FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

خواجہ فرید گنج شکر اور نظام الدین اولیاء کے حالات زندگی

 

                   عابد نظامی

 

ماخوذ از ’راحت القلوب‘ ملفوظات گنج شکر

 

 

 

 

حضرت شیخ العالم خواجہ فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ​

 

پاک و ہند میں اسلام صوفیائے کرام کی مساعی جمیلہ سے پھیلا ۔ اس خطے میں ان مردانِ با خدا کا وجود مسعود اللہ تعالی کا بہت بڑا انعام تھا (اور بفضلہ تعالی اب بھی ہے) ۔ برصغیر میں مسلمان سلاطین نے کم و بیش ایک ہزار سال تک حکومت کی ، اس دوران میں ہندوؤں نے اسلامی کلچر کو نقصان پہنچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر صوفیا کرام کی مسلسل تبلیغی کوششوں کے سامنے وہ کبھی کامیاب نہ ہوسکے ۔ پروفیسر ایچ آر گب نے کتنا صحیح لکھا ہے:

تاریخ اسلام میں بارہا ایسے مواقع آئے کہ اسلام کے کلچر کا شدت سے مقابلہ کیا گیا ، لیکن بایں ہمہ وہ مغلوب نہ ہو سکا ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ صوفیا کا انداز فکر فوراً اس کی مدد کو آ جاتا تھا اور اس کو اتنی قوت اور توانائی بخش دیتا تھا کہ کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہ کرسکتی تھی۔

(اسلامک کلچر مطبوعہ لندن)

صوفیا کرام کا ہاتھ ہمیشہ ملت کی نبض پر اور دماغ تجدید و احیا کی تدابیر سوچنے میں مصروف رہا ۔ مادیت کے سیلاب کو روکنے اور ذہنی انتشار کو ختم کرنے کا جو عظیم الشان کام اس جماعت نے سرانجام دیا وہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔

بلاشبہ ان بزرگوں نے جب کبھی قوم کا اخلاقی مزاج بگڑتا ہوا دیکھا تو اپنی تمام تر ذہنی اور عملی صلاحیتیں صحت مند عناصر کو ابھارنے میں صرف کر دیں۔

حضرت خواجہ فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کو جب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ نے دہلی میں تبلیغ و ہدایت کے منصب پر مامور فرمایا تو اس وقت حالات نہایت ہی نامساعد تھے ، سلطان التمش کی وفات ہو چکی تھی ، بڑے بڑے علما موقع سے فائدہ اٹھا کر میدانِ سیاست میں کود پڑے تھے ۔ لیکن حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے سیاسی بکھیڑوں سے بچ کر دینِ حق کی خاطر جو شاندار خدمات سر انجام دیں ، وہ آج بھی تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھی ہوئی نظر آتی ہیں۔

حضرت بابا صاحب دہلی میں حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے سجادے پر بیٹھے تھے ، لیکن جب انہوں نے محسوس کیا کہ دارالسلطنت کا ماحول تبلغ و ترویج پر اثر انداز ہونے لگا ہے تو وہ دہلی چھوڑ کر ہانسی تشریف لے گئے ۔ بعض لوگوں نے اعتراض کیا کہ آپ کے پیر و مرشد نے یہی مقام آپ کو دیا تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا ” میرے پیر نے جو نعمت مجھے عطا فرمائی وہ کسی خاص مقام سے وابستہ نہیں ہے” (سیر الاولیا صفحہ 73)

حضرت بابا صاحب پہلے ہانسی اور بعد میں اجودھن تسریف لے گئے ۔ اجودھن پاک پتن کا پرانا نام ہے ۔ یہاں بابا صاحب نے اپنی تربیت خاس کے سانچے میں ڈھال کر جو لوگ تیا کئے ان میں شیخ جمال الدین ہانسوی ، شیخ بدر الدین اسحاق ، شیخ نظام الدین اولیا محبوب الہی ، شیخ علی احمد صابر کلیری اور شیخ عارف جیسے مردان حق شامل ہیں جو بابا ساحب کے مکتبِ صحبت سے فارغ ہونے کے بعد ملک کے طول و عرض میں پھیل گئے اور ہر طرف خدا کے دین کا بول بالا کر دیا۔

 

بابا صاحب کا شجرہ نسب

 

تمام تذکرہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت بابا صاحب رحمۃ اللہ علیہ صحیح النسل فاروقی ہیں ۔ حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ان کا سلسلہ نسب اس طرح مل جاتا ہے؛

1۔حضرت شیخ جمال الدین سلیمان (والد)

2۔ شیخ شعیب

3۔ شیخ احمد

4۔ شیخ یوسف

5۔ شیخ محمد

6۔ شیخ شہاب الدین

7۔ شیخ احمد ( معروف بہ فرخ شاہ بادشاہ کابل )

8۔ شیخ نصیر الدین

9۔ محمود شاہ

10۔ سامان شاہ

11۔ شیخ سلیمان

12۔ شیخ مسعود

13۔ شیخ عبداللہ واعظ الاکبر

14۔ شیخ ابوالفتح

15۔ شیخ اسحاق

16۔ حضرت خواجہ ابراہیم شاہ بلخ

17۔ خواجہ ادھم

18۔ شیخ سلیمان

19۔ شیخ ناصر

20۔ حضرت عبداللہ

21۔ امیر المومنین حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ؛

 

والدین کریمین

 

بابا صاحب کے دادا حضرت شیخ شعیب کو اللہ تعالی نے تین فرزند عنایت فرمائے

1۔ خواجہ جمال الدین سلیمان

2۔ خواجہ احمد

3۔ خواجہ سعد حاجی

خواجہ جمال الدین سلیمان حضرت بابا صاحب کے والد تھے جو نہایت عالم و فاضل اور دیندار بزرگ تھے ۔ جن دنوں خواجہ شعیب کھتوال میں سکونت پذیر تھے ، انہی دنوں نواحِ کابل سے ایک خاندان ہجرت کر کے قصبہ کوٹ کروڑ (نواح ملتان) اقامت گزیں ہوا ۔ اس خاندان کے سربراہ مولانا وجیہہ الدین خجوندی تھے ، جو متبحر عالم اور نہایت متقی بزرگ تھے ۔ ان کا سلسلہ نسب حضرت عباس بن عبدالمطلب سے ملتا تھا ۔ ان کی صاحبزادی قرسم خاتون تھیں ۔ خواجہ شعیب نے مولانا وجیہہ الدین خجوندی سے اپنے فرزند خواجہ سلیمان کے لیے بی بی قرسم خاتون کے رشتے کی درخواست کی ۔ مولانا خجوندی فوراً رضامند ہو گئے ۔ اس طرح خواجہ سلیمان اور بی بی قرسم خاتون کا عقد عمل میں آیا۔

خواجہ سلیمان کی طرح حضرت بی بی قرسم خاتون بھی نہایت عبادت گزار اور شب زندہ دار خاتون تھیں۔ اکثر تذکرہ نگاروں نے لکھا کہ وہ کثرتِ عبادت کی بدولت درجہ ولایت پر فائز تھیں۔

حضرت خواجہ نظام الدین اولیا محبوب الٰہی فرماتے ہیں کہ ایک رات بی بی قرسم خاتون نماز تہجد میں مشغول تھیں کہ ایک چور گھر میں گھس آیا۔ جونہی بی بی صاحبہ کی نظر اس پر پڑی تو وہ بینائی سے محروم ہو گیا ۔ اس پر اس نے گریہ و زاری شروع کر دی اور کہنے لگا کہ جس نیک بخت کی بددعا سے میری بینائی سلب ہوئی ہے میں اس سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر میری بینائی دوبارہ مجھے جائے تو میں عمر بھر چوری نہ کروں گا۔

بی بی صاحبہ کو اس کی فریاد اور گریہ زاری پر ترس آگیا اور انہوں نے بارگاہ الہی میں اس کی بینائی کے لیے دعا کی۔ چور کی بصارت عود کر آئی۔ اس وقت بی بی صاحبہ کے قدموں میں گر کر معافی اور رخصت ہو گیا۔

اگلی صبح وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ حاضر خدمت ہوا اور اہل و عیال سمیت مشرف باسلام ہو گیا ۔ حضرت بی بی صاحبہ نے اس کا اسلامی نام عبداللہ رکھا۔ عبد اللہ قبول اسلام کے بعد کثرت مجاہدات و ریاضات کی بدولت درجہ ولایت پر پہنچا اور اسے خاندانِ خواجہ شعیب کی طرف سے “چاولے مشائخ” کا لقب عطا ہوا۔ بعد میں قصبہ کھتوال اسی کے نام سے “چاولے مشائخ” سے مشہور ہو گیا۔

حضرت خواجہ شعیب اور خواجہ سلیمان کو اللہ تعالی نے تین فرزند اور ایک صاحبزادی عطا فرمائی جن کے نام یہ ہیں

1۔ حضرت عزیز الدین رحمۃ اللہ علیہ

2۔ بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ

3۔ حضرت نجیب الدین متوکل

4۔ حضرت بی بی ہاجرہ ملقب بہ جمیلہ خاتون (والدہ ماجدہ حضرت مخدوم سید علاوالدین علی احمد صابر کلیری)

 

ابتدائی تعلیم

 

حضرت بابا صاحب رحمۃ اللہ علیہ ابھی کم سن تھے کہ ان کے والد ماجد نے وفات پائی اور ان کی تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری ان کی والدہ محترمہ کے سر پر آ پڑی ۔ وہ خود علم و فضل کے اعتبار سے بلند مقام رکتی تھیں ۔ انہوں نے نہایت توجہ سے اپنے لخت جگر کی پرورش اور تربیت کی ۔ بابا صاحب نے ابتدائی تعلیم کھتوال سے حاصل کی ۔ نہایت ذہین اور محنتی تھے ۔ جو سبق ایک دفعہ پڑھ لیتے ہمیشہ کے لیے ذہن نشین ہو جاتا۔

بابا صاحب بچپن میں ہی نہایت اعلی اخلاق کے مالک تھے۔ بدتمیز اور شرارتی بچوں کے ساتھ نہ کھیلتے ۔ انکی والدہ کی تربیت کا یہ عالم تھا کہ کم سنی میں ہی نماز کے سخت پابند ہو گئے تھے۔ سات سال کی عمر میں انہوں نے تمام ابتدائی دینی کتب ختم کر لیں تو والدہ کو ان کی مزید تعلیم کی فکر ہوئی۔ کھتوال میں کوئی ایسا عالم نہ تھا جو آپ کو علوم متداولہ کی تکمیل کرا سکتا۔ ملتان ان دنوں علم و دانش کا مرکز تھا ، وہاں بڑے بڑے نامور علما موجود تھے ، چنانچہ بابا صاحب کی والدہ نے انہیں مزید تعلیم کے لیے ملتان بھیج دیا۔

 

ملتان میں قیام

 

ملتان پہنچ کر آپ نے ایک مسجد میں قیام کیا۔ یہ مسجد ایک سرائے میں واقع تھی ، جہاں اس دور کے ایک نامور عالمِ دین مولانا منہاج الدین ترمذی درس دیا کرتے تھے۔ بابا صاحب نے انہی سے علوم دینہ کی تعلیم شروع کی اور دو تین سال کے اندر اندر تفسیر ، حدیث ، اصول ، معانی ، فلسفہ ، منطق ، ریاضی اور ہیئت کی کتابیں ختم کر لیں ۔ ایک روایت ہے کہ انہوں نے قرآن مجید بھی اسی مسجد میں حفظ کیا (بعض تذکرہ نگاروں کے مطابق قرآن حکیم بابا صاحب نے کھتوال ہی میں حفظ کر لیا تھا)۔

اسی مسجد میں ایک روز بابا صاحب فقہ کی مشہور کتاب نافع پڑھ رہے تھے کہ قطب عالم حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ وہاں تشریف لائے ۔ انہوں نے بابا صاحب کو مصروف مطالعہ پا کر پوچھا ؛ میاں ! کیا پڑھتے ہو؟

آپ نے جواب دیا نافع! حضرت نے پھر سوال کیا : کیا اس کے مطالعہ سے تمہیں کچھ نفع حاصل ہو گا؟

اب جو بابا صاحب کی قطب عالم سے نظریں چار ہوئیں تو عجیب کیفیت ہوئی ، فوراً قدموں پر سر رکھ دیا اور عرض کیا : حضرت نفع تو مجھے آپ کی نگاہِ کیمیا اثر سے حاصل ہو گا!

اب کیا تھا ۔ بابا صاحب حضرت خواجہ قطب صاحب کے دامن دولت سے وابستہ ہو گئے۔ حضرت قطب صاحب جتنے روز ملتان مقیم رہے بابا صاحب ان کی صحبت سے مستفیذ ہوتے رہے ، جب قطب صاحب دہلی کے لئے روانہ ہونے لگے تو بابا صاحب بھی ان کے ساتھ چل دیئے ۔ ابھی چند میل ہی چلے ہوں گے کہ قطب صاحب نے ارشاد فرمایا:

“میرے عزیر! ابھی کچھ مدت اور علم ظاہری کی تحصیل میں صرف کرو۔ فارغ ہو جاؤ تو میرے پاس آ جانا۔ ان شاء اللہ اپنی مراد کو پہنچو گے” بابا صاحب نے پیر و مرشد کے اس ارشاد کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا۔

ملتان سے تکمیلِ علوم کے بعد انہوں نے مزید پانچ سال تعلیم کے لیے خطہ قندھار ، غزنی ، بغداد ، سیوستان اور بدخشاں وغیرہ میں گزارے اور پھر دہلی میں آئے۔ جہاں حضرت قطب صاحب کے آستانے پر حاضری دی۔ قطب صاحب نے فرمایا : ” خوب ہوا۔ تم اپنا کام پورا کر کے میرے پاس آئے”

بعض تذکروں میں یہ بھی ہے کہ بابا صاحب نے دہلی آ کر حضرت قطب صاحب کی بیعت کی۔ خود ” فوائد السالکین” میں بابا صاحب نے اپنی بیعت کا واقعہ اس طرح سے بیان کیا ہے ؛

جب اس بندہ حقیر خادمِ درویشاں کو حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کی نعمتِ قدمبوسی حاصل ہوئی ، تو آپ نے اسی وقت کلاہ چہار ترکی میرے سر پر رکھی۔ اس مجلس میں قاضی حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا علاوالدین کرمانی ، سید نور الدین مبارک رحمۃ اللہ علیہ ، شیخ نظام الدین الموید ، مولانا شمس الدین ترک رحمۃ اللہ علیہ ، شیخ محمود موئنہ دوز اور بہت سے دوسرے درویش موجود تھے۔ اسی موقع پر حضرت خواجہ بختیار کاکی نے فرمایا : “اے فرید! مرشد میں اتنی قوت باطنی ضرور ہونی چاہیے کہ جو شخص اس سے بیعت کا طالب ہو اس کے سینے کی آلائش کو اپنے تصرفِ روحانی سے ایک ہی نگاہ میں دور کر دے اور اس کے بعد اس سے بیعت لے کر واصل الی اللہ کر دے۔ اگر مرشد میں اتنی قوت نہیں تو پیر اور مرید دونوں بادیہ ضلالت میں ہیں”

بعض تذکرہ نگاروں نے قیاساً لکھا ہے کہ قطب صاحب نے ملتان میں بابا صاحب سے رسمی بیعت لی اور جب وہ تعلیم و سیاحت سے فارغ ہو کر دہلی آئے تو ان کے سر پر کلاہ چہار ترکی رکھی اور باقاعدہ اپنے حلقہ ارادت میں شامل فرمایا۔

بابا صاحب نے دیکھا کہ دہلی میں ہجوم مرداں کی وجہ سے یکسوئی میسر نہیں تو مرشدِ کامل کی اجازت سے ہانسی چلے گئے ، لیکن وہاں سے دہلی آتے جاتے رہے۔

ایک دفعہ آپ دہلی آئے تو خواجہ خواجگاں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ بھی تشریف فرما تھے ۔ چناچہ آپ ان کی توجہ سے فیض یاب ہوئے۔ “سیر العارفین” میں لکھا ہے کہ حضرت خواجہ اجمیری رحمۃ اللہ علیہ بابا صاحب کے ذوق و شوق اور روحانی استعداد سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے ان کے پیر و مرشد اور اپنے مرید و خلیفہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی سے فرمایا :

“بابا بختیار! شہباز عظیم بقید آوردہ کہ جز بہ سدرۃ المنتہے آشیاں نگیرد۔ این فرید شمعیست کہ خانوادہ درویشاں منور سازد” (سیر العارفین صفحہ 23)

 

گنج شکر

 

گنج شکر کی وجہ تسمیہ کے بارے میں تذکرہ نگاروں نے مختلف روایات لکھی ہیں یہاں پر صرف تین روایتیں درج کی جاتی ہیں۔

تاریخ فرشتہ میں مرقوم ہے کہ بابا صاحب کی والدہ ماجدہ بچپن میں نماز کی پابندی کرانے کے لئے ان کی جا نماز کے نیچے شکر کی پڑیا رکھ دیا کرتی تھیں اور ان سے فرماتی تھیں کہ جو نماز پڑھتے ہیں ، ان کی جا نماز کے نیچے سے روزانہ انکو شکر مل جاتی ہے ۔ ایک دن ایسا ہوا کہ والدہ شکر کی پڑیا رکھنا بھول گئیں۔ کچھ دیر بعد انہیں یاد آیا تو گھبرا کر پوچھا : مسعود ! تم نے نماز پڑھی؟ بابا صاحب نے ادب سے جواب دیا : ہاں امی جان ! نماز پڑھ لی اور شکر بھی کھا لی ۔ یہ جواب سن کر انکی والدہ بڑی حیران ہوئیں اور سمجھ گئیں کہ اس بچے کی غیب سے مدد ہوئی ہے ۔ چنانچہ اس وقت سے انہوں نے اپنے بچے مسعود کو گنج شکر کہنا شروع کر دیا۔

اخبار الاخیار ، خزینۃ الاصفیا اور گلزار ابرار میں لکھا ہے کہ ایک سوداگر گاڑی پر شکر لاد کر ملتان سے دہلی جا رہا تھا ، جب اجودھن پہنچا تو راستے میں حضرت شیخ کھڑے تھے آپ نے اس سے پوچھا کہ اس میں کیا لدا ہوا ہے؟ سوداگر نے ٹالنے کے لیے کہا: نمک ہے بابا اس ہر آپ نے فرمایا : اچھا نمک ہی ہو گا ۔ سوداگر نے منزل پر پہنچ کر جب دیکھا تو بوروں میں شکر کے بجائے نمک تھا۔ بہت پریشان ہوا اور پھر واپس منزل اجودھن حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور معافی طلب کی ۔ آپ نے فرمایا : جھوٹ بولنا بری بات ہے ۔ آئندہ کبھی جھوٹ نہ بولنا۔ پھر فرمایا : بوروں میں شکر تھی تو ان شا اللہ شکر ہی ہو گی۔

سوداگر نے جھوٹ سے توبہ کی اور جا کر بوروں کو دیکھا تو ان میں شکر بھری ہوئی تھی۔ بیرم خان خانخاناں نے اس واقعہ کو اس طرح نظم کیا ہے

کانِ نمک ، جہانِ شکر ۔ شیخ بحر و بر

آں کز شکر نمک کند داز نمک شکر

تیسری روایت اس طرح سے ہے کہ :

ایک دفعہ بابا صاحب نے اپنے پیر و مرشد حضرت قطب صاحب کے ارشاد کے مطابق تین دن کا روزہ رکھا ۔ تیسرے روز افطار کے وقت ایک شخص چند روٹیاں لایا۔ آپ نے غیبی امداد سمجھ کر ان سے روزہ افطار کر لیا۔ لیکن فوراًبا ہی متلی ہونے لگی اور جو کچھ کھایا تھا قے کے ذریعے نکل گیا۔

تھوڑی دیر بعد پیر و مرشد کی خدمت میں پہنچ کر یہ واقعہ عرض کیا ۔ انہوں نے فرمایا وہ روٹیاں ایک شرابی جواری نے بھجوائی تھیں ۔ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ تیرے معدے نے اسے قبول نہیں کیا ۔ اب تین روزے اور رکھو اور جو غیب سے میسر آئے اس سے افطار کرو۔

بابا صاحب نے تین دن کا روزہ رکھا ۔ لیکن تیسرے روز افطار کے وقت کچھ میسر نہ آیا ۔ رات کو بھوک نے بہت ستایا تو بابا صاحب نے چند کنکریاں اٹھا کر منہ میں رکھ لیں ۔ اللہ کی قدرت کہ وہ کنکریاں منہ میں جاتے ہی شکر بن گئیں۔ بابا صاحب نے یہ واقعہ اپنے مرشد کریم کی خدمت میں بیان کیا تو انہوں نے فرمایا:

“سبحان اللہ ، یہی غیب سے تھا ۔ ان شا اللہ تو شکر کی طرح ہمیشہ شیریں رہے گا اور گنج شکر کہلائے گا”

جعفر قاسمی نے اس ضمن میں بڑی اچھی بات لکھی ہے کہ حضرت بابا صاحب کو گنجِ شکر اس لئے بھی کہا جاتا ہے کہ ان کا مزاج بہت میٹھا تھا۔

مسندِ خلافت پر فائز ہونے کے بعد بابا صاحب پیر و مرشد کی اجازر ہانسی شریف تشریف لے گئے اور ہمہ وقت تبلیغ اسلام اور خدمت خلق میں مصروف رہنے لگے۔ آپ کو ہانسی میں آئے ابھی تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ ایک رات خواب میں دیکھا کہ حضرت قطب عالم رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ بیدار ہوتے ہی دہلی روانہ ہو گئے ۔

دہلی میں معلوم ہوا کہ پیر و مرشد نے وصال سے قبل اپنا خرقہ ، عصا، نعلین ، مصلی اور دیگر تبرکات حضرت قاضی حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد کیے اور وصیت کی کہ میرا جانشین فرید الدین مسعود ہو گا اور یہ سب تبرکات اسی کو دے دیے جائیں۔

بابا صاحب نے پیر و مرشد کے مزار اقدس پر حاضری دی ۔ بعد ازاں حضرت قظب صاحب کے سب خلفا اور ارباب صحبت جو دہلی میں موجود تھے جمع ہوئے اور سب نے حضرت بابا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو قطب عالم کا جانشین تسلیم کیا۔ اسی محفل میں تمام تبرکات بابا صاحب کے سپرد کیے گئے۔

دہلی میں بابا صاحب نے اپنے مرشد گرامی کی خانقاہ میں قیام فرمایا۔ رات دن عبادت الہی میں مشغول رہتے اور صرف نماز جمعہ کے لیے حجرہ سے باہر تشریف لاتے۔ ایک جمعہ کو حجرہ سے باہر نکلے تو دیکھا کہ ایک درویش باہر کھڑا ہے اس نے بابا صاحب کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا ” شیخ عالم ! ہانسی کے لوگ آپ کی جدائی میں ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہے ہیں، کرم فرمائیے اور ہانسی کو پھر اپنے قدوم میمنت لزوم سے مشرف فرمائیے”

بابا صاحب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے ہانسی جانے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا۔ اس سے لوگوں میں سخت اضطراب پیدا ہوا اور انہوں نے آپ سے دہلی ہی میں قیام کرنے کی درخواست کی ۔ لیکن بابا صاحب نے فرمایا:

“دہلی کی نسبت ہانسی کو میری زیادہ ضرورت ہے ۔ اس لیے میرا وہاں جانا ضروری ہے”

یہ سن کر لوگ خاموش ہو گئے اور بابا صاحب ہانسی تشریف لے گئے۔

ہانسی میں ایک مدت تک قیام فرما رہے ۔ وہاں کے لوگوں نے بابا صاحب کے وجود مسعود سے خوب خوب فیض اٹھایا ۔ شیخ جمال الدین ہانسوی عرصہ سے وہاں مجاہدہ اور ریاضت میں مشغول تھے ۔ بابا صاحب نے اپنی باطنی توجہ سے انہیں درجہ کمال تک پہنچا دیا اور جب ہجوم خلق حد درجہ بڑھا تو شیخ جمال الدین ہانسوی کو اپنی سند خلافت دیکر انہیں ہانسی میں ٹھہرنے کی ہدایت فرمائی اور خود اجودھن (پاک پتن ) کی طرف چل پڑے جہاں کفر و شرک میں ڈوبی ہوئی مخلوق کا یہ علاقہ مدت سے باران رحمت کا منتظر تھا۔

 

بابا صاحب پاک پتن میں

 

ہانسی سے بابا صاحب کھتوال پہنچے اور اپنی والدہ ماجدہ کی خدمت میں رہنے لگے ، لیکن خلقت کا یہ عالم تھا کہ ہر طرف سے ٹوٹی پڑتی تھی۔آپ طبعاً عزلت پسند تھے ۔ جب ہجوم خلق سے بیزار ہو گئے تو ایک روز والدہ صاحبہ سے اجازت لے کر کھتوال سے چل پڑے ۔پھرتے پھراتے ایک غیر معروف قصبہ اجودھن میں پہنچے۔ اجودھن ان دنوں جنگلوں سے گھرا ہوا اور حشرات الارض کا دل پسند مسکن تھا۔ قصبہ کے اطراف میں دور دور تک کفار اور مشرکین کی بستیاں تھیں۔

بابا صاحب نے اپنے قیام کے لیے اس جگہ کو پسند فرمایا۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک شب خواب میں آپ کے مرشد گرامی حضرت قطب العالم رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ فرید! اس قصبہ میں مستقل طور پر اقامت اختیار کر لو اور مخلوق خدا کو راہ حق کی طرف بلاؤ۔

غرض اجودھن سے باہر مغرب کی سمت کریر کے ایک درخت کے نیچے بابا صاحب نے اپنا مصلی بچھایا اور یاد الہی میں مشغول ہو گئے۔

 

مخالفت

 

بابا صاحب کی شبانہ روز کوشش سے جب اجودھن کے در و دیوار جب قال اللہ و قال الرسول سے گونجنے لگے اور ہر طرف مسلمانوں کی چہل پہل ہو گئی تو بعض کوتاہ اندیش محض حسد و بعض کی وجہ سے بابا صاحب کی مخالفت کرنے لگے۔ ان مخالفوں میں سب سے پیش پیش اجودھن کی مسجد کا پیش امام اور قاضی تھا۔ جس نے پہلے تو حکومت کے کارندوں کو بابا صاحب کو ستانے پر اکسایا اور جب اس سے اس کا جی نہ بھرا تو بابا صاحب کے ذوق سماع پر طرح طرح کے اعتراضات کرنے لگا۔

ادھر بابا صاحب کی وسیع القلبی کا یہ عالم تھا کہ وہ مخالفوں کی حرکات کو مطلق خاطر میں نہ لاتے تھے اور اپنا دل میلا نہ کرتے تھے۔بابا صاحب کی اس شانِ بے اعتنائی سے قاضی کا غصہ اور بھڑک اٹھا اور اس نے سماع کے جواز اور عدم جواز کے مسلہ کی آڑ میں بابا صاحب کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ اس نے ملتان کے علما سے آپ کے خلاف فتوی حاصل کرنے کی کوشش کی اور اپنے ایک خط میں علمائے ملتان سے استفسار کیا کہ ایک شخص جو اہل علم میں سے ہے ۔ قوالی سنتا ہے اور وجد کرتا ہے ۔ اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

علمائے ملتان نے قاضی کو تحریر کیا کہ اس شخص کا نام لکھو۔ قاضی نے بابا صاحب کا نام لکھ بھیجا۔ علمائے ملتان نے حضرت کے خلاف فتوی جاری کرنے سے صاف انکار کر دیا اور قاضی کو لکھا کہ تم نے ایک ایسے درویش خدا مست کا نام لکھا ہے جو تمام علوم شریعت کا منتہی ہے ۔ ہماری کیا مجال کہ اس کے قول و فعل پر اعتراض کریں۔

قاضی کا یہ حربہ ناکام ہوا تو اس نے ایک آوارہ گرد لالچی قلندر کو بابا صاحب کے قتل پر آمادہ کیا۔ یہ شخص کپڑوں کے نیچے اپنی کمر میں ایک تیز دھار چھرا چھپا کر آپ کے آستانے پر پہنچا۔ بابا صاحب اس وقت عبادت میں مشغول تھے اور سجدہ میں پڑے ہوئے تھے ۔ صرف سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ علیہ آپ کے پاس موجود تھے۔ بابا صاحب نے حالت سجدہ ہی میں فرمایا:

“یہاں کوئی موجود ہے”

حضرت سلطان المشائخ نے جواب دیا:

“آپ کا غلام نظام الدین حاضر ہے”

بابا صاحب نے فرمایا: یہاں ایک قلندر کھڑا ہے جو کانوں میں سفید رنگ کے مندرے پہنے ہوئے ہے۔

سلطان المشائخ نے اثبات میں جواب دیا تو بابا صاحب نے فرمایا:

“اس شخص کی کمر کے ساتھ چھرا بندھا ہے اور یہ میرے قتل کے ارادے سے آیا ہے اور اس سے کہہ دو کہ اپنی عاقبت خراب نہ کرئے اور یہاں سے چلا جائے”

اس سوال و جواب سے قلندر پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ وہ بھاگ اٹھا اور سیدھا قاضی کے پاس جا کر دم لیا اور اسے کہا : ” ایسے مرد خدا کو قتل کرنا میرے بس میں نہیں”

اب قاضی نے ایک پٹواری کو اکسایا ۔ جس نے بابا صاحب کے فرزندوں کو ناحق ستانا شروع کیا۔ جب اس کا ظلم حد سے بڑھ گیا تو صاحبزادوں نے بابا صاحب سے فریاد کی بابا صاحب جلال میں آ گئے اور اپنا عصا زور سے زمین پر پٹکا اور فرمایا :

“اب وہ تمہیں تنگ نہیں کرے گا”

اسی وقت ظالم پٹواری کے پیٹ میں درد اٹھا ۔ اسے بابا صاحب کے فرزندوں پر اپنی زیادتیاں یاد آئیں۔ اس نے لوگوں سے کہا ، مجھے بابا صاحب کی خدمت میں لے چلو لوگ اسے چارپائی پر ڈال کر بابا صاحب کی خدمت میں لا رہے تھے کہ راسے ہی میں اس کا انتقال ہو گیا۔

اللہ تعالی نے آپ کے خلاف قاضی کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا اور رفتہ رفتہ آپ کے تمام دشمن اور حاسد خائب و خاسر ہو کر بیٹھ گئے۔

 

مریدوں کی تربیت

 

ایک روز مولانا جمال الدین ہانسوی جنگل سے ڈیلے اور مولانا بدر الدین اسحاق لکڑیاں لائے۔ حضرت سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیا نے انکو ابالنے کے لیے چولہے پر چڑھا دیا۔ اتفاق سے اس روز لنگر خانے میں نمک موجود نہ تھا۔ سلطان المشائخ بازار جا کر بقال سے نمک قرض لائے اور ڈیلوں میں ڈالا۔ جس وقت دسترخوان بچھایا گیا اور سب فقرا جمع ہو گئے، تو دعا پڑھنے کے بعد حضرت بابا صاحب نے لقمہ اٹھایا مگر فوراً ہی واپس رکھ دیا اور فرمایا :

“لقمہ گراں ہے ، کوئی شبہ والی بات معلوم ہوتی ہے”

یہ سن کر حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کھڑے ہو گئے اور عرض کیا : حضور ! لکڑیاں تو حضرت مولانا سید بدر الدین اسحاق لائے ہیں اور ڈیلے مولانا جمال الدین لائے ہیں ، پانی مولانا حسام الدین نے بھرا ہے اور ان کو جوش میں نے دیا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ لقمہ کس سبب سے گراں ہے۔

حضرت بابا صاحب نے ایک لمحہ تامل کے بعد فرمایا:

“نمک کہاں سے آیا؟”

اتنا سننا تھا کہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا حیران رہ گئے اور ہاتھ جوڑ کر عرض کیا:

حضور کی ذات کاشفِ حالات ہے ۔ یہ خطا مجھ سے سرزد ہوئی ہے ۔ یہ ڈیلے کڑوے کسیلے ہوتے ہیں ، اگر ان میں نمک نہ ہو تو پھر یہ کیسے کھائے جائیں گے ۔ محض اس خیال سے میں نے اس میں نمک قرض لے کر ڈال دیا ہے۔ حضرت نے یہ سن کر فرمایا: اچھا اب اس کھانے کو دوسرے فقرا میں تقسیم کر دو اور پھر فرمایا: “نظام الدین! درویشاں اگر بفاقہ بمیرند برائے لذت نفس قرض نہ گیرند”

حضرت سلطان المشائخ نے اسی وقت دل میں عہد کیا کہ آئندہ تمام عمر قرض نہیں لوں گا۔ بابا صاحب نے انکی طرف دیکھا اور فرمایا : ان شاء اللہ آئندہ تم کو قرض لینے کی ضرورت بھی نہ پڑے گی۔

 

تنگ دستی کا علاج

 

حضرت بابا صاحب کے پاس کوئی شخص دینی یا دنیاوی مشکل لے کر آتا تو وہ اسے کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتے۔ عام طور پر صبر کی تلقین فرماتے اور نماز پڑھنے کی ہدایت فرماتے۔ ایک روز ایک شخص نے حاضر خدمت ہو کر عرض کی کہ یا حضرت! میں بیحد تنگ دست ہوں۔ گھر میں عام طور فاقوں کی نوبت آ جاتی ہے۔ آپ نے اس کے لیے دعا فرمائی اور پھر اسے ہدایت کی کہ ہر روز رات کو سنے سے پہلے سورہ جمعہ بڑھ لیا کرو۔

 

بلبن کے نام خط

 

ایک بار پاک پتن میں کوئی ضرورت مند بابا صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : حضور! بادشاہ کے نام ایک سفارشی خط لکھ دیجیے تاکہ میرا کام بن جائے ۔آپ نے فرمایا کہ کام کرنے والا تو صرف اللہ تعالی ہے ۔ میں تمہارے لیے دعا کرتا ہوں ۔ اس نے خط لکھنے کے لیے اصرار کیا تو حضرت بابا صاحب نے سلطان بلبن کے نام یہ خط لکھ کر دے دیا

میں نے اس شخص کی ضرورت کو اللہ تعالی کے سامنے پیش کیا ۔ پھر تیرے پاس بھیج دیا۔ اگر تو اس کو کچھ دے گا تو دَین اللہ تعالی کی ہو گی اور یہ تیرا شکر گزار ہو گا اور اگر کچھ نہ دے گا تو روک اللہ کی طرف سے ہو گی اور تو معذور سمجھا جائے گا۔

 

غوث بہاوالحق سے تعلق

 

حضرت شیخ الاسلام بہاوالحق زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت بابا صاحب کے درمیان بہت محبت تھی ۔ بابا صاحب جب بھی انہیں خط تحریر فرماتے تو شیخ الاسلام بہاوالحق زکریا ملتانی لکھتے ۔ ایک دفعہ لوگوں نے پوچھا آپ جب بھی حضرت کا نام لیتے ہیں تو شیخ الاسلام ضرور کہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے لوح محفوظ پر ان کے نام نامی کے ساتھ شیخ الاسلام لکھا ہوا دیکھا ہے (سیر الاولیا ص 82)

ایک دفعہ حضرت شیخ الاسلام بہاوالحق زکریا ملتانی نے بابا صاحب کو خط لکھا جس میں تحریر فرمایا کہ میرے تمہارے درمیان عشق بازی ہے۔ بابا صاحب نے جواب میں لکھا کہ میرے اور آپ کے درمیان عشق تو ہے مگر بازی نہیں ہے (سیر العارفین ص 54)

 

بزرگوں کی روش

 

حضرت شیخ بدر الدین غزنوی آپ کے پیر بھائی تھے۔ دہلی میں ملک نظام الدین خریطہ دار نے ان کے لیے ایک خانقاہ بنوا دی تھی جہاں ان کے آرام و آسائس کا سارا سامان بہم پہنچایا تھا۔ ایک دفعہ ملک نظام الدین زر کثیر کے غبن میں ماخوذ ہوا جس سے شیخ بدر الدین کے آرام میں بھی خلل پڑنا شروع ہوا۔ ان حالات میں انہوں نے بابا صاحب کی خدمت میں درد بھرا خط لکھا اور سارے حالات بیان کیے اور دعا کی درخواست کی

فرید الدین و ملت یار زیرک

کہ بادش در کرامت زندگانی

دریغا خاطرم گر جمع داری

بمدحش کردمے گوہر فشانی​

بابا صاحب نے یہ خط پڑھا تو جواب میں تحریر فرمایا:

” عزیز الوجود کا رقعہ ملا اور جو کچھ اس میں درج تھا ، اس سے آگاہی ہوئی۔ جو کوئی اپنے بزرگوں کی روش پر نہ چلے گا ، ضرور ہے کہ اسے اس طرح کا ماجرا پیش آئے اور وہ غم و الم سے دوچار ہو۔ آخر ہمارے پیران عظام میں سے کون تھا جس نے اپنے لیے خانقاہ بنوائی اور اس میں جلوس فرمایا ” ( سیر العارفین ص 51)

 

ذوق سماع

 

ایک روز حضرت بابا صاحب کو سماع کا ذوق ہوا۔ اتفاق سے اس وقت کوئی قوال موجود نہ تھا۔ آپ نے مولانا بدر الدین اسحاق سے فرمایا کہ وہ خط جو قاضی حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ علیہ نے بھیجا ہے ، لاؤ اور سناؤ ۔ مولانا کھڑے ہوئے اور خط پڑھنا شروع کیا۔ اس میں حمد و نعت کے بعد تحریر تھا :

فقیر ، حقیر ، نحیف ، ضعیف ، بندہ درویشاں در دیدہ خاکپائے ایشاں محمد عطا المعروف حمید الدین ناگوری۔

اتنا سننا تھا کہ بابا صاحب پر کیفیت طاری ہو گئی اور مولانا نے خط کی یہ رباعی پڑھی تو بابا صاحب پر وجد طاری ہو گیا:

آں عقل کجا کی در کمالے تو رسد

آّں روح کجا کی در جلال تو رسد

گیرم کہ پردہ گرفتی زجمال

آں دیدہ کجا کہ در جمال تو رسد​

اسی طرح ایک روز آپ کو ذوق سماع ہوا اور آپ کی زبان پر مولانا نظامی کا یہ شعر آیا

نظامی آنچہ اسرار است کز خاطر عیاں کر دی

کسے سرّش نمیداند زباب در کش زباں در کش​

اس شعر کو آپ تمام دن پڑھتے رہے ، پھر رات کو بھی یہی حال رہا اور دوسرے دن بھی۔

ایک روز سماع کی حرمت و حلت پر گفتگو ہو رہی تھی تو فرمایا : سبحان اللہ ! کوئی جل کر راکھ ہو جائے اور دوسرے ابھی اختلاف ہی میں ہوں۔

ایک بار فرمایا : سماع انہی لوگوں کے لیے جائز ہے جو اس میں ایسے مستغرق ہوں کہ ایک لاکھ تلواریں ان کے سر پر ماری جائیں یا ایک ہزار فرشتے ان کے کان میں کچھ کہیں تو بھی ان کو خبر نہ ہو۔

 

وصال

 

ذوالحجہ 663 ہجری کے آخری دنوں میں بیماری نے شدت اختیار کی اور آپ کو بے ہوشی کے دورے ہونے لگے۔ لیکن اس کے باوجود آپ کی کوئی نماز حتی کہ نفلی عبادت تک قضا نہ ہوئی اور وظائف و اوراد بھی وقت پر ادا ہوتے رہے۔ محرم 664 ہجری کی چار تاریخ کو دہلی سے آپ کے مخلص قدیم سید محمد کرمان پرسش احوال کے لیے پاک پتن آئے۔ حضرت بابا صاحب اس وقت حجرہ میں تھے اور دروازہ بند تھا۔ باہر صاحبزادگان اور چند مرید آپ کی جانشینی کے متعلق سرگوشیاں کر رہے تھے۔ جیسے ہی ان حضرات نے سید محمد کرمان کو دیکھا تو کہا : اس وقت اندر نہ جانا ، حضرت کی طبیعت ناساز ہے ۔ سید صاحب باہر بیٹھے سوچتے رہے کہ میں دہلی سے چل کر آیا ہوں ، اگر یہ لوگ مجھے حضور کی قدم بوسی کر لینے دیں تو کیا حرج ہے آخر ان سے ضبط نہ ہوسکا اور وہ حجرے میں داخل ہو گئے اور بابا صاحب کے قدموں پر سر رکھ دیا ۔ آپ نے آنکھیں کھولیں اور پوچھا:

” سید کیا حال ہے ”

عرض کیا : حضور کی دعا سے اچھا ہوں ، ابھی حاضر ہوا ہوں۔ اس کے بعد سید صاحب نے دہلی کے علما و مشائخ کے سلام عرض کیے ۔ آخر میں حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کا سلام عرض کیا۔ جیسے ہی بابا صاحب نے حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کا نام سنا تو خوش ہو کر پوچھا:

ان کا کیا حال ہے؟

عرض کیا: وہ ہر وقت حضور کی یاد میں رہتے ہیں ۔ یہ سن کر بابا صاحب اور خوش ہوئے اور مولانا بدر الدین اسحاق سے فرمایا کہ جو تبرکات مجھے سلسلہ بہ سلسلہ اپنے حضرت سے پہنچے ہیں وہ نظام الدین محمد بدایونی کا حق ہے ، انکو پہنچا دینا۔

بعد ازاں نماز مغرب آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی۔ عشا کی نماز آپ نے جماعت سے ادا کی ، پھر بے ہوش ہو گئے ۔ ہوش میں آنے کے بعد آپ نے سوال کیا : میں نے عشا کی نماز پڑھ لی ہے؟ عرض کی گئی جی ہاں۔ آپ نے فرمایا :

ایک مرتبہ پھر پڑھ لوں۔ دوبارہ نماز عشا ادا کی تو پھر بے ہوش ہو گئے۔ ہوش میں آنے پر پھر یہ سوال کیا ۔ کہا گیا: آپ دو مرتبہ عشا کی نماز ادا پڑھ چکے ہیں ، فرمایا: ایک دفعہ اور پڑھ لوں ، ممکن ہے پھر موقع نہ ملے۔ یہ فرما کر آپ نے عشا کی نماز مع وتر ادا کی اور پھر تازہ وضو کیا۔ اس کے بعد سجدہ کیا اورسجدہ ہی میں ایک مرتبہ زور سے یا حیُ یا قیوم کہا اور جاں جان آفریں کے سپرد کر دی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

وصال سے چند منٹ پہلے پوچھا : نظام الدین دہلی سے آئے یا نہیں؟ کہا گیا ، جی نہیں۔ فرمایا کہ میں بھی اپنے شیخ کے انتقال کے وقت ان کے پاس موجود نہ تھا ، ہانسی میں تھا۔

حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کو اطلاع ہوئی تو وہ پاک پتن آئے ۔ حضرت بابا صاحب کا مزار شریف تعمیر کرایا اور اس اہتمام سے کہ ہر اینٹ پر ایک قرآن شریف ختم کیا۔

 

معمولات

 

بابا صاحب کا معمول تھا کہ وہ آنے والوں کی سہولت کے لیے اپنی خانقاہ آدھی رات تک کھلی رکھتے تھے۔ رات کا زیادہ حصہ عبادت میں گزارتے تھے اور سورج طلوع ہونے کے بعد بھی عبادت اور مراقبے میں مشغول رہتے تھے۔ طہارت و صفائی ان کی فطرت ثانیہ تھی ۔ ہر روز غسل فرماتے۔

صبح عبادت کے بعد دو گھنٹے تک طویل سجدہ کرتے اور اس دوران میں کبھی چپ چاپ دعا مانگتے اور کبھی اپنے خالق و مالک کی حمد و ثنا میں اشعار پڑھتے۔ کبھی تمام مخلوق کے لیے رحمت و بخشش کی دعائیں مانگتے اور بے حد گریہ و زاری کرتے۔ اس کے بعد دوپہر تک آنے والوں سے ملاقات کرتے ۔ پھر مختصر سےقیلولے کے بعد نماز ظہر ادا کرتے اور اس کے بعد خانقاہ کے مکینوں کی ضروریات پوری کرنے پر توجہ دیتے۔ ہر ایک سے اس کی خیریت دریافت فرماتے اور کسی کو کوئی تکلیف ہوتی تو فوار دور کرنے کی کوشش کرتے۔ ہر آنے والا ان تک رسائی حاصل کرسکتا تھا۔

 

مقام رضا

 

زہد و ریاضت میں بابا صاحب کی مثال نہ تھی۔ عمر کے آخری ایام میں اکثر فرمایا کرتے تھے: چالیس برس تک اللہ کے بندے مسعود نے اپنے آقا و مولیٰ کی اطاعت کی اب گذشتہ چند برسوں سے یہ حال ہے کہ آقا کی ذرہ نوازی سے مسعود کے فکر و خیال میں جو کچھ آیا ، وہ حقیقت ثابت ہوا اور مسعود نے جو بھی آرزو کی وہ پوری ہوئی۔

 

بابا صاحب کے خلفاء

 

حضرت کے بے شمار خلفا تھے جن کا مکمل رجسٹر حضرت جمال الدین ہانسوی کے پاس تھا۔ بعض خلفا کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں :

1.حضرت خواجہ قطب شیخ جمال الدین ہانسوی رحمۃ اللہ علیہ

2۔ حضرت شیخ نجیب الدین متوکل رحمۃ اللہ علیہ

3۔ حضرت مخدوم علاوالدین علی احمد صابر کلیری رحمۃ اللہ علیہ

4۔ حضرت شیخ بدر الدین اسحاق رحمۃ اللہ علیہ

5۔ حضرت نصیر الدین متبنیٰ رحمۃ اللہ علیہ

6۔ حضرت بدر الدین سلیمان رحمۃ اللہ علیہ

7۔ سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الہی رحمۃ اللہ علیہ

(تحریر خواجہ عابد نظامی)

 

 

 

 

حالاتِ زندگی​ سلطان المشائخ حضرت خواجہ سید نظام الدین اولیا محبوب الہی رحمۃ اللہ علیہ

 

حضرت شیخ نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ علیہ جامع علوم ظاہری و باطنی تھے۔ آپ کا دل انوار منزل ہمیشہ کتب معتبرہ تصوف کے مطالعہ کی طرف مائل رہتا تھا۔ آپ تفسیر و حدیث ، اصول و کلام اور فقہ امام ابوحنیفہ میں استخصار تمام رکھتے تھے۔ آپ کے والد بزرگوار حضرت سید احمد بن دانیال غزنی( افغانستان ) سے ہندوستان آئے اور شہر بدایوں (بھارت) میں متوطن ہوئے۔

حضرت شیخ نظام الدین اولیا اسی شہر بدایوں میں ماہ صفر 634 ہجری میں متولد ہوئے۔ پانچ برس کے تھے کہ والد ماجد نے انتقال فرمایا۔ والدہ محترمہ نے انہیں ایک مکتب میں داخل کیا۔ اٹھارہ سال کی عمر میں تعلیمی استعداد کا یہ عالم تھا کہ بدایوں میں انہیں مزید تعلیم دینے والا کوئی مدرس موجود نہیں تھا۔ آخر حضرت اپنی والدہ ماجدہ کو لیکر دہلی آئے اور ہلال چشت دار کی مسجد کے نیچے ایک حجرہ میں سکونت اختیار کی۔

اس وقت دہلی میں ایک فاضل متبحر اور سرآمد علمائے وقت خواجہ شمس الدین خوارزی تھے جنہیں بعد میں سلطان غیاث الدین بلبن نے شمس الملک کا خطاب دیکر منصبِ وزارت تفویض کیا۔

تاج الدین سنگ ریزہ نے انکی مدح میں لکھا ہے

شمسا کنوں بکام دلِ دوستاں شدی

فرماندہِ ممالکِ ہندوستاں شدی

وزیر ہونے سے پہلے شمس الملک درس و تدریس میں مشغول رہتے تھے۔ حضرت نظام الدین اولیا ان سے مل کر ان کے شاگردوں کی سلک میں منسلک ہو گئے ۔ ان کے پاس ایک حجرہ خاص مطالعہ کے واسطے تھا جس میں صرف تین شاگرد ( جو انتہائی ذہین اور صاحبِ استعداد ہوتے) سبق پڑھتے تھے۔ باقی سب شاگرد حجرہ کے باہر سبق پڑھتے۔

حضرت شیخ نظام الدین کے زمانہ تدریس مین ان تین خوش قسمت شاگردوں میں سے ایک ملا قطب الدین ناقلہ ، دوسرے ملا برہان الدین عبدالباقی ، اور تیسرے حضرت شیخ نظام الدین اولیا تھے۔

شمس الملک کو جب حضرت شیخ نظام الدین اولیا کی تیزی فہم اور ذہانتِ طبعی کا اندازہ ہوا تو وہ سب شاگردوں سے زیادہ ان کی تعظیم کرنے لگے۔ مولانا شمس الدین کی عادت تھی کہ کسی روز کوئی شاگرد مدرسے میں نہ آتا تو اگلے روز اس سے از رہِ دل لگی فرماتے:

میں نے کیا قصور کیا تھا کہ تو غیر حاضر ہوا۔ مجھے بتا، تاکہ میں پھر وہی قصور کروں،

لیکن شیخ نظام الدین اولیا جب کسی وجہ سے مدرسے میں نہ آتے تو مولانا شمس الدین انہیں یاد کر کے یہ شعر پڑھتے۔

باری کم از آنکہ گاہ گاہے

آئی و بما کنی نگاہے

شیخ نظام الدین اولیا زمانہ تدریس میں حضرت شیخ نجیب الدین متوکل (برادر حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر) کے ہمسایہ تھے۔جو بہت سے علماء دہلی پر فوقیت رکھتے تھے۔ حضرت شیخ نظام الدین اولیا اکثر ان کی صحبت بابرکت مین بیٹھتے اور مستفیض ہوتے۔

شیخ نظام الدین اولیا تدریس سے فارغ ہو کر مراتبِ عالیہ پر فائز ہوئے تو انہیں معاش کی فکر ہوئی۔ ایک روز انہوں نے دورانِ گفتگو شیخ نجیب الدین متوکل سے کہا کہ میرے لیے دعائے خیر فرمائیں کہ میں کسی مقام کا قاضی مقرر ہو جاؤں اور خلقِ خدا کو انصاف سے راضی کروں۔ حضرت شیخ نجیب الدین یہ سن کر خاموش ہو گئے اور کوئی جواب نہ دیا۔ شیخ نظام الدین اولیا کو گمان گزرا کہ شاید شیخ نجیب الدین متوکل نے ان کی بات نہیں سنی۔ اس لیے دوبارہ با آوازِ بلند کہا : حضرت ! دعا فرمائیے کہ میں کسی مقام کا قاضی بن جاوں۔ اس مرتبہ شیخ نجیب الدین متوکل نے فرمایا : نظام الدین ! قاضی نہ بنو ، کچھ اور بنو۔ پھر مشورہ دیا کہ میرے بھائی شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر سے ملاقات کرو۔

اس رات شیخ نظام الدین اولیا جامع مسجد دہلی میں مقیم تھے ۔ اتفاق سے صبح اذان سے قبل موذن نے مینارہ پر کھڑے ہو کر یہ آیت پڑھی :

الم یان للذین آمنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ۔

یہ سنتے ہی حضرت کا حال متغیر ہوا اور نورِ الہی نے ان کو گھیر لیا۔

اس وقت شیخ العالم فرید الدین مسعود گنج شکر کی بزرگی اور کرامات کا شہرہ عالمگیر تھا۔ یوں بھی شیخ نجیب الدین متوکل کی مجالس مین غائبانہ حضرت شیخ العالم کی سیرت کے اوصاف سن کر شیخ نظام الدین اولیا ان کی زیارت کے پہلے ہی مشتاق تھے۔ اب جو صبح ہوئی تو بغیر زادِ راہ کے پیادہ پا قصبہ اجودھن (پاک پتن شریف ) کی سمت روانہ ہو گئے اور پنجشنبہ کو ظہر کی نماز کے وقت حضرت شیخ العالم کی زیارت باسعادت سے مشرف ہوئے۔ حضرت شیخ العالم نے انہیں دیکھتے ہی یہ شعر پڑھا

اے آتشِ فراقت جانہا خراب کردہ

سیلاب اشتیاقت دلہا کباب کردہ

شیخ نظام الدین نے چاہا کہ شیخ العالم سے اپنے دلی اشتیاق و اخلاص کا حال بیان کریں ۔ لیکن ان پر اس قدر سہشت غالب ہوئی کہ کچھ عرض نہ کرسکے۔ حضرت شیخ العالم نے ان کی یہ حالت مشاہدہ کر کے فرمایا:

لکل دخیل دھشۃ​

پھر بڑی محبت سے فرمایا : مرحبا ، خوش آمدید۔ ان شاء اللہ العزیز دینی و دنیوی نعمتوں سے سرفراز ہو گے پھر شیخ نظام الدین اولیا نے حضرت شیخ العالم سے خرقہ درویشی پایا اور مریدانِ خاص کی سلک میں منتظم ہوئے۔

ان دنوں حضرت شیخ العالم گنج شکر نہایت تنگ دستی میں مبتلا تھے آپ کے متعلقین اور فرزند اکثر فاقہ سے وقت گزارتے اس کے باوجود خانقاہ فلک پائی گاہ کا کوئی فرد آزردہ و دلگیر نہ تھا۔ ہر ایک کے چہرے پر صبر و شکر کی رونق تھی ۔ مولانا بدر الدین اسحاق بخاری کہ جامع منقول و معقول تھے ، لنگر خانہ کے لیے جنگل سے روٹیاں لاتے اور مولانا شیخ جمال الدین ہانسوی صحرا سے ڈیلے (جس کا لوگ عموماً اچار بناتے ہیں) لاتے اور مولانا حسام الدین کابلی پانی لاتے اور لنگر خانہ کی دیگیں دھوتے۔اور شیخ نظام الدین اولیاء ازروئے صدق و صفا کھانا تیار کرتے اور افطار کے وقت شیخ العالم کی مجلس میں درویشوں کے سامنے پیش کرتے ۔

ایک دن جب تمام حاضرین مجلس اپنے اپنے مقام پر بیٹھ گئے اور کھانا سامنے رکھا گیا تو حضرت شیخ العالم نے لقمہ اٹھا کر فرمایا ۔ یہ لقمہ میرے ہاتھ میں گراں معلوم ہوتا ہے ۔ یہ کہہ کر لقمہ کاسی میں رکھ دیا۔

شیخ نظام الدین اولیاء فرماتے ہیں کہ شیخ العالم کا یہ کلام سنتے ہی میرا بدن کانپنے لگا ۔ فوراً ایستادہ ہو کر نہایت ادب سے عرض کیا: غریب نواز : لکڑیاں اور ڈیلے اور پانی مولانا بدر الدین ، مولانا حسام الدین اور شیخ جمال الدین لائے ہیں ، شبہ کا سبب معلوم نہیں غریب نواز پر سب حال روشن ہے۔

شیخ العالم نے فرمایا: سالن میں جو نمک ڈالا گیا ہے وہ کہاں سے آیا ہے؟ شیخ نظام الدین نے یہ سنتے ہی سر زمین پر رکھ کر عرض کی: آج خانقاہ میں کچھ موجود نہ تھا ، اس لیے دیگ میں نمک قرض لے کر ڈالا ہے۔

شیخ العالم نے ارشاد فرمایا : فقراء فاقہ سے مر جائیں تو بہتر ہے ، لیکن لذتِ نفس کی خاطر انہیں کسی سے قرض نہیں لینا چاہیے۔ کیوں کہ قرض اور توکل کے درمیان بعد المشرقین ہے کہ اگر ادا نہ ہو تو اس کا وبال قیامت تک مقروض کی گردن پر رہے گا۔ پھر فرمایا کہ یہ کھانا درویشوں کے آگے سے اٹھا کر محتاجوں میں تقسیم کر دیا جائے۔

شیخ نظام الدین اولیاء فرماتے ہیں کہ میں کبھی کبھار دوسرے لوگوں کی طرح ضرورت کے وقت قرض لے لیا کرتا تھا ، لیکن میں نے اس روز پکا ارادہ کیا کہ آئندہ کبھی سخت ضرورت میں بھی قرض نہ لوں گا۔ حضرت شیخ العالم نے وہ کمبل جس پر وہ تشریف فرما تھے ، مجھے عنایت فرمایا اور دعا فرمائی : الہ العالمین ! آئندہ نظام الدین کو کبھی قرض کا محتاج نہ کرنا۔

ایک مدت کے بعد شیخ نظام الدین اولیاء خدمت گزاری اور اطاعت شعاری سے مرتبہ کمال کو پہنچے تو شیخ العالم نے انہیں خلقِ خدا کی ہدایت و تکمیل کی اجازت دے کر659 ہجری کو دہلی میں روانہ فرمایا۔

دہلی میں شیخ نظام الدین اولیاء نے غیاث پور میں سکونت اختیار فرمائی ۔ یہاں دو شخص آپ کی خدمت میں حاضر رہتے تھے۔ ایک شیخ برہان الدین غریب (جو دولت آباد دکن میں مدفون ہیں) اور دوسرے شیخ کمال الدین یعقوب (جن کا مزار پٹن گجرات میں واقع ہے) یہ دونوں بزرگ دوسرے خلفاء سے پہلے خرقہ خلافت پاکر تحصیل کمال اور ریاضت نفس میں مشغول ہوئے۔ غیاث پور میں شروع شروع میں نہایت تنگی سے گزر اوقات ہوتی تھی ۔ اکثر ایسا ہوتا کہ چار چار روز تک کھانے کو نہ ہوتا۔ سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء اور دیگر درویش پانی سے روزہ افطار کرتے۔ انہی دنوں ایک صالحہ عورت نے جو حضرت سے توسل رکھتی تھی اور ہمسایہ میں رہتی تھی۔ سوت کات کر گندم خریدی اور کچھ آٹا حضرت سلطان المشائخ کی خدمت میں بطور نذرانہ بھیجا۔

حضرت سلطان المشائخ نے شیخ کمال الدین یعقوب سے فرمایا کہ اس آٹے کو دیگ میں ڈال کر پکاؤ شاید کسی آنے والے کا حصہ ہے۔ شیخ کمال الدین اس کو پکانے میں مشغول تھے کہ اچانک ایک درویش گڈری پوش کسی مقام سے وارد ہوے اور آتے ہی حضرت سلطان المشائخ سے کہا : جو ماحضر ہے ، اس سے دریغ نہ کر۔

حضرت نے فرمایا: آپ چند لمحے استراحت فرمائیں ۔ ابھی کھانا تیار ہوتا ہے تو آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔

درویش نے کہا: جیسا بھی ہے ، فوراً لے آؤ۔

یہ سن کر حضرت اٹھے اور دونوں ہاتھوں سے پکتی ہوئی دیگ کے کنارے پکڑ کر ان کے سامنے لائے۔ درویش نے دیگ اٹھا کر زمین پر دے ماری اور فرمایا: شیخ فرید الدین گنج شکر نے نعمت باطنی شیخ نظام الدین اولیاء کو ارزانی فرمائی اور میں نے ان کی ظاہری محتاجی کی دیگ کو توڑ ڈالا۔ یہ کہا اور سب کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

اس کے بعد تو یہ ہوا کہ ہزاروں لاکھوں آدمی حضرت سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہو کر مرید ہوئے اور خرقہ خلافت پا کر درجہ عالی اور مقام متعالی پر فائز ہوئے۔

خیر المجالس میں‌ ہے کہ ایک دن مولانا حسام الدین نصرت خانی اور مولانا جمال الدین نصرت خانی اور مولانا شرف الدین کاشانی حضرت شیخ المشائخ کے روبرو بیٹھے تھے۔ شیخ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اگر کوئی شخص دن کو صائم اور رات کو قام رہے تو یہ کام نہایت سہل ہے کہ بیوہ عورتیں بھی یہ کام کرسکتی ہیں۔ لیکن مشغولی حق کہ مردانِ طلب گار اس کی بدولت بارگاہ پروردگار میں راہ پاتے ہیں اور مشاہدہ ذات کی دولت سے فیض یاب ہوتے ہیں ، وہ ان عبادتوں سے ماوراء ہے۔ حاضرین مجلس نے جب یہ کلام سنا تو خیال کیا کہ شیخ کسی خصوصی عبادت کا ذکر فرمائیں گے لیکن حضرت شیخ المشائخ نے فرمایا: انشاء اللہ تعالی میں کسی مناسب وقت پر اس کا تذکرہ کروں گا۔ عزیزوں نے کئی ماہ اس انتظار میں گزار دئیے۔

ایک روز یہ سب حضرات مجلس میں حاضر تھے کہ محمد کاشف (جو سلطان علاو الدین خلجی کے دیوان کا داروغہ تھا) وارد ہوا اور حضرت کے سامنے مودب بیٹھ گیا۔ حضرت نے پوچھا : محمد کاشف! کہاں تھے؟

عرض کی: غریب نواز ! دیوان عام میں تھا۔ آج تو سلطان علاوالدین خلجی نے پچاس ہزار روپے بندگانِ خدا کے واسطے انعام فرمائے ہیں۔

یہ سن کر حضرت شیخ نے مولانا حسام الدین نصرت خانی اور دوسرے حاضرین کو متوجہ ہو کر فرمایا:

بھلا بتاؤ ، بادشاہ کا یہ انعام بہتر ہے یا عہد کا وفا کرنا بہتر ہے جو ایک دفعہ میں نے تمہارے ساتھ کیا تھا؟

یہ سن کر سب حاضرین آداب بجا لائے اور عرض کی: وفائے عہد ہش بہشت سے بہتر ہے۔ پچاس ہزار نقرہ کی کیا حیثیت ہے!

سلطان المشائخ نے تینوں بزرگوں کو قریب بلایا اور باقی حاضرین کو رخصت کر کے ارشاد فرمایا: مقصود تک پہنچنے کا راستہ خلوت میں مشغولی حق ہے ۔ طالب کو چاہیے کہ بے ضرورت باہر نہ آئے اور ہمیشہ با وضو رہے ، سوائے وقتِ قیلولہ کے کہ اس وقت غلبہ خواب ہوتا ہے۔ ہمیشہ صائم الدہر رہے ، یہ ممکن نہ ہو تو کم سے کم غذا پر قناعت کرے اور سوائے ذکر حق اور شدید ضرورت کے کبھی زبان نہ کھولے۔ اہل دنیا سے مختصر کلام کرے۔ منقول ہے کہ یہ تینوں مشائخ حضرت شیخ نظام الدین اولیا کے انفاس کی برکت سے ان صفاتِ عالیہ سے متصف ہوئے اور کامل ہو کر جملہ واصلین سے ہوئے۔

مولانا شہاب الدین امام سے منقول ہے کہ حضرت شیخ نظام الدین اولیاء ایک روز حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کی زیارت کے لیے تشریف لے گئے۔ میں اور مولانا برہان الدین غریب ہمراہ تھے۔ حضرت سلطان المشائخ حضرت خواجہ قطب الدین رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کر کے حوض شمسی کے کنارے رونق افروز ہوئے۔ وہاں اس وقت خواجہ حسن علاء سنجری (کہ سن اس کا پچاس برس سے زیادہ تھا ) یاروں کے ساتھ مے نوشی میں مشغول تھا۔ جب اس نے شیخ کو آتے ہوئے دیکھا تو آپ کے سامنے آ کر یہ دو شعر پڑھے۔

سالہا باشد کہ باہم صحبتیم

گر ز صحبتہا اثر بودی کجاست

زہد تاں فسق از دل ما کم نہ کرد

فسق ما یاں بہتر از زہد شماست

حضرت شیخ نے یہ اشعار سنے تو فرمایا :

صحبت میں تاثیر ہوتی ہے۔ انشاء اللہ تمہیں نصیب ہو گی۔

یہ سننا تھا کہ خواجہ حسن سر برہنہ حضرت کے قدموں میں گر پڑے اور تمام مناہی سے تائب ہو کر رفقاء سمیت مرید ہوئے۔ بعد میں خواجہ حسن نے حضرت کے ملفوظات پر مشتمل کتاب “فوائد الفواد” تصنیف کی۔ جس کے بارے میں حضرت امیر خسرو نے کہا کہ کاش میری تمام تصانیف خواجہ حسن کے نام منسوب ہوتیں اور ان کی کتاب فوائد الفواد میرے نام منسوب ہوتی۔

کہتے ہیں کہ ایک روز سلطان علاو الدین خلجی نے ایک بڑا تھال زر و جواہر سے بھر کر سلطان المشائخ کی خدمت میں بھیجا۔ اس وقت حضرت کی خدمت میں ایک قلندر بیٹھا تھا۔ اس کی نگاہ زر و جواہر پر پڑی تو بولا۔

یا شیخ ! ہدایا مشترک۔ سلطان المشائخ نے از روئے ظرافت فرمایا :- اما تنہا مشترک۔

قلندر نے مایوس ہو کر پھر اپنی بات دہرائی۔ سلطان المشائخ نے اسے قریب بلایا اور فرمایا : تنہا مشترک سے میرا مطلب یہ تھا کہ تنہا تجھے مبارک ہو۔ یہ سن کر قلندر نے اس تھال کو اٹھانا چاہا لیکن وزنی ہونے کی وجہ سے اٹھا نہ سکا۔ حضرت شیخ المشائخ نے خادموں سے کہا کہ قلندر کی مدد کریں۔

خضر خان حضرت سلطان المشائخ کا مرید تھا۔ قطب الدین مبارک شاہ اسے قتل کر کے تختِ دہلی پر متمکن ہوا تو ہ سلطان المشائخ سے بھی پرخاش رکھنے لگا۔ ان دنوں سلطان المشایخ کے لنگر خانہ کا خرچ غلہ کے علاوہ دو ہزار تنکہ روزانہ تھا۔

سلطان نے قاضی محمد غزنوی سے (جو پہلے ہی سلطان المشائخ کاسے بے حد حسد رکھتا تھا) پوچھا : شیخ کا اس قدر خرچ کہاں سے آتا ہے؟ قاضی نے کہا اکثر امرائے سلطانی نذرانہ سے شیخ کی اعانت کرتے ہیں۔ بادشاہ کو یہ سن کر سخت غصہ آیا اور حکم دیا کہ جو شخص شیخ کے مکان پر جائے گا یا نذر کی اشرفی بھیجے گا ، سخت معتوب ہو گا۔

حضرت کو یہ حال معلوم ہوا تو اپنے خادم خاص خواجہ اقبال کو بلایا اور حکم دیا کہ کل سے لنگر کا خرچ دگنا کر دیا جائے پھر ہدایت فرمائی کہ جس وقت بھی تمہیں روپوں کی ضرورت ہو بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر حجرہ کے طاق میں ہاتھ ڈالنا اور بقدر ضرورت نکال لینا۔

اکثر امرائے سلطانی نے بادشاہ کے خوف کی وجہ سے حضرت کی خدمت میں حاضری ترک کر دی لیکن بایں ہمہ فتوحات کا یہ عالم تھا کہ انہی دنوں ایک تاجر جسے رہزنوں نے لوٹ لیا تھا۔ حضرت سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس کے پاس حضرت صدر الدین عارف (پسر شیخ بہاو الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ) کا سفارش نامہ تھا۔ سلطان المشائخ نے خادم سے فرمایا کہ علی الصباح سے چاشت تک جو زرِ نذرانہ آئے وہ اس تاجر کے سپرد کر دو۔ منقول ہے کہ بارہ ہزار تنکہ اس تاجر کو موصول ہوئے۔

حضرت سلطان المشائخ کے لنگر کے بارے میں جب بادشاہ کو یہ خبریں پہنچیں تو وہ دل ہی دل میں نہایت شرمندہ ہوا۔ لیکن پھر بھی از راہ جہالت و خجالت حضرت کو پیغام بھیجا کہ شیخ رکن الدین ابو الفتح ملتانی میری ملاقات کو آتے ہیں ، آپ بھی قدم رنجہ فرمائیں تو کرم ہو گا۔

حضرت نے پیغام بر سے فرمایا : میں گوشہ نشین آدمی ہوں ، کہیں آتا جاتا نہیں۔ دوسرے ہمارے بزرگوں کا یہ قاعدہ نہیں تھا کہ وہ شاہی دربار میں جائیں اور بادشاہ کے مصاحب بنیں۔ لہذا میں معافی کا خواستگار ہوں۔

بادشاہ تک یہ پیغام پہنچا تو بادہ نخوت سے اس کے ہوش و حواس سلب ہو گئے۔ فوراً جواب بھجوایا کہ آپ کو ہفتہ میں دو بار میری ملاقات کو آنا پڑے گا۔ حضرت کو یہ پیغام ملا تو آپ نے خواجہ حسن علا سنجری کو بادشاہ کے پیر شیخ ضیا الدین رومی کے پاس بھیجا ، خواجہ حسن نے انہیں حضرت کا پیغام دیا کہ وہ بادشاہ کو سمجھائیں کہ درویشوں کو تکلیف دینا کسی مذہب میں درست نہیں سمجھا جاتا۔ بادشاہ کی خیریت اسی میں ہے کہ وہ فقیروں کو نہ ستائے۔ دوسرے ہمارے خانوادہ کی ایک مخصوص روش ہے وہ شاہی درباروں میں نہیں جاتے تھے ، میں بھی ان کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔

خواجہ حسن نے حضرت کا پیغام شیخ ضیا الدین رومی کو پہنچا دیا لیکن یہ خبر بھی لائے کہ شیخ رومی کا دردِ شکم سے بُرا حال ہے اور وہ بیٹھ کر نماز بھی نہیں پڑھ سکتے۔

اتفاق سے تیسرے روز شیخ رومی نے انتقال فرمایا حضرت ان کے ہاں تعزیت کے لیے تشریف لے گئے۔ بادشاہ پہلے ہی وہاں موجود تھا۔ لوگوں کا بے پناہ ہجوم تھا۔ جونہی خلقت کو حضرت کی تشریف آوری کا علم ہوا تو وہ حضرت کی زیارت کے لئے ٹوٹ پڑی۔ یہاں تک کہ بادشاہ اکیلا کھڑا رہ گیا۔ اس صورتِ حال نے بادشاہ کو سخت برہم کیا۔ دربار میں آتے ہی اس نے ایک محضر نامہ تیار کر کے حکم دیا کہ اگر شیخ ہفتہ میں ایک بار میری ملاقات کو نہ آئے تو ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔

بادشاہ کے حکم کے مطابق سید قطب الدین غزنوی ، مولانا برہان الدین ہروی ، شیخ وحید الدین قندوزی اور دیگر اکابر نے حضرت سلطان المشائخ تک یہ پیغام پہنچایا اور کہا کہ بادشاہ سخت برہم ہے اگر ایک مرتبہ دیوانِ عام میں تشریف لے جائیں تو امورِ درویشی میں فرق نہ آئے گا۔ یہ سن کر حضرت نے صرف یہ فرمایا : دیکھو ، اللہ کی طرف سے کیا ظہور میں آتا ہے۔

حضرت کی اس گفتگو سے ان اکابر نے یہ سمجھا کہ حضرت سلطان المشائخ بادشاہ کے ہاں جانے کے لیے راضی ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بادشاہ سے جا کر عرض کی کہ ہم نے شیخ کو راضی کر لیا ہے وہ چاند رات کو ملاقات کے لئے آئیں گے۔

رات کو خواجہ وحید الدین قندوزی اور اعزالدین علی شاہ (حضرت امیر خسرو رحمۃ اللہ علیہ کے بھائی) نے آ کر حضرت کو اطلاع دی کہ بادشاہ دیوانِ عام میں آپ کے قدم رنجہ فرمانے کی خبر سن کر نہایت محظوظ ہوا ہے یہ سن کر حضرت نے فرمایا : میں ہرگز اپنے بزرگوں کی روش کے خلاف نہ چلوں گا اور بادشاہ کی ملاقات کو نہ جاؤں گا۔

دونوں بزرگ حضرت کی یہ بات سن کر سخت غمگین ہوئے ، انہیں خدشہ تھا کہ کہیں بادشاہ عاقبت نا اندیشی سے کوئی قدم نہ اٹھائے۔ حضرت نے انہیں افسردہ دیکھا تو تسلی دیتے ہوئے فرمایا : یقین جانو بادشاہ مجھ پر فتح یاب نہ ہو گا۔ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ مسجد نبوی میں قبلہ رو بیٹھا ہوں ۔ اتنے میں سینگوں والے ایک بیل نے مجھ پر حملہ کرنے کا قصد کیا ، لیکن جب وہ میرے قریب آیا تو میں نے اس کے دونوں سینگ پکڑ کر ایسا پٹخا کہ وہ ہلاک ہو گیا۔

بادشاہ سے ملاقات کی رات آئی تو خواجہ اقبال اور دوسرے خادموں نے عرض کیا کہ حکم ہو تو پالکی اور کہاروں کو حاضر کیا جائے۔ حضرت سلطان المشائخ نے کچھ جواب نہ دیا۔ ابھی تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ اطلاع آئی کہ بادشاہ کے پروردہ اور نمک خوار خسرو خاں نے بادشاہ کو قتل کر دیا ہے۔

٭٭٭

ماخذ: اردو محفل

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید