FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

فہرست مضامین

حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا

 

 

               مرتبہ: نسیم عباس نسیمی

 

 

 

 

انتساب

 

قبلہ و کعبہ!

عزت مآب !!

والد گرامی !!!

مولانا غلام اکبر بلوچ (رح) کے نام !

جن کی علم دوستی صحرائے زیست میں میرے لئے زادِ راہ بنی۔

 

نسیم عباس نسیمی

03320591769

Naseemathar14@gmail۔com

 

 

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بحیثیت زوجہ

 

 

فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا جب امیرالمومنین علی مرتضیٰ علیہ السلام کے بیت الشرف تشریف لے گئیں تو دوسرے روز رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹی اور داماد کی خیریت معلوم کرنے گئے۔ آپ نے علی علیہ السلام سے سوال کیا یا علی تم نے فاطمہ کو کیسا پایا ؟ علی علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، یا رسول اللہ میں نے فاطمہ کو عبادت پروردگار میں بہترین معین و مددگار پایا۔

گویا علی علیہ السلام یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ زوجہ قابل تعریف وہی ہے جو اطاعت شوہر کے ساتھ ساتھ مطیع پروردگار بھی ہو شاعر نے اس بات کو ایسے نظم کیا۔

حسن سیرت کے لئے خوبی سیرت ہے ضرور

گل و ہی گل ہے جو خوشبو بھی دے رنگت کے سوا

چونکہ حسن، دائمی نہیں ہوتا بلکہ عمل دائمی ہوتا ہے آخرت میں دنیاوی حسن کام آنے والا نہیں بلکہ نیک اعمال ساتھ دینگے۔ پھر علی علیہ السلام سے جواب دریافت کرنے کے بعد رسول خدا (ص) حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی طرف متوجہ ہوئے تو عجیب منظر نظر آیا ایک شب کی بیاہی بوسیدہ لباس پہنے بیٹھی ہے رسول خدا نے سوال کیا بیٹی تمہارا لباس عروسی کیا ہوا بوسیدہ لباس کیوں پہن رکھا ہے ؟ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے جواب دیا بابا میں نے آپ کے دہن مبارک سے یہ سنا ہے کہ راہ خدا میں عزیز ترین چیز قربان کرنی چاہئے بابا آج ایک سائل نے دروازہ پر آکر سوال کیا تھا مجھے سب سے زیادہ عزیز وہی لباس تھا میں نے وہ لباس راہ خدا میں دیدیا۔ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے اپنے چاہنے والوں کو درس دیا کہ خدا کو ہر حال میں یاد رکھنا چاہیئے اگر تمہارے پاس صرف دو لباس ہیں اور ان میں سے ایک زیادہ عزیز ہے تو اس لباس کو راہ خدا میں خیرات کر دو۔

لاکھوں سلام ہو ہمارا اس شہزادی پر جس کا مہر ایک زرہ اور ایک کتان کا بنا ہوا معمولی ترین لباس اور ایک رنگی ہوئی گوسفند کی کھال تھا فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا یہ معمولی سا مہر خواتین عالم کو درس قناعت دے رہا ہے کہ جتنا بھی ملے اس پر شکر خدا کر کے راضی رہنا چاہئے یہی وجہ تھی کہ رسول اکرم (ص) نے فرمایا : میری امت کی بہترین خواتین وہ ہیں جن کا مہر کم ہو۔

فرزند رسول مصحف ناطق امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں : کسی خاتون کا مہر زیادہ ہونا باعث فضیلت نہیں قابل مذمت ہے بلکہ مہر کا کم ہونا باعث عزت و شرافت ہے۔

 

 

 

 

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا اخلاق و کردار

 

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنی والدہ گرامی حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی صفات کا واضح نمونہ تھیں جو دو سخا، اعلیٰ فکری اور نیکی میں اپنی والدہ کی وارث اور ملکوتی صفات و اخلاق میں اپنے پدر بزرگوار کی جانشین تھیں۔ آپ اپنے شوہر نامدار حضرت علی علیہ السلام کے لئے ایک دلسوز، مہربان اور فدا کار زوجہ تھیں آپ کے قلب مبارک میں اللہ کی عبادت اور پیغمبر کی محبت کے علاوہ اور کوئی تیسرا نقش نہ تھا۔ زمانہ جاہلیت کی بت پرستی سے آپ کو سوں دور تھیں۔ آپ نے شادی سے پہلے کی ۹ سال کی زندگی کے پانچ سال اپنی والدہ اور والد بزرگوار کے ساتھ اور ۴ سال اپنے بابا   کے زیر سایہ بسر کئے اور شادی کے بعد کے دوسرے نو سال اپنے شوہر بزرگوار علی مرتضیٰ علیہ السلام کے شانہ بہ شانہ اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت، اجتماعی خدمات اور خانہ داری میں گذارے۔ آپ کا وقت بچوں کی تربیت، گھر کی صفائی اور ذکر و عبادت خدا میں گذرتا تھا۔ فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) اس خاتون کا نام ہے جس نے اسلام کے مکتب تربیت میں پرورش پائی تھی اور ایمان و تقویٰ آپ کے وجود کے ذرات میں گھل مل چکا تھا۔

حضرت فاطمہ زہرا زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے ماں باپ کی آغوش میں تربیت پائی اور معارف و علوم الہی کو سر چشمہ نبوت سے کسب کیا۔ آپ نے جو کچھ بھی ازدواجی زندگی سے پہلے سیکھا تھا اسے شادی کے بعد اپنے شوہر کے گھر میں عملی جامہ پہنایا۔ آپ اپنے گھر کے امور اور تربیت اولاد سے متعلق مسائل پر توجہ دیتی تھیں اور جو کچھ گھر سے باہر ہوتا تھا اس سے بھی باخبر رہتی تھیں اور اپنے شوہر کے حق کا دفاع کرتی تھیں۔ لہذا آج کی خواتین کو بھی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت سے درس لے کر اپنی زندگی کو کامیاب و کامران بنانا چاہئیے۔

 

 

 

عظمت حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا آیت اللہ شہید مرتضیٰ مطہری کی نظر میں

 

 

حضرت صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے کہ ”’ انا اعطیناک الکوثر”’ کوثر سے بالاتر کوئی کلمہ نہیں۔ اس زمانہ میں جب کہ عورت کو شر مطلق اور گناہ و فریب کا عنصر سمجھا جاتا تھا، بیٹیوں کو زندہ دفن کر دینے پر فخر کیا جاتا تھا اور خواتین پر ظلم کو اپنے لئے شرف شمار کیا جاتا تھا ایسے زمانہ میں ایک خاتون کے لئے قرآن مجید نہیں کہتا ” خیر”’ بلکہ کہتا ہے کوثر یعنی ”خیر کثیر”۔

حضرت صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت علی علیہ السلام گھر کے کاموں کو ایک دوسرے کے درمیان تقسیم کرنا چاہتے تھے لیکن اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ رسول خدا ﷺ اس بارے میں اظہار نظر فرمائیں۔ لہذا رسول خدا ﷺ سے عرض کرتے ہیں : یا رسول اللہ ہمارا دل چاہتا ہے کہ آپ فرمائیں گھر کا کون سا کام علی کریں اور کون سا میں انجام دوں ؟ رسول خدا ﷺ نے گھر کے کام حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے سپرد کئے اور گھر کے باہر کے کاموں کی ذمہ داری علی علیہ السلام کو سونپ دی۔ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ میری خوشی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ میرے بابا نے مجھے گھر کے باہر کے کاموں سے سبکدوش کیا۔ عالم و با شعور عورت کو ایسا ہونا چاہئے جسے گھر سے باہر نکلنے کی حرص و ہوس نہ ہو۔

ہمیں دیکھنا چاہئے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت کس درجہ بلند ہے ؟ ان کے کمالات اور صلاحیتیں کیسی ہیں ؟ان کا علم کیسا ہے ؟ان کی قوت ارادی کس قدر ہے ؟ اور انکی خطابت و بلاغت کیسی ہے ؟

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا جوانی کے ایام میں اس دنیا سے رخصت ہو گئیں اور انکے دشمن اس قدر زیادہ تھے کہ ان کے علمی آثار بہت کم ہم تک پہنچے ہیں لیکن خوش قسمتی سے ان کا ایک طولانی اور مفصل خطاب تاریخ میں ثبت ہوا ہے جسے صرف شیعوں نے ہی نقل نہیں کیا بلکہ بغدادی نے تیسری صدی میں اسے نقل کیا ہے۔ یہی ایک خطبہ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ مسلمان عورت خود کو شرعی حدود میں رکھتے ہوئے اور غیروں کے سامنے خود نمائی کئے بغیر معاشرہ کے مسائل میں کس قدر داخل ہو سکتی ہے۔

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا خطبہ توحید کے بیان میں نہج البلاغہ کی سطح کا ہے۔ یعنی اس قدر بلند مفاہیم کا حامل ہے کہ فلاسفہ کی پہنچ سے بالاتر ہے۔ جہاں ذات حق اور صفات باری تعالیٰ کے بارے میں گفتگو ہے وہاں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کائنات کی سب سے بڑی فلسفی محو سخن ہے۔ پھر فلسفہ احکام بیان کرتی ہیں :خداوند عالم نے نماز کو اس لئے واجب کیا، روزہ کو اس مقصد کے تحت واجب قرار دیا، حج و امر بالمعروف و نہی از منکر کے وجوب کا فلسفہ یہ ہے۔ پھر اسلام سے قبل عربوں کی حالت پر گفتگو کرتی ہیں کہ تم عرب لوگ اسلام سے پہلے کس حالت میں تھے اور اسلام نے تمہاری زندگی میں کیسا انقلاب برپا کیا ہے۔ مادی اور معنوی لحاظ سے ان کی زندگی پر اشارہ کرتی ہیں اور رسول خدا ﷺ کے توسط سے انہیں جو مادی اور معنوی نعمتیں میسر آئیں انہیں یاد دلاتی ہیں اور پھر دلائل کے ساتھ اپنے حق کے لئے احتجاج کرتی ہیں۔

 

 

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا انسانیت کی معراج

 

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے خواتین کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دختر رسول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو انسانیت کی معراج قرار دیا اور فرمایا: میں اسلام کے نام سے اپنی بات کا آغاز کرتا ہوں اور اسلام کے پیغام کو عظیم پیغام مانتا ہوں۔ آپ جیسی خواتین پر مجھے فخر ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی دعوی عمل کے مرحلے کے نزدیک پہنچ جاتا ہے تب اسے اس کی حقیقی اہمیت حاصل ہوتی ہے ہم ایک طرف تو خواتین کے مسئلے میں اور دوسری طرف علم و سائنس کے مسئلے میں جب کہ دوسرے پہلو سے انسانیت کی خدمت کے مسئلے میں خاص نقطہ نظر کے حامل ہیں۔

ہمارا نقطہ نظر اسلام کے تناظر میں ہے۔ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ایک اچھے انسانی معاشرے میں عورتیں اس بات کی صلاحیت رکھتی ہیں اور انہیں اس کا موقع بھی ملنا چاہئے کہ، اپنے طور پر علمی، سماجی، تعمیری اور انتظامی شعبوں میں اپنی کوشش اور بھرپور تعاون کریں۔ اس زاویہ سے مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے۔ ہر انسان کی تخلیق کا مقصد پوری انسانیت کی تخلیق کا مقصد ہے ، یعنی انسانی کمال تک رسائی ایسی خصوصیات اور صفات سے خود کو آراستہ کرنا جن سے ایک انسان آراستہ ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ اس کی سب سے واضح علامت پہلے مرحلے میں تو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ذات با صفات ہے اور اس کے بعد انسانی تاریخ کی دیگر عظیم خواتین کا نام لیا جا سکتا ہے۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا آسمان انسانیت آفتاب کی مانند ضو فشاں ہیں کوئی بھی ان سے بلند و برتر نہیں ہے ، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ آپ نے ایک مسلمان خاتون کی حیثیت سے اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کی کہ خود کو انسانیت کی اوج پر پہنچا دیا۔ لہذا مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں جب اچھے اور برے انسانوں کی مثال دی ہے تو عورت اور مرد دونوں سے متعلق مثال پیش کی ہے۔ اگر ایک جگہ فرعون کی بیوی کا تذکرہ فرمایا ہے تو دوسرے مقام پر حضرت لوط اور حضرت نوح کی بیویوں کا ذکر فرمایا ہے ” و ضرب اللہ مثلا للذین آمنوا امرءۃ فرعون ” اس کے مقابلے میں برے انسانوں کے لئے حضرت نوح اور حضرت لوط کی بیویوں کی مثال دی ہے۔

اسلام چاہتا ہے کہ تاریخ میں عورت کے سلسلے میں جو غلط تصور قائم رہا اس کی اصلاح کرے۔ مجھے حیرت ہے کہ معدودے چند مثالوں کے علاوہ ایسا کیوں ہے ؟ کیوں انسان نے مرد اور عورت کے مسئلے میں ہمیشہ غلط طرز فکر اختیار کیا اور اس پر وہ مصر رہا۔ آپ انبیا کی تعلیمات سے ہٹ کر دیکھیں تو عورتوں کے سلسلے میں جو بھی نظریات قائم کئے گئے ہیں ان میں مرد اور عورت کا مقام حقیقت سے دور ہے اور مرد و عورت کے درمیان جو نسبت بیان کی گئی ہے وہ بھی غلط ہے۔ حتی بہت قدیمی تہذیبوں میں بھی جیسے کہ روم یا ایران کی تہذیبیں ہیں، عورت کے سلسلے میں جو تصور اور نظریہ ہے درست نہیں ہے۔ میں تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا، آپ خود ہی اس سے واقف ہیں اور خود جائزہ لے سکتے ہیں۔ آج بھی دنیا کی وہی حالت ہے۔ آج بھی عورتوں کی حمایت کے بڑے بڑے دعوے اور اس کی ذات کے انسانی پہلو پر تاکید کے نعروں کے باوجود عورتوں کے سلسلے میں جو نظریہ ہے وہ غلط ہے۔ چونکہ یورپی ممالک، مسلم ممالک کی مقابلے میں ذرا تاخیر سے اس بحث میں شامل ہوئے ہیں اس لئے خواتین کے مسئلے میں ذرا دیر سے جاگے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ گذشتہ صدی کے دوسرے عشرے تک یورپ میں کہیں بھی کسی بھی خاتون کو اظہار رائے کا حق نہیں ہوتا تھا جہاں جمہوریت تھی حتی وہاں بھی عورت کو اپنا مال خرچ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا تھا۔ بیسوی صدی کے دوسرے عشرے سے یعنی سن انیس سو سولہ یا اٹھارہ سے رفتہ رفتہ یورپی ممالک میں فیصلہ کیا گیا کہ عورتوں کو بھی اپنے سرمائے کے سلسلے میں اپنی مرضی کے مطابق عمل کرنے کا اختیار دیا جائے اور وہ سماجی امور میں مردوں کے مساوی حقوق حاصل کرے۔ اس بنا پر یورپ بہت تاخیر کے ساتھ خواب غفلت سے جاگا اور بڑی دیر میں وہ اس مسئلے کو سمجھا۔ اور اب ایسا لگتا ہے کہ وہ کھوکھلے دعووں کا سہارا لیکر اپنے اس پسماندگی کی تلافی کرنا چاہتا ہے۔ یورپ کی تاریخ میں کچھ ملکہ اور شہزادیاں گذری ہیں لیکن کسی ایک خاتون، ایک گھرانے ، خاندان یا قبیلے کی عورتوں کا مسئلہ عورتوں کے عام مسئلے سے الگ ہے۔ تفریق ہمیشہ رہی ہے۔ کچھ عورتیں ایسی بھی تھیں جو اعلی مقام تک پہنچیں کسی ملک کی حاکم بن گئیں اور انہیں حکومت وراثت میں مل گئی، لیکن معاشرے کی سطح پر عورتوں کو یہ مقام نہیں ملا اور ادیان الہی کی تعلیمات کے برخلاف کہ جن میں اسلام کی تعلیمات سب سے زیادہ معتبر ہیں عورت ہمیشہ اپنے حق سے محروم رکھی گئی۔ آپ آج بھی دیکھ رہے ہیں کہ مغرب کی مہذب دنیا، عورتوں کے سلسلے میں اپنی شرمناک پسماندگی کی تلافی کرنے کے در پے ہے اور اس کے لئے ایک نیا طریقہ اختیار کر رہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ لوگ عورتوں کے انسانی پہلو کو سیاسی، اقتصادی اور تشہیراتی مسائل کی نذر کر دیتے ہیں۔ یورپ میں روز اول سے ہی یہ صورت حال رہی۔ اسی وقت سے جب خواتین کو ان کے حقوق دینے کے مسئلہ اٹھا، انہیں غلط معیاروں کا انتخاب کیا گیا۔ جب ہم دنیا کے فکری اور نظریاتی نظام پر نظر ڈالتے ہیں اور پھر اسلام کی تعلیمات کا مشاہدہ کرتے ہیں تو بڑی آسانی سے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ انسانی معاشرہ اسی صورت میں خواتین کے مسئلے میں اور مرد اور عورت کے رابطے کے تعلق سے مطلوبہ منزل تک پہنچ سکتا ہے ، جب اسلامی تعلیمات کو من و عن قبول کرے اور بغیر کسی کمی بیشی کے ان تعلیمات پر عمل پیرا ہو۔ دنیا میں عورت کے تعلق سے ہمارا یہ خیال ہے۔ آج کی دنیا پرست تہذیبوں میں عورتوں کے سلسلے میں جو رویہ اختیار کیا جا رہا ہے ہم اس سے ہم متفق نہیں ہیں اسے ہم عورتوں کے لئے سودمند اور معاشرے کے لئے مناسب نہیں سمجھتے۔ اسلام چاہتا ہے کہ، خواتین، فکری، علمی، سیاسی اور سب سے بڑھ کر روحانی اور اخلاقی کمال کو پہنچیں۔ ان کا وجود معاشرے اور انسانی برادری کے لئے بھرپور انداز میں ثمر بخش ہو۔ حجاب سمیت اسلامی تعلیمات کی بنیاد یہی ہے۔ حجاب، خواتین کو الگ تھلگ کر دینے کے لئے نہیں ہے۔ اگر کوئی حجاب کے سلسلے میں ایسا نظریہ رکھتا ہے تو یہ بالکل غلط اور گمراہ کن نظریہ ہے۔ حجاب در حقیقت معاشرے میں عورتوں اور مردوں کی جنسی بے راہ روی کو روکنے کے لئے ہے کیونکہ یہ صورت حال دونوں بالخصوص عورتوں کے لئے بہت خطرناک ہے۔ حجاب کسی بھی طرح سیاسی، سماجی اور علمی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہیں ڈالتا اس کی زندہ مثال خود آپ لوگ ہیں۔ شائد کچھ لوگ حیرت میں رہے ہوں یا آج بھی حیرت زدہ ہوں کہ کسی بلند علمی مقام پر فائز کوئی خاتون اسلامی تعلیمات بالخصوص حجاب کی پابند ہو۔ یہ بات کچھ لوگوں کے لئے نا قابل یقین تھی اور وہ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ شاہ کی طاغوتی حکومت کے زمانے میں پردے کا مذاق اڑانے والوں کے ناروا سلوک کا تذکرہ تو چھوڑیں۔ اس زمانے میں یونیورسٹی میں بہت کم خواتین اور لڑکیاں با حجاب تھیں کہ جنہیں تمسخر اور استہزا کا شانہ بنایا جاتا تھا۔ ہمارے اسلامی انقلاب کی جد و جہد میں عورتوں نے مرکزی کردار ادا کیا اور ان غلط نظریات پر خط بطلان کھیچ دیا۔ ہم نے مشاہدہ کیا کہ کس طرح خواتین نے انقلاب کے لئے بنیادی کردار ادا کیا اس میں میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کر رہا ہوں۔ ہم نے انقلاب کے دوران دیکھا کہ ہمارے ملک میں خواتین نے ہراول دستے کی ذمہ داری سنبھالی۔ اگر خواتین نے اس انقلاب کو قبول نہ کیا ہوتا اور اس سے انہیں عقیدت نہ ہوتی تو یہ انقلاب کامیابی سے ہمکنار نہ ہو پاتا۔ مجھے یقین ہے کہ اگر خواتین نہ ہوتیں تو انقلابیوں کی تعداد خود بخود نصف ہو جاتی دوسری بات یہ ہے کہ ان کی عدم موجودگی کہ ان کے فرزندوں بھائیوں اور شوہروں پر بھی اثر پڑتا گھر کے ماحول پر اثر پڑتا کیوں کہ خواتین گھر میں اپنا خاص انداز رکھتی ہیں۔ خواتین کا بھرپور تعاون تھا جس کے نتیجے میں دشمن کی کمر ٹوٹ گئی اور ہماری تحریک آگے بڑھی۔ سیاسی شعبے میں بھی ہم نے خواتین کو دیکھا ہے اور دیکھ رہے ہیں، وہ مسایل کے حل میں خاص صلاحیتوں سے آراستہ ہیں اور اسلامی نظام میں اہم ذمہ داریاں ادا کرنے پر قادر۔ یہ سلسلہ جاری ہے اور جاری رہنا چاہئے۔ علمی میدان میں بھی، خواتین کی پیش رفت کا مصداق آپ خود ہیں اسی طرح آپ کی بہنیں ہیں جو دیگر شعبوں میں مشغول ہیں۔ ہمارے معاشرے میں علم کے مختلف موضوعات کی تعلیم جو معاشرے کی تعمیر کے لئے لازمی ہے ہر فرد کے لئے ضروری ہے۔ آج تحصیل علم سماجی ذمہ داری ہونے کے ساتھ ہی شرعی فریضہ بھی ہے۔ تحصیل علم صرف ذاتی خصوصیت نہیں ہے کہ جس کے سہارے کوئی شخص کسی خاص مقام پر پہنچ جائے اور اسے اچھی آمدنی ہونے لگے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو افراد تحصیل علم پر قادر ہیں ان کے لئے تحصیل علم واجب ہے اسپشلائزیشن واجب ہے۔ بقیہ موضوعات کی مانند میڈیکل سائنس کی تعلیم مردوں کی لئے واجب ہے تو عورتوں کے لئے اس سے بڑھ کر واجب ہے۔ کیوں کہ معاشرے میں خواتین کے مقابلے میں کام کے مواقع محدود ہیں۔ ہمارے پاس خاتون ڈاکٹروں کی کمی ہے اس بنا پر اسلام کے نقطہ نظر سے یہ مسئلہ حل شدہ ہے اور ہمارے معاشرے کے لئے ترقی ضروری ہے۔

آپ اپنا عملی پیغام دنیا کو دیں۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ خواتین کے پاس دنیا کے لئے پیغام ہے۔ اس پیغام کو منظم شکل دیں اور دنیا کے سامنے پیش کریں۔ پیغام صرف تحریری اور زبانی نہیں ہے ، بلکہ عملی پیغام ہے۔ ایرانی خواتین بالخصوص وہ خواتین جنہوں نے اسلام کے تناظر میں اور اسلامی احکامات پر عمل آوری خاص کر حجاب کی پابندی کے ساتھ، مختلف علمی میدانوں میں پیش رفت کی ہے ، دنیا کی طالبات کو عملی پیغام دیں کہ علم اور سائنس کا مطلب بے راہ روی نہیں ہے سائنس کا مطلب مرد اور عورت کے درمیان رابطے میں اخلاقی اصولوں کو نظر انداز کرنا نہیں ہے۔ بلکہ ان اصولوں پر عمل آوری کے ساتھ ساتھ تعلیم جاری رکھی جا سکتی ہے اور اعلی علمی مدارج پر پہنچا جا سکتا ہے۔ آپ کا وجود اسلامی کے عالمی پیغام کا مظہر اور مصداق ثابت ہو سکتا ہے۔ میں آپ کی اس بات سے متفق ہوں کہ دنیا ادیان کا پیغام سننے کے لئے بیتاب ہے۔ آسمانی ادیان میں جو دین و دنیا کو معاشرے کو سنوار دینے کی صلاحیت رکھنے کا دعوی کرتا ہے وہ اسلام ہے۔ عیسائیت اور دیگر ادیان اس وقت یہ دعوی نہیں کر رہے ہیں لیکن اسلام اس کا دعویدار ہے کہ اس کے پاس ایک آئیڈیل معاشرے کی تشکیل کی بنیادیں اور ضروری عناصر موجود ہیں وہ ان بنیادوں اور ستونوں کے سہارے ایک مثالی سماجی نظام اور معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ تمام شعبوں میں بالخصوص علم و دانش کے شعبے میں اور خواتین کے تعلق سے یہ ثابت کریں کہ اسلام میں اس کی صلاحیت ہے۔

 

 

یوم انہدام جنت البقیع، عالم اسلام کے لئے لمحہ فکر

 

جنت البقیع مدینہ منورہ میں واقع وہ قبرستان ہے کہ جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اجداد، اہل بیت علیہم السلام، اُمّہات المومنین، جلیل القدر اصحاب، تابعین اوردوسرے اہم افراد کی قبور ہیں کہ جنہیں آٹھ شوال 1344ہجری قمری کو آل سعود نے منہدم کر دیا اور افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ اسلامی تعلیمات کے نام پر کیا گیا۔ یہ عالم اسلام خصوصاً شیعہ و سنی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء، دانشوروں اور اہل قلم کی ذمہ داری ہے کہ اِن قبور کی تعمیر نو کیلئے ایک بین الاقوامی تحریک کی داغ بیل ڈالیں تا کہ یہ روحانی اور معنوی سرمایہ اور آثار قدیمہ سے تعلق رکھنے والے اِس عظیم نوعیت کے قبرستان کی کہ جس کی فضیلت میں روایات موجو دہیں، حفاظت اور تعمیر نو کے ساتھ یہاں مدفون ہستیوں کی خدمات کا ادنیٰ سا حق ادا کیا جا سکے۔

٨/ شوال تاریخ جہان اسلام کا وہ غم انگیز دن ہے کہ جب ١٣٤٤ ہجری کو وہابی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے جنت البقیع کے تاریخی قبرستان کو منہدم و مسمارکر دیا تھا۔ یہ دن تاریخ اسلام میں ”یوم الہدم ”کے نام سے معروف ہے ، یعنی وہ دن کہ جب بقیع نامی تاریخی اور اسلامی شخصیات کے مدفن اور مزاروں کو ڈھا کر اُسے خا ک کے ساتھ یکساں کر دیا گیا۔

مؤرخین کے مطابق بقیع وہ زمین ہے کہ جس میں رسول اکرم (ص) کے بعد اُن کے بہترین صحابہ کرام دفن ہوئے اورجیسا کہ نقل کیا گیا ہے کہ یہاں دس ہزار سے زیاد اصحاب رسول مدفون ہیں کہ جن میں اُن کے اہل بیت، اُمّہات المومنین، فرزند ابراہیم، چچا عباس، پھوپھی صفیہ بنت عبدالمطّلب، آنحضرت کے نواسے امام حسن علیہ السلام، اکابرین اُمت اور تابعین شامل ہیں۔ یوں تاریخ کے ساتھ ساتھ بقیع کا شمار شہر مدینہ کے اُن مزاروں میں ہونے لگا کہ جہاں حجاج بیت اللہ الحرام اور رسول اللہ (ص) کے روضہ مبارکہ کی زیارت اور وہاں نماز ادا کرنے والے زائرین اپنی زیارت کے فوراً بعد حاضری دینے کی تڑپ رکھتے تھے۔ نقل کیا گیا ہے کہ آنحضرت) ص( نے وہاں کی زیارت کی اور وہاں مدفون افراد پر سلام کیا اور استغفار کی دعا کی۔ تین ناموں کی شہرت رکھنے والے اِس قبرستان ”بقیع، بقیع الغرقد یا جنت البقیع” کی تاریخ، قبل از اسلام زمانے سے مربوط ہے لیکن تاریخی کتابیں اِس قبرستان کی تاریخ پر روشنی ڈالنے سے قاصر ہیں لیکن اِس سب کے باوجود جو چیز مسلّم حیثیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ بقیع، ہجرت کے بعد شہر مدینہ کے مسلمانوں کیلئے دفن ہونے کا واحد قبرستان تھا۔ شہر مدینہ کے لوگ وہاں مسلمانوں کی آمد سے قبل اپنے مردوں کو دو قبرستانوں ”بنی حرام” اور ”بنی سالم” میں دفن کیا کرتے تھے۔

جنت البقیع ٤٩٥ ہجری یعنی پانچویں صدی ہجری کے اواخر سے صاحبِ گنبد و بارگاہ تھا۔ حجاز میں شریفِ مکہ کی شکست کے بعد محمد بن عبدالوہاب کے پیروکاروں نے مقدس ہستیوں کی قبریں مسمار کر دیں تو عالم اسلام میں بے چینی پھیل گئی۔ جب وہابیوں کا مکہ اور مدینہ پر قبضہ ہو گیا تو انھوں نے دین کی تجارت شروع کی اور مسلم دنیا کے بڑے علماء جو حج کے لئے آتے ، ان کے توحید خالص کی دکان سے استفادہ کرتے اور ان کی فقہ کا سودا مفت اپنے وطن لے جا تے۔ وہابیت اور آل سعود کے پروگراموں میں سے ایک پروگرام یہ بھی ہے کہ تمام دنیا اور اسلامی ممالک کے خائن اور ایجنٹ مولفین کے قلم کو ریالوں اور ڈالروں کے بدلے خرید لیا جائے۔ اسی طرح انہوں نے حج کے موقع کا خاص فائدہ اٹھایا جبکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے ساتھ عظیم مسلم علماء بھی فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے مکہ میں جمع ہوتے ہیں۔ اس موقع پر یہ لوگ ان علماء سے روابط پیدا کر کے ان کو ہر ممکن طریقے سے اپنا ہمنوا بناتے ہیں اور ان کے ذریعے سے اپنا نصاب ساری دنیا میں مشہور کرتے ہیں۔ جب ایک مفتی اپنا عقیدہ تبدیل کرتا ہے تو اس کے ذیلی علماء بھی اس کی تقلید کرتے ہیں۔ اسطرح یہ مسلک ساری اسلامی دنیا میں عام ہو گیا۔ ایک مفتی کا عقیدہ تبدیل کر کے اس کے زیر اثر سارے علاقے کے لو گوں کے عقیدے تبدیل کرنا آسان ہو جاتا ہے اور آل سعود نے یہی ٹیکنیک اپنا رکھی ہے۔

آل سعود اسلامی امت کے الٰہی مقدسات کی توہین ان کے عقائد کی تضعیف نیز مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی غرض سے اس باطل فرقہ کو اسلامی ممالک میں پھیلانے کی مذموم کوشش کر رہی ہے ، اور اس باطل فرقہ کا مقصد مسلمانوں میں پھوٹ ڈال کر اسلامی عقائد کی بیخ کنی اور استعماری طاقتوں کے ناپاک عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے۔

یہ عالم اسلام کی چودہ سوسالہ تاریخ کا ایک مختصر سا ورق ہے کہ جو تاریخی اسناد و دستاویزات کی روشنی میں آل سعود اور فرقہ وہابیت کے سیاہ کارناموں کی ایک زندہ اور حقیقی مثال ہے اور دورِ حاضر کا مسمار قبرستان بقیع آج کے مسلمانوں سے اِس بات کاسوال رہا ہے کہ وہ اِس تاریخی بے حرمتی پر خاموش کیوں ہیں ؟

 

 

 

 

 

حضرت علی و حضرت فاطمہ علیہماالسلام

 

کائنات کے مثالی اور مہربان شوہر و زوجہ نے گھرکے کام کو آپس میں تقسیم کر رکھا تھا

جناب فاطمہ سلام اللہ گھرکے اندر کے تمام امور کی ذمہ داری قبول کر لی اور علی علیہ السلام نے گھرکے باہر کے تمام کاموں کو اپنے ذمہ لے لیا

ایک دن حضرت علی علیہ السلام نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا سے فرمایا

اے بنت رسول ! کھانے کو کچھ ہے ؟

جناب زہرا علیہا السلام نے جواب دیا :

نہیں، خدا کی قسم گذشتہ تین دنوں سے میں اور میرے بیٹے حسنین بھوکے ہیں۔

حضرت علی نے پوچھا کہ تم نے مجھ سے کیوں نہیں بتایا ؟

جناب فاطمہ زہرا نے فرمایا : میرے بابا نے مجھ سے کہا تھا کہ کبھی علی سے کوئی فرمائش نہ کروں میرے بابا نے مجھ سے فرمایا تھا : کبھی علی سے کچھ لانے کے لئے مت کہنا جو کچھ وہ خود لا کر دے دیں اسے قبول کر لو اپنی طرف سے کوئی فرمائش مت کرنا۔

حضرت علی علیہ السلام نے گھر سے باہر نکلے اورراستے میں ایک شخص سے ملاقات ہوئی اس ایک دینار قرض لیا تاکہ گھرکے لئے کچھ کھانے پینے کا سامان خرید لیں۔ شدید گرمی کا زمانہ تھا گرمی سے پریشان حال انھوں نے مقداد ابن اسود کو دیکھا جو بہت پریشاں حال نظر آ رہا تھا۔

مولا نے مقداد سے پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ اس گرمی میں تم گھر سے باہر کیوں نکلے ہو؟

مقداد نے کہا کہ : بھوک نے مجھے گھر سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا ہے بچوں کے رونے کی آواز برداشت نہیں کر سکا۔

امام علی علیہ السلام نے وہ ایک دینار مقداد کودے دیا اور خود خالی ہاتھ گھر واپس لوٹ آئے۔ گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ رسول اسلام تشریف فرما ہیں اور جناب فاطمہ نماز میں مشغول ہیں اور ان کے سامنے خان پوش سے ڈھکا ہوا ایک طشت رکھا ہوا ہے نماز ختم کرنے کے بعد جیسے ہی شہزادی کونین نے اس طشت سے خان پوش ہٹایا دیکھا کہ تازہ پکے ہوئے گوشت اور روٹیاں اس میں سجی ہوئی ہیں

پیغمبراسلام نے پوچھا :

فاطمہ یہ کھانا کہاں سے آیا ہے ؟

فاطمہ سلام اللہ علیہا نے جواب دیا : خداوند عالم کی طرف سے آیا ہے اور خدا جسے چاہتا ہے بے حساب روزی دیتا ہے

اس موقع پررسول اسلام نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا :

کیا ایسا ہی ایک واقعہ تمہارے لئے بیان کروں ؟

حضرت علی نے عرض کیا بیشک یا رسول اللہ۔

رسول خدا نے فرمایا :

تمہاری مثال بالکل زکریا پیغمبر کی ہے وہ اس محراب میں داخل ہوئے جہاں مریم نماز پڑھ رہی تھیں اور ان کے سامنے کھانا رکھا دیکھ کر پوچھا:

مریم یہ کھانا کہاں سے آیا ہے ؟

انھوں نے جواب دیا ؛

خدا کی طرف سے آیا ہے اور خدا جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے ۔

 

 

 

 

 

 

السلام علیک یا فاطمہ الزہرا ( س)

 

عام طور پر مظلوم کی عزاداری کا دائرہ خاندان اور اعزاء ہی کے درمیان محدود رہتا ہے اور ورثاء بھی سوگواری کو ایک رسم کے طور پر انجام دیکر دوبارہ اپنے کام و زندگی میں لگ جاتے ہیں مگر اس کے برخلاف سر زمین کربلا پر کچھ اس طرح سے مظالم ڈھائے گئے کہ نہ صرف پوری انسانیت نے ماتم کیا بلکہ تمام عالم امکان نے ان مصائب و آلام پر خون کے انسو بہائے اور اپنے اپنے انداز میں ماتم کر کے بارگاہ اہل بیت (ع) میں تعزیت پیش کی امام زمانہ (ع) اس سلسلہ میں فرماتے ہیں ” وعزاہ بک الملائکہ و الانبیاء و اختلفت جنود الملائکة المقربین تعزی اباک امیر المومنین ” آپ کی شہادت پر ملائکہ اور انبیاء نے پیغمبر اسلام (ص) کو تعزیت پیش کی اور مقرب فرشتوں کے لشکر نے آ کر امیرالمومنین (ع) کی خدمت میں تسلیت عرض کیا (1)

10 محرم الحرام سنہ 61 ھ آل محمد (ع) کے لئے نہایت المناک تاریخ ہے کیونکہ اسی دن نازش کونین شاہ مشرقین امام حسین (ع) نے اپنے اصحاب اور اعزاء کی قربانیاں پیش کرنے کے بعد جب خود کو بھی شہادت کے لئے پیش کر دیا تو دشمن یہ سمجھا کہ آپ کے سرو گردن کی جدائی ہی میں اس کی فتح و ظفر پوشیدہ ہے لہذا آنحضرت کے سوکھے گلے کو تہ تیغ کر کے آپ کے سراطہر کو نیزہ پر بلند کیا مگر جہاں ایک طرف فتح کے نقارے بج رہے تھے اور خوشی سے جشن منایا جارہا تھا وہیں کائنات اس ظلم پر گریہ کناں تھی اور ارباب ظلم پر لعنت بھیج رہی تھی۔

تمام موجودات و‏مخلوقات کے اس گریہ کی طرف امام حسین (ع) کی نیمہ شعبان کی زیارت میں یوں اشارہ ملتا ہے

“بابی انت و امی و نفسی یااباعبدللہ لقد اقشعرت لدمائکم اظلة العرش مع اظلة الخلائق و بکتکم السماء و الارض و سکان الجنان و البحر و الجبر” (2) اسی طرح امام رضا علیہ السلام نے فرمایا : جب میرے جدبزرگوار امام حسین (ع) کو شہید کیا تو آسمان سے خون اور سرخ مٹی کی بارش ہوئی (3) امام صادق (ع) نے فرمایا: امام حسین (ع) کے قتل کے بعد ایک سال تک آسمان پر سرخی چھائی رہی جو اس کا گریہ تھا (4)

اسی طرح ینابیع المودة نے بھی محمد ابن سیریں سے نقل کیا ہے کہ راویاں کے مطابق امام حسین (ع) کی شہادت سے قبل سرخی شفق کا وجود نہ تھا ( یعنی آپ کی شہادت سے یہ سرخی پیدا ہوئی )(5) صاحب دلائل النبوة نے لکھا ہے کہ جس دن امام حسین (ع) کی شہادت ہوئی اس دن اگر کوئی اونٹ پانی پینا چاہتا تھا تو دریا کا پانی خون بن جاتا تھا سبط ابن جوزی نے بھی لکھا ہے کہ امام (ع) کی شہادت کے بعد دنیا میں تین دن تک اندھیر اچھایا رہا اور آسمان بالکل سرخ دکھائی دیتا تھا اسی طرح زہری کے مطابق آپ کی شہادت کے بعد اگر بیت المقدس میں کوئی پتھر اٹھایا جاتا تھا تو اس کے نیچے سے تازہ خون ابلنے لگتا تھا (6)

امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں کہ روز عاشورا چار ہزار فرشتوں نے آسمان سے نازل ہو کر امام حسین (ع) کے رکاب میں جنگ کرنی چاہی مگر آپ نے اجازت نہیں دی پھر جب وہ سب دوبارہ خدا سے اجازت لینے کے لئے گئے اور واپس آئے تو امام (ع) کی شہادت واقع ہو چکی تھی یہ فرشتے اس وقت سے کربلامیں گریہ کررہے ہیں (7)

اسی طرح متعدد روایات سے معلوم ہوتاہے کہ جناب نے بھی آنحضرت کی شہادت پر گریہ و ماتم کیا ہے جناب ام سلمہ کا بیان ہے کہ جب امام حسین (ع) کی شہادت واقع ہوئی تو جن عورت نے آنحضرت پر ماتم کیا اور نوحہ پڑھا (8)

اسی سلسلے میں امام زمان (ع) اپنے جد مظلوم کی زیارت میں فرماتے ہیں : و اقیمت لک الماتم فی اعلی علیین و لطمت علیک الحورالعین و بکت السماء و سکانھا و الجنان و خزانھا و الھضاب و اقطارھا والبحار وحیتانھا و الجنان و ولدانھا و البیت و المقام و المشعر الحرام ولحل الاحرام (9)

یعنی اعلی علیین میں آپ کے لئے عزاداری ہوئی اور حور عین نے اپنے صورت پر طمانچے مارے آسمان اور اس کے ساکنین، جنت اور اس کے محافظین، پہاڑ اور اس کی ترائی، سمندر اور اس کی مچھلیوں، باغ بہشت اور اس کے غلمان، خانہ کعبہ، مقام ابراہیم، مشعر الحرام، حرم بیت اللہ اور اس کے اطراف سب نے آپ پر گریہ کیا )۔

اسی طرح تاریخ میں ملتا ہے کہ جہنم نے بھی آپ کی شہادت پر گریہ و ماتم کیا نیز آپ کے قاتلوں پر لعنت بھیجی (10) یہی نہیں بلکہ سانحہ کربلا کے بعد چرند و پرند نے بھی امام (ع) کی شہادت پر نوحہ وبکا کیا ہے روایت میں ملتا ہے کہ کبوتر نے روز عاشورہ گر یہ کیا اور اس وقت سے لیکر آج تک آنحضرت کے قاتلوں پر لعنت بھیجا ہے (11) اسی طرح ایک روایت میں ملتا ہے کہ امام صادق (ع) نے فرمایا : اپنے گھروں میں کبوتر پالو کیونکہ وہ امام حسین (ع) کے قاتلوں پر لعنت بھیجا ہے (12)

www۔abna۔ir

 

 

 

 

از سہ نسبت حضرت زہرا‏ء عزیز

مقالہ

 

               1 کائنات کی سب سے برتر خاتون

 

1۔ “وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِکَةُ یَا مَرْیَمُ إِنَّ اللّہَ اصْطَفَاکِ وَطَہَّرَکِ وَاصْطَفَاکِ عَلَى نِسَاء الْعَالَمِینَ” (1)

اور یاد کرو جب فرشتوں نے کہا اے مریم! بلاشبہ اللہ نے تمہیں (اپنے خاص اہداف کے لئے ) منتخب کیا ہے اور تمہیں پاک و پاکیزہ بنایا ہے اور تمہیں تمام جہانوں کی عورتوں سے منتخب قرار دیا ہے۔

سنی علماء نے اس آیت کی ذیل میں چار عورتوں کی فضیلت میں متعدد روایات نقل کی ہیں۔ یہ روایات ابن عباس، انس، ابی لیلی، ابوہریرہ، عایشہ، عبدالرحمن بن ابی لیلی، جابر بن عبداللّہ، ابوسعید، حذیفہ، ام سلمہ، ابواسلمی، ابن مسعود، ابن عمر، عمران بن حصین، جابر بن سمرہ، ابی بریدہ اسلمی اور دیگر جیسے اہم راویوں سمیت خود اہل بیت (ع) اور امام علی و حضرت سیدہ فاطمہ (س) اور ان کے فرزندان معصومین سے نقل ہوئی ہیں۔ ہم یہاں ان میں سے بعض روایات نقل کرتے ہیں۔

رسول خدا (ص) نے سیدہ سے مخاطب ہو کر فرمایا: «یا فاطمة ألا ترضین أنْ تکونی سیدة نساء العالمین، و سیدة نساء ہذہ الامة، و سیدة نساء المؤمنین” (2)

اے فاطمہ! کیا آپ خوشنود نہیں ہے کہ آپ جہانوں میں بر ترین اور افضل ترین خاتون ہوں اور اس امت کی خواتین کی سیدہ اور اور با ایمان خواتین کی سردار ہوں ؟”

حاکم اور ذہبی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے (3) بغوی نے کہا ہے : اس حدیث کی صحت پر اتفاق رائے پایا گیا ہے۔ (4)

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مختلف مواقع پر مختلف تعبیروں سے دنیا کی تمام خواتین پر سیدہ (ع) کی افضلیت اور برتری پر تاکید فرمائی ہے۔ ایک دفعہ جب سیدہ (س) بیمار ہوئیں تو پیغمبر اکرم (ص) نے صحابۂ کرام کو سیدہ (ع) کی بیماری کے بارے میں بتایا اور صحابہ عیادت کی غرض سے آپ (ص) کے ہمراہ سیدہ (ع) کے گھر کی طرف چلے۔ رسول اللہ (ص) نے گھر کے باہر کھڑے ہو کر آواز دی کہ: جان پدر! پردہ کریں، میرے ساتھ بعض اصحاب بھی عیادت کے لئے آرہے ہیں ؛ سیدہ عالم کے پاس پردے کے لئے لباس کافی نہ تھا چنانچہ رسول اللہ (ص) نے اپنی عبا دروازے کے پیچھے سے بیٹی کو عطا کر دی۔ رسول اللہ (ص) اور صحابہ عیادت کے بعد سیدہ (س) کے گھر سے باہر نکلے۔ وہ سب ایک دوسرے سے سیدہ (س) کی بیماری پر افسوس کا اظہار کر رہے تھے اسی اثناء میں رسول اللہ (ص) نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: “اما إنّہا سیدة النساء یوم القیامة؛(5) جان لو کہ وہ قیامت کے روز تمام خواتین کی سیدہ ہیں “۔

عائشہ ام المؤمنین روایت کرتی ہیں : ایک روز سیدہ فاطمہ (س) رسول اللہ (ص) کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ آپ (ص) کی چال بالکل رسول کی چال جیسی تھی؛ رسول اللہ (ص) نے فرمایا: بیٹی! خوش آمدید اور بعد ازاں آپ (ص) نے سیدہ کو اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھایا اور سیدہ سے راز داری میں بات کہہ دی سیدہ (س) رونے ی لگیں۔ میں نے عرض کیا: رو کیوں رہی ہیں ؟ [سیدہ (س) نے جواب نہیں دیا] اس کے بعد رسول اللہ (ص) نے دوسرا راز بیٹی کو سنایا تو سیدہ (س) مسکرانے لگیں۔

میں نے عرض کیا: آج تک میں نے ایسی خوشی نہیں دیکھی جو غم سے اتنی قریب ہو اور پھر میں نے سبب دریافت کیا۔ فاطمہ (س) نے فرمایا: میں اپنے بابا کا راز فاش نہیں کرتی۔ یہ راز داری جاری رہی حتی کہ رسول اللہ (ص) کا وصال ہوا اس کے بعد میں نے سیدہ (س) سے اس روز کا راز پوچھا تو فرمانے لگیں : رسول اللہ (ص) نے مجھ سے فرمایا: جبرائیل (ع) ہر سال قرآن مجید کو ایک بار مجھے پیش کیا کرتے تھے مگر اس سال نے انھوں نے دو بار یہ کام دہرایا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کا سبب یہ ہے کہ میرا وصال قریب ہے اور آپ میری اہل بیت (ع) میں سب سے پہلے مجھ سے ملحق ہوں گی؛ تو میں رونے لگی اور پھر آپ (ص) نے فرمایا: “أَ ما تَرضِیَنَّ أنْ تکونی سیدة نساء اہل الجنة أو نساء المؤمنین؛ کیا آپ خوشنود نہیں ہوتیں کہ بہشتی خواتین یا با ایمان خواتین کی سیدہ قرار پائیں ؟” (6)

البتہ بعض دیگر روایات میں ہے کہ جب رسول اللہ (ص) نے فرمایا کہ عنقریب میرا وصال ہو گا تو میں رو پڑی اور جب آپ (ص) نے فرمایا کہ میں سب سے پہلے آپ (ص) سے ملحق ہوں گی تو مجھے خوشی ہوئی اور مسکرانے لگی۔

بعض روایات میں چار خواتین کی سیادت کی بات ہوئی ہے۔ رسول اللہ (ص) نے فرمایا: “افضل نساء العالمین خدیجة، و فاطمة و مریم و آسیة امرأة فرعون»۔ (7) افضل ترین خواتین چار ہیں خدیجہ (ص)، فاطمہ (س)، مریم (س) اور فرعون کی اہلیہ آسیہ۔

مختلف روایات میں عبارات و تعبیرات مختلف ہیں جیسے ایک روایت میں رسول اللہ (ص) سے مروی ہے کہ: 1- “خیر نساء العالمین أربع مِنْہُنّ فاطمة” دنیا کی بہترین خواتین چار ہیں جن میں ایک فاطمہ (س) ہیں، 2- “أفضل نساء أہل الجنة أربع منہن فاطمة” جنت کی افضل ترین خواتین چار ہیں جن میں سے ایک فاطمہ (س) ہیں، اور 3- “سیدة نساء اہل الجنة أربع منہن فاطمة” جنت والی خواتین کی سیدات چار ہیں جن میں سے ایک فاطمہ (س) ہیں۔ ان سب روایات خاتون آفتاب کا مضمون ایک ہی ہے کہ سیدہ (س) کائنات کی بہترین خاتون ہیں۔ فرمایا: “کَمُلَ مِن الرجال کثیر و لم یکمل مِن النساء إلا مریم بنت عمران و آسیہ بنت مزاحم (امرأة فرعون) و خدیجة بنت خویلد و فاطمة بنت محمد؛(8) یعنی مردوں میں سے بہت سے افراد کامل ہوئے تا ہم خواتین میں سے یہ خواتین کامل ہوئیں : “مریم (بنت عمران) آسیہ (بنت مزاحم زوجہ فرعون) ام المؤمنین سیدہ خدیجہ (بنت خویلد) اور فاطمہ (بنت محمد (ص))”۔

فاطمہ برتر ہیں یا مریم؟!

اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے دو اصلی منابع یعنی قرآن و سنت کی طرف رجوع کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ قرآنی آیات اور روایات کریمہ میں کس کو افضل گردانا گیا ہے :

قرآن مجید کی رو سے سیدہ فاطمہ (س) حضرت مریم (س) سے افضل و برتر اس آیت میں ارشاد ہوا ہے : “وَإِذْ قَالَتِ الْمَلاَئِکَةُ یَا مَرْیَمُ إِنَّ اللّہَ اصْطَفَاکِ وَطَہَّرَکِ وَاصْطَفَاکِ عَلَى نِسَاء الْعَالَمِینَ * یَا مَرْیَمُ اقْنُتِی لِرَبِّکِ وَاسْجُدِی وَارْکَعِی مَعَ الرَّاکِعِینَ” (آل عمران 42 و 43)

اور یاد کرو جب فرشتوں نے کہا اے مریم! بلاشبہ اللہ نے تمہیں (اپنے خاص اہداف کے لئے ) منتخب کیا ہے اور تمہیں پاک و پاکیزہ بنایا ہے اور تمہیں تمام جہانوں کی عورتوں سے منتخب قرار دیا ہے * اے مریم ! اپنے پروردگار کی بارگاہ میں خاضع، فروتن اور اطاعت گزار رہو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والے کے ساتھ رکوع کرتی رہو۔

ان دو آیات میں دو نکتے قابل غور ہیں :

1۔دنیاکی عورتوں پر حضرت مریم (س) کا اصطفاء اور برگزیدگی:

ہوسکتا ہے کہ ابتداء میں ذہن میں یہ بات آئی کہ مریم (س) حضرت فاطمہ (س) اور غیر فاطمہ (س) سمیت تمام عورتوں سے افضل ہیں کیونکہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ “علی نساء العالمین” کہہ کر انہیں فضیلت عطا کی ہے۔

یہ آیت بالکل سورہ بقرہ کی آیت 47 کی مانند ہے جہاں ارشاد ہوتا ہے : “یا بنی اسرائیل اْذکروا نعمتی التی انعمتُ علیکم و إنّی فضَّلتُکم علی العالمین؛ اے بنی اسرائیل میری وہ نعمت یاد کرو جس سے میں نے تمہیں نوازا اور یہ کہ میں نے تمہیں تمام خلائق سے زیادہ عطا کیا”۔ (10) ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل اپنی زمانی میں دوسروں کی نسبت افضل امت قرار دیئے گئے ہیں اور تمام امتوں اور تمام اعصار اور ازمنہ میں آنے والی صاحب ایمان قوموں سے افضل نہیں ہیں جیسا کہ اللہ تعالی نے امت اسلامی سے مخاطب ہو کر فرمایا: «کنتم خیر امة» (11) یعنی تم (مسلمان) بہترین امت ہو۔ سب سے خیر، بہتر، برتر اور افضل امت بنی اسرائیل نہیں بلکہ امت مسلمہ ہے۔ [اور یہ بات بھی اس آیت سمیت متعدد قرآنی آیات ہے سے ثابت ہی] اسی طرح حضرت مریم برگزیدہ خاتون ہیں اپنے زمانے کی عورتوں کی نسبت؛ یہی بات روایات سے بھی ثابت ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں عبداللہ بن عباس، حسن و ابن جریج نے کہا ہے : “اصطفاءِ مریم سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے کی عورتوں کی نسبت افضل اور برگزیدہ تھیں “۔ (12) ابن انباری نے یہی قول اکثر مفسرین و محدثین سے منسوب کی ہے اور کہا ہے کہ مریم اپنے زمانے کی عورتوں سے برتر اور ان کی نسبت پسندیدہ اور برگزیدہ تھیں۔ (13)

اسی طرح کا قول ابن عباس اور سُدَی (14) سمیت دیگر محدثین و مفسرین سے بھی نقل ہوا ہے اور اکثر سنی مفسرین نے یہی قول صحیح اور قابل قبول قرار دیا ہے۔ (15)

2۔رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنا:

مریم کو امر ہوا ہے کہ “و ارکعی مع الراکعین” (اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتے رہو) جیسا کہ بنی اسرائیل کو بھی امر ہوا تھا کہ “و اقیموا الصلاة و اتوا الزکوة و ارکعوا مع الراکعین؛(16) اور نماز قائم کرو اور زکاة ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کیا کرو”۔

دو آیتوں میں حضرت مریم اور بنی اسرائیل کو حکم ہوا ہے کہ رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کریں۔ اور ان ہی دو آیتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مریم اور بنی اسرائیل سے بہتر و برتر لوگ بھی ہیں۔ کیونکہ بنی اسرائیل اور حضرت مریم سے کہا گیا ہے کہ رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کیا کریں اور ان کی ہمراہی کریں اور ان کی اقتداء کریں۔ رکوع کرنے والے درحقیقت حضرت مریم اور بنی اسرائیل کے امام و پیشوا ہیں چنانچہ وہ حضرت مریم اور بنی اسرائیل سے افضل ہیں۔

اب ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ خداوند متعال رکوع کرنے والوں کو متعارف کراتا ہے : ارشاد ہوتا ہے : “إِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّہُ وَرَسُولُہُ وَالَّذِینَ آمَنُواْ الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَہُمْ رَاکِعُونَ”۔ (17) تمہارا حاکم و سر پرست بس اللہ ہے اور اس کا پیغمبر اور وہ ایمان رکھنے والے جو نماز ادا کرتے ہیں اور خیرات دیتے ہیں جبکہ وہ رکوع کر رہے ہوتے ہیں۔

یعنی یہ کہ رکوع کرنے والے اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام ہیں بالخصوص ابوالائمہ حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام۔ (18) سیدہ فاطمہ (س) فخر مریم (س) ہیں کیونکہ خداوند متعال نے قرآن کی دو سورتیں ان کی مدح و تعریف و تمجید میں نازل فرمائی ہیں۔ 1۔ سورہ دہر (یا سورة الانسان) اور 2۔ سورہ کوثر؛ (20) اور اسی طرح آیت تطہیر (21) خاتون جنت کی عصمت و طہارت پر تاکید کرتی ہے۔ یہ آیت اہل بیت (ع) بالخصوص حضرت فاطمہ (س) کے لئے مخصوص ہے۔ (22) آیت مودت (23) میں سیدہ (س) کی مودت کو تمام مسلمانوں پر تا روز قیامت فرض فرمایا گیا ہے۔ (24) سورہ احزاب (25) میں حکم دیا گیا ہے کہ مؤمنین سیدہ (س) کے وجود مبارک پر پیوستہ درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (26) اسی طرح درجنوں آیتیں (27) سیدہ (س) کی فضیلت و برتری پر دلالت کرتی ہیں۔ اتنے سارے فضائل کا حضرت مریم کے لئے کہا پتہ ملتا ہے ؟!

سیدہ فاطمہ (س) انسانوں کے لئے اللہ کی حجت ہیں (28) آخرت میں مقام شفاعت کی مالکہ ہیں (29) سیدہ (س) کی مودت 100 مقامات پر انسان کے کام آتی ہے (30) آپ (س) رسول اللہ (ص) کے بدن کا ٹکڑا ہیں (31) اور سیدہ (س) کا غضب اللہ کا غضب اور آپ (س) کی رضا اللہ کی رضا ہے (32) مریم (س) فاطمہ (س) کے ساتھ قابل قیاس ہی نہیں ہیں۔ گو کہ مریم (س) عیسی روح اللہ (ع) کی والدہ ماجدہ اور دنیائے خلقت کی چار عظیم خواتین میں سے ایک ہیں اور ان کا رتبہ بہت بلند ہے اور سنی عالم دین “النسفی” نے کہا ہے کہ مریم (س) کو اس لئے برگزیدہ خاتون قرار دیا گیا ہے کہ انھوں نے حضرت عیسی (ع) کو بغیر باپ کے جنم دیا۔ (33)

سنی علماء کی نگاہ میں سیدہ فاطمہ (س) کی برتری

 

1۔آلوسی مفسر:

آلوسی نے سورہ آل عمران کی آیت 42 کے ذیل میں تحریر کیا ہے کہ “اس آیت سے حضرت زہراء سلام اللہ علیہا پر حضرت مریم سلام اللہ علیہا کی برتری اور فضیلت ثابت ہوتی ہے بشرطیکہ اس آیت میں “نساء العالمین” سے مراد تمام زمانوں اور تمام ادوار کی خواتین مراد ہوں مگر چونکہ کہا گیا ہے کہ اس آیت میں مراد حضرت مریم کے زمانے کی عورتیں ہیں لہذا ثابت ہے کہ مریم (س) سیدہ فاطمہ (س) پر فضیلت نہیں رکھتیں “۔

آلوسی لکھتے ہیں : رسول اللہ (ص) نے ارشاد فرمایا ہے : “اِنّ فاطمة البتول أفضل النساء المتقدمات و المتأخرات؛ فاطمہ بتول (س) تمام گذشتہ اور آئندہ عورتوں سے افضل ہیں “۔

آلوسی کے بقول “اس حدیث سے تمام عورتوں پر حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی افضلیت ثابت ہوتی ہے کیونکہ سیدہ (س) رسول اللہ (ص) کی روح و جان ہیں، چنانچہ سیدہ فاطمہ (س) عائشہ ام المؤمنین پر بھی برتری رکھتی ہیں “۔ (34)

2۔السہیلی:

السہیلی رسول اللہ (ص) کی معروف حدیث “فاطمة بضعة منی” کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں : “میری رائے میں کوئی بھی “بضعةالرسول (ص)” سے افضل و برتر نہیں ہو سکتا”۔ (35)

3۔الزرقانی:

الزرقانی لکھتے ہیں : “جو رائے امام المقریزی، قطب الخضیری اور امام السیوطی نے واضح دلیلوں کی روشنی میں منتخب کی ہے یہ ہے کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا حضرت مریم (س) سمیت دنیا کی تمام عورتوں سے افضل و برتر ہیں “۔ (36)

4۔السفارینی:

السفارینی نے تحریر کیا ہے : “فاطمہ ام المؤمنین خدیجہ (س) سے افضل ہیں، لفظ سیادت کی خاطر اور اسی طرح مریم (س) سے افضل و برتر ہیں “۔ (37)

5۔ابنالجکنی:

ابن الجکنی لکھتے ہیں : “صحیح تر قول کے مطابق فاطمہ سلام اللہ علیہا افضل النساء ہیں “۔ (38)

6۔شیخالرفاعی:

الرفاعی لکھتے ہیں : ” اسی قول کے مطابق متقدم اکابرین اور دنیا کے علماء و دانشوروں نے صحیح قرار دیا ہے ، فاطمہ تمام خواتین سے افضل ہیں “۔ (39)

7۔ڈاکٹرمحمدطاہرالقادری:

مشہور و معروف سنی عالم دین ڈاکٹر محمد طاہر القادری چار خواتین کی افضلیت سے متعلق احادیث کا حوالہ دیتے ہیں اور لکھتے ہیں : “احادیث میں کسی قسم کا تعارض (تصادم) نہیں ہے کیونکہ دیگر خواتین یعنی: مریم، آسیہ اور خدیجہ (س)، کی افضلیت کا تعلق ان کے اپنے زمانوں سے ہے یعنی وہ اپنے زمانوں کی عورتوں سے بہتر و برتر تھیں لیکن حضرت سیدہ عالمین (س) کی افضلیت عام اور مطلق ہے اور پورے عالم اور تمام زمانوں پر مشتمل [یعنی جہان شمول اور زمان شمول] ہے ” (40)

حضرت مریم (س) پر سیدہ فاطمہ (س) کی افضلیت شاعر مشرق جناب علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کی نگاہ میں :

مریم از یک نسبت عیسی عزیز

از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز

مریم عیسی علیہ السلام کے حوالے سے ایک ہی نسبت سے بزرگ و عزیز ہیں ؛ جبکہ حضرت زہراء تین نسبتوں سے بزرگ و عزیز ہیں

نور چشم «رحمة للعالمین»

آن امام اولین و آخرین

سیدہ رحمةللعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نور چشم ہیں ؛ جو اولین و آخرینِ عالَم کے امام و رہبر ہیں

آن کہ جان در پیکر گیتی رسید

روزگار تازہ آیین آفرید

وہی جنہوں نے گیتی (کائنات) کے پیکر میں روح پھونک دی؛ اور ایک تازہ دین سے معمور زمانے کی تخلیق فرمائی

بانوی آن تاجدار «ہل اتی»

مرتضی مشکل کشا شیر خدا

وہ “ہل اتی” کے تاجدار، مرتضی مشکل کشا، شیر خدا علیہ السلام کی زوجۂ مکرمہ اور بانوئے معظمہ ہیں

پادشاہ و کلبہ ای ایوان او

یک حسام و یک زرہ سامان او

علی علیہ السلام بادشاہ ہیں جن کا ایوان ایک جھونپڑی ہے اور ان کا پورا سامان ایک شمشیر اور ایک زرہ ہے

مادر آن مرکز پرگار عشق

مادر آن کاروان سالار عشق

ماں ہیں ان کے جو عشق کا مرکزی نقطہ اور پرگار عشق ہیں اور وہ کاروان عشق کی سالار

آن یکی شمع شبستان حرم

حافظ جمعیت خیر الأُمَم

وہ دوسرے (امام حسن مجتبی علیہ السلام) شبستان حرم کی شمع اور بہترین امت (امت مسلمہ) کے اجتماع و اتحاد کے حافظ

تا نشینند آتش پیکار و کین

پشت پا زد بر سر تاج و نگین

اس لئے کہ جنگ اور دشمنی کی آگ بجھ جائے آپ (امام حسن) (ع) نے حکومت کو لات مار کر ترک کر دیا۔

و آن دگر مولای ابرار جہان

قوّت بازوی احرار جہان

اور وہ دوسرے (امام حسین علیہ السلام)؛ دنیا کے نیک سیرت لوگوں کے مولا؛ اور دنیا کے حریت پسندوں کی قوت بازو

در نوای زندگی سوز از حسین

اہل حق حریت آموز از حسین

زندگی کی نوا میں سوز ہے تو حسین (ع) سے ہے اور اہل حق نے اگر حریت سیکھی ہے تو حسین (ع) سے سیکھی ہے

سیرت فرزندہا از اُمّہات

جوہر صدق و صفا از اُمّہات

فرزندوں کی سیرت اور روش زندگی ماؤں سے ورثے میں ملتی ہے ؛ صدق و خلوص کا جوہر ماؤں سے ملتا ہے

بہر محتاجی دلش آن گونہ سوخت

با یہودی چادر خود را فروخت

ایک محتاج و مسکین کی حالت پر ان کو اس قدر ترس آیا کہ اپنی چادر یہودی کو بیچ ڈالی

مزرع تسلیم را حاصل بتول

مادران را اسوہ کامل بتول(41)

تسلیم اور عبودیت کی کھیتی کا حاصل حضرت بتول سلام اللہ ہیں اور ماؤں کے لئے نمونۂ کاملہ حضرت بتول (س)

مریم (س) پر سیدہ فاطمہ (س) کی افضلیت سنی محدثین کی نگاہ میں

اس صحیح روایت کی مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں :

“یا فاطمة أَلا ترضین أنْ تکونی سیدة نساء العالمین و سیدة نساء ہذہ الامة و سیدة نساء المؤمنین؛ اے فاطمہ (س)! کیا آپ خوشنود نہیں ہوں گی کہ دنیا کی خواتین کی سردار قرار پائیں اور اس امت کی خواتین کی سیدہ قرار پائیں اور با ایمان خواتین کی سیدہ قرار پائیں ؟” (42)

حاکم اور ذہبی دونوں اس روایت کو صحیح قرار دیتے ہیں۔ یہ روایت حضرت حوّا ام البشر سے لے کر قیامت تک، دنیا کی تمام عورتوں پر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی افضلیت کی واضح ترین اور گویا ترین دلیل ہے اور اس روایت نے ہر قسم کی نادرست تصورات کا امکان ختم کر کے رکھ دیا ہے۔

نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سیدہ (س) سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں : “ألا ترضین أنّک سیدة نساء العالمین”؛ کیا آپ خوشنود نہیں ہیں آپ عالمین کی خواتین کی سردار ہیں ؟”

سیدہ (س) نے عرض کیا: مریم (س) کا کیا ہو گا؟

فرمایا: “تلک سیدة نساء عالمہا”؛(43) وہ اپنے زمانے کی خواتین کی سردار تھیں۔

عبداللہ ابن عباس نے ایک طویل حدیث میں رسول اللہ (ص) سے نقل کیا ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا: “ابنتی فاطمہ فإنّہا سیدة نساء العالمین مِن الأوّلین و الآخرین؛(44) میری بیٹی فاطمہ (س)! بے شک اولین سے آخرین تک تمام عالمین کی خواتین کی سردار ہیں “۔

نیز ایک طولانی حدیث کے ضمن میں پیغمبر خدا (ص) نے فرمایا: “۔۔۔ چوتھی مرتبہ خدا نے نظر ڈالی اور فاطمہ (س) کو پورے عالم کی خواتین پر پسندیدہ اور افضل قرار دیا۔ (45)

ابن عباس پیغمبر خدا (ص) سے روایت کرتے ہیں : “اربع نسوة سیدات عالمہن۔ مریم بنت عمران، و آسیة بنت مزاحم، و خدیجة بنت خویلد، و فاطمة بنت محمد و افضلہن عالِما فاطمة؛(46) چار خواتین اپنے زمانے کی دنیا کی سردار ہیں : مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم (زوجہ فرعون)، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد (ص)، اور ان کے درمیان سب سے زیادہ عالِم حضرت فاطمہ (س) ہیں “۔ نیز ابن عباس ہے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا: “افضل العالمین مِن النساء الأولین و الآخرین فاطمة؛ (47) اولین اور آخرین کی خواتین میں سب سے افضل خاتون فاطمہ (س) ہیں “۔

مریم (س) پر سیدہ فاطمہ (س) کی افضلیت شیعہ روایات کی نگاہ میں

شیعہ حدیث و تفسیر کی کتب میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی فضیلت کے سلسلے میں وارد ہونے والی روایات کی تعداد کثیر ہے جنہیں نقل کرنے کے لئے مستقل کتاب یا کتابیں تألیف کرنے کی ضرورت ہے لیکن ہم یہاں صرف بعض روایات پر نظر ڈالتے ہیں :

پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفی(ص) نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں ارشاد فرمایا:

«ابنتی فاطمة و إنّہا لسیدة نساء العالمین، فقیل یا رسول اللّہ ! أ ہی سیدة نساء عالمہا؟ فقال(ص) ذاک لمریم بنت عمران فأمّا ابنتی فاطمة فہی سیدة نساء العالمین مِن الاولین و الاخرین و انّہا لتقوم فی محرابہا فیسلّم علیہا سبعون ألف ملک مِن الْمقربین و ینادونہا بما نادتْ بہ الملائکةُ مریمَ فیقولون: یا فاطمة، إنّ اللّہ اصطفیکِ و طَہّرکِ و اصْطفیکِ علی نساء العالمین؛(48)

میری بیٹی فاطمہ (س) عالمین کی خواتین کے سردار ہیں ؛ کہا گیا کہ: اے رسول خدا (ص)! کیا سیدہ فاطمہ (س) اپنے زمانے کی خواتین کی سردار ہیں ؟ حضرت رسول خدا (ص) نے فرمایا: مریم بنت عمران اپنے زمانے کی خواتین کی سردار تھیں لیکن میری بیٹی فاطمہ (س) اولین سے آخرین تک تمام عالمین کی خواتین کی سردار ہیں ؛ جب فاطمہ (ع) محراب عبادت میں عبادت کے لئے کھڑی ہوتی ہیں ستر ہزار مقرّب فرشتے ان پر درود و سلام بھیجتے ہیں اور مریم کی مانند انہیں ندا دیتے ہیں : اے فاطمہ! بلاشبہ اللہ نے تمہیں منتخب کیا ہے اور تمہیں پاک وپاکیزہ بنایاہے اور تمہیں تمام جہانوں کی عورتوں سے منتخب قرار دیا ہے۔ »

نیز آپ (ص) نے فرمایا: “میری بیٹی فاطمہ اولین سے آخرین تک تمام خواتین کی سیدہ اور سردار ہیں ؛ وہ میرے بدن کا ٹکڑا، میری آنکھوں کا نور اور میرے دل کا پھل ہیں ؛ وہ میرے بدن میں میری روح و جان ہیں ؛ وہ انسانی حور ہیں جو مجھ سے معرض وجود میں آئی ہیں۔ جب محراب عبادت میں خدا کی بارگاہ میں عبادت کے لئے کھڑی ہوتی ہیں ان کا نور آسمانوں میں مقیم فرشتوں پر چمکتا ہے جس طرح کہ اہل زمین کے لئے آسمان کے فرشتوں کی روشنی چمکتی ہے اور خدائے عزیز و جلیل اپنے فرشتوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے : میرے فرشتو! میری خادمہ، میرے خادموں کی سردار فاطمہ کی طرف دیکھو جو میری بارگاہ میں کھڑی ہیں اور ان کے اعضاء و جوارح میرے خوف سے کانپ رہے ہیں۔ اپنے قلب سے میری عبادت کے لئے آئی ہیں ؛ میرے فرشتو! گواہ رہو کہ میں نے ان کے پیروکاروں کو دوزخ کی آگ سے امان عطا کی۔۔۔”۔ (49)

نیز حدیث میں منقول ہے : “إنّ آسیة بنت مزاحم و مریم بنت عمران و خدیجة یمشین أمام فاطمة کالحجاب لہا إلی الجنة”؛ (50)

نیز حضور (ص) نے فرمایا: “بے شک آسیہ بنت مزاحم، مریم بنت عمران اور خدیجہ بنت خویلد پردے اور حجاب کی مانند فاطمہ (س) کے آگے آگے جنت کی طرف رواں دواں ہوں گی”۔

ایک روایت میں ائمہ علیہم السلام نے فرمایا: “ما تکاملتْ نبوةُ نبیٍ مِنْ الاْنبیاء حتی أقرٍّ بفضلہا و محبتہا و ہی الصدیقة الکبری و علی معرفتہا دارتِ الْقرون الاولی”؛ (51) کسی بھی نبی (ص) کی نبوت مکمل نہیں ہوئی جب تک اس نے سیدہ فاطمہ (س) کی فضیلت و محبت کا اقرار نہیں کیا وہ صدیقہ کبری ہیں اور ابتدائی زمانوں کا دارومدار ان کی معرفت پر تھا۔

کیا عظمت ہے سیدہ (س) کی، کہ جب تک انبیاء آپ (س) کی فضیلت کو تسلیم اور محبت کا اقرار نہیں کرتے ان کی نبوت مکمل نہیں ہوتی۔

ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :

«و لقد کانت(ع) مفروضة الطاعة علی جمیع مِن خلق اللّہ، مِن الجن و الانس و الطیر و الوحش و الانبیاء و الملائکة؛(52)

فاطمہ (ع) کی اطاعت خدا کی تمام مخلوقات ۔ خواہ وہ انسان ہوں خواہ جن ہوں یا پرندے اور درندے یا حتی انبیاء اور ملائکہ ہوں ۔پر فرض ہے۔

بے شک فاطمہ(ع) عالم امکان میں خدائے سبحان کے اسرار میں سے ایک سِرّ ہیں اور دنیا میں کوئی بھی وجود 11 اماموں کی والدہ جیسا نہیں ہے۔

٭٭٭

 

مآخذ

 

1 ۔آل عمران، 42۔

2 ۔حاکم نیشابوری، المستدرک، (بیروت: دارالمعرفۃ)، ج3، ص156۔

3 ۔وہی۔

4 ۔شرح السنۃ، (بیروت: دارالفکر، 1998)، ج8، ص122۔

5 ۔ابی نعیم اصبہانی، حلیۃالاولیاء، (بیروت: دارالکتابالعربی، 1987)، ج2، ص42۔

6 ۔محمد بن اسماعیل بخاری، صحیح البخاری، (بیروت: دارالجیل)، ج4، ص248 (کتاب بدءالخلق، بابعلاماتالنبوةفیالاسلام)۔

7 ۔جلال الدین سیوطی، الدر المنثور، (بیروت: دارالفکر، 1993، ج2، ص193۔

8 ۔احمد بن حنبل، المسند، (بیروت: دارصادر)، ج2، ص511؛ابن صباغ مالکی، الفصول المہمۃ، (بیروت: مؤسسۃالاعلمی للمطبوعات، 1988)، ص127۔

9 ۔آل عمران، 43 ۔ 42۔

10 ۔بقرہ، 47۔

11 ۔آل عمران، 110۔

12 ۔عبدالرحمن بجنوری، زادالمسیر، (بیروت: دارالکتب العلمیۃ، 2001م)، ج1، ص315۔

13 ۔وہی مأخذ

14 ۔جلالالدینسیوطی، الدرالمنثور، ج2، ص194؛اسماعیلبنکثیردمشقی، تفسیرالقرانالعظیم، (بیروت: دارالمعرفۃ 1987)، ج2، ص647۔

15 ۔محمودآلوسی، روح المعانی، (تہران: انتشارات جہان)، ج3، ص138؛ علی خازن، تفسیر الخازن، (بیروت: دار الکتب العلمیۃ)، ج1، ص244؛ حسن بصری، تفسیر الحسن البصری، (قاہرہ: دار الحدیث)، ج1، ص212؛ عتیق بن محمد سورآبادی، تفسیر سورآبادی، (تہران: فرہنگ نشر نو، 1381ش)، ج1، ص281۔

16 ۔بقرہ، 43۔

17 ۔مائدہ، 55۔

18 ۔جلال الدین سیوطی، الدر المنثور، ج3، ص105۔

19 ۔محمود زمخشری، الکشاف، (بیروت: دارالمعرفۃ) ج4، ص167، «شخصیت حضرت زہرا(س) در قرآن ازمنظرتفاسیراہل سنت» – محمد یعقوب بشوی۔بحث سورہ دہر۔

20 ۔تفسیرفخررازی، (بیروت: دارالفکر، 1985)، ج32، ص124؛نظام الدین نیشابوری، غرائب القرآن، (بیروت: دار الکتب العلمیہ، 1996م)، ج6، ص576؛ ابراہیم بقاعی، نظم الدرر، (بیروت: دارالکتاب العلمیہ، 1995م)، ج8، ص549؛ محمد شفیع، معارف القرآن، (کراچی: ادارة المعارف، 1999م)، ج8، ص828۔ «شخصیت حضرت زہرا(س) در قرآن از منظر تفاسیر اہل سنت» – محمد یعقوب بشوی ۔سورہکوثرکاجائزہ۔

21 ۔احزاب، 33۔

22 ۔محمد بنجریر طبری، جامع البیان، (بیروت: دارالفکر، 988م)، ج12، ص7، «شخصیت حضرت زہرا(س) در قرآن ازمنظرتفاسیراہل سنت» – محمد یعقوب بشوی۔آیۃالتطہیر پر بحث۔

23 ۔شوری، 23۔

24 ۔الدرالمنثور، ج7، ص348، «شخصیت حضرت زہرا(س) در قرآن از منظر تفاسیر اہل سنت» – محمد یعقوب بشوی ۔آیت مودت پر بحث۔

25 ۔احزاب، 56۔

26 ۔صحیح البخاری، ج8، ص95، «شخصیت حضرت زہرا(س) در قرآن از منظر تفاسیراہل سنت» – محمد یعقوب بشوی۔صلوات پر بحث۔

27 ۔«شخصیت حضرت زہرا(س) در قرآن ازمنظرتفاسیر اہل سنت» – محمد یعقوب بشوی ۔تمام بحوث میں تلاش کر سکتے ہیں۔

28 ۔ابراہیم جوینی، فرائدالسمطین، (بیروت: مؤسسۃالمحمودیللطباعۃوالنشر، 1978)، ج2، صآخر؛سلیم انقندوزی، ینابی عالمودہ، (قم: منشوراتمکتبةبصیرتی، 1966م)، ص787؛موفق بن احمد خوارزمی، مقتلالحسین، (تہران: مکتبة نینوی الحدیثہ)، ج1، ص95۔

29 ۔احمد قرمانی، اخبارالدول وآثارالاول، (بیروت: عالم الکتب)، ص88۔

30 ۔موفق بن احمد خوارزمی، وہی مأخذ، ص59۔

31 ۔حاکم نیشابوری، المستدرک، ج3، ص158۔

32 ۔وہی مأخذ، ص153۔

33 ۔تفسیرعبداللّہ نسفی، (بیروت: دارالکتب العلمیۃ، 1995)، ج1، ص255۔

34 ۔محمودآلوسی، روح المعانی، ج3، ص138۔

35 ۔روض الانف، (مصر: مکتبۃالکلیات الازہریۃ)، ج1، ص279۔

36 ۔وہی مأخذ، ص178۔

37 ۔وہی مأخذ۔

38 ۔وہی مأخذ۔

39 ۔وہی مأخذ۔

40 ۔الدرةالبیضاءفیمناقبفاطمۃالزہراء، (لاہور: منہاج القرآن، 2003م)، ص33، کتاب کا حاشیہ۔

41 ۔محمد اقبال، کلیات اشعار اقبال، (لاہور: مطبوعہ نسائی)، ص103۔

42 ۔المستدرک، ج3، ص156۔

43 ۔محمد شوکانی، فتحالقدیر، (بیروت: دارالمعرفۃ، 1996م)، ج1، ص439۔

44 ۔ابراہیم جوینی، فرائدالسمطین، ج2، ص35۔

45 ۔سلیم انقندوزی، ینابیع المودة، ص247، باب 56۔

46 ۔الدرالمنثور، ج2، ص194۔

47 ۔المناقب المرتضویۃ، ص113، بحوالۂ غلام رضاکسائی، مناقب الزہراء، (قم: مطبعۃمہر، 1398ہ••• )، ص62۔

48 ۔محمدباقرمجلسی، بحارالانوار، (بیروت: مؤسسةالوفاء، 1983م)، ج43، ص24، ح20۔

49 ۔حسین شیخ الاسلامی، مسند فاطمۃ الزہراء، (قم: مرکز انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی، 1377)، ص72۔

50 ۔وہی مأخذ۔

51 ۔محمد فاضل مسعودی، الاسرارالفاطمیۃ، (مؤسسۃالانوارالفاطمیۃ، 2002م)، ص219۔

52 ۔ابی جعفر محمد بن جریر بن رستم طبری، دلائلالامامۃ، (قم: منشوراتالرضی، 1363)، ص28www۔aban۔ir

٭٭٭

 

 

 

 

انہدام جنت البقیع اہل بیت اطہار پر ایک اور بڑا ظلم

 

 

آٹھ شوال تیرہ سو چوالیس ہجری قمری کو آل سعود کے حکم اور درباری و متعصب وہابی مفتیوں کے کہنے پر مدینہ منورہ میں واقع جنت البقیع میں شہزادی کونین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور چار آئمہ معصومین کے روضہ کو منہدم کر دیا گیا۔ آل سعود کے سعودی حکام نے جب مکہ و مدینہ کے اطراف میں اپنا پورا تسلط جما لیا تو انھوں نے اہلبیت علیہم السلام سے اپنی دشمنی کے اظہار کے لئے جنت البقیع میں واقع ام الائمہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور چار آئمہ معصومین علیہم السلام کے روضہ اطہر کو منہدم کرنے کا ناپاک منصوبہ بنایا۔ اس کے لئے انھوں نے قاضی القضاۃ سلیمان بن بلیہد کو مدینہ روانہ کیا تا کہ وہ وہاں کے مفتیوں سے اپنی مرضی کے فتاوے حاصل کرے اور جنت البقیع کو شہید کرنے کا راستہ ہموار کرے درباری اور اہلبیت اطہار سے بغض و دشمنی کی آگ میں جلنے والے مفتیوں نے جنت البقیع کو منہدم کرنے کا فتوی دے دیا۔ اور یوں آل سعودی کے سرکاری کارندوں نے سرکار دو عالم کی دختر گرامی حضرت فاطمہ زہر اسلام اللہ علیہا اور ان کے چار معصوم فرزندوں کا روضہ اطہر منہدم کر دیا۔ اس دلخراش واقعہ کے بعد عالم اسلام میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی اور روضہ اطہر کی دوبارہ تعمیر کی بین الاقوامی سطح پر تحریک چلائی گئی مگر وہابیوں نے جنھیں سامراجی طاقتوں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے ابھی تک عالم اسلام کے اس مطالبہ کو ماننے سے انکار کر رکھا ہے۔ جنت البقیع کے انہدام کے بعد تمام شیعہ سنی علماء اور عمائدین نے مل کر تحریک چلائی تھی اور سعودی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ روضہ اطہر کی دوبارہ تعمیر کرائے مگر یہ حکومت جس پر شدت پسند وہابیوں کا غلبہ ہے ابھی تک روضہ مبارکہ کی تعمیر میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت نے بھی بارہا سعودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جنت البقیع کے روضے کی دوبارہ تعمیر کرائے اور اس سلسلے میں تہران بھی ہر طرح کا تعاون کرنے کو تیار ہے آٹھ شوال کو ہر سال اہل بیت رسول صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چاہنے والے پوری دنیا میں مجالس غم اور احتجاجی جلسے کر کے جنت البقیع کے انہدام جیسے انتہائی سفاکانہ اقدام کی مذمت کرتے ہوئے مذکورہ جگہ پر روضے کی دوبارہ تعمیر کا مطالبہ کرتے ہیں۔ آٹھ شوال کی تاریخ ہر سال اہل بیت رسول صل اللہ علیہ و آلہ سے آل سعود اور وہابی مفتیوں کی دشمنی کی یاد پوری دنیا کے سامنے تازہ کر دیتی ہے

جنت البقیع میں امام حسن مجتبی، امام زین العابدین، امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہم السلام کے مزارات مقدسہ واقع ہیں اور انہی مزاروں پر ہی وہ قبہ تعمیر تھا جسے دنیا روضہ جنت البقیع کہتی ہے جبکہ ایک روایت کے مطابق اسی مقام پر شہزادی کونین حضرت فاطمہ زہر اسلام اللہ علیہا کا بھی مزار مطہر واقع ہے۔

www۔tebyan۔net

 

 

 

 

عبادت میں خلوص کے فوائد

 

قالت فاطمة الزہراء سلام اللہ علیہا: من أصعد إلی اللہ خالص عبادتہ، أہبط اللہ عزوجل إلیہ أفضل مصلحتہ۔

فرمایا: جو شخص اپنی خالص عبادت خداوند متعال کی بارگاہ میں پیش کرتا ہے (اور صرف اس کی رضا کے لئے عمل کرتا ہے ﴾ خدا بھی اپنی بہترین مصلحتیں اس پر نازل فرما کر اس کے حق میں قرار دیتا ہے ۔

تحف العقول ص۹۶۰

2۔ آل محمد کی محبت میں مرنا شہادت ہے

عَنْ فَاطِمَةُ بِنْتَ مذوسَى بْن ر جَعْفَر (ع)۔۔۔ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللّہِ صَلَّى اللّہ عَلَیہِ وَ آلِہِ وِ سَلَّمَ، قالَتْ (سلام اللہ علیہا): قَالَ رَسُولُ اللّہِ صَلَّى اللّہِ عَلَیہِ وَ آلِہِ وَ سَلَّمَ : «ألا مَنْ ماتَ عَلى حُبِّ آلِ مُحَمَّد ماتَ شَہِیداً۔

حضرت فاطمہ معصومہ (س) حضرت امام صادق (ع) کی بیٹی سے ایک روایت نقل کرتی ہیں جس کا سلسلہ سند حضرت فاطمہ زہرا (س) تک پہنچتا ہے۔ ۔ ۔ حضرت زہراء (س﴾ فرماتی ہیں کہ حضرت رسول اکرم (ص) نے فرمایا: «آگاہ رہو ! جو شخص آل محمّد کی محبت کے ساتھ مرے وہ شہید مرا ہے۔

عوالم العلوم، ج ٢١، ص ٣٥٣

3۔ حبدار علی (ع﴾ سعادتمند و خوش بخت ہے

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): ان السعید، کل السعید، حق السعید من أحب علیا فی حیاتہ و بعد موتہ

فرمایا: بے شک حقیقت اور اور مکمل سعادتمند شخص وہ ہے جو امام علی علیہ السلام سے آپ (ع) کی حیات میں اور بعد از حیات، محبت رکھے ۔

شرح نہج البلاغہ ج 2، ص 449 مجمع الزّوائد: ج 9، ص 132

4۔ آل محمد (ص) کا تعارف

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): نحن وسیلتہ فی خلقہ و نحن خاصتہ و محل قدسہ و نحن حجتہ فی غیبہ و نحن ورثہ أنبیاۂ

فرمایا: ہم اہل بیت رسول خدا (ص) خدا کے ساتھ مخلوقات کے ارتباط کا وسیلہ ہیں ؛ ہم خدا کی برگزیدہ ہستیاں ہیں اور نیکیوں کا مقام اعلی ہیں، ہم خدا کی روشن دلیلیں ہیں اور انبیاءُ اللہ کے وارث ہیں ۔

(شرح‌ نہج‌ البلاغہ‌ ج‌ 16، ص‌ 211)

5۔ قرآنی سورتوں کی تلاوت کا ثواب

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): قاریءُ الحدید، و اذا وقعت، و الرحمن، یدعی فی السموات و الارض، ساکن الفردوس

فرمایا: سورة الحدید، سورة الواقعہ اور سورة الرحمن کی تلاوت کرنے والے لوگ آسمانوں اور روئے زمین پر جنتی کہلاتے ہیں ۔

(کنز العمال، ج‌ 1، ص582)

6۔ بہترین و اور قابل قدر ترین افراد

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): خیارکم الینکم مناکبة و اکرمہم لنساۂم

فرمایا: تم میں سے بہترین وہ ہے جو لوگوں کا سامنا کرتے وقت زیادہ نرم اور زیادہ مہربان ہو اور تم میں سے بہترین مرد وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ زیادہ مہربان اور زیادہ بخشنے والے ہوں ۔

(دلال الامامہ ص76 و کنزالعمال، ج‌ 7، ص225)

7۔ مؤمنین کے لئے پسندیدہ چیزیں

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): حبب الی من دنیاکم ثلاث: تلاوة کتاب اللہ و النظر فی وجہ رسول و الانفاق فی سبیل اللہ

فرمایا: تمہاری دنیا میں میری پسندیدہ چیزیں تین ہیں :

1- تلاوت قرآن

2- رسول خدا (ص) کیے چہرہ مبارک کی طرف دیکھنا اور

3- خدا کی راہ میں انفاق و خیرات کرنا۔

(وقایع الایام خیابانی، جلد صیام، ص295)

8۔ اہل بیت (ع﴾ کی اطاعت و امامت کے فوائد

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): فجعل اللہ۔۔۔اطاعتنا نظاما للملة و امامتنا أمانا للفرقة

فرمایا: خدا نے ہم اہل بیت کی اطاعت و پیروی امت اسلامی کو سماجی نظم کا سبب قرار دیا ہے اور ہماری امامت و رہبری کو اتحاد و یکجہتی کا سبب اور تفرقے سے امان قرار دیا ہے ۔

(بحار الانوار، ج 43، ص 158)

9۔ ایمان اور نماز کے فوائد

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): فجعل اللہ الایمان تطہیرا لکم من الشرک، و الصلاة تنزیہا لکم عن الکبر

فرمایا: خدائے تعالی نے ایمان کو تمہارے لئے شرک سے پاکیزگی کا سبب قرار دیا اور نماز کو تکبر اور خود خواہی اور خودپرستی سے دوری کا عامل۔

(احتجاج طبرسی، ج1، ص258)

10۔امام کی مثال کعبہ کی مثال ہے

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): مَثَلُ الإمام مَثل الکَعبة إذ تُؤتی وَ لا تَأتی

حضرت فاطمہ زہرا (علیہا السلام) نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا: امام، کعبہ کی مانند ہے لوگوں کو امام کی جانب جانا اور رجوع کرنا پڑتا ہے جبکہ امام کسی کے پاس نہیں جاتا (لوگوں کو امام کی خدمت میں حاضر ہونا پڑتا ہے چنانچہ امام کے اپنے پاس آنے کی توقع نہیں کرنی چاہئے )۔

(بحار الانوار، ج 36، ص 353)

11۔صبر و جہاد کی ثمرات

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): جعل اللہ ۔۔۔ الجہاد عز للإسلام، و الصبر معونة علی استیجاب الأجر

فرمایا: خداوند متعال نے جہاد کو اسلام کی عزت و ہیبت کا سبب اور صبر و استقامت کو حق تعالی کے انعام و جزا کے استحقاق کا باعث قرار دیا ہے ۔

(احتجاج طبرسی، ج 1، ص 258)

12۔ایمان و عدل کی ثمرات

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): فَفَرَضَ اللّہ‏ُ الایمانَ تَطہیرا مِنَ الشِّرکِ۔۔۔ وَ العَدلَ تَسکینا لِلقُلوبِ

فرمایا: خداوند متعال نے ایمان کو شرک سے پاکیزگی کے لئے واجب کیا اور ۔۔۔ عدل و انصاف کو قلوب کی تسکین کے لئے ۔

(من لایحضرہ الفقیہ، ج 3، ص 568)

13۔علی (ع) فرشتوں کے بھی قاضی

عن عَبْدُ اللّہِ بْنِ مَسْعُود، فالَ: أتَیْتُ فاطِمَةَ صَلَواتُ اللّہِ عَلَیْہا، فَقُلْتُ: أیْنَ بَعْلُکِ؟ فَقالَتْ (علیہا السلام): عَرَجَ بِہِ جِبْرئیلُ إلَى السَّماءِ، فَقُلْتُ: فیما ذا؟ فَقالَتْ: إنَّ نَفَراً مِنَ الْمَلائِکَةِ تَشاجَرُوا فى شَیْىء، فَسَألُوا حَکَماً مِنَ الاْدَمِیّینَ، فَأَوْحىَ اللّہُ إلَیْہِمْ أنْ تَتَخَیَّرُوا، فَاخْتارُوا عَلیِّ بْنِ أبی طالِب (علیہ السلام)۔

عبد اللّہ بن مسعود کہتے ہیں : ایک روز میں حضرت فاطمہ زہراء (س) کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: آپ کے خاوند (علی علیہ السلام) کہاں ہیں ؟

فرمایا: جبرئیل کے ہمراہ آسمانوں کی جانب عروج کر کے گئے ہیں ۔

میں عرض کیا: کس مقصد کی لئے ؟

فرمایا: ملائکة اللہ کے درمیان نزاع واقع ہوا ہے اور انہوں نے اللہ سے التجا کی ہے کہ انسانوں میں سے ایک فرد ان کے درمیان فیصلہ اور قضاوت کرے ؛ چنانچہ خداوند متعال نے فرشتوں کو وحی بھیجی اور ان کو قاضی کے انتخاب کا اختیار دیا اور انہوں نے حضرت علىّ بن ابى طالب (علیہ السلام) کا انتخاب کیا۔

اختصاص شیخ مفید: ص 213، س 7، بحارالأنوار: ج 37، ص 150، ح 15۔

14۔امام علی علیہ السلام کا تعارف

قالَتْ (علیہا السلام): وَہُوَ الإمامُ الرَبّانى، وَالْہَیْکَلُ النُّورانى، قُطْبُ الأقْطابِ، وَسُلالَةُ الاْطْیابِ، النّاطِقُ بِالصَّوابِ، نُقْطَةُ دائِرَةِ الإمامَةِ۔

فرمایا: علی ابن ابی طالب علیہ السلام الہی پیشوا، نور اور روشنی کا پیکر، تمام موجودات اور عارفین کا مرکز توجہ اور طاہرین و طیبین کے خاندان کے پاک و طیب فرزند ہیں ؛ حق بولنے والے متکلم ہیں (بولتے ہیں تو حق بولتے ہیں )، اور ہدایت دینے والے راہنما ہیں ؛ وہ امامت و قیادت کا مرکز و محور ہیں ۔

ریاحین الشّریعة: ج 1، ص 93۔

15۔محمد و علی امت کے باپ

قالَتْ (علیہا السلام): أبَوا ہِذِہِ الاْمَّةِ مُحَمَّدٌ وَ عَلىٌّ، یُقْیمانِ أَودَّہُمْ، وَ یُنْقِذانِ مِنَ الْعَذابِ الدّائِمِ إنْ أطاعُوہُما، وَ یُبیحانِہِمُ النَّعیمَ الدّائم إنْ واقَفُوہُما۔

فرمایا: حضرت محمّد صلى اللہ علیہ و آلہ و سلم اور علىّ علیہ السلام دونوں، اس امت کے باپ ہیں اور اگر اہل امّت ان کی پیروی کریں تو وہ (دو باپ) ہرگز انہیں دنیاوی انحرافات کا شکار نہیں ہونے دیں گے اور انہیں آخرت کے دائمی عذاب سے نجات دیں گے اور انہیں جنت کی فراوان نعمتوں سے بہر مند کر دیں گے ۔

تفسیر الإمام العسکرى (علیہ السلام): ص 330، ح 191، بحارالأنوار: ج 23، ص 259، ح 8۔

16۔شیعیان اہل بیت کے حق میں سیدہ کی دعا

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): إلہى وَ سَیِّدى، أسْئَلُکَ بِالَّذینَ اصْطَفَیْتَہُمْ، وَ بِبُکاءِ وَلَدَیَّ فى مُفارِقَتى أَنْ تَغْفِرَ لِعُصاةِ شیعَتى، وَشیعَةِ ذُرّیتَى۔

فرمایا: خداوندا! تیرے برگزیدہ (منتخب) اولیاء اور مقربین کے صدقے اور تجھے میری شہادت کے بعد میری جدائی میں میرے بچوں کے گریہ و بکاء کے واسطے ، التجاء کرتی ہوں کہ تو میرے اور میری اولاد کے گنہگار شیعوں کے گناہ بخش دے ۔

کوکب الدّرىّ: ج 1، ص 254۔

17۔شیعہ کون ہے ؟

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): شیعَتُنا مِنْ خِیارِ أہْلِ الْجَنَّةِ وَکُلُّ مُحِبّینا وَ مَوالى اَوْلیائِنا وَ مُعادى أعْدائِنا وَ الْمُسْلِمُ بِقَلْبِہِ وَ لِسانِہِ لَنا۔

فرمایا: ہمارے شیعہ اور پیروکار اور اسی طرح ہمارے محبین اور ہمارے دوستوں کے دوست اور ہمارے دشمنوں کے دشمن اور قلب و زبان کے ذریعے ہمارے سامنے سرتسلیم خم کرنے والے لوگ جنتیوں میں بہترین افراد ہوں گے ۔

بحارالأنوار: ج 68، ص 155، س 20، ضمن ح 11۔

18۔اگر بے گناہ مبتلا نہ ہوتے بددعا دیتی

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): وَاللّہِ یَابْنَ الْخَطّابِ لَوْلا أنّى أکْرَہُ أنْ یُصیبَ الْبَلاءُ مَنْ لا ذَنْبَ لَہُ، لَعَلِمْتَ أنّى سَأُقْسِمُ عَلَى اللّہِ ثُمَّ أجِدُہُ سَریعَ الاْجابَةِ۔

فرمایا: اے خطّاب کے بیٹے ! قسم خدا کی، اگر میں ناپسند نہ کرتی کہ خدا کا عذاب کسی بے گناہ پر نازل ہو جائے خداوند عالم کو قسم دیتی اور بددعا دیتی اور تم دیکھ لیتے کہ میری دعا کتنی جلد قبول ہوتی ہے ۔ (1)

اصول کافى: ج 1، ص 460، بیت الأحزان: ص 104، بحارالأنوار: ج 28، ص 250، ح 30

19۔میں ہرگز تم سے نہ بولوں گی

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): وَاللّہِ! لا کَلَّمْتُکَ أبَداً، وَاللّہِ! لاَدْعُوَنَّ اللّہَ عَلَیْکَ فى کُلِّ صَلوة۔

سیدہ کے گھر پر حملہ ہؤا تو آپ نے خلیفہ اول سے مخاطب ہو کر فرمایا: خدا کی قسم! ابد تک تم سے نہ بولوں گی؛ خدا کی قسم ہر نماز میں تمہیں بددعا دیتی رہوں گی۔(2)

صحیح مسلم: ج 2، ص 72، صحیح بخارى: ج 6، ص 176۔

20۔تم نے مجھے ناراض و غضبناک کیا ہے

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): إنّى أُشْہِدُ اللّہَ وَ مَلائِکَتَہُ، أنَّکُما اَسْخَطْتُمانى، وَ ما رَضیتُمانى، وَ لَئِنْ لَقیتُ النَبِیَّ لأشْکُوَنَّکُما إلَیْہِ۔

[جب خلیفہ اول و دوئم سیدہ (س) کی عیادت کے لئے آئے تو (آپ (س) نے حدیث نبوی «من اسخط فاطمة فقد اسخطنی۔۔۔ » کی صحت کا اقرار لینے کے بعد] فرمایا: میں خدا اور اس کے فرشتوں کو گواہ بناتی ہوں کہ تم نے مجھے غضبناک کیا اور تم نے مجھے خوشنود نہ کیا اور جب میں رسول اللہ (ص) سے ملوں گی آپ (ص) سے تم دونوں کی شکایت کروں گی۔

بحارالأنوار: ج 28، ص 303، صحیح مسلم: ج 2، ص 72، بخارى: ج 5، ص 5۔

21۔عہدشکن میری میت پر نماز نہ پڑھیں

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): لا تُصَلّى عَلَیَّ اُمَّةٌ نَقَضَتْ عَہْدَ اللّہِ وَ عَہْدَ أبى رَسُولِ اللّہِ فى أمیر الْمُؤمنینَ عَلیّ، وَ ظَلَمُوا لى حَقىّ، وَ أخَذُوا إرْثى، وَ خَرقُوا صَحیفَتى اللّتى کَتَبہا لى أبى بِمُلْکِ فَدَک۔

فرمایا: وہ لوگ جنہوں نے امیر المؤمنین علىّ (علیہ السلام) کے بارے میں خدا اور میرے والد رسول خدا (ص) کے ساتھ کیا ہوا عہد توڑا اور میرے حق میں ظلم کا ارتکاب کیا اور میرے ارث کو غصب کیا اور جنہوں نے میرے لئے وہ صحیفہ پہاڑ ڈالا جو میرے والد نے فدک کے سلسلے میں میرے لئے لکھا تھا وہ میری میت پر نماز نہ پڑھیں ۔

بیت الأحزان: ص 113، کشف الغمّة: ج 2، ص 494۔

22۔غدیر کے بعد کو‏ئی عذر نہ رہا

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): إلَیْکُمْ عَنّی، فَلا عُذْرَ بَعْدَ غَدیرِکُمْ، وَ الاَْمْرُ بعد تقْصیرکُمْ، ہَلْ تَرَکَ أبى یَوْمَ غَدیرِ خُمّ لاِحَد عُذْراٌ۔

مہاجرین و انصار سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: مجھ سے دور ہو جاؤ اور مجھے اپنے حال پر چھوڑو اتنی ساری بے رخی اور حق سے چشم پوشی کے بعد، تمہارے لئے اب کوئی عذر باقی نہیں رہا ہے۔ کیا میرے والد نے غدیر خم میں (اپنے جانشین کا تعین کر کے اور مسلمانوں کو اس امر پر گواہ بنا کر) تمہارے لئے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا ہے ؟

خصال: ج 1، ص 173، احتجاج: ج 1، ص 146۔

23۔ایمان، نماز، زکواة، روزے اور حج کے ثمرات

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): جَعَلَ اللّہُ الاْیمانَ تَطْہیراً لَکُمْ مِنَ الشّ۔ِرْکِ، وَالصَّلاةَتَنْزیہاًلَکُمْ مِنَ الْکِبْرِ، وَ الزَّکاةَ تَزْکِیَةً لِلنَّفْسِ، وَ نِماءً فِى الرِّزقِ، وَ الصِّیامَ تَثْبیتاً لِلاْخْلاصِ، وَ الْحَّجَ تَشْییداً لِلدّینِ

فرمایا: خداوند سبحان نے ایمان و اعتقاد کو شرک سے طہارت اور گمراہیوں و شقاوتوں سے نجات قرار دیا اور نماز کو خضوع اور انکسار اور ہر گونہ تکبر سے پاکیزگی قرار دیا ہے اور زکواة (و خمس) کو تزکیہ نفس اور وسعت رزق کا سبب گردانا ہے اور روزے کو ارادے میں استقامت اور اخلاص کے لئے لازم قرار دیا ہے اور حجّ کو شریعت کی بنیادیں اور دین کی اساس کے استحکام کی خاطر واجب کیا ہے ۔

ریاحین الشّریعة: ج 1، ص 312، فاطمة الزّہراء (س) ص 360، خطبہ آنحضرت۔ احتجاج طبرسی، ج 1۔

24۔میں سب سے پہلے اپنے والد سے ملحق ہوں گی

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): یا أبَا الْحَسَنِ! إنَّ رَسُولَ اللّہِ (صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَہِدَ إلَىَّ وَ حَدَّثَنى أنّى اَوَّلُ أہْلِہِ لُحُوقاً بِہِ وَ لا بُدَّ مِنْہُ، فَاصْبِرْ لاِمْرِاللّہِ تَعالى وَ ارْضَ بِقَضائِہِ۔

فرمایا: اے ابا الحسن! بے شک رسول اللہ (ص) نے میرے ساتھ عہد باندھا ہے اور مجھے خبر دی ہے کہ: مین آپ (ص) کے خاندان میں سپ سے پہلے آپ سے جا ملوں گی اور اس عہد سے کوئی گریز نہیں ہے ، پس صبر کا دامن تھام کے رکھنا اور اللہ کی قضا و قدّر پر راضی ہونا۔

بحارالأنوار: ج 43، ص 200، ح 30۔

25۔سیدہ (س) اور آپ کے والد (ص) پر تین روز تک سلام کا ثمرہ

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): مَنْ سَلَّمَ عَلَیْہِ اَوْ عَلَیَّ ثَلاثَةَ أیّام أوْجَبَ اللّہُ لَہُ الجَنَّةَ، قُلْتُ لَہا: فى حَیاتِہِ وَ حَیاتِکِ؟ قالَتْ: نعَمْ وَ بَعْدَ مَوْتِنا۔

فرمایا: جو شخص میرے والد ۔رسولخدا (ص)۔اورمجھپرتینروزتکسلامبھیجے خدااسپرجنتواجبکر دیتاہے۔

راوی کہتا ہے : میں نے عرض کیا یہ سلام آپ اور آپ کے والد (ص) کے ایام حیات کے لئے ہے ؟

سیدہ (س) نے فرمایا: ہمارے ایام حیات اور ہماری موت کے بعد کے لئے ہے ۔

بحارالأنوار: ج 43، ص 185، ح 17۔

26۔علی (ع) نے فریضۂ الہی پر عمل کیا

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): ما صَنَعَ أبُو الْحَسَنِ إلاّ ما کانَ یَنْبَغى لَہُ، وَ لَقَدْ صَنَعُوا ما اللّہُ حَسیبُہُمْ وَ طالِب2ُہُمْ۔

فرمایا:جو کچھ علی علیہ السلام نے – رسول اللہ کی تدفین اور بیعت کے سلسلے میں – سرانجام دیا وہ خدا کی جانب سے مقررہ فریضہ تھا اور جو کچھ دوسروں نے سرانجام دیا خداوند متعال ان کا احتساب کر کے انہیں سزا دے گا۔

الإمامة والسّیاسة: ص 30، بحارالأنوار: ج 28، ص 355، ح 69۔

27۔خواتین کے لئے کون سی چیز بہتر ہے ؟

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): خَیْرٌ لِلِنّساءِ أنْ لا یَرَیْنَ الرِّجالَ وَ لا یَراہُنَّ الرِّجالُ۔

فرمایا: عورت کی شخصیت کی حفاظت کے لئے بہترین عمل یہ ہے کہ (غیر) مرد کو نہ دیکھے اور (غیر) مرد بھی اسے نہ دیکھیں ۔

بحارالأنوار: ج 43، ص 54، ح 48۔

28۔یاعلی مجھے ہرگز نہ بھولنا

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): أوُصیکَ یا أبَا الْحَسنِ أنْ لا تَنْسانى، وَ تَزُورَنى بَعْدَ مَماتى۔

بی‌بی سیدہ (س) نے اپنی وصیت کے ضمن میں فرمایا: اے ابالحسن! میں آپ کو وصیت کرتا ہوں کہ میری موت کے بعد کے بعد مجھے کبھی نہ بھولنا اور میری زیارت و دیدار کے لئے میری قبر پر آیا کرنا۔

زہرة الرّیاض ۔کوکب الدّرى: ج 1، ص 253۔

29۔خواتین کی میت بھی نامحرموں کی نظروں سے محفوظ ہو

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): إنّى قَدِاسْتَقْبَحْتُ ما یُصْنَعُ بِالنِّساءِ، إنّہُ یُطْرَحُ عَلىَ الْمَرْئَةِ الثَّوبَ فَیَصِفُہا لِمَنْ رَأى، فَلا تَحْمِلینى عَلى سَریر ظاہِر، اُسْتُرینى، سَتَرَکِ اللّہُ مِنَ النّارِ۔

سیدہ علیہاالسلام نے اپنی عمر مبارک کے آخری ایام میں اسماء بنت عمیس سے مخاطب ہو کر فرمایا: میں یہ عمل بہت ہی برا اور بھونڈا سمجھتی ہوں کہ لوگ خواتین کی موت کے بعد ان کی میت پر چادر ڈال اس کی تشییع کریں اور قبرستان تک لے جائیں اور بعض لوگ ان کے اعضاء اور بدن کے حجم کا مشاہدہ کر کے دوسروں کے لئے حکایت کریں چنانچہ میری میت کو ایسی چارپائی یا تختے کے اوپر مت رکھنا جس کے ارد گرد بدن چھپانے کا انتظام نہ ہو اور اس پر ایسا وسیلہ نہ ہو جو لوگوں کے تماشے کے لئے رکاوٹ ہو۔ اور پورے پردے میں میری میت کی تشییع کرنا خداوند متعال تمہیں دوزخ کی آگ سے مستور و محفوظ رکھے ۔

تہذیب الأحکام: ج1، ص 429، کشف الغمّہ: ج 2، ص 67، بحار:ج 43، ص 189، ح 19۔

30۔پردہ حتی نابینا مردوں سے

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): ۔۔۔ إنْ لَمْ یَکُنْ یَرانى فَإنّى أراہُ، وَ ہُوَ یَشُمُّ الریح۔

[ایک روز ایک نابینا آدمی داخل ہوا تو حضرت زہراء (علیہا السلام) نے پردہ کیا۔ رسول اکرم (ص) نے فرمایا: جان پدر! یہ شخص نابینا ہے اور دیکھتا نہیں ہے تو عرض کیا] اگر وہ مجہے نہیں دیکھتا تو میں تو اسے دیکھتی ہوں ! اور پھر یہ کہ وہ ہوا میں عورت کی بو سونگھ سکتا ہے ۔ [یہ حدیث ان خواتین کی لئی قابل توجہ ہی کہ وہ بینا لوگو ں سے پردہ تو نہیں کرتیں بلکہ میک اپ کر کے بن ٹھن کر دل موہ لینے والے عطریات لگا کر غیر مردوں کے ساتھ مسکرا مسکرا کر باتیں کرنے سے لذت اٹھاتی ہیں اور اس حرام عمل کو تجدد اور عورت کی آزادی سمجھتی ہیں ]۔

بحارالأنوار: ج 43، ص 91، ح 16، إحقاق الحقّ: ج 10، ص 258۔

31۔ترک دنیا اور غاصبوں کی ابدی مخالفت ۔۔۔

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): أصْبَحْتُ وَ اللہِ! عاتِقَةً لِدُنْیاکُمْ، قالِیَةً لِرِجالِکُمْ۔

[فدک غصب ہو جانے اور سیدہ سلام اللہ علیہا کے استدلال و اعتراض کے بعد مہاجرین انصار کی بعض عورتیں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ کا حال پوچھنے لگیں تو سیدہ سلام اللہ علیہا نے ] فرمایا: خدا کی قسم! میں نے تمہاری دنیا کو آزاد کیا اور میری اب تمہاری دنیا سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور تمہارے مردوں کی ہمیشہ کے لئے دشمن رہوں گی۔

دلائل الإمامة: ص 128، ح 38، معانى الأخبار: ص 355، ح 2۔

32۔شیعیان اہل بیت کون ہیں ؟

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): إنْ کُنْتَ تَعْمَلُ بِما أمَرْناکَ وَ تَنْتَہى عَمّا زَجَرْناکَ عَنْہُ، قَأنْتَ مِنْ شیعَتِنا، وَ إلاّ فَلا۔

فرمایا: اگر تم ہم اہل بیت عصمت و طہارت کے اوامر پر عمل کرو اور جن چیزوں سے ہم نے نہی کی ہے ان سے اجتناب کرو تو تم ہمارے شیعوں میں سے ہو ورنہ تو نہیں ۔

تفسیر الإمام العسکرى (علیہ السلام): ص 320، ح 191۔

33۔نئی شادی کے سلسلے میں علی (ع) کو وصیت

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): أُوصیکَ اَوّلاً أنْ تَتَزَوَّجَ بَعْدى بِإبْنَةِ اُخْتى أمامَةَ، فَإنَّہا تَکُونُ لِوُلْدى مِثْلى، فَإنَّ الرِّجالَ لابُدَّ لَہُمْ مِنَ النِّساءِ۔

بی‌بی سیدہ نے اپنی عمر کے آخری لمحات میں علی (ع) کو سفارش کی: میرے بعد میری بھانجی “أمامہ” کے ساتھ شادی کرنا، کیونکہ وہ میرے بچوں کے لئے میری طرح ہمدرد اور دلسوز ہے اور پھر مردوں کے لئے عورتوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔

بحارالأنوار: ج 43، ص 192، ح 20، أعیان الشّیعة: ج 1، ص 321۔

34۔ماں کی خدمت اور اس کے ثمرات

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): الْزَمْ عجْلَہا فَإنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ أقْدامِہا و الْزَمْ رِجْلَہا فَثَمَّ الْجَنَّةَ۔

فرمایا: ہمیشہ ماں کی خدمت میں اور اس کے پابند رہو، کیونکہ جنت ماں کے قدموں (پاؤں ) تلے ہے ؛ اور تمہارے اس عمل کا نتیجہ بہشتى نعمتیں ہیں ۔

کنزل العمّال: ج 16، ص 462، ح 45443۔

35۔روزہ کس طرح ہونا چاہئے ؟

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): ما یَصَنَعُ الصّائِمُ بِصِیامِہِ إذا لَمْ یَصُنْ لِسانَہُ وَ سَمْعَہُ وَ بَصَرَہُ وَ جَوارِحَہُ۔

فرمایا: وہ روزہ دار شخص جو اپنی زبان اور کانوں اور آنکھوں و دیگر اعضاء و جوارح کو قابو میں نہ رکھے اپنے روزے سے کوئی فائدہ نہ اٹھائے ۔

مستدرک الوسائل: ج 7، ص 336، ح 2، بحارالأنوار: ج 93، ص 294، ح 25۔

36۔خوش روئی اور اس کے ثمرات

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): اَلْبُشْرى فى وَجْہِ الْمُؤْمِنِ یُوجِبُ لِصاحِبہِ الْجَنَّةَ، وَ بُشْرى فى وَجْہِ الْمُعانِدِ یَقى صاحِبَہُ عَذابَ النّارِ۔

فرمایا: مؤمن کے سامنے تبسّم اور شاد مانى جنت میں داخلے کا باعث بنتا ہے جبکہ دشمنوں اور مخالفین کے سامنے تبسم عذاب سے بچاؤ کا سبب بنتا ہے ۔

تفسیر الإمام العسکرى (ع) ص 354، ح 243، مستدرک الوسائل: ج 12، ص 262، بحار: ج 72، ص 401، ح 43۔

37۔کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کی ضرورت

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): لا یَلُومَنَّ امْرُءٌ إلاّ نَفْسَہُ، یَبیتُ وَ فى یَدِہِ ریحُ غَمَر۔

فرمایا: جو شخص کھانا کھانے کے بعد ہاتھ نہ دھوئے اور اس کے ہاتھ آلودہ ہوں ؛ اگر اس کو کوئی پریشانی (بیماری وغیرہ) لاحق ہو جائے تو اپنے سوا کسی پر بہی ملامت نہ کرے ۔

کنز العمّال: ج 15، ص 242، ح 40759۔

38۔جمعہ کے روز دعا کا بہترین موقع

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): اصْعَدْ عَلَى السَّطْحِ، فَإنْ رَأیْتَ نِصْفَ عَیْنِ الشَّمْسِ قَدْ تَدَلّى لِلْغُرُوبِ فَأعْلِمْنى حَتّى أدْعُو۔

روز جمعہ غروب آفتاب کے قریب غلام کو حکم دیا کرتے تھیں : گھر کی چھت پر جا کر بیٹھو اور جب آدھا سورج ڈوب جائے مجھے خبر کر دو تا کہ میں (اپنے اور دوسروں کے لئے ) دعا کروں ۔

دلائل الإمامة: ص 71، س 16، معانى الأخبار: ص 399، ضمن ح 9۔

39۔خدا تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): إنَّ اللّہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمیعاً وَلایُبالى۔

فرمایا: بے شک خدا تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس سلسلے میں کسی کی پروا نہیں کرے گا۔ [البتہ حق الناس اور شرک قابل بخشش گناہ نہیں ہیں جس پر قرآن میں بھی تصریح ہوئی ہے اور احادیث میں بھی، البتہ خدا اگر کسی کے ساری گناہ (سوائے شرک کے ) بخشنا چاہے تو وہ وسیلہ ساز ہے اور اگر کسی کا اس شخص پر کوئی حق ہے تو اس کے دل میں عفو و درگذر کا احساس پیدا کرتا ہے یا اس کو انعام و اکرام سے نواز کر مطلوبہ شخص کے گناہ بخشوا دیتا ہے اور یہ سارے امور اللہ کے لئے آسان ہیں ۔]

تفسیر التّبیان: ج 9، ص 37، س 16۔

40۔سواری اور گھر پر مرد کا حق

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): الرَّجُلُ اُحَقُّ بِصَدْرِ دابَّتِہِ، وَ صَدْرِ فِراشِہِ، وَالصَّلاةِ فى مَنْزِلِہِ إلاَّ الاْمامَ یَجْتَمِعُ النّاسُ عَلَیْہِ۔

فرمایا: ہر شخص اپنی سواری، اپنے گھر کے صدر مجلس اور اپنے گھر میں نماز قائم کرنے (اور امامت کے حوالے سے ) دوسروں پر اولویت و ترجیح رکھتا ہے مگر یہ کہ امام جماعت کوئی ایسا شخص ہو جس کی امامت پر لوگوں کا اتفاق ہو اور لوگ اس کی امامت میں نماز ادا کرنا چاہیں ۔

مجمع الزّوائد: ج 8، ص 108، مسند فاطمہ: ص 33 و 52۔

41۔قیامت کے روز لوگوں کی حالت سے فکر مندی

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): یا أبَة، ذَکَرْتُ الْمَحْشَرَ وَوُقُوفَ النّاسِ عُراةً یَوْمَ الْقیامَةِ، وا سَوْأتاہُ یَوْمَئِذ مِنَ اللّہِ عَزَّوَجَلَّ۔

ابا جان!(یا رسول اللہ (ص)) مجھے قیامت یاد آئے کہ لوگ خدا کی بارگاہ کس طرح ننگے پیش کئے جائیں گے اور ان کا کوئی یار و مددگار نہ ہو گا! اگر کسی کا کوئی غمخوار ہو گا بھی تو وہ اس کا عمل اور اہل بیت (ع) سے اس کی محبت و عقیدت ہو گی۔ وا سوآتاہ۔ ۔ ۔ ۔

کشف الغمّة: ج 2، ص 57، بحار الأنوار: ج 8، ص 53، ح 62۔

42۔امت کے گنہگاروں کی شفاعت

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): إذا حُشِرْتُ یَوْمَ الْقِیامَةِ، أشْفَعُ عُصاةَ أُمَّةِ النَّبىَّ

فرمایا: جب روز قیامت محشور و مبعوث ہو جاؤں امت رسول خدا (ص) کے گنہگاروں کی شفاعت کروں گی۔

إحقاق الحقّ: ج 19، ص 129۔

43۔میت کے لئے تلاوت قرآن اور دعا

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): فَأکْثِرْ مِنْ تِلاوَةِ الْقُرآنِ، وَالدُّعاءِ، فَإنَّہا ساعَةٌ یَحْتاجُ الْمَیِّتُ فیہا إلى أُنْسِ الاْحْیاءِ۔

بی‌بی سیدہ نے امام علىّ (علیہ السلام) سے مخاطب ہو کر فرمایا: مجھے سپرد خاک کرنے کے بعد میرے لئے قرآن مجید کی تلاوت بکثرت کرنا اور میرے حق میں دعا کرنا کیونکہ میت کو اس حالت میں زندہ افراد کے ساتھ انس کی ضرورت ہوتی ہے ۔

بحارالأنوار: ج 79، ص 27، ضمن ح 13۔

44۔خواتین اپنے مردوں کو مشقت میں نہ ڈالیں

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): یا أبَا الحَسَن، إنّى لأسْتَحى مِنْ إلہى أنْ أکَلِّفَ نَفْسَکَ ما لا تَقْدِرُ عَلَیْہِ۔

بی‌بی سیدہ نے اپنے شریک حیات حضرت امیرالمؤمنین علىّ (علیہ السلام) سے مخاطب ہو کر فرمایا: میں اپنے معبود سے شرماتی ہوں کہ آپ سے ایسی چیز کی درخواست کروں جس کی فرااہمی آپ کے لئے ممکن نہ ہو۔

أمالى شیخ طوسى : ج 2، ص 228۔

45۔اولاد رسول (ص) کے قاتلین کا انجام

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): خابَتْ أُمَّةٌ قَتَلَتْ إبْنَ بِنْتِ نَبِیِّہا۔

فرمایا: وہ گروہ ہرگز سعادت و فلاح نہ پائے گا جو اپنے پیغمبر کے فرزند کو قتل کر دے ۔

مدینة المعاجز: ج 3، ص 430۔

46۔گناہان کبیرہ سے اجتناب کے ثمرات

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): ۔۔۔ وَ النَّہْىَ عَنْ شُرْبِ الْخَمْرِ تَنْزیہاً عَنِ الرِّجْسِ، وَاجْتِنابَ الْقَذْفِ حِجاباً عَنِ اللَّعْنَةِ، وَ تَرْکَ السِّرْقَةِ ایجاباً لِلْعِّفَةِ۔

فرمایا: خداوند متعال نے شرابخواری سے نہی – معاشرے کو بدیوں اور جرائم سے پاک کرنے کے لئے – قرار دی؛ تہمتوں، بہتان تراشیوں اور ناروا الزامات سے اجتناب – معاشرے کو غضب اور نفرین سی محفوظ بنانے کے لئے – قرار دیا؛ اور ترک سرقت – معاشروں اور افراد کی پاکیزگی اور پاکدامنی کا سبب – قرار دیا۔

ریاحین الشّریعة: ج 1، ص 312، فاطمة الزہراء (س﴾ ص 360، خطبہ معروف۔ احتجاج طبرسی ج1۔

47۔شرک کیوں حرام ہے ؟

قالَتْ(علیہا السلام): وَ حَرَّمَ – اللّہ – الشِّرْکَ إخْلاصاً لَہُ بِالرُّبُوبِیَّةِ، فَاتَّقُوا اللّہ حَقَّ تُقاتِہِ، وَ لا تَمُوتُّنَ إلاّ وَ أنْتُمْ مُسْلِمُونَ(1)، وَ أطیعُوا اللّہ فیما أمَرَکُمْ بِہِ، وَ نَہاکُمْ عَنْہُ، فَاِنّہُ، إنَّما یَخْشَى اللّہَ مِنْ عِبادِہِ الْعُلَماءِ۔

فرمایا: خداوند سبحان نے شرک کو (مختلف امور میں ) حرام کر دیا تا کہ سارے لوگ اس کی ربوبیت کے سامنے سرتسلیم خم کریں اور سعادت و خوش بختی کے مقام پر پہنچیں ؛ پس تقوائے الہی اپنانا اور خدا کا خوف رکھنا جیسا کہ تقوائے الہی اور خدا کے خوف کا حق ہے ؛ اور مسلمان ہوئے بغیر مت مرنا چنانچہ جن چیزوں میں تمہیں اللہ نے امر کیا ہے اور جن چیزوں سے تمہیں روکا ہے ان میں اللہ کی اطاعت کرنا کیوں کہ صرف علماء اور دانشمند افراد خدا سے خوف و خشیت رکھتے ہیں ۔

ریاحین الشّریعة: ج 1، ص 312، فاطمة الزہراء (س﴾ ص 360، خطبہ معروف۔ احتجاج طبرسی ج1۔

48۔عترت نبی (ص) کی فرمانبرداری کے ثمرات

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): أمّا وَاللّہِ، لَوْ تَرَکُوا الْحَقَّ عَلى أہْلِہِ وَ اتَّبَعُوا عِتْرَةَ نَبیّہ، لَمّا اخْتَلَفَ فِى اللّہِ اثْنانِ، وَ لَوَرِثَہا سَلَفٌ عَنْ سَلَف، وَ خَلْفٌ بَعْدَ خَلَف، حَتّى یَقُومَ قائِمُنا، التّاسِعُ مِنْ وُلْدِ الْحُسَیْنِ(علیہ السلام)۔

فرمایا: خدا کی قسم اگر انہوں نے حق – یعنی خلافت و امامت – کو اہل حق کے سپرد کیا ہوتا اور عترت رسول (ص) اور اہل بیت (ع) کی پیروی کی ہوتی حتی دو افراد بہی خدا اور دین کے سلسلے میں ایک دوسرے سی اختلاف نہ کرتے اور خلافت و امامت کا عہدہ لائق اور شائستہ افراد سے لائق اور شائستہ افراد کو منتقل ہوتا رہتا اور آخر کار قائم آل محمد ( عجّل اللّہ فرجہ الشّریف، و صلوات اللّہ علیہم اجمعین) کو وا گذار ہوتا جو کہ امام حسین علیہ السلام کے نویں فرزند ہیں ۔

الإمامة والتبصرة: ص 1، بحارالأنوار: ج 36، ص 352، ح 224۔

49۔دسترخوان کے بارہ آداب

قالَتْ (سلام اللہ علیہا): فی المائدة اثنتا عشرة خصلة یجب علی کل مسلم ان یعرفھا اربع فیھا فرض؛ و اربع فیھا سُنَّة و اربع فیھا تأدیب: فامّا الفرض فالمعرفة و الرضا والتسمیة و الشکر؛ و اما السنة فالوضو ء قبل الطعام و الجلوس علی الجانب الایسر و الاکل بثلاث اصابع و لعق الاصابع؛ فامّا التأدیب فاکل بما یلیک و تصغیر اللقمہ و المضغ الشدید وقلة النظر فی وجوہ الناس۔

فرمایا: آداب دسترخوان بارہ ہیں جن کا علم ہر مسلمان کو ہونا لازم ہے ۔ ان میں سے چار چیزیں واجب، چار مستحب اور 4 رعایت ادب کے لئے ہیں ۔ واجبات دسترخوان کچھ یوں ہیں : معرفت رب، رضائے الہی، شکر پروردگار، اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کہنا؛ وہ جو مستحب ہیں یہ ہیں : کھانے سے پہلی وضو کرنا، بائیں پہلو کی جانب بیٹھنا، تین انگلیوں سے لقمہ اٹھانا اور انگلیوں کو چاٹنا اور وہ چار چیزیں جو رعایت ادب کا تقاضا ہیں یہ ہیں : جو کچھ تمہارے سامنے رکھا ہے کھا لینا (اور اپنے سامنے ہی سے کہا لینا)، لقمہ چھوٹا اٹھانا، خوب چبا کر کھا لینا (دسترخوان پر بیٹھے ہوئے ) افراد کی طرف کم ہی دیکھنا (اور انہیں گھور کر مت دیکھنا اور تکنا مت)۔

تحف العقول ص ۹۶۲

1-2 – ایک طرف سے سیدہ (س) نے ابن خطاب سے مخاطب ہو کر فرمایا ہے کہ میں اگر بے گناہوں پر آفت نازل ہونے کو ناپسند نہ کرتی تو بددعا دیتی اور آپ نے کسی ضمیر کا استعمال نہیں کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بی بی سارے ظالمین و غاصبین کے لئے اجتماعی بددعا نہیں دینا چاہتی تھیں ورنہ اس کے نتیجے میں خشک و تر جل کر راکھ ہو جاتا جبکہ بعد کی حدیث میں خلیفہ اول سے مخاطب ہو کر فرماتی ہیں کہ خدا کی قسم میں ہر نماز میں تمہیں بددعا دیتی ہوں اور اس بددعا سے مراد انفرادی بددعا ہے اور بزرگان دین اور انبیاء و اوصیاء کی انفرادی بددعا کا تعلق عام طور پر آخرت سے ہوتا ہے واضح ہے کہ انکی دعا کبھی رد نہیں ہوتی۔

www۔alimamali۔com

 

 

 

 

علامہ اقبال کا حضرت فاطمة الزہراء (س) کی بارگاہ میں ہدیۂ عقیدت(۱)

 

حضرت زہراء (س) کے سارے کمالات یہ تین نسبتیں ہی نہیں ہیں، ان میں ایک نسبت یہ ہے کہ رحمت للعالمین(ص) کی بیٹی ہیں، ایک نسبت یہ کہ شیر خدا کی زوجہ ہیں اور ایک نسبت یہ کہ دو اماموں کی ماں ہیں، یہ تین نسبتیں ہیں۔ یہ تین نسبتیں کل متاعِ حضرت زہراء (س) نہیں ہے یہ ساری میراث نہیں ہے بلکہ حضرت زہراء (س) کے کچھ اور کمالات بھی ہیں یہ میراث ان کمالات کا نتیجہ ہے یعنی کچھ کمالات حضرت زہراء (س) کے ایسے ہیں جنہوں نے حضرت زہراء (س) کو اس قابل بنایا ہے کہ ان تین نسبتوں میں آ جائیں،

بقلم: علامہ سید جواد نقوی

علامہ اقبال کا حضرت فاطمة الزہراء (س) کی بارگاہ میں ہدیۂ عقیدت(۱)

فاطمہ الزہراء (س)اسوہء کاملہ

 

حضرت زہراء (س)کو بعنوانِ اسوہ اور وہ بھی اسوۂ کاملہ پیش کرنا اقبال کی فراست و بصیرت کی علامت ہے یعنی اقبال کی دید حضرت زہراء (س)کی شخصیت کی طرف اسوائیت کی دید ہے۔ پیروانِ دین اسلام و پیروانِ امامت و ولایت کی جانب سے انبیاء کرام و معصومین (ع) اور دیگر ذواتِ مقدسہ کی اسوائیت والا پہلو اکثر موردِ غفلت واقع ہوتا ہے حالانکہ قرآن اور دین اسلام نے اُنہیں بعنوانِ اسوہ پیش کیا ہے جبکہ اس پہلو کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور اس کے بجائے دوسرے پہلوؤں کو زیادہ بیان کیا جاتا ہے۔ معصومین (ؑع) کی زندگیوں کے دوسرے پہلوؤں سے بھی ہر مسلمان اور مومن کو آشنائی ہونی چاہیے لیکن کسی معصوم کی زندگی سے اگر مومن کی زندگی میں کچھ منتقل ہوسکتا ہے تو وہ بابِ اسوہ اور سیرت ہے جب تک معصوم کی زندگیوں کا مطالعہ بعنوانِ اسوہ نہ کیا جائے اس وقت تک فقط معصومین (ع) کی مدح و ثناء کرنے سے ، تحقیقاتِ علمی انجام دینے سے یا تاریخی معلومات اکٹھی کر کے اپنا اظہارِ عقیدت بارگاہِ معصومین میں پیش کرنے سے معصوم کی ذات سے کچھ بھی اس ذات میں منتقل نہیں ہو گا۔ چونکہ اہل ایمان کا عقیدہ ہے بلکہ تمام مسلمین کا بھی یہی عقیدہ ہونا چاہیے کہ خداوند تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام اور آئمہ اطہار (ع) کا واسطہ فیض قرار دیا ہے اور تمام فیوضاتِ ظاہری اور معنوی اُنہی ہستیوں کے توسط سے خداوند تبارک و تعالیٰ نے مخلوق تک پہنچائے ہیں کیونکہ یہ وسائطِ فیضِ خدا ہیں ان کی ذات سے مخلوق تک جو فیض پہنچتے ہیں ان میں سے ہدایت، معرفت اور علم ہے جو مقصدِ بعثت اور مقصدِ خلقتِ معصومین ہے۔ اگر مومن اور مسلمان اس دید سے انبیاء و آئمہ(ع) کو نہ دیکھے تو انبیاء اور آئمہ اس کیلئے واسطۂ فیض و ہدایت کی حیثیت نہیں رکھتے۔

 

بابِ اسوائیت اور بابِ سیرت

 

قرآن مجید میں رسول اللہ (ص) کو خداوند تبارک و تعالیٰ نے بطورِ اسوہ پیش کیا ہے

”لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَة” حَسَنَة”” (سورہ احزاب، آیت ٢١)

حضرت ابراہیم کو خداوند تبارک و تعالیٰ نے بعنوانِ اسوہ پیش کیا اور جن انبیاء کا تذکرہ قرآن میں آیا ہے ان کیلئے اگرچہ اسوہ کا لفظ استعمال نہیں ہوا لیکن وہ بھی اسوہ ہی کے طور پر پیش کئے گئے ہیں یعنی ان کی زندگی کی حکایت

اور ان کے قصص اسوہ کے طور پر پیش کئے گئے ہیں جیسے حضرت موسیٰ کیلئے اسوہ کا لفظ استعمال نہیں ہوا لیکن حضرت موسیٰ کو بھی خداوند تبارک وتعالیٰ نے مخاطبین قرآن کیلئے اسوہ کے طور پر پیس کیا ہے ورنہ قرآن میں حضرت موسیٰ اور عیسیٰ کاتذکرہ نہ آتا اور نہ ہی دیگر انبیاء (ع) کا تذکرہ آتا۔ اسی طرح سے آئمہ اطہار بھی بشریت کیلئے اسوہ ہیں لیکن اگر اسوہ کا عنوان مدّ نظر نہ ہو تو مومن اور امام کا آپس میں ایک عقیدتی تعلق ہونے کے باوجود ہدایت منتقل نہیں ہوتی۔ امام کی طرف سے اُمت کیلئے جو باب کھولا گیا ہے وہ بابِ سیرت ہے یعنی امام یا نبی خداوند تبارک وتعالیٰ کی جانب سے ہدایت انسان کیلئے مبعوث ہوتے ہیں حالانکہ ان کو معاشرے کے اندر اور بھی فراوان مسائل نظر آتے تھے ، لوگوں کے حسب ونسب کا باب بھی کھول سکتے تھے ، علومِ بشری جو انسان نے علمی ترقی کے ذریعے کشف کئے ہیں ان علوم کا باب بھی انسان کے سامنے کھول سکتے تھے اور وہ چیزیں جو لوگوں کے اندر پہلے سے رائج تھیں ان میں بھی معصومین دلچسپی لے کر اُنہیں مزید پھیلا سکتے تھے لیکن آئمہ وانبیاء کو خدائے تعالیٰ نے اُمت کے اندر ایک نیا باب کھولنے کیلئے منصوب کیا وہ نیا باب اُمت کے اندر بابِ ہدایت ہے کہ اور دیگر مسائل چونکہ آئمہ اور انبیاء کی بعثت کے محتاج نہیں ہیں اس لئے اس عنوان سے ان کو مبعوث بھی نہیں کیا۔ اُمت نے بھی معصومین کی نسبت جس باب کو کھلونا ہے وہ بابِ سیرت ہے۔

سیرت کا بند دروازہ بعض دروازے دشمنوں نے بند کرنے کی کوشش کی ہے اور کر رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح سے یہ دروازے بند ہو جائیں جیسے بابِ ولایت یا بابِ حکومت ہے اور اپنی ان کوششوں اور کاوشوں میں وہ بہت حد تک کامیاب ہوئے ہیں لیکن معصومین(ع) کی سیرت کا باب پیروکاروں نے خود بند کر دیا ہے ، یا تو جہالت و نادانی کی وجہ سے یا دیگر اسباب کی بناء پر حالانکہ خدائے تعالیٰ نے بابِ سیرت اس لئے کھولا تھا کہ ان ہستیوں کو عنوانِ اسوہ قبول کیا جائے کیونکہ اسوہ کی نگاہ سے دیکھنے میں اور دیگر نگاہوں سے دیکھنے میں مثلاً فقط عقیدتی نگاہ سے دیکھنے میں بڑا فرق ہے ، جب تک ہم اسوہ کی نگاہ سے اُنہیں نہیں دیکھتے اس وقت تک ایک رہبر، امام اور پیشوا، اُمت کی زندگی میں حضور پیدا نہیں کر سکتا حالانکہ امام کا اُمت کے اندر حضور بہت ضروری ہے۔

حضورِ رہبر سے مراد رہبرانہ حضور ہے یعنی بعنوانِ راہنما ان کی ہدایت اُمت کے اندر موجود ہو کہ جس کی اُمت محتاج ہے۔ ایسی امامت و رہبری اُمت کے کسی کام نہیں آتی جس میں امام اور رہبر، رہبری سے محروم ہو۔ یہ اُمت کو کوشش کرنی ہے ، بعض اُمتوں نے ایسا رویہ اپنایا کہ اگرچہ جسمانی طور پر امام ان کے اندر تھے لیکن اُمت کے رویوں نے حضورِ رہبر اُمت کے درمیان ختم کر دیا یعنی رہبر کو گوشہ نشین کر دیا اور رابطہ ہدایت اس امام کے ساتھ برقرار نہیں کیا۔ مثلاً امیرالمومنین(ع) جسمانی طور پر اُمت کے اندر موجود ہیں لیکن اُمت کا رویہ اپنے امام کے ساتھ اس طرح ہے کہ اُمت نے امام کو بعنوانِ امام و رہبر قبول نہیں کیا یعنی اُمت نے رہبر کو اپنے درمیان سے نکال دیا یا یوں کہیں کہ اُمت نے رہبر و امام کو جلا وطن کر دیا اور اپنے درمیان میں سے اس کا حضور ختم کر دیا اور بلا امامت امام زندگی گزارنے کو ترجیح دی جس سے بہت برے نتائج سامنے آئے جو آج تک اُمت کو بھگتنے پڑ رہے ہیں۔

نبوت و امامت کا حضور اس طرح سے اُمت کا یہ کام ہے کہ وہ امامت اور رہبریت کو اپنے رویہ اور عمل کے ذریعے اپنے اندر حاضر رکھے۔ ممکن ہے امام زندہ اور موجود ہوں اور اُمت میں حاضر ہوں لیکن اُمت ہدایت لینے کی توفیق پیدا نہ کر سکے اور ممکن ہے امام جسمانی طور پر اُمت کے اندر نہ ہوں بلکہ غائب ہوں جس طرح سے زمانۂ غیبت کی وجہ سے جو جسمانی طور پر اُمت میں موجود نہیں ہیں تو اُمت کی ذمہ داری یہ ہے کہ اس نبی یا اس امام کی امامت و رہبری و ہدایت کو اپنے اندر حاضر رکھے بالفاظِ دیگر امام یا نبی کو اپنے اندر حاضر رکھے۔ آج مسلمانوں کے اندر نبی نہیں ہیں، بغیر نبوت کے زندگی بسرکررہے ہیں۔ ختم نبوت کا درحقیقت دقیق فلسفہ یہ ہے کہ پہلے خدا نے نبیوں کے حضور کا سلسلہ اپنے ذمے رکھا ہوا تھا یعنی اُمت کے اندر نبی کا حضور خدا کے ذمے تھا، خدا نے ہر اُمت کے اندر نبی کو حاضر رکھنا تھا لیکن ختم نبوت کے معانی یہ نہیں ہیں کہ یہ ذمہ داری خدا نے اب اُمت کو سونپ دی ہے کہ اب تمہیں نبی کو اپنے اندر حاضر رکھنا ہے۔ ممکن ہے امام یا نبی اُمت کے اندر جسمانی طور پر موجود ہوں لیکن اُمت بصیرت نہ رکھتی ہو اس کی بہت سی مثالیں ہیں ؛ جیسے حضرت نوح اُمت کے اندر خدا کی طرف سے مبعوث ہوئے لیکن اُمت نوح کے ہوتے ہوئے بغیر نوح کے زندگی بسر کر رہی تھی یا اسی طرح سے حضرت لوط کے زمانہ میں اُمت بغیر لوط کے زندگی بسر کر رہی تھی حالانکہ لوط موجود تھے۔ یعنی حضرت لوط کو بعنوانِ رہبر قبول نہیں کیا اس حیثیت سے رہبرانہ حضور محقّق نہیں ہونے دیا گیا اسی طرح دیگر انبیاء بھی ہیں کہ اُمتوں نے ان کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور یہی عمل مسلمانوں کے اندر بھی تکرار ہوا۔

پیغمبر اکرم (ص) کے بعد اُمت نے جو رویہ اپنایا اس کے نتیجے میں اُمت نے امیرالمومنین(ع) کو عنوانِ امام اپنے اندر حاضر ہونے نہیں دیا۔ اس حضور کی راہ میں اُمت کی جہالت، نادانی، سفاہت رکاوٹ بنی اور اسی طرح سے یہ سلسلہ غیبتِ امام تک جاری رہا اگرچہ امام خود جسمانی طور پر اُمت کے اندر موجود تھے ، اُمت وجودِ امام یا حضورِ امام کو محسوس نہیں کر رہی تھی، امام کو بعنوانِ امام قبول کرنا نہیں چاہتی تھی۔ یہی حالت ہمیں آج نظر آتی ہے کہ آئمہ اطہار و انبیائے کرام اُمت کے اندر آج بھی حاضر ہیں لیکن مقدس ہستیوں، شخصیات کے طور پر اور ایسی ہستیوں کے طور پر جن کے متعلق انسان احساسات اور عقیدت و محبت رکھتے ہیں، امام ان عناوین سے اُمت کے اندر حاضر ہیں لیکن اسوہ کے طور پر حاضر نہیں ہیں یعنی اُمت چاہتی ہی نہیں کہ امام اسوہ بن کر ان کے اندر حاضر ہوں یہ اُمت کا عمل ہے اس کو ہم معمولی مثال میں بھی لحاظ کر سکتے ہیں مثلاً آج کی شخصیات جو زندہ ہیں ان کا حضور اُمت کے اختیار میں ہے ، مثلاً فرض کریں کہ ایک بہت علمی شخصیت مجتہد ہے لیکن بعنوانِ مرجع، عوام اور اُمت کے اندر متعارف نہیں ہے ، یہ شخصیت اسی اُمت و قبیلے کا ہے اُنہی کا بیٹا یا بھائی ہے اور اسی قوم سے ہے جسمانی طور پر بعنوانِ فرزند قوم حاضر ہے یا ایک عالم کے طور پر ان کے اندر حاضر ہے لیکن ایک مرجع کے طور پر حاضر نہیں ہے اور مرجع کے طور پر کیوں حاضر نہیں ہے چونکہ اُمت نے اس کو مرجع کے طور پر قبول نہیں کیا لہٰذا اس کا مجتہدانہ حضور نہیں ہے یا ایک عالمِ دین کسی علاقے میں موجود ہے وہ ان کے ہر کام میں شریک ہے ویلفیئر کا کام کرتا ہے ، رفاہی کام بھی کرتا ہے اور ہر قسم کی فعالیت میں شریک ہے لیکن بعنوانِ مبلّغ وہاں اس کی کوئی کارکردگی وسرگرمی نہیں ہے ، یہ شخص بہت سارے عناوین کے تحت اُمت کے اندر حاضر ہے لیکن مبلّغ کے طور پر حاضر نہیں ہے ، بعنوانِ مبلّغ اُمت کے اندر سے غائب ہے ، خواہ نخواہ اس غیبت کے بھی اثرات پڑتے ہیں جس اُمت سے رہبر اور اسوہ غائب ہو اور جس اُمت سے رول ماڈل غائب ہو وہ اُمت اسوہ کے اثرات یا حکمت و ہدایت سے محروم ہو جاتی ہے ، حالانکہ خداوند تبارک و تعالیٰ نے اسی ہدایت کیلئے اُنہیں اسوہ بنا کر بھیجا تھا۔ اقبال کی عالمی بصیرت اقبال پر خداوند تبارک و تعالیٰ نے یہ لطف کیا ہے کہ اُنہیں غیر معمولی بصیرت عطا کی ہے یہ بصیرتیں خدا نے سب کیلئے رکھی ہوئی ہیں لیکن دیتا خدا اُن کو ہے جو اس کے قدردان ہوں، جو اپنی ابتدائی بصیرت کو دُنیاوی چھوٹے اور گھٹیا اُمور میں صرف کر دیں خدا تعالیٰ بصیرتِ برتر ان کو نہیں دیتا لیکن جو اپنے اندر اس گوہر کے قدردان ہوتے ہیں، خدا اُنہیں بصیرتِ برتر و بصیرتِ عظیم عطا کرتا ہے۔ تاریخ بشریت میں انگشت شمار لوگ ہیں جو بصیرتِ برتر کے مالک ہیں۔

عام لوگ وہی معمولی بصیرت کے لوگ ہوتے ہیں علماء میں بھی اکثریت معمولی بصیرت کے حامل لوگ ہیں۔ صاحبانِ بصیرتِ برتر اور خواص کے اندر بھی بہت کم اور انگشت شمار ہیں اور ان میں سے ایک اقبال ہیں۔ اقبال کی یہ نظم جو انہوں نے حضرت سیدہ (س) کی بارگاہ میں بعنوانِ ہدیہ عقیدت پیش کی ہے جس کا عنوان ہی ان کی عالی بصیرت کی دلیل ہے ، اور وہ عنوان یہ ہے : ”در معنیٰ این کہ سیدة نساء فاطمہ الزہرا سلام اﷲ علیہا اسوہ کاملہ است برائے نساء اسلام” اقبال کے نزدیک حضرت زہراء (س) اسوہ ہیں اور کامل اسوہ ہیں، یعنی کیا؟ یعنی اقبال چاہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ(س) کو اُمت کے اندر حاضر کریں، اسوہ یعنی اُمت میں حضرت زہراء (س) کا حضور! یہ حضور اس حضور سے مختلف ہے جو معتقدین، محبّین، مدّاحین اور ذاکرین پیش کرتے ہیں۔ وہ یہ پیش کرتے ہیں کہ ہماری مجلس ہو رہی ہے اور بی بی آئی ہوئی ہیں یہ حضور کہاں ؟ اور وہ حضور جو اقبال چاہ رہے ہیں وہ کہاں ؟ حضور حضرت فاطمہ(س) اُمت میں اقبال جس نقطے سے حضرت زہراء (س) کا حضورِ اُمت چاہ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اُمت خود حضرت فاطمہ الزہراء (س)کو اپنے لئے اسوہ بنائے اور جب تک اُمت اسوائیت کی دید سے حضرت زہراء (س)کو نہیں دیکھتی حق زہرا کسی سے بھی ادا نہیں ہو گا۔ بے شک مدحِ زہراء (س) میں شعر کہیں، مثنویاں کہیں اور اولادِ حضرت زہرا ء کیلئے آنسو بہائیں، جو مرضی ہے کریں لیکن جب تک لوگ حضرت زہراء (س)کو ہدایت کے عملی اسوہ کے طور پر اپنی زندگیوں میں نہیں لاتے ، اپنے معاشرے میں نہیں لاتے اس وقت تک حق زہرا ادا نہیں ہوتا، اس وقت تک حق خدا بھی ادا نہیں ہوتا، یہ جو خدا نے فرمایا: ”وماقدرواﷲحق قدرہ” تم لوگوں نے خدا کی قدر نہیں جانی۔ خدا کی قدر جاننے سے مراد یہ نہیں ہے کہ تم نے یا اللہ یا اللہ تھوڑا کہا ہے بلکہ تھوڑا اور اضافہ کر دو، ذکر و ورد بڑھا دو، نہ، تم نے خدا کی قدر ہی نہیں جانی یہ تمہیں معلوم نہیں کہ خدا کیا ہے اور خدا نے تمہارے لئے کیا کیا ہے ؟ اور تمہیں کس دید اور بصیرت سے خدا کو دیکھنا چاہیے ؟ مثلاً فرض کریں کہ ایک عالم فاضل دانشور انسان کسی اُمت کے اندر جاتا ہے اور وہ اس کو خوب کھانا کھلاتے ہیں، خوب آؤ بھگت کرتے ہیں اس کو ہدیہ و تحفے دیتے ہیں لیکن اس کے علم سے استفادہ نہیں کرتے تو وہاں یہ جملہ صدق کرتا ہے کہ انہوں نے اس کی قدر نہیں جانی۔ اگرچہ اس کو بہت زیادہ احترام بھی دیا لیکن اس کی قدر نہیں جانی، قدرِ عالم یعنی اس کے علم کی قدر، قدرِ امام یعنی اس کی امامت کی قدر ہے اور قدرِ اسوہ یعنی اس کی سیرت کی قدر کو کہتے ہیں لہٰذا جب تک زہرا ء (س) کو بعنوانِ سیرت نہیں اپنائیں گے حضرت زہراء (س) اُمت کے اندر حاضر نہیں ہوں گی۔ حضورِ زہراء (س) کیلئے ضروری ہے کہ آپ کو بعنوانِ اسوہ اپنائیں تاکہ حوزوں میں حضرت زہراء (س) موجود ہوں، گھروں میں حضرت زہراء (س) موجود ہوں، معاشرے میں حضرت زہراء (س) موجود ہوں، آداب ورسوم میں حضرت زہرا ء موجود ہوں اور وہ بھی اسوہ اور رول ماڈل بن کر موجود ہوں، تب ہی کچھ نہ کچھ حق زہراء (س) ادا ہو جائے گا۔ ہیرو اور رول ماڈل میں فرق ہیرو اور رول ماڈل میں یہی فرق ہوتا ہے ، معصومین کو بھی ہیرو کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہیرو اور قہرمان لوگوں کی زندگی میں نہیں ہوتا بلکہ فقط لوگوں کے ذہنوں اور دلوں میں ہوتا ہے ، اس سے محبت کی جاتی ہے اس کے سامنے اظہارِ عقیدت کیاجاتا ہے ، گلہائے عقیدت اس کے سامنے نثار کئے جاتے ہیں چونکہ قہرمان اگر زندگیوں میں آ جائے تو سب ہیرو بن جائیں گے ، سب قہرمان ہوں گے حالانکہ قہرمان اور ہیرو سب نہیں ہوسکتے بلکہ ایک ہی ہوتا ہے ، اس وجہ سے قہرمان کبھی بھی کسی کی زندگی میں نہیں آتا لیکن ذہنوں اور دلوں میں آتا ہے۔ خدا نے معصومین و انبیاء کو قہرمان سے زیادہ اسوہ اور رول ماڈل بنا کر پیش کیا ہے کیونکہ رول ماڈل انسان کی زندگی کا محرم ہے۔ اس کو ان کی زندگیوں کے اندر جانا ہے ان کے جزئی ترین افعال و اعمال کے اندر جانا ہے ، قہرمان نہیں جا سکتا لہٰذا جتنے بھی قہرمان ہیں، مثلاً جو کردار انسان نے خود افسانوی طور پر بنائے ہیں یا یہ جو واقعاً تاریخ میں قہرمان گزرے ہیں ان کی ادا کوئی بھی نہیں اپنا سکا، ان کی کوئی بھی تقلید نہیں کر سکا، ان کی راہ پر کوئی بھی نہیں چل سکا صرف ان کی ستائش کی ہے خواہ وہ افسانوی قہرمان ہوں یا واقعی۔ ہیرو قابل تقلید نہیں ہوتا لیکن اسوہ قابلِ تقلید ہوتا ہے اس لئے ان کو زندگی میں لانا ضروری ہے۔

اقبال اس نظم میں حضرت زہراء (س) کو زندگیوں میں لانا چاہتے ہیں۔ زندگی ممنوعہ علاقہ ظاہر ہے کہ لوگ ہر ایک کو اپنی زندگی میں نہیں آنے دیتے چونکہ سب سے سخت حریم انسان کی اپنی زندگی ہے۔ ہم زندگی سے باہر بہت ساری چیزیں رکھتے ہیں لیکن زندگی کے اندر بہت کم چیزوں کو آنے دیتے ہیں، بہت کم اُمور کو اجازت دیتے ہیں کہ ہماری زندگیوں کے اندر آئیں۔ ہماری دوستیاں اور تعلقات ہوتے ہیں لیکن یہ تعلقات ہماری زندگی کے دائرہ کار سے باہر ہوتے ہیں۔ زندگی میں انسان کسے آنے کی اجازت دیتا ہے ؟ زندگی میں اس کو آنے کی اجازت دیتا ہے جس پر اعتماد ہو، اعتماد بھی اس باب سے ہو کہ اُس کا میری زندگی میں آنا میرے لئے مفید اور ضروری ہے اس وقت اس کو زندگی میں آنے کا موقع دیتا ہے ورنہ ہمیشہ اس کو زندگی سے باہر رکھتا ہے اگرچہ کوئی بھی رشتہ اس کے ساتھ ہو مثلاً بہت سارے لوگ ہیں جو کسی دوست کو اپنی زندگیوں میں آنے دیتے ہیں لیکن اپنے بھائی کو اپنی زندگی میں آنے نہیں دیتے ، کیوں نہیں آنے دیتے ؟ چونکہ دوست سے اُنہیں توقع ہے کہ یہ میرے لئے مفید ہے لیکن بھائی شاید میرے لئے مفید نہیں ہے ، ممکن ہے ایک شخص اپنے اُستاد کو اپنی زندگی میں آنے دے لیکن اپنے والد کو اپنی زندگی میں نہ آنے دے ، کیوں ؟ کیونکہ اس کو باپ پر اعتماد نہیں ہے یا باپ کو یہ اتنا کامل نہیں سمجھتا کہ وہ میری زندگی کو سنوار سکے۔ پس بعض لوگ ہماری زندگیوں میں ہیں لیکن یہ وہ لوگ ہیں جن کے اندر کوئی گوہر و جوہر پایا جاتا ہے ان کو اجازت نہیں ہوتی کہ اندر آئیں، اس لئے اقبال حضرت زہراء (س) کو اُمت کی روزمرہ زندگی میں لانا چاہتے ہیں اور زندگی سے مراد بھی شاعرانہ زندگی نہیں اور نہ ہی ذہنوں اور مجلسوں میں لانا چاہتے ہیں اور نہ ہی فقط مرثیوں اور قصیدوں میں لانا چاہتے ہیں۔

کسی شخص کا میری مدح میں آنا بہت آسان ہے لیکن اس کا میری زندگی میں آنا اور وہ بھی روزمرہ کی زندگی میں آنا یعنی میرے صبح و شام میں وہ موجود ہو یہ بہت اہمیت رکھتا ہے یعنی ایسی شخصیت جس کے ساتھ میں زندگی بسر کروں، اسوہ یعنی ایسا ساتھی جس کو دیکھ کر انسان زندگی بسر کرے اور اس کی کاپی(Copy)کرے ، انسان اُس کے سائے میں رہے لہٰذا اُس کے اندر ایسے گوہر اور خصائل ہونے چاہئیں تاکہ ہم سب اپنی زندگیوں کے دروازے ان کے اوپر کھول دیں، ابھی ہم نے اپنے دروازے ان شخصیات پر نہیں کھولے جن کے عقیدت مند ہیں، اس لئے تو ان کی زندگیوں کی جھلک ہماری زندگیوں میں نظر نہیں آتی، ان کی زندگی دینی اسلامی معیاری زندگی ہے جبکہ ہماری کلچرل زندگی ہے ، ان کی زندگی حقائق کے تابع ہے ہماری زندگی کاذب چیزوں کے تابع ہے ، ان کی زندگی میں اقدار ہیں ہماری زندگی اقدار سے خالی ہے ، ان کی زندگی کے خدا ساختہ اصول ہیں ہماری زندگی میں خود ساختہ اصول ہیں، ان کی زندگی میں نظم ہے ہماری زندگی میں نظم نہیں ہے در حالیکہ ہمارے ذہنوں اور دلوں میں وہ ہیں ہماری زبانوں پر ان کے تذکرے ہیں لیکن ہماری زندگیوں میں داخل نہیں ہیں، ہم نے اپنی زندگیوں کے دروازے آئمہ پر نہیں کھولے اور حضرت زہراء (س) پر نہیں کھولے۔

اقبال پہلے مقامِ حضرت زہراء (س) بیان کرتے ہیں تاکہ اُمت اپنی زندگیوں کے دریچے کھول دے یعنی اعتماد ہو جائے ، خاطر اُمت آسودہ ہو جائے کہ جس شخصیت کو زندگی میں لا رہے ہیں وہ بہت پاکیزہ ہے اگرچہ ہماری زندگیاں یقیناً آلودہ ہیں لیکن ہماری آلودہ زندگیوں میں بھی ہم کسی آلودہ کو نہیں آنے دیتے ، مثلاً اپنی زندگی میں کسی فاسق و فاجر کو نہیں آنے دیتے ، مثلاً ایک چور دوسرے چور کے ساتھ مل کر چوری کرتا ہے لیکن چور کو اپنی زندگی میں داخل نہیں ہونے دیتا۔ جب وہ اس کے گھر آتا ہے تو اس کو پتہ ہے کہ ممکن ہے میری بھی کوئی چیز چرا لے۔ ایک نادان کسی نادان کو اپنی زندگی میں نہیں آنے دیتا، دانا کو اپنی زندگی میں آنے دیتا ہے لہٰذا ہماری زندگیاں بے شک آلودہ ہوں لیکن کوشش یہ کرتے ہیں کہ ان آلودہ زندگیوں میں پاک شخصیات اور پاک ہستیاں داخل ہوں۔ لہٰذا اقبال بھی پہلے حضرت زہراء (س)کا مقامِ طہارت و پاکیزگی اور عظمت کو بیان کرتے ہیں تاکہ خود ہی دروازے کھل جائیں اور کوئی کھٹکا و خدشہ ہمارے ذہن میں نہ ہو کہ کونسی شخصیت ہماری طرف آ رہی ہے۔ حضرت مریم(س) اور حضرت زہراء (س) کا مقام مریم از یک نسبتِ عیسیٰ عزیز از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز جنابِ مریم بہت باعظمت اور پاکیزہ خاتون ہیں، عموماً کتابوں، منبروں اور محفلوں میں ہم معصومین کے درمیان تقابل کر کے اس تقابل کے نتیجے میں اپنی مد نظر شخصیت کو بڑھانے کیلئے دوسرے معصوم کو نیچا دکھا کر کہتے ہیں کہ یہ بہت عظیم ہیں اور اس سے ہمیں خوشی ہوتی ہے ، حالانکہ اقبال یہ کام نہیں کر رہے ہیں چونکہ مریم اسوۂ قرآنی و الٰہی ہے ، خدا نے مریم کو بعنوانِ اسوہ متعارف کروایا ہے۔ مریم ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں کہ خداوند تبارک و تعالیٰ نے قصہ مریم بتانا شروع کر دیا کہ مریم پیدا کیسے ہوئی، دُنیا میں کیسے آئی؟ والدین کیسے تھے ؟ کس طرح سے والدین کی نگاہ بچوں کی طرف ہو؟ لہٰذا یہ عمل ہر گز انجام نہ دیں کہ حضرت زہراء (س) کی خاطر ہم حضرت مریم کا مقام معاذ اللہ چھوٹا اور ناقص ثابت کریں، نہ حضرت مریم بھی اسوۂ کاملہ ہیں۔ انسانیت کے درجات ہیں اگر ایک شخصیت درجہ اعلیٰ پر موجود ہے تو اس کے معانی یہ نہیں ہیں کہ چھوٹے یا نچلے درجے پر جو ہے اس کو ناقص ثابت کریں تاکہ بالاتر درجے کا مقام ثابت ہو، حضرت مریم اسوۂ کاملہ ہیں۔ حضرت زہراء (س) کا اسوہ ہونا حضرت مریم سے برتر ہے۔ نہ اس وجہ سے کہ حضرت مریم میں کوئی نقص ہے ، بلکہ حضرت زہراء (س) میں فراوان کمالات ہیں، لہٰذا پہلے وہ اسوہ اقبال پیش کرتے ہیں کہ جو قرآن نے پیش کیا، یعنی مریم جو ایک مسلّم اسوہ ہیں، حضرت زہراء (س) کی عظمت اور مقام بیان کرنے کیلئے اقبال نے ایک مسلم قرآنی و الٰہی اسوہ پہلے چنا ہے اور ان کو پیش کر کے کہا کہ مریم کے بارے میں کسی کو شک و شبہ نہیں ہے کہ اسوہ ہے چونکہ مریم وہ ہستی ہیں جن کی عصمت پر قرآن میں اور آسمانی کتابوں میں گواہی دی گئی ہے ، کمالات اور فضائل مریم اس قدر با عظمت ہیں کہ انبیاء تحت تاثیر مریم ہیں، انبیاء مریم سے متاثر ہیں۔ حضرت زکریا جن کو خدا نے مریم (ع) کا کفیل بنایا۔ مریم بھی بھرپور جوانی میں بھی نہیں آئی، نوجوانی میں اس قدر پاکیزہ اور باکمال ہیں کہ زکریا مریم سے متاثر ہیں اور مریم سے الہام لیتے ہیں، نبی خدا مریم سے الہام لیتے ہیں۔ قرآن کا مشہور واقعہ ہے کہ جب حضرت زکریا (س) محراب میں داخل ہوئے اگرچہ کفیل اور ذمہ دار تھے ، لیکن جب حضرت زکریا محراب میں وارد ہوئے ، دیکھتے ہیں کہ مریم کے پاس پہلے سے آثار موجود ہیں، نہ صرف یہ کہ کوئی ڈش پڑی ہوئی ہے ، ہم بہت سادہ معنی لیتے ہیں فقط مادّی اور ظاہری مظاہر دیکھتے ہیں، یہ سب سے ادنیٰ مرتبہ ہے کہ آپ کے پاس کھانا موجود ہوتا تھا، حضرت زکریا بہت ساری اور چیزیں بھی دیکھتے تھے اور جب بھی جاتے تھے حیرت زدہ ہو جاتے تھے کہ یہ سب کچھ کہاں سے ہوتا ہے۔ بچی سے سوال کیا کہ یہ سب کہاں سے آیا ہے یہ آپ کو کہاں سے میسر ہوا ہے ؟ حضرت مریم نے فرمایا کہ یہ سب کچھ خدا کی طرف سے آیا ہے اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ صرف یہ میرے لئے نہیں ہے ، خدا فقط میرا خدا نہیں ہے ، یا میں ہی فقط اس عالم میں مستحق فیض خدا نہیں ہوں بلکہ کہا خدا جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ اس وقت حضرت زکریا گئے اور بارگاہِ خدا میں جا کر دُعا کی کہ پروردگارا! مجھے بھی دیدے اور خداوند تبارک و تعالیٰ سے جو فرزند مانگا وہ حضرت یحییٰ تھے۔ پس مریم ایک اسوۂ کاملہ ہیں لیکن حضرت زہرا ء برتر اسوہ ہیں یعنی مقاماتِ حضرت زہراء (س) مقاماتِ حضرت مریم سے برتر ہیں۔ مریم از یک نسبتِ عیسیٰ عزیز از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز علامہ اقبال نے حضرت مریم کی ایک نسبت جبکہ حضرت زہراء (س) کے لئے تین نسبتیں بیان فرمائی ہیں۔ یہ حقیقی فضائل ہیں علماء جب فضائل کو تقسیم کرتے ہیں تو فضائل کی چند قسمیں کرتے ہیں، ایک قسم فضائل نفسی ہیں اور دوسری قسم فضائل نسبی ہیں۔ فضائل نفسی وہ ہیں جو کسی شخصیت کے اندر ذاتی طور پر موجود ہیں کسی کی طرف اسے نسبت دئیے بغیر اس کے اندر یہ فضائل موجود ہیں یعنی کسی نسبت سے اس نے یہ فضیلت کسب نہیں کی۔ بلکہ اگر تمام عالم اور ماسوا سے اسے ہٹا کر فقط اس کو دیکھا جائے تو اس کے اندر یہ فضیلت موجود ہے ، کسی چیز سے آپ موازنہ نہ کریں، کسی بھی چیز سے تقابل نہ کریں، صرف اسی کو دیکھیں اب ممکن ہے اس کے اندر کوئی حسن موجود ہو، اگر کوئی حسن اور خوبی اس کے اندر موجود ہو تو اس خوبی کو کہیں گے کہ یہ اس کی نفسی خوبی ہے یعنی اس کی ایسی خوبی ہے جو کسی چیز سے منسوب کرنے کے نتیجے میں اس میں پیدا نہیں ہوئی۔

لیکن ایک خوبی اس میں یہ ہے کہ اس کا کسی سے مقائسہ اور موازنہ کریں اور اس کے ساتھ لحاظ کرتے ہوئے اس میں یہ وصف پایا جاتا ہے ، مثلاً جس چیز سے یہ بنی ہوئی ہے یا جس معمار یا کاریگر نے اس کو بنایا ہے اس چیز سے اس کو نسبت دے کر کہے کہ اس کا بنانے والا بہت خوب ہے ، ظاہر ہے جس چیز کا بنانے والا خوب ہے وہ چیز اس کی وجہ سے ایک قیمت اور اعتبار اپنے اندر پیدا کر دیتی ہے۔ مثلاً معمولی لکڑی سے بنا ہوا فرنیچر ہو لیکن بنانے والا بہت ہی مشہور کاریگر ہو اس فرنیچر کے اندر ایک قیمت آ جاتی ہے چونکہ بنانا والا معروف ہے ، جس طرح سے آج کل وہ کمپنیاں جو بہت مشہور ہیں اور جن کا اعتبار ہے وہ اگر بہت معمولی چیز بھی بنا دیں تواس کی بہت ہی قیمت ہوتی ہے اگرچہ اس چیز کے اندر خود کوئی قیمتی چیز نہیں ہے لیکن اس نے وہاں سے حیثیت حاصل کی ہے اور کسب کی ہے۔ پس کچھ صفات وہ ہیں جو کسی سے نسبت دئیے بغیر شے کے اندر پیدا ہوتی ہیں اور کچھ صفات ایسی ہیں جو دوسری چیز کے ساتھ نسبت دینے سے اس کے اندر لحاظ ہوتی ہیں۔

حضرت زہراء (س) اور حضرت مریم میں دونوں طرح کی صفات اور فضائل ہیں وہ فضائل بھی جو کسی اور سے منسوب ہونے کی وجہ سے ان میں پائے جاتے ہیں یہ بھی حقیقی فضائل ہیں مجازی نہیں ہیں اور وہ فضائل بھی پائے جاتے ہیں جو کسی سے منسوب ہوئے بغیر خود ان کی ذات کے اندر موجود ہیں ان کو کسی اور سے منسوب کریں یا نہ کریں۔ مریم از یک نسبت عیسیٰ عزیز مریم کو اگر ایک عیسیٰ سے نسبت دے کر دیکھیں تو مریم بہت با عظمت ہے ، کیوں ؟ اس لئے کہ نبی خدا کی ماں ہونا، یہ ایک صفت ہے جو عیسیٰ کے ساتھ منسوب کرنے سے حضرت مریم میں آئی ہے ، اس وصف کو ایک لحظہ کیلئے اگر ہم الگ کر دیں اور حضرت مریم کو نہ حضرت عیسیٰ سے قیاس کریں اور نہ زکریا سے اور نہ ہی کسی اور سے ، صرف حضرت مریم کو دیکھیں کہ حضرت مریم کی ذات میں عیسیٰ کی ماں ہونے کے علاوہ بھی کوئی کمال پایا جاتا ہے یا نہیں ؟ درحقیقت مریم کو جو خدا نے چنا کہ یہ عیسیٰ کی ماں بنے وہ اس وجہ سے نہیں تھا کہ عیسیٰ سے منسوب ہونے سے باکمال خاتون بن جائے گی۔ بلکہ پہلے مریم میں کمالات رکھے تاکہ عیسیٰ کی ماں بننے کے قابل ہو جائے ، پہلے کمالاتِ نفسی اور کمالاتِ ذاتی مریم میں آئے ، ان کمالات کے نتیجے میں نسبی کمالات پیدا ہوئے ، یعنی ہر خاتون عیسیٰ کی ماں بننے کے قابل ہو وہ معجزۂ خدا کا مظہر بن سکے۔ پس پہلے کمالاتِ نفسی ہیں، حضرت مریم کے اندر موجود کمالاتِ نفسیہ نے حضرت مریم کو اس قابل بنایا کہ عیسیٰ سے نسبت برقرار ہو جائے ، عیسیٰ سے نسبت برقرار ہونے سے ایک اور کمال حضرت مریم کے اندر آیا۔ اسی طرح سے حضرت زہراء (س) کے سارے کمالات یہ تین نسبتیں ہی نہیں ہیں، ان میں ایک نسبت یہ ہے کہ رحمت للعالمین(ص) کی بیٹی ہیں، ایک نسبت یہ کہ شیر خدا کی زوجہ ہیں اور ایک نسبت یہ کہ دو اماموں کی ماں ہیں، یہ تین نسبتیں ہیں۔ یہ تین نسبتیں کل متاعِ حضرت زہراء (س) نہیں ہے یہ ساری میراث نہیں ہے بلکہ حضرت زہراء (س) کے کچھ اور کمالات بھی ہیں یہ میراث ان کمالات کا نتیجہ ہے یعنی کچھ کمالات حضرت زہراء (س) کے ایسے ہیں جنہوں نے حضرت زہراء (س) کو اس قابل بنایا ہے کہ ان تین نسبتوں میں آ جائیں، اس وجہ سے روایات میں ہے کہ خداوند تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اگر حضور(ص) کی ذات نہ ہوتی تو میں یہ عالم خلق نہ کرتا اور اگر زہراء (س) کو خلق نہ کرتا تو میں آپ کو بھی خلق نہ کرتا، اس قسم کی روایات درحقیقت یہی بتانا چاہتی ہیں کہ درحقیقت اسوائیت کیلئے نسبی کمالات کافی نہیں ہیں، مثلاً حضرت مریم، عیسیٰ کی والدہ ہیں پس اسوہ ہیں مومنین کیلئے ، یعنی کیا؟ یعنی یہ کہ اب مائیں یا عام خواتین حضرت عیسیٰ کی ماں بنیں ؟ کیا اسوائیت کا یہ معنی ہے کہ ساری خواتین عیسیٰ کی ماں بنیں ؟ نہ یہ نہیں ہوسکتا، عیسیٰ کی ماں صرف ایک اور وہ مریم ہے۔ پس کب خواتین مریم کی اتباع کر سکتی ہیں ؟ کب خواتین مریم کو اسوہ بنا سکتی ہیں ؟ ان صفات کی بناء پر جن صفات کی وجہ سے مریم اس قابل ہوئیں کہ عیسیٰ کی ماں بن سکیں یعنی خواتین اپنے اندر وہ صفات پیدا کریں تاکہ ان سے بھی حضرت عیسیٰ جیسے بچے پیدا ہوں، پاک و پاکیزہ بچے پیدا ہوں۔ جیسے موسیٰ کی والدہ کو خدا نے وہ حیثیت دی کہ موسیٰ جیسی شخصیت پیدا ہوئی اور موسیٰ جیسی شخصیت کو اس ماں نے تربیت کیا اور وہ سارے دکھ اور درد اس ماں نے جھیلے۔ ایسی مائیں جن کا بچہ ہاسٹل میں رہتا ہے اُنہیں گھر میں نیند نہیں آتی جبکہ ان کو پتہ ہے کہ ان سے بہتر زندگی یہاں گزار رہا ہے لیکن ایک ماں ہے جو اپنے شیر خوار بچے کو تابوت میں بند کر کے دریا کے حوالے کر دیتی ہے ، کیا ایسی ماں کی فقط یہ عظمت ہے کہ یہ موسیٰ کی ماں ہے ؟نہ، اس کی عظمت کا اندازہ کوئی بھی نہیں کر سکتا، یہ جو کام کر رہی ہے یہی بتاتا ہے کہ بہت بڑی اور با عظمت خاتون ہے ، اپنے لخت جگر کو اپنے ہاتھ سے تابوت میں بند کر رہی ہے اور خدا پر بھروسہ اور وعدۂ خدا پر یقین کر کے بچے کو دریا کے حوالے کر رہی ہے یہ باکمال خاتون ہے ، اس لئے خدا نے اس کو انتخاب کیا کہ موسیٰ اس کے بطن سے پیدا ہوا۔ وہاں اور بھی بہت سی خواتین تھیں کسی اور خاتون سے کوئی بچہ پیدا ہو جائے ، نہ۔

حضرت زہراء (س) کی یہ تین نسبتیں اس وجہ سے ہیں چونکہ زہراء (س) اس قابل ہے کہ ان تین نسبتوں سے منسلک ہوسکیں، خاتونِ جنت بن سکتی ہیں۔ کیوں بن سکتی ہیں ؟ ذاتی اور اندرونی کمالات کی وجہ سے بن سکتی ہیں۔ ہم سارا چرچا فقط اُن کمالات کا کرتے ہیں جو نسبی کہلاتے ہیں، دوسرے یہ کہتے ہیں کہ اگر نبی (ص) کی بیٹی اور رشتہ دار ہونا مہم ہے تو نبی کی اور بھی بیٹیاں شمار کرتے ہیں کہ وہ بھی ان کی بیٹیاں تھیں، یا نبی کی ازواج کو بھی اتنی عظمت حاصل ہونی چاہیے ، نبی (ص) کے تمام رشتہ دار، خالہ، پھوپھی، وہ بھی رشتہ دار ہیں اگر رشتوں ہی سے سب کچھ حاصل ہوتا ہے تو سب رشتے ایک جیسے ہونا چاہئیں یہ نسبتیں کمالاتِ نفسیہ کا نتیجہ ہیں نہ کمالاتِ نسبیہ کا، لیکن ان کو اقبال کیوں پیش کر رہے ہیں ؟ اس لئے کہ یہ تین نسبتیں اگر جمع کریں تو ان تین نسبتوں کے اندر ساری دُنیا کے کمالات سمائے ہوئے ہیں، سارے کمالات ان تین نسبتوں کے اندر موجود ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ ان جملہ کمالات میں سے فقط تین نسبتیں ذکر کی ہیں، بلکہ ان تین نسبتوں کا تذکرہ درحقیقت تمام کمالات کا تذکرہ ہے۔ مولانا روم کے بقول کہ پیغمبر اکرم (ص) کے تذکرہ فقط آپ (ص) کا تذکرہ نہیں ہے بلکہ آپ(ص) کا تذکرہ تمام انبیاء کا تذکرہ ہے۔ ذکرِ احمد(ص) نامِ جملہ انبیاء است چون صد آمد نود ہم پیش ماست جب ہم احمد (ص) کہتے ہیں تو گویا ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء (ع) کا ذکر کرتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی شخصیت جامع ترین ہے اسی طرح ان تین نسبتوں کے آنے سے ان کے اندر سب کمالات آ جاتے ہیں کیونکہ ایک طرف رسولِ اکرم (ص)، ایک طرف امیرالمومنین(ع)اور ایک طرح حسنین تمام کمالات ان تین رشتوں کے اندر پروئے ہوئے ہیں۔

www۔abna۔ir

 

 

 

 

شہادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا

 

               نام اور القاب

 

آپا کا نام نامی فاطمہ اور مشہور لقب زہرا، سیدۃ النساء العلمین، راضیۃ، مرضیۃ، شافعۃ، صدیقہ، طاھرہ، زکیہ، خیر النساء اور بتول ہیں۔

               کنیت

آپ کی مشہور کنیت ام الآئمۃ، ام الحسنین، ام السبطین اور امِ ابیہا ہے۔ ان تمام کنیتوں میں سب سے زیادہ حیرت انگیز ام ابیھا ہے ، یعنی اپنے باپ کی ماں، یہ اس لقب کے لفظی معنی ہیں۔ یہ لقب اس بات کا ترجمان ہے کہ آپ اپنے والد بزرگوار کو بے حد چاہتی تھیں اور کمسنی کے باوجود اپنے بابا کی روحی اور معنوی پناہ گاہ تھیں۔

پیغمبر اسلام(ص) نے آپ کو ام ابیھا کا لقب اس لئے دیا ۔ کیونکہ عربی میں اس لفظ کے معنی، ماں کے علاوہ اصل اور مبداء کے بھی ہیں یعنی جڑ اور بنیاد۔ لہذا اس لقب( ام ابیھا) کا ایک مطلب نبوت اور ولایت کی بنیاد اور مبدا بھی ہے۔ کیونکر یہ آپ ہی کا وجود تھا، جس کی برکت سے شجرہ ٴ امامت و ولایت نے فروغ پایا اور نبی خدا کو ابتریت کے طعنہ سے بچایا۔

               والدین

آپ کے والد ماجد ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی(ص) اور والدہ ماجدہ حضرت خدیجہ بنت خویلد ہیں۔ آپ کے والد کی شان اقدس بھلا کون بیان کر سکتا ہے۔ آپ کے والد ختم المرسلین، حبیب خدا اور محسن انسانیت ہیں جنکے اوصاف و کمالات لکھنے سے قلم عاجز ہیں۔ فصحاء و بلغاء عالم، جس کے محاسن کی توصیف سے ششدر ہیں۔

اور آپ کی والدہ ماجدہ، جناب خدیجہ بنت خویلد جو قبل از اسلام قریش کی سب سے زیادہ با عفت اور نیک خاتون تھیں۔ وہ عالم اسلام کی سب سے پہلی خاتون تھیں جو خورشید اسلام کے طلوع کے بعد حضرت محمد مصطفی(ص) پر ایمان لائیں اور اپنا تمام مال دنیا فروغ اسلام کے لئے اپنے شوہر کے اختیار میں دے دیا۔ تاریخ اسلام، حضرت خدیجہ(س) کی پیغمبر اسلام(ص) کے ساتھ وفاداری اور فدا کاری کو ہرگز نہیں بھلا سکتی۔ یہی وجہ تھی جب تک آپ زندہ رہیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کوئی دوسری شادی نہیں کی اور ہمیشہ آپ کی عظمت کا قصیدہ پڑھا۔ حضرت فاطمہ زہراء(س) ایسی والدہ اور والد کی آغوش میں پرورش پائی۔

               ولادت

مستند روایات کی روایات کی بنیاد پر آپ کی ولادت بعثت کے پانچویں سال ۲۰ جمادی الثانی، بروز جمعہ مکہ معظمہ میں ہوئی۔

               بچپن اور تربیت

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پانچ برس تک اپنی والدہ ماجدہ حضرت خدیجۃ الکبری کے زیر سایہ رہیں اور جب بعثت کے دسویں برس خدیجۃ الکبریٰ علیہا السّلام کا انتقال ہو گیا تو آپ نے صرف اپنے بابا کے سایہ رحمت میں تربیت پائی۔ پیغمبر اسلام کی اخلاقی تربیت کا آفتاب تھا جس کی شعاعیں براہ راست اس بے نظیر گوہر کی آب و تاب میں اضافہ کر رہی تھیں۔

جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا کو اپنے بچپن میں بہت سے ناگوار حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ پانچ سال کی عمر میں سر سے ماں کا سایہ اٹھ گیا۔ اب باپ کے زیر سایہ زندگی شروع ہوئی تو اسلام کے دشمنوں کی طرف سے رسول کو دی جانے والی اذیتیں سامنے تھیں۔ کبھی اپنے بابا کے جسم مبارک کو پتھروں سے لہو لہان دیکھتیں تو کبھی سنتی کے مشرکوں نے بابا کے سر پر کوڑا ڈال دیا۔ کبھی سنتیں کہ دشمن بابا کے قتل کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ مگر اس کم سنی کے عالم میں بھی سیّدہ عالم نہ ڈریں نہ سہمیں نہ گھبرائیں بلکہ اس ننھی سی عمر میں اپنے بزرگ مرتبہ باپ کی مددگار بنی رہیں۔

               حضرت فاطمہ(س) کی شادی

یہ بات شروع سے ہی سب پر عیاں تھی کہ علی(ع) کے علاوہ کوئی دوسرا دختر رسول(ص) کا کفو و ہمتا نہیں ہے۔ مورخین لکھتے ہیں کہ : آپ تین مرتبہ رسول اکرم(ص) کے گھر گئے لیکن اپنی بات نہ کہہ سکے۔ آخر کار تیسری مرتبہ پیغمبر اکرم(ص) نے پوچھ ہی لیا : اے علی کیا کوئی کام ہے ؟

حضرت امیر(ع) نے جواب دیا : جی، رسول اکرم(ص) نے فرمایا : شاید زہراء سے شادی کی نسبت لے کر آئے ہو ؟ حضرت علی(ع) نے جواب دیا، جی۔ چونکہ مشیت الٰہی بھی یہی چاہ رہی تھی کہ یہ عظیم رشتہ قائم ہو لہذا حضرت علی(ع) کے آنے سے پہلے ہی رسول اکرم(ص) کو وحی کے ذریعہ اس بات سے آگاہ کیا جا چکا تھا۔ بہتر تھا کہ پیغمبر(ص) اس نسبت کا تذکرہ زہرا(س) سے بھی کرتے لہذا آپ نے اپنی صاحب زادی سے فرمایا : آپ، علی(ع) کو بہت اچھی طرح جانتیں ہیں۔ وہ سب سے زیادہ میرے نزدیک ہیں۔ علی(ع) اسلام کے اولین خدمت گاروں اور با فضیلت افراد میں سے ہیں، میں نے خدا سے یہ چاہا تھا کہ وہ تمھارے لئے بہترین شوہر کا انتخاب کرے۔

اور خدا نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں تمہاری کی شادی علی(ع) سے کر دوں تمہاری کیا رائے ہے ؟

حضرت زہراء(س) خاموش رہیں، پیغمبر اسلام(ص) نے آپ کی خاموشی کو آپ کی رضا مندی سمجھا اور خوشی کے ساتھ تکبیر کہتے ہوئے وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ پھر حضرت علی (ع) کو شادی کی بشارت دی۔ حضرت فاطمہ زہرا(س) کا مہر ۴۰ مثقال چاندی قرار پایا اور اصحاب کے ایک مجمع میں خطبہ نکاح پڑھا دیا گیا۔

قابل غور بات یہ ہے کہ شادی کے وقت حضرت علی(ع) کے پاس ایک تلوار، ایک ذرہ اور پانی بھرنے کے لئے ایک اونٹ کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا، پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا : تلوار کو جہاد کے لئے رکھو، اونٹ کو سفر اور پانی بھرنے کے لئے رکھو لیکن اپنی زرہ بیچ ڈالو تاکہ۔ رسول اکرم(ص) نے جناب سلمان فارسی سے کہا : اس زرہ کو بیچ دو۔ جناب سلمان نے اس زرہ کو پانچ سو درھم میں بیچا۔ پھر ایک دنبہ ذبح کیا اور اس شادی کا ولیمہ ہوا۔ جھیز کا وہ سامان جو دختر رسول اکرم(ص) کے گھر لایا گیا تھا، اس میں چودہ چیزیں تھی۔

شہزادی عالم، زوجہ علی(ع)، فاطمہ زہراء(ع) کا بس یہی مختصر سا جہیز تھا۔ رسول اکرم(ص) اپنے چند با وفا مہاجر اور انصار اصحاب کے ساتھ اس شادی کے جشن میں شریک تھے۔ تکبیروں کی آوازوں سے مدینہ کی گلیوں اور کوچوں میں ایک خاص روحانیت پیدا ہو گئی تھی اور دلوں میں سرور و مسرت کی لہریں موج زن تھیں۔ پیغمبر اسلام(ص) اپنی صاحبزادی کا ہاتھ حضرت علی(ع) کے ہاتھوں میں دے کر اس مبارک جوڑے کے حق میں دعا کی اور انھیں خدا کے حوالے کر دیا۔ اس طرح کائنات کے سب سے بہتر جوڑے کی شادی کے مراسم نہایت سادگی سے انجام پائے۔

               حضرت فاطمہ(س) کا اخلاق و کردار

حضرت فاطمہ زہرا اپنی والدہ گرامی حضرت خدیجہ کی والا صفات کا واضح نمونہ تھیں جود و سخا، اعلیٰ فکر اور نیکی میں اپنی والدہ کی وارث اور ملکوتی صفات و اخلاق میں اپنے پدر بزرگوار کی جانشین تھیں۔ وہ اپنے شوہر حضرت علی(ع) کے لئے ایک دلسوز، مہربان اور فدا کار زوجہ تھیں۔ آپ کے قلب مبارک میں اللہ کی عبادت اور پیغمبر کی محبت کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ زمانہ جاہلیت کی بت پرستی سے آپ کوسوں دور تھیں۔ آپ نے شادی سے پہلے کی ۹ سال کی زندگی کے پانچ سال اپنی والدہ اور والد بزرگوار کے ساتھ اور ۴ سال اپنے بابا کے زیر سایہ بسر کئے اور شادی کے بعد کے دوسرے نو سال اپنے شوہر بزرگوار علی مرتضیٰ(ع) کے شانہ بہ شانہ اسلامی تعلیمات کے فروغ، سماجی خدمات اور خانہ داری میں گزارے۔ آپ کا وقت بچوں کی تربیت گھر کی صفائی اور عبادت خدا میں گزرتا تھا۔ فاطمہ(س) اس خاتون کا نام ہے جس نے اسلام کے مکتب تربیت میں پرورش پائی تھی اور ایمان و تقویٰ آپ کے وجود کے ذرات میں گھل مل چکا تھا۔

               حضرت فاطمہ (س) کا نظام عمل

حضرت فاطمہ زہرا نے شادی کے بعد جس نظام زندگی کا نمونہ پیش کیا وہ خواتین کے لئے ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ گھر کا تمام کام اپنے ہاتھ سے کرتی تھیں۔ جھاڑو دینا، کھانا پکانا، چرخہ چلانا، چکی پیسنا اور بچوں کی تربیت کرنا۔ یہ سب کام اور ایک اکیلی سیدہ لیکن نہ تو کبھی تیوریوں پر بل پڑے اور نہ کبھی اپنے شوہر حضرت علی علیہ السّلام سے اپنے لیے کسی مددگار یا خادمہ کے انتظام کی فرمائش کی۔ ایک مرتبہ اپنے پدر بزرگوار حضرت رسولِ خدا سے ایک کنیز عطا کرنے کی خواہش کی تو رسول نے بجائے کنیز عطا کرنے کے وہ تسبیح تعلیم فرمائی جو تسبیح فاطمہ زہرا کے نام سے مشہور ہے ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر، 33 مرتبہ الحمد اللہ اور 33 مرتبہ سبحان اللہ۔ حضرت فاطمہ اس تسبیح کی تعلیم سے اتنی خوش ہوئی کہ کنیز کی خواہش ترک کر دی۔ بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والیہ وسلم نے بلا طلب ایک کنیز عطا فرمائی جو فضہ کے نام سے مشہور ہے۔ جناب سیّدہ اپنی کنیز فضہ کے ساتھ کنیز جیسا برتاؤ نہیں کرتی تھیں بلکہ اس سے ایک برابر کے دوست جیسا سلوک کرتی تھیں ۔ وہ ایک دن گھر کا کام خود کرتیں اور ایک دن فضہ سے کراتیں۔ اسلام کی تعلیم یقیناً یہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں زندگی کے جہاد میں مشترک طور پر حصہ لیں اور کام کریں ۔ بیکار نہ بیٹھیں مگر ان دونوں میں صنف کے اختلاف کے لحاظ سے تقسیم عمل ہے۔ اس تقسیم کار کو علی علیہ السّلام اور فاطمہ نے مکمل طریقہ پر دُنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ گھر سے باہر کے تمام کام اور اپنی قوت بازو سے اپنے اور اپنے گھر والوں کی زندگی کے خرچ کا سامان مہیا کرنا علی علیہ السّلام کے ذمہ تھا اور گھر کے اندر کے تمام کام حضرت فاطمہ زہرا انجام دیتی تھیں۔

               فاطمہ زہرا(س) اور پیغمبر اسلام

حضرت فاطمہ زہرا (س) کے اوصاف و کمالات اتنے بلند تھے کہ ان کی بنا پر رسول(ص) فاطمہ زہرا (س) سے محبت بھی کرتے تھے اور عزت بھی۔ محبت کا ایک نمونہ یہ ہے کہ جب آپ کسی غزوہ پر تشریف لے جاتے تھے تو سب سے آخر میں فاطمہ زہرا سے رخصت ہوتے تھے اور جب واپس تشریف لاتے تھے تو سب سے پہلے فاطمہ زہرا سے ملنے کے لئے جاتے تھے ۔

اور عزت و احترام کا نمونہ یہ ہے کہ جب فاطمہ(س) ان حضور کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپ تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے ۔ رسول کا یہ برتاؤ فاطمہ زہرا کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ نہ تھا ۔

               حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پیغمبر(ص) کی نظر میں

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے لاتعداد روایات اور احادیث نقل کی گئی ہیں جن میں چند ایک یہ ہیں۔

” فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہیں ”

” آپ بہشت میں جانے والی عورتوں کی سردار ہیں۔ ”

” ایما ن لانے والی عورتوں کی سردار ہیں ۔”

” تما م جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں ”

” آپ کی رضا سے اللہ راضی ہوتا ہے اور آپ کی ناراضگی سے اللہ ناراض ہوتا ہے ”

” جس نے آپ کو ایذا دی اس نے رسول کو ایذا دی”

               حضرت فاطمہ زہرا(س) کی وصیتیں

حضرت فاطمہ زہرا(س) نے خواتین کے لیے پردے کی اہمیت کو اس وقت بھی ظاہر کیا جب آپ دنیا سے رخصت ہونے والی تھیں ۔ اس طرح کہ آپ ایک دن غیر معمولی فکر مند نظر آئیں ۔ آپ کی چچی(جعفر طیار(رض) کی بیوہ) اسماء بنتِ عمیس نے سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے جنازہ کے اٹھانے کا یہ دستور اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ عورت کی میّت کو بھی تختہ پر اٹھایا جاتا ہے جس سے اس کا قد و قامت نظر اتا ہے ۔ اسما(رض) نے کہا کہ میں نے ملک حبشہ میں ایک طریقہ جنازہ اٹھانے کا دیکھا ہے وہ غالباً آپ کو پسند ہو۔ اس کے بعد انھوں نے تابوت کی ایک شکل بنا کر دکھائی اس پر سیّدہ عالم بہت خوش ہوئیں

اور پیغمبر کے بعد صرف ایک موقع ایسا تھا کہ اپ کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی چنانچہ آپ نے وصیّت فرمائی کہ آپ کو اسی طرح کے تابوت میں اٹھایا جائے ۔ مورخین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلی جنازہ جو تابوت میں اٹھا ہے وہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا تھا۔ ا سکے علاوہ آپ نے یہ وصیت بھی فرمائی تھی کہ آپ کا جنازہ شب کی تاریکی میں اٹھایا جائے اور ان لوگوں کو اطلاع نہ دی جائے جن کے طرز عمل نے میرے دل میں زخم پیدا کر دئے ہیں۔ سیدہ ان لوگوں سے انتہائی ناراضگی کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔

               شہادت

ایک روایت کے مطابق تیرہ جمادی الاول شہزادی کونین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا یوم شہادت ہے آپ کی وصیّت کے مطابق آپ کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا ۔حضرت علی علیہ السّلام نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا ۔ صرف بنی ہاشم اور سلیمان فارسی(رض)، مقداد(رض) و عمار(رض) جیسے مخلص و وفادار اصحاب کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر خاموشی کے ساتھ دفن کر دیا۔

               اولاد

حضرت فاطمہ زہرا(س) کو اللہ نے پانچ اولاد عطا فرمائیں جن میں سے تین لڑکے اور دو لڑکیاں تھیں۔ شادی کے بعد حضرت فاطمہ زہرا صرف نو برس زندہ رہیں۔ اس نو برس میں شادی کے دوسرے سال حضرت امام حسن علیہ السّلام پیدا ہوئے اور تیسرے سال حضرت امام حسین علیہ السّلام ۔ پھر غالباً پانچویں سال حضرت زینب اور ساتویں سال حضرت امِ کلثوم۔ نویں سال جناب محسن علیہ السلام بطن میں تھے جب ہی وہ ناگوار مصائب پیش آئے جن کے سبب سے وہ دنیا میں تشریف نہ لا سکے اور بطن مادر میں ہی شہید ہو گئے۔ اس جسمانی صدمہ سے حضرت سیّدہ بھی جانبر نہ ہوسکیں ۔لہذا وفات کے وقت آپ نے دو صاحبزادوں حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین علیہما السّلام اور دو صاحبزادیوں زینب کبری و امِ کلثوم کو چھوڑا جو اپنے اوصاف کے لحاظ سے طبقہ خواتین میں اپنی ماں کی سچی جانشین ثابت ہوئیں۔

www۔abna۔ir

 

 

 

 

 

کیوں حضرت زہرا (س) کو رات میں دفنایا گیا؟

 

جناب زہرا(س) نے وصیت کی کہ انہیں رات کے عالم میں دفنایا جائے لیکن یہ وصیت صرف اس وجہ سے نہیں تھیں کہ نامحرموں کی آپ کے جنازے پر نگاہ نہ پڑے بلکہ آپ ان لوگوں کو باخبر نہیں کرنا چاہتی تھیں جنہوں نے آپ پر ظلم و ستم کے طوفان ڈھائے۔

بقلم: افتخار علی جعفری

 

               کیوں حضرت زہرا (س) کو رات میں دفنایا گیا؟

 

سوال: کہا جاتا ہے کہ حضرت زہرا (س) کو رات میں دفن کیا گیا تھا۔ کیا یہ صرف اس وجہ سے تھا جو آپ نے جناب اسما بنت عمیس کو وصیت کی تھی، تاکہ نامحرم آپ کے جسد کو نہ دیکھ سکیں ؟

جواب: جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا رات کے عالم میں دفن ہونا، خلفاء کا جنازے میں شریک نہ ہونا، قبر کا مخفی ہونا، یہ تمام وہ راز ہیں جن کے پس پردہ بہت سارے حقائق پوشیدہ ہیں۔ ٹھیک ہے جناب زہرا (س) نے وصیت فرمائی تھی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں جناب زہرا ایسی وصیت کرنے پر مجبور ہوئیں ؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ آپ اپنی اس وصیت کے ذریعہ اپنے دشمنوں کی نسبت ناراضگی کا اظہار کرنا چاہتی تھیں ؟ اور قیامت تک کے محققین کے لیے یہ سوال چھوڑ کر جانا چاہتی تھیں کہ کیوں جناب زہرا (س) کا جنازہ رات میں اٹھایا گیا؟ کیوں جناب زہرا (س) کی قبر مخفی ہے ؟ کیوں حضرت علی (ع) نے خلفاء وقت کو خبر کئے بغیر آپ کے جنازہ پر نماز ادا کر دی؟ وغیرہ وغیرہ

کیا وہ شخص جو جانشین پیغمبر (ص) تھا وہ دختر رسول (ص) کے جنازہ پر نماز پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا؟

جی ہاں، جناب زہرا(س) نے وصیت کی کہ انہیں رات کے عالم میں دفنایا جائے لیکن یہ وصیت صرف اس وجہ سے نہیں تھیں کہ نامحرموں کی آپ کے جنازے پر نگاہ نہ پڑے بلکہ آپ ان لوگوں کو باخبر نہیں کرنا چاہتی تھیں جنہوں نے آپ پر ظلم و ستم کے طوفان ڈھائے۔ یہ شیعت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے رسول اسلام (ص) کے بعد جانشین رسول (ص) ہونے کا دعویٰ کیا تھا دختر رسول (ص) دنیا سے جاتے وقت ان سے ناراض تھیں لہذا جناب فاطمہ (ص) کی محبت دل میں رکھنے والے اور ان کی سیرت پر چلنے والے کیسے ان سے راضی ہو سکتے ہیں ؟

جناب زہرا (س) کے خلفاء راشدین سے ناراضگی پر شیعہ سنی کتابوں میں کثرت سے روایات موجود ہیں ہم یہاں پر صرف چند ایک کی طرف اشارہ کرتے ہیں :

اہلسنت کی کتابوں میں :

رات میں دفن کرنا اور خلفاء کو اطلاع نہ دینا

محمد بن اسماعیل بخاری لکھتے ہیں :

وعَاشَتْ بَعْدَ النبی صلى اللہ علیہ وسلم سِتَّةَ أَشْہُرٍ فلما تُوُفِّیَتْ دَفَنَہَا زَوْجُہَا عَلِیٌّ لَیْلًا ولم یُؤْذِنْ بہا أَبَا بَکْرٍ وَصَلَّى علیہا۔

فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا رسول خدا (ص) کے بعد چھ مہینے زندہ رہیں جب دنیا سے رخصت ہوئیں تو آپ کے شوہر علی (ع) نے رات کے عالم میں آپ کو دفن کر دیا اور ابوبکر کو اطلاع نہیں دی۔

البخاری الجعفی، محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ (متوفای256ہ۔)، صحیح البخاری، ج 4، ص 1549، ح3998، کتابالمغازی، بابغزوةخیبر، تحقیقد۔ مصطفىدیبالبغا، ناشر: دارابنکثیر، الیمامة – بیروت، الطبعة: الثالثة، 1407 – 1987۔

ابن قتیبہ دینوری نے تاویل مختلف الحدیث میں لکھا ہے :

وقد طالبت فاطمة رضی اللہ عنہا أبا بکر رضی اللہ عنہ بمیراث أبیہا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فلما لم یعطہا إیاہ حلفت لا تکلمہ أبدا وأوصت أن تدفن لیلا لئلا یحضرہا فدفنت لیلا۔

فاطمہ(س) نے ابوبکر سے اپنے باپ کی میراث کا مطالبہ کیا ابوبکر نے قبول نہیں کیا تو فاطمہ(س) نے قسم کھائی کہ ابوبکر کے ساتھ بات نہیں کریں گی اور وصیت کی کہ انہیں رات کو دفن کیا جائے اور وہ (ابوبکر) ان کے جنازہ میں شریک نہ ہو۔

الدینوری، أبو محمد عبد اللہ بن مسلم ابن قتیبة (متوفای276ہ۔)، تأویلمختلفالحدیث، ج 1، ص 300، تحقیق: محمدزہریالنجار، ناشر: دارالجیل، بیروت، 1393ہ۔، 1972م۔

عبد الرزاق صنعانی لکھتے ہیں :

عن بن جریج وعمرو بن دینار أن حسن بن محمد أخبرہ أن فاطمة بنت النبی صلى اللہ علیہ وسلم دفنت باللیل قال فرَّ بِہَا علی من أبی بکر أن یصلی علیہا کان بینہما شیء۔

ابن جریح اور عمرو بن دینار سے نقل کیا ہے کہ انہیں حسن بن محمد نے خبر دی کہ فاطمہ (س) بن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ کو رات میں دفن کیا گیا اس نے کہا کہ فاطمہ (س) اور ابوبکر کے درمیان جو کچھ ہوا اس کی وجہ سے علی (ع) نے اسے نماز پڑھنے کے لیے مطلع نہیں کیا۔

نیز لکھتے ہیں :

عبد الرزاق عن بن عیینة عن عمرو بن دینار عن حسن بن محمد مثلہ الا أنہ قال اوصتہ بذلک

حسن بن محمد سے اس کے مشابہ ایک اور روایت بھی نقل ہوئی ہے اس میں صرف اتنا فرق ہے کہ اس میں آیا ہے کہ فاطمہ(س) نے خود اس کام کی وصیت کی تھی۔

الصنعانی، أبو بکر عبد الرزاق بن ہمام (متوفای211ہ۔)، المصنف، ج 3، ص 521، حدیثشمارہ 6554 وحدیثشمارہ: 6555، تحقیقحبیبالرحمنالأعظمی، ناشر: المکتبالإسلامی – بیروت، الطبعة: الثانیة، 1403ہ۔۔

ابن بطال نے شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے :

أجاز أکثر العلماء الدفن باللیل۔۔۔ ودفن علىُّ بن أبى طالب زوجتہ فاطمة لیلاً، فَرَّ بِہَا من أبى بکر أن یصلى علیہا، کان بینہ ما شىء۔

اکثر علماء نے جنازہ کو رات میں دفن کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔ ۔ ۔ اور علی بن ابی طالب نے اپنے زوجہ فاطمہ کا جنازہ رات کو دفن کیا تاکہ ابوبکر ان پر نماز نہ پڑھ سکے چونکہ ان دونوں ( فاطمہ اور ابوبکر) کے درمیان کوئی اختلاف تھا۔

إبن بطال البکری القرطبی، أبو الحسن علی بن خلف بن عبد الملک (متوفای449ہ۔)، شرحصحیحالبخاری، ج 3، ص 325، تحقیق: أبوتمیمیاسربنإبراہیم، ناشر: مکتبةالرشد – السعودیة / الریاض، الطبعة: الثانیة، 1423ہ۔ – 2003م۔

ابن ابی الحدید نے جاحظ سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے :

وظہرت الشکیة، واشتدت الموجدة، وقد بلغ ذلک من فاطمة ( علیہا السلام ) أنہا أوصت أن لا یصلی علیہا أبوبکر۔

فاطمہ کی شکایت اور نارضگی اس حد تک تھی کہ انہوں نے وصیت کی کہ ابوبکر ان کے جنازہ پر نماز نہ پڑھے۔

إبن أبی الحدید المدائنی المعتزلی، أبو حامد عز الدین بن ہبة اللہ بن محمد بن محمد (متوفای655 ہ۔)، شرحنہجالبلاغة، ج 16، ص 157، تحقیقمحمدعبدالکریمالنمری، ناشر: دارالکتبالعلمیة – بیروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1418ہ۔ – 1998م۔

دوسری جگہ لکھتے ہیں :

وأما إخفاء القبر، وکتمان الموت، وعدم الصلاة، وکل ما ذکرہ المرتضى فیہ، فہو الذی یظہر ویقوی عندی، لأن الروایات بہ أکثر وأصح من غیرہا، وکذلک القول فی موجدتہا وغضبہا۔

فاطمہ (س) کی قبر کا مخفی ہونا، موت کو چھپانا، اور ابوبکر کا نماز جنازہ نہ پڑھنا، اور مزید جو کچھ سید مرتضی نے لکھا ہے وہ سب میرے نزدیک واضح اور مورد تائید ہے۔ اس لیے کہ اس موضوع پر کثرت سے روایات موجود ہیں اور باقی روایتوں سے صحیح تر ہیں اور اس طرح ( شیخین کے سلسلے میں ) آپ کی ناراضگی اور غضب کی بات بھی میرے نزدیک مورد تائید ہے۔

شرح نہج البلاغة، ج 16، ص 170۔

               شیعوں کی کتابوں میں جناب فاطمہ (س) کا رات میں دفن ہونا

 

اگر چہ جناب زہرا (ص) کی رات میں دفن کے سلسلے میں وصیت شیعہ علماء کے نزدیک مسلم اور قطعی ہے لیکن ہم یہاں پر صرف ایک روایت کی طرف اشارہ کرتے ہیں :

مرحوم شیخ صدوق نے رات کو دفنانے کی وجہ کے بارے میں لکھا ہے :

عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِی حَمْزَةَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّہِ علیہ السلام لِأَیِّ عِلَّةٍ دُفِنَتْ فَاطِمَةُ (علیہا السلام) بِاللَّیْلِ وَ لَمْ تُدْفَنْ بِالنَّہَارِ قَالَ لِأَنَّہَا أَوْصَتْ أَنْ لا یُصَلِّیَ عَلَیْہَا رِجَالٌ [الرَّجُلانِ‏]۔

علی بن ابو حمزہ نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: کیوں فاطمہ زہرا(س) کو رات میں دفن کیا گیا دن میں نہیں ؟ فرمایا: فاطمہ سلام اللہ علیہا نے وصیت کی تھی کہ انہیں رات میں دفن کیا جائے تاکہ کچھ لوگ( دو آدمی) ان کے جنازہ پر نماز نہ پڑھ سکیں۔

الصدوق، أبو جعفر محمد بن علی بن الحسین (متوفای381ہ۔)، عللالشرایع، ج‏1، ص185، تحقیق: تقدیم: السیدمحمدصادقبحرالعلوم، ناشر: منشوراتالمکتبةالحیدریةومطبعتہا – النجفالأشرف، 1385 – 1966 م ۔

مرحوم صاحب مدارک لکھتے ہیں :

إنّ سبب خفاء قبرہا ( علیہا السلام ) ما رواہ المخالف والمؤالف من أنہا ( علیہا السلام ) أوصت إلى أمیر المؤمنین ( علیہ السلام ) أن یدفنہا لیلا لئلا یصلی علیہا من آذاہا ومنعہا میراثہا من أبیہا ( صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم )۔

جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو رات میں دفن کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ دوست و دشمن سب نے نقل کیا ہے کہ آپ (س) نے امیر المومنین علی (ع) کو وصیت کی تھی کہ انہیں رات کو دفنایا جائے تاکہ وہ لوگ جنہوں نے آپ کو اذیت و آزار دیں اور آپ کو اپنے باپ کی میراث سے محروم کیا آپ کے جنازہ میں شریک نہ ہوں اور آپ پر نماز نہ پڑھ سکیں۔

الموسوی العاملی، السید محمد بن علی (متوفای1009ہ۔)، مدارکالأحکامفیشرحشرائعالاسلام، ج 8، ص279، نشروتحقیقمؤسسةآلالبیتعلیہمالسلاملإحیاءالتراث، الطبعة: الأولی، 1410ہ۔۔

               نتیجہ

مذکورہ روایات اور اہلسنت کے علماء کے اعتراف کی روشنی میں جناب زہرا (س) کو رات کے عالم میں دفنانا آپ کی وصیت کی وجہ سے تھا جو آپ نہیں چاہتی تھیں کہ جن لوگوں نے آپ کے بابا کے بعد آپ کو اس قدر ستایا کہ اٹھارہ سال کی عمر میں سر کے بال سفید ہو گئے ، کمر خمیدہ ہو گئی، پسلیاں توڑ دی گئی، شکم میں محسن کو شہید کر دیا گیا، وہ لوگ آپ کے جنازے میں شریک ہوں۔ وہ لوگ کیسے جناب زہرا (س) کی جنازہ میں شریک ہو سکتے تھے ؟ جناب زہرا (س) ہرگز انہیں اجازت نہیں دے سکتی تھی کہ وہ آپ کے جنازے پر نماز پڑھیں۔ ایسے میں اگر رات کو دفنانے کی وصیت نہ کرتی اور دن میں جنازہ اٹھتا تو یقینا رسم نبھانے وہ لوگ بھی جنازہ میں شریک ہو جاتے جس سے ایک تو جناب زہرا(س) کی روح کو اذیت ہوتی۔ دوسرے اگر علی علیہ السلام انہیں منع کرتے تو ایک نیا ہنگامہ کھڑا ہو جاتا۔ ممکن تھا تلواریں نکل آتیں تو جنازہ کی بے حرمتی ہوتی۔ لہذا جناب زہرا (س) نے پہلے سے ہی ان تمام حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے رات کے عالم میں اپنے دفنانے کی وصیت کر دی تاکہ کسی کو خبر نہ ہو اور مسلمان خونریزی سے بچ جائیں۔

www۔sibtayn۔com

 

 

 

 

حضرت زہرا(س) کے معجزات

 

وائے وائے وائے اس شخص پر جو فاطمہ کی فضیلت میں شک و تردید کرے اور خدا کی لعنت اس شخص پر جو ان کے شوہر علی بن ابی طالب کے ساتھ دشمنی کرے اور ان کی اولاد کی امامت پر راضی نہ ہو۔ بیشک فاطمہ کا اللہ کے یہاں مقام ہے اور ان کے شیعوں کا بھی بہترین مقام ہو گا۔ بتحقیق فاطمہ مجھ سے پہلے دعا کرے گی اور شفاعت کرے گی اور اس کے باوجود کہ لوگ ان کی مخالفت کریں گے فاطمہ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔

بقلم: افتخار علی جعفری

 

               حضرت زہرا(س) کے معجزات

یوں تو جناب زہرا سلام اللہ علیہا کی پوری حیات ایک معجزہ ہے اس اعتبار سے کہ آپ ان آسمانی ہستیوں میں سے ہیں جنہوں نے صرف عالم بشریت کی ہدایت کے لیے زمین پر آنے کی زحمات کو برداشت کیا اور عالم اسلام کے لیے انسانی، اسلامی اور الہی زندگی جینے کا ایک نمونہ پیش کر دیا۔ لیکن آپ کے مختصر دور حیات میں کچھ ایسے خارق العادہ امور مشاہدہ کئے گئے جنہیں ہم اصطلاح میں معجزے سے ہی تعبیر کر سکتے ہیں۔ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے اور تاریخ میں بھی وہی واقعات درج ہوئے ہیں جنہیں دوسروں نے مشاہدہ کیا اور بعد والی نسلوں کے لیے نقل کیا ورنہ ایسے معجزات انگنت اور شمار سے باہر ہیں جنہیں دوسروں نے مشاہدہ نہیں کیا جو صرف اہلبیت (ص) اور بالخصوص خانہ زہرا (س) کی حد تک محدود رہ گئے جو اہلبیت (س) کے سینوں میں اسرار بن کر رہ گئے۔ چونکہ اہلبیت اطہار (س) کی زندگیوں کا ہر لمحہ معجزہ نما تھا البتہ ان معجزات کا مشاہدہ کرنے کے لیے بھی چشم بصیرت درکار تھی۔ تاریخ میں وہ معجزات نقل ہوئے ہیں جنہیں ظاہری آنکھوں سے دیکھا جا سکتا تھا ورنہ چشم بصیرت رکھنے والے آپ کے معجزات کا احصا نہیں کر سکتے۔ یہاں پر ہم صرف ان دو تین معجزات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ظاہری آنکھوں سے خانہ زہرا (س) میں مشاہدہ کئے گئے :

               حضرت زہرا(س) کے لیے جنت سے مائدے کا نزول

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنے پروردگار کے یہاں اتنی عزیز تھیں کہ کئی بار آپ کے لیے آسمان سے مائدے نازل ہوئے۔ ایک مرتبہ پیغمبر گرامی اسلام (ص) کو شدت سے بھوک کا احساس ہو رہا تھا بدن میں کمزوری آ گئی تھی اور گھر میں کسی بھی زوجہ کے پاس آپ کے لیے طعام نہیں تھا۔ آپ نے جناب زہرا(س) کے گھر کا رخ کیا تاکہ خانہ زہرا (س) میں شاید آپ کو کھانے کے لیے کچھ مل جائے۔ لیکن جناب زہرا (س) اور آپ کے بچے سب فاقہ میں تھے گھر میں کچھ بھی کھانے کو نہیں تھا۔

رسول خدا (ص) بیٹی کے گھر سے بھی واپس چلے گئے۔ آپ کو گھر سے نکلے ہوئے ابھی کچھ لمحے ہی گزرے تھے کہ ایک پڑوسی روٹی کے دو ٹکرے اور کچھ مقدار میں گوشت لے کر دروازے پر آیا۔ جناب زہرا (س) نے دل میں سوچا کہ خدا کی قسم میں اور میرے بچے بھوک برداشت کر لیں گے اور میں یہ کھانا بابا کو کھلاؤں گی۔ جناب حسنین(ع) کو رسول خدا (ص) کے پیچھے بھیجا تاکہ انہیں دوبارہ گھر میں بلا کر لائیں۔

جناب رسول خدا (ص) گھر میں واپس آئے جناب زہرا س(س) نے پڑوسی کے گھر سے دیا ہوا کھانا جو اوپر سے ڈھک کر رکھا ہوا تھا لا کر رسول خدا (ص) کے سامنے رکھا اور اوپر سے ڈھکن اتارا تو دیکھا کہ ظرف کھانے سے بھرے ہوئے ہیں۔ جناب زہرا (س) کو تعجب ہوا کہ کھانا تو صرف ایک آدمی کا تھا! آپ تعجب کی نگاہوں سے کھانے کی طرف دیکھ رہی تھیں کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: اے بیٹی! یہ کھانا کیسے اور کہاں سے آیا ہے ؟ جناب زہرا (س) نے کہا:

ہو من عنداللَّہ ان اللَّہ یرزق من یشا بغیر حساب۔ فقال: الحمدللَّہ الذى جعلک شبیہہ بسیدة نسا بنى‏اسرائیل فانہا کانت اذا رزقہا اللَّہ شیئا فسئلت عنہ قالت: «ہو من عنداللَّہ ان اللَّہ یرزق من یشاء بغیر حساب۔» (1)

یہ اللہ کی جانب سے ہے۔ بیشک اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق عطا کرتا ہے۔ رسول خدا نے جب بیٹی کی یہ بات سنی تو فرمایا: اس خدا کا شکر ہے جس نے تمہیں مریم کی طرح قرار دیا جو بنی اسرائیل کی عورتوں کی سردار تھیں اس لیے کہ ان پر بھی خدا جب اپنے لطف و عنایت سے کوئی مائدہ بھیجتا تھا تو وہ کہتی تھیں : یہ اللہ کی جانب سے ہے بیشک اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔

اس کے بعد رسول خدا (ص) نے علی علیہ السلام کو بھی بلوایا اور سب نے مل کر کھانا تناول کیا ازواج رسول کو بھی دعوت دی گئی انہوں نے بھی آسمانی مائدے سے تناول کیا۔ حتی کہ جناب زہرا (س) نے اپنے پڑوسیوں کو بھی اس میں سے عطا کیا۔ (۲)

خانہ زہرا (س) میں آسمانی مائدوں کو نزول ایک دو بار میں محدود نہیں ہے متعدد بار آپ کے گھر میں بہشتی کھانوں کا نزول ہوتا تھا ایک مرتبہ امیر المومنین علی علیہ السلام شدت سے بھوک کا احساس کر رہے تھے جناب زہرا (س) سے طعام کا مطالبہ کیا لیکن گھر میں پکانے کے لیے کوئی چیز نہ تھی۔ جناب فاطمہ (س) نے کہا: اے علی ! گھر میں کچھ بھی نہیں ہے۔ میں اور بچے دو دن سے بھوکے ہیں۔ جو مختصر کھانا تھا اسے آپ کو دے دیا تھا اور ہم لوگ بغیر کھانے کے ہیں۔

علی علیہ السلام کو یہ بات سن کر بے حد نا راحتی کا احساس ہوا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے بچوں کے لیے کھانے کا انتظام کرنے گھر سے نکل گئے ایک آدمی سے ایک دینار قرض لیا تاکہ اس سے کچھ خرید کر گھر لے جائیں۔ راستے میں آپ کے ایک دوست جناب مقداد کو دیکھا کہ ان کے بیوی بچوں نے انہیں گھر سے باہر نکال رکھا ہے تاکہ گھر میں کھانے کے لیے کچھ لے کر آئیں۔ علی علیہ السلام نے ان کے درد کو اپنے درد سے زیادہ اہم سمجھا اور وہ ایک دینار ان کے حوالے کر دیا۔

علی علیہ السلام کے پاس کچھ نہ بچا لہذا گھر واپس جانا پسند نہیں کیا اور مسجد کا رخ کیا۔ مسجد میں عبادت میں مشغول ہو گئے۔ ادھر سے جناب رسول خدا (ص) کو حکم ہوا کہ آج کی رات علی علیہ السلام کے گھر مہمانی پر جائیں۔ مغرب و عشاء کی نماز کے بعد رسول خدا (ص) نے علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے علی ! آج رات مجھے اپنے گھر مہمانی پر بلاو گے ؟ مولائے کائنات خاموش ہو گئے۔ اس لیے کہ گھر میں کچھ بھی کھانے کو نہیں تھا۔ فاطمہ زہرا (س) اور بچے دو دن سے بھوکے تھے۔ لیکن رسول خدا (ص) نے دوبارہ اظہار کیا: کیوں جواب نہیں دیتے ؟ یا کہو ہاں تو میں چلوں یا کہو نہیں تو میں اپنے گھر جاؤں۔ علی علیہ السلام نے عرض کیا: یا رسول اللہ تشریف لائیے۔

رسول خدا (ص) نے علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑا اور دونوں جناب زہرا (س) کے گھر تشریف لائے۔ دونوں گھر میں داخل ہوئے۔ جناب زہرا(س) نماز میں مشغول تھیں خدا سے راز و نیاز کرنے میں مصروف تھیں کہ بابا کی آواز سن کر مصلائے عبادت سے اٹھیں اور دسترخوان لگا دیا اور بہشتی غذا کو لا کر دسترخوان پر رکھا۔

علی علیہ السلام جناب زہرا کو تعجب کی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے کہ زہرا(ع) نے یہ کھانا کہاں سے تیار کیا ہے !

اس سے پہلے جناب زہرا کوئی جواب دیتیں رسول خدا (ص) نے جواب دیا: یا علی ھذا جزاء دینارک من عند اللہ۔

اے علی! یہ کھانا اللہ کی طرف سے آپ کے اس دینار کی جزا ہے جو آپ نے مقداد کو دیا۔

خداوند عالم نے جناب زکریا اور مریم کی داستان کو آپ کے سلسلے میں تکرار کیا ہے (۳) اور بہشتی غذاؤں سے آپ کو نوازا ہے۔ ۔ ۔ (۴)

               شکم مادر میں رسالت کا اقرار

جب کفار مکہ نے رسول اسلام (ص) سے چاند کے دو ٹکڑے کرنے کا مطالبہ کیا تو اس وقت جناب خدیجہ جناب فاطمہ (س) سے حاملہ تھیں اور جناب خدیجہ کفار کے اس تقاضے سے ناراض ہوئیں اور کہا: بہت افسوس ہے ان لوگوں پر جو محمد کو جھٹلاتے ہیں جبکہ وہ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں۔

اسی اثنا میں جناب فاطمہ (س) نے شکم مادر سے آواز دی: اے مادر گرامی! ڈرو نہیں محزون نہیں ہو، اس لیے کہ خدا میرے بابا کے ساتھ ہے۔

پھر جب مدت حمل تمام ہوئی، تو جناب خدیجہ نے فاطمہ زہرا (س) کو دنیا میں لا کر پوری دنیا کو آپ کے جمال کی روشنی سے منور کیا۔ (۵)

               خانہ زہرا (س) میں چکی کا خودبخود گھومنا

جناب ابوذر کہتے ہیں : رسول خدا (ص) نے مجھے علی علیہ السلام کو بلانے بھیجا میں ان کے گھر پہ گیا اور آواز دی کسی نے جواب نہیں دیا۔ میں نے گھر میں دیکھا کہ چکی گھوم رہی ہے بغیر اس کے کہ کوئی اسے گھوما رہا ہو۔ میں نے دوبارہ علی (ع)کو آواز دی تو علی (ع) سامنے آئے اور ہم دونوں رسول خدا (ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے پیغمبر (ص) نے علی (ع) سے کچھ کہا لیکن میری سمجھ میں نہیں آیا۔ میں نے کہا: واتعجبا! اس چکی پر جو بغیر گھومانے والے کے گھوم رہی ہے۔

اس کے بعد رسول خدا (ص) نے فرمایا: خداوند عالم نے میری بیٹی فاطمہ کے دل اور تمام اعضاء و جوارح کو ایمان اور یقین سے بھر رکھا ہے اور جب وہ ضعیف ہو جاتی ہیں تو خداوند عالم ان کی مدد کرتا ہے مگر تم نہیں جانتے کہ خداوند عالم نے کچھ فرشتوں کو مقرر کر رکھا ہے جو خاندان محمد کی مدد کرتے ہیں۔ (۶)

               جناب زہرا(س) پر آگ کا حرام ہونا

ایک دن جناب عایشہ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر میں آئیں جناب زہرا (س) حسنین (ع) کے لیے کھانا تیار کر رہی تھیں آپ نے دیگ میں کچھ کھانا چولہے پر رکھا ہوا تھا جب دیگ ابل کر کھانا اوپر سے گرتا تھا تو آپ دیگ کے اندر اپنا ہاتھ ڈال کر اسے چلا دیتی تھیں۔

جناب عائشہ اس ماجرا کو دیکھ کر اضطراب کی حالت میں بھاگتی ہوئی اپنے باپ ابوبکر کے پاس گئیں اور کہا: میں نے فاطمہ سے ایک حیرت انگیز بات دیکھی ہے انہوں نے دیگ چولہے پر چڑھا رکھی ہے اور جب دیگ سے کھانا گرتا ہے تو اسے ہاتھ سے چلا دیتی ہیں۔ ابوبکر نے کہا: اس بات کو چھپا لو یہ بہت اہم بات ہے۔

آخر کار یہ بات رسول خدا (ص) کے کانوں تک پہنچ گئی آپ نماز کے بعد منبر پر گئے اور خدا کی حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا:

بعض لوگ دیگ اور آگ کو دیکھ کر بڑا تعجب کرتے ہیں۔ قسم اس ذات کی جس نے مجھے نبوت پر مبعوث کیا ہے اور رسالت کے لیے منتخب کیا ہے ، خداوند عالم نے آگ کو فاطمہ کے گوشت، خون، اور ایک ایک بال پر حرام قرار دیا ہے۔ فاطمہ کی اولاد اور ان کی شیعوں کو آگ سے دور رکھا ہے فاطمہ کی اولاد میں سے بعض اس مقام پر فائز ہوں گے کہ آگ اور سورج و چاند ان کی اطاعت کریں گے پیغمبر ان کے سلسلے میں اپنے عہد و پیمان وفا کریں گے ، زمین اپنے خزانے انہیں پیش کر دے گی اور آسمان اپنی برکتیں ان پر نازل کر دے گا۔

وائے وائے وائے اس شخص پر جو فاطمہ کی فضیلت میں شک و تردید کرے اور خدا کی لعنت اس شخص پر جو ان کے شوہر علی بن ابی طالب کے ساتھ دشمنی کرے اور ان کی اولاد کی امامت پر راضی نہ ہو۔ بیشک فاطمہ کا اللہ کے یہاں مقام ہے اور ان کے شیعوں کا بھی بہترین مقام ہو گا۔ بتحقیق فاطمہ مجھ سے پہلے دعا کرے گی اور شفاعت کرے گی اور اس کے باوجود کہ لوگ ان کی مخالفت کریں گے فاطمہ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ (۷)

 

حوالہ جات

1 ۔آل‏عمران/ 37۔

2 ۔فرائدالسمطین، ج 2، ص 51 و 52، ش 382- تجلیاتولایت، ج 2، ص 319- فضائل خمسہ، ج 3 ص 178- مناقب ابن شہرآشوب، ج 3، ص 339- جلاءالعیون شبر، ج 1، ص 136۔

3 ۔اشارہاستبہآیہ‏ى 37 سورہ‏ىآل‏عمرانکہزکریاموائدآسمانىرادرمحرابمریمدید۔

4 ۔محجةالبیضاء، ج 4، ص 213- بحار، ج 43، ص 59، وج 41، ص 30 بااختصار۔

5 ۔روض الفائق، ص 214۔

6 ۔بحارالانوار، ج 43، ص 29۔

7 ۔فاطمہ زہرا (س) شادمانى دل پیامبر، ص 152۔

www.abna.ir

 

 

 

 

ام ابیھا کے معنی میں مختصر وضاحت

 

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ام ابیہا ہونے کے متعلق عالم تشیع کے مرجع تقلید آیت اللہ العظمی مظاہری سے ایک گفتگو کو اپنے قارئین کے لیے نقل کرتے ہیں۔

ترجمہ: جعفری

 

               ام ابیھا کے معنی میں مختصر وضاحت

حضرت زہرا(س) کے اسماء و القاب کے سلسلے میں پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ طاہرین علیہم السلام سے متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔ منجملہ آپ کے لیے جو کنیت بیان ہوئی ہے وہ ام ابیہا(۱) ہے۔ یعنی فاطمہ زہرا (س) پیغمبر اکرم (ص) کی ماں ہیں۔

حضرت فاطمہ زہرا (س) کی اس کنیت کے تین معنی ہیں۔ اور تینوں معنی نہایت اہم ہیں۔ اگر ان پر توجہ کی جائے تو اس کے علاوہ کہ آپ کی نسبت ہمارا عقیدہ مزید مستحکم ہو گا آپ کی زندگی کو بہتر انداز میں اپنے لیے اسوہ اور نمونہ عمل قرار دیں سکیں گے۔

               فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پیغمبر اکرم(ص) کی تخلیق کی علت غائی

پہلے معنی یہ ہیں کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لیے علت غائی ہیں معروف و مشہور روایت لَوْلاکَ لما خَلَقْتُ الأفْلاکَ و لَوْلا عَلیٌ لَمْا خَلَقتُکَ و لَولا فاطِمَةُ لَمْا خَلَقْتُکُما (۲) کا پہلا حصہ یعنی لولاک لما خلت الافلاک سند کے اعتبار سے معتبر ہے اور شیعہ و سنی کتابوں میں متواتر طریقہ سے نقل ہوا ہے (۳) کہ پروردگار عالم نے فرمایا: یا رسول اللہ کائنات کے وجود کی علت غائی آپ ہیں اور آپ نہ ہوتے تو میں کائنات کو خلق نہ کرتا۔

اس روایت کا دوسرا حصہ یعنی عبارت ”و لَوْلا عَلیٌ لَمْا خَلَقتُکَ و لَولا فاطِمَةُ لَمْا خَلَقْتُکُما‘‘ اگر چہ سند کے لحاظ سے پہلے حصے کے برابر نہیں ہے لیکن پھر بھی متعدد شیعہ و سنی کتابوں میں یہ فقرہ بیان ہوا ہے۔ اگر امیر المومنین علی(ع) نہ ہوتے تو خدا اپنے حبیب کو بھی خلق نہ کرتا یعنی پیغمبر اکرم(ص) کی علت غائی علی ہیں اور اگر فاطمہ نہ ہوتیں تو پیغبر اور علی دونوں نہ ہوتے۔ اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر فاطمہ نہ ہوتیں تو کائنات نہ ہوتی یعنی فاطمہ زہرا(س) در حقیقت کائنات کی وجہ تخلیق ہیں۔ خداوند عالم نے حضرت زہرا (س) کے صدقے میں کائنات کو خلق کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں پروردگار عالم کے یہاں حضرت زہرا کا مقام و مرتبہ اتنا بلند ہے کہ ماسوائے خدا ہر چیز ان کے صدقے میں ہست و بود ہوئی ہے۔

اور شاید اس بات کے معنی بھی یہی ہوں جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے حضرت زہرا (س) کو ام ابیہا کہا ہے وہ اسی بات کی طرف اشارہ ہو کہ پیغمبر اکرم (ص) یہ بتانا چاہتے ہوں کہ اے فاطمہ تم میری تخلیق اور ہستی کا سبب ہو۔ لہذا اس معنی میں حضرت زہرا پیغمبر اکرم(ص) اور ان کے دین اسلام کی علت غائی ہوں گی۔

بزرگان اور اہل معرفت اس معنی پر تاکید کرتے ہیں اور اسی وجہ سے روایت «لَوْلاکَ لما خَلَقْتُ الأفْلاکَ و لَوْلا عَلیٌ لَمْا خَلَقتُکَ و لَولا فاطِمَةُ لَمْا خَلَقْتُکُما» کے لیے خاص اہمیت کے قائل ہیں۔

               شخصیت پیغمبر اکرم (ص) حضرت زہرا (س) کی مرہون منت

ام ابیہا کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) کی شخصیت حضرت زہرا (س) سے وابستہ ہے۔ جیسا کہ خود پیغمبر اکرم (ص) اپنی ماں حضرت آمنہ کی مرہون منت ہیں کہ انہوں نے جزء العلہ ہونے کے اعتبار سے آپ کو وجود بخشا ہے حضرت زہرا (س) کی والدہ حضرت خدیجہ (س) کا بھی یہی مقام ہے یعنی انہوں نے بھی اپنی تمام تلاش و کوشش کے ذریعے تیرہ سال اسلام کو مکہ میں پروان چڑھایا۔ اگر حضرت خدیجہ کی دولت و ثروت نہ ہوتی تو مکہ کی بنجر زمین میں آندھیوں اور طوفانوں سے بچ کر نہال اسلام کا تنومند ہونا ناممکن ہو جاتا۔ اگر پیغمبر اکرم(ص) شعب ابوطالب میں چالیس افراد کے ساتھ مشکلات کو متحمل کر پائے تو یہ حضرت خدیجہ کی قربانیوں کا نتیجہ تھا۔

حضرت خدیجہ کی پیغمبر اکرم (ص) کی حمایت کے سلسلے میں گفتگو طولانی ہے ہم صرف یہاں پر ایک جملہ میں ان تمام قربانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

حضرت خدیجہ (س) نے پیغمبر اکرم (ص) سے شادی کے بعد پہلی رات ہی اپنے تمام مال و منال کی سندوں کر پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں پیش کر دیا اور فرمایا: میں آپ کی خدمت گذار ہوں اور یہ سارا مال آپ کا ہے۔ (۴)

شادی کی پہلی رات میں حضرت خدیجہ کی بات صرف ایک تعارف اور تکلف نہیں تھا بلکہ انہوں نے عملا اس چیز کو ثابت کر دیا اور اس طریقہ سے اپنی بات پر سچائی کا ثبوت دیا کہ دنیا سے جاتے وقت اپنے پاس کفن تک بھی نہ تھا۔ اور اپنے شوہر پیغمبر گرامی اسلام کو یہ بات کہتے ہوئے بھی شرما رہی تھیں کہ مجھے کفن دے دینا۔ لہذا انہوں نے اپنی بیٹی جناب زہرا (س) کے ذریعہ پیغمبر اسلام (ص) سے یہ وصیت کرتے ہوئے کہلوایا کہ وہ عبا اور چادر جسے نزول وحی کے وقت آپ اپنے شانوں پر ڈالتے ہیں اسے میرا کفن قرار دیں۔ جناب خدیجہ (س) کی درخواست دو اعتبار سے توجہ کی طالب ہے ایک یہ کہ یہ وحی کی عبا ہے اور متبرک ہے اور دوسرے یہ کہ آپ نے اپنا سارا مال راہ اسلام میں خرچ کر دیا تھا لہذا آپ کے پاس کفن تک کے لیے کچھ نہیں بچا تھا۔

حضرت رسول اسلام (ص) نے بھی وصیت کے مطابق عمل کیا اور اسی عبا کو اپنی بہترین شریک حیات جناب خدیجہ کے لیے کفن قرار دیا۔ جناب خدیجہ کو کفن دیتے وقت جناب جبرئیل (ع) بھی جنت سے کفن لے کر نازل ہو گئے۔ رسول خدا (ص) اپنی عبا اور بہشتی کفن دونوں سے جناب خدیجہ کو کفن دیا اور دفن کر دیا(۵)۔

خود حضرت زہرا (س) نے مدینہ میں دس سال کے عرصہ میں حضرت علی علیہ السلام کی مدد سے پیغمبر اکرم (ص) کی ہمیشہ نصرت کی۔ اگر حضرت زہرا اور حضرت علی علیہما السلام نہ ہوتے تو پیغمبر اکرم کے لیے مدینہ میں موجود مشکلات کو سر کرنا بھی بہت ناگوار ہو جاتا۔

               فدک، میراث حضرت زہرا(س)

پیغمبر اکرم (ص) نے مدینہ کے دس سالوں میں ۸۴ جنگیں لڑیں۔ اور بالاتفاق شیعہ اور سنی جس شخص نے ان تمام جنگوں میں فتح حاصل کی وہ تنہا ذات حضرت علی علیہ السلام کی ہے۔ اور جس نے ہر حال میں حضرت علی (ع) کی نصرت کی اور انہیں جنگوں کے لیے آمادہ کیا وہ حضرت فاطمہ زہرا (ع) کی ذات ہے اور اس کے بعد فدک کا سرمایہ ہے۔

در حقیقت فدک اصل میں حضرت خدیجہ(س) کی جائداد تھی، شعب ابی طالب میں مسلمانوں کے محاصرے کے دوران یہودیوں نے اسے نہایت ارزاں قیمت کے بدلے میں اپنے قبضہ میں کر لیا تھا۔ فتح خیبر کے بعد جب رسول اسلام (ع) نے فدک واپس لیا اور اسے اپنی ملکیت قرار دیا تو یہ آیت نازل ہوئی «وَ آتِ ذَا الْقُرْبى‏ حَقَّہُ‏۔۔۔» (۶)

شیعہ و سنی علماء اس بات کے قائل ہیں کہ رسول اسلام (ص) نے فدک کو جو در حقیقت حضرت خدیجہ کا باغ تھا اسے حضرت زہرا (س) کو دے دیا۔ (۷)

حضرت زہرا (س) نے اپنی پوری زندگی اس کے سرمایہ سے استفادہ نہیں کیا بلکہ اس کا سارا سرمایہ آپ بنی ہاشم کے فقرا اور مساکین میں تقسیم کیا کرتی تھیں۔ (۸) آپ نے خود نہایت سادہ زندگی گزاری، یہاں تک کہ سورہ ھل اتی کی شکل میں اس کی سند مل گئی۔ آپ کی زندگی بہت سادہ تھی جبکہ آپ فدک کے سرمایے سے اپنی زندگی کو بہتر بھی بنا سکتی تھیں۔ لیکن جب آپ کی والدہ جناب خدیجہ نے اپنا سارا مال و منال راہ اسلام میں خرچ کر دیا تو کیسے آپ فدک کے سرمایہ کو اپنی ذاتی زندگی میں استعمال کر سکتی تھیں۔ لہذا آپ اس بات کی معتقد تھیں کہ فدک کا مال اسلام کی راہ میں خرچ ہونا چاہیے۔ اس بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح مکہ میں تیرہ سال اسلام کو جناب خدیجہ سے اپنے مال سے پروان چڑھایا اسی طرح مدینہ کے دس سال میں حضرت زہرا (س) نے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ام ابیہا کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) کی شخصیت اور دین اسلام کی شخصیت حضرت زہرا(س) سے وابستہ ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ مکہ میں اسلام حضرت خدیجہ (س) سے وابستہ تھا اور مدینہ میں حضرت زہرا(س) سے تو غلط نہیں ہو گا۔ اگر پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت زہرا (س) کو ام ابیہا کہا ہے تو شاید اس کی ایک وجہ یہی ہے کہ آپ کی شخصیت حضرت زہرا(س) کے وجود پر موقوف ہے۔ دین اسلام اور قرآن کی بقا حضرت زہرا (س) پر موقوف ہے۔

               حضرت زہرا (س) کا مخصوص احترام

ام ابیہا کے تیسرے معنی حضرت فاطمہ زہرا (س) کا رسول گرامی اسلام (ص) کی جانب سے مخصوص احترام ہے۔ یعنی حضرت زہرا(س) کا احترام کرنا رسول اسلام (ص) اور ائمہ اطہار پر ضروری ہے۔

پیغمبر اکرم (ص) حضرت زہرا (س) کے لیے فوق العادہ احترام کے قائل تھے روایات میں ملتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) ہر روز حضرت زہرا کے گھر جاتے تھے۔ جس طرح مستحب ہے کہ مسجد میں دو رکعت نماز ادا کی جائے رسول خدا (ص) جناب زہرا (س) کے گھر دو رکعت نماز ادا کرتے تھے کبھی آپ کے ہاتھ کا بوسہ لیتے تھے اور کبھی پیشانی کا۔ اور فرماتے تھے : میں زہرا (س) سے جنت کی خوشبو سونگھتا ہوں۔ اور ایک خاص ادب کے ساتھ حضرت زہرا (س) کے سامنے بیٹھتے تھے (۹) اگر حضرت زہرا(س) پیغمبر اکرم (ص) کے پاس آتی تھی تو پیغمبر اکرم اپنے پورے وجود کے ساتھ کھڑے ہو جاتے تھے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے۔ اور ان سے گفتگو کرتے تھے اور اگر پیغمبر اکرم (ع) جناب زہرا (س) کے گھر میں آتے تھے تو زہرا (س) آپ کا ایسے ہی احترام کرتی تھیں۔ (۱۰) میں نے اس جملہ کو کہیں نہیں پڑھا لیکن ایک قابل اعتماد بزرگ عالم دین کی زبان سے سنا ہے : جب پیغمبر اکرم (ص) جناب زہرا(س) کے گھر سے باہر جاتے تھے تو پچھلے پیر باہر نکلتے تھے یعنی جناب زہرا کی طرف پیٹھ نہیں کرتے تھے۔ خلاصہ کلام یہ کہ پیغمبر اکرم (ص) جناب زہرا کی نسبت ایک مخصوص طرح کے احترام کے قائل تھے۔

               تسبیح حضرت زہرا(س)

تسبیح حضرت زہرا (س) کا واقعہ بھی بہت عجیب ہے۔ حضرت زہرا(س) کو گھر کے کاموں اور چار بچوں کی دیکھ بھال میں ہاتھ بٹانے کے لیے ایک خادمہ کی ضرورت تھی لہذا حضرت علی علیہ السلام کی اجازت سے رسول خدا کے پاس گئیں پیغمبر اکرم (ص) بھی جناب زہرا (س) کو منع نہیں کرنا چاہتے تھے لہذا آپ نے بجائے منع کرنے کے فرمایا: «یا فَاطِمَةُ أُعْطِیکِ مَا ہُوَ خَیرٌ لَکِ مِنْ خَادِمٍ وَ مِنَ‏الدُّنْیابِمَا فِیہَا» (۱۱)

اے فاطمہ میں ایسی چیز تمہیں عطا کروں گا جو خادمہ اور دنیا سے زیادہ تمہارے لیے بہتر ہے۔

اس کے بعد فرمایا: نماز کے بعد، چونتیس مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس مرتبہ الحمد للہ، تنیتیس مرتبہ سبحان اللہ پڑھو۔ یہ عمل اللہ کے نزدیک دنیا اور مافیھا سے بہتر ہے۔ بعض روایات میں وارد ہوا ہے کہ اگر تسبیح کے بعد لا الہ الا اللہ (۱۲) اور استغفر اللہ (۱۳) بھی کہا جائے تو بہتر ہے لیکن تسبیح کا جزء نہیں ہے۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : تسبیح حضرت زہرا (س) میرے نزدیک، ہزار رکعت نماز سے زیادہ محبوب ہے۔ (۱۴)۔ اس کی اہمیت کی وجہ یہ ہے کہ یہ تسبیح حضرت زہرا سے وابستہ ہے۔ اس ماجرا کے بعد حضرت زہرا (س) واپس گھر امیر المومنین کے پاس آئیں اور پورا واقعہ نقل کیا۔ کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ رسول خدا (س) جناب فضہ کو خادمہ کے عنوان سے لے کر جناب زہرا کے گھر تشریف لائے۔ اور انہیں جناب زہرا کو ہدیہ دے کر فرمایا: بیٹا یہ عورت بھی آپ کی طرح ہے آرام کو دوست رکھتی ہے اور زیادہ کام کرنے سے تھک جاتی ہے۔ لہذا اس کے ساتھ کاموں کو تقسیم کر لینا۔ ایک دن یہ کام کرے اور ایک دن آپ۔ (۱۵)۔

پیغمبر اکرم (ص) اور امیر المومنین علی (ع) نے کبھی بھی حضرت زہرا کے سامنے ”نہ‘‘ نہیں کہا۔ اور آپ کے لیے ایک خاص اہمیت کے قائل تھے اور ائمہ معصومین (ع) بھی اسی وجہ سے ایک آپ کی نسبت مخصوص احترام کرتے ہیں۔

               حضرت زہرا (س) کے حجت ہونے کے معنی

امام حسن عسکری علیہ السلام سے منسوب ایک روایت میں وارد ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: : «نَحنُ حُجَجُ اللَّہ عَلَى خَلقِہ وَ جَدَّتُنَا فَاطِمَة حُجّة اللَّہ عَلَینا»(۱۶) ہم ائمہ لوگوں پر اللہ کی حجتیں ہیں اور ہماری ماں فاطمہ ہمارے اوپر حجت ہیں۔

اس روایت کے اندر عجیب دقیق معنی پوشیدہ ہیں۔ خلاصہ کے طور پر عرض کروں۔ جب رجعت کا زمانہ آئے گا اور اہلبیت علیہم السلام کی عالمی حکومت ہو گی اور لاکھوں سال اہلبیت علیہم السلام روئے زمین پر حکومت کریں گے اس دوران حضرت فاطمہ زہرا (ع) کی حجیت نمایاں ہو گی۔ یہ جو امام عسکری علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ ہماری ماں زہرا ہمارے اوپر حجت ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اس زمانے میں عالم وجود کی ملکہ حضرت زہرا (س) ہوں گی۔ البتہ پیغمبر اکرم (ص)، امیر المومنین (ع) اور دیگر ائمہ(ع) کے زمانے میں بھی جناب زہرا (س) حجت خدا رہی ہیں۔ لیکن امام زمانہ (ع) کے دور میں آپ کی حجیت آپ کے صحیفہ ” مصحف فاطمہ‘‘ کے ذریعہ خاص طور پر نمایاں ہوتی ہے اور اسی طرح رجعت کے زمانے میں۔

البتہ اس سلسلے میں کہ مصحف فاطمہ (س) کی حقیقت کیا ہے ہماری معلومات بہت کم ہیں۔ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے بعد جبرئیل امین جناب فاطمہ زہرا (س) پر نازل ہوتے تھے اور کچھ اسرار و رموز کو انہیں تعلیم کرتے تھے اور امیر المومنین علی علیہ السلام ان کی کتابت کرتے تھے (۱۷) یہ اسرار و رموز مصحف فاطمہ(س) کے نام سے معروف ہو گئے اور ائمہ معصومین (ع) کے علاوہ کسی کو مصحف فاطمہ(س) تک رسائی نہیں ہے اور ہمارے زمانہ میں یہ صحیفہ امام مہدی ارواحنا فداہ کے پاس ہے۔ (۱۸) لیکن یہ کہ اس کی حقیقت کیا ہے اس میں کیا لکھا ہوا ہے جو قرآن میں نہیں ہے سوائے ائمہ کے کسی کو خبر نہیں ہے۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ رجعت اور عالمی اسلامی حکومت کے زمانے میں جو لاکھوں سال بلکہ کروڑوں سال ہو گی اس میں بنیادی قانون مصحف فاطمہ (س) ہو گا لہذا اس اعتبار سے بھی حضرت زہرا ائمہ معصومین (ع) پر حجت ہیں اور کائنات کی ملکہ ہیں اور ام ابیہا ہونے کے ایک معنی یہ بھی ہیں۔

 

حوالہ جات

1۔ ر۔ک: مقاتل الطالبین، ص 29؛‌بحارالأنوار، ج 43، ص 19 و ۔۔۔

2۔ الجنّة العاصمہ، ص 148، مجمع النورین، ص 14

3۔ بحارالانوار، ج 15، ص 28؛ ج‌16، ص‌406؛ ینابیع المودة، ج 1، ص 24؛ کشف الخفاء، ج 2، ص 164؛

4۔ الخرائج و الجرائح، ج‏1، ص 140-141۔

5۔ شجرۀطوبی، ج 2، ص 234۔

6۔ اسراء / 26۔

7۔ بحارالأنوار، ج 21، ص 22؛الدرّالمنثور، ج 4، ص 177 و ۔۔۔

8۔ ر۔ک: الکافی، ج 7، صص 48- 49؛ کشف المحجّة، ص 182و۔۔۔

9۔ بحارالأنوار، ج 43، ص 25؛ المستدرک علی الصحیحین، ج 3، ص 154و۔۔۔

10۔ اعلام الوری، ص 150و ۔۔۔

11۔ بحارالأنوار، ج 82، ص 336۔

12۔ الکافی، ج 3، ص 343۔

13۔ ثواب الاعمال، ص 163۔

14۔ الکافی، ج 3، ص 343۔

15۔ الخرائج و الجرائح، ج ‏2، 530؛ اندیشہ‌ہای ناب، ص 91۔

16۔ اطیب البیان، ج 13، ص 225۔

17۔ الکافی، ج 1، ص458۔

18۔ ر۔ک: بصائر الدرجات، صص 158-153؛ من لایحضرہ الفقیہ، ج 4، ص 419

www.islamquest.net

 

 

کتابیات

1www.abna.ir

2www.Tebyan.com

3 www.alima,ali.com

4 www.sibtayan.com

5 www.islamquest.com

6 www.urdu.irib.ir

7 www.ishraaq.in

8 www.shafaqna.com

9 www.shiasearch.info

10 www.erfan.ir

11 www.ahl-ul-bait.com

تشکر: مرتب جنہوں نے فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک ی تشکیل: اعجاز عبید