FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

خامہ بدست غالب

 

قاری اساس تنقید کی رُو سے

غالب کے منتخب اشعار کی منظوم شرح و تفسیر

 

 

                ستیہ پال آنند

 

 

 

 

 

ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کی نذر

 

 

 

پیش لفظ کے طور پر قاری اساس تنقید کے ضمن میں

Virtual Textual analysis

پر ایک وضاحتی نوٹ

 

 

                 (۱)

 

اگر یہ کہا جائے کہ قاری اساس تنقید کی ایک جہت، یعنی ہیئتی جزو کی چھان بین کی بنیاد تو بیسویں صدی کے شروع میں ہی پڑ گئی تھی تو غلط نہ ہو گا۔ یعنی جب یہ کہا گیا کہ معنی قرأت کے عمل کی کشید ہے اور زمان اور مکان کے لا محدود فاصلے معنی آفرینی کو کچھ کا کچھ بنا سکتے ہیں تو یہ بات لگ بھگ طے ہو گئی تھی کہ خلق ہونے کے بعد تخلیق نہ صرف ایک آزاد اور خود کفیل اکائی بن جاتی ہے، یعنی ایک ایسی اکائی معرض وجود میں آتی ہے جس کا تعلق اپنے خالق سے قطع ہو چکا ہے، بلکہ ہر نئے ماحول میں یہ ’کارگہِ شیشہ گری‘ اپنا الگ وجود رکھتی ہے۔ کسی بھی شعری متن کی ’’خود مکتفیت‘‘ کو تسلیم کرنا قاری اساس تنقید کا بنیادی اصول ہے۔ قاری اِسے اپنے وقت اور ماحول کی عینک سے دیکھ اس میں ریاضیاتی درستگی کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں بھی بات کر سکتا ہے اور انجانے میں ہی اپنے زمان و مکان سے ماخوذ رسم و رواج، سوچنے اور رہن سہن کے طریقے کو اس متن پر منطبق کر کے اپنے مخصوص معانی اخذ کر سکتا ہے۔ ۔ Brooks کے گل بوٹوں سے مزین کیے ہوئے مرتبان کی طرح دیکھ کراس پر اپنا فیصلہ صادر کر سکتا ہے۔ پس ساختیاتی تنقید نے بھی بارتھ کے اس نظریے میں خامیاں تلاش کی تھیں کہ صرف اسٹرکچر (پیاز کے چھلکوں کی تاویل) پر ہی انحصار رکھ کر کسی گٹھلی تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ اس لیے پس ساختیاتی اسکول کے مطابق کسی بھی شعری متن کو تنقید کے عمل سے گذارنے کا صحیح طریق کار اس میں اجزاء کے بہم دگر پیوست ہونے کے عمل کی پرکھ ہے، جو اس کے لسانی نظام کو خشت بر خشت عمارت کی طرح پیوستہ رکھتا ہے۔ اس طرح پس ساختیاتی تنقید شرع و تفسیر کے عمل میں قاری اساس تنقید کے طریق کار کی اصل شروعات تسلیم کی گئی ہے۔

قاری اساس تنقید وقت کے دریا کو پار کرنے کے لیے اس پُل کا کام کرتی ہے جو کسی بھی متن کو زمانۂ حال کی خارجی دنیا سے براہ راست متعلق کر دیتی ہے۔ اس طریق کار میں کسی بھی متن کی معنیات کو  ’’تخلیق‘‘ یا ’’فصل‘‘ کا نام دے کر یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ کوئی بھی قاری، کہیں رہتا ہوا قاری، کسی بھی زمانے کا قاری، اس ’فصل‘ کو اپنے زمان اور مکان کے ’سابق اور حال‘ سے رشتہ جوڑتا ہوا حق بجانب ہے کہ اس سیاق و سباق میں اسے پرکھ کی کسوٹی پر رکھ کر اپنا کام کرے۔ نظم کا رشتہ جو شاعر سے قائم تھا، اس وقت ہی منقطع ہو گیا تھا جب وہ معرض ولادت میں آئی تھی۔ اس وقت کی حقیقت آج کی فرضیت نہیں، آج کی حقیقت ہے۔ تین نئی اصطلاحات جو اس سلسلے کی کڑیاں ہیں، وہ ہیں، (۱)قاری (۲)قرأت کا طریق کار اور (۳) رد عمل۔ ۔ ۔ اس میں قاری کا قرأتی طریق کار اوّلیں اہمیت کا حامل ہے۔ اس عمل کے دوران قاری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ متن کی شکست و ریخت کرے، ایسے ہی جیسے کسی عمارت کو ڈھا کر اس کا ملبہ بکھرا دیا جاتا ہے۔ پھر موضوع کی سطح پر اپنے مطالعے، تجربے اور ذاتی ترجیحات کے پیمانوں سے اس کی مناجیات کی قدر و منزلت کو پرکھے اور اس کی نئی تعریف بھی متعین کرے۔ اس کام کے دوران میں دو عوامل کا ظہور ناگزیر ہے۔ پہلا عمل تشکیلی ہے اور اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ پرانے متن اور نئے قاری کے مابین معنویت کی مصالحت کا سمجھوتا قرار پا جائے۔ دوسرا موضوع سے متعلق ہے کہ قاری کو یہ کلّی اختیار ہے کہ وہ متن کی تشریح (توسیع کی حد تک) اپنی منشا کے مطابق کرے۔

ایک پروفیسر کے طور پر میرا اپنا یہ عقیدہ ہے کہ یہ کام قاری سے بہتر اور کوئی نہیں کر سکتا کہ متن کے لسانی اور ہیئتی نظم کو کھنگال کر ’’آج‘‘ کے سیاق و سباق میں اس کے معنی تلاش کرے۔ متن کی معینہ صورت صرف کا غذ کے ایک پرزے پر ہے یا ایک کتاب میں ہے۔ زمان و مکان کی توسیع کا عمل اتنا تیز تر ہے کہ کاغذ کے پرزے پر تحریر کردہ متن کی خود مرتکزیت صرف ادب کے مورخ اور محقق پر انحصار رکھ سکتی ہے، عام قاری پر نہیں۔ تعلیق کے ہر دم رواں دواں عمل مسلسل سے گذرتے ہوئے اس متن کے معانی دن رات تغیر پذیر رہتے ہیں اور یہ نئے نئے معانی کے غلاف اوڑھتا اور اُتارتا رہتا ہے۔ قرأت کے عمل کی تھیوری الفاظ کے باہم رشتوں کو سمجھ کر، اور انہیں اپنے آس پاس کی سچائیوں سے منسلک کر کے ایک ایسی صورتحال کو کھوج نکالتی ہے جو قاری کی سچائی ہے اور آج کی سچائی ہے یہ ایک ایسا عمل ہے، جس میں قاری اور متن مصافحہ کرتے ہیں، اور گلے ملتے ہیں۔ قاری متن کے ہاتھ کی گرفت اور اس کے جسم کی لطافت کو محسوس کرتا ہے اور پھر اپنے ہاتھ کو متن کے جسم پر پھیر کر ہر اس عضو کو ٹٹولتا ہے جو اس کے خیال میں اہم ہے۔ یہ اعضا الفاظ ہیں جو عبارت میں پروئے ہوئے ہیں۔ ان میں صرفی، نحوی، تصریفی، ملّخص، منصرف، قواعدی صفات ہیں۔ اسی عبارت میں روز مرہ، محاورہ، مرصع انشاء، تلطیف عبارت، ضرب المثل، مصطلحات وغیرہ بھی ہیں، جچے تلے الفاظ بھی ہیں، ماقل و دل، من وعن تطبیق الفاظ بھی ہے اور ’’مولویت‘‘ بھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بقول Ingarden وہ خصوصیت بھی ہے، جسے وہ Intentional Sentence Correlativesکہتا ہے، یعنی جہاں مصنف نے intentionally یعنی جان بوجھ کر (بوجوہ) اپنے متن میں شکست و ریخت یا دوبارہ عمارت سازی کا جتن کیا ہے، گویا کہ ملبے کے اوپر ہی ایک نیا محل تعمیر کر لیا ہے۔ (غالب کے ہاں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے )۔ انگریزی میں سترھویں صدی کے وسط میں Metaphysical poets کے ہاں بھی یہ خوبی بکثرت ملتی ہے۔ ۔ ۔

اب اگر اپنی تخلیق کے وقت ایک نظم یا غزل کا ایک شعر کسی طلسم کدے کی نقاب کشائی کرتا بھی تھا، تو آج وہ نا پید ہے۔ قاری کے حیطۂ ادراک میں اس کا آنا ایسے ہی ہے جیسے آج کے جودھپور میں رہنے والے کسی قاری نے شیلے ؔ کے اسکائی لارک کو واقعی اڑتا ہوا دیکھ لیا ہو۔ یا ایک خشک خطے میں بسے ہوئے قاری کو، جسے سمندر یا سمندری جہاز اور اس کی deck کبھی دیکھی ہی نہ ہو، یہ سطر سمجھنے میں کیا دشواری پیش نہیں آ سکتی ہے اِس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ The boy stood on the burning deck ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ قاری کا فرض قطعاً ً یہ نہیں ہے کہ وہ علامت اور ایہام کے نقاب میں پوشیدہ اس چہرے کی صحیح (یا کم از کم ’نقل برابر اصل‘) شناخت کرے جو شیلے ؔ نے اپنے خواب بیداری میں یا افیون کے نشے میں کسی کالریجؔ نے دو صدیاں پہلے اپنے نشہ آور خواب میں دیکھا تھا۔

 

                (۲)

 

تدریس رشد و ہدایت کا عمل ہے۔ مشق اور ممارست اس کے اوزار ہیں۔ جسمانی ڈرل کی طرح تربیتی ریاضیات کی اہمیت کو بدیر تسلیم کیا گیا لیکن اب یہ مغربی جامعات میں ایک قدر عام ہے۔ ادب کی تفہیم میں اب بلیک بورڈ کے علاوہ اووَر ہیڈ یا فلم پروجیکٹر وغیرہ، دیگر فرنیچر کی طرح ہی کسی بھی کمرۂ جماعت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ صرف اور صرف زبانی لیکچر پر انحصار نہیں کیا جاتا۔ اس لیے یورپ اور امریکا کی متعدد یونیورسٹیوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے علاوہ سوشل سائنسز اور ہیومینیٹیز کے مضامین کی تدریس بھی ان لوازمات پر انحصار رکھتی ہے کہ یہ اب کمرۂ جماعت کا جزو لا ینفک بن چکے ہیں۔ یہ میرے اپنے تجربے کی بات ہے کہ تیس چالیس برس پہلے تک ادب کے کورسز کسی حد تک ان سے غیر متعلق تھے لیکن میں نے ان برسوں کی تدریسی زندگی میں رفتہ رفتہ کمرۂ جماعت میں ان کی کار کردگی پر پروفیسروں کے انحصار کو دیکھا ہے۔ چاک سے تختۂ سیاہ پر لکھنے کی ضرورت ختم ہو چکی ہے۔ کاپی، اقتباس، حوالہ، مثنیٰ، نقل، خاکہ، فلو چارٹ، نقشہ، تصویر، وغیرہ اب اووَر ہیڈ پروجیکٹر سے بآسانی پروجیکٹ کیے جا سکتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا اپنا میدان اختصاص کمپیریٹو لٹریچر (تقابلی ادب) کی نصاب سازی Curriculum planning and Course Designing ہے اور اس میں میری مہارت کی وجہ سے ہی مجھے امریکا کی کئی جامعات میں نصاب سازی میں مدد دینے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ لٹریچر(۱ )۔ ۔ ۔ اور۔ لٹریچر (۲) کے انڈر گریجویٹ کے (تین تین کریڈٹ کے ) کورسز میں جہاں متن فہمی ایک زبانی عمل ہے، وہاں یہ ایک ایسا تحریری عمل بھی ہے جو ایک ایک لفظ، اصطلاح، محاورہ، (اور ان کے ہم زوج، ہم زائیدہ، مشترک الاشتقاق الفاظ یا کلمہ جات) کی زبانی اور تحریری ورزش پر انحصار رکھتا ہے۔ اسے Open Interpretation بھی کہا گیا ہے، اور یہ قاری اساس تنقید کی اسی مد کا زائیدہ ہے، جس کے تحت متن میں موجود معروضی متعلقات کو (قاری اپنے وقت اور مقام میں حاصل کی ہوئی تربیت اور تعلیم کی بنا پر ) موضوعی سطح پر ایک دوسرے سے چھان بین کر الگ کرتا ہے۔ اسی میں عملی تنقید کا وہ عنصر شامل ہے جس کی عملی تربیت کے لیے Virtual Textual Practical Criticism (VTPC) (جو سیمیسٹر امتحان کے لیے ہے ) اور صرف Virtual Textual Analysis (VTA) (جو طلبہ کی کلاس روم پریکٹس کا خاصہ ہے ) کی تکنیک کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔ میں نے واشنگٹن ڈی سی کی دو یونیورسٹیوں میں یہ کورسز سالہا سال تک پڑھائے ہیں۔

 

                 (۳)

 

اوپر قاری اساس تنقید کے طریق کار کے بارے میں تین مفروضات پیش کیے گئے ہیں۔ (ایک) قاری کون ہے، کہاں ہے، کس ملک کا باسی ہے، اس کی عمر کیا ہے، اس کی زباندانی کا علم کس سطح کا ہے، اس کا معاشی اور معاشرتی پس منظر کیا ہے۔ (دو) متن کی قرأت کا طریق کار کیا ہے۔ کیا وہ کمرۂ جماعت میں بیٹھا ہوا ایک طالبعلم ہے۔ گھر میں آرام سے بیٹھی ہوئی ایک خاتون خانہ ہے، کلب میں یا کسی ادبی مجلس میں دیگر احباب کے ساتھ بحث میں مصروف ایک قلمکار ہے یا رات کو سونے سے پہلے کتاب پڑھتا ہوا ایک بوڑھا قاری ہے۔ (تین) اب آخری مسئلہ ’’رد عمل ‘‘ کا ہے۔ یہ رد عمل ایک ہی جگہ، ایک ہی وقت میں، ایک ہی قسم کے ماحول میں بیٹھ کر اپنا رد عمل لکھتے ہوئے ’قارئین‘ کا بھی ان کی ذاتی پسند یا نا پسند (جو ان کے ذاتی حالات کے نتیجے کے طور پر ان کی گھٹّی میں پڑی ہے ) کے طور پر مختلف ہو سکتا ہے۔

یہ نہیں کہ ناقدین نے ان امور پر غور ہی نہ کیا ہو۔ ڈی۔ آر۔ اولسن، Olson, D.R. From uttermost to Text: The Rise of Language in Speech and Writing, Harward Educational Review 47. (3) pp.257-81 نے لکھا ہے کہ معنی کی ترسیل میں شرح اور تفسیر دونوں ہی ممکن الا اصل ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک دوسری سے سبقت لے جائے۔ اسی طرح بارتھ نے بھی اس مسئلے کو اٹھایا ہے۔ کہ قاری متن کا اصل جنم داتا ہے۔ وہ دو نئی اصطلاحات وضع کرتا ہے۔ Readerly Or Visible اور Writerly OR Scriptable مصنف کسی متن کا خالق تھا، تو تھا، لیکن اب نہیں ہے۔ اور اگر آج کے دن کے سیاق و سباق میں اسے متن کا خالق تسلیم بھی کر لیا جائے تو وہ اس کی شرح یا تفسیر کی ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا یہ قاری ہے جو ان دو اقسام کے متون کے معانی کو اپنے دانست سے تشکیل دیتا ہے۔ اور یہی اس متن کے معانی کی درستگی کا پیمانہ ہے۔

اب دیگر امریکی یونیورسٹیوں کی طرح میری یونیورسٹی میں بھی ان کورسزکی تدریس کے طریق کار دیکھتے ہیں۔ کلاس روم ٹیچر اپنی مرضی کے مطابق تبدیلیاں کر کے زبانی ہدایات دے سکتا ہے لیکن خصوصی طور پر Virtual Textual Analysis یعنی کورس نمبر (۱) میں اس کا طریق کار ایک ہی ہے۔ (یہ ’’لیکچر پیریڈ‘‘ نہیں ہوتا، بلکہ سائنس کے طلبہ کی طرح ہی جو سائنس لیب میں جمع ہوتے ہیں، یہ طلبہ لینگویج لیب میں اکٹھے ہوتے ہیں )۔ چونکہ یہ لیب پریکٹس کا ایک حصہ ہے، اس میں طلبہ سے ان کی تحریریں اکٹھی کر کے گریڈ نہیں دیے جاتے۔ لیکن سیمیسٹر امتحان میں یہ اکٹھے کر لیے جاتے ہیں کہ ان پر گریڈ دیا جاتا ہے۔ Virtual Textual Practical Criticism (VTPC) اسی پریکٹس کا advanced course یعنی نمبر (۲) کورس ہے، جس میں ’تنقید‘ کا عنصر بڑھا دیا جاتا ہے اور متنی یا اسلوبیاتی تنقید پر زیادہ وقت صرف کیا جاتا ہے۔

پینتالیس منٹ کے پیریڈ میں پہلے پندرہ منٹ طلبہ کو دیے جاتے ہیں کہ وہ اوور ہیڈ پروجیکٹر سے اسکرین پر پروجیکٹ کیے گئے متن کو غور سے پڑھیں۔ یہ متن اندازاً بیس سے تیس سطروں تک طویل ہو سکتا ہے۔ عام طور پر متعدد ٹیچر اپنے پاس دس یا بارہ تک ایسے متون کی نقول رکھتے ہیں، جن میں سے کسی ایک کو وہ پروجیکٹر سے اسکرین پر پروجیکٹ کرتے ہیں۔ یہ ٹیچر کی صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ کون سے متن کا انتخاب کرے لیکن عموماً ایسے ٹیکسٹ ہی پسند کیے جاتے ہیں جنہیں طلبہ مشہور و معروف شعرا کی تحریر وں کے طور پر نہ پہچان سکیں۔ یہ بھی نہ فرض کر سکیں کہ یہ کس زمان و مکان میں خلق کیا گیا ہو گا۔ فی زمانہ مستعمل انگریزی میں دوسری زبانوں کے تراجم بھی لیے جاتے ہیں۔ ( میں خود عام طور پر انیسویں صدی کے انگریزی شعرا، ٹینی سن، براؤننگ، لانگ فیلو، وغیرہ سے ان کی نظموں کے متون، یا ان کے کچھ حصص، منتخب کرتا رہا ہوں۔ جو کئی برسوں سے کورسز سے خارج ہو چکے ہیں )

اب طلبہ کو ہدایات دی جاتی ہیں کہ وہ اپنی نوٹ بک میں ان سب الفاظ کو نوٹ کریں جو اسم (نام، کلمہ جس سے کسی شخص، جانور، جگہ یا چیز کو پہچانا جائے ) کی ذیل میں آتے ہیں۔ ان میں اسمِ معرفہ، اسمِ نکرہ، اسم علم، اسم ظرف، اسم صفت، اسم جنس، اسم معرفہ، اسمِ موصول، اسم ذات، اسم صفت، اسم فاعل، اسمِ مفعول، وغیرہم۔ ۔ ۔ سب بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ پھر اپنے پاس ڈسک پر موجود ڈکشنری اور تھیسارس سے ان کے ہم معنیhomonyms تلاش کریں۔ ایک ایک کر کے ان سب کو شاعر کے استعمال کیے گئے الفاظ کے ساتھ یا اوپر رکھ کر یہ دیکھیں کہ جملہ سازی میں اور جملے کے معانی میں اور اس معانی کے مکمل متن کے تناظر میں کون سا لفظ (طالبعلم کے خیال میں ) زیادہ موزوں ہے۔ marginal notes میں اپنے انتخاب کی وجہ تسمیہ بھی لکھتے جائیں۔ ۔ پھر اس پر دس یا بارہ جملوں میں اپنی تنقید لکھیں، جسے وہ ٹوٹے پھوٹے جملوں short hand میں بھی لکھ سکتے ہیں کیونکہ یہ انہیں پڑھ کر سنانا ہوتی ہے اور اس پر گریڈنگ نہیں کی جاتی۔ یہ سب کام وہ پہلے پندرہ منٹوں میں کرتے ہیں۔

لیب پریکٹس کے پیریڈ کے آخری بیس پچیس منٹوں میں طلبہ کو اختیار دیا جاتا ہے کہ جو کوئی بھی چاہے، ہاتھ کھڑا کر کے اپنا تحریر کردہ متن پڑھ کر سنا سکتا ہے، جسے ٹیچر اور دیگر طلبہ سنتے ہیں، اس سے سوال کرتے ہیں، بحث مباحثہ ہوتا ہے۔ ہنسی کے فوارے چھوٹتے ہیں، الفاظ کے انتخاب پر لطیفے بھی گھڑے جاتے ہیں کچھ طلبہ ڈسک پر موجود متن سے ایسے ایسے معانی اخذ کرتے ہیں کہ اللہ پناہ ! (یہ سب اس مجموعی عمل کا حصہ ہے جسے جسمانی ڈرِل میں exercise ’’ورزش‘‘ کہا جاتا ہے ) البتہ تین چار ایسی کلاسز میں شرکت کے بعد آہستہ آہستہ سب طالبعلم یہ سیکھتے جاتے ہیں کہ نوع انسان کی اساس ’’ایک‘‘ ہے، صرف رسم و رواج ’’مختلف‘‘ ہیں۔ مادرانہ شفقت سب زمانوں میں اور سب ملکوں میں ایک جیسی ہے۔ اپنے بچوں کی حفاظت میں ایک جانور اور ایک انسان اپنی جان تک قربان کر سکتے ہیں۔ ’قدیم‘ سے ’جدید‘ زمانوں تک پہنچتے پہنچتے قبائلی رسم و رواج پھیکے پڑتے پڑتے یا تو بد رنگ ہو جاتے ہیں یا حب الوطنی کے جذبے کے تحت بدلتے جاتے ہیں۔ مذاہب کیا کچھ سکھاتے ہیں اور لوگ انہیں اپنے علاقے اور وقت کے چلن کے مطابق کیسے کیسے نئے معانی کی قبائیں پہنا دیتے ہیں۔ ’عشق‘ کا تصور تعشق سے روحانیت تک کیسے کیسے مراحل سے گذرتا ہے اور ممنوعہ افعال (مثلاً اسلام میں شراب نوشی) کو کچھ زبانوں (مثلاً فارسی اور اردو) میں کیسے بطور موضوع یا استعارہ استعمال کیا جاتا ہے۔

VTPCمیں ( جو VTA کی ہی دوسری سٹیج ہے، ایک طالبعلم عملی تنقید یعنی Practical Criticism کے عنصر کو، جو اس کا آخری حصہ ہوتا ہے، بروئے کار لاتا ہے اور متن پر ایک تنقیدی نوٹ لکھتا ہے۔ اس میں وہ paraphrase format in prose استعمال میں لاتا ہے اور تفصیل سے وہ سب کچھ لکھتا ہے جو اسے سمجھ میں آتا ہے۔ یہاں وہ تنقید کی تکنیکی زبان Technical Parlanace of Literary Criticism کا استعمال بھی بخوبی کرتا ہے کہ اس ایڈوانس کورس میں اسے یہ تربیت مل چکی ہوتی ہے۔

 

                 (۴)

 

اس پریکٹس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ طالبعلم (یعنی قاری) کسی بھی متن سے، شاعر کا نام، اس کے زمان و مکان کو جانے بغیر، ’’اپنی اساس سے ‘‘ کس طرح کے معانی اخذ کر سکتا ہے۔ یعنی ایک کاکیشین امریکی لڑکا یا ایک عرب نژاد طالبعلم جو امریکا میں اقامت پذیر ہے، یا ہندوستانی والدین کی اولاد لڑکی جو امریکا میں پیدا ہوئی ہے، کس طرح سے ایک ایسے متن کو دیکھتے ہیں جس کے بارے میں انہیں علم نہیں ہے کہ وہ دنیا کے کون سے حصے میں کب اور کہاں لکھا گیا۔ کیا اس کا لکھنے والا یورپی تھا، چینی تھا یا افریقی۔ مرد تھا یا عورت، نوجوان تھا یا بوڑھا، دولتمند تھا یا غریب، حاکم طبقے یا نسل سے تھا یا ایک محکوم ملک سے تعلق رکھتا تھا، یہودی تھا، عیسائی تھا، مسلم تھا، ہندو تھا یا لا دین تھا۔

چوبیس ہفتوں کے ایک سیمسٹر کے ایسے بارہ سیشنسز میں اک طالبعلم اس عملی ’’ورزش‘‘ سے کیا کچھ سیکھ سکتا ہے، راقم الحروف نے ہر سیمیسٹر میں آخری تین یا چار لیب کلاسز میں اس کا تجربہ کیا ہے۔ ان آخری ہفتوں میں ایک طالبعلم، اتنا سب کچھ تو نہیں جو ’’قاری اساس تنقید‘‘ کی تھیوری کی مکمل’اساس ‘ ہے، لیکن اس کے ابجد سے ضرور واقف ہو جاتا ہے، عام طلبہ کے لیے تو یہ کورس اختیاری ہے لیکن جس کسی طالبعلم نے اس کے بعد لٹریچر میں ’’ میجر‘‘ ہونے کا انتخاب کرنا ہو اس کے لیے یہ بنیادی تین کریڈٹ کا کورس لازمی ہے۔ اس طرح طالبعلم کی بنیاد بہت مضبوط ہو جاتی ہے۔ اس بات کا مجھے ذاتی طور پر بھی تجربہ ہے کیونکہ میں خود ان کورسز سے لے کر ’’میجر اِن انگلش ‘‘سے ہوتے ہوئے ایم اے انگلش تک کورسز کی تدریس کرتا رہا ہے۔

میں اردو کا معلم نہیں ہوں، انگریزی کا استاد ہوں اور میرا میدان اختصاص انگریزی ادب کے علاوہ تقابلی ادب Comparative Literature میں نصاب سازی کا ہے، اس لیے میں بطور نمونہ مشتے از خروارے صرف ایک انگریزی نظم ضمیمہ کی شکل میں یہاں شامل کر رہا ہوں جو طلبہ کو ان کے سیمیسٹر امتحان میں دی گئی تھی تا کہ یہ واضح ہو سکے کہ قاری اساس تنقید کے حوالے سے کسی بھی نظم پر اظہارِ خیال میں کیا کچھ ممکن ہے۔

 

ایک انگریزی نظم جو سمیسٹر امتحان میں لٹریچر (۲) کے طلبہ کو VTPA کے لیے دی گئی ۔

 

MORNING AFTER

 

Smoke-hooded monks suck

sockets of marble chill

to the tune

of circling doves across

William’s guitar-strung

nerves:

Oh, Poet

in the gullet of Being

they march! You have

no exit

but

Becoming

and I light one more

and puff until

maybe dawn may be

then this salt

will ooze off letting

a guy see clear.

 

ساتویں سطر میں لفظ poet راقم الحروف نے خود ڈال دیا ہے۔ یہاں شاعر نے اپنا نام لکھا تھا جو طلبہ کے لیے اخفا میں رکھ دیا گیا (قارئین کے تفنن طبع کے لیے یہ بعد میں لکھ دیا جائے گا)

امتحان کے پرچے کسی اور کو گریڈنگ کے لیے نہیں دیے جاتے۔ ٹیچر خود ہی انہیں گریڈ کرتا ہے۔ جب تیس کے قریب یہ پرچے میرے ڈیسک پر پہنچے تو میں نے دیکھا کہ ان میں تمام اسماء کے متبادل الفاظ کو ایک ایک کر کے پرکھا گیا ہے۔ (مثال کے طور پر پہلی تین سطور میں smoke, hood, monks, tune, doves کو باقاعدگی سے انڈر لائن کر کے لکھا گیا تھا۔ ) اب یکے بعد دیگرے امتحانی پرچہ جات دیکھنے کے بعد یہ امر کھل کر سامنے آیا کہ طلبہ کے اپنے ذاتی، خاندانی، ملکی یا غیر ملکی، معاشرتی، معاشی، ثقافتی، مذہبی پس منظر نے اس کی سمجھ میں آئے ہوئے معانی کو کیسے کیسے دشوار گذار راستوں میں سے گھسیٹ گھسیٹ کر نکالا ہے۔ البتہ کچھ اسم ایسے تھے جن پر کوئی متبادل لفظ انگریزی میں صحیح نہیں بیٹھتا تھا اس لیے تقریباً سبھی طلبہ نے ان پر صاد کیا poet, guitar, dawn, وغیرہ الفاظ کے نعم البدل تلاش نہیں کیے گئے۔ monk کو ایسے ہی رہنے دیا گیا۔ آخری پیراگراف کو جس میں عملی تنقید ہوتی ہے، بہت خوبصورتی سے طلبہ نے اپنے اپنے تجربے کے مطابق سنوار کر پیش کیا۔ کوریائی اور چینی نژاد امریکی طلبہ نے نظم کو بدھ مت کے بھکشو ؤں کی ٹولی سے مشابہت دی جو تمباکو کی صورت میں افیون کا دھوآں پھیپھڑوں میں کھینچتے ہیں۔ دیگر طلبہ میں کچھ نے گذشتہ صدی کی پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں beat generationکے نوجوانوں، خصوصی طور پر ویتنام جنگ سے لوٹے ہوئے امریکی فوجیوں کو مشابہ کیا۔ اس کے لیے march کا لفظ ان کا رہبر ثابت ہوا۔ یہ فوجی مختلف قسم کی ذہنی بیماریوں کا شکار تھے اور نشہ آور ادویات ہی ان کا ویتنام جنگ کی بھیانک یادوں سے دور رہنے کا ایک طریقہ تھا۔ ۔ ۔ ۔ salt will ooze off سے بھی سمندر پار سے لوٹنے اور سمندر میں تیر کر پار نکلنے کا استعارہ سمجھا گیا۔ لیکن مجموعی طور پر ’’قاری اساس تنقید‘‘ کے حوالے سے تیس میں سے تقریباً نصف تعداد میں طلبہ نے A ,B+, B گریڈ حاصل کیے جو کہ ایک ریکارڈ تو نہیں تھا، لیکن مجموعی طور پر بہت تسلی بخش تھا۔

اب آئیں نظم کی طرف۔ راقم الحروف نے لفظ poet اس لیے جڑ دیا تھا تا کہ قارئین کا تجسس قائم رہے۔ یہ نظم فرانز کافکا کی لکھی ہوئی ہے۔ اور اُس جگہ پرجہاں میں نے ’’شاعر‘‘ لکھ دیا ہے، اُس نے اپنا نام، یعنی Kafka ہی لکھا تھا اور نظم اُس نے خود کو مخاطب کی تھی۔ اب میں اپنا بیان دینے کے بجائے فرانز کافکا کے ہی الفاظ لکھ رہا ہوں جو اُس نے معروف نقاد Judson Jerome کے ایک سوال کے جواب میں 1920ء میں لکھ کر بھیجے تھے۔ جڈسن جیروم گذشتہ صدی میں ’ ’ریڈرز ڈائجسٹ‘‘ کے لیے ایک کتاب مرتب کر رہا تھا (جو بعد میں The Poet and the Poem کے زیر عنوان شائع ہوئی )اور اِس نظم کو بطور نمونہ شامل کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اِس کی شرح و تفسیرجب اُس سے خود نہ ہو سکی تو اس نے کافکا کو لکھا۔ کافکا کے طویل جواب میں سے کچھ حصص حسب ذیل تھے۔ (میں متن میں سے غیر متعلق ریمارکس حذف کر رہا ہوں اور۔ ۔ ۔ نقطوں سے ان کی شناخت کر رہا ہوں )

 

I am surprised you don’t get it. The monks, of course are the critics. See they worship Kafka, but they are eating him up, they’re living off him. They’re foggy minded, dull, cold۔ …Then the sky, see۔ ۔ ۔ the doves. But these critics have been brought up on Wordsworth.۔ .Ideas are all based on old stuff like Wordswoth۔ ..There are allusions to Lorca, the guitar, the taut strings across the black hole۔ ..of nervous sytem, and the mysterious unknwn of the personality.۔ ..۔ (The monks, the critics) are hounding him out of hell, as though to save him., but they will destroy him unless he can be continually۔ ۔ ۔ Becoming. That’s a pun. He is.۔ .always slipping out of their hands of the hands of the monks which would tie him to one meaning.

کافکا ؔ کا یہ خط تین صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ See Judson Jerome “The Poet and the Poem” published by Writer’s Digest, Cincinnati, Ohio. 1974. pp.155-57.

اور اس میں وہ نقادوں کے علاوہ ایسے قارئین سے بھی الجھتا ہے جو اس کی نظموں کو سمجھ نہیں سکتے۔ اس کا یہ کہنا کہ نقاد اُسے ’’ایک ہی معنی‘‘ کے ساتھ ’باندھنا چاہتے ہیں ‘، بہت معنی خیز ہے۔

س۔ پ۔ا

 

 

ایک ضروری نوٹ

 

’’پیش لفظ‘‘ میں قاری اساس تنقید اور اس کے ذیل میں Virtual Textual Analysis (VTA) اور اس کی جامع شکل Virtual Textual Practical Criticism (VTPC)کے بارے میں مختصراً معلومات فراہم کی گئی ہیں، لیکن انیسویں صدی کے عظیم شاعر غالبؔ کے بارے میں، جو ہماری قاری اساس تنقید کا ہدف ہے، کچھ بھی نہیں لکھا گیا۔ غالب الفاظ کا سوداگر ہے۔ اس کے ہاں جتنا بڑا خزانہ اس جنس کمیاب کا ہے، اس پر راقم الحروف کی ناقدانہ رائے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ البتہ مغربی جامعات میں درسیات کے حوالے سے یہ کہنا ضروری ہے کہ بسیار تگ و دو کے بعد، جونیئر اور سینیئرسطحوں پر، انگریزی ترجمے کی وساطت سے، غالب کو متعارف کیا جا چکا ہے۔ یہ سلسلہ جاری ہے اور تا حیات یہ خاکسار اوراس جیسے کچھ اور احباب اس کام کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔

ایک مدت سے راقم الحروف کی خواہش تھی کہ وہ قاری اساس تنقید کے قواعد و ضوابط کو غالب کے اشعار پر آزما کر یہ دیکھنے کی کوشش کرے کہ یہ کس حد تک کارآمد ہیں۔ غالب تو صدیوں بعد تک زندہ رہے گا لیکن صدیوں بعد کا قاری (یعنی ایک طالبعلم یا استاد سے مختلف ’عام قاری‘) اُس سیاسی، اقتصادی، سماجی انتشار سے لا علم ہو گا جس میں غالب نے اپنی پہلی اور آخری سانس لی۔ اس قاری کو اپنی ’’اساس ‘‘ سے غالب کو سمجھنا پڑے گا۔ ابتدا میں یہ کام میں نے نثر میں کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ میں ایک ایسے شاعر سے انصاف نہیں کر رہا جو صرف دو سطور کی صدف میں بیسیوں گوہر محفوظ رکھ سکتا ہے۔ تو آزاد نظم میں (جو میرا میدان اختصاص ہے ) لکھنے کا ارادہ کیا۔ کئی بار کام شروع کیا اور کئی بار گھبرا کر چھوڑ دیا کہ یہ میری بساط سے بڑھ کر ہے۔ ایک ایک شعر پر تین تین چار دن، یعنی بیسیوں گھنٹے صرف کیے۔ ہم معنی الفاظ homonyms and synonyms کی تلاش و ترتیب (جو کہ VTA اور VTPC کا طریق کار ہے )کئی بار مجھ کو اُن پارینہ تہہ در تہہ احاطوں میں بھی لے گئی جہاں غالب کے شارحین بھی نہیں پہنچ سکے تھے، لیکن غالب کے اشعار پر ان الفاظ کا اطلاق مجھے بہت بامعنی لگا۔

چالیس اشعار، نمونہ مشتے از خروارے، آپ کے سامنے ہیں۔ یہ کاوش شاید صرف غالب کے حوالے سے ایک trend-setter ثابت نہ ہو سکے کہ ہم لوگ ہر نئے تجربے کو شک کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ اور فی زمانہ خصوصی طور پر یورپ یا امریکا سے درآمدہ نظریات کو تو بوجوہ انتہائی مشکوک سمجھا ہی جاتا ہے۔ لیکن کیا اد بی تنقید کی ایک نئی تھیوری ہماری تہذیبی اساس کو بگاڑ سکتی ہے، یہ سوال خود میں ہی لا یعنی ہے۔ اس خاکسار نے لگ بھگ چھ ماہ تک اس پراجیکٹ پر کام کیا ہے۔ اس کا نتیجہ جو بھی ہے، قارئین کے سامنے ہے۔

سپ ا

 

 

 

 

قاری اساس تنقید (ایک مکالمہ)

                Reader’s Response Criticism (A dialogue)

 

 

قاری (۱)

 

مصنف ہی اگر مر کھپ چکا ہو چار صدیاں پیشتر تو*

اس کے تحریری متن کو کیسے سمجھے گا وہ قاری

جو”زماں ” میں پانچ چھ صدیاں

“مکاں “میں پانچ چھ سو میل دوری پر کھڑا

کاغذ کا پرزہ ہاتھ میں لے کر

متن میں منہمک ہے، سر کھجاتا ہے ؟

 

قاری (۲)

 

اگر معنی متن میں ہی نہاں ہے تو

مصنف کی ضرورت ایسی حالت میں کہاں محسوس ہوتی ہے ؟

مصنف غیر حاضر ہے **

مگر قاری تو حاضر ہے

اور اس کے سامنے کاغذ کے پرزے پر

متن موجود ہے، تو پھر

یقیناً ’’حاضر و موجود‘‘ ہیں دونوں !

 

(مسئلے کا حل)

 

تو پھرایسا سمجھ لیجے۔ ۔ ۔

کوئی اک شعر یا اک نظم، یا کوئی بھی کیسا بھی متن

اک ’چیز ‘ ہی ٹھہرا

مکمل خود میں، با معنی و مطلب

کچھ بھی ہو

آساں، سریع الفہم ہو۔ ۔

مشکل، عسیر الفہم ہو ***

کیسا بھی ہو!

 

چلیں، قاری سے پوچھیں۔ ۔ ۔

کون قاری؟

وہ جسے سونے سے پہلے

یہ ’متن‘ پڑھنے کی خواہش ہے ؟

بھلا پوچھے گا کیا پڑھنے سے پہلے

دوستوں سے، یا کسی ناقد سے

کیا مطلب ہے اس کا۔ ۔ ۔

یا اسے جو کچھ سمجھ آتا ہے اپنے ہی حوالے سے

فقط اپنے ’زماں ‘سے۔ ۔ ۔ حال، ماضی سے

’ مکاں ‘ سے، ملک سے

اپنے ہی تہذیب و تمدّن سے

زباں پر اپنی قدرت سے

وہی کچھ ہی تو سمجھے گا یہ قاری

رات کو سونے سے پہلے !

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

* Roland Barthes: Death of the Author*

**The meaning is in the printed text: not outside it. Hence it is in the Readers’ domain. Wolfgang Iser.

*** An absentee author is like an absentee witness who cannot give his evidence. Wolfgang Iser.

(یہ مکالمہ پہلے انگریزی نظم میں تحریر کیا گیا۔ منظوم ترجمہ مصنف نے خود کیا ہے )

 

 

 

۱۔ وفاداری، بشکل استواری، اصل ایماں ہے

 مرے بتخانہ میں تو کعبہ میں گاڑو براہمن کو

 

وفا داری؟ وفا کیشی، کھرا پن، کلمۂ حق ہے

مگر اک شرط ہے یہ حق شعاری مستقل ہو۔ ۔ ۔

پائداری، استقامت، جاری و ساری رہے

مرنے کے لمحے تک!

 

مگر کعبہ میں کیوں گاڑو براہمن کو؟

بھلا کیوں ؟

بت پرستی شیوۂ زنّار بنداں ہے تو ہے، لیکن

کسی ہندو پجاری کو بھلا الحاد کا اعزاز؟

غالب؟کیوں ؟

 

ذرا پہچان مجھ کو عیب جُو آنندؔ، میں نے ہی

کہا تھا اس اباحت کی حمایت میں۔ ۔ ۔ ۔

نہیں کچھ سجہ و زنّار کے پھندے میں گیرائی

وفاداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے

٭٭٭

 

 

 

 

۲۔ یعنی بہ حسب گردش پیمانۂصفات

 عارف ہمیشہ مست مئے ذات چاہیے

 

 (اس نظم میں بطور تجربہ بحور کا امتزاج روا رکھا گیا)

 

’عارف‘ ؟ تو ہے ’پہچاننے والا‘ خدا شناس

یعنی نماز و سجدہ و تمجید کا غلام

یعنی حکیم مطلق و دانا و خرد مند

یعنی کہ بودھ اور بصیرت کا اک فریس

یعنی متین و حاذق و آگاہ شاستری

 

یہ محترم بھی ’’مست مئے ذات چاہیے ‘‘

وہ بھی اِنہیں ’’صفات‘‘ کے پیمانے کے طفیل؟

پیمانہ ۔ ۔ ۔ جام؟ ساغر و مینا ۔ ۔ ظروف مے۔ ۔ ۔

’’گردش‘‘ کے استعمال سے شاید درست ہو

لیکن ’’صفات‘‘ کے لیے ؟

جی ہاں، اک ایسا آلۂ میزان جو ہمیں

توفیق دے کہ ہم

مقیاس عقل و فہم سے تفریق کر سکیں

’’عارف‘‘ کے سب کوائف و احوال جان کر

اس کی علیہیات کو ، سیرت کو، نام کو

کچھ ماپ سکیں، تول سکیں، بحث کر سکیں

سچ اور جھوٹ میں کوئی تفریق کر سکیں

 

’’عارف‘‘ کی کیا صفات ہیں ؟ یہ جان چکے ہیں

پیمانہ کیا ہے، یہ بھی ہم پہچان چکے ہیں

اب دیکھیں ’’مئے ذات‘‘ بھی کیا چیزے دگر ہے

کیسا ہے یہ مشروب جو خود میں ہے منفرد

جس کے حصول سے ہی یہ موصوف ہمیشہ

خوش باش و خوش آئند و با آرام رہے گا؟

 

ہاں، ’’ذات‘‘۔ ۔ ۔ ذات باری و عالی و ذوالجلال

ہاں، ’’ذات‘‘۔ ۔ ۔ امتیاز، تخصص، انا۔ ۔ ۔ نشان

شاید یہ دونوں۔ ۔

یا کو ئی موزوں سا امتزاج

دونوں کا ۔ ۔ ۔ یعنی۔ ۔ ۔ ۔

ذات شریف اور اُسی ذات میں شریک

اک ذات مختلف، کہ ہو ’شر‘ آب خوار بھی۔ ۔ ۔

 

’’عارف ‘‘قبول۔ ۔

’’مست مئے ذات‘‘ بھی قبول

لیکن ’’ہمیشہ‘‘؟۔ ۔ ۔ مستقل؟ تا زیست؟ آٹھوں پہر؟

یہ لفظ تو شرمندۂ تعبیر رہے گا!

٭٭٭

 

 

 

 

۳۔ ہستی کے مت فریب میں آ جائیو، اسدؔ

 عالم تمام حلقۂ دام خیال ہے

 

(اس نظم میں بحور کا امتزاج روا رکھا گیا)

 

عالم تمام : مافیہا، آفاق، کائنات؟

عالم تمام: تارکا  منڈل، نظام شمس؟

عالم تمام: روئے زمیں، زیر زمیں، سمک

عالم تمام: فوٹو اسفیّر، کرومو زون  Photo sphere, chromozone

 

دام خیال : کشف و گماں کا فن و فریب

دام خیال: خود سے پخت و پز کا چھل کپٹ

دام خیال : فکر فی نفسہ کا زاد بوم

دام خیال : فہم کا اک خواب تہی مغز

 

اس گنجلک دماغ میں غالب میاں، کہو

کیسا یہ انصرام ہے، کیسا یہ انضباط

کیسا ہے با قرینہ، مرتب یہ تکملہ؟

مانا کہ ذہن غیر معروضی ہے اک مقام

مانا کہ اس کی عیینت ہے عالم مثال

مانا کہ ایسٹَرل ہے وہ ایتھرک نظام          Easterl ; Etheric

جس میں جہان اکبر و اصغر بھی ہیں مقیم

لیکن میاں، یہ فلکا ثیر ایٹموں کی اصل

اور آدمی کا ذہن فقط اثریت کا دام

شعری غلو سے بڑھ کے نہیں ہے یہ انضمام !

٭٭٭

 

 

 

۴۔ (الف)غرّۂ اوج بنائے عالم امکاں نہ پوچھ

 اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن

 

زائد از امکاں بلندی، خود پسندی

اور اس پندار کی تشہیر عام

طنطنہ، شیخی، دکھاوا

شہروں شہروں، ملکوں ملکوں

اپنی خلعت، کلغی، وردی کی نمائش

بانس کی ٹانگوں پہ چلتا ایک سرکس کا لفنگا

لاف زن، مغرور، متکبر، مدّمغ

’عالم امکاں ‘ کی گر بنیاد یہ ہو

اس بلندی کی اگر میزاب یہ ہو

دیکھئے پھر اس بلندی کا نتیجہ

ایسے ماخذ کا ضمیمہ

صرف گرنا۔ ۔ ۔ اوندھے منہ یا سر کے بل

یا چار زانو ۔ ۔ ۔ منحصر اس بات پر ہے

یہ ہبوط افگندگی ہے

خفّت و ذلت ہے۔ ۔ ۔ ۔

یا خود سے کسی بالا نشیں کی کورنش ہے !

٭٭٭

 

 

 

 

۴۔ (ب)اسی شعر پر قاری اساس تنقید کے تحت Virtual Textual Analysis کے استعمال کے طریق کار سے ایک اور کوشش:

 

۴ (ب)۔ غرّۂ اوج بنائے عالم امکاں نہ پوچھ

     اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن

 

غرّہ کیا ہے ؟

خود پسندی، ؟

اینڈنا؟ کج خلق ہونا؟ ادّعا، ’’میَں پن‘‘۔ ۔ ۔ *

دکھاوا؟

زائد از امکاں بلندی، خود پسندی

اور اس پندار کی تشہیر ۔ ’’پھُوں پھاں ‘‘؟*

طنطنہ، شیخی، دکھاوا

شہروں شہروں، ملکوں ملکوں

اپنی خلعت، کلغی، وردی کی نمائش

بانس کی ٹانگوں پہ چلتا ایک سرکس کا کھلاڑی

لاف زن، مغرور، متکبر، مدّمغ!

 

’عالم امکاں ‘ کی گر بنیاد یہ ہو

اس بلندی کا اگر میزاب یہ ہو

دیکھئے پھر اس بلندی کا نتیجہ

صرف گرنا۔ ۔ ۔ اوندھے منہ یا سر کے بل

یا چار زانو ۔ ۔ ۔ منحصر اس بات پر ہے

یہ تنزل، خفّت و ذلت ہے۔ ۔ ۔ ۔ یا پھر

کورنش ہے خود سے اک بالا نشیں کی !!

جو بھی کچھ ہے

خاکساری، سجدہ ریزی، چاپلوسی، چاکری ہے !

 

ایسے خود بیں کے لیے موزوں ہے غالب کا یہ کہنا

’’اس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن!‘‘

۔۔۔۔۔۔

(اس نظم اور اسی شعر پر پچھلی نظم کے کچھ مصارع مشترک ہیں )

٭٭٭

 

 

 

۵۔ نکوہش مانع بے ربطیِ شور جنوں آئی

ہوا ہے خندۂ احباب بخیہ جیب و دامن میں

 

(مصرع اولیٰ)

 

نکوہش : چشم کم سے دیکھنا، دھتکارنا، تحقیر سے منہ موڑ لینا ہے

مرے احباب کی ایسی نکوہش منع کرتی ہے

مجھے شور جنوں، فریاد میں بے ربط ہونے سے !

 

بھلا شور جنوں با ربط بھی ہوتا ہے کیا غالب؟

جنوں میں شور و غوغا، ہاؤ ہو، فریاد، واویلا

یہ سارے صوتیاتی جزو اس کے حصّے بخرے ہیں

مگر لَے تال میں، سُر، راگنی میں کیا کوئی مربوط کر سکتا ہے نالے کو؟

کوئی کیا رونے دھونے کو بدل سکتا ہے

خوش آہنگ تانوں میں ؟

 

 (مصرع ثانی)

 

میں اس جوش جنوں میں

بے محالہ چاک کر دیتا ہوں اپنے جیب و دامن کو

یہ ایسا فعل ہے ملبوس کے بخیے ادھڑنے کا

(جو شاید استعارہ ہے مرے سینے کے رخنہ درز ہونے کا)

مگر احباب کی خندہ زنی، تشنیع مجھ کو باز رکھتی ہے

کہ میں بخیئے ادھیڑوں جَیب و دامن کے

 

مجھے اس کی ضرورت ہی نہیں پڑتی

مرے جوش جنوں پر ان کا ہنسنا

میرے بخیوں کو ادھڑنے ہی نہیں دیتا

تو میں خو عادتاً ہی اس عمل سے باز رہتا ہوں

٭٭٭

 

 

 

 ۶۔ دل حسرت زدہ تھا مائل لذّت درد

 کام یاروں کا بقدر لب و دنداں نکلا

 

 

دل تو آزردہ تھا، طوفان مصائب کا شکار

خوان نعمت سا شقاوت کا بچھا تھا، اور میں

وجع الصدر سا، سرگشتہ، زبوں حال سا تھا

درد جان کاہ سے دل پھر بھی تھا لذّت اندوز

ماندگی میں بھی تھا احساس اس دستر خواں کا

ناخوشی خود میں تھی آرام کی اک وجہ۔ ۔ ۔ مگر

یار تو یار ہیں، ان کو ہے فقط طنز سے کام

خندہ زن ہوتے ہیں دانتوں کی نمائش کے لیے

ریشخندی ہو کہ دشنام۔ ۔ ۔ کوئی فرق نہیں

لب تو مطعون ہیں، بس کھلّی اڑا دیتے ہیں

لب و دنداں میں اگر سازش بد گوئی ہو

کون بچ سکتا ہے سبکی سے، بے توقیری سے !

 

یار تو یار ہیں، میں ان سے بھلا کیسے کہوں

کچھ ذرا صبر کریں

افترا میں لب و دنداں کو چھپائے رکھیں !

٭٭٭

 

 

 

 

۷۔ دیکھ کر در پردہ گرم دامن افشانی مجھے

کر گئی وابستۂ تن میری عریانی مجھے

 

 

بے لباسی من کی تھی یا تن کی؟، غالبؔ، کچھ کہیں تو !

کیسی عریانی تھی یہ؟ سرمدؔ کی سی۔ ۔ ۔

یا ’نانگا سادھو‘ کی سی جو خود۔ ۔ ۔

ننگا ہی رہنے کو’مسلک‘ یا ’ریاضت‘ ، مانتا ہو؟

 

جسم تو آراستہ تھا آپ کا۔ ۔ ۔ پر

خوش لباسی سے مبّرا

جسم، کے اندر کہیں تھی

ایک انترآتما؟ سہمی ہوئی، ننگی بُچی سی؟

روح تھی وہ؟ جوع تھی وہ؟

اور پھر وابستۂ تن ہو کے خود کو ڈھانپنا

اس جوح، انتر آتما کی اک نئے فاضل بدن میں

داخلے کی آرزو، حسرت تھی شاید؟

مسئلہ آوا گمن، ابداع یا ’کایا بدل‘ کا

کیا کہیں تحت الشعوری رو میں بہتا

اور پھٹتا بلبلہ تھا

جس نے ایسے شعر کا چولا پہن کر

خود کو یوں ظاہر کیا تھا؟

دل نہیں یہ مانتا غالب، مبادا آپ پر بھی

بُدھّ کے رستے پہ چلنے کا کوئی الزام آئے !

ہاں، مگر ’’در پردہ گرم دامن افشانی‘‘ تو خود کو

’’ڈھانپ‘‘ کر رکھنے کا بھی

اور ’’کھول‘‘ کر رکھنے کا بھی ایسا عمل ہے

جس کو ہم ’’گنجینۂ معنی‘‘ کہیں تو کیا غلط ہے !

 

آپ، غالبؔ، شعر کی چلمن کے پیچھے ہنس رہے ہیں

اس لیے شاید کہ ہم ابداع یا ’کایا بدل‘ کے مسئلے کا

آپ پر اطلاق قطعاً کر نہیں پائے ابھی تک!

٭٭٭

 

 

 

 

۸۔ کثرت آرائیِ وحدت ہے پرستاریِ وہم

کر دیا کافر اِن اصنام خیالی نے مجھے

 

 

ِ کوئی گنتی بھی ہے اصنام خیالی کی، کہ جو

ذہن میں ڈیرہ جمائے ہوئے یوں بیٹھے ہیں

جوق در جوق برو مند ہوں لڑکے بالے ؟

 

ایک سے کم بھی نہیں اور زیادہ بھی نہیں

اس الف کی کوئی تکرار نہیں، کسر نہیں

ایک ہی خود میں ہے بے حد و نہایت، کہ اسے

بیش از بیش زوائد کی ضرورت ہی نہیں

 

نام لینے کو یونہی حرف مکرّر کی طرح

بانٹتے پھرتے ہیں اصنام خیالی میں اُسے

وہ کہ جو کثرت و کسریٰ میں نہیں بٹ سکتا

کیا نہیں کلمۃ الحق بات چچا غالب کی

’’کثرت آرائیِ وحدت ہے پرستاریِ وہم !ٍٍ‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

۹۔ بہ نالہ حاصل دل بستگی فراہم کر

 متاع خانۂ زنجیر جز صدا معلوم!

 

 

اسیری۔ ۔ ۔ قدغن و زنجیر، ضبط و جبرو رسن

رہائی۔ ۔ ۔ فیل بے زنجیر*، دوڑ، بھاگ، فرار

مگر یہ ’ غل‘ ۰۰جو ابھرتا ہے روز رات گئے

(ہر ایک حلقۂ زنجیر کا فرستادہ)

مجھے یہ یاد دلاتا ہے تسمہ پا ہوں میں

متاع خانۂ زنجیر اک صدا ہی تو ہے

مگر یہ قرأت خاموش مرگ آسا ہے

شنیدنی ہے یہ بانگ اسیر خود ترسی

رہائی اس کی فقط مرگ مفاجات میں ہے !

۰۰۰۰۰

**جب جنوں سے ہمیں توغل تھا: اپنی زنجیر پا ہی کا غل تھا (میرؔ)

نوٹ۔ اس نظم میں صرف مصرع ثانی پر غور و خوض کیا گیا۔

٭٭٭

 

 

 

 

۱۰۔ ناکامی نگاہ ہے برق نظارہ سوز

تو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی

 

 

ہاں۔ ۔ ۔ ’’تو‘‘ کہ اسم ذات، یہودا، مرا محبوب

ہاں۔ ۔ ۔ ’’میں ‘‘ کہ تشنہ کام، تمنائی، پجاری

ہاں۔ ۔ ۔ ’’تو‘‘ مرا دلدار، جگر گوشہ، دل آرام

ہاں۔ ۔ ۔ ’’میں ‘‘ کہ محبت کا ہوں مارا ہوا، مفتون

 

کیسے اٹھاؤں دیدۂ نظارہ تری سمت

کوتاہ بیں ہے چشم تماشا مری ہنوز

درشن ترا محال ہے، اے برق چشم سوز

دیدار ترا پیش نظر؟ قاتل بینش!

 

تو کیا ہے، اگر وہ نہیں ؟ اے ظاہرا ظہور

تو عین سامنے ہے برافگند، بے نقاب

پیش نظر ہے، ظاہر و باہر، ہے روبرو

پھر بھی کہیں نہیں کہ ہے روپوش ضیا میں

 

میری نگاہ کسرِ مدوّر، قرین، کور

جلوہ ترا شعاع صفت، آگ بھبھوکا

لمعات رُخ یہ برق تپاں کھولتی ہے راز

’’منظور تھی یہ شکل تجلی کو طور کی‘‘

(۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نظم میں دو بحور کا امتزاج روا رکھا گیا۔ ۔ ۔ ۔ )

٭٭٭

 

 

 

 

۱۱۔ ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تمام

 مہر گردوں ہے چراغ رہگذر بادیاں

 

آفرینش کب تھی غالب؟ عالم علوی میں کیا؟

یا کہیں باغ جناں میں، آدم و حوّا کے بیچ؟

عالم لاہوت میں ؟ یا عالم ناسوت میں ؟

کیا کسی پرلوک میں یا اِس ہمارے لوک میں ؟

 

اور پھر اجزائے ضربی ؟دیمقراسی سالمات؟

مادۃ  العبدان۔ ۔ ۔ یا ذی روح اِنس و بشریت؟

عبد آب و گِل؟ جگت باسی منُش، بندہ، بشر؟

یا نباتاتی، خیابانی اپج، روئیدگی؟

 

کیوں زوال آمادہ ہیں یہ آفرینش کے نشاں ؟

 

پوچھئے غالب سے اور پھر سوچئے خود بھی جناب

دائیں بائیں دیکھئے ۔ ۔ ۔ اور غور سے پھر دیکھئے

آفرینش کے تمام اجزا تو شاید ہوں، نہ ہوں

ہے زوال آمادہ اِنس و بشریت صدیوں سے اب!

نسلیات و بشریت شاید ترقی پر ہوں، پر

اِنسی آدم دوستی مفقود ہے خلقت میں اب!!

 

پیش بینی ’’غالب خستہ‘‘ کا شیوہ تو نہ تھا

’’شاعری جزویست از پیغمبری‘‘، لیکن، یہ قول

منطبق اس پر بھی تھا جس نے کہا تھا شوق سے

’’تھا طلسم قفل ابجد خانۂ مکتب مجھے !‘‘

۰۰۰۰۰

(اس نظم میں صرف مصرع اولیٰ پر توجہ مرکوز کی گئی کہ مصرع ثانی شاعر نے ’ثبوت بالفرض‘ کی صورت میں پیوند کیا ہے۔ )

٭٭٭

 

 

 

 

۱۲۔ ہے وہی بد مستیِ ہر ذرّہ کا خود عذر خواہ

جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے

 

عذر خواہی ۔ ۔ ۔ حیلہ جوئی۔ ۔ ۔ ادعا ۔ ۔ ۔ کچھ لیپا پوتی

عذر۔ ۔ ۔ ، عذر لنگ بھی، تلبیس بھی، تحریف بھی، اور۔ ۔ ۔

عذر۔ ۔ ۔ کج فہمی، غلط تشریح، ژولیدہ جُگَت، جھوٹا بہانہ!

 

کیسی یہ تلطیف ہے ؟ اس استعارے کا اشارہ کس طرف ہے ؟

کیا ہے وہ ؟ (یا کون ہے ؟) ’’ذرّہ‘‘ کہ جس کی

داستاں بد مستیوں کی ایسے دہرائی گئی ہے

جیسے ہر کوئی اُسے پہچانتا ہو!

 

ذرّہ، یعنی رائی بھر اک جسمیہ، اک برقیہ، ریزہ، تراشہ

اربوں کھربوں کے تعدد میں فقط اکلوتا خلیہ

ذرّیت، احفاد، آل اولاد، وارث۔ ۔ ۔

سلسلہ موروثیت، ابنِ فلاں، ابنِ فلاں

اک فرد، یعنی آب و خاک و ریح کا’ پُتلی تماشا‘!

 

کیسی ہیں بدمستیاں یہ؟ جن کی خاطر

عذر خواہی اہم ہے اس کے لیے جو

جلوہ گر خود ہے زمیں تا آسماں۔ ۔ ۔

جس کا ظہورہ قطعی، بیّن توہے پر اشہر و واضح نہیں ہے !

یہ سناتن، جاودانی، امر روپی دائمی اللہ ہے جو عذر خواہ ہے

اِس بشر، پل چھن کے باسی، آدمی کی

شیطنت کا، ناروا بد مستیوں کا!

 

کیوں بھلا؟

آئیے، پوچھیں براہ راست غالبؔ سے ہی

آخر وجہ کیا تھی؟

اس لیے شاید کہ اس’ بد مست‘کا خالق وہی ہے

’’جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے ‘‘۔ ۔

غفران کا عادی ہے جو۔ ۔

اور مغفرت جس کا طریق کار ہے۔ ۔ ۔ ۔

پر یہ بشارت

شُوم لفظوں کا، مگر گنجینۂ معنی کا مالک

غالب ذو فہم شاید دیتے دیتے رُک گیا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

۱۳۔ جز نام نہیں صورت عالم مجھے منظور

جز وہم نہیں ہستیِ اشیا مرے آگے

 

(اس نظم میں تین بحور کے امتزاج کو روا رکھا گیا)

 

(ایک)ہے مسترد، خارج شدہ میرے لیے وہ شے

جو قطع نظر ’نام‘ کے متشکل نہیں ہے

جس کا بناؤ صرف تصور میں ہے ممکن

ہو ’نام‘ کے ہی’ نام‘ سے تالیف گر اک شے

ذرّہ ہو کہ کندہ ہو کہ آفاق ہو سالم

میرے لیے تو تشنۂ تکمیل ہے، یعنی

ایسا جہان کندۂ بد شکل رہے گا!

 

(دو) یہ صورت عالم ہے بھلا کیا، ذرا دیکھیں

بے ربط اکائیوں کا مرقع، قطار بند؟

آہنگ سے، ترتیب سے عاری، تہ و بالا

کج مج، عبوس، بے تُکی اشکال کی تدوین

کچھ تو ہو خوش ترتیب، نستعلیق، برابر

سانچے میں ڈھلا، احسن تقویم کا حامل!

 

اس نا تراش مرکز اشکال کے لیے

’’جز نام نہیں صورت عالم مجھے منظور!‘‘

 

(تین) ’’جز وہم نہیں ‘‘۔ ۔ ۔ وہم ؟افاعیل، تفاعیل؟

بے ہودہ، لغو، بے تکا، ہذیان، خرافات؟

مفہوم سے خالی؟

نو ٹنکی کا اک کھیل؟

 

(چار)اور ’ہستیِ اشیا‘ کا بھلا کیا ہے تصور؟

اک شکلی و صوری و نظامی شبیہہ ذات؟

اتمان کا اک بطن لابدی؟

اشکال کی فی الواقع ترتیب؟

یا ملک، دیس، مضمرو پیوست بیت خلق؟

 

ہاں، ہستیِ اشیا کا اگر یہ ہے تصور

’’جزوہم نہیں ہستیِ  اشیا‘‘ مرے آگے !

۰۰     ۰۰     ۰۰     ۰۰     ۰۰

نوٹ: بظاہر تو یہ شعر سادہ، سلیس اور نستعلیق ہے، لیکن ’’صورت عالم‘‘ اور ’’ہستیِ اشیا‘‘ میں شاعر نے جن معانی کا احاطہ کیا ہے، ان پر دفتر کے دفتر سیاہ کیے جا سکتے ہیں۔ مجھے احساس ہے کہ تین بحور کے انضمام سے بھی میں اس شعر سے انصاف نہیں کر پایا

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

۱۴۔ کہتے ہو کیا لکھا ہے تری سرنوشت میں

گویا زمیں پہ سجدۂ بت کا نشان نہیں !!

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (اس نظم میں دو بحور کے امتزاج کا چلن روا رکھا گیا)۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

لمبی نہیں ہے سرنوشت، روداد عمر کی

قصّہ، کہانی، داستاں، نقشہ حیات کا

فہرست پاپ پُنیہ کے کرموں کی تا حیات

گویا ہو خود نوشت کوئی روزنامچہ!

 

اے منکر و نکیر، جو تم دیکھ رہے ہو

یہ ڈائری نہیں مرے سہو و گناہ کی

خالی ہی اک ورق ہے، کوئی تذکرہ نہیں

میں نے تو کچھ کیا ہی نہیں، لکھتا بھی تو کیا!

 

ہاں، سامنے زمیں پہ جو گہرے نشان ہیں

ما تھا رگڑنے کے ہیں صریحاً، جناب من!

(شاید تم ان کو دیکھ نہیں پائے، فرشتو!)

یہ یادگار میرے ہی سجدوں کی ہے، حضور

سجدے صنم پرستی کی جو باقیات ہیں

اب بھی زبان حال سے کہتے ہیں داستان

اُن سجدوں کی جو کرتا رہا ہوں میں عمر بھر!

 

کافی نہیں ہے کیا مری سچی یہ سر نوشت؟

٭٭٭

 

 

 

 

۱۵۔ کس پردے میں ہے آئنہ پرداز اے خدا!

رحمت کہ عذر خواہ لب بے سوال ہے

 

(اس نظم میں دو بحور کا امتزاج روا رکھا گیا)

 

ہے یہ کمال فن کہ تجسس بھی ہے بہت

لیکن یہ عذر لنگ بھی حاضر ہے اے خدا

رحمت ہو مجھ پہ میرا لب بے سوال ہے

غالب، کمال ہے !!

 

یہ عذر خواہ لب کہ ہے ہشیار بھی بہت

اور چاہتا بھی ہے کہ وہ تاویل پا سکے

اور دیکھ سکے کون سا پردہ ہے درمیان

مخفی ہے جس کے پیچھے وہ آئینۂ معاد

جو اس کو انت کال سے آگاہ کر سکے

’فرداودی کا تفرقہ‘ یکدم مٹا سکے

 

’پرداز ‘ بھی کیا لفظ ہے، آئینے کی تمہید

یعنی ’شروع‘، ’پہل‘، ’خد و خال‘ ’چال ڈھال‘

اُس آئینے کے سامنے جو ’پردہ دَر‘ نہیں

وہ آئینہ جو عیب چھپاتا بھی ہے، مگر

بے پردگی سے بھی جسے پرخاش نہیں ہے

 

اللہ، اب نقاب اُلٹ، آئینہ دکھا!

۰۰۰۰۰

 

(’عذر خواہ لب بے سوال‘ نظیریؔ سے ماخوذ ہے )

٭٭٭

 

 

 

 

 

۱۶۔ کیوں جل گیا نہ تاب رُخ یار دیکھ کر

جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر

 

(اس نظم میں دو بحور کے امتزاج کو روا رکھا گیا)

 

کیا کوہ طور سے کوئی رشتہ نہ تھا جناب؟

لگتا ہے کہ آپ بھی تھے اسی اختصاص کے !

موسیٰ نے بھی تو دیکھا تھا جلوہ یہیں کہیں

جو نیّر اعظم کو الاؤ میں بدل دے

گر آپ میں دخیل تھی وہ طاقت دیدار

برداشت سے باہر تو نہ تھی ’تاب رخ یار‘

اب پس ورق یہ علت و معلول کس لیے ؟

اب کس لیے خضوع و خشوع و خلش، میاں ؟

اس طاقت دیدار کو رکھیئے سنبھال کر

شاید کہ پس از مرگ ضرورت پڑے جناب!

٭٭٭

 

 

 

 

۱۷۔ ’’لیتا ہوں مکتب غم دل سے سبق ہنوز

لیکن یہی کہ ’رفت‘ گیا، اور ’بود‘ تھا! ‘‘

 

ما قبل سے ہے سابقہ، پیشینہ سے کلام

’فی الحال‘ سے تعلق خاطر نہیں کوئی

وہ ’غیر حال‘ جس میں تھا دیروز کا کمال

گزرا ہوا شباب، وہ دوشینہ لا ابال

شاید کسی کا حسن سیہ مست۔ ۔ ۔ سوم رس

دُرد تہہ پیالہ و ساغر کی سر خوشی

دو آتشہ چھلکتی ہوئی مے کی شوخیاں

وہ ڈومنی کا حسن، سیہ فام، زہر عشق

وہ گنجفہ، وہ یار، وہ شعر و سخن۔ ۔ ۔ تمام

اب ماضی قدیم ہیں، مذکورۃ البعید!

 

’’لیتا ہوں مکتب غم دل سے سبق ہنوز‘‘

لیکن یہ کیا سبق ہے جو ہر روز شام کو

لیتا ہوں مکتب غم دل سے ضرور میں

لیکن سنبھال رکھتا ہوں نسیاں کے طاق پر

 

پیری میں اب شباب کے قصّے تو یاد ہیں

لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا !

٭٭٭

 

 

 

 

 

۱۸۔ ہے کائنات کو حَرکَت تیرے ذوق سے

پرتو سے آفتاب کے ذّرے میں جان ہے

 

ذرّہ ۔ ۔ ۔ اقل اقل، فقط اک نقطہ، طمعہ، جزو

ذرّہ خفیف، ہیچ، فرودست، کف خاک

ذرّہ قلیل سالمہ، ایٹم، الیکٹران !           Atom, Electron

اور آفتاب ۔ ۔ ۔ برتر و ممتاز، بالا تر

فوق النظیر، لا جواب و بے مثال کُل

ہاں آفتاب، جامع، جمیع، جملہ مطلقاً !

 

ذرّوں کا مجموعہ ہے مگر آفتاب بھی

اس کا ثبات ذرّوں کے ادغام میں ہے بست

ہر ذرّہ غیر منقسم، واحد اکائی ہے

یہ بستگی، پیوستگی ذرّوں کی دین ہے

ورنہ یہ آفتاب توہے ریت کی دیوار

غالبؔ کو کوئی کیسے بتاتا یہ واقعیت

انیسویں صدی میں تو اس کا پتہ نہ تھا

 

اللہ کی تمشال اگر آفتاب ہو

اور ذرّہ استعارہ ہو انسان کے لیے

لگتا توہے کہ شعری وجاہت میں ہے درست

لیکن یہ قول بھی ہے کچھ من ٹوہنی سی بات

 

شاعر ہی تھا وہ ایک، انا گیرو خود کفیل

جس نے کہا تھا نخوت و شان و شکوہ سے

’’میں تھا کہ جس نے تجھ کو خداوند کر دیا

تو ورنہ کائنات میں بے ننگ و نام تھا !‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

۱۹۔ سلطنت دست بدست آئی ہے

 جام مئے خاتم جمشید نہیں

 

 

سلطنت؟۔ ۔ ۔ ۔ مملکت، اقلیم، قلمرو، احقاف

دست سے دست تک؟ اخراج، تعرف، تحویل

آسماں ایژر و ایتھر ہے، عدم بسط، مگر        ether

ہے زمیں اغل بغل، ملک، علاقہ، کشور!

 

حصّوں، بخروں میں قلم کی ہوئی یہ ارض حسیں

’نوچا نوچی ‘ میں اُ کھاڑے ہوئے قطعات زمیں

ٹکڑوں ٹکڑوں میں بٹائی ہوئی سندر دھرتی

خسروی ورثہ و میراث، خدا داد شرف

مقتدر اعلیٰ و مختار، ڈیوک، شہزادہ Duke

شیخ، سلطان، مہاراجہ، نظام ۔ ۔ ۔ اور بھی کچھ؟

 

خاک اوڑھے ہوئے سب خاک ہوئے خاقانی

مفتخر، محتشم، مخدوم و مکرّم۔ ۔ ۔ ۔ سب کو

جب اجل آئی تو اک قبر کا ایوان ملا

سلطنت؟ دست سے دست تک ۔ ۔ ۔

اوضاع بدلتی ہی گئی

یعنی نقشوں میں ہے وہ عرض بلد، طول بلد

صرف جغرافیہ، تاریخ ہیں بے صوت گواہ

سب گیا گذرا ہے اب

تھا کہ نہ تھا، کیا کہئے !!!

٭٭٭

 

 

 

 

 

۲۰۔ سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا

رو برو کوئی بُت آئینہ سیما نہ ہوا

 

سب کو مقبول ہے دعویٰ، مگر ’سب‘ کی تعریف؟

گنجلک ہے کہ یہ ’ہر ایک‘ بھی ہے، ’کُل‘ بھی ہے

اور ’مقبول‘ جو ’مانا گیا‘، پیارا، محبوب

جس کو اللہ، خدا، ہستیِ مطلق سمجھیں

بس فقط ایک، فقط ایک، فقط ایک عدد!

 

’’دعویٰ‘‘ اک لفظ ہے لیکن اسے سمجھے گا کون!

کیا یہ ’عرضی‘ نہیں یا ناصیہ فرسائی نہیں ؟

کیا یہ ’درخواست ‘ نہیں ؟

’استغاثہ‘ بھی اسی لفظ کے معنی ہیں، جناب

اور ’نالش‘ بھی، اگر کورٹ، کچہری جائیں

دعویٰ فرعون کے لب پر تھا خدا ہونے کا !

 

کون کرتا ہے یہ ’دعویٰ‘، کہ خدا ’یکتا‘ ہے ؟

کیا خدا خود ہی یہ کہتا ہے کہ ’’میں یکتا ہوں !‘‘

 

خود بھی کہتا ہے، سبھی جانتے ہیں

برملا کہتا ہے، میں پہلا بھی ہوں، آخری بھی

احد و یکتا ہوں۔ ۔ ۔ فقط ایک، وحید الدنیا

’ شِرک ‘ سے باز رہو، سمجھو یہ میرا فرمان!

 

’’رو برو‘‘ ؟ کیا مطلب؟

’’سامنے ‘‘ کوئی نہ ہوا ؟

’’کوئی‘‘ جو ایک ’’بت آئینہ سیما ــ‘‘ تھا ۔ ۔ ۔ کون؟

آئینہ جیسا کوئی بت؟

جو ہمہ وقت خود اپنا رخ زیبا دیکھے

اپنے آئینے میں آئینہ پھر اپنا دیکھے

 

آئینہ؟ عالم ناسوت ہے کیا؟

آئینہ؟ عالم لاہوت ہے کیا؟

 

ہاں، یہی آئینہ ہے دیکھنے والے کے لیے

اُس کی خود اپنی ہی تخلیق ہے، جس میں ہر جا

وہی یکتا ہے کہ جو آئینہ سیما بھی ہے

اور خود اپنا ہی نظارہ بھی خود کرتا ہے !

٭٭٭

 

 

 

 

 

۲۱۔ قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کُل

کھیل لڑکوں کا ہوا، دیدۂ بینا نہ ہو ا

 

 

چشم بینا نہ ہو گر چشم تماشا، تیری

اور یہ چشم تماشا نہ ہو اگر تیسری آنکھ

تو میاں، صرف ٹٹولو گے، کہاں دیکھو گے ؟

 

ژرف بیں ہو بھی، مگر وقت کٹی کی خاطر

محض نظّارے کی خاطر ہی اسے دیکھتے ہو

جھانکتے ہو کسی کج چشم ہونّق کی طرح

جی نہیں، ایسی نظر تو ہے صریحاً بے جا

پھر کہاں قطرے میں دجلہ ہے ؟ کہاں جزو میں کل؟

پھر ’’چھپن چھوت‘‘ ہے، اک کھیل جسے۔ ۔

لڑکے بالے ہی سبھی کھیلیں۔ ۔ ۔ خوشا، عمر دراز!

 

برملا، سامنے ہونا بھی ہے اضمار کا بھیس

ہاں، اگر ذہن کو ہے ’’ظاہر و باطن‘‘ کا شعور

اور مشہود ہے بے پردہ، بر افگند، نقاب

’ٹیبلو‘ ۔ ۔ ۔ ’اوپرا‘ ۔ ۔ ۔ ’سیناریو‘، بے پردہ ہیں      Tableau, Opera, Scenario

’ قطرہ ‘ پھر ایک ’قیافہ‘ نظر آئے گا تمہیں

اور ’دجلہ‘ وہی برّاق استکمال، کہ ہے

اسوۂ حسنیٰ، جسے عرش معلیٰ کہیے !

 

ایک ہی شرط ہے اے ناظر کم بین، اٹھو

تیسری آنکھ کو پیشانی پہ کھولو تو ذرا

ایک قطرے میں نظر آئے گا دجلہ سارا!

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

۲۲۔ دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا

یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں

 

 (بحور کے اشتمال کا چلن اس نظم میں ضروری سمجھا گیا)

 

’دونوں جہان‘ کیا ہیں ؟ یہاں کے کہ وہاں کے ؟

دنیا و مافیہا ہیں کہ محسوس، لا محسوس؟

فطری ہیں کہ خاکی ہیں ؟ کہ ایتھر ہیں کہ صوری ؟ ether

 

کیا زیر فلک سمک ہے یعنی کوئی پاتال؟

یہ ’دونوں جہاں ‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ہیں بھی کہاں ؟ دیکھنا یہ ہے

شاعر کے تصّور میں کہیں۔ ۔ ۔

ان کا مکاں اور زماں

حاضر و موجود بھی

اور مخفی و پنہاں بھی ہے کیا اپنے جہاں سے ؟

 

’سمجھے ‘ سے کیا مقصود ہے ؟

اک صاف، سیدھی بات؟

یا صرف’ شُبہ ‘ ؟ صرف ’تاثر‘ ؟

’وہ‘ کون ہے جو ’جمع‘ کے صیغے میں ہے مرقوم؟

کیا ایک ہے ؟

یا ایک سے زائد ہے وہ موصوف؟

(اللہ ! مجھے بخش!)

غالب تو سخنور ہے، سمجھتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ سخن میں

(خالق کے لیے ’جمع‘ کا صیغہ نہیں ہوتا!)

شاید سمجھنے سے ہی کھلے ’سمجھے ‘ کا عقدہ!

دہلی کے گلی کوچوں کی ’ٹکسالی‘ زباں میں

’’وہ سمجھے ہے ‘‘۔ ۔ ۔ شاید ہو یہ جملے کا مخفف

اک گردش معکوس ہے ’’ سمجھے ‘‘ کی حقیقت !

کیا واقعی یہ صیغۂ واحد میں ہے، اللہ!

’’گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھئے

جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے !‘‘

 

اب آئیں، ذرا دیکھ لیں دو سادہ سے الفاظ

جانچیں تو ذرا ’’شرم‘‘ یا ’’تکرار‘‘ کی قیمت!

شاعر کہ اک مسکین طبع شخص تھا۔ ۔ ۔ اور بس

تھا عجز کی اک مورتی یہ بے ریا انسان

یا ضبط و متانت کی تھا تفسیر سرا سر

اللہ سے خیرات کا طالب یہ بھکاری

اس وقت تو خاموش رہا، سِمٹا ہوا سا

ہاں چار عناصر کا دھڑکتا ہوا یہ بُت

اللہ کا ہی روپ تھا۔ ۔ ۔ یہ بھولتا کیسے !

 

وہ چاہتا تو اپنا سر عجز جھکاتا

پھر سجدے میں گرتا

تعظیم سے پھر کہتا، ’’یہ کافی نہیں، مولا

دونوں جہاں ؟ ہاں، مگر یہ خاک بسری تو

مجھ آدم خاکی کے لیے کچھ بھی نہیں ہے

کچھ ’’نور‘‘ کا عنصر بھی مجھے دیں، مرے معبود!‘‘

 

لیکن ادائے خاص ہے اک دیکھنے کی چیز۔ ۔ ۔ ۔

کہتا ہے ذرا جھینپ کر غالب بس ایک بات

ـ ’’یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں !‘‘

۰۰    ۰۰     ۰۰

(اس نظم میں دو بحور کا اشتراک و اشتمال روا رکھا گیا)

٭٭٭

 

 

 

 

 

۲۴۔ تھی وطن میں شان کیا غالب کہ ہو غربت میں قدر

بے تکلف ہوں وہ مشت خس کہ گلخن میں نہیں

 

ہے ’وطن‘ کیا؟

شہر کوئی؟ ملک کوئی؟

یا کوئی جغرافیائی خاکنائے ارض ۔ ۔ ۔ یعنی

جس کی دھرتی تھی کبھی شاعر کی بستی، آستانہ؟

اور’ غربت ‘کیا ہے۔ ۔ ۔

نووارد، مہاجر، اجنبی پردیس میں۔ ۔ ۔

ابن سبیل اک آدمی پردیس سے آیا ہوا

انجان، رہرو؟

 

’شان‘ کی تعریف، اے شاعر، کہو تو؟

کرّوفر، شہرت، فضیلت؟

برتری؟ منصب؟ سرآمد؟

 

کس قدرافتادگی سے، رنج سے کہتا ہے شاعر

’’تھی وطن میں شان کیا غالب کہ غربت میں ہو قدر‘‘

 

قدر۔ ۔ یعنی *’ہیرو ورشِپ‘             hero worship*

بندگی؟حفظ مراتب؟مان؟ آدر؟

منزلت؟ اکرام؟ منگلا چار؟ ’چیرز‘*       تالیاں ؟        *cheers

کیا خوب!

 

’’بے تکلف ہوں وہ مشت خس۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ یقیناً

ایسی مشت خس کہ جو باہر پڑی ہے جلتی بھّٹی سے۔ ۔ ۔

ابھی چولھے میں اس کا ڈالنا باقی ہے، گویا!

’بے تکلف ‘اس لیے ہے

(اپنے جیسے دوسرے ’بے نام‘ شعرا کی طرح ہی)

’خس ‘کی سنگت میں پڑی ہے

کوئی پہچانے بھی کیا جزواً

خس و خاشاک کے سب حصے، بخرے

عندیہ شاعر کا یہ ہے

دیس سے اپنے نکل کر یوں دیار غیر میں رہنا۔ ۔ ۔

کہ کوئی جان نہ پہچان، کوئی اہمیت۔ ۔ ۔ کچھ بھی نہیں۔ ۔ ۔ ۔

غربت ہے بس، بیچارگی ہے

عین جیسے اجنبیت، خانہ نشینی تھی وطن میں !

 

افسوس! دونوں حالتیں فی الواقع بس ایک جیسی

عزلت و بے چارگی کی ہیں۔ ۔ ۔

یہاں بھی اور وہاں بھی!

٭٭٭

 

 

 

 

 

۲۵۔ بہ طوفاں گاہ جوش اضطراب شام تنہائی

 شعاع آفتاب صبح محشر تار بستر ہے

 

مری یہ شام تنہائی، اکیلے پن کا اک گوشہ

عجب خلوت نشینی کا کوئی حجلہ یا تکیہ ہے

عجب یہ تیاگ یا بیراگ یا بن باس ہے، جس میں

نہ امن و چین ہے دل میں، نہ دم لینے کی فرصت ہے

عجب اعضا شکن ہے، اضطراب انگیز ہے یہ شام

کہ بے چینی سے، بر افروختگی سے، جنجھلاہٹ سے

اک آتش زیر پا سی کیفیت، دیوانگی سی ہے

 

ـمری یہ شام تنہائی، اکیلے پن کا یہ گوشہ

تو اک طوفان گاہ برہمی ہے، جو

مجھے جکڑے ہوئے ہے ایسے اک خلجان میں، گویا

طلوع مہر کی کرنیں مرے ہر تار بستر میں

مجھے سوئیاں چبھو کر کہہ رہی ہوں

صبح محشر ہے، اٹھو بستر سے اپنے۔ ۔ ۔

جانتے تو ہو

تمہارے دل میں تو ہر روز محشر کا بسیرا ہے

تمہاری شام تنہائی، یہ سُستی۔ ۔ ۔

بے غم و جامد نہیں ہے، جاگ اٹھو اور طوفاں کو

رگ و پے میں اُمڈنے دو!

٭٭٭

 

 

 

۲۵۔ نہ حشر و نشر کا قائل، نہ کیش و ملّت کا

خدا کے واسطے، ایسے کی پھر قسم کیا ہے ؟

 

 

’’خدا کے واسطے ‘‘، خود میں ہی اک قسم ہے جناب

قسم ہے کس کی؟ ذرا اس کی بھی کریں تفتیش۔ ۔ ۔

 

ہے حشر و نشر کا منکر، ہے سرکش و باغی

دھَرَم کا، پنتھ کا، ایقان کا، شریعت کا

خطا پذیر ہے، منکر ہے کیش و ملّت سے !

 

یہ شخص کیسا ہے ؟ لگتا نہیں کہ قائل ہو

کسی بھی دِین کا، یا پنتھ کا، یا مذہب کا!

 

ہے خود میں ہی اگر فرعون، تو ذرا سوچیں

’’خدا کے واسطے، ایسے کی پھر قسم کیا ہے ؟‘‘

خود اپنی ہی قسم کھائے تو کیا برا ہو گا!

 

یہ حشر و نشر کی ترکیب۔ ۔ ۔ ۔ کیا ہے دیکھیں تو۔ ۔ ۔

 

فساد، شور و غل، غوغا، غضب کا واویلا؟

قضا، ممات اور تدفین۔ ۔ ۔ خاک آسودہ؟

فرشتوں کے لیے تفصیل سب گنا ہوں کی؟

ہزار کردہ گنا ہوں کا گوشوارہ، طویل؟

 

اک اور کوکبہ، نظّارہ، اجتماع، جلوس

ہے ایک شور قیامت کا، حشر کا میداں

کروڑوں لوگ ہیں اک ٹڈّی دَل سے پھیلے ہوئے

اٹھائے اپنے سروں پر گنا ہوں کی گٹھڑی؟

بھٹکتے پھرتے ہیں سب منتشر، پراگندہ!

 

یہ شخص لگتا نہیں ایسے ’حشر‘ کا قائل

یہ شخص ایسے کسی ’نشر‘ کا نہیں پیرو

یہ شخص ایسے کسی’کیش‘ کا نہیں رہرو

ہے قصہ مختصر، سوچیں ذرا۔ ۔ ۔

یہ شخص ’کیش‘ یا ’ ملت‘ کا فرد کیا ہو گا!

 

اگر یہ شاعر خود بین ہے تو پھر ’بخدا‘

(خدا کے واسطے ) ایسے کی پھر قسم کیا ہے ؟

٭٭٭

 

 

 

 

۲۶۔ بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

آدمی کو بھی میسّر نہیں انساں ہونا

 

’بسکہ‘ یعنی ’کہ عیاں ہے یہ بات۔ ۔ ۔ ‘

’کام‘ یعنی کہ ’کوئی کار حیات ‘

کاروائی کوئی، کارگزاری، کوئی فعل

اس کی تکمیل، نیابت نہیں ’آساں ‘، یعنی

کوئی بھی کام ہو، ’دشوار‘ سدا ہوتا ہے

 

’کام‘ کے بارے میں اب طے ہوئی یہ بات

آؤ اب آگے چلیں

یہ اگر طے ہے کہ ہر کام بہت مشکل ہے

پوچھیں خود سے کہ بھلا کیسے کوئی آدم زاد

اپنا اعصاب زدہ خاکہ بدل سکتا ہے

ایک حیوان جو ’ناطق‘ تو ہے، لیکن پھر بھی

’جیِنز‘ میں اپنے وہی علم الابدن رکھتا ہے             genes

جس کو ہم عالم ناسوت کے اس بخرے میں

’چلتی پھرتی ہوئی مخلوق ‘ کہا کرتے ہیں

جسم و خوں، گوشت، تنفس وہی، تجسیم وہی

وہی راحت، وہی تکلیف، وہی سُکھ، وہی دُکھ

تپ وہی، یخ وہی، مرطوب وہی، خشک وہی

فرق، ہاں، ہے تو سہی، سمجھیں تو۔ ۔ ۔

’’آدمی کو بھی میّسر نہیں انساں ہونا!‘‘

 

’اِنس ‘کیا ہے ؟ فقط ہم وضعی؟

ذات یا شکل میں ملحق ہونا

نسل آدم کا ہی نطفہ ہونا؟

جی نہیں۔ ۔ ۔

’’اِنس‘‘، انسان کا وہ خاص توافق ہے، کہ جو

نسل آدم کو ہی ’انسب‘ میں بدل دیتا ہے

بہتری، شستگی، تہذیب، ثقافت جس کے

سولہہ سنگھار ہیں، زیبائی، دلآرائی ہیں

خیر، انصاف، صدق، صلح صفائی جس کے

لعل، پکھراج ہیں، ہیرے ہیں، کھرے موتی ہیں

نیک پروین کوئی، نابغہ، ابطال کوئی

یہی ’انسان‘ ہے، جس کے لیے شاعر نے یہاں

جزع و فزع میں شاید یہ لکھا ہے مصرع

’’آدمی کو بھی میّسر نہیں انساں ہونا!‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

 

۲۷۔ آتش و آب و باد و خاک نے لی

وضع سوز و نم و رم و آرام

 

 

آتش و آب و باد و خاک ہیں کیا؟

جسمیت، مادیت، خس و خاشاک

ما و طِین و طبیعیاتِ زمیں

عنصری، چار دانگ عالم میں

غیر شخصی زمین و کون و مکاں

ثقل ہو یا سبک، کثیف و لطیف

اپنی بنیاد میں ہیں چار فقط!

 

اثریت کا نہیں کوئی بھی وجود

صرف اجزائے دیمقراطیسی

’’آرکی ٹائپ‘‘ ہیں سبھی اجزاء

آتش و آب و باد و خاک سمیت

اِس جگہ، اُس جگہ، یہاں اور وہاں !

 

آب’ نم‘۔ ۔ ۔ باد ’رم‘۔ ۔ ۔ و آتش ’سوز‘

خاک چسپیدہ ، ٹھس، فقط ’آرام‘

ہاں، مگر غالب حزیں کے لیے

جذبہ و جوش کے ظواہر تو

رنج، دکھ، درد کی علامتیں ہیں

آب، آنسو ہیں، جلتے تپتے ہوئے (۱)

آب شبنم ہے، لمحہ بھر کی حیات(۲)

خاک سے کیا ہوا کا رشتہ ہے

جانئے گا تو رویئے گا، جناب۔ ۔ ۔

’سوز‘ اور ’رم‘ سے ہے یہی مقصود! (۳)

’آب‘، ’آتش‘، ’ہوا ‘ سے خاک تلک

ہے سبک گام زندگی ہر دم (۴) (۵)

’’ہے ازل سے روانیِ آغاز

ہو ابد تک رسائیِ انجام!‘‘

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

غالب کے یہ فرمودات بھی دیکھیں

 

۰(۱) آتش پرست کہتے ہیں اہل، جہاں مجھے : سر گرم نالہ ہائے شرر بار دیکھ کر

۰(۲) پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم: میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہونے تک

۰(۳) مگر غبار ہوئے پر ہوا اُڑا لے جائے : وگرنہ تاب و توں بال و پر میں خاک نہیں

۰ (۴) ضعف سے گریہ مبدّل بہ دم سرد ہوا : باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جانا

۰ (۵) ہے مجھے ابر بہاری کا برس کر کھُلنا : روتے روتے غم فرقت میں فنا ہو جانا

۰(۶)اک شرر دل میں ہے اُس سے کوئی گھبرائے کیا : آگ مطلوب ہے ہم کو جو ہَوا کہتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

۲۸۔ اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے

حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں

 

ہے اصل گر اتمان، قطعیت و ماہیت ؟

ٓ ’’اصل شہود‘‘ تب ہوئی ات گت ظہور کی

یعنی شہود اصل، اصیل، امر واقعی۔ ۔ ۔ ۔

 

گر یہ ہوئی ’شہود ‘کی آیت، حدیث حق

’مشہود ‘پھر حقیقت کل ہے بصر نواز

مشہود، چشم دید شہادت، پنارمِک*        Panoramic*

مشہود نمودار، عیاں، صاف، اجاگر

مشہود بر افگندہ، کھلا، سین، ویو، شو   **    Scene, View, Show**

 

’شاہد‘ کوتو ہم بھول گئے، دیکھیں کہاں ہے

ہاں، اس کی ’اصل‘ کیا ہے، کہاں اس تکون میں ؟

’’اصل شہود، شاہد، مشہود ایک ہے۔ ۔ ‘‘

یعنی کی اس تکون میں۔ ۔ ۔

یعنی کہ یہ مساوی الاضلاع ٹراینگل                 Triangle

تینوں حدوں میں ایک برابر ہے ٹرمینل             Terminal

اب دیکھنے کا کام ہی باقی رہا ۔ ۔ ۔ ۔ مگر

’حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں !‘‘

 

شاعر کی چستی، مستعدی، احتیاط۔ ۔ ۔ سب

لے آئے ہیں جناب کو ایسے مقام پر

گہری، شدید چوکسی جس جا پہ ہے فضول

حیراں ہوئے ہیں اتنی سی اک بات پر جناب

رکھیں مشاہدہ کو کہاں اس تکون میں !

 

آئیں مشاہدہ کا عمل کیا ہے، دیکھ لیں

 

بینائی طاق پر رکھیں، آنکھوں کو موند لیں

پھر شاہد و بینندہ نظر، لالٹین سی

اک ہاتھ میں لیے ہوئے ’اندر‘ کا رخ کریں

بیدار، مگن، منہمک، چوکس رہیں اگر

نظارگی کے شوق میں نگراں رہیں، اگر

دیکھیں، نہ دیکھیں کچھ بھی مگر اس سبیل سے

چلتے چلیں جہاں تلک ممکن ہو، اے جناب

رکھیں مداومت میں لگاتار یہ عمل

ہے یہ عمل ’مشاہدہ‘۔ ۔ ۔ جاری، رواں دواں !

٭٭٭

 

 

 

 

۲۹۔ جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دم سماع

 گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں

 

 (اس نظم میں دو بحور کا اشتمال روا رکھا گیا)

 

موسیقیت ’صدا ‘بھی ہے اور راگ رنگ بھی

یہ ’کُن‘ کی صوت بھی ہے اور سکرات مرگ بھی

 

یہ ’’وہ صدا‘‘ ہے جس کی سماعت ہے جاں فزا

لے، تال، سُرکی نغمگی، لفظوں کا ہیر پھیر

’کن رس‘ ہے، روح و جوع کا شیریں ملاپ ہے

ہو مرثیہ کہ حمد کہ سوز و سلام و نعت

اس کی اساس’ گت ‘ہو کہ’استھائی‘ ہو کہ ’کھرج‘

ہو ’لے ‘ میں یا ’ولمپت‘ و ’مدھَ‘، میں کہ ’تال‘‘ میں

اصناف میں ہو ’دادرا‘، ’ٹھُمری‘، کہ اک ’خیال‘

سب ’’ایک‘‘ ہیں۔ ۔ ۔ کہ ان کی صدا ’’ صرف ایک ہے !

 

جو بھی ہو، یہ ’صدا‘ تو ہے لفظوں کا شعشعہ

کانوں میں رس کو گھولتی، ’’رس کھان‘‘۔ ۔ ۔ سحر کار

ایسی صدا تو جان کے ابقا کی ہے دلیل

پھر کیوں نکلنے لگتی ہے آناً دم سماع

یہ جان مرے تن کے وجودی حصار سے ؟

 

شاعر کا یہ سوال تو سیدھا ہے، صاف ہے

اس کا جواب بھی کوئی ٹیڑھا نہیں، جناب

غالب ’’خوشی میں مرنے ‘‘ **کا مضمون باندھ کر

شاید یہ کہہ رہا ہے کہ کچھ فرق ہی نہیں

شعر و سخن کے۔ ۔ ۔ اور موسیقی کے درمیاں ۱

یا نرخرہ کے بجنے کی آواز وقت مرگ!

۰۰۰۰۰۰

**    ع کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

٭٭٭

 

 

 

 

 

۳۰۔ محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز خیال

ہیں ورَق گردانیِ نیرنگ یک بُت خانہ ہم

 

محفلیں۔ ۔ ۔ اجماع، تقریبیں، نشستیں، دعوتیں

عام مجمع؟ خاص مجلس؟ حلقۂ احباب؟ جلسہ؟

کس جگہ پر؟

مندر و مسجد ؟ کلیسا ؟

کوئی چوراہا؟ گلی؟ گھر؟ گھر کی بیٹھک؟

جی نہیں ! جائے وقوع طائفہ باہر نہیں ہے۔ ۔ ۔

ذہن میں ہے !

 

محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ باز ’’ِ خیال‘‘۔ ۔ ۔

طے ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ’برہم کنندہ‘ ذہن میں بیٹھا ہوا ہے

ایک ایسا فکر فی نفسہ ہے جو آفت کا پرکالہ ہے۔ ۔ ۔

نا فرمان ہے، زندیق، کافر !

 

اور جب بھی

بے خطا، بے داغ، صالح، بھولا بھالا

شاعر محمود غالبؔ

واحد و یکتا خدا کی فردیت کو

ٔ سینکڑوں رنگوں میں ڈھلتے دیکھتا ہے

اور اس نیرنگیِ مشہود کو پہچانتا ہے

(تب یہی اک فکر فی نفسہ۔ ۔ )

مجسم زاہد سالوس، جوئے باز اس کو

اس ’ورق گردانیِ نیرنگ یک بتخانہ ‘ سے

محذوف کر دیتا ہے، یعنی

کثرت آرائی میں وحدت دیکھنے کی

اس کی عادت میں مخل ہوتا ہے ہر دم !

٭٭٭

 

 

 

 

 

۳۱۔ معلوم ہوا حال شہیدان گزشتہ

تیغ ستم آئینۂ تصویر نما ہے !

 

 (اس نظم میں دو بحور کے اشتمال و احصا کو روا رکھا گیا)

 

کیا ہوتا ہے ’تصویر نما آئینہ‘۔ ۔ ۔ ۔ دیکھیں

کیا ہوتی ہے اک ’تیغ ستم‘۔ ۔ ۔ ۔ اس کو بھی دیکھیں

کچھ بات ’شہیدان گذشتہ‘ کی بھی کر لیں

غالبؔ کو بھی پہچان لیں ان تینوں حوالوں سے !

 

آئینۂ تصویر نما؟ ذہن؟ فہم؟خواب؟

ادراک؟ بودھ؟ چت؟

ٰٓ ٰٓیا ۔ ۔ ۔ خود سے مشورت؟

یا۔ ۔ ۔ واہمہ؟ خیال؟

موضوع فکر، مادہ و مالہ و ماعلیہ؟

یو گی کا یوگ دھیان؟

سیدھا سا اک جواب ہے، اے شاعر قیاس

کچھ بھی نہیں، ہے صرف لگن، دھیان، سوچ، فکر!!

 

اور تیغ ستم ۔ ۔ ۔

جس میں ہیں محفوظ ابھی تک

تصویریں شہیدان گزشتہ کی۔ ۔ ۔ ؟

کون سی؟

وہ تیغ ستم، خوں میں نہائی ہوئی تلوار؟

وہ تیغ ستم، مذبح و مقتل کی سر پرست؟

وہ تیغ ستم، نسل کش، قتّال، مردہ خور؟

 

ماضی پرست، نظریہ جُو، غالب خستہ؟

قطعاً نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مباہلہ کرنے کی بات ہے

غالب کو سروکار ہے اِس حال رواں سے

ما قبل سے، ماضی سے نہیں کوئی سروکار

غالب کے لیے ماضیِ مطلق ہے چیزے نیست

اترا ہوا پاپوش ہے، کاہیدہ و متروک!

 

اس بے نیام تیغ کی جرّاحی کے طفیل

لاکھوں، کروڑوں لوگ جو مر کھپ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ انہیں

اب اور کیا کہیں۔ ۔ ۔

تیغ ستم آئینہ ہی ان کی گواہ ہے !

٭٭٭

 

 

 

 

 

۳۲۔ تیرا انداز سخن شانۂ زلف الہام

تیری رفتار قلم، جُنبش بال جبریل

 

(ضروری نوٹ: یہ شعر اس قطعے سے ماخوذ ہے، جو بہادر شاہ ظفر کی شان میں کہے گئے قصیدہ کا ایک جزو ہے۔ اس شعر کی بنیاد پر تعمیر کی گئی نظم پڑھنے سے پہلے راقم الحروف کی رائے سے قارئین کا واقف ہونا ضروری ہے۔ جن قصائد میں بہادر شاہ ظفر کے کلام کی مدح میں غالب رطب اللسان دکھائی دیتے ہیں، وہاں، شاعر کے ما فی الضمیر میں، موصوف بہادر شاہ ظفر نہ ہو کر غالب بذات خود ہیں۔ خاکسار کی اس تھیوری پر ماہر غالبیات کالی داس گپتا رضاؔ نے صاد کیا اور اپنے ایک خط میں بھی یہ بات دہرائی کہ جہاں شہنشاہ کا رتبہ، سطوت، شان و شوکت، تعظیم و تکریم، تخت نشینی کا اعزاز، لائق صد تکریم و تعریف وغیرہ موضوعات نظم کیے گئے تھے وہاں غالب نے وظیفہ خوار ہونے کی وجہ سے اپنے قصائد میں یہ فرض بخوبی ادا کیا کہ ان کو بام عروج تک پہنچایا، لیکن ان قصائد میں جہاں کہیں بہادر شاہ ظفر کے کلام کی تعریف میں مصارع در آئے، وہاں غالبؔ خود پسندی سے نہ چوک سکے اور شہنشاہ کی حمد و ثنا کم اور در پردہ شاعر کے طور پر خود اپنی یا اپنے کلام کی خصوصیات کو بیان کرتے رہے۔ اس شعر پر استوار کی گئی نظم اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتی کہ یہ اعزاز ات ’’شانۂ زلف الہام‘‘ اور ’’جنبش بال، جبرئیل‘‘ شہنشاہ کے لیے نہیں، بلکہ مقطع فخریہ کے طور پر خود غالب کے لیے ہیں۔ اگر آج تک ماہرین غالبیات نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا تو انہیں اس پر اپنی توجہ مبذول کرنا چاہییے ‘‘(کالیداس گپتا رضاؔ)

 

مقطع ٔ فخریہ یا شعر فقط اپنے لیے ؟

جس سے ہو اپنی، (فقط اپنی ) بڑائی مقصود

خود ہی ہو اعلی تریں، خود ہی بلند و برتر

اپنی تعریف بھی، توصیف بھی، تشہیر بھی ہو

 

ایسا جو شخص ہے، وہ ’’ مَیں ‘‘ ہوں، مرے ہم نفسو

کہنے کی بات ہے، میں خود کو بھی ’’تُو‘‘ کہتا ہوں

’’تیرا‘‘، ’’تیری‘‘ سے جو مقصود ہے، میں خود ہی ہوں

یہ روایت ہی رہی ہے کہ اَمر بالمعروف

’’مَیں ‘‘ کا القاب نہ ہو مقطع ٔ فخریہ میں !

 

آئیں، دیکھیں تو ذرا، بات کہاں پہنچے گی

کیا ہے ’انداز سخن‘؟ نغمگی؟ سرگم؟ سُر تال؟

یا کلا ونت کوی کی کوئی کمپوزیشن؟ Composition

یا غزل، قافیہ، آہنگ، وزن کا ادراک؟

 

کیا ہے ’الہام‘؟ اسے جانچیں ذرا، پہچانیں

کوئی برجستہ و بے ساختہ، بر وقت بدیہہ

یا کہ فی الفور کسی لہر کا اٹھنا دل میں

یا اناجیل۔ ۔ یا ’آکاش‘ سے ’بانی‘ کا نزول؟

 

اب ذرا دیکھیں تو آگے کیا ہے !

(زلف الہام کی ہے۔ ۔ ۔ مان لیا)

(’شانہ‘ انداز سخن ہے، چلو، تسلیم کیا)

’تیرا انداز سخن شانۂ زلف الہام‘

دعویٰ شاعر کا ہے تلطیف عبارت میں درست

(منحصر دعویٰ تو البتہ اسی بات پہ ہے

شعر غالب کے ہیں الہام، وحی یا تنزیل!)

 

بال جبرئیل *سے حاصل ہوئی ’رفتار‘ کی رو

کیسی تسریع قلم، رفعت پرواز خیال

کیسا اشباع فرشتے کا۔ ۔ ۔ اور کیسی تیزی!

یہ بھی تسلیم کیا ہم نے جناب غالب

’’تیری رفتار قلم، جنبش بال جبرئیل!‘‘

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اتنی تعریف ضروری تھی، مگر عالی جاہ

کچھ پس و پیش سے کہنے پہ ہے قاری مجبور ۔ ۔ ۔ ۔

’’عجز شاعر‘‘ نہ تھا غالب کا کبھی طور و طریق

فخر ہی فخر تھا، مرزائی ہی تھی، نخوت تھی!

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

* راقم الحروف کے ذہن میں تھا کہ جامعہ میں ایم اے کی سطح پر انگریزی ادب پڑھاتے ہوئے اس نے بال جبرئیل کا استعارہ کہیں دیکھا ہے۔ دیکھئے ’’ بین المتونیت‘‘ یعنی ’’انٹر ٹیکسچویلٹی‘‘ کا کمال کہ سترھویں صدی عیسوی میں ہنری کانسٹیبل Henry Constable (death 1613) نے لکھا :

The pen wherewith thou dost so heavenly sing

Made of a quail from an angel’s wing

 

چونکہ حضرت ابراہیم کے سلسلے کے تینوں بڑے مذاہب فرشتوں کی صف میں جبرئیل اور اس کے وظائف کو تسلیم کرتے ہیں، اس لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ ہنری کانسٹیبل اور غالب نے اپنے اپنے زمان و مکان میں آزادانہ طور پر یہ استعارہ شاعر کی تحریر کے لیے استعمال کیا۔ ہم اپنی فرسودہ اصطلاحات ’سرقہ‘ اور ’توارد‘ پر آج بھی قائم ہیں۔ ہمیں انٹر ٹیکسچویلٹی یا بین المتونیت کا کچھ علم نہیں ہے۔

٭٭٭

 

 

 

۳۵۔ یک نظر بیش نہیں فرصت ہستی غافل

گرمیِ بزم ہے اک رقص شرر ہونے تک

 

کیسے اہمال کی ہے بات؟ تساہل کیسا؟

فرصت ہستی وہ جینے کی گھڑی ہے، جس میں

کار بر آری، عمل، حرکت و حدّت ہیں فعال

’’فرصت ہستیــ‘‘ نہیں کہتی، بقول اقبالؔ

’’ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہیں !‘‘

فرصت ہستی میں ’غفلت‘ ؟

نہیں، اے سست الوجود!

اک نظر، ایک ہی لمحہ ہے، فقط ایک ہی سانس

جو ترے پاس ہے، تعویق نہ کر، اے غافل

اُٹھ کہ یہ ’’گرمیِ محفل‘‘ ہے فقط چند ہی روز

اُٹھ کہ یہ تاب و تواں، زندہ دلی ہے کم عمر!

 

دیکھ چاروں طرف حالات ہیں کیسے، غافل

انہیں حالات میں جینا ہے تجھے، اے اندھے

ہر طرف ظلم و ستم، ہر طرف جنگ و جدل

کل کلاں جوہری ہتھیار اگر چل جائیں

ہیرو شیما تھا فقط ایک، مگر آج کے روز ۰۰۰

سینکڑوں ایسے ہی ہتھیار اگر پھٹ جائیں

کرّۂ ارض تو بن جائے گا اک ’رقص شرر‘

’گرمیِ بزم‘ بدل جائے گی محشر میں، کہ تم

جانتے ہی نہیں یہ تلخ حقیقت اِس وقت

’’یک نظر بیش نہیں فرصت ہستی، غافل!‘‘

۰۰۰۰۰

۰۰۰قاری اساس تنقید کا ایک پُر زور جھٹکا ان دو سطور میں دیا گیا ہے، کہ غالب کے وقتوں میں یہ حالات تو بعید از قیاس تھے۔

٭٭٭

 

 

 

 

۳۴۔ یک الف بیش نہیں صیقل آئینہ ہنوز

چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا

 (نسخۂ حمیدیہ سے ماخوذ)

 

 

یک الف ؟بیش نہیں ؟کیا ہے ’ الف‘ کا مطلب؟

’یک الف ‘ ۔ ۔ ۔ ’’ایک ہی اللہ‘‘ ہے یا کچھ اور بھی ہے ؟

یا فقیروں کے ہے ماتھے پہ الف جیسی لکیر؟

صوت اوّل ہے، صدا پہلی ہے ؟

یا کوئی رمز ہے آئینے کو چمکانے کی؟

 

جی نہیں، ’صیقل آئینہ ‘کا منظر نامہ

اس کو اک اور تناظر میں ہی رکھ دیتا ہے

اور پھر وہ جو نظیریؔ نے کہا ہے، اسے بھی دیکھیں

’’جوہر بینش من در تہ زنگار بماند

آں کہ آئینۂ من ساخت نہ پرداخت دریغ‘‘

(ترجمہ اس کا کچھ ایسے ہو گا۔ ۔ ۔ )

قابل دیدتو تھا جوہر بینش میرا

تہہ میں زنگار کی مخفی رہا، وائے افسوس!

جس نے آئینہ بنایا تھا، اُسے بھول گیا

اِس کو پوری طرح چمکاتا تو کچھ بات بھی تھی!

 

کیا نظیری سے یہ سرقہ ہے ؟

۔ ۔ ۔ ۔ مجھے کیا معلوم؟

 

کیسا یہ فعل ہے آئینے کو صیقل کرنا؟

جی نہیں، شیشے کا درپن نہیں ۔ ۔ ۔ فولاد کا ہے ۰

۰(گو کہ غالب نہیں کہتے یہ بات

لوگ کہتے ہیں کہ سکندر نے کیا تھا ایجاد)

اور فولاد کے آئینے کو صیقل کرنا

کتنی ’’گھس پٹ‘‘ ہے میاں، کیسی جگر کاوی ہے !

(پہلے تو ایک چمک اٹھتی ہے ہلکی سی لکیر

اور پھر بعد میں زنگار گھِسا جاتا ہے )

 

اب یہ حالت ہے مری، کہتا ہے بے بس شاعر

صیقل آئینہ اک طرز جنوں جیسی ہے

اور یہ طرز جنوں خام ہے میری اب تک

’’چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا!‘‘

 

اور کچھ بھی ہیں معانی مخفی؟

ہاں، فقط اتنے ہی معنی سے نہیں بن پڑتا

آئینہ اندھا ہو تو عکس دکھائی ہی نہ دے۔

بال آئینے میں آ جائے اگر۔ ۔

دیکھنے والے کو دو لخت نظر آئے گا

اور آئینۂ باطن بھی ہے ایسی تمثال

جس سے ہوتی ہے عیاں

راستی، صاف دلی، سچّائی!

۰۰۰۰۰۰

سن 1866ء میں مرزا غالبؔ نے پیارے لال آشوبؔ کے نام اپنے ایک مکتوب میں اس شعر کی یہ تفسیر پیش کی :

’’پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ آئینہ عبارت فولاد کے آئینہ سے ہے، ورنہ حلبی آئینوں میں جوہر کہاں اور ان کو صیقل کون کرتا ہے ؟ فولاد کی جس چیز کو صیقل کرو گے، بے شبہ پہلے ایک لکیر پڑے گی۔ اس کو الف صیقل کہتے ہیں۔ جب یہ مقدمہ معلوم ہو، تو اب اس مفہوم کو سمجھیے :

چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا

یعنی ابتدائے سن تمیز سے مشق جنوں ہے۔ اب تک کمال فن نہیں حاصل ہوا۔ آئینہ تمام صاف نہیں ہو گیا۔ بس وہی ایک لکیر صیقل کی جو ہے، سو ہے۔ چاک کی صورت الف کی سی ہوتی ہے اور چاک جیب، آثار جنوں میں سے ہے۔ ‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

۳۵۔ پئے نظر کرم تحفہ ہے شرم نا رسائی کا

بخوں غلطیدۂ صد رنگ دعویٰ پارسائی کا

 

 

یہ تحفہ کیا ہے جو ’نظر کرم‘ کے واسطے لایا ہے یہ سائل؟

یہ تحفہ کیا ہے ؟ شرم نا رسائی کا؟

یہ شرم نا رسائی کس حوالے سے ہے۔ ۔ ۔

کس کے واسطے ؟ کیوں ہے ؟

’’پئے نظر کرم؟‘‘ ہے، یہ تو ظاہر ہے۔ ۔ ۔

مگر نظر کرم کس کی؟

ذرا دیکھیں کہ یہ تحفہ بدست مہمان آخر کون ہے

۔ ۔ ۔ اس کا شناسا کون ہے جس کے لیے یہ

اپنی ’شرم نارسائی‘ کا وظیفہ لے کے آیا ہے

بہت تا خیر سے آیا ہے یہ سائل

کرم کی بھیک کی خاطر جو تحفہ ہاتھ میں لایا ہے نووارد

وہ تحفہ اُس کی شرم نا رسائی کا ہے نذرانہ

اسے آنا تو شاید چاہئے تھا پیشتر، لیکن

نہیں آیا تو اب سمٹا ہوا سا

انکسار و عجز کی تصویر ہو جیسے

چلا آیا ہے، ’شرم نا رسائی‘ ہاتھ میں لے کر!

 

عجب تحفہ ہے اس کے ہاتھ میں، لیکن

یہ تحفہ اس کا دعوے ہے

یہ دعوے پارسائی، حق پرستی کا

فرشتہ صفت ہونے کا

’’بخوں غلطیدۂ صد رنگ‘‘ ہے، یعنی

اسی دعوے پہ یکصد بار چھینٹے

ان گنا ہوں کے پڑے ہیں۔ ۔ ۔

جن سے یہ بد رنگ ہے، غلطیدۂ خوں ہے !

 

کرم کی بھیک توسائل یقیناً چاہتا ہے، پر

اسے یہ علم ہے اللہ سے دوری

تقرب کا نہ ہونا اس کی غفلت تھی

وگرنہ عفو، استخلاص، بخشش اب بھی ممکن ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

۳۶۔ یک قدم وحشت سے درس دفتر امکاں کھلا

 جادہ، اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا

 

یک قدم وحشت؟ فقط اک ہی قدم؟

اک قدم ہی سرحد قائم مزاجی سے پرے ؟

اک قدم ہی بُردباری کے مکاں سے انخلا؟

 

ہاں، یہی لگتا تو ہے شاعر کا مطلب!

 

یہ قدم، پہلا قدم

گویا رواقیت سے پاگل پن کی جانب؟

مضطرب، آشفتہ یا مدہوش ہونے کی دماغی کیفیت؟

یا جوش، جذبہ، طیش، آتش زیر پائی؟

 

ہاں، یہی لگتا تو ہے شاعر کا مطلب!

 

جی نہیں، شاعر کا مطلب یہ نہیں ہے

کم سے کم اس شعر میں شاعر کا مطلب یہ نہیں ہے

اس کے ’وحشی‘ کا تصور بد سلیقہ، اوچھا، بد تہذیب تو بالکل نہیں ہے

اور کچھ ہے

کیا ہے یہ؟ دیکھیں ذرا۔ ۔

اس لفظ کی گہرائی ماپیں

والہانہ کیفیت، دیوانگی، مفتون ہونا

باؤرا، مجنون ہونا

خود فراموشی میں اپنا ’آگا پیچھا‘ بھول جانا

سر پھرا، شوریدہ سر ہونے کی حالت

خود سے غیر آگاہ ہونا

اور یہ بھی بھول جانا، کون ہوں میں

کیا نہیں وحشت کے سمپٹم *؟    *symptom

جی ہاں، شاید

عین ایسا نہ بھی ہو شاعر کا مطلب

عندیہ اس کا یہی ہے !

 

آئیں، دیکھیں، ’’یک قدم‘‘ کے بعد۔ ۔ ۔

’’درس دفتر امکاں کھلا۔ ۔ ۔ ‘‘

گویا اُس نے ’درس اوّل‘ دفتر امکاں سے بڑھ کر لے لیا!

’درس‘۔ ۔ ۔ ۔ رُشد و رہنمائی

درس۔ ۔ ۔ ، تشریح و خطاب و پند۔ ۔ ۔ یعنی

درس۔ ۔ ۔ ، ابجد ناظرہ، آموختہ

یا اور بھی کچھ؟

 

کس طرح کا درس تھا وہ؟

’دفتر اِمکاں ‘ کا کیسا درس تھا وہ؟

سیدھا سادا اک سبق تھا

جو کہ اس کے اپنے بارے میں ہی تھا۔ ۔ ۔

کیا کچھ صلاحیت ہے مجھ میں

در خور امکاں کوئی کچھ اہلیت بھی ہے مرے اندر

کہ جس سے جان پاؤں

کون ہوں میں ؟

 

’’یک قدم وحشت‘‘ کو سمجھا

تو یقیناًً ’’دفتر امکاں ‘‘ کی اہمیت کو سمجھا

 

اب چلیں آگے ذرا سا ۔ ۔ ۔

’’جادہ، اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا‘‘

 

دشت کا شیرازہ کیا تھا؟

حصے بخرے، ٹوٹے پھوٹے

وہ جو اک رستہ تھا

پگڈنڈی تھی یا جادہ تھا خار و خس کا

جس پر ابتدا سے

صوفی و دیندار۔ ۔ ۔ سنت، اوتار سارے

اس دو عالم (عالم ناسوت اور لاہوت) کی

دوری کو طے کرتے ہوئے

اللہ تک پہنچے تھے۔ ۔ ۔ یعنی

ان جہانوں کو ملانے کی کڑی تھے !

 

ٹھیک ہی سمجھے ہو قاری۔ ۔ ۔

’’یک قدم‘‘۔ ۔ ۔ یعنی وہ پہلا اک قدم مشکل ہے

اس کے بعد تو رستہ کھلا ہے !

٭٭٭

 

 

 

 

 

 ۳۷۔ ۔ کیوں جل گیا نہ تاب رُخ یار دیکھ کر

جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر

 

 (اس نظم میں بحور کے امتزاج کو روا رکھا گیا)

 

شاعر سے پوچھتا ہے یہ قاری، بتا ؤ دوست

کیا کوہ طور سے کوئی رشتہ تھا آپ کا؟

لگتا توہے کہ آپ بھی ہیں اس قبیل سے !

لیکن یہ حُبّ ذات بھی اک چیز ہے عجیب

موسیٰ سے اشتباہ، اور پھر اپنا ذکر خیر؟

 

موسیٰ نے بھی دیکھی تھی وہی برق تجلی

جو نیّرِ اعظم کو الاؤ میں بدل دے

گر آپ میں موجود تھی وہ طاقت دیدار

برداشت سے باہرتو نہ تھی ’تاب رخ یار‘

اب واقعہ کے بعد کیوں یہ علت و معلول؟

اب کس لیے خضوع و خشوع و خلش، میاں ؟

 

اچھا ہے اگر آپ میں ہے ایسا تنوع

جو شمس الضحیٰ سے بھی ملا سکتا ہے نظریں

اس طاقت دیدار کو آنکھوں میں ہی رکھئے

شاید کہ پس مرگ پڑے اس کی ضرورت !

٭٭٭

 

 

 

 

۳۸۔ اسدؔ بزم تماشا میں تغافل پردہ داری ہے

اگر ڈھانپے تو آنکھیں، ڈھانپ، ہم تصویر عریاں ہیں

 

 

’’اسدؔ‘‘ خود سے مخاطب تو نہیں اس شعر میں شاید

یہ کوئی اور ہی ہے جو اسے تلقین کرتا ہے !

’’اسدؔ‘‘ خود سے مخاطب ہو بھی سکتا تھا

مگر اک لفظ ’’ہم‘‘ جو مصرع ثانی میں آیا ہے

ہمیں گویندہ یا ناطق کی بابت شک میں رکھتا ہے

 

اگر تم حاضر و موجود ہو ’ بزم تماشا‘ میں

(وہ کہتا ہے )

تو اس سے بے مروّت ہو نہیں سکتے

تغافل کیش رہنا، بے رخی، غفلت برتنا تو

اک ایسی ’پردہ داری‘ ہے، کہ جس میں تم

مری بزم تماشا سے

تعلق توڑ کر کچھ بھی نہ پاؤ گے !

 

کہ یہ ’بزم تماشا‘ تو

اسی اپنے تماشے میں مگن ہے روز اوّل سے

اگر تم ایسے نا اندیش ہو جس نے حقیقت سے

خود اپنے آپ کو یوں سینت کر رکھا ہوا ہے

جیسے آنکھیں بند کر لی ہوں

کہ اب کچھ بھی نہ دیکھو گے

تو یہ سمجھو، وہ کہتا ہے

’’اگر ڈھانپے تو آنکھیں، ڈھانپ۔ ۔ ۔ ہم تصویر عریاں ہیں ‘‘

کہ بند آنکھوں کے پیچھے سے بھی ’ہم‘ کو دیکھ پاؤ گے !

 

تخاطب تو یقیناً اپنے شاعر سے ہے، لیکن غور سے دیکھیں

کہ کہنے والا آخر کون ہے، جو ’’میں ‘‘ نہ کہہ کر

’’ہم‘‘ کے اسم معرفہ، یعنی ۔ ۔ ۔

ضمیر جمع متکلم کی صورت میں ہی اپنا ذکر کرتا ہے ؟

 

صریحاً ایک ہے۔ ۔ ۔ اللہ

جو اِس شاعر غافل کو یہ تلقین کرتا ہے

’’اگر ڈھانپے تُو آنکھیں ڈھانپ، ہم تصویر عریاں ہیں !‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

۳۹۔ اسدؔ کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے

 نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں، در پردہ یا رّب ہا

 

 

قوافی ’رّب‘ و ’تب‘، ’مطلب‘، ردیف اک صوت، یعنی ’ہا‘

عجب حلیہ ہے اس حلقوم مقطع کا

کہ ’یا رب‘ اِسم واحد۔ ۔ ۔ اور ’ہا‘ اس پر

برائے ’جمع‘ کردن ریزہ ہائے عنفی و عطفی۰۱)

چلیں، اک عام قاری سا سمجھ کر خود سے ہی پوچھیں

کہ کیا ’’ربّ ہا ‘‘ غلط العام ہو گا یا کہ ’’یا ربّ ہا‘‘؟

کہ دونوں ہی غلط ہوں گے ؟

 

چلیں چھوڑیں کہ ہم سب جانتے ہیں۔ ۔ ۔

اُس زمانے میں روایت ہی نہیں تھی

دونوں جانب ’واؤ‘ کے دو حرف یا ’’واوَین ‘‘لکھ کر

لفظ یا ترکیب یا جملے کو قلعہ بند کرنے کی!

چلیں چھوڑیں کہ ’یا ربّ‘ کو

فقط ’یک صوت ‘ ہی سمجھا گیا ہے،ا یک نعرہ ۔ ۔ ۔ کلمۂ تشہد!

تو ’’یا ربّ ہا‘‘ کو بالّسان ہی سمجھیں !

 

چلیں پیچھے ؟

 

’’اسدؔ کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے ‘‘

یقیناً ہے !

مگر اک ’آشنائی‘ تک ہی رہتا یہ تعلق تو۔ ۔ ۔

یقیناً مان جاتے ہم

مگر اس پر اضافہ۔ ۔ ۔ ’درد‘ کا؟

’درد آشنائی‘ ؟ اور بتوں سے ؟

کون بہتر جانتا ہے ایک قاری سے

کہ سچ کیا ہے، دروغ نا روا کیا ہے !

’’غرض‘‘ کو بھی ذرا دیکھیں

’’غرض‘‘۔ ۔ ۔ ۔ تخفیف۔ ۔ ۔ ’’غرضیکہ‘‘ کے لیے، شاید؟

چلیں، تسلیم۔ ۔ ۔

پر یہ لفظ در آیا ہے گویا بے سبب، بے معنی و مطلب!

کہ اس سے پیشتر اک شائبہ تک بھی نہیں ملتا

کہ کوئی بحث جاری تھی اسدؔ کے بت پرستی سے تعلق کی

کہ ’غرضیکہ‘ کے لیے شاعر کو تکیے کی ضرورت ہو!

’’غرض‘‘ کی کیا غرض تھی یاں ؟

کہو، ’بھرتی‘ کہیں اس کو؟

کہ یہ فاضل تو لگتا ہے کسی آگاہ قاری کو!

 

غلط ہے ’’نالۂ ناقوس‘‘۔ ۔ ۔ شاعر کو کوئی کیسے یہ سمجھائے

کہ اب بھی قاعدہ یہ ہے

بلانے کے لیے بھگتوں کو مندر میں

پجاری پھونکتا ہے ’ شنکھ ‘ یا ’ناقوس ۔ ۔ ۔ ‘

اس آواز میں ’نالہ‘ نہیں ہوتا

خوشی ہوتی ہے اس پیغام میں۔ ۔ ۔

ناقوس کی آواز میں۔ ۔ ۔ یعنی

 

لڑائی میں سپاہی سب اسی آواز کو سن کر

ہی دھاوا بولتے تھے اپنے دشمن پر!

پجاری بت کدے کا بھی وہی پیغام دیتا ہے

(پرستش کرنے والوں کو)

کہ آؤ، وقت ہے اب آرتی کا اِس شوالے میں !

 

یہی مُلّا کا فرض اوّلیں ہے اپنی مسجد میں۔ ۔ ۔ ۔

نماز با جماعت کا بلاوا، یا اذان آہنگ شیریں میں !

 

تو گویا ’نالۂ ناقوس‘ میں ’ نالہ‘

فقط اک غیر طلبیدہ اضافہ ہے !

 

’’نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں در پردہ ’یا ربّ ہا‘ ‘

چلیں، ’یا ربّ‘ سے ’ہا‘ کو تسمہ پا کرنے پہ

اور ناقوس کی نالہ سے وصلت پر تو لے دے ہو چکی

اب مدعا اس شعر کا دیکھیں !

 

 

بہت ہیں بت پرستی کے حوالے غالب دیندار میں، لیکن

بلاغت اور طلاقت کا یہ اک نادر نمونہ، بے بدل مصرع

یقیناًًسب پہ حاوی ہے !

 

’’نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں در پردہ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

کیا، کیا، کچھ؟

ذرا دیکھیں، ذرا سمجھیں

وہی آواز، یعنی لا اللہ ال اللہ۔ ۔ یقیناً جو اذانوں کی صدا بھی ہے

ہزاروں پردۂ ہائے صوت میں مخفی، مگر ظاہر

وہی آواز ’’اللہ ایک ہے ‘‘، (دُوجا نہیں کوئی)!

 

تو یہ ناقوس ہو ۔ ۔ ۔ آواز بھگتوں کو بلانے کی

نماز با جماعت کے لیے میٹھی اذاں ہو۔ ۔ ۔

ایک ہی آہنگ ہے

اللہ کی توحید کا، لوگو!

۔۔۔

۰)غالب کی فارسی غزل سے ماخوذ

٭٭٭

 

 

 

 

فارسی اشعار پر مبنی ’’ریدکتیو اید ابسردم ‘‘کے طریق کار پر مبنی نظمیں

 

                ریدکتیو اید ابسردم کی کلاسیکی یونانی تکنیک پر ایک تعارفی نوٹ

 

’’ریدکتیو اید ابسردم‘‘ علم منطق (Logic)کی اصطلاح ہے۔ قدیم یونانی کلاسیکی دور کے ڈراموں کے متون پر سب سے پہلے یونانی فلسفی اور نقاد Dionysius of Halicarnassus (پہلی صدی عیسوی)نے اس تکنیک کا یونانی ٹریجڈیوں کے متون اور اداکاروں کے مکالمات پر اطلاق کر کے متنی اور اسلوبیاتی تنقید کا ایک اہم تجربہ کیا۔ بظاہر تو یہ تجربہ ان متون کو فکاہیہ یا ہجویاتی طرز تحریر میں پیش کرنا تھا، لیکن اس سے پہلے یونانی کامیڈی نویس(Aristophanes (444. BC?- 380 BC)نے اس طریق کار کا استعمال خود اپنے ڈراموں میں پیش کیے گئے کرداروں کے مکالمات پر کیا اور اپنے ہم عصر ٹریجڈی نویس ڈرامہ نگاروں کے متون کو بھی نشانۂ مشق بنایا۔ اس اصطلاح کے لفظی معانی تو ’’اصل‘‘ کو ’’نقل‘‘ کی سطح پر’ تصغیریہ‘ کی رو سے نقل کر کے اسے absurd (لایعنی) بنانا ہے لیکن علم منطق logic کی رو سے اس کا اطلاق کسی بھی شعری یا ڈرامائی متن پر دو طریقوں سے کیا جاتا ہے۔

(ا) ’کُل‘ کو اس کے اجزائے ترکیبی میں بانٹ کر ایک ’جزو‘ کو ’کُل‘ کے تناظر میں دیکھا جائے ؎۱ اور بجائے مختصر کرنے کے اس کو ایسے ہی پھیلا دیا جائے، جیسے ڈاکٹر لاش کے پوسٹ مارٹم کے عمل کے دوران انسانی جسم کے تمام اعضا کاٹ کر میز پر سجا کر رکھ دیتے ہیں۔ انہیں دوبارہ جوڑنے کے عمل میں البتہ جیومیٹری کی یہ سچائی در پیش آتی ہے، کہ The sum total of parts is always greater than the whole اور اس طرح ایک مضحکہ انگیز صورت پیدا ہو جاتی ہے۔

(۲) کسی بھی مفروضے یا تھیوری کو صحیح ثابت کرنے کے لیے اس کے منافق مفروضے کی چھان بین یا چیر پھاڑ کی جائے، اس طرح منافق نظریہ غلط ثابت کرنے کے لیے اسے اس کی منطقی جہتوں میں تقسیم کر لیا جائے۔ اب اگر منافق نظریہ Reductio ad absurdum کے عمل سے گذر کر غلط ثابت ہو جائے (جیسا کہ ایک یقینی امر ہے !) تو اصل مفروضے کو بغیر کسی پس و پیش کے صحیح تسلیم کر لیا جائے۔

یہ ایک منطقی ’الٹ پھیر‘ ہے۔ اور اس سے بسا اوقات غلط نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ بہرحال دونوں حالتوں میں تمسخر، تضحیک، یا مضحکہ انگیزی کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔

لیکن یہ ضروری بھی نہیں ہے۔ ارِستا فینیسؔ نے اس طریق کار سے دُور رس ثبوت کا احاطہ کیا ہے، جس میں علت و معلول، حاصل و ماحصل، یا (عربی میں ) بطناً بعد بطن وغیرہ شامل ہیں۔

ان نظموں کو ان دو مخصوس زاویوں سے دیکھنا صرف ایک حد تک صحیح ہو گا، کیونکہ غالب کی استعارہ سازی کی پیچیدہ مدوریت اور ملفوفیت مسلم ہے اور چیر پھاڑ کے عمل سے ایک استعارے کے حصے بخرے کرنے میں ریزہ خیالی کے متعدد پہلو مانع ہوتے ہیں۔ راقم الحروف نے ایک آسان طریقہ اپنا یا ہے۔ ان نظموں کو parableیعنی خود ساختہ مثالی حکایت، داستان یا کہانی کے فارمیٹ میں رکھا ہے اور باصری منظر نگاری visual imagery کی مدد سے غالب کی استعارہ سازی سے حتے الوسع فیض اٹھاتے ہوئے بھی انہیں کلیتاً اس حصار میں مقید نہیں رکھا۔ ان میں سے کچھ نظمیں ان دنوں میں لکھی گئیں جب میں پراسٹیٹ کینسر (یا اس کے شبہ میں ) سرجری کے علاوہ ریڈیشن تھیراپی کے تکلیف دہ عمل سے گذر رہا تھا۔ ممکن ہے اس تکلیف دہ حالت کے جراثیم ان نظموں میں در آئے ہوں اور قنوطییت کے اثرات بھی ان میں نمایاں ہوں۔ اس لیے ذاتی، وارداتی اور کائناتی۔ ۔ ۔ تینوں اقسام کے اثرات ان میں تلاش کیے جا سکتے ہیں۔

مجھے ان اشعار کو نظموں کی لڑی میں پرونے کے کام میں خوشی بھی ہوئی اور کچھ حالتوں میں غالب سے ہمدردی بھی پید ہوئی۔ کہ اس عندلیب گلشن نا آفریدہ نے وقت سے پہلے آنا منظور کیا۔ آج تک، یعنی غالب کی وفات کے ڈیڑھ سو برس بعد بھی، اور اس کی شاعری کے بارے میں لگ بھگ اتنی ہی تعداد میں، یا اس سے بھی زیادہ کتابیں لکھے جانے کے باوجود، اس کے کچھ اشعار کی گہرائی کا تعین کرنے میں ہم ناکام رہے ہیں۔ ایک خاص مد جس کے بارے میں مجھے بطور انگریزی کے استاد کے طور پر علم ہے، وہ غالب کا ایک خاص وطیرہ ہے جو شیکسپیئر میں بھی موجود ہے۔ ’ایون کے شاعر ‘کی اس تکنیک کا ذکر یہاں صرف اس لیے مقصود ہے کہ جہاں شیکسپیئر کا لیکھا جوکھا کرنے والے محققین نے اس کی اس خوبی کو بار بار اجاگر کیا ہے، غالبیات کے ماہر اس کی طرف توجہ نہیں دے سکے۔ شیکسپیئر کی اس جہت کو سب سے پہلے انیسویں صدی کے وسط میں پہچانا گیا۔ جب ایک غیر معروف نقاد رابرٹ فلوفاسٹ نے یہ لکھا تو نامور شیکسپیئر اسکالرز نے بھی اس طرف توجہ دی:

The characters, including the clown, seem to be talking not with one, not with two, but occasionally with three tongues, and at least one of them does with a tongue in his cheek. It is as if Shakespeare has endowed them with the trick of encompassing meaning within a meaning within yet another meaning.

غالب کے یہاں بھی یہ خوبی بطور احسن موجود ہے۔ اگر ایک آگاہ قاری اس کے ان اشعار کو غور سے پڑھے جن پر بیسیوں اہل نقد و نظر نے اپنی آراء کا اظہار کیا ہے اورایک ایک لفظ کی ملفوفیت کو کھولتے ہوئے معانی کی مدوریت میں خود کو گم کیے بغیر اس کو ان دو یا تین سطحوں کے touch-stone یعنی کسوٹی پر گھس گھس کر پالش سے چمکائے تو معانی کی پرتیں کھلتی چلی جائیں گی اور ایسے محسوس ہو گا جیسے شاعر کے اندر ہی دو یا تین اشخاص موجود ہیں جو اس کے عقب میں کھڑے ہوئے اپنا عندیہ سمجھانے پر مصر ہیں اور کانا پھوسی میں یا کئی بار چیخ کر اپنا مطلب سمجھانا چاہتے ہیں۔

 

ستیہ پال آنند

 

 

 

ایک(۱)

 

                بخت در خواب است می خواہم کہ بیدارش کنم

                پارۂ غوغائے محشر کو کہ در کارش کنم

 

سو گیا تھا !

میں ؟

نہیں، یہ بخت نا ہنجار میرا !

اور بخت خُفتہ سے ’ اک خواب خوش‘ کا قرض لینا**

یعنی میرا جاگنا اچھے دنوں میں

تب بھی یہ تلبیس تھی، اک جھوٹ تھا

اور آج بھی ہے، جانتا ہوں

 

میں کہ شاعر ہوں، مجھے معلوم ہے یہ قول غالبؔ

’’شاعری جزویست از پیغمبری‘‘۔ ۔ ۔ ۔

ہاں، مگر پیغمبری کی

شرط ہے میں اپنے بخت خفتہ کو بیدار کر لوں

اور یہ قول محال ایسا ہے جس میں

شور محشر کی ضرورت ہے، کہ میرا بخت خفتہ

ایسے ویسے شور و غل سے

ہاؤ ہو سے جاگنے والا نہیں ہے !

میری پیدائش سے اب تک

ایک گہری نیند میں سویا ہوا ہے

نیند کا ماتا یہ مرگ آسا میرا بخت خفتہ

تب ہی جاگے گا کہ جب آسودگان خاک سارے

شور محشر سے اٹھیں گے !

 

زندگی کا استعارہ ’جاگنا‘ ہے، جانتا ہوں

جانتا یہ بھی ہوں ۔ ۔ ۔ سونا اور مرنا ایک سے ہیں

کیا تمسخر ہے کہ میرا بخت خفتہ

اُس گھڑی بیدار ہو گا

جس میں میرا انت ہو گا

گویا محشر اور میرے بخت کا بیدار ہونا

ایک ہی لمحے کا قصّہ ہے کہ جس میں

’’پارۂ غوغائے محشر کو کہ در کارش کنم!‘‘

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

**غالب کا ایک اردو شعر ہے :

لوں دام خفتہ سے یک خواب خوش، ولے

غالب یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں

٭٭٭

 

 

 

دو(۲)

 

                 گر بہ معنی نہ رسی جلوۂ صورت چہ کم است

                خم زلف و شکن طرف کلا ہے دریاب

 

 غالبؔ کی نیک روح سے معذرت کے ساتھ کہ اس نظم میں  اس کمترین شاعر ستیہ پال آنند نے غالبؔ کے بیشتر اشعار میں صوری اور معنوی ارتباط کے نہ ہونے پر اعتراض کیا ہے۔

 

کہا تھا، حضور، آپ نے بارہا یہ

’’نہیں گر سر و برگ ادراک معنی

تماشائے نیرنگ صورت سلامت‘‘

حقیقت پہ مبنی، کھری بات تھی یہ!

 

یقیناً کوئی شاخ در شاخ پیکر

کوئی با سلیقہ، خوش اسلوب صورت

کوئی وضع ہیئت، کوئی چہرہ مہرہ

اگر استعارہ ہے اس شکل میں، تو

معانی سے بھرپور، بے شکل و صورت

حذاقت کی پھر کیا ضرورت ہے اس میں ؟

کہ یہ باصری روپ کافی ہیں خود میں ۱

 

اگر زلف کے خم کی تصویر لفظی

مکمل ہے، جامع، بعینہ، مشابہ

اگر کج کلاہی کی تشبیہ، خود میں

مفصل ہے ہر نوع سے، زاویے سے

اگر اس کی تصویر ایسی ہے، جس میں

الیٰ آخرش کچھ بھی خامی نہیں ہے

تو پیچیدہ تدوین کی کچھ ضرورت نہیں ہے

 

’’معانی‘‘ سے بھر کر

ذرا سا چھپا کر، ذرا سا دکھا کر

یہ قاری سے امید رکھنا

کہ وہ خود سے ہر بار پوچھے

افاعیل ہے یا تفاعیل ہے یہ؟

غلط ہے یہ ذہنی تحفظ!

کہ تلمیح و تلخیص و توضیح کرنا

ضروری سمجھ کر

مرادف و مادہ، متن کی

معمائی ذو معنی ہونے کی حالت

وضاحت و تفسیراک چیستاں کی

غلط ہے یہ پوشیدگی کا معمہ!!

 

کہا ہے حضور آپ نے بارہا۔ ۔ ۔

ایسے اشعار میں ( جن کا مفہوم کوئی معّمہ نہیں ہے )

اگر’ معنوی‘ جہت حاضر نہیں ہے

اگر شعر خود میں پہیلی نہیں ہے

تو کیا ہرج ہے، جبکہ صوری ظواہر

یقیناً ہیں بین، عیاں، قابل فہم، واضح!

کہ ژولیدگی صفت معنی نہیں ہے !

٭٭٭

 

 

 

 

تین (۳)

 

                ہر ذرّہ محو جلوۂ حسن یگانہ ایست

                گوئی طلسمِ شش جہت آئینہ خانہ ایست

 

ذرّہ ہوں میں، ابیکا سا، اک جسمیہ ہوں میں

خردی میں ایک خال، اقل مرتبہ، صغیر

کترن سا پھانک پھوک ہوں، اک پرخچہ۔ ۔ ۔ خفیف ٰٓخال، سر موِ

آدم ہوں، ایک شمہ برابر نہیں ہوں میں !

 

دنیا، فلک اسیر، خسوف و کسوف دَیر

آئینوں کا اک شش جہت، لا مختتم مکاں

اور اس کے ایک کونے میں حیراں کھڑا ہوں میں

بیدار، سراپا نظر ہوں، منہمک ہوں میں

اس حسن دلاویز کو کیسے کروں بیاں ؟

اک ٹک نظر سے دیکھ کر، مَیں، ذرّۂ حقیر

پڑھتا ہوں درُود۔ ۔ ۔ اور جھکاتا ہوں سر کو میں !

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

(اس نظم میں ایک تجربے کے طور پر دو بحور کا اشتمال و امتزاج روا رکھا گیا)

٭٭٭

 

 

 

 

چار (۴)

 

                غالب نہ شود شیوۂ من قافیہ بندی

                ظلمیست کہ بر کلک ورق می کنم امشب

 

صفحۂ قرطاس پر بکھرے ہوئے الفاظ نا بینا تھے شاید

ڈگمگاتے، گرتے پڑتے

کچھ گماں اور کچھ یقیں سے آگے بڑھتے

پیچھے ہٹتے

اپنے ’ہونے ‘ کی شہادت ڈھونڈتے تھے

 

کس طرف جائیں، کہاں ڈھونڈیں

کوئی مفہوم جس کو

ان کے خالق نے کسی ’آورد‘ کے لمحے میں شاید

اپنے شعروں میں سمو کر

ان کی نا بینائی کے پردے کے پیچھے رکھ دیا تھا

لوٹ کر خالق سے اپنے کیسے پوچھیں

اے خدائے لفظ و معنی

تو نے ہم کو زندگی بخشی ہے، لیکن

ظلم کیسا تو نے اس کاغذ کے صفحے پر کیا ہے

 

رمز و تشبیہ و علامت

حمزہ و زیر و زبر

اپنی جگہ پر ٹھیک ہیں، پر

معنی و مفہوم کی بینائی۔ ۔ ۔

(جس پر اس قدر نازاں ہے تیری خود نگاہی)

واژگوں ژولیدگی، ریزہ خیالی میں کہیں گم ہو گئی ہے

 

کیسے اتنے فخر سے کہتے ہو غالب

(لفظ جن کی چشم بینا بجھ چکی ہے )، پوچھتے ہیں

’’قافیہ بندی مرا شیوہ نہیں ہے !‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

 

۵۔ حسن چہ کام دل دہد چوں طلب از حریف نیست

خست نگاہ گر جگر خستہ ز لب نمک نہ خواست

 

پیشتر اس کے کہ ہم یہ شعر سمجھیں

کیوں نہ ہم

دیکھ ہی لیں کچھ ذرا سا مختلف

(اور کچھ مساوی)

ٰٰٓٓغالب آشفتہ سر کے ایک اردو شعر کو!

’’غیر کی منت نہ کھینچوں گا پئے توقیرِ درد

زخم مثل خندۂ قاتل ہے سر تا پا نمک!‘‘

 

زخم تازہ پر نمک پاشی کی خاطر

غیر کا احسان کیوں لے شاعر خود بین آخر

زخم تو پہلے سے قاتل کی کھلی باچھوں ساخود ہی

خندہ زن ہے !

بات اتنی ہی تھی، لیکن

غالب مشکل بیاں کے خامۂ دنداں صفت میں

پھڑپھڑاتی رک گئی ہے !

٭٭٭

 

 

 

 

 

چھ (۶)

 

                بگذرز سعادت و نحوست کہ مرا

                ناہید بغمزہ کُشت و مرّیخ بہ قہر

 

 

جنتری جنتری

کچھ بتا جنتری

کتنے برسوں سے سیّارگاں کے تعاقب میں سیماب پا

دوڑنا بھاگنا ہی رہی ہے مری عمر بھرکی سزا

اپنے اپنے مداروں میں چلتے ہوئے

یہ فلک کے مسافر نہیں جانتے

ان کے پاؤں کے نیچے بھی اک کرّۂ خاک ہے

جس پہ بستے ہیں ہم

اور ہم بے قصوروں کے بگڑے ہوئے زائچوں پر اثر

ان کے ناراض ہونے کا ہے کس قدر !

 

کوئی مرّیخ ہو

کوئی ناہید ہو

ان کا ٹیڑھا چلن

نا مناسب گھڑی

نا مبارک شگن

کھیلتے کیوں ہیں لوگوں کی تقدیر سے ؟

میری قسمت کی نا فہم تحریر سے ؟

جس کا پڑھنا مری دسترس میں نہیں

میں زمیں زاد ہوں، میرے بس میں نہیں

میں فرومایہ، ادنیٰ بشر ہوں اگر

اپنی قسمت کا کڑوا ثمر ہوں اگر

تو بھی ’ مَیں ‘ ’ مَیں ‘ ہی ہوں، کوئی دیگر نہیں

 

کوئی ناہید ہو

کوئی مرّیخ ہو

مجھ کو ان سے کوئی بھی نہیں واسطہ!

سعد اکبر ہو بالا نشیں اک بڑے نام کا

میری کُنڈلی میں آ کر ٹھہر جائے تو میرے کس کام کا؟

 

ان فقیروں کو اتنا بتا، جنتری

ان نکھتروں کو اتنا جتا، جنتری

میری تقدیر کے زائچے سے اُٹھیں اور چلتے بنیں

اب خدا کے لیے مجھ کو بخشیں، مرے حال پر چھوڑ دیں

جنتری، جنتری، جنتری، جنتری!!!!

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہ غالبؔ کی ایک رباعی کی آخری دوسطور ہیں۔ ان کا آزاد ترجمہ یہ ہے۔ ’’مجھ سے سعادت اور نحوست کی بات کرنا بے معنی ہے، کیونکہ ناہید، یعنی آفاقی حسن کی علامت Venice کے مرکزی بُرج میں ہونے کے دوران تو میں حسن کے غمزہ و ادا تہ تیغ ہوا اور مرّیخ Mars یعنی جنگ و جدل کے سیارے کے عہد میں مجھ پر قہر ٹوٹا۔

٭٭٭

 

 

 

 

سات (۷)

 

                ؎ از درختان خزاں دیدہ نہ باشم کیں ہا

                 ناز بر تازگیِ برگ و نوا نیز کنند

 

خزاں کا موسم تو آ گیا ہے

میں ٹُنڈا مُنڈا سا، ایک جو گی ہوں

ہاتھ میں ایک کہنہ کشکول تھام کر یوں کھڑا ہوا ہوں

کہ جیسے میرے بدن کی یہ ٹوٹ پھوٹ۔ ۔ ۔

قطع و برید اک دن تو ختم ہو گی

خزاں اگر میرے سارے بخیے ادھیڑ دیتی ہے۔ ۔ ۔

میرے پتوں کو نوچ لیتی ہے۔ ۔ ۔

کیا ضروری نہیں ہے، اک دن بہار آئے

مجھے مرا انتفاع دے۔ ۔ ۔

کہ میں بھی افزوں، سوا، سوایا

ہرا بھرا ہو کے جھوم اٹھوں

کہ یہ تو قدرت کا ایسا دستور ہے کہ جس سے مفر نہیں ہے

بہار تو وہ پیام صبح ہے

سوکھے پیڑوں کو جو پنپنے کا اذن دیتا ہے !

 

مگر یہ کیا گل کھلا دیا ہے نظام قدرت نے میرے حق میں

(کہ میرے اتلاف میں ؟)، بتاؤ!

خزاں تو چھائی ہوئی ہے مجھ پر

مگر

ورائے قیاس ہے کہ بہار آئے

کہ میں بھی روئیدگی پہ اپنی یہ فخر سے کہہ سکوں

کہ میں بھی ہرا بھرا ہوں

عجیب دستور ہے یہ میرے لیے کہ میں نے

خزاں ہی دیکھی ہے۔ ۔ ۔ سالہا سال

ایک رُت ہی مرے مقدر کی خاصیت ہے !

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ *اردو میں اس شعر کا آزاد ترجمہ کچھ یوں ہو گا۔ ’’ میں ایک خزاں گزیدہ شجر بھی تو نہیں ہوں، کہ سارے اشجار پر اگر خزاں آتی ہے، تو بہار کے آنے کا امکان رہتا ہے، اور ایسا درخت اپنے ہرے بھرے ہونے پر ناز کر سکتا ہے، : میں تو وہ پیڑ ہوں جس پر خزاں آئی تو پھر ٹھہری ہی رہی، بہار کے آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ـ

 

** غم اور خوشی، خزاں اور بہار۔ ۔ ۔ ۔ قرآن میں یہ تفسیر ملتی ہے جس میں تاکیداً ایک آیۃ دہرائی گئی ہے۔ اِن ً مَعَ العُسرِ یُسُرَاً، اِن ً مَع العُُسرِ یُسُراً (بلا شبہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ ۔ ۔ یقیناً مشکل کے ساتھ آسانی ہے ) اس شعر کے خلق ہونے کے لمحے میں شاید غالبؔ کے ذہن میں یہ آیۃ موجود ہو۔

٭٭٭

 

 

 

 

۸۔ (آٹھ)

 

                نگہم نقب بہ گنجینۂ دل ہا می زد

                مژدہ باد اہل ریا کہز میداں می رفتم

 

کس نے دی تھی مجھ کو ایسی چشم بینا

وہ نظر جو ہر کسی کے دل کے اندر جھانکتی تھی

اور یہ پہچان سکتی تھی کہ کیا وہ شخص

کھوٹا یا کھرا ہے

عین ممکن ہے کہ کوئی معجزہ ایسا ہوا ہو

جس نے میری چشم بینا کھول دی ہو

یاد بس اتنا ہی بچپن سے ہے، مجھ میں

یہ صلاحیت رہی ہے

ہر کسی کو دیکھ کر پہچان لیتا ہوں۔ ۔

کہ اس کے دل میں کیا ہے۔ ۔ ۔

میں نے اپنی اس نظر سے

خیر خوا ہوں، جاننے والے بزرگوں

دوستوں اور دشمنوں کے

دل میں جھانکا ہے ہمیشہ

ایسے ایسے بُعد بھی دیکھے ہیں میں نے

ان کے ظاہر اور باطن میں

کہ میں ہی جانتا ہوں

ایسے بے آہنگ، بیگانے روّیے

میری یہ گہری نظر پہچان پائی ہے کہ بس اللہ مالک!

خویشگی، وابستگی میں

مِن ہذا، الفت کے سانچے میں گھڑے

جُڑواں برادر

اور ان کے دل کے اندر۔ ۔ (دیکھئے مت!)

گندگی، نفرت، کدورت!

دیکھنے کو دل نہیں کرتا تھا، لیکن

جب بھی میں نے

انتہائے سادگی میں

ان بزرگوں، دوستوں سے

ان کے ظاہر اور باطن مین تفاوت کا یہ قصّہ

چھیڑ کر نرمی سے کوئی بات کی ہے

طیش میں آ کر سبھی نے مجھ کو پھٹکارا ہے، بے عزّت کیا ہے !

ان ریاکاروں کی حالت تو بھلا کیسے سنورتی

میں ہی دھتکارا گیا ہوں

لوگ میرے پاس بھی آنے سے گھبرانے لگے ہیں

جانتے ہیں، مجھ سے دوری ہی میں ان کی عافیت ہے !

 

اے حلیم و رحمدل، اللہ میرے

(ایک دن فریاد کی میں نے خدا سے )

تو نے مجھ کو ایسی گہری آنکھ دے کر

کس جنم کا مجھ سے یہ بدلہ لیا ہے ؟

اندرونی آنکھ ہے، پھوڑوں بھی کیسے ؟

میرے مولا! چھین لو اب مجھ سے میری چشم بینا!‘‘

 

اے ریاکارو، تمہیں مژدہ ہو۔ ۔ ۔ مجھ سے

میرے مالک نے مری گہری نظر وہ چھین لی ہے

جس سے میں تم سب کے اندر جھانک سکتا تھا۔ ۔ ۔

مبارک ہو تمہیں، اے دوستو، بھائیو، عزیزو

میں تو اس میدان سے اب جا رہا ہوں

خوب کھل کھیلو، مگر مجھ سے نہ الجھو!

۔۔۔۔

شعر کا آزاد ترجمہ یہ ہے۔ ۔ ۔ میری نظر لوگوں کے دلوں میں نقب زنی کر کے اندر دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

اب ان ریاکار لوگوں کو خوشخبری ہو کہ میں یہ میدان چھوڑ کر جا رہا ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

 

(۹)

 

                 رسیدن ہائے منقار ہما بر استخواں غالب

                 پس از عمرے بیادم داد کاوش ہائے مژگاں را

 

 

آدمی شاید رہا ہو گا، مگر اب

ایک دھڑ تھا، ایک سر تھا

بانس کی ٹانگوں پہ سرکنڈے مڑھے تھے

ڈھیلے ڈھالے

دھڑ تھا پھر بھی، سر تھا پھر بھی

آدمی کا!

الٹی ہانڈی بانس کی گردن پہ لٹکائی گئی تھی

زندہ ڈھانچا

اک بجوکا

جو پرندوں کو ڈرانے کے لئے گاڑا گیا تھا

ہڈّیاں تو ہڈّیاں تھیں، چرچراتی تھیں، مگر۔

پھر بھی شکستہ جسم کے اعضا کو جیسے

باندھ کر رکھے ہوئے تھیں۔

 

یہ تمسخر خوب تھا۔ ۔ سارے پرندے

اس سے ڈرنے کے بجائے

پاس آ کر اپنی منقاروں سے اس پر وار کرتے تھے ہمیشہ

اشک افشاں، خس بدنداں، چیختا رہتا تھا، لیکن

کون سنتا؟

ڈھیٹ تھے سارے پرندے

اڑتے اڑتے پاس آ کر

اپنی منقاروں سے اس پر وار کر کے لوٹ جاتے

جیسے کوئی معرکہ سر کر لیا ہو

زندہ ڈھانچہ، اک بجوکا

آبدیدہ، اپنے سر کو دھنتا رہتا!

 

اور پھر اک دن کسی طائر کی بھاری ٹھونگ سے وہ

الٹی ہانڈی کا سا چہرہ گر گیا نیچے زمیں پر

اور بجوکا ظاہراً تو مر گیا۔ ۔

لیکن نہیں ! اس کا شکستہ دھڑ سبھی اعضا کو اپنے

باندھ کر رکھے ہوئے ہے

اور بجوکا، کچھ خمیدہ

اب فقط اک دھڑ ۔ ۔

پرانے بانس کی ٹانگوں پہ ویسے ہی کھڑا ہے

جیسے اب سے پیشتر تھا

ہاں، مگر سارے پرندے

اک غلط انداز سی ترچھی نظر سے

دیکھ کر، تیزی سے اپنا رخ بدل کر

دور اڑ جاتے ہیں اس سے !

 

سوچتا ہے، میں یہیں ہوں

 

میں وہی ہوں

طائروں کو کیا ہوا ہے ؟

کیا مجھے اب یکہ و تنہا، اکیلا

کنج تنہائی میں اپنے آپ ہی رہنا پڑے گا؟

یاد کرتا ہے سنہرے دن پرندوں سے بقائے باہمی کے

ہائے کیا لذت تھی، کیسی چاشنی تھی

بے کلی میں بھی خوشی، آسودگی تھی!

اب وہ ’کاوش ہائے مژگاں ‘ کیا ہوئی ہے ؟

کاش وہ دن لوٹ آئیں !!

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

غالب کے فارسی کلام کے کچھ نسخوں میں یہ شعر اس طرح درج ہے : ’’ رسیدن ہائے منقار ہما بر استخواں غالب۔ پس اس عمرے بیادم داد رسم و راہ پیکاں را‘‘۔ اگر شعر کو یوں پڑھا جائے تو مژگاں کے استعارے کا ایک فاضل پہلو، یعنی آنکھوں کی ہر پلک کا چبھنا اور اس چبھن کے تلذز کی داد دینا، شعر سے خارج ہو جاتا ہے، اور براہ راست تیر اندازی کا ایک تصویری پہلو ابھر آتا ہے دونوں حالتوں میں استعارے کی ملفوفیت اور مدوریت قائم رہتی ہے۔ بہر حال جس طرح شعر عنوان میں درج کیا گیا ہے، اس کا آزاد ترجمہ کچھ یوں ہے۔ ’’ غالب کے استخوان پر ہما نے کچھ اس طرح اپنی منقار سے ٹھونگیں لگائی ہیں، کہ اک عمر گذرنے کے بعد بھی مجھے اس کی مژگاں کی لگاتار چبھن سے زخمی ہونے کی داد دینا پڑ رہی ہے۔ ‘‘ (س۔ پ۔ آ)

٭٭٭

 

 

 

۱۰۔

 

                ما نبودیم بہ ایں مرتبہ راضی غالبؔ

                 شعر خود خواہش آں کرد کہ گردد فنِ ما

 

کھڑکی سے باہر دیکھا، تو

چیری کے پیڑوں پر لاکھوں پھول کھلے تھے

باہر نکلا

چلتا چلتا آگے بڑھ کر

سب سے سندر

ٹھنڈی ہوا میں جھوم جھوم کر گانے والے

ایک پیڑ سے پوچھ ہی بیٹھا

’’کون ہو، بھائی؟ شعر ہو کیا تم؟‘‘

بولا، ’’پوچھو، سندرتا کی قیمت کیا ہے ؟

اور میرا یہ اُتّر سن لو                             اُتر : جواب

آنکھ کی پتلی پر رخشندہ حسن کی لافانی شوبھا ہے !‘‘

 

تتلی اُڑ کر میری ہتھیلی پر آ بیٹھی

چونک گیا میں ! نیچے جھک کر پوچھ ہی بیٹھا

’’ان رنگین پروں پر ایسے نقش بنا کر

کیا تم نے کوِتا لکھی ہے ؟‘‘

 

بولی، ’’مجھ کو تو کچھ علم نہیں، پر

میری تسلی کی خاطر اتنا کافی ہے

میرے پروں پر

کوِتا جیسے لکھے ہوئے رنگیں گل بوٹے

سب کو ہی اچھے لگتے ہیں !‘‘

 

شبنم کا قطرہ

آفاق کی ساری دولت

اپنے موتی جیسے ننھے دل میں سمیٹے

چپ بیٹھا تھا

خود ہی بولا

’’۔ ۔ ۔ تم کیا شعر لکھو گے مجھ پر؟

میں تو خود ہی ایک شعر ہوں

لیکن میں یہ کہتا کب ہوں !‘‘

 

رحمن، ہیرا کب کہتا ہے، میں ہیرا ہوں

لاکھ ٹکے ہے میری قیمت!

شعر کہاں کہتا ہے غالبؔ، مجھ کو لکھو

وہ تو لکھا لکھایا دل میں آ جاتا ہے

اور شاعر کا منصب یا رتبہ یا شہرت

لا یعنی، ضمنی باتیں ہیں !

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۰۰رحمن (ہندی شاعر) کے دوہے کا پہلا مصرع یہ ہے۔ ۔ ۔ ’’رحمن ہیرا کب کہے، لاکھ ٹکے ہے میرا مول!‘‘

۰۰فارسی شعر کا آزاد ترجمہ کچھ یوں ہے۔ اے غالب، ہم تو اس شاعری کے اعلیٰ منصب یا مرتبہ کے طلبگار نہیں تھے۔ ہاں، شعر خود ہی ہمارے فن میں ڈھلنے کا آرزو مند ہے۔

٭٭٭

 

 

۱۱

 

                درازیِ شب و بیداریِ من ایں ہمہ نیست

                ز بخت من خبر آرید، تا کجا خفتست!

 

بڑے ایذا رساں دن تھے

بڑی جان کاہ راتیں تھیں

گذشتہ شب قیامت بن کے آئی تھی

بدن میں جیسے سوئیاں چُبھ رہی تھیں۔ ۔ ۔

ڈنک تھے زنبور کے یا سرجنوں نے

ہر رگ و پَے میں

’کرایو سرجری‘ سے زہر کے ٹیکے لگائے تھے

مشینیں ڈائنیں تھیں، جو مجھے ٹیوبوں میں کس کر

جلتی بجھتی روشنی میں درد کے ہنٹر لگاتی تھیں !

 

کہاں تھی نیند؟۔ ۔ ۔ باہر رات تھی، گہری، گھنی، کالی

مگر اندر۔ ۔ ۔ ؟ ’کرایو سرجری‘ کے وارڈ میں میرے ہی جیسے کچھ

ضعیف و ناتواں ہلکان رو گی تھے

 

بُلایا نرس کو۔ ۔ ۔ ’’سسٹر!‘‘ کہا میں نے

’’مجھے تو رات کو سونے کی عادت تھی

کوئی صورت تو ہو گی، میں گھڑی بھر کے لیے سو لوں ؟‘‘

 

یقیناً اس نے دیکھی تھی

مرے ہونٹوں پہ کھلتی زہر خند اک مسکراہٹ سی

جھکی مجھ پر، کہا اُس نے

’’دوا تو قطرہ قطرہ، ایک اک قطرہ

تمہاری ’آئی وی ‘ کی ٹیوب سے خوں میں اترتی ہے          I.V.Tube

تعجب ہے کہ تم پھر بھی نہیں سوتے !‘‘

 

ہنسا میں، جیسے کوئی زخم سا کھل جائے پل بھر کو

’’نہیں سِسٹر، ‘‘ کہا میں نے

’’مری اور نیند کی آپس میں مدّت سے عداوت ہے

نہیں آئے گی میرے پاس، لیکن

اک ذرا سی مہربانی تو کرو مجھ پر

یہیں اس وارڈ میں دیکھو مری خاطر

 

کہیں پاؤں پسارے بخت میرا سو رہا ہو گا

ذرا پوچھو تو اُس کمبخت سے۔ ۔ ۔

کب تک؟ بھلا کب تک یونہی سوتا رہے گا وہ؟‘‘

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

غالبؔ کے شعر کا آزاد ترجمہ یہ ہے : بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ ہجر کی میری رات طویل ہے، یا اپنی راتیں جاگ کر کاٹنا میرا معمول ہے۔ کوئی مجھے یہ خبر تو لا دے کہ میرا بخت کب تک سویا رہے گا؟

۔ ۔ ۔ ۔ یہ نظم بھی بیماری کے ایذا رساں دنوں کی ایک یادگار سند ہے۔

٭٭٭

 

 

 

تشکر

 

عزیز دوست

شاہ فضل عباس

نے

اس ہمالیائی کوہ پیمائی کی تکمیل میں میری

قوت ارادی کو مستحکم کیا اور میری معاونت فرمائی

 

ان کا شکریہ

٭٭٭

تشکر: شاعر جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید