FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

فہرست مضامین

دعوت القرآن

 

 

حصہ ۱۵: مجادلہ(۵۸) تا   القلم(۶۸)

 

 

                   شمس پیر زادہ

 

 

 

 

 

 

(۵۸)سورۂ المجادلۃ

 

(۲۲ آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

سورہ کا آغاز ایک خاتون کی تکرار کے واقعہ سے ہوا ہے۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام ” اَلْمُجَادَلَۃ “(تکرار) ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مدنی ہے اور سورۂ احزاب کے بعد یعنی ۰۵ھ کے بعد نازل ہوئی۔

 

مرکزی مضمون

 

اہل ایمان کو ان کی ازدواجی زندگی سے متعلق درپیش مسئلہ میں قانونِ الٰہی کو واضح کرتے ہوئے نیز آدابِ مجلس سے متعلق ہدایات دیتے ہوئے مخلصانہ ایمان اور منافقت کے فرق کو واضح کیا گیا ہے۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ تا ۴ میں ظِہار(بیوی کو اپنی ماں کی پیٹھ کہہ کر اپنے اوپر حرام کر لینا) کے شرعی احکام بیان کئے گئے ہیں۔

آیت ۵ اور ۶ میں اللہ کے شرعی احکام سے انکار کرنے والوں کو سخت سزا کی وعید سنائی گئی ہے۔

آیت ۷ تا ۱۱ میں منافقوں کی ریشہ دوانیوں اور ان کی فتنہ انگیز سرگوشیوں کا ذکر کرتے ہوئے اہل ایمان کو مجلسی آداب کی تلقین کی گئی ہے۔

آیت ۱۲ اور ۱۳ میں رسول سے سرگوشی کے سلسلہ میں ایک خاص حکم دیا گیا ہے۔

آیت ۱۴ تا ۲۲ میں منافقوں پر گرفت کرتے ہوئے سچے مومنوں کی پہچان بتادی گئی ہے۔

 

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔ اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو(اے نبی!) تم سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑتی تھی اور اللہ کے سامنے شکوہ کر رہی تھی اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔ بلا شبہ اللہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔ ۱*

۲۔۔۔۔۔۔۔ تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظِہار کر بیٹھتے ہیں ۲*۔(یعنی ان کو ماں کی پشت سے تشبیہہ دیتے ہیں) وہ ان کی مائیں نہیں ہیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے۔ ۳* یہ لوگ ایک نہایت نا پسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔ ۴* اور بلا شبہ اللہ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔۵*

۳۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظِہار کر بیٹھیں پھر اپنی کہی ہوئی بات(یعنی جس کو انہوں نے حرام قرار دیا اس )کی طرف لوٹیں انہیں ایک گردن(غلام یا لونڈی) کو آزاد کرنا ہو گا قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ ۶* اس بات کی تم کو نصیحت کی جاتی ہے۔ ۷* اور تم جو کچھ کرتے ہو اس سے اللہ با خبر ہے۔

۴۔۔۔۔۔۔۔ اور جو شخص غلام نہ پائے وہ دو مہینے کے لگاتار روزے رکھے۔ ۸* قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ ۹* یہ اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو۔ ۱۰* یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں۔ ۱۱* اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ ۱۲*

۵۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔۱۳* وہ اسی طرح ذلیل ہوں گے جس طرح ان سے پہلے کے لوگ ذلیل ہوئے۔ ۱۴* ہم نے نہایت واضح آیتیں نازل کی ہیں اور کافروں کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔

۶۔۔۔۔۔۔ جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا اور انہیں بتائے گا کہ انہوں نے کیا اعمال کئے تھے۔ اللہ نے سب کچھ شمار کر رکھا تھا اور یہ لوگ اس کو بھلا بیٹھے تھے۔ اللہ ہر چیز پر شاہد ہے۔

۷) کیا تمہیں نہیں معلوم کہ اللہ جانتا ہے ہر چیز کو جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے۔۱۵* ایسا نہیں ہوتا کہ تین آدمیوں میں سرگوشی ہو اور ان کے درمیان چوتھا اللہ نہ ہو اور نہ پانچ آدمیوں میں سرگوشی ہو اور ان کے درمیان چھٹا اللہ نہ ہو۔سرگوشی کرنے والے اس سے کم ہوں یا زیادہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوں۔ ۱۶* پھر قیامت کے دن وہ ان کو بتا دے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے۔ بلا شبہ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔

۸۔۔۔۔۔۔ کیا تم نے ان لوگوں کو دیکھا نہیں جنہیں سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا پھر بھی وہ وہی کام کر رہے ہیں جن سے انہیں منع کیا گیا تھا۔ ۱۷* یہ لوگ گناہ” زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں خفیہ طور سے کرتے ہیں۔ ۱۸* اور جب(اے نبی!) تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں اس کلمہ سے سلام کرتے ہیں۔ جس سے اللہ نے تم پر سلام نہیں بھیجا۔۱۹* اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہماری ان باتوں پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا۔ ۲۰* ان کے لیے جہنم ہی کافی ہے۔ ۲۱* وہ اس میں پڑیں گے اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے۔

۹۔۔۔۔۔۔ اے ایمان والوں جب تم سرگوشی کرو تو گناہ” زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں نہ کرو بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو۔ ۲۲* اور اللہ سے ڈرو جس کے حضور تم سب اکٹھا کئے جاؤ گے۔

۱۰۔۔۔۔۔۔ یہ سرگوشیاں شیطان کی طرف سے ہیں تاکہ ایمان رکھنے والے رنجیدہ ہوں۔ ۲۳* حالانکہ اللہ کے اذن کے بغیر وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاسکتیں اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ ۲۴*

۱۱۔۔۔۔۔۔۔اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ اپنی مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو کشادگی پیدا کرو اللہ تمہیں کشادگی بخشے گا۔ ۲۵* اور جب تم سے کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو اٹھ جایا کرو۔ ۲۶* اللہ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان رکھنے والے ہیں اور جن کو علم بخشا گیا ہے درجے بلند فرمائے گا۔ ۲۷* اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ باخبر ہے۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔ اے ایمان والو! جب تمہیں رسول سے سرگوشی کرنا ہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ دو۔ ۲۸* یہ تمہارے لیے بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے۔ ۲۹* لیکن اگر(صدقہ دینے کے لیے) کچھ نہ پاؤ تو اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ۳۰*

۱۳۔۔۔۔۔۔۔ کیا تم ڈر گئے اس بات سے کہ اپنی سرگوشیوں سے پہلے صدقات دو۔ ۳۱* تو جب تم نے ایسا نہیں کیا اور اللہ نے تم کو معاف کر دیا۳۲* تو نماز اہتمام کے ساتھ ادا کرتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو۔ ۳۳* تم جو کچھ کرتے ہو اس سے اللہ باخبر ہے۔

۱۴۔۔۔۔۔۔۔ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے ایسی قوم کو دوست بنایا ہے جس پر اللہ کا غضب ہوا۔ ۳۴* یہ لوگ نہ تم میں سے ہیں۔ اور نہ ان میں سے۔۳۵* یہ جانتے بوجھتے جھوٹی بات پر قسم کھاتے ہیں۔ ۳۶*

۱۵۔۔۔۔۔۔۔ اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ بہت بُرا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔

۱۶۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا ہے۳۷* اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ ۳۸* ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ ۳۹*

۱۷) نہ اِن کے مال ان کو اللہ کے عذاب سے بچاسکیں گے اور نہ ان کی اولاد۔ یہ دوزخ والے ہیں ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ ۴۰*

۱۸۔۔۔۔۔۔ جس دن اللہ ان کو اٹھائے گا وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں۔ ۴۱* اور خیال کریں گے کہ وہ کسی بنیاد پر ہیں۔ ۴۲* سن لو کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں۔

۱۹۔۔۔۔۔۔ شیطان ان پر مسلط ہو گیا ہے۔ ۴۳* اور اس نے اللہ کی یاد ان سے بھلا دی۔ ۴۴* یہ لوگ شیطان کی پارٹی کے ہیں۔ ۴۵* سن لو کہ شیطان کی پارٹی ہی تباہ ہونے والی ہے۔

۲۰۔۔۔۔۔۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل ہونے والوں میں ہوں گے۔

۲۱۔۔۔۔۔۔۔ اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گے۔ ۴۶* بلا شبہ اللہ قوت والا غلبہ والا ہے۔

۲۲۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں ان کو تم کبھی ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہوئے نہ دیکھو گے جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھتے ہیں۔ ۴۷* خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے، یا ان کے بھائی یا ان کے خاندان کے لوگ۔ ۴۸* یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی طرف سے روح کے ذریعہ ان کی مدد کی ہے۔ ۴۹* وہ انہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ ۵۰* یہ لوگ اللہ کی جماعت(پارٹی) کے ہیں۔ ۵۱* سن رکھو کہ اللہ کی جماعت(پارٹی) والے ہی کامیاب ہونے والے ہیں۔

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔۔اس آیت میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کی تفصیل روایتوں میں بیان ہوئی ہے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ خولہ بنت ثعلبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنا یہ دکھڑا سنایا کہ ان کے شوہر اوس بن صامت نے ان کی جوانی سے تو فائدہ اٹھایا لیکن اب جبکہ وہ بوڑھی ہو گئی ہیں اور ان کے بچے بھی ہیں جذبات میں آ کر کہہ دیا کہ تم میرے لیے ایسی ہو جیسے ماں کی پشت(یعنی تم مجھ پر حرام ہو۔) اب مجھے پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے خاص طور سے اپنے بچوں کی وجہ سے اس لیے میں اللہ کے حضور اپنی یہ شکایت پیش کرتی ہوں۔ انہوں نے اپنا یہ مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پر زور طریقہ پر پیش کیا اور یہ صراحت کرتی ہوئے کہ ان کے شوہر کی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی اس بات پر اصرار کیا کہ ان کے شوہر کے لیے رجوع کی صورت نکالی جائے۔ آپ نے اس پر توقف کیا اور کچھ ہی دیر میں یہ سورہ نازل ہوئی جس کا آغاز ہی اس طرح ہوتا ہے کہ اللہ نے اس خاتون کی فریاد سن لی جو تم سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ کے سامنے اپنی شکایت پیش کر رہی تھی اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔اور بعد کی آیتوں میں کفارہ کا حکم دے کر ملاپ کی اجازت دے دی گئی بشرطیکہ کفارہ پہلے ہی ادا کر دیا جائے(ان روایتوں کے لیے دیکھئے تفسیر ابن کثیر ج ۴ ص ۷۳۱۹، ۳۲۰)

اس خاتون نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے مقدمہ کو جس انداز سے پیش کیا اس کو ” مُجادلہ”(جھگڑنے) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ جھگڑنا ایمان کے اخلاص کے ساتھ مصالحت کی غرض سے تھا اور اس میں اللہ سے فریاد کی گئی تھی اس لیے اللہ کی اس پر نظرِ عنایت ہوئی اور اس کی مشکل کو دور کرنے کے لیے وحی الٰہی کا نزول ہوا جس نے ” ظہار” کے سلسلہ میں شرعی احکام واضح کر دیئے اور ” ظہار” کر بیٹھنے والوں کے لیے خلاصی کی صورت نکالی۔

اور یہ جو فرمایا کہ “اللہ تمہاری گفتگو سن رہا تھا”تو اس سے یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی طرف برابر متوجہ رہتا ہے اور ان کی ایک ایک بات سنتا ہے اور ان کی فریاد کو پہنچتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی دستگیری کے لیے ہر وقت اور ہر جگہ موجود ہے۔

۲۔۔۔۔۔۔۔ “ظہار” یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی سے کہہ دے کہ تو میرے لیے ماں کی ظَہر یعنی پشت جیسی ہے عربوں میں یہ رواج Custom چلا آ رہا تھا کہ جو شخص یہ الفاظ کہہ دیتا اس کی بیوی اس پر تا عمر حرام ہوتی اور اسے وہ طلاقِ مغلظہ قرار دیتے۔

ظَہْر(پشت) کا لفظ سواری کے معنی میں ہے جسے وہ کنایہ کے طور پر استعمال کرتے۔

۳۔۔۔۔۔۔۔ یعنی بیوی کو ماں کہہ دینے سے وہ ماں نہیں بن جاتی۔ اس کی ماں تو وہی ہے جس نے اسے جنا۔

۴۔۔۔۔۔۔۔ بیوی کو ماں قرار دینا سخت نا پسندیدہ بات بھی ہے اور جھوٹ بھی۔ نا پسندیدہ اس لیے کہ یہ ایک غیر معقول بات ہے اور عورت کی دل آزاری کا باعث بھی۔ اور جھوٹ اس لیے کہ یہ ایک خلافِ واقعہ بات ہے۔

۵۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو شخص بیوی کو اپنے اوپر حرام قرار دینے کے گناہ کا مرتکب ہوا وہ اللہ سے معافی اور مغفرت طلب کرے کہ اللہ معاف کرنے والا مغفرت فرمانے والا ہے۔

معافی اس گناہ کی جو سرزد ہو ا اور مغفرت یعنی بخشش عام گناہوں سے۔

۶۔۔۔۔۔۔۔ یہ ظِہار(کا کفارہ ہے جو اس آیت میں اور اس کے بعد والی آیت میں بیان ہوا ہے۔ ظِہارکے بعد یہ کفارہ لازماً ادا کرنا ہو گا تاکہ اس گناہ کی تلافی ہو جائے جس کا وہ مرتکب ہوا ہے یعنی زوجیت کے تعلق سے ایک صریح جھوٹ کا۔

“اپنی کہی ہوئی بات کی طرف لوٹتے ہیں۔”کا مطلب یہ ہے کہ پہلے انہوں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام ٹھہرایا اس کے بعد وہ اس سے زوجیت کا تعلق قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں لفظ یَعُوْدُوْنَ(لوٹتے ہیں) لوٹنا چاہتے ہیں کے مفہوم میں ہے۔(معنی کی اس تحقیق کے لیے دیکھئے علامہ ابن قیم کی زاد المعاد ج ۴ ص ۸۴)

ظِہار کے بعد عورت کو معلق نہیں چھوڑا جاسکتا کیونکہ شریعت نے اس سے منع کیا ہے نیز جو جھوٹی بات اس نے اپنی زبان سے نکالی اس پر قائم رہنا بھی جائز نہیں اس لیے لا محالہ اسے کفارہ ادا کرنا ہی ہو گا تاکہ وہ اپنی بیوی کو واقعی بیوی بنا کر رکھ سکے۔

کفارہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ادا کرنا ہو گا ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے(تیما سّا) سے مراد مباشرت ہے اور لفظ ” تیماسّا”  اس کے لیے کنایہ کے طور پر استعمال ہوا ہے۔

کفارہ کی تین صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ جس نے ظِہار کیا  ہو وہ ایک گرن یعنی غلام یا لونڈی کو آماد کرے کہ اس کو آماد کرنا غلامی سے اس کی گردن چھڑانا ہے۔

دوسری دو صورتیں آگے کی آیت میں بیان ہوئی ہیں۔

۷۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ان شرعی احکام پر عمل کرو احکام بیان کرتے ہوئے درمیان میں یہ ارشاد تاکید کے طور پر ہے کہ تمہاری اپنی بھلائی ان احکام پر نیک نیتی کے ساتھ عمل کرنے ہی میں ہے۔ ان کی خلاف ورزی کرنا یا ان کو کھیل بنا لینا ہلاکت ہی کا موجب ہوسکتا ہے۔

۸۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اگر آزاد کرنے کے لیے غلام یا لونڈی میسر نہ آئے تو پھر لگاتار دو مہینے روزے رکھے۔

موجودہ زمانہ میں غلاموں کا وجود نہیں رہا اس لیے کفارہ ادا کرنے کی دوسری صورت یعنی دو مہینے کے مسلسل روزے اور تیسری صورت جو آگے بیان ہو رہی ہے باقی رہ گئی ہے۔ مسلسل روزے رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ روزوں کا سلسلہ بلا عذر ٹوٹنے نہ پائے۔

۹۔۔۔۔۔۔۔ کفارہ ادا کرنے کی تیسری صورت یہ ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔ قرآن نے اس کے لیے کوئی مقدار مقرر نہیں کی البتہ قسم کے کفارہ کے سلسلہ میں یہ صراحت کی ہے کہ :

مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَہْلِیکُمْ(مائدہ:۸۹) ” “اوسط درجہ کا کھانا جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔”

اس لیے آدمی جو کھانا اپنے گھر والوں کو کھلاتا ہے اس جیسا کھانا مسکینوں کو پیٹ بھر کھلاتا ہے تو حکم کا منشا پورا ہو جاتا ہے ، حدیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ غذائی اجناس میں سے کوئی چیز نصف صاع (ایک کلو ۸۸ گرام) فی مسکین کے حساب سے دی جاسکتی ہے۔

موجودہ زمانہ میں نقد کی ادائیگی کفارہ دینے والے کی سہولت کا باعث ہے اور مساکین بھی اسی کو پسند کرتے ہیں اس لیے اس مقدار کی قیمت بھی مسکین کو ادا کی جاسکتی ہے تاکہ وہ اپنی پسند کا کھانا کھاسکیں۔

ظِہار کے مسئلہ پر بعض مفسرین نے دور از کار فقہی بحثیں بھی نقل کی ہیں۔ اس قسم کی بحثیں قرآن کا مطالعہ کرنے والے کے لیے ذہنی الجھن کا باعث بنتی ہیں۔ عمل کی اسپرٹ مجروح ہو جاتی ہے۔فقہی جکڑ بندیوں میں اضافہ ہوتا ہے اور ذہن و فکر کی صحیح تربیت نہیں ہو پاتی کیونکہ توجہ ان بنیادی باتوں کی طرف سے ہٹ جاتی ہے جو متعلقہ آیات میں بیان ہوئی ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ(رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) کی ذہنی و عملی تربیت اس طرح کی تھی ہ وہ نہ دو راز کار فقہی بحثیں چھیڑتے تھے اور نہ فرضی سوالات کھڑے کر دیتے تھے بلکہ جب کوئی مسئلہ پیش آ جاتا تو وہ اس کا حل تلاش کرتے اس میں بڑی سلامتی تھی لیکن بعد کے لوگوں میں فقہی ذہن پرورش پایا اور وہ مسائل کو کریدنے لگے۔ اس موقع پر بنی اسرائیل کے گائے کو ذبح کرنے کا وہ واقعہ بھی سامنے رکھنا چاہیے جو سورۂ بقرہ میں بیان ہوا ہے کہ جب ان کو ایک گائے کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تو بجائے اس کے کہ اس مجمل حکم کی تعمیل کرتے انہوں نے طرح طرح کے سوالات کر کے مثلاً یہ کہ اس کا رنگ کیسا ہو اور اس کی عمر کتنی ہو اس کام کو اپنے لیے مشکل بنا دیا۔ معلوم ہوا کہ جو لوگ دین میں سختیاں پیدا کرتے ہیں ان کو سختیوں میں مبتلا کیا جاتا ہے۔

اس آیت کے ذیل میں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن نے ظِہار کو طلاق نہیں قرار دیا بلکہ اسے منکر اور جھوٹ قرار دیا جبکہ جاہلیت میں ظِہار کو طلاقِ مغلظہ سمجھا جاتا تھا۔ معلوم ہوا کہ جس طریقہ کو شریعت کی سند حاصل نہیں ہے اس کا اعتبار نہیں۔ یہ نظیر ہے اس بات کی کہ اکٹھی تین طلاقیں بھی تین طلاقوں کے حکم میں نہیں ہیں کیونکہ طلاق کے اس طریقہ کو شریعت کی سند حاصل نہیں ہے۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ احکام جاہلیت کی تاریکیوں کو دور کر کے ہدایت کی راہ روشن کر رہے ہیں۔ ہدایت کی یہ راہ اللہ اپنے رسول کے ذریعہ روشن کر رہا ہے۔ اس روشنی میں چلنے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور یقین رکھو۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں سے مراد شرعی احکام و قوانین ہیں جن کی حفاظت اور پابندی ایمان کا تقاضا ہے۔ اس کے مقابلہ میں جاہلیت کے رواج یا خود ساختہ قوانین کو ترجیح دینا ایمان کے بالکل منافی ہے۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔ اخیر میں یہ تنبیہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے احکام و قوانین کو ماننے سے انکار کریں گے ان کے لیے دردناک سزا ہے اور اسی مناسبت سے آگے کی آیتوں میں کافروں اور منافقوں کا کردار اور ان کا انجام بیان ہوا ہے۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔ آج مسلمانوں میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو شرعی قوانین کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ان کی یہ حرکتیں اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کے ہم معنی ہیں۔

۱۴۔۔۔۔۔۔۔ مراد وہ گذری ہوئی قومیں ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی تھی۔

۱۵۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کے علم کا ہمہ گیر ہونا ایک واضح حقیقت ہے جس کو ہر شخص فطرۃً جانتا ہے۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔ یعنی سرگوشی کرنے والے خواہ تین ہوں یا زیادہ یا اس سے کم اللہ اپنے علم ، اپنی سماعت و بصارت اور اپنی قدرت کے لحاظ سے وہاں موجود ہوتا ہے اس لیے پوشیدگی میں کی ہوئی باتیں اس سے مخفی نہیں رہ سکتیں۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔ “نجویٰ” کے معنی سرگوشی کرنے اور کسی مجلس میں چند آدمیوں کے آپس میں کانا پھوسی کرنے کے ہیں تاکہ دوسروں کو خبر نہ ہو۔ یہ کام اسی صورت میں روا ہوسکتا ہے جبکہ وہ کسی مقصدِ خیر مثلاً دفعِ شر” لوگوں کے درمیان مصالحت کرانے وغیرہ کے لیے ہو ورنہ یہ طریقہ نا پسندیدہ ہے کیونکہ سرگوشاں بالعموم غلط مقاصد کے لیے ہوتی ہیں مثلاً کسی کو ہدف ملامت بنانے یا کسی کے خلاف سازش کرنے وغیرہ کے لیے۔ سورۂ نساء میں ارشاد ہے:

لاَ خَیْرَ فِیْ کَثِیْرٍ مّنْ نَّجْوَاہُمْ اِلاَّ مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلاَحٍ بَّیْنَ النَّاسِ۔ “ان کی اکثر سرگوشیوں میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔ ہاں جو شخص پوشیدگی میں صدقہ یا بھلی بات یا لوگوں کے درمیان صلح صفائی کی بات کرے تو اس میں ضرور بھلائی ہے۔”(نساء:۱۴)

۱۸۔۔۔۔۔۔۔ مراد منافقین ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شریک ہو جاتے اور پھر آپس ہی میں سرگوشیاں کرنے لگتے۔ ان کی یہ سرگوشیاں دین میں شکوک و شبہات پیدا کرنے” اہل ایمان کے خلاف سازشیں کرنے اور رسول کی نافرمانی پر اکسانے کے لیے ہوتی تھیں۔

۱۹۔۔۔۔۔۔۔ سورۂ احزاب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت اور سلام بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے:

یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُْا تَسْلِیْمًا۔ “اے ایمان والو تم بھی نبی پر درود اور سلام بھیجو۔”(احزاب:۵۶)

اس سلام کے لیے اسلام علیک اور السلام علیکم کے الفاظ مشروع ہوئے ہیں۔ لیکن یہود اور ان کے آلۂ کار منافقین سلام کا تلفظ ایسا کرتے کہ وہ سام ہو جاتا جس کے معنی ہیں موت چنانچہ حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ:

“یہود کی ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے آئی۔ انہوں نے کہا السّامُ علیکم یعنی تم پر موت ہو۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں میں سمجھ گئی اور جواب میں کہا وعلیکم السّام واللعنۃ تم پر موت اور لعنت ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا جانے دو عائشہ! اللہ ہر کام میں نرمی کو پسند فرماتا ہے۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ نے سنا نہیں انہوں نے کیا کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے کہہ دیا تھا وعلیکم”تم پر ہو”(یعنی ایسے موقع پر جواب میں وعلیکم “تم پر ہو” کہہ دینا کافی ہے)(بخاری کتاب الادب)

ان کی اسی حرکت پر اس آیت میں گرفت کی گئی ہے۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اگر واقعی یہ شخص پیغمبر ہے تو ہماری اس بددعا پر ہم پر عذاب کیوں نہیں آ جاتا۔ یہ ان کا زبردست مغالطہ تھا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ مجرموں کو مہلت دیتا ہے اور عذاب وقت ہی پر آتا ہے۔

۲۱۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کی ان حرکتوں پر دنیا میں عذاب آئے یا نہ آئے۔ اصل عذاب تو جہنم کا ہے جو لازماً انہیں بھگتنا ہو گا اور وہ بہت کافی ہے۔

۲۲۔۔۔۔۔۔۔ یعنی سرگوشیاں لوگوں کی بھلائی اور دینی مصالح کی خاطر ہونی چاہیے نہ کہ شر و فساد اور گناہ کے کاموں کے لیے۔

۲۳۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ سرگوشیاں جو بری اغراض کے لیے کی جا رہی ہیں شیطان کی وسوسہ اندازی اور اکساہٹ کا نتیجہ ہے۔ اہل ایمان جب منافقوں کو سرگوشیاں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو انہیں دکھ ہوتا ہے کہ یہ مسلمانوں کو زک پہنچانے کے لیے کیسی حرکتیں کر رہے ہیں۔

۲۴۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اہل ایمان مطمئن رہیں کہ یہ شر انگیز سرگوشیاں ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتیں۔ انہیں اسی صورت میں کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے جب کہ اللہ کی مشیت ہو۔ یہ توکل ہی ہے جو حوصلہ مند بناتا ہے۔

۲۵۔۔۔۔۔۔۔ مجلسِ نبوی میں لوگوں کی آمد بہ کثرت ہو جاتی اور جگہ کافی نہ ہوتی اس لیے حکم دیا گیا کہ مجلس میں اس طرح بیٹھیں کہ بعد میں آنے والوں کے لیے گنجائش نکل آئے۔ اور اس کی یہ جزا بھی بیان کی گئی کہ کشادگی پیدا کرنے والوں کو اللہ کشادگی بخشے گا۔ اللہ کی طرف سے کشادگی میں خیر میں اضافہ بھی شامل ہے اور جنت کے وسیع باغ بھی۔

کشادگی پیدا کرنا آداب مجلس میں سے ہے اس لیے اس حکم کو مجلس نبوی کے لیے خاص نہیں رکھا گیا بلکہ عمومیت کے ساتھ مسلمانوں کی تمام مجلسوں کے لیے یہ حکم دیا گیا خواہ وہ دینی اجتماعات ہوں یا مشاورتی نشستیں ہوں یا دوسرے مفید کاموں کے لیے مجلسیں۔

۲۶۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جب نشست برخاست کرنے کا اعلان کر دیا جائے تو اٹھ جایا کرو نیز اگر صدر مجلس نشستوں میں تبدیلی کی ضرورت محسوس کرے تو انہیں نظم کا پابند ہو جانا چاہیے۔

۲۷۔۔۔۔۔۔۔ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ کوئی شخص اپنے علم و فضل کے لحاظ سے خواہ کتنے ہی اونچے مرتبہ کا کیوں نہ ہو مجلس کے نظم کی بہر حال اسے پابندی کرنا چاہیے۔ مجلس میں نشست خواہ کسی گوشہ میں مل جائے یا صدر مجلس کی ہدایت پر اسے اٹھ کر جانا پڑے تو اسے وہ اپنی کسرِ شان نہ سمجھے۔ اس تواضع ہی میں درجات کی بلندی ہے حدیث میں ارشاد ہوا ہے:

مَاتَواضَعَ اَحَدٌ لِلّٰہِ اِلاَّ رَفَعَہُ اللّٰہُ “جو بندہ اللہ کے لیے تواضع(خاکساری) اختیار کرتا ہے اللہ اس کا درجہ بلند کرتا ہے۔”(مسلم کتاب البر)

حضرت مسیح علیہ السلام نے ان لوگوں پر سخت گرفت کی ہے جو کرسی کے حریص ہوتے ہیں۔ مرقس کی انجیل میں ہے:

“پھر اس نے اپنی تعلیم میں کہا کہ فقیہوں سے خبردار ہو جو لمبے لمبے جامے پہن کر پھرنا اور بازاروں میں سلام اور عبادت خانوں میں اعلیٰ درجہ کی کرسیاں اور ضیافتوں میں صدر نشینی چاہتے ہیں۔ اور وہ بیواؤں کے گھروں کو دبا بیٹھے ہیں اور دکھاوے کے لیے نماز کو طول دیتے ہیں۔ ان ہی کو زیادہ سزا ملے گی۔”(مرقس۱۲:۱۳ تا ۴۰)

اور موجودہ زمانہ میں لیڈر کرسی کے پیچھے دوڑ رہے ہیں اور علما کا بھی عام طور سے حال یہ ہے کہ وہ مجلسوں میں اونچا مقام چاہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بے وقعت ہو رہے ہیں مگر انہیں اس کا احساس نہیں۔

۲۸۔۔۔۔۔۔۔ صدقہ کا یہ حکم اس لیے دیا گیا تاکہ جو لوگ تنہائی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنا چاہیں انہیں یہ احساس ہو کہ وہ ایک عظیم شخصیت سے بات کر رہے ہیں۔ یہ احساس انہیں غلط بیانی سے بھی باز رکھے گا اور غیر ضروری اور وقت ضائع کرنے والی گفتگو سے بھی۔

۲۹۔۔۔۔۔۔۔ بہتر اس لحاظ سے کہ تمہیں اس کا اجر ملے گا اور زیادہ پاکیزہ اس لحاظ سے کہ رسول کی خدمت میں تم پاکیزہ جذبات لے کر آؤ گے۔

۳۰۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اگر بر وقت صدقہ دینے کے لیے تمہارے پاس کچھ نہ ہو تو بغیر صدقہ دیئے رسول سے تنہائی میں گفتگو کرسکتے ہو اس امید پر کہ اللہ معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

یہ رخصت صرف ناداروں کے لیے نہیں تھی کیونکہ اگر ناداروں ہی کے لیے ہوتی تو الفاظ ” فمن لم یجد”(جو شخص صدقہ کے لیے کچھ نہ پائے ) ہوتے مگر آیت میں عمومیت کے ساتھ فرمایا گیا کہ فان لم تجدوا (لیکن اگر تم صدقہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ) جس کا بظاہر مفہوم یہی ہے کہ جس شخص کو بھی بروقت صدقہ دینے کے لیے کچھ نہ ملے اس کو اللہ معاف کرنے والا ہے۔

۳۱۔۔۔۔۔۔۔ اگرچہ صدقہ کے مذکورہ بالا حکم میں کافی لچک رکھی گئی تھی پھر بھی اس ہدایت پر عمل کرنے میں صحابہ نے دشواری محسوس کی بروقت صدقہ کا اہتمام کرنا مشکل ہے اور بغیر صدقہ دیئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تنہائی میں گفتگو کرنا مناسب نہیں۔ ان کے اسی احساس کو ڈرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ورنہ یہ بات بخل کی بنا پر نہیں تھی۔

۳۲۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ نے صدقہ دینے کی مذکورہ بالا ہدایت کو تمہارے لیے مزید نرم کر دیا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں تم پر کوئی گرفت نہیں ہو گی۔ اس سے یہ بات خود بخود واضح ہو گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تنہائی میں بات کرنے سے پہلے صدقہ دینا خیر اور اطہر(بہتر اور زیادہ پاکیزہ طریقہ) ضرور ہے لیکن اس کی پابندی لازم نہیں۔

مفسرین نے یہاں ناسخ اور منسوخ کی بحث چھیڑ دی ہے۔ وہ پہلی آیت کو جس میں سرگوشی سے پہلے صدقہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس دوسری آیت سے جس میں معاف کرنے کی صراحت ہے۔ منسوخ مانتے ہیں حالانکہ دوسری آیت میں پہلی آیت کے منسوخ کئے جانے کی کوئی صراحت نہیں ہے اور نہ قرآن کی کوئی آیت منسوخ ہوئی ہے۔ دراصل دوسری آیت نے پہلے حکم میں تخفیف کر دی ہے نہ کہ اسے منسوخ کر دیا۔ منسوخ اس صورت میں کیا جاسکتا تھا جب کہ دوسرا حکم سرگوشی سے پہلے صدقہ دینے کو ممنوع قرار دیتا مگر اس دوسری آیت نے اسے ممنوع نہیں قرار دیا بلکہ تخفیف کر دی۔ اور تخفیف کا یہ حکم اس وقت نازل ہوا جبکہ پہلے حکم کے ذریعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تنہائی میں راز دارانہ بات چیت کی غیر معمولی اہمیت اچھی طرح واضح ہو چکی تھی اور اس کا احساس بھی صحابہ کو ہو گیا تھا۔ رہی وہ روایت جس میں بیان ہوا ہے کہ دوسرا حکم پہلے حکم کے چند گھنٹوں بعد نازل ہوا تو یہ روایت ناقابل اعتبار ہے۔

۳۳۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اس تخفیف(آسانی) کے بعد تمہیں اپنے مستقل فرائض کی بحسن خوبی پابندی کرنا چاہیے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں سرگرم ہونا چاہیے کہ یہی چیزیں ایمان میں اخلاص پیدا کرتی ہیں۔

۳۴۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کا غضب یہود پر ہوا۔ اس قوم کو منافقوں نے اپنا دوست بنا لیا تھا۔ وہ مومنوں کے مقابلہ میں یہود کے مفاد کو ترجیح دیتے تھے۔

۳۵۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ منافقین نہ اپنے ایمان میں مخلص ہیں کہ مومنوں کے گروہ میں سے ہوں اور نہ یہود ہی کے اصلاً وفادار ہیں کہ ان میں سے ہوں بلکہ وہ غرض کے بندے ہیں اس لیے ان سے بھی تعلق رکھے ہوئے ہیں اور تم سے بھی۔

۳۶۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے مسلمانوں ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں اور مسلمانوں کی خیر خواہی کا یقین دلاتے ہیں۔

۳۷۔۔۔۔۔۔۔ یعنی بات بات پر جھوٹی قسمیں کھا کر اپنا بچاؤ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

۳۸۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ایسی حرکتیں اور ایسی سازشیں کرتے ہیں جو اسلام کی راہ کو روکنے والی ہیں۔

۳۹۔۔۔۔۔۔۔ اوپر فرمایا تھا ان کے لیے سخت عذاب ہے اور یہاں فرمایا ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ سخت عذاب منافقت کی بنا پر اور ذلت کا عذاب ان کی ان ذلیل حرکتوں کی بنا پر جو وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کرتے رہے۔

۴۰۔۔۔۔۔۔۔ منافق بھی جہنم میں اسی طرح ہمیشہ عذاب بھگتّے ر ہیں گے جس طرح کہ کھلے کافر۔

۴۱۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کے دن بھی وہ اپنے کو بے قصور قرار دینے کے لیے جھوٹی قسمیں کھائیں گے۔ سورۂ انعام میں ہے کہ وہ شرک سے اپنی بے تعلقی کا اظہار قسم کھا کر کریں گے:

وَاللّٰہِ رَبِّنَا مَاکُنَّا مُشْرِکِیْنَ “اللہ ہمارے رب کی قسم ہر مشرک نہیں تھے۔”(انعام: ۲۳)

۴۲۔۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ خیال کریں گے کہ جھوٹی قسمیں کھا کر وہ اپنے کو مومن ثابت کرسکیں گے اور ان کی نجات ہوسکے گی۔

۴۳۔۔۔۔۔۔۔ شیطان صرف وسوسہ اندازی کرتا ہے لیکن جب انسان اس سے متاثر ہو کر اپنی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں دے دیتا ہے تو وہ اس پر قابو پالیتا ہے اور اسے گمراہ کر کے چھوڑتا ہے۔ یہی ہے شیطان کا مسلط ہونا۔

۴۴۔۔۔۔۔۔۔ شیطان کسی کو گمراہ کرنے کے لیے جو بنیادی کام کرتا ہے وہ ہے دل سے اللہ کی یاد بھلا دینا اور اس کی طرف سے توجہ ہٹا دینا۔اس غفلت میں مبتلا ہو جانے کے بعد کسی بھی برائی کو قبول کرنا انسان کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔

۴۵۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ منافقین شیطان کے ساتھی ہیں اور اس کے اشارہ پر کام کرنے والے ہیں۔

۴۶۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے ان کو لازماً مغلوب ہونا پڑے گا۔ یا تو آسمانی عذاب کے ذریعہ ان کا خاتمہ کر دیا جائے گا یا میدانِ جہاد میں رسول اور ان کے ساتھیوں کے ذریعہ ان کو بری طرح شکست دی جائے گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین کے ساتھ یہ دوسری صورت ہی پیش آئی۔

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ مومن نوٹ ۷۵۔

۴۷۔۔۔۔۔۔۔ یعنی کوئی سچا مومن اللہ کے دشمن کو اپنا دوست نہیں بناتا۔ایک ہی دل میں اللہ کی محبت و وفاداری اور اس کے دشمن سے محبت و وفاداری جمع نہیں ہوسکتی۔

موجودہ زمانہ میں سیکولرزم کے زیر اثر کتنے ہی مسلمانوں نے منافقت کی راہ اختیار کر لی ہے مگر سیکولرزم کا خوبصورت نعرہ حقیقت کو بدل نہیں سکتا۔

۴۸۔۔۔۔۔۔۔ آت کا منشا یہ ہے کہ کفر اور اسلام کی جنگ میں اہل ایمان کو کافروں سے بے دریغ لڑنا چاہیے۔ خواہ ان کی زد میں ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ آ جائیں۔ وہ جب اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت پر اتر آئے ہیں اور اس کے دین کے خلاف محاذ آرائی کر رہے ہیں تو ان کی محبت اہل ایمان کے دلوں میں کہاں جگہ پاسکتی ہے اور وہ ان سے کس طرح دوستی اور موالات کے تعلقات قائم کرسکتے ہیں۔ ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے دشمن کو اپنا دشمن سمجھا جائے خواہ وہ کوئی ہو۔ صحابہ کرام نے اس کی نہایت اعلیٰ مثال قائم کی چنانچہ جنگِ بدر میں انہوں نے اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو قتل کرنے میں تامل نہیں کیا جب کہ انہوں نے اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے خلاف محاذ آرائی کی۔

۴۹۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جب انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے سچی وفاداری کا رویہ اختیار کیا تو نہایت نازک مواقع پر ان کو تائید غیبی حاصل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر ایسی اسپرٹ پیدا کی کہ کسی کو خاطر میں لائے بغیر اللہ اللہ کے دشمنوں کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے جہاد کی اس اسپرٹ کو ” روحٍ مِنْہُ”(اپنی طرف سے روح) سے تعبیر کیا گیا ہے۔

۵۰۔۔۔۔۔۔۔ جن سے اللہ راضی ہوا انہوں نے سب کچھ پایا۔ ان کے لیے کوئی چیز بھی باقی نہیں رہی۔ جنت اللہ کی رضا ہی کا مظہر ہے۔ اور وہ اللہ سے راضی ہوئے کہ اس نے ان کو جنت کی راہ دکھائی۔

۵۱۔۔۔۔۔۔۔ آیت ۱۹میں شیطان کی پارٹی کا ذکر تھا یہاں اس کے بالمقابل اللہ کی پارٹی کا ذکر ہوا ہے۔ جو با مراد ہونے والی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

(۶۲)  سورۂ الجُمعۃ

 

(۱۱ آیات)

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

آیت ۹ میں جمعہ کی نماز کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام ” اَلْجُمُعَۃُ” ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مدنی ہے اور ہجرت کے کچھ عرصہ بعد ہی نازل ہوئی ہے جیسا کہ اس واقعہ سے ظاہر ہے جو اخیر میں جمعہ کے تعلق سے بیان ہوا ہے۔

رہی ابوہریرہ کی روایت جو بخاری وغیرہ میں بیان ہوئی ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ یہ آیتیں نازل ہوئیں اور حضرت ابو ہریرہؓ کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ صلح حدیبیہ کے بعد ایمان لائے تھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ راویوں نے الفاظ ٹھیک سے یاد نہیں رکھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے غالباً یہ فرمایا ہو گا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمارے سامنے یہ آیتیں تلاوت فرمائیں لیکن راویوں نے اس بات کو آیتوں کے نازل ہونے پر محمول کیا ورنہ یہ باور کرنا مشکل ہے کہ جب صحابہ کی تعداد کثیر ہو گئی تھی تو ان کی موجودگی میں جمعہ کا وہ واقعہ پیش آیا ہو گا جس کی طرف اس سورہ میں اشارہ کیا گیا ہے۔

 

مرکزی مضمون

 

اللہ کے اس فضل کو محسوس کرانا ہے کہ اس نے کس شان کا رسول برپا کیا ہے اور وہ کیسی بہترین تعلیم و تربیت دے رہا ہے۔ اس کی قدر پہچانو اور اس کی تعلیمات پر عمل کرو تو تمہاری زندگیاں سنور جائیں گی اور ابدی کامیابی تمہیں حاصل ہو گی۔

نظمِ کلام

آیت ۱ تمہیدی آیت ہے جس میں اللہ کی تسبیح کے ساتھ اس کی صفات بیان ہوئی ہیں۔

آیت ۲ تا ۴ میں اللہ کے اس عظیم فضل کا بیان ہے کہ امیوں میں کس شان کا رسول برپا کیا گیا ہے۔

آیت ۵ تا ۸ میں یہود کی بے عملی اور غلط دعووں پر گرفت کی گئی ہے۔

آیت ۹ تا ۱۱ میں مسلمانوں کو جمعہ کی نماز کا اہتمام کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اوپر یہود کے جس طرزِ عمل کا ذکر ہوا اس سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا بھی مقصود ہے کہ انہوں نے سبت کے احکام کی جس طرح خلاف ورزی کی اس طرح مسلمان جمعہ کے احکام کی خلاف ورزی نہ کریں۔

حدیث

حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جمعہ کی نماز میں سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون پڑھا کرتے تھے۔ (ترمذی ابواب الجمعہ)

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔ اللہ کی تسبیح کرتی ہیں ساری چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ وہ بادشاہ، قدوس(پاک) ، غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔۱*

۲۔۔۔۔۔۔ اسی نے امیوں ۲* میں ایک رسول ان ہی میں سے اٹھایا جو ان کو اس کی آیتیں سناتا ہے ، ان کا تزکیہ ( ان کو پاک) کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ ۳* اس سے پہلے یہ لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔ ۴*

۳۔۔۔۔۔۔ اور( اس کی بعثت) ان ( امیوں ) میں سے ان دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے جو ابھی ان سے ملے نہیں ہیں۔ ۵* اور اللہ غالب ہے حکمت والا ہے۔

۴۔۔۔۔۔۔ یہ اللہ کا فضل ہے جس سے نوازتا ہے وہ جسے چاہتا ہے۔ ۶* اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔

۵۔۔۔۔۔۔ ان لوگوں کی مثال جن پر تورات کا بار ڈالا گیا تھا مگر انہوں نے اس کو نہیں اٹھایا اس گدھے کی سی ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔ ۷* بہت بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا۔۸* اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

۶۔۔۔۔۔۔ کہو اے وہ لوگو جو یہودی بن گئے ہو۔ ۹* اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ دوسروں کو چھوڑ کر تم ہی اللہ کے چہیتے ہو تو موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ ۱۰*

۷۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ ہرگز اس کی تمنا نہ کریں گے ان کرتوتوں کی وجہ سے جو وہ کر چکے ہیں۔ ۱۱* اور اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

۸۔۔۔۔۔۔ ( ان سے ) کہو جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ تمہیں آ کر رہے گی۔ ۱۲* پھر تم اس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے جو غیب اور حاضر سب کا جاننے والا ہے۔ وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔

۹۔۔۔۔۔۔ اے ایمان والو! جمعہ کے دن جب نماز کے لیے پکارا جائے ( اذان دی جائے ) تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔ ۱۳* یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ ۱۴*

۱۰۔۔۔۔۔۔ پھر جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ ۱۵* اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرو تاکہ تم فلاح پاؤ ۱۶*

۱۱۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ جب تجارت یا لہو چیز دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑتے ہیں اور( اے نبی!) تم کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔ ۱۷* کہو جو اللہ کے پاس ہے وہ لہو اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ بہترین رازق ہے۔ ۱۸*

 

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔  ان صفات کی تشریح سورۂ حشر میں گزر چکی۔ اس تمہیدی آیت میں اللہ کی ان صفات کا ذکر اس مناسبت سے ہوا ہے کہ رسول کو بھیجنے والی ہستی کی صحیح معرفت حاصل ہو جائے اور لوگ اچھی طرح سمجھ لیں کہ یہ رسول فرمانروائے کائنات کی طرف سے پیغام لے کر آیا ہے لہٰذا اس پر ایمان لانا بندگانِ خدا کے لیے لازم، واجب اور فرض ہے۔ وہ قدوس ہے اس لیے اس کے تمام فیصلے خطا سے پاک ہوتے ہیں لہٰذا جس شخص کو اس نے رسالت کے لیے چن لیا ہے وہ اس منصب کے لیے موزوں ترین شخصیت ہے اور اس کا فیصلہ بالکل صحیح اور حکیمانہ ہے۔

۲  لفظ اُمّی کی تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ آل عمران نوٹ ۲۹ سورۂ اعراف نوٹ ۲۲۴  اور سورۂ عنکبوت نوٹ ۹۱۔

۳۔۔۔۔۔۔  تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ بقرہ نوٹ ۱۴۹۔

۴۔۔۔۔۔۔  یعنی اس رسول کے آنے سے پہلے یہ عرب جو امّی یعنی اَن پڑھ واقع ہوئے ہیں اور جن کے پاس کتابِ الٰہی موجود نہیں تھی کھلی گمراہی میں مبتلا تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ احسان فرمایا کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان کی ہدایت کے لیے اٹھایا جو دعائے ابراہیم اور نویدِ مسیح کا مظہر ہے اور جس کی شان یہ ہے کہ وہ ناخواندہ ہونے کے باوجود آیاتِ الٰہی کو جو اس پر نازل ہوئی ہیں پڑھ کر سناتا ہے جس سے دلوں میں ایمان کا نور پیدا ہو جاتا ہے ، ان امیوں کی ایسی تربیت کرتا ہے کہ ان کی زندگیاں سنور جاتی ہیں اور بہترین اوصاف ان کے اندر پیدا ہو جاتے ہیں۔ کتابِ الٰہی کی ایسی تعلیم دیتا ہے کہ وہ اس کے حامل بن جاتے ہیں اور حکمت کے موتی ایسے بکھیرتا ہے کہ ان کے دامن ان کو سمیٹتے ہوئے بھر جاتے ہیں۔ اس لیے اس رسول کی رسالت شبہ سے بالاتر ہے اور اس کی بعثت اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے جس کی ناقدری بہت بڑی محرومی کا باعث ہے۔

۵۔۔۔۔۔۔  یہ اس بات کی خوشخبری ہے کہ پیروانِ رسول کا حلقہ وسیع تر ہوتا چلا جائے گا اور اس میں دوسرے عرب قبائل بھی شامل ہو جائیں گے قرآن کی یہ پیشین گوئی پوری ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی ہی میں عرب کے تمام قبیلے مسلمان ہو گئے۔

واضح رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت اگرچہ عرب کے امیوں میں ہوئی تھی لیکن جیسا کہ قرآن صراحت کرتا ہے آپ کی بعثت صرف عربوں کے لیے نہیں تھی بلکہ عرب و عجم، امی اور اہلِ کتاب سب کے لیے ہے اور کسی ایک دور کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک تمام ادوار کے لیے ہے۔

۶۔۔۔۔۔۔  امی عربوں پر یہ اللہ کا خاص فضل ہے کہ اس نے ان کے اندر ایسی شان کا رسول برپا کیا ، اس آیت کا اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ یہود کو یہ بات کسی طرح گوارا نہیں کہ رسول کی بعثت بنی اسرائیل کے علاوہ کسی اور قوم میں ہو لیکن رسالت کا منصب ان کی تمناؤں پر موقوف نہیں ہے بلکہ وہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چا ہے اس سے نوازے۔ اس پر اعتراض کا کسی کو کیا حق؟

۷۔۔۔۔۔۔   سِفر ( جمع اسفار) کے معنی عربی اور عبرانی دونوں میں کتاب کے ہیں۔ یہود کی مذہبی زبان عبرانی ہے اور تورات کے لیے ان کے یہاں اسفار کا لفظ معروف تھا اس لیے یہود کو اپنی آسمانی کتابوں کی طرف متوجہ کرنے کے لیے یہ لفظ زیادہ موزوں ہوا۔

یہود کی جہالت اور بے عملی کو جو تورات کا حامل ہونے کے باوجود ان کے اندر پائی جاتی تھی گدھے سے تشبیہ دی گئی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں اور وہ نہیں جانتا کہ وہ کوئی قیمتی چیز اٹھائے ہوئے ہے۔ ایسے ہی نادان یہود ہیں کہ تورات جیسی کتابِ الٰہی کی قدر و قیمت انہوں نے نہیں پہچانی____ اگر اس کی قدر پہچانتے تو آج قرآن کی بھی قدر کرتے کہ دونوں کا نازل کرنے والا اللہ ہی ہے۔

یہاں جو مثال دی گئی ہے وہ بہت بلیغ ہے اور ان مسلمانوں پر بھی چسپاں ہوتی ہے جن کو قرآن جیسی نعمت ملی ہے لیکن انہوں نے اس کی قدر نہیں پہچانی۔ نہ انہوں نے اس کا علم حاصل کیا اور نہ اس کی ہدایتوں پر عمل کیا۔

۸۔۔۔۔۔۔  یہود کی اس نادانی کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ آج قرآن کو جو اللہ ہی کی کتاب ہے جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں۔

۹۔۔۔۔۔۔  اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ بنی اسرائیل کو جو دین عطا ہوا تھا وہ اسلام ہی تھا لیکن بعد میں انہوں نے اس میں ردو  بدل کر کے اپنے کو مسلم کہلانے کے بجائے یہودی کہلانا پسند کیا۔

۱۰۔۔۔۔۔۔  یہود کا دعویٰ تھا کہ وہی بلا شرکت غیرے اللہ کے محبوب ہیں مگر اس دعوے کی قلعی اس وقت کھل گئی جب قرآن نے ان سے کہا کہ پھر موت کی تمنا کرو کیونکہ جو اللہ کے محبوب ہیں ان کے لیے جنت ہے اور جب تمہیں اپنے جنتی ہونے کا یقین ہے تو پھر تمہیں آخرت کا طلبگار بننا چاہیے نہ کہ دنیا کا حریص مگر تم تو دنیا میں زیادہ سے زیادہ جینا چاہتے ہو۔ (سورۂ بقرہ آیت ۹۶) اور بزدلی تو تمہارا شیوہ بن گئی ہے۔ تمہارا یہ رویہ تمہارے دعوے کی خود ہی تردید کر رہا ہے۔

۱۱۔۔۔۔۔۔  یعنی ان کی زندگیاں گناہوں سے لت پت ہیں اس لیے باوجود ان کے اس دعوے کے کہ وہ اللہ کے محبوب ہیں ان کے دل میں یہ کھٹک ضرور ہے کہ ہم اپنے کرتوتوں کی وجہ سے کہیں پکڑ نہ لئے جائیں اس لیے وہ آخرت کے بالمقابل دنیا ہی کو پسند کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہیں وہ چین کی بانسری بجاتے رہیں۔

قرآن کے اس چیلنج کو کہ وہ موت کی تمنا کریں یہود نے قبول نہیں کیا جس سے ان کے دعوے کی تردید بھی ہوئی اور قرآن کی صداقت بھی روشن ہوئی۔

۱۲۔۔۔۔۔۔  یعنی موت سے کسی صورت میں بھی مفر نہیں۔ لا محالہ اس سے تمہیں دو چار ہونا ہے پھر تم موت کے ڈر سے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے سے کیوں گریز کرتے ہو۔

۱۳۔۔۔۔۔۔  اوپر یہود کے کردار پر گرفت کی گئی تھی اب اہل ایمان کو خطاب کر کے ان پر جمعہ کی نماز کی اہمیت و فرضیت واضح کی گئی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہود کو سبت( سنیچر کا دن) منانے کا حکم دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس کی خلاف ورزی کی اب مسلمانوں کو آسان شریعت دی جا رہی ہے اور ان پر جمعہ کے دن صرف نماز جمعہ کی پابندی ہے اس تخفیف کی قدر کرتے ہوئے وہ اس کی تعمیل مستعدی کے ساتھ کریں اور یہود کا سا طرزِ عمل اختیار نہ کریں۔ اس موقع پر سورۂ نمل نوٹ ۱۸۴ بھی پیش نظر رہے جس میں سبت اور جمعہ کے تعلق سے حدیث نقل کی گئی ہے۔

جمعہ کی نماز کا آغاز صحیح روایت کے مطابق مدینہ میں اس وقت ہوا جب کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے اور قبا میں قیام کرنے کے بعد جب شہر کی طرف جا رہے تھے تو قبیلہ بنی سالم کی آبادی سے جمعہ کے دن گزر ہوا اور آپ نے وہیں جمعہ ادا فرمایا۔ یہ پہلا جمعہ تھا اور جہاں تک اس سورہ کا تعلق ہے اس کے کچھ عرصہ بعد نازل ہوئی جب کہ وہ واقعہ پیش آیا جس کا ذکر آگے ہوا ہے۔

قرآن کی یہ آیتیں نمازِ جمعہ کی تاکید کے طور پر نازل ہوئی ہیں جس کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم پہلے ہی قائم فرما چکے تھے۔ اس سے یہ بات خود بخود واضح ہوتی ہے کہ شریعت کے احکام صرف وہی نہیں ہیں جو قرآن میں بیان ہوئی ہوئے ہیں بلکہ وہ بھی ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دئے ہیں اور اب آپ کے احکام معلوم کرنے کا ذریعہ آپ کی سنت اور احادیث صحیحہ ہیں۔

جمعہ ظہر کا نعم البدل ہے اور اس کا وقت زوال آفتاب کے بعد ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب سورج ڈھلنے لگتا تو منبر پر تشریف لاتے ، اس کے بعد اذان کہی جاتی اور جمعہ کے لیے یہی ایک اذان آپ کے زمانہ میں دی جاتی تھی، اس کے بعد آپ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے۔ خطبے دو ہوتے جن کے درمیان آپ تھوڑی دیر بیٹھ جایا کرتے خطبہ میں حاضرین کو خطاب کر کے حمد و ثناء ، قرآن کی تلاوت اور موعظت کی باتیں پیش کی جاتیں۔ پھر آپ جمعہ کی فرض نماز دو رکعت جماعت کے ساتھ ادا فرماتے۔

جمعہ کی نماز جماعت کی صورت ہی میں ادا کی جا سکتی ہے لیکن اس کے لیے تعداد کی کوئی شرط نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ حدیث سے اسی طرح شہر کی بھی کوئی قید نہیں ہے۔ دیہاتوں میں بھی ادا کی جا سکتی ہے البتہ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ لوگ ایک ہی جگہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں جمع ہوں۔ روایات میں آتا ہے کہ اطرافِ مدینہ کے لوگ جمعہ کے لیے مسجدِ نبوی میں حاضر ہونے کا خاص اہتمام کرتے تھے۔

جمعہ کا نظم قائم کرنا اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جمعہ اس کے بغیر ادا نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی عدم موجودگی میں مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا نظم قائم کریں۔ جمعہ ہر مسلمان پر فرض ہے البتہ جیسا کہ حدیث سے واضح ہے عورتیں ، مریض، مسافر اس سے مستثنیٰ ہیں لیکن اگر ان میں سے کوئی جمعہ کی نماز میں شریک ہو جائے تو وہ ادا ہو جائے گی اور پھر اسے ظہر کی نماز ادا کرنا نہیں ہو گی۔

جمعہ کے لیے غسل کرنے ، دانت صاف کرنے ، اچھے کپڑے پہننے اور خوشبو لگانے کا حکم نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دیا ہے۔ یہ اہتمام جمعہ کی شان کے اظہار کے لیے بھی ہے اور اس لیے بھی کہ جمعہ کا اجتماع صاف ستھرے اور خوشگوار ماحول میں ہو نیز افراد میں نظافت کا احساس پیدا کرنے کے لیے بھی۔

اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ جب جمعہ کی نماز کے لیے اذان دی جائے تو خرید و فروخت چھوڑ کر نماز کے لیے دوڑیں۔ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں ایک ہی اذان دی جاتی تھی اس لیے اس سے مراد وہ اذان ہے جو امام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد دی جاتی ہے۔ اس اذان کے وقت سے نماز ختم ہونے تک خرید و فروخت ممنوع ہے اور ممانعت کے اس حکم میں ہر قسم کا کاروبار اور مشغولیت شامل ہے الا یہ کہ کوئی ایسی مجبوری پیش آ جائے جو شریعت کی نگاہ میں عذر قرار پاتی ہو مثلاً کسی حادثہ سے دو چار ہو جانا ، ڈاکٹر کے لیے مریض کا آپریشن اگر اسے موخر نہ کیا جا سکتا ہو وغیرہ۔ مسلمانوں کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اپنے ملازمین وغیرہ کو جمعہ کی نماز کے لیے رخصت دیں اور اگر حکومت غیر اسلامی ہے تو اس سے اس رخصت کا مطالبہ کریں۔بہر صورت مسلمان ملازمین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جمعہ کی نماز لازماً ادا کریں۔

آیت میں ذکر سے مراد نماز بھی ہے اور خطبہ بھی جو جمعہ کی نماز سے پہلے دیا جاتا ہے۔ اس سے خطبہ کی حقیقت واضح ہو  جاتی ہے کہ وہ اللہ کا ذکر اور عبادت ہے۔ اس کے ساتھ اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ خطبہ سامعین سے خطاب ہے اس لیے ان سے خطاب کرتے ہوئے وہ باتیں سامنے لائی جانی چاہئیں جو اللہ کی یاد تازہ کرنے والی ہوں اور اپنے اندر تذکیر اور فہمائش کا پہلو رکھتی ہوں۔ اور جب یہ خطاب ہے تو اس کا مقصد اسی صورت میں پورا ہو سکتا ہے جبکہ خطبہ عربی کے ساتھ سامعین کی زبان میں بھی دیا جائے۔ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ( اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو) کا مطلب ہے نماز کے لیے مستعدی دکھاؤ اور اس کی طرف لپکو۔ حدیث میں کسی بھی نماز کے لیے سکون اور وقار کے ساتھ آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

۱۴۔۔۔۔۔۔  یعنی کاروبار چھوڑ کر جانا بظاہر نقصان کی صورت ہے مگر خیر و برکت اسی میں ہے اور ابدی کامیابی اللہ کی اطاعت و عبادت ہی کے ذریعہ حاصل کی جا سکتی ہے۔

۱۵۔۔۔۔۔۔  یعنی نماز ختم ہو جانے پر خرید و فروخت کی پابندی ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد تم اپنے معاش کے لیے دوڑ دھوپ کر سکتے ہو اور تمہاری یہ معاشی جدوجہد اللہ کے فضل کی تلاش میں ہونا چاہیے جس سے شکر کا جذبہ ابھرتا ہے۔

اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ جمعہ کے احکام سبت کے احکام کی طرح سخت نہیں ہیں کہ کاروباری مصروفیت پورے دن کے لیے ممنوع ہو بلکہ صرف اتنے وقت کے لیے اس کی ممانعت کر دی گئی ہے جو خطبہ سننے اور نماز با جماعت ادا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس تخفیف اور آسانی کے بعد بھی اگر مسلمان جمعہ کی پابندی کو اپنے لیے گراں خیال کریں تو یہ بڑی ناقدری ہو گی۔

۱۶۔۔۔۔۔۔  یعنی یہ نہ سمجھو کہ اللہ کو مسجد میں یاد کر لیا اور نماز ادا کی تو کافی ہو گیا۔ اللہ کو ہر وقت یاد رکھنا ضروری ہے اس لیے زبان سے اس کا ذکر تسبیح اور حمد کے کلمات کی صورت میں بہ کثرت ہونا چاہیے۔ چلتے پھرتے اور بازار میں لین دین کی مصروفیت کے دوران بھی۔ اس سے تمہیں ابدی کامیابی حاصل ہو سکے گی۔

۱۷۔۔۔۔۔۔  یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو اس سورہ کے نزول کے وقت پیش آیا تھا۔ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و سلم خطبہ دے رہے تھے کہ شام سے ایک قافلہ غلہ لے کر مدینہ کے بازار میں آیا اور ڈھول بجانے لگا۔ غلبہ کی چونکہ اس وقت شدید قلت تھی اس لیے جو لوگ خطبہ سن رہے تھے ان کی ایک تعداد یہ خیال کر کے غلہ خریدنے کے لیے چل گئی کہ وہ اس سے فارغ ہو کر نماز میں شریک ہو جائیں گے۔اس وقت تک جمعہ کے خطبہ کی اہمیت لوگوں پر پوری طرح واضح نہیں ہو سکی تھی تاہم جمعہ کا خطبہ چھوڑ کر جانا غلط تھا اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے تعلق سے سوئے ادب کا پہلو بھی تھا اس لیے اس غلطی پر سخت تنبیہ کی گئی۔ یہ واقعہ بخاری کتاب الجمعہ اور دیگر کتب حدیث میں موجود ہے۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کہ جمعہ کا سلسلہ ابھی ابھی شروع ہوا تھا اور اس کی اہمیت لوگوں پر پوری طرح واضح نہیں ہو سکی تھی بعد میں کبھی یہ صورت پیش نہیں آئی اور تربیتی مراحل سے گزرنے کے بعد صحابہ کرام کی شان وہ تھی جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے :

رِجَالٌ لاَّ تُلْہِے ہِیمْ تِجَارَۃٌ وَّلاَ بَیعٌ عَنْ ذِکْرِاللّٰہِ  “ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے غافل نہیں کرتی۔ (نور: ۳۷)

آیت میں ڈھول کو لَہو سے تعبیر کیا گیا ہے اس سے گانے بجانے اور اس کے آلات کی قباحت واضح ہو جاتی ہے لَہو کے معنی غافل کر دینے والی چیز کے ہیں اور شرعاً وہ تمام چیزیں جو اللہ سے غافل کر دینے والی ہیں لہو ہیں۔ گانا، بجانا، آلات طرب اور شطرنج اور کیرم جیسے کھیل  لہو کی تعریف میں آتے ہیں۔ یہ چیزیں اپنی طرف اس طرح متوجہ کرتی ہیں کہ آدمی اللہ کی یاد سے غافل ہو جاتا ہے۔

۱۸۔۔۔۔۔۔  یعنی جمعہ کے فریضہ کی ادائیگی کو اگر تم اپنے معاش کے حصول پر مقدم رکھو تو تمہاری یہ قربانی رائیگاں جانے والی نہیں بلکہ اس کا بہترین اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں ملے گا۔ رہا دنیا کا رزق تو تمہیں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے کہ حقیقی رازق وہی ہے اور اس کی اطاعت کی صورت میں وہ تم کو بہترین رزق دے گا بہترین رزق وہ ہے جو اگرچہ مقدار میں کم ہو لیکن خیر و برکت کا باعث ہو۔

٭٭٭

 

 

 

 

(۶۳)۔سورۂ المنافقون

 

(۱۱ آیات)

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

سورہ کا آغاز منافقون کے جھوٹے اقرار سے ہوا ہے اور آگے ان کی اسلام دشمنی کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام ’’المنافقون‘‘ ہے۔

زمانۂ نزول: مدنی ہے اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورہ اس وقت نازل ہوئی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ بنی المصطلق ۶ ۰؁ھ سے فارغ ہو کر مدینہ واپس تشریف لائے تھے۔

 

                   مرکزی مضمون

 

منافقت کے پردہ کو چاک کرنا، اصل مرض کی تشخیص کرنا اور اس کا علاج تجویز کرنا۔

 

نظمِ کلام

 

آیت ۱  تا ۸ تک منافقوں کے اس رویہ کا بیان ہے جو انہوں نے اسلام دشمنی میں اختیار کر رکھا تھا اور جس کی بنا پر وہ ناقابلِ معافی جرم کے مرتکب قرار پائے۔

آیت ۹ تا ۱۱ میں اہلِ ایمان کو خطاب کر کے اللہ کے ذکر اور اس کی راہ میں خرچ کرنے کی تاکید کی گئی ہے جس سے منافقت کے مرض کی بھی نشاندہی ہوتی ہے اور اس کو دور کرنے کی تدابیر بھی واضح ہو جاتی ہیں۔

 

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

للہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب منافق تمہارے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ بے شک اللہ کے رسول ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے کہ بلا شبہ تم اس کے رسول ہو مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق بالکل جھوٹے ہیں۔ ۱*

۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ ۲* اور یہ اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں۔ ۳* بہت برا ہے جو یہ کر رہے ہیں۔

۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اس لیے ہوا کہ یہ ایمان لائے پھر انہوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی اب یہ کچھ نہیں سمجھتے۔ ۴*

۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہیں جب تم دیکھو تو ان کے جسم تمہیں اچھے لگیں اور جب وہ بات کریں تو تم ان کی باتیں سننے لگو مگر وہ گویا لکڑی کے کندے ہیں جنہیں ٹیک لگا دی گئی ہو۔۵* وہ ہر چونکا دینے والی آواز کو اپنے ہی اوپر خیال کرتے ہیں۔ ۶* یہ اصل دشمن ہیں۔ ان سے بچ کر رہو۔ ۷* اللہ ان کو غارت کرے۔ ۸* یہ کدھر بہکائے جا رہے ہیں۔ ۹*

۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کا رسول تمہارے لیے مغفرت کی دعا کرے تو وہ اپنے سر مٹکاتے ہیں اور تم دیکھتے ہو کہ وہ تکبر کے ساتھ کترا کر نکل جاتے ہیں۔ ۱۰*

۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کے لیے یکساں ہے خواہ تم ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو یا نہ کرو۔ اللہ ان کو ہرگز معاف کرنے والا نہیں۔ ۱۱* اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔۱۲*

۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ تم رسول کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو تاکہ وہ منتشر ہو جائیں۔ ۱۳* حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانوں کا مالک اللہ ہی ہے مگر منافق سمجھتے نہیں ہیں۔

۱۴(۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ واپس پہنچ گئے تو جو عزت والا ہے وہ ذلت والے کو وہاں سے نکال باہر کرے گا۔ ۱۵* حالانکہ عزت اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کے لیے ہے لیکن یہ منافق نہیں جانتے۔۱۶*

۹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ سے غافل نہ کر دے۔ ۱۷* جو لوگ ایسا کریں گے وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو ۱۸* قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت آ جائے اور وہ کہے کہ اے میرے رب ! تو نے مجھے تھوڑی مہلت اور کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور نیک بن جاتا۔ ۱۹*

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ ہرگز کسی نفس کو مہلت دینے والا نہیں جبکہ اس کا مقررہ وقت آ جائے۔ ۲۰* اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  منافق زبان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کرتے تھے لیکن دل سے نہیں مانتے تھے اور ایمان کے لیے محض زبانی اقرار کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ دل کی تصدیق ضروری ہے۔ اگر آدمی کلمہ گو ہے لیکن اس کا دل ایمان سے خالی ہے تو ایسا ایمان اللہ کے ہاں معتبر نہیں۔ وہ مسلمان نہیں بلکہ منافق ہے کیونکہ اس کا ظاہر کچھ ہے اور باطن کچھ اسی لیے وہ اپنی شہادت میں جھوٹا ہے حالانکہ جس بات کی وہ شہادت دے رہا ہے یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی وہ اپنی جگہ ایک حقیقتِ واقعہ ہے۔

مدینہ میں جن اندرونی دشمنوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو واسطہ تھا وہ یہی منافق تھے جو قبیلہ خزرج وغیرہ سے تعلق رکھتے تھے اور یہود سے ان کے دوستانہ تعلقات تھے۔ ان کی شہ پر یہ مسلمانوں میں ایک نہ ایک فتنہ کھڑا کر دیتے تھے۔ اس لیے قرآن نے ان پر متعدد سورتوں میں گرفت فرمائی ہے اور اس سورہ میں تو خاص ان ہی کو موضوع بنایا گیا ہے تاکہ اسلامی سوسائٹی میں یہ عنصر پنپنے نہ پائے۔

۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یہاں شہادت ( گواہی) کو قسم سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ یمین (قسم) شہادت کے ہم معنی ہے۔ اور قرآن میں آسمان، زمین اور ہواؤں وغیرہ کی جو قسمیں کھائی گئی ہیں وہ شہادت ہی کے معنی میں ہیں۔ یعنی یہ چیزیں توحید اور روز جزاء پر دلالت کرتی ہیں۔

منافق اپنے بچاؤ کے لیے بات بات پر جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے سچے ہونے کا یقین دلاتے تھے اس طرح انہوں نے قسموں کو اپنے تحفظ کے لیے ڈھال بنا لیا تھا۔

۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اللہ کی راہ سے رکنے کا مطلب اللہ کے دین یعنی اسلام سے رک جانا ہے۔ جھوٹی قسموں کا سہارا لینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ لیپا پوتی ہی کرتے رہے اور اسلام کی طرف بڑھ نہ سکے۔ اس کی راہ ان پر بند ہو گئی۔

۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اسلام میں داخل ہونے کے بعد وہ کافر بنے رہے۔ ان کی اس ناقدری کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان میں قبولِ حق کی استعداد باقی نہیں رہی اور ذہنیت ایسی غلط ہو گئی کہ سیدھی بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آ رہی ہے۔

د ل پر مہر لگنے کی تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ بقرہ نوٹ ۱۵۔۔

۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ان منافقوں کا حال یہ ہے کہ وہ بڑے ڈیل ڈول والے اور چرب زبان ہیں۔ طمطراق سے ایسی باتیں کرتے ہیں کہ آدمی سنتا ہی رہ جائے لیکن اندر سے وہ بالکل کھوکھلے ہیں اور اس طرح ناکارہ ہیں جس طرح لکڑی کے کندے جو دیوار کے سہارے رکھ دے ئے گئے ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ عقل سے بالکل عاری ہیں اور مجلس نبوی میں اگر کوئی فیض حاصل نہیں کرتے بلکہ دیوار سے ٹیک لگا کر اس طرح بیٹھتے ہیں  جیسے دیوار سے لگے ہوئے لکڑی کے کندے جن میں سمجھ بوجھ نہیں ہوتی۔

۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ ان کی بزدلی کی تصویر ہے جب کبھی زوردار آواز سنائی دی یا متنبہ کرنے والی بات سامنے آئی انہوں نے اس کو اپنے خلاف سمجھا۔ یہ ان کے دل کا چور ہے جو انہیں اضطراب میں ڈال دیتا ہے۔

۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی یہ منافق درحقیقت اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں اس لیے ان سے اسی طرح ہوشیار رہنا چاہیے جس طرح آدمی دشمن سے ہوشیار رہتا ہے۔

یہ نہ خیال کیا جائے کہ اسلام کے یہ دشمن اس زمانہ ہی میں موجود تھے۔ نہیں بلکہ اس زمانہ میں بھی بہ کثرت موجود ہیں اور وہ مسلم سوسائٹی میں رہتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک نہ ایک فتنہ اٹھاتے رہتے ہیں۔ ان کی چالوں سے چوکنا رہنا بہت ضروری ہے۔

۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ اللہ کی طرف سے ان پر پھٹکار ہے۔

۹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ان کی نکیل شیطان کے ہاتھ میں ہے اور وہ بری طرح ان کو بھٹکا رہا ہے۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی کہاں ان کا دعوے ایمان اور کہاں ان کی یہ حرکت کہ جب ان کو اس بات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ جو کرتوت تم کر چکے اس کے لیے تم رسول کی خدمت میں حاضر ہو کر معافی کے طالب بنو تاکہ اللہ کا رسول تمہاری مغفرت کے لیے اللہ سے دعا کرے تو یہ سر مٹکانے لگتے ہیں گویا اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے اور ان کا گھمنڈ ان کو کسرِ نفسی سے روکتا ہے۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  منافق چونکہ اصلاً کافر ہیں اس لیے ان کے بارے میں اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ ان کو ہر گز معاف نہیں کرے گا اگرچہ اللہ کا رسول ان کے لیے دعائے مغفرت کرے۔ ایک صورت ان کی مغفرت کی یہ ہو سکتی تھی کہ وہ توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لیتے لیکن چونکہ وہ اپنے نفاق ( منافقت) میں کٹر ہیں جس کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگ گئی ہے اس لیے انہیں توبہ کی بھی توفیق نصیب ہونے والی نہیں۔

قرآن سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ گناہ بخشنا اللہ ہی کا کام ہے اور کسی بھی نبی کو اس کا اختیار نہیں ہے لہٰذا عیسائیوں کا یہ عقیدہ کہ حضرت عیسیٰ اپنے پیروؤں کے گناہ بخش دیں گے سراسر باطل ہے۔

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ توبہ نوٹ ۱۴۷۔۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ہدایت ان ہی کو ملتی ہے جو اللہ کے آگے جھکنے اور اس کی فرمانبرداری قبول کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن جن کا عرورِ نفس انہیں اس سے روکتا ہو اور وہ نافرمان بن کر ہی رہنا چاہتے ہوں ان پر اللہ ہدایت کی راہ نہیں کھولتا۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  مدینہ کے انصار نے مکہ کے مہاجرین کو اپنے ہاں جگہ دی تھی اور ان پر بے دریغ خرچ کر رہے تھے۔ مہاجرین کی یہ مدد رسول ؐ کے حامیوں کی مدد تھی لیکن یہ بات منافقوں کو جو انصار ہی میں سے تھے قطعاً پسند نہیں تھی اور وہ چاہتے تھے کہ وہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چھٹ جائیں اس لیے وہ ان کی امداد و اعانت سے منع کرتے تھے۔

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی رزق کسی کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اللہ کے ہاتھ میں ہے جو آسمانوں اور زمین کے خزانوں کا مالک ہے۔ وہ اگر مہاجرین کی مدد کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے ایک نہ ایک ذریعہ پیدا کر دے گا۔ یہ منافقین اللہ کی مشیت کے خلاف کسی کا رزق روک نہیں سکتے مگر اتنی موٹی بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ اور جب وہ لکڑی کے کندے ہی ٹھہرے تو ان کی سمجھ میں کیا بات آ سکتی ہے !

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ بات منافقوں کے رئیس عبداللہ بن اُبی نے کہی تھی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ غزوۂ بنی المصطلق (  ۶  ھ؁) سے واپس لوٹ رہے تھے۔ اس موقع پر ایک مہاجر اور انصاری کے درمیان پانی کے مسئلہ پر جھگڑا ہوا۔ عبداللہ بن اُبی کو اس کی خبر ہوئی تو اس نے اس میں انصار کی ہتک سمجھی اور چڑ کر کہا تم ان مہاجرین کی مدد کرنا بند کر دو تاکہ منتشر ہو جائیں نیز کہا مدینہ پہنچنے پر جو عزت والا ہے وہ ذلت والے کو نکال باہر کرے گا۔ اس کی نظر میں مہاجرین ذلیل تھے اور اس نے ایک ایسی بات زبان سے نکالی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بھی گستاخی کا باعث تھی۔ یہ بات ایک نو عمر صحابی زید بن ارقم نے سن لی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر بیان کر دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن اُبی سے پوچھا تو اس نے انکار کیا کہ میں نے ایسی بات نہیں کہی جب آپ مدینہ پہنچ گئے تو یہ سورت نازل ہوئی۔ آپ نے زید بن ارقم کو بلا کر فرمایا اللہ نے تم کو سچا قرار دیا۔ (بخاری کتاب التفسیر)

عبداللہ بن اُبی کی اس گستاخانہ اور مفسدانہ حرکت پر حضرت عمر انہیں قتل کریدنا چاہتے تھے۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہیں دی۔آپ اس سے اور دوسرے منافقین سے برابر درگذر کرتے رہے کیونکہ مسلمان ابھی اپنے خارجی دشمنوں مشرکین اور یہود سے مقابلہ کر رہے تھے اور یہ بات قرینِ مصلحت نہیں تھی کہ اندرونی دشمنوں سے قتل و قتال کا معاملہ کیا جائے۔ لیکن غزوۂ تبوک کے بعد جب کہ پورے عرب پر اسلام کا تسلط قائم ہوا تو منافقین کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا حکم نازل ہوا۔ چنانچہ سورۂ توبہ میں ہے :

یٰٓا اَیہَا النَّبِیُّ جَاہِدِالْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِینَ وَاغْلُظْ عَلَیہِمْ ’’ اے نبی ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی برتو۔‘‘(توبہ:۷۳)

لیکن اس زمانہ میں عبداللہ بن اُبی کا انتقال ہو چکا تھا۔ دوسرے منافقین جو اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے تھے ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا گیا۔ یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد جب حضرت ابوبکر خلیفہ ہوئے اور ان منافقین نے سر اٹھایا اور زکوٰۃ دینے سے انکار کیا اور کتنے ہی کھلم کھلا مرتد ہو گئے ( اسلام سے پھر گئے ( تو خلیفہ راشد نے ان کے خلاف تلوار اٹھائی اور ان کا قلع قمع کر دیا۔ اس طرح ان منافقین کو مسلمانوں کے ہاتھوں ذلت کا مزہ چکھنا پڑا۔ یہ تھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا جو دنیا میں انہیں ملی۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی یہ منافق جھوٹی عزت کو سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں حالانکہ سچی عزت اللہ ہی کے لیے ہے کہ وہ عزیز ،عظیم اور اعلیٰ ہستی ہے۔ اس کے بعد عزت اس کے لیے ہے جس کو وہ شرف سے نوازے۔ رسول منصبِ رسالت پر سرفراز ہوتا ہے اس لیے وہ یقیناً معزز ہے اور مومنین چونکہ اللہ کے وفادار بندے ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے بھی اللہ کی طرف سے عزت و اکرام ہے۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  موقع کی مناسبت سے عام مسلمانوں کو خطاب کر کے نصیحت کی گئی ہے کہ وہ مال اور اولاد کی محبت میں گرفتار ہو کر اللہ کی یاد سے غافل نہ ہو جائیں۔ اس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ منافقوں کو جس چیز نے غلط راہ پر ڈال دیا ہے وہ یہی مال اور اولاد کی محبت ہے۔ کسب مال میں ایسی مصروفیت اور اولاد کو مادی فوائد پہنچانے اور ان کے دنیوی مستقبل کو شاندار بنانے میں ایسا انہماک کہ آدمی اللہ کے ذکر سے غافل ہو جائے ، نہ نماز سے دلچسپی اور نہ شرعی ذمہ داریوں کا خیال اور نہ آخرت کی پرواہ ، تو انسان دنیوی مسائل میں الجھ کر رہ جاتا ہے اور اس پر سعادت اور کامیابی کی راہ نہیں کھلتی۔

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے بشرطیکہ یہ خرچ خلوصِ دل سے ہو اللہ کی محبت بڑھتی ہے اور آدمی مال کا پرستار نہیں بنتا۔

منافقوں کے حال پر تبصرہ کرنے کے بعد اہل ایمان کو صدقہ و انفاق کی ہدایت اس اہم ترین تدبیر کی نشاندہی ہے جو دل کے امراض کو دور کرتی اور ایمان کو پروان چڑھاتی ہے۔

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ تصویر ہے موت کے وقت کی کہ جب موت سامنے آ کھڑی ہوتی ہے تو آدمی محسوس کرنے لگتا ہے کہ جس مال کو میں نے سنبھال کر رکھا یہاں تک کہ اپنی شرعی ذمہ داریوں کو بھی ادا نہ کرسکا وہ مال اب میرے کیا کام آنے والا ہے۔ اس احساس کی بنا پر وہ تمنا کرنے لگتا ہے کہ اے میرے رب کاش تو نے مجھے کچھ اور بھی مہلت دی ہوتی تاکہ میں صدقہ کرتا اور نیک بن جاتا۔ گویا موت کے آثار شروع ہوتے ہی دنیا کی بے وقعتی اور مال کا بے فائدہ ہونا شدت کے ساتھ محسوس ہونے لگتا ہے اور صدقہ کرنے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا احساس ابھرتا ہے۔ مگر موت کے وقت اس احساس کے ابھرنے سے کیا فائدہ۔ اس لیے یہ آیت متنبہ کرتی ہے کہ موت کی گھڑی کے آنے سے پہلے ہی آدمی اپنی مالی ذمہ داریوں کو جو شریعت نے عائد کی ہیں ادا کرے اور دل کھول کر اللہ کی خاطر خرچ کرے ساتھ ہی اپنے کو نیکی کی راہ پر ڈال دے۔

’’ صدقہ‘‘ اردو کے محدود معنی میں نہیں ہے جو کسی فقیر کو دیا جاتا ہے بلکہ قرآن کے وسیع تر مفہوم میں ہے یعنی ہر وہ خرچ صدقہ ہے۔ جو اللہ کا تقرب اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے کیا جائے اس کا اطلاق زکوٰۃ پر بھی ہوتا ہے۔ دیگر واجب اور غیر واجب صدقات پر بھی نیز اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے خرچ کرنے پر بھی۔

آیت سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ صدقہ و انفاق سے نیکی کی طرف رجحان بڑھ جاتا ہے اور آدمی کے لیے نیک بننا آسان ہوتا ہے۔ اس لیے اس نسخہ کو استعمال کر کے آدمی اپنے کو صالح بنا لے۔ ورنہ ایک غیر صالح مسلمان کی موت بھی حسرت ہی کی موت ہوتی ہے۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اچھی طرح سمجھ لو کہ موت کے وقت پچھتانا بے کار ہو گا جو مہلت جس شخص کو دی گئی ہے اس کی اس مہلت میں ہرگز اضافہ ہونے والا نہیں لہٰذا موت آنے سے پہلے ہی وہ سامان کر لو جو موت کے بعد کام آئے۔

٭٭٭

 

 

 

 

(۶۴)۔سورہ التغابُن

 

(۱۸ آیات)

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

آیت ۹؂ میں یوم التغابُن ( وہ دن جب آخرت کا انکار کرنے والے زبردست خسارہ سے دو چار ہوں گے ) کا ذکر ہوا ہے اس مناسبت سے اس سورہ کا نام ’ اَلتَّغابُن‘ ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ مدینہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

اس بات کا یقین پیدا کرنا ہے کہ آخرت کی کامیابی اصل کامیابی ہے اس لیے اس کو نگاہ میں رکھتے ہوئے اپنا طرز عمل درست کر لینا چاہیے جو لوگ اس کو نظر انداز کریں گے وہ سخت گھاٹے سے دو چار ہونے والے ہیں۔

 

نظمِ کلام

 

آیت ۱ تا۴ میں اللہ کی معرفت بخشی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ کائنات کی تخلیق مقصدِ حق کے لیے ہوئی ہے۔

آیت ۵ تا ۷ میں رسالت اور آخرت کا انکار کرنے والوں کو اس کے نتائج سے خبردار کیا گیا ہے۔

آیت ۸ تا ۱۰ میں ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے اور خسارہ کے دن سے آگاہ کیا گیا ہے۔

اس خسارہ سے اہلِ ایمان پوری طرح محفوظ رہیں گے اور انہیں زبردست کامیابی حاصل ہو گی لیکن انکار کرنے اور جھٹلانے والوں کو جہنم کا ابدی عذاب بھگتنا ہو گا۔

آیت ۱۱ تا ۱۳ میں فہمائش کی گئی ہے کہ دنیوی مصیبتوں کے ڈر سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ موڑنا اپنے ہی حق میں غلط فیصلہ کرنا ہے جس کے نتائج نہایت تباہ کن ہوں گے۔

آیت ۱۴ تا ۱۸ میں اہل ایمان کو موقع کی مناسبت سے چند ہدایتیں دی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنی بیویوں اور اپنی اولاد کی طرف سے چوکنا رہیں کہ وہ ان کو غلط راہ پر تو نہیں ڈال رہے ہیں۔ دوسرے یہ کہ مال اور اولاد آزمائش ہیں لہٰذا ان کی محبت میں ایسے گرفتار نہ ہوں کہ آخرت سے غافل ہو جائیں۔ تیسرے یہ کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کریں۔ جتنا کہ بس میں ہے اور چوتھے یہ کہ دل کی تنگی سے بچیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ کی تسبیح کرتی ہیں وہ تمام چیزیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں۔ اسی کی بادشاہی ہے اور اس کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ۱*

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا۔ پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن۔۲* تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ ۳*

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ۴* اور تمہاری صورت گری کی تو اچھی صورتیں بنائیں ۵* اور اسی کی طرف لوٹنا ہو گا۔

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور تم جو کچھ چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو اسے وہ جانتا ہے اور اللہ سینے کی پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے۔

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچتی جنہوں نے اس سے پہلے کفر کیا تو انہوں نے اپنے عمل کا وبال چکھ لیا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔۶*

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیوں کے ساتھ آتے رہے لیکن انہوں نے کہا کیا انسان ہماری رہنمائی کریں گے ؟ ۷* اس طرح انہوں نے کفر کیا اور منہ موڑ لیا ( لہٰذا  اللہ بھی ان سے بے پرواہ ہو گیا۔ ۸* اور اللہ بے نیاز اور لائقِ حمد ہے۔

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ جن لوگوں نے کفر کیا وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہرگز اٹھائے نہیں جائیں گے۔ کہو کیوں نہیں ! میرے رب کی قسم، تم ضرور اٹھائے جاؤ گے ۹* پھر تمہیں بتایا جائے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو اور یہ کام اللہ کے لیے نہایت آسان ہے۔

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے۔ ۱۰* جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ باخبر ہے۔

۹۔۔۔۔۔۔۔۔ جس دن اللہ تمہیں اکھٹا کرے گا( سب کو) اکٹھا کرنے کے دن۔۱۱* وہ خسارے کے ظاہر ہونے کا دن ہو گا۔ ۱۲* جو ایمان لائے ہوں گے اور نیک عمل کرتے رہے ہوں گے ان کے گناہوں کو وہ دور کرے گا اور انہیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔ ۱۳*

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا ہو گا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہو گا وہ دوزخی ہوں گے ہمیشہ اس میں رہنے والے اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے۔ ۱۴*

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی مصیبت نہیں آتی مگر اللہ کے اذن سے۔۱۵* جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے وہ اس کے دل کی رہنمائی کرتا ہے۔ ۱۶* اور اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔ اگر تم منہ پھیرتے ہو تو ہمارے رسول پر صرف صاف صاف پہنچادینے کی ذمہ داری ہے۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ(معبود)نہیں۔ اور اللہ ہی پر مومنوں کو بھروسہ کرنا چاہیے۔

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ایمان والو ! تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں۔ تو ان سے ہوشیار رہو۔ ۱۷* اور اگر تم معاف کرو، درگذر سے کام لو اور بخش دو تو اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ ۱۸*

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں۔ ۱۹* اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔ لہٰذا جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو۔۲۰* اور سنو اور اطاعت کرو۔۲۱* اور خرچ کرو اپنی بھلائی کے لیے۔ ۲۲* جو اپنے دل کی تنگی سے بچا لئے گئے وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔ ۲۳*

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو۔ ۲۴* تو وہ تمہارے لیے اسے کئی گنا کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑا قدر داں اور بردبار ہے۔ ۲۵*

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔ غائب اور حاضر سب کا جاننے والا اور غلبہ اور حکمت والا ہے۔

 

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ سورہ کی تمہیدی آیت ہے جس میں اللہ کی معرفت بخشی گئی ہے۔ اللہ پر ایمان اور اس کی اطاعت اس کی معرفت کے بغیر ممکن نہیں اس لیے قرآن ایمان لانے اور اطاعت کرنے کا صرف حکم ہی نہیں دیتا بلکہ اس کے ساتھ علم کی روشنی بھی عطا کرتا ہے تاکہ قلب و ذہن اس کے لیے پوری طرح آمادہ ہوں۔

جب یہ حقیقت ابھر کر انسان کے سامنے آ جاتی ہے کہ کائنات کی پوری بزم اللہ کی تسبیح اور حمد کرنے میں زمزمہ سنج ہے تو یہ حقیقت اس کے دل کو مس کرتی ہے اور وہ بھی اس بزم کی ہم نوائی کرتے ہوئے اللہ کی تسبیح اور اس کی حمد کرنے میں سرگرم ہو جاتا ہے۔ اور یہ بہت بڑی عبادت ہے۔

۲۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی جب یہ ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ اللہ نے تمہیں پیدا کیا ہے تو تمہیں اس پر ایمان لانا چاہیے مگر صورتِ حال یہ ہے کہ تم میں سے کوئی مومن ہے تو کوئی کافر۔

۳۔۔۔۔۔۔۔۔  وہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے اس لیے عمل کے مطابق وہ جزا یا سزا دے گا۔

۴۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی مقصدِ حق کے لیے پیدا کیا ہے اور وہ ہے عدل و انصاف اور جزا و سزا کا معاملہ جس کا مکمل ظہور قیامت کے دن ہو گا۔

۵۔۔۔۔۔۔۔۔  تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ مومن نوٹ ۹۱۔

۶۔۔۔۔۔۔۔۔  اشارہ ہے ہلاک شدہ قوموں کی طرف مثلاً قومِ نوح،عاد، ثمود وغیرہ۔

ان قوموں کو ان کے کفر کی سزا دنیا میں بھی ملی اور آخرت میں تو انہیں دردناک عذاب بھگتنا ہو گا۔

۷۔۔۔۔۔۔۔۔  رسولوں کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے بھیجا تھا مگر چونکہ یہ رسول انسان تھے اس لیے مغرور لوگوں نے اپنی کسرشان سمجھی کہ وہ بشر کو رسول اور اپنا رہنما تسلیم کر لیں۔ ان کے نزدیک ہدایت و رہنمائی کے لیے ضروری تھا کہ اللہ فرشتوں کو رسول بنا کر بھیجتا۔ ایک طرف تو انہیں بشر ہونے کی بنا پر رسول کو رہنما تسلیم کرنے سے انکار تھا اور دوسری طرف ان کا حال یہ تھا کہ وہ گمراہ لوگوں کو اپنا رہنما بنائے ہوئے تھے اور اینٹ پتھر کو انہوں نے اپنا خدا بنا لیا تھا ان کھلی حماقتوں پور نہ انہیں غیرت محسوس ہوئی تھی اور نہ وہ انہیں اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔ اور جو عقل کا اندھا ہو وہ ہدایت کیا پاسکتا ہے !

۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی جب انہوں نے ہدایت کی طرف سے منہ موڑ لیا تو اللہ کو بھی ان کی ہدایت کی پرواہ نہ رہی کیونکہ اللہ ہدایت اسی کو دیتا ہے جو اس کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو۔

۹۔۔۔۔۔۔۔۔  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت کہ اپنے رب کی قسم کھا کر یہ اعلان کریں کہ لوگوں کو ضرور دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا وثوق اور قطعیت کے اظہار کے لیے ہے۔ یعنی میں اپنے رب کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ تمہارا دوبارہ اٹھایا جانا بالکل یقینی اور قطعی ہے اس میں ذرہ برابر شبہ کی گنجائش نہیں۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔  نور سے مراد قرآن ہے جو علم کی روشنی ہے۔ اس آیت میں اللہ ، اس کے رسول اور قرآن پر ایمان لانے کی براہِ راست دعوت دی گئی ہے۔ یہ دعوت حقیقۃً  تمام انسانوں کے لیے ہے۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی قیامت کا دن تمام اگلے پچھلے انسانوں کو اکھٹا کرنے کا دن ہو گا اور اس دن وہ تم سب کو اکھٹا کرے گا۔ گویا اس اجتماع کے دن روئے زمین پر انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہو گا۔ کوئی نہ ہو گا جو مرنے کے بعد زندہ نہ ہوا ہو۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔  اصل میں لفظ تغابُن استعمال ہوا ہے جو غَبن سے مبالغہ کا صیغہ ہے اور جس کے معنی خرید و فروخت میں گھاٹے اور نقصان کے ہیں۔ لسان العرب میں ہے :

وَالْغَبْن فی البیع والشراء الوکس’’ بیع و شراء میں غَبن یعنی نقصان۔‘‘(ج ۱۳ ص ۳۱۰)

دنیا میں انسان اپنا جو سرمایۂ حیات لگاتا ہے اسے قرآن تجارت سے تعبیر کرتا ہے۔ کافر اپنا سرماے ۂ حیات اپنی دنیا بنانے اور گمراہی خریدنے میں لگاتا ہے اس لیے وہ گھاٹے کا سودا کرتا ہے اور یہ گھاٹا قیامت کے دن کھل کر سامنے آئے گا اور اس وقت اسے احساس ہو گا کہ اس نے بالکل غلط کام میں اپنا سرماے ۂ حیات لگایا تھا اور اس کا نتیجہ آج (قیامت کے دن) یہ ہے کہ وہ خسران اور تباہی سے دو چار ہے۔

اُولٰئِکَ الَّذینَ اشْتَرَوُ الضَّلاَ لَۃَ بِالْہُدیٰ فَمَارَبِحَتْ تِّجَارَتُہُمْ وَمَا کَانُوْامُہْتَدِینَ۔ ’’ یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلہ گمراہی خریدی تو ان کی تجارت ان کے لیے کچھ بھی نفع بخش نہ ہوئی اور نہ وہ ہدایت پانے والے بنے۔‘‘

قیامت کا دن کافروں کے لیے تغابن یعنی خسارہ سے دو چار ہونے کا دن ہو گا۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح سورۂ قمر میں فرمایا ہے : ے قُوْلُ الْکافِرُوْنَ ہذَای وْمٌ عَسِر ’’ کافر کہیں گے یہ بڑا سخت دن ہے۔‘‘

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی جن لوگوں نے ایمان لا کر صالحانہ زندگی گذاری تھی وہ قیامت کے دن ہر طرح کے خسارہ سے محفوظ ہوں گے اور انہیں زبردست کامیابی حاصل ہو گی یعنی جنت کیونکہ انہوں نے اپنا سرمایہ حیات اس کام میں لگایا تھا جو آخرت میں مفید ہونے والا تھا۔

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔  جس خسارہ سے کافر قیامت کے دن دو چار ہوں گے یہ اس کی تشریح ہے۔

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔  اس کی تشریح سورۂ حدید نوٹ ۴۷ میں گزر چکی۔

یہاں یہ بات اس مناسبت سے ارشاد ہوئی ہے کہ مصائب کے ہجوم کو دیکھ کر ایک مسلمان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ترک نہ کر دے۔ مصیبتیں اللہ کے اذن سے آتی ہیں اور ان میں اہل ایمان کا امتحان ہوتا ہے اور اس امتحان میں وہ پورے اسی وقت اترسکتے ہیں جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا ثبوت دیں۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی جو شخص اللہ پر پختہ ایمان رکھتا ہے اللہ تعالیٰ مصائب کے ہجوم میں اس کے دل کو ہدایت کی روشنی بخشتا ہے اور اس کی ایسی رہنمائی کرتا ہے کہ اللہ کے بارے میں اس کے دل میں بدگمانی پیدا نہیں ہوپاتی اور نہ وہ شکوہ شکایت کرنے لگتا ہے۔ اللہ اس کے جذبات کو صحیح رخ پر موڑتا ہے جس سے ایمانی کیفیت کا ظہور ہوتا ہے اور اسے قضائے الٰہی پر راضی رہنے کی توفیق عطا فرماتا ہے۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔  یہاں دشمن کا لفظ ان معنی میں استعمال ہوا ہے کہ بعض بیویاں اور اولاد مسلمان ہونے کے باوجود اپنی جہالت ، کم فہمی، یا نافرمانی وغیرہ کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ مال کمانے اور معاشی لحاظ سے معیارِ زندگی کو بلند کرنے پر اس طرح اکساتی ہیں کہ آدمی دنیا ہی کا ہو کر رہ جاتا ہے اور دین کے تقاضوں کو پورا کر نہیں پاتا۔ اسی طرح دین جب قربانیوں کا طالب ہو تو وہ حوصلہ کو پست کر دیتی ہیں اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ محض اپنی دنیا بنانے کے لیے خلافِ شرع کام کرنے پر اصرار کرنے لگتی ہیں۔ ایسے ہی موقع کے لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان سے ہوشیار رہیں اور ان کی باتوں اور ان کے مشوروں کو شریعت کی روشنی میں دیکھیں بے سوچے سمجھے ان کی باتیں ہرگز نہ مانیں۔ یہ احتیاط بیویوں اور اولاد کے سلسلہ میں ضروری ہے۔

واضح رہے کہ آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ ہر شخص کی بیوی اور اولاد ایسی ہی ہوتی ہے بلکہ فرمایا گیا ہے کہ بعض ایسی ہوتی ہیں اس سے یہ بات خود بخود واضح ہو جاتی ہے کہ کتنے ہی لوگوں کی بیویاں اور کتنے ہی لوگوں کی اولاد صالح ہوتی ہیں۔ ایسی بیویاں اپنے شوہروں کے دینی کاموں میں معاون بن جاتی ہیں اور بہترین رفیقۂ حیات ثابت ہوتی ہیں۔ اسی طرح نیک اولاد اپنے باپ کے لیے دین کے تقاضوں کو پورا کرنے میں مددگار بنتی ہے اور اپنے ماں باپ کے آنکھوں کی ٹھنڈک بن جاتی ہے۔

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی چوکنا رہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اپنی بیویوں اور اپنی اولاد کی غلط روش پر سخت گیر بنو یا انتقامی کاروائی کرنے لگو نہیں بلکہ تمہارا رویہ معاف کرنے ، چشم پوشی سے کام لینے اور بخش دینے کا ہونا چاہیے۔ یہاں ایک نہیں تین تین الفاظ استعمال کئے گئے ہیں تاکہ عفو درگذر میں حسن کا پہلو نمایاں ہو۔ معاف کرو کا مطلب یہ ہے کہ ان پر سخت گرفت نہ کرو۔ درگزر سے کام لو کا مطلب یہ ہے کہ ان کی غلط باتوں سے چشم پوشی کرو اور ان کا کوئی اثر قبول نہ کرو اور بخش دو کا مطلب یہ ہے کہ دل سے انہیں معاف کر دو۔ یہ وسیع الظرفی تمہیں اللہ کی نظر میں محبوب بنائے گی اور وہ بھی تمہیں بخش دے گا اور تم کو اپنی رحمتوں سے نوازے گا اور کیا عجب کہ تمہارے اس طرز عمل سے متاثر ہو کر تمہاری بیویاں اور تمہاری اولاد بھی اصلاح کی طرف مائل ہو جائے۔

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔  آزمائش اس بات کی کہ مال اور اولاد کی محبت میں گرفتار ہو کر تم اللہ کے احکام کو پس پشت ڈال دیتے ہو یا اس کی محبت کو غالب رکھتے ہوئے اس کی اطاعت میں زندگی گذارتے ہو۔

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ منافقون نوٹ ۱۷۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔  مال اور اولاد کی کشش تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے قدم قدم پر رکاوٹ کا باعث بنتی ہے لیکن اگر ایک مومن جس حد تک اس کے بس میں ہے تقویٰ اختیار کرے تو اللہ سخت گرفت نہیں کرے گا اور قصوروں سے درگذر فرمائے گا۔ یہ ارشاد متقیوں کے لیے امید کی کرن ہے۔

قرآن میں دوسری جگہ فرمایا گیا ہے : اِتَّقُوْ اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہٖ ’’ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جیسا کہ تقویٰ اختیار کرنے کا حق ہے۔‘‘(آل عمران: ۱۰۲)

اور یہاں فرمایا: فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ‘’جہاں تک تمہارے بس میں ہو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔‘‘

معلوم ہوا کہ ایک شخص جس حد تک کہ اس کے بس میں ہے اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے تو وہ تقویٰ کا حق ادا کر دیتا ہے۔ اس سے اسی قدر مطالبہ کیا گیا ہے اور کوئی ایسی ذمہ داری اس پر نہیں ڈالی گئی ہے جو اس کے بس میں نہ ہو۔

یہ ارشاد کہ ’’ جہاد تک تمہارے بس میں ہے اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔‘‘ بہت بڑا رہنما اصول ہے جس سے ہر طرح کے ناسازگار حالات اور پر پیچ مسائل میں روشنی حاصل کی جاسکتی ہے اور موجودہ ماحلو میں جب کہ ہر طرف سے شر کی یلغار ہے اور باطل نظاموں نے شریعت پر چلنا دوبھر کر دیا ہے اس رہنما اصول کی روشنی میں ایک مسلمان تقویٰ کی راہ طے کرسکتا ہے۔

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔  مجبوریاں اپنے دائرہ میں لیکن ایک مسلمان کا عام رویہ اللہ کے احکام کو دل سے سننے اور ان کی اطاعت کرنے ہی کا ہونا چاہیے۔

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔  اللہ کے لیے خرچ کرنے سے مال کی محبت گھٹ جاتی ہے اور اللہ کی محبت بڑھ جاتی ہے۔

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔  اس کی تشریح سورۂ حشر نوٹ ۲۳ میں گزر چکی۔

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔  مراد اللہ کی راہ میں بالخصوص جہاد کے لیے خرچ کرنا ہے۔

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔  اللہ قدر داں ہے۔ وہ اپنے بندوں کے ہر نیک عمل کی قدر فرماتا ہے اور وہ حلیم( بردبار) ہے اس لیے قصوروں پر فوراً سزا نہیں دیتا بلکہ اصلاح کا موقع دیتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

(۶۶)۔ سورہ التحریم

 

(۱۲ آیات)

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

پہلی آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حلال چیز کو اپنے اوپرحرام کر دینے پر احتساب ہوا ہے۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام ’’ التحریم‘‘ ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مدنی ہے اور آیت ۹ میں منافقوں سے جہاد کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ اس بات کی شہادت ہے کہ یہ سورہ ۹ ۰؁ھ میں نازل ہوئی کیونکہ منافقوں سے جہاد کرنے کا حکم غزوۂ تبوک کے بعد دیا گیا تھا جیسا کہ سورۂ توبہ آیت ۷۳ سے واضح ہے۔

 

مرکزی مضمون

 

اپنی بیویوں کی محبت کو اس قدر غالب نہ آنے دیں کہ ان کی خاطر کسی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کر لیں نیز ان کی اصلاح کی طرف سے غافل نہ ہوں اور ان کے تعلق سے اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں تاکہ انہیں آحرت کے بُرے انجام سے بچایا جاسکے۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ تا ۵ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لغزش پر جو آپ سے اپنی ازواج کے ساتھ دلداری میں ہوئی تھی احتساب کرتے ہوئے ازواج مطہرات کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض گھریلو معاملات میں ناراضگی پر گرفت کی گئی ہے اور انہیں اصلاح کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔

آیت ۶ تا ۸ میں اہل ایمان کو اپنی بیویوں کی اصلاح کی طرف سے بے فکر نہ ہونے اور اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ انہیں آخرت کے عذاب سے بچانے کی پوری کوشش کی جائے۔

آیت ۹  میں کفار اور منافقین سے جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ حکم یہاں اس مناسبت سے ہے کہ وہ ہمیشہ ایک نہ ایک فتنہ برپا کرتے تھے یہاں تک کہ وہ ازواج مطہرات کے خلاف بھی فتنہ سامانی کرتے نیز اس بات کے درپے تھے کہ اہل ایمان کی عورتیں بھی ان کی گمراہ کن باتوں سے متاثر ہوں۔

آیت ۱۰ میں ان دو عورتوں کے واقعات سے عبرت دلائی گئی ہے جنہوں نے اپنے رسولوں کے نکاح میں ہوتے ہوئے ان سے بے وفائی کی۔

آیت ۱۱ اور ۱۲ میں دو نیک خواتین کی مثالیں پیش کی گئی ہیں جن کی سیرت کی بلندی کے آگے آسمان بھی سرنگوں ہے۔

                   ترجمہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ اے نبی ! تم اپنی بیویوں کی رضا مندی کی خاطر اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے ؟ اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ ۱*

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ نے  (ایسی)قسموں کا کھول دینا تم پر فرض کیا ہے۔ ۲* اللہ تمہارا مولیٰ ہے اور وہ علم والا حکمت والا ہے۔

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جب نبی نے اپنی بیوی سے راز میں ایک بات کہی پھر جب اس بیوی نے اسے ظاہر کر دیا اور اللہ نے نبی کو اس سے باخبر کر دیا تو نبی نے (اس بیوی کو)کسی حد تک خبردار کیا اور کسی حد تک درگذر کیا۔ جب نبی نے بیوی کو یہ بات بتلائی تو اس نے پوچھا آپ کو اس کی خبر کس نے دی؟ نبی نے کہا مجھے اس نے خبردی جو سب کچھ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ ۳*

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر تم دونوں اللہ کے حضور توبہ کرو تو (تمہارے لیے بہتر ہے )تمہارے دل اس کی طرف مائل ہو چکے ہیں اور اگر تم دونوں مل کر اس کو ناراض کرو تو (یاد رکھو) اللہ اس کا مولیٰ ہے اور اس کے بعد جبرئیل اور صالح مومنین اور فرشتے اس کے مددگار ہیں۔ ۴*

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر نبی تم سب بیویوں کو طلاق دیدے تو عجب نہیں کہ اس کا رب تمہارے بدلہ میں تم سے بہتر بیویاں اس کو عطا فرمائے۔ ۵* مسلمہ، مومنہ، اطاعت گذار ، توبہ کرنے والی، عبادت گذار ، سیاحت کرنے والی، ۶* شوہر آشنا ۷* اور کنواری۔

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ایمان والو! اپنے کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ ۸* جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔۹* جس پر سخت مزاج اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انہیں دیا جاتا ہے اس کی وہ تعمیل کرتے ہیں۔ ۱۰*

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ اے کافرو! آج عذر پیش نہ کرو۔ تمہیں ایسا ہی بدلہ دیا جارہا ہے جیسا تم عمل کرتے رہے۔ ۱۱*

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ایمان والو! اللہ کے حضور توبہ کرو خالص توبہ ۱۲* عجب نہیں کہ تمہارا رب تمہاری برائیاں تم سے دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کر دے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔۱۳* جس دن اللہ نبی کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہو گا۔ وہ دعا کر رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب! ہمارا نور ہمارے لیے مکمل کر دے۔ ۱۴* اور ہمیں بخش دے۔ تو ہر چیز پر قادر ہے۔

۹۔۔۔۔۔۔۔۔اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو۔ ۱۵* ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے پہنچنے کی۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کافروں کے لیے مثال بیان کرتا ہے نوح اور لوط کی بیویوں کی۔ دونوں ہمارے صالح بندوں کی زوجیت میں تھیں مگر انہوں نے ان کے ساتھ بے وفائی کی تو وہ اللہ کے مقابلہ میں ان کے کچھ بھی کام نہ آ سکے۔ اور دونوں عورتوں سے کہہ دیا گیا کہ تم بھی آگ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔۱۶*

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ایمان والوں کے لیے اللہ فرعون کی بیوی کی مثال پیش کرتا ہے جب کہ اس نے دعا کی اے میرے رب ! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا اور فرعون اور اس کے عمل سے مجھے نجات دے اور نجات دے مجھے ظالم قوم سے۔ ۱۷*

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مریم بنت عمران کی مثال پیش کرتا ہے جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی۔ پھر ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی۔ اس نے اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گذار لوگوں میں سے تھی۔ ۱۸*

 

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج میں سے کسی نے کسی چیز کے بارے میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا اس لیے آپ نے ان کی دلجوئی کی خاطر اس چیز کو قسم کھا کر اپنے اوپر حرام کر لیا۔ یہ بات اگرچہ آپ کی اپنی ذات تک محدود تھی اور اسے راز میں رکھنے کی ہدایت بھی آپ نے اس زوجہ محترمہ کو کی تھی لیکن انبیاء کی لغزشوں پر اللہ تعالیٰ برملا انہیں متنبہ فرماتا ہے تاکہ بر وقت ان کی اصلاح ہو اور ان کی سیرت پر کوئی حرف نہ آئے اور لوگوں کے لیے صحیح رہنمائی کا سامان ہو۔

یہ محض ایک لغزش تھی اور اپنے اوپر حرام کرنا اس معنی میں نہیں تھا کہ اللہ نے اس چیز کو حرام ٹھہرایا ہے بلکہ اس معنی میں تھا کہ میں نے اسے اپنے لیے ممنوع کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جہاں اس لغزش پر متنبہ فرما دیا ہیں اس لغزش کی معافی کا بھی اعلان کر دیا جیسا کہ آیت کے آخری فقرہ سے واضح ہے۔ ا ب جس چیز کو اللہ معاف کر چکا ہو اس پر کسی کو انگلی اٹھانے کا کوئی حق نہیں ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا چیز اپنے اوپر حرام کر دی تھی اس کی صراحت قرآن نے نہیں کی اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں اس کی صراحت فرمائی تو ہم اس کو کرید نے کی کوشش کیوں کریں ؟ قرآن کے اجمالی بیان پر جو اصل مقصد کو پورا کرتا ہے ہمیں اکتفاء کرنا چاہیے۔ لیکن راویوں نے قیاس سے کام لے کر کچھ واقعات بیان کئے ہیں اور مفسرین نے ان کو نقل کیا ہے۔ ان میں مشہور دو واقعات ہیں۔ ایک واقعہ حضرت ماریہ قبطیہ کے بارے میں ہے۔ جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم تولد ہوئے تھے اور پھر بچپن ہی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ماریہ قبطیہ کے تعلق سے ایک ایسی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی گئی ہے جو آپ کے اخلاق سے بالکل فروتر ہے اور اس قدر لغو ہے کہ ہم اس کو نقل کرنا بھی آپ کی شان میں گستاخی سمجھتے ہیں امام نووی نے بھی صاف تصریح کی ہے کہ ماریہ کے بارے میں کوئی صحیح روایت موجود نہیں ہے اور علامہ شبلی نعمانی لکھتے ہیں :

’’ یہ بحث اصول روایت کی بنا پر تھی درایت کا لحاظ کیا جائے تو مطلق کدو کاوش کی حاجت نہیں جو رکیک واقعہ ان روایتوں میں بیان کیا گیا ہے اور خصوصاً طبری وغیرہ میں جو جزئیات مذکور ہیں وہ ایک معمولی آدمی کی طرف منسوب نہیں کئے جاسکتے ، نہ کہ اس ذات پاک کی طرف جو تقدس و نزاہت کا پیکر تھا۔‘‘(سیرت النبی اردو، ج ۱ ص ۱۵۰)

دوسرا واقعہ شہد کو اپنے اوپر حرام کرنے کا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ محترمہ زینبؓ بنت جحش کے پاس کچھ دیر ٹھہرا کرتے اور ان کے پاس شہد پیا کرتے تھے حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ میں نے اور حفصہؓ نے اتفاق کیا کہ وہاں سے آپ جس بیوی کے پاس تشریف لائیں وہ یہ کہے کہ آپ کہ منہ سے مغافیر کی بو آ رہی ہے ( مغافیر جنگلی پھول ہوتے ہیں جن کی بو اچھی نہیں ہوتی) چنانچہ آپ اپنی بیویوں کے پاس گئے تو انہوں نے یہی بات کہی۔ اس پر آپ نے آئندہ شہد کھانے سے انکار کیا۔ یہ روایت اگرچہ بخاری اور مسلم میں موجود ہے مگر گوناگوں وجوہ سے قابل اعتبار نہیں ہے :

اولاً شہد سے متعلق روایات میں بڑا اضطراب ہے۔ کسی روایت میں بیان ہوا ہے کہ آپ نے شہد حضرت زینبؓ بنت جحش کے ہاں پیا تھا تو کسی میں بیان ہوا ہے کہ حضرت حفصہ کے ہاں نوش فرمایا تھا۔ صحیح بخاری کی روایتوں میں بھی یہ تضاد موجود ہے ( ملاحظہ ہو بخاری کتاب الطلاق) اور صحیح مسلم کی روایتوں میں بھی( ملاحظہ ہو مسلم کتاب الطلاق) جب راوی کو اس بارے میں وثوق نہیں ہے تو اس کی روایت پرکس طرح اعتماد کیا جاسکتا ہے۔

ثانیاً بعض روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ حضرت عائشہؓ نے صرف حضرت حفصہؓ سے کہا تھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں کہ مغافیر کی بو آتی ہے لیکن دوسری روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ حضرت عائشہؓ نے یہ بات دوسری ازواج سے بھی کہی تھی اور انہوں نے ویسا ہی کیا۔

ثالثاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذوق نہایت اعلیٰ اور نفیس تھا۔ آپ ایسا شہد کیوں کھاتے جس میں متنفر کرنے والی بو ہو؟ پھر یہ بو بھی ایسی دیرپا تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باری باری تمام ازواج کے گھر تشریف لے گئے اور آخر وقت تک بو قائم رہی؟ یہ افسانہ نہیں تو کیا حقیقت ہے ؟

رابعاً شہد ایک حلال چیز ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ اس کی خصوصیت قرآن میں یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ لوگوں کے لیے شفاء ہے ( سورۂ نحل آیت ۶۹) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پینے کی ترغیب لوگوں کو دیتے رہتے تھے۔ ایسی چیز آپ اپنے اوپر کیوں حرام کرتے ؟

خامساً بخاری ہی کی ایک حدیث میں جو حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے اور جس میں حضرت عمرؓ نے تظاہرا (ناراضگی کے اظہار کے لیے ایکا) کرنے والیوں کے نام عائشہؓ اور حفصہؓ بتلائے ہیں مگر اس میں شہد کے واقعہ کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ تمام ازواج مطہرات کی طرف سے نفقہ( خرچ) میں اضافہ کے مطالبہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی رنجش اور پھر ایک ماہ تک اپنی بیویوں سے علیحدگی کا واقعہ بیان ہوا ہے اور اس کے ساتھ تخییر( ازواج مطہرات کو آپ کی رفاقت میں رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دینے ) کے واقعہ کو بھی جوڑ دیا گیا ہے حالانکہ تخییر کا یہ واقعہ   ۰۵؁ھ کا ہے جس کے بارے میں سورۂ احزاب کی آیت ۲۸ نازل ہوئی تھی اور سورۂ احزاب کا نزول   ۰۵؁ھ میں ہوا تھا۔ جب کہ سورۂ تحریم   ۰۹ ؁ھ میں نازل ہوئی ہے۔

اس سے اندازہ ہوا ہو گا کہ سورۂ تحریم کی آیات کی تفسیر ی روایات میں بہت زیادہ الجھاؤ ہے اس لیے ان روایات کو محض ان کی اسناد کی بنا پر قبول نہیں کیا جاسکتا اور قرآن کے مجمل بیان پر اکتفاء کرنے ہی میں سلامتی ہے اور خاص طور سے اس لیے بھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر کوئی حرف نہیں آنا چاہیے اور نہ ازواجِ مطہرات کے بارے میں یہ تاثر دیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے آپ کے خلاف کوئی سازش کی تھی۔ جو واقعہ بھی پیش آیا اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ واقعہ کیا تھا لغزش کی نوعیت کا تھا مگر اس لغزش پر ازواجِ مطہرات کو آگے جو سخت تنبیہ کی گئی ہے وہ اس لیے کی گئی ہے کہ ان کا معاملہ ایک نبی سے اور ان کا مقام امہات المومنینؓ  کا تھا۔

۲۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ایسی قسموں کو جو اللہ کی حلال کی ہوئی چیز کو اپنے اوپر حرام کر دینے کی غرض سے کھائی گئی ہوں کھول دینا شریعت میں بالکل جائز ہے لہٰذا ان کو ختم کر دینا چاہیے۔ رہا قسم توڑنے کا کفارہ تو اس کا حکم سورۂ مائدہ آیت ۸۹ میں بیان ہوا ہے۔

واضح رہے کہ سورۂ مائدہ پہلے نازل ہو چکی تھی اور سورۂ تحریم بعد میں نازل ہوئی ہے۔

۳۔۔۔۔۔۔۔۔  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ محترمہ سے سے راز میں ایک بات کہی تھی لیکن انہوں نے یہ بات آپ کی دوسری زوجہ محترمہ پر ظاہر کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے باخبر کیا۔ آپ نے راز ظاہر کرنے والی بیوی کو اس بات سے آگاہ کیا کہ تم نے یہ راز دارانہ بات ظاہر کر دی۔ مگر آپ نے اپنی خوش اخلاقی کی بنا پر اس کا سرسری طور سے ذکر کیا اور اس پر سخت گرفت نہیں کی بلکہ درگذر سے کام لیا۔ انہوں نے تعجب سے پوچھا کہ آپ کو اس کی خبر کس نے دی۔ آپ نے فرمایا مجھے خدائے علیم و خبیر نے اس سے با خبر کیا۔

یہ راز کی بات کیا تھی اس کی صراحت نہ قرآن نے کی اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی صراحت فرمائی۔ اور صراحت کا سوال پیدا بھی نہیں ہوتا کیونکہ آپ کی ایک زوجہ محترمہ کے دوسری زوجہ محترمہ پر راز ظاہر کر دینے ہی پر تنبیہ نازل ہوئی ہے تو ہمارا اس راز کی بات کی کھوج لگانے کی کوشش کرنا اور اس بارے میں قیاس آرائیاں کرنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے ؟ مگر روایات میں یہ قیاس آرائیاں موجود ہیں اور تفسیریں بھی اس سے خالی نہیں ہیں ہم ان روایتوں سے تعرض کرنا غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کا کوئی وزن مذکورہ بالا وجوہ کی بنا پر تسلیم ہی نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ سلسلہ کلام سے یہ بات واضح ہے کہ یہ متعدد واقعات نہیں تھے۔ بلکہ ایک واقعہ ہی تھا اور وہ تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کر دینا اور وہ بات تھی جو آپ نے راز دارانہ طریقہ پر اپنی ایک زوجہ محترمہ سے کہی تھی لیکن جیسا کہ اوپر ہم وضاحت کر آئے ہیں کہ یہ کیا چیز تھی ہمیں نہیں معلوم۔

آیت سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی تھی کیونکہ راز کو ظاہر کرنے کی جو خبر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی تھی اس کا ذکر قرآن میں سورۂ تحریم سے پہلے کہیں بھی نہیں ہوا ہے اور یہ بات بہ کثرت دلائل سے ثابت ہے کہ آپ پر قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی تھی۔

۴۔۔۔۔۔۔۔۔  تم دونوں سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو محترم بیویاں ہیں جن میں سے ایک نے دوسری پر راز کی بات ظاہر کر دی تھی۔ یہ دونوں کون تھیں اس کی صراحت قرآن نے نہیں کی کیونکہ ہمارے لیے اس کو جاننا ضروری نہیں۔ روایتوں میں ایک راوی نے دو نام پیش کئے ہیں دوسرے راوی نے اس سے مختلف دوسرے نام پیش کئے ہیں۔ چنانچہ بخاری کی روایت میں حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ کا نام لیا گیا ہے (کتاب الطلاق) تو مسلم کی روایت میں حضرت عائشہؓ، حضرت سودہؓ اور حضرت صفیہؓ کے نام لیے گئے ہیں ( کتاب الطلاق)روایتوں کے اس تضاد کے پیش نظر ازواجِ مطہرات میں سے کسی کا نام لے کر ان پر یہ الزام لگانا صحیح نہیں۔

بہر صورت جس زوجہ محترمہ نے راز ظاہر کر دیا تھا وہ تو قصور وار تھیں ہی لیکن انہوں نے جس زوجہ محترمہ پر یہ راز ظاہر کر دیا تھا وہ بھی قصور وار تھیں۔ ان کا قصور غالباً یہ تھا کہ انہوں نے راز کی بات سن کر یہ محسوس کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ بات چھپائی تھی اور اس بنا پر آپ سے ناراض ہو گئیں۔

اس لیے دونوں خواتین کو توبہ کی ہدایت کی گئی جس میں یہ اشارہ بھی مضمر تھا کہ اگر چہ ان کا ظاہری رویہ یہ ہے مگر ان کو اپنے قصوروں پر ندامت کا احساس ہے اور ان کے دل توبہ کی طرف مائل ہیں۔ ساتھ ہی انہیں متنبہ کیا گیا کہ اگر تم دونوں نے مل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناراضگی برقرار رکھی تو یاد رکھو ناراضگی کا یہ معاملہ کسی شخص سے نہیں بلکہ اس شخصیت سے ہے جو نبوت کے منصب پر سر فراز ہے اور جس کا مولیٰ اور رفیق اللہ تعالیٰ ہے اور جس کے مددگار جبرئیل، صالح مومنین اور فرشتے ہیں۔ ایسی بلند و بالا شخصیت سے تم ناراض ہو کر کیا حاصل کرنے والی ہو اور اس ناراضگی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک مجلس ہرگز سونی پڑنے والی نہیں۔

صالح مومنین کا مددگار ہونا معروف معنی میں ہے اسی طرح فرشتوں کا مددگار ہونا بھی معروف معنی ہی میں ہے۔

۵۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ بات بھی تنبیہ کے طور پر تھی جو عمومیت کے ساتھ تمام ازواج مطہرات سے گہی گئی تاکہ سب آئندہ محتاط رہیں۔ فرمایا اگر نبی نے تم ازواج مطہرات کو طلاق دی تو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تم سے بہتر ازواج عطا فرمائے گا اور وہ ان ان صفات کی حامل ہوں گی۔ یہ اس بات کی ترغیب تھی کہ ازواجِ مطہرات اپنے اندر یہ اوصاف بدرجہ کمال پیدا کرنے کی کوشش کریں۔

۶۔۔۔۔۔۔۔۔  سیاحت کے معنی اس سفر کے ہیں جو عبادت کی غرض سے کیا جائے ( دیکھئے لسان العرب ج ۲ ص ۴۹۴) مثلاً ہجرت حج، جہاد وغیرہ کا سفر۔

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ توبہ نوٹ ۲۰۵۔

۷۔۔۔۔۔۔۔۔  شوہر آشنا عورتیں جن کی طلاق ہو گئی ہو یا جن کے شوہروں کا انتقال ہو گیا ہو غیر معمولی خوبیوں کی حامل ہو سکتی ہیں اور اس بنا پر وہ قدر کی مستحق ہیں۔

۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی جہنم کی آگ سے اپنے کو بھی بچانے کا سامان کرو اور اپنے اہل و عیال کو بھی بچانے کی کوشش کرو۔ ایک مسلمان کی اپنے گھر والوں کے تعلق سے ذمہ داری بہت بڑی ہے۔ وہ اپنے بیوی بچوں کو ان باتوں سے خبردار کرے جو جہنم میں لے جانے والی ہیں۔ انہیں دین کی صحیح معلومات بہم پہنچائے۔ اللہ کے احکام سے انہیں واقف کرائے ، فرائض بالخصوص نماز کی پابندی کی تاکید کرے برائیوں سے سے بچنے کی ہدایت کرے اور گھر کا ماحول ایسا بنائے کہ بال بچے صحیح اسلامی زندگی گذارسکیں۔ آج کل ٹی وی اور ویڈیو نے گھروں کا ماحول خراب کر کے رکھ دیا ہے۔ ان چیزوں پر کنٹرول کی بہت زیادہ ضرورت ہے تاکہ کوئی بری چیز گھر میں دیکھی نہ جاسکے۔

بچوں کی ایسی تعلیم جس سے ان میں دینی شعور پیدا ہو اور ان کی ایسی تربیت کہ ان کے دلوں میں ایمان کی روشنی پیدا ہو؟ نیک روی اختیار کریں اور شریف اور مہذب بن کر رہیں ہر مسلمان کی اپنے گھر کے تعلق سے ذمہ داری ہے مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان کو اپنے بچوں کے دنیوی مستقبل کو ’’ روشن‘‘ کرنے کی جتنی فکر ہے اتنی ان کو جہنم کے عذاب سے بچانے کی نہیں۔ انہیں قیامت کے دن احساس ہو گا کہ انہوں نے اپنے بچوں کے تعلق سے کیسی غفلت برتی اور کس قدر غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔

۹۔۔۔۔۔۔۔۔  جہنم کا ایندھن ایک تو وہ انسان ہوں گے جو کفر کی موت مرے۔ دوسرے وہ پتھر ہوں گے جو پوجے جاتے رہے یعنی مشرکین اپنے بتوں سمیت جہنم میں جلتے رہیں گے تاکہ انہیں احساس ہو کہ اللہ کو چھوڑ کر جن کی وہ پرستش کرتے رہے وہی ان کو جہنم میں لے کر پہنچے اور ان کے لیے جہنم کی آگ کو بھڑکا رہے ہیں۔

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ انبیاء نوٹ ۱۴۴۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔  فرشتوں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اللہ کے ایسے اطاعت گذار ہوتے ہیں کہ اس کے کسی بھی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے۔ دوزخ پر جو فرشتے مامور ہوں گے وہ نہایت سخت مزاج اور سخت گیر ہوں گے اس لیے وہ دوزخ والوں کے ساتھ کوئی نرمی برتنے والے نہیں اور ان کو عذاب دینے کا جیسا کچھ حکم ہو گا اس کی وہ تعمیل کریں گے۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی جہنم جانے والے کافر اپنے کفر و شرک کے بارے میں عذرات پیش کرنے لگیں گے لیکن ان سے کہا جائے گا کہ اب عذر پیش کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جارہا ہے بلکہ تم اپنے کئے کی سزا بھگت رہے ہو۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔  ’’ توبۃ نصوحا‘‘  خالص توبہ کا مطلب ہے ایسی توبہ جو سچے دل سے گناہ پر ندامت کے ساتھ اور آئندہ اس کا ارتکاب نہ کرنے کے ارادہ سے کی گئی ہو۔ یہ حکم تمام اہل ایمان کو دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی پچھلی غلطیوں کو جو انہوں نے اپنے بال بچوں کے تعلق سے کی ہوں محسوس کریں اور اپنی اصلاح کریں۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔  سچی توبہ کی جزا یہ ہو گی کہ اللہ تعالیٰ برائیوں کو مٹا دے گا اور جنت عطا فرمائے گا۔

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔  اس نور کی تشریح سورۂ حدید نوٹ ۲۲ میں گزر چکی۔

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔  کافروں اور منافقوں سے جہاد کرنے اور ان پر سختی کرنے کا حکم اس مناسبت سے یہاں دیا گیا ہے کہ یہی لوگ تھے جو مسلم معاشرہ میں فتنے برپا کرنے کی کوشش کرتے۔ منافقوں کے سلسلہ میں یہ سخت حکم اس وقت نازل ہوا جبکہ ان کی منافقت اور اسلام دشمنی بالکل کھل کر سامنے آ گئی تھی۔ ایسے کھلے منافقوں کو جو سوسائٹی میں فتنہ اور فساد برپا کرتے رہتے تھے قتل تک کی سزا دینے اور جہاں ان کی کوئی جمیعت ہو ان سے جنگ کرنے کی ہدایت دی گئی تاکہ اسلامی معاشرہ کو ان مفسد عناصر سے پاک کیا جاسکے۔ منافقوں سے جہاد کرنے کا حکم غزوۂ تبوک کے بعد  ۰۹   ھ میں نازل ہوا تھا دیکھئے سورۂ توبہ آیت ۷۳ نوٹ ۱۴۲۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔  حضرت نوح اور حضرت لوط بنی تھے۔ ان کی بیویوں نے ان کے ساتھ خیانت ( بے وفائی) کی۔ یہ خیانت دین کے معاملہ میں تھی یعنی انہوں نے ان پیغمبروں کے دین کو دل سے قبول نہیں کیا اور کافروں کی حامی بنی رہیں۔ نتیجہ یہ کہ وہ عذاب کی مستحق ہو گئیں اور یہ پیغمبر ان کو عذاب سے نہ بچاسکے۔

ان دو عورتوں کے مثال میں بہت بڑی عبرت ہے اور وہ یہ کہ اللہ کے یہاں جزا و سزا کا معاملہ عمل کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں رشتہ داریاں کچھ بھی کام نہ آئیں یہاں تک کہ ایک نبی کی بیوی بھی اگر کافرہ ہے تو وہ سزا سے نہیں بچ سکتی۔ حضرت نوح اور حضرت لوط کی بیویاں اگر چاہتیں تو ان پیغمبروں کی صحبت سے فائدہ اٹھا کر بہت اونچا مقام حاصل کرسکتیں تھیں مگر کفر اور بے وفائی نے ان کو جہنم میں پہنچادیا۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔  اوپر دو کافر عورتوں کی مثال پیش کی گئی تھی۔ یہاں دو ایسی خواتین کی مثال پیش کی جارہی ہے جنہوں نے ایمان لا کر نہایت اعلیٰ کردار کا ثبوت دیا جس کے صلہ میں ان کو نہایت بلند مقام حاصل ہوا۔ ان میں سے پہلی خاتون فرعون کی بیوی ہے جو فرعون کے ساتھ اس کے محل میں رہتی تھی جہاں ہر قسم کی عیش و عشرت کا سامان تھا لیکن وہ ایمان لائی تھی اس لیے کفر کا یہ ماحول اسے پسند نہیں تھا لہٰذا محل میں رہتے ہوئے بھی وہ گھٹن کی زندگی گذار رہی تھی اس کے دل سے جو دعا نکلی وہ اس کے ایمانی جذبات اور آخرت پر یقین کی ترجمانی کرتی ہے۔ اس نے دعا کی کہ اے میرے رب! مجھے آخرت کا گھر مطلوب ہے تو میرے لیے اپنے پاس گھر بنا دے اور اس کافرانہ اور ظالمانہ ماحول سے مجھے نجات دے۔ وہ فرعون کے پاس رہنے کے لیے مجبور تھی اور اس کی صحبت میں رہنے سے اسکی بہت سی غلط باتیں بھی اس کو برداشت کرنا پڑ رہی ہوں گی یہ اس کے لیے سخت آزمائش تھی اس لیے اس نے فرعون اور اس کے عمل سے نیز اس ظالم قوم سے جس کا سربراہ فرعون تھا نجات کے لیے دعا کی۔

اس مثال سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ ایک مسلمان خواہ وہ مرد ہو یا عورت اگر کافروں یا ظالموں کے ماحول میں گھر گیا ہو تو اس کا ایمان اس کو اس سے متنفر کر دے گا اور وہ اس کی آلائشوں سے بچنے کی کوشش کے ساتھ اللہ سے نجات کے لیے دعا کرے گا۔

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ دوسری مومن خاتون کی مثال ہے جو صداقت اور عصمت و عفت کا پیکر تھیں۔ یہ تھیں عمران کی بیٹی حضرت مریم۔ ان کو ایک غیر معمولی آزمائش سے گذرنا پڑا۔ وہ کنواری تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے فرشتہ کو بھیج کر ان کے اندر روح پھونک دی جس سے وہ حاملہ ہو گئیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہو گئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا معجزہ تھا جو حضرت مریم کے ذریعہ ظہور میں آیا لیکن اس سلسلہ میں انہیں قوم کی طرف سے بہت کچھ سننا اور برداشت کرنا پڑا۔ انہوں نے اس نازک موقع پر بڑے تحمل سے کام لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی پاکیزگی غیر معمولی طریقہ سے ظاہر کر دی۔

حضرت مریم نے ان کلمات کی بھی تصدیق کی جو اللہ تعالیٰ نے فرشتہ کے ذریعہ ان پر القا کئے تھے۔ یعنی حضرت عیسیٰ کی ولادت کی خوشخبری دی تھی اور ان کے تولد کے موقع پر نیز اس کے فوراً بعد انہیں خصوصی ہدایات دی گئی تھیں جن کا ذکر سورہ مریم میں ہوا ہے۔ وہ ان کتابوں پر بھی ایمان رکھتی تھیں جو انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوئیں اور انہوں نے ایک اطاعت شعار مومنہ کی حیثیت سے زندگی بسر کی تھی۔ ان کی عظمت کا نشان ان کا یہی مضبوط اور اعلیٰ کردار ہے او ر اس کردار ہی نے ان کو بلند ترین مقام پر فائز کیا۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

 

 

(۶۵)۔ سورۂالطلاق

 

(۱۲ آیات)

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

اس سورہ میں طلاق کے احکام بیان ہوئے ہیں اس مناسبت سے اس کا نام’ الطلاق‘ ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مدنی ہے اور غالباً ۶ ۰؁ھ میں نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

طلاق کے احکام بیان کرنا ہے۔

 

نظمِ کلام

 

آیت ۱ تا ۷ میں طلاق کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔

آیت ۸ تا۱۲ میں مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اللہ کے احکام سے سرتابی نہ کریں اور یاد رکھیں کہ نافرمانی کرنے والی قوموں کا کیا حشر ہوا۔ بہ الفاظ دیگر اسلام کے عائلی قانون family Laws کی پابندی کے لیے یہ سخت تاکیدی حکم ہے۔

 

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ اے نبی! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے لیے طلاق دو۔۱* اور عدت کا شمار کرو۔ ۲* اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے۔ ۳* ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں الا یہ کہ وہ کھلی بدکاری کی مرتکب ہوں۔ ۴* یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے گا وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا۔ ۵* تم نہیں جانتے شاید اللہ اس کے بعد کوئی اور صورت پیدا کر دے۔ ۶*

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر جب وہ اپنی مدت کو پہنچ جائیں تو انہیں یا تو معروف طریقہ پر (اپنے نکاح میں) روک لو یا معروف طریقہ پر جدا کر دو۔۷ * اور اپنے میں سے دو عادل آدمیوں کو گواہ بنا لو ۸* اور گواہی اللہ کے لیے قائم رکھو۔ ۹* یہ نصیحت ان کو کی جاتی ہے جو اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں۔ ۱۰* جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے لیے راہ نکال دے گا۔ ۱۱*

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کو وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہو گا۔ ۱۲* جو اللہ پر بھروسہ کرے گا تو وہ اس کے لیے کافی ہو گا۔ ۱۳* اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ ( وقت)مقرر کر رکھا ہے۔ ۱۴*

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں ان کے بارے میں اگر کوئی شک ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے۔ ۱۵* اور ان کی بھی جن کو حیض نہ آیا ہو۔ ۱۶* اور حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ ان کا وضعِ حمل ہو جائے۔ ۱۷* جو شخص اللہ سے ڈرے گا تو وہ اس کے معاملہ میں آسانی پیدا فرمائے گا۔ ۱۸*

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے۔ ۱۹* جو اللہ سے ڈرے گا اس کی برائیوں کو وہ دور کر دے گا اور اس کے اجر کو بڑھا دے گا۔ ۲۰*

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو (عدت کے دوران) اسی جگہ رکھو جہاں تم رہتے ہو جیسی کچھ تمہاری حیثیت ہو۔ ان کو تنگ کرنے کے لیے نہ ستاؤ۔ ۲۱* اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ ان کا وضعِ حمل ہو جائے۔ ۲۲* پھر اگر وہ تمہارے لیے بچہ کو دودھ پلائیں تو ان کو ان کی اجرت دو۔ اور بھلے طریقہ پر آپس کے مشورے سے معاملہ طے کر لو۔ ۲۳* اگر تم کوئی تنگی محسوس کرو تو کوئی دوسری عورت اسے دودھ پلائے۔ ۲۴*

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ صاحبِ حیثیت اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے اور جس کو رزق کم دیا گیا وہ اس میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ اللہ نے جس کو جتنا دیا ہے اس سے زیادہ بوجھ وہ کسی پر نہیں ڈالتا۔ ۲۵* اللہ تنگی کے بعد آسانی پیدا فرمائے گا۔ ۲۶*

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں سے سرکشی کی تو ہم نے ان کا سخت محاسبہ کیا  گرفت کی۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ان کو بری طرح عذاب دیا۔ ۲۷*

۹۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے اپنے کئے کا وبال چکھ لیا اور ان کا انجام تباہی ہے۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ۲۸* تو اللہ سے ڈرو اے عقل والو! جو ایمان لائے ہو ۲۹ * اللہ نے تمہاری طرف ذکر (یاددہانی) نازل کیا ہے۔ ۳۰*

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ایسا رسول جو اللہ کی واضح آیتیں تم کو پڑھ کر سناتا ہے تا کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے۔ ۳۱* اور جو اللہ پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا۔ ۳۲* اس کو وہ ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ نے ان کو بہترین رزق بخشا ہے۔ ۳۳*

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ ہی نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے ان ہی کے مانند۔۳۴* ان کے درمیان اس کے احکام نازل ہوتے رہتے ہیں۔ ۳۵*  تم پر یہ حقیقت (واضح کی)تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور یہ کہ اللہ کا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ ۳۶*

 

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔  آغاز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کیا گیا ہے اور اس کے متصلاً بعد اہل ایمان سے خطاب کر کے کہا گیا ہے کہ جب تم لوگ طلاق دو تو عدت کے لیے دو۔ یہ طرز خطاب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ حکم ایسا تاکیدی ہے کہ نبی کی شخصیت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں اور آپ کے واسطہ سے یہ حکم پوری امت کو دیا جا رہا ہے۔ جب طلاق دینے کا یہ حکم کہ عدت کے لیے طلاق دو اس تاکید کے ساتھ دیا گیا ہے تو اس سے انحراف کر کے طلاق دینے کے کسی دوسرے طریقہ کو اختیار کر نے کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔

طَلّقُوْہُنَّ لِعِدَّتہِنَّ ’’عدت کے لیے طلاق دو‘‘  کا مطلب یہ ہے کہ طلاق ایسے وقت دو جب کہ عدت کا آغاز کرسکو۔ یہ منشا اسی صورت میں پورا ہو سکتا ہے جبکہ آدمی بیک وقت ایک طلاق دے تاکہ اس طلاق کی عدت کا آغاز ہو اور جب وہ عدت پوری ہو جائے تو وہ عورت مرد سے جدا ہو جائے گی لیکن دوبارہ نکاح کا موقع رہے گا۔اور اگر عدت کے دوران شوہر نے رجوع کر لیا تو پھر اس کے لیے یہ موقع رہے گا کہ آئندہ کبھی ضرورت محسوس کرے تو دوسری طلاق دے اور اس کی عدت کے دوران بھی اسے رجوع کا حق رہے گا۔ اگر وہ رجوع کر لیتا ہے تو بیوی اس کے نکاح میں رہے گی۔ اس کے بعد اگر اس نے آئندہ کسی موقع پر تیسری طلاق دی تو عورت کو عدت گذارنا ہو گی لیکن شوہر کو اب رجوع کا حق باقی نہیں رہے گا اور یہ طلاق مغلظہabsolute ہو جائے گی۔

طلاق کا یہی طریقہ ہے جس کی کتاب و سنت میں تعلیم دی گئی ہے اور جس کی تاکید کی گئی ہے رہا بیک وقت تین طلاقیں دینے کا مسئلہ تو یہ طریقہ سراسر کتاب وسنت کے خلاف اور بدعی ہے۔ ایسی صورت میں ایک ہی طلاق واقعی ہوتی ہے نہ کہ تین کیونکہ شریعت نے عدت کے لیے طلاق دینے کا اختیار دیا ہے لہٰذا پہلی طلاق کا آغاز تو عدت سے ہو گا لیکن دوسری اور تیسری طلاق کا آغاز عدت سے نہیں ہو سکے گا جبکہ ہر طلاق کے لیے الگ سے عدت کا آغاز ہونا ضروری ہے لہٰذا ایک سے زائد طلاقیں لغو اور باطل قرار پائیں گی کیونکہ ایسی طلاقیں دینے کا شریعت نے اسے اختیار ہی نہیں دیا ہے۔ اور غور کیجئے تو ہر طلاق کے لیے عدت کی قید میں شریعت کی بہت بڑی مصلحت بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ شوہر کو نظر ثانی کرنے کا موقع ملے اور اسے رجوع کے دو مواقع حاصل ہوں۔

مختصر یہ کہ ہ آیت اس بارے میں بالکل صریح ہے کہ ہر طلاق کے لیے عدت کا آغاز ہونا ضروری ہے جس طلاق کے لیے عدت کا آغاز نہ ہوتا ہو وہ طلاق شرعاً معتبر نہیں ہے۔ رہی تین طُہر میں تین طلاقیں دینے کی بات تو وہ نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ کسی صحیح حدیث سے :

علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں :

وامامن اخذ بمقتضیٰ القرآن ومادلت علیہ الآثار فانہ یقول ان الطلاق الذی شرعہ اللّٰہ ہوما یتعقبہ العدۃ، وماکان صاحبہ مخیرافیہا بین الامساک بمعروف والتسریح باحسان،وہذا منتف فی ایقاع الثلاث فی العدۃ قبل الرجعۃ، فلایکون جائزافلم یکن ذٰلک طلاق للعدۃ۔(مجموعہ فتاویٰ ابن تیمیہ ج ۳۳ ص ۸۹)

’’ قرآن جس بات کا متقاضی ہے اور آثار( احادیث) جس پر دلالت کرتے ہیں اس کو جن لوگوں نے پیشِ نظر رکھا ہے وہ کہتے ہیں کہ جس طلاق کو اللہ نے مشروع قرار دیا ہے وہ وہی طلاق ہے جس کے ساتھ عدت کا آغاز ہوتا ہے اور طلاق دینے والا معروف کے مطابق بیوی کو رکھ لینے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینے کا اختیار رکھتا ہو اور اس سے عدت میں رجوع کرنے سے پہلے تین طلاقوں کے ایقاع کی نفی ہوتی ہے اس لیے یہ جائز نہیں اور ایسی طلاق عدت کے لیے نہیں ہو گی۔ ‘‘

مسند احمد کے شارح احمد محمد شاکر نے اپنی کتاب ’ نظام الطلاق فی الاسلام‘ میں صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ :

ولذالک اوردت الادلۃ التی ذکر تھا والتی نقلتہا عن غیری فی معرض احتجاج علی بطلان الطلقتین التالیتین للطلقۃ الاولیٰ فی العدۃ۔ وعلی ان الطلاق لا یدحق الطلاق و علٰی ان المعتدۃ لا یلحقہا طلاق۔

(نظام الطلاق فی الاسلام لا حمد شاکر مطبعۃ النہضۃ بمصر۔ص۔۱۱۳)

’’ اس لیے میں نے اپنے دلائل بھی بیان کئے اور دوسروں سے بھی نقل کئے اس بات کے استدلال میں کہ عدت میں پہلی طلاق کے بعد دو طلاقیں باطل ہیں اور یہ کہ ایک طلاق سے دوسری طلاق لاحق نہیں ہوتی اور یہ کہ عدت گزارنے والی عورت کو کوئی دوسری طلاق لاحق نہیں ہوتی۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ ایک طلاق کے ساتھ جو عدت شروع ہوتی اس میں کوئی دوسری طلاق پڑ نہیں سکتی کیونکہ ہر طلاق کے لیے  ایک عدت کا ہونا ضروری ہے۔

مولانا محمد رئیس ندوی اپنی محققانہ کتاب تنویر الآفاق فی مسئلۃ اطلاق( مطبوعہ جامعہ سلفیہ بنارس) میں لکھتے ہیں :

’’ یعنی جب طلاق کے لیے طہر کا وقت خاص ہے  اور اس وقتِ خاص میں ایک مرتبہ صرف ایک ہی طلاق کی اجازت ہے تو اگر اس وقت خاص میں ایک سے زیادہ طلاقیں دی جائیں تو زائد طلاقیں باطل اور صرف وہی ایک طلاق واقع ہو گی جس کی شرعاً اجازت ہے۔‘‘( ص ۳۱۵)

آیت کا جو مفہوم ہم نے بیان کیا ہے علماء کی ان آراء سے اس کی تائید ہوتی ہے اور واضح ہوتا ہے کہ آیت کا ہم نے کوئی نرالا مفہوم بیان نہیں کیا ہے بلکہ ہم سے پہلے محقق علماء یہ مفہوم بیان کرتے رہے ہیں یعنی ہر طلاق کے لیے الگ عدت ضروری ہے اور ایک عدت میں دوسری اورتیسری طلاق نہیں دی جاسکتی لہٰذا اکٹھی تین طلاقیں شرعاً ایک ہی طلاق کے حکم میں ہیں کیونکہ واقع صرف ایک طلاق ہوئی دوسری اور تیسری طلاق سرے سے واقع ہی نہیں ہوئی۔ مگر جمہور علماء و فقہاء اکٹھی طلاقوں کے واقع ہونے کے قائل ہیں۔ وہ اس کو حرام اور بدعتی طلاق مانتے ہوئے بھی نافذ قرار دیتے ہیں مگر جمہور دین میں حجت نہیں ہیں۔ حجت صرف کتاب و سنت کے نصوص(صریح احکام) اور ان کے دلائل ہیں۔ اسلام میں جمہور سے بھی نزاع کا حق ہے :

فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیٍٔ فَوُدُّوْہٗ اِلیَ اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ ’’پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ (یعنی اس کی کتاب) اور رسول (یعنی اس کی سنت) کی طرف لوٹاؤ۔‘‘

اور جمہور کے قول کو اجماع سے تعبیر کرنا سراسر غلط اور خلاف واقعہ بات ہے۔

موجودہ زمانہ میں اور خاص طور سے ہندوستان کے مسلمانوں میں بیک وقت تین طلاقیں دینے کا رواج عام ہے۔ عوام یہ سمجھتے ہیں کہ تین طلاقیں دیئے بغیر طلاق واقع ہی نہیں ہوتی۔ یہ ان کی جہالت ہے لیکن  وکلاء اور قاضی بھی جب کوئی طلاق نامہ تحریر کرتے ہیں تو تین طلاقیں درج کر کے طلاق دینے والے کے اس پر دستخط لے لیتے ہیں اور اس کو نہیں معلوم کہ طلاق دینے کا صحیح طریقہ کیا ہے اور غلط طریقہ کیا۔ پھر جب غصہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور وہ شخص رجوع کرنا چاہتا ہے تو مفتی حضرات جو تقلید کی قسم کھا بیٹھے ہیں بتاتے ہیں کہ اب رجوع کی کوئی صورت نہیں رہی سوائے حلالہ کرانے کے حالانکہ حلالہ کرانے پر لعنت آئی ہے۔ اس طرح عوام طلاق کے معاملہ میں سخت الجھن اور زبردست مشکلات سے دوچار ہو رہے ہیں اس سے نجات کی صورت یہی ہے کہ کتاب و سنت کے واضح نصوص( احکام) کے مطابق ان کی رہنمائی کی جائے اور وہ مسلک کی جکڑ بندیوں سے آزاد ہو کر اس رہنمائی کو قبول کریں۔

( اس مسئلہ پر تفصیل کے لیے دیکھئے ہمارا پمفلٹ ’’ تین اکٹھی طلاقیں ___کتاب و سنت کی روشنی میں‘‘ )

آیت سے یہ بات بھی واضح ہے کہ طلاق حالتِ طہر ہی میں دی جاسکتی ہے یعنی جب کہ بیوی کو حیض نہ آیا ہو اور حالتِ طہر میں شوہر نے مباشرت نہ کی ہو کیونکہ حالتِ حیض میں طلاق دینے سے عدت کا شمار صحیح نہیں ہو سکے گا اور مباشرت کی صورت میں احتمال ہو گا کہ کہیں حمل تو نہیں ٹھہر گیا ہے۔

حدیث میں آتا ہے کہ:

’’ حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دی۔ حضرت عمر نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا ان سے کہو کہ وہ اپنی بیوی کو واپس لے لیں ( فَلْے رَا جِعْہَا) اور اسی حال میں رہنے دیں یہاں تک کہ جب وہ پاک ہو جائے اور پھر دوسرا حیض آ جائے اور پھر وہ پاک ہو جائے تو چاہیں تو بیوی کی حیثیت سے روک لیں اور چاہیں تو مباشرت سے پہلے طلاق دے دیں۔ یہی وہ عدت ہے جس کا حکم اللہ نے عورتوں کی طلاق کے سلسلہ میں دیا ہے۔‘‘(مسلم کتاب الطلاق)

معلوم ہوا کہ شریعت نے مرد کو یہ اختیار نہیں دیا ہے کہ وہ عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دے لہٰذا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دیتا ہے تو یہ طلاق خلافِ شرع اور باطل ہے۔ واقع نہیں ہو گی۔

۲۔۔۔۔۔۔۔۔  عدت کا شمار کرنے کی تاکید کی گئی ہے کیونکہ عدت ختم ہونے سے پہلے عورت دوسرے مرد سے نکاح نہیں کرسکتی اگر کرے گی تو وہ نکاح باطل ہو گا۔ مطلقہ کی عدت عام طور سے تین حیض ہے جیسا کہ سورۂ بقرہ میں ارشاد ہوا ہے :

وَالْمُطَلَّقَاتُ یتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلاَثَۃَ قُرُوئٍ:’’ اور جن عورتوں کو طلاق دے دی گئی ہو۔ وہ تین حیض تک اپنے آپ کو رو کے رکھیں۔‘‘(بقرہ:۲۲۸)

اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طہر میں عورت کو طلاق دی گئی اس کے بعد پہلی ایام ماہواری آ جائے پھر طہر کے بعددوسری ایام ماہواری آ جائے پھر طہر کے بعد تیسری ایام ماہواری آ جائے اور یہ تیسری ایام ماہواری جس دن ختم ہو اس دن عورت کی عدت ختم ہو گی اور پھر وہ دوسرے مرد سے نکاح کرنے کے لیے آزاد ہو گی۔

جن عورتوں کو حیض نہ آتا ہو یا جو حاملہ ہو ان کی عدت کے احکام اس سے مختلف ہیں۔ آگے آیت ۴ میں یہ احکام بیان ہوئے ہیں۔

۳۔۔۔۔۔۔۔۔  طلاق کے معاملہ میں اللہ سے ڈرنے کی خاص طور سے ہدایت کی گئی ہے کیونکہ اول تو طلاق دین میں سخت نا پسندیدہ چیز ہے دوسرے جب طلاق دینا ناگزیر ہو تو اس طریقہ پر طلاق دینا چاہیے جو شریعت نے مقرر کیا ہے۔ غصہ کی حالت میں اس طرح طلاق دینا کہ تمام شرعی احکام کی خلاف ورزی ہو جائے تقویٰ کے سراسر خلاف ہے اور جو شخص اپنے معاملات میں اللہ سے نہیں ڈرتا بلکہ اپنے جذبات اور خواہشات کی پیروی کرتا ہے وہ اپنے کو برے انجام کی طرف دھکیلتا ہے۔

۴۔۔۔۔۔۔۔۔  مرد کی ذمہ داری ہے کہ عورت کو طلاق دینے کے بعد عدت تک اپنے گھر میں رکھے اور عورت کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ عدت شوہر کے گھر میں گذارے۔غصہ میں آ کر میکے نہ چلی جائے گھر سے باہر نہ نکلنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اپنی ضرورت کے لیے وہ باہر نہیں جاسکتی بلکہ مطلب یہ ہے کہ شوہر کا گھر چھوڑ کر وہ کسی اور جگہ منتقل نہ ہو جائے۔

الا یہ کہ وہ صریح بدکاری ( فاحشۃ مبینۃ) کی مرتکب ہوں سے مراد زنا کا ارتکاب ہے۔ ایسی صورت میں شوہر کو حق ہے کہ وہ عدت کے دوران بھی اپنی بیوی کو اپنے گھر سے نکال دے۔

’فاحشۃ مبینہ‘ سے جن لوگوں نے بدکلامی وغیرہ مراد لی ہے ان کی رائے سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا اور اس بہانے سے تو شوہر عورت کو جب چا ہے گا نکال باہر کرے گا۔ قرآن میں یہ الفاظ تو زنا ہی کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔

۵۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی طلاق کسی ناگزیر ضرورت کے بغیر دینا، طلاق دینے میں عدت کا خیال نہ رکھنا۔ بیت وقت کئی طلاقیں دے ڈالنا، عدت کا شمار نہ کرنا اللہ کے حدود کو توڑنے کے ہم معنی ہے۔ اور ایسی حرکتیں صریح ظالمانہ ہیں اور جو ظالمانہ حرکتیں کرتا ہے وہ اپنے کو اللہ کی سزا کا مستحق بناتا ہے۔

اس کا الٹا مطلب بعض مفسرین نے لیا ہے وہ کہتے ہیں کہ تین اکٹھی طلاقیں واقع ہوتی ہیں جب ہی تو اسے ظلم سے تعبیر کیا گیا ہے حالانکہ یہاں غلط طریقے اختیار کرنے پر گرفت کی گئی ہے ان کے واقع ہونے کی کوئی بات نہیں کہی گئی ہے اور جب یہ تسلیم ہے کہ اکٹھی تین طلاقیں ظالمانہ ہوتی ہیں تو کیا اسلام اس ظلم کو عورت کے حق میں روا رکھنا چاہتا ہے ؟ کیسی بھونڈی بات ہے جو یہ مفسرین کہہ رہے ہیں !

۶۔۔۔۔۔۔۔۔  اس کا تعلق حدودِ الٰہی کی پابندی سے ہے۔ یعنی اگر تم نے طلاق کے معاملہ میں حدودِ الٰہی کی پابندی کی تو کیا عجب کہ اللہ طلاق کے بعد بہتری کی کوئی صورت پیدا فرما دے۔ یعنی رجوع کی توفیق دے یا عدت ختم ہو جانے پر عورت کے لیے دوسرے نکاح کی بہتر صورت پیدا فرمائے۔ بہر کیف حدودِ الٰہی کی پابندی کا نتیجہ خوشگوار ہی ہو سکتا ہے۔

۷۔۔۔۔۔۔۔۔  اپنی مدت کو پہنچ جانے سے مراد عدت کے ختم ہونے کے قریب پہنچنا ہے۔ اس موقع پر شوہر کو چاہیے کہ یا تو رجوع کا فیصلہ کر لے یا جدا کر دینے کا مگر دونوں صورتوں میں بھلا طریقہ اختیارکرنا چاہیے۔ اس سے ظاہر ہے کہ قرآن نے طلاق کے بعد رجوع کا موقع رکھا ہے۔ اور جیسا کہ سورۂ بقرہ آیت ۲۲۹ میں گزر چکا یہ موقع دو مرتبہ کی طلاقوں کے لیے ہے۔ تیسری مرتبہ کی طلاق کے بعد رجوع کی کوئی صورت باقی نہیں رہ جاتی لیکن اکٹھی تین طلاقوں کو واقع ماننے کی صورت میں رجوع کا موقع سرے سے باقی ہی نہیں رہتا جو ظاہر ہے قرآن کے منشاء کے خلاف ہے اس لیے اسے واقع مانا نہیں جاسکتا۔

۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ تاکیدی حکم ہے اس لیے اس کی پابندی کی جانی چاہیے۔ نزاعوں سے بچنے کے لیے بھی یہ ضروری ہے اور یہ حکم دونوں صورتوں میں ہے طلاق دینے کے بعد رجوع کی صورت میں بھی اور جدا کر دینے کی صورت میں بھی۔ بہر حال یہ بات ظاہر ہو جانی چاہیے کہ فلاں عورت فلاں شخص کی بیوی رہی یا نہیں۔ ورنہ دونوں کی پوزیشن لوگوں کی نظروں میں مشتبہ ہو سکتی ہے۔

۹۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ گواہوں کو ہدایت ہے کہ وہ جب گواہی دینے کا موقع ہو غیر جانبداری کے ساتھ سچی گواہی دیں اور خالصۃً اللہ کے لیے دیں۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔  ’’ یہ نصیحت‘‘ سے مراد وہ تمام احکام ہیں جو اوپر طلاق کے تعلق سے بیان ہوئے۔ ان احکام کی بجا آوری کی اللہ تعالیٰ نے نصیحت فرمائی ہے کہ خیر اور بھلائی اسی میں ہے اور اس کو اللہ اور روز آخر پر ایمان کا تقاضا بتلایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ طلاق کے معاملہ میں شریعت کے احکام کی پروا نہیں کرتے وہ ایمان کے تقاضے کے خلاف کام کرتے ہیں اور قیامت کے دن انہیں اس کی سخت جوابدہی کرنا ہو گی۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ آیت تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ اللہ ایسے لوگوں کے لیے ایسے اسباب کر دیتا ہے کہ مشکلات میں گھر ے ہوئے شخص کے لیے ان سے نکلنے کی راہ کھلی جاتی ہے اور اس کی تکلیفیں کافور ہو جاتی ہیں۔یہاں خاص طور سے اشارہ گھریلو زندگی کی مشکلات کی طرف ہے کہ ان سے گھبرا کر تقویٰ کا دامن چھوڑ نہیں دینا چاہیے۔ بلکہ اس کو مضبوط تھام لینا چاہیے کہ سارے عُقدے تقویٰ ہی سے کھل جاتے ہیں۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔  گھریلو زندگی بعض مرتبہ رزق کی تنگی کی وجہ سے تلخ ہو جاتی ہے اس لیے مرد اور عورت دونوں کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ اگر انہوں نے تقویٰ کے دامن کو نہیں چھوڑا تو اللہ ان کے لیے رزق کی ایک نہ ایک صورت پیدا کر دے گا۔ ایسی صورت جو ان کے گمان میں بھی نہیں ہو گی۔ اور یہ واقعہ ہے کہ وہ رزق کے ایسے اسباب بھی کر دیتا ہے جو انسان کے گمان میں بھی نہیں ہوتے۔ لہٰذا صرف ظاہری ذرائع رزق ہی کو سب کچھ سمجھ نہیں لینا چاہیے بلکہ اللہ کی کشادہ دستی سے توقعات وابستہ کر لینی چاہئیں۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔  اسباب پر بھروسہ کرنے کے بجائے اللہ پر جو مسبب الاسباب ( اسباب کا پیدا کرنے والا) ہے بھروسہ کرنا چاہیے۔ بظاہر حالات مایوس کن ہوں لیکن اللہ پر قلبی اعتماد اور اس سے خیر کی توقع آدمی کو کبھی ناکام نہیں بناتی۔ پہاڑ جیسی مشکلات بھی اللہ تعالیٰ کے ایک اشارہ سے دور ہو جاتی ہیں۔ اور یہ آیت اس بات کی ضمانت ہے کہ جو بھی اللہ پر توکل کرے گا اس کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے اللہ کافی ہو گا۔

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اللہ کی مشیت پوری ہو کر رہتی ہے البتہ یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ یہ دنیا آزمائشی ہے اس لیے اس نے ہر تکلیف کو دور کرنے کے لیے اور ہر مشکل کو آسان کرنے کے لیے وقت مقرر کر رکھا ہے یہ اس کی ٹھہرائی ہوئی تقدیر ہے۔ لہٰذا انسان کو جلد بازی اور بے صبری سے کام نہیں لینا چاہیے۔ اللہ پر بھروسہ کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ادھر بھروسہ کیا اور دعا کی اور ادھر فوراً مشکل دور ہوئی۔ بلکہ اس میں وقت بھی لگ سکتا ہے تاکہ جو آزمائش مطلوب ہے وہ پوری ہو لیکن یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ مشکل کو دور کرنے کے لیے کافی ہو گا یہی صحیح معنی میں توکل ہے۔

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔  اس آیت میں ان مطلقہ عورتوں کی عدت بیان کی گئی ہے جن سے نکاح کے بعد شوہر نے مباشرت کی ہو۔ جن عورتوں کو مباشرت سے پہلے طلاق دی گئی ان کے لیے کوئی عدت نہیں ہے جیسا کہ سورۂ احزاب آیت ۴۹میں بیان ہوا۔ یہ بھی واضح رہے کہ سورۂ بقرہ آیت ۲۲۸ میں مطلقہ عورتوں کی عدت جن سے شوہر نے مباشرت کی ہو تین حیض بیان ہوئی ہے۔یہاں بعض مخصوص صورتوں کے احکام بیان ہوئے ہیں۔

عورت اگر بڑی عمر کو پہنچ گئی ہو جب کہ اسے حیض آنے کی کوئی امید نہ رہی ہو تو اس کی عدت تین ماہ ہے۔ ’’ اگر تمہیں کوئی شک ہو۔‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ حیض سے مایوسی کی عمر کو پہنچ جانے کے بعد اگر کبھی کچھ خون آ جائے جس کی وجہ سے آدمی شبہ میں پڑے کہ یہ حیض ہے یا استحاضہ یعنی دوسری قسم کا خون تو اس شک کا اعتبار نہ کرو اور تین ماہ کی عدت شمار کرو۔ اور جب شک نہ ہو اور وہ حیض سے مایوس ہو چکی ہوں تو ان کی عدت بدرجۂ اولیٰ تین ماہ ہو گی۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔  ’’ جن کو حیض نہ آیا ہو‘‘ سے مراد وہ عورتیں ہیں جن کو بیماری وغیرہ کی وجہ سے حیض نہ آ رہا ہو درآنحالیکہ وہ سن بلوغ کو پہنچ چکی ہوں۔ ایسی عورتوں کی عدت بھی تین ماہ ہے۔

آیت کے اس فقرہ میں کہ ’’ جن کو حیض نہ آیا ہو۔‘‘ نابالغ لڑکیوں کے نکاح کے جواز کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ بالفرض اگر نابالغ لڑکی سے کسی نے نکاح کیا تو اس سے مباشرت تو وہ کر نہیں سکے گا کیونکہ اس کی اجازت نہ شریعت دیتی ہے اور نہ انسانی عقل اور فطرت۔ پھر اگر وہ اس نابالغہ کو طلاق دیتا ہے تو مباشرت نہ کرسکنے کی بنا پر اس کی کوئی عدت نہ ہو گی( دیکھئے سورۂ  احزاب آیت ۴۹) جب کہ یہاں ان عورتوں کی عدت جن کو حیض نہ آیا ہو تین ماہ بیان کی گئی ہے۔ معلوم ہوا کہ اس کا تعلق نابالغہ سے نہیں ہے اور نہ نابالغہ کے نکاح کے لیے یہ آیت حجت بن سکتی ہے۔ علاوہ ازیں قرآن میں یتیم لڑکوں اورلڑکیوں کے بارے میں ارشاد ہوا ہے :

وَابْتَلُوا الْیتَامٰی حَتیّٰ اِذَا بَلَغُوا النِّکَاحِ۔’’اور یتیموں کو جانچتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں۔‘‘( نساء:۶)

ظاہر ہے کہ نکاح کی عمر کو پہنچ جانے سے مراد لڑکے اور لڑکی کا بالغ ہو جانا ہے لہٰذا نکاح کی عمر بلوغیت کی عمر ہوئی۔ اس سے پہلے نکاح کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا اور جب نکاح کا سوال پیدا نہیں ہوتا تو طلاق کا کیا سوال؟ علاوہ ازیں شریعت نے لڑکی کے نکاح کے لیے اس کی رضامندی ضروری قرار دی ہے۔ یہ رضامندی ایک نابالغہ سے کس طرح حاصل کی جاسکے گی؟ اسلام نے اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دی ہے کہ لڑکی کو زبردستی کسی کے نکاح میں دے دیا جائے۔ رہی یہ روایت کہ حضرت عائشہ کی عمر نبی صلی اللہ علیہ سے نکاح کے وقت چھ سال کی تھی تو اس روایت کو صحیح تسلیم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ واقعات سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔ یہاں مفصل بحث کی گنجائش نہیں تحقیق کرنے والوں نے اس پر بہت کچھ لکھا ہے۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔  حاملہ عورت کی عدت وضع حمل یعنی زچگی تک ہے خواہ وہ طلاق دینے کے تھوڑے عرصہ بعد ہو یا کئی ماہ بعد ہو۔ اس طرح عدت کی مدت گھٹ بھی سکتی ہے اور بڑھ بھی سکتی ہے۔ اور یہی عدت اس حاملہ کی بھی ہے جس کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہو کیونکہ اگر اس کی عدت چار ماہ دس دن ہوتی اور اس دوران وضع حمل نہ ہوا ہوتا تو وہ اس عدت کے گذارنے کے بعد حاملہ ہوتے ہوئے دوسرے مرد سے نکاح کرنے کے لیے آزاد ہوتی اور یہ بہت غلط بات ہوتی کہ ایک مرد کا حمل ہوتے ہوئے وہ دوسرے کے نکاح میں چلی گئی اس لیے شریعت نے ہر حاملہ عورت کے لیے یہ قاعدہ مقرر کیا ہے کہ اس کی عدت وضع حمل تک ہے خواہ اس میں وقت کم لگ جائے یا زیادہ۔ حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔

’’سُبَیعہ اَسْلِمیہ فرماتی ہیں کہ میں حضرت سعد بن خولہ کے نکاح میں تھی۔ حجۃ الوداع کے موقع پر میرے شوہر کا انتقال ہو گیا جب کہ میں حاملہ تھی۔ انتقال کے چند روز بعد میرے ہاں بچہ پیدا ہو گیا۔ ایک صاحب نے کہا تم چار مہینے دس دن گذرنے سے پہلے نکاح نہیں کرسکتیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ تم وضع حمل ہوتے ہی حلال ہو چکی ہو۔ اب چاہو تو دوسرا نکاح کر سکتی ہو۔‘‘ (مسلم کتاب الطلاق)

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔  اللہ سے ڈرنے والوں کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ گو تقویٰ کی راہ پر چلنا اور خاص طور سے گھریلو زندگی میں جہاں تلخیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں تقویٰ کی پاسداری مشکل ہے لیکن جو شخص تقویٰ کا دامن پکڑے رہے گا اللہ اس کے لیے اس راہ پر چلنا آسان کر دے گا اور واقعہ یہی ہے کہ جو لوگ اس بات کا عزم کر لیتے ہیں کہ انہیں بہر حال اللہ سے ڈرتے ہوئے اپنے معاملات انجام دینا ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اس کی توفیق عطا فرماتا ہے اور وہ متقیانہ زندگی گذارنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی خوب جان لو کہ عدت کا یہ حکم اللہ کا نازل کر دہ حکم ہے اس لیے لازماً تمہیں اس کا پابند ہو جانا چاہیے۔ اس کی خلاف ورزی صریح گناہ ہے اور اگر کسی نے اس عائلی قانون کی جگہ خود ساختہ عائلی قانون لانے کی کوشش کی یا اسے رائج یا نافذ کیا تو یہ سنگین جرم ہو گا۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ اللہ سے ڈرنے والوں اور اس کے احکام کی پابندی کرنے والوں کی جزا بیان ہوئی ہے کہ وہ ان کی برائیوں کو بھی مٹائے گا اور ان کو بہت بڑے اجر سے نوازے گا۔ جتنا بڑا صبر اتنی ہی بڑی جزا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی مطلقہ عورتوں کو عدت تک اپنے ہی گھر میں رہنے دو اور اپنی حیثیت کے مطابق انہیں اچھی جگہ رکھو۔ ایسا نہ ہو کہ اچھی جگہ کے موجود ہوتے ہوئے گھٹیا جگہ پر انہیں چھوڑ دو کہ یہ بدسلوکی ہو گی اور اس سے ان کی غیرت بھی متاثر ہو گی۔ پھر عدت کے دوران تمہارا رویہ بھی اپنی بیویوں کے ساتھ خوش اخلاقی کا ہونا چاہیے۔ انہیں اذیت اور تکلیف دے کر تنگ کرنا تاکہ وہ شوہر کا گھر چھوڑنے کے لیے مجبور ہو جائیں ہرگز روا نہیں۔

افسوس ہے کہ اس تاکیدی حکم کے باوجود آئے دن مسلمان اپنی بیویوں کو طلاق دیتے ہیں تو ان کے ساتھ تکلیف دہ رویہ بھی اختیار کرتے ہیں اور انہیں فوراً اپنے گھر سے رخصت کرتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اگر قرآن سے تعلق رکھتے ہیں تو صرف تلاوت کی حد تک۔ جب قرآن کو سمجھ کر پڑھنے سے انہیں دلچسپی ہی نہیں ہوتی۔ تو ان پر نہ اللہ کے احکام واضح ہو پاتے ہیں اور نہ ان پر عمل کی تحریک ہوتی ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ آدمی سورۂ طلاق کی تلاوت تو کرے لیکن اس میں جو احکام بیان ہوئے ہیں ان کو سمجھنے کی کبھی کوشش نہ کرے جب کہ اس کو سمجھنے کے ذرائع موجود ہیں۔ ایسے لوگ اگر اللہ کے احکام کی نافرمانی کرتے ہیں تو تلاوت کے باوجود انہیں قرآن سے اس بے اعتنائی اور اس کے احکام پر عمل نہ کرنے کے بارے میں اللہ کے حضور سخت جوابدہی کرنا ہو گی۔

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔   مطلقہ اگر حاملہ ہے تو اس کا وضعِ حمل ہونے تک اس پر خرچ کرنے کی ذمہ داری جس میں کھانا، پینا ، کپڑا اور علاج شامل ہے شوہر پر عائد ہوتی ہے خواہ یہ طلاق رجعی ہو یا تیسری مرتبہ کی مغلظہ طلاق چونکہ حمل کی مدت طویل ہو سکتی ہے اس لیے خاص طور سے حاملہ عورتوں کے نفقہ کا ذکر ہوا اور نہ یہ حکم ان مطلقہ عورتوں کے لیے بھی ہے جن کو رجعی طلاق دی گئی ہو یا تیسری مرتبہ یعنی تیسرے موقع پر طلاقِ مغلظہ دی گئی ہو۔ ان سب مطلقہ عورتوں کے لیے ان کی عدت تک سُکنیٰ( رہائش) اور نفقہ( خرچ) کی ذمہ داری شوہر پر عائد ہوتی ہے۔ یہ بات اس پہلو سے بھی صحیح معلوم ہوتی ہے کہ جب عدت ختم ہونے سے پہلے عورت دوسرا نکاح کرنے کے لیے آزاد نہیں ہے تو عدت پوری ہونے تک اس کی رہائش اور نفقہ کا کون ذمہ دار ہو گا۔ شوہر کو جس نے نکاح کے معاہدہ کو توڑا ہے اس کا ذمہ دار ہونا چاہیے۔

لیکن علماء اور فقہاء کا ایک گروہ اس بات کا قائل ہے کہ اس مطلقہ کے لیے جس کو تیسری مرتبہ طلاق دی گئی ہو اور وہ حاملہ نہ ہو نہ سُکنیٰ ہے اور نہ نفقہ۔ ان کا استدلال فاطمہ بنتِ قیس کی حدیث سے ہے جس میں وہ فرماتی ہیں کہ میرے شوہر نے مجھے تیسری اور آخری مرتبہ کی طلاق دی تھی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سُکنیٰ اور نفقہ کا مسئلہ پیش کیا لیکن آپ نے مجھے نہ سکنیٰ دلوایا اور نفقہ بلکہ فرمایا کہ تم ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارو۔(مسلم کتاب الطلاق)

واقعہ یہ ہے کہ فاطمہ بنتِ قیس کے شوہر اپنے گھر میں موجود نہیں تھے بلکہ سفر پر تھے اور یمن سے انہیں طلاق بھجوا دی تھی اور جیسا کہ دوسری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے (فاطمہ بنت قیس خود وہاں قیام کرنا نہیں چاہتی تھیں اس لیے آپ نے انہیں ایک محفوظ جگہ منتقل ہونے کی ہدایت کی۔ رہا نفقہ تو شوہر نے اپنے وکیل کے ذریعہ غلہ بھجوایا تھا لیکن فاطمہ بنت قیس نے اسے ناکافی خیال کرتے ہوئے زیادہ کا مطالبہ کیا تھا مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید نفقہ نہیں دلوایا جس کی وجہ ممکن ہے شوہر کی غیر موجودگی رہی ہو یا جو غلہ اس نے بھیجا تھا اس کو کافی خیال کر لیا گا ہو۔ بہر حال آپ نے ان کے مسئلہ کا عملی حل نکالا اور وہ نہ صرف یہ کہ انہیں ابن ام مکتوم کے گھر جو نابینا تھے منتقل ہونے کا حکم دیا بلکہ عدت گذارتے ہی ان کا نکاح اُسامہ بن زید سے کرا دیا مگر فاطمہ بنت قیس اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتی تھیں کہ اس مطلقہ کے لیے جسے تیسری مرتبہ طلاق دی گئی ہو نہ سُکنٰی ہے اور نہ نفقہ۔ یہ روایت بالمعنی تھی۔ (یعنی الفاظ محفوظ نہیں رکھے گئے تھے ) اور قرآن سے مطابقت نہیں رکھتی تھی اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی اس روایت کو قبول نہیں کیا اور فرمایا:

لَانتْرُکُ کِتَابَ اللّٰہِ وَسُنۃَ نَبِینَا صَلَی اللّٰہُ عَلَیہِ وسَلَّمَ لِقَوْلِ امْرَأۃٍ لاَنَدْرِیْ لَعَلَّہَا حَفِظَتْ اَوْنَسِیتْ لَہَا السُّکنٰی وَالنَّفَقَۃُ قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لاَ تُخْرِجُوْ ہُنَّ وَلاَیخْرُجْنَ اِلاَّ اَنْ یاْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبِینَۃٍ (مسلم کتاب الطلاق)

’’ ہم اللہ کی کتاب اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ایک عورت کے کہنے پر نہیں چھوڑیں گے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس نے حدیث کو محفوظ رکھا یا اس سے بھول ہوئی۔ مطلقہ(بائنہ) کے لیے سُکنیٰ بھی ہے اور نفقہ بھی۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے انہیں اپنے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ اپنے گھروں سے نکلیں الا یہ کہ وہ کھلی بے حیائی کی مرتکب ہوں۔‘‘

اسی طرح حضرت عائشہ نے بھی ان کی روایت پر گرفت کی۔ بخاری میں ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا:

اَمَّا اَنَّہٗ لَیسَ لَہَا خَیرٌ فِیْ ذِکْرِ ہٰذَا الْحَدِیثِ۔ ’’ اس حدیث کو بیان کرنے میں اس کے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے۔‘‘

نیز فرمایا۔

اِنَّ فَاطِمَۃَ کاَنَتْ فِیْ مَکَانٍ وَحْشٍ فَخَیفَ عَلٰی نَا حِیتَہا فَلِذٰالِک اَرْخَصَ لَہَا اَلنَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ  عَلیہِ وَ سَلَّمَ۔ ’’ فاطمہ ایک ویران جگہ پر تھی اس لیے اندیشہ محسوس کیا گیا اس بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منتقل ہونے کی اجازت دی۔‘‘

اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے حافظ ابن حجر لکھتے ہیں کہ سُکنٰی ( رہائش کا انتظام) بذاتِ خود ساقط نہیں ہوا تھا بلکہ مذکورہ سبب سے ساقط ہوا تھا لیکن فاطمہ بنتِ قیس مطلقہ بائنہ کے سُکنٰی اور نفقہ کو ساقط قرار دیتی تھیں اس لیے حضرت عائشہ نے اس کی تردید کی( فتح الباری ج ۹ ص ۳۹۶) حضرت عمر کے اس ارشاد سے کہ ہم اپنے نبی کی سنت کو نہیں چھوڑیں گے واضح ہوتا ہے کہ مطلقہ کے لیے خواہ اسے طلاق بائن ہی کیوں نہ دی گئی ہو اس کی رہائش کا انتظام کرنے اور اس کو نفقہ دینے کا طریقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے چلا آ رہا تھا۔ بالفاظ دیگر یہ سنت تقریری ہے اور قرآن کی آیت کہ ’’ انہیں ان کے گھروں سے  نہ نکالو۔‘‘ کے مفہوم میں یہ شامل ہے اس لیے حضرت عمر نے فاطمہ بنتِ قیس کی حدیث کو قبول نہیں کیا۔ خلیفہ راشد کے اس طرز عمل سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ قبول حدیث کے لیے محض راوی کا بیان کافی نہیں ہے بلکہ اس کا قرآن و سنت کے خلاف نہ ہونا بھی ضروری ہے۔

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔  وضعِ حمل کے بعد عدت ختم ہو جاتی ہے اور عورت کے نفقہ کی کوئی ذمہ داری اس کے سابق شوہر پر نہیں رہتی لیکن بچہ کو دودھ پلانے کی اجرت اسے ادا کرنا ہو گی۔ اجرت کا یہ معاملہ بھلے طریقے پر دونوں آپس کے مشورے سے طے کرسکتے ہیں تاکہ کسی کو شکایت کا موقع نہ ملے۔

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔  لیکن اگر مطلقہ عورت اپنے بچے کو دودھ نہ آنے یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے دودھ نہ پلاسکتی ہو یا اتنی اجرت طلب کرے کہ مرد ادا کرنے سے قاصر ہو تو اس قسم کی کسی دشواری کے پیدا ہونے کی صورت میں کسی دوسری عورت سے دودھ پلایا جاسکتا ہے۔

اس زمانہ میں پاؤڈر کے دودھ کا رواج بچوں کے لیے عام ہو گیا ہے۔ اس لیے کسی اور عورت سے دودھ پلانے کی نوبت نہیں آتی۔

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔  اس کا تعلق دودھ پلانے کی اجرت کی ادائیگی سے بھی ہے۔ اور عدت میں عورت کے نفقہ کی ادائیگی سے بھی۔ مرد کا جو معیار ہو اس کے مطابق وہ خرچ کرے۔ نہ تو صاحب حیثیت محض اس بنا پر کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہے خرچ کرنے میں بخیلی کرے اور نہ اس سے یہ مطالبہ ہے کہ وہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرے۔ اللہ کسی پر اس کی حیثیت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتا۔

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی کیا عجب کہ تقویٰ اور انصاف کی روش کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ مرد کی تنگی کو وسعت میں تبدیل کر دے۔ اللہ سے بہر حال خیر ہی کی امید رکھنا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر وقت حالات یکساں نہیں رہتے۔ خشک ہواؤں کے بعد رحمت کی خوشخبری دینے والی ہوائیں بھی چلنے لگتی ہیں۔

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ مسلمانوں کو سخت تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نے اللہ کے احکام کی نافرمانی کی تو یاد رکھیں کہ سرکش قوموں کا کیا حال ہوا۔ سرکش قوموں سے اشارہ۔ عاد،ثمود، قوم لوط اور قومِ فرعون کی طرف ہے۔ یہ سخت تنبیہ مسلمانوں کو طلاق کے احکام دینے کے بعد کی گئی ہے۔ اگر مسلمان اپنی گھریلو زندگی میں اللہ کے احکام کی پروانہ کریں تو وہ اجتماعی زندگی میں اس کے احکام کی کیا پروا کریں گے۔ نتیجہ یہ کہ انفرادی زندگی کا فساد  بڑھتے بڑھتے اجتماعی زندگی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے پھر جب اجتماعی زندگی فساد سے بھر جاتی ہے تو اس سوسائٹی پر قہرِ الٰہی ہی نازل ہوتا ہے۔

طلاق سے متعلق ان واضح احکام اور ان تنبیہات کے باوجود جو اس سورہ میں دی گئی ہیں بہ کثرتِ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ طلاق دینے کے معاملہ میں ان احکام کی کھلی خلاف ورزی کر رہے ہیں بیوی کو یک لخت تین طلاقیں دے کر چھوڑ دینا، اسے تنگ کرنا اور گھر سے نکال دینا ان کا شیوہ بن گیا ہے۔ اور ان سے بھی دو قدم آگے وہ آزاد خیال مسلمان ہیں جو طلاق کا اختیار مرد کے ہاتھ سے چھین کر کورٹ کو دینا چاہتے ہیں یا پھر تفویض طلاق کے فقہی جزیہ کا سہارا لے کر نکاح کے وقت ہی عورت کو یہ اختیار دینا چاہتے کہ وہ جب چا ہے اپنے اوپر طلاق عائد کرسکتی ہے۔ اس طرح وہ معاشرہ کی اصلاح کے بجائے شریعت کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اسلام سے ان کا کھلا انحراف ہے اور اس انحراف کا دنیا میں بھی برا انجام ہے اور آخرت میں بھی۔ کاش کہ مسلمان ہوش میں آئیں !

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی دنیا میں ان کا جو انجام ہوا ہو آخرت میں ان کے لیے اللہ نے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ایمان لا کر تم نے عقل مندی کا ثبوت دیا ہے اور عقلمندی کی بات یہ ہے کہ ایمان لانے کے بعد اللہ سے ڈرتے ہوئے زندگی گزاری جائے اور کوئی کام تقویٰ کے خلاف نہ کیا جائے۔

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔  مراد قرآن ہے جو یاد دہانی اور نصیحت ہے۔

۳۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اس یاددہانی ( قرآن) کے ساتھ ایک ایسا رسول بھیجا ہے جو قرآن کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان لوگوں کو جو ایمان لا کر نیکی کی روش اختیار کرتے ہیں جہالت اور معصیت کی تاریکیوں سے نکال کر علم اور نیکی کی روشنی میں لاتا ہے۔اس طرح ان کی پوری پوری رہنمائی کر رہا ہے۔

۳۲۔۔۔۔۔۔۔۔  اس سورہ کے مضمون سے بالکل واضح ہے کہ نیک عمل کرنے میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا۔ اس کے احکام پر عمل کرنا اور گھریلو زندگی میں اس کی ہدایت کی پابندی کرنا شامل ہے۔ ایسے ہی لوگوں کو اس آیت میں جنت کی بشارت دی گئی ہے۔

۳۳۔۔۔۔۔۔۔۔  اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ایمان اور عمل صالح کی زندگی گذارنے والوں کو اگر دنیا میں تنگ رزق ملے تو فکرکی کوئی بات نہیں اللہ نے ان کے لیے جنت میں بہترین رزق مہیا کر رکھا ہے۔

۳۴۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ سورہ کے خاتمہ کی آیت ہے اور اس میں کائنات کے ایک اہم راز پر سے پردہ اٹھایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ کائنات اس آسمان اور اس زمین تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پہلا آسمان ہے جسے ہم اپنے اوپر دیکھ رہے ہیں۔ اس طرح سات آسمان اللہ تعالیٰ نے بنائے ہیں۔ اور جس طرح آسمانِ دنیا کے نیچے زمین ہے اسی طرح دوسرے آسمانوں کے نیچے بھی زمینیں ہیں لیکن یہ زمینیں ہماری زمین سے کافی مختلف ہیں۔ اسی لیے فرمایا من الارض یعنی از قسم زمین۔ ان زمینوں کی جو ہمارے لیے غیر مرئی ہیں ( دیکھی نہیں جاسکتیں ) نوعیت اللہ ہی کو معلوم ہے۔ ہمارے پاس ان کے معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے اور سائنس کی رسائی اس خول سے باہر نہیں ہے جس میں ہم رہتے ہیں یعنی یہ زمین اور اس کے اوپر کا پہلا آسمان۔ مرغی کا چوزہ جب تک انڈے کے اندر رہتا ہے اس کے لیے دنیا ہی ہوتی ہے۔ وہ جب اس خول سے باہر آتا ہے تو ایک وسیع دنیا میں آنکھیں کھولتا ہے۔ اسی طرح ہم اس زمین و آسمان کے خول میں بند ہیں لیکن اللہ کی کائنات اس حد تک محدود نہیں ہے۔ وحی الٰہی نے ہم پر اس راز کا انکشاف کیا ہے کہ وہ نہایت وسیع ہے۔ یکے بعد دیگرے ایسے سات عالم ہیں۔ ان عالموں میں کیا کچھ ہے اس سے ہم واقف نہیں ہیں اور نہ ہمارے پاس اس کے جاننے کا کوئی ذریعہ ہے اور قرآن کا مقصود محض معلومات میں اضافہ کرنا نہیں ہے بلکہ کائنات کے وسیع تصور کو پیش کر کے اللہ کی وسیع قدرت کا احساس پیدا کرنا ہے۔

۳۵۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ان ساتوں آسمانوں اور زمینوں پر اللہ کا اقتدار قائم ہے اور اس کے احکام ان سب کے اندر نازل ہوتے رہتے ہیں۔ اور یہ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ ان عالموں میں کس طرح کی مخلوق ہے اور وہاں کس قسم کے احکام نازل کئے جاتے ہیں۔

۳۶۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی کائنات کے ایک اہم راز کا انکشاف تم پر اس نے کیا گیا تاکہ تم اللہ کی قدرت اور اس کے علم کا صحیح تصور قائم کرسکو جس ہستی کی قدرت اتنی وسیع ہے اور جس کا علم بحر بے کراں ہے اس کا دین اور اس کی شریعت ہی انسان کے لیے لائق اتباع ہو سکتی ہے اور اس کی رضا مندی کی راہ اختیار کر کے ہی آدمی نہال ہو سکتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

(۶۱)۔ سورۂ الصف

 

(۱۴ آیات)

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

آیت ۴ میں اللہ کی راہ میں صف بستہ ہو کر لڑنے والوں کا ذکر ہوا ہے۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام ” الصف” ہے۔

 

زمانہ نزول

 

مدنی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگِ احد کے بعد ۳ ۰؁ھ میں نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے پر ابھارنا ہے۔

 

نظمِ کلام

 

پہلی آیت تمہیدی ہے جس میں آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کے اللہ کی تسبیح میں زمزمہ سنج ہونے کا ذکر ہے۔

آیت ۲ تا ۴ میں ان مسلمانوں پر گرفت ہے جو اپنے قول پر عمل نہیں کرتے اور اپنے عہد کو پورا نہیں کرتے اور ان مسلمانوں کی تعریف ہے جو منظم ہو کر اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور وفائے عہد کا ثبوت دیتے ہیں۔

آیت ۵ اور ۶ میں مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ یہود کے نقشِ قدم پر نہ چلیں جنہوں نے اپنے پیغمبر کو اذیت دی اور کجروی( ٹیڑھ پن) اختیار کی جس کے نتیجہ میں ان کے دل ٹیڑھے ہو کر رہ گئے۔ پھر انہوں نے اپنے ہی درمیان سے اٹھنے والے ایک ایسے رسول کا انکار کیا جس کا ظہور کھلے معجزات کے ساتھ ہوا تھا۔

آیت ۷ تا ۹ میں اسلام کی مخالفت کرنے والوں کو متنبہ کرتے ہوئے اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ کا نور پورا ہو کر رہے گا اور اس کا دین تمام ادیان پر غالب آ کر رہے گا خواہ کفار اور مشرکین کو کتنا ہی ناگوار ہو۔

آیت ۱۰ تا ۱۳ میں مسلمانوں کو ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور اس کی اخروی جزاء بھی بیان کی گئی ہے نیز نصرت و فتح کی خوشخبری بھی دی گئی ہے۔

آیت ۱۴ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مخلص ساتھیوں کی مثال پیش کر کے اہل ایمان کو اللہ کے مددگار ( یعنی اس کے دین کے مددگار) بننے کی دعوت دی گئی ہے۔

 

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔ اللہ کی تسبیح کرتی ہیں آسمانوں اور زمین کی تمام چیزیں۔ ۱* اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔

۲۔۔۔۔۔۔ اے ایمان والو! ۲* تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ! ۳*

۳۔۔۔۔۔۔ اللہ کے نزدیک یہ بات سخت نا پسندیدہ کہ تم کہو وہ بات جو کرو نہیں۔۴*

۴۔۔۔۔۔۔ اللہ تو ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ ۵*

۵۔۔۔۔۔۔ اور یاد کرو موسیٰ نے جب اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم کے لوگو! مجھے کیوں اذیت دیتے ہو حالانکہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔۶* پھر جب وہ ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دیئے۔۷* اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔۸*

۶۔۔۔۔۔۔ اور جب عیسیٰ بن مریم نے کہا کہ اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔۹* اور تورات میں سے جو کچھ میرے سامنے موجود ہے اس کی تصدیق کرنے والا ہوں۔۱۰* اور خوشخبری دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا۔ اس کا نام احمد ہو گا۔ ۱۱* تو جب وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا یہ تو صریح جادو ہے۔ ۱۲*

۷۔۔۔۔۔۔ اور اس سے بڑا ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے حالانکہ اس کو اسلام کی طرف بلایا جا رہا ہو ۱۳*؟ اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔۱۴*

۸۔۔۔۔۔۔ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں مگر اللہ اپنے نور کو مکمل کر کے رہے گا خواہ کافروں کو ناگوار ہو۔۱۵*

۹۔۔۔۔۔۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے اگرچہ مشرکوں کو ناگوار ہو۔۱۶*

۱۰۔۔۔۔۔۔ اے ایمان والو! کیا میں تمہیں وہ تجارت بتاؤں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچائے۔ ۱۷*

۱۱۔۔۔۔۔۔ ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر۔ ۱۸* اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے ۱۹* یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔

۲۰(۱۲۔۔۔۔۔۔ وہ تمہارے گناہ بخش دے گا۔ ۲۱* اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور عمدہ مکانوں میں۔ ۲۲* جو جاودانی باغوں میں ہوں گے۔ ۲۳* یہ ہے بڑی کامیابی۔ ۲۴*

۱۳۔۔۔۔۔۔ اور دوسری چیز بھی جو تم چاہتے ہو اللہ کی طرف سے نصرت اور عنقریب حاصل ہونے والی فتح۔ ۲۵* اور( اے نبی!۔۔۔۔۔۔ مومنوں کو اس کی بشارت دے دو۔

۱۴۔۔۔۔۔۔ اے ایمان والو! اللہ کے مددگار بنو ۲۶* جس طرح عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا تھا کون ہیں اللہ کی راہ میں میرے مددگار؟ حواریوں نے جواب دیا تھا ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ ۲۷* تو بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور دوسرے گروہ نے کفر کیا۔ ۲۸* تو ہم نے ایمان لانے والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی اور وہ غالب ہو گئے۔ ۲۹*

 

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔   اس کی تشریح سورۂ حدید نوٹ ۱  میں گزر چکی۔

۲۔۔۔۔۔۔   خطاب عام مسلمانوں سے ہے اگرچہ اصل مخاطب کمزور کردار کے لوگ ہیں۔

۳۔۔۔۔۔۔   یہ سوال اس بات کا احساس دلانے کے لیے ہے کہ آدمی جو کہے وہی کر دکھائے۔ اگر ایک کام کرنا نہیں ہے تو اس کا اظہار و اعلان کیوں کرے۔ یہ بات اگرچہ عمومیت کے ساتھ کہی گئی ہے جس میں وعدہ خلافی اور عہد شکنی جیسی چیزیں بھی شامل ہیں لیکن خاص طور سے اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جو کہتے تھے کہ اگر کافروں سے جنگ کا موقع ہمیں مل گیا تو ہم مردانہ وار لڑیں گے لیکن جب اس طرح کے مواقع پیش آنے لگے تو بے دریغ لڑنے سے جی چرانے لگے۔

۴۔۔۔۔۔۔   یعنی اللہ کی نظر میں ایسے لوگ مبغوض ہیں جو قول و عمل کے تضاد میں مبتلا ہوں جو لوگ صرف باتوں کے دھنی اور گفتار کے غازی ہوتے ہیں ان کی کوئی وقعت اللہ کی نظر میں نہیں ہے۔ قول و عمل میں مطابقت ضروری ہے۔ اسلام کے نزدیک ’’قوالی‘‘ کی نہیں بلکہ ’’ فعالی‘‘ کی اہمیت ہے۔ لفاظی اور کسی کام کے بلند بانگ دعوے کرنا اور پھر پھسڈی ہونا سخت مذموم حرکت ہے۔

۵۔۔۔۔۔۔   یعنی اللہ کو با کردار لوگ پسند ہیں جو متحد اور منظم ہو کر اس کی راہ میں جہاد کریں اور جان کی بازی لگا دیں۔ جنگ میں دشمن کے مقابلہ کے لیے صف آرائی اپنی قوت اور اپنے عزم کا اظہار ہے نیز یہ اس بات کا اہتمام بھی ہے کہ دشمن مسلمانوں کی صفوں میں گھسنے نہ پائے۔

اللہ کی راہ میں لڑنے والے وہی لوگ ہو سکتے ہیں جن کی جنگ خالصۃً دین حق کی سربلندی اور رضائے الٰہی کے حصول کے لیے ہو۔مسلمانوں کی وہ جنگیں جو دنیوی اغراض کے لیے ہوتی ہیں جہاد فی سبیل اللہ کی تعریف میں نہیں آتیں۔

۶۔۔۔۔۔۔  بنی اسرائیل اس بات کو جاننے کے باوجود کہ حضرت موسیٰ اللہ کے رسول ہیں۔ انہیں اذیت دیتے رہے جس کی متعدد مثالیں قرآن میں بیان ہوئی ہیں۔ جہاد کے تعلق سے انہوں نے موسیٰ کو جو اذیت دی اس کا ذکر سورۂ مائدہ میں ہوا ہے۔ جب حضرت موسیٰ نے ان سے ارضِ مقدس میں داخل ہونے کا حکم دیا تو انہوں نے جواب دیا کہ وہاں زبردست لوگ رہتے ہیں اس لیے جب تک وہ وہاں سے نکل نہیں جاتے ہم وہاں داخل نہیں ہوں گے اور پھر یہاں تک کہہ گزرے کہ:

فَاِذْہَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلاَ اِنَّا ہٰہُنَا قَاعِدُوْنَ” تم اور تمہارا رب دونوں جاؤ اور لڑو ہم تو یہاں بیٹھے رہیں گے۔”( مائدہ : ۲۴)

بنی اسرائیل کی اس اذیت دہی کی طرف اشارہ کرنے سے مقصود نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پیروؤں کو اس بات کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ وہ اپنے رسول کے ساتھ اذیت کا رویہ اختیار نہ کریں بلکہ آپ کی قیادت پر کامل اعتماد کرتے ہوئے سر فروشی کے ساتھ جنگ لڑیں۔

۷۔۔۔۔۔۔  جو شخص سیدھا دین پسند نہیں کرتا اور ٹیڑھی باتیں کرنے لگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے دل میں ٹیڑھ پیدا کر دیتا ہے پھر اس کے ذہن کا سانچہ ہی ٹیڑھا ہو کر رہ جاتا ہے اور وہ بالکل غلط راہ پر جا پڑتا ہے۔ اسی لیے اہل ایمان کو یہ دعا کرنے کی ہدایت ہوئی کہ :

رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْہَدَیتَنَا۔(آل عمران۔۸) ” اے ہمارے رب! جب تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کجی پیدا نہ کر۔”

۸۔۔۔۔۔۔  یعنی جو لوگ نافرمان بنے رہنا چاہتے ہیں ان پر ہدایت کی راہ نہیں کھلتی۔ ہدایت اسی کو ملتی ہے جو اس کا طالب اور قدر داں ہو۔

بنی اسرائیل نے جب جہاد کے حکم کی صریح خلاف ورزی کی تو انہیں فاسق قرار دیا گیا۔(ملاحظہ ہو سورۂ مائدہ آیت ۲۵ اور ۲۶)

۹۔۔۔۔۔۔  تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ آل عمران نوٹ ۷۲۔

۱۰۔۔۔۔۔۔  تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ آل عمران نوٹ ۷۴۔

“تورات میں سے جو کچھ میرے سامنے موجود ہے۔”کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ تورات اپنی اصل شکل میں مکمل طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی موجود نہیں تھی بلکہ اس کے اجزاء موجود تھے اس لیے اس کے جو اجزاء موجود تھے ان کی آپ نے تصدیق فرمائی۔

۱۱۔۔۔۔۔۔  یہ آخری رسول( حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم) کے بارے میں بہت واضح پیشین گوئی ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اور چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری رسول تھے جن کے بعد بنی اسمٰعیل میں خاتم النبین کی بعثت ہونے والی تھی اس لیے اس کی بشارت دینے کا کام اللہ تعالیٰ نے خاص طور سے ان کے سپرد کیا تھا۔ انہوں نے واضح طور پر دنیا کو خوشخبری دی کہ آنے والا نبی کس شان کا ہو گا۔

پیشین گوئیاں خواہ کسی قسم کی ہوں بالعموم اشاروں اور کنایوں میں بیان ہوئی ہیں اور اگر کوئی پیشین گوئی کسی بنی سے متعلق ہے تو اس کے اصل نام کے بجائے اس کا وصفی نام بیان ہوا ہے ( سوائے حضرت یحییٰ کے ) تاکہ یہ وصف اس کی نبوت پر دلیل ہو۔

اَحْمَدْ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا دوسرا نا م تھا چنانچہ حدیث میں آتا ہے :

عَنْ جُبَرِ بن مُطْعَمْ اَنَّ النَّبیَ صلّی اللّٰہ علیہ و سلم قال: اَنَا مُحَمَّدٌ وَاَنَا اَحْمَدُ۔۔۔۔۔۔ ) ” جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں۔۔۔”(مسلم کتاب الفضائل)

لفظ احمد حمد سے ہے اور اس نام کی تشریح امام راغب نے اس طرح کی ہے :

فَاَحْمَدُ اِشَارَۃٌ اِلی النَّبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بِاِسْمِہٖ وَ فِعْلِہٖ تَنْبِے ہًا اَنَّہٗ کَمَا رُجِدَ اِسْمُہٗ اَحْمَدُ ے وْجَدُ وَہُوَ مَحْمُوْدٌ اَخَلاَقِہٖ وَاَحْوَالِہٖ”  احمد کا اشارہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے نام اور سیرت کی طرف ہے اور اس بات سے با خبر کرنا مقصود ہے کہ آپ اسم با مسمیٰ ہوں گے یعنی اپنے اخلاق و کردار میں محمود ( قابلِ تعریف) ہوں گے۔(مفردات ص۱۳۰)

اس لفظ کے دوسرے معنی بہ کثرت حمد کرنے والے کے ہیں ( احمد حامد سے اَفعل  التفضیل کا صیغہ ہے ( نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جس کثرت سے اللہ کی حمد کی ہے ، جس شرح و بسط کے ساتھ اس کی صفاتِ محمودہ کو پیش کیا۔ نماز کا آغاز جس طرح حمد(سورۂ فاتحہ) سے فرمایا۔ حمد و تسبیح پر مشتمل اذکار کا جو خزانہ امت کو عطا کیا، اور حمد و ستائش سے جس طرح فضاؤں کو بھر دیا وہ آپ کا طرۂ امتیاز ہے اور آپ کے احمد ہونے کا واضح ثبوت ہے۔

آپ کا یہ اسم گرامی معروف رہا ہے چنانچہ دربارِ نبوی کے شاعر حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا شعر ہے :

صَلَّی الْاِلٰہُ وَمَنْ ے حُفُّ بَعَرْشِہٖ

وَالطَّے بُوْنَ عَلَی الْمُبَارَکِ اَحْمَدَ

” اللہ اور عرش کے گرد رہنے والے فرشتے اور پاکیزہ لوگ مبارک ذاتِ محمد پر درود بھیجتے ہیں۔”

جہاں تک موجودہ انجیلوں میں “مرقس” لوقا اور یوحنا کا تعلق ہے وہ عیسیٰ علیہ السلام کے حالات اور ان کی تعلیمات کو ناقص شکل میں پیش کرتی ہیں۔ کیونکہ ان مؤلفین نے ان کو عیسیٰ علیہ السلام کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے کئی سال بعد مرتب کیا تھا اور یہ مرتب سوائے متی کے عیسیٰ علیہ السلام کے حواری نہیں تھے کہ انہوں نے ان سے براہِ راست سنا ہو۔ اس لیے یہ انجیل نہیں ہے جو عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی البتہ اس کے کچھ اجزاء اس میں ضرور موجود ہیں مگر وہ اپنی اصل شکل میں نہیں۔ بنی اسرائیل کی مذہبی زبان عبرانی رہی ہے اور تورات اور دیگر صحیفے عبرانی میں موجود ہیں۔ گو تحریف شدہ شکل میں لیکن انجیل عبرانی میں موجود نہیں ہے۔ موجودہ انجیلیں یونانی(Greek) زبان سے ترجمہ شدہ ہیں اور پھر ترجمہ در ترجمہ ہونے کی وجہ سے بات اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ گئی ہے۔ پھر یہ کتابیں خود بھی اس بات کا دعویٰ نہیں کرتیں کہ وہ لفظاً لفظاً وحی الٰہی ہیں بلکہ ان میں واقعات نگاری کا اسلوب بالکل واضح ہے۔ بائبل کا شارح خود اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ جیسا کہ لوقا کی انجیل میں بیان ہوا ہے واقعات نگاری اس کا مقصد ہے اور اس میں اس کے الہامی ہونے کا کہیں دعویٰ نہیں کیا گیا ہے :

The motive and method of the writing of a gospel are described in the prologue of the Gospel of Luke, without any claim to inspiration, the writer set out to get the best information that he could and to use the previous attempts which had been made. The narrative was not designed to be sacred scripture. It was a record of events wherein the sacred scriptures were fulfilled.

Peake’s Commentary on the Bible-London 1962 P.4

تاہم موجودہ انجیلوں میں آنے والے رسول کے بارے میں واضح اشارات ملتے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر ہی منطبق ہوتے ہیں : مثلاً

” اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔”( یوحنا۔۱۴:۳۰)

” لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مددگار تمہارے پاس نہ آئے گا۔”(یوحنا ۱۶:۷)

“مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہیں مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے۔ لیکن جب وہ یعنی روحِ حق آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔ اس لیے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔” (یوحنا ۱۶:۱۲۔۱۳)

انجیل کے اردو ترجمہ میں “مددگار” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے لیکن ابن ہشام نے صراحت کی ہے کہ یوحنا کی جو انجیل سریانی زبان میں ہے اس میں لفظ منحَمنّا استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں ” محمد”( ابن ہشام ج ۱ ص ۲۵۱)

اور انجیل متّی میں آخری نبی کے بارے میں اس طرح پیشین گوئی ہے :

” یسوع نے ان سے کہا کیا تم نے کتابِ مقدس میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا۔ یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دیدی جائے گی۔ اور جو اس پتھر پر گرے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا لیکن جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا۔”( متّی ۲۱:۵۲ تا ۴۵)

رہی انجیل بَرنا باس (Barnabbas) تو اس میں نام کی صراحت کے ساتھ پیشین گوئی موجود ہے :

“یسوع نے جواب دیا یقین کر برنا باس۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خدا کی مشیت ہوئی کہ دنیا میں لوگ یہوواہ کی موت پر میری ہنسی اڑا لیں اور سب لوگ یہی جانیں کہ میں صلیب پر مرا اور یہ ہنسی اڑتی رہے گی جب تک محمد ، خدا کا رسول نہ آ جائے کہ وہ جب آئے گا تو اس فریب کو ان پر فاش کرے گا جو خدا کی شریعت پر ایمان لائیں۔”( باب ۲۲۰)

مگر یہ انجیل کی طرح لائقِ اعتماد نہیں ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت سورج سے زیادہ روشن ہے آپ کی نبوت کو ثابت کرنے کے لیے کمزور دلیلوں کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ انجیل برنا باس کی پیشین گوئیاں عیسائیوں کے لیے حجت نہیں بن سکتیں۔ کیونکہ وہ اسے مستند نہیں مانتے۔ اس انجیل کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کو کسی مسلمان نے مرتب کر کے برنا باس کی طرف منسوب کیا ہے۔ اس کے جعلی ہونے پر مبسوط بحث کی ضرورت ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں۔ اس لیے مختصراً چند باتیں پیش کی جاتی ہیں :

۱) برنا باس کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں سے ہونا ثابت نہیں ہے۔ بائبل کی کتاب ” اعمال”(Acts) سے پتہ چلتا ہے کہ وہ پال(Paul) کے ساتھ تبلیغ کے لیے انطاکیہ گیا تھا( اعمال ۱۵:۲۲) مگر اس کے حالات نا معلوم ہیں۔

۲) برنا باس نے اپنی کتاب کے آغاز میں اس کے لکھنے کی غرض یہ بیان کی ہے کہ پولَس جو فاسد عقائد پھیلا رہا ہے اس کی تردید کی جائے اور سچی باتیں سامنے لائی جائیں لیکن کتاب کے آخر میں لکھتا ہے کہ یسوع نے اس سے کہا :

“دیکھ برنا باس، تو ضرور بالضرور میری انجیل لکھنا۔”(باب: ۲۲۱)

اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے برنا باس کو انجیل لکھنے کا پہلے ہی حکم دیا تھا تو پھر اسے اول روز ہی یہ کام کرنا چاہیے تھا۔  اور اس کتاب کے لکھنے کی غرض بھی یہی بیان کرنا چاہیے تھی مگر وہ پال کے فاسد عقائد کے پھیلنے تک خاموش رہا۔

۳) انجیل برنا باس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا صرف ایک نسخہ جو اطالوی زبان میں تھا پوپ سکٹس (Sixtus۱۵۹۰۔ ۱۵۸۵)۔ کے کتب خانہ میں موجود تھا اور اٹھارویں صدی عیسوی کے اوائل میں وہ منظر عام پر آیا۔ اگر یہ واقعۃً  برنا باس کی لکھی ہوئی انجیل ہے تو وہ اصلاً کس زبان میں تھی اور پوری دنیا اس سے کس طرح بے خبر رہی؟

۴) اس انجیل میں حضرت مریم کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ جب وہ حاملہ ہو گئیں تو اس ڈر سے کہ کہیں وہ زنا کے الزام میں سنگسار نہ کر دی جائیں اپنے لیے اپنی ہی برادری کا ایک ساتھی چن لیا جس کا نام یوسف تھا( باب ۲)

یہ بات قرآن کے بیان کے صریح خلاف ہے اور حضرت مریم کے کردار کو بھی مشکوک بنا دیتی ہے۔ وہ تو پیکر عفت تھیں۔ اور اللہ پر ان کا توکل غیر معمول تھا پھر وہ کیوں اپنے کو ایک ایسے شخص کی طرف جو اس کا شوہر نہیں تھا منسوب کرتیں ؟

۵) اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایک معجزہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایک دعوت کے موقع پر پانی کو شراب بنا دیا تھا۔ (باب ۱۵) کیسی لغو بات ہے جو حضرت عیسیٰ کی طرف منسوب کی گئی ہے !

۶) اس میں انبیاء کی تعداد حضرت عیسیٰ کی زبانی ایک لاکھ چوالیس ہزار بیان کی گئی ہے۔( باب ۱۷)

ایسی ہی بات ضعیف حدیث میں بیان ہوئی ہے اور معلوم ہوتا ہے یہ اسی سے ماخوذ ہے۔

اسی باب میں آگے چل کر بیان ہوا ہے کہ ایلیاہ کے وقت میں ایزبل نے دس ہزار نبی قتل کئے۔ یہ صریح مبالغہ ہے۔ بہ ایک وقت اتنی بڑی تعداد میں نبیوں کے بھیجے جانے کے لیے کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔ اس کی تائید نہ قرآن سے ہوتی ہے اور نہ حدیث سے۔

۷) اس میں حضرت عیسیٰ کی طرف یہ قول منسوب کیا  گیا ہے کہ “شیطان جو گویا فرشتوں کا کاہن اور سردار تھا۔”( باب ۲۵)

یہ بات بھی قرآن کے بیان سے ہرگز میل نہیں کھاتی۔

۸) اس میں حضرت آدم کا یہ قصہ بیان ہوا ہے کہ:

“جب آدم اٹھ کھڑا ہوا تو اس نے ہوا میں ایک تحریر دیکھی جو سورج کی طرح چمکتی تھی کہ خدا ایک ہی ہے اور محمد خدا کا رسول ہے۔ اس پر آدم نے اپنا منہ کھولا اور کہا اے خداوند میرے خدا میں تیرا شکر گذار ہوں کہ تو نے میری تخلیق کی تقدیر فرمائی۔ مگر میں منت کرتا ہوں مجھے بتا ان الفاظ کا کیا مطلب ہے۔ ” محمد خدا کا رسول ہے۔”  کیا مجھ سے پہلے اور انسان بھی ہوئے ہیں ؟ تب خدا نے کہا مرحبا اے میرے بندے آدم، میں تجھے بتاتا ہوں کہ تو پہلا انسان ہے جسے میں نے پیدا کیا اور وہ جسے تو نے ( مُندرج) دیکھا ہے تیرا بیٹا ہے جو دنیا میں اب سے بہت سال بعد آئے گا اور میرا رسول ہو گا۔ جس کے لیے تمام چیزیں پیدا کی ہیں )آدم نے خدا کی منت کی کہ خداوند یہ تحریر میرے ہاتھوں کی انگلیوں کے ناخنوں پر درج فرما دے۔ تب خدا نے پہلے انسان کے انگوٹھوں پر یہ تحریر درج کر دی۔ دائیں انگوٹھے کے ناخن پر لکھا تھا خدا ایک ہی ہے اور بائیں انگوٹھے کے ناخن پر لکھا تھا محمد خدا کا رسول ہے۔ تب پہلے انسان نے پدرانہ شفقت سے یہ الفاظ چومے  اور اپنی آنکھیں ملیں اور کہا مبارک ہو وہ دن جب تو دنیا میں آئے۔” (باب ۲۹  اور باب ۴۱) میں بیان ہوا ہے کہ حضرت آدم نے جنت کے پھاٹک پر لکھا ہوا دیکھا۔ “خدا ایک ہی ہے اور محمد اس کا رسول ہے۔”

یہ ایسی ہی باتی ہیں جو ہمارے یہاں موضوع( گھڑی ہوئی ) حدیثوں میں بیان ہوئی ہیں۔

تعجب ہے مولانا مودودی نے ایک ایسی انجیل کو جو مجہول ہے اور میں بے سروپا باتیں اور کلامی بحثیں درج ہیں مستند قرار دیا۔ اور اس پر اعتماد کرتے ہوئے ان پیشین گوئیوں کو نقل کیا جو اس میں بیان ہوئی ہیں۔ فرماتے ہیں :

“اس بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انجیل برنا باس در حقیقت انا جیل اربعہ سے زیادہ معتبر انجیل ہے مسیح علیہ السلام کی تعلیمات اور سیرت اور اس کی صحیح ترجمانی کرتی ہے۔” ( تفہیم القرآن ج۵  ص ۴۷۱)

مگر کسی ایسی کتاب کو جس میں الہامی باتیں بیان کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہو اس کے محض خوش کن پہلوؤں کو دیکھ کر متاثر ہو جانا صحیح نہیں۔ اس کا اثر ہمارے موقف پر پڑتا ہے اور دوسرے مسائل بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔

۱۲۔۔۔۔۔۔  یعنی بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیش کر دہ معجزات کو جادو قرار دیا۔ یہی مضمون سورۂ مائدہ میں بھی بیان ہوا ہے :

وَاِذْ کَفَفْتُ بَنِیْ اِسْرَائِیلَ عَنْکَ اِذْ جِئَتہُمْ بِالْبَینَاتِ فَقَاَ الَّذِینَ کَفَرُوْامِنْہُمْ اِنْ ہَذَا اِلاَّ سَخرٌ مُّبِینٌ  ” اور جب میں نے بنی اسرائیل ( کے ہاتھوں ) کو تم سے روک دیا تھا جب کہ تم ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے اور جو لوگ ان میں سے کافر تھے انہوں نے کہا تھا کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔”(مائدہ: ۱۱۰)

۱۳۔۔۔۔۔۔  یعنی پیغمبرِ قرآن کی دعوت ٹھیٹھ اسلام کی طرف ہے لیکن یہ یہود وغیرہ اپنے جھوٹے مذہبی عقائد کی بناء پر اس کی مخالفت کر رہے ہیں حالانکہ کوئی بھی مذہبی عقیدہ جس کو اللہ کی طرف سے سند حاصل نہ ہو اللہ پر جھوٹ باندھنے کے ہم معنی ہے مثلاً یہود کا یہ دعویٰ کہ رسول بنی اسرائیل ہی میں سے ہو سکتا ہے ، نصاریٰ کا یہ دعویٰ کہ حضرت عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں اور مشرکین کا یہ دعویٰ کہ معبود بہت سے ہیں اور اللہ نے اس شخص( حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم) کو رسول بنا کر نہیں بھیجا ہے۔ یہ اور اس قسم کی دوسری خلاف اسلام باتیں جن کو اہل مذاہب اپنا مذہبی عقیدہ سمجھتے ہیں اور اس بنا پر اسلام کو قبول نہیں کرتے اللہ کی طرف صریح جھوٹ منسوب کرتے ہیں خواہ وہ اللہ کا نام لے کر یہ باتیں کہیں یا نہ کہیں کیونکہ عقیدہ و مذہب کا تعلق لازماً خدا سے ہے۔ تو خدا کے بارے میں جھوٹ بولنا کوئی معمولی جرم نہیں ہو سکتا بلکہ یہ جرم نہایت سنگین ہے۔

۱۴۔۔۔۔۔۔  یعنی جب تک وہ اس ظلم( غلط روی) سے باز نہیں آتے انہیں ہدایت نہیں مل سکتی۔

۱۵۔۔۔۔۔۔  اس کی تشریح سورۂ توبہ نوٹ ۶۴ میں گزر چکی۔

۱۶۔۔۔۔۔۔  تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ توبہ نوٹ  اور سورۂ فتح نوٹ ۵۸۔

۱۷۔۔۔۔۔۔  انسان تجارت اس لئے کرتا ہے تاکہ نفع کمائے مگر یہ نفع عارضی ہوتا ہے جو دنیا ہی تک محدود رہتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں وہ سود ا جو اللہ سے کیا جاتا ہے اور جس میں اپنا قیمتی سرمایہ جان اور مال لگایا جاتا ہے اور جس کے لیے محنت شاقہ کی جاتی ہے حقیقی اور ابدی نفع کا سودا ہے اس کا اولین فائدہ یہ ہے کہ سودا کرنے والا اللہ کے عذاب سے جو نہایت ہی دردناک ہو گا بچ جائے گا اور اسے ابدی کامیابی حاصل ہو گی جو آگے بیان ہوئی ہے۔

اس موقع پر سورۂ توبہ آیت ۱۱۱  اور تشریح نوٹ ۱۹۹ بھی پیش نظر رہے۔

یہ آیت ذہن کو اس بات پر مرتکز کرتی ہے کہ انسان کی زندگی کا اصل مسئلہ اُخروی نجات کا مسئلہ ہے اور اس کا سامان انسان کو اس دنیا میں کرنا چاہیے۔ یہ فکر انسان پر جب تک حاوی نہیں ہو گی وہ دنیوی مسائل ہی میں الجھتا رہے گا اور کامیابی اور ناکامی کے لیے غلط معیار قائم کرے گا۔

۱۸۔۔۔۔۔۔  ایمان والوں کو خطاب کر کے ایمان رکھنے کی یہ ہدایت اس معنی میں ہے کہ اپنے کو مخلص مومن بناؤ اور ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو۔

۱۹۔۔۔۔۔۔  جہاد ایمان کا اہم ترین تقاضا ہے۔ دین کی حفاظت اور اس کی سربلندی کے لیے جب بھی سردھڑ کی بازی لگانے کی ضرورت پیش آ جائے اہلِ ایمان جانی اور مالی قربانیاں دیں اور اس وقت کے حالات میں تو جہاد ناگزیر ہو گیا تھا اور مسجد حرام کو مشرکوں کے تسلط سے آزاد کرانا سب سے بڑی مہم تھی نیز یہ جہاد اللہ کے رسول کی قیادت میں کیا جا رہا تھا اس لیے اس کی اہمیت غیر معمولی تھی۔

۲۰۔۔۔۔۔۔  یعنی اس کا جو بہترین صلہ ملنے والا ہے اس پر اگر تمہاری نگاہ ہے تو تم اس کو اپنے حق میں بہتر ہی خیال کرو گے۔

۲۱۔۔۔۔۔۔  گناہوں کی بخشش بہت بڑا صلہ ہے۔ اگر کسی ایک گناہ پر بھی اللہ تعالیٰ گرفت فرمائے تو انسان کا کیا حال ہو گا مگر جو لوگ اللہ کی راہ میں قربانیاں دیتے ہیں ان کی ان قربانیوں کی قدر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔

۲۲۔۔۔۔۔۔  یعنی پاکیزہ اور بہترین مکان جن کے سامنے دنیا کے مکان ہیچ ہیں۔

کیسے نادان ہیں وہ لوگ جو اپنی دنیا بنانے کے لیے تو “کپڑا مکان اور روٹی ”  کا نعرہ لگاتے ہیں اور اس کے حصول کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں لیکن جہاں ہمیشہ رہنا ہے وہاں کے لیے انہیں کوئی فکر دامن گیر نہیں ہوتی کہ یہ چیزیں وہاں کس طرح حاصل ہوں گی۔ اگر وہ اس مسئلہ پر غور کرتے تو دنیا ہی کو سب کچھ نہ سمجھتے۔

۲۳۔۔۔۔۔۔  یعنی مکان بھی ابدی، باغ بھی ابدی اور مکین بھی ابدی۔

۲۴۔۔۔۔۔۔  یعنی یہ ہے اس تجارت کا اصل نفع کہ مستقبل روشن اور بہترین نعمتوں کے ساتھ جساتِ جاودانی۔ کتنی بڑی اور کیسی شاندار ہے یہ کامیابی!

۲۵۔۔۔۔۔۔  یعنی اس اخروی کامیابی کے علاوہ وہ چیز بھی ملے گی جو تمہیں محبوب ہے یعنی اللہ کی نصرت اور جلد حاصل ہونے والی فتح۔ فتح قریب سے اشارہ ہے فتحِ مکہ کی طرف جس کو جلد حاصل کرنے کے لیے اہل ایمان بے چین تھے۔ اس موقع پر ان مجاہدین کو نصرتِ الٰہی کے ظہور کے ساتھ یہ خوشخبری بھی سنائی گئی کہ مکہ عنقریب فتح ہو گا۔ چنانچہ اس سورہ کے نزول کے بعد بہت جلد مکہ فتح ہوا اور قرآن اور پیغمبر کی صداقت ایسی ثابت ہو گئی کہ اسلام کے کٹر مخالف بھی اس کے قائل ہو گئے۔

۲۶۔۔۔۔۔۔  اللہ کے مدد گار بننے سے مراد اللہ کے دین کے مددگار بننا ہے۔ ظاہر ہے اللہ کسی کی مدد کا محتاج نہیں ہے لیکن وہ ان لوگوں کو جو اس کے دین کی مدد کرتے ہیں اور خاص طور سے صبر آزما حالات میں مدد کرتے ہیں انصار اللہ ( اللہ کے مددگار) کا اعزاز عطا فرماتا ہے تاکہ ان کی قدر افزائی اور حوصلہ افزائی ہو اور ان میں اللہ کی خاطر کام کرنے کا جذبہ ابھرے۔

۲۷۔۔۔۔۔۔  حواری کے معنی مخلص اور بے لوث رفیق کے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب دیکھا کہ ان کی رسالت اور دین کی صحیح دعوت کو پیش کرنا جان جوکھو میں ڈالے بغیر ممکن نہیں ہے تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کو آواز دی کہ کون ہے جو ان حالات میں میری حمایت پر کمربستہ ہوتا ہے اور اللہ کے دین کی بے لاگ تبلیغ کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ انہوں نے جواب دیا ہم ہیں اللہ کے مددگار اور اس مہم کو سر کرنے کے لیے پا بہ رکاب۔ یہ جواب عیسیٰ علیہ السلام کے مخلص ساتھیوں نے دیا تھا جو جواری کہلائے۔ یہاں واقعہ کو بیان کرنے سے مقصود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرووں کو آپ کی حمایت و نصرت اور دین کی دعوت و تبلیغ پر ابھارتا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تلوار سے جہاد کرنے کا موقع نہیں ملا تھا لیکن جن حالات سے آپ کو سابقہ تھا ان میں دین کو اپنی اصل اسپرٹ میں پیش کرنا، ظاہرداری اور رسمی دینداری کے بجائے حقیقی دینداری کی طرف دعوت دینا اور اللہ کے پیغام کو عام کرنا بھی جہاد سے کم نہ تھا۔

آج کے حالات میں بھی دین کی دعوت اور اس کی اشاعت کا کام بے لاگ طور پر اور صحیح ڈھنگ سے انجام دینا، مشرکانہ ماحول میں توحید کو نکھار کر پیش کرنا، بدعات و خرافات نے دین پر جو تہیں جمادی ہیں ان کو کھروچ کر نکالنا تاکہ اسلام اپنی اصل شکل میں سامنے آئے ، باطل افکار کو رد کرتے ہوئے اسلامی فکر کو نمایاں کرنا، غیر اسلامی قوانین کی جگہ شرعی قوانین کی حمایت و حفاظت کرنا اور ایسی کوششیں کرنا جو دین کی سربلندی کا باعث ہوں اللہ کے دین کی بہت بڑی نصرت اور بہت بڑا جہاد ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وَالَّذِینَ جَاہَدُوْافِینَا لَنَہْدینَّہُمْ سُبُلَنَا “جو لوگ ہماری راہ میں جہاد کریں گے ہم ان پر اپنی راہیں کھول دیں گے۔”(عنکبوت:۶۹)

۲۸۔۔۔۔۔۔  حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت اور ان کے حواریوں کی تبلیغ کے نتیجہ میں بنی اسرائیل کا ایک گروہ حضرت عیسیٰ کی رسالت پر ایمان لے آیا جو مسلم تھا لیکن بعد میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیرو نصاریٰ کہلائے۔ رہا دوسرا گروہ تو اس نے حضرت عیسیٰ کی رسالت اور انجیل کو کتابِ الٰہی تسلیم کرنے سے انکار کیا اس لیے وہ کافر قرار پایا۔ یہ یہود کا گروہ ہے۔

واضح رہے کہ اللہ کے کسی بھی رسول اور کسی بھی کتاب کو تسلیم کرنے سے انکار کی بنا پر آدمی کافر ہو جاتا ہے اگر چہ وہ دوسری باتوں پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتا ہو اور کسی ایسے مذہب سے وابستہ ہو جو کسی رسول کی طرف منسوب کیا گیا ہو۔

۲۹۔۔۔۔۔۔  یہ آیت صراحت کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے بالآخر غالب آ گئے جہاں تک حجت کے غلبہ کا تعلق ہے وہ تو انہیں پہلے ہی سے حاصل تھا اس لیے یہاں جس غلبہ کا ذکر ہوا ہے وہ اقتدار ہی کا غلبہ ہو سکتا ہے اور ظاہرین کا لفظ قرآن میں دوسرے مقام پر اقتدار کے غلبہ ہی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ فرعون کے دربار میں مرد مومن نے کہا تھا :

یٰقَوْمِ لَکُمُ الْمُلْکُ الْیوْمَ ظَاہِرِینَ فِی الْاَرْضِ فَمَنْ ینْصُرُنَا مِنْ بَأَسِ اللّٰہِ اِنْ جَائَئنَا ” اے میری قوم کے لوگو! آج تمہیں حکومت حاصل ہے اور تم اس سرزمین میں غالب ہو لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آ گیا تو کون ہے جو ہماری مدد کرے گا؟”( مومن: ۲۹)

اس موقع پر سورۂ توبہ نوٹ ۶۵ بھی پیش نظر رہے۔

اس آیت کا مدعا اصلاً یہ واضح کرنا ہے کہ جس طرح اللہ کے رسول عیسیٰ( علیہ السلام) پر ایمان لانے والے غالب ہو کر رہے اسی طرح پیغمبر قرآن پر ایمان لانے والے بھی غالب ہو کر رہیں گے اور تاریخ شاہد ہے کہ ایسا ہی ہوا۔

قرآن میں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو یہ بشارت دی تھی کہ :

وَجَاعِلُ الَّذِینَ اتّلبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِینَ کَفَرُوْا اِلٰی یوْمِ الْقِیامَۃِ  “جن لوگوں نے تمہاری پیروی اختیار کی ان کو ان لوگوں پر جنہوں نے کفر کیا قیامت تک غالب رکھنے والوں ہوں۔”(آل عمران: ۵۵)

جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے اس کے اوراق زیادہ واضح نہیں ہیں تاہم یہ بات ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد ان کے پیرو مخالفت کے طوفان سے گزرتے ہوئے یہود پر جنہوں نے حضرت عیسیٰ پر ایمان لانے سے انکار کر دیا تھا غالب آتے چلے گئے۔ ان کی دعوت پھیلتی رہی اور رومی سلطنت کے بڑے بڑے شہروں میں ان کے دعوتی مراکز قائم ہوئے۔ یہودیت سکڑتی رہی یہاں تک کہ  ۷۰  ء؁ میں (Titus) نے بیت المقدس پر حملہ کر کے یہود کو تتر بتر کر دیا اور پھر یہود کا زور ایسا ٹوٹا کہ وہ پیروان عیسیٰ کے آگے بے بس ہو کر رہ گئے۔ ادھر حضرت عیسیٰ کے پیروں کی تعداد بڑھتی رہی اور ٹیٹس رومی کے حملہ کے بعد رومیوں نے حضرت مسیح کا دین قبول کرنا شروع کیا اور حضرت مسیح کے متبعین کو غلبہ حاصل ہوتا چلا  گیا چنانچہ ابن خلدون لکھتے ہیں :

“پھر رومی مسیح علیہ السلام کے دین کو قبول کرنے اور اس کی تعظیم کرنے لگے۔ پھر رومی بادشاہوں کا حال مختلف رہا۔ وہ کبھی نصاریٰ کے دین کو قبول کرتے اور کبھی چھوڑ دیتے یہاں تک کہ قُسْطَنْطِین آ گیا۔” (مقدمہ ابن خلدون ص ۳۵۵)

۳۱۲ ء میں جب رومی بادشاہ  قُسْطَنْطِین  برسر اقتدار آیا تو وہ مسیحت کا حامی بن گیا اور پیروانِ عیسیٰ کو اقتدار کا ایسا غلبہ ہوا کہ آج تک یہودیت کے مقابلہ میں مسیحت کا غلبہ چلا آ رہا ہے۔ مسیحت کی تاریخ کے لیے دیکھئے

(Interpreter‘s One Volume Commentary on Bible P. 1051(

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

 (۶۱) سورۂ الممتحنہ

 

 (۱۳ آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

آیت ۱۰ میں ہجرت کر کے مدینہ آنے والی عورتوں کے بارے میں حکم دیا گیا ہے فَامْتَحِنُوْہُنَّ(ان کا امتحان لو کہ واقعی وہ ایمان لائی ہیں یا نہیں۔)اس مناسبت سے اس سورہ کا نام “اَلْمُمْتَحِنَۃ”ہے یعنی امتحان لینے والی۔ مراد وہ سورہ ہے جس میں امتحان لینے کا حکم دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور صلح حدیبیہ کے زمانہ میں (غالباً  ۷ ھ) میں نازل ہوئی جبکہ عورتیں مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آ رہی تھیں اور ان کے مہر کی واپسی وغیرہ کے مسائل پیدا ہو گئے تھے جیسا کہ آیت ۱۰ اور ۱۱ سے واضح ہے۔

 

مرکزی مضمون

 

 

اسلام کے دشمنوں سے دوستی گانٹھنے اور ذاتی مصلحتوں کی خاطر انہیں جنگی راز وغیرہ کی باتوں سے آگاہ کرنے سے مسلمانوں کو روکنا ہے۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ تا ۳ میں دشمنان اسلام سے دوستانہ روابط رکھنے کی سخت ممانعت کی گئی ہے اور ان مسلمانوں کو سخت تنبیہ کی گئی ہے جو اپنے مفاد کی خاطر ان سے خفیہ دوستی کرتی ہیں اور راز کی باتیں ان تک پہنچاتے ہیں۔

آیت ۴ تا ۷ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کا اپنی کافر قوم سے اعلانِ برأت کو اسورۂ حسنہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

آیت ۸ اور ۹ میں واضح کیا گیا ہے کہ غیر حربی کافروں کے ساتھ انصاف اور حسن سلوک کرنے کی ممانعت نہیں ہے۔

آیت ۱۰ تا ۱۲ میں مکہ سے ہجرت کر کے آنے والی عورتوں نیز ان عورتوں کے بارے میں جو مسلمانوں کے نکاح میں تھیں اور ان کے مدینہ ہجرت کر جانے کے بعد مکہ ہی میں رہ گئی تھیں ہدایات دی گئی ہیں۔

آیت ۱۳سورہ کے خاتمہ کی آیت ہے جس میں اسی بات کی تاکید کی گئی ہے جس کی ہدایت آغاز سورہ میں دی گئی

تھی۔

 

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔۱* تم ان سے دوستی کے روابط بڑھاتے ہو۔۲* حالانکہ وہ اس حق کا انکار کر چکے ہیں جو تمہارے پاس آیا ہے۔ انہوں نے رسول کو اور تم کو اس بنا پر (اپنے وطن سے) نکال دیا کہ تم اللہ اپنے رب پر ایمان لائے ہو۔ ۳* اگر تم میری راہ میں جہاد اور میری رضا جوئی کے لیے نکلے ہو(تو ان کو دوست نہ بناؤ) تم چھپا کر ان سے دوستی کی پینگیں بڑھاتے ہو ۵* حالانکہ جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو علانیہ کرتے ہو اسے میں جانتا ہوں۔ اور جو کوئی تم میں سے ایسا کرے گا وہ راہِ راست سے بھٹک گیا۔ ۶*

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر وہ تم کو پالیں تو تمہارے ساتھ دشمنی کریں گے اور بری طرح تم پر دست درازی اور زبان درازی کریں گے اور چاہیں گے کہ تم کافر ہو جاؤ۔۷*

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری رشتہ داریاں اور تمہاری اولاد قیامت کے دن تمہارے کچھ بھی کام نہیں آئے گی۔ ۸* وہ تمہارے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور تم جو کچھ کرتے ہو اسے اللہ دیکھ رہا ہے۔

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ تم لوگوں کے لیے ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں بہتر ین نمونہ ہے۔۹* جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور تمہارے ان معبودوں سے جن کو تم اللہ کو چھوڑ کر پوجتے ہو بالکل بری ہیں۔ ہم نے تم سے کفر(انکار) کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت اور بیزاری ظاہر ہو گئی جب تک کہ تم اللہ وحدہٗ پر ایمان نہ لاؤ۔۱۰* مگر ابراہیم کا اپنے باپ سے یہ کہنا(اسوہ نہیں ہے) کہ میں آپ کے لیے مغفرت کی دعا کروں گا۔۱۱* اور میں آپ کے لیے اللہ کی طرف سے کوئی اختیار نہیں رکھتا۔۱۲* اے ہمارے رب ہم نے تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع ہوئے اور تیرے ہی طرف لوٹنا ہے۔ ۱۳*

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ہمارے رب! ہمیں کافروں کے لیے فتنہ نہ بنا۔۱۴* اور اے ہمارے رب ہمیں معاف فرما۔ بلا شبہ تو غالب اور حکیم ہے۔

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یقیناً ان لوگوں میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور روزِ آخر کا امیدوار ہو۔۱۵* اس سے جو روگردانی کرے تو اللہ بے نیاز ہے لائق ستائش۔۱۶*

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ عجب نہیں کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جن سے تمہاری دشمنی ہے دوستی پیدا کر دے۔۱۷* اللہ بڑی قدرت والا ہے اور اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ ۱۸*

۹۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تمہیں صرف ان لوگوں سے دوستی کرنے سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اور تمہارے نکالنے میں مدد کی ہے۔ ۱۹* اور جو لوگ ان سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں۔ ۲۰*

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ایمان والو ! جب مومن عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو ان کی جانچ کر لو۔۲۱* اللہ ان کے ایمان کو بہتر جانتا ہے۔۲۲* پھر اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ وہ مومن ہیں تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ ۲۳* نہ وہ ان (کفار) کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ ان کے لیے حلال۔۲۴* اور انہوں نے (کافر شوہروں نے) جو کچھ خرچ کیا تھا وہ انہیں ادا کر دو۔۲۵* اور ان عورتوں سے نکاح کرنے میں تم پر گناہ نہیں جب کہ تم ان کے مہر ان کو ادا کر دو۔۲۶* اور کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں روکے نہ رکھو۔۲۷* جو کچھ تم نے خرچ کیا تھا اس کا تم (کفار سے) مطالبہ کرو اور جو کچھ انہوں نے خرچ کیا تھا اس کا وہ (تم سے) مطالبہ کریں۔ ۲۸* یہ اللہ کا فیصلہ ہے جو تمہارے درمیان وہ کر رہا ہے اور اللہ علم والا حکمت والا ہے۔ ۲۹*

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر تمہاری بیویوں کے مہر میں سے کچھ کافروں کی طرف رہ جائے اور پھر تمہاری باری آئے تو جن کی بیویاں چلی گئی ہیں ان کو اتنا ادا کر دو جتنا انہوں نے خرچ کیا ہے۔ ۳۰ اور اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔ اے نبی! جب تمہارے پاس مومن عورتیں بیعت کرنے کے لیے آئیں اس بات پر کہ وہ کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرائیں گی، چوری نہ کریں گی، زنا نہ کریں گی، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی، اپنے ہاتھ پاؤں کے آگے کوئی بہتان نہ گھڑیں گی اور کسی معروف بات میں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی تو ان سے بیعت لے لو۔۳۱* اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کرو۔ ۳۲* یقیناً اللہ مغفرت فرمانے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ایمان والو! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جن پر اللہ کا غضب ہوا۔ ۳۳* وہ آخرت سے مایوس ہو چکے ہیں جس طرح کفار قبر والوں سے مایوس ہیں۔ ۳۴*

 

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔  اللہ کا دشمن سے مراد اس کے دین کا دشمن ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ان کو اپنا دشمن ہی سمجھنا چاہیے اور ان کے ساتھ وہی معاملہ کرنا چاہیے جو ایک دشمن قوم کے ساتھ روا ہے۔ نہ تو اسلام دشمن لوگوں کے ساتھ قلبی محبت رکھی جاسکتی ہے اور نہ ان کی تشدد پسندی کے مقابلہ میں نرمی برتی جاسکتی ہے اور نہ کوئی ایسا کام کیا جاسکتا ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے مقابلہ میں کافروں کے مفاد میں جاتا ہو۔ خاص طور سے جنگی کارروائی کے دوران مسلمانوں کو ان کے معاملہ میں بہت محتاط ہونا چاہیے۔

کافروں کو دوست نہ بنانے کی ہدایت کی تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ آل عمران نوٹ ۴۱ اور سورۂ مائدہ نوٹ ۱۶۴۔

۲۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ ان مسلمانوں پر گرفت ہے جو اس مصلحت سے کہ مکہ میں ان کے عزیزوں کا تحفظ ہو سکے گا۔ مشرکین مکہ کے ساتھ ظاہری طور سے دوستانہ روابط رکھے ہوئے تھے۔ یہ معاملہ اگرچہ وہ بدنیتی کے ساتھ نہیں کر رہے تھے لیکن تھی ان کی یہ کمزوری اور اس کا اثر کافروں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں پر پڑسکتا تھا اس لیے سختی کے ساتھ اس سے روکا گیا۔

۳۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ کفّارِ مکہ کی دشمنی کا حال بیان ہوا ہے ہ وہ دینِ حق کے منکر ہیں اور ظلم و زیادتی پر ایسے اتر آئے ہیں کہ رسول کو نیز مسلمانوں کو مکہ سے ہجرت کر جانے پر مجبور کیا۔ اس کی وجہ صرف یہ ہوئی کہ مسلمان اللہ ہی کو اپنا رب مانتے تھے اور انہوں نے اس کے سوا کسی کو اپنا رب ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ ایمان ان کی نظروں میں جرم تھا اور جو لوگ ایمان کو جرم قرار دیں وہ کس طرح دوستی کے لائق ہو سکتے ہیں۔

۴۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہو اور خالصۃً اسی کی رضا چاہتے ہو تو تمہیں کافروں کے ساتھ اپنے رویہ میں بے لاگ ہونا چاہیے۔ ان کے ساتھ کسی قسم کی رعایت کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔

۵۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ بات عمومیت کے ساتھ کہی گئی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ کسی فرد واحد کا قصہ نہیں تھا بلکہ متعدد افراد سے یہ کمزوری سرزد ہوئی تھی اور وہ کسی راز کو پہنچانے ہی کی بات نہیں تھی بلکہ مختلف طریقوں سے دوستی کو نبھانے کی بات تھی۔ رہا حاطب بن ابی بلتعہ کا قصہ جو حدیث میں بیان ہوا ہے تو وہ بھی اسی ذیل میں آتا ہے اس لیے راویوں نے اس آیت کے شانِ نزول کے طور پر اس کو بیان کر دیا ہے۔ یہ واقعہ معاہدۂ حدیبیہ کے ٹوٹ جانے کے بعد پیش آیا تھا اور ہے سورہ اس سے پہلے نازل ہو چکی تھی۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایک صحابی حاطب بن بلتعہ نے جن کو ہجرت کا بھی شرف حاصل تھا اور جنگِ بدر میں شرکت کا بھی ، کفارِ مکہ کو خط لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پر چڑھائی کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ خط انہوں نے ایک بوڑھی عورت کو دے کر روانہ کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعہ اس کی اطلاع ہوئی تو آپ ؐ نے حضرت علی، حضرت زبیر اور حضرت مِقداد کو اس کے تعاقب میں روانہ کیا اور فرمایا کہ روضہ خاخ کے مقام پر ایک عورت ملے گی۔ اس کے پاس ایک خفیہ خط ہے جو لے آنا۔ ان حضرات نے گھوڑے دوڑا کر اس عورت کو پکڑ لیا اور اس کے پاس سے خط حاصل کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔ آپ نے حاطب کو بلا بھیجا انہوں نے عرض کیا:

“یا رسول اللہ آپ میرے بارے میں جلدی نہ فرمائیں۔ میں قریش کے خاندان سے نہیں ہوں اور جو مہاجرین آپ کے ساتھ ہیں ان کی مکہ میں رشتہ داریاں ہیں اور وہ ان کے گھر والوں اور ان کے مال کا خیال رکھتے ہیں۔ چونکہ میری ان کے ساتھ رشتہ داری نہیں ہے اس لیے میں نے چاہا کہ ان کے ساتھ بھلائی کروں تاکہ وہ میرے رشتہ داروں کا خیال رکھیں۔ میں نے یہ کام کفر اور ارتداد کی وجہ سے نہیں کیا۔”

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس بات کو سچ مان لیا اور ان کی عظیم قربانیوں کے پیشِ نظر جو ان کے مخلص مومن ہونے کا ثبوت تھیں ان سے درگزر فرمایا۔ (دیکھئے بخاری کتاب التفسیر سورۃ الممتحنہ)

۶۔۔۔۔۔۔۔۔  اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے ساتھ دوستی گانٹھنے کو گمراہی قرار دیا گیا ہے جس سے اس گناہ کی شدت واضح ہوتی ہے موجودہ دور کے ان مسلمانوں کو جو اسلام اور مسلمانوں کے مفاد کے خلاف ان کے دشمنوں سے جا ملتے ہیں ان کو اپنا چہرہ اس آیت کے آئینہ میں دیکھ لینا چاہیے۔

۷۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ان دشمنان اسلام کا حال یہ ہے کہ اگر مسلمان کہیں ان کی گرفت میں آ گئے تو انہیں پھر بخشیں گے نہیں بلکہ ان پر ظلم و زیادتی کریں گے اور انہیں قلبی اذیت پہنچائیں گے اور ان کی کوشش یہی ہو گی کہ مسلمان کا فر بن جائیں تو ان کے ان بُرے عزائم کو دیکھتے ہوئے تم ان کے لیے نرم چارہ کیوں بنو؟

۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اگر کافروں سے تمہاری رشتہ داریاں ہیں تو وہ اسلام سے زیادہ تمہیں عزیز نہیں ہونی چاہئیں کہ ان کو بچانے کے لیے اسلام کے مفاد کو قربان کرو۔ یہ رشتہ داریاں قیامت کے دن تمہارے کچھ بھی کام آنے والی نہیں۔ اس روز جو چیز کام آئے گی وہ اسلام کے لیے تمہارے دل کا خلوص اور تمہاری قربانیاں ہوں گی۔

۹۔۔۔۔۔۔۔۔  اس سے واضح ہوتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام پر ان کے اعلانِ برأت سے پہلے کچھ لوگ ایمان لائے تھے اور ان کے ساتھیوں نے بہترین نمونہ پیش کیا تھا۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔  حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے رفقاء کا یہ اعلان اپنی مشرک قوم سے اعلانِ حق کی حجت قائم ہو جانے کے بعد کیا گیا۔اس کے ایک ایک لفظ سے بیزاری کا اظہار ہو رہا ہے اور پھر جس بے باکی کے ساتھ یہ اعلان کیا گیا  وہ عزیمت اور بلند حوصلگی کی نہایت  اعلیٰ مثال ہے۔

یہاں اس مثال کو پیش کرنے سے مقصود اس بات کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ مسلمان مشرکین سے جو اسلام کے دشمن بنے ہوئے ہیں دوستی کی پینگیں نہ بڑھائیں۔

موجودہ دور کے مسلمان اگر مشرک قوموں کو بے لاگ طریقہ پر توحید کی دعوت دیں اور شرک کے باطل ہونے کو واضح کریں تو ان کا موقف صحیح ہو گا اور کتنے ہی گمراہ لوگوں پر ہدایت کی راہ بھی کھلے گی۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی حضرت ابراہیم کا اپنے مشرک باپ کے لیے مغفرت (معافی) کی دعا کرنا اسوۂ حسنہ نہیں ہے کہ تم اس کی تقلید کرو۔ مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کرنے کی قرآن نے ممانعت کی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے استغفار کے بارے میں سورۂ توبہ (آیت ۱۱۴) میں وضاحت کی ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سے اس کا وعدہ کیا تھا اس لیے اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہے لیکن جب ان پر یہ بات آشکارا ہو گئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس کے لیے استغفار کرنا چھوڑ دیا۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ توبہ نوٹ ۲۰۹، ۲۱۰ اور ۲۱۱۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔  اللہ کے آگے حضرت ابراہیم جیسی جلیل القدر ہستی بھی کوئی اختیار نہیں رکھتی تھی تو اور کون ہو سکتا ہے جو کسی کو بخشوا کر چھوڑے ؟

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ وہ دعا ہے جو حضرت ابراہیم نے اعلانِ برأت کے موقع پر کی تھی۔

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی کافروں کو اتنی ڈھیل نہ دے کہ وہ ہم کو تختۂ مشق بنائیں اور پھر اس مغالطہ میں رہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو ظلم کا نشانہ نہ بنتے۔

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اس اسوۂ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق ان ہی لوگوں کو ہو سکتی ہے جو اللہ سے اجر کی توقع رکھنا ہو اور آخرت کا طالب ہو۔جو لوگ دنیا کے مفاد کو عزیز رکھیں گے وہ یہ حوصلہ نہیں دکھاسکتے۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اگر تم ہدایت سے روگردانی کرو تو اللہ کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ اس کو کسی چیز کی حاجت نہیں ہے اور وہ اپنی ذات میں حمد کا مستحق ہے۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اسلام کے دشمنوں کو دوست نہ بنانے کی جو ہدایت دی گئی ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی اسلام دشمنی کبھی ختم ہو ہی نہیں سکتی۔ ہو سکتا ہے انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو اور اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے اور وہ تمہارے دوست بن جائیں۔ چنانچہ جب مکہ فتح ہوا تو اسلام اور مسلمانوں کے یہی دشمن حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے اور مسلمانوں کے دوست بن گئے۔

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ آیت صراحت کرتی ہے کہ ان غیر مسلموں کے ساتھ جو جارح نہیں ہیں یعنی اسلام اور مسلم دشمنی کا مظاہرہ نہیں کرتے ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کے معاملہ میں انصاف کا رویہ اختیار کرنے سے روکا نہیں گیا ہے یعنی غیر مسلموں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آئیں ، ان کی تکلیف اور مصیبت کو دور کرنے کی کوشش کریں جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے قحط کی مصیبت سے عام باشندگانِ مصر کو بچانے کا سامان کیا تھا۔ رفاہی کاموں سے ان کو بھی مستفید ہونے کا موقع دیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ ان کی جان، مال اور آبرو پر دست درازی نہ کریں اور شرعی حدود میں رہتے ہوئے ان کے ساتھ جو بھلائی ممکن ہو کریں۔ اسی طرح ان سے جو معاملات طے ہوں ان میں انصاف کا رویہ اختیار کریں۔ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس وقت اس کا مصداق خزاعہ جیسے قبیلے تھے جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف نہ جارحانہ کار روائی کی تھی اور نہ اس معاملہ میں قریش کا ساتھ دیا تھا۔

واضح رہے کہ اس آیت میں ان غیر مسلموں کو جو جارح Aggressive نہیں ہیں اپنا دلی دوست بنانے اور اسلام اور مسلمانوں کے مصالح کے خلاف ان سے دوستی کی پینگیں بڑھانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے بلکہ ان کے ساتھ بھلائی کا سلوک کرنے، اخلاقی حقو ق کو ادا کرنے اور ان کے معاملہ میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی اجازت اور ہدایت دی گئی ہے۔ اس لیے بات کو اپنے معروف حدود میں رکھنا ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں دوسری متعلقہ آیتیں بھی پیش نظر رہنی چاہئیں۔ مثلاً آل عمران ۲۸ (نوٹ ۴۱) سورۂ مائدہ آیت ۵۱ (نوٹ ۱۶۴) سورۂ توبہ آیت ۲۳ (نوٹ ۴۴)۔

اس سے موجودہ دور کی غیر اسلامی ریاستوں میں رہنے والے مسلمانوں کو یہ رہنمائی ملتی ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ ان کے تعلقات کی نوعیت کیا ہونی چاہیے اور وہ ان کے ساتھ کیا برتاؤ کریں۔ خاص طور سے یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ جن غیر مسلموں کا طرزِ عمل اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جارحانہ نہیں ہے ان پر کسی قسم کی زیادتی روا نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی غیر مسلم قوم کا رویہ بحیثیت قوم جارحانہ ہے تو اس کے ساتھ پالیسی اختیار کرنے میں پوری قوم کے رویہ ہی کو پیش نظر رکھا جائے گا نہ کہ افراد کے طرزِ عمل کو۔

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی وہ قبیلے بھی جنہوں نے تمہارے خلاف کارروائی کرنے میں قریش کی پشت پناہی کی ہے۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔  واضح ہوا کہ اسلام دشمن عناصر سے جو مسلمانوں پر مظالم ڈھاتے رہتے ہیں دوستی کے روابط قائم کرنا بہت بڑا گنا ہے۔

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔  صلح حدیبیہ میں یہ بات طے ہوئی تھی کہ مکہ سے اگر کوئی شخص مدینہ چلا جائے تو اسے واپس کر دیا جائے گا لیکن عورتوں کے بارے میں کوئی بات طے نہیں ہوئی تھی اور عورتوں کے مسئلہ کی نوعیت بھی مختلف تھی اس لیے طے شدہ دفعہ کا اطلاق عورتوں پر نہیں ہو سکتا تھا۔جب عورتیں مسلمان ہو کر مدینہ آنے لگیں تو ان مہاجر مسلمان عورتوں کے بارے میں سوال پیدا ہوا کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔ اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ احکام نازل فرمائے یہ مسلمان مہاجر عورتوں کے مسائل کا حل بھی تھا اور کافروں کے ساتھ انصاف کے تقاضوں کو بھی پورا کرتا تھا۔

اس سلسلہ میں سب سے پہلے ان مسلمان عورتوں کو پرکھنے کا حکم دیا گیا جو ہجرت کر کے مدینہ آ جائیں۔ یعنی یہ دیکھ لیا جائے کہ کیا واقعی انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور ان کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے یا کسی دنیوی مفاد اور اپنی ذاتی غرض سے وہ مدینہ آئی ہیں۔ اگر پہلی صورت ہے تو انہیں کافروں کی طرف لوٹا یا نہ جائے اور اگر دوسری صورت ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کو روک لیا جائے۔

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ان کے دلوں کا حال تو اللہ ہی کو معلوم ہے اس لیے ان کے ایمان کو بہتر طور پر جاننے والا وہی ہے۔ تمہارا کام قرائن و شواہد کی بنا پر رائے قائم کرنا ہے۔ اس سے زیادہ ذمہ داری تم پر نہیں ہے۔

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی تحقیق کرنے کے بعد تمہیں معلوم ہو جائے کہ وہ واقعی ایمان لائی ہیں تو ان کو کافروں کی طرف نہ لوٹاؤ بلکہ اپنے معاشرہ (سوسائٹی) میں انہیں جگہ دو۔

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ایسی مسلمان عورتوں کو کافروں کی طرف لوٹانا اس لیے صحیح نہیں کہ وہ نہ کافروں کے لیے حلال ہیں اور نہ کافر ان کے لیے حلال ہیں۔ یہ حکم اپنی جگہ ایک اصولی حکم ہے جس کی رو سے نہ کوئی مسلمان عورت کافر کے نکاح میں رہ سکتی ہے اور نہ کسی کا فر کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ مسلمان عورت کو اپنے نکاح میں رکھے۔ اگر بیوی اسلام قبول کر لے اور شوہر اسلام قبول نہ کرے تو دونوں کے درمیان تفریق عمل میں آئے گی اور عدت گزارنے کے بعد بیوی دوسرا نکاح کرنے کے لیے آزاد ہو جائے گی۔

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ان مسلمان عورتوں کے کافر شوہروں نے جو مہر ادا کئے تھے وہ ان کو لوٹا دو۔ یہ ہدایت صلح حدیبیہ کے پیش نظر انصاف کے تقاضے کو پورا کرنے کے لیے دی گئی تھی۔ مہر لوٹا نا مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری تھی۔

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ان مسلمان مہاجر عورتوں سے مدینہ کے مسلمان نکاح کرسکتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ نئے مہر کے ساتھ ان سے نکاح کریں۔

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی جو کافر عورتیں تمہارے نکاح میں چلی آ رہی ہیں انہیں اب چھوڑ دو۔ روایتوں میں آتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی دو بیویوں کو جو مکہ میں رہ گئی تھیں اور ایمان نہیں لائی تھیں اس آیت کے نزول کے بعد چھوڑ دیا۔ یہ اصولی ہدایت ہے لہٰذا اگر کوئی شخص مسلمان ہو گیا ہو اور اس کی بیوی کافر ہو تو وہ اسے اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا الا یہ کہ وہ اہلِ کتاب (یہودی یا نصرانی) ہو (دیکھئے سورۂ مائدہ آیت ۵) کافر عورتوں میں مشرک عورتیں بھی شامل ہیں اور ملحد عورتیں بھی۔

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی مسلمانوں کی جو بیویاں مکہ میں رہ گئیں اور انہوں نے ان کے کافر ہونے کی بنا پر انہیں چھوڑ دیا تو جو مہر انہوں نے ادا کئے تھے ان کی واپسی کا مطالبہ مسلمان کافروں سے کریں اور جو مسلمان عورتیں ہجرت کر کے مدینہ آ جائیں ان کے کافر شوہر جو مکہ میں رہ گئے ہوں اپنے مہر کا مطالبہ مسلمانوں سے کریں۔ اس طرح مہر کی واپسی کے بارے میں مسلمانوں اور کافروں دونوں کی ذمہ داریاں مساوی قرار پاتی ہیں اور ادائیگی کا یہ نظم قومی یا ریاستی سطح پر ہونا چاہیے۔

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی صلح حدیبیہ کے تعلق سے مہاجر مسلمان عورتوں کی واپسی کا جو مسئلہ پیدا ہو گیا تھا اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے ان احکام کی شکل میں فرما دیا ہے اور اس کا فیصلہ علم و حکمت پر مبنی ہے لہٰذا فریقین کے درمیان اب نزاع کی کوئی صورت باقی نہیں رہنی چاہیے۔

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اگر صورت یہ پیش آ جائے کہ جن کافروں کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے ان کے پاس مدینہ کے مسلمانوں میں سے کسی کی کافر بیوی رہ جائے یا مدینہ آ کر واپس چلی جائے اور نکاح فسخ ہو جانے کی بنا پر اس کا مہر کفار مدینہ کے مسلمان شوہر کو نہ لوٹائیں تو جب تمہاری باری آئے اور کسی مسلمان خاتون کے مدینہ ہجرت کر کے آ جانے کی بنا پر اس کا مہر مکہ کو لوٹانا ہو تو اس کا ایڈجسٹمنٹ(Adjustment) اس طرح کر لیا جائے کہ مہر کی جو رقم کفار سے وصول طلب ہو اس کے بقدر رقم اس مہر میں سے مدینہ کے مسلمان شوہر کو ادا کر دی جائے۔

۳۱۔۔۔۔۔۔۔۔  اوپر مہاجر عورتوں کو جانچ لینے کی ہدایت کی گئی تھی اس آیت میں اس پسِ منظر میں عورتوں سے بیعت لینے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ جس جاہلی معاشرہ سے نکل کر وہ اسلامی معاشرہ میں داخل ہو رہی ہیں اس کی برائیوں کو وہ اپنے ساتھ نہ لائیں اور اپنی زندگیوں کو اور اسلامی معاشرہ کو ان سے پاک رکھیں۔ اس کی ضرورت خاص طور سے اس لیے پیش آئی کہ دوسری مومن خواتین کی طرح ان کو اسلامی سوسائٹی میں رہنے اور اپنی تربیت کرنے کے مواقع نہیں ملے تھے۔ نیز جو خواتین پہلے اسلام میں داخل ہوئی تھیں وہ نیکی میں سبقت کرنے والی خواتین تھی لیکن بعد میں اسلام میں داخل ہونے والی خواتین ان کے ہم پلہ نہیں ہو سکتی تھیں۔

یہ بیعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ہاتھ پر کرنے کے لیے تھی اور جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا ایک خاص موقع پر مومن عورتوں سے بیعت لینے کی ہدایت کی گئی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس بیعت کا خاص ہونا اس آیت سے بخوبی واضح ہے۔ چنانچہ اس میں ارشاد ہوا ہے کہ : وَلاَ یعْصِینَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ (وہ معروف میں تمہاری نافرمانی نہیں کریں گی) اور جو مقام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے وہ کسی اور کا نہیں ہو سکتا اس لیے کسی اور کے ہاتھ پر گناہوں سے بچنے وغیرہ کی بیعت کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا اور تصوف کی راہ سے جو پیری مریدی اسلام میں داخل کر دی گئی ہے اور ایک پیر ان مرید سے جو بیعت لیتا ہے وہ سب بدعت ہے۔ اس کی مزید تفصیل کے لیے دیکھئے سورۂ فتح نوٹ ۱۷۔

حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے بیعت لیتے تو ان کے ہاتھ کو چھوتے نہیں تھے بلکہ فرما دیتے میں نے تم سے بیعت لے لی۔(بخاری کتاب التفسیر)

اس بیعت میں شرک سے بچنے کو اولیت دی گئی ہے۔ جاہلیت اور جہالت کے زیر اثر عورتوں میں شرک اور مشرکانہ توہمات بہ آسانی راہ پا جاتے ہیں اس لیے انہیں اس پارے میں چوکنا رہنا چاہیے۔

چوری کی عادت بھی عورتوں میں ہوتی ہے اور وہ مردوں کو اپنی طرف مائل کر کے زنا کی مرتکب بھی ہوتی رہتی ہیں۔ اس لیے مسلمان عورتوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ ان بڑی بڑی برائیوں میں ملوث نہ ہو جائیں۔

قتلِ اولاد کی ایک شکل یہ تھی کہ مفلسی کے ڈر سے بچوں کو قتل کر دیا جاتا تھا اور دوسری شکل یہ تھی کہ مشرکانہ وہم پرستی کی بنا پر اولاد کو بتوں یا دیوی دیوتاؤں کی بھینٹ چڑھایا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ ایک تیسری شکل بھی تھی جو اس زمانہ میں بھی موجود ہے کہ ولد الزنا (حرام اولاد) کا گلا گھونٹ کر اسے کہیں پھینک دیا جائے۔ یہ بھی جان کا قتل ہے جو صریح حرام ہے۔ اپنے ہاتھ اور پاؤں کے آگے بہتان گھڑنے سے مراد دوسرے کی اولاد کو اپنے شوہر کی طرف منسوب کرنا ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ ناجائز حمل ٹھہر جانے پر وہ اسے اپنے شوہر کی طرف منسوب کرے۔

معروف بات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہ کرے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کی اطاعت معروف کے ساتھ مشروط ہے کیونکہ کوئی نبی کبھی غیر معروف کا حکم دیتا ہی نہیں اور قرآن کریم میں اطاعتِ رسول کا حکم(اَطیعو الرسول)،بلا شرط دیا گیا ہے اس لیے یہاں اس کو شرط کے معنی میں لینے کی کوئی وجہ نہیں۔ اوپر متعدد منکرات سے بچنے کا عہد لینے کی ہدایت ہوئی تھی۔ اب یہ جامع بات کہی گئی ہے جس میں عبادت و اطاعت کے تمام امور آ جاتے ہیں جن کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں۔ نماز، زکوٰۃ وغیرہ سب اس معروف میں داخل ہیں۔

۳۲۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ان کے پچھلے قصوروں کے لیے اللہ سے بخشش کی دعا کرو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بخشش کی یہ دعا ان مومن عورتوں کے لیے تسکینِ قلب کا سامان تھی۔

۳۳۔۔۔۔۔۔۔۔  مراد یہود ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا۔ ان کو دوست بنانے کی ممانعت بھی اسی طرح ہے جس طرح کافروں کو دوست بنانے کی ممانعت ہے۔ اس ہدایت کے پیشِ نظر آج مسلمانوں کو اسرائیل سے تعلقات کے معاملہ میں محتاط رہنا چاہیے اور ان سے دوستی کے روابط ہرگز نہیں قائم کرنا چاہیے۔

۳۴۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی جس طرح کفار مردوں کے زندہ ہونے کی طرف سے مایوس ہیں۔ اسی طرح یہود اگرچہ آخرت کے قائل ہیں لیکن اپنے کرتوتوں کی وجہ سے آخرت پر یقین اور اس کی کامیابی کی طرف سے بالکل مایوس ہیں۔ وہ آرزوؤں اور تمناؤں کا اظہار ضرور کرتے ہیں لیکن دل ان کے آخرت کی طرف سے پھیرے ہوئے ہیں اور وہ دنیا پرستی میں بالکل غرق ہیں۔ اسی لیے قرآن میں ان کے دعوے آخرت کو بے حقیقت قرار دیتے ہوئے فرمایا گیا:

قُلْ اِنْ کَانَتْ لَکُمُ الدَّارُ الْآخِرَۃُ عِنْدَ اللّٰہِ خَالِصَۃً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ۔وَلاَ یتَمَنَّوْ نَہٗ اَبَداً بِّمَا قَدَّمَتْ اَیٰدِیہِمْ وَاللّٰہُ عَلِیمٌ بّالظَّالِمِینَ۔ “ان سے کہو اگر آخرت کا گھر تمام لوگوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے لیے مخصوص ہے تو موت کی تمنا کرو اگر تم (اپنے دعوے میں ) سچے ہو مگر انہوں نے جو کچھ آگے بھیجا ہے اس کی وجہ سے وہ ہرگز اس کی تمنا نہ کریں گے۔ اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔”(بقرہ: ۹۴۔۹۵)۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

(۵۹) سورۂ الحشر

 

(۲۴ آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

دوسری آیت میں یہودی قبیلہ بنی نضیر کی جلا وطنی کی صورت میں ان کے پہلے حشر کا ذکر ہوا ہے۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام”الحشر” ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مدنی ہے اور ۰۴ھ میں نازل ہوئی۔

 

مرکزی مضمون

 

اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے والوں کو بنی نضیر کے رسوا کن انجام سے عبرت دلانا ہے اور اہل ایمان کو ان مسائل میں جو بنی نضیر سے جنگ کے تعلق سے پیش آئے تھے ہدایت دینا ہے۔

 

نظمِ کلام

 

آیت ۱ تمہیدی آیت ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔

آیت ۲ تا ۴ میں اہل کتاب کے ایک کافر گروہ بنی نضیر کا جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت پر اتر آیا تھا عبرت ناک انجام بیان کیا گیا ہے۔

آیت ۵ تا ۱۰ میں پیش آمدہ مسائل میں اہل ایمان کو ہدایت دی گئی ہیں۔

آیت ۱۱ تا ۱۷ میں منافقین کے رویہ پر گرفت کی گئی ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہود سے ساز باز کر رہے تھے۔

آیت ۱۸ تا ۲۴ سورہ کے خاتمہ کی آیات ہیں جن میں موثر نصیحت اور خشیتِ الٰہی پیدا کرنے والی باتیں بیان ہوئی ہیں۔

 

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کی تسبیح کرتی ہیں وہ تمام چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ ۱* اور وہی غالب اور حکمت والا ہے۔ ۲*

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی ہے جس نے ان لوگوں کو جو اہل کتاب میں سے کافر ہوئے ان کے گھروں سے پہلے حشر کے لیے نکال باہر کیا۔ ۳* تمہیں گمان نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے۔ ۴* اور وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے ان کو اللہ( کی پکڑ) سے بچا لیں گے۔ ۵* مگر اللہ کی پکڑ ان پر اس رخ سے ہوئی جدھر ان کو گمان بھی نہیں ہوا تھا۔ اور اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ ۶* وہ خود اپنے ہاتھوں اپنے گھروں کو اجاڑ رہے تھے اور مومنوں کے ہاتھوں بھی۔ ۷* تو عبرت حاصل کرو اے آنکھیں رکھنے والو! ۸*

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر اللہ نے ان کے لیے جلا وطنی نہ لکھ دی ہوتی تو وہ دنیا میں ان کو عذاب دیتا۔ ۹* اور آخرت میں ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔ ۱۰*

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور جو اللہ کے خلاف اٹھ کھڑا ہو تو اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ کھجوروں کے جو درخت تم نے کاٹے یا جن کو اپنی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا تو یہ اللہ کے حکم سے ہوا۔ ۱۲* اور(اس نے یہ حکم اس لیے دیا) تاکہ وہ فاسقوں کو رسوا کرے۔

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اللہ نے جو مال ان کے قبضے سے نکال کر اپنے رسول کو دلوایا۔ ۱۳* تو اس پر تم نے نہ اپنے گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ اونٹ ۱۴* بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جن پر چاہتا ہے تسلط عطا فرماتا ہے۔ ۱۵* اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ جو کچھ اللہ بستیوں والوں کی طرف سے اپنے رسول کو دلوائے ۱۶* وہ اللہ اور رسول اور قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ ۱۷* تاکہ یہ (مال) تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش کرتا نہ رہے۔ ۱۸* اور رسول جو تمہیں دے اس کو لو اور جس سے روک دے اس سے رک جاؤ۔ ۱۹* اور اللہ سے ڈرو۔ بلا شبہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ(مال) ان محتاج مہاجرین کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مال سے نکالے گئے ہیں۔ ۲۰* اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔ یہی لوگ راست باز ہیں۔ ۲۱*

۹۔۔۔۔۔۔۔ اور جو لوگ ان سے پہلے ہی( مدینہ کو) ٹھکانا بنائے ہوئے اور ایمان لائے ہوئے تھے وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی ان کو دیا جائے اس کی کوئی حاجت وہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور وہ ان کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود ضرورت مند ہوں۔ ۲۲* اور جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لئے گئے وہی فلاح پانے والا ہیں۔ ۲۳*

۱۰۔۔۔۔۔۔۔ اور جو لوگ ان کے بعد آئے ۲۴* وہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں بھی بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں۔ اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ۔ ۲۵* اے ہمارے رب تو بڑا شفیق اور رحیم ہے۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔ تم نے ان منافقوں کو نہیں دیکھا ۲۶* جو اپنے ان بھائیوں سے جو اہل کتاب میں سے کافر ہوئے کہتے ہیں ۲۷* کہ اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکلیں گے اور تمہارے معاملہ میں ہم ہرگز کسی کی بات نہ مانیں گے اور اگر تم لوگوں سے جنگ کی گئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے۔ مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے ۲۸* اور اگر مدد کریں گے بھی تو پیٹھ پھیر جائیں گے۔ پھر ان کی مدد ۲۹* نہیں کی جائے گی۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارا خوف ان کے دلوں میں اللہ سے زیادہ ہے۔ اس لیے کہ یہ لوگ سمجھ نہیں رکھتے۔ ۳۰*

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کبھی اکھٹے ہو کر تم سے نہیں لڑیں گے بلکہ قلعہ بند بستیوں میں یا دیواروں کے پیچھے سے لڑیں گے۔ ۳۱* ان کی لڑائی آپس میں بڑی سخت ہے تم ان کو متحد خیال کرتے ہو مگر ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ ۳۲* اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔ ۳۳*

۱۵۔۔۔۔۔۔۔ ان کا حال وہی ہو گا جو ان لوگوں کا ہوا جو ان سے کچھ ہی پہلے اپنے کئے کا مزا چکھ چکے ہیں۔ ۳۴* اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ ۳۵*

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی مثال ۳۶* شیطان کی سی ہے جو انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر اور جب وہ کفر کر بیٹھتا ہے تو کہتا ہے میں تجھ سے بری ہوں۔ مجھے اللہ رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔ ۳۷*

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔ تو دونوں کا انجام یہ ہونا ہے کہ وہ جہنم میں جائیں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ۳۸* اور ظالموں کا یہی بدلہ ہے۔

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو ۳۹* اور ہر شخص کو چاہیے کہ دیکھ لے اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔ ۴۰* اللہ سے ڈرتے رہو۔ ۴۱* یقیناً اللہ اس سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ ۴۲*

۱۹۔۔۔۔۔۔۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے ان کو اپنے نفس کے بھلاوے میں ڈال دیا۔ ۴۳* یہی لوگ فاسق ہیں۔ ۴۴*

۲۰۔۔۔۔۔۔۔ دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے یکساں نہیں ہو سکتے۔ جنت میں جانے والے ہی کامیاب ہونے والے ہیں۔ ۴۵*

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے پست ہورہا ہے اور پھٹ رہا ہے۔ یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور کریں۔ ۴۶*

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اللہ ہی ہے ۴۷* جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ۴۸* غائب اور حاضر کا جاننے والا۔ ۴۹* وہ رحمن اور رحیم ہے۔ ۵۰*

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ ۵۱* وہ بادشاہ ہے۔ ۵۲* نہایت مقدس ۵۳*، سراسر سلامتی، ۵۴* امن دینے والا۔ ۵۵* حفاظت کرنے والا۔ ۵۶*،غالب۔ ۵۷*،زبردست۔ ۵۸، کبریائی والا۔ ۵۹ پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جن کو لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ ۶۰*

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اللہ ہی ہے پیدا کرنے والا۔ ۶۱*، موجد۔ ۶۲*،صورت گری کرنے والا۔ ۶۳* اس کے لیے بہترین نام ہیں۔ ۶۴* آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں اس کی تسبیح کرتی ہیں۔ ۶۵* اور وہ غالب ہے حکمت والا۔ ۶۶*

 

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔۔ اس کی تشریح سورۂ حدید نوٹ ۱ میں گزر چکی۔

۲۔۔۔۔۔۔۔ چنانچہ غزوۂ بنی نضیر میں اللہ کے غلبہ اور اس کی حکیمانہ تدبیر کا ظہور ہوا۔

۳۔۔۔۔۔۔۔ مراد بنی نَضرْ ہیں جن کا مدینہ سے اخراج عمل میں آیا۔ یہ یہودی قبیلہ تھا جو مدینہ کے مضافات میں آباد تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو آپ کے اور اس قبیلہ کے درمیان صلح کا معاہدہ ہوا تھا مگر وہ اس کی کھلی خلاف ورزی کرتے رہے۔ ان کے لیڈر کعب بن اشرف نے مکہ جا کر مشرکین کو مسلمانوں کے خلاف اکسایا” نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کرتا رہا اور مسلمان خواتین کے خلاف شرمناک پروپگنڈہ کرتا رہا بالآخر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم سے اسے قتل کر دیا جائے۔ اس کے بعد بھی یہ لوگ اپنی ریشہ دوانیوں سے باز نہیں آئے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے ہاں بلا کر دیوار کے اوپر سے بڑا پتھر آپ پر گرانے اور آپ کو قتل کرنے کی سازش کی تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے بر وقت اس سے خبردار کر دیا اور آپ بال بال بچ گئے۔ وہاں سے مدینہ واپس آ کر حکم دیا کہ بنی نضیر بیس دن کے اندر مدینہ سے نکل جائیں مگر انہوں نے اس سے انکار کیا۔ بالآخر آپ نے اپنے اصحاب کے ساتھ ان کا محاصرہ( گھیراؤ) کر لیا۔ وہ مرعوب ہو کر لڑائی کا حوصلہ کھو بیٹھے اور اس بات پر آمادہ ہو گئے کہ اپنے گھر بار چھوڑ کر مدینہ سے نکل جائیں گے البتہ جس قدر سامان وہ اپنے ساتھ لے جا سکتے ہوں انہیں لے جانے کی اجازت دی جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں اس کی اجازت دی چنانچہ انہوں نے خود اپنے ہاتھوں اپنے گھروں کو توڑ پھوڑ ڈالا تاکہ دروازے وغیرہ اپنے ساتھ لے جا سکیں۔ بنی نضیر کے اخراج کا یہ واقعہ ربیع الاول  ۴ھ میں پیش آیا۔

آیت میں ان کے اس اخراج کو اول حشر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حشر کے معنی اکٹھا کرنے کے ہیں۔ چونکہ ان کو مدینہ سے نکال کر اپنے کیفر کردار کو پہنچنے کے لیے اکٹھا کیا گیا تھا اس لیے اسے حشر سے تعبیر کیا گیا ہے اور اول حشر کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا کہ ان کا دوسرا حشر بھی ہونے والا ہے چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے زمانہ میں ان کو جزیرۂ عرب سے نکال د یا۔

۴۔۔۔۔۔۔۔ یعنی بظاہر حالات تم سوچ نہیں سکتے تھے کہ وہ اتنی آسانی سے مدینہ چھوڑ کر نکل جائیں گے۔

۵۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کا اعتماد اسباب پر تھا اور وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے مضبوط قلعے ان کی مدافعت کے لیے کافی ہوں گے۔

۶۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی تدبیر یہ ہوئی کہ ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ وہ لڑائی کا حوصلہ نہ کر سکے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس دلیرانہ اقدام کو دیکھ کر دہشت زدہ ہو گئے اس لیے مقابلہ کی ہمت نہ کر سکے۔

معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کی غیر معمولی مدد اس طرح بھی فرماتا ہے کہ ان کے دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈال کر ان کے حوصلے پست کر دیتا ہے بالخصوص ایسے موقع پر جبکہ دشمن طاقتور ہو اور اہل ایمان کے پاس اسباب کی کمی ہو مگر وہ اس کے باوجود حکم کی تعمیل میں سرفروشانہ جہاد کے لیے نکل کھڑے ہوئے ہوں۔

۷۔۔۔۔۔۔۔ وہ اپنے ہاتھوں اپنے گھروں کو اس لیے اجاڑ رہے تھے کہ اپنے گھروں کے دروازے وغیرہ نکال کر اپنے ساتھ لے جائیں نیز اس لیے بھی کہ مسلمانوں کو ان کے گھر اچھی حالت میں نہ ملیں۔ رہا مسلمانوں کا ان کے گھروں کو مسمار کرنا تو وہ جنگی ضرورت کے لیے تھا۔

۸۔۔۔۔۔۔۔ بنی نضیر کے اس انجام سے ہر آنکھیں رکھنے والے شخص کو عبرت حاصل کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ وہ اپنی قوت اور اپنی شان و شوکت کے باوجود رسول کے مقابلہ میں ٹک نہ سکے اور انہیں ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ نصرتِ الٰہی رسول کے ساتھ ہوتی ہے لہٰذا جو گروہ بھی رسول سے ٹکر لینے کی کوشش کرتا ہے منہ کی کھاتا ہے۔

۹۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کی طرف سے یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ بنی نَضِیر کو جلا وطن کر دیا جائے جس میں ان کے لیے یہ موقع باقی ہے کہ اس واقعہ سے سبق حاصل کریں اور اللہ کے حضور توبہ کر کے اپنی اصلاح کریں۔ ورنہ اللہ انہیں ایسی سزا دے سکتا تھا کہ ان کا خاتمہ ہو جاتا جس کی ایک صورت یہ ہو سکتی تھی کہ وہ قتل کر دیئے جاتے جیسا کہ بعد میں بنی قریظہ کے معاملہ میں ہوا کہ ان کے سب مرد قتل کر دئے گئے۔

واضح رہے کہ بنی نضیر اہل کتاب تھے جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ معاہدہ کیا تھا اور پھر غداری کی اس لیے ان کو اس غداری کی سزا یہ دی گئی کہ انہیں جلا وطن کر دیا گیا تاکہ مدینہ جو اسلام کا مرکز تھا ان کی سازشوں سے محفوظ رہے۔ جزیہ لینے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ عام اہل کتاب کے بارے میں ہے اور یہ حکم بعد میں نازل ہوا جو سورۂ توبہ میں ہے۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔ یعنی آخرت میں تو ان کو اپنے کفر کی سزا بھگتنے کے لیے جہنم میں جانا ہی ہے۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا مطلب اسلام دشمنی میں اٹھ کھڑے ہونا ہے۔ کیونکہ اسلام اللہ کا نازل کر دہ دین ہے جو تمام انسانوں کے لیے اس کا فرمان ہے۔ اس فرمان کے خلاف اسلام کا مقابلہ کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہونا اللہ کی مخالفت میں کھڑا ہونا ہے۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔ بنی نضیر کے باغ میں کھجور کے جو درخت تھے ان میں سے کچھ درختوں کو جنگی ضرورت کے تحت مسلمانوں نے کاٹ ڈالا اور کچھ درختوں کو باقی رہنے دیا۔ یہ سب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی موجودگی میں اور آپ کی ہدایت پر ہوا اس لیے یہ کام اللہ ہی کے حکم سے انجام پایا تھا۔ لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ اس تخریبی کام کے سلسلہ میں جو جنگی مصالح کے تحت کیا گیا کوئی کھٹک دلوں میں محسوس کی جائے۔

موجودہ زمانہ میں تو بہت بڑے پیمانہ پر دشمن کے ٹھکانوں پر بمباری کرنا پڑتی ہے۔ اس کے ہوائی جہاز گرانا پڑتے ہیں اور اس کی سپلائی لائن کاٹ دینا پڑتا ہے۔ ا س سلسلہ میں اس آیت سے یہ روشنی ملتی ہے کہ جہاد کے مقاصد کے لیے یہ سب کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو جہاد ہی معطل ہو کر رہ جائے گا اور دشمن غالب آ جائے گا۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔ اس مال کو اصطلاحاً “فَے ٔ” کہتے ہیں جس کے معنی لوٹانے کے ہیں اور جس کا مطلب یہ ہے کہ مال کافروں کے قبضے سے نکال کر مسلمانوں کو منتقل کر دیا گیا۔

۱۴۔۔۔۔۔۔۔ بنی نضیر کا معرکہ بغیر قتال کے سر ہوا تھا اس میں مسلمانوں کو اپنے گھوڑوں اور اونٹوں سے کام نہیں لینا پڑا بلکہ مدینہ سے بہت قریب ہونے کی وجہ سے پیدل چل کر آئے تھے اس لیے ان کا جو مال مسلمانوں کے ہاتھ لگا اس کی نوعیت مالِ غنیمت سے مختلف تھی۔ مالِ غنیمت اس مال کو کہتے ہیں جو لڑ کر دشمن کے قبضہ سے حاصل کیا گیا ہو اور جس میں مسلمان مجاہدین کو اپنے گھوڑے اون وغیرہ استعمال کرنا پڑے ہوں۔ مال غنیمت کا ۵/۴حصہ جیسا کہ سورۂ انفال آیت ۴۱ میں ارشاد ہوا ہے سپاہیوں میں تقسیم کرنے کے لیے ہے۔ لیکن مالِ فئے سپاہیوں کے درمیان تقسیم نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مصرف آگے کی آیت میں بیان ہوا ہے۔

۱۵۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کی خصوصی نصرت سے رسولوں کو اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل ہوتا رہا ہے اور اس موقع پر بھی اس کی خصوصی نصرت ہی کا ظہور ہوا ہے۔ یہ نصرت رعب کی شکل میں ظاہر ہوئی جو بنی نضیر کے دلوں میں ڈال دیا گیا اور جس کے نتیجہ میں قتال کی نوبت نہیں آئی۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو بستیاں بھی فتح ہوں اور ان کے اموال “فئے ” کے طور پر تمہارے قبضہ میں آئیں تو ان کا حکم وہ ہے جو آگے بیان کیا جا رہا ہے۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔ مالِ فئے کا پہلا مصرف اللہ کے لیے خرچ کرنا ہے اور اللہ کے لیے خرچ کرنے سے مراد اس کے دین کی اشاعت اور جہاد کے لیے خرچ کرنا ہے۔

دوسرا مصرف یہ ہے کہ رسول کا اس میں حق ہے تاکہ وہ اپنی جن ضرورتوں یا جن مصالح پر خرچ کرنا چا ہے کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم منصب رسالت کی ذمہ داریوں کی وجہ سے نہ معاشی دوڑ دھوپ کر   سکتے تھے اور نہ آپ نے اپنے اور اپنے اہلِ خاندان کے لیے زکوٰۃ کو جائز رکھا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے مالِ فئے میں آپ کا حصہ مقرر کیا۔ یہ حصہ منصب کی بنا پر تھا اس لیے آپ کے بعد یہ باقی نہ رہا۔ یہ بھی واضح رہے کہ انبیاء علیہم السلام وراثت نہیں چھوڑتے ان کا ترکہ صدقہ ہوتا ہے۔ آپ کا ارشاد ہے : لَا تُوْرَثُ مَاتَرَکْنَا صَدَقَۃٌ “ہمارا وارث کوئی نہیں۔ ہم جو کچھ چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔ “(بخاری کتاب الخمس)

تیسرا مصرف قرابت دار ہیں اور مراد رسول کے قرابت دار ہیں۔ یہ بنو ہاشم اور بنو المطلب ہیں جن پر آپ نے زکوٰۃ ممنوع قرار دی تھی۔ ان خاندان والوں نے آپ کا ساتھ دیا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے مالِ قئے کے ذریعہ ان کی فیض رسانی کا سامان کیا۔

چوتھا” پانچواں اور چھٹا مصرف یتیموں ” مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرنا ہے اور یہ خرچ ان کے فقراء اور ان کی احتیاج کو دور کرنے کے لیے ہے۔ یہ نادار اور غریب طبقہ ہے جو ہر طرح مدد کا مستحق ہے اس لیے مالِ فئے میں ان کا حصہ رکھا گیا۔

۱۸۔۔۔۔۔۔۔ یہ بہت بڑی اصولی بات ہے جو اس موقع پر ارشاد ہوئی ہے اور وہ یہ کہ دولت کا بہاؤ مال داروں کی طرف ہو کر نہ رہ جائے۔ اسلامی معاشیات(Islamic Economy) کا رخ دولت کے پھیلاؤ کی طرف ہے نہ کہ اس کے ارتکاز(Concentration) کی طرف۔ زکوٰۃ” صدقات کفاروں کی ادائیگی اور اموالِ غنیمت اور اموالِ فئے میں مفلس طبقہ کو حصہ دار بنا کر اس کی پوزیشن کو بہتر بنانے کا سامان کیا ہے۔ نیز سود کو حرام قرار دے کر غریبوں کا خون چوسنے سے مالداروں کو روکا ہے۔ علاوہ ازیں وراثت کی تقسیم کے ذریعہ دولت کے پھیلاؤ کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ یہ اور اس طرح کی دوسری ہدایات کے ذریعہ اسلام نے ایک ایسے معاشی نظام(Economic System) کی تشکیل کی ہے جس میں اعتدال بھی ہے ، سوسائٹی کے مختلف طبقات کے ساتھ انصاف بھی اور کمال درجہ کا توازن بھی۔ اس نے ان طور طریقوں کا سد باب کیا ہے جن سے غریب سے غریب تر اور امیر امیر تر ہوتے ہیں۔ اس کا معاشی نظام نہ سرمایہ دارانہ ہے اور نہ کسی کی حق تلفی پر مبنی۔ نہ اس میں یک رخا پن ہے اور نہ انتہا پسندی بلکہ وہ حق و عدل کا کامل نمونہ ہے۔

۱۹۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایک اور اصولی ہدایت ہے جو اس موقع پر دی گئی۔ سلسلہ کلام کے لحاظ سے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مالِ فئے میں سے رسول جس کو جو کچھ دے اس کو وہ قبول کر لے اور جس کو نہ دے وہ رک جائے۔ نہ مطالبہ کرے اور نہ اعتراض۔ لیکن اس فقرہ کا مفہوم اس حد تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے وسیع تر مفہوم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ رسول جو حکم دے اس کی تعمیل کرو اور جن چیز سے منع کرے اس سے رک جاؤ۔

حدیث میں بھی اس کی صراحت ہے :

اِذَا اَمَرْتُکُمْ بِاَمْرِفَاتُوْ مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَمَا فَہَیتُکُمْ عَنْہُ فَاَجْتَنِبُوْہُ۔ “جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو جہاں تک تمہاری استطاعت ہو کرو اور جس بات سے روک دوں اس سے اجتناب کرو۔ “( بخاری۔ مسلم)

اب یہ بات کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کن کاموں کے کرنے کا حکم دیا ہے اور کن باتوں سے روکا ہے آپ کی سنت ہی سے معلوم کی جاسکتی ہے اور آپ کی سنت کو جاننے کا ذریعہ احادیثِ صحیحہ ہیں اس لیے احادیثِ صحیحہ کی ضرورت ” اہمیت اور اس کے حجت ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور نہ قرآن کے اس حکم کی خلاف ورزی لازم آئے گی۔ یہاں یہ بات بھی سمجھ لینا چاہیے کہ حجت احادیثِ صحیحہ ہی ہیں نہ کہ ضعیف اور موضوع حدیثیں اور الم غلم روایتیں۔ مگر اس امت کے اندر بے سروپا روایتوں نے جڑ پکڑ لی ہے جس نے دین کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے یہ ہرگز اطاعتِ رسول نہیں ہے کہ ہر قسم کی روایتوں کو جو رسول کی طرف منسوب کر دی گئی ہوں قبول کر لیا جائے خواہ وہ قرآن اور سنتِ رسول کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔ ایسی روایتوں کا انکار اطاعت رسول ہے نہ کہ اقرار۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔ یعنی مفلس مہاجرین ( جو مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے ہیں ) اس بات کے خاص طور سے مستحق ہیں کہ مالِ فے میں سے ان پر خرچ کیا جائے کیونکہ ہجرت پر مجبور ہو جانے کی وجہ سے انہیں اپنے گھر بار اور اپنے اموال چھوڑ دینا پڑے اور خالی ہاتھ وہ مدینہ منتقل ہو گئے۔

۲۱۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ مہاجر محض تارکین وطن نہیں ہیں بلکہ اعلیٰ کردار کے حامل ہیں۔ ان کے پیش نظر صرف اللہ کی رضا جوئی ہے۔ اللہ کے دین اور اس کے رسول کی نصرت میں وہ پیش پیش رہتے ہیں اور راست بازی ان کا شعار ہے۔ جب انہوں نے دین کے لیے یہ قربانیاں دی ہیں تو وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ اللہ کے اس غیر معمولی عطیہ سے جو اموال نے کی صورت میں اسلامی حکومت کو حاصل ہوا ہے ان کی بھر پور مدد کی جائے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بنی نضیر سے حاصل شدہ اموالِ فے کا بڑا حصہ مہاجرین میں تقسیم کیا۔

۲۲۔۔۔۔۔۔۔ یہ مدینہ کے انصار کی قدر افزائی ہے کہ مہاجرین کے مدینہ آ جانے سے پہلے ہی وہ ایمان لا کر اس شہر کو اپنا مستقر بنائے ہوئے تھے جو بعد میں دار الہجرت قرار پایا۔ انہوں نے ان مہاجرین کو اپنے اوپر بار محسوس نہیں کیا بلکہ انہیں خوش آمدید کہا اور اپنے دل میں جگہ دی۔ بنی نضیر کے اموالِ فے میں سے انصار کو چھوڑ کر مہاجرین کو جو کچھ دیا گیا اس پر انہوں نے نہ اپنے دل میں تنگی محسوس کی اور نہ کوئی حرفِ شکایت زبان پر لایا جب کہ اموالِ فے میں ان کو بھی شریک کیا جا سکتا تھا لیکن انہوں نے اپنے اوپر ان مفلس مہاجرین کو ترجیح دی اور یہ ان کا بہت بڑا ایثار ہے۔

۲۳۔۔۔۔۔۔۔ دل کی تنگی( شحِ نفس) پوری عملی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے اور انسان کو ہلاکت کی راہ پر ڈال دیتی ہے اس لیے دل کی تنگی سے بچنے کی جس کو توفیق ملی اس کو گویا کامیابی کی ضمانت مل گئی۔

۲۴۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو لوگ مہاجرین اور انصار کے بعد آئے۔ ان میں اس سورہ کے نزول کے وقت سے لے کر قیامت تک کے اہلِ ایمان شامل ہیں۔ ان کا ذکر یہاں جس طور سے ہوا ہے اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اموالِ فے کا فائدہ ان کو بھی پہنچنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں جب عراق اور شام فتح کئے تو ان کی زمینوں کو فاتحین میں تقسیم نہیں کیا بلکہ اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے ان کو تمام مسلمانوں کے لیے فے قرار دیا تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس سے مستفید ہوں۔ اس مقصد کے پیشِ نظر آپ نے وہ زمینیں ان باشندوں کے قبضے میں رہنے دیں۔ اور ان پر خراج عائد کیا۔ خراج کی اس آمدنی کا بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ اس سے سرحدوں کی حفاظت کے انتظام میں سہولت ہو گئی اور جہاد کے لیے مالیات فراہم ہو گئیں۔ (تفصیلات کے لیے دیکھئے کتاب الخراج۔ ابو یوسف۔ باب ۳)

۲۵۔۔۔۔۔۔۔ یہ ترغیب ہے اس بات کی کہ بعد کے آنے والوں کو اپنے ان اسلاف کے بارے میں دعاگو ہونا چاہیے کیونکہ یہ ان ہی کی بیش بہا قربانیاں تھیں جو بتوفیقِ الٰہی اسلام کی سربلندی کا باعث ہوئیں اور یہ ان ہی کی جدوجہد تھی جس کے نتیجہ میں دین کی اشاعت کا دائرہ نہایت وسیع ہوا اور آئندہ نسلوں تک پہنچا۔

یہ تعلیم ہے اس بات کی کہ مسلمانوں کو صحابہ کرام کا قدر داں ہونا چاہیے اور ان کے بارے میں کوئی کینہ دل میں نہیں رکھنا چاہیے اگرچہ ان کی کوئی لغزش علم میں آئی ہو۔ اس میں رہنمائی ہے صحابہ کے مشاجرات(اختلافات و نزاعات) کے بارے میں جو بعد کے دور میں پیدا ہوئے کہ ان کو بُرا بھلا کہنے سے احتراز کرنا چاہیے مگر مسلمانوں کا ایک فرقہ جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کا عقیدہ رکھتا ہے خلفائے راشدین کو خلافت کا غاصب قرار دے کر صحابہ کرام کو بُرا بھلا کہتا ہے اور بُرے کلمات سے انہیں یاد کرتا ہے یعنی قرآن نے جن کے حق میں دعا کرنے کے لیے کہا تھا اس فرقے کے لوگ ان کو لعنت ملامت کرتے ہیں۔ تعصب نے انہیں ایسا اندھا کر دیا ہے کہ قرآن کی واضح آیتوں سے بھی انہیں روشنی نہیں ملتی!

۲۶۔۔۔۔۔۔۔ مدینہ کے منافقین جن کے یہود سے دوستانہ تعلقات چلے آ رہے تھے در پردہ ان کی پشت پناہی کر رہے تھے اس لیے اس موقع پر ان کا حال بیان کر کے مسلمانوں کو اس باخبر کیا گیا اور انہیں اطمینان دلایا گیا کہ یہ بزدل لوگ ہیں تم سے لڑنے کی کبھی جرأت نہیں کریں گے۔

۲۷۔۔۔۔۔۔۔ مراد مدینہ کے اطراف کے یہود ہیں بنی نضیر ، بنی قریظہ وغیرہ۔ ان کو منافقین کے بھائی اس لیے کہا گیا کہ یہود اور منافقین دونوں ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے تھے۔

۲۸۔۔۔۔۔۔۔ بنی نضیر کی تو انہوں نے کوئی مدد نہیں کی، رہے بنی قریضہ تو قرآن نے پیشین گوئی کی کہ یہ ان کی مدد کے لیے بھی نہیں آئیں گے چنانچہ بعد میں جب بنی قریظہ سے مسلمانوں کو سابقہ پیش آیا تو یہ پیشین گوئی بھی سچی ثابت ہوئی۔

۲۹۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہود کی۔

۳۰۔۔۔۔۔۔۔ یہ مدینہ کے یہود کا حال بیان ہوا ہے کہ وہ اللہ سے زیادہ مسلمانوں سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ اللہ کو بھلا بیٹھے ہیں اور مسلمان چونکہ سرفروشی کے لیے آمادہ رہتے ہیں اس لیے ان کے مقابلہ میں آنے سے ڈرتے ہیں۔ حالانکہ اصل خوف اللہ ہی کاہونا چاہیے جس کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے لیکن نا سمجھ لوگ اتنی بڑی حقیقت کو سمجھ نہیں پاتے۔

۳۱۔۔۔۔۔۔۔ چنانچہ یہ یہود قبائل مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے کبھی سامنے نہیں آئے۔ میدان میں آ کر لڑنے کی انہیں کبھی ہمت نہیں ہوئی۔ بنی نضیر قلعہ میں محصور ہو کر رہ گئے اور بعد میں جب بنی قریظہ اور خیبر کے یہود پر مسلمان حملہ آور ہوئے تو انہوں نے بھی میدان میں نکل کر جنگ نہیں کی بلکہ اپنے قلعوں ہی میں بند ہو کر مسلمانوں کو زک پہنچانے کی کوشش کی جس میں وہ بری طرح ناکام رہے اور قرآن کے بیان کی صداقت بالکل نمایاں ہو گئی۔

۳۲۔۔۔۔۔۔۔ یعنی بظاہر یہود متحد نظر آتے ہیں مگر آپس کی مخاصمت کی وجہ سے ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے جب کتابِ الٰہی کو پس پشت ڈال دیا اور عقائد و اعمال میں نئی نئی باتیں ( بدعات) نکالیں تو وہ فرقہ بندی کا شکار ہو گئے اور اس فرقہ بندی کے نتیجہ میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت کے جذبات ابھرے جس نے ان کے دلوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا اور ان کا اتحاد پارہ پارہ ہو گیا۔

۳۳۔۔۔۔۔۔۔ یعنی عقل سے کام لینے اور سوجھ بوجھ کا ثبوت دینے کے بجائے انہوں نے اپنے کو جذبات اور خواہشات کا تابع بنا لیا اور جب کوئی گروہ دین کے معاملہ میں سوجھ بوجھ کا ثبوت نہیں دیتا تو خواہشات کا پیرو بن کر اس کا حلیہ ہی بگا ڑدیتا ہے۔ پھر اختلافات اس شدت سے ابھرتے ہیں کہ ملت کا شیرازہ بکھر کر رہ جاتا ہے۔

۳۴۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہود کا حشر بھی وہی ہو گا جو مشرکین مکہ کا ہوا۔ اشارہ جنگِ بدر کی طرف ہے جس میں مشرکین کے کتنے ہی لیڈر قتل کر دئے گئے اور ان کو بری طرح شکست ہوئی۔ اور یہ واقعہ  ۲ھ میں پیش آیا تھا جو یہود کے لیے قریب میں وقوع ہونے والا واقعہ تھا۔

۳۵۔۔۔۔۔۔۔ یعنی آخرت کا دردناک عذاب۔

۳۶۔۔۔۔۔۔۔ مراد منافقین ہیں جو یہود کو مسلمانوں کے خلاف لڑنے پر اکسارہے تھے۔

۳۷۔۔۔۔۔۔۔ یعنی شیطان انسان کو کفر پر اکساتا ہے لیکن اس کے کفر کرنے کے بعد اس کی کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتا چنانچہ قیامت کے دن شیطان اپنے بری الذمہ ہونے کا اظہار کرے گا اور کہے گا کہ میں نے کفر پر مجبور نہیں کیا تھا۔

رہا شیطان کایہ کہنا کہ مجھے اللہ رب العالمین سے ڈر لگتا ہے تو یہ بات وہ اس عذاب کی زد سے بچنے کے لیے کہتا ہے جس کی لپیٹ میں کفر کرنے والا آتا ہے۔ وہ اگر واقعی اللہ سے ڈرتا تو شیطان کیوں بنتا۔ یہ بھی واضح رہے کہ شیطان کی یہ باتیں اشاروں میں یعنی وسوسہ اندازی کی شکل میں ہوتی ہیں۔

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ انفال نوٹ ۷۳۔

۳۸۔۔۔۔۔۔۔ یعنی شیطان بھی جہنم رسید ہو گا اور اس کے اشاروں پر کفر کرنے والا انسان بھی۔ اسی طرح یہ منافقین بھی جہنم میں جائیں گے اور ان کے اشاروں پر کفر کرنے والے یہود بھی۔

۳۹۔۔۔۔۔۔۔ اوپر منافقین کے رویہ پر گرفت کی گئی تھی اب خطاب کا رخ اہل ایمان کی طرف ہو رہا ہے۔ انہیں تقویٰ اختیار کرنے کی تاکید کی جا رہی ہے اور ساتھ ہی تقویٰ کی پرورش کا سامان بھی کیا جا رہا ہے یہ نسخہ شفاء (منافقت) کی بیماری کو بھی دور کرنے والا ہے اور اہل ایمان کے کردار کو بھی مضبوط بنانے والا ہے۔

۴۰۔۔۔۔۔۔۔ قیامت کے دن کو کل سے تعبیر فرمایا ہے۔ گویا دنیا کی زندگی بس آج ہے اور قیامت کل ہی نمودار ہونے والی ہے۔ جو لوگ قیامت کد ور خیال کر کے اس سے غفلت برتتے ہیں وہ سخت دھوکہ میں ہیں۔ جب قیامت کا ظہور ہو گا تو ہر شخص محسوس کرے گا کہ وہ بہت قریب تھی اور بہت جلد رونما ہو گئی۔

قیامت کے برپا ہوتے ہی حساب و کتاب کا معاملہ پیش آنے والا ہے اس لیے ہر شخص کو آج ہی اپنا احتساب کر لینا چاہیے کہ اس نے آخرت کے لیے کیا سامان کیا ہے۔ اسے اپنے مستقبل کی زندگی ( اُخروی زندگی) کو کامیاب بنانے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اگر اس نے آخرت کی فکر نہیں کی اور دنیا کے مشاغل ہی میں منہمک ہو کر رہ گیا تو اس کا مستقبل نہایت تاریک ہو گا اور اس وقت اسے احساس ہو گا کہ وہ دنیاسے گناہوں کے پارسل ہی اپنے لیے بھیجتا رہا۔

۴۱۔۔۔۔۔۔۔ ایک ہی آیت میں تقویٰ(خدا خوفی) اختیار کرنے کی دو مرتبہ تاکید کی گئی ہے تاکہ تقویٰ پر جو مشکل سے پیدا ہوتا ہے نگاہیں جم جائیں۔

تقویٰ کے معنی اللہ سے ڈرنے اور اس کی نافرمانی سے بچنے کے ہیں۔ اس میں اللہ کی عظمت کا تصور بھی ہے اور وہ احساس بھی جو گناہوں سے باز رکھتا اور فرائض کی پابندی پر آمادہ کرتا ہے۔

۴۲۔۔۔۔۔۔۔ تقویٰ کی پرورش اس احساس سے ہوتی ہے کہ اللہ ہمارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔

۴۳۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کو بھول جانے کا مطلب اس سے غافل ہو جانا، اس کے احکام کی پروانہ کرنا اور اس کے حضور پیشی سے بے فکر ہو جانا ہے۔ خدا فراموش کا لازمی نتیجہ خود فراموشی ہے۔ اور خود فراموشی یہ ہے کہ آدمی اپنی اس حیثیت کو بھول جائے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے وہ اپنی من مانی کرنے کے لیے آزاد نہیں ہے ، اپنے مقصدِ وجود کو نظر انداز کر دے اور اپنے بُرے انجام کی طرف سے غافل ہو جائے۔

یہود کا یہی حال تھا جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کر کے اہل ایمان کو تنبیہ کیا گیا ہے کہ وہ ان کی طرح نہ بن جائیں۔ اس تنبیہ اور تاکید کے باوجود آج مسلمانوں کی بڑی تعداد یہود ہی کے نقشِ قدم پر ہے۔ وہ مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں لیکن وہ اللہ کو ایسا بھلا بیٹھے ہیں کہ ان کی زندگیاں خدا خوفی سے خالی ہو گئی ہیں یہاں تک کہ وہ نماز کے بھی تارک ہو گئے ہیں۔

۴۴۔۔۔۔۔۔۔ قرآن ایمان کے ایسے دعویداروں کو جو اللہ کو بھول بیٹھے ہوں فاسق قرار دیتا ہے اور فاسقوں کا انجام معلوم ہے۔

۴۵۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگ جنت اور جہنم کو خاطر میں لائے بغیر زندگی گزارتے ہیں وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کی زندگیاں بڑی کامیاب ہیں اور مذہب کے تنگ دائرے سے نکلنے کے بعد ان پر ترقی کی راہیں کشادہ ہو گئی ہیں حالانکہ وہ اس امتحانی زندگی میں ناکام(فیل) ہونے والے لوگ ہیں جن پر حقیقی ترقی کی ساری راہیں مسدود ہو جاتی  ہیں اور جن کا انجام جہنم میں سزا بھگتنے کے لیے پڑے رہنا ہے بخلاف اس کے جو لوگ جنت کو منزلِ مقصود قرار دے کر اپنے کو اس کا اہل بناتے ہیں وہ اس امتحانی زندگی سے کامیاب ہو کر نکلتے ہیں اور آخرت میں وہ جنت میں داخل ہو کر  با مراد اور فائز المرام ہونے والے لوگ ہیں۔

۴۶۔۔۔۔۔۔۔ یہ قرآن کی تاثیر کی مثال بیان ہوئی ہے کہ وہ کلامِ الٰہی ہونے کی وجہ سے ایسا موثر ہے کہ اگر کسی پہاڑ کو شعور عطا کر کے اس پر نازل کیا جاتا تو خشیتِ الٰہی سے وہ دب جاتا اور پھٹ پڑتا لیکن انسان کی سنگدلی کا حال یہ ہے کہ اس کلام کو سن کر اس کا دل نہیں پسیجتا۔ گویا منکرین قرآن کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ یہود کے دل بھی پتھر سے زیادہ سخت ہو گئے تھے جس کا ذکر سورۂ بقرہ میں ہوا ہے :

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْاَشَدُّ قَسْوَۃً۔ “پھر تمہارے دل سخت ہو گئے پتھروں کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت۔ “(بقرہ:۷۴)

اور پتھروں کا اللہ کے خوف سے گرنا بھی ایک حقیقت ہے :

وَ اِنَّ مِنْہَا لَمَا یہْبِطُ مِنْ خَشْیۃِ اللّٰہِ “اور بعض پتھر ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔ “(بقرہ:۷۴)

اس موقع پر سورۂ حدید آیت اور اس کی تشریح بھی پیش نظر رہے۔

۴۷۔۔۔۔۔۔۔ یہ سورہ کے خاتمہ کی آیتیں ہیں جن میں اللہ کے اسمائے  حسنیٰ ( بہترین نام) جامع طور پر اور حسنِ ترتیب کے ساتھ بیان ہوئے ہیں جس سے اللہ کی عظمت کا تصور پیدا ہو جاتا ہے اور دل میں تقویٰ نشو نما پانے لگتا ہے۔ ان آیتوں کی اثر انگیزی ایسی زبردست ہے کہ ان کی تلاوت ہی سے اللہ کی ہیبت طاری ہو جاتی ہے اور یہ قرآن کے معجزانہ کلام ہونے کا ثبوت ہے۔

لفظ اللہ کی تشریح سورۂ فاتحہ نوٹ ۳ میں گزر چکی۔

۴۸۔۔۔۔۔۔۔ یعنی عبادت اللہ کے لیے خاص ہے۔ اس کے سوا کوئی نہیں جو عبادت کا مستحق ہو اور اس لائق ہو کہ اس کے ٓٓگے عبادت کے مراسم ادا کئے جائیں۔

۴۹۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو چیزیں انسان اور دوسری مخلوق سے پوشیدہ ہیں ان کو بھی وہ جانتا ہے اور جو ان پر ظاہر ہیں ان کو بھی۔ اس کو ماضی حال اور مستقبل سب کا علم ہے اور اس کا علم زماں اور مکاں سب کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

۵۰۔۔۔۔۔۔۔ رحمن و رحیم کے الفاظ کی تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ فاتحہ نوٹ ۵۔

۵۱۔۔۔۔۔۔۔ الٰہ کے اصل معنی معبود کے ہیں اور معبود حقیقۃً وہی ہو سکتا ہے جو قدرت اور جو قدرت اور اقتدار رکھتا ہو چنانچہ قرآن میں یہ لفظ صاحبِ اقتدار یعنی خدا کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل میں ہے :

قُلْ لَوْکَانَ مَعَہ” اٰلِہَۃٌ کَمَا یقُوْلُونَ اِذَالاَّ بْتَغَوْاِلٰی ذِی الْعَرْشِ سَبیلاً۔ “کہو اگر اس کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو وہ صاحبِ عرش کی طرف راہ ضرور نکال لیتے۔ “(بنی اسرائیل: ۴۲)

ظاہر ہے صاحبِ عرش کی طرف راہ نکالنے کا تعلق اقتدار سے ہے اس لیے الٰہ کے معنی میں یہاں اقتدار کا پہلو ابھرا ہوا ہے اس لیے یہاں ترجمہ میں معبود کے بجائے خدا کا لفظ زیادہ موزوں ہے کیونکہ لفظ خدا سے قدرت اور اقتدار والا ہونے کا تصور قائم ہوتا ہے۔

بعض علماء لفظ خدا کو اللہ کے لیے استعمال کرنے پر اعتراض کرتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک اس فارسی لفظ کے اصل معنی کچھ اور ہی ہیں لیکن یہ اعتراض کوئی اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ یہ لفظ عرصہ دراز سے اچھے معنی میں استعمال ہورہا ہے اور علماء اور عوام سب کی زبان پر ہے اور قرآن کے اردو ترجموں میں بھی یہ لفظ بہ کثرت استعمال ہوا ہے اورعلامہ فخر الدین رازی نے اپنی کتاب “لوامع البینات ” میں جو اسمائے الٰہی پر عربی میں ایک ممتاز اور محققانہ کتاب ہے اللہ کے لیے لفظ خدا کے استعمال کو جائز کہا ہے۔ ( دیکھئے لوامع البینات۔ ص ۲۱)

۵۲۔۔۔۔۔۔۔  اَلْمَلِک یعنی بادشاہ” سلطان۔ اللہ انسان کا اور پوری کائنات کا حقیقی بادشاہ ہے اس کا اقتدار سب پر چھایا ہوا ہے اور وہی شارع( شریعت دینے والا) اور حاکم(Sovereign) ہے۔ انسان کا بادشاہ اور حاکم ہونا مجاز ی معنی میں ہے اور مشروط اور محدود ہے جو لوگ اپنی بادشاہت یا حاکمیت (Sovereignty) کو اللہ کی بادشاہت و حاکمیت کے ماتحت ہونے کا تصور نہیں رکھتے اور اس کی شریعت سے آزاد ہو کر قانون سازی کرتے ہیں وہ اللہ کے باغی اور سرکش ہیں اور ان کی حاکمیت کے دعوے بالکل باطل ہیں۔

۵۳۔۔۔۔۔۔۔   القُدُّوس یعنی ہر قسم کے عیب اور نقص سے پاک نیز اس میں بابرکت ہونے کا مفہوم بھی شامل ہے چنانچہ لسان العرب میں اس کے معنی مبارک کے بھی بیان ہوئے ہیں۔ مَلِکُ کے ساتھ قدوسیت کی صفت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ ایسا فرمانروا ہے جو خطا سے پاک ہے اور اس کا کوئی فرمان غلط نہیں ہو سکتا۔

۵۴۔۔۔۔۔۔۔  السلام یعنی سراسر سلامتی۔ وہ ایسا صاحبِ سلامت ہے کہ اس پر کبھی کوئی آفت آنہیں سکتی۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں کو سلامتی بخشتا ہے۔

۵۵۔۔۔۔۔۔۔  المُؤمن یہاں امن دینے والے کے معنی میں ہے۔ وہی ہے جو خوف کو دور کرنے اور امن بخشنے والا ہے۔

۵۶۔۔۔۔۔۔۔  اَلْمُہَیمِنُ یعنی نگہداشت کرنے والا۔ وہی ہے جو اپنے مخلوق کی نگہداشت اور حفاظت کرتا ہے۔

۵۷۔۔۔۔۔۔۔  العزیز کے سب سے زیادہ ابھرے ہوئے معنی تو غالب کے ہیں ” دوسرے معنی بے مثال کے ہیں۔ تیسرے معنی شدید اور قوی کے ہیں اور چوتھے معنی عزت دینے والے کے ہیں۔ ( دیکھئے لوامع البینات۔ امام رازی ص۱۴۷ نیز لسان العرب ج  ۵  ص ۳۷۵)

اللہ کے غالب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تمام کائنات پر اس کا غلبہ ایسا ہے کہ کوئی چیز بھی اس کے قابو سے باہر نہیں۔ تمام جانداروں کی تکمیل اسی کے ہاتھ میں ہے اور جس کسی کو بھی اس نے کسی قسم کا اختیار بخشا ہے اسے وہ جب چا ہے چھین سکتا ہے۔ اس سے بغاوت اور سرکش کر کے کوئی شخص بھی اس کی گرفت سے اپنے کو بچا نہیں سکتا۔

۵۸۔۔۔۔۔۔۔  اَلْجَبَّار یعنی زبردست، اپنے احکام مخلوق پر بزور نافذ کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ کی قوتِ قاہرہ کے آگے مخلوق بے بس ہے۔ کسی کی مال نہیں کہ اس کی مشیت کے خلاف کچھ کر سکے۔ مثال کے طور پر انسان ناک سے سانس لینے کے لیے مجبور ہے۔ آنکھ سے سانس لینے کا کام نہیں کر سکتا اور نہ کان سے دیکھنے کا کام کر سکتا ہے۔ انسان کی یہ بے بسی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس پر ایک زبردست ہستی فرمانروا ہے جس نے اپنے احکام بزور اس پر نافذ کر رکھے ہیں۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ اپنی بے بسی کو محسوس کرتے ہوئے اس کے آگے سرنگوں ہو جائے اور عجز و نیاز کا طریقہ اختیار کرے۔

۵۹۔۔۔۔۔۔۔  اَلْمُتَکَبِّرْ یعنی کبریائی اور عظمت والا۔ اس کے لیے بڑائی ہی بڑائی ہے اور مخلوق میں سے کوئی نہیں جس کو بڑائی کا حق پہنچتا ہو اور بڑائی کرنا اس کو زیب دیتا ہو کیونکہ اپنی ذات میں کوئی بھی بڑا نہیں ہے۔ اسی لیے کسی کا تکبر کرنا مذموم ( بُرا) ہے اور اللہ ہی ہے جس کے لیے حقیقۃً  کبریائی ہے۔

۶۰۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اللہ کی ذات اور اس کی ان صفات میں کوئی بھی شریک نہیں۔ اس لیے وہی خدائے واحد اور معبودِ حقیقی ہے۔

۶۱۔۔۔۔۔۔۔  الخالق یعنی عدم سے وجود میں لانے والا۔ مادّہ پہلے موجود نہیں تھا اللہ ہی نے اسے وجود میں لایا اور تمام کائنات اسی نے پیدا کی۔ اس کے خالق ہونے کی صفت مشرکینِ ہند کے اس تصور کی تردید کرتی ہے کہ مادّہ ازلی ہے یعنی ہمیشہ سے ہے اس کو کسی نے پیدا نہیں کیا۔ قرآن اس عقیدہ کو باطل قرار دیتا ہے۔

۶۲۔۔۔۔۔۔۔  الباری کے معنی بھی پیدا کرنے والے کے ہیں لیکن اس میں ایجاد کا پہلو نمایاں ہے یعنی کسی سابقہ مثال کے بغیر پیدا کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ کی خلاقیت کا کمال یہ ہے کہ اس نے کائنات کی تمام چیزیں اس طرح پیدا کیں کہ کسی چیز کا بھی کوئی نمونہ پہلے سے موجود نہیں تھا۔ ہر چیز اس کی ایجاد اور اختراع ہے۔

بَرَأَ جس کا اسم فاعل باری ہے عربی اور عبرانی دونوں زبانوں میں اس کے معنی پیدا کرنے کے ہیں۔ عبرانی زبان میں جو تورات موجود ہے اس کی پہلی ہی آیت میں بَرَأَ کا لفظ آیا ہے۔

“سب سے پہلے خدا نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ “( پیدائش:۱)

۶۳۔۔۔۔۔۔۔  المُصَوِّر یعنی صورت گری کرنے والا۔ وہی ہے جو اپنے مخلوق کی صورت گری کرتا ہے اور اس نے انسان کو ایک خاص صورت بخشی ہے۔

ہُوَالَّذِیْ یصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیفَی شَیءُ “وہی ہے جو رحموں کے اندر جس طرح چاہتا ہے صورت گری کرتا ہے۔ “( آل عمران :۱۶)

وَلَقَدْخَلَقْنَاکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاکُمْ”ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہاری صورت گری کی۔ “(اعراف:۱۱ّ)

نیز فرمایا:

وَصَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ “اور تمہاری صورت گری کی تو اچھی صورتیں بنائیں۔ “(المومن:۶۴)

اور اس کی صورت گری کا کمال یہ ہے کہ اربوں انسانوں کی صورتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ وہ روزانہ پیدا ہونے والے کثیر التّعداد بچوں کو نئی نئی شکلیں ( Design) دیتا رہتا ہے اس کے پاس ڈیزائن(Shapes) کی کوئی کمی نہیں۔ وہ ایک ڈیزائن کو اسی طرح دہراتا نہیں بلکہ اس میں فرق کرتا ہے تاکہ افراد ایک دوسرے کو شناخت کر سکیں اور اس کی کمال تخلیق کی نشانی قرار پائے۔

۶۴۔۔۔۔۔۔۔  اَلْاَسْمَاء الْحُسْنیٰ یعنی حسن و خوبی کے نام۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ اعراف نوٹ ۲۷۸، ۲۷۹  اور ۲۸۰۔

اسمائے حسنیٰ کی تفصیل ترمذی کی ایک حدیث میں بیان ہوئی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام گنائے گئے ہیں اور عوام میں یہ حدیث مشہور ہے۔ ( دیکھئے ترمذی ابوابالدعوات) لیکن یہ حدیث گوناگوں وجوہ سے پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی۔

اولاً ترمذی نے اس حدیث کو روایت کر کے کہا ہے : ہَذَا حَدِیثٌ غَرِیبٌ: یعنی یہ غریب حدیث ہے اور غریب حدیث ضعیف ہی کی ایک قسم ہے :

ثانیاً اس کے ایک راوی ولید بن مسلم ہیں جن کے بارے میں میزان الاعتدال میں متضاد رائیں منقول ہیں۔ بعض محدثین کا کہنا ہے کہ وہ تدلیس کر کے جھوٹے راویوں سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے امام مالک سے دس حدیثیں ایسی بیان کی ہیں جن کی کوئی اصل نہیں ( میزان الاعتدال۔ امام ذہبی۔ ج ۴ص۳۴۷)

ثالثاً ننانوے ناموں کی جو تفصیل ترمذی کی اس حدیث میں بیان ہوئی ہے اس میں رب ، مولی اور نصیر جیسے ناموں کا کوئی ذکر نہیں ہے اور نہ ناموں کے بیان میں ترتیب کا حسن پایا جاتا ہے مثلاً الحی( اللہ کی صفت کہ وہ زندہ ہے ) سے پہلے المحی( وہ زندہ کرنے والا ہے) کا ذکر ہوا ہے۔

مزید یہ کہ ابن ماجہ وغیرہ کی حدیث میں ناموں کی جو تفصیل بیان ہوئی ہے اس میں اور ترمذی کی اس حدیث میں ناموں کا فرق ہے۔ غرضیکہ جن حدیثوں میں بھی ناموں کی تفصیل بیان ہوئی ہے وہ ضعیف ہیں اور چونکہ اکثر روایتیں جن کے راوی ابوہریرہ ہیں ناموں کی تفصیل سے خالی ہیں اور ان میں صرف اس قدر بیان ہوا ہے کہ اللہ کے ننانوے نام ہیں اس لیے محدثین کے ایک گروہ نے ناموں کی اس تفصیل کو مُدْرج مانا ہے یعنی اصل حدیث بیان کر کے راوی نے اپنی طرف سے اس کی تشریح کے طور پر یہ نام بیان کئے ہیں۔ یہ تفصیل نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی فرمودہ نہیں ہے۔ ( اس بحث کے لیے دیکھئے فتح الباری ج ۱۱ ص ۱۷۸ تا ۱۹۰، اور تفسیر ابن کثیر ج ۲ص ۲۶۹)

۶۵۔۔۔۔۔۔۔  اس کی تشریح سورہ حدید نوٹ ۱ میں گزر چکی۔

الحکیم یعنی حکمت والا۔ حکمت کی بنیاد علم پر ہوتی ہے اور اللہ کے حکیم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے فیصلے دانائی کے ہوتے ہیں۔ اس کی تدبیریں محکم ہوتی ہیں اور اس نے اپنی حسن تدبیر سے ہر چیز کو مطابق مصالحت موزوں جگہ پر رکھا ہے۔

۶۶۔۔۔۔۔۔۔  سورہ کے آغاز میں بھی اللہ کے غالب اور حکیم ہونے کی صفتوں کا ذکر ہوا تھا اور سورہ کا خاتمہ بھی ان ہی پر ہوا ہے۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اس سورہ میں جو مضامین بیان ہوئے ہیں وہ ان دو جامع صفتوں پر توجہ مرکوز کراتے ہیں۔ اللہ غالب ہے اس لیے اس کے فیصلے نافذ ہو کر رہتے ہیں اور وہ حکیم ہے اس لیے اس کے فیصلے حکمت سے خالی نہیں ہوتے لہٰذا انسان کو اللہ سے ہر حال میں حسن ظن رکھنا چاہیے خواہ اس کو کیسے ہی کٹھن حالات سے دو چار ہونا پڑے۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

(۶۷)۔ سورہ المُلک

 

(۳۰ آیات)

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

سورہ کے آغاز ہی میں اللہ کی بادشاہی ( مُلک) کا ذکر ہوا ہے اس مناسبت سے اس سورہ کا نام ’ المُلک‘ ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ شروع دور میں جبکہ مخالفت کا آغاز ہوا تھا نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

خدا اور آخرت سے غافل انسانوں کو چونکا دینا ہے۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ تا ۵ میں موت و حیات کا مقصد بیان کرتے ہوئے آسمان و زمین کی تخلیق اور اس کے نظام پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے جس سے کائنات کے خالق کی معرفت بھی حاصل ہوتی ہے اور اس بات کی بھی تائید ہوتی ہے کہ انسان کی یہ زندگی ایک امتحانی زندگی ہے۔

آیت ۶ تا ۱۱ میں قرآن کی پیش کر دہ حقیقتوں کا انکار کرنے والوں کا اخروی انجام بیان کیا گیا ہے۔

آیت ۱۲ تا ۱۴ میں ان لوگوں کا حسن انجام بیان کیا گیا ہے جو اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور واضح کیا گیا ہے کہ اللہ انسان کی ہر کھلی اور اچھی بات کو جانتا ہے اور اس سے کوئی بات اور کوئی عمل خواہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو چھپا نہیں رہ سکتا۔

آیت ۱۵ سے اخیر سورہ تک انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے اسے غفلت سے چونکانے کا سامان کیا گیا ہے۔ اگر انسان آنکھیں کھول کر اس کائنات کا مشاہدہ کرے گا تو قرآن کے پیش کر دہ حقائق کی صداقت اس پر روشن ہو گی اور وہ اپنے مقصدِ زندگی سے آشنا ہو جائے گا۔

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑا بابرکت ہے۔ ۱* وہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے ۲* اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ ۳* وہ غالب بھی ہے اور مغفرت فرمانے والا بھی۔۴*

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ جس نے سات آسمان تہ بہ تہ بنائے۔ ۵* تم رحمن کی تخلیق میں کوئی خلل نہ پاؤ گے۔ ۶*

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر نگاہ دوڑاؤ کہیں تمہیں نقص نظر آتا ہے ؟ پھر بار بار نگاہ دوڑاؤ تمہاری نگاہ تھک کر ناکام واپس آئے گی۔ ۷*

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے آسمان کو چراغوں سے سجایا ہے اور ان کو شیاطین پر مار کا ذریعہ بنایا ہے۔ ۸* اور ان کے لیے بھڑکتی آگ کا عذاب بھی تیار کر رکھا ہے۔ ۹*

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے۔ ۱۰* ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ جب وہ اس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دھاڑنے کی آواز سنیں گے اور وہ جوش مارتی ہو گی۔ ۱۱*

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ شدتِ غضب سے پھٹی جاتی ہو گی۔ ۱۲* ہر بار جب کوئی گروہ اس میں ڈالا جائے گا اس کے محافظ ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا ۱۳ * نہیں آیا تھا؟

۹۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جواب دیں گے ہاں خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے۔ تم لوگ بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے توہم دوزخ والوں میں شامل نہ ہوتے۔ ۱۴*

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے تو لعنت ہے دوزخیوں پر۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگ بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔ ۱۵*

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔ تم اپنی بات کو چھپاؤ یا ظاہر کرو وہ تو دلوں کے راز بھی جانتا ہے۔ ۱۶*

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا وہ نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے ؟ ۱۷* وہ بڑا باریک بیں ۱۸* اور خبر رکھنے والا ہے۔

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع بنایا۔ ۱۹* چلو اس کے کندھوں پر ۲۰* اور کھاؤ اللہ کے رزق میں سے۔۲۱* اسی کے حضور اٹھ کھڑے ہونا ہے۔ ۲۲*

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے۔ ۲۳* بے خوف ہو گئے ہو کہ تمہیں زمین میں دھنسا دے اور وہ یکایک ہلنے لگے۔۲۴*

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے بے خوف ہو گئے ہو کہ تم پر پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیج دے ؟ ۲۵* پھر تمہیں معلوم ہو جائے کہ میری تنبیہ کیسی ہوتی ہے۔

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں تو دیکھ لو کیسا رہا میرا عذاب ۲۶*

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندوں کو پَر پھیلائے اور ان کو سمیٹتے ہوئے نہیں دیکھا؟ رحمن کے سوا کوئی نہیں جو ان کو تھام لیتا ہو۔ ۲۷* وہی ہر چیز کا نگراں ہے۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔ بتاؤ تمہارے پاس وہ کون سا لشکر ہے جو رحمن کے مقابلہ میں تمہاری مدد کر سکے گا؟ ۲۸* یہ کافر دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔ بتاؤ وہ کون ہے جو تمہیں رزق دے اگر وہ اپنا رزق روک لے ؟ ۲۹* در حقیقت یہ لوگ سرکشی اور  حق سے۔۔۔۔۔۔۔۔ بیزاری پر اڑ گئے ہیں۔ ۳۰*

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا وہ شخص جو اوندھے منہ چل رہا ہو راہ پانے والا ہے یا وہ جو ایک سیدھی راہ پر سیدھا چل رہا ہے ؟ ۳۱*

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے لیے کان ،آنکھیں اور دل بنائے  مگر۔۔۔۔۔۔۔۔ تم کو ہی شکر ادا کرتے ہو۔ ۳۲*

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلا یا ہے اور اسی کی طرف تم اکٹھے کئے جاؤ گے۔ ۳۳*

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتاؤ یہ وعدہ کب پورا ہو گا ؟ ۳۴*

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ ۳۵* میں تو بس کھلا خبردار کرنے والا ہوں۔

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔ جب وہ اس کو ۳۶* قریب دیکھ لیں گے تو ان لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنہوں نے انکار کیا ہے۔ اور ان سے کہا جائے گا یہی ہے وہ چیز جو تم طلب کر رہے تھے۔

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے تو کافروں کو دردناک عذاب سے کون پناہ دے گا؟ ۳۷*

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو وہ رحمن ہے جس پر ہم ایمان لائے ہیں اور اسی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے۔ ۳۸* تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ کھلی گمراہی میں کون ہے۔

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارا پانی نیچے اتر جائے تو کون ہے جو تمہارے لیے بہتا ہوا پانی لے آئے ؟ ۳۹*

 

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔  تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ فرقان نوٹ  ۱۔

۲۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی جس کے ہاتھ میں کائنات کی باگ دوڑ ہے اور جس کی فرمانروائی عظیم الشان  ہے۔

۳۔۔۔۔۔۔۔۔  انسان کی موت و حیات کا سلسلہ یونہی نہیں چل رہا ہے بلکہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں پیدا فرمائی ہیں اور ان کی تخلیق میں عظیم مصلحت کار فرما ہے اور وہ یہ کہ انسان کو دنیا میں امتحانی زندگی سے گزارا جائے۔ اسے نیک کردار یا بدکار بننے کا موقع دیا جائے اور پھر دیکھا جائے کہ کون اپنے کو نیک کردار ثابت کرتا ہے۔ جو لوگ نیک اوصاف بنیں گے وہ انسانیت کا جوہر ہوں گے اللہ ان کا قدر داں ہو گا اور وہ ان کو ایسے انعامات سے نوازے گا کہ وہ نہال ہو جائیں گے۔ وہ سدا بہار جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے داخل کئے جائیں گے۔ اور جو عمل کے اعتبار سے جتنا بہتر ہو گا اتنا ہی اونچا مقام وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پائے گا۔ یہ بہت بڑا مثبت مقصد ہے جس کے لیے دنیا کی زندگی امتحانی بنائی گئی ہے۔

آیت میں موت کا ذکر حیات سے پہلے کیا گیا ہے جو موقع کی مناسبت سے ہے۔ موت بہت زیادہ تلخ ہوتی ہے جب کہ زندگی تلخ بھی ہوتی ہے اور شیریں بھی۔ موت کی تلخی ہی کا تصور ہے جو غفلت سے چونکا نے کا کام کرتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے :

’’اَکْثِرُوْاذِکْرَہَاذِمِ اللَّذَّاتِ یعْنیِ الْمَوْتَ‘‘۔’’ لذتوں کو ختم کرنے والی چیز کو یاد کرو۔ ‘‘ یعنی موت کو۔(ترمذی ابواب الزہد)

پھر موت میں اس پہلو سے بھی امتحان ہے کہ انسان حرام موت مرتا ہے یا حلال۔ مصائب سے بے زار آ کر خودکشی کرتا ہے یا طبعی موت مرتا ہے ، اپنے کو حرام مقاصد کے لیے قربان کرتا ہے یا اللہ کی راہ میں شہید ہوتا ہے۔

۴۔۔۔۔۔۔۔۔  وہ غالب ہے اس لیے اس کی گرفت سے ڈرو اور وہ مغفرت فرمانے والا ہے اس لیے اس کی مغفرت کی طرف دوڑو۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی گرفت سے ڈرتے ہوئے زندگی گزارو اور اپنے قصوروں کے لیے اس سے معانی کے خواستگار ہو تو وہ ضرور تمہیں معاف کرے گا۔

۵۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ آسمان جو زمین کے اوپر ہر طرف پھیلا ہوا ہے پہلا آسمان ہے۔ ہم اس خول کے اندر بند ہیں۔ اگرچہ اس خول میں بڑی بڑی  کہکشائیں ہیں اور ایسے ستارے بھی ہیں جو ہزاروں نوری سال کی دوری پر ہیں اس وسعت کے باوجود یہ کائنات اس خول تک محدود نہیں ہے بلکہ اس طرح سات آسمانوں والی یہ کائنات نہایت وسیع ہے۔ یہ سات آسمانوں کے تصور سے اس کائنات کی وسعت کا ایک ہکا سا تصور قائم ہوتا ہے ورنہ اس کی وسعت کا صحیح اندازہ کرنے سے ہم قاصر ہیں۔

سائنس کی رسائی پہلے آسمان تک بھی نہیں ہو سکی ہے۔ جس خول میں ہم بند ہیں اسی کے اندر وہ اپنی جولانیاں دکھا رہی ہے۔

۶۔۔۔۔۔۔۔۔  رحمن کی تخلیق، فرمانے میں یہ بات مضمر ہے کہ آسمانوں کی یہ تخلیق اللہ کی رحمت کا ظہور ہے۔ اور اس تخلیق کا کمال یہ ہے کہ اس میں ذرا بھی کوئی چیز غیر مناسب نہیں ہے۔ آسمانی دنیا کا مشاہدہ کرو۔ نہایت وسیع اور خوبصورت چھت ہے جو اپنے قمقموں کے ساتھ جمالیاتی منظر پیش کرتی ہے۔ اس میں بے شمار اجرام فلکی ہیں لیکن ہر چیز اپنی جگہ موزوں ہے۔ نقص کی کسی جگہ کی بھی نشاندہی نہیں کی جا سکتی۔

یہ مضمون سورۂ ق آیت ۶۔ میں بھی گزر چکا۔

۷۔۔۔۔۔۔۔۔  آسمان کا مشاہدہ کرنے کی بار بار دعوت دی گئی ہے اور چیلنج کے ساتھ کہا گیا ہے کہ تمہاری نگاہیں تھک جائیں گی لیکن تم اس فلکیاتی دنیا میں کسی نقص کی نشاندہی نہ کر سکو گے۔ ماہرین فلکیات بڑی بڑی  دور بینوں کے ذریعہ اجرام فلکی کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں لیکن وہ کہیں کسی نقص کی نشاندہی نہیں کر سکے۔

پھر اس کاریگری کا کمال یہ ہے کہ اس کی تخلیق کو نہایت طویل زمانہ گزرنے کے باوجود اس میں کوئی فرسودگی اور خرابی پیدا نہیں ہوئی۔ کیا یہ ایک خالق کے کمالِ قدرت کی واضح نشانی نہیں ہے ؟

۸۔۔۔۔۔۔۔۔  ستارے ایک طرف آسمان کا پُر جمال منظر پیش کرتے ہیں تو دوسری طرف ان سے آگ کے شعلے ( شہاب) نکلتے ہیں جو آسمان کی طرف پرواز کرنے والے شیاطین کا پیچھا کرتے ہیں اور ان کی مار ان پر پڑتی ہے۔

مزید تشریح کے لیے دیکھے سورۂ حجر نوٹ ۱۶۔

۹۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ان شیاطین کے لیے آخرت میں بھڑکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ وہ اس جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔ شیاطین کے اس انجام سے خبردار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ ان کے فریب میں آ کر ان کے پیچھے چل کر اسی انجام کو نہ پہنچ جائیں۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔  اپنے رب سے کفر کرنے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آدمی خدا کے وجود کا انکار کرے بلکہ اس کا مطلب خدا کو اس کی تمام صفات کے ساتھ نہ ماننا ہے۔ دنیا کی بہت بڑی اکثریت خدا کے وجود کی قائل ہے لیکن قرآن اس کی جو صفات بیان کرتا ہے مثلاً اس کا قادرِ مطلق ہونا، معبود ہونا، مدبر ہونا، فرمانروائے کائنات ہونا، ہادی ہونا، عادل ہونا، جزا و سزا دینے والا ہونا وغیرہ ان کا انکار کرتی ہے۔ اس لیے ان کا خدا کو ماننا کوئی معنی نہیں رکھتا وہ اس کی صفات کا انکار کر کے کافر بنتے ہیں۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ جہنم کی رونگٹے کھڑے کر دینے والی تصویر ہے۔ اس کا جوش مارنا اور دھاڑنا کس غضب کا ہو گا۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔  دنیا میں انسان ایک بم کے دھماکے کی آواز برداشت نہیں کر پاتا پھر اس کا کیا حال ہو گا اگر وہ جہنم میں جھونک دیا گیا جس میں ایسے شدید دھماکے ہوں گے کہ وہ پھٹ پڑنے کو ہو گی۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اللہ کا رسول جو تمہیں اس دن سے خبردار کرتا۔

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔  کافروں کو جہنم میں پہنچ کر احساس ہو گا کہ ہم نے دنیا میں رسول کی نصیحت سننے کے لیے اپنے کان بند کر لئے تھے اور اپنی عقل کو بھی معطل کر رکھا تھا۔ اگر ان صلاحیتوں کو ہم نے صحیح استعمال کیا ہوتا تو آج اس انجام کو نہ پہنچتے۔

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔  اوپر کافروں کا انجام بیان ہوا تھا۔ اس آیت میں اللہ سے ڈرنے والوں کو خوشخبری دی گئی ہے کہ ان کے لیے بہترین انعام ہے۔

اپنے رب سے ڈرنا جبکہ وہ دکھائی نہیں دیتا ایک مومن کی بہت بڑی خصوصیت ہے۔

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ ق نوٹ ۳۹۔

۱۶۔  اس لیے اس سے نہ کوئی چھوٹے سے چھوٹی نیکی چھپی رہ سکتی ہے اور نہ چھوٹے سے چھوٹی بدی اور نہ اس سے نیتیں ، ارادے اور اچھے اور برے جذبات پوشیدہ رہ سکتے ہیں۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ اپنے بندوں کا حال پوری طرح جانتا ہے۔ دلیل یہ ہے کہ وہ ان کا خالق ہے اور یہ بات کس طرح ممکن ہے کہ جو خالق ہے وہ اپنی مخلوق سے لا علم ہو گا۔

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی وہ جزئی سے جزئی بات کو جاننا ہے۔ اس کا علم گہرا ہے کہ کوئی باریک سے باریک چیز بھی اس سے چھپی نہیں رہ سکتی وہ جزئیات اور کلیات سب کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔  عنی زمین کو اس قابل بنایا کہ تم اس پر چلو پھرو، رہو بسو اور کھیتی باڑی کرو۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اس کی بلندیوں پر چلو پھرو۔ زمین کی بلندیوں کو اس کے کندھوں سے تشبیہ دی گئی ہے اور بلندیوں پر چلنے پھرنے کا ذکر اس مناسبت سے ہوا ہے کہ یہ بات اس کے تابع ہونے کے پہلو کو بخوبی واضح کرتی ہے ورنہ زمین کی پست راہوں میں چلنا تو واضح ہی ہے۔

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی رزق کا جو سامان اللہ نے تمہارے لیے زمین میں پھیلا دیا ہے اس میں سے کھاؤ۔

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔  مگر یہ بات نہ بھولو کہ ایک دن اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے اور ان نعمتوں کے بارے میں جوابدہی کرنا ہے اور پھر اپنے اعمال کے مطابق جزا یا سزا پانا ہے۔

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔  اللہ کا آسمان میں ہونا اس کے مرتبہ کی تعبیر ہے۔ ایک عام آدمی خدا کے لیے آسمان ہی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور یہ تعبیر اس لحاظ سے بھی صحیح ہے کہ اللہ کا عرش آسمانوں کے اوپر ہے۔ ورنہ دوسرے پہلو سے دیکھئے تو اللہ ہر جگہ ہے۔ وہ لامحدود اور لا مکاں ہے۔

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔  اس آیت میں اور اس کے بعد کی چند آیتوں میں لوگوں کو غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے اور ان کو غفلت سے چونکانے کا سامان کیا گیا ہے۔ کیا یہ بات ممکن نہیں ہے کہ اللہ کسی وقت بھی زلزلہ سے مضطرب کر دے اور اس پر رہنے والے اس کے اندر دھنس جائیں ؟ یہ نہ صرف ممکن ہے بلکہ اس قسم کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے اور آج بھی کسی نہ کسی علاقہ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے رہتے ہیں اور بستیاں الٹ جاتی ہیں۔

یہ سطریں جبکہ لکھی جا رہی ہیں مہاراشٹر کے ضلع لاتور اور عثمان آباد میں زلزلے  (بھوکمپ) کی تباہی کا واقعہ بالکل تازہ ہے۔ چند سکنڈ کے جھٹکے میں تیس ہزار لوگ موت کی نیند سو گئے اور کئی بستیاں تقریباً نابود ہو گئیں جن میں سے ایک کلیری گاؤں ہی میں پانچ ہزار افراد کے مکانات قبرستان بن گئے اور وہ ان کے ملبہ کے نیچے دب کر ہلاک ہو گئے۔ یہ اور اس قسم کے واقعات جو آئے دن کسی نہ کسی علاقہ میں رونما ہوتے رہتے ہیں کیا انسان کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی نہیں ہیں ! مگر انسان کی غفلت اتنی شدید ہے کہ وہ ایسے واقعات کی مختلف توجہیں کرتا ہے اور ان میں عبرت کا جو پہلو ہے اس سے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ ایسی صورت میں اس کو ہدایت کس طرح مل سکتی ہے ؟

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔  قومِ لوط پر کنکروں کی بارش ہوئی تھی۔ عذاب اس شکل میں بھی نمودار ہو سکتا ہے اور سخت آندھی کی شکل میں بھی جس میں بالو ہو۔

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔  اشارہ ہے قوم عاد ، ثمود، قومِ لوط اور قوم فرعون کی طرف۔

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔  ہوا میں کسی سہارے کے بغیر پرندوں کا اپنے پروں کو پھیلا کر اڑنا اور اڑتے ہوئے ان کو سکیڑ لینا اور اس حالت میں ان کا زمین پر نہ گرنا کتنا عجیب ہے ؟ ایک دانا و بینا شخص یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہے گا کہ یہ خدائے رحمن کی رحمت ہی کا ظہور ہے۔

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی کوئی شخص لاؤ لشکر والا بھی ہو تو وہ اللہ کے عذاب سے کہاں بچ سکتا ہے۔ فرعون کو اس کا غرق ہونے سے اس کا عظیم لشکر نہ بچا سکا بلکہ وہ بھی اس کے ساتھ غرق ہو گیا۔

مشرکین اپنے معبودوں کو اپنا محافظ خیال کرتے ہیں مگر جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو یہ سب غائب ہو جاتے ہیں۔

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔  رازق اللہ ہی ہے۔ وہ اگر رزق روک دے تو کوئی نہیں جو رزق دے سکے۔ مثال کے طور پر بارش کو جو رزق کا ذریعہ ہے اگر اللہ روک دے تو کون ہے جو بارش برسائے۔

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ان سب باتوں میں جن کا یہ رات دن مشاہدہ کرتے ہیں توحید کی نشانیاں بالکل نمایاں ہیں لیکن یہ لوگ اس بات پر مصر ہیں کہ وہ اللہ کی اطاعت قبول نہیں کریں گے بلکہ اپنی من مانی کریں گے۔ انہیں حق سے کوئی دلچسپی نہیں بلکہ اس سے نفرت ہے کیونکہ حق کو قبول کرنے کی صورت میں وہ اپنی من مانی نہیں کر سکتے۔

۳۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ مثال ہے اس شخص کی جو گمراہی کی راہ چلتا ہے اور اس کی جو ہدایت کی راہ چلتا ہے اپنی فطرت کے خلاف چلنے والا شخص ہمیشہ الٹا چلتا ہے اور حیوان کی طرح زمین ہی پر سر جھکائے رہتا ہے لیکن اپنی فطرت ( جس میں توحید کا داعیہ مضمر ہے ) پر چلنے والا شخص ہمیشہ سیدھا چلتا ہے اور اس کی نگاہیں بلندی کی طرف اٹھتی ہیں۔

۳۲۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اللہ نے سننے ، دیکھنے اور سمجھنے کی قوتیں اس لیے عطا کی ہیں تاکہ تم ان کی قدر کرو اور ان کا صحیح استعمال کر کے اس کے شکر گزار بندے بن جاؤ۔ مگر لوگوں میں یہ احساس کم ہی پایا جاتا ہے۔ وہ اللہ کی اس بخشش کی قدر نہیں کرتے اور ان صلاحیتوں کو حق بات سننے ، حق کو دیکھنے اور حق بات سمجھنے کے لیے استعمال نہیں کرتے۔

۳۳۔۔۔۔۔۔۔۔  اللہ ہی نے اربوں انسانوں کو زمین پر آباد کیا ہے اور اس لیے کیا ہے تاکہ ان کو امتحانی زندگی سے گزارا جائے اور پھر قیامت کے دن سب کو زندہ کر کے اپنے حضور جوابدہی کے لیے اکٹھا کیا جائے۔

۳۴۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی قیامت کی گھڑی کب آئے گی؟

۳۵۔۔۔۔۔۔۔۔  اس کی تشریح سورۂ لقمان نوٹ ۶۰ میں گزر چکی۔

۳۶۔۔۔۔۔۔۔۔   یعنی عذاب کو۔

۳۷۔۔۔۔۔۔۔۔  کفار ،نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے ساتھیوں کی ہلاکت کے خواہشمند تھے اور اس بات کے منتظر تھے کہ کب ان کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ کہنے کی ہدایت ہوئی کہ اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو موت دے بھی دیتا ہے تو تم اپنے کفر کی سزا سے کس طرح بچ سکو گے ؟ ہمارے جلد یا بہ دیر مرنے سے تم اللہ کے عذاب سے نجات نہیں پا سکتے جبکہ تم اپنے کفر پر جمے ہوئے ہو۔

۳۸۔۔۔۔۔۔۔۔  اس سورہ میں رحمن کا لفظ کئی بار آیا ہے جو اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اس کے آثارِ رحمت کو دیکھو جو ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں اور اس پر ایمان لا کر اس کی رحمت کے مستحق بن جاؤ۔اخیر میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبانی یہ اعلان فرمایا گیا کہ ہم اس خدائے رحمن پر ایمان لائے ہیں اور اسی پر ہم نے بھروسہ کر کے اپنے کو اس کے حوالہ کر دیا ہے۔ لہٰذا اس کی طرف سے جو ہدایت ملتی ہے ہم اس کی پیروی کرتے ہیں۔

۳۹۔۔۔۔۔۔۔۔  سورہ کے خاتمہ پر اللہ کی ربوبیت پر غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ شکر کا جذبہ ابھرے۔ فرمایا پانی کے یہ جاری چشمے جو تمہارے لیے عظیم نعمت اور تمہاری زندگی کے لیے نہایت ضروری ہیں اگر خشک ہو جائیں اور ان کا پانی زمین میں اتنا گہرا اتر جائے کہ تم اس کو حاصل نہ کر سکو تو کون ہے جو تمہارے لیے پانی کے چشمے جاری کرید گا؟ اگر اللہ کے سوا کسی کے بس میں یہ بات نہیں ہے واقعہ یہ ہے کہ نہیں ہے تو پھر اپنے حقیقی رب کو چھوڑ کر دوسروں کو جو بالکل بے اختیار ہیں کیوں اپنا رب اور معبود بناتے ہو؟

٭٭٭

 

 

 

 

(۶۸)۔ سورۂالقلم

 

(۵۲ آیات)

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

تعارف

 

نام

 

آغاز میں قلم کا ذکر ہوا ہے اس مناسبت سے اس سورہ کا نام ’ القلم ‘ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اس وقت نازل ہوئی جب کہ قریش نے نبی صلی اللہعلیہ وسلم  کو وحی اور رسالت کے دعوے کی بنا پر دیوانہ قرار دیا۔

 

مرکزی مضمون

 

جو لوگ وحی و رسالت کی ناقدری کرتے ہیں اور رسول کو دیوانہ قرار دیتے ہیں انہیں ان کے دنیوی اور اخروی انجام سے خبردار کر دینا ہے۔

 

نظمِ کلام

 

آیت ۱ تا ۱۶ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں واضح کیا گیا ہے کہ آپ کس پایہ کی شخصیت ہیں اور وہ لوگ جو آپ کی مخالفت میں پیش پیش ہیں اور آپ کو دیوانہ قرار دے رہے ہیں کس قماش کے لوگ ہیں اور کیسی گراوٹ میں مبتلا ہیں۔

آیت ۱۷ تا ۳۳ میں ایک باغ والوں کی مثال عبرت کے لیے پیش کی گئی ہے جنہوں نے اللہ کی ناشکری کی جس کے نتیجہ میں وہ باغ کی نعمت سے محروم ہو کر رہ گئے۔

آیت ۳۴ تا ۳۶ میں تقویٰ اختیار کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری دی گئی ہے اور اس بات کی نامعقولیت کو واضح کیا گیا ہے کہ منکرینِ آخرت کی نظر میں مسلم اور مجرم سب برابر ہیں۔

آیت ۳۷ تا ۴۱ میں منکرین کے موقف کا غلط ہونا واضح کیا گیا ہے۔

آیت ۴۲ اور ۴۳ میں انکار کرنے والوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ آج انہیں اللہ کو سجدہ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ انکار کرتے ہیں لیکن ایک دن آنے والا ہے جب لوگوں کو سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہ کرسکیں گے اور ان پر ذلت طاری ہو گی۔

آیت ۴۴ تا ۴۷ میں اللہ کی تدبیر سے انہیں آگاہ کرتے ہوئے ان کی نا معقولیت ان پر واضح کی گئی ہے۔

آیت ۴۸ تا ۵۰ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کی مخالفت پر صبر کرنے کی تلقین ہے۔

آیت ۵۱ اور ۵۲ سورہ کی اختتامی آیتیں ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں واضح کیا گیا ہے کہ آپ جو کلام پیش کر رہے ہیں وہ دیوانگی نہیں ہے بلکہ وہ کلامِ الٰہی ہے جو تمام انسانوں کے لیے سرتاسر نصیحت ہے۔

 

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ نون ۱* قسم ہے قلم کی اور اس چیز کی جسے وہ لکھتے ہیں۔ ۲*

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ تم اپنے رب کے فضل سے دیوانے نہیں ہو۔ ۳*

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ اور تمہارے لیے یقیناً ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہو گا۔ ۴*

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بے شک تم عظیم اخلاق کے مرتبہ پر ہو۔ ۵*

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ تو عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے۔

۶۔۔۔۔۔۔۔۔کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا ہے۔۶*

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جنہوں نے ہدایت پائی ہے۔

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ لہٰذا تم ان جھٹلانے والوں کی بات نہ مانو۔

۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو چاہتے ہیں کہ تم نرم پڑو تو یہ بھی پڑیں گے۔ ۷*

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔ تم ایسے شخص کی بات نہ مانو جو بہت قسمیں کھانے والا ۸* اور ذلیل ہے۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔طعنہ زنی کرنے والا، ۹* چغلخور۔۱۰*

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر سے روکنے والا،۱۱* زیادتی کرنے والا ۱۲*، گناہوں میں ملوث۔۱۳*

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔ درشت خو ۱۴* اور پھر بدنام ہے۔ ۱۵*

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا گھمنڈ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس بنا پر ہے کہ وہ مال اور اولاد والا ہے۔ ۱۶*

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔ جب ہماری آیتیں اس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے لوگوں کے افسانے ہیں۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔ عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے۔ ۱۷*

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے ان کو اسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا۔ ۱۸* جب انہوں نے قسم کھائی کہ صبح سویرے ضرور اس کے پھل توڑیں گے۔

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔ اور استثناء نہیں کر رہے تھے۔ ۱۹*

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ابھی سوتے ہی پڑے تھے کہ تمہاری رب کی طرف سے ایک گردش آئی۔ ۲۰*

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ کٹی ہوئی کھیتی کی طرح ہو کر رہ گیا۔ ۲۱*

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح انہوں نے ایک دوسرے کو پکارا۔

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے اپنی کھیتی ۲۲* پر پہنچ جاؤ۔

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔ چنانچہ وہ نکل گئے اور چپکے چپکے کہتے جارہے تھے۔

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔کہ آج کوئی مسکین اس میں تمہارے پاس داخل نہ ہونے پائے۔ ۲۳*

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ صبح سویرے پختہ ارادے کے ساتھ نکلے کہ وہ ایسا کر سکیں گے۔ ۲۴*

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر جب اس (باغ)کو دیکھا تو کہنے لگے ہم راستہ بھول گئے۔

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ ہم محروم ہو کر رہ گئے۔ ۲۵*

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔ ان میں جو شخص بہتر تھا اس نے کہا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟ ۲۶*

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔وہ پکار اٹھے پاک ہے ہمارا رب۔ ہم ہی قصور وار تھے۔۲۷*

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر وہ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ ۲۸*

۳۱۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے کہا افسوس ہم پر! ہم ہی سرکش ہو گئے تھے۔۲۹*

۳۲۔۔۔۔۔۔۔۔ امید ہے کہ ہمارا رب اس کے بدلہ میں ہمیں اس سے بہتر باغ عطا فرمائے گا۔ ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ۳۰*

۳۳۔۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح ہوتا ہے عذاب۔ ۳۱* اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں بڑا ہے۔ کاش یہ لوگ جانتے !

۳۴۔۔۔۔۔۔۔۔ یقیناً متقیوں کے لیے ان کے رب کے پاس نعمت بھری جنتیں ہیں۔ ۳۲*

۳۵۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں جیسا کریں گے ؟

۳۶۔۔۔۔۔۔۔۔ تم لوگوں کو کیا ہوا ہے کیسا فیصلہ کرتے ہو! ۳۳*

۳۷۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو۔

۳۸۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ تمہارے لیے وہی کچھ ہے جو تم پسند کرو گے ؟ ۳۴*

۳۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یا تمہارے ساتھ ہمارے عہد و پیماں ہیں قیامت تک باقی رہنے والے کہ تمہارے لیے وہی کچھ ہے جس کا تم فیصلہ کرو گے ؟ ۳۵*

۴۰۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سے پوچھو تم میں سے کون اس کا ضامن ہے ؟ ۳۶*

۴۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یا ان کے کچھ شریک ہیں تو لائیں اپنے شریکوں کو اگروہ سچے ہیں۔ ۳۷*

۴۲۔۔۔۔۔۔۔۔ جس دن سخت مصیبت آ پڑے گی۔ ۳۸* اور ان لوگوں کو سجدے کے لیے بلایا جائے گا تو یہ سجدہ نہ کرسکیں گے۔

۴۳۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی، ذلت ان پر طاری ہو گی۔ سجدے کے لیے ان کو اس وقت بلایا جاتا تھا۔ جب وہ صحیح سالم تھے۔ ۳۹* مگر اس وقت وہ انکار کرتے رہے۔۔

۴۴۔۔۔۔۔۔۔۔ تو (اے نبی!)چھوڑ دو مجھے اور ان کو جو اس کلام کو جھٹلاتے ہیں۔ ۴۰* ہم ان کو اس طرح بتدریج  برے انجام کو۔۔۔۔۔۔۔۔ پہنچائیں گے کہ انہیں خبر بھی نہ ہو گی۔ ۴۱*

۴۵۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں۔ میری تدبیر نہایت مضبوط ہوتی ہے۔

۴۶۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا تم ان سے کوئی معاوضہ طلب کر رہے ہو کہ یہ اس کے تاوان سے دبے جا رہے ہوں ؟ ۴۲*

۴۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے ہے لکھ رہے ہوں ؟ ۴۳*

۴۸۔۔۔۔۔۔۔۔اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو جاؤ ۴۵* جب اس نے  اپنے رب کو۔۔۔۔۔۔۔۔ پکارا اور وہ غم سے گھٹا ہوا تھا۔ ۴۶*

۴۹۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر اس کے رب کا فضل اس کو نہ پہنچتا تو وہ مذموم حالت میں چٹیل میدان ہی میں ڈال دیا جاتا ۴۷*

۵۰۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اس کے رب نے اسے برگزیدہ کیا اور اسے صالحین میں شامل کیا۔ ۴۸*

۵۱۔۔۔۔۔۔۔۔ جب یہ کافر ذکر (یاددہانی)کو سنتے ہیں تو اس طرح تمہیں دیکھتے ہیں کہ گویا اپنی نگاہوں سے تمہیں پھسلا دیں گے۔۴۹* اور کہتے ہیں کہ یہ ضرور دیوانہ ہے۔

۵۲۔۔۔۔۔۔۔۔ حالانکہ یہ (قرآن) دنیا والوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔ ۵۰*

 

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ حروفِ مقطعات میں سے ہے جن کی تشریح سورۂ بقر ہ نوٹ  ۱ اور سورۂ یونس نوٹ  ۱  میں گزر چکی۔

اس سورۂ میں آیتوں کی ترتیب ایسی ہے کہ بیشتر آیتوں کا آخری حرفِ ’نون‘ ہے اور سورہ کی اسی خصوصیت کی طرف یہ ’ ن‘ جو آغاز میں آیا ہے اشارہ کرتا ہے۔ اس میں قرآن کے اعجازِ کا پہلو بھی ہے اور حفظ کرنے کے لیے سہل ہونے کا پہلو بھی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس حرف کی تلاوت ایک پر کشش آہنگ پیدا کر دیتی اور دل کلام کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔

۲۔۔۔۔۔۔۔۔  نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کا جو بھی حصہ نازل ہوتا آپ اس کو لکھوانے کا انتظام فرماتے۔ کاتبانِ وحی اسے قلم سے چمڑے کی جھلیوں وغیرہ پر لکھتے۔ اس طرح قرآن قلم کے ذریعہ ضبط تحریر میں آ رہا تھا اور اس کے اوراق کو پڑھ کر اس کے کلامِ الٰہی ہونے کی طرف سے اطمینان حاصل کیا جاسکتا تھا۔ یہاں قلم اور کتابت کی جو قسم کھائی گئی ہے وہ قرآن کے کلامِ الٰہی ہونے کی شہادت کے طورپر ہے اور جیسا کہ دوسری جگہ واضح کیا جاچکا ہے عربی میں ایسے موقع پر قسم شہادت اور دلالت کے معنی میں ہوتی ہے۔

آیت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا نزول اگرچہ ایک امی قوم میں ہوا ہے مگر اس بات کا پورا اہتمام کیا گیا ہے کہ وہ ضبطِ تحریر میں آئے اور لوگوں تک اللہ کا کلام اپنی اصل شکل میں پہنچے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وہ محفوظ ہو جائے۔ اب کوئی شخص بھی ان اوراق کا مطالعہ کرسکتا ہے۔ اس کے مضامین خود شہادت دیتے ہیں کہ یہ کلامِ الٰہی ہے۔

۳۔۔۔۔۔۔۔۔  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کافر دیوانہ قرار دیتے تھے اس بنا پر کہ آپ اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ آسمان سے آپ پر وحی آتی ہے۔ ان کے اسی الزام کی اللہ تعالیٰ نے تردید فرمائی کہ اللہ کا رسول اس کے فضل سے دیوانہ نہیں ہے بلکہ جو کلام وہ پیش کر رہا ہے وہ واقعی وحی ہے جس کو اللہ نے اس پر نازل فرمایا ہے اور اس کے وحی ہونے کا ثبوت نفسِ کلام ہے جس کی کتابت کا اہتمام کیا گیا ہے۔

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ حجر نوٹ ۸۔

۴۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ہے کہ کافروں کے اس الزام پر آپ صبر کریں اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا اجر عطا فرمانے والا ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو گا۔ یعنی ایسا انعام جو ہمیشہ باقی رہے گا۔

۵۔۔۔۔۔۔۔۔  نبی صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق و سیرت کے اعتبار سے نہایت اعلیٰ مرتبہ پر تھے۔ ایسی عظیم شخصیت پر دیوانہ ہونے کا الزام لگانا بڑی نا معقول اور خلافِ واقعہ بات تھی۔ اس کی تردید میں یہاں آپ کی اخلاقی عظمت کے پہلو کو واضح کیا گیا ہے۔ کیا کوئی دیوانہ شخص اخلاق کے بلند معیار پر ہوتا ہے ؟ اگر نہیں تو آپ کا اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار اس الزام کی تردید کے لیے کافی ہے۔

قرآن و حدیث کے علاوہ تاریخ کے اوراق میں آپ کی سیرت بالکل محفوظ ہے اور اس تفصیل کے ساتھ محفوظ ہے کہ آج بھی ہم تاریخ کے اوراق میں آپ کی شخصیت کو اس طرح دیکھ سکتے ہیں کہ گویا آپ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ تاریخ کے یہ اوراق ایک ایسی شخصیت کو پیش کرتے ہیں جو آہنی عزم رکھنے والی، بلند کردار، پاک سیرت اور ایسی عظیم المرتبت ہے کہ دنیا اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔

۶۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی عنقریب انجام تمہارے سامنے آئے گا اور تم دیکھ لو گے کہ کون دیوان پن میں مبتلا تھا۔ کافر جب اپنے انجام کو دیکھ لیں گے تو انہیں احساس ہو گا کہ وہ خود ہی پاگل پن میں مبتلا تھے کہ اپنے سچے خیر خواہ کی بات نہیں سنی اور اس انجام کو پہنچ گئے۔

۷۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی یہ جھٹلانے والے چاہتے ہیں کہ تم اپنے دین کے معاملہ میں نرم پڑوتو وہ بھی نرم پڑیں اور لے اور دے کے اصول پر کوئی سمجھوتہ ہو جائے مگر دین کے معاملہ میں نرمی برتنے اور کسی دوسرے مذہب سے سمجھوتہ کرنے کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کیونکہ سچا دین وہی ہے جو اللہ نے نازل فرمایا ہے اس میں جو کمی بیشی بھی کی جائے گی وہ اللہ پر افترائ( جھوٹ باندھنا) ہو گا اور اس کے بعد یہ دین خالص نہیں رہے گا۔

اس حکم کا منشاء کافروں پر یہ واضح کرنا تھا کہ اللہ کا رسول اس کے احکام کا پابند ہے اور اس سے یہ امید ہرگز نہ رکھیں کہ وہ دین کے معاملہ میں کسی مصالحتcompromise کے لیے آمادہ ہو جائے گا۔ یہ ذمہ داری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرووں کی بھی ہے کہ وہ دین شریعت کے معاملہ میں سخت رہیں اور کافروں کے آگے نہ جھکیں۔

۸۔۔۔۔۔۔۔۔  بہ کثرت قسمیں کھانے والا وہی شخص ہوتا ہے جو اپنا اعتماد کھوچکا ہوتا ہے۔ کافروں کے لیڈر جھوٹی قسمیں کھا کھا کر لوگوں کو یقین دلاتے تھے کہ ان کا مشرکانہ اور بت پرستانہ مذہب سچا ہے اور اس شخص پر جو نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے وحی ہرگز نہیں آتی۔

۹۔۔۔۔۔۔۔۔  طعنہ زنی اور عیب چینی بہت بری عادت ہے۔ ایسا شخص دوسروں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہاں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ بد خصلت شخص نیک شخصیتوں پر بھی انگلیاں اٹھارہا ہے۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی فساد کی غرض سے ادھر کی باتیں ادھر لگانے والا۔ لوگوں کو آپس میں لڑانے کے لیے ان کی باتیں نقل کرنا اور ایک دوسرے کے بارے میں برے تاثرات پیدا کرنا بہت بری عادت اور مفسدانہ حرکت ہے۔ آیت کا خصوصی اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ اس کردار کا شخص اہل ایمان کی باتوں کو غلط رنگ میں لوگوں کے سامنے پیش کر ک انہیں ان کے خلاف اکسا رہا ہے۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی مال کو بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنے سے روکنے والا مراد بخیل ہے۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ظلم و زیادتی کرنے والا۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی جائز اور ناجائز میں تمیز نہ کرنے والا۔ فسق و فجور میں غرق۔

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی سخت مزاج اور جھگڑالو۔

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اپنی بد اخلاقی اور اپنے شر کی وجہ سے بدنام ہے اور سوسائٹی کا نہایت کمینہ شخص ہے۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اس کے گھمنڈ نے اس کے اندر یہ بری خصلتیں پیدا کیں اور وہ گھمنڈ میں اس لیے مبتلا ہوا کہ اللہ نے اس کو مال اور اولاد بخشی ہے حالانکہ اس پر اسے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے تھا۔

ان آیتوں میں کسی مخصوص کافر کا حال نہیں بلکہ کفار کے لیڈروں کا حال بیان کیا گیا ہے کہ ایک طرف ایسی بد اطوار اور کمینہ قیادت ہے جو دعوت اسلامی کے خلاف لوگوں کو اکسا رہی ہے اور دوسری طرف اللہ کے رسول کی قیادت ہے جو نہایت بلندی کردار اور اخلاق کے عظیم مرتبہ پر فائز ہے۔ اب تم سوچ لو کہ تمہارا سچا قائد اور رہنما کون ہے ؟

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اس کی ناک پر ذلت کا نشان لگائیں گے۔ وہ تکبر سے اپنی ناک اونچی رکھنا چاہتا ہے لیکن ایسے شخص کی ناک انسان کی ناک نہیں بلکہ حیوان کی سونڈ ہے اور اس لائق ہے کہ اسے ذلت کا مزہ چکھایا جائے۔

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث نے کفارِ مکہ کو آزمائش میں ڈال دیا تھا۔ اگر وہ آپ کی دعوت کو قبول کر لیتے ہیں تو ان پر دنیا اور آخرت میں کامیابی کی راہ کھلے گی اور اگر وہ انکار کرتے ہیں تو ان پر دنیا میں بھی عذاب آئے گا اور آخرت میں بھی انہیں ابدی عذاب بھگتنا ہو گا۔ اس سلسلہ میں عبرت کے لیے ایک باغ والوں کی مثال پیش کی گئی ہے۔ یہ مثال کسی فرضی قصہ کی نہیں ہے بلکہ ایک واقعہ کی ہے جو حقیقۃً پیش آیا تھا۔آگے باغ والوں کی جو گفتگو نقل ہوئی ہے وہ اس کے واقعہ ہونے کی شہادت دیتی ہے۔

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی قسم کھا کر پورے وثوق کے ساتھ انہوں نے کہا کہ وہ صبح سویرے باغ کے پھل توڑیں گے اور انشاء اللہ ( اگر اللہ نے چاہا تو) نہ کہا۔ وہ اللہ کو بھول گئے اور خدا اعتمادی کو چھوڑ کر خود اعتمادی کے فریب میں مبتلا ہو گئے۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اسی رات جب کہ وہ سوتے پڑے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے باغ پر آفت نازل کر دی۔

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔  وہ آفت ایسی تھی کہ پورا باغ تہس نہس ہو کر رہ گیا۔

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔  باغ میں کاشت کے لیے بھی قطعات ہوتے ہیں اس لیے اس کو کھیتی کہا گیا۔

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ ان کی طرف سے سخت بخل کا اظہار تھا۔ وہ مسکینوں کا حق ادا کرنا نہیں چاہتے تھے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے پیداوار میں مسکینوں کا حق رکھا ہے جس کا داعیہ انسان کی فطرت میں موجود ہے اور وہ اسے ایک معروف کی حیثیت سے جانتا ہے اور شریعت میں اس کو ادا کرنے کی سخت تاکید آئی ہے۔ یہ تاکید سابقہ شریعتوں میں بھی رہی ہے۔

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی وہ سارے پھل توڑ کر اپنے لیے رکھ لیں گے اور کسی محتاج کو پاس میں پھٹکنے کا موقع نہیں دیں گے۔

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔  جب باغ کو دیکھا تو اجڑ چکا تھا۔ پہلے تو انہوں نے خیال کیا کہ شاید ہم غلط جگہ پر پہنچ گئے ہیں بعد میں انہیں احساس ہوا کہ باغ تو ان کا اپنا ہی ہے لیکن وہ ایسا تباہ ہو گیا ہے کہ اب کاٹنے کے لیے کچھ بھی نہیں رہا بس حسرت ہی حسرت رہ گئی۔

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔  ان باغ والوں میں ایک شخص ایسا بھی تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے سمجھ عطا کی تھی اور وہ اللہ کا ذکر اور اس کی تسبیح کرنے والوں میں سے تھا۔ اس نے انہیں یاد دلایا کہ کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم اللہ کی تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟ اس نے بہت مختصر مگر جامع بات کہی۔ جو شخص اللہ کی تسبیح کرتا ہے وہ اسے لازماً یاد کرتا ہے۔ وہ اس کی پاکی بیان کرتا ہے تو اپنے بندہ عاجز ہونے کا اعتراف بھی کرتا ہے۔ وہ غرورِ نفس میں مبتلا نہیں ہوتا بلکہ سارے کام اسی کے بھروسہ پر کرتا ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے حقوق ادا کرتا ہے۔

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔  اس وقت انہیں احساس ہوا کہ باغ کی تباہی اللہ کا ظلم نہیں ہے وہ پاک ہے اس سے کہ کوئی غلط کام کرے۔ دراصل قصوروار ہم ہی تھے کہ اللہ کو بھول گئے تھے اس لیے ہمیں اپنے کرتوتوں کی سزا ملی۔

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی وہ آپس میں ایک دوسرے پر الزام عائد کرنے لگے کہ تم نے غلط مشورہ دیا اور ہم تمہاری باتوں میں آ گئے۔

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔  بالآخر انہوں نے اعتراف کیا کہ ہم ہی سرکش ہو گئے تھے جس کی سزا ہمیں ملی ہے۔ اور اس پر انہیں افسوس بھی ہوا۔

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔  انہوں نے توبہ کی اور وہ اپنے رب کی طرف پُر امید ہو کر رجوع ہوئے۔

۳۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی سرکشی کے نتیجہ میں اللہ کا عذاب آتا ہے اور اچانک آتا ہے جس طرح باغ پر آفت آئی اور باغ والے کفِ افسوس ملتے رہ گئے۔ انہوں نے اپنے بہترین آدمی کی نصیحت کو قبول نہیں کیا اور اپنے انجام کو دیکھ لیا۔

کافر اس سے سبق حاصل کریں۔ ان کے درمیان اللہ کا رسول بہترین شخصیت ہے جو ان کی خیر خواہی کر رہا ہے لیکن اگر انہوں نے رسول کی نصیحت پر کان نہیں دھرا اور توحید کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے تو انہیں اپنی سرکشی کی سزا دنیا میں بھی ملے گی اور آخرت میں اس سے کہیں زیادہ سخت سزا بھگتنا ہو گی۔

۳۲۔۔۔۔۔۔۔۔  اوپر کافروں کے لیے عذاب کا ذکر تھا اس آیت میں اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے اخروی انعام کا ذکر ہوا ہے۔ قرآن سزا کے پہلو بہ پہلو جزا کا بھی ذکر کرتا ہے تاکہ لوگ سزا سے ڈریں اور اپنے کو انعام کا مستحق بنائیں۔

۳۳۔۔۔۔۔۔۔۔  کافروں کے سردار اپنی خوشحالی کی بنا پر سمجھتے تھے کہ ہم سے اللہ خوش ہے اسی لیے اس نے ہم کو یہ نعمتیں عطا کی ہیں جب کہ رسول اور اس کے پیروؤں کو تنگی کی زندگی گذارناپڑ رہی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اللہ ان سے خوش نہیں ہے ، لہٰذا اگر آخرت برپا ہوئی تو وہاں بھی ہم نعمتوں سے نوازے جائیں گے اور اللہ کی ناراضگی ان لوگوں کے حصہ میں آئے گی۔ کافروں کے اسی خیال کی تردید کرتے ہوئے یہاں فرمایا گیا ہے کہ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اللہ کے نزدیک اس کے فرمانبردار بندوں کی کوئی قدر نہیں اور وہ ان کے ساتھ مجرموں کا سا معاملہ کرے گا۔ اور تم اپنے کفر اور نافرمانی کے باوجود انعام کے مستحق قرار پاؤ گئے ؟ کیسی نا معقول اور غیر منصفانہ باتیں ہیں جو تم کرتے ہو؟

۳۴۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی کیا تمہارے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے جس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ عمل پر نہیں بلکہ تمہاری مرضی پر سب کچھ موقوف ہے جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا۔

۳۵۔۔۔۔۔۔۔۔  اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اگر تم اس زع میں مبتلا ہو کہ ہم ابراہیم کی نسل سے ہیں جن کے ساتھ اللہ کے عہد و پیماں تھے اس لیے ہم اللہ کے منظورِ نظر ہیں۔ جو کچھ بھی ہم کریں ہم پر کوئی گرفت ہونے والی نہیں۔ تو اللہ نے ابراہیم سے ان کی نسل کے تعلق سے ایسا کوئی عہد نہیں باندھا تھا۔ امامت کا جو سلسلہ ان کو نسل میں چلایا جانے والا تھا اس کے بارے میں یہ صراحت کر دی گئی تھی کہ لَاَینَالُ عَہْدِی الظَّالِمِینَ (میرا یہ عہد ظالموں سے متعلق نہیں ہے۔بقرہ:۱۲۴) اور اللہ نے کسی بھی قوم کو نجات کا پٹہ لکھ کر نہیں دیا ہے کہ وہ اپنی من مانی کرنے کے لیے آزاد ہے بلکہ انبیاء کے واسطہ سے ہر قوم کو یہی تعلیم دی گئی تھی کہ ہر شخص اپنے عمل کا ذمہ دار ہے اور اپنے عمل کے مطابق اسے اچھا یا برا پھل پانا ہے۔

۳۶۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی تم میں سے کون اس قسم کے عہد و پیمان کو ثابت کر دکھانے کی ذمہ داری قبول کرتا ہے ؟ ظاہر ہے ایسے کھوکھلے دعوے کبھی ثابت نہیں کئے جا سکتے۔

۳۷۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں نے ان کے لیے نجات کا پروانہ لکھ دیا ہے تو ان کو سامنے لائیں تاکہ اس کی حقیقت واضح ہو۔

مسلمانوں کا جاہل طبقہ بھی اس خیالِ خام میں مبتلا ہے کہ فلاں اور فلاں بزرگ کے ہم عقیدتمند ہیں اس لیے ہمارے اعمال کیسے ہی ہوں۔ ہم پر کوئی گرفت ہونے والی نہیں۔ ہمارے بزرگ ہمیں دنیا میں بھی آفتوں سے بچائیں گے اور آخرت میں بھی ہماری نجات کا ذریعہ بنیں گے۔

۳۸۔۔۔۔۔۔۔۔  متن میں لفظ ’ساق‘ استعمال ہوا ہے جس کے لفظی معنی پنڈلی کے بھی ہیں اور درخت کے تنہ اور کسی چیز کی اصل کے بھی ہیں۔ یہاں یہ لفظ نکرہ اسم عامcommon noun) ) استعمال ہوا ہے اور ایک خاص ترکیب میں اس لیے اہل لغت کہتے ہیں کہ یہ عربی کا محاورہ ہے جس کے معنی شدتِ امر کے ہیں۔ چنانچہ لسا ن العرب میں ہے :

الساق فی اللغۃ الامرالشدید،وکشفہ مثل فی شدۃ الامر کمایقال للشحیح یدہ مغلولۃ ولا یدثم ولا غُلَّ، وانما ہو مَثَلٌ شدۃ البخل، وکذالک ہٰذا لاساق ہناک ولا کشف۔( لسان العرب ج ۱۰ ص ۱۶۸)

’’ساق لغت میں امر شدید کو کہتے ہیں اور اس کا کشف ہونا شدت امر کے لیے مثال کے طور پر ہے۔ جس طرح بخیل کے لیے کہا جاتا ہے کہ اس کا ہاتھ بندھا ہوا ہے حالانکہ ایسے موقع پر نہ ہاتھ ہوتا ہے اور نہ بندھن بلکہ یہ شدت بخل کے لیے ایک مثال ہوتی ہے اسی طرح یہاں ( اس محاورہ میں ) بھی نہ ساق کا کوئی وجود ہے اور نہ کشف کا۔‘‘

جمہور مفسرین نے بھی اس کو شدتِ امر ہی کے معنی میں لیا ہے اس لیے ہم نے اس کا ترجمہ’’ جس دن سخت مصیبت آ پڑے گی۔ ‘‘ کیا ہے۔ لیکن بعض مفسرین نے اس کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ ’’ قیامت کے دن جب اللہ اپنی پنڈلی کھولے گا‘‘ اور اس کی تائید میں صحیحین کی وہ حدیث پیش کی ہے جس میں :

فَکْشِفْ رَبُّنَا عَنْ سَاقِۃِ ’’ جب ہمارا رب اپنی پنڈلی کھولے گا۔‘‘( بخاری کتاب التفسیر)

کے الفاظ آئے ہیں۔ مگر اول تو یہ الفاظ قرآن کے الفاظ سے مطابقت نہیں رکھتے کیونکہ قرآن نے اللہ کی پنڈلی کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے بلہ اسم عام ساق( پنڈلی) کا لفظ استعمال کیا ہے مزید یہ کہ یہ حدیث اگرچہ صحیحین کی ہے لیکن اس کے ایک راوی زید بن اسلم ہیں جن کے بارے میں کلام کی گنجائش ہے۔ ابن عینیہ کہتے ہیں زید بن اسلم نیک شخص تھے لیکن حفظ کے معاملہ میں کمزوری تھی اور ابو حاتم کہتے ہیں زید کی ابو سعید سے روایت مرسل ہوتی ہے۔ ابن حبان نے ان کا شمار ثقہ راویوں میں کیا ہے اور ابن عبدالبر نے مقدمہ میں جو بات بیان کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تدلیس ( جو اسناد کا نقص ہے ) کیا کرتے تھے۔(تہذیب التہذیب ج ۳ ص ۳۹۷)

اور عبید اللہ بن عمر کہتے ہیں ہم اس سے رویت میں حرج محسوس نہیں کرتے لیکن وہ قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کرتے تھے۔( میز ان الاعتدال ج۲ ص ۹۸)

معلوم ہوتا ہے یہ حدیث بالمعنی بیان ہوئی ہے ( یعنی اصل الفاظ محفوظ نہیں ہیں ) اس لیے قرآن کے الفاظ ہی اصل حجت ہیں اور وہ شدتِ امر کے معنی میں ہیں۔

۳۹۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی میدانِ حشر میں ایک موقع وہ ہو گا جب کہ ان کافروں سے کہا جائے گا کہ اللہ کو سجدہ کرو اور وہ سجدہ کرنا چاہیں گے مگر ان کی پیٹھ جھک نہ سکے گی اور وہ عاجز رہ جائیں گے۔ یہ مظاہرہ اس لیے کرایا جائے گا تاکہ انہیں احساس ہو کہ دنیا میں صحیح سالم ہو کر وہ اللہ کو سجدہ نہیں کرتے تھے بلکہ غیر اللہ کے آگے جھکتے تھے حالانکہ اس وقت انہیں اللہ کو سجدہ کرنے کے کیے کہا جاتا تھا۔ انہیں اللہ کا رسول ایک اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دے رہا تھا جس میں اس کو سجدہ کرنا بھی شامل تھا۔ اس سجدہ سے انکار کر کے انہوں نے اپنے لیے کیسی ذلت کا سامان کیا ہے۔

۴۰۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اب تم ان جھٹلانے والوں کی فکر نہ کرو میں ان سے نمٹ لوں گا۔

۴۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ایسے اسباب پیدا کروں گا کہ وہ ظاہری حالات کو دیکھ کر اپنے لیے عافیت محسوس کریں گے لیکن وہ ان کی تباہی کا سامان ہو گا۔ کافر اپنے کو خوشحال دیکھ کر فریب میں مبتلا ہو جاتے ہیں لیکن ان کی خوشحالی ان کی بدحالی کا سبب بن جاتی ہے۔ اسی طرح وہ اللہ کے دین کی مخالفت میں جو تدبیریں کرتے ہیں وہ الٹی پڑ جاتی ہیں۔ جو جال وہ بچھاتے ہیں اس میں وہ خود ہی پھنس جاتے ہیں۔

۴۲۔۔۔۔۔۔۔۔  اس کی تشریح سورۂ شعراء نوٹ ۹۸ میں گزر چکی۔

۴۳۔۔۔۔۔۔۔۔  اس کی تشریح سورۂ طور نوٹ ۴۰ میں گزر چکی۔

۴۴۔۔۔۔۔۔۔۔  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ تم صبر کے ساتھ اللہ کے فیصلہ کا انتظار کرو۔ جب تک وہ حکم نہ دے اپنا مقام چھوڑ کر کہیں چلے نہ جاؤ۔

۴۵۔۔۔۔۔۔۔۔  صاحب الحوت( مچھلی والے ) سے مراد حضرت یونس علیہ السلام ہیں جن کو مچھلی نے نگل لیا تھا۔ ان کی قوم نے ان کو جھٹلا دیا تھا اس لیے وہ برہم ہوکر اس بستی سے نکل گئے تھے اور اللہ کے حکم کا انتظار نہیں کیا تھا۔ ان کے اس قصور کی بنا پر ان کو اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے پیٹ میں پہنچا دیا تھا۔ یہ واقعہ سورۂ صافات آیت  ۱۳۹ تا  ۱۴۸  میں بیان ہوا ہے۔ یہاں اسی واقعہ کی طرف اشارہ کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا ہے کہ ان کی طرح جلدی نہ کرو اور جب تک اللہ ہجرت کا حکم نہ دے اپنی جگہ نہ چھوڑو۔

۴۶۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی یونس (علیہ السلام) نے مچھلی کے پیٹ میں جب کہ وہ غم سے گھٹ رہے تھے اللہ کو پکارا۔ انہوں نے وہ تسبیح کی جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی۔ ان کی تسبیح کا ذکر سورۂ انبیاء آیت ۸۷ میں ہوا ہے۔

۴۷۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی مچھلی نے جب انہیں اگل دیا تھا تو وہ ایک چٹیل میدان تھا۔ وہاں وہ ابتر حالت میں پڑے رہتے لیکن اللہ کا ان پر فضل ہوا اور اس چٹیل میدان میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے سایہ دار درخت اگایا اور ان کی ہر طرح دستگیری کی۔ دیکھئے سورۂ صافات نوٹ ۱۲۸۔

۴۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ان کے قصور کو معاف کر کے رسالت کا فریضہ انجام دینے کے لیے انہیں پھر چن لیا اور انہیں اصلاح کی توفیق عطا فرما کر صالحین کے زمرہ میں شامل کر لیا۔

پیغمبر کی زندگی نمونہ ہوتی ہے۔ اگر کبھی ان سے کوئی غلطی سرزد ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر متنبہ فرماتا ہے اور وہ فوراً اپنی اصلاح کر لیتے ہیں۔ اس طرح نہ ان کی صالحیت پر کوئی حرف آتا ہے اور نہ لوگوں کی غلط رہنمائی ہوتی ہے۔

۴۹۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ تعبیر ہے کافروں کے بغض بھری نگاہوں سے دیکھنے کی۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب قرآن سناتے ہوئے دیکھتے تو غضبناک آنکھوں سے دیکھتے اور اس طرح مرعوب کرنے کی کوشش کرتے کہ آپ لڑکھڑا جائیں لیکن آپ پر اللہ کا فضل ایسا ہوا کہ کافروں کی یہ حرکتیں آپ پر ہرگز اثر انداز نہ ہو سکیں۔

نگاہوں سے پھسلادینے کا مفہوم وہی ہے جو اوپر بیان کر دیا گیا اور یہ ایسی ہی بات ہے جسے ہم کہتے ہیں۔ ’’ وہ مجھے اس طرح دیکھ رہا تھا کہ ابھی کھا جائے گا۔‘‘ ظاہر اس کا مطلب واقعی کھا جانا نہیں ہوتا بلکہ یہ شدتِ غضب کی تعبیر ہے۔

بعض مفسرین نے اس آیت سے نظر لگ جانے کے حق ہونے پر استدلال کیا ہے اور اس سلسلہ میں حدیث ’’العَینُ حقٌ‘‘ ( نظر کا لگ جانا حق ہے ) بھی پیش کی ہے جسے بخاری، مسلم ابو داؤد نے روایت کیا ہے (دیکھئے بخاری کتاب الطب، مسلم کتاب السلام اور ابو داؤد کتاب الطب) مگر نظر لگ جانا جس معنی میں بولا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کو بری نظر سے دیکھئے اور اس نظر بد کے اثر سے اس کی طبیعت خراب ہو جائے یا وہ بیمار پڑے۔لیکن آیت میں ایسی کوئی بات بیان نہیں ہوئی ہے اس میں تو جو بات ارشاد ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ کافر پیغمبر کو جب کہ وہ قرآن سنارہے ہوتے ہیں اس غضب سے دیکھتے ہیں گویا اپنی شدت نگاہ سے پیغمبر کو اپنے موقف سے ہٹا دیں گے۔ کہاں یہ بات جو بلاغت کے اسلوب میں کہی گئی ہے اور کہاں ’’ نظر بد‘‘ کی بات۔ مختصر یہ کہ اس آیت سے نظر لگ جانے کے مروجہ تصور پر استدلال صحیح نہیں۔

رہی حدیث ’ العَینُ حقٌ‘(نظر کا لگ جانا حق ہے ) تو اس کا مفہوم بھی قرآن و سنت کے واضح احکام کی روشنی ہی میں متعین کرنا چاہیے۔ قرآن وہم پرستی کی جڑ کاٹ دیتا ہے اور علم کی روشنی میں چلنے کی ہدایت کرتا ہے وَلَاے قْفُ مَالَے سَ لَکَ بِہٖ عِلْم(اس چیز کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمہیں علم نہیں )( بنی اسرائیل: ۳۶)

اگر کوئی شخص بیمار پڑتا ہے تو اس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کو نظر بد لگ گئی ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے معلوم ہوا کہ وہ نظر بد لگ جانے سے بیمار ہوا ہے اور کسی اور وجہ سے بیمار نہیں ہوا؟ ظاہر ہے یہ محض وہم ہے اور اوہام کے لیے کوئی وجہ جواز نہیں۔ پھر نظر لگ جانے کا یہ تصور بھی عجیب ہے کہ کوئی شخص کسی کو خوبصورت دیکھ کر متاثر ہوتا ہے تو اس کی نظر لگ جاتی ہے اور وہ خوبصورت مرد یا عورت بیمار پڑجاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ نظر بد کسی کی خوبی کو دیکھ کر لگ جاتی ہے یا اس سے بغض کی بناء پر؟ یہ تصور بھی ہے کہ اگر کوئی شخص کھانا کھا رہا ہو اور دوسرا شخص اس کو حریصانہ نگاہ سے دیکھ لیتا ہے تو اس کی نظر لگ جاتی ہے اور کھانے والے کو قے ہو جاتی ہے مگر یہ معاملہ صرف وہم پرستوں کے ساتھ ہوتا ہے اوروں کے ساتھ نہیں۔ ایسا کیوں ؟ کیا ہزاروں لوگ بازاروں میں کھانا نہیں کھاتے اور حریص لوگوں کا ان کے پاس سے گذر نہیں ہوتا پھر انہیں قے کیوں نہیں ہوتی؟ مزید طُرفہ تماشہ یہ ہے کہ نظر لگ جانا ایک عقیدہ کی بات بن گیا ہے چنانچہ نظر اتارنے کے لیے بھی ایک خاص فارمولا مروج ہے اور وہ یہ کہ کچھ ہلدی ، نمک اور رائی وغیرہ ہاتھ میں لے کر اس شخص کے سر سے پاؤں تک پھیرا جاتا ہے اور پھر آگ میں ان چیزوں کو جلایا جاتا ہے اور ان کے جلنے کی بُو اٹھتی ہے تو سمجھا جاتا ہے کہ نظر اتر گئی۔ معلوم ہوتا ہے یہ طریقہ ہندوؤں سے لیا گیا ہے کیونکہ ان میں نظر اتارنے کے لیے جلانے کا طریقہ رائج ہے۔ بہر صورت نظر لگنے اور اتارنے کا یہ تصور سراسر جاہلی ہے۔ اسلام میں ایسی وہمی باتوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔

جس طرح انسان کسی کی چیخ سن کر غمگین ہو جاتا ہے مہیب آواز اسے مرعوب کر دیتی ہے اسی طرح نگاہیں بھی انسان پر اثر انداز ہوتی ہیں مثال کے طور پر ایک قاتل جن شر انگیز نگاہوں سے دیکھتا ہے آدمی گھبراہٹ میں مبتلا ہو جاتا ہے اور بعض شر انگیز نگاہیں ایسی بھی ہو سکتی ہیں کہ شدتِ تاثر سے آدمی کے چہرے کا رنگ بدل جائے۔ یہ سب طبعی اسباب کی بنا پر ممکن ہے اور جب کوئی واضح سبب موجود ہو تو ہم اس کو اس شر یا تکلیف کا سبب قرار دیں گے جو کسی کو پہنچتی ہو۔ حدیث اَلْعَینُ حَقٌ (نظر کا لگ جانا حق ہے )اس معنی میں ہے۔ شر انگیز نگاہیں برے اثرات ڈالتی ہیں اور انسان کبھی مرعوب ہو جاتا ہے اور کبھی گھبراہٹ میں اس طرح مبتلا ہو جاتا ہے کہ اس کے چہرہ کا رنگ ہی فق پڑ جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی ظاہری سبب موجود نہ ہو تو کسی تکلیف کے پہنچنے پر اسے نظر بد پر محمول کرنا محض وہمی پن ہے اور کسی کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ اس کی نظر لگ گئی ہے جب کہ اس کا کوئی ثبوت نہ ہو بدگمانی ہے اور حدیث میں آتا ہے کہ فَاِنَّ الظَّنَّ اَکْذَبُ الْحَدِیثِ  ’’بد گمانی بد ترین جھوٹ ہے۔‘‘

العین حق ( نظر کا لگ جانا حق ہے ) کا جو مطلب ہم نے اوپر بیان کیا ہے اس کی تائید صحیح مسلم کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں جبرائیل علیہ السلام نے آپ کے بیمار ہو جانے پر جو دعا پڑھی تھی اس میں اَوْعَینِ حَاسِدٍ اللّٰہُ یشْفِیکَ(یا حاسد کی نظر کے شر سے۔ اللہ آپ کو شفا دے۔ مسلم کتاب السلام) کے الفاظ ہیں جو سورۂ فلق کی آیت وَمِنْ شَرِّحَاسِدٍ اِذاَ حَسَدَ( حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے ) کے الفاظ و مفہوم سے مناسبت رکھتے ہیں۔( اس آیت کی تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ فلق نوٹ ۷) اس لیے حدیث  العین حق کو کسی ایسے معنی میں لینا صحیح نہ ہو گا جو ظاہری اسباب کے خلاف ہوں اور وہم و ظن میں مبتلا کرنے والے ہوں۔

حدیث میں نظر لگ جانے سے شفا یابی کے لیے بھی وہی دعا تجویز کی گئی ہے جو دوسری بیماریوں سے شفا یابی کے لیے ہے یعنی: اَذْہِب الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ اَنْتَ الشَافِیْ۔لاَ شِفَاءَ اِلاَّ شِفَاءُ کَ شِفَاء اًلاَّ یقَادِرُ سَقَمًا۔’’ اے انسانوں کے رب! تکلیف کو دور فرما دے۔ شفاء عطا فرما کہ تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیری شفا کے سوا کوئی شفاء نہیں۔ ایسی شفا عطا فرما جو کسی بھی بیماری کو باقی رہنے نہ دے۔‘‘(بخاری کتاب الطب)

یہ بہترین دعا ہے۔ اس کو چھوڑ کر ٹونے ٹوٹکے کرنا عقیدہ کے فساد کا موجب ہے۔

۵۰۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی قرآن کو پیغمبر کی زبان سے سن کر یہ لوگ انہیں دیوانہ کہتے ہیں حالانکہ یہ قرآن تمام دنیا والوں کے لیے سرتا سر نصیحت ہے اور ان کو وہ سبق یاد دلارہ ا ہے جو ان کی فطرت میں ودیعت ہوا ہے۔

یہ آیت یہ صراحت بھی کرتی ہے کہ قرآن صرف عربوں کے لیے نہیں بلکہ دنیا کی تمام قوموں کے لیے نصیحت بن کر نازل ہوا ہے۔

٭٭٭

ای بک: اعجاز عبید

ٹائپنگ: عبد الحمید، افضال احمد، مخدوم محی الدین، کلیم محی الدین، فیصل محمود،  اعجاز عبید