لیے نفاق بٹھا دیا یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے وعدہ کی خلاف ورزی کی اور اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے رہے۔

۷۸– کیا انہیں نہیں معلوم کہ اللہ ان کی راز کی باتوں اور ان کی سرگوشیوں کو جانتا ہے اور اللہ غیب کی تمام باتوں کو جاننے والا ہے۔

۷۹– جو لوگ خو ش دلی سے انفاق کرنے والے مومنوں پر صدقات کے بارے میں طعن کرتے ہیں اور ان لوگو کا مذاق اڑاتے ہیں جو اپنی محنت مزدوری کے سوا انفاق کے لیے کچھ نہیں پاتے۔ اللہ ان کا مذاق اڑاتا ہے اور ان لوگوں کے لیے درد ناک عذاب ہے

۸۰– (اے پیغمبر !) تم ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو یا نہ کرو۔ تم اگر ستر مرتبہ بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو گے تو بھی اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اللہ فاسق لوگوں کو راہ یاب نہیں کرتا۔

۸۱– جو لوگ پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے وہ اللہ کے رسول کے پیچھے بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے اور انہیں یہ بات نا گوار ہوئی کہ اپنے مال اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ انہوں نے کہا کہ گرمی میں نہ نکلو، کہو جہنم کی آ گ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے کاش وہ سمجھ لیتے !

۸۲– اب وہ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ، اس (برائی) کی پاداش میں جو یہ کماتے رہے ہیں۔

۸۳– اگر اللہ ان کے کسی گروہ کی طرف تمہیں واپس لے جائے اور وہ تم سے (جہاد میں ) نکلنے کی اجازت مانگیں تو کہہ دو تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکل سکتے اور نہ کبھی میرے ساتھ ہو کر دشمن سے لڑ سکتے ہو۔ تم نے پہلی مرتبہ بیٹھ رہنا پسند کیا تو ان بھی پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔

۸۴– اور ان میں سے جو مرے اس کی نماز (جنازہ) تم ہر گز نہ پڑھنا اور نہ کبھی اس کی قبر پر کھڑے ہونا کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اس حال میں مرے کہ وہ فاسق تھے۔

۸۵– اور ان کے مال اور اولاد تم کو تعجب میں نہ ڈالیں۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ ان کے ذریعہ دنیا میں ان کو سزا دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔

۸۶– اور جب کوئی سورت (اس حکم کو لے کر) اترتی ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ مل کر جہاد کرو تو جو لوگ ان میں مقدور والے ہیں وہی تم سے اجازت مانگنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دیجیے کہ ہم بیٹھنے والوں کے ساتھ رہیں۔

۸۷– انہوں نے پیچھے رہ جانے والیوں کے ساتھ رہنا پسند کیا اور ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی اس لیے وہ کچھ نہیں سمجھتے۔

۸۸– لیکن رسول نے اور ان لوگوں نے جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنے مال و جان سے جہاد کیا۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے بھلائیاں ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔

۸۹– اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہیں۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ ہے سب سے بڑی کامیابی۔

۹۰– بدوؤں میں سے بھی غدر کرنے والے آئے تاکہ انہیں بھی اجازت دی جائے اور جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا تھا وہ بیٹھے رہے۔ ان (بدوؤں ) میں سے جن لوگوں نے کفر کیا وہ عنقریب درد ناک سزا سے دو چار ہوں گے۔

۹۱– کمزوروں، بیماروں اور ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں جنہیں خرچ کے لیے کچھ میسر نہیں جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے وفاداری کریں۔ ایسے نیکو کاروں پر کوئی الزام نہیں اور اللہ بڑا بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۹۲– اور نہ ان لوگوں پر کوئی الزام ہے جو تمہارے پاس آئے کہ تم ان کے لے سواری کا انتظام کر دو اور جب تم نے کہا کہ میں تمہارے لیے سواری کا انتظام نہیں کر سکتا تو اس حال میں واپس ہوئے کہ خرچ کی مقدرت نہ رکھنے کے غم میں ان کی آنکھیں اشکبار تھیں

۹۳– الزام تو دراصل ان لوگوں پر ہے جو غنی ہونے کے باوجود تم سے رخصت طلب کرتے ہیں۔ انہوں نے پیچھے رہ جانے والی عورتوں کے ساتھ رہنا پسند کیا اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اس لیے وہ کچھ نہیں جانتے۔

۹۴– جب تم ان کی طرف واپس جاؤ گے تو وہ تمہارے سامنے عذرات پیش کریں گے۔ تم ان سے کہا کہ عذرات نہ تراشو۔ ہم تمہاری باتوں کا اعتبار کرنے والے نہیں اللہ نے تمہارے حالات سے ہمیں باخبر کر دیا ہے۔ اب اللہ اور اس کا رسول ہی تمہارے عمل کو دیکھے گا۔ پھر تم لوٹائے جاؤ گے اس کی طرف جو غیب اور حاضر سب کا جاننے والا ہے وہ تمہیں بتا دیے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔

۹۵– جب تم ان کی طرف لوٹو گے تو وہ اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو تو تم ان سے صرف نظر ہی کرو وہ ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے بدلہ میں اس چیز کے جو وہ کماتے رہے ہیں۔

۹۶– وہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم راضی ہو جاؤ، لیکن اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ فاسق لوگوں سے کبھی راضی ہونے والا نہیں۔

۹۷– بدو لوگ کفر و نفاق میں بہت سخت ہیں اور ان سے یہ بعید نہیں کہ جو کچھ اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اس کے حدود سے وہ ناواقف ہیں۔ اور اللہ سب کچھ سننے والا حکمت والا ہے۔

۹۸– ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو (اللہ کی راہ میں ) انفاق کو اپنے اوپر تاوان سمجھتے ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ تم کسی نہ کسی گردش میں آ جاؤ (اور واقعہ یہ ہے کہ ) بری گردش میں وہ خود ہی آ گئے ہیں اور اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

۹۹– اور بدوؤں میں وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں اور انفاق (اللہ کی راہ میں خرچ کرنے ) کو اللہ کے حضور تقرب اور رسول کی دعائیں لینے کا ذریعہ بناتے ہیں۔ سنو وہ ضرور ان کے لیے قربت کا ذریعہ ہے۔ اللہ عنقریب ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یقیناً اللہ بڑا بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۱۰۰– مہاجرین اور انصار میں سے جن لوگوں نے سب سے پہلے سبقت کی نیز وہ جنہوں نے حسن و خوبی کے ساتھ ان کی اتباع کی اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ ان سے راضی ہوئے ان کے لیے ایسے باغ تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہیں۔ وہ ہمیشہ وہاں رہیں گے اور یہی ہے بہت بڑی کامیابی۔

۱۰۱– اور تمہارے ارد گرد جو بدو رہتے ہیں ان میں منافق ہیں اور مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جو نفاق میں مشاق ہو گئے ہیں۔ تم انہیں نہیں جانتے ہم ان کو جانتے ہیں انہیں ہم دو مرتبہ سزا دیں گے پھر وہ بہت بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

۱۰۲– اور دوسرے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیا ہے۔ انہوں نے ملے چلے کام کیے ہیں اچھے بھی اور برے بھی عجب نہیں کہ اللہ ان کو توبہ قبول فرمائے۔ اللہ بڑا بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۱۰۳– (اے نبی!) تم ان کے مال سے صدقہ لے لو کہ اس کے ذریعے تم انہیں پاک کرو گے۔ اور ان کا تزکیہ کرو گے۔ اور ان کے حق میں تم دعائے رحمت کرو۔ یقیناً تمہاری دعا ان کے لیے باعث تسکین ہے۔ اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

۱۰۴– کیا انہیں معلوم نہیں کہ وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور صدقات کو قبولیت بخشتا ہے اور یہ کہ اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۱۰۵– کہو تم عمل کرو۔ اللہ تمہارے عمل کو دیکھے گا نیز اس کا رسول اور مومنین بھی دیکھیں گے اور تم عنقریب اس کے حضور پیش کیے جاؤ گے۔ جو غیب اور حاضر سب کا جاننے والا ہے پر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔

۱۰۶– کچھ اور لوگ ہیں جن کو اللہ کے فیصلے کے انتظار میں رکھا گیا ہے۔ یا تو انہیں سزا دے یا ان پر مہربان ہو جائے۔ اللہ علیم و حکیم ہے۔

۱۰۷– اور (کچھ لوگ ایسے بھی ہیں ) جنہوں نے اس غرض سے مسجد بنائی کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کریں اور اہل ایمان میں تفرقہ ڈالیں اور ان لوگوں کے لیے کمین گا بنائیں جو اس سے پہلے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کر چکے ہیں۔ وہ ضرور قسمیں کھا کر کہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کا تھا۔ مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ قطعاً جھوٹے ہیں۔

۱۰۸– تم اس میں ہر گز کھڑے نہ ہونا۔ وہ مسجد جس کی بنیاد اول روز سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے وہی اس بات کی حقدار ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک رہنے والوں ہی کو پسند کرتا ہے۔

۱۰۹– کیا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے تقویٰ اور اس کی خوشنودی پر رکھی یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کھوکھلی گرتی ہوئی کگر کے کنارہ پر رکھی اور پھر وہ اس کو لے کر آتش جہنم میں جا گری۔ اللہ ایسے ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا۔

۱۱۰– یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہمیشہ ان کے دلوں میں خلجان کا باعث بنی رہے گی الّا یہ کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔ اور اللہ نہایت علم والا حکمت والا ہے۔

۱۱۱– در حقیقت اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور مارتے اور مرتے ہیں۔ یہ اللہ کے ذمہ ایک سچا وعدہ ہے۔ تورات، انجیل اور قرآن میں۔ اور کون ہے اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا ؟ تو خوشیاں مناؤ اپنے اس سودے پر جوتم نے اس کے ساتھ کیا ہے۔ یہی ہے سب سے بڑی کامیابی۔

۱۱۲– توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، (اس کی راہ میں ) سیاحت کرنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، بھلائی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے، اور اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے۔ اور (اے پیغمبر !) ان مؤمنوں کو خوش خبری دے دو۔

۱۱۳– نبی کو اور اہل ایمان کو زیبا نہیں ہے کہ وہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں خواہ وہ ان کے قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں جب کہ ان پر یہ واضح ہو چکا کہ وہ جہنم والے ہیں۔۔

۱۱۴– اور ابراہیم نے اپنے باپ کے لیے جو مغفرت کی دعا کی تھی وہ تو اس وعدہ کی وجہ سے تھی جو اس نے اس سے کیا تھا لیکن جب اس پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بے تعلق ہو گیا۔ در حقیقت ابراہیم بڑا ہی درد مند اور بردبار تھا۔

۱۱۵– اور اللہ کا یہ طریقہ نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کرے جب تک کہ اس پر وہ باتیں واضح نہ کر دے جن سے اسے بچنا چاہیے۔ بلا شبہ اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔

۱۱۶– یقیناً اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت۔ وہی جلاتا اور مارتا ہے۔ اور اللہ کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مدد گار۔

۱۱۷– اللہ معاف کیا نبی کو اور مہاجرین و انصار کو جنہوں نے تنگی کے وقت میں بنی کا ساتھ دیا اور ایسی حالت میں دیا کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل کجی کی طرف مائل ہو جائیں۔ پھر اللہ نے انہیں معاف کر دیا۔

۱۱۸– اور ان تینوں کو بھی اس نے معاف کیا جن کا معاملہ ملتوی کر دیا گیا تھا یہاں تک کہ جب زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور وہ خود اپنی جان سے تنگ آ گئے اور انہیں یقین ہو گیا کہ اللہ کا غضب سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے مگر اسی کے پاس تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی تاکہ وہ اس کی طرف رجوع ہوں۔ بلا شبہ اللہ ہی ہے بڑا توبہ قبول کرنے والا رحم فرمانے والا۔

۱۱۹– اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔

۱۲۰– مدینہ کے باشندوں اور اس کے اطراف میں بسنے والے بدویوں کے لیے روا نہ تھا کہ وہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہتے اور اس کی جان سے بے پروا ہو کر اپنی جانوں کی فکر میں لگے رہتے۔ یہ اس لیے کہ اللہ کی راہ میں پیدا اس تکان اور بھوک کی جو تکلیف بھی ان کو پہنچی ہے اور کافروں کو غیظ و غضب میں مبتلا کرنے والا جو قدم بھی وہ اٹھا تے ہیں اور دشمن کو جو ایک بیک عمل لکھا جاتا ہے۔ اللہ ان لوگوں کا عمل ضائع نہیں کرتا جو نیکو کار ہیں۔

۱۲۱– اور جو چھوٹا یا بڑا خرچ وہ کرتے ہیں اور جو وادی بھی وہ طے کرتے ہیں وہ سب ان کے حق میں لکھا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کے عمل کی انہیں بہترین جزا دے۔

۱۲۲– اور یہ تو نہیں ہو سکتا تھا کہ سب اہل ایمان نکل کھڑے ہوتے۔ مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ نکل آتے کہ وہ دین کا فہم حاصل کرتے اور جب واپس جاتے تو اپنی قوم کے لوگوں کو خبردار کرتے تا کہ وہ بیدار ہو جاتے

۱۲۳– اے ایمان والو ! جنگ کرو ان کافروں سے جو تم سے قریب ہیں اور چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی محسوس کریں اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے

۱۲۴– اور جب کوئی سورت اترتی ہے تو ان میں سے بعض کہتے ہیں اس نے تم میں سے کس کے ایمان میں اضافہ کیا ؟ تو جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ان کے ایمان میں اس نے ضرور اضافہ کیا ہے اور وہ اس سے بشارت حاصل کرتے ہیں۔

۱۲۵– لیکن جن لوگوں کے دلوں میں روگ ہے ان کی نجات پر اس نے ایک اور نجاست کا اضافہ کر دیا اور وہ اس حال پر مرے کہ کافر تھے۔

۱۲۶– کیا یہ دیکھتے نہیں کہ یہ ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں پھر بھی یہ ہیں کہ نہ توبہ کرتے ہیں اور نہ سبق حاصل کرتے ہیں۔

۱۲۷– اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں کہ کوئی تم کو دیکھ تو نہیں رہا ہے پھر چل دیتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دل پھیر دیے ہیں کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں۔

۱۲۸– تمہارے پاس ایک رسول آ گیا ہے جو تم ہی میں سے ہے۔ تمہارا تکلیف میں پڑنا اس پر شاق ہے وہ تمہاری بھلائی کا بڑا ہی خواہشمند ہے۔ اور ایمان لانے والوں کے لیے شفیق و رحیم ہے۔

۱۲۹– اس پر بھی اگر یہ لوگ منہ پھیر تے ہیں تو ان سے کہ دو میرے لیے اللہ کافی ہے۔ اس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔

٭٭٭

 

 

(۱۰) سورۂ یونس

 

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱– الف۔ لام۔ را۔ یہ آیتیں ہیں حکمت بھری کتاب کی۔

۲– کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے ان ہی میں سے ایک شخص پر وحی کی کہ لوگوں کو خبردار کر دے اور ایمان لانے والوں کو خوش خبری دے دے کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس سچائی کا مقام ہے۔ (اس بات پر) کافروں نے کہا یہ کھلا جادو گر ہے۔

۳– بلا شبہ تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ پھر عرش پر بلند ہوا۔ اور تمام معاملات کا انتظام کر رہا ہے (اس کے حضور) کوئی سفارش کرنے والا نہیں مگر اس کی اجازت کے بعد۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ لہٰذا اسی کی عبادت کرو۔ پھر کیا تم نصیحت قبول نہ کرو گے۔

۴– اسی کے حضور تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے۔ بے شک وہی پیدائش کا آغاز کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا تا کہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کیے ان کو انصاف کے ساتھ جزا دے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تو ان کے پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی ہو گا اور ان کو درد ناک عذاب بھگتنا ہو گا اس کفر کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے۔

۵– وہی ہے جس نے سورج کو تابناک بنایا اور چاند کو روشن اور اس کی منزلیں مقرر کر دیں تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کر سکو۔ اللہ نے یہ سب با مقصد بنایا ہے۔ وہ اپنی نشانیوں کو کھول کر بیان کرتا ہے ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں۔

۶– یقیناً رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں اور ان تمام چیزوں میں جو اللہ آسمانوں اور زمین میں پیدا کی ہیں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔

۷– جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہو گئے ہیں اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔

۸– ان کا ٹھکانا دوزخ ہو گا اس کمائی کی وجہ سے جو وہ کرتے رہے۔

۹– جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے ان کا رب ان کے ایمان کی بدولت ان کو کامیابی کی منزل پر پہنچائے گا۔۔ ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی نعمت بھری جنتوں میں۔

۱۰– وہاں ان کی پکار ہو گی : سُبْحَا نَکَ ا للّٰھُمَّ (پاک ہے تو اے اللہ) اور وہاں ان کا (آپس میں) دعائیہ کلمہ ہو گا” سلام” اور ان کی پکار کا خاتمہ ہو گا : الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ o (حمد و شکر ہے اللہ ربّ العالمین کے لیے)

۱۱– اگر اللہ لوگوں کو عذاب دینے میں سبقت کرتا جس طرح خیر کے معاملہ میں وہ ان کے لیے سبقت کرتا ہے تو ان کی مدت کبھی کی ختم کر دی گئی ہوتی۔ مگر ہم ان لوگوں کو جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے چھوڑ دیتے ہیں کہ اپنی سرکشیوں میں بھٹکتے رہیں۔

۱۲– اور انسان (کا حال یہ ہے کہ جب اس) کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹے، بیٹھے،کھڑے (جس حال میں ہوتا ہے) ہم کو پکار نے لگتا ہے لیکن جب ہم اس کی تکلیف کو دور کر دیتے ہیں تو اس طرح چل دیتا ہے کہ گویا اس نے کسی تکلیف میں ہمیں پکار ہی نہ تھا۔ اس طرح حد سے گزرنے والوں کے لیے ان کے کام خوشنما بنا دیے گئے ہیں۔

۱۳– تم سے پہلے ہم (کتنی ہی) قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جب کہ انہوں نے ظلم کیا۔ ان کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے مگر وہ ہر گز ایمان لانے والے نہ تھے۔ اس طرح ہم مجرم قوم کو بدلہ دیتے ہیں۔

۱۴– پھر ان کے بعد ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ (با اختیار) بنایا تاکہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو۔

۱۵– اور جب ہماری واضح آیتیں انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس قرآن کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں ترمیم کرو۔ کہو میرا یہ کام نہیں کہ اس میں اپنی طرف سے رد و بدل کروں۔ میں تو اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف کی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نا فرمانی کروں تو مجھے ایک سخت دن کے عذاب کا ڈر ہے۔

۱۶– کہو اگر اللہ چاہتا تو نہ میں تمہیں قرآن سنا سکتا تھا اور نہ وہ اس سے تمہیں باخبر کرتا۔ میں اس سے پہلے تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں۔ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟۔

۱۷– پھر اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو ایک جھوٹی بات بنا کر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اس کی آیتوں کے جھٹلائے۔ یقیناً مجرم کبھی کامیاب نہیں ہو ں گے۔

۱۸– یہ اللہ کے بجائے ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ فائدہ۔ اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں کہو کیا تم اللہ کو ایسی بات کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہیں جانتا نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔ پاک اور بلند ہے وہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

۱۹– سب لوگ ایک ہی امت تھے پھر انہوں نے اختلاف کیا۔ اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ ہو چکی ہوتی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کر رہے ہیں ان کا فیصلہ کر دیا جاتا۔

۲۰– اور (یہ لوگ) کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی۔ تو کہو غیب کا مختار اللہ ہی ہے پس انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

۲۱– اور جب ہم لوگوں کو تکلیف کے بعد رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری نشانیوں کے بارے میں چالیں چلنے لگتے ہیں۔ کہو اللہ اپنی تدبیر میں بہت تیز ہے۔ اس کے فرستادے تمہاری چال بازیوں کو قلمبند کر رہے ہیں۔

۲۲– وہی ہے جو تمہیں خشکی اور تری میں چلاتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو اور وہ موافق ہو پا کر چل رہی ہوتی ہیں اور سفر کرنے والے خوش ہو رہے ہوتے ہیں اچانک تند ہوا چلنے لگتی ہے اور ہر طرف سے موجیں اٹھتی ہیں اور وہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ مصیبت میں گھر گئے۔ اس وقت وہ اللہ کو پکارنے لگتے ہیں دین (عاجزی و بندگی) کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے کہ اگر تو نے اس (مصیبت) سے ہمیں نجات دی تو ہم ضرور تیرے شکر گزار بنیں گے۔

۲۳– مگر جب وہ ان کو نجات دیتا ہے تو وہ ناحق زمین میں سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ لوگو ! تمہاری سرکشی تمہارے ہی خلاف پڑ رہی ہے۔ دنیا کی زندگی کا فائدہ اٹھا لو۔ پھر تمہیں ہماری طرف واپس آنا ہے۔ اس وقت ہم بتائیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔

۲۴– دنیا کی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا جس سے زمین کی نباتات جس کو انسان اور مویشی کھاتے ہیں خوب ابھر آئیں۔ یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا سنگھار کر لیا اور بن سنور کر کھڑی ہو گئی اور اس کے مالکوں نے سمجھ لیا کہ اب ہم فائدہ اٹھا سکیں گے تو اچانک رات یا دن کے وقت ہمارا حکم آ گیا اور ہم نے اس کا ایسا صفایا کر دیا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔

۲۵– اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ پر لگا دیتا ہے۔

۲۶– جن لوگو ں نے نیک روی اختیار کی ان کے لیے نیک بدلہ ہے اور مزید فضل۔ ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت۔ یہی جنت والے ہیں۔ ہمیشہ اس میں رہنے والے۔

۲۷– اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ملے گا جیسی برائی کی ہو گی۔ ان پر ذلت چھائی ہوئی ہو گی۔ اللہ سے بچانے والا ان کو کوئی نہ ہو گا۔ ان کے چہروں پر اس طرح تاریکی چھائی ہوئی ہو گی کہ گویا اندھیری رات کے پردوں سے انہیں ڈھانک دیا گیا ہو۔ یہ دوزخ والے ہیں ہمیشہ اس میں رہنے والے۔

۲۸– جس دن ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے۔ پھر شرک کرنے والوں سے کہیں گے ٹھہر جاؤ تم اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک۔ پھر ہم ان کے درمیان جدائی ڈال دیں گے۔ اور ان کے شریک کہوں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے۔

۲۹– اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے کافی ہے کہ ہم تمہاری عبادت سے بالکل بے خبر تھے۔

۳۰– اس وقت ہر شخص کو اپنے کیے کا پتہ چلے گا اور سب لوگ اپنے مالک حقیقی کے حضور لوٹائے جائیں گے اور جو جھوٹ انہوں نے گھڑ رکھا تھا وہ سب گم ہو جائے گا۔

۳۱– ان سے پوچھو کون ہے جو تم کو آسمان و زمین سے رزق دیتا ہے ؟ یا کون ہے جس کے قبضے میں سننے اور دیکھنے کی قوتیں ہیں ؟ اور کون ہے جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔ کون ہے جو کائنات کا انتظام کر رہا ہے ؟ وہ کہیں گے اللہ۔ کہو پھر تم ڈرتے نہیں ؟۔

۳۲– بس یہی اللہ تمہارا حقیقی رب ہے۔ پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا رہ جاتا ہے ؟ کس طرح تمہیں حق سے پھیرا جا رہا ہے۔

۳۳– اس طرح تمہارے رب کی بات نافرمانی کرنے والوں پر صادق آ گئی کہ وہ ایمان لانے والے نہیں۔

۳۴– ان سے پوچھو تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ہے جو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہو اور پھر اسے دہرائے ؟۔ کہو وہ اللہ ہی ہے جو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور پھر اسے دہرائے گا۔ پھر تمہیں کہا ں بھٹکایا جا رہا ہے ؟

۳۵– ان سے پوچھو تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہو ؟ کہو وہ اللہ ہی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ پھر جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے وہ اس کا مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو راہ نہیں پاتا جب تک کہ اس کی رہنمائی نہ کی جائے۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے ؟ تم کیسے فیصلے کرتے ہو۔ ؟

۳۶– ان لوگوں میں زیادہ تر ایسے ہیں جو محض گمان کے پیچھے چل رہے ہیں۔ اور گمان حق کے مقابلہ میں کچھ بھی کام نہیں آ سکتا۔ یہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

۳۷– اور یہ قرآن ایسی چیز نہیں ہے کہ اللہ کے کوئی اسے گھڑ لائے بلکہ یہ تصدیق ہے اس (تعلیم) کی جو پہلے سے موجود تھی اور تفصیل ہے الکتاب کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔

۳۸– کیا وہ کہتے ہیں کہ اس کو اس شخص نے گھڑ لیا ہے۔ کہو اگر تم سچے ہو تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جن کو تم بلا سکتے ہو بلا لو۔

۳۹– حقیقت یہ ہے کہ لوگ جس بات کو اپنے دائرہ علم میں نہ لا سکے اور جس کی اصل حقیقت ابھی ظاہر نہیں ہوئی اس کو انہوں نے جھٹلا دیا۔ اسی طرح ان لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے گزر چکے تو دیکھو ظالموں کا کیا انجام ہوا۔

۴۰– ان میں ایسے بھی ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور ایسے بھی ہیں جو ایمان نہیں لاتے اور تمہارا رب مفسدوں کو خوب جانتا ہے۔

۴۱– اگر یہ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو کہو میرا عمل میرے لیے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لیے۔ میں جو کچھ کرتا ہوں اس کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو اس کی مجھ پر نہیں۔

۴۲– ان میں ایسے بھی ہیں جو تمہاری طرف کان لگائے ہیں مگر کیا تم بہروں کو سناؤ گے اگر چہ وہ کچھ بھی سمجھتے نہ ہو ں ؟۔

۴۳– اور ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو تمہاری طرف دیکھتے ہیں مگر کیا تم اندھوں کو راہ دکھاؤ گے خواہ انہیں کچھ سُجھائی نہ دیتا ہو۔ ؟

۴۴– در حقیقت اللہ لوگوں پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔۔

۴۵– اور جس دن وہ ان کو اکٹھا کر ے گا تو انہیں ایسا محسوس ہو گا کہ گویا وہ (دنیا میں) گھڑی بھر رہے تھے آپس میں تعارف کی غرض سے۔ (اس وقت انہیں معلوم ہو گا کہ) گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا اور ہدایت کی راہ اختیار نہیں کی۔

۴۶– اور ہم نے جس چیز کا ان سے وعدہ کیا ہے اس کا کوئی جز ہم تمہیں دکھا دیں یا (اس سے پہلے) تمہارا وقت پورا کر دیں بہ حال ان کو لوٹنا ہماری ہی طرف ہے اور یہ جو کچھ کر رہے ہیں اس پر اللہ گواہ ہے۔

۴۷– ہر امت کے لیے ایک رسول ہے۔ پھر جب رسول اس کے پاس آ جاتا ہے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور ان پر ہر گز ظلم نہیں کیا جاتا۔

۴۸– کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو (بتلاؤ) یہ وعدہ کب پورا ہو گا ؟

۴۹– کہو میں تو اپنی جان کے لیے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے ہر امت کے لیے ایک مقررہ وقت ہے اور جب ان کا وقت آ جاتا ہے تو نہ ایک گھڑی پیچھے رہ سکتے ہیں اور نہ ایک گھڑی آگے۔

۵۰– کہو تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اس کا عذاب (یکایک) رات کو یا دن کو آ جائے تو بچنے کی کیا صورت ہے جس کے بل پر مجرم جلدی مچا رہے ہیں۔

۵۱– کیا جب وہ واقع ہو گا اس وقت تم مانو گے ؟ اب مانتے ہو اور اس سے پہلے تم اس کے لیے جلدی مچا یا کرتے تھے !

۵۲– پھر ظالموں سے کہا جائے گا کہ ہمیشہ کے عذاب کا مزا چکھو۔ تم جو کچھ کماتے رہے ہو اسی کا بدلہ تم کو دیا جائے گا۔

۵۳– تم سے پوچھتے ہیں کیا واقعی یہ سچ ہے ؟ کہو ہاں میرے رب کی قسم یہ واقعی سچ ہے اور تم اس سے بچ کر نکل نہیں سکتے۔

۵۴– ہر وہ شخص جس نے ظلم کیا ہے اگر اس کے پاس وہ سب کچھ ہو جو روئے زمین پر ہے تو اس (عذاب) سے بچنے کے لیے وہ ضرور اسے فدیہ میں دے۔ جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو دل ہی دل میں پچھتائیں گے۔ اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔

۵۵– سنو آسمانوں اور زمین کی ساری موجودات اللہ ہی کی ہیں۔ یاد رکھو اللہ کا وعدہ سچا ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔

۵۶– وہی جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے۔

۵۷– لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے اور ایسی چیز جو دلوں کی بیماریوں کے لیے شفاء ہے اور اہل ایمان کے لیے ہدایت و رحمت۔

۵۸– کہو یہ (کتاب) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کو لے کر نازل ہوئی ہے تو چاہیے کہ اس پر خوشی منائیں یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جسے وہ جمع کر رہے ہیں۔

۵۹– کہو تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ نے تمہارے لیے جو رزق اتارا تھا اس میں سے تم نے کسی چیز کو حرام اور کسی کو حلال ٹھہرایا۔ پوچھو کیا اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرتے ہو۔

۶۰– جو لوگ اللہ کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرتے ہیں انہوں نے کیا سمجھ رکھا ہے قیامت کے دن کے بارے میں (کہ انہیں جوابدہی کرنا نہیں ہو گی ؟) حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں کے حق میں بڑا مہربان ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

۶۱– (اے پیغمبر !) تم جس حال میں بھی ہوتے ہو اور قرآن کا جو حصہ بھی سنا رہے ہوتے ہو اور تم لوگ جو کام بھی کرتے ہو ان سب مشغولیتوں کے دوران ہم تم کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ زمین اور آسمان کی ذرہ برابر چیز بھی تمہارے رب سے پوشیدہ نہیں ہے اور نہ اس سے زیادہ چھوٹی یا بڑی چیز ایسی ہے جو ایک واضح کتاب میں درج نہ ہو۔

۶۲– سنو، جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

۶۳– یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا۔

۶۴– ان کے لیے خوش خبری ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔۔۔ اللہ کے فرمان بدل نہیں سکتے — یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

۶۵– (اے پیغمبر) ان لوگوں کی باتیں تمہیں آزردہ نہ کریں۔ عزت سب کی سب اللہ ہی کے لیے ہے۔ وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔

۶۶– یاد رکھو ! جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب اللہ ہی کے مملوک ہیں۔ اور جو لوگ اللہ سوا اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پکارتے ہیں وہ محض وہم و گمان کی پیروی کرتے ہیں۔ اور نری اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں۔

۶۷– وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں۔

۶۸– وہ کہتے ہیں اللہ نے اپنے لیے اولاد بنا رکھی ہے۔ پاکی ہے اس کے لیے۔ وہ بے نیاز ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اس کی ملک ہے۔ تمہارے پاس اس کی کیا دلیل ہے ؟ کیا تم اللہ کے بارے میں ایسی بات کہتے ہو جس سے تم خود لا علم ہو۔

۶۹– کہو جو لوگ اللہ کے بارے میں جھوٹ بول کر افتراء پردازی کرتے ہیں وہ ہر گز فلاح نہیں پائیں گے

۷۰– ان کے لیے بس دنیا میں فائدہ کا سامان ہے۔ پھر ان کو ہماری طرف لوٹنا ہے۔ اس وقت ہم انہیں ان کے کفر کی پاداش میں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

۷۱– انہیں نوح کی سر گذشت سناؤ۔ جب اس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو اگر میرا تمہارے درمیان رہنا اور اللہ کی آیتوں کے ذریعہ یاد دہانی کرنا تم پر شاق گزرتا ہے تو میرا بھروسہ صرف اللہ پر ہے۔ تم اپنا منصوبہ باندھ لو اور اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو بھی ساتھ لے لو اور تمہارا منصوبہ تم پر گنجلک نہ رہے۔ پھر میرے خلاف جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر ڈالو اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو۔

۷۲– اگر تم (میری تذکیر سے) اعراض کرتے ہو تو (اپنا ہی نقصان کرو گے) میں نے تم سے کوئی اجر تو مانگا نہیں ہے میرا اجر اللہ ہی کے ذمہ ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلم (فرمانبردار) بن کر رہوں۔

۷۳– مگر انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے اس کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے بچا لیا۔ اور ان کو با اقتدار بنایا۔ اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا ان کو غرق کر دیا۔ تو دیکھو جن لوگوں کو خبردار کر دیا گیا تھا ان کا کیا انجام ہوا۔

۷۴– پھر اس کے بعد ہم نے کتنے ہی رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر جس چیز کو وہ پہلے جھٹلا چکے تھے اسے ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ اس طرح ہم حس سے تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔

۷۵– پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا مگر انہوں نے گھمنڈ کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔

۷۶– جب ہمارے طرف سے حق ان کے سامنے آیا تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا جادو ہے۔

۷۷– موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں جبکہ وہ تمہارے سامنے آ گیا یہ کہتے ہو کہ یہ کہیں جادو تو نہیں ؟ حالانکہ جادو گر کبھی فلاح نہیں پا سکتے َ

۷۸ انہوں جواب دیا کہ تم اس لیے ہمارے پاس آئے ہو کہ جس طریقہ پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اس سے ہمیں ہٹا دو اور ملک میں تم دونوں کو بڑائی حاصل ہو جائے ہم تو تمہاری بات ماننے والے نہیں ہیں۔

۷۹– اور فرعون نے کہا تم باہر جادو گروں کو میرے پاس لے آؤ۔

۸۰– جب جادو گر آ گئے تو موسیٰ نے ان سے کہا : تمہیں جو کچھ ڈالنا ہے ڈال دو۔

۸۱– پھر جب انہوں نے (اپنی رسیاں اور لاٹھیاں) ڈال دیں تو موسیٰ نے کہا : یہ جو کچھ تم نے پیش کیا ہے جادو ہے۔ یقیناً اللہ اسے باطل کر دے گا اللہ مفسدوں کے کام کو کار گر نہیں بناتا۔

۸۲– اور اللہ اپنے فرمانوں سے حق کو حق کر دکھا تا ہے اگرچہ مجرموں کو ناگوار ہو۔

۸۳– مگر موسیٰ کی بات اس کی قوم کے کچھ نوجوانوں کے سوا کسی نے نہیں مانی فرعون اور ان کے سرداروں سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ کسی مصیبت میں مبتلا نہ کر دے واقعہ یہ ہے کہ فرعون زمین میں بڑا ہی سر کش تھا اور ان لوگوں میں سے تھا جو حد سے تجاوز کرتے ہیں۔

۸۴– اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر واقعی تم مسلم ہو۔

۸۵– انہوں نے کہا ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا، اے ہمارے رب ! ہمیں ظالموں کے ظلم کا نشانہ نہ بنا۔

۸۶– اور اپنی رحمت کے ذریعہ ہمیں کافر قوم سے نجات دے۔

۸۷– اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی پر وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں چند گھر مہیا کرو اور اپنے گھروں کو قبلہ بنا لو اور نماز قائم کرو اور اہل ایمان کو خوش خبری دے دو۔

٭٭٭

 

 

(۱۱) سورۂ ہود

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱–الف۔ لام۔ را۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتوں کو پختہ بنایا گیا ہے۔ پھر ان کو کھول کر بیان کر دیا گیا ہے۔ اس کی طرف سے جو نہایت حکمت والا اور باخبر ہے۔

۲–یہ کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ میں اس کی طرف سے تمہیں خبردار کرنے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں

۳–اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ وہ تم کو ایک وقتِ مقرر تک اچھا سامانِ زندگی دے گا اور ہر صاحبِ فضل کو اپنے فضل سے نوازے گا۔ لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو مجھے تمہارے بارے میں ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

۴–تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۵–دیکھو یہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ اس سے چھپ جائیں۔ یاد رکھو جب یہ اپنے کو کپڑوں سے ڈھانک لیتے ہیں تو وہ جانتا ہے اس کو بھی جو وہ چھپاتے ہیں اور اس کو بھی جو وہ ظاہر کرتے ہیں وہ تو سینوں کے بھید تک سے واقف ہے۔

۶–زمین پر کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمّہ نہ ہو۔ وہ اس کے ٹھہرنے کی جگہ بھی جانتا ہے اور اس جگہ کو بھی جہاں وہ سونپ دیا جاتا ہے سب کچھ ایک واضح کتاب میں درج ہے۔

۷–اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ تاکہ تمہیں آزمائے کہ کون عمل میں بہتر ہے۔ اور اگر تم کہتے ہو کہ مرنے کے بعد تم لوگ اٹھائے جاؤ گے تو کافر بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو گری ہے۔

۸–اور اگر ہم ایک مقرّرہ مدت کے لیے عذاب کو مؤخّر کر دیتے ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ کیا چیز ہے جو اسے روک رہی ہے ؟ سنو جس دن وہ آئے گا تو پھر ٹالا نہ جا سکے گا اور جس چیز کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں وہی ان کو آ گھیرے گی۔

۹–اور اگر ہم انسان کو اپنی رحمت سے نواز نے کے بعد اس سے محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس اور ناشکرا ہو جاتا ہے۔

۱۰–اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد اسے ہم راحت کا مزا چکھاتے ہیں تو کہتا ہے میری ساری کلفتیں دور ہو گئیں وہ اکڑنے اور ڈینگیں مارنے لگتا ہے۔۔

۱۱–البتہ جو صبر کرتے والے اور نیک عمل کرتے والے ہیں۔ ان کا حال ایسا نہیں ہے۔ ان کے لیے بخشش ہے اور بہت بڑا اجر۔

۱۲–کہیں ایس نہ لو کہ جو وحی تمہاری طرف کی جا رہی ہے اس کا ایک حصہ تم چھوڑ دو اور اس بات پر دل تنگ ہو کہ وہ کہیں گے اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اتارا گیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ دراصل تمہارا کام محض خبردار کرنا ہے اور نگراں تو ہر چیز پر اللہ ہی ہے۔

۱۳–کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے اس کو خود گھڑ لیا ہے ؟ کہا اگر تم سچے ہو تو اس جیسی دس سورتیں تم بھی بنا کر لاؤ اور اللہ سوا جن کو تم (مدد کے لیے) بلا سکتے ہو بلا لو۔

۱۴–لیکن اگر وہ تمہاری پکار کا جواب نہ دیں تو جان لو کہ کوئی خدا نہیں ہے۔ پھر کیا تم اسلام قبول کرتے ہو ؟۔

۱۵–جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی آسائش کے طالب ہوتے ہیں ہم ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ انہیں یہیں چکا دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی۔

۱۶–لیکن ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں۔ ان کا کیا کرایا سب اکارت جائے گا اور ان کے سارے اعمال باطل ٹھہریں گے۔

۱۷–کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا تھا پھر ایک گواہ بھی اس کی طرف سے آ گیا اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت کی حیثیت سے موجود تھی (وہ قبول حق سے انکار کر سکتا ہے ؟) ایسے لوگ تو اس پر ایمان ہی لائیں گے۔ اور جو گروہ بھی اس کا انکار کرے گا تو دوزخ وہ ٹھکانا ہے جس کا اس سے وعدہ ہے۔ لہٰذا تم اس کے بارے میں کسی شک میں نہ پڑو۔ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

۱۸–اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے۔ ایسے لوگ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے اور گواہ گواہی دیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا۔ سنو اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر۔

۱۹–ان پر جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس کو ٹیڑھا کر نا چاہتے ہیں۔ اور جو آخرت کے بالکل منکر ہیں۔

۲۰–یہ لوگ زمین میں (اللہ کے) قابو سے نکل جانے والے نہ تھے اور نہ اللہ کے سوا کوئی ان کا مدد گار تھا۔ انہیں دہرا عذاب دیا جائے گا یہ نہ تو سن سکتے تھے اور نہ دیکھ سکتے تھے۔

۲۱–یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے کو تباہی میں ڈالا اور جو کچھ انہوں نے گھڑ رکھا تھا وہ سب ان سے کھویا گیا۔

۲۲–لازماً یہ لوگ آخرت میں سب سے زیادہ تباہ حال ہوں گے۔

۲۳–بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اپنے رب کے آگے فروتنی اختیار کی وہ جنّت والے ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

۲۴–ان دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا بہرا اور دوسرا دیکھنے اور سننے والا کیا دونوں کا حال یکساں ہو سکتا ہے ؟ پھر تم لوگ سمجھتے کیوں نہیں ؟

۲۵–اور ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تھا۔ اس نے کہا میں تمہیں صاف صاف خبردار کرتے والا ہوں۔

۲۶–کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مجھے تمہاری نسبت ایک درد ناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

۲۷–اس پر اس کی قوم کے بڑے لوگوں نے جو کافر تھے کہا ہم تو دیکھتے ہیں کہ تم ہمارے ہی جیسے ایک آدمی ہو اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو صرف وہ لوگ ہو گیے ہیں جو ہمارے اندر ادنیٰ درجہ کے تھے اور وہ بھی سطحی رائے سے۔ ہم اپنے مقابلے میں تم میں کوئی برتری نہیں پاتے بلکہ ہم تو سمجھتے ہیں کہ تم جھوٹے ہو۔

۲۸–اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور اس نے اپنی خاص رحمت سے مجھے نوازا ہو مگر وہ تمہیں دکھائی نہ دے رہی ہو تو کیا ہم زبردستی تم پر چپیک دیں جبکہ وہ تمہیں سخت ناپسند ہے ؟۔

۲۹–اور اے میری قوم کے لوگو میں اس پر تم سے کوئی مال طلب نہیں کرتا۔ میرا اجر اللہ ہی کے ذمہ ہے اور میں ان لوگوں کو دھتکارنے والا نہیں جو ایمان لائے ہیں۔ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت میں مبتلا ہو۔

۳۰–اور اے میری قوم کے لوگو اگر میں ان کو دھتکار دوں تو اللہ کی گرفت سے کون مجھے بچا سکے گا ؟ کیا یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی ؟

۳۱–میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ ہی میں غیب کا علم رکھتا ہوں کہ جو لوگ تمہاری نظروں میں حقیر ہیں ان کو اللہ خیر سے نہیں نوازے گا۔ ان کے دلوں کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے اگر میں ایسی بات کہوں تو ظالم ہوں گا۔

۳۲–انہوں نے کہا اے نوحؑ تم نے ہم سے بحث کی اور بہت بحث کر لی۔ اب وہ چیز ہم پر لے آؤ جس سے ہمیں ڈراتے ہو اگر تم سچّے ہو۔

۳۳–اس نے جواب دیا وہ تو اللہ ہی تم پر لائے گا اگر چاہے گا اور تمہارے بس میں نہیں ہے کہ اس کو روک سکو۔

۳۴–اور میری نصیحت تمہارے لیے کچھ سود مند نہیں ہو سکتی اگر میں نصیحت کرنا چاہوں جب کہ اللہ تم کو گمراہ کرنا چاہتا ہو۔ وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم کو پلٹنا ہے۔

۳۵–کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو گھڑ لیا ہے ؟ کہا اگر میں نے اس کو گھڑا ہے تو میرے جرم کی ذمہ داری مجھ پر ہے اور جو جرم تم کر رہے ہو اس سے میں بَری ہوں۔

۳۶–اور نوحؑ پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کے سوا اب کوئی اور ایمان لانے والا نہیں۔ تو یہ جو کچھ کر رہے ہیں اس پر غم نہ کھاؤ۔

۳۷–اور ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بناؤ اور ان ظالموں کے بارے میں اب ہم سے کچھ نہ کہو۔ یہ غرق ہونے والے ہیں۔۔

۳۸–اور وہ کشتی بنانے لگا۔ جب اس کی قوم کے رئیس اس کے پاس سے گزرتے تو اس کا مذاق اڑاتے۔ وہ جواب دیتا اگر تم ہم پر ہنس رہے ہو تو ہم بھی اسی طرح تم پر ہنسیں گے۔

۳۹–عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کن لوگوں پر وہ عذاب آتا ہے جو انہیں رسوا کر کے رکھ دے گا۔ اور وہ عذاب ٹوٹ پڑتا ہے جو قائم رہنے والا ہو گا۔

۴۰–یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آ گیا اور تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا ہر قسم کے نر و مادہ کا جوڑا اس میں سوار کرا لو اور اپنے گھر والوں کو بھی بجز ان کے جن کے بارے میں ہمارا فرمان پہلے ہی صادر ہو چکا ہے نیز ان لوگوں کو بھی سوار کرا لو جو ایمان لا چکے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے تھوڑے ہی لوگ تھے۔

۴۱–اور اس نے کہا اس میں سوار ہو جاؤ۔ اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا۔ میرا رب بڑا بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۴۲–اور کشتی پہاڑوں کی طرح اٹھنے والی موجوں کے درمیان ان کو لے کر چل رہی تھی اور نوحؑ نے اپنے بیٹے کو جو اس سے الگ تھا پکار کر کہا اے میرے بیٹے ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ۔

۴۳–اس نے کہا میں کسی پہاڑ پر پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوحؑ نے کہا آج اللہ کے حکم سے کوئی چیز بچانے والی نہیں سوائے اس کے کہ وہی کسی پر رحم فرمائے۔ اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ ڈوبنے والوں میں شامل ہو گیا۔

۴۴–اور حکم ہوا کہ اے زمین اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا۔ چنانچہ پانی اتر گیا اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جو وادی پر جا لگی اور کہا گیا دور ہوئی ظالم قوم!۔

۴۵–اور نوحؑ نے اپنے رب کو پکارا۔ کہا اے میرے رب میرا بیٹا تو میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچّا ہے اور تو تمام حاکموں سے بڑھ کر حاکم ہے۔

۴۶–فرمایا اے نوحؑ وہ تمہارے گھر والوں میں سے نہیں ہے۔ وہ بد کردار ہے لہٰذا جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس کے لیے مجھ سے درخواست نہ کرو۔ میں نصیحت کرتا ہوں کہ جاہلوں میں سے نہ ہو جاؤ۔

۴۷–اس نے عرض کیا اے میرے رب میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ تجھ سے کسی ایسی چیز کی درخواست کروں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تو نے مجھے نہ بخشا اور مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میں تباہ ہو جاؤں گا۔

۴۸–حکم ہوا اے نوحؑ اتر جاؤ۔ ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ تم پر بھی اور ان امّتوں پر بھی جو تمہارے ساتھ ہیں۔

اور کچھ امّتیں ایسی بھی ہوں گی جن کو ہم فائدہ پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا۔

۴۹–یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم تو صبر کرو، انجام کار متّقیوں ہی کے لیے ہے۔۔

۵۰–اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہودؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں۔ نرا جھوٹ ہے تم نے گھڑ رکھا ہے۔

۵۱–لوگو اس (خدمت) پر میں تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا۔ میرا اجر تو اس کے ذمّہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔

۵۲–اور اے میری قوم کے لوگو اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو وہ تم پر خوب برسنے والے بادل بھیجے گا اور تمہاری قوت میں مزید قوت کا اضافہ کرے گا۔ اور (دیکھو) مجرم بن کر منہ نہ پھیرو۔

۵۳–انہوں نے کہا تم کوئی کھلی نشانی تو لے کر ہمارے پاس آئے نہیں اور تمہارے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور ہم کسی طرح تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

۵۴–ہم تو کہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار تم پر پڑ گئی ہے۔ اس نے کہا میں ان سے بالکل بیزار ہوں جن کو تم نے شریک ٹھہرا رکھا ہے۔

۵۵–سوائے اس (ایک خدا) کے۔ پس تم میرے خلاف کار روائی کر کے دیکھو اور مجھے ذرا مہلت نہ دو۔

۵۶–میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی پکڑے ہوئے نہ ہو۔ بے شک میرا رب سیدھی راہ پر ہے۔

۵۷–اگر تم منہ پھیرتے ہو تو جو پیغام دے کر میں بھیجا گیا تھا وہ میں تمہیں پہنچا چکا۔ اور میرا رب تمہاری جگہ دوسرے گروہ کو لائے گا اور تم اس کا کچھ بگاڑ نہ سکو گے یقیناً میرا رب ہر چیز پر نگراں ہے۔

۵۸–پھر جب ہمارا حکم آ پہنچا تو ہم نے اپنی رحمت سے ہودؑ کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھا بچا لیا اور ہم نے انہیں ایک ایسے عذاب سے نجات دی جو نہایت ہی سخت تھا۔

۵۹–یہ ہیں عاد۔ انہوں نے اپنے رب کی آیتوں سے انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر سرکش دشمن حق کے کہنے پر چلے۔

۶۰–ان کے پیچھے اس دنیا میں بھی لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی۔ سنو عاد نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سنو محروم کر دئے گئے عاد، ہودؑ کی قوم

۶۱–اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالحؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور اس میں تم کو آباد کیا۔ لہٰذا اس سے معافی مانگو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ یقیناً میرا رب قریب ہے اور دعاؤں کا قبول کرنے والا ہے۔

۶۲–انہوں کے کہا صالحؑ اس سے پہلے تو ہم تم سے بڑی امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے کیا تم ہمیں ان معبودوں کی پرستش سے منع کرتے ہو جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں۔ ہمیں تو اس بات میں بڑا شک ہے جس کی طرف تم دعوت دیتے ہو اور اس نے ہمیں بڑی الجھن میں ڈال دیا ہے۔

۶۳–صالحؑ نے کہا میری قوم کے لوگو تم نے ذرا سوچا اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے اپنی رحمت سے نوازا ہو تو کون ہے جو اللہ کی پکڑ سے مجھے بچائے گا اگر میں اس کی نافرمانی کروں ؟ تم اس کے سوا اور کیا کر سکتے ہو کہ میری تباہی میں اضافہ کر دو۔

۶۴–اور اے میری قوم یہ اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے۔ اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں چرتی رہے اور اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دو ورنہ جلد ہی تمہیں عذاب آ لے گا۔

۶۵–مگر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ تب اس نے کہا اپنے گھروں میں تین دن اور بسر کر لو۔ یہ وعدہ ہے جو جھوٹا ثابت نہ ہو گا۔

۶۶–پھر جب ہمارا حکم آ گیا تو ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی رحمت سے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے نجات دے دی۔ یقیناً تمہارا رب ہی طاقتور اور غالب ہے۔

۶۷–اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک زبردست چنگھاڑ نے پکڑ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

۶۸–گویا ان میں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ سنو ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سنو! محرومی ہوئی ثمود کے لیے

۶۹–اور ہمارے فرستادے ابراہیمؑ کے پاس خوش خبری لیے ہوئے پہنچے انہوں نے کہا سلام ہو تم پر۔ اس نے جواب دیا تم پر بھی سلام ہو۔ پھر بِلا تاخیر ایک بھُنا ہوا بچھڑ ا لے آیا۔

۷۰–مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں تو ان کو اجنبی سمجھا اور ان کی طرف سے اندیشہ محسوس کیا۔ انہوں نے کہا اندیشہ نہ کرو ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

۷۱–اور اس (ابراہیم) کی بیوی بھی کھڑی تھی۔ وہ ہنس پڑی۔ تو ہم نے اس کو اسحاقؑ کی اور اسحاقؑ کے بعد یعقوبؑ کی خوش خبری دی۔۔

۷۲–وہ بولی ہائے میرے اولاد ہو گی جبکہ میں بڑھیا ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بوڑھے ہو چکے ہیں یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

۷۳–انہوں نے (فرستادوں نے) کہا تم اللہ کے حکم پر تعجّب کرتی ہو۔ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہو تم پر اے اہل بیت بے شک وہ حمد کا مستحق اور بڑی شان والا ہے۔

۷۴–پھر جب ابراہیمؑ کی تشویش دور ہو گئی اور اسے خوش خبری ملی؟؟ قوم لوط کے بارے میں ہم سے حجّت کرنے لگا

۷۵–در حقیقت ابراہیمؑ بڑا ہی برد بار، درد مند اور (اللہ کی طرف) رجوع ہونے والا تھا۔۔

۷۶–اے ابراہیمؑ یہ بات چھوڑ دو۔ تمہارے رب کا حکم ہو چکا ہے اور ان لوگوں پر ایسا عذاب آنے کو ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتا۔

۷۷–اور جب ہمارے فرستادے لوطؑ کے پاس پہنچے تو وہ ان کے آنے سے تشویش میں پڑ گیا اور دل تنگ ہوا اور کہنے لگا آج تو بڑی مصیبت کا دن ہے۔

۷۸–اور اس کی قوم کے لوگ دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئے۔ وہ پہلے سے بد کاریوں میں مبتلا تھے۔ اس نے کہا لوگو یہ میری بیٹیاں ہیں۔ یہ تمہارے لیے نہایت پاکیزہ ہیں تو اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے معاملہ میں مجھے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی آدمی بھی سمجھدار نہیں ؟

۷۹–انہوں نے کہا تمہیں معلوم ہی ہے کہ تمہاری بیٹیوں سے ہمیں کوئی غرض نہیں اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔

۸۰–اس نے کہا کاش تمہارے مقابلہ کی مجھے طاقت ہوتی یا کوئی مضبوط سہارا ہوتا جس کی میں پناہ لیتا۔

۸۱–تب فرشتوں نے کہا اے لوطؑ ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں۔ یہ ہر گز تم تک پہنچ نہ سکیں گے۔ تم رات کے تاریک حصہ میں اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ اور تم میں سے کوئی پلٹ کر بھی نہ دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کہ اس پر بھی وہی کچھ گزرنا ہے جو ان پر گزرے گا۔ ان (کے عذاب) کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے۔ کیا صبح قریب نہیں !

۸۲–پھر جب ہمارا حکم آ پہنچا تو ہم نے اس بستی کو تل پٹ کر دیا اور اس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر لگا تار برسائے۔

۸۳–جو تمہارے رب کے ہاں نشان کیے ہوئے تھے۔ اور ظالموں سے کچھ دور نہیں۔

۸۴–اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں اور ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اچھے حال میں ہو مگر مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر عذاب کا ایسا دن نہ آ جائے جو سب کو گھیر لے گا۔

۸۵–اور اے میری قوم کے لوگو ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔

۸۶–اللہ کی دی ہوئی بچت تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم ایمان لاؤ اور میں تم پر نگراں نہیں ہوں۔

۸۷–انہوں نے کہا اے شعیبؑ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا ہو جتے رہے ہیں یا ہمیں اس بات کا اختیار نہیں کہ اپنے مال میں جس طرح چاہیں تصرف کریں۔ بس تم ہی ایک عقلمند اور راست رو رہ گئے ہو۔

۸۸–اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور اس نے اپنی طرف سے مجھے اچھا رزق بھی عطا فرمایا۔ (تو کیا میں راہِ حق اختیار نہ کروں) اور میں یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے میں تمہیں روکتا ہوں اس کے خلاف چلوں۔ میں تو اصلاح چاہتا ہوں جہاں تک میرے بس میں ہے اور میرے لیے (اس کام میں) سازگاری اللہ ہی کی مدد سے ممکن ہے۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔

۸۹–اور اے میری قوم کے لوگو میری مخالفت تمہارے لیے کہیں اس بات کا باعث نہ بنے کہ تم پر بھی ویسا ہی عذاب آ جائے جیسا کہ قوم نوحؑ یا قوم ہودؑ یا قوم صالحؑ پر آیا اور قوم لوطؑ تو تم سے کچھ دور بھی نہیں ہے۔

۹۰–اور (دیکھو) اپنے رب سے معافی مانگو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ یقیناً میرا رب بڑا رحیم اور (اپنے بندوں سے) محبت رکھنے والا ہے۔

۹۱–انہوں نے کہا شعیبؑ تمہاری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمارے درمیان ایک کمزور آدمی ہو اور اگر تم ہماری برادری کے آدمی نہ ہوتے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیتے۔ تم ہمارے مقابلہ میں کچھ زور آور ہو نہیں۔

۹۲–اس نے کہا میری قوم کے لوگو کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے کہ اللہ کو تم نے پس پشت ڈال دیا۔ تم جو کچھ کر رہے ہو میرا رب اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

۹۳–اور اے میری قوم کے لوگو تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ میں بھی اپنی جگہ کام کرتا ہوں عن قریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے ذلیل کر کے رکھ دے گا اور کون ہے جو جھوٹا ہے۔ انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

۹۴–پھر جب ہمارا حکم آ گیا تو ہم نے شعیبؑ اور اس کے ساتھی اہل ایمان کو اپنی رحمت سے بچا لیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک ہیبت ناک آواز نے ایسا پکڑ لیا کہ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

۹۵–گویا وہ وہاں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ سنو مدین والوں کے لیے بھی محرومی ہوئی جس طرح ثمود کے لیے محرومی ہوئی تھی!

۹۶–اور ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں اور صریح حجت قاہرہ کے ساتھ بھیجا تھا۔

۹۷–فرعون اور اس کے امراء کی طرف، مگر وہ فرعون کے حکم پر چلے حالانکہ فرعون کا حکم درست نہ تھا۔

۹۸–قیامت کے دن وہ اپنی قوم کے آگے آگے ہو گا اور انہیں دوزخ میں لے جائے گا کیسی بری جگہ ہے جہاں وہ پہنچ کر رہے۔

۹۹–اور ان کے پیچھے اس دنیا میں بھی لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی۔ کیا ہی برا صلہ ہے جو ان کو ملا !

۱۰۰–یہ ان آبادیوں کے واقعات ہیں جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو قائم ہیں اور کچھ اجڑ گئیں۔

۱۰۱–ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ اور جب تمہارے رب کا حکم آ گیا تو ان کے وہ خدا جن کو وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آئے اور انہوں نے ان کی ہلاکت ہی میں اضافہ کیا۔

۱۰۲–اور تمہارے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ آبادیوں کو ان کے ظالم ہونے کی بنا پر پکڑتا ہے۔ یقیناً اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بڑی ہی سخت ہوتی ہے۔

۱۰۳–اس میں بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو عذابِ آخرت سے ڈریں۔ وہ ایسا دن حاضری کا ہو گا۔

۱۰۴–اور ہم اس کے لانے میں تاخیر نہیں کر رہے ہیں مگر صرف تھوڑی مدت کے لیے۔

۱۰۵–جب وہ (دن) آئے گا تو کوئی نفس اس کی اجازت کے بغیر کلام نہ کر سکے گا۔ پھر کچھ لوگ بدبخت ہوں گے اور کچھ لوگ نیک بخت۔

۱۰۶–تو جو بد بخت ہوں گے وہ دوزخ میں جائیں گے جہاں ان کے لیے چیخنا چلّا نا ہو گا۔

۱۰۷–اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ آسمان و زمین قائم ہیں مگر جو تمہارا رب چاہے۔ بلا شبہ تمہارا رب جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔

۱۰۸–اور جو نیک بخت ہوں گے وہ جنّت میں جائیں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ آسمان و زمین قائم ہیں مگر جو تمہارا رب چاہے یہ ایسی بخشش ہو گی جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہو گا۔

۱۰۹–تو تم ان معبودوں کے بارے میں کسی شک میں نہ پڑو جن کی یہ پرستش کر رہے۔ یہ اسی طرح ہو جا کر رہے ہیں جس طرح ان سے پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے۔ اور ہم ان کا حصہ ان کو پورا پورا دیں گے کسی کمی کے بغیر۔

۱۱۰–ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی تھی مگر اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ کر دی گئی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ چکا دیا گیا ہوتا۔ اور یہ لوگ اس (قرآن) کی نسبت شک میں پڑے ہوئے ہیں جس نے انہیں الجھن میں ڈال دیا ہے۔

۱۱۱–اور یقیناً تمہارا رب ہر ایک کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ وہ ان کے اعمال سے پوری طرح با خبر ہے۔

۱۱۲–پس تم راہِ راست پر جمے رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے نیز وہ لوگ بھی جو توبہ کر کے تمہارے ساتھ ہو گئے ہیں اور حد سے تجاوز نہ کرو ۱۔ تم جو کچھ کرتے ہوا سے وہ دیکھ رہا ہے۔

۱۱۳–اور ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی آگ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست نہ ہو گا اور نہ تمہاری مدد ہی کی جائے گی۔

۱۱۴–اور نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور رات کی گھڑیوں میں۔ بلا شبہہ نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ یاد دہانی ہے یاد دہانی حاصل کرنے والوں کے لیے۔

۱۱۵–اور صبر کرو کہ اللہ ان لوگو ں کا اجر ضائع نہیں کرتا جو حسن و خوبی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

۱۱۶–پھر کیوں نہ ایسا ہوا کہ جو قومیں تم سے پہلے گزر چکیں ان میں سے اہلِ خیر نکلتے جو زمین میں شر و فساد (پھیلانے) سے روکتے جز ان تھوڑے سے لوگوں کے جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچا لیا ورنہ ظالمانہ طرزِ عمل اختیار کرنے والے تو اسی سامان عیش کے پیچھے پڑے رہے جو انہیں دیا گیا تھا اور وہ مجرم بن کر رہے۔

۱۱۷–اور تمہارا رب ایسا نہیں ہے کہ وہ آبادیوں کو ناحق ہلاک کر دے جب کہ ان کے باشندے اصلاح کر نے والے ہوں۔

۱۱۸–اگر تمہارا رب چاہتا تو لوگوں کو ایک ہی امّت بنا دیتا مگر وہ اختلاف کرتے رہیں گے۔۔

۱۱۹–اس سے بچیں گے وہی لوگ جن پر تمہارا رب رحم فرمائے اور اسی لیے تو اس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اور تمہارے رب کی بات پوری ہو کر رہی کہ میں جہنم کو جن اور انسان سب سے بھر دوں گا۔۔

۱۲۰–اور ہم رسولوں کی جو سرگزشتیں تمہیں سناتے ہیں تو ان کے ذریعہ تمہارے دل کو مضبوطی عطاء کرتے ہیں۔ ان کے اندر تمہیں حق مل گیا اور مومنوں کو نصیحت اور یاد دہانی ہوئی۔

۱۲۱–جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان سے کہو کہ تم اپنی جگہ عمل کرو ہم اپنی جگہ عمل کرتے رہیں گے۔

۱۲۲–اور تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔

۱۲۳–آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ ہی کے لیے ہے اور سارے معاملات اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تو اسی کی تم عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو۔ تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے تمہارا رب بے خبر نہیں۔

٭٭٭

 

 

 

 

(۱۲) سورہ یوسف

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱–الف۔ لام۔ را۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتوں کو پختہ بنایا گیا ہے۔ پھر ان کو کھول کر بیان کر دیا گیا ہے۔ اس کی طرف سے جو نہایت حکمت والا اور باخبر ہے۔

۲–یہ کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ میں اس کی طرف سے تمہیں خبردار کرنے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں

۳–اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ وہ تم کو ایک وقتِ مقرر تک اچھا سامانِ زندگی دے گا اور ہر صاحبِ فضل کو اپنے فضل سے نوازے گا۔ لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو مجھے تمہارے بارے میں ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

۴–تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۵–دیکھو یہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ اس سے چھپ جائیں۔ یاد رکھو جب یہ اپنے کو کپڑوں سے ڈھانک لیتے ہیں تو وہ جانتا ہے اس کو بھی جو وہ چھپاتے ہیں اور اس کو بھی جو وہ ظاہر کرتے ہیں وہ تو سینوں کے بھید تک سے واقف ہے۔

۶–زمین پر کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمّہ نہ ہو۔ وہ اس کے ٹھہرنے کی جگہ بھی جانتا ہے اور اس جگہ کو بھی جہاں وہ سونپ دیا جاتا ہے سب کچھ ایک واضح کتاب میں درج ہے۔

۷–اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ تاکہ تمہیں آزمائے کہ کون عمل میں بہتر ہے۔ اور اگر تم کہتے ہو کہ مرنے کے بعد تم لوگ اٹھائے جاؤ گے تو کافر بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو گری ہے۔

۸–اور اگر ہم ایک مقرّرہ مدت کے لیے عذاب کو مؤخّر کر دیتے ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ کیا چیز ہے جو اسے روک رہی ہے ؟ سنو جس دن وہ آئے گا تو پھر ٹالا نہ جا سکے گا اور جس چیز کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں وہی ان کو آ گھیرے گی۔

۹–اور اگر ہم انسان کو اپنی رحمت سے نواز نے کے بعد اس سے محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس اور ناشکرا ہو جاتا ہے۔

۱۰–اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد اسے ہم راحت کا مزا چکھاتے ہیں تو کہتا ہے میری ساری کلفتیں دور ہو گئیں وہ اکڑنے اور ڈینگیں مارنے لگتا ہے۔۔

۱۱–البتہ جو صبر کرتے والے اور نیک عمل کرتے والے ہیں۔ ان کا حال ایسا نہیں ہے۔ ان کے لیے بخشش ہے اور بہت بڑا اجر۔

۱۲–کہیں ایس نہ لو کہ جو وحی تمہاری طرف کی جا رہی ہے اس کا ایک حصہ تم چھوڑ دو اور اس بات پر دل تنگ ہو کہ وہ کہیں گے اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اتارا گیا یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا۔ دراصل تمہارا کام محض خبردار کرنا ہے اور نگراں تو ہر چیز پر اللہ ہی ہے۔

۱۳–کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے اس کو خود گھڑ لیا ہے ؟ کہا اگر تم سچے ہو تو اس جیسی دس سورتیں تم بھی بنا کر لاؤ اور اللہ سوا جن کو تم (مدد کے لیے) بلا سکتے ہو بلا لو۔

۱۴–لیکن اگر وہ تمہاری پکار کا جواب نہ دیں تو جان لو کہ کوئی خدا نہیں ہے۔ پھر کیا تم اسلام قبول کرتے ہو ؟۔

۱۵–جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی آسائش کے طالب ہوتے ہیں ہم ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ انہیں یہیں چکا دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی۔

۱۶–لیکن ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں۔ ان کا کیا کرایا سب اکارت جائے گا اور ان کے سارے اعمال باطل ٹھہریں گے۔

۱۷–کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا تھا پھر ایک گواہ بھی اس کی طرف سے آ گیا اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت کی حیثیت سے موجود تھی (وہ قبول حق سے انکار کر سکتا ہے ؟) ایسے لوگ تو اس پر ایمان ہی لائیں گے۔ اور جو گروہ بھی اس کا انکار کرے گا تو دوزخ وہ ٹھکانا ہے جس کا اس سے وعدہ ہے۔ لہٰذا تم اس کے بارے میں کسی شک میں نہ پڑو۔ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

۱۸–اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے۔ ایسے لوگ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے اور گواہ گواہی دیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ بولا تھا۔ سنو اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر۔

۱۹–ان پر جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس کو ٹیڑھا کر نا چاہتے ہیں۔ اور جو آخرت کے بالکل منکر ہیں۔

۲۰–یہ لوگ زمین میں (اللہ کے) قابو سے نکل جانے والے نہ تھے اور نہ اللہ کے سوا کوئی ان کا مدد گار تھا۔ انہیں دہرا عذاب دیا جائے گا یہ نہ تو سن سکتے تھے اور نہ دیکھ سکتے تھے۔

۲۱–یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے کو تباہی میں ڈالا اور جو کچھ انہوں نے گھڑ رکھا تھا وہ سب ان سے کھویا گیا۔

۲۲–لازماً یہ لوگ آخرت میں سب سے زیادہ تباہ حال ہوں گے۔

۲۳–بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اپنے رب کے آگے فروتنی اختیار کی وہ جنّت والے ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

۲۴–ان دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا بہرا اور دوسرا دیکھنے اور سننے والا کیا دونوں کا حال یکساں ہو سکتا ہے ؟ پھر تم لوگ سمجھتے کیوں نہیں ؟

۲۵–اور ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تھا۔ اس نے کہا میں تمہیں صاف صاف خبردار کرتے والا ہوں۔

۲۶–کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مجھے تمہاری نسبت ایک درد ناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

۲۷–اس پر اس کی قوم کے بڑے لوگوں نے جو کافر تھے کہا ہم تو دیکھتے ہیں کہ تم ہمارے ہی جیسے ایک آدمی ہو اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیرو صرف وہ لوگ ہو گیے ہیں جو ہمارے اندر ادنیٰ درجہ کے تھے اور وہ بھی سطحی رائے سے۔ ہم اپنے مقابلے میں تم میں کوئی برتری نہیں پاتے بلکہ ہم تو سمجھتے ہیں کہ تم جھوٹے ہو۔

۲۸–اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور اس نے اپنی خاص رحمت سے مجھے نوازا ہو مگر وہ تمہیں دکھائی نہ دے رہی ہو تو کیا ہم زبردستی تم پر چپیک دیں جبکہ وہ تمہیں سخت ناپسند ہے ؟۔

۲۹–اور اے میری قوم کے لوگو میں اس پر تم سے کوئی مال طلب نہیں کرتا۔ میرا اجر اللہ ہی کے ذمہ ہے اور میں ان لوگوں کو دھتکارنے والا نہیں جو ایمان لائے ہیں۔ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت میں مبتلا ہو۔

۳۰–اور اے میری قوم کے لوگو اگر میں ان کو دھتکار دوں تو اللہ کی گرفت سے کون مجھے بچا سکے گا ؟ کیا یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی ؟

۳۱–میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ ہی میں غیب کا علم رکھتا ہوں کہ جو لوگ تمہاری نظروں میں حقیر ہیں ان کو اللہ خیر سے نہیں نوازے گا۔ ان کے دلوں کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے اگر میں ایسی بات کہوں تو ظالم ہوں گا۔

۳۲–انہوں نے کہا اے نوحؑ تم نے ہم سے بحث کی اور بہت بحث کر لی۔ اب وہ چیز ہم پر لے آؤ جس سے ہمیں ڈراتے ہو اگر تم سچّے ہو۔

۳۳–اس نے جواب دیا وہ تو اللہ ہی تم پر لائے گا اگر چاہے گا اور تمہارے بس میں نہیں ہے کہ اس کو روک سکو۔

۳۴–اور میری نصیحت تمہارے لیے کچھ سود مند نہیں ہو سکتی اگر میں نصیحت کرنا چاہوں جب کہ اللہ تم کو گمراہ کرنا چاہتا ہو۔ وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم کو پلٹنا ہے۔

۳۵–کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو گھڑ لیا ہے ؟ کہا اگر میں نے اس کو گھڑا ہے تو میرے جرم کی ذمہ داری مجھ پر ہے اور جو جرم تم کر رہے ہو اس سے میں بَری ہوں۔

۳۶–اور نوحؑ پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کے سوا اب کوئی اور ایمان لانے والا نہیں۔ تو یہ جو کچھ کر رہے ہیں اس پر غم نہ کھاؤ۔

۳۷–اور ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بناؤ اور ان ظالموں کے بارے میں اب ہم سے کچھ نہ کہو۔ یہ غرق ہونے والے ہیں۔۔

۳۸–اور وہ کشتی بنانے لگا۔ جب اس کی قوم کے رئیس اس کے پاس سے گزرتے تو اس کا مذاق اڑاتے۔ وہ جواب دیتا اگر تم ہم پر ہنس رہے ہو تو ہم بھی اسی طرح تم پر ہنسیں گے۔

۳۹–عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کن لوگوں پر وہ عذاب آتا ہے جو انہیں رسوا کر کے رکھ دے گا۔ اور وہ عذاب ٹوٹ پڑتا ہے جو قائم رہنے والا ہو گا۔

۴۰–یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آ گیا اور تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا ہر قسم کے نر و مادہ کا جوڑا اس میں سوار کرا لو اور اپنے گھر والوں کو بھی بجز ان کے جن کے بارے میں ہمارا فرمان پہلے ہی صادر ہو چکا ہے نیز ان لوگوں کو بھی سوار کرا لو جو ایمان لا چکے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے تھوڑے ہی لوگ تھے۔

۴۱–اور اس نے کہا اس میں سوار ہو جاؤ۔ اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا۔ میرا رب بڑا بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۴۲–اور کشتی پہاڑوں کی طرح اٹھنے والی موجوں کے درمیان ان کو لے کر چل رہی تھی اور نوحؑ نے اپنے بیٹے کو جو اس سے الگ تھا پکار کر کہا اے میرے بیٹے ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ۔

۴۳–اس نے کہا میں کسی پہاڑ پر پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوحؑ نے کہا آج اللہ کے حکم سے کوئی چیز بچانے والی نہیں سوائے اس کے کہ وہی کسی پر رحم فرمائے۔ اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ ڈوبنے والوں میں شامل ہو گیا۔

۴۴–اور حکم ہوا کہ اے زمین اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا۔ چنانچہ پانی اتر گیا اور فیصلہ چکا دیا گیا اور کشتی جو وادی پر جا لگی اور کہا گیا دور ہوئی ظالم قوم!۔

۴۵–اور نوحؑ نے اپنے رب کو پکارا۔ کہا اے میرے رب میرا بیٹا تو میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچّا ہے اور تو تمام حاکموں سے بڑھ کر حاکم ہے۔

۴۶–فرمایا اے نوحؑ وہ تمہارے گھر والوں میں سے نہیں ہے۔ وہ بد کردار ہے لہٰذا جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس کے لیے مجھ سے درخواست نہ کرو۔ میں نصیحت کرتا ہوں کہ جاہلوں میں سے نہ ہو جاؤ۔

۴۷–اس نے عرض کیا اے میرے رب میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ تجھ سے کسی ایسی چیز کی درخواست کروں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تو نے مجھے نہ بخشا اور مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میں تباہ ہو جاؤں گا۔

۴۸–حکم ہوا اے نوحؑ اتر جاؤ۔ ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ تم پر بھی اور ان امّتوں پر بھی جو تمہارے ساتھ ہیں۔

اور کچھ امّتیں ایسی بھی ہوں گی جن کو ہم فائدہ پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا۔

۴۹–یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم تو صبر کرو، انجام کار متّقیوں ہی کے لیے ہے۔۔

۵۰–اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہودؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں۔ نرا جھوٹ ہے تم نے گھڑ رکھا ہے۔

۵۱–لوگو اس (خدمت) پر میں تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا۔ میرا اجر تو اس کے ذمّہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔

۵۲–اور اے میری قوم کے لوگو اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف رجوع کرو وہ تم پر خوب برسنے والے بادل بھیجے گا اور تمہاری قوت میں مزید قوت کا اضافہ کرے گا۔ اور (دیکھو) مجرم بن کر منہ نہ پھیرو۔

۵۳–انہوں نے کہا تم کوئی کھلی نشانی تو لے کر ہمارے پاس آئے نہیں اور تمہارے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور ہم کسی طرح تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

۵۴–ہم تو کہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار تم پر پڑ گئی ہے۔ اس نے کہا میں ان سے بالکل بیزار ہوں جن کو تم نے شریک ٹھہرا رکھا ہے۔

۵۵–سوائے اس (ایک خدا) کے۔ پس تم میرے خلاف کار روائی کر کے دیکھو اور مجھے ذرا مہلت نہ دو۔

۵۶–میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی پکڑے ہوئے نہ ہو۔ بے شک میرا رب سیدھی راہ پر ہے۔

۵۷–اگر تم منہ پھیرتے ہو تو جو پیغام دے کر میں بھیجا گیا تھا وہ میں تمہیں پہنچا چکا۔ اور میرا رب تمہاری جگہ دوسرے گروہ کو لائے گا اور تم اس کا کچھ بگاڑ نہ سکو گے یقیناً میرا رب ہر چیز پر نگراں ہے۔

۵۸–پھر جب ہمارا حکم آ پہنچا تو ہم نے اپنی رحمت سے ہودؑ کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھا بچا لیا اور ہم نے انہیں ایک ایسے عذاب سے نجات دی جو نہایت ہی سخت تھا۔

۵۹–یہ ہیں عاد۔ انہوں نے اپنے رب کی آیتوں سے انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر سرکش دشمن حق کے کہنے پر چلے۔

۶۰–ان کے پیچھے اس دنیا میں بھی لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی۔ سنو عاد نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سنو محروم کر دئے گئے عاد، ہودؑ کی قوم

۶۱–اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالحؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور اس میں تم کو آباد کیا۔ لہٰذا اس سے معافی مانگو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ یقیناً میرا رب قریب ہے اور دعاؤں کا قبول کرنے والا ہے۔

۶۲–انہوں کے کہا صالحؑ اس سے پہلے تو ہم تم سے بڑی امیدیں وابستہ کیے ہوئے تھے کیا تم ہمیں ان معبودوں کی پرستش سے منع کرتے ہو جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں۔ ہمیں تو اس بات میں بڑا شک ہے جس کی طرف تم دعوت دیتے ہو اور اس نے ہمیں بڑی الجھن میں ڈال دیا ہے۔

۶۳–صالحؑ نے کہا میری قوم کے لوگو تم نے ذرا سوچا اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے اپنی رحمت سے نوازا ہو تو کون ہے جو اللہ کی پکڑ سے مجھے بچائے گا اگر میں اس کی نافرمانی کروں ؟ تم اس کے سوا اور کیا کر سکتے ہو کہ میری تباہی میں اضافہ کر دو۔

۶۴–اور اے میری قوم یہ اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے۔ اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں چرتی رہے اور اس کو کسی طرح کی تکلیف نہ دو ورنہ جلد ہی تمہیں عذاب آ لے گا۔

۶۵–مگر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ تب اس نے کہا اپنے گھروں میں تین دن اور بسر کر لو۔ یہ وعدہ ہے جو جھوٹا ثابت نہ ہو گا۔

۶۶–پھر جب ہمارا حکم آ گیا تو ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی رحمت سے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے نجات دے دی۔ یقیناً تمہارا رب ہی طاقتور اور غالب ہے۔

۶۷–اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک زبردست چنگھاڑ نے پکڑ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

۶۸–گویا ان میں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ سنو ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سنو! محرومی ہوئی ثمود کے لیے

۶۹–اور ہمارے فرستادے ابراہیمؑ کے پاس خوش خبری لیے ہوئے پہنچے انہوں نے کہا سلام ہو تم پر۔ اس نے جواب دیا تم پر بھی سلام ہو۔ پھر بِلا تاخیر ایک بھُنا ہوا بچھڑ ا لے آیا۔

۷۰–مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں تو ان کو اجنبی سمجھا اور ان کی طرف سے اندیشہ محسوس کیا۔ انہوں نے کہا اندیشہ نہ کرو ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

۷۱–اور اس (ابراہیم) کی بیوی بھی کھڑی تھی۔ وہ ہنس پڑی۔ تو ہم نے اس کو اسحاقؑ کی اور اسحاقؑ کے بعد یعقوبؑ کی خوش خبری دی۔۔

۷۲–وہ بولی ہائے میرے اولاد ہو گی جبکہ میں بڑھیا ہو گئی ہوں اور میرے شوہر بھی بوڑھے ہو چکے ہیں یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

۷۳–انہوں نے (فرستادوں نے) کہا تم اللہ کے حکم پر تعجّب کرتی ہو۔ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہو تم پر اے اہل بیت بے شک وہ حمد کا مستحق اور بڑی شان والا ہے۔

۷۴–پھر جب ابراہیمؑ کی تشویش دور ہو گئی اور اسے خوش خبری ملی؟؟ قوم لوط کے بارے میں ہم سے حجّت کرنے لگا

۷۵–در حقیقت ابراہیمؑ بڑا ہی برد بار، درد مند اور (اللہ کی طرف) رجوع ہونے والا تھا۔۔

۷۶–اے ابراہیمؑ یہ بات چھوڑ دو۔ تمہارے رب کا حکم ہو چکا ہے اور ان لوگوں پر ایسا عذاب آنے کو ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتا۔

۷۷–اور جب ہمارے فرستادے لوطؑ کے پاس پہنچے تو وہ ان کے آنے سے تشویش میں پڑ گیا اور دل تنگ ہوا اور کہنے لگا آج تو بڑی مصیبت کا دن ہے۔

۷۸–اور اس کی قوم کے لوگ دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئے۔ وہ پہلے سے بد کاریوں میں مبتلا تھے۔ اس نے کہا لوگو یہ میری بیٹیاں ہیں۔ یہ تمہارے لیے نہایت پاکیزہ ہیں تو اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے معاملہ میں مجھے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی آدمی بھی سمجھدار نہیں ؟

۷۹–انہوں نے کہا تمہیں معلوم ہی ہے کہ تمہاری بیٹیوں سے ہمیں کوئی غرض نہیں اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔

۸۰–اس نے کہا کاش تمہارے مقابلہ کی مجھے طاقت ہوتی یا کوئی مضبوط سہارا ہوتا جس کی میں پناہ لیتا۔

۸۱–تب فرشتوں نے کہا اے لوطؑ ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں۔ یہ ہر گز تم تک پہنچ نہ سکیں گے۔ تم رات کے تاریک حصہ میں اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ اور تم میں سے کوئی پلٹ کر بھی نہ دیکھے۔ مگر تمہاری بیوی کہ اس پر بھی وہی کچھ گزرنا ہے جو ان پر گزرے گا۔ ان (کے عذاب) کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے۔ کیا صبح قریب نہیں !

۸۲–پھر جب ہمارا حکم آ پہنچا تو ہم نے اس بستی کو تل پٹ کر دیا اور اس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر لگا تار برسائے۔

۸۳–جو تمہارے رب کے ہاں نشان کیے ہوئے تھے۔ اور ظالموں سے کچھ دور نہیں۔

۸۴–اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں اور ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اچھے حال میں ہو مگر مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر عذاب کا ایسا دن نہ آ جائے جو سب کو گھیر لے گا۔

۸۵–اور اے میری قوم کے لوگو ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔

۸۶–اللہ کی دی ہوئی بچت تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم ایمان لاؤ اور میں تم پر نگراں نہیں ہوں۔

۸۷–انہوں نے کہا اے شعیبؑ کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا ہو جتے رہے ہیں یا ہمیں اس بات کا اختیار نہیں کہ اپنے مال میں جس طرح چاہیں تصرف کریں۔ بس تم ہی ایک عقلمند اور راست رو رہ گئے ہو۔

۸۸–اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور اس نے اپنی طرف سے مجھے اچھا رزق بھی عطا فرمایا۔ (تو کیا میں راہِ حق اختیار نہ کروں) اور میں یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے میں تمہیں روکتا ہوں اس کے خلاف چلوں۔ میں تو اصلاح چاہتا ہوں جہاں تک میرے بس میں ہے اور میرے لیے (اس کام میں) سازگاری اللہ ہی کی مدد سے ممکن ہے۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔

۸۹–اور اے میری قوم کے لوگو میری مخالفت تمہارے لیے کہیں اس بات کا باعث نہ بنے کہ تم پر بھی ویسا ہی عذاب آ جائے جیسا کہ قوم نوحؑ یا قوم ہودؑ یا قوم صالحؑ پر آیا اور قوم لوطؑ تو تم سے کچھ دور بھی نہیں ہے۔

۹۰–اور (دیکھو) اپنے رب سے معافی مانگو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ یقیناً میرا رب بڑا رحیم اور (اپنے بندوں سے) محبت رکھنے والا ہے۔

۹۱–انہوں نے کہا شعیبؑ تمہاری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمارے درمیان ایک کمزور آدمی ہو اور اگر تم ہماری برادری کے آدمی نہ ہوتے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیتے۔ تم ہمارے مقابلہ میں کچھ زور آور ہو نہیں۔

۹۲–اس نے کہا میری قوم کے لوگو کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے کہ اللہ کو تم نے پس پشت ڈال دیا۔ تم جو کچھ کر رہے ہو میرا رب اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

۹۳–اور اے میری قوم کے لوگو تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ میں بھی اپنی جگہ کام کرتا ہوں عن قریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے ذلیل کر کے رکھ دے گا اور کون ہے جو جھوٹا ہے۔ انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

۹۴–پھر جب ہمارا حکم آ گیا تو ہم نے شعیبؑ اور اس کے ساتھی اہل ایمان کو اپنی رحمت سے بچا لیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک ہیبت ناک آواز نے ایسا پکڑ لیا کہ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

۹۵–گویا وہ وہاں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ سنو مدین والوں کے لیے بھی محرومی ہوئی جس طرح ثمود کے لیے محرومی ہوئی تھی!

۹۶–اور ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں اور صریح حجت قاہرہ کے ساتھ بھیجا تھا۔

۹۷–فرعون اور اس کے امراء کی طرف، مگر وہ فرعون کے حکم پر چلے حالانکہ فرعون کا حکم درست نہ تھا۔

۹۸–قیامت کے دن وہ اپنی قوم کے آگے آگے ہو گا اور انہیں دوزخ میں لے جائے گا کیسی بری جگہ ہے جہاں وہ پہنچ کر رہے۔

۹۹–اور ان کے پیچھے اس دنیا میں بھی لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی۔ کیا ہی برا صلہ ہے جو ان کو ملا !

۱۰۰–یہ ان آبادیوں کے واقعات ہیں جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو قائم ہیں اور کچھ اجڑ گئیں۔

۱۰۱–ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ اور جب تمہارے رب کا حکم آ گیا تو ان کے وہ خدا جن کو وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آئے اور انہوں نے ان کی ہلاکت ہی میں اضافہ کیا۔

۱۰۲–اور تمہارے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ آبادیوں کو ان کے ظالم ہونے کی بنا پر پکڑتا ہے۔ یقیناً اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بڑی ہی سخت ہوتی ہے۔

۱۰۳–اس میں بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو عذابِ آخرت سے ڈریں۔ وہ ایسا دن حاضری کا ہو گا۔

۱۰۴–اور ہم اس کے لانے میں تاخیر نہیں کر رہے ہیں مگر صرف تھوڑی مدت کے لیے۔

۱۰۵–جب وہ (دن) آئے گا تو کوئی نفس اس کی اجازت کے بغیر کلام نہ کر سکے گا۔ پھر کچھ لوگ بدبخت ہوں گے اور کچھ لوگ نیک بخت۔

۱۰۶–تو جو بد بخت ہوں گے وہ دوزخ میں جائیں گے جہاں ان کے لیے چیخنا چلّا نا ہو گا۔

۱۰۷–اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ آسمان و زمین قائم ہیں مگر جو تمہارا رب چاہے۔ بلا شبہ تمہارا رب جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔

۱۰۸–اور جو نیک بخت ہوں گے وہ جنّت میں جائیں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ آسمان و زمین قائم ہیں مگر جو تمہارا رب چاہے یہ ایسی بخشش ہو گی جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہو گا۔

۱۰۹–تو تم ان معبودوں کے بارے میں کسی شک میں نہ پڑو جن کی یہ پرستش کر رہے۔ یہ اسی طرح ہو جا کر رہے ہیں جس طرح ان سے پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے۔ اور ہم ان کا حصہ ان کو پورا پورا دیں گے کسی کمی کے بغیر۔

۱۱۰–ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی تھی مگر اس میں اختلاف کیا گیا۔ اور اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ کر دی گئی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ چکا دیا گیا ہوتا۔ اور یہ لوگ اس (قرآن) کی نسبت شک میں پڑے ہوئے ہیں جس نے انہیں الجھن میں ڈال دیا ہے۔

۱۱۱–اور یقیناً تمہارا رب ہر ایک کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ وہ ان کے اعمال سے پوری طرح با خبر ہے۔

۱۱۲–پس تم راہِ راست پر جمے رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے نیز وہ لوگ بھی جو توبہ کر کے تمہارے ساتھ ہو گئے ہیں اور حد سے تجاوز نہ کرو ۱۔ تم جو کچھ کرتے ہوا سے وہ دیکھ رہا ہے۔

۱۱۳–اور ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی آگ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست نہ ہو گا اور نہ تمہاری مدد ہی کی جائے گی۔

۱۱۴–اور نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور رات کی گھڑیوں میں۔ بلا شبہہ نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ یاد دہانی ہے یاد دہانی حاصل کرنے والوں کے لیے۔

۱۱۵–اور صبر کرو کہ اللہ ان لوگو ں کا اجر ضائع نہیں کرتا جو حسن و خوبی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

۱۱۶–پھر کیوں نہ ایسا ہوا کہ جو قومیں تم سے پہلے گزر چکیں ان میں سے اہلِ خیر نکلتے جو زمین میں شر و فساد (پھیلانے) سے روکتے جز ان تھوڑے سے لوگوں کے جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچا لیا ورنہ ظالمانہ طرزِ عمل اختیار کرنے والے تو اسی سامان عیش کے پیچھے پڑے رہے جو انہیں دیا گیا تھا اور وہ مجرم بن کر رہے۔

۱۱۷–اور تمہارا رب ایسا نہیں ہے کہ وہ آبادیوں کو ناحق ہلاک کر دے جب کہ ان کے باشندے اصلاح کر نے والے ہوں۔

۱۱۸–اگر تمہارا رب چاہتا تو لوگوں کو ایک ہی امّت بنا دیتا مگر وہ اختلاف کرتے رہیں گے۔۔

۱۱۹–اس سے بچیں گے وہی لوگ جن پر تمہارا رب رحم فرمائے اور اسی لیے تو اس نے انہیں پیدا کیا ہے۔ اور تمہارے رب کی بات پوری ہو کر رہی کہ میں جہنم کو جن اور انسان سب سے بھر دوں گا۔۔

۱۲۰–اور ہم رسولوں کی جو سرگزشتیں تمہیں سناتے ہیں تو ان کے ذریعہ تمہارے دل کو مضبوطی عطاء کرتے ہیں۔ ان کے اندر تمہیں حق مل گیا اور مومنوں کو نصیحت اور یاد دہانی ہوئی۔

۱۲۱–جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان سے کہو کہ تم اپنی جگہ عمل کرو ہم اپنی جگہ عمل کرتے رہیں گے۔

۱۲۲–اور تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔

۱۲۳–آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ ہی کے لیے ہے اور سارے معاملات اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تو اسی کی تم عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو۔ تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے تمہارا رب بے خبر نہیں۔

٭٭٭

 

 

(۱۳) سورۂ الرَّعْد

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱– الف۔ لام۔ میم۔ را یہ آیتیں ہیں الکتاب کی۔ اور جو چیز تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ہے وہ بالکل حق ہے مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

۲– اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو جیسا کہ تم دیکھتے ہو بغیر ستونوں کے بلند کیا پھر وہ عرش پر بلند ہوا۔ اور اس نے سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا۔ ہر ایک ایک مقررہ وقت تک کے لیے چل رہا ہے وہی تمام کاموں کا انتظام فرما رہا ہے۔ وہ نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو۔

۳– اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا بنائے اور ہر طرح کے پھلوں کی دو دو قسمیں پیدا کیں وہ رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں۔

۴– اور (دیکھو) زمین میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے خطے ہیں انگور کے باغ ہیں کھیتیاں ہیں اور کھجور کے درخت ہیں اکہرے بھی اور جڑ سے ملے ہوئے بھی سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں مگر مزے میں ہم ایک کو دوسرے سے بہتر بناتے ہیں۔ یقیناً اس بات میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں

۵– اگر تم عجیب بات سننا چاہتے تو ان لوگوں کا یہ قول عجیب ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے تو ہمیں از سر نو پیدا کیا جائے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب سے کفر کیا اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے۔ اور یہی لوگ جہنم والے ہیں ہمیشہ اس میں رہنے والے !

۶– اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے برائی کے لیے تمہارے پاس جلدی مچا رہے ہیں۔ حالانکہ ان سے پہلے کتنی عبرتناک مثالیں گز ر چکی ہیں۔ بلا شبہ تمہارا رب لوگوں سے باوجود ان کی زیادتیوں کے در گز ر کرتا رہتا ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ تمہارا رب سزا دینے میں بڑا سخت ہے۔

۷– کافر کہتے ہیں اس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری؟ (اے پیغمبر!) تم تو بس خبر دار کرنے والے ہو اور ہر قوم کے لیے ایک رہنما ہوا ہے۔

۸– اللہ ہر عورت کے حمل کو جانتا ہے اور جو کچھ رحموں میں گھٹتا اور بڑھتا ہے اس کو بھی۔ ہر چیز کے لیے اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے۔

۹– وہ غیب اور حاضر سب کا جاننے والا ہے، سب سے بڑا، نہایت بلند مرتبہ۔

۱۰– تم میں سے کوئی شخص چپ کے سے بات کرے یا پکار کر کہے، رات (کی تاریکی) میں چھپا ہو یا دن (کی روشنی) میں چل پھر رہا ہو اس کے لیے سب یکساں ہے۔

۱۱– ایک کے بعد ایک آنے والے اس کے آگے اور پیچھے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی روش کو نہیں بدلتی اور جب اللہ کسی قوم پر مصیبت لانا چاہے تو پھر وہ ٹل نہیں سکتی۔ اور کوئی نہیں جو اس کے مقابل ان کا مد د گار ہو۔

۱۲– وہی ہے جو تمہیں بجلیاں دکھاتا ہے جو خوف بھی پیدا کرتی ہے اور امید بھی۔ اور وہی بوجھل بادلوں کو اٹھانا ہے۔

۱۳– اور بادلوں کی گرج اس کی حمد کی ساتھ پاکی بیان کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کی ہیبت سے لرزتے ہوئے۔ وہ کڑکتی ہوئی بجلیوں کو بھیجتا ہے اور ان کی زد میں جن کو چاہتا ہے لاتا ہے۔ مگر لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے رہتے ہیں۔ اور (حقیقت یہ ہے کہ) وہ زبردست قوت والا ہے۔

۱۴– اسی کو پکارنا بر حق ہے۔ جو لوگ اس کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کا کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ (ان کا پکارنا) ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے ہاتھ پانی کے آگے پھیلائے ہوئے ہو تاکہ اس کے منہ تک پہنچ جائے حالانکہ وہ کبھی اس تک پہنچنے والا نہیں اور کافروں کی پکار تو بالکل بے سود ہے۔

اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب خوشی سے یا مجبوری سے اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور ان کے سائے بھی صبح و شام۔

ان سے پوچھو آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے ؟ کہو اللہ۔ ان سے پوچھو پھر کیا تم نے اس کو چھوڑ کر دوسوں کو اپنا کارساز ٹھہرا لیا ہے جو خود اپنے لیے بھی نہ کسی نفع کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ نقصان کا؟ کہو کیا اندھا اور دیکھنے والا دونوں برابر ہیں ؟ یا تاریکیاں (اندھیرا) اور روشنی یکساں ہیں یا ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں نے اسی طرح پیدا کیا ہے جس طرح اس نے پیدا کیا ہے جس کی وجہ سے پیدا کرنے کا معاملہ ان پر مشتبہ ہو گیا؟ کہو اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہ یکتا ہے سب کو اپنے قابو میں رکھنے والا۔

۱۷– اس نے آسمان سے پانی برسایا تو وادیاں اپنی سمائی کے مطابق بہہ نکلیں۔ پھر سیلاب نے ابھرتے جھاگ کو سطح پر لایا اور اسی طرح کا جھاگ ان چیزوں کے اندر سے بھی ابھرتا ہے جن کو لوگ زیور یا کوئی اور چیز بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں۔ اس طرح اللہ حق اور باطل کی وضاحت فرماتا ہے۔ تو جو جھاگ ہے وہ رائگاں جاتا ہے اور جو چیز لوگوں کے لیے نفع بخش ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اس طرح اللہ مثالیں بیان فرماتا ہے۔

۱۸– جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت قبول کر لی ان کے لیے انجام کار کی بھلائی ہے اور جنہوں نے اس کی دعوت قبول نہیں کی اگر انہیں زمین کی ساری دولت حاصل ہو جائے اور اسی کے برابر مزید تو وہ فدیہ میں دینا چاہیں گے۔ ایسے لوگوں کو برے حساب سے سابقہ پیش آئے گا۔ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔ بہت برا ٹھکانا۔

۱۹– کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے حق ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو اندھا ہے ؟ ہوش میں تو دانشمند لوگ ہی آتے ہیں۔

۲۰– جو اللہ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اپنے قول و قرار کو توڑتے نہیں ہیں۔

۲۱– اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے انہیں وہ جوڑتے ہیں۔ اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور برے حساب کا اندیشہ رکھتے ہیں

۲۲– اور جنہوں نے اپنے رب کی رضا حاصل کرنے کے لیے صبر کیا، نماز قائم کی اور ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے کھلے اور چھپے خرچ کیا۔ اور برائی کو بھلائی سے دور کرتے رہے تو یہی لوگ ہیں جن کے لیے عاقبت کا گھر ہے۔

۲۳– ہمیشگی کے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بھی جو ان کے والدین ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے صالح ہوں گے۔ اور فرشتے ہر دروازہ سے ان کے پاس آئیں گے۔

۲۴– (اور کہیں گے) تم پر سلامتی ہو اس لیے کہ تم نے صبر کیا۔ تو کیا ہی اچھا ہے عاقبت کا گھر!

۲۵– اور جو لوگ اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے توڑ دیتے ہیں اور ان رشتوں کو کاٹ ڈالتے ہیں جن کو جوڑنے کا حکم اللہ نے دیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے بہت برا ٹھکانا۔

۲۶– اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے نپا تلا کر دیتا ہے۔ لوگ دنیا کی زندگی پر نازاں ہیں حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں بجز اس کے کہ تھوڑے سے فائدہ کا سامان ہے۔

۲۷– یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے کہتے ہیں کہ اس شخص پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری؟ کہو اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور اپنی طرف بڑھنے کی راہ اسے دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔

۲۸– جو ایمان لاتے ہیں اور جن کے دل اللہ کی یاد سے مطمئن ہوتے ہیں۔ سنو! اللہ کے ذ کر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔

۲۹– جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لیے مبارکباد ہے اور بہترین انجام۔

۳۰– اس طرح ہم نے تم کو ایک ایسی امت میں رسول بنا کر بھیجا ہے جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں تاکہ تم انہیں وہ بات سناؤ جو ہم نے تم پر ناز ل کی ہے۔  اس حال میں کہ وہ رحمٰن کا انکار کر رہے ہیں۔ کہو وہی میرا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

۳۱– اور اگر کوئی ایسا قرآن نازل ہوتا جس سے پہاڑ چلنے لگتے یا زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی یا مردے بولنے لگتے (تب بھی یہ ایمان نہ لاتے۔ اور نہ تمہارے بس میں ہے کہ ایسا کر دکھاؤ) بلکہ سارا اختیار اللہ ہی کو ہے۔ پھر کیا اہل ایمان یہ جان کر کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کو ہدایت دے دیتا (ان ہٹ دھرموں کے ایمان لانے سے) مایوس نہیں ہوئیے ؟ اور کافروں پر ان کی کر تو توں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہے گی یا ان کی آبادیوں کے قریب نازل ہوتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ ظہور میں آئے اللہ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

۳۲– تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے تو میں نے کافروں کو ڈھیل دی پھر ان کو پکڑ لیا تو دیکھو میری سزا کیسی رہی!

۳۳– پھر کیا وہ جو ہر شخص پر نگاہ رکھتا ہے کہ اس نے کیا کمائی کیا (وہ اس کو یونہی چھوڑ دے گا؟ اس حقیقت کو انہوں نے جھٹلایا) اور انہوں نے اللہ کے شریک ٹھہرائے۔ ان سے کہو ذرا ان کے نام تو لو۔ کیا تم اسے ایسی بات کی خبر دے رہے ہو جس کو وہ نہیں جانتا کہ زمین میں اس کا کوئی وجود ہے ؟ یا پھر تم محض سطحی باتیں کرتے ہو؟ واقعہ یہ ہے کہ کافروں کے لیے ان کی مکاریاں خوشنما بنا دی گئی ہیں اور انہیں راہ راست سے روک دیا گیا ہے۔  اور جس کو اللہ گمراہ کر دے اس کو کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔

۳۴– ان کے لیے دنیا کی زندگی میں عذاب ہے، اور آخرت کا عذاب تو کہیں زیادہ سخت ہو گا۔ کوئی نہیں جو انہیں اللہ (کے عذاب) سے بچا سکے۔

۳۵– متقیوں سے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کی چھاؤں بھی دائمی یہ انجام ہے ان لوگوں کا جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا۔ اور کافروں کا انجام آگ ہے۔

۳۶– جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی تھی وہ اس (کتاب) سے خوش ہیں جو تم پر اتاری گئی ہے۔ اور ان گروہوں میں ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض با توں سے انکار کر رہے ہیں۔ کہو مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی عبادت کروں اور اس کا شریک نہ ٹھہراؤں۔ اسی کی طرف میں بلاتا ہوں اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔

۳۷– اس طرح ہم نے اسے عربی فرمان کی شکل میں نازل کیا ہے اور اگر تم نے اس علم کے آ جانے کے بعد ان کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابل نہ تمہارا کوئی مد د گار ہو گا اور نہ کوئی بچانے والا۔

۳۸– اور یہ واقعہ ہے کہ ہم نے تم سے پہلے بھی رسول بھیجے تھے اور ان کو بیویوں اور اولاد والا بنایا تھا اور کسی پیغمبر کے بس میں نہ تھا کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی لا دکھاتا۔ ہر دور کے لیے ایک نوشتہ ہے۔

۳۹– اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے ام الکتاب (اصل کتاب) اسی کے پاس ہے۔

۴۰– اور ہم نے جس چیز کا ان سے وعدہ کر رکھا ہے اس کا کچھ حصہ ہم تمہیں دکھا دیں یا (اس سے پہلے ہی) تمہیں وفات دیدیں بہر حال تم پر ذمہ داری صرف پیغام پہنچا دینے کی ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔

۴۱– کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم اس سر زمین کی طرف اس کی سرحدوں کو گھٹاتے ہوئے بڑھ رہے ہیں۔ اللہ حکم نافذ کرتا ہے۔ کوئی نہیں جو اس کے حکم کو ٹال سکے اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔

۴۲– اور جو لوگ ان سے پہلے گز ر چکے ہیں انہوں نے بھی چالیں چلی تھیں مگر تمام تدبیریں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔ وہ ہر شخص کی کمائی کو جانتا ہے اور عنقریب ان کافروں کو معلوم ہو جائے گا کہ کس کے لیے عاقبت کا گھر ہے۔

۴۳– کافر کہتے ہیں کہ تم اس کے بھیجے ہوئے نہیں ہو۔ کہو میرے اور تمہارے درمان اللہ گواہی کے لیے کافی ہے۔ نیز وہ لوگ جو کتابِ الٰہی کا علم رکھتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

(۱۴) سورۂ اِبْرَاہِیم

 

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱–  الف۔ لام۔ را۔ یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے (اے پیغمبر!) تم پر نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آؤ اس کی راہ پر جو غالب بھی ہے اور خوبیوں والا بھی

۲–  اللہ کہ مالک ہے ان چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور ان چیزوں کا جو زمین میں ہیں۔ اور تباہی ہے کافروں کے لیے کہ انہیں سخت سزا بھگتنا ہو گی۔

۳–  جو آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ کے راستہ سے لوگوں کو روکتے ہیں اور اس میں ٹیڑھ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ پرلے درجہ کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

۴–  ہم نے جو رسول بھی بھیجا اس کی قوم کی زبان ہی میں (پیغام دیکر) بھیجا تاکہ وہ (اس پیغام کو) لوگوں پر اچھی طرح واضح کر دے۔ پھر اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ وہ غالب اور حکمت والا ہے۔

۵–  ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ اور انہیں اللہ کے یادگار دن یاد دلاؤ۔ اس میں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہے بڑی نشانیاں ہیں۔

۶–  اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ نے جو فضل تم پر کیا ہے اسے یاد رکھو جب اس نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی جو تمہیں بری طرح تکلیف دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔

۷–  اور جب تمہارے رب نے خبردار کیا تھا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں مزید دوں گا اور اگر نا شکری کرو گے تو (یاد رکھو) میری سزا بڑی سخت ہے

۸–  اور موسیٰ نے کہا کہ اگر تم اور وہ سب جو روئے زمین پر ہیں نا شکری کریں تو اللہ (کو کچھ پروا نہیں۔ وہ) بے نیاز اور خوبیوں والا ہے۔

۹–  کیا تمہیں ان لوگوں کی خبریں نہیں پہنچیں جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں ؟ قوم نوح، عاد، اور ثمود اور وہ قومیں جوان کے بعد ہوئیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لیکر آئے تھے لیکن انہوں نے اپنے منہ میں اپنے ہاتھ ٹھونس لیے اور کہا جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو اس سے ہمیں انکار ہے اور جس بات کی طرف تم بلاتے ہو اس میں ہمیں شک ہے جس نے ہمیں الجھن میں ڈال دیا ہے۔

۱۰–  ان کے رسولوں نے کہا کیا تمہیں اللہ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے ؟ وہ تمہیں بلاتا ہے تاکہ تمہارے گناہ بخش دے اور ایک مقررہ وقت تک مہلت دے انہوں نے کہا تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ تم چاہتے ہو کہ ہمیں ان سے روک دو جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں۔ اچھا تو لاؤ کوئی کھلا معجزہ۔

۱۱–  ان کے رسولوں نے کہا واقعی ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور یہ بات ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی معجزہ لا دکھائیں۔ ہاں اللہ کے حکم سے یہ بات ہو سکتی ہے اور ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

۱۲–  اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جبکہ اس نے ہماری راہیں ہم پر کھول دیں۔ ہم ان اذیتوں پر صبر کریں گے جو تم ہمیں دے رہے ہو۔ اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

۱۳–  اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال باہر کریں گے یا پھر تمہیں ہمارے مذہب میں لوٹ آنا ہو گا تو ان کے رب نے ان پر وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو ضرور ہلاک کریں گے۔

۱۴–  اور ان کے بعد تمہیں زمین میں بسائیں گے۔ یہ (صلہ) اس کے لیے ہے جو ڈرا میرے حضور کھڑے ہونے سے اور ڈرا میری تنبیہ سے۔

۱۵–  اور انہوں نے فیصلہ چاہا اور (فیصلہ اس طرح ہوا کہ) ہر سرکش ضدی نامراد ہوا۔

۱۶–  اس کے آگے جہنم ہے اور اسے پیپ لہو پلایا جائے گا۔

۱۷–  جسے وہ گھونٹ گھونٹ کر کے پئے گا مگر حلق سے آسانی کے ساتھ اُتار نہ سکے گا۔ موت ہر طرف سے اس پر آئے گی مگر وہ مر نہ سکے گا۔ اور آگے ایک سخت عذاب کا اسے سامنا کرنا ہو گا۔

۱۸–  جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے راکھ کہ آندھی کے دن اسے ہوا تیزی کے ساتھ لے اُڑے۔ جو کچھ انہوں نے کمایا اس سے کچھ بھی ان کو حاصل نہ ہو سکے گا۔ یہی ہے پر لے درجہ کی گمراہی۔

۱۹–  کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ نے آسمانو ں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کر دے اور ایک نئی مخلوق لے آئے۔

۲۰–  ایسا کرنا اللہ کے لیے کچھ دشوار نہیں۔

۲۱–  اور (ایسا ہو گا کہ) اللہ کے حضور سب حاضر ہوں گے اس وقت کمزور لوگ ان لوگوں سے جو بڑے بن کر رہے تھے کہیں گے ہم تو تمہارے تابع تھے۔ اب کیا تم ہم کو اللہ کے عذاب سے بچانے کے لیے کچھ کر سکتے ہو؟ وہ کہیں گے اگر اللہ نے ہم کو راہ دکھائی ہوتی تو ہم تم کو ضرور دکھاتے۔ اب ہمارے لیے یکساں ہے خواہ چیخ پکار کریں خواہ جھیل لیں۔ ہمارے لیے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔

۲۲–  اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان بولے گا اللہ نے تم سے وعدہ کیا تھا سچا وعدہ اور میں نے تم سے وعدہ کیا تھا تو وعدہ خلافی کی۔ میرا تم پر کوئی زور نہ تھا البتہ میں نے تمہیں بلایا اور تم نے میرا بلاوا قبول کر لیا۔ لہٰذا مجھے ملامت نہ کرو۔ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد کو پہنچ سکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو۔ اس سے پہلے تم نے جو مجھے شریک ٹھہرایا تھا تو میں اس سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں۔ ظالموں کے لیے تو درد ناک عذاب ہے۔

۲۳–  اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے وہ ایسے باغوں میں داخل کئے جائیں گے جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی۔ اس میں وہ اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ رہیں گے۔ وہاں ان کی دعائے ملاقات سلام ہو گی۔

۲۴–  کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ نے کس طرح کلمۂ طیبہ کی مثال بیان فرمائی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھا درخت جس کی جڑ جمی ہوئی اور شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی۔

۲۵–  وہ ہر وقت اپنے رب کے حکم سے پھل لاتا ہے۔ اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ ہوش میں آئیں۔

۲۶–  اور کلمۂ خبیثہ کی مثال ایک نکمے درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح ہی سے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے۔ اس کے لیے کوئی جماؤ نہیں۔

۲۷–  اللہ اہل ایمان کو مضبوط قول کے ذریعہ دنیا کی زندگی میں بھی مضبوطی عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی۔ اور غلط کار لوگوں کو اللہ گمراہ کر دیتا ہے اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

۲۸–  تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل ڈالا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں جا اتارا؟

۲۹–  (یعنی) جہنم جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

۳۰–  اور انہوں نے اللہ کے ہم سر بنائے تاکہ لوگوں کو اس کے راستہ سے بھٹکائیں۔ کہو مزے کر لو بالآخر تمہیں جانا دوزخ ہی میں ہے۔

۳۱–  میرے بندوں سے جو ایمان لائے ہیں کہہ دو نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کریں قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہو گی اور نہ دوستی کام آئے گی۔

۳۲–  اللہ ہی نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعہ تمہارے رزق کے لیے پھل پیدا کئے اور تمہارے لیے کشتی کو مسخر کیا کہ اس کے حکم سے سمندر میں چلے اور تمہارے لیے دریا مسخر کر دئیے۔

۳۳–  اور تمہارے لیے سورج اور چاند کو مسخر کر دیا کہ ایک طریقہ پر کاربند ہیں نیز رات اور دن کو بھی مسخر کر دیا۔

۳۴) اس نے تمہاری ہر طلب پوری کر دی اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی نا انصاف بڑا ہی نا شکرا ہے۔

۳۵–  اور (یاد کرو) جب ابراہیم نے دعا کی تھی کہ اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنا اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے بچا کہ بتوں کی ہو جا کرنے لگیں۔

۳۶–  اے میرے رب! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے تو جو میری پیروی کرے وہ میرا ہے اور جو میری نا فرمانی کرے تو تو بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۳۷–  اے ہمارے رب! میں نے اپنی اولاد میں سے بعض کو ایک ایسی وادی میں جہاں کاشت نہیں ہوتی تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے اے ہمارے رب! تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ لہٰذا تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے اور پھلوں سے ان کو رزق بہم پہنچا تاکہ وہ شکر گزار بنیں۔

۳۸–  اے ہمارے رب! تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ اور اللہ سے کوئی چیز بھی چھپی ہوئی نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔

۳۹–  شکر ہے اللہ کا جس نے مجھے بڑھاپے میں اسمٰعیل اور اسحاق عطا فرمائے یقیناً میرا رب دعائیں سننے والا ہے۔

۴۰–  اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد کو بھی۔ اے ہمارے رب! میری دعا قبول فرما۔

۴۱–  اے ہمارے رب! مجھے اور میرے والدین کو اور مومنوں کو اس دن بخش دے جس دن حساب قائم ہو گا۔

۴۲–  یہ ظالم جو کچھ کر رہے ہیں اس سے تم اللہ کو غافل نہ سمجھو وہ تو ان کو اس دن تک کے لیے مہلت دے رہا ہے جب آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔

۴۳–  سر اٹھائے ہوئے بھاگ رہے ہوں گے۔ نگاہیں ہیں کہ لوٹ کر آنے والی نہیں اور دل ہیں کہ اُڑے جاتے ہیں۔

۴۴–  لوگوں کو اس دن سے خبردار کر دو جبکہ عذاب ان کو آئے گا اس وقت ظالم کہیں گے اے ہمارے رب! ہمیں تھوڑی سی مدت کے لیے مہلت دیدے ہم تیری دعوت قبول کریں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے۔ کیا تم اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر نہیں کہتے تھے کہ ہمیں (دنیا سے) منتقل ہونا نہیں ہے۔

۴۵–  اور تم ان لوگوں کی بستیوں میں بس گئے تھے جنہوں نے اپنے ہی اوپر ظلم کیا تھا اور تم پر واضح ہوا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا تھا اور تمہارے لیے ہم نے مثالیں بھی بیان کر دی تھیں۔

۴۶–  اور انہوں نے طرح طرح کی چالیں چلیں اور اللہ کے پاس ان کی ہر چال کا جواب تھا اگرچہ ان کی چالیں ایسی تھیں کہ پہاڑ ٹل جائیں۔

۴۷–  پس تم یہ خیال نہ کرو کہ اللہ نے اپنے رسولوں سے جو وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا۔ اللہ غالب ہے اور سزا دینے والا ہے۔

۴۸–  وہ دن کہ جب یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب اللہ واحد و قہار (زبردست) کے حضور حاضر ہوں گے !

۴۹–  اور تم اس دن مجرموں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔

۵۰–  ان کے لباس تارکول کے ہوں گے اور چہروں پر آگ چھائی ہوئی ہو گی۔

۵۱–  یہ اس لیے ہو گا کہ اللہ ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ دے۔ بلا شبہ وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔

۵۲–  یہ ایک پیغام ہے تمام انسانوں کے لیے اور اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ لوگوں کو خبردار کر دیا جائے اور وہ جان لیں کہ وہی بس ایک خدا ہے اور جو سوجھ بوجھ رکھتے ہیں وہ یاد دہانی حاصل کریں۔

٭٭٭

 

 

(۱۵) سورۂ الحِجرْ

 

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے۔

 

۱–  الف۔ لام۔ را۔ یہ آیتیں ہیں الکتاب اور روش قرآن کی۔

۲–  وہ وقت آئے گا جب یہ کافر تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلم ہوتے !

۳–  انہیں چھوڑ دو کہ کھائیں پئیں م مزے کر لیں اور (جھوٹی) امید انہیں غفلت میں ڈالے رکھے۔ عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔

ہم نے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لیے ایک مقررہ نوشتہ رہا ہے۔

۵–  کوئی قوم نہ اپنے مقررہ وقت سے آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔

۶–  یہ لوگ کہتے ہیں اے وہ شخص جس پر نصیحت نازل کی گئی ہے تم یقیناً دیوانے ہو۔

۷–  اگر تم سچے ہو تو فرشتوں کو ہمارے سامنے لے کیوں نہیں آتے۔

۸–  ہم فرشتوں کو یونہی نہیں اُتارتے بلکہ فیصلہ کے ساتھ اُتارتے ہیں اور اس وقت لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی۔

۹–  بلا شبہ یہ یاد دہانی ہم ہی نے نازل کی ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

۱۰–  اور یہ واقعہ ہے کہ ہم نے تم سے پہلے گزری ہوئی امتوں میں رسول بھیجے تھے۔

۱۱–  لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کوئی رسول ان کے پاس آیا ہو اور انہوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو۔

۱۲–  اسی طرح ہم مجرموں کے دلوں میں یہ بات داخل کرتے ہیں۔

۱۳–  وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور گذشتہ قوموں کے واقعات گزر چکے۔

۱۴–  اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے جس پر یہ چڑھنے لگتے۔

۱۵–  تب بھی یہی کہتے کہ ہماری نظریں مار دی گئی ہیں بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے۔

۱۶–  اور ہم نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے ان کو خوشنما بنا دیا۔

۱۷–  نیز ہر شیطان مردود سے اس کو محفوظ کر دیا۔

۱۸–  اور جو چوری چھپے سُن گن لینا چاہے تو ایک روشن شہاب اس کا پیچھا کرتا ہے۔

۱۹–  اور زمین کو ہم نے پھیلایا، اس میں پہاڑ گاڑ دیئے اور اس میں ہر قسم کی چیزیں مناسب مقدار میں اُگائیں۔

۲۰–  اور اس میں تمہاری گزر بسر کا سامان مہیا کر دیا نیز ان کی گزر بسر کا بھی جن کو تم روزی نہیں دیتے۔ نہ ہوں مگر ہم اس کو ایک مقرر مقدار ہی میں اتارتے ہیں۔

۲۲–  اور ہم ہواؤں کو بار دار بنا کر چلاتے ہیں پھر آسمان (اوپر) سے پانی برساتے ہیں اور اس سے تمہیں سیراب کرتے ہیں ورنہ تم اس کا ذخیرہ کر کے نہیں رکھ سکتے تھے۔

۲۳–  اور یہ ہم ہی ہیں کہ زندگی اور موت دیتے ہیں اور ہم ہی سب کے وارث ہیں۔

۲۴–  ہم ان کو بھی جانتے ہیں جو تم سے پہلے ہو گزرے اور ان کو بھی جو بعد میں آنے والے ہیں۔

۲۵–  اور بے شک تمہارا رب ان سب کو اکٹھا کرے گا۔ وہ حکمت والا علم والا ہے۔

۲۶–  اور یہ واقعہ ہے کہ ہم نے انسان کو سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا۔

۲۷–  اور اس سے پہلے ہم جن کو آگ کی لو سے پیدا کر چکے تھے۔

۲۸–  اور جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔

۲۹–  تو جب میں اس کو ٹھیک ٹھیک بنا لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔

۳۰–  چنانچہ سب کے سب فرشتے سجدہ ریز ہو گئے

۳۱–  سوائے ابلیس کے کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کیا۔

۳۲–  پوچھا اے ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا۔

۳۳–  اس نے کہا مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک ایسے بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا۔

۳۴–  حکم ہوا نکل جا یہاں سے کہ تو مردود ہے۔

۳۵–  اور روز جز ا تک تجھ پر لعنت ہے۔

۳۶–  اس نے کہا تو مجھے اس دن تک مہلت دیدے جب لوگ اٹھائے جائیں گے۔

۳۷–  فرمایا تجھے مہلت دی گئی۔

۳۸–  اس دن تک جس کا وقت مقرر ہے۔

۳۹–  اس نے کہا میرے رب !چونکہ تو نے مجھے بہکایا ہے اس لیے میں زمین میں ان کے لیے دلفریبیاں پیدا کروں گا اور ان سب کو بہکاؤں گا۔

۴۰–  سوائے تیرے ان بندوں کے جن کو تو نے ان میں سے خاص کر لیا ہو۔

۴۱–  فرمایا: یہ سیدھی راہ ہے جو مجھ تک پہنچتی ہے۔

۴۲–  واقعی جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہ چلے گا۔ صرف ان بہکے ہوئے لوگوں ہی پر چلے گا جو تیری پیروی کریں۔

۴۳–  اور ان سب کے لیے جہنم کا وعدہ ہے۔

۴۴–  اس کے ساتھ دروازے ہیں۔ ہر دروازے کے لیے ان کا ایک حصہ مخصوص ہو گا۔

۴۵–  بلا شبہ متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔

۴۶–  داخل ہو جاؤ ان میں سلامتی کے ساتھ بے خوف ہو کر۔

۴۷–  ان کے سینوں (دلوں) میں جو کدورت ہو گی وہ ہم نکال دیں گے۔ وہ بھائی بھائی بن کر ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔

۴۸–  وہاں نہ تو انہیں کوئی تکان محسوس ہو گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے ہی جائیں گے۔

۴۹–  میرے بندوں کو آگاہ کر دو کہ میں بخشنے والا رحم فرمانے والا ہوں۔

۵۰–  اور یہ بھی کہ میرا عذاب بڑا دردناک عذاب ہے۔

۵۱–  اور انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا واقعہ سناؤ۔

۵۲–  جب وہ اس کے پاس آئے تو کہا سلام ہو آپ پر اس نے کہا ہم آپ لوگوں سے اندیشہ محسوس کرتے ہیں۔

۵۳–  انہوں نے کہا آپ اندیشہ نہ کریں۔ ہم آپ کو ایک ذی علم لڑکے کی بشارت دیتے ہیں۔

۵۴–  اس نے کہا کیا آپ مجھے اس بڑھاپے میں یہ بشارت دے رہے ہیں۔ تو یہ کیسی بشارت ہے ؟

۵۵–  انہوں نے کہا ہم نے آپ کو سچائی کے ساتھ بشارت دی ہے تو آپ مایوس نہ ہوں۔

۵۶–  اس نے کہا اپنے رب کی رحمت سے تو گمراہوں کے سوا کون مایوس ہو سکتا ہے۔

۵۷–  اس نے پوچھا اے فرستادو! آپ لوگ کس مہم پر آئے ہیں۔

۵۸–  انہوں نے کہا ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

۵۹–  مگر لوط کے گھر والے۔ ہم ان سب کو بچا لیں گے۔

۶۰–  سوائے اس کی بیوی کے ہم نے ٹھہرا دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہو گی۔

۶۱–  پھر جب یہ فرستادے لوط کے گھر والوں کے پاس پہنچے۔

۶۲–  تواس نے کہا آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔

۶۳–  انہوں نے کہا نہیں بلکہ ہم لوگ آپ کے پاس وہی چیز لیکر آئے ہیں جس کے بارے میں یہ لوگ شک کر رہے تھے۔

۶۴–  ہم آپ کے پاس حق لیکر آئے ہیں اور ہم اپنے بیان میں بالکل سچے ہیں۔

۶۵–  لہٰذا آپ کچھ رات رہے اپنے گھر والوں کو لیکر نکل جائیں اور آپ ان کے پیچھے پیچھے چلیں اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ اور چلے جاؤ جدھر جانے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔

۶۶–  اور ہم نے اس فیصلہ سے اس کو باخبر کیا کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔

۶۷–  اور شہر کے لوگ خوش خوش آ پہنچے۔

۶۸–  اس نے کہا یہ میرے مہمان ہیں۔ تو تم لوگ میری فضیحت نہ کرو۔

۶۹–  اللہ سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو۔

۷۰–  انہوں نے کہا کیا ہم نے آپ کو دوسری قوموں کے لوگوں (کو ٹھہرانے) سے منع نہیں کیا تھا؟

۷۱–  اس نے کہا یہ میری بیٹیاں موجود ہیں اگر تمہیں (جائز طریقہ اختیار) کرنا ہے۔

۷۲–  تمہاری زندگی کی قسم یہ لوگ اپنی بدمستیوں میں اندھے ہو گئے ہیں۔

۷۳–  بالآخر صبح ہوتے ہی ایک ہولناک آواز نے انہیں آ لیا۔

۷۴–  اور ہم نے اس بستی کو تل پٹ کر کے رکھ دیا، اور ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے۔

۷۵–  بلا شبہ اس (واقعہ) میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو فراست سے کام لیتے ہیں۔

۷۶–  اور یہ (اجڑی ہوئی) بستی شاہراہِ عام پر واقع ہے۔

۷۷–  یقیناً اس میں ایمان رکھنے والوں کے لیے بڑی نشانی ہے۔

۷۸–  اور (دیکھو) “ایکہ والے” بڑے ظالم تھے۔

۷۹–  تو ہم نے ان کو بھی سزا دی۔ اور یہ دونوں ہی بستیاں کھلی شاہراہ پر واقع ہیں۔

۸۰–  اور”حجر” والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔

۸۱–  ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دکھلائیں مگر وہ روگردانی ہی کرتے رہے۔

۸۲–  وہ پہاڑوں کو تراش کر امن و چین کے ساتھ گھر بناتے تھے۔

۸۳–  پھر ایسا ہوا کہ (ایک دن) ان کو صبح ہوتے ہی ہولناک آواز نے آ لیا۔

۸۴–  اور جو کچھ انہوں نے کمایا تھا وہ ان کے کچھ کام نہ آیا۔

۸۵–  ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے حق کی بنیاد ہی پر پیدا کیا ہے اور قیامت کی گھڑی یقیناً آنے والی ہے لہٰذا خوبصورتی کے ساتھ درگزر کرو۔

۸۶–  یقیناً تمہارا رب بڑا ہی پیدا کرنے والا علم والا ہے۔

۸۷–  ہم نے تمہیں سات دہرائی جانے والی آیتیں اور قرآن عظیم عطا کیا ہے۔

۸۸–  تم اس سامانِ دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو جو ہم نے ان کے مختلف گروہوں کو دے رکھا ہے اور نہ ان کی حالت پر غم کھاؤ۔ اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکا دو۔

۸۹–  اور کہو میں تو کھلا خبردار کرنے والا ہوں۔

۹۰–  ہم نے (یہ کتاب اسی طرح اتاری ہے) جس طرح حصے بخرے کرنے والوں پر اتاری تھی۔

۹۱–  جنہوں نے (اپنے) قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔

۹۲–  تو تمہارے رب کی قسم ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے۔

۹۳–  ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے ہیں۔

۹۴–  تو جو کچھ تمہیں حکم دیا جا رہا ہے اسے علانیہ سنا دو اور مشرکوں کی پرواہ نہ کرو۔

۹۵–  ان مذاق اڑانے والوں کے مقابلہ میں ہم تمہارے لیے کافی ہیں۔

۹۶–  جنہوں نے اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بنا رکھے ہیں۔ عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔

۹۷–  ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ کہتے ہیں ان سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے۔

۹۸–  تو چاہئے کہ اپنے رب کی پاکی بیان کرو، اس کی حمد کے ساتھ اور سجدہ گزار بنو۔

۹۹–  اور اپنے رب کی عبادت میں لگے رہو یہاں تک کہ وہ گھڑی آ جائے جس کا آنا یقینی ہے۔

٭٭٭

 

 

(۱۶) سورۂ اَلنَّحْل

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱–  آ گیا اللہ کا حکم اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ۔ وہ پاک اور بلند ہے اس سے جس کو یہ اس کا شکرے ٹھہراتے ہیں۔

۲–  وہ فرشتوں کو روح کے ساتھ اپنے حکم سے اپنے جن بندوں پر چاہتا ہے نازل فرماتا ہے کہ لوگوں کو خبردار کرو کہ میرے سوا کوئی الٰہ (خدا۔ معبود) نہیں ہے لہٰذا مجھ سے ڈرو۔

۳–  اس نے آسمانوں اور زمینوں کو حق کی بنیاد پر پیدا کیا ہے۔ وہ برتر ہے اس سے جس کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔

۴–  اس نے انسان کو پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا پھر دیکھو وہ صریح جھگڑالو بن گیا۔

۵–  اس نے تمہارے لیے چوپائے پیدا کئے جن میں تمہارے لیے گرم پوشاک بھی ہے اور دوسرے فائدے بھی نیز ان سے تم غذا بھی حاصل کرتے ہو۔

۶–  اور ان میں تمہارے لیے رونق ہے جب شام کو انہیں واپس لاتے ہو اور جب صبح کو چرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہو۔

۷–  وہ تمہارے بوجھ ایسے مقامات تک لے جاتے ہیں جہاں تم سخت مشقت کے بغیر پہنچ نہیں سکتے تھے۔ بلاشبہ تمہارا رب بڑی شفقت والا رحمت والا ہے۔

۸–  اس نے گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ تمہارے لیے رونق بنیں۔ اور وہ ایسی چیزیں بھی پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں۔

۹–  اور اللہ تک سیدھی راہ پہنچتی ہے اور ایسی بھی راہیں ہیں جو ٹیڑھی ہیں۔ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔

۱۰–  وہی ہے جس نے آسمان (اوپر) سے پانی برسایا جو تمہارے پینے کے بھی کام آتا ہے اور اس سے نباتات بھی اگتی ہیں جن میں تم (مویشیوں کو) چراتے ہو۔

۱۱–  وہ اس سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور، انگور اور ہر قسم کے پھل پیدا کرتا ہے۔ یقیناً اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔

۱۲–  اس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کر رکھا ہے۔ اور تارے بھی اس کے حکم سے مسخر ہیں۔ اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

۱۳–  اور زمین میں بھی جو رنگ برنگ کی چیزیں پیدا کیں اس میں بھی ان لوگوں کے لیے بڑی نشانی ہے جو یاد دہانی حاصل کرنے والے ہیں۔

۱۴–  وہی ہے جس نے سمندر کو مسخر کر دیا تاکہ تم اس سے تازہ گوشت (نکال کر) کھاؤ اس سے زیور نکالو جس کو تم پہنتے ہو۔ تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں۔ یہ اس لیے ہے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکر گزار بنو۔

۱۵–  اور اس نے زمین میں پہاڑ قائم کئے کہ وہ تم کو لیکر ڈگمگانے نہ لگے۔ اس نے دریا جاری کئے اور راستے نکال دیئے تاکہ تم راہ پاؤ۔

۱۶–  اور اس نے دوسری علامتیں بھی رکھیں اور ستاروں سے بھی لوگ راہ پاتے ہیں۔

۱۷–  پھر کیا جو پیدا کرتا ہے وہ ان کی طرح ہے جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے ؟ کیا تم (اتنی بات بھی) نہیں سمجھتے۔

۱۸–  اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے۔ بلا شبہ اللہ بڑا بخشنے والا بڑی رحمت والا ہے۔

۱۹–  اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو۔

۲۰–  اور یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن کو پکارتے ہیں وہ کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ خود مخلوق ہیں۔

۲۱–  وہ مردہ ہیں نہ کہ زندہ اور انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔

۲۲–  تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے۔ مگر جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل انکار پر مصر ہیں اور وہ گھمنڈ میں پڑ گئے ہیں۔

۲۳–  یقیناً اللہ جانتا ہے جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں۔ وہ تکبر کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔

۲۴–  اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے تو کہتے ہیں گزرے ہوئے لوگوں کے فسانے۔

۲۵–  تاکہ و ہ قیامت کے دن اپنے بوجھ بھی پورے پورے اٹھائیں اور ان لوگوں کے بوجھ کا بھی ایک حصہ جنہیں یہ علم کے بغیر گمراہ کر رہے ہیں۔ تو دیکھو کیا ہی برا بوجھ ہے جو یہ اٹھائیں گے !

۲۶–  ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی چالیں چلی تھیں مگر اللہ نے ان کی عمارت بنیاد سے اکھاڑ دی تو چھت اوپر سے ان پر آ گری۔ اور عذاب ان پر اس راہ سے آیا جس کا انہیں گمان بھی نہ تھا۔

۲۷–  پھر قیامت کے دن وہ انہیں رسوا کرے گا اور پوچھے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے بارے میں تم لڑتے تھے ؟ (اس وقت) وہ لوگ جن کو علم عطا ہوا تھا پکار اٹھیں گے کہ آج رسوائی اور خرابی ہے کافروں کے لیے۔

۲۸–  ان کے لیے جنہیں فرشتے اس حال میں وفات دیتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر خود ظلم کر رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت وہ عاجزی کرنے لگ جاتے ہیں کہ ہم تو کوئی برائی نہیں کر رہے تھے۔ کیسے نہیں تم جو کچھ کر رہے تھے اللہ اس سے اچھی طرح واقف ہے

۲۹–  داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں۔ اسی میں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔ تو دیکھو کیا ہی برا ٹھکانا ہے تکبر کرنے والوں کا!

۳۰–  اور جب اللہ سے ڈرنے والوں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا چیز اتاری ہے تو کہتے ہیں بہترین چیز اتاری ہے۔ جن لوگوں نے اس دنیا میں اچھائی کے کام کئے ان کے لیے اچھائی ہی ہے۔ اور آخرت کا گھر تو یقیناً بہتر ہے اور کیا ہی خوب ہے متقیوں کا گھر!

۳۱–  ہمیشگی کے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے۔ ان کے نیچے نہریں رواں ہوں گی۔ وہاں ان کے لیے وہ سب کچھ ہو گا جو وہ چاہیں گے۔ اس طرح اللہ جزا دے گا متقیوں کو۔

۳۲–  جن کو فرشتے پاکیزگی کی حالت میں وفات دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں سلام ہو تم پر۔ داخل ہو جاؤ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے۔

۳۳–  یہ لوگ اس کے سوا کس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آ جائیں۔ یا تمہارے رب کا حکم (فیصلہ) آ جائے۔ ایسا ہی ان لوگوں نے بھی کیا تھا جو ان سے پہلے گزر چکے۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا تھا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے تھے۔

۳۴–  تو ان کے کرتوتوں کی سزا ان کو مل کر رہی اور جس چیز کا وہ مذاق اڑاتے تھے اسی نے ان کو لپیٹ میں لے لیا۔

۳۵–  مشرکین کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی کی پرستش نہ کرتے نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم اس کے (حکم کے) بغیر کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ ایسا ہی رویہ ان لوگوں نے بھی اختیار کیا تھا جو ان سے پہلے گزر چکے۔ تو کیا رسولوں پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے علاوہ کوئی اور ذمہ داری ہے ؟

۳۶–  ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا (اس ہدایت کے ساتھ) کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔ پھر بعض کو اس نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی مسلط ہوئی تو زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔

۳۷–  اگر تم ان کی ہدایت کے شدید خواہشمند ہو تو اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جن کو وہ گمراہ کر دیتا ہے۔ اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہو سکتا۔

۳۸–  اور یہ اللہ کی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ جو مر جاتا ہے اسے اللہ نہیں اٹھائے گا۔ کیوں نہیں یہ تو ایک لازمی وعدہ ہے جو اس کے ذمہ ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

۳۹–  اس لیے کہ یہ جس چیز میں اختلاف کر رہے ہیں اس کو وہ کھول دے اور کافروں کو معلوم ہو جائے کہ وہ جھوٹے تھے۔

۴۰–  جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو ہمیں صرف یہی کہنا ہوتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے۔

۴۱–  جن لوگوں نے بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوا اللہ کی راہ میں ہجرت کی ہم ان کو دنیا میں ضرور اچھا ٹھکانا دیں گے اور آخرت کا اجر تو کہیں بڑھ کر ہے۔ اگر وہ جان لیتے۔

۴۲–  جنہوں نے صبر کیا اور جو اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

۴۳–  ہم نے تم سے پہلے بھی آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن کی طرف ہم وحی کرتے رہے۔ اگر تم نہیں جانتے تو “اہل ذکر” (جن پر اس سے پہلے ذکر نازل ہوا تھا) پوچھ لو۔

۴۴–  ان (رسولوں) کو روشن نشانیوں اور کتابوں کے ساتھ بھیجا تھا۔ اور (اے پیغمبر) تم پر بھی ہم نے یہ ذکر نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں پر وہ چیز واضح کر دو جو ان کی طرف بھیجی گئی ہے اور تاکہ وہ غور و فکر کریں۔

۴۵–  پھر کیا یہ لوگ جو بری چالیں چل رہے ہیں اس بات سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسادے یا ایسی راہ سے ان پر عذاب آئے جس کا انہیں گمان بھی نہ ہو۔

۴۶–  یا ایسے وقت انہیں پکڑ لے کہ وہ چل پھر رہے ہوں۔ یہ لوگ اس کی گرفت سے ہرگز بچ نہیں سکتے۔

۴۷–  یا ایسے وقت انہیں پکڑ لے کہ وہ خوف کی حالت میں ہوں۔ فی الواقع تمہارا رب بڑی شفقت والا رحمت والا ہے۔

۴۸–  کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ اللہ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے اس کا سایہ کس طرح اللہ کے آگے سجدہ کرتے ہوئے دہنے اور بائیں گرتا ہے۔ سب اس کے آگے پست ہیں۔

۴۹–  آسمانوں اور زمین میں جتنے جاندار ہیں سب اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں۔ اور فرشتے بھی۔ وہ سر کشی نہیں کرتے۔

۵۰–  اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے ہیں اور جو حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔

۵۱–  اور اللہ نے فرمایا دو خدا نہ بناؤ۔ خدا تو بس ایک ہی ہے لہٰذا مجھ ہی سے ڈرو۔

۵۲–  اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اسی کے لیے ہے لازمی اطاعت۔ پھر کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اوروں سے ڈرو گے ؟

۵۳–  تم کو جو نعمت بھی ملی ہے اللہ ہی کی طرف سے ہے پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے گڑگڑانے لگتے ہو۔

۵۴–  پھر جب وہ تمہاری تکلیف کو دور کر دیتا ہے تو تم میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔

۵۵–  تاکہ وہ ہماری دی ہوئی نعمت کی ناشکری کریں۔ تو فائدہ اٹھا لو۔ عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔

۵۶–  اور جو چیزیں ہم نے انہیں دی ہیں ان میں سے ایک حصہ وہ ان (معبودوں) کے لیے مقرر کرتے ہیں جن کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں ہے۔

اللہ کی قسم! تم سے ان من گھڑت باتوں کے بارے میں ضرور باز پرس ہو گی۔

۵۷–  یہ اللہ کے لیے بیٹیاں ٹھہراتے ہیں۔ پاک ہے وہ۔ اور ان کے لیے وہ جو وہ چاہیں !

۵۸–  جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ گھٹا گھٹا رہنے لگتا ہے۔

۵۹–  وہ اس خوشخبری کو برا خیال کر کے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے کہ ذلت کے ساتھ رکھ لے یا مٹی میں اسے دبا دے۔ دیکھو کیسا برا فیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں !

۶۰–  بری مثال ان لوگوں کے لیے ہے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور اللہ کے لیے تو اعلیٰ صفتیں ہیں۔ وہ غالب ہے حکمت والا۔

۶۱–  اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم پر (فوراً) پکڑتا تو زمین پر کسی جاندار کو نہ چھوڑتا۔ لیکن وہ انہیں ایک وقت مقرر تک مہلت دیتا ہے۔ پھر جب ان کا وقت مقرر آ جاتا ہے تو نہ ایک گھڑی پیچھے رہ سکتے ہیں اور نہ ایک گھڑی آگے۔

۶۲–  وہ اللہ کے لیے وہ چیزیں ٹھہراتے ہیں جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں اور ان کی زبانیں جھوٹا دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کے لیے بھلائی ہی بھلائی ہے۔ ان کے لیے تو لازماً آگ ہے۔ وہ اسی میں چھوڑ دیئے جائیں گے۔

۶۳–  اللہ کی قسم! تم سے پہلے بھی ہم نے کتنی ہی امتوں کی طرف رسول بھیجے تھے تو شیطان نے لوگوں کو ان کے کرتوت خوشنما کر دکھائے۔ اور آج وہی ان کا رفیق ہے۔ ان لوگوں کے لیے تو دردناک عذاب ہے۔

۶۴–  ہم نے یہ کتاب تم پر اسی لیے اتاری ہے کہ جن باتوں میں یہ اختلاف کر رہے ہیں ان کی حقیقت ان پر واضح کر دو۔ اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں۔

۶۵–  اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور اس سے زمین کو جو مردہ ہو گئی تھی زندہ کر دیا۔ بلا شبہ اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں۔

۶۶–  اور تمہارے لیے چوپایوں میں بھی سبق موجود ہے۔ ہم ان کے پیٹ سے فضلہ اور خون کے درمیان سے خالص دودھ تمہیں پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہوتا ہے۔

۶۷–  اور کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں سے تم نشہ آور چیز بھی بنا لیتے ہو اور اچھا رزق بھی حاصل کرتے ہو بلاشبہ اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

۶۸–  اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی پر الہام کیا کہ پہاڑوں میں، درختوں میں اور چھتوں میں جن کو لوگ بلند کرتے ہیں چھتے بنا۔

۶۹–  پھر ہر طرح کے پھلوں کا رس چوس اور اپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہوں پر چل۔ اس کے پیٹ سے مختلف رنگتوں کا ایک مشروب نکلتا ہے۔ جن میں لوگوں کے لیے شفاء ہے۔ یقیناً اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔

۷۰–  اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا پھر وہی تم کو وفات دیتا ہے۔ اور تم میں سے کسی کو بدترین عمر کو پہنچا دیا جاتا ہے کہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ بلاشبہ اللہ ہی سب کچھ جانے والا اور بڑی قدرت والا ہے۔

۷۱–  اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں برتری دی ہے تو جن کو برتری دی ہے وہ اپنا رزق اپنے غلاموں کی طرف پھیرنے والے نہیں کہ وہ اس میں برابر (کے حصہ دار) ہو جائیں۔ پھر کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں ؟

۷۲–  اللہ نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں بنائیں۔ اور تمہاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے پیدا کئے اور تمہیں پاکیزہ رزق عطا کیا۔ پھر کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور اللہ کے احسان کو نہیں مانتے ؟

۷۳–  اور اللہ کو چھوڑ کر ان کی پرستش کرتے ہیں جو اس بات کا کوئی اختیار نہیں رکھتے کہ انہیں آسمانوں اور زمین سے رزق دیں۔ یہ بات ہرگز ان کے بس میں نہیں ہے۔

۷۴–  تو (دیکھو) اللہ کے لیے مثالیں نہ گڑھو۔ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔

۷۵–  اللہ ایک مثال بیان فرماتا ہے۔ ایک غلام ہے (دوسرے کا) مملوک جو کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ اور دوسرا شخص وہ جس کو ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق دیا ہے اور اس میں سے وہ پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ دونوں یکساں ہیں ؟ حمد اللہ ہی کے لیے ہے مگر اکثر لوگ انتے نہیں ہیں۔

۷۶–  اور اللہ (ایک اور–  مثال بیان فرماتا ہے۔ دو آدمی ہیں جن میں سے ایک گونگا ہے۔ کسی چیز کی قدرت نہیں رکھتا۔ اپنے آقا پر وہ ایک بوجھ ہے جہاں کہیں اسے بھیجے کوئی بھلا کام اس سے بن نہ آئے۔ کیا ایسا شخص اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو عدل کا حکم دیتا ہے اور (خود) راہ راست پر ہے۔

۷۷–  اور آسمانوں اور زمین کی چھپی باتوں کا علم اللہ ہی کو ہے۔ اور قیامت کا معاملہ تو اسی طرح پیش آئے گا جس طرح کہ آنکھ کا جھپکنا بلکہ اس سے بھی زیادہ جلد۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۷۸–  اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور اس نے تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر گزار بنو۔

۷۹–  کیا وہ پرندوں کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح آسمان کی فضا میں مسخر ہیں۔ اللہ ہی ان کو تھامے ہوئے ہے۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔

۸۰–  اور اللہ نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو سکونت کی جگہ بنایا اور تمہارے لیے چوپایوں کی کھالوں سے گھر بنا دئے جنہیں تم سفر اور قیام کے موقع پر نہایت ہلکا پاتے ہو۔ اور ان کے اون، روؤں اور بالوں سے تمہارے لیے (طرح طرح کا) سامان اور مفید چیزیں بنا دیں کہ ایک خاص وقت تک کام آئیں۔

۸۱–  اور اللہ نے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں سے تمہارے لیے سائے بنائے اور پہاڑوں میں پناہ گاہیں بنائیں اور ایسے لباس جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں نیز ایسی پوشاکیں جو تمہاری جنگوں میں تم کو محفوظ رکھتی ہیں اس طرح وہ تم پر اپنی نعمت پوری کرتا ہے تاکہ تم فرمانبردار بنو۔

۸۲–  اس کے بعد بھی اگر یہ منہ موڑتے ہیں تو تم پر صرف صاف صاف پیغام پہنچا دینے ہی کی ذمہ داری ہے۔

۸۳–  یہ اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے ہیں پھر ان سے انکار کرتے ہیں اور ان میں اکثر نا شکرے ہیں۔

۸۴–  اور جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے پھر کافروں کو نہ (عذر پیش کرنے کی) اجازت دی جائے گی اور نہ ان سے توبہ کی فرمائش کی جائے گی۔

۸۵–  اور جب ظالم عذاب کو دیکھ لیں گے تو پھر نہ ان کا عذاب ہلکا کر دیا جائے گا اور نہ انہیں مہلت ہی دی جائے گی۔

۸۶–  اور وہ لوگ جنہوں نے (اللہ کے) شریک ٹھہرائے تھے جب اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو دیکھیں گے تو پکار اٹھیں گے۔ اے ہمارے رب! یہ ہیں ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریک جن کو ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے۔ اس پر وہ ان کی بات ان کے منہ پر دے ماریں گے کہ تم جھوٹے ہو۔

۸۷–  اس دن وہ اللہ کے آگے سپر ڈال دیں گے۔ اور جو جھوٹ وہ گھڑتے رہے ہیں وہ سب غائب ہو جائے گا۔

۸۸–  جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکتے رہے ہم ان کے عذاب پر اور عذاب کا اضافہ کریں گے اس فساد (بگاڑ) کی پاداش میں جو وہ پیدا کرتے رہے۔

۸۹–  اور جس دن ہم ہر امت میں ایک گواہ ان ہی میں سے ان کے مقابل اٹھا کھڑا کریں گے اور تم کو ان لوگوں پر گواہی دینے کے لیے لائیں گے۔ اور (ان پر حجت قائم کرنے ہی کے لیے) یہ کتاب ہم نے تم پر نازل کی ہے جو ہر چیز کو صاف صاف بیان کرنے والی ہے اور ہدایت و رحمت اور بشارت ہے ان لوگوں کے لیے جو مسلم (فرمانبردار) بن جائیں۔

۹۰–  اللہ حکم دیتا ہے عدل کا، بھلائی کا اور قرابتداروں کو دینے کا اور روکتا ہے بے حیائی، برائی اور ظلم سے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد دہانی حاصل کرو۔

۹۱–  اور اللہ کے عہد کو جب کہ تم نے باندھا ہو پورا کرو اور قسموں کو پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہو۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

۹۲–  اور اس عورت کی مانند نہ ہو جاؤ جس نے بڑی محنت سے سوت کاتا پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ تم اپنی قسموں کو باہم خیانت کا ذریعہ بناتے ہو اس بنا پر کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے بڑھ کر (طاقتور) ہے۔ اللہ اس کے ذریعہ تمہاری آزمائش کرتا ہے۔ وہ قیامت کے دن تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر ضرور کھول دے گا۔

۹۳–  اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور تم جو کچھ کر رہے ہے اس کے بارے میں تم سے ضرور باز پرس ہو گی۔

۹۴–  اور اپنی قسموں کو آپس میں خیانت کا ذریعہ نہ بناؤ کہ کوئی قدم جمنے کے بعد اکھڑ جائے اور اللہ کی راہ سے روکنے کی پاداش میں تمہیں برے نتیجہ کا مزا چکھنا پڑے اور تم بڑے عذاب کے مستحق ہو جاؤ۔

۹۵–  اللہ کے عہد کو تھوڑی قیمت پر نہ بیچو۔ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔

۹۶–  جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔ اور جن لوگوں نے صبر سے کام لیا ان کو ہم ان کے بہترین اعمال کے مطابق جزا دیں گے۔

۹۷–  جو کوئی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور ان کا اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق ان کو عطا کریں گے۔

۹۸–  بس جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔

۹۹–  اس کا زور ان لوگوں پر نہیں چلتا جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

۱۰۰–  اس کا زور تو ان ہی پر چلتا ہے جو اس کو اپنا رفیق بناتے ہیں اور جو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں۔

۱۰۱–  اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرتے ہیں ___اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے اس چیز کو جو وہ نازل کرتا ہے ___تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم تو اپنی طرف سے گھڑ لیا کرتے ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں (کہ حقیقت کیا ہے)۔

۱۰۲–  کہو اس کو روح القدس نے تمہارے رب کی طرف سے حق کے ساتھ نازل کیا ہے تاکہ وہ اہلِ ایمان کو مضبوطی عطا کرے اور ہدایت و بشارت ہو اسلام لانے والوں کے لیے۔

۱۰۳–  ہمیں معلوم ہے کہ کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا ہے۔ حالانکہ اس آدمی کی زبان جس کی طرف یہ منسوب کر رہے ہیں عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے۔

۱۰۴–  دراصل جو لوگ اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اللہ ان کو راہ نہیں دکھاتا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

۱۰۵–  جھوٹ تو وہی لوگ گھڑتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ وہی ہیں سر تا سر جھوٹے۔

۱۰۶–  جس کسی نے اللہ پر ایمان لانے کے بعد اس سے کفر کیا سوائے اس صورت کے کہ اسے مجبور کر دیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو لیکن جس نے کفر کے لیے سینہ کھول دیا تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔

۱۰۷–  یہ اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں پسند کر لیا اور اللہ کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

۱۰۸–  یہی لوگ ہیں جن کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مہر کر دی اور یہی لوگ ہیں جو غافل ہیں۔

۱۰۹–  لازماً یہ لوگ آخرت میں تباہ حال ہوں گے۔

۱۱۰–  البتہ جن لوگوں نے آزمائشوں میں پڑنے کے بعد ہجرت کی، جہاد کیا اور صبر سے کام لیا تو ان (اعمال) کے بعد یقیناً تمہارا رب ان کے لیے بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۱۱۱–  اور وہ دن کہ ہر شخص اپنی مدافعت میں جھگڑتا ہوا حاضر ہو گا۔ اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان کے ساتھ ذرا بھی نا انصافی نہیں کی جائے گی۔

۱۱۲–  اللہ ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو امن و اطمینان کی حالت میں تھی۔ ہر طرف سے اس کو بہ فراغت رزق پہنچ رہا تھا لیکن اس نے اللہ کی نعمتوں کی نا شکری کی تو اللہ نے ان کے (اس بستی والوں کے) کرتوتوں کی وجہ سے ان کو بھوک اور خوف کے طاری ہو جانے کا مزا چکھایا۔

۱۱۳–  اور ان کے پاس ان ہی میں سے ایک رسول آیا مگر انہوں نے اسے جھٹلایا۔ بالآخر عذاب نے انہیں آ لیا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے۔

۱۱۴–  پس اللہ نے جو حلال اور پاکیزہ رزق تم کو دیا ہے اس میں سے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی عبادت کرتے ہو۔

۱۱۵–  اس نے تو تم پر صرف مردار، خون، سور کا گوشت اور وہ (ذبحہ) حرام ٹھہرایا ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ پھر جو کوئی مجبور ہو جائے اور نہ تو اس کا خواہشمند ہو اور نہ حد (ضرورت) سے تجاوز کرنے والا تو یقیناً اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۱۱۶–  اور تمہاری زبانیں جو جھوٹے حکم لگاتی ہیں اس کی بنا پر یہ نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام کہ اللہ کی طرف جھوٹ بات منسوب کرنے لگو۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ ہرگز فلاح نہیں پائیں گے۔

۱۱۷–  یہ تھوڑا سا عیش ہے پھر ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

۱۱۸–  اور یہود پر ہم نے وہ چیزیں حرام کر دی تھیں جو ہم اس سے پہلے تم سے بیان کر چکے ہیں۔ ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے رہے۔

۱۱۹–  البتہ تمہارا رب ان لوگوں کے لیے جنہوں نے جہالت کی وجہ سے برا عمل کیا پھر توبہ کر کے اصلاح کر لی تو یقیناً تمہارا رب اس کے بعد (ان کے لیے) بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۱۲۰–  یقیناً ابراہیم ایک مثالی شخصیت تھے۔ اللہ کے اطاعت گزار ا ور اسی کے ہو کر رہنے والے۔ وہ کبھی مشرک نہیں رہے۔

۱۲۱–  اس کی نعمتوں کے وہ شکر گزار تھے۔ اس نے ان کو چن لیا اور سیدھی راہ کی طرف ان کی رہنمائی کی۔

۱۲۲–  ہم نے ان کو دنیا میں بھی بھلائی عطا کی اور آخرت میں بھی وہ صالحین میں سے ہوں گے۔

۱۲۳–  پھر ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہ ابراہیم کے طریقہ پر چلو جوراست رو تھے اور ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھے۔

۱۲۴–  سبت کی پابندی ان ہی لوگوں پر عائد کی گئی تھی جنہوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا تھا۔ اور یقیناً تمہارا رب قیامت کے دن ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ فرما دے گا جن میں یہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔

۱۲۵–  اپنے رب کے راستہ کی طرف دعوت دو حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اور ان کے ساتھ بحث کرو بہترین طریقہ پر۔ تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو۔

۱۲۶–  اور اگر تم بدلہ لو تو اتنا ہی لو جتنا تمہارے ساتھ کیا گیا ہے اور اگر صبر کرو تو یقیناً یہ بات صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔

۱۲۷–  اور (اے پیغمبر!) صبر کرو اور تمہارا صبر کرنا اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔ اور ان لوگوں (کے حال) پر غم نہ کرو اور نہ ان کی چالوں سے دل تنگ ہو۔

۱۲۸–  بلا شبہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور جو نیک کردار ہیں۔

٭٭٭

 

 

(۱۷) سورۂ بنی اسرائیل یا اسریٰ

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱–  پاک ہے وہ جو لے گیا اپنے بندے کو ایک رات مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے گرد و پیش ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بلا شبہ وہی ہے سب کچھ سننے والا دیکھنے والا۔

۲–  اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنایا تھا کہ میرے سوا کسی کو اپنا معتمد نہ بناؤ۔

۳–  تم ان لو گوں کی اولاد ہو جن کو ہم نے نوحؑ کے ساتھ (کشتی میں) سوار کرایا تھا۔ وہ واقعی ایک شکر گزار بندہ تھا۔

۴–  اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل کو اپنے اس فیصلہ سے آگاہ کر دیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد مچاؤ گے اور بڑی سرکشی کرو گے۔

۵–  پھر جب پہلے وعدہ کا وقت آ گیا تو ہم نے تم پر ایسے بندے مسلط کر دئے جو بڑے زور آور تھے وہ تمہارے گھروں میں گھس پڑے اور وعدہ پورا ہو کر رہا۔

۶­– پھر ہم نے ان کے مقابلہ میں تمہیں غلبہ دیا اور مال اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تمہاری تعداد بڑھا دی۔

۷–  اگر تم نے بھلائی کی تو اپنے ہی لیے کی اور اگر برائی کی تو وہ بھی اپنے ہی لیے کی۔ پھر جب دوسرے وعدہ کا وقت آیا تو ہم نے پھر زور آور بندے تمہارے خلاف اٹھائے تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور اسی طرح مسجد میں گھس پڑیں جس طرح پہلی مرتبہ گھس پڑے تھے اور جس چیز پر ان کا بس چلے تباہ کر کے رکھ دیں۔

۸–  عجب نہیں کہ تمہارا رب تم پر رحم فرمائے لیکن اگر تم نے پھر وہی روش اختیار کی تو ہم پھر اسی طرح سزا دیں گے۔ اور ہم نے کافروں کے لیے جہنم کو قید خانہ بنا رکھا ہے۔

۹–  یقیناً یہ قرآن اس راستہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے اور ایمان والوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔

۱۰–  اور جو لو گ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

۱۱–  اور انسان شر کے لیے اس طرح دعا کرنے لگتا ہے جس طرح اسے خیر کے لیے دعا کرنا چاہیے۔ انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے۔

۱۲–  اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا۔ رات کی نشانی ہم نے دھیمی کر دی اور دن کی نشانی کو روشن کر دیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور سالوں کا شمار اور حساب معلوم کر سکو۔ اور ہم نے ہر چیز کھول کھول کر بیان کر دی ہے۔

۱۳–  اور ہم نے ہر انسان کا شگون اس کے گلے میں چپکا دیا ہے اور قیامت کے دن ہم اس کے لیے ایک نوشتہ نکالیں گے جسے وہ کھلا ہوا پائے گا۔

۱۴–  پڑھ اپنا نامۂ اعمال! آج تو خود اپنا حساب لینے کے لیے کافی ہے۔

۱۵–  جو ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے وہ اپنے ہی لیے کرتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو اس کا وبال بھی اسی پر ہے۔ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور ہم (کسی قوم کو) عذاب نہیں دیتے جب تک کہ اس میں ایک رسول نہ بھیج دیں۔

۱۶–  اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے خوشحال لو گوں کو حکم دیتے ہیں مگر وہ اس میں نا فرمانی کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح عذاب کی بات اس پر لاگو ہو جاتی ہے اور ہم اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں۔

۱۷–  اور نوح کے بعد ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں اور تمہارا رب اس بات کے لیے کافی ہے کہ اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر ہو اور ان کو دیکھے۔

۱۸–  جو (دنیائے) عاجلہ کا خواہشمند ہوتا ہے ہم اسے یہیں دے دیتے ہیں جس قدر دینا چاہیں اور جس کو دینا چاہیں پھر اس کے لیے ہم نے جہنم مہیا کر دی ہے جس میں وہ داخل ہو گا اس حال میں کہ ملامت زدہ ہو گا ٹھکرایا ہوا!

۱۹–  اور جو آخرت کا خواہشمند ہو گا اور اس کے لیے کوشش کرے گا جیسی کوشش کرنا چاہیے اور ہو وہ مومن تو ایسے ہی لو گوں کی کوشش مقبول ہو گی۔

۲۰–  ہم ان کو بھی اور ان کو بھی ہر ایک کو (سامانِ زندگی) دئے جا رہے ہیں جو تمہارے رب کی بخشش ہے اور تمہارے رب کی بخشش کسی پر بند نہیں ہے۔

۲۱–  دیکھو ہم نے کس طرح ایک (گروہ) کو دوسرے (گروہ) پر فضیلت عطا کی ہے اور آخرت تو درجات کے اعتبار سے بھی بڑھ کر ہے اور فضیلت کے اعتبار سے بھی۔

۲۲–  اللہ کے ساتھ دوسرا خدا نہ بناؤ ورنہ بیٹھ رہو گے ملامت زدہ اور بے یارو مددگار ہو کر۔

۲۳–  اور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اگر تمہارے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو۔

۲۴–  اور ان کے لیے رحمت کے ساتھ خاکساری کے بازو جھکائے رکھو اور دعا کرو کہ پروردگار! ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی۔

۲۵–  تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ تمہارے دلوں میں کیا ہے۔ اگر تم نیک بن جاؤ تو وہ رجوع کرنے والوں کے لیے بڑا بخشنے والا ہے۔

۲۶–  اور رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق اور فضول خرچی نہ کرو۔

۲۷–  فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔

۲۸–  اور اگر تمہیں اپنے رب کی مہربانی کی تلاش میں جس کے تم امیدوار ہو ان سے پہلو تہی کرنا پڑے تو ان سے نرمی کی بات کہو۔

۲۹–  اور نہ تو اپنا ہاتھ اپنی گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز ہو کر بیٹھ رہو۔

۳۰–  تمہارا رب جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا اور ان کو دیکھنے والا ہے۔

۳۱–  اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو۔ ہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی۔ بلاشبہ ان کا قتل بہت بڑے گناہ کی بات ہے۔

۳۲–  اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ۔ یہ کھلی بے حیائی ہے اور بہت بری راہ۔

۳۳–  اور کسی نفس کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے قتل نہ کرو مگر حق کی بنا پر۔ اور جو کوئی مظلومی کی حالت میں مارا جائے تو اس کے ولی کو ہم نے اختیار دے دیا ہے لہٰذا وہ قتل کرنے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ اس کی مدد کی گئی ہے۔

۳۴–  اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر اس طریقہ سے جو بہتر ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے۔ اور عہد کو پورا کرو۔ یقیناً عہد کے بارے میں باز پرس ہو گی۔

۳۵–  اور جب ناپو تو پیمانہ بھر کر دو اور سیدھی ترازو سے تولو۔ یہ طریقہ اچھا ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر۔

۳۶–  اور جس بات کا تمہیں علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑو۔ کان، آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک کے بارے میں باز پرس ہو گی۔

۳۷–  اور زمین پر اکڑ کر نہ چلو، تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔

۳۸–  ان تمام چیزوں کی برائی تمہارے رب کے نزدیک سخت نا پسندیدہ ہے۔

۳۹–  یہ حکمت کی ان باتوں میں سے ہیں جو تمہارے رب نے تم پر وحی کی ہیں۔ اور اللہ کے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہراؤ کہ جہنم میں ڈال دئے جاؤ ملامت زدہ، ٹھکرائے ہوئے۔

۴۰–  کیا تمہارے رب نے تمہارے لیے تو بیٹے خاص کر دئے اور اپنے لیے فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا؟ بڑی سخت بات ہے جو تم کہتے ہو۔

۴۱–  ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بات واضح کر دی تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں مگراس سے ان کی دوری بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

۴۲–  کہو اگر اس کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہوتے جیسا کہ یہ لو گ کہتے ہیں تو وہ صاحبِ عرش کی طرف (چڑھائی کرنے کے لیے) راہ ضرور نکال لیتے۔

۴۳–  پاک ہے وہ اور بہت بلند ہے ان باتوں سے جو یہ کہتے ہیں۔

۴۴–  ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی اُن میں ہے سب اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو۔ بلا شبہ وہ بڑا بردبار اور بڑا بخشنے والا ہے۔

۴۵–  اور جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور ان لو گوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ایک پوشیدہ پردہ حائل کر دیتی ہیں۔

۴۶–  اور ان کے دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانو ں میں گرانی پیدا کر دیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں اپنے ایک ہی رب کا ذکر کرتے ہو تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔

۴۷–  ہم جانتے ہیں جب یہ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو کیا سنتے ہیں نیز جب یہ سرگوشیاں کرتے ہیں۔ جب یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے آدمی کے پیچھے چل رہے ہو جو سحر زدہ ہے۔

۴۸–  دیکھو، یہ کیسی باتیں ہیں جو تمہاری نسبت کہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بھٹک گئے۔ اب راہ نہیں پا سکتے۔

۴۹–  وہ کہتے ہیں جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو کر رہ جائیں گے تو کیا ہمیں از سر نو پیدا کر کے اٹھایا جائے گا؟

۵۰–  کہو تم پتھر ہو جاؤ یا لوہا۔

۵۱–  یا کوئی اور چیز جو تمہارے نزدیک اس سے بھی زیادہ سخت ہو۔ وہ کہیں گے کون ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا؟ کہو وہی جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا۔ پھر وہ سر ہلا کر پوچھیں گے کہ یہ کب ہو گا؟ کہو عجب نہیں کہ اس کا وقت قریب آ لگا ہو۔

۵۲–  جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کا جواب دو گے اور یہ خیال کرو گے کہ بس تھوڑی ہی دیر (ٹھہرے) رہے۔

۵۳–  اور میرے بندوں سے کہ دو کہ وہ ایسی بات کہیں جو بہتر ہو۔ شیطان لو گوں کے درمیان فساد ڈالتا ہے۔ یقیناً شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

۵۴–  تمہارا رب تم کو خوب جانتا ہے۔ وہ چاہے تو تم پر رحم فرمائے اور چاہے تو تمہیں عذاب دے۔ اور (اے پیغمبر!) ہم نے تم کو ان پر ان کے عمل کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا ہے۔

۵۵–  اور تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے ان کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت بخشی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی۔

۵۶–  کہو پکار دیکھو ان کو جن کو تم نے اس کے سوا خدا سمجھ رکھا ہے۔ وہ نہ تمہاری کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں اور نہ تمہاری حالت بدل سکتے ہیں۔

۵۷–  جن کو یہ لو گ پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کا قرب تلاش کرتے ہیں کہ کون سب سے زیادہ مقرب بنتا ہے۔ وہ اس کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بے شک تمہارے رب کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق۔

۵۸–  اور کوئی آبادی ایسی نہیں جس کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کر دیں یا سخت عذاب نہ دیں۔ یہ بات کتاب میں لکھی جاچکی ہے۔

۵۹–  اور ہمارے لیے نشانیاں بھیجنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہوئی مگر یہ بات کہ اگلے لو گوں نے ان کو جھٹلایا تھا۔ ثمود کو ہم نے اونٹنی دی کہ ایک کھلی نشانی تھی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ اور نشانیاں تو ہم اسی لیے بھیجتے ہیں کہ (لو گوں کو ان کے ذریعہ) ڈرائیں۔

۶۰–  اور جب ہم نے تم سے کہا تھا کہ تمہارے رب نے لو گوں کو گھر رکھا ہے۔ اور اس مشاہدہ (رؤیا) کو جو ہم نے تمہیں کرایا لو گوں کے لیے آزمائش بنا دیا ہے۔ نیز اس درخت کو بھی جس کو قرآن میں ملعون قرار دیا گیا ہے۔ ہم انہیں ڈراتے ہیں لیکن اس سے ان کی سرکشی میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

۶۱–  اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہیں کیا۔ اس نے کہا کیا میں اس کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔

۶۲–  (نیز) اس نے کہا کیا تیرا یہی فیصلہ ہوا کہ تو نے اس کو مجھ پر فضیلت بخشی۔ اگر تو نے مجھے قیامت کے دن مہلت دی تو میں اس کی پوری نسل کو بیخ و بن سے اکھاڑ ڈالوں گا۔ صرف تھوڑے لو گ اس سے بچ سکیں گے۔

۶۳–  فرمایا جا۔ ان میں سے جو بھی تیرے پیچھے چلیں گے تو جہنم ہی تم سب کے لیے پوری پوری سزا ہے۔

۶۴–  تو ان میں سے جس جس کو اپنی آواز سے بہکا سکتا ہے بہکا لے پھر اپنے سواروں اور پیادوں سے حملہ کر، مال اور اولاد میں ان کا شریک بن جا، ان سے وعدہ کر اور شیطان جو وعدہ بھی کرتا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ سرتا سر دھوکا۔

۶۵–  یقیناً میرے بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا۔ اور تیرا رب کارسازی کے لیے کافی ہے۔

۶۶–  تمہارا رب تو وہ ہے جو تمہارے لیے سمندر میں کشتی چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔ یقیناً وہ تم پر بہت مہربان ہے۔

۶۷–  جب سمندر میں تمہیں مصیبت آ لیتی ہے تو اس ایک کے سوا جن جن کو تم پکارتے ہو سب غائب ہو جاتے ہیں۔ پھر جب وہ تم کو بچا کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے منہ موڑتے ہو۔ انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔

۶۸–  پھر کیا تم اس بات سے بے خوف ہو گئے ہو کہ وہ خشکی کے کسی حصہ میں تم کو دھنسا دے یا تم پر سنگ باری کرنے والی آندھی بھیج دے۔ پھر تم اپنے لیے کوئی کارساز نہ پاؤ۔

۶۹–  یا اس بات سے تم بے خوف ہو گئے ہو کہ وہ تمہیں دوبارہ اس میں (سمندر میں) لے جائے اور تم پر ہوا کا سخت طوفان بھیج دے اور تمہاری ناشکری کی وجہ سے تم کو غرق کر دے۔ پھر تم کسی کو نہ پاؤ جو ہم سے پوچھ کچھ کر سکے۔

۷۰–  ہم نے آدم کی اولاد کو عزت بخشی اور اس کو خشکی اور تری میں سواری عطا کی اور پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر اس کو فضیلت دی۔ پوری پوری فضیلت۔

۷۱–  جس دن ہم ہر انسانی گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے۔ تو جن کو ان کا نامۂ عمل داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ اپنا نامۂ عمل پڑھیں گے اور ان کے ساتھ ذرا بھی نا انصافی نہیں ہو گی۔

۷۲–  اور جو اس دنیا میں اندھا بن کر رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا اور راہ سے بالکل بھٹکا ہوا۔

۷۳–  یہ لو گ اس بات کے درپے تھے کہ تمہیں فتنہ میں ڈال کر اس (کلام) سے پھیر دیں جو ہم نے تم پر وحی کیا ہے تاکہ تم کوئی اور بات ہمارے نام سے گھڑ کر پیش کرو۔ اور اس صورت میں وہ تمہیں اپنا دوست بنا لیتے۔

۷۴–  اور اگر ہم نے تمہارے قدم جمانے دئے ہوتے تو بعید نہ تھا کہ تم ان کی طرف کچھ نہ کچھ جھک پڑتے۔

۷۵–  اس صورت میں ہم تمہیں زندگی کا بھی دوہرا عذاب چکھاتے اور موت کا بھی دوہرا عذاب۔ پھر تم ہمارے مقابلہ میں کوئی مددگار نہ پاتے۔

۷۶–  اور یہ اس بات کے درپے ہیں کہ تمہارے قدم اس سرزمین سے اکھاڑ دیں تاکہ پھر تمہیں یہاں سے نکال دیں۔ لیکن اگر وہ ایسا کر بیٹھے تو تمہارے بعد بہت کم ٹھہر سکیں گے۔

۷۷–  تم سے پہلے ہم نے جو پیغمبر بھیجے تھے ان کے معاملہ میں ہمارا یہی قاعدہ رہا ہے اور ہمارے قاعدے میں تم کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔

۷۸–  نماز قائم کرو سورج کے ڈھلنے سے لیکر رات کے اندھیرے تک اور فجر کی قرأت قرآن کا اہتمام کرو کہ فجر کی قرأتِ قرآن میں بڑی حضوری ہوتی ہے۔

۷۹–  اور رات میں تہجد پڑھو۔ یہ تمہارے لیے مزید ہے۔ عجب نہیں کہ تمہارا رب تمہیں ایسے مقام پر اٹھائے جو نہایت محمود ہے۔

۸۰–  اور دعا کرو کہ اے میرے رب! مجھے (جہاں کہیں) داخل کر تو سچائی کے ساتھ داخل کر اور مجھے نکال تو سچائی کے ساتھ نکال۔ اور اپنی طرف سے ایسا غلبہ عطا فرما جو میرا مددگار ہو۔

۸۱–  اور اعلان کر دو حق آ گیا اور باطل نابود ہوا اور باطل ہے ہی نابود ہونے والا۔

۸۲–  اور ہم قرآن کی شکل میں وہ چیز نازل کر رہے ہیں جو ایمان لانے والوں کے لیے شفا بھی ہے اور رحمت بھی ۱۱۵ مگر ظالموں کے خسارہ میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

۸۳–  اور انسان کو جب ہم نعمت عطا کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا اور پہلو بچا کر چلتا ہے اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو مایوس ہونے لگتا ہے۔

۸۴–  کہو ہر شخص اپنے طریقہ پر کام کرتا ہے اور تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون بالکل صحیح راہ پر ہے۔

۸۵–  یہ لو گ تم سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہو روح میرے رب کا فرمان ہے اور تمہیں جو علم دیا گیا ہے وہ بہت تھوڑا ہے۔

۸۶–  اور اگر ہم چاہیں تو جو وحی ہم نے تم پر کی ہے اس کو چھین لیں پھر تم ہمارے مقابلہ میں کوئی حمایتی نہ پاؤ۔

۸۷–  مگر یہ تمہارے رب کی رحمت ہے (جو تمہیں عطا ہوئی ہے)۔ یقیناً اس کا فضل تم پر بہت بڑا ہے۔

۸۸–  کہو اگر تمام انس و جن مل کر اس قرآن جیسی چیز لانا چاہیں تو اس جیسی چیز نہیں لا سکیں گے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مدد گار بن جائیں۔

۸۹–  ہم نے اس قرآن میں لو گوں (کو سمجھانے) کے لیے بیان کے مختلف طریقے اختیار کئے مگر اکثر لو گوں نے اس کا کوئی اثر قبول نہیں کیا اگر کیا تو کفر۔

۹۰–  وہ کہتے ہیں ہم تمہاری بات ماننے والے نہیں جب تک کہ تم زمین سے ہمارے لیے چشمہ جاری نہ کر دو۔

۹۱–  یا تمہارے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو اور اس میں نہریں جاری کر دو۔

۹۲–  یا آسمان کو ہم پر ٹکڑے ٹکڑے کر کے گرا دو جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے یا اللہ اور فرشتوں کو سامنے لے آؤ۔

۹۳–  یا تمہارے لیے سونے کا ایک گھر ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ۔ اور ہم تمہارے چڑھنے کا بھی یقین کرنے والے نہیں جب تک کہ تم ہم پر ایک (لکھی ہوئی) کتاب نہ اتار لاؤ جسے ہم پڑھ سکیں۔ کہو پاک ہے میرا رب!میں اس کے سوا کیا ہوں کہ ایک رسول (پیغام پہنچانے والا) بشر۔

۹۴–  اور لو گوں کو ایمان لانے سے جبکہ ہدایت ان کے پاس آ گئی اسی چیز نے روکا کہ کہنے لگے کیا اللہ نے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے ؟

۹۵–  کہو اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ان کے پاس کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے۔

۹۶–  کہو اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے کافی ہے۔ وہ اپنے بندوں سے با خبر ہے اور انہیں دیکھ رہا ہے۔

۹۷–  جسکو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جس کو وہ گمراہ کر دے تو ایسے لو گوں کے لیے تم اس کے سوا کوئی مددگار نہ پاؤ گے۔ اور ہم قیامت کے دن ان کو ان کے منہ کے بل اٹھائیں گے اندھے، گونگے اور بہرے۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔ جب کبھی اس کی آگ دھیمی ہونے کو ہو گی ہم اس کو اور بھڑکا دیں گے۔

۹۸–  یہ بدلہ ہو گا اس بات کا کہ انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہا کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہو کر رہ جائیں گے تو ہم کو نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھایا جائے گا؟

۹۹–  انہوں نے یہ نہ سوچا کہ اللہ جس نے آسمان اور زمین پیدا کئے ان جیسوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر ضرور قادر ہے۔ اس نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس میں کوئی شک نہیں مگر ظالموں کے لیے سوائے انکار کے کوئی بات بھی قابل قبول نہیں۔

۱۰۰–  کہو اگر میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضہ میں ہوتے تو تم ضرور خرچ ہو جانے کے اندیشے سے انہیں روک رکھتے۔ انسان بڑا ہی تنگ دل واقع ہوا ہے۔

۱۰۱–  اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دی تھیں۔ تم بنی اسرائیل سے پوچھ لو جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے کہا اے موسیٰ میں سمجھتا ہوں کہ تم پر جادو کیا گیا ہے۔

۱۰۲–  انہوں نے (موسیٰ نے) جواب دیا تم اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ بصیرت کی نشانیاں اسی نے اتاری ہیں جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اے فرعون! تم نے اپنے کو ہلاکت میں ڈال دیا ہے۔

۱۰۳–  پھر اس نے چاہا کہ ان کے قدم زمین سے اکھاڑ دے تو ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو ایک ساتھ غرق کر دیا۔

۱۰۴–  اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ تم زمین میں بسو۔ پھر جب آخرت کا وعدہ (وقوع میں) آئے گا تو ہم تم سب کو جمع کر کے لا حاضر کریں گے۔

۱۰۵–  ہم نے اس کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور یہ حق ہی کے ساتھ نازل ہوا ہے۔ اور ہم نے تم کو اسی لیے بھیجا ہے کہ خوش خبری سناؤ اور خبردار کرو۔

۱۰۶–  اور ہم نے قرآن کو الگ الگ حصوں کی شکل میں نازل کیا ہے تاکہ لو گوں کو تم ٹھہر ٹھہر کر سناؤ اور ہم نے اس کو بتدریج اتارا ہے۔

۱۰۷–  کہو تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جن لو گوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے انہیں جب یہ سنایا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گر جاتے ہیں۔

۱۰۸–  اور پکار اٹھتے ہیں کہ پاک ہے ہمارا رب ہمارے رب کا وعدہ تو اسی لیے تھا کہ پورا ہو کر رہے۔

۱۰۹–  اور وہ ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے سجدہ میں گر جاتے ہیں اور اس سے ان کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے۔

۱۱۰–  کہو تم اللہ کہ کر پکارو یا رحمن کہ کر۔ جس نام سے بھی پکارو اس کے لیے سب اچھے ہی نام ہیں۔ اور تم اپنی نماز کو نہ زیادہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ بالکل ہی پست آواز سے بلکہ ان کے درمیان کی صورت اختیار کرو۔

۱۱۱–  اور کہو ساری ستائش اللہ ہی کے لیے ہے جس نے اپنے لیے نہ کوئی اولاد بنائی اور نہ بادشاہی میں کوئی اس کا شریک ہے اور نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اس کا مددگار ہو۔ اور اس کی بڑائی بیان کرو جیسی بڑائی بیان کرنا چاہیے۔

٭٭٭

 

 

(۱۸) سورۂ الکہف

 

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱–  تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندہ پر کتاب اتاری اور اس میں کوئی کجی (ٹیڑھ) نہیں رکھی۔

۲–  راست کتاب تاکہ وہ ( لوگوں کو) سخت عذاب سے آگاہ کر دے جو اس کی جانب سے پہنچے گا۔ اور ایمان لانے والوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں خوش خبری دے کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے

۳–  جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

۴–  نیز ان لوگوں کو خبردار کر دے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنے لیے اولاد بنا لی ہے۔

۵–  اس بارے میں نہ ان کو کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو تھا۔ بڑ ی سخت بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے۔ محض جھوٹ ہے جو وہ بک رہے ہیں۔

۶–  (اے پیغمبر!) شاید تم ان کے پیچھے اپنی جان مارے افسوس کے ہلاک کر دو اگر وہ اس کلام پر ایمان نہیں لائے۔

۷–  در حقیقت روئے پر جو کچھ ہے اس کو ہم نے اس کی آرائش بنایا ہے تاکہ لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں بہتر عمل کرنے والا کون ہے۔

۸–  اور جو کچھ اس پر ہے اس کو ہم چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔

۹–  کیا تم خیال کرتے ہو کہ کہف اور رقیم والے ہماری نشانیوں میں سے کوئی عجیب چیز تھے ؟

۱۰–  جب کچھ نوجوانوں نے غار میں پناہ لی اور دعا کی اے ہمارے رب اپنے حضور سے ہم پر رحمت فرما اور اس معاملہ میں ہماری رہنمائی کا سامان کر دے۔

۱۱–  تو ہم نے غار میں ان کے کان کئی سال کے لیے تھپک دئے۔

۱۲–  ” پھر ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ دیکھیں دونوں گروہوں میں سے کون ان کے قیام کی مدت کا صحیح شمار کرتا ہے۔

۱۳–  ہم ان کا واقعہ تم کو ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں۔ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت میں افزونی عطا کی تھی۔

۱۴–  اور ان کے دلوں کو ہم نے مضبوط کیا جبکہ وہ اٹھے اور کہا کہ ہمارا رب تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اس کے سوا کسی دوسرے معبود کو ہرگز نہیں پکاریں گے۔ اگر ہم ایسا کریں تو نہایت غلط بات کہیں گے۔

۱۵–  یہ ہماری قوم ہے جو اس کو چھوڑ کر دوسرے معبود بنا بیٹھی ہے۔ یہ لوگ اس کی تائید میں کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے۔ پھر اس سے بڑ ھ کر ظالم اور کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔

۱۶–  اب جبکہ تم ان سے اور ان کے معبودوں سے جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے ہیں الگ ہو گئے ہو تو غار میں پناہ لو۔ تمہارا رب اپنی رحمت کا تم پر فیضان کرے گا اور تمہارے اس کام کے لیے سیر و سامان مہیا کرے گا۔

۱۷–  اور تم سورج کو دیکھتے ہو کہ جب وہ طلوع ہوتا ہے تو ان کے غار سے دائیں جانب ہٹا ہوا رہتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان کے بائیں جانب کترا کر نکل جاتا ہے اور وہ اس کے اندر ایک کشادہ جگہ میں پڑ ے ہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔ جس کو اللہ ہدایت دے وہی راہ یاب ہے اور جس کو وہ گمراہ کر دے تو تم کسی کو اس کا مدد گار رہنمائی کرنے والا نہ پاؤ گے۔

۱۸–  تم (ان کو دیکھ لیتے تو) خیال کرتے کہ وہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سو رہے تھے۔ ہم ان کو دائیں بائیں کروٹیں دلواتے رہتے تھے اور ان کا کتّا (غار کے) دہانے پر ہاتھ پھیلائے بیٹھا تھا۔ اگر تم انہیں جھانک کر دیکھتے تو الٹے پاؤں بھاگ کھڑ ے ہوتے اور تم پر ان (کے منظر) سے دہشت طاری ہوتی۔

۱۹–  اور اسی طرح ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ وہ آپس میں پوچھ گچھ کریں۔ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کتنی دیر رہے ؟انہوں نے جواب دیا ایک دن یا اس سے کم رہے ہوں گے۔ پھر وہ بولے تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ تم کتنی دیر رہے۔ اب ایک آدمی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر میں بھیجو۔ وہ دیکھے کہ کس کے ہاں پاکیزہ کھانا ملتا ہے۔ وہاں سے وہ تمہارے لیے کچھ کھانا لائے۔ اور چپکے سے یہ کام کرے۔ کسی کو ہماری خبر نہ ہونے دے۔

۲۰–  اگر ان کو خبر ہوئی تو وہ تمہیں سنگسار کر دیں گے یا اپنے مذہب میں واپس لے جائیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو تم کبھی فلاح نہ پا سکو گے۔

۲۱–  اس طرح ہم نے لوگوں کو ان (کے حال) سے واقف کر دیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچاہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شبہ نہیں۔ جب لوگ ان کے معاملہ میں جھگڑ رہے تھے انہوں نے کہا ان پر یک دیوار کھڑ ی کر دو۔ ان کا رب ہی ان کو بہتر جانتا ہے۔ جو لوگ ان کے معاملہ پر غالب تھے انہوں نے کہا ہم ضرور ان پر ایک مسجد بنائیں گے۔

۲۲–  یہ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے چوتھا ان کا کتا تھا۔ اور یہ بھی کہیں گے کہ پانچ تھے چھٹا ان کا کتا تھا۔ یہ سب اندھیرے میں تیر چلاتے ہیں۔ کچھ اور لوگ کہیں گے سات تھے اور آٹھواں ان کا کتّا تھا۔ کہو میرا رب ہی ان کی تعداد کو بہتر جانتا ہے۔ کم ہی لوگ ان کی تعداد سے واقف ہیں۔ لہٰذا تم ان کے معاملہ میں لوگوں سے بحث نہ کرو بجز سرسری بحث کے اور نہ ان کے بارے میں کسی سے کچھ پوچھو۔

۲۳–  اور کسی چیز کے بارے میں یہ نہ کہو کہ میں کل اسے کروں گا۔

۲۴–  مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ اگر تم بھول جاؤ تو اپنے رب کو یاد کرو۔ اور کہو امید ہے میرا رب اس سے بھی زیادہ رشد کی طرف میری رہنمائی فرمائے گا۔

۲۵–  اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور مزید نو سال۔

۲۶–  کہو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت رہے۔ آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کا علم اسی کو ہے۔ کس شان کا ہے وہ دیکھنے والا اور سننے والا! اس کے سوا ان کا کوئی کارساز نہیں اور وہ اپنے کم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔

۲۷–  اور تمہارے رب کی جو کتاب تم پر وحی کی گئی ہے اسے سناؤ۔ اس کے فرمانوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور اس کے سوا تم کو کہیں پناہ نہیں مل سکتی۔

۲۸–  اور ان لوگوں کی رفاقت پر قناعت کولو جو اپنے رب کو اس کی رضا جوئی میں صبح و شام پکارتے ہیں۔ تمہاری نگاہیں دنیوی زندگی کی آرائش کی خاطر ان کی طرف سے پھرنے نہ پائیں۔ اور ایسے شخص کی بات نہ مانو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے پڑ گیا ہے اور جس کا معاملہ حد سے تجاوز کر گیا ہے۔

۲۹–  اور کہو یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے تو جس کا جی چاہے کفر کرے۔ ہم نے ظالموں کے لیے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتوں نے انہیں گھیر لیا ہے۔ اگر وہ پانی کے لیے فریاد کریں گے تو انہیں ایسا پانی دیا جائے گا جو پگھلی ہوئی دھات کی طرح ہو گا۔ اور ان کا منہ بھون ڈالے گا۔ کیا ہی بری ہے پینے کی چیز اور کیا ہی بری ہے آرام گاہ!

۳۰–  البتہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے تو ہم نیک عمل کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتے۔

۳۱–  ان کے لیے ہمیشگی کے باغ ہیں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہاں ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک اور دبیز ریشم کے سبز کپڑے پہنیں گے اور تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ کیا ہی اچھا صلہ ہے اور کیا ہی اچھی آرامگاہ!

۳۲–  ان لوگوں کو دو شخصوں کا حال سناؤ۔ ان میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دیئے اور ان کے گرد کھجور کے درخت لگائے اور ان کے درمیان میں کھیتی لگائی۔

۳۳–  دونوں باغ خوب پھلے اور اس میں کوئی کسر نہ چھوڑ ی۔ ہم نے ان کے اندر نہر بھی جاری کر دی تھی۔

۳۴–  اور ( ان باغوں میں) اس کے لیے خوب پھل لگے تب اس نے اپنے ساتھی سے بات کرتے ہوئے کہا میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور میرا جتھا بھی زیادہ طاقتور ہے۔

۳۵–  پھر وہ اپنے باغ میں اس حال میں داخل ہوا کہ اپنے نفس پر ظلم کر رہا تھا۔ اس نے کہا میں نہیں سمجھتا کہ یہ کبھی تباہ ہو جائے گا۔

۳۶–  اور نہ میں یہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت قائم ہو گی۔ اور اگر مجھے اپنے رب کی طرف لوٹایا ہی گیا تو میں اس سے بہتر جگہ پاؤں گا۔

۳۷–  اس کے ساتھی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کیا تو کفر کرتا ہے اس سے جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر تجھے ٹھیک ٹھیک آدمی بنا دیا۔

۳۸–  لیکن میں کہتا ہوں اللہ ہی میرا رب ہے۔ اور میں اپنے رب کا کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔

۳۹–  اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو کیوں نہ کہا ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ ( ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اللہ کی توفیق کے بغیر کسی کا کوئی زور نہیں۔) اگر تو دیکھ رہا ہے کہ میں مال اور اولاد میں تجھ سے کمتر ہوں۔

۴۰–  تو کیا عجب کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور تیرے باغ پر آسمان سے کوئی ایسی آفت نازل کرے کہ وہ چٹیل میدان بن کر رہ جائے۔

۴۱–  یا اس کا پانی نیچے اتر جائے اور تو اسے اصل نہ کر سکے۔

۴۲–  پھر اس کے پھل گھیرے میں آ گئے اور وہ اپنے اس مال پر جو اس نے خرچ کیا تھا ہاتھ ملتا رہ گیا جبکہ باغ ٹٹیوں پر گرا پڑ ا تھا۔ کہنے لگا کاش! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا!

۴۳–  (تو دیکھو) کوئی جتھا ایسا نہ ہوا جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتا اور نہ وہ خود (اس آفت کا) مقابلہ کر سکا۔

۴۴–  اس وقت یہ بات کھل گئی کہ سارا اختیار اللہ بر حق ہی کے لیے ہے۔ وہ جزا دینے کے لحاظ سے بھی بہتر ہے اور عاقبت کے لحاظ سے بھی بہتر۔

۴۵–  اور انہیں دنیا کی زندگی کی مثال سناؤ۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ پانی جو ہم نے آسمان سے برسایا جس سے زمین کی نباتات خوب گھنی ہو گئیں۔ پھر وہ چورا چورا ہو کر رہ گئیں جس کو ہوائیں اڑائے لئے پھرتی ہیں اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

۴۶–  مال اور اولاد دنیاوی زندگی کی زینت ہیں۔ اور باقی رہنے والے نیک عمل تمہارے رب کے نزدیک اجر کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں اور امید کے اعتبار سے بھی۔

۴۷–  وہ دن کہ ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم دیکھو گے کہ زمین بالکل بے نقاب ہو گئی ہے اور لوگوں کو ہم اکٹھا کریں گے۔ کسی ایک کو بھی چھوڑیں گے نہیں۔

۴۸–  اور سب تمہارے رب کے حضور صف در صف پیش کئے جائیں گے۔ آ گئے تم ہمارے پاس اسی طرح جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔ تم نے تو یہ خیال کیا تھا کہ ہم نے تمہاری پیشی کے لیے کوئی وقت مقرر ہی نہیں کیا ہے۔

۴۹َ–  اور نامۂ عمل (سامنے) رکھ دیا جائے گا تو تم دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں درج ہو گا اس سے مجرم ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے ہماری شامت! یہ کیسا نوشتہ ہے کہ کوئی چھوٹی بڑ ی بات ایسی نہیں جو اس نے درج کر لی ہو۔ اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ سب حاضر پائیں گے۔ اور تمہارے رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔

۵۰–  اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہیں کیا۔ وہ جنوں میں سے تھا۔ تو اس نے اپنے رب کے حکم کی نا فرمانی کی۔ پھر کیا تم مجھے چھوڑ کر اس کو اور اس کی نس کو اپنا کارساز بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں کیا ہی برا بدل ہے ظالموں کے لیے !

۵۱–  میں نے ان کو آسمان اور زمین کے پیدا کرتے وقت نہیں بلایا تھا اور نہ خود ان کے پیدا کرتے وقت بلایا تھا۔ اور میرا یہ کام نہیں کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا دست و بازو بناؤں۔

۵۲–  جس دن وہ فرمائے گا کہ بلاؤ ان کو جن کو تم میرا شریک سمجھ بیٹھے تھے تو وہ ان کو پکاریں گے مگر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہلاکت کا گڑھا حائل کر دیں گے۔

۵۳–  اور مجرم آگ کو دیکھ لیں گے اور سمجھ جائیں گے کہ انہیں اس میں گرنا ہے۔ وہ اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔

۵۴–  اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثالیں بیان کر دیں۔ مگر انسان بڑ ا جھگڑ الو واقع ہوا ہے۔

۵۵–  اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آ گئی تو اس پر ایمان لانے اور اپنے رب سے معافی چاہنے میں کوئی چیز مانع نہیں ہوئی۔ مگر یہ بات کہ گزری ہوئی قوموں کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا تھا وہ ان کے ساتھ بھی پیش آ جائے یا عذاب ان کے سامنے نمودار ہو۔

۵۶َََ–  اور ہم رسولوں کو صرف اس لیے بھیجتے ہیں کہ وہ بشارت دیں اور خبردار کریں۔ مگر کافر باطل کے سہارے جھگڑ نے لگتے ہیں تاکہ حق کو شکست دیں۔ انہوں نے میری آیتوں کو اور اس بات کو جس سے ان کو خبردار کیا گیا ہے مذاق بنا لیا ہے۔

۵۷–  اور اس سے بڑ ھ کر ظالم کون ہو گا جس کو اس کے رب کی آیتوں کے ذریعہ یاد دہانی کی جائے اور وہ ان سے منہ پھیر لے اور اپنے کرتوتوں کو بھول جائے ؟ ایسے لوگوں کے دلوں پر ہم نے پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کر دی ہے۔ تم انہیں ہدایت کی طرف کتنا ہی بلاؤ وہ کبھی ہدایت پانے والے نہیں ہیں۔

۵۸–  اور تمہارے رب بڑ ا بخشنے والا رحمت والا ہے۔ اگر وہ ان کے کرتوتوں پر انہیں پکڑ تا تو فوراً عذاب نازل کرتا لیکن ان کے لیے ایک وقت مقرر ہے جس سے بچ کر پناہ لینے کی کوئی جگہ وہ نہ پائیں گے۔

۸۹–  اور یہ بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر دیا جبکہ انہوں نے ظلم کیا۔ اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے وقت مقرر کر رکھا تھا۔

۶۰–  اور جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا تھا کہ میں چلتا رہوں گا یہاں تک کہ دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پر پہنچ جاؤں خواہ مجھے کتنا ہی عرصہ گزارنا پڑ ے۔

۶۱–  پھر جب وہ دونوں کے ملنے کی جگہ پر پہنچ گئے تو انہیں اپنی مچھلی کا خیال نہ رہا اور اس نے سمندر میں جانے کے لیے سرنگ کی طرح راہ بنا لی۔

۶۲–  جب آگے بڑھے تو موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا لاؤ ہمارا کھانا۔ اس سفر سے تو ہمیں بڑ ی تکان ہو گئی۔

۶۳–  اس نے کہا آپ نے دیکھا نہیں جب ہم چٹان کے پاس ٹھہرے تھے تو مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور یہ شیطان ہی ہے جس نے مجھے ایسا بھلاوے میں ڈال دیا کہ میں اس کا ذکر نہ کر سکا۔ اس نے سمندر میں جانے کی راہ عجیب طریقہ سے نکال لی۔

۶۴–  اس نے (موسیٰ نے) کہا یہی تو ہم چاہتے تھے۔ پھر وہ دونوں اپنے نقش قدم پر واپس ہوئے۔

۶۵–  وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا اور اپنے پاس سے خاص علم عطا کیا تھا۔

۶۶–  موسیٰ نے اس سے کہا کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ رشد (معاملہ فہمی) کی جو تعلیم آپ کو دی گئی ہے اس میں سے آپ کچھ مجھے بھی سکھائیں۔

۶۷–  اس نے کہا آپ میرے ساتھ صبر نہ کر سکیں گے۔

۶۸–  اور آپ ان باتوں پر کس طرح صبر کر سکیں گے جو آپ کے دائرہ علم سے باہر ہیں۔

۶۹–  اس نے (موسیٰ نے) کہا انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی معاملہ میں بھی آپ کی نا فرمانی نہیں کروں گا۔

۷۰–  اس نے کہا اگر آپ کو میرے ساتھ رہنا ہے تو کسی چیز کے بارے میں مجھ سے نہ پوچھیں جب تک کہ میں خود آپ سے اس کا ذکر نہ کروں۔

۷۱–  پھر دونوں چلے یہاں تک کہ جب وہ ایک کشتی میں سوار ہو گئے تو اس نے اس میں شگاف کر دیا۔ موسیٰ نے کہا آپ نے اس میں شگاف کر دیا تاکہ کشتی والوں کو غرق کر دیں۔ یہ تو آپ نے عجیب حرکت کی۔

۷۲–  اس نے کہا میں نے آپ سے کہا نہ تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کر سکیں گے ؟

۷۳–  موسیٰ نے کہا بھول چوک پر گرفت نہ کیجئے اور میرے معاملہ میں سختی سے کام نہ لیجئے۔

۷۴–  پھر دونوں چلے یہاں تک کہ انہیں ایک لڑ کا ملا اس نے اسے قتل کر دیا۔ موسیٰ نے کہا آپ نے ایک بے گناہ کو قتل کر دیا حالانکہ اس نے کسی کی جان نہیں لی تھی۔ آپ نے یہ بڑ ی ہی ناروا حرکت کی

۷۵–  اس نے کہا کیا میں نے کہا نہ تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کر سکیں گے۔ ؟

۷۶–  موسیٰ نے کہا اگر اس کے بعد میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھے میری طرف سے آپ کو عذر مل گیا۔

۷۷–  پھر دونوں چلے یہاں تک کہ ایک بستی والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا مگر انہوں نے ان کی مہمان نوازی سے انکار کر دیا۔ وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی۔ اس نے اس دیوار کو کھڑ ا کر دیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو اس کی اجرت لے لیتے۔

۷۸–  اس نے کہا یہ میرے اور آپ کے درمیان جدائی کی بات ہوئی۔ اب میں آپ کو ان باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر آپ صبر نہ کر سکے۔

۷۹–  کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند مسکینوں کی تھی جو سمندر میں محنت مزدوری کرتے تھے۔ میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کر دوں کیوں کہ آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر (اچھی) کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔

۸۰–  لڑ کے کا معاملہ یہ ہے کہ اس کے والدین مؤمن تھے۔ ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ اپنی سرکشی اور کفر سے انہیں کہیں تکلیف میں مبتلا نہ کرے۔

۸۱–  اس لیے ہم نے چاہا کہ ان کا رب اس کی جگہ ان کو ایسی اولاد دے جو اس کے مقابلہ میں پاکیزگی کے لحاظ سے بھی بہتر ہو اور ہمدردی میں بھی بڑ ھ کر ہو۔

۸۲–  رہی دیوار تو وہ شہر کے دو یتیم لڑکوں کی تھی جس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ آپ کے رب نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ آپ کے رب کی رحمت سے ہوا۔ میں نے جو کچھ کیا اپنے اختیار سے نہیں کیا۔ یہ ہے ان باتوں کی حقیقت جس پر آپ صبر نہ کر سکے۔

۸۳–  اور وہ تم سے ذو القرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہو اس کا کچھ حال تمہیں سناتا ہوں۔

۸۴–  ہم نے اس کو زمین میں اقتدار بخشا تھا اور ہر طرح کے اسباب و وسائل عطا کئے تھے۔

۸۵–  تو اس نے ایک مہم کے لیے سرو سامان کیا۔

۸۶َََ۱َ–  یہاں تک کہ وہ سورج کے غروب ہونے کے مقام تک پہنچ گیا۔ وہاں اس نے سورج کو سیاہ چشمہ میں ڈوبتے ہوئے دیکھا اور اس کے پاس اس کو ایک قوم ملی۔ ہم نے کہا اے ذو القرنین!چاہو انہیں سزا دو چاہو ان کے ساتھ نیک سلوک کرو۔

۸۷–  اس نے کہا جو ان میں سے ظلم کرے گا اس کو ہم سزا دیں گے۔ پھر وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا اور وہ اسے سخت عذاب دے گا۔

۸۸–  اور جو ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا تو اس کے لیے اچھا بدلہ ہے اور ہم اس کو ایسی باتوں کا حکم دیں گے جو آسان ہوں۔

۸۹–  پھر اس نے ( ایک اور مہم کے لیے) سر و سامان کیا۔

۹۰–  یہاں تک کہ جب وہ سورج کے طلوع ہونے کے مقام تک پہنچ گیا تو اس نے دیکھا کہ وہ ایک ایسی قوم پر طلوع ہوتا ہے جس کے بالمقابل ہم نے کوئی آڑ نہیں رکھی ہے۔

۹۱–  اس طرح ہم نے (اس کو اس قوم پر بھی غلبہ عطا) کیا اور اس کے پاس جو کچھ تھا اس سے ہم پوری طرح با خبر تھے۔

۹۲–  پھر اس نے (تیسری مہم کا) سر و سامان کیا۔

۹۳–  یہاں تک کہ جب وہ دو ( پہاڑوں کی) دیواروں کے درمیان پہنچا تو اسے ان کے اِس طرف ایک ایسی قوم ملی جو کوئی بات سمجھ نہیں پاتی تھی۔

۹۴–  ان لوگوں نے کہا اے ذو القرنین! یاجوج و ماجوج اس ملک میں فساد مچاتے، میں تو کیا ہم آپ کے لیے خراج مقرر کر دیں تاکہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دیں۔

۹۵–  اس نے کہا میرے رب نے جو کچھ میرے قبضہ میں دے رکھا ہے وہ بہتر ہے۔ تم قوت سے میری مدد کرو میں تمہارے اور ان کے درمیان دیوار بنا دیتا ہوں۔

۹۶–  میرے پاس لوہے کے ٹکڑ ے لاؤ یہاں تک کہ جب دونوں پہاڑوں کے درمیان خلا کو بھر دیا تو حکم دیا کہ اس کو دھونکو یہاں تک کہ جب اس کو بالکل آگ ( کی طرح سرخ) کر دیا تو اس نے کہا لاؤ اب اس پر پگھلا ہوا تانبا انڈیل دوں۔

۹۷–  ( اور جب دیوار بن گئی) تو یاجوج و ماجوج نہ اس پر چڑ ھ سکتے تھے اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے۔

۹۸–  اس نے کہا یہ میرے رب کی مہربانی ہے۔ پھر جب میرے رب کا وعدہ ظہور میں آئے گا تو اسے خاک میں ملا دے گا اور میرے رب کا وعدہ بالکل سچاہے۔

۹۹–  اور اس دن ہم لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ وہ موجوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرائیں اور صور پھونکا جائے گا اور ہم سب کو جمع کریں گے۔

۱۰۰–  اس دن ہم کافروں کے سامنے جہنم پیش کریں گے

۱۰۱–  وہ جن کی آنکھوں پر پردہ پڑ ا رہا اور وہ کوئی بات سن نہیں سکتے تھے۔

۱۰۲–  کیا ان کافروں نے یہ خیال کر رکھا کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز بنا لیں گے۔ ہم نے کافروں کی ضیافت کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے۔

۱۰۳–  کہو کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ تباہ حال لوگ کون ہیں ؟

۱۰۴–  وہ جن کی کوششیں اس دنیا کی زندگی میں کھوئی گئیں اور وہ یہ سمجھتے رہے کہ بڑ ا اچھا کام کر رہے ہیں۔

۱۰۵–  یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں اور اس کی ملاقات کا انکار کیا۔ لہٰذا ان کے اعمال اکارت گئے اور قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن قائم نہ کریں گے۔

۱۰۶–  یہ ان کی جزا ہو گی جہنم۔ اس لیے کہ انہوں نے کفر کیا تھا اور میری آیتوں اور رسولوں کو مذاق بنا لیا تھا۔

۱۰۷–  (البتہ) جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ان کی ضیافت کے لیے فردوس کے باغ ہوں گے۔

۱۰۸–  جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے کبھی جانا نہ چاہیں گے۔

۱۰۹–  کہو اگر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لیے سمندر روشنائی بن جائے تو وہ ختم ہو جائے گا قبل اس کے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں اگرچہ ہم اس جیسے اور سمندر کا اضافہ کریں۔

۱۱۰–  کہو میں تو تم ہی جیسا ایک بشر ہوں۔ مجھ پر وحی آتی ہے کہ تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے تو جو کوئی اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔

٭٭٭

 

 

(۱۹) سورۂ مریم

 

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱–  کاف۔ با۔ یا۔ عین۔ صاد

۲–  یہ تمہارے رب کی اس رحمت کا ذ کر ہے جو اس نے اپنے بندہ ز کریا پر کی تھی۔

۳َ–  جب اس نے اپنے رب کو چپ کے چپ کے پکارا۔

۴َ–  اس نے دعا کی اے میرے رب ! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور سر بڑھاپے سے سفید ہو گیا ہے اور اے رب ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں نے تجھے پکارا ہو اور محروم رہا ہوں۔

۵َ–  مجھے اپنے بعد اپنے بھائی بندوں سے اندیشہ ہے۔ اور میری بیوی بانجھ ہے تو تو خاص اپنی طرف سے مجھے وارث عطا کر۔

۶َ–  جو میرا وارث بھی ہو اور آل یعقوب کا بھی اور اے رب اسے پسندیدہ بنا۔

۷َ–  اے ز کریا ہم تمہیں ایک لڑ کے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحیٰ ہو گا ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا۔

۸َ–  اس نے عرض کیا اے میرے رب! میرے ہاں لڑکا کیسے ہو گا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہاء کو پہنچ چکا ہوں !

۹َ–  فرمایا ایسا ہی ہو گا۔ تمہارا رب فرماتا ہے کہ یہ میرے لیے آسان ہے۔ میں اس سے پہلے تمہیں پیدا کر چکا ہوں جب کہ تم کچھ بھی نہ تھے۔

۱۰َ–  اس نے عرض کیا اے میرے رب! میرے لیے کوئی نشانی مقرر کر دے۔ فرمایا تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم تین شب و روز لوگوں سے بات نہ کر سکو گے۔

۱۱َ–  پھر وہ عبادت کے حجرہ سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آیا اور ان سے اشارہ سے کہا کہ صبح و شام تسبیح کرو۔

۱۲َ–  اے یحیٰ کتاب کو مضبوطی سے پکڑ لو اور ہم نے اس کو بچپن ہی سے حکمت عطا فرمائی۔

۱۳َ–  اور خاص اپنے پاس سے نرم دلی اور پاکیزگی۔ ۲۱ اور وہ بڑا پرہیز گار تھا۔

۱۴َ–  اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا تھا۔ خود سر و نافرمان نہ تھا۔

۱۵َ–  سلامتی ہے اس پر جس دن وہ پیدا ہوا جس دن مرے گا اور جس دن زندہ اٹھایا جائے گا۔

۱۶َ–  اور (اے پیغمبر!) کتاب میں مریم کا ذ کر کرو جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرقی جانب گوشہ نشین ہو گئی۔

۱۷َ–  پھر اس نے ان سے پردہ کر لیا۔ تو ہم نے اس کے پاس اپنی روح (فرشتہ) کو بھیجا اور وہ اس کے سامنے ٹھیک آدمی کی شکل میں ظاہر ہو گیا۔

۱۸َ–  وہ بول اٹھی اگر تو خدا سے ڈرنے والا ہے تو میں تجھ سے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں۔

۱۹َ–  اس نے کہا میں تو تمہارے رب کا فرستادہ ہوں تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ لڑکا دوں۔

۲۰َ–  وہ بولی میرے ہاں لڑکا کیسے ہو گا جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور نہ میں بدکار ہوں۔

۲۱َ–  اس نے کہا ایسا ہی ہو گا۔ تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے آسان ہے اور ہم یہ اس لیے کریں گے کہ اس کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں۔ اور اپنی طرف سے رحمت اور یہ بات طے پاچکی یہ۔

۲۲َ–  پھر اس کے حمل ٹھہر گیا اور وہ اس کو لئے ہوئے دور کے مقام کو چلی گئی۔

۲۳َ–  پھر اسے درد زہ کھجور کے تنے کے پاس لے گیا۔ وہ کہنے لگی کاش! میں اس سے پہلے مر چکی ہوتی اور بھولی بسری بن گئی ہوتی۔

۲۴َ–  اس وقت فرشتہ نے اسے نیچے سے پکارا غمگین نہ ہو۔ تمہارے رب نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔

۲۵َ–  اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلالو۔ تر و تازہ کھجوریں تم پر جھڑ پڑیں گی۔

۲۶َ–  پس کھاؤ اور پیو اور (اپنی) آنکھیں ٹھنڈی کرو پھر اگر کوئی آدمی نظر آئے تو کہ دو میں نے رحمن کے لیے روزہ کی نذر مانی ہے اس لیے آج کسی انسان سے بات نہیں کروں گی۔

۲۷َ–  پھر وہ اس کو لیے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئی۔ لوگ کہنے لگے اے مریم ! تو نے یہ عجیب حرکت کی۔

۲۸َ–  اے ہارون کی بہن! نہ تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بد کار عورت تھی۔

۲۹َ–  اس نے اس (بچہ) کی طرف اشارہ کیا۔ لوگوں نے کہا ہم اس سے کیا بات کریں جو ابھی گہوارہ میں بچہ ہے۔

۳۰َ–  بچہ بول اٹھا میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا۔

۳۱َ–  اور مجھے بابرکت کیا جہاں کہیں بھی رہوں۔ اور اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے جب تک میں زندہ رہوں۔

۳۲َ–  اور اس نے مجھے اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا بنایا۔ سرکش اور بد بخت نہیں بنایا۔

۳۳َ–  سلامتی ہے مجھ پر جس دن پیدا ہوا” جس دن میں مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔

۳۴َ–  یہ ہے عیسیٰ بن مریم۔ (اور یہ ہے) حق بات جس کے بارے میں لوگ جھگڑ رہے ہیں۔

۳۵َ–  اللہ کے یہ شایانِ شان نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔ وہ پاک ہے۔ جب وہ کسی بات کا فیصلہ کر لیتا ہے تو بس فرماتا ہے ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے۔

۳۶َ–  اور (عیسیٰ نے صاف صاف کہا تھا) اللہ میر رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ تو اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے۔

۳۷َ–  مگر مختلف فرقوں نے باہم اختلاف کیا۔ تو جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے ایک سخت دن کی حاضری تباہی کا سبب ہو گی۔

۳۸َ–  جس دن یہ ہمارے حضور حاضر ہوں گے اس دن وہ خوب سنیں گے اور خوب دیکھیں گے۔ مگر آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔

۳۹َ–  اور انہیں حسرت (پچھتاوے) کے دن سے خبردار کرو جبکہ فیصلہ چکا دیا جائے گا اور ان کا حال یہ ہے کہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔

۴۰َ–  بلا شبہ ہم ہی زمین کے اور اس پر بسنے والوں کے وارث ہوں گے اور سب ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔

۴۱َ–  اور (اے نبی) کتاب میں ابراہیم کا ذ کر کرو۔ یقیناً وہ نہایت سچا تھا اور نبی تھا۔

۴۲َ–  جب اس نے اپنے باپ سے کہا ابا جان!آپ کیوں ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کے کچھ کام آ سکتی ہیں ؟

۴۳َ–  ابا جان! میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا۔ تو آپ میرے پیچھے چلیں میں آپ کو سیدھی راہ دکھاؤں گا۔

۴۴َ–  ابا جان ! آپ شیطان کی پرستش نہ کیجئے۔ شیطان تو رحمن کا نافرمان ہے۔

۴۵َ–  ابا جان! میں ڈرتا ہوں کہ رحمن کا عذاب آپ کو آ نہ پکڑے اور آپ شیطان کے ساتھی بن کر رہ جائیں۔

۴۶َ–  باپ نے کہا ابراہیم ! کیا تو میرے معبودوں سے پھر گیا ہے۔ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔ تو مجھ سے ہمیشہ کے لیے الگ ہو جا۔

۴۷َ–  ابراہیم نے کہا سلام ہو آپ پر۔ میں آپ کے لیے اپنے رب سے معافی کی دعا کروں گا۔ وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔

۴۸َ–  میں آپ لوگوں سے نیز ان سے جن کو آپ لوگ الہ کے سوا پکارتے ہیں الگ ہو جاتا ہوں اور اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں۔ امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کے محروم نہیں رہوں گا۔

۴۹َ–  پھر جب وہ ان سے نیز ان ( کے معبودوں) سے جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے الگ ہو گیا تو ہم نے اس کو اسحق اور یعقوب عطا کئے اور ان میں سے ہر ایک کو نبی بنایا۔

۵۰َ–  اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا اور ان کے لیے سچائی کی زبانیں بلند کر دیں۔

۵۱َ–  اور کتاب میں موسیٰ کا ذ کر کرو۔ وہ چنا ہوا بندہ) تھا اور رسول اور نبی تھا۔

۵۲َ–  ہم نے اس کو طور کی داہنی جانب سے پکارا اور سرگوشی کے لیے قریب کیا۔

۵۳َ–  اور اپنی رحمت سے اس کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر اسے عطا کیا

۵۴َ–  اور کتاب میں اسمٰعیل کا ذ کر کرو۔ وہ وعدے کا سچا اور رسول اور نبی تھا۔

۵۵َ–  وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھا۔

۵۶َ–  اور کتاب میں ادریس کا ذ کر کرو۔ وہ نہایت سچا تھا اور نبی تھا۔

۵۷َ–  اور ہم نے اسے بلند مقام پر اٹھایا تھا۔

۵۸َ–  یہ ہیں انبیاء میں سے وہ لوگ جن پر اللہ نے انعام فرمایا آدم کی اولاد میں سے اور ان لوگوں کی نسل سے جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کرایا اور ابراہیم کی نسل سے اور اسرائیل کی نسل سے اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور منتخب کیا۔ ان کو جب رحمن کی آیتیں سنائی جاتیں تو وہ روتے ہوئے سجدہ میں گر جاتے۔

۵۹َ–  پھر ان کے بعد ایسے نا خلف ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز ضائع کر دی اور خواہشات کے پیچھے پڑ گئے۔ تو قریب ہے کہ یہ گمراہی کے انجام سے دو چار ہوں۔

۶۰َ–  البتہ جو لوگ توبہ کر لیں، ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں وہ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کے ساتھ ذرا بھی نا انصافی نہ ہو گی۔

۶۱َ–  ہمیشگی کے باغ جن کا رحمن نے اپنے بندوں سے غائبانہ وعدہ کر رکھا ہے یقیناً اس کا وعدہ پورا ہو کر رہنا ہے۔

۶۲َ–  وہاں وہ کوئی لغو بات نہیں سنیں گے۔ جو کچھ سنیں گے سلامتی ہی کی بات ہو گی۔ اور انہیں صبح و شام اپنا رزق ملتا رہے گا۔

۶۳َ–  یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے ان کو بنائیں گے جو اللہ سے ڈرتے رہے۔

۶۴َ–  (اے پیغمبر!) ہم آپ کے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترتے۔ جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو پیچھے ہے اور جو اس کے درمیان ہے سب اسی کا ہے اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں۔

۶۵َ–  وہ رب ہے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کا۔ تو اسی کی عبادت کرو اور اسی کی عبادت پر قائم رہو۔ کیا تمہارے علم میں اس کا ہم نا (اس جیسا) کوئی ہے ؟

۶۶َ–  اور انسان کہتا ہے کیا جب میں مر جاؤں گا تو پھر زندہ کر کے نکالا جاؤں گا۔

۶۷َ–  کیا انسان کو یاد نہیں کہ ہم اس سے پہلے اسے پیدا کر چکے ہیں جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔

۶۸َ–  تمہارے رب کی قسم” ہم ان سب کو نیز شیطانوں کو ضرور اکٹھا کریں گے۔ پھر ان سب کو جہنم کے گرد اس طرح حاضر کریں گے کہ وہ گھٹنوں کے بل گرے ہوئی ہوں گے۔

۶۹َ–  پھر ہر گروہ میں سے ان لوگوں کو الگ کریں گے جو رحمن کے خلاف بہت زیادہ سرکش بنے ہوئے تھے۔

۷۰َ–  پھر ہم ان لوگوں کو بخوبی جانتے ہیں جو جہنم میں جانے کے زیادہ سزاوار ہیں۔

۷۱َ–  اور تم میں سے کوئی نہیں ہے جو اس پر وارد نہ ہو۔ یہ طے شدہ بات ہے جو تمہارے رب پر لازم ہے۔

۷۲َ–  پھر ہم ان لوگوں کو بچا لیں گے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا تھا۔ اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔

۷۳َ–  اور جب ہماری روشن آیتیں ان لوگوں کو سنائی جاتی ہیں تو کفر کرنے والے ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ ہم دونوں فریقوں میں سے کون ہے جو بہتر مقام رکھتا ہے اور بہتر مجلس۔

۷۴َ–  حالانکہ ہم اس سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جو کہیں زیادہ سازو سامان رکھتی تھیں اور شان و شوکت میں کہیں بڑھ کر تھیں۔

۷۵َ–  جو لوگ گمراہی میں پڑتے ہیں رحمن انہیں ڈھیل دیا کرتا ہے یہاں تک کہ جب وہ اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے خواہ وہ عذاب ہو یا قیامت کی گھڑی اس وقت انہیں پتہ چلے گا کہ کس کی جگہ بدتر اور کس کا جتھا نہایت کمزور ہے۔

۷۶َ–  اور جو لوگ ہدایت کی راہ اختیار کرتے ہیں اللہ ان کی ہدایت میں اضافہ فرماتا ہے۔ اور باقی رہنے والی نیکیاں تمہارے رب کے نزدیک اجر کے اعتبار سے بھی بہتر ہیں اور انجام کے اعتبار سے بھی۔

۷۷َ–  تم نے دیکھا اس شخص کو جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور کہتا ہے کہ میں ضرور مال اور اولاد سے نوازا جاؤں گا۔

۷۸َ–  کیا اس نے غیب میں جھانک کر دیکھا ہے یا رحمن سے کوئی عہد لے رکھا ہے۔

۷۹َ–  ہرگز نہیں۔ وہ جو کچھ کہتا ہے ہم اسے لکھ لیں گے اور اس کے عذاب میں مزید اضافہ کریں گے۔

۸۰َ–  جس چیز کا وہ دعویٰ کرتا ہے اس کے وارث ہم ہوں گے۔ اور وہ ہمارے سامنے تنہا حاضر ہو گا۔ ۱۰۶

۸۱َ–  ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کے مدد گار ہوں۔

۸۲َ–  ہرگز نہیں۔ وہ قیامت کے دن ان کی عبادت کا انکار کریں گے اور ان کے مخالف بن جائیں گے۔

۸۳َ–  کیا تم دیکھتے نہیں کہ ہم نے کافروں پر شیطانوں کو چھوڑ رکھا ہے جو انہیں اکساتے رہتے ہیں۔

۸۴َ–  تو ان کے خلاف (فیصلہ کے لیے) تم جلدی نہ کرو۔ ہم ان کے دن گن رہے ہیں۔

۸۵َ–  جس دن ہم متقیوں کو رحمن کے حضور شاہی مہمانوں کی طرح جمع کریں گے۔

۸۶َ–  اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے جانوروں کی طرح ہانک لے جائیں گے۔

۸۷َ–  (اس دن) کسی کو شفاعت کا اختیار نہ ہو گا وہی شفاعت کرس کے گا جس نے رحمن کے حضور فرمان حاصل کر لیا ہو۔

۸۸َ–  یہ کہتے ہیں رحمن نے بیٹا بنا رکھا ہے

۸۹َ–  بڑی سخت بات ہے جو تم نے گھڑ لی۔

۹۰َ–  قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گر پڑیں۔

۹۱َ–  اس بات پر کہ یہ رحمن کے لیے بیٹا ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

۹۲َ–  رحمن کی یہ شان نہیں کہ (کسی کو) بیٹا بنائے۔

۹۳َ–  آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب اس کے حضور بندہ کی حیثیت سے حاضر ہونے والے ہیں۔

۹۴َ–  سب کا اس نے احاطہ کر رکھا ہے اور ایک ایک کو گن رکھا ہے۔

۹۵َ–  اور سب قیامت کے دن اکیلے اکیلے حاضر ہوں گے۔

۹۶َ–  جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے رحمن ان کے لیے محبت پیدا کر دے گا۔

۹۷َ–  ہم نے اس (کتاب) کو تمہاری زبان میں اس لیے آسان بنایا ہے تاکہ تم متقیوں کو خوشخبری دے دو اور جھگڑالو لوگوں کو خبردار کرو۔

۹۸َ–  ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں۔ کیا تم ان میں سے کسی کو موجد پاتے ہو یا تمہیں ان کی بھنک بھی سنائی دیتی ہے۔ ؟

٭٭٭

 

 

(۲۰) سورۂ طٰہٰ

 

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱–  طا۔ ھا۔

۲–  ہم نے تم پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم مصیبت میں پڑو۔

۳–  یہ تو ایک یاد دہانی ہے ان کے لیے جو ڈریں۔

۴–  اس کا اتارا ہوا ہے جس نے زمین اور بلند آسمان پیدا کئے۔

۵–  وہ رحمن عرش پر بلند ہے۔

۶–  اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے، جو کچھ زمین میں ہے، جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اور جو کچھ مٹی کے نیچے ہے۔

۷–  اگر تم پکار کر بات کہو تو (اس کی شان تو یہ ہے کہ) وہ چپکے سے کہی ہوئی بات اور نہایت مخفی بات تک کو جانتا ہے۔

۸–  اللہ کہ سوا کوئی خدا نہیں۔ اس کے لیے ہیں سب حسن و خوبی کے نام۔

۹–  اور کیا تمہیں موسیٰ کے واقعہ کی خبر پہنچی؟۔

۱۰–  جب اس نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا ذرا ٹھہرو مجھے آگ دکھائی دی ہے (میں جاتا ہوں) تاکہ تمہارے لیے انگارا لے آؤں یا ممکن ہے آگ کے پاس کوئی رہنمائی مل جائے۔

۱۱–  جب وہ اس کے پاس پہنچا تو ندا آئی اے موسیٰ !

۱۲–  میں ہوں تمہارا رب اپنی جوتیاں اتار دو تم طُویٰ کی مقدس وادی میں ہو۔

۱۳–  اور میں نے تمہیں چن لیا ہے تو جو وحی کی جا رہی ہے اسے توجہ سے سنو۔

۱۴–  میں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی خدا نہیں تو میری ہی عبادت کرو اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔

۱۵–  بلا شبہ قیامت کی گھڑی آنے والی ہے۔ میں اسے پوشیدہ رکھنے کو ہوں تاکہ ہر شخص اپنی کوشش کے مطابق بدلہ پائے۔

۱۶–  جو لوگ اس پر ایمان نہیں رکھتے اور اپنی خواہشات کے پیچھے پڑ گئے ہیں وہ تمہیں کہیں اس سے روک نہ دیں کہ تم ہلاکت میں پڑو۔

۱۷–  اور اے موسیٰ! یہ تمہارے دہنے ہاتھ میں کیا ہے؟

۱۸–  عرض کیا یہ میری لاٹھی ہے۔ اس پر میں ٹیک لگاتا ہوں، اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لیے دوسرے فائدے بھی ہیں۔

۱۹–  فرمایا ڈال دو اس کو اے موسیٰ!

۲۰–  اس نے اس کو ڈال دیا تو یکایک وہ ایک سانپ بن گیا جو دوڑ رہا تھا۔

۲۱–  فرمایا پکڑ لو اس کو اور ڈرو مت۔ ہم اسے پھر اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔

۲۲–  اور اپنا ہاتھ اپنے بازو میں دباؤ۔ روشن ہو کر نکلے گا بغیر کسی عیب کے۔ یہ دوسری نشانی ہے۔

۲۳–  تاکہ ہم تمہیں اپنی بڑی نشانیاں دکھائیں۔

۲۴–  تم فرعون کے پاس جاؤ وہ بڑا سرکش ہو گیا ہے۔

۲۵–  عرض کیا: اے رب! میرا سینہ کھول دے۔

۲۶–  اور میرا کام میرے لیے آسان کر دے۔

۲۷–  اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔

۲۸–  تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔

۲۹–  اور میرے خاندان سے میرے لیے ایک وزیر مقرر کر دے۔

۳۰–  ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔

۳۱–  اس کے ذریعہ میری کمر مضبوط کر۔

۳۲–  اور اس کو میرے کام میں شریک کر دے

۳۳–  تاکہ ہم بہ کثرت تیری پاکی بیان کریں۔

۳۴–  اور تیرا خوب ذکر کریں۔

۳۵–  بلا شبہ تو ہمارا نگرانِ حال ہے۔

۳۶–  فرمایا تمہاری درخواست منظور کر لی گئی اے موسیٰ !

۳۷–  اور ہم تم پر ایک بار اور احسان کر چکے ہیں۔

۳۸–  جب کہ ہم نے تمہاری ماں کی طرف وحی کی وہ جو وحی کی جا رہی ہے۔

۳۹–  کہ اس کو صندوق میں رکھ دو پھر اس (صندوق) کو دریا میں چھوڑ دو۔ دریا کو چاہیے کہ اس کو کنارہ پر ڈال دے اور اسے وہ شخص اٹھالے جو میرا بھی دشمن ہے اور اس (بچہ) کا بھی۔ اور میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی تھی اور یہ اس لیے کیا تھا کہ تمہاری پرورش میری نگرانی میں ہو۔

۴۰–  جب تمہاری بہن (پیچھے پیچھے) جا رہی تھی۔ کہنے لگی میں تمہیں (ایسی عورت) بتاؤں جو اس کی پرورش کرے۔ اس طرح ہم نے تمہیں تمہاری ماں کی طرف لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کرے۔ اور تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا تو ہم نے تم کو غم سے نجات دی اور تمہیں طرح طرح سے آزمایا اور تم کئی سال مدین والوں میں رہے۔ پھر تم ٹھیک وقت پر آ گئے اے موسیٰ!

۴۱–  میں نے تمہیں اپنے (خاص کام) کے لیے منتخب کیا ہے۔

۴۲–  تم اور تمہارا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ جاؤ اور میرے ذکر میں کوتاہی نہ کرو۔

۴۳–  جاؤ فرعون کے پاس و ہ سرکش ہو گیا ہے۔

۴۴–  اس سے نرمی سے بات کرو ممکن ہے وہ یاد دہانی حاصل کرے یا ڈر جائے۔

۴۵–  انہوں نے عرض کیا اے ہمارے رب! ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے یا سرکشی کرے۔

۴۶–  فرمایا ڈرو مت میں تمہارے ساتھ ہوں۔ سب کچھ سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔

۴۷–  اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم دونوں تیرے رب کے رسول ہیں۔ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے اور ان کو تکلیف نہ دے۔ ہم تیرے رب کی طرف سے نشانی لیکر آئے ہیں اور سلامتی ہے اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔

۴۸–  اور ہم پر وحی کی گئی ہے کہ عذاب ہے اس کے لیے جو جھٹلائے اور منہ موڑے۔

۴۹–  اس نے کہا تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ؟

۵۰–  موسیٰ نے کہا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو وجود بخشا پھر اس پر راہ کھول دی۔

۵۱–  اس نے سوال کیا پھر گزری ہوئی قوموں کا کیا حال ہے؟

۵۲–  موسیٰ نے جواب دیا اس کا علم میرے رب کے پاس ایک نوشتہ میں ہے۔ میرا رب ایسا نہیں ہے کہ اس سے غلطی یا بھول ہو جائے۔

۵۳–  وہ جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا، اس میں تمہارے لیے راہیں نکالیں اور آسمان سے (اوپر سے) پانی برسایا پھر اس نے مختلف قسم کی نباتات پیدا کر دیں۔

۵۴–  کھاؤ اور چراؤ اپنے چوپایوں کو۔ اس میں نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کے لیے۔

۵۵–  اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا، اسی میں تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ تم کو نکالیں گے۔

۵۶–  ہم نے اس کو اپنی ساری نشانیاں دکھائیں مگر اس نے جھٹلایا اور انکار کیا۔

۵۷–  اس نے کہا اے موسیٰ کیا تم اس لیے ہمارے پاس آئے ہو کہ اپنے جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال باہر کرو؟

۵۸–  تو ہم بھی تمہارے مقابلہ میں ایسا ہی جادو لائیں گے۔ تم ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کر لو۔ نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں اور نہ تم۔ ایک ہموار میدان میں۔

۵۹–  موسیٰ نے کہا تمہارے لیے جشن کا دن مقرر ہے۔ اور لوگوں کو دن چڑھے جمع کیا جائے۔

۶۰–  پھر فرعون پلٹا، اپنے تمام داؤ اکٹھا کئے اور مقابلہ میں آ گیا۔

۶۱–  موسیٰ نے کہا تمہاری شامت! اللہ پر جھوٹ نہ باندھو کہ عذاب سے تمہیں تباہ کر دے۔ اور جس نے جھوٹ گھڑا وہ نامراد ہوا۔

۶۲–  یہ سن کر ان کے درمیان رد و کد ہونے لگی اور وہ چپکے چپکے سرگوشیاں کرنے لگے۔

۶۳–  کہنے لگے یہ دونوں جادو گر ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے نکال باہر کریں اور تمہارے بہترین مذہب کو ختم کر کے رکھ دیں۔

۶۴–  لہٰذا اپنے سارے داؤ اکٹھا کر لو اور ایک صف بنا کر آؤ۔ آج اسی کی جیت ہو گی جو غالب آ گیا۔

۶۵–  انہوں نے کہا موسیٰ یا تم ڈالو یا ہم پہلے ڈالتے ہیں۔

۶۶–  اس نے کہا نہیں تم ہی ڈالو۔ اچانک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کی وجہ سے اس کو دوڑتی ہوئی محسوس ہونے لگیں۔

۶۷–  اور موسیٰ نے اپنے دل میں خوف محسوس کیا۔

۶۸–  ہم نے کہا ڈرو مت۔ تم ہی غالب رہو گے۔

۶۹–  تمہارے دہنے ہاتھ میں جو (لاٹھی) ہے اسے ڈال دو۔ انہوں نے جو کچھ بنایا ہے وہ اسے نگل جائے گا۔ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے، جادوگر کا فریب ہے۔ اور جادو گر کامیاب نہیں ہو سکتا خواہ کسی راہ سے آئے۔

۷۰–  بالآخر جادو گر بے اختیار سجدے میں گر پڑے۔ وہ پکار اٹھے ہم ایمان لائے موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔

۷۱–  (فرعون نے) کہا تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا؟ ضرور یہ تمہارا گرو ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ تو میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کٹواؤں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی دو ں گا پھر تمہیں پتہ چلے گا کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے۔

۷۲–  انہوں نے جواب دیا ہم ان روشن نشانیوں پر جو ہمارے سامنے آئی ہیں اور اس ذات پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے تجھے ہرگز ترجیح نہیں دیں گے۔ تو جو چاہے کر گزر۔ تو جو کچھ کر سکتا ہے وہ بس اس دنیوی زندگی کی حد تک ہی کر سکتا ہے۔

۷۳–  ہم تو اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطاؤں کو بخش دے نیز جادو کے اس عمل کو بھی جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا۔ اللہ ہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔

(۷۴–  یقیناً جو شخص اپنے رب کے حضور مجرم کی حیثیت سے حاضر ہو گا اس کے لیے جہنم ہے جس میں نہ مرے گا اور نہ جئے گا۔

۷۵–  اور جو شخص مؤمن کی حیثیت سے حاضر ہو گا اور نیک عمل بھی کئے ہوں گے تو ایسے لوگوں کے لیے بلند درجے ہوں گے۔

۷۶–  ہمیشگی کے باغ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ جزا ہے اس کی جس نے پاکیزگی اختیار کی۔

۷۷–  اور ہم نے موسیٰ پر وحی کی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لیکر چل پڑ۔ اور ان کے لیے سمندر میں خشک راہ نکال نہ تمہیں پیچھا کرنے والوں کا کوئی خوف ہو گا اور نہ (غرق ہونے کا) ڈر۔

۷۸–  پھر فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا پیچھا کیا تو سمندر نے ان کو ڈھانک لیا جس طرح ڈھانک لیا۔

۷۹–  اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا۔ صحیح راہ نہ دکھائی۔

۸۰–  اے بنی اسرائیل! ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور طور کی دہنی جانب تم سے وعدہ کیا اور تم پر من و سلوا اتارا۔

۸۱–  کھاؤ ہماری بخشی ہوئی پاک چیزیں اور اس معاملہ میں سرکشی نہ کرو ورنہ میرا غضب تم پر نازل ہو گا اور جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاکت میں گرا۔

۸۲–  اور میں بڑا بخشنے والا ہوں اس کے لیے جو توبہ کرے، ایمان لائے، نیک عمل کرے اور راہِ ہدایت پر چلتا رہے۔

۸۳–  اور اے موسیٰ! اپنی قوم کو چھوڑ کر جلد حاضر ہونے پر تمہیں کس چیز نے ابھارا؟

۸۴–  عرض کیا وہ میرے نقش قدم پر ہی ہیں اور میں نے تیرے حضور آنے میں جلدی کی تاکہ تو راضی ہو۔

۸۵–  فرمایا ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے اسے گمراہ کر دیا۔

۸۶–  موسیٰ سخت غصہ میں افسوس کرتا ہوا اپنی قوم کی طرف لوٹا۔ اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو کیا تمہارے رب نے تم سے اچھا وعدہ نہیں کیا تھا۔ کیا تم پر بڑی مدت گزر گئی یا تم یہی چاہتے تھے کہ تمہارے رب کا غضب تم پر نازل ہو اس لیے تم نے مجھ سے عہد شکنی کی۔

۸۷–  انہوں نے جواب دیا ہم نے اپنے اختیار سے آپ سے کئے ہوئے عہد کے خلاف نہیں کیا بلکہ قوم کے زیورات کے بوجھ سے ہم گرانبار ہو گئے تھے اس لیے ہم نے ان کو پھینک دیا۔ اس طرح سامری نے (ان کو آگ میں) ڈالا۔

۸۸–  اور ان کے لیے ایک بچھڑا نکال لایا۔ ایک ڈھڑ جس سے گائے کی سی آواز نکلتی تھی۔ لوگ دیکھ کر کہنے لگے یہ ہے ہمارا خدا اور موسیٰ کا بھی خدا مگر وہ بھول گیا۔

۸۹–  کیا یہ لوگ دیکھ نہیں رہے تھے کہ نہ وہاں کی بات کا جواب دے سکتا ہے اور نہ نفع و نقصان پہنچا سکتا ہے۔

۹۰–  اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ لوگو تم اس کے ذریعہ فتنہ میں ڈال دیئے گئے ہو۔ تمہارا رب تو رحمن ہے۔ تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو۔

۹۱–  انہوں نے جواب دیا ہم اس کی پرستش پر جمے رہیں گے جب تک کہ موسیٰ واپس نہیں آ جائیں۔

۹۲–  موسیٰ نے پوچھا ہارون! تم نے جو دیکھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیں تو تمہیں کس چیز نے روکا۔

۹۳–  کہ تم میری ہدایت پر عمل نہ کرو۔ کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی؟

۹۴–  اس نے کہا اے میری ماں کے بیٹے ! میری ڈاڑھی نہ پکڑئے اور نہ میرا سر۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ آپ کہیں گے تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میرے حکم کا انتظار نہ کیا۔

۹۵–  موسیٰ نے پوچھا سامری! تیرا کیا معاملہ ہے؟ اس نے جواب دیا مجھے وہ بات سجھائی دی جو دوسروں کو سجھائی نہیں دی۔ پس میں نے رسول کے نقشِ قدم سے ایک مٹھی لے لی پھر اس کو چھوڑ دیا۔ میری نفس نے مجھے ایسا ہی سمجھایا۔

۹۶–  موسیٰ نے کہا جا۔ اب زندگی بھر تجھے یہ کہتے رہنا ہے کہ مجھے نہ چھونا۔ ۱۱۵ اور تیرے لیے ایک اور وقت مقرر ہے جو تجھ سے ہرگز نہ ٹلے گا اور دیکھ اپنے اس خدا کو جس کی پرستش پر تو جما رہا ہم اسے جلا ڈالیں گے پھر اس کو ریزہ ریزہ کر کے دریا میں بہا دیں گے۔

۹۷–  تمہارا خدا صرف اللہ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ اس کا علم ہر چیز پر حاوی ہے۔

۹۹–  اس طرح ہم تمہیں گزرے ہوئے واقعات سناتے ہیں کہ ہم نے تمہیں خاص اپنے پاس سے ذکر (قرآن) عطا کیا ہے۔

۱۰۰–  جو لوگ اس سے رخ پھیریں گے وہ قیامت کے دن بھاری بوجھ اٹھائیں گے۔

۱۰۱–  وہ اسی حالت میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ بہت برا بوجھ ہو گا جس کو قیامت کے دن وہ اپنے اوپر لادے ہوں گے۔

۱۰۲–  وہ دن کہ صور پھونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اس دن اس حال میں جمع کریں گے کہ ان کی آنکھیں نیلی پڑی ہوں گی۔

۱۰۳–  وہ آپس میں ایک دوسرے سے چپکے چپکے کہتے ہوں گے کہ تم تو صرف دس دن رہے ہو گے۔

۱۰۴–  ہم خوب جانتے ہیں وہ جو کچھ کہیں گے۔ اس وقت ان میں جو سب سے بہتر اندازہ لگانے والا ہو گا کہے گا کہ تم بس ایک دن رہے ہو۔

۱۰۵–  اور یہ لوگ تم سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھتے ہیں کہو میرا رب ان کو گرد بنا کر اڑا دے گا۔

۱۰۶–  اور زمین کو اس حال میں چھوڑے گا کہ وہ صاف اور ہموار میدان ہو گا۔

۱۰۷–  اس میں نہ تم کجی دیکھو گے اور نہ بلندی۔

۱۰۸–  اس دن لوگ ایک پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے۔ اس سے ذرا انحراف نہ کر سکیں گے۔ اور ساری آوازیں رحمن کے آگے پست ہو جائیں گی۔ ایک آہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔

۱۰۹–  اس روز شفاعت کام نہ دے گی مگر اس کی جس کو رحمن اجازت دے اور اس کی بات پسند فرمائے۔

۱۱۰–  وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور ان کا علم اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔

۱۱۱–  تمام چہرے اس حی و قیوم کے آگے جھکے ہوں گے اور نامراد ہو گا وہ جو ظلم کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو گا۔

۱۱۲–  اور جس نے نیک کام کئے ہوں گے اور وہ مومن بھی ہو گا تو اس کے لیے نہ کسی ظلم کا اندیشہ ہو گا اور نہ حق تلفی کا۔

۱۱۳–  اور اسی طرح ہم نے اس کو عربی قرآن کی شکل میں اتارا اور اس میں ہم نے مختلف طریقوں سے تنبیہیں پیش کیں تا کہ لوگ اللہ سے ڈریں یا یہ ان کے لیے یاد دہانی کا باعث ہو۔

۱۱۴–  پس برتر ہے اللہ بادشاہ حقیقی۔ اور قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کرو قبل اس کے کہ اس کی وحی تم پر پوری کر دی جائے۔ اور دعا کرو کہ اے میرے رب! میرا علم اور زیادہ کر۔

۱۱۵–  ہم نے اس سے پہلے آدم کو تاکیدی حکم دیا تھا مگر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں عزم نہ پایا۔

۱۱۶–  اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہیں کیا۔ اس نے انکار کیا۔

۱۱۷–  اس پر ہم نے کہا اے آدم یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے تو ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنت سے نکلوا دے اور تم مصیبت میں پڑ جاؤ۔

۱۱۸–  یہاں تمہارے لیے یہ (سہولت) ہے کہ نہ بھوکے رہو اور نہ برہنہ۔

۱۱۹–  نہ پیاس لگے اور نہ دھوپ۔

۱۲۰–  مگر شیطان نے اس کو ورغلایا۔ کہا اے آدم! میں تمہیں بتاؤں ہمیشگی کا درخت اور ایسی بادشاہت جس پر کبھی زوال نہ آئے؟

۱۲۱–  چنانچہ دونوں نے (آدم اور حوا نے) اس درخت کا پھل کھا لیا۔ نتیجہ یہ کہ دونوں کے ستر ان پر کھل گئے اور وہ جنت کے پتوں سے اپنے کو ڈھانکنے لگے۔ آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور وہ بے راہ ہو گیا۔

۱۲۲–  پھر اس کے رب نے اسے قبولیت سے نوازا، اس کی توبہ قبول کی اور اسے ہدایت بخشی۔

۱۲۳–  ارشاد ہوا تم سب یہاں سے اتر جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس کوئی ہدایت آئے تو جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہو گا اور نہ مصیبت میں پڑے گا۔

۱۲۴–  اور جو میرے ذکر سے رخ پھیرے گا اس کے لیے تنگ زندگی ہو گی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔

۱۲۵–  وہ کہے گا اے میرے رب! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا میں تو بینا (آنکھوں والا) تھا؟

۱۲۶–  ارشاد ہو گا اسی طرح ہماری آیتیں تیرے پاس پہنچی تھیں تو تو نے ان کو بھلا دیا تھا۔ اسی طرح آج تو بھی بھلایا جا رہا ہے۔

۱۲۷–  اس طرح ہم بدلہ دیں گے اس کو جو حد سے گزر گیا تھا اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہیں لایا تھا اور آخرت کا عذاب بہت زیادہ سخت اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔

۱۲۸–  کیا ان لوگوں کے لیے یہ بات باعث ہدایت نہ ہوئی کہ ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جن کی (اجڑی ہوئی) بستیوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو دانشمند ہیں۔

۱۲۹–  اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ پا چکی ہوتی اور ایک مدت مقرر نہ کی گئی ہوتی تو عذاب ان کو گرفت میں لے لیتا۔

۱۳۰–  پس ان کی باتوں پر صبر کرو اور اپنے رب کی حمد کے ساتء تسبیح کرو سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے۔ اور رات کی کچھ گھڑیوں میں بھی تسبیح کرو اور دن کے حصوں میں بھی تاکہ تم خوش ہو جاؤ۔

۱۳۱–  اور نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھو دنیوی زندگی کی اس زیبائش کو جو ہم نے ان کے مختلف گروہوں کو دے رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں آزمائش میں ڈالیں۔ اور تمہارے رب کا رزق ہی بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے۔

۱۳۲–  اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور اس پر قائم رہو۔ ہم تم سے رزق نہیں مانگتے۔ رزق ہم تمہیں دیتے ہیں اور انجام کار تقویٰ کے لیے ہے۔

۱۳۳–  یہ لوگ کہتے ہیں یہ اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی ہمارے پاس کیوں نہیں لاتا۔ کیا ان کے پاس اگلے صحیفوں میں جو کچھ (بیان ہوا) ہے اس کی شہادت نہیں پہنچی؟

۱۳۴–  اور اگر ہم اس سے پہلے ہی انہیں عذاب سے ہلاک کر دیتے تو وہ کہتے اسے ہمارے رب تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے تیرے احکام پر چلتے۔

۱۳۵–  کہو ہر ایک انتظار میں ہے تو تم بھی انتظار کرو۔ عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون سیدھی راہ پر ہے نیز کس نے ہدایت پائی ہے

٭٭٭

 

 

(۲۱) سورۂ الانبیاء

 

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱– قریب آ لگا ہے لوگوں کے لیے ان کے حساب کا وقت اور وہ ہیں کہ غفلت میں رُخ پھیرے چلے جا رہے ہیں۔

۲– ان کے رب کی طرف سے جو تازہ یاد دہانی بھی آتی ہے اس کو وہ اس طرح سنتے ہیں کہ کھیل میں لگے رہتے ہیں

۳– ان کے دل غافل ہیں اور یہ ظالم چپکے چپکے سرگوشی کرتے ہیں کہ یہ تم جیسا ہی تو ایک بشر ہے، پھر کیا تم آنکھوں دیکھے جادو کے پاس جاؤ گے ؟

۴– اس نے ( رسول نے) کہا میرا رب جانتا ہے جو بات بھی آسمان و زمین میں کی جائے وہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

۵– انہوں نے یہاں تک کہا کہ یہ تو خواب پریشاں ہیں بلکہ یہ اس کا من گھڑت (کلام) ہے بلکہ یہ شاعر ہے۔ ورنہ یہ ہمارے پاس کوئی ایسی نشانی لائے جس طرح اگلے وقتوں کے رسول نشانیوں کے ساتھ بھیجے گئے تھے۔

۶– ان کے پہلے کوئی بستی بھی جس کو ہم نے ہلاک کیا ایمان نہیں لائی پھر کیا یہ لوگ ایمان لائیں گے۔ ؟

۷– اور تم سے پہلے ہم نے آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کرتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر ( اہل کتاب) سے پوچھ لو۔

۸– ان کو ہم نے ایسے جسم کا نہیں بنایا تھا کہ کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔

۹– پھر ہم نے ان سے وعدہ پورا کیا اور انہیں اور جن کو ہم نے چاہا بچا

–لیا اور حد سے گزرنے والوں کو ہلاک کر دیا۔

۱۰– ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہارے لتے یاد دہانی ہے۔ کیا تم سمجھتے ہیں ؟

۱۱– اور کتنی ہی ظالم بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر دیا اور ان کے بعد دوسرے لوگوں کو اٹھا کھڑا کیا۔

۱۲– جب انہوں نے ہمارا عذاب محسوس کیا ۱ تو لگے وہاں سے بھاگنے۔

۱۳– بھاگو نہیں۔ لوٹو اپنے سامان عیش اور اپنے گھروں کی طرف تاکہ تم سے پوچھا جائے۔

۱۴– وہ پکار اٹھے افسوس ہم پر۔ ہم ہی ظالم تھے۔

۱۵– وہ یہی واویلا کرتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو کٹے ہوئے کھیت کی طرح کر دیا۔ وہ بالکل بجھ کر رہ گئے۔

۱۶– ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل کے طور پر نہیں بنایا ہے۔

۱۷– اگر ہم کھیل بنانا چاہتے تو خاص اپنے پاس سے بنا لیتے اگر ہمیں ایسا کرنا ہی ہوتا۔

۱۸– مگر ہم تو حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تو وہ اس کا سر کچل دیتا ہے اور وہ ( باطل) نابود ہو جاتا ہے۔ اور تمہارے لیے تباہی ہے ان باتوں کی وجہ سے جو تم بیان کرتے ہو۔

۱۹– آسمانوں اور زمین میں جو کوئی ہے سب اسی کے ہیں اور جو اس کے پاس ہیں وہ نہ اس کی عبادت سے سرتابی کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔

۲۰– رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں۔ دم نہیں لیتے۔

۲۱– کیا انہوں نے زمین کے ایسے خدا بنائے ہیں جو ( مردوں کو) زندہ کھڑا کرتے ہوں۔

۲۲– اگر ان ( آسمان و زمین) میں اللہ کے سوا اور خدا بھی ہوئے تو یہ درہم برہم ہو کے رہ جاتے۔ پس پاک ہے اللہ عرش کا رب ان باتوں سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔

۲۳– وہ جو کچھ بھی کرتا ہے ( کسی کے آگے) جوابدہ نہیں اور سب جوابدہ ہیں۔

۲۴– کیا انہوں نے اس کو چھوڑ کر اور معبود بنا لئے ہیں ؟ ان سے کہو پیش کرو اپنی دلیل، یہ تعلیم میرے ساتھیوں کے لیے اور یہی تعلیم مجھ سے پہلے لوگوں کے لیے بھی تھی۔ مگر اکثر لوگ حقیقت سے بے خبر ہیں اس لیے رُخ پھیرے ہوئے ہیں۔

۲۵– ہم نے تم سے پہلے جو بھی رسول بھیجا اس پر یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں تو میری ہی عبادت کرو۔

۲۶– یہ کہتے ہیں رحمن نے ( اپنے لیے) اولاد بنا لی ہے پاک ہے وہ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ( اس کے) معزز بندے ہیں۔

۲۷– اس کے آگے بڑھ کر بات نہیں کرتے اور اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔

۲۸– جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے سب سے وہ باخبر ہے۔ وہ شفاعت نہیں کریں گے مگر اس کی جس کے لیے اللہ پسند فرمائے اور وہ اس کے خوف سے لرزاں رہتے ہیں۔

۲۹– اور ان میں سے اگر کوئی کہ دے کہ اس کے سوا میں خدا ہوں تو ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے۔ ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔

۳۰– کیا منکرین نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ آسمان و زمین باہم ملے ہوئے تھے پھر ہم نے انہیں الگ کر دیا۔ اور پانی سے تمام زندہ چیزیں پیدا کر دیں۔ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے ؟

۳۱– اور ہم نے زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیئے کہ ان کو لیکر لڑھک نہ جائے۔ اور ان ( پہاڑوں) میں درّے بنائے جو راستہ کا کام دیتے ہیں تاکہ لوگ راہ پائیں۔

۳۲– اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا۔ مگر یہ لوگ اس کی نشانیوں سے رُح پھیرے ہوئے ہیں۔

۳۳– اور وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند بنائے سب ( اپنے اپنے) مدار میں تیر رہے ہیں۔

۳۴– اور ہم نے تم سے پہلے بھی کسی انسان کو ہمیشگی نہیں بخشی۔ اگر تم مر گئے تو کیا ہے لوگ ہمیشہ زندہ رہنے والے ہیں۔

۳۵– ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اور ہم اچھی اور بری حالت میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کرتے ہیں۔ اور ہماری ہی طرف تمہیں پلٹنا ہے۔

۳۶– اور ( اے پیغمبر!) یہ کافر جب تمہیں دیکھتے ہیں تو مذاق بنا لیتے ہیں۔ ( کہتے ہیں) کیا یہی وہ شخص ہے جو تمہارے خداؤں کا (برائے کے ساتھ) ذکر کرتا ہے ؟ اور ان کا اپنا حال یہ ہے کہ رحمن کے ذکر سے منکر ہیں۔

۳۷– انسان کی سرشت ( طبیعت) میں جلد بازی ہے۔ میں عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا۔ جلدی نہ مچاؤ۔

۳۸– کہتے ہیں یہ وعدہ پورا کب ہو گا اگر تم سچے ہو۔

۳۹– کاش! یہ کافر اس وقت کو جان لیتے جب یہ آگ کو نہ اپنے منہ سے ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھ سے اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔

۴۰– وہ (گھڑی) تو اچانک آئے گی اور ان کو بدحواس کر دے گی۔ پھر نہ تو اس کو رفع کر سکیں گے اور نہ انہیں مہلت ملے گی۔

۴۱– تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تھا۔ مگر جو لوگ ان کا مذاق اڑاتے رہے ان کو اسی چیز نے اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

۴۲– ان سے پوچھو کون ہے جو رات کو اور دن کو رحمن (کی پکڑ) سے تمہاری حفاظت کرتا ہے ؟ مگر ے اپنے رب کے ذکر سے رُخ پھیرے ہوئے ہیں۔

۴۳– کیا ہمارے سوا اُن کے ایسے معبود ہیں جو ان کو بچا سکتے ہیں ؟ وہ خود اپنی مدد نہیں کر سکتے اور نہ ہماری تائید ان کو حاصل ہے۔

۴۴– اصل بات یہ ہے کہ ہم نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو آسودہ کیا یہاں تک کہ ان پر ایک طویل مدت گزر گئی۔ مگر کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم اس سرزمین کی طرف اس کی سرحدوں کو گھٹاتے ہوئے بڑھ رہے ہیں۔ پھر کیا یہ غالب رہیں گے ؟

۴۵– کہو میں تمہیں وحی کے ذریعہ خبردار کر رہا ہوں۔ مگر بہرے پکار کو نہیں سنتے جب کہ انہیں خبردار کیا جائے۔

۴۶– اور اگر تمہارے رب کے عذاب کی ایک آنچ انہیں لگ جائے تو پکار اٹھیں گے ہائے افسوس! ہم ہی خطا کار تھے۔

۴۷– اور قیامت کے دن ہم انصاف کے ترازو قائم کریں گے۔ پھر کسی شخص کے ساتھ ذرا بھی نا انصافی نہ ہو گی۔ اگر کسی کا کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو گا تو ہم اُسے لا حاضر کریں گے اور ہم حساب لینے کے لیے کافی ہیں۔

۴۸– اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرقان اور روشنی اور یاد دہانی عطاء کی تھی متقیوں کے لیے۔

۴۹– جو بے دیکھے رب سے ڈرتے ہیں اور قیامت کی گھڑی سے لرزاں رہتے ہیں۔

۵۰– اور یہ ایک بابرکت ذکر ہے جو ہم نے اتارا ہے۔ تو کیا تم اس کے منکر بنو گے۔ ؟

۵۱– اور ہم نے ابراہیم کو پہلے ہی اس کے شایانِ شان ہدایت عطاء کی تھی اور ہم اس کو خوب جانتے تھے۔

۵۲– جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ یہ کیسی مورتیاں ہیں جن کی پرستش میں تم لگے ہوئے ہو!

۵۳– انہوں نے جواب دیا ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی ہو جا کرتے پایا ہے۔

۵۴– اس نے کہا تم بھی کھلی گمراہی میں پڑے ہو اور تمہارے باپ دادا بھی پڑے تھے۔

۵۵– انہوں نے کہا تم واقعی حق لیکر آئے ہو یا مذاق کر رہے ہو؟

۵۶– اس نے کہا نہیں بلکہ واقعی تمہارا رب وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اسی نے ان کو پیدا کیا ہے اور اس پر میں تمہارے سامنے گواہ ہوں۔

۵۷– اور اللہ کی قسم میں ضرور تمہارے بتوں کے ساتھ ایک تدبیر کروں گا جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔

۵۸– چنانچہ اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا بجز ایک (بت) کے جو ان کے نزدیک بڑا تھا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔

۵۹– کہنے لگے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کس نے کی ہے ؟ (جس نے بھی یہ حرکت کی ہے) وہ بڑا ظالم ہے !

۶۰– بعض لوگوں نے کہا ہم نے ایک نوجوان کو ان کے بارے میں کچھ کہتے سنا تھا جس کو ابراہیم کہتے ہیں۔

۶۱– انہوں نے کہا اسے لوگوں کے سامنے لے آؤ تاکہ وہ دیکھ لیں۔

۶۲– (جب ابراہیم آئے تو) انہوں نے پوچھا ابراہیم ! کیا تم نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے ؟

۶۳– اس نے جواب دیا بلکہ ان کے اس بڑے نے کی ہے۔ ان ہی سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہوں۔

۶۴– یہ سن کر وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے تم ہی لوگ غلط کار ہو۔

۶۵– پھر وہ اپنے سروں کے بل اوندھے ہو گئے۔ بولے تمہیں معلوم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں۔

۶۶– اس نے کہا پھر کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہو جو نہ تم کو فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان ؟

۶۷– تف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر پرستش کرتے ہو! کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ ؟

۶۸– انہوں نے کہا اس کو جلا ڈالو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تمہیں کچھ کرنا ہے۔

۶۹– ہمارا حکم ہوا اے آگ ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی بن جا ابراہیم کے لیے۔

۷۰– انہوں نے چاہا کہ ابراہیم کے ساتھ ایک چال چلیں مگر ہم نے ان کو ناکام کر دیا۔

۷۱– اور ہم اس کو اور لوطؑ نجات دے کر اس سر زمین کی طرف لے گئے جس میں ہم نے دنیا والوں کے لئے برکتیں رکھی ہیں

۷۲– اور ہم نے اس کو اسحٰق عطا کیا اور مزید یعقوب اور ہر ایک کو ہم نے صالح بنایا

۷۳– اور ہم نے ان کو امام۔ اور وہ ہمارے ہی عبادت گزار تھے۔

۷۴– اور لوط کو ہم نے حکمت اور علم عطا فرمایا۔ اور اس بستی سے اسے نجات دی جو گندے کام کیا کرتی تھی۔ وہ بہت ہی برے اور فاسق لوگ تھے۔

۷۵– اور اس کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا۔ یقیناً وہ صالحین میں سے تھا۔

۷۶– اور اس سے پہلے نوح کو بھی ( ہم نے اپنے فضل سے نوازا تھا)۔ جب اس نے ہمیں پکارا تو ہم نے اس کی دعا قبول کی۔ اور اس کے ساتھیوں کو سخت تکلیف سے نجات دی۔

۷۷– اور ہم نے اس کی مدد کی ان لوگوں کے مقابلہ میں جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا۔ وہ بہت برے لوگ تھے لہٰذا ہم نے ان سب کو غرق کر دیا۔

۷۸– اور داؤد اور سلیمان کو بھی (ہم نے اپنے فضل سے نوازا تھا) جب وہ ایک کھیت کے مقدمہ میں فیصلہ کر رہے تھے جس میں ایک گروہ کی بکریاں رات کو گھس پڑی تھیں اور ہم ان کے قضیہ کو دیکھ رہے تھے۔

۷۹– اس وقت ہم نے سلیمان کو اس (مقدمہ) کی سمجھ عطا ء کی اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے حکمت اور علم عطاء کیا تھا۔ اور داؤد کی ہمنوائی کے لیے ہم نے پہاڑوں کو مسخر کر دیا تھا نیز پرندوں کو بھی۔ وہ اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ یہ ہماری ہی کارفرمائی تھی۔

۸۰– اور ہم نے اس کو تمہارے لیے زرہ بنانے کی صنعت سکھا دی کہ تمہارے لیے جنگ کے موقع پر تحفظ کا سامان ہو۔ پھر کیا تم شکر گزار ہو ؟

۸۱– اور ہم نے سلیمان کے لیے تیز ہوا کو مسخر کر دیا تھا جو اس کے حکم سے اس سر زمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے بڑی برکتیں رکھی ہیں ہم ہر چیز کا علم رکھنے والے ہیں۔

۸۲– اور شیطانوں میں سے ایسے جو اس کے لیے غوطے لگاتے اور اس کے علاوہ دوسرے کام بھی کرتے۔ ان کے نگراں ہم ہی تھے۔

۸۳– اور ایوب کو (بھی ہم نے اپنے فضل سے نوازا تھا) جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ میں بیماری میں مبتلا ہو گیا ہوں اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

۸۴– تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اس کی تکلیف کو دور کر دیا اور اس کو اس کے اہل و عیال بھی دیئے نیز ان کے ساتھ ان جیسے اور بھی دئے۔ اپنی طرف سے رحمت کے طور پر اور تاکہ یاددہانی ہو عبادت گزاروں کے لیے۔

۸۵– اور اسمٰعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو بھی ( اپنے فضل سے نوازا) یہ سب صبر کرنے والے تھے۔

۸۶– ان کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا یقیناً وہ نیکو کاروں میں سے تھے۔

۸۷– اور ذوالنون ( مچھلی والے) کو بھی ( ہم نے اپنے فضل سے نوازا تھا) جب وہ برہم ہو کر چلا گیا تھا اور سمجھا تھا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے۔ پھر تاریکیوں میں سے اس نے پکارا کہ تیرے سوا کوئی خدا نہیں، تو پاک ہے بلا شبہ میں ہی قصوروار ہوں۔

۸۸– اس وقت ہم نے اس کی دعا قبول کی اور گھٹن سے اس کو نجات دی اس طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔

۸۹– اور زکریا ( کو بھی ہم نے اپنے فضل سے نوازا) جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ اے رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو ہی بہترین وارث ہے۔

۹۰– تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحیٰ عطا فرمایا۔ اور اس کی بیوی کو اس کے لیے سازگار بنا دیا۔ یہ لوگ نیکی کے کاموں میں سرگرم رہتے اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے اور ہمارے آگے عاجزی کرنے والے تھے۔

۹۱– اور وہ جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی۔ ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور اس کو اور اس کے بیٹے کو دنیا والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا۔

۹۲– یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں ہی تمہارا رب ہوں لہٰذا میری عبادت کرو۔

۹۳– مگر لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ سب کو بالآخر ہماری ہی طرف پلٹنا ہے۔

۹۴– تو جو نیک عمل کرے گا اور وہ مومن بھی ہو گا تو اس کی کوشش کی نا قدری نہ ہو گی۔ اور اسے ہم لکھ رہے ہیں۔

۹۵– اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا اس کے لیے حرام ہے کہ اس کے رہنے والے پلٹ آئیں۔

۹۶– یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے امنڈ پڑیں گے۔

۹۷– اور وعدۂ حق قریب آ لگے گا تو تو اچانک ان لوگوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی جنہوں نے کفر کیا تھا۔ وہ پکار اٹھیں گے افسوس ہم پر! ہم اس سے غفلت میں رہے بلکہ ہم خطا کار تھے۔

۹۸– تم اور وہ چیزیں جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر پرستش کرتے ہو جہنم کا ایندھن ہیں۔ تمہیں لازماً وہاں پہنچنا ہے۔

۹۹– اگر واقعی یہ خدا ہوتے تو وہاں نہ پہنچتے اور سب کو ہمیشہ اسی میں رہنا ہے۔

۱۰۰– وہاں وہ چیختے چلاتے رہیں گے اور کچھ نہ سنیں گے۔

۱۰۱– البتہ جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے اچھے انجام کا وعدہ پہلے ہی ہو چکا ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے۔

۱۰۲– وہ اس کی بھنک بھی نہ سنیں گے اور اپنی من بھاتی نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔

۱۰۳– ان کو ( اس دن کی) بڑی گھبراہٹ پریشان نہ کرے گی اور فرشتے ان کا خیر مقدم کریں گے کہ یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا تھا۔

۱۰۴– جس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح اوراق کو طومار میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔ جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کا آغاز کیا تھا اسی طرح ہم اسے دہرائیں گے۔ یہ وعدہ ہے ہمارے ذمہ ہم اس کام کو کر کے رہیں گے۔

۱۰۵– اور زبور میں ہم نے نصیحت کے بعد لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔

۱۰۶– اس میں بڑی خوش خبری ہے ان لوگوں کے لیے جو عبادت گزار ہیں۔

۱۰۷– اور ( اے پیغمبر) ہم نے تم کو دنیا والوں کے لیے سر تا سر رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

۱۰۸– کہو میری طرف یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے تو کیا تم مسلم ہوتے ہو ( اس کے فرمانبردار بنتے ہو) ؟

۱۰۹– اگر وہ رُخ پھیرتے ہیں تو کہ دو میں نے تمہیں علی الاعلان خبردار کر دیا ہے۔ اب میں نہیں جانتا جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب ہے یا دور

۱۱۰– بے شک وہ جانتا ہے اس بات کو بھی جو کھل کر کہی جاتی ہے اور اس بات کو بھی جو تم چھپاتے ہو۔

۱۱۱– اور مجھے نہیں معلوم۔ ہو سکتا ہے یہ تمہارے لئے آزمائش اور ایک وقت تک کے لیے دنیوی فائدہ کا سامان ہو۔

۱۱۲– (پیغمبر نے) دعا کی اے میرے رب حق کے ساتھ فیصلہ کر دے اور ہمارا رب رحمن ہے جس سے مدد مانگی گئی ہے ان باتوں کے مقابلہ میں جو تم لوگ بناتے ہو۔

٭٭٭

 

 

(۲۲) سورۂ الحج

 

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱– لوگو ! اپنے رب سے ڈرو۔ قیامت کا زلزلہ بڑی ہولناک چیز ہے۔

۲– جس دن تم اسے دیکھو گے اس دن ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچہ کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا اور لوگوں کو تم دیکھو گے کہ وہ مدہوش ہیں حالانکہ وہ مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی بڑا سخت ہو گا۔

۳– اور ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ کے بارے میں علم کے بغیر بحث کرتے ہیں اور ہر سرکش شیطان کے پیچھے ہولیتے ہیں۔

۴– جس کے لیے یہ بات مقدر ہے کہ جو کوئی اُسے دوست بنائے گا اسے وہ گمراہ کر کے رہے گا اور دہکتی جہنم کے عذاب کی طرف لے جائے گا۔

۵– لوگو! اگر تمہیں (مرنے کے بعد) اٹھائے جانے کے بارے میں شک ہے تو (غور کرو) ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ٍٍ پھر نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھر گوشت کے ٹکڑے سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بغیر شکل کے بھی۔ (یہ اس لیے ہوتا ہے) تاکہ تم پر (اپنی قدرت کی کرشمہ سازیاں) واضح کریں۔ اور ہم جس کو چاہتے ہیں رحم میں ایک مقررہ مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں۔ پھر تم کو بچہ کی شکل میں باہر لاتے ہیں۔ پھر (تمہاری پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی جوانی (کی عمر) کو پہنچ جاؤ۔ اور تم میں سے کسی کا وقت تو پہلے ہی پورا ہو جاتا ہے اور کوئی عمر کے بدترین حصہ کو پہنچا دیا جاتا ہے تاکہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ اور تم دیکھتے ہو کہ زمین خشک پڑی ہے۔ پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ ابھرنے اور پھولنے لگتی ہے اور ہر قسم کی خوشنما نباتات اگاتی ہے۔

۶– یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۷– اور یہ کہ قیامت کی گھڑی آنے والی ہے اس میں کوئی شبہ نہیں اور اللہ ان کو اٹھا کھڑا کرے گا جو قبروں میں ہیں۔

۸– اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو کسی علم، کسی ہدایت اور کسی روشن کتاب کے بغیر اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔

۹– اکڑتے ہوئے تاکہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے گمراہ کریں۔ ایسے شخص کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن ہم اس کو جلنے کے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔

۱۰– یہ ہے وہ جو تیرے ہاتھو ں نے پہلے سے تیار کیا تھا اور اللہ اپنے بندوں پر ہرگز ظلم کرنے والا نہیں ہے۔

۱۱– اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو اللہ کی عبادت ایک کنارہ پر رہ کر کرتے ہیں۔ اگر فائدہ پہنچا تو اس سے مطمئن ہو گئے اور اگر آزمائش آ گئی تو الٹے پھر گئے۔ دنیا بھی کھو دی اور آخرت بھی۔ یہی ہے کھلا خسارہ۔

۱۲– یہ اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ فائدہ۔ یہ ہے پرلے درجہ کی گمراہی۔

۱۳– وہ ان کو پکارتے ہیں جن کا نقصان ان کے فائدہ سے زیادہ قریب ہے۔ بہت برا ہے کارساز اور بہت برا ہے ساتھی۔

۱۴– بے شک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھے عمل کئے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں رواں ہوں گی۔ بلا شبہ الہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

۱۵– جو شخص یہ خیال کرتا ہو کہ اللہ دنیا و آخرت میں اس کی مدد نہیں کرے گا اسے چاہیے کہ آسمان تک ایک رسی تان لے پھر اسے کاٹ ڈالے اور دیکھ لے کہ آیا اس کی اس تدبیر نے اس کے غم و غصہ کو دور کر دیا؟

۱۶– اس طرح ہم نے اس (قرآن کو روشن دلیلوں کی شکل میں اتارا ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔

۱۷– جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور صابی اور نصاریٰ اور مجوسی اور وہ جو مشرک ہوئے، ان سب کے درمیان اللہ قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا۔ اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔

۱۸– کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں نیز سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، جانور اور بہ کثرت انسان۔ اور بہت سے انسان ایسے ہیں جن پر عذاب لازم ہو چکا ہے۔ اور جسے اللہ ذلیل کر دے اسے عزت دینے والا کوئی نہیں۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

۱۹– یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا تو جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے آگ کے لباس کاٹ دئے گئے ہیں۔ ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈال دیا جائے گا۔

۲۰– جس سے ان کے پیٹ کے اندر کی چیزیں اور ان کی کھالیں گل جائیں گی۔

۲۱– نیز ان (کو سزا دینے) کے لیے لوہے کے گُرز ہوں گے۔

۲۲– جب کبھی وہ اس گھٹن سے نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے کہ چکھو اب جلنے کے عذاب کا مزا۔

۲۳– جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے اللہ انہیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی۔ ان کو وہاں سونے کے کنگن اور موتی کے زیور پہنائے جائیں گے اور ان کا لباس ریشم کا ہو گا۔

۲۴– انہیں پاکیزہ بات کی ہدایت کی گئی اور انہیں اس ہستی کی راہ دکھائی گئی جس کے لیے حمد ہی حمد ہے۔

۲۵– جن لوگوں نے کفر کیا اور جو اللہ کی راہ سے روک رہے ہیں۔ نیز مسجد حرام سے جسے ہم نے لوگوں کے لے اس طرح بنایا ہے کہ اس کے رہنے والے اور باہر سے آنے والے سب وہاں برابر ہیں۔ اور جو کوئی وہاں ظلم کے ساتھ انحراف کی راہ اختیار کرنا چا ہے گا ہم اسے دردناک عذاب کا مزا چکھائیں گے۔

۲۶– اور جب ہم نے ابراہیم کے لیے بیت اللہ کی جگہ مقرر کر دی تھی کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور میرے گھر کو پاک رکھو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے۔

۲۷– اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو وہ تمہارے پاس پیدل آئیں گے اور لاغر اونٹنیوں پر بھی جو دور دراز راہوں سے آئیں گی۔

۲۸– تاکہ وہ اپنی منفعتوں کو دیکھ لیں اور مقررہ دنوں میں مویشی چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں پس اس میں سے کھاؤ اور تنگ دست محتاج کو بھی کھلاؤ۔

۲۹– پھر اپنا میل کچیل دور کریں اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔

۳۰– یہ (ہیں حج کے منا سک) اور جو اللہ کی ٹھہرائی ہوئی حرمتوں کی تعظیم کرے گا تو یہ اس کے رب کے ہاں اس کے لیے بہتر ہے۔ اور تمہارے لیے مویشی حلال ٹھہرائے گئے ہیں بجز ان کے جن کا حکم تمہیں سنا دیا گیا ہے لہٰذا بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔

۳۱– اللہ کے وفادار بنکر رہو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا وہ گویا آسمان سے گر گیا پھر پرندے اسے اچک لیں یا ہوا اسے لے جا کر کسی دور دراز جگہ پھینک دے۔

۳۲– یہ ہے (اصل حقیقت) اور جو اللہ کے مقرر کئے ہوئے شعائر کی تعظیم کرے گا تو یہ بات دل کے تقویٰ سے تعلق رکھنے والی ہے۔

۳۳– تمہارے لیے ان (قربانی کے جانوروں) میں ایک مقررہ وقت تک فائدے ہیں پھر ان کے قربان کرنے کی جگہ اس قدیم گھر کے پاس ہے۔

۳۴– ہم نے ہر امت کے لیے قربانی کا ایک طریقہ مقرر کیا تاکہ وہ مویشی چار پایوں پر اللہ کے نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں۔ تو تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے لہٰذا اپنے کو اسی کے حوالہ کر دو۔ اور (اے نبی!) عاجزی اختیار کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔

۳۵– جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں۔ جو مصیبت میں صبر کرنے والے اور نماز قائم کرنے والے ہیں اور جو رزق ہم نے انہیں بخشا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے رہتے ہیں۔

۳۶– اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے اللہ کے شعائر میں سے ٹھہرایا ہے تمہارے لیے ان میں بہتری ہے تو انہیں قطار میں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو۔ پھر جب وہ اپنے پہلوؤں پر گر پڑیں تو ان میں سے کھاؤ اور کھلاؤ قناعت کرنے والوں اور مانگنے والوں کو۔ اس طرح ہم نے ان کو تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے تاکہ تم شکر گزار بنو۔

۳۷– اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اس کو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اس طرح ہم نے ان کو تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے تاکہ تم اللہ کے ہدایت بخشنے پر اس کی کبریائی (بڑائی) بیان کرو اور (اے نبی!) نیکو کاروں کو خوشخبری دے دو۔

۳۸– یقیناً ٍٍ اللہ ان لوگوں کی مدافعت کرے گا جو ایمان لائے ہیں۔ اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو خیانت کرنے والا اور ناشکرا ہو۔

۳۹– ان لوگوں کو (جنگ کی) اجازت دی گئی جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے۔ کیونکہ وہ مظلوم ہیں ٍٍ اور اللہ ان کی مدد پر یقیناً قادر ہے۔

۴۰– یہ لوگ اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے محض اس بنا پر کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے۔ اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ دفع نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں، گرجے، کنیسے اور مسجدیں جن بہ کثرت اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے ڈھا دی گئی ہوتیں۔ اللہ ضرور ان کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے۔ بلا شبہ اللہ قوت والا اور غالب ہے۔

۴۱– یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، بھلی بات کا حکم دیں گے اور برائیوں سے روکیں گے اور تمام معاملات کا انجامِ کار اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔

۴۲– اور (اے نبی!) اگر ے تمہیں جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے قومِ نوح، عاد اور ثمود نے بھی جھٹلایا تھا۔

۴۳– اور قوم ابراہیم اور قوم لوط بھی جھٹلا چکی ہے۔

۴۴– نیز مدین والوں نے بھی جھٹلایا تھا۔ اور موسیٰ بھی جھٹلائے گئے تھے۔ تو میں نے ان کافروں کو مہلت دی پھر ان کو پکڑ لیا۔ تو دیکھو کیسی رہی میری سزا!

۴۵– اور کتنی ہی ظالم بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر دیا تو وہ اپنی چھتوں پر گر گئیں اور کتنے ہی کنویں بیکار ہو گئے اور کتنے ہی پختہ محل (ویران ہو گئے) !

۴۶– کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے دل سمجھنے والے اور ان کے کان سننے والے ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں۔

۴۷– (اے پیغمبر!) یہ لوگ تم سے عذاب کے لیے جلدی کر رہے ہیں حالانکہ اللہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں۔ اور تمہارے رب کے نزدیک ایک دن تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہے۔

۴۸– اور کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو میں نے مہلت دی اور وہ ظالم تھیں۔ پھر ان کو پکڑ لیا اور میری ہی طرف سب کی واپسی ہے۔

۴۹– (اے نبی!) کہو اے لوگو! میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ تمہیں کھلا خبردار کرنے والا ہوں۔

۵۰– تو جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی۔

۵۱– اور جن لوگوں کی سرگرمیاں ہماری آیتوں کو نیچا دکھانے کے لیے ہوں گی وہ دوزخ والے ہیں۔

۵۲– اور (اے پیغمبر!) تم سے پہلے ہم نے جو رسول اور نبی بھی بھیجا ہے۔ (ضرور ایسا ہوا ہے کہ) جب اس نے تمنا کی شیطان نے اس کی امنگ میں خلل ڈال دیا۔ مگر اللہ شیطان کے ڈالے ہوئے وسوسوں کو مٹاتا ہے پھر اللہ اپنی آیتوں کو مضبوط کرتا ہے۔ اور اللہ علیم و حکیم ہے۔

۵۳– (یہ صورت اس لیے پیش آتی ہے) تاکہ وہ شیطان کے ڈالے ہوئے وسوسوں کو ان لوگوں کے لیے فتنہ (ذریعہ آزمائش) بنا دے جن کے دلوں میں روگ ہے اور جن کے دل سخت ہیں۔ بلا شبہ یہ ظالم مخالفت میں بہت دور نکل گئے ہیں۔

۵۴– اور تاکہ وہ لوگ جن کو علم عطاء ہوا ہے جان لیں کہ یہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے اور وہ اس پر ایمان رکھیں اور ان کے دل اس کے آگے جھک جائیں۔ یقیناً اللہ ایمان لانے والوں کو سیدھی راہ دکھاتا ہے۔

۵۵– اور کفر کرنے والے تو اس کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہیں گے۔ یہاں تک کہ ان پر قیامت کی گھڑی اچانک آ جائے یا محرومی کے دن کا عذاب آ جائے۔

۵۶– اس دن بادشاہی اللہ ہی کی ہو گی۔ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ تو جو لوگ ایمان رکھتے ہوں گے اور اچھے عمل کئے ہوں گے وہ نعمت بھرے باغوں میں ہوں گے۔

۵۷– اور جنہوں نے کفر کیا ہو گا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہو گا ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہو گا۔

۵۸– اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر قتل کر دئے گئے یا مر گئے اللہ ان کو ضرور اچھا رزق دے گا اور یقیناً اللہ ہی بہترین رازق ہے۔

 

۵۹– وہ انہیں ایسی جگہ داخل کرے گا جس سے وہ خوش ہو جائیں گے۔ بلا شبہ اللہ علم والا اور بردبار ہے۔

۶۰– یہ ہے (ان لوگوں کا اجر) اور جو کوئی بدلہ لے ویسا ہی جیسا کہ اس کے ساتھ کیا گیا پھر اس پر زیادتی کی جائے تو اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا۔ اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے۔

۶۱– یہ اس لیے کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں اور اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔

۶۲– نیز اس لیے بھی کہ اللہ ہی حق ہے اور وہ چیزیں باطل ہیں جن کو یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں۔ اور اللہ ہی بلند مرتبہ اور بڑا ہے۔

۶۳– کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے تو زمین سر سبز ہو جاتی ہے۔ یقیناً اللہ بڑا باریک بیں اور خبر رکھنے والا ہے۔

۶۴– اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور بلا شبہ اللہ بے نیاز اور خوبیوں والا ہے تعریف کا مستحق۔

۶۵– کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ نے زمین کی تمام چیزیں تمہارے لیے مسخر کر دی ہیں۔ اور کشتی کو کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلتی ہے۔ وہ آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر گر نہ پڑے مگر اس کے حکم سے۔ یقیناً اللہ لوگوں کے لیے بڑی شفقت رکھنے والا اور بڑی رحمت والا ہے۔

۶۶– وہی ہے جس نے تم کو زندگی بخشی پھر وہی تم کو موت دیتا ہے اور وہی تم کو پھر زندہ کرے گا۔ در حقیقت انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔

۶۷– ہر امت کے لیے ہم نے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیا تھا جس پر وہ چل رہی ہیں۔ لہٰذا اس معاملہ میں وہ تم سے نہ جھگڑیں۔ تم اپنے رب کی طرف دعوت دو۔ یقیناً تم سیدھی راہ پر ہو۔

۶۸– اور اگر وہ تم سے جھگڑیں تو کہ دو اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔

۶۹– اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان اس بات کا فیصلہ کر دے گا جس میں تم اختلاف کر رہے ہو۔

۷۰– کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اللہ اس کو جانتا ہے۔ یہ سب ایک کتاب میں درج ہے۔ بلاشبہ یہ اللہ کے لیے نہایت آسان ہے۔

۷۱– یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جن کے لیے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور نہ ان کے بارے میں ان کو کوئی علم ہی ہے۔ ان ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں۔

۷۲– اور جب ان کو ہماری روشن آیتیں سنائی جاتی ہیں تو تم دیکھتے ہو کہ ان کے چہروں سے ناگواری ظاہر ہو رہی ہے گویا وہ ان لوگوں پر حملہ کر بیٹھیں گے جو ہماری آیتیں ان کو سناتے ہیں۔ کہو میں تمہیں بتاؤں کہ اس سے بھی بدتر چیز کیا ہے ؟ آگ جس کا اللہ نے کافروں سے وعدہ کر رکھا ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

۷۳– لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے غور سے سنو اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے خواہ وہ سب اس کے لیے اکٹھا ہی کیوں نہ ہو جائیں۔ اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین لے تو وہ اس سے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ طالب بھی کمزور اور مطلوب بھی کمزور۔

۷۴– انہوں نے اللہ کی قدر نہیں پہچانی جیسا کہ اس کے پہچاننے کا حق ہے۔ بلا شبہ وہ قوت والا اور غالب ہے۔

۷۵– اللہ فرشتوں میں سے بھی پیغامبر منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔ وہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔

۷۶– وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور سارے معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔

۷۷– اے ایمان والو! رکوع کرو، سجدہ کرو اپنے رب کی عبادت کرو اور بھلائی کے کام کرو تاکہ تم کامیاب ہو۔

۷۸– اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ اس نے تمہیں چن لیا ہے اور تمہارے لیے دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی ۱۳۱ تمہارے باپ ابراہیم کا دین۔ اس نے (اللہ نے) تمہارا نام پہلے بھی مسلم رکھا اور اس (قرآن) میں بھی۔ تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ ہو۔ پس نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ کو مضبوط پکڑ لو۔ وہی تمہارا مولیٰ ہے۔ تو کیا ہی اچھا مولیٰ ہے اور کیا ہی اچھا مددگار!

٭٭٭

 

 

(۲۳) سورۂ المؤمنون

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱–  یقیناً کامیاب ہوئے ایمان لانے والے۔

۲–  جو اپنی نماز میں خشوع (عاجزی) اختیار کرتے ہیں۔

۳–  جو لغو باتوں سے رُخ پھیرتے ہیں۔

۴–  جو زکوٰۃ ادا کرتے رہتے ہیں۔

۵–  جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں کے یا ان باندیوں کے جو ان کی

۶–  ملکیت میں آ گئی ہوں تو ان کے بارے میں ان پر کوئی ملامت نہیں۔

۷–  اور جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں تو وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ یقیناً

۸–  جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھتے ہیں۔

۹–  اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

۱۰–  یہی لوگ وارث ہونے والے ہیں۔

۱۱–  جو فردوس کے وارث ہوں گے۔ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

۱۲–  ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ (نچوڑ) سے پیدا کیا۔

۱۳–  پھر اسے نطفہ بنا کر ایک محفوظ جگہ میں رکھا۔

۱۴–  پھر نطفہ کو جمے ہوئے خون کی شکل دی پھر جمے ہوئے خون کو گوشت کا ٹکرا بنایا پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیوں کی شکل دی پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر اسے ایک دوسری ہی مخلوق بنا کر کھڑا کیا۔ تو بڑا ہی بابرکت ہے اللہ بہترین پیدا کرنے والا

۱۵–  پھر اس کے بعد تم کو لازماً مرنا ہے۔ یقیناً

۱۶–  پھر یقیناً تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔

۱۷–  اور ہم نے تمہارے اوپر سات تہ بر تہ آسمان بنائے اور ہم مخلوق کی طرف سے غافل نہیں ہیں۔

۱۸–  اور ہم نے ایک خاص اندازہ کے ساتھ آسمان سے پانی برسایا اور اس کو زمین میں ٹھہرا دیا اور ہم اس پر قادر ہیں کہ اسے غائب کر دیں۔

۱۹–  پھر ہم نے اس (پانی) کے ذریعہ تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کئے۔ تمہارے لیے ان میں بہت سے پھل ہیں جن کو تم کھاتے ہو۔

۲۰–  اور وہ درخت بھی جو طور سینا میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ تیل لیے ہوئے اگتا ہے۔ اور کھانے والوں کے لیے سالن۔

۲۱–  اور تمہارے لیے مویشیوں میں بھی بڑا سبق ہے۔ ہم ان چیزوں کے اندر سے جو ان کے شکم میں ہے تمہیں (دودھ) پلاتے ہیں۔ تمہارے لیے ان میں بہت سے فائدہ ہیں اور ان سے تم غذا بھی حاصل کرتے ہو۔

۲۲–  تم ان پر اور کشتیوں پر سوار بھی کئے جاتے ہو۔

۲۳–  ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں۔ کیا تم (اس سے) ڈرتے نہیں !

۲۴–  اس کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا کہنے لگے یہ شخص تو بس تمہارے ہی جیسا بشر ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ تم پر برتری حاصل کرے۔ اگر اللہ (رسول بھیجنا) چاہتا تو فرشتوں کو اتار دیتا۔ ایسی بات تو ہم نے اپنے اگلے باپ دادا سے سنی ہی نہیں۔

۲۵–  کچھ نہیں اس شخص کو جنون ہو گیا ہے لہٰذا کچھ دن اس کے بارے میں انتظار کرو۔

۲۶–  نوح نے دعا کی اے میرے رب ! میری مدد کر اس بات پر کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے۔

۲۷–  ہم نے اس پر وحی کی کہ ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بناؤ۔ پھر جب ہمارا حکم آ جائے اور تنور ابل پڑے تو ہر قسم کے نر و مادہ کا جوڑا اس میں رکھ لو اور اپنے گھر والوں کو بھی ساتھ لے لو سوائے ان کے جن کے خلاف پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے۔ اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے کچھ نہ کہنا وہ غرق ہو کر رہیں گے۔

۲۸–  پھر جب تم اپنے ساتھیوں کو لیکر کشتی میں سوار ہو جاؤ تو کہو شکر ہے اللہ کا جس نے ہمیں ظالم قوم سے نجات دی۔

۲۹–  اور دعا کرو اے رب! مجھے برکت کے ساتھ اتار اور تو بہترین اتارنے والا ہے۔

۳۰–  اس واقعہ میں بڑی نشانیاں ہیں اور ایسا ضرور ہے کہ ہم (لوگوں کو) آزمائش میں ڈالیں۔

۳۱–  پھر ان کے بعد ہم نے دوسرے دور کے لوگ پیدا کر دئے۔

۳۲–  اور ان ہی میں سے ایک رسول ان کی طرف بھیجا (اس دعوت کے ساتھ) کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تو کیا تم ڈرتے نہیں !

۳۳–  اس کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا تھا اور جنہیں ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودگی دے رکھی تھی کہنے لگے یہ تو تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہے۔ وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔

۳۴–  اگر تم نے اپنے ہی جیسے آدمی کی اطاعت کر لی تو تم گھاٹے میں رہو گے۔

۳۵–  یہ تو تمہیں آگاہ کرتا ہے کہ جب تم مر کر مٹی ہو جاؤ گے اور ہڈیوں کی شکل میں رہ جاؤ گے تو تمہیں نکالا جائے گا۔

۳۶–  بعید ہے بہت بعید ہے وہ بات جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔

۳۷–  زندگی تو بس اس دنیا ہی کی زندگی ہے جس میں ہم مرتے اور جیتے ہیں۔ اور ہمیں ہرگز اٹھایا نہ جائے گا۔

۳۸–  یہ تو ایک ایسا شخص ہے جس نے اللہ کے نام سے جھوٹ گھڑا ہے اور ہم اس کی بات ہرگز ماننے والے نہیں ہیں۔

۳۹–  اس نے دعا کی اے رب! انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے تو تو میری مدد فرما۔

۴۰–  فرمایا قریب ہے وہ وقت جب وہ نادم ہوں گے۔

۴۱–  چنانچہ ایک ہولناک آواز نے جو حق کے ساتھ نمودار ہوئی تھی انہیں پکڑ لیا۔ اور ہم نے انہیں خس و خاشاک بنا کر رکھ دیا۔ پھٹکار ہے ظالم قوم کے لیے !

۴۲–  پھر ہم نے ان کے بعد دوسری قومیں اٹھائیں۔

۴۳–  کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ختم ہوتی ہے اور نہ اس کے بعد ٹھہرسکتی ہے۔

۴۴–  پھر ہم نے یکے بعد دیگرے اپنے رسول بھیجے۔ جب بھی کسی قوم کے پاس اس کا روسل آیا اس نے اسے جھٹلایا۔ تو ہم ایک کے بعد دوسری قوم کو ہلاک کرتے رہے اور ان کو افسانہ بنا کر چھوڑا۔ پھٹکار ہے ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے !

۴۵–  پھر ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیوں اور کھلی حجت کے ساتھ بھیجا۔

۴۶–  فرعون اور اس کی حکومت کے سربراہوں کی طرف مگر انہوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے۔

۴۷–  انہوں نے کہا کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں جب کہ ان کی قوم ہماری غلامی کر رہی ہے۔

۴۸–  اس طرح انہوں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور بالآخر ہلاک ہو کر رہے۔

۴۹–  اور موسیٰ کو ہم نے کتاب عطاء کی تاکہ لوگ ہدایت پائیں۔

۵۰–  اور ابن مریم اور اس کی ماں کو ہم نے ایک نشانی بنایا اور انہیں ایک اونچے ٹیلے پر جگہ دی جو پرسکون اور چشمہ والی تھی۔

۵۱–  اے رسولو! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔ تم جو کچھ کرتے ہو میں اس کو اچھی طرح جانتا ہوں۔

۵۲–  اور یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں تو مجھ ہی سے ڈرو۔

۵۳–  مگر لوگوں نے پنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اسی میں مگن ہے۔

۵۴–  تو چھوڑ دو انہیں اپنی غفلت میں ڈوبے رہیں ایک وقت خاص تک۔

۵۵–  کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو ان کو مال اور اولاد دئے جا رہے ہیں۔

۵۶–  تو کیا ان کے لیے خیر میں اضافہ کر رہے ہے۔ نہیں بلکہ ان کو (اصل حقیقت کا) شعور نہیں۔

۵۷–  جو لوگ اپنے رب کے خوف سے لرزاں رہتے ہیں۔

۵۸–  جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔

۵۹–  جو پنے رب کا شریک نہیں ٹھہراتے۔

۶۰–  اور جو دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اس حال میں کہ ان کے دل کانپ رہے ہوتے ہیں کہ انہیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔

۶۱–  یہ ہیں بھلائیوں میں سرگرم رہنے والے اور سبقت کر کے ان کو پا لینے والے۔

۶۲–  ہم کسی شخص پر اس کی مقدرت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتے۔ اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو (ہر ایک کا حال) ٹھیک ٹھیک بتا دیتی ہے۔ اور ان کے ساتھ نا انصافی نہ ہو گی۔

۶۳–  مگر ان کے دل اس کی طرف سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور کچھ دوسرے کام ہیں جن میں وہ مشغول ہیں۔

۶۴–  (وہ یہی کرتے رہیں گے) یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوشحال لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے تو یہ چیخنے لگیں گے۔

۶۵–  اب آہ و زاری نہ کرو ہماری طرف سے تمہیں کوئی مدد ملنے والی نہیں۔

۶۶–  جب میری آیتیں تمہیں سنائی جاتی تھیں تو تم الٹے پاؤں بھاگ نکلتے تھے۔

۶۷–  گھمنڈ کرتے ہوئے اس کو قصہ گوئی کے لیے مشغلہ بنا کر بکواس کرتے۔

۶۸–  کیا انہوں نے اس کلام پر غور نہیں کیا۔ یا ان کے پاس ایسی چیز آ گئی ہے جو ان کے اگلے باپ داداؤں کے پاس نہیں آئی تھی؟

۶۹–  یا یہ اپنے رسول کو پہچان نہ سکے اس لیے اس کے منکر ہو گئے !

۷۰–  یا یہ کہتے ہیں کہ اسے جنون ہو گیا ہے۔ نہیں بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر آیا ہے اور ان میں سے بہت سے لوگوں کو حق ہی ناگوار ہے۔

۷۱–  اور اگر حق ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو آسمان و زمین اور جو ان میں ہیں سب (کا نظام) درہم برہم ہو جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم ان کے پاس ان کو یاددہانی کرانے والی چیز لائے ہیں اور وہ اپنی اس یاد دہانی سے رخ پھیرے ہوئے ہیں۔

۷۲–  کیا تم ان سے مال طلب کر رہے ہو؟ تمہارے لیے تو تمہارے رب کا دیا مال ہی بہتر ہے اور وہ بہترین رازق ہے۔

۷۳–  اور بے شک تم انہیں سیدھی راہ کی طرف بلا رہے ہو۔

۷۴–  اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ راہ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں۔

۷۵–  اگر ہم ان پر رحم کریں اور ان کی تکلیف دور کریں تو یہ اپنی سرکشی میں ڈھیٹ ہو کر بھٹکتے رہیں گے۔

۷۶–  ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا مگر نہ وہ اپنے رب کے آگے جھکے اور نہ انہوں نے عاجزی کی

۷۷–  یہاں تک کہ جب ہم سخت عذاب کا دروازہ ان پر کھول دیں گے تو اس (حالت) میں وہ بالکل مایوس ہو کر رہ جائیں گے۔

۷۸–  وہی ہے جس نے تمہارے لیے کان، آنکھ اور دل بنائے مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو۔

۷۹–  اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف تم اکٹھا کئے جاؤ گے۔

۸۰–  اور وہی ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے۔ رات اور دن کا الٹ پھیر اسی کے اختیار میں ہے۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟

۸۱–  مگر انہوں نے بھی وہی بات ہی جو اگلے لوگ کہہ چکے ہیں۔

۸۲–  کہتے ہیں کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو ہم کو پھر اٹھایا جائے گا؟

۸۳–  یہ وعدہ ہم سے کیا جا رہا ہے اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی کیا گیا تھا۔ یہ محض اگلوں کے افسانے ہیں۔

۸۴–  ان سے پوچھو اگر تم جانتے ہو تو بتلاؤ زمین اور اس میں بسنے والے کس کی مِلک ہیں ؟

۸۵–  وہ کہیں گے اللہ کی۔ کہو پھر کیا تم یاددہانی حاصل نہیں کرتے !

۸۶–  ان سے پوچھو ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے۔

۸۷–  وہ کہیں گے اللہ۔ کہو پھر تم (اس سے) ڈرتے نہیں ؟

۸۸–  ان سے پوچھو اگر تم جانتے ہو تو بتلاؤ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے اور جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا؟

۸۹–  وہ کہیں گے یہ باتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ کہو پھر تمہاری عقل کہاں ماری جاتی ہے !

۹۰–  حقیقت یہ ہے کہ ہم ان کے سامنے حق لائے ہیں اور یہ بالکل جھوٹے ہیں۔

۹۱–  اللہ نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا۔ اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور خدا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی خلق کو لیکر الگ ہو جاتا اور وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے۔ پاک ہے اللہ ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔

۹۲–  غیب اور حاضر کا جاننے والا۔ بالاتر ہے وہ ان کی مشرکانہ باتوں سے۔

۹۳–  دعا کرو اے میرے رب! اگر تو مجھے عذاب دکھا دے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔

۹۴–  تو اے میرے رب! مجھے اس ظالم گروہ میں شامل نہ کر۔

۹۵–  اور بے شک ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ تمہیں دکھا دیں۔

۹۶–  برائی کو اس طریقہ سے دور کرو جو بہتر ہو۔ وہ جو باتیں بناتے ہیں ان کو ہم خوب جانتے ہیں۔

۹۷–  اور دعا کرو اے رب! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

۹۸–  اور اے میرے رب! اس بات سے بھی میں پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آ موجود ہوں۔

۹۹–  (ان کا یہی حال رہے گا) یہاں تک کہ جب کسی کی موت آ کھڑی ہو گی تو وہ کہے گا اے میرے رب! مجھے واپس بھیج دیجئے۔

۱۰۰–  تاکہ جو کچھ میں نے چھوڑا ہے اس میں نیک کام کروں۔ ہرگز نہیں یہ تو محض ایک بات ہے جو یہ کہہ رہا ہے۔ اور ان کے آگے ایک برزخ ہو گی۔ اس دن تک کے لیے جب وہ اٹھائے جائیں گے۔

۱۰۱–  پھر جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن ان کے درمیان نہ رشتہ داریاں رہیں گی اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔

۱۰۲–  اس وقت جن کی میزانیں بھاری ہوں گی وہی کامیاب ہوں گے۔

۱۰۳–  اور جن کی میزانیں ہلکی ہوں گی وہ وہی ہیں جنہوں نے اپنے کو گھاٹے میں ڈالا۔ جہنم میں ہمیشہ رہنے والے۔

۱۰۴–  آگ ان کے چہروں کو جھلس دے گی اور ان کے منہ بگڑے ہوئے ہوں گے۔

۱۰۵–  کیا میری آیتیں تمہیں سنائی نہیں جاتی تھیں اور تم ان کو جھٹلاتے نہ تھے ؟

۱۰۶–  وہ کہیں گے اے ہمارے رب! ہماری بدبختی ہم پر غالب آ گئی اور ہم گمراہ لوگ تھے۔

۱۰۷–  اے ہمارے رب ! ہمیں یہاں سے نکال دے۔ اگر ہم پھر ایسا کریں تو ظالم ہوں گے۔

۱۰۸–  فرمائے گا پڑے رہو اسی میں دھتکارے ہوئے اور مجھ سے بات نہ کرو۔

۱۰۹–  ہمارے بندوں میں سے ایک گروہ ایسا تھا جو کہتا تھا کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے ہیں ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔ تو بہترین رحم فرمانے والا ہے۔

۱۱۰–  تو تم نے ان کو مذاق بنا لیا تھا۔ یہاں تک کہ اس مشغلہ نے میری یاد سے بھی تمہیں غافل کر دیا اور تم ان کی ہنسی اڑاتے رہے۔

۱۱۱–  آج ان کے صبر کا بدلہ میں نے یہ دیا کہ وہی کامیاب ہو گئے۔

۱۱۲–  پھر وہ پوچھے گا تم زمین میں کتنے سال رہے ؟

۱۱۳–  وہ کہیں گے ایک دن یا ایک دن کا بھی کچھ حصہ۔ شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے۔

۱۱۴–  فرمائے گا تم تھوڑی ہی مدت ٹھہرے رہے۔ کاش تم نے یہ بات جان لی ہوتی!

۱۱۵–  کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہ جاؤ گے ؟

۱۱۶–  تو (ایسی بات سے) بہت بلند ہے اللہ بادشاہ حقیقی۔ اس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ عرشِ کریم کا مالک!

۱۱۷–  اور جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور خدا کو پکارے جس کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہے۔ یقیناً کافر کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔

۱۱۸–  دعا کرو میرے رب بخش دے رحم فرما اور تو بہترین رحم فرمانے والا ہے۔

٭٭٭

 

 

(۲۴) سورۂ النور

 

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱–  یہ ایک سورہ ہے جو ہم نے نازل کی ہے اور اسے ہم نے فرض کیا ہے اور اس میں ہم نے واضح احکام نازل کئے ہیں تاکہ تم سبق لو

۲–  زانی عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ اور اللہ کے دین کے معاملہ میں تم کو ان پر ترس نہ آئے۔ اگر تم اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ اور ان کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے۔

۳–  زانی نکاح نہیں کرتا مگر زانیہ یا مشرکہ سے اور زانیہ سے نکاح نہیں کرتا مگر زانی یا مشرک اور یہ حرام کر دیا گیا ہے اہل ایمان پر۔

۴–  اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں پھر چار گواہ پیش نہ کریں ان کو اسّی کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو۔ وہ فاسق ہیں۔

۵–  مگر جو لوگ اس کے بعد توبہ کریں اور اصلاح کر لیں تو اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۶–  اور جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگائیں اور ان کے پاس گواہ نہ ہوں بجز ان کی اپنی ذات کے تو (اس صورت میں) ان میں سے ایک کی (یعنی شوہر کی) گواہی یہ ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ وہ سچا ہے۔

۷–  اور پانچویں بار یہ کہے کہ اللہ کی لعنت ہو اس پر اگر وہ جھوٹا ہے۔

۸–  اور عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار بار اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ یہ شخص (اس کا شوہر) جھوٹا ہے۔

۹–  اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اس پر اللہ کا غضب ہو اگر مرد سچا ہے۔

۱۰–  اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی (تو تم مشکل میں پڑ جاتے۔ پس جان لو کہ اللہ فضل والا رحمت والا ہے) اور یہ کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا اور حکمت والا ہے۔

۱۱–  جو لوگ بہتان گھڑ لائے ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک گروہ ہیں۔ تم اس چیز کو اپنے لیے برا نہ سمجھو بلکہ یہ تمہارے لیے اچھا ہے۔ ان میں سے جس نے جتنا گناہ کمایا اتنا ہی وبال اس پر ہے۔ اور جس شخص نے اس میں بڑا حصہ لیا اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔

۱۲–  جب تم لوگوں نے یہ بات سنی تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے ایک دوسرے کے بارے میں نیک گمان کیوں نہیں کیا اور کیوں نہیں کہا یہ صریح بہتان ہے۔

۱۳–  وہ لوگ اس (الزام) کے ثبوت میں چار گواہ کیوں نہ لائے ؟ اور جب وہ گواہ نہیں لائے ہیں تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔

۱۴–  اور اگر تم لوگوں پر دنیا و آخرت میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوئی تو جن باتوں میں تم پڑ گئے تھے اس کی وجہ سے بڑا عذاب تمہیں آ لیتا۔

۱۵–  جب تماس (جھوٹ) کو اپنی زبانوں پر لا رہے تھے اور اپنے منہ سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کے بارے میں تمہیں کوئی علم نہ تھا۔ تم اسے معمولی بات خیال کر رہ تھے حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بڑی بات تھی۔

۱۶–  جب تم نے یہ بات سنی تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں ایسی بات زبان پر لانا زیب نہیں دیتا۔ سبحان اللہ! یہ تو بہت بڑا بہتان ہے۔

۱۷–  اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسی حرکت نہ کرنا اگر تم مومن ہو۔

۱۸–  اللہ تمہارے لیے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے وہ علم والا حکمت والا ہے۔

۱۹–  جو لوگ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان میں بے حیائی پھیلے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک سزا ہے۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

۲۰–  اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی (تو تم کو برے نتائج کا سامنا کرنا پڑتا مگر اس نے تمہیں بچایا) اور یہ کہ اللہ شفیق و رحیم ہے۔

۲۱–  اے ایمان والو ! شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ اور جو کوئی شیطان کے نقش ِ قدم پر چلے گا تو وہ اسے بے حیائی اور برائی ہی کا حکم دے گا۔ اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی شخص بھی پاک نہ ہو سکتا۔ مگر اللہ جسے چاہتا ہے پاک کرتا اور اللہ سنے والا جاننے والا ہے۔

۲۲–  تم میں جو لوگ صاحبِ فضل اور صاحبِ حیثیت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ رشتہ داروں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کی اعانت نہیں کریں گے۔ انہیں چاہیے کہ معاف کریں اور درگزر سے کام لیں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۲۳–  جو لوگ پاکدامن، بے خبر مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔

۲۴–  جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔

۲۵–  اس دن اللہ انہیں پورا پورا بدلہ دے گا ایسا بدلہ جو حق ہے۔ اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی ہے حق۔ حقیقت کو آشکارا کرنے والا۔

۲۶–  خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے۔ اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے۔ یہ لوگ بری ہیں ان باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں۔ ان کے لیے مغفرت ہے اور عزت کی روزی۔

۲۷–  اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو ا کرو جب تک کہ مانوس ہو کر اجازت نہ حاصل نہ کر لو اور گھر والوں کو سلام نہ کر لو۔ یہ طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ تم سوجھ بوجھ سے کام لو۔

۲۸–  اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو داخل نہ ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ مل جائے۔ اور اگر تم سے واپس ہونے کے لیے کہا جائے تو واپس ہو جاؤ۔ یہ طریقہ تمہارے لیے خوب پاکیزہ ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے اللہ بخوبی جانتا ہے۔

۲۹–  اور تمہارے لیے اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ ان غیر رہائشی مکانوں میں داخل ہو جاؤ جن میں تمہارے فائدہ کا سامان ہے۔ تم جو کچھ ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو اللہ سب جانتا ہے۔

۳۰–  مؤمن مردوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ طریقہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔ جو کچھ وہ کرتے ہیں اس سے اللہ با خبر ہے۔

۳۱–  اور مؤمن عورتوں سے کہو وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں بجز اس کے جو ظاہر ہو جائے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالیں۔ اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں کے سامنے یا اپنے باپ یا اپنے شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں یا اپنے بھائیوں یا اپنی عورتوں یا اپنے مملوکوں یا ان مردوں کے سامنے جو تابع ہوں اور (عورتوں سے) غرض نہ رکھتے ہوں یا ان بچوں کے سامنے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی آشنا نہ ہوئے ہوں۔ اور اپنے پاؤں (زمین پر) مارتی ہوئی نہ چلیں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہے وہ معلوم ہو جائے اور اے مؤمنو! تم سب اللہ کے حضور توبہ کرو تاکہ فلاح پاؤ۔

۳۲–  اور تم میں سے جو لوگ مجرد (بغیر شوہر یا بیوی کے) ہوں اور تمہارے غلاموں اور لونڈیو میں سے جو صالح ہوں ان کے نکاح کر دو۔ اگر وہ تنگ دست ہوں تو اللہ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ اللہ بڑی وسعت والا علم والا ہے۔

۳۳–  اور جو لوگ نکاح کی مقدرت نہ رکھتے ہوں وہ پاک دامانی اختیار کریں یہاں تک کہ اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے۔ اور تمہارے مملوکوں میں سے جو (اپنے آزاد ہونے کے لیے) تحریری معاہدہ کر لو اگر تم جانتے ہو کہ ان کے اندر بھلائی ہے۔ اور ان کو اللہ کے اس مال میں سے دو جو اس نے تمہیں دیا ہے۔ اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ خود پاک دامن رہنا چاہتی ہوں محض اس لیے کہ تمہیں دنیوی زندگی کے فائدے حاصل ہو جائیں۔ اور جو ان کو مجبور کرے گا تو ان کے مجبور کئے جانے کے بعد اللہ (ان کے لیے) معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۳۴–  ہم نے تمہاری طرف واضح احکام نازل کئے ہیں اور ان لوگوں کی مثالیں بھی جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ اور متقیوں کے لیے نصیحت بھی۔

۳۵–  اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق جس میں چراغ ہو۔ چراغ شیشہ (قندیل) کے اندر ہو۔ شیشہ ایسا ہو جیسے چمکتا ہوا تارہ۔ اس چراغ کو زیتون کے ایسے مبارک درخت سے جو نہ شرقی ہو نہ غربی روشن کیا جاتا ہو۔ اس کا تیل بھڑک اٹھنے کو ہو گو آگ نے اس کو چھوا نہ ہو۔ نور پر نور۔ اللہ اپنے نور کی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے۔ اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے۔ اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔

۳۶–  (یہ چراغ روشن ہے) ایسے گھروں میں جن کو اللہ نے بلند کرنے اور جن میں اس کے نام کا ذکر کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان میں اس کی تسبیح کرتے ہیں صبح و شام۔

۳۷–  ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خریدو فروخت اللہ کی یاد سے، نماز قائم کرنے سے اور زکوٰۃ دینے سے غافل نہیں کرتی۔ وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جب دل اور آنکھیں الٹ جائیں گی۔

۳۸–  تاکہ اللہ ان کو ان کے بہترین اعمال کی جزا دے اور اپنے فضل سے مزید نوازے۔ اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔

۳۹–  جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے صحرا میں سراب کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچا تو کچھ نہ پایا البتہ اللہ کو وہاں موجود پایا اور اس نے اس کا حساب پورا پورا چکا دیا۔ اور اللہ حساب چکانے میں بڑا تیز ہے۔

۴۰–  یا اس کی مثال ایسی ہے جیسے گہرے سمندر میں تاریکیاں جس کو موج پر موج ڈھانک رہی ہو اور اس کے اوپر بادل۔ تاریکیوں پر تاریکیاں ہوں۔ اگر اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھ سکے۔ جس کو اللہ نور نہ بخشے اس کے لیے کوئی نور نہیں۔

۴۱–  کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں وہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے بھی پر پھیلائے ہوئے۔ ہر ایک کو اپنی نماز اور تسبیح معلوم ہے۔ اور وہ جو کچھ کرتے ہیں اس سے اللہ با خبر ہے۔

۴۲–  اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ ہی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔

۴۳–  کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ بادلوں کو ہنکاتے ہوئے لے جاتا ہے پھر ان کو باہم ملا دیتا ہے پھر ان کو تہ بہ تہ کر دیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ ان کے درمیان سے بارش کے قطرے نکلتے ہیں۔ اور وہ آسمان سے اولے برساتا ہے ان پہاڑوں سے جو اس کے اندر ہیں۔ پھر جس پر چاہتا ہے آفت نازل کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس سے بچاتا ہے۔ اس کی بجلی کی چمک ایسی ہوتی ہے کہ نگاہوں کو اچک لے۔

۴۴–  اللہ ہی رات اور دن کا الٹ پھیر کرتا ہے۔ اس میں سبق ہے ان لوگوں کے لیے جو دیدہ بینا رکھتے ہیں۔

۴۵–  اور الہ نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔ ان میں سے کوئی اپنے پیٹ کے بل چلتا ہے۔ تو کوئی دو پاؤں پر اور کوئی چار پاؤں پر۔ اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۴۶–  ہم نے واضح کر دینے والی آیتیں نازل کی ہیں اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے۔

۴۷–  یہ کہتے ہیں ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے اور ہم نے اطاعت اختیار کی۔ اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ روگردانی کرتا ہے۔ یہ لوگ ہرگز مومن نہیں ہیں۔

۴۸–  جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک گروہ گریز کرتا ہے۔

۴۹–  لیکن اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسول کے پاس بڑے فرمانبردار بنکر آتے ہیں۔

۵۰–  کیا ان کے دلوں میں روگ ہے یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں یا ان کو یہ اندیشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان کے ساتھ نا انصافی کریں گے ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ خود ہی ظالم ہیں۔

۵۱–  اہل ایمان کو تو جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کر ے تو کہتے ہیں ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ یہی لوگ ہیں کامیاب ہونے والے۔

۵۲–  اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے اور اللہ سے ڈریں گے اور پرہیزگاری اختیار کریں گے وہی ہیں مراد کو پہنچنے والے۔

۵۳–  یہ اللہ کے نام سے کڑی قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تم ان کو حکم دو تو نکل کھڑے ہوں گے۔ ان سے کہو قسمیں نہ کھاؤ۔ معروف طریقہ پر اطاعت کرنا چاہیے۔ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔

۵۴–  کہو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی۔ لیکن اگر تم روگردانی کرتے ہو تو (یاد رکھو) رسول پر وہ ذمہ داری ہے جس کا بار اس پر ڈالا گیا ہے اور تم پر وہ ذمہ داری ہے جس کا بار تم پر ڈالا گیا ہے اس کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پاؤ گے۔ اور رسول پر اس کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں کہ صاف صاف (احکام) پہنچا دے۔

۵۵–  تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلافت (اقتدار) بخشے گا جس طرح ان لوگوں کو بخشی تھی جو ان سے پہلے گزر چکے۔ اور ان کے لیے ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے مضبوطی عطا کر ے گا اور ان کی خوف کی حالت کو امن سے بدل دے گا۔ وہ میری ہی عبادت کریں گے، کسی کو میرا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کریں گے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔

۵۶–  نماز قائم کرو،زکوٰۃ دو اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

۵۷–  کافروں کے بارے میں یہ خیال نہ کرو کہ وہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

۵۸–  اے ایمان والو! تمہارے مملوک اور تم لوگوں کے وہ بچے جو ابھی بلوغ کو نہیں پہنچے تین اوقات میں تم سے اجازت لیا کریں۔ نماز فجر سے پہلے، دوپہر کو جبکہ تم کپڑے اتار کر رکھتے ہو اور عشاء کی نماز کے بعد۔ یہ تین اوقات تمہارے لیے پردہ کے ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر اوقات میں (اجازت لیے بغیر ان کے آنے میں) نہ تم پر کوئی گرفت ہے اور نہ ان پر۔ تمہارا ایک دوسرے کے پاس بار بار آنا جانا ہوتا ہے۔ اس طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیتیں واضح فرماتا ہے۔ اور اللہ علم والا حکمت والا ہے۔

۵۹–  اور جب تم لوگوں کے بچے بلوغ کو پہنچ جائیں تو چاہیے کہ وہ بھی اسی طرح اجازت لیا کریں جس طرح ان سے پہلے (بلوغ کو پہنچنے) والے اجازت لیتے ہیں۔ اس طرح اللہ اپنے احکام تمہارے لیے واضح فرماتا ہے اور اللہ علم والا حکمت والا ہے۔

۶۰–  اور وہ بوڑھی عورتیں جو نکاح کی امید نہیں رکھتیں اگر اپنے کپڑے اتار کر رکھ دیں تو ان پر کوئی گرفت نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں۔ مگر ان کے حق میں بہتر یہی ہے کہ اس سے بچیں۔ اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

۶۱–  نہ نابینا پر کوئی حرج ہے، نہ لنگڑے پر کوئی حرج ہے، نہ مریض پر کوئی حرج ہے اور نہ خود تم پر کوئی حرج ہے کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپ داد کے گھروں یا اپنے ماؤں کے گھروں یا اپنے بھائیوں کے گھروں یا اپنی بہنوں کے گھروں یا اپنے چچاؤں کے گھروں یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں یا اپنے ماموؤں کے گھروں یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی کنجیاں تمہارے قبضہ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھاؤ۔ ۱۰۱ اس بات میں بھی تم پر کوئی گناہ نہیں کہ مل کر کھاؤ یا الگ الگ۔ البتہ جب گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو البتہ جب گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو یہ اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ دعائیہ کلمہ ہے۔ اس طرح اللہ اپنی آیتیں تم پر واضح فرماتا ہے۔ تاکہ تم عقل سے کام لو۔

۶۲–  مؤمن تو در حقیقت وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور جب کسی اجتماعی کام کے لیے رسول کے ساتھ ہوتے ہیں تو اس وقت تک چلے نہیں جاتے جب تک کہ اس سے اجازت نہ لیں۔ جو لوگ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں وہی ہیں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والے۔ لہٰذا جب وہ اپنی کسی ضرورت سے اجازت مانگیں تو جسے تم چاہو اجازت دے دیا کرو۔ اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کرو۔ یقیناً اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۶۳–  رسول کے بلانے کو تم آپس میں ایک دوسرے کا بلانا نہ سمجھو۔ اللہ تم میں سے ان لوگوں کو جانتا ہے جو ایک دوسرے کی آڑ لیکر کھسک جاتے ہیں۔ تو جو لوگ رسول کے حکم کو ماننے سے گریز کرتے ہیں انہیں اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنہ کا شکار نہ ہو جائیں یا درد ناک عذاب ان کو پکڑ نہ لے۔

۶۴–  سنو! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ تم جس حال پر ہو اللہ اسے جانتا ہے۔ اور جس دن یہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ وہ انہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کر کے آئے ہیں۔ اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔

٭٭٭

 

 

(۲۵) سورۂ الفرقان

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱– بڑا ہی با برکت ہے وہ جس نے اپنے بندہ پر فرقان نازل کیا تاکہ وہ دنیا والوں کے لیے خبر دار کرنے والا ہو۔

۲– وہ ہستی جس کے قبضہ میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے۔ جس نے اپنے لیے اولاد نہیں بنائی اور نہ اس کی بادشاہی میں کوئی اس شریک ہے اس نے ہر چیز پیدا کی پھر اس کی منصوبہ بندی کی۔

۳– لوگوں نے اس کو چھوڑ کر دوسرے معبود بنا لیے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ جو اپنے لیے نہ کسی فائدہ کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ نقصان کا جنہیں نہ موت پر اختیار ہے، نہ زندگی پر اور نہ مردوں کو اٹھا کھڑا کرنے پر۔

۴– کافر کہتے ہیں یہ جھوٹ ہے جو اس شخص نے گڑھا ہے اور اس کام میں کچھ دوسرے لوگوں نے اس کی مدد کی ہے۔ بری ہی نا انصافی کی بات ہے اور جھوٹ ہے جس کے وہ مرتکب ہوئے ہیں۔

۵– کہتے ہیں یہ گزرے ہوئے لوگوں کے قصے ہیں جو اس شخص نے لکھوائے ہیں اور وہ اس کے سامنے صبح و شام پڑھے جاتے ہیں۔

۶– کہو اسے اتارا ہے اس نے جو آسمانوں اور زمین کے بھید جانتا ہے۔ بے شک وہ بڑا بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۷– کہتے ہیں یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ! اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا کہ اس کے ساتھ رہ کر خبردار کرتا۔ ؟

۸– یا اس کے لیے کوئی خزانہ اتارا جاتا یا اس کے لیے کوئی باغ ہوتا جس سے وہ کھایا کرتا۔ اور ظالم کہتے ہیں تم تو ایک ایسے آدمی کے پیچھے چل رہے ہو جس پر جادو کا اثر ہوا ہے۔

۹– دیکھو یہ تم پر کیسے کیسے فقرے چست کر رہے ہیں۔ یہ بھٹک گئے ہیں۔ کوئی راہ نہیں پا سکتے۔

۱۰– بڑا با برکت ہے وہ جو اگر چاہے تو اے پیغمبر ! تمہارے لیے اس سے کہیں بہتر چیزیں بنا دے۔ ایسے باغ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں اور تمہارے لیے محل بنا دے۔

۱۱– حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے قیامت کی گھڑی کو جھٹلایا ہے اور جو اس گھڑی کو جھٹلائے اس کے لیے ہم نے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔

۱۲– وہ جب دور سے ان کو دیکھ لے گی تو یہ اس کے جوش غضب اور اس کے دھاڑنے کی آوازوں کو سنیں گے۔

۱۳– اور جب یہ جکڑے ہوئے اس کی کسی تنگ جگہ میں ڈال دیے جائیں گے تو اپنی موت کو پکاریں۔

۱۴– آج ایک موت کو نہیں بلکہ بہت سی موتوں کو پکارو۔

۱۵– ان سے پوچھو یہ بہتر یا ہمیشگی کی جنت جس کا وعدہ متقیوں سے کیا گیا ہے۔ وہ ان کے لیے جزا اور ٹھکانا ہو گی۔

۱۶– اس میں ان کے لیے وہ سب کچھ ہو گا جو وہ چاہیں گے اور وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ وعدہ تمہارے رب کے ذمہ ایسا ہے جس کو پورا کرنے کی مانگ اس سے کی جا سکتی ہے۔

۱۷– اور وہ دن جب کہ وہ لوگوں کو بھی اکٹھا کرے گا اور ان کے معبودوں کو بھی جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر پرستش کرتے ہیں پھر ان سے پوچھے گا کہ تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود سیدھے راستے سے بھٹک گئے تھے ؟۔

۱۸– وہ عرض کریں گے پاک ہے تو ! ہماری یہ مجال نہ تھی کہ تیرے سوا اور کار ساز بنائیں۔ مگر تو نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو آسودگی بخشی یہاں تک کہ یہ تیری یاد بھلا بیٹھے اور ہلاک ہو کر رہ گئے۔

۱۹– لو جو بات تم کہتے تھے اس میں انہوں نے تم کو جھوٹا ٹھہرایا۔ اب نہ تم عذاب کو ٹال سکتے ہو اور نہ کوئی مدد پا سکتے ہو۔ اور جو شخص بھی تم میں سے ظلم کرے گا ہم اسے بڑے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

۲۰– اے پیغمبر ! تم سے پہلے ہم نے جو رسول بھی بھیجے وہ سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے۔ ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کی آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے۔ کیا تم صبر کرتے ہو؟ اور تمہارا ربسب کچھ دیکھ رہا ہے۔

۲۱– اور جو لوگ ہم سے ملاقات کی امید نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کیوں نہ ہم پر فرشتے اتارے گئے یا ایسا کیوں نہیں ہوا کہ ہم اپنے دیکھ لیتے ؟ انہوں نے اپنے نفس میں اپنے کو بہت بڑا سمجھا اور بڑی سرکدی دکھائی۔

۲۲– جس دن یہ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن مجرموں کے لیے کوئی خوش خبری نہ ہو گی اور پکار اٹھیں گے پناہ پناہ۔

۲۳– اور جو عمل بھی انہوں نے کیا ہو گا اس کی طرف ہم بڑھیں گے اور اس کو غبار بنا کر اڑا دیں گے۔

۲۴– اس دن جنت والے اچھی جگہ اور بہترین آرام گاہ میں ہوں گے۔

۲۵– آسمان اس دن ایک بادل کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتار دیئے جائیں گے۔

۲۶– اس دن حقیقی بادشاہی رحمٰن ہی کی ہو گی اور وہ دن کافروں کے لیے بڑا سخت ہو گا۔

۲۷– ظالم اس روز اپنے ہاتھ کاٹ کھائے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کے ساتھ راہ اختیار کی ہوتی !

۲۸– افسوس میری بد بختی پر! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا !۔

۲۹– اس نے مجھے گمراہ کر کے نصیحت سے دور رکھا جبکہ وہ میرے پاس آ چکی تھی۔ اور شیطان تو ہے ہی انسان کو بے یار و مدد گار چھوڑنے والا۔

۳۰– اور رسول کہے گا اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا تھا۔

۳۱– اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے مجرموں میں سے دشمن کھڑے کیے۔ اور تمہارا رب تمہاری رہنمائی ور مدد کے لیے کافی ہے۔

۳۲– کافر کہتے ہیں اس پر پورا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اتارا گیا؟ ہم نے تدریج کے ساتھ نازل کیا اور ایسا اس لیے کیا تاکہ اس کے ذریعہ اے پیغمبر! تمہارے دل کو مضبوط کریں اور ہم نے اس کلام کو حسن ترتیب کے ساتھ پیش کیا ہے۔

۳۳– اور یہ جو اعتراض بھی تمہارے سامنے لاتے ہیں ہم حق بات تمہارے سامنے پیش کر دیتے ہیں بہترین وضاحت کے ساتھ۔

۳۴– جو لوگ اپنے منہ کے بل جہنم کی طرف گھسیٹے جائیں گے ان کا ٹھکانہ بہت برا اور ان کی راہ بالکل غلط ہے۔

۳۵– ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی اور اس کے بھائی ہارون کو اس کا وزیر بنایا۔

۳۶– ہم نے کہا تم دونوں جاؤ اس قوم کے پاس جس نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا ہے۔ بالآخر ہم نے اس کو تباہ کر کے رکھ دیا۔

۳۷– اور قوم نوح کو ہم نے غرق کیا جب کہ اس نے رسولوں کو جھٹلایا۔ اور لوگوں کے لیے اس کو نشان عبرت بنا دیا۔ اور ظالموں کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

۳۸– اور عاد، ثمود، اصحاب الرس اور ان کے درمیان بہت سی قوموں کو ہم نے ہلاک کر دیا۔

۳۹– ہم نے ہر ایک کے سامنے مثالیں پیش کی تھیں اور ہر ایک کو تباہ کر کے رکھ دیا۔

۴۰– اور اس بستی پر سے تو ان کا گزر ہوا ہے جس پر بد ترین بارش برسائی گئی تھی۔ کیا یہ اسے دیکھتے نہیں ہیں ؟ مگر یہ لوگ مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی توقع ہی نہیں رکھتے۔

۴۱– اور جب یہ تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق اڑاتے ہیں۔ کیا یہی وہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔

۴۲– اس نے ہمیں اپنے معبودوں سے برگشتہ کر ہی دیا ہوتا اگر ہم ان پر جمے نہ رہتے۔ عنقریب جب یہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون ہے راہ سے بالکل بھٹکا ہوا۔

۴۳– تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا ہے ؟ کیا تم اس کو راہ راست پر لانے کے ذمہ دار بن سکتے ہو؟۔

۴۴– کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ راہ سے بھٹکے ہوئے۔

۴۵– کیا تم دیکھتے نہیں تمہارا رب کس طرح سایہ کو پھیلا دیتا ہے ؟ اگر وہ چاہتا تو اسے ساکن بنا دیتا۔ پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنایا۔

۴۶– پھر ہم اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔

۴۷– اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو لباس، نیند کو سکون اور دن کو اٹھ کھڑے ہونے کا وقت بنایا۔

۴۸– اور وہی ہے جو اپنی رحمت کے آگے آگے ہواؤں کو خوش خبری بنا کر بھیجتا ہے۔ اور ہم آسمان سے نہایت پاکیزہ پانی اتارتے ہیں۔

۴۹– تاکہ اس کے ذریعہ زمین کے مردہ خطہ کو زندہ کریں اور اپنی مخلوقات میں سے بہ کثرت چوپایوں اور انسانوں کو سیراب کریں۔

۵۰– اور ہم نے اس کو ان کے درمیان طرح طرح سے بیان کر دیا ہے۔ تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں مگر اکثر لوگوں نے قبول نہیں کیا۔ اگر قبول کی تو ناشکری۔

۵۱– اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک خبردار کرنے والا بھیج دیتے۔۔

۵۲– تو ان کافروں کی بات تم نہ مانو اور اس کے ذریعہ ان کے ساتھ زبردست جہاد کرو۔

۵۳– وہی ہے جس نے دو دریاؤں کو ملایا۔ ایک شیریں خوش گوار اور دوسرا کھاری تلخ۔ اور دونوں کے درمیان اس نے ایک پردہ حائل کر دیا اور ایک رکاوٹ کھڑی کر دی۔

۵۴– اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بدر پیدا کیا پھر اس کے لیے نسب اور سسرال کے رشتے بنائے۔ تمہارا رب بڑی قدرت والا ہے۔

۵۵– اور یہ اللہ کو چھوڑ کر ان کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان۔

۵۶– اور اے پیغمبر ہم نے تم کو بس خوش خبری دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔

۵۷– کہ میں تم سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں طلب کر رہا ہوں مگر یہ کہ جو چاہے اپنے رب کی راہ اختیار کر لے۔

۵۸– اور اس پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں۔ اور اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو۔ اپنے بندوں کے گناہوں سے با خبر رہنے کے لیے وہ کافی ہے۔

۵۹– جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان تمام چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں چھ دنوں میں پیدا کیا۔ پھر عرش پر بلند ہوا۔ وہ رحمٰن ہے۔ اس کی شان اس باخبر سے پوچھو۔

۶۰– ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں رحمٰن کیا ہے ؟ کیا ہم اس کو سجدہ کریں جس کا تم ہمیں حکم دو۔ اس سے ان کی نفرت میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔

۶۱– بڑا با برکت ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک چراغ اور روشن چاند بنایا۔

۶۲– اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا ہر اس شخص کے لیے جو یاد دہانی حاصل کرنا چاہے یا شکر گزار بننا چاہے۔

۶۳– اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام۔

۶۴– جو اپنے رب کے آگے سجدہ اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔

۶۵– جو دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! جہنم کے عذاب کو ہم سے دور رکھ۔ اس کا عذاب بالکل چمٹ کر رہنے والا ہے۔

۶۶– وہ بہت برا ٹھکانہ اور بہت بری رہنے کی جگہ ہے۔

۶۷– جو خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ تنگی بلکہ ان کا خرچ دونوں کے درمیان اعتدال پر رہتا ہے۔

۶۸– جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔ کسی جان کو جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے قتل نہیں کرتے مگر حق کی بنا پر۔ اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں۔ جو کوئی ان باتوں کا مرتکب ہو گا اسے گناہ کا نتیجہ بھگتنا ہو گا۔

۶۹– قیامت کے دن اس کے عذاب کو دوہرا کر دیا جائے گا۔ اور وہ اس میں ذلت کے ساتھ پڑا رہے گا۔

۷۰– مگر جو توبہ کرے، ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا۔ اللہ بڑا بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔۔

۷۱– اور جو توبہ کر کے نیک عمل کرتا ہے وہ در حقیقت اللہ کی طرف پلٹتا ہے۔

۷۲– اور جو باطل کے گواہ نہیں بنتے اور اگر کسی لغو چیز سے ان کا گزر ہوتا ہے تو پر وقار انداز میں گزر جاتے ہیں۔

۷۳– جنہیں ان کے رب کی آیتوں کے ذریعہ نصیحت کی جاتی ہے تو وہ ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے۔

۷۴– جو دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا ء فرما۔ اور اہم کو متقیوں کا امام بنا۔

۷۵– یہ لوگ ہیں جن کو ان کے صبر کے بدلہ میں بالا خانے عطاء کیے جائیں گے۔ اور وہاں ان کا خیر مقدم دعا اور سلام سے ہو گا۔

۷۶– وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے، بہت اچھا ٹھکانہ اور بہت اچھی رہنے کی جگہ ہے وہ!

۷۷– کہو میرے رب کو تمہاری کیا پروا اگر تم اسے نہ پکارو۔ تم نے جھٹلا دیا ہے لہٰذا عذاب تمہیں لازماً پکڑ لے گا۔

٭٭٭

ٹائپنگ: عبد الحمید، افضال احمد، مخدوم محی الدین، کلیم محی الدین، فیصل محمود، اعجاز عبید

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید