FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

حافظ ابن حجر کی اصطلاح “مقبول” کا معنٰی انھی کی زبانی

 

 

                أبو عبد الرحمان محمد رفیق الطاہر

 

مدرس جامعۃ دار الحدیث المحمدیۃ (ملتان)

مکتبۃ اہل الأثر للنشر والتوزیع ملتان پاکستان

 

یونیکوڈ کاوش

www.KitaboSunnat.com

 

 

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

حدیث کی تحقیق اور چھان بین کے معاملہ میں متقدمین اہل الحدیث اور متأخرین میں کافی حد تک اختلاف ہوا ہے، اور اس اختلاف کی مختلف وجوہ ہیں، جن میں ایک وجہ رواۃ پر متقدمین اہل علم کی الفاظ جرح و تعدیل کے معنیٰ کو سمجھنے میں کوتا ہی ہے۔ اس کی ایک مثال حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا کسی راوی کو ‘مقبول’ کو قرار دینا، یعنی جب حافظ صاحب کسی راوی کا رتبہ لفظ ‘مقبول’ سے بیان فرماتے ہیں تو اس کا کیا معنیٰ ہے، متأخرین میں سے بہت سے یہ سمجھتے ہیں کہ ابن حجر کے ‘مقبول’ کہنے کا معنیٰ یہ ہے کہ ‘مقبول’ راوی کی حدیث جب اس کی متابعت میں نہ ہو تو ضعیف ہی ہو تی ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، کیونکہ حافظ صاحب اپنی مصطلحات کو خوب اچھی طرح سمجھنے والے تھے۔ انھوں نے جب خود ایک اصطلاح وضع کی ہے تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ وہ اس کا کیا مفہوم لیتے ہیں۔ جب ہم ابن حجر رحمہ اللہ کی اصطلاح کو انھی سے سمجھیں گے تو معاملہ بالکل واضح ہو جائے گا۔

میرے سامنے ایسی بے شمار دلیلیں موجود ہیں کہ ابن حجر رحمہ اللہ نے ایک راوی کو ‘مقبول’ قرار دیا ہے اور پھراس کی ایسی روایت –جس میں وہ متفرد ہے – کو حسن یا صحیح قرار دیا ہے، ان میں سے چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔

۱۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تغلیق التعلیق (۳۱۹/۳) میں فرمایا ہے کہ امام احمد نے (۳۸۸/۴) اور اسحاق بن راہویہ نے بطریق وکیع نا وبر بن ابی دلیلۃ شیخ من اھل الطائف عن محمد بن میمون بن مسیکۃ واثنی علیہ خیرا عن عمرو بن شرید عن ابیہ مرفوعاً یہ روایت بیان کی ہے :

“لی الواجد یحل عرضہ وعقوبتہ”

اور پھر اس کی تخریج کرتے ہوئے فرماتے ہیں : “راوہ ابوداؤد والنسائی من حدیث ابن المبارک عن وبر وراہ النسائی و ابن ماجہ من حدیث وکیع” اور پھر سند پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

“وھو اسناد حسن”

حالانکہ محمد بن عبداللہ بن میمون بن مسیکہ الطائفی کے بارہ میں تقریب (۴۹۰/۱) میں فرماتے ہیں :

“مقبول من السادسۃ”

اور فتح الباری (۶۲/۵) میں ابو عبداللہ البخاری رحمہ اللہ الباری کے اس قول

“ویذکر عن النبیﷺ لی الواجد یحل عرضہ وعقوبتہ”

کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

“والحدیث المذکور وصلہ احمد واسحاق فی مسند بھما من حدیث عمرو بن الشرید بن اوس الثقفی عن ابیہ بلفظہ واسنادہ وذکرالطبرانی انہ لایروی الا بھذا الاسناد”

اور یہی بات تلخیص الحبیر [۳۹/۳(۱۲۳۷)] میں بھی مذکور ہے۔

اسی طرح امام شمس الدین الذھبی رحمہ اللہ میزان الاعتدال فی نقدالرجال [۲۶/۶(۷۷۶۶)] میں رقمطراز ہیں : “محمد بن عبداللہ بن میمون بن مسیکۃ الطائفی عن عمرو بن الشریدوعنہ وبر بن ابی دلیلۃ فقط” اور پھر مذکورہ بالا حدیث نقل فرمانے کے بعد لکھتے ہیں :

“رواہ نبیل وجماعۃ عن وبر”

یعنی اس کو روایت کرنے میں محمد بن عبداللہ بن میمون بن مسیکۃ الطائفی متفرد ہے اور حافظ صاحب نے اس کو”مقبول” قرار د یا ہے اور اپنے اس “مقبول” کی روایت کو “حسن” قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ اس کی کوئی متابعت بھی نہیں ہے۔

۲۔ الاصابہ فی معرفۃ الصحابۃ (۶۴/۳) میں سعد بن ضمیرۃ بن سعد بن سفیان بن مالک بن حبیب کے بارہ میں فرماتے ہیں :

“لہ عندابی داؤد حدیث فی قصۃ محلم بن جثامۃ اللیثی باسناد حسن”

اوراس کی حدیث ابوداؤد، کتاب الدیات، باب الامام یامر بالعفو فی الدم (۴۵۰۳) بطریق محمد بن جعفر بن الزبیر از زیادہ بن سعد بن ضمیرۃ السلمی عن ابیہ مروی ہے۔

یعنی اس کی سند میں زیاد بن سعد بن ضمیرۃ السلمی متفرد ہے اور اس کی متابعت بھی نہیں آتی، نیز یہ کہ زیاد بن سعد سے اس کے علاوہ اور کوئی حدیث بھی مروی نہیں ہے۔

اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تقریب (۲۱۹/۱) میں اس کو “مقبول” قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے :

“مقبول من الرابعۃ”

تو گویا حافظ صاحب علیہ الرحمۃ اپنے اس “مقبول” کی روایت کی بھی “تحسین” فرما رہے ہیں، جس سے ان کے “مقبول” کی روایت کی حیثیت ان کے نزدیک واضح ہو جاتی ہے۔

۳۔ امام بخاری نے کتاب الصوم، باب صوم یوم الجمعۃ۔ ۔ ۔ (۱۹۸۶) میں جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا کی روایت صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنے کے بارہ میں نقل فرمائی ہے۔ حافظ صاحب علیہ الرحمۃ فتح الباری (۲۳۴/۴) میں اسی حدیث کے تحت رقم طراز ہیں :

“ولیس لجویریۃ زوج النبیﷺ فی البخاری من روایتھا سوی ھذا الحدیث ولہ شاہد من حدیث جنادۃ بن ابیامیۃ عندالنسائی باسناد صحیح بمعنی حدیث جویریۃ”

یعنی امام نسائی نے اپنی سنن کبریٰ [۱۴۵/۲(۲۷۷۳)] میں بیان شدہ روایت بطریق ربیع بن سلیمان ثنا وھب ثنی اللیث بن سعد وذکر آخر قبلہ یعنی ابن لہیعۃ عن یزید بن ابی حبیب عن ابی الخیر عن حذیفۃ البارقی عن جنادۃ الازدی انھم دخلوا علی رسول اللہﷺ۔ ۔ ۔ ۔ الحدیث” کو حافظ صاحب “صحیح الاسناد”قرار دے رہے ہیں جبکہ اس کی سند میں حذیفہ البارقی، جنادۃ الازدی سے روایت کرنے میں متفرد ہے اور اس کی متابعت بھی موجود نہیں۔

حالانکہ حافظ صاحب رحمہ اللہ نے تقریب (۱۵۴/۱) میں اس کو “مقبول من الربعۃ” فرمایا ہے۔

تو اس دلیل سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ حافظ صاحب علیہ الرحمۃ کے نزدیک “مقبول” راوی کی حدیث کا درجہ صحت وحسن کے درمیان گھومنے والا ہے۔

اور حافظ صاحب رحمہ اللہ کی مراد کو سمجھنے کے لیے یہ تین دلائل ہی کافی ہیں، لیکن برسبیل تنزل چند ایک مزید دلائل بھی پیش کیے دیتے ہیں۔

۴۔ جن روایات کو امام بخاری رحمہ اللہ الباری نے تعلیقاً صیغۂ تمریض سے ذکر کیا ہے ان کا حکم بیان کرتے ہوئے ھدی الساری (۱۸/۱) میں حافظ صاحب فرماتے ہیں :

“فمنہ ماھو صحیح ولیس علی شرطہ ومنہ ما ہو حسن ومنہ ما ہو ضعیف بنوعیہ منجر ولا جابر لہ۔ ”

اور پھر حسن کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

“ومثال الحسن قولہ فی البیوع ویذکر عن عثمان رضی اللہ عنہ ان النبیﷺ قال لہ اذا بعت فکل واذا ابتعت فاکتل؛ وھذا الحدیث قد رواہ الدارقطنی [۸/۳ (۲۳)] من طریق عبیداللہ بن المغیرۃ وھو صدوق عن منقذ مولی سراقۃ وقد وثق عن عثمان بن عفان بہ۔ ” انتھی۔

تو گویا حافظ صاحب علیہ الرحمہ نے عبید اللہ بن مغیرہ کی حدیث کو حسن حدیث کی مثال کے طور پر پیش فرمایا ہے۔

جبکہ عبید اللہ بن مغیر بن ابی بردہ الکنانی کے بارہ میں تقریب (۳۷۴/۱) میں “مقبول من الرابعۃ” کہا ہے۔

 

ملحوظہ

 

اس حدیث کو عبد بن حمید نے (۵۲) ابن المبارک سے، اور ابن ماجہ نے (۲۲۳۰) ابوعبدالرحمن المقریِ سے، اور بزار نے حسن بن موسیٰ سے (۳۷۹)، اور بیہقی نے کبری (۳۱۵/۵) میں سعید بن ابی مریم سے بطریق ابن لھیعہ ازموسیٰ بن وردان، اسی طرح سعید بن مسیب سے بیان کیا ہے۔ اور یہ روایت ابن لھیعہ کی صحیح احادیث میں سے ہے کیونکہ یہ عبادلہ ثلاثہ کبراء (۱) ابن مبارک (۲) ابن وہب (۳) اور المقرئ کی مرویات سے ہے۔

یعنیا س حدیث کو روایت کرنے میں عبیداللہ بن مغیرہ متفرد نہیں بلکہ سعید بن المسیب رحمہ اللہ ان کی متابعت فرما رہے ہیں اور اسی طرح امام احمد نے بھی(۶۲/۱) نقل فرمایا ہے، اور طحاوی نے شرح المعانی (۱۶/۳) میں ذکر کیا ہے۔

۵۔ حافظ صاحب نے تغلیق التعلیق (۴۳۶/۲) میں ذکر کیا ہے

“قال ابن ابی شیبۃ [۲۹۹/۱، (۳۴۲۱)] حدثنا یزید بن ہارون عن محمد بن عمرو عن ابی عمرو بن حماس عن مالک بن اوس بن الحدثان البصری عن ابی ذر انہ دخل المسجد فاتی ساریۃ۔ ۔ ۔ ۔ الحدیث۔ ”

اور پھر فرمایا ہے : “والاسناد حسن”

جبکہ ابو عمرو بن حماس اللیثی کے بارہ میں تقریب میں فرماتے ہیں : “مقبول من السادسۃ”

۶۔ الإصابہ فی معرفۃ الصحابۃ (۱۴/۲) میں فرماتے ہیں :

“حبۃ ابن عامر الخزاعی وقیل العامری أخو سواء بن خالد صحابی نزل الکوفۃ روی حدیثہ ابن ماجہ باسناد حسن من طریق الاعمش عن ابی شرحبیل عن حبۃ وسواء ابنی خالد قالا دخلنا علی النبیﷺ وھو یعالج شیئاً۔ ۔ ۔ الحدیث۔ ”

یعنی وہ حدیث جس کو ابن ماجہ نے (۴۱۶۵)، احمد نے (۴۶۹/۳)، ھناد نے کتاب الزہھد (۷۸۹) میں، ابن سعد نے الطبقات الکبری (۳۳/۶) میں، بخاری نے الادب المفرد (۴۵۳) میں مختصراً، ابن ابی عاصم نے الآحاد و المثانی (۱۳۸/۳) میں، طبرانی نے الکبیر [۷/۴، (۳۴۷۹) اور ۱۳۷/۷، (۶۶۱۰)، (۶۶۱۱)] میں اور مزی نے تہذیب الکمال [۳۵۵/۵، (۳۵۶)] میں بطریق اعمس از سلام بن شرحبیل ابو شرحبیل از حبۃ وسواء ابنی خالد نکالا ہے۔

اور یہ حدیث غریب ہے کیونکہ اس کو حبہ اور سواء ابنی خالد سے ابو شرحبیل سلام بن شرحبیل کے سوا اور کسی نے روایت نہیں کیا ہے اور ابو شرحبیل سے اس کو روایت کرنے میں اعمش متفرد ہے اور حافظ صاحب علیہ الرحمہ نے عدم متابعت اور تفرد کے باوصف اس کو حسن قرار دیا ہے۔

جبکہ ابو شرحبیل سلام بن شراحبیل کے بارہ میں تقریب (۲۶۱/۱) میں فرماتے ہیں : “مقبول من الرابعۃ”

۷۔ فتح الباری (۳۱۳/۱) میں فرماتے ہیں :

“وروی ابوداؤد باسناد حسن عن انس ان النبیﷺ شرب لبنا فلم یتمضمض ولم یتوضأ۔ ”

اور اس حدیث کو ابوداؤد نے بایں سند نکالا ہے۔ “عثمان بن ابی شیبۃ از زید بن الحباب از مطیع بن راشد از توبۃ العنبری از انس۔ ۔ ۔ الحدیث

اور اسی طرح ابن شاہین نے الناسخ و المنسوخ (۹۳) میں اور بیہقی نے الکبری ۱۶۰/۱ اور ضیاء نے الاحادیث المختارہ (۱۵۸۲) مختلف طرق سے از زیب بن الحباب از مطیع بن راشد از توبۃ العنبری از انس رضی اللہ عنہ بیان کیا ہے۔

یعنی مطیع بن راشد البصری اس کو روایت کرنے میں متفرد ہے، جس کو حافظ صاحب تقریب (۵۳۵/۱) میں “مقبول من السابعۃ” فرما رہے ہیں اور اس کی حدیث کی تحسین فرما رہے ہیں۔ جس سے حافظ صاحب کے ہاں “مقبول” راوی کے روایت کا “درجہ” واضح ہوتا ہے۔

۸۔ فتح الباری (۱۱۷/۳) میں فرماتے ہیں :

“وقد کان بعض السلف یشدد فی ذلک حتی کان حذیفۃ اذا مات لہ المیت یقول لا تؤذنو بہ احدا الی اخاف ان یکون نعیا انی سمعت رسول اللہﷺ باذنی ھاتین ینھی عن النعی اخرجہ الترمذی وابن ماجہ باسناد حسن”

اور اس حدیث کو امام ترمذی نے اپنی جامع میں ابواب الجنائز، باب ماجاء فی کراھیۃ النعی (۹۸۶) میں بایں سند نکالا ہے:

“حدثنا احمد بن منیع ثنا عبدالقدوس بن بکر بن خنیس ثنا حبیب بن سلیم العبسی عن بلال بن یحیٰ العبسی عب حذیفۃ بن الیمان۔ ۔ ۔ الحدیث۔

اور ابن ماجہ نے کتاب الجنائز، باب النھی عن النعی، (۱۴۷۶) از عمرو بن رافع از عبداللہ ابن مبارک از حبیب بن سلیم العبسی سابقہ سند سے ہی روایت کیا ہے۔

اور اسی طرح اس کو احمد نے (۳۸۵/۵، ۴۰۶) میں وکیع اور یحیٰ بن آدم سے اور بیہقی نے کبری (۷۴/۴) میں مسلم بن قتیبہ سے اور مزی نے تہذیب الکمال (۳۷۶/۵) میں یحیٰ بن آدم سے اور ان تمام نے حبیب بن سلیم از بلال ابن یحیٰ از حذیفہ روایت کیا ہے۔

اور امام ترمذی نے کہا ہے : “ھذا حدیث حسن صحیح۔ ”

تو یہ روایت بھی سابقہ روایات کی طرح ہے کہ حافظ صاحب نے حبیب بن سلیم العبسی کے تفرد اور عدم متابعت کے باوجود اس روایت کو فتح الباری میں امام ترمذی نے اپن جامع میں حسن صحیح قرار دیا ہے۔ جبکہ حبیب بن سلیم کے بارہ میں حافظ صاحب علیہ الرحمہ تقریب (۱۵۱/۱) میں فرماتے ہیں : “مقبول من السابعۃ”

حافظ صاحب علیہ الرحمہ نخبۃ الفکر (۱/۱) میں فرماتے ہیں کہ :

“فان جمعا (کقول الترمذی حسن صحیح) فللتردد فی الناقل حیث التفرد۔ ”

یعنی امام ترمذی رحمہ اللہ جب کسی راوی کے بارہ میں متردد ہو تے ہیں کہ یہ تام الضبط ہے یا خفیف الضبط اور وہ راوی اس کے بیان کرنے میں متفرد ہوتا ہے تو اس کی حدیث کو “حسن صحیح” فرما دیتے ہیں۔

جیسا کہ اس مثال میں سے واضح ہو رہا ہے اور مثال نمبر ۴ میں متفرد “مقبول” کی روایت کو “صحیح” قرار د یا ہے جس سے ہمارے مؤقف کی مزید تائید ہوتی ہے۔

۹۔ الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ(۳/۲) میں حازم بن حرملۃ بن مسعود الغفاری رضی اللہ عنہ کے بارہ میں فرماتے ہیں :

“لہ حدیث فی الاکثار من الحوقلۃ روی عنہ ابو زینب مولاہ اخرجہ ابن ماجہ وابن ابی عاصم الوحدان والطبرانی وغیرھم کلھم فی الحاء المھملہ واسنادہ حسن۔ ”

یعنی وہ حدیث جسے ابن ماجہ نے [کتاب الادب، باب ماجاء فی لا حول ولا قوۃ الا باللہ، حدیث: ۳۸۲۶] بایں سند نکالا ہے :

“حدثنا یعقوب بن حمید المدنی ثنا محمد بن معن ثنا خالد بن سعید عن ابی زینب مولی حازم بن حرملۃ عن حازم بن حرملۃ قال مر رت بالنبیﷺ فقال لی یا حازم ! اکثر من قول لا حول ولا قوۃ الا باللہ فانھا من کنوز الجنۃ۔ ”

اسی طرح بخاری نے تاریخ کبیر [۱۰۹/۳، (۳۷۰)]، ابن ابی عاصم نے الآحاد و المثانی (۳۷۵/۴)، طبرانی نے کبیر [۳۲/۴، (۳۵۶۵)]، ابو احمد العسکری نے تصحیفات المحدثین (۵۳۶/۲)، ابو نعیم نے معرفۃ الصحابہ (۲۰۵۵) اور مزی نے تہذیب الکمال (۳۱۹/۵) میں مختلف طرق سے از محمد بن معن بن نضلۃ الغفاری از خالد بن سعید از ابی زینب مولی حازم بن حرملہ از حازم بن حرمہ رضی اللہ عنہ روایت کیا ہے۔

اور یہ مدنی غریب حدیث ہے اس کو حازم بن حرملہ سے اس کے مولی ابو زینب کے علاوہ اور کسی نے روایت نہیں کیا اور ابو زینب سے روایت کرنے میں خالد بن سعید بن ابی مریم القرشی التمیمی المدنی مولی جدعان متفرد ہے۔

اور ابن حجر نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے جبکہ اس کو روایت کرنے میں خالد بن سعید متفرد ہے اور حافظ صاحب نے تقریب (۱۸۸/۱)میں اس کو “مقبول من الرابعۃ” کہا ہے۔

۱۰۔ الاصابہ فی معرفۃ (۲۹۱/۱) میں فرماتے ہیں :

“بسر بن جحاش قرشی نزل حمص قال ابن مندہ : اھل العراق یقولونہ بسر بالمہملۃ واھل الشام یقولونہ بالمعجۃ وقال الدارقطنی وابن زبر: لا یصح بالمعجمۃ وکذا ضبطہ بالمہملۃ ابو علی الھجری فی نوادرہ، وقال مسلم وابن السکن وغیرھما: لم یرو عنہ باسناد صحیح۔ ” انتھی

اور اس حدیث کو احمد نے (۲۱۰/۴) بایں سند روایت کیا ہے :

“حدثنا ابو النضر ثنا حریز بن عثمان عن عبدالرحمن بن میسرہ عن جبیر بن نضیر عن بسر بن حجاش القرشی ان النبیﷺ بصق یوما فی کفہ فوضع علیھا اصبعہ ثم قال قال اللہ تعالیٰ: ابن آدم۔ ۔ ۔ الحدیث

اور اسی طرح اس کو ابن ماجہ نے کتاب الوصایا، باب النھی عن الامساک فی الحیاۃ والتبذیر عند الموت (۲۷۰۷)، ابن سعد نے طبقات (۴۲۷/۷)، ابن ابی عاصم نے الآحاد و المثانی [۱۴۹/۲، (۱۵۰)]، طبرانی نے کبیر [۳۲/۲، (۱۱۹۳، ۱۱۹۴)] و مسند الشامین (۴۶۹)، ابن قانع نے معجم الصحابۃ (۷۶/۱) اور حاکم نے (۵۴۵/۲)، ابو نعیم نے معرفۃ الصحابۃ (۱۱۴۵، ۱۱۴۶)، بیہقی نے شعب الایمان [۲۵۶/۳، (۳۴۷۲)] اور علامہ مزی نے تہذیب الکمال (۷۲/۴) میں مختلف طرق سے از عبدالرحمن بن میسرۃ از جبیر بن نضیر از بسر بن حجاش اسی طرح روایت کیا ہے۔

اور یہ حدیث شامی غریب، کیونکہ جبیر بن نضیر کے علاوہ اور کسی نے اس کو بسر بن حجاش سے روایت نہیں کیا اور جبیر سے روایت کرنے میں عبدالرحمن بن میسرہ الحمصی متفرد ہے۔

اور یہ حدیث تمام تر احادیث کی نسبت اپنے مفہوم پر زیادہ دلالت کرنے والی کہ حافظ صاحب علیہ الرحمہ نے تفرد عبدالرحمن بن میسرہ اورعدم متابعت کے باوصف اس کو صحیح قرار د یا ہے، جبکہ عبدالرحمن بن میسرہ ابو سلمہ الحمصی کے بارہ میں تقریب (۳۵۱/۱) میں فرماتے ہیں : “مقبول من الرابعۃ”

 

ملحوظہ

 

عبدالرحمن بن میسرہ ابو سلمہ شامی مشہور تابعی ہیں، ثقہ ہیں اور کثیر الروایۃ ہیں۔ صحابہ میں سے ابو امامہ الباہلی، مقدام بن معدی کرب وغیرہ سے علم حدیث سنا ہے اور ابوداؤد، عجلی، ابن حبان اور ذہبی نے انھیں ثقہ قرار د یا ہے۔

 

تلک عشرۃ کاملۃ

 

یہ دس مثالیں اس بات پر دلیل ہیں کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے نزدیک مقبول راوی کی روایت اکثر و بیشتر حسن و صحت کے درمیان ہوتی ہے، خواہ اس کی متابعت موجود ہو یا نہ ہو۔

اور واضع مصطلح ہی اپنی مصطلح کا حقیقی معنی زیادہ بہتر طور پر سمجھتا ہے۔ ثم بحمد اللہ

ھذا ماعندی والعلم عنداللہ وعلمہ اکمل واتم ورد العلم الیہ اسلم

پہلے  ہم نے اس بات کی وضاحت کی تھی کہ حافظ ابن حجر علیہ الرحمہ جس راوی کو “مقبول” قرار دیں، اگر اس کی متابعت نہ ہو تو اس کی روایت کو آنکھیں بند کر کے ضعیف قرار دینا درست نہیں۔ بلکہ بسا اوقات مقبول کی روایت کا درجہ حافظ صاحب کے ہاں حسن و صحیح کے درمیان ہی رہتا ہے۔

ذیل میں ہم صحیحین کے چند ان رواۃ کا تذکرہ کرتے ہیں جن کو حافظ صاحب علیہ الرحمۃ نے “مقبول” قرار د یا ہے۔ اور شیخین نے تفرد اور عدم متابعت کے باوجود ان کی روایات کو اصالۃ ً ذکر کیا فرمایا۔

اور اس سے یہ بات اور زیادہ نکھر کر سامنے آ جائے گی کہ حافظ صاحب کا “مقبول” تفرد اور عدم متابعت کے “جرم” میں صرف “ضعیف” ہونے کی “سزا” کا ہی حقدار نہ ہے۔

۱۔ عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی ابکر الصدیق التیمی المدنی:۔

امام بخاری رحمہ اللہ الباری کتاب الاشربہ، باب آنیہ الفضۃ (۵۶۳۴) میں فرماتے ہیں :

“حدثنا اسماعیل یعنی الاویسی ثنی مالک بن انس عن نافع عن زید بن عبداللہ بن عمر عن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر الصدیق عن ام سلمۃ ان رسول اللہﷺ قال : الذی یشرب فی اناء الفضۃ انما یجرجر فی بطنہ نار جہنم”

اسی طرح امام مسلم علیہ الرحمہ نے کتاب اللباس والزینۃ، باب تحریم استعمال اوالی الذھب والفضۃ فی الشرب (۲۰۶۵) میں متعدد طرق سے بطریق نافع عن زید بن عبداللہ عن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر اور ایک دوسرے طریق سے از عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر عن خالتہ ام سلمہ اس حدیث کو روایت کیا ہے۔

تو یہ حدیث ان اوثق الاصول میں سے ہے جن پر شیخین نے اعتماد کیا ہے۔

یہاں یہ بات یاد رہے کہ ہر وہ شخص جس نے اس حدیث الذی یشرب فی انا ء الفضۃ۔ ۔ ۔ الحدیث” کو روایت کیا ہے اس کا معتمد اور مرجع عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر التیمی کی حدیث ہے کہ جن کو حافظ صاحب نے “مقبول” قرار دیا ہے۔ تو تمام لوگ اس حدیث کو روایت کرنے میں نافع مولی ابن عمر کے محتاج ہیں جو کہ اس کو عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر سے روایت کرتے ہیں اور یہ حدیث بھی اسی طریق سے ہی صحیح ہے۔

اور یہ حدیث اس بارے بھی “اصل” کا درجہ رکھتی ہے کہ ابن حجر رحمہ اللہ لفظ “مقبول” بول کر “ثقہ” مراد لیتے ہیں اور اس کی حدیث کو حجت مانتے ہیں اگرچہ وہ متفرد ہی کیوں نہ ہو۔

خود حافظ صاحب فتح الباری (۹۷/۱۰) میں فرماتے ہیں :

“عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر الصدیق التمیمی ہو ابن اخت ام سلمۃ التی روی عنھا ھذا الحدیث امہ قریبۃ بنت ابی امیۃ بن المغیرۃ المخزومیۃ وھو ثقۃ مالہ فی البخاری غیر ھذا الحدیث۔ ”

تو لیجئے حافظ صاحب نے اس نص میں عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر کو خود “ثقہ” قرار دیا ہے۔

اب اسی راوی کے بارہ میں ان کی تقریب [۳۱۰/۱(۳۴۲۵)] کی عبارت ملاحظہ فرمائیں :

“عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر الصدیق التیمی، مقبول من الثالثۃ”

تو گویا حافظ صاحب علیہ الرحمۃ قلیل الروایۃ ثقہ راوی کو بھی مقبول کہہ دیتے ہیں، اگرچہ وہ اپنی حدیث میں متفرد ہو اور اس کی متابعت بھی نہ ہو۔

یاد رہے کہ شیخین کے علاوہ اس حدیث کو امام شافعی نے اپنی مسند [۱۰/۱(۲۳)] میں ابن وہب نے جامع (۵۹۷)، طیالسی نے مسند (۱۶۰۱)، یحیی بن یحیی نے مؤطا (۱۷۱۷)، محمد بن الحسن نے مؤطا (۸۸۱)، ابن ابی شیبہ نے [۱۰۳/۵(۲۴۱۳۶)]، احمد نے [۳۰۰/۶، ۳۰۲، ۳۰۴، ۳۰۶] اسحاق بن راہویہ نے مسند (۱۲۴، ۳۹)، ابو یعلی (۶۹۹۸، ۶۹۱۴، ۶۸۸۲)، ابوعوانہ نے مسند [۲۱۶/۵، (۸۴۵۴)، ۲۱۸/۵، (۸۴۶۷)]، ابن حبان نے (۵۳41)، طبرانی نے کبیر 23/288، أوسط (3753)، مسند الشامیین (108)، ابن المقرئ نے معجم (1010)، تمام نے الفوائد (1660)، ابن عبدالبر نے التمہید 16/102، ابن حزم نے محلی 2/223، بغوی نے شرح السنۃ (3030)، مزی نے تہذیب الکمال 15/198 میں بطرق متعددہ عن نافع عن زید بن عبداللہ بن عمر عن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر الصدیق عن ام سلمہ روایت کیا ہے۔

نیز یہ کہ علامہ مزی نے تہذیب میں اگرچہ صرف ابن حبان کی توثیق پر ہی اکتفا کیا ہے (15/198، 197)لیکن امام العجلی نے معرفۃ الثقات 2/44(۹۲۶)میں بھی اس کو ثقہ قرار دیا ہے۔ اور ابن خلفون نے بھی جیاس کہ اکمال مغلطای 2/288 میں ہے اور امام ذہبی نے الکاشف [1/567 (2816)] میں اس کی توثیق کی ہے۔ اسی طرح الحافظ الجھبذعلامہ ابن حجر نے فتح الباری 10/97 میں ان سب سے موافقت کی ہے۔

۲۔ معبد بن کعب بن مالک الانصاری السُلمی المدنی:۔

امام بخاری نے کتاب الرقاق (6512) میں بطریق اسماعیل ثنی مالک عن محمد بن عمرو بن حلحلۃ عن معبد بن کعب مالک عن ابی قتادۃ بن ربعی الانصاری اور (6513) بطریق مدد ثنا یحیی عن عبد ربہ بن سعید عن محمد بن عمرو بن حلحلۃ ثنی ابن کعب عن ابی کعب عن ابی قتادۃ اور امام مسلم نے کتاب الجنائز (950) میں بطریق قتیبہ بن سعید عن مالک بن انس عن محمد بن المثنی ثنا یحیی بن سعید (ح) ثنا اسحاق بن ابراہیم انا عبدالرزاق جمیعا عن عبداللہ بن سعید بن ابی ہند عن محمد بن عمرو عن ابن ٍ لکعب بن مالک عن ابی قتادۃ۔ حدیث مستریح او مستراح منہ۔ ۔ ۔ الحدیث روایت کی ہے۔

اور حافظ صاحب علیہ الرحمہ تقریب 2/199 میں فرماتے ہیں :

“معبد بن کعب بن مالک الانصاری السلمی بفتحتین المدنی مقبول من الثالثۃ۔ ”

اگرچہ ابن ابی حاتم نے الجرح والتعدیل میں اس کو ذکر کرنے کے بعد سکوت اختیار کیا ہے [8/279 (1279)] لیکن ابن حبان نے اس کو ثقات [5/432 (5569)] میں ذکر کیا ہے اور اپنی صحیح میں اس کی روایت کو جگہ دی ہے۔ اسی طرح امام العجلی نے معرفۃ الثقات 2/285 (1753)] میں مدنی تابعی ثقہ کہا ہے۔

تو یہ بھی اس بات کا واضح ترین بیان ہے کہ معبد بن کعب الانصاری جس کو ابن حجر علیہ الرحمہ نے “مقبول” قرار دیا ہے اور وہ ابو قتادۃ سے روایت کرنے میں متفرد ہے اور اس کی متابعت بھی موجود نہیں ہے اور اس کو أئمہ حدیث نے ثقہ قرار دیا ہے اور اپنی صحیحوں میں درج فرما کر اس امر کی وضاحت فرمائی ہے کہ “مقبول” کی جب متابعت نہ ہو تو بھی بسا اوقات حجت ہوتا ہے اور اس شخص کی تردید کی ہے جو مقبول کی عدم متابعت والی روایت کو رد کرنے پر مصر ہے۔

۳۔ عوف بن حارث بن طفیل بن سخبرۃ بن جرثومۃ الازدی :۔

امام بخاری رحمہ اللہ الباری نے کتاب الادب (6075) میں بطریق

ابوالیمان انا شعیب عن الزھری ثنی عوف بن مالک بن الطفیل ہو ابن الحارث وھو ابن اخی عائشۃ حدثت ان عبدالزبیر قال بیع او عطاء اعطتہ عائشۃ واللہ لتنتھین عائشۃ اولا حجرن علیہا۔ ۔ ۔ الحدیث

امام احمد فرماتے ہیں :

“شعیب عن الزھری ثنی عوف بن الحارث بن الطفیل وھو ابن اخی عائشۃ روج النبیﷺ لامھا۔ ۔ ۔ الحدیث (4/327)

اور (4/327) میں ہی فرماتے ہیں

: الاوزاعی ثنا الزھری عن طفیل بن الحارث وکان رجلا من ازد شنوءۃ وکان اخا عائشۃ لامھا ام رومان۔ ۔ ۔ الحدیث

اسی طرح عبدالرزاق نے [8/444 (15851)]، اور اسی سے احمد (4/327) اور ابن حبان نے (5662) معمر سے اور بخاری نے الادب المفرد (397) اور طحاوی نے مشکل الآثار (4240) دونوں نے عبدالرحمن بن خالد بن مسافر اور طبرانی نے کبیر 20/21، 23/24 میں معمر اور عبدالرحمن بن خالد اور عبیداللہ بن ابی زیادالرصافی سے اور بیہقی نے کبری 6/61) میں الرصافی سے تینوں۔ معمر، ابن مسافر اور رصافی۔ نے زہری از عوف بن حارث بن الطفیل از عائشہ بیان کی ہے۔

یعنی زہری کے اصحاب نے زہری کے شیخ “ازدی” کے نام کے بارہ میں اختلاف کیا ہے اور معمر نے اس کا نام صحیح طور پر ضبط کیا ہے اور وہ زہری کی حدیث میں باقی تمام کی نسبت مقدم ہے۔ اس نے “عوف بن حارث بن طفیل” ہی کہا ہے۔ اور درست بات بھی یہی معلوم ہوتی ہے۔

بہرحال حافظ ابن حجر علیہ الرحمۃ صحیح بخاری کے اس راوی کے بارہ میں بھی اپنی تقریب میں فرماتے ہیں : “مقبول من الثالثۃ” (1/433)

اور ذہبی نے “الکاشف” میں کہا ہے : “وُثق” (2/101)

اور بخاری اور ابن حبان کا اس کی روایت کو تفرد   وعدم متابعت کے باوجود اپنی صحیح میں ذکر کرنا اس مقبول کی توثیق کے لیے مضبوط دلیل ہے۔

 

خاتمہ

 

یہ چند سطور رقم کرنے کا مقصد فقط ان لوگوں کے لیے دلائل مہیا کرنا تھا۔ جو مقبول رواۃ کی احادیث کو فقط عدم متابعت کی پاداش میں رد کر بیٹھے اور دیگر ائمۂ جرح و تعدیل کی تصریحات کی طرف دھیان نہیں دیتے۔

تو یہ چند حوالہ جات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی کتاب تقریب التہذیب میں جن رواۃ کو مقبول کہا گیا ہے وہ بسا اوقات ثقہ ثبت ہوتے ہیں اور حافظ صاحب علیہ الرحمہ فقط قلیل الحدیث ہونے کی وجہ سے ان کو مقبول قرار دے دیتے ہیں جبکہ ان کی روایت تفرد و عدم متابعت کے با وصف حسن یا صحیح کے درجہ سے کم نہیں ہوتی ہے۔

ھذا واللہ تعالیٰ اعلم ورد العلم الیہ اسلم والشکر والدعاء لمن نبہ ارشد و قوم

٭٭٭

فائل کے لئے تشکر: مرثد ہاشمی، مکتبۂ جبرئیل

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید