FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

دعائے انبیاءِ قرآنی

 

 

                مرتب : ابراہیم جمال بٹ

سرینگر کشمیر

 

ترجمہ و تشریح : سیّد مودودیؒ

 

 

 

 

عرض ناشر

 

دُعا کے بارے میں یہ بات یاد رکھئے کہ دُعا صرف ایک درخواست ہے جو خالق کائنات سے کی جاتی ہے اور یہ مالک کائنات پر منحصر ہے کہ کس کی درخواست قبول کرے مگر بندۂ مومن کو ہر حال میں اپنے مالک سے دُعا کرتے رہنا چاہیے۔ کچھ زبانی الفاظ دہرانے سے دُعا کی معنویت پوری نہیں ہو پاتی ہے بلکہ دُعا پورے صمیمِ قلب سے مانگنی چاہیے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ :لَیْسَ شَیْئٌ اَکْرَمَ عَلَی اللّٰہِ مِنَ الدُّعَاءِ (ترمذی) ’’اللہ کی نگاہ میں دُعا سے بڑھ کر کوئی چیز با وقعت نہیں ہے۔‘‘ان مخصوص سطور میں راقم کے لیے نہ مناسب، موزوں اور نہ وہ مقام ہے کہ وہ اس موضوع پر کچھ بات کر سکے کیونکہ جو کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہے اس میں ابتدا ہی میں ہم نے سیّد مودودیؒ کے تفہیم القرآن سے دُعا کے متعلق پورا مضمون مرتب کر کے آپ کے سامنے رکھ دیا ہے۔ اس کا بغور مطالعہ کر کے آپ انشاء اللہ دُعا کی معنویت، اہمیت اور افادیت سمجھ پائیں گے۔

آج کل بازار میں دعاؤں سے متعلق مختلف ناموں سے بہت سی کتابیں موجود ہیں اور لوگوں میں ان کا عام چلن بھی ہے۔ کہیں کہیں ان میں اردو اور انگریزی میں ترجمہ شامل کر دیا گیا ہے۔ ان میں یقیناً روزمرہ کی دعائیں شامل ہیں۔ ہم نے بفضلِ ایزدی یہ نئی کوشش ’’دعائے انبیاء قرآنی ‘‘کی روشنی میں کی ہے جس میں قرآن پاک سے انبیاء علیہم السلام کی دعائیں لی گئی ہیں اور ان کا ’’تفہیم القرآن‘‘ سے اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی ترجمہ بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی جہاں سیّد مودودیؒ نے تفہیم القرآن میں ان کی تشریح فرمائی ہے اس سب کو یہاں لایا گیا ہے۔ اس سب کے علاوہ کتاب کے ابتدائی صفحات میں ہی دُعا سے متعلق فلسفہ اور اس کے متعلق احادیث تفہیم القرآن سے لی گئی ہیں۔ مگر ایک خاص چیز جو تقریباً کہیں دوسری جگہ نظر نہیں آئے گی، وہ ہے تعوذ و تسمیہ کی تشریح۔ بہت سال پہلے سیّد مودودیؒ کے کچھ دروس روزنامہ جسارت پاکستان میں شائع ہوئے تھے اور پھر ان دروس میں کئی دروس ماہ نامہ زندگی نو نئی دہلی نے شائع کیا تھا۔ اب ان ہی دروس کو نئے انداز میں مرتب کر کے شامل کتاب کر دیا گیا ہے۔ ملّت پبلی کیشنز نے خدا کے فضل و کرم سے اب تک اسلام کی صحیح اور حقیقی فکر کو اُجاگر کرنے کے لیے بہت سی کتابیں شائع کی ہیں اور یہ سلسلہ انشاء اللہ جاری وساری رہے گا مگر دُعاؤں کے متعلق یہ ایک نئی کوشش ہے۔

میں اپنے برادرِ مکرّم محترم ابراہیم جمال بٹ جنہوں نے اس کتاب کو مرتب کیا کا بے حد اور انتہائی شکر گزار ہوں، جنہوں نے اس کتاب کا مواد جمع کر کے اس کو کتابی شکل دے ڈالی۔ میں دست بدعا ہوں کہ یہ سعی جمیلہ قبول ہو اور اس کو دینی،دنیاوی و اُخروی نعمتوں سے بہرہ مند فرمائے۔

انتہائی ناشکری ہو گی اگر میں اپنی لخت ہائے جگر، نصر من اللہ افضل اور قراۃ العین افضل کا شکریہ ادا نہ کروں، باقی کتب کی پروف ریڈنگ میں وہ دونوں بچیاں وقتاً فوقتاً میری حسب ضرورت مدد کرتی رہتی ہیں مگر میری تحریکی و دوسری مصروفیات کی وجہ سے اس کتاب یعنی ’’دعائے انبیاء قرآنی‘‘ کی تمام پروف ریڈنگ تفہیم القرآن سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر انتہائی محنت شاقہ سے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا ہے۔ اللہ ان کی یہ کوشش قبول فرمائے،ان کو رشد و ہدایت سے نوازے اور اُن کو تمام دینی اور دنیاوی بھلائیاں عطا کرے۔ آمین۔ عام روایات سے ہٹ کر اور ادارے کا معیار برقرار رکھتے ہوئے کتاب عمدہ طباعت سے شائع ہو کر آپ کے مبارک ہاتھوں میں آ رہی ہے اور اُمید ہے کہ آپ اسے ضرور پسند فرمائیں گے۔ انشاء اللہ

 

محمد افضل لون

منیجر ملّت پبلی کیشنر

 

 

 

 

دُعا کیوں اور کس سے؟

 

دعا مانگنے کی حقیقت:

 

[دُعا] کی روح کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے تین باتیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہییں :

اوّل یہ کہ دعا آدمی صرف اُس ہستی سے مانگتا ہے جس کو وہ سمیع و بصیر اور فوق الفطری اقتدار (Supernatural Powers) کا مالک سمجھتا ہے، اور دعا مانگنے کا محرِک دراصل آدمی کا یہ اندرونی احساس ہوتا ہے کہ عالمِ اسباب کے تحت فطری ذرائع ووسائل اس کی کسی تکلیف کو رفع کرنے یا کسی حاجت کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں یا کافی ثابت نہیں ہو رہے ہیں، اس لیے کسی فوق الفطری اقتدار کی مالک ہستی سے رجوع کرنا ناگزیر ہے۔ اس ہستی کو آدمی بے دیکھے پکارتا ہے۔ ہر وقت، ہر جگہ، ہر حال میں پکارتا ہے۔ خلوت کی تنہائیوں میں پکارتا ہے۔ ب آواز بلند ہی نہیں، چپکے چپکے بھی پکارتا ہے، بلکہ دل ہی دل میں اس سے مدد کی التجائیں کرتا ہے۔ یہ سب کچھ لازماً اِس عقیدے کی بنا پر ہوتا ہے کہ وہ ہستی اُس کو ہر جگہ ہر حال میں دیکھ رہی ہے، اس کے دل کی بات بھی سن رہی ہے۔ اور اُس کو ایسی قدرت مطلقہ حاصل ہے کہ اسے پکارنے والا جہاں بھی ہو وہ اس کی مدد کو پہنچ سکتی ہے اور اس کی بگڑی بنا سکتی ہے۔ دعا کی اس حقیقت کو جان لینے کے بعد یہ سمجھنا آدمی کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں رہتا کہ جو شخص اللہ کے سوا کسی اور ہستی کو مدد کے لیے پکارتا ہے وہ درحقیقت قطعی اور خالص اور صریح شرک کا ارتکاب کرتا ہے، کیونکہ وہ اُس ہستی کے اندر اُن صفات کا اعتقاد رکھتا ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی صفات ہیں۔ اگر وہ اس کو اُن خدائی صفات میں اللہ کا شریک نہ سمجھتا تو اس سے دعا مانگنے کا تصوّر تک کبھی اس کے ذہن میں نہ آسکتا تھا۔

دوسری بات جو اس سلسلے میں اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے وہ یہ ہے کہ کسی ہستی کے متعلق آدمی کا اپنی جگہ یہ سمجھ بیٹھنا کہ وہ اختیارات کی مالک ہے، اس سے یہ لازم نہیں آ جاتا کہ وہ فی الواقع مالکِ اختیارات ہو جائے۔ مالک اختیارات ہونا تو ایک امرِ واقعی ہے جو کسی کے سمجھنے یا نہ سمجھنے پر موقوف نہیں ہے۔ جو درحقیقت اختیارات کا مالک ہے وہ بہر حال مالک ہی رہے گا، خواہ آپ اسے مالک سمجھیں یا نہ سمجھیں۔ اور جو حقیقت میں مالک نہیں ہے، اس کو محض یہ بات کہ آپ نے اسے مالک سمجھ لیا ہے، اختیارات میں ذرّہ برابر بھی کوئی حصّہ نہ دلوا سکے گی۔ اب یہ بات ایک امرِ واقعی ہے کہ قادرِ مطلق اور مدبّرِ کائنات اور سمیع و بصیر ہستی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اور وہی کلّی طور پر اختیارات کا مالک ہے۔ دوسری کوئی ہستی بھی اس پوری کائنات میں ایسی نہیں ہے جو دعائیں سننے اور اُن پر قبولیت یا عدم قبولیت کی صورت میں کوئی کارروائی کرنے کے اختیارات رکھتی ہو۔ اِس امرِ واقعی کے خلاف اگر لوگ اپنی جگہ کچھ انبیاء اور اولیاء اور فرشتوں اور جنوں اور سیّاروں اور فرضی دیوتاؤں کو اختیارات میں شریک سمجھ بیٹھیں تو اس سے حقیقت میں ذرّہ برابر بھی کوئی فرق رونما نہیں ہو گا۔ مالک، مالک ہی رہے گا اور بے اختیار بندے، بندے ہی رہیں گے۔

تیسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں سے دعا مانگنا بالکل ایسا ہے جیسے کوئی شخص درخواست لکھ کر ایوانِ حکومت کی طرف جائے مگر اصل حاکم ذی اختیار کو چھوڑ کر وہاں جو دوسرے سائلین اپنی حاجتیں لیے بیٹھے ہوں اُنہی میں سے کسی ایک کے آگے اپنی درخواست پیش کر دے اور پھر ہاتھ جوڑ جوڑ کر اس سے التجائیں کرتا چلا جائے کہ حضور ہی سب کچھ ہیں، آپ ہی کا یہاں حکم چلتا ہے، میری مراد آپ ہی بر لائیں گے تو بر آئے گی۔ یہ حرکت اوّل تو بجائے خود سخت حماقت و جہالت ہے، لیکن ایسی حالت میں یہ انتہائی گستاخی بھی بن جاتی ہے جبکہ اصل حاکم ذی اختیار سامنے موجود ہو اور عین اُس کی موجودگی میں اُسے چھوڑ کر کسی دوسرے کے سامنے درخواستیں اور التجائیں پیش کی جا رہی ہوں۔ پھر یہ جہالت اپنے کمال پر اس وقت پہنچ جاتی ہے جب وہ شخص جس کے سامنے درخواست پیش کی جا رہی ہو خود بار بار اُس کو سمجھائے کہ میں تو خود تیری ہی طرح کا ایک سائل ہوں، میرے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، اصل حاکم تو سامنے موجود ہیں، تو ان کی سرکار میں اپنی درخواست پیش کر، مگر اس کے سمجھانے اور منع کرنے کے باوجود یہ احمق کہتا ہی چلا جائے کہ میرے سرکار تو آپ ہیں، میر اکام آپ ہی بنائیں گے تو بنے گا۔

(تفہیم القرآن، ج:چہارم، المؤمن، حاشیہ: ۸۳)

 

اﷲ سے دُعا مانگنا عین تقاضائے بندگی ہے:

 

دُعا عین عبادت اور جانِ عبادت ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ سے دعا نہ مانگنے والوں کے لیے ’’گھمنڈ میں آ کر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں ‘‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ سے دعا مانگنا عین تقاضائے بندگی ہے، اور اُس سے منہ موڑنے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی تکبُّر میں مبتلا ہے، اس لیے اپنے خالق و مالک کے آگے اعترافِ عبودیت کرنے سے کتراتا ہے۔ نبیﷺ نے اپنے ارشادات میں آیت کے ان دونوں مضامین کو کھول کر بیان فرما دیا ہے: حضرت نُعمانؓ بن بشیر کی روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا ان الدعاء ھو العبادۃ ثم قرأ ادعونی استجب لکم… یعنی دعا عین عبادت ہے، پھر آپﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (احمد، تِرْمِذی، ابوداؤد، نَسائی، ابن ماجہ، ابن ابی حاتم، ابن جریر)۔ حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا الدعاء مخ العبادۃ، ’’دعا مغز عبادت ہے‘‘ (تِرْمِذی)۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا من لم یسأل اﷲ یغضب علیہ، ’’جو اللہ سے نہیں مانگتا اللہ اس پر غضبناک ہوتا ہے‘‘۔ (تِرْمِذی)

اس مقام پر پہنچ کر وہ عقدہ بھی حل ہو جاتا ہے جو بہت سے ذہنوں میں اکثر الجھن ڈالتا رہتا ہے۔ لوگ دعا کے معاملے پر اس طرح سوچتے ہیں کہ جب تقدیر کی برائی اور بھلائی اللہ کے اختیار میں ہے اور وہ اپنی غالب حکمت و مصلحت کے لحاظ سے جو فیصلہ کر چکا ہے وہی کچھ لازماً رونما ہو کر رہنا ہے تو پھر ہمارے دعا مانگنے کا حاصل کیا ہے۔ یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے جو آدمی کے دل سے دعا کی ساری اہمیت نکال دیتی ہے، اور اس باطل خیال میں مبتلا رہتے ہوئے اگر آدمی دعا مانگے بھی تو اس کی دعا میں کوئی روح باقی نہیں رہتی۔ قرآن مجید کی مذکورۂ بالا آیت اس غلط فہمی کو دو طریقوں سے رفع کرتی ہے۔ اولاً، اللہ تعالیٰ بالفاظِ صریح فرما رہا ہے کہ ’’مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا‘‘۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ قضا اور تقدیر کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس نے ہماری طرح معاذاللہ، خود اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بھی باندھ دیے ہوں اور دُعا قبول کرنے کے اختیارات اُس سے سلب ہو گئے ہوں۔ بندے تو بلا شبہ اللہ کے فیصلوں کو ٹالنے یا بدل دینے کی طاقت نہیں رکھتے، مگر اللہ تعالیٰ خود یہ طاقت ضرور رکھتا ہے کہ کسی بندے کی دعائیں اور التجائیں سُن کر اپنا فیصلہ بدل دے۔ دوسری بات جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ دعا خواہ قبول ہو یا نہ ہو، بہرحال ایک فائدے اور بہت بڑے فائدے سے وہ کسی صورت میں بھی خالی نہیں ہوتی، اور وہ یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کے سامنے اپنی حاجتیں پیش کر کے اور اس سے دعا مانگ کر اس کی آقائی وبالادستی کا اعتراف اور اپنی بندگی و عاجزی کا اقرار کرتا ہے۔ یہ اظہارِ عبودیت بجائے خود عبادت، بلکہ جانِ عبادت ہے جس کے اجر سے بندہ کسی حال میں بھی محروم نہ رہے گا قطع نظر اس سے کہ وہ خاص چیز اُس کو عطا کی جائے یا نہ کی جائے جس کے لیے اس نے دعا کی تھی۔

نبیﷺ کے ارشادات میں ان دونوں مضامین کی بھی پوری وضاحت ہمیں مل جاتی ہے۔ پہلے مضمون پر حسبِ ذیل احادیث روشنی ڈالتی ہیں :

حضرت سلمانؓ فارسی کی روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا : لا یرد القضاءَ الا الدعاء (تِرْمِذی)۔ ’’قضا کو کوئی چیز نہیں ٹال سکتی مگر دُعا‘‘۔ یعنی اللہ کے فیصلے کو بدل دینے کی طاقت کسی میں نہیں ہے، مگر اللہ خود اپنا فیصلہ بدل سکتا ہے، اور یہ اُس وقت ہوتا ہے جب بندہ اس سے دعا مانگتا ہے۔

حضرت جابرؓ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا:

مامن احدٍید عو بدعاءٍ الّا اٰتاہ اﷲ ماسَأل اوکف عنہ من السوء مثلہ مالم یدع باثم اوقطیعۃ رحمٍ۔ (ترمذی)

’’ آدمی جب کبھی اللہ سے دعا مانگتا ہے، اللہ اسے یا تو وہی چیز دیتا ہے جس کی اس نے دعا کی تھی یا اُسی درجے کی کوئی بلا اس پر آنے سے روک دیتا ہے، بشرطیکہ وہ کسی گناہ کی یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے‘‘۔

اسی سے ملتا جلتا مضمون ایک دوسری حدیث میں ہے جو حضرت ابو سعید خُدریؓ نے حضورﷺ سے روایت کی ہے۔ اُس میں آپﷺ کا ارشاد یہ ہے کہ :

مامن مسلم یدعوبدعوۃٍ لیس فیھا اثم ولاقطیعۃ رحمٍ الا اعطاہ اﷲ احدایٰ ثلث، اما ان یعجل لہ دعوتہ، واما ان یدّخرھا لہٗ فی الاٰخرۃ واما ان یصرف عنہ من السوء مثلھا۔ (مسند احمد)

’’ایک مسلمان جب بھی کوئی دعا مانگتا ہے، بشرطیکہ وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں قبول فرماتا ہے۔ یا تو اس کی وہ دعا اسی دنیا میں قبول کر لی جاتی ہے۔ یا اُسے آخرت میں اجر دینے کے لیے محفوظ رکھ لیا جاتا ہے۔ یا اسی درجہ کی کسی آفت کو اُس پر آنے سے روک دیا جاتا ہے‘‘۔

حضرت ابو ہریرہؓ کا بیان ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا :

اذادعا احدکم فلا یقل اللھم اغفرلی ان شئت، ارحمنی ان شئت، ارزقنی ان شئت، وَلْیَعْزِم مسئلتہٗ (بخاری)

’’جب تم میں سے کوئی شخص دعا مانگے تو یوں نہ کہے کہ خدایا مجھے بخش دے اگر تو چاہے، مجھ پر رحم کر اگر تو چاہے، مجھے رزق دے اگر تو چاہے، بلکہ اسے قطعیّت کے ساتھ کہنا چاہیے کہ خدایا میری فلاں حاجت پوری کر‘‘۔

دوسری روایت حضرت ابوہریرہؓ ہی سے ان الفاظ میں آئی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:

ادعوا اﷲ وانتم موقنون بالاجابۃ (ترمذی)

’’اللہ سے دعا مانگو اس یقین کے ساتھ کہ وہ قبول فرمائے گا‘‘۔

ایک اور روایت میں حضرت ابو ہریرہؓ نبیﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ:

یستجاب للعبد مالم یدعُ باثم اوقطیعۃ رحم مالم یستعجل، قیل یا رسول اﷲﷺ ما الاستعجال؟ قال یقول قد دعوت وقد دعوت فلم اَرَیُستجاب لی فیستحسر عندذٰلک ویدع الدعاء (مسلم)۔

’’بندے کی دعا قبول کی جاتی ہے بشرطیکہ وہ کسی گناہ کی یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے، اور جلد بازی سے کام نہ لے۔ عرض کیا گیا جلد بازی کیا ہے یارسول اللہﷺ؟ فرمایا جلد بازی یہ ہے کہ آدمی کہے میں نے بہت دعا کی، بہت دعا کی، مگر میں دیکھتا ہوں کہ میری دعا قبول ہی نہیں ہوتی، اور یہ کہہ کر آدمی تھک جائے اور دعا مانگنی چھوڑ دے‘‘۔

دوسرے مضمون کو حسبِ ذیل احادیث واضح کرتی ہیں :

حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا لیس شیِ اکرم علی اﷲ من الدعاء (ترمذی، ابن ماجہ)

’’اللہ کی نگاہ میں دعا سے بڑھ کر کوئی چیز با وقعت نہیں ہے‘‘۔

حضرت ابن مسعودؓ کی روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:

سلو ا اﷲ من فضلہ فان اﷲ یحبّ ان یسأل (ترمذی)

’’اللہ سے اس کا فضل مانگو کیونکہ اللہ اسے پسند فرماتا ہے کہ اُس سے مانگا جائے‘‘۔

حضرت ابن عمرؓ اور حضرت معاذؓ بن جَبَل کا بیان ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا:

ان الدعاء ینفع ممّا نزل وممّا لم ینزل فعلیکم عباداﷲ بالدعاء (ترمذی، مسند احمد)

’’دعا بہرحال نافع ہے اُن بُلاؤں کے معاملے میں بھی جو نازل ہو چکی ہیں اور اُن کے معاملے میں بھی جو نازل نہیں ہوئیں۔ پس اے بندگانِ خدا تم ضرور دعا مانگا کرو‘‘۔

حضرت انسؓکہتے ہیں کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا:

یسأل احدکم ربّہ حاجتہٗ کلّہٗ حتیٰ یسأل شسع نعلہٖ اذا انقطع (ترمذی)

’’تم میں سے ہر شخص کو اپنی ہر حاجت خدا سے مانگنی چاہیے، حتیٰ کہ اگر اس کی جوتی کا تسمہ بھی ٹوٹ جائے تو خدا سے دعا کرے‘‘۔

یعنی جو معاملات بظاہر آدمی کو اپنے اختیار میں محسوس ہوتے ہیں اُن میں بھی تدبیر کرنے سے پہلے اسے خدا سے مدد مانگنی چاہیے، اس لیے کہ کسی معاملے میں بھی ہماری کوئی تدبیر خدا کی توفیق و تائید کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی، اور تدبیر سے پہلے دعا کے معنی یہ ہیں کہ بندہ ہر وقت اپنی عاجزی اور خدا کی بالادستی کا اعتراف کررہا ہے۔ (تفہیم القر آن، ج:چہارم،المؤمن، حاشیہ: ۸۴)

بحوالہ ’’سیّد مودودیؒ کا فکری انقلاب ‘‘جلد اوّل

٭٭٭

 

 

 

 

تعوذ

 

                اعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم

 

تشریح:

 

پناہ مانگنے والا ہمیشہ اس صورت میں پناہ مانگا کرتا ہے جب کہ اسے کسی خطرے کا احساس ہو۔ اگر خطرے کا احساس ہی نہ ہو تو پناہ کا کوئی تصور اس کے ذہن میں نہیں آتا، اور پناہ ہمیشہ اس سے مانگی جاتی ہے جس کے متعلق آدمی کو یہ اطمینان ہوتا ہے کہ یہ ہمیں محفوظ کر سکتا ہے اس خطرے سے جس کا ہمیں احساس ہے۔ جب تک یہ دونوں باتیں سامنے نہ ہوں گی آدمی کے ذہن میں نہ تو پناہ لینے کا تصور آئے گا اور نہ کسی کی طرف وہ پناہ مانگنے کے لیے توجہ کرے گا ظاہر بات ہے کہ اگرکسی آدمی کو پناہ لینے کی ضرورت کا احساس ہی نہ ہو تو وہ کبھی خطرے کی جگہ سے نہیں بھاگے گا، مثلاً زلزلہ۔ چونکہ لوگوں کو اس کا احساس نہیں ہوتا کہ کوئی خطرہ پیش آنے والا ہے، اس لیے وہ اطمینان سے بیٹھے رہتے ہیں۔ اگر ایک منٹ پہلے بھی انہیں معلوم ہو جائے کہ زلزلہ آنے والا ہے اور ہمارے مکانوں کے گر جانے کا خطرہ ہے تو بھاگ کھڑے ہوں۔ چناں چہ بے خبری کی وجہ سے آدمی خطرے میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر خطرے کا احساس ہو جائے یعنی یہ معلوم ہو جائے کہ زلزلہ آرہا ہے اور مکان گرنے والا ہے، یا یہ معلوم ہو جائے کہ آگ لگنے والی ہے تو آدمی فوراً ہوشیار ہو جاتا ہے اور پناہ لینے کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔

اسی طرح سے اگر یہ اطمینان نہ ہو کہ فلاں جگہ اسے تحفظ حاصل ہو گا تو اطمینان سے اس جگہ کا رخ نہیں کرتا۔ اگر ایک آدمی خطرہ محسوس کرتا ہے لیکن اُسے جائے پناہ نہیں معلوم تو گھبرایا گھبرایا چاروں طرف پھرے گا۔ کیوں کہ اسے اطمینان نہیں ہے کہ فلاں جگہ ہے جہاں مجھے پناہ مل سکتی ہے۔ اطمینان کے ساتھ کسی ایک طرف کو رخ آدمی اسی صورت میں کیا کرتا ہے جب کہ اسے پورا اطمینان ہو کہ فلاں جگہ ہے جہاں مجھے پناہ ملے گی۔

 

تعوذ کے معنی:

 

قرآن مجید پڑھنے سے پہلے یہ ہدایت فرمائی گئی کہ ’’جب تم قرآن پڑھو تو اللہ کی پناہ مانگو شیطان رجیم سے‘‘ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں یہ احساس دلانا چاہتا ہے کہ شیطان رجیم ایک خطرۂ عظیم ہے انسان کے لیے۔ اس وجہ سے کہ اول روزِ پیدائش سے، جب کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا، وہ اس بات پر خار کھلائے بیٹھا ہے کہ جس خلافت کے منصب پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو مامور کیا ہے، اس کا میں اسے نا اہل ثابت کروں گا۔ میں یہ ثابت کروں گا کہ یہ اس قابل نہیں تھا کہ اس کو خلافت سونپی جاتی اور میں یہ ثابت کروں گا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا، فساد برپا کرے گا، اور وہ خرابیاں لائے گا جو خلافت کے منصب کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ قرآنِ مجید اس حقیقت کو بیان کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ تمہارا ازلی دشمن شیطان ہے جو اس بات کے پیچھے پڑا ہوا ہے کہ تم کو اللہ کے راستے سے بھٹکا دے۔ تمہارے دلوں میں وسوسے ڈالے، تم کو دنیا پر فریفتہ کرے۔ آخرت کو بھلائے، حتی کہ خود اللہ تعالیٰ کے وجود کے متعلق تمہارے دلوں میں شک ڈالے۔ الغرض ہر ممکن طریقے سے وہ تم کو بہکانے پر تلا ہوا ہے۔

 

تعوذ کی تاثیر:

 

زلزلہ جیسے اچانک آتا ہے، کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ کہاں زمین کے اندر وہ مواد پک رہا ہے جو زلزلہ لائے گا تو بے خبر آدمی خطرے میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اگر اس کو خبردار کر دیا جائے کہ زلزلہ آنے والا ہے اور وہ محسوس کر لے کہ یہ میرے لیے خطرناک ہے تو اس صورت میں وہ پناہ لینے کی کوشش کرے گا۔ قرآن مجید یہی کام کرتا ہے۔ وہ انسان کو خبردار کر دیتا ہے کہ شیطان تمہارے لیے ایک خطرہ ہے۔ جو اس بات پر تلا ہوا ہے کہ تم قرآن مجید کو نہ سمجھو۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ تم الٹا سمجھو، کوشش کرتا ہے کہ تمہارے دلوں میں شکوک ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ تمہیں راہِ ہدایت سے بھٹکانے کی یہ آخری چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے دی ہے۔ لیکن شیطان کی کوشش یہ رہتی ہے کہ انسان یہیں سے ہدایت نہ پا سکے۔ اگر یہاں سے اس نے ہدایت نہ پائی تو پھر دنیا میں وہ کہیں سے ہدایت پا نہیں سکتا۔ لہٰذا چوں کہ یہی ایک منبعِ ہدایت ہے، یہی سرچشمہ ہے ہدایت کا، اور شیطان اس بات پر تلا ہوا ہے کہ تم یہاں سے ہدایت نہ حاصل کرنے پاؤ۔ اس وجہ سے تمہیں اس خطرے کو محسوس کرنا چاہیے۔ جب قرآن تم پڑھو تو اس خطرے کو محسوس کرو کہ شیطان مجھے بہکائے گا۔

 

شیطانی وسوسے:

 

قرآن مجید میں بکثرت وہ باتیں بیان کی گئی ہیں جو بہت سے انسانی نظریات کے خلاف پڑتی ہیں۔بہت سی وہ باتیں بیان کی گئی ہیں جو انسان کی خواہشاتِ نفس کے خلاف پڑتی ہیں۔ بہت سی وہ باتیں بیان کی گئی ہیں جو انسانوں میں رائج بہت سے اوہام اور رسوم کے خلاف پڑتی ہیں۔ پھر بہت سی وہ باتیں ہیں جو متشابہات کے قریب ہیں، جن میں اس بات کا امکان ہے کہ آدمی اگر غلط معنی لے بیٹھے تو کفر میں مبتلا ہو جائے۔ مثلاً قرآن مجید اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کا ذکر کرتا ہے، اللہ کے عرش پر مستوی ہونے کا ذکر کرتا ہے، اور بہت سی چیزیں قرآن مجید میں ایسی بیان کی گئی ہیں کہ اگر آدمی ان کو غلط معنی میں لے بیٹھے تو کفر میں مبتلا ہو جائے۔ وہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری طرح کا کوئی جسم رکھتا ہے، جس کی آنکھیں بھی ہیں، ہاتھ بھی ہیں، پاؤں بھی ہیں۔ وہ چلتا بھی ہے، وہ آتا بھی ہے، وہ جاتا بھی ہے۔ اس طرح کے تصورات انسان کے ذہن میں آسکتے ہیں۔ یہ ساری وہ چیزیں ہیں جو خطرات کے مواقع ہیں۔ قرآن پڑھتے ہوئے شیطان کی انتہائی کوشش یہ ہوتی ہے کہ آدمی کے دل میں طرح طرح کے شکوک وشبہات ڈالے۔

 

وسوسے زدہ لوگ:

 

اس کے ساتھ ہی شیطان کی یہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ بجائے اس کے کہ انسان قرآن مجید سے ہدایت حاصل کرے وہ اپنے نظریات کے مطابق قرآن کو ڈھالنے کی کوشش کرے۔ چناں چہ بکثرت لوگ ایسے ہیں جنہوں نے قرآن کے باہر سے کچھ نظریات اخذ کر لیے ہیں۔ اس کے بعد وہ بیٹھتے ہیں قرآن پڑھنے کے لیے اس غرض سے کہ قرآن کی جن آیتوں کو وہ اپنے نظریات کے مطابق ڈھال سکتے ہوں، ڈھال لیں اور جو آیتیں نہ ڈھل سکتی ہوں اور ان سے ان کے نظریات کی کھلی ہوئی تردید ہوتی ہو، ان کو نظر انداز کر دیں۔ ایسا انسان اپنے خیالات قرآن میں پڑھنا شروع کر دیتا ہے، بجائے اس کے کہ قرآن سے ہدایت حاصل کرے۔ یہ تمام خطرات ہیں شیطان سے جن سے انسان کو واسطہ پڑتا ہے۔وہ اس سرچشمۂ ہدایت سے (جس کے بعد کوئی دوسرا ہدایت کا ذریعہ نہیں ہے) بجائے رہنمائی حاصل کرنے کے اْلٹا بھٹکتا ہے۔ لہٰذا پہلے تو اللہ تعالیٰ انسان کو احساس دلاتا ہے اس خطرے کا۔

 

شیطان سے بچنے کا طریقہ:

 

انسان کو خطرے کا احسا س دلانے کے ساتھ اللہ تعالیٰ اس کی اس طرف بھی رہنمائی کرتا ہے کہ اس خطرے سے بچنے کی کیا شکل ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ صرف اللہ کا دامن ہے جس میں پناہ مل سکتی ہے، اور کوئی دوسری جگہ نہیں ہے۔ اگر کسی آدمی کو یہ زعم ہو کہ میں خود شیطان کے وسوسوں سے بچ جاؤں گا تو اس کے اندر یہ زعم پیدا ہونا خود شیطان کے غلبے کی نشانی ہے۔ یہ خود شیطانی وسوسہ ہے۔ اگر کسی آدمی کا یہ خیال ہو کہ کوئی دوسرا اس کو بچا لے گا اللہ کے سوا تو کوئی ہستی دنیا میں ایسی نہیں جو اسے بچا لے۔ فرض کیجئے کوئی پیر ہے، کوئی بہت بڑا عالم ہے، کوئی بڑا نیک انسان ہے۔ وہ بھی آپ کو ہدایت کیسے دے سکتا ہے اور گمراہی سے کیسے بچا سکتا ہے جب تک اللہ کی توفیق میسر نہ ہو۔ آپ کسی بڑے سے بڑے عالم کے پاس جائیے جو نہایت متقی ہو، صحیح الخیال ہو، صحیح علم دینے والا ہو، اگر خدا نخواستہ آپ کے اوپر شیطان کا تسلط ہے تو وہ عالم اپنا سرمار کے تھک جائے گا اور آپ کو نہیں جھکا سکے گا۔ ہو سکتا ہے اس کی بات آپ کے دل میں مزید شکوک میں ڈال دے اور آپ وہاں سے الجھنیں لے کر واپس آ جائیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نشاندہی کرتا ہے کہ میری ذات کے سوا کوئی اور دوسری چیز ایسی نہیں ہے جس کی پناہ تمہارے لیے کار گر ہو سکتی ہے۔

 

تعوذ کی صحیح صورت:

 

اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کے معنی صرف اتنے نہیں ہیں کہ آپ زبان سے کہیں کہ میں شیطان رجیم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ بلکہ فی الواقع آپ کے دل کے اندر یہ احساس ہونا چاہیے کہ شیطان رجیم ایک خطرہ ہے اور دوسرے یہ کہ اللہ کی پناہ جب مانگنے جائیں تو اپنی طرف سے وہ کام نہ کریں جس کی وجہ سے آپ اللہ کی پناہ سے محروم ہو جائیں۔ مثلاً آدمی زبان سے کہہ رہا ہے ’’اعوذ باللّٰہ من الشیطٰن الرجیم‘‘ لیکن اپنے وہ تصورات جو اس کے دماغ میں بیٹھے ہوئے ہیں وہ ان کو نہیں نکالتا، اپنے وہ نظریات جن پر وہ جما ہوا ہے، ان سے دستبردار نہیں ہوتا اور کوشش یہ کرتا ہے کہ قرآن اس کے مطابق ہی چلے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ نہ تو اسے خطرے کا احساس ہوا ہے اور نہ وہ فی الواقع اللہ کی پناہ مانگ رہا ہے۔

اللہ کی پناہ مانگنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے ذہن کو دوسرے تصورات سے خالی کر لیجئے اور اس ارادے سے بیٹھئے کہ یہاں سے ہدایت پاؤں گا۔ اس کے بعد اللہ کی پناہ حاصل ہوتی ہے۔ جس وقت آپ کے دل میں کوئی احساس پیدا ہوا کہ کوئی وسوسہ آ رہا ہے تو پھر کانپ جائیے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگئے۔ یہ حقیقت میں کوئی تعوذ نہیں ہے یا کوئی عملیات کی قسم کی چیز نہیں ہے کہ اس کے زبان سے نکلتے ہی کوئی حصار ہو گیا آپ کے گرد اور پھر کوئی شیطان نہیں آسکتا۔ یہ بات نہیں ہے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہم کو یہ ہدایت دی ہے کہ میری کتاب کو پڑھتے ہوئے چوکتے رہو، بالکل ہوشیار رہو، ہر وقت اس خطرے کو محسوس کرتے رہو کہ شیطان مجھے بہکا سکتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔

٭٭٭

 

 

 

تسمیہ

 

                بِسمِ اللہ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم

 

قرآن مجید کی ہر سورت سوائے ’’سورۂ توبہ‘‘ کے ’’بِسمِ اللہ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم‘‘ سے شروع ہوتی ہے۔ سورۂ توبہ کے شروع میں اس لیے اس کو درج نہیں کیا گیا کہ نبیﷺ کے زمانے میں قرآن مجید کا جو نسخہ لکھا گیا تھا، اس میں سورۂ توبہ کے اوپر بسم اللہ لکھی ہوئی نہیں پائی گئی۔ نبی کریمﷺ نے قرآن مجید کی سورتیں لکھوا کے ایک تھیلے میں رکھی تھیں۔ حضرت ابو بکرؓ کے زمانے میں جب قرآن مجید کو مرتب کرنے کا ارادہ کیا گیا تو اس تھیلے کو نکالا گیا اور تمام سورتوں کی ترتیب جیسے کہ رسول اللہﷺ نے بتائی تھی وہ قائم رکھ کر ان کی نقل تیار کی گئی تو چوں کہ حضورﷺ کی لکھوائی ہوئی سورۂ توبہ کے شروع میں بسم اللہ درج نہیں تھی اس وجہ سے صحابہ کرامؓ نے بھی اسے درج نہیں کیا۔ باقی کوئی سورت قرآن مجید کی ایسی نہیں ہے جس کا آغاز بِسمِ اللہ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم سے نہ ہوا ہو۔

 

بسم اللہ کی معنویت:

 

بِسمِ اللہ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم کے معنی ہیں : ’’اللہ کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے‘‘ فرشتہ جب آکربِسمِ اللہ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم کہہ کر نبی کریمﷺ کے سامنے کوئی سورت پیش کرے گا تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ میں اپنی طرف سے نہیں پیش کر رہا ہوں، اللہ کی طرف سے پیش کر رہا ہوں۔ نبیﷺ جب پیش کریں گے تو لامحالہ اس کا مطلب یہی ہو گا کہ میں اپنی طرف سے نہیں پیش کر رہا ہوں اللہ کی طرف سے پیش کر رہا ہوں۔ ہم جب بِسمِ اللہ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم پڑھیں گے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ میں شروع کر رہا ہوں اس کتاب کی تلاوت اللہ کے نام سے، اس اللہ کے نام سے جو رحمٰن اور رحیم ہے۔ اس فرق کو ملحوظ رکھئے۔ ہم جب بِسمِ اللہ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم پڑھتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم آغاز کر رہے ہیں اللہ کے نام سے۔ اللہ کے نام سے آغاز کرنا اپنے اندر کئی معنی رکھتا ہے۔

 

(الف)     نیک نیتی:

 

ایک معنی اس کے یہ ہیں کہ آدمی اللہ کے نام سے جب بھی کسی کام کو شروع کرنے کا ارادہ کرے گا تو لامحالہ اگر فی الواقع وہ مومن ہے، اللہ پر یقین رکھتا ہے تو نیک نیتی کے ساتھ شروع کرے گا۔ یہ ظاہر بات ہے کہ مثلاً کوئی جیب کترا کسی کی جیب کاٹتے ہوئے اپنا ہاتھ ڈالتے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑے گا۔ کوئی بدکار آدمی بدکاری کا ارتکاب کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑھے گا اگر وہ مومن ہے اور اگر کوئی آدمی یہاں تک جاتا ہے تو اس کے نہایت شدید قسم کے فاجر وفاسق اور شدید قسم کے کافر ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ کیوں کہ ایک کام کو جس کو کہ وہ جانتا ہے کہ اللہ نے اس سے منع کیا ہے، اس کا آغاز کرتے ہوئے اللہ کا نام لے۔ ظاہر بات ہے کہ آدمی نیک اور صحیح کام ہی کا آغاز بسم اللہ سے کرے گا۔ اور نیک اور صحیح کام کا آغاز جب وہ بسم اللہ سے کرے گا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ نیک نیتی جو ممکن ہے، اس سے اس کا آغاز کرے گا۔ ایک کافر اگر قرآن مجید کی تلاوت کرے گا (قرآن مجید کو فرض کیجئے وہ سمجھنا چاہتا ہے) تو وہ بِسمِ اللہ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم ممکن ہے چوں کہ یہاں لکھا ہوا ہے اس لیے پڑھ لے لیکن اس ارادے سے نہیں پڑھے گا کہ وہ اللہ کے نام سے آغاز کرنا چاہتا ہے۔ یہ صرف وہ مومن ہی کر سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہو کہ وہ اللہ کے نام سے اس کا آغاز کرے۔ اللہ کے نام سے آغاز کرنا بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ نیک نیتی سے اس کا آغاز کرے گا۔ الا یہ کہ وہ سمجھتا ہی نہ ہو کہ میں بسم اللہ کیوں کہہ رہا ہوں۔

 

(ب)      توجہ الی اللہ:

 

دوسری بات یہ ہے کہ جب بِسمِ اللہ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم کہہ کر ایک آدمی کسی کام کا آغاز کرتا ہے تو امید رکھتا ہے کہ اللہ کی رحمت اس پر سایہ فگن ہو گی۔ دنیا بھر کا اصول ہے کہ جب آپ کسی کی طرف توجہ کریں گے تو وہ آپ کی طرف توجہ کرے گا۔ جب آپ اللہ کی طرف توجہ کریں گے تو کوئی معنی نہیں ہیں کہ اللہ آپ کی طرف توجہ نہ کرے۔ جب آپ اللہ کا کلام شروع کرتے وقت اس کے نام سے اس کا آغاز کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کی توفیق اور اس کی تائید بھی آپ کی طرف متوجہ ہو گی۔ تو ضروری ہے کہ بِسمِ اللہ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم نیک نیتی سے پڑھ کر قرآن مجید کا آغاز کیا جائے۔ پہلے آدمی نے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی شیطان رجیم سے، پھر اللہ کے نام سے وہ آغاز کر رہا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہو گی۔

 

دو بہترین صفات الٰہی :

 

پھر اللہ تعالیٰ کا نام لیتے وقت اس کی دو بہترین جو صفات ہیں ان کا ذکر بھی کر رہا ہے۔ اللہ کی صفات تو بے شمار ہیں۔ لیکن اس کی بہترین صفت جو ہے وہ اس کی رحمت ہے۔ آدمی کو سب سے بڑھ کر جس صفت سے امیدیں وابستہ ہیں وہ اس کی رحمت ہی ہے۔ اللہ کی بے شمار صفات میں سے ایک صفت قہار ہونا ہے۔ یہ آدمی کے اندر اس کا خوف پیدا کرتی ہے۔ کوئی صفت ایسی ہے جو کہ اس کے اندر یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ اس کی عظمت کتنی بڑی ہے۔ جیسے اس کا قادر مطلق ہونا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت آدمی کے اندر امیدیں اور توقعات ابھارتی ہے، اس کے یاس کو دور کرتی ہے اور اس کو امید دلاتی ہے۔ آدمی جب کہتا ہے: ’’بِسمِ اللہ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم‘‘ (میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو رحمن اور رحیم ہے) تو دوسرے الفاظ میں گویا وہ یہ کہتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے میں یہ امید کرتا ہوں کہ جب اس کے نام سے شروع کر رہا ہوں تو قرآن فہمی کے دروازے وہ میرے لیے کھول دے گا اور قرآن کو میرے لیے ذریعہ ہدایت بنائے گا۔

٭٭٭

 

 

 

 

مہذّب طریقے سے دُعا مانگنے کا طریقہ

 

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.الرَّحْمٰـنِ الرَّحِیْمِ. مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ.إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ. اِہدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ.صِرَاطَ الَّذِیْنَ أَنعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّآلِّیْنَ .(سورۃ الفاتحہ)

’’تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام کائنات کا رب ہے۔رحمان اور رحیم ہے۔روز جزا کا مالک ہے۔ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔اْن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا، جو معتوب نہیں ہوئے، جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں۔‘‘

“Praise be to Allah, the Lord of the entire universe, The most Merciful, the most Compassionate, The Master of the Day of Recompense. You alone do we worship, and You alone do we turn to for help. Direct us on to the Straight Way, The way of those whom You have favoured, who did not incur Your wrath, who are not astray.”

 

تشریح:

 

(۱)… سورہ فاتحہ اصل میں تو ایک دعا ہے، لیکن دعا کی ابتدا اُس ہستی کی تعریف سے کی جا رہی ہے جس سے ہم دعا مانگنا چاہتے ہیں۔یہ گویا اس امر کی تعلیم ہے کہ دعا جب مانگو تو مہذب طریقہ سے مانگو۔یہ کوئی تہذیب نہیں ہے کہ منہ کھولتے ہی جھٹ اپنا مطلب پیش کر دیا۔ تہذیب کا تقاضا یہ ہے کہ جس سے دُعا کر رہے ہو، پہلے اس کی خوبی کا،اس کے احسانات اور اس کے مرتبے کا اعتراف کرو۔

تعریف ہم جس کی بھی کرتے ہیں، دو وجوہ سے کیا کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ بجائے خود حسن و خوبی اور کمال رکھتا ہو، قطع نظر اس سے کہ ہم پر اس کے ان فضائل کا کیا اثر ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ ہمارا محسن ہو اور ہم اعترافِ نعمت کے جذبہ سے سرشار ہو کر اُس کی خوبیاں بیان کریں۔ اللہ تعالیٰ کی تعریف ان دونوں حیثیتوں سے ہے۔ یہ ہماری قدر شناسی کا تقاضہ بھی ہے اور احسان شناسی کا بھی کہ ہم اس کی تعریف میں رَطبْ اللّسان ہوں۔

اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ صحیح یہ ہے کہ’’ تعریف اللہ ہی کے لیے‘‘ ہے۔ یہ بات کہہ کر ایک بڑی حقیقت پر سے پردہ اُٹھایا گیا ہے، اور وہ حقیقت ایسی ہے جس کی پہلی ہی ضرب سے ’’مخلوق پرستی ‘‘کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ دنیا میں جہاں، جس چیز اور جس شکل میں بھی کوئی حسن، کوئی خوبی،کوئی کمال ہے، اس کا سر چشمہ اللہ ہی کی ذات ہے۔ کسی انسان،کسی فرشتے کسی دیوتا،کسی سیارے،غرض کسی مخلوق کا کمال بھی ذاتی نہیں ہے بلکہ اللہ کا عطیّہ ہے۔ پس اگر کوئی اس کا مستحق ہے کہ ہم اس کے گرویدہ اور پرستار،احسان مند اور شکر گذار، نیاز مند اور خدمت گار بنیں تو وہ خالقِ کمال ہے نہ کہ صاحبِ کمال۔

(۲)…رَبّ کا لفظ عربی زبان میں تین معنوں میں بولا جاتا ہے۔(۱) مالک اور آقا(۲)مربّی،پرورش کرنے والا، خبر گیری اور نگہبانی کرنے والا(۳)فرمانروا، حاکم، مدّبر اور منتظم۔ اللہ تعالیٰ ان سب معنوں میں کائنات کا ربّ ہے۔

(۳)… انسان کا خاصّہ ہے کہ جب کوئی چیز اس کی نگاہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے تو وہ مبالغہ کے صیغوں میں اس کو بیان کرتا ہے، اور اگر ایک مبالغہ کا لفظ بول کروہ محسوس کرتا ہے کہ اْس شے کی فراوانی کا حق ادا نہیں ہوا، تو پھر وہ اسی معنی کا ایک اور لفظ بولتا ہے تاکہ وہ کمی پوری ہو جائے جو اس کے نزدیک مبالغہ میں رہ گئی ہے۔ اللہ کی تعریف میں رحمن کا لفظ استعمال کرنے کے بعد پھر رحیم کا اضافہ کرنے میں بھی یہی نقطہ پوشیدہ ہے۔ رحمان عربی زبان میں بڑے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ لیکن خدا کی رحمت اور مہر بانی اپنی مخلوق پر اتنی زیادہ ہے، اس قدر وسیع ہے، ایسی بے حد وحساب ہے کہ اس کے بیان میں بڑے سے بڑا مبالغہ کا لفظ بول کر بھی جی نہیں بھرتا۔اس لیے اس کی فراوانی کا حق ادا کرنے کے لیے پھر رحیم کا لفظ مزید استعمال کیا گیا۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہم کسی شخص کی فیاضی کے بیان میں ‘‘سخی ’’کا لفظ بول کر جب تشنگی محسوس کرتے ہیں تو اس پر ‘‘داتا ’’ کا اضافہ کرتے ہیں۔رنگ کی تعریف میں جب ’’گورے ‘‘ کو کافی نہیں پاتے تو اس پر ’’چٹیّ ‘‘ کا لفظ اور بڑھا دیتے ہیں۔درازیِ قد کے ذکر میں جب ’’لمبا ‘‘ کہنے سے تسلّی نہیں ہوتی تو اس کے بعد ’’تڑنگا ‘‘ بھی کہتے ہیں۔

(۴)… یعنی اْس دن کا مالک جبکہ تمام اگلی پچھلی نسلوں کو جمع کر کے ان کے کارنامۂ زندگی کا حساب لیا جائے گا اور ہر انسان کواس کے عمل کا پورا صِلہ یا بدلہ مل جائیگا۔ اللہ کی تعریف میں رحمان اور رحیم کہنے کے بعد مالک روزِ جزا کہنے سے یہ بات نکلتی ہے کہ وہ نِرا مہربان ہی نہیں ہے بلکہ منصف بھی ہے، اور منصف بھی ایسا با اختیار منصف کہ آخری فیصلے کے روز وہی پورے اقتدار کا مالک ہو گا، نہ اُس کی سزا میں کوئی مزاحم ہوسکے گا اور نہ جزا میں مانع۔ لہٰذا ہم اس کی ربوبیت اور رحمت کی بناء پر اُس سے محبت ہی نہیں کرتے بلکہ اس کے انصاف کی بنا پراس سے ڈرتے بھی ہیں اور یہ احساس بھی رکھتے ہیں کہ ہمارے انجام کی بھلائی اور برائی بالکُلّیہ اُسی کے اختیار میں ہے۔

(۵)… عبادت کا لفظ بھی عربی زبان میں تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ (۱) پوجا اور پرستش (۲)اطاعت اور فرمانبرداری (۳) بندگی اور غلامی۔ اس مقام پر تینوں معنی بیک وقت مراد ہیں۔یعنی ہم تیرے پرستار بھی ہیں،مطیع فرمان بھی اور بندہ و غلام بھی۔ اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ ہم تیرے ساتھ یہ تعلق رکھتے ہیں۔بلکہ واقعی حقیقت یہ ہے کہ ہمارا یہ تعلق صرف تیرے ہی ساتھ ہے۔ان تینوں معنوں میں سے کسی معنی میں بھی کوئی دوسرا ہمارا معبود نہیں ہے۔

(۶)… یعنی تیرے ساتھ ہمارا تعلق محض عبادت ہی کا نہیں ہے بلکہ استعانت کا تعلق بھی ہم تیرے ہی ساتھ رکھتے ہیں۔ہمیں معلوم ہے کہ ساری کائنات کا ربّ تو ہی ہے، اور ساری طاقتیں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں،اور ساری نعمتوں کا تو ہی اکیلا مالک ہے، اس لیے ہم اپنی حاجتوں کی طلب میں تیری طرف ہی رجوع کرتے ہیں، تیرے ہی آگے ہمارا ہاتھ پھیلتا ہے اور تیری مدد ہی پر ہمارا اعتماد ہے۔ اسی بنا پر ہم اپنی یہ درخواست لے کر تیری خدمت میں حاضر ہو رہے ہیں۔

(۷)… یعنی زندگی کے ہر شعبہ میں خیال اور عمل اور برتاؤ کا وہ طریقہ ہمیں بتا جو بالکل صحیح ہو، جس میں غلط بینی اور غلط کاری اور بد انجامی کا خطرہ نہ ہو، جس پر چل کہ ہم سچی فلاح وسعادت حاصل کر سکیں۔یہ ہے وہ درخواست جو قرآن شروع کرتے ہوئے بندہ اپنے خدا کے حضور پیش کرتا ہے۔اس کی گزارش یہ ہے کہ آپ ہماری رہنمائی فرمائیں اور ہمیں بتائیں کہ قیاسی فلسفوں کی اس بھول بھلیاں میں حقیقتِ نفس الامری کیا ہے، اخلاق کے ان مختلف نظریات میں صحیح نظامِ اخلاق کونسا ہے، زندگی کی اِن بے شمار پگڈنڈیوں کے درمیان فکر و عمل کی سیدھی اور صاف شاہراہ کونسی ہے۔

(۸)… یہ اُس سیدھے راستہ کی تعریف ہے جس کا علم ہم اللہ تعالیٰ سے مانگ رہے ہیں۔یعنی وہ راستہ جس پر ہمیشہ سے تیرے منظورِ نظر لوگ چلتے رہے ہیں۔ وہ بے خطا راستہ کہ قدیم ترین زمانہ سے آج تک جو شخص اور جو گروہ بھی اس پر چلا وہ تیرے انعامات کا مستحق ہوا اور تیری نعمتوں سے مالامال ہو کر رہا۔

(۹)… یعنی ’’انعام‘‘ پانے والوں سے ہماری مراد وہ لوگ نہیں ہیں جو بظاہر عارضی طور پر تیری دُنیوی نعمتوں سے سرفراز تو ہوتے ہیں مگر دراصل وہ تیرے غضب کے مستحق ہوا کرتے ہیں اور اپنی فلاح و سعادت کی راہ گم کیے ہوئے ہوتے ہیں۔اس سلبی تشریح سے یہ بات خود کھل جاتی ہے کہ ’’انعام‘‘ سے ہماری مراد حقیقی اور پائدار انعامات ہیں جوراست روی اور خدا کی خوشنودی کے نتیجے میں ملا کرتے ہیں، نہ کہ وہ عارضی اور نمائشی انعامات جو پہلے بھی فرعونوں اور نمرودوں اور قارونوں کو ملتے رہے ہیں اور آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے بڑے بڑے ظالموں اور بدکاروں اور گمراہوں کو ملے ہوئے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

 

عفو و مغفرت کی دُعا

 

رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ إِن نَّسِیْنَآ أَوْ أَخْطَأْنَآ رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَیْْنَآ إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا۔ رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَۃَ لَنَا بِہِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَآ أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ۔ (سورۃ البقرہ: ۲۸۶)

’’ اے ہمارے رب! ہم سے بھُول چوک میں جو قصور ہو جائیں، ان پر گرفت نہ کر۔مالک! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال، جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے۔پروردگار، جس بار کو اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے۔ وہ ہم پر نہ رکھ، ہمارے ساتھ نرمی کر، ہم سے در گزر فرما، ہم پر رحم کر، تو ہمارا مولیٰ ہے، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔‘‘

“Our Lord! Take us not to task if we forget or commit mistakes. Our Lord! Lay not on us a burden such as You laid on those gone before us. Our Lord! Lay not on us burdens which do not have the power to bear. And overlook our faults, and forgive us, and have mercy upon us. You are our Guardian; so grant us victory against the unbelieving folk.”

 

تشریح:

 

(۱) …یعنی ہمارے پیش رووں کو تیری راہ میں جو آزمائشیں پیش آئیں، جن زبردست ابتلا ؤ ں سے وہ گزرے، جن مشکلات سے اُنہیں سابقہ پڑا، اُن سے ہمیں بچا۔ اگرچہ اللہ کی سنت یہی رہی ہے کہ جس نے بھی حق و صداقت کی پیروی کا عزم کیا ہے، اُسے سخت آزمائشوں اور فتنوں سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ اور جب آزمائشیں پیش آئیں تو مومن کا کام یہی ہے کہ پورے استقلال سے ان کا مقابلہ کرے۔ لیکن بہرحال مومن کو اللہ سے دُعا یہی کرنی چاہیے کہ وہ اس کے لیے حق پرستی کی راہ کوآسان کر دے۔

(۲) …یعنی مشکلات کا اتنا ہی بار ہم پر ڈال، جسے ہم سہار لے جائیں۔ آزمائشیں بس اتنی ہی بھیج کہ ان میں ہم پورے اُتر جائیں۔ ایسا نہ ہو کہ ہماری قوتِ برداشت سے بڑھ کر سختیاں ہم پر نازل ہوں اور ہمارے قدم راہ حق سے ڈگمگا جائیں۔

(۳)… اس دُعا کی پوری روح کو سمجھنے کے لیے یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ یہ آیات ہجرت سے تقریباً ایک سال پہلے معراج کے موقع پر نازل ہوئی تھیں، جبکہ مکّے میں کفر و اسلام کی کشمکش اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی، مسلمانوں پر مصائب و مشکلات کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے، اور صرف مکہ ہی نہیں، بلکہ سرزمینِ عرب پر کوئی جگہ ایسی نہ تھی جہاں کسی بندۂ خدا نے دینِ حق کی پیروی اختیار کی ہو اور اس کے لیے خدا کی سرزمین پر سانس لینا دشوار نہ کر دیا گیا ہو۔ ان حالات میں مسلمانوں کو تلقین کی گئی کہ اپنے مالک سے اس طرح دعا مانگا کرو۔ ظاہر ہے کہ دینے والا خود ہی جب مانگنے کا ڈھنگ بتائے، تو ملنے کا یقین آپ سے آپ پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے یہ دُعا اس وقت مسلمانوں کے لیے غیر معمولی تسکینِ قلب کی موجب ہوئی۔ علاوہ بریں اس دُعا میں ضمناً مسلمانوں کو یہ بھی تلقین کر دی گئی کہ وہ اپنے جذبات کو کسی نا مناسب رخ پر نہ بہنے دیں، بلکہ انہیں اس دُعا کے سانچے میں ڈھال لیں۔ ایک طرف ان روح فرسا مظالم کو دیکھیے، جو محض حق پرستی کے جرم میں ان لوگوں پر توڑے جا رہے تھے، اور دوسری طرف اِ س دعا کو دیکھیے، جس میں دشمنوں کے خلاف کسی تلخی کا شائبہ تک نہیں۔ ایک طرف ان جسمانی تکلیفوں اور مالی نقصانات کو دیکھیے، جن میں یہ لوگ مبتلا تھے، اور دوسری طرف اس دعا کو دیکھیے جس میں کسی دنیوی مفاد کی طلب کا ادنی نشان تک نہیں ہے۔ ایک طرف اِن حق پرستوں کی انتہائی خستہ حالی کو دیکھیے، اور دوسری طرف ان بلند اور پاکیزہ جذبات کو دیکھیے، جن سے یہ دعا لبریز ہے۔ اس تقابل ہی سے صحیح اندازہ ہو سکتا ہے کہ اُس وقت اہلِ ایمان کو کس طرز کی اخلاقی و روحانی تربیت دی جا رہی تھی۔

٭٭٭

 

 

 

 

مصیبت اور صدمہ کے وقت کی دُعا

 

إِنَّا لِلّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعونَ۔ (سورۃ البقرہ:۱۵۶)

’’ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔‘‘

“Verily, we belong to Allah, and it is to Him that we are destined to return.”

 

تشریح: 

 

کہنے سے مراد صرف زبان سے یہ الفاظ کہنا نہیں ہے، بلکہ دل سے اس بات کا قائل ہونا ہے کہ ’’ ہم اللہ ہی کے ہیں ‘‘،اس لیے اللہ کی راہ میں ہماری جو چیز بھی قربان ہوئی، وہ گویا ٹھیک اپنے مَصرَف میں صرف ہوئی، جس کی چیز تھی اُسی کے کام آ گئی۔ اور یہ کہ ’’اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹنا ہے‘‘ یعنی بہرحال ہمیشہ اس دنیا میں رہنا نہیں ہے۔ آخر کار، دیر یا سویر، جانا خدا ہی کے پاس ہے۔ لہٰذا کیوں نہ اس کی راہ میں جان لڑا کر اس کے حضور حاضر ہوں۔ یہ اس سے لاکھ درجہ بہتر ہے کہ ہم اپنے نفس کی پرورش میں لگے رہیں اور اسی حالت میں، اپنی موت ہی کے وقت پر کسی بیماری یا حادثے کے شکار ہو جائیں۔

٭٭٭

 

 

 

 

حضرت زکریاؑ کی دُعا نیک اولاد کے لیے

 

رَبِّ ہَبْ لِیْ مِن لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً إِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ۔ (سورۃ آل عمران:۳۸)

’’پروردگار، اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر۔تو ہی دُعا سننے والا ہے۔‘‘

“O Lord! Grant me from Yourself out of Your grace the gift of a goodly offspring, for indeed You alone heed all Prayers.”

 

تشریح:

 

حضرت زکریّا علیہ السلام اس وقت تک بے اولاد تھے۔ اس نوجوان صالحہ لڑکی (یعنی مریم علیہا السلام ) کو دیکھ کر فطرۃً اُن کے دل میں یہ تمنّا پیدا ہوئی کہ کاش، اللہ اُنہیں بھی ایسی ہی نیک اولاد عطا کرے، اور یہ دیکھ کر کہ اللہ کس طرح اپنی قدرت سے اس گوشہ نشین لڑکی کو رزق پہنچا رہا ہے، انہیں یہ اُمید ہوئی کہ اللہ چاہے، تو اس بڑھاپے میں بھی ان کو اولاد دے سکتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

اولو الالباب کی دُعا

 

رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلاً سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔(سورۃ آل عمران: ۱۹۱)

’’پروردگار، یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے پس اے رب، ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔‘‘

“Our Lord! You have not created this in vain. Glory to You! Save us, then, from the chastisement of the Fire.”

 

تشریح:

 

جب وہ نظامِ کائنات کا بغور مشاہدہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت اُن پر کھل جاتی ہے کہ یہ سراسر ایک حکیمانہ نظام ہے۔ اور یہ بات سراسر حکمت کے خلاف ہے کہ جس مخلوق میں اللہ نے اخلاقی حِس پیدا کی ہو، جسے تصرّف کے اختیارات دیے ہوں، جسے عقل و تمیز عطا کی ہو، اُس سے اُس کی حیاتِ دنیا کے اعمال پر باز پُرس نہ ہو، اور اسے نیکی پر جزا اور بدی پر سزا نہ دی جائے۔ اس طرح نظامِ کائنات پر غور و فکر کرنے سے اُنھیں آخرت کا یقین حاصل ہو جاتا ہے اور وہ خدا کی سزا سے پناہ مانگنے لگتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

 

آنحضرتﷺ کے شب بیداری کے وقت کی دُعا

 

رَّبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیاً یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ أَنْ آمِنُوْا بِرَبِّکُمْ فَ آمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَکَفِّرْ عَنَّا سَیِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الأَبْرَارِ۔رَبَّنَا وَ آتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلٰی رسُلِکَ وَلاَ تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادِ۔(سورۃ آل عمران: ۱۹۳۔۱۹۴)

’’ اے ہمارے آقا، جو قصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزر فرما، جو برائیاں ہم میں ہیں اُنہیں دور کر دے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔خداوندا،جو وعدے تو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے کیے ہیں اُن کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال، بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔‘‘

“Our Lord! we Indeed heard a crier calling to the faith, saying: “Believe in your Lord”; so we did believe. Our Lord! forgive us our sins, and wipe out our evil deeds and make us die with the truly pious. Our Lord! fulfill what You promised to us through Your Messengers, and disgrace us not on the Day of Resurrection; indeed You never go back on Your promise.”

 

تشریح: 

 

یعنی اُنھیں اس امر میں تو شک نہیں ہے کہ اللہ اپنے وعدوں کو پورا کرے گا یا نہیں۔ البتہ تردّد اس امر میں ہے کہ آیا ان وعدوں کے مصداق ہم بھی قرار پاتے ہیں یا نہیں۔ اس لیے وہ اللہ سے دعا مانگتے ہیں کہ ان وعدوں کا مصداق ہمیں بنا دے اور ہمارے ساتھ انھیں پورا کر، کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا میں تو ہم پیغمبروں پر ایمان لا کر کفار کی تضحیک اور طعن و تشنیع کے ہدف بنے ہی ہیں، قیامت میں بھی اِن کافروں کے سامنے ہماری رسوائی ہو اور وہ ہم پر پھبتی کسیں کہ ایمان لا کر بھی اِن کا بھَلا نہ ہوا۔

٭٭٭

 

 

 

شرح صدر اور فصاحت بیانی کے لیے حضرت موسیٰؑ کی دُعا

 

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ۔وَیَسِّرْ لِیْ أَمْرِیْ۔وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّن لِّسَانِیْ۔یَفْقَہُوا قَوْلِیْ۔

(سورۃطٰہٰ: ۲۵۔۲۸)

’’پروردگار، میرا سینہ کھول دے،اور میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے۔اور میری زبان کی گرہ سُلجھا دے۔تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔‘‘

“Lord! open my breast for me, and ease my task for me, and loosen the knot from my tongue, so that they may understand my speech.”

 

تشریح:

 

(۱) …یعنی میرے دل میں اس منصبِ عظیم کو سنبھالنے کی ہمت پیدا کر دے۔ اور میرا حوصلہ بڑھا دے۔ چونکہ یہ ایک بہت بڑا کام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سپرد کیا جا رہا تھا جس کے لیے بڑے دل گردے کی ضرورت تھی، اس لیے آپﷺ نے دعا کی کہ مجھے وہ صبر، وہ ثبات، وہ تحمل، وہ بے خوفی اور وہ عزم عطا کر جو اس کام کے لیے درکا ر ہے۔

(۲)… بائیبل میں اس کی جو تشریح بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: ’’اے خدا وند، میں فصیح نہیں ہوں، نہ پہلے ہی تھا اور نہ جب سے تو نے اپنے بندے سے کلام کیا۔ بلکہ رک رک کر بولتا ہوں اور میری زبان کند ہے۔‘‘ مگر تلمود میں اس کا ایک لمبا چوڑا قصّہ بیان ہوا ہے۔ اس میں یہ ذکر ہے کہ بچپن میں جب حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے گھر پرورش پا رہے تھے، ایک روز انہوں نے فرعون کے سر کا تاج اُتار کر اپنے سر پر رکھ لیا۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوا کہ اس بچے نے یہ کام بالارادہ کیا ہے یا یہ محض طفلانہ فعل ہے۔ آخر کار یہ تجویز کیا گیا کہ بچے کے سامنے سونا اور آگ دونوں ساتھ رکھے جائیں چنانچہ دونوں چیزیں لا کر سامنے رکھی گئیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اُٹھا کر آگ منہ میں رکھ لی۔ اس طرح ان کی جان تو بچ گئی، مگر زبان میں ہمیشہ کے لیے لکنت پڑ گئی۔

یہی قصّہ اسرائیلی روایات سے منتقل ہو کر ہمارے ہاں کی تفسیروں میں بھی رواج پا گیا۔ لیکن عقل اسے ماننے سے انکار کرتی ہے۔ اس لیے کہ اگر بچے نے آگ پر ہاتھ مارا بھی ہو تو یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ وہ انگارے کو اُٹھا کر مُنہ میں لے جا سکے۔ بچہ تو آگ کی جلن محسوس کر تے ہی ہاتھ کھینچ لیتا ہے۔ منہ میں لے جانے کی نوبت ہی کہاں سے آسکتی ہے؟ قرآن کے الفاظ سے جو بات ہماری سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے اندر خطابت کی صلاحیت نہ پاتے تھے اور ان کو اندیشہ لاحق تھا کہ نبوت کے فرائض ادا کرنے کے لیے اگر تقریر کی ضرورت کبھی پیش آئی (جس کا انہیں اس وقت تک اتفاق نہ ہوا تھا) تو ان کی طبیعت کی جھجک مانع ہو جائے گی۔ اس لیے اُنہوں نے دعا فرمائی کہ یا اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ میں اچھی طرح اپنی بات لوگوں کو سمجھا سکوں۔ یہی چیز تھی جس کا فرعون نے ایک مرتبہ ان کو طعنہ دیا کہ ’’یہ شخص تو اپنی بات بھی پوری طرح بیان نہیں کر سکتا‘‘اور یہی کمزوری تھی جس کو محسوس کر کے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بڑے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو مددگار کے طور پر مانگا۔ سورۃ القصص میں ان کا یہ قول نقل کیا گیا ہے ’’میرا بھا ئی ہارون مجھ سے زیادہ زبان آور ہے، اُس کو میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج‘‘۔ آگے چل کر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ کمزوری دور ہو گئی تھی اور وہ خوب زور دار تقریر کرنے لگے تھے، چنانچہ قرآن میں اور بائیبل میں ان کی بعد کے دَور کی جو تقریریں آئی ہیں وہ کمالِ فصاحت و طلاقتِ لسانی کی شہادت دیتی ہیں۔

یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ہکلے یا توتلے آدمی کو اپنا رسول مقرر فرمائے۔ رسول ہمیشہ شکل، صورت، شخصیت اور صلاحیتوں کے لحاظ سے بہترین لوگ ہوئے ہیں جن کے ظاہر و باطن کا ہر پہلو دلوں اور نگاہوں کو متاثر کرنے والا ہوتا تھا۔ کوئی رسول ایسے عیب کے ساتھ نہیں بھیجا گیا اور نہیں بھیجا جا سکتا تھا جس کی بنا پر وہ لوگوں میں مضحکہ بن جائے اور یا حقارت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔

٭٭٭

 

 

 

حضرت ایوبؑ کی دُعا بیماری کی حالت میں

 

أَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ۔

(سورۃالانبیا: ۸۳)

’’ مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے۔‘‘

“Behold, disease has struck me and You are the Most Merciful of those that are merciful.”

 

تشریح:

 

دُعا کا انداز کس قدر لطیف ہے۔ مختصر ترین الفاظ میں اپنی تکلیف کا ذکر کرتے ہیں اور اس کے بعد بس یہ کہہ کر رہ جاتے ہیں کہ ’’تو ارحم الراحمین ہے‘‘۔ آگے کوئی شکوہ یا شکایت نہیں، کوئی عرضِ مدّعا نہیں، کسی چیز کا مطالبہ نہیں۔ اس طرزِ دعا میں کچھ ایسی شان نظر آتی ہے، جیسے کوئی انتہائی صابر و قانع اور شریف و خوددار آدمی پے در پے فاقوں سے بے تاب ہو اور کسی نہایت کریم النفس ہستی کے سامنے بس اتنا کہہ کر رہ جائے کہ ’’میں بھوکا ہوں اور آپ فیاض ہیں ‘‘، آگے کچھ اس کی زبان سے نہ نکل سکے۔

٭٭٭

 

 

 

 

سواری کے وقت کی دُعا

 

الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ نَجَّانَا مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ۔ وَقُل رَّبِّ أَنزِلْنِیْ مُنْزَلاً مُّبَارَکاً وَأَنْتَ خَیْر الْمُنْزِلِیْنَ۔ (سورۃالمومنون:۸ ۲۔۲۹)

’’’شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی۔اور کہہ پروردگار، مجھ کو برکت والی جگہ اُتار اور تو بہترین جگہ دینے والا ہے۔‘‘

“Thanks be to Allah Who has delivered us from the wrong-doing people.” And say: “My Lord! Make my landing a blessed landing, for You are the Best of those Who can cause people to land in safety.”

 

تشریح:

 

(۱) …یہ کسی قوم کی انتہائی بد اطواری اور خباثت و شرارت کا ثبوت ہے کہ اس کی تباہی پر شکر ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔

(۲)… ’’اُتارنے‘‘سے مراد محض اُتارنا ہی نہیں ہے، بلکہ عربی محاورے کے مطابق اِس میں ’’میزبانی‘‘ کا مفہوم بھی شامل ہے۔ گویا اس دُعا کا مطلب یہ ہے کہ خدا یا اب ہم تیرے مہمان ہیں اور تو ہی ہمارا میزبان ہے۔‘‘

٭٭٭

 

 

 

ظالموں سے دور رہنے کی دُعا

 

رَّبِّ إِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَ۔رَبِّ فَلاَ تَجْعَلْنِیْ فِیْ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ۔ (سورۃ المومنون:۹۳۔۹۴)

’’پروردگار، جس عذاب کی اِن کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ اگر میری موجودگی میں تو لائے،تو اے میرے رب، مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو۔‘‘

“My Lord, if You should bring the scourge of which they had been warned in my presence, then do not include me, my Lord, among these wrong doing people.”

 

تشریح:

 

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذاللہ اس عذاب میں نبیﷺ کے مبتلا ہو جانے کا فی الواقع کوئی خطرہ تھا، یا یہ کہ اگر آپ یہ دعا نہ مانگتے تو اس میں مبتلا ہو جاتے۔ بلکہ اس طرح کا انداز بیان یہ تصوّر دلانے کے لیے اختیار کیا گیا ہے کہ خدا کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق چیز۔ وہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا مطالبہ کیا جائے، اور اگر اللہ اپنی رحمت اور اپنے حلم کی وجہ سے اس کے لانے میں دیر کر ے تو اطمینان کے ساتھ شرارتوں اور نافرمانیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ درحقیقت وہ ایسی خوفناک چیز ہے کہ گناہ گاروں ہی کو نہیں، نیکوکاروں کو بھی اپنی ساری نیکیوں کے باوجود اس سے پناہ مانگنی چاہیے۔ علاوہ بریں اس میں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اجتماعی گناہوں کی پاداش میں جب عذاب کی چکّی چلتی ہے تو صرف برے لوگ ہی اس میں نہیں پِستے، بلکہ ان کے ساتھ ساتھ بھلے لوگ بھی بسا اوقات لپیٹ میں آ کاتے ہیں۔ لہٰذا ایک گمراہ اور بدکار معاشرے میں رہنے والے ہر نیک آدمی کو ہر وقت خدا کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ کچھ خبر نہیں کہ کب کس صورت میں ظالموں پر قہر الٰہی کا کوڑا برسنا شروع ہو جائے اور کون اس کی زد میں آ کائے۔

٭٭٭

 

 

 

آنحضرتﷺ کو استغفار کی تلقین

 

رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ خَیْْر الرَّاحِمِیْنَ۔

(سورۃ المومنون:۱۱۸)

’’میرے رب درگزر فرما، اور رحم کر،اور تو سب رحیموں سے اچھا رحیم ہے۔‘‘

“My Lord, forgive us and have mercy on us, for You are the best of those that are merciful.”

 

تشریح:

 

یہاں اِس دعا کی لطیف معنویت نگاہ میں رہے۔ کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ نبیﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دشمنوں کو معاف کرنے سے یہ کہہ کر انکار فرمائے گا کہ میرے جو بندے یہ دعا مانگتے تھے، تم ان کا مذاق اُڑا تے تھے۔ اس کے بعد اب نبیﷺ کو (اور ضمناً صحابہ کرام کو بھی ) یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ تم ٹھیک وہی دعا مانگو جس کا ہم ابھی ذکر کر آئے ہیں۔ ہماری صاف تنبیہ کے باوجود اب اگر یہ تمہارا مذاق اُڑائیں تو آخرت میں اپنے خلاف گویا خود ہی ایک مضبوط مقدمہ تیار کر دیں گے۔

٭٭٭

 

 

 

 

عباد الرحمن کی دُعا

 

رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَ إِنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَاماً۔إِنَّہَا سَآئَ تْ مُسْتَقَرَّا وَّمُقَاماً۔

(سورۃالفرقان:۶۵۔۶۶)

’’اے ہمارے رب،جہنم کے عذاب سے ہم کو بچا لے، اُس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے۔وہ تو بڑا ہی بُرا مستقر اور مقام ہے۔‘‘

“Our Lord! Ward off from us the chastisement of Hell, for its chastisement is one that clings. Verily it is a wretched abode and resting place”

 

تشریح:

 

یعنی یہ عبادت ان میں کوئی غرور پیدا نہیں کرتی۔ انہیں اس بات کا کوئی زعم نہیں ہوتا کہ ہم تو اللہ کے پیارے اور اس کے چہیتے ہیں، بھلا آگ ہمیں کہاں چھو سکتی ہے۔ بلکہ اپنی ساری نیکیوں اور عبادتوں کے باوجود وہ اس خوف سے کانپتے رہتے ہیں کہ کہیں ہمارے عمل کی کوتاہیاں ہم کو مبتلائے عذاب نہ کر دیں۔ وہ اپنے تقویٰ کے زور سے جنت جیت لینے کا پندار نہیں رکھتے، بلکہ اپنی انسانی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے عذاب سے بچ نکلنے ہی کو غنیمت سمجھتے ہیں، اور اس کے لیے بھی ان کا اعتماد اپنے عمل پر نہیں بلکہ اللہ کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

اولاد اور بیوی کے لیے دُعا

 

رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّیَّاتِنَا قُرَّۃَ أَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ إِمَاماً۔ (سورۃالفرقان:۷۴)

’’اے ہمارے رب،ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا۔‘‘

“Our Lord! Grant us that our spouses and our offspring be a joy to our eyes, and do make us the leaders of the God fearing.”

 

تشریح:

 

(۱) …یعنی ان کو ایمان اور عملِ صالح کی توفیق دے اور پاکیزہ اخلاق سے آراستہ کر، کیونکہ ایک مومن کو بیوی بچوں کے حسن و جمال اور عیش و آرام سے نہیں بلکہ اُن کی نیک خصالی سے ٹھنڈک حاصل ہوتی ہے۔ اس کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی چیز تکلیف دہ نہیں ہو سکتی کہ جو دنیا میں اس کو سب سے زیادہ پیارے ہیں اُنہیں دوزخ کا ایندھن بننے کے لیے تیار ہوتے دیکھے۔ ایسی صورت میں تو بیوی کا حسن اور بچوں کی جوانی و لیاقت اس کے لیے اور بھی زیادہ سوہانِ روح ہو گی، کیوں کہ وہ ہر وقت اس رنج میں مبتلا رہے گا کہ یہ سب اپنی ان خوبیوں کے باوجود اللہ کے عذاب میں گرفتار ہونے والے ہیں۔

(۲) …یہاں خاص طور پر یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ جس وقت یہ آیات نازل ہوئی ہیں وہ وقت وہ تھا جب کہ مکہ کے مسلمانوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ تھا جس کے محبوب ترین رشتہ دار کفر و جاہلیت میں مبتلا نہ ہوں۔ کوئی مرد ایمان لے آیا تھا تو اس کی بیوی ابھی کافر تھی۔ کوئی عورت ایمان لے آئی تھی تو اس کا شوہر ابھی کافر تھا۔ کوئی نوجوان ایمان لے آیا تھا تو اس کے ماں باپ اور بھائی بہن، سب کے سب کفر میں مبتلا تھے۔ اور کوئی باپ ایمان لے آیا تھا تو اس کے اپنے جوان جوان بچے کفر پر قائم تھے۔ اس حالت میں ہر مسلمان ایک شدید روحانی اذیت میں مبتلا تھا اور اس کے دل سے وہ دُعا نکلتی تھی جس کی بہترین ترجمانی اس آیت(دعا) میں کی گئی ہے۔’’ آنکھوں کی ٹھنڈک‘‘ نے اس کیفیت کی تصویر کھینچ دی ہے کہ اپنے پیاروں کو کفر و جاہلیت میں مبتلا دیکھ کر ایک آدمی کو ایسی اذیت ہو رہی ہے جیسے اُس کی آنکھیں آشوبِ چشم سے اُبل آئی ہوں اور کھٹک سے سوئیاں سی چبھ رہی ہوں۔ اس سلسلہ کلام میں ان کی اس کیفیت کو دراصل یہ بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ جس دین پر ایمان لائے ہیں پورے خلوص کے ساتھ لائے ہیں۔ ان کی حالت ان لوگوں کی سی نہیں ہے جن کے خاندان کے لوگ مختلف مذہبوں اور پارٹیوں میں شامل رہتے ہیں اور سب مطمئن رہتے ہیں کہ چلو، ہر بینک میں ہمارا کچھ نہ کچھ سرمایہ موجود ہے۔

(۳)… یعنی ہم تقویٰ اور طاعت میں سب سے بڑھ جائیں، بھلائی اور نیکی میں سب سے آگے نکل جائیں محض نیک ہی نہ ہوں بلکہ نیکوں کے پیشوا ہوں اور ہماری بدولت دنیا بھر میں نیکی پھیلے۔ اس چیز کا ذکربھی یہاں در اصل یہ بتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مال و دولت اور شوکت و حشمت میں نہیں بلکہ نیکی و پرہیز گاری میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔مگر ہمارے زمانے میں کچھ اللہ کے بندے ایسے ہیں جنہوں نے اس آیت کو بھی امامت کی امیدواری اور ریاست کی طلب کے لیے دلیلِ جواز کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اُن کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ ’’ یا اللہ متقی لوگوں کو ہماری رعیت اور ہم کو اُن کا حکمراں بنا دے ‘‘۔ اس سخن فہمی کی داد ’’امیدواروں ‘‘ کے سوا اور کون دے سکتا ہے ؟

٭٭٭

 

 

 

 

 

حضرت ابراہیمؑ کی دُعا اپنی قوم کو دعوتِ توحید دینے کے بعد

 

رَبِّ ہَبْ لِیْ حُکْماً وَّأَلْحِقْنِیْ بِالصَّالِحِیْنَ۔ وَاجْعَل لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِیْ الْآخِرِیْنَ۔وَاجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَۃِ جَنَّۃِ النَّعِیْمِ۔(سورۃ الشعرا:۸۳۔۸۵)

’’اے میرے رب، مجھے حکم عطا کر۔اور مجھ کو صالحوں کے ساتھ مِلا۔اور بعد کے آنے والوں میں مجھ کو سچی ناموری عطا کر۔ اور مجھے جنّتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔‘‘

“My Lord, endow me with knowledge and wisdom and join me with the righteous, and grant me an honourable reputation among posterity, and make me of those who will inherit the Garden of Bliss.”

 

تشریح:

 

(۱)… ’’حکم‘‘ سے مراد ’’نبوت‘‘ یہاں درست نہیں ہے، کیوں کہ جس وقت کی یہ دُعا ہے اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نبوت عطا ہو چکی تھی۔ اور اگر بالفرض یہ دُعا اس سے پہلے کی بھی ہو تو نبوت کسی کی طلب پر اسے عطا نہیں کی جاتی بلکہ وہ ایک وہبی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ خود ہی جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ اس لیے یہاں حکم سے مراد علم، حکمت، فہم صحیح اور قوت فیصلہ ہی لینا درست ہے، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دُعا قریب قریب اسی معنی میں ہے جس میں نبیﷺ سے یہ دُعا منقول ہے کہ :ارنا الاشیآء کما ھی یعنی ہم کو اس قابل بنا کہ ہم ہر چیز کو اُسی نظر سے دیکھیں جیسی کہ وہ فی الواقع ہے اور ہر معاملہ میں وہی رائے قائم کریں جیسی کہ اس کی حقیقت کے لحاظ سے قائم کی جانی چاہیے۔

(۲) …یعنی دنیا میں مجھے صالح سوسائٹی دے اور آخرت میں میرا حشر صالحوں کے ساتھ کر۔ جہاں تک آخرت کا تعلق ہے، صالح لوگوں کے ساتھ کسی کا حشر ہونا اور اس کا نجات پانا گویا ہم معنی ہیں، اس لیے یہ تو ہر اس انسان کی دُعا ہونی ہی چاہیے جو حیات بعد الموت اور جزا وسزا پر یقین رکھتا ہو۔ لیکن دنیا میں بھی ایک پاکیزہ روح کی دلی تمنا یہی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے ایک بد اخلاق فاسق و فاجر معاشرے میں زندگی بسر کرنے کی مصیبت سے نجات دے اور اس کو نیک لوگوں کے ساتھ ملائے۔ معاشرے کا بگاڑ جہاں چاروں طرف محیط ہو وہاں ایک آدمی کے لیے صرف یہی چیز ہمہ وقت اذیت کی موجب نہیں ہوتی کہ وہ اپنے گردو پیش گندگی ہی گندگی پھیلی ہوئی دیکھتا ہے، بلکہ اُس کے لیے خود پاکیزہ رہنا اور اپنے آپ کو گندگی کی چھینٹوں سے بچا کر رکھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے ایک صالح آدمی اُس وقت تک بے چین ہی رہتا ہے جب تک یا تو اس کا اپنا معاشرہ پاکیزہ نہ ہو جائے، یا پھر اس سے نکل کر وہ کوئی دوسری ایسی سوسائٹی نہ پالے جو حق و صداقت کے اصولوں پر چلنے والی ہو۔

(۳) …یعنی بعد کی نسلیں مجھے خیر کے ساتھ یاد کریں۔ میں دنیا سے وہ کام کر کے نہ جاؤں کہ نسل انسانی میرے بعد میرا شمار اُن ظالموں میں کرے جو خود بگڑے ہوئے تھے اور دنیا کو بگاڑ کر چلے گئے، بلکہ مجھ سے وہ کارنامے انجام پائیں جن کی بدولت رہتی دنیا تک میری زندگی خلق خدا کے لیے روشنی کا مینار بنی رہے اور مجھے انسانیت کے محسنوں میں شمار کیا جائے۔ یہ محض شہرت و ناموری کی دُعا نہیں ہے بلکہ سچی شہرت اور حقیقی ناموری کی دُعا ہے جو لازماً ٹھوس خدمات اور بیش قیمت کارناموں ہی کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ کسی شخص کو اُس چیز کا حاصل ہونا اپنے اندر دو فائدے رکھتا ہے۔ دنیا میں اس کا فائدہ یہ ہے کہ انسانی نسلوں کو بری مثالوں کے مقابلے میں ایک نیک مثال ملتی ہے جس سے وہ بھلائی کا سبق حاصل کرتی ہیں اور ہر سعید روح کو راہِ راست پر چلنے میں اس سے مدد ملتی ہے۔ اور آخرت میں اس کا فائدہ یہ ہے کہ ایک آدمی کی چھوڑی ہوئی نیک مثال سے قیامت تک جتنے لوگوں کو بھی ہدایت نصیب ہوئی ہو ان کا ثواب اس شخص کو بھی ملے گا اور قیامت کے روز اس کے اپنے اعمال کے ساتھ کروڑوں بندگانِ خدا کی یہ گواہی بھی اُس کے حق میں موجود ہو گی کہ وہ دنیا میں بھلائی کے چشمے رواں کر کے آیا ہے جن سے نسل پر نسل سیراب ہوتی رہی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

حضرت لوطؑ کی دُعا

 

رَبِّ نَجِّنِیْ وَأَہْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ۔(سورۃ الشعرائ: ۱۶۹)

’’اے پروردگار، مجھے اور میرے اہل و عیال کو اِن کی بدکرداریوں سے نجات دے۔‘‘

“My Lord, deliver me and my family from their wicked deeds.”

 

تشریح:

 

اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ہمیں اُن کے اعمال بد کے برے انجام سے بچا۔ اور یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے کہ اس بد کر دار بستی میں جو اخلاقی گندگیاں پھیلی ہوئی ہیں ان کی چھوت کہیں ہماری آل اولاد کو نہ لگ جائے، اہل ایمان کی اپنی نسلیں کہیں اِس بگڑے ہوئے ماحول سے متاثر نہ ہو جائیں، اس لیے اے پروردگار، ہمیں اس وقت کے عذاب سے نجات دے جو اس نا پاک معاشرے میں زندگی بسر کرنے سے ہم پر گزر رہا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

حضرت سلیمانؑ کی دُعا چیونٹی کا کلام سننے کے بعد

 

رَبِّ اَوْزِعْنِیْ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰہُ وَاَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِکَ فِیْ عِبَادِکَ الصّٰلِحِیْنَ۔

(سورۃالنمل:۱۹)

’’ اے میرے رب، مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کرتا رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور ایسا عملِ صالح کروں جو تجھے پسند آئے اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے صالح بندوں میں داخل کر۔‘‘

“My Lord! Hold me under (Your) control that I may render thanks for the favour which You have bestowed on me and on my parents, and that I may act righteously in a manner that would please You. Include me, out of Your Mercy, among Your righteous servants.”

 

تشریح:

 

(۱) …اصل الفاظ ہیں رَبِّ اَوْزِعْنِیْ وزع کے اصل معنی عرب زبان میں روکنے کے ہیں۔ اس موقع پر حضرت سلیمان علیہ السلام کا یہ کہنا کہ اَوْزِعْنِیْ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ( مجھے روک کہ میں تیرے احسان کا شکر ادا کروں ) ہمارے نزدیک دراصل یہ معنی دیتا ہے کہ اے میرے رب جو عظیم الشان قوتیں اور قابلیتیں تو نے مجھے دی ہیں وہ ایسی ہیں کہ اگر میں ذرا سی غفلت میں بھی مبتلا ہو جاؤں تو حدِ بندگی سے خارج ہو کر اپنی کبریائی کے خبط میں نہ معلوم کہاں سے کہاں نکل جاؤں۔ اس لیے اے میرے پروردگار، تو مجھے قابو میں رکھ تا کہ میں کافرِ نعمت بننے کے بجائے شکرِ نعمت پر قائم رہوں۔

(۲)… صالح بندوں میں داخل کرنے سے مراد غالباً یہ ہے کہ آخرت میں میرا انجام صالح بندوں کے ساتھ ہو اور میں ان کے ساتھ جنت میں داخل ہوں۔ اس لیے کہ آدمی جب عملِ صالح کر ے گا تو صالح تو وہ آپ سے آپ ہو گا ہی، البتہ آخرت میں کسی کا جنت میں داخل ہونا محض اس کے عملِ صالح کے بل بوتے پر نہیں ہو سکتا بلکہ یہ اللہ کی رحمت پر موقوف ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ نبیﷺ نے فرمایا کہ لن ید خل احد کم الجن عملہ ’’تم میں سے کسی کو بھی محض اس کا عمل جنت میں نہیں پہنچا دے گا‘‘۔عرض کیا گیا کہ ولا انت یا رسول اللّٰہ ’’کیا حضورﷺ کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے‘‘ ؟ فرمایا: ولا انا الا ان یتغمد فی اللّٰہ تعالٰی برحمتہ’’ ہاں، میں بھی محض اپنے عمل کے بل بوتے پر جنت میں نہ چلا جاؤں گا جب تک اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے نہ ڈھانک لے‘‘۔

٭٭٭

 

 

 

حضرت موسیٰؑ کی دُعا قبطی کو قتل کرنے کے بعد

 

رَبِّ إِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ۔ (سورۃ القصص:۱۶)

’’اے میرے رب، میں نے اپنے نفس پر ظلم کر ڈالا، میری مغفرت فرما دے۔‘‘

“My Lord! I have indeed inflicted wrong on myself, so do forgive me.”

 

تشریح:

 

مغفرت کے معنی در گزر کرنے اور معاف کر دینے کے بھی ہیں، اور ستر پوشی کرنے کے بھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دُعا کا مطلب یہ تھا کہ میرے اس گناہ کو (جسے تو جانتا ہے کہ میں نے عمداً نہیں کیا ہے ) معاف بھی فرما دے اور اس کا پردہ بھی ڈھانک دے تا کہ دشمنوں کو اس کا پتہ نہ چلے۔

٭٭٭

 

 

 

 

اہل جنت کی دُعا

 

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ أَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَکُوْرٌ۔ (سورۃ فاطر: ۳۴)

’’ شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہم سے غم دور کر دیا، یقیناً ہمارا رب معاف کرنے والا اور قدر فرمانے والا ہے۔‘‘

“All praise be to Allah Who has taken away all sorrow from us. Surely our Lord is Most Forgiving, Most Appreciative.”

 

تشریح:

 

(۱) …ہر قسم کا غم: دنیا میں جن فکروں اور پریشانیوں میں ہم مبتلا تھے اُن سے بھی نجات ملی، عُقبیٰ میں اپنے انجام کی جو فکر لا حق تھی وہ بھی ختم ہوئی، اور اب آگے چَین ہی چَین ہے، کسی رنج و الم کا کوئی سوال ہی باقی نہ رہا۔

(۲) …یعنی ہمارے قصور اس نے معاف فرما دیے اور عمل کی جو تھوڑی سی پونجی ہم لائے تھے اس کی ایسی قدر فرمائی کہ اپنی جنت اس کے بدلے میں ہمیں عطا فرما دی۔

٭٭٭

 

 

 

 

حضرت ابراہیمؑ کی دُعا ہجرت کے وقت صالح اولاد کے لیے

 

رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنَ الصَّالِحِیْنَ۔ (سورۃالصافات: ۱۰۰)

’’اے پروردگار، مجھے ایک بیٹا عطا کر جو صالحوں میں سے ہو۔‘‘

“Lord, grant me a righteous son.”

 

تشریح:

 

اس دُعا سے خود بخود یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس وقت بے اولاد تھے۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر جو حالات بیان کیے گئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صرف ایک بیوی اور ایک بھتیجے (حضرت لوط علیہ السلام ) کو لے کر ملک سے نکلے تھے۔ اس وقت فطرۃً آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کوئی صالح اولاد عطا فرمائے جو اس غریب الوطنی کی حالت میں آپ کا غم غلط کرے۔

٭٭٭

 

 

 

مومنین کے لیے حاملینِ عرش کی دُعا

 

رَبَّنَا وَسِعْتُ کُلَّ شَیْئٍ رَحْمَۃً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِیْلَکَ وَقِہِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ۔ (سورۃ المومن: ۷)

’’اے ہمارے رب، تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پس معاف کر دے اور عذابِ دوزخ سے بچا لے اُن لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرا راستہ اختیار کر لیا ہے۔‘‘

“Our Lord! You encompass everything with Your Mercy and Knowledge. So forgive those that repent and follow Your Path, and guard them against the chastisement of Hell.”

 

تشریح:

 

(۱) …یعنی اپنے بندوں کی کمزوریاں اور لغزشیں اور خطائیں تجھ سے چھپی ہوئی نہیں ہیں، بے شک تو سب کچھ جانتا ہے مگر تیرے علم کی طرح تیرا دامنِ رحمت بھی تو وسیع ہے، اس لیے ان کی خطاؤں کو جاننے کے باوجود ان غریبوں کو بخش دے۔دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بربنائے رحمت ان سب لوگوں کو بخش دے جن کو بربنائے علم تو جانتا ہے کہ انہوں نے سچے دل سے توبہ کی ہے اور فی الواقع تیرا راستہ اختیار کر لیا ہے۔

(۲) …معاف کرنا اور عذابِ دوزخ سے بچا لینا اگرچہ صریحاً لازم و ملزوم ہیں اور ایک بات کا ذکر کر دینے کے بعد دوسری بات کہنے کی بظاہر کوئی حاجت نہیں رہتی۔ لیکن اس طرز بیان سے دراصل اہلِ ایمان کے ساتھ فرشتوں کی گہری دلچسپی کا اظہار ہوتا ہے۔ قاعدے کی بات ہے کہ کسی معاملے میں جس شخص کے دل کو لگی ہوئی ہوتی ہے وہ جب حاکم سے گزارش کرنے کا موقع پا لیتا ہے تو پھر وہ اِلحاح کے ساتھ ایک ہی درخواست کو بار بار طرح طرح سے پیش کرتا ہے اور ایک بات بس ایک دفعہ عرض کر کے اس کی تسلی نہیں ہوتی۔

(۳) …یعنی نافرمانی چھوڑ دی ہے، سرکشی سے باز آ گئے ہیں، اور فرماں برداری اختیار کر کے زندگی کے اس راستے پر چلنے لگے ہیں جو تو نے خود بتایا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

سواری کے وقت مومن کی دُعا

 

سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ۔ وَإِنَّا إِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ۔ (سورۃ الزخرف:۱۳۔۱۴)

’’پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے اِن چیزوں کو مسخر کر دیا ورنہ ہم انہیں قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے، اور ایک روز ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔‘‘

“Glory be to Him Who has subjected this to Us whereas we did not have the strength to subdue it. It is to our Lord that we shall eventually return.”

 

تشریح:

 

(۱) …یعنی زمین کی تمام مخلوقات میں سے تنہا انسان کو کشتیاں اور جہاز چلانے اور سواری کے لیے جانور استعمال کرنے کی یہ مقدرت اللہ تعالیٰ نے اس لیے تو نہیں دی تھی کہ وہ غلے کی بوریوں کی طرح ان پر لد جائے اور کبھی نہ سوچے کہ آخر وہ کون ہے جس نے ہمارے لیے بحر ذخّار میں کشتیاں دوڑانے کے امکانات پیدا کیے، اور جس نے جانوروں کی بے شمار اقسام میں سے بعض کو اس طرح پیدا کیا کہ وہ ہم سے بدر جہا زیادہ طاقتور ہونے کے باوجود ہمارے تابع فرمان بن جاتے ہیں اور ہم ان پر سوار ہو کر جدھر چاہتے ہیں انہیں لیے پھرتے ہیں۔ ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانا اور نعمت دینے والے کو فراموش کر دینا، دل کے مردہ اور عقل و ضمیر کے بے حس ہونے کی علامت ہے۔ ایک زندہ اور حساس قلب و ضمیر رکھنے والا انسان تو ان سواریوں پر جب بیٹھے گا تو اس کا دل احساسِ نعمت اور شکرِ نعمت کے جذبے سے لبریز ہو جائے گا۔ وہ پکار اُٹھے گا کہ پاک ہے وہ ذات جس نے میرے لیے ان چیزوں کو مسخر کیا۔ پاک ہے اس سے کہ اس کی ذات و صفات اور اختیارات میں کوئی اس کا شریک ہو۔ پاک ہے اس کمزوری سے کہ اپنی خدائی کا کام خود چلانے سے وہ عاجز ہو اور دوسرے مدد گار خداؤں کی اسے حاجت پیش آئے۔ پاک ہے اس سے کہ میں ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے میں اس کی ساتھ کسی اور کو شریک کروں۔

اس آیت کے منشا کی بہترین عملی تفسیر رسول اللہﷺ کے وہ اذکار ہیں جو سواریوں پر بیٹھتے وقت آپﷺ کی زبان مبارک پر جاری ہوتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ جب سفر پر جانے کے لیے سواری پر بیٹھتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے، پھر یہ آیت پڑھتے، اور اس کے بعد یہ دُعا مانگا کرتے تھے۔ : اللھم انی اسئلْکَ فی سفری ھٰذا لابرَّ و التقویٰ، ومن العمل ماثرضیٰ، اللھم ھون انالسفر، واطو،لَنا البعید، اللھم انت الصاحب فی السفر، الخلیف فی الاھل، اللھم اَصحِبا فی سفر نا واخلْفنَا فی اھلنا (مسند احمد، مسلم، ابوداؤد نسائی، دارمی، ترمذی)۔ ’’ خدایا میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے اس سفر میں مجھے نیکی اور تقویٰ اور ایسے عمل کی توفیق دے جو تجھے پسند ہو۔ خدایا ہمارے لیے سفر کو آسان کر دے اور لمبی مسافت کو لپیٹ دے، خدایا تو ہی سفر کا ساتھی اور ہمارے پیچھے ہمارے اہل و عیال کا نگہبان ہے، خدایا ہمارے سفر میں ہمارے ساتھ اور پیچھے ہمارے گھر والوں کی خبر گیری فرما۔‘‘

حضرت علی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ نے بسم اللہ کہہ کر رکاب میں پاؤں رکھا، پھر سوار ہونے کے بعد فرمایا : الحمد للّٰہ، سبحان الذی سخر لنا ھٰذا …، پھر تین مرتبہ الحمد للہ اور تین دفعہ اللہ اکبر کہا، پھر فرمایا سبحانک لا اِلٰہ الا انت، قد ظلمت نفسی فاغفرلی۔اس کے بعد آپ ہنس دیے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہﷺ آپ ہنسے کس بات پر ؟ فرمایا، بندہ جب ربِّ اغفِر لِی کہتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کو اس کی یہ بات بڑی پسند آتی ہے، وہ فرماتا ہے کہ میرا یہ بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا مغفرت کرنے والا کوئی اور نہیں ہے۔

(احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی وغیرہ)

ایک صاحب ابو مجلز بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں جانور پر سوار ہوا اور میں نے آیت سُبحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ھٰذَا پڑھی۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا اس طرح کرنے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے ؟میں نے عرض کیا پھر کیا کہوں ؟ فرمایا کہو کہ شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہمیں اسلام کی ہدایت دی، شکر ہے اس کا کہ اس نے محمدﷺ کو بھیج کر ہم پر احسان فرمایا، شکر ہے اس کا کہ اس نے ہمیں اُس بہترین اُمت میں داخل کیا جو خلق خدا کے لیے نکالی گئی ہے، اس کے بعد یہ آیت پڑھو۔(ابن جریر :احکام القرآن للجصّاص)

(۲) …مطلب یہ ہے کہ ہر سفر پر جاتے ہوئے یاد کر لو کہ آگے ایک بڑا اور آخری سفر بھی درپیش ہے۔ اس کے علاوہ چوں کہ ہر سواری کو استعمال کرنے میں یہ امکان بھی ہوتا ہے کہ شاید کوئی حادثہ اسی سفر کو آدمی کا آخری سفر بنا دے، اس لیے بہتر ہے کہ ہر مرتبہ وہ اپنے رب کی طرف واپسی کو یاد کر کے چلے تاکہ اگر مرنا ہی ہے تو بے خبر نہ مرے۔

یہاں تھوڑی دیر ٹھیر کر ذرا اس تعلیم کے اخلاقی نتائج کا بھی اندازہ کر لیجیے۔ کیا آپ یہ تصور کر سکتے ہیں کہ جو شخص کسی سواری پر بیٹھتے وقت سمجھ بوجھ کر پورے شعور کے ساتھ اس طرح اللہ کو اور اس کے حضور اپنی واپسی اور جواب دہی کو یاد کر کے چلا ہو وہ آگے جا کر کسی فسق و فجور یا کسی ظلم و ستم کا مرتکب ہو گا ؟ کیا کسی فاحشہ سے ملاقات کے لیے، یا کسی کلب میں شراب خوری اور قمار بازی کے لیے جاتے وقت بھی کوئی شخص یہ کلمات زبان سے نکال سکتا ہے یا ان کا خیال کر سکتا ہے ؟ کیا کوئی حاکم یا سرکاری افسر، یا تاجر، جو یہ کچھ سوچ کر اور اپنے منہ سے کہہ کر گھر سے چلا ہو، اپنی جائے عمل پر پہنچ کر لوگوں کے حق مار سکتا ہے ؟ کیا کوئی سپاہی بے گناہوں کا خون بہانے اور کمزوروں کی آزادی پر ڈاکہ مارنے کے لیے جاتے وقت بھی اپنے ہوائی جہاز یا ٹینک پر قدم رکھتے ہوئے یہ الفاظ زبان پر لا سکتا ہے ؟ اگر نہیں، تو یہی ایک چیز ہراس نقل و حرکت پر بند باندھ دینے کے لیے کافی ہے جو معصیت کے لیے ہو۔

٭٭٭

 

 

 

چالیس سال کی عمر کے بعد مومن کی دُعا

 

رَبِّ أَوْزِعْنِیْ أَنْ أَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ أَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحاً تَرْضَاہُ وَأَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ إِنِّیْ تُبْتُ إِلَیْْکَ وَإِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (سورۃ الاحقاف: ۱۵)

’’اے میرے رب، مجھے توفیق دے کہ میں تیری اُن نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو، اور میری اولاد کو بھی نیک بنا کر مجھے سُکھ دے، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تابع فرمان (مسلم) بندوں میں سے ہوں۔‘‘

“My Lord, dispose me that I may give thanks for the bounty that You have bestowed upon me and my parents, and dispose me that I may do righteous deeds that would please You, and also make my descendants righteous. I repent to You, and I am one of those who surrender themselves to You.”

 

تشریح:

 

یعنی مجھے ایسے نیک عمل کی توفیق دے جو اپنے ظاہری صورت میں بھی ٹھیک ٹھیک تیرے قانون کے مطابق ہو، اور حقیقت میں بھی تیرے ہاں مقبول ہونے کے لائق ہو۔ ایک عمل اگر دنیا والوں کے نزدیک بڑا اچھا ہو، مگر خدا کے قانون کی پیروی اس میں نہ کی گئی ہو تو دنیا کے لوگ چاہے اس پر کتنی ہی داد دیں، خدا کے ہاں وہ کسی داد کا مستحق نہیں ہو سکتا۔ دوسری طرف ایک عمل ٹھیک ٹھیک شریعت کے مطابق ہوتا ہے اور بظاہر اس کی شکل میں کوئی کسر نہیں ہوتی، مگر نیت کی خرابی، ریا، خود پسندی، فخر و غرور، اور دنیا طلبی اس کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے اور وہ بھی ا س قابل نہیں رہتا ہے کہ اللہ کے ہاں مقبول ہو۔

٭٭٭

 

 

 

 

ساحران مصر کی دُعا ایمان لانے کے بعد

 

رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَیْْنَا صَبْراً وَّتَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۔

(سورۃ الاعراف: ۱۲۶)

’’ اے رب،ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اُٹھا تو اِس حال میں کہ ہم تیرے فرماں بردار ہوں۔‘‘

“Our Lord! Shower us with perseverance and cause us to die as those who have submitted [to You].”

 

تشریح:

 

 

فرعون نے پانسہ پلٹتے دیکھ کر آخری چال یہ چلی تھی کہ اس سارے معاملہ کو موسیٰ علیہ السلام اور جادوگروں کی سازش قرار دے دے اور پھر جادوگروں کو جسمانی عذاب اور قتل کی دھمکی دے کر اُن سے اپنے اِس الزام کا اقبال کرالے۔ لیکن یہ چال بھی اُلٹی پڑی۔ جادوگروں نے اپنے آپ کو ہر سزا کے لیے پیش کر کے ثابت کر دیا کہ اُن کا موسیٰ علیہ السلام کی صداقت پر ایمان لانا کسی سازش کا نہیں بلکہ سچے اعترافِ حق کا نتیجہ تھا۔ اب اُس کے لیے کوئی چارہ کار اس کے سوا باقی نہ رہا کہ حق اور انصاف کا ڈھونگ جو وہ رچانا چاہتا تھا اسے چھوڑ کر صاف صاف ظلم و ستم شروع کر دے۔

اس مقام پر یہ بات بھی دیکھنے کے قابل ہے کہ چند لمحو ں کے اندر ایمان نے ان جادوگروں کی سیرت میں کتنا بڑا انقلاب پیدا کر دیا۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے انہی جادوگروں کی ونائت کا یہ حال تھا کہ اپنے دینِ آبائی کی نصرت و حمایت کے لیے گھروں سے چل کر آئے تھے اور فرعون سے پوچھ رہے تھے کہ اگر ہم نے اپنے مذہب کو موسیٰ علیہ السلام کے حملہ سے بچا لیا تو سرکار سے ہمیں انعام تو ملے گا نا؟یا اب جو نعمتِ ایمان نصیب ہوئی تو انہی کی حق پرستی اور اُولوا العزمی اس حد کو پہنچ گئی کہ تھوڑی دیر پہلے جس بادشاہ کے آگے لالچ کے مارے بچھے جا رہے تھے اب اس کی کبریائی اور اس کے جبروت کو ٹھوکر مار رہے ہیں اور اُن بد ترین سزاؤں کو بھگتنے کے لیے تیار ہیں جن کی دھمکی وہ دے رہا ہے مگر اس حق کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں جس کی صداقت اُن پر کھل چکی ہے۔

٭٭٭

 

 

بنی اسرائیل کی دُعا فرعون کے ظلم سے نجات پانے کے لیے

 

رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ۔وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِکَ مِنَ الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ۔(سورۃیونس: ۸۵۔۸۶)

’’ اے ہمارے رب، ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا۔اور اپنی رحمت سے ہم کو کافروں سے نجات دے۔‘‘

“Our Lord! Do not make us a trial for the oppressors. and deliver us, through Your mercy, from the unbelievers.”

 

تشریح:

 

ان صادق الایمان نوجوانوں کی یہ دعا کہ ’’ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا‘‘، بڑے وسیع مفہوم پر حاوی ہے۔ گمراہی کے عام غلبہ و تسلّط کی حالت میں جب کچھ لوگ قیامِ حق کے لیے اُٹھتے ہیں، تو اُنہیں مختلف قسم کے ظالموں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ایک طرف باطل کے اصلی علمبردار ہوتے ہیں جو پوری طاقت سے اِن داعیانِ حق کو کچل دینا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف نام نہاد حق پرستوں کا ایک اچھا خاصا گروہ ہوتا ہے جو حق کو ماننے کا دعویٰ تو کرتا ہے مگر باطل کی قاہرانہ فرماں روائی کے مقابلہ میں اَقامتِ حق کی سعی کو غیر واجب، لاحاصل، یا حماقت سمجھتا ہے اور اس کی انتہائی کو شش یہ ہوتی ہے کہ اپنی اس خیانت کو جو وہ حق کے ساتھ کر رہا ہے کسی نہ کسی طرح درست ثابت کر دے اور ان لوگوں کو اُلٹا بر سرِ باطل ثابت کر کے اپنے ضمیر کی اُس خلش کو مٹائے جو اُن کی دعوت اقامت دینِ حق سے اس کے دل کی گہرائیوں میں جلی یا خفی طور پر پیدا ہوتی ہے۔ تیسری طرف عام الناس ہوتے ہیں جو الگ کھڑے تماشا دیکھ رہے ہوتے ہیں اور اُن کا ووٹ آخر کار اُسی طاقت کے حق میں پڑ ا کرتا ہے جس کا پلہ بھاری رہے، خواہ وہ طاقت حق ہو یا باطل۔ اس صورت حال میں ان داعیانِ حق کی ہر ناکامی، ہر مصیبت، ہر غلطی، ہر کمزوری اور ہر خامی ان مختلف گروہوں کے لیے مختلف طور پر فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ کچل ڈالے جائیں یا شکست کھا جائیں تو پہلا گروہ کہتا ہے کہ حق ہمارے ساتھ تھا نہ کہ ان بے وقوفوں کے ساتھ جو ناکام ہو گئے۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ دیکھ لیا! ہم نہ کہتے تھے کہ ایسی بڑی بڑی طاقتوں سے ٹکرانے کا حاصل چند قیمتی جانوں کی ہلاکت کے سوا کچھ نہ ہو گا، اور آخر کار اس تہلکہ میں اپنے آپ کو ڈالنے کا ہمیں شریعت نے مکلّف ہی کب کیا تھا، دین کے کم سے کم ضروری مطالبات تو اُن عقائد و اعمال سے پوری ہو ہی رہے تھے جن کی اجازت فراعنۂ وقت نے دے رکھی تھی۔ تیسرا گروہ فیصلہ کر دیتا ہے کہ حق وہی ہے جو غالب رہا۔ اسی طرح اگر وہ اپنی دعوت کے کام میں کوئی غلطی کر جائیں، یا مصائب و مشکلات کی سہار نہ ہونے کی وجہ سے کمزوری دکھا جائیں، یا ان سے، بلکہ ان کے کسی ایک فرد سے بھی کسی اخلاقی عیب کا صدور ہو جائے، تو بہت سے لوگوں کے لیے باطل سے چمٹے رہنے کے ہزار بہانے نکل آتے ہیں اور پھر اس دعوت کی ناکامی کے بعد مدتہائے دراز تک کسی دوسری دعوتِ حق کے اُٹھنے کا امکان باقی نہیں رہتا۔ پس یہ بڑی معنی خیز دعا تھی جو موسیٰ علیہ السلام کے اُن ساتھیوں نے مانگی تھی کہ خدایا ہم پر ایسا فضل فرما کہ ہم ظالموں کے لیے فتنہ بن کر نہ رہ جائیں۔ یعنی ہم کو غلطیوں سے، خامیوں سے، کمزوریوں سے بچا، اور ہماری سعی کو دنیا میں بار آور کر دے، تا کہ ہمارا وجود تیری خلق کے لیے سببِ خیر بنے نہ کہ ظالموں کے لیے وسیلۂ شر۔

٭٭٭

 

 

 

حضرت موسیٰؑ کی بد دُعا فرعون کے حق میں

 

رَبَّنَا إِنَّکَ آتَیْْتَ فِرْعَوْنَ وَمَللَأُہٗ زِیْنَۃً وَّأَمْوَالاً فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا۔ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِکَ۔ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰی أَمْوَالِہِمْ وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوبِہِمْ فَلاَ یُؤْمِنُواْ حَتّٰی یَرَُوا الْعَذَابَ الأَلِیْمَ۔

(سورۃیونس: ۸۸)

’’اے ہمارے رب، تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زینت اور اموال سے نواز رکھا ہے۔ اے رب، کیا یہ اس لیے ہے کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے بھٹکائیں ؟ اے رب، ان کے مال غارت کر دے اور ان کے دلوں پر ایسی مہر کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔‘‘

“Our Lord! You bestowed upon Pharaoh and his nobles splendour and riches in the world. Our Lord! Have You done this that they may lead people astray from Your path? Our Lord! Obliterate their riches and harden their hearts that they may not believe until they observe the painful chastisement.”

 

تشریح:

 

(۱)… یعنی ٹھاٹھ، شان و شوکت اور تمدن و تہذیب کی، خوش نمائی جس کی وجہ سے دنیا ان پر اور ان کے طور طریقوں پر ریجھتی ہے اور ہر شخص کا دل چاہتا ہے کہ ویسا ہی بن جائے جیسے وہ ہیں۔

(۲) …یعنی ذرائع اور وسائل جن کی فراوانی کی وجہ سے وہ اپنی تدبیروں کو عمل میں لانے کے لیے ہر طرح کی آسانیاں رکھتے ہیں اور جن کے فقدان کی وجہ سے اہلِ حق اپنی تدبیروں کو عمل میں لانے سے عاجز رہ جاتے ہیں۔

(۳)… یہ دعا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے زمانۂ قیامِ مصر کے بالکل آخری زمانے میں کی تھی، اور اس وقت کی تھی جب پے دَر پے نشانات دیکھ لینے اور دین کی حجت پوری ہو جانے کے بعد بھی فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت حق کی دشمنی پر انتہائی ہٹ دھرمی کے ساتھ جمے رہے۔ ایسے موقع پر پیغمبر جو بد دُعا کرتا ہے وہ ٹھیک ٹھیک وہی ہوتی ہے جو کفر پر اصرار کرنے والوں کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے، یعنی یہ کہ پھر انہیں ایمان کی توفیق نہ بخشی جائے۔

٭٭٭

 

 

 

 

حضرت نوحؑ کی دُعائے استغفار

 

رَبِّ إِنِّیْ أَعُوذُ بِکَ أَنْ أَسْأَلَکَ مَا لَیْْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ وَّإِلاَ تَغْفِرْ لِیْ وَتَرْحَمْنِیْ أَکُنْ مِّنَ الْخَاسِرِیْنَ۔ (سورۃ ھود:۷ ۴)

’’اے میرے رب، میں تیری پناہ مانگتا ہوں اِس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں اگر تو نے مجھ معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہو جاؤں گا۔‘‘

“My Lord! I take refuge with You that I should ask you for that concerning which I have no knowledge. And if You do not forgive me and do not show mercy to me, I shall be among the losers.”

 

تشریح:

 

پسر نوح کا یہ قصہ بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے نہایت مؤثر پیرایہ میں یہ بتایا ہے کہ اُس کا انصاف کس قدر بے لاگ اور اس کا فیصلہ کیسا دو ٹوک ہوتا ہے۔ مشرکین مکہ یہ سمجھتے تھے کہ ہم خواہ کیسے ہی کام کریں، مگر ہم پر خدا کا غضب نازل نہیں ہو سکتا کیوں کہ ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد اور فلاں فلاں دیویوں اور دیوتاؤں کے متوسّل ہیں۔ یہودیوں اور عیسائیوں کے بھی ایسے ہی کچھ گمان تھے اور ہیں۔ اور بہت سے غلط کا ر مسلمان بھی اس قسم کے جھوٹے بھروسوں پر تکیہ کیے ہوئے ہیں کہ ہم فلاں حضرت کی اولاد اور فلاں حضرت کے دامن گرفتہ ہیں، ان کی سفارش ہم کو خدا کے انصاف سے بچا لے گی۔ لیکن یہاں یہ منظر دکھا یا گیا ہے کہ ایک جلیل القدر پیغمبر اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے لختِ جگر کو ڈوبتے ہوئے دیکھتا ہے اور تڑپ کر بیٹے کی معافی کے لیے درخواست کرتا ہے، لیکن دربارِ خداوندی سے اُلٹی اس پر ڈانٹ پڑ جاتی ہے اور باپ کی پیغمبری بھی ایک بد عمل بیٹے کو عذاب سے نہیں بچا سکتی۔

٭٭٭

 

 

حضرت یوسفؑ کی دُعا زنانِ مصر کے فتنے سے بچنے کے لیے

 

رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْ إِلَیْْہِ وَإِلاَ تَصْرِفْ عَنِّیْ کَیْْدَہُنَّ أَصْبُ إِلَیْْہِنَّ وَأَکُن مِّنَ الْجَاہِلِیْنَ۔ (سورۃ یوسف: ۳۳)

’’اے میرے رب، قید مجھے منظور ہے بہ نسبت اس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ لوگ مجھ سے چاہتے ہیں۔ اور اگر تو نے ان کی چالوں کو مجھ سے دفع نہ کیا تو میں ان کے دام میں پھنس جاؤں گا اور جاہلوں میں شامل ہو رہوں گا۔‘‘

“My Lord! I prefer imprisonment to what they ask me to do. And if You do not avert from me the guile of these women, I will succumb to their attraction and lapse into ignorance.”

 

تشریح:

 

یہ آیات ہمارے سامنے اُن حالات کا ایک عجیب نقشہ پیش کرتی ہیں جن میں اس وقت حضرت یوسف علیہ السلام مبتلا تھے۔ انیس بیس سال کا ایک خوبصورت نوجوان ہے جو بدویانہ زندگی سے بہترین تندرستی اور بھری جوانی لیے ہوئے آیا ہے۔ غریبی، جلاوطنی اور جبری غلامی کے مراحل سے گزرنے کے بعد قسمت اسے دنیا کی سب سے بڑی متمدن سلطنت کے پایہ تخت میں ایک بڑے رئیس کے ہاں لے آئی ہے۔ یہاں پہلے تو خود اس گھر کی بیگم ہی اس کے پیچھے پڑ جاتی ہے جس سے اس کا شب و روز کا سابقہ ہے۔ پھر اس کے حسن کا چرچا سارے دارالسلطنت میں پھیلتا ہے اور شہر بھر کے امیر گھرانوں کی عورتیں اس پر فریفتہ ہو جاتی ہیں۔ اب ایک طرف وہ ہے اور دوسری طرف سینکڑوں خوبصورت جال ہیں جو ہر وقت ہر جگہ اسے پھانسنے کے لیے پھیلے ہوئے ہیں۔ ہر طرح کی تدبیر یں اس کے جذبات کو بھڑکانے اور اس کے زہد کو توڑنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ جدھر جاتا ہے یہی دیکھتا ہے کہ گناہ اپنی ساری خوشنمائیوں اور دلفریبیوں کے ساتھ دروازے کھولے اس کا منتظر کھڑا ہے۔ کوئی تو فجور کے مواقع خود ڈھونڈھتا ہے، مگر یہاں خود مواقع اس کو ڈھونڈ رہے ہیں اور اس تاک میں لگے ہوئے ہیں کہ جس وقت بھی اس کے دل میں برائی کی طرف ادنیٰ مَیلان پیدا ہو وہ فوراً اپنے آپ کو اس کے سامنے پیش کر دیں۔ رات دن کے چوبیس گھنٹے وہ اس خطرے میں بسر کر رہا ہے کہ کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی اس کے ارادے کی بندش میں کچھ ڈھیل آ جائے تو وہ گناہ کے اُن بے شمار دروازوں میں سے کسی میں داخل ہو سکتا ہے جو اس کے انتظار میں کھلے ہوئے ہیں۔

اس حالت میں یہ خدا پرست نوجوان جس کامیابی کے ساتھ ان شیطانی ترغیبات کا مقابلہ کرتا ہے وہ بجائے خود کچھ کم قابل تعریف نہیں ہے۔ مگر ضبطِ نفس کے اس حیرت انگیز کمال پر عرفانِ نفس اور طہارت فکر کا مزید کمال یہ ہے کہ اس پر بھی اس کے دل میں کبھی یہ متکبرانہ خیال نہیں آتا کہ واہ رے میں، کیسی مضبوط ہے میری سیرت کہ ایسی ایسی حَسین اور جوان عورتیں میری گرویدہ ہیں اور پھر بھی میرے قدم نہیں پھسلتے۔ اس کے بجائے وہ اپنی بشری کمزوریوں کا خیال کر کے کانپ اُٹھتا ہے اور نہایت عاجزی کے ساتھ خدا سے مدد کی التجا کرتا ہے کہ اے رب، میں ایک کمزور انسان ہوں، میرا اتنا بل بوتا کہاں کہ ان بے پناہ ترغیبات کا مقابلہ کر سکوں، تو مجھے سہارا دے اور مجھے بچا، ڈرتا ہوں کہ کہیں میرے قدم پھسل نہ جائیں۔درحقیقت یہ حضرتِ یوسف علیہ السلام کی اخلاقی تربیت کا اہم ترین اور نازک ترین مرحلہ تھا۔ دیانت، امانت، عفت، حق شناسی، راست روی، انضباط، اور توازن ذہنی کی غیر معمولی صفات جواب تک ان کے اندر چھپی ہوئی تھیں اور جن سے وہ خود بھی بے خبر تھے، وہ سب کی سب اس شدید آزمائش کے دور میں اُبھر آئیں، پورے زور کے ساتھ کام کرنے لگیں اور انہیں خود بھی معلوم ہو گیا کہ ان کے اندر کون کون سی قوتیں موجود ہیں اور وہ ان سے کیا کام لے سکتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

 

حضرت یوسفؑ کی آخری دُعا

 

رَبِّ قَدْ آتَیْْتَنِیْ مِنَ الْمُلْکِ وَعَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَأْوِیْلِ الأَحَادِیْثِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ أَنتَ وَلِیِّیٖ فِیْ الدُّنُیَا وَال آخِرَۃِ تَوَفَّنِیْ مُسْلِماً وَّأَلْحِقْنِیْ بِالصَّالِحِیْنَ۔ (سورۃ یوسف:۱۰۱)

’’ اے میرے رب، تو نے مجھے حکومت بخشی اور مجھ کو باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھایا۔ زمین و آسمان کے بنانے والے، تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے، میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجام کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا۔‘‘

“My Lord! You have bestowed dominion upon me and have taught me to comprehend the depths of things. O Creator of heavens and earth! You are my Guardian in this world and in the Hereafter. Cause me to die in submission to You, and join me, in the end, with the righteous.”

 

تشریح:

 

یہ چند فقرے جو اس موقع پر حضرت یوسف علیہ السلام کی زبان سے نکلے ہیں، ہمارے سامنے ایک سچے مومن کی سیرت کا عجیب دلکش نقشہ پیش کرتے ہیں۔ صحرائی گلہ بانوں کے خاندان کا ایک فرد، جس کو خود اس کے بھائیوں نے حسد کے مارے ہلاک کر دینا چاہا تھا، زندگی کے نشیب و فراز دیکھتا ہوا بالآخر دنیوی عروج کے انتہائی مقام پر پہنچ گیا ہے۔ اس کے قحط زدہ اہل خاندان اب اس کے دست نگر ہو کر اس کے حضور آئے ہیں اور وہ حاسد بھائی بھی، جو اس کو مار ڈالنا چاہتے تھے، اس کے تخت شاہی کے سامنے سرنگوں کھڑے ہیں۔ یہ موقع دنیا کے عام دستور کے مطابق فخر جتانے، ڈینگیں مارنے، گلے اور شکوے کرنے، اور طعن و ملامت کے تیر برسانے کا تھا۔ مگر ایک سچا خدا پرست انسان اس موقع پر کچھ دوسرے ہی اخلاق ظاہر کرتا ہے۔ وہ اپنے اس عروج پر فخر کرنے کے بجائے اس خدا کے احسان کا اعتراف کرتا ہے جس نے اسے یہ مرتبہ عطا کیا۔ وہ خاندان والوں کو اُس ظلم و ستم پر کوئی ملامت نہیں کرتا جو اوائل عمر میں انہوں نے اُس پر کیے تھے۔ اس کے برعکس وہ اس بات پر شکر ادا کرتا ہے کہ خدا نے اتنے دنوں کی جدائی کے بعد ان لوگوں کو مجھ سے ملایا۔ وہ حاسد بھائیوں کے خلاف شکایت کا ایک لفظ زبان سے نہیں نکالتا۔ حتی کہ یہ بھی نہیں کہتا کہ انہوں نے میرے ساتھ برائی کی تھی۔بلکہ ان کی صفائی خود ہی اس طرح پیش کرتا ہے کہ شیطان نے میرے اور ان کے درمیان برائی ڈال دی تھی۔ اور پھر اس برائی کے بھی بُرے پہلو چھوڑ کر اس کا یہ اچھا پہلو پیش کرتا ہے کہ خدا جس مرتبے پر مجھے پہنچانا چاہتا تھا اس کے لیے یہ لطیف تدبیر اُس نے فرمائی۔ یعنی بھائیوں سے شیطان نے جو کچھ کرایا اُسی میں حکمتِ الٰہی کے مطابق میرے لیے خیر تھی۔ چند الفاظ میں یہ سب کچھ کہہ جانے کے بعد وہ بے اختیار اپنے خدا کے آگے جھک جاتا ہے، اس کا شکر ادا کرتا ہے کہ تو نے مجھے بادشاہی دی اور وہ قابلیتیں بخشیں جن کی بدولت میں قید خانے میں سڑنے کے بجائے آج دنیا کی سب سے بڑی سلطنت پر فرماں روائی کر رہا ہوں۔ اور آخر میں خدا سے کچھ مانگتا ہے تو یہ کہ دنیا میں جب تک زندہ رہوں تیری بندگی و غلامی پر ثابت قدم رہوں، اور جب اس دنیا سے رخصت ہوں تو مجھے نیک بندوں کے ساتھ ملا دیا جائے۔ کس قدر بلند اور کتنا پاکیزہ ہے یہ نمونۂ سیرت !

حضرت یوسف علیہ السلام کی اس قیمتی تقریر نے بھی بائیبل اور تلمود میں کوئی جگہ نہیں پائی ہے۔ حیرت ہے کہ یہ کتابیں قصوں کی غیر ضروری تفصیلات سے تو بھری پڑی ہیں، مگر جو چیزیں کوئی اخلاقی قدر و قیمت رکھتی ہیں اور جن سے انبیاء کی اصلی تعلیم اور ان کے حقیقی مشن اور ان کی سیرتوں کے سبق آموز پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے، ان سے ان کتابوں کا دامن خالی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

حضرت ابراہیمؑ کی دُعا اپنی اولاد کو مکہ میں آباد کرتے وقت

 

رَبِّ اجْعَلْ ہَذَا الْبَلَدَ آمِناً وَّاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ۔رَبِّ إِنَّہُنَّ أَضْلَلْنَ کَثِیْراً مِّنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَإِنَّہُ مِنِّیْ وَمَنْ عَصَانِیْ فَإِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔رَّبَّنَا إِنِّیْ أَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوْا الصَّلاَۃَفَاجْعَلْ أَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِیْ إِلَیْْہِمْ وَارْزُقْہُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرونَ۔رَبَّنَا إِنَّکَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَمَا نُعْلِنُ وَمَا یَخْفَی عَلَی اللّٰہِ مِن شَیْْئٍ فَیْ الأَرْضِ وَلَا فِیْ السَّمَآئِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَہَبَ لِیْ عَلَی الْکِبَرِ إِسْمَاعِیْلَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَاءِ۔ رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلاَۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَائِ۔رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسَابُ۔ (سورۃابراہیم:۵ ۳۔۴۱)

’’ پروردگار، اِس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔پروردگار، ان بُتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈالا ہے۔(ممکن ہے کہ میری اولاد کو بھی یہ گمراہ کر دیں، لہٰذا اُن میں سے) جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو یقیناً تو درگزر کرنے والا مہربان ہے۔ پروردگار، میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے۔پروردگار،یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں، لہٰذا تو لوگوں کے دلوں کو اِن کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے، شاید کہ یہ شکر گزار بنیں۔پروردگار، تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھُپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ اور واقعی اللہ سے کچھ بھی چھُپا ہُوا نہیں ہے، نہ زمین میں نہ آسمانوں میں۔’’شکر ہے اُس خدا کا جس نے مجھے اِس بڑھاپے میں اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام جیسے بیٹے دیے، حقیقت یہ ہے کہ میرا رب ضرور دُعا سُنتا ہے۔ا ے میرے پروردگار، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اُٹھا جو یہ کام کریں )۔ پروردگار، میری دُعا قبول کر۔پروردگار، مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اُس دن معاف کر دیجیو جبکہ حساب قائم ہو گا۔‘‘

“My Lord! Make this city secure, and keep me and my sons away from worshipping the idols. My Lord! They have caused many people to go astray. Now, if anyone follows my way, he is from me; and if anyone follows a way opposed to mine, then surely You are Ever-Forgiving, Most Merciful.” “Our Lord! I have made some of my offspring settle in a barren valley near Your Sacred House! Our Lord! I did so that they may establish Prayer. So make the hearts of people affectionately inclined to them, and provide them with fruits for their sustenance that they may give thanks. Our Lord! Surely You know all that we conceal and all that we reveal, and nothing in the earth or in the heaven is hidden from Allah. All praise be to Allah Who, despite my old age, has given me Ishmael and Isaac. Surely my Lord hears all prayers. My Lord! Enable me and my offspring to establish Prayer, and do accept, our Lord, this prayer of mine.”

 

تشریح:

 

(۱) …یعنی خدا سے پھیر کر اپنا گرویدہ کیا ہے۔ یہ مجازی کلام ہے۔ بت چونکہ بہتوں کی گمراہی کے سبب بنے ہیں اس لیے گمراہ کرنے کے فعل کو ان کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے۔

(۲)… یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کمال درجہ نرم دلی اور نوع انسانی کے حال پر ان کی انتہائی شفقت ہے کہ وہ کسی حال میں بھی انسان کو خدا کے عذاب میں گرفتار ہوتے نہیں دیکھ سکتے بلکہ آخر وقت تک عفو و درگزر کی التجا کرتے رہتے ہیں۔ رزق کے معاملہ میں تو انہوں نے یہاں تک کہہ دینے میں دریغ نہ فرمایا کہ وَارْزُقْ اَھْلَہٗ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ بِاللّٰہِ وَالْیَوْ مِ الْاٰخِرِ۔ (البقرہ۔ آیت ۶۲۱)۔ لیکن جہاں آخرت کی پکڑ کا سوال آیا وہاں ان کی زبان سے یہ نہ نکلا کہ جو میرے طریقے کے خلاف چلے اُسے سزا دے ڈالیو، بلکہ کہا تو یہ کہا کہ اُن کے معاملہ میں کیا عرض کروں، تو غفورٌرَّحِیم ہے۔ اور یہ کچھ اپنی ہی اولاد کے ساتھ اس سراپا رحم و شفقت انسان کا مخصوص رویہ نہیں ہے بلکہ، جب فرشتے قومِ لوط جیسی بدکار قوم کو تباہ کرنے جا رہے تھے اس وقت بھی اللہ تعالیٰ بڑی محبت کے انداز میں فرماتا ہے کہ ’’ابراہیم علیہ السلام ہم سے جھگڑنے لگا‘‘(ہود: ۴۷)۔ یہی حال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان کے رو در رو عیسائیوں کی گمراہی ثابت کر دیتا ہے تو وہ عرض کرتے ہیں کہ ’’اگر حضور ان کو سزا دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ بالادست اور حکیم ہیں ‘‘۔(المائدہ، آیت ۸۱۱)

(۳) …یہ اُسی دُعا کی برکت ہے کہ پہلے سارا عرب مکّہ کی طرف حج اور عمرے کے لیے کھچ کر آتا تھا، اور اب دنیا بھر کے لوگ کھچ کھچ کر وہاں جاتے ہیں۔ پھر یہ بھی اُسی دُعا کی برکت ہے کہ ہر زمانے میں ہر طرح کے پھل،غلّے، اور دوسرے سامانِ رزق وہاں پہنچتے رہتے ہیں، حالانکہ اس وادیِ غیر ذی زرع میں جانوروں کے لیے چارہ تک پیدا نہیں ہوتا۔

(۴)… یعنی خدا یا جو کچھ میں زبان سے کہہ رہا ہوں وہ بھی تو سُن رہا ہے اور جو جذبات میرے دل میں چھُپے ہوئے ہیں اُن سے بھی تو واقف ہے۔

(۵) …حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس دعائے مغفرت میں اپنے باپ کو اُس وعدے کی بنا پر شریک کر لیا تھا جو اُنہوں نے وطن سے نکلتے وقت کیا تھا کہ سَاَ سْتَغْفِر لَکَ رَبِّیْ، (مریم:۷۴)۔ مگر بعد میں جب اُنہیں احساس ہُوا کہ وہ تو اللہ کا دشمن تھا تو انہوں نے اُس سے صاف تبرّی فر ما دی۔(التوبہ:۴۱۱)

٭٭٭

 

 

 

حضرت محمدﷺ کو مکی دور میں سکھائی گئی ایک دُعا

 

رَّبِّ أَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَل لِّیْ مِن لَّدُنْکَ سُلْطَاناً نَّصِیْراً۔

(سورۃبنی اسرائیل:۸۰)

’’پروردگار،مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچّائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے۔‘‘

“My Lord! Cause me to enter wherever it be, with Truth, and cause me to exit, wherever it be, with Truth, and support me with authority from Yourself.”

 

تشریح:

 

(۱) …اس دُعا کی تلقین سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت کا وقت اب بالکل قریب آلگا تھا۔ اس لیے فرمایا کہ تمہاری دُعا یہ ہونی چاہیے کہ صداقت کا دامن کسی حال میں تم سے نہ چھوٹے، جہاں سے بھی نکلو صداقت کی خاطر نکلو اور جہاں بھی جاؤ صداقت کے ساتھ جاؤ۔

(۲) …یعنی یا تو مجھے خود اقتدار عطا کر، یا کسی حکومت کو میرا مدد گار بنا دے تا کہ اس کی طاقت سے میں دنیا کے اس بگاڑ کو درست کر سکوں، فواحش اور معاصی کے اس سیلاب کو روک سکوں، اور تیرے قانونِ عدل کو جاری کر سکوں۔ یہی تفسیر ہے اس آیت کی جو حسن بصریؒ اور قتادہؒ نے کی ہے، اور اسی کو ابن جریرؒ اور ابن کثیرؒ جیسے جلیل القدر مفسرین نے اختیار کیا ہے، اور اسی کی تائید نبیﷺ کی یہ حدیث کرتی ہے کہ اِنَّ اللّٰہ لَیَزَعُ بِالسُّلْطَانِ مَا لَا یَزَعُ بِالْقُرْاٰنِ،یعنی ’’اللہ تعالیٰ حکومت کی طاقت سے اُن چیزوں کا سدِّباب کر دیتا ہے جن کا سد باب قرآن سے نہیں کرتا۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام دنیا میں جو اصلاح چاہتا ہے وہ صرف وعظ و تذکیر سے نہیں ہو سکتی بلکہ اس کو عمل میں لانے کے لیے سیاسی طاقت بھی درکار ہے۔ پھر جبکہ یہ دُعا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو خود سکھائی ہے تو اس سے یہ بھی ثابت ہو ا کہ اقامتِ دین اور نفاذِ شریعت اور اجرائے حدود اللہ کے لیے حکومت چاہنا اور اس کے حصول کی کوشش کرنا نہ صرف جائز بلکہ مطلوب و مندوب ہے اور وہ لوگ غلطی پر ہیں جو اسے دنیا پر ستی یا دنیا طلبی سے تعبیر کرتے ہیں۔ دنیا پرستی اگر ہے تو یہ کہ کوئی شخص اپنے لیے حکومت کا طالب ہو۔ رہا خدا کے دین کے لیے حکومت کا طالب ہونا تو یہ دنیا پرستی نہیں بلکہ خدا پرستی ہی کا عین تقاضا ہے۔ اگر جہاد کے لیے تلوار کا طالب ہو نا گناہ نہیں ہے تو اجرائے احکامِ شریعت کے لیے سیاسی اقتدار کا طالب ہونا آخر کیسے گناہ ہو جائے گا؟

٭٭٭

 

 

 

حضرت موسیٰؑ کی دُعائے استغفار

 

رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَہْلَکْتَہُم مِّنْ قَبْلُ وَإِیَّایَ أَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَہَآءُ مِنَّا إِنْ ہِیَ إِلاَ فِتْنَتُکَ تُضِلُّ بِہَا مَنْ تَشَآءُ وَتَہْدِیْ مَنْ تَشَاءُ أَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنْتَ خَیْْر الْغَافِرِیْنَ۔وَاکْتُبْ لَنَا فِیْ ہَذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِیْ الْآخِرَۃِ إِنَّا ہُدْنَآ إِلَیْکَ۔(سورۃالاعراف: ۱۵۵۔۱۵۶)

’’اے میرے سرکار،آپ چاہتے تو پہلے ہی اِن کو اور مجھے ہلاک کرسکتے تھے۔کیا آپ اُس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کر دیں گے؟ یہ تو آپ کی ڈالی ہوئی ایک آزمائش تھی جس کے ذریعہ سے آپ جسے چاہتے ہیں گمراہی میں مبتلا کر دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ہدایت بخش دیتے ہیں، ہمارے سرپرست تو آپ ہی ہیں پس ہمیں معاف کر دیجیے اور ہم پر رحم فرمائیے، آپ سب سے بڑھ کر معاف فرمانے والے ہیں۔اور ہمارے لیے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجیے اور آخرت کی بھی، ہم نے آپ کی طرف رجوع کر لیا۔‘‘

“O my Lord, You could have destroyed them and me long ago. Will You destroy us for the misdeeds of the fools amongst us? That was nothing but a trial from You whereby You mislead whom You will and guide whom You will. You alone are our guardian. Forgive us, then, and have mercy upon us. You are the best of those who forgive. And ordain for us what is good in this world and in the World to Come for to You have we turned.”

 

تشریح:

 

مطلب یہ ہے کہ ہر آزمائش کا موقع انسانوں کے درمیان فیصلہ کن ہوتا ہے۔ وہ چھاج کی طرح ایک مخلوط گروہ میں سے کارآمد آدمیوں اور ناکارہ آدمیوں کو پھٹک کر الگ کر دیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا عین مقتضٰی ہے کہ ایسے مواقع وقتاً فوقتاً آتے رہیں۔ ان مواقع پر جو کامیابی کی راہ پاتا ہے وہ اللہ ہی کی توفیق و رہنمائی سے پاتا ہے اور جو ناکام ہوتا ہے وہ اُس کی توفیق و رہنمائی سے محروم ہونے کی بدولت ہی ناکام ہوتا ہے۔ اگرچہ اللہ کی طرف سے توفیق اور رہنمائی ملنے اور نہ ملنے کے لیے بھی ایک ضابطہ ہے جو سراسر حکمت اور عدل پر مبنی ہے، لیکن بہر حال یہ حقیقت اپنی جگہ ثابت ہے کہ آدمی کا آزمائش کے مواقع پر کامیابی کی رہ پانا یا نہ پانا اللہ کی توفیق و ہدایت پر منحصر ہے۔

٭٭٭

 

 

 

مومنین کی دُعا

 

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالإِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلّاً لِّلَّذِیْنَ آمَنُوْا رَبَّنَآ إِنَّکَ رَؤُوْفٌ رَّحِیْمٌ۔ (سورۃ الحشر: ۱۰)

’’اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہلِ ایمان کے لیے کوئی بغض نہ رکھ، اے ہمارے رب، تو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔‘‘

“Lord, forgive us and our brethren who have preceded us in faith, and do not put in our hearts any rancour towards those who believe. Lord, You are the Most Tender, the Most Compassionate.”

 

تشریح:

 

اس آیت میں اگر چہ اصل مقصود صرف یہ بتانا ہے کہ فَے کی تقسیم میں حاضر و موجود لوگوں کا ہی نہیں، بعد میں آنے والے مسلمانوں اور ان کی آئندہ نسلوں کا حصہ بھی ہے۔لیکن ساتھ ساتھ اس میں ایک اہم اخلاقی درس بھی مسلمانوں کو دیا گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ کسی مسلمان کے دل میں کسی دوسرے مسلمان کے لیے بغض نہ ہونا چاہیے، اور مسلمانوں کے لیے صحیح روش یہ ہے کہ وہ اپنے اسلاف کے حق میں دُعائے مغفرت کرتے رہیں، نہ یہ کہ وہ اُن پر لعنت بھیجیں اور تبرّا کریں۔ مسلمانوں کو جس رشتے نے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا ہے وہ در اصل ایمان کا رشتہ ہے۔ اگر کسی شخص کے دل میں ایمان کی اہمیت دوسری تمام چیزوں سے بڑھ کر ہو تو لامحالہ وہ ان سب لوگوں کا خیر خواہ ہو گا جو ایمان کے رشتہ سے اس کے بھائی ہیں۔ ان کے لیے بد خواہی اور بغض اور نفرت اس کے دل میں اسی وقت جگہ پا سکتی ہے جبکہ ایمان کی قدر اس کی نگاہ میں گھٹ جائے اور کسی دوسری چیز کو وہ اس سے زیادہ اہمیت دینے لگے۔ لہٰذا یہ عین ایمان کا تقاضا ہے کہ ایک مومن کا دل کسی دوسرے مومن کے خلاف نفرت و بغض سے خالی ہو۔ اس معاملہ میں بہترین سبق ایک حدیث سے ملتا ہے جو نسائی نے حضرت انسؓ سے روایت کی ہے۔ ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ تین دن مسلسل یہ ہوتا رہا کہ رسولﷺ اپنی مجلس میں یہ فرماتے کہ اب تمہارے سامنے ایک ایسا شخص آنے والا ہے جو اہلِ جنت میں سے ہے، اور ہر بار وہ آنے والے شخص انصار میں سے ایک صاحب ہی ہوتے۔ یہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن عمر و بن عاصؓ کو جستجو پیدا ہوئی کہ آخر یہ کیا عمل ایسا کرتے ہیں جس کی بنا پر حضورﷺ نے اُن کے بارے میں بار بار یہ بشارت سنائی ہے۔ چنانچہ وہ ایک بہانہ کر کے تین روز مسلسل ان کے ہاں جا کر رات گزارتے رہے تاکہ ان کی عبادت کا حال دیکھیں۔ مگر ان کی شب گزاری میں کوئی غیر معمولی چیز انہیں نظر نہ آئی۔ ناچار انہوں نے خود ان ہی سے پوچھ لیا کہ بھائی، آپ کیا عمل ایسا کرتے ہیں جس کی بنا پر ہم نے حضورﷺسے آپ کے بارے میں یہ عظیم بشارت سُنی ہے؟ انہوں نے کہا میری عبادت کا حال تو آپ دیکھ ہی چکے ہیں۔ البتہ ایک بات ہے جو شاید اس کی موجب بنی ہو، اور وہ یہ ہے کہ لا اجد فی نفسی،غلًّا لاحد من المسلمین، ولا احسدہ علی خیرا اعطاہ اللہ تعالٰی ایّاہ۔’’ میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے خلاف کپٹ نہیں رکھتا اور نہ کسی ایسی بھلائی پر جو اللہ نے اُسے عطا کی ہو، اس سے حسد کرتا ہوں ‘‘۔

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی مسلمان اگر کسی دوسرے مسلمان کے قول یا عمل میں کوئی غلطی پاتا ہو تو وہ اسے غلط نہ کہے۔ ایمان کا تقاضا یہ ہر گز نہیں ہے کہ مومن غلطی بھی کرے تو اس کو صحیح کہا جائے، یا اس کی غلط با ت کو غلط نہ کہا جائے۔ لیکن کسی چیز کو دلیل کے ساتھ غلط کہنا اور شائستگی کے ساتھ اُسے بیان کر دینا اور چیز ہے، اور بغض و نفرت، مَذَمّت و بد گوئی اور سَبّ و شَتَم بالکل ہی ایک دوسری چیز۔ یہ حرکت زندہ معاصرین کے حق میں کی جائے تب بھی ایک بڑی برائی ہے، لیکن مرے ہوئے اسلاف کے حق میں اس کا ارتکاب تو اور زیادہ بڑی برائی ہے، کیونکہ وہ نفس ایک بہت ہی گندا نفس ہو گا جو مرنے والوں کو بھی معاف کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ اور ان سب سے بڑھ کر شدید برائی یہ ہے کہ کوئی شخص ان لوگوں کے حق میں بد گوئی کرے جنہوں نے انتہائی سخت آزمائشوں کے دور میں رسول اللہﷺ کی رفاقت کا حق ادا کیا تھا اور اپنی جانیں لڑا کر دنیا میں اسلام کا وہ نور پھیلایا تھا جس کی بدولت آج ہمیں نعمتِ ایمان میسر ہوئی ہے۔ اُن کے درمیان جو اختلافات رو نما ہوئے اُن میں اگر ایک شخص کسی فریق کو حق پر سمجھتا ہو اور دوسرے فریق کا موقف اس کی رائے میں صحیح نہ ہو تو وہ یہ رائے رکھ سکتا ہے اور اسے معقولیت کے حدود میں بیان بھی کر سکتا ہے۔ مگر ایک فریق کی حمایت میں ایسا غلو کہ دوسرے فریق کے خلاف دل بغض و نفرت سے بھر جائے اور زبان و قلم سے بد گوئی کی تراوش ہونے لگے، ایک ایسی حرکت ہے جو کسی خدا ترس انسان سے سر زد نہیں ہو سکتی۔ قرآن کی صریح تعلیم کے خلاف یہ حرکت جو لوگ کرتے ہیں وہ بالعموم اپنے اس فعل کے لیے یہ عذر بیان کرتے ہیں کہ قرآن مومنین کے خلاف بغض رکھنے سے منع کرتا ہے، اور ہم جن کے خلاف بغض رکھتے ہیں وہ مومن نہیں بلکہ منافق تھے۔ لیکن یہ الزام اُس گناہ سے بھی بد تر ہے جس کی صفائی میں یہ بطور عذر پیش کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید کی یہی آیات، جن کے سلسلۂ بیان میں اللہ تعالیٰ نے بعد کے آنے والے مسلمانوں کو اپنے سے پہلے گزرے ہوئے اہل ایمان سے بغض نہ رکھنے اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرنے کی تعلیم دی ہے، اُن کے اس اِلزام کی تردید کے لیے کافی ہیں۔اِن آیات میں یکے بعد دیگرے تین گروہوں کو فَے کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔ اوّل مہاجرین، دوسرے انصار، تیسرے اُن کے بعد آنے والے مسلمان۔ اور ان بعد کے آنے والے مسلمانوں سے فرمایا گیا ہے کہ تم سے پہلے جن لوگوں نے ایمان لانے میں سبقت کی ہے ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو۔ ظاہر ہے کہ اس سیاق و سباق میں سابقین بالایمان سے مراد مہاجرین و انصار کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسی سورہ حشر کی آیات ۱۱ تا ۱۷ میں یہ بھی بتا دیا ہے کہ منافق کون لوگ تھے۔ اس سے یہ بات بالکل ہی کھل جاتی ہے کہ منافق وہ تھے جنہوں نے غَزْوہ بنی نَضِیر کے موقع پر یہودیوں کی پیٹھ ٹھونکی تھی، اور ان کے مقابلے میں مومن وہ تھے جو اس غَزْوہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ شامل تھے۔ اِس کے بعد کیا ایک مسلمان، جو خدا کا کچھ بھی خوف دل میں رکھتا ہو، یہ جسارت کر سکتا ہے کہ اُن لوگوں کے ایمان کا انکار کرے جن کے ایمان کی شہادت اللہ تعالیٰ نے خود دی ہے؟

امام مالکؒ اور امام احمدؒ نے اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ فَے میں اُن لوگوں کا کوئی حصہ نہیں ہے جو صحابہ کرام ؓ کو بُرا کہتے ہیں (احکام القرآن لابن العربی۔ غایۃ الْمُنْتَہیٰ)۔ لیکن حنفیہ اور شافعیہ نے اس رائے سے اتفاق نہیں کیا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تین گروہوں کو فَے میں حصّہ دار قرار دیتے ہوئے ہر ایک کے ایک نمایاں وصف کی تعریف فرمائی ہے، مگر ان میں سے کوئی تعریف بھی بطور شرط نہیں ہے کہ وہ شرط اس گروہ میں پائی جاتی ہو تو اسے حصّہ دیا جائے ورنہ نہیں۔ مہاجرین کے متعلق فرمایا کہ ’’ وہ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کی حمایت کے لیے کمر بستہ رہتے ہیں ‘‘۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جس مہاجر میں یہ صفت نہ پائی جائے وہ فَے میں سے حصّہ پانے کا حقدار نہیں ہے۔ انصار کے متعلق فرمایا کہ ’’ وہ مہاجرین سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ بھی اُن کو دے دیا جائے اس کے لیے اپنے دلوں میں کوئی طلب نہیں پاتے، خواہ وہ خود تنگ دست ہوں ‘‘۔ اس کا بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ فَے میں کسی ایسے انصاری کو کوئی حق نہیں جو مہاجرین سے محبت نہ رکھتا ہو اور جو کچھ اُن کو دیا جا رہا ہو اسے خود حاصل کرنے کا خواہشمند ہو۔ لہٰذا تیسرے گروہ کا یہ وصف کہ ’’ اپنے سے پہلے ایمان لانے والوں کے حق میں وہ دعائے مغفرت کرتا ہے اور اللہ سے دعا مانگتا ہے کہ کسی مومن کے لیے اس کے دل میں بغض نہ ہو‘‘، یہ بھی فَے میں حق دار ہونے کی شرط نہیں ہے بلکہ ایک اچھے وصف کی تعریف اور اس امر کی تلقین ہے کہ اہلِ ایمان کا رویّہ دوسرے اہلِ ایمان کے ساتھ اور اپنے سے پہلے گزرے ہوئے مومنین کے معاملہ میں کیا ہونا چاہیے۔

٭٭٭

 

 

 

 

حضرت ابراہیمؑ اور ان کے ساتھیوں کی دُعا

 

رَّبَّنَا عَلَیْْکَ تَوَکَّلْنَا وَإِلَیْکَ أَنَبْنَا وَإِلَیْْکَ الْمَصِیْر۔رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَروْا وَاغْفِرْ لَنَا۔ رَبَّنَا إِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔

(سورۃ الممتحنہ: ۴۔۵)

’’اے ہمارے رب،تیرے ہی اوپر ہم نے بھروسا کیا اور تیری ہی طرف ہم نے رجوع کر لیا اور تیرے ہی حضور ہمیں پلٹنا ہے۔اے ہمارے رب،ہمیں کافروں کے لیے فتنہ نہ بنا دے اور اے ہمارے رب، ہمارے قُصوروں سے درگزر فرما، بے شک تُو ہی زبردست اور دانا ہے۔‘‘

“Our Lord, in You have we put our trust, and to You have we turned, and to You is our ultimate return. Our Lord, do not make us a test for the unbelievers, and forgive us, our Lord. Surely You are Most Mighty, Most Wise.”

 

تشریح:

 

 

کافروں کے لیے اہلِ ایمان کے فتنہ بننے کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں جن سے ہر مومن کو خدا کی پناہ مانگنی چاہیے۔ مثال کے طور پر اس کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کافر اُن پر غالب آ جائیں اور اپنے غلبہ کو اس بات کی دلیل قرار دیں کہ ہم حق پر ہیں اور اہل ایمان برسرِ باطل، ورنہ کیسے ہو سکتا تھا کہ اِن لوگوں کو خدا کی رضا حاصل ہوتی اور پھر بھی ہمیں اِن پر غلبہ حاصل ہوتا۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اہلِ ایمان پر کافروں کا ظلم و ستم اُن کی حدِ برداشت سے بڑھ جائے اور آخر کار وہ اُن سے دب کر اپنے دین و اخلاق کا سودا کرنے پر اُتر آئیں۔ یہ چیز دنیا بھر میں مومنوں کی جگ ہنسائی کی موجب ہو گی اور کافروں کو اس سے دین اور اہلِ دین کی تذلیل کا موقع ملے گا۔ تیسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ دینِ حق کی نمائندگی کے مقامِ بلند پر فائز ہونے کے باوجود اہلِ ایمان اُس اخلاقی فضیلت سے محروم رہیں جو اس مقام کے شایانِ شان ہے، اور دنیا کو اُن کی سیرت و کردار میں بھی وہی عیوب نظر آئیں جو جاہلیت کے معاشرے میں عام طور پر پھیلے ہوئے ہوں۔ اس سے کافروں کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ اس دین میں آخر وہ کیا خوبی ہے جو اِسے ہمارے کفر پر شرف عطا کرتی ہو؟

٭٭٭

 

 

 

 

حضرت ابراہیمؑ و حضرت اسمائیلؑ کی دُعا

 

رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَآ أُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ وَأَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیْْنَآ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُولاً مِّنْہُمْ یَتْلُوْ عَلَیْْہِمْ آیَاتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ إِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ (سورۃ البقرۃ: ۱۲۸ ۔۱۲۹)

’’اے رب، ہم دونوں (ابراہیم و اسماعیل علیہم السلام)کو اپنا مسلم(مُطیعِ فرمان) بنا، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اُٹھا، جو تیری مسلم ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا، اور ہماری کوتاہیوں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔اور اے رب،ان لوگوں میں خود انہیں کی قوم سے ایک ایسا رسول اُٹھا ئیو، جو انہیں تیری آیات سُنائے، اُن کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے۔ تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔‘‘

“Our Lord! Make us submissive to You and make out of our descendants a community that submits itself to You, and show us the ways of Your worship, and turn to us in mercy. You are Much-Relenting, Most Compassionate. Our Lord! Raise up in the midst of our offspring a Messenger from among them who shall recite to them Your verses, and instruct them in the Book and in Wisdom, and purify their lives. Verily, You are the Most Mighty, the Most Wise.”

 

تشریح:

 

(۱)… مُسْلِم: وہ جو خدا کے آگے سرِ اطاعت خَم کر دے، خدا ہی کو اپنا مالک، حاکم، آقا اور معبود مان لے، جو اپنے آپ کو بالکلیہ خدا کے سپرد کر دے اور اُس ہدایت کے مطابق دنیا میں زندگی بسر کرے، جو خدا کی طرف سے آئی ہو۔ اس عقیدے اور طرز عمل کا نام ’’اسلام‘‘ ہے اور یہی تمام انبیا کا دین تھا جو ابتدائے آفرینش سے دنیا کے مختلف ملکوں اور قوموں میں آئے۔

(۲)…زندگی سنوارنے میں خیالات،اخلاق،عادات، معاشرت، تمدّن، سیاست غرض ہر چیز کو سنوارنا شامل ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

حضرت مریمؑ کی والدہ کی دُعا

 

رَبِّ إِنِّیْ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔

(سورۃ آل عمران: ۳۵)

’’میرے پروردگار، میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے تیری نذر کرتی ہوں، وہ تیرے ہی کام کے لیے وقف ہو گا۔ میری اس پیشکش کو قبول فرما۔تو سُننے اور جاننے والا ہے۔‘‘

“O Lord! Behold, unto You do I vow that the child in my womb is to be devoted to Your exclusive service. Accept it, then, from me. Surely You alone are All-Hearing, All-Knowing.”

 

تشریح:

 

نذر یہ ہے کہ آدمی اپنی کسی مراد کے بر آنے پر کسی ایسے خرچ یا کسی ایسی خدمت کو اپنے اُوپر لازم کر لے، جو اس کے ذمّے فرض نہ ہو۔ اگر یہ مراد کسی حلال و جائز امر کی ہو، اور اللہ سے مانگی گئی ہو، اور اس کے بر آنے پر جو عمل کرنے کا عہد آدمی نے کیا ہے، وہ اللہ ہی کے لیے ہو، تو ایسی نذر اللہ کی اطاعت میں ہے اور اس کا پورا کرنا اجر و ثواب کا موجب ہے۔ اگر یہ صورت نہ ہو، تو ایسی نذر کا ماننا معصیت اور اس کا پورا کرنا موجبِ عذاب ہے۔

(سورۃ البقرۃ: حاشیہ:۳۱۰)

٭٭٭

 

 

 

جنت میں جانے والوں کی دُعا

 

رَبَّنَآ أَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَآ إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْْئٍ قَدِیْرٌ۔ (سورۃ التحریم:۸)

’’ اے ہمارے رب، ہمارا نور ہمارے لیے مکمل کر دے اور ہم سے درگزر فرما، تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘

“Our Lord, perfect for us our light and forgive us. Surely You have power over everything.”

 

تشریح:

 

ا س آیت کو سورۃ الحدید کی آیات ۲۱-۳۱ کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اہلِ ایمان کے آگے آگے نُور کے دوڑنے کی یہ کیفیت اُس وقت پیش آئے گی جب وہ میدانِ حشر سے جنت کی طرف جا رہے ہوں گے۔ وہاں ہر طرف گھُپ اندھیرا ہو گا جس میں وہ سب لوگ ٹھوکریں کھا رہے ہوں گے جن کے حق میں دوزخ کا فیصلہ ہو گا، اور روشنی صرف اہلِ ایمان کے ساتھ ہو گی جس کے سہارے وہ اپنا راستہ طے کر رہے ہوں گے۔ اس نازک موقع پر تاریکیوں میں بھٹکنے والے لوگوں کی آہ و فغاں سُن سُن کر اہلِ ایمان پر خَشِیّت کی کیفیت طاری ہو رہی ہو گی، اپنے قصوروں اور اپنی کوتاہیوں کا احساس کر کے انہیں اندیشہ لاحق ہو گا کہ کہیں ہمارا نور بھی نہ چھِن جائے اور ہم اِن بد بختوں کی طرح ٹھوکریں کھاتے نہ رہ جائیں، اس لیے وہ دُعا کریں گے کہ اَے ہمارے رب، ہمارے قصور معاف فرما دے اور ہمارے نور کو جنت میں پہنچنے تک ہمارے لیے باقی رکھ۔ ابن جریرؒ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا کے معنی یہ ہیں کہ ’’وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ ان کا نور اُس وقت تک باقی رکھا جائے اور اُسے بُجھنے نہ دیا جائے جب تک وہ پُل صراط سے بخیریت نہ گزر جائیں۔‘‘ حضرت حسن بصریؒ اور مجاہدؒ اور ضحّاکؒ کی تفسیر بھی قریب قریب یہی ہے۔ ابن کثیرؒ نے ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ’’ اہلِ ایمان جب یہ دیکھیں گے کہ منافقین نور سے محروم رہ گئے ہیں تو وہ اپنے حق میں اللہ سے تکمیلِ نور کی دعا کریں گے۔‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

فرعون کی مومن بیوی کی دُعا

 

رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْْتاً فِیْ الْجَنَّۃِ وَنَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہٖ وَنَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ۔

(سورۃ التحریم:۱۱)

’’اے میرے رب، میرے لیے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا دے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچا لے اور ظالم قوم سے مجھ کو نجات دے۔‘‘

“My Lord, build for me a house with You in Paradise and deliver me from Pharaoh and his misdeeds; and deliver me from the iniquitous people.”

 

تشریح:

 

یعنی فرعون جو بُرے اعمال کر رہا ہے ان کے انجامِ بد میں مجھے شریک نہ کر۔

٭٭٭

 

 

 

حضرت نوحؑ کی دُعا

 

رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْْتِیَ مُؤْمِناً وَّلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِیْنَ إِلَّا تَبَارًا۔ (سورۃ نوح:۲۸)

’’میرے رب،مجھے اور میرے والدین کو، اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے، اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرما دے، اور ظالموں کے لیے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کر۔‘‘

“My Lord, forgive me and my parents, and whoever enters my house as a believer, and forgive all believers, both men and women, and do not increase the wrong-doers in anything except perdition.”

 

تشریح:

 

ظالم سے مراد وہ لوگ ہیں جن تک اللہ کا کلام اور اس کے نبیﷺ کی تعلیم پہنچے اور پھر وہ خوب سوچ سمجھ کر، جان بوجھ کر یہ فیصلہ کریں کہ ہمیں اس کی پیروی نہیں کرنی ہے۔ ان میں وہ ظالم بھی شامل ہیں جو صاف صاف کہہ دیں کہ ہم اس کلام کو خدا کا کلام اور اس نبیﷺ کو خدا کا نبیﷺ نہیں مانتے، یا سرے سے خدا ہی کو نہیں مانتے۔ اور وہ ظالم بھی شامل ہیں جو خدا اور نبیﷺ اور قرآن کو ماننے سے انکار تو نہیں کرتے مگر فیصلہ ان کا یہی ہوتا ہے کہ ہمیں اس کی پیروی نہیں کرنی ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ دونوں ہی گروہ ظالم ہیں۔ پہلے گروہ کا معاملہ تو صاف ہی ہے۔ لیکن دوسرا گروہ بھی اس سے کچھ کم ظالم نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ وہ منافق اور دغا باز بھی ہے۔ زبان سے کہتا ہے کہ ہم خدا کو مانتے ہیں، رسولﷺکو مانتے ہیں، قرآن کو مانتے ہیں، مگر ان کے دل اور دماغ کا فیصلہ یہی ہوتا ہے کہ اس کا اتباع انہیں نہیں کرنا ہے اور عمل بھی وہ اس کے خلاف ہی کرتے ہیں۔‘‘

(سورۃ الدہر،حاشیہ:۳۴)

٭٭٭

 

 

 

طلبِ مغفرت

 

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِیْ أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ۔

(سورۃ آل عمران: ۱۴۷)

’’اے ہمارے رب، ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما، ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہو گیا ہو اُسے معاف کر دے، ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد کر۔‘‘

“Our Lord! Forgive us our sins, and our excesses, in our affairs and set our feet firm, and succour us against those who deny the Truth.”

 

تشریح:

 

مسلمان کو جو چیز کافر سے ممیز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ کافر مطلق آزادی کا مدعی ہوتا ہے، اور مسلمان فی الاصل بندہ ہونے کے بعد صرف اس دائرے میں آزادی سے متمتع ہوتا ہے جو اس کے رب نے اسے دی ہے۔ کافر اپنے سارے معاملات کا فیصلہ خود اپنے بنائے ہوئے اصول اور قوانین اور ضوابط کے مطابق کرتا ہے اور سرے سے کسی خدائی سند کا اپنے آپ کو حاجت مند سمجھتا ہی نہیں۔ اس کے برعکس مسلمان اپنے ہر معاملہ میں سب سے پہلے خدا اور اس کے رسولﷺ کی طرف رجوع کرتا ہے، پھر اگر وہاں سے کوئی حکم ملے تو وہ اس کی پیروی کرتا ہے،اور اگر کوئی حکم نہ ملے تو وہ صرف اس صورت میں آزادیِ عمل برتتا ہے، اور اس کی یہ آزادیِ عمل اس حجت پر مبنی ہوتی ہے کہ اس معاملہ میں شارع کا حکم نہ دینا اس کی طرف سے آزادی ٔ عمل عطا کئے جانے کی دلیل ہے۔‘‘

٭٭٭

 

 

طالوت اور اس کے ساتھیوں کی دُعا

 

رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَیْْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ۔ (سورۃ البقرہ:۲۵۰)

’’اے ہمارے رب! ہم پر صبر کا فیضان کر، ہمارے قدم جما دے اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر۔‘‘

“Our Lord! Shower us with patience, and set our feet firm, and grant us victory over this unbelieving people.”

 

تشریح:

 

جہاں تک صبر کا تعلق ہے،قرآن مجید جس وسیع مفہوم میں اس لفظ کو استعمال کرتا ہے اُس کے لحاظ سے مومن کی پوری زندگی صبر کی زندگی ہے، اور ایمان کے راستے پر قدم رکھتے ہی آدمی کے صبر کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ خدا کی فرض کردہ عبادتوں کے انجام دینے میں صبر درکار ہے۔ خدا کے احکام کی اطاعت و پیروی میں صبر کی ضرورت ہے۔ خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا صبر کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اخلاق کی بر ائیوں کو چھوڑنا اور پاکیزہ اخلاق اختیار کرنا صبر چاہتا ہے۔ قدم قدم پر گناہوں کی ترغیبات سامنے آتی ہیں جن کا مقابلہ صبر ہی سے ہو سکتا ہے۔ بے شمار مواقع زندگی میں ایسے پیش آتے ہیں جن میں خدا کے قانون کی پیروی کی جائے تو نقصانات، تکالیف، مصائب، اور محرومیوں سے سابقہ پڑتا ہے اوراس کے برعکس نافرمانی کی راہ اختیار کی جائے تو فا ئدے اور لذّتیں حاصل ہوتی نظر آتی ہیں۔ صبر کے بغیر ان مواقع سے کوئی مومن بخیریت نہیں گزر سکتا۔

پھر ایمان کی راہ اختیار کرتے ہی آدمی کو اپنے نفس اور اس کی خواہشات سے لے کر اپنے اہل و عیال، اپنے خاندان، اپنے معاشرے، اپنے ملک و قوم، اور دنیا بھر کے شیاطینِ جنّ و انس کی مزاحمتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حتیٰ کہ راہ خدا میں ہجرت اور جہاد کی نوبت بھی آ جاتی ہے۔ ان سب حالات میں صبر ہی کی صفت آدمی کو ثابت قدم رکھ سکتی ہے۔ اب یہ ظاہر بات ہے کہ ایک ایک مومن اکیلا اکیلا اس شدید امتحان میں پڑ جائے تو ہر وقت شکست کھا جانے کے خطرے سے دوچار ہو گا اور مشکل ہی سے کامیاب ہو سکے گا۔ بخلاف اِس کے اگر ایک مومن معاشرہ ایسا موجود ہو جس کا ہر فرد خود بھی صابر ہو اور جس کے سارے افراد ایک دوسرے کو صبر کے اِس ہمہ گیر امتحان میں سہارا دے رہے ہوں تو کامرانیاں اُس معاشرے کے قدم چومیں گی۔ بدی کے مقابلے میں ایک بے پناہ طاقت پیدا ہو جائے گی۔ انسانی معاشرے کو بھلائی کے راستے پر لانے کے لیے ایک زبردست لشکر تیار ہو جائے گا۔ (سورۃ البلد حاشیہ: ۱۴)

٭٭٭

 

 

 

راسخ فی العلم کی دُعا

 

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَیْْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِن لَّدُنْکَ رَحْمَۃً إِنَّکَ أَنْتَ الْوَہَّابُ۔

(سورۃ آل عمران: ۸)

’’پروردگار، جب تْو ہمیں سیدھے راستہ پر لگا چکا ہے، تو پھر کہیں ہمارے دلوں کو کجی میں مُبتلا نہ کر دیجیو۔ ہمیں اپنے خزانۂ فیض سے رحمت عطا کر کہ تو ہی فیاضِ حقیقی ہے۔‘‘

“Our Lord! Do not let our hearts swerve towards crookedness after You have guided us to the right way, and. bestow upon us Your mercy for you are the Munificent Giver.”

٭٭٭

 

 

 

مومنین کی ایک دُعا

 

رَبَّنَآ آمَنَّا بِمَآ أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِیْنَ۔ (سورۃ آل عمران:۵۳)

’’ اے ہمارے مالک، جو فرمان تو نے نازل کیا ہے ہم نے اُسے مان لیا اور رسولﷺ کی پیروی قبول کی، ہمارانام گواہی دینے والوں میں لکھ دے۔‘‘

“Our Lord! We believe in the commandment You have revealed and we obey the Messenger; make us, then, one of those who bear witness (to the Truth”.)

٭٭٭

 

 

 

 

حضرت آدمؑ وحواؑ کی دُعائے مغفرت

 

رَبَّنَا ظَلَمْنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ۔     (سورۃ الاعراف:۲۳)

’’اے ربّ، ہم نے اپنے اُوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے درگزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے۔‘‘

“Our Lord! We have wronged ourselves. If You do not forgive us and do not have mercy on us, we shall surely be among the losers.”

٭٭٭

 

 

 

اصحاب کہف کی غار میں پناہ لیتے ہوئے دُعا

 

رَبَّنَآ آتِنَا مِن لَّدُنْکَ رَحْمَۃً وَّہَیِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا۔ (سورۃ الکہف:۱۰)

’’اے پروردگار،ہم کو اپنی رحمتِ خاص سے نوازاور ہمارا معاملہ دُرست کر دے۔‘‘

“Our Lord! Grant us mercy from Yourself and provide for us rectitude in our affairs.”

٭٭٭

 

 

 

 

شیطانی وساوس سے تعوذ

 

رَبِّ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ۔وَأَعُوْذُ بِکَ رَبِّ أَن یَّحْضُرونِِ۔

( سورۃ المومنون:۷ ۹۔۹۸)

’’پروردگار، میں شیاطین کی اُکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بلکہ اے میرے ربّ، میں تو اِس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں۔‘‘

“My Lord! I seek Your refuge from the suggestions of the evil ones; I even seek Your refuge, my Lord, lest they should approach me.”

٭٭٭

 

 

 

حق کی فتح و نصرت کے لیے دُعا

 

رَبَّنَا افْتَحْ بَیْْنَنَا وَبَیْْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَیْْر الْفَاتِحِیْنَ۔ (سورۃ الاعراف:۸۹)

’’اے ربّ، ہماری اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘

“Our Lord! Judge rightly between us and our people, for You are the best of those who judge.”

٭٭٭

 

 

 

مدین پہنچ کر موسیٰؑ کی دُعا

 

رَبِّ إِنِّیْ لِمَآ أَنزَلْتَ إِلَیَّ مِنْ خَیْْرٍ فَقِیْرٌ۔

(سورۃ القصص:۲۴)

’’پروردگار، جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کر دے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘

“My Lord, I am truly in great need of any good that You might send down to me.”

٭٭٭

 

 

حضرت زکریاؑ کی دُعا

 

رَبِّ إِنِّیْ وَہَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَیْْباً وَّلَمْ أَکُنْ بِدُعَآئِکَ رَبِّ شَقِیًّا۔وَإِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِن وَّرَآئِیْ وَکَانَتِ امْرَأَتِیْ عَاقِرًا فَہَبْ لِیْ مِن لَّدُنْکَ وَلِیًّا۔یَرِثُنِیْ وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوْبَ وَاجْعَلْہُ رَبِّ رَضِیّاً۔ (سورۃ مریم: ۴۔۶)

’’اے پروردگار، میری ہڈیاں تک گھُل گئی ہیں اور سر بڑھاپے سے بھڑک اُٹھا ہے۔ اے پروردگار، میں کبھی تجھ سے دُعا مانگ کر نامراد نہیں رہا۔ مجھے اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں کی بُرائیوں کا خوف ہے، اور میری بیوی بانجھ ہے۔ تو مجھے اپنے فضلِ خاص سے ایک وارث عطا کر دے جو میرا وارث بھی ہو اور آلِ یعقوب علیہ السلام کی میراث بھی پائے،اور اے پروردگار،اُس کو ایک پسندیدہ انسان بنا۔‘‘

“Lord! My bones have grown feeble and my head is glistening with age; yet, never have my prayers to You, my Lord, been unfruitful. I fear evil from my kinsmen after I am gone; and my wife is barren, so grant me an heir out of Your special grace, one that might be my heir and the heir of the house of Jacob; and make him, Lord, one that will be pleasing to You.”

 

تشریح:

 

(۱) …مطلب یہ کہ میرے خاندان میں میرے بعد کوئی ایسا نظر نہیں آتا جو دینی اور اخلاقی حیثیت سے اس منصب کا اہل ہو جسے میں سنبھالے ہوئے ہوں۔ آگے جو نسل اُٹھتی نظر آ رہی ہے اس کے لچھن بگڑے ہوئے ہیں۔

(۲)… یعنی مجھے صرف اپنی ذات ہی کا وارث مطلوب نہیں ہے بلکہ خانوادۂ یعقوبؑ کی بھلائیوں کا وارث بھی مطلوب ہے۔

٭٭٭

 

 

 

حضرت زکریاؑ کی ایک اور دُعا

 

رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّأَنْتَ خَیْْر الْوَارِثِیْنَ۔

(سورۃالانبیا:۸۹)

’’اے پروردگار، مجھے اکیلا نہ چھوڑ، اور بہترین وارث تو تُو ہی ہے۔‘‘

“Lord! Leave me not solitary (without any issue). You are the Best Inheritor.”

٭٭٭

 

 

 

حضرت یونسؑ کی دُعا مچھلی کے پیٹ میں

 

لَّا ٓإِلٰہَ إِلَّا ٓأَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ۔ (سورۃالانبیا:۸۷)

’’نہیں ہے کوئی خدا مگر تُو، پاک ہے تیری ذات، بے شک میں نے قُصور کیا۔‘‘

“There is no god but You. Glory be to You! I have done wrong.”

٭٭٭

تشکر: مصنف جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید