FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

تفہیم القرآن

 

 

 

۱۰۔ سورۂ الشعراء، سورۂ النمل، سورۂ القصص

 

                   مولانا ابو الاعلیٰ مودودی

 

 

 

 

 

 

 

طتبرّ رھُ

۲۶۔ الشعراء

 

 

نام

 

آیت ۲۲۴ وَالشُّعَرَ آءُیَتَّبِعُھُمُ الْغَا وٗ نَ سے ماخوذ ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مضمون ور انداز بیان سے محسوس ہوتا ہے اور روایات اس کی تائید کرتی ہیں کہ اس سورے کا زمانہ نزول مکہ کا دور متوسط ہے۔ ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ پہلے سورہ طٰہٰ نازل ہوئی پھر واقعہ اور اس کے بعد الشعراء (روح المعانی جلد ۱۹ صفحہ ۶۴)۔ اور سورہ طٰہٰ کے متعلق یہ معلوم ہے کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام سے پہلے نازل ہو چکی تھی۔

 

موضوع اور مباحث

 

تقریر کا پس منظر یہ ہے کہ کفار مکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تبلیغ و تذکیر کا مقابلہ پیہم جحود و انکار سے کر رہے تھے اور اس کے لیے طرح طرح کے بہا نے تراشے چلے جاتے تھے۔ کبھی کہتے کہ تم نے ہمیں کوئی نشانی تو دکھائی ہی نہیں ، پھر ہمیں کیسے یقین آئے کہ تم نبی ہو۔ کبھی آپ کو شاعر اور کاہن قرار دے کر آپ کی تعلیم و تلقین کو باتوں میں اڑا دینے کی کوشش کرتے۔ اور کبھی آپ کو شاعر اور کاہن قرار دے کر آپ کی تعلیم و تلقین کو باتوں میں اڑا دینے کی کوشش کرتے۔ اور کبھی یہ کہہ کر آپ کے مشن کا استخفاف کرتے کہ ان کے پیرو یا تو چند نادان نوجوان ہیں ، یا پھر ہمارے معاشرے کے ادنی طبقات کے لوگ، حالانکہ اگر اس تعلیم میں کوئی جان ہوتی تو اشراف قوم اور شیوخ اس کو قبول کرتے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان لوگوں کو معقول دلائل کے ساتھ ان کے عقائد کی غلطی اور توحید و معاد کی صداقت سمجھانے کی کوشش کرتے کرتے تھکے جاتے تھے ، مگر وہ ہٹ دھرمی کی نت نئی صورتیں اختیار کرتے نہ تھکتے تھے۔ یہی چیز  آنحضورؐ کے لیے سوہان روح بنی ہوئی تھی اور اس غم میں آپ کی جان گھلی جاتی تھی۔

ان حالات میں یہ سورت نازل ہوئی۔ کلام کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ تم ان کے پیچھے ہی جان کیوں گھلاتے ہو؟ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہوں نے کوئی نشانی نہیں دیکھی ہے ، بلکہ اس کی وجہ پہ ہے کہ یہ ہٹ دھرم ہیں ، سمجھانے سے نہیں ماننا چاہتے ، کسی ایسی نشانی کے طالب میں جو زبر دستی ان کی گردنیں جھکا دے ، اور وہ نشانی اپنے وقت پر جب آ جائے گی تو انہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ جو بات انہیں سمجھائی جا رہی تھی وہ کیسی برحق تھی۔ اس تمہید کے بعد دسویں رکوع تک جو مضمون مسلسل بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ طالب حق لوگوں کے لیے تو خدا کی زمین پر ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں جنہیں دیکھ کر وہ حقیقت کو پہچان سکتے ہیں۔ لیکن ہٹ دھرم لوگ کبھی کسی چیز و دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائے ہیں ، نہ آفاق کی نشانیاں دیکھ کر اور نہ انبیاء کے معجزات دیکھ کر یہ وہ تو ہمیشہ اس وقت تک اپنی ضلالت پر جمے رہے ہیں جب تک خدا کے عذاب نے آ کر ان کو گرفت میں نہیں لے لیا ہے۔ اسی مناسبت سے تاریخ کی سات قوموں کے حالات پیش کیے گئے ہیں جنہوں نے اسی ہٹ دھرمی سے کام لیا تھا جس سے کفار مکہ کام لے رہے تھے۔ اور اس تاریخی بیان کے ضمن میں چند باتیں ذہن نشین کرائی گئی ہیں :۔

اول یہ کہ نشانیاں دو طرح کی ہیں۔ ایک قسم کی نشانیاں وہ ہیں جو خدا کی زمین پر ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں ، جنہیں دیکھ کر ہر صاحب عقل آدمی تحقیق کر سکتا ہے کہ نبی جس چیز کی طرف بلا رہا ہے وہ حق ہے یا نہیں۔ دوسری قسم کی نشانیاں وہ ہیں جو فرعون اور اس کی قوم نے دیکھیں ، قوم نوح نے دیکھیں ، عاد اور ثمود نے دیکھیں ، قوم لوط اور اصحاب الاَیکہ نے دیکھیں۔ اب یہ فیصلہ کرنا خود کفار کا اپنا کام ہے کہ وہ کس قسم کی نشانی دیکھا چاہتے ہیں۔

دوم یہ کہ ہر زمانے میں کفار کی ذہنیت ایک سی رہی ہے۔ ان کی حجتیں ایک ہی طرح کی تھیں۔ ان کے اعتراضات یکساں تھے۔ ایمان نہ لانے کے لیے ان کے حیلے اور بہانے یکساں تھے۔ اور آخر کار ان کا انجام بھی یکساں ہی رہا۔ اس کے برعکس ہر زمانے میں انبیاء کی تعلیم ایک تھی۔ ان کی سیرت و اخلاق کا رنگ ایک تھا۔ اپنے مخالفوں کے مقابلے میں ان کی دلیل و حجت کا انداز ایک تھا۔ اور ان سب کے ساتھ اللہ کی رحمت کا معاملہ بھی ایک تھا۔ یہ دونوں نمونے تاریخ میں موجود ہیں۔ کفار خود دیکھ سکتے ہیں کہ ان کی اپنی تصویر کس نمونے سے ملتی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات میں کس نمونے کی علامات پائی جاتی ہیں۔

تیسری بات جو بار بار دہرائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا زبردست، قادر و توانا بھی ہے اور رحیم بھی۔ تاریخ میں اس کے قہر کی مثالیں بھی موجود ہیں اور رحمت کی بھی۔ اب یہ بات لوگوں کو خود ہی طے کرنی چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس کے رحم کا مستحق بناتے ہیں یا قہر کا۔

آخری رکوع میں اس بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم لوگ اگر نشانیاں ہی دیکھنا چاہتے ہو، تو آخر وہ خوفناک نشانیاں دیکھنے پر کیوں اصرار کرتے ہو جو تباہ شدہ قوموں نے دیکھی ہیں۔ اس قرآن کو دیکھو جو تمہاری اپنی زبان میں ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھو۔ ان کے ساتھیوں کو دیکھو۔ کیا یہ کلام کسی شیطان یا جن کا کلام ہو سکتا ہے ؟ کیا اس کلام کا پیش کرنے والا تمہیں کاہن نظر آتا ہے ؟ کیا محمدؐ اور ان کے اصحاب تمہیں ویسے ہی نظر آتے ہیں جیسے شاعر اور ان کے ہم مشرب ہوا کرتے ہیں ؟ ضدّم ضدّا کی بات دوسری ہے ، مگر اپنے دلوں کو ٹٹول کر دیکھو کہ وہ کیا شہادت دیتے ہیں۔ اگر دلوں میں تم خود جانتے ہو کہ کہانت اور شاعری سے اس کا کوئی دور کا واسطہ بھی نہیں ہے تو پھر یہ بھی جان لو کہ تم ظلم کر رہے ہو اور ظالموں کا سا انجام دیکھ کر رہو گے۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

ط۔س۔م۔ یہ کتابِ مبین کی آیات ہیں۔ ۱اے محمدؐ،  شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ ۲ ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کر سکتے ہیں کہ اِن کی گردنیں اس کے آگے جھُک جائیں۔ ۳ اِن لوگوں کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ اب کہ یہ جھُٹلا چکے ہیں، عنقریب اِن کو اس چیز کی حقیقت (مختلف طریقوں سے )معلوم ہو جائے گی جس کا یہ مذاق اُڑاتے رہے ہیں۔ ۴

اور کیا انہوں نے کبھی زمین پر نگاہ نہیں ڈالی کہ ہم نے کتنی کثیر مقدار میں ہر طرح کی عمدہ نباتات اس میں پیدا کی ہیں؟یقیناً اس میں ایک نشانی ہے ۵،  مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ ۶ ؏١

 

تفسیر

 

۱: یعنی یہ آیات جو اس سورے میں پیش کی جا رہی ہیں،  اس کتاب کی آیات ہیں جو اپنا مدعا صاف صاف کھول کر بیان کرتی ہے۔ جسے پڑھ کر یا سن کر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ وہ کس چیز کی طرف بلاتی ہے،  کس چیز سے روکتی ہے،  کسے حق کہتی ہے اور کسے باطل قرار دیتی ہے۔ ماننا یا نہ ماننا الگ بات ہے،  مگر کوئی شخص یہ بہانہ کبھی نہیں بنا سکتا کہ اس کتاب کی تعلیم اس کی سمجھ میں نہیں آئی اور وہ اس سے یہ معلوم ہی نہ کر سکا کہ وہ اس کو کیا چیز چھوڑنے اور کیا اختیار کرنے کی دعوت دے رہی ہے۔ قرآن کو الکِتَابُ الْمُبِیْن کہنے کا ایک دوسرا مفہوم بھی ہے،  اور وہ یہ کہ اس کا کتاب الٰہی ہونا ظاہر و باہر ہے۔ اس کی زبان، اس کا بیان، اس کے مضامین، اس کے پیش کردہ حقائق، اور اس کے حالاتِ نزول، سب کے سب صاف صاف دلالت کر رہے ہیں کہ یہ خداوند عالم ہی کی کتاب ہے۔ اس لحاظ سے ہر فقرہ جو اس کتاب میں آیا ہے ایک نشانی اور ایک معجزہ (آیت) ہے۔ کوئی شخص عقل و خرد سے کام لے تو اسے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت کا یقین کرنے کے لیے کسی اور نشانی کی حاجت نہیں،  کتاب مبین کی یہی آیات (نشانیاں ) اسے مطمئن کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ مختصر تمہیدی فقرہ اپنے دونوں معنوں کے لحاظ سے اس مضمون کے ساتھ پوری مناسبت رکھتا ہے جو آگے اس سورہ میں بیان ہوا ہے۔ کفار مکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے معجزہ مانگتے تھے تاکہ اس نشانی کو دیکھ کر انہیں اطمینان ہو کہ واقعی آپ یہ پیغام خدا کی طرف سے لائے ہیں۔ فرمایا گیا کہ اگر حقیقت میں کسی کو ایمان لانے کے لیے نشانی کی طلب ہے تو کتاب مبین کی یہ آیات موجود ہیں۔ اسی طرح کفار نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر الزام رکھتے تھے کہ آپ شاعر یا کاہن ہیں۔ فرمایا گیا کہ یہ کتاب کوئی چیستاں اور معما تو نہیں ہے۔ صاف صاف کھول کر اپنی تعلیم پیش  کر رہی ہے۔ خود ہی دیکھ لو کہ یہ تعلیم کسی شاعر یا کاہن کی ہو سکتی ہے ؟

۲: نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی اس حالت کا ذکر قرآن مجید میں مختلف مقامات پر کیا گیا ہے۔ مثلاً سورہ کہف میں فرمایا : قَلَعَلَّکَ بَا خِعٌ نَّفْسَکَ عَلیٰٓ اٰثَارِھِمْ اِنْ  لَّم یُؤْ مِنُوْ ا لِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفاًO ‘‘ شاید تم ان کے پیچھے غم کے مرے اپنی جان کھو دینے والے ہو اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائے ‘‘۔ (آیت ۶)۔ اور سورہ فاطر میں ارشاد ہوا فَلَا تَذْھَبْ نَفْسُکَ عَلَیْھِمْ حَسَرَاتٍO ’’ ان لوگوں کی حالت پر رنج و افسوس میں تمہاری جان نہ گھلے ‘‘  (آیت ۸)۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں اپنی قوم کی گمراہی و ضلالت، اس کی اخلاقی پستی، اس کی ہٹ دھرمی، اور اصلاح کی ہر کوشش کے مقابلے میں اس کی مزاحمت کا رنگ دیکھ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و سلم برسوں اپنے شب و روز کس دل گداز و جاں گُسِل کیفیت میں گزارتے رہے ہیں۔ بَخع کے اصل معنی پوری طرح ذبح کر ڈالنے کے ہیں۔ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ کے لغوی معنی یہ ہوئے کہ تم اپنے آپ کو قتل کیے دے رہے ہو۔

۳: یعنی کوئی ایسی نشانی نازل کر دینا جو تمام کفار کو ایمان و طاعت کی روش اختیار کرنے پر مجبور کر دے،  اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ بھی مدکل نہیں ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ کام اس کی قدرت سے باہر ہے۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کا جبری ایمان اس کو مطلوب نہیں ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ لوگ عقل و خرد سے کام لے کر ا ن آیات کی مدد سے حق کو پہچانیں جو کتاب الٰہی میں پیش کی گئی ہیں،  جو تمام آفاق میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں،  جو خود ان کی اپنی ہستی میں پائی جاتی ہیں۔ پھر جب ان کا دل گواہی دے کہ واقعی حق وہی ہے جس انبیاء علیہم السلام نے پیش کیا ہے،  اور اس کے خلاف جو عقیدے اور طریقے رائج ہیں وہ باطل ہیں،  تو جان بوجھ کر باطل کو چھوڑیں اور حق کو اختیار کریں۔ یہی اختیاری ایمان اور ترک باطل اور اتباع حق وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ انسان سے چاہتا ہے۔ اس لیے اس نے انسان کو ارادے اور اختیار کی آزادی دی ہے۔ اسی بنا پر اس نے انساں کو یہ قدرت عطا کی ہے کہ صحیح اور غلط، جس راہ پر بھی وہ جانا چاہے جا سکے۔ اسی وجہ سے اس نے انسان کے اندر خیر اور شر کے دونوں رجحانات رکھ دیے ہیں،  فجور اور تقویٰ کی دونوں راہیں اس کے آگے کھول دی ہیں،  شیطان کو بہکانے کی آزادی عطا کی ہے،  نبوت اور وحی اور دعوت خیر کا سلسلہ راہ راست دکھانے کے لیے قائم کیا ہے،  اور انسان کو انتخاب راہ کے لیے ساری مناسبِ حال صلاحیتیں دے کر اس امتحان کے مقام پر کھڑا کر دیا ہے کہ ہو کفر و فسق کا راستہ اختیار کرتا ہے یا ایمان و طاعت کا۔ اس امتحان کا سارا مقصد ہی فوت ہو جائے ار اللہ تعالیٰ کوئی ایسی تدبیر اختیار فرمائے جو انسان کو ایمان اور اطاعت پر مجبور کر دینے والی ہو۔ جبری ایمان ہی مطلوب ہوتا تو نشانیاں نازل کر کے مجبور کرنے کیا حاجت تھی، اللہ تعالیٰ انسان کو اسی فطرت اور ساخت پر پیدا فرما سکتا تھا جس میں کفر، نافرمانی اور بدی کا کوئی امکان ہی نہ ہوتا، بلکہ فرشتوں کی طرح انسان بھی پیدائشی فرماں بردار ہوتا۔ یہی حقیقت ہے جس کی طرف متعدد مواقع پر قرآن مجید میں اشارہ کیا گیا ہے۔ مثلاً فرمایا : وَلَوْ شَآءَ رَبُّکَ لَاٰ مَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلّھُُمْ جَمِیْعاً اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّیٰ یَکُوْنُوْ ا مُؤْمِنِیْنَ O۔ ’’ اگر تمہارا رب چاہتا تو زمین کے رہنے والے سب کے سب لوگ ایمان لے آتے۔ اب کیا تم لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کرو گے ‘‘ ؟ (یونس، آیت ۹۹)۔ اور : وَلَوْ شَآ ءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ وَلِذٰلِکَ خَلَقَھُمْ۔ ’’اگر تیرا رب چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی امت بنا سکتا تھا۔ وہ تو مختلف راہوں پر ہی چلتے رہیں گے (اور بے راہ رویوں سے ) صرف وہی بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے۔ اسی لیے تو اس نے ان کو پیدا کیا تھا ‘‘۔ (ہود۔ آیت ۱۱۹)۔ مزید تشریح کے لی ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم (یونس، حواشی ۱۰۱۔ ۱۰۲۔ ہود، حاشیہ ۱۱۶ )۔

۴: یعنی جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ معقولیت کے ساتھ ان کو سمجھانے اور راہ راست دکھانے کی جو کوشش بھی جائے اس کا مقابلہ بے رخی و بے التفاتی سے کریں،  ان کا علاج یہ نہیں ہے کہ ان کے دل میں زبردستی ایمان اتارنے کے لیے آسمان سے نشانیاں نازل کی جائیں،  بلکہ ایسے لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ جب ایک طرف انہیں سمجھانے کا حق پورا پورا ادا کر دیا جائے اور دوسری طرف وہ بے رخی سے گزر کر قطعی اور کھلی تکذیب پر، اس سے بھی آگے بڑھ کر حقیقت کا مذاق اڑانے پر اتر آئیں،  تو ان کا انجام بد انہیں دکھا دیا جائے۔ یہ انجام بد اس شکل میں بھی انہیں دکھایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں وہ حق ان کی آنکھوں کے سامنے ان کی ساری مزاحمتوں کے باوجود غالب آ جائے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ اس کی شکل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان پر ایک عذاب الیم نازل ہو جائے اور وہ تباہ و بر باد کر کے رکھ دیے جائیں۔ اور وہ اس شکل میں بھی ان کے سامنے آ سکتا ہے کہ چند سال اپنی غلط فہمیوں میں مبتلا رہ کر وہ مو کی ناگزیر منزل سے گزریں اور آخر کار ان پر ثابت ہو جائے کہ سراسر باطل تھا جس کی راہ میں انہوں نے اپنی تمام سرمایہ زندگانی کھپا دیا اور حق وہی تھا جسے انبیاء علیہم السلام پیش کرتے تھے اور جسے یہ عمر بھر ٹھٹھوں میں اڑاتے رہے۔ اس انجام بد کے سامنے آنے کی چونکہ بہت سی شکلیں ہیں اور مختلف لوگوں کے سامنے وہ مختلف صورتوں سے آ سکتا ہے اور آتا رہا ہ، اسی لیے آیت میں نَبَاء کے بجائے اَنْبَاء بصیغہ جمع فرمایا گیا، یعنی جس چیز کا یہ مذاق اڑا رہے ہیں اس کی حقیقت آخر کار بہت سی مختلف شکلوں میں انہیں معلوم ہو گی۔

۵: یعنی جستجوئے حق کے لیے کسی کو نشانی کی ضرورت ہو تو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں،  آنکھیں کھول کر ذرا اس زمین ہی کی روئیدگی کو دیکھ لے،  اسے معلوم ہو جائے گا کہ نظام کائنات کی جو حقیقت (توحید الہٰ ) انبیاء علیہم السلام پیش کرتے ہیں وہ صحیح ہے،  یا وہ نظریات صحیح ہیں جو مشرکین یا منکرین خدا بیان کرتے ہیں۔ زمین سے اگنے والی بے شمار انواع و اقسام کی چیزیں جس کثرت سے اگ رہی ہیں،  جن مادوں اور قوتوں کی بدولت اگ رہی ہیں،  جن قوانین کے تحت اگ رہی ہیں،  پھر ان کی خواص اور صفات میں اور بے شمار مخلوقات کی ان گنت ضرورتوں میں جو صریح مناسبت پائی جاتی ہے،  ان ساری چیزوں کو دیکھ کر صرف ایک احمق ہی اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ کسی حکیم کی حکمت، کسی علیم کے علم، کسی قادر و توانا کی قدرت اور کسی خالق کے منصوبہ تخلیق کے بغیر بس یونہی آپ سے آپ ہو رہا ہے۔ یا اس سارے منصوبے کو بنانے اور چلانے والا کوئی ایک خد نہیں ہے بلکہ بہت سے خداؤں کی تدبیر نے زمین اور آفتاب و ماہتاب اور ہوا اور پانی کے درمیان یہ ہم آہنگی، اور ان وسائل سے پیدا ہونے والی نباتات اور بے حد و حساب مختلف النوع جانداروں کی حاجات کے درمیان یہ منا سبت پیدا کر رکھی ہے۔ ایک ذی عقل انسان تو، اگر وہ کسی ہٹ دھرمی اور پیشگی تعصب میں مبتلا نہیں ہے،  اس منظر کو دیکھ کر بے اختیار پکار اٹھے گا کہ یقیناً یہ خدا کے ہونے اور ایک ہی خدا کے ہونے کی کھلی کھلی علامات ہیں۔ ان نشانیوں کے ہوتے اور کس معجزے کی ضرورت ہے جسے دیکھے بغیر آدمی کو توحید کی صداقت کا یقین نہ آ سکتا ہو؟

۶: یعنی اس قدرت  تو ایسی زبردست ہے کہ کسی کو سزا دینا چاہے تو پل بھر میں مٹا کر رکھ دے۔ مگر اس کے باوجود یہ سراسر اس کا رحم ہے کہ سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ برسوں اور صدیوں ڈھیل دیتا ہے،  سوچنے اور سمجھنے اور سنبھلنے کی مہلت دیے جاتا ہے،  اور عمر بھر کی نا فرمانیوں کو ایک توبہ پر معاف کر دینے کے لیے تیار رہتا ہے۔

 

ترجمہ

 

اِنہیں اُس وقت  کا قصہ سُناؤ جب کہ تمہارے ربّ نے موسیٰؑ کو پکارا ’’ ۷ ظالم قوم کے پاس جا۔۔۔۔ فرعون کی قوم کے پاس ۸۔۔۔۔ کیا وہ نہیں ڈرتے؟‘‘  ۹ اُس نے عرض کیا ’’ اے میرے ربّ، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھ کو جھُٹلا دیں گے۔ میرا سینہ گھُٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔ آپ ہارونؑ کی طرف رسالت بھیجیں۔ ۱۰ اور مجھ پر اُن کے ہاں ایک جُرم کا الزام بھی ہے،  اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘  ۱۱ فرمایا ’’ ہر گز نہیں، تم دونوں جاؤ ہماری نشانیاں لے کر ۱۲،  ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سُنتے رہیں گے۔ فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہو، ہم کو ربّ العٰلمین نے اس لیے بھیجا ہے کہ تُو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔‘‘  ۱۳ فرعون نے کہا ’’ کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا؟ ۱۴ تُو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے، اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کہ کر گیا ۱۵،  تُو بڑا احسان فراموش آدمی ہے۔‘‘  موسیٰؑ نے جواب دیا ’’ اُس وقت وہ کام میں نے نا دانستگی میں کر دیا تھا۔ ۱۶ پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا۔ اس کے بعد میرے ربّ نے مجھ کو حکم عطا کیا ۱۷ اور مجھے رسُولوں میں شامل فرما لیا۔ رہا تیرا احسان جو تُو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تُو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا۔‘‘  ۱۸ فرعون نے کہا ۱۹ ’’ اور یہ ربّ العالمین کیا ہوتا ہے؟‘‘  ۲۰ موسیٰؑ نے جواب دیا ’’ آسمانوں اور زمین کا ربّ، اور اُن سب چیزوں کا ربّ جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں، اگر تم یقین لانے والے ہو۔‘‘  ۲۱فرعون نے اپنے گِرد و پیش کے لوگوں سے کہا ’’ سُنتے ہو؟‘‘  موسیٰؑ نے کہا ’’ تمہارا ربّ بھی اور تمہارے اُن آباؤ اجداد کا ربّ بھی جو گزر چکے ہیں۔‘‘  ۲۲ فرعون نے (حاضرین سے )کہا ’’ تمہارے یہ رسُول صاحب جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں،  بالکل ہی پاگل معلوم ہوتے ہیں۔‘‘  موسیٰؑ نے کہا ’’مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب کا ربّ، اگر آپ لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں۔‘‘  ۲۳ فرعون نے کہا ’’ اگر تُو نے میرے سوا کسی اور کو معبُود مانا تو تجھے بھی اُن لوگوں میں شامل  کر دوں گا جو قید خانوں میں پڑے سڑ رہے ہیں۔‘‘  ۲۴ موسیٰؑ نے کہا ’’اگر چہ میں لے آؤں تیرے سامنے ایک صریح چیز بھی؟‘‘  ۲۵ فرعون نے کہا ’’ اچھا تو لے آ اگر تُو سچا ہے۔ ۲۶ ‘‘

(اس کی زبان سے یہ بات نکلتے ہی)موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک صریح اژدہا تھا۔ ۲۷ پھر اُس نے اپنا ہاتھ (بغل سے )کھینچا اور وہ سب دیکھنے والوں کے سامنے چمک رہا تھا۔ ۲۸    ؏۲

 

تفسیر

 

۷:  اوپر کی مختصر تمہیدی تقریر کے بعد اب تاریخی بیان کا آغاز ہو رہا ہے جس کی ابتدا حضرت موسیٰ اور فرعون کے قصے سے کی گئی ہے۔ اس سے خاص طور پر جو سبق دینا مقصود ہے وہ یہ کہ : اولاً، حضرت موسیٰ کو جن حالات سے سابقی پیش آیا تھا وہ ان حالات کی بہ نسبت بدر جہا زیادہ سخت تھے جن سے نبی صلی اللہ یہ و سلم کو سابقہ در پیش تھا۔ حضرت موسیٰ ایک غلام قوم کے فرد تھے جو فرعون اور اس کی قوم سے بری طرح دبی ہوئی تھی، بخلاف اس کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم قریش کے ایک فرد تھے اور آپ کا خاندان قریش کے دوسرے خاندانوں کے ساتھ بالکل برابر کی پوزیشن رکھتا تھا۔ حضرت موسیٰ نے خود اس فرعون کے گھر میں پرورش پائی تھی اور ایک قتل کے الزام میں دس برس روپوش رہنے کے بعد انہیں حکم دیا گیا تھا کہ اسی بادشاہ کے دربار میں جا کھڑے ہو جس کے ہاں سے وہ جان بچا کر فرار ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ایسی کسی نازک صورت حال سے سابقہ نہ تھا۔ پھر فرعون کی سلطنت اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقت ور سلطنت تھی۔ قریش کی طاقت کو اس کی طاقت سے کوئی نسبت نہ تھی۔ اس کے باوجود فرعون حضرت موسیٰ کا کچھ نہ بگاڑ سکا اور آخر کار ان سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔اس سے اللہ تعالیٰ کفار قریش کو یہ سبق دینا چاہتا ہے کہ جس کی پشت پر اللہ کا ہاتھ ہو اس کا مقابلہ کر کے کوئی جیت نہیں سکتا۔ جب فرعون کی موسیٰ علیہ السلام کے سامنے کچھ پیش نہ گئی تو تم بیچارے کیا ہستی ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے مقابلہ میں بازی جیت لے جاؤ گے۔ ثانیاً جو نشانیاں حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے فرعون کو دکھائی گئیں اس سے زیادہ کھلی نشانیاں اور کیا ہو سکتی ہیں۔ پھر ہزارہا آدمیوں کے مجمع میں فرعون ہی کے چیلنج پر علی الاعلان جادو گروں سے مقابلہ کرا کے یہ ثابت بھی کر دیا گیا کہ جو کچھ حضرت موسیٰ دکھا رہے ہیں وہ جادو نہیں ہے۔ فن سحر کے جو ماہرین فرعون کی اپنی قوم سے تعلق رکھتے تھے اور اس کے اپنے بلائے ہوئے تھے۔ انہوں نے خود یہ تصدیق کر دی کہ حضرت موسیٰ کی لاٹھی کا اژدھا بن جانا ایک حقیقت تغیر ہے اور یہ صرف خدائی معجزے سے ہو سکتا ہے،  جادو گری کے ذریعہ سے ایسا ہونا کسی طرح ممکن نہیں۔ ساحروں نے ایمان لا کر اور اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اس امر میں کسی شک کی گنجائش بھی باقی نہ چھوڑی کہ حضرت موسیٰ کی پیش کردہ نشانی واقعی معجزہ ہے،  جادو گری نہیں ہے۔ لیکن اس پر بھی جو لوگ ہٹ دھرمی میں مبتلا تھے انہوں نے نبی کی صداقت تسلیم کر کے نہ دی۔ اب تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ تمہارا ایمان لانا در حقیقت کوئی حسّی  معجزہ اور مادی نشان دیکھنے پر موقوف ہے۔ تعصب، حمیتِ جاہلیہ، اور مفاد پرستی سے آدمی پاک ہو اور کھلے دل سے حق اور باطل کا فرق سمجھ کر غلط بات کو چھوڑنے اور صحیح بات قبول کرنے کے لیے کوئی شخص تیار ہو تو اس کے لیے وہی نشانیاں کافی ہیں جو اس کتاب میں اور اس کے لانے والے کی زندگی میں اور خدا کی وسیع کائنات میں ہر آنکھوں والا ہر وقت دیکھ سکتا ہے۔ ورنہ ایک ہٹ دھرم آدمی جسے حق کی جستجو ہی نہ ہو اور اغراض نفسانی کی بندگی میں مبتلا ہو کر جس نے فیصلہ کر لیا ہو کہ کسی ایسی صداقت کو قبول نہ کرے گا جس سے اس کی اغراض پر ضرب لگتی ہو، وہ کوئی نشانی دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے گا خواہ زمین اور آسمان ہی اس کے سامنے کیوں نہ الٹ دیے جائیں۔ ثانیاً، اس ہٹ دھرمی کا جو انجام فرعون نے دیکھا وہ کوئی ایسا انجام تو نہیں ہے جسے دیکھنے کے لیے دوسرے لوگ بے تاب ہوں۔ اپنی آنکھوں سے خدائی طاقت کے نشانات دیکھ لینے کے بعد جو نہیں مانتے وہ پھر ایسے ہی انجام سے دو چار ہوتے ہیں۔ اب کیا تم لوگ اس سے عبرت حاصل کرنے کے بجائے اس کا مزا چکھنا ہی پسند کرتے ہو؟ تقابل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الاعراف، آیات ۱۰۳ تا ۱۳۷۔ یونس، ۷۵ تا ۹۲۔ بنی اسرائیل، ۱۰۱ تا ۱۰۴۔ جلد سوم طٰہٰ، ۰ تا ۷۹۔

۸:  یہ انداز بیان قوم فرعون کے انتہائی ظلم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا تعارف ہی ’’ظالم قوم ‘‘  کے لقب سے کرایا گیا ہے۔ گویا اس کا اصل نام ظالم قوم ہے اور قوم فرعون اس کا ترجمہ و تفسیر۔

۹:  یعنی اسے موسیٰ، دیکھو کیسی عجیب بات ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو مختار مطلق سمجھتے ہوئے دنیا میں ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں اور اس بات سے بے خوف ہیں کہ اوپر کوئی خدا بھی ہے جو ان سے باز پرس کرنے والا ہے۔

۱۰: یعنی یہ آیات جو اس سورے میں پیش کی جا رہی ہیں،  اس کتاب کی آیات ہیں جو اپنا مدعا صاف صاف کھول کر بیان کرتی ہے۔ جسے پڑھ کر یاسن کر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ وہ کس چیز کی طرف بلاتی ہے،  کس چیز سے روکتی ہے،  کسے حق کہتی ہے اور کسے باطل قرار دیتی ہے۔ ماننا یا نہ ماننا الگ بات ہے،  مگر کوئی شخص یہ بہانہ کبھی نہیں بنا سکتا کہ اس کتاب کی تعلیم اس کی سمجھ میں نہیں آئی اور وہ اس سے یہ معلوم ہی نہ کر سکا کہ وہ اس کو کیا چیز چھوڑنے اور کیا اختیار کرنے کی دعوت دے رہی ہے۔ قرآن کو الکِتَابُ الْمُبِیْن کہنے کا ایک دوسرا مفہوم بھی ہے،  اور وہ یہ کہ اس کا کتاب الٰہی ہونا ظاہر و باہر ہے۔ اس کی زبان، اس کا بیان، اس کے مضامین، اس کے پیش کردہ حقائق، اور اس کے حالاتِ نزول، سب کے سب صاف صاف دلالت کر رہے ہیں کہ یہ خداوند عالم ہی کی کتاب ہے۔ اس لحاظ سے ہر فقرہ جو اس کتاب میں آیا ہے ایک نشانی اور ایک معجزہ (آیت) ہے۔ کوئی شخص عقل و خرد سے کام لے تو اسے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت کا یقین کرنے کے لیے کسی اور نشانی کی حاجت نہیں،  کتاب مبین کی یہی آیات (نشانیاں ) اسے مطمئن کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ مختصر تمہیدی فقرہ اپنے دونوں معنوں کے لحاظ سے اس مضمون کے ساتھ پوری مناسبت رکھتا ہے جو آگے اس سورہ میں بیان ہوا ہے۔ کفار مکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے معجزہ مانگتے تھے تاکہ اس نشانی کو دیکھ کر انہیں اطمینان ہو کہ واقعی آپ یہ پیغام خدا کی طرف سے لائے ہیں۔ فرمایا گیا کہ اگر حقیقت میں کسی کو ایمان لانے کے لیے نشانی کی طلب ہے تو کتاب مبین کی یہ آیات موجود ہیں۔ اسی طرح کفار نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر الزام رکھتے تھے کہ آپ شاعر یا کاہن ہیں۔ فرمایا گیا کہ یہ کتاب کوئی چیستاں اور معما تو نہیں ہے۔ صاف صاف کھول کر اپنی تعلیم پیش  کر رہی ہے۔ خود ہی دیکھ لو کہ یہ تعلیم کسی شاعر یا کاہن کی ہو سکتی ہے؟

۱۱:  یہ اشارہ ہے اس واقعہ کی طرف جو سورہ قصص رکوع ۲ میں بیان ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ نے قوم فرعون کے ایک شخص کو ایک اسرائیل سے لڑتے دیکھ کر ایک گھونسا مار دیا تھا جس سے وہ مر گیا۔ پھر جب حضرت موسیٰ کو معلوم ہا کہ اس واقعہ کی اطلاع قوم فرعون کے لوگوں کو ہو گئی ہے اور وہ بدلہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ملک چھوڑ کر مَدْیَن کی طرف فرار ہو گئے تھے۔ اب جو آٹھ دس سال کی روپوشی کے بعد یکایک انہیں یہ حکم دیا گیا کہ تم پیغام رسال لے کر اسی فرعون کے دربار میں جا کھڑے ہو جس کے ہاں تمہارے خلاف قتل کا مقدمہ پہلے سے موجود ہے تو حضرت موسیٰ کو بجا طور پر یہ خطرہ ہوا کہ پیغام سنانے کی نوبت آنے سے پہلے ہی وہ تو مجھے اس قتل کے الزام میں پھانس لے گا۔

۱۲:  نشانیوں سے مراد عصا اور ید بیضاء کے معجزے ہیں جن کے عطا کیے جانے کی تفصیل سورہ الاعراف رکوع ۱۳۔ ۱۴، طٰہٰ رکوع ۱، سورہ نمل رکوع ۱، اور سورہ قصص رکوع ۴ میں بیان ہوئی ہے۔

۱۳:  حضرت موسیٰ و ہارون کی دعوت کے دو جز تھے : ایک، فرعون کو اللہ کی بندگی کی طرف بلانا، جو تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت کا اصل مقصود رہا ہے۔ دوسرے،  بنی اسرائیل کو فرعون کے بند غلامی سے نکالنا، جو مخصوص طور پر انہیں دونوں حضرات کا مشن تھا۔ قرآن مجید میں کسی جگہ صرف پہلے جزء کا ذکر کیا گیا ہے۔ (مثلاً سورہ نازعات میں ) اور کسیجگہ صرف دوسرے جز کا۔

۱۴:  اس سے ایک اشارہ اس خیال کی تائید میں نکلتا ہے کہ یہ فرعون وہ فرعون نہ تھا جس کے گھر میں حضرت موسیٰ نے پرورش پائی تھی، بلکہ یہ اس  کا بیٹا تھا۔ اگر یہ وہی فرعون ہوتا تو کہتا کہ میں نے تجھے پالا تھا۔ لیکن یہ کہتا ہے کہ ہمارے ہاں تو رہا ہے اور ہم نے تیری پرورش کی ہے۔ (اس مسئلے پر تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم الاعراف، حواشی ۸۵۔ ۹۳ )۔

۱۵:  اشارہ ہے اسی واقعہ قتل کی طرف جو حضرت موسیٰ سے سر زد ہو گیا تھا۔

۱۶:  اصل الفاظ ہیں : وَاَنَا مِنَ الضَّآ لِّیْنَ، ’’ میں اس وقت ضلالت میں تھا‘‘۔ یا  ’’ میں نے اس وقت یہ کام ضلالت کی حالت میں کیا تھا‘‘۔ یہ لفظ ضلالت لازماً ’’گمراہی‘‘  کا ہی ہم معنی نہیں ہے۔ بلکہ عربی زبان میں اسے نا واقفیت، نادانی، خطا، نسیان، نادانستگی وغیرہ معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جو واقعہ سورہ قصص میں بیان ہوا ہے اس پر غور کنے سے یہاں ضلالت بمعنی خطا یا نا دانستگی ہی لینا زیادہ صحیح ہے۔ حضرت موسیٰ نے اس قبطی کو ایک اسرائیلی پر ظلم کرتے دیکھ کر صرف ایک گھونسا مارا تھا۔ ظاہر ہے کہ گھونسے سے بالعموم آدمی مرتا نہیں ہے،  نہ قتل کی نیت سے گھونسا مارا جاتا ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ اس سے وہ شخص مرگیا۔ اس لیے صحیح صورت واقعہ یہی ہے کہ یہ قتل عمد نہیں بلکہ قتل خطا تھا۔ قتل ہوا ضرور، مگر بالارادہ قتل کی نیت سے نہیں ہوا، نہ کوئی ایسا آلہ یا ذریعہ استعمال کیا گیا جو قتل کی غرض سے استعمال کیا جاتا ہے یا جس سے قتل واقع ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

۱۷:  یعنی علم و دانش اور پروانہ نبوت۔ حکم کے معنی حکمت و دانش کے بھی ہیں،  اور اس سند اقتدار (Authority) کے بھی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کو عطا کی جاتی ہے،  جس کی بنا پر وہ اختیار کے ساتھ بولتا ہے۔

۱۸:  یعنی تیرے گھر میں پرورش پانے کے  لیے میں کیوں آتا اگر تو نے بنی اسرائیل پر ظلم نہ دھایا ہوتا۔ تیرے ہی ظلم کی وجہ سے تو میری ماں نے مجھے ٹوکری میں ڈال کر دریا میں بہایا تھا۔ ورنہ کیا میری پرورش کے لیے میرا اپنا گھر موجود نہ تھا؟ اس لیے اس پرورش کا احسان جتانا تجھے زیب نہیں دیتا۔

۱۹:  بیچ میں یہ تفصیل چھوڑ دی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ نے اپنے آپ کو ربّ العالمین کے رسول کی حیثیت سے پیش کر کے فرعون کو وہ پیغام پہنچایا جس کے لیے وہ بھجے گئے تھے۔ یہ بات آپ سے آپ ظاہر ہے کہ نبی نے ضرور وہ پیغام پہنچا دیا ہو گا جس پر وہ مامور کیے گئے تھے،  اس لیے اس کا ذکر کرنے کی حاجت نہ تھی۔ اسے چھوڑ کر اب وہ گفتگو نقل کی جاتی ہے جو اس پیغام کی تبلیغ کے بعد فرعون اور موسیٰ کے درمیان ہوئی۔

۲۰:  یہ اس کا سوال حضرت موسیٰ کے اس قول پر تھا کہ میں رب العالمین (تمام جہان والوں کے  مالک و آقا اور فرماں روا) کی طرف سے بھیجا گیا ہوں اور اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دے۔ اس پیغام کی نوعیت صریح طور پر سیاسی تھی۔ اس کے صاف معنی یہ تھے کہ حضرت موسیٰ جس کی نمائندگی کے مدعی ہیں وہ سارے جہاں والوں پر حاکمیت و اقتدار اعلیٰ رکھتا ہے اور فرعون کی اپنا تابع قرار دے کر اس کے دائرہ حکومت و اقتدار میں ایک بالا تر فرمانروا کی حیثیت سے نہ صرف یہ کہ مداخلت کر رہا ہے بلکہ اس کے نام یہ فرمان بھیج رہا ہے کہ تو اپنی رعایا کے ایک حصے کو میرے نامزد کردہ نمائندے کے حوالے کر دے تاکہ وہ اسے تیری سلطنت سے نکال کر لے جائے۔ اس پر فرعون پوچھتا ہے کہ یہ سارے جہاں والوں کا مالک و فرمانروا ہے کون جو مصر کے بادشاہ کو اس کی رعایا کے ایک ادنی فرد کے ہاتھوں یہ حکم بھیج رہا ہے۔

۲۱:  یعنی میں زمین پر بسنے والے کسی مخلوق اور فانی مدعی ملوکیت کی طرف سے نہیں آیا ہوں،  بلکہ اس کی طرف سے آیا ہوں جو آسمان و زمین کا مالک ہے۔ اگر تم اس بات کا یقین رکھتے ہو کہ اس کائنات کا کوئی خالق اور مالک و فرمانروا ہے تو تمہیں یہ سمجھنے میں کوئی زحمت نہیں ہونی چاہیے کہ سارے جہاں والوں کا رب کون ہے۔

۲۲:  حضرت موسیٰ کا یہ خطاب فرعون کے درباریوں سے تھا۔ جن سے فرعون نے کہا تھا کہ ’’ سنتے ہو‘‘۔ حضرت موسیٰ نے ان سے فرمایا کہ میں ان جھوٹے ارباب کا قائل نہیں ہوں جو آج ہیں اور کل نہ تھے،  اور کل تھے مگر آج نہیں ہیں۔ تمہارا یہ فرعون جو آج تمہارا رب بنا بیٹھا ہے کل نہ تھا اور کل تمہارے باپ دادا جن فرعونوں کو رب بنائے بیٹھے تھے وہ آج نہیں ہیں۔ میں صرف اس رب کی حاکمیت و فرماں روائی مانتا ہوں جو آج بھی تمہارا اور اس فرعون کا رب ہے،  اور اس سے پہلے جو تمہارے اور اس کے باپ دادا گزر چکے ہیں ان سب کا رب بھی تھا۔

۲۳:  یعنی مجھے تو پاگل قرار دیا جا رہا ہے،  لیکن آپ لوگ اگر عاقل ہیں تو خود سوچیے کہ حقیقت میں رب یہ بیچارا فرعون ہے جو زمین کے ایک ذرا سے رقبے پر بادشاہ بنا بیٹھا ہے،  یا وہ جو مشرق و مغرب کا مالک اور مصر سمیت ہر اس چیز کا مالک ہے جو مشرق و مغرب سے گھری ہوئی ہے۔ میں تو فرماں روائی اسی کی مانتا ہوں اور اسی کی طرف سے یہ حکم اس کے ایک بندے کو پہنچا رہا ہوں۔

۲۴:  اس گفتگو کو سمجھنے کے لیے یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ آج کی طرح قدیم زمانے میں بھی ’’ معبود‘‘  کا تصور صرف مذہبی معنوں تک محدود تھا۔ یعنی یہ کہ اسے بس پوجا پاٹ اور نذر و نیاز کا استحقاق پہنچتا ہے،  اور اپنے فوق الفطری غلبہ و اقتدار کی وجہ سے اس کا یہ منصب بھی ہے کہ انسان اپنے معاملات میں اس سے استمداد و استعانت کے لیے دعائیں مانگیں۔ لیکن کسی معبود کی یہ حیثیت کہ وہ قانونی اورع سیاسی معنوں میں بھی بالا دست ہے،  اور اسے یہ حق بھی پہنچتا ہے کہ معاملات دنیا میں وہ جو حکم چاہے دے،  اور انسانوں کا یہ فرض ہے کہ اس کے امر و نہی کو قانون بر تر مان کر اس کے آگے جھک جائیں،  یہ چیز زمین کے مجازی فرمانرواؤں نے نہ پہلے کبھی مان کر دی تھی، نہ آج وہ اسے ماننے کے لیے تیار ہیں۔ وہ ہمیشہ سے یہی کہتے چلے آئے ہیں کہ دنیا کے معاملات میں ہم مختار مطلق ہیں،  کسی معبود کو ہماری سیاست اور ہمارے قانون میں دخل دینے کا حق نہیں ہے۔ دنیوی حکومتوں اور بادشاہوں سے انبیا علیہم السلام اور ان کی پیروی کرنے والے مصلحین کے تصادم کی اصل وجہ یہی رہی ہے۔ انہوں نے ان سے خداوند عالم کی حاکمیت و بالا دستی تسلیم کرانے کی کوشش کی ہے،  اور یہ اس کے جواب میں نہ صرف یہ کہ اپنی حاکمیت مطلقہ کا دعویٰ پیش کرتی رہی ہیں بلکہ انہوں نے ہر اس شخص کو مجرم اور باغی ٹھیرایا ہے جو ان کے سوا کسی اور کو قانون و سیاست کے میدان میں معبود مانے۔ اس تشریح ے فرعون کی اس گفتگو کا صحیح مفہوم اچھی طرح سمجھ میں آ سکتا ہے۔ اگر معاملہ پوجا پاٹ اور نذر و نیاز کا ہوتا تو اس کو اس سے کوئی بحث نہ تھی کہ حضرت موسیٰ دوسرے دیوتاؤں کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ رب العالمین کو اس کا مستحق سمجھتے ہیں۔ اگر صرف اسی معنی میں توحید فی العبادت کی دعوت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو دی ہوتی تو اسے غضب ناک ہونے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ زیادہ سے زیادہ اگر وہ کچھ کرتا تو بس یہ کہ اپنا دین آبائی چھوڑنے سے انکار کر دیتا، یا حضرت موسیٰ سے کہتا کہ میرے مذہب کے پنڈتوں سے مناظرہ کر لو۔ لیکن جس چیز نے اس غضبناک کر دیا وہ یہ تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے رب العالمین کے نمائندے کی حیثیت سے اپنے آپ کو پیش کر کے اسے اس طرح ایک سیاسی حکم پہنچایا کہ گویا وہ ایک ماتحت حاکم ہے اور ایک حاکم بر تر کا پیغامبر آ کر اس سے اطاعت امر کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس معنی میں ہو اپنے اوپر کسی کی سیاسی و قانونی برتری ماننے کے لیے تیار نہ تھا، بلکہ وہ یہ بھی گوارا نہ کر سکتا تھا کہ اس کی رعایا میں سے کوئی فرد اس کے بجائے کسی اور کو حاکم بر تر مانے۔ اسی لیے اس نے پہلے ’’رب العالمین‘‘  کی اصطلاح کو چیلنج کیا، کیونکہ اس کی طرف سے لائے ہوئے پیغام میں محض مذہبی معبودیت کا نہیں بلکہ کھلا کھلا سیاسی اقتدار اعلیٰ کا رنگ نظر آتا تھا۔ پھر جب حضرت موسیٰ نے بار بار تشریح کے کے بتایا کہ جس رب العالمین کا پیغام وہ لائے ہیں وہ کون ہے،  تو اس نے صاف صاف دھمکی دی کہ ملک مصر میں تم نے میرے اقتدار اعلیٰ کے سوا کسی اور کے اقتدار کا نام بھی لیا تو جیل کی ہوا کھاؤ گے۔

۲۵:  یعنی کیا تو اس صورت میں بھی میری بات ماننے سے انکار کرے گا اور مجھے جیل بھیجے گا جب کہ میں اس امر کی ایک صریح علامت پیش کر دوں کہ میں واقعی اس خدا کا فرستادہ ہوں جو رب العالمین، رب السمٰوات  و الارض اور رب المشرق و المغرب ہے ؟

۲۶:  حضرت موسیٰ کے سوال پر فرعون کا یہ جواب خود ظاہر کرتا ہے کہ اس کا حال قدیم و جدید زمانے کے عام مشرکین سے مختلف نہ تھا۔ وہ دوسرے تمام مشرکین کی طرح فوق الفطری معنوں میں اللہ کے الٰہٰ الالٰہہ ہونے کو مانتا تھا اور ان ہی کی طرح یہ بھی تسلیم کرتا تھا کہ کائنات میں اس کی قدرت سب دیوتاؤں سے بر تر ہے۔ اسی وجہ سے حضرت موسیٰ نے اس سے کہا کہ اگر تجھے میرے مامور من اللہ ہونے کا یقین نہیں ہے تو میں ایسی صریح نشانیاں پیش کروں جن سے ثابت ہو جائے کہ میں سی کا بھیجا ہوا ہوں۔ اور اسی وجہ سے اس نے بھی جواب دیا کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو لاؤ کوئی نشانی۔ ورنہ ظہر ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی ہستی یا اس کے مالک کائنات ہونے ہی میں اسے کلام ہوتا تو نشانی کا سوال پیدا ہی نہ ہو سکتا تھا۔ نشانی کی بات تو اسی صورت میں درمیان آ سکتی تھی جب کہ اللہ تعالیٰ کا وجود اور اس کا وجود اور اس کا قادر مطلق ہونا تو مسلم ہو، اور بحث اس امر میں ہو کہ حضرت موسیٰ اس کے بھیجے ہوئے ہیں یا نہیں۔

۲۷:  قرآن مجید میں کسی جگہ اس کے لیے حَیَّۃٌ  (سانپ) اور کسی جگہ جَآن (جو بالعموم چھوٹے سانپ کے لیے بولا جاتا ہے ) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں،  اور یہاں اسے ثُعْبَانٌ  (اژدہا) کہا جا رہا ہے۔ اس کی توجیہ امام رازی اس طرح کرتے ہیں کہ : حَیَّۃٌ  عربی زان میں سانپ کی جنس کے لیے مشترک نام ہے،  خواہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ اور ثُعْبَانٌ  کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا کہ جسامت کے اعتبار سے وہ اژدھے کی طرح تھا۔ اور جَانّ کا لفظ اس بنا پر استعمال کیا گیا کہ اس کی پھرتی اور تیزی چھوٹے سانپ جیسی تھی۔

۲۸: بعض مفسرین نے یہودی روایات سے متاثر ہو کر بَیْضَاء کے معنی ’’سفید‘‘  کیے ہیں اور اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ بغل سے نکالتے ہی بھلا چنگا ہاتھ برص کے مریض کی طرح سفید ہو گیا۔ لیکن ابن جریر، ابن کثیر، زَمَخْشَری، رازی، ابو السعود عمادی، آلوسی اور دوسرے بڑے بڑے مفسرین اس پر متفق ہیں کہ یہاں بَیْضَآءُ  بمعنی روشن اور چمکدار ہے۔ جونہی کہ حضرت موسیٰ نے بغل سے ہاتھ نکالا یکایک سارا ماحول جگمگا اٹھا اور یوں محسوس ہو اجیسے سورج نکل آیا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، طٰہٰ حاشیہ ۱۳ )۔

 

ترجمہ

 

فرعون اپنے گرد و پیش کے سرداروں سے بولا ’’ یہ شخص یقیناً ایک ماہر جادُوگر ہے۔ چاہتا ہے کہ اپنے جادُو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ ۲۹ اب بتاؤ تم کیا حکم دیتے ہو؟‘‘  ۳۰انہوں نے کہا ’’ اسے اور اس کے بھائی کو روک لیجیے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے کہ ہر سیانے جادُوگر کو آپ کے پاس لے آئیں۔‘‘ چنانچہ ایک روز مقرر وقت ۳۱ پر جادُو گر اکٹھے کر لیے گئے اور لوگوں سے کہا گیا ’’ تم اجتماع میں چلو گے؟ ۳۲ شاید کہ ہم جادُوگروں کے دین ہی پر رہ جائیں اگر وہ غالب رہے۔‘‘  ۳۳

جب جادُو گر میدان میں آئے تو انہوں نے فرعون سے کہا ’’ہمیں انعام تو ملے گا اگر ہم غالب رہے؟‘‘  ۳۴اس نے کہا ’’ہاں، اور تم تو اس وقت مقربّین میں شامل ہو جاؤ گے۔‘‘  ۳۵موسیٰؑ نے کہا ’’ پھینکو جو تمہیں پھینکنا ہے۔‘‘ انہوں نے فوراً اپنی رسّیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے ’’ فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے۔‘‘  ۳۶ پھر موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھُوٹے کرشموں کو ہڑپ کر تا چلا جا رہا تھا۔ اس پر سارے جادُوگر بے اختیار سجدے میں گر پڑے اور بول اُٹھے کہ ’’مان گئے ہم ربّ العالمین کو۔۔۔۔ موسیٰؑ اور ہارونؑ کے ربّ کو۔‘‘  ۳۷ فرعون نے کہا ’’ تم موسیٰؑ کی بات مان گئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا! ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادُو سکھایا ہے۔ ۳۸ اچھا، ابھی تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے، میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹواؤں گا اور تم سب کو سُولی پر چڑھا دوں گا۔‘‘  ۳۹انہوں نے جواب دیا ’’کچھ پروا نہیں، ہم اپنے ربّ کے حضور پہنچ جائیں گے۔ اور ہمیں توقع ہے کہ ہمارا ربّ ہمارے گناہ معاف کر دے گا کیونکہ سب سے پہلے ہم ایمان لائے ہیں۔‘‘  ۴۰   ؏۳

 

تفسیر

 

۲۹: دونوں معجزوں کی عظمت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ یا تو ایک لمحہ پہلے وہ اپنی رعیت کے ایک فرد کو بر سر دربار رسالت کی باتیں اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ کرتے دیکھ کر پاگل قرار دے رہا تھا (کیونکہ اس کے نزدیک ایک غلام قوم کے فرد کا اس جیسے با جبروت بادشاہ کے حضور ایسی جسارت کرنا پاگل پن کے سوا اور کچھ نہ ہو سکتا تھا) اور اسے دھمکی دے رہا تھا کہ اگر تو نے میرے سوا کسی کو معبود مانا تو جیل میں سڑا سڑا کر مار دوں گا، یا اب ان نشانیوں کو دیکھتے ہی اس پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ اسے اپنی بادشاہی اور اپنا ملک چھننے کا خطرہ لاحق ہو گیا اور بد حواسی میں اسے یہ بھی احساس نہ رہا کہ میں بھرے دربار میں اپنے نوکروں کے سامنے کیسی بے تکی باتیں کر رہا ہوں۔ بنی اسرائیل جیسی دبی ہوئی قوم کے دو افراد وقت کے سب سے بڑے طاقت ور بادشاہ کے سامنے کھڑے تھے۔ کوئی لاؤ لشکر ان کے ساتھ نہ تھا۔ کوئی جان ان کی قوم میں نہ تھی۔ کسی بغاوت کا نام و نشان تک ملک کے کسی گوشے میں نہ تھا۔ ملک سے باہر کسی دوسری حکومت کی طاقت بھی ان کی پشت پر نہ تھی۔ اس حالت میں صرف ایک لاٹھی کا اژدہا بنتے دیکھ کر اور ایک ہاتھ کو چمکتے دیکھ کر یکایک اس کا چیخ اٹھنا کہ یہ دو بے سرو سامان آدمی میری سلطنت کا تختہ الٹ دیں گے اور پورے حکمران طبقے کو اقتدار سے بے دخل کر دیں گے،  آخر کیا معنی رکھتا ہے ؟ اس کا یہ کہنا کہ یہ شخص جادو کے زور سے ایسا کر ڈالے گا، مزید بد حواسی کی دلیل ہے۔ جادو کے زور سے دنیا میں کبھی کوئی سیاسی انقلاب نہیں ہوا، کوئی ملک فتح نہیں ہوا، کوئی جنگ نہیں جیتی گئی۔ جادو گر تو اس کے اپنی ملک میں موجود تھے اور بڑے بڑے کرشمے دکھا سکتے تھے۔ مگر وہ خود جانتا تھا کہ تماشا کر کے انعام لینے سے بڑھ کر ان کی کوئی اوقات نہیں ہے۔ سلطنت تو کجا، وہ بیچارے تو سلطنت کے کسی پولس کانسٹیبل کو بھی چیلنج کرنے کی ہمت نہ کر سکتے تھے۔

۳۰:  یہ فقرہ فرعون کی مزید بدحواسی کو ظاہر کرتا ہے۔ کہاں تو وہ الٰہ بنا ہوا تھا اور یہ سب اس کے بندے تھے۔ کہاں اب الٰہ صاحب مانے خوف کے بندوں سے پوچھ رہے ہیں کہ تمہارا حکم کیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں گویا وہ یہ کہہ رہا تھا کہ میری عقل تو اب کچھ کام نہیں کرتی، تم بتاؤ کہ اس خطرے کا مقابلہ میں کیسے کروں۔

۳۱:  سور طٰہٰ میں گزر چکا ہے کہ اس مقابلے کے لیے قبطیوں کی قومی عید کا دن (یوم الزینۃ) مقرر کیا گیا تھا تاکہ ملک کے گوشے گوشے سے میلوں ٹھیلوں کی خاطر آنے والے سب لوگ یہ عظیم الشان ’’ دنگل‘‘  دیکھنے کے لی جمع ہو جائیں،  اور اس کے لیے وقت بھی دن چڑھے کا طے ہوا تھا تا کہ روز روشن میں سب کی آنکھوں کے سامنے فریقین کی طاقت کا مظاہرہ ہو اور روشنی کی کمی کے باعث کوئی شک و شبہ پیدا ہونے کی گنجائش نہ رہے۔

۳۲:  یعنی صرف اعلان و اشتہار ہی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ آدمی اس غرض کے لیے چھوڑے گئے کہ لوگوں کو اکسا اُکسا کر یہ مقابلہ دیکھنے کے لیے لائیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بھرے دربار میں جو معجزات حضرت موسیٰ نے دکھائے تھے ان کی خبر عام لوگوں میں پھیل چکی تھی اور فرعون کو یہ اندیشہ ہو گیا تھا کہ اس سے ملک کے باشندے متاثر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اس لیے اس نے چاہا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ جمع ہوں اور خود دیکھ لیں کہ لاٹھی کا سانپ بن جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے،  ہمارے ملک کا ہر جادوگر یہ کمال دکھا سکتا ہے۔

۳۳:  یہ فقرہ اس خیال کی تصدیق کرتا ہے کہ جن حاضرین دربار نے حضرت موسیٰ کا معجزہ دیکھا تھا اور باہر جن لوگوں تک اس کی معتبر خبریں پہنچی تھیں ان کے عقیدے اپنے دین آبائی پر سے متزلزل ہوئے جا رہے تھے،  اور اب ان کے دین کا دارو مدار بس اس پر رہ گیا تھا کہ کسی طرح جادو گر بھی وہ کام کر دکھائیں جو موسیٰ علیہ السلام نے کی ہے۔ فرعون اور اس کے احیان سلطنت اسے خود ایک فیصلہ کن مقابلہ سمجھ رہے تھے۔ ان کے اپنے بھیجے ہوئے آدمی عوام الناس کے ذہن میں یہ بات بٹھاتے پھرتے تھے کہ اگر جادو گر کامیاب ہو گئے تو ہم موسیٰ کے دین میں جانے سے بچ جائیں گے ورنہ ہمارے دین و ایمان کی خیر نہیں ہے۔

۳۴:  یہ تھے وہ حامیان دین مشرکین جو موسیٰ علیہ السلام کے حملے سے اپنے دین کو بچانے کے لیے اس فیصلہ کن مقابلے کے وقت ان پاکیزہ جذبات کے ساتھ آئے تھے کہ ہم نے پالا مار لیا تو سرکار سے کچھ انعام مل جائے گا۔

۳۵:  اور یہ تھا وہ بڑے سے بڑا اجر جو ان خادمان دین و ملت کو بادشاہ وقت کے ہاں سے مل سکتا تھا۔ یعنی روپیہ پیسہ ہی نہیں ملے گا، دربار میں کرسی بھی نصیب ہو جائے گی۔ اس طرح فرعون اور اس کے ساحروں نے پہلے ہی مرحلے پر نبی اور جادو گر کا عظیم اخلاقی فرق خود کھول کر رکھ دیا۔ ایک طرف وہ حوصلہ تھا کہ بنی اسرائیل جیسی پی ہوئی قوم کا ایک فرد دس سال تک قتل کے الزام میں رو پوش رہنے کے بعد فرعون کے دربار میں درّانہ آ کھڑا ہوتا ہے اور دھڑلّے کے ساتھ کہتا ہے کہ میں اللہ رب العالمین کا بھیجا ہوا ہوں،  بنی اسرائیل کو میرے حوالے کر۔ فرعون سے دو بدو بحث کرنے میں ادنیٰ سی جھجک بھی محسوس نہیں کرتا۔ اس کی دھمکیوں کو وہ پر کاہ کے برابر بھی وقعت نہیں دیتا۔ دوسری طرف یہ کم حوصلگی ہے کہ اسی فرعون کے ہاں باپ دادا کے دین کو بچانے کی خدمت پر بلائے جا رہے ہیں،  پھر بھی ہاتھ جوڑ کر کہتے ہیں کہ سرکار، کچھ انعام تو مل جائے گا نا؟ اور جواب میں یہ سن کر پھولے نہیں سماتے کہ پیسہ بھی ملے گا اور قرب شاہی سے بھی سرفراز کیے جائیں گے۔ یہ دو مقابل کے کردار آپ سے آپ ظاہر کر رہے تھے کہ نبی کس شان کا انسان ہوتا ہے اور اس کے مقابلے میں جادوگروں کی کیا ہستی ہوتی ہے۔ جب تک کوئی شخص بے حیائی کی ساری حدوں کو نہ پھاند جائے،  وہ نبی کو جادو گر کہنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔

۳۶:  یہاں یہ ذکر چھوڑ دیا ہے کہ حضرت موسیٰ کی زبان سے یہ فقرہ سنتے ہیں جب جادو گروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یکایک وہ بہت سے سانپوں کی شکل میں حضرت موسیٰ کی طرف لپکتی نظر آئیں۔ اس کی تفصیل قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بیان ہو چکی ہے۔ سورہ اعراف میں ہے : فَلَمَّآ اَلْقَوْ ا سَحَرُوْ ا اَعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْھَبُوْھُمْ وَجَآ ءُ وْ ا بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ، ’’ جب انہوں نے اپنے اَنچھرے پھینکے تو لوگوں کی آنکھوں کو مسحور کر دیا، سب کو دہشت زدہ کر کے رکھ دیا،اور بڑا بھاری جادو بنا لائے ‘‘۔ سورہ طٰہٰ میں اس وقت کا نقشہ یہ کھینچا گیا ہے کہ :فَاِذا حِبَا لھُُمْ وَعِصِیّھُُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْہِ مِنْ سِحْرِھِمْ اَنَّھَا تَسْعیٰہ فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖ خِیْفَۃً مُّوْ سیٰ O ’’یکایک ان کے سحر سے حضرت موسیٰ کو یوں محسوس ہوا کہ ان کی رسیاں اور لاٹھیاں دوڑی چلی آ رہی ہیں،  اس سے موسیٰؑ اپنے دل میں ڈر سے گئے ‘‘۔

۳۷: یہ حضرت موسیٰ کے مقابلے میں اکی طرف سے محض شکست کا اعتراف نہیں تھا کہ کوئی شخص یہ کہہ کر پیچھا چھڑا لیتا کہ ایک بڑے جادوگر نے چھوٹے جادو گروں کو نیچا دکھا دیا، بلکہ ان کا سجدے میں گر کر اللہ رب العالمین پر ایمان لے آنا گویا بر سر عام ہزارہا باشندگان مصر کے سامنے اس بات کا اور اعلان تھا کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں یہ ہمارے فن کی چیز  ہی نہیں ہے،  یہ کام تو صرف اللہ رب العالمین ہی کی قدرت سے ہو سکتا ہے۔

۳۸: یہاں چونکہ سلسلہ کلام کی مناسبت سے صرف یہ دکھانا ہے کہ ایک ضدی اور ہٹ دھرم آدمی کس طرح ایک صریح معجزہ دیکھ کر، اور اس کے معجزہ ہونے پر خود جادو گروں کی شہادت سن کر بھی اسے جادو کہے جاتا ہے، اس لیے فرعون کا صرف اتنا ہی فقرہ نقل کر نے پر اکتفا کیا گیا ہے،  لیکن سورہ اعراف میں تفصیل کے ساتھ یہ بتایا گیا ہے کہ فرعون نے بازی ہارتی دیکھ کر فوراً ہی ایک سیاسی سازش کا افسانہ گھڑ لیا۔ اس نے کہا : اِنَّ ھٰذَا لَمَکْرٌ مَّکَرْ تُمُوْہُ فِی الْمَدِیْنَۃِ لِتُخْرِ جُوْ ا مِنْھَآ اَھْلَھَا ’’ یہ ایک سازش ہے جو تم لوگوں نے مل کر اس دارالسلطنت میں تیار کی ہے تا کہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بے دخل کر دو‘‘۔ اس طرح فرعون نے عام الناس کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ جادو گروں کا یہ ایمان معجزے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ محض ملی بھگت ہے،  یہاں آنے سے پہلے ان کے اور موسیٰ کے درمیان معاملہ طے ہو گیا تھا کہ یوں ہو موسیٰ کے مقابلے میں آ کر شکست کھائیں گے،  اور نتیجے میں جو سیاسی انقلاب ہو گا اس کے مزے وہ اور یہ مل کر لوٹیں گے۔

۳۹:  یہ خوفناک دھمکی فرعون نے اپنے اس نظریے کو کامیاب کرنے کے لیے دی تھی کہ جادو گر در اصل موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سازش کر کے آئے ہیں۔ اس کے پیش نظر یہ تھا کہ اس طرح یہ لوگ جان بچانے کے لیے سازش کا اعتراف کر لیں گے اور وہ ڈرامائی اثر کافور ہو جائے گا جو شکست کھاتے ہی ان کے سجدے میں گر کر ایمان لے آنے سے ان ہزارہا ناظرین پر مترتب ہوا تھا جو خود اس کی دعوت پر یہ فیصلہ کن مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہوئے تھے اور جنہیں خود اس کے بھیجے ہوئے لوگوں نے یہ خیال دلایا تھا کہ مصری قوم کا دین و ایمان بس ان جادو گروں کے سہارے لٹک رہا ہے،  یہ کامیاب ہوں تو قوم اپنے دین آبائی پر قائم رہ سکے گی ورنہ موسیٰ کی دعوت کا سیلاب اسے اور اس کے ساتھ فرعون کی سلطنت کو بھی بہا لے جائے گا۔

۴۰:  یعنی ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا تو بہر حال ایک نہ ایک دن ضرور ہے۔ اب اگر تو قتل کر دے گا تو اس سے زیادہ کچھ نہ ہو گا کہ وہ دن جو کبھی آنا تھا، آج آ جائے گا۔ اس صورت میں ڈرنے کا کیا سوال؟ ہمیں تو الٹی مغفرت اور خطا بخشی کی امید ہے کیونکہ آج اس جگہ حقیقت کھلتے ہی ہم نے مان لینے میں ایک لمحے کی تاخیر بھی نہ کی اور اس پورے مجمع میں سب سے پہلے پیش قدمی کر کے ہم ایمان لے آئے۔ جادو گروں کے اس جواب نے دو باتیں تمام اس خلقت کے سامنے واضح کر دیں جسے فرعون نے ڈھنڈورے پیٹ پیٹ کر جمع کیا تھا۔ اول یہ کہ فرعون نہایت جھوٹا، ہٹ دھرم اور مکار ہے۔ جو مقابلہ اس نے خود فیصلے کے لیے کرایا تھا اس میں موسیٰ علیہ السلام کی کھلی کھلی فتح کو سیدھی طرح مان لینے کے بجائے اور اس نے فوراً ایک جھوئی سازش کا افسانہ گھڑ لیا اور قتل و تعصیب کی دھمکی دے کر زبر دستی اس کا اقرار کرانے کی کوشش کی۔ اس افسانے میں ذرہ برابر بھی کوئی صداقت ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ جادو گر ہاتھ پاؤں کٹوانے اور سولی پر چڑھ جانے کے لیے یوں تیار ہو جاتے۔ ایسی کسی سازش سے اگر کوئی سلطنت مل جانے کا لالچ تھا تو اب اس کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، کیونکہ سلطنت کے مزے تو جو لوٹے گا سو لوٹے گا، ان غریبوں کے حصے میں تو صف کٹ کٹ کر جان دینا ہی رہ گیا ہے۔ اس ہولناک خطرے کو انگیز کر کے بھی ان جادو گروں کا اپنے ایمان پا قائم رہنا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ سازش کا الزام سراسر جھوٹا ہے اور سچی بات یہی ہے کہ جادو گر اپنے فن میں ماہر ہونے کی وجہ سے ٹھیک ٹھیک جان گئے ہیں کہ جو کچھ موسیٰ علیہ السلام نے دکھایا ہے وہ ہر گز جادو نہیں ہے بلکہ واقعی اللہ رب العالمین ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے۔ دوسری بات جو اس وقت ملک کے گوشے گوشے سے مٹ کر آئے ہوئے ہزارہا آدمیوں کے سامنے کھل کر آ گئی وہ یہ تھی کہ اللہ رب العالمین پر یمان لاتے ہی ان جادوگروں میں کیسا زبردست اخلاقی انقلاب واقع ہو گیا۔ کہاں تو ان کی پستی ذہن و فکر کا یہ حال تھا کہ دین آبائی کی نصرت کے لیے آئے تھے اور فرعون کے آگے ہاتھ جوڑ جوڑ کر انعام مانگ رہے تھے،  اور کہاں اب آن کی آن میں ان کی بلندی ہمت و عزم اس درجے کو پہنچ گئی کہ وہی فرعون ان کی نگاہ میں ہیچ ہو گیا، اس کی بادشاہی کی ساری طاقت کو انہوں نے ٹھوکر مار دی اور اپنے ایمان کی خاطر وہ موت اور بد ترین جسمانی تعذیب تک برداشت کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اس سے بڑھ کر مصریوں کے دین شرک کی تذلیل اور موسیٰ علیہ السلام کے لائے ہوئے دین حق کی مؤثر تبلیغ اس نازک نفسیاتی موقع پر شاید ہی کوئی اور ہو سکتی تھی۔

 

ترجمہ

 

۴۱ ہم نے موسیٰؑ کو وحی بھیجی کہ ’’ راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ، تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔‘‘  ۴۲ اس پر فرعون نے (فوجیں جمع کرنے کے لیے)شہروں میں نقیب بھیج دیے (اور کہلا بھیجا)کہ ’’ یہ کچھ مُٹھی پھر لوگ ہیں، اور انہوں نے ہم کو بہت ناراض کیا ہے، اور ہم ایک ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہر وقت چوکنّا رہنا ہے۔‘‘  ۴۳ اِس طرح ہم انہیں ان کے باغوں اور چشموں اور خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے نکال لائے۔ ۴۴ یہ تو ہوا اُن کے ساتھ، اور (دُوسری طرف)بنی اسرائیل کو ہم نے ان سب چیزوں کا وارث کر دیا۔ ۴۵

صبح ہوتے یہ لوگ اُن کے تعاقب میں چل پڑے۔ جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰؑ کے ساتھی چیخ اُٹھے کہ ’’ ہم تو پکڑے گئے۔ ‘‘ موسیٰؑ نے کہا ’’ ہر گز نہیں۔ میرے ساتھ میرا ربّ ہے۔ وہ ضرور میرے رہنمائی فرمائے گا۔‘‘  ۴۶ ہم نے موسیٰؑ کو وحی کے ذریعہ سے حکم دیا کہ ’’ مار اپنا عصا سمندر پر۔‘‘  یکایک سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم الشان پہاڑ کی طرح ہو گیا۔ ۴۷ اُسی جگہ ہم دُوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے۔ ۴۸ موسیٰؑ اور اُن سب لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، ہم نے بچا لیا،  اور دُوسروں کو غرق کر دیا۔

اس واقعہ میں ایک نشانی ہے ۴۹، مگر اِن لوگوں میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبر دست بھی ہے اور رحیم بھی۔ ؏۴

 

تفسیر

 

۴۱:  اوپر کے واقعات کے بعد ہجرت کا ذکر شروع ہو جانے سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اس کے بعد بس فوراً ہی حضرت موسیٰ کو بنی اسرائیل سمیت مصر سے نکل جانے کے احکام دے دیے گئے۔ در اصل یہاں کئی سال کی تاریخ بیچ میں چھوڑ دی گئی ہے جسے سورہ عراف رکوع ۱۵۔۱۶، اور سورہ یونس رکوع ۹ میں بیان کیا جا چکا ہے،  اور جس کا ایک حصہ آگے سورہ مومن رکوع ۲۔ ۵ اور الزُّخرف رکوع ۵ میں آ رہا ہے۔ یہاں چونکہ سلسلہ کلام کی مناسبت سے صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ جس فرعون نے صریح نشانیاں دیکھ لینے کے باوجود یہ ہٹ دھرمی دکھائی تھی اس کا انجام آخر کار کیا ہوا۔ اور جس دعوت کی پشت پر اللہ تعالیٰ کی طاقت تھی وہ کس طرح کامیابی سے ہمکنار ہوئی، اس لیے فرعون اور حضرت موسیٰ کی کشمکش کے ابتدائی مرحلے کا ذکر کرنے کے بعد اب قصہ مختصر کر کے اس کا آکری منظر دکھایا جا رہا ہے۔

۴۲:  واضح رہے کہ بنی اسرائیل کی آبادی مصر میں کسی ایک جسہ مجتمع نہ تھی بلکہ ملک کے تمام شہروں اور بستیوں میں بٹی ہوئی تھی اور خصوصیت کے ساتھ منف (Memphis) سے رَعْمَسِیْس تک اس علاقے میں ان کی بڑی تعداد آباد تھی جسے جُشن کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا (ملاحظہ ہو ’’نقشہ خروج بنی اسرائیل‘‘،  تفہیم القرآن جلد دوم، صفحہ ۷۶)۔ لہٰذا حضرت موسیٰ کو جب حکم دیا گیا ہو گا کہ اب تمہیں بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل جانا ہے تو انہوں نے بنی اسرائیل کی تمام بستیوں میں ہدایات بھیج دی ہوں گی کہ سب لوگ اپنی اپنی جگہ ہجرت کے لیے تیار ہو جائیں،  اور ایک خاص رات مقرر کر دی ہو گی کہ اس رات ہر بستی کے مہاجرین نکل کھڑے ہوں۔ یہ ارشاد کہ ’’ تمہارا پیچھا کیا جائے گا‘‘  اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہجرت کے لیے رات کو نکلنے کی ہدایت کیوں کی گئی تھی۔ یعنی قبل اس کے کہ فرعون لشکر لے کر تمہارے تعاقب میں نکلے تم راتوں رات اپنا راستہ اس حد تک طے کر لو کہ اس سے بہت آگے نکل چکے ہو۔

۴۳:  یہ باتیں فرعون کی اس چھپی ہوئی خوف زدگی کو ظاہر کرتی ہیں جس پر وہ بے خوفی کا نمائشی پردہ ڈل رہا تھا۔ ایک طرف وہ جگہ جگہ سے فوجیں بھی فوری امداد کے لیے بلا رہا تھا جو اس بات کی کھلی علامت تھی کہ اسے بنی اسرائیل سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔ دوسری طرف وہ اس بات کی چھپانا بھی چاہتا تھا کہ مدت ہائے دراز کی دبی اور پسی ہوئی قوم، جو انتہائی ذلت کی غلامی میں زندگی بسر کر رہی تھی، اس سے فرعون جیسا قاہر فرماں روا کوئی خطرہ محسوس کر رہا ہے حتّیٰ کہ اسے فوری امداد کے لیے فوجیں طلب کرنے کی ضرورت پیش آ گئی ہے۔ اس لیے وہ اپنا پیغام اس انداز میں بھجتا ہے کہ یہ بنی اسرائیل بیچارے چیز ہی کیا ہیں،  کچھ مٹھی بھر لوگ ہیں جو ہمارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے،  لیکن انہوں نے ایسی حرکتیں کی ہیں کہ ہمیں ان پر غصہ آ گیا ہے اس لیے ہم انہیں سزا دینا چاہتے ہیں،  اور فوجیں ہم کسی خوف کی وجہ سے جمع نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہ صرف ایک احتیاطی کار روائی ہے،  ہماری دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ کوئی بعید سے بعید بھی امکانی خطرہ ہو تو ہم بر وقت  اس کی سر کوبی کرنے کے لیے تیار رہیں۔

۴۴: یعنی فرعون نے تو یہ کام اپنے نزدیک بڑی عقلمندی کا کیا تھا کہ دور دور سے فوجیں طلب کر کے بنی اسرائیل کو دنیا سے مٹا دیتے کا سامان کیا، لیکن خدائی تدبیر نے اس کی چال اس پر یوں الٹ دی کہ دولت فرعونیہ کے بڑے بڑے ستون اپنی اپنی جگہ چھوڑ کر اس جگہ جا پہنچے جہاں انہیں اور ان کے سارے لاؤ لشکر کو ایک ساتھ غرق ہونا تھا۔ اگر وہ بنی اسرائیل کا پیچھا نہ کر تے تو نتیجہ صرف اتنا ہی ہوتا کہ ایک قوم ملک چھوڑ کر نکل جاتی۔ اس سے بڑھ کر ان کا کوئی نقصان نہ ہوتا اور وہ حسب سابق اپنے عیش کدوں میں بیٹھے زندگی کے مزے لوٹتے رہتے۔ لیکن انہوں نے کمال درجہ کی ہوشیاری دکھانے کے لیے یہ فیصلہ کیا کہ بنی اسرائیل کو بخیریت نہ گزر جانے دیں بلکہ ان کے مہاجر قافلوں پر یک بارگی حملہ کر کے ہمیشہ کے لیے ان کا قلع قمع کر دیں۔ اس غرض کے لیے ان کے شہزادے اور بڑے بڑے سردار اور اعیان سلطنت خود بادشاہ ذی جاہ سمیت اپنے محلوں سے نکل آئے،  اور اسی دانائی نے یہ دوہرا نتیجہ دکھایا کہ بنی اسرائیل مصر سے نکل بھی گئے اور مصر کی ظالم فرعونی سلطنت کا مکھن نذر دریا بھی ہو گیا۔

۴۵:  بعض مفسرین نے اس آیت کا یہ مطلب لیا ہے کہ جن باغوں،  چشموں،  خزانوں اور بہترین قیام گاہوں سے یہ ظالم لوگ نکلے تھے ان ہی کا وارث اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو کر دیا۔ یہ مطلب اگر لیا جائے تو اس کے معنی لازماً یہ ہونے چاہییں کہ فرعون کے غرق ہو جانے پر بنی اسرائیل پھر مصر واپس پہنچ گئے ہوں اور آل فرعون کی دولت و حشمت ان کے قبضے میں آ گئی ہو۔ لیکن یہ چیز تاریخ سے بھی ثابت نہیں ہے اور خود قرآن مجید کی دوسری تصریحات سے بھی اس آیت کا یہ مفہوم مطابقت نہیں رکھتا۔ سورہ بقرہ، سورہ مائدہ، سورہ اعراف اور سورہ طٰہٰ میں جو حالات بیان کیے گئے ہیں ان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل مصر کی طرف پلٹنے کے بجائے اپنی منزل مقصود (فلسطین) ہی کی طرف آگے روانہ ہو گئے اور پھر حضرت داؤد کے زمانے (۱۰۱۳، ۹۷۳ ق م ) تک ان کی تاریخ میں جو واقعات بھی پیش آئے وہ سب اس علاقے میں پیش آئے جو آج جزیرہ نمائے سینا، شمالی عرب، شرق اُردُن اور فلسطین کے ناموں سے موسوم ہے۔ اس لیے ہمارے نزدیک آیت کا صحیح مفہوم یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہی باغ اور چشمے اور خزانے اور محلات بنی اسرائیل کو بخش دیے جن سے فرعون اور اس کی قوم کے سردار اور امراء نکالے گئے تھے،  بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف آل فرعون کو ان نعمتوں سے محروم کیا اور دوسری طرف بنی اسرائیل کو یہی نعمتیں عطا فرما دیں،  یعنی وہ فلسطین کی سر زمین میں باغوں،  چشموں،  خزانوں اور عمدہ قیام گاہوں کے مالک ہوئے۔ اسی مفہوم کی تائید سورہ اعراف کی یہ آیت کرتی ہے : فَانْتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَاَغْرَقْنٰھُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّہُمْ کَذَّ بُوْ ا بِایٰٰتِنَا وَکَانُوْ ا عَنْھَا غٰفِلِیْنَہ وَاَ وْرَثْنَا الْقَوْمَ ا لَّذِیْنَ کَا نُوْ ا یَسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَھَا الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا، (آیات

۱۳۶۔ ۱۳۷)۔ ’’ تب ہم نے ان سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کر دیا کیونکہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا اور ان سے بے پروا ہو گئے تھے۔ اور ان کے بجائے ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے اس ملک کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالا مال کیا تھا‘‘۔ یہ برکتوں سے مالا مال سر زمین کا استعارہ قرآن مجید میں عموماً فلسطین ہی کے لیے استعمال ہوا ہے اور کسی علاقے کا نام لیے بغیر جب اس کی یہ صفت بیان کی جاتی ہے تو اس سے یہی علاقہ مراد ہوتا ہے۔ مثلاً سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَی الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہٗ۔ اور سورہ انبیاء میں ارشاد ہوا : وَنَجَّیْنٰہُ وَلُوْطاً اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بَارَکْنَا فِیْھَا لِلْعٰلَمِیْنَہ اور وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَصِفَۃً تَجْرِیْ بِاَمْرِہٖ اِلَی الْاَ رْضِ الَّتِیْ بٰرَ کْنَا فِیْھَا۔ اسی طرح سورہ سبا میں بھی اَرلْقُرَی الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا کے الفاظ سرزمین شام و فلسطین ہی کی بستیوں کے متعلق استعمال ہوئے ہیں۔

۴۶:  یعنی مجھے اس آفت سے بچنے کی راہ بتائے گا۔

۴۷:  اصل الفاظ ہیں کَا لطَّوْدِ الْعَظِیْمِ۔ طود عربی زبان میں کہتے ہی برے پہاڑ کو ہیں۔ لسان العرب میں ہے الطود، الجبل العظیم۔ اس کے لیے پھر عظیم کی صفت لانے کے معنی یہ ہوئے کہ پانی دونوں طرف بہت اونچے پہاڑوں کی طرح کھڑا ہو گیا تھا۔ پھر جب ہم اس بات پر غور کرتے ہیں کہ سمندر حضرت موسیٰ کے عصا مارنے سے پھٹا تھا، اور یہ کام ایک طرف بنی اسرائیل کے پورے قافلے کو گزارنے کے لیے کیا گیا تھا اور دوسری طرف اس سے مقصود فرعون کے لشکر کو غرق کرنا تھا، تو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عصا کی ضرب لگنے پر پانی نہایت بلند پہاڑوں کی شکل میں کھڑا ہو گیا اور اتنی دیر تک کھڑا رہا کہ ہزاروں لاکھوں بنی اسرائیل کا مہاجر قافلہ اس میں سے گزر بھی گیا اور پھر فرعون کا پورا لشکر ان کے درمیان پہنچ بھی گیا۔ ظاہر ہے کہ عام قانون فطرت کے تحت جو طوفانی ہوائیں چلتی ہیں وہ خواہ کیسی ہی تند و تیز ہوں،  ان کے اثر  سے کبھی سمندر کا پانی اس طرح عالی شان پہاڑوں کی طرح اتنی دیر تک کھڑا نہیں رہا کرتا۔ اس پر مزید سورہ طٰہٰ کا یہ بیان ہے کہ : فَا ضْرِبْ لَہُمْ طَرِیْقاً فِی الْبَحْرِ یَبَساً، ’’ ان کے لیے سمندر میں سوکھا راستہ بنا دے ‘‘۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ سمندر پر عصا مارنے سے صرف اتنا ہی نہیں ہوا کہ سمندر کا پانی ہٹ کر دونوں طرف پہاروں کی طرح کھڑا ہو گیا، بلکہ بیچ میں جو راستہ نکلا وہ خشک بھی ہو گیا، کوئی کیچڑ ایسی نہ رہی جو چلنے میں مانع ہوتی۔ اس کے ساتھ سورہ دُخان آیت ۲۴ کے یہ الفاظ بھی قابل غور ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ہدایت فرمائی کہ سمندر پار کر لینے کے بعد ’’ اس کو اسی حال پر رہنے دے،  لشکر فرعون یہاں غرق ہونے والا ہے ‘‘۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ اگر دوسرے ساحل پر پہنچ کر سمندر پر عصا مار دیتے تو دونوں طرف کھڑا ہوا پانی پھر مل جاتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا تا کہ لشکر فرعون اس راستے میں اتر آئے اور پھر پانی دونوں طرف سے آ کر اسے غرق کر دے۔ یہ صریحاً ایک معجزے کا بیان ہے اور اس سے ان لوگوں کے خیال کی غلطی بالکل واضح ہو جاتی ہے جو اس واقعے کی تعبیر عام قوانین فطرت کے تحت کرنے کی کوشش کرتے ہیں (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، طٰہٰ، حاشیہ ۵۳)۔

۴۸: یعنی فرعون اور اس کے لشکر کو۔

۴۹:  یعنی قریش کے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ ہٹ دھرم لوگ کھلے کھلے معجزات دیکھ کر بھی کس طرح ایمان لانے سے انکار ہی کیے جاتے ہیں اور پھر اس ہٹ دھرمی کا انجام کیسا درد ناک ہوتا ہے۔ فرعون اور اس کی قوم کے تمام سرداروں اور ہزارہا لشکر یوں کی آنکھوں پر ایسی پٹی بندھی ہوئی تھی کہ سالہا سال تک جو نشانیاں ان کو دکھائی جاتی رہیں ان کو تو وہ نظر انداز کرتے ہی رہے تھے،  آخر میں عین غرق ہونے کے وقت بھی ان کو یہ نہ سوجھا کہ سمندر اس قافلے کے لیے پھٹ گیا ہے،  پانی پہاڑوں کی طرح دونوں طرف کھڑا ہے اور بیچ میں سوکھی سڑک سی بنی ہوئی ہے۔ یہ صریح علامتیں دیکھ کر بھی ان کو عقل نہ آئی کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ خدائی طاقت کام کر رہی ہے اور وہ اس طاقت سے لڑنے جا رہے ہیں۔ ہوش ان کو آیا بھی تو اس وقت جب پانی نے دونوں طرف سے ان کو دبوچ لیا تھا اور وہ خدا کے غضب میں گھر چکے تھے۔ اس وقت فرعون چیخ اٹھا کہ : اٰمَنْتُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْٓ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْٓ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَالْمُسْلِمِیْنَ O (یونس۔ آیت ۹۰)۔ دوسری طرف اہل ایمان کے لیے بھی اس میں یہ نشانی ہے کہ ظلم اور اس کی طاقتیں خواہ بظاہر کیسی ہی چھائی ہوئی نظر آتی ہوں،  آخر کار اللہ تعالیٰ کی مدد سے حق کا یوں بول بالا ہوتا ہے اور باطل اس طرح سرنگوں ہو کر رہتا ہے۔

 

ترجمہ

 

اور اِنہیں ابراہیمؑ کا قصہ سُناؤ ۵۰ جبکہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم  سے پُوچھا تھا کہ ’’ یہ کیا چیزیں ہیں جن کو تم پُوجتے ہو؟‘‘  ۵۱ انہوں نے جواب دیا ’’ کچھ بُت ہیں جن کی ہم پُوجا کرتے ہیں اور انہی کی سیوا میں ہم لگے رہتے ہیں۔‘‘  ۵۲ اس نے پوچھا ’’ کیا یہ تمہاری سُنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو؟ یا یہ تمہیں کچھ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں؟‘‘  انہوں نے جواب دیا ’’ نہیں، بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے۔‘‘  ۵۳ اس پر ابراہیمؑ نے کہا ’’کبھی تم نے (آنکھیں کھول کر)اُن چیزوں کو دیکھا بھی جن کی بندگی تم اور تمہارے پچھلے باپ دادا بجا لاتے رہے؟ ۵۴ میرے تو یہ سب دشمن ہیں ۵۵،  بجز ایک ربّ العالمین ۵۶ کے ،  جس نے مجھے پیدا کیا ۵۷،  پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے۔ جو مجھے کھلاتا اور پِلاتا ہے اور جب بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔ ۵۸ جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ مجھ کو زندگی بخشے گا۔ اور جس سے میں اُمید رکھتا ہوں کہ روزِ جزا میں وہ میری خطا معاف فرما دے گا۔‘‘  ۵۹

(اِس کے بعد ابراہیمؑ نے دُعا کی) ’’ اے میرے ربّ، مجھے حکم عطا کر۔ ۶۰ اور مجھ کو صالحوں کے ساتھ مِلا۔ ۶۱ اور بعد کے آنے والوں میں مجھ کو سچی ناموری عطا کر۔ ۶۲ اور مجھے جنّتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔ اور میرے باپ کو معاف کر دے کہ بے شک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے ۶۳ اور مجھے اُس دن رُسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اُٹھائے جائیں گے ۶۴ جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد، بجز اس کے کہ کوئی شخص قلبِ سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔‘‘  ۶۵

۔۔۔۔(اُس روز ۶۶ )جنّت پرہیز گاروں کے قریب لے آئی جائے گی۔ اور دوزخ بہکے ہوئے لوگوں کے سامنے کھول دی جائے گی ۶۷ اور ان سے پوچھا جائے گا کہ ’’اب کہاں ہیں وہ جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے؟ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کر رہے ہیں یا خود اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں؟‘‘  پھر وہ معبُود اور یہ بہکے ہوئے لوگ،  اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اُوپر تلے دھکیل دیے جائیں گے۔ ۶۸ وہاں یہ سب آپس میں جھگڑیں گے اور یہ بہکے ہوئے لوگ (اپنے معبُودوں سے )کہیں گے کہ ’’خدا کی قسم، ہم تو صریح گمراہی میں مبتلا تھے جبکہ تم کو ربّ العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے۔ اور وہ مجرم لوگ ہی تھے جنہوں نے ہم کو اس گمراہی میں ڈالا۔ ۶۹اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے ۷۰ اور نہ کوئی جگری دوست۔ ۷۱ کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقع مل جائے تو ہم مومن ہوں۔‘‘  ۷۲ یقیناً اس میں ایک بڑی نشانی ہے ۷۳،  مگر ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبر دست بھی ہے اور رحیم بھی۔ ؏ ۵

 

تفسیر

 

۵۰:  یہاں حضرت ابراہیمؑ کی حیات طیبہ کے اس دور کا قصہ بیان ہوا ہے جب کہ نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد شرک و توحید کے مسئلے پر آپ کی اپنے خاندان اور اپنی قوم سے کشمکش شروع ہوئی تھی۔ اس دور کی تاریخ کے مختلف گوشے قرآن مجید میں حسب ذیل مقامات پر بیان ہوئے ہیں : البقرہ رکوع ۳۵۔ الانعام رکوع ۹۔ مریم رکوع ۳۔ الانبیاء رکوع ۵۔ الصّٰفّٰت رکوع ۳۔ الممتحنہ رکوع ۱ )۔ سیرت ابراہیمی کے اس دور کی تاریخ خاص طور پر جس وجہ سے قرآن مجید بار بار سامنے لاتا ہے وہ یہ ہے کہ عرب کے لوگ بالعموم اور قریش بالخصوص اپنے آپ کو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا پیرو سمجھتے اور کہتے تھے اور یہ دعویٰ رکھتے تھے کہ ملت ابراہیمی ہی ان کا مذہب ہے۔ مشرکین عرب کے علاوہ نصاریٰ اور یہود کا بھی یہ دعویٰ تھا کہ حضرت ابراہیمؑ ان کے دین کے پیشوا ہیں۔ اس پر قرآن مجید جگہ جگہ ان لوگوں کو متنبہ کرتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام جو دین لے کر آئے تھے وہ یہی خالص اسلام تھا جسے نبی عربی محمد صلی اللہ علیہ و سلم لائے ہیں اور جس سے آج تم لوگ بر سر پیکار ہو۔ وہ مشرک نہ تھے بلکہ ان کی ساری لڑائی شرک ہی کے خلاف تھی اور اسی لڑائی کی بدولت انہیں اپنے باپ، خاندان، قوم، وطن سب کو چھوڑ کر شام و فلسطین اور حجاز میں غریب الوطنی کی زندگی بسر کرنی پڑی تھی۔ اسی طرح وہ یہودی و نصرانی بھی نہ تھے بلکہ یہودیت و نصرانیت تو ان کے صدیوں بعد وجود میں آئیں۔ اس تاریخی استدلال کا کوئی جواب نہ مشرکین کے پاس تھا نہ یہود و نصاریٰ کے پاس، کیونکہ مشرکین کو بھی یہ تسلیم تھا کہ عرب میں بتوں کی پرستش حضرت ابراہیمؑ کے کئی صدی بعد شروع ہوئی تھی، اور یہود و نصاریٰ بھی اس سے انکار نہ کر سکتے تھے کہ حضرت ابراہیمؑ کا زمانہ یہودیت اور عیسائیت کی پیدائش سے بہت پہلے تھا۔ اس سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ جن مخصوص عقائد اور اعمال پر یہ لوگ اپنے دین کا مدار رکھتے ہیں وہ اس دین قدیم کے اجزاء نہیں ہیں جو ابتدا سے چلا آ رہا تھا، اور صحیح دین وہی ہے جو ان آمیزشوں سے پاک ہو کر خالص خدا پرستی پر مبنی ہو۔ اسی بنیاد پر قرآن کہتا ہے : مَا کَانَاِبْرَاھِیْمُ یَھُوْدِیاً وَّ لَا نَصْرَا نِیاً وَّلٰکِنْ کَانَ حَنِیْفاً مُّسْلِماً وَّ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَہ اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرٰھِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ وَھٰذَ ا النَّبِیُّ وَا لَّذِیْنَ اٰمِنُوْ ا مَعَہٗ۔ (آل عمران۔ آیات ۶۷۔ ۶۸ )۔ ابراہیم نہ یہودی تھا نہ عیسائی بلکہ وہ تو ایک مسلم یکسو تھا۔ اور وہ مشرکوں میں سے بھی نہ تھا۔ در حقیقت ابراہیمؑ سے نسبت رکھنے کا سب سے زیادہ حق ان ہی لوگوں کو پہنچتا ہے جنہوں نے اس کے طریقے کی پیروی کی (اور اب یہ حق) اس نبی اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو (پہنچتا ہے )۔

۵۱:  حضرت ابراہیمؑ کے اس سوال کا مدعا یہ معلوم کرنا نہ تھا کہ وہ کن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں،  کیونکہ ان بتوں کو تو وہ خود بھی دیکھ رہے تھے جن کی پرستش وہاں ہوتی تھی۔ ان کا مدعا دراصل ان لوگوں کو اس طرف متوجہ کرنا تھا کہ ان معبودوں کی حقیقت کی ہے جن کے آگے وہ سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اسی سوال کو سورہ انبیاء میں بایں الفاظ نقل کیا گیا ہے۔ ’’یہ کیسی مورتیں ہیں جن کے تم گرویدہ ہو رہے ہو‘‘ ؟

۵۲:  یہ جواب بھی محض یہ خبر دینے کے لیے نہ تھا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں،  کیونکہ سائل و مسئول دونوں کے سامنے یہ امر واقعہ عیاں تھا۔ اس جواب کی اصل روح اپنے عقیدے پر ان کا ثبات اور اطمینان تھا۔ گویا دراصل وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ہاں،  ہم بھی جانتے ہیں کہ یہ لکڑی اور پتھر کے بت ہیں جن کی ہم پوجا کر رہے ہیں،  مگر ہمارا دین و ایمان یہی ہے کہ ہم ان کی پرستش اور خدمت میں لگے رہیں۔

۵۳: یعنی ہماری اس عبادت کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ ہماری مناجاتیں اور دعائیں اور فریادیں سنتے ہیں یا ہمیں نفع اور نقصان پہنچاتے ہیں اس لیے ہم نے ان کو پوجنا شروع کر دیا ہے،  بلکہ اصل وجہ اس عبادت کی یہ ہے کہ باپ دادا کے وقتوں سے یوں ہی ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اس طرح انہوں نے خود یہ اعتراف کر لیا کہ ان کے مذہب کے لیے باپ دادا کی اندھی تقلید کے سوا کوئی سند نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ آخر تم نئی بات ہمیں کیا بتانے چلے ہو؟ کیا ہم خود نہیں دیکھتے کہ یہ لکڑی اور پتھر کی مورتیں ہیں ؟ کیا ہم نہیں جانتے کہ لکڑیاں سنا نہیں کرتیں اور پتھر کسی کا کام بنانے یا بگاڑنے کے لیے نہیں اٹھا کرتے ؟ مگر یہ ہمارے بزرگ جو صدیوں سے نسلاً بعد نسل ان کی پوجا کرتے چلے آ رہے ہیں تو کیا وہ سب تمہارے نزدیک بے وقوف تھے ؟ ضرور کوئی وجہ ہو گی کہ وہ ان نے جان مورتیوں کی پوجا کرتے رہے۔ لہٰذا ہم بھی ان کے اعتماد پر یہ کام کر رہے ہیں۔

۵۴:  یعنی کیا ایک مذہب کی صداقت کے لیے بس یہ دلیل کافی ہے کہ وہ باپ دادا کے وقتوں سے چلا آ رہا ہے ؟ کیا نسل پر نسل بس یوں ہی آنکھیں بند کر کے مکھی پر مکھی مارتی چلی جائے اور کوئی آنکھیں کھول کر نہ دیکھے کہ جن کی بندگی ہم بجا لا رہے ہیں ان کے اندر واقعی خدائی کی کوئی صفت پائی بھی جاتی ہے یا نہیں اور وہ ہماری قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کے کچھ اختیارات رکھتے بھی ہیں یا نہیں ؟

۵۵:  یعنی میں جب غور کرتا ہوں تو مجھے یہ نظر آتا ہے کہ اگر میں ان کی پرستش کروں گا تو میری دنیا و آخرت دونوں برباد ہو جائیں گی۔ میں ان کی عبادت کو محض بے نفع اور بے ضرر ہی نہیں سمجھتا بلکہ الٹا نقصان وہ سمجھتا ہوں،  اس لی میرے نزدیک تو ان کو پوجنا دشمن کو پوجنا ہے۔ اس کے علاوہ حضرت ابراہیمؑ کے اس قول میں اس مضمون کی طرف بھی اشارہ ہے جو سورہ مریم میں ارشاد ہوا کہ وَتَّخَذُوْ امِنْدُوْنِ اللہِ اٰلِھَۃً لِّیَکُوْنُوْ ا لَھُمْ عِزًّاہ کَلَّا سَیَکْفُرُوْنَ بِعِبَادَ تِہَمْ وَیَکُوْنُوْنَ عَلَیْھِمْ ضِدًّا۔ (آیت ۸۱۔ ۸۲ ) انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا لیے ہیں تاکہ وہ ان کے لیے ذریعہ قوت ہوں۔ ہر گز نہیں۔ عنقریب وہ وقت آئے گا جب کہ وہ ان کی عبادت کا انکار کر دیں گے اور الٹے ان کے مخالف ہوں گے ‘‘۔ یعنی قیامت کے روز وہ ان کے خلاف گواہی دیں گے اور صاف کہہ دیں گے کہ نہ ہم نے ان سے کبھی کہا کہ ہماری عبادت کرو، نہ ہمیں خبر کہ یہ ہماری عبادت کرتے تھے۔ یہاں حکمت تبلیغ کا بھی ایک نکتہ قابل توجہ ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ تمہارے دشمن ہیں،  بلکہ یہ فرمایا ہے کہ وہ میرے دشمن ہیں۔ اگر وہ کہتے کہ یہ تمہارے دشمن ہیں تو مخاطب کے لیے ضد میں مبتلا ہو جانے کا زیادہ موقع تھا۔ وہ اس بحث میں پڑ جاتا کہ بتاؤ، وہ ہمارے دشمن کیسے ہو گئے۔ بخلاف اس کے جب انہوں نے کہا کہ ہو میرے دشمن ہیں تو اس سے مخاطب کے لیے یہ سوچنے کا موقع پیدا  ہو گیا کہ وہ بھی اسی طرح اپنے بھلے اور برے کی فکر کے جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے کی ہے۔ اس طریقہ سے حضرت ابراہیمؑ نے گویا ہر انسان کے اس فطری جذبے سے اپیل کی جس کی بنا پر وہ خود اپنا خیر خواہ ہوتا ہے اور جان بوجھ کر کبھی اپنا برا نہیں چاہتا۔ انہوں نے اسے بتایا کہ میں تو ان کی عبادت میں سراسر نقصان دیکھتا ہوں،  اور دیدہ و دانستہ میں اپنی بد خواہی نہیں کر سکتا، لہٰذا دیکھ لو کہ میں کوڈ ان کی بندگی و پرستش سے قطعی اجتناب کرتا ہوں۔ اس کے بعد مخاطب فطرۃً یہ سوچنے پر مجبور تھا کہ اس کی اپنی بھلائی کس چیز میں ہے،  کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ نا دانستہ اپنی بد خواہی کر رہا ہو۔

۵۶:  یعنی تمام ان معبودوں میں سے ،  جن کی دنیا میں بندگی و پرستش کی جاتی ہے،  صرف ایک اللہ رب العالمین ہے جس کی بندگی میں مجھے اپنی بھلائی نظر آتی ہے،  اور جس کی عبادت میرے نزدیک ایک دشمن کی نہیں بلکہ اپنے اصل مربی کی عبادت ہے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیمؑ چند فقروں میں وہ وجوہ بیان کرتے ہیں جن کی بنا پر صرف اللہ رب العالمین ہی عبادت کا مستحق ہے،  اور اس طرح پنے مخاطبوں کو یہ احساس دلنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تمہارے پاس تو معبود ان غیر اللہ کی عبادت کے لیے کوئی معقول وجہ بجز تقلید آبائی کے نہیں ہے جسے تم بیان کر سکو، مگر میرے پاس صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کے لیے نہایت معقول وجوہ موجود ہیں جن سے تم بھی انکار نہیں کر سکتے۔       رابعاً، اس سے پیروانِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو سبق دینا مقصُود ہے کہ وہ اس انحطاط کے گڑھے میں گرنے سے بچیں جس میں پچھلے انبیا کے پیرو گر گئے۔ یہودیوں کی اخلاقی کمزوریوں،  مذہبی غلط فہمیوں اور اعتقادی و عملی گمراہیوں میں سے ایک ایک کی نشان دہی کر کے اس کے بالمقابل دینِ حق کے مقتضیات بیان کیے گئے ہیں تاکہ مسلمان اپنا راستہ صاف دیکھ سکیں اور غلط راہوں سے بچ کر  چلیں۔ اس سلسلے میں یہُود و نصاریٰ پر تنقید کرتے ہوئے قرآن جو کچھ کہتا ہے اس کو پڑھتے وقت مسلمانوں کو نبی صلی  اللہ علیہ و سلم کی وہ حدیث یاد رکھنی چاہیے جس میں آپ ؐ نے فرمایا ہے کہ تم بھی آخر کار پچھلی اُمتوں ہی کی روش پر چل رہو گے حتیٰ کہ  اگر وہ کسی گوہ کے بِل میں گھُسے ہیں، تو تم بھی اسی میں گھُسو گے۔ صحابہ ؓ  نے پُوچھا: یا رسول اللہ،  کیا یہُود و نصاریٰ مراد ہیں؟ آپ ؐ نے فرمایا، اور کون؟ نبی اکرم ؐ کا ارشاد محض ایک تَوبیخ نہ تھا  بلکہ اللہ کی دی ہوئی بصیرت سے آپ یہ جانتے تھے کہ انبیا کی اُمتوں میں بگاڑ کن کن راستوں سے آیا اور کن کن شکلوں میں ظہُور کرتا رہا ہے۔

۵۷:  یہ اولین وجہ ہے جس کی بنا پر اللہ اور صرف ایک اللہ ہی عبادت کا مستحق ہے۔ مخاطب بھی اس حقیقت کو جانتے اور مانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے،  اور انہیں یہ بھی تسلیم تھا کہ ان کے پیدا کرنے میں کسی دوسرے کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ حتّیٰ کہ اپنے معبودوں کے بارے میں بھی حضرت ابراہیمؑ کی قوم سمیت تمام مشرکین کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے مخلوق ہیں۔ بجز دہریوں کے اور کسی کو بھی دنیا میں اللہ کے خلق کائنات ہونے سے انکار نہیں رہا۔ اس لیے حضرت ابراہیمؑ کی پہلی دلیل یہ تھی کہ میں صرف اس کی عبادت کو صحیح و بر حق سمجھتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ دوسری کوئی ہستی میری عبادت کی کیسے مستحق ہو سکتی ہے جب کہ میرے پیدا کرنے میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ مخلوق کو اپنے خالق کی بندگی تو کرنی ہی چاہیے،  لیکن غیر خالق کی بندگی وہ کیوں کرے ؟

۵۸:  یہ دوسری وجہ ہے اللہ اور اکیلے اللہ ہی کے مستحق عبادت ہونے کی۔ اگر اس نے انسان کو بس پیدا ہی کر کے چھوڑ دیا ہوتا اور آگے اس کی خبر گیری سے وہ بالکل بے تعلق رہتا، تب بھی کوئی معقول وجہ اس امر کی ہو سکتی تھی کہ انسان اس کے علاوہ کسی دوسری طرف بھی سہارے ڈھونڈنے کے لیے رجوع کرتا۔ لیکن اس نے تو پیدا کرنے کے ساتھ رہنمائی، پرورش، نگہداشت، حفاظت اور حاجت روائی کا ذمہ بھی خود ہی لے لیا ہے۔ جس لمحے انسان دنیا میں قدم رکھتا ہے اسی وقت ایک طرف اس کی ماں کے سینے میں دودھ پیدا ہو جاتا ہے تو دوسری طرف کوئی ان دیکھی طاقت اسے دودھ چوسنے اور حلق سے اتارنے کا طریقہ سکھا دیتی ہے۔ پھر اس تربیت و رہنمائی کا سلسلہ اول روز پیدائش سے شروع ہو کر موت کی آخری ساعت تک برابر جاری رہتا ہے۔ زندگی کے ہر مرحلے میں انسان کو اپنے وجود اور نشو و نما اور بقاء و ارتقاء کے لیے جس جس نوعیت کے سر و سامان کی حاجت پیش آتی ہے وہ سب اس کے پیدا کرنے والے نے زمین سے لے کر آسمان تک ہر طرف مہیا کر دیا ہے۔ اس سر و سامان سے فائدہ اٹھانے اور کام لینے کے لیے جن جن طاقتوں اور قابلیتوں کی اس کو حاجت پیش آتی ہے وہ سب بھی س کی ذات میں ودیعت کر دی ہیں۔ اور ہر شعبہ حیات میں جس جس طرح کی رہنمائی اس کو درکار ہوتی ہے اس کا بھی پورا انتظام اس نے کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ اس نے انسانی وجود کی حفاظت کے لیے اور اس کو آفات سے ،  بیماریوں سے ،  مہلک جراثیم سے  اور زہریلے اثرات سے بچانے کے لیے خود اس کے جسم میں اتنے زبردست انتظامات کیے ہیں کہ انسان کا علم ابھی تک ان کا پورا احاطہ بھی نہیں کر سکا ہے۔ اگر یہ قدرتی انتظامات موجود نہ ہوتے تو ایک معمولی کانٹا چبھ جانا بھی انسان کے لیے  مہلک ثابت ہوتا اور اپنے علاج کے لیے آدمی کی کوئی کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکتی۔ خالق کی یہ ہمہ گیر رحمت و ربوبیت جب ہر آن ہر پہلو سے انسان کی دست گیری کر رہی ہے تو اس سے بڑی حماقت و جہالت اور کیا ہو سکتی ہے،  اور اس سے بڑھ کر احسان فراموشی بھی اور کونسی ہو سکتی ہے کہ انسان اس کو چھوڑ کر کسی دوری ہستی کے آگے سر نیاز جھکائے اور حاجت روائی و مشکل کشائی کے لیے کسی اور کا دامن تھامے۔

۵۹:  یہ تیسری وجہ ہے جس کی بنا پر اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت درست نہیں ہو سکتی۔ انسان کا معاملہ اپنے خدا کے ساتھ صرف اس دنیا اور اس کی زندگی تک محدود نہیں ہے کہ وجود کی سرحد میں قدم رکھنے سے شروع ہو کر موت کی آخری ہچکی پر وہ ختم ہو جائے،  بلکہ اس کے بعد اس کا انجام بھی سراسر خدا ہی کے ہاتھ میں ہے،  وہی خدا جو اس کو وجود میں لایا ہے،  آخر کار اسے اس دنیا سے واپس بلا لیتا ہے اور کوئی طاقت دنیا میں ایسی نہیں ہے جو انسان کی اس واپسی کو روک سکے۔ آج تک کسی دوا یا طبیب یا دیوی دیوتا کی مداخلت اس ہاتھ کو پکڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے جو انسان کو یہاں سے نکال لے جاتا ہے،  حتیٰ کہ وہ بہت سے انسان بھی جنہیں معبود بنا کر انسانوں نے پوج ڈالا ہے،  خود اپنی موت کو نہیں ٹال سکے ہیں۔ صرف خدا ہی اس امر کا فیصلہ کرنے ولا ہے کہ کس شخص کو کب اس جہان سے واپس طلب کرنا ہے،  اور جس وقت جس کی طلبی بھی اس کے ہاں سے آ جاتی ہے اسے چارو نا چار جانا ہی پڑتا ہے۔ پھر وہی خدا ہے جو اکیلا اس امر کا فیصلہ کرے گا کہ کب ان تمام انسانوں کو جو دنیا میں پیدا ہوئے تھے دوبارہ وجود میں لائے اور ان سے ان کی حیات دنیا کا محاسبہ کرے۔ اس وقت بھی کسی کی یہ طاقت نہ ہو گی کہ بعث بعد الموت سے کسی کو بچا سکے یا خود بچ سکے۔ ہر ایک کو اس کے حکم پر اٹھنا ہی ہو گا اور اس کی عدالت میں حاضر ہونا پڑے گا۔ پھر وہی اکیلا خدا اس عدالت کا قاضی و حاکم ہو گا۔ کوئی دوسرا اس کے اختیارات میں ذرہ برابر بھی شریک نہ ہو گا۔ سزا دینا یا معاف کرنا بالکل اس کے اپنی ہی ہاتھ میں ہو گا۔ کسی کی یہ طاقت نہ ہو گی کہ جسے وہ سزا دینا چاہے اس کو بخشوا لے جائے،  یا جسے وہ بخشنا چاہے اس سزا دلوا سکے۔ دنیا میں جن کو بخشوا لینے کا مختار سمجھا جاتا ہے وہ خود اپنی بخشش کے لیے بھی اسی کے فضل و کرم کی آس لگائے بیٹھے ہوں گے۔ ان حقائق کی موجودگی میں جو شخص خدا کے سوا کسی کی بندگی کرتا ہے وہ اپنی بد انجامی کا خود سامان کرتا ہے۔ دنیا سے لے کر آخرت تک آدمی کی ساری قسمت تو ہو خدا کے اختیار میں،  اور اسی قسمت کے بناؤ کی خاطر آدمی رجوع کرے ان کی طرف جن کے اختیار میں کچھ نہیں ہے ! اس سے بڑھ کر شامت اعمال اور کیا ہو سکتی ہے۔

۶۰:  ’’حکم‘‘  سے مراد ’’نبوت‘‘  یہاں درست نہیں ہے،  کیونکہ جس وقت کی یہ دعا ہے اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نبوت عطا ہو چکی تھی۔ اور اگر بالفرض یہ دعا اس سے پہلے کی بھی ہو تو نبوت کسی کی طلب پر اسے عطا نہیں کی جاتی بلکہ وہ ایک وہبی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کود ہی جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ اس لیے یہاں حکم سے مراد علم، حکمت، فہم صحیح اور قوت فیصلہ ہی لینا درست ہے،  اور حضرت ابراہیمؑ کی یہ دعا قریب قریب اسی معنی میں ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ دعا منقول ہے کہ : اَرِنَا الْاَ شْیَآءَ کَمَا ھِیَ  یعنی ہم کو اس قابل بنا کہ ہم ہر چیز کو اسی نظر سے دیکھیں جیسی کہ وہ فی الواقع ہے اور ہر معاملہ میں وہی رائے قائم کریں جیسی کہ اس کی حقیقت کے لحاظ قائم کی جانی چاہیے۔

۶۱:  یعنی دنیا میں مجھے صالح سوسائٹی دے اور آخرت میں میرا حشر صالحوں کے ساتھ کر۔ جہاں تک آخرت کا تعلق ہے،  صالح لوگوں کے ساتھ کسی کا حشر ہونا اور اس کا نجات پانا گویا ہم معنی ہیں،  اس لیے یہ تو ہر اس انسان کی دعا ہونی ہی چاہیے جو حیات بعد الموت اور جزا و زا پر یقین رکھتا ہو۔ لیکن دنیا میں بھی ایک پاکیزہ روح کی دلی تمنا یہی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ایک بد اخلاق فاسق و فاجر معاشرے میں زندگی بسر کرنے کی مصیبت سے نجات دے اور س کو نیک لوگوں کے ساتھ ملائے۔ معاشرے کا بگاڑ جہاں چاروں طرف محیط ہو وہاں ایک آدمی کے لیے صرف یہی چیز ہمہ وقت اذیت کی موجب نہیں ہوتی کہ وہ اپنے گردو پیش گندگی ہی گندگی پھیلی ہوئی دیکھتا ہے،  بلکہ اس کے لیے خود پاکیزہ رہنا اور اپنے آپ کو گندگی کی چھینٹوں سے بچا کر رکھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے ایک صالح آدمی اس وقت تک بے چین ہی رہتا ہے جب تک یا تو اس کا اپنا معاشرہ پاکیزہ نہ ہو جائے،  یا پھر اس سے نکل کر وہ کوئی دوسری ایسی سوسائیٹی نہ پالے جو حق و صداقت کے اصولوں پر چلنے والی ہو۔

۶۲:  یعنی بعد کی نسلیں مجھے خیر کے ساتھ یاد کریں۔ میں دنیا سے وہ کام کر کے نہ جاؤں کہ نسل انسانی میرے بعد میرا شمار ان ظالموں میں کرے جو خود بگڑے ہوئے تھے اور دنیا کو بگاڑ کر چلے گئے،  بلکہ مجھ سے وہ کارنامے انجام پائیں جن کی بدولت رہتی دنیا تک میری زندگی خلق خدا کے لیے روشنی کا مینار بنی رہے ور مجھے انسانیت کے محسنوں میں شمار کیا جائے۔ یہ محض شہرت و ناموری کا دعا نہیں ہے بلکہ سچی شہرت اور حقیقی ناموری کی دعا ہے جو لازماً  ٹھو خدمات اور بیش قیمت کارناموں ہی کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ کسی شخص کو اس چیز کا حاصل ہونا اپنے اندر دو فائدے رکھتا ہے۔ دنیا میں اس کا فائدہ یہ ہے کہ انسانی نسلوں کو بُری مثالوں کے مقابلے میں ایک نیک مثال ملتی ہے جس سے وہ بھلائی کا سبق حاصل کرتی ہیں اور ہر سعید روح کو راہ راست پر چلنے میں اس سے مدد ملتی ہے۔ اور آخرت میں اس کا فائدہ یہ ہے کہ ایک آدمی کی چھوڑی ہوئی نیک مثال سے قیامت تک جتنے لوگوں کو بھی ہدایت نصیب ہوئی ہو ان کا ثواب اس شخص کو بھی ملے گا اور قیامت کے روز اس کے اپنے اعمال کے ساتھ کروڑوں بندگان خدا کی یہ گواہی بھی اس کے حق میں موجود ہو گی کہ وہ دنیا میں بھلائی کے چشمے رواں کر کے آیا ہے جن سے نسل پر نسل سیراب ہوتی رہی ہے۔

۶۳:  بعض مفسرین نے حضرت ابراہیمؑ کی اس دعائے مغفرت کی یہ توجیہ بیان کی ہے کہ مغفرت بہر حال اسلام کے ساتھ مشروط ہے اس لیے آں جناب کا اپنے والد کی مغفرت کے لیے دعا کرنا گویا اس بات کی دعا کرنا تھا کہ اللہ تعالیٰ اسے اسلام لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ لیکن قرآن مجید میں اس کے متعلق مختلف مقامات پر جو تصریحات ملتی ہیں وہ اس توجیہ سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ حضرت ابراہیمؑ اپنے والد کے ظلم سے تنگ آ کر جب گھر سے نکلنے لگے تو انہوں نے رخصت ہوتے وقت فرمایا : سَلٰمٌ عَلَیْکَ سَاَ سْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیٓ اِنَّہٗ کَانَ بِیْ حَفِیًّا (مریم، آیت ۴۷ ) ’’ آپ کو سلام ہے،  میں آپ کے لیے اپنے رب سے بخشش کی دعا کروں گا، وہ میرے اوپر نہایت مہربان ہے ‘‘۔ اسی وعدے کی بنا پر انہوں نے یہ دعائے مغفرت نہ صرف اپنے باپ کے لیے کی بلکہ ایک دوسرے مقام پر بیان ہوا ہے کہ ماں اور باپ دونوں کے لیے کی : رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ (ابراہیم۔ آیت ۴۱ )۔ لیکن بعد میں انہیں کود یہ احساس ہو گیا کہ ایک دشمن حق، چاہے وہ ایک مومن کا باپ ہی کیوں نہ ہو، دعائے مغفرت کا مستحق نہیں ہے۔ وَمَا کَانَ ابْتِغْفَار اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّ عَدَھَآ اِیَّاہ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ اَنَّہٗ  عَدُ وٌّ لِلہِ تَبَرَّأ مِنْہُ (التوبہ۔ آیت ۱۱۴) ’’ ابراہیم کا پنے باپ کے لیے دعائے مغفرت کرنا محض اس وعدے کی وجہ سے تھا جو اس نے اس سے کیا تھا۔ مگر جب یہ بات اس پر کھل گئی کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس نے اس سے اظہار بیزاری کر دیا‘‘۔

۶۴: یعنی قیامت کے روز یہ رسوائی مجھے نہ دکھا کہ میدان حشر میں تمام اوّلین و آخرین کے سامنے ابراہیمؑ کا باپ سزا پا رہا ہو اور ابراہیمؑ کھڑا دیکھ رہا ہو۔

۶۵:  ان دو فقروں کے متعلق یہ بات یقین کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی کہ یہ حضرت ابراہیمؑ کی دعا کا حصہ ہیں یا انہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے قول پر اضافہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے۔ اگر پہلی بات مانی جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت ابراہیمؑ اپنے باپ کے لیے یہ دعا کرتے وقت خود بھی ان حقائق کا احساس رکھتے تھے۔ اور دوسری بات تسلیم کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ان کی دعا پر تبصرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے کہ قیامت کے دن آدمی کے کام اگر کوئی چیز آ سکتی ہے تو وہ مال اور اولاد نہیں بلکہ صرف قلب سلیم ہے،  ایسا دل جو کفر و شرک و نافرمانی اور فسق و فجور سے پاک ہو۔ مال اور اولاد بھی قلب سلیم ہی کے ساتھ نافع ہو سکتے ہیں،  اس کے بغیر نہیں۔ مال صرف اس صورت میں وہاں مفید ہو گا جب کہ آدمی نے دنیا میں ایمان و اخلاص کے ساتھ اسے اللہ کی راہ میں صرف کیا ہو، ورنہ کروڑ پتی اور ارب پتی آدمی بھی وہاں کنگال ہو گا۔ اولاد بھی صف اسی حالت میں وہاں کام آ سکے گی جب کہ آدمی نے دنیا میں اسے اپنی حد تک ایمان اور حسن عمل کی تعلیم دی ہو، ورنہ بیٹا اگر نبی بھی ہو تو وہ باپ سزا پانے سے نہیں بچ سکتا جس کا اپنا خاتمہ کفر و معصیت پر ہوا ہو اور اولاد کی نیکی میں جس کا اپنا کوئی حصہ نہ ہو۔

۶۶: یہاں سے آخر پیرا گراف تک کی پوری عبارت حضرت ابراہیمؑ کے کلام کا جز نہیں معلوم ہوتی بلکہ اس کا مضمون صاف ظاہر کر رہا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا ارشاد ہے۔

۶۷:  یعنی ایک طرف متقی لوگ جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی یہ دیکھ رہے ہوں گے کہ کیسی نعمتوں سے لبریز جگہ ہے جہاں اللہ کے فضل سے ہم جانے والے ہیں۔ اور دوسری طرف گمراہ لوگ ابھی میدان حشر ہی میں ہوں گے کہ ان کے سامنے اس جہنم کا ہولناک منظر پیش کر دیا جائے گا جس میں انہیں جانا ہے۔

۶۸:  اصل میں لفظ : کُبْکِبُوْا فرمایا گیا ہے جس میں دو مفہوم شامل ہیں۔ ایک یہ کہ ایک کے اوپر ایک دھکیل دیا جائے گا، دوسرے یہ کہ وہ قعر جہنم تک لڑھکتے چلے جائیں گے۔

۶۹:  یہ پیروؤں اور معتقدوں کی طرف سے ان لوگوں کی تواضع ہو رہی ہو گی جنہیں یہی لوگ دنیا میں بزرگ، پیشوا اور رہنما مانتے رہے تھے،  جن کے ہاتھ پاؤں چومے جاتے تھے،  جن کے قول و عمل کو سند مانا جاتا تھا، جن کے حضور نذریں گزرانی جاتی تھیں۔ آخرت میں جا کر جب حقیقت کھلے گی اور پیچھے چلنے والوں کو معلوم ہو جائے گا کہ آگے چلنے والے خود کہاں آئے ہیں اور ہمیں کہاں لے آئے ہیں تو یہی معتقدین ان کو مجرم ٹھیرائیں گے اور ان پر لعنت بھیجیں گے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ علام آخرت کا یہ عبرت ناک نقشہ کھینچا گیا ہے تاکہ اندھی تقلید کرنے والے دنیا میں آنکھیں کھولیں اور کسی کے پیچھے چلنے سے پہلے دیکھ لیں کہ وہ ٹھیک بھی جا رہا ہے یا نہیں۔ سورہ اعراف میں فرمایا : کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَھَا  ؕ حَتّیٰٓ اِذَا ادَّارَکُوْ ا فِیْھَا جَمِیْعاً  ۙ قَالَتْ اُ خْرٰ ھُمْ لِاُوْلٰھُمْ رَبَّنَا ھٰٓؤُ لَآ ءِ اَضَلُّوْ نَا فَاٰتِھِمْ عَذَاباً ضِعْفاً مِّنَالنَّارِ  ؕ ۵ قَا لَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ O (آیت ۳۸ ) ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہو گا تو اپنے ساتھ کے گروہ پر لعنت کرتا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب سب وہاں جمع ہو جائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے متعلق کہے گا کہ اے ہمارے رب، یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا، اب انہیں آگ کا دوہرا عذاب دے۔ رب فرمائے گا سب ہی کے لیے دوہرا عذاب ہے مگر تم جانتے نہیں ہو۔ سورہ حٰم السجدہ میں ارشاد ہوا ہے : وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْ ا رَبَّنَا اَرِنَا لَّذ یْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ نَجْعَلْھُمَا تَحْتَ اَقدَامِنا لِیَکُوْ نَا مِنَ الْاَسْفَلِیْنَ O (آیت ۲۹)۔ اور کافر اس وقت کہیں گے کہ اے پروردگار، ان جنوں اور انسانوں کو ہمارے سامنے لا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تاکہ ہم انہیں پاؤں تلے روند ڈالیں اور وہ پست و ذلیل ہو کر ہیں۔ یہی مضمون سورہ احزاب میں ارشاد ہوا ہے : وَقَا لُوْ ا رَبَّنَآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَکُبَرَآ ءَ نَا فَاَ ضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا ۵ رَبَّنَآ اٰوِھِمْ ضِعفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْھُمْ لَعْناً کَبِیْراً O (آیات ۶۷۔ ۶۸ ) اور وہ کہیں گے اے رب، ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہم کو سیدھے راستے سے بھٹکا دیا۔ اے رب، ان کو دو گنا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر۔

۷۰: یعنی جنہیں ہم دنیا میں سفارشی سمجھتے تھے اور جن کے متعلق ہمارا یہ عقیدہ تھا کہ ان کا دامن جس نے تھام لیا بس اس کا بیڑا پار ہے،  ان میں سے آج کوئی بھی سعی سفارش کے لیے زبان کھولنے والا نہیں ہے۔

۷۱:  یعنی کوئی ایسا بھی نہیں ہے جو ہمارا غم خوار اور ہمارے لیے کُڑھنے والا ہو، چاہے ہم کو چھڑا نہ سکے مگر کم از کم اسے ہمارے ساتھ کوئی ہمدردی ہی ہو۔ قرآن مجید یہ بتاتا ہے کہ آخرت میں دو ستیاں صرف اہل ایمان ہی کی باقی رہ جائیں گی۔ رہے گمراہ لوگ، تو وہ دنیا میں چاہے کیسے ہی جگری دوست رہے ہوں،  وہاں پہنچ کر ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوں گے،  ایک دوسرے کو مجرم ٹھیرائیں گے اور اپنی بربادی کا ذمہ دار قرار دے کر ہر ایک دوسرے کو زیادہ سے زیادہ سزا دلوانے کی کوشش کرے گا۔ اَلْاَخِلَّآ ءُ یَوْمَئیذٍ‏ بَعْضھُُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ الَّا الْمُتَّقِیْنَ O (الزخرف۔ آیت ۶۷ ) ’’ دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر متقین (کی دوستیاں قائم رہیں گی)‘‘۔

۷۲:  اس تمنا کا جواب بھی قرآن میں دے دیا گیا ہے کہ وَلَوْرُدُّ وْ ا لَعَا دُوْ ا لِمَا نھُُوْ ا عَنْہٗ۔ (الانعام۔ آیت ۲۸ ) ’’ اگر انہیں سابق زندگی کی طرف واپس بھیج دیا جائے تو وہی کچھ کریں گے جس سے انہیں منع کیا گیا ہے ‘‘۔ رہا یہ سوال کہ انہیں واپسی کا موقع کیوں نہ دیا جائے گا، اس کے وجوہ پر مفصل بحث ہم سرہ مؤمنون حواشی ۹۰ تا ۹۲ میں کر چکے ہیں۔

۷۳:  حضرت ابراہیمؑ کے اس قصے میں نشانی کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ مشرکین عرب اور بالخصوص قریش کے لوگ ایک طرف تو حضرت ابراہیمؑ کی پیروی کا دعویٰ اور ان کے ساتھ انتساب پر فخر کرتے ہیں مگر دوسری طرف اسی شرک میں مبتلا ہیں جس کے خلاف جدو جہد کرتے  ان کی عمر بیت گئی تھی، اور ان کے لائے ہوئے دین کی دعوت آج جو نبی پیش کر رہا ہے اس کے خلاف ٹھیک وہی کچھ کر رہے ہیں جو حضرت ابراہیمؑ  کی قوم نے ان کے ساتھ کیا تھا۔ ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ تو شرک کے دشمن اور دعوت توحید کے علم بردار تھے،  تم خود بھی جانتے اور مانتے ہو کہ حضرت ممدوح مشرک نہ تھے،  مگر پھر بھی تم اپنی ضد پر قائم ہو۔ دوسرا پہلو اس قصہ میں نشانی کا یہ ہے کہ قوم ابراہیمؑ دنیا سے مٹ گئی اور ایسی مٹی کہ اس کا نام و نشان تک باقی نہ رہا، اس میں سے اگر کسی کو بقا نصیب ہوا تو صرف ابراہیم علیہ السلام اور ان کے مبارک فرزندوں (اسماعیلؑ و اسحاقؑ ) کی اولاد ہی کو نصیب ہوا۔ قرآن میں اگر چہ اس عذاب کا ذکر نہیں کیا گیا ہے جو حضرت ابراہیمؑ کے نکل جانے کے بعد ان کی قوم پر آیا، لیکن اس کا شمار معذب قوموں ہی میں کیا گیا ہے،  : اَلَمْ یَاْ تِھِمْ نَبَاءُ الَّذِیْنَ مِنْ قَٓبْلِھِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَوَ قَوْمِ اِبْرٰھِیْمَ وَاَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْ تَفِکٰتِ (التوبہ۔ آیت ۷۰)۔

 

ترجمہ

 

۷۴ قومِ نوحؑ نے رسُولوں کو جھُٹلایا۔ ۷۵ یاد کرو جبکہ اُن کے بھائی نوحؑ  نے ان سے کہا تھا ’’ کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ ۷۶ میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسُول ہوں ۷۷،  لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ ۷۸ میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ میرا اجر تو ربّ العالمین کے ذمّہ ہے۔ ۷۹ پس تم اللہ سے ڈرو اور (بے کھٹکے )میری اطاعت کرو۔‘‘  ۸۰ انہوں نے جواب دیا ’’ کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی رذیل ترین لوگوں نے اختیار کی ہے؟‘‘  ۸۱ نُوحؑ نے کہا ’’ میں کیا جانوں کہ ان کے عمل کیسے ہیں، ان کا حساب تو میرے ربّ کے ذمّہ ہے، کاش تم کچھ شعور سے کام لو۔ ۸۲ میرا یہ کام نہیں ہے کہ جو ایمان لائیں ان کو میں دھتکار دوں۔ میں تو بس ایک صاف صاف متنبّہ کر دینے والا آدمی ہوں۔‘‘  ۸۳ انہوں نے کہا ’’ اے نُوحؑ،  اگر تُو باز نہ آیا تو پھِٹکارے ہوئے لوگوں میں شامل ہو کر رہے گا۔‘‘  ۸۴ نُوحؑ نے دُعا کی ’’ اے میرے ربّ، میری قوم نے مجھے جھُٹلا دیا۔ ۸۵ اب میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کر دے اور مجھے اور جو مومن میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے۔‘‘  ۸۶ آخر کار ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو ایک بھری ہوئی کشتی میں بچا لیا۔ ۸۷ اور اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کر دیا۔

یقیناً اس میں ایک نشانی ہے،  مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبر دست بھی ہے اور رحیم بھی۔ ؏٦

 

تفسیر

 

۷۴:  تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات ۵۹ تا ۶۴۔ یونس، آیات ۷۱ تا ۷۳۔ ہود، آیات ۲۵ تا ۴۸۔ بنی اسرائیل، آیت ۳۔ الانبیاء، آیات ۷۶۔ ۷۷۔ المؤمنون، آیات ۲۳ تا ۳۰۔ الفرقان، آیت ۳۷۔ اس کے علاوہ قصہ نوح علیہ السلام کی تفصیلات کے لیے قرآن مجید کے حسب ذیل مقامات بھی پیش نظر رہیں : العنکبوت آیات ۱۴۔ ۱۵۔ الصّٰفّٰت، ۷۵ تا ۸۲۔ القمر، ۹۔ ۱۵۔ سورہ نوح مکمل۔

۷۵:  اگر چہ انہوں نے ایک ہی رسول کو جھٹلایا تھا، لیکن چونکہ رسول کی تکذیب در حقیقت اس دعوت اور پیغام کی تکذیب ہے جسے لے کر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے،  اس لیے جو شخص یا گروہ کسی ایک رسول کا بھی انکار کر دے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تمام رسولوں کا منکر ہے۔ یہ ایک بڑی اہم اصولی حقیقت ہے جسے قرآن میں جگہ جگہ مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔ حتّیٰ کہ وہ لوگ بھی کافر ٹھیرائے گئے ہیں جو صرف ایک نبی کا انکار کرتے ہوں،  باقی تمام انبیاء کو مانتے ہوں۔ اس لیے کہ جو شخص اصل پیغام رسالت کا ماننے والا ہے وہ تو لازماً ہر رسول کو مانے گا۔ مگر جو شخص کسی رسول کا انکار کرتا ہے وہ اگر دوسرے رسولوں کو مانتا بھی ہے تو کسی عصبیت یا تقلید آبائی کی بنا پر مانتا ہے،  نفس پیغام رسالت کو نہیں مانتا، ورنہ ممکن نہ تھا کہ وہی حق ایک پیش کرے تو یہ اسے مان لے اور وہی دوسرا پیش کرے تو یہ اس کا انکار کر دے۔

۷۶:  دوسرے مقامات پر حضرت نوحؑ کا اپنی قوم سے ابتدائی خطاب ان الفاظ میں آیا ہے : اُعْبُدُوا اللہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ (المؤمنون آیت ۲۳ ) ’’ اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے،  تو کیا تم ڈرتے نہیں ہو ‘‘ ؟  اُعْبُدُ و ا اللہَ وَا تَّقُوْہُ وَاَطِیْعُوْنِہ (نوح آیت ۳)۔ ’’ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘  اس لیے یہاں حضرت نوحؑ کے اس ارشاد کا مطلب محض خوف نہیں بلکہ اللہ کا خوف ہے۔ یعنی کیا تم اللہ سے بے خوف ہو گئے ؟ اس کے سوا دوسروں کی بندگی کرتے ہوئے تم کچھ نہیں سوچتے کہ اس باغیانہ روش کا انجام کیا ہو گا؟ دعوت کے آغاز میں خوف دلانے کی حکمت یہ ہے کہ جب تک کسی شخص یا گروہ کو اس کے غلط رویے کی بد انجامی کا خطرہ نہ محسوس کرایا جائے،  وہ صحیح بات اور اس کے دلائل کی طرف توجہ کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ راہ راست کی تلاش آدمی کے دل میں پیدا ہی اس وقت ہوتی ہے جب اس کو یہ فکر دامن گیر ہو جاتی ہے کہ کہیں میں کسی ٹیڑھے راستے پر تو نہیں جا رہا ہوں جس میں ہلاکت کا اندیشہ ہو۔

۷۷:  اس کے دو مفہوم ہیں۔ ایک یہ کہ میں اپنی طرف سے کوئی بات بنا کر یا کم و بیش کر کے بیان نہیں کرتا بلکہ جو کچھ خدا کی طرف سے مجھ پر نازل ہوتا ہے وہی بے کم و کاست تم تک پہنچا دیتا ہوں۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ میں ایک ایسا رسول ہوں جسے تم پہلے سے ایک امین اور راستباز آدمی کی حیثیت سے جانتے ہو۔ جب میں خلق کے معاملے میں خیانت کرنے والا نہیں ہوں تو خدا کے معاملے میں کیسے خیانت کر سکتا ہوں،۔ لہٰذا تمہیں باور کرنا چاہیے کہ جو کچھ میں خدا کی طرف سے پیش کر رہا ہوں اس میں  بھی ویسا ہی امین ہوں جیسا دنیا کے معاملات میں آج تک تم نے مجھے امین پایا ہے۔

۷۸:  یعنی میرے رسول امین ہونے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ تم دوسرے سب مطاعوں کی اطاعت چھوڑ کر صرف میری اطاعت کرو اور جو  احکام میں تمہیں دیتا ہوں ان کے آگے سر تسلیم خم کر دو، کیونکہ میں خداوند عالم کی مرضی کا نمائندہ ہوں،  میری اطاعت خدا کی اطاعت ہے اور میری نافرمانی محض میری ذات کی نا فرمانی نہیں بلکہ براہ راست خدا کی نا فرمانی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول کا حق صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ جن لوگوں کی طرف وہ رسول بنا کر بھیجا گیا ہے وہ اس کی صداقت تسلیم کر لیں اور اسے رسول بر حق مان لیں۔ بلکہ اس کو خدا کا سچا رسول مانتے ہی آپ سے آپ یہ بھی لازم آ جاتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور ہر دوسرے قانون کو چھوڑ کر صرف اسی کے لائے ہوئے قانون کا اتباع کیا جائے۔ رسول کو رسول نہ ماننا، یا رسول مان کر اس کی اطاعت نہ کرنا، دونوں صورتیں در اصل خدا سے بغاوت کی ہم معنی ہیں اور دونوں کا نتیجہ خدا کے غضب میں گرفتار ہونا ہے۔ اسی لیے ایمان اور اطاعت کے مطالبے سے پہلے ’’ اللہ سے ڈرو‘‘  کا تنبیہی فقرہ ارشاد فرمایا گیا تاکہ ہر مخاطب اچھی طرح کان کھول کر سن لے کہ رسول کی رسالت تسلیم نہ کرنے یا اس کی اطاعت قبول نہ کرنے کا نتیجہ کیا ہو گا۔

۷۹:  یہ اپنی صداقت پر حضرت نوح کی دوسری دلیل ہے۔ پہلی دلیل یہ تھی کہ دعوائے نبوت سے پہلے میری ساری زندگی تمہارے درمیان گزری ہے اور آج تک تم مجھے ایک امین آدمی کی حیثیت سے جانتے رہے ہو۔ اور دوری دلیل یہ ہے کہ میں ایک بے غرض آدمی ہوں،  تم کسی ایسے ذاتی فائدے کی نشان دہی نہیں کر سکتے جو اس کام سے مجھے حاصل ہو رہا ہو یا جس کے حصول کی میں کوشش کر رہا ہوں۔ اس بے غرضانہ طریقہ سے کسی ذاتی نفع کے بغیر جب میں اس دعوت حق کے کام میں شب و روز اپنی جان کھپا رہا ہوں،  اپنے اوقات اور اپنی محنتیں صرف کر رہا ہوں ور ہر طرح کی تکلیفیں اٹھا رہا ہوں،  تو تمہیں باور کرنا چاہیے کہ میں اس کام میں مخلص ہوں،  ایمانداری کے ساتھ جس چیز کو حق جانتا ہوں اور جس کی پیروی میں خلق خد کی فلاح دیکھتا ہوں وہی پیش کر رہا ہوں،  کوئی نفسانی جذبہ اس کا محرّک نہیں ہے کہ اس کی خاطر میں جھوٹ گھڑ کر لوگوں کو دھوکا دوں۔ یہ دونوں دلیلیں ان اہم دلائل میں سے ہیں جو قرآن مجید نے بار بار انبیاء علیہم السلام کی صداقت کے ثبوت میں پیش کی ہیں اور جن کو وہ نبوت کے پرکھنے کی کسوٹی قرار دیتا ہے۔ نبوت سے پہلے جو شخص ایک معاشرے میں برسوں زندگی بسر کر چکا ہو اور لوگوں نے ہمیشہ ہر معاملہ میں اسے سچا اور راستباز آدمی پایا ہو، اس کے متعلق کوئی غیر متعصب آدمی مشکل ہی سے یہ شک کر سکتا ہے کہ وہ یکایک خدا کے نام سے اتنا بڑا جھوٹ بولنے پر اتر آئے گا کہ اسے نبی نہ بنایا گیا ہو اور وہ کہے کہ خدا نے مجھے نبی بنایا ہے۔ پھر دوسری اس سے بھی اہم تر بات یہ ہے کہ ایسا سفید جھوٹ کوئی شخص نیک نیتی کے ساتھ تو نہیں گھڑا کرتا۔ لا محالہ کوئی نفسانی غرض ہی اس فریب کاری کی محرک ہوتی ہے۔ اور جب کوئی شخص اپنی اغراض کے لیے اس طرح کی فریب کاری کرتا ہے تو اخفا کی تمام کوششوں کے باوجود اس کے آثار نمایاں ہو کر رہتے ہیں۔ اسے اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنے پڑتے ہیں جن کے گھناؤنے پہلو گرد و پیش کے معاشرے میں چھپائے نہیں چھپ سکتے۔ اور مزید برآں وہ اپنی پیری کی دکان چمکا کر کچھ نہ کچھ اپنا بھلا کرتا نظر آتا ہے۔ نذرانے وصول کیے جاتے ہیں،  لنگر جاری ہوتے ہیں،  جائدادیں بنتی ہیں،  زیور گھڑے جاتے ہیں،  اور فقیری کا آستانہ دیکھتے دیکھتے شاہی دربار بنتا چلا جاتا ہے۔ لیکن جہاں اس کے بر عکس نبوت کا دعویٰ کرنے والے شخص کی ذاتی زندگی ایسے فضائل اخلاق سے لبریز نظر آئے کہ اس میں کہیں ڈھونڈے سے بھی کسی فریب کارانہ ہتھکنڈے کا نشان نہ مل سکے ،  اور اس کام سے کوئی ذاتی فائدہ اٹھانا تو در کنار، وہ اپنا سب کچھ اسی خدمت بے مزہ کی نذر کر دے،  وہاں جھوٹ کا شبہ کرنا کسی معقول انسان کے لیے ممکن نہیں رہتا۔کوئی شخص جو عقل بھی رکھتا ہو اور بے انصاف بھی نہ ہو، یہ تصور نہیں کر سکتا کہ آخر ایک اچھا بھلا آدمی، جو اطمینان کی زندگی بسر کر رہا تھا، کیوں بلا وجہ ایک جھوٹا دعویٰ لے کر اٹھے جب کہ اسے کوئی فائدہ اس جھوٹ سے نہ ہو، بلکہ وہ الٹا اپنا مال، اپنا وقت اور اپنی ساری قوتیں اور محنتیں اس کام میں کھپا رہا ہو اور بدلے میں دنیا بھر کی دشمنی مول لے رہا ہو۔ ذاتی مفاد کی قربانی آدمی کے مخلص ہونے کی سب سے زیادہ نمایاں دلیل ہوتی ہے۔ یہ قربانی کرتے جس کو سالوں بیت جائیں اسے  بد نیت یا خود غرض سمجھنا خود اس شخص کی اپنی بد نیتی کا ثبوت ہوتا ہے جو ایسے آدمی پر یہ الزام لگائے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، المؤمنون، حاشیہ ۷۰)۔

۸۰:  اس فقرے کی تکرار بے وجہ نہیں ہے۔ پہلے یہ ایک اور مناسبت سے فرمایا گیا تھا اور یہاں ایک دوسری مناسبت سے اس کو دہرایا گیا ہے۔ اوپر اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْن ٌ  سے فَاتَّقُو ا اللہَ کے فقرے کی مناسبت یہ تھی کہ جو شخص اللہ کی طرف سے ایک امانت دار رسول ہے،  جس کی صفت امانت سے تم لوگ خود بھی واقف ہو، اسے جھٹلاتے ہوئے کدا سے ڈرو۔ اور یہاں مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ سے اس فقرے کی مناسبت یہ ہے کہ جو شخص اپنے کسی ذاتی فائدے کے بغیر محض اصلاح خلق کے لیے پورے اخلاص کے ساتھ کام کر رہا ہے اس کی نیت پر حملہ کرتے ہوئے خدا سے ڈرو۔ اس بات کو اتنا زور دے کر بیان کرنے کی وجہ یہ تھی کہ قوم کے سردار حضرت نوح کی مخلصانہ دعوت حق میں کیڑے ڈالنے کے لیے ان پر یہ الزام لگاتے تھے کہ یہ شخص در اصل یہ ساری دوڑ دھوپ اپنی بڑائی کے لیے کر رہا ہے : یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْکُمْ (المؤمنون، آیت ۲۴)۔ ’’ یہ چاہتا ہے کہ تم پر فضیلت حاصل کرے ‘‘۔

۸۱:  یہ لوگ جنہوں نے حضرت نوح کو دعوت حق کا یہ جواب دیا، ان کی قوم کے سردار، شیوخ اور اشراف تھے، جیس اکہ دوسرے مقم پر اسی قصے کے سلسلے میں بیان ہوا ہے : فَقَالَالْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ مَا نَرٰ کَ اِلَّا بَشَراً  مِّثْلَنَا وَمَا نَرٰکَ اتَّبَعَکَ اِلَّا ا لَّذِیْنَ ھُمْ اَرَاذِ لُنَا بَادِیَ الرَّ أ یِ، وَمَا نَریٰ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ (ہود، آیت ۲۷)۔ ’’ اس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا ہمیں تو تم اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتے کہ بس ایک انسان ہو ہم جیسے ،  اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ تمہاری پیروی صرف ان لوگوں نے بے سمجھے بوجھے اختیار کر لی ہے جو ہمارے ہاں کے اراذل ہیں،  اور ہم کوئی چیز بھی ایسی نہیں پاتے جس میں تم لوگ ہم سے بڑھے ہوئے ہو ‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت نوح پر ایمان لانے والے زیادہ تر غریب لوگ، چھوٹے چھوٹے پیشہ ور لوگ، یا ایسے نوجوان تھے جن کی قوم میں کوئی حیثیت نہ تھی۔ رہے اونچے طبقہ کے با اثر اور خوش حال لوگ، تو وہ ان کی مخالفت پر کمر بستہ تھے اور وہی اپنی قوم  کے عوام کو طرح طرح کے فریب دے دے کر اپنے پیچھے لگائے رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس سلسلے میں جو دلائل وہ حضرت نوحؑ کے خلاف پیش کرتے تھے ان میں سے ایک استدلال یہ تھا کہ اگر نوح کی دعوت میں کوئی وزن ہوتا تو قوم کے امراء علماء، مذہبی پیشوا، معززین اور سمجھ دار لوگ اسے قبول کرتے۔ لیکن ان میں سے تو کوئی بھی اس شخص پر ایمان نہیں لایا ہے۔ اس کے پیچھے لگے ہیں ادنیٰ طبقوں کے چند نادان لوگ جو کوئی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے۔ اب کیا ہم جیسے بلند پایہ لوگ ان بے شعور اور کمین لوگوں کے زمرے میں شامل ہو جائیں ؟ بعینہٖ یہی بات قریش کے کفار نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق کہتے تھے کہ ان کے پیرو یا تو غلام اور غریب لوگ ہیں یا چند نادان لڑکے ،  قوم کے اکابر اور معززین میں سے کوئی بھی ان کے ساتھ نہیں ہے۔ ابوسفیان نے ہرقل کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بھی یہی کہا تھا کہ : تَبِعَہٗ مِنا الضعفآء والمَسَاکین (محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی ہمارے غریب اور کمزور لوگوں نے قبول کی ہے ) گویا ان لوگوں کا طرز فکر یہ تھا کہ حق صرف وہ ہے جسے قوم کے بڑے لوگ حق مانیں کیونکہ وہی عقل اور سمجھ بوجھ رکھتے ہیں،  رہے چھوٹے لوگ، تو ان کا چھوٹا ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بے عقل اور ضعیف الرائے ہیں،  اس لیے ان کا کسی بات کو مان لینا اور بڑے لوگوں کا رد کر دینا صاف طور پر یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ ایک بے وزن بات ہے۔ بلکہ کفار مکہ تو اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ دلیل لاتے تھے کہ پیغمبر بھی کوئی معمولی آدمی نہیں ہو سکتا، خدا کو اگر واقعی کوئی پیغمبر بھیجنا منظور ہوتا تو کسی بڑے رئیس کو بناتا، وَقَالُوْا لَوْ لَا نُزِّ لَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلیٰ رَجُلٍ مِّنَالْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ (الزخرف، آیت ۳) ’’ وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن ہمارے دونوں شہروں (مکہ اور طائف) کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل کیا گیا‘‘۔

۸۲:  یہ ان کے اعتراض کا پہلا جواب ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا، ان کے اعتراض کی بنیاد اس مفروضے پر تھی کہ جو لوگ غریب، محنت پیشہ اور ادنیٰ درجے کی خدمات انجام دینے والے ہیں یا معاشرے کے پست طبقات سے تعلق رکھتے ہیں،  ان میں کوئی ذہنی صلاحیت نہیں ہوتی، اور وہ علم و عقل اور سمجھ بوجھ سے عاری ہوتے ہیں،  اس لیے نہ ان کا ایمان کسی فکر و بصیرت پر مبنی، نہ ان کا اعتقاد لائق اعتبار، اور نہ ان کے اعمال کا کوئی وزن۔ حضرت نوحؑ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ میرے پاس یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ جو شخص میرے پاس آ کر ایمان لاتا ہے اور ایک عقیدہ قبول کر کے اس کے مطابق عمل کرنے لگتا ہے، اس کے اس فعل کی تہ میں کیا محرکات کام کر رہے ہیں اور وہ کتنی کچھ قدر و قیمت رکھتے ہیں۔ ان چیزوں کا دیکھنا اور ان کا حساب لگانا تو خدا کا کام ہے،  میرا ور تمہارا کام نہیں ہے۔

۸۳:  یہ ان کے اعتراض کا دوسرا جواب ہے۔ ان کے اعتراض میں یہ بات بھی مضمر تھی کہ ایمان لانے والوں کا جو گروہ حضرت نوحؑ کے گرد جمع ہو رہا ہے وہ چونکہ ہمارے معاشرے کے ادنیٰ طبقات پر مشتمل ہے،  اس لیے اونچے طبقوں میں سے کوئی شخص اس زمرے میں شامل ہونا گوارا نہیں کر سکتا۔ دوسرے الفاظ میں گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ اے نوحؑ کیا تم پر ایمان لا کر ہم اپنے آپ کو اراذل اور سفہاء میں شمار کرائیں ؟ کیا ہم غلاموں،  نوکروں،  مزدوروں اور کام پیش لوگوں کی صف میں آ بیٹھیں ؟ حضرت نوحؑ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ میں آخر یہ غیر معقول طرز عمل کیسے اختیار کر سکتا ہوں کہ جو لوگ میری بات نہیں مانتے ان کے تو پیچھے پھرتا رہوں اور جو میری بات مانتے ہیں انہیں دھکے دے کر نکال دوں۔ میری حیثیت تو ایک ایسے بے لاگ آدمی کی ہے جس نے علی الاعلان کھڑے ہو کر پکار دیا ہے کہ جس طریقے پر تم لوگ چل رہے ہو یہ باطل ہے اور اس پر چلنے کا انجام تباہی ہے،  اور جس طریقے کی طرف میں رہنمائی کر رہا ہوں اسی میں تم سب کی نجات ہے۔ اب جس کا جی چاہے میری اس تنبیہ کو قبول کر کے سیدھے راستے پر آئے اور جس کا جی چاہے آنکھیں بند کر کے تباہی کی راہ چلتا رہے۔ میں یہ نہیں کر سکتا کہ جو اللہ کے بندے میری اس تنبیہ کو سن کر سیدھا راستہ اختیار کرنے کے لیے میرے پاس آئیں ان کی ذات، برادری، نسب اور پیشہ پوچھوں اور اگر وہ آپ لوگوں کی نگاہیں ’’کمین‘‘  ہوں تو ان کو واپس کر کے اس انتظار میں بیٹھا رہوں کہ ’’شریف‘‘  حضرات کب تباہی کا راستہ چھوڑ کر نجات کی راہ پر قدم رنجہ فرماتے ہیں۔ ٹھیک یہی معاملہ ان آیات کے نزول کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور کفار مکہ کے درمیان چل رہا تھا اور اسی کو نگاہ میں رکھنے سے یہ سمجھ میں آ سکتا ہے کہ حضرت نوح اور ان کی قوم کے سرداروں کی یہ گفتگو یہاں کیوں سنائی جا رہی ہے۔ کفار مکہ کے بڑے بڑے سردار نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کہتے تھے کہ ہم آخر بلال اور عَمار ادر صہیب جیسے غلاموں اور کام پیشہ لوگوں کے ساتھ کیسے بیٹھ سکتے ہیں۔ گویا ان کا مطلب یہ تھا کہ ایمان لانے والوں کی صف سے یہ غریب لوگ نکالے جائیں تب کوئی امکان اس کا نکل سکتا ہے کہ اشراف ادھر کا رخ کریں،  ورنہ یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ محمود اور ایز ایک صف میں کھڑے ہو جائیں۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بالکل صاف اور دو ٹوک الفاظ میں یہ ہدایت دی گئی کہ حق سے منہ موڑنے والے متکبروں کی خاطر ایمان قبول کرنے والے غریبوں کو دھکے نہیں دیے جا سکتے : اَمَّا مَنِاسْتَغْنیٰ ۙ  فَاَنْتَ لَہٗتَصَدّٰ ی ؕ وَمَا عَلَیْکَ اَلَّا یَزَّکّیٰ ؕ وَاَ مَّا مَنْ جَآ ءَکَ یَسْعٰ  ۙ  وَھُوَیَخْشیٰ ۙ فَاَ نْتَ عَنْہُ تَلَھّیٰ  کَلَّآ اِنَّھَا تَذْکِرَۃً   فَمَنْ شَآءَ ذَکَرَہٗ ‏۔ (آیات ۵ تا ۱۳ ) اے محمدؐ، جس نے بے نیازی برتی تم اس کے پیچھے پڑتے ہو؟ حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ داری ہے۔ اور جو تمہارے پاس دوڑا آتا ہے اس حال میں کہ وہ اللہ سے ڈر رہا ہے، تم اس سے بے رخی برتتے ہو؟ ہر گز نہیں،  یہ تو ایک نصیحت ہے جس کا جی چاہے اسے قبول کرے۔ وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْ عُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدٰوَۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجھَُہٗ  ؕ مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِھِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَمَا مَنْ حِسَابِکَ عَلُیْھِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطُرُ دَھُمْٰ فَتَکُوْ نَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۵ وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْ لُوْٓ ا اَھٰٓؤُ لَآءِ مَنَّ اللہُ عَلَیْھِمْ مِّنْ‏‏ ؍ بَیْنِنَا ؕ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بِا شّٰکِرِیْنَہ (الانعام۔ آیت ۵۲ )۔ نہ دور پھینکو ان لوگوں کو جو شب و روز اپنے رب کا پکارتے ہیں محض اس کی خوشنودی کی خاطر۔ ان کا کوئی حساب تمہارے ذمہ نہیں اور تمہارا کوئی حساب ان کے ذمہ نہیں۔ اس پر بھی اگر تم انہیں دور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے۔ ہم نے تو اس طرح ن لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائش میں ڈال دیا ہے تاکہ وہ کہیں ’’ کیا ہمارے درمیان بس یہی لوگ رہ گئے تھے جن پر اللہ کا فضل و کرم ہوا؟‘‘  ہاں،  کیا اللہ اپنے شاکر بندوں کو ان سے زیادہ نہیں جانتا۔

۸۴:  اصل الفاظ ہیں لَتَکُوْ نَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْ مِیْنَ۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ایک یہ کہ تم کو رجم کیا جائے گا، یعنی پتھر مار مار  کر ہلاک کر دیا جائے گا۔ دوسرے معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ تم پر ہر طرف سے گالیوں کی بوچھاڑ کی جائے گی، جہاں جاؤ گے دھتکارے اور پھٹکارے جوؤ گے۔ عربی محاورے کے لحاظ سے ان الفاظ کے یہ دونوں معنی لیے جا سکتے ہیں۔

۸۵:  یعنی آخری اور قطعی طور پر جھٹلا دیا ہے جس کے بعد اب کسی تصدیق و ایمان کی امید باقی نہیں رہی۔ ظاہر کلام سے کوئی شخص اس شبہ میں نہ پڑے کہ بس پیغمبر اور سرداران قوم کے درمیان اوپر کی گفتگو ہوئی اور ان کی طرف سے پہلی ہی تکذیب کے بعد پیغمبر نے اللہ تعالیٰ کے حضور رپورٹ پیش کر دی کہ یہ میری نبوت نہیں مانتے،  اب آپ میرے اور ان کے مقدمہ کا فیصلہ فرما دیں۔قرآن مجید میں مختلف مقامات پر اس طویل کشمکش کا ذکر کیا گیا ہے جو حضرت نوحؑ کی دعوت اور ان کی قوم کے اصرار علی الکفر کے درمیان صدیوں برپا رہی۔ سورہ عنکبوت میں بتایا گیا ہے کہ اس کشمکش کا زمانہ ساڑھے نو سو برس تک محیط رہا ہے۔ فَلَبِثَ فِیْہِمْ اَلْفَ سَنَۃٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَاماً (آیت ۱۴ )۔ حضرت نوحؑ نے اس زمانہ میں پشت در پشت ان کے اجتماعی طرز عمل کو دیکھ کر نہ صرف یہ اندازہ فرما لیا کہ ان کے اندر قبول حق کی کوئی صلاحیت باقی نہیں رہی ہے،  بلکہ یہ رائے بھی قائم کر لی کہ آئندہ ان کی نسلوں سے بھی نیک ور ایماندار آدمیوں کے اٹھنے کی توقع نہیں ہے۔ اِنَّکَ اِنْ تَذَرْ ھُمْ یُضِلُّوْ ا عِبَا دَک َ وَ لَا یَلِدُوْ آ اِلَّا فَا جِراً کَفَّا راً (نوح، آیت ۲۷)۔ ’’ اے رب اگر تو نے انہیں چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہو گا فاجر اور سخت منکر حق ہو گا‘‘۔ خود اللہ تعالیٰ نے بھی حضرت نوحؑ کی اس رائے کو درست قرار دیا اور اپنے علم کامل و شامل کی بنا پر فرمایا : لَنْ یُّؤْ مِنَ مِنْ قَوْ مِکَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰ مَنَ فَلَاَ تَبْتَئیسْ بِمَا کَا نُوْ ا یَفْعَلُوْنَہ (ہود،آیت ۳۶ )۔ ’’ تیری قوم میں سے جو ایمان لا چکے بس وہ لا چکے ،  اب کوئی ایمان لانے والا نہیں ہے۔ لہٰذا اب ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑ دے۔ ‘‘

۸۶:  یعنی صرف یہی فیصلہ نہ کر دے کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون، بلکہ وہ فیصلہ اس شکل میں نافذ فرما کہ باطل پرست تباہ کر دیئے  جائیں اور حق پرست بچا لیے جائیں۔ یہ الفاظ کہ ’’ مجھے اور میرے مومن ساتھیوں کو بچا لے ‘‘  خود بخود اپنے اندر یہ مفہوم رکھتے ہیں کہ باقی لوگوں پر عذاب نازل کر ور انہیں حرف غلط کی طرح مٹا کر رکھ دے۔

۸۷:  ’’ بھری ہوئی کشتی‘‘  سے مراد یہ ہے کہ وہ کشتی ایمان لانے والے انسانوں اور تمام جانوروں سے بھر گئی تھی جن کا ایک ایک جوڑا ساتھ رکھ لینے کی ہدایت فرمائی گئی تھی۔ اس کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورہ ہود، آیت ۴۰۔

 

ترجمہ

 

عاد نے رسُولوں کو جھُٹلایا۔ ۸۸ یاد کرو جبکہ ان کے بھائی ہُودؑ نے اُن سے کہا تھا ’’ ۸۹ کیا تم ڈرتے نہیں؟ میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسُول ہوں۔ لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ میرا اجر تو ربّ العالمین کے ذمّہ ہے۔ یہ تمہارا کیا حال ہے کہ ہر اُونچے مقام پر لاحاصل ایک یادگار عمارت بنا ڈالتے ہو ۹۰،  اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔ ۹۱ اور جب کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو جبّار بن کر ڈالتے ہو۔ ۹۲ پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ ڈرو اُس سے جس نے وہ کچھ تمہیں دیا ہے جو تم جانتے ہو۔ تمہیں جانور دیے، اولادیں دیں، باغ دیے اور چشمے دیے۔ مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔‘‘  انہوں نے جواب دیا ’’ تُو نصیحت کر یا نہ کر، ہمارے لیے سب یکساں ہے۔ یہ باتیں تو یونہی ہوتی چلی آئی ہیں۔ ۹۳ اور ہم عذاب میں مبتلا ہونے والے نہیں ہیں۔‘‘  آخر کار انہوں نے اُسے جھُٹلا دیا اور ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔ ۹۴

یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبر دست بھی ہے اور رحیم بھی۔ ؏۷

 

تفسیر

 

۸۸:  تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات ۶۵ تا ۷۲۔ ہود، ۵۰ تا ۶۰۔ مزید براں اس قصے کی تفصیلات کے لیے قرآن مجید کے حسب ذیل مقامات بھی نگاہ میں رہیں : حٰم السجدہ آیات ۱۳۔ ۱۶۔ الاحقاف، ۲۱۔ ۲۶  الذاریات، ۴۱۔ ۴۵۔ القمر ۱۸۔ ۲۲۔ الحاقہ ۴۔۸۔ الفجر ۶۔ ۸۔

۸۹:  حضرت ہود کی اس تقریر کو سمجھنے کے یے ضروری ہے کہ اس قوم کے متعلق وہ معلومات ہماری نگاہ میں رہیں جو قرآن مجید نے مختلف مقامات پر ہمیں بہم پہنچائی ہیں ان میں بتایا گیا ہے کہ : قومِ نوح کی تباہی کے بعد دنیا میں جس قوم کو عروج عطا کیا گیا وہ یہ تھی : وَاذْکُرُ وْ آ اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَآ ءَ مَنْ؍ بَعْدِ قَوْ مِ نُوْحٍ۔ (الاعراف۔ آیت ۶۹) یاد کرو (اللہ کے اس فضل و انعام کو کہ ) نوح کی قوم کے بعد اس نے تم کو خلیفہ بنایا۔ جسمانی حیثیت سے یہ بڑے تنو مند اور زور آور لوگ تھے : وَزَا دَ کُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْطَۃً (الاعراف، آیت ۶۹ ) اور تمہیں جسمانی ساخت میں خوب تنو مند کیا۔ اپنے دور میں یہ بے نظیر قوم تھی۔ کوئی دوسری قوم اس کی ٹکر کی نہ تھی: اَلَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلھَُا فِی الْبِلَا دِ ۃ (الفجر، آیت ۸) جس کے مانند ملوں میں کوئی قوم پیدا نہیں کی گئی۔ اس کا مدن بڑا شاندار تھا، اونچے اونچے ستونوں کی بلند و بالا عمارتیں بنانا اس کی وہ خصوصیت تھی جس کے  لیے وہ اس وقت کی دنیا میں مشہور تھی : اَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍہ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِO (الفجر، آیات ۶۔۷ ) تو نے دیکھا نہیں کہ تیرے رب نے کیا کیا ستونوں والے عادِ  ارم کے ساتھ؟ اس مادی ترقی اور جسمانی زور آوری نے ان کو سخت متکبر بنا دیا تھا اور انہیں اپنی طاقت کا بڑا گھمنڈ تھا: فَاَمَّا عَادٌ فَاسْتَکْبَرُوْ ا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الحَقِّ وَقَالُوْ ا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّ ۃً۔ (حٰم السجدہ۔ آیت ۱۵) رہے عاد، تو انہوں نے زمین میں حق کی راہ سے ہٹ کر تکبر کی روش اختیار کی اور کہنے لگے کہ کون ہے ہم سے زیادہ زور آور۔ ان کا سیاسی نظام چند بڑے بڑے جباروں کے ہاتھ میں تھا جن کے آگے کوئی دم نہ مار سکتا تھا : وَاتَّبَعُوْ آاَمْرَ کُلِّ جَبَّارً عَنِیْدً O (ہود۔ آیت ۵۹) اور انہوں نے ہر جبار دشمن حق کے حکم کی پیروی کی۔ مذہبی حیثیت سے یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے منکر نہ تھے،  بلکہ شرک میں مبتلا تھے۔ ان کو اس بات سے نکار تھا کہ بندگی صرف اللہ کی ہونی چاہیے : قَالُوْ آ اَجِئْتَنَا لَنَعْبُدَ اللہَ وَحْدَہٗ وَنَذَرَ مَا کَا نَ یَعْبُدُ اٰبَآ  ؤْنَا۔ (الاعراف آیت ۷۰) انہوں نے (ہود سے ) کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم صرف ایک اللہ کی بندگی کریں اور ان کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے ؟ ان خصوصیات کو نظر میں رکھنے سے حضرت ہودؑ کی یہ تقریر دعوت اچھی طرح سمجھ میں آ سکتی ہے۔

۹۰:  یعنی محض اپنی عظمت و خوشحالی کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایسی علی شان عمارتیں تعمیر کرتے ہو جن کا کوئی مصرف نہیں،  جن کی کوئی حاجت نہیں،  جن کا کوئی فائدہ اس کے سوا نہیں کہ وہ بس تمہاری دولت و شوکت کی نمود کے لیے ایک نشانی کے طور پر کھڑی رہیں۔

۹۱:  یعنی تمہاری دوسری قسم کی تعمیرات ایسی ہیں جو اگر چہ استعمال کے لیے ہیں،  مگر انکو شاندار، مزیَّن اور مستحکم بنانے میں تم اس طرح اپنی دولت، محنت اور قابلیتیں صرف کرتے ہو جیسے دنیا میں ہمیشہ رہنے کا سامان کر رہے ہو، جیسے تمہاری زندگی کا مقصد بس یہیں کے عیش کا اہتمام کرنا ہے اور اس کے ماوراء کوئی چیز نہیں ہے۔ جس کی تمہیں فکر ہو۔ اس سلسلے میں یہ بات ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ بلا ضرورت یا ضرورت سے زیادہ شاندار عمارتیں بنانا کوئی منفرد فعلن ہیں ہے جس کا ظہور کسی قوم میں اس طرح ہو سکتا ہو کہ اس کی اور سب چیزیں تو ٹھیک  ہوں اور بس یہی ایک کام وہ غلط کرتی ہو۔ یہ صورت حال تو ایک قوم میں رونما ہی اس وقت ہوتی ہے جب ایک طرف اس میں دولت کی ریل پیل ہوتی اور دوسری طرف اس کے اندر نفس پرستی و مادہ پرستی کی شدت بڑھتے بڑھتے جنون کی حد کو پہنچ جاتی ہے۔ اورت یہ حالت جب کسی قوم میں پیدا ہوتی ہے تو اس کا سارا ہی نظام تمدن فاسد ہو جاتا ہے۔ حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کی تعمیرات پر جو گرفت کی اس سے مقصود یہ نہیں تھا کہ ان کے نزدیک صرف یہ عمارتیں ہی بجائے خود قابل اعتراض تھیں،  بلکہ در اصل وہ بحیثیت مجموعی ان کے فساد تمدن و تہذیب پر گرفت کر رہے تھے اور ان عمارتوں کا ذکر انہوں نے اس حیثیت سے کیا تھا کہ سارے ملک میں ہر طرف یہ بڑے بڑے پھوڑے اس فساد کی نمایاں ترین علامت کے طور پر ابھرے نظر آتے تھے۔

۹۲:  یعنی اپنا معیار زندگی بلند کرنے میں تو تم اس قدر غلو کر گئے ہو کہ رہنے کے لیے تم کو مکان نہیں محل اور قصر درکار ہیں،  اور ان سے بھی جب تمہاری تسکین نہیں ہوتی تو بلا ضرورت عالی شان عمارتیں بنا ڈالتے ہو جن کا کوئی مصرف اظہار وقت و ثروت کے سوا نہیں ہے۔ لیکن تمہارا معیار انسانیت اتنا گرا ہوا  ہے کہ کمزوروں کے لیے  تمہارے دلوں میں کوئی رحم نہیں،  غریبوں کے لیے تمہاری سر زمین کوئی انصاف نہیں،  گرد و پیش کی ضعیف قومیں ہوں یا خود اپنے ملک کے پست طبقات، سب تمہارے جبر اور ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور کوئی تمہاری چیرہ دستیوں سے بچا نہیں رہ گیا ہے۔

۹۳:  اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں یہ آج کوئی نئی چیز نہیں ہے،  صدیوں سے ہمارے باپ ددا یہی کچھ کرتے چلے  آ رہے ہیں۔ یہی ان کا دین تھا، یہی ن کا تمدن تھا اور ایسے ہی ان کے اخلاق اور معاملات تھے۔ کون سی آفت ان پر ٹوٹ پڑی تھی کہ اب ہم اس کے ٹوٹ پڑنے کا اندیشہ کریں۔ اس طرز زندگی میں کوئی خرابی ہوتی تو پہلے ہی وہ عذاب آ چکا ہوتا جس سے تم ڈراتے ہو۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ جو باتیں تم کر رہے ہو ایسی ہی باتیں پہلے بھی بہت سے مذہبی خبطی اور اخلاق کی باتیں بگھارنے والے کرتے رہے ہیں،  مگر دنیا کی گاڑی جس طرح چل رہی تھی اسی طرح چلے جا رہی ہے۔ تم جیسے لوگوں کی باتیں نہ ماننے کا یہ نتیجہ کبھی بر آمد نہ ہوا کہ یہ گاڑی کسی صدمہ سے دو چار ہو کر الٹ گئی ہوتی۔

۹۴:  اس قوم کے ہلاک ہونے کی جو تفصیل قرآن مجید میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اچانک زور کی آندھی اُٹھی۔ یہ لوگ دور سے اس کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھ کر سمجھے کہ گھٹا چھائی ہے۔ خوشیاں منانے لگے کہ اب خوب بارش ہو گی۔ مگر وہ تھا خدا کا عذاب۔ آٹھ دن اور سات راتوں تک مسلسل ایسی طوفانی  ہوا چلتی رہی جس نے ہر چیز کو تباہ کر ڈالا۔ اس کے زور کا یہ عالم تھا کہ اس نے آدمیوں کو اُٹھا اُٹھا کر پھینک دیا۔ اس کی گرمی و خشکی کا یہ حال تھا کہ جس چیز پر گزر گئی اسے بوسیدہ کر کے رکھ دیا۔ اور یہ طوفان اس وقت تک نہ تھا جب تک اس ظالم قوم کا ایک ایک  متنفس ختم نہ ہو گیا۔ بس ان کی بستیوں کے کھنڈر ہی ان کے انجام کی داستان سنانے کے لیے کھڑے رہ گئے۔ اور آج کھنڈر بھی باقی نہیں ہیں۔ اَحقاف کا پورا علاقہ ایک خوفناک ریگستان بن چکا ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہم القرآن، جلد چہارم، الاحقاف، حاشیہ

۲۵ )۔

 

ترجمہ

 

ثمود نے رسُولوں کو جھُٹلایا۔ ۹۵ یاد کرو جبکہ ان کے بھائی صالح ؑ نے ان سے کہا ’’کیا تم ڈرتے نہیں؟ میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسُول ہوں۔ ۹۶ لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو ربّ العالمین کے ذمّہ ہے۔ کیا تم اُن سب چیزوں کے درمیان،  جو یہاں ہیں،  بس یوں ہی اطمینان سے رہنے دیے جاؤ گے؟ ۹۷ ان باغوں اور چشموں میں؟ اِن کھیتوں اور نخلستانوں میں جن کے خوشے رس بھرے ہیں؟ ۹۸ تم پہاڑ کھود کھود کر فخریہ اُن میں عمارتیں بناتے ہو۔ ۹۹ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔اُن بے لگام لوگوں کی اطاعت نہ کرو جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور کوئی اصلاح نہیں کرتے۔‘‘  ۱۰۰ اُنہوں نے جواب دیا ’’تُو محض ایک سحر زدہ آدمی ہے۔ ۱۰۱ تُو ہم جیسے ایک انسان کے سوا اور کیا ہے۔ لا کوئی نشانی اگر تُو سچا ہے۔ ۱۰۲ ‘‘  صالح نے کہا ’’یہ اُونٹنی ہے۔ ۱۰۳ ایک دن اس کے پینے کا ہے اور ایک دن تم سب کے پانی لینے کا۔ ۱۰۴ اس کو ہرگز نہ چھیڑنا ورنہ ایک بڑے دن کا عذاب تم کو آلے گا۔‘‘  مگر انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ دیں ۱۰۵ اور آخر کار پچھتاتے رہ گئے۔عذاب نے انہیں آ لیا۔ ۱۰۶ یقیناً اس میں ایک نشانی ہے،  مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ ؏۸

 

تفسیر

 

۹۵:  تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات ۷۳ تا ۷۹۔ ہود، ۶۱۔ ۶۸۔ الحجر، ۸۰۔ ۸۴۔ بنی اسرائیل ۵۹۔ مزید تفصیلات کے لیے قرآن مجید کے حسب ذیل مقامات بھی پیش نظر رہیں : النمل، ۴۵۔ ۵۳۔الذاریات، ۴۳۔ ۴۵۔ القمر، ۲۳۔ ۳۱۔ الحاقہ، ۴۔۵۔ الفجر، ۹۔ الشمس، ۱۱۔ اس قوم کے متعلق قرآن مجید میں مختلف مقامات پر جو تصریحات کی گئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ عاد کے بعد جس قوم کو عروج عطا کیا گیا وہ یہی تھی، جَعَلَکُمْ خُلَفَآءَ مَنْ؍ بَعْدِ عَادٍ  (الاعراف آیت ۷۴ )  مگر اس کی تمدنی ترقی نے بھی بالآخر وہی شکل اختیار کی جو عاد کی ترقی نے کی تھی، یعنی معیار زندگی بلند سے بلند تر اور معیار آدمیت پست سے پست تر ہوتا چلا گیا۔ ایک طرف میدانی علاقوں میں عالی شان قصر اور پہاروں میں ایلورا اور اجنٹہ کے غاروں جیسے مکان بن رہے تھے۔ دوسری طرف معاشرے میں شرک و بت پرستی کا زور تھا اور زمین ظلم و ستم سے لبریز ہو رہی تھی۔ قوم کے بد ترین مفسد لوگ اس کے لیڈر بنے ہوئے تھے۔ اونچے طبقے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں سرشار تھے۔ حضرت صالح کی دعوت حق نے اگر اپیل کیا تو نچلے طبقے کے کمزور لوگوں کو کیا۔ اونچے طبقوں نے اسے ماننے سے صرف اس لیے انکار کر دیا کہ اِنَّا بِالَّذِیْٓ اٰمَنْتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ، ’’ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو اس کو ہم نہیں مان سکتے ‘‘۔

۹۶:  حضرت صالحؑ کی امانت و دیانت اور غیر معمولی قابلیت کی شہادت خود اس قوم کے لوگوں کی زبان سے قرآن مجید ان الفاظ میں نقل کرتا ہے : قَالُوْ ا یٰصَالِحُ قَدْ کُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّ ا قَبْلَ ھٰذَا۔ (ہود۔آیت ۶۲ ) ’’ انہوں نے کہا اے صالحؑ، اس سے پہلے تو تم ہمارے درمیان ایسے آدمی تھے جس سے ہماری بڑی امیدیں وابستہ تھیں ‘‘۔

۹۷:  یعنی کیا تمہارا خیال یہ ہے کہ تمہارا یہ عیش دائمی اور ابدی ہے ؟ کیا اس کو کبھی زوال آنا نہیں ہے ؟ کیا تم سے کبھی ان نعمتوں کا حساب نہ لیا جائے گا اور کبھی ان اعمال کی باز پرس نہ ہو گی جن کا تم ارتکاب کر رہے ہو؟

۹۸:  اصل میں لفظ ھَض،یْم استعمال ہوا ہے جس سے مراد کھجور کے ایسے خوشے ہیں جو پھلوں سے لد کر جھک گئے ہوں اور جن کے پھل پکنے کے بعد نرمی اور رطوبت کی وجہ سے پھٹے پڑتے ہوں۔

۹۹:  جس طرح عاد کے تمدن کی نمایاں ترین خصوصیت یہ تھی کہ وہ اونچے اونچے ستونوں والی عمارتیں بناتے تھے،  اس طرح ثمود کے تم/دن کی سب سے زیادہ نمایاں خصوصیت، جس کی بنا پر وہ قدیم زمانے کی قوموں میں مشہور تھے،  یہ تھی کہ وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر ان کے اندر عمارتیں بناتے تھے۔ چنانچہ سورہ فجر میں جس طرح عاد کو ذَاتُ الْعِمَاد (ستونوں والے ) کا لقب دیا گیا ہے اسی طرح ثمود کا ذکر اس حوالے سے کیا گیا ہے کہ اَلَّذِیْنَ جَا بُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ، ’’ وہ جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی ہیں ‘‘۔ اس کے علاوہ قرآن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے ہاں میدانی علاقوں میں بھی بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے تھے،  تَتَّخِذُوْ نَ مِنْ سھُوْ لِھَا قُصُوْ راً۔ (الاعراف۔آیت ۷۴)۔ اور ان تعمیرات کی غرض و غایت کیا تھی؟ قرآن اس پر لفظ فٰرِھِیْنَ سے روشنی ڈالتا ہے۔ یعنی یہ سب کچھ اپنی بڑائی، اپنی دولت و قوت اور اپنے کمالات فن کی نمائش کے لیے تھا، کوئی حقیقی ضرورت ان کے لیے داعی نہ تھی۔ ایک بگڑے ہوئے تمدن کی شان یہی ہوتی ہے۔ ایک طرف معاشرے کے غریب لوگ سر چھپانے تک کو ڈھنگ کی جگہ نہیں پا تے۔ دوری طرف امراء اور اہل ثروت رہنے کے لیے جب ضرورت سے زیادہ محل بنا چکتے ہیں تو بِلا ضرورت نمائشی یادگاریں تعمیر کرنے لگتے ہیں۔ ثمود کی ان عمارتوں میں سے کچھ اب بھی باقی ہیں جنہیں ۱۹۵۹ ء کے دسمبر میں میں نے خود دیکھا ہے۔ مقابل کے صفحات میں ان کی کچھ تصویریں دی جاری ہیں۔ یہ جگہ مدینہ طیبہ اور تبوک کے درمیان حجاز کے مشہور مقام العُلاء (جسے عہد نبوی وادی القریٰ کہا جاتا تھا) سے چند میل کے فاصلے پر بجانب شمال واقع ہے۔ آج بھی اس جگہ کو مقامی باشندے الحجر اور مدائنِ صالح کے ناموں ہی سے یاد کرتے ہیں۔ اس علاقے میں العُلاء تو اب بھی ایک نہایت سر سبز و شاداب وادی ہے جس میں کثرت سے چشمے اور باغات ہیں،  مگر الحجر کے درو پیش بڑی نحوست پائی جاتی ہے۔ آبادی بارے نام ہے۔ روئیدگی بہت کم ہے۔ چند کنوئیں ہیں۔ انہی میں سے ایک کنوئیں کے متعلق مقامی آبادی میں یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ حضرت صالح کی اونٹنی اسی سے پانی پیتی تھی۔ اب وہ ترکی عہد کی ایک ویران چھوٹی سی فوجی چوکی کے اندر پایا جاتا ہے اور بالکل خشک پڑا ہے (اس کی تصویر بھی مقابل کے صفحات میں دی جا رہی ہے )۔ اس علاقے میں جب ہم داخل ہوئے تو العلاء کے قریب پہنچتے ہی ہر طرف ہمیں ایسے پہاڑ نظر آئے جو بالکل کھِیل کِھیل ہو گئے ہیں۔ صاف محسوس ہوتا تھا کہ کسی سخت ہولناک زلزلے نے انہیں سطح زمین سے چوٹی تک جھنجوڑ  کر قاش قاش کر رکھا ہے (ان پہاڑوں کی بھی کچھ تصویریں مقابل کے صفحات پر دی جا رہی ہیں )۔ اسی طرح کے پہاڑ ہمیں مشرق کی طرف العلاء سے خیبر جاتے ہوئے تقریباً ۵۰ میل تک اور شمال کی طرف ریاست اردن کے حدود میں ۳۰۔۴۰۔ میل اندر تک ملتے چلے گئے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ تین چار سو میل لمبا اور ۱۰۰ میل فورا ایک علاقہ تھا جسے ایک زلزلہ عظیم نے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ثمود کی جو عمارتیں ہم نے الحجر میں دیکھی تھیں،  اسی طرح کی چند عمارتیں ہم کو خلیج عقبہ کے کنارے مدین کے مقام پر، اور اردن کی ریاست میں پٹرا ( Petra) کے مقام پر بھی ملیں۔ خصوصیت کے ساتھ پٹرا میں ثمود کی عمارات اور نَبطیوں کی بنائی ہوئی عمارات پہلو بہ پہلو موجود ہیں اور ان کی تراش خراش اور طرز تعمیر میں اتنا نمایاں فرق ہے کہ ہر شخص ایک نظر دیکھ کر ہی سمجھ سکتا ہے کہ یہ دونوں نہ ایک زمانے کی ہیں اور نہ یہ ایک ہی قوم کا طرز تعمیر ہے (ان کے الگ الگ نمونوں کی تصویریں بھی ہم نے مقابل کے صفحات میں دی ہیں )۔ انگریز مستشرق ڈاٹی( ( Daughty قرآن کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے الحجر کی عمارات کے متعلق یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ ثمود کی نہیں بلکہ، نبطیوں کی بنائی ہوئی عمارات ہیں۔ لیکن دونوں قوموں کی عمارات کا فرق اس قدر واضح ہے کہ ایک اندھا ہی انہیں ایک قوم کی عمارات کہہ سکتا ہے۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ پہاڑ تراش کر ان کے اندر عمارتیں بنانے کا فن ثمود سے شروع ہوا، اس کے ہزاروں سال بعد نبطیوں نے دوسری اور پہلی صدی قبل مسیح میں اسے عروج پر پہنچایا، اور پھر ایلورہ میں (جس کے غار پٹرا سے تقریباً سات سو برس بعد کے ہیں ) یہ فن اپنے کمال کو پہنچ گیا۔

۱۰۰:  یعنی اپنے  ان امراء و رؤساء اور ان رہنماؤں اور حاکموں کی اطاعت چھوڑ دو جن کی قیادت میں تمہارا یہ فاسد نظام زندگی چل رہا ہے۔ یہ مُسرف لوگ ہیں،  اخلاق کی ساری حدیں پھاند کر شتر بے مہار بن چکے ہیں۔ ان کے ہاتھوں ے کوئی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ یہ جس نظام کو چلائیں گے اس میں بگاڑ ہی پھیلے گا۔ تمہارے لیے فلاح کی کوئی صورت اگر ہے تو صرف یہ کہ اپنے اندر خدا ترسی پیدا کرو اور مفسدوں کی اطاعت چھوڑ کر میری اطاعت کرو، کیونکہ میں کدا کا رسول ہوں،  میری امانت و دیانت کو تم پہلے سے جانتے ہو، اور میں ایک بے غرض آدمی ہوں،  اپنے کسی ذاتی فائدے کے لیے اصلاح کا یہ کام کرنے نہیں اٹھا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تھا وہ مختصر منشور جو حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا۔ اس میں صرف مذہبی تبلیغ ہی نہ تھی، تمدنی و اخلاقی اصلاح اور سیاسی انقلاب کی دعوت بھی ساتھ ساتھ موجود تھی۔

۱۰۱:  ’’سحر زدہ‘‘  یعنی دیوانہ و مجنون، جس کی عقل ماری گئی ہو۔ قدیم تصورات کے مطابق پال پن یا تو کسی جِن کے اثر سے لاحق ہوتا تھا یا جادو کے اثر سے۔ اس لیے وہ جسے پاگل کہنا چاہتے تھے اس کو یا تو ’’مجنون‘‘  کہتے تھے یا مسحور اور مستحّر۔

۱۰۲:  یعنی بظاہر تو ہم میں اور تجھ میں کوئی فرق نظر نہیں آتا کہ ہم تجھے خدا کا فرستادہ مان لیں۔ لیکن اگر تو اپنے مامور من اللہ اور مرسل من جانت اللہ ہونے کے دعوے میں سچا ہے تو کوئی ایسا محسوس معجزہ پیش کر جس سے ہمیں یقین آ جائے کہ واقعی کائنات کے خالق اور زمین و آسمان کے مالک نے تجھ کو ہمارے پاس بھیجا ہے۔

۱۰۳:  معجزے کے مطالبے پر اونٹنی پیش کرنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہو محض ایک عام اونٹنی نہ تھی جیسی ہر عرب کے پاس وہاں پانی جاتی تھی، بلکہ ضرور اس کی پیدائش اور اس کے ظہور میں یا اس کی خلقت میں کوئی ایسی چیز تھی جسے معجزے کی طلب پر پیش کرنا معقول ہوتا۔ اگر حضرت صالح اس مطالبے کے جواب میں یوں ہی کسی اونٹنی کو پکڑ کے کھڑا کر دیتے تو ظاہر ہے کہ یہ ایک نہایت فضول حرکت ہوتی جس کی کسی پیغمبر تو در کنار، ایک عام معقول آدمی سے بھی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہ بات یہاں تو صرف سیاق کلام ہی کے اقتضاء سے سمجھ میں آتی ہے،  لیکن دوسرے مقامات پر قرآن میں صراحت کے ساتھ اس اونٹنی کے وجود کو معجزہ کہا گیا ہے۔ سورہ اعراف اور سورہ ہود میں فرمایا گیا ھٰذِہٖ نَا قَۃُ اللہِ لَکُمْ ایٰۃً، ’’ یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی کے طور پر ہے ’’۔ اور سورہ بنی اسرائیل میں اس سے بھی زیادہ پر زور الفاظ میں ارشاد ہوا ہے : وَمَا مَنَعَنآ اَنْ نُّرْ سِلَ بِا لْایٰٰتٍ اِلَّا اَنْ کَذَّب َ بِھَا الْاَوَّلُوْ نَ، وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَۃَ مُبْصِرَۃً فَظَلَمُوْ ا بِھَا وَمَا نُرْ سِلُ  بِالْایٰٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفاًہ (آیت ۵۹) ہم کو نشانیاں بھیجنے سے کسی چیز نے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ پہلے لوگ ان کو جھٹلا چکے ہیں اور ہم ثمود کے سامنے آنکھوں دیکھتے اونٹنی لے آئے پھر بھی انہوں نے اس کے ساتھ ظلم کیا۔ نشانیاں تو ہم خوف دلانے ہی کے لیے بھیجتے ہیں (تماشا دکھانے کے لیے تو نہیں بھیجتے )۔ اس پر مزید وہ چیلنج ہے جو اونٹنی کو میدان میں لے آنے کے بعد اس کافر قوم کو دیا گیا۔ اس کی نوعیت ہی ایسی تھی کہ صرف ایک معجزہ ہی پیش کر کے ایسا چیلنج دیا جا سکتا تھا۔

۱۰۴: یعنی ایک دن تنہا یہ اونٹنی تمہارے کنوؤں اور چشموں سے پانی پیے گے اور ایک دن ساری قوم کے آدمی اور جانور پیئیں گے۔ خبر دار، اس کی باری کے دن کوئی شخص پانی لینے کی جگہ پھٹکنے نہ پائے۔ یہ چیلنج بجائے خود نہایت سخت تھا۔ لیکن عرب کے مخصوص حالات میں تو کسی قوم کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی دوسرا چیلنج ہو نہیں سکتا تھا۔ وہاں تو پانی ہی کے مسئلے پر خون خرابے ہو جاتے تھے،  قبیلہ قبیلے سے لڑ جاتا تھا اور جان جوکھوں کی بازی لگا کر کسی کنوئیں یا چشمے سے پانی لینے کا حق حاصل کیا جاتا تھا۔ اس سر زمین میں کسی شخص کا اَٹھ کر یہ کہہ دینا کہ ایک دن میری اکیلی اونٹنی پانی پیے گی اور باقی ساری قوم کے آدمی اور جانور صرف دوسرے دن ہی پانی لے سکیں گے،  یہ معنی کہتا تھا کہ وہ در اصل پوری قوم کو لڑائی کا چیلنج دے رہا ہے۔ ایک زبر دست لشکر کے بغیر کوئی آدمی عرب میں یہ بات زبان سے نہ نکال سکتا تھا اور کوئی قوم یہ بات اس وقت تک نہ سن سکتی تھی جب تک وہ اپنی آنکھوں سے یہ نہ دیکھ رہی ہو کہ چیلنج دینے والے کی پشت پر اتنے شمشیر زن اور تیر انداز موجود ہیں جو مقابلے پر اُٹھنے والوں کو کچل کر رکھ دیں گے۔ لیکن حضرت صالح نے بغیر کسی لاؤ لشکر کے تنہا اٹھ کر یہ چیلنج اپنی قوم کو دیا اور قوم نے نہ صرف یہ کہ اس کو کان لٹکا کر سنا بلکہ بہت دنوں تک ڈر کے مارے وہ اس کی تعمیل بھی کرتی رہی۔ سورہ اعراف اور سورہ ہود میں اس پر اتنا اضافہ اور ہے کہ : ھٰذِہٖ نَاقَۃُ اللہِ لَکُمْ ایٰۃً فَذَرُوْھَا تَاْ کُلُ فِیْ اَرْضِ اللہِ وَ لَا تَمَسُّوَھَا بِسُوْٓءٍ، ’’ یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی کے طور پر ہے،  چھوڑ دو اسے کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے،  ہر گز اسے بُرے ارادے سے نہ چھونا‘‘۔ یعنی چیلنج صرف اتنا ہی نہ تھا کہ ہر دوسرے روز اکیلی  یہ اونٹنی دن بھر سارے علاقے کے پانی کی اجارہ دار رہے گی، بلکہ اس پر مزید یہ چیلنج بھی تھا کہ یہ تمہارے کھیتوں اور باغوں اور نخلستانوں اور چراگاہوں میں دندناتی پھرے گی، جہاں چاہے گی جائے گی، جو کچھ چاہے گی کھائے گی، خبر دار جو کسی نے اسے چھیڑا۔

۱۰۵:  یہ مطلب نہیں ہے کہ جس وقت انہوں نے حضرت صالح سے یہ چیلنج سنا اسی وقت وہ اونٹنی پر پل پڑے اور اس کونچیں کاٹ ڈالیں،  بلکہ کافی مدت تک یہ اونٹنی ساری قوم کے لیے ایک مسئلہ بنی رہی، لوگ اس پر رلوں میں اونٹتے رہے،  مشورے ہوتے رہے،  اور آخر کار ایک من چلے سردار نے اس کام کا بیڑا اٹھایا کہ وہ قوم کو اس سے نجات دلائے گا۔ سورہ شمس اس شخص کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے : اِذِنٰبَعَثَ اَشْقَا ھَا، ’’ جب کہ اٹھا اس قوم کا سب سے زیادہ شقی آدمی‘‘۔ اور سورہ قمر میں فرمایا گیا ہے : فَنَا دَوْا صَاحِبَھُمْ فَتَعَا طیٰ فَعَقَرَ ’’ انہوں نے اپنے رفیق سے اپیل کی، آخر کار وہ یہ کام اپنے ذمہ لے کر اٹھا اور اس نے کوچیں کاٹ ڈالیں ‘‘۔

۱۰۶:  قرآن میں دوسرے مقامات پر اس عذاب کی جو تفصیل بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ جب اونٹنی مار ڈالی گئی تو حضرت صالحؑ نے اعلان کیا : تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِ کُمْ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ، ’’ تین دن اپنے گھروں میں مزے کر لو ‘‘ (ہود، آیت ۶۵ )۔ اس نوٹس کی مدت ختم ہونے پر رات کے پچھلے پہر صبح کے قریب ایک زبر دست دھماکا ہوا اور اس کے ساتھ ایسا سخت زلزلہ آیا جس نے آن کی آن میں پوری قوم کا تباہ کر کے رکھ دیا۔ صبح ہوئی تو ہر طرف اس طرح کچلی ہوئی لاشیں پڑی تھیں جیسے باڑے کی باڑھ میں لگی ہوئی سوکھی جانوروں کی آمد و رفت سے پا مال ہو کر رہ گئی ہوں۔ نہ ان کے سنگین قصر انہیں اس آفت سے بچا سکے نہ پہاڑوں میں کھو دے ہوئے غار۔ اِنَّآ اَر ْ سَلْنَا عَلَیْہِمْ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَکَا نُوْ اَکَھَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ (القمر، آیت ۳۱) فَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَا رِھِمْ جٰثِمِیْنَ (اعراف، آیت ۷۸) فَاَ خَذَ ثھُمُ الصَّیْحَہُ مُصْبِحِنَہ فَمَآ اَغْنیٰ عَنْہُمْ مَّا کَا نُوْا یَکْسِبُوْنَ  O (الحجر، آیات ۸۳۔ ۸۴ )۔

 

ترجمہ

 

لُوطؑ کی قوم نے رسُولوں کو جھُٹلایا۔ ۱۰۷ یاد کرو جبکہ ان کے بھائی لُوط ؑ نے ان سے کہا تھا ’’کیا تم ڈرتے نہیں؟ میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسُول ہوں۔ لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو ربّ العالمین کے ذمّہ ہے۔ کیا تم دنیا کی مخلوق میں سے مردوں کے پاس جاتے ہو ۱۰۸ اور تمہاری بیویوں میں تمہارے ربّ نے تمہارے لیے جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو؟ ۱۰۹ بلکہ تم لوگ تو حد سے ہی گزر گئے ہو۔‘‘  ۱۱۰ انہوں نے کہا ’’اے لُوطؑ،  اگر تُو اِن باتوں سے باز نہ آیا تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں اُن میں تُو بھی شامل ہو کر رہے گا۔‘‘  ۱۱۱ اس نے کہا ’’تمہارے کرتُوتوں پر جو لوگ کُڑھ رہے ہیں میں اُن میں شامل ہوں۔ اے پروردگار، مجھے اور میرے اہل و عیال کو ان کی بد کرداریوں سے نجات دے۔‘‘  ۱۱۲ آخر کار ہم نے اسے اور اس کے سب اہل و عیال کو بچا لیا، بجز ایک بُڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔ ۱۱۳ پھر باقی ماندہ لوگوں کو ہم نے تباہ کر دیا اور ان پر برسائی ایک برسات، بڑی ہی بُری بارش تھی جو اُن ڈرائے جانے والوں پر نازل ہوئی۔ ۱۱۴یقیناً اس میں ایک نشانی ہے،  مگر اِن میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبر دست بھی ہے اور رحیم بھی۔ ؏۹

 

تفسیر

 

۱۰۷:  تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات ۸۰ تا ۸۴۔ ہود، ۷۴ تا ۸۳۔ الحجر ۵۷ تا ۷۷۔ الانبیاء ۷۱ تا ۷۵  النمل ۵۴ تا ۵۸۔ العنکبوت ۲۸۔۳۵۔ الصافات ۱۳۳ تا ۱۳۸۔ القمر ۳۳ تا ۳۹۔

۱۰۸:  اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں : ایک یہ کہ ساری مخلوق میں سے صرف مردوں کو تم نے اس غرض کے لیے چھانٹ لیا ہے کہ ان سے خواہش نفس پوری کرو حالانکہ دنیا میں بکثرت عورتیں موجود ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر میں ایک تم ہی ایسے لوگ ہو جو شہوت رانی کے لیے مردوں کے پاس جاتے ہو، ورنہ انسانوں میں کوئی دوسری قوم ایسی نہیں ہے،  بلکہ حیوانات میں سے بھی کوئی جانور یہ کام نہیں کرتا۔ اس دوسرے مفہوم کی صراحت سورہ اعراف اور سورہ عنکبوت میں یوں کی گئی ہے : اَتَاْ تَوْنَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمْ بِھَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ  O ’’ کیا تم وہ بے حیائی کا کام کرتے ہو جو دنیا کی مخلوق میں سے کسی نے تم سے پہلے نہیں کیا؟‘‘

۱۰۹:  اس کے بھی دو مطلب ہو سکتے ہیں : ایک یہ کہ اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے جو بیویاں خدا نے پیدا کی تھیں انہیں چھوڑ کر تم غیر فطری ذریعے یعنی مردوں کا اس غرض کے لیے استعمال کرتے ہو۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خود ان بیویوں کے اندر خدا نے اس خواہش کی تکمیل کا جو فطری راستہ رکھا تھا اسے چھوڑ کر تم غیر فطری راستہ اختیار کرتے ہو۔ اس دوسرے مطلب میں یہ اشارہ نکلتا ہے کہ وہ ظالم لوگ اپنی عورتوں سے بھی خلاف وضع فطری فعل کا ارتکاب کرتے تھے۔ بعید نہیں کہ وہ یہ حرکت خاندانی منصوبہ بندی کی خاطر کرتے ہوں۔

۱۱۰:  یعنی تمہارا صرف یہی ایک جرم نہیں ہے۔ تمہاری زندگی کا تو سارا ہنجار ہی حد سے زیادہ بگڑ چکا ہے۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان کے اس عام بگاڑ کی کیفیت اس طرح بیان کی گئی ہے : اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ  O (النمل آیت ۵۴)۔ ’’ کیا تمہارا یہ حال ہو گیا ہے کہ کھلم کھلا دیکھنے والوں کی نگاہوں کے سامنے فحش کام کرتے ہو؟ ’’ اَئینَّکُمْ لَتَاْ تُوْنَ الرِّ جَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ وَتَاْتُوْ نَ فِیْ نَا دِیْکُمُ الْمُنْکَرَ (العنکبوت آیت ۲۹) ’’ کیا تم ایسے بگڑے گئے ہو کہ مردوں سے مباشرت کرتے ہو، راستوں پر ڈاکے مارتے ہو، اور اپنی مجلسوں میں علانیہ برے کام کرتے ہو؟‘‘ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الحجر، حاشیہ ۳۹)۔

۱۱۱:  یعنی تجھے معلوم ہے کہ اس سے پہلے جس نے بھی ہمارے خلاف زبان کھولی ہے یا ہماری حرکتوں پر احتجاج کیا ہے، یا ہماری مرضی کے خلاف کام کیا ہے،  وہ ہماری بستیوں سے نکالا گیا ہے۔ اب اگر تو یہ باتیں کرے گا تو تیرا حشر بھی ایسا ہی ہو گا۔ سورہ اعراف اور سورہ نمل میں بیان ہوا ہے کہ حضرت لوطؑ کو یہ نوٹس دینے سے پہلے اس شریر قوم کے لوگ آپس میں یہ طے کر چکے تھے کہ اَخْرِجُوْٓ ا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْ یَتِکُمْ اِنَّھُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَھَّرُوْنَ  O ’’لوطؑ اور اس کے خاندان والوں اور ساتھیوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو۔ یہ لوگ بڑے پاک باز بنتے ہیں۔ ان ’’صالحین‘‘  کو باہر کا راستہ دکھاؤ‘‘۔

۱۱۲:  اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ہمیں ان کے اعمال بد کے بُرے انجام سے بچا۔ اور یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے کہ اس بد کر دار بستی میں جو اخلاقی گندگیاں پھیلی ہوئی ہیں ان کی چھوٹ کہیں ہماری آل اولاد کو نہ لگ جائے،  اہل ایمان کی اپنی نسلیں کہیں اس بگڑے ہوئے ماحول سے متاثر نہ ہو جائیں،  اس لیے اے پروردگار، ہمیں اس ہر وقت کے عذاب سے نجات دے جو اس نا پاک معاشرے میں زندگی بسر کرنے سے ہم پر گزر رہا ہے۔

۱۱۳:  اس سے مراد حضرت لوطؑ کی بیوی ہے۔ سورہ تحریم میں حضرت نوحؑ اور حضرت لوط کی بیویوں کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِ نَا صَالِحَیْنِ فَخَا نَتٰھُمَا (آیت ۱۰)۔ ’’ یہ دونوں عورتیں ہمارے دو صالح بندوں کے گھر میں تھیں مگر انہوں نے ان کے ساتھ خیانت کی‘‘۔ یعنی دونوں ایمان سے خالی تھیں اور اپنے نیک شوہروں کا ساتھ دینے کے بجائے ان دونوں نے اپنی کافر قوم کا ساتھ دیا۔ اسی بنا پر جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوطؑ پر عذاب نازل کرنے کا فیصلہ فرمایا اور حضرت لوطؑ کو حکم دیا کہ اپنے اہل و عیال کو لے کر اس علاقے سے نِکل جائیں تو ساتھ ہی یہ بھی ہدایت فرما دی کہ اپنی بیوی کو ساتھ نہ لے جاؤ، فَاَسْرِبِاَھْلِکَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَلَا یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اَحَدُ اِلَّا امْرَاَتَکَ اِنَّہٗ مُصِیْبھَُا مَآ اَصَابَھُمْ (ہود آیت ۸۱ )۔ ‘‘ پس تو کچھ رات رہے اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے کر نکل جا اور تم میں سے کوئی پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے۔ مگر اپنی بیوی کو ساتھ نہ لے جا، اس پر وہی کچھ گزرنی ہے جو ان لوگوں پر گزرنی ہے ‘‘۔

۱۱۴:  اس بارش سے مراد پانی کی بارش نہیں بلکہ پتھروں کی بارش ہے۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر اس عذاب کی جو تفصیل بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت لوط جب رات کے پچھلے پہر اپنے بال بچوں کو لے کر نکل گئے تو صبح پو پھٹتے ہی یکایک ایک زور کا دھماکا ہوا (فَاَ خَذَ تْھُمُ الصَّیْحَۃُمُشْرِقِیْنَ  O )، ایک ہولناک زلزلے نے ان کی بستیوں کو تل پٹ کر کے رکھ دیا (جَعَلْنَا عَالِیَھَا سَافِلَھَا )، ایک زبردست آتش فشانی اِنفجار سے ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر بر سائے گئے (وَاَمْطَرْ نَا عَلَیْھَا حِجَار ۃً مِّنْ سِجِّیْلٍ مَّنْضُوْدٍ  O ) اور ایک طوفانی ہو سے بھی ان پر پتھراؤ کیا گیا (اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ حَاصِباً)۔ بائیبل کے بیانات، قدیم یونانی اور لاطینی تحریروں،  جدید زمانے کی طبقات الارضی تحقیقات اور آثار قدیمہ کے مشاہدات سے اس عذاب کی تفصیلات پر جو روشنی پڑتی ہے اس کا خلاصہ ہم ذیل میں درج کرتے ہیں : بحیرہ مردار (Dead Sea) کے جنوب اور مشرق میں جو علاقہ آج انتہائی ویران اور سنسان حالت میں پڑا ہوا ہے،  اس میں بکثرت پرانی بستیوں کے کھنڈروں کی موجودگی پتہ دیتی ہے کہ یہ کسی زمانہ میں نہایت آباد علاقہ رہا تھا۔ آج وہاں سینکڑوں برباد شدہ قریوں کے آثار ملتے ہیں،  حالانکہ اب یہ علاقہ اتنا شاداب نہیں ہے کہ اتنی آبادی کا بوجھ سہار سکے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس علاقے کی آبادی و خوشحالی کا دور ۲۴۰۰ قبل مسیح سے ۱۹۰۰ قبل مسیح تک رہا ہے،  اور حضرت ابراہیمؑ کے متعلق مؤرخین کا اندازہ یہ ہے کہ وہ دو ہزار برس قبل مسیح کے لگ بھگ زمانے میں گزرے ہیں۔ اس لحاظ سے آثار کی شہادت اس بات کی تائید کرتی ہے کہ یہ علاقہ حضرت ابراہیمؑ اور ان کے بھتیجے حضرت لوطؑ کے عہد ہی میں برباد ہوا ہے۔ اس علاقے کا سب سے زیادہ آباد اور سر سبز و شاداب حصہ وہ تھا جسے بائیبل میں ’’ سِدّیم کی وادی‘‘  کہا گیا ہے،  جس کے متعلق بائیبل کا بیان ہے کہ ’’ وہ اس سے پیشتر خداوند نے سَدُوم اور عمورہ کو تباہ کیا، خداوند کے باغ (عدن) اور مصر کے مانند خوب سیراب تھی‘‘  (پیدائش، باب ۱۳۔ آیت ۱۰ )۔ موجودہ زمانے کے محققین کی عام رائے یہ ہے کہ وہ وادی اب بحیرہ مردار کے اندر غرق ہے،  اور یہ رائے مختلف آثار کی شہادتوں سے قائم کی گئی ہے۔ قدیم زمانہ میں،  بحیرہ مردار جنوب کی طرف اتنا وسیع نہ تھا جتنا اب ہے۔ شرق اُردن کے موجودہ شہر الکرک کے سامنے مغرب کی جانب اس بحیرے میں جو ایک چھوٹا سا جزیرہ نما ’’اللّسان‘‘  پایا جاتا ہے،  قدیم زمانے میں جس یہی پانی کی آخری سرحد تھی۔ اس کے نیچے کا حصہ جہاں اب پانی پھیل گیا ہے (جسے ملحقہ نقشے میں ہم نے آڑی لکیروں سے نمایاں کیا ہے ) پہلے ایک س سبز وادی کی شکل میں آباد تھا اور یہی وہ وادی سدیم تھی جس میں قوم لوطؑ کے بڑے بڑے شہر سدوم، عمورہ، ادمہ، ضبوئیم اور ضُغر واقع تھے۔ دو ہزار برس قبل مسیح کے لگ بھگ زمانہ میں ایک زبردست زلزلے کی وجہ سے یہ وادی پھٹ کر دب گئی اور بحیرہ مردار کا پانی اس کے اوپر چھا گیا۔ آج بھی یہ بحیرے کا سب سے زیادہ اُتھلا حصہ ہے،  مگر رومی عہد میں یہ اتنا اُتھلا تھا کہ لوگ اللّسان سے مغربی ساحل تک چل کر پانی میں سے گزر جاتے تھے۔ اس وقت تک جنوبی ساحل کے ساتھ ساتھ پانی میں ڈوبے ہوئے جنگلات صاف نظر آتے ہیں۔ بلکہ یہ شبہہ بھی کیا جاتا ہے کہ پانی میں کچھ عمارات ڈوبی ہوئی ہیں۔ بائیبل اور قدیم یونانی و لاطینی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقہ میں جگہ جگہ نفط (پٹرول) اور اسفالٹ کے گڑھے تھے اور بعض بعض زمین سے آتش گیر گیس بھی نکلتی تھی۔ اب بھی وہاں زیر زمین پٹرول اور گیسوں کا پتہ چلتا ہے۔ طبقات الارض مشاہدات سے اندازہ کیا گیا ہے کہ زلزلے کے شدید جھٹکوں کے ساتھ پٹرول، گیس اور اسفالٹ زمین سے نکل کر بھڑک اٹھے اور سارا علاقہ بھک سے اڑ گیا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ اس تباہی کی اطلاع پا کر حضرت ابراہیمؑ جب حبرون سے اس وادی کا حال دیکھنے آئے تو زمین سے دھواں اس طرح اٹھ رہا تھا جیسے بھٹی کا دھواں ہوتا ہے (پیدائش باب ۱۹۔ آیت ۲۸)۔

 

ترجمہ

 

اصحابُ الایکہ نے رسُولوں کو جھُٹلایا۔ ۱۱۵ یاد کرو جبکہ شعیبؑ نے ان سے کہا تھا ’’ کیا تم ڈرتے نہیں؟میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسُول ہوں۔ لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ میرا اجر تو ربّ العالمین کے ذمّہ ہے۔ پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو۔ صحیح ترازو سے تولو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو۔ زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو اور اُس ذات کا خوف کرو جس نے تمہیں اور گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا ہے۔‘‘  انہوں نے کہا ’’ تُو محض ایک سحر زدہ آدمی ہے، اور تُو کچھ نہیں ہے مگر ایک انسان ہم ہی جیسا،  اور ہم تو تجھے بالکل جھُوٹا سمجھتے ہیں۔ اگر تُو سچا ہے تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے۔‘‘  شعیبؑ نے کہا ’’ میرا ربّ جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔‘‘  ۱۱۶ انہوں نے اُسے جھُٹلا دیا، آخر کار چھتری والے دن کا عذاب ان پر آ گیا ۱۱۷،  اور وہ بڑے ہی خوفناک دن کا عذاب تھا۔یقیناً اس میں ایک نشانی ہے،  مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ ؏١۰

 

تفسیر

 

۱۱۵:  اصحاب الایکہ  کا مختصر ذکر سورہ الحجر آیت ۷۸۔ ۸۴ میں پہلے گزر چکا ہے۔ یہاں اس کی تفصیل بیان ہو رہی ہے۔ مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا مِدْیَن اور اصحاب الایکہ الگ الگ قومیں ہیں یا ایک ہی قوم کے دو نام ہیں۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ دو الگ قومیں ہیں اور اس کے لیے سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ سورہ اعراف میں حضرت شعیبؑ کو اہل مدین کا بھائی فرمایا گیا ہے (وَاِلیٰ مَدْیَنَ اَخَا ھُمْ شُعَیْباً )، اور یہاں اصحاب الایکہ کے ذکر میں صرف یہ ارشاد ہوا ہے کہ اِذْقَالَ لَھُمْ شُعَیبٌ (جب کہ ان سے شعیب نے کہا)، ’’ان کے بھائی ‘‘  (اَخُوْ ھُمْ) کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ اس کے بر عکس بعض مفسرین دونوں کو ایک ہی قوم قرار دیتے ہیں،  کیونکہ سورہ اعراف اور سورہ ہود میں جو امراض اور اوصاف اصحاب مدین کے بیان ہوئے ہیں وہی یہاں اصحاب الایکہ کے بیان ہو رہے ہیں،  حضرت شعیب کی دعوت و نصیحت بھی یکساں ہے،  اور آخر کار ان کے انجام میں بھی فرق نہیں ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں اقوال اپنی جگہ صحیح ہیں۔ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ بلا شبیہ دو الگ قبیلے ہیں مگر ہیں ایک ہی نسل کی دو شاخیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جو اولاد ان کی بیوی یا کنیز قطورا کے بطن سے تھی وہ عرب اور اسرائیل کی تاریخ میں بنی قطُورا کے نام سے معروف ہے۔ ان میں سے ایک قبیلہ جو سب سے زیادہ مشہور ہوا، مدیان بن ابراہیم کی نسبت سے مدیانی، یا اصحاب مدین کہلایا، اور اس کی آبادی شمالی حجاز سے فلسطین کے جنوب تک اور وہاں سے جزیرہ نمائے سینا کے آخری گوشے تک بحر قلزم اور خلیج عقبہ کے سوا حل پر پھیل گئی۔ اس کا صدر مقام شہر مدین تھا جس کی جائے وقوع ابوالفدا نے خلیج عقبہ کے مغربی کنارے اَیلَہ (موجودہ عقبہ) سے پانچ دن کی راہ پر بتائی ہے۔ باقی بنی قطورا جن میں بنی ودان   (Dedanites)نسبۃً زیادہ مشہور ہیں،  شمالی عرب میں تَیماء اور تبوک اور العُلاء کے درمیان آباد ہوئے اور ان کا صدر مقام تبوک تھا جسے قدیم زمانے میں ایکہ کہتے تھے۔ (یا قوت نے معجم البلد ان میں لفظ ایکہ کے تحت بتایا ہے کہ یہ تبوک کا پرانا نام ہے اور اہل تبوک میں عام طور پر یہ بات مشہور ہے کہ یہی جگہ کسی زمانے میں ایکہ تھی)۔ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ کے لیے ایک ہی پیغمبر مبعوث کیے جانے کی وجہ غالباً یہ تھی کہ دونوں ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے تھے، ایک ہی زبان بولتے تھے،  اور ان کے علاقے بھی بالکل ایک دوسرے سے متصل تھے۔ بلکہ بعید نہیں کہ بعض علاقوں میں یہ ساتھ ساتھ آباد ہوں اور آپس کے شادی بیاہ سے ان کا معاشرہ بھی باہم گھل مل گیا ہو۔ اس کے علاوہ بنی قطور کی ان دونوں شاخوں کا پیشہ بھی تجارت تھا۔ اور دونوں میں ایک ہی طرح کی تجارتی بے ایمانیاں اور مذہبی و اخلاقی بیماریاں پائی جاتی تھیں۔ بائیبل کی ابتدائی کتابوں میں جگہ جگہ یہ ذکر ملتا ہے کہ یہ لوگ بعل فغور کی پرستش کرتے تھے اور بنی اسرائیل جب مصر سے نکل کر ان کے علاقے میں آئے تو ان کے اندر بھی انہوں نے شرک اور زنا کاری کی وبا پھیلا دی (گنتی، باب ۲۵ آیت ۱۔۵، باب ۳۱ آیت ۱۶۔۱۷)۔ پھر یہ لوگ بین الاقوامی تجارت کی ان دو بڑی شاہراہوں پر آباد تھے جو یمن سے شام اور خلیج فارس سے مصر کی طرف جاتی تھیں۔ ان شاہراہوں پر واقع ہونے کی وجہ سے انہوں نے بڑے  پیمانے پر رہزنی کا سلسلہ چلا رکھا تھا۔ دوسری قوموں کے تجارتی قافلوں کو بھاری خراج لیے بغیر نہ گزرنے دیتے تھے،  اور بین الاقوامی تجارت پر خود قابض رہنے کی خاطر انہوں نے راستوں کا امن خطرے میں ڈال رکھا تھا۔ قرآن مجید میں ان کی اس پوزیشن کو یوں بیان کیا گیا ہے : اِنَّھُمَا لِبَاِ مَامٍ مُّبِیْنٍ  O ’’ یہ دونوں (قوم لوط اور اصحاب الایکہ) کھلی شاہراہ پر آباد تھے ‘‘،  اور ان کی رہزنی کا ذکر سورہ اعراف میں اس طرح کیا گیا ہے : وَلَا تَقْعُدُوْ ا بِکلِ صِرَاطٍ تُوْ عِدُوْنَ  O ’’ اور ہر راستے پر لوگوں کو ڈرانے نہ بیٹھو‘‘۔ یہی اسباب تھے جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں قبیلوں کے لیے ایک ہی پیغمبر بھیجا اور ان کو ایک ہی طرح کی تعلیم دی۔ حضرت شعیبؑ اور اہل مدین کے قصے کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات ۸۵۔ ۹۳۔ ہود ۸۴۔ ۹۵۔ العنکبوت ۳۶۔ ۳۷۔

۱۱۶:  یعنی عذاب نازل کرنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ تو اللہ رب العالمین کے اختیار میں ہے اور وہ تمہارے کرتوت دیکھ ہی رہا ہے۔ اگر وہ تمہیں اس عذاب کا مستحق سمجھے گا تو خود نازل فرما دے گا۔ اصحاب الایکہ کے اس مطالبے اور حضرت شعیب کے اس جواب میں کفار قریش کے لیے بھی ایک تنبیہ تھی۔ وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہی مطالبے کرتے تھے،  اَوْتُسْقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفاً، ’’ یا پھر گرا دے ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے ‘‘۔ (بنی اسرائیل۔ آیت ۹۲ )۔ اس لیے ان کو سنایا جا رہا کہ ایسا ہی  مطالبہ اصحاب الایکہ نے اپنے پیغمبر سے کیا تھا، اس کا جو جواب انہیں ملا وہی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے تمہاری طلب کا جواب بھی ہے۔

۱۱۷:  اس عذاب کی کوئی تفصیل قرآن مجید میں یا کسی صحیح حدیث میں مذکور نہیں ہے۔ ظاہر الفاظ سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے چونکہ آسمانی عذاب مانگا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک بادل بھیج دیا اور وہ چھتری کی طرح ان پر اس وقت تک چھایا رہا جب تک باران عذاب نے کو بالکل تباہ نہ کر دیا۔ قرآن سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ اصحاب مدین کے عذاب کی کیفیت اصحاب الایکہ کے عذاب سے مختلف تھی۔ یہ جیسا کہ یہاں بتایا گیا ہے،  چھتری والے عذاب سے ہلاک ہوئے،  اور ان پر عذاب ایک دھماکے اور زلزلے کی شکل میں آیا (فَاَخَذَ تْھُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْ فِیْ دَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ، اور وَاَخَذَ تِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا الصَّیْحَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِ ھِمْ جٰثِمِیْنَ  O )۔ اس لیے ان دونوں کو ملا کر ایک داستاں بنانے کی کوشش درست نہیں ہے۔ بعض مفسرین نے عذاب یوم الظُّلہ کی کچھ تشریحات بیان کی ہیں،  مگر ہمیں نہیں معلوم کہ ان کی معلومات کا ماخذ کیا ہے۔ ابن جریر نے حضرت عبداللہ بن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے۔ کہ من حدث کمن العلماء ما عذاب یوم الظلۃ فکذبہ، ’’ علماء میں سے جو کوئی تم سے بیان کرے کہ یوم الظُّلہ کا عذاب کیا تھا اس کو درست نہ سمجھو‘‘۔

 

ترجمہ

 

۱۱۸ یہ ربّ العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ۱۱۹ اسے لے کر تیرے دل پر امانت دار رُوح ۱۲۰ اُتری ہے تاکہ تُو اُن لوگوں میں شامل ہو جو (خدا کی طرف سے خلقِ خدا کو)متنبّہ کرنے والے ہیں، صاف صاف عربی زبان میں۔ ۱۲۱ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ ۱۲۲ کیا اِن (اہلِ مکّہ)کے لیے یہ کوئی نشانی نہیں ہے کہ اِسے علمائے بنی اسرائیل جانتے ہیں؟ ۱۲۳ (لیکن اِن کی ہٹ دھرمی کا حال تو یہ ہے کہ)اگر ہم اسے کسی عجمی پر بھی نازل کر دیتے اور یہ (فصیح عربی کلام)وہ ان کو پڑھ کر سُناتا تب بھی یہ مان کر نہ دیتے۔ ۱۲۴ اِسی طرح ہم نے اس (ذکر)کو مجرموں کے دلوں میں گزارا ہے۔ ۱۲۵ وہ اس پر ایمان نہیں لاتے جب تک کہ عذاب الِیم نہ دیکھ لیں۔ ۱۲۶ پھر جب وہ بے خبری میں ان پر آ پڑتا ہے اُس وقت وہ کہتے ہیں کہ ’’ کیا اب ہمیں کچھ مہلت مِل سکتی ہے؟‘‘  ۱۲۷

تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں؟ تم نے کچھ غور کیا،  اگر ہم انہیں برسوں تک عیش کرنے کی مہلت بھی دے دیں اور پھر وہی چیز ان پر آ جائے جس سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے تو وہ سامانِ زیست جو ان کو ملا ہوا ہے اِن کے کس کام آئے گا؟ ۱۲۸ (دیکھو)ہم نے کبھی کسی بستی کو اِس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ اُس کے لیے خبردار کرنے والے حقِّ نصیحت ادا کرنے کو موجود تھے۔ اور ہم ظالم نہ تھے۔ ۱۲۹اِس (کتابِ مبین)کو شیاطین لے کر نہیں اُترے ہیں، ۱۳۰ نہ یہ کام ان کو سجتا ہے ۱۳۱،  اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں۔ ۱۳۲ وہ تو اس کی سماعت تک سے دُور رکھے گئے ہیں۔ ۱۳۳

پس اے محمدؐ،  اللہ کے ساتھ کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو، ورنہ تم بھی سزا پانے والوں میں شامل ہو جاؤ گے۔ ۱۳۴ اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈراؤ، ۱۳۵ اور ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ تواضع سے پیش آؤ، لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو ان سے کہہ دو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذّمّہ ہوں۔ ۱۳۶ اور اُس زبر دست اور رحیم پر توکّل کرو ۱۳۷ جو تمہیں اُس وقت دیکھ رہا ہوتا ہے جب تم اُٹھتے ہو ۱۳۸،  اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے۔ ۱۳۹ وہ سب کچھ سُننے اور جاننے والا ہے۔

لوگو، کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اُترا کرتے ہیں؟ وہ ہر جعل ساز بدکار پر اُترا کرتے ہیں۔ ۱۴۰ سُنی سُنائی باتیں کانوں میں پھُونکتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھُوٹے ہوتے ہیں۔ ۱۴۱رہے شعراء، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیں۔ ۱۴۲ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں ۱۴۳ اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں ۱۴۴۔۔۔۔ بجز اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا، اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا ۱۴۵۔۔۔۔ اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ ۱۴۶    ؏١١

 

تفسیر

 

۱۱۸:  تاریخی بیان ختم کر کے اب سلسلہ کلام اسی مضمون کی طرف پھرتا ہے جس سے سورۃ کا آغاز فرمایا گیا تھا۔ اس کو سمجھنے کے لیے ایک دفعہ پھر پلٹ کر پہلے رکوع کو دیکھ لینا چاہیے۔

۱۱۹:  یعنی یہ ’’ کتاب مبین ‘‘  جس کی آیات یہاں سنائی جا رہی ہیں،  اور یہ ’’ذکر ‘‘  جس سے لوگ منہ موڑ رہے ہیں کسی انسان کی من گھڑت چیز نہیں ہے،  اسے محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے خود تصنیف نہیں کر لیا ہے،  بلکہ   یہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے۔

۱۲۰:  مراد ہیں جبریل علیہ السلام، جیسا کہ دوسری جگہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے : قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلیٰ قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللہِ۔ (البقرہ۔ آیت ۹۷)۔ ’’ کہہ دے کہ جو کوئی دشمن ہے جبریلؑ کا تو اسے معلوم ہو کہ اسی نے یہ قرآن اللہ کے حکم سے تیرے دل پر نازل کیا ہے۔‘‘  یہاں ان کا نام لینے کے بجائے ان کے لیے  روح امین (امانت دار روح) کا لقب استعمال کرنے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ رب العالمین کی طرف سے اس تنزیل کو لے کر کوئی مادی طاقت نہیں آئی ہے جس کے اندر تغیر و تبدل کا امکان ہو، بلکہ وہ ایک خالص روح ہے بلا شائبہ مادیت، اور وہ پوری طرح امین ہے،  خدا کا پیغام جیسا اس کے سپرد کیا جاتا ہے ویسا ہی بلا کم و کاست پہنچا دیتی ہے،  اپنی طرف سے کچھ بڑھانا یا گھٹا دینا بطور خود کچھ تصنیف کر لینا اس کے لیے ممکن نہیں ہے۔

۱۲۱:  اس فقرے کا تعلق ’’امانت دار روح اتری ہے ‘‘  سے بھی ہو سکتا ہے اور ’’متنبہ کرنے والے ہیں ‘‘  سے بھی۔ پہلی صورت میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ امانت دار روح اسے صاف صاف عربی زبان میں لائی ہے،  اور دوسری صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ان انبیاء میں شامل ہوں جنہیں عربی زبان میں خلق خدا کو متنبہ کرنے کے لیے مامور فرمایا گیا تھا، یعنی ہود، صالح، اسماعیل اور شعیب علیہم السلام۔ دونوں صورتوں میں مقصود کلام ایک ہی ہے،  اور وہ یہ کہ رب العالمین کی طرف سے یہ تعلیم کسی مردہ یا جنّاتی زبان میں نہیں آئی ہے،  نہ اس میں کوئی معمے یا چیستاں کی سی گنجلک زبان استعمال کی گئی ہے،  بلکہ یہ ایسی صاف اور فصیح عربی زبان میں ہے جس کا مفہوم و مدعا ہر عرب اور ہر وہ شخص جو عربی زبان جانتا ہو، بے تکلف سمجھ سکتا ہ۔ اس لیے جو لوگ اس سے منہ موڑ رہے ہیں ان کے لیے یہ عذر کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے کہ وہ اس تعلیم کو سمجھ نہیں سکے ہیں،  بلکہ ان کے اعراض و انکار کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ اسی بیماری میں مبتلا ہیں جس میں فرعون مصر اور قوم ابراہیم اور قوم نوح اور قوم لوط اور عاد و ثمود اور اصحاب الایکہ مبتلا تھے۔

۱۲۲:  یعنی یہ ذکر اور یہی تنزیل اور یہی الہٰی تعلیم سابق کتب آسمانی میں بھی موجود ہے۔ یہی خدائے واحد کی بندگی کا بلاوا، یہی آخرت کی زندگی کا عقیدہ، یہی انبیاء کی پیروی کا طریقہ ان سب میں بھی پیش کیا گیا ہے،  سب کتابیں جو خدا کی طرف سے آئی ہیں شرک کی مذمت ہی کرتی ہیں،  مادہ پرستانہ نظریہ حیات کو چھوڑ کر اسی بر حق نظریہ حیات کی طرف دعوت دیتی ہیں جس کی بنیاد خدا کے حضور انسان کی جواب دہی کے تصور پر ہے،  اور انسان سے یہی مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ اپنی خود مختاری سے دست بردار ہو کر ان الہٰی احکام کی پیروی اختیار کرے جو انبیاء علیہم السلام لائے ہیں۔ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی نرالی نہیں جو دنیا میں پہلی مرتبہ قرآن ہی پیش کر رہا ہو اور کوئی شخص یہ کہہ سکے تم وہ بات کر رہے ہو جو اگلوں پچھلوں میں سے کسی نے کبھی نہیں کی۔ یہ آیت منجملہ ان دلائل کے ہے جو امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی اس قدیم رائے کے حق میں پیش کیے جاتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نماز میں قرآن کا ترجمہ پڑھ لے تو نماز ہو جاتی ہے،  خواہ وہ شخص عربی میں قرآن پڑھے کی قدرت رکھتا ہو نہ رکھتا ہو۔ بنائے استدلال علامہ ابو بکر جصاص کے الفاظ میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں ارشاد فرما رہا ہے کہ قرآن پچھلی کتابوں میں بھی تھا، اور ظاہر ہے کہ ان کتابوں میں وہ عربی الفاظ کے ساتھ نہ تھا۔ لہٰذا کسی دوسری زبان میں اس کے مضامین کو نقل کر دینا اسے قرآن ہونے سے خارج نہیں کر دیتا (احکام القرآن، جلد سوم، صفحہ ۴۲۹)۔ لیکن اس استدلال کی کم زوری بالکل ظاہر ہے۔ قرآن مجید ہو یا کوئی دوسری آسمانی کتاب، کسی کے نزول کی کیفیت بھی یہ نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے صرف معانی نبی کے دل پر القا کر دیے ہوں اور نبی نے پھر انہیں اپنے الفاظ میں بیان کیا ہو۔ بلکہ ہر کتاب جس زبان میں بھی آئی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے معنی اور لفظ دونوں کے ساتھ آئی ہے۔ اس لیے قرآن کی تعلیم جن پچھلی کتابوں میں تھی، انسانی الفاظ میں نہیں،  خدائی الفاظ ہی میں تھی، اور ان میں سے کسی کے ترجمہ کو بھی کتاب اللہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اصل کا قائم مقام ٹھیرایا جا سکے۔ رہا قرآن تو اس کے متعلق بار بار بصراحت فرمایا گیا ہے کہ وہ لفظاً لفظاً عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے : اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ قُرْاٰناً عَرَبِیًّا، (یوسف۔آیت ۲) وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰہُ حُکْماً عَرَبِیًّا، (الرعد۔ آیت ۳۷)۔ قُرْاٰناً عَرَبِیًّا غَیْرِ ذِیْ عِوَجٍ، (الزمر۔ آیت ۲۸)۔ اور خود اسی آیت زیر بحث سے پہلے متصلاً فرمایا جا چکا ہے کہ روح الامین اسے زبان عربی میں لے کر اترا ہے۔ اب اس کے متعلق یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اس کا کوئی ترجمہ جو کسی انسان نے دوسری زبان میں کیا ہو وہ بھی قرآن ہی ہو گا اور اس کے الفاظ اللہ تعالیٰ کے الفاظ کے قائم مقام ہوں گے۔ معلوم ہوتا ہے کہ استدلال کی اس کمزوری کو بعد میں خود امام ممدوح نے ہی محسوس فرما لیا تھا، چنانچہ معتبر روایات سے یہ بات نقل ہوئی ہے کہ انہوں نے اس مسئلے میں اپنی رائے سے رجوع کر رکے امام ابو یوسف اور امام محمد کی رائے قبول کر لی تھی، یعنی یہ کہ جو شخص عربی زبان میں قرأت پر قادر نہ ہو وہ اس وقت تک نماز میں قرآن پڑھ سکتا ہو وہ اگر قرآن کا ترجمہ پڑھے گا تو اس کی نماز نہ ہو گی۔ حقیقت یہ ہے کہ صاحبین نے یہ رعایت در اصل ان عجمی نو مسلموں کے لیے تجویز کی تھی جو اسلام قبول کرتے ہی فوراً عربی زبان میں نماز ادا کرنے کے قابل نہ ہو سکتے تھے۔ اور اس میں بنائے استدلال یہ نہ تھی کہ قرآن کا ترجمہ بھی قرآن ہے،  بلکہ ان کا استدلال یہ تھا کہ جس طرح اشارے سے رکوع و سجود کرنا اس شخص کے لیے جائز ہے جو رکوع اور سجدہ کرنے سے عاجز ہو، اسی طرح غیر عربی میں نماز پڑھنا اس شخص کے لیے جائز ہے جو عربی تلفظ پر قادر نہ ہو۔ اور علیٰ ہٰذا القیاس جس طرح عجز رفع ہو جانے کے بعد اشارے سے رکوع و سجود کرنے والے کی نماز نہ ہو گی اسی طرح قرآن کے تلفظ پر قادر ہو جانے کے بعد ترجمہ پڑھنے والے کی نماز بھی نہ ہو گی۔ (اس مسئلے پر مفصل بحث کے لیے ملاحظہ ہو مبسوط سَرَخْسی، جلد اول، صفحہ ۳۷۔ فتح القدیر و شرح عنایہ علی الہدایہ جلد ۱، صفحہ ۱۹۰۔ ۲۰۱ )۔

۱۲۳:  یعنی علمائے بنی اسرائیل اس بات سے واقف ہیں کہ جو تعلیم قرآن مجید میں دی گئی ہے وہ ٹھیک وہی تعلیم ہے جو سابق کتب آسمانی میں دی گئی تھی۔ اہل مکہ خود علم کتاب سے نا آشنا سہپی، بنی اسرائیل کے اہل علم تو گرد و پیش کے علاقوں میں کثرت سے موجود ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ کوئی انوکھا اور نرالا ’’ذکر‘‘  نہیں ہے جو آج پہلی مرتبہ محمدؐ بن عبد اللہ نے لا کر تمہارے سامنے رکھ دیا ہو، بلکہ ہزارہا برس سے خدا کے نبی یہی ذکر پے در پے لاتے رہے ہیں۔ کیا یہ بات اس امر کا اطمینان کرنے کے لیے کافی نہیں ہے کہ یہ تنزیل بھی اسی رب العالمین کی طرف سے ہے جس نے پچھلی کتابیں نازل کی تھیں ؟ سیرت ابن ہشام سے معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات کے زمانہ نزول سے قریب ہی یہ واقعہ پیش آ چکا تھا کہ حبش سے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی دعوت سن کر ۲۰ آدمیوں کا ایک وفد مکہ آیا اور اس نے مسجد حرام میں کفار قریش کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے مل کر دریافت کیا کہ آپ کیا تعلیم لائے ہیں۔ حضورؐ نے جواب میں ان کو قرآن کی کچھ آیات سنائیں۔ اس پر ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور وہ اسی وقت آپ کے رسول برحق ہونے کی تصدیق کر کے آپ پر ایمان لے آئے۔ پھر جب وہ حضورؐ کے پاس سے اٹھے تو ابو جہل قریش کے چند لوگوں کے ساتھ ان سے ملا اور انہیں سخت ملامت کی۔ اس نے کہا ’’ تم سے زیادہ احمق قافلہ یہاں کبھی نہیں آیا۔ نامراد و، تمہارے ہاں کے لوگوں نے تو تمہیں اس لیے بھیجا تھا کہ اس شخص کے حالات کی تحقیق کر کے آؤ، مگر تم ابھی اس سے ملے ہی تھے کہ اپنا دین چھوڑ بیٹھے ‘‘۔ وہ شریف لوگ ابو جہل کی اس زجر و توبیخ پر الجھنے کے بجائے سلام کر کے ہٹ گئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ سے بحث نہیں کرنا چاہتے،  آپ اپنے دین کے مختار ہیں اور ہم اپنے دین کے مختار ہمیں جس چیز میں اپنی خیر نظر آئی اسے ہم نے اختیار کر لیا (جلد دوم۔ صفحہ ۳۲)۔ اسی واقعہ کا ذکر سورہ قصص میں آیا ہے کہ : اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ مِنْ  قَبْلِہٖ ھُمْ بِہٖ یُؤْ مِنُوْنَہ وَاِذَ ا یُتْلیٰ عَلَیْہِمْ قَا لُؤ آ اٰمَنَّا بِہٖٓ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَا اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلِہٖ مُسْلِمِیْنَ     O ……….  وَاِذَ سَمِعُوا الْلَّغْوَاَ عْرَضُوْا عَنْہُ وَقَا لُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ، سَلَامٌ عَلَیْکُمْ،  لَا نَبْتَغِی الْجَاھِلِیْنَ  O (آیات ۵۲۔ ۵۵)۔ ’’ جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور جب وہ انہیں سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے،  یہ حق ہے ہمارے رب کی طرف سے ،  ہم اس سے پہلے بھی اسی دین اسلام پر تھے ……………. اور جب انہوں نے بیہودہ باتیں سنیں تو الجھنے سے پرہیز کیا اور بولے ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے،  تم کو سلام ہو، ہم جاہلوں کا طریقہ پسند نہیں کرتے (کہ چار باتیں تم ہمیں سناؤ تو ہم تمہیں سنائیں )‘‘۔

۱۲۴: یعنی اب ان ہی کی قوم کا ایک آدمی انہیں عربی مبین میں یہ کلام پڑھ کر سنا رہا ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اسے خود تصنیف کر لیا ہے،  عرب کی زبان سے عربی تقریر ادا ہونے میں آخر معجزے کی کیا بات ہے کہ ہم اسے خدا کا کلام مان لیں۔ لیکن اگر یہی فصیح عربی کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی غیر عرب پر بطور معجزہ نازل کر دیا جاتا  اور وہ ان کے سامنے آ کر نہایت صحیح عربی لہجہ میں اسے پڑھتا تو یہ ایمان نہ لانے کے لیے دوسرا بہانہ تراشتے،  اس وقت یہ کہتے کہ اس پر کوئی جن آ گیا ہے جو عجمی کی زبان سے عربی بولتا ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، حٰم السجدہ، حواشی ۵۴ تا ۵۸ )۔ اصل چیز یہ ہے کہ جو شخص حق پسند ہوتا ہے وہ اس بات پر غور کرتا ہے جو اس کے سامنے پیش کی جا رہی ہو اور ٹھنڈے دل سے سوچ سمجھ کر رائے قائم کرتا ہے کہ یہ معقول بات ہے یا نہیں۔ اور جو شخص ہٹ دھرم ہوتا ہے اور نہ ماننے کا ارادہ کر لیتا ہے وہ اصل مضمون پر توجہ نہیں دیتا بلکہ اسے رد کرنے کے لیے طرح طرح کے حیلے بہانے تلاش کرتا ہے۔ اس کے سامنے بات خواہ کسی طریقے سے پیش کی جائے۔ وہ بہر حال اسے جھٹلانے کے لیے کوئی نہ کوئی وجہ پیدا کر لے گا۔ کفار قریش کی اس ہٹ دھرمی کا پردہ قرآن مجید میں جگہ جگہ فاش کیا گیا ہے اور ان سے صاف صاف کہا گیا ہے کہ تم ایمان لانے کے لیے معجزہ دکھانے کی شرط آخر کس منہ سے لگاتے ہو، تم تو وہ لوگ ہو کہ تمہیں خواہ کوئی چیز دکھا دی جائے تم اسے جھٹلانے کے لیے کوئی بہانہ نکال لو گے کیونکہ در اصل تمہیں حق بات مان کر نہیں دینی ہے : وَلَوْ نَزَّ لْنَا عَلَیْکَ کِتَا باً فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْہُ بَاَیْدِ یْھِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُ ؤٓ ا اِنْ ھٰذَ آ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ  O (الانعام۔ آیت ۷)۔ ’’ اگر ہم تیرے اوپر کاغذ میں لکھی ہوئی کوئی کتاب نازل کر دیتے اور یہ لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو کر بھی دیکھ لیتے تو جن لوگوں نے نہیں مانا وہ کہتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے ‘‘۔ وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَا باً مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْ ا فِیْہِ یَعْرُجُوْنَ لَقَا لُوْ آ اِنَّمَا سُکِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ (الحجر۔ آیات ۱۴۔۱۵)۔ ’’ اور اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ بھی کول دیتے اور یہ اس میں چڑھنے لگتے تو یہ کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکا ہو رہا ہے،  بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے ‘‘۔

۱۲۵:  یعنی یہ اہل حق کے دلوں کی طرح تسکین روح اور شفائے قلب بن کر ان کے اندر نہیں اترتا بلکہ ایک گرم لوہے کہ سلاخ بن کر اس طرح گزر تا ہے کہ وہ سیخ پا ہو جاتے ہیں اور اس کے مضامین پر  غور کرنے کے بجائے اس کی تردید کے لیے حربے دھونڈنے میں لگ جاتے ہیں۔

۱۲۶: ویسا ہی عذاب جیسا وہ قومیں دیکھ چکی ہیں جن کا ذکر اوپر اس سورے میں گزرا ہے۔

۱۲۷:  یعنی عذاب سامنے دیکھ کر ہی مجرموں کو یقین آیا کرتا ہے کہ واقعی پیغمبر ے جو کچھ کہا تھا وہ سچ تھا۔ اس وقت وہ حسرت کے ساتھ ہاتھ مل مل کر کہتے ہیں کہ کاش اب ہمیں کچھ مہلت مل جائے،  حالانکہ مہلت کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔

۱۲۸:  اس فقرے اور اس سے پہلے کے فقرے کے درمیان ایک لطیف خلا ہے جسے سامع کا ذہن تھوڑا سا غور کر کے خود بھر سکتا ہے۔ عذاب کے لیے ان کے جلدی مچانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ عذاب کے آنے کا کوئی اندیشہ نہ رکھتے تھے۔ انہیں بھروسا تھا کہ جیسی چین کی بنسری آج تک ہم بجاتے رہے ہیں اسی طرح ہمیشہ بجاتے رہیں گے۔ اسی اعتماد پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو چیلنج دیتے تھے کہ اگر واقعی تم خدا کے رسول ہو اور ہم تمہیں جھٹلا کر عذاب الٰہی کے مستحق ہو رہے ہیں تو لو ہم نے تمہیں جھٹلا دیا، اب لے آؤ اپنا وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے،  اچھا اگر بالفرض ان کا یہ بھروسا صحیح ہی ہو، اگر ان پر فوراً عذاب نہ آئے،  اگر انہیں دنیا میں مزے کرنے کے لیے ایک لمبی ڈھیل بھی مل جائے جس کی توقع پر یہ پھول رہے ہیں،  تو سوال یہ ہے کہ جب بھی ان پر عاد و ثمود یا قوم لوط اور اصحاب الایکہ کی سی کوئی آفت ناگہانی ٹوٹ پڑی جس سے محفوظ رہنے کی کسی کے پاس کوئی ضمانت نہیں ہے یا اور کچھ نہیں تو موت کی آخری گھڑی آن پہنچی جس سے بہر حال کسی کو مفر نہیں،  تو اس وقت عیش دنیا کے یہ چند سال آخر ان کے لیے کیا مفید ثابت ہوں گے ؟

۱۲۹:  یعنی جب انہوں نے خبر دار کرنے والوں کی تنبیہ اور سمجھانے والوں کی نصیحت قبول نہ کی اور ہم نے انہیں ہلاک کر دیا، تو ظاہر ہے کہ یہ ہماری طرف سے ان پر کوئی ظلم نہ تھا۔ ظلم تو اس وقت ہوتا جب کہ ہلاک کرنے سے پہلے انہیں سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوئی کوشش نہ کی گئی ہوتی۔

۱۳۰:  پہلے اس معاملے کا مثبت پہلو ارشاد ہوا تھا کہ یہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور اسے روح الامین لے کر اترا ہے۔ اب اس کا منفی پہلو بیان کیا جا رہا ہے کہ اسے شیاطین لے کر نہیں اترے ہیں جیسا کہ حق کے دشمنوں کا الزام ہے۔ کفار قریش نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوت کو نیچا دکھانے کے لیے جھوٹ کی جو مہم چلا رکھی تھی اس میں سب سے بڑی مشکل انہیں یہ پیش آ رہی تھی کہ اس حیرت انگیز کلام کی کیا توجیہ کی جائے جو قرآن کی شکل میں لوگوں کے سامنے آ رہا تھا اور دلوں میں اترتا چلا جا رہا تھا۔ یہ بات تو ان کے بس میں نہ تھی کہ لوگوں تک اس کے پہنچنے کو روک سکیں۔ اب پریشان کن مسئلہ ان کے لیے یہ تھا کہ لوگوں کو اس سے بد گمان کرنے اور اس کی تاثیر سے بچانے کے لیے کیا بات بنائیں۔ اس گھبراہٹ میں جو الزامات انہوں نے عوام میں پھیلائے تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ محمد صلی الہ علیہ و سلم معاذ اللہ کاہن ہیں اور عام کاہنوں کی طرح ان پر بھی  یہ کلام شیاطین القا کرتے ہیں۔ اس الزام کو وہ اپنا سب سے زیادہ کار گر ہتھیار سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کسی کے پاس اس ات کو جانچنے کے لیے آخر کیا ذریعہ ہو سکتا ہے کہ یہ کلام کوئی فرشتہ لاتا ہے یا شیطان اور شیطانی القاء کی تردید آخر کوئی کرے گا تو کیسے۔

۱۳۱:  یعنی یہ کلام اور یہ مضامین شیاطین کے منہ پر پھبتے بھی تو نہیں ہیں۔ کوئی عقل رکھتا ہو تو خود سمجھ سکتا ہے کہ کہیں یہ باتیں،  جو قرآن میں بیان ہو رہی ہیں،  شیاطین کی طرف سے بھی ہو سکتی ہیں ؟ کیا تمہاری بستیوں میں کاہن موجود نہیں ہیں اور شیاطین سے ربط ضبط رکھ کر جو باتیں وہ کرتے ہیں وہ تم نے کبھی نہیں سنیں ؟ کیا کبھی تم نے سنا ہے کہ کسی شیطان نے کسی کاہن کے ذریعہ سے لوگوں کو خد پرستی اور خدا ترسی کی تعلیم دی ہو؟ شرک  و بت پرستی سے روکا ہو؟ آخرت کی باز پرس کا خوف دلایا ہو؟ ظلم اور بد کاری اور بد اخلاقیوں سے منع کیا ہو؟ نیکو کاری اور راستبازی اور خلق خدا کے ساتھ احسان کی تلقین کی ہو؟ شیاطین کا یہ مزاج کہا ہے ؟ ان کا مزاج تو یہ ہے کہ لوگوں میں فساد ڈلوائیں اور انہیں برائیوں کی طرف رغبت دلائیں۔ ان سے تعلق رکھنے والے کاہنوں کے پاس تو لوگ یہ پوچھنے جاتے ہیں کہ عاشق کو معشوق ملے گا یا نہیں ؟ جوئے میں کونسا داؤں مفید رہے گا؟ دشمن کو نیچا دکھانے کے لیے کیا چال چلی جائے ؟ اور فلاں شخص کا اونٹ کس نے چرایا ہے ؟ یہ مسائل اورع معاملات چھوڑ کر کاہنوں اور ان کے سرپرست شیاطین کو خلق خدا کی اصلاح، بھلائیوں کی تعلیم اور برائیوں کے استیصال کی کب سے فکر لاحق ہو گئی؟

۱۳۲:  یعنی شیاطین اگر کرنا چاہیں بھی تو یہ کام ان کے بس کا نہیں ہے کہ تھوڑی دیر کے لیے بھی اپنے آپ کو انسانوں کے سچے معلم اور حقیقی مزکّی کے مقام پر رکھ کر خالص حق اور خالص خیر کی وہ تعلیم دے سکیں جو قرآن دے رہا ہے۔ وہ دھوکا دینے کی خاطر بھی اگر یہ روپ دھاریں تو ان کا کام ایسی آمیزشوں سے خالی نہیں ہو سکتا جو ان کی جہالت اور ان کے اندر چھپی ہوئی شیطانی فطرت کی غمازی نہ کر دیں۔ نیت کی خرابی، ارادوں کی نا پاکی، مقاصد کی خباثت لازماً اس شخص کی زندگی میں بھی اور اس کی تعلیم میں بھی جھلک کر رہے گی جو شیاطین سے الہام حاصل کر کے پیشوا بن بیٹھا ہو۔ بے آمیز راستی اور خالص نیکی نہ شیاطین القاء کر سکتے ہیں اور نہ ان سے ربط ضبط رکھنے والے اس کے حمل ہو سکتے ہیں۔ پھر تعلیم کی بلندی و پاکیزگی پر مزید وہ فصاحت و بلاغت اور وہ علم حقائق ہے جو قرآن میں پایا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر قرآن میں ابر بار یہ چیلنج دیا گیا ہے کہ انسان اور جن مل کر بھی چاہیں تو اس کتاب کے مانند کوئی چیز تصنیف کر کے نہیں لا سکتے : قُلْ لَّائینِ ا جْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلیٰٓ اَنْ یَّاْ تُوْ ا بِمِثْلِ ھٰذَ ا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْ تُوْنَ بِمِثْلِہِ وَلَوْ کَانَ بَعْضھُُمْ لِبَعْضٍ ظَہِیْراً (بنی اسرائیل۔ آیت ۸۸) قُلْ فَاْ تُوْ ابِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ وَادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ اِنْکُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ  O (یونس۔ آیت ۳۸)۔

۱۳۳:  یعنی اس قرآن کے القاء میں دخیل ہونا تو در کنار، جس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف ے روح الامین اس کو لے کر چلتا ہے اور جس وقت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے دل پر وہ اس کو نازل کرتا ہے،  اس پورے سلسلے میں کسی جگہ بھی شیاطین کو کان لگا کر سننے تک کا موقع نہیں ملتا۔ وہ آس پاس کہیں پھٹکنے بھی نہیں پاتے کہ سن گن لے کر ہی کوئی بات اچک لے جائیں اور جا کر اپنے دوستوں کو بتا سکیں کہ آج محمد (صلی اللہ علیہ و سلم ) یہ پیغام سنانے والے ہیں،  یا ان کی تقریر میں فلاں بات کا بھی ذکر آنے والا ہے (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الحجر، حواشی ۸ تا ۱۲۔ جلد چہارم، الصافات، حواشی ۵ تا ۷ اور سورہ جن، آیات ۸۔۹۔۲۷ )۔

۱۳۴:  اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاذ اللہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے شرک کا کوئی خطرہ تھا اور اس بنا پر آپ کو دھمکا کر اس سے روکا گیا۔ در اصل اس سے مقصود کفار و مشرکین کو متنبہ کرنا ہے۔ کلام کا مدعا یہ ہے کہ قرآن مجید میں جو تعلیم پیش کی جا رہی ہے یہ چونکہ خالص حق ہے فرمانروائے کائنات کی طرف سے ،  اور اس میں شیطانی آلائشوں کا ذرہ برابر بھی دخل نہیں ہے،  اس لیے یہاں حق کے معاملے میں کسی کے ساتھ رو رعایت کا کوئی کام نہیں۔ خدا کو سب سے بڑھ کر اپنی مخلوق میں کوئی عزیز و محبوب ہو سکتا ہے تو وہ اس کا رسول پاک ہے۔ لیکن بالفرض اگر وہ بھی بندگی کی راہ سے بال برابر ہٹ جائے اور خدائے واحد کے سوا کسی اور کو معبود کی حیثیت سے پکار بیٹھے تو پکڑ سے نہیں بچ سکتا۔ تا بدیگراں چہ رسد۔ اس معاملہ میں جب خود محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہیں تو اورع کون ہے جو خدا کی خدائی میں کسی اور کو شریک ٹھیرانے کے بعد یہ امید کر سکتا ہو کہ خود بچ نکلے گا یا کسی کے بچانے سے بچ جائے گا۔

۱۳۵:   یعنی خدا کے اس بے لاگ دین میں جس طرح نبی کی ذات کے لیے کوئی رعایت نہیں اسی طرح نبی کے خاندان اور اس کے قریب ترین عزیزوں کے لیے بھی کسی رعایت کی گنجائش نہیں ہے۔ یہاں جس کے ساتھ بھی کوئی معاملہ ہے اس کے اوصاف( (Merits کے لحاظ سے ہے۔ کسی کا نسب اور کسی کے ساتھ آدمی کا تعلق کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا۔ گمراہی و بد عملی پرخاش کے عذاب کا خوف سب کے لیے یکساں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اور سب تو ان چیزوں پر پکڑے جائیں،  مگر نبی کے رشتہ دار بچے رہ جائیں۔ اس لیے حکم ہوا کہ اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو بھی صاف صاف متنبہ کر دو۔ اگر وہ اپنا عقیدہ اور عمل درست نہ رکھیں گے تو یہ بات ان کے کسی کام نہ آ سکے گی کہ وہ نبی کے رشتہ دار ہیں۔ معتبر روایات میں آیا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سب سے پہلے اپنے دادا کی اولاد کو خطاب فرمایا اور ایک ایک کو پکار کر صاف صاف کہہ دیا کہ یا بنی عبد المطلب، یاعباس، یا صفیۃ عمۃ رسول اللہ، یا فاطمۃ بنت محمد، انقذوا انفسکم من النار، فانی لا املک لکم من اللہ شیئاً، سلونی من مالی ماشئتم۔ ’’ اے نبی عبد المطلب، اے عباس، اے صفیہ رسول اللہ کی پھوپھی، اے فاطمہ محمدؐ کی بیٹی، تم لوگ آگ کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کر لو، میں خدا کی پکڑ سے تم کو نہیں بچا سکتا، البتہ میرے مال میں سے تم لوگ جو کچھ چاہو مانگ سکتے ہو‘‘۔ پھر آپ نے صبح سویرے صفا کے سب سے اونچے مقام پر کھڑے ہو کر پکارا یا صباحاہ (ہائے صبح کا خطرہ)، اے قریش کے لوگو، اے بنی کعب بن لُؤَیّ، اے بنی مرّہ، اے آل قُصَیّ، اے بنی عبد مَناف، اے بنی عبد شمس، اے بنی ہاشم، اے آل عبد المطلب۔ اس طرح قریش کے ایک ایک قبیلے اور خاندان کا نام لے لے کر آپ نے آواز دی۔ عرب میں قاعدہ تھا کہ جب صبح تڑکے کسی اچانک حملے کا خطرہ ہوتا تو جس شخص کو بھی اس کا پت چل جاتا وہ اسی طرح پکارنا شروع کر دیتا اور لوگ اس کی آواز سنتے ہیں ہر طرف سے دوڑ پڑتے۔ چنانچہ حضورؐ کی اس آواز پر سب لوگ گھروں سے نکل آئے،  اور جو خود نہ آ سکا اس نے اپنی طرف سے کسی کو خبر لانے کے لیے بھیج دیا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپؐ نے فرمایا : ’’ لوگو، اگر میں تمہیں بتاؤں کہ اس پہاڑ کے دوسری طرف ایک بھاری لشکر ہے جو تم پر ٹوٹ پڑنا چاہتا ہے تو تم میری بات سچ مانو گے ؟ سب نے کہا ہاں، ہمارے  تجربے میں تم کبھی جھوٹ بولنے والے نہیں رہے ہو۔ آپ نے فرمایا، ’’ اچھا تو میں خدا کا سخت عذاب آنے سے پہلے تم کو  خبردار کرتا ہوں۔ اپنی جانوں کو اس کی پکڑ سے بچانے کی فکر کرو۔ میں خدا کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا۔ قیامت میں میرے رشتہ دار صرف متقی ہوں گے۔ ایسا نہ ہو کہ دوسرے لوگ نیک اعمال لے کر آئیں اور تم لوگ دنیا کا وبال سر پر اٹھائے ہوئے آؤ۔ اس وقت تم پکارو گے یا محمدؐ، مگر میں مجبور ہوں گا کہ تمہاری طرف سے منہ پھیر لوں۔ البتہ دنیا میں میرا اور تمہارا خون کا رشتہ ہے اور یہاں میں تمہارے ساتھ ہر طرح کی صلہ رحمی کروں گا ‘‘۔ (اس مضمون کی متعدد روایات بخاری، مسلم، مسند احمد، ترمذی، نسائی  اور تفسیر ابن جریر میں حضرت عائشہ، حضرت ابو ہریرہ، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت زہیر بن عمرو اور حضرت قبیصہ بن مخارق سے مروی ہیں )۔ یہ معاملہ صرف اس حد تم نہ تھا کہ قرآن میں اَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ کا حکم آیا اور حضورؐ نے اپنے رشتہ داروں کو جمع کر کے بس اس کی تعمیل کر دی۔ در اصل اس میں جو اصول واضح کیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ دین میں نبی اور اس کے خاندان کے لیے کوئی امتیازی مراعات نہیں ہیں جن سے دوسرے محروم ہوں۔ جو چیز زہر قاتل ہے وہ سب ہی کے لیے قاتل ہے،  نبی کا کام یہ ہے کہ سب سے پہلے اس سے خود بچے اور اپنے قریبی لوگوں کو اس سے ڈرائے،  پھر ہر خاص و عام کو متنبہ کر دے کہ جو بھی اسے کھائے گا، ہلاک ہو جائے گا۔ اور جو چیز نافع ہے وہ سب ہی کے لیے نافع ہے،  نبی کا منصب یہ ہے کہ سب سے پہلے اسے خود اختیار کرے اور اپنے عزیزوں کو اس کی تلقین کرے،  تاکہ ہر شخص دیکھ لے کہ یہ وعظ و نصیحت دوسروں ہی کے لیے نہیں ہے،  بلکہ نبی اپنی دعوت میں مخلص ہے۔ اسی طریقے پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم زندگی بھر عامل رہے۔ فتح مکہ کے روز جب آپ شہر میں داخل ہوئے تو آپ نے اعلان کیا کہ کل ربانی الجاھلیۃ موضوع تحت قدمی ھاتین و اول ما اضعہ ربا العباس

’’زمانہ جاہلیت کا ہر سود جو لوگوں کے ذمے تھا میرے ان قدموں تلے روند ڈالا گیا۔ اور سب سے پہلے جس سود کو میں ساقط کرتا ہوں وہ میرے چچا عباسؓ کا ہے ‘‘  (واضح رہے کہ سود کی حرمت کا حکم آنے سے پہلے حضرت عباس سود پر روپیہ چلاتے تھے اور ان کا بہت سا سود اس وقت لوگوں کے ذمے وصول طلب تھا )۔ ایک مرتبہ چوری کے جرم میں قریش کی ایک عورت فاطمہ نامی کا ہاتھ کاٹنے کا آپ نے حکم دیا۔ حضرت اسامہ بن زید نے اس کے حق میں سفارش کی۔ اس پر آپ نے فرمایا خدا کی قسم، اگر محمدؐ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔

۱۳۶:  اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ تمہارے رشتہ داروں میں سے جو لوگ ایمان لا کر تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ نرمی اور ملاطفت اور تواضع کا رویہ اختیار کرو، اور جو تمہاری بات نہ مانیں ان سے اعلان براءت کر دو۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ارشاد صرف ان رشتہ داروں سے متعلق نہ ہو جنہیں متنبہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا، بلکہ سب کے لیے عام ہو۔ یعنی جو بھی ایمان لا کر تمہارا اتباع کرے اس کے ساتھ تواضع برتو اور جو بھی تمہاری نا فرمانی کرے اس کو خبر دار کر دو کہ تیرے اعمال سے میں بری الذمّہ ہوں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت قریش اور آس پاس کے اہل عرب میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صداقت کے قائل ہو گئے تھے،  مگر انہوں نے عملاً آپ کی پیروی اختیار نہ کی تھی، بلکہ وہ بد ستور اپنی گمراہ سوسائٹی میں مل جل کر اسی طرح کی زندگی بس کر رہے تھے جیسی دوسرے کفار کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے ماننے والوں کو ان اہل ایمان سے الگ قرار دیا جنہوں نے حضورؐ کی صداقت تسلیم کرنے کے بعد آپ کا اتباع بھی اختیار کر لیا تھا۔ تواضع برتنے کا حکم صرف اسی مؤخر الذکر گروہ کے لیے تھا۔ باقی رہے وہ لوگ جو حضورؐ کی فرماں برداری سے منہ موڑے ہوئے تھے،  جن میں آپ کی صداقت کو ماننے والے بھی شامل تھے اور آپ کا انکار کر دینے والے بھی، ان کے متعلق حضورؐ کو ہدایت کی گئی کہ ان سے بے تعلقی کا اظہار کر دو اور صاف صاف کہہ دو کہ اپنے اعمال کا نتیجہ تم خود بھگتو گے،  تمہیں خبر دار کر دینے کے بعد اب مجھ پر تمہارے کسی فعل کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

۱۳۷:  یعنی دنیا کی کسی بڑی سے بڑی طاقت کی بھی پروا نہ کرو اور اس ذات کے بھروسے پر اپنا کام کیے چلے جاؤ جو زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ اس کا زبردست ہونا اس بات کی ضمانت ہے کہ جس کی پشت پر اس کی تائید ہوا سے دنیا میں کوئی نیچا نہیں دکھا سکتا۔ اور اس کا رحیم ہونا اس اطمینان کے لیے کافی ہے کہ جو شخص اس کی خاطر اعلائے کلمۃ الحق کے کام میں جان لڑائے گا اس کی کوششوں کو وہ کبھی رائے گاں نہ جانے دے گا۔

۱۳۸:  اٹھنے سے مراد راتوں کو نماز کے لیے اُٹھنا بھی ہو سکتا ہے اور فریضۂ رسالت ادا کرنے کے لیے اٹھنا بھی۔

۱۳۹:  اس سے کئی مراد ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ جب نماز با جماعت میں اپنے مقتدیوں کے ساتھ اُٹھتے اور بیٹھتے اور رکوع و سجود کرتے ہیں اس وقت اللہ تعالیٰ آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ دوسرے جب راتوں کو اٹھ کر آپ اپنے ساتھیوں کو (جن کے لیے ’’ سجدہ گزار‘‘  کا لفظ امتیازی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے ) دیکھتے پھرتے ہیں کہ وہ اپنی عاقبت سنوارنے کے لیے کیا کچھ کر رہے ہیں،  اس وقت آپ اللہ کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں ہوتے۔ تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ اس تمام دوڑ دھوپ اور تگ و دو سے واقف ہے جو آپ اپنے سجدہ گزار ساتھیوں کی معیت میں اس کے بندوں کی اصلاح کے لیے کر رہے ہیں چوتھے یہ کہ سجدہ گزار لوگوں کے گروہ میں آپ کے تمام تصرفات اللہ کی نگاہ میں ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ آپ کس طرح ان کی تربیت کر رہے ہیں، کیسا کچھ ان کا تزکیہ آپ نے کیا ہے اور کس طرح مس خام کو کندن بنا کر رکھ دیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ کرام کی ان صفات    کا ذکر یہاں جس غرض کے لیے کیا گیا ہے اس کا تعلق اوپر کے مضمون سے بھی ہے اور آگے کے مضمون سے بھی اوپر کے مضمون سے اس کا تعلق یہ ہے کہ آپ حقیقت میں اللہ کی رحمت اور اس کی زبردست تائید کے مستحق  ہیں،  اس لیے کہ اللہ کوئی اندھا بہرا معبود نہیں ہے،  دیکھنے اور سننے والا فرمانروا ہے،  اس کی راہ میں آپ کی دوڑ دھوپ اور اپنے سجدہ گزار ساتھیوں میں آپ کی سرگرمیاں،  سب کچھ اس کی نگاہ میں ہیں۔ بعد کے مضمون سے اس کا تعلق یہ ہے کہ جس شخص کی زندگی یہ کچھ ہو جیسی کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ہے،  اور جس کے ساتھیوں کی صفات وہ کچھ ہوں جیسی کہ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ہیں اس کے متعلق کوئی عقل کا اندھا ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ اس پر شیاطین اترتے ہیں یا وہ شاعر ہے۔ شیطان جن کاہنوں پر اترتے ہیں اور شعراء اور ان کے ساتھ لگے رہنے والوں کے جیسے کچھ رنگ ڈھنگ ہیں،  وہ آخر کس سے پوشیدہ ہیں۔ تمہارے اپنے معاشرے میں ایسے لوگ کثرت سے پائے ہی جاتے ہیں۔ کیا کوئی آنکھوں والا ایمانداری کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہے کہ اسے محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے اصحاب کی زندگی میں اور شاعروں اور کاہنوں کی زندگی میں کوئی فرق نظر نہیں آتا؟ اب یہ کیسی ڈھٹائی ہے  کہ ان خدا کے بندوں پر کھلم کھلا کہانت اور شاعری کی پھبتی کسی جاتی ہے اور کسی کو اس پر شرم بھی نہیں آتی۔

۱۴۰:  مراد ہیں کاہن، جوتشی، فال گیر، رمّال، اور ’’عامل‘‘  قسم کے لوگ جو غیب دانی کا ڈھونگ رچاتے پھرتے ہیں۔ گول مول لچھے دار باتیں بنا کر لوگوں کی قسمتیں بتاتے ہیں،  یا سیانے بن کر جنوں اور روحوں اور مؤکلوں کے ذریعہ سے لوگوں کی بگڑی بنانے کا کاروبار کرتے ہیں۔

۱۴۱:  اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ شیاطین کچھ سن گن لے کر اپنے اولیاء پر القاء کرتے ہیں اور اس میں تھوڑی سی حقیقت کے ساتھ بہت سا جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ جھوٹے لپاٹیے کاہن شیاطین سے کچھ باتیں سن لیتے ہیں اور پھر اپنی طرف سے بہت سا جھوٹ ملا کر لوگوں کے کانوں میں پھونکتے پھرتے ہیں۔ اس کی تشریح ایک حدیث میں بھی آئی ہے جو بخاری نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ بعض لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کاہنوں کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے فرمایا وہ کچھ نہیں ہیں۔ انہوں نے عرض کیا، یا رول اللہ بعض اوقات تو وہ ٹھیک بات بتا دیتے ہیں۔ حضورؐ نے فرمایا وہ ٹھیک بات جو ہوتی ہے اسے کبھی کبھار جن لے اڑتے ہیں اور جا کر اپنے دوست کے کان میں پھونک دیتے ہیں،  پھر وہ اس کے ساتھ جھوٹ کی بہت سی آمیزش کر کے ایک داستان بنا لیتا ہے۔

۱۴۲:  یعنی شاعروں کے ساتھ لگے رہنے والے لوگ اپنے اخلاق، عادات و خصائل اور اُفتادِ مزاج میں ان لوگوں سے بالکل مختلف ہوتے ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تمہیں نظر آتے ہیں۔ دونوں گروہوں کا فرق ایسا کھلا ہوا فرق ہے کہ ایک نظر دیکھ کر ہی آدمی جان سکتا ہے کہ یہ کیسے لوگ ہیں اور وہ کیسے۔ ایک طرف انتہائی سنجیدگی، تہذیب، شرافت، راستبازی اور خدا ترسی ہے۔ بات بات میں ذمہ داری کا احساس ہے۔ برتاؤ میں لوگوں کے حقوق کا پاس و لحاظ ہے۔ معاملات میں کمال درجہ کی دیانت و امانت ہے اور زبان جب کھلتی ہے خیر ہی کے لیے کھلتی ہے،  شر کا کلمہ کبھی اس سے ادا نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ  یہ کہ ان لوگوں کو دیکھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سامنے،  ایک بلند اور پاکیزہ نصب العین ہے جس کی دھن میں یہ رات دن لگے ہوئے ہیں اور ان کی ساری زندگی ایک مقصد عظیم کے لیے وقف ہے۔ دوسری طرف حال یہ ہے کہ کہیں عشق بازی اور شراب نوشی کے مضامین بیان ہو رہے ہیں اور حاضرین اچھل اچھل کر ان پر داد دے رہے ہیں۔ کہیں کسی زن بازاری یا کسی گھر کی بہو بیٹی کا حسن موضوع سخن ہے اور سننے والے اس پر مزے لے رہے ہیں۔ کہیں جنسی مواصلت کی حکایت بیان ہو رہی ہے اور پورے مجمع پر شہوانیت کا بھوت مسلط ہے۔ کہیں ہزل بکا جا رہا ہے یا مسخرہ پن کی باتیں ہو رہی ہیں اور مجمع میں ہر طرف ٹھٹھے لگ رہے ہیں۔ کہیں کسی کی ہجو اڑائی جا رہی ہے اور لوگ اس سے لطف لے رہے ہیں۔ کہیں کسی کی بے جا تعریف ہو رہی ہے اور اس پر تحسین و آفرین کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں۔ اور کہیں کسی کے خلاف نفرت، عداوت اور انتقام کے جذبات بھڑکائے جا رہے ہیں اور سننے والوں کے دلوں میں ان سے آگ سی لگی جاتی ہے۔ ان مجلسوں میں شاعروں کے کلام سننے کے لیے جو ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگتے ہیں،  اور بڑے بڑے شاعروں کے پیچھے جو لوگ لگے پھرتے ہیں ان کو دیکھ کر کوئی شخص یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ اخلاق کی بندشوں سے آزاد، جذبات و خواہشات کی رو میں بہنے والے،  اور لطف و لذت کے پرستار، نیم حیوان قسم کے لوگ ہیں جن کے ذہن کو کبھی یہ خیال چھو بھی نہیں گیا ہے کہ دنیا میں انسان کے لیے زندگی کا کوئی بلند تر مقصد و نصب العین بھی ہو سکتا ہے۔ ان دونوں گروہوں کا کھلا کھلا فرق و امتیاز اگر کسی کو نظر نہیں آتا تو وہ اندھا ہے،  اور اگر سب کچھ دیکھ کر بھی کوئی محض حق کو نیچا دکھانے کے لیے ایمان نکل کر یہ کہتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور ان کے گرد جمع ہونے والے اسی قبیل کے لوگ ہیں جیسے شعراء اور ان کے پیچھے لگے رہنے والے لوگ ہوتے ہیں،  تو وہ جھوٹ بولنے میں بے حیائی کی ساری حدیں پار کر گیا ہے۔

۱۴۳: یعنی کوئی ایک متعین راہ نہیں ہے جس پر وہ سوچتے اور اپنی قوت گویائی صرف کرتے ہوں،  بلکہ ان کا تو سَنِ فکر ایک بے لگام گھوڑے کی طرح ہر وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے اور جذبات یا خواہشات و اغراض کی ہر نئی رَو ان کی زبان سے ایک نیا مضمون ادا کراتی ہے جسے سوچنے اور بیان کرنے میں اس بات کا کوئی لحاظ سرے سے ہوتا ہی نہیں کہ یہ بات حق اور صدق بھی ہے۔ کبھی ایک لہر اٹھی تو حکمت و موعظت کی باتیں ہونے لگیں اور کبھی دوسری لہر آئی تو اسی زبان سے انتہائی گندے سفلی جذبات کا ترشح شروع ہو گیا۔ کبھی کسی سے خود ہوئے تو اے آسمان پر چڑھا دیا اور کبھی بگڑ بیٹھے تو اسی کو تحت الثریٰ میں جا گرایا۔ ایک بخیل کو حاتم اور ایک بزدل کو رستم و اسفندیار پر فضیلت دینے میں انہیں ذرا تامل نہیں ہوتا اگر اس سے کوئی غرض وابستہ ہو۔ اس کے برعکس کسی سے رنج پہنچ جائے تو اس کی پاک زندگی پر دھبہ لگانے اور اس کی عزت پر خاک پھینکنے میں،  بلکہ اس کے نسب پر طعن کرنے میں بھی ان کو شرم محسوس نہیں ہوتی۔ خدا پرستی اور دہریت، مادہ پرستی اور روحانیت، حسن اخلاق اور بد اخلاقی، پاکیزگی اور گندگی، سنجیدگی اور ہزل، قصیدہ اور ہجو سب کچھ ایک ہی شاعر کے کلام میں آپ کو پہلو بہ پہلو مل جائے گا۔ شعراء کی ان معروف خصوصیات سے جو شخص واقف ہو اس کے دماغ میں آخر یہ بے تکی بات کیسے اتر سکتی ہے کہ اس قرآن کے لانے والے پر شاعری کی تہمت رکھی جائے جس کی تقریر جچی تلی، جس کی بات دو ٹوک، جس کی راہ بالکل واضح اور متعین ہے اور جس نے حق اور راستی اور بھلائی کی دعوت سے ہٹ کر کبھی ایک کلمہ بھی زبان سے نہیں نکالا ہے۔ قرآن مجید میں ایک دوسرے مقام پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ آپ کے مزاج کو تو شاعری کے ساتھ سرے سے کوئی مناسبت ہی نہیں ہے : وَمَا عَلَّمْنَاہ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ، (یٰسٓ۔آیت ۶۹ ) ’’ہم نے اس کو شعر نہیں سکھایا ہے نہ یہ اس کے کرنے کا کام ہے ‘‘۔ اور یہ ایک ایسی حقیقت تھی کہ جو لوگ بھی نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ذاتی واقفیت رکھتے تھے وہ سب اسے جانتے تھے۔ معتبر روایات میں آیا ہے کہ کوئی شعر حضورؐ کو پورا یاد نہ تھا۔ دوران گفتگو میں کبھی کسی شاعر کا کوئی اچھا شعر زبان مبارک پر آتا بھی تو غیر موزوں پڑھ جاتے تھے،  یا اس میں الفاظ کا الٹ پھیر ہو جاتا تھا۔ حضرت حسن بصری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دوران تقریر میں آپ نے شاعر کا مصرعہ یوں نقل کیا : کفی بالا سلام و الشیب اللمرء ناھیا حضرت ابو بکرؓ نے عرض کیا، یا رسول اللہ اصل مصرع یوں ہے : کفی الشیب والاسلام للمرء ناھیا ایک مرتبہ عباس بن مرداس سُلَمی سے آپ نے پوچھا، کیا تم ہی نے یہ شعر کہا ہے : اتجعل نھبی و نھب العبید و بین الاقرع و عیینہ انہوں نے عرض کیا آخری فقرہ یوں نہیں ہے بلکہ یوں ہے بینا عُیَیْنَۃَ والاقرء۔ آپ نے فرمایا معنی میں تو دونوں یکساں ہیں۔ حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیا کہ حضورؐ کبھی اشعار بھی اپنی تقریروں میں استعمال فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا شعر سے بڑھ کر آپ کو کسی چیز سے نفرت نہ تھی۔ البتہ کبھی کبھار بنی قیس کے شاعر کا یک اشعر پڑھتے تھے مگر اول کو آخر اور آخر کو اول پڑھ جاتے تھے۔ حضرت ابو بکر عرض کرتے یا رسول اللہ یوں نہیں بلکہ یوں ہے،  تو آپ فرماتے کہ ’’ بھائی میں شاعر نہیں ہوں اور نہ شعر گوئی میرے کرنے کا کام ہے ‘‘  جس قسم کے مضامین سے عرب کی شاعری لبریز تھی وہ یا تو شہوانیت اور عشق بازی کے مضامین تھے،  یا شراب نوشی کے ،  یا قبائلی منافرت اور جنگ و جدل کے ،  یا نسلی فخر و غرور کے۔ نیکی اور بھلائی کی  باتیں ان میں بہت ہی کم پائی جاتی تھیں۔ پھر جھوٹ، مبالغہ، بہتان، ہجو، بے جا تعریف، ڈینگیں،  طعن، پھبتیاں،  اور مشرکانہ خرافات تو اس شاعری کی رگ رگ میں پیوست تھیں۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی رائے اس شاعری کے متعلق یہ تھی کہ : لان یمتلئ جوف احد کم قیحا خیر لہ من ان یمتلئ شعراً، ’’ تم میں سے کسی شخص کا خول پیپ سے بھر جانا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرے ‘‘۔ تا ہم جس شعر میں کوئی چھی بات ہوتی تھی آپ اس کی داد بھی دیتے تھے اور آپ کا ارشاد تھا کہ : ان من الشعر لحکمۃ۔ ’’بعض اشعار حکیمانہ ہوتے ہیں ‘‘۔ امیرین ابی الصلْٰت کا کلام سن کر آپ نے فرمایا : اٰمن شعرہ و کفر قلبہ۔ ’’اس کا شعر مومن ہے مگر اس کا دل کافر ہے ‘‘۔ ایک مرتبہ ایک صحابی نے سو (۱۰۰) کے قریب عمدہ عمدہ اشعار آپ کو سنائے اور آپ فرماتے گئے  ’’ اور سناؤ‘‘۔

۱۴۴:  یہ شاعروں کی ایک اور خصوصیت ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے طرز عمل کی عین ضد تھی۔ حضورؐ کے متعلق آپ کا ہر جاننے والا جانتا تھا کہ آپ جو کہتے ہیں وہی کرتے ہیں اور جو کرتے ہیں وہی کہتے ہیں۔ آپ کے قول اور فعل کی مطابقت ایسی صریح حقیقت تھی جس سے آپ کے گرد و پیش کے معاشرے میں کوئی انکار نہ کر سکتا تھا۔ اس کے برعکس شعراء کے متعلق کس کو معلوم نہ تھا کہ ان کے ہاں کہنے کی باتیں اور ہیں اور کرنے کی اور۔ سخاوت کا مضمون اس زور شور سے بیان کریں گے کہ آدمی سمجھے  شاید ان سے بڑھ کر دریا دل کوئی نہ ہو گا۔ مگر عمل میں کوئی دیکھے تو معلوم ہو گا کہ سخت بخیل ہیں۔ بہادری کی باتیں کریں گے مگر خود بزدل ہوں گے۔ بے نیازی اور قناعت و خود داری کے مضامین باندھیں گے مگر خود حرص و طمع میں ذلت کی آخری حد کو پار کر جائی گے۔ دوسروں کی ادنیٰ کمزوریوں پر گرفت کریں گے مگر خود بد ترین کمزوریوں میں مبتلا ہوں گے۔

۱۴۵:  یہاں شعراء کی اس عام مذمت سے جو اوپر بیان ہوئی، ان شعراء کو مستثنیٰ کیا گیا ہے جو چار خصوصیات کے حامل ہوں : اول یہ کہ وہ مومن ہوں،  یعنی اللہ اور اس کے رسول اور اس کی کتابوں کو سچے دل سے مانتے ہوں اور آخرت پر یقین رکھتے ہوں۔ دوسرے یہ کہ اپنی عملی زندگی میں صالح ہوں،  بد کار اور فاسق و فاجر نہ ہوں،  اخلاق کی بندشوں سے آزاد ہو کر جھک نہ مارتے پھریں۔ تیسرے یہ کہ  اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہوں،  اپنے عام حالات اور اوقات میں بھی، اور اپنے کلام میں بھی۔ یہ نہ ہو کہ شخصی زندگی تو زہد و تقویٰ سے آراستہ ہے مگر کلام سراسر رندی و ہوسناکی سے لبریز۔ اور یہ بھی نہ ہو کہ شعر میں تو بڑی حکمت و معرفت کی باتیں بگھاری جا رہی ہیں مگر ذاتی زندگی کو دیکھیے تو یاد خدا کے سارے آثار سے خالی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں حالتیں یکساں مذموم ہیں۔ ایک پسندیدہ شاعر وہی ہے جس کی نجی زندگی بھی خدا کی یاد سے معمور ہو اور شاعرانہ قابلیتیں بھی اس راہ میں وقف رہیں جو خدا سے غافل لوگوں کی نہیں بلکہ خدا شناس، خدا دوست اور خدا پرست لوگوں کی راہ ہے۔ چوتھی صفت ان مستثنیٰ قسم کے شاعروں کی یہ  بیان کی گئی ہے کہ وہ شخصی اغراض کے لیے تو کسی کی ہجو نہ کریں،  نہ ذاتی یا نسلی و قومی عصبیتوں کی خاطر انتقام کی آگ بھڑکائیں،  مگر جب ظالموں کے مقابلے میں حق کی حمایت کے لیے ضرورت پیش آئے تو پھر زبان سے وہی کام لیں جو ایک مجاہد تیر و شمشیر سے لیتا ہے۔ ہر وقت گھگھیاتے ہی رہنا اور ظلم کے مقابلے میں نیاز مندانہ معروضات ہی پیش کرتے رہنا مومنوں کا شیوہ نہیں ہے۔ اسی کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ کفار و مشرکین کے شاعر اسلام اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف الزامات کا جو طوفان اٹھاتے اور نفرت و عداوت کا جو زہر پھیلاتے تھے اس کا جوب دینے کے لیے حضورؐ خود شعرائے اسلام کی ہمت افزائی فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ کعب بن مالکؓ سے آپ نے فرمایا : اھجھم فوالذی نفسی بیدہ لہوا شد علیہم من النبل، ’’ ان کی ہجو کہا، کیونکہ اس خدا کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے،  تمہارا شعر ان کے حق میں تیر سے زیادہ تیز ہے ‘‘۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا اھجھم وجبریل معک، اور قلو روح القدس معک، ’’ ان کی خبر لو اور جبریل تمہارے ساتھ ہے ‘‘۔ ’’کہو اور روح القدس تمہارے ساتھ ہے ‘‘  آپ کا ارشاد تھا کہ : ان المؤمن یجاھدبہ بفہٖ و لسانہٖ۔ ’’مومن تلوار سے بھی لڑتا ہے اور زبان سے بھی‘‘۔

۱۴۶:  ظلم کرنے والوں سے مراد یہاں وہ لوگ ہیں جو حق کو نیچا دکھانے کے لیے سراسر ہٹ دھرمی کی راہ سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر شاعری اور کہانت اور ساحری اور جنون کی تہمتیں لگاتے پھرتے تھے تاکہ نا واقف لوگ آپ کی دعوت سے بد گمان ہوں اور آپ کی تعلیم کی طرف توجہ نہ دیں۔

٭٭٭

 

 

 

 

۲۷۔ النمل

 

 

نام

 

دوسرے رکوع کی چوتھی آیت واد النمل کا ذکر آیا ہے۔ سورت کا نام اسی سے ماخوذ ہے۔ یعنی وہ سورت جس میں النمل کا قصہ مذکور ہے یا جس میں النمل کا لفظ وارد ہوا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مضمون اور انداز بیاں مکہ کے دور متوسط کی سورتوں سے پوری مشابہت رکھتا ہے اور اس کی تائید روایات سے بھی ہوتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ اور جابر بن زید کا بیان ہے کہ “پہلے سورۂ شعراء نازل ہوئی، پھر النمل، پھر القصص”۔

 

موضوع اور مباحث

 

یہ سورت دو خطبوں پر مشتمل ہے۔ پہلا خطبہ آغاز سورت سے چوتھے رکوع کے خاتمے تک ہے اور دوسرا خطبہ پانچویں رکوع کی ابتدا سے سورت کے اختتام تک۔

پہلے خطبے میں بتایا گیا ہے کہ قرآن کی رہنمائی سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، اور اس کی بشارتوں کے مستحق بھی صرف وہی لوگ ہیں جو اُن حقیقتوں کو تسلیم کریں جنہیں یہ کتاب اس کائنات کی بنیادی حقیقتوں کی حیثیت سے پیش کرتی ہے ، اور پھر مان لینے کے بعد اپنی عملی زندگی میں بھی اطاعت و اتباع کا رویہ اختیار کریں لیکن اس راہ پر آنے اور چلنے میں جو چیز سب سے بڑھ کر مانع ہوتی ہے وہ انکارِ آخرت ہے کیونکہ یہ آدمی کو غیر ذمہ دار، بندۂ نفس اور فریفتۂ حیاتِ دنیا بنا دیتا ہے جس کے بعد آدمی کا خدا کے آگے جھکنا اور اپنے نفس کی خواہشات پر اخلاقی پابندیاں برداشت کرنا ممکن نہیں رہتا۔ اس تمہید کے بعد تین قسم کی سیرتوں کے نمونے پیش کیے گئے ہیں۔

ایک نمونہ فرعون اور سردارانِ قوم ثمود اور سرکشانِ قوم لوط کاہے جن کی سیرت فکرِ آخرت سے بے نیازی اور نتیجتاً نفس کی بندگی سے تعمیر ہوئی تھی۔ یہ لوگ کسی نشانی کو دیکھ کر بھی ایمان لانے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ یہ الٹے ان لوگوں کے دشمن ہو گئے جنہوں نے ان کو خیر و صلاح کی طرف بلایا۔ انہوں نے اپنی ان بدکاریوں پر بھی پورا اصرار کیا جن کا گھناؤنا پن کسی صاحبِ عقل انسان سے پوشیدہ نہیں ہے۔ انہیں عذابِ الٰہی میں گرفتار ہونے سے ایک لمحہ پہلے تک بھی ہوش نہ آیا۔

دوسرا نمونہ حضرت سلیمان علیہ السلام کاہے جن کو خدا نے دولت، حکومت اور شوکت و حشمت سے اس پیمانے پر نوازا تھا کہ کفارِ مکہ کے سردار اس کا خواب بھی نہ دیکھ سکتے تھے لیکن اس سب کے باوجود چونکہ وہ اپنے آپ کو خدا کے حضور جوابدہ سمجھتے تھے ، اور انہیں احساس تھا کہ انہیں جو کچھ بھی حاصل ہے خدا کی عطا سے حاصل ہے ، اس لیے ان کا سر ہر وقت منعمِ حقیقی کے آگے جھکا رہتا تھا اور کبرِ نفس کا کوئی ادنیٰ شائبہ تک ان کی سیرت و کر دار میں نہ پایا جاتا تھا۔ تیسرا نمونہ ملکہ سبا کاہے جو تاریخ عرب کی نہایت مشہور دولت مند قوم پر حکمران تھی۔ اس کے پاس وہ تمام اسباب جمع تھے جو کسی انسان کو غرورِ نفس میں مبتلا کر سکتے ہیں۔ جن چیزوں کے بل پر کوئی انسان گھمنڈ کر سکتا ہے وہ سرداران قریش کی بہ نسبت لاکھوں درجے زیادہ اسے حاصل تھیں۔ پھر وہ ایک مشرک قوم سے تعلق رکھتی تھی۔ تقلید آبائی کی بنا پر بھی اور اپنی قوم میں اپنی سرداری برقرار رکھنے کی خاطر بھی، اس کے لیے دینِ شرک کو چھوڑ کر دینِ توحید اختیار کرنا اس سے بہت زیادہ مشکل تھا جتنا کسی عام مشرک کے لیے ہو سکتا ہے۔ لیکن جب ان پر حق واضح ہو گیا تو کوئی چیز اسے قبولِ حق سے نہ روک سکی، کیونکہ اس کی گمراہی محض ایک مشرک ماحول میں آنکھیں کھولنے کی وجہ سے تھی۔ نفس کی بندگی اور خواہشات کی غلامی کا مرض اس پر مسلط نہ تھا۔ خدا کے حضور جواب دہی کے احساس سے اس کا ضمیر فارغ نہ تھا۔ دوسرے خطبے میں سب سے پہلے کائنات کے چند نمایاں ترین مشہور حقائق کی طرف اشارے کر کر کے کفار مکہ سے پے در پے سوال کیا گیا ہے کہ بتاؤ، یہ حقائق اُس شرک کی شہادت دے رہے ہیں جس میں تم مبتلا ہو، یا اس توحید پر گواہ ہیں جس کی دعوت اس قرآن میں تمہیں دی جا رہی ہے ؟ اس کے بعد کفار کے اصل مرض پر انگلی رکھ دی گئی ہے کہ جس چیز نے ان کو اندھا بنا رکھا ہے ، جس کی وجہ سے وہ سب کچھ دیکھ بھی کچھ نہیں دیکھتے اور سب کچھ سن کر بھی کچھ نہیں سنتے وہ دراصل آخرت کا انکار ہے۔ اسی چیز نے ان کے لیے زندگی کے کسی مسئلے میں بھی کوئی سنجیدگی باقی نہیں چھوڑی ہے۔ کیونکہ جب ان کے نزدیک آخر کار سب کچھ مٹی ہو جانا ہے ، اور حیاتِ دنیا کی اس ساری تگ و دو کا حاصل کچھ بھی نہیں ہے ، تو آدمی کے لیے پھر حق اور باطل سب یکساں ہیں۔ اس کے لیے اس سوال میں سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں رہتی کہ اُس کا نظام حیات راستی پر قائم ہے یا نا راستی پر۔

لیکن اس بحث سے مقصود یاس نہیں ہے کہ جب لوگ غفلت میں مگن ہیں تو انہیں دعوت دینے بے کار ہے۔ بلکہ دراصل اس سے مقصود سونے والوں کو جھنجھوڑ کر جگانا ہے۔ اس لیے چھٹے اور ساتویں رکوع میں پے در پے وہ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں جو لوگوں میں آخرت کا احساس بیدار کریں ، اس سے غفلت برتنے کے نتائج پر متنبہ کریں اور انہیں اس کی آمد کا اس طرح یقین دلائیں جس طرح ایک آدمی اپنی آنکھوں دیکھی بات کا اُس شخص کو یقین دلاتا ہے جس نے اسے نہیں دیکھا ہے۔

خاتمۂ کلام میں قرآن کی اصل دعوت، یعنی خدائے واحد کی بندگی کی دعوت نہایت مختصر، مگر انتہائی مؤثر انداز میں پیش کر کے لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اسے قبول کرنا تمہارے اپنے لیے نافع اور اسے رد کرنا تمہارے اپنے لیے ہی نقصان دہ ہے۔ اسے ماننے کے لیے اگر خدا کی وہ نشانیاں دیکھنے کا انتظار کرو گے جس کے سامنے آ جانے کے بعد مانے بغیر چارہ نہ رہے گا، تو یاد رکھو کہ وہ فیصلے کا وقت ہو گا۔ اُس وقت ماننے سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

ط۔س۔ یہ آیات ہیں قرآن اور کتابِ مبین کی۱، ہدایت اور بشارت ۲اُن ایمان لانے والوں کے لیے جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں۳، اور پھر وہ ایسے لوگ ہیں جو آخرت پر پُورا یقین رکھتے ہیں۴۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ان کے لیے ہم نے اُن کے کرتُوتوں کو خوشنما بنا دیا ہے، اس لیے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں۵۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے بُری سزا ہے۶ اور آخرت میں یہی سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے ہیں۔ اور (اے محمدؐ )بلا شبہہ تم یہ قرآن ایک حکیم و علیم ہستی کی طرف سے پا رہے ہو۔۷

(اِنہیں اُس وقت کا قصہ سُناؤ)جب موسیٰؑ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ۸ ’’مجھے ایک آگ سی نظر آئی ہے، میں ابھی یا تو وہاں سے کوئی خبر لے کر آتا ہوں یا کوئی انگارا چُن لاتا ہوں تاکہ تم لوگ گرم ہو سکو۹۔‘‘  وہاں جو پہنچا تو ندا آئی ۱۰کہ ’’مبارک ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور جو اِس کے ماحول میں ہے۔ پاک ہے اللہ، سب جہان والوں کا پروردگار۱۱۔ اے موسیٰ ؑ،  یہ میں ہوں اللہ، زبردست اور دانا۔اور پھینک تُو ذرا اپنی لاٹھی۔‘‘  جُونہی کہ موسیٰ ؑ نے دیکھا لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے۱۲ تو پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پیچھے مُڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ’’ اے موسیٰؑ،  ڈرو نہیں۔ میرے حضُور رسُول ڈرا نہیں کرتے۱۳، اِلّا یہ کہ کسی نے قصور کیا ہو۱۴۔ پھر اگر بُرائی کے بعد اُس نے بھلائی سے (اپنے فعل کو)بدل لیا تو میں معاف کرنے والا مہربان ہوں۱۵۔ اور ذرا اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں تو ڈالو۔ چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔ یہ (دو نشانیاں)نو نشانیوں میں سے ہیں فرعون اور اُس کی قوم کی طرف (لے جانے کے لیے ) ۱۶، وہ بڑے بدکردار لوگ ہیں۔‘‘  مگر جب ہماری کھُلی کھُلی نشانیاں اُن لوگوں کے سامنے آئیں تو انہوں نے کہا کہ یہ تو کھُلا جادُو ہے۔ انہوں نے سراسر ظلم اور غرور کی راہ سے ان نشانیوں کا انکار کیا حالانکہ دل ان کے قائل ہو چکے تھے۔۱۷ اب دیکھ لو کہ ان مفسدوں کا انجام کیسا ہوا۔ ؏۱

 

تفسیر

 

۱: ’’کتابِ مُبین‘‘ کا ایک مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب اپنی تعلیمات اور اپنے احکام اور ہدایات کو بالکل واضح طریقے سے بیان کر تی ہے۔ دوسرا مطلب  یہ کہ وہ حق اور باطل کا فرق نمایاں طریقے سے کھول دیتی ہے۔ اور ایک تیسرا مطلب یہ بھی ہے کہ اس کا کتابِ الہٰی ہونا ظاہر ہے،  جو کوئی اسے آنکھیں کھول کر پڑھے گا اس پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اپنا گھڑا ہوا کلام نہیں ہے۔

۲: یعنی یہ آیات ہدایت اور بشارت ہیں۔ ’’ہدایت کرنے والی‘‘ اور ’’بشارت دینے والی‘‘ کہنے کے بجائے انہیں بجائے خود ’’ہدایت‘‘ اور ’’بشارت‘‘ کہا گیا جس سے رہنمائی اور بشارت کے وصف میں ان کے کمال کا اظہار مقصود ہے۔ جیسے کسی کو آپ سخی کہنے کے بجائے مجسم سخاوت اور حسین کہنے کے بجائے از سر تاپا حسن کہیں۔

۳: یعنی قرآن مجید کی یہ آیات رہنمائی بھی صرف اُنہی لوگوں کی کرتی ہیں اور انجام نیک کی خوشخبری بھی صرف انہی لوگوں کو دیتی ہیں جن میں دو خصوصیات پائی جاتی ہوں: ایک یہ کہ وہ ایمان لائیں۔ اور ایمان لانے سے مراد یہ ہے کہ وہ قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوت کو قبول کر لیں، خدائے واحد کو اپنا ایک ہی الٰہ اور رب مان لیں،  قرآن کو خدا کی کتاب تسلیم کر لیں، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نبی بر حق مان کر اپنا پیشوا بنا لیں، اور یہ عقیدہ بھی  اختیار کر لیں کہ اس زندگی کے بعد  ایک دوسری زندگی ہے جس میں ہم  کو اپنے اعمال کا حساب دینا اور جزائے اعمال سے دو چار ہونا ہے۔ دوسری خصوصیت ان کی یہ ہے کہ وہ اِن چیزوں کو محض مان کر نہ رہ جائیں بلکہ عملاً اتباع و اطاعت کے لیے آمادہ ہوں۔ اور اس آمادگی کی اوّلین علامت یہ ہے کہ وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں۔ یہ دونوں شرطیں جو لوگ پوری کر دیں گے انہی کو قرآن کی آیات دنیا میں زندگی کا سیدھا راستہ بتائیں گی، اس راستہ کے ہر مرحلے میں ان کو صحیح اور غلط کا فرق سمجھائیں گی، اس کے ہر موڑ پر انہیں غلط راہوں کی طرف جانے سے بچائیں گی، اور ان  کو یہ اطمینان بخشیں گی کہ راست روی کے نتائج دنیا میں خواہ کچھ بھی ہوں، آخر کار ابدی اور دائمی فلاح اِسی کی بدولت انہیں حاصل ہو گی اور وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی سے سرفراز ہوں گے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک معلم کی تعلیم سے وہی شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو اس پر اعتماد کر کے واقعی اس کی شاگردی قبول کر لے اور پھر اس کی ہدایات کے مطابق کام بھی کر ے۔ ایک ڈاکٹر سے استفادہ وہی مریض کر سکتا ہے جو اسے اپنا معالج بنائے اور دوا اور پرہیز وغیرہ کے معاملہ میں اس کی ہدایات پر عمل کرے۔ اسی صورت میں معلم اور ڈاکٹر یہ اطمینان دلا سکتے ہیں  کہ آدمی کو نتائجِ مطلوبہ حاصل ہوں گے۔ بعض لوگوں نے اس آیت میں یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ کا مطلب یہ لیا ہے کہ وہ اخلاق کی پاکیزگی اختیار کریں۔ لیکن قرآن مجید میں اقامتِ صلٰوۃ کے ساتھ ایتاءِ زکوٰۃ کا لفظ جہاں بھی آیا ہے،  اس سے مراد وہ زکوٰۃ ادا کر نا ہے جو نماز کے ساتھ اسلام کا دوسرا رکن ہے۔ علاوہ بریں زکوٰۃ کے لیے ایتاء کا لفظ استعمال ہوا ہے جو زکوٰۃِ مال ادا کرنے کے معنی متعین کر دیتا ہے ،  کیونکہ عربی زبان میں پاکیزگی اختیار کرنے  کے لیے تَزَکّی کا لفظ بولا جاتا ہے  نہ کہ ایتاء زکوٰۃ۔ دراصل یہاں  جو بات ذہن نشین کرنی مقصود ہے  وہ یہ کہ قرآن کی رہنمائی سے فائدہ اُٹھانے کے لیے ایمان کے ساتھ عملاً اطاعت و اتباع کا رویہ اختیار کرنا بھی ضروری ہے، اور اقامتِ صلوٰۃ و ایتاء زکوٰۃ وہ پہلی علامت ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ آدمی نے واقعی اطاعت قبول کر لی ہے۔ یہ علامت جہاں غائب ہوئی وہاں فوراً یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ آدمی سرکش ہے،  حاکم کو حاکم چاہے اس نے مان لیا ہو، مگر حکم کی پیروی کے لیے وہ تیار نہیں ہے۔

۴: اگر چہ آخرت کا عقیدہ ایمانیات میں شامل ہے، اور اس بنا پر ’’ ایمان لانے والوں‘‘ سے مراد ظاہر ہے کہ وہی لوگ ہیں جو توحید اور رسالت کے سا تھ آخرت پر بھی ایمان لائیں، لیکن ایمانیات کے ضمن میں اس کے آپ سے آپ شامل ہونے کے با وجود یہاں اس عقیدے کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے خاص طور پر زور دے کر اسے الگ بیان کیا گیا ہے۔ اس سے یہ ذہن نشین کرنا مقصود ہے کہ جو لوگ آخرت کے قائل نہ ہوں، ان کے لیے اس قرآن کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا بلکہ اس پر قدم رکھنا بھی محال ہے۔ کیونکہ اس طرزِ فکر کے لوگ طبعاً اپنا معیارِ خیر و شر صرف اُنہی نتائج سے متعین کرتے ہیں جو اِس دنیا میں ظاہر ہوتے یا ہو سکتے ہیں۔ اور ان کے لیے کسی ایسی نصیحت و ہدایت کو قبول کرنا ممکن نہیں ہوتا جو انجامِ اُخروی کو سود و زیاں اور نفع و نقصان کا معیار قرار دے کر خیر و شر کا تعین کرتی ہو۔ ایسے لوگ اول تو انبیاء علیہم السلام کی تعلیم پر کان ہی نہیں دھرتے،  لیکن اگر کسی وجہ سے وہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں شامل ہو بھی جائیں تو آخرت کا یقین نہ ہونے کے باعث ان کے لیے ایمان و اسلام کے راستے پر ایک قدم چلنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ اس راہ میں پہلی ہی آزمائش جب پیش آئے گی، جہاں دنیوی فائدے اور اُخروی نقصان کے تقاضے انہیں دو مختلف سمتوں میں کھینچیں گے تو وہ بے تکلف دنیا کے فائدے کی طرف کھینچ جائیں گے اور آخرت کے نقصان کی ذرہ برابر پروا نہ کریں گے،  خواہ زبان سے وہ ایمان کے کتنے ہی دعوے کر تے رہیں۔

۵: یعنی خدا کا قانونِ فطرت یہ ہے،  نفسیاتِ انسانی کی فطری منطق یہی ہے کہ جب آدمی زندگی اور اس کی سعی و عمل کے نتائج کو صرف اسی دنیا تک  محدود سمجھے گا، جب وہ کسی ایسی عدالت کا قائل نہ ہو گا جہاں انسان کے پورے کارنامہ حیات کی جانچ پڑتال کر کے اس کے حُسن و قبح کا آخری اور قطعی فیصلہ کیا جانے والا ہو، اور جب وہ موت کے بعد کسی ایسی زندگی کا قائل نہ ہو گا جس میں حیاتِ دنیا کے اعمال کی حقیقی قدر و قیمت کے مطابق ٹھیک ٹھیک جزا و سزا دی جانے والی ہو، تو لازماً اس کے اندر ایک مادہ پرستانہ نقطۂ نظر نشو نما پائے گا۔ اسے حق اور باطل، شرک اور توحید، نیکی اور بدی، اخلاق اور بد اخلاقی کی ساری بحثیں سراسر بے معنی نظر آئیں گی۔ جو کچھ اُسے اِس دنیا میں لذت و عیش اور مادی ترقی و خوشحالی اور قوتِ و اقتدار سے ہمکنار کرے وہی اس کے نزدیک بھلائی ہو گی قطع نظر اس سے کہ وہ کوئی فلسفہ حیات اور کوئی طرزِ زندگی اور نظامِ اخلاق ہو۔ اس کو حقیقت اور صداقت سے دراصل کوئی غرض ہی نہ ہو گی۔ اس کی اصل مطلوب صرف حیاتِ دنیا کی زینتیں اور کامرانیاں ہوں گی جن کے حصول کی فکر اسے ہر وادی میں لیے بھٹکتی پھرے گی۔ اور اس مقصد کے  لیے جو کچھ بھی وہ کرے گا اسے اپنے نزدیک بڑی خوبی کی بات سمجھے گا اور اُلٹا اُن لوگوں کو بیوقوف سمجھے گا جوا ُس کی طرح دنیا طلبی میں منہمک نہیں ہیں اور اخلاق و بد اخلاقی سے بے نیز ہو کر ہر کام کر گزرنے میں بے باک نہیں ہیں۔ کسی کے اعمال بد کو اس کے لیے خوشنما بنا دینے کا یہ فعل قرآن مجید میں کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور کبھی شیطان کی طرف۔ جب اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے تو اس سے مراد، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، جب یہ فعل شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اس طرزِ فکر اور طرزِ عمل کو اختیار کرنے والے آدمی کے سامنے شیطان ہر وقت ایک خیالی جنت پیش کرتا رہتا ہے اور اسے خوب اطمینان دلاتا ہے کہ شاباش برخوردار بہت اچھے جا رہے ہو۔

۶: اس بُری سزا کی صورت، وقت اور جگہ کا تعین نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ یہ اس دنیا میں بھی مختلف افراد گروہوں اور قوموں کو بے شمار مختلف طریقوں سے ملتی ہے،  اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت عین موت کے دروازے پر بھی اس کا ایک حصہ ظالموں کو پہنچتا ہے،  موت کے بعد عالم برزخ میں بھی اس سے آدمی دو چار ہوتا ہے،اور پھر روز حشر سے تو اس کا ایک سلسلہ شروع ہو جائے گا جو پھر کہیں جا کر ختم نہ ہو گا۔

۷: یعنی یہ کوئی ہوائی باتیں نہیں ہیں جو اس قرآن میں کی جا رہی ہیں، اور نہ یہ کسی انسان کے قیاس ورائے پر مبنی ہیں، بلکہ انہیں ایک حکیم و علیم ذات القا کر رہی ہے جو حکمت و دانائی اور علم و دانش میں کامل ہے،  جسے اپنی خلق کے مصالح اور ان کے ماضی و حال اور مستقبل کا پورا علم ہے،  اور جس کی حکمت بندوں کی اصلاح و ہدایت کے لیے بہترین تدابیر اختیار کر تی ہے۔

۸: یہ اُس وقت کا قصہ ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مَدْیَن میں آٹھ دس سال گزارنے ک بعد اپنے اہل  و عیال کو ساتھ لے کر کوئی ٹھکانہ تلاش کرنے جا رہے تھے۔ مدین کا علاقہ خلیج عَقَبہ کے کنارے عرب اور جزیرہ نمائے سینا کے سوا حل پر واقع تھا (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم الشُعراء، حاشیہ ۱۱۵)۔ وہاں سے چل کر حضرت موسیٰ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی حصے میں اُس مقام پر پہنچے جواب کوہِ سینا اور جبلِ موسیٰ کہلاتا ہے اور نزولِ قرآن کے زمانہ میں طُور کے نام سے مشہور تھا۔ اسی کے دامن میں وہ واقعہ پیش آیا جس کا یہاں ذکر ہو رہا ہے۔

۹: فحوائے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رات کا وقت اور جاڑے کا موسم تھا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک اجنبی علاقے سے گزر رہے تھے جس سے انہیں کچھ زیادہ واقفیت نہ تھی۔ اس لیے انہوں نے اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ میں جا کر معلوم کرتا ہوں یہ کونسی بستی ہے جہاں آگ  جل رہی ہے،  آگے کدھر کدھر راستے جاتے ہیں اور کون کون سی بستیاں قریب ہیں۔ تاہم اگر وہ بھی ہماری ہی طرح کوئی چلتے پھرتے مسافر ہوئے جن سے کوئی معلومات حاصل نہ ہو سکیں تو کم از کم میں کچھ انگارے ہی لے آؤں گا کہ تم لوگ آگ جلا کر کچھ گرمی حاصل کر سکو۔  یہ مقام جہاں حضرت موسیٰ نے جھاڑی میں آگ لگی ہوئی دیکھی تھی، کوہِ طور کے دامن میں سطح سمندر سے تقریباً ۵ ہزار فیٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں رومی سلطنت کے پہلے عیسائی بادشاہ قُسطَنِطین نے ۳۶۵ ء کے لگ بھگ زمانے میں ٹھیک اُس مقام پر ایک کنیسہ تعمیر کروایا تھا جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ اس کے دو سو برس بعد قیصر حَسٹِینین نے یہاں ایک دَیر  Monastery)) تعمیر کروایا جس کے اندر قسطنطین کے بنائے ہوئے کنیسہ کو بھی شامل کر لیا۔ یہ دیر اور  کنیسہ دونوں آج تک موجود ہیں اور یونانی کلیسا ( Greek Orthodox Church ) کے راہبوں کا ان پر قبضہ ہے۔ میں نے جنوری ۱۹۶۰ء میں اس مقام کی زیارت ی ہے۔ مقابل کے صفحہ پر اس مقام کی کچھ تصاویر ملاحظہ ہوں۔

۱۰: سورۂ قصص میں ہے کہ ندا ایک درخت  سے آ رہی تھی، فِی الْبُقْعَۃِ الْمُبَا رَکَۃِ مِنَ الشَّجَرَۃِ۔ اس سے جو صورت معاملہ سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ وادی کے کنارے ایک خطے میں آگ سی لگی ہوئی تھی مگر نہ کچھ جل رہا تھا نہ کوئی دھواں اٹھ رہا تھا اور اس آگ کے اندر ایک ہرا بھرا درخت  کھڑا تھا جس پر سے یکایک یہ ندا آنی شروع ہوئی۔ یہ ایک عجیب معاملہ ہے جو  انبیاء علیہم السلام کے ساتھ پیش آتا رہا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب پہلی مرتبہ نبوت سے سرفراز کیے گئے تو غارِ حرا ء کی تنہائی میں یکایک ایک فرشتہ آیا اور اس نے اللہ کا پیغام پہنچانا شروع کر دیا۔ حضرت موسیٰ کے ساتھ بھی یہی صورت پیش آئی کہ ایک شخص سفر کرتا ہوا ٹھرا ہے، دُور سے آگ دیکھ کر راستہ پوچھنے یا انگارا چننے کی غرض سے آتا ہے اور یکلخت اللہ رب العالمین کی ہر قیاس و گمان سے بالا ذات اس سے مخاطب ہو جاتی ہے۔ ان مواقع پر درحقیقت ایک ایسی غیر معمولی کیفیت خارج میں بھی اور انبیاء علیم السلام کے نفس میں بھی موجود ہوتی ہے  جس کی بنا پر انہیں اس امر کا یقین حاصل ہو جاتا ہے کہ یہ کسی جِن یا شیطان یا خود ان کے اپنے ذہن کا کوئی کرشمہ نہیں ہے،  نہ اُن کے حواس کوئی دھوکا کھار ہے ہیں، بلکہ فی الواقع یہ خداوندِ عالم یا اس کا فرشتہ ہی ہے جو ان سے ہم کلام ہے۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو،  النجم، حاشیہ۱۰)۔

۱۱: اس موقع پر ’’سبحان اللہ ‘‘ ارشاد فرمانے سے دراصل حضرت موسیٰ کو اس بات پر متنبہ کر نا مقصود تھا کہ  یہ معاملہ کمال درجہ تنزیہ کے ساتھ پیش آ رہا ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ اللہ رب العالمین اس درخت پر بیٹھا ہو،  یا اس میں حلول کر آیا ہو، یا اس کا نورِ مطلق تمہاری بینائی کے حدود میں سما گیا ہو، یا کوئی زبان کسی منہ میں حرکت کر کے یہاں کلام کر رہی ہو، بلکہ ان تمام محدودیتوں  سے  پاک اور منزہ ہوتے ہوئے وہ بذاتِ خود تم سے مخاطب ہے۔

۱۲: سورہ اعراف اور سورہ شعراء میں اس کے لیے ثُعبان (اژدہے) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور یہاں اسے ’’جان ‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جو چھوٹے سانپ کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسامت میں وہ اژدہا تھا، مگر اس کی حرکت کی تیزی ایک چھوٹے سانپ جیسی تھی۔ اسی مفہوم کو سورہ طٰہٰ میں حَیَّۃٌ تَسْعٰی (دوڑتے ہوئے سانپ) کے الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔

۱۳: یعنی میرے حضور اس امر کی کوئی خطرہ نہیں ہے کہ رسول کو کوئی گزند پہنچے۔ رسالت کے منصبِ عظیم پر مقرر کرنے کے لیے جب میں کسی کو اپنی پیشی میں بالتا ہوں  تو اس کی حفاظت کا خود ذمہ دار ہوتا ہوں۔ اس لیے خواہ کیسا ہی کوئی غیر معمولی معاملہ پیش آئے رسول کو بے خوف اور مطمئن رہنا چاہیے کہ اُس کے لیے وہ کسی طرح ضرر رساں نہ ہو گا۔

۱۴: یہ استثناء متصل بھی ہو سکتا ہے اور منقطع بھی۔ متصل ہونے کی صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ خوف کی معقول وجہ اگر ہو سکتی ہے تو یہ کہ رسول سے کوئی قصور سرزد ہوا ہو۔ اور منقطع ہونے کی صورت میں مراد یہ ہو گی کے میرے حضور تو کسی کو بھی کوئی خطرہ نہیں ہے جب تک کہ آدمی قصور وار نہ ہو۔

۱۵: یعنی قصور کرنے والا بھی اگر توبہ کر کے اپنے رویے کی اصلاح کر لے اور بُرے عمل کے بجائے نیک عمل کرنے لگے تو میرے ہاں اس کے لیے عفو و درگزر کا دروازہ کھلا ہے۔ اس موقع پر یہ بات ارشاد فرمانے سے مقصود ایک تنبیہ بھی تھی اور بشارت بھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نادانستگی میں ایک قبطی کو قتل کر کے مصر سے نکلتے تھے۔ یہ ایک قصور تھا جس کی طرف لطیف اشارہ فرما دیا گیا۔ پھر جس وقت یہ قصور اچانک بلا ارادہ ان سے سر زد ہوا تھا اس کے بعد فوراً ہی انہوں نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لی تھی کہ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِی۔ (اے پروردگار،  میں اپنے  نفس پر ظلم کر گزرا مجھے معاف فرما دے) اور اللہ تعالیٰ نے اسی وقت انہیں معاف فرما دیا تھا، فَغَفَرَلَہٗ ( القصص، آیت۱۶) اب یہاں اُسی معافی کی بشارت انہیں دی گئی ہے۔ گویا مطلب اس تقریر کا یہ ہوا کہ اے موسیٰ، میرے حضور تمہارے لیے ڈرنے کی ایک وجہ تو ضرور ہو سکتی تھی، کیونکہ تم سے ایک قصور سر زد ہو گیا تھا، لیکن جب تم اس برائی کو بھلائی سے بدل چکے ہو تو  میرے پاس تمہارے لیے اب مغفرت اور رحمت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کوئی سزا دینے کے لیے اس وقت میں نے تمہیں نہیں بلایا ہے بلکہ بڑے بڑے معجزے دے کر میں تمہیں ایک کارِ عظیم پر بھیجنے والا ہوں۔

۱۶: سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا گیا ہے کہ موسیٰ کو ہم نے صریح طور پر نظر آنے والی نو نشانیاں (تِسْعَ اٰیٰتٍ مبَیِّنٰتٍ) عطا فرمائی تھیں۔ اور سورہ اعراف میں ان کی تفصیل یہ بیان کی گئی ہے :(۱)لاٹھی جو اژدھا بن جاتی تھی(۲) ہاتھ جو بغل سے سورج کی طرح چمکتا ہوا نکلتا تھا۔ (۳)جا دو گروں کو بر سرِ عام شکست دینا۔(۴) حضرت موسیٰ کے پیشگی اعلان کے مطابق سارے ملک میں قحط۔(۵) طوفان(۶)ٹڈی دل۔(۷) تمام غَلّے کے ذخیروں میں سُرسُریاں اور انسان و حیوان میں جوئیں۔(۸) مینڈکوں کا طوفان۔(۹)اور خون۔(تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الزخرف، حاشیہ ۴۳)۔

۱۷: قرآن میں دوسرے مقامات پر بیان کیا گیا ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام کے اعلان کے مطابق کوئی بلائے عام مصر پر نازل ہوتی تھی تو فرعون حضرت موسیٰ سے کہتا تھا کہ تم اپنے خدا سے دعا کر کے اس بلا کو ٹلوا دو، پھر جو کچھ تم کہتے ہو وہ ہم مان لیں گے۔ مگر جب وہ بلا ٹل جاتی تھی تو فرعون اپنی اُسی ہٹ دھرمی پر تُل جاتا تھا (الاعراف، آیت ۱۳۴۔ الزخرف، آیت۴۹۔۵۰)۔ بائیبل میں بھی اس کا ذکر موجود ہے (خروج، باب ۸ تا ۱۰)۔ اور ویسے بھی یہ بات کسی طرح تصوّر میں نہ آ سکتی تھی کہ ایک پورے ملک پر قحط اور طوفان اور ٹڈی دلوں کا ٹوٹ پڑنا اور مینڈکوں اور سُرسُریوں کے بے شمار لشکروں کا اُمنڈ آنا کسی جادو کا کرشمہ ہو سکتا ہے۔یہ ایسے کھُلے ہوئے معجزے تھے جن کو دیکھ کر ایک بیوقوف سے بیوقوف آدمی بھی یہ سمجھ سکتا تھا کہ پیغمبر کے کہنے پر ایسی ملک گیر بلاؤں کا آنا اور پھر اس کے کہنے پر ان کا دَور ہو جانا صرف اللہ ربّ العالمین ہی کے تصرف کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ اسی بنا پر حضرت موسیٰ نے فرعون سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ ھٰٓؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ، ’’تو خوب جان چکا ہے کہ یہ نشانیاں مالک زمین و آسمان کے سوا کسی اور نے نازل نہیں کی ہیں‘‘ (بنی اسرائیل، آیت ۱۰۲)۔ لیکن جس وجہ سے فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں نے جان بوجھ کر ان کا انکار کیا وہ یہ تھی کہ اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَ یْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمھُُمَا لَنَا عَا بِدُوْنَ، ’’کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں کی بات مان لیں حالانکہ ان کی قوم ہماری غلام ہے‘‘ ؟ (المومنون، آیت۴۷)۔

 

ترجمہ

 

(دُوسری طرف)ہم نے داؤدؑ و سلیمانؑ کو علم عطا کیا ۱۸ اور اُنہوں نے کہا کہ شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہم کو اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا کی۔ ۱۹  اور داؤدؑ کا وارث سلیمانؑ ہوا ۲۰۔  اور اس نے کہا ’’لوگو، ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں ۲۱  اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں دی گئی ہیں ۲۲ ، بے شک یہ (اللہ کا)نمایاں فضل ہے۔‘‘  سلیمانؑ کے لیے جن اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے تھے ۲۳  اور وہ پُورے ضبط میں رکھے جاتے تھے۔ (ایک مرتبہ وہ ان کے ساتھ کُوچ کر رہا تھا)یہاں تک کہ جب یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا ’’ اے چیونٹیو، اپنے بلوں میں گھُس جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمانؑ اور اس کے لشکر تمہیں کُچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘  ۲۴  سلیمانؑ اس کی بات پر مُسکراتے ہوئے ہنس پڑا اور بولا۔۔۔۔ ’’اے میرے ربّ، مجھے قابو میں رکھ ۲۵  کہ میں تیرے احسان کا شکر ادا کرتا رہوں جو تُو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور ایسا عملِ صالح کروں جو تجھے پسند آئے اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے صالح بندوں میں داخل کر۔‘‘  ۲۶

(ایک اور موقع پر)سلیمانؑ نے پرندوں کا جائزہ لیا ۲۷  اور کہا ’’کیا بات ہے کہ میں فلاں ہُد ہُد کو نہیں دیکھ رہا ہوں۔ کیا وہ کہیں غائب ہو گیا ہے؟ میں اسے سخت سزا دوں گا، یا ذبح کر دوں گا، ورنہ اسے میرے سامنے معقول وجہ پیش کرنی ہو گی۔ ۲۸  ‘‘  کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ اُس نے آ کر کہا ’’ میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے عِلم میں نہیں ہیں۔ میں سَبا کے متعلق یقینی اطلاع لے کر آیا ہوں۔ ۲۹  میں نے وہاں ایک عورت دیکھی جو اس قوم کی حکمراں ہے۔ اُس کو ہر طرح کا سرو سامان بخشا گیا ہے اور اُس کا تخت بڑا عظیم الشان ہے۔ میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سُورج کے آگے سجدہ کرتی ہے ۳۰ ‘‘۔۔۔۔  ۳۱ شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے ۳۲  اور انہیں شاہراہ سے روک دیا، اس وجہ سے وہ یہ سیدھا راستہ نہیں پاتے کہ اُس خدا کو سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا  ہے ۳۳  اور سب کچھ جانتا ہے جسے تم لوگ چھُپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو۔  ۳۴ اللہ کہ جس کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں، جو عرشِ عظیم کا مالک ہے۔ ۳۵     السجدة

سلیمانؑ نے کہا ’’ابھی ہم دیکھے لیتے ہیں کہ تُو نے سچ کہا ہے یا تُو جھُوٹ بولنے والوں میں سے ہے۔ میرا یہ خط لے جا اور اسے ان لوگوں کی طرف ڈال دے، پھر الگ ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔‘‘  ۳۶

ملکہ بولی ’’اے اہلِ دربار، میری طرف ایک بڑا اہم خط پھینکا گیا ہے۔ وہ سلیمان ؑ کی جانب سے ہے اور اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے شروع کیا گیا ہے۔ مضمون یہ ہے کہ ’’ میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور مسلم ہو کر میرے پاس حاضر ہو جاؤ۔‘‘  ۳۷   ؏۲

 

تفسیر

 

۱۸: یعنی حقیقت کا علم۔ اِ  س بات کا علم کہ درحقیقت ان کے پا س اپنا کچھ بھی نہیں ہے،  جو کچھ ہے اللہ کا عطیہ ہے،  اور اُس پر تصرف کرنے کے جو اختیارات بھی ان کو بخشے گئے ہیں انہیں اللہ ہی کی مرضی کے مطابق استعمال کیا جانا چاہیے، اور اس اختیار کے صحیح و غلط استعمال پر انہیں مالک حقیق کے حضور جواب دہی کرنے ہے۔ یہ علم اُس جہالت کی ضد ہے جس میں فرعون مبتلا تھا۔ اُس جہالت نے جو سیرت تعمیر کی تھی  اس کا نمونہ اوپر مذکور ہوا۔ اب بتایا جاتا ہے کہ یہ علم کیسی سیرت کا نمونہ تیار کرتا ہے۔ بادشاہی، دولت، حشمت، طاقت، دونوں طرف یکساں ہے۔ فرعون کو بھی یہ ملی تھی،  اور داؤد و سلیمان علیہما السلام کو بھی۔ لیکن جہالت اور علم کے فرق نے ان کے درمیان کتنا عظیم الشان فرق پیدا کر دیا۔

۱۹: یعنی دوسرے مومن بندے بھی ایسے موجود تھے جن کو خلافت عطا کی جا سکتی تھی۔ لیکن یہ ہماری کوئی ذاتی خوبی نہیں بلکہ محض اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس مملکت کی فرمانروائی کے لیے منتخب فرمایا۔

۲۰: وراثت سے مراد مال و جائداد کی وراثت نہیں بلکہ نبوت اور خلافت میں حضرت داؤدؑ کی جانشینی ہے۔ مال و جائداد کی میراث اگر بالفرض منتقل ہوئی بھی ہو تو وہ تنہا حضرت سلیمان ہی کی طرف منتقل نہیں ہو سکتی تھی،  کیونکہ حضرت داؤد کی دوسری اولاد بھی موجود تھی۔ اس لیے اس آیت کو اُس حدیث کی تردید میں پیش نہیں کیا جا سکتا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مروی ہے کہ لا نورث ما ترکنا صدقۃ، ’’ہم انبیاء کی وراثت تقسیم  نہیں ہوتی، جو کچھ ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے ‘‘ (بخاری، کتاب فرض الخمس) اور ان النبی لا یورث انما میراثہ فی فقراء المسلمین و المساکین، ’’نبی کا وارث کوئی نہیں ہوتا، جو کچھ وہ چھوڑتا ہے  وہ مسلمانوں کے فقراء اور مساکین میں تقسیم کیا جاتا ہے‘‘ (مسند احمد، مرویات ابو بکر صدیقؓ، حدیث نمبر۶۰،نمبر۷۸)   حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ ان کا اصل عبرانی نام سولومون تھا جو ’’سلیم‘‘  کا ہم معنی ہے۔ ۹۶۵؁ قبل مسیح میں حضرت داؤد کے جانشین ہوئے اور ۹۶۶؁ ق م تک تقریباً ۴۰ سال فرمانروا رہے۔ ان کے حالات کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الحجر، حاشیہ ۷۔جلد سوم، الانبیاء، حواشی۷۴۔۷۵۔ ان کے حدودِ سلطنت کے متعلق ہمارے مفسرین نے بہت مبالغہ سے کام لیا ہے۔ وہ انہیں دنیا کے بہت بڑے حصے کا حکمراں بتاتے ہیں، حالانکہ ان کی مملکت صرف موجودہ فلسطین و شرقِ اردن پر مشتمل تھی اور شام کا  ایک حصہ بھی اس میں شامل تھا۔ (ملاحظہ ہو نقشۂ ملک سلیمان، تفہیم القرآن جلد دوم ص۵۹۸)۔

۲۱: بائیبل اس ذکر سے خالی ہے کہ حضرت سلیمان کو پرندوں اور جانوروں کی بولیوں کا علم دیا گیا تھا۔ لیکن بنی اسرائیل کی روایات میں اس کی صراحت موجود ہے(جیوش انسائکلو پیڈیا۔ جلد ۱۱۔ص۴۳۹)۔

۲۲: یعنی اللہ کا دیا ہمارے پاس سب کچھ موجود ہے۔ اس بات کو لفظی معنوں میں لینا درست نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد اللہ کے بخشے ہوئے مال و دولت اور سازو سامان کی کثرت ہے۔ یہ بات حضرت سلیمانؑ نے فخریہ نہیں فرمائی تھی بلکہ اللہ کے فضل اور اس کی عطا و بخشش کا شکریہ ادا کرنا مقصود تھا۔

۲۳: بائیبل میں اس کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے کہ جن حضرت سلیمانؑ کے لشکروں میں شامل تھے اور وہ ان سے خدمت لیتے تھے۔ لیکن تَلمود اور ربیوں کی روایات میں اس کا تفصیلی ذکر ملتا ہے (جیوش انسائکلو پیڈیا جلد ۱۱ صفحہ ۴۴۰) موجودہ زمانہ کے بعض لوگوں نے یہ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے کہ جِن اور طَیر سے مراد جِنّات اور پرندے نہیں ہیں بلکہ انسان ہی ہیں جو حضرت سلیمان ؑ کے لشکر میں مختلف کام کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ جِن سے مراد پہاڑی قبائل کے وہ لوگ ہیں جنہیں حضرت سلیمان ؑ نے مسخر کیا تھا اور وہ ان کے ہاں حیرت انگیز طاقت اور محنت کے کام کرتے تھے۔ اور طیر سے مراد گھوڑ سواروں کے دستے ہیں جو پیدل دستوں کی بہ نسبت بہت زیادہ تیزی سے نقل و حرکت کرتے تھے۔ لیکن یہ قرآن مجدی میں بے جا تاویل کی بد ترین مثالیں ہیں۔ قرآن یہاں جِن، انس اور طَیر، تین الگ الگ اقسام کے لشکر بیان کر رہا ہے اور تینوں پر الف ل تعریف جنس کے لیے لایا گیا ہے۔ اس لیے لامحالہ الجن اور لطیر، الانس میں شامل نہیں ہو سکتے بلکہ وہ اس سے مختلف دو الگ  اجناس ہی ہو سکتی ہیں۔ علاوہ بریں کوئی شخص جو عربی زبان سے ذرہ برابر بھی واقفیت رکھتا ہو، یہ تصور نہیں کر سکتا کہ اس زبان سے محض لفظ الجِن بول کر انسانوں کا کوئی گروہ یا محض الطیر بول کر سواروں کا رسالہ کبھی مراد لیا جا سکتا ہے اور کوئی عرب ان الفاظ کو سن کر ان کے یہ معنی سمجھ سکتا ہے۔ محض محاورے میں کسی انسان کو اس کے فوق العادۃ کام کی وجہ سے جِن، یا کسی عورت کو اس کے حسن کی وجہ سے پری، اور کسی تیز رفتار آدمی کو پرندہ کہہ دینا  یہ معنی نہیں رکھتا کہ اب جِن کے معنی طاقت ور آدمی اور پری کے معنی حسین عورت اور پرندے کے معنی تیز رفتار انسان ہی کے ہو جائیں۔ ان الفاظ کے یہ معنی تو مجاز ی ہیں نہ کہ حقیقی، اور کسی کلام میں کسی لفظ کو حقیقی معنی چھوڑ کر مجازی معنوں میں صرف اُسی وقت استعمال کیا جا سکتا ہے، اور سننے والے بھی ان کو مجاز ی معنوں میں صرف اُسی وقت لے سکتے ہیں جب کہ آس پاس کوئی واضح قرینہ ایسا موجود ہو جو اس کے مجاز ہونے پر دلالت کر تا ہو۔ یہاں آخر کون سا  قرینہ پایا جاتا ہے جس سے یہ گمان کیا جا سکے کہ جِن اور طیر کے الفاظ اپنے حقیقی لغوی معنوں میں نہیں بلکہ مجازی معنوں میں استعمال کیے گئے ہیں ؟ بلکہ آگے ان دونوں گروہوں کے ایک ایک فرد کا جو حال اور کام بیان کیا گیا ہے وہ تو اس تاویل کے بالکل خلاف معنی پر صریح دلالت کر رہا ہے۔ کسی شخص کا دل اگر قرآن کی بات پر یقین نہ کرنا چاہتا ہو تو اسے صاف کہنا چاہیے کہ میں اس بات کو نہیں مانتا۔ لیکن یہ بڑی اخلاقی بزدلی اور علمی خیانت ہے کہ آدمی قرآن کے صاف صاف الفاظ کو توڑ مروڑ کر اپنے من مانے معنی پر ڈھالے اور یہ ظاہر کرے کہ وہ قرآن کے بیان کو مانتا ہے، حالانکہ دراصل قرآن نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ اسے نہیں بلکہ خود اپنے زبردستی گھڑے ہوئے مفہوم کو مانتا ہے۔

۲۴: اس آیت کو بھی  آج کل کے بعض مفسرین نے تاویل کے خراو پر چڑھایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وادی النمل سے مراد چیونٹیوں  کی وادی نہیں ہے بلکہ یہ ایک وادی کا نام ہے جو شام کے علاقے میں تھی اور نملۃ کے معنی ایک چیونٹی کے نہیں ہیں  بلکہ یہ ایک قبیلہ کا نام ہے۔ اس طرح وہ آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ ’’جب حضرت سلیمانؑ وادی النمل میں پہنچے تو ایک نملی نے کہا کہ اے قبیلہ نمل کے  لوگو…..‘‘۔ لیکن یہ بھی ایسی تاویل ہے جس کا ساتھ قرآن کے الفاظ نہیں دیتے۔ اگر بالفرض وادی النمل کو اُس وادی کا نام مان لیا جائے،  اور یہ بھی مان لیا جائے کہ وہاں بنی النمل نام کا کوئی قبیلہ رہتا تھا، تب بھی یہ بات عربی زبان کے استعمالات کے بالکل خلاف ہے کہ قبیلہ نمل کے ایک فرد کو نملہ کیا جائے۔ اگرچہ جانوروں کے نام پر عرب کے بہت سے قبائل کے نام ہیں، مثلاً کلب، اسد وغیرہ۔ لیکن عرب قبیلہ کلب کے کسی فرد کے متعلق قال کلب( ایک کتے نے یہ کہا) یا قبیلہ اسد کے کسی شخص کے متعلق قَالَ اَسَدٌ ( ایک شیر نے کہا) ہر گز نہیں بولے گا۔ اس لیے بنی النمل کے ایک فرد کے متعلق یہ کہنا کہ قَالَتْ نَمْلَۃٌ، ( ایک چیونٹی یہ بولی) قطعاً عربی  محاورہ و استعمال کے خلاف ہے۔ پھر قبیلہ نمل کے ایک فرد کا بنی النمل کو پکار کر یہ کہنا کہ ’’اے نمیلو، اپنے گھروں میں گھُس جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان کے  لشکر تم کو کچل ڈالیں  اور انہیں خبر بھی نہ ہو‘‘ بالکل بے معنی ہے۔ انسانوں کے کسی گروہ کو انسانوں کا کوئی لشکر بے خبری میں  نہیں کچلا کرتا۔ اگر وہ اُن پر حملے کی نیت سے آیا ہو تو اُن کا اپنے گھروں میں گھس جانا لا حاصل ہے۔ حملہ آور اُن کے گھروں میں گھس کا انہیں اور زیادہ اچھی طرح کچلیں گے۔ اور اگر وہ محض کوچ کرتا ہوا گزر رہا ہو تو اس کے لیے بس راستہ صاف چھوڑ دینا کافی ہے۔ کوچ کرنے والوں کی لپیٹ میں آ کر انسانوں کو نقصان تو پہنچ سکتا ہے،  مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ چلتے ہوئے انسان بے خبری میں انسانوں کو کچل ڈالیں۔لہذا اگر بنی النمل کو ئی انسانی  قبیلہ ہوتا اور اس کا کوئی فرد اپنے قبیلے کے لوگوں کو خبر دار کر نا چاہتا تو حملے کے خطرے کی صورت میں وہ کہتا کہ ’’اے نمیلو، راستہ سے ہٹ جاؤ تا کہ تم میں  سے کوئی شخص سلیمانؑ کے لشکروں کی جھپیٹ میں نہ آ جائے‘‘۔  یہ تو وہ غلطی ہے جو اس تاویل میں عربی زبان اور مضمون عبارت کے اعتبار سے ہے۔ رہی یہ بات کہ وادی النم دراصل اس وادی کا نام تھا، اور وہاں بنی النمل نامی کوئی قبیلہ رہتا تھا، یہ محض ایک مفروضہ ہے جس کے لیے کوئی علمی ثبوت موجود نہیں ہے۔ جن لوگوں نے اس وادی کا نام قرار دیا ہے انہوں نے خو د یہ تصریح کی ہے کہ اسے چیونٹیوں کی کثرت کے باعث یہ نام دیا گیا تھا۔ قَتَادہ اور مُقاتل کہتے ہیں کہ واد با رض الشامِ کثیر النمل ’’ وہ ایک وادی ہے سرزمینِ شام میں جہاں چیونٹیاں بہت ہیں‘‘۔ لیکن تاریخ و جغرافیہ کی کسی کتاب میں اور آثار قدیمہ کی کسی تحقیقات میں یہ مذکور نہیں ہے کہ اس وادی میں بنی النمل نامی کوئی قبیلہ بھی رہتا تھا۔ یہ صرف ایک من گھڑت ہے جو اپنی تاویل کی گاڑی چلانے کے وضع کر لی گئی ہے۔ بنی اسرائیل کی روایات میں بھی یہ قصہ پایا جاتا ہے۔ مگر اس کا آخری حصہ  قرآن کے خلاف ہے اور حضرت سلیمانؑ کی شان کے خلاف بھی ہے۔ اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ جب ایک وادی سے گزر رہے تھے جس میں چیونٹیاں بہت تھیں تو انہوں نے سنا کہ ایک چیونٹی پکار کر دوسری چیونٹیوں سے کہہ رہی ہے کہ ’’اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ ورنہ سلیمانؑ کے لشکر تمہیں کچل ڈالیں گے‘‘۔ اس پر حضرت سلیمانؑ نے اس چیونٹی کے سامنے بڑے تکبر کا اظہار کیا اور جواب میں اس چیونٹی نے ان سے کہا کہ تمہاری حقیقت کیا ہے،  ایک حقیر بوند سے تو تم پیدا ہوئے ہو۔ یہ سن کر حضرت سلیمانؑ شرمندہ ہو گئے(جیوش انسائکلو پیڈیا، ج۱۱، ص۴۴۰)۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن کس طرح بنی اسرائیل کی غلط روایات کی تصحیح کرتا  ہے  اور ان گندگیوں کو صاف کرتا ہے جو انہوں نے خود اپنے پیغمبروں کی سیرتوں پر ڈال دی تھیں۔ اِ ن روایات کے متعلق مغربی مستشرقین بے شرمی کے ساتھ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن نے سب کچھ ان سے سرقہ کر لیا ہے۔ عقلی حیثیت سے یہ بات کچھ بھی بعید نہیں ہے کہ ایک چیونٹی اپنی جنس کے افراد کو کسی آتے ہوئے خطرے سے خبر دار کرے اور بلوں میں گھس جانے کے لیے کہے۔ رہی یہ بات کہ حضرت سلیمانؑ نے اس کی بات کیسے سُن لی، تو جس شخص کے حواس کلامِ وحی جیسی لطیف چیز کا ادراک کر سکتے  ہوں، اس کے لیے چیونٹی کے کلام جیسی کثیف (Crude ) چیز کا ادراک کر لینا کوئی بڑی مشکل بات نہیں ہے۔

۲۵: اصل الفاظ ہیں رَبِّ اَوْ زِعْنِیْ۔ وزع کے اصل معنی عرب  زبان میں روکنے کے ہیں۔ اس موقع پر حضرت سلیمانؑ کا یہ کہنا کہ اَوْزِعْنِیْ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ ( مجھے روک کہ میں تیرے احسان کا شکر ادا کروں) ہمارے نزدیک دراصل یہ معنی دیتا ہے کہ اے میرے رب جو عظیم الشان قوتیں اور قابلیتیں تو نے مجھے دی ہیں وہ ایسی ہیں کہ اگر  میں ذرا سی غفلت میں بھی مبتلا ہو جاؤں تو حدِّ بندگی سے خارج ہو کر اپنی کبریائی کے خبط میں نہ معلوم کہاں سے کہاں نکل جاؤں۔ اس لیے اے میرے پروردگار، تو مجھے قابو میں رکھ تا کہ میں کافرِ نعمت بننے کے بجائے شکرِ نعمت پر قائم رہوں۔

۲۶: صالح بندوں میں داخل کرنے سے مراد غالباً یہ ہے کہ آخرت میں میرا انجام صالح بندوں کے ساتھ ہو اور  میں ان کے ساتھ جنت میں داخل ہوں۔ اس لیے کہ آدمی جب عمل صالح کر ے گا تو صالح تو وہ آپ سے آپ  ہو گا ہی، البتہ آخرت میں کسی کا جنت میں داخل ہونا محض اس کے عمل صالح کے بل بوتے پر نہیں ہو سکتا بلکہ یہ اللہ کی رحمت پر موقوف ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ لن ید خل احد کم الجنۃ عملہ ’’تم میں سے کسی کو بی محض اس کا عمل جنت میں نہیں  پہنچا دے گا‘‘۔ غرض کیا گیا کہ ولا انت یا رسُول اللہ ’’کیا حضورؐ کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے‘‘ ؟فرمایا ولا انا الا ان یتغمد فی اللہ تعالیٰ برحمتہ ’’ ہاں، میں بھی محض اپنے عمل کے بل بوتے پر جنت میں نہ چلا جاؤں گا جب تک  اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے نہ ڈھانک لے‘‘۔  حضرت سلیمانؑ کی یہ دعا اس موقع پر بالک بے محل ہو جاتی ہے اگر النمل سے مراد انسانوں کا کوئی قبیلہ لے لیا جائے اور نملۃ کے معنی قبیلہ نمل کے ایک فرد کے لے لیے جائیں۔ ایک بادشاہ کے لشکر جرار سے ڈر کر کسی انسانی قبیلہ کے ایک فرد کا اپنے قبیلے کو خطرہ سے خبر دار کرنا آخر کونسی ایسی غیر معمولی بات ہے کہ وہ جلیل القدر بادشاہ اس پر خدا سے یہ دعا کرنے لگے۔ البتہ ایک شخص کو اتنی زبردست قوتِ ادراک حاصل ہونا کہ وہ دور سے ایک چیونٹی کی آواز بھی سُن لے اور اس کا مطلب بھی سمجھ جائے ضرور ایسی بات ہے جس سے آدمی کے غرورِ نفس میں مبتلا ہو جانے کا خطرہ ہو۔ اسی صورت میں حضرت سلیمانؑ کی  یہ دعا بر محل ہو سکتی ہے۔

۲۷: یعنی اُن پرندوں کا جن کے متعلق اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ جِن اور انس کی طرح ان کے لشکر بھی حضرت سلیمان کے عساکر میں شامل تھے۔ ممکن ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام ان سے خبر رسائی،  شکار اور اسی طرح کے دوسرے کام لیتے ہوں۔

۲۸: موجودہ زمانے  کے بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہُد ہُد سے مراد وہ پرندہ نہیں ہے جو عربی اور اُردو زبان میں اس نام سے معروف ہے بلکہ یہ ایک آدمی کا نام ہے جو حضرت سلیمانؑ کی فوج میں ایک افسر تھا۔ اس دعوے کی بنیاد یہ نہیں ہے کہ تاریخ میں کہیں ہُد ہُد نام کا کوئی شخص اِن حضرات کو سلیمان علیہ السلام کی حکومت کے افسروں کی فہرست میں مل گیا ہے، بلکہ یہ عمارت صرف اس استدلال پر کھڑی کی گئی ہے کہ جانوروں کے ناموں پر انسانوں کے نام رکھنے کا رواج تمام زبانوں کی طرح عربی زبان میں بھی پایا جاتا ہے اور عبرانی میں بھی تھا۔ نیز یہ کہ آگے اس ہُد ہُد کا جو کام بیان کیا گیا ہے اور حضرت سلیمانؑ سے اس کی گفتگو کا جو ذکر ہے وہ ان کے نزدیک صرف ایک انسان ہی کر سکتا ہے۔ لیکن قرآن مجید کے سیاقِ کلام کو آدمی دیکھے تو صاف معلوم ہوا ہے کہ یہ قرآن کی تفسیر نہیں بلکہ اس کی تحریف، اور اس سے بھی کچھ پڑھ کر اس کی تغلیظ ہے۔ آخر قرآن کو انسان کی عقل و  خرد سے کیا دشمنی ہے کہ وہ کہنا تو یہ چاہتا ہو کہ حضرت سلیمان کے رسالے یا پلٹن یا محکمہ خبر رسانی کا ایک آدمی غائب تھا جسے انہوں نے تلاش کیا اور اس نے حاضر ہو کر یہ خبر دی اور اسے حضرت موصوف نے اِس خدمت پر بھیجا،  لیکن اسے وہ مسلسل ایسی چیستان کی زبان میں بیان کرے کہ پڑھنے والا اول سے لے کر آخر تک اسے پرندہ ہی سمجھنے پر مجبور ہو۔ اس سلسلہ میں ذرا قرآن مجید کے بیان کی ترتیب ملاحظہ فرمائیے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ نے اللہ کے اس فضل پر اظہارِ افتنانِ کیا کہ ’’ہمیں منطق الطیر کا علم دیا گیا ہے‘‘۔ اس فقرے میں اوّل تو طیر کا لفظ مطلق ہے جسے ہر عرب اور عربی دان پرندے ہی کے معنی میں لے گا۔ کیونکہ کوئی قرینہ اس  کے استعارہ و مجاز ہونے پر دلالت نہیں کر رہا ہے۔ دوسرے،  اگر طیر سے مراد پرندہ نہیں بلکہ انسانوں کا کوئی گروہ ہو تو اس کے لیے منطق (بولی) کے بجائے لغت یا لسان (یعنی زبان) کا لفظ زیادہ صحیح ہوتا۔ اور پھر کسی شخص کا کسی دوسرے انسانی گروہ کی زبان جاننا کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے کہ وہ خاص طور پر اس کا ذکر کرے۔ آج ہمارے درمیان ہزار ہا آدمی بہت سی غیر زبانوں کے بولنے اور سمجھنے والے موجود ہیں۔ یہ آخر کونسا بڑا کمال ہے جسے اللہ تعالیٰ کا غیر معمولی عطیہ قرار دیا جا سکے۔  اس کے بعد فرمایا گیا کہ ’’سلیمان کے لیے جِن اور انس اور طیر کے لشکر جمع کیے گئے تھے‘‘۔ اس فقرے میں اوّل تو جِن اور انس اور طیر، تین معروف اسمائے جنس استعمال ہوئے ہیں جو تین مختلف اور معلوم اجناس کے لیے عربی زبان میں مستعمل ہیں۔ پھر انہیں مطلق استعمال کیا گیا ہے اور کوئی قرینہ ان میں سے کسی کے استعارہ و مجاز یا تشبیہ ہونے کا موجود نہیں ہے جس سے ایک آدمی لغت کے معروف معنوں کے سوا کسی اور معنی میں انہیں لے۔ پھر انس کا لفظ جِن اور طَیر کے درمیان آیا ہے جو یہ معنی لینے میں صریحاً مانع ہے کہ جِن اور طَیر دراصل انس ہی کی جنس کے دو گروہ تھے۔ یہ معنی مراد ہوتے تو الجن و الطیر من الانس کہا جاتا نہ کہ من الجن و الانس و الطیر۔ آگے چل کر ارشاد ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ طَیر کا جائزہ لے رہے تھے اور ہُدہُد کو غائب دیکھ کر انہوں نے یہ بات فرمائی۔ اگر یہ طَیر انسان تھا اور ہُد ہُد بھی کسی آدمی کا نام ہی تھا تو کم از کم کوئی لفظ تو ایسا کہہ دیا جاتا کہ بے چارہ پڑھنے والا اس کو جانور نہ سمجھ بیٹھتا۔ گروہ کا نام پرندہ اور  اور اس کے ایک فرد کا نام ہُدہُد،  پھر بھی ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم آپ سے آپ  اسے انسان سمجھ لیں گے۔ پھر حضرت سلیمانؑ فرماتے ہیں کہ ہُدہُد یا تو اپنے غائب ہونے کی کوئی معقول وجہ بیان کرے ورنہ میں اسے سخت سزا دوں گا یا ذبح کر دوں گا۔ انسان کو قتل کیا جاتا ہے،  پھانسی دی جاتی ہے،  سزائے موت دی جاتی ہے، ذبح کون کرتا ہے؟ کوئی بڑا ہی سنگدل اور بے درد آدمی جوشِ انتقام میں اندھا ہو چکا ہو تو شاید وہ کسی آدمی کو ذبح بھی کر دے، مگر کیا پیغمبر سے ہم یہ توقع کریں کہ وہ اپنی فوج کے ایک آدمی کو محض غیر حاضر(Deserter ) ہونے کے جرم میں ذبح کر دینے کا اعلان کر ے گا، اور اللہ میاں سے یہ حُسنِ ظن رکھیں کہ وہ ایسی سنگین بات کا ذکر کر کے اس پر مذمت کا ایک لفظ بھی نہ فرمائیں گے؟   کچھ دور آگے چل کر ابھی آپ دیکھیں گے کہ حضرت سلیمانؑ اسی ہُد ہُد کو ملکہ سبا کے نام خط دے کر بھیجتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اے ان کی طرف ڈال دے یا پھینک دے (اَلْقِہْ اِلَیْھِمْ)۔ ظاہر ہے کہ یہ ہدایت پرندے کو تو دی جا سکتی ہے لیکن کسی آدمی کو سفیر یا ایلچی یا قاصد بنا کر بھیجنے کی صورت میں یہ انتہائی موزوں ہے۔ کسی کی عقل ہی خبط ہو گئی تو وہ مان لے گا کہ ایک ملک کا بادشاہ دوسرے ملک کی ملکہ کے نام خط دے کر اپنے سفیر کو اس ہدایت کے ساتھ بھیج سکتا ہے کہ اسے لے جا کر اس کے آگے ڈال دے یا اس کی طرف پھینک دے۔ کیا تہذیب و شائستگی کے اُس ابتدائی مرتبے سے بھی  حضرت سلیمان کو  گرا ہوا فرض کر لیا جائے جس کا لحاظ ہم جیسے معمولی لوگ بھی اپنے کسی ہمسائے کے پاس اپنے ملازم کو بھیجتے ہوئے رکھتے ہیں؟ کیا کوئی شریف آدمی اپنے ملازم سے یہ کہہ سکتا ہے کہ میرا یہ خط لے جا کر فلاں صاحب کے آگے پھینک آ؟   یہ تمام قرائن صاف بتا رہے  ہیں کہ یہاں ہُدہُد کا مفہوم وہی ہے جو از روئے لغت اس لفظ کا مفہوم ہے، یعنی یہ کہ وہ انسان نہیں بلکہ ایک پرندہ تھا۔ اب اگر کوئی شخص یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہے کہ  ایک ہُدہُد وہ باتیں کر سکتا ہے جو قرآن اس کی طرف منسوب کر رہا ہے تو اسے صاف صاف کہنا چاہیے کہ میں قرآن کی اس بات کو نہیں مانتا۔ اپنے عدمِ ایمان کو اس پردے میں چھپانا کہ قرآن کے صاف اور صریح الفاظ میں اپنے من مانے معنی بھرے جائیں،  گھٹیا درجے کی منافقت ہے۔

۲۹: سبا جنوبی عرب کی مشہور تجارت پیشہ قوم تھی جس کا دارالحکومت مارِب،  موجودہ یمن کے دار السلطنت صنعاء سے ۵۵ میل بجانب شمال مشرق واقع تھا۔ اس کا زمانہ عروج مَعِین کی سلطنت کے زوال کے بعد تقریباً ۱۱۰۰ ق م سے شروع ہوا اور ایک ہزار سال تک یہ عرب میں اپنی عظمت کے ڈنکے بجاتی رہی۔ پھر ۱۱۵ ق م میں جنوبی عرب کی دوسری مشہور قوم حِمْیَر نے اس کی جگہ لے لی۔ عرب میں یمن اور حضر موت، اور افریقہ میں حبش کے علاقے پر اس کا قبضہ تھا۔ مشرقی افریقہ، ہندوستان، مشرق بعید اور خود عرب کی جتنی تجارت مصر و شام اور یونان و روم کے ساتھ ہوتی تھی وہ زیادہ تر انہی سبا ئیوں کے ہاتھ میں تھی۔ اسی وجہ سے یہ قوم قدیم زمانہ میں اپنی دولت کے لیے نہایت مشہور تھی۔ بلکہ یونانی مورخین تو اسے دنیا کی سب سے زیادہ مالدار قوم کہتے ہیں۔ تجارت کے علاوہ ان کی خوشحالی کا بڑا سبب یہ تھا کہ انہوں نے اپنے ملک میں جگہ جگہ بند باندھ کر ایک بہترین نظامِ آب پاشی قائم کر رکھا تھا جس سے اُن کا پورا علاقہ جنت بنا ہوا تھا۔ اُن کے ملک کی اس غیر معمولی سر سبزی و شادابی کا ذکر یونانی مورخین نے بھی کیا ہے اور سورہ سبا کے دوسرے رکوع میں قرآن مجید بھی اس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ہُدہُد کا یہ بیان کہ ’’میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں‘‘۔ یہ معنی نہیں رکھتا کہ حضرت سلیمانؑ سبا سے بالکل ناواقف تھے۔ ظاہر ہے کہ فلسطین و شام کے جس فرمانروا کی سلطنت بحرِ احمر کے شمال کنارے (خلیج عقبہ) تک پہنچی ہوئی تھی وہ اسی بحر احمر کے جنوبی کنارے(یمن) کی ایک ایسی  قوم سے ناواقف نہ ہو سکتا تھا جو بین الاقوامی تجارت کے ایک اہم حصے پر قابض تھی۔ علاوہ ازیں زَبُور سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ سے بھی پہلے اُن کے والد ماجد حضرت داؤد سبا سے واقف تھے۔ اُن کی دعا کہ یہ  الفاظ زبور میں ہمیں ملتے ہیں:       ’’اے خدا،  بادشاہ(یعنی خود حضرت داؤدؑ) کو اپنے احکام اور شاہزادے(یعنی حضرت سلیمانؑ) کو اپنی صداقت عطا فرما….. تر سیس اور جزیروں کے بادشاہ نذریں  گزار میں گے۔ سبا اور شیبا(یعنی سبا کی یمنی اور حبش شاخوں )کے بادشاہ ہدیے لائیں گے‘‘۔ (۷۲:۱۔۲و۱۰۔۱۱)۔ اس لیے ہُدہُد کے قول کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قوم سبا کے مرکز میں جو چشم دید حالات میں دیکھ کر آیا ہوں وہ ابھی تک آپ کو نہیں پہنچے ہیں۔

۳۰: اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم اس زمانے میں آفتاب پرستی کے مذہب کی پیرو تھی۔ عرب کے قدیم روایات سے بھی اس کا یہی مذہب معلوم ہوتا ہے،  چنانچہ ابن اسحاق علمائے انساب کا یہ قول نقل کرتا ہے کہ سبا کی قوم دراصل ایک مورثِ اعلیٰ کی طرف منسوب ہے جس کا نام عبدِ شمس (بندہ آفتاب یا سورج کا پرستار) اور لقب سبا تھا۔ بنی اسرائیل کی روایات بھی اسی کی تائید کرتی ہیں۔ان میں بیان کیا گیا ہے کہ ہُدہُد جب حضرت سلیمان کا خط لے کر پہنچا تو ملکہ سبا سورج دیوتا کی پرستش کے لیے جا رہی تھی۔ ہُدہُد نے راستے ہی میں وہ خط ملکہ کے سامنے پھینک دیا۔

۳۱: اندازِ کلام سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں سے آخر پیر اگر اف تک کی عبارت ہُدہُد کے کلام کا جُز نہیں ہے بلکہ ’’سورج کے آگے سجدہ کرتی ہے‘‘  پر اس کی بات ختم ہو گئی اور اس کے بعد اب یہ ارشاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر بطور اضافہ ہے۔ اس قیاس کو جو چیز تقویت دیتی ہے وہ یہ فقرہ ہے  وَیَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ، ’’اور وہ سب کچھ جانتا ہے  جسے تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو‘‘۔ ان الفاظ سے یہ گمان غالب ہوتا ہے کہ متکلم ہُدہُد اور مخاطب حضرت سلیمانؑ اور ان کے اہلِ دربار نہیں ہیں، بلکہ متکلم اللہ تعالیٰ اور مخاطب مشرکینِ مکہ ہیں جن کو نصیحت کرنے ہی کے لیے یہ قصہ سنا یا جا رہا ہے۔ مفسیرن میں سے علامہ آلوسی، صاحبِ روح المعانی بھی اسی قیاس کو ترجیح دیتے ہیں۔

۳۲: یعنی دنیا کی دولت کمانے اور اپنی زندگی کو زیادہ سے زیادہ شاندار بنا نے کے جس کام میں وہ منہمک تھے، شیطان نے اُن کو سُجھا دیا کہ بس یہی عقل و فکر  کا ایک مصرف اور قوائے ذہنی و جسمانی کا ایک استعمال ہے،  اِس سے زیادہ کسی چیز پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی حاجت ہی نہیں ہے کہ تم خواہ مخواہ اِس فکر میں پڑو کہ اس ظاہر حیاتِ دنیا کے پیچھے حقیقتِ واقعیہ کیا ہے اور تمہارے مذہب، اخلاق، تہذیب اور نظامِ حیات کی بنیادیں اُس حقیقت سے مطابقت رکھتی ہیں یا سراسر اس کے خلاف جا رہی ہیں۔ شیطان نے ان کو مطمئن کر دیا کہ جب تم دنیا میں دولت اور طاقت اور شان و شوکت کے لحاظ سے بڑھتے  ہی چلے جا رہے ہو تو پھر تمہیں یہ سوچنے کی ضرورت ہی کیا ہے کہ ہمارے یہ عقائد اور فلسفے اور نظر یے ٹھیک ہیں یا نہیں۔ ان کے ٹھیک ہونے کی تو یہی ایک دلیل کافی ہے کہ تم مزے سے دولت کما رہے ہو اور عیش اُڑا رہے ہو۔

۳۳: یعنی جوہر آن اُن چیزوں کو ظہور میں لا رہا ہے جو پیدائش سے پہلے نہ معلوم کہاں پوشیدہ تھیں۔ زمین کے پیٹ سے ہر آن بے شمار نباتات نکال رہا ہے  اور طرح طرح کے معدنیات خارج کر رہا ہے۔ عالم بالا کی فضاؤں سے وہ وہ چیزیں سامنے لا رہا ہے جن کے ظہور میں آنے سے پہلے انسان کا وہم و گمان بھی ان تک نہ پہنچ سکتا تھا۔

۳۴: یعنی اس کا علم ہر چیز پر حاوی ہے۔ اس کے لیے ظاہر اور مخفی سب یکساں ہیں۔ اس پر سب کچھ عیاں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات کو بطورِ نمونہ بیان کرنے سے مقصود دراصل یہ ذہن نشین کرنا ہے کہ اگر وہ لوگ شیطان کے دھوکے میں نہ آتے تو یہ سیدھا راستہ انہیں  صاف نظر آ سکتا تھا کہ آفتاب نامی ایک دبکتا ہوا کُرہ،  جو بیچارہ خود اپنے وجود کا ہوش بھی نہیں رکھتا، کسی عبادت کا مستحق نہیں ہے،  بلکہ صرف وہ ہستی اس کا استحقاق رکھتی ہے جو علیم و خبیر ہے  اور جس کی قدرت ہر لحظہ نئے نئے کرشمے ظہور میں لا رہی ہے۔

۳۵: اس مقام پر سجدہ واجب ہے۔ یہ قرآن کے اُن مقامات  میں سے ہے جہاں سجدہ تلاوت واجب ہونے پر فقہاء کا اتفاق ہے۔ یہاں سجدہ کرنے سے مقصود یہ ہے کہ ایک مومن اپنے آپ کو آفتاب پرستوں سے جدا کرے اور اپنے عمل سے اس بات کا اقرار و اظہار کرے کہ وہ آفتاب کو نہیں  بلکہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا مسجود و معبود مانتا ہے۔

۳۶: یہاں پہنچ کر ہُد ہُد کا کردار ختم ہوتا ہے۔ عقلیت کے مدعی حضرات نے جس بنا پر اسے پرندہ ماننے سے ا نکار کیا ہے وہ یہ ہے کہ انہیں ایک پرندے کا اِس قوتِ مشاہدہ،  قوت تمیز اور قوتِ بیان سے بہرہ در ہونا بعید از امکان معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ملک پر گزرے اور یہ جان لے کہ یہ قوم سبا کا ملک ہے، اس ملک کا نظامِ حکومت یہ ہے، اس کی فرمانروا فلاں عورت ہے،  اس کا مذہب آفتاب پرستی ہے، اس کو خدائے واحد کا پرستار ہونا چاہیے تھا مگر یہ گمراہی میں مبتلا ہے،  اور اپنے یہ سارے مشاہدات وہ آ کر اس وضاحت کے ساتھ حضرت سلیمانؑ سے بیان کر دے۔ انہی وجوہ سے کھلے کھلے ملاحدہ قرآن پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ وہ کَلِیلَہ وِمْنَہ کی سی باتیں کرتا ہے،  اور قرآن کی عقلی تفسیریں کرنے والے اس کے الفاظ کو ان کے صریح معنی سے پھیر کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ حضرت ہُدہُد تو سرے سے کوئی پرندے تھے ہی نہیں۔ لیکن ان دونوں قسم کے حضرات کے پاس آخر وہ کیا سائنٹیفک معلومات ہیں جن کی بنا پر وہ قطعیت کے ساتھ کہہ سکتے ہوں کہ حیوانات اور ان کی مختلف انواع اور پھر ان کے مختلف افراد کی قوتیں اور  استعدادیں کیا ہیں اور کیا نہیں ہیں۔ جن چیزوں کو وہ معلومات سمجھتے ہیں وہ درحقیقت اُس نہایت ناکافی مشاہدے سے اخذ کردہ نتائج ہیں جو محض سر سری طور پر حیوانات کی زندگی اور ان کے برتاؤ کا کیا گیا ہے۔ انسان کو آج تک کسی یقینی ذریعہ سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مختلف قسم کے حیوانات کیا جانتے ہیں، کیا کچھ دیکھتے اور سنتے ہیں، کیا محسوس کرتے ہیں، کیا سوچتے اور سمجھتے ہیں،  اور ان میں سے ہر ایک کا ذہن کس طرح کام کرتا ہے۔ پھر بھی جو تھوڑا بہت مشاہد مختلف انواع حیوانی کی زندگی کا کیا گیا ہے اس سے ان کی نہایت حیرت انگیز استعدادوں کا پتہ چلا ہے۔ اب اگر اللہ تعالیٰ،  جو اِن حیوانات کا خالق ہے،  ہم کو یہ بتاتا ہے کہ اس نے اپنے ایک نبی کو جانوروں کی منطق سمجھنے اور ان سے کلام کرنے کی قابلیت عطا کی تھی، اور اس نبی کے پاس سدھائے جانے اور تربیت پانے سے ایک ہُدہُد اس قابل ہو گیا تھا کہ دوسرے ملکوں سے یہ کچھ مشاہدے کر کے آتا اور پیغمبر کو ان کی  خبر دیتا تھا، تو بجائے اس کے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اِس بیان  کی روشنی میں حیوانات کے متعلق اپنے آج تک کے تھوڑے سے علم اور بہت سے قیاسات پر نظر ثانی کریں، یہ کیا عقلمندی ہے کہ ہم اپنے اس ناکافی علم کو معیار قرار دے کر اللہ تعالیٰ کے اس بیان کی تکذیب یا  اس کی مغوی تحریف کرنے لگیں۔

۳۷: ’’کتابِ مُبین‘‘ کا ایک مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب اپنی تعلیمات اور اپنے احکام اور ہدایات کو بالکل واضح طریقے سے بیان کر تی ہے۔ دوسرا مطلب  یہ کہ وہ حق اور باطل کا فرق نمایاں طریقے سے کھول دیتی ہے۔ اور ایک تیسرا مطلب یہ بھی ہے کہ اس کا کتابِ الہٰی ہونا ظاہر ہے،  جو کوئی اسے آنکھیں کھول کر پڑھے گا اس پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اپنا گھڑا ہوا کلام نہیں ہے۔

 

ترجمہ

 

(خط سُنا کر)ملکہ نے کہا ’’اے سردارانِ قوم، میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو، میں کسی معاملہ کا فیصلہ تمہارے بغیر نہیں کرتی ہوں۔‘‘  ۳۸  اُنہوں نے جواب دیا ’’ ہم طاقت ور اور لڑنے والے لوگ ہیں۔ آگے فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ خود دیکھ لیں کہ آپ کو کیا حکم دینا ہے۔‘‘  ملکہ نے کہا کہ ’’ بادشاہ جب کسی ملک میں گھُس آتے ہیں تو اسے خراب اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں ۳۹۔  یہی کچھ وہ کیا کرتے ہیں ۴۰۔  میں اِن لوگوں کی طرف ایک ہدیہ بھیجتی ہوں،  پھر دیکھتی ہوں کہ میرے ایلچی کیا جواب لے کر پلٹتے ہیں۔‘‘  جب وہ (ملکہ کا سفیر)سلیمانؑ  کے ہاں پہنچا تو اس نے کہا ’’کیا تم لوگ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟ جو کچھ خدا نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیا ہے۔ ۴۱  تمہارا ہدیہ تمہی کو مبارک رہے۔ (اے سفیر)واپس جا اپنے بھیجنے والوں کی طرف۔ ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے ۴۲   جن کا مقابلہ وہ نہ کر سکیں گے اور ہم انہیں ایسی ذلّت کے ساتھ وہاں سے نکالیں گے کہ وہ خوار ہو کر رہ جائیں گے۔‘‘   ۴۳ سلیمانؑ نے کہا ’’اے اہلِ دربار، تم میں سے کون اس کا تخت میرے پاس لاتا ہے قبل اس کے کہ وہ لوگ مطیع ہو کر میرے پاس حاضر ہوں؟ ۴۴  جِنوں میں سے ایک قوی ہیکل نے عرض کیا میں اسے حاضر کر دوں گا قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اُٹھیں۔ ۴۵  میں اس کی طاقت رکھتا ہوں اور امانتدار ہوں۔‘‘  ۴۶  جس شخص کے پاس کتاب کا ایک علم تھا وہ بولا ’’ میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے لائے دیتا ہوں۔ ۴۷ ‘‘  جُونہی کہ سلیمان ؑ نے وہ تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا، وہ پکار اُٹھا ’’یہ میرے ربّ کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کافرِ نعمت بن جاتا ہوں ۴۸۔  اور جو کوئی شکر کرتا ہے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، ورنہ کوئی نا شکری کرے تو میرا ربّ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ بزرگ ہے ۴۹۔ ‘‘   ۵۰ سلیمانؑ نے کہا ’’ انجان طریقے سے اس کا تخت اس کے سامنے رکھ دو، دیکھیں وہ صحیح بات تک پہنچتی ہے یا اُن لوگوں میں سے ہے جو راہِ راست نہیں پاتے۔‘‘  ۵۱  ملکہ جب حاضر ہوئی تو اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے؟ وہ کہنے لگی ’’ یہ تو گویا وہی ہے ۵۲۔  ہم تو پہلے ہی جان گئے تھے اور ہم نے سرِ اطاعت جھُکا دیا تھا۔ ( یا ہم مسلم ہو چکے تھے)۔‘‘  ۵۳  اُس کو (ایمان لانے سے )جس چیز نے روک رکھا تھا وہ اُن معبُودوں کی عبادت تھی جنہیں وہ اللہ کے سوا پُوجتی تھی، کیونکہ وہ ایک کافر قوم سے تھی۔ ۵۴  اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو۔ اس نے جو دیکھا تو سمجھی کہ پانی کا حوض ہے اور اُترنے کے لیے اس نے اپنے پائینچے اُٹھا لیے۔ سلیمانؑ نے کہا یہ شیشے کا چکنا فرش ہے۔ ۵۵  اس پروہ پکار اُٹھی ’’ اے میرے ربّ (آج تک)میں اپنے نفس پر بڑا ظلم کرتی رہی، اور اب میں نے سلیمانؑ کے ساتھ اللہ ربّ العالمین کی اطاعت قبول کر لی۔‘‘  ۵۶  ؏۳

 

تفسیر

 

۳۸: اصل الفاظ ہیں حتیٰ تَشْھَدُوْنَ، جب تک کہ تم حاضر نہ  ہو،  یا تم گواہ نہ ہو۔ یعنی  اہم معاملات میں فیصلہ کرتے وقت تم لوگوں کی موجودگی میرے نزدیک ضروری ہے،  اور یہ بھی کہ جو فیصلہ میں کروں اس کے صحیح ہونے کی تم شہادت دو۔ اس سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ کہ قوم سبا میں بادشاہی نظام تو تھا مگر وہ استبدادی نظام نہ تھا،  بلکہ فرماں روائے وقت معاملات کے فیصلے اعیان سلطنت کے مشورے سے کرتا تھا۔

۳۹: اس ایک فقرے پر امپیریلزم اور اس کے اثرات و نتائج پر مکمل تبصرہ کر دیا گیا ہے۔ بادشاہوں کی ملک گیری اور فاتح قوموں کی دوسری قوموں پر دست درازی کبھی اصلاح اور خیر خواہی کے لیے نہیں ہوتی۔ اس کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ دوسری قوم کے خدا نے جو رزق دیا ہے اور جو وسائل و ذرائع عطا کیے ہیں ان سے وہ خود متمتع ہوں اور اس قوم کو اتنا بے بس کر دیں کہ وہ کبھی ان کے مقابلے میں سر اٹھا کر اپنا حصہ نہ مانگ سکے۔ اس غرض کے لیے وہ اس کی خوشحالی اور طاقت اور عزت کے تمام ذرائع ختم  کر دیتے ہیں، اس کے جن لوگوں میں بھی اپنی خودی کا دم داعیہ ہوتا ہے انہیں کچل کر رکھ دیتے ہیں، اس کے افراد میں غلامی،  خوشامد، ایک دوسرے کی کاٹ، ایک دوسرے کی جاسوسی،  فاتح کی نقالی، اپنی تہذیب کی تحقیر، فاتح تہذیب کی تعظیم اور ایسے ہی دوسرے کمینہ اوصاف پیدا کر دیتے ہیں، اور انہیں بتدریج اس بات کا خوگر بنا دیتے ہیں کہ وہ اپنی کسی مقدس سے مقدس چیز کو بھی بیچ دینے میں تامل نہ کریں اور اجرت پر ہر ذلیل سے ذلیل خدمت انجام دینے  کے لیے تیار ہو جائیں۔

۴۰: اس فقرے میں دو برابر کے احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ یہ ملکہ سبا ہی کا قول ہو اور اس نے اپنے پچھلے قول پر بطورِ تاکید اس کا اضافہ کیا ہو۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہو جو ملکہ کے قول کی تائید کے لیے جملہ معترضہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہو۔

۴۱: اس جملے سے مقصود اظہار فخر و تکبر نہیں ہے۔ اصل مدعا یہ ہے کہ مجھے تمہارا مال مطلوب نہیں ہے بلکہ تمہارا ایمان مطلوب ہے۔ یا پھر کم سے کم جو چیزیں چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تم ایک صالح نظام کے تابع ہو جاؤ۔ اگر تم ان دونوں باتوں میں سے کسی کے لیے راضی نہیں ہو تو میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے  کہ مال و دولت کی رشوت لے کر تمہیں اس شرک اور اس فاسد نظامِ زندگی کے معاملہ میں آزاد چھوڑ دوں۔ مجھے میرے رب نے جو کچھ دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے کہ میں تمہارے مال کا لالچ کروں۔

۴۲: پہلے فقرے اور اس فقرے کے درمیان ایک لطیف خلا ہے جو کلام پر غور کرنے سے خود بخود سمجھ میں آ جاتا ہے۔ یعنی پوری بات یوں ہے کہ : اے سفیر، یہ ہدیہ واپس لے جا اپنے بھیجنے والوں کی طرف،  انہیں یا تو ہماری پہلی بات ماننی پڑے گی کہ مسلم ہو کر ہمارے پاس حاضر ہو جائیں،و رنہ ہم ان پر لشکر لے کر آئیں گے۔

۴۳: بیچ میں یہ قصہ چھوڑ دیا گیا ہے کہ سفارت ملکہ کا ہدیہ واپس لے کر پہنچی اور جو کچھ اس نے دیکھا اور سنا تھا وہ عرض کر دیا۔ ملکہ نے اس سے حضرت سلیمانؑ کے جو حالات سنے ان کی بنا پر اس نے یہی مناسب سمجھا کہ خود ان کی ملاقات کے لیے بیت المقدس جائے۔ چنانچہ وہ خدم و حشم اور شاہی سازو سامان کے ساتھ سبا سے فلسطین کی طرف روانہ ہوئی اور اس نے دربار سلیمانی میں اطلاع بھیج دی کہ میں آپ کی دعوت خود آپ کی زبان سے سننے اور بالمشافہ گفتگو کرنے کے لیے حاضر ہو رہی ہوں۔ ان تفصیلات کو چھوڑ کر اب اُس وقت کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے جب ملکہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئی تھی اور ایک دو ہی دن میں حاضر ہونے والی تھی۔

۴۴: یعنی وہی تخت جس کے متعلق ہُد ہُد نے بتایا تھا کہ ’’اس کا تخت بڑا عظیم الشان ہے‘‘۔ بعض مفسرین نے غضب کیا ہے کہ ملکہ  کے آنے سے پہلے اس کا تخت منگوانے کی وجہ یہ قرار دی ہے کہ حضرت سلیمانؑ اس پر قبضہ کرنا چاہتے تھے، انہیں اندیشہ ہوا کہ اگر ملکہ مسلمان ہو گئی تو پھر اس کے مال پر اس کی مرضی کے بغیر قبضہ کر لینا حرام ہو جائے گا،  اس لیے انہوں نے اس کے آنے سے پہلے تخت منگا لینے کی جلدی کی، کیونکہ اس وقت ملکہ کا مال  مباح تھا۔ استغفر اللہ! ایک نبی کی  نیت کے متعلق یہ تصور بڑا ہی عجیب ہے۔ آخر یہ کیوں نہ سمجھا جائے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام تبلیغ کے ساتھ ساتھ ملکہ اور اس کے درباریوں کو ایک معجزہ بھی دکھا نا چاہتے تھے تاکہ اسے معلوم ہو کہ اللہ رب العالمین اپنے انبیاء کو کیسی غیر معمولی قدرتیں عطا فرماتا ہے اور اسے یقین آ جائے کہ حضرت سلیمان واقعی اللہ کے نبی ہیں۔ اس سے بھی کچھ زیادہ غضب بعض جدید مفسرین نے کیا ہے۔ وہ آیت کا ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ ’’تم میں سے کون ہے جو ملکہ کے لیے ایک تخت مجھے لا دے‘‘۔ حالانکہ قرآن یاتینی بعرش لھا نہیں بلکہ بعرشھا کہہ رہا ہے  جس کے معنی ’’اس کا تخت‘‘ ہیں نہ کہ ’’اس کے لیے ایک تخت‘‘۔ یہ بات صرف اس لیے بنائی گئی ہے کہ قرآن کے اس بیان سے کسی طرح پیچھا چھڑا یا جائے کہ حضرت سلیمانؑ اس ملکہ ہی کا تخت یمن سے بیت المقدس اُٹھوا منگانا چاہتے تھے اور وہ بھی اسی طرح کہ ملکہ کے پہنچنے سے پہلے پہلے وہ آ جائے۔

۴۵: اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ  حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس جو جن تھے وہ آیا موجودہ زمانے کے بعض عقل پر ست مفسرین کی تاویلوں کے مطابق بنی نوع انسان میں سے تھے یا عرفِ عام کے مطابق اُسی پوشیدہ مخلوق میں سے جو جِن کے نام سے معروف ہے۔ ظاہر ہے کہ حضرت سلیمانؑ کے دربار کی نشست زیادہ سے زیادہ تین چار گھنٹے کی ہو گی۔ اور بیت المقدس سے سبا کے پایہ تخت مارِب کا فاصلہ پرندے کی اڑان کے لحاظ سے بھی کم از کم ڈیڑھ ہزار میل کا تھا۔ اتنے فاصلہ سے ایک  ملکہ کا  عظیم الشان تخت اتنی کم مدت میں اٹھا لانا کسی انسان کا کام نہیں ہو سکتا تھا، خواہ وہ عَمالِقہ میں سے کتنا ہی موٹا تازہ آدمی کیوں نہ ہو۔ یہ کام تو آج کل کا جِٹ طیارہ بھی انجام دینے پر قادر نہیں ہے۔ مسئلہ اتنا ہی نہیں ہے کہ تخت کہیں جنگل میں رکھا ہو اور اسے اٹھا لایا جائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ تخت ایک ملکہ کے محل میں تھا جس پر یقیناً پہرہ دار متعین ہو ں گے اور وہ ملکہ کی غیر موجودگی میں ضرور محفوظ جگہ رکھا گیا ہو گا۔ انسان جا کر اٹھا لانا چاہتا تو اس کے ساتھ ایک چھاپہ مار دستہ ہونا چاہیے تھا کہ لڑ بھڑا کر اسے پہرہ داروں سے چھین لائے۔ یہ سب کچھ آخر دربار برخاست ہونے سے پہلے کیسے ہو سکتا تھا۔ اس چیز کا تصور اگر کیا جا سکتا ہے تو ایک حقیقی جِن ہی  کے بارے میں کیا جا سکتا ہے۔

۴۶: یعنی آپ مجھ پر یہ بھروسا کر سکتے ہیں کہ میں اسے خود اُڑا نہ لے جاؤں گا۔ یا اس میں سے کوئی قیمتی چیز نہ چُرا لوں گا۔

۴۷: اس شخص کے بار ے میں قطعی طور پر یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ کون تھا، اور اس کے پاس وہ کس خاص قسم کا علم تھا، اور اس کتاب سے کونسی کتاب مراد ہے جس کا علم اس کے پاس تھا۔ ان امور کی کوئی وضاحت نہ قرآن میں ہے نہ کسی حدیث صحیح میں۔ مفسرین میں سے بعض کہتے کہ وہ فرشتہ تھا اور بعض کہتے ہیں کہ وہ کوئی انسان تھا۔ پھر اُس انسان کی شخصیت کے تعین میں بھی ان کے درمیان اختلاف ہے۔ کوئی آصف بن  برخیاہ(Asaf-B- Barchiah ) کا نام لیتا ہے جو یہودی ربّیوں کی روایات کے مطابق رئیس الرجال(Prince of Men ) تھے، کوئی کہتا ہے کہ وہ حضرت خضر تھے، کوئی کسی اور کا نام لیتا ہے،  اور امام رازی کو اصرار ہے کہ وہ خود حضرت سلیمانؑ تھے۔ لیکن ان میں سے کسی کا بھی کوئی قابلِ اعتماد ماخذ نہیں  ہے،  اور امام رازی کی بات تو قرآن کے سیاق و سباق سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ اسی طرح کتاب کے بارے میں بھی مفسرین کے اقوال مختلف ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ اس سے مراد لوحِ محفوظ ہے اور کوئی کتابِ شریعت مراد لیتا ہے۔ لیکن یہ سب محض قیاسات ہیں۔ اور ایسے ہی قیاسات اُس علم کے  بارے میں بھی بلا دلیل و ثبوت قائم کر لیے گئے ہیں جو کتاب سے اس شخص کو حاصل تھا۔ ہم صرف اُتنی ہی بات جانتے اور مانتے ہیں جتنی قرآن میں فرمائی گئی ہے،  یا جو اس کے الفاظ سے مترشح ہوتی ہے۔ وہ شخص بہر حال جِن کی نوع میں سے نہ تھا  اور بعید نہیں کہ وہ کوئی انسان ہی ہو۔ ا سکے پاس کوئی غیر معمولی علم تھا اور وہ اللہ کی کسی کتاب(الکتابِ) سے ماخوذ تھا۔ جِن اپنے وجوہ کی طاقت سے اس تخت کی چند گھنٹوں میں اٹھا لانے کا دعویٰ کر رہا تھا۔ یہ شخص علم کی طاقت سے اس کا ایک لحظہ میں اٹھا لایا۔

۴۸: قرآن مجید کا اندازِ بیان اس معاملہ میں بالکل صاف ہے کہ اُس ویو ہیکل جن کے دعوے کی طرح اِس شخص کا دعویٰ صرف دعویٰ ہی نہ رہا بلکہ فی الواقع جس وقت اِس نے دعویٰ کیا اسی وقت ایک ہی لحظہ میں وہ تخت حضرت سلیمانؑ کے سامنے رکھا نظر آیا۔ ذرا ان الفاظ پر غور کیجیے:   ’’اس شخص نے کہا میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے لے آتا ہوں۔ جونہی کہ سلیمانؑ سے اسے اپنے پاس رکھا دیکھا‘‘۔  جو شخص واقعہ کے عجیب و غریب ہونے کا تصور ذہن سے نکال کر بجائے خود اس عبارت کو پڑھے گا وہ اس سے یہی مفہوم لے گا کہ اس شخص کے یہ کہتے ہی دوسرے لمحہ میں وہ واقعہ پیش آ گیا جس کا اس نے دعویٰ کیا تھا۔ اس سیدھی سی بات کو خواہ مخواہ تاویل کے خراد پر چڑھانے کی کیا ضرورت ہے ؟  پھر تخت کو دیکھتے ہی حضرت سلیمانؑ کا یہ کہنا کہ ’’یہ میرے رب کا فضل ہے  تا کہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں  یا کافرِ نعمت بن جاتا ہوں،اسی صورت میں برمحل ہو سکتا ہے جب کہ یہ کوئی غیر معمولی واقعہ ہو۔ ورنہ اگر واقعہ یہ ہوتا کہ ان کا ایک ہوشیار ملازم ملکہ کے لیے جلدی سے ایک تخت  بنا لایا یا بنوا لایا، تو ظاہر ہے کہ یہ ایسی کوئی نادر بات نہ ہو سکتی تھی کہ اس پر حضرت سلیمان ؑ بے اختیار ھٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ پکار اٹھتے اور ان کو یہ خطرہ لاحق ہو جاتا کہ اتنے جلدی مہمانِ عزیز کے لیے تخت تیار ہو جانے سے کہیں میں شاکرِ نعمت بننے کے بجائے کافرِ نعمت نہ بن جاؤں۔ آخر اتنی سی بات پر کسی مومن فرمانروا کو اتنا غرور اور کبر نفس لاحق ہو جانے کا کیا خطرہ ہو سکتا ہے، خصوصاً جبکہ وہ ایک معمولی مومن نہ ہو بلکہ اللہ کا نبی ہو۔ اب رہی یہ بات کو ڈیڑھ ہزار میل سے ایک تختِ شاہی پلک جھپکتے کس طرح اُٹھ کا آ گیا، تو اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ زمان و مکان اور مادہ و حرکت کے جو تصورات ہم نے اپنے تجربات اور مشاہدات کی بنا پر قائم کیے ہیں ان کے جملہ حدود صرف ہم ہی پر منطبق ہوتے ہیں۔ خدا کے لیے نہ یہ تصورات صحیح ہیں اور نہ وہ ان حدود سے محدود ہے۔ اس کی قدرت ایک معمولی تخت تو درکنار،  سورج اور اس سے بھی زیادہ بڑے سیاروں کو آن کی آن میں لاکھوں میل کا فاصلہ طے کر ا سکتی ہے۔ جس خدا کے صرف ایک حکم سے یہ عظیم کائنات وجود میں آ گئی ہے اس کا ایک ادنیٰ اشارہ ہی ملکہ سبا کے تخت کو روشنی کی رفتار سے چلا دینے کے لیے کافی تھا۔ آخر اسی قرآن میں یہ ذکر بھی تو موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ رات اپنے بندے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مکہ سے بیت المقدس لے بھی گیا اور واپس بھی لے آیا۔

۴۹: یعنی وہ کسی کے شکر کا محتاج نہیں ہے۔ اس کی خدائی میں کسی کی شکر گزاری سے نہ ذرہ برابر کوئی اضافہ ہوتا ہے اور نہ کسی کی ناشکری و احسان فراموشی سے یک سِر مو  کوئی کمی آتی ہے۔ وہ آپ اپنے ہی بل بوتے پر خدائی کر رہا ہے، بندوں کے ماننے یا نہ ماننے پر اس کی خدائی منحصر نہیں ہے۔ یہی بات قرآن مجید میں ایک جگہ حضرت موسیٰ ؑ کی زبان سے نقل کی گئی ہے کہ اِنْ تَکْفُرُوْٓ ا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا فَاِنَّ اللہَ لَغَنِیٌ حَمِیْدٌ۔ ’’اگر تم اور ساری دنیا والے مل کر بھی کفر کریں تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے ‘‘۔ (ابراہیم۔ آیت۸)۔ اور یہی مضمون اس حدیث قدسی  کا ہے جو صحیح مسلم میں وارد ہوئی ہے کہ :   یقول اللہ تعالیٰ عبادی لو انّ اولکم و اٰخر کم و انسکم و جنکم کانوا علی اتقی قلب رجل منکم ما زاد ذٰلک فی ملکی شیئا۔ یا عبادی لو ان اولکم واٰخر کم و انسکم و جنکم کانوا علے افجر قلب رجل منکم مانقص ذٰلک فی ملکی شیئا۔ یا عبادی انما ھی اعمالکم احصیھا لکم ثم او فیکم ایا ھا۔ فمن وجد خیر افلیحمد اللہ ومن وجد غیر ذٰلک فلا یومن الا نفسہ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے بندو، اگر اول سے آخر تک تم سب انس اور جِن اپنے سب سے زیادہ متقی شخص کے دل جیسے ہو جاؤ تو اس سے میری بادشاہی  میں کوئی اضافہ نہ ہو جائے گا۔ اے میرے بندو، اگر اول سے آخر تک تم سب انس اور جن اپنے سب سے زیادہ بدکار شخص کے دل جیسے ہو جاؤ تو میری بادشاہی میں اس سے کوئی کمی نہ ہو جائے گی۔ اے میرے بندو، یہ تمہارے اپنے اعمال ہی ہیں جن کا میں تمہارے حساب میں شمار کرتا ہوں،  پھر ان کی پوری پوری جزا تمہیں دیتا ہوں۔ پس جسے کوئی بھلائی نصیب ہوا  سے چاہیے کہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جسے کچھ اور نصیب ہو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔

۵۰: بیچ میں یہ تفصیل چھوڑ دی گئی ہے کہ ملکہ کیسے بیت المقدس پہنچی اور کس طرح اس کا استقبال ہوا۔ اسے چھوڑ کر اب اس وقت کا حال بیا ن کیا جا رہا ہے جب وہ حضرت سلیمانؑ کی ملاقات کے لیے ان کے محل میں پہنچ گئی۔

۵۱: ذو معنی فقرہ ہے۔اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ وہ یکایک اپنے ملک سے اتنی دور اپنا تخت موجود پا کر یہ سمجھ جاتی ہے یا نہیں کہ یہ اسی کا تخت اٹھا لایا گیا ہے۔ اور یہ مطلب بھی ہے کہ وہ اس حیرت انگیز معجزے کو دیکھ کر ہدایت پاتی ہے یا اپنی گمراہی پر قائم رہتی ہے۔  اس سے ان لوگوں کے خیال کی تردید ہو جاتی ہے جو کہتے ہیں کہ حضرت سلیمانؑ اس تخت پر قبضہ کرنے کی نیت رکھتے تھے۔ یہاں وہ خود اس مقصد کا اظہار فرما رہے ہیں کہ انہوں نے یہ کام ملکہ کی ہدایت کے لیے کیا تھا۔

۵۲: اس سے ان لوگوں کے خیالات کی بھی تردید ہو جاتی ہے جنہوں نے صورتِ واقعہ کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا ہے کہ گویا حضرت سلیمانؑ اپنی مہمان ملکہ کے لیے ایک تخت بنوانا چاہتے تھے، اس غرض کے لیے انہوں نے ٹینڈر طلب کیے، ایک ہٹے کٹے کاریگر نے کچھ زیادہ مدت میں تخت بنا دینے کی پیش کش کی۔ مگر ایک دوسرے ماہر استاد نے کہا میں تُرت پھُرت بنائے دیتا ہوں۔ اس سارے نقشے کا تارو پود اس بات سے بکھر جاتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ نے خود ملکہ ہی کا تخت لانے کے لیے فرمایا تھا(اَیُّکُمْ یَاْتِیَنِیْ بِعَرْشِھَا)، اور اس کی آمد پر اپنے ملازموں کو اسی کا تخت  انجان طریقے سے اس کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا تھا(نَکِرُّوْ الَھَا عَرْشَھَا)، پھر جب وہ آئی تو اس سے پوچھا گیا کہ کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے (اَھٰکَذَا عَرْشُکِ) اور اس نے کہا گویا یہ وہی ہے (کَاَنَّہُ ھُوَ)۔ اس صاف بیان کی موجودگی میں اُن لا طائل تاویلات کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے۔ اس پر بھی کسی کو شک رہے تو بعد کا فقرہ اسے مطمئن کرنے کے لیے کافی ہے۔

۵۳: یعنی یہ معجزہ دیکھنے سے پہلے ہی سلیمان علیہ السلام کے جواد صاف اور حالات ہمیں معلوم ہو چکے تھے ان کی بنا پر ہمیں یقین ہو گیا تھا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں،  محض ایک سلطنت کے فرمانروا نہیں ہیں۔ تخت کو دیکھنے اور ’’گویا یہ وہی ہے ‘‘ کہنے کے بعد اس فقرے کا اضافہ کرنے میں آخر کیا معنویت باقی رہ جاتی ہے اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ حضرت سلیمانؑ نے اس کے لیے ایک تخت بنوا کر رکھ دیا تھا؟ بالفرض اگر وہ تخت ملکہ کے تخت سے مشابہ ہی تیار کرا لیا گیا ہو تب بھی اس میں آخر وہ کیا کمال ہو سکتا تھا کہ ایک آفتاب پر ست ملکہ اسے دیکھ کر یہ بول اٹھتی کہ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِھَا وَ کُنَّا مُسْلِمِیْنَ، ’’ہم کو پہلے ہی علم نصیب ہو گیا تھا اور ہم مسلم ہو چکے تھے‘‘۔

۵۴: یہ فقرہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی پوزیشن واضح کرنے کے لیے ارشاد ہوا ہے۔ یعنی اس میں ضد اور ہٹ دھرمی نہ تھی۔ وہ اس وقت تک صرف اس لیے کافر تھی کہ قوم میں پیدا ہوئی تھی۔ ہوش سنبھالنے کے بعد سے اس کو جس چیز کے آگے سجدہ ریز ہونے کی عادت پڑی ہوئی تھی، بس وہی اس کے راستے میں رکاوٹ بن گئی تھی۔ حضرت سلیمانؑ سے سابقہ پیش آنے پر جب اس کی آنکھیں کھلیں تو اس رکاوٹ کے ہٹ جانے میں ذرا سی دیر بھی نہ لگی۔

۵۵: یہ آخری چیز تھی جس نے ملکہ کی آنکھیں کھول دیں۔ پہلی چیز حضرت سلیمانؑ کا وہ خط تھا جو عام بادشاہوں کے طریقے سے ہٹ کر اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے شروع کیا گیا تھا۔ دوسری چیز اس کے بیش قیمت بدیوں کو رد کرنا  تھا جس سے ملکہ کو اندازہ ہوا کہ یہ بادشاہ کسی اور طرز کا ہے۔ تیسری چیز ملکہ کی سفارت کا بیان تھا جس سے اس کو حضرت سلیمانؑ کی متقیانہ زندگی، ان کی حکمت اور ان کی دعوتِ حق کا علم ہوا۔ اسی چیز نے اسے آمادہ کیا کہ خود چل کر ان سے ملاقات کرے، اور اسی کی طرف اس نے اپنے قول میں اشارہ کیا کہ ’’ہم تو پہلے ہی جان گئے تھے اور ہم مسلم ہو چکے تھے‘‘۔ چوتھی چیز اس عظیم الشان تخت کا آناً فاناً مارِب سے بیت المقدس پہنچ جانا تھا جس سے ملکہ کو معلوم ہوا کہ اس شخص کی پشت پر اللہ تعالیٰ کی طاقت ہے۔ اور اب آخری چیز یہ تھی کہ اس نے دیکھا جو شخص یہ سامانِ عیش و تنعُّم رکھتا ہے اور ایسے شاندار محل میں رہتا ہے وہ کس قدر غرورِ نفس سے پاک ہے، کتنا خدا ترس اور نیک نفس ہے،  کس طرح بات بات پر اس کا سر خدا کے آگے شکر گزاری میں جھکا جاتا ہے، اور اس کی زندگی فریفتگانِ حیاتِ دنیا کی زندگی سے کتنی مختلف ہے۔ یہی چیز تھی جس نے اسے وہ کچھ پکار اُٹھنے پر مجبور کر دیا جو آگے اس کی زبان سے نقل کیا گیا ہے۔

۵۶: حضرت سلیمان ؑ اور ملکہ سبا کا یہ قصہ بائیبل کے عہدِ عتیق و جدید اور روایات یہود، سب میں مختلف طریقوں سے آیا ہے،  مگر قرآن کا بیان ان سب سے مختلف ہے۔ عہد عتیق میں اس قصّے کا خلاصہ یہ ہے: ’’او جب سبا کی ملکہ نے خداوند کے نام کی بابت سلیمان کی شہرت سنی تو وہ آئی تا کہ مشکل سوالوں سے اسے آزمائے۔ اور وہ بہت بڑی جِلَو کے ساتھ یروشلم میں آئی۔۔۔۔ جب وہ سلیمان کے پا س پہنچی تو اُس نے ان سب باتوں کے بارہ میں جو اس کے دل میں تھیں اس سے گفتگو کی۔ سلیمان نے ان سب کا جواب دیا۔۔۔۔ اور جب سبا کی ملکہ نے سلیمان کی ساری حکمت اور اس محل کی جو اس نے بنایا تھا اور اس کے دسترخوان  کی نعمتوں اور اس کے ملازموں کی نشست اور اس کے خادموں کی حاضر باشی اور ان کی پوشاک اور اس نے بادشاہ سے کہا کہ سچی خبر تھی جو میں نے تیرے کاموں اور تیری حکمت کی بابت اپنے ملک میں سنی تھی۔ تو بھی میں نے وہ باتیں باور نہ کیں جب تک خود آ کر اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیا۔ اور مجھے تو آدھا بھی نہیں بتایا گیا تھا کیونکہ تیری حکمت اور اقبال مندی اُ س شہرت سے جو میں نے سنی بہت زیادہ ہے۔ خوش نصیب ہیں  تیرے لوگ اور خوش نصیب ہیں تیرے یہ ملازم جو برابر تیرے حضور کھڑے رہتے  اور تیری حکمت سنتے ہیں۔ خداوند تیرا خدا مبارک ہو جو تجھ سے ایسا خوشنود ہوا کہ تجھے اسرائیل کے تخت پر بٹھایا۔۔۔۔ اور اس نے بادشاہ کو ایک سو بیس قنطار سونا اور مسالے کا بہت بڑا انبار اور بیش بہا جواہر دیے اور جیسے مسالےسبا کی ملکہ نے سلیمان بادشاہ کو دیے ویسے پھر کبھی ایسی بہتات کے ساتھ نہ آئے۔۔۔۔ اور سلیمان بادشاہ نے سبا کی ملکہ کو سب کچھ جس کی وہ مشتاق ہوئی اور جو کچھ اس نے مانگا دیا۔ پھر وہ اپنے ملازموں  سمیت اپنی مملکت کو لوٹ گئی ‘‘۔ (۱۔سلاطین۱۰:۱۔۱۳۔ اسی سے ملتا جلتا مضمون۲۔تواریخ۹:۱۔۱۲میں بھی ہے)۔ عہدِ جدید میں حضرت عیسٰی کی ایک تقریر کا صرف یہ فقرہ ملکہ سبا کے متعلق منقول ہوا ہے:   ’’دکھن کی ملکہ عدالت کے دن اس زمانہ کے لوگوں کے ساتھ  کر ان کو مجرم ٹھیرائے گی،کیونکہ وہ دنیا کے کنارے سے سلیمانؑ کی حکمت سنے کو آئی اور  دیکھو یہاں وہ ہے جو سلیمان سے بھی بڑا ہے‘‘۔ (متی۱۲:۴۳۔لوقا۱۱:۳۱)۔ یہودی ربیوں کی روایات میں حضرت سلیمانؑ اور ملکہ سبا کا قصّہ اپنی بیشتر تفصیلات میں قرآن سے ملتا جلتا ہے۔ ھُدھُد کا غائب ہونا، پھر آ کر سبا اور اس کی ملکہ کے حالات بیان کرنا، حضرت سلیمانؑ کا اس کے ذیعے سے خط بھیجنا، ھُدھُد کا عین اُس وقت وہ خط ملکہ کے آگے گرانا جبکہ وہ آفتاب کی پرستش کرنے جا رہی تھی، ملکہ کا اس خط کو دیکھ کر اپنے وزراء کی کونسل منعقد کرنا، پھر ملکہ کا ایک قیمتی ہدیہ حضرت سلیمانؑ کے پاس بھیجنا،  خود یر شلم پہنچ کر ان سے ملنا، ان کے محل میں پہنچ کر یہ خیال کرنا کہ حضرت سلیمانؑ پانی کے حوض میں بیٹھے ہیں،  اور اس میں اترنے کے لیے پائینچے چڑھا لینا، یہ سب ان روایات میں اسی طرح مذکور ہے جس طرح قرآن میں بیان ہوا ہے۔ مگر یہ ہدیہ وصول ہونے پر حضرت سلیمان کا جواب،  ملک کے تخت کو اُٹھوا منگانا، ہر موقع پر ان کا خدا کے آگے جھکنا،  اور آخر کار ملکہ  کا ان کے ہاتھ پر ایمان لانا، یہ سب باتیں،  بلکہ خدا پرستی اور توحید کی ساری باتیں ہی ان روایات میں ناپید ہیں۔ سب سے بڑھ کر غضب یہ ہے کہ ان ظالموں نے حضرت سلیمانؑ پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے  ملکہ سبا کے ساتھ معاذ اللہ زنا کا ارتکاب کیا اور اسی حرامی نسل سے بابل کا بادشاہ بخت نضَّر پیدا ہوا جس نے بیت المقدس کو تباہ کیا(جیوش انسائیکلو پیڈیا ج۱۱۔ صفحہ۴۴۳)۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ یہودی علما ء کا ایک گروہ حضرت سلیمان کا سخت مخالف رہا ہے۔ ان لوگوں نے ان پر توراۃ ے احکام کی خلاف ورزی،  غرورِ حکومت،  غرور عقل و دانش،  زن مریدی، عیش پرستی اور شرک و بت پرستی کے گھناؤنے الزامات لگائے ہیں(جیوش انسائیکلو پیڈیا ج ۱۱ ص۴۳۹۔۴۴۱)اور یہ اسی پر پیگنڈے کا اثر ہے کہ بائیبل انہیں نبی کے بجائے محض ایک بادشاہ کی حیثیت سے پیش کر تی ہے اور بادشاہ بھی ایسا جو معاذ اللہ احکامِ الہٰی ے خلاف مشرک عورتوں کے عشق میں گم ہو گیا،  جس کا دل خدا سے پھر گیا اور جو خدا کے سوا دوسرے معبودوں کی طرف مائل ہو گا(۱۔سلاطین۱۱: ۱۔۱۱)ان چیزوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن نے بنی اسرائیل پر کتنا بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے اکا بر کا دامن خود ا ن کی پھینکی ہوئی گندگیوں سے صاف کیا، اور یہ بنی اسرائیل کتنے احسان فراموش ہیں کہ اس پر بھی یہ قرآن اور اس کے لانے والے کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔

 

ترجمہ

 

۵۷  اور ثمُود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالحؑ کو (یہ پیغام دے کر)بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو، تو یکایک وہ دو مُتَخاصِم فریق بن گئے۔۵۸  صالحؑ نے کہا ’’اے میری قوم کے لوگو، بھلائی سے پہلے بُرائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو؟۵۹  کیوں نہیں اللہ سے مغفرت طلب کرتے ؟ شاید کہ تم پر رحم فرمایا جائے؟‘‘  انہوں نے کہا ’’ہم نے تو تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو بد شگونی کا نشان پایا ہے۔‘‘ ۶۰  صالحؑ نے جواب دیا ’’ تمہارے نیک و بد شگون کا سرِشتہ تو اللہ کے پاس ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تم لوگوں کی آزمائش ہو رہی ہے۔‘‘ ۶۱  اُس شہر میں نو جتھے دار تھے۶۲  جو ملک میں فساد پھیلاتے اور کوئی اصلاح کا کام نہ کرتے تھے۔ انہوں نے آپس میں کہا ’’ خدا کی قسم کھا کر عہد کر لو کہ ہم صالحؑ اور اس کے گھر والوں پر شبخون ماریں گے اور پھر اس کے ولی سے کہہ دیں گے۶۳  کہ ہم اس کے خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود نہ تھے، ہم بالکل سچ کہتے ہیں۔‘‘ ۶۴  یہ چال تو وہ چلے اور پھر ایک چال ہم نے چلی جس کی انہیں خبر نہ تھی۔۶۵  اب دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیا ہوا۔ ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا اُن کو اور ان کی پوری قوم کو۔ وہ اُن کے گھر خالی پڑے ہیں اُس ظلم کی پاداش میں جو وہ کرتے تھے، اس میں ایک نشانِ عِبرت ہے اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔۶۶  اور بچا لیا ہم نے اُن لوگوں کو جو ایمان لائے تھے اور نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے۔  ۶۷ اور لوطؑ  کو ہم نے بھیجا۔ یاد کرو وہ وقت جب اس نے اپنی قوم سے کہا ’’ کیا تم آنکھوں دیکھتے بدکاری کرتے ہو؟۶۸  کیا تمہارا یہی چلن ہے کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے جاتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ سخت جہالت کا کام کرتے ہو۔‘‘ ۶۹  مگر اُس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا ’’نکال دو لُوطؑ کے گھر والوں کو اپنی بستی سے ، یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں۔‘‘  آخر کار ہم نے بچا لیا اُس کو اور اُس کے گھر والوں کو،  بجز اُس کی بیوی کے جس کا پیچھے رہ جانا ہم نے طے کر دیا تھا،۷۰  اور برسائی اُن لوگوں پر ایک برسات،  بہت ہی بُری برسات تھی وہ اُن لوگوں کے حق میں جو متنبّہ کیے جا چکے تھے۔ ؏۴

 

تفسیر

 

۵۷: تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات۷۳ تا ۷۹۔ ہُود، ۶۱ تا۶۸۔ الشعراء ۱۴۱ تا ۱۵۹۔ القمر، ۲۳ تا ۳۲۔ الشمس، آیات۱۱۔۱۵۔

۵۸: یعنی جونہی کہ حضرت صالحؑ کی دعوت کا آغاز ہوا، ان کی قوم دو گروہوں میں بٹ گئی۔ ایک گروہ ایمان لانے والوں کا،  دوسرا گروہ انکار کرنے والوں کا۔ اور اس تفرقہ کے ساتھ ہی ان کے درمیان کش مکش شروع ہو گئی، جیسا کہ قرآن مجید میں دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے: قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْ ا مِنْ قَوْمِہٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْ ا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسِلٌ مِّنْ رَّبِّہٖ، قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ      قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓ ا اِنَّا بِالَّذِیْٓ اٰمَنْتُم ْبِہٖ کَافِرُوْنَ، ’’اس کی قوم میں سے جو سردار اپنی بڑائی کا گھمنڈ رکھتے تھے انہوں نے اُن لوگوں سے جو کمزور بنا  رکھے گئے تھے،  جو اُن میں سے ایمان لائے تھے، کہا، کیا واقعی تم یہ جانتے ہو کہ صالحؑ اپنے رب کی طرف سے بھیجا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہم اس چیز پر ایمان رکھتے ہیں جس کو لے کر وہ بھیجے گئے ہیں۔ ان متکبرین نے کہا جس چیز پر تم ایمان لائے ہو اس کے ہم کافر ہیں‘‘  (الاعراف، آیات۷۵۔۷۶)۔ یا د رہے کہ ٹھیک یہی صورت حال محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت کے ساتھ مکہ میں بھی پیدا ہوئی تھی کہ قوم دو حصوں میں بٹ گئی اور اس کے ساتھ ہی ان دونوں گروہوں میں کش مکش شروع ہو گئی۔ اس لیے یہ قصہ آپ سے آپ اُن حالت پر چسپاں ہو  رہا تھا جن میں یہ آیات نازل ہوئیں۔

۵۹: یعنی اللہ سے خیر مانگنے کے بجائے عذاب مانگنے میں کیوں جلدی کرتے ہو؟ دوسرے مقام پر قوم صالح کے سرداروں کا یہ قول نقل ہو چکا ہے کہ یَا صَالِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الْمُرْ سَلِیْنَ، ’’اے صالح، لے آ وہ عذاب ہم پر جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو واقعی رسولوں میں سے ہے‘‘ (الاعراف۔ آیت۷۷)۔

۶۰: ان کے اس قول کا ایک مطلب یہ ہے کہ تمہاری یہ تحریک ہمارے لیے سخت منحوس ثابت ہوئی ہے، جب سے تم نے اور تمہارے ساتھیوں نے دینِ آبائی کے خلاف یہ بغاوت شروع کی ہے ہم پر آئے دن کوئی نہ کوئی مصیبت نازل ہوتی رہتی ہے،  کیونکہ ہمارے معبود ہم سے ناراض ہو گئے ہیں۔ اس معنی کے لحاظ سے یہ قول اکثر اُن مشرک قوموں کے اقوال سے مشابہ ہے جو اپنے انبیاء کو منحوس قرار دیتی تھیں۔ چنانچہ سورہ یٰسین میں ایک قوم کا ذکر آتا ہے  کہ اس نے اپنے انبیاء سے  کہا اِنّا تَطَیَّرْ نَا بِکُمْ ’’ہم  نے تم کو منحوس پایا ہے ‘‘ (آیت۱۸)۔یہی بات فرعون کی قوم حضرت موسیٰؑ کے متعلق کہتی تھی:فَاِذَا جَآ ءَتْھُمُ الْحَسَنَۃُ قَا لُوْ آ لَنَا ھٰذِہٖ وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَیِّئَۃٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰی وَمَنْ مَّعَہٗ۔ ’’جب ان پر کوئی اچھا وقت آتا تو کہتے کہ ہمارے لیے یہی  ہے اور جب کوئی مصیبت آ جاتی تو موسیٰؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست کو اس کا ذمہ دار ٹھیراتے‘‘ (الاعراف، آیت۱۳۰)۔ قریب قریب ایسی ہی باتیں مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق بھی کہی جاتی تھیں۔ دوسرا مطلب اس قول کا یہ ہے کہ تمہارے آتے ہی ہماری قوم میں پھوٹ پڑ گئی ہے۔ پہلے ہم ایک قوم تھے جو ایک دین پر مجتمع تھی۔ تم ایسے سبز قدم آئے کہ بھائی بھائی کا دشمن ہو گیا  اور بیٹا باپ سے کٹ گیا۔ اس طرح قوم کے اندر ایک نئی قوم اٹھ کھڑی ہونے کا انجام ہمیں اچھا نظر نہیں آتا۔ یہی وہ الزام تھا جسے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مخالفین آپ کے خلاف بار بار پیش کرتے تھے۔ آپ کی دعوت کا آغاز ہوتے ہی سردارانِ قریش کا جو وفد ابو طالب کے پاس گیا تھا اس نے یہی کہا تھا کہ ’’اپنے اِس بھتیجے کو ہمارے حوالہ کر دو جس نے تمہارے دین اور تمہارے باپ دادا کے دین کی مخالفت کی ہے اور تمہاری قوم میں پھوٹ ڈال دی ہے اور ساری قوم کو بے وقوف قرار دیا ہے‘‘۔ (ابن ہشام جلد اول، ص۲۸۵)۔ حج کے موقعہ پر جب کفار مکہ کو اندیشہ ہوا کہ باہر کے زائرین آ کر کہیں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت سے متاثر نہ ہو جائیں تو انہوں نے با ہم مشورہ کرنے کے بعد یہی  طے کیا کہ قبائل عرب سے کہا جائے: ’’یہ شخص جا دو گر ہے،  اس کے جادو کا اثر یہ ہوتا ہے کہ بیٹا باپ سے ،  بھائی بھائی سے ،  بیوی شوہر سے ،  اور آدمی اپنے سارے خاندان سے کٹ جاتا ہے‘‘۔ (اطب ہشام۔ص۲۸۹)۔

۶۱: یعنی بات وہ نہیں ہے جو تم نے سمجھ رکھی ہے۔ اصل معاملہ جسے اب تک تم نہیں سمجھے ہو یہ ہے کہ میرے آنے سے تمہارا امتحان شروع ہو گیا ہے۔ جب  تک میں نہ آیا تھا، تم اپنی جہالت میں ایک ڈگر پر چلے جا رہے تھے۔ حق اور باطل کا کوئی کھلا امتیاز سامنے نہ تھا۔ کھرے اور کھوٹے کی پر کھ کا کوئی معیار نہ تھا۔ بد تر سے بد تر لوگ اونچے ہو رہے تھے، اور اچھی سے اچھی صلاحیتوں کے لوگ خاک میں ملے جا رہے تھے۔ مگر اب ایک کسوٹی آ گئی ہے جس پر تم سب جانچے اور پرکھے جا ؤ گے۔ اب بیچ میدا ن میں ایک ترازوں رکھ دیا گیا ہے  جو ہر ایک کو اس کے وزن کے لحاظ سے تو لے گا۔ اب حق اور باطل آمنے سامنے موجود ہیں۔ جو حق کو قبول کر ے گا وہ بھاری اترے گا خواہ آج تک اس کی کوڑی بھی  بھی قیمت نہ رہی ہو۔ اور جو باطل پر جمے گا اس کا وزن رتی بھر  بھی نہ رہے گا چاہے وہ آج تک امیر الامراء ہی بنا رہا ہو۔ اب فیصلہ اس پر نہیں ہو گا کہ کون کس خاندان کا ہے، اور کس کے ذرائع و وسائل کتنے ہیں،  اور کون کتنا زور رکھتا ہے، بلکہ اس پر ہو گا کہ کون سیدھی طرح صداقت کو قبول کر تا ہے اور کون جھوٹ کے ساتھ اپنی قسمت وابستہ کر دیتا ہے۔

۶۲: یعنی ۹ سردارانِ قبائل جن میں سے ہرا یک اپنے ساتھ ایک بڑا جتھا رکھتا تھا۔

۶۳: یعنی حضرت صالحؑ کو قبیلہ کے سردار سے ، جس کو قدیم قبائلی رسموں رواج کے مطابق ان کے خون کے دعوے کا حق پہنچتا تھا۔ یہ وہی پوزیشن تھی جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں آپ کے چچا ابو طالب کو حاصل تھی۔ کفارِ قریش بھی اسی اندیشے سے ہاتھ روکتے تھے کہ  اگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو قتل کر دیں گے تو بنی ہاشم کے سردار ابو طالب اپنے قبیلے کی طرف سے خون کا دعویٰ لے کر اٹھیں گے۔

۶۴: یہ بعینہٖ اسی نوعیت کی سازش تھی جیسی مکہ کے قبائلی سردار نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خلاف سوچتے رہتے تھے، اور بالآخر یہی سازش انہوں نے ہجرت کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو قتل کرنے کے لیے کی۔ یعنی یہ کہ سب قبیلوں کے لوگ مل کر آپ پر حملہ کریں تا کہ بنی ہاشم کسی ایک قبیلے کو ملزم نہ ٹھرا سکے اور سب قبیلوں سے بیک وقت لڑنا ان کے لیے ممکن نہ ہو۔

۶۵: یعنی قبل اس کے کہ وہ اپنے طے شدہ وقت پر حضرت صالحؑ کے ہاں شبخون مارتے،  اللہ تعالیٰ نے اپنا عذاب بھیج دیا اور نہ صرف وہ بلکہ ان کی پوری قوم تباہ ہو گئی۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ  یہ سازش ان لوگوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے بعد کی تھی۔ سورہ ہود میں ذکر آتا ہے کہ جب انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا تو حضرت صالحؑ نے انہیں نوٹس دیا کہ بس اب تین دن مزے کر لو، اس کے بعد تم پر عذاب آ جائے گا(فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِکُمْ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ، ذٰلِکَ وَعْدٌ غَیْرُ مَکْذُوْبٍ)۔ اس پر شاید انہوں سے سوچا ہو گا کہ صالحؑ کا عذابِ موعود تو آئے  چاہے نہ آئے،  ہم لگے ہاتھوں اونٹنی کے ساتھ اس کا بھی کیوں نہ کام تمام کر دیں۔ چنانچہ اغلب یہ ہے  کہ انہوں نے شبخون مارنے کے لیے وہی رات تجویز کی ہو گی جس رات عذاب  آنا تھا اور قبل اس کے کے ان کا ہاتھ حضرت صالح ؑ پر پڑتا  خدا کا زبر دست ہاتھ ان پر پڑ گیا۔

۶۶: یعنی جاہلوں کا معاملہ تو دوسرا ہے۔ وہ تو کہیں گے کہ حضرت صالحؑ اور ان کی اونٹنی کے معاملہ سے  اس زلزلے کا  کوئی تعلق نہیں جو قومِ ثمود پر آیا،  یہ چیزیں تو اپنے طبی  اسباب سے آیا کرتی ہیں، اس کے آنے یا نہ آنے میں اس چیز کا کوئی دخل نہیں ہو سکتا کہ کون اس علاقے میں نیک و کار تھا اور کون بد کار اور کس نے کس پر ظلم کیا تھا اور کس نے رحم کھایا تھا، یہ محض واعظانہ ڈھکوسلے ہیں کہ فلاں شہر یا فلاں علاقہ فسق و فجور سے بھر گیا تھا اس لیے اس پر سیلاب آ گیا یا زلزلے نے اس کی بستیاں الٹ دی یا کسی اور  بلائے نا گہانی نے اسے تل پٹ کر ڈال لیکن جو لوگ علم رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کوئی اندھا بہرہ  خدا اس کائنات پر حکومت نہیں کر رہا ہے بلکہ ایک حکیم و دانا ہستی یہاں قسمتوں کے فیصلے کر رہی ہے۔ اس کے فیصلے طبی اسباب کے غلام نہیں ہیں بلکہ طبی اسباب اس کے ادارے کے غلام ہیں۔ اس کے ہاں قوموں کو گرانے اور اٹھانے کے فیصلے اندھا دھند نہیں کیے جاتے بلکہ حکمت اور عدل کے ساتھ کیے جاتے ہیں اور ایک قانونِ مکافات بھی اس کی کتابِ آئین میں شامل ہے جس کی رو سے اخلاقی بنیادوں پر اس دنیا میں بھی ظالم کیفر کردار کو پہچانے جاتے ہیں۔ ان حقیقتوں سے جو لوگ باخبر ہیں وہ اس زلزلے کو اسباب طبی کا نتیجہ کہہ کر نہیں ٹال سکتے۔ وہ اسے اپنے ہاتھوں میں تنبیہ کا کوڑا سمجھیں گے۔ وہ اس سے عبرت حاصل کریں گے۔ وہ ان اخلاقی اسباب کو سمجھنے کی کوشش کریں گے جس کی بنا پر خالق نے اپنی پیدا کی ہوئی ایک پھلتی پھولتی قوم کو  غارت کر کے رکھ دیا۔ وہ اپنے رویے کو اس راہ سے ہٹائیں گے جو اس کا عذاب لانے والی ہے اور اس راہ پر ڈالیں گے جو اس کی رحمت سے ہمکنار کرنے والی ہے۔

۶۷: تقابل کے لیے ملاحظہ ہو ں الاعراف،  آیات۸۰ تا ۸۴۔ ہود، ۷۴تا۸۳۔الحجر،۵۷تا۷۷۔الانبیاء۷۱ تا ۷۵۔ الشعراء۱۶۰ تا۱۷۴۔ العنکبوت،۲۸تا۷۵۔ الصافّات، ۱۳۳ تا۱۳۸۔ القمر۳۳ تا ۳۹۔

۶۸: اس ارشاد کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں اور غالباً وہ سب ہی مراد ہیں۔ ایک یہ کہ تم اس فعل کے فحش اور  کارِ بد ہونے سے ناواقف نہیں ہو، بلکہ جانتے بوجھتے  اس کا ارتکاب کرتے ہو۔ دوسرے یہ کہ تم اس بات سے بھی ناواقف نہیں ہو کہ مرد کی خواہش نفس کے لیے مرد نہیں پیدا کیا گیا بلکہ عور ت پیدا کی گئی ہے، اور مرد و عورت کا فرق بھی ایسا نہیں ہے کہ تمہاری آنکھوں کو نظر نہ آتا ہو، مگر تم کھلی آنکھوں کے ساتھ یہ جیتی مکھی نگلتے ہو۔ تیسرے یہ کہ تم علانیہ  یہ بے حیائی کا کام کرتے ہو جب کہ دیکھنے والی آنکھیں تمہیں دیکھ رہی ہوتی ہیں، جیسا کہ آگے سورہ عنکبوت میں آ رہا ہے:وَتَاْ تُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ، ’’اور تم اپنی مجلسوں میں برا کام کرتے ہو‘‘۔ (آیت ۲۹)۔

۶۹: جہالت کا لفظ یہاں حماقت اور سفاہت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اُردو زبان میں بھی ہم گالی گلو اور بیہودہ حرکات کرنے والے کو کہتے ہیں کہ وہ جہالت پر اُتر آیا ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ عربی زبان میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے وَ اِذَا خَا طَبَھُمُ الْجَاھِلُوْنَ قَالُوْ ا سَلٰمًا، (الفرقان، آیت ۶۳) لیکن اگر اس لفظ کو بے علمی ہی کے معنی  میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تم اپنی ان حرکات کے بُرے انجام کو نہیں جانتے۔ تم یہ تو جانتے ہو کہ یہ ایک لذتِ نفس ہے جو تم حاصل کر رہے ہو۔ مگر تمہیں یہ معلوم نہیں  ہے کہ اس انتہائی مجرمانہ اور گھناؤنی لذت چشی کا کیسا سخت خمیازہ تمہیں عنقریب بھگتنا پڑے گا۔ خدا کا عذاب تم پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار کھڑا ہے اور تم ہو کہ انجام سے بے خبر اپنے اس گندے کھیل میں منہمک ہو۔

۷۰: یعنی پہلے ہی حضرت لوطؑ کو ہدایت کر دی گئی تھی کہ وہ اس عورت کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں کیونکہ اسے اپنی قوم کے ساتھ ہی تباہ ہونا ہے۔

 

ترجمہ

 

۷۱ (اے نبیؐ )کہو، حمد ہے اللہ کے لیے اور سلام اُس کے اُن بندوں پر جنہیں اس نے برگزیدہ کیا۔ (اِن سے پُوچھو)اللہ بہتر ہے یا وہ معبُود جنہیں یہ لوگ اس کا شریک بنا رہے ہیں؟  ۷۲ بھَلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے وہ خوشنما باغ اُگائے جن کے درختوں کا اُگانا تمہارے بس میں نہ تھا؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی (اِن کاموں میں شریک)ہے؟۷۳  (نہیں)، بلکہ یہی لوگ راہِ راست سے ہٹ کر چلے جا رہے ہیں۔ اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا۷۴  اور اس کے اندر دریا رواں کیے اور اس میں (پہاڑوں کی)میخیں گاڑ دیں اور پانی کے دو ذخیروں کے درمیان پردے حائل کر دیے؟۷۵  کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (ان کاموں میں شریک)ہے؟ نہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان ہیں۔ کون ہے جو بے قرار کی دُعا سُنتا ہے جبکہ وہ اُسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟۷۶  اور (کون ہے جو)تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟۷۷  کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (یہ کام کرنے والا)ہے؟ تم لوگ کم ہی سوچتے ہو۔ اور وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے۷۸  اور کون اپنی رحمت کے آگے ہواؤں کو خوشخبری لے کر بھیجتا ہے؟۷۹  کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی (یہ کام کرتا)ہے؟ بہت بالا و برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ اور وہ کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے؟۸۰  اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟۸۱  کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (ان کاموں میں حصہ دار)ہے؟ کہو کہ لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔۸۲  اِن سے کہو، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا عِلم نہیں رکھتا۔۸۳  اور وہ نہیں جانتے کہ کب وہ اُٹھائے جائیں گے۔۸۴  بلکہ آخرت کا تو علم ہی اِن لوگوں سے گُم ہو گیا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ یہ اُس  سے اندھے ہیں۔ ۸۵   ؏۵

 

تفسیر

 

۷۱: یہاں سے دوسرا خطبہ شروع ہوتا ہے اور یہ فقرہ اس کی تمہید ہے۔ اس تمہید سے یہ سبق سکھایا گیا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی تقریر کا آغاز کس طرح کرنا  چاہیے۔ اسی بنا پر صحیح اسلامی ذہنیت رکھنے والے لوگ ہمیشہ سے اپنی تقریریں اللہ کی حمد اور اس کے نیک بندوں پر سلام سے شروع کرتے رہے ہیں۔ مگر اب اسے ملائیت سمجھا جانے لگا ہے  اور موجودہ زمانے کے مسلمان مقررین اس سے کلام کی ابتدا کرنے کا تصور تک اپنے ذہن میں نہیں رکھتے،  یا پھر اس میں شرم محسوس کرتے ہیں۔

۷۲: بظاہر یہ سوال بڑا عجیب معلوم ہوتا ہے کہ اللہ بہتر ہے یا یہ معبود اِن باطل حقیقت کے اعتبار سے تو معبودانِ باطل میں سرے سے کسی خیر کا سوال ہی نہیں ہے کہ اللہ سے ان کا مقابلہ کیا جائے۔ رہے مشرکین تو وہ بھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہ تھے کہ اللہ کا اور اُن کے معبودوں کا کوئی مقابلہ ہے۔ لیکن یہ سوال ان کے سامنے اس لیے رکھا گیا کہ وہ اپنی غلطی پر متنبہ ہوں۔ ظاہر ہے کہ کوئی شخص دنیا میں کوئی کام بھی اس وقت تک نہیں کرتا جب تک وہ اپنے نزدیک اس میں کسی بھلائی یا فائدے کا خیال نہ رکھتا ہو۔ اب اگر یہ مشرک لوگ اللہ کی عبادت کے بجائے ان معبودوں  کی عبادت کرتے تھے، اور اللہ کو چھوڑ کر ان سے اپنی حاجتیں طلب کرتے اور ان کے آگے نذر و نیاز پیش کرتے تھے،  تو یہ اِ س کے بغیر بالکل بے معنی تھا کہ ان معبودوں میں کوئی خیر ہو۔ اسی بنا پر ان کے سامنے صاف الفاظ میں یہ سوال رکھا گیا کہ بتاؤ اللہ بہتر ہے یا تمہارے یہ معبود؟ کیونکہ اس دو ٹوک سوال کا سامنا کرنے کی ان میں ہمت نہ تھی۔ ان میں سے کوئی کٹّے سے کٹّا مشرک بھی یہ کہنے کی جرأت نہ کر سکتا تھا کہ ہمارے معبود بہتر ہیں۔ اور یہ مان لینے کے بعد کہ اللہ بہتر ہے،  ان کے پورے دین کی بنیاد ڈھے جاتی تھی، اس لیے کہ پھر یہ بات سراسر نا معقول قرار پاتی تھی کہ بہتر کو چھوڑ کر بد تر کو اختیار کیا جائے۔ اس طرح قرآن نے تقریر کے پہلے ہی فقرے میں مخالفین کو بے بس کر دیا۔ اس کے بعد اب پے در پے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور تخلیق کے ایک ایک کرشمے کی طرف انگلی اٹھا کر پو چھا جاتا ہے کہ بتاؤ یہ کام کس کے ہیں؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا خدا بھی ان کاموں میں شریک ہے ؟ اگر نہیں ہے تو پھر یہ دوسرے آخر کیا ہیں کہ انہیں تم نے معبود بنا رکھا ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب اس آیت کی تلاوت فرماتے تو فوراً اس کے جواب میں فرماتے  بَلِ اللہُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی وَاَجَلُّ وَاَکْرَمُ، ’’ نہیں بلکہ اللہ ہی بہتر ہے اور وہی باقی رہنے والا اور بزرگ و برتر ہے‘‘۔

۷۳: مشرکوں میں سے کوئی بھی اس سوال کا یہ جواب نہ دے سکتا تھا کہ یہ کام اللہ کے سوا کسی اور کے ہیں، یا اللہ کے ساتھ کوئی  اور بھی ان میں شریک ہے۔ قرآن مجید دوسرے مقامات پر کفارِ مکّہ اور مشرکین عرب کے متعلق کہتا ہے،  وَلَئینْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَھُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُ، وَلَئینْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَ، ’’اگر تم ان سے پوچھو کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے  تو وہ ضرور کہیں گے اُس زبردست،  علم والے نے ہی ان کو پیدا کیا ہے‘‘  (الزخرف آیت۹) وَلَئینْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللہُ، ’’اور اگر ان سے پوچھو کہ خود انہیں کس نے پیدا کیا ہے  تو وہ ضرور کہیں گے  اللہ نے‘‘ (الزخرف۔ آیت۸۷) وَلَئینْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآ ءً فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا لَیَقُوْلُنَّ اللہُ، ’’اور اگر ان سے پوچھو کہ کس نے آسمان  سے پانی برسایا اور مردہ پڑی ہوئی زمین کو جِلا اٹھایا تو وہ ضرور کہیں گے اللہ نے ‘‘ (العنکبوت۔آیت۶۳)قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَالاَرْضَ۔۔۔۔ وَمَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللہ،  ’’ ان سے پوچھو کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟ یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں؟ کون جاندار کو بے جان  میں سے اور بے جان کو جاندار میں سے نکالتا ہے؟  کون اس نظامِ عالم کی تدبیر کر رہا ہے ؟ وہ ضرور کہیں گے  کہ اللہ ‘‘ (یونس۔ آیت۳۱)۔ عرب کے مشرکین ہی نہیں،  دنیا بھر کے مشرکین بالعموم یہی مانتے تھے  اور آج بھی مانتے ہیں کہ کائنات کا خالق اور نظامِ کائنات کا مدبّر اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس لیے قرآن مجید کے اس سوال کا یہ جواب اُن میں سے کوئی شخص ہٹ دھرمی کی بنا پر رائے بحث بھی نہ دے سکتا تھا کہ ہمارے معبود خدا کے ساتھ اِن کاموں میں شریک ہیں، کیونکہ اگر وہ ایسا  کہتا تو اس کی اپنی ہی قوم کے ہزار ہا آدمی اس کو جھٹلا دیتے اور صاف کہتے کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے۔ اس سوال  اور اس کے بعد کے سوالات میں صرف مشرکین ہی کے شرک کا ابطال نہیں ہے بلکہ دہریوں کی دہریت کا ابطال بھی ہے۔ مثلاً اسی پہلے سوال میں پوچھا گیا ہے کہ یہ بارش برسانے والا اور اس کے ذریعہ سے ہر طرح کی نباتات اُگانے والا کون ہے ؟ اب غور کیجیے، زمین میں اُس مواد کا ٹھیک سطح پریا سطح سے متصل موجود ہونا جو بے شمار مختلف اقسام کی نباتی زندگی کے لیے درکار ہے،  اور پانی کے اندر ٹھیک وہ اوصاف موجود ہونا جو حیوانی اور نباتی زندگی کی ضروریات کے مطابق ہیں، اور اس پانی کا پے در پے سمندروں سے اُٹھایا جانا اور زمین کے مختلف حصوں میں وقتاً فوقتاً ایک باقاعدگی کے ساتھ برسایا جانا، اور زمین،  ہوا،  پانی اور درجہ حرارت وغیرہ مختلف قوتوں کے درمیان ایسا متناسب تعاون قائم کرنا کہ اس سے نباتی زندگی کو نشوونما نصیب ہوا اور وہ ہر طرح کی حیوانی زندگی  کے لیے اس کی بے شمار ضروریات پوری کرے، کیا یہ سب کچھ ایک حکیم کی منصوبہ بندی اور دانشمندانہ تدبیر اور غالب قدرت و ارادہ کے بغیر خود بخود اتفاقاً ہو سکتا ہے ؟ اور کیا یہ ممکن ہے کہ یہ اتفاقی حادثہ مسلسل ہزار ہا برس بلکہ لاکھوں کروڑوں برس تک اسی باقاعدگی سے رونما ہوتا چلا جائے؟ صرف ایک ہٹ دھرم آدمی ہی،  جو تعصب میں اندھا ہو چکا ہو، اسے ایک امر اتفاقی کہہ سکتا ہے۔ کسی راستی پسند عاقل انسان کے لے ایسا لغو دعویٰ کرنا اور ماننا ممکن نہیں ہے۔

۷۴: زمین کا اپنی بے حدو حساب مختلف النوع آبادی کے لیے جائے قرار ہونا بھی کوئی سادہ سی بات نہیں  ہے۔ اس کرہ خاکی کو جِن حکیمانہ مناسبتوں کے ساتھ قائم کیا گیا ہے،  ان کی تفصیلات پر آدمی غور کرے تو اس کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مناسبتیں ایک حکیم و دانا قادرِ مطلق کی تدبیر قائم نہ ہو سکتی تھیں۔ یہ کُرَہ فضائے بسیط میں معلق ہے،  کسی چیز پر ٹِکا ہوا نہی ہے۔ مگر اس کے با وجود اس میں کوئی اضطراب اور اہتزاز نہیں ہے۔ اگر اس میں ذرا سا بھی اہتزاز ہوتا، جس کے خطر ناک نتائج کا ہم کبھی زلزلہ آ جانے سے بآسانی اندازہ لگا سکتے ہیں، تو یہاں کوئی آبادی ممکن نہ تھی۔ یہ کرہ با قاعدگی کے ساتھ سورج کے سامنے رہتا  اور دوسرا رُخ ہر وقت چھپا رہتا تو یہاں کوئی آبادی ممکن نہ ہوتی کیونکہ ایک رُخ کو سردی اور بے نوری نباتات اور حیوانات  کی پیدائش کے قابل نہ رکھتی اور دوسرے رُخ کو گرمی کی شدت بے آب و گیاہ اور غیر آباد بنا دیتی۔ اس کرہ پر پانچ سو میل کی بلندی تک ہوا کا ایک کثیف ردّا چڑھا دیا گیا ہے جو شہابوں کی خوفناک بم باری سے اسے بچائے ہوئے ہے۔ ورنہ روزانہ دو کروڑ شہاب، جو ۳۰ میل فی سکنڈ کی رفتار سے زمین کی طرف گرتے ہیں، یہاں وہ تباہی مچاتے کہ کوئی انسان،  حیوان یا درخت جیتا نہ رہ سکتا تھا۔ یہی ہوا درجۂ حرارت کو قابو میں رکھتی ہے،  یہی سمندروں سے بادل اٹھاتی  اور زمین کے مختلف حصوں تک آپ رسانی کی خدمت انجام دیتی ہے اور یہی انسان اور حیوان اور نباتات کی زندگی کو مطلوبہ گیسیں فراہم کرتی ہے۔ یہ نہ ہوتی تب بھی زمین کسی آبادی کے لیے جائے قرار نہ بن سکتی۔ اس کُرے کی سطح سے بالکل متصل وہ معدنیات اور مختلف قسم کے کیمیاوی اجزاء بڑے پیمانے پر فراہم کر دیے گئے ہیں جو نباتی، حیوانی اور انسانی زندگی کے لیے مطلوب ہیں۔ جس جگہ بھی یہ سرو سامان مفقود ہوتا ہے وہاں کی زمین کسی زندگی کو  سہارنے کے لائق نہیں ہوتی۔ اس کُرے پر سمندروں،  دریاؤں، جھیلوں، چشموں اور زیر زمین سوتوں کی شکل میں پانی کا بڑا عظیم الشان ذخیرہ فراہم کر دیا گیا ہے،  اور پہاڑوں پر بھی اس کے بڑے بڑے ذخائر کو منجمد کرنے اور پھر پگھلا کر بہانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس تدبیر کے بغیر یہاں کسی زندگی کا امکان  نہ تھا۔ پھر اس پانی،  ہوا اور تمام اُن اشیاء کو جو زمین پر پائی جاتی ہیں،  سمیٹیے رکھنے کے لیے اس کُرے میں نہایت ہی مناسب کشش رکھ دی گئی ہے۔ یہ کشش اگر  کم ہوتی تو ہوا اور پانی،  دونوں کو نہ روک سکتی  اور درجۂ حرارت اتنا زیادہ ہوتا کہ زندگی یہاں دشوار ہو جاتی۔ یہ کشش اگر زیادہ ہوتی تو ہوا بہت کثیف ہو جاتی،  اس کا دباؤ بہت بڑھ جاتا، بخارات آبی کا اُٹھنا مشکل ہوتا اور بارشیں نہ ہو سکتیں، سردی زیادہ ہوتی،  زمین کے بہت کم رقبے آبادی کے قابل ہوتے، بلکہ کششِ ثقل بہت زیادہ ہونے کی صورت میں انسان اور حیوانات کی جسامت بہت کم ہوتی اور ان کا وزن اتنا زیادہ ہوتا کہ نقل  و حرکت بھی ان کے لیے مشکل ہوتی۔ علاوہ بریں،  اس کرے کو سورج سے ایک خاص فاصلے پر رکھا گیا ہے جو آبادی کے لے مناسب ترین  ہے۔ اگر اس کا فاصلہ زیادہ ہوتا تو سورج سے اس کو حرارت کم ملتی، سردی بہت زیادہ ہوتی، موسم بہت  لمبے ہوتے،  اور مشکل ہی سے یہ آبادی کے قابل ہوتا۔ اور اگر فاصلہ کم ہوتا تو اس کے بر عکس گرمی کی زیادتی اور دوسری بہت سی چیزیں مل جل کر اسے انسان جیسی مخلوق کی سکونت کے قابل نہ رہنے دیتیں۔ یہ صرف چند وہ مناسبتیں ہیں جن کی بدولت زمین اپنی موجودہ آبادی کے لیے جائے قرار بنی ہے۔ کوئی شخص عقل رکھتا ہو اور ان امور کو نگاہ میں رکھ کر سوچے تو وہ ایک لمحہ کے لیے بھی نہ یہ تصور کر سکتا ہے  کہ کسی خالق حکیم کی منصوبہ سازی کے بغیر یہ مناسبتیں محض ایک حادثہ کے نتیجے میں خود بخود قائم ہو گئی ہیں، اور نہ یہ گمان کر سکتا ہے کہ اس عظیم الشان تخلیقی منصوبے کو بنانے اور رو بعمل لانے میں کسی دیوی یا دیوتا، یا جن،  یا نبی و ولی، یا فرشتے کا کوئی دخل ہے۔

۷۵: یعنی میٹھے اور کھاری پانی کے ذخیرے،  جو اسی زمین پر موجود ہیں،  مگر وہاں  خلط ملط نہیں ہوتے۔ زیر زمین پانی کی سورتیں بسا اوقات ایک ہی علاقے میں کھاری پانی الگ اور میٹھا پانی الگ لے کر چلتی ہیں۔ کھاری پانی کے سمندر تک  میں بعض مقامات پر میٹھے پانی کے چشمے رواں ہوتے ہیں اور ان کی دھار سمندر کے پانی سے اس طرح الگ ہوتی ہے کہ بحری مسافر اس میں سے  پینے کے لیے پانی حاصل کر سکتے ہیں۔(تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہوں تفہیم القرآن، سورہ الفرقان، حاشیہ ۶۸)

۷۶: مشرکین عرب خود اس بات کو جانتے اور مانتے تھے کہ مصیبت کو ٹالنے والا حقیقت میں اللہ ہی ہے چنانچہ قرآن مجید جگہ جگہ انہیں یاد دلاتا ہے کہ جب تم پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو تم خدا ہی سے فریاد کرتے ہو، مگر جب وہ وقت ٹل جاتا ہے تو خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتے ہو(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول الانعام، حواشی۲۹۔۴۱۔جلد دوم،یونس،آیات۲۱۔۲۲۔حاشیہ۳۱۔النحل،حاشیہ۴۶۔بنی اسرائیل حاشیہ،۸۴۔ )اور یہ بات صرف مشرکین عرب ہی تک محدود نہیں ہے دنیا بھر کے مشرکین کا بالعموم یہی حال ہے۔ حتیٰ کے روس کے منکرین خدا جنہوں نے خدا پرستی کے خلاف ایک باقاعدہ مہم چلا رکھی ہے،  ان پر بھی جب گزشتہ جنگ عظیم میں جرمن فوجوں کا نرغہ سخت ہو گیا تو انہیں خدا کو پکار نے کی ضرورت محسوس ہو گئی تھی۔

۷۷: اس کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل اور ایک قوم کے بعد دوسری قوم  اٹھاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ تم کو زمین میں تصرف اور فرمانروائی کے اختیارات عطا کرتا ہے

۷۸: یعنی جس نے ستاروں کے ذریعے سے ایسا انتظام کر دیا ہے کہ تم رات کے اندھیرے میں بھی اپنا راستہ تلاش کر سکتے ہو۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکیمانہ تدبیروں میں سے ایک ہے کہ اس نے بحری اور بری سفروں میں انسان کی رہنمائی کے لیے وہ ذرائع پیدا کر دیے ہیں جن سے وہ اپنی سمت سفر،  اور منزلِ مقصود کی طرف اپنی راہ متعین کر تا ہے۔ دن کے وقت زمین کی مختلف علامتیں اور آفتاب کے طلوع و غروب کی سمتیں اس کی مدد کرتی ہیں اور تاریک راتوں میں تارے اس کی رہنمائی کرتے ہیں۔ سورہ نحل میں ان سب کو اللہ تعالیٰ ٰ کے احسانات میں شمار کیا گیا ہے:وَعَلَامَاتٍ وَّ بِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْنَ،(آیت۱۶)۔

۷۹: رحمت سے مراد ہے بارش، جس کے آنے سے پہلے ہوائیں اس کی آمد آمد کی خبر دے دیتی ہیں۔

۸۰: یہ سادہ سی بات جس کو ایک جملے میں بیان کر دیا گیا ہے،  اپنے اندر ایسی تفصیلات رکھتی ہے کہ آدمی ان کی گہرائی میں جتنی دور تک اُترتا  جاتا ہے اتنے ہی وجودِ الٰہ اور وحدتِ الٰہ کے شواہد اسے ملتے چلے جاتے ہیں۔ پہلے تو بجائے خود تخلیق ہی کو دیکھیے۔ انسان کا علم آج تک یہ راز نہیں پا سکا ہے کہ زندگی کیسے اور کہاں سے آتی ہے۔ اس وقت تک مُسلم سائنٹیفک حقیقت یہی ہے کہ بے جان مادّے کی محض ترکیب سے خود بخود جان پیدا نہیں ہو سکتی۔ حیات کی پیدائش کے لیے جتنے عوامل درکار ہیں ان سب کا ٹھیک تناسب کے ساتھ بالکل اتفاقاً جمع ہو کر زندگی کا  آپ سے آپ وجود میں آ جانا دہریوں کا ایک غیر علمی کا مفروضہ تو ضرور ہے، لیکن اگر ریاضی کے قانون بخت و اتفاق(law of Change ) کو اس پر  منطبق کیا جائے تو اس کے وقوع کا امکان صفر سے زیادہ نہیں نکلتا۔ اب تک تجربی طریقے پر سائنس کے معمولوں (laboratories ) میں بے جان مادے سے جاندار مادہ پیدا کرنے کی جتنی کوششیں بھی کی گئی ہیں، تمام ممکن تدابیر استعمال کرنے کے با وجود وہ سب قطعی ناکام ہو چکی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ جو چیز پیدا کی جا سکی ہے وہ صرف وہ مادہ ہے جسے اصطلاح میں (D.N.A ) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مادہ ہے جو زندہ خلیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ جوہرِ حیات تو ضرور ہے مگر خود جاندار نہیں ہے۔ زندگی  اب بھی بجائے خود ایک معجزہ ہی ہے  جس کی کوئی علمی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جا سکی ہے کہ یہ ایک خالق کے امر و ارادہ اور منصوبہ کا نتیجہ ہے۔  اس کے بعد آگے دیکھیے۔ زندگی محض ایک مجرد صورت میں نہیں بلکہ بے شمار متنّوع صورتوں میں پائی جاتی ہے۔ اس وقت تک روئے زمین  پر حیوانات کی تقریباً دس لاکھ اور نباتات کی تقریباً دو لاکھ انواع کا پتہ چلا ہے۔ یہ لکھو کھا انواع اپنی ساخت اور نوعی خصوصیات میں ایک دوسرے سے ایسا واضح اور قطعی امتیاز رکھتی ہے،  اور قدیم ترین معلوم زمانے سے اپنی اپنی صورتِ نوعیہ  کو اس طرح برقرار رکھتی چلی آ رہی ہے کہ ایک خدا کے تخلیقی منصوبے (Design ) کے سوا زندگی کے ایک عظیم تنّوع کی کوئی اور معقول توجیہ کر دینا کسی ڈارون کے بس کی بات نہیں ہے۔ آج تک کہیں بھی دو نوعوں  کے درمیان کی کوئی ایک کڑی بھی نہیں مل سکتی ہے جو ایک نوع کی ساخت اور خصوصیات کا ڈھانچہ توڑ کر نکل آئی تو اور ابھی دوسری نوع کی ساخت اور خصوصیات تک پہنچنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہو۔ متحجرات(Fossils ) کا پورا ریکارڈ اس کی نظر سے خالی ہے اور موجودہ حوالات میں بھی یہ خنثٰی مشکل نہیں ملا ہے۔ آج تک کسی نوع کا جو فرض بھی ملا ہے،  اپنی پوری صورتِ نوعیہ  کے ساتھ ہی ملا ہے،  اور ہر وہ افسانہ جو کسی مفقود کڑی کے  بہم پہنچ جانے کا وقتاً فوقتاً سنا دیا جاتا ہے،  تھوڑی مدت بعد حقائق اس کی ساری پھونک نکال دیتے ہیں۔ اس وقت تک یہ حقیقت اپنی جگہ بالکل اٹل ہے کہ ایک صانع حکیم، ایک خالق الباری المصور ہی نے زندگی کو یہ لاکھوں متنوع صورتیں عطا کی ہیں۔  یہ تو ہے ابتداء خالق کا معاملہ۔ اب ذرا اعادہ خلق پر غور کیجیے۔ خالق نے ہر نوع  حیوانی اور نباتی کی ساخت و تقریب میں وہ حیرت انگیز نظام العمل(Mechanism ) رکھ دیا ہے جو اس کے بے شمار افراد میں سے بے حدو حساب نسل کی اسی کی صورتِ نوعیہ اور مزاج و خصوصیات کے ساتھ نکالتا چلا جاتا ہے  اور کبھی جھوٹوں بھی ان کروڑ ہا کروڑ چھوٹے چھوٹے کارخانوں میں یہ بھول چوک نہیں ہوتی کہ ایک  نوع کا کوئی کارخانہ تنا سل کسی دوسری نوع کا ایک نمونہ نکال کر پھینک دے۔ جدید علم تناسل (Genetics ) کے مشاہدات اس معاملے میں حیرت انگیز حقائق پیش کرتے ہیں۔ ہر پودے میں یہ صلاحیت رکھی گئی ہے  کہ اپنی نوع کا سلسلہ آگے کی نسلوں تک جاری رکھنے کا ایسا مکمل انتظام کرے جس سے آنے والی نسل اس کی نوع کی تمام امتیازی خصوصیات کی حامل ہو  اور اس کا ہر فرد دوسری تمام انواع کے افراد سے اپنی صورت نوعیہ میں  ممیز ہو۔ یہ بقائے نوع اور تناسل کا سامان ہر پودے کے ایک خلیے(Cell ) کے ایک حصہ میں ہوتا ہے  جسے مشکل  انتہائی طاقت ور خورد بین سے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ چھوٹا سا انجینیر پوری صحت کے ساتھ پودے کے سارے نشوونما کو حتماً اُسی راستے پر ڈالتا ہے  جو اس کی اپنی صورتِ نوعیہ کا راستہ ہے۔ اسی کی بدولت گیہوں کے ایک دانہ سے آج تک جتنے پودے بھی دنیا میں کہیں پیدا ہوئے ہیں انہوں نے گیہوں ہی پیدا کیا ہے،  کیس آب و ہوا اور کسی ماحول میں یہ حادثہ کبھی رونما نہیں ہوا کہ دانہ گندم کی نسل سے کوئی  ایک ہی دانہ جَو پیدا ہو جاتا۔ ایسا ہی معاملہ حیوانات اور انسان کا بھی ہے کہ ان میں سے کسی کی تخلیق بھی بس ایک دفعہ ہو کر نہیں رہ گئی ہے بلکہ ناقابلِ تصور وسیع پیمانے پر ہر طرف اعادہ خلق کا ایک عظیم کارخانہ چل رہا ہے  جو ہر نوع کے افراد سے پیہم اُسی نوع کے بے شمار افراد وجود میں لاتا چلا جا رہا ہے۔ اگر کوئی شخص توالُد و  تناسُل کے اُس خورد بینی تخم کو دیکھے جو تمام نوعی امتیازات اور موروثی خصوصیات کو اپنے ذرا سے وجود کے بھی محض ایک حصے میں لیے ہوئے ہوتا ہے،  اور پھر اس انتہائی  نازل اور پیچیدہ عضوی نظام اور نے انتہا لطیف و پُر پیچ عملیات (Progresses ) کو دیکھے جن کی مدد سے ہر نوع کے ہر فرد کا تخمِ تناسُل اُسی نوع کا فرد وجود میں لاتا ہے ،  تو وہ ایک لمحہ کے لیے بھی یہ تصور نہیں کر سکتا کہ ایسا نازل اور پیچیدہ نظام العمل کبھی خود بخود بن سکتا ہے اور پھر مختلف انواع کے اربوں ملین افراد میں آپ سے آپ ٹھیک چلتا بھی رہ سکتا ہے۔ یہ چیز نہ صرف اپنی ابتدا کے لیے ایک صانع حکیم چاہتی ہے،  بلکہ ہر آن اپنے درست طریقہ پر چلتے رہنے کے لیے بھی ایک ناظم و مدّبر اور ایک حیّ و قیوم کی طالب ہے جو ایک لحظہ کے لیے بھی اِن کارخانوں کی نگرانی و رہنمائی سے غافل نہ ہو۔ یہ حقائق ایک دہریے کے انکارِ خدا کی بھی اسی طرح جڑ کاٹ دیتے ہیں جس طرح ایک مشرک کے شرک کی۔ کون احمق یہ گمان کر سکتا ہے کہ خدائی کے اس کام میں کوئی فرشتہ یا جن یا نبی یا ولی ذرہ برابر بھی کوئی حصہ رکھتا ہے۔ اور کون صاحبِ عقل آدمی تعصب سے پاک ہو کر یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سارا کارخانہ خلق و اعادہ خلق اِ س کمال حکمت و نظم کے ساتھ اتفاقاً شروع ہوا اور آپ سے آپ چلے جا رہا ہے۔

۸۱: رزق دینے کا معاملہ اتنا سادہ نہیں  ہے، جتنا سر سری طور پر ان مختصر سے الفاظ کو پڑھ کو کوئی شخص محسوس کرتا ہے۔ اس زمین پر لاکھوں انواع  حیوانات کی  اور لاکھوں ہی نباتات کی  پائی جاتی ہیں جن میں سے ہر ایک کے اربوں افراد موجود ہیں، اور ہر ایک کی غذائی  ضروریات الگ ہیں۔ خالق نے ان میں سے  ہر نوع کی غذا کا سامان اس کثرت سے اور ہر ایک کی دسترس کے اس قدر قریب فراہم کیا ہے  کہ کسی نوع کے افراد بھی یہاں غذا پانے سے محروم نہیں رہ جاتے۔ پھر اس انتظام میں زمین اور آسمان کی اتنی مختلف  قوتیں مل جل کر کام کرتی ہیں جن کا شمار مشکل ہے۔ گرمی، روشنی،  حوا،  پانی،  اور زمین کے مختلف الاقسام مادوں کے درمیان ایک ٹھیک تناسب کے ساتھ تعلق نہ ہو تو غذا کا ایک ذرہ بھی وجود میں نہیں آ سکتا۔  کون شخص تصور کر سکتا ہے کہ یہ حکیمانہ انتظام ایک مدبر کی تدبیر اور  سوچے سمجھے منصوبے کے بغیر یونہی اتفاقاً ہو سکتا ہے ؟ اور کون اپنے ہوش و حواس میں رہتے ہوئے یہ خیال کر سکتا ہے  کہ اس انتظام میں کسی جن یا فرشتے یا کسی بزرگ کی روح کا کوئی دخل ہے؟

۸۲: یعنی  یا تو اس بات پر دلیل لاؤ کہ  ان کاموں میں واقعی کوئی اور بھی شریک ہے،  یا نہیں تو پھر کسی معقول دلیل سے یہی بات سمجھا دو کہ یہ سارے کام تو ہوں صرف ایک اللہ کے مگر بندگی و عبادت کا حق پہنچے اس کے سوا کسی اور کو،  یا  اس کے ساتھ کسی اور کو بھی۔

۸۳: اوپر تخلیق،  تدبیر اور رزاقی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے الٰہِ واحد( یعنی اکیلے خدا اور اکیلے مستحق عبادت) ہونے پر استدلال کیا گیا تھا۔ اب خدا کی ایک اور اہم صفت،  یعنی علم کے لحاظ سے بتایا جا رہا ہے کہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ لا شریک ہے۔ آسمان و زمین میں جو بھی مخلوقات ہیں،  خواہ فرشتے ہو یا جن یا انبیاء اور اولیاء یا دوسرے انسان اور غیر انسان، سب کا علم محدود ہے۔ سب سے کچھ نہ کچھ پوشیدہ ہے  سب کچھ جاننے والا اگر کوئی ہے تو وہ صرف اللہ تعالی ٰ ہے  جس سے  اس کائنات کی کوئی چیز اور کوئی بات پوشیدہ نہیں،  جو ماضی و حال اور مستقبل سب کو جانتا ہے۔ غیب کے معنی مخفی،  پوشیدہ اور مستور کے ہیں۔ اصطلاحاً اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو معلوم نہ ہو،  جس تک ذرائع معلومات کی رسائی نہ ہو۔ دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو  فرداً فرداً بعض انسانوں کے علم میں اور بعض کے علم میں نہیں ہیں۔ اور بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو بحیثیت مجموعی پوری نوعِ انسانی کے علم میں نہ کبھی تھی،  نہ آج ہیں نہ آئندہ کبھی آئیں گی۔ ایسا ہی معاملہ جنوں اور فرشتوں  اور دوسری مخلوقات کا ہے  کے بعض چیزیں ان میں سے کسی سے  مخفی اور کسی کو معلوم ہیں،  اور بے شمار چیزیں ایسی ہیں جو ان سب سے مخفی ہیں اور کسی کو بھی معلوم نہیں۔ یہ تمام اقسام کے غیب  صرف ایک ذات پر روشن ہیں،  اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس کے لیے کوئی چیز غیب نہیں، سب شہادت ہی شہادت ہے۔ اس حقیقت کو بیان کر نے میں سوال کا وہ طریقہ اختیار نہیں کیا گیا جو اوپر  تخلیق و تدبیر کائنات اور رزّاقی کے بیان میں اختیار کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُن صفات کے آثار تو بالکل  نمایا ں ہیں جنہیں ہر شخص دیکھ رہا ہے،  اور ان کے بارے میں کفار و مشرکین تک یہ مانتے تھے اور مانتے ہیں کہ یہ سارے کام اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں۔ اس لیے وہاں طرزِ استدلال یہ تھا کہ جب یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں اور کوئی ان  میں اس کا شریک نہیں  ہے  تو پھر خدائی میں تم نے دوسروں  کو کیسے شریک بنا لیا اور عبادت کے مستحق وہ کس بنا پر ہو گئے ؟لیکن علم کی صفت اپنے کوئی محسوس آثار نہیں رکھتی جن کی طرف اشارہ کیا جا سکے۔ یہ معاملہ صرف غور و فکر ہی سے سمجھ میں آ سکتا ہے۔ اس لیے اس کو سوال کے بجائے دعوے کے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اب یہ ہر صاحبِ عقل کا کام ہے کہ وہ اپنی جگہ اس امر پر غور کرے کہ فی الحقیقت کیا یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا عالم الغیب ہو؟ یعنی تمام اُن احوال اور اشیاء اور حقائق کا جاننے والا ہو جو کائنات میں کبھی تھیں، یا اب ہیں، یا آئندہ ہوں گی۔ اور اگر کوئی دوسرا عالم الغیب نہیں ہے اور نہیں ہو سکتا تو پھر کیا یہ بات عقل میں آتی ہے کہ جو لوگ پوری طرح حقائق اور احوال سے واقف ہی نہیں ہیں ان میں سے کوئی بندوں کا فریا درس اور حاجت رو ا اور مشکل کشا ہو سکے ؟   الوہیت اور علمِ غیب کے درمیان ایک ایسا گہرا تعلق ہے کہ قدیم ترین زمانے سے انسان جس ہستی میں بھی خدائی کے کسی شائبے کا گمان کیا  ہے  اُس کے متعلق یہ خیال ضرور کیا ہے کہ اس پر سب کچھ روشن ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ گویا انسان کا ذہن اِس حقیقت سے بالکل بد یہی طور پر آگاہ ہے کہ قسمتوں کا بنا نا اور بگاڑنا، دعاؤں کا سُننا، حاجتیں پوری کرنا اور ہر طالبِ امداد کی مدد کو پہنچنا صرف اُسی ہستی کا کام ہو سکتا ہے جو سب کچھ جانتی ہو اور جس سے کچھ بھی پوشیدہ نہ ہو۔ اِسی بنا پر تو انسان جس کو بھی خدائی اختیارات کا حامل سمجھتا ہے اُسے لازماً عالم الغیب بھی سمجھتا ہے،  کیونکہ اس کی عقل بلا ریب شہادت دیتی ہے کہ علم اور اختیارات باہم لازم و ملزوم ہیں۔ اب اگر یہ حقیقت ہے کہ خالق اور مدبر اور مجیب الدعوات اور رزاق خدا کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے،  جیسا کہ اوپر کی آیات میں ثابت کیا گیا ہے،  تو آپ سے آپ یہ بھی حقیقت ہے کہ عالم الغیب بھی خدا کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے۔ آخر کون اپنے ہوش و حواس میں یہ تصور کر سکتا ہے کہ کسی فرشتے یا جِن یا نبی یا ولی کو، یا کسی مخلوق کو بھی یہ معلوم ہو گا کہ سمندر میں اور ہوا میں اور زمین کی تہوں میں اور سطح زمین کے اوپر کس کس قسم کے کتنے جانور کہاں کہاں ہیں؟ اور عالمِ بالا کے بے حد و حساب سیاروں کی ٹھیک تعداد کیا ہے؟ اور ان میں سے ہر ایک میں کس کس طرح کی مخلوقات موجود ہیں؟ اور ان مخلوقات کا ایک ایک فرد کہاں ہے اور کیا اس کی ضروریات ہیں؟ یہ سب کچھ اللہ کو تو لازماً معلوم ہونا چاہیے،  کیونکہ اس نے انہیں پیدا کیا ہے،  اور اسی کو ان کے معاملات کی تدبیر اور ان کے حالات کی نگہبانی کرنی ہے،  اور وہی ان کے رزق کا انتظام کرنے والا ہے۔ لیکن دوسرا کوئی اپنے محدود وجود میں یہ وسیع و محیط علم رکھ کیسے سکتا ہے اور اس کا کیا تعلق اِس کارِ خلّاقی و رزّاقی سے ہے کہ وہ اِن چیزوں کو جانے؟   پھر یہ صفت قابل تجزیہ بھی نہیں ہے کہ کوئی بندہ مثلاً صرف زمین کی حد تک،  اور زمین میں  بھی صرف انسانوں کی حد تک عالم الغیب ہو۔ یہ اُسی طرح قابلِ تجزیہ نہیں ہے جس طرح خدا کی خلّاقی و رزّاقی اور قیومی و پروردگاری قابلِ تجزیہ نہیں ہے۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک جتنے انسان دنیا میں پیدا ہوئے ہیں اور قیامت تک اور قیامت تک پیدا ہوں گے، رحمِ مادر میں استقرار کے وقت سے آخری ساعتِ حیات تک ان سب کے تمام حالات و کیفیات کو جاننا آخر کس بندے کا کام ہو سکتا ہے؟ اور وہ کیسے اور کیوں اس کو جانے گا؟ کیا وہ اس بے حدو حساب خلقت کا خالق ہے ؟ کیا اس نے ان کے باپوں کے نطفے میں ان کے جرثومے کو وجود بخشا تھا؟ کیا اس نے ان کی ماؤں کے رحم میں ان کی صورت گری کی تھی؟ کیا اس  نے ان کی زندہ  ولادت کا انتظام کیا ؟ کیا اس نے  ان میں سے ا یک ایک شخص کی قسمت بنائی تھی؟ کیا وہ ان کی موت اور حیات، ان کی صحت اور مرض، ان کی خوشحالی اور بد حالی اور ان کے عروج اور زوال کے فیصلے کرنے کا ذمہ دار ہے ؟ اور آخر یہ کام کب سے اس کے ذمے ہوا؟ اس کی اپنی ولادت سے پہلے یا اس کے بعد؟ اور صرف انسانوں کی حد تک یہ ذمہ داریاں محدود کیسے ہو سکتی ہیں؟ یہ کام تو لازماً زمین اور آسمانوں کے عالمگیر  انتظام کا ایک جز ہے۔ جو ہستی ساری کائنات کی تدبیر کر رہی ہے وہی تو انسانوں کی پیدائش و موت اور ان کے رزق کے تنگی و کشادگی اور ان کی قسمتوں کے بناؤ اور بگاڑ کی ذمہ دار ہو سکتی ہے۔  اسی بنا پر یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ عالم الغیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں  سے جس پر چاہے اور جس قدر چاہے اپنی معلومات کا کوئی گوشہ کھول دے، اور اکسی غیب یا بعض غیوب کو ا پر روشن کر دے،  لیکن علمِ غیب بحیثیت مجموعی کسی کو نصیب نہیں اور عالم الغیب ہونے کی صفت صرف اللہ رب العالمین کے لیے مخصوص ہے۔ وَعِنْدَ ہٗ مَفَا تِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمھَُآ اِلَّا ھُوَ، ’’ اور اُسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، انہیں کوئی نہیں جانتا اُس کے سوا ‘‘ (الانعام، آیت۵۹)۔ اِنَّ اللہ َ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّا عَۃِ ج وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ ج وَیَعْلَمُ مَا فِی الْاَ رْحَامِ ط وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَکْسِبُ غَدًا ط وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌم بِاَیِّ اَرْض تَمُوْتُ ط ’’اللہ ہی کے پاس ہے قیامت کا علم اور وہی بارش نازل کرنے والا ہے۔ اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحم میں کیا (پر ورش پا رہا )ہے۔ اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا۔ اور کسی متنفس کو خبر نہیں ہے  کہ کس سر زمین  میں اس کو موت آئے گی‘‘ (لقمان۔ آیت۳۴)۔ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْ ءٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّا بِمَا شَآءَ، ’’وہ جانتا ہے جو کچھ مخلوقات کے سامنے ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے،  اور اس کے علم میں سے کسی چیز پر بھی وہ احاطہ نہیں کر سکتے اِلّا یہ کہ وہ جس چیز کا چاہے انہیں علم دے‘‘ (البقرہ۔آیت۲۵۵)۔ قرآن مجید مخلوقات کے لیے علم غیب کی اس عام اور مطلق نفی پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ خاص طور پر انبیاء علیم السلام،  اور خود محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں اس مر کی صاف صاف تصریح کرتا ہے  کہ وہ عالم الغیب نہیں ہیں اور اُن کو غیب کا صرف اُتنا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ہے جو رسالت کی خدمت انجام دینے کے لیے درکار تھا۔ سورہ انعام آیت ۵۰، الاعراف آیت۱۸۷، التوبہ، آیت ۱۰۱، ہود،  آیت۳۱۔ احزاب،  آیت۶۳، الاحقاف آیت۹، التحریم، آیت۳، اور الجن آیات ۲۶ تا ۲۸ اس معاملہ میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں چھوڑتیں۔ قرآن کی یہ تمام تصریحات زیر بحث آیت کی تائید و تشریح کرتی ہیں جن کے بعد اس امر میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو عالم الغیب سمجھنا اور یہ سمجھنا کہ کوئی دوسرا بھی جمیع ماکان و مایکون کا علم رکھتا ہے،  قطعاً ایک غیر اسلامی عقیدہ ہے۔ شیخین، ترمذی، نَسائی،  امام احمد، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے صحیح سندوں کے ساتھ حضرت عائشہؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ من زعم انہ (ای النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم )یعلم ما یکون فی غد اعظم علی اللہ الفریۃ واللہ یقول قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَا لْاَ رْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللہ۔ یعنی ’’جس نے یہ دعویٰ کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جانتے ہیں کہ کل کیا ہونے والا  ہے اس نے اللہ پر سخت الزام لگایا، کیونکہ اللہ تو فرماتا ہے اے نبی تم کہہ دو کہ غیب کا علم اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین کے رہنے والوں میں سے کسی کو بھی نہیں ہے ‘‘۔ ابن المنذر حضرت عبد اللہ بن عباس کے مشہور شاگرد عِکْرِ مہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا ’’اے محمد  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، قیامت کب آئے گی؟ اور ہمارے علاقے میں قحط برپا ہے، بارش کب ہو گی؟ اور میری بیوی حاملہ ہے، وہ لڑکا جنے گی یا لڑکی؟ اور یہ تو مجھے معلوم ہے کہ میں نے آج کیا کمایا ہے،  کل کیا کماؤں گا؟ اور یہ تو مجھے معلوم ہے کہ میں کہاں پیدا ہوا ہوں، مروں گا کہاں‘‘ ؟ ان سوالات کے جواب میں سورہ لقمان کی وہ آیت حضورؐ نے سنائی جو اوپر ہم نے نقل کی ہے اِنَّ اللہ َ عِنْدَ ہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ۔۔۔۔ پھر بخاری و مسلم اور دوسری کتبِ حدیث کی  وہ مشہور  روایت بھی اسی کی تائید کرتی ہے جس میں ذکر ہے کہ صحابہ کے مجمع میں حضرت جبریلؑ نے انسانی شکل میں آ کر حضورؐ سے جو سوالات کیے تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ قیامت کب آئے گی؟ حضورؐ نے جواب دیا ما المسْئول عنھا باعلم من السّائل۔(جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ خود پوچھنے والے سے زیادہ اس بارے میں کوئی علم نہیں رکھتا)۔ پھر فرمایا یہ اُن پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں، اور یہی مذکورہ بالا آیت حضورؐ نے تلاوت فرمائی۔

۸۴: یعنی دوسرے،  جن کے متعلق یہ گمان کیا جاتا ہے کہ وہ عالم الغیب ہیں، اور اسی بنا پر جِن کو تم لوگوں نے خدائی میں شریک ٹھیرا لیا ہے، اُن بیچاروں کو تو خود اپنے مستقبل کی بھی خبر نہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ کب قیامت کی وہ گھڑی آئے گی جب اللہ تعالیٰ اُن کو دوبارہ اُٹھا کھڑا کرے گا۔

۸۵: الوہیت کے بارے میں ان لوگوں کی بنیادی غلطیوں پر متنبہ کرنے کے بعد اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ جو ان شدید گمراہیوں میں پڑے ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ غور فکر کرنے کے بعد یہ کسی دلیل دیر ہا ن سے اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ خدائی میں درحقیقت کچھ دوسری ہستیاں اللہ تعالیٰ کی شریک ہیں۔ بلکہ اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کبھی سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر ہی نہیں کیا ہے۔ چونکہ یہ لوگ آخرت سے بے خبر ہیں۔ یا اس کی طرف سے  شک میں ہیں۔ یا اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں، اس لیے فکرِ عقبٰی سے بے نیازی نے ان کے اندر سراسر ایک غیر ذمہ دارانہ رویّہ پیدا کر دیا ہے۔ یہ کائنات اور خود اپنی زندگی کے حقیقی مسائل کے بارے میں سرے سے کوئی سنجیدگی رکھتے ہی نہیں۔ ان کو اس کی پروا ہی نہیں ہے کہ حقیقت کیا ہے اور ان کا فلسفہ حیات اُس حقیقت سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک آخر کار مشرک اور دہریے اور موحد اور مُشکک سب کو مر کر مٹی ہو جانا ہے  اور کسی چیز کا بھی کوئی نتیجہ نکلنا نہیں ہے۔ آخرت کا یہ مضمون اس سے پہلے کی آیت کے اِس فقرے سے نکلا ہے کہ ’’وہ نہیں جانتے کہ کب وہ اُٹھائے جائیں گے‘‘۔ اُس فقرے میں تو یہ بتایا گیا تھا کہ جن کو معبود بنایا جاتا ہے۔۔۔۔اور ان میں فرشتے،  جِن،  انبیاء، اور اولیاء سب شامل تھے۔۔۔۔ ان میں سے کوئی بھی آخرت کے وقت سے واقف نہیں ہے کہ وہ کب آئے گی۔ اس کے بعد اب عام مشرکین و کفار کے بارے میں تین باتیں ار شاد ہوئی ہیں۔ اوّل یہ کہ وہ سرے سے یہی نہیں جانتے کہ آخرت کبھی ہو گی بھی یا نہیں۔ دوسرے یہ کہ ان کی یہ بے خبری اس بنا پر  نہیں ہے  کہ انہیں اس کی اطلاع ہی کبھی نہ دی گئی ہو،بلکہ اس بنا پر ہے کہ جو خبر انہیں دی گئی اس پر انہوں نے یقین نہیں کیا بلکہ اس کی صحت میں شک کرنے لگے۔ تیسرے یہ کہ انہوں نے کبھی غور و خوض کر کے اُن دلائل کو جانچنے کی زحمت ہی نہیں اٹھائی جو آخرت کے وقوع کے بارے میں پیش کیے گئے،  بلکہ اس ک طرف سے اندھے بن کر رہنے ہی کو انہوں نے ترجیح دی۔

 

ترجمہ

 

یہ منکرین کہتے ہیں ’’کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہو چکے ہوں گے تو ہمیں واقعی قبروں سے نکالا جائے گا؟ یہ خبریں ہم کو بھی بہت دی گئی ہیں اور پہلے ہمارے آبا و اجداد کو بھی دی جاتی رہی ہیں، مگر یہ بس افسانے ہی افسانے ہیں جو اگلے وقتوں سے سُنتے چلے آرہے ہیں۔ ‘‘  کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہو چکا ہے۔۸۶ اے نبیؐ،  اِن کے حال پر رنج نہ کرو، اور نہ اِن کی چالوں پر دِل تنگ ہو ۸۷۔۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ یہ دھمکی کب پُوری ہو گی اگر تم سچے ہو؟‘‘ ۸۸ کہو کیا عجب کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو اس کا ایک حصہ تمہارے قریب ہی آ لگا ہو۔۸۹ حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ تو لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔۹۰ بلا شُبہ تیرا ربّ خُوب جانتا ہے جو کچھ ان کے سینے اپنے اندر چھُپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔۹۱ آسمان و زمین کی کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جو ایک واضح کتاب میں لکھی ہوئی موجود نہ ہو۔۹۲ یہ واقعہ ہے کہ یہ قرآن بنی اسرائیل کو اکثر اُن باتوں کی حقیقت بتاتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں ۹۳ اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے۔۹۴ یقیناً (اِسی طرح)تیرا ربّ اِن لوگوں کے درمیان ۹۵ بھی اپنے حکم  سے فیصلہ کر دے گا اور وہ زبردست اور سب کچھ جاننے والا ہے۔۹۶ پس اے نبیؐ،  اللہ پر بھروسہ رکھو، یقیناً تم صریح حق پر ہو۔ تم مُردوں کو نہیں سُنا سکتے ۹۷، نہ اُن بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں ۹۸، اور نہ اندھوں کو راستہ بتا کر بھٹکنے سے بچا سکتے ہو۔۹۹ تم تو اپنی بات اُنہی لوگوں کو سُنا سکتے ہو  جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں۔

اور جب ہماری بات پُوری ہونے کا وقت اُن پر آپہنچے گا ۱۰۰ تو ہم ان کے لیے ایک جانور زمین سے نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کر تے تھے۔۱۰۱  ؏۶

 

تفسیر

 

۸۶: اس مختصر سے فقرے میں آخرت کی دو زبر دست دلیلیں بھی ہیں اور نصیحت بھی۔ پہلی دلیل یہ ہے کہ دنیا کی جن قوموں نے بھی آخرت  کو نظر انداز کیا ہے وہ مجرم بنے بغیر نہیں رہ سکی ہیں۔ وہ  غیر ذمہ دار بن کر ہیں۔ انہوں نے ظلم و ستم ڈھانے۔ وہ فسق و فجور میں غرق ہو گئیں۔ اور اخلاق کی تباہی نے آخر کار ان کو برباد کر کے چھوڑا۔ یہ تاریخ انسانی کا مسلسل تجربہ، جس پر زمین میں ہر طرف تباہ شدہ قوموں  کے آثار شہادت دے رہے ہیں، صاف ظاہر کرتا ہے کہ آخرت کے ماننے اور نہ ماننے کا نہایت گہرا تعلق انسانی رویے کی صحت اور عدم صحت سے ہے۔ اس کا مانا جائے تو رویہ درست رہتا ہے،  نہ مانا جائے تو رویہ غلط ہو جاتا ہے۔ یہ اس امر کی صریح دلیل ہے کہ اس کا ماننا صریح حقیقت کے خلاف ہے،  اسی وجہ سے یہ گاڑی پٹڑی سے اتر جاتی ہے۔  دوسری دلیل یہ ہے کہ تاریخ کے اس طویل تجربے میں مجرم بن جانے والی قوموں کا مسلسل تباہ ہونا اس حقیقت پر صاف دلالت کر رہا ہے کہ یہ کائنات بے شعور طاقتوں کی اندھی بہری فرمانروائی نہیں ہے بلکہ یہ ایک حکیمانہ نظام ہے جس کے اندر ایک اٹل قانون مکافات کام کر رہا ہے۔ جس کی حکومت انسانی قوموں کے ساتھ سراسر اخلاقی بنیادوں پر معاملہ کر رہی ہے۔ جس میں کسی قوم  کو بد کر داریوں کی کھلی چھوٹ نہیں دی جاتی کہ ایک دفعہ عروج پا جانے کے بعد وہ ابد الآباد تک دادِ عیش دیتی رہے  اور ظلم و ستم کے ڈنکے بجائے چلی جائے۔ بلکہ ایک خاص حد کو پہنچ کر ایک زبر دست ہاتھ آگے بڑھتا ہے اور اس کا بامِ عروج سے گرا کر قعِر مذلت میں پھینک دیتا ہے۔ اس حقیقت کو جو شخص سمجھ لے وہ کبھی اس امر میں شک نہی کر سکتا کہ یہی قانونِ مکافات اس دنیوی زندگی کے بعد ایک دوسرے عالم کا تقاضا کرتا ہے جہاں افراد کا اور قوموں کا اور بحیثیت مجموعی پوری نوع انسانی کا انصاف چُکا یا جائے۔ کیونکہ محض ایک ظالم قوم کے تباہ ہو جانے سے تو انصاف کے سارے تقاضے پورے نہیں ہو گے۔ اس نے اُن مظلوموں کی تو کوئی داد رسی نہیں ہوئی جن کی لاشوں  پر انہوں نے اپنی عظمت کا قصر بنا یا تھا۔ اس سے ان ظالموں  کوتو کوئی سزا نہیں ملی جو تباہی کے آنے سے پہلے مزے اڑا کر جا چکے تھے۔ اس سے ان بدکاروں پر بھی کوئی مواخذہ نہیں ہو ا جو پشت در پشت اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے گمراہیوں اور بد اخلاقیوں کی میراث چھوڑتے چلے گئے تھے۔ دنیا میں عذاب بھیج کر تو صرف اُن کی آخری نسل کے مزید ظلم کیا سلسلہ توڑ دیا گیا۔ ابھی عدالت کا اصل کام تو ہوا ہی  نہیں کہ ہر ظالم کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے اور ہر مظلوم کے نقصان کی تلافی کی جائے، اور اُن سب لوگوں کو انعام دیا جائے جو بدی کے اِس طوفان میں راستی پر قائم اور اصلاح کے لیے کوشاں رہے اور عمر بھی اِس راہ میں اذیتیں سہتے رہے۔ یہ سب لازماً کسی وقت ہونا چاہیے، کیونکہ  دنیا میں قانونِ مکافات کی مسلسل کار فرمائی کائنات کی فرمانروا حکومت  کا یہ مزاج اور طریقہ کار صاف بتا رہی ہے کہ وہ انسانی اعمال کو ان کی اخلاقی قدر کے لحاظ سے تولتی اور ان کی جزا و سزا دیتی ہے۔ ان دو دلیلوں کے ساتھ اس آیت میں نصیحت کا پہلو یہ ہے کہ پچھلے مجرموں کا انجام دیکھ کر اس سے سبق لو اور انکار آخرت کے اُسی احمقانہ عقیدے پر اصرار نہ کیے چلے جاؤ جس نے اُنہیں مجرم بنا کر چھوڑا تھا۔

۸۷: یعنی تم نے سمجھانے کا حق ادا کر دیا۔ اب اگر یہ نہیں مانتے اور اپنی حماقت پر اصرار کر کے عذابِ الہٰی کے مستحق بننا ہی چاہتے ہیں تو تم خواہ مخواہ ان کے حال پر کُڑھ کُڑھ کر اپنی جان کیوں ہلکان کرو۔ پھر یہ حقیقت و صداقت سے  لڑنے اور تمہاری اصلاحی کوششوں کو نیچا دکھانے کے لیے جو گھٹیا درجے کی چالیں چل رہے ہیں اُن پر کبیدہ خاطر ہونے کی تمہیں کیا ضرورت ہے۔ تمہاری پشت پر خدا کی طاقت ہے۔ یہ تمہاری بات نہ مانیں کے تو اپنا ہی کچھ بگاڑیں گے۔ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

۸۸: اس سے مراد وہی دھمکی ہے جو اوپر کی آیت میں پوشیدہ ہے۔ ان کا مطلب یہ تھا  کہ اس فقرے میں ہماری خبر لینے کی جو درپردہ دھمکی دی جا رہی ہے یہ آخر کب عمل میں لائی جائے گی؟ ہم تو تمہاری بات رد بھی کر چکے ہیں اور تمہیں نیچا دکھانے کے لیے اپنی تدبیروں میں بھی ہم نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔ اب کیوں  ہماری خبر نہیں لی جاتی؟

۸۹: یہ شاہانہ کلام کا انداز ہے۔ قادر مطلق کے کلام میں جب ’’شاید‘‘ اور ’’کیا عجب‘‘ اور ’’کیا بعید ہے‘‘  جیسے الفاظ آتے ہیں تو ان میں شک کا کوئی مفہوم نہیں ہوتا بلکہ ان سے شان بے نیازی کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کی قدرت ایسی غالب ہے کہ اس کا کسی چیز کو چاہنا اور اس چیز کا ہو جانا گویا ایک  ہی بات ہے۔ اس کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کوئی کام کرنا چاہے اور نہ ہو سکے۔ اس لیے اس کا یہ فرمانا کہ ’’کیا عجب ایسا ہو‘‘ یہ معنی رکھتا ہے  کہ ایسا ہو کر رہے گا اگر تم سیدھے نہ ہوئے۔ ایک معمولی تھا نہ دار بھی اگر بستی کے کسی شخص سے کہہ دے کہ تمہاری شامت پکار رہی ہے تو اسے رات کو نیند نہیں آتی۔ کجا کہ قادرِ مطلق کسی سے کہہ دے کہ تمہارا بُرا وقت کچھ دور نہیں ہے اور پھر وہ بے خوف رہے۔

۹۰: یعنی یہ تو اللہ رب العالمین کی عنایت ہے کہ وہ لوگوں کو تصور سرزد ہوتے ہی نہیں پکڑ لیتا بلکہ سنبھلنے کی مہلت دیتا ہے۔ مگر اکثر لوگ اس پر شکر گزار ہو کر اس مہلت کو اپنی اصلاح کے لیے استعمال نہیں کرتے بلکہ مواخذہ میں دیر ہونے کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ یہاں کوئی گرفت کرنے والا نہیں ہے اس لیے جو جی میں آئے کرتے رہو اور کسی سمجھانے والے کی بات مان کر نہ دو۔

۹۱: یعنی وہ اِن کی علانیہ حرکات ہی سے واقف نہیں ہے بلکہ جو شدید بغض اور کینہ ان کے سینوں میں چھپا ہوا ہے اور جو چالیں یہ اپنے دلوں میں سوچتے ہیں، ان سے بھی وہ خوب واقف ہے۔ اس لیے جب ان کی شامت آنے کا وقت آن پہنچے گا تو کوئی چیز چھوڑی نہیں جائے گی جس پر ان کی خبر نہ لی جائے۔ یہ اندازِ بیان اسی طرح کا ہے جیسے ایک حاکم اپنے علاقے کے کسی بدمعاش سے کہے، مجھے تیرے سب کرتوتوں کی خبر ہے۔ اس کا صرف یہی مطلب نہیں ہوتا کہ وہ اپنے باخبر ہونے کی اسے اطلاع دے رہا ہے،  بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ تو اپنی حرکتوں سے باز آ جا، ورنہ یاد رکھ کہ جب پکڑا جائے گا تو تیرے ایک ایک جرم کی پوری سزا دی جائے گی۔

۹۲: ’’کتابِ مُبین‘‘ کا ایک مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب اپنی تعلیمات اور اپنے احکام اور ہدایات کو بالکل واضح طریقے سے بیان کر تی ہے۔ دوسرا مطلب  یہ کہ وہ حق اور باطل کا فرق نمایاں طریقے سے کھول دیتی ہے۔ اور ایک تیسرا مطلب یہ بھی ہے کہ اس کا کتابِ الہٰی ہونا ظاہر ہے،  جو کوئی اسے آنکھیں کھول کر پڑھے گا اس پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اپنا گھڑا ہوا کلام نہیں ہے۔

۹۳: اس فقرے کا تعلق مضمون سابق سے بھی ہے اور مضمون ما بعد سے بھی۔ مضمون سابق سے اس کا تعلق یہ ہے کہ اسی عالم الغیب خدا کے علم کا ایک کرشمہ یہ ہے کہ اُمّی کی زبان سے اس قرآن میں اُن واقعات کی حقیقت کھولی جا رہی ہے جو بنی اسرائیل کی تاریخ میں گزرے ہیں، حالانکہ خود علمائے بنی اسرائیل کے درمیان ان کی اپنی تاریخ کے ان واقعات میں اختلاف ہے (اس  کے نظائر اسی سورہ نمل کے ابتدائی رکوعوں میں گزر چکے ہیں جیسا کہ ہم نے اپنے حواشی میں واضح کیا ہے)۔اور مضمونِ ما بعد سے اس کا تعلق یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اُن اختلافات کا فیصلہ فرمایا ہے اسی طرح وہ اُس اختلاف کا بھی فیصلہ کر دے گا  جو محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور ان کے مخالفین کے درمیان برپا ہے۔ وہ کھول کر رکھ دے گا کہ دونوں میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون۔ چنانچہ اِن آیات کے نزول پر چند ہی سال گزرے تھے کہ فیصلہ ساری دنیا کے سامنے آ گیا۔ اُسی عرب  کی سر زمین میں،  اور اسی قبیلہ قریش میں ایک متنفس بھی ایسا نہ رہا جو اس بات کا قائل نہ ہو گیا ہو کہ حق پر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تھے نہ کہ ابو جہل اور ابو لہب۔ ان لوگوں کو اپنی اولاد تک مان گئی کہ ان کے باپ غلطی پر تھے۔

۹۴: یعنی اُن لوگوں کے لیے جو اس قرآن کی دعوت کو قبول کر لیں اور وہ بات ما ن لیں جسے یہ پیش کر رہا ہے۔ ایسے لوگ اُن گمراہیوں سے بچ جائیں گے جن میں ان کی قوم مبتلا ہے۔ ان کو اس قرآن کی بدولت  زندگی کا سیدھا راستہ مل جائے گا اور ان پر خدا کی وہ مہربانیاں ہوں گی جن کا تصور بھی کفارِ قریش آج نہیں کر سکتے۔ اس رحمت کی بارش کو بھی چند ہی سال بعد دنیا نے دیکھ لیا کہ وہی لوگ جو ریگ زارِ عرب کے ایک گوشہ گمنامی میں پڑے ہوئے تھے اور کفر کی حالت میں زیادہ سے زیادہ ایک کامیاب اچھا پہ مار بن سکتے تھے، اس قرآن پر ایمان لانے کے بعد یکایک وہ دنیا کے پیشوا،  قوموں کے امام، تہذیب انسانی کے استاد اور روئے زمین کے ایک بڑے حصّے پر فرمانروا ہو گئے۔

۹۵: یعنی قریش کے کفار اور اہل ایمان کے درمیان۔

۹۶: یعنی نہ اس کے فیصلے کو نافذ ہونے سے کوئی طاقت روک سکتی ہے۔ اور نہ اس کے فیصلے میں غلطی کا کوئی احتمال ہے۔

۹۷: یعنی ایسے لوگوں کو جن کے ضمیر مر چکے ہیں اور جن میں ضد اور ہٹ دھرمی اور رسم پرستی نے حق و باطل کا فرق سمجھنے کی کوئی صلاحیت باقی نہیں چھوڑ ی ہے۔

۹۸: یعنی جو تمہاری بات کے لیے صرف اپنے کان بند کر لینے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ اُس جگہ سے کترا کر نکل جاتے ہیں جہاں انہیں اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں تمہاری بات ان کے کان میں نہ پڑ جائے۔

۹۹: یعنی ان کا ہاتھ پکڑ کر زبر دستی انہیں سیدھے راستے پر کھینچ لانا اور گھسیٹ کر لے چلنا تو تمہارا کام نہیں ہے۔ تم تو صرف زبان اور اپنی مثال ہی سے بتا سکتے ہو کہ یہ سیدھا راستہ ہے اور وہ راستہ غلط ہے جس پر یہ لوگ چل رہے ہیں۔ مگر جس نے اپنی آنکھیں بند کر لی ہوں اور جو دیکھنا ہی نہ چاہتا ہو اس کی رہنمائی تم کیسے کر سکتے ہو۔

۱۰۰: یعنی قیامت قریب آ جائے گی جس کا وعدہ ان سے کیا جا رہا ہے۔

۱۰۱: ابن عمر ؓ کا قول ہے کہ یہ اس وقت ہو گا جب زمین میں کوئی نیکی کا حکم کرنے والا اور بدی سے روکنے والا باقی نہ رہے گا۔ ابن مَردُویہ نے ایک حدیث ابو سعید خُدری سے نقل کی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ یہی بات انہوں نے خود حضورؐ سے سنی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب انسان امر بالمعروف اور نہی  عن المنکر چھوڑ دیں گے تو قیامت قائم ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ ایک جانور کے ذریعہ سے  آخری مرتبہ حجت قائم فرمائے گا۔ یہ بات  واضح نہیں ہے  کہ یہ ایک ہی جانور ہو گا یا ایک خاص قسم کا جنسِ حیوان ہو گی جس کے بہت سے افراد روئے زمین پر پھیل جائیں گے۔۔۔۔ دابۃ من الارض کے الفاظ میں دونوں معنوں کا احتمال ہے۔ بہر حال جو بات وہ کہے گا وہ یہ ہو گی کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ان آیات پر یقین نہیں کرتے تھے جن میں قیامت کے آنے اور آخرت برپا ہونے کی خبریں دی گئی تھیں، تو لو اب اس کا وقت آن پہنچا ہے  اور جان لو کہ اللہ کی آیات سچی تھیں۔ یہ فقرہ کہ ’’لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے‘‘ یا تو اس جانور کے اپنے کلام کی نقل ہے، یا للہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے کلام کی حکایت۔ اگر یہ اُسی کے الفاظ کی نقل ہے تو ’’ہماری‘‘ کا لفظ وہ اُسی طرح استعمال کرے گا جس طرح ایک حکومت کا ہر کارندہ ’’ہم‘‘ کا لفظ اس معنی میں بولتا ہے کہ وہ اپنی حکومت کی طرف سے بات کر رہا ہے نہ کہ اپنی شخصی حیثیت میں۔ دوسری صورت میں بات صاف ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے کلام کو چونکہ اپنے الفاظ میں بیان فرما رہا ہے  اس لیے اس نے ’’ہماری آیات‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ اس جانور کے نکلنے کا وقت کونسا ہو گا؟ اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد یہ ہے کہ ’’آفتاب مغرب سے طلوع ہو گا اور ایک روز دن دہاڑے یہ جانور نکل آئے گا۔ ان میں سے جو نشانی بھی پہلے ہو وہ بہر حال دوسری کے قریب ہی ظاہر ہو گی‘‘ (مسلم) دوسری روایات جو مسلم، ابن ماجہ، ترمذی اور مُسند احمد وغیرہ میں آئی ہیں، ان میں حضورؐ نے بتایا ہے کہ قیامت کے قریب زمانے میں دجال کا خروج، دابۃ الارض کا ظہور،دُخان(دھواں) اور آفتاب کا مغرب سے  طلوع وہ نشانیاں ہیں جو یکے بعد  دیگرے ظاہر ہوں گی۔ اس جانور کی ماہیت، شکل و صورت، نکلنے کی جگہ، اور ایسی ہی دوسری تفصیلات کے متعلق طرح طرح کی روایات نقل کی گئ ہیں جو باہم بہت مختلف اور متضاد ہیں۔ ان چیزوں کے ذکر سے بجز ذہن کی پراگندگی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا، اور ان کے جانے کا کوئی فائدہ بھی نہیں کیونکہ جس مقصد کے لیے قرآن میں یہ ذکر کیا گیا ہے اس سے ا ن تفصیلات کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ رہا کسی جانور کا انسانوں سے انسانی زبان میں کلام کرنا،  تو یہ اللہ کی قدرت کا ایک کرشمہ ہے۔ وہ جس چیز کو چاہے نطق کی طاقت بخش سکتا ہے۔ قیامت سے پہلے تو وہ ایک جانور ہی کو نطق بخشے گا۔ مگر جب وہ قیامت قائم ہو جائے گی تو اللہ کی عدالت میں انسان کی آنکھ اور کان اور اس کے جسم کی کھال تک بول اٹھے گی،  جیسا کہ قرآن میں بتصریح بیان ہوا ہے۔ حَتّٰیٓ اِذَا مَا جَآ ءُ وْ ھَا شَھِدَ عَلَیْھِمْ سَمْعھُُمْ وَاَبْصَا رھُُمْ وَجُلُوْدھُُمْ بِمَا کَانُوْ ا یَعْمَلُوْنَ۔۔۔۔ وَ قَالُوْ لِجُلُوْ دِھِمْ لِمَ شَھِدْ تُّمْ عَلَیْنَا قَا لُوْٓ ا اَنْطَقَنَا اللہُ الَّذِیْٓ اَنْطَقَ کُلَّ شَیءٍ (حٰم السجدہ۔ آیات۲۰۔۲۱)

 

ترجمہ

 

اور ذرا تصوّر کرو اُس دن کا جب ہم ہر اُمّت میں سے ایک فوج کی فوج اُن لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھُٹلایا کرتے تھے، پھر ان کو (ان کی اقسام کے لحاظ سے درجہ بدرجہ)مرتب کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب سب آ جائیں گے تو (ان کا ربّ ان سے )پوچھے گاکہ ’’ تم نے میری آیات کو جھُٹلا دیا حالانکہ تم نے ان کا عِلمی احاطہ نہ کیا تھا؟۱۰۲ اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کر رہے تھے؟۱۰۳ ‘‘  اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہو جائے گا، تب وہ کچھ بھی نہ بول سکیں گے۔کیا ان کو سُجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا؟۱۰۴ اسی میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے۔۱۰۵

اور کیا گُزرے گی اُس روز جب کہ صُور پھُونکا جائے گا اور ہَول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ۱۰۶۔۔۔۔ سوائے اُن لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہَول سے بچانا چاہے گا۔۔۔۔ اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہو جائیں گے۔ آج تُو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں، مگر اُس وقت یہ بادلوں کی طرح اُڑ رہے ہوں گے، یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہو گا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو۔۱۰۷ جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اُس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا ۱۰۸ اور ایسے لوگ اُس دن کے ہَول سے محفوظ ہوں گے۔۱۰۹ اور جو بُرائی لیے ہوئے آئے گا،  ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پا سکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو؟الف ۱۰۹ (اے محمدؐ،  اِن سے کہو) ’’مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اِس شہر کے ربّ کی بندگی کروں جس نے اِسے حرم بنایا ہے اور جو ہر چیز کا مالک ہے۔۱۱۰ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلم بن کر رہوں اور یہ قرآن پڑھ کر سُناؤں۔‘‘  اب جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لیے ہدایت اختیار کرے گا۔ اور جو گمراہ ہو اُس سے کہہ دو کہ میں تو بس خبر دار کر دینے والا ہوں۔ ان سے کہو، تعریف اللہ ہی کے لیے ہے،  عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دے گا اور تم انہیں پہچان لوگے، اور تیرا ربّ بے خبر نہیں ہے اُن اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو۔ ؏ ۷

 

تفسیر

 

۱۰۲: یعنی تمہارے جھٹلانے کی وجہ یہ ہر گز نہیں تھی کہ کسی علمی ذریعہ سے تحقیق کر کے تمہیں معلوم ہو گیا تھا کہ یہ آیات جھوٹی ہیں۔ تم نے تحقیق اور غور و فکر کے بغیر بس یونہی ہماری آیات کو جھٹلا دیا؟

۱۰۳: یعنی اگر ایسا نہیں ہے تو کیا تم یہ ثابت کر سکتے ہو کہ تم نے تحقیق کے بعد ان آیات کو جھوٹا ہی پایا تھا اور  تمہیں واقعی یہ علم حاصل ہو گیا تھا کہ حقیقت نفس الامری وہ نہیں ہے جو ان آیات میں بیان کی گئی ہے؟

۱۰۴: یعنی بے شمار نشانیوں  میں سے یہ دو نشانیاں تو ایسی تھیں جن کا وہ سب ہر وقت مشاہدہ کر رہے تھے، جن کے فوائد سے ہر آن متمتع ہو رہے تھے، جو کسی اندھے بہرے اور گونگے تک سے چھپی ہو ئی نہ تھیں۔ کیوں نہ رات کے آرام اور دن کے مواقع سے فائدہ اٹھاتے وقت انہوں نے کبھی سوچا کہ یہ ایک حکیم کا بنایا ہوا نظام ہے جس نے ٹھیک ٹھیک ان کی ضروریات کے مطابق زمین اور سورج کا تعلق قائم کیا ہے۔ یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہو سکتا،  کیونکہ اس میں مقصدیت، حکمت اور منصوبہ بندی علانیہ نظر آ رہی ہے جو اندھے قوائے فطرت کی صفت نہیں ہو سکتی۔ اور یہ بہت سے خداؤں کی کار فرمائی بھی نہیں ہے،  کیونکہ یہ نظام لا محالہ کسی ایک ہی ایسے خالق و مالک اور مدبّر کا قائم کیا ہوا ہو سکتا ہے جو زمین، چاند،  سورج اور تمام دوسرے سیاروں پر فرمانروائی کر رہا ہو۔ صرف اسی ایک چیز کو دیکھ کر وہ جان سکتے تھے کہ ہم نے اپنے رسول اور اپنی کتاب کے ذریعہ سے جو حقیقت بتائی ہے یہ رات اور دن کی گردش اس کی تصدیق کر رہی ہے۔

۱۰۵: یعنی یہ کوئی نہ سمجھ میں  آ سکنے والی بات بھی نہیں تھی۔ آخر انہی کے بھائی بند،  انہی کے قبیلے اور برادری کے لوگ، انہی جیسے انسان ایسے موجود تھے جو یہی نشانیاں دیکھ کر مان گئے تھے کہ نبی جس خدا پر ستی اور توحید کی طرف بلا رہا ہے وہ بالکل مطابقِ حقیقت ہے۔

۱۰۶: نفخ صور پر مفصل بحث کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، سورہ انعام حاشیہ ۴۷۔ ابراہیم،حاشیہ۵۷۔سورہ طٰہٰ حاشیہ۷۸۔سورہ حج، حاشیہ۱۔ یٰسین، حواشی۴۶۔۴۷۔ الزمر، حاشیہ۷۹۔

۱۰۷: یعنی ایسے خدا سے تم یہ توقع نہ رکھو کہ اپنی دنیا میں تم کو عقل و تمیز اور تصرف کے اختیارات دے کر وہ تمہارے اعمال افعال سے بے خبر رہے گا اور یہ نہ دیکھے گا کہ اس کی زمین میں تم ان اختیارات کو کیسے استعمال کرتے رہے ہو۔

۱۰۸: یعنی  وہ اس لحاظ سے بھی بہتر  ہو گا کہ جتنی نیکی اس نے کی ہو گی اس سے  زیادہ انعام اسے دیا جائے گا۔ اور اس لحاظ سے بھی کہ اس کی نیکی تو وقتی تھی اور اس کے اثرات بھی دنیا میں ایک محدود زمانے کے لیے تھے، مگر اس کا اجر دائمی اور ابدی ہو گا۔

۱۰۹: یعنی قیامت اور حشر و نشر کی وہ ہولناکیاں جو منکرینِ حق کے حواس باختہ کیے دے رہی ہوں گی، ان کے درمیان یہ لوگ مطمئن ہوں گے۔ اس لیے کہ  یہ سب کچھ ان توقعات کے مطابق ہو گا۔ وہ پہلے سے اللہ اور اس کے  رسولوں کی دی ہوئی خبروں کے مطابق اچھی طرح جانتے تھے کہ قیامت قائم ہونی ہے،  ایک دوسری زندگی پیش آنی ہے  اور اس میں یہی سب کچھ ہونا ہے۔ اس لیے ان پر وہ سب بد حواسی اور گھبراہٹ طاری نہ ہو گی جو مرتے دم تک اس چیز کا انکار کرنے والوں اور اس سے غافل رہنے والوں پر طاری ہو گی۔ پھر ان کے اطمینان کی وجہ یہ بھی ہو گی کہ انہوں نے اس دن کی توقع پر اس کے لیے فکر کی تھی اور یہاں کی کامیابی کے لیے کچھ سامان کر کے دنیا سے آئے تھے۔ اس لیے اُن پر وہ گھبراہٹ طاری نہ ہو گی جوان لوگوں پر طاری ہو گی جنہوں نے اپنا سارا سرمایہ حیات دنیا ہی کی کامیابیاں حاصل کرنے پر لگا دیا تھا اور کبھی نہ سوچا تھا کہ  کوئی آخرت بھی ہے جس کے لیے کچھ سامان کرنا ہے۔ منکرین کے بر عکس یہ مومنین اب مطمئن ہوں گے کہ جس دن کے لیے ہم نے ناجائز فائدوں اور لذتوں کو چھوڑا تھا، اور صعوبتیں اور مشقتیں برداشت  کی تھیں، وہ دن آ گیا ہے اور اب یہاں ہماری محنتوں کا اجر ضائع ہونے والا نہیں ہے۔

۱۰۹a: قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس امر کی تصریح کی گئی ہے کہ آخرت میں بدی کا بدلہ اتنا ہی دیا جائے گا جتنی کسی نے بدی کی ہو اور نیکی کا اجر اللہ تعالیٰ آدمی کے عمل سے بہت زیادہ عطا فرمائے گا۔اس کی مزید مثالوں کے لیے ملاحظہ ہو،  یونس،  آیات۲۶۔۲۷۔ القصص، آیت۸۴۔ العنکبوت، آیت۷۔ سبا، آیات۳۷تا۳۸۔ المومن، آیت۴۰۔

۱۱۰: یہ سورۃ چونکہ اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جبکہ اسلام کی دعوت ابھی صرف مکہ معظمہ تک محدود تھی اور مخاطب صرف اس شہر کے لوگ تھے، اس لیے فرمایا ’’مجھے اِس شہر کے رب کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے ‘‘۔ اس کے ساتھ اس رب کی خصوصیت یہ بیان کی گئی کہ اس نے اسے حرم بنایا ہے۔ اس سے کفار مکہ کو متنبہ کرنا مقصود ہے کہ جس خدا کا تم پر یہ احسانِ عظیم ہے کہ اس نے عرب کی انتہائی بد امنی اور فساد و خونریزی سے لبریز سرزمین میں تمہارے اِس شہر کو امن کا گہوارہ بنا رکھا ہے،  اور جس کے فضل سے  تمہارا یہ شہر پورے ملک عرب کا مرکز عقیدت بنا ہوا ہے، تم اس کی ناشکری کرنا چاہو تو کرتے رہو، مگر مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس کا شکر گزار بندہ بنوں اور اسی کے آگے سر نیا ز جھکاؤں۔ تم جنہیں معبود بنائے بیٹھے ہو ان میں سے کسی کی یہ طاقت نہ تھی کہ اس شہر کو حرم بنا دیتا اور عرب کے جنگجو اور غارت گر قبیلوں سے اس کا احترام کرا سکتا۔ میرے لیے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ اصل محسن کو چھوڑ کر اُن کے آگے جھکوں جن کا کوئی ذرہ برابر بھی احسان مجھ پر نہیں ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

۲۸۔ القصص

 

 

نام

 

آیت نمبر ۲۵ کے اس فقرے سے ماخوذ ہے و قص علیہ القصص یعنی وہ سورت جس میں القصص کا لفظ آیا ہے۔ لغت کے اعتبار سے قصص کے معنی ترتیب وار واقعات بیان کرنے کے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ لفظ باعتبار معنی بھی اس سورت کا عنوان ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مفصل قصہ بیان ہوا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

سورۂ نمل کے مضمون میں ابن عباس اور جابر بن یزید کا یہ قول نقل کیا جا چکا ہے کہ سورۂ شعراء سورۂ نمل اور سورۂ قصص یکے بعد دیگرے نازل ہوئی ہیں۔ زبان، اندازِ بیاں اور مضامین سے بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ ان تینوں سورتوں کا زمانۂ نزول قریب قریب ایک ہی ہے۔ اور اس لحاظ سے بھی ان تینوں میں قریبی تعلق ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصے کے مختلف اجزاء جو ان میں بیان کیے گئے ہیں وہ باہم مل کر ایک پورا قصہ بن جاتے ہیں۔ سورۂ شعراء میں نبوت کا منصب قبول کرنے سے معذرت کرتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام عرض کرتے ہیں کہ “قومِ فرعون کا ایک جرم میرے ذمہ ہے جس کی وجہ سے میں ڈرتا ہوں کہ وہاں جاؤں گا تو وہ مجھے قتل کر دیں گے “۔ پھر جب حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے ہاں تشریف لے جاتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ “کیا ہم نے اپنے ہاں تجھے بچہ سا نہیں پالا تھا، اور تو ہمارے ہاں چند سال رہا پھر کر گیا جو کچھ کہ کر گیا”۔ ان دونوں باتوں کی کوئی تفصیل وہاں نہیں بیان کی گئی۔ اس سورت میں اسے بتفصیل بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح سورۂ نمل میں قصہ یکایک اس بات سے شروع ہو گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے اہل و عیال کو لے کر جا رہے تھے ، اور اچانک انہوں نے ایک آگ دیکھی۔ وہاں اس کی کوئی تفصیل نہیں ملتی کہ یہ کیسا سفر تھا، کہاں سے وہ آ رہے تھے اور کدھر جا رہے تھے۔ یہ تفصیل اس سورت میں بیان ہوئی ہے۔ اس طرح یہ تینوں سورتیں مل کر قصۂ موسیٰ علیہ السلام کی تکمیل کر دیتی ہیں۔

 

موضوع اور مباحث

 

اس کا موضوع اُن شبہات و اعتراضات کو رفع کرنا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رسالت پر وارد کیے جا رہے تھے اور اُن عذرات کو قطع کرنا ہے جو آپ پر ایمان نہ لانے کے لیے پیش کیے جاتے تھے۔

اس غرض کے لیے سب سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ بیان کیا گیا ہے جو زمانۂ نزول کے حالات سے مل کر خود بخود چند حقیقتیں سامع کے ذہن نشین کر دیتا ہے :

اول یہ کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ کرنا چاہتا ہے ، اس کے لیے وہ غیر محسوس طریقے سے اسباب و ذرائع فراہم کر دیتا ہے۔ جس بچے کے ہاتھوں آخر کار فرعون کا تختہ الٹنا تھا، اسے اللہ نے خود فرعون ہی کے گھر میں اس کے ہاتھوں پرورش کرادیا اور فرعون یہ نہ جان سکا کہ وہ کسے پرورش کر رہا ہے۔ اس خدا کی مشیت سے کون لڑ سکتا ہے اور کس کی چالیں اس کے مقابلے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔

دوسرے یہ کہ نبوت کسی شخص کے کسی بڑے جشن اور زمین و آسمان سے کسی بھاری اعلان کے ساتھ نہیں دی جاتی۔ تم کو حیرت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو چپکے سے یہ نبوت کہاں سے مل گئی اور بیٹھے بٹھائے یہ نبی کسیے بن گئے۔ مگر جن موسیٰ علیہ السلام کا تم خود حوالہ دیتے ہو کہ لو لآ اوتی متل مآ اوتی موسیٰ (آیت ۴۸)، انہیں بھی اسی طرح راہ چلتے نبوت مل گئی تھی اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی تھی کہ آج طور سینا کی سنسان وادی میں کیا واقعہ پیش آ گیا۔ موسیٰ علیہ السلام ایک لمحے پہلے تک نہ جانتے تھے کہ انہیں کیا چیز ملنے والی ہے۔ آگ لینے چلے تھے اور پیمبری مل گئی۔

تیسرے یہ کہ جس بندے سے خدا کوئی کام لینا چاہتا ہے وہ بغیر کسی لاؤ لشکر اور سر و سامان کے اٹھتا ہے۔ کوئی اس کا مددگار نہیں ہوتا، کوئی طاقت بظاہر اس کے پاس نہیں ہوتی۔ مگر بڑے بڑے لاؤ لشکر اور سر و سامان والے آخر کار اس کے مقابلے میں دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ جو نسبت آج تم اپنے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے درمیان پا رہے ہو اس سے بہت زیادہ فرق موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کی طاقت کے درمیان تھا۔ مگر دیکھ لو کہ آخر کون جیتا اور کون ہارا۔

چوتھے یہ کہ تم لوگ بار بار موسیٰ علیہ السلام کا حوالہ دیتے ہو کہ “محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو وہ کچھ کیوں نہ دیا گیا جو موسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا تھا”۔ یعنی عصا اور ید بیضا اور دوسرے کھلے کھلے معجزے۔ گویا تم ایمان لانے کو تو تیار بیٹھے ہو، بس انتظار ہے تو یہ کہ تمہیں وہ معجزے دکھائے جائیں جو موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو دکھائے تھے۔ مگر تمہیں کچھ معلوم بھی ہے کہ جن لوگوں کو وہ معجزے دکھائے گئے تھے انہوں نے کیا کیا تھا؟ وہ انہیں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے۔ انہوں نے کہا تو یہ کہا کہ یہ جادو ہے۔ کیونکہ وہ حق کے خلاف ہٹ دھرمی اور عناد میں مبتلا تھے۔ اسی مرض میں آج تم مبتلا ہو۔ کیا تم اسی طرح کے معجزے دیکھ کے ایمان لے آؤ گے ؟ پھر تمہیں یہ کچھ یہ بھی خبر ہے کہ جن لوگوں نے وہ معجزے دیکھ کر حق سے انکار کیا تھا ان کا انجام کیا ہوا؟ آخر کار اللہ نے انہیں تباہ کر کے چھوڑا۔ اب کیا تم بھی ہٹ دھرمی کے ساتھ معجزہ مانگ کر اپنی شامت بلانا چاہتے ہو؟

یہ وہ باتیں ہیں جو کسی تصریح کے بغیر آپ سے آپ ہر اُس شخص کے ذہن میں اتر جاتی تھیں جو مکے کے کافرانہ ماحول میں اس قصے کو سنتا تھا کیونکہ اس وقت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور کفار مکہ کے درمیان ویسی ہی ایک کشمکش برپا تھی جیسی اس سے پہلے فرعون اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان برپا ہو چکی تھی اور ان حالات میں یہ قصہ سنانے کے معنی یہ تھے کہ اس کا ہر جز وقت کے حالات پر خود بخود چسپاں ہوتا چلا جائے ، خواہ ایک لفظ بھی ایسا نہ کہا جائے جس سے معلوم ہو کہ قصے کا کون سا جز اس وقت کے معاملے پر چسپاں ہو رہا ہے۔

اس کے بعد پانچویں رکوع سے اصل موضوع پر براہ راست کلام شروع ہوتا ہے۔

پہلے اس بات کو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نبوت کا ایک ثبوت قرار دیا جاتا ہے کہ آپ اُمی ہونے کے باوجود دو ہزار برس پہلے گزرا ہوا ایک تاریخی واقعہ اس تفصیل کے ساتھ من و عن سنا رہے ہیں حالانکہ آپ کے شہر اور آپ کی برادری کے لوگ خوب جانتے تھے کہ آپ کے پاس ان معلومات کے حاصل ہونے کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جس کی وہ نشان دہی کر سکیں۔

پھر آپ کے نبی بنائے جانے کو ان لوگوں کے حق میں اللہ کی ایک رحمت قرار دیا جاتا ہے کہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے تھے اور اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے یہ انتظام کیا۔

پھر ان کے اس اعتراض کا جواب دیا جاتا ہے جو وہ بار بار پیش کرتے ہیں کہ “یہ نبی وہ معجزے کیوں نہ لایا جو اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام لائے تھے “۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام جن کے متعلق تم خود مان رہے ہو کہ وہ خدا کی طرف سے معجزے لائے تھے ، انہی کو تم نے کب مانا ہے کہ اب اس نبی سے معجزے کا مطالبہ کرتے ہو؟ خواہشاتِ نفس کی بندگی نہ کرو تو حق اب بھی تمہیں نظر آ سکتا ہے لیکن اگر اس مرض میں تم مبتلا رہو تو خواہ کوئی معجزہ آ جائے ، تمہاری آنکھیں نہیں کھل سکتیں۔

پھر کفار مکہ کو اس واقعہ پر عبرت اور شرم دلائی گئی ہے جو اسی زمانے میں پیش آیا تھا کہ باہر سے کچھ عیسائی مکے آئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے قرآن سن کر ایمان لے آئے ، مگر مکہ کے لوگ اپنے گھر کی اس نعمت سے مستفید تو کیا ہوتے ، ان کے ابو جہل نے الٹی ان لوگوں کی کھلم کھلا بے عزتی کی۔

آخر میں کفار مکہ کے اس اصل عذر کو لیا جاتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بات نہ ماننے کے لیے وہ پیش کرتے تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ اگر ہم اہلِ عرب کے دینِ شرک کو چھوڑ کر اس نئے دینِ توحید کو قبول کر لیں تو یکا یک اس ملک سے ہماری مذہبی، سیاسی اور معاشی چودھراہٹ ختم ہو جائے گی اور ہمارا حال یہ ہو گا کہ عرب کے سب سے زیادہ با اثر قبیلے کی حیثیت کھو کر اس سرزمین میں ہمارے لیے کوئی جائے پناہ تک باقی نہ رہے گی۔ یہ چونکہ سرداران قریش کی حق دشمنی کا اصل محرک تھا اور باقی سارے شبہات و اعتراضات محض بہانے تھے جو وہ عوام کو فریب دینے کے لیے تراشتے تھے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر آخرِ سورت تک مفصل کلام فرمایا ہے اور اس کے ایک ایک پہلو پر روشنی ڈال کر نہایت حکیمانہ طریقے سے ان تمام بنیادی امراض کا مداوا کیا ہے جن کی وجہ سے یہ لوگ حق اور باطل کا فیصلہ دنیوی مفاد کے نقطۂ نظر سے کرتے تھے۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

ط۔س۔م۔ یہ کتاب مبین کی آیات ہیں۔ ہم موسیٰؑ اور فرعون کا کچھ حال ٹھیک ٹھیک تمہیں سُناتے ہیں،۱ ایسے لوگوں کے فائدے کے لیے جو ایمان لائیں۔۲ واقعہ یہ کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی ۳ا ور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ ۴ ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا، اس کے لڑکوں کو قتل کر تا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا۔۵ فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا۔ اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کر کے رکھے گئے تھے اور انہیں پیشوا بنا دیں ۶ اور انہی کو وارث بنائیں ۷ اور زمین میں ان کو اقتدار بخشیں اور ان سے فرعون و ہامان۸ اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دِکھلا دیں جس کا انہیں ڈر تھا۔ ۹ ہم نے موسیٰؑ کی ماں کو اشارہ کیا کہ ’’ اِس کو دُودھ پلا، پھر جب تجھے اُس کی جان کا خطرہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور کچھ خوف اور غم نہ کر، ہم اسے تیرے ہی پاس واپس لے آئیں گے اور اس کو پیغمبروں میں شامل کریں گے۔‘‘ ۱۰ آخر کار فرعون کے گھر والوں نے اسے (دریا سے )نکال لیا تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سببِ رنج بنے،۱۱ واقعی فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر (اپنی تدبیر میں)بڑے غلط کار تھے۔ فرعون کی بیوی نے (اس سے )کہا ’’یہ میرے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، کیا عجب کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو، یا ہم اسے بیٹا ہی بنا لیں۔‘‘ ۱۲ اور وہ (انجام سے )بے خبر تھے۔ اُدھر موسیٰؑ کی ماں کا دل اُڑا جا رہا تھا۔ وہ اس کا راز فاش کر بیٹھتی اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھا دیتے تاکہ وہ (ہمارے وعدے پر)ایمان لانے والوں میں سے ہو۔ اُس نے بچے کی بہن سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جا۔ چنانچہ وہ الگ سے اس کو اس طرح دیکھتی رہی کہ (دشمنوں کو)اس کا پتہ نہ چلا۔۱۳ اور ہم نے بچے پر پہلے ہی دُودھ پِلانے والیوں کی چھاتیاں حرام کر رکھی تھیں۔۱۴ (یہ حالت دیکھ کر)اُس لڑکی نے اُن سے کہا ’’ میں تمہیں ایسے گھر کا پتہ بتاؤں جس کے لوگ اس کی پرورش کا ذمّہ لیں اور خیر خواہی کے ساتھ اسے رکھیں؟۱۵ اس طرح ہم موسیٰؑ کو۱۶ اس کی ماں کے پاس پلٹا لائے تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ ہو اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا تھا،۱۷ مگر اکثر لوگ اس بات  کو نہیں جانتے۔ ‘‘  ؏١

 

تفسیر

 

۱: تقابل کے لیے ملاحظہ ہو البقرہ (رکوع۶)۔ الاعراف(رکوع۱۳ تا ۱۶) یونس (رکوع۸۔۹)۔ ہود (رکوع۹)۔ بنی اسرائیل(رکوع۱۲)۔ مریم (رکوع۴)۔ طٰہٰ(رکوع۱۔۴)۔ المومنون (رکوع۳)الشعراء(رکوع۲۔۴)۔ النمل(رکوع۱)۔ العنکبوت(رکوع۴)۔ المومن(رکوع۳۔۵) الزخرف (رکوع۵)۔ الدخان(رکوع۱)۔الذاریات (رکوع۲)۔النازعات(رکوع۱)۔

۲: یعنی جو لوگ ماننے کے لیے تیار ہی نہ ہوں  ان کو سنانا تو بےکار ہے۔ البتہ جنہوں نے ہٹ دھرمی کا قفل اپنے دلوں پر چڑھا نہ رکھا ہو وہ اس گفتگو کے مخاطب ہیں۔

۳: اصل لفظ عَلَا فِی الْاَرْضِ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے زمین میں سر اُٹھایا، باغیانہ روش اختیار کی،  اپنی اصل حیثیت یعنی بندگی کے مقام سے اُٹھ کر خود مختاری اور خداوندی کا روپ دھار لیا، ماتحت بن کر رہنے کے بجائے بالا دست بن بیٹھا، اور جبار و متکبّرین کر ظلم ڈھانے لگا۔

۴: یعنی اس کی حکومت کا قاعدہ یہ نہ تھا کہ قانون کی نگاہ میں ملک کے سب باشندے یکساں ہوں اور سب کو برابر کے حقوق دیے جائیں، بلکہ اس نے تمدّن و سیاست کا یہ طرز اختیار کیا کہ ملک کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کیا جائے، کسی کو مراعات و امتیازات دے کر حکمراں گروہ ٹھیرا یا جائے اور کسی کو محکوم بنا کر دبا یا اور پیسا اور لُوٹا جائے۔ یہاں کسی کو یہ شبہہ لاحق نہ ہو کہ اسلامی حکومت بھی تو مسلم اور ذمّی کے درمیان تفریق کرتی ہے اور ان کے حقوق و اختیارات ہر حیثیت سے یکساں نہیں رکھتی۔ یہ شبہہ اس لیے غلط ہے کہ اس فرق کی بنیاد فرعونی تفریق کے بر عکس نسل، رنگ،  زبان، یا طبقاتی امتیاز پر نہیں ہے بلکہ اُصول اور مسلک کے اختلاف پر ہے۔ اسلامی نظامِ حکومت میں ذمّیوں اور مسلمانوں کے درمیان قانونی حقوق میں قطعاً کوئی فرق نہیں ہے۔ تمام تر فرق صرف سیاسی حقوق میں ہے۔ اور اس فرق کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک اصولی حکومت میں حکمراں جماعت صرف وہی ہو سکتی ہے  جو حکومت کے بنیادی اصولوں کی حامی ہو۔ اس جماعت میں ہر وہ شخص داخل ہو سکتا ہے  جو اس کے اصولوں کو مان لے،  اور ہر وہ شخص اس سے خارج ہو جاتا ہے جو ان اصولوں کا منکر ہو جائے۔ آخر اس تفریق میں اور اُس فرعونی طرزِ تفریق میں کیا وجہ مشابہت ہے جس کی بنا پر محکوم نسل کا کوئی فرد کبھی حکمراں گروہ شامل نہیں ہو سکتا۔ جس میں محکوم  نسل کے لوگوں کو سیاسی اور قانونی حقوق تو درکنار بنیادی انسانی حقوق بھی حاصل نہیں ہوتے، حتیٰ کہ زندہ رہنے کا حق بھی ان سے چھین لیا جاتا ہے۔ جس میں محکوموں کے لیے کسی حق کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہوتی، تمام فوائد و منافع اور حسنات و درجات صرف حکمراں قوم کے لیے مختص ہوتے ہیں، اور یہ مخصوص حقوق صرف اسی شخص کو حاصل ہوتے ہیں جو حکمراں قوم میں پیدا ہو جائے۔

۵: بائیبل میں اس کی جو تشریح ملتی ہے وہ یہ ہے:   تب مصر میں ایک نیا بادشاہ ہوا جو یوسف کو نہیں جانتا تھا۔ اور اس نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ دیکھو اسرائیلی ہم سے زیادہ اور قوی ہو گئے ہیں سو آؤ ہم ان کے ساتھ حکمت سے پیش آئیں ایسا نہ ہو کہ جب وہ اور زیادہ ہو جائیں اور اس وقت جنگ چھڑ جائے تو وہ ہمارے دشمنوں سے مل کر ہم سے لڑیں اور ملک سے نکل جائیں۔ اس لیے انہوں نے ان پر بیگار لینے والے مقرر کیے جو ان سے سخت کام لے کر انہیں ستائیں۔ سو انہوں نے فرعون کے لیے ذخیرے کے شہر پتُوم اور رَعمسَیس بنائے۔۔۔۔ اور مصریوں نے بنی اسرائیل پر تشدد کر کے ان سے کام کروایا اور انہوں نے ان سے سخت محنت سے گارا اور اینٹ بنوا بنوا کر اور کھیت میں ہر قسم کی خدمت لے کر ان کی زندگی تلخ کی۔ ان کی سب خدمتیں جو وہ ان سے کراتے تھے تشدد کی تھیں۔۔۔۔ تب مصر کے بادشاہ عبرانی دائیوں سے۔۔۔۔ باتیں کیں اور کہا کہ جب عبرانی(یعنی اسرائیلی)عورتوں کے تم بچہ جناؤ اور ان کو پتھر کی بیٹھکوں پر بیٹھی دیکھو تو اگر بیٹا ہو تو اسے مار ڈالنا اور اگر بیٹی ہو تو جیتی رہے‘‘۔ (خروج،  باب۱۔ آیت۸۔۱۶)۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا دور گزر جانے کے بعد مصر میں ایک قوم پرستانہ انقلاب ہوا تھا اور قبطیوں کے ہاتھ میں جب دوبارہ اقتدار آیا تو نئی قوم پرست حکومت نے بنی اسرائیل کا زور توڑنے کی پوری کوشش کی تھی۔ اس سلسلے میں صرف اتنے ہی پر اکتفا نہ کیا گیا کہ اسرائیلیوں کو ذلیل و خوار کیا جاتا اور انہیں ادنیٰ درجے کی خدمات کے لیے مخصوص کر لیا جاتا، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ بنی اسرائیل کی تعداد گھٹائی جائے اور ان کے لڑکوں کو قتل کر کے صرف ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے تا کہ رفتہ رفتہ ان کی  عورتیں قبطیوں کے تصرف میں آتی جائیں اور ان سے اسرائیل کے بجائے قبطی نسل پیدا ہو۔ تلمود اس کی مزید تفصیل یہ دیتی ہے  کہ حضرت یوسف کی وفات پر ایک صدی سے کچھ زیادہ مدّت گزر جانے کے بعد یہ انقلاب ہوا تھا۔ وہ بتاتی ہے  کہ نئی قوم پر ست حکومت نے پہلے تو بنی اسرائیل کو ا ن کی زرخیز زمینوں اور ان کے مکانات اور جائدادوں سے محروم کیا۔ پھر انہیں حکومت کے تمام مناسب سے بے دخل کیا۔ اس کے بعد بھی جب قبطی حکمرانوں نے محسوس کیا کہ بنی اسرائیل اور ان کے ہم مذہب مصری کافی طاقت ور ہیں تو انہوں نے اسرائیلیوں کو ذلیل و خوار کرنا شروع کیا اور ان سے سخت محنت کے کام قلیل معاوضوں پر یا بلا معاوضہ  لینے لگے۔ یہ تفسیر ہے قرآن کے اس بیان کی کہ مصر کی آبادی کے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا۔ اور سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی آلِ فرعون بنی اسرائیل کو سخت عذاب دیتے تھے۔(یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوٓ ْءَ الْعَذَابِ)   مگر بائیبل اور قرآن دونوں اس ذکر سے خالی ہیں کہ فرعون سے کسی نجومی نے یہ کہا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا  ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں فرعونی اقتدار کا تختہ اُلٹ جائے گا اور اسی خطرے کو روکنے کے لیے فرعون نے اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ یا فرعون نے کوئی خوفناک خواب دیکھا تھا اور اس کی تعبیر یہ دی گئی تھی کہ ایک لڑکا بنی اسرائیل میں ایسا اور ایسا پیدا ہونے والا ہے۔ یہ افسانہ تلمود اور دوسری اسرائیلی روایات سے ہمارے مفسرین نے نقل کیا ہے (ملاحظہ ہو جیوش انسائیکلو پیڈیا، مضمون ’’موسیٰ‘‘ اور (The Talmud Selection s.p. ۱۲۴-۲۳ )۔

۶: یعنی انہیں دنیا میں قیادت و رہنمائی کا مقام عطا کریں۔

۷: یعنی ان کو زمین کی وراثت بخشیں اور وہ حکمران و فرمانروا ہوں۔

۸: مغربی مستشرقین نے اس بات پر بڑی لے دے کی ہے کہ ہا مان تو ایران کے بادشاہ اخسویرس یعنی خشیار شاہ(Xerxes ) کے دربار کا ایک امیر تھا، اور اس بادشاہ کا زمانہ حضرت موسیٰ کے سینکڑوں برس بعد  ۴۸۶؁ اور ۴۶۵؁ قبل مسیح میں گزرا ہے،  مگر قرآن نے اسے مصر لے جا کر فرعون کا وزیر بنا دیا۔ کہ اخسویرس کے دربار ی ہامان سے پہلے دینا میں کوئی شخص کبھی اس نام کا نہیں گزرا ہے۔ جس فرعون کا ذکر یہاں ہو رہا ہے اگر اس کے تمام وزراء اور امراء اور اہلِ دربار کی کوئی مکمل فہرست بالکل مستند ذریعے سے کسی مستشرق صاحب کو مل گئی ہے جس میں ہامان کا نام مفقود ہے تو وہ اسے چھپائے کیوں بیٹھے ہیں؟ انہیں اس کا فوٹو فوراً شائع کر دینا چاہیے، کیونکہ قرآن کی تکذیب کے لیے اس سے زیادہ موثر ہتھیار انہیں کوئی اور نہ ملے گا۔

۹: بیچ میں یہ ذکر چھوڑ دیا گیا ہے کہ  انہی حالات میں ایک اسرائیلی والدین کے ہاں وہ بچہ پیدا ہو گیا جس کو دنیا نے موسیٰؑ  علیہ السلام کے نام سے جانا۔ بائیبل اور تلمود کے بیان کے مطابق یہ خاندان حضرت یعقوبؑ کے بیٹے لاوِی کی اولاد میں سے تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ کے والد کا نام ان دونوں کتابوں میں عمرام بتایا گیا ہے،  قرآن اسی کا تلفظ عمران کرتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ان کے ہاں دو بچے ہو چکے تھے۔ سب سے بڑی لڑکی مریم (Miriam ) نامی تھیں جن کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ ان سے چھوٹے حضرت ہارونؑ تھے۔ غالباً یہ فیصلہ کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو بیٹا پیدا ہوا سے قتل کر دیا جائے، حضرت ہارونؑ کی پیدائش کے زمانے میں نہیں ہوا تھا، اس لیے وہ بچ گئے۔ پھر یہ قانون جاری ہوا اور اس خوفناک زمانے میں تیسرے بچے کی پیدائش ہوئی۔

۱۰: یعنی پیدا ہوتے ہی دریا میں ڈال دینے کا حکم نہ تھا،  بلکہ ارشاد یہ ہوا کہ جب تک خطرہ نہ ہو بچے کو دودھ پلاتی رہو۔ جب راز فاش ہوتا نظر آئے اور اندیشہ ہو کہ بچے کی آواز سُن کر یا اور کسی طرح دشمنوں کو اس کی پیدائش کا علم ہو جائے گا، یا خود بنی اسرائیل ہی میں سے کوئی کمینہ آدمی مخبری کر بیٹھے گا،  تو بے خوف و خطرا سے  ایک تابوت میں رکھ کر دریا میں ڈال دینا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ پیدائش کے بعد تین مہینے تک حضرت موسیٰؑ کی والدہ ان کو چھپائے رہیں۔ تلمود اس پر اضافہ کرتی ہے کہ فرعون کی حکومت نے اس زمانے میں جاسوس عورتیں چھوڑ رکھی تھیں جو اسرائیلی گھروں میں اپنے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے لے جاتی تھیں اور وہاں کسی نہ کسی طرح ان بچوں کو رُلا دیتی تھیں تا کہ اگر کسی اسرائیلی نے اپنے ہاں کوئی بچہ چھپا رکھا ہو تو وہ بھی دوسرے بچے کی آواز سن کر رونے لگے۔ اس نئے طرز جاسوسی سے حضرت موسیٰؑ کی والدہ پریشان ہو گئیں اور انہوں نے اپنے بچے کی جان بچانے کے لیے پیدائش کے تین مہینے بعد اسے دریا میں ڈال دیا۔ اس حد تک ان دونوں کتابوں کا بیان قرآن کے مطابق ہے۔ اور دریا میں ڈالنے کی کیفیت بھی انہوں نے وہی بتائی ہے  جو قرآن میں بتائی گئی ہے۔ سورہ طٰہٰ میں ارشاد ہوا ہے اِقْذِفِیْہِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْہِ فِی الْیَمِّ، ’’بچے کو ایک تابوت میں رکھ کر دریا میں ڈال دے‘‘۔ اسی کی تائید بائیبل اور تلمود بھی کرتی ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی والدہ نے سرکنڈوں کا ایک ٹوکرا بنا یا اور اسے چکنی مٹی اور رال سے لیپ کر پانی سے محفوظ کر دیا، پھر اس میں حضرت موسیٰ کو لٹا کر دریائے نیل میں ڈال دیا۔ لیکن سب سے بڑی بات جو قرآن میں بیان کی گئی ہے اس کا کوئی ذکر اسرائیلی روایات میں نہیں ہے،  یعنی یہ کہ حضرت موسیٰ کی والدہ نے یہ کام اللہ تعالیٰ کے اشارے پر کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ان کو یہ اطمینان دلا دیا تھا کہ اس طریقے پر عمل کرنے میں نہ صرف یہ کہ تمہارے بچے کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے، بلکہ ہم بچے کو تمہارے  پاس ہی پلٹا لائیں گے، اور یہ کہ تمہارا یہ بچہ آگے چل کر ہمارا رسول ہونے والا ہے۔

۱۱: یہ ان کا مقصد نہ تھا بلکہ یہ ان کے اس فعل کا انجامِ مقدر تھا۔ وہ اُس بچے کو اُٹھا رہے تھے جس کے ہاتھوں آخر کار انہیں تباہ ہونا تھا۔

۱۲: اس بیان سے جو صورتِ معاملہ صاف سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ تابوت یا ٹوکرا دریا میں بہتا ہوا جب اس مقام پر پہنچا جہاں فرعون کے محلات تھے، تو فرعون کے خدّام نے اسے پکڑ لیا اور لے جا کر بادشاہ اور ملکہ کے سامنے پیش کر دیا۔ ممکن ہے کہ بادشاہ اور ملکہ خود اس وقت دریا کے کنارے سیر میں مشغول ہوں اور ان کی نگاہ اس ٹوکرے  پر پڑی ہو اور انہی کے حکم سے وہ نکالا گیا ہو۔ اس میں ایک بچہ پڑا ہوا دیکھ کر بآسانی یہ قیاس کیا جا سکتا تھا کہ یہ ضرور کسی اسرائیلی کا بچہ ہے،  کیونکہ وہ اُن محلوں کی طرف سے آ رہا تھا جن میں بنی اسرائیل رہتے تھے، اور انہی کے بیٹے اس زمانے میں قتل کیے جا رہے تھے، اور انہی کے متعلق یہ توقع کی جا سکتی تھی کہ کسی نے بچے کو چھپا کر کچھ مدت تک پالا ہے اور پھر جب وہ زیادہ دیر چھُپ نہ سکا تو اب اسے اس امید پر دریا  میں ڈال دیا ہے کہ شاید اسی طرح اس کی جان بچ جائے اور کوئی اسے نکال کر پال لے۔ اسی بنا پر کچھ ضرورت سے زیادہ وفادار غلاموں نے عرض کیا کہ حضور اسے فوراً قتل کر ا دیں، یہ بھی کوئی بچہ  افعیٰ ہی ہے۔ لیکن فرعون کی بیوی آخر عورت تھی، اور بعید نہیں کہ بے اولاد ہو۔ پھر بچہ بھی بہت پیار صورت کا تھا، جیسا کہ سورہ طٰہٰ میں اللہ تعالیٰ خود حضرت موسیٰؑ کو بتاتا ہے کہ وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْ،(میں نے اپنی طرف سے تیرے اوپر محبت ڈالی دی تھی)یعنی تجھے ایسی موہنی صورت دی تھی کہ دیکھنے والوں کو بے اختیار تجھ پر پیار آ جاتا تھا۔ اس لیے اس عورت سے نہ رہا گیا  اور اس نے کہا کہ اسے قتل نہ کرو بلکہ لے کر پال لو۔ یہ جب ہمارے ہاں پرورش پائے گا اور ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے تو اسے کیا خبر ہو گی کہ میں اسرائیلی ہوں۔ یہ اپنے آپ کو آلِ فرعون ہی کا ایک فرد سمجھے گا اور اس کی قابلیتیں بنی اسرائیل کے بجائے ہمارے کا م آئیں گی۔ بائیبل اور تلمود کا بیان ہے کہ وہ عورت جس نے حضرت موسیٰ ؑ کو پالنے اور بیٹا بنانے  کے لیے کہا تھا فرعون کی بیٹی تھی۔ لیکن قرآن صاف الفاظ میں اسے ’’امرأ ۃ فرعون ‘‘  (فرعون کی بیوی)کہتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ صدیوں بعد مرتب کی ہوئی زبانی روایات کے مقابلے میں براہِ راست اللہ تعالیٰ کا بیان ہی قابلِ اعتماد ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ خواہ مخواہ اسرائیلی روایات سے مطابقت پیدا کرنے کی خاطر عربی محاورہ استعمال کے خلاف امرأ ۃ فرعون کے معنی ’’فرعون کے خاندان کی عورت ‘‘ کیے جائیں۔

۱۳: یعنی لڑکی نے اس طریقے سے ٹوکرے پر نگاہ رکھی کہ بہتے ہوئے ٹوکرے کے ساتھ ساتھ وہ اس کو دیکھتی ہوئی چلتی بھی رہی اور دشمن یہ نہ سمجھ سکے  کہ اس کا کوئی تعلق اس ٹوکرے والے بچے کے ساتھ ہے۔ اسرائیلی روایات کے مطابق حضرت موسیٰؑ کی یہ بہن اس وقت۱۰۔۱۲ برس کی تھیں۔ ان کی ذہانت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے  کہ انہوں نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ بھائی کا پیچھا کیا اور یہ پتہ چلا لیا کہ وہ فرعون کے محل میں پہنچ چکا ہے۔

۱۴: یعنی فرعون کی بیوی جس انّا کو بھی دودھ پانے کے لیے بلاتی تھی،  بچہ اس کی چھاتی کو منہ نہ لگاتا تھا

۱۵: ہوشیاری کے ساتھ محل کے آس پاس چکر لگاتی رہی۔ پھر جب اسے پتہ چلا کہ بچہ کسی کا دودھ نہیں پی رہا ہے اور ملکہ عالیہ پریشان ہیں کہ کوئی ایسی انّا ملے جو بچے کو پسند آئے تو وہ ذہین لڑکی سیدھی محل میں پہنچ گئی اور جا کر کہا کہ  میں ایک  اچھی انّا کا پتہ بتاتی ہوں جو اس بچے کو بڑی شفقت کے ساتھ پالے گی۔ اس مقام پر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ قدیم زمانے میں ان ممالک کے بڑے اور خاندانی لوگ بچوں کو اپنے ہاں پالنے کے بجائے عموماً انّاؤں کے سپر د کر دیتے تھے اور وہ اپنے ہاں ان کی پرورش کرتی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سریت میں بھی  یہ ذکر آتا ہے کہ مکّہ میں وقتاً فوقتاً اطراف و نواح  کی عورتیں انّا گیری کی خدمت کے لیے آتی تھیں اور سرداروں کے بچے دودھ پلانے کے لیے اچھے اچھے معاوضوں پر حاصل کر کے ساتھ لے جاتی تھیں۔ حضور ؐ نے خود بھی حلیمہ سعدیہ کے ہاں صحرا میں پرورش پائی ہے۔ یہی طریقہ مصر میں بھی تھا۔ اسی بنا پر حضرت موسیٰؑ کی بہن نے یہ نہیں کہا کہ میں ایک اچھی انّا لا کر دیتی ہوں،  بلکہ یہ کہا  کہ میں ایسے گھر کا پتہ بتاتی ہوں جس کے لوگ اس کی پرورش کا ذمہ لیں گے اور اسے خیر خواہی کے ساتھ پالیں گے۔

۱۶: بائیبل  اور تلمود  سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کا نام ’’موسیٰ‘‘ فرعون کے گھر میں رکھا گیا تھا۔ یہ عبرانی زبان کا نہیں بلکہ قِبْطی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں ’’میں نے اسے پانی سے نکالا‘‘۔ قدیم مصری زبان سے بھی حضرت موسیٰؑ کے نام کی یہ تخریج صحیح ثابت ہوتی ہے۔اس زبان میں ’’مو‘‘ پانی کو کہتے تھے اور ’’اوشے‘‘ کا مطلب تھا ’’بچا یا ہوا‘‘۔

۱۷: اور اللہ کی اس حکیمانہ تدبیر کا فائدہ یہ بھی ہوا کہ حضرت موسیٰ فی الواقع فرعون کے شاہزادے نہ بن سکے بلکہ اپنے ہی ماں باپ اور بہن بھائیوں میں پرورش پا کر انہیں اپنی اصلیت اچھی طرح معلوم ہو گئی۔ اپنی خاندانی روایات سے ،  اپنے آبائی مذہب سے ،  اور اپنی قوم سے ان کا رشتہ نہ کٹ سکا۔ وہ آلِ فرعون کے ایک فرد بننے کے بجائے اپنے دلی جذبات اور خیالات کے اعتبار سے پوری طرح بنی اسرائیل کے ایک فرد بن کر اُٹھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک حدیث میں فرماتے ہیں مثل الذی یعمل و یحتسب فی صنعتہ الخیر کمثل ام موسیٰ ترضع ولدھا و تاخذا جر ھا۔ ’’جو شخص اپنی روزی کمانے کے لیے کام کرے اور اس کام میں اللہ کی خوشنودی پیش نظر رکھے اس کی مثال حضرت موسیٰؑ کی والدہ کی سی ہے کہ انہوں نے اپنے ہی بیتَ کو دودھ پلایا اور اس کی اجرت بھی پائی‘‘۔ یعنی ایسا شخص اگرچہ اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے کام کرتا ہے  لیکن چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پیش نظر رکھ کر ایمانداری سے کام کرتا ہے جس کے ساتھ بھی معاملہ کرتا ہے اس کا حق ٹھیک ٹھیک ادا کرتا ہے،  اور رزق حلال سے اپنے نفس اور اپنے بال بچوں کی پرورش اللہ کی عبادت سمجھتے ہوئے کرتا ہے،  اس لیے وہ اپنی روزی کمانے پر بھی اللہ کے ہاں اجر کا مستحق ہوتا ہے۔ گویا روزی بھی کمائی اور اللہ سے اجر و ثواب بھی پایا۔

 

ترجمہ

 

جب موسیٰؑ اپنی پوری جوانی کو پہنچ گیا اور اُس کا نشوونما مکمل ہو گیا۱۸ تو ہم نے اُسے حکم اور علم عطا کیا،۱۹ ہم نے نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ (ایک روز) وہ شہر میں ایسے وقت داخل ہوا جبکہ اہلِ شہر غفلت میں تھے۔۲۰ وہاں اُس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک اُس کی اپنی قوم کا تھا اور دُوسرا اُس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ اُس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اُسے مدد کے لیے پکارا۔ موسیٰؑ نے اُس کو ایک گھونسا مارا۲۱ اور اُس کا کام تمام کر دیا۔ (یہ حرکت سرزَد ہوتے ہی )موسیٰؑ نے کہا ’’یہ شیطان کی کار فرمائی ہے، وہ سخت دشمن اور کھُلا گمراہ کُن ہے۔‘‘ ۲۲ پھر وہ کہنے لگا ’’اے میرے ربّ، میں نے اپنے نفس پر ظلم کر ڈالا، میری مغفرت فرما دے۔‘‘ ۲۳  چنانچہ اللہ نے اُس کی مغفرت فرما دی، وہ غفورٌ رحیم ہے۔۲۴ موسیٰؑ نے عہد کیا کہ ’’اے میرے ربّ، یہ احسان جو تُو نے مجھ پر کیا ہے۲۵ اِس کے بعد اب میں کبھی مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا۔‘‘ ۲۶

دوسرے روز وہ صبح سویرے ڈرتا اور ہر طرف سے خطرہ بھانپتا ہوا شہر میں جا رہا تھا کہ یکایک کیا دیکھتا ہے کہ وہی شخص جس نے کل اُسے مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر اُسے پکار رہا ہے۔ موسیٰؑ نے کہا ’’تُو تو بڑا ہی بہکا ہوا آدمی ہے۔‘‘ ۲۷ پھر جب موسیٰؑ نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کرے۲۸ تو وہ پکار اُٹھا۲۹ ’’اے موسیٰؑ،  کیا آج تُو مجھے اُسی طرح قتل کرنے لگا ہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کر چکا ہے، تُو اس ملک میں جبّار بن کر رہنا چاہتا ہے، اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘  اس کے بعد ایک آدمی شہر کے پَرلے سِرے سے دوڑتا ہوا آیا۳۰ اور بولا ’’موسیٰؑ،  سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں، یہاں سے نکل جا،  میں تیرا خیر خواہ ہوں۔‘‘  یہ خبر سُنتے ہی موسیٰؑ ڈرتا اور سہمتا نکل کھڑا ہوا اور اُس نے دُعا کی کہ ’’اے میرے ربّ، مجھے ظالموں سے بچا۔‘‘   ؏۲

 

تفسیر

 

۱۸: یعنی جب ان کا جسمانی و ذہنی نشو نما مکمل ہو گیا۔ یہودی روایات میں اس وقت حضرت موسیٰؑ کی مختلف عمریں بتائی گئی ہیں۔ کسی نے ۱۸ سال لکھی ہے، کسی نے ۲۰ سال، اور کسی نے ۴۰ سال۔ بائیبل کے نئے عہد نامے میں ۴۰ سال عمر بتائی گئی ہے(اعمال۲۳:۷)۔ لیکن قرآن کسی عمر کی تصریح نہیں کرتا۔ جس مقصد کے لیے قصّہ بیان کیا جا رہا ہے اس کے لیے بس اتنا ہی جان لینا کافی ہے کہ آگے جس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے وہ اُس زمانے کا ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پورے شباب کو پہنچ چکے تھے۔

۱۹: حکم سے مراد حکمت، دانائی، فہم و فراست اور قوتِ فیصلہ۔ اور علم سے مراد دینی  اور دنیوی علوم دونوں ہیں، کیونکہ اپنے والدین کے ساتھ ربط ضبط قائم رہنے کی وجہ سے ان کو اپنے باپ دادا (حضرت یوسف، یعقوب، اسحاق اور ابراہیم علیہم السلام) کی تعلیمات سے بھی واقفیت حاصل ہو گئی، اور بادشاہِ وقت کے ہاں شاہزادے کی حیثیت سے پرورش پانے کے باعث اُن کو وہ تمام دنیوی علوم بھی حاصل ہوئے جو اُس زمانے کے اہل مصر میں متداول تھے۔ اس حکم اور علم کے عطیہ سے مراد نبوت کا عطیہ نہیں ہے،کیونکہ  حضرت موسیٰؑ کو نبوت تو اس کے کئی سال بعد عطا فرمائی گئی، جیسا کہ آگے آ رہا ہے  اور اس سے پہلے سورہ شعراء (آیت۲۱) میں بھی بیان ہو چکا ہے۔ اِس زمانہ شاہزادگی کی تعلیم و تربیت کے متعلق بائیبل کی کتاب الاعمال میں بتایا گیا ہے  کہ ’’موسیٰ نے مصریوں کے تمام علوم کی تعلیم پائی اور وہ کام اور کلام میں قوت والا تھا‘‘ (۲۲:۷)۔ تلمود کا بیان ہے کہ موسیٰ علیہ السلام  فرعون کے گھر میں ایک خوبصورت جوان بن کر اُٹھے۔ شاہزادوں کا سا لباس پہنتے،  شاہزادوں کی طرح رہتے، اور لوگ ان کی نہایت تعظیم و تکریم کرتے تھے۔ وہ اکثر جُشَن کے علاقے میں جاتے جہاں اسرائیلیوں کی بستیاں تھیں۔ اور ان تمام سختیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے جو ان کی قوم کے ساتھ قِبطی حکومت کے ملازمین کرتے تھے۔ انہی کی کوشش سے فرعون نے اسرائیلیوں کے لیے ہفتہ میں ایک دن کی چھٹی مقرر کی۔ انہوں نے فرعون سے کہا کہ دائماً مسلسل کام کرنے کی وجہ سے یہ لوگ کمزور ہو جائیں گے اور حکومت ہی کے کام  کا نقصان ہو گا۔ ان کی وقت بحال ہو  ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں ہفتے میں ایک دن آرام کا دیا جائے۔ اسی طرح اپنی دانائی سے انہوں نے اور بہت سے ایسے کام کیے جن کی وجہ سے تمام ملک مصر میں ان کی شہرت ہو گئی تھی۔(اقتباسات تلمود۔ صفحہ۱۲۹)۔

۲۰: ہو سکتا ہے کہ وہ صبح سویرے کا وقت ہو، یا گرمی میں دوپہر کا،  یا سردیوں میں رات کا۔ بہر حال مراد یہ ہے کہ جب سڑکیں سنسان تھیں اور شہر میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ ’’شہر میں داخل ہوا‘‘،  ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دار السلطنت کے شاہی محلات عام آبادی سے باہر واقع تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام چونکہ شاہی محل میں رہتے تھے اس لیے ’’شہر میں نکلے‘‘ کہنے کے بجائے ’’شہر میں داخل ہوئے‘‘ فرمایا گیا ہے۔

۲۱: اصل میں لفظ ’’وکز‘‘ استعمال ہوا ہے جس کے معنی تھپڑ مارنے کے بھی ہیں اور گھونسا مارنے  کے بھی۔ ہم نے اس خیال سے کہ تھپڑ سے موت واقع ہو جانا گھونسے کی  بہ نسبت بعید تر ہے، اس کا ترجمہ گھونسا مارنا کیا ہے۔

۲۲: اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گھونسا کھا  کر جب مصری گرا ہو گا اور اس نے دم توڑ دیا ہو گا تو کیسی  سخت ندامت اور گھبراہٹ کی حالت میں یہ الفاظ حضرت موسیٰؑ کی زبان سے نکلے ہوں گے۔ ان کا کوئی ارادہ قتل کا نہ تھا۔ نہ قتل کے لیے گھونسا مارا جاتا ہے۔ نہ کوئی شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ ایک گھونسا کھاتے ہی ایک بھلا چنگا آدمی پِرَان چھوڑ دے گا۔ اس بنا پر حضرت موسیٰؑ نے فرمایا کہ یہ شیطان کا کوئی شریر انہ منصوبہ معلوم ہوتا ہے۔ اس نے ایک بڑا فساد کھرا کرنے کے لیے مجھ سے یہ کام کرایا ہے تا کہ ایک اسرائیلی کی حمایت میں ایک قبطی کو مار ڈالنے کا الزام مجھ پر عائد ہو اور صرف میرے ہی خلاف نہیں بلکہ تمام بنی اسرائیل کے خلاف مصر میں ایک طوفانِ عظیم اُٹھ کھڑا ہو۔ اس معاملہ میں بائیبل کا بیان قرآن سے مختلف ہے۔ وہ حضرت موسیٰؑ کو قتلِ عمد کا مجرم ٹھیراتی ہے۔ اس کی روایت یہ ہے کہ مصری اور اسرائیلی کو لڑتے دیکھ کر حضرت موسیٰؑ نے ’’ادھر اُدھر نگاہ کی اور جب دیکھا کہ وہاں کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے تو اس مصری کو  جان سے مار کر اسے ریت میں چھپا دیا‘‘ (خروج۱۲:۲)۔ یہی بات تلمود میں بھی قرآن کس طرح ان کی پوزیشن صاف کرتا ہے۔ عقل بھی یہی  کہتی ہے کہ ایک حکیم و دانا آدمی، جسے آگے چل کر ایک اولو العزم پیغمبر ہونا تھا اور جسے انسان کو عدل و انصاف کا ایک عظیم الشان قانون دینا تھا، ایسا اندھا قوم پرست نہیں ہو سکتا  کہ اپنی قوم کے ایک فرد سے دوسری قوم کے کسی شخص کو لڑتے دیکھ کر آپے سے باہر ہو جائے اور جان بوجھ کر اسے قتل کر ڈالے۔ ظاہر ہے کہ اسرائیلی کو مصری کے پنجے سے چھڑا نے کے لیے اسے قتل کر دینا تو روانہ ہو سکتا تھا۔

۲۳: مغفرت کے معنی در گزر کرنے اور معاف کر دینے کے بھی ہیں،  اور ستر پوشی کرنے کے بھی۔ حضرت موسیٰؑ کی دعا کا مطلب یہ تھا کہ میرے اس گناہ کو (جسے تو جانتا ہے کہ میں عمداً نہیں کیا ہے ) معاف بھی فرما دے اور اس کا پردہ بھی ڈھانک دے تا کہ دشمنوں کو اس کا پتہ نہ چلے۔

۲۴: اس کے بھی دو مطلب ہیں، اور دونوں یہاں مراد ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ قصور معاف بھی فرما  دیا اور حضرت موسیٰؑ کا پردہ بھی ڈھانک دیا، یعنی قبطی قوم کے کسی فرد اور قبطی حکومت  کے کسی آدمی کا اُس وقت اُن کے آس پاس کہیں گزر نہ ہوا کہ وہ قتل کے اس واقعہ کو دیکھ لیتا۔ اس طرح حضرت موسیٰؑ کو خاموشی کے ساتھ موقع واردات سے نکل جانے کا موقع مل گیا۔

۲۵: یعنی یہ احسان کہ میرا فعل چھپا رہ گیا،  اور دشمن قوم کے کسی فرد نے مجھ کر نہیں دیکھا، اور مجھے بچ نکلنے کا موقع مل گیا۔

۲۶:  یعنی حضرت موسیٰؑ کا یہ عہد بہت وسیع الفاظ میں ہے۔ اس سے مراد صرف یہی نہیں ہے کہ میں کسی مجرم فرد کا مدد گار نہیں بنوں گا، بلکہ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ میری امداد و اعانت کبھی ان لوگوں کے ساتھ نہ ہو گی جو دنیا میں ظلم و ستم کرتے ہیں۔ ابن جریر اور متعدد دوسرے مفسرین نے اس کا یہ مطلب بالکل ٹھیک لیا ہے کہ اسی روز حضرت موسیٰؑ نے فرعون اور اس کی حکومت سے قطع تعلق کر لینے کا عہد کر لیا، کیونکہ وہ ایک ظالم حکومت تھی اور اس نے خدا کی زمین پر ایک مجرمانہ نظام قائم کر رکھا تھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ کسی ایمان دار آدمی کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ ایک ظالم سلطنت کا کَل پُرزہ بن کر رہے  اور اس کی حشمت و طاقت میں اضافے کا موجب بنے۔ ایک اور کاتب نے عامر شَعبِی سے پوچھا ’’اے ابو عمر و،  میں بس احکام لکھ کر جاری کرنے کا ذمہ دار ہوں،  فیصلے کرنے کا ذمہ دار نہیں ہوں، کیا یہ رزق میرے لیے جائز ہے‘‘ ؟ انہوں نے کہا ’’ہو سکتا ہے کہ کسی بے گناہ کے قتل کا فیصلہ کیا جائے اور وہ تمہارے قلم سے جاری ہو۔ ہو سکتا ہے کہ کسی کا مال ناحق ضبط کیا جائے،  یا کسی کا گھر گرانے کا حکم دیا جائے اور وہ تمہارے  قلم سے جاری ہو‘‘۔ پھر امام موصوف نے یہ آیت پڑھی جسے سنتے ہی کاتب نے کہا ’’آج کے بعد میرا قلم بنی امیّہ کے احکام جاری کرنے میں استعمال نہ ہو گا‘‘۔ امام  نے کہا ’’پھر اللہ بھی تمہیں رزق سے محروم نہ فرمائے گا‘‘۔  ضَحّاک کو تو عبد الرحمٰن بن مسلم نے صرف اس خدمت پر بھیجنا چاہا تھا کہ وہ بخارا کے لوگوں کی تنخواہیں جا کر بانٹ آئیں، مگر انہوں نے اس سے بھی انکار کر دیا۔ ان کے دوستوں نے کہا آخر اس میں کیا حرج  ہے؟ انہوں نے کہا میں ظالموں کے کسی کام میں بھی مدد گار نہیں بننا چاہتا (روح المعافی، ج۲۰،ص۴۹)۔ امام ابو حنیفہ کا یہ واقعہ ان کے تمام مستند سوانح نگاروں۔ الموفَّق الملکی، ابن البَزَّاز الکَرْوَرِی، ملّا علی قاری وغیرہم نے لکھا ہے کہ انہی کی تلقین پر منصور کے کمانڈر انچیف حسن بن قَحطُبہ نے  یہ کہہ کر اپنے عہد ے سے استعفا دے دیا تھا کہ آج تک میں نے آپ کی سلطنت کی حمایت کے لیے جو کچھ کیا ہے یہ اگر خدا کی راہ میں تھا تو میرے لیے بس اتنا ہی کافی ہے،  لیکن اگر یہ ظلم کی راہ میں تھا تو میں اپنے نامہ اعمال میں مزید جرائم کا اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔

۲۷: یعنی تو جھگڑا لو آدمی معلوم ہوتا ہے۔ روز تیرا کسی نہ کسی سے جھگڑا ہوتا رہتا ہے۔ کل ایک شخص سے بھڑ گیا تھا، آج ایک دوسرے شخص سے جا بھڑا۔

۲۸: بائیبل  کا بیان یہاں قرآن کے بیان سے مختلف ہے۔ بائیبل کہتی ہے کہ دوسرے دن کا جھگڑا دو اسرائیلیوں کے درمیان تھا۔ لیکن قرآن کہتا ہے کہ یہ جھگڑا بھی اسرائیلی اور مصری کے درمیان ہی تھا۔ قرینِ قیاس بھی یہی دوسرا بیان معلوم ہوتا ہے، کیونکہ پہلے دن کے قتل کا روز فاش ہونے کی جو صورت آگے بیان ہو رہی ہے  وہ اسی طرح رونما ہو سکتی تھی کہ مصری قوم کے ایک شخص کو اُس واقعہ کی خبر ہو جاتی۔ ایک اسرائیلی کے علم میں اس کے آ جانے سے یہ امکان کم تھا کہ اپنی قوم کے پشتیبان شہزادے کے اتنے بڑے قصور کی اطلاع پاتے ہی وہ جا کر فرعونی حکومت میں اس کی مخبری کر دیتا۔

۲۹: یہ پکارنے والا وہی اسرائیلی تھا جس کی مدد کے لیے حضرت موسیٰؑ آگے بڑھے تھے۔ اس کو ڈانٹنے کے بعد جب آپ مصری کو مارنے کے لیے چلے تو اُس اسرائیلی نے سمجھا کہ یہ مجھے مارنے آرہے ہیں،  اس لیے اس نے چیخنا شروع کر دیا اور اپنی حماقت سے کل کے قتل کا راز فاش کر ڈالا۔

۳۰: یعنی اس دوسرے جھگڑے میں جب قتل کا راز فاش ہو گیا اور اس مصری نے جا کر مخبری کر دی تب یہ واقعہ پیش آیا۔

 

ترجمہ

 

(مصر سے نکل کر)جب موسیٰؑ نے مَدیَن کا رُخ کیا۳۱ تو اُس نے کہا ’’اُمید ہے کہ میرا ربّ مجھے ٹھیک راستے پر ڈال دے گا۔‘‘ ۳۲ اور جب وہ مَدیَن کے کنوئیں پر پہنچا۳۳ تو اُس نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پِلا رہے ہیں اور اُن سے الگ ایک طرف دو عورتیں اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں۔موسیٰؑ نے ان عورتوں سے پوچھا ’’تمہیں کیا پریشانی ہے؟‘‘  اُنہوں نے کہا ’’ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پِلا سکتیں جب تک یہ چرواہے اپنے جانور نہ نکال لے جائیں، اور ہمارے والد ایک بہت بُوڑھے آدمی ہیں۔‘‘ ۳۴ یہ سُن کر موسیٰؑ نے اُن کے جانوروں کو پانی پِلا دیا، پھر ایک سائے کی جگہ جا بیٹھا اور بولا ’’پروردگار، جو خیر بھی تُو مجھ پر نازل کر دے میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘  (کچھ دیر نہ گزری تھی کہ)اُن دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اُس کے پاس آئی۳۵ اور کہنے لگی ’’میرے والد آپ کو بُلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے لیے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں۔‘‘ ۳۶ موسیٰؑ جب اُس کے پاس پہنچا اور اپنا سارا قصہ اُسے سُنایا تو اُس نے کہا ’’کچھ خوف نہ کرو، اب تم ظالم لوگوں سے بچ نِکلے ہو۔‘‘

ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے اپنے باپ سے کہا ’’ابّا جان، اِس شخص کو نوکر رکھ لیجیے، بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہو سکتا ہے جو مضبوط اور امانتدار ہو۔‘‘ ۳۷ اس کے باپ نے (موسیٰؑ سے )کہا ’’۳۸ میں چاہتا ہوں کہ اپنی اِن دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں بشرطیکہ تم آٹھ سال تک میرے ہاں ملازمت کرو اور اگر دس سال تک پُورے کر دو تو یہ تمہاری مرضی ہے۔ میں تم پر سختی نہیں کرنا چاہتا۔ تم انشاء اللہ مجھے نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘  موسیٰؑ نے جواب دیا ’’یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہو گئی۔ ان دونوں مدّتوں میں سے جو بھی میں پُوری کر دوں اُس کے بعد پھر کوئی زیادتی مجھ پر نہ ہو، اور جو کچھ قول قرار ہم کر رہے ہیں اللہ اُس پر نگہبان ہے۔‘‘ ۳۹  ؏ ۳

 

تفسیر

 

۳۱: بائیبل کا بیان اس  امر میں قرآن سے متفق ہے کہ حضرت موسیٰؑ نے مصر سے نکل کر مَدْیَن کا رُخ کیا تھا۔ لیکن تلمود یہ بے سرو پا قصہ بیان کرتی ہے کہ حضرت موسیٰؑ مصر سے بھاگ کر حبش چلے گئے، اور وہاں بادشاہ کے مقرب ہو گئے۔ پھر اس کے مرنے پر لوگوں نے ان کو اپنا بادشاہ بنا لیا اور اس کی بیوہ سے ان کی شادی کر دی۔ ۴۰ سال انہوں نے وہاں حکومت کی۔ مگر اس  پوری مدت میں اپنی حبشی بیوی سے کبھی مقاربت نہ کی۔ ۴۰ سال گزرنے جانے کے بعد اس عورت حبش کے باشندوں سے شکایت کی  کہ اس شخص نے آج تک نہ تو مجھ سے زن و شَو کا تعلق رکھا ہے  اور نہ کبھی حبش کے دیوتاؤں کی پرستش کی ہے۔ اس پر امرائے سلطنت نے انہیں معزول کر کے اور بہت  سا مال دے کر ملک سے باحترام رخصت کر دیا۔ تب وہ حبش سے مدین پہنچے اور وہ واقعات پیش آئے جو آگے بیان ہو رہے ہیں۔ اس وقت ان کی عمر ۶۷ سال تھی۔ اس قصے کے بے سرو پا ہونے کی ایک کھلی ہوئی دلیل یہ ہے کہ اسی قصے میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اُس زمانے میں اسیر یا(شمالی عراق) پر حبش کی حکومت تھی۔،  اور اسیریا والوں کی بغاوتیں کچلنے کے لیے حضرت موسیٰؑ نے بھی اور ان کے پیش رد بادشاہ نے بھی فوجی چڑھائیاں کی تھیں۔ اب جو شخص بھی تاریخ و جغرافیہ سے کوئی واقفیت رکھتا ہو وہ نقشے پر ایک نگاہ ڈال کر دیکھ سکتا ہے کہ اسیریا پر حبش کا تسلط اور حبشی فوج کا حملہ یا تو اس صورت میں ہو سکتا تھا کہ مصر اور فلسطین و شام پر  اس کا قبضہ ہو تا، یا پورا ملک عرب اس کے زیر نگین ہوتا، یا پھر حبش کا بیڑا ایسا زبردست ہو تا کہ وہ بحرِ ہند اور خلیج فارس کو عبور کر کے عراق فتح کر لیتا۔ تاریخ اس ذکر سے خالی ہے کہ کبھی حبشیوں کو ان ممالک پر تسلط حاصل ہوا ہو یا ان کی بحری طاقت اتنی زبر دست رہی ہو۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کا علم خود اپنی تاریخ کے بارے میں کتنا ناقص تھا اور قرآن ان کی غلطیوں کی تصحیح کر کے صحیح واقعات کیسی منقّح صورت میں پیش کر تا ہے۔ لیکن عیسائی اور یہودی مستشرقین کو یہ کہتے ذرا شرم نہیں آتی کہ قران  نے یہ قصّے بنی اسرائیل سے نقل کر لیے ہیں۔

۳۲: یعنی ایسے راستہ پر جس سے میں بخیریت مدین پہنچ جاؤں۔ واضح رہے کہ اُس زمانے میں مدین فرعون کی سلطنت سے باہر تھا۔ مصر کی حکومت پورے جزیرہ نمائے سینا پر نہ تھی بلکہ صرف اس کے مغربی اور جنوبی علاقے تک محدود تھی۔ خلیج عَقَبہ کے مشرقی اور مغربی سواحل،  جن پر بنی مدیان آباد تھے، مصری اثر و اقتدار سے بالکل آزاد تھے۔ اسی بنا پر حضرت موسیٰؑ نے  مصر سے نکلتے ہی مدین کا رُخ کیا تھا، کیونکہ قریب ترین آزاد اور آباد علاقہ وہی تھا۔ لیکن وہاں جانے کے لیے انہیں گزرنا بہر حال مصر کے مقبوضہ علاقوں ہی سے تھا، اور مصر کی پولیس اور فوجی چوکیوں سے بچ کر نکلنا تھا۔ اسی لیے انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ مجھے ایسے راستے پر ڈال دے جس سے میں صحیح و سلامت مَدْین پہنچ جاؤں۔

۳۳: یہ مقام جہاں حضرت موسیٰ ؑ پہنچے تھے، عربی روایات کے مطابق خلیج عقبہ کے غربی ساحل پر مَقْنا سے چند میل بجانب شمال واقع تھا۔ آج کل اسے البِدْع کہتے ہیں اور وہاں ایک چھوٹا سا قصبہ آباد ہے۔میں نے دسمبر۱۹۵۹؁ میں تَبوک سے عَقَبہ جاتے ہوئے اس جگہ کو دیکھا ہے۔ مقامی باشندوں نے مجھے بتایا کہ ہم باپ داد سے یہی سنتے چلے آئے ہیں کہ مَدْین اِسی جگہ واقع تھا۔ یوسفیوں سے لے کر برٹن تک قدیم و جدید سیاحوں اور جغرافیہ نویسوں نے بھی بالعموم مدین کی جائے وقوع یہی بتائی ہے۔ اس کے قریب تھوڑے فاصلے پر وہ جگہ ہے جسے اب مغائر شعیب یا مغارات شیعب کہا جاتا ہے۔ اس جگہ ثمودی طرز کی کچھ عمارات موجود ہیں۔ اور اس سے تقریباً میل ڈیڑھ میل کے فاصلے پر کچھ قدیم کھنڈر ہیں جن میں دو اندھے کنویں ہم نے دیکھے۔ مقامی باشندوں نے ہمیں بتایا کہ یقین کے ساتھ تو ہم نہیں کہہ سکتے، لیکن ہمارے ہاں روایات یہی ہیں کہ ان  دونوں میں سے ایک کنواں وہ تھا جس پر حضرت موسیٰؑ نے بکریوں کو پانی پلایا ہے۔ یہی بات ابو الفِداء ( متوفی ۷۲۳؁ ھح) نے تقویم البُلدان میں اور یا قوت نے مُعْجم البُلدان میں ابو زید انصاری (متوفی۲۱۶ ھ) کے حوالے سے لکھی ہے کہ اس علاقے کے باشندے اسی مقام پر حضرت موسیٰؑ کے اس کنویں کی نشان دہی کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت صدیوں سے وہاں کے لوگوں میں متواتر چلی آ رہی ہے  اور اس بنا پر اعتماد کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید میں جس مقام کا ذکر کیا گیا ہے وہ یہی ہے۔ مقابل کے صفحہ پر اس مقام کی کچھ تصاویر ملاحظہ ہوں۔

۳۴: یعنی ہم عورتیں ہیں، ان چرواہوں سے مزاحمت اور کشمکش کر کے اپنے جانوروں کو پانی پلانا ہمارے بس میں نہیں ہے۔ والد ہمارے اس قدر سن رسیدہ ہیں کہ وہ خود یہ مشقت اُٹھا نہیں سکتے۔ گھر میں کوئی دوسرا مرد بھی نہیں ہے۔ اس لیے ہم عورتیں ہی یہ کام کرنے نکلتی ہیں اور جب تک سب چروا ہے اپنے جانوروں کو پانی پلا کر چلے نہیں جاتے،  ہم کو مجبوراً انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس سارے مضمون کو ا ن خواتین نے صرف ایک مختصر سے فقرے میں ادا کر دیا، جس سے ان کی حیا داری کا اندازہ ہوتا ہے کہ ایک غیر مرد سے زیادہ بات بھی نہ کرنا چاہتی تھیں، مگر یہ بھی پسند نہ کرتی تھی کہ یہ اجنبی ہمارے خاندان کے متعلق کوئی غلط رائے قائم کر لے اور اپنے ذہن میں یہ خیال کر ے کہ کیسے لوگ ہیں جن کے مرد گھر بیٹھے رہے اور اپنی عورتوں کو اس کام کے لیے باہر بھیج دیا۔ ان خواتین کے والد کے متعلق ہمارے ہاں کی روایات میں یہ بات مشہور ہو گئی ہے کہ وہ حضرت شعیب علیہ السلام تھے۔ لیکن قرآن مجید میں اشارۃ وکنا یتہً بھی کوئی بات ایسی نہیں کہی گئی ہے جس سے یہ سمجھا جا سکے کہ وہ حضرت شعیبؑ ہی تھے۔ حالانکہ شعیب علیہ السلام کی شخصیت قرآن میں ایک معروف شخصیت ہے۔ اگر ان خواتین کے والد وہی ہوتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ یہاں اس کی تصریح نہ کر دی جاتی۔ بلا شبہ بعض احادیث میں ان کے نام کی تصریح ملتی ہے،  لیکن علامہ ابن جریر اور ابن کثیر دونوں اس پر متفق ہیں کہ ان میں سے کسی کی سند بھی صحیح نہیں ہے۔ اسی لیے ابن عباس ،  حسن بصری، ابو عبیدہ اور سعید جُبَیر جیسے اکا بر مفسرین نے بنی اسرائیل کی روایات پر اعتماد کر کے ان بزرگ کے وہی نام بتائے ہیں جو تلمود وغیرہ میں آئے ہیں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اسمِ شعیب کی تصریح ہوتی تو یہ حضرات کوئی دوسرا نام نہ لے سکتے تھے۔ بائیبل میں ایک جگہ ان بزرگ کا نام رعوایل اور دوری جگہ یَتْر و بیان کیا گیا ہے  اور بتایا گیا ہے کہ وہ مَدْین کے کاہن تھے۔ (خروج باب۱۶:۲۔۱۸۔باب۱:۳۔باب۵:۱۸)۔تلمودی  لٹریچر میں رعوایل،  یتھرو اور حوباب تین مختلف نام بتائے گئے ہیں۔ موجودہ زمانے کے علمائے یہود  کا خیال یہ ہے کہ یتھرو ہزار کسی لنسی کا ہم معنی لقب تھا اور اصل نام رعوایل یا حوباب تھا۔ اسی طرح لفظ کا ہن(Kohen Midian ) کی تشریح میں بھی علماء یہود کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض اس کو پروہت(Priest ) کا ہم معنی بتاتے ہیں اور بعض رئیس یا امیر (Prince ) کا۔ تلمود میں ان کے جو حالات بیان کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں کہ حضرت موسیٰؑ کی پیدائش سے پہلے فرعون کے ہاں ان کی آمد و رفت تھی اور وہ ان کے علم اور اصابت رائے پر اعتماد رکھتا تھا۔ مگر جب بنی اسرائیل کا استیصال کرنے کے لیے مصر کی شاہی کو نسل میں مشورے  ہونے لگے اور ان کے لڑکوں  کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دینے کا فیصلہ کیا گیا تو انہوں نے فرعون کو اس غلط کام سے روکنے کی  کوشش کی، اسے اس ظلم  کے بُرے نتائج سے ڈرایا اور رائے دی کہ  اگر ان لوگوں کا وجود آپ کے لیے ناقابلِ برداشت ہے تو انہیں ان کے باپ دادا کے ملک کنعان کی طرف نکال دیجیے۔ اس پر فرعون ان سے ناراض ہو گیا اور اس نے انہیں ذلت کے ساتھ اپنے دربار سے نکلوا دیا۔ اس وقت سے وہ اپنے ملک مدین ہی میں اقامت گُزیں ہو گئے تھے۔ ان کے مذہب کے متعلق قیاس یہی ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی طرح وہ بھی دینِ ابراہیمی کے پیرو تھے۔ کیونکہ جس طرح حضرت موسیٰ اسحاق بن ابراہیم(علیھما السلام) کی اولاد تھے اسی طرح وہ مدیان بن ابراہیم کی اولاد میں سے تھے۔ یہی تعلق غالباً اس کا موجب ہوا ہو گا کہ انہوں نے فرعون کو بنی اسرائیل پر ظلم کرنے سے روکا اور اس کی ناراضی مول لی۔ مفسر نیسا بوری نے حضرت حسن بصر ی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ انہ کان رجلا مسلما قَبِل الدین مِن شعیب۔(وہ ایک مسلمان آدمی تھے۔ حضرت شعیبؑ کا دین انہوں نے قبول کر لیا تھا)۔ تلمود بیان کیا گیا ہے کہ وہ مدیانیوں کی بت پرستی کو علانیہ حماقت قرار دیتے تھے، اس وجہ سے اہلِ مدین ان کے مخالف ہو گئے تھے۔

۳۵: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اس فقرے کی تشریح کی ہے : جاءت تمشی علی استحیاء قائلۃ بثوبھا علی وجھھا لیست بسلفع من النساء دلاجۃ ولاجۃ خراجۃ۔ ’’وہ شرم حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اپنا منہ گھونگھٹ سے چھپائے ہوئے آئی۔ ان بے باک عورتوں کی طرح دّرانہ نہیں چلی آئی جو ہر طرف نکل جاتی اور ہر جگہ جا گھستی ہیں‘‘۔ اس مضمون کی متعدد روایات سعید بن منصور، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن المنذر نے معتبر سندوں کے ساتھ حضرت عمرؓ سے نقل کی ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا  ہے کہ صحابہ کرام کے عہد میں حیا داری کا اسلامی تصور، جو قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعلیم و تربیت سے ان بزرگوں سے سمجھا تھا، چہرے کو اجنبیوں ے سامنے کھولے پھرنے اور گھڑ سے باہر بے باکانہ چلت پھرت دکھانے کے قطعاً خلاف تھا۔ حضرت عمرؓ صاف الفاظ میں یہاں چہرہ ڈھانکنے کو حیا کی علامت اور اسے اجانب کے سامنے کھولنے کو بے حیائی قرار دے رہے ہیں۔

۳۶: یہ بات شرم و حیا ہی کی وجہ سے انہوں نے کہی، کیونکہ ایک غیر مرد کے پاس اکیلی جگہ آنے کی کوئی معقول وجہ بتانی ضرور ی تھی۔ ورنہ ظاہر ہے کہ ایک شریف آدمی نے اگر عورت ذات کو پریشانی میں مبتلا دیکھ کر اس کی کوئی مدد کی ہو تو اس کا بدلا دینے کے لیے کہنا کوئی اچھی بات نہ تھی۔ اور پھر اس بدلے کا نام سن لینے کے باوجود حضرت موسیٰؑ جیسے عالی ظرف انسان کا چل پڑنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس وقت انتہائی اضطرار کی حالت میں تھے۔ بے سرو سامانی کے عالم  میں یکایک مصر سے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ مدین تک کم از کم آٹھ دن میں پہنچے ہوں گے۔ بھوک پیاس اور سفر کی تکان سے بُرا حال ہو گا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ فکر ہو گی کہ اس دیارِ غیر میں کوئی ٹھکانہ میسر آئے اور کوئی ایسا ہمدرد ملے جس کی پناہ میں رہ سکیں۔ اسی مجبوری کی وجہ سے یہ لفظ سُن لینے کے باوجود کہ اس ذرا سی خدمت کا اجر دینے کے لیے بلایا جا رہا ہے،  حضرت موسیٰؑ نے جا نے میں تامل نہ کیا۔ انہوں نے خیال فرمایا ہو گا کہ خدا سے ابھی ابھی جو دعا میں نے مانگی ہے،  اسے پورا کرنے کا یہ سامان خدا ہی کی طرف سے ہوا ہے اس لیے اب خواہ مخواہ خود داری کا مظاہرہ کر کے اپنے رب کے فراہم کر دہ سامان میزبانی کو ٹھکرانا  مناسب  نہیں ہے۔

۳۷: ضروری نہیں  کہ یہ بات لڑکی نے اپنے باپ سے حضرت موسیٰؑ کی پہلی ملاقات کے وقت ہی کہہ دی ہو۔ اغلب یہ ہے کہ  اس کے والد نے اجنبی مسافر کو ایک دو روز اپنے پاس ٹھیرا لیا ہو گا اور اس دوران میں کسی وقت بیٹی نے  باپ کو یہ مشورہ دیا ہو گا۔ اس مشورے کا مطلب یہ تھا کہ آپ کی کبر سنی کے باعث مجبوراً آدمی ہے، ہر طرح کی مشقت کر  لے گا۔ اور بھروسے کے قابل آدمی ہے۔ محض اپنی شرافت کی بنا پر اس نے ہم عورتوں کو بے بس کھڑا دیکھ کر ہماری مدد کی۔ اور کبھی ہماری طرح نظر اُٹھا کر نہ دیکھا۔

۳۸: یہ بھی ضرور نہیں کہ بیٹی کی بات سنتے ہی باپ نے فوراً حضرت موسیٰؑ سے یہ بات کہہ دی ہو۔ قیاس چاہتا ہے کہ انہوں نے بیٹی کے مشورے پر غور کرنے کے بعد یہ رائے قائم کی ہو گی آدمی شریف سہی، مگر جوان بیٹیوں کے گھر میں ایک جوان، تندرست و توانا آدمی کو یونہی ملازم رکھ چھوڑنا مناسب نہیں ہے۔ جب یہ شریف،  تعلیم یافتہ، مہذب اور خاندانی آدمی ہے(جیسا کہ حضرت موسیٰؑ کا قصہ انہیں معلوم ہو چکا ہو گا) تو کیوں نہ اسے داماد بنا کر ہی گھر میں رکھا جائے۔ اس رائے پر پہنچنے  کے بعد انہوں  نے کسی مناسب وقت پر حضرت موسیٰؑ سے یہ بات کہی ہو گی۔ یہاں پھر بنی اسرائیل کی ایک کرم فرمائی ملاحظہ ہو جو انہوں نے اپنے جلیل القدر نبی، اپنے سب سے بڑے محسن اور قومی ہیرو پر کی ہے۔ تلمود میں کہا گیا ہے کہ ’’موسیٰؑ رعویل کے ہاں رہنے لگے، اور وہ اپنے میزبان کی بیٹی صفورہ پر نظرِ عنایت رکھتے تھے، یہاں تک کہ آخر کار انہوں نے اس سے بیاہ کر لیا‘‘۔ ایک اور یہودی راوی جو جیوش انسائیکلو پیڈیا میں نقل کی گئی ہے، یہ ہے کہ ’’حضرت موسیٰؑ نے جب یتھرو کو اپنا سارا ماجرا سنایا تو اس نے سمجھ لیا کہ یہی وہ شخص ہے جس کے ہاتھوں فرعون کی سلطنت تباہ ہونے کی پیشن گوئیاں کی گئی تھیں۔ اس لیے اس نے فوراً حضرت موسیٰؑ کو قید کر لیا تا کہ انہیں فرعون کے حوالہ کر کے انعام حاصل کر ے۔ سات یا دس سال تک وہ اس کی قید میں رہے۔ ایک تاریک تہ خانہ تھا جس میں وہ بند تھے۔ مگر یتھرو کی بیٹی زفورا (صفورا) جس سے کنویں پر ان کی پہلی ملاقات ہوئی تھی، چپکے چپکے ان سے قید خانے میں ملتی رہی اور انہیں کھانا پانی بھی پہنچاتی رہی۔ ان دونوں میں شادی کی خفیہ قرار داد ہو چکی تھی۔ سات یا دس سال کے بعد زفورا نے اپنے باپ سے کہا  کہ اتنی مدت ہوئی آپ نے ایک شخص کو قید میں ڈال دیا تھا اور پھر اس کی خبر تک نہ لی۔ اب تک اسے مر جانا چاہییے تھا۔ لیکن اگر وہ اب بھی زندہ ہو تو ضرور کوئی خدا رسیدہ آدمی ہے۔ یتھرو اس کی یہ بات سن کر جب قید خانے میں گیا تو حضرت موسیٰؑ کو زندہ دیکھ کر اسے یقین آ گیا کہ وہ معجزیے ے زندہ ہیں۔ تب اس نے زفورا سے ان کی شادی کر دی‘‘۔  جو مغربی مستشرقین قرآنی قصّوں کے مآخذ ڈھونڈتے پھرتے  ہیں انہیں کہیں کہ کھلا فرق بھی نظر آتا ہے جو قرآن کے بیان اور اسرائیلی روایات میں پایا جاتا ہے؟

۳۹: بعض لوگوں نے حضرت موسیٰؑ اور لڑکی کے والد کی اس گفتگو کو نکاح کا ایجاب و قبول سمجھ لیا ہے اور یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا باپ کی خدمت بیٹی کے نکاح کا مہر قرار پا سکتی ہے؟ اور کیا عقدِ نکاح میں اس طرح کی خارجی شرائط شامل ہو سکتی ہیں؟ حالانکہ آیاتِ زیر بحث کی عبادت سے خود ہی یہ بات ظاہر ہو رہی ہے  کہ عقدِ نکاح نہ تھا بلکہ وہ ابتدائی بات چیت تھی جو نکاح سے پہلے تجویز نکاح کے سلسلے میں بالعموم دنیا میں ہوا کرتی ہے۔ آخر یہ نکاح کا ایجاب و  قبول کیے ہو سکتا ہے جبکہ یہ تعیُّن بھی اس میں نہ کیا گیا تھا کہ دونوں لڑکیوں میں سے کونسی نکاح میں دی جا رہی ہے۔ اس گفتگو کا ماحصل تو صرف یہ تھا کہ لڑکی کے باپ نے کہ میں  اپنی لڑکیوں میں سے  ایک کا نکاح تم سے کر دینے کے لیے تیار ہوں، بشرطیکہ  تم مجھ سے وعدہ کرو کہ آٹھ دس سال میرے ہاں رہ کر میرے گھڑ کے کام کاج میں میرا ہاتھ بٹاؤ گے۔ کیونکہ اس رشتے سے میری اصل غرض یہی ہے کہ میں بوڑھا آدمی ہوں، کوئی بیٹا میرے ہاں نہیں ہے  جو میری جائداد کا انتظام سنبھالے،  لڑکیاں ہی لڑکیاں ہیں جنہیں مجبوراً باہر نکالتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ داماد میرا دست بازوں بن کر رہے،  یہ ذمہ داری اگر تم سنبھالنے کے لیے تیار ہو اور شادی کے بعد ہی بیوی کو لے کر چلے جانے کا ارادہ نہ رکھتے ہو، تو میں اپنی ایک لڑکی کا نکاح تم سے کر دوں گا۔ حضرت موسیٰؑ اس وقت خود ایک ٹھکانے کے طالب تھے۔ انہوں نے اس تجویز کو قبول کر لیا۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک معاہدے کی صورت تھی جو نکاح سے پہلے فریقین میں طے  ہوئی تھی۔ اس کے بعد اصل نکاح قاعدے کے مطابق ہوا ہو گا اور اس میں مہر بھی باندھا گیا ہو گا۔ اُس عقد میں خدمت کی شرط شامل ہونے کی کوئی وجہ نہ تھی۔

 

ترجمہ

 

جب موسیٰؑ نے مدّت پوری کر دی۴۰ اور اپنے اہل و عیال کو لے کر چلا تو طُور کی جانب اُس کو ایک آگ نظر آئی۔۴۱ اُس نے اپنے گھر والوں سے کہا ’’ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے،  شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آؤں یا اُس آگ سے کوئی انگارا ہی اُٹھا لاؤں جس سے تم تاپ سکو۔‘‘  وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے۴۲ پر مبارک خطّے میں۴۳ ایک درخت سے پُکارا گیا کہ ’’اے موسیٰؑ،  میں ہی اللہ ہوں، سارے جہاں والوں کا مالک۔‘‘  اور (حکم دیا گیا کہ)پھینک دے اپنی لاٹھی۔ جونہی کہ موسیٰؑ نے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بَل کھارہی ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اُس نے مُڑ کر بھی نہ دیکھا۔ (اِرشاد ہوا) ’’موسیٰؑ،  پلٹ آ اور خوف نہ کر،  تُو بالکل محفوظ ہے۔ اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔ ۴۴ اور خوف سے بچنے کے لیے اپنا بازُو بھینچ لے۔۴۵ یہ دو روشن نشانیاں ہیں تیرے ربّ کی طرف سے فرعون اور اُس کے درباریوں کے سامنے پیش کر نے کے لیے،  وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں۔‘‘ ۴۶ موسیٰؑ نے عرض کیا ’’میرے آقا، میں تو اُن کا ایک آدمی قتل کر چکا ہوں، ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے۔۴۷ اور میرا بھائی ہارون ؑ مجھ سے زیادہ زبان آور ہے، اُسے میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تائید کرے، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھُٹلائیں گے۔‘‘  فرمایا ’’ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سطوت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیرووں کا ہی ہو گا۔‘‘ ۴۸

پھر جب موسیٰؑ اُن لوگوں کے پاس ہماری کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر پہنچا تو اُنہوں نے کہا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر بناوٹی جادُو۔۴۹ اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سُنی ہی نہیں۔۵۰ موسیٰؑ نے جواب دیا ’’میرا ربّ اُس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اُس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کِس کا اچھا ہونا ہے، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔‘‘ ۵۱ اور فرعون نے کہا ’’اے اہلِ دربار، میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا۔۵۲ ہامان، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا،  شاید کہ اُس پر چڑھ کر میں موسیٰؑ کے خدا کو دیکھ سکوں، میں تو اسے جھُوٹا سمجھتا ہوں۔‘‘ ۵۳

اُس نے اور اُس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا۵۴ اور سمجھے کہ اُنہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے۔۵۵ آخر کار ہم نے اُسے اور اُس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا۔۵۶ اب دیکھ لو کہ اُن ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔ ہم نے اُنہیں جہنّم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا۵۷ اور قیامت کے روز وہ کہیں سے کوئی مدد نہ پا سکیں گے۔ ہم نے اِس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے روز وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے۔۵۸ ؏۴

 

تفسیر

 

۴۰: حضرت حسن علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہھما فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰؑ نے آٹھ کے بجائے دس سال کی مدت پوری کی تھی۔ ابن عباس کی روایت ہے کہ  یہ بات  خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مروی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایاقضٰی موسیٰ اتم الاجلین و اطیبھما عشر سنین۔ ’’موسیٰؑ نے دونوں مدتوں میں سے وہ مدت پوری طرح جو زیادہ کامل اور ان کے خسر کے لیے زیادہ  خوشگوار تھی، یعنی دس سال‘‘۔

۴۱: اس سفر کا رُخ طور کی جانب ہونے سے یہ خیال ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ اپنے اہل و عیال کو لے کر مصر ہی جانا چاہتے ہوں گے۔ اس لیے کہ طور اُس راستے پر ہے جو مَدْیَن سے مصر کی طرف جاتا ہے۔ غالباً حضرت موسیٰؑ نے خیال کیا ہو گا کہ دس سال گزر چکے ہیں۔ فرعون بھی مر چکا ہے جس کی حکومت کے زمانے میں وہ مصر سے نکلے تھے۔ اب اگر خاموشی کے ساتھ وہاں چلا جاؤں اور اپنے خاندان والوں کے ساتھ  پڑوں  تو شاید کسی کو میرا پتہ بھی نہ چلے۔  بائیبل کا بیان یہاں واقعات کی ترتیب میں قرآن کے بیان سے بالکل مختلف ہے۔ وہ کہتی ہے کہ حضرت موسیٰؑ اپنے خسر کی بکریاں چَراتے ہوئے ’’بیا بان کے پرلی طرف سے خدا کے پہاڑ حورب کے نزدیک‘‘ آ نکلے تھے۔ اُس وقت  اللہ تعالیٰ نے ان سے کلام کیا اور انہیں رسالت کے منصب پر مامور کر کے مصر جانے کا حکم دیا۔ پھر وہ اپنے خسر کے پاس واپس آ گئے اور ان سے اجازت لے کر اپنے ہاں بچوں  کے ساتھ مصر روانہ ہوئے (خروج۱:۳۔۱۸:۴)۔ س کے برعکس قرآن کہتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ مدت پوری کرنے کے بعد اپنے اہل عیال کو لے کر مدین سے روانہ ہوئے اور اس سفر میں اللہ تعالیٰ کی مخاطبت اور منصب نبوت پر تقرر کا معاملہ پیش آیا۔ بائیبل اور تلمود دونوں کا متفقہ بیان ہے کہ حضرت موسیٰؑ کے زمانہ قیامِ مدین میں وہ فرعون مر چکا تھا جس کے ہاں انہوں نے پرورش پائی تھی اور اب ایک دوسرا فرعون مصر کا فرمانروا تھا۔

۴۲: یعنی اُس کنارے پر جو حضر ت موسیٰؑ کے داہنے ہاتھ کی طرف تھا۔

۴۳: یعنی اُس خطے میں جو نورِ تجلی سے روشن ہو رہا تھا۔

۴۴: یہ دونوں معجزے اس وقت حضرت موسیٰؑ کو اس لیے دکھائے گئے کہ اول تو انہیں خود پوری طرح یقین ہو جائے کہ فی الواقع وہی ہستی ان سے مخاطب ہے جو کائنات کے پورے نظام کی خالق و مالک اور فرماں روا ہے۔ دوسرے وہ ان معجزوں کو دیکھ کر مطمئن ہو جائیں کہ جس خطر ناک مشن پر انہیں فرعون کی طرف بھیجا جا رہا ہے  اس کا سامنا کرنے کے لیے وہ بالکل نہتے جائیں گے بلکہ دو زبر دست ہتھیار لے کر جائیں گے۔

۴۵: یعنی جب کبھی کوئی خطر ناک موقع ایسا آئے جس سے تمہارے دل میں خوف پیدا ہوا تو اپنا بازو بھینچ لیا کرو، اس سے تمہارا دل قوی ہو جائے گا اور رعب و دہشت کی کوئی کیفیت تمہارے اندر باقی نہ رہے گی۔ بازو سے مراد غالباً سیدھا بازو ہے، کیونکہ مطلقاً ہاتھ بول کر سیدھا ہاتھ ہی مراد لیا جا تا ہے۔ بھینچنے کی دو شکلیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ بازو کو پہلو کے ساتھ لگا کر دبا لیا جائے۔ دوسری یہ کہ ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ کی بغل میں رکھ دبایا جائے۔ اغلب یہ ہے کہ پہلی شکل ہی مراد ہو گی۔ کیونکہ اس صورت میں دوسرا کوئی شخص یہ محسوس نہیں کر سکتا کہ آدمی اپنے دل کا خوف دور کرنے کے لیے کوئی خاص عمل کر رہا ہے۔ حضرت موسیٰؑ کو یہ تدابیر اس لیے بتائی گئی کہ وہ ایک ظالم حکومت کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی لاؤ لشکر اور دنیوی سازو سامان کے بغیر بھیجے جا رہے تھے۔ بار ہا ایسے خوفناک مواقع پیش آنے والے تھے جن میں ایک اولو العزم نبی تک دہشت سے محفوظ نہ رہ  سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب کوئی ایسی صورت پیش آئے،  تم بس یہ عمل کر لیا کرو، فرعون اپنی پوری سلطنت کا زور لگا کر بھی تمہارے دل کی طاقت کو متزلزل نہ  کر سکے گا۔

۴۶: ان الفاظ میں یہ مفہوم آپ سے شامل ہے کہ یہ نشانیاں لے کر فرعون کے پاس جاؤ اور اللہ کے رسول کی حیثیت سے اپنے آپ کو پیش  کر کے اسے اور اس کے اعیانِ سلطنت کو اللہ رب ّ العالمین کی اطاعت و بندگی کی طرف دعوت دو۔ اسی لیے یہاں اس ماموریت کی تصریح نہیں کی گئی ہے۔ البتہ دُوسرے مقامات پر صراحت کے ساتھ یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔ سورہ طٰہٰ اور سورہ نازعات میں فرمایا اِذْھَبْ اِلیٰ فِرْعَوْنَ اِنَّہُ طَغیٰ، ’’فرعون کے پاس جا کہ وہ سرکش ہو گیا ہے‘‘۔ اور الشعراء میں فرمایا اِذْ نَا دٰی رَبُّکَ مُوْسیٰٓ اَنِ ائتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ قَوْمَ فِرْعَوْنَ، ’’جب کہ پکارا تیرے رب نے موسیٰ ؑ کو کہ جا ظالم قوم کے پاس، فرعون کی قوم کے پاس‘‘۔

۴۷: اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس ڈر سے وہاں نہیں  جانا چاہتا۔ بلکہ مطلب یہ تھا کہ حضور کی طرف سے ایسا کوئی انتظام ہونا چاہیے کہ میرے پہنچتے ہی کسی بات چیت اور ادائے رسالت کی نوبت آنے سے پہلے وہ لوگ مجھے الزامِ قتل میں گرفتار نہ کر لیں، کیونکہ اس صورت میں تو وہ مقصد ہی فوت ہو جائے گا جس کے لیے مجھے اس مہم پر بھیجا جا رہا ہے۔ بعد کی عبارت سے یہ بات خود واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی اس گزارش کا یہ مدعا ہر گز نہیں تھا کہ وہ  ڈر کے مارے نبوت کا منصب قبول کرنے اور فرعون کے ہاں جانے سے انکار کرنا چاہتے تھے۔

۴۸: اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضرت موسیٰؑ کی اس ملاقات اور گفتگو کا حال اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ سورہ طٰہٰ( آیت۹ تا ۴۸) میں بیان ہوا ہے۔ قرآن مجید کے اس بیان کا جو شخص بھی اُس داستان سے مقابلہ کر ے گا جو اس سلسلہ میں بائیبل کی کتاب خروج(باب۴،۳) میں بیان کی گئی ہے،  وہ اگر کچھ ذوقِ سلیم رکھتا ہو تو  خود محسوس کر لے گا کہ ان دونوں میں سے کلامِ الہٰی کو نسا ہے اور انسانی داستان گوئی کا اطلاق کس پر ہوتا ہے۔ نیز وہ اس معاملہ میں بھی بآسانی رائے قائم کر سکے گا کہ آیا قرآن کی یہ روایت معاذ اللہ بائیبل اور اسرائیلی روایات کی نقل ہے،  یا وہ خدا خود اصل واقعہ بیان فرما رہا ہے جس نے حضرت موسیٰؑ کو باریاب فرمایا تھا۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، طٰہٰ حاشیہ ۱۹)۔

۴۹: اصل الفاظ ہیں سِحْرٌ مُّفْتَرًی ’’افترا کیا ہوا جادو‘‘۔ اس افترا کو اگر جھوٹ کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ یہ لاٹھی کا اژدہا بننا اور ہاتھ کا چمک اٹھنا نفس شے میں حقیقی تغیر نہیں ہے بلکہ محض ایک نمائشی شعبدہ ہے جسے یہ شخص معجزہ کہہ کر ہمیں دھوکا دے رہا ہے۔ اور اگر اسے بناوٹ کے معنی میں لیا جائے تو مراد یہ ہو گی کہ یہ شخص کسی کر تب سے ایک ایسی چیز بنا لا یا ہے جو دیکھنے میں لاٹھی معلوم ہوتی ہے مگر جب یہ اسے پھینک دیتا ہے تو سانپ نظر آنے لگتی ہے۔ اور اپنے ہاتھ پر بھی اس نے کوئی ایسی چیز مل لی ہے کہ اس کی بغل سے نکلنے کے بعد وہ یکایک چمک اٹھتا ہے۔ یہ مصنوعی طلسم ا نے خود تیار کیا ہے، اور ہمیں یقین یہ دلا رہا ہے کہ معجزے ہیں جو خدا نے اسے عطا کیے ہیں۔

۵۰: اشارہ ہے اُن باتوں کی طرف جو تبلیغ رسالت کے سلسلے میں حضرت موسیٰؑ نے پیش کی تھیں۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان باتوں کی تفصیل دی گئی ہے۔ النازعات میں ہے کہ حضرت موسیٰؑ نے اس سے کہا: ھَلْ لَّکَ اِلٰی اَنْ تَزَکّٰی، وَاَھْدِیَکَ اِلیٰ رَبِّکَ فَتَحْشٰی، ’’کیا تو پاکیزہ روش اختیار کرنے پر آمادہ ہے ؟ اور میں تجھے تیرے رب کی راہ بتاؤں تو خثیت اختیار کر ے گا‘‘ ؟ سورہ طٰہٰ میں ہے کہ قَدْ جِئْنَا کَ بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَبِّکَ وَالسَّلَامُ عَلیٰ مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی، اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَآ اَنَّ الْعَذَابَ عَلیٰ مَنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی، ’’ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لائے ہیں، اور سلامتی ہے اس کے لیے جو راہِ راست کی پیروی کرے  اور ہم پر وحی کی گئی ہے  کہ سزا ہے اس کے جو جھٹلائے اور منہ موڑے ‘‘۔ اور اِنَّا رَسُوْلَارَبِّکَ فَاَر سِلْ مَعَنَا بِنِیْ اِسْرَآءِیْلَ ’’ہم تیرے رب کی پیغمبر ہیں،  تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دے‘‘۔ انہی باتوں سے متعلق فرعون نے کہا کہ ہمارے باپ دادا نے بھی کبھی یہ نہیں سنا تھا کہ فرعونِ مصر سے اوپر بھی کوئی ایسی مقتدر ہستی ہے جو اس کو حکم دینے کی مجاز ہو،  جو اسے سزا دے سکتی  ہو،  جو اسے ہدایات دینے کے لیے کسی آدمی کو اس کے دربار میں بھیجے، اور جس سے ڈرنے کے لیے مصر کے بادشاہ سے کہا جائے۔ تو نرالی باتیں ہیں جو آج ہم ایک شخص کی زبان سے سُن رہے ہیں۔

۵۱: یعنی تو مجھے ساحر اور افترا پرواز قرار دیتا ہے،  لیکن میرا رب میرے حال سے خوب واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جو شخص اس کی طرف سے رسول مقرر کیا گیا ہے وہ کیسا آدمی ہے۔ اور آخری انجام کا فیصلہ اس کے ہاتھ میں ہے۔ میں جھوٹا ہوں تو میرا انجام بُرا ہو گا اور تو جھوٹا ہے تو پھر خوب جان لے کے تیرا  انجام  اچھا نہیں ہے۔ بہر حال یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ ظالم کے لیے فلاح نہیں ہے۔ جو شخص خدا کا رسول نہ ہو اور جھوٹ موٹ کا رسول بن کر اپنا کوئی مفاد حاصل کر نا چاہے وہ بھی ظالم ہے اور فلاح سے محروم رہے گا، اور جو طرح طرح کے جھوٹے الزامات لگا کر سچے رسول کو جھٹلائے اور مکاریوں سے صداقت کو دبانا چاہے وہ بھی ظالم ہے اور اسے کبھی فلاح نصیب نہ ہو گی۔

۵۲: اس قول سے فرعون کا مطلب ظاہر ہے کہ یہ نہیں تھا اور نہیں ہو سکتا تھا کہ میں ہی تمہارا اور زمین و آسمان کا خالق ہوں،  کیونکہ ایسی بات صرف ایک پاگل ہی کے منہ سے نکل سکتی تھی۔ اور اسی طرح اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ میرے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، کیونکہ اہلِ مصر کے مذہب میں بہت سے معبودوں کی پرستش ہوتی تھی اور خود فرعون کو جس بنا پر معبودیت کا مرتبہ دیا گیا تھا وہ بھی صرف یہ تھی کہ اسے سُورج دیوتا کا اوتار مانا جاتا تھا۔ سب سے بڑی شہادت قرآن مجید  کی موجود ہے کہ فرعون خود بہت سے دیوتاؤں کا پرستار تھا: وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسیٰ وَقَوْمَہٗ لِیُفْسِدُوْ ا فِی الْاَرْضِ وَیَذَرَکَ وَاٰلِھَتَکَ، ’’اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے کیا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوٹ دے دیگا  کہ ملک میں فساد برپا کریں اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں ؟(الاعراف،آیت۱۲۷)۔ اس لیے لامحالہ یہاں فرعون نے لفظ ’’خدا‘‘  اپنے لیے بمعنی خالق و معبود نہیں بلکہ بمعنی مطاع و حاکمِ مطلق استعمال کیا تھا۔ اس کا مدعا یہ تھا کہ اس سر زمینِ مصر کا مالک میں ہوں،  یہاں میرا حکم چلے گا۔ میرا ہی قانون یہاں قانون مانا جائے گا۔ میری ذات ہی یہاں امر و نہی کا سرچشمہ تسلیم کی جائے گی۔ کوئی دوسرا یہاں حکم چلانے کا مجاز نہیں ہے۔ یہ موسیٰ کون ہے  جو رب العالمین کا نمائندہ بن کر آ کھڑا ہوا ہے اور مجھے اس طرح احکام سنا رہا ہے کہ گویا اصل فرمانروا یہ ہے  اور میں اس کا تابع فرمان ہوں۔ اسی بنا پر اس نے اپنے دربار کے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا تھا یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَھٰذِہٖ الْاَنْھَار تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ، ’’اے قوم، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے،  اور یہ نہریں میرے تحت جاری نہیں ہیں‘‘ ؟(الزخرف، آیت۵۱) اور اسی بنا پر وہ حضرت موسیٰؑ سے بار بار کہتا تھا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدُنَا عَلَیْہِ اٰبَآ ءَنَا وَتَکُوْنَ لَکُمَا الْکِبْرِیَآ ءُ فِی الْاَرْضِ، ’’کیا تو اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اُس طریقے سے ہٹا دے جو ہمارے باپ دادا کے زمانے سے چلا آ رہا  ہے اور اس ملک میں بڑائی تم دونوں بھائیوں کی ہو جائے‘‘ ؟(یونس، آیت۷۸) اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِ کَ یٰمُوْسٰی، ’’ اے موسیٰ کیا تو اس لیے آیا ہے  کہ ہمیں اپنے جادو کے زور سے ہماری زمین سے بے دخل کر دے‘‘ ؟ (طٰہٰ۔آیت۵۷)۔ اِنِّیْٓ اَخَا فُ اَنْ یُّبْدِّ لَ دِیْنَکُمْ اَوْ اَنْ یُّظْھِرَ فِی الْارْضِ الْفَسَادَ، ’’ میں ڈرتا ہوں کہ یہ شخص تم لوگوں کا دین بدل ڈالے گا، یا ملک میں فساد برپا کرے گا‘‘ (المومن۔ آیت۲۶)۔ اس لحاظ سے اگر غور کیا جائے تو فرعون کی پوزیشن اُن ریاستوں کی پوزیشن سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے جو خدا کے پیغمبر کی لائی ہوئی شریعت سے آزاد خود مختار ہو کر اپنی سیاسی اور قانونی حاکمیت کی مدعی ہیں۔ وہ خواہ سرچشمہ قانون اور صاحبِ قانون امر و نہی کسی بادشاہی کو مانیں یا قوم کی مرضی کو، بہر حال جب تک وہ یہ موقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ ملک میں خدا اور اس کے رسول کا نہیں بلکہ ہمارا حکم چلے گا اس وقت تک ان کے اور فر عون کے موقف  میں کوئی  اصولی فرق نہیں ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ بے شعور لوگ فرعون پر لعنت بھیجتے  رہیں اور اِن کو سندِ جواز عطا کرتے رہیں۔ حقائق کی سمجھ بوجھ رکھنے والا آدمی تو معنی اور روح کو دیکھے گا نہ کہ الفاظ اور اصطلاحات کو۔ آخر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ فرعون نے اپنے لیے ’’اِلٰہ‘‘ کا لفظ استعمال کیا تھا، اور یہ اس معنی میں ’’حاکمیت ‘‘ اصطلاح استعمال کرتی ہیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن  جلد سوم،  سورہ طٰہٰ۔ حاشیہ ۲۱)۔

۵۳: یہ اسی قسم کی ذہنیت تھی جیسی موجودہ زمانے کے روسی کمیونسٹ ظاہر کر رہے ہیں۔ یہ اسپٹنک اور ٹونِک چھوڑ کر دنیا کو خبر دیتے ہیں کہ ہماری اِن گیندوں کو اوپر کہیں خدا نہیں ملا۔ وہ بے وقوف ایک مینار ے پر چڑھ کر خدا کو جھانکنا چاہتا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ گمراہ لوگوں کے ذہن کی پرواز ساڑھے تین ہزار برس پہلے جہاں تک تھی آج بھی وہیں تک ہے۔ اس اعتبار سے ایک اُنگل بھر ترقی بھی وہ نہیں کر سکتے ہیں۔ معلوم میں کس احمق نے اِن کو یہ خبر دی تھی کہ خدا پرست لوگ جس ربّ العالمین کو مانتے ہیں وہ اُن کے عقیدے کی رو سے اوپر کہیں بیٹھا ہوا ہے، اور اِس اتھاہ کائنات میں زمین سے چند ہزار فیٹ یا چند لاکھ میل اوپر اُٹھ کر اگر وہ انہیں نہ ملے تو یہ بات گویا بالکل ثابت ہو جائے گی   کہ وہ کہیں موجودہ نہیں ہے۔ قرآن یہاں نہیں کہتا کہ فرعون نے فی الواقع ایک عمارت اس غر ض کے لیے بنوائی تھی  اور اس پر چڑھ کر خدا کو جھانکنے کی کوشش بھی کی تھی۔ بلکہ وہ اُس کے صرف اس قول کو نقل کرتا ہے۔ اِس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے عملاً یہ حماقت نہیں کی تھی۔ اِن باتوں سے اس کا مدعا صرف بے وقوف بنا نا تھا۔  یہ امر بھی واضح طور پر معلوم نہیں ہوتا کہ فرعون آیا فی الواقع خداوندِ عالم کی ہستی کا منکر تھا یا محض ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر دہریت کی باتیں کرتا تھا۔ اس کے اقوال اس معاملہ میں اُسی ذہنی  الجھاؤ کی نشان دہی کرتے ہیں جو روسی کمیونسٹوں کی باتوں میں پایا جاتا ہے۔ کبھی تو  وہ آسمان پر چڑھ کر دنیا کو بتانا چاہتا تھا کہ میں اوپر دیکھ  آیا ہوں، موسیٰ کا خدا کہیں نہیں ہے۔ اور کبھی وہ کہتا فَلَوْْلَآ اُلْقِیَ عَلَیْہِ اَسْوِ رَۃ مِّنْ ذَھَب اَوْجَآ ءَ مَعَہُ الْمَلٰئیکَۃُ مُقْتَرِنِیْنَ ’’اگر موسیٰ واقعی خدا کا بھیجا ہوا ہے تو کیوں نہ اُس کے لیے سونے کے کنگن اتارے گئے، یا اس  کی اردلی میں ملائکہ  نہ آئے‘‘ ؟ یہ باتیں روس کے ایک سابق وزیر اعظم خرو شچیف کی باتوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں جو کبھی خدا کا انکار کرتا اور کبھی بار بار خدا کا نام لیتا اور اس کے نام کی قسمیں کھاتا تھا۔ ہمارا قیاس یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے خلفاء کا دورِ اقتدار گزر جانے کے بعد جب مصر میں قبطی قوم پرستی کا زور ہوا اور ملک میں اِسی نسلی و  وطنی تعصّب کی بنیاد پر سیاسی انقلاب رونما  ہو گیا تو نئے لیڈروں نے اپنے قوم پرستانہ جوش میں اُس خدا کے خلاف بھی بغاوت کر دی جس کو ماننے کی دعوت حضرت یوسفؑ اور ان کے پیرو اسرائیلی اور مصری مسلمان دیتے تھے۔ انہوں  نے یہ سمجھا کہ خدا کو مان کر ہم یوسفی تہذیب کے اثر سے  نہ نکل سکیں گے، اور یہ تہذیب باقی رہی تو ہمارا سیاسی اثر بھی مستحکم نہ ہو سکے گا۔ وہ خدا کے اقرار اور مُسْلم اقتدار کو لازم و ملزوم سمجھتے تھے، اس لیے ایک پیچھا چھڑانے کی خاطر دوسرے کا انکار ان کے  نزدیک ضرور ی تھا، اگر چہ اس کا اقرار ان کے دل کی گہرائیوں سے کسی طرح نکالے نہ نکلتا تھا۔

۵۴: یعنی بڑائی کا حق تو اس کائنات میں صرف اللہ رب العالمین کو ہے۔ مگر فرعون اور اس کے لشکر زمین کے ایک ذرا سے خطے میں تھوڑا سا اقتدار پا کر یہ سمجھ بیٹھے کہ یہاں بڑے بس وہی ہیں۔

۵۵: یعنی انہوں نے اپنے آپ کو غیر مسئول سمجھ لیا اور یہ فرض کر کے خود مختارانہ کام کرنے لگے کہ انہیں جا کر کسی کے سامنے جواب دہی نہیں کرنی ہے۔

۵۶: ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے جھوٹے تکبر کے مقابلے میں ان کی بے حقیقتی اور ہیچ میرزی کی تصویر کھینچ دی ہے۔ وہ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھ بیٹھے تھے۔ مگر جب وہ مہلت جو خدا نے ان کو راہِ راست پر آنے کے لیے دی تھی ختم ہو گئی تو انہیں اِس طرح اُٹھا کر سمندر میں پھینک دیا گیا جیسے کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا ہے۔

۵۷: یعنی وہ بعد کی نسلوں کے لیے ایک مثال قائم کر گئے ہیں کہ ظلم یوں کیا جاتا ہے، انکارِ حق پر ڈٹ جانے اور آخر وقت تک ڈٹے رہنے کی شان یہ ہوتی ہے،  اور صداقت کے مقابلے میں باطل پر لوگ ایسے ایسے ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ سب راستے دنیا کو دکھا کر وہ جہنم کی طرف جا چکے ہیں اور ان کے اَخلاف اب اُنہی کے نقشِ قدم پر چل کر اُسی منزل کے رُخ لپکے جا رہے ہیں۔

۵۸: اصل الفاظ ہیں قیامت کے روز وہ ’’مقبوحین‘‘ میں سے ہوں گے۔ اس کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔ وہ  مردود و مطرود ہوں گے۔ اللہ کی رحمت سے بالکل محروم کر دیے جائیں گے۔ ان کی بُری گت بنائی جائے گی اور ان کے چہرے بگاڑ دیے جائیں گے۔

 

ترجمہ

 

پچھلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰؑ کو کتاب عطا کی، لوگوں کے لیے بصیرتوں کا سامان بنا کر،  ہدایت اور رحمت بنا کر، تاکہ شاید لوگ سبق حاصل کریں۔۵۹ (اے محمدؐ )تم اُس وقت مغربی گوشے میں موجود نہ تھے۶۰ جب ہم نے موسیٰؑ کو یہ فرمانِ شریعت عطا کیا، اور نہ تم شاہدین میں شامل تھے،۶۱ بلکہ اُس کے بعد (تمہارے زمانے تک)ہم بہت سی نسلیں اُٹھا چکے ہیں اور اُن پر بہت زمانہ گُزر چکا ہے۔۶۲ تم اہلِ مَدیِن کے درمیان بھی موجود نہ تھے کہ اُن کو ہماری آیات سُنا رہے ہوتے،۶۳ مگر (اُس وقت کی یہ خبریں) بھیجنے والے ہم ہیں۔ اور تم طُور کے دامن میں بھی اُس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے (موسیٰؑ کو پہلی مرتبہ)پکارا تھا، مگر یہ تمہارے ربّ کی رحمت ہے( کہ تم کو یہ معلومات دی جا رہی ہیں) ۶۴ تاکہ تم اُن لوگوں کو متنبّہ کرو جن کے پاس ان سے پہلے کوئی متنبّہ کرنے والا نہیں آیا،۶۵ شاید کہ وہ ہوش میں آئیں۔(اور یہ ہم نے اس لیے کیا کہ)کہیں ایسا نہ ہو کہ اُن کے اپنے کیے کرتُوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب اُن پر آئے تو وہ کہیں ’’اے پروردگار، تُو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی رسُول بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہلِ ایمان میں سے ہوتے۔‘‘ ۶۶

مگر جب ہمارے ہاں سے حق اُن کے پاس آ گیا تو وہ کہنے لگے ’’کیوں نہ دیا گیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰؑ کو دیا گیا تھا؟‘‘ ۶۷ کیا یہ لوگ اس کا انکار نہیں کر چکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰؑ کو دیا گیا تھا؟۶۸ اُنہوں نے کہا ’’ دونوں جادُو ہیں۶۹  جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔‘‘  اور کہا ’’ہم کسی کو نہیں مانتے۔‘‘  (اے نبیؐ )اِن سے کہو ’’اچھا، تو لاؤ اللہ کی طرف سے کوئی کتاب جو اِن دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو اگر تم سچے ہو، میں اسی کی پیروی اختیار کروں گا۔‘‘ ۷۰ اب اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پُورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں، اور اُس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہر گز ہدایت نہیں بخشتا۔ ؏۵

 

تفسیر

 

۵۹: یعنی پچھلی نسلیں جب انبیائے سابقین کی تعلیمات سے رو گردانی کا برا نتیجہ بھگت چکیں، اور ان کا آخری انجام وہ کچھ ہو چکا جو فرعون اور اس کے لشکروں نے دیکھا، تو اس کے بعد موسیٰؑ کو کتاب عطا کی گئی تا کہ انسانیت کا ایک نیا دور شروع ہو۔

۶۰: مغربی گوشے سے مراد جزیرہ نمائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰؑ کو احکام شریعت دیے گئے تھے۔ یہ علاقہ حجاز کے مغربی جانب واقع ہے۔

۶۱: یعنی بنی اسرائیل کے اُن ستر نمائندوں میں جن کو شریعت کی پابندی کا عہد لینے کے لیے حضرت موسیٰؑ کے ساتھ بلایا گیا تھا۔(سورہ اعراف،آیت۱۵۵ میں اُن نمائندوں کو بلائے جانے کا ذکر گزر چکا ہے،  اور بائیبل کی کتاب خروج، باب۲۴ میں بھی اس کا ذکر موجود ہے)۔

۶۲: یعنی تمہارے پاس اِن معلومات کے حصول کا براہِ راست کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ آج جو تم ان واقعات کو دو ہزار برس سے زیادہ مدّت گزر جانے کے بعد اِس طرح بیان کر رہے ہو کہ گویا یہ سب تمہارا آنکھوں دیکھا حال ہے،  اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعہ سے تم کو یہ معلومات بہم پہنچائی جا رہی ہیں۔

۶۳: یعنی جب حضرت موسیٰؑ مدین پہنچے، اور جو کچھ وہاں ان کے ساتھ پیش آیا، اور دس سال گزار کر جب وہ وہاں سے روانہ ہوئے،  اس وقت تمہارا کہیں پتہ بھی نہ تھا۔ تم اس وقت مدین کی بستیوں میں وہ کام نہیں کر رہے تھے جو آج مکہ کی گلیوں میں کر رہے ہو۔ اُن واقعات کا ذکر تم کچھ اس بنا پر نہیں کر رہے ہو کہ یہ تمہارا عینی مشاہدہ ہے،  بلکہ یہ علم بھی تم کو ہماری وحی کے ذریعہ سے ہی  حاصل ہوا ہے۔

۶۴: یہ تینوں باتیں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نبوت  میں پیش کی گئی ہیں۔ جس وقت یہ باتیں کہی گئی تھی اس وقت مکہ کے تمام سردار اور عام کفار اس بات پر پوری طرح تلے ہوئے تھے کہ کسی نہ کسی طرح آپ کو غیر نبی۔ اور معاذ اللہ جھوٹا مدعی ثابت کر دیں۔ ان کی مدد کے لیے یہود کے علماء اور عیسائیوں کے راہب بھی حجاز کی بستیوں میں موجود تھے۔ اور محمد  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کہیں عالم بالا سے آ کر یہ قرآن  نہیں سنا جاتے تھے۔ بلکہ اُسی مکہ کے رہنے والے تھے اور آپ کی زندگی کا کوئی گوشہ آپ کی بستی اور آپ کے قبیلے کے لوگوں سے چھپا ہوا نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت اس کھلے چیلنج کے انداز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت کے ثبوت کے طور پر یہ تین باتیں ارشاد فرمائی گئی،  اس وقت مکے ، اور حجاز، اور پورے عرب میں کوئی ایک شخص بھی اٹھ کر وہ بیہودہ بات نہ کہہ سکا  جو آج کے مستشرقین کہتے ہیں۔ اگر چہ جھوٹ گھڑ نے  میں وہ لوگ اِن سے کچھ کم نہ تھے، لیکن ایسا دروغِ فروغ آخر وہ کیسے بول سکتے تھے جو ایک لمحہ کے لیے بھی نہ چل سکتا ہو۔ وہ کیسے  کہتے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، تم فلاں فلاں یہودی عالموں اور عیسائی راہبوں سے یہ معلومات حاصل کر لائے ہو، کیونکہ پورے ملک میں وہ اِس  غرض کے لیے کسی کا نام نہیں لے سکتے تھے۔ جس کا نام بھی وہ لیتے،  فوراً ہی یہ ثابت ہو جاتا کہ  اس سے آنحضرتؐ  نے کوئی  معلومات حاصل نہیں کی ہیں۔ وہ کیسے کہتے کہ اے محمد ؐ، تمہارے  پاس پچھلی تاریخ اور علوم آداب کی ایک لائبریری موجود ہے جس کی مدد سے تم یہ ساری تقریریں کر رہے ہو، کیونکہ لائبریری تو درکنار، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آس پاس کہیں سے وہ ایک کاغذ کا پرزہ بھی بر آمد نہیں کر سکتے تھے جس میں یہ معلومات لکھی ہوئی ہوں۔ مکے کا بچہ بچہ جانتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم لکھے پڑھے آدمی نہیں ہیں، اور کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ آپ نے کچھ مترجمین کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں جو عبرانی اور سُریانی اور یونانی کتابوں کے ترجمے کر کر کے آپ کو دیتے ہیں۔ پھر ان میں سے کوئی بڑے سے بڑا بے حیا آدمی بھی یہ دعویٰ کرنے کی جرأت نہ رکھتا تھا کہ شام و فلسطین کے تجارتی سفروں میں آپ یہ معلومات حاصل کر آئے تھے۔ کیونکہ یہ سفر تنہا نہیں ہوئے تھے۔ مکے ہی کے تجارتی قافلے ہر سفر میں آپ کے ساتھ لگے ہوتے تھے۔ اگر کوئی اس وقت ایسا دعویٰ کرتا تو سینکڑوں زندہ شاہد یہ شہادت دے دیتے کہ  وہاں آپ نے کسی سے کوئی درس نہیں لیا۔ اور آپ کی وفات کے بعد تو دو سال کے اندر ہی رومیوں سے  مسلمان بر سر پیکار ہو گئے تھے۔ اگر کہیں جھوٹوں بھی شام و فلسطین میں کسی عیسائی راہب یا یہودی ربِّ سے حضور ؐ نے کوئی مذاکرہ کیا ہوتا تو رومی سلطنت رائی کا پہاڑ بنا کر یہ پروپیگنڈا کرنے میں ذرا دریغ نہ کرتی محمد صلی اللہ علیہ و سلم، معاذ اللہ سب کچھ یہاں سے سیکھ گئے تھے اور مکے جا کر نبی بن بیٹھے۔ غرض،  اُس زمانے میں جبکہ قرآن کا یہ چیلنج قریش کے کفار و مشرکین کے لیے پیامِ موت کی حیثیت رکھتا تھا، اور اس کو جھٹلانے کی ضرورت موجودہ زمانے کے مستشرقین کی بہ نسبت اُن لوگوں کو بدر جہاز یادہ لاحق تھی،  کوئی شخص بھی کہیں سے ایسا کوئی مواد فراہم کر کے نہ لا سکا جس سے وہ یہ ثابت کر سکتا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس وحی کے سوا اِن معلومات کے حصول کا کوئی دوسرا ذریعہ موجود ہے جس کی نشان دہی  کی جا سکتی ہو۔ یہ بات بھی جان لینی چاہیے  کہ قرآن نے یہ چیلنج اِسی ایک جگہ نہیں دیا ہے بلکہ متعدد مقامات پر مختلف قصّوں کے سلسلہ میں دیا ہے۔ حضرت زکریا اور حضرت مریم کا قصّہ بیان کر کے فرمایا  ذٰلِکَ مِنْ اَنْبَآ ءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ وَمَا کُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَا مَھُمْ اَیُّہُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ وَمَا کُنْتَ لَدَیْہِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ، ’’یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم وحی کے ذریعہ سے تمہیں دے رہے ہیں،  تم اُن لوگوں کے آس پاس کہیں موجود نہ تھے جبکہ وہ اپنے قرعے یہ طے  کرنے کے لیے پھینک رہے تھے کہ مریم کی کفالت کو ن کرے۔ اور نہ تم اس وقت موجود تھے جبکہ وہ  جھگڑ رہے تھے‘‘ (آل عمران، آیت ۴۴)۔ حضرت یوسف ؑ  کا قصّہ بیان کرنے کے بعد فرمایا  ذٰلِکَ مِنْ اَنْبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ وَمَا کُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ اَجْمَعُوْ ٓا اَمْرَھُمْ وَھُمْ یَمْکُرُوْنَ، ’’یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم وحی کے ذریعہ سے تمہیں دے رہے ہیں،  تم ان کے (یعنی یوسف کے بھائیوں کے ) آس پاس  کہیں موجود نہ تھے جبکہ انہوں نے اپنی تدبیر پر اتفاق کیا اور جب کہ وہ اپنی چال چل رہے تھے‘‘ (یوسف، آیت ۱۰۲)۔ اسی طرح حضرت نوح کا مفصل قصّہ بیان کر کے فرمایا   تِلْکَ مِنْ اَنْبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحَیْھَآ اِلَیْکَ، مَا کُنْتَ تَعْلَمھَُآ  اَنْتَ وَلَا قَوْمُکَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا، ’’یہ باتیں غیب کی خبروں میں سے ہیں جو ہم تم پر وحی کر رہے ہیں، تمہیں اور تمہاری قوم کو اس سے پہلے ان کا کوئی علم نہ تھا‘‘ (ہود۔ آیت ۴۹)۔ اِس چیز کی بار بار تکرار  سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ قرآن مجید اپنے من جانب اللہ ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے رسول اللہ ہونے پر جو بڑے بڑے دلائل دیتا تھا ان میں سے ایک یہ دلیل  تھی کہ سینکڑوں ہزاروں برس پہلے کے گزرے ہوئے واقعات کی جو تفصیلات ایک اُمّی کی زبان سے بیان ہو رہی ہیں ان کے علم کا کوئی ذریعہ اُس کے پاس وحی کے سوا نہیں ہے۔ اور یہ چیز اُن اہم اسباب میں سے ایک تھی جن کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہم عصر لوگ اس بات پر یقین لاتے چلے جا رہے تھے  کہ واقعی آپؐ اللہ کے نبی ہیں اور آپؐ پر وحی آتی ہے، اب یہ ہر شخص خود تصور کر سکتا ہے کہ اسلامی تحریک کے مخالفین کے لیے اُس زمانے میں اِس چیلنج کی تردید کرنا کیسی کچھ اہمیت رکھتا  ہو گا،  اور انہوں نے اس کے خلاف ثبوت فراہم کرنے کی کوششوں میں کیا  کسر اُٹھا رکھی ہو گی۔ نیز یہ بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر معاذ اللہ اِس چیلنج  میں ذرا سی  بھی کوئی کمزوری ہوتی تو اس کو غلط ثابت کرنے کے لیے شہادتیں فراہم کرنا ہم عصر لوگوں کے لیے مشکل نہ  ہوتا۔

۶۵: عرب میں حضرت اسمٰعیل اور حضرت شعیب علیہما السلام کے بعد کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ تقریباً دو ہزار برس کی اس طویل مدت میں باہر کے انبیاء کی دعوتیں تو ضرور وہاں پہنچیں، مثلاً حضرت موسیٰ، حضرت سلیمان اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کی دعوتیں، مگر کسی نبی کی بعثتِ خاص اس سرزمین میں نہیں ہوئی تھی۔

۶۶: اِسی چیز کو قرآن مجید متعدد مقامات پر رسولوں کے بھیجے جانے کی وجہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے کہ اس غرض کے لیے ہر وقت ہر جگہ ایک رسول آنا چاہیے۔ جب تک دنیا میں ایک رسول کا پیغام اپنی صحیح صورت میں موجود رہے  اور لوگوں تک اس کے پہنچنے کے ذرائع موجود رہیں، کسی نئے رسول کی حاجت نہیں رہتی، الّا یہ کہ پچھلے پیغام میں کسی اضافے کی اور کوئی نیا پیغام دینے کی ضرورت ہو۔ البتہ جب انبیاء کی تعلیمات محو ہو جائیں، یا گمراہیوں میں خلط ملط ہو کر وسیلہ ہدایت بننے کے قابل نہ رہیں، تب لوگوں کے لیے یہ عذر پیش کرنے کا موقع پیدا ہو جاتا ہے کہ ہمیں حق و باطل کے فرق سے آگاہ کرنے اور صحیح راہ بتانے کا کوئی، انتظام سرے سے موجود ہی نہیں تھا، پھر بھلا ہم کیسے ہدایت پا سکتے تھے۔ اسی عذر کو قطع کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ ایسے حالا ت میں نبی مبعوث فرماتا ہے تا کہ اس کے بعد جو شخص بھی غلط راہ پر چلے وہ اپنی کجروی کا ذمہ دارا ٹھیرا یا جا سکے۔

۶۷: یعنی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو وہ سارے معجزے کیوں نہ دیے گئے جو حضرت موسیٰؑ کو دیے گئے تھے۔ یہ بھی عصا کا اژدہا بنا کر ہمیں دکھاتے۔ اِن کا ہاتھ بھی سورج کی طرح چمک اٹھتا۔ جھٹلانے والوں پر ان کے اشارے سے بھی پے در پے طوفان اور زمین  و آسمان سے بلاؤں کا نزول ہوتا اور یہ بھی پتھر کی تختیوں پر لکھے ہوئے احکام لا کر ہمیں دیتے۔

۶۸: یہ ان کے اعتراض کا جواب ہے۔ مطلب یہ ہے  کہ ان معجزوں کے با وجود موسیٰؑ ہی پر تم کب ایمان لائے تھے جواب  محمد  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اُن  کا مطالبہ کر رہے ہو۔ تم خود  کہتے ہو کہ موسیٰؑ کو یہ معجزے دیے گئے تھے۔ مگر پھر بھی ان کو نبی مان کر ان کی پیروی تم نے کبھی قبول نہیں کی۔ سورہ سبا آیت۳۱ میں بھی کفار مکہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ ’’نہ ہم اِس قرآن کو مانیں گے نہ اُن کتابوں کو جو اس سے پہلے آئی ہوئی ہیں‘‘۔

۶۹: یعنی قرآن اور توراۃ۔

۷۰: یعنی تو مجھے تو ہدایت کی پیروی کرنی ہے،  بشرطیکہ  وہ کسی کی من گھڑت نہ ہو بلکہ خدا کی طر ف سے حقیقی ہدایت ہو۔ اگر تمہارے پاس کوئی کتاب اللہ موجود ہے  جو قرآن اور توراۃ سے بہتر رہنمائی کرتی ہو، تو اسے تم نے چھپا کیوں رکھا ہے؟ اسے سامنے لاؤ، میں بلا تامل اس کی پیروی قبول کر لوں گا۔

 

ترجمہ

 

اور (نصیحت کی)بات پے در پے ہم انہیں پہنچا چکے ہیں تا کہ وہ غفلت سے بیدار ہوں۔۷۱ جن لوگوں کو اِس سے پہلے ہم نے کتاب دی تھی وہ اِس (قرآن)پر ایمان لاتے ہیں۔۷۲ اور جب یہ اُن کو سُنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم اِس پر ایمان لائے، یہ واقعی حق ہے ہمارے ربّ کی طرف سے ، ہم تو پہلے ہی سے مسلم ہیں۔‘‘ ۷۳ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا۷۴ اُس  ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی۔۷۵ وہ بُرائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں۷۶ اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں۔۷۷ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سُنی۷۸ تو یہ کہہ کر اُس سے کنارہ کش ہو گئے کہ ’’ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔‘‘  اے نبیؐ،  تم جسے چاہو اُسے ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ اُن لوگوں کو خُوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔۷۹

وہ کہتے ہیں ’’اگر ہم تمہارے ساتھ اِس ہدایت کی پیروی اختیار کر لیں تو اپنی زمین سے اُچک لیے جائیں گے۔‘‘ ۸۰ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پُر امن حرم کو ان کے لیے جائے قیام بنا دیا جس کی طرف ہر طرح کے ثمرات کھچے چلے آتے ہیں، ہماری طرف سے رزق کے طور پر؟ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔۸۱ اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کر چکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اِترا گئے تھے۔ سو دیکھ لو، وہ ان کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے، آخر کار ہم ہی وارث ہو کر رہے۔۸۲ اور تیرا ربّ بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسُول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات سُناتا۔ اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ  ان کے رہنے والے ظالم نہ ہو جاتے۔۸۳ تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ محض دُنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے،  اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے بہتر اور باقی تر ہے۔ کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے؟  ؏٦

 

تفسیر

 

۷۱: یعنی جہاں تک حق نصیحت ادا کرنے کا تعلق ہے،  ہم اس قرآن پیہم اسے ادا کر چکے ہیں۔ لیکن ہدایت تو اُسی کو نصیب ہو سکتی ہے جو ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ ے اور تعصبات سے دل کو پاک  کر کے سچائی کو سیدھی طرح قبول کر نے کے لیے تیار ہو۔

۷۲: اس سے یہ مراد  نہیں ہے کہ تمام اہلِ کتاب (یہودی اور عیسائی) اس پر ایمان لاتے ہیں۔ بلکہ  یہ اشارہ دراصل اُس واقعہ کی طرف ہے جو اس سورہ کے نزول کے زمانہ میں پیش آیا تھا، اور اس سے اہلِ مکہ کو شرم دلانی مقصود ہے کہ تم اپنے گھر آئی ہوئی نعمت کو ٹھکرا رہے ہو حالانکہ دور دور کے لوگ اس کی خبر سن کر آ رہے ہیں اور اُس قدر پہچان کرا س سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔  اس واقعہ کو ابن ہشام اور بیہقی وغیرہ نے محمد بن اسحاق کے حوالہ سے اس طرح روایت کیا ہے کہ ہجرتِ حبشہ کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت اور دعوت کی خبریں حبش کے ملک میں پھیلیں تو وہاں سے ۲۰ کے قریب عیسائیوں کا ایک وفد تحقیقِ حال کے لیے مکہ معظمہ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مسجدِ حرام میں ملا۔ قریش کے بہت سے لوگ بھی یہ ماجرا دیکھ کر گردو پیش کھڑے ہو گئے۔ وفد کے لوگوں نے حضورؐ نے کچھ سوالات کیے جن کا آپ نے جواب دیا۔ پھر آپؐ نے ان کو اسلام کی طرف دعوت دی اور قرآن مجید کی آیات ان کے سامنے پڑھیں۔ قرآن سن کر ان کی آنکھوں سے  آنسوں جاری ہو گئے اور انہوں نے اس کے کلام اللہ ہونے کی تصدیق کی اور حضورؐ پر ایمان لے آئے۔ جب مجلس برخاست ہوئی تو ابو جہل اور اس کے چند ساتھیوں نے ان لوگوں کو راستہ میں  جا لیا اور انہیں سخت ملامت کی کہ ’’بڑے نامراد ہو تم لوگ، تمہارے ہم مذہب لوگوں نے تم کو اس لیے بھیجا تھا کہ تم اِس شخص کے حالا ت کی تحقیق کر کے آؤ اور انہیں ٹھیک ٹھیک خبر دو، مگر تم ابھی اِس کے پاس بیٹھے ہی تھے کہ اپنا دین چھوڑ کر اس پر ایمان لے آئے۔ تم سے زیادہ احمق گروہ تو کبھی ہماری نظر سے نہیں گزرا‘‘۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ’’سلام ہے بھائیوں تم کو۔ ہم تمہارے ساتھ جہالت بازی نہیں کر سکتے۔ ہمیں ہمارے طریقے پر چلنے دو اور تم اپنے طریقے پر چلتے رہو۔ ہم اپنے آپ کو جان بوجھ کر بھلائی سے محروم نہیں رکھ سکتے‘‘ (سیرت ابن ہشام ج۲، ص۳۲۔ البِدایہ و النِّہایہ، ج۳، ص۸۲)۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن،  جلد سوم، الشعراء، حاشیہ ۱۲۳)۔

۷۳: یعنی اس سے پہلے بھی ہم انبیاء اور کتبِ آسمانی کے ماننے والے تھے،  اس لیے اسلام کے سوا ہمارا کوئی اور دین نہ تھا۔ اور اب جو نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب لے کر آیا ہے اسے بھی ہم  نے مان لیا،  لہٰذا  درحقیقت  ہمارے دین میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے بلکہ جیسے ہم پہلے مسلمان تھے ویسے ہی اب بھی مسلمان ہیں۔ یہ قول اس بات کی صاف صراحت کر دیتا ہے کہ اسلام صرف اُس دین کا نام نہیں ہے جسے محمد صلی اللہ علیہ و سلم لے کر آئے ہیں اور  ’’مسلم‘‘  کی اصطلاح کا اطلاق محض حضورؐ کے پیرووں تک محدود نہیں ہے،  بلکہ ہمیشہ سے تمام انبیاء کا دین یہی اسلام تھا اور ہر زمانہ میں ان سب کے پیرو مسلمان ہی تھے۔ یہ مسلمان اگر کبھی کافر ہوئے تو صرف اُس وقت جبکہ کسی بعد کے آنے والے نبی صادق کو ماننے سے انہوں نے انکار کیا۔ لیکن جو لوگ پہلے نبی کو مانتے تھے اور بعد کے آنے والے نبی پر بھی ایمان لے آئے اُن کے اسلام میں کوئی انقطاع نہیں ہوا۔ وہ جیسے مسلمان پہلے تھے ویسے ہی بعد میں رہے۔ تعجّب ہے کہ بعض بڑے بڑے اہلِ علم بھی اس حقیقت  کے ادراک سے عاجز رہ گئے ہیں، حتیٰ کہ اس صریح آیت کو دیکھ کر بھی ان کا اطمینان نہ ہُوا۔ علامہ سیوطی نے ایک مفصل رسالہ اس موضوع پر لکھا کہ مسلم کی اصطلاح صر ف اُمتِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لیے مختص  ہے۔ پھر جب  یہ آیت سامنے آئی تو خود فرماتے ہیں کہ میرے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔ لیکن کہتے ہیں کہ میں نے پھر خدا سے دعا کی کہ اس معاملہ میں مجھے شرح صدر عطا کر دے۔ آخر کار اپنی رائے سے رجوع کرنے کے بجائے  انہوں نے اُس پر اصرار کیا اور اس آیت کی متعدّد تاویلیں کر ڈالیں جو ایک سے ایک بڑھ کر بے وزن ہیں۔ مثلاً ان کی ایک تاویل  یہ ہے کہ اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلِہ  مُسلِمِیْنَ کے معنی ہیں ہم قرآن کے آنے سے پہلے  ہی مسلم بن جانے کا عزم رکھتے تھے کیونکہ ہمیں اپنی کتابوں سے اس کے آنے کی خبر مل چکی تھی اور ہمارا ارادہ یہ تھا کہ جب وہ آئے گا تو ہم اسلام قبول کر لیں گے۔ دوسری تاویل یہ ہے کہ اس فقرے  میں مُسْلِمِیْن کے بعد بِہ محذوف ہے،  یعنی پہلے ہی سے ہم قرآن کو مانتے تھے کیونکہ اس کے آنے  کی ہم توقع رکھتے تھے اور اس پر پیشگی ایمان لائے ہوئے تھے، اس لیے توراۃ و انجیل کو ماننے کی بنا پر نہیں بلکہ قرآن کو اس کے نزول سے پہلے برحق مان لینے کی بنا پر ہم مسلم تھے۔ تیسری تاویل یہ ہے کہ تقدیر الہٰی میں ہمارے لیے پہلے ہی مقدر ہو چکا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور قرآن کی آمد پر ہم اسلام قبول کر لیں گے اس لیے در حقیقت ہم پہلے ہی سے مسلم تھے۔ ان تاویلوں میں سے کسی کو دیکھ کر بھی یہ محسوس نہیں ہوتا کہ اللہ کے عطا کردہ شرح صدر کا اس میں کوئی اثر موجود ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ قرآن صرف اسی ایک مقام پر نہیں بلکہ بیسیوں مقامات پر اِس اُصولی حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ اصل دین صرف  ’’اسلام‘‘  (اللہ کی فرمانبرداری ) ہے، اور خدا کی کائنات میں خدا کی مخلوق کے لیے اِس کے سوا کوئی دوسرا دین ہو نہیں سکتا، اور آغاز آفرینش سے جو نبی  بھی انسانوں کی ہدایت کے لیے آیا ہے وہ یہی دین لے کر آیا ہے، اور یہ کہ انبیاء علیہم السلام ہمیشہ خود مسلم رہے ہیں، اپنے پیرووں کو انہوں نے مسلم ہی بن کر رہنے کی تاکید کی ہے، اور ان کے وہ سب متبعین جنہوں نے نبوت کے ذریعہ سے آئے ہوئے فرمانِ خداوندی کے آگے سرِ تسلیم خم کیا، ہر زمانے میں مسلم ہی تھے۔ اِس سلسلہ میں مثال کے طور پر صرف چند آیات ملاحظہ ہوں: اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ۔ (آل عمران، آیت ۱۹ درحقیقت اللہ کے نزدیک تو دین صرف اسلام ہے۔ وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ۔ (آل عمران، آیت ۸۵) اور جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرے وہ ہر گز قبول نہ کیا جائے گا۔ حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں: اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَی اللہِ وَاُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (یونس، آیت ۷۲) میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلموں میں شامل ہو کر رہوں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کے متعلق ارشاد ہوتا ہے: اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗ اَسْلِمْ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، وَوَصّٰی بِھَآ اِبْرٰھٖمُ بَنِیْہِ وَیَعْقُوْبُ، یٰبَنِیَّ اِنَّ اللہَ اصْطَفیٰ لَکُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْ تُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَo  اَمْ کُنْتُمْ شھَُدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْب الْمَوْتُ اِذْ قَالَ لِبَنِیْہِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْم بَعْدِیْ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰھَکَ وَاِلٰہَ اٰبَآ ئیکَ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ اِلٰھًا وَّاحِدًا وَّنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ o (البقرہ۔ آیت ۱۳۱ تا ۱۳۳) جبکہ اس کے ربّ نے اس سے کہا کہ مسلِم (تابع فرمان) ہو جا، تو اس نے کہا  میں مسلم ہو گیا ربّ العالمین کے لیے۔ اور اسی چیز کی وصیّت کی ابراہیمؑ نے اپنی اولاد کو اور یعقوب ؑ نے بھی، کہ اے میرے بچو! اللہ نے تمہارے لیے اس دین کو پسند کیا ہے لہٰذا تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔ کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب ؑ کی وفات کا وقت آیا؟ جبکہ اس نے اپنی اولاد سے  پوچھا کس کی بندگی کرو گے تم میرے بعد؟ انہوں نے جواب دیا ہم بندگی کریں گے آپ کے معبود اور آپ کے با پ دادا ابراہیم ؑ اور اسمٰعیلؑ اور اسحٰق ؑ کے معبود کی،  اس کو اکیلا معبود مان کر، اور ہم اسی کے مسلم ہیں۔ مَا کَانَ اِبْرٰھِیْمُ یَھُوْدِیًّا وَّلَا نَصْرَ انِیًّا وَّلٰکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا،  (آل عمران، آیت ۶۷) ابراہیمؑ نہ یہودی تھا نہ نصرانی۔ بلکہ وہ یکسو مسلم تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ و اسمٰعیلؑ خود دعا مانگتے ہیں: رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ۔ (البقرہ۔ آیت ۱۲۸) اے ہمارے ربّ،  ہم کو اپنا مسلم بنا اور ہماری نسل سے ایک اُمت پیدا کر جو تیری مسلم ہو۔ حضرت لُوط ؑ کے قصّے میں ارشاد ہوتا ہے: فَمَا وَجَدْ نَا فِیْھَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (الذاریات۔ آیت ۳۶) ہم نے قومِ لوط کی بستی میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا۔ حضرت یوسفؑ بارگاہِ ربّ العزّت میں عرض کرتے ہیں: تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِا الصّٰلِحِیْنَ o (یوسف۔ آیت ۱۰۱) مجھ کو مسلم ہونے کی حالت میں موت دے اور صالحوں کے ساتھ ملا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے کہتے ہیں: یٰقَوْمِ اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِا للہِ فَعَلَیْہِ تَوَکَّلُوْآ اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَo (یونس۔ آیت ۸۴) اے میری قوم کے لوگو، اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسہ  کرو اگر تم مسلم ہو۔ بنی اسرائیل کا اصل مذہب یہودیت نہیں بلکہ اسلام تھا، اس بات کو دوست اور دشمن سب جانتے تھے۔ چنانچہ فرعون سمندر میں ڈوبتے وقت آخری کلمہ جو کہتا ہے وہ یہ ہے: اٰمَنْتُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْٓ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْآ اِسْرَآءِیْلَ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ o (یونس۔ آیت ۹۰) میں مان گیا کہ کوئی معبود اُس کے سوا نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلموں میں سے ہوں۔ اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰۃَ فِیْھَا ھُدًی وَّ  نُوْرٌ، یَحْکُمُ بِھَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْ ا لِلَّذِیْنَ ھَادُوْا،  (المائدہ۔ آیت ۴۴) ہم نے توراۃ نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی،  اسی کے مطابق وہ نبی جو مسلم تھے اُن لوگوں کے معاملات کے فیصلے کرتے تھے جو یہودی ہو گئے تھے۔ یہی حضرت سلیمان علیہ السلام کا دین تھا، چنانچہ ملکۂ سبا ان پر ایمان لاتے ہوئے کہتی ہے: اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo (النمل۔ آیت ۴۴) میں سلیمانؑ کے ساتھ ربّ العالمین کی مسلم ہو گئی۔  اور یہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے حواریوں کا دین تھا: وَاِذْ اَوْ حَیْتُ اِلَی الْحَوَارِیِّیْنَ اَنْ اٰمَنُوْا بِیْ وَبِرَسُوْلِیْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَاشْھَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ o (المائدہ۔آیت ۱۱۱) اور جبکہ میں نے حواریوں پر وحی کی کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو انہوں نے کہا ہم ایمان لائے اور گواہ رہ کہ ہم مسلم ہیں۔ اس معاملہ میں اگر کوئی شک اِس بنا پر کیا جائے کہ عربی زبان کے الفاظ ’’اسلام‘‘  اور ’’مسلم‘‘  ان مختلف ملکوں اور مختلف زبانوں میں کیسے مستعمل ہو سکتے تھے، تو ظاہر ہے کہ یہ محض ایک نادانی کی بات ہو گی۔ کیونکہ اصل اعتبار عربی کے اِن الفاظ کا نہیں بلکہ اُس معنی کا ہے جس کے لیے یہ الفاظ عربی میں مستعمل ہوتے ہیں۔ دراصل جو بات اِن آیات میں بتائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا کی طرف سے آیا ہوا حقیقی دین مسیحیت یا موسویت یا محمدیت نہیں ہے بلکہ انبیاء اور کتبِ آسمانی کے ذریعہ سے آئے ہوئے فرمانِ خداوندی کے آگے سرِ اطاعت جھکا دینا ہے اور یہ رویّہ جہاں جس بندۂ خدا نے بھی جس زمانے میں اختیار کیا ہے وہ ایک ہی عالمگیر ازلی و ابدی دینِ حق کا متبع ہے۔ اس دین کو جن لوگوں نے ٹھیک ٹھیک شعور اور اخلاص کے ساتھ اختیار کیا ہے ان کے لیے موسیٰؑ کے بعد مسیحؑ کو اور مسیحؑ کے بعد محمد صلی اللہ علیہ و علیہم اجمعین کو ماننا تبدیلِ مذہب نہیں بلکہ حقیقی دین کے اتباع کا فطری و منطقی تقاضا ہے۔ بخلاف اس کے جو لوگ انبیاء علیہم السلام کے گروہوں میں بے سوچے سمجھے گھُس آئے یا پیدا ہو گئے،  اور قومی و نسلی اور گروہی تعصبات نے جن کے لیے اصل مذہب کی حیثیت اختیار کر لی، وہ بس یہودی یا مسیحی بن کر رہ گئے اور  محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے آنے پر ان کی جہالت کی قلعی کھل گئی۔ کیونکہ انہوں نے اللہ کے آخری نبی کا  انکار کر کے نہ صرف یہ کہ آئندہ کے لیے مسلم رہنا قبول نہ کیا، بلکہ اپنی اس حرکت سے یہ ثابت کر دیا کہ حقیقت  میں  وہ پہلے بھی  ’’مسلم‘‘  نہ تھے، محض ایک نبی یا  بعض انبیاء کی شخصی گرویدگی میں مبتلا تھے ،  یا  آباء و اجداد کی اندھی تقلید کو دین بنائے بیٹھے تھے۔

۷۴: یعنی ایک اجر اُس ایمان کا جو وہ پہلے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر رکھتے تھے اور دوسرا اجر اس ایمان کا جو وہ اب نبی عربی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر لائے۔ یہی بات اس حدیث میں بیان کی گئی ہے  جو بخاری و مسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا  ثلٰثۃ لھم اجران، رجل من اھل الکتب اٰمن بنبیہ واٰمن بمحمدؐ۔۔۔۔ ’’تین شخص ہیں جن کو دوہرا اجر ملے گا۔ ان میں سے ایک وہ ہے جو اہل کتاب میں سے تھا اور اپنے نبی پر ایمان رکھتا تھا، پھر محمد  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان لایا‘‘۔

۷۵: یعنی انہیں یہ دوہرا اجر اس بات کا ملے گا کہ وہ قومی و نسلی اور وطنی و گرو ہی تعصبات سے بچ کر اصل دینِ حق پر ثابت قدم رہے اور نئے نبی کی آمد پر جو  سخت در پیش ہوا اس میں انہوں نے ثابت کر دیا کہ دراصل وہ مسیح پرست نہیں  بلکہ خدا پرست تھے، اور شخصیتِ مسیح کے گرویدہ نہیں بلکہ ’’اسلام‘‘  کے متبع تھے، اسی وجہ سے مسیح کے بعد جب دوسرا نبی  وہی اسلام کے کر آیا جسے مسیح لائے تھے تو انہوں نے بے تکلف اس کی رہنمائی میں اسلام کا راستہ اختیار کر لیا اور اُ ن لوگوں کا راستہ چھوڑ دیا جو مسیحیت پر جمے رہ گئے۔

۷۶: یعنی وہ بدی  کا جواب بدی سے نہیں بلک نیکی سے دیتے ہیں۔ جھوٹ کے مقابلے میں جھوٹ نہیں بلکہ صداقت لاتے ہیں۔ ظلم کو ظلم سے نہیں بلکہ انصاف سے دفع کر تے ہیں۔ شرارتوں کا سامنا شرارت سے نہیں بلکہ شرافت سے کرتے ہیں۔

۷۷: یعنی وہ راہِ حق میں مالی ایثار بھی کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس میں اشارہ اس طرف بھی ہو کہ وہ لوگ محض حق کی تلاش میں حبش سے فر کر کے مکے آئے تھے۔ اس محنت اور صرفِ مال سے کوئی مادّی منفعت ان کے پیش نظر نہ تھی۔ انہوں نے جب سنا کہ مکہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو انہوں نے ضروری سمجھا کہ خود جا کہ تحقیق کریں تا کہ اگر واقعی ایک نبی ہی خدا کی طرف سے مبعوث ہوا ہو تو وہ اس پر ایمان لانے اور ہدایت پانے محروم نہ رہ جائیں۔

۷۸: اشارہ ہے اس بیہودہ بات کی طرف جو ابو جہل اور اس کے ساتھیوں نے حبشی عیسائیوں کے اس وفد سے کی تھی، جس کا ذکر اوپر حاشیہ نمبر ۷۲ میں گزر چکا ہے۔

۷۹: سیاق کلام سے ظاہر ہے کہ حبشی عیسائیوں کے ایمان و اسلام کا ذکر کرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو مخاطب کر کے یہ فقرہ ارشاد فرمانے سے مقصود دراصل کفار مکہ کو شرم دلانا تھا۔ کہنا یہ تھا کہ بد نصیبو، ماتم کرو اپنی حالت پر  کہ دوسرے  کہاں کہاں سے آ کر اس نعمت سے مستفید ہو رہے ہیں اور تم اس چشمہ فیض سے ،  جو تمہارے اپنے گھر میں بہ رہا ہے، محروم رہے جاتے ہو۔ لیکن کہا گیا ہے اِس انداز سے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و سلم تم چاہتے ہو کہ میری قوم کے لوگ، میرے  بھائی بندو، میرے عزیز اقارب، اِس آبِ حیات سے بہرہ مند ہوں،  لیکن تمہارے چاہنے سے کیا ہوتا ہے،  ہدایت تو اللہ کے اختیار میں ہے، وہ اس نعمت سے انہی لوگوں کو فیض یاب کرتا ہے جن میں وہ قبول ہدایت کی آمادگی پاتا ہے،  تمہارے رشتہ داروں میں اگر یہ جوہر موجود نہ ہو تو انہیں یہ فیض کیسے نصیب ہو سکتا ہے۔  صحیحین کی روایت ہے کہ یہ آیت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا ابو طالب کے معاملہ میں نازل ہوئی ہے۔ ان کا جب آخری وقت آیا تو حضورؐ نے اپنی حد تک انتہائی کوشش کی کہ وہ کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ پر ایمان لے آئیں تا کہ ان کا خاتمہ بالخیر ہو، مگر انہوں نے ملتِ عبد المطلب پر ہی جان دینے کو ترجیح دی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا انک لا تھدی من اجبت۔ لیکن محدثین و مفسرین کا یہ طریقہ معلوم و معروف ہے کہ ایک آیت عہد نبوی کے جس معاملہ پر چسپاں ہوتی ہے اسے وہ آیت کی شانِ نزول کے طور پر بیان کر تے ہیں۔ اس لیے اس روایت اور اِسی مضمون کی اُن  دوسری روایات سے جو ترمذی اور مسند احمد وغیرہ میں حضرات بو ہریرہؓ، ابن عباسؓ، ابن عمرؓ وغیرہ ہم سے مروی ہیں۔ لازماً یہی نتیجہ نہیں نکلتا کہ سورہ قصص کی   یہ آیت ابو طالب کی وفات کے وقت نازل ہوئی تھی۔ بلکہ ان سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے مضمون کی صداقت سب سے زیادہ اس موقع پر ظاہر ہوئی۔ اگرچہ حضور کی دلی خواہش تو ہر بندہ خدا کو راہِ راست پر لانے کی تھی۔ لیکن سب سے بڑھ کر اگر کسی شخص کا کفر پر خاتمہ حضورؐ کو شاق ہو سکتا تھا، اور ذاتی محبت و تعلق کی بنا پر سب سے زیادہ کسی شخص کی ہدایت کے آپ آرزو مند ہو سکتے تھے،  تو وہ ابو طالب تھے۔ لیکن جب ان کو بھی ہدایت دینے پر آپ قادر نہ ہوئے تو یہ بات  بالکل ظاہر ہو گئی کہ کسی کو ہدایت بخشنا اور کسی کو اس سے محروم رکھنا نبی کے بس کی بات نہی ہے۔یہ معاملہ بالکل اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور اللہ کے ہاں یہ دولت کسی رشتہ د ا ری و برادری کی بنا پر نہیں بلکہ آدمی کی قبولیت و استعداد اور مخلصانہ صداقت پسنی کی بنا پر عطا ہوتی ہے۔

۸۰: یہ وہ بات ہے  جو کفارِ قریش اسلام قبول نہ کرنے کے لیے عذر کے طور پر پیش کرتے تھے۔ اور اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے کفر و انکار کا سب سے اہم بنیادی سبب یہی تھا۔ اس بات کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ تاریخی طور پر اُس زمانے میں قریش کی پوزیشن کیا تھی جس پر ضرب پڑنے کا انہیں اندیشہ تھا۔ قریش کو ابتداء جس چیز نے عرب میں اہمیت دی وہ یہ تھی کہ  ان کا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ہونا انسابِ عرب کی رو سے بالکل ثابت تھا، اور اس بنا پر ان کا خاندان عربوں کی نگاہ میں پیر زادوں کا خاندان تھا۔ پھر جب قُصّی بن کِلاب کے حسن تدبیر سے یہ لوگ کعبہ کے متولی ہو گئے اور مکہ ان کا مسکن بن گیا تو ان کی اہمیت پہلے سے بہت زیادہ ہو گئی۔ اس لیے کہ اب وہ عرب کا کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جو ان سے تعلقات نہ رکھتا ہو۔ اس مرکزی حیثیت سے فائدہ اٹھا کر قریش نے بتدریج تجارتی ترقی شروع کی اور خوش قسمتی سے روم و ایران کی سیاسی کشمکش نے ان کو بین الاقوامی تجارت میں ایک اہم مقام عطا کر دیا۔ اُس زمانہ میں روم و یونان اور مصر و شام کی جتنی تجارت بھی چین، ہندوستان،  انڈونیشیا اور مشرقی افریقہ کے ساتھ تھی، اس کے سارے ناکے ایران نے روک دیے تھے۔ آخری راستہ بحرِ احمر کا رہ گیا تھا، سو یمن پر ایران کے قبضہ نے اسے بھی روک دیا۔ اس کے بعد کوئی صورت اس تجارت کو جاری رکھنے کے لیے اس کے سوا نہیں رہ گئی تھی کہ عرب کے تاجر ایک طرف رومی مقبوضات کا مال بحر عرب اور خلیج فارس کے بندرگاہوں پر پہنچائیں،  اور دوسری طرف انہی بندرگاہوں سے مشرقی اموالِ تجارت لے کر رومی مقبوضات میں پہنچیں۔ اس صورتِ حال نے مکہ کو بین الاقوامی تجارت کا ایک اہم مرکز بنا دیا۔ اس وقت قریش ہی تھے جنہیں  اس کاروبار کا قریب قریب اجارہ حاصل تھا۔ لیکن عرب کی طوائف الملوکی کے ماحول میں یہ تجارتی نقل و حرکت اس کے بغیر نہ ہو سکتی تھی کہ تجارتی شاہراہیں جن قبائل کے علاقوں سے گزرتی تھیں ان کے  ساتھ قریش کے گہرے تعلقات ہوں۔ سردارانِ قریش اس غرض کے لیے صرف اپنے مذہبی اثر پر اکتفا نہ کر سکتے تھے۔ اس کے لیے انہوں نے تمام قبائل  کے ساتھ معاہدات کر رکھے تھے۔ تجارتی منافع میں سے بھی وہ ان کو حصہ دیتے تھے۔ شیوخِ قبائل اور با  اثر سرداروں کو تحائف و ہدایا سے بھی خوش رکھتے تھے۔ اور سودی کاروبار کا بھی ایک جال انہوں نے پھیلا رکھا تھا جس میں قریب قریب تمام ہمسایہ قبائل کے تجار اور سردار جکڑے ہوئے تھے۔ ان حالات میں  جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت توحید اٹھی تو دین آبائی کے تعصب سے بھی بڑھ کر جو چیزیں قریش کے لیے اُس کے خلاف وجہِ اشتعال بنی وہ یہ تھی کہ اس دعوت کی بدولت انہیں اپنا مفاد خطرے میں نظر آ رہا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ معقول دلائل اور حجتوں سے شرک و بت پرستی غلط اور توحید صحیح بھی ہو تو اُس کو چھوڑنا اور اسے  قبول کر لینا ہمارے لیے تباہ کن ہے۔ ایسا کرتے ہی تمام عرب ہمارے خلاف بھڑک اٹھے گا۔ ہمیں کعبہ کی تولیت سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ بُت پرست قبائل کے ساتھ ہمارے وہ تمام معاہدانہ تعلقات ختم ہو جائیں  گے  جن کی وجہ سے ہمارے تجارتی قافلے رات دن عرب کے مختلف حصوں سے گزرتے ہیں۔ اس طرح یہ دین ہمارے مذہبی رسُوخ و اثر کا بھی خاتمہ کر دے گا اور ہماری معاشی خوشحالی کا بھی۔ بلکہ بعد نہیں  کہ تمام قبائلِ عرب ہمیں سرے سے مکہ ہی چھوڑ دینے پر مجبور کر دیں۔ یہاں پہنچ کر دنیا پرستوں کی بے بصیرتی کا عجیب نقشہ انسان کے سامنے آتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بار بار انہیں یقین دلاتے تھے کہ یہ کلمہ جو میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں اسے مان لو تو عرب و عجم تمہارے تابع ہو جائیں گے۔( ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، صفحہ ۳۱۶۔ ۳۱۷)۔ مگر انہیں اس میں اپنی موت نظر آتی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ جو دولت، اثر، رسوخ ہمیں آج حاصل ہے یہ بھی ختم ہو جائے گا۔ ان کو اندیشہ تھا کہ یہ کلمہ قبول کرتے ہی ہم اس سر زمین میں ایسے بے یارو مددگار ہو جائیں گے کہ چیل کوّے ہماری بوٹیاں نوچ کھائیں گے۔ ان کی کوتاہ نظر ی وہ وقت نہ دیکھ سکتی تھی جب چند ہی سال بعد تمام عرب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ماتحت ایک مرکزی سلطنت کا تابع فرمان ہونے والا تھا، پھر اسی نسل کی زندگی میں ایران، عراق، شام،  مصر، سب ایک ایک کر کے اس سلطنت کے زیر نگین ہو جانے والے تھے، اس قول پر ایک صدی گزر نے  سے بھی پہلے قریش ہی کے خلفاء سندھ سے  لے کر اسپین تک اور قفقاز سے لے کر یمن کے سواحل تک دنیا کے ایک بہت بڑے حصہ پر حکمرانی کرنے والے تھے۔

۸۱: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے  ا ن کے عذر کا پہلا جواب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حرم جس کے امن و امان اور جس کی مرکزیت کی بدولت آج تم اس قابل ہوئے ہو کہ دنیا بھی کا مال تجارت اِس وادی غیر ذی زری میں کھچا چلا آ رہا ہے،  کیا اس کو یہ امن اور یہ مرکزیت کا مقام تمہاری کسی تدبیر نے دیا ہے ؟ ڈھائی ہزار برس پہلے چٹیل پہاڑوں کے درمیان اس  بے  آب و گیاہ وادی میں ایک اللہ  کا بندہ اپنی بیوی اور ایک شیر خوار بچے کو لے کر آیا تھا۔ اس نے یہاں پتھر اور گارے کا ایک حجرہ تعمیر کر دیا اور پکار دیا کہ اللہ نے اے حرم بنایا ہے،  آؤ اس گھر کی طرف اور اس کا طواف کرو۔ اب یہ اللہ کی دی ہوئی برکت نہیں تو اور کیا ہے  کہ ۲۵ صدیوں سے یہ جگہ عرب کا مرکز بنی ہوئی ہے،  سخت بد امنی کے ماحول میں ملک کا صرف یہی گوشہ ایسا ہے جہاں امن میسر ہے، اس کو عرب کا بچہ بچہ احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے،  اور ہر سال ہزار ہا انسان  اس کے طواف کے لیے چلے آتے ہیں۔ اسی نعمت کا ثمرہ تو ہے کہ عرب کے سردار بنے ہوئے ہو اور دنیا کی تجارت کا ایک بڑا حصہ تمہارے قبضے میں ہے۔ اب کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ جس خدا نے یہ نعمت تمہیں بخشی ہے۔ اس سے منحرف  اور باغی ہو کر تو تم پھول پھولو گے مگر اس کے دین کی پیروی اختیار کرتے ہی بر باد ہو جاؤ گے؟

۸۲: یہ ان کے عذر کا دوسرا جواب ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس مال و دولت اور خوشحالی پر تم اِترائے ہوئے ہو، اور جس کے کھوئے جانے کے خطرے سے باطل پر جمنا اور حق سے منہ موڑنا چاہتے ہو، یہی چیز کبھی عاد اور ثمود اور سبا اور مدین  اور قوم لوط کے لوگوں کو بھی حاصل تھی۔ پھر کیا یہ چیز ان کو تباہی سے بچا سکی؟ آخر معیارِ زندگی کی بلندی ہی تو ایک مقصُود نہیں ہے کہ آدمی حق و باطل سے بے نیاز ہو کر بس اسی کے پیچھے پڑا رہے اور راہِ راست کو صرف اس لیے قبول کرنے سے انکار کر دے کہ ایسا  کرنے سے یہ گوہر مقصود ہاتھ سے جانے کا خطرہ ہے۔ کہا تمہارے پاس اس کی کوئی ضمانت ہے کہ جن گمراہیوں اور بدکاریوں نے پچھلی قوموں کو تباہ کیا انہی پر اصرار کر کے تم بچے رہ جاؤ گے اور ان کی طرح تمہاری شامت کبھی نہ آئے گی؟

۸۳: یہ ان کے عذر کا تیسرا جواب ہے۔ پہلے جو قومیں تباہ ہوئیں ان کے لوگ ظالم ہو چکے تھے،  مگر خدا نے ان کو تباہ کرنے سے پہلے اپنے رسول بھیج کر انہیں متنبہ کیا، اور جب ان کی تنبیہ پر بھی وہ اپنی کج رہی سے باز نہ آئے تو انہیں ہلاک کر دیا۔ یہی معاملہ اب تمہیں در پیش ہے۔ تم بھی ظالم ہو چکے ہو، اور ایک رسول تمہیں بھی متنبہ کرنے کے لیے آ گیا ہے۔ اب تم کفر و انکار کی روش اختیار کر کے اپنے عیش اور اپنی خوشحالی کو بچاؤ گے نہیں بلکہ اُلٹا خطرے  میں ڈالو گے۔ جس تباہی کا تمہیں اندیشہ ہے وہ ایمان لانے سے نہیں بلکہ انکار کرنے سے تم پر آئے گی۔

 

ترجمہ

 

بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو کبھی اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جسے ہم نے صرفِ حیات دنیا کا سر و سامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو؟۸۴ اور (بھُول نہ جائیں یہ لوگ)اُس دن کو جب کہ وہ اِن کو پکارے گا اور پُوچھے گا ’’ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے؟‘‘ ۸۵ یہ قول جن پر چسپاں ہو گا۸۶ وہ کہیں گے ’’ اے ہمارے ربّ،  بے شک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ اِنہیں ہم نے اُسی طرح گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے۔ ہم آپ کے سامنے برات کا اظہار کرتے ہیں۔۸۷ یہ ہماری تو بندگی نہیں کرتے تھے۔‘‘ ۸۸ پھر اِن سے کہا جائے گا کہ پکارو اب اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو۔۸۹ یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ اِن کو کوئی جواب نہ دیں گے۔ اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے۔ کاش یہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے۔ اور (فراموش نہ کریں یہ لوگ)وہ دن جبکہ وہ اِن کو پکارے گا اور پُوچھے گا کہ ’’جو رسُول بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا؟‘‘  اُس وقت کوئی جواب اِن کو نہ سُوجھے گا اور نہ یہ آپس میں ایک دُوسرے سے پُوچھ ہی سکیں گے۔ البتہ جس نے آج توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے وہی یہ توقع کر سکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہو گا۔

تیرا ربّ پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور (وہ خود ہی اپنے کام کے لیے جسے چاہتا ہے)منتخب کر لیتا ہے، یہ انتخاب اِن لوگوں کے کرنے کا کام نہیں ہے،۹۰ اللہ پاک ہے اور بہت بالاتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ تیرا ربّ جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں۔۹۱ وہی ایک اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔ اسی کے لیے حمد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، فرماں روائی اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو۔ اے نبیؐ،  اِن سے کہو کبھی تم لوگوں نے غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کونسا معبود ہے جو تمہیں روشنی لادے؟ کیا تم سُنتے نہیں ہو؟ اِن سے پُوچھو، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ  کے  لیے دن طاری کرد ے تو اللہ کے سوا وہ کونسا معبُود ہے جو تمہیں رات لادے تا کہ تم اس میں سکون حاصل کر سکو؟ کیا تم کو سُوجھتا نہیں ؟ یہ اسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم (رات میں)سکون حاصل کرو اور (دن کو)اپنے ربّ کا فضل تلاش کرو، شاید کہ تم شکر گزار بنو۔ (یاد رکھیں یہ لوگ)وہ دن جبکہ وہ انہیں پکارے گا پھر پُوچھے گا ’’ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کو تم گمان رکھتےتھے؟ ‘‘  اور ہم ہر اُمّت میں سے ایک گواہ نکال لائیں گے۹۲ پھر کہیں گے کہ ’’ لاؤ اب اپنی دلیل۔‘‘ ۹۳ اس وقت انہیں معلوم ہو جائے گا کہ حق اللہ کی طرف ہے، اور گم ہو جائیں گے ان کے وہ سارے جھُوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے۔ ؏۷

 

تفسیر

 

۸۴: یہ ان کا عذر کا چوتھا جواب ہے۔ اس جواب کو سمجھنے کے لیے پہلے دو باتیں اچھی طرح ذہن نشین ہو جانی چاہییں:   اول یہ کہ دنیا کی موجودہ زندگی،  جس کی مقدار کسی کے لیے بھی چند سالوں سے زیادہ نہیں ہوتی، محض ایک سفر کا عارضی مرحلہ ہے۔ ا صل زندگی جو ہمیشہ قائم رہنے والی ہے،  آگے آنی ہے۔ موجودہ عارضی زندگی میں انسان خواہ کتنا ہی سرو سامان جمع کر لے اور چند سال کیسے ہی عیش کے ساتھ بسر کر لے، بہر حال اسے ختم ہونا ہے اور یہاں کا سب سرو سامان آدمی کو  یونہی چھوڑ کر  اٹھ جانا ہے۔ اس مختصر سے عرصہ حیات کا عیش اگر آدمی کو اس قیمت پر  حاصل ہوتا ہو کہ آئندہ کی ابدی زندگی میں وہ دائماً خستہ حال اور مبتلائے مصیبت رہے، تو کوئی صاحبِ عقل آدمی یہ خسارے کا سودا نہیں کر سکتا۔ اس کے مقابلہ میں ایک عقل مند آدمی اس کو ترجیح دے گا کہ یہاں چند سال مصیبتیں بھگت لے،  مگر یہاں سے وہ بھلائیاں کما کر لے جائے جو بعد کی دائمی زندگی میں اس کے لیے  ہمیشگی کی موجب بنیں۔ دوسری بات یہ  ہے کہ اللہ کا دین انسان سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ اس دنیا کی متاعِ حیات سے استفادہ نہ کرے اور اس کی زینت کو خواہ مخواہ لات ہی مار دے۔ اس کا مطالب ی صرف یہ ہے کہ وہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دے، کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی، اور دنیا کا عیش کم تر ہے اور آخرت کا عیش بہتر۔ اس لیے دنیا کی وہ متاع اور زینت تو آدمی کو ضرور حاصل کرنی چاہیے جو آخرت کی باقی رہنے والی زندگی میں اسے سرخرو کرے، یا کم از کم یہ کہ اسے وہاں کے ابدی خسارے میں مبتلا نہ کرے۔ لیکن جہاں معاملہ مقابلے کا آ پڑے،  یعنی دنیا کی کامیابی اور آخرت کی کامیابی ایک دوسرے  کی ضد ہو جائیں، وہاں  دینِ حق کا مطالبہ انسان یہ ہے،  اور یہی عقل سلیم کا مطالبہ  بھی ہے، کہ آدمی دنیا کو آخرت پر قربان کر دے اور اس دنیا کی عارضی متاع و زینت کی خاطر وہ راہ ہر گز اختیار نہ کرے جس سے ہمیشہ کے لیے اس کی عاقبت خراب ہوتی ہو۔ ان دو باتوں کو نگاہ میں رکھ کر دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ اوپر کے فقروں میں کفار مکہ ے کیا فرماتا ہے۔ وہ یہ نہیں فرماتا کہ  تم اپنی تجارت لپیٹ دو۔ اپنے کاروبار ختم کر دو، اور ہمارے پیغمبر کو مان کر فقیر ہو جاؤ۔ بلکہ وہ یہ فرماتا ہے کہ یہ دنیا کی دولت جس پر تم ریجھے ہوئے ہو، بہت تھوڑی دولت ہے اور بہت تھوڑے دنوں کے لیے تم اس کا فائدہ اس حیاتِ دنیا میں اٹھا سکتے ہو۔ اس کے بر عکس اللہ کے ہاں جو کچھ ہے  وہ اس کی بہ نسبت کم و کیف(Quality اور Quantity ) میں بھی بہتر ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والا بھی ہے۔ اس لیے تم سخت حماقت کرو  گے اگر اِس عارضی زندگی کی محدود نعمتوں سے متمتع ہونے کی خاطر وہ روش اختیار کرو جس کا نتیجہ آخرت کے دائمی خسارے کی شکل میں تمہیں بھگتنا پڑے۔ تم خود مقابلہ کر کے دیکھ لو کہ کامیاب آیا وہ شخص ہے جو محنت و جانفشانی کے ساتھ اپنے رب کی خدمت بجا لائے اور پھر ہمیشہ کے لیے اس کے انعام سے  سرفراز ہو، یا وہ شخص جو گرفتار ہو کر مجرم کی حیثیت سے خدا کی عدالت میں پیش کیا جانے والا ہو اور گرفتاری سے پہلے محض چند روز حرم کی دولت سے مزے لوٹ لینے کا اس کو موقع مل جائے؟

۸۵: یہ تقریر بھی اسی چوتھے جواب کے سلسلہ میں ہے، اور اس کا تعلق اوپر کی آیت کے آخری فقرے سے ہے۔ اس میں یہ بتایا جا رہا ہے  کہ محض اپنے دنیوی مفاد کی خاطر شرک و بُت پرستی اور انکارِ نبوت کی جس گمراہی پر یہ لوگ اصرار کر رہے ہیں، آخرت کی ابدی زندگی میں اس کا کیسا بُرا نتیجہ انہیں دیکھنا پڑے گا۔ اس سے یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ فرض کرو دنیا میں تم پر کوئی آفت نہ بھی آئے اور یہاں کی مختصر سی زندگی میں تم حیاتِ دنیا کی متاع و زینت سے خوب بہرہ اندوز بھی ہو لو، تب بھی اگر آخرت میں اس کا انجام یہی کچھ ہونا ہے تو خود سوچ لو کہ یہ نفع کا سودا ہے جو تم کر رہے ہو، یا سراسر خسارے کا سودا؟

۸۰: یہ وہ بات ہے  جو کفارِ قریش اسلام قبول نہ کرنے کے لیے عذر کے طور پر پیش کرتے تھے۔ اور اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے کفر و انکار کا سب سے اہم بنیادی سبب یہی تھا۔ اس بات کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ تاریخی طور پر اُس زمانے میں قریش کی پوزیشن کیا تھی جس پر ضرب پڑنے کا انہیں اندیشہ تھا۔ قریش کو ابتداء جس چیز نے عرب میں اہمیت دی وہ یہ تھی کہ  ان کا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ہونا انسابِ عرب کی رو سے بالکل ثابت تھا، اور اس بنا پر ان کا خاندان عربوں کی نگاہ میں پیرزادوں کا خاندان تھا۔ پھر جب قُصّی بن کِلاب کے حسن تدبیر سے یہ لوگ کعبہ کے متولی ہو گئے اور مکہ ان کا مسکن بن گیا تو ان کی اہمیت پہلے سے بہت زیادہ ہو گئی۔ اس لیے کہ اب وہ عرب کا کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جو ان سے تعلقات نہ رکھتا ہو۔ اس مرکزی حیثیت سے فائدہ اٹھا کر قریش نے بتدریج تجارتی ترقی شروع کی اور خوش قسمتی سے روم و ایران کی سیاسی کشمکش نے ان کو بین الاقوامی تجارت میں ایک اہم مقام عطا کر دیا۔ اُس زمانہ میں روم و یونان اور مصر و شام کی جتنی تجارت بھی چین، ہندوستان،  انڈونیشیا اور مشرقی افریقہ کے ساتھ تھی، اس کے سارے ناکے ایران نے روک دیے تھے۔ آخری راستہ بحرِ احمر کا رہ گیا تھا، سو یمن پر ایران کے قبضہ نے اسے بھی روک دیا۔ اس کے بعد کوئی صورت اس تجارت کو جاری رکھنے کے لیے اس کے سوا نہیں رہ گئی تھی کہ عرب کے تاجر ایک طرف رومی مقبوضات کا مال بحر عرب اور خلیج فارس کے بندرگاہوں پر پہنچائیں،  اور دوسری طرف انہی بندرگاہوں سے مشرقی اموالِ تجارت لے کر رومی مقبوضات میں پہنچیں۔ اس صورتِ حال نے مکہ کو بین الاقوامی تجارت کا ایک اہم مرکز بنا دیا۔ اس وقت قریش ہی تھے جنہیں  اس کاروبار کا قریب قریب اجارہ حاصل تھا۔ لیکن عرب کی طوائف الملوکی کے ماحول میں یہ تجارتی نقل و حرکت اس کے بغیر نہ ہو سکتی تھی کہ تجارتی شاہراہیں جن قبائل کے علاقوں سے گزرتی تھیں ان کے  ساتھ قریش کے گہرے تعلقات ہوں۔ سردارانِ قریش اس غرض کے لیے صرف اپنے مذہبی اثر پر اکتفا نہ کر سکتے تھے۔ اس کے لیے انہوں نے تمام قبائل  کے ساتھ معاہدات کر رکھے تھے۔ تجارتی منافع میں سے بھی وہ ان کو حصہ دیتے تھے۔ شیوخِ قبائل اور با ثر سرداروں کو تحائف و ہدایا سے بھی خوش رکھتے تھے۔ اور سودی کا روبار کا بھی ایک جال انہوں نے پھیلا رکھا تھا جس میں قریب قریب تمام ہمسایہ قبائل کے تجار اور سردار جکڑے ہوئے تھے۔ ان حالات میں  جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت توحید اٹھی تو دین آبائی کے تعصب سے بھی بڑھ کر جو چیزیں قریش کے لیے اُس کے خلاف وجہِ اشتعال بنی وہ یہ تھی کہ اس دعوت کی بدولت انہیں اپنا مفاد خطرے میں نظر آرہا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ معقول دلائل اور حجتوں سے شرک و بت پرستی غلط اور توحید صحیح بھی ہو تو اُس کو چھوڑنا اور اسے  قبول کر لینا ہمارے لیے تباہ کن ہے۔ ایسا کرتے ہی تمام عرب ہمارے خلاف بھڑک اٹھے گا۔ ہمیں کعبہ کی تولیت سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ بُت پرست قبائل کے ساتھ ہمارے وہ تمام معاہدانہ تعلقات ختم ہو جائیں  گے  جن کی وجہ سے ہمارے تجارتی قافلے رات دن عرب کے مختلف حصوں سے گزرتے ہیں۔ اس طرح یہ دین ہمارے مذہبی رسُوخ و اثر کا بھی خاتمہ کر دے گا اور ہماری معاشی خوشحالی کا بھی۔ بلکہ بعد نہیں  کہ تمام قبائلِ عرب ہمیں سرے سے مکہ ہی چھوڑ دینے پر مجبور کر دیں۔ یہاں پہنچ کر دنیا پرستوں کی بے بصیرتی کا عجیب نقشہ انسان کے سامنے آتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بار بار انہیں یقین دلاتے تھے کہ یہ کلمہ جو میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں اسے مان لو تو عرب و عجم تمہارے تابع ہو جائیں گے۔( ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، صفحہ ۳۱۶۔ ۳۱۷)۔ مگر انہیں اس میں اپنی موت نظر آتی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ جو دولت، اثر، رسوخ ہمیں آج حاصل ہے یہ بھی ختم ہو جائے گا۔ ان کو اندیشہ تھا کہ یہ کلمہ قبول کرتے ہی ہم اس سر زمین میں ایسے بے یارو مددگار ہو جائیں گے کہ چیل کوّے ہماری بوٹیاں نوچ کھائیں گے۔ ان کی کوتاہ نظر ی وہ وقت نہ دیکھ سکتی تھی جب چند ہی سال بعد تمام عرب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ماتحت ایک مرکزی سلطنت کا تابع فرمان ہونے والا تھا، پھر اسی نسل کی زندگی میں ایران، عراق، شام،  مصر، سب ایک ایک کر کے اس سلطنت کے زیر نگین ہو جانے والے تھے، اس قول پر ایک صدی گزر نے  سے بھی پہلے قریش ہی کے خلفاء سندھ سے  لے کر اسپین تک اور قفقاز سے لے کر یمن کے سواحل تک دنیا کے ایک بہت بڑے حصہ پر حکمرانی کرنے والے تھے۔

۸۷: یعنی ہم نے زبر دستی اِن کو گمراہ نہیں کیا تھا۔ ہم نے نہ اِن سے بینائی اور سماعت سلب کی تھی، نہ ان سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں چھین لی تھی، اور نہ ایسی ہی کوئی صورت پیش آئی تھی کہ  یہ تو راہِ راست کی طرف جانا چاہتے ہوں مگر ہم ان کا ہاتھ پکڑ کر جبراً انہیں غلط راستے پر کھینچ لے گئے ہوں۔ بلکہ جس طرح ہم خود اپنی مرضی سے گمراہ ہوئے تھے اسی طرح اِن کے سامنے بھی ہم نے گمراہی پیش کی اور انہوں نے اپنی مرضی سے اس کو قبول کیا۔ لہٰذا ہم ان کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ ہم اپنے فعل کے ذمہ دار ہیں اور یہ اپنے فعل کے ذمہ دار۔ یہاں یہ لطیف نکتہ  قابلِ توجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سوال تو کرے گا شریک ٹھیرانے والوں  سے۔ مگر قبل اس کے کہ یہ کچھ بولیں، جواب دینے لگیں گے وہ جن کو شریک ٹھیرا یا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب عام مشرکین سے یہ سوال کیا جائے گا تو ان کے لیڈر اور پیشوا محسوس کریں گے کہ اب آ گئی ہماری شامت۔ یہ ہمارے سابق پیرو  ضرور کہیں گے کہ یہ لوگ ہماری  گمراہی کے اصل ذمہ دار ہیں۔ اس لیے پیرووں کے بولنے سے پہلے وہ خود سبقت  کر کے اپنی صفائی پیش کرنی شروع کر دیں گے۔

۸۸: یعنی یہ ہمارے نہیں بلکہ اپنے ہی نفس کے بندے بنے ہوئے تھے۔

۸۹: یعنی انہیں مدد کے پکار و۔ دنیا میں تو تم نے ان پر بھروسا کر کے ہماری بات روکی تھی۔ اب یہاں ان سے کہو کہ آئیں اور تمہاری مدد کریں اور تمہیں عذاب سے بچائیں۔

۹۰: یہ ارشاد در اصل شرک کی تردید  میں ہے۔ مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے جو بے شمار معبود اپنے لیے بنا لیے ہیں، اور ان کو اپنی طرف سے  جو اوصاف، مراتب اور مناصب سونپ رکھے ہیں،  اس پر اعتراض کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے پیدا کیے ہوئے انسانوں، فرشتوں،  جِنوں اور دوسرے بندوں میں سے ہم  خود جس کو جیسے چاہتے ہیں  اوصاف، صلاحیتیں اور طاقتیں بخشتے ہیں اور جو کام جس سے لینا چاہیں مشکل کشا،  جیسے چاہیں گنج بخش  اور جسے چاہیں فریاد رس قرار دے لیں؟ جسے چاہیں بارش برسانے کا مختار، جسے چاہیں روزگار یا اولاد بخشنے  والا، جسے چاہیں بیماری و صحت کا مالک بنا دیں؟ جسے چاہیں میری خدائی کے کسی حصے کا فرماں روا ٹھیرا لیں؟ اور میرے  اختیارات میں جو کچھ جس کو چاہیں سونپ دیں؟ کوئی فرشتہ ہو یا جن یا نبی یا ولی،  بہر حال جو بھی ہے ہمارا پیدا کیا ہوا ہے۔ جو کمالات بھی کسی کو ملے ہیں ہماری عطا و بخشش سے ملے ہیں۔ اور جو خدمت بھی ہم نے جس سے لینی چاہی  ہے لی ہے۔ اس برگزیدگی کے یہ معنی آخر کیے ہو گئے کہ یہ بندے بندگی کے مقام سے اٹھا کر خدائی کے مرتبے  پر پہنچا دیے جائیں اور خدا کو چھوڑ کر ان کے آگے سر نیاز جھکا دیا جائے، ان کو مدد کے لیے پکارا جانے لگے، ان سے حاجتیں طلب کی جانے لگیں، انہیں قسمتوں کا بنانے اور بگاڑنے والا سمجھ  لیا جائے، اور انہیں خدائی صفات و اختیارات کا حامل قرار دے دیا جائے؟

۹۱: اس سلسلہ کلام میں یہ بات جس مقصد  کے لیے ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص یا گروہ دنیا میں لوگوں کے سامنے یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ جس گمراہی  کو اس نے اختیار کیا ہے اس کی صحت پر وہ بڑے معقول وجوہ سے مطمئن ہے،  اور اس کے خلاف جو دلائل دیے گئے ہیں ان سے فی الحقیقت اس کا اطمینان نہیں ہوا ہے، اور اس گمراہی کو اس نے کسی بُرے جذبے سے نہیں بلکہ خالص نیک نیتی کے ساتھ اختیار کیا ہے،  اور اس کے سامنے کبھی کوئی ایسی چیز نہیں آئی ہے جس ے اس کی غلطی اس پر واضح ہو۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی یہ بات نہیں چل سکتی۔ وہ صرف ظاہر ہی کو نہیں دیکھتا۔ اس کے سامنے تو آدمی کے دل و دماغ کا ایک ایک گوشہ کھلا ہوا ہے۔ وہ اس کے علم اور احساسات اور جذبات اور خواہشات اور نیت اور ضمیر، ہر چیز کو براہِ راست جانتا ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ کس شخص کو کس کس وقت کن ذرائع سے تنبیہ ہوئی،  کن کن راستوں سے حق پہنچا، کس کس طریقے سے باطل کا باطل ہونا اس پر کھلا، اور پھر وہ اصل محرکات کیا تھے جن کی بنا پر اس نے اپنی گمراہی کو ترجیح دی اور حق سے منہ موڑا۔

۹۲: یعنی وہ نبی جس نے اس اُمت کو خبردار کیا تھا، یا انبیاء کے پیرووں میں سے کوئی ایسا ہدایت یافتہ انسان جس نے اس امت میں تبلیغِ حق کا فریضہ انجام دیا تھا، یا  کوئی ایسا ذریعہ جس سے اس امت تک پیغامِ حق پہنچ چکا تھا۔

۹۳: یعنی اپنی صفائی میں کوئی ایسی حجت پیش کرو جس کی بنا پر تمہیں معاف کیا جا سکے۔ یا تو یہ ثابت کرو کہ تم جس شرک،  جس انکارِ آخرت اور جس انکارِ نبوت پر قائم تھے وہ بر حق تھا اور تم نے معقول وجوہ کی بنا پر  یہ مسلک اختیار کیا تھا۔ یا یہ نہیں تو پھر کم از کم یہی ثابت کر دو کہ خدا کی طرف سے تم کو اس غلطی پر متنبہ کر نے اور ٹھیک بات تم تک پہنچانے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا۔

 

ترجمہ

 

یہ ایک واقعہ ہے ۹۴ کہ قارون موسیٰؑ کی قوم کا ایک شخص تھا، پھر وہ اپنی قوم کے خلاف سرکش ہو گیا۔۹۵ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اُٹھا سکتی تھی۔۹۶ ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا ’’ پھُول نہ جا، اللہ پھُولنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ جو مال اللہ نے  تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دُنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر۔ احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر،  اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘  تو اُس نے کہا ’’ یہ سب کچھ تو مجھے اُس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے‘‘ ۹۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا اس کو یہ علم نہ تھا کہ اللہ اس سے پہلے بہت سے ایسے لوگوں کو ہلاک کر چکا ہے جو اس سے زیادہ قوت اور جمعیت رکھتے تھے؟۹۸ مجرموں سے تو ان کے گناہ نہیں پُوچھے جاتے۔۹۹ ایک روز وہ اپنی قوم کے سامنے اپنے پُورے ٹھاٹھ میں نِکلا۔ جو لوگ حیاتِ دنیا کے طالب تھے وہ اسے دیکھ کر کہنے لگے ’’ کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے،  یہ تو بڑا نصیبے والا ہے۔‘‘  مگر جو لوگ علم رکھنے والے تھے وہ کہنے لگے ’’ افسوس تمہارے حال پر،  اللہ کا ثواب بہتر ہے اُس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو۔‘‘ ۱۰۰

آخر کار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دَھنسا دیا۔ پھر کوئی اس کے حامیوں کا گروہ  نہ تھا جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کع آتا اور نہ وہ خود اپنی مدد آپ کر سکا۔ اب وہی لوگ جو کل اس کی منزلت کی تمنا کر رہے تھے کہنے لگے ’’افسوس، ہم بھُول گئے تھے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپا تُلا دیتا ہے۔۱۰۱ اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی زمین میں دَھنسا دیتا۔ افسوس ہم کو یاد نہ رہا کہ کافر فلاح نہیں پایا کرتے۔‘‘ ۱۰۲ ؏۸

 

تفسیر

 

۹۴: یہ واقعہ بھی کفار مکہ کے اُسی عذر کے جواب میں بیان کیا جا رہا ہے جس پر یہ آیت۵۷ سے مسلسل تقریر ہو رہی ہے۔ اس سلسلہ میں  یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ جن لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت سے قومی مفاد پر ضرب لگنے کا خطرہ ظاہر کیا تھا وہ در اصل مکہ کے بڑے بڑے سیٹھ، ساہو کار اور سرمایہ دار تھے جنہیں بین الاقوامی تجارت اور سود خواری نے قارونِ وقت بنا رکھا تھا۔ یہ لوگ اپنی جگہ یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اصل حق بس یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ  دولت سمیٹو۔ اس مقصد پر جس چیز سے بھی آنچ آنے کا اندیشہ ہو وہ سراسر باطل ہے جسے کسی حال میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف عوام الناس دولت کے ان میناروں کو آرزو بھری نگاہوں سے دیکھتے تھے اور ان کی غایت تمنا بس یہ تھی کہ جس بلندی پر یہ لوگ پہنچے ہوئے ہیں، کاش ہمیں بھی اس تک پہنچنا نصیب ہو جائے۔ اس زر پرستی کے ماحول  میں یہ دلیل بڑی وزنی سمجھی جا رہی تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جس توحید و آخرت کی، اور جس ضابطہ اخلاق کی دعوت دے رہے ہیں اسے مان لیا جائے تو قریش کی عظمت کا یہ فلک بوس قصر زمین پر آ رہے گا اور تجارتی کاروبار تو درکنار جینے تک کے لالے پڑ جائیں گے۔

۹۵: قارون، جس کا نام بائیبل اور تلمود میں قورح (Korah ) بیان کیا گیا ہے،  حضرت موسیٰ علیہ السلام کا چچا زاد بھائی تھا۔ بائیبل کی کتاب خروج (باب۶۔ آیت ۲۱-۱۸) میں جو نسب نامہ درج  ہے اس کی رو سے حضرت موسیٰؑ اور قارون کے والد باہم سگے بھائی تھے۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ یہ شخص بنی اسرائیل میں سے ہونے کے باوجود فرعون کے ساتھ جا ملا تھا اور اس کا مقرب بن کر اس حد کو پہنچ گیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کے مقابلے میں فرعون کے بعد مخالفت کے جو دو سب سے بڑے سرغنے تھے ان میں سے ایک یہی قارون تھا: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسیٰ بِاٰ یٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ،   اِلیٰ فِرْعَوْنَ وَھَامَانَ وَقَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ کَذَّابٌ o (المومن۔ آیت ۲۴-۲۳) ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں  اور کھلی دلیل کے  ساتھ فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف بھیجا،  مگر انہوں نے کہا کہ یہ ایک جادو گر ہے سخت جھوٹا۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ قارون اپنی قوم سے باغی ہو کر اُس دشمن طاقت کا پٹھو بن گیا تھا جو بنی اسرائیل کو جڑ بنیاد سے ختم کر  دینے پر تُلی ہوئی تھی۔ اور اس قومی غداری کی بدولت اس نے فرعونی سلطنت میں یہ مرتبہ  حاصل کر لیا تھا کہ حضرت موسیٰؑ فرعون کے علاوہ مصر کی جن دو بڑی ہستیوں کی طرف بھیجے گئے تھے وہ دو  ہی تھیں، ایک فرعون کا وزیر ہامان، اور دوسرا یہ اسرائیلی سیٹھ۔ باقی سب اعیان سلطنت اور درباری ان سے کم تر درجے میں تھے جن کا خاص طور پر نام لینے کی ضرورت نہ تھی۔ قارون کی یہی پوزیشن سورۂ عنکبوت کی آیت نمبر ۳۹ میں بھی بیان کی گئی ہے۔

۹۶: بائیبل (گنتی، باب۱۶) میں اس کا جو قصہ بیان کیا گیا ہے  اس میں اس شخص کی دولت کا کوئی ذکر نہیں ہے، مگر یہودی روایات یہ بتاتی ہیں کہ یہ شخص غیر معمولی دولت کا مالک تھا حتیٰ کہ اس کے خزانوں کی کنجیاں اُٹھانے کے لیے تین سو خچر درکار ہوتے تھے(جیوش انسائیکلو پیڈیا، ج۷،ص۵۵۶) یہ بیان اگر چہ انتہائی مبالغہ آمیز ہے، لیکن اس سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اسرائیلی روایات کی رو سے بھی قارون اپنے وقت کا بہت بڑا دولت مند آدمی تھا۔

۹۷: اصل الفاظ ہیں اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلیٰ عِلْمٍ عِنْدِیْ۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ میں نے جو کچھ پایا ہے اپنی قابلیت سے پایا ہے،  یہ کوئی فضل نہیں ہے جو استحقاق کے بجائے احسان کے طور پر کسی نے مجھ کو دیا  ہو اور  اب مجھے اس کا شکریہ اس طرح ادا کرنا ہو کہ جن نا اہل لوگوں کو کچھ نہیں دیا گیا ہے انہیں میں فضل و احسان کے طور پر  اس میں سے کچھ دوں،  یا کوئی خیر خیرات اس غرض کے لیے کروں کہ یہ فضل  مجھ سے چھین نہ لیا جائے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے  کہ میرے نزدیک تو خدا نے یہ دولت جو مجھے دی ہے میرے اوصاف کو جانتے ہوئے دی ہے۔ اگر میں اس کی نگاہ میں ایک پسندیدہ انسان نہ ہوتا تو یہ کچھ مجھے کیوں دیتا۔ مجھ پر اس کی نعمتوں کی بارش ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ میں اس کا محبوب ہوں اور میری روش اس کو پسند ہے۔

۹۸: یعنی یہ شخص جو بڑا عالم و فاضل اور دانا و خبر بنا پھر رہا تھا اور اپنی قابلیت کا یہ کچھ غَرَّہ رکھتا تھا،  اس کے علم میں کیا یہ بات کبھی نہ آئی تھی کہ اُس سے زیادہ دولت و حشمت اور قوت و شوکت والے اس سے پہلے دنیا میں گزر چکے ہیں اور اللہ نے انہیں آخر کار تباہ و برباد کر کے رکھ دیا؟ اگر قابلیت اور ہنر مندی ہی دنیوی عروج کے لیے کوئی ضمانت ہے تو ان کی یہ صلاحیتیں اُ س وقت کہاں چلی گئی تھیں جب وہ تباہ ہوئے؟ اور اگر کسی کو دنیوی عروج نصیب ہونا لازماً اسی بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص سے خوش ہے اور اس کے اعمال و اوصاف کو پسند کرتا ہے تو  پھر اُن لوگوں کی شامت کیوں آئی؟

۹۹: یعنی مجرم تو یہی دعویٰ کیا کرتے ہیں کہ ہم بڑے اچھے لوگ ہیں۔ وہ کب مانا کرتے ہیں کہ ان کے اندر کوئی برائی ہے۔ مگر ان کی سزا ان کے اپنے اعتراف پر منحصر  نہیں ہوتی۔ انہیں جب پکڑا جاتا ہے تو ان سے پوچھ کر نہیں پکڑا جاتا کہ بتاؤ تمہارے گناہ کیا ہیں۔

۱۰۰: یعنی یہ سیرت، یہ انداز فکر اور یہ ثوابِ الہٰی کی بخشش صرف انہی لوگوں کے حصہ میں آتی ہے جن میں اتنا تحمل اور اتنی ثابت قدمی موجود ہو کہ حالا طریقے ہی اختیار کرنے پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہیں،  خوان ان سے صرف چٹنی روٹی میسر ہو کہ کروڑ پتی بن جانا نصیب ہو جائے، اور حرام طریقوں کی طرف قطعاً مائل نہ ہوں خواہ ان سے دنیا بھر کے فائدے سمیٹ لینے کا موقع مل رہا ہو۔ اس آیت میں اللہ کے ثواب سے مراد ہے وہ رزقِ کریم جو حدود اللہ کے اندر رہتے  ہوئے محنت و کوشش کرنے کے نتیجے میں انسان کو دنیا اور آخرت میں نصیب ہو۔ اور صبر سے مراد ہے اپنے جذبات اور خواہشات پر قابو رکھنا، لالچ اور حرص  و  آز کے مقابلے میں ایمانداری اور راستبازی پر ثابت قدم رہنا، صداقت و دیانت سے جو نقصان بھی ہوتا ہو یا جو فائدہ بھی ہاتھ سے جاتا ہو اسے برداشت کر لینا، نا جائز تدبیروں سے جو منفعت بھی حاصل ہو سکتی ہو اسے ٹھوکر مار دینا،  حلال کی روزی خواہ بقدر سدِّ رمق ہی ہو اس پر قانع و مطمئن رہنا، حرام خوروں کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھ کر رشک و تمنا کے جذبات سے بے چین ہونے کے بجائے اس پر ایک نگاہِ غلط انداز بھی نہ ڈالنا اور ٹھنڈے دل سے یہ سمجھ لینا کہ ایک ایماندار  آدمی کے لیے اِس چمکدار گندگی کی بہ نسبت وہ بے رونق طہارت ہی بہتر ہے جو اللہ نے اپنے فضل سے اس کو بخشی ہے۔ رہا یہ ارشاد کہ ’’یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو ‘‘ تو اس دولت سے مراد اللہ کا ثواب بھی ہے اور وہ پاکیزہ ذہنیت بھی جس کی بنا پر آدمی ایمان و عمل صالح کے ساتھ فاقہ کشی کر لینے کو اس سے بہتر سمجھتا ہے  کہ بے ایمانی اختیار کر کے ارب پتی بن جائے۔

۱۰۱: یعنی اللہ کی طرف سے رزق کشادگی و تنگی جو کچھ بھی ہوتی ہے اس کی مشیت کی بنا پر ہوتی ہے اور اس مشیت میں اس کی کچھ دوسری ہی مصلحتیں کار فرما ہوتی ہیں۔ کسی کو زیادہ رزق دینے کے معنی لازماً یہی نہیں ہیں کہ اللہ اس سے بہت خوش ہے اور اسے انعام دے رہا ہے۔ بسا اوقات ایک شخص اللہ کا نہایت مغضوب ہوتا ہے۔ مگر وہ اسے بڑی دولت عطا کرتا چلا جاتا ے،  یہاں تک کہ آخر کار یہی دولت اس کے اوپر اللہ کا سخت عذاب لے آتی ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی کا رزق تنگ ہے تو اس کے معنی لازماً یہی نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہے اور اسے سزا دے رہا ہے۔ اکثر نیک لوگوں پر تنگی اس کے با وجود رہتی ہے کہ وہ اللہ کے محبوب ہوتے ہیں، بلکہ بارہا یہی تنگی ان کے لیے خدا کی رحمت ہوتی ہے۔ اس حقیقت کو نہ سمجھنے ہی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی اُن لوگوں کی خوشحالی کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو دراصل خدا کے غضب کے مستحق ہوتے ہیں۔

۱۰۲: یعنی ہمیں یہ غلط فہمی تھی کہ دنیوی خوشحالی اور دولت مندی ہی فلاح ہے۔ اسی وجہ سے ہم یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ قارون بڑی فلاح پا رہا ہے۔ مگر اب پتہ چلا کہ حقیقی فلاح کسی اور ہی چیز کا نام ہے اور وہ کافروں کو نصیب نہیں ہوتی۔ قارون کے قصے کا یہ سبق آموز پہلو  صرف قرآن ہی میں بیا ن ہوا ہے۔ بائیبل اور تلمود دونوں میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ البتہ دونوں کتابوں میں  جو تفصیلات بیان ہوئی ہیں ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل جب مصر سے نکلے تو یہ شخص بھی اپنی پارٹی سمیت ان کے ساتھ نکلا، اور پھر اس نے حضرت موسیٰؑ و ہارون کے خلاف ایک سازش کی جس میں ڈھائی سو آدمی شامل تھے۔ آخر کار اللہ کا غضب اس پر نازل ہوا اور یہ اپنے گھر بار اور مال اسباب سمیت زمین میں دھنس گیا۔

 

ترجمہ

 

وہ آخرت کا گھر۱۰۳ تو ہم اُن لوگوں کے لیے مخصُوص کر دیں گے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے۱۰۴ اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں۔۱۰۵ اور انجام کی بھلائی متقین ہی کے لیے ہے۔۱۰۶ جو کوئی بھلائی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر بھلائی ہے،  اور جو بُرائی لے کر آئے تو برائیاں کرنے والوں کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے عمل وہ کرتے تھے۔

اے نبیؐ،  یقین جانو کہ جس نے یہ قرآن تم پر فرض کیا ہے۱۰۷ وہ تمہیں ایک بہترین انجام کو پہنچانے والا ہے۔۱۰۸ اِن لوگوں سے کہہ دو کہ ’’میرا ربّ خُوب جانتا ہے کہ ہدایت لے کر کون آیا ہے اور کھُلی گمراہی میں کون مُبتلا ہے۔‘‘  تم اس بات کے ہرگز اُمیدوار نہ تھے کہ تم پر کتاب نازل کی جائے گی، یہ تو محض تمہارے ربّ کی مہربانی سے ( تم پر نازل ہوئی ہے)،۱۰۹ پس تم کافروں کے مددگار نہ بنو۔۱۱۰ اور ایسا کبھی نہ ہونے پائے کہ اللہ کی آیات  جب تم پر نازل ہوں تو کُفّار تمہیں اُن سے باز رکھیں۔۱۱۱ اپنے ربّ کی طرف دعوت دو اور ہرگز مشرکوں میں شامل نہ ہو اور اللہ کے سوا کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو۔ اُس کے سوا کوئی معبُود نہیں ہے۔ ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اُس کی ذات کے۔ فرماں روائی اسی کی ہے۱۱۲ اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو۔ ؏۹

 

تفسیر

 

۱۰۳: مراد ہے جنت جو حقیقی فلاح کا مقام ہے۔

۱۰۴: یعنی جو خدا کی زمین میں اپنی بڑائی قائم کرنے کے خواہاں نہیں ہیں۔ جو سرکش و جبار اور متکبرین کر نہیں رہتے بلکہ بندے بن کر رہتے ہیں اور خدا کے بندوں کو اپنا بندہ بنا کر رکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔

۱۰۵: فساد سے مراد انسانی زندگی کے نظام کا وہ بگاڑ ہے جو حق سے تجاوز کرنے کے نتیجے میں لازماً رونما ہوتا ہے۔ خدا کی بندگی اور اس کے قوانین کی اطاعت سے نکل کر آدمی جو کچھ بھی کرتا ہے وہ سراسر فساد ہی فساد  ہے۔ اسی کا ایک جُز وہ فساد بھی ہے جو حرام طریقوں سے دولت سمیٹنے اور حرام راستوں میں خرچ کرنے سے برپا ہوتا ہے۔

۱۰۶: یعنی ان لوگوں کے لیے جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کی نافرمانی سے  پرہیز کرتے ہیں۔

۱۰۷: یعنی اس قرآن کو خلقِ خدا تک پہنچانے اور اس کی تعلیم دینے اور اس کی ہدایت  کے مطابق دنیا کی اصلاح کی ذمہ داری تم پر ڈالی  ہے۔

۱۰۸: اصل الفاظ ہیں لَرَآدُّکَ اِلیٰ مَعَادٍ۔ ’’تمہیں ایک معاد کی طرف پھیرنے والا ہے۔‘‘  معاد کے لغوی معنی ہیں وہ مقام جس کی طرف آخر کار آدمی کو پلٹنا ہو۔ اور اسے نکرہ استعمال کرنے سے اس میں خود بخود یہ مفہوم پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ مقام بڑی شان اور عظمت کا مقام ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد جنت لی ہے۔ لیکن اسے صرف جنت کے ساتھ مخصوص کر دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ کیوں نہ اسے ویسا ہی عام رکھا جائے جیسا خود اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے،  تا کہ یہ وعدہ دنیا اور آخرت دونوں سے متعلق ہو جائے۔ سیاق عبارت کا اقتضاء بھی یہ ہے کہ اسے آخرت ہی میں نہیں  اِس دنیا میں بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو آخر کار بڑی شان و عظمت عطا کرنے کا وعدہ سمجھا جائے۔ کفارِ مکہ کے جس قول پر آیت نمبر ۵۷ سے لے کر یہاں تک مسلسل گفتگو چلی آ رہی ہے، اُس میں انہوں نے کہا تھا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) تم اپنے ساتھ ہمیں بھی لے ڈوبنا چاہتے ہو۔ اگر ہم تمہارا ساتھ دیں اور اس دین کو اختیار کر لیں تو عرب کی سر زمین میں ہمارا جینا مشکل ہو جائے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ  اپنے نبیؐ سے فرماتا ہے کہ اے نبیؐ، جس خدا نے اس قرآن کی علم برداری کا بار تم پر ڈالا ہے وہ تمہیں برباد کرنے والا نہیں ہے، بلکہ تم کو اُس  مرتبے پر پہنچانے والا ہے جس کا تصور بھی یہ لوگ آج نہیں کر سکتے۔ اور فی الواقع اللہ تعالیٰ نے چند ہی سال بعد حضورؐ کو اِس دنیا میں،  اُنہی لوگوں کی آنکھوں کے سامنے  تمام ملک عرب پر ایسا مکمل اقتدار  عطا کر کے دکھا دیا کہ آپ کی مزاحمت کرنے والی کوئی طاقت وہاں نہ ٹھیر سکی اور آپ کے دین کے سوا کسی دین کے لیے وہاں گنجائش نہ رہی۔ عرب کی تاریخ میں اس سے پہلے کوئی نظیر  اس کی موجود نہ تھی کہ پورے جزیرۃ العرب پر کسی ایک شخص کی ایسی بے غل و غش بادشاہی قائم ہو گئی ہو کہ ملک بھر میں کوئی اس کا مد مقابل باقی نہ رہا ہو، کسی میں  اس کے حکم سے سرتابی کا یارا نہ ہو، اور لوگ صرف سیاسی طور پر ہی  اس کے حلقہ بگوش نہ ہوئے ہوں بلکہ سارے دینوں کو مٹا کر اسی ایک شخص نے سب کو اپنے دین کا پیرو بھی بنا لیا ہو۔ بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا  ہے کہ سورۂ قصص کی یہ آیت مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے راستہ میں نازل ہوئی تھی اور اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ آپ کو پھر مکہ واپس پہنچائے گا۔ لیکن اوّل تو اس کے الفاظ میں کوئی گنجائش اس امر کی نہیں ہے کہ ’’معاد‘‘  سے ’’مکّہ‘‘  مراد لیا جائے۔ دوسرے،  یہ سورۃ روایات کی رو سے بھی اور اپنے مضمون کی داخلی شہادت کے اعتبار سے بھی ہجرت حبشہ کے قریب زمانہ کی ہے اور یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کئی سال بعد ہجرتِ مدینہ کے راستہ میں اگر یہ آیت نازل ہوئی تھی تو اسے کس مناسبت سے یہاں اِس سیاق و سباق میں لا کر رکھ دیا گیا۔ تیسرے،  اِس سیاق و سباق کے اندر مکہ کی طرف حضورؐ کی واپسی کا ذکر بالکل بے محل نظر آتا ہے۔ آیت کے یہ معنی اگر لیے جائیں تو یہ کفارِ مکّہ کی بات کا  جواب نہیں بلکہ اُن کے عذر کو اور تقویّت پہنچانے والا ہو گا۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ بے شک اے اہلِ مکہ،  تم ٹھیک کہتے ہو، محمدؐ اس شہر سے نکال دیے جائیں گے،  لیکن وہ مستقل طور پر جلا وطن  نہیں رہیں گے، بلکہ آخر کار ہم انہیں اسی جگہ واپس لے آئیں گے۔ یہ روایت اگرچہ بخاری، نسائی، ابن جریر اور دوسرے محدثین نے ابن عباسؓ سے نقل کی ہے،  لیکن یہ ہے ابن عباس کی اپنی ہی رائے۔ کوئی حدیثِ مرفوع نہیں ہے کہ اسے ماننا لازم ہو۔

۱۰۹: یہ بات محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نبوت کے ثبوت میں پیش کی جا رہی ہے۔ جس طرح موسیٰ علیہ السلام بالکل بے خبر تھے کہ انہیں نبی بنا یا جانے والا ہے اور ایک عظیم الشان مشن پر وہ مامور کیے جانے والے ہیں، اُن کے حاشیہ، خیال میں  بھی اِس کا ارادہ یا خواہش تو درکنار اس کی توقع تک کبھی نہ گزری تھی، بس یکایک راہ چلتے انہیں کھینچ بلایا گیا اور نبی بنا کر وہ حیرت انگیز کام ان سے لیا گیا جو ان کی سابق زندگی سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا تھا، ٹھیک ایسا ہی معاملہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ بھی پیش آیا۔ مکہ کے لوگ خود جانتے تھے کہ غارِ حرا سے جس روز آپ نبوت کا پیغام لے کر اترے اُس سے  ایک دن پہلے تک آپ کی زندگی کیا تھی، آپ کے مشاغل کیا تھے، آپ کی بات چیت کیا تھی۔ آپ کی گفتگو کے موضوعات کیا تھے، آپ کی دلچسپیاں اور سر گرمیاں کس نوعیت کی تھیں۔ یہ پوری زندگی صداقت، دیانت، امانت اور پاکبازی سے لبریز ضرور تھی۔ اس میں انتہائی شرافت، امن پسندی، پاسِ عہد، ادائے حقوق اور خدمتِ خلق کا رنگ بھی غیر معمولی شان کے  ساتھ نمایا ں تھا۔ مگر اس میں کوئی چیز ایسی موجود نہ تھی جس کی بنا پر کسی کے وہم و  گمان میں بھی یہ خیال گزر سکتا ہو کہ یہ نیک بندہ کل نبوت کا دعویٰ لے کر اُٹھنے والا ہے۔ آپ سے قریب ترین ربط ضبط رکھنے والوں میں،  آپ کے رشتہ داروں اور ہمسایوں اور دوستوں میں کوئی شخص یہ نہ کہہ سکتا تھا کہ آپ پہلے سے نبی بننے کی تیاری کر رہے تھے۔ کسی نے اُن مضامین اور مسائل اور موضوعات کے متعلق کبھی  ایک لفظ تک آپ کی زبان سے نہ سنا تھا جو غارِ حرا ء کی اُس انقلابی ساعت کے بعد یکایک آپ کی زبان پر جاری ہونے شروع ہو گئے۔ کسی نے آپ کو وہ مخصوص زبان اور وہ الفاظ اور اصطلاحات استعمال کرنے نہ سنا تھا جو اچانک قرآن کی صورت میں لوگ آپ سے سننے لگے۔ کبھی آپ وعظ کہنے کھڑے نہ ہوئے تھے۔ کبھی کوئی دعوت  اور تحریک لے کر نہ اُٹھے تھے۔ بلکہ کبھی آپ کی کسی سر گرمی سے یہ گمان تک نہ ہو سکتا تھا کہ آپ اجتماعی مسائل کے حل،  یا مذہبی اصلاح یا اخلاقی اصلاح کے لیے کوئی کام شروع کرنے کی فکر میں ہیں۔ اس انقلابی ساعت سے ایک دن پہلے تک آپ کی زندگی ایک ایسے تاجر کی زندگی نظر آتی تھی جو سیدھے سادھے جائز طریقوں سے اپنی روزی کماتا ہے، اپنے بال بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی رہتا ہے،  مہمانوں کی تواضع، غریبوں کی مدد اور رشتہ داروں سے حسن سلوک کرتا ہے،  اور کبھی کبھی عبادت کرنے کے لیے خلوت میں جا بیٹھتا ہے۔ ایسے شخص کا یکایک ایک عالمگیر زلزلہ ڈال دینے والی خطابت کے ساتھ اُٹھنا، ایک انقلاب انگیز دعوت شروع کر دینا، ایک نرالا لٹریچر پیدا کر دینا، ایک مستقل فلسفہ حیات اور نظامِ فکر و اخلاق و تمدن لے کر سامنے آ جانا، اتنا بڑا تغیر ہے  جو انسانی نفسیات کے لحاظ سے کسی بناوٹ اور تیاری اور ارادی کوشش کے نتیجے میں قطعاً رونما نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ ایسی ہر کوشش اور تیاری بہر حال تدریجی ارتقاء کے مراحل سے گزرتی ہے اور یہ مراحل اُن لوگوں سے کبھی  مخفی نہیں رہ سکتے  جن کے درمیان آدمی شب و روز زندگی گزارتا ہو۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی ان مراحل سے گزری ہوتی تو مکہ میں سینکڑوں زبانیں یہ کہنے والی  ہوتیں کہ ہم نہ کہتے تھے، یہ شخص ایک دن کوئی بڑا دعویٰ لے کر اُٹھنے والا ہے۔ لیکن تاریخ شاہد ہے کہ کفار مکہ نے آپ پر  ہر طرح کے اعتراضات کیے،  مگر یہ اعتراض کرنے والا اُن میں سے کوئی ایک شخص بھی نہ تھا۔ پھر یہ بات کہ آپ خود بھی نبوت کے خواہش مند،  یا اس کے لیے متوقع اور منتظر نہ تھے، بلکہ پوری بے خبری کی حالت میں اچانک آپ کو اس معاملہ سے سابقہ پیش آ گیا، اس کا ثبوت اُس واقعہ سے ملتا ہے جو احادیث میں آغاز وحی کی کیفیت کے متعلق منقول  ہوا ہے۔ جبریلؑ سے پہلی ملاقات اور سورہ علق کی ابتدائی آیات کے نزول کے بعد آپ غار حرا سے کانپتے اور لرزتے ہوئے گھر پہنچتے  ہیں۔ گھر والوں سے کہتے ہیں کہ ’’مجھے اُڑھاؤ، مجھے اڑھاؤ‘‘۔ کچھ دیر کے بعد جب ذرا خوف زدگی کی کیفیت دور  ہوتی ہے تو اپنی رفیق زندگی کو سارا ماجرا سنا کر کہتے ہیں کہ ’’مجھ اپنی جان کا ڈر ہے ‘‘۔ وہ فوراً جواب دیتی ہیں ’’ہرگز نہیں۔ آپ کو اللہ کبھی رنج میں نہ ڈالے گا۔ آپ تو قرابت داروں کے حق ادا کرتے ہیں۔ بے کس کو سہارا دیتے ہیں۔ بے زر کی دستگیری کرتے ہیں۔ مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں۔ ہر کار خیر میں مدد کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں‘‘۔ پھر وہ آپ کو لے کر وَرَقہ بن نَوفَل کے پاس جاتی ہیں جو ان کے چچا زاد بھائی اور اہلِ کتاب میں سے ایک ذی علم اور راستباز آدمی تھے۔ وہ آپ سے سارا واقعہ سننے کے بعد بلا تامل کہتے کہ ’’ یہ  جو آپ کے پاس آیا تھا  وہی ناموس(کاری خاص پر مامور فرشتہ) ہے جو موسیٰؑ کے پاس آتا تھا۔ کاش میں جوان ہوتا اور اُس وقت تک زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو  نکال دے گی‘‘  آپ پوچھتے ہیں ’’کیا یہ لوگ مجھے نکا ل دیں گے‘‘ ؟ وہ جواب دیتے ہیں ’’ہاں، کوئی شخص ایسا نہیں گزرا کہ وہ چیز  لے کر آیا ہو جوآپ لائے  ہیں اور لوگ اس کے دشمن نہ وہ گئے ہوں‘‘۔  یہ پورا واقعہ اُس حالت کی تصویر پیش کر دیتا ہے جو بالکل فطری طور پر یکایک خلافِ توقع ایک انتہائی غیر معمولی تجربہ پیش آ جانے سے کسی سیدھے سادھے انسان پر طاری ہو سکتی ہے۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پہلے سے نبی بننے کی فکر میں ہوتے،  اپنے متعلق یہ سوچ رہے ہوتے کہ مجھ جیسے آدمی کو نبی ہونا چاہیے، اور اس انتظار میں مراقبے کر کر کے اپنی ذہن پر زور ڈال رہے ہوتے کہ کب کوئی فرشتہ آتا ہے اور میرے پاس پیغام لاتا ہے،  تو غارِ حرا ء والا معاملہ پیش آتے ہی آپ خوشی سے اچھل پڑتے اور بڑے دم دعوے کے ساتھ پہاڑ سے اتر کر سیدھے اپنی قوم کے سامنے  پہنچتے،  اور اپنی نبوت کا اعلان کر دیتے۔ لیکن اس کے بر عکس یہاں حالت  یہ ہے کہ جو کچھ دیکھا تھا اس پر ششدر رہ جاتے ہیں، کانپتے اور لرزتے ہوئے گھر پہنچتے ہیں، لحاف اوڑھ کر لیٹ جاتے ہیں، ذرا دل ٹھیرتا ہے تو بیوی کو چپکے سے بتاتے ہیں کہ آج غار کی تنہائی میں مجھ پر یہ حادثہ گزرا ہے،  معلوم نہیں کیا ہونے والا ہے،  مجھے اپنی جان کی خیر نظر نہیں آتی۔ یہ کیفیت نبوت کے کسی امید وار کی کیفیت سے کس قدر مختلف ہے۔  پھر بیوی سے بڑھ کر شوہر کی زندگی،  اس حالات اور اس کے خیالات کو کون جان سکتا ہے ؟ اگر ان کے تجربے میں پہلے سے یہ بات آئی ہوئی ہوتی کہ میاں نبوت کے امید وار ہیں ا ور ہر وقت فرشتے کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں، تو ان کا جواب ہر گز وہ نہ ہوتا  جو حضرت خدیجہؓ نے دیا۔ وہ کہتیں کہ میاں گھبراتے کیوں ہو۔ جس چیز کی مدتوں سے تمنا تھی وہ مل گئی،  چلو، اب پیر کی دکان چمکاؤ، میں بھی نذرانے سنبھالنے کی تیاری کرتی ہوں۔ لیکن وہ پندرہ برس کی رفاقت میں آپ کی زندگی کا جو رنگ دیکھ چکی تھیں اس کی بنا پر انہیں یہ بات سمجھنے میں ایک لمحہ کی دیر بھی نہ لگی کہ ایسے  نیک اور بے لوث انسان کے پاس شیطان نہیں آ سکتا،  نہ اللہ اس کو کسی بُری آزمائش میں ڈال سکتا ہے،  اس نے جو کچھ دیکھا ہے وہ سراسر حقیقت ہے۔ اور یہی معاملہ وَرَقہ میں نَوفَل کا بھی ہے۔ وہ کوئی باہر کے آدمی نہ تھے بلکہ حضور  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اپنی برادری کے آدمی اور قریب کے رشتے سے برادرِ نسبتی تھے۔ پھر ایک ذی علم عیسائی ہونے کی حیثیت سے نبوت اور کتاب اور وحی کی بناوٹ اور تصنع سے مُمیَّز کر سکتے تھے۔ عمر میں کئی سال بڑَ ہونے کی وجہ سے آپ کی پوری زندگی بچپن سے اُس وقت تک ان کے سامنے تھی۔ انہوں نے بھی آپ کی زبان سے حراء کی سرگزشت سنتے ہی فوراً کہہ دیا کہ  یہ آنے والا یقیناً وہی فرشتہ ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر وحی لاتا تھا۔ کیونکہ یہاں بھی وہی صورت پیش آئی تھی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ پیش آئی تھی  کہ انتہائی پاکیزہ سیرت کا سیدھا سادھا انسان بالکل خالی الذہن سے ،  نبوت کی فکر میں رہنا تو درکنار، اس کے حصول کا تصور تک اس کے حاشیہ خیال میں کبھی نہیں آیا ہے۔ اور اچانک وہ پورے ہوش ہو حواس کی حالت میں علانیہ اس تجربے سے دوچار ہوتا ہے۔ اسی چیز نے اُن کو دو اور چار کی طرح بلا ادنیٰ تامل اس نتیجہ تک پہنچا دیا کہ یہاں کوئی فریب نفس یا شیطانی کرشمہ نہیں ہے،  بلکہ اِس سچے انسان نے اپنے کسی ارادے اور خواہش کے بغیر جو کچھ دیکھا ہے وہ دراصل حقیقت ہی کا مشاہدہ ہے۔  یہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی نبوت کا ایک ایسا بین ثبوت ہے کہ ایک حقیقت پسند انسان مشکل ہی سے اس کا انکار  کر سکتا ہے۔ اسی لیے قرآن میں متعدد مقامات پر اسے دلیلِ نبوت کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ مثلاً سورہ یونس میں فرمایا:   قُلْ لَّو شَآءَ اللہُ مَا تَلَوْتُہٗعَلَیْکُمْ وَّ لَآ اَدْرٰکُمْ بِہٖ  فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖٓ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَo (آیت ۱۶) اے نبیؐ ان سے کہو کہ اگر اللہ نے یہ نہ چاہا ہوتا تو  میں کبھی یہ قرآن تمہیں نہ سناتا بلکہ اس کی خبر تک وہ تم کو نہ دیتا۔ آخر میں اس سے پہلے ایک عمر تمہارے درمیان گزار چکا ہوں،  کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے؟ اور سورۂ شوریٰ میں فرمایا: مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتٰبُ وَلَا الْاِیْمَانُ وَلٰکِنْ جَعَلْنٰہُ نُوْرًا نَّھْدِیْ بِہٖ مَنْ  نَّشَآ ءُ مِنْ عِبَادِنَا۔ (آیت ۵۶) اے نبیؐ، تم تو  جانتے تک نہ تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے، مگر ہم نے اس وحی کو ایک نُور بنا دیا  جس سے ہم رہنمائی کرتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، یونس، حاشیہ ۲۱۔ جلد سوم، عنکبوت حواشی ۸۸ تا ۹۲، جلد چہارم، الشوریٰ، حاشیہ ۸۴۔

۱۱۰: یعنی جب اللہ نے یہ نعمت تمہیں بے مانگے عطا  فرمائی ہے تو اس کا حق اب تم پر یہ ہے کہ تمہاری ساری قوتیں اور محنتیں اس کی علمبرداری پر، اس کی تبلیغ پر اور اسے فروغ دینے پر صرف ہوں اس میں کوتاہی کرنے کے معنی یہ ہوں گے کہ تم نے حق کے بجائے منکرینِ حق کی مدد کی۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذ اللہ نبی صلی اللہ  علیہ و سلم سے ایسی کسی کوتاہی کا اندیشہ تھا۔ بلکہ  دراصل اس طرح اللہ تعالیٰ کفار کو سناتے ہوئے اپنے نبی کو یہ ہدایت فرما رہا ہے کہ تم اِن کے شور و غوغا اور ان کی مخالفت کے باوجود اپنا کام کرو اور اس کی کوئی پروا نہ کرو کہ دشمنانِ حق اس دعوت سے اپنے قومی مفاد پر ضرب لگنے کے کیا اندیشے ظاہر کرتے ہیں۔

۱۱۱: یعنی اُن کی تبلیغ و اشاعت سے اور ان کے مطابق عمل کرنے سے۔

۱۱۲: یہ مطلب  بھی ہو سکتا ہے کہ فرمانروائی اسی کے لیے ہے، یعنی وہی اس کا حق رکھتا ہے۔

٭٭٭

ماخذ:

http://www.urduquran.net

http://www.tafheemonline.com/tafheem.asp

http://ur.wikipedia.org

تشکر: سبط الحسین

جمع و ترتیب: سبط الحسین، اعجاز عبید

مزید ٹائپنگ: مخدوم محی الدین، کلیم محی الدین،  عبد الحمید

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید