FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

تفہیم القرآن

 

 

                   مولانا ابو الاعلیٰ مودودی

 

 

۲۲۔ سورۂ التکاثرممممممممممممممممممممحتا  سورۂ الناس

 

 

 

 

 

 

۱۰۲۔سورۃ التکاثر

 

 

نام

 

پہلی آیت کے لفظ التکاثُر کو اس سورۃ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

ابو حَیّان اور شَوکانی کہتے ہیں  کہ یہ تمام مفسّرین کے نزدیک مکّی ہے۔  اور امام سیوطِی کا قول ہے کہ مشہور ترین بات یہی ہے کہ یہ مکّی ہے،  لیکن بعض روایات ایسی ہیں  جن کی بنا پر اسے مدنی کہا گیا ہے،  اور  وہ یہ ہیں :

ابن ابی حاتم نے ابوبُرَیدہؓ  کی روایت نقل کی ہے کہ یہ سورۃ انصا کے دو قبیلوں   بنی حارثہ اور بنی الحرث کے بارے میں  نازل ہوئی۔ دونوں  قبیلوں  کنے ایک دوسرے کے مقابلے میں  پہلے اپنے زندہ آدمیوں  کے مَفاخِر بیان کیے،  پھر قبر ستان جا کر اپنے اپنے مرے ہوئے لوگوں  کے مفاخر پیش کیے۔  اس پر یہ ارشادِ الٰہی نازل  ہوا کہ اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُر۔  لیکن شانِ نزول کے بارے میں  صحابہ و تابعین کا جو طریقہ تھا،  اُس کو اگر نگاہ میں  رکھا جائے تو یہ روایت اِس امر کی دلیل نہیں  ہے کہ سُورۂ تکاثُر اسی موقع پر  نازل ہوئی تھی،  بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اِن دونوں  قبیلوں  کے اِس فعل پر یہ سُورۃ چسپاں  ہوتی ہے۔

امام بخاری اور ابن جریر نے حضرت اُبَیّ بن کعبؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے اِس ارشاد کو کہ  لو ان لابن اٰدم وادیین من مال لتمنّیٰ وادیاً ثالثاً ولا یَمْلَأُ جوف ابن اٰدم الّا التراب (اگر آدم زاد کے پاس دو وادیاں  بھر کر مال ہو تو وہ تیسری وادی کی تمنّا کرے گا۔ ابن آدم کا پیٹ مٹّی کے سوا کسی چیز سے نہیں  بھر سکتا) قرآن میں  سے سمجھتے تھے،  یہاں  تک کہ  اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُر نازل ہوئی۔‘‘ اس حدیث کو سورۂ تکاثر کے مدنی ہونے کی دلیل اس بنا  پر قرار دیا گیا ہے کہ حضرت اُبَیّ مدینے میں  مسلمان ہوئے تھے۔  مگر حضرت اُبَیّ کے اس بیان سے یہ بات واضح نہیں  ہوتی کہ صحابہ کرام کس معنی میں  حضورؐ  کے اس ارشاد کو قرآن میں  سے سمجھتے تھے۔  اگر اس کا مطلب یہ ہو کہ اسے قرآن کی ایک آیت سمجھتے تھے تو یہ بات ماننے کے لائق نہیں  ہے،  کیونکہ صحابہ کی عظیم اکثریت اُس اصحاب پر مشتمل تھی جو قرآن کے حرف حرف سے واقف تھے،  ان کو یہ غلط فہمی کیسے لاحق ہو سکتی تھی کہ یہ حدیث قرآن کی ایک آیت ہے۔  اور اگر قرآن میں  سے ہونے کا مطلب قرآن سے ماخوذ ہونا لیا جائے تو اس روایت کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مدینۂ طیبہ میں  جو اصحاب داخل اسلام ہوئے تھے انہوں  نے جب پہلی مرتبہ حضورؐ کی زبانِ مبارک سے یہ سورۃ سُنی تو انہوں  نے  یہ سمجھا کہ  یہ ابھی نازل ہوئی ہے،  اور پھر حضورؐ کے مذکورۂ بالا ارشاد کے متعلق اُن کو یہ خیال ہوا کہ وہ اِسی سورۃ سے ماخوذ ہے۔

ابن جریر،  ترمذی اور ابن المُنذِر  وغیرہ محدثین نے حضرت علیؓ  کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’ہم عذابِ قبر کے بارے میں  برابر شک میں  پڑے رہے یہاں  تک کہ اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُر نازل ہوئی۔‘‘ اِس کو سُورۂ تکاثر کے مدنی ہونے کے دلیل اس بنا پر قرار دیا گیا ہے کہ عذابِ قبر کا ذکر مدینے ہی میں  ہوا تھا،  مکّہ میں  اس کا کوئی ذکر نہیں  ہوا تھا۔ مگر یہ بات غلط ہے۔  قرآن کی مکّی سورتوں  میں  بکثرت مقامات پر قبر کے عذاب کا ایسے صریح الفاظ میں  ذکر کیا گیا ہے کہ شک کی گنجائش نہیں  رہتی۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو الانعام، آیت ۹۳۔ النحل، ۲۸۔ المومنون ۱۰۰-۹۹۔ المومن ۴۶-۴۵۔ یہ سب مکّی سورتیں  ہیں۔  اس لیے حضرت علیؓ کے ارشاد سے اگر کوئی چیز ثابت ہوتی ہے  تو وہ یہ  ہے کہ مذکورۂ بالا مکّی سورتوں  کے نزول سے پہلے سورۂ تکاثُر نازل ہو چکی تھی،  اور اُس کے نزول نے عذابِ قبر کے بارے میں  صحابہ کے شک کو دور کر دیا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ اِن روایات کے باوجود مفسّرین کی عظیم اکثریت اس کے مکّی ہونے پر متفق ہے۔  ہمارے نزدیک صرف یہی نہیں  کہ یہ مکّی سورۃ ہے،  بلکہ اس کا مضمون اور اندازِ بیان یہ بتا رہا ہے کہ یہ مکّے کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں  میں  سے ہے۔ موضوع اور مضمون  اِس میں  لوگوں  کو اُس دنیا پرستی کے برے انجام سے خبردار کیا گیا ہے  جس کی وجہ سے وہ مرتے دم تک زیادہ سے زیادہ مال و دولت، اور دنیوی فائدے اور لذّتیں  اور جوہ و اقتدار حاصل کرنے اور اُس میں  ایک دوسرے سے بازی لے جانے،  اور انہی چیزوں  کے حصول پر فخر کرنے میں  لگے رہتے ہیں ، اور اِس ایک فکر نے اُن کو اس قدر منہمک کر رکھا ہے کہ انہیں  اس سے بالاتر کسی چیز کی طرف توجہ کرنے کا ہوش ہی نہیں  ہے۔  اِس کے برے انجام پر متنبہ کرنے کے بعد لوگوں  کو یہ بتایا گیا ہے کہ یہ نعمتیں  جن کو تم یہاں  بے فکری کے ساتھ سمیٹ رہے ہو، یہ محض نعمتیں  ہی نہیں  ہیں  بلکہ تمہاری آزمائش کا سامان بھی ہیں۔  ان میں  سے ہر نعمت کے بارے میں  تم کو آخرت میں  جواب دہی کرنی ہو گی۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

تم لوگوں  کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دُوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دھُن نے غفلت میں  ڈال رکھا ہے ۱ یہاں  تک کہ (اِسی فکر میں ) تم لبِ گور تک پہنچ جاتے ہو۔ ۲ ہرگز نہیں،  عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا۔ ۳ پھر (سُن لو کہ) ہرگز نہیں،  عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا۔ ہر گز نہیں،  اگر تم یقینی علم کی حیثیت سے (اِس روش کے انجام کو) جانتے ہوتے (تو تمہارا یہ طرزِ عمل نہ ہوتا)۔ تم دوزخ دیکھ کر رہو گے،  پھر (سُن لو کہ) تم بالکل یقین کے ساتھ اُسے دیکھ لو گے۔  پھر ضرور اُس روز تم سے اِن نعمتوں  کے بارے میں  جواب طلبی کی جائے گی۔ ۴  ؏۱

 

تفسیر

 

۱: اصل میں  اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ فرمایا گیا ہے جس کے معنی میں  اتنی وسعت ہے کہ ایک پوری عبارت میں  بمشکل اس کو ادا کیا جا سکتا ہے۔  اَلْھٰکُمُ    لَہْو سے ہے جس کے اصل معنی غفلت کے ہیں ،  لیکن عربی زبان میں  یہ لفظ ہر اُس شغل کے لیے بولا جاتا ہے جس سے آدمی کی دلچسپی اتنی بڑھ جائے کہ وہ اس میں  مُنہمِک ہو کر دوسری اہم ترین چیزوں  سے غافل ہو جائے۔  اِس مادّے سے جب اَلْھَا کُمْ کا لفظ بولا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ کسی لَہْو نے تم کو اپنے اندر ایسا مشغول کر لیا ہے کہ تمہیں  کسی اور چیز کا،  جو اُس سے اہم تر ہے،  ہوش باقی نہیں  رہا ہے۔  اُسی کی دھُن تم پر سوار ہے۔  اُسی کی فکر میں  تم لگے ہوئے ہو۔ اور اِس اِنہماک نے تم کو بالکل غافل کر دیا ہے۔  تَکاثُر کثرت سے ہے،  اس کے تین معنی ہیں۔  ایک یہ کہ آدمی زیادہ سے زیادہ کثرت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔  دوسرے یہ کہ لوگ کثرت کے حصول میں  ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کریں ۔  تیسرے یہ کہ لوگ ایک دوسرے کے مقابلے میں  اِس بات پر فخر جتائیں  کہ انہیں  دوسروں  سے زیادہ کثرت حاصل ہے۔  پس اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ کے معنی ہوئے کہ تکاثُر نے تمہیں  اپنے اندر ایسا مشغول کر لیا ہے کہ اُس کی دھُن  نے تمہیں   اُس سے اہم تر چیزوں  سے غافل کر دیا ہے۔  اس فقرے میں  یہ تصریح نہیں  کی گئی ہے کہ تکاثُر میں  کس چیز کی کثرت اور اَلْھٰکُمْ میں  کس چیز سے غافل ہو جانا مراد ہے،  اور اَلْھٰکُمْ (تم کو غافل کر دیا ہے ) کے مُخاطَب کون لوگ ہیں۔  اس  عدمِ تصریح کی وجہ سے اِن الفاظ کا اطلاق اپنے وسیع تر ین مفہوم پر ہو جاتا ہے۔  تکاثُر کے معنی محدود نہیں   رہتے  بلکہ دنیا کے تمام فوائد و منافع، سامانِ عیش، اسبابِ لذّت، اور وسائلِ  قوت و اقتدار کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی سعی و جہد کرنا،  ان کے حصول میں  ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا،  اور ایک دوسرے  کے مقابلے میں  ان کی کثرت پر فخر جتانا اُس کے مفہوم میں  شامل ہو جاتا ہے۔  اِسی طرح اَلْھٰکُمْ کے مخاطب بھی محدود نیں و  رہتے بلکہ  ہر زمانے کے لوگ اپنی انفرادی  حیثیت سے بھی اور اجتماعی حیثیت سے بھی اُس کے مُخاطَب ہو جاتے ہیں۔  اس کا مطلب یہ ہو جاتا ہے کہ زیاد ہ سے زیادہ دنیا حاصل کرنے،  اور اس میں  ایک دوسرے سے بڑھ جانے،  اور دوسروں  کے مقابلے میں  اُس پر فخر جتانے کی دھُن افراد پر بھی سوار ہے اور اقوام پر بھی۔ اِسی طرح اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُر میں  چونکہ اس امر کی صراحت نہیں  کی گئی کہ تکاثُر نے لوگوں  کو اپنے اندر منہمک کر کے کس چیز  سے غافل کر دیا ہے، ا س لیے اُس کے مفہوم میں  بھی بڑی وسعت پیدا ہو گئی ہے۔  اس کے معنی  یہ ہیں  کہ لوگوں  کو اِس تکاثُر کی دھُن نے ہر اُس چیز سے غافل کر دیا ہے  جو اس کی بہ نسبت اہم تر ہے۔  وہ خدا سے غافل ہو گئے ہیں،  عاقبت سے غافل ہو گئے ہیں۔  اخلاقی حدود اور اخلاقی ذمّہ داریوں  سے غافل  ہو گئے ہیں۔  حق داروں  کے حقوق اور ان کی ادائیگی  کے معاملہ میں  اپنے فرائض سے غافل ہو گئے ہیں۔  انہیں  معیارِ زندگی بلند کرنے کی فکر ہے،  اِس بات کی کوئی فکر نہیں  کہ معیارِ  آدمیت کس قدر گِر رہا ہے۔  انہیں  زیادہ سے زیادہ دولت چاہیے،  اِس بات کی کوئی پروا نہیں   کہ وہ کس ذریعہ  سے حاصل ہوتی ہے۔  اُنہیں  عیش و عشرت اور جسمانی لذّتوں  کے سامان زیادہ سے زیادہ مطلوب ہیں،  اِس ہوس رانی میں  غرق ہو کر وہ اِس بات سے بالکل غافل ہو گئے ہیں  کہ اِس روش کا انجام کیا ہے۔  انہیں  زیادہ سے زیادہ طاقت، زیادہ سے زیادہ فوجیں،  زیادہ سے زیادہ ہتھیار فراہم کرنے کی فکر ہے،  اور اس معاملہ میں  ان کے درمیان ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی دوڑ  جاری ہے،  اِ س بات کی فکر اُنہیں  نہیں  ہے کہ یہ سب کچھ خدا کی زمین کو ظلم سے بھر دینے اور انسانیت کو تباہ  و برباد کر دینے کا سروسامان ہے۔  غرض تکاثُر کی بے شمار صورتیں  ہیں  جنہوں  نے اشخاص اور اقوام   سب کو اپنے اندر ایسا مشغول کر  رکھا ہے کہ اُنہیں  دنیا اور اس کے فائدوں  اور لذّتوں  سے بالاتر کسی چیز کا ہوش نہیں  رہا ہے۔

۲: یعنی تم اپنی ساری عمر اِسی کوشش میں  کھپا دیتے ہو  اور مرتے دم تک یہ فکر تمہارا پیچھا نہیں  چھوڑتی۔

۳: یعنی تمہیں  یہ غلط فہمی ہے کہ متاعِ دنیا کی یہ کثرت، اور اس میں  دوسروں  سے بڑھ جانا ہی ترقی اور کامیابی ہے۔  حالانکہ یہ ہر گز ترقی اور کامیابی نہیں  ہے۔  عنقریب اِس کا برا انجام تمہیں  معلوم ہو جائے گا اور تم جان لو گے کہ یہ کتنی بڑی غلطی تھی جس میں  تم عمر بھر مبتلا  رہے۔  عنقریب سے مراد آخرت بھی ہو سکتی ہے،  کیونکہ جس ہستی کی نگاہ ازل سے ابد تک تمام زمانوں  پر حاوی ہے،  اس کے لیے چند ہزار یا چند لاکھ سال بھی زمانے کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔  لیکن اس سے مراد موت بھی ہو سکتی ہے،  کیونکہ وہ تو کسی انسان سے بھی کچھ زیادہ دور نہیں  ہے،  اور یہ بات مرتے ہی انسان پر کھل جائے گی کہ جن مشاغل میں  وہ اپنی ساری عمر کھپا  کر آیا ہے و ہ اس کے لیے سعادت و خوش بختی کا ذریعہ تھے یا  بد انجامی و بدبختی کا ذریعہ۔

۴: اس فقرے میں   ’’پھر‘‘ کا لفظ اس معنی میں  نہیں  ہے کہ دوزخ میں  ڈالے جانے کے بعد جواب طلبی کی جائے گی۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر یہ خبر بھی ہم تمہیں  دیے دیتے ہیں  کہ تم سے اِن نعمتوں  کے بارے میں  سوا ل کیا جائے گا۔ اور ظاہر ہے کہ یہ سوال عدالتِ الٰہی میں  حساب لینے کے وقت ہو گا۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ متعدد احادیث میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے یہ بات منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں  بندوں  کو دی ہیں  ان کے بارے میں  جواب دہی مومن و کافر سب ہی کو کرنی ہو گی۔ یہ الگ بات ہے کہ جن لوگوں  نے کُفرانِ نعمت نہیں  کیا اور شکر گزار بن کر رہے  وہ اس محازبہ میں  کامیاب رہیں  گے،  اور جن لوگوں  نے اللہ کی نعمتوں  کا حق ادا نہیں  کیا اور اپنے قول یا عمل سے،  یا دونوں  سے ان کی ناشکری کی وہ اس میں  ناکام ہوں  گے۔  حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم ہمارے ہاں  تشریف لائے اور ہم نے آپ کو ترو تازہ کھجور یں  کھلائیں  اور ٹھنڈا پانی پلایا۔ اس پر حضور ؐ نے فرمایا’’ یہ اُن نعمتوں  میں  سے ہیں  جن کے بارے میں  تم سے سوال کیا جائے گا۔‘‘(مُسند احمد، نَسائی، ابن جَرِیر، ابن المُنذیر، ابن مَرْدُوْیَہ، عبد بن حُمَید، بَیْہَقِی فی الشعب)۔ حضرت ابو ہریرہ  کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر سے کہا کہ چلو ابو الہَیشَم بن الَّیہان انصاری کے ہاں  چلیں۔  چنانچہ ان کو لے کر آپ  ابن التیہان کے نخلستان میں  تشریف لے گئے۔  انہوں  نے لا کر کھجوروں  کا ایک خوشہ رکھ دیا۔ حضور ؐ نے فرمایا تم خود کیوں  نہ کھجوریں  توڑ لائے ؟ انہوں  نے عرض کیا، میں  چاہتا تھا کہ آپ حضرات خود چھانٹ چھانٹ کر کھجوریں  تناول فرمائیں۔  چنانچہ انہوں  نے کھجوریں  کھائیں  اور ٹھنڈا پانی پیا۔ فارغ ہونے کے بعد حضور ؐ نے فرمایا’’اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں  میری جان ہے،  یہ ان نعمتوں  میں  سے ہے جن کے بارے میں  تمیںر قیامت کے روز جواب دہی کر نی ہو گی، یہ ٹھنڈا  سایہ، یہ ٹھنڈی کھجوریں،  یہ ٹھنڈا پانی‘‘(اِس قصے کو مختلف طریقوں  سے مسلم، ابن ماجہ، ابو داؤد، تِرْمذِی، نَسائی، ابن جریر اور ابو یَعلیٰ وغیرہم نے حضرت ابوہریرہ سے نقل کیا ہے جن میں  سے بعض میں  اُن انصاری بزرگ کا نام لیا گیا ہے اور بعض میں  صرف انصار میں  سے ایک شخص کہا گیا ہے۔  اس قصّے کو مختلف طریقوں  سے  متعدد تفصیلات کے ساتھ ابن ابی حاتم نے حضرت عمر سے،  اور امام احمد نے ابو عسیب،  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے آزاد کردہ غلام سے نقل کیا ہے۔  ابن حِبّان اور ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے ایک روایت نقل کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قریب قریب اسی طرح کا واقعہ حضرت ابو ایوب انصاری کے ہاں  پیش آیا تھا)۔ اِن احادیث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سوال صرف کفّار ہی سے نہیں ،  مومنین صالحین سے بھی ہو گا۔ رہیں  خدا کی وہ نعمتیں  جو اُس نے انسان کو عطا کی ہیں ،  تو وہ لامحدود ہیں،  اُن کا کوئی شمار نہیں  کیا جا سکتا، بلکہ بہت سی نعمتیں  تو ایسی ہیں  کہ انسان کو اُن کی خبر بھی نہیں  ہے۔  قرآن مجید میں  فرمایا گیا ہے کہ وَاِنْ تَعُدُّوْ ا نَعْمَتَ اللہِ لَا تُحْصُوْ ھَا، ’’اگر تم اللہ کی نعمتوں  کو گِنو تو تم اُن کا پورا شمار نہیں  کر سکتے ‘‘(ابراہیم ۳۴)۔ اِن نعمتوں  میں  سے بے حد و حساب نعمتیں  تو  وہ ہیں  جو اللہ تعالیٰ نے براہِ را است انسان کو عطا کی ہیں،  اور  بکثرت نعمتیں  وہ ہیں  جو  انسان  کو اُس کے اپنے کسب کے ذریعہ سے دی جاتی ہیں ۔  انسان کے کسب سے حاصل ہونے والی نعمتوں  کے متعلق اُس کو جواب دہی کرنی پڑے گی کہ اس نے ان کو کن طریقوں  سے حاصل کیا اور کن راستوں  پر خرچ کیا۔ اللہ تعالیٰ کی براہِ راست عطا کردہ نعمتوں  کے بارے میں  اُسے حساب دینا ہو گا کہ اُن کو اُس نے کس طرح استعمال کیا۔  اور مجموعی طور پر تمام نعمتوں  کے متعلق اُس کو بتانا پڑے گا کہ آیا اُس نے اِس امر کا اعتراف کیا تھا کہ یہ نعمتیں  اللہ کی عطا کردہ ہیں  اور ان پر دل،  زبان اور عمل سے اُس کا شکر ادا کیا تھا؟ یا یہ سمجھا تھا کہ  یہ سب کچھ اُسے اتفاقاً  مل گیا ہے ؟  یا یہ خیال کیا تھا کہ بہت سے خدا ان کے عطا کرنے والے ہیں ؟ یا یہ عقیدہ رکھا تھا کہ یہ ہیں  تو خدا ہی کی نعمتیں  مگر ان کے عطا کرنے میں  بہت سی دوسری ہستیوں  کا بھی دخل ہے اور اِس بنا پر اُنہیں  معبود ٹھیرا لیا تھا اور اُنہی کے شکریے  ادا کیے تھے ؟

 

 

 

۱۰۳۔سورۃ العصر

 

نام

 

پہلی آیت کے لفظ العَصْر کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

اگرچہ مجاہد،  قتادہ اور مقاتل نے اسے مدنی کہا ہے،  لیکن مفسرین کی عظیم اکثریت اسے مکّی قرار دیتی ہے۔  اور اس کا مضمون یہ شہادت دیتا ہے کہ یہ مکّہ کے بھی ابتدائی دور میں  نازل ہوئی  ہو گی۔ جب اسلام کی تعلیم کو  مختصر اور انتہائی دلنشین فقروں  میں  بیان کیا جاتا تھا، تا کہ سُننے والے ایک دفعہ اُن کو سُن کر  بھُولنا بھی چاہیں  تو نہ بھول سکیں۔  اور وہ آپ سے آپ لوگوں  کی زبانوں  پر چڑھ جائیں۔

 

موضوع اور مضمون

 

یہ سورۃ جامع اور مختصر کلام کا بے نظیر نمونہ ہے۔  اِس کے اندر چند جَچے تُلے الفاظ میں  معنی کی ایک دُنیا بھر دی گئی ہے جس کو بیان کرنے کا حق ایک پوری کتاب میں  بھی مشکل سے ادا کیا جا سکتا ہے۔  اس میں  بالکل دو ٹوک طریقہ سے بتا دیا گیا ہے کہ انسان کی فلاح کا راستہ کون سا ہے اور اس کی تباہی و بربادی کا راستہ کون سا۔ امام شافعی بہت صحیح کہا ہے کہ  اگر لوگ اِس سورۃ پر غور کریں  تو  یہی ان کی ہدایت کے لیے کافی ہے۔  صحابۂ کرام کی نگاہ میں  اس کی اہمیت کیا تھی، اُس کا اندازہ اِ س بات سے کیا جا سکتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن حِصْن الدّارِمی ابو مدینہ کی روایت کے مطابق  اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم  میں  سے جب دو آدمی ایک دوسرے سے ملتے تو اُس وقت تک جدا نہ ہوتے جب تک ایک دوسرے کو سُورۃ عصر نہ سُنا لیتے (طَبَرانی)۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

زمانے کی قسم، انسان درحقیقت بڑے خسارے میں  ہے،  سوائے اُن لوگوں  کے جو ایمان لائے،  اور نیک اعمال کرتے رہے،  اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔  ۱  ؏۱

 

تفسیر

 

۱: اِس سُورۃ میں  زمانے کی قسم اِس بات پر کھائی گئی ہے کہ  اِنسان بڑے خَسارے میں  ہے،  اور اِس خسارے سے صرف وہی لوگ بچے ہوئے ہیں  جن کے اندر چار صفتیں  پائی جاتی ہیں : (۱) ایمان۔ (۲) عملِ  صالح۔ (۳) ایکدوسرے کو حق کی نصیحت کرنا۔ (۴) ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرنا۔ اب اس بات ایک ایک جُز کو الگ لے کر اِس پر غور کرنا چاہیے تاکہ اس ارشاد کا پُورا مطلب واضح ہو جائے۔  جہاں  تک قسم کا تعلق ہے اِس سے پہلے   بارہا ہم اس بات  کی وضاحت کر چکے ہیں  کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوقات میں  سے کسی چیز کی قسم اُس کی عظمت یا اُس کے کمالات و عجائب کی بنا پر نہیں  کھائی ہے،  بلکہ اِس بنا پر کھائی ہے کہ وہ اِس بات پر دلالت کرتی ہے جسے ثابت کرنا مقصود ہے۔  پس زمانے کے قسم کا مطلب یہ ہے کہ  زمانہ اِس حقیقت پر گواہ ہے کہ انسان بڑے خَسارے میں  ہے سوائے اُن لوگوں  کے جن میں  یہ چار صفتیں  پائی جاتی ہوں۔  زمانے کا لفظ گُزرے ہوئے زمانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے،  اور گُزرتے ہوئے زمانے کے لیے بھی جس میں  حال درحقیقت کسی لمبی مُدّت کا نام نہیں  ہے۔  ہر آن گُزر کر ماضی بنتی چلی جا رہی ہے۔  اور ہر آن آ کر مُستقبل کو حال اور جا کر حال کو ماضی کو بنا رہی ہے۔  یہاں  پر چونکہ مطلقاً زمانے کے قسم کی کھائی گئی ہے،  اس لیے دونوں  طرح کے زمانے اس کے مفہوم میں  شامل ہیں۔  گُزرے ہوئے زمانے کے قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ انسانی تاریخ اِس بات پر شہادت دے رہی ہے کہ جو لوگ بھی اِن صفات سے خالی تھے وہ بالآخر خَسارے میں  پڑ کر رہے۔  اور گزرتے ہوئے زمانے کا مطلب سمجھنے کے لیے  پہلے یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ جو زمانہ اب گزر رہا ہے وہ دراصل وہ وقت ہے  جو ایک ایک شخص اور ایک ایک قوم کو دُنیا میں  کام کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔  اس کی مثال اُس وقت کی سی ہے جو امتحان گاہ میں  طالب علم کو پرچے حل کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔  یہ وقت جس تیز رفتاری کے ساتھ گُزر رہا ہے اس کا اندازہ تھوڑی دیر کے لیے اپنی گھڑی میں  سیکنڈ کی سُوئی کو حرکت کرتے ہوئے دیکھنے سے آپ کو ہو جائے گا۔ حالانکہ ایک سیکنڈ بھی وقت کی بہت بڑی مقدار ہے اِسی ایک سیکنڈ میں  روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کا راستہ طے کر لیتی ہے،   اور خدا کی خدائی میں  بہت سی چیزیں  ایسی بھی ہو سکتی ہیں  جو اِس سے بھی زیادہ تیز رفتار ہوں  خواہ  وہ  ابھی  تک ہمارے علم میں  نہ آئی ہوں۔  تاہم اگر وقت کے گزرنے کی رفتار وہی سمجھ لی جائے جو گھڑی میں  سیکنڈ کی سُوئی کے چلنے سے ہم کو نظر آتی ہے،   اور اس بات پر غور کیا جائے کہ ہم جو کچھ بھی اچھا یا بُرا فعل کرتے ہیں  اور جن کاموں  میں  بھی ہم مشغول رہتے ہیں ،  سب کچھ اُس محدود مُدّت عمر ہی میں   وقوع پذیر ہوتا ہے جو دُنیا میں  ہم کو کام کرنے کے لیے دی گئی ہے،  تو ہمیں  محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا اصل سرمایہ  تو یہی وقت ہے جو تیزی سے گُزر رہا ہے۔  امام رازی نے کسی بزرگ کا قول نقل کیا ہے کہ” میں  نے سُورۂ عصر کا مطلب ایک برف فروش  سے سمجھا جو بازار میں  آواز لگا رہا تھا رحم کرو اُس شخص پر جس کا سرمایہ گھُلا جا رہا ہے،  رحم کرو اُس شخص پر جس کا سرمایہ گھُلا جا رہا ہے۔  اُس کی یہ بات سُن کر میں  نے کہا یہ ہے   وَالْعَصْرِ،  اِنَّ الاِنْسَانَ لَفِی خُسْرٍ  کا مطلب۔ عمر کی جو مدّت انسان کو دی گئی ہے وہ برف کے گھُلنے  کی طرح تیزی سے گزر رہی ہے۔  اِس کو اگر ضائع کیا جائے،  یا غلط کاموں  میں  صرف کر ڈالا جائے تو یہی انسان کا خسارہ ہے۔ ” پس گزرتے ہوئے زمانے کی قسم کھا کر جو بات اِس سورہ میں  کی گئی ہے،  اس کی معنی یہ ہیں  کہ یہ تیز رفتار زمانہ شہادت دے رہا ہے کہ اِن چار صفات سے خالی ہو کر انسان  جن کاموں  میں  بھی اپنی مہلتِ عُمر کو صَرف کر رہا ہے وہ سب کے سب خَسارے کے سودے ہیں۔   نفع میں   صرف وہ لوگ ہیں  جو ان چاروں  صفات سے متصف ہو کر دُنیا میں  کام کریں۔  یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ہم اُس طالبِ علم سے جو امتحان کے مقررہ وقت کو اپنا  پرچہ حل کرنے کے بجائے کسی اور کام میں  گزار رہا ہو، کمرے کے اندر لگے ہوئے ایک گھنٹے کی طرف اشارہ کر کے کہیں   کہ یہ گزرتا ہوا وقت بتا رہا ہے کہ تم اپنا نقصان کر رہے ہو، نفع میں  صرف وہ طالب علم ہے جو اُس وقت کا ہر لمحہ اپنا پرچہ  حل کرنے میں  صرف کر رہا ہے۔  انسان کا لفظ اگر چہ واحد ہے،  لیکن بعد کے فقرے میں  اس سے اُن لوگوں  کو مستثنیٰ کیا گیا ہے جو چار صفات سے متصف ہوں،  اِس لیے لا محالہ یہ ماننا پڑے گا کہ  یہاں  لفظ انسان اسمِ جنس کے طور پر استعمال کیا گیا ہے اور اس کا اطلاق  افراد، گروہوں،  اقوام، اور پوری نوعِ انسانی پر یکساں  ہوتا ہے۔  پس یہ حکم کہ مذکورہ چار صفات سے جو بھی خالی ہو وہ خسارے میں  ہے،  ہر حالت میں  ثابت ہو گا، خواہ ان سے خالی کوئی شخص ہو، یا کوئی قوم، یا دنیا بھر کے انسان۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے  جیسے ہم اگر یہ حکم لگائیں  کہ زہر انسان کے لیے مہلک ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ زہر بہرحال مہلک ہے خواہ ایک فرد اس کو کھائے،  یا ایک پوری قوم، یا ساری دُنیا کے انسان مل کر اِسے کھا جائیں۔  زہر کی مہلک خاصیت اپنی جگہ اَٹل ہے،  اس میں  اس لحاظ سے کوئی فرق نہیں  پڑتا کہ ایک شخص نے اس کو کھایا ہے،   یا ایک قوم نے اِسے کھانے کا فیصلہ کیا ہے،  یا دُنیا بھر کے انسانوں  کا اجماع اس پر ہو گیا ہے کہ زہر کھانا چاہیے۔  ٹھیک اسی طرح یہ بات اپنی جگہ اَٹل ہے کہ چار مذکورہ بالا صفات سے خالی ہونا انسان کے لیے خَسارے کا موجب ہے۔  اِس قاعدہ کلیہ میں  اس بات سے کوئی فرق نہیں  پڑتا  کہ کوئی ایک شخص ان سے خالی ہے،  یا کسی قوم نے،  یا دُنیا بھر کے انسانوں  نے کُفر، بد عملی، اور ایکدوسرے کو باطل کی ترغیب دینے اور بندگی  نفس کے تلقین کر نے پر  اتفاق کر لیا ہے۔  اب یہ دیکھیے کہ خَسارے کا لفظ قرآن مجید کس معنی میں  استعمال کرتا ہے۔  لُغت کے اعتبار سے خَسارہ نفع کی ضد ہے اور تجارت  میں  اس لفظ کا  استعمال اس حالت میں  بھی ہوتا ہے جب کسی ایک سودے میں  گھاٹا آئے،  اور اُس حالت میں  بھی جب سارا کاروبار گھاٹے میں  جا رہا ہو اور اُس حالت میں  بھی جب اپنا سارا سرمایہ کھو کر آدمی دیوالیہ ہو جائے۔  قرآن مجید اِسی لفظ کو اپنی خاص اصطلاح بنا کر فلاح کے مقابلے میں  استعمال کرتا ہے،  اور جس طرح اُس کا تصورِ  فلاح محض دنیوی خوشحالی کا ہم معنی نہیں  ہے  بلکہ دنیا سے لے کر آخرت تک انسان کی حقیقی کامیابی پر حاوی ہے،  اسی طرح اُس کا تصورِ خَسران بھی محض دنیوی ناکامی یا خستہ حالی کا ہم معنی نہیں  ہے بلکہ دُنیا سے لے کر آخرت تک انسان کی حقیقی ناکامی و نا مرادی پر حاوی ہے۔  فلاح اور خُسران،  دونوں  کے قرآنی تصور کی تشریح اِس سے پہلے ہم متعدد مقامات پر کر چکے  ہیں  اِس لیے ان کے اعادے کی حاجت نہیں  ہے (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ۹۔ الانفال، حاشیہ۳۰۔ یونس،  حاشیہ۲۳۔ بنی اسرائیل، حاشیہ ۱۰۲۔ جلد سوم، الحج، حاشیہ ۱۷۔ المومنون، حواشی ۵۰-۱۱-۲-۱۔ جلد چہارم، لقمان، حاشیہ ۴۔ الزمر، حاشیہ ۳۴)۔ اس کے ساتھ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اگرچہ قرآن کے نزدیک حقیقی فلاح آخرت  میں  انسان کی کامیابی،  اور حقیقی خسارہ وہاں  اُس کی ناکامی ہے،  لیکن اس دنیا میں  بھی جس چیز  کا نام لوگوں  نے فلاح رکھ چھوڑا ہے وہ دراصل فلاح نہیں  ہے بلکہ اس کا انجام خود اسی دنیا میں  خسارہ ہے،  اور جس چیز کو لوگ خسارہ سمجھتے ہیں  وہ دراصل خسارہ نہیں  ہے بلکہ اس دنیا میں  بھی وہی فلاح کا ذریعہ ہے۔  اِس حقیقت کو قرآن مجید میں   کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے اور ہر جگہ ہم نے اِس کی تشریح کر دی ہے۔ ( ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، النحل، حاشیہ ۹۹۔ جلد سوم، مریم، حاشیہ ۵۳۔ طٰہٰ،  حاشیہ ۱۰۵۔ جلد ششم، الیل، حواشی ۵-۳)۔ پس جب قرآن پورے زور اور قطعیّت کے ساتھ کہتا کہ ’’درحقیقت انسان بڑے خسارے میں  ہے ‘‘، تو اِس کا مطلب  دنیا اور آخرت دونوں  کا خسارہ ہے،  اور جب وہ کہتا ہے کہ اِس خسارے سے صرف وہ لوگ بچے ہوئے ہیں  جن کے اندر حسبِ ذیل چار صفات پائی جاتی ہیں ،  تو  اس کا مطلب دونوں  جہانوں  میں  خسارے سے بچنا اور فلاح پانا ہے۔  اب ہمیں  اُن چاروں  صفات کو دیکھنا چاہیے  جن کے پائے جانے پر اِس سورۃ کی روسے انسان کا خسارے سے محفوظ رہنا موقوف ہے۔  ان میں  پہلی صفت ایمان ہے۔  یہ لفظ اگرچہ بعض مقامات پر قرآن مجید میں  محض زبانی اقرارِ ایمان کی معنی میں  بھی استعمال کیا گیا ہے۔  (مثلاً النساء، آیت ۱۳۷۔ المائدہ، آیت۵۴۔ الاَنفال، آیت۲۰، ۲۷۔ التوبہ، آیت۳۸۔ اور الصّف، آیت ۲ میں )، لیکن اِس کا اصل استعمال سچے دل سے ماننے اور یقین کرنے کے معنی ہی میں  کیا گیا ہے،  اور عربی زبان میں  بھی اِس لفظ کے یہی معنی ہیں۔ لُغت میں  اٰمَنَ لَہٗ کے معنی ہیں  صَدَّقَہٗ وَا عْتَمَدَ عَلَیْہِ (اس کی تصدیق کی اور اُس پر اعتماد کیا) اور اٰمَنَ بِہِ کے معنی ہیں  اَیْقَنَ بِہِ (اُس پر یقین کیا)۔ قرآن دراصل جس ایمان کو حقیقی ایمان قرار دیتا ہے،  اُس کو اِن آیات میں  پوری طرح واضح کر دیا گیا ہے : اِنَّمَا الْمُؤْ مِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ا بِا للہِ وَرَسُوْلِہِ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا۔ (الحجرات۔ ۱۵) مومن تو حقیقت میں  وہ ہیں  جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر شک میں  نہ پڑے۔  اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْتَقَا مُوْا۔ (حٰم السجدۃ۔۳۰) جن لوگوں  نے کہا کہ ہمارا ربّ اللہ ہے اور پھر اس پر ڈٹ گئے۔  اِنَّمَا الْمُؤْ مِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللہُ  وَجِلَتْ قُلُوْبھُمْ۔ ا(الانفال۔ ۲) مومن تو حقیقت میں  وہ ہیں  کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل لرز جاتے ہیں۔  وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَشَدُّ حُبّاً لِلّٰہِ۔ (البقرۃ۔۱۶۵) اور جولوگ ایمان لائے ہیں  وہ سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت رکھتے ہیں۔  فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّیٰ یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسھِِمْ حَرَجاً مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْماً۔ (النسآء۔۶۵) پس نہیں،  (اے نبی) تمہارے ربّ کی قسم وہ ہرگز مومن نہیں  ہیں  جب تک کہ اپنے باہمی اختلاف میں  تمہیں  فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں،  پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اُس پر اپنے دلوں  میں  بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں  بلکہ سر بسر تسلیم کر لیں۔  اِن سے بھی زیادہ اِس آیت میں  زبانی اقرارِ ایمان اور حقیقی ایمان کا فرق ظاہر کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اصل مطلوب  حقیقی ایمان ہے نہ کہ زبانی اقرار: یٰآَ یّھُا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْ بِا للہِ وَ رَسُوْلِہٖ۔ (النسآء ۱۳۶) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر۔ اب رہا یہ سوال کہ ایمان لانے سے کن چیزوں  پر ایمان لانا مراد ہے،  تو قرآن مجید میں  پوری طرح اِس بات کو بھی کھول کھول کر بیان کر دیا گیا ہے۔  اِس سے مراد اوّؔ لاً،  اللہ کو ماننا ہے۔  محض اُس کے وجود کو ماننا نہیں  بلکہ اُسے اِس حیثیت سے ماننا ہے کہ وہی ایک خدا ہے۔  خدائی میں  کوئی اس کا شریک نہیں  ہے۔  وہی اِس کا مستحق ہے کہ انسان اُ س کی عبادت، بندگی اور اطاعت بجا لائے۔  وہی قسمتیں  بنانے اور بگاڑنے والا ہے۔  بندے کو اسی سے دعا مانگنی چاہیے اور اسی پر توکُّل کرنا چاہیے۔  وہی حکم دینے اور منع کرنے والا ہے۔  بندے کا فرض ہے کہ اُس کے حکم کی اطاعت کرے اور جس چیز سے اُس نے منع فرمایا ہے اُس سے رُک جائے۔  وہ سب کچھ دیکھنے والا اور سننے والا ہے۔  اُس سے انسان کا کوئی فعل تو درکنار، وہ مقصد اور نیّت بھی مخفی نہیں  ہے جس کے ساتھ اُس نے کوئی فعل کیا ہے۔   ثاؔنیاً،  رسول کو ماننا، اِس حیثیت سے کہ وہ اللہ کا مامور کیا ہوا ھادی و رہنما ہے،  اور جس چیز کی تعلیم بھی اُس نے دی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے،  بر حق ہے اور واجب التسلیم ہے۔  اِسی ایمان بالر سالت میں  ملائکہ، انبیاء اور کُتُب الہٰیّہ پر، اور خود قرآن پر بھی ایمان لانا شامل ہے،  کیونکہ یہ اُن تعلیمات میں  سے ہے جو اللہ کے رسول نے دی ہیں۔  ثاؔلثاً، آخرت کو ماننا، اِس حیثیت سے کہ انسان کی موجودہ زندگی پہلی اور آخری زندگی نہیں  ہے،  بلکہ مرنے کے بعدانسان کو دوبارہ زندہ  ہو کر اُٹھنا ہے،  اپنے اُن اعمال کا جو اُس نے دنیا کی اِس زندگی میں  کیے ہیں  خدا کو حساب دینا ہے،  اور اِس مُحاسبہ  میں  جو لوگ نیک قرار پائیں  انہیں  جزا،  اور جو بد قرار پائیں  اُن کو سزا ملنی ہے۔  یہ ایمان اخلاق اور سیرت و کردار کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر دیتا ہے جس پر ایک پاکیزہ زندگی کی عمارت قائم ہو سکتی ہے۔  ورنہ جہاں  سرے سے یہ ایمان ہی موجود نہ ہو وہاں  انسان کی زندگی خواہ کتنی ہی خوشنما  کیوں  نہ ہوں،  اُس کا حال  ایک بے لنگر کے جہاز کا سا ہوتا ہے جو موجوں  کے ساتھ بہتا چلا جاتا ہے اور کہیں  قرار نہیں  پکڑ سکتا۔ ایمان کے بعد دوسری صفت جو انسان کو خسارے سے بچانے کے لیے ضروری ہے وہ صالحات (نیک کاموں  ) پر عمل کرنا ہے۔  صالحات کا لفظ تمام نیکیوں کا جامع ہے جس سے نیکی اور بھلائی کی کوئی قسم چھُوٹی  نہیں  رہ جاتی۔ لیکن قرآن مجید کی رو سے کوئی عمل بھی اُس وقت تک عملِ  صالح نہیں  ہو سکتا  جب تک اُس کی جڑ میں  ایمان موجود نہ ہو،  اور وہ اُس ہدایت کی پیروی میں  نہ کیا جائے جو اللہ اور اس کے رسول نے دی ہے۔  اِسی لیے قرآن مجید میں  ہر جگہ عملِ صالح سے پہلے ایمان کا ذکر کیا گیا ہے اور اِس سورہ میں  بھی اُس کا ذکر ایمان کے بعد ہی آیا ہے۔  کسی ایک جگہ بھی قرآن میں  ایمان کے بغیر کسی عمل کو صالح نہیں  کہا گیا ہے اور نہ عمل بلا ایمان پر کسی اجر کی امید دلائی گئی ہے۔  دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقیت ہے کہ ایمان وہی معتبر اور مفید ہے جس کے صادق ہونے کا ثبوت انسان اپنے عمل سے پیش کرے۔  ورنہ ایمان بلا عملِ صالح محض ایک دعویٰ ہے جس کی تردید  آدمی خود ہی کر دیتا ہے جب وہ ایس دعوے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقے سے ہٹ کر چلتا ہے۔  ایمان اور عملِ صالح کا تعلق بیج اور درخت کا سا ہے۔  جب تک بیج زمین میں  نہ ہو، کوئی درخت پیدا نہیں  ہو سکتا۔ لیکن اگر بیج زمین میں  ہو اور کوئی درخت پیدا نہ ہو رہا ہو تو اس کے معنی یہ ہیں  کہ بیج زمین میں  دفن ہو کر رہ گیا۔ اِسی بنا پر قرآن پاک میں  جتنی بشارتیں  بھی دی گئی ہیں  اُنہی لوگوں  کو دی گئی ہیں  جو ایمان لا کر عملِ صالح کریں،  اور یہی بات اِس سورہ میں  کہی گئی ہے کہ انسان کو خسارے سے بچانے کے لیے جو دوسری صفت ضروری ہے وہ ایمان کے بعد صالحات پر عمل کرنا ہے۔  بالَفاظِ دیگر عملِ صالح کے بغیر  محض ایمان آدمی کو خسارے سے نہیں  بچا سکتا۔ مذکورۂ بالا دو صفتیں  تو وہ  ہیں  جو ایک ایک فرد  میں  ہونی چاہئیں۔  اِس کے بعد سورۃ دو مزید صفتیں  بیان کرتی ہے جو خسارے سے بچنے کے لیے ضروری ہیں،  اور وہ یہ ہیں  کہ  یہ ایمان لانے اور عملِ صالح کرنے والے لوگ ایک دوسرے کو حق کی نصیحت  اور صبر کی تلقین کریں۔  اِس کے معنی یہ ہیں  کہ اول تو ایمان لانے  اور نیک عمل کرنے والوں  کو فرد فرد بن کر نہیں  رہنا چاہیے بلکہ اُن کے اجتماع سے ایک مومن معاشرہ وجود میں  آنا چاہیے۔  دوسرے،  اِس معاشرے کے ہر فرد کو اپنی یہ ذمّہ داری محسوس کرنی چاہیے کہ وہ معاشرے کو بگڑنے نہ دے،  اس لیے اُس کے تمام افراد پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو حق اور صبر کی تلقین کریں۔  حق کا لفظ باطل کی ضد ہے اور بالعموم یہ دو معنوں  میں  استعمال ہوتا ہے۔  ایک، صحیح اور سچّی اور مطابقِ عدل و انصاف اور مطابقِ حقیقت بات، خواہ وہ عقیدہ و ایمان سے تعلق رکھتی  ہو یا دنیا  کے معاملات سے۔  دوسرے،  وہ حق جس کا ادا کرنا انسان پر واجب ہو، خواہ خدا کا حق ہو یا بندوں  کا حق یا خود اپنے نفس کا حق۔ پس ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ ایمان کا  یہ معاشرہ ایسا بے حس نہ ہو کہ اُس میں  باطل سر اٹھا رہا ہو اور حق کے خلاف کام کیے جا رہے ہوں ،  مگر لوگ خاموشی کے ساتھ اس کا تماشا دیکھتے رہیں،  بلکہ اس معاشرے میں  یہ روح جاری و ساری رہے کہ جب اور جہاں  بھی باطل سر اٹھائے کلمۂ حق کہنے والے اس کے مقابلے میں  اٹھ کھڑے ہوں ،  اور معاشرے کا ہر فرد صرف خود ہی حق پرستی اور راستبازی اور عدل و انصاف پر قائم رہنے اور حق داروں  کے حقوق ادا کرنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ دوسروں  کو بھی اِس طرزِ عمل کی نصیحت کرے۔  یہ وہ چیز ہے جو معاشرے کو اخلاقی زوال  و انحطاط سے بچانے کا ضامن ہے۔  اگر یہ روح کسی معاشرے میں  موجود نہ رہے تو وہ خُسران سے نہیں  بچ سکتا اور اِس خُسران میں  وہ لوگ بھی آخر کار مبتلا ہو کر رہتے ہیں  جو اپنی جگہ حق پر قائم ہوں  مگر اپنے معاشرے میں  حق کو پامال ہوتے دیکھتے  رہیں۔  یہی بات ہے جو سورۂ مائدہ میں  فرمائی گئی ہے کہ بنی اسرائیل پر حضرت داؤد ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی  اور ایس لعنت کی وجہ یہ تھی کہ اُن کے معاشرے میں  گناہوں  اور زیادتیوں  کا ارتکاب عام ہو رہا تھا اور لوگوں  نے ایک دوسرے کو برے افعال سے روکنا چھوڑ دیا تھا (آیات ۷۹-۷۸)۔  پھر اِسی بات کو سورۂ اَعراف میں  اِس طرح بیان فرمایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل نے جب کھلم کھلا سَبْت کے احکام کی خلاف ورزی کر کے مچھلیاں  پکڑنی شروع کر دیں   تو اُن پر عذاب نازل کر دیا گیا اور اُس عذاب سے صرف وہی لوگ بچائے گئے جو اِس گناہ سے روکنے کی کوشش کرتے تھے۔  (آیات ۱۶۳ تا ۱۶۶)۔ اور اِسی بات کو سورۂ اَنفال میں  یوں  بیان کیا گیا ہے کہ بچو اُس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف اُنہی لوگوں  تک محدود نہ رہے گی جنہوں  نے تم میں  سے گناہ کیا ہو(آیت۲۵)۔ اِسی لیے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو امتِ  مسلمہ کا فریضہ قرار دیا گیا ہے۔  (آلِ عمران ۱۰۴) اور اُس امت کو بہترین اُمت کہا گیا ہے جو یہ فریضہ انجام دے (آلِ عمران ۱۱۰)۔ حق کی نصیحت کے ساتھ دوسری چیز جو اہلِ ایمان اور اُن کے معاشرے کو خسارے سے بچانے کے لیے شرط لازم قرار دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اِس معاشرے کے افراد ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے رہیں۔  یعنی حق کی پیروی اور اس کی حمایت میں  جو مشکلات پیش آتی ہیں ،  اور اِس راہ میں  جن تکالیف سے،  جن مشقتوں  سے،  جن مصائب سے،  اور جن نقصانات اور محرومیوں  سے انسان کو سابقہ پیش آتا ہے ان کے مقابلے میں  وہ ایک دوسرے کو ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتے رہیں۔  اُن کا ہر فرد دوسرے کی ہمّت بندھاتا رہے کہ وہ اِن حالات کو صبر کے ساتھ برداشت کرے۔  (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، الدَّھر، حاشیہ ۱۶۔ البَلَد، حاشیہ۱۴)۔

 

 

 

۱۰۴۔سورۃ الھمزۃ

 

نام

 

پہلی آیت کے لفظ ھُمَزَہ کو اس سورے کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

اس کے مکّی ہونے پر تمام مفسّرین کا اتفاق ہے۔  اور اس کے مضمون اور اندازِ بیان پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ بھی مکّہ کے ابتدائی  دور میں  نازل ہونے والی سورتوں  میں  سے ہے۔

 

موضوع اور مضمون

 

اِس میں  چند ایسی  اخلاقی برائیوں  کی مذمت کی گئی ہے جو جاہلیت کے معاشرے میں  زرپرست مالداروں  کے اندر پائی جاتی تھیں،  جنہیں  ہر عرب جانتا تھا کہ یہ برائیاں  فی الواقع اُس کے معاشرے میں  موجود ہیں،  اور جن کو سب ہی برا سمجھتے تھے،  کسی کا بھی یہ خیال نہ تھا کہ یہ کوئی خوبیاں  ہیں۔  اِس گھناؤنے کردار کو پیش کرنے کے بعد یہ بتایا گیا ہے کہ آخرت میں  اُن لوگوں  کا کیا انجام ہو گا جن کا یہ کردار ہے۔  یہ دونوں  باتیں  (یعنی ایک طرف یہ کردار اور دوسری طرف آخرت میں  اُس کا یہ انجام) ایسے انداز سے بیان کی گئی ہیں   جس سے سامع کا ذہن خود بخود اِس نتیجے پر پہنچ جائے کہ اِس طرح کے کردار کا یہی انجام ہونا چاہیے،  اور چونکہ دنیا میں  ایسے کردار  والوں  کو کوئی سزا نہیں  ملتی، بلکہ وہ پھلتے پھولتے ہی نظر آتے ہیں،  اس لیے آخرت کا برپا ہونا قطعی ناگزیر  ہے۔

اِس سورۃ کو اگر اُن سورتوں  کے تَسَلْسُل میں  رکھ کر دیکھا جائے جو سُورۂ زِلْزال سے یہاں  تک چلی آ رہی ہیں  تو آدمی بڑی اچھی طر ح یہ سمجھ سکتا ہے کہ مکّہ معظّمہ کے ابتدائی دور میں  کس طریقہ سے اسلام کے عقائد اور اُس کی اخلاقی تعلیمات کو لوگوں  کے ذہن نشین کیا گیا تھا۔ سورۂ زِلزال میں  بتایا گیا کہ آخرت میں  انسان کا  پورا نامۂ اعمال اُس کے سامنے رکھ دیا جائے گا اور کوئی ذرّہ برابر نیکی یا بدی بھی ایسی نہ ہو گی جو اس نے دنیا میں  کی ہو اور وہ وہاں  اُس کے سامنے نہ آ جائے۔  سورۂ عادیات میں  اُس لوٹ مار، کُشت و خون اور غارت گری کی طرف اشارہ کیا گیا جو عرب میں  ہر طرف برپا تھی، پھر یہ احساس دلانے کے بعد کہ خدا کی دی ہوئی طاقتوں  کا یہ استعمال اُس کی بہت بڑی  ناشکری ہے،  لوگوں  کو یہ بتایا گیا ہے کہ معاملہ اِسی دنیا میں  ختم نہیں  ہو جائے گا،  بلکہ موت کے بعد دوسری زندگی میں  تمہارے افعال ہی کی نہیں ،  تمہاری نیتوں  تک کی جانچ پڑتا  کی جائے گی اور تمہارا ربّ خوب جانتا ہے کہ کون آدمی کس سلوک کا مستحق ہے۔  سورۂ قارعہ میں  قیامت کا نقشہ پیش کرنے کے بعد لوگوں  کو خبردار کیا گیا ہے کہ آخرت میں  انسان کے اچھے یا برے انجام کا انحصار اِس پر ہو گا کہ اُس کی نیکیوں  کا پلڑا بھاری ہے یا ہلکا۔ سورۂ تکاثُر میں  اُس مادّہ پرستانہ ذہنیت پر گرفت کی گئی جس کی وجہ سے لوگ مرتے دم تک بس دنیا کے فائدے اور لذّتیں  اور عیش و آرام اور جاہ و منزلت زیادہ  سے زیادہ حاصل کرنے اور ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش میں  لگے رہتے ہیں ،  پھر اِس غفلت کے برے انجام سے آگاہ کر کے لوگوں  کو بتایا گیا  کہ یہ دنیا کوئی خوانِ یَغما نہیں  ہے کہ اُس تم جتنا اور جس طرح چاہو ہاتھ مارو، بلکہ ایک ایک نعمت جو یہاں  تمہیں  مل رہی ہے اُس کے لیے تمہیں  اپنے ربّ کو جواب دینا ہو گا کہ اسے تم نے کیسے حاصل کیا،  اور  حاصل کر کے اس کو کس طرح استعمال کیا۔ سورۂ عصر میں  بالکل دو ٹوک طریقے سے بتا دیا گیا کہ نوعِ انسانی کا ایک ایک فرد، ایک ایک گروہ، ایک ایک قوم، حتیٰ کہ پوری دنیائے انسانیت خسارے میں  ہے اگر اُس کے افراد  میں  ایمان و عمل صالح نہ ہو اور اس کے معاشرے میں  حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کا رواجِ عام نہ ہو۔ اِس کے معاً بعد  سورۂ ھُمَزہ آتی ہے جس میں  جاہلیت کی سرداری کا ایک نمونہ پیش کر کے لوگوں  کے سامنے گویا یہ سوال رکھ دیا گیا کہ یہ کردار آخر خسارے کا موجب کیوں  نہ ہو؟

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

تباہی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو (مُنہ در مُنہ) لوگوں  پر طعن اور (پیٹھ پیچھے ) بُرائیاں  کرنے کا خوگر ہے۔  ۱ جس نے مال جمع کیا اور اُسے گِن گِن کر رکھا۔ ۲ وہ سمجھتا ہے کہ اُس کا مال ہمیشہ اُس کے پاس رہے گا۔ ۳ ہرگز نہیں،  وہ شخص تو چَکنا چُور کر دینے والی ۴ جگہ میں پھینک دیا جائے گا۔ ۵ اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ چَکنا چُور کر دینے والی جگہ ؟ اللہ کی آگ، ۶ خُوب بھڑکائی ہوئی، جو دلوں  تک پہنچے گی۔ ۷ وہ اُن پر ڈھانک کر بند کر دی جائے گی ۸ (اِس حالت میں  کہ وہ) اُونچے اُونچے ستونوں  میں  (گھِرے ہوئے ہوں  گے )۔ ۹  ؏۱

 

تفسیر

 

۱: اصل الفاظ ہیں  ھُمَزَۃٍ لُّمَزَۃٍ۔  عربی زبان میں  ھَمْز اور لَمْز معنی کے اعتبار سے باہم اِتنے قریب ہیں  کہ کبھی دونوں  ہم معنی استعمال ہوتے ہی، اور کبھی دونوں  میں  فرق ہوتا ہے،  مگر ایسا فرق کہ خود اہلِ زبان میں  سے کچھ لوگ ھَمْز کا جو مفہوم بیان کرتے ہیں ،  کچھ دوسرے لوگ وہی مفہوم لَمْز کا بیان کرتے ہیں،  اور اس کے برعکس کچھ لوگ لَمْز کے جو معنی بیان کرتے ہیں،  وہ دوسرے لوگوں  کے نزدیک ھَمْز کے معنی ہیں۔  یہاں  چونکہ دونوں  لفظ ایک ساتھ آئے ہیں  اور ھُمَزَ ۃٍ لُّمَزَۃٍ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں   اس لیے دونوں  مل کر یہ معنی دیتے ہیں  کہ اُس شخص کی عادت ہی یہ بن گئی ہے کہ کہ وہ دوسروں  کی تحقیر و تذلیل کرتا ہے،  کسی کو دیکھ کر انگلیاں  اٹھاتا اور آنکھوں  سے اشارے کرتا ہے،  کسی کے نسب پر طعن کرتا ہے،  کسی کی ذات میں  کیڑے نکالتا ہے،  کسی پر منہ در منہ چوٹیں  کرتا ہے،   کسی کے پیٹھ پیچھے اُس کی برائیاں  کرتا ہے،  کہیں  چغلیاں  کھا کر اور لگائی  بجھائی کر کے دوستوں  کو لڑواتا اور کہیں  بھائیوں  میں  پھوٹ ڈلواتا ہے،  لوگوں  کے بُرے بُرے نام رکھتا ہے،  اُن پر چوٹیں  کرتا ہے اور اُن کو عیب لگاتا ہے۔

۲: پہلے فقرے کے بعد یہ دوسرا فقرہ خود بخود یہ معنی دیتا ہے کہ لوگوں  کی تحقیر و تذلیل وہ اپنی مال داری کے غرور میں  کرتا ہے۔  مال جمع کرنے کے لیے  جَمَعَ مَالاً کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں  جن سے مال کی کثرت کا مفہوم نکلتا ہے۔  پھر گِن گِن کر رکھنے کے الفاظ سے اُس شخص کے بخل اور زرپرستی کی تصویر نگاہوں  کے سامنے آ جاتی ہے۔

۳: دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں  کہ وہ سمجھتا ہے کہ اُس کا مال اُسے حیاتِ جاوداں  بخش دے گا،  یعنی دولت جمع کرنے اور اُسے گِن گِن کر رکھنے میں  وہ ایسا منہمِک ہے کہ اُسے اپنی موت یا د نہیں  رہی ہے اور اُسے کبھی یہ خیال بھی نہیں  آتا کہ ایک وقت اُس کو یہ سب کچھ چھوڑ کر خالی ہاتھ دنیا سے رخصت ہو جانا پڑے گا۔

۴: اصل میں  لفظ حُطَمَہ استعمال کیا گیا ہے  جو حَطْم سے ہے۔  حَطْم کے معنی توڑنے،  کچل دینے اور ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنے کے ہیں۔  جہنّم کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ جو چیز بھی اُس میں  پھینکی جائے گی اُسے وہ اپنی گہرائیوں  اور اپنی آگ کی وجہ سے توڑ کر رکھ دے گی۔

۵: اصل میں  لَیُنْبَذَنَّ فرمایا گیا ہے۔  نَبْذ عربی زبان میں  کسی چیز کو بے وقعت اور حقیر سمجھ کر پھینک دینے کے لیے بولا جاتا ہے۔  اِس سے خود بخود یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اپنی مال داری کی وجہ سے وہ دنیا میں  اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتا ہے،  لیکن قیامت کے روز اُسے حقارت کے ساتھ جہنّم میں  پھینک دیا جائے گا۔

۶: قرآن مجید میں  اِس مقام کے سوا اور کہیں  جہنّم  کی آگ کو اللہ کی آگ نہیں  کہا گیا ہے۔  اِس مقام پر اُس کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے سے نہ صرف اُس کی ہولناکی کا اظہار ہوتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی دولت پا کر غرور و تکبُّر میں  مبتلا ہ و جانے والوں  کو اللہ کس قدر سخت نفرت اور غضب کی نگاہ سے دیکھتا ہے جس کی وجہ سے اُس نے اُس آگ کو خاص اپنی آگ کہا ہے  جس میں  وہ پھینکے جائیں  گے۔

۷: اصل الفاظ ہیں  تَطَّلِعُ عَلَی الْاَ فْئِدَۃِ۔  تَطَّلِعُ اطَّلاع سے ہے جس کے ایک معنی چڑھنے اور اوپر پہنچ جانے کے ہیں،  اور دوسرے معنی باخبر ہونے اور اطلاع پانے کے۔  اَفْئِدَۃ فواد کی جمع ہے جس کے معنی دل کے ہیں،  لیکن یہ لفظ اُس عضو کے لیے استعمال نہیں  ہوتا جو سینے کے اندر دھڑکتا ہے،  بلکہ  اُس مقام کے لیے استعمال ہوتا ہے جو انسان کے شعور و ادراک، اور جذبات و خواہشات اور عقائد و افکار، اور نیتوں  اور ارادوں  کا مقام ہے۔  دلوں  تک اس آگ کے پہنچنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ یہ آگ اُس جگہ تک پہنچے گی جو انسان کے بُرے خیالات، فاسد عقائد، ناپاک خواہشات و جذبات، خبیث نیتوں  اور ارادوں  کا مرکز ہے۔  دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی وہ آگ دنیا کی آگ کی طرح اندھی نہیں  ہو گی کہ مستحق اور غیر مستحق سب کو جلا دے  بلکہ وہ ایک ایک مجرم کے دل تک پہنچ کر اس کے جرم کی نوعیت معلوم کرے گی اور ہر ایک کو اس کے استحقاق کے مطابق عذاب دے گی۔

۸: یعنی جہنّم میں  مجرموں  کو ڈال کر اوپر سے اُس کو بند کر دیا جائے گا۔ کوئی دروازہ تو درکنار کوئی جھِری تک کھلی ہوئی نہ ہو گی۔

۹: فِیْ عَمَدٍمُّمَدَّدَۃٍ کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔  ایک یہ کہ جہنّم کے دروازوں  کو بند کر کے اُن پر اُونچے اُونچے ستون گاڑ دیے جائیں  گے۔  دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ مجرم اونچے اونچے ستونوں  سے بندھے ہوئے ہوں  گے۔  تیسرا مطلب ابن عباس ؓ نے یہ بیان کیا ہے کہ اُس آگ کے شعلے لمبے ستونوں  کی شکل میں  اٹھ رہے ہوں  گے۔

 

 

 

۱۰۵۔سورۃ الفیل

 

نام

 

پہلی ہی آیت کے لفظ اَصْحٰبِ الْفِیْل سے ماخوذ ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

یہ سورۃ بالاتفاق مکّی ہے۔  اور اِس کے تاریخی پَسْ منظر کو اگر نگاہ میں  رکھ کر دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اِس کا نزول مکّۂ معظمہ کے بھی ابتدائی دور میں  ہوا ہو گا۔

 

تاریخی پسِ منظر

 

اِس سے پہلے تفسیر سُورۂ بروج حاشیہ ۴ میں   ہم بیان کر چکے ہیں  کہ،  نَجْران میں  یمن کے یہودی فرمانروا ذُونُو اس نے پیروانِ مسیح علیہ السلام پر جو ظلم کیا تھا اُس کا بدلہ لینے  کے لیے حَبَش کی عیسائی سلطنت نے یمن پر حملہ کر کے حِمیْرَی حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا اور سن ۵۲۵ء میں  اِس پورے علاقے پر حبشی حکومت قائم ہو گئی تھی۔ یہ ساری کارروائی دراصل قسطنطنیہ کی رومی سلطنت اور حَبَش کی حکومت کے باہم تعاون سے ہوئی تھی، کیونکہ حبشیوں  کے پاس اُس زمانے میں  کوئی قابل ذکر بحری بیڑا نہ تھا۔ بیڑا رومیوں  نے فراہم کیا اور حَبَش نے اپنی ۷۰ ہزار فوج اُسی کے ذریعہ سے یمن کے ساحل پر اتاری۔  آگے کے معاملات سمجھنے کے لیے یہ بات ابتداء ہی میں  جان لینی چاہیے کہ یہ سب کچھ محض مذہبی جذبے سے نہیں  ہوا تھا بلکہ اِس کے پیچھے معاشی و سیاسی اغراض  بھی کام کر رہی تھیں،  بلکہ غالباً وہی اِس کی اصل محرک تھیں  اور عیسائی مظلومین کے خون کا انتقام ایک بہانے سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ رومی سلطنت جب سے مصر و شام پر قابض ہوئی تھی اُسی وقت سے اُس کی یہ کوشش تھی کہ مشرقی افریقہ،  ہندوستان، انڈونیشیا وغیرہ ممالک اور رومی مقبوضات کے درمیان جس تجارت پر عرب صدیوں  سے قابض چلے آرہے تھے،  اُسے عربوں  کے قبضے سے نکال کر وہ خود اپنے قبضے میں  لے لے،  تا کہ اُس کے مَنافِع پورے کے پورے اُسے حاصل ہوں  اور عرب تاجروں  کا واسطہ درمیان سے ہٹ جائے۔  اِس مقصد کے لیے سن ۲۴ قبلِ  مسیح  میں  قیصر آگسٹَس نے ایک بڑی فوج رومی جنرل ایلیَس گالوس (Aelius Gallus ) کی قیادت میں  عرب کے مغربی ساحل پر اتار دی تھی تاکہ وہ اُس بحری راستے پر قابض ہو جائے جو جنوبی عرب سے شام کی طرف جاتا تھا۔ (اِس شاہراہ کا نقشہ ہم نے تفہیم القرآن، جلد دوم میں  صفحہ ۱۲۲ پر درج کیا ہے )۔ لیکن عرب کے شدید جغرافی حالات نے اس مہم کو ناکام کر دیا۔ اس کے بعد رومی اپنا جنگی بیڑہ بحر احمر میں  لے آئے اور انہوں  نے عربوں  کی اُس تجارت کو ختم کر دیا جو وہ سمندر کے راستے کرتے تھے،  اور صرف بَرّی راستہ اُن کے لیے باقی رہ گیا۔ اِسی بَرّی راستے کو قبضے میں  لینے کے لیے اُنہوں  نے حبش کی عیسائی حکومت سے گٹھ جوڑ کیا اور بحری بیڑے سے اُس کی مدد کر کے اُس کو یمن پر قابض کرا دیا۔

یمن  پر جو  حبشی فوج حملہ آور ہوئی تھی اس کے متعلق عرب مورخین کے بیانات  مختلف ہیں۔  حافظ ابنِ کثیر نے لکھا ہے کہ وہ دو امیروں  کی قیادت میں  تھی، ایک اَرْیاط، دوسرا اَبْرَہہ۔  اور محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ اس فوج کا امیر اَرْیاط تھا،  اور ابرہہ اُس میں  شامل تھا۔  پھر دونوں  اس بات پر متفق ہیں  کہ ابرہہ اور اریاط باہم لڑ پڑے،  مقابلے میں  اَریاط مارا گیا،  ابرہہ ملک پر قابض ہو گیا اور پھر اُس نے شاہِ حبش کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اسی کو یمن پر اپنا نائب کر دے۔  اس کے برعکس یونانی اور سُریانی مورخین کا بیان ہے کہ فتحِ یمن کے بعد جب حبشیوں  نے مزاحمت کرنے والے یمنی سرداروں  کو ایک ایک کر کے قتل کر نا شروع کر دیا تو اُن میں  سے ایک سردار    السُّمَیْفِع اَشْوَع (جسے یونانی مورخین  Esymphaeus لکھتے ہیں ) میں  نے حبشی فوج نے اُس کے خلاف بغاوت کر دی اور ابرہہ کو اس کی جگہ گورنر بنا دیا۔  یہ شخص حبش کی بندرگاہ اَدولیس کے ایک یونانی  تاجر کا غلام تھا  جو اپنی ہوشیاری سے یمن پر قبضہ کرنے والی حبشی فوج میں  بڑا اثر و رسوخ حاصل کر  گیا تھا۔ شاہ حبش نے اس کی سرکوبی کے لیے جو فوجیں  بھیجیں  وہ یا اس سے مل گئیں  یا اس نے ان کو شکست دیدی۔ آخر کار شاہ حبش کے ت مرنے کے بعد اُس کے جانشین نے اس کو یمن پر اپنا نائب  السلطنت تسلیم کر لیا (یونانی مورخین اُس کا نام اَبرامِس  Abrames   اور سُریانی مورخین ابراہام Abraham لکھتے ہیں۔  ابرہہ غالباً اسی کا حبشی تلفظ ہے،  کیونکہ  عربی میں  تو اس کا تلفظ ابراہیم ہے )۔

یہ شخص رفتہ رفتہ یمن کا خودمختار  بادشاہ بن گیا،  مگر برائے نام اس نے شاہ حبش کی بالادستی تسلیم کر رکھی تھی اور اپنے آپ کو مُفَوَّض المَلِک (نائب بادشاہ) لکھتا تھا۔ اُس نے جو اثر و رسوخ حاصل کر لیا تھا اُس کا اندازہ اِس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ جب سن ۵۴۳عوسمی میں  وہ سدِّ مارِب کی مَرمَّت سے فارغ ہوا تو اس نے ایک عظیم الشان جشن منایا جس میں  قیصر روم،  شاہِ ایران،  شاہ حِیْرَہ اور شاہِ غَسّان کے سُفرا شریک ہوئے۔  اِس کا مفصل تذکرہ اُس کتبے میں  درج ہے جو ابرہہ نے سدّ مارب پر لگایا تھا۔ یہ کتبہ آج بھی موجود ہے اور گلیزر (Glaser )  نے اس کو نقل کیا ہے (مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن،  جلد چہارم، تفسیر سورۂ سبا، حاشیہ ۳۷)۔

یمن میں  پوری طرح اپنا اقتدار مضبوط کر لینے کے بعد اَبرہہ نے اُس مقصد کے لیے کام شروع کر دیا جو اِس مہم کی ابتدا سے رومی سلطنت اور اُس کے حلیف حبشی عیسائیوں  کے پیشِ نظر تھا، یعنی ایک طرف عرب میں  عیسائیت پھیلانا اور دوسری طرف اُس تجارت پر قبضہ کرنا جو بلادِ مشرق اور رومی مقبوضات کے درمیان عربوں  کے ذریعہ سے ہوتی تھی۔ یہ ضرورت اِس بنا پر اور بڑھ گئی تھی کہ ایران کی ساسانی سلطنت کے ساتھ روم کی کشمکشِ اقتدار نے بلادِ مشرق سے رومی تجارت کے دوسرے تمام راستے بند کر دیے تھے۔ ابرہہ نے اِس مقصد کے لیے یمن کے دارالسلطنت صنعاء میں  ایک عظیم الشان کلیسا تعمیر کرایا جس کا ذکر عرب مورخین نے اَلْقَلِیس یا اَلقُلَّیس کے نام سے کیا ہے (یہ یونانی لفظ Ekklesia کا معرّب ہے اور اردو کا لفظ کلیسا بھی اسی یونانی لفظ سے ماخوذ ہے )۔ محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ اس کام کی تکمیل کے بعد اُس نے شاہِ حبش کو لکھا کہ میں  عربوں  کا حج کعبہ سے اِس کلیسا کی طرف موڑے بغیر نہ  رہوں گا ۱؎ابن کثیر نے لکھا ہے کہ اُس نے یمن میں  علیٰ الاعلان اپنے اِس ارادے کا اظہار کیا اور اس کی منادی کرا دی۔ اُس کو مکّہ پر حملہ کرنے اور کعبے کے منہدم کر دینے کا  بہانہ مل جائے۔  محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ اُس کے اِس اعلان پر غضبناک ہو کر ایک عرب نے کسی نہ کسی طرح  کلیسا میں  گھس کر رفع حاجت کر ڈالی۔ ابن کثیر کہتے ہیں  کہ یہ فعل ایک قریشی نے کیا تھا۔ اور مُقاتِل بن سلیمان کی روایت ہے کہ قریش کے بعض نوجوانوں  نے جا کر کلیسا میں  آگ لگا دی تھی۔ اِن میں  سے کوئی واقعہ بھی اگر پیش آیا ہو تو کوئی قابلِ تعجب  امر نہیں  ہے،  کیونکہ ابرہہ کا یہ اعلان یقیناً سخت اشتعال انگیز تھا اور قدیم جاہلیت کے دور میں  اس پر کسی عرب، یا قریشی کا،  یا چند قریشی نوجوانوں  کا مشتعل ہو کر کلیسا کو گندا کر دینا یا اس میں  آگ لگا دینا کوئی ناقابل فہم بات نہیں  ہے۔  لیکن یہ بھی کچھ بعید نہیں  کہ ابرہہ نے خود اپنے کسی آدمی سے خفیہ طور پر ایسی کوئی حرکت کرائی ہو تاکہ اُسے مکّہ پر چڑھائی کرنے کا بہانا مل جائے اور اس طرح وہ قریش کو تباہ اور تمام اہلِ عرب کو مرعوب کر کے اپنے دونوں  مقصد حاصل کر لے۔  بہر حال دونوں  صورتوں  میں  سے جو صورت بھی ہو، جب ابرہہ کے پاس یہ رپورٹ پہنچی کہ کعبے کے معتقدین نے اس کے کلیسا کی یہ توہین کی ہے تو اس نے قسم کھائی کہ میں  اُس وقت تک چین نہ لوں  گا جب تک کعبے کو ڈھا نہ دوں۔

اِس کے بعد وہ سن ۵۷۰  یا  ۵۷۱عیسوی میں  ۶۰ ہزار فوج اور ۱۳ ہاتھی (اور بروایت بعض ۹ ہاتھی) لے کر مکّہ کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں  پہلے یمن کے ایک سردار ذُو نَفْر نے عربوں  کا ایک لشکر جمع کر کے اس کی مزاحمت کی،  مگر وہ شکست کھا کر گرفتار ہو گیا۔ پھر خَتْعَم کے علاقے میں  ایک عرب سردار نُفَیل بن حبیب خَتْعَی اپنے قبیلے کو لے کر مقابلے  پر آیا، مگر وہ بھی شکست کھا کر گرفتار ہو گیا اور اس نے اپنی جان بچانے کے لیے بَدْرَقے کی خدمت انجام دینا قبول کر لیا۔ طائف کے قریب پہنچا تو بنی ثَقِیف نے محسوس کیا کہ اِتنی بڑی طاقت کا وہ مقابلہ نہ کر سکیں  گے،  اور ان کو خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں  وہ اُن کے معبود لات کا مندر بھی تباہ نہ کر دے۔  چنانچہ اُن کا سردار مسعود ایک وفد لے کر ابرہہ سے ملا اور اس نے کہا کہ ہمارا بُت کدہ وہ معبد نہیں  ہے جسے آپ ڈھانے آئے ہیں ،  وہ تو مکّہ میں  ہے،  اس لیے آپ ہمارے معبد کو چھوڑ دیں،  ہم مکّہ کا راستہ بتانے کے لیے آپ کو بَدْرَقہ فراہم کیے دیتے ہیں۔  ابرہہ نے یہ بات قبول کر لی اور بنی ثَقِیف نے ابورِ غال نامی ایک آدمی کو اس کے ساتھ کر دیا۔ جب مکّہ  تین کوس دور رہ گیا تو الُمغَسَّ (یا المُغَسِّ) نامی مقام پر پہنچ کر ابورِغال مر گیا،  اور عرب مدتوں  تک اس کی قبر پر سنگ باری کرتے رہے۔  بنی ثقیف کو بھی وہ سالہاسال تک طعنے دیتے رہے کہ اُنہوں  نے لات کے مندر کو بچانے کے لیے بیت اللہ پر حملہ کر نے والوں  سے تعاون کیا۔

محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ المغمسّ سے ابرہہ نے اپنے مقدمۃ الجیش کو آگے بڑھایا اور وہ اہلِ تِہامَہ اور قریش کے بہت سے مویشی لوٹ لے گیا جن میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے دادا عبد المَطَّلِب کے بھی دو سو اونٹ تھے۔  اس کے بعد اس نے اپنے ایک ایلچی کو مکّہ بھیجا اور اس کے ذریعہ سے اہلِ مکّہ کو یہ پیغام دیا کہ میں  تم سے لڑنے نہیں  آیا ہوں ،  بلکہ اِس گھر (کعبہ) کو ڈھانے آیا ہوں۔  اگر تم نہ لڑو تو میں  تمہاری جان و مال سے کوئی تعرُّض نہ کروں  گا۔ نیز اس نے اپنے ایلچی کو ہدایت کی کہ اہلِ مکّہ اگر بات کرنا چاہیں   تو ان کے سردار کو میرے پاس لے آنا۔ مکّے کے سب سے بڑے سردار اُس وقت عبد المطلب تھے۔  ایلچی نے ان سے مل کر ابرہہ کا پیغام پہنچایا۔ اُنہوں  نے کہا کہ ہم میں  ابرہہ سے لڑنے کی طاقت نہیں  ہے۔  یہ اللہ کا گھر ہے،  وہ چا ہے گا تو اپنے گھر کو بچا لے گا۔ ایلچی نے کہا کہ آپ میرے ساتھ ابرہہ کے پاس چلیں۔  وہ اس پر راضی ہو گئے اور اس کے ساتھ چلے گئے۔  وہ اِس قدر وجیہ اور شاندار شخص تھے کہ اُن کو دیکھ کر ابرہہ بہت متاثر ہوا اور اپنے تخت سے اُتر کر ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ پھر پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔  انہوں  نے کہا کہ میرے جو اونٹ پکڑ لیے گئے ہیں  وہ مجھے واپس دے دیے جائیں۔  ابرہہ نے کہا کہ آپ کو دیکھ کر تو میں  بہت متاثر ہوا  تھا، مگر آپ کی اِس بات نے آپ کو میری نظر  سے گرا دیا  کہ آپ  اپنے اونٹوں  کا مطالبہ کر رہے ہیں  اور یہ گھر جو آپ کا اور آپ کے دینِ آبائی کا مرجع ہے،  اِس کے بارے میں  کچھ نہیں  کہتے۔  انہوں  نے کہا میں  تو  صرف اپنے اونٹوں  کا مالک ہوں  اور اُنہی کے بارے میں  آپ سے درخواست کر رہا ہوں۔  رہا یہ گھر، تو اِس کا ایک ربّ ہے،  وہ اِس کی حفاظت خود کر لے گا۔ ابرہہ نے جواب دیا وہ اس  کو مجھ سے نہ بچا سکے گا۔ عبد المطلب نے کہا آپ جانیں  اور وہ جانے۔  یہ کہہ کر وہ ابرہہ کے پاس  سے اُٹھ آئے اور اُس نے اُن کے اونٹ واپس کر دیے۔

ابنِ عباس ؓ کی روایت  اِس سے مختلف ہے۔  اُس میں  اونٹوں  کے مطالبے کا کوئی ذکر نہیں  ہے۔  عبد بن حُمَید، ابن المُنْذِر، ابن مَرْدُوْیَہ، حاکم، ابو نُعَیم اور بَیْہَقی نے اُن سے جو روایات نقل کی ہیں  اُن میں  وہ بیان کرتے ہیں  کہ جب ابرہہ الصِّفَاح کے مقام پر پہنچا (جو عَرَفات اور طائف کے پہاڑوں  کے درمیان حدودِ حَرَم کے قریب واقع ہے ) تو عبد المطّلب خود اُس کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ آپ کو یہاں  تک آنے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ کو اگر کوئی چیز مطلوب تھی تو ہمیں  کہلا بھیجتے،  ہم خود لے کر آپ کے پاس حاضر ہو جاتے۔  اس نے کہا کہ میں  سنا ہے  یہ گھر امن کا گھر ہے،  میں  اس کا امن ختم کرنے آیا ہوں۔  عبد المطلب نے کہا یہ اللہ کا گھر ہے،  آج تک اُس نے کسی کو اِس پر مسلّط نہیں  ہونے دیا ہے۔  ابرہہ نے جواب دیا  ہم اسے منہدم کیے بغیر نہ پلٹیں  گے۔  عبد المطلب نے کہا آپ جو کچھ چاہیں  ہم سے لے لیں   اور واپس چلے جائیں ۔  مگر ابرہہ نے انکار کر دیا اور عبد المطلب کو پیچھے چھوڑ  کر اپنے لشکر کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔

دونوں  روایتوں  کے اِس اختلاف کو اگر ہم اپنے جگہ رہنے دیں  اور کسی  کو کسی پر ترجیح نہ دیں،  تو اِن میں  سے جو صورت بھی پیش آئی ہو، بہر حال یہ امر بالکل واضح ہے کہ مکّہ اور اس کے آ س پاس کے قبائل اتنی بڑی  فوج سے لڑ کر کعبے کو بچانے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔  اس لیے یہ بالکل قابلِ فہم بات ہے کہ قریش نے اُس کی مزاحمت کی کوئی کوشش نہ کی۔ قریش کے لوگ تو جنگِ اَحزاب کے  موقع پر مشرک اور یہودی قبائل کو ساتھ ملا کر زیادہ سے زیادہ دس بارہ ہزار کی جمعیت فراہم کر سکتے تھے۔  وہ ۶۰ ہزار فوج کا مقابلہ کیسے کر سکتے تھے۔

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں  کہ ابرہہ کی لشکر گاہ سے واپس آ کر عبد المطلب نے قریش والوں  سے کہا کہ اپنے بال بچوں  کو لے کر پہاڑوں   میں  چلے جائیں   تاکہ ان کا قتلِ عام نہ ہو جائے۔  پھر وہ اور قریش کے چند سردار حَرَم میں  حاضر ہوئے اور کعبے کے دروازے کا کُنڈا پکڑ کر انہوں  نے اللہ تعالیٰ سے دعائیں  مانگیں  کہ وہ اپنے گھر اور اُس کے خادموں  کی حفاظت فرمائے۔  اُس وقت خانۂ کعبہ میں  ۳۶۰ بُت موجود تھے،  مگر یہ لوگ اُس نازک گھڑی میں  اُن سب کو  بھول گئے اور انہوں  نے صرف اللہ کے آگے دستِ سوال پھیلایا۔ اُن کی جو دعائیں  تاریخوں  میں  منقول ہوئی ہیں  ان میں  اللہ واحد کے سوا کسی دوسرے کا نام تک نہیں  پایا جاتا۔ ابن ہشام نے سیرت میں  عبد المطّلب کے جو اشعار نقل کیے ہیں  وہ یہ ہیں :

لا ھُمّ ان العبد             یمنع رحلہ فامنع حِلالکْ

خدایا: بندہ اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے،  تو بھی اپنے گھر کی حفاظت فرما

لا یغلبنّ صلیبھم       و مِحالھم غدواً مِحالک

کل اُن کی صلیب اور اُن کی تدبیر تیری تدبیر کے مقابلے میں  غالب نہ آنے پائے

 ان   کنت   تارکھم   و قِبلتنا   فا مر   ما   بدالکْ

اگر تو ان کو اور ہمارے قبیلے کو اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہتا ہے تو جو تُو چاہے کر          سُہَیلی نے روض الانف میں  اس سلسلے کا یہ شعر بھی نقل کیا ہے :

وانصر نا علیٰ اٰل الصّلیبِ    وعابد یہ الیوم اٰلک

صلیب کی آل اور اس کے پرستاروں  کے مقابلے میں  آج اپنی آل کی مدد فرمایا

 ربّ لا ارجولھم سوا کا    یا ربّ فامنع منہم حِما کا

اے میرے ربّ تیرے سوا میں  اُن کے مقابلے میں  کسی سے امید نہیں  رکھتا۔ اے میرے ربّ ان سے اپنے حرم کی حفاظت کر

ان عدوّ البیت من عاد اکا    امنعھم ان یخربوا قراکا

اِس گھر کا دشمن تیرا دشمن ہے۔  اپنی بستی کو تباہ کرنے سے ان کو روک

یہ دعائیں  مانگ کر عبد المطلب اور ان کے ساتھی بھی پہاڑوں  میں  چلے گئے،  اور دوسرے روز ابرہہ مکّے میں  داخل ہونے کے لیے آگے بڑھا، مگر اُس کا خاص ہاتھی محمود،  جو آگے آگے تھا، یکایک بیٹھ گیا۔ اس کو بہت تَبَر مارے گئے،  آنکَسوں  سے کَچوکے دیے گئے،  یہاں  تک کہ اسے زخمی کر دیا گیا،  مگر وہ نہ ہلا۔ اُسے جنوب، شمال، مشرق کی طرف موڑ کر چلانے کی کوشش کی جاتی تو وہ دوڑنے لگتا، مگر مکّے کی طرف موڑا جاتا تو وہ فوراً بیٹھ جاتا اور کسی طرح آگے بڑھنے کے لیے تیار نہ ہوتا۔ اِتنے میں  پرندوں  کے جھُنڈ کے جھُنڈ اپنی چونچوں  اور پنجوں  میں  سنگریزے لیے ہوئے آئے اور انہوں  نے اِس لشکر پر  اُن سنگریزوں  کی بارش کر دی۔  جس پر بھی یہ کنکر گرتے اس کا جسم گلنا شروع شروع ہو جاتا۔ محمد بن اسحاق اور عِکْرِمہ کی روایت ہے کہ یہ چیچک کا مرض تھا اور بلادِ عرب میں  سب سے پہلے چیچک اسی سال دیکھی گئی۔ ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ جس پر کوئی کنکری گرتی اسے سخت کھُجلی لاحق ہو جاتی اور کھُجاتے ہی جِلد پھٹتی اور گوشت جھڑنا شروع ہو جاتا۔ ابن عباس ؓ کی دوسری روایت یہ ہے کہ گوشت اور خون پانی کی طرح بہنے لگتا اور ہڈیاں  نکل آتی تھیں۔  خود ابرہہ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اُس کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر رہا تھا اور جہاں  سے کوئی ٹکڑا گرتا وہاں  سے پیپ اور لہو بہنے لگتا۔ افراتفری میں  اِن لوگوں  نے یمن کی طرف بھاگنا شروع کیا۔ نُفَیل بن حبیب خَشْعَمی کو،  جسے یہ لوگ بدرقہ بنا کر بلادِ خَشْعَم سے پکڑ  لائے تھے،  تلاش کر کے انہوں  نے کہا کہ واپسی کا راستہ بتائے۔  مگر اُس نے صاف انکار کر دیا اور کہا:این المفرّ و الا لٰہ الطالبْ                  والا شرم المغلوب لیس الغالبْ

اب بھاگنے کی جگہ کہاں  ہے جبکہ خدا تعاقب کر رہا ہے اور نکٹا (ابرہہ) مغلوب ہے،  غالب نہیں  ہے۔ اس بھگدڑ  میں  جگہ جگہ یہ لوگ گِر گِر  کر مرتے رہے۔  عطاء بن یَسار کی روایت ہے کہ سب کے سب اُسی وقت ہلاک نہیں  ہو گئے،  بلکہ کچھ تو وہیں  ہلاک ہوئے اور کچھ بھاگتے ہوئے راستے بھر گِرتے چلے گئے۔  ابرہہ بھی بلادِ خَشْعَم پہنچ کر مرا ۲؎۔ یہ واقعہ مُزْدَلفَہ اور منیٰ کے درمیان وادی مُحَصَّب کے قریب مُحَسِّر کے مقام پر پیش آیا تھا۔ صحیح مسلم اور ابو داؤد کی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علہیہ  و سلم کے حجۃ الوداع کا جو قصّہ امام جعفر صادق نے  اپنے والد ماجد امام محمد باقر سے اور انہوں  نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے نقل کیا ہے اس میں  وہ  بیان فرماتے ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب مُزْدَلِفَہ سے منیٰ کی طرف چلے تو مُحَسِّر کی وادی میں  آپ نے رفتار تیز کر دی۔ امام نَوَوی اس کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں  کہ اصحاب الفیل کا واقعہ اِسی جگہ پیش آیا تھا، اس لیے سنّت یہی ہے کہ آدمی یہاں  سے جلدی گزر جائے۔  موطّا ء میں  امام مالک روایت کرتے ہیں  کہ حضور ؐ نے فرمایا کہ مزدلفہ پورا  کا پورا ٹھیرنے کا مقام ہے،  مگر محسّر کی وادی میں  نہ ٹھیرا جائے۔  نُفَیل بن حبیب کے جو اشعار ابن اسحاق نے نقل کیے ہیں  ان میں  وہ اِس واقعہ کا آنکھوں  دیکھا حال بیان کرتا ہے :

رُدَینۃُ لو رأیتِ ولا تَریہ                   لدیٰ جنب المحصَّب مارأینا

اے رُدَینَہ کاش تو دیکھتی، اور تو نہیں  دیکھ سکے گی جو کچھ ہم نے وادی محصَّب کے قریب دیکھا

حمدتُ اللہ اذا بصرت طیراً      وخفت حجارۃ تلقیٰ علینا

میں  نے اللہ کا شکر  کیا جب میں  نے پرندوں  کو دیکھا اور مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں  پتھر ہم پر نہ آ پڑیں

 وکلّ القوم یسأل عن نُفَیل                  کان علیّ للحبشان دَینا

ان لوگوں  میں  سے ہر ایک نُفَیل کو ڈھونڈ رہا تھا، گویا کہ میرے اوپر حبشیوں  کا کوئی قرض آتا تھا یہ اتنا بڑا واقعہ تھا جس کی تمام عرب میں  شہرت ہو گئی اور اس پر بہت سے شعراء نے قصائد کہے۔  ان قصائد میں  یہ بات بالکل نمایاں  ہے کہ سب نے اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اعجاز قرار دیا اور کہیں  اشارۃً و کنایۃً بھی یہ نہیں  کہا کہ اس میں  اُن بُتوں  کا بھی کوئی دخل تھا جو کعبہ میں  پوجے جاتے تھے۔  مثال کے طور پر عبد اللہ ابن الزِّبَعْریٰ کہتا ہے :

ستّون الفالم یوْ بوا ارضھم                 ولم یعش بعد الایاب سقیمہا

۶۰ ہزار تھے جو اپنی سرزمین کی طرف واپس نہ جا سکے اور نہ واپس ہونے کے بعد ان کا بیمار (ابرہہ) زندہ رہا

کانت بھا عاد و جرھم قبلہم     واللہ من فوق العباد یقیمہا

یہاں  ان سے پہلے عاد اور جُرْھُم تھے۔  اور اللہ بندوں  کے اوپر موجود ہے جو اُسے قائم رکھے ہوئے ہے ابو قَیس بن اَسْلَت کہتا ہے :

فقوموا فصلّوا ربّکم و تمسّحوا   بارکان ھٰذا البیت بین الاخاشب

اٹھو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور مکّہ و منیٰ کی پہاڑیوں  کے درمیان بیت اللہ کے کونوں  کو مسح کرو

فلما اتاکم نصر ذی العرش ردّھم          جنود الملیک بین ساف وحاصب

جب عرش والے کی مدد تمہیں  پہنچی تو اس بادشاہ کے لشکروں  نے ان لوگوں  کو اِس حال میں  پھیر دیا کہ کوئی خاک میں  پڑا تھا اور کوئی سنگسار کیا ہوا تھا          یہی نہیں  بلکہ حضرت اُمّ ھانی اور حضرت زُبَیر بن العَّوام کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا، قریش نے ۱۰ سال (اور بروایتِ  بعض سات سال) تک اللہ وحدہٗ لاشریک   کے سوا کسی کی عبادت نہ کی۔ امّ ھانی کی روایت امام بخاری نے اپنی تاریخ میں  اور طَبَرانی،  حاکم،  ابن مَرْدُوْیَہ اور بَیْہَقِی نے اپنی کتب حدیث میں  نقل کی ہے۔  حضرت زُبَیر کا بیان طَبرَانی اور ابن مردویہ اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔  اور اِس کی تائیدِ  مزید حضرت سعید بن المُسَیَّب کی اُس مُرْسَل روایت سے ہوتی ہے جو خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں  درج کی ہے۔

جس سال یہ واقعہ پیش آیا، اہلِ عرب اُسے عامُ الفِیل (ہاتھیوں  کا سال) کہتے ہیں ،  اور اُسی سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی ولادتِ مبارکہ ہوئی۔ محدّثین اور مورخین کا اس بات پر قریب قریب اتفاق ہے کہ اصحابُ الفیل کا واقعہ محرم میں  پیش آیا تھا اور حضورؐ کی ولادت ربیع الاول میں  ہوئی تھی۔ اکثریت یہ کہتی ہے کہ آپؐ کی ولادت واقعہ  ٔ فیل کے ۵۰ دن بعد ہوئی۔

 

مقصودِ کلام

 

جو تاریخی تفصیلات اوپر درج کی گئی ہیں  ان کو نگاہ میں  رکھ کر سورۂ فیل پر غور کیا جائے تو یہ بات چھی طرح سمجھ میں  آ جاتی ہے کہ اِس سورۂ میں  اِس قدر اختصار کے ساتھ صرف اصحاب الفیل پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ذکر کر دینے پر کیوں  اکتفا کیا گیا ہے۔  واقعہ کچھ بہت پرانا نہ تھا۔  مکّے کا بچہ بچہ اس کو جانتا تھا۔ عرب کے لوگ عام طور پر اس سے واقف تھے۔  تمام اہلِ عرب اِس بات کے قائل تھے کہ ابرہہ کے اِس حملے سے کعبے کی حفاظت کسی دیوی یا دیوتا نے نہیں  بلکہ اللہ تعالیٰ نے کی تھی۔ اللہ ہی سے قریش کے سرداروں  نے مدد  کے لیے دعائیں  مانگی تھیں۔  اور چند سال تک قریش کے لوگ اِس واقعہ سے اس قدر متاثر  رہے تھے کہ اُنہوں  نے  اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی تھی۔ اس لیے سورۂ فیل میں  اِن تفصیلات کے ذکر کی حاجت نہ تھی، بلکہ صرف اس واقعے کو یاد دلانا کافی تھا،  تاکہ قریش کے لوگ خصوصاً،  اور اہلِ عرب عموماً، اپنے دلوں  میں  اس بات پر غور کریں  کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم جس چیز کی طرف دعوت دے رہے ہیں  وہ آخر اِس کے سوا اور کیا  ہے کہ تمام دوسرے معبودوں  کو چھوڑ کر صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی جائے۔  نیز وہ یہ بھی سوچ لیں  کہ اگر اِس دعوتِ حق کو دبانے کے لیے اُنہوں  نے زور زبردستی سے کام لیا تو جس خدا نے اصحاب الفیل کا تہس نہس کیا تھا اسی کے غضب میں  وہ گرفتار ہوں  گے۔ ۱؎ یمن پر سیاسی اقتدار حاصل کر نے کے بعد عیسائیوں  کی مسلسل  یہ کوشش رہی کہ کعبہ کے مقابلے میں  ایک  دوسرا کعبہ بنائیں  اور عرب میں  اُس کی مرکزیت قائم کر دیں۔  چنانچہ انہوں  نے نَجران میں  بھی ایک کعبہ بنا یا تھا جس کا ذکر ہم تفسیر سورۂ بروج حاشیہ ۴ میں  کر چکے ہیں  واپس۲؎ اللہ تعالیٰ نے حبشیوں  کو صرف یہی سزا دینے پر اکتفا نہ کیا، بلکہ تین چار سال کے اندر یمن سے حبشی اقتدار ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعۂ فیل کے بعد یمن میں  اُن کی طاقت بالکل ٹوٹ گئے،  جگہ جگہ یمنی سردار علم بغاوت لے کر اُٹھ کھڑے ہوئے،  پھر ایک یمنی سردار سیف بن ذِی یَزََن نے شاہ ایران سے فوجی مدد طلب کر لی اور ایران کی صرف ایک ہزار فوج جو چھ جہازوں  کے ساتھ آئی تھی، حبشی حکومت کا خاتمہ کر دینے کے لیے کافی ہو گئی۔ یہ سن ۵۷۵ عیسوی کا واقعہ ہے۔

 

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

تم نے دیکھا نہیں  ۱ کہ تمہارے ربّ نے ہاتھی والوں  کے ساتھ کیا کیا؟ ۲ کیا اُس نے اُن کی تدبیر ۳ کو اَکارَت نہیں  کر دیا؟ ۴ اور اُن پر پرندوں  کے جھُنڈ کے جھُنڈ بھیج دیے ۵ جو اُن پر پکّی ہوئی مَٹّی کے پتھر پھینک رہے تھے،  ۶ پھر اُن کا یہ حال کر دیا  جیسے جانوروں  کا کھایا ہوا بھوسا۔ ۷ ؏۱

 

تفسیر

 

۱: خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے ہے،  مگر اصل مخاطب نسلِ قریش،  بلکہ عرب کے عام لوگ ہیں  جو اس سارے قصے سے خوب واقف تھے۔  قرآن مجید میں  بکثرت مقامات پر اَلَمْ تَرَ (کاخ تم نے نہیں  دیکھا) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں  اور ان سے مقصود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو نہیں   بلکہ عام لوگوں  کو مخاطب کر نا ہے۔  (مثال کے طور پر آیاتِ ذیل ملاحظہ ہوں : ابراہیم، آیت۱۹۔ الحج۶۵-۱۸۔ النور ۴۳۔ لقمان ۳۱-۲۹۔ فاطر ۲۷۔ الزمر ۲۱)۔ پھر دیکھنے کا لفظ اس مقام پر اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ مکّہ اور اطرافِ مکّہ اور عرب کے ایک وسیع علاقے میں  مکّہ سے یمن تک ایسے بہت سے لوگ اُس وقت زندہ موجود تھے جنہوں  نے اپنی آنکھوں  سے اصحابُ الْفیل کی تباہی کا واقعہ دیکھا تھا۔  کیونکہ اس واقعہ کو گزرے ہوئے چالیس پینتالیس سال سے زیادہ کا زمانہ نہیں  ہوا تھا، اور سارا عرب ہی اس کی ایسی متواتر خبریں  دیکھنے والوں  سے سُن چکا تھا کہ یہ واقعہ لوگوں  کے لیے آنکھوں  دیکھے واقعہ کی طرح یقینی تھا۔

۲: یہاں  اللہ تعالیٰ نے کوئی تفصیل اِس امر کی بیان  نہیں  کی کہ یہ ہاتھی والے کون تھے،  کہاں  سے آئے تھے اور کس غرض کے لیے آئے تھے۔  کیونکہ یہ باتیں  سب کو معلوم تھیں۔

۳: اصل میں  لفظ کَید استعمال کیا گیا ہے جو کسی شخص کو نقصان پہنچانے کے لیے خفیہ تدبیر کے معنی میں  بولا جاتا ہے۔  سوال یہ ہے کہ یہاں  خفیہ کیا چیز تھی؟ ساٹھ ہزار کا لشکر کئی ہاتھی لیے ہوئے اعلانیہ یمن سے مکّہ  آیا تھا،  اور اُس نے یہ بات چھُپا کر نہیں  رکھی تھی کہ وہ کعبہ کو ڈھانے آیا ہے۔  اس لیے یہ تدبیر تو خفیہ نہ تھی۔ البتہ جو بات خفیہ تھی وہ حبشیوں  کی یہ غرض تھی کہ وہ کعبہ کو ڈھا کر قریش کو کُچل کر،  اور تمام اہلِ عرب کو مرعوب کر کے تجارت کا وہ راستہ عربوں  سے چھین لینا چاہتے تھے جو جنوبِ عرب سے شام و مصر کی طرف جاتا ہے۔  اِس غرض کو اُنہوں  نے چھُپا رکھا تھا  اور ظاہر یہ کیا تھا کہ اُن کلیسا کی  جو بے حُرمتی عربوں  نے کی ہے اس کا بدلہ وہ اُن کا معبد ڈھا کر لینا چاہتے ہیں۔

۴: اصل میں  الفاظ ہیں  فِیْ تَضْلِیْلٍ۔ یعنی ان کی تدبیر کو اُس نے ’’گمراہی میں  ڈال دیا‘‘۔ لیکن محاورے میں  کسی تدبیر کو گمراہ کر نے کا مطلب اُسے ضائع کر دینا  اور اسے اپنا مقصد حاصل کرنے میں  ناکام کر دینا ہے،  جیسے ہم اردو زبان میں  کہتے ہیں  فلاں  شخص کا کوئی داؤں  نہ چل سکا، یا اس کا کوئی تیر نشانے پر نہ بیٹھا۔ قرآن مجید میں  ایک جگہ فرمایا گیا ہے وَمَا کَیْدُ الْکَافِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلَالٍ  ’’ مگر کافروں  کی چال اکارت ہی گئی‘‘(المومن۔۲۵)۔ اور دوسری جگہ ارشاد ہوا وَاَنَّ اللہَ لَا یَھْدِیْ کَیْدَ الْخآئِنِیْنَ ’’ اور یہ کہ اللہ خائنوں  کی چال کو کامیابی کی راہ پر نہیں  لگاتا‘‘(یوسف ۵۲) اہلِ عرب امرؤ القیس کو اَلْمَلِکُ الضَّلِیْل،  ’’ضائع کرنے والا بادشاہ‘‘ کہتے تھے،  کیونکہ اس نے اپنے باپ سے پائی ہوئی بادشاہی کو کھو دیا تھا۔

۵: اصل میں  طَیْراً اَبَابِیْل کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔  اردو زبان میں  چونکہ ابابیل ایک خاص قسم کے پرندے کو کہتے ہیں  ا س لیے ہمارے ہاں  لوگ عام طور پر یہ سمجھتے ہیں  کہ  ابرہہ کی فوج پر ابابیلیں  بھیجی گئی تھیں۔  لیکن عربی زبان  میں  ابابیل کے معنی ہیں  بہت سے متفرق گروہ جو پے درپے مختلف سِمتوں  سے آئیں،  خواہ وہ آدمیوں  کے ہوں  یا جانوروں  کے۔  عِکرِمہ اور قَتَادہ  کہتے ہیں  کہ یہ جھُنڈ کے جھُنڈ پرندے بحرِ احمر کی طرف سے آئے تھے۔  سعید بن جُبَیر اور عِکرِمہ کہتے ہیں  کہ اس طرح کے پرندے نہ پہلے کبھی دیکھے گئے تھے نہ بعد میں  دیکھے گئے۔  یہ نہ نجد کے پرندے تھے نہ حجاز کے،  اور نہ تہامَہ یعنی حجاز اور بحرِ  احمر  کے درمیان ساحلی علاقے کے۔  ابن عباس ؓ کہتے ہیں  کہ ان کی چونچیں  پرندوں  جیسی تھیں  اور پنجے کُتے جیسے۔  عِکرِمہ کا بیان ہے کہ ان کے  سر شکاری پرندوں  کے سروں   جیسے تھے۔  اور تقریباً سب راویوں  کا متفقہ بیان ہے کہ ہر پرندے کی چونچ میں  ایک ایک کنکر تھا اور پنجوں  میں  دو دو کنکر۔ مکّہ کے بعض لوگوں  کے پاس یہ کنکر ایک مدّت تک محفوظ رہے۔  چنانچہ ابو نُعَیم نے نَوفَل بن ابی معاویہ کا بیان نقل کیا ہے کہ میں  نے وہ کنکر دیکھے ہیں  جو اصحاب الفیل پر پھینکے گئے تھے۔  وہ مٹر کے چھوٹے دانے کے برابر سیاہی مائل سُرخ تھے۔  ابن عباس کی روایت ابو نُعَیم نے نقل کی ہے کہ وہ چلغوزے کے برابر تھے اور ابنِ مَرْدُوْیَہ  کی روایت میں  ہے کہ بکری کی مینگنی کے برابر۔  ظاہر ہے کہ سارے سنگریزے ایک ہی جیسے نہ ہوں  گے۔  اُن میں  کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہو گا۔

۶: اصلی الفاظ ہیں  بَحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ،  یعنی سجّیل کی قسم کے پتھر۔ ابن عباس ؓ  فرماتے ہیں  کہ یہ لفظ دراصل فارسی کے الفاظ سنگ اور گِل کا مُعَرَّب ہے اور اس سے مراد وہ پتھر ہے جو مٹی کے گارے سے بنا ہو اور پک کر سخت ہو گیا ہو۔ قرآن مجید سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔  سورۂ ہود،  آیت ۸۲ اور سورۂ حِجْر، آیت ۷۴ میں  کہا گیا ہے کہ قومِ لوط پر سِجّیل کی قسم کے پتھر برسائے گئے تھے،  اور اُنہی پتھروں  کے متعلق سورۂ ذاریات آیت ۳۳ میں  فرمایا گیا ہے کہ وہ حِجارۃ مِن طین،  یعنی مٹی کے گارے سے بنے ہوئے پتھر تھے۔  مولانا حمید الدین فَراہی مرحوم و مغفور،  جنہوں  نے عہدِ حاضر میں  قرآن مجید کے معانی و مطالب کی تحقیق پر بڑا قیمتی کام کیا ہے،  اِس آیت میں  تَرْمِیْہِم کا فاعل اہلِ مکّہ اور دوسرے اہلِ عرب کو قرار دیتے ہیں  جو اَلَمْ تَرَ کے مُخاطَب ہیں ،  اور پرندوں  کے متعلق فرماتے ہیں  کہ وہ سنگریزے نہیں  پھینک رہے تھے،  بلکہ اس لیے آئے تھے کہ اصحاب الفیل کی لاشوں  کو کھائیں۔  اِس تاویل کے لیے جو دلائل اُنہوں  نے دیے ہیں  ان کا خلاصہ یہ ہے کہ عبدالمطّلب کا ابرہہ کے پاس جا کر کعبہ کے بجائے اپنے اونٹوں  کا  مطالبہ کرنا کسی طرح باور کرنے کے قابل بات نہیں  ہے،  اور یہ بات بھی سمجھ میں  آنے والی نہیں  ہے کہ قریش کے لوگوں  اور دوسرے  عربوں  نے،  جو چح کے لیے آئے ہوئے تھے،  حملہ آور فوج کا کوئی مقابلہ نہ کیا ہو اور کعبے کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ کر وہ پہاڑوں  میں  جا چھُپے ہوں۔  اس لیے  صورتِ  واقعہ دراصل یہ ہے کہ عربوں  نے ابرہہ کے لشکر کو پتھر مارے،  اور اللہ تعالیٰ نے پتھراؤ کرنے والی طوفانی ہوا بھیج کر اس لشکر کا بھُرکس نکال دیا، پھر پرندے اُن لوگوں  کی لاشیں  کھانے کے لیے بھیجے گئے۔  لیکن جیسا کہ ہم دیباچے میں  بیان کر چکے ہیں،  روایت صرف یہی نہیں  ہے کہ عبد المطلب اپنے اونٹوں  کا مطالبہ کر نے گئے تھے،  بلکہ یہ بھی ہے کہ انہوں  نے اونٹوں  کا کوئی مطالبہ  نہیں  کیا تھا اور ابرہہ کو خانۂ کعبہ پر حملہ کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی۔ ہم یہ بھی بتا چکے ہیں  کہ تمام معتبر روایات کی رو سے ابرہہ کا لشکر محرّم میں  آیا تھا جبکہ حُجّاج واپس جا چکے تھے۔  اور یہ بھی ہم نے  بتا دیا ہے کہ ۶۰ ہزار کے لشکر کا مقابلہ کرنا قریش اور آس پاس کے عرب قبائل کے بس کا کام نہ تھا، وہ تو غَزْوَۂ احزاب کے موقع پر بڑی تیاریوں  کے بعد مشرکین عرب اور یہودی قبائل کی جو فوج لائے تھے وہ دس بارہ ہزار سے زیادہ نہ تھی، پھر بھلا وہ ۶۰ ہزار فوج کرنے کی کیسے ہمت کر سکتے تھے۔  تاہم اِن ساری دلیلوں  کو نظر انداز بھی کر دیا جائے اور صرف سُورۂ فیل کی ترتیبِ  کلام کو دیکھا جائے تو یہ تاویل اُس کے خلاف پڑتی ہے۔  اگر بات یہی ہوتی کہ پتھر عربوں  نے مارے،  اور اصحابِ فیل بھُس  بن کر رہ گئے،  اور اس کے بعد پرندے ان کی لاشیں  کھانے کو آئے،  تو کلام کی ترتیب یوں  ہوتی کہ تَرْ مِیْھِمْ بِحِجَا رَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ فَجَعَلَھُمْ کَعَصْفٍ مَّاْ کُوْلٍ وَّاَرْسَلَ عَلَیْھِمْ طَیْراً اَبَابِیْلَ (تم ان کو پکّی ہوئی مٹی کے پتھر مار رہے تھے،  پھر اللہ نے اُن کو کھائے  ہوئے بھُس جیسا کر دیا، اور اللہ نے اُن پر جھُنڈ کے جھُنڈ  پرندے بھیج دیے )۔ لیکن یہاں  ہم دیکھتے ہیں  کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے پرندوں  کے جھُنڈ بھیجنے کا ذکر فرمایا ہے،  پھر اُس کے مُتَّصلاً بعد ترمیہم بِحِجَارَۃ ٍمِّنْ سِجِّیْل (جو ان کو پکّی ہوئی مٹی کے پتھر مار رہے تھے ) فرمایا ہے،  اور آخر میں  کہا ہے کہ پھر اللہ نے ان کو کھائے ہوئے بھُس جیسا کر دیا۔

۷: اصل الفاظ ہیں  کَعَصْفٍ مَّاْکُوْلٍ۔ عَصْف کا لفظ سُورۂ رحمان آیت ۱۲ میں  آیا ہے : ذُوالْعَصْفِ وَ الرَّیْحَانِ، ’’اور غلّہ بھُوسے اور دانے والا‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ عَصْف کے معنی اُس چھلکے کے ہیں  جو غلّے کے دانوں  پر ہوتا ہے اور جسے کسان دانے نکال کر پھینک دیتے ہیں ،  پھر جانور اُسے کھاتے  بھی ہیں،  اور کچھ ان کے چَبانے کے دوران میں  گِرتا بھی جاتا ہے،  اور کچھ ان کے پاؤں  تلے روندا بھی جاتا ہے۔

 

 

 

۱۰۶۔سورۃ قریش

 

نام

 

پہلی ہی آیت کے لفظ قریش کو اس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

اگرچہ ضُحّاک اور کَلْبِی نے اِس کو مدنی کہا ہے،  لیکن مفسّرین کی عظیم اکثریت اس کے مکّی ہونے پر متفق ہے،  اور اس کے مکّی ہونے کی کھلی شہادت خود اِس سورہ کے الفاظ رَبَّ ھٰذَا الْبَیْتِ (اس گھر کے ربّ) میں  موجود ہے۔  اگر یہ مدینہ میں  نازل ہوتی تو خانہ کعبہ کے لیے،  “اِس گھر” کے الفاظ کیسے  موزوں  ہو سکتے تھے ؟ بلکہ اِس مضمون کا سورۂ فیل کے مضمون سے اتنا گہرا تعلق ہے کہ غالباً اِس کا نزول اُس کے متصلاً بعد ہی ہوا ہو گا۔ دونوں  دراصل ایک ہی سورۃ ہیں۔  اِس خیال کو تقویت اِن روایات کی بنا پر ملی ہے کہ حضرت اُبَیّ بن کَعْب کے مُصْحَف  میں  یہ دونوں  ایک ساتھ لکھی ہوئی تھیں  اور درمیان میں  بسم اللہ مرقوم نہ تھی۔ نیز یہ کہ حضرت عمرؓ  نے ایک مرتبہ کسی فصل کے بغیر اِن دونوں  کو ملا کر نماز میں  پڑھا تھا۔ لیکن یہ رائے اِس وجہ سے قابلِ قبول نہیں  کہ صحابۂ کرام کی عظیم تعداد کے تعاون سے سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کے جو نسخے سرکاری طور پر لکھوا کر بلادِ اسلام کے مراکز میں  بھجوائے تھے ان میں  دونوں  کے درمیان بسم اللہ درج تھی،  اور اُس وقت سے آج تک تمام دنیا کے مَصاحِف میں  یہ الگ الگ سورتوں  کی حیثیت  ہی سے لکھی جاتی رہی ہیں۔  مزید برآں  دونوں  سورتوں  کا اندازِ بیان ایک دوسرے سے اِس قدر مختلف ہے کہ یہ عَلانیہ دو الگ سورتیں  نظر آتی ہیں۔

 

 

تاریخی پسِ منظر

 

اِس سُورۃ کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اُس تاریخی پَسْ منظر کو نگاہ میں  رکھا جائے جس سے اِس کے مضمون اور سورۂ فیل کے مضمون کا گہرا تعلق ہے۔

قریش کا قبیلہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم  کے جدِّ اعلیٰ قُصَیّ بن کِلاب کے زمانے تک حجاز میں  منتشر تھا۔  سب سے پہلے قُضَیّ نے اُس کے مکّے میں  جمع کیا اور بیت اللہ کی تَولِیَت اِس قبیلے کے ہاتھ میں  آ گئی۔ اِسی بنا پر قُصَیّ کو مُجَمِعّ (جمع کرنے والے ) کا لقب دیا گیا۔ اِس شخص نے اپنے اعلیٰ درجہ کے تدبُّر سے مکّہ میں  ایک شہر ریاست کی بنیاد رکھی،  اور جملہ اطرافِ عرب سے آنے والے حاجیوں  کی خدم کا بہترین انتظام کیا جس کی بدولت رفتہ رفتہ عرب کے تمام قبائل اور تمام علاقوں  میں  قریش کا اثر و رسوخ قائم ہو تا چلا گیا۔  قُصَیّ کے بعد اس کے بیٹوں  عبد مَناف اور عبد الدّار کے درمیان مکّہ کی ریاست کے مناصِب تقسیم ہو گئے،  مگر دونوں  میں  سے عبد مناف کو اپنے باپ ہی کے زمانے میں  زیادہ ناموری حاصل ہو چکی تھی اور عرب میں  اُس کا شرف تسلیم کیا جانے لگا تھا۔ عبد مناف کے چار بیٹے تھے۔  ہاشِم، عبدِ شمس، مُطَّلِب اور نَوفَل۔  ان میں  سے ہاشِم عبد المطَّلِب کے والد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے پردادا کو سب سے پہلے یہ خیال پیدا ہوا کہ اُس بین الاقوامی تجارت میں  حصہ لیا جائے جو عرب کے راستے بلادِ مشرق اور شام و مصر کے درمیان ہوتی تھی،  اور ساتھ  ساتھ اہلِ عرب کی ضروریات کا سامان بھی خرید کر لایا جائے تا کہ راستہ کے قبائل اُن سے مال خریدیں ،  اور مکّے کی منڈی میں  اندرونِ ملک کے تُجّار خریداری کے لیے آنے لگیں۔  یہ وہ زمانہ تھا جب ایران کی ساسانی حکومت اُس بین الاقوامی تجارت پر اپنا تسلُّط قائم کر چکی تھی جو شمالی علاقوں  اور خلیج فارس کے راستوں  سے رومی سلطنت اور بلادِ مشرق کے درمیان ہوتی تھی۔ اس لیے جنوبی عرب سے بحر احمر کے ساحل کے ساتھ ساتھ جو تجارتی راستہ شام و مصر کی طرف جاتا تھا اُس کا کاروبار بہت چمک اُٹھا تھا۔ دوسرے عربی قافلوں  کی بہ نسبت قریش کو یہ سہولت حاصل تھی کہ راستے کے تمام قبائل بیتُ اللہ کے خُدّام ہونے کی حیثیت سے ان کا احترام کرتے تھے۔  حج کے زمانے میں  نہایت فیّاضی کے ساتھ حاجیوں  کی جو خدمت قریش کے لوگ کرتے تھے اس کی بنا پر سب اُن کے احسان مند تھے۔  اُنہیں  اِس امر کا کوی خطرہ نہ تھا کہ راستے میں  کہیں  اُن کے قافلوں  پر ڈاکہ مارا جائے گا۔ راستے کے قبائل اُن سے رہگذر کے وہ بھاری ٹیکس بھی وصول نہ کر سکتے تھے جو دوسرے قافلوں  سے طلب کیا جاتا تھا۔ ہاشِم نے اِنہی تمام پہلوؤں  کو دیکھ کر تجارت کی اسکیم بنائی اور اپنی اِس اسکیم میں  اپنے باقی تینوں  بھائیوں  کو شامل کیا۔ شام کے غَسّانی بادشاہ سے ہاشم نے،  حبش کے بادشاہ سے عبدِ شمس نے،  یمنی امراء سے مُطَّلِب نے اور عراق و فارس ی حکومتوں  سے نَوفَل نے تجارتی مراعات حاصلی کیں۔  اِس طرح اِن لوگوں  کی تجارت بڑی تیزی سے ترقی کرتی چلی گئی۔ اِسی بنا پر یہ چاروں  بھائی مُتَّجِرین (تجارت پیشہ) کے نام سے مشہور ہو گئے،  اور جو روابط انہوں  نے گردو پیش کے قبائل اور ریاستوں  سے قائم کیے تھے اُن کی بنا پر اِن کو اَصحابُ الْاِیْلاف بھی کہا جاتا ہے جِس کے لفظی معنی “اُلفت پیدا کرنے والوں ” کے ہیں۔

اس کاروبار کی وجہ سے قریش کے لوگوں  کو شام، مصر،  عراق، ایران، یمن اور حبش کے ممالک سے تعلقات کے وہ مواقع حاصل ہوئے،  اور مختلف ملکوں  کی ثقافت و تہذیب سے براہِ راست سابقہ پیش آنے کے باعث اُن کا معیارِ دانش و بینش اتنا بلند ہوتا چلا گیا کہ عرب کا کوئی دوسرا قبیلہ اُن کی ٹکّر کا نہ رہا۔ مال و دولت کے اعتبار سے بھی وہ عرب میں  سب پر فائق ہو گئے اور مکّہ جزیرۃ العرب کا سب سے زیادہ اہم تجارتی مرکز بن گیا۔ اِن بین الاقوامی تعلقات کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ عراق سے یہ لوگ وہ رسم الخط لے کر آئے جو بعد میں  قرآن مجید لکھنے کے  لیے  استعمال ہوا۔ عرب کے کسی دوسرے قبیلے میں  اتنے پڑھے لکھے لوگ نہ تھے جتنے قریش میں  تھے۔  انہی وجوہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے فرمایا تھا کہ قریش قادۃ الناس ” قریش لوگوں  کے لیڈر ہیں ” (مُسند احمد، مرویّات عَمرْ و بن العاص)۔ اور حضرت علیؓ کی روایت بَیْہقَی میں  ہے کہ  حضور ؐ نے فرمایا  کان ھٰذا الامر فی حِمْیَرَ فنزعہ اللہ منہم وجعلہ فی قریش” پہلے عرب کی سرداری قبیلۂ حِمیْر والوں  کو حاصل تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے وہ ان سے سلب کر کے قریش کو دے دی”۔

قریش اِسی طرح ترقی پر ترقی کرتے چلے جا رہے تھے کہ مکّہ پر ابرہہ کی چڑھائی کا واقعہ پیش آ گیا۔ اگر اُس وقت اَبرہہ اِس شہرِ مقدّس کو فتح کر نے اور کعبے کو ڈھا دیے میں  کامیاب ہو جاتا تو عرب میں  قریش ہی کی نہیں،  خود کعبہ کی دھاک بھی ختم ہو جاتی۔  زمانۂ جاہلیت کے عرب کا یہ عقیدہ متزلزل ہو جاتا کہ یہ گھر واقعی بیت الہ ہے۔  قریش کو اس گھر کے خادم ہونے کی حیثیت سے جو احترام پورے ملک میں  حاصل تھا وہ یک لخت ختم ہو جاتا۔  مکّہ تک حبشیوں  کی پیش قدمی کے بعد رومی سلطنت آگے بڑھ کر شام اور مکّہ کے درمیان کا تجارتی راستہ بھی اپنے قبضے میں  لے لیتی۔ اور قریش اُس سے زیادہ خستہ حالی میں  مبتلا ہو جاتے جس میں  وہ قُصَیّ بن کِلاب سے پہلے مبتلا تھے۔  لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا یہ کرشمہ دکھایا کہ پرندوں  کے لشکروں  نے سنگریزے مار مار کر ابرہہ کی لائی ہوئی ۶۰ ہزار حبشی فوج کو تباہ و برباد کر دیا،  اور مکّہ سے یمن تک سارے  راستے میں  جگہ جگہ اِس تباہ شدہ فوج کے آدمی گِر گِر کر مرتے چلے گئے تو کعبہ کے بیتُ اللہ ہونے پر تمام اہلِ عرب کا ایمان پہلے سے بدرجہا زیادہ مضبوط ہو گیا،  اور اُس کے ساتھ قریش کی دھاک بھی ملک بھر میں  پہلے سے زیادہ قائم ہو گئی۔ اب عربوں  کو یقین ہو گیا کہ اِن لوگوں  پر اللہ کا فضلِ خاص ہے۔  وہ بے کھٹکے عرب کے ہر حصّے میں  جاتے اور اپنے تجارتی قافلے لے کر ہر علاقے سے گزرتے۔  کسی کی یہ جرأت نہ تھی کہ اُن کو چھیڑتا۔ اُنہیں  چھیڑنا تو درکنار، اُن کی امان میں  کوئی غیر قریشی بھی ہوتا تو اُس سے کوئی تعّرُض نہ کیا جاتا تھا۔

 

 

مقصودِ کلام

 

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بِعثت کے زمانہ میں  یہ حالات چونکہ سب ہی کو معلوم تھے،  اِس لیے اُن کے ذکر کی حاجت نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اِس سورۃ کے چار مختصر فقروں  میں  قریش سے صرف اِتنی بات کہنے پر اکتفا کیا گیا کہ جب تم خود اِس گھر (خانۂ کعبہ) کو بُتوں  کا نہیں  بلکہ اللہ کا گھر مانتے ہو، اور جب تمہیں  اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں  اِس گھر کے طفیل یہ امن عطا کیا،  تمہاری تجارتوں  کو یہ فروغ بخشا، اور تمہیں  فاقہ زدگی سے بچا کر یہ خوشحالی نصیب فرمائی، تو تمہیں  اُسی کی عبادت کرنی چاہیے۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

چونکہ قریش مانوس ہوئے ۱ (یعنی) جاڑے اور گرمی کے سفروں  سے مانوس، ۲ لہٰذا اُن کو چاہے ہ کہ اِس گھر کے ربّ کی عبادت کریں  ۳ جس نے اُنہیں  بھُوک سے بچا کر کھانے کو دیا ۴ اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا۔ ۵ ؏۱

 

تفسیر

 

۱: اصل الفاظ ہیں  لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ۔ اِیْلاف اَلْف سے ہے جس کے معنی خوگر ہونے،  مانوس ہو نے،  پھٹنے کے بعد مِل جانے اور کسی چیز کی عادت اختیار کرنے کے ہیں۔  اردو زبان میں  اُلفت اور مالوف کے الفاظ بھی اسی سے ماخوذ ہیں۔  اِیلاف سے پہلے جو لام آیا ہے اس کے متعلق عربی زبان کے بعض ماہرین نے یہ رائے  ظاہر کی ہے کہ یہ عربی محاورے کے مطابق تعجُّب کے معنی میں  ہے۔  مثلاً عرب کہتے ہیں  کہ لِزَیْدٍ وَّمَا صَنَعْنَا بِہٖ، یعنی ذرا اِس زید کو دیکھو کہ ہم نے اس کے ساتھ کیسا نیک سلوک کیا اور اس نے ہمارے ساتھ کیا کیا۔ پس لِاِیْلٰفِ قُریْشٍ  کا مطلب یہ ہے کہ قریش کا رویہ بڑ ا ہی قابلِ تعجب ہے۔  کہ اللہ ہی کے فضل کی بدولت وہ منتشر ہونے کے بعد جمع ہوئے اور اُن تجارتی سفروں  کے خوگر ہو گئے جو اُن کی خوشحالی کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں،  اور وہ اللہ ہی کی بندگی سے رُو گردانی کر رہے ہیں۔  یہ رائے اَخْفَش،  کِسائی اور فرّ اء کی ہے،  اور اِس رائے کو ابنِ جریر نے ترجیح دیتے ہوئے لکھا ہے کہ عرب جب اس لام کے بعد کسی بات کا ذکر کرتے ہیں  تو وہی بات یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے کہ اُس کے ہوتے جو شخص جو رویہ اختیار کر رہا ہے وہ قابلِ تعجب ہے۔  بخلاف اِس کے کہ خلیل بن احمد، سِیْبَوَیْہ اور زَمَخْشری کہتے ہیں   کہ یہ لامِ تعلیل ہے اور اِس کا تعلق آگے کے فقرے  فَلْیَعْبُدُ وْ ا رَبَّ  ھٰذَ ا الْبَیْتِ سے ہے۔  مطلب اس کا یہ ہے کہ یوں  تو قریش پر اللہ کی نعمتوں  کا کوئی شمار نہیں ،  لیکن اگر کسی اور نعمت کی بنا پر نہیں  تو اِسی ایک نعمت کی بنا پر وہ اللہ کی بندگی کریں  کہ اُس کے فضل سے وہ اِن تجارتی سفروں  کے خوگر ہوئے،   کیونکہ یہ بجائے خود اُن پر اُس کا بہت بڑا احسان ہے۔

۲: گرمی اور جاڑے کے سفروں  سے مراد یہ ہے کہ گرمی کے زمانے میں  قریش کے تجارتی سفر شام و فلسطین کی طرف ہوتے تھے،  کیونکہ وہ ٹھنڈے علاقے ہیں،  اور جاڑے کے زمانے میں  وہ جنوب عرب کی طرف  ہوتے تھے،  کیونکہ وہ گرم علاقے ہیں۔

۳: اِس گھر سے مراد خانۂ کعبہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ قریش کو یہ نعمت اِسی گھر کی بدولت حاصل ہوئی ہے،  اور وہ خود  مانتے ہیں  کہ وہ ۳۶۰ بُت اس کے ربّ نہیں  ہیں  جن کی یہ پوجا کر رہے ہیں ، بلکہ صرف اللہ ہی اِس کا ربّ ہے۔  اُسی نے ان کو اصحابِ فیل کے حملے سے بچایا۔ اُسی سے انہوں  نے ابرہہ کی فوج کے مقابلے میں  مدد  کی دعا کی تھی۔ اُس کے گھر کی پناہ میں  آنے سے پہلے جب وہ عرب میں  منتشر تھے تو اُن کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ عرب کے عام قبائل کی طرح وہ بھی ایک نسل کے بکھرے ہوئے گروہ تھے۔  مگر جب وہ مکّہ میں  اِس گھر کے گرد جمع ہوئے اور اِس کی خدمت انجام دینے لگے تو سارے عرب میں  محترم ہو گئے،  اور ہر طرف اُن کے تجارتی قافلے بے خوف و خطر آنے جانے لگے۔  پس انہیں  جو کچھ بھی نصیب ہوا ہے اِس گھر کے ربّ کی بدولت نصیب ہوا ہے،  اس لیے اُسی کی اِن کو عبادت کرنی چاہیے۔

۴:  یہ اشارہ ہے اِس طرف کہ مکّے میں  آنے سے پہلے جب قریش عرب میں  منتشر تھے تو بھوکوں  مر رہے تھے،  یہاں  آنے کے بعد اُن کے لیے رزق کے دروازے کھلتے چلے گئے اور ان کے حق میں  حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ دعا حرف بحرف پوری ہوئی کہ اے پروردگار،  میں  نے اپنے اولاد کے ایک حصّے کو تیرے محترم گھر کے پاس ایک بے آب و گیاہ وادی میں  لا بسایا ہے تا کہ یہ نماز قائم کریں ،  پس تو لوگوں  کے دلوں  کو اِن کا مشتاق بنا اور انہیں  کھانے کو پھل دے (ابراہیم۔ آیت۳۷)۔

۵: یعنی جس خوف سے عرب کی سرزمین میں  کوئی محفوظ نہیں  ہے اُس سے یہ محفوظ ہیں۔  عرب کا حال اُس دور میں  یہ تھا کہ پورے ملک میں  کوئی بستی ایسی نہ تھی جس کے لوگ راتوں  کو چین سے سوسکتے ہوں،  کیونکہ ہر وقت ان کی یہ کھٹکا لگا رہتا تھا کہ نہ معلوم کب کوئی غارت گر گروہ اچانک اُس پر چھاپا مار دے۔  کوئی شخص ایسا نہ تھا جو اپنے قبیلے کے حدود سے باہر قدم رکھنے کی ہمت کر سکے،  کیونکہ اکّا دُکّا آدمی کا زندہ بچ  کر واپس آ جانا، یا گرفتار ہو کر غلام بن جانے سے محفوظ رہنا گویا امرِ محال تھا۔ کوئی قافلہ ایسا نہ تھا جو اطمینان سے سفر کر سکے،  کیونکہ راستے  میں  جگہ جگہ اُس پر ڈاکہ پڑنے کا خطرہ تھا، اور راستے بھر کے با اثر قبائلی سرداروں  کو رشوتیں  دے کر تجارتی قافلے بخیریت گزر سکتے تھے۔  لیکن قریش مکّہ میں  بالکل محفوظ تھے،  انہیں  کسی دشمن کے حملے کا خطرہ نہ تھا۔ اُن کے چھوٹے اور بڑے ہر طرح کے قافلے ملک کے ہر حصّے میں  آتے جاتے تھے،  کوئی یہ معلوم ہو جانے کے بعد کہ قافلہ حَرَم کے خادموں  کا ہے،  انہیں  چھیڑنے کی جرأت نہ کر سکتا تھا۔ حد یہ ہے کہ  اکیلا قریشی بھی اگر کہیں  سے گزر رہا ہو اور کوئی ا س سے تعرُّض کرے تو صرف لفظ ’’حَرَمی‘‘  یا  اَنَا مِنْ حَرَمِ اللہِ کہہ دینا کافی ہو جاتا تھا، یہ سُنتے ہی اٹھے ہوئے ہاتھ رُک جاتے تھے۔

 

 

 

۱۰۷۔سورۃ الماعون

 

 

نام

 

آخری آیت کے آخر لفظ الماعون کو اس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

ابنِ مَرْدُوْیَہ نے ابن عباس اور ابن الزُّبَیر رضی اللہ عنہما کا قول نقل کیا ہے کہ یہ سورہ مکّی ہے،  اور یہی قول عطاء اور جابر کا بھی ہے۔  لیکن ابو حَیان نے البحر المُحِیط میں  ابن عباس اور قَتادہ  اور ضحّاک کا یہ قول نقل کیا ہے کہ یہ مدینہ میں  نازل ہوئی ہے۔  ہمارے نزدیک خود اِس سورہ کے اندر ایک داخلی شہادت ایسی موجود ہے جو اس کے مدنی ہونے پر دلالت کرتی ہے،  اور وہ یہ ہے کہ اِس میں  اُن نماز پڑھنے والوں  کو تباہی کی وعید سُنائی گئی ہے جو اپنی نمازوں  سے غفلت برتتے اور دکھاوے کے لیے نماز پڑھتے ہیں ۔  منافقین کی یہ قسم مدینے ہی میں  پائی جاتی تھی،  کیونکہ وہیں  اسلام اور اہلِ اسلام کو یہ قوّت حاصل ہوئی تھی کہ  بہت سے لوگوں  کو مصلحۃً ایمان لانا پڑا تھا اور وہ مجبوراً مسجد میں  آتے تھے،  جماعت میں  شریک ہوتے تھے اور دکھاوے کی نمازیں  پڑھتے تھے،  تاکہ اُنہیں  مسلمانوں  میں  شمار کیا جائے،   اس کے برعکس مکّے میں  ایسے حالات سِرے سے موجود ہی نہ تھے  کہ وہاں  کسی کو دکھاوے کی نماز پڑھنی پڑتی۔ وہاں  تو اہلِ ایمان کے لیے نمازِ با جماعت کا اہتمام بھی مشکل تھا۔ اُن کو چھُپ چھُپ کر نما ز پڑھنی پڑتی تھی اور کوئی عَلانیہ پڑھتا تھا تو جان پر کھیل کر پڑھتا تھا۔ منافقین کی جو قسم وہاں  پائی جاتی تھی وہ ریاکارانہ ایمان لانے اور دکھاوے کی نمازیں  پڑھنے والوں  کی نہیں،  بلکہ اُن لوگوں  کی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے برسرحق ہونے کو جان اور مان گئے تھے،  مگر اُن میں  سے کوئی  اپنی ریاست و وجاہت اور مشیخت کو برقرار رکھنے کی خاطر اسلام قبول کرنے سے گریز کر رہا تھا اور کوئی یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہ تھا کہ مسلمان ہو کر اُن مصائب میں  مبتلا ہو جائے جن میں  وہ ایمان لانے والوں  کو اپنی آنکھوں  کے سامنے مبتلا دیکھ رہا تھا۔ مکّی دور کے منافقین کی یہ حالت سورۂ عنکبوت،  آیات ۱۱-۱۰ میں  بیان کی گئی ہے (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، العنکبوت، حواشی ۱۳ تا ۱۶)۔

 

موضوع اور مضمون

 

اس کا موضوع یہ بتاتا ہے کہ آخرت پر ایمان نہ لانا انسان کے اندر  کس قسم کے ا خلاق پیدا کرتا ہے۔  آیت ۲ اور ۳ میں  اُن  کفار کی حالت بیان کی گئی ہے جو عَلانیہ آخرت کو جھٹلاتے ہیں۔  اور آخری چار آیتوں  میں  اُن منافقین کا حال بیان کیا گیا ہے جو بظاہر مسلمان ہیں ،  مگر دل میں  آخرت اور اُس کی جزا و سزا اور اُس کے ثواب و عِقاب کا  کوئی تصور نہیں  رکھتے۔  مجموعی طور پر دونوں  قسم کے گروہوں  کے طرزِ عمل کو بیان کرنے سے مقصود یہ حقیقت  لوگوں  کے ذہن نشین کرنا ہے کہ انسان کے اندر ایک مضبوط اور مستحکم پاکیزہ کردار عقیدۂ آخرت کے بغیر پیدا نہیں  ہو سکتا۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

تم نے دیکھا ۱ اُس شخص کو جو آخرت کی جزا و سزا ۲ کو جھُٹلاتا ہے ؟ ۳ وہی تو ہے ۴ جو یتیم کو دھکّے دیتا ہے،  ۵ اور مسکین کا کھانا ۶ دینے پر نہیں  اُکساتا۔ ۷ پھر تباہی ہے اُن نماز پڑھنے والوں  کے لیے ۸ جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں،  ۹ جو ریا کاری کرتے ہیں  ۱۰ اور معمولی ضرورت کی چیزیں  ۱۱ (لوگوں  کو)دینے سے گریز کرتے ہیں۔  ؏۱

 

تفسیر

 

۱: تم نے دیکھا کا خطاب بظاہر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے ہے مگر قرآن کا اندازِ بیان یہ ہے کہ ایسے مواقع پر وہ عموماً ہر صاحب عقل اور سوچنے سمجھنے والے شخص کو مخاطب کرتا ہے۔  اور دیکھنے کا مطلب آنکھوں  سے دیکھنا بھی ہے،  کیونکہ آگے لوگوں  کا جو حال بیان کا  گیا ہے وہ ہر دیکھنے والا اپنی آنکھوں  سے دیکھ سکتا ہے۔  اور اس کا مطلب جاننا، سمجھنا ور غور کرنا بھی ہے۔  عربی کی طرح اردو میں  بھی دیکھنے کا لفظ اس دوسرے معنی میں  استعمال ہوتا ہے۔  مثلاً ہم کہتے ہیں  کہ ’’میں  دیکھ رہا ہوں ‘‘ اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں  جانتا ہوں،  یا مجھے خبر ہے۔  یا مثلاً ہم کہتے ہیں  کہ ’’ذرا یہ بھی تو دیکھو‘‘ اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ ذرا اس بات پر بھی غور کرو۔ پس اگر لفظ اَرَءَیْتَ کو اِس دوسرے معنی میں  لیا جائے تو آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ ’’جانتے ہو وہ کیسا شخص ہے جو جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے ‘‘؟ یا ’’تم نے غور کیا اُس شخص کے حال پر جو جزائے اعمال کی تکذیب کرتا ہے ‘‘؟

۲: اصل میں  یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ فرمایا گیا ہے۔  الدّیْن کا لفظ قرآن کی اصطلاح میں  آخرت کی جوائے اعمال کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور دینِ اسلام کے لیے بھی۔ لیکن جو مضمون آگے بیان ہوا ہے اس کے ساتھ پہلے معنی ہی زیادہ مناسبت رکھتے ہیں،  اگرچہ دوسرے معنی بھی سلسلۂ کلام سے غیر مطابق نہیں  ہیں۔  ابن عباس ؓ نے دوسرے معنی کو ترجیح دی ہے،  اور اکثر مفسّرین پہلے معنی کو ترجیح دیتے ہیں۔  اگر پہلے معنی لیے جائیں  تو پوری سورۃ کے مضمون کا مطلب یہ ہو گا کہ آخرت کے انکار کا عقیدہ انسان میں  یہ سیرت و کردار پیدا کرتا ہے۔  اور  دوسرے معنی لیے جائیں  تو پوری سورۃ کا مدّعا دین اسلام کی اخلاقی اہمیت واضح کرنا قرار پائے گا۔ یعنی کلام کا مقصد یہ ہو گا کہ اسلام اُس کے برعکس سیرت و کردار پیدا کرنا چاہتا ہے جو اِس دین کا انکار کرنے والوں  میں  پائی جاتی ہے۔

۳: اندازِ کلام سے محسوس  ہوتا ہے کہ یہاں  اس سوال سے بات کا آغاز  کرنے کا مقصد یہ پوچھنا نہیں  ہے کہ تم نے اُس شخص کو دیکھا ہے یا نہیں،  بلکہ سامع کو اِس بات پر غور کرنے کی دعوت دینا ہے کہ آخرت کی جزا و سزا کا انکار آدمی  میں  کس قسم کا کردار پیدا کرتا ہے،  اور اُسے یہ جاننے کا خواہشمند بنانا ہے کہ اِس عقیدے کو جھٹلانے والے کیسے لوگ ہوتے ہیں  تاکہ وہ ایمان بالآخر ۃ کی اخلاقی اہمیت سمجھنے کی کوشش کرے۔

۴: اصل میں  فَذٰلِکَ الَّذِی فرمایا گیا ہے۔  اس فقرے میں  ف ایک پورے جملے کا مفہوم ادا کرتا ہے۔  اس کے معنی یہ ہیں  کہ ’’اگر تم نہیں  جانتے تو تمہیں  معلوم ہو کہ وہی تو ہے جو‘‘ یا پھر یہ اِس  معنی میں  ہے کہ  ’’اپنے اِس انکارِ  آخرت کی وجہ سے وہ ایسا شخص ہے جو‘‘۔

۵: اصل میں  یَدُعُّ الْیَتِیْمَ کا فقرہ استعملا ہوا ہے جس کے کئی معنی ہیں۔  ایک یہ کہ وہ یتیم کا حق مار کھا تا ہے اور اس کے  باپ کو چھوڑی ہوئی میراث سے بے دخل کر کے اسے دھکے مار کر نکال دیتا ہے۔  دوسرے یہ کہ یتیم اگر اس سے مدد مانگنے آتا ہے تو رحم کھانے کے بجائے اسے دَھتکار دیتا ہے اور پھر بھی اگر وہ اپنی پریشان حالی کی بنا پر رحم کی امید لیے ہوئے کھڑا رہے تو اسے دھکّے دے کر دفع کر دیتا ہے۔  تیسرے یہ کہ وہ یتیم پر ظلم ڈھاتا ہے،  مثلاً اس کے گھر میں  اگر اس کا اپنا ہی کوئی رشتہ دار یتیم ہو تو اس کے نصیب میں  سارے گھر کی خدمتگاری کرنے اور بات بات پر جھڑکیاں   اور ٹھوکریں  کھانے کے سوا کچھ نہیں   ہوتا۔ علاوہ بریں  اِس فقرے میں  یہ معنی بھی پوشیدہ ہیں  کہ اُس شخص سے کبھی کبھار یہ ظالمانہ حرکت سرزد  نہیں  ہو جاتی، بلکہ اس کی عادت اور اس کا مستقل رویّہ یہی ہے۔  اُسے یہ احساس ہی نہیں   ہے کہ یہ کوئی بُرا کام ہے جو وہ کر رہا ہے۔  بلکہ وہ بڑے اطمینان کے ساتھ یہ روش اختیار کیے رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یتیم ایک بے بس اور بے یار و مددگار مخلوق ہے،  اس لیے کوئی ہرج نہیں  اگر اس کا حق مار کھایا جائے،  یا اسے ظلم و ستم کا تختۂ مشق بنا کر رکھا جائے،  یا وہ مدد مانگنے کے لیے آئے تو اُسے دَھتکار دیا جائے۔  اس سلسلے میں  ایک بڑا عجیب واقعہ قاضی ابو الحسن لماوَرْدِی نے اپنی کتاب اَعلامُ النُّبُوَّۃ میں  لکھا ہے۔  ابو جہل ایک یتیم کا وصی تھا۔ وہ بچہ ایک روز اِس حالت میں  اُس کے پاس آیا کہ اس کے بدن پر کپڑے تک نہ تھے۔  اوراس نے التجا کی کہ اُس کے باپ کے چھوڑے ہوئے مال میں  سے وہ اُسے کچھ دیدے۔  مگر اس ظالم نے اس کی طرف توجّہ تک نہ کی اور وہ کھڑے کھڑے آخر کار مایوس ہو کر پلٹ گیا۔ قریش کے سرداروں  نے از راہِ شرارت اس سے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم) کے پاس جا کر شکایت کر،  وہ ابو جہل سے سفارش کر کے تجھے تیرا مال دلوا دیں  گے۔  بچہ بے چارہ ناواقف تھا کہ ابوجہل کا حضور ؐ سے کیا تعلق ہے اور یہ بدبخت اُسے کس غرض کے لیے یہ مشورہ دے رہے ہیں۔  وہ سیدھا حضور ؐ کے پاس پہنچا اور اپنا حال آپ ؐ سے بیان کیا۔ آپ ؐ اُسی وقت اُٹھ کھڑے ہوئے اور اسے ساتھ لے کر اپنے بدترین دشمن ابو جہل کے ہاں  تشریف لے گئے۔  آپؐ کو دیکھ کر اُس نے آپ ؐ کا استقبال کیا اور جب آپؐ  نے فرمایا کہ اِس بچے کا حق اِسے دے دو۔ تو وہ فوراً مان گیا اور اس کا مال لا کر اسے دے دیا۔ قریش کے سردار تاک میں  لگے ہوئے تھے کہ دیکھیں ،  اِن دونوں  کے درمیان کیا معاملہ پیش آتا ہے۔  وہ کسی مزے دار جھڑپ کی امید کر رہے تھے۔  مگر جب انہوں  نے یہ معاملہ دیکھا تو حیران  ہو کر ابو جہل کے پاس آئے اور اسے طعنہ دیا کہ تم بھی اپنا دین چھوڑ گئے۔  اس نے کہا خدا کی قسم،  میں  نے اپنا دین نہیں  چھوڑا، مگر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم) کے دائیں  اور بائیں  ایک ایک حربہ ہے جو میرے اندر گھس جائے گا اگر میں  نے ذرا بھی ان کی مرضی کے خلاف حرکت کی۔ اِس واقعہ سے نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُس زمانے میں  عرب کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور معزز قبیلے تک کے بڑے بڑے سرداروں  کا یتیموں  اور دوسرے بے یار و مددگار لوگوں  کے ساتھ کیا سلوک تھا،  بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کس بلند اخلاق کے مالک تھے اور آپ کے اِس اخلاق کا آپ کے بدترین دشمنوں  تک پر کیا رعب تھا۔ اِسی قِسم کا ایک واقعہ ہم اس سے پہلے تفہیم القرآن،  جلد سوم، صفحہ ۱۴۶ پر نقل کر چکے ہیں  جو حضور ؐ کے اُس زبردست اخلاقی رعب پر دلالت کرتا ہے جس کی وجہ سے کفارِ قریش آپ کو جادوگر کہتے تھے۔

۶: اِطْعَامِ الْمِسْکِیْن نہیں  بلکہ طَعَا مِ الْمِسْکِیْن کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ۔  اگر اِطعام المسکین کہا گیا ہوتا تو معنی یہ ہوتے کہ وہ مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں  اُکساتے۔  لیکن طعام المسکین کے معنی یہ ہیں  کہ وہ مسکین کا کھانا دینے پر نہیں  اُکساتا۔ بالفاظِ دیگر جو کھانا مسکین کو دیا جاتا ہے وہ دینے والے کا کھانا نہیں  بلکہ اُسی مسکین کا کھانا ہے،  وہ اُس کا حق ہے جو دینے والے پر عائد ہوتا ہے،  اور دینے والا کوئی بخشش نہیں  دے رہا ہے بلکہ اُس کا حق ادا کر رہا ہے۔  یہی بات ہے جو سورۂ ذاریات آیت ۱۹ میں  فرمائی گئی ہے کہ وَفِیْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآ ئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ  ’’اور ان کے مالوں  میں  سائل اور محروم کا حق ہے ‘‘۔

۷: لَا یَحُضُّ کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص اپنے نفس کو بھی اِس کام پر آمادہ نہیں  کرتا، اپنے گھر والوں  کو بھی یہ نہیں  کہتا کہ مسکین کا کھانا دیا کریں ،  اور دوسرے لوگوں  کو بھی اِس بات پر نہیں  اُکساتا تا کہ معاشرے میں  جو غریب و محتاج لوگ بھوکے مر رہے ہیں  ان کے حقوق پہچانیں  اور ان کو بھوک مٹانے کے لیے کچھ کریں۔   یہاں  اللہ تعالیٰ نے صرف دو نمایاں  ترین مثالیں  دے کر دراصل یہ بتایا ہے کہ اِنکارِ آخرت لوگوں  میں  کس قسم کی اخلاقی برائیاں  پیدا کرتا ہے۔  اصل مقصود اِن دو ہی باتوں  پر گرفت کرنا نہیں  ہے کہ آخرت کو نہ ماننے سے بس یہ دو خرابیاں  پیدا ہوتی ہیں  کہ لوگ یتیموں  کو دھتکار تے ہیں اور مسکینوں  کو کھانا  دینے پر نہیں  اُکساتے۔  بلکہ جو بے شمار خرابیاں  اِس گمراہی کے نتیجے میں  رُو نما ہوتی ہیں  ان میں  سے دو ایسی چیزیں  بطورِ  نمونہ پیش کی گئی ہیں  جن کو ہر شریف الطبع اور سلیم الفطرت انسان مانے گا کہ وہ نہایت قبیح اخلاقی رذائل ہیں۔  اِس کے ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین کرنی مقصود ہے  کہ اگر یہی شخص خدا کے حضور اپنی حاضری اور جواب دہی کا قائل ہوتا تو اس سے ایسی کمینہ حرکتیں  سرزد نہ ہوتیں  کہ یتیم کا حق مارے،  اس پر ظلم ڈھائے،  اس کو دھُتکارے،  اور مسکین کو نہ خود کھلائے نہ کسی سے یہ کہے کہ اس کا کھانا اس کو دو۔ آخرت کا یقین رکھنے والوں  کے اوصاف تو وہ ہیں  جو سورۂ عصر اور سُورۂ بلد میں  بیان کیے گئے ہیں  کہ وَتَوَا صَوْ ا بِالْحَقِّ  (وہ ایک دوسرے کو حق پرستی اور ادائے حقوق کی نصیحت کرتے ہیں ) اور وَتَوَا صَوْ ا بِا لْمَرْحَمَۃ (وہ ایک دُوسرے کو خلق خدا پر رحم کھانے کی نصیحت کرتے ہیں )۔

۸: فَوَیْلٌ لّلْمُصَلِّیْنَ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔  یہاں  ف اس معنی میں   ہے کہ کھلے کھلے منکرینِ آخرت کا حال تو یہ  تھا جو ابھی تم نے سنا، اب ذرا اُن منافقوں  کا حال بھی دیکھو جو نماز پڑھنے والے گروہ،  یعنی مسلمانوں  میں  شامل ہیں۔  وہ چونکہ بظاہر مسلمان ہونے کے باوجود آخرت کو جھُوٹ سمجھتے ہیں،  اس لیے ذرا دیکھو کہ وہ اپنے لیے کس تباہی کا سامان کر رہے ہیں۔  مُصَلِّیْن کے معنی تو ’’نماز پڑھنے والوں ‘‘ کے ہیں ،  لیکن  جس سلسلۂ کلام میں  یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور آگے ان لوگوں  کی جو صفات بیان کی گئی ہیں  اُن کے لحاظ سے اِس لفظ کے معنی درحقیقت نمازی ہونے کے نہیں  بلکہ اہلِ صلوٰۃ،  یعنی مسلمانوں  کے گروہ میں  شامل ہونے کے ہیں۔

۹: فِیْ صَلَاتِہِمْ سَاھُوْنَ نہیں  کہا گیا ہے بلکہ عَنْ صَلَا تِہِمْ سَاھُوْنَ کہا گیا ہے۔  اگر فی صَلوٰ تِہِمْ کے الفاظ استعمال ہوتے تو مطلب یہ ہوتا کہ وہ اپنی نماز میں  بھولتے ہیں۔  لیکن نماز پڑھتے پڑھتے کچھ بھول جانا شریعت  میں  نفاق تو درکنار گناہ بھی نہیں  ہے،  بلکہ سرے سے کوئی عیب یا قابلِ  گرفت بات تک نہیں  ہے۔  خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو بھی کسی وقت نماز میں  بھول  لاحق ہوئی ہے۔  اور حضور ؐ نے اپس کی تلافی کے لیے سجدۂ سَہْو کا طریقہ مقرر فرمایا ہے۔  اِس کے بر عکس عَنْ صَلوٰ تِہِمْ سَاھُوْنَ کے معنی یہ ہیں  کہ وہ اپنی نماز سے غافل ہیں۔  نماز پڑھی تو اور نہ پڑھی تو،  دونوں  کی ان کی نگاہ میں  کوئی اہمیت نہیں  ہے۔  کبھی پڑھتے  ہیں  اور کبھی نہیں  پڑھتے۔  پڑھتے ہیں  تو اِس طرح کہ نماز کے وقت کو ٹالتے رہتے ہیں  اور جب وہ بالکل ختم ہونے کے قریب ہوتا ہے کہ تو اُٹھ کر چار ٹھونگیں  مار لیتے ہیں۔  یا نماز  کے لیے اُٹھتے ہیں  تو بے دلی کے ساتھ اٹھتے ہیں،  اور بادل ناخواستہ پڑھ لیتے ہیں  جیسے کوئی مصیبت ہے جو ان پر نازل ہو گئی ہے۔  کپڑوں  سے کھیلتے ہیں۔  جماہیاں  لیتے ہیں۔  خدا کی یاد کا کوئی شائبہ تک ان کے اندر نہیں  ہوتا۔ پوری نماز میں  نہ اُن کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں ،  اور نہ یہ خیال رہتا ہے  کہ انہوں  نے کیا پڑھا ہے۔  پڑھ رہے ہوتے ہیں  نماز اور دل کہیں  اور پڑا رہتا ہے۔  مارا مار اِس طرح پڑھتے ہیں  کہ نہ قیام ٹھیک ہوتا ہے اور رکوع نہ سجود۔ بس کسی نہ کسی طرح نماز کی سی شکل بنا کر جلدی سے جلدی فارغ ہو جانے کی کو شش کرتے ہیں۔  اور بہت سے لوگ تو ایسے ہیں   کہ کسی جگہ پھنس گئے تو نماز پڑھ لی،  ورنہ اِس عبادت کا کوئی مقام ان کی زندگی میں  نہیں  ہوتا۔ نماز کا وقت آتا ہے تو انہیں  محسوس تک نہیں  ہوتا کہ یہ نماز کا وقت ہے۔  مؤذّن کی آواز کان میں  آتی ہے تو انہیں  یہ خیال تک نہیں  آتا کہ یہ کیا پکار رہا ہے،  کس کو پکار رہا ہے اور کس لیے پکار رہا ہے۔  یہی آخرت پر ایمان نہ ہونے کی علامات ہیں۔  کیونکہ دراصل اسلام کے مدّعیوں  کا یہ طرزِ عمل اس وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ نہ نماز پڑھنے پر کسی جزا کے قائل ہیں  اور نہ انہیں  اس بات کا یقین ہے کہ اس کے نہ پڑھنے پر کوئی سزا ملے گی۔ اسی بنا پر حضرت اَنَس ؓ بن مالک اور عطاء بن دِینار کہتے ہیں  کہ خدا کا شکر ہے اس نے فِیْ صَلَاتِہِمْ سَاھُوْنَ نہیں  بلکہ عَنْ صَلَا تِہِمْ سَاھُوْنَ فرمایا۔  یعنی ہم نماز میں  بھولتے تو ضرور ہیں  مگر نماز سے غافل نہیں  ہیں  اس لیے ہمارا شمار منافقوں  میں  نہیں  ہو گا۔ قرآن مجید میں  منافقین کی اِس کیفیت کو دوسری جگہ یوں  بیان کیا گیا ہے کہ وَلَا یَاْ تُوْنَ الصَّلوٰۃَ اِلَّا وَھُمْ کُسَالیٰ وَلَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَھُمْ کٰرھِوْنَ، ’’ وہ نماز کے لیے نہیں  آتے مگر کَسْمَساتے ہوئے اور (اللہ کی راہ میں ) خرچ نہیں  کرتے مگر بادل ناخواستہ‘‘(التوبہ۔۵۴)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم فرماتے ہیں  تلک صلوٰۃ المنافق، تلک صلوٰۃ المنافق، تلک صلوٰۃ المنافق یجلس یرقب الشمس حتّیٰ اذا کانت بین قرنی الشیطان قام فنقرار بعاً لا یذکر اللہ فیہا الّا قلیلا ’’ یہ منافق کی نماز  ہے۔ یہ منافق کی نماز  ہے۔  یہ منافق کی نماز  ہے۔  عَصر کے وقت بیٹھا سورج کو دیکھتا رہتا ہے،  یہاں  تک کہ جب وہ شیطان کے دونوں  سینگوں  کے درمیان پہنچ جاتا ہے (یعنی غروب کا وقت قریب آ جاتا ہے ) تو اُٹھ کر چار ٹھونگیں  مار لیتا ہے  جن میں  اللہ کو کم ہی یاد کرتا ہے ‘‘۔(بخاری۔ مسلم۔ مُسند احمد)۔ حضرت سعد ؓ بن ابی وَقّاص سے ان کے صاحبزادے مُصْعَب بن سعد روایت کرتے ہیں  کہ میں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے اُن لوگوں  کے بارے میں  پوچھا تھا جو نماز سے غفلت برتتے ہیں ۔  آپ نے فرمایا کہ یہ  وہ لوگ ہیں  جو نماز کو اُس کا وقت ٹال کر پڑھتے ہیں  (ابن جریر، ابو یَعلیٰ۔ ابن المُنْذِر۔ ابن ابی حاتم۔ طَبَرانی فی الاوسط۔ ابن مَرْدُوْیَہ۔ بیہقی فی اسُّنَن۔ یہ روایت حضرت سعد کے اپنے قول کی حیثیت سے بھی موقوفاً نقل ہوئی ہے اور اُس کی سند زیادہ قوی ہے۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم  کے ارشاد کی حیثیت سے اِس کی مرفوعاً روایت کو بیہقی اور حاکم نے ضعیف قرار دیا ہے )۔ حضرت مصعب کی دوسری روایت یہ ہے کہ انہوں   نے اپنے والد ماجد سے پوچھا کہ  اِس آیت پر آپ نے غور فرمایا؟ کیا اِس کا مطلب نہیں  کو چھوڑ دینا ہے ؟ اِس سے مراد نماز پڑھتے پڑھتے آدمی کا خیال کہیں  اور چلا جانا ہے ؟ خیال بٹ جانے کی حالت ہم میں  سے کس پر نہیں   گزرتی؟ انہوں  نے جواب دیا نہیں،  اِس سے مراد نماز کے وقت کو ضائع کرنا اور اسے وقت ٹال کر پڑھنا  ہے ( ابن جریر، ابن ابی شَیْبَہ، ابو یَعلیٰ، ابن المُنْذِر، ابن مَرْدُوْیَہ،  بیہقی فی السنن)۔ اس مقام پر یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ نماز میں  دوسرے خیالات کا آ جانا اور چیز ہے اور نماز کی طرف کبھی متوجہ ہی نہ ہونا اور اس میں  ہمیشہ دوسری باتیں  ہی سوچتے رہنا بالکل دوسری چیز۔ پہلی حالت تو بشریت کا تقاضا ہے،  بلا اِرادہ دوسرے خیالات آہی جاتے ہیں ،  اور مومن کو جب بھی یہ احساس ہوتا ہے کہ نماز سے اُس کی توجہ ہٹ گئی ہے تو وہ  پھر کوشش کر کے اُس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔  دوسری حالت نماز سے غفلت برتنے کی تعریف میں  آتی ہے،  کیونکہ اس میں  آدمی صرف نماز کی ورزش کر لیتا ہے،  خدا کی یاد کا کوئی ارادہ اس کے دل میں  نہیں  ہوتا، نماز شروع کرنے سے سلام پھیرنے تک ایک لمحہ کے لیے بھی اس کا دل خدا کی طرف متوجہ نہیں  ہوتا، اور جن خیالات کو لیے ہوئے وہ نماز میں  داخل ہوتا ہے اُنہی میں  مستغرق رہتا ہے۔

۱۰: یہ فقرہ ایک مستقل فقرہ بھی ہو سکتا ہے اور پہلے فقرے سے متعلق بھی۔ اگر اسے ایک مستقل فقرہ قرار دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ کوئی نیک کام بھی وہ خالص نیت کے ساتھ خدا کے لیے نہیں  کرتے بلکہ جو کچھ کرتے ہیں  دوسروں  کو دکھانے کے لیے کرتے ہیں  تاکہ ان کی تعریف  ہو، لوگ ان کو نیکو کار سمجھیں ،  ان کے کارِ خیر کا ڈھنڈورا دنیا میں  پِٹے،  اور اس کا فائدہ کسی نہ کسی صورت میں  انہیں  دنیا  ہی میں  حاصل ہو جائے۔  اور اگر اس کا تعلق پہلے فقرے کے ساتھ مانا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ وہ دکھاوے کی نمازیں  پڑھتے ہیں۔  مفسّرین نے بالعموم دوسرے ہی معنی کو ترجیح دی ہے کیونکہ پہلی نظر میں  یہی محسوس ہوتا ہے کہ اِس کا تعلق پہلے فقرے سے ہے۔  ابن عباس ؓ فرماتے ہیں، ’’اس سے مراد منافقین ہیں  جو دکھاوے کی نماز پڑھتے تھے،  اگر دوسرے لوگ موجود ہوتے تو پڑھ لیتے اور کوئی دیکھنے والا نہ ہوتا تو نہیں  پڑھتے تھے ‘‘۔ دوسری روایت میں  اُن کے الفاظ یہ ہیں : ’’تنہا ہوتے تو نہ پڑھتے اور عَلانیہ پڑھ لیتے تھے ‘‘ (ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، بیہقی فی الشعب)۔ قرآن مجید میں  بھی منافقین کی یہ حالت بیان کی گئی ہے کہ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَی الصَّلوٰۃِ قَامُوْا کُسَالیٰ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَلَا یَذْکُرُوْنَ اللہَ اِلَّا قَلِیْلاً۔ ’’اور جب وہ نماز کے لیے اُٹھتے ہیں  تو کَسْمَساتے ہوئے اُٹھتے ہیں،  لوگوں  کو دکھاتے ہیں ،  اور اللہ کو کم ہی یاد کرتے ہیں ‘‘(النساء۔ ۱۴۲)

۱۱:  اصل میں  لفظ ماعون استعمال ہوا ہے۔  حضرت علیؓ، ابن عمرؓ، سعید بن جُبَیر، قَتَادہ، حسن بصری، محمد بن حَنَفِیّہ، ضَحّاک،  ابن زید، عِکْرِمَہ، مجاہد، عطاء اور زُہری رحمہم اللہ کا قول یہ ہے کہ اس سے  مراد زکوٰۃ ہے۔  ابن عباس ؓ، ابن مسعودؓ، ابراہیم ؓ نخعی، ابو مالکؒ اور بہت سے دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اس سے مراد  عام ضرورت کی اشیاء مثلاً ہَنڈیا، ڈول، کلہاڑی، ترازو، نمک، پانی، آگ، چقماق(جس کی  جانشین اب دیا سلائی ہے ) وغیرہ ہیں  جو عموماً لوگ ایک دوسرے سے عاریۃً مانگتے رہتے ہیں۔  سعید بن جبیر اور مجاہد کا بھی ایک قول اسی کی تائید میں  ہے۔  حضرت علی ؓ کا بھی ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد زکوٰۃ بھی ہے اور یہ چھوٹی چھوٹی عام ضروریات کی چیزیں  بھی۔ عِکْرِمَہ سے  ابن ابی حاتم نے نقل کیا ہے کہ ماعون کا اعلیٰ مرتبہ زکوٰۃ ہے اور ادنیٰ ترین مرتبہ یہ ہے کہ کسی کو چھلنی، ڈول یا سوئی عاریۃً دی جائے۔  حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں  کہ ہم اصحابِ  محمد صلی اللہ علیہ و سلم یہ کہا کرتے تھے (اور بعض روایات میں  ہے کہ حضورؐ کے عہد مبارکہ میں  یہ  کہا کرتے تھے ) کہ ماعون سے مراد ہنڈیا، کلہاڑی، ڈول، ترازو، اور ایسی ہی دوسری چیزیں  مستعار دینا ہے (ابن جریر، ابن ابی شَیبہ، ابو داؤد، نَسائی، بَزّار، ابن المنذر، ابن ابی حاتم،  طَبَرانی فی الاوسط، ابن مردویہ، بیہقی فی السنن، سعد بن عِیاض ناموں  کی تصریح کے بغیر قریب قریب یہی قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے صحابہ سے نقل کرتے ہیں  جس کے معنی یہ ہیں  کہ انہوں  نے متعدد صحابہ سے یہ بات سُنی تھی (ابن جریر، ابن ابی شَیبَہ) دَیلَمی، ابن عَساکِر اور ابو نعیم نے حضرت ابوہریرہ کی ایک روایت نقل کی ہے کہ جس میں  وہ کہتے ہیں  کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس آیت کی یہ تفسیر بیان فرمائی کہ اس سے مراد کلہاڑی اور ڈول اور ایسی ہی دوسری چیزیں  ہیں۔  اگر یہ روایت صحیح ہے تو غالباً یہ دوسرے لوگوں  کے علم میں  نہ آئی ہو گی، ورنہ ممکن نہ تھا کہ پھر کوئی شخص اس آیت کی کوئی اور تفسیر کرتا۔ اصل میں  بات یہ ہے کہ ماعون چھوٹی اور قلیل چیز کو کہتے ہین جس میں  لوگوں  کے لیے کوئی  منفعت یا فائدہ ہو۔ اس معنی کے لحاظ سے زکوٰۃ بھی ماعون ہے،  کیونکہ وہ بہت سے مال میں  سے تھوڑا  سا مال ہے جو غریبوں  کی مدد کے لیے دینا ہوتا ہے،  اور وہ دوسری عام ضرورت کی اشیاء بھی ماعون ہیں  جن کا ذکر حضرت عبد اللہ بن مسعود اور ان کے ہم خیال حضرات نے کیا ہے۔  اکثر مفسرین کا خیال یہ ہے کہ ماعون کا اِطلاق اُن تمام چھوٹی چھوٹی چیزوں  پر ہوتا ہے کہ جو عادۃً ہمسایے ایک دوسرے سے مانگتے رہتے ہیں ۔  اُن کا مانگنا کوئی ذلت کی بات نہیں  ہوتا، کیونکہ غریب اور امیر سب ہی کو کسی نہ کسی وقت ان کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔  البتہ ایسی چیزوں  کو دینے  سے بخل برتنا اخلاقاً ایک ذلیل حرکت سمجھا جاتا ہے۔  عموماً ایسی چیزیں  بجائے کود باقی رہتی ہیں  اور  ہمسایہ ان سے کام لے کر انہیں  جوں  کا توں  واپس دے دیتا ہے۔  اِسی ماعون کی تعریف میں  یہ بھی آتا ہے کہ کسی کے ہاں  مہمان آ جائیں  اور وہ ہمسائے سے چارپائی یا بستر مانگ لے۔  یا کوئی ا پنے ہمسائے کے تنور میں  اپنی روٹی پکا لینے کی اجازت مانگے۔  یا کوئی کچھ دنوں  کے لیے بار جا رہا ہو اور حفاظت کے لیے اپنا کوئی قیمتی سامان دوسرے کے ہاں  رکھوانا چاہے۔  پس آیت کا مقصود یہ بتانا ہے کہ آخرت کا انکار آدمی کو اتنا تنگ دل بنا دیتا ہے  کہ وہ دوسروں  کے لیے کوئی معمولی ایثار کرنے کے لیے بھی تیار نہیں  ہوتا۔

٭٭٭

 

۱۰۸۔سورۃ الکوثر

 

نام

 

      اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ   کے لفظ الکوثر کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

ابن  مَرْدُوْیَہ نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ،  حضرت عبداللہ بن الزبیرؓ اور حضرت عائشہؓ صدیقہ سے نقل کیا ہے کہ یہ سورۃ مکّی ہے،  کَلْبی اور مُقاتِل بھی اسے مکّی کہتے ہیں،  اور جمہور مفسّرین کا قول بھی یہی ہے۔  لیکن حضرت حسن بصری، عِکْرِمَہ،  مجاہد اور قَتادہ اِس کو مدنی قرار دیتے ہیں،  امام سیوطی نے اِتْقان میں  اِسی قول کو صحیح ٹھیرایا ہے،  اور امام نَوَوِی نے شرح مسلم میں  اِسی کو ترجیح دی ہے۔  وجہ اِس  کی وہ روایت ہے جو امام احمد، مسلم،  ابوداؤد، نَسائی، ابن ابی شَیْبَہ، ابن المُنذِر، ابن مردویہ اور بیہقی وغیرہ محدّثین نے حضرت اَنَس بن مالک سے نقل کی ہے کہ حضورؐ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے۔  اتنے میں  آپ کو کچھ اُونگھ  سی طاری ہوئی، پھر آپ نے مُسکراتے ہوئے سرِ مبارک اُٹھایا۔ بعض روایات میں  ہے کہ لوگوں  نے پوچھا آپ کس بات پر تبسم فرما رہے ہیں ؟ اور بعض میں  ہے کہ آپ نے خود لوگوں  سے فرمایا اِس وقت میرے اوپر ایک سورۃ نازل ہوئی ہے۔  پھر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر سورۂ کوثر پڑھی۔ اس کے بعد آپ نے پوچھا جانتے ہو کہ کوثر کیا  ہے ؟ لوگوں  نے عرض کیا  کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے۔  فرمایا وہ ایک نہر ہے جو میرے ربّ نے مجھے جنت میں  عطا کی ہے (اس کی تفصیل آگے ’’کوثر‘‘ کی تشریح میں  آ رہی ہے )۔ اِس روایت  سے اِس سورہ کے مدنی ہونے پر اِس وجہ سے استدلال کیا گیا ہے کہ حضرت اَنَس ؓ مکّہ میں  نہیں  بلکہ مدینے  میں  تھے،  اور اُن کا یہ کہنا کہ ہماری موجودگی میں  یہ سورۃ نازل ہوئی، اس بات ی دلیل ہے کہ یہ مدنی ہے۔

مگر اول تو اِنہی حضرت انس سے امام احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، تِرْمِذی، اور ابن جریر نے یہ روایات نقل کی ہیں  کہ جنت کی یہ نہر (کوثر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو معراج میں  دکھائی جا چکی تھی، اور سب کو معلوم ہے کہ معراج ہجرت سے پہلے مکّہ میں  ہوئی تھی۔ دوسرے،  جب معراج میں  آپ کو اللہ تعالیٰ کے اِس عطیہ کی نہ صرف خبر دی جا چکی تھی بلکہ اس کا مشاہدہ بھی کرا دیا گیا تھا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ حضور کو اُس خوشخبری دینے کے لیے مدینہ طیّبہ میں  سورۂ کوثر نازل کی جاتی۔ تیسرے،  اگر صحابہ کے ایک مجمع میں  حضور ؐ نے خود سُورۂ کوثر کے نزول کی وہ خبر دی ہوتی جو حضرت اَنَس ؓ کی مذکورۂ بالا روایت میں   بیان ہوئی ہے اور اُس کا مطلب یہ ہوتا کہ پہلی مرتبہ یہ سورۃ اِسی وقت نازل ہوئی ہے،  تو کس طرح ممکن تھا کہ حضرت عائشہ،  حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت عبد اللہ بن زبیر جسے  باخبر صحابہ اِس سورۃ کو مکّی قرار دیتے اور جمہورِ مفسّرین اس کے مکّی ہونے کے قائل ہو جاتے ؟ اس معاملہ پر غور کیا جائے تو حضرت انس کی روایت میں  یہ خلا صاف محسوس ہوتا ہے کہ اُس میں  یہ تفصیل بیان نہیں  ہوئی ہے کہ جس مجلس میں  حضور ؐ نے بات ارشاد فرمائی تھی اُس میں  پہلے سے کیا گفتگو چل رہی تھی۔ ممکن ہے کہ اُس وقت حضور ؐ کسی مسئلے پر کچھ ارشاد فرما رہے ہوں ،  اُس کے دوران میں  وحی کے ذریعے سے آپ کو مطلع کیا گیا ہو کہ اِس مسئلے پر سورۂ کوثر سے روشنی پڑتی ہے،  اور آپ نے اِسی بات کا ذکر یوں  فرمایا ہو کہ مجھ پر یہ سورۃ نازل ہوئی ہے۔  اِس قسم کے واقعات متعدد مواقع پر پیش آئے ہیں  جن کی بنا  مفسّرین نے بعض آیات کے متعلق کہا ہے کہ وہ دو مرتبہ نازل ہوئی ہیں  اس دوسرے نزول کا مطلب دراصل یہ ہوتا ہے کہ آیت تو پہلے نازل  ہو چکی تھی، مگر دوسری بار کسی موقع پر حضورؐ کو بذریعۂ وحی اُسی آیت کی طرف توجہ دلائی گئی۔ ایسی روایات میں  کسی آیت کے نزول کا ذکر یہ فیصلہ کرنے کے لیے کافی نہیں  ہوتا کہ وہ مکّی ہے یا مدنی، اور اس کا اصل نزول فی الواقع کس زمانے میں  ہوا تھا۔

 

تاریخی پَسْ منظر

 

اِس سے پہلے سورۂ ضُحیٰ اور سورۂ الم نشرح میں  آپ دیکھ چکے ہیں  کہ نبوّت کے ابتدائی دور میں  جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم شدید ترین مشکلات سے گزر رہے تھے،  پوری قوم دشمنی پر تلی ہوئی تھی،  مزاحمتوں  کے پہاڑ راستے میں  حائل تھے،  مخالفت کا طوفان برپا تھا، اور حضورؐ اور آپ کے چند مٹھی بھر ساتھیوں  کو دور دور تک کہیں  کامیابی کے آثار نظر نہیں  آتے تھے،  اُس وقت آپ کو تسلی دینے اور آپ کی ہمت بندھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے متعدد آیات نازل فرمائیں۔  سُورۂ ضحیٰ میں  فرمایا   وَلَلْاٰخِرَۃُ خَیْرُ لَّکَ مِنَ الْاُوْلیٰo  وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰیo ’’اور یقیناً تمہارے لیے بعد کا دور (یعنی ہر بعد کا دور) پہلے دور سے بہتر ہے اور عنقریب تمہارا رب تمہیں  وہ کچھ دے گا جس سے تم خوش ہو جاؤ گے ‘‘۔ اور الم نشرح میں  فرمایا کہ وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ ’’اور ہم نے تمہارا آوازہ بلند کر دیا‘‘۔ یعنی دشمن تمہیں  ملک بھر میں  بدنام کرتے پھر رہے ہیں  مگر ہم نے اُن کے علیٰ الرَّغْم تمہارا نام روشن کر نے اور تمہیں  ناموَری عطا کرنے کا سامان کر دیا ہے۔  اور فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً o اِنَّ مَعَ  الْعُسْرِ یُسْراً o  ’’پس حقیقت  یہ ہے کہ تنگی کے  ساتھ فراخی بھی ہے،  یقیناً تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے ‘‘۔ یعنی اِس وقت حالات کی سختیوں  سے پریشان نہ ہو،  عنقریب یہ مصائب کا دور ختم ہونے والا ہے اور کامیابیوں  کا دور آنے ہی والا ہے۔

ایسے ہی حالات تھے جن میں  سورۂ کوثر نازل  کر کے اللہ تعالیٰ نے حضورؐ کو تسلی بھی دی اور آپ کے مخالفین کے تباہ و برباد ہونے کی پیشینگوئی بھی فرمائی۔ قریش کے کفّار کہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم) ساری قوم سے کٹ گئے ہیں  اور اُن کی حیثیت ایک بے کس اور بے یار و مددگار انسان کی سی ہو گئی ہے۔  عِکْرِمَہ کی روایت ہے کہ جب حضورؐ نبی بنائے گئے اور آپ نے قریش کو اسلام کی دعوت دینی شروع کی تو قریش کے لوگ کہنے لگے بَتِر محمدٌ مِنّا (ابن جریر) یعنی محمدؐ اپنی قوم سے کٹ کر ایسے ہو گئے ہیں   جیسے کوئی درخت اپنی جڑ سے کٹ گیا ہو اور متوقَّع یہی ہو  کہ کچھ مدت بعد  وہ سُوکھ کر پیوند خاک ہو جائے گا۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں  کہ مکّہ کے سردار عاص بن وائل سَہْمِی کے سامنے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر کیا جاتا  تو وہ کہتا:’’اجی چھوڑو اُنہیں،  وہ تو ایک ابتر (جڑ کٹے ) آدمی ہیں،  ان  کو کوئی اولادِ نرینہ نہیں،  مر جائیں  گے تو کوئی ان کا نام لیوا نہ ہو گا‘‘۔ شِمر بن عطیہ کہ بیان ہے کہ عُقْبَہ بن ابی مُعَیط بھی ایسی ہی باتیں  حضورؐ کے متعلق کہا کرتا تھا (ابن جریر)۔ ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ ایک دفعہ کعب بن اشرف(مدینہ کا یہودی سردار) مکہ آیا تو قریش کے سرداروں  نے اس سے کہا الا تریٰ الیٰ ھٰذا الصبّی المنبتر من قومہ Oیزعم انہ خیر منّا و نحن اھل الحجیج و اھل السدانۃ واھل السقایۃ۔ ’’بھلا دیکھو تو سہی اِس لڑکے کو جو اپنی قوم سے کٹ گیا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ ہم سے بہتر ہے،  حالانکہ ہم حج اور سدانت اور سقایت کے منتظم ہیں ‘‘ (بَزّار)۔ اسی واقعہ کے متعلق عِکْرِمَہ کی روایت یہ ہے کہ قریش والوں  نے حضورؐ کے لیے الصُّنْبورُ الْمُنْبَتِر من قومہ کے الفاظ استعمال کیے تھے،  یعنی ’’کمزور،  بے یار و مددگار اور بے اولاد آدمی جو اپنی قوم سے کٹ گیا ہے ‘‘(ابن جریر)۔ ابن سعد اور ابن عَساکِر کی روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سب سے بڑے صاحبزادے قاسمؓ تھے،  ان سے چھوٹی حضرت زینب ؓ تھیں،  ان سے چھوٹے حضرت عبدؓاللہ تھے،  پھر علی الترتیب تین صاحبزادیاں   اُمِّ کُلثوم ؓ، فاطمہؓ اور رُقَیَّہ ؓ تھیں۔  ان میں  سے پہلے حضرت قاسم کا انتقال ہوا، پھر حضرت عبداللہ نے بھی وفات پائی۔ اس پر عاص بن وائل نے کہا ’’اُن کی نسل ختم ہو گئی۔ اب وہ ابتر ہیں ‘‘ (یعنی ان کی جڑ کٹ گئی)۔ بعض روایات میں  یہ اضافہ ہے کہ عاص نے کہا  ان محمداً بتر لا ابن لہ یقومُ مقامہ بعد ہ فا ذا مات انقطع ذکرہ و استر حتم منہ۔ ’’ محمدؐ ابتر ہیں،  ان کا کوئی بیٹا نہیں  ہے جو ان کا قائم مقام بنے،  جب وہ مر جائیں  گے تو ان کا نام دنیا  سے مٹ جائے گا اور ان سے تمہارا پیچھا چھوٹ جائے گا‘‘۔ عبد بن حُمَید نے ابن عباسؓ  کی جو روایت نقل کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ کے صاحبزادے عبد اللہ کی وفات پر ابو جہل نے بھی ایسی ہی باتیں  کہی تھیں۔  شَمِر بن عطیہ سے  ابن ابی حاتم کی روایت ہے کہ حضورؐ کے اِس غم پر خوشی مناتے ہوئے ایسے ہی کمینہ پن کا مظاہرہ عُقْبہ بن ابی مُعَیط نے کیا تھا۔ عطاء کہتے ہیں  کہ جب حضورؐ کے دوسرے صاحبزادے کا انتقال ہوا تو حضورؐ کا اپنا چچا ابولہب (جس کا گھر بالکل حضورؐ کے گھر سے متصل تھا) دوڑا ہوا مشرکین کے پاس گیا اور اُن کو یہ ’’خوشخبری‘‘ دی کہ بَتِر محمّدٌ اللّیْلۃ۔ ’’ آج رات محمدؐ لا ولد ہو گئے  یا ان کی جڑ کٹ گئی‘‘۔

یہ تھے وہ انتہائی دل شکن حالات جن میں  سورۂ کوثر حضورؐ پر نازل کی گئی۔ قریش اس لیے آپ سے بگڑے  تھے کہ آپ صرف اللہ  ہی کی بندگی و عبادت کرتے تھے اور ان کے شرک کو آپ نے عَلانیہ رد کر دیا تھا۔ اِسی وجہ سے پوری قوم میں  جو مرتبہ و مقام آپ کو نبوت سے پہلے حاصل تھا وہ آپ سے چھین  لیا گیا تھا اور آپ گویا برادری سے کاٹ پھینکے گئے تھے۔  آپ کے چند مٹھی بھر ساتھی سب بے یار و مددگار تھے اور مارے  کھدیڑے جا رہے تھے۔  اس پر مزید آپ پر ایک کے بعد ایک بیٹے کی وفات سے غموں  کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ اس موقع پر عزیزوں،  رشتہ داروں،  قبیلے اور برادری کے لوگوں  اور ہمسایوں  کی طرف سے ہمدردی و تعزیت کے بجائے ہو خوشیاں  منائی  جا رہی تھیں ،  اور وہ باتیں  بنائی جا رہی تھیں  جو ایک ایسے شریف انسان کے لیے دل توڑ دینے والی تھیں  جس نے اپنے تو اپنے،  غیروں  تک سے ہمیشہ انتہائی نیک سلوک کیا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اِس مختصر ترین سورۃ کے ایک فقرے میں  وہ خوشخبری دی جس سے بڑی خوش خبری دنیا کے کسی انسان کو کبھی نہیں  دی گئی۔ اور ساتھ ساتھ یہ فیصلہ بھی سنا دیا کہ آپ کی مخالفت کرنے والوں  ہی کی جڑ کٹ جائے گی۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

(اے نبیؐ) ہم نے تمہیں  کوثر عطا کر دیا۔ ۱ پس تم اپنے ربّ ہی کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ ۲ تمہارا دُشمن ۳ ہی جَڑ کٹا ہے۔  ۴ ؏۱

 

تفسیر

 

۱: کوثر کا لفظ یہاں  جس طرح استعمال کیا گیا ہے اس کا پورا مفہوم ہماری زبان تو درکنار، شاید دنیا کی کسی زبان میں  بھی ایک لفظ سے ادا نہیں   کیا جا سکتا۔ یہ کثرت سے مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے لُغوی معنی  تو بے انتہا کثرت  کے ہیں،  مگر جس موقع پر اِس لفظ کو استعمال کیا گیا ہے اُس میں  محض کثرت کا نہیں  بلکہ خیر اور بھلائی اور نعمتوں  کی کثرت،  اور ایسی کثرت کا مفہوم نکلتا ہے جو اِفراط اور فراوانی کی حد کو پہنچی ہوئی ہو، اور اُس سے مُراد کسی ایک خیر یا بھلائی یا نعمت کو نہیں   بلکہ بے شمار بھلائیوں  اور نعمتوں  کی کثرت ہے۔ دیباچے میں  اِس سورہ کا جو پَس منظر ہم نے بیان کیا ہے اُس پر ایک مرتبہ نگاہ ڈال کر دیکھیے۔  حالات وہ تھے جب دشمن یہ سمجھ رہے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم ہر حیثیت سے تباہ ہو چکے ہیں۔  قوم سے کٹ کر بے یار و مددگار رہ  گئے۔  تجارت برباد ہو گئی۔ اولادِ نرینہ تھی جس سے آگے اُن کا نام چل سکتا تھا۔  وہ بھی وفات پا گئی۔ بات ایسی لے کر اٹھے ہیں  کہ چند گِنے چُنے آدمی چھوڑ کر مکّہ تو درکنار،  پورے عرب میں  کوئی اس کو سننا تک گوارا نہیں  کرتا۔ اس لیے اُن کے مقدر میں  اس کے سوا کچھ نہیں  کہ جیتے جی ناکامی و نامرادی سے دوچار  رہیں  اور جب وفات پا جائیں  تو دنیا میں  کوئی اُن کا نام لیوا بھی نہ ہو۔ اِس حالت میں  جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فرمایا گیا  کہ ہم نے تمہیں  کوثر عطا کر دیا تو اِس سے خود بخود یہ مطلب نکلتا ہے کہ تمہارے مخالف بے وقوف تو یہ سمجھ رہے ہیں  کہ تم برباد ہو گئے اور نبوت سے پہلے جو نعمتیں  تمہیں  حاصل تھیں  وہ بھی تم سے چھن گئیں ،  لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تمہیں  بے انتہا خیر اور بے شمار نعمتوں  سے نواز دیا ہے۔  اس میں  اخلاق کی وہ بے نظیر خوبیاں  بھی شامل ہیں  جو حضورؐ کو بخشی گئیں۔  اس میں  نبوت اور قرآن اور علم  اور حکمت کی وہ عظیم نعمتیں  بھی شامل ہیں  جو آپ کو عطا کی گئی ہیں۔  اس میں  توحید اور ایک ایسے نظام زندگی کی نعمت بھی شامل ہے جس کے سیدھے سادھے،  عام فہم، عقل و فطرت کے مطابق اور جامع ہ ہمہ گیر اصول تمام عالَم میں  پھیل جانے اور ہمیشہ  پھیلتے ہی چلے جانے کی طاقت رکھتے ہیں ۔ اس میں  رفعِ ذکر کی نعمت بھی شامل ہے جس کی بدولت  حضور ؐ کا نام نامی چودہ برس سے دنیا کے گوشے گوشے میں  بلند ہو رہا ہے اور قیامت تک بلند ہوتا رہے گا۔ اس میں  یہ نعمت بھی شامل ہے کہ آپ ؐ کی دعوت سے  بالآخر ایک ایسی عالمگیر امّت وجود میں  آئی جو دنیا میں  ہمیشہ کے لیے دینِ  حق کی علمبردار بن گئی، جس سے زیادہ نیک اور پاکیزہ اور بلند پایہ انسان دنیا کی کسی امت میں  کبھی پیدا نہیں  ہوئے،  اور جو بگاڑ کی حالت کو پہنچ کر بھی دنیا کی سب قوموں  سے بڑھ کر خیر اپنے اندر رکھتی ہے۔  اس میں  یہ نعمت بھی شامل ہے کہ حضورؐ نے اپنے آنکھوں  سے اپنی حیاتِ مبارکہ  ہی میں  دعوت کو انتہائی کامیاب دیکھ لیا اور آپ ؐ کے ہاتھوں  سے وہ جماعت تیار ہو گئی جو دنیا پر چھا جانے کی طاقت رکھتی تھی۔ اِس میں  یہ نعمت بھی شامل ہے  کہ اولاد نرینہ سے محروم ہو جانے کی بنا پر دشمن تو یہ سمجھتے تھے کہ آپؐ کا نام و نشان دنیا سے مٹ جائے گا،  لیکن اللہ نے صرف یہی نہیں  کہ مسلمانوں  کی صورت میں  آپؐ کو وہ روحانی اولاد عطا فرمائی جو قیامت تک تمام روئے زمین پر آپ کا نام روشن کرنے والی ہے،  بلکہ آپ کی صرف ایک ہی صاحبزادی فاطمہؓ سے آپ کو وہ جسمانی  اولاد بھی عطا کی جو دنیا بھر میں  پھیلی ہوئی ہے اور جس کا سارا سرمایۂ افتخار ہی حضورؐ سے اس کا انتساب ہے۔  یہ تو وہ نعمتیں  ہیں  جو اِس دنیا میں  لوگوں  نے دیکھ لیں  کہ وہ کس فراوانی کے ساتھ اللہ نے اپنے حبیب صلی اللہ  علیہ و سلم کو عطا فرمائیں  ان کے علاوہ کوثر سے مراد  دو مزید ایسی نعمتیں   بھی ہیں   جو آخرت میں  اللہ تعالیٰ آپؐ کو دینے والا ہے۔  اُن کو جاننے کا کوئی ذریعہ ہمارے پاس نہ تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے ہمیں  اُن کی خبر دی اور بتایا کہ کوثر سے مراد وہ بھی ہیں ۔  ایک حوضِ کوثر جو قیامت کے روز میدانِ حشر میں  آپؐ کو ملے گا۔ دوسرے نہرِ کوثر جو جنت میں  آپ ؐ کو عطا فرمائی جائے گی۔  اِن دونوں  کے متعلق اِس کثرت سے احادیث حضورؐ سے  منقول ہوئی ہیں   اور اتنے کثیر راویوں  نے ان کو روایت کیا ہے کہ اُن کی صحت میں  کسی شبہ کی گنجائش نہیں۔  حوضِ کوثر کے متعلق حضور ؐ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ یہ ہے : (۱) یہ حوض قیامت کے روز آپؐ کو عطا ہو گا اور اُس سخت وقت میں ،  جبکہ ہر ایک العَطَش العَطَش کر رہا ہو گا، آپؐ کی امت آپ کے پاس اُس پر حاضر ہو گی اور اس سے سیراب ہو گی۔ آپ اس پر سب سے پہلے پہنچے ہوئے ہوں  گے اور اُس کے وسط میں  تشریف فرما ہوں  گے۔  آپ کا ارشاد ہے  ھو حوض ترد علیہ امتی یوم القیٰمۃ۔’’ وہ ایک حوض ہے جس پر میری امت قیامت کے روز وارد ہو گی‘‘۔ (مسلم، کتاب الصلوٰۃ، ابوداؤد، کتاب السّنہ)۔ اَنَا فَرَ طکم علی الحوض۔’’ میں  تم سب سے پہلے پہنچا ہوا ہوں  گا‘‘۔ (بخاری، کتاب الرّقاق اور کتاب الفتن۔ مسلم، کتاب الفضائل اور کتاب الطہارۃ۔ ابن ماجہ،  کتاب المناسک اور کتاب الزہد، مُسند احمد، مرویّاتِ عبد اللہ بن مسعودؓ، عبد اللہ بن عباس ؓ و ابوہریرہؓ)۔ انی فرط لکم و انا شھید علیکم و انی واللہ لا نظر الیٰ حوضی الاٰ ن۔’’ میں  تم سے آگے پہنچنے والا ہوں،  اور تم پر گواہی دوں  گا اور خدا کی قسم میں  اپنے حوض کو اِس وقت دیکھ رہا ہوں ‘‘۔ (بخاری،  کتاب الخبائز، کتاب المَغازی، کتاب الرّقاق)۔ انصار کو مخاطب کرتے ہوئے ایک موقع پر آپؐ نے فرمایا  انکم ستلقون بعدی اَثَرۃ فاصبرو ا حتّیٰ تلقو نی علی الحوض۔’’ میں  قیامت کے  روز حوض کے وسط  کے پاس ہوں  گا‘‘ (مسلم، کتاب الفضائل)۔ حضرت ابو بَرْزہؓ اسلمی سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے حوض کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کچھ سنا ہے ؟ انہوں  نے کہا  ایک نہیں،  دو نہیں،  تین نہیں،  چار نہیں،  پانچ نہیں،  بار بار سنا ہے،  جو اُس کو جھٹلائے اللہ اسے اس کا پانی پینا نصیب نہ کرے (ابوداؤد، کتاب السنّہ)۔ عبید اللہ بن زیاد حوض کے  بارے میں  روایات کو جھوٹ سمجھتا تحا حتیٰ کہ اس نے حضرت ابو بَرْزہؓ اسلمی،  براء ؓ بن عازب اور عائذ ؓ بن عَمْرو کی سب روایات کو جھُٹلا دیا۔ آخر کار ابو سَبْرہ ایک تحریر نکال کر لائے جو انہوں  نے حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بن عاص سے سن کر نقل کی تھی اور اس میں   حضورؐ کا یہ ارشاد درج تھا کہ الا اِن موعد کم حوضی’’ خبردار رہو، میری اور تمہاری ملاقات کی جگہ میرا حوض ہے ‘‘ (مسند احمد، مروایت عبد اللہ ؓ بن عمر و بن عاص)۔ (۲) اُس حوض کی وسعت مختلف روایات میں  مختلف  بیان کی گئی ہے۔  مگر کثیر روایات میں  یہ ہے کہ وہ اَیلہ (اسرائیل کے موجودہ بندرگاہ اَیلات) سے یمن کے صنعاء تک،  یا ایلہ سے عدن تک،  یا عَمّان سے عدن تک طویل ہو گا اور اس کی چوڑائی اتنی ہو گی جتنا اَیلہ سے حُجفہ (جدہ اور رابغ کے درمیان ایک مقام) تک کا فاصلہ ہے۔  (بخاری، کتاب الرّقاق، ابوداؤد، الطَّیالِسی، حدیث نمبر ۹۹۵۔ مُسند احمد، مرویات ابوبکر صدیق ؓ و عبد اللہ ؓ بن عمر۔ مسلم،  کتاب الطہارۃ و کتاب و  الفضائل۔ ترمذی، ابواب صفۃ القیامہ۔ ابن ماجہ، کتاب الزُّہد)۔  اِس سے گمان ہوتا ہے کہ قیامت کے روز موجودہ بحر احمر ہی کو حوضِ کوثر میں  تبدیل کر دیا جائے گا، واللہ اعلم بالصواب۔ (۳) اس حوض کے متعلق حضور ؐ نے بتایا ہے کہ اس میں  جنت کی نہر کوثر ( جس کا ذکر آگے آرہا ہے ) سے پانی لا کر ڈالا جائے گا۔ یشخب فیہ میزابان من الجنّۃ،  اور دوسری روایت میں  ہے یغت فیہ میزابان یمدّانہ من الجنّۃ،  یعنی اس میں  جنت سے دو نالیاں  لا کر ڈالی جائیں  گی جو اسے پانی بہم پہنچائیں  گی۔ (مسلم،  کتاب الفضائل)۔ ایک اور  روایت میں  ہے یُفتح نھر من الکوثر ا لی الحوض، ’’جنت کی نہر کوثر سے ایک نہر اس حوض  کی طرف کھول دی جائے گی(مُسند احمد،  مرویات عبد اللہ بن مسعودؓ)۔ (۴) اس کی کیفیت حضورؐ نے  یہ بیان فرمائی ہے کہ اس کا پانی دودھ سے اور بعض روایات میں  ہے  چاندی سے اور بعض میں  برف سے ) زیادہ سفید، برف سے زیادہ ٹھنڈا، شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا، اس کی تہ کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار ہو گی، اس پر اتنے کوزے رکھے ہوں  گے جتنے آسمان میں  تارے ہیں۔  جو اس کا پانی پی لے گا اسے پھر کبھی پیاس نہ لگے گی۔ اور جو اس سے محروم رہ گیا  وہ پھر کبھی سیراب نہ ہو گا۔ یہ باتیں  تھوڑے تھوڑے لفظی اختلافات کے ساتھ بکثرت  احادیث میں  منقول ہوئی ہیں  (بخاری، کتاب الرّقاق، مسلم، کتاب الطہارت و کتاب الفضائل۔ مُسند احمد، مرویات ابن مسعودؓ، ابن عمر ؓ، و عبداللہ ؓ بن عَمْرو بن العاص۔ ترمذی، ابواب صفتہ القیامہ۔ ابن ماجہ، کتاب الزھد۔ ابوداؤد،  طَیالِسی، حدیث ۹۹۵ و ۲۱۳۵)۔ (۵) اس کے بارے میں  حضورؐ نے بار بار اپنے زمانے کے لوگوں  کو خبردار کیا کہ میرے بعد تم میں  سے جو لوگ بھی میرے طریقے کو بدلیں  گے ان کو اُس حوض سے ہٹا دیا جائے گا اور اس پر اُنہیں   نہ آنے دیا جائے گا۔ میں  کہوں  گا کہ یہ میرے اصحاب ہیں  تو مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ کو نہیں  معلوم کہ آپ کے بعد انہوں  نے کیا کیا ہے۔  پھر میں  بھی اُن کو  دفع کروں  گا اور کہوں  گا کہ دور ہو۔ یہ مضمون بھی بکثرت روایات میں  بیان ہوا ہے (بخاری کتب الرقاق، کتاب الفتن۔ مسلم، کتاب الطہارۃ، کتاب الفضائل۔ مُسند احمد، مرویات ابن مسعودؓ  و ابو ہریرہؓ۔ ابن ماجہ،  کتاب المناسک، ابن ماجہ نے اس سلسلے میں  جو حدیث نقل کی ہے وہ بڑے ہی  دردناک الفاظ میں  ہے۔  اس میں  حضور ؐ فرماتے ہیں   الاونی فرطکم علی الحوض واکاثر بکم الامم فلا تسودواوجھی، الا و انِّی مستنقذ اُنا ساً و مستنقذ اناس منّی فاقول یا رب اسیحابی، فیقول انک لا تدری ما احدثوا بعد ا۔ ’’خبردار رہو، میں  تم سے آگے حوض پر پہنچا ہوا ہوں  گا اور تمہارے ذریعہ سے دوسری امتوں  کے مقابلے میں  اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں  گا۔ اُس وقت میرا منہ کالا نہ کروانا۔ خبردار رہو کچھ لوگوں  کو میں  چھُڑاؤں  گا اور کچھ لوگ مجھ سے چھُڑائے جائیں  گے۔  میں  کہوں  گا کہ اے پروردگار، یہ تو میرے صحابی ہیں۔  وہ فرمائے گا  تم  نہیں  جانتے اِنہوں  نے تمہارے بعد کیا نرالے کام کیے ہیں ‘‘۔ ابن ماجہ  کی روایت ہے کہ یہ الفاظ حضورؐ نے عَرَفات کے خطبے میں  فرمائے تھے )۔ (۶) اسی طرح حضور ؐ نے اپنے دور کے بعد قیامت تک آنے والے مسلمانوں  کو بھی خبردار کیا ہے کہ ان میں  سے جو بھی میرے طریقے سے ہٹ کر چلیں  گے اور اس میں  ردّ و بدل کریں  گے انہیں  اس حوض سے ہٹا دیا جائے گا، میں  کہوں  گا کہ اے ربّ یہ تو میرے ہیں،  میری امت کے لو گ ہیں۔  جواب ملے گا  آپ کو معلوم نہیں  کہ اِنہوں  نے آپ کے بعد کیا کیا تغیرات کیے اور اُلٹے ہی پھر تے چلے گئے۔  پھر میں بھی ان کو دفع کروں  گا اور حوض پر نہ آنے دوں  گا۔ اس مضمون کی بہت سی روایات احادیث میں  ہیں  (بخاری، کتاب المُسافات، کتاب الرقاق، کتاب الفتن، مسلم کتاب الطہارۃ، کتاب الصلوٰۃ، کتاب الفضائل، ابن ماجہ، کتاب الزہد۔ مُسند احمد، مرویات ابن عباسؓ)۔ اس حوض کی روایات ۵۰ سے زیادہ صحابہ سے مروی ہیں ،  اور سلف نے بالعموم  اس سے مراد حوض کوثر لیا ہے۔  امام بخاری نے کتاب الرقاق کے آخری باب کا عنوان ہی یہ باندھا ہے بابٌ فی الحوض و قول اللہ اِنَّا  اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ۔ اور حضرت انس  کی ایک روایت میں  تو تصریح ہے کہ حضورؐ نے کوثر کے متعلق فرمایا ھو حوض ترد علیہ امّتی۔’’ وہ ایک حوض ہے جس پر میری امت وارد ہو گی۔‘‘ جنت میں  کوثر نامی جو نہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو عطا کی جائے گی اس کا ذکر بھی بکثرت روایات میں  آیا ہے۔  حضرت انسؓ  سے بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں  جن میں  وہ فرمانے ہیں  ( اور بعض روایات میں  صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے قول کی حیثیت سے بیان کرتے ہیں ) کہ معراج کے موقع پر حضورؐ کو جنت کی سیر کرائی گئی اور اس موقع پر آپؐ نے ایک نہر دیکھی جس کے کناروں  پر اندر سے ترشے ہوئے موتیوں  یا ہیروں  کے تُبّے بنے ہوئے تھے۔  اس کی تہ کی مٹی مشکِ اَذْفَر کی تھی۔ حضور ؐ نے جبریل ؑ سے،  یا اُس فرشتے سے جس نے آپ کو سیر کرائی تھی، پوچھا یہ کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا  یہ نہر کوثر ہے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے (مُسند احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، ابوداؤد طیالسی، ابن جریر)۔ حضرت انس ہی کی روایت ہے کہ حضورؐ سے پوچھا گیا ( یا ایک شخص نے پوچھا) کوثر کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا  ایک نہر ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے جنت میں  عطا کی ہے۔  اس  کی مٹی مشک ہے۔  اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے (مُسند احمد، ترمذی، ابن جریر، مُسند احمد کی ایک روایت  میں  ہے کہ حضورؐ نے نہر کوثر کی یہ صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا اس کی تہ میں  کنکریوں  کے بجائے موتی پڑے ہوئے ہیں )۔ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں  کہ حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ کوثر جنت میں  ایک نہر ہے جس کے کنارے  سونے کے ہیں،  وہ موتیوں  اور ہیروں  پر بہ رہی ہے ( یعنی کنکریوں  کی جگہ اس کی تہ میں  یہ جواہر پڑے ہوئے ہیں )، اس کی مٹی مشک سے زیادہ  خوشبودار ہے،  اس کاپانی دودھ سے (یا برف سے ) زیادہ سفید ہے،  برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے (مُسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ، ابن ابی حاتم، دارِمی، ابوداؤد طَیالِسی، ابن المُنْذِر، ابن مَرْدُوْیَہ، ابن ابی شَیْبَہ)۔ اُسامہ ؓ بن زید کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم ایک مرتبہ حضرت حمزہؓ کے ہاں  تشریف لے گئے۔  وہ گھر پر نہ تھے۔  ان کی اہلیہ نے حضورؐ کی تواضع کی اور دورانِ گفتگو عرض کیا کہ میرے شوہر نے مجھے بتایا ہے کہ آپ کو جنت میں  ایک نہر عطا کی گئی ہے جس نام کوثر ہے۔  آپ نے فرمایا ہاں،  اور اس کی زمین یا قوت و مرجان اور زَبَر جَد اور موتیوں  کی ہے (ابن جریر، ابن مُردُویَہ۔ اس کی سند اگرچہ ضعیف ہے مگر اس مضمون کی کثیر التعداد روایات کا موجود ہونا اس کو تقویت پہنچاتا ہے )۔ اِن مرفوع روایات کے علاوہ صحابہ کے بکثرت اقوال  احادیث میں  نقل ہوئے ہیں  جن میں  و ہ کوثر سے مراد جنت کی  یہ نہر لیتے ہیں  اور اس کی وہی صفات بیان کرتے ہیں  جو اوپر گزری ہیں۔  مثال کے طور پر حضرت عبد اللہ ؓ بن عمر، حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس ؓ، حضرت اَنَس ؓ بن مالک، حضرت عائشہ ؓ،  مجاہد اور ابو العالیہ  کے اقوال مسند احمد، بخاری، ترمذی، نسائی، ابن مردویہ، ابن جریر، اور ابن ابی شیبہ وغیرہ محدثین کی کتابوں  میں  موجود ہیں۔

۲: اس کی مختلف تفسیریں  بزرگوں  سے منقول ہیں۔  بعض حضرات نے نماز سے مراد پنجوقتہ فرض نماز لی ہے،  بعض اس سے بقر عید کی نماز مراد لیتے ہیں،  اور بعض کہتے ہیں  کہ بجائے خود نماز مراد ہے۔  اسی طرح وَانْحَرْ یعنی نَحْر کرو سے مراد بعض جلیل القدر بزرگوں   سے یہ منقول ہے کہ نماز میں  بائیں  ہاتھ پر دایاں  ہاتھ رکھ کر اُسے سینے پر باندھنا ہے،  بعض کا قول  یہ ہے کہ اس سے مراد نماز شروع کرتے وقت دونوں  ہاتھ اُٹھا کر تکبیر کہنا ہے۔   بعض کا قول یہ ہے کہ افتتاحِ نماز کے وقت، اور رکوع میں  جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھ کر رفع یدین کرنا مراد ہے۔  اور بعض کہتے ہیں  کہ اس سے مراد بقر عید کی نماز پڑھنا اور اس کے بعد قربانی کرنا ہے۔  لیکن جس موقع و محل پر یہ حکم دیا گیا ہے اس پر اگر غور کیا جائے تو اس کا مطلب صریحاً   یہ معلوم ہوتا ہے کہ ’’اے نبی، جب تمہارے ربّ نے تم کو اتنی کثیر اور عظیم بھلائیاں  عطا کی ہیں  تو تم اُسی کے لیے نماز پڑھو اور اُسی کے لیے قربانی کرو‘‘۔ یہ حکم اُس ماحول میں  دیا گیا تھا جب مشرکین قریش ہی نہیں  تمام عرب کے مشرکین اور دنیا بھر کے مشرکین اپنے خود ساختہ معبودوں  کی عبادت کرتے تھے اور انہی کے آستانوں  پر قربانیاں  چڑھاتے تھے۔  پس حکم کا منشا یہ ہے کہ مشرکین کے برعکس تم اپنے اِسی رویّے پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہو کہ تمہاری نماز بھی اللہ ہی کے لیے ہو اور قربانی بھی اُسی کے لیے،  جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا  قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ۔’’اے نبی، کہہ دو کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ ربّ العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں،  اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں  سب سے پہلے سرِ اطاعت جھکانے والا ہوں ‘‘۔ (الانعام، ۱۶۳-۱۶۲)۔ یہی مطلب ابن عباسؓ،  عطاء، مجاہد، عِکْرِمَہ، حسن بصری، قَتادہ، محمد بن کعب القُرَظِی، ضَحّاک، ربیع بن انس، عطاء الخراسانی، اور بہت سے دوسرے اکابر مفسرین رحمہم اللہ نے بیان کیا ہے (ابن کثیر)۔ البتہ یہ بات اپنی جگہ بالکل صحیح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے جب مدینۂ طیبہ میں  اللہ تعالیٰ کے حکم سے بقر عید کی نماز اور قربانی کا طریقہ جاری کیا تو اس بنا پر کہ آیت اِنَّ صَلَا تِیْ وَنُسُکِیْ اور آیت فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ میں  نماز کو مقدم اور قربانی کو مؤخر  رکھا گیا ہے،  آپ نے خود بھی یہ عمل اختیار فرمایا اور اسی کا حکم مسلمانوں  کو دیا کہ اُس روز پہلے نماز پڑھیں  اور پھر قربانی کریں۔  یہ اس آیت کی تفسیر نہیں  ہے،  نہ اس کی شانِ  نزول ہے،  بلکہ اِن آیات سے حضورؐ کا استنباط ہے،  اور آپ کا استنباط بھی وحی کی ایک قسم ہے۔

۳: اصل میں  لفظ شَا نِئَکَ استعمال ہوا  ہے۔  شانیٔ شنٔ سے ہے جس کے معنی ایسے بغض اور ایسی عداوت کے ہیں  جس کی بنا پر کوئی شخص کسی دوسرے کے ساتھ بدسلوکی کر نے لگے۔  قرآن مجید میں  دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے وَ لَا یَجْرِ مَنَّکُمْ شَنَاٰن قَوْ مٍ عَلیٰۤ اَ لَّا تَعْدِلُوْا۔’’اور اے مسلمانو، کسی گروہ کی عداوت تمہیں  اِس زیادتی پر آمادہ نہ کر نے پائے کہ تم انصاف نہ کرو‘‘۔ پس شَانِئَکَ سے مراد ہر وہ شخص ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی دشمنی اور عداوت میں  ایسا اندھا ہو گیا ہو کہ آپ کو عیب لگاتا ہو، آپ کے خلاف بدگوئی کرتا ہو، آپ کی توہین کرتا ہو، اور آپ پر طرح طرح کی باتں ت چھانٹ کر اپنے دل کا بخار نکالتا ہو۔

۴: ھُوَ الْاَبْتَر۔’’وہی اَبْتَر ہے ‘‘ فرمایا گیا ہے،  یعنی وہ آپ کو ابتر کہتا ہے،  لیکن حقیقت  میں  اَبْتَر وہ خود ہے۔  ابتر کی کچھ تشریح ہم اِس  سے پہلے اس سورۃ کے دیباچے میں  کر چکے ہیں۔  یہ لفظ بَتَر سے ہے جس کے معنی کاٹنے کے ہیں۔  مگر محاورے میں  یہ بہت وسیع معنوں  میں  استعمال ہوتا ہے۔  حدیث میں  نماز کی اُس رکعت کو جس کے ساتھ کوئی دوسری رکعت نہ پڑھی جائے بُتَیراء کہا گیا ہے،  یعنی اکیلی رکعت۔ ایک اور حدیث میں  ہے کلّ امر ذی بالٍ لایُبدأ فیہ بحمد اللہ فھو ا بتر۔’’ ہر وہ کام جو کوئی اہمیت رکھتا ہو، اللہ کی حمد کے بغیر شروع کیا جائے تو وہ ابتر ہے ‘‘۔ یعنی اس کی جَڑ کٹی ہوئی ہے،  اسے کوئی استحکام نصیب نہیں  ہے،  یا اس کا انجام اچھا نہیں  ہے۔  نامراد آدمی کو بھی ابتر کہتے ہیں۔  ذرائع و وسائل سے محروم ہو جانے والا بھی ابتر کہلاتا ہے۔  جس شخص کے لیے کسی خیر اور بھلائی کی توقع باقی نہ رہی ہو اور جس کی کامیابی کی سب امیدیں  منقطع ہو گئی ہوں   وہ بھی ابتر ہے۔  جو آدمی اپنے کنبے برادری اور اعوان و انصار سے کٹ کر اکیلا  رہ گیا ہو وہ بھی ابتر ہے۔  جس آدمی کو کوئی اولادِ نرینہ نہ ہو یا مر گئی ہو، اس کے لیے بھی ابتر کا لفظ بولا جاتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے اس کا کوئی نام لیوا  باقی نہیں  رہتا اور مرنے کے بعد وہ بے نام و نشان ہو جاتا ہے۔  قریب قریب اِن سب معنوں  میں  کفّارِ قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو ابتر کہتے تھے۔  اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی، ابتر تم نہیں  ہو بلکہ تمہارے یہ دشمن  ابتر ہیں۔  یہ محض کوئی ’’جوابی حملہ‘‘ نہ تھا، بلکہ درحقیقت یہ قرآن کی بڑی اہم پیشینگوئیوں  میں  سے ایک پیشینگوئی تھی جو حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی۔ جس وقت یہ پیشینگوئی کی گئی تھی اُس وقت لوگ حضورؐ ہی کو ابتر سمجھ رہے تھے اور کوئی تصور بھی نہ کر سکتا تھا کہ قریش کے یہ بڑے بڑے سردار کیسے ابتر ہو جائیں  گے جو نہ صرف مکّہ میں  بلکہ پورے ملک عرب میں  نامور تھے،  کامیاب تھے،  مال و دولت اور اولاد ہی کی نعمتیں  نہیں  رکھتے تھے بلکہ سارے ملک میں  جگہ جگہ ان کے اَعوان  و انصار موجود تھے،  تجارت کے اجارہ دار اور حج کے منتظم ہونے کی وجہ سے تمام قبائل عرب سے ان کے وسیع تعلقات تھے۔  لیکن چند سال نہ گزرے تھے کہ حالات بالکل پلٹ گئے۔  یا تو وہ وقت تھا کہ غزوۂ اَحزاب (سن ۵ ہجری) کے موقع پر قریش بہت سے عرب اور یہودی قبائل کو لے کر مدینے پر چڑھ آئے تھے اور حضور ؐ کو محصور   ہو کر،  شہر کے گرد خندق کھود کر  مدافعت کرنی پڑی تھی، یا تین ہی سال بعد وہ وقت آیا کہ سن ۸ ہجری میں  جب آپ نے مکّہ پر چڑھائی کی تو قریش کا کوئی حامی و مددگار نہ تھا اور انہیں  بے بسی کے ساتھ ہتھیار ڈال دینے پڑے۔  اس کے بعد ایک سال کے اندر پورا ملک عرب حضور ؐ کے ہاتھ میں  تھا، ملک کے گوشے گوشے  سے قبائل کے وفود آ کر بیعت کر رہے تھے،  اور آپ کے دشمن بالکل بے بس اور بے یار و مددگار ہو کر رہ گئے تھے۔  پھر وہ ایسے بے نام و نشان ہوئے کہ ان کی اولاد اگر دنیا میں  باقی رہی بھی تو اُن  میں  سے آج کوئی یہ نہیں  جانتا کہ وہ ابو جہل یا ابو لہب یا عاص بن وائل یا عُقْبہ بن ابی مُعَیط وغیرہ اعدائے اسلام کی اولاد میں  سے ہے،  اور جانتا بھی ہو تو کوئی یہ کہنے کے لیے تیار نہیں  ہے کہ اس کے اسلاف یہ لوگ تھے۔  اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی آل پر آج دنیا بھر میں  درود بھیجا جا رہا ہے۔  کروڑوں  مسلمانوں  کو آپ سے نسبت پر فخر ہے۔  لاکھوں  انسان آپؐ ہی سے نہیں  بلکہ آپ کے خاندان اور آپ کے ساتھیوں  کے خاندانوں  تک سے انتساب کو باعث عزّو شرف سمجھتے ہیں۔  کوئی سیّلہ ہے،  کوئی علوی ہے،  کوئی عباسی ہے،  کوئی ہاشمی ہے،  کوئی صدیقی ہے،  کوئی فاروقی،  کوئی عثمانی، کوئی زُبیری، اور کوئی انصاری۔ مگر نام کو بھی کوئی ابو جہلی یا ابو لہبی نہیں  پایا جاتا۔ تاریخ نے یہ ثابت کر دیا کہ ابتر حضورؐ نہیں  بلکہ آپ کے دشمن ہی تھے اور ہیں۔

 

 

 

۱۰۹۔سورۃ الکافرون

 

نام

 

پہلی ہی آیت قُلْ یٰٓا اَیّھَُا الْکٰفِرُوْنَ کے لفظ الکافرون کو اِس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت حسن بصری اور عِکْرِمَہ کہتے ہیں  کہ یہ سورۃ مکّی ہے،  حضرت عبد اللہ بن زبیر کہتے ہیں  مدّنی ہے۔  اور حضرت عبد اللہ بن عباس اور قَتَادہ سے دو قول منقول ہوئے ہیں۔  ایک یہ کہ یہ مکّی ہے اور دوسرا یہ کہ مدنی ہے۔  لیکن جمہور مفسرین کے نزدیک یہ مکّی سورۃ ہے،  اور اس کا مضمون خود اس کے مکّی ہونے پر دلالت کر رہا ہے۔

 

تاریخی پَسْ منظر

 

مکّہ معظمہ میں  ایک دور ایسا گزرا ہے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی دعوتِ اسلام کے خلاف قریش کے مشرک معاشرے میں  مخالفت کا طوفان تو برپا ہو چکا تھا،  لیکن ابھی قریش کے سردار اِس بات سے بالکل مایوس نہیں  ہوئے تھے کہ حضورؐ کو کسی نہ کسی طرح مصالحت پر آمادہ کیا جا سکے گا۔  اس لیے وقتاً فوقتاً وہ آپ کے پاس مصالحت کی مختلف تجویزیں  لے  لے کر آتے رہتے تھے تا کہ آپ اُن میں  سے کسی کو مان لیں  اور وہ نزع ختم ہو جائے جو آپ کے اور اُن کے درمیان رُو نما ہو چکی تھی۔ اس سلسلے میں  متعدد روایات احادیث میں  منقول ہوئی ہیں :

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ قریش کے لوگوں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے کہا ہم آپ کو اتنا مال دے دیتے ہیں  کہ آپ مکّہ کے سب سے زیادہ دولت مند آدمی بن جائیں،  آپ جس عورت کو پسند کریں  اس سے آپ کی شادی کیے دیتے ہیں،  ہم آپ کے پیچھے چلنے کے لیے تیار ہیں،  آپ بس ہماری یہ بات مان لیں  کہ ہمارے معبودوں  کی بُرائی کرنے سے باز رہیں۔  اگر یہ آپ کو منظور نہیں،  تو ہم ایک اور تجویز  آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں  جس میں  آپ کی بھی بھلائی ہے اور ہماری بھی۔ حضور ؐ نے  پوچھا  وہ کیا ہے ؟ انہوں  نے کہا ایک سال آپ ہمارے معبود وں  لات اور عُزّیٰ کی عبادت کریں  اور ایک سال ہم آپ کے معبود  کی عبادت کریں۔  حضورؐ نے فرمایا اچھا، ٹھہرو، میں  دیکھتا ہوں  کہ میرے ربّ کی طرف سے کیا حکم آتا ہے۔  ۱؎ اس پر وحی نازل ہوئی قُلْ یٰٓا اَیّھَا الْکٰفِرُوْنَ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ کہ  قُلْ اَفَغَیْرَ اللہِ تَاْ مُرُوْنِّیْٓ اَعْبُدُ اَیّھَُا الْجٰعِلُوْنَo (الزُّمر، آیت۶۴)۔  ’’اِن سے کہو، اے نادانو، کیا تم مجھ سے یہ کہتے ہو کہ اللہ کے سوا میں  کسی اور کی عبادت کروں ؟‘‘ (ابن جریر۔ ابن ابی حاتم۔ طَبَرانی)۔ ابن عباسؓ کی ایک اور روایت یہ  ہے کہ قریش کے لوگوں  نے حضورؐ سے کہا ’’ اے محمدؐ،  اگر تم ہمارے معبود بتوں  کو چوم لو تو ہم تمہارے معبود کی عبادت کریں  گے۔ ‘‘ اس پر یہ سورۃ نازل ہوئی(عبد بن حُمَید)۔

سعید بن مینا ء (ابو البَخْتَرِی کے آزاد  کردہ غلام،  کی روایت ہے کہ ولید بن مُغِیْرہ،  عاص بن وائل، اَسْوَد بن المُطَّلِب اور اُمَیَّہ بن خَلَف رسول اللہ صلی اللہ  علیہ و سلم سے ملے اور آپ سے کہا ’’اے محمدؐ، آؤ ہم تمہارے معبود کی عبادت کر دیتے ہیں  اور تم ہمارے معبودوں  کی عبادت کرو اور ہم اپنے سارے کاموں  میں  تمہیں  شریک کے لیتے ہیں۔  اگر وہ چیز جو تم لے کر آئے ہو اُس سے بہتر ہوئی جو ہمارے پاس ہے تو ہم تمہارے ساتھ اُس میں  شریک ہوں  گے اور اپنا حصہ اُس سے پالیں  گے۔  اور اگر  وہ چیز جو ہمارے  پاس ہے اُس سے بہتر ہوئی  جو تم لائے ہو تو تم ہمارے ساتھ  اس میں  شریک ہو گے اور اس سے اپنا حصّہ  پا لو گے۔  ‘‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل فرمائی کہ  قُلْ یٰٓا اَیّھَُا الْکٰفِرُوْنَ۔ ۔۔۔۔۔۔۔(ابن جریر و ابن ابی حاتم ابن ہشام نے بھی سیرت میں  اس واقعہ کو نقل کیا ہے )

وَہْب بن مُنَبِّہ کی روایت ہے کہ قریش کے لوگوں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے کہا اگر آپ پسند کریں  تو ایک سال ہم آپ کے دین میں  داخل ہو جائیں  گے اور ایک سال آپ ہمارے دین میں  داخل ہو جایا کریں (عبد بن حُمَید ابن ابی حاتم)۔

اِن روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک ہی مجلس میں  نہیں  بلکہ مختلف اوقات میں  مختلف مواقع پر کفّارِ قریش نے حضورؐ کے سامنے اِس قسم کی تجویزیں  پیش کی تھیں  اور اس بات کی ضرور ت تھی کہ ایک دفعہ دو ٹوک جواب دے  کر اُن کی اِس امید کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم دین کے معاملہ میں  کچھ دو اور کچھ لو کے طریقے پر اُن سے کوئی مصالحت کر لیں  گے۔

 

موضوع اور مضمون

 

اِس پس منظر کو نگاہ میں  رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورۃ مذہبی رواداری کی تلقین کے لیے نازل نہیں  ہوئی تھی، جیسا کہ آج کل کے بعض لوگ خیال کرتے ہیں ،  بلکہ اِس لیے نازل ہوئی تھی کہ کفّار  کے دین اور اُن کی پوجا پاٹ اور اُن کے معبودوں  سے قطعی براءت،  بیزاری اور لاتعلقی کا اعلان کر دیا جائے اور اُنہیں  بتا دیا جائے کہ دینِ کفر اور دینِ اسلام ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں،  اُن کے باہم مل جانے کا سرے سے کوئی سوال ہی پیدا نہیں  ہوتا۔ یہ بات اگرچہ ابتداءً قریش کے کفار کو مُخاطَب کر کے اُن کی تجاویز مصالحت کے جواب میں  کہی گئی تھی، لیکن یہ اُنہی تک محدود نہیں  ہے بلکہ اسے قرآن میں  درج کر کے تمام مسلمانوں  کو قیامت تک کے لیے یہ تعلیم دے دی گئی ہے کہ دینِ کفر جہاں  جس شکل میں  بھی ہے اُن کو اس سے قول اور عمل میں  براءت کا اظہار چاہیے اور بلا رو رعایت کہہ دینا چاہیے کہ دین کے معاملہ میں  وہ کافروں  سے کسی قسم کی مداہنت یا مصالحت نہیں  کر سکتے۔  اسی لیے یہ سورۃ اُس  وقت بھی پڑھی جاتی رہی جب وہ لوگ مر کھپ گئے تھے جن کی باتوں  کے جواب میں  اِسے نازل  فرمایا گیا تھا،  اور وہ لوگ بھی مسلمان ہونے  کے بعد اسے پڑھتے رہے جو اِس کے نزول کے زمانے میں  کافر و مشرک تھے،  اور اُن کے گزر جانے کے صدیوں  بعد آج بھی مسلمان اس کو پڑھتے ہیں  کیونکہ کفر اور کافری سے بیزاری و لاتعلقی  ایمان کا دائمی تقاضا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم  کی نگاہ میں  اِس سورہ کی کیا اہمیت تھی،  اس کا اندازہ ذیل کی چند احادیث سے کیا جا سکتا ہے :

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ میں  نے بار ہا حضورؐ کو فجر کی نماز سے پہلے اور مغرب کی نماز کے بعد کی دو رکعتوں  میں  قُلْ یٰٓا اَیّھَُا الْکٰفِرُوْنََ اور  قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَد پڑھتے دیکھا ہے۔ (اِس مضمون کی متعدد روایات کچھ لفظی اختلافات کے ساتھ امام احمد، تِرْمذی، نَسائی، ابن ماجہ، ابن حِبّان اور ابن مَردویَہ نے ابن عمرؓ سے نقل کی ہیں )۔

حضرت خَبّاب ؓ کہتے ہیں  کہ نبی   صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے مجھ سے فرمایا کہ جب تم سونے کے لیے اپنے بستر  پر لیٹو تو قُلْ یٰٓا اَیّھَُا الْکٰفِرُوْنَ پڑھ لیا کرو، اور حضورؐ کا خود بھی یہ طریقہ تھا کہ جب آپؐ سونے کے لیے لیٹتے تو یہ سورۃ پڑھ لیا کرتے تھے (بزّار، طَبَرانی، ابن مردویہ)

ابنِ عباسؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے لوگوں  سے فرمایا ’’میں  تمہیں ) بتاؤں  وہ کلمہ جو تم کو شرک سے محفوظ رکھنے والا ہے ؟ وہ یہ ہے کہ سوتے وقت قُلْ یٰٓا اَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ پڑھ لیا کرو (ابو یَعلیٰ، طَبَرانی)۔

حضرت اَنَسؓ کہتے ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے حضرت مُعاذ بن جَبَل سے فرمایا سوتے وقت قُلْ یٰٓا اَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ پڑھ لیا کرو کیونکہ یہ شرک سے براءت ہے (بَیْہَقِی فی الشعب)۔

فَرْدَہ بن نَوفَل اور عبد الرحمان بن نَوفَل،  دونوں  کا بیان ہے کہ ان کے والد نوفل بن معاویہؓ الاَشْجَعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجیئے  جسے میں  سوتے وقت پڑھ لیا کروں۔  آپ نے فرمایا قُلْ یٰٓا اَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ آخر تک پڑھ کر سو جایا کرو، کیونکہ یہ شرک سے براءت ہے (مُسند احمد، ابو داؤد، تِرمِذی، نَسائی، ابن ابی شَیبہ، حاکم،  ابن مَرْدُوْیَہ، بِیْہَقِی فی الشعب)۔  ایسی ہی درخواست حضرت زید بن ؓ حارثہ کے بھائی حضرت جَبَلہ بنؓ حارثہ نے حضور سے کی تھی اور ان کو بھی آپ نے یہی جواب دیا تھا ( مُسند احمد، طَبَرانی)۔۱؎     اس کا یہ مطلب نہیں  ہے کہ رسول  اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کسی درجہ میں  بھی اس تجویز کو قابلِ قبول کیا معنی قابلِ غور بھی سمجھتے تھے،  اور آپؐ نے معاذ اللہ کفار کو یہ جواب اس امید پر دیا تھا کہ شاید اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی منظوری  آ جائے۔  بلکہ دراصل یہ بات بالکل ایسی ہی تھی  جیسے کسی ماتحت افسر کے سامنے کوئی بے جا مطالبہ پیش کیا جائے اور وہ جانتا ہو کہ اس کی حکومت کے لیے یہ مطالبہ قابلِ قبول نہیں  ہے،  مگر وہ خود صاف انکار کر دینے کے بجائے مطالبہ کرنے والوں  سے کہے کہ میں  آپ کی درخواست اوپر بھیجے دیتا ہوں ،  جو کچھ وہاں  سے جواب آئے گا  وہ آپ کو بتا دوں  گا۔ اس سے فرق یہ واقع ہوتا ہے کہ ماتحت افسر اگر خود ہی انکار کر دے تو لوگوں  کا اصرار جاری رہتا ہے،   لیکن اگر وہ بتائے کہ اوپر سے حکومت  کا جواب ہی تمہارے مطالبہ کے خلاف آیا ہے تو لوگ مایوس ہو جاتے ہیں۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

کہہ دو کہ اے کافرو، ۱ میں  اُن کی عبادت نہیں  کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو، ۲ اور نہ تم اُس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں  کرتا ہوں۔  ۳ اور نہ میں  اُن کی عبادت کرنے والا ہوں  جن کی عبادت تم نے کی ہے،  اور نہ تم اُس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں  کرتا ہوں۔  ۴ تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔ ۵ ؏۱

 

تفسیر

 

۱: اس آیت میں  چند باتیں  خاص طور پر توجہ طلب ہیں : (۱) حکم اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو دیا گیا ہے کہ آپ کافروں  سے یہ بات صاف صاف کہہ دیں،  لیکن آگے کا مضمون یہ بتا رہا ہے کہ ہر مومن کو وہی بات کافروں  سے کہہ دینی چاہیے کہ جو بعد کی آیات میں بیان ہوئی ہے حتیٰ کہ جو شخص کفر سے توبہ کر کے ایمان لے آیا ہو اس کے لیے بھی لازم ہے کہ دینِ کفر  اور اس کی عبادات اور معبودوں  سے اِسی طرح اپنی براءت کا اظہار کر دے۔  پس لفظِ قُلْ (کہہ دو) کے اولین مخاطَب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم ہی ہیں،  مگر حکم حضور ؐ کے لیے خاص نہیں  ہے بلکہ آپؐ کے واسطے سے ہر مومن کو پہنچتا ہے۔  (۲) ’’کافر‘‘ کا لفظ کوئی گالی نہیں  ہے جو اس آیت کے مُخاطَبوں  کو دی گئی ہو، بلکہ عربی زبان میں  کافر کے معنی انکار کرنے والے  اور نہ ماننے والے ( Unbeliever ) کے ہیں ،  اور اس کے مقابلے میں   ’’مومن‘‘ کا لفظ مان لینے اور تسلیم کر لینے والے (Believer ) کے لیے بولا جاتا ہے۔  لہٰذا اللہ کے حکم سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کا یہ فرمانا کہ ’’ اے کافرو‘‘ دراصل اس معنی میں  ہے کہ’’ اے و ہ لوگو  جنہوں  نے میری رسالت اور میری لائی ہوئی تعلیم کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ ‘‘ اور اسی طرح ایک مومن جب یہ لفظ کہے گا تو اس کی مراد محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان نہ لانے والے ہوں  گے۔  (۳) اے کافرو کہا ہے،  اے مشرکو نہیں ،  اس لیے مخاطَب صرف مشرکین ہی نہیں  ہیں  بلکہ وہ سب لوگ ہیں  جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو اللہ تعالیٰ کا رسول، اور آپ کی لائی ہوئی تعلیم و ہدایت کو اللہ جلّ شانہ، کی تعلیم و ہدایت نہیں  مانتے،  خواہ وہ یہود ہوں،  نصاریٰ ہوں،  مجوسی ہوں  یا دنیا بھر کے کفار و مشرکین اور ملاحدہ ہوں۔  اِس خطاب کو صرف قریش یا عرب کے مشرکین تک محدود رکھنے کاکی کوئی وجہ نہیں  ہے۔  (۴) منکرین کو اے کافرو کہہ کر خطاب کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے ہم کچھ لوگوں  کو اے دشمنو، یا اے مخالفو کہہ کر مخاطب کریں۔  اِس طرح کا خطاب دراصل مُخاطبوں  کی ذات سے نہیں  ہوتا بلکہ اُن کی صفتِ  دشمنی اور صفتِ مخالفت کی بنا پر ہوتا ہے اور اُسی وقت تک کے لیے ہوتا ہے جب تک اُن میں  یہ صفت باقی رہے۔  اگر اُن میں  سے کوئی دشمنی و مخالفت چھوڑ دے،  یا دوست اور حامی بن جائے تو وہ اِس خِطاب کا مُخاطَب نہیں  رہتا۔ بالکل اِسی طرح جن لوگوں  کو ’’اے کافرو‘‘ کہہ کر خطاب کیا گیا ہے وہ بھی اُن کی صفتِ کفر کے لحاظ سے ہے نہ کہ اُن کی ذاتی حیثیت سے۔  اُن میں  سے جو شخص مرتے دم تک کافر رہے اُس کے لیے تو یہ خطاب دائمی ہو گا،  لیکن جو شخص ایمان لے آئے وہ اِس کا مُخاطَب نہ رہے گا۔ (۵) مفسرین میں  سے بہت سے بزرگوں  نے یہ رائے دی ہے کہ اس سورۃ میں ’’اے کافرو‘‘ کا خطاب قریش کے صرف اُن چند مخصوص لوگوں  سے تھا جو رسول اللہ صلی  اللہ علیہ و سلم کے پاس دین کے معاملے میں  مصالحت کی تجویز لے لے کر آرہے تھے اور جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو بتا دیا تھا کہ یہ ایمان لانے والے نہیں  ہیں۔  یہ رائے انہوں  نے دو وجوہ سے قائم کی ہے۔  ایک یہ کہ آگے لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَo (جس کی یا جن کی عبادت تم کرتے ہو اس کی یا اُن کی عبادت میں  نہیں  کرتا) فرمایا گیا ہے،  اور وہ کہتے ہیں  کہ یہ قول یہود و نصاریٰ پر صادق نہیں  آتا، کیونکہ وہ اللہ کی عبادت  کرتے ہیں۔  دوسرے یہ کہ آگے یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ وَلَآ اَنْتُمْ عَابِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ، (اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں  کرتا ہوں )، اور ان کا استدلال یہ ہے کہ یہ قول اُن لوگوں  پر صادق نہیں  آتا جو اِس سورۃ کے نزول کے وقت کافر تھے اور بعد میں  ایمان لے آئے۔  لیکن یہ دونوں  دلیلیں  صحیح نہیں  ہیں۔  جہاں  تک اِن آیتوں  کا تعلق ہے اِن کی تشریح تو ہم آگے چل کر کریں  گے جس سے معلوم ہو جائے گا  کہ اِن کا وہ  مطلب نہیں  ہے جو اِن سے سمجھا گیا ہے۔  یہاں  اِس استدلال کی غلطی واضح کرنے کے  لیے صرف اتنی بات کہہ دینا کافی ہے کہ اگر اِس سورہ کے مخاطب صرف وہی لوگ تھے تو اُن کے مر کھپ جانے کے بعد اِس سورۃ کی تلاوت جاری رہنے کی آخر کیا وجہ ہے ؟ اور اسے مستقل طور پر قرآن میں  درج کر دینے کی کیا ضرورت تھی کہ قیامت تک مسلمان اسے پڑھتے  رہیں ؟

۲: اس میں   وہ سب معبود شامل ہیں  جن کی عبادت دنیا بھر کے کفار اور مشرکین کرتے رہے ہیں  اور کر رہے ہیں،  خواہ وہ ملائکہ ہوں،  جن ہوں،  انبیاء  اور اولیاء ہوں،  زندہ ہوں  یا مردہ انسانوں  کی ارواح ہوں،  یا سورج، یا چاند،  ستارے،  جانور، درخت،  دریا، بُت اور خیالی دیویاں  اور دیوتا ہوں۔  اس پر یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ  مشرکینِ  عرب اللہ تعالیٰ کو بھی تو معبود مانتے تھے اور دنیا کے دوسرے مشرکین نے بھی قدیم زمانے سے آج تک اللہ کے معبود ہونے  کا انکار نہیں  کیا ہے۔  رہے اہلِ کتاب تو  وہ اصل معبود تو اللہ ہی کو تسلیم کرتے ہیں ۔  پھر اِن سب لوگوں  کے تمام معبودوں  کی عبادت سے کسی استثناء  کے بغیر براءت کا اعلان کیسے صحیح ہو سکتا ہے جبکہ اللہ بھی ان میں  شامل ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ کو معبودوں  کے مجموعے میں  ایک معبود کی حیثیت سے شامل کر کے اگر دوسروں  کے ساتھ اُس کی عبادت کی جائے تو وہ شخص جو توحید پر ایمان رکھتا ہو لازماً اس عبادت سے اپنی براءت کا اظہار کرے گا، کیونکہ اس کے نزدیک اللہ معبودوں  کے مجموعے میں  سے ایک معبود نہیں  بلکہ وہی ایک تنہا معبود ہے،  اور اِس مجموعے کی  عبادت سرے سے اللہ کی عبادت ہی نہیں  ہے اگرچہ اُس میں  اللہ کی عبادت بھی شامل ہو۔ قرآن مجدد میں  اِس بات کو صاف صاف کہہ دیا گیا ہے کہ اللہ کی عبادت صرف وہ ہے جس کے ساتھ کسی دوسرے کی عبادت کا شائبہ تک نہ ہو،  اور جس میں  انسان اپنی بندگی کو بالکل اللہ ہی کے لیے خالص کر دے۔  وَمَآ اُمِرُوْ اِلَّا لِیَعْبُدُو ا اللہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَآ ءَ۔ ’’ لوگوں  کو اِس کے سوا کوئی حکم نہیں  دیا گیا کہ وہ بالکل یَک سُو ہو کر،  اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اُس کی عبادت کریں ‘‘ (البیِّنَہ۔۵)۔  یہ مضمون  بکثرت مقامات پر قرآن میں  پوری وضاحت کے ساتھاور پورے زور کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔  مثال کے طور پر ملاحظہ ہو النساء، آیات ۱۴۶-۱۴۵، الاَعراف، ۲۹۔ الزُّمَر، ۱۵-۱۴-۱۱-۳-۲۔ المؤمن، ۱۴- ۶۴تا ۶۶۔ یہی مضمون ایک حدیث قُدسی میں  بیان کیا گیا ہے جس میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں  سب سے بڑھ کر ہر شریک کی شرکت سے بے نیاز ہوں۔  جس شخص نے کوئی عمل ایسا کیا جس میں  میرے ساتھ کسی اور کو بھی اُس نے شریک کیا ہو اُس سے میں  بَری ہوں  اور وہ پورا پورا عمل اُسی کے لیے  ہے جس کو اُس نے شریک کیا‘‘(مسلم،  مُسند احمد، ابن ماجہ)۔ پس درحقیقت اللہ کو دو یا تین یا بہت سے خداؤں  میں  سے ایک قرار دینا  اور اُس کے ساتھ دوسروں  کی بندگی و پرستش کرنا ہی تو وہ اصل کفر ہے جس سے اظہارِ  براءت کرنا اس سورۃ کا مقصود ہے۔

۳: اصل الفاظ ہیں  مَآ اَعْبُدُ۔ عربی زبان میں  مَا کا لفظ عموماً  بے جان یا  بے عقل چیزوں  کے لیے استعمال  ہوتا ہے،  اور ذی عقل ہستیوں  کے لیے مَنْ کا لفظ بولا جاتا ہے۔  اِس بنا پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں  مَنْ اَعْبُدُ کہنے کے بجائے مَآ اَعْبُدُ کیوں  کہا گیا ہے ؟ اس کے چار جواب عام طور پر مفسرین نے دیے ہیں۔  ایک یہ کہ مَا بمعنیٰ مَنْ ہے۔  دوسرے یہ کہ یہاں  مَا بمعنی اَلَّذِیْ (یعنی جو یا جس) ہے۔  تیسرے یہ کہ دونوں  فقروں  میں  مَا مصدر کے معنی میں  ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ میں  وہ عبادت نہیں  کرتا جو تم کرتے ہو، یعنی مشرکانہ عبادت، اور تم وہ عبادت نہیں  کرتے ہو جو میں  کرتا ہوں ،  یعنی مُوحِّدانہ عبادت۔ چوتھے یہ کہ پہلے فقرے میں  چونکہ مَا تَعْبُدُوْنَ فرمایا گیا ہے اس لیے دوسرے فقرے میں  کلام کی مناسبت برقرار رکھتے ہوئے مَآ اَعْبُدُ فرمایا گیا ہے،  لیکن دونوں  جگہ صرف لفظ کی یکسانی ہے،  معنی کی یکسانی نہیں  ہے،  اور اس کی مثالیں  قرآن مجید میں  دوسری جگہ بھی ملتی ہیں۔  مثلاً سُورۂ بقرہ(آیت ۱۹۴) میں  فرمایا گیا ہے فَمَنِ اعْتَدیٰ عَلَیْکُمْ فَا عْدَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدیٰ عَلَیْکُمْ  ’’ جو تم پر زیادتی کرے اس پر تم ویسی ہی زیادتی کر و جیسی اس نے تم پر کی ہے۔ ‘‘ ظاہر ہے کہ زیادتی کا ویسا ہی جواب جیسی زیادتی کی گئی ہو،  زیادتی کی تعریف میں  نہیں  آتا،  مگر محض کلام کی یکسانی کے لیے جواباً زیادتی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔  اِسی طرح سُورۂ توبہ (آیت ۶۷) میں  ارشاد ہوا ہے نَسُوْا اللہ َ فَنَسِیَھُمْ  ’’وہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ اُن کو بھول گیا۔‘‘ حالانکہ اللہ بھُولتا نہیں  ہے اور مقصُودِ کلام یہ ہے کہ اللہ نے ان کو نظر انداز فرما دیا، لیکن اُن کے نِسیان کے جواب میں  اللہ کے نسیان  کا لفظ محض کلام کی یکسانی برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔  یہ چاروں  تاویلات اگرچہ ایک ایک  لحاظ سے درست ہیں  اور عربی زبان میں  یہ سب معنی لینے کی گنجائش ہے،  لین ان میں  سے کسی سے بھی وہ اصل مدّعا واضح نہیں  ہوتا  جس کے لیے مَنْ اَعْبُدُ کہنے کے بجائے مَآ اَعْبُدُ کہا گیا ہے۔  دراصل عربی زبان میں  کسی شخص کے لیے جب مَنْ کا لفظ  استعمال ہوتا ہے تو اس سے مقصود اُس کی ذات کے متعلق کچھ کہنا یا پوچھنا ہوتا ہے،  اور جب مَا کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس سے مقصود اُس کی  صفت کے  بارے میں  استفسار یا اظہار  خیال ہوتا ہے۔  یہ ایسا ہی ہے جیسا اردو زبان میں  جب ہم کسی شخص کے متعلق پوچھتے ہیں  کہ یہ صاحب کون ہیں  تو مقصد اس شخص کی ذات سے تعارف حاصل کرنا ہوتا ہے مگر جب ہم کسی شخص کے متعلق پوچھتے ہیں  کہ یہ صاحب کیا ہیں ؟ تو اس سے یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ مثلاً وہ فوج کا آدمی ہے تو فوج میں  اس کا منصب کیا ہے ؟ اور کسی درس گاہ سے تعلق رکھتا ہے تو  اِس میں  ریڈر ہے ؟ لکچرر ہے ؟ پروفیسر ہے ؟ کس علم یا فن کا استاد ہے ؟ کیا ڈگریاں  رکھتا ہے ؟ وغیرہ پس اگر اس آیت میں  یہ کہا جاتا کہ لَآ اَنْتُمْ عَابِدُوْنَ مَنْ اَعْبُدُ تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ تم اس ہستی کی عبادت کرنے والے نہیں  ہو جس کی عبادت میں  کرتا ہوں  اور اس کے جواب میں  مشرکین اور کفار یہ کہہ سکتے تھے کہ اللہ کی ہستی کو تو ہم مانتے ہیں  اور  اس کی عبادت بھی ہم کرتے ہیں۔  لیکن جب یہ کہا گیا کہ لَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ تو اس کا مطلب یہ ہو ا کہ جن صفات کے معبود کی عبادت  میں  کرتا ہوں  اُن صفات کے معبود کی عبادت  کرنے والے تم نہیں  ہو۔  اور یہی وہ اصل بات ہے جس کی بنا  پر  نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کا دین منکرینِ خدا کے سوا تمام اقسام کے کفار کے دین سے قطعی طور پر الگ ہو جاتا ہے۔  کیونکہ آپؐ کا خدا اُن سب کے خدا سے بالکل مختلف ہے۔  اُن میں  سے کسی کا خدا ایسا ہے جس کو چھ دن میں  دنیا پیدا کرنے کے بعد  ساتویں  دن آرام کرنے کی ضرورت پیش آئی، جو ربُّ العالمین نہیں  بلکہ ربِّ اسرائیل ہے،  جس ایک نسل کے لوگوں  سے ایسا خاص رشتہ ہے جو دوسرے انسانوں  سے نہیں  ہے،  جو حضرت یعقوبؑ سے کشتی لڑتا ہے اور ان کو گرا نہیں  سکتا، جو عُزَیر نامی ایک بیٹا بھی رکھتا ہے۔  کسی کا خدا یسوع مسیح نامی ایک اِکلوتے بیٹے کا باپ ہے اور وہ دوسروں  کے گناہوں  کا کفارہ بنانے کے لیے اپنے بیٹے کو صلیب پر چڑھوا دیتا ہے۔  کسی کا خدا بیوی بچے رکھتا ہے،  مگر بے  چارے کے ہاں  صرف بیٹیاں  ہی بیٹیاں  پیدا ہوتی ہیں۔  کسی کا خدا انسانی شکل میں  روپ دھارتا ہے اور زمین پر انسانی جسم میں  رہ کر انسانوں  کے سے کام کرتا ہے۔  کسی کا خدا  محض واجب الوجود،  یا علت الْعِلَل یا علّتِ اولیٰ(First Cause ) ہے،  کائنات کے نظام کو ایک مرتبہ حرکت دے کر الگ جا بیٹھا ہے،  اس کے بعد کائنات لگے بندھے قوانین کے مطابق خود چل رہی ہے اور انسان کا اُس سے اور اُس کا انسان سے اب کوئی تعلق نہیں  ہے۔  غرض خدا کو ماننے والے کفار بھی درحقیقت اُس  خدا کو نہیں  مانتے جو ساری کائنات کا ایک ہی خالق، مالک، مدبِّر، منتظم اور حاکم ہے۔  جس نے نظام کائنات کو صرف بنایا ہی نہیں  ہے بلکہ ہر آن وہی اس کو چلا رہا ہے  اور اس کا حکم ہر وقت یہاں  چل رہا ہے۔  جو ہر عیب،  نقص،  کمزوری اور غلطی سے منزَّہ ہے۔  جو ہر تشبیہ اور تجسیم سے پاک، ہر نظیر و  مَثِیل سے مُبَرّا اور ہر ساتھی اور ساجھی سے بے نیاز ہے۔  جس کی ذات، صفات،  اختیارات اور استحقاقِ معبودیّت میں  کوئی اس کا شریک نہیں  ہے۔  ایک ایک فرد کے ساتھ رزّاقی اور ربوبیت اور رحمت اور نگہبانی کا براہِ راست تعلق ہے۔  جو دعائیں  سننے والا اور اُن کا جواب دینے والا ہے۔  جو موت اور زندگی، نفع اور ضرر اور قسمتوں  کے بناؤ اور بگاڑ کے جملہ اختیارات کا تنہا مالک ہے۔  جو اپنی مخلوق کو صرف پالتا ہی نہیں  ہے بلکہ ہر ایک کو اس کی حیثیت اور ضرورت کے مطابق ہدایت بھی دیتا ہے۔  جس کے ساتھ ہمارا تعلق  صرف یہی نہیں  ہے کہ وہ ہمارا معبود ہے اور ہم اُس کی پرستش کرتے ہیں،  بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے انبیاء اور اپنی کتابوں  کے ذریعہ سے ہمیں  امر و نہی کے احکام دیتا ہے اور ہمارا کام اس کے احکام کی اطاعت کرنا ہے۔  جس کے سامنے ہم اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہیں ،  جو مرنے کے بعد ہمیں  دوبارہ اٹھانے والا ہے اور ہمارے اعمال کا محاسبہ کر کے جزا اور سزا دینے والا ہے۔  اِن صفات کے معبود کی عبادت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم اور اُن کی پیروی کرنے والوں  کے سوا دنیا میں  کوئی بھی نہیں  کر رہا ہے۔  دوسرے اگر خدا کی عبادت کر بھی رہے ہیں  تو اصلی  اور حقیقی خدا کی نہیں  بلکہ اس خدا کی عبادت کر رہے ہیں  جو اُن کا اپنا اختراع  کردہ ایک خیالی خدا ہے۔

۴: مفسّرین میں  سے ایک گروہ کا خیال  ہے کہ یہ دونوں   فقرے پہلے دونوں  فقروں  کے مضمون کی تکرار ہیں،  اور یہ تکرار اِس غرض کے لیے کی گئی ہے کہ اُس بات کو زیادہ پر زور بنا دیا جائے جو پہلے دو فقروں  میں  کہی گئی تھی۔  لیکن بہت سے مفسّرین اس کو تکرار نہیں  مانتے بلکہ وہ کہتے ہیں  کہ اِن میں  ایک اور مضمون بیان کیا گیا ہے جو پہلے فقروں  کے مضمون سے مختلف ہے۔  ہمارے نزدیک اِس حد تک تو اُن کی بات صحیح ہے کہ اِن فقروں  میں  تکرار نہیں  ہے،  کیونکہ اِن میں  صرف ’’اور نہ تم اس کی عبادت کر نے والے ہو جس کی عبادت میں  کرتا ہوں ‘‘ کا اعادہ کیا گیا ہے،  اور یہ اعادہ بھی اُس معنی میں  نہیں  ہے جس میں  یہ فقرہ پہلے کہا گیا تھا۔ مگر تکرار کی نفی کرنے کے بعد مفسّرین کے اِس گروہ نے اِن دونوں  فقروں  کے جو معنی بیان کیے ہیں  وہ ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔  یہاں  اِ س کا موقع نہیں  ہے کہ ہم ان میں  سے ہر ایک کے بیان کردہ معنی کو نقل کر کے اُس پر بحث کریں،  ا س لیے طولِ کلام سے بچتے ہوئے ہم صرف وہ  معنی بیان کریں  گے جو ہمارے نزدیک صحیح ہیں۔  پہلے فقرے میں  فرمایا گیا ہے کہ ’’ اور نہ میں  اُن کی عبادت کر نے والا ہوں  جن کی  عبادت تم نے کی ہے۔ ‘‘ اِ س کا مضمون آیت نمبر ۲ کے مضمون سے بالکل مختلف ہے جس میں  فرمایا گیا  تھا کہ ’’ میں  اُن کی عبادت نہیں  کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو۔‘‘ اِن دونوں  باتوں  میں  دو حیثیتوں  سے بہت بڑا فرق ہے۔  ایک یہ کہ میں  فلاں  کام کرتا یا نہیں  کروں  گا کہنے میں  اگرچہ انکار اور پر زور انکار ہے،  لیکن  اس سے بہت زیادہ زور یہ کہنے میں  ہے کہ میں  فلاں  کام کرنے والا نہیں  ہوں،  کیونکہ اِس کے معنی یہ ہیں  کہ وہ ایسا بُرا کام ہے جس کا ارتکاب کرنا تو درکنار اُس کا ارادہ یا خیال کرنا بھی میرے لیے  ممکن نہیں  ہے۔  دوسرے یہ کہ ’’ جن کی عبادت تم کرتے ہو‘‘ کا اطلاق صرف اُن معبودوں  پر ہوتا ہے جن کی عبادت کفار اَب کر رہے ہیں۔  بخلاف اس کے ’’جن کی عبادت تم نے کی ہے ‘‘ کا اطلاق ان معبودوں  پر ہوتا ہے جن کی عبادت کفار اور اُن کے آباء و اجداد زمانۂ ماضی میں  کرتے رہے ہیں۔  اب یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ مشرکین اور کفار کے معبودوں  میں  ہمیشہ ردّ و بدل اور حذف و اضافہ ہوتا رہا ہے،  مختلف زمانوں  میں  کفار کے مختلف گروہ مختلف معبودوں  کو پوجتے رہے ہیں،  اور سارے کافروں  کے معبود ہمیشہ اور ہر جگہ ایک ہی نہیں  رہے ہیں۔  پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ میں  تمہارے معبودوں  ہی سے نہیں  بلکہ تمہارے آباء و اجداد کے معبودوں  سے بھی بری ہوں  اور میرا یہ کام نہیں  ہے کہ ایسے معبودوں  کی عبادت کا خیال تک اپنے دل میں  لاؤں۔  رہا دوسرا فقرہ،  تو اگرچہ آیت نمبر ۵ میں  اُس کے الفاظ وہی ہیں  جو آیت نمبر ۳ میں  ہیں،  لیکن دونوں  جگہ اُس کا مفہوم مختلف ہے۔  آیت نمبر ۳ میں  وہ اِس فقرے کے بعد آیا ہے کہ  ’’ میں  اُن کی عبادت نہیں  کر تا جن کی عبادت تم کرتے ہو‘‘، اس لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ  ’’اور نہ تم اُن صفات کے معبودِ واحد کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں  کرتا ہوں ۔ ‘‘ اور آیت نمبر ۵ میں  وہ اِس فقرے کے بعد آیا ہے کہ  ’’ اور نہ میں  اُن کی عبادت کرنے والا ہوں  جن کی عبادت تم نے کی ہے ‘‘، اس  لیے اس کے معنی یہ ہیں  کہ’’ اور نہ تم اُس معبودِ واحد کی عبادت کر نے والے بنتے نظر آتے ہو جس کی میں  عبادت کرتا ہوں ‘‘، یا بالفاظِ دیگر میرے لیے یہ ممکن نہیں  ہے کہ جن جن کو تم نے اور تمہارے اسلاف نے پوجا ہے اُن کا پُجاری بن جاؤں،  اور  تم کو بہت سے معبودوں  کی بندگی چھوڑ کر ایک معبودِ واحد کی عبادت اختیار کر نے سے جو چِڑ ہے اُس کی بنا پر تم سے یہ توقع نہیں  ہے کہ اپنی اِس غلط  عبادت سے باز آ جاؤ گے اور اُس کی عبادت کرنے والے بن جاؤ گے جس کی عبادت میں  کرتا ہوں۔

۵: یعنی میرا دین الگ ہے اور تمہارا دین الگ۔ میں  تمہارے معبودوں  کا پرستار نہیں  اور تم میرے معبود کے پرستار نہیں۔  میں   تمہارے معبودوں  کی بندگی نہیں  کر سکتا  اور تم میرے معبود کی بندگی کے لیے تیار نہیں  ہو۔ اس لیے میرا اور تمہارا راستہ  کبھی ایک نہیں  ہو سکتا۔ یہ کفار کو رواداری کا پیغام نہیں  ہے،  بلکہ جب تک وہ کافر ہیں  اُن سے ہمیشہ کے لیے براءت، بیزاری اور لاتعلقی کا اعلان ہے،  اور اس سے مقصود اُن کو اِس امر سے قطعی اور آخری طور پر مایوس کر دینا ہے کہ دین کے معاملہ میں اللہ کا رسول اور اس پر ایمان لانے والوں  کا گروہ کبھی اُن سے کوئی مصالحت  کرے گا۔ یہی اعلانِ براءت اور اظہارِ بیزاری اِس سورۃ کے بعد نازل ہونے والی مکّی سورتوں  میں  پے در پے کیا گیا ہے۔  چنانچہ سورۂ یونس میں  فرمایا ’’اگر یہ تجھے جھُٹلاتے ہیں  تو کہہ دے کہ میرا عمل میرے لیے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لیے،  جو کچھ  میں  کرتا ہوں  اس کی ذمہ داری سے تم بری ہو اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں  بری ہوں ‘‘(آیت ۱۰۴)۔ سورۂ شُعَراء میں  فرمایا ’’اے نبی، اب اگر یہ لوگ تمہاری بات نہیں  مانتے تو کہہ دو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اُس سے میں  بَری الذمّہ ہوں ‘‘(آیت۲۱۶)۔ سورۂ سبا میں  فرمایا ’’ اِن سے کہو جو قصور ہم نے کیا ہو اس کی باز پرس تم سے نہ ہو گی اور جو کچھ تم کر رہے ہو اُس  کی کوئی جواب طلبی ہم سے نہیں  کی جائے گی۔ کہو،  ہمارا ربّ(ایک وقت) ہمیں  اور تمہیں  جمع کرے گا اور ہمارے  درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا‘‘(آیات۲۶-۲۵)۔سورۂ زمر میں  فرمایا ’’اِن سے کہو، اے میری قوم کے لوگو، تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ، میں  اپنا کام کرتا رہوں  گا۔ عنقریب تمہیں  معلوم ہو جائے گا کہ کس پر رُسوا کُن عذاب آتا ہے اور کسے وہ سزا ملتی ہے جو ٹلنے والی نہیں ‘‘(آیات ۴۰-۳۹)۔  پھر یہی سبق مدینۂ طیّبہ میں  تمام مسلمانوں  کو دیا گیا کہ  ’’ تم لوگوں  کے لیے ابراہیمؑ اور اُس کے ساتھیوں  میں  ایک اچھا نمونہ ہے کہ انہوں  نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا کہ ہم تم سے اور تمہارے اُن معبودوں  سے،  جن کو تم خدا کو چھوڑ کر پوجتے ہو، قطعی بیزار ہیں،  ہم نے تم سے کفر کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت ہو گئی اور بَیر پڑ گیا جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ‘‘ (الممتحنہ۔ آیت۴)۔  قرآن مجید کی اِن پے در پے توضیحات سے اِس شبہ کی گنجائش  تک نہیں  رہتی کہ لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کا مطلب یہ  نہیں  ہے کہ تم اپنے دین پر قائم رہو اور مجھے اپنے دین پر چلنے دو۔  بلکہ یہ اُسی طرح کی بات ہے جیسی سُورۂ زُمر میں  فرمائی گئی ہے کہ ’’اے نبی، اِن سے کہو کہ میں  تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اُسی کی بندگی کروں  گا، تم اُسے چھوڑ کر جس جس کی بندگی کر نا چاہو کرتے رہو‘‘ (آیت ۱۴)۔ اِس آیت سے امام ابو حنیفہ اور امام شافعی نے یہ استدلال کیا ہے کہ کافروں  کے مذاہب خواہ باہم کتنے ہی مختلف ہوں،   لیکن کفر بحیثیتِ مجموعی ایک ہی ملّت ہے،  اس لیے یہودی عیسائی کا،  اور عیسائی یہودی کا، اور اسی طرح ایک مذہب کا  کافر دوسرے مذہب کے کافر کا وارث ہو سکتا ہے اگر اُن کے درمیان نسب، یا نکاح یا کسی سبب کی بنا پر کوئی ایسا تعلق ہو جو ایک کی وراثت دوسرے کو پہنچے کا مقتضی ہو۔ بخلاف اس کے امام مالک، امام اَوزاعی اور  امام احمد اِس بات کے قائل ہیں  کہ ایک مذہب کے پیرو دوسرے مذہب کے پیرو کی وراثت نہیں  پا سکتے۔  ان کا استدلال یہ  اُس حدیث سے ہے جو حضرت عبد اللہ ؓ بن عَمرْو بن عاص سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے فرمایا لا یتوارث اھل ملّتین شتّٰی۔ ’’دو مختلف ملّتوں  کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں  ہو سکتے ‘‘( مُسند احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ، دار قُطْنِی)۔ اس سے ملتے جلتے مضمون کی ایک حدیث ترمذی نے حضرت جابرؓ سے اور ابن حِبّان نے حضرت عبد اللہؓ بن عمر سے اور بَزّار  نے حضرت ابو ہریرہؓ سے نقل کی ہے۔  اس  مسئلے پر مفصل بحث کرتے ہوئے مسلک حنفی کے مشہور امام امام شمس الاَئئمہ، سَرَ خُسِی لکھتے ہیں : ’’کفار آپس میں  اُن سب اسباب کی بنا پر بھی ایک دوسرے کے وارث ہو سکتے ہیں  جن کی بنا پر مسلمان آپس میں  ایک دوسرے ہوتے ہیں ،  اور اُن کے درمیان بعض ایسی صورتوں  میں  بھی توارُث ہو سکتا ہے جن میں  مسلمانوں  کے درمیان نہیں  ہوتا۔ ۔۔۔۔۔ حقیقت  یہ ہے کہ اللہ نے بس دو ہی دین قرار دیے ہیں ،  ایک دینِ حق،  دوسرے دینِ باطل،  چنانچہ فرمایا لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ۔ اور اس نے لوگوں  کے دو ہی فریق رکھے ہیں ،  ایک فریق جنتی ہے اور وہ مومن ہے،  اور دوسرا فریق دوزخی ہے اور وہ بحیثیت مجموعی تمام کفّار ہیں۔  اور اس نے دو ہی گروہوں  کو ایک دوسرے کا مخالف قرار دیا ہے۔  چنانچہ فرمایا ھِذَان خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّھِمْ (یہ دو مدّ مقابل فریق ہیں  جن کے درمیان اپنے ربّ کے معاملے میں  جھگڑا ہے۔  الحج، آیت ۱۹) یعنی ایک فریق تمام کفار بحیثیت مجموعی ہیں  اور ان کا جھگڑا اہل ایمان سے ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ ہم یہ تسلیم نہیں  کرتے کہ وہ اپنے اعتقاد کے مطابق باہم الگ الگ ملّتیں   ہیں،  بلکہ مسلمانوں  کے مقابلے میں  وہ سب ایک ہی ملّت ہیں،  کیونکہ مسلمان محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت اور قرآن کا اقرار کرتے ہیں  اور وہ اس کا انکار کرتے ہیں۔   اسی وجہ سے وہ کافر قرار پائے ہیں  اور مسلمانوں  کے معاملہ میں  وہ سب ایک ملّت ہیں ۔ ۔۔۔۔ حدیث لا یتوارث اھل ملّتین اسی بات کی طرف اشارہ کرتی ہے  جس کا ہم نے ذکر کیا ہے،  کیونکہ مِلّتَین (دو ملّتوں ) کی تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے اپنے اس ارشاد سے کر دی ہے کہ    لا یرث المسلم الکافر و لا الکافر المسلم۔  مسلمان کافر کا وارث نہیں  ہو سکتا اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہو سکتا ہے ‘‘ (المبسوط، ج۳، صفحات ۳۲-۳۰)۔  امام سَرخَسِی نے یہاں  جس حدیث کا حوالہ دیا ہے اسے بخاری، مسلم، نَسائی،  احمد ، ترمِذی، ابن ماجہ اور ابو داؤد نے حضرت اُسامہ ؓ بن زید سے روایت کیا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

۱۱۰۔سورۃ النصر

 

نام

 

پہلی آیت اَذَا جَآءَ نَصْرُ اللہِ کے لفظ نصر کو اِس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

حضرت عبداللہؓ بن عباس کا بیان ہے کہ یہ قرآن مجید کی آخری سورت ہے،  یعنی اس کے بعد کوئی مکمّل سورہ حضورؐ پر نازل نہیں  ہوئی۔ ۱؎ (مسلم، نَسائی، طَبَرانی، ابن ابی شَیبہ، ابن مَرْدُوْیَہ)۔حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی روایت ہے کہ یہ سورت حَجّۃ الوداع کے موقع پر ایّامِ تشریق کے وسط میں  بمقامِ منیٰ نازل ہوئی اور اس کے بعد حضور ؐ نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر اپنا مشہور خطبہ ارشاد فرمایا (تِرمِذی، بَزّار، بَیْہَقِی، ابن ابی شَیبہ، عبد بن حُمَید، ابو یعلیٰ، ابن مَرْدُوْیَہ)۔ بیہقی نے کتاب الحج میں  حضرت سَرّ اء بنت نَبْہان کی روایت سے حضورؐ کا وہ خطبہ نقل کیا ہے  جو آپ نے اِس موقع پر ارشاد فرمایا تھا۔ وہ کہتی ہیں  کہ:

’’ میں  نے حَجّۃ الوداع میں  حضور ؐ کو یہ فرماتے سنا کہ لوگو جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے ؟ لوگوں  نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔  فرمایا یہ ایّامِ تشریق  کے بیچ کا دن ہے۔  پھر آپؐ نے پوچھا جانتے ہو  یہ کون سا مقام ہے ؟ لوگوں  نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔  فرمایا یہ مَشْعَرِ حرام ہے۔  پھر حضور ؐ نے فرمایا کہ میں  نہیں  جانتا، شاید اِس کے بعد میں  تم سے مل  نہ سکوں۔  خبردار رہو، تمہارے خون اور تمہاری عزتیں   ایک دوسرے  پر اُسی طرح حرام ہیں  جس طرح یہ دن اور یہ مقام حرام ہے،  یہاں  تک کہ تم اپنے ربّ کے سامنے حاضر ہو اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں  سوال کرے۔  سنو، یہ بات تم میں  سے قریب والا دُور والے تک پہنچا دے۔  سُنو، کیا میں  نے تمہیں  پہنچا دیا؟ اِس کے بعد جب ہم لوگ مدینہ  واپس ہوئے تو کچھ زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ حضورؐ کا انتقال ہو گیا۔‘‘

اِن دونوں  روایتوں  کو ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ نَصر کے نزول اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی وفات کے درمیان ۳ مہینے کچھ دن کا فصل تھا،  کیونکہ تاریخ کی رو سے حَجۃ الوداع اور حضورؐ کے وِصال کے درمیان اتنا ہی زمانہ گزرا  تھا۔

ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی تو حضورؐ نے فرمایا مجھے میری وفات کی خبر دے دی گئی ہے اور میرا وقت آن پورا ہوا ( مُسند احمد، ابن جریر، ابن المُنْذِر، ابن مردویہ)۔ دوسری روایات جو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے منقول ہوئی ہیں  اُن میں  بیان کیا گیا ہے کہ اِس سورۃ کے نزول سے حضورؐ نے یہ سمجھ لیا تھا کہ آپؐ کو دنیا سے رخصت ہونے کی اطلاع دے دی گئی ہے (مُسند احمد، ابن جریر، طَبَرانی، نَسائی، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ)۔

ام المومنین حضرت امِّ حبیبہ ؓ فرماتی ہیں  کہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی تو حضورؐ نے فرمایا اس سال میرا انتقال ہو نے والا ہے۔  یہ بات سُن کر حضرت فاطمہ ؓ رو دیں۔  اِس پر آپؐ نے فرمایا میرے خاندان میں  سے تم ہی سب سے پہلے مجھ سے آ کر ملو گی۔ یہ سُن کر وہ ہنس دیں  (ابن ابی حاتم، ابن مردویہ)۔ قریب قریب اِسی مضمون کی روایت بیہقی نے ابن عباسؓ سے نقل کی ہے۔

ابن عباسؓ فرماتے ہیں  کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھے غَزْوَۂ بدر میں  شریک ہونے والے بڑے بڑَ شیوخ کے ساتھ اپنی مجلس میں  بلاتے تھے۔  یہ بات بعض بزرگوں  کو نا گوار گزری اور انہوں  نے کہا کہ ہمارے لڑکے بھی تو اِسی لڑکے جیسے ہیں،  اِس کو خاص طور پر کیوں  ہمارے ساتھ شریکِ  مجلس کیا جاتا ہے ؟ (امام بخاری اور ابن جریر نے تصریح کی ہے کہ یہ بات کہنے والے حضرت عبد الرحمانؓ  بن عَوف تھے )۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ علم کے لحاظ سے اِس کا جو مقام ہے وہ آپ لوگ جانتے ہیں۔  پھر ایک روز اُنہوں  نے شیوخِ بدر کو بلایا اور مجھے بھی اُن کے ساتھ بُلا لیا۔ میں  سمجھ گیا کہ آج مجھے یہ دکھانے کے لیے بلایا گیا ہے کہ مجھ کو ان کی مجلس میں  کیوں  شریک  کیا جاتا ہے۔  دورانِ گفتگو میں  حضرت عمرؓ نے شیوخ        بدر سے پوچھا کہ آپ حضرات اِذَا جَآ ءَ نَصْرُ اللہِ وَالْفَتْحُ کے بارے میں  کیا کہتے ہیں ؟ بعض نے کہا  اس میں  ہمیں  حکم دیا گیا ہے کہ جب اللہ کی نصرت آئے اور ہم کو فتح نصیب ہو تو ہم اللہ کی حمد اور اس سے استغفار کریں۔  بعض نے کہا اس سے مراد شہروں  اور قلعوں  کی فتح ہے۔  بعض خاموش رہے۔  اس کے بعد حضرت عمرؓ نے کہا ابن عباسؓ کیا تم بھی یہی کہتے ہو؟ میں  نے کہا، نہیں ۔  انہوں  نے پوچھا پھر تم کیا کہتے ہو؟ میں  نے عرض کیا اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی اَجل ہے۔  اس میں  حضورؐ کو خبر دی گئی ہے کہ جب اللہ کی نصرت آ جائے اور فتح نصیب ہو جائے تو یہ اس  بات کی علامت ہے کہ آپؐ کا وقت آن پورا ہوا،  اِس کے بعد آپؐ اللہ کی حمد اور استغفار کریں۔  اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا  میں  بھی اُس کے سوا کچھ نہیں  جانتا جو تم نے کہا ہے۔  ایک روایت میں  اس پر  یہ اضافہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے شیوخِ بدر سے فرمایا  آپ لوگ مجھے کیسے ملامت کرتے ہیں  جبکہ اِس لڑکے کو اس مجلس میں  شریک کرنے کی وجہ آپ نے دیکھ لی (بخاری، مُسند احمد، تِرْمِذی، ابن جریر، ابن مردویہ، بَغَوِی، بَیْہَقِی، ابن المُنْذِر)۔

 

موضوع اور مضمون

 

جیسا کہ مندرجۂ بالا روایات سے معلوم ہوتا ہے،  اِس سورہ میں  اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو یہ بتا دیا تھا کہ جب عرب میں  اسلام کی فتح مکمل ہو جائے اور لوگ اللہ کے دین میں  فوج در فوج داخل ہونے لگیں  تو اس کے معنی یہ ہیں  کہ وہ کام مکمل ہو گیا  جس کے لیے آپؐ دنیا میں  بھیجے گئے تھے۔  اس کے بعد آپؐ کو حکم دیا گیا  کہ آپؐ اللہ کی حمد اور اس کی تسبیح کرنے میں  مشغول  ہو جائیں  کہ اُس کے فضل سے آپؐ اتنا بڑا کام انجام دینے میں  کامیاب ہوئے،  اور اُس سے دعا کریں  کہ اِس خدمت کی انجام دہی میں  جو بھول چوک یا کوتاہی بھی آپؐ سے ہوئی ہو اُسے وہ معاف فرما دے۔  اِس مقام پر آدمی غور کرے تو دیکھ سکتا ہے کہ ایک نبی اور ایک عام دنیوی رہنما کے درمیان کتنا عظیم فرق ہے۔  کسی دنیوی رہنما کو اگر اپنی زندگی ہی میں  وہ انقلابِ عظیم برپا کرنے  میں  کامیابی نصیب ہو جائے جس کے لیے وہ کام کرنے اٹھا ہو تو اس کے لیے یہ جشن منانے اور اپنی قیادت پر فخر کرنے کا موقع ہوتا ہے۔  لیکن یہاں  اللہ کے پیغمبر کو ہم دیکھتے ہیں  کہ اُس نے ۲۳ سال کی مختصر مدت میں  ایک پوری قوم کے عقائد، افکار، عادات، اخلاق، تمدّن، تہذیب،  معاشرت، معیشت، سیاست اور حربی قابلیت کو بالکل بدل ڈالا اور جہالت و جاہلیت میں  ڈوبی ہوئی قوم کو  اُٹھا کر اِس قابل بنا دیا کہ وہ دنیا کو مسخّر کرڈالے اور اقوامِ عالم کی امام بن جائے،   مگر ایسا عظیم کارنامہ اُس کے ہاتھوں  انجام پانے کے بعد اُسے جشن منانے کا نہیں  بلکہ اللہ کی حمد اور تسبحم کرنے اور اُس سے مغفرت کی دعا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے،  اور وہ پوری عاجزی  کے ساتھ اس حکم کی تعمیل میں  لگ جاتا ہے۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم اپنی وفات سے پہلے سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْ بُ اِلَیْکَ (بعض روایات میں  الفاظ یہ ہیں  سُبْحَانَ اللہِ وَبَحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُاللہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ ) کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔  میں  عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیسے کلمات ہیں  جو آپؐ نے اب پڑھنے شروع کر دیے ہیں ؟ فرمایا میرے لیے ایک علامت مقرر کر دی گئی ہے کہ جب میں  اُسے دیکھوں  تو یہ الفاظ کہا کروں  اور وہ ہے اَذَا جَآءَ نَصْرُ اللہِ وَالْفَتَحُ (مُسند احمد، مسلم،  ابن جریر، ابن المنذر، ابن مردویہ)۔ اسی سے ملتی جُلتی بعض روایات میں  حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ آپؐ  اپنے رکوع و سجود میں  بکثرت یہ الفاظ کہتے تھے سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ۔ یہ قرآن (یعنی سورۂ نصر) کی تاویل تھی جو آپؐ نے فرمائی تھی (بخاری، مسلم، ابو داؤد، نَسائی، ابن ماجہ، ابن جریر)۔

حضرت اُمِّ سَلَمہؓ فرمانی ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی زبانِ مبار ک پر آپؐ کے آخری زمانۂ حیات میں  اُٹھتے بیٹھتے اور جاتے آتے یہ الفاظ جاری  رہتے : سُبْحَانَ اللہِ وَبَحَمْدِہٖ میں  نے ایک روز پوچھا کہ یا رسول اللہ آپؐ کثرت سے یہ ذکر کیوں  کرتے رہتے ہیں  ؟ فرمایا مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے پھر آپؐ نے یہ سورۃ پڑھی(ابن جریر)۔

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کثرت سے یہ ذکر فرماتے رہتے : سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ، سُبْحَا نَکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ،  اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُوْرُ۔ (ابن جریر،  مُسند احمد، ابن ابی حاتم)۔

ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ اس سورت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم آخرت کے لیے محنت و ریاضت کرنے میں  اِس قدر شدّت  کے ساتھ مشغول ہو گئے  جتنے اس سے پہلے کبھی نہ ہوئے تھے (نَسائی، طَبَرانی، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ)۔۱؎ مختلف روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس کے بعد بعض آیات نازل ہوئی ہیں۔  لیکن اس امر میں  اختلاف ہے کہ قرآن  کی وہ آیت کون سی ہے،  جو حضورؐ پر سب سے آخر میں  نازل ہوئی۔ بخاری و مسلم میں  حضرت براءؓ بن عازِب کی روایت یہ ہے کہ وہ سورۂ نساء کی آخری آیت یَسْتَفْتُوْنَکَ،  قُلِ اللہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلٰلَۃِ ہے۔  امام بخاری نے ابن عباسؓ کا قول نقل کیا ہے کہ آیت ربوٰ یعنی جس آیت میں  سود کی حرمت کا حکم دیا گیا ہے،  قرآن کی سب سے آخری آیت ہے،  بلکہ حضرت عمرؓ کا قول یہ ہے کہ یہ سب سے آخر میں  نازل ہونے والی آیات میں  سے ہے۔  ابو عبید نے فضائل القرآن میں  امام زُہری کا، اور ابن جریر نے اپنی تفسیر میں  حضرت سعید بن المُسیَّب کا قول نقل کیا ہے کہ آیتِ ربوٰ اور آیتِ دَین (یعنی سورۂ بقرہ رکوع ۳۹، ۳۸) قرآن میں  نازل ہونے والی آخری آیات ہیں۔  نَسائی، ابن مردویہ اور ابن جریر نے حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس کا ایک دوسرا قول نقل کیا ہے کہ وَاتَّقُوْا یَوْماً تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ (البقرہ، ۲۸۱) قرآن کی آخری آیت ہے۔  الفِرْیابی نے اپنی تفسیر میں  ابن عباس کا جو قول نقل کیا ہے،  اس میں  یہ اضافہ ہے کہ یہ آیت حضورؐ کی وفات سے ۸۱ دن پہلے نازل ہوئی تھی  اور  سعید بن جبیر کا قول جو ابن ابی حاتم  نے نقل کیا ہے،  اس میں  اس آیت کے نزول اور حضورؐ کی وفات کے درمیان صرف ۹ دن کا فصل بیان کیا گیا ہے۔  امام احمد کی مُسند اور امام حاکم کی المستدرک میں  حضرت اُبی بن کعب کی روایت یہ ہے کہ سورۂ توبہ کی آیات ۱۲۸، ۱۲۹ سب سے آخر میں  نازل ہوئی ہیں۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

جب اللہ کی مدد آ جائے اور فتح نصیب ہو جائے ۱ اور (اے نبیؐ) تم دیکھ لو کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں  داخل ہو رہے ہیں  ۲ تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو، ۳ اور اُس سے مغفرت کی دُعا مانگو، ۴ بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔  ؏۱

 

تفسیر

 

۱: فتح سے مراد کسی ایک معرکے میں  فتح نہیں،  بلکہ وہ فیصلہ کن فتح ہے جس کے بعد ملک میں  کوئی طاقت اسلام سے ٹکّر لینے کے قابل باقی نہ رہے اور یہ امر واضح ہو جائے کہ اب عرب میں  اِسی دین کو غالب ہو کر رہنا ہے۔  بعض مفسّرین نے اس سے مراد فتحِ مکّہ لی ہے۔  لیکن فتح مکّہ سن ۸ ہجری میں  ہوئی ہے اور اِس سورہ کا نزول سن ۱۰ ہجری  کے آخر میں  ہوا ہے جیسا کہ حضرت عبد اللہؓ بن عمر اور  حضرت سَرّاء ؓ بنت نَبْہان کی اُن روایات  سے معلوم ہوتا ہے جو ہم نے دیباچے میں  نقل کی ہیں ۔  علاوہ بریں ،  حضرت عبد اللہ  بن عباسؓ کا یہ قول بھی اِس تفسیر کے خلاف پڑتا ہے کہ یہ قرآن مجید کی سب سے آخری سورۃ ہے۔  کیونکہ اگر فتح سے مراد فتح مکّہ ہو تو پوری سورۂ توبہ اس کے بعد نازل ہوئی تھی، پھر یہ سورۃ آخری سورۃ  کیسے ہو سکتی ہے۔  بلا شبہ فتح مکّہ اس لحاظ سے فیصلہ کن تھی کہ اس نے مشرکین عرب کی ہمّتیں  پست کر دی تھیں ،  مگر اُس کے بعد بھی اُن میں  کافی دَم خَم باقی تھا۔ طائف اور حُنَین کے معرکے اس کے بعد ہی پیش آئے اور عرب پر اسلام کا غلبہ مکمّل ہونے میں  تقریباً دو سال صرف ہوئے۔

۲: یعنی وہ زمانہ رُخصت ہو جائے جب ایک ایک دو دو کر کے لوگ اسلام میں  داخل ہوتے تھے اور وہ وقت آ جائے جب پورے پورے قبیلے،  اور بڑے بڑے علاقوں  کے باشندے کسی جنگ اور کسی مزاحمت کے بغیر از خود مسلمان ہونے لگیں۔   یہ کیفیت سن ۹ ہجری کے آغاز سے رونما ہونی شروع ہوئی جس کی وجہ سے اُس سال کو سالِ وُفود کہا جاتا ہے۔  عرب کے گوشے گوشے سے وفد پر وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی خدمت میں  حاضر ہونے لگے اور اسلام قبول کر کے آپ کے دست مبارک پر بیعت کرنے لگے۔  یہاں  تک کہ سن ۱۰ ہجری میں  جب حضورؐ حَجۃ الوداع کے لیے تشریف لے گئے اُس وقت پورا عرب اسلام کے زیرِ نگیں  ہو چکا تھا اور ملک میں  کوئی مشرک باقی نہ رہا تھا۔

۳: حمد سے مراد اللہ تعالیٰ کی تعریف و ثنا کرنا بھی ہے اور اُس کا شکر  ادا کرنا بھی۔ اور تسبیح سے مراد اللہ تعالیٰ کو ہر لحاظ سے پاک اور مُنَزَّہ قرار دینا ہے۔  اس موقع پر یہ ارشاد کہ اپنے ربّ کی قدرت کا یہ کرشمہ جب تم دیکھ لو تو اُس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو،  اِس میں  حمد کا مطلب یہ ہے کہ اِس عظیم کامیابی کے متعلق تمہارے دل میں  کبھی اِس خیال کا کوئی شائبہ تک نہ آئے کہ یہ تمہارے اپنے کمال کا نتیجہ ہے،  بلکہ اِس کو سراسر اللہ کا فضل و کرم سمجھو، اِس پر اُس کا شکر ادا کرو،  اور قلب و زبان سے اِس امر کا اعتراف کرو کہ اس کامیابی کی ساری تعریف اللہ ہی کو پہنیتس ہے۔  اور تسبیح کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو اس سے پاک اور مُنَزَّہ قرار دو کہ اُس کے کلمے کا بلند ہونا تمہاری کسی سعی و کوشش کا محتاج یا اُس پر  منحصر تھا۔ اِس کے بر عکس  تمہارا دل اس یقین سے لبریز رہے کہ تمہاری سعی و کوشش کی کامیابی  اللہ کی تائید و نصرف پر منحصر تھی، وہ اپنے جس بندے سے چاہتا اپنا کام لے سکتا تھا اور یہ اُس کا احسان ہے کہ اُس نے یہ خدمت تم سے لی اور تمہارے ہاتھوں  اپنے دین کا بول بالا کرایا۔ اِس کے علاوہ  تسبیح، یعنی سبحان اللہ کہنے میں  ایک پہلو تعجب کا بھی ہے۔  جب کوئی مُحِیّر العقول واقعہ پیش آتا ہے تو آدمی سبحان اللہ کہتا ہے،  اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ ہی کی قدرت سے ایسا حیرت انگیز واقعہ رونما ہوا ہے ورنہ دنیا کی کسی طاقت کے بس میں  نہ تھا کہ ایسا کرشمہ اُس سے صادر ہو سکتا۔

۴: یعنی اپنے رب سے دعا مانگو کہ جو خدمت اُس نے تمہارے سپرد کی تھی اُس کو انجام دینے میں  تم سے جو بھول چوک یا کوتاہی بھی ہوئی ہو اُس سے چشم پوشی اور درگزر فرمائے۔  یہ ہے  وہ ادب جو اسلام میں  بندے کو سکھایا گیا ہے۔  کسی انسان سے اللہ کے دین کی خواہ کیسی ہی بڑی سے بڑی خدمت انجام پائی ہو،  اُس کی راہ میں  خواہ کتنی ہی قربانیاں  اُس نے دی ہوں  اور اس کی عبادت و بندگی بجا لانے میں  خواہ کتنی ہی جانفشانیاں  اس نے کی ہوں،  اُس کے دل میں  کبھی یہ خیال تک نہ آنا چاہیے کہ میرے اوپر میرے ربّ کا جو حق تھا وہ میں  پورا کا پورا ادا کر دیا ہے،  بلکہ اسے ہمیشہ یہی سمجھنا چاہیے کہ جو کچھ مجھے کرنا چاہیے تھا وہ  میں  نہیں  کر سکا،  اور اسے اللہ سے یہی دعا مانگنی چاہیے کہ اُس کا حق ادا کرنے میں  جو کوتاہی  بھی مجھ سے ہوئی ہو اس سے درگزر فرما کر میری حقیر سی خدمت قبول  فرما لے۔  یہ ادب جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو سکھا  یا گیا جن سے بڑھ کر خدا کی راہ میں  سعی و جہد کرنے والے کسی انسان کا تصور تک نہیں  کیا جا سکتا،  تو دوسرے کسی کا یہ مقام کہاں  ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے عمل کو کوئی بڑا عمل سمجھے اور اِس غَرّے میں  مبتلا ہو کہ اللہ کا جو حق اُس پر تھا وہ اُس نے ادا کر دیا ہے۔  اللہ کا حق اِس سے بہت بالا  و برتر ہے  کہ کوئی مخلوق اُسے ادا کر سکے۔  اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان مسلمانوں  کو ہمیشہ کے لیے یہ سبق دیتا ہے کہ اپنی کسی عبادت و ریاضت اور کسی خدمتِ  دین کو بڑی چیز نہ سمجھیں،  بلکہ اپنی جان راہِ خدا میں  کھپا دینے کے بعد بھی یہی سمجھتے رہیں  کہ  ’’ حق تو  یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا‘‘۔ اسی طرح جب کبھی انہیں  کوئی فتح نصیب ہو،  اُسے اپنے کسی کمال کا نہیں   بلکہ اللہ کے فضل ہی کا نتیجہ سمجھیں  اور اس پر فخر و غرور میں  مبتلا ہونے کے بجائے اپنے ربّ کے سامنے عاجزی کے ساتھ سر جھکا کر حمد و تسبیح اور توبہ و استغفار  کریں۔

٭٭٭

 

 

 

 

۱۱۱۔سورۃ اللھب

 

 

نام

 

پہلی آیت کے لفظ لَھَب کو اس سُورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

اِس کے مکّی ہونے میں  تو مفسرین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں  ہے،  لیکن ٹھیک ٹھیک یہ متعیّن کرنا مشکل ہے کہ مکّی دور کے کس زمانے میں  یہ نازل ہوئی تھی۔ البتّہ ابو لہب کا جو کردار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم اور آپ کی دعوتِ حق کے خلاف تھا اُس کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اِس سورہ کا نزول اُس زمانے میں  ہوا ہو گا جب وہ حضورؐ کی عداوت میں  حد سے گزر گیا تھا اور اُس کا رویّہ اسلام کی راہ میں  ایک بڑی رکاوٹ بن رہا تھا۔ بعید نہیں  کہ اِس کا نزول اُس زمانے میں  ہوا ہو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم اور آپؐ کے خاندان والوں  کا مقاطعہ کر کے قریش کے لوگوں  نے اُن کو شعبِ ابی طالب میں  محصور کر دیا تھا اور تنہا ابو لہب ہی ایسا شخص تھا جس نے اپنے خاندان والوں  کو چھوڑ کر دشمنوں  کا ساتھ دیا تھا۔ ہمارے اِس قیاس کی بنا یہ ہے کہ ابو لہب حضورؐ کا چچا تھا، اور بھتیجے کی زبان سے چچا کی کھلّم کھلا مَذَمَّت کرانا اُس وقت تک مناسب نہ ہو سکتا تھا جب تک چچا کی حد سے گزری ہوئی زیادتیاں  عَلانیہ سب کے سامنے نہ آ گئی ہوں۔  اِس سے پہلے اگر ابتداء ہی میں  یہ سورۃ نازل کر دی گئی  ہوتی تو لوگ اس کو اخلاقی حیثیت سے معیوب سمجھتے کہ بھتیجا  اپنے چچا کی اِس طرح مذمّت کرے۔

 

پَسْ منظر

 

قرآن مجید میں  یہ ایک ہی مقام ہے جہاں  دشمنانِ اسلام میں  سے کسی شخص کا نام لے کر اُس کی مَذَمَّت کی گئی ہے،  حالانکہ مکّے میں  بھی، اور ہجرت کے بعد مدینہ میں  بھی بہت سے لوگ ایسے تھے جو اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم  کی عداوت میں  ابو لہب سے کسی طرح کم نہ تھے۔  سوال یہ ہے کہ اِس شخص کی وہ کیا خصوصیت تھی جس کی بنا پر اس کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی ؟ اِس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اُس وقت کے عربی معاشرے کو سمجھا جائے،  اور اُس میں  ابو لہب کے کردار کو دیکھا جائے۔

قدیم زمانے میں  چونکہ پورے ملکِ عرب میں  ہر طرف بد امنی،  غارت گری اور طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی،  اور صدیوں  سے حالت یہ تھی کہ کسی شخص کے لیے اُس کے خاندان اور خونی رشتہ داروں  کی حمایت کے سوا جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہ تھی، اس لیے عربی معاشرے  کی اخلاقی قدروں  میں  صلۂ رحمی (یعنی رشتہ داروں  کے ساتھ حسنِ سلوک ) کو بڑی اہمیت حاصل تھی، اور قطعِ رحمی کو بہت بڑا پاپ سمجھا جاتا تھا۔ عرب کی اِنہی روایات کا یہ اثر تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب اسلام کی دعوت لے کر اُٹھے تو قریش کے دوسرے خاندانوں  اور ان کے سرداروں  نے تو حضورؐ کی شدید مخالفت کی، مگر بنی ہاشم اور بنی المُطَّلِب (ہاشم کے بھائی مُطّلِب کی اولاد) نے نہ صرف یہ کہ آپؐ کی مخالفت نہیں  کی، بلہ وہ کھُلّم کھلا آپؐ کی حمایت کرتے رہے،  حالانکہ ان میں  سے اکثر لوگ آپؐ کی نبوّت پر ایمان نہیں   لائے تھے۔  قریش کے دوسرے خاندان خود بھی حضورؐ کے اِن خونی رشتہ داروں  کی حمایت کو عرب کی اخلاقی روایات کے عین مطابق سمجھتے تھے،  اسی وجہ سے انہوں  نے کبھی بنی ہاشم اور بنی المُطَّلِب کو یہ طعنہ نہیں  دیا کہ تم ایک دوسرا  دین پیش کرنے والے شخص کی حمایت کر  کے اپنے دینِ آبائی سے منحرف ہو گئے ہو۔ وہ اِس بات کو جانتے اور مانتے تھے کہ اپنے خاندان کے ایک فرد کو وہ کسی حالت میں  اُس کے دشمنوں  کے حوالے نہیں  کر سکتے،  اور اُن کا اپنے عزیز کی پشتیبانی کرنا قریش اور اہلِ عرب سب کے نزدیک بالکل ایک فطری امر تھا۔

اِس اخلاقی اصول کو،  جسے زمانۂ جاہلیت میں  بھی عرب کے لوگ واجب الاحترام سمجھتے تھے،  صرف ایک شخص نے اسلام کی دشمنی میں  توڑ ڈالا،  اور وہ تھا ابو لہب بن عبد المطّلِب۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کا چچا تھا۔ حضورؐ کے والد ماجد اور یہ ایک ہی باپ کے بیٹے  تھے۔  عرب میں  چچا کو باپ کی جگہ سمجھا جاتا تھا، خصوصاً جبکہ بھتیجے،  کا باپ وفات پا چکا ہو تو عربی معاشرے میں  چچا سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ بھتیجے کو اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھے گا۔ لیکن اِس شخص نے اسلام کی دشمنی  اور کفر کی محبت میں  اِن تمام عربی روایات کو پامال کر دیا۔

ابن عباسؓ سے متعدد  سندوں  کے ساتھ یہ روایت محدثین نے نقل کی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو دعوتِ عام پیش کرنے کا حکم دیا گیا اور قرآن مجید میں  یہ ہدایت نازل ہوئی کہ آپ اپنے قریب ترین عزیزوں  کو سب سے پہلے خدا کے عذاب سے ڈرائیں  تو آپ نے صبح سویرے کوہ صفا پر چڑھ کر بلند آواز سے پکارا، یا صبا حاہ (ہائے صبح کی آفت)۔ عرب میں  یہ صدا  وہ شخص لگاتا تھا جو صبح کے جھُٹ پُٹے میں  کسی دشمن کو اپنے قبیلے پر حملہ کرنے کے لیے آتے دیکھ لیتا تھا۔ حضورؐ کی یہ آواز سُن کر لوگوں  نے دریافت کیا کہ یہ کون پکار رہا ہے۔  بتایا گیا یہ محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم) کی آواز ہے۔  اس پر قریش کے تمام خاندانوں  کے لوگ آپؐ کی طرف دوڑ پڑے۔  جو خود آ سکتا تھا وہ خود آیا، اور جو نہ آ سکتا تھا اُس نے اپنی طرف سے کسی کو  بھیج دیا۔ جب سب جمع ہو گئے تو آپؐ نے قریش کے ایک ایک خاندان کا نام لے لے کر پکارا، اے بنی ہاشم، اے بنی عبد المطلب، اے بنی فِہر، اے بنی فلاں،  اے بنی فلاں،  اگر میں  تمہیں  یہ بتاؤں  کہ پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر تم پر حملہ کرنے  کے لیے تیار ہے تو تم میری بات سچ مانو گے ؟ لوگوں  نے کہا ہاں،  ہمیں  کبھی تم سے جھوٹ سننے کا تجربہ نہیں  ہوا ہے۔  آپؐ نے فرمایا تو میں  تمہیں  خبردار کرتا ہوں  کہ آگے سخت عذاب آ رہا ہے۔  اس پر قبل اِس کے کہ کوئی اور بولتا،  حضورؐ کے اپنے چچا ابو لہب نے کہا تَبّاً لَکَ اَلھِٰذَا جَمَعْتَنَا ؟’’ستیاناس جائے تیرا،  کیا اس لیے تُو نے ہمیں  جمع کیا تھا؟‘‘ ایک روایت  میں  یہ بھی ہے کہ اس نے پتھر اٹھایا تا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم پر کھینچ  مارے (مُسند احمد، بخاری،  مسلم، ترمذی، ابن جریر وغیرہ)۔

اِبن زَید کی روایت ہے کہ ابو لہب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے ایک  روز پوچھا اگر میں  تمہارے دین کو مان لوں  تو مجھے کیا ملے گا؟ آپؐ نے فرمایا جو اور سب ایمان لانے والوں  کو ملے گا۔ اس نے کہا میرے لیے کوئی فضیلت نہیں  ہے ؟ حضورؐ نے فرمایا اور آپ کیا چاہتے ہی؟ اس پر وہ بولا تَبّاً لھِٰذَا الدِّیْنِ تَبّاً اَنْ اَکُوْنَ وَھٰٓئُو لَا ءِ سَوَآءً۔  ’’ناس جائے اِس دین کا جس میں  میں  اور یہ دوسرے لوگ برابر ہوں ‘‘ (ابن جریر)۔

مکّہ میں  ابو لہب حضورؐ کا قریب ترین ہمسایہ تھا۔ دونوں  کے گھر ایک دیوار  بیچ واقع تھے۔  اُس کے علاوہ حَکَم بن عاص (مروان کا باپ) عُقْبہ بن ابی مُعَیط، عَدِی بن حَمْر اء اور ابن الاَصْداءِ الہُذَلِی بھی آپ کے ہمسائے تھے۔  یہ لوگ گھر میں  بھی حضورؐ کو چین نہیں  لینے دیتے تھے۔  آپ  کبھی نماز پڑھ رہے ہوتے تو یہ اوپر سے بکری کا اوجھ آپؐ پر پھینک دیتے۔  کبھی صحن میں  کھانا پک رہا ہوتا تو یہ ہنڈیا پر غلاظت پھینک دیتے۔  حضورؐ باہر نکل کر ان لوگوں  سے فرماتے ’’اے بنی عبد مَناف،  یہ کیسی ہمسایگی ہے ؟‘‘۔ ابو لہب کی بیوی امِّ جملپ (ابو سفیان کی بہن) نے تو یہ مستقل وتیرہ ہی اختیار کر رکھا تھا کہ راتوں  کو آپؐ کے گھر کے دروازے پر خاردار جھاڑیاں  لا کر ڈال دیتی،  تاکہ صبح سویرے جب آپؐ یا آپؐ کے بچے باہر نکلیں  تو کوئی کانٹا پاؤں  میں  چُبھ جائے (بَیْہَقِی، ابن ابی حاتم، ابن جریر، ابن عَساکِر، ابن ہِشام)۔

نبوت سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی دو صاحبزادیاں  ابو لہب کے دو بیٹوں  عُتْبَہ اور  عُتَیبہ سے بیاہی ہوئی تھیں۔  نبوت کے بعد جب حضورؐ نے اسلام کی طرف دعوت دینی شروع کی تو اِس شخص نے اپنے دونوں  بیٹوں  سے کہا کہ میرے لیے تم سے ملنا حرام ہے اگر تم محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم) کی بیٹیوں  کو طلاق نہ دے دو۔  چنانچہ دونوں  نے طلاق دے دی۔ اور عُتَیبہ تو جہالت میں  اس قدر آگے بڑھ گیا کہ ایک روز حضورؐ کے سامنے آ کر اس نے کہا کہ میں  النَّجْمِ اذَا ھَویٰ اور اَلَّذِیْ دَنَا فَتَدَلّیٰ کا انکار کرتا ہوں،  اور یہ کہہ کر اس نے حضورؐ کی طرف تھوکا جو آپؐ پر نہیں  پڑا۔ حضورؐ نے فرمایا خدایا، اِس پر اپنے کتّوں  میں  ست ایک کتّے کو مسلّط کر دے۔  اِس کے بعد عتیبہ اپنے باپ کے ساتھ  شام کے سفر پر روانہ ہو گیا۔ دَورانِ سفر میں  ایک  ایسی جگہ قافلے نے پڑاؤ کیا جہاں  مقامی لوگوں  نے بتایا کہ راتوں  کو درندے آتے ہیں۔  ابو لہب نے اپنے ساتھی اہلِ قریش سے کہا کہ میرے بیٹے کی حفاظت کا کچھ انتظام کر و، کیونکہ مجھے محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) کی بددعا  کا خو ف ہے۔  اس پر قافلے والوں  نے عُتَیبہ کے گرد ہر طرف اپنے اُونٹ بٹھا دیے اور پڑ کر سو رہے۔  رات کو ایک شیر آیا اور اونٹوں  کے حلقے میں  سے گزر کر اُس نے عتیبہ کو پھاڑ کھایا۔ (الاستِعیاب لابن عبد الَبّر، الاِ صا بہ بن حَجْر، دلائل النبوۃ لا بی نعیم الاصفہانی، روض الانف للسُّہَیلی۔ روایات میں  یہ اختلاف ہے کہ بعض راوی طلاق کے معاملے  کو اعلانِ نبوّت کے بعد کا واقعہ بیان کرتے ہیں  اور بعض کہتے ہیں  کہ یہ تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبٍ کے نزول کے بعد پیش آیا تھا۔ اس امر میں  بھی اختلاف ہے کہ یہ ابو لہب کا لڑکا عُتْبہ تھا یا عُتَیبہ۔  لیکن یہ  بات ثابت ہے کہ فتح مکّہ کے بعد عُتبَہ نے اسلام قبول کر کے حضورؐ کے دست مبارک پر بیعت کی۔ اس لیے صحیح بات یہی ہے کہ یہ لڑکا عُتَیبہ تھا)۔

اُس کے خبثِ نفس کا یہ حال تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے صاحبزادے حضرت قاسم کے بعد دوسرے صاحبزادے حضرت عبد اللہ کا بھی انتقال ہو گیا تو یہ اپنے بھتیجے کے غم میں  شریک ہونے کے بجائے خوشی خوشی دوڑا ہوا قریش کے سرداروں  کے پاس پہنچا اور اُن کو خبر دی کہ لو آج محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) بے نام و نشان ہو گئے۔  اُس کی اِس حرکت کا ذکر ہم سورۂ کوثر کی تفسیر میں  کر چکے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم جہاں  جہاں  بھی اسلام کی دعوت دینے کے لیے تشریف لے  جاتے،  یہ آپؐ  کے پیچھے پیچھے جاتا اور لوگوں  کو آپؐ کی بات سننے سے روکتا۔ رَبِیعہؓ بن عَبّاد الدِّیْلیِ بیان کرتے ہیں  کہ میں  نو عمر تھا  جب اپنے باپ کے ساتھ ذوالمجاز کے بازار میں  گیا۔ وہاں  میں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو دیکھا آپؐ کہہ رہے تھے،   ’’ لوگو،کہو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں  ہے،  فلاح پاؤ گے۔ ‘‘ اور آپؐ کے پیچھے پیچھے ایک شخص کہتا جا رہا تھا کہ ’’یہ جھوٹا ہے،  دین آبائی سے پھر گیا ہے۔ ‘‘ میں  نے پوچھا یہ کون شخص ہے ؟ لوگوں  نے کہا یہ ان کا چچا ابو لہب ہے (مُسند احمد، بَیْہَقِی)۔ دوسری روایت انہی حضرت ربیعہؓ سے یہ ہے کہ میں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو دیکھا کہ آپؐ ایک ایک قبیلے کے پڑاؤ پر جاتے ہیں  اور فرماتے ہیں  ’’ اے بنی فلاں،  میں  تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔  تمہیں  ہدایت کرتا ہوں  کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ تم میری تصدیق کرو اور میرا ساتھ دو تا کہ میں  وہ کام پورا کروں  جس کے لیے اللہ نے مجھے بھیجا ہے۔ ‘‘ آپؐ کے پیچھے پیچھے ایک اور شخص آتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ ’’اے بنی فلاں،  یہ تم کو لات اور عُزّیٰ سے پھیر کر اُس بدعت اور گمراہی  کی طرف لے جانا چاہتا ہے  جسے یہ لے کر آیا ہے۔  اس کی بات پرگز نہ مانو اور اس کی پیروی نہ کرو۔‘‘ میں  نے اپنے باپ سے  پوچھا یہ کون ہے۔  انہوں  نے کہا  یہ ان کا چچا ابو لہب ہے (مُسند احمد، طَبَرانی)۔ طارقؓ بن عبد اللہ المُحارِبی کی روایت بھی اسی سے ملتی جلتی ہے۔  وہ کہتے ہیں  میں  نے ذوالمجاز کے بازار میں  دیکھا کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم لوگوں  سے کہتے جاتے  ہیں  کہ  ’’لوگو، لا الٰہ الا اللہ کہو، فلاح پاؤ گے۔ ‘‘ اور پیچھے ایک شخص ہے جو آپؐ کو پتھر مار رہا ہے،  یہاں  تک کہ آپؐ کی ایڑیاں  خون سے تر ہو گئی ہیں،  اور وہ کہتا جاتا ہے کہ ’’ یہ جھوٹا ہے،  اس کی بات نہ مانو۔‘‘ میں  نے لوگوں  سے پوچھا یہ کون ہے ؟ لوگوں  نے کہا یہ ان کا چچا ابولہب ہے (ترمذی)۔

نبوت کے ساتویں  سال جب قریش کے تمام خاندانوں  نے بنی ہاشم اور بنی مطّلب کا معاشرتی اور معاشی مقاطعہ کیا اور یہ دونوں  خاندان رسول اللہ صلی اللہ علیہ  و سلم کی حمایت پر ثابت قدم رہتے ہوئے شِعْبِ ابی طالب میں  محصور ہو گئے تو تنہا  یہی ابولہب تھا جس نے اپنے خاندان کا ساتھ دینے کے بجائے کفّارِ قریش کا ساتھ دیا۔ یہ مقاطعہ تین سال تک جاری رہا اور اس دوران میں  بنی ہاشم اور بنی المُطَّلِب پر فاقوں  کی نوبت آ گئی۔ مگر ابو لہب کا حال یہ تھا کہ جب مکّہ میں  کوئی تجارتی قافلہ آتا اور شِعبِ ابی طالب کے محصورین میں  سے کوئی خوراک کا سامان خریدنے کے لیے اس کے پاس جاتا تو یہ تاجروں  سے پکار کر کہتا کہ اِن  سے اتنی قیمت مانگو کہ یہ خرید نہ سکیں ،  تمہیں  جو خسارہ بھی ہو گا اسے میں  پورا کروں  گا۔ چنانچہ وہ بے تحاشا قیمت طلب کرتے اور خریدار بیچارہ اپنے بھوک سے تڑپتے ہوئے بال بچوں  کے پاس خالی ہاتھ پلٹ جاتا۔ پھر ابولہب اُنہی تاجروں  سے وہی چیزیں  بازار کے بھاؤ خرید لیتا(ابن سعد و ابن ہِشام)۔

یہ اس شخص کی حرکات تھیں  جن کی بنا پر اس سورۃ میں  نام لے کر اس کی مذمت کی گئی۔ خاص طور پر اس کی ضرورت اس لیے تھی کہ مکّہ سے باہر کے اہلِ عرب جو حج کے لیے آتے،  یا مختلف مقامات پر لگنے والے بازاروں  میں  جمع ہوتے،  اُن کے سامنے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کا اپنا چچا آپؐ کے پیچھے لگ کر آپؐ کی مخالفت کرتا، تو وہ عرب کی معروف روایات کے لحاظ سے یہ بات خلافِ توقع سمجھتے تھے کہ کوئی چچا بلا وجہ دوسروں  کے سامنے خود اپنے بھتیجے کو برا بھلا کہے اور اُسے پتھر مارے اور اس پر الزام تراشیاں  کرے۔  اِس وجہ سے وہ ابو لہب کی بات سے متاثر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے بارے میں  شک میں  پڑ جاتے۔  مگر جب یہ سورۃ نازل ہوئی اور ابو لہب نے غصّے میں  بپھر کر اَول فَول بکنا شروع کر دیا تو لوگوں  کو معلوم ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی مخالفت میں  اِس شخص کا قول قابلِ اعتبار نہیں  ہے،  کیونکہ  یہ اپنے بھتیجے کی دشمنی میں  دیوانہ ہو رہا ہے۔

اِس کے علاوہ نام لے کر جب آپؐ کے چچا کی مذمت کی گئی تو لوگوں  کی یہ توقع ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم دین کے معاملہ میں  کسی کا لحاظ کر کے کوئی مداہنت برت سکتے ہیں۔  جب علی الاعلان رسول  کے  اپنے چچا کی خبر لے ڈالی گئی تو لوگ سمجھ گئے کہ یہاں  کسی لاگ لپیٹ کی گنجائش نہیں  ہے۔  غیر اپنا ہو سکتا ہے اگر ایمان لے آئے،  اور اپنا غیر ہو جاتا ہے اگر کفر کرے۔  اِس معاملہ میں  فلاں  ابنِ فلاں  کوئی چیز نہیں  ہے۔

 

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

ٹوٹ گئے ابو لہب کے ہاتھ اور نامراد ہو گیا وہ۔ ۱ اُس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اُس کے کسی کام نہ آیا۔ ۲ ضرور وہ شُعلہ زن آگ میں  ڈالا جائے گا اور (اُس کے ساتھ) اُس کی جورُو بھی، ۳ لگائی بُجھائی کرنے والی، ۴ اُس کی گردن میں  مونجھ کی رسّی ہو گی۔ ۵  ؏۱

 

تفسیر

 

۱: اس شخص کا اصل نام عبد العُزّیٰ تھا،  اور اسے ابو لہب  اس لیے کہا جاتا تھا کہ اس کا رنگ بہت چمکتا ہوا سرخ و سفید تھا۔ لہب آگ کے شُعلے کو کہتے ہیں   اور ابو لہب کے معنی ہیں  شُعلہ رو۔ یہاں  اُس کا ذِکر اُس کے نام کے بجائے اُس کی کُنّیت سے کرنے کے کئی وجوہ ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ زیادہ تر اپنے نام سے نہیں  بلکہ اپنی کنیت  ہی سے معروف تھا۔ دوسرے یہ کہ اس کا نام عبد العُزّیٰ (بندۂ عُزّیٰ) ایک مشرکانہ نام تھا اور قرآن میں  یہ پسند نہیں  کیا گیا  کہ اُسے اِس نام سے یاد کیا جائے۔  تیسرے یہ کہ اُس کا جو انجام اِس سورہ میں  بان کیا گیا ہے اُس کے ساتھ اُس کی یہ کنیت ہی زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔  تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبْ کے معنی بعض مفسرین نے  ’’ٹوٹ جائیں  ابولہب کے ہاتھ‘‘ بیان کیے ہیں  اور وَتَبَّ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ  ’’وہ ہلاک ہو جائے ‘‘ یا  ’’وہ ہلاک ہو گیا‘‘۔ لیکن درحقیقت یہ کوئی کوسنا نہیں  ہے جو اُس کو دیا گیا ہو، بلکہ ایک پیشینگوئی ہے جس میں  آئندہ پیش آنے والی بات کو ماضی کے صیغوں  میں  بیان کیا گیا ہے،  گویا اُس کا ہونا ایسا یقینی ہے جیسے  وہ ہو چکی۔  اور فی الواقع آخر کار وہی کچھ ہوا جو اِس سورہ میں  چند سال پہلے بیان کیا جا چکا تھا۔ ہاتھ ٹوٹنے سے مراد ظاہر ہے کہ جسمانی ہاتھ ٹوٹنا نہیں  ہے،  بلکہ کسی شخص  کا اپنے اُس مقصد میں  قطعی ناکام ہو جانا ہے جس کے لیے اس نے اپنا پورا زور لگا دیا ہو۔ اور ابو لہب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی دعوت کو زک دینے کے لیے واقعی اپنا پورا زور لگا  دیا تھا۔ لیکن اِس سورہ کے نزول  پر سات آٹھ سال  ہی گزرے تھے کہ جنگ بدر میں  قریش کے اکثر و بیشتر وہ بڑے بڑے سردار مارے گئے  جو اسلام کی دشمنی میں  ابو لہب کے ساتھی تھے۔  مکّہ میں  جب اِس شکست کی خبر پہنچی تو اُس کو اتنا  رنج ہوا کہ وہ سات دن سے زیادہ زندہ نہ رہ سکا۔ پھر اس کی موت بھی نہایت عبرتناک تھی۔ اُسے عَدَسَہ (Malignant Pustule)   کی بیماری  ہو گئی جس کی وجہ سے  اُس کے گھر والوں  نے اُسے چھوڑ دیا، کیونکہ انہیں  چھُوت لگنے کا ڈر تھا۔ مرنے کے بعد بھی تین روز تک کوئی اس کے پاس نہ آیا یہاں  تک کہ اس کی لاش سڑ گئی اور اس کی بو پھیلنے لگی۔ آخر کار  جب لوگوں  نے اس کے بیٹوں ً کو طعنے دینے شروع کیے تو ایک روایت یہ ہے کہ انہوں  نے کچھ حبشیوں  کو اجرت دے کر اس کی لاش اٹھوائی اور اُنہی مزدوروں  نے اس کو دفن کیا۔ اور دوسری روایت  یہ ہے کہ انہوں  نے ایک گڑھا کھدوایا اور لکڑیوں  سے اس کی لاش کو دھکیل کر اس میں  پھینکا اور اوپر سے مٹی پتھر ڈال کر اسے ڈھانک دیا۔ اُس کی مزید اور مکمّل شکست اِس طرح ہوئی کہ جس دین کی راہ  روکنے کے لیے اُس نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تھا، اسی دین کو اس کی اولاد نے قبول کیا۔ سب سے پہلے اس کی بیٹی درّہ ہجرت کر کے مکّہ سے مدینے پہنچیں  اور اسلام لائیں۔  پھر فتح مکّہ کے موقع پر اُس کے دونوں  بیٹے عُتْبہ اور مُعَتَّب حضر ت عباس ؓ کی وساطت سے حضور ؐ کے سامنے پیش ہوئے اور ایمان لا کر انہوں  نے آپ ؐ کے دست مبارک پر بیعت کی۔

۲: ابو لہب سخت بخیل اور زرپرست آدمی تھا۔ ابن اَیثر کا بیان ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں  ایک مرتبہ اُس پر یہ الزام بھی لگا یا گیا تھا کہ اس نے کعبہ کے خزانے میں  سے سونے کے دو ہرن چرا لیے ہیں۔  اگرچہ بعد میں  وہ ہرن ایک اور شخص کے پاس سے برآمد ہوئے،  لیکن بجائے خود یہ بات  کہ اُس پر یہ الزام لگایا گیا، یہ ظاہر کرتی ہے کہ مکّہ کے لوگ اُس کے بارے میں  کیا رائے رکھتے تھے۔  اُس کی مالداری کے متعقل قاضی رشید بن زبیر اپنی کتاب الذَّخائِر و التُّحَف میں  لکھتے ہیں  کہ وہ قریش کے اُس چار آدمیوں  میں  سے ایک تھا جو ایک قِنطار سونے کے مالک تھَ(قِنطار دو سو اَوقیہ کا اور ایک اَوقیہ سوا تین تولہ کا ہوتا ہے )۔ اُس کی زرپرستی کا اندازہ اِس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر،  جبکہ اُس کے مذہب کی قسمت کا فیصلہ ہونے والا تھا،  قریش کے تمام سردار لڑنے کے لیے گئے،  مگر اُس نے عاص بن ہِشام کو اپنی طرف سے لڑنے کے لیے بھیج دیا اور کہا کہ یہ اُس چار ہزار درہم قرض کا بدل ہے جو میرا تم پر آتا ہے۔  اِس طرح اُس نے اپنا قرض وصول کرنے کی بھی ایک ترکیب نکال لی، کیونکہ عاص دیوالیہ ہو چکا تھا اور اُس سے رقم ملنے کی کوئی امید نہ تھی۔ مَا کَسَبَ کو بعض مفسّرین نے کمائی کے معنی  میں  لیا ہے،  یعنی اپنے مال سے جو مَنافِع اُس نے حاصل کیے ہو اُس کا کسب تھے۔  اور بعض دوسرے مفسرین نے اس سے مراد  اولاد لی ہے،  کیونکہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے فرمایا ہے کہ آدمی کا بیٹا بھی اُس کا کسب ہے (ابو داؤد۔ ابن ابی حاتم)۔ یہ دونوں  معنی ابو لہب کے انجام سے  مناسبت رکھتے ہیں۔  کیونکہ جب وہ عَدَسَہ کے مرض میں  مبتلا ہوا تو اس کا مال بھی اس کے کسی کام نہ آیا اور اس کی اولاد  نے بھی اسے بے کسی کی موت مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ اُس کا جنازہ تک عزت  کے ساتھ اٹھانے کی اس اولاد کو توفیق نہ ہوئی۔ اِس طرح چند ہی سال کے اندر لوگوں  نے اس پیشینگوئی کو پورا ہوتے دیکھ لیا  جو ابو لہب کے متعلق اِس سورہ میں  کی گئی تھی۔

۳: اس عورت کا نام اَرْویٰ تھا اور اُمِّ جَمِیل اِس کی کنیت تھی۔ یہ ابو سُفیان کی بہت تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے ساتھ عداوت میں  اپنے شوہر ابو لہب سے کسی طرح کم نہ تھی۔ حضرت ابوبکر ؓ کی صاحبزادی حضرت اَسماءؓ کا بیان ہے کہ جب یہ سورت ناز  ل ہوئی اور امِّ جمیل نے اِس کو سنا تو وہ بِپھری ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تلا ش میں  نکلی۔ اُس کے ہاتھ میں  مُٹھی بھر پتھر تھے اور وہ حضورؐ کی ہجو میں  اپنے ہی کچھ اشعار پڑھتی جاتی تھی۔ حرم میں  پہنچی تو وہاں  حضرت ابو بکرؓ کے ساتھ حضورؐ تشریف فرما تھے۔  حضر ت ابو بکر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ،  یہ آ رہی ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کو دیکھ کر یہ کوئی بیہودگی کر گے گی۔ حضورؐ نے فرمایا یہ مجھ کو نہیں  دیکھ سکے گی۔  چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ کے موجود ہونے کے باوجود وہ آپ کو نہیں  دیکھ سکی اور اس نے حضرت ابو بکر ؓ سے کہا کہ میں  نے سنا ہے تمہارے صاحب نے میری ہجو کی ہے۔  حضرت ابو بکر ؓ نے کہا، اِس گھر کے ربّ کی قسم اُنہوں  نے تو تمہاری کوئی ہجو نہیں  کی۔ اس پر وہ واپس چلی گئی (ابن ابی حاتم۔ سیرۃ ابن ہشام۔ بَزّار نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے بھی اِسی سے ملتا جُلتا واقعہ نقل کیا ہے )۔ حضرت ابو بکر ؓ کے اِس جواب کا مطلب یہ تھا کہ ہجو ت اللہ تعالیٰ نے کی ہے،  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے نہیں  کی۔

۴: اصل الفاظ ہیں  حَمَّا لَۃَ الْحَطَبِ۔  جن کا لفظی ترجمہ  ہے ’’ لکڑیاں  ڈھونے والی‘‘۔ مفسّرین نے اس کے متعدد معنی بیان کیے ہیں۔  حضرت عبد اللہ بن عباسؓ،  ابن زیدؓ، ضَحّاک اور ربیع بن انس کہتے ہیں  کہ وہ راتوں  کو خاردار درختوں  کی ٹہنیاں  لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم  کے دروازے پر ڈال دیتی تھی،  اس لیے اس کو لکڑیاں  ڈھونے  والی کہا گیا ہے۔  قَتادہ،  عِکْرِ مَہ، حسن بصری، مجاہد اور سُفیان ثَوری کہتے ہیں  کہ وہ لوگوں  میں  فساد ڈلوانے کے لیے چُغلیاں  کھاتی پھرتی تھی، اس لیے اسے عربی محاورے  کے مطابق لکڑیاں  ڈھونے والی کہا گیا، کیونکہ عرب ایسے شخص کو جو اِدھر کی بات اُدھر لگا کر فساد کی آگ بھڑکانے کی کوشش کرتا ہو، لکڑیاں  ڈھونے والا کہتے ہیں۔  اِس محاورے کے لحاظ سے حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ کے معنی ٹھیک ٹھیک وہی ہیں  جو اردو میں  ’’بی جمالو‘‘ کے معنی ہیں۔  سعید بن جُبَیر کہتے ہیں  کہ جو شخص گناہوں  کا بوجھ اپنے اوپر لاد رہا ہو اُس کے متعلق  عربی زبان میں  بطور محاورہ کہا جاتا ہے فُلَانٌ یَّحْطَتِبُ عَلیٰ ظَھْرِ ہ۔ (فلاں  شخص اپنی پیٹھ پر لکڑیاں  لاد رہا ہے )۔ پس حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ کے معنی ہیں  گناہوں  کا بوجھ ڈھونے والی۔ ایک اور مطلب مفسّرین نے اس کا یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ آخرت میں  اُس کا حال ہو گا، یعنی وہ لکڑیاں  لا لا کر اُس آگ میں  ڈالے گی جس میں  ابو لہب جل رہا ہو گا۔۵: اُس کی گردن  کے  لیے جِید کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو عربی زبان میں  ایسی گردن کے لیے بو لا جاتا ہے جس میں  زیور پہنا گیا ہو۔ سعید بن المُسَیَّب، حسن بصری اور قَتادہ کہتے ہیں  کہ وہ ایک بہت قیمتی ہار گردن میں  پہنتی تھی،  اور کہا کرتی تھی کہ لات اور عُزّیٰ کی قسم میں  اپنا یہ ہار بیچ کر اس کی قیمت محمد( صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم ) کی عداوت میں  خرچ کر دوں  گی۔ اسی بنا پر جید کا لفظ یہاں  بطورِ طنز استعمال کیا گیا ہے کہ اِس مزیّن گلے میں ،  جس کے ہار پر وہ فخر کرتی ہے،  دوزخ میں  رسّی پڑی ہو گی۔ یہ اسی طرح کا طنز یّہ اندازِ کلام ہے جیسے قرآن مجید میں  متعدّد مقامات پر فرما یا گیا ہے بَشِّرْ ھُمْ بَعَذَابٍ اَلِیْمٍ، اُن کو دردناک عذاب کی خوشخبری دے دو۔ جو رسّی اس کی گردن میں  ڈالی جائے گی اس کے لیے حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ کے الفاظ استعمال کیے ہیں،  یعنی وہ رَسّی مَسَد کی قِسم سے ہو گی۔ اِس کے مختلف معنی اہلِ لغت اور مفسّرین نے بیان کیے ہیں۔  ایک قول یہ ہے کہ خوب مضبوط  بٹی ہوئی رَسّی کو مسد کہتے ہیں۔  دوسرا قول یہ ہے کہ کھجور کی چھال سے بنی ہوئی رَسّی کے لیے یہ لفظ بولا جاتا ہے۔  تیسرا قول یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں  مونجھ کی رسّی یا اونٹ کی کھال یا اس کے صوف سے بنی ہوئی رسّی۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے  مراد لوہے کے تاروں  سے بٹی ہوئی رسّی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

۱۱۲۔سورۃ الاخلاص

 

 

نام

 

اَلاِخْلَاص اِس سورہ کا محض نام ہی نہیں  ہے بلکہ اِس کے مضمون کا عنوان بھی ہے،  کیونکہ اس میں  خالص توحید بیان کی گئی ہے۔  قرآن مجید کی دوسری سورتوں  میں  تو بالعموم کسی ایسے لفظ کو اُن کا نام قرار دیا گیا ہے جو  اُن میں  وارد ہوا ہو، لیکن اِس سورہ میں  لفظ اِخلاص کہیں  وارد نہیں  ہوا ہے۔  اِس کو یہ نام اِس کے معنی کے لحاظ سے دیا گیا ہے۔  جو شخص بھی اِس کو سمجھ کر اِس کی تعلیم پر ایمان لے آئے گا وہ شرک سے خلاصی پا جائے گا۔

 

زمانۂ نزول

 

اِس کے مکّی اور مدنی ہونے میں  اختلاف ہے،  اور یہ اختلاف اُن روایات کی بنا پر ہے جو اِس کے سببِ نزول کے بارے میں  منقول ہوئی ہیں۔  ذیل میں  ہم اُن کو سلسلہ وار درج کرتے ہیں۔

(۱) حضرت عبدؓ اللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ قریش کے لوگوں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے کہا  کہ اپنے ربّ کا نَسب ہمیں  بتائیے۔  اس پر یہ سورہ نازل ہوئی (طَبَرانی)۔

(۲) ابو العالیہ نے حضرت اُبَیّ بن کعب ؓ کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے کہا کہ اپنے رب  کا نسب ہمیں  بتائیے،  اس پر اللہ تعالیٰ  نے یہ سورۃ نازل  فرمائی( مُسند احمد، ابن ابی حاتم، ابن جریر، تِرْمِذی، بخاری فی التاریخ، ابن المُنذِر، حاکم،  بیہقی)۔ تِرْمِذی نے اِسی مضمون کی ایک روایت ابو العالیہ سے نقل کی ہے جس میں  حضرت اُبَیّ بن کعب ؓ کا حوالہ نہیں  ہے اور اُسے صحیح تر کہا ہے۔

(۳) حضرت جابرؓ بن عبد اللہ  کا بیان ہے کہ ایک اَعرابی نے (اور بعض روایات میں  ہے کہ لوگوں  نے ) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے کہا کہ اپنے رب کا نسب ہمیں  بتائیے،  اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی (ابویَعلیٰ، ابن جریر، ابن المُنذِر، طَبَرانیفی الاَوسط، بَیْہقی، ابو نُعَیم فی الحِیْلہ)۔

(۴) عِکْرِمَہ نے ابن عباسؓ سے روایت نقل کی ہے کہ یہودیوں  کا ایک گروہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں  حاضر ہوا جس میں  کَعب بن اشرف اور حُیَیّ بن اَخْطَب وغیرہ شامل تھے اور اُنہوں  نے کہا  ’’اے محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم) ہمیں  بتائیے کہ آپ کا وہ ربّ کیسا ہے جس نے آپ کو بھیجا ہے۔ ‘‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی (ابن ابی حاتم،  ابن عَدِی، بیہقی فی الاسماء و الصفات)۔

اِن کے علاوہ مزید چند روایات ابن تَیمیہ نے اپنی تفسیر سورۂ اخلاص میں  نقل کی ہیں  جو یہ ہیں :

(۵) حضرت اَنَس کا بیان ہے کہ خَیبر کے کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی خدمت میں  حاضر ہوئے اور انہوں  نے کہا ’’اے ابو القاسمؐ،  اللہ نے ملائکہ  کو نورِ حجاب سے،  آدم کو مٹی کے سڑے ہوئے گارے سے،  ابلیس کو آگ کے شعلے سے،  آسمان کو دھوئیں  سے، اور زمین کو پانی کے جھاگ سے بنایا، اب ہمیں  اپنے ربّ کے متعلق بتائیے (کہ وہ کس چیز سے بنا ہے )۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے اس بات  کا کوئی جواب نہ دیا۔  پھر جبریل ؑ آئے اور انہوں   نے کہا اے محمدؐ، ان سے کہیے ھُوَ اللہُ اَحَدٌ۔ ۔۔۔۔۔۔

(۶) عامِر بن  الطُّفَیل نے حضورؐ سے کہا ’’ اے محمدؐ، آپ کس چیز کی طرف ہمیں  بلاتے ہیں  ؟‘‘ آپؐ نے فرمایا اللہ کی طرف۔ عامر نے کہا، ’’ اچھا تو اُس کی کیفیت مجھے بتائیے۔  وہ سونے سے بنا ہوا ہے یا چاندی سے یا  لوہے سے ؟‘‘ اس پر یہ سورۃ نازل ہوئی۔

(۷) ضَحّاک اور قَتادہ اور مُقاتِل کا بیان ہے کہ یہودیوں  کے کچھ علماء حضورؐ کے پاس آئے اور انہوں  نے کہا ’’اے محمدؐ، اپنے رب کی کیفیت ہمیں  بتائیے،  شاید کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں۔  اللہ نے اپنی صفت توراۃ میں  نازل کی ہے۔  آپ بتائیے کہ وہ کس چیز سے بنا ہے ؟ کس جنس سے ہے ؟ سونے سے بنا ہے یا  تانبے سے،  یا پیتل سے،  یا لوہے سے،  یا چاندی سے ؟ اور کیا وہ کھاتا ہے اور پیتا ہے ؟ اور کس سے اُ س نے دنیا وراثت میں  پائی ہے اور اُس کے بعد کون اُس کا وارث ہو گا؟‘‘ اِس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔

(۸) ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ نَجران کے عیسائیوں  کا ایک وفد سات پادریوں  کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی خدمت میں  حاضر ہوا اور اُس نے حضورؐ سے کہا ’’ہمیں  بتائیے آپ کا ربّ کیسا ہے،  کس چیز کا بنا ہے ؟‘‘ آپ نے فرمایا میرا ربّ کسی چیز سے نہیں  بنا ہے۔  وہ تمام اشیاء سے جدا ہے۔  اِس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔

اِن روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف مواقع پر مختلف  لوگوں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اُس معبود کی ماہیت اور کیفیت  دریافت کی تھی جس کی بندگی و عبادت کی طرف آپؐ لوگوں  کو دعوت دے رہے تھے،  اور ہر موقع پر آپؐ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اُن کو جواب میں  یہی سورت سنائی تھی۔ سب سے پہلے یہ سوال مکّہ میں  قریش کے مشرکین نے آپ سے کیا اور اس کے جواب میں  یہ سورت نازل ہوئی۔ اس کے بعد مدینۂ طیّبہ میں  کبھی یہودیوں  نے،  کبھی عیسائیوں  نے،  اور کبھی عرب کے دوسرے لوگوں  نے حضورؐ سے اِسی نوعیت کے سوالات کیے اور ہر مرتبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ ہوا  کہ جواب میں  یہی سورت آپ اُن کو سنا دیں۔  اِن روایات میں  سے ہر ایک میں  یہ جو کہا گیا ہے کہ اِس موقع پر یہ سورت  نازل ہوئی تھی،  اِس سے کسی کو یہ خیال نہ ہونا چاہیے کہ یہ سب روایتیں  باہم متضاد ہیں۔  اصل بات یہ ہے کہ کسی مسئلے کے بارے میں  اگر پہلے سے کوئی آیت یا سورۃ نازل شدہ موجود ہوتی تھی تو بعد میں  جب کبھی حضورؐ کے سامنے وہی مسئلہ پیش کیا جاتا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت آ جاتی تھی کہ اس کا جواب فلاں  آیت یا سورۃ میں  ہے،  یا اِس کے جواب میں  وہ آیت یا سورۃ لوگوں  کو پڑھ کر سنا دی جائے۔  احادیث کے راوی اس چیز کو یوں   بیان فرماتے ہیں  کہ جب فلاں  معاملہ پیش آیا، یا فلاں  سوال کیا گیا تو یہ آیت یا سورۃ نازل ہوئی۔ اِس کو تکرارِ  نزول سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے،  یعنی ایک آیت یا سورۃ کا کئی مرتبہ نازل ہونا۔

پس صحیح بات یہ ہے کہ یہ سورۃ دراصل مکّی ہے بلکہ اِس کے مضمون پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مکّہ کے بھی ابتدائی دور میں  نازل ہوئی ہے جب اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے بیان میں  قرآن کی مفصل آیات ابھی نازل نہیں  ہوئی تھیں،  اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی دعوت الی اللہ کو سن کر لوگ یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ آخر آپ کا وہ رب ہے کیسا جس کی بندگی و عبادت کی طرف آپ لوگوں  کو بلا رہے ہیں۔  اِس کے بالکل ابتدائی دور کی نازل شدہ سورت ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ مکّہ میں  جب حضرت بلال کا آقا اُمَیَّہ بن خَلَف اُن کو دھوپ میں  تپتی ہوئی ریت پر لٹا کر ایک بڑا سا پتھر اُن کی چھاتی پر رکھ دیتا تھا تو وہ اَحَدٌ اَحَدٌ پکارتے تھے۔  یہ لفظ اَحَد اِسی سورہ سے ماخوذ تھا۔

 

موضوع اور مضمون

 

شانِ نزول کے بارے میں  جو روایات اوپر درج کی گئی ہیں  اُن پر ایک نگاہ ڈالنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم توحید کی دعوت لے کر اُٹھے تھے اُس وقت دُنیا کے مذہبی تصورات کیا تھے۔  بت پرست مشرکین اُن خداؤں  کو پوج رہے تھے جو لکڑی،  پتھر، سونے،  چاندی وغیرہ مختلف چیزوں  کے بنے ہوئے تھے۔  شکل، صورت اور جسم رکھتے تھے۔  دیویوں  اور دیوتاؤں  کی باقاعدہ نسل چلتی تھی۔ کوئی دیوی بے شوہر نہ تھے اور کوئی دیوتا بے زوجہ نہ تھا۔ اُن کو کھانے پینے کی ضرورت بھی لاحق ہوتی تھی اور اُن کے پرستار اُن کے لیے اس کا انتظام کرتے تھے۔  مشرکین کی ایک بڑی تعداد اس بات کی قائل تھی کہ خدا انسانی شکل میں  ظہور کرتا ہے اور کچھ لوگ اُس کے اَوتار ہوتے ہیں۔  عیسائی اگرچہ ایک خدا کو ماننے کے مدعی تھے،  مگر اُن کا خدا بھی کم از کم ایک بیٹا تو رکھتا ہی تھا،  اور باپ بیٹے کے ساتھ خدائی میں  روح القُدس کو بھی حصہ دار ہونے کا شرف حاصل تھا۔ حتیٰ کہ خدا کی ماں  بھی ہوتی تیر اور اس کی ساس بھی۔  یہودی بھی ایک خدا کو ماننے کا  دعویٰ  کرتے تھے،  مگر اُن کا خدا بھی مادّیت اور جسمانیت اور دوسری انسانی صفات سے خالی نہ تھا۔ وہ ٹہلتا تھا۔ انسانی شکل میں  نمودار ہوتا تھا۔ اپنے کسی بندے سے کُشتی بھی لڑ لیتا تھا۔ اور ایک عدد بیٹے (عُزَیر) کا باپ بھی تھا۔ اِن مذہبی گروہوں  کے علاوہ مجوسی آتش پرست تھے اور صابِئی ستارہ پرست۔ اس حالت میں  جب اللہ وحدہٗ  لاشریک کو ماننے کی دعوت لوگوں  کو دی گئی تو اُن کے ذہن میں  یہ سوالات پیدا ہونا  ایک لازمی امر تھا کہ وہ ربّ ہے کس قسم کا جسے تمام ارباب اور معبودوں  کو چھوڑ کر تنہا ایک ہی ربّ اور معبود تسلیم کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔  قرآن مجید کا یہ اعجاز ہے کہ اُس نے اِن سوالات کا جواب چند الفاظ میں  دے کر اللہ کی ہستی کا ایسا واضح تصور پیش کر دیا جو تمام مشرکانہ  تصورات کا قلع قمع کر دیتا ہے اور اُس کی ذات کے ساتھ مخلوقات کی صفات میں  سے کسی صفت کی آلودگی کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں  رہنے دیتا۔اہمیت اور فضیلت :  یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی نگاہ میں  اِس سورت کی بڑی عظمت تھی اور آپؐ مختلف طریقوں  سے مسلمانوں  کو اِس کی اہمیت محسوس کراتے تھے،  تاکہ وہ کثرت سے اِس کو پڑھیں  اور عام الناس میں  اِسے پھیلائیں،  کیونکہ یہ اسلام کے اولین بنیادی عقیدے (توحید) کو چار ایسے مختصر فقروں  میں  بیان کر دیتی ہے جو فوراً انسان کے ذہن نشین ہو جاتے ہیں  اور آسانی سے زبانوں  پر چڑھ جاتے ہیں۔  احادیث میں  کثرت سے یہ روایات بیان ہوئی ہیں  کہ حضورؐ نے مختلف مواقع پر مختلف طریقوں  سے لوگوں  کو  بتایا کہ یہ سورت ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔  بخاری، مسلم، ابوداؤد، نَسائی،  تِرمِذی، ابن ماجہ، مُسند احمد، طَبَرانی، وغیرہ میں  اِس مضمون کی متعدد  احادیث ابو سعید خُدری، ابو ہریرہ، ابو ایوب انصاری، ابو الدَّ رْدا، مُعاذ بن جَبَل، جابر بن عبداللہ، اُبَیّ بن کَعب، امّ کُلثوم بنت عُقْبَہ بن ابی مُعَیط، ابنِ عمر،  ابن مسعود، قَتادہ بن النُعمان، اَنَس بن مالک اور ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے منقول ہوئی ہیں  مفسّرین نے حضورؐ کے اِس ارشاد کی بہت سی توجیہات بیان کی ہیں۔  مگر ہمارے نزدیک سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ قرآن مجید جس دین کو پیش کرتا ہے اُس کی بنیا د تین عقیدے ہیں۔  ایک توحید۔ دوسرے رسالت اور تیسرے آخرت۔ یہ سورۃ چونکہ خالص توحید کو بیان کرتی ہے اس لیے رسول اللہ صیی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے اس کو ایک تہائی قرآن کے برابر قرار دیا۔

حضرت عائشہؓ کی یہ روایت بخاری و مسلم اور بعض دوسری کتبِ حدیث میں  نقل ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے ایک صاحب کو ایک مُہم پر سردار بنا کر بھیجا اور اس پورے سفر کے دوران میں  اُن کا مستقل طریقہ یہ رہا  کہ ہر نماز میں  وہ قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌo  پر قرأت ختم کرتے تھے۔  واپسی پر اُن کے ساتھیوں  نے حضورؐ سے اِس کا ذکر کیا۔  آپ نے فرمایا اُن سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں  کرتے تھے۔  اُن کے  پوچھا گیا تو انہوں  نے کہا کہ اس میں  رحمان کی صفت بیان کی گئی ہے اس  لیے اس کا پڑھنا مجھے بہت محبوب ہے۔  حضورؐ نے یہ بات سُنی تو لوگوں  سے فرمایا اخبرو ہ ان اللہ تعالیٰ یحبُّہٗ ’’اُن کو خبر دے دو کہ اللہ تعالیٰ اُنہیں  محبوب رکھتا ہے۔ ‘‘

اِسی سے ملتا جلتا واقعہ بخاری  میں  حضرت اَنَس سے مَروی ہے۔  وہ فرماتے ہیں  کہ انصار میں  سے ایک صاحب مسجدِ قُبا میں  نماز پڑھاتے تھے اور اُن کا طریقہ یہ تھا کہ ہر رکعت میں  پہلے قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌo  پڑھتے،  پھر کوئی اور سورت تلاوت کرتے۔  لوگوں  نے اس پر اعتراض کیا اور ان سے کہا  یہ تم کیا کرتے ہو کہ قُلْ ھُوَ اللہُ پڑھنے کے بعد اسے کافی نہ سمجھ کر کوئی اور سورت بھی اُس کے ساتھ ملا لیتے ہو؟ یہ ٹھیک نہیں  ہے۔  یا تو صرف اِسی کو پڑھو،  اور یا اِسے چھوڑ کر کوئی اور سورت پڑھو۔ اُنہوں  نے کہا میں  اِسے نہیں  چھوڑ سکتا، تم چاہو تو  میں  تمہیں  نماز پڑھاؤں  ورنہ امامت چھوڑ دوں۔  لیکن لوگ اُن کی جگہ کسی اور کو امام بنانا بھی پسند نہیں  کرتے تھے۔  آخر کار معاملہ حضورؐ کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپؐ نے ان سے پوچھا کہ تمہارے ساتھی جو کچھ چاہتے ہیں  اُسے قبول کر نے میں  تم کو کیا امر مانع ہے ؟ تمہیں  ہر رکعت میں  یہ سورت پڑھنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ انہوں  نے عرض کیا کہ مجھے اِس سے بہت محبت ہے۔  آپؐ نے فرمایا حُبُّکَ اِیَّاھَا اَدْخلک الجَنَّۃَ  ’’ اِس سورت سے تمہاری محبت نے تمہیں  جنّت میں  داخل کر دیا۔‘‘

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

کہو، ۱ وہ اللہ ہے،  ۲ یَکتا۔ ۳ اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں۔  ۴ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد۔ ۵ اور کوئی اُس کا ہمسر نہیں  ہے۔  ۶ ؏۱

 

۱: اس حکم کے اوّلین مُخاطَب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم ہیں،  کیونکہ آپ ہی سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ آپ کا رب کون اور کیسا ہے،  اور آپ ہی کو حکم دیا گیا ہے کہ  اس سوال کے جواب میں  آپ یہ کہیں ۔  لیکن حضورؐ کے بعد ہر مومن اِس کا مخاطَب ہے۔  اُسے بھی وہی بات کہنی چاہیے جس کے کہنے کا حکم حضورؐ کو دیا گیا تھا۔

۲: یعنی میرے جس رب سے تم تعارُف حاصل کرنا چاہتے ہو وہ کوئی اور نہیں  بلکہ اللہ ہے۔  یہ اُن سوال کرنے والوں  کی بات کا پہلا جواب ہے،  اور اس کا مطلب یہ ہے کہ میں  کوئی نیا ربّ لے کر نہیں  آ گیا ہوں  جس کی عبادت،  دوسرے سب معبودوں  کو چھوڑ کر، میں  تم سے کروانا چاہتا ہوں،  بلکہ وہ ہستی ہے جس کو تم اللہ کے نام سے جانتے ہو۔ ’’ اللہ‘‘ عربوں  کے لیے کوئی اجنبی لفظ نہ تھا۔ قدیم ترین زمانے سے وہ خالقِ کائنات کے لیے یہی لفظ استعمال کر رہے تھے اور اپنے دوسرے معبودوں  میں  سے کسی پر بھی اِس کا اِطلاق نہیں  کرتے تھے۔  دوسرے معبودوں  کے لیے اُن کے ہاں  اِلٰہ کا لفظ رائج تھا۔ پھر اللہ کے بارے میں  اُن کے جو عقائد تھے اُن کا اظہار اُس موقع پر خوب کھُل کر  ہو گیا تھا جب اَبْرہہ نے مکہ پر چڑھائی کی تھی۔ اُس وقت  خانۂ کعبہ میں  ۳۶۰ اِلہٰوں  کے بت موجود تھے،  مگر مشرکین نے اُن سب کو چھوڑ کر صرف اللہ سے دعائیں  مانگی تھیں  کہ وہ اِس بلا سے اُن کو بچائے۔  گویا وہ اپنے دلوں  میں  اچھی طرح جانتے تھے کہ اللہ کے سوا کوئی اِلہٰ اِس نازک وقت میں  اُن کی مدد نہیں  کر سکتا۔ کعبے کو بھی وہ اُن اِلہٰوں  کی نسبت سے بیتُ الْآ لِہَہ نہیں،  بلکہ اللہ کی نسبت سے بیتُ اللہ کہتے تھے۔  قرآن مجید میں  جگہ جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں  مشرکین عرب کا عقیدہ کیا تھا۔ مثال کے طور پر: سُورۂ زُخْرُف میں  ہے : ’’اگر تم اِن سے پوچھو کہ  اِنہیں  کس نے پیدا کیا ہے تو یہ ضرور کہیں  گے کہ اللہ نے ‘‘(آیت ۸۷)۔ سُورۂ عَنْکَبُوت میں  ہے : ’’اگر تم اِن سے پوچھو کہ آسمانوں  اور زمین  کو کس نے پیدا کیا ہے اور چاند اور سورج کو کس نے مُسخّر کر رکھا ہے،  تو یہ ضرور کہیں  گے کہ اللہ نے۔ ۔۔۔۔۔ اور اگر تم اِن سے پوچھو کہ کس نے آسمان سے پانی برسایا اور اُس کے  ذریعہ سے مردہ پڑی ہوئی زمین کو  جِلا اٹھایا،  تو یہ ضرور کہیں  گے کہ اللہ نے ‘‘(آیات ۶۱ تا ۶۳)۔ سورۂ مومنون میں  ہے : ’’اِن سے کہو، بتاؤ اگر تم جانتے ہو کہ یہ زمین اور اِس کی ساری آبادی کس کی ہے ؟ یہ ضرور کہیں  گے اللہ کی۔۔۔۔۔۔ اِن سے پوچھو ساتوں  آسمان اور عرشِ عظیم کا ملک کون ہے ؟ یہ ضرور کہیں  گے  اللہ۔ ۔۔۔۔۔۔ اِن سے کہو، بتاؤ اگر تم جانتے ہو کہ ہر چیز پر اقتدار کس کا ہے ؟ اور کون ہے جو پناہ دیتا ہے اور اُس کے مقابلے میں  کوئی پناہ نہیں  دے سکتا؟ یہ ضرور  جواب دیں  گے کہ یہ بات تو اللہ ہی کے لیے ہے ‘‘ (آیات ۸۴ تا ۸۹)۔ سورۂ یونس میں  ہے : ’’اِن سے پوچھو، کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟ یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں   (جو تمہیں  حاصل ہیں  ) کس کے اختیار میں  ہیں ؟ اور کون زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے ؟ اور کون اِس نظمِ عالَم کی تدبیر کر رہا ہے ؟ یہ ضرور کہیں  گے کہ اللہ‘‘ (آیت ۳۱)۔ اِسی سورۂ یونس میں  ایک اور جگہ ہے :  ’’جب تم لوگ کشتیوں  پر سوار ہو کر بادِ موافق پر فرحان و شاداں  سفر کر رہے ہوتے ہو اور پھر یکایک بادِ مخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں  کے تھپیڑے لگتے ہیں  اور مسافر سمجھ لیتے ہیں  کہ طوفان میں  گھِر گئے،   اُس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لیے خالص کر کے اُس سے دعائیں  مانگتے ہیں   کہ اگر تو نے ہمیں  اِس بلا سے نجات دے دی تو ہم شکر گزار بندے بنیں  گے۔  مگر جب وہ ان کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہو کر زمین  میں  بغاوت کر نے لگتے ہیں ‘‘(آیات ۲۲ و ۲۳)۔ یہی بات سورۂ بنی اسرائیل میں  یوں  دُہرائی گئی ہے : ’’جب سمندر میں  تم مصیبت آتی ہے تو اُس ایک کے سوا دوسرے جن جن کو تم پکارا کرتے ہو وہ سب گُم ہو جاتے ہیں،  مگر جب وہ تم کو بچا  کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تُم اُس سے مُنہ موڑ جاتے ہو ‘‘ (آیت ۶۷)۔ اِن آیات کو نگاہ میں  رکھ کر دیکھیے کہ جب لوگوں  نے پوچھا کہ وہ تمہارا رب کون ہے اور کیسا ہے جس کی بندگی و عبادت کو طرف تم ہمیں  بُلاتے ہو،  تو انہیں  جواب دیا گیا ھُوَ اللہُ،  وہ اللہ ہے۔  اِس جواب  سے خود بخود یہ مطلب نکلتا ہے کہ  جسے تم خود اپنا اور ساری کائنات کا خالق، مالک، رازق اور مدبّر و منتظم مانتے ہو، اور سخت وقت آنے پر جسے دوسرے سب معبودوں  کو چھوڑ کر مدد کے لیے پکارتے ہو،  وہی میرا ربّ ہے اور اسی کی بندگی کی طرف میں  تمہیں  بلاتا ہوں۔  اِس جواب میں  اللہ تعالیٰ کی تمام صفاتِ  کمالیہ آپ سے آپ آ جاتی ہیں۔  اس لیے کہ یہ بات سرے سے قابلِ تصوّر ہی نہیں  ہے کہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اُس کا انتظام اور اُس کے معاملات کی تدبیر کرنے والا، اُس میں  پائی جانے والی تمام مخلوقات کو رزق دینے والا، اور مصیبت کے وقت اپنے بندوں  کی مدد کرنے والا،  زندہ نہ ہو، سنتا اور دیکھتا نہ ہو، قادرِ مطلق نہ ہو، علیم اور حکیم نہ ہو، رحیم اور کریم نہ ہو، اور سب پر غالب نہ ہو۔

۳: نحوی قواعد کی رُو سے ھُوَ اللہُ اَحَدٌ کی متعدد ترکیبیں   بیان کی ہیں،  مگر ہمارے نزدیک اُن میں  سے جو ترکیب اِس مقام کے ساتھ پوری مناسبت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ  ھُوَ   مُبْتَدا ہے،  اَللہُ اس کی خبر ہے،  اور اَحَد ٌاس کی دوسری خبر۔  اِس ترکیب کے لحاظ سے اِس جملے کا مطلب یہ ہے کہ  ’’وہ (جس کے بارے میں  تم لوگ سوال کر رہے ہو) اللہ ہے،  یَکتا ہے۔ ‘‘ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے،  اور زبان کے لحاظ سے غلط نہیں  ہے کہ  ’’وہ اللہ ایک ہے۔ ‘‘ یہاں  سب سے پہلے یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اِس جملہ میں  اللہ تعالیٰ کے لیے لفظِ اَحَد جس طرح استعمال کیا گیا ہے وہ عربی زبان میں  اِس لفظ کا غیر معمولی استعمال ہے۔  معمولاً یہ لفظ یا تو مُضاف یا مُضاف اِلَیہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے،  جیسے یَوُمُ الْاَحَد، ہفتے کا پہلا دن، اور فَا بْعَثُوْٓ ا اَحَدَکُمْ، ’’ اپنے کسی آدمی کو بھیجو۔‘‘ یا نَفْیِ عام کے لیے استعمال ہوتا ہے،  جیسے مَا جَآءَ نِیْٓ اَحَدٌ ’’ میرے  پاس کوئی نہیں  آیا۔‘‘ یا عمومیت کا پہلو لیے ہوئے سوالیہ فقرے میں  بولا جاتا ہے،  جیسے ھَلْ عندک اَحَدٌ؟  ’’ کیا تمہارے پاس کوئی ہے ؟‘‘ یا اِسی عمومیت کے پہلو سے شرطیہ جملہ میں  بولا جاتا ہے،  جیسے اِنْ جَاءک احدٌ، ’’ اگر تمہارے پاس کوئی آئے۔ ‘‘ یا گِنتی میں  بولا جاتا ہے ،  جیسے اَحَدَ،  اِثنانِ، اَحَدَ عَشر، ایک،  دو،  گیارہ۔ اِن استعمالات کے سوا نزولِ قرآن سے پہلے کی عربی زبان میں  اِس امر کی کوئی نظری نہیں  ملتی کہ محض لفظ اَحَد و صف کے طور پر کسی شخص یا چیز کے لیے بو لا گیا ہو، اور نزول قرآن کے بعد یہ لفظ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے استعمال کیا گیا ہے،  دوسرے کسی کے لیے کبھی استعمال نہیں  کیا گیا۔ اس غیر معمولی طرزِ بیان سے خود بخود یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یَکتا و یَگانہ ہونا اللہ کی خاص صفت ہے،  موجودات میں  سے کوئی دوسرا اِس صفت سے مُتَصِف نہیں  ہے۔  وہ ایک ہے،  کوئی اُس کا ثانی نہیں۔  پھر جو سوالات مشرکین اور اہلِ کتاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے آپ کے ربّ کے بارے میں  کیے تھے اُن کو  نگاہ میں  رکھتے ہوئے دیکھیے کہ ھُوَ اللہُ  کہنے کے بعد اَحَدٌ کہہ کر اُن کا جواب کس طرح دیا گیا ہے : اَوّلاً، اِس کے معنی یہ ہیں  کہ وہی اکیلا ربّ ہے،  کسی دوسرے کا ربُوبیت میں  کوئی حصّہ نہیں  ہے،  اور چونکہ اِلٰہ (معبود) وہی ہو سکتا ہے جو ربّ (مالک و پروردگار) ہو،  اِس لیے اُلوہیت میں  بھی کوئی اُس کا شریک نہیں۔  ثانیاً،  اِس کے معنی یہ بھی ہیں   کہ وہی تنہا کائنات کا خالق ہے،  تخلیق کے اِس کام میں  کوئی  اور اُس کا شریک نہیں  ہے۔  وہی اکیلا مالک الملک ہے،  نظامِ عالَم کا مدبّر و منتظم ہے،  اپنی مخلوقات کا رزق رساں  ہے،  اور آڑے وقت میں  مدد کرنے والا فریاد رس ہے۔  خدائی کے اِن کاموں  میں ،  جن کو تم خود مانتے ہو کہ یہ اللہ کے کام ہیں ،  کسی دوسرے کا قطعاً کوئی حصّہ نہیں  ہے۔  ثالثاً،  چونکہ اُنہوں  نے یہ بھی پوچھا تھا کہ وہ کس چیز سے بنا ہے ؟ اُس کا نسب کیا ہے ؟ وہ کس جِنس سے ہے ؟ کس سے اُس نے دنیا کی میراث پائی ہے ؟ اور اُس کے بعد کون اُس کا وارث ہو گا؟  اس لیے اُن کے اِن سارے سوالات کا جواب بھی اللہ تعالیٰ کے لیے صرف  ایک لفظِ اَحَد بول کر دے دیا گیا ہے۔  اِس کے معنی یہ ہیں  کہ (۱) وہی ایک خدا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، نہ اُس سے پہلے کوئی خدا تھا، نہ اس کے بعد کوئی خدا ہو گا۔ (۲) خداؤں  کی کوئی جنس نہیں  ہے جس کا وہ فرد ہو، بلکہ وہ اکیلا خدا ہے اور کوئی اُس کا ہم جنس نہیں۔ (۳) اُس کی ذات محض واحد نہیں  بلکہ اَحَد ہے جس میں  کسی حیثیت سے بھی کثرت کا کوئی شائبہ نہیں  ہے۔  وہ اجزاء سے مُرکَّب وجود نہیں  ہے جو قابلِ  تجزیہ و تقسیم ہو، جو کوئی شکل  اور صورت رکھتا ہو، جو کسی جگہ رہتا ہو یا کوئی چیز اس کے اندر جگہ پاتی ہو، جس کا کوئی رنگ ہو، جس کے کچھ اعضا ہوں ،  جس کی کوئی سمت اور جہت ہو، اور جس کے اندر کسی قسم کا تغیُّر و تبدُّل ہوتا ہو۔ تمام اقسام کی کثرتوں  سے بالکل پاک اور مُنَزَّہ وہ ایک ہی ذات ہے جو ہر لحاظ سے اَحَد  ہے۔  (اِس مقام پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ عربی زبان میں  ’’واحد‘‘  کا لفظ  بالکل اُسی طرح استعمال  ہوتا ہے جس طرح ہم اردو میں  ’’ ایک‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔  بڑی سے بڑی کثرتوں  پر مشتمل کسی مجموعہ کو بھی اس کی مجموعی حیثیت کے لحاظ سے واحد یا ایک کہا جاتا ہے،  جیسے ایک آدمی، ایک قوم، ایک ملک، ایک دُنیا، حتّیٰ کہ ایک کائنات۔ اور کسی مجموعہ کے ہر جُز کو الگ الگ بھی ایک ہی کہا  جاتا ہے۔   لیکن اَحَد کا لفظ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے استعمال  نہیں  کیا جاتا۔ اِسی لیے قرآن مجید میں   جہاں  بھی اللہ تعالیٰ کے لیے واحد کا لفظ استعمال  ہوا ہے وہاں  اِلٰہِ  واحد، ایک ہی معبود، یا اَللہُ الْوَ احِدُ الْقَھَّارُ، اکیلا اللہ جو سب کو مغلوب کر کے رکھنے والا ہے،  کہا گیا ہے،  محض واحد کہیں  نہیں  کہا گیا، کیونکہ یہ لفظ اُن چیزوں  کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جو اپنی ذات میں  طرح طرح کی کثرتیں  رکھتی ہیں۔  بخلاف اِس کے اللہ کے لیے اور صرف اللہ ہی کے لیے اَحَد کا لفظ مطلقاً استعمال کیا گیا ہے۔  کیونکہ  و جود میں  صرف وہی ایک ہستی ایسی ہے جس میں  کسی حیثیت سے بھی کوئی کثرت نہیں  ہے،  جس کی وَحدانیت ہر لحاظ سے کامل ہے )۔

۴: اصل میں  لفظ صَمَد استعمال کیا گیا ہے جس کا مادّہ ص، م،  د ہے۔  عربی زبان میں  اِس مادّے سے جو الفاظ نکلے ہیں  اُن پر ایک نگاہ ڈالنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کے معانی کی وسعت کس قدر ہے : ۱. اَلصَّمْدُ۔           قصد کرنا، بلند مقام جو بڑی ضخامت رکھتا ہو، سطح مُر تَفَع،  وہ آدمی جسے جنگ میں  بھوک پیاس نہ لگتی ہو، وہ سردار جس کی                    طرف حاجات میں  رجوع کیا جاتا ہو۔ ۲. اَلصَّمَدُ۔           ہر چیز کا  بلند حصّہ،  وہ  شخص جسے سے بالاتر کوئی دوسرا شخص نہ ہو، وہ سردار جس کی اطاعت کی جاتی ہو اور اُس کے بغیر کسی معاملہ کا فیصلہ نہ کیا جاتا ہو، وہ سردار جس کی طرف حاجتمند لوگ رجوع کرتے ہوں،  دائم، بلند مرتبہ، ٹھوس جس  میں خول یا جھول نہ ہو اور جس سے نہ کوئی چیز نکلتی ہو نہ اس میں  داخل ہو سکتی ہو، وہ آدمی جسے جنگ میں  بھوک پیاس نہ   لگتی ہو۔ ۳. اَلمُصْمَدُ۔          ٹھوس چیز جس کا کوئی جَوف نہ ہو۔ ۴. المُصَمَّدُ۔          مقصود جس کی طرف جانے کا قصد کیا جائے،  سخت چیز جس میں  کوئی کمزوری نہ ہو۔ ۵. بَیْتٌ مُّصَمَّدٌ۔     وہ گھر جس کی طرف حاجات میں  رجوع کیا جاتا ہو۔ ۶. بِنَآ ءٌ مُّصْمَدٌ۔     بلند عمارت۔ ۷. صَمَدَہٗ وَصَمَدَ اِلَیْہِ صَمْداً۔اُس شخص کی طرف جانے کا قصد کیا۔ ۸. اَصْمَدَ اِلَیْہِ الْاَمْرَ۔ اُس کے سپرد معاملہ کر دیا، اُس کے آگے معاملہ پیش کر دیا، اُس کے اوپر معاملہ میں  اعتماد کیا۔ (صِحاح، قامُوس، لِسان                          العرب)۔ اِن لُغوی معنوں   کی بنا پر آیت اَللہُ الصَّمَدُ میں  لفظ اَصَّمَد کی جو تفسیر صحابہ و تابعین اور بعد کے اہلِ علم  سے منقول ہیں  اُنہیں   ہم ذیل میں  درج کرتے ہیں : ۱. حضرت علیؓ، عِکْرِمَہ اور کَعْبِ  اَحْبار: ’’صَمَد وہ ہے جس سے بالاتر کوئی نہ ہو۔‘‘ ۲. حضرت عبد اللہ ؓ بن مسعود،  حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور ابو وائل شَقِیق بن سَلَمَہ: ’’وہ سردار جس کی سیادت کامل ہو اور انتہا کو پہنچی ہوئی ہو۔‘‘ ۳. ابن عباسؓ کا دوسرا قول: ’’صَمَد وہ ہے جس کی طرف لوگ کسی بلا یا مصیبت کے نازل ہونے پر مدد کے لیے رجوع کریں۔ ‘‘ اُن کا ایک اور قول :  ’’وہ سردار جو اپنی سیادت میں،  اپنے شرف میں،  اپنی عظمت میں ،  اپنے حلم اور بردباری میں،  اپنے علم میں  اور اپنی حکمت میں  کامل ہو۔‘‘ ۴. حضرت ابو ہریرہؓ:  ’’وہ جو سب سے بے نیاز ہو اور سب اُس کے محتاج ہوں۔ ‘‘ ۵. عِکْرِمَہ کے دوسرا اقوال:  ’’وہ جس میں  سے نہ کوئی چیز  کبھی نکلی ہو نہ نکلتی ہو۔‘‘، ’’جو نہ کھاتا ہو نہ پیتا ہو۔‘‘ اِسی کے ہم معنی اقوال شَعبی اور محمد بن کَعْب القُرَظی سے بھی منقول ہیں ’’۔ ۶. سُدِّی: ’’مطلوب چیزیں  حاصل کرنے کے لیے لوگ جس کا قصد کریں  اور مصائب میں  مدد کے لیے جس کی طرف رجوع کریں۔ ‘‘ ۷. سعید بن جُبَیر:  ’’وہ جو اپنی تمام صفات اور اعمال میں  کامل ہو۔‘‘ ۸. ربیع بن اَنَس:  ’’وہ جس پر کوئی آفت نہ آتی ہو۔‘‘ ۹. مُقاتل بن  حَیّان: ’’وہ جو بے عیب ہو۔‘‘ ۱۰. ابن کَیْسان: ’’وہ جس کی صفت سے کوئی دوسرا مُتّصِف نہ ہو۔‘‘ ۱۱. حسن بصری اور قَتادہ:  ’’جو باقی رہنے والا اور لازوال ہو۔‘‘ اِسی سے ملتے جلتے اقوال مجاہد اور مَعْمَر اور مُرَّۃ الہَمدانی سے بھی منقول ہیں۔ ‘‘ ۱۲. مُرّۃ الہمدانی کا ایک اور قول یہ ہے کہ: ’’وہ جو اپنی مرضی کے مطابق جو چاہے فیصلہ کرے اور جو کام چاہے کرے،  اس کے حکم اور فیصلے پر نظر ثانی کرنے والا کوئی نہ ہو۔‘‘ ۱۳. ابراہیم نَخَعی: ’’وہ جس کی طرف لوگ اپنی حاجتوں  کے لیے رجوع کریں۔ ‘‘ ۱۴. ابو بکر الاَنْباری:  ’’ اہلِ لغت کے درمیان اِس میں  کوئی اختلاف نہیں  ہے کہ صَمَد اُس سردار کو کہتے ہیں  جس سے بالاتر کوئی اور سردار نہ ہو، اور جس کی طرف لوگ اپنی حاجات اور اپنے معاملات میں  رجوع کریں۔ ‘‘ اِسی کے قریب الزَّ جّاج کا قول ہے۔  وہ کہتے ہیں  کہ ’’صَمَد وہ ہے جس پر سرداری ختم ہو گئی ہو اور ہر ایک اپنی حاجات کے لیے جس کی طرف رجوع کرے۔ ‘‘ اَب غور کیجیے کے پہلے فقرے میں  اَللہُ اَحَدٌ کیوں  کہا گیا، اور اِ س فقرے میں  اَللہ ُ الصَّمَدُ کہنے کی کیا وجہ ہے۔  لفظ اَحَدٌ کے متعلق ہم بیان کر چکے ہیں  کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے،  کسی اور کے لیے سرے سے مستعمل  ہی نہیں  ہے،  اس لیے اُسے اَحَدٌ،  یعنی نکرہ کی صورت میں  استعال کیا گیا ہے۔  لیکن صَمَد کا لفظ چونکہ مخلوقات کے لیے بھی استعمال  ہوتا ہے،  اس لیے  اَللہُ صَمَدٌ کہنے کے بجائے اَللہُ صَمَدُ کہا گیا، جس کے معنی  یہ ہیں  کہ اصلی اور حقیقی صَمَد اللہ تعالیٰ ہی ہے۔  مخلوق اگر کسی حیثیت سے صمد ہو بھی تو کسی دوسری حیثیت سے وہ صمد نہیں  ہے،  کیونکہ وہ  فانی ہے،  لازوال نہیں  ہے،  قابلِ تجزیہ و تقسیم ہے،  مرکّب ہے،  کسی وقت اُس کے اجزا بِکھر سکتے ہیں،  بعض مخلوقات اُس کی محتاج ہیں  تو بعض کا وہ خود محتاج ہے،  اُس کی سیادت اضافی ہے نہ کہ مطلق، کسی کے مقابلے میں  وہ برتر ہے تو اس کے مقابلے میں  کوئی اور برتر ہے،  بعض مخلوقات کی بعض حاجات کو وہ پورا کر سکتا ہے مگر سب کی تمام حاجات کو پورا کرنا کسی  مخلوق کے بس میں  نہیں  ہے۔  بخلاف اِس کے اللہ تعالیٰ کی صَمَدیّت ہر حیثیت سے کامل ہے۔  ساری دنیا اُس کی محتاج ہے اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔  دنیا کی ہر چیز اپنے وجود و بقا اور اپنی حاجات و ضروریات کے لیے شعوری طور پر  یا غیر شعوری طور پر اُسی کی طرف رجوع کرتی ہے اور سب کی تمام حاجات پوری کرنے والا وہی ہے۔  وہ غیر فانی اور لازوال ہے۔  رزق دیتا ہے،  لیتا نہیں  ہے۔  مُفرد ہے،  مرکّب نہیں  ہے کہ قابل تجزیہ و تقسیم ہو۔ ساری کائنات پر اس کی سیادت قائم ہے اور وہ سب سے برتر ہے۔  اس لیے وہ محض صَمَد نہیں  ہے بلکہ الصَّمَد ہے،  یعنی ایک ہی ایسی ہستی جو حقیقت میں  صَمَدیّت سے بتمام و کمال مُتَّصِف ہے۔

۵: ’’مشرکین نے ہر زمانہ میں   خدائی کا یہ تصور اختیار کیا ہے کہ انسانوں  کی طرح خداؤں  کی بھی کوئی جنس ہے جس کے بہت سے افراد ہیں ،  اور اُن میں  شادی بیا ہ اور توالُد و تَناسُل کا سلسلہ چلتا ہے۔  اِس جاہلانہ تصوُّر سے انہوں  نے اللہ رب العالمین کو بھی پاک اور بالاتر نہیں  سمجھا اور اُس کے لیے بھی اولاد تجویز کی۔ چنانچہ اہلِ عرب کا یہ عقیدہ قرآن مجید میں  بیان کیا گیا ہے کہ وہ فرشتوں  کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں  قرار دیتے تھے۔  انبیاء  علیہم السلام کی امتیں  بھی اس جہالت سے محفوظ نہ رہ سکیں۔  اُن کے ہاں   بھی کسی بزرگ انسان کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دینے کا عقیدہ پیدا ہو گیا۔  ان مختلف توہُّمات  میں  دو قسم کے تصورات ہمیشہ خَلْط مَلْط ہوتے رہے ہیں۔  بعض لوگوں  نے یہ سمجھا کہ جن کو وہ اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دے رہے ہیں  وہ اُس  ذاتِ  پاک کی نَسبی اولاد ہے۔  اور بعض نے یہ دعویٰ کیا کہ جس کو وہ اللہ کا بیٹا کہہ رہے ہیں  اُسے اللہ نے اپنا مُتَبنّیٰ بنایا ہے۔  اگرچہ اُن میں  سے کسی کی یہ جرأت نہیں  ہوئی  کہ معاذ اللہ کسی کو اللہ کا باپ قرار دیں ،  لیکن ظاہر ہے کہ جب کسی ہستی کے متعلق یہ تصور کیا جائے کہ وہ توالُد و تَناسُل سے پاک نہیں  ہے،  اور اُس کے بارے میں  یہ خیال کیا جائے کہ وہ بھی انسان کی طرح اُس قسم کی کوئی ہستی ہے جس کے ہاں  اولاد پیدا ہوتی ہے،  اور جس کو لا ولد ہونے کی صورت میں  کسی کو بیٹا بنانے کی ضرورت پیش آتی ہے،  تو پھر انسانی ذہن اِس گمان سے محفوظ نہیں  رہ سکتا کہ اُسے بھی کسی کی اولاد سمجھے۔  یہی وجہ ہے کہ جو سوالات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے پوچھے گئے تھے اُن میں   ایک سوال یہ تھا کہ اللہ کا نسب کیا ہے ؟ اور دوسرا یہ کہ  کس سے اُن نے دنیا کی میراث پائی ہے اور کون اُس کے بعد وارث ہو گا؟  اِن جاہلانہ مفروضات کا اگر تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ  منطقی طور اِن کو فرض کر لینے سے  کچھ اور چیزوں  کو بھی فرض کرنا لازِم آتا ہے : اول یہ کہ خدا ایک نہ ہو، بلکہ خداؤں  کی کوئی جنس ہو، اور اس کے افراد خدائی کے اوصاف، افعال اور اختیارات میں  شریک ہوں۔  یہ بات خدا کی صرف نَسبی اولاد فرض کر لینے ہی سے لازم نہیں  آتی، بلکہ کسی کو مُتَبنّیٰ فرض کرنے سے بھی لازم آتی ہے،  کیونکہ کسی کا متَبنّیٰ لا محالہ اُس کا ہم جنس ہی ہو ہو سکتا ہے،  اور جب معاذاللہ وہ خدا کا ہم جنس ہے تو اِس  سے انکار نہیں  کیا جا سکتا کہ وہ خدائی کے اوصاف بھی رکھتا ہے۔  دوم یہ کہ  اولاد کا کوئی تصور اِس کے بغیر نہیں  کیا جا سکتا کہ نر و مادہ میں  اتصال ہو اور کوئی مادّہ باپ اور ماں  کے جسم سے نکل کر بچے کی شکل اختیار کرے۔  پس اللہ کے لیے اولاد فرض کر نے سے لازم آتا ہے کہ معاذ اللہ وہ ایک مادّی اور جسمانی وجود  ہو، اُس کی ہم جنس کوئی اُس کی بیوی بھی ہو، اور اُس کے جسم سے کوئی مادّہ بھی خارج ہو۔ سوم یہ کہ تَوالُد و تناسُل کا سلسلہ جہاں  بھی ہے اُس کی علّت یہ ہے کہ افراد فانی ہوتے ہیں  اور اُن کی جنس کے باقی رہنے  کے لیے ناگزیر ہوتا ہے کہ اُن سے اولاد پیدا ہو جس سے اُن کی نسل آگے چلے۔  پس اللہ کے لیے اولاد فرض کر نے سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہ بذاتِ خود معاذ اللہ فانی ہو اور باقی رہنے والی چیز خداؤں  کی نسل ہو نہ کہ ذاتِ خدا۔ نیز اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ تمام فانی افراد کی طرح نعوذ باللہ خدا کی بھی ابتدا اور انتہا ہو۔  کیونکہ توالُدوتناسُل پر جن اجناس کی بواء کا انحصار ہوتا ہے اُن کے افراد نہ اَزَلی ہوتے ہیں  نہ اَبَدی۔ چہارم یہ کہ کسی کو متَبنّیٰ بنانے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ایک لاولد شخص اپنی زندگی میں  کسی مددگار کا،  اور اپنی وفات کے بعد کسی وارث کا حاجت مند ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے لیے یہ فرض کرنا کہ اس نے کسی کو بیٹا بنایا ہے،  اُس ذاتِ پاک کی طرف لازماًوہی سب کمزوریاں   منسوب کرتا ہے جو فانی اشخاص میں  پائی جاتی ہیں۔  اِن تمام مفروضات کی جڑ اگرچہ اللہ تعالیٰ کو اَحَد اور اَلصَّمَد کہنے سے ہی کٹ جاتی ہے،  لیکن اُس کے بعد یہ ارشاد  فرمانے سے کہ  ’’نہ اُس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد‘‘، اِس معاملہ میں  کسی اشتباہ کی  گنجائش بھی باقی نہیں  رہتی۔ پھر چونکہ ذاتِ باری کے حق میں  یہ تصور ات شرک کے اہم ترین اسباب میں  سے ہیں،  اس لیے اللہ تعالیٰ نے صرف سورۂ اخلاص ہی میں  اُن کی صاف صاف اور قطعی و حتمی تردید کرنے پر اکتفا نہیں   فرمایا،  بلکہ جگہ جگہ اس مضمون کو مختلف طریقوں  سے بیان کیا ہے  تا کہ لوگ حقیقت  کو پوری طرح سمجھ لیں۔  مثال کے طور پر آیات ذیل ملاحظہ ہوں : اِنَّمَا اللہُ اِلٰہٌ، سُبْحٰنَہٗٓ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗ وَلَدٌ،م لَہٗ مَا فِیْ السَّمٰوٰاتِ وَمَا فِیْ الاَرْضِ (النساء۔  ۱۷۱) ’’اللہ تو بس ایک ہی خدا ہے۔  وہ پاک ہے اِس سے کہ کوئی اُس کا بیٹا ہو۔  جو کچھ آسمانوں   میں  ہے اور جو کچھ زمین میں  ہے،  سب اُس کی مِلک ہے۔ ‘‘ اَلَآ اِنَّہُمْ مِنْ اِفْکِہِمْ لَیَقُوْلُوْنَ وَلَدَ اللہُ وَاِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ (الصٰفٰت، ۱۵۲-۱۵۱) ’’خوب سُن رکھو، یہ لوگ دراصل اپنی من گھڑت سے  یہ بات کہتے ہیں  کہ اللہ اولاد رکھتا ہے۔  فی الواقع یہ قطعی جھوٹے ہیں۔ ‘‘  وَجَعَلُوْ ا بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْجِنَّۃّ نَسَباً وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّۃُ اِنَّھُمْ لَمُحْضَرُوْنَ۔ (الصّٰفٰت۔ ۱۵۸) ’’ اِنہوں  نے اللہ اور فرشتوں  کے درمیان نسب کا رشتہ بنا رکھا ہے،  حالانکہ فرشتے خوب جانتے ہیں  کہ یہ لوگ (مجرموں   کی حیثیت سے ) پیش کیے جانے والے ہیں۔ ‘‘ وَجَعَلُوْا لَہٗ مِنْ عِبَادِہٖ جُزْءً، اِنَّ الْاِنْسَانَ لَکَفُوْرٌ مُّبِیْنٌ۔ ( الزُّخْرُف۔ ۱۵) ’’لوگوں  نے اُس کے بندوں  میں  سے بعض کو اُس کا جُز بنا ڈالا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے۔ ‘‘ وَجَعَلُوْ ا لِلّٰہِ شُرَکَآ ءَ الّجِنِّ وَخَلَقَھُمْ وَخَرَ قُوْا لَہٗ بَنِیْنَ وَبَنَاتٍ بِغَیْرِ عِلْمٍ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلیٰ عَمَّا یَصِفُوْنَ، بَدِیْعُ السَّمٰوٰ تِ وَالْاَرْضِ، اَنّیٰ یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَکُنْ لَہٗ صَا حِبَۃٌ وَخَلَقَ کُلَّ شِیْءٍ۔ (الانعام۔ ۱۰۱-۱۰۰) ’’اور لوگوں  نے جُنّوں  کو اللہ کا شریک ٹھیرا دیا،  حالانکہ وہ اُن کا خالق ہے۔  اور اُنہوں  نے بے جانے بوجھے اُس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں  گھڑ لیں،  حالانکہ وہ پاک اور بالاتر ہے اُن باتوں  سے جو وہ کہتے ہیں۔  وہ تو آسمانوں  اور زمین کا موجد ہے۔  اُس کا کوئی بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ کوئی اُس کی شریکِ زندگی ہی نہیں  ہے۔  اُس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ ‘‘ وَقَا لُوا ا تَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَداً سُبْحٰنَہٗ بَلْ عَبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ۔ (الانبیآء۔  ۲۶) ’’اور اِن لوگوں  نے کہا کہ خدائے رحمان نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔  پاک ہے وہ۔  بلکہ (جن  کو یہ اُس کی اولاد کہتے ہیں ) وہ تو بندے ہیں  جنہیں  عزّت دی گئی ہے۔ ‘‘ وَقَا لُوا ا تَّخَذَ اللہُ وَلَداً سُبْحٰنَہٗ، ھُوَ الْغَنِیُّ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ اِنْ عِنْدَ کُمْ مِنْ سُلْطٰنٍ بھِٰذَا۔ اَتَقُوْلُوْنَ عَلیَ اللہِ مَالَا تَعْلَمُوْنَ۔  (الانبیآء۔  ۲۶) ’’لوگوں  نے کہہ دیا کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے،  سبحان اللہ ! وہ تو بے نیاز ہے۔  آسمانوں   میں  جو کچھ ہے اور زمین میں  جو کچھ ہے سب اُس کی مِلک ہے۔  تمہارے پاس اِس قول کی آخر دلیل کیا ہے ؟ کیا تم اللہ کے بارے میں  وہ باتیں  کہتے ہو جنہیں  تم نہیں  جانتے ؟‘‘ وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَداً وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلِیٌّ مِنَ الذُّلِّ۔   (بنی اسرائیل۔ ۱۱۱) ’’اور (اے نبی) کہو، تعریف ہے اُس خدا کے لیے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا، نہ کوئی بادشاہی میں  اس کا شریک ہے،  اور نہ و ہ عاجز ہے کہ کوئی اُس کا پُشتیبان ہو۔‘‘ مَا ا تَّخَذَ اللہُ مِن وَّلَدٍ وَّمَا کَانَ مَعَہٗ مِنْ اِلٰہٍ۔  (المؤمنون۔۹۱) ’’اللہ نے کسی کو بیٹا نہیں  بنایا ہے،  اور کوئی دوسرا  خدا اس کے ساتھ نہیں  ہے۔ ‘‘ اِن آیات  میں  ہر پہلو سے اُن لوگوں  کے عقیدے کی تردید کی گئی ہے  جو اللہ کے لیے نَسبی اولاد یا متبنّیٰ بنائی ہوئی اولاد تجویز کرتے ہیں،  اور اُس کے غلط ہونے کے دلائل بھی بیان کر دیے گئے ہیں ۔  یہ اور اِسی مضمون کی دوسری بہت سی آیات جو قرآن مجید میں  ہیں،  سورۂ اخلاص کی بہترین تفسیر کرتی ہیں۔ ۶: اصل میں  لفظِ  کُفُو استعمال ہوا ہے جس کے معنی ہیں  نظیر، مُشابِہ، مُماثِل، ہم رتبہ، مُساوِی۔ نکاح کے معاملہ میں  کُفو کا لفظ ہماری زبان میں  بھی استعمال ہوتا ہے اور اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ لڑکا اور لڑکی معاشرتی حیثیت سے برابر کی جوڑ ہوں۔  پس اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ساری کائنات میں  کوئی نہیں  ہے،  نہ کبھی تھا، نہ کبھی ہو سکتا ہے،  جو اللہ کے مانند، یا اُس کا ہم مرتبہ ہو،  یا جو اپنی صفات،  افعال اور اختیارات میں  اُس سے کسی درجہ میں  بھی مشابہت  رکھتا ہو۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

۱۱۳۔سورۃ الفلق

 

 

نام

 

اگرچہ  قرآن مجید کی یہ آخری دو سورتیں  بجائے خود الگ الگ ہیں،  اور مُصْحَف میں  الگ ناموں  ہی سے لکھی ہوئی ہیں ،  لیکن اِن کے درمیان باہم اتنا گہرا تعلق ہے،  اور اِن کے مضامین ایک دوسرے سے اِتنی قریبی مناسبت رکھتے ہیں  کہ اِن کا ایک مشترک نام’’مُعَوِّذَتَیْن‘‘ (پناہ مانگنے والی دو سورتیں ) رکھا گیا ہے۔  امام بَیْہَقی نے دلائلِ نبوت میں  لکھا ہے کہ یہ نازل بھی ایک ساتھ ہی ہوئی ہیں،  اِسی وجہ سے دونوں  کا مجموعی نام مُعَوِّذَتَیْن ہے۔  ہم یہاں  دونوں  پر ایک ہی دیباچہ  لکھ رہے ہیں  کیونکہ ان سے متعلقہ مسائل و مباحث بالکل یکساں  ہیں۔  البتہ آگے ان کی ترجمانی و تفسیر الگ الگ کی جائے گی۔

 

زمانۂ نزول

 

حضرت حسن بصری، عِکْرِمہ،  عطاء اور جابر بن زید کہتے ہیں  کہ یہ سورتیں  مکّی ہیں۔  حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے بھی ایک روایت یہی ہے۔  مگر اُن سے دوسری روایت یہ ہے کہ یہ مدنی ہیں  اور یہی قول حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ قَتادہ کا بھی ہے۔  اِس دوسرے قول کو جو روایات تقویت پہنچاتی ہیں  ان میں  سے ایک مسلم، تِرمذی، نَسائی اور مُسندِ امام احمد بن حنبل میں  حضرت عُقْبَہؓ بن عامِر  کی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے ایک روز مجھ سے فرمایا المُ تراٰیاتٍ اُنزِلَت اللیلۃ، لم یُرَمثلھن، اَعُوّذُ بِرَبّ الْفَلَقِ، اَعُوّذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔ ’’تمہیں  کچھ پتہ ہے کہ آج رات مجھ پر کیسی آیات نازل ہوئی ہیں  ؟ یہ بے مثل آیات ہیں ۔  اعوذ بربّ الفلق اور اعوذ بربّ النّاس‘‘۔ یہ حدیث اس بنا پر اِن سورتوں  کے مدنی ہونے کہ دلیل ہے کہ حضرت عُقْبہ ؓ بن عامر ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں  ایمان لائے تھے،  جیسا کہ ابو داؤد اور نسائی نے خود اُن کے اپنے بیان سے نقل کیا ہے۔ (تفہیم القرآن ڈاٹ نیٹ)

دوسری روایات جو اِس قول کی تقویت کی موجب نبی ہیں  وہ ابن سعد، محیُّ السُّنَّہ بَغَوِی، امام نَسَفِی، امام بَیْہقَیِ، حافظ ابن حَجرَ، حافظ بدر الدین عَینی، عَبْد بن حُمیَد و غَیر ہم کی نقل کردہ یہ روایات ہیں  کہ جب مدینے میں  یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم پر جادو کیا تھا اور اس کے اثر سے حضورؐ بیمار ہو گئے تھے اس وقت یہ سورتیں  نازل ہوئی تھیں۔  ابن سعد نے واقِدی کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ یہ سن ۷ ہجری کا واقعہ ہے۔  اِسی بنا پر سُفیان بن عُیَیْنَہ نے بھی اِن سورتوں  کو مدنہ کہا ہے۔

لیکن جیسا کہ ہم سورۂ اخلاص کے دیباچے میں  بیان کرچکے ہیں ،  کسی سورۃ یا آیت کے متعلق جب یہ کہا جاتا ہے کہ وہ فلاں  موقع پر نازل ہوئی تھی تو اس کا مطلب لازماً یہی نہیں  ہوتا کہ وہ پہلی مرتبہ اُسی موقع پر نازل ہوئی تھی، بلکہ بعض اوقات ایسا ہوا ہے کہ ایک سورت یا آیت پہلے نازل ہو چکی ہوتی تھی، اور پھر کوئی خاص واقعہ یا صورتِ حال پیش آنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُسی کی طرف دوبارہ بلکہ کبھی کبھی بار بار حضور ؐ کو توجہ دلائی جاتی تھی۔ ہمارے نزدیک ایسا ہی معاملہ  مُعَوِّذَتَیْن کا بھی ہے۔  اِن کا مضمون صاف بتارہا ہے کہ یہ ابتداءً مکّہ میں  اُس وقت نازل ہوئی ہوں  گی جب وہاں  حضور ؐ کی مخالفت خوب زور پکڑ چکی تھی۔ بعد میں  جب مدینہ طیبہ میں  منافقین، یہود اور مشرکین کی مخالفت کے طوفان اٹھے تو حضورؐ کو پھر اِنہی دونوں  سورتوں  کے پڑھنے کی تلقین کی گئی جیسا کہ حضرت عقبہؓ بن عامر کی مندرجۂ بالا روایت میں  ذکر آیا ہے۔  اسی کے بعد جب آپ پر جادو کیا گیا اور آپ کی علالتِ مزاج نے شدّت اختیار کی تو اللہ کے حکم سے جبریل علیہ السلام نے آ کر پھر یہی سورتیں  پڑھنے کی آپ کو ہدایت کی۔ اس لیے ہمارے نزدیک اُن مفسّرین کا بیان ہی زیادہ معتبر ہے جو اِن دونوں  سورتوں  کو مکّی قرار دیتے ہیں۔  جادو کے معاملہ کے ساتھ اِن کو مخصوص سمجھنے میں  تو یہ امر بھی مانع ہے کہ اُس کے ساتھ صرف سورۂ فلق کی صرف ایک آیت وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ ہی تعلق رکھتی ہے،  سورۂ فَلَق کی باقی آیات اور پوری سورۂ الناس کا اِس معاملہ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں  ہے۔ موضوع اور مضمون        مکۂ معظمہ میں  یہ دونوں  سورتیں  جن حالات میں  نازل ہوئی تھیں  وہ یہ تھے کہ اسلام کی دعوت شروع ہوتے ہی ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے گویا بھِڑوں  کے چھتّے میں  ہاتھ ڈال دیا ہے۔  جوں  جوں  آپ کی دعوت پھیلتی گئی، کفّارِ قریش کی مخالفت بھی شدید ہوتی چلی گئی۔ جب تک اُنہیں  یہ امید رہی کہ شاید وہ کسی طرح کی سود سے بازی کر کے،  یا بہلا پھُسلا کر آپ کو اس کام سے باز رکھ سکیں  گے،  اُس وقت تک تو پھر بھی عَناد کی شدّت میں  کچھ کمی رہی۔ لیکن جب حضور ؐ نے اُن کو اس طرف سے بالکل مایوس کردیا کہ آپ ان کے ساتھ دین کے معاملہ میں  کوئی مصالحت کرنے پر آمادہ ہو سکیں  گے،  اور سورۂ کافرون میں  صاف صاف اُن سے کہہ دیا گیا کہ جن کی بندگی تم کرتے ہو اُن کی بندگی کرنے والا میں  نہیں  ہوں،  اور جس کی بندگی میں  کرتا ہوں  اُس کی بندگی کرنے والے تم نہیں  ہو، اس لیے میرا راستہ الگ ہے اور تمہارا راستہ الگ، تو کفار کی دشمنی اپنے پورے عروج پر پہنچ گئی۔ خصوصیت کے ساتھ جن خاندانوں  کے افراد  (مردوں  یا عورتوں،  لڑکوں  یا لڑکیوں ) نے اسلام قبول کر لیا تھا ان کے دلوں  میں  تو حضور کے خلاف ہر وقت بھٹّیاں  سُلگتی رہتی تھیں۔  گھر گھر آپ کو کوسا جا رہا تھا۔ خفیہ مشورے کیے جا رہے تھے کہ کسی وقت رات کو چھپ کر آپ کو قتل کردیا جائے تاکہ بنی ہاشم کو قاتل کا پتہ نہ چل سکے اور وہ بدلہ نہ لے سکیں ۔  آپ کے خلاف جادو ٹونے کیے جا رہے تھے تاکہ آپ یا تو وفات پاجائیں  یا سخت بیمار پڑجائیں،  یا دیوانے ہو جائیں۔  شیاطینِ جِنّ و انس ہر طرف پھیل گئے تھے تاکہ عوام کے دلوں  میں  آپ کے خلاف اور آپ کے لائے ہوئے دین اور قرآن کے خلاف کوئی نہ کوئی وسوسہ ڈال دیں  جس سے لوگ بدگمان ہو کر آپ سے دور بھاگنے لگیں۔  بہت سے لوگوں  میں  حسد کی آگ بھی جل رہی تھی، کیونکہ وہ اپنے سوا، یا اپنے قبیلے کے کسی آدمی کے سوا، دوسرے کسی شخص کا چراغ جلتے نہ دیکھ سکتے تھے۔  مثال کے طور پر، ابو جَہل جس بنا  پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کی مخالفت میں  حد سے بڑھتا چلا جاتا تھا اس کی وجہ وہ خود یہ بیان کرتا ہے کہ ’’ہمارا اور بنی عبدِ مَناف  (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کے خاندان) کا باہم مقابلہ تھا۔ اُنہوں  نے کھانے کھِلائے تو ہم نے بھی کھِلائے۔  اُنہوں  نے لوگوں  کو سواریاں  دیں  تو ہم نے بھی دیں۔  اُنہوں  نے عطیّے دیے تو ہم نے بحی دیے۔  یہاں  تک کہ وہ اور ہم جب عزت و شرف میں  برابر کی ٹکّر ہو گئے تو اب وہ کہتے ہیں  کہ ہم میں  ایک نبی ہے جس پر آسمان سے وحی اترتی ہے۔  بھلا اس میدان میں  ہم کیسے اُن کا مقابلہ کر سکتے ہیں ؟ خدا کی قسم ہم ہرگز اِس کو نہ مانیں  گے اور نہ اس کی تصدیق کریں  گے ‘‘ (ابنِ ہشام، جلد اول، ص ۳۳۷  – ۳۳۸)۔

اِن حالات میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم سے فرمایا گیا کہ اِن لوگوں  سے کہہ دو کہ میں  پناہ مانگتا ہوں   طلوعِ صبح کے رب کی، تمام مخلوقات کے شر سے،  رات کے اندھیرے اور جادوگروں  اور جادوگرنیوں  کے شر سے،  اور ھاسدوں  کے شر سے۔  اور ان سے کہہ دو کہ میں  پناہ مانگتا ہوں  انسانوں  کے رب، انسانوں  کے بادشاہ اور انسانوں  کے معبود کی ہر اُس وسوسہ انداز کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے اور لوگوں  کے دلوں  میں  وسوسے ڈالتا ہے،  خواہ وہ شیاطینِ جن میں  سے ہو یا شیاطینِ اِنس میں  سے۔  یہ اُسی طرح کی بات ہے جیسی حضرت موسیٰ نے اُس وقت فرمائی تھی جب فرعون نے بھرے دربار میں  اُن کے قتل کا ارادہ ظاہر کیا تھا کہ اِنِّی عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّکُمْ مِّنْ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ لَّا یُؤمِنُ بِیَوْمِالْحِسَبِ،  ’’میں  نے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے ہر اُس متکبِّر کے مقابلے میں  جو روزِ حساب پر ایمان نہیں  رکھتا‘‘(المومن، ۲۷) وَانِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّکُمْ اَنْ تَرْ جُمُوْنِ، ’’اور میں  نے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے اِس بات سے کہ تم مجھ پر حملہ آور ہو‘‘۔ (الدُّخان – ۲۰)۔

دونوں  مواقع پر اللہ کے اِن جلیل القدر پیغمبروں  کا مقابلہ بڑی بے سروسامانی کی حالت میں  بڑے سروسامان اور وسائل و ذرائع اور قوت و شوکت رکھنے والوں  سے تھا۔ دونوں  مواقع پر وہ طاقت ور دشمنوں  کے آگے اپنی دعوتِ حق پر ڈٹ گئے درانحالیکہ اُن کے پاس کوئی مادّی طاقت اپنی نہ تھی جس کے بل پر وہ اُن کا مقابلہ کر سکتے۔  اور دونوں  مواقع پر انہوں  نے دشمنوں  کی دھمکیوں  اور خطرناک تدبیروں  اور مُعانِدانہ چالوں  کو یہ کہہ کر نظر انداز کردیا کہ تمہارے مقابلے میں  ہم نے ربّ کائنات کی پناہ لے لی ہے۔  ظاہر ہے کہ یہ اولوالعزمی اور ثابت قدمی وہی شخص دکھا سکتا ہے جس کو یہ یقین ہوکہ اُس رب کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہے،  اُس کے مقابلے میں  دنیا کی ساری طاقتیں  ہیچ ہیں،  اور اس کی پناہ جسے حاصل ہو اس کا کوئی کچھ نہیں  بگاڑسکتا۔ وہی یہ کہہ سکتا ہے کہ میں  کلمۂ حق کے اعلان سے ہرگز نہیں  ہٹوں  گا، تم جو چاہو کر لو، مجھے اِس کی کوئی پروا نہیں،  کیونکہ میں  تمہارے اور اپنے اور ساری کائنات کے رب کی پناہ لے چکا ہوں۔

 

معّوذتین کی قُرآنیت

 

ان دونوں  سورتوں  کے موضوع اور مضمون کو سمجھنے کے لیے تو اتنی بحث ہی کافی ہے جو اوپر کی جا چکی ہے۔  لیکن چونکہ حدیث و تفسیر کی کتابوں  میں  اِن کے متعلق تین ایسے مباحث آگئے ہیں  جو دلوں  میں  شبہات پیدا کر سکتے ہیں،  اس لیے ہم اُن کو بھی صاف کردینا ضروری سمجھتے ہیں۔

ان میں  سے اوّلین قابلِ توجہ مسئلہ یہ ہے کہ آیا اِن دونوں  سورتوں  کا قرآنی سورتیں  ہونا قطعی طور پر ثابت ہے،  یا اس میں  کسی شک کی گنجائش ہے ؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوا کہ حضرت عبداللہؓ بن مسعود جیسے عظیم المرتبہ صحابی سے متعدد روایتوں  میں  یہ بات منقول ہوئی ہے کہ وہ اِن دونوں  سورتوں  کو قرآن کی سورتیں  نہیں  مانتے تھے اور اپنے مُصْحَف سے اُنہوں  نے اِن کو ساقط کردیا تھا۔ امام احمد، بَزّار، طَبَرانی، ابن مَرْ دُوْیَہ، ابو یَعلیٰ، عبداللہ بن احمد بن حَنَبل، حُمَیدی، ابو نُعیم، ابن حِبّان، وغیرہ محدّثین نے مختلف سندوں  سے،  اور اکثر و بیشتر صحیح سندوں  سے یہ بات حضرت ابنِ مسعود سے نقل کی ہے۔  اِن روایات میں  نہ صرف یہ کہا گیا ہے کہ اِن سورتوں  کو مُصحف سے ساقط کردیتے تھے،  بلکہ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ کہتے تھے ’’قرآن کے ساتھ وہ چیزیں  نہ ملاؤ جو قرآن کا جُز نہیں  ہیں۔  یہ دونوں  قرآن میں  شامل نہیں  ہیں۔  یہ تو ایک حکم تھا جو بنی صلی اللہ علیہ وسلّم کو دیا گیا تھا کہ آپ اِن الفاظ میں  خدا کی پناہ مانگیں ‘‘۔ بعض روایات میں  اِس پر یہ اضافہ بھی ہے کہ وہ اِن سورتوں  کو نماز میں  نہیں  پڑھتے تھے۔

اِن روایات کی بنا پر مخالفینِ اِسلام کو قرآن کے بارے میں  یہ شبہات اُبھارنے کا موقع مل گیا کہ معاذاللہ یہ کتاب تحریف سے محفوظ نہیں  ہے بلکہ اِس میں  جب یہ دوسورتیں  ابنِ مسعودؓ جیسے صحابی کے بیان کے مطابق اِلحاقی ہیں  تو نہ معلوم اور کیا کیا حذف و اضافے اِس کے اندر ہوئے ہوں  گے۔  اِس طعن سے پیچھا چھڑانے کے لیے قاضی ابوبکر الباقِلّانِی اور قاضی عِیاض وغیرہ نے یہ تاویل کی کہ ابنِ مسعودؓ مُعَوِّذتَین کی قرانیت کے منکر نہ تھے بلکہ صرف ان کو مُصْحَف میں  درج کرنے سے انکار کرتے تھے،  کیونکہ اُن کے نزدیک مُصْحَف میں  صرف وہی چیز درج کی جانی چاہیے تھی جس کے ثبت کرنے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے اجازت دی ہو، اور ابن مسعودؓ تک یہ اطلاع نہیں  پہنچی تھی کہ حضورؐ نے اس کی اجازت دی ہے۔  لیکن یہ تاویل درست نہیں  ہے،  کیونکہ صحیح سندوں  کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ ابن مسعودؓ نے اِن کے قرآنی سورتیں  ہونے کا انکار کیا ہے۔  کچھ دوسرے بزرگوں ،  مثلاً مام نَوَوی، امام ابن حَزْم اور امام فخرالدین رازی نے سرے سے اِس بات ہی کو جھوٹ اور باطل قرار دیا ہے کہ ابن مسعود ؓ نے ایسی کوئی بات کہی ہے۔  مگر مستند تاریخی حقائق کو بلا سند رد کردینا کوئی علمی طریقہ نہیں  ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ابن مسعود ؓ کی اِن روایات سے قرآن پر جو طعن وارد ہوتا ہے اس کا صحیح رو کیا ہے ؟ اِس سوال کے کئی جواب ہیں  جن کو ہم سلسلہ وار درج کرتے ہیں :

(۱)      حافظ بَزّار نے اپنی مُسند میں  ابن مسعودؓ کی یہ روایات نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اپنی اِس رائے میں  وہ بالکل منفرد ہیں۔  صحابہ میں  سے کسی نے بھی اُن کے اِس قول کی تائید نہیں  کی ہے۔

(۲)      تمام صحابہ کے اتفاق سے خلیفۂ ثالث سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کے جو نسخے مرتّب کروائے تھے اور خلافتِ اسلامیہ کی طرف سے جن کو دنیائے اسلام کے مراکز میں  سرکاری طور پر بھیجا تھا، اُن میں  یہ دونوں  سورتیں  درج تھیں۔

(۳)     رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کے عہدمبارک سے آج تک تمام  دنیائے اسلام کا جس مُصْحَف پر اجماع ہے اُس میں  یہ دونوں  سورتیں  درج ہیں۔  تنہا عبداللہ بن مسعودؓ کی رائے،  اُن کی جلالت قدر کے باوجود، اِس عظیم اِجماع کے مقابلے میں  کوئی وزن نہیں  رکھتی۔

(۴)     رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم سے نہایت صحیح و معتبرا حادیث کے مطابق یہ ثابت ہے کہ آپ نے اِن سورتوں  کو نماز میں  خود پڑھا ہے،  دوسروں  کو پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے اور قرآن کی سورتوں  کی حیثیت ہی سے لوگوں  کو اِن کی تعلیم دی ہے۔  مثال کے طور پر ذیل کی احادیث ملاحظہ ہوں :

مسلم، احمد، تِرْمِذِی، اور نَسائی کے حوالہ سے حضرت عُقْبہ بن عامِرؓ کی یہ روایت ہم اوپر نقل کرچکے ہیں  کہ حضورؐ نے سورۂ ناس کے متعلق اُن سے یہ فرمایا کہ آج رات یہ آیات مجھ پر نازل ہوئی ہیں۔  نَسائی کی ایک روایت عُقْبہ بن عامِر ؓ سے یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے یہ دونوں  سورتیں  صبح کی نماز میں  پڑھیں۔  ابن حِبّان نے اِنہی حضرت عُقْبہ سے روایت نقل کی ہے کہ حضورؐ نے اُن سے فرمایا ’’اگر ممکن ہو تو تمہاری نمازوں  سے اِن دونوں  سورتوں  کی قراءت چھوٹنے نہ پائے ‘‘۔ سعید بن منصور نے حضرت مُعاذ بن حَبَلؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضورؐ نے صبح کی نماز میں  یہ دونوں  سورتیں   پڑھیں۔  امام احمد اپنی مُسند میں  صحیح سند کے ساتھ ایک اور صحابی کی یہ روایت لائے ہیں  کہ حضورؐ نے اُن سے فرمایا جب تمج نماز پڑھو تو اس میں  یہ دونوں  سورتیں  پڑھا کرو۔ مُسند احمد، ابوداؤد اور نَسائی میں  عُقْبہ بن عامِرؓ کی یہ روایت آئی ہے کہ حضورؐ نے اُن سے فرمایا ’’کیا میں  دو ایسی سورتیں  تمہیں  نہ سکھاؤں  جو اُن بہترین سورتوں  میں  سے ہیں  جنہیں  لوگ پڑھتے ہیں ؟‘‘انہوں  نے عرض کیا ضرور یا رسول اللہ۔ اس پر حضورؐ نے ان کو یہی معوّذتین پڑھائیں۔  پھر نماز کھڑی ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے یہی دو سورتیں  اس میں  بھی پڑھیں۔  اور نماز کے بعد پلٹ کر جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم اُن کے پاس سے گزرے تو فرمایا ’’اے عقب، کیسا پایا تم نے ‘‘؟ اور اس کے بعد اُن کو ہدایت فرمائی کہ جب تم سونے لگو اور جب سو کر اٹھو تو اِن سورتوں  کو پڑھا کرو۔مُسند احمد، ابو داود، ترمذی اور نسائی میں  عُقبہ بن عامر کی ایک روایت یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے ان کو ہر نماز کے بعد معوّ ذات (یعنی قل ہو اللہ احد اور معوّذتین) پڑھنے کی تلقین کی۔ نسائی، ابن مردویہ اور حاکم نے عُقبہ بن عامر کی یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سواری پر چلے جا رہے تھے اور میں  آپ کے قدم مبارک پر ہاتھ رکھے ہوئے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ میں  نے عرض کیا مجھے سورہ ہود یا سورہ یوسف سکھا دیجیے۔  فرمایا’’اللہ کے نزدیک بندے کے لیے قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ سے زیادہ نافع کوئی چیز نہیں  ہے ‘‘۔ عبد اللہ بن عابس الجُہَنِی کی روایت نسائی، بَیْقَہی، لَغَوی اور ابن سعد نے نقل کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے مجھ سے فرمایا’’ابن عابس، کیا میں  تمہیں  نہ بتاوں  کہ پناہ مانگنے والوں  نے جتنی چیزوں  کے ذریعہ سے اللہ کی پناہ مانگی ہے ان میں  سب سے افضل کون سی چیزیں  ہیں ؟‘‘ میں  نے عرض کیا ضرور یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم۔ فرمایا’’قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ  اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ، یہ دونوں  سورتیں ‘‘ابن مردویہ نے حضرت امّ سلمہ کی روایت نقل کی ہے  کہ اللہ کو جو سورتیں  سب سے زیادہ پسند ہیں  وہ قل اعوذ بربّ الفلق اور قل اعوذ بربّ الناس ہیں۔

یہاں  یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مسعود کو یہ غلط فہمی آخر کیسے لاحق ہوئی کہ یہ دونوں  قرآن مجید کی سورتیں  نہیں  ہیں ؟ اِ س کا جواب ہمیں  دو روایتوں  کو جمع کر کے دیکھنے سے ملتا ہے۔  ایک یہ روایت کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے تھے کہ یہ تو ایک حکم تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو دیا گیا تھا کہ آپ اِس طرح تعوّذ کیا کریں۔  دوسری وہ روایت جو کئی مختلف سندوں  سے امام بخاری نے صحیح البخاری میں ،  امام احمد نے اپنی مُسند میں۔  حافظ ابو بکر الحُمیدی نے اپنی سُند میں،  ابو نُعَیم نے اپنی المُسْتَخْرج میں  اور نسائی نے اپنی سُنن میں  زربن حُبَیش کے حوالے سے تھوڑے تھوڑے لفظی اختلاف کے ساتھ حضرت اُبَیّ بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے،  جو علم قرآن کے لحاظ سے صحابہ کرام میں  ایک ممتاز مقام رکھتے تھے،  نقل کی ہے۔  زرین حُبَیش کا بیان ہے کہ میں  نے  حضرت اُبَیّ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  کہا کہ آپ کے بھائی عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مسعود ایسا اور ایسا کہتے ہیں۔  آپ ان کے اس اقوال کے متعلق کیا کہتے ہیں ؟ انہوں  نے جواب دیا  کہ ’’میں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے اس کے بارے میں  سوال کیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے فرمایا کہ مجھ سے کہا گیا قُل، تو میں  نے بھی کہا قُل۔ اس لیے ہم بھی اُسی طرح کہتے ہیں  جس طرح حضور صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کہتے تھے ‘‘۔ امام احمد کی روایت میں  حضرت اُبَیّ کے الفاظ یہ ہیں : ’’میں  شہادت دیتا ہوں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے مجھے بتایا کہ جبریل علیہ السلام نے آپ سے قُل اعوذ برب الفلق کہا تھا اس لیے اپ نے بھی ایسا ہی کہا، اورا نہوں  نے قُل اعوذ برب الناس کہا تھا اس لیے آپ نے بھی  ایسا ہی کیا۔ لہٰذا ہم بھی اُسی طرح کہتے ہیں  جس طرح حضور صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے کہا۔‘‘ان دونوں  روایتوں  پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دونوں  سورتوں  میں  لفظ قُل(کہو) دیکھ کر یہ غلط فہمی ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو اعوذ برب الفلق اور اعوذ برب الناس کہنے کا حکم دیا گیا تھا۔ لکن) انہوں  نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے اِس کے متعلق سوال کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ حضرت اُبَیّ بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذہن میں  بھی اس کے متعلق سوال پیدا ہوا اور انہوں  نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے اِس کو پوچھ لیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے بتایا کہ جبریل علیہ السلام نے چونکہ قُل کہا تھا اس لیے میں  بھی قُل کہتا ہوں۔  اس بات کو یوں  سمجھیے کہ اگر کسی کو حکم دینا مقصود ہواور اس سے کہا جائے کہ’’میں  پناہ مانگتاہوں ‘‘، تو وہ حکم کی تعمیل  میں  یہ نہیں  کہے گا کہ ’’کہو، میں  پناہ مانگتا ہوں ‘‘، بلکہ وہ ’’کہو‘‘کا لفظ ساقط کر کے ’’میں  پناہ مانگتا ہوں ‘‘کہے گا۔ بخلاف اس کے اگر کسی کو بالا دست حاکم کا پیغام بر اِن الفاظ میں  پیغام پہنچائے کہ’’کہو، میں  پناہ مانگتا ہوں ‘‘ اور یہ پیغام اُسے اپنے تک رکھنے کے لیے نہیں  بلکہ دوسروں  تک پہنچانے کے لیے دیا جائے تو وہ لوگوں  تک پیغام  کے الفاظ کوجوں  کا توں  پہنچائے گا، اُس میں  سے کوئی چیز ساقط کرنے کا مجاز نہ ہو گا۔پس اِن دونوں  سورتوں  کی ابتدا لفظ قُل سے ہونا اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ یہ کلام دی ہے  جسے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو دیا گیا ہو۔ قرآن مجید میں  اِن دونوں  سورتوں  کے علاوہ ۱۳۳۰ آیتیں  ایسی ہیں  جو لفظ قُل(کہو)سے شروع ہوئی ہیں۔  ان سب میں  قُل کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ یہ کلامِ وحی ہے جسے اُنہی الفاظ میں  پہنچانا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے ذمہ فرض تھا جن الفاظ میں  یہ آپ پر نازل کیا گیا تھا، اور اُسے قرآن میں  درج نہ کیا جاتا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم صرف اِس حکم کی تعمیل میں  وہ بات کہہ دینے پر اکتفا فرماتے جسے کہنے کا آپ کو حکم دیا گیا  تھا۔

اس مقام پر اگر آدمی کچھ غور کرے تو اُس کی سمجھ میں  یہ بات اچھی طرح آ سکتی ہے کہ صحابہ کرام کو  بے خطا سمجھنا اور اُن کی کسی بات کے لیے غلط کا لفظ سنتے ہی توہین صحابہ کا شور مچا دینا کس قدر بے جا حرکت ہے۔  یہاں  آپ دیکھ رہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی سے قرآن کی دوسورتوں  کے بارے میں  کتنی بڑی چُوک ہو گئی۔ ایسی چوک اگر اتنے عظیم مرتبہ کے صحابی سے ہو سکتی ہے تو دوسروں  سے بھی کوئی چوک ہو جاتی ممکن ہے۔  ہم علمی تحقیق کے لیے اُس چھان بین بھی کر سکتے ہیں،  اور کسی صحابی کو کوئی بات یا چند باتیں  غلط ہوں  تو انہیں  غلط بھی کہہ سکتے ہیں۔  البتہ سخت ظالم ہو گا وہ شخص جو غلط کہنے سے آگے بڑھ کر اُن پر زبان طعن دراز کرے۔  اِنہی معوّذتین کے بارے میں  مفسرین و محدثین نے ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے کو غلط کہا ہے،  مگر کسی نے یہ کہنے کی جرأت نہیں  کی کہ قرآن کی دوسورتوں  کا انکار کر کے معاذ اللہ وہ کافر ہو گئے تھے۔ حضورؐ پر جادو کا اثر: دوسرا مسئلہ جو اِن سورتوں  کے معاملہ میں  پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ روایات کی رو سے حضورؐ پر جادو کیا گیا تھا، اور اس کے اثر سے آپ بیمار ہو گئے تھے،  اور اس اثر کو  دور کرنے کے لیے جبریل علیہ السلام نے آ کر آپ کو یہ سورتیں  پڑھنے کی ہدایت کی تھی۔ اس پر قدیم اور جدید زمانے کے بہت سے عقلیت پسندوں  نے اعتراض کیا ہے کہ روایات اگر مان لی جائیں  تو شریعت ساری کی ساری مُشْتَبہ ہو جاتی ہے۔  کیونکہ اگر نبی پر جادو کا اثر ہو سکتا تھا، اور ان روایات کی رو سے ہو گیا تھا، تو ہم نہیں  کہہ سکتے کہ مخالفین نے جادو کے زور پر نبی سے کیا کیا کہلوا اور کروالیا ہو، اور اُس کی دی ہوئی تعلیم میں  کتنی چیزیں  خدا کی طرف سے ہوں  اور کتنی جادو کے زیر اثر۔ یہی نہیں  بلکہ وہ کہتے ہیں  کہ اس بات کو سچ مان لینے کے بعد تو یہ بھی نہیں  کہا جا سکتا کہ جادو ہی کے ذریعہ سے نبی کو نبوت کے دعوے پر اُکسایا گیا ہو اور نبی نے غلط فہمی میں  مبتلا ہو کر یہ سمجھ لیا ہو کہ اُس کے پاس فرشتہ آیا ہے۔  اُن کا استدلال یہ بھی ہ ہے کہ یہ سِحر زدہ آدمی ہے (یَقُوْلُ الظّٰلِمُؤنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلّاَ رَجُلاً مَّسْحُوْراً۔ بنی اسرائیل ۴۷)، مگر یہ احادیث کفارہ کے الزام کی تصدیق کرتی ہیں  کہ واقعی نبی پرسِحر کا اثر ہوا تھا۔

اس مسئلے  کی تحقیق کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ کیا درحقیقت مستند تاریخی روایات کی رو سے یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم پر جادو کا اثر ہوا تھا؟ اور اگر ہوا تھا تو وہ کیا تھا اور کس حد تک تھا؟ اس کے بعد یہ دیکھا جائے کہ جو کچھ تاریخ سے ثابت ہے اس پر اعتراضات وارد بھی ہوتے ہیں  یا نہیں  جو کیے گئے ہیں ؟

قرونِ اولیٰ کے مسلمان علماء کی یہ انتہائی راستبازی تھی کہ انہوں  نے اپنے خیالات اور مزعومات کے مطابق تاریخ کو مسخ کرنے یا حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں  کی، بلکہ جو کچھ تاریخی طور پر ثابت تھا اسے جوں  کا توں  بعد کی نسلوں  تک پہنچا دیا اور اُس بات کی کوئی پروا نہیں  کی کہ اِن حقائق سے اگر کوئی اُلٹے نتائج نکالنے پر اتر آئے تو اُن کا فراہم کردہ یہ مواد کس طرح اُس کے کام آ سکتا ہے۔  اب اگر ایک بات نہایت مُستند اور کثیر تاریخی ذرائع سے ثابت ہو تو کسی دیانت دار صاحبِ علم کے لیے نہ تو یہ درست ہے کہ وہ اِس بنا پر تاریخ کا انکار کردے کہ اُس کو مان لینے سے اُس کے نزدیک فلاں  فلاں  قباحتیں  رونما ہوتی ہیں،  اور نہ یہی درست ہے کہ جتنی بات تاریخ سے ثابت ہے اس کو قیاسات کے گھوڑے دوڑا کر اُس اصلی حد سے پھیلانے اور بڑھانے کی کوشش کرے۔  اس کے بجائے اُس کا کام یہ ہے کہ تاریخ کو تاریخ کی حیثیت سے مان لے اور پھر دیکھے کہ اُس سے فی الواقع کیا ثابت ہوتا ہے اور کیا نہیں  ہوتا۔

جہاں  تک تاریخی حیثیت کا تعلق ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم پر جادو کا اثر ہونے کا واقعہ قطعی طور پر ثابت ہے اور علمی تنقید سے اُس کا اگر غلط ثابت کیا جا سکتا ہو تو پھر دنیا کا کوئی تاریخی واقعہ بھی صحیح ثابت نہیں  کیا جا سکتا۔ اسے حضرت عائشہؓ،  حضرت زیدؓبن ارقم اور حضرت عبد اللہؓبن عباس سے بخاری، مسلم، نَسائی، ابن ماجہ، امام احمد، عبد الرزاق، حُمَیدی، بیقہی، طَبرانی، ابن سَعد، ابن مردویہ، ابن ابی شیبہ، حاکم،  عبد بن حمید وغیرہ محدثین نے اتنی مختلف اور کثیر التعداد سندوں  سے نقل کیا ہے کہ اُس کا نفس مضمون تو اُتر کی حد کو پہنچا ہوا ہے،  اگرچہ ایک ایک روایت بجائے خود خبرِ واحد ہے۔  اس کی تفصیلات جو روایات میں  آئی ہیں  انہیں  ہم مجموعی طور پر تمام روایات سے مرتب کر کے ایک مربوط واقعہ کی صورت میں  یہاں  درج کرتے ہیں۔ صلح حُدیبیہ کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم مدینہ واپش تشریف لائے تو محرم۷؁ھ میں  خیبر سے یہودیوں  کا ایک وفد مدینہ آیا اور ایک مشہور جا دوگر لَبید بن اَعصم سے ملا جو انصار کے قبیلہ بنی زُرَیق سے تعلق رکھتا تھا۔ ۱؎

ان لوگوں  نے اُس سے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے ہمارے ساتھ جو کچھ کیا ہے تو تمہیں  معلوم ہے۔  ہم نے اُن پر بہت جادو کرنے کی کوشش کی، مگر کوئی کامیابی نہیں  ہوئی۔ اب ہم تمہارے پاس آئے ہیں،  کیونکہ تم ہم سے بڑے جادوگر ہو۔ لو، یہ تین اشرفیاں  حاضر ہیں،  انہیں  قبول کر و اور محمدؐ پر ایک  زور کا جادو کردو۔ اُس زمانے میں  حضورؐ کے ہاں  ایک یہودی لڑکا خدمت گار تھا۔ اُس سے سازباز کر کے اِن لوگوں  نے حضورؐ کی کنگھی کا ایک ٹکڑا حاصل کر لیا جس میں  آپ کے موئے مبارک تھے۔  انہی بالوں  اور کنگھی کے دندانوں  پر جادو کیا گیا۔ بعض روایات میں  یہ ہے کہ لَبید بن اعصم نے خود جادو کیا تھا، اور بعض میں  یہ ہے کہ اس کی بہنیں  اس سے زیادہ جادوگرنیاں  تھیں،  اُن سے اُس نے جادو کروایا تھا۔ بہر حال ان دنوں  صورتوں  میں  سے جو صورت بھی ہو، اس جادو کو ایک نَر کھجور کے خوشے کے غلاف ۲؎ میں  رکھ کر لَبید نے بنی زُریق کے کنویں  ذَرْوان یا ذی اَزوان نامی کی تہ میں   ایک پتھر کے نیچے دبا دیا۔اس جادو کا اثر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم پر ہوتے ہوتے پورا ایک سال لگا، دوسری ششماہی میں  کچھ تغیرِ مزاج محسوس ہونا شروع ہوا، آخری چالیس دن سخت اور آخری تین دن زیادہ سخت گزرے۔  مگر اس کا زیادہ سے زیادہ جو اثر حضورؐ پر ہوا وہ بس یہ تھا کہ آپ گھلتے چلے جا رہے تھے،  کسی کام کے متعلق خیال فرماتے کہ ہو کر  لیا ہے مگر نہیں  کیا ہوتا تھا، اپنی اَزواج کے متعلق خیال فرماتے کہ آپ ان کے پاس گئے ہیں  مگر نہیں  گئے ہوتے  تھے،  اور بعض اوقات آپ کو اپنی نظر پر بھی شبہ ہوتا تھا کہ کسی چیز کو دیکھا ہے مگر نہیں  دیکھا ہوتا تھا۔ یہ تمام اثرات آپ کی ذات تک محدود رہے،  حتی کہ دوسرے لوگوں  کو یہ معلوم تک نہ ہو سکا کہ آپ پر کیا گزررہی ہے۔  رہی آپ کے نبی ہونے کی حیثیت تو اُس میں  آپ کے فرائض کے اندر کوئی خلل واقع نہ ہونے پایا۔ کسی روایت میں  یہ نہیں  ہے کہ اُس زمانے میں  آپ قرآن کی کوئی آیت بھول گئے ہوں،  یا کوئی آیت آپ نے غلط پڑھ ڈالی ہو، یا اپنی صحبتوں  میں  اور اپنے وعظوں  اور خطبوں  میں  آپ کی تعلیمات کے اندر کوئی فرق واقع ہو گیا ہو، یا کوئی ایسا کلام آپ نے وحی کی حیثیت سے پیش کر دیا ہو جو فی الواقع آپ پر نازل نہ ہوا ہو، یا نماز آپ سے چھوٹ گئی ہو اور اس کے متعلق بھی کبھی آپ نے سمجھ لیا ہو کہ پڑھ لی ہے مگر نہ پڑھی ہو۔ ایسی کوئی بات معاذ اللہ پیش آ جاتی تو دھوم مچ جاتی، اور پورا ملک عرب اس سے واقف ہو جاتا کہ جس نبی کی کوئی طاقت چت نہ کس سکی تھی اسے ایک جادو گر نے چت کر دیا۔ لیکن آپ کی حیثیت نبوت اس سے بالکل غیر متاثر رہی اور صرف اپنی ذاتی زندگی  میں  آپ اپنی جگہ اسے محسوس کر کے پریشان ہوتے رہے۔  آخر کار ایک روز آپ حضرت عائشہؓ کے ہاں  تھے کہ آپ نے بار بار اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی۔ اسی حالت میں  نیند آگئی یا غنودگی طاری ہوئی اور پھر بیدار ہو کر آپ نے حضرت عائشہؓ سے کہا کہ میں  نے جو بات اپنے رب سے پوچھی تھی وہ اس نے مجھے بتا دی ہے۔  حضرت عائشہؓ نے عرض کیا وہ کیا بات ہے ؟ آپ نے فرمایا دو آدمی (یعنی فرشتے دو آدمیوں  کی صورت میں ) میرے پاس آئے۔  ایک سرھانے کی طرف تھا اور دوسرا پائینتی کی طرف۔ ایک نے پوچھا انہیں  کیا ہوا؟ دوسرے نے جواب دیا ان پر جادو ہوا ہے۔  اُس نے پوچھا کس نے کیا ہے ؟ جواب دیا لَبِید بن اَعصم نے۔  پوچھا کس چیز میں  کیا ہے ؟ جواب دیا کنگھی اور بالوں  میں  ایک نَرکھجورخوشے کے غلاف کے اندر۔ پوچھا وہ کہاں  ہے ؟ جواب دیابنی زُریق کے کنویں  ذی اَرْوان (یا ذَرْوان) کی تہہ کے پتھر  کے نیچے ہے۔  پوچھا اب اس کے  لیے کیا کیا جائے ؟ جواب دیا کہ کنویں  کا پانی سونت کر دیا جائے اور پھر پتھر کی نیچے سے اُس کو نکالا جائے۔  اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت علیؓ، حضرت عَمّار بن یاسرؓ اور حضرت زُبیرؓ کو بھیجا۔ ان کے ساتھ جُبَیر بنؓ اِیاس الزّرقی اور قیسؓ بن مُحِسن الزّرقی (یعنی بنی زُریق کے یہ دو اصحاب) بھی  شامل ہو گئے۔  بعد میں  حضورؐ خود بھی چند اصحاب کے ساتھ وہاں  پہنچ گئے۔  پانی نکالا گیا اور وہ غلاف بر آمد کر لیا گیا۔ اُ س میں  کنگھی اور بالوں  کے ساتھ ایک تانت کے اندر گیارہ گرھیں  پڑی ہونی تھیں  اور موم کا ایک پُتلا تھا جس میں  سُوئیاں  چُبھوئی ہوئی تھیں۔  جبریل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ آپ معوّذَتین پڑھیں۔  چنانچہ آپ ایک ایک آیت پڑھتے جاتے اور اس کے ساتھ ایک ایک گرہ کھولی جاتی اور پُتلے میں  سے ایک ایک سوئی نکالی جاتی رہی۔ خاتمہ تک پہنچتے ہی ساری گرھیں  کھل گئیں،  ساری سوئیاں  نکل گئیں،  اور آپ جادو کے اثر سے نکل کر بالکل ایسے ہو گئے جیسے کوئی شخص بندھا ہواتھا، پھر کھل گیا۔ اس کے بعد آپ نے لَبید کو بلا کر باز پرس کی۔ اُس نے اپنے قصور کا اعتراف کر لیا اور آپ نے اس کو چھوڑ دیا، کیونکہ اپنی ذات کے لیے آپ نے کبھی کس سے انتقام نہیں  لیا۔ یہی نہیں  بلکہ آپ نے اِ س معاملہ کا چرچا کرنے سے بھی یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ مجھے اللہ نے شفا دے دی ہے،  اب میں  نہیں  چاہتا کہ کسی کے خلاف لوگوں  کو بھڑکاؤں۔

یہ ہے سارا قصہ اس جادو کا۔ اس میں  کوئی چیز ایسی نہیں  ہے جو آپ کے منصبِ نبوت میں  قادِ ح ہو۔ ذاتی حیثیت سے اگر آپ کو زخمی کیا جا سکتا تھا جیسا کہ جنگِ اُحد میں  ہوا، اگر آپ گھوڑے سے گِر کر چوٹ کھا سکتے تھے،  جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے،  اگر آپ کو بچھو کاٹ سکتا تھا، جیسا کہ کچھ اور احادیث میں  وارد ہوا ہے،  اور ان میں  سے کوئی چیز بھی اُس تحفظ کے مُنافی نہیں  ہے جس کا نبی ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ کیا تھا، تو آپ اپنی ذاتی حیثیت میں  جادو کے اثر سے بیمار بھی ہو سکتے تھے۔  نبی پر جادو کا اثر ہو سکتا ہے،  یہ بات تو قرآن مجید سے بھی ثابت ہے۔  سورہ اعراف میں  فرعون کے جادوگروں  کے متعلق بیان ہوا ہے کہ  حضرت موسیٰ کے مقابلے میں   جب وہ آئے تو اُنہوں  نے ہزار ہا آدمیوں  کے اُس پورے مجمع کی نگاہوں  میں  جادو کر دیا جو وہاں  دونوں  کا مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہوا تھا ( سَحَرُوْٓ اَعْیُنْ النَّاسِ۔ آیت ۱۱۶)، اور سورہ طٰہٰ میں  ہے کہ جو لاٹھیاں  اور رسیاں  انہوں  نے پھینکی تھیں  ان کے متعلق عام لوگوں  ہی نے نہیں  حضرت موسیٰ نے بھی یہی سمجھا کہ وہ اُن کی طرف سانپوں   کی طرح ددوڑی چلی آرہی ہیں  اور اس سے حضرت موسیٰ خوف زدہ ہو گئے،  یہاں  تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی نازل کی کہ خوف نہ کرو تم ہی غالب رہو گے،  ذرا اپنا عصا پھینکو (فَاِذَا حِبَالھُُمْ وَعِصِیّھُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْہِ اِنَّھَا تَسْعیٰ۔ فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖ خِیْفَۃً مُّوْسیٰ، قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْا عْلیٰ، وَاَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِکَ۔ آیات۶۶ تا ۶۹)۔ رہا یہ اعتراض کہ یہ تو کفارِ مکہ  کے اُس القام کی تصدیق ہو گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو  وہ سحر زدہ آدمی کہتے تھے،  تو اس کا جوا ب یہ ہے کہ کفار آپ کو سحر زدہ آدی اس معنی میں  نہیں  کہتے  تھے کہ آپ کسی جادوگر کے اثر سے بیمار ہو گئے ہیں،  بلکہ اس معنی میں  کہتے تھے کہ کسی جادو گر نے معاذ اللہ آپ کو یہ پاگل کر دیا ہے اور اِسی پاگل پن میں  آپ نبوت کا دعویٰ کر بیٹھے ہیں  اور جنت و دوزخ  کے افسانے سنا رہے ہیں۔  اب ظاہر ہے کہ یہ اعتراض ایسے معاملہ پر سرے سے چسپاں  ہی نہیں  ہوتا جس کے متعلق تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ جادو کا اثر صرف ذاتِ محمدؐ پر ہوا تھا، نبوت محمدؐ اس سے بالکل غیر متاثر  رہی۔

اس سلسلے میں  یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جو لوگ جادو کو محض اَوہام کے قبیل کی چیز قرار دیتے ہیں  اُن کی یہ رائے صرف اس وجہ سے ہے کہ جادو کے اثرات کی کوئی سائنٹفک توجیہ نہیں  کی جا سکتی۔ لیکن دنیا میں  بہت سی چیزیں  ایسی ہیں  جو تجربے اور مشاہدے میں  آتی ہیں،  مگر سائنٹفک  طریقہ سے یہ بیان  نہیں  کیا جا سکتا کہ وہ کیسے رونما ہوتی ہیں۔  اس طرح کی توجیہ پر اگر ہم قادر نہیں  ہیں  تو اس سے یہ لازم نہیں  آتا کہ اُس چیز ہی کا انکار کر دیا جائے جس کی ہم توجیہ نہیں  کر سکتے۔  جادو دراصل ایک نفسیاتی اثر ہے جو نفس سے گزر کر جسم کو بھی اُسی طرح متاثر کر سکتا ہے جس طرح جسمانی اثرات جسم سے گزر کر نفس کو متاثر کرتے ہوہیں،  مثال کے طور پر خوف ایک نفسیاتی چیز ہے،  مگر اس کا اثر جسم پر یہ ہوتا ہے کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں  اور بدن میں  تھر تھری چھوٹ جاتی ہے۔  دراصل جادو سے حقیقت تبدیل نہیں  ہوتی، مگر انسان کا نفس اور اس کے حواس اُس سے متاثر ہو کر یہ محسوس کرنے لگتے ہیں  کہ حقیقت تبدیل ہو گئی ہے۔  حضرت موسیٰ کی طرف جادو گروں  نے جو لاٹھیاں  اور رسیاں  پھینکی تھیں  وہ واقعی سانپ نہیں  بن گئی تھیں،  لیکن ہزاروں  کے مجمع کی آنکھوں  پر ایسای جادو ہوا کہ سب نے انہیں  سانپ ہی محسوس کیا، اور حضرت موسیٰ تک کے حواس جادو کی اِس تاثیر سے محفوظ نہ رہ سکے۔  اسی طرح قرآن (البقرہ، آیت۱۰۲) میں  بیان کیا گیا ہے کہ بابِل میں  ھاروت اور ماروت سے لوگ ایسا جادو سیکھتے تھے جو شوہر اور بیوی میں  جدائی ڈال دے۔  یہ بھی ایک نفسیاتی اثر تھا،  اور ظاہر ہے کہ اگ تجربے سے لوگوں  کواس عمل کی کامیابی معلوم نہ ہوتی تو وہ  اس کے خریدار نہ بن  سکتے تھے۔  بلا شبہ یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ بندوق کی گولی اور ہوائی جہاز سے گرنے والے بن کی طرح جادو کا مؤثر ہونا بھی اللہ کے اذن کے بغیر ممکن نہیں  ہے،  مگر جو چیز ہزارہا سال سے انسان کے تجربے اور مشاہدے میں  آرہی  ہو اس کے وجود کو  جھُٹلا دینا محض ایک ہٹ دھرمی ہے۔ اسلام میں  جھاڑ پھونک کی حیثیت: تیسرا مسئلہ اِن سورتوں  کے معاملہ میں  یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا جھاڑ پھونک کی اسلام میں  کوئی گنجائش ہے ؟ اور یہ کہ جھاڑ پھونک بجائے خود مؤثر بھی ہے یا نہیں ؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ بکثرت صحیح احادیث میں  یہ ذکر آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم ہر رات کو سوتے وقت، اور خاص طور پر بیماری کی حالت میں  معوّذتین، یا بعض روایات کے مطابق مُعوّذات (یعنی قل ہو اللہ اور معوِّذتین) تین مرتبہ پڑھ کر اپنے دونوں  ہاتھوں  میں  پھونکتے اور سر سے لے کر پاؤں  تک پورے جسم پر، جہاں  جہاں  تک بھی آپ کے ہاتھ پہنچ سکتے،  انہیں  پھیرتے تھے۔ آخر بیماری میں  جب آپ کے لیے خود ایسا کرنا ممکن نہ رہا تو حضرت عائشہ نے یہ سورتیں  (بطور خود یا حضورؐ کے حکم سے ) پڑھیں  اور آپ کے دست مبارک کی برکت کے خیال سے آپ ہی کے ہاتھ لے کر آپ کے جسم پر پھیرے۔  اس مضمون کی روایات صحیح سندوں   کے ساتھ بخاری، مسلم، نسائی، ابن ماجہ، ابو داؤد اور مؤطا امام مالک میں  خود حضرت عائشہ سے مروی ہیں  جن سے بڑھ کر کوئی بھی  حضورؐ کی خانگی زندگی سے واقف نہ ہو سکتا تھا۔

اِس معاملہ میں  پہلے مسئلہ شرعی اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔  احادیث میں  حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی طویل روایت آئی ہے جس کے آخر میں  حضورؐ فرماتے ہیں  کہ میری امت کے و ہ لوگ بلا احساب جنت میں  داخل ہوں  گے جو نہ داغنے کا علاج کراتے ہیں،  نہ جھاڑ پھونک کراتے ہیں،  نہ فال لیتے ہیں ،  بلکہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں  (مسلم)۔ حضرت مُغِرہؓ بن شُعبہ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا جس نے داغنے سے علاج کرایا اور جھاڑ پھونک کرائی وہ اللہ پر توکل سے بے تعلق ہو گیا (ترمذی)۔ حضڑت عبد اللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم دس چیزوں  کو نا پسند فرماتے تھے جن میں  سے ایک جھاڑ پھونک بھی ہے سوائے معوّذتین یا معوّذات کے (ابو داؤد، احمد، نسائی، ابن حبان، حاکم)۔ بعض احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا میں  حضورؐ نے جھاڑ پھونک سے بالکل منع فرما دیا تھا، لیکن بعد میں  اِس شرط کے ساتھ اس کی اجازت دے دی کہ اس میں  شرک نہ ہو، اللہ کے پاک ناموں  یا اس کے کلام سے جھاڑا جائے، کلام ایسا ہو جو سجھ میں  آئے اور یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس میں  کوئی گناہ کی چیز نہیں  ہے،  اور بھروسہ جھاڑ پھونک پر نہ کیا جائے کہ وہ بجائے خود شفا دینے والی ہے،  بلکہ اللہ پر اعتماد کیا جائے کہ وہ چاہے گا تو اسے نافع بنا دے گا۔ یہ مسئلہ شرعی واضح ہو جانے کے بعد اب دیکھیے کہ احادیث اِس بارے میں  کیا کہتی ہیں :

طبرانی نے صغیر میں  حضرت  علیؓ کی روایت نقل کی ہے کہ حضورؐ کو ایک دفعہ نماز کی حالت میں  بچھو نے  کاٹ لیا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا بچھو پر خدا کی لعنت، یہ نہ کسی نمازی کو چھوڑتا ہے نہ کسی اور کو۔ پھر پانی اور نمک منگوایا اور جہاں  بچھو نے کاٹا تھا وہاں  آپ نمکین پانی ملتے جاتے اور قل یا ایہا الکافرون، قل ھو اللہ احد، قل اعوذ برب الفلق اور قل  اعوذ برب الناس پڑھتے جاتے تھے۔

ان عباس کی یہ روایت بھی احادیث میں  آئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ پر یہ دعا پڑھتے تھے اُعِیْذُکُمَا بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَّھَا مَّۃٍ وَّمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَّا مَّۃٍ۔ ’’میں  تم کو اللہ کے بے عیب کلمات کی پناہ میں  دیتا ہوں  ہر شیطان اور موذی سے اور ہر نظر بد سے ‘‘(بخاری، مسند احمد، ترمذی اور ابن ماجہ)۔

عثمان بن ابی العاص الثَقَفی کے متعلق مسلم، مُوَطَّا، طبرانی اور حاکم میں  تھوڑے لفظی اختلاف کے ساتھ یہ روایت آءی ہے کہ انہوں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے شکایت کی کہ میں  جب سے مسلمان ہوا ہوں  مجھے ایک درد محسوس ہوتا ہے جو مجھ کو مارے ڈالتا ہے۔  آپ نے فرمایا اپنا سیدھا ہاتھ اُس جگہ پر رکھو جہاں  درد ہوتا ہے،  پھر تین مرتبہ بسم اللہ کہو اور سات مرتبہ یہ کہتے ہوئے ہاتھ پھیرو کہ اَعُوْذُ بِاللہِ وَ قُدْرَتِہِ مِنْ شَرِّ مَآ اَجِدُ وَ اُحَاذِرُ، ’’میں  اللہ اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں  اُس چیز کے شر سے جس کو میں  محسوس کرتا ہوں  اور جس کے لاحق ہونے کا مجھے خوف ہے ‘‘۔ موطاء میں  اس پر یہ اضافہ ہے کہ عثمانؓ بن ابی العاص نے کہا کہ اس کے بعد میرا وہ درد جاتا رہا،  اور اِسی چیز کی تعلیم میں  اپنے گھر والوں  کو دیتا ہوں۔

مُسند احمد اور طحاوی میں  طَلقْ بن علیؓ کی روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی موجودگی میں  بچھو نے کاٹ لیا۔حضورؐ نے مجھ پر  پڑھ کر پھونکا اور اس جگہ پر ہاتھ پھیرا۔

مسلم میں  ابو سعیدؓ خُدری کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم بیمار ہوئے تو جبریل نے آ کر پوچھا ’’اے محمدؐ، کیا آپ بیمار ہو گئے ‘‘؟آپ نے فرمایا ہاں۔  انہوں  نے کہا بِاسْمِ اللہِ اَرْقِیْکَ مِنْ کُلِّ شَیٍْ یُّؤْذِیْکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ اَوْعِیْنٍ حَا سِدٍ، اَللہُ یَشْفِیْکَ بِاسْمِ اللہِ اَرْقِیْکَ، ’’میں  اللہ کے نام پر آپ کو جھاڑتا ہوں  ہر اُس چیز سے جو آپ کو اذیت دے اور ہر نفس اور حاسد کی نظر کے شر سے،  اللہ آپ کو شفا دے،  میں  اُس کے نام پر آپ کو جھاڑتا ہوں۔ ‘‘اسی سے ملتی جلتی روایت مُسند احمد میں حضرت عُبادہ بن صامت سے منقول ہے کہ حضورؐ بیمار تھے۔  میں  عیادت کے لیے گیا تو آپ کو سخت تکلیف میں  پایا۔ شام کو گیا تو آپ بالک تندرست تھے۔  میں  نے اس قدر جلدی تندرست ہو جانے کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ جبریلؑ آئے تھے اور انہوں  نے مجھے چند کلمات سے جھاڑا۔ پھر آپ نے قریب قریب اُسی طرح کے الفاظ اُن کو سُنائے جو اوپر والی حدیث میں  نقل کیے گئے ہیں۔  حضرت عائشہؓ سے بھی  مسلم اور مسند احمد میں  ایسی ہی روایت نقل کی گئی ہے۔ امام احمد نے اپنی مُسند میں  حضرت حفصہؓ ام المومنین کی روایت نقل کی ہے کہ ایک روز نبی صلی اللہ علیہ و سلم میرے ہاں  آئے اور میرے پاس ایک  خاتون شفا ۳؎ نامی بیٹھی تھیں  جو نَمِلہ (ذُباب) کو جھاڑا کرتی تھیں۔  حضورؐ نے فرمایا حفصہؓ کو بھی وہ عمل سکھا دو۔ خود شفاؓ بنت عبداللہ کی یہ روایت امام احمد، ابو داؤد اور نسائی نے نقل کی ہے کہ حضورؐ نے مجھ سے فرمایا کہ تم نے حفصہ کو جس طرح لکھنا پڑھنا سکھایا ہے نَمِلہ کا جھاڑنا بھی سکھا دو۔

مسلم میں  عوف بنؓ مالک اشجعی کی روایت ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں  ہم لوگ جھاڑ پھونک کیا کرتے تھے۔  ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے پوچھا کہ اس معاملہ میں  حضورؐ کی رائے کیا ہے۔  حضورؐ نے فرمایا جن چیزوں  سے تم جھاڑتے تھے وہ میرے سامنے پیش کرو، جھاڑنے میں  مضائقہ نہیں  ہے جب تک اُس میں  شرک نہ ہو۔مسلم، مسند احمد، اور ابن ماجہ میں  حضرت جابر بن عبد اللہؓ کی روایت ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ ولم نے جھاڑ پھونک سے روک دیا تھا۔ پھر حضرت عمر و بن حزم کے خاندان کے لوگ آئے اور کہا کہ ہمارے پاس ایک عمل تھا جس سے ہم بچھو (یا سانپ) کاٹے کو جھاڑتے تھے۔  مگر آپ نے اِس کام سے منع فرما دیا ہے۔  پھر انہوں  نے وہ چیز آپ کو سنائی جو وہ پڑھتے تھے۔  آپ نے فرمایا’’اس میں  تو کوئی مضائقہ نہیں  پاتا، تم میں  سے جو شخص اپنے کسی بھائی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے وہ ضرور پہنچائے ‘‘۔ جابر بن ؓعبداللہ کی دوسری حدیث مسلم میں  یہ ہے کہ آلِ حَزْم کے پاس سانپ کاٹے کا عمل تھا اور حضورؐ نے ان کو اس کی اجازت دیدی۔ اس کی تائید مسلم، مسند احمد، ار ابن ماجہ میں  حضرت عائشہؓ کی یہ روایت بھی کرتی ہے  کہ حضورؐ نے انصار کے ایک خاندان کو ہر زہریلے جانور کے کاٹے کو جھاڑنے کی اجازی مرحمت فرمائی۔ مُسند احمد اور ترمذی اور مسلم اور ابن ماجہ میں  حضرت انس سے بھی اس سے ملتی جلتی روایات نقل کی گئی ہیں  جن میں  حضورؐ نے زہریلے جانوروں  کے کاٹے، اور ذُباب کے مرض اور نظرِ بد کے جھاڑنے کی اجازت دی۔

مُسند احمد،  ترمذی، ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت عُمیرؓ مولیٰ اٰبِی اللَّحم سے یہ روایت نقل کی ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں  میرے پاس ایک عمل تھا جس سے میں  جھاڑا کرتا تھا۔ میں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے سامنے اسے پیش کیا۔ آپ نے فرمایا فلاں  فلاں  چیزیں  اس میں  سے نکال دو، باقی سے تم جھاڑ سکتے ہو۔مُوطاء میں  ہے کہ حضرت ابو بکر اپنی صاحبزادی حضرت عائشہ کے گھر تشریف لے گئے تو دیکھا کہ وہ بیمار ہیں  اور ایک یہودیہ اُن کو جھاڑ رہی ہے۔  اس پر انہوں  نے فرمایا کہ کتاب اللہ پڑھ کر جھاڑ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہلِ کتاب اگر توراۃ یا انجیل کی آیات پڑھ کر جھاڑیں  تب بھی یہ جائز ہے۔

رہا یہ سوال کہ آیا جھاڑ پھونک مفید بھی ہے یا نہیں ،  تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے دوا ور علاج سے نہ صرف یہ کہ کبھی منع نہیں  فرمایا، بلکہ خود فرمایا کہ ہر مرض کی دوا اللہ نے پیدا کی ہے اور تم لوگ دوا کیا کرو۔ حضورؐ نے خود لوگوں  کو بعض امراض کے علاج بتائے ہیں،  جیسا کہ احادیث میں  کتاب الطب کو دیکھنے سے معلوم ہو سکتا ہے۔  لیکن دوا بھی اللہ ہی کے حکم اور اذن سے نافع ہوتی ہے،  ورنہ اگر دوا اور طبی معالجہ ہرحال میں  نافع ہوتا تو ہسپتالوں  میں  کوئی نہ مرتا۔ اب اگر دوا اور علاج کرنے کے ساتھ اللہ کے کلام اور اس کے اسمائے حسنیٰ سے بھی استفادہ کیا جائے،  یا ایسی جگہ جہاں  کوئی طبی امداد میسر نہ ہو اللہ ہی کی طرف رجوع کر کے اس کے کلام اور اسماء و صفات سے استعانت کی جائے تو یہ مادّہ پرستوں  کے سوا کسی کی عقل کے بھی خلاف نہیں ہے۔  ۴؎ البتہ یہ صحیح نہیں  ہے کہ دوا اور علاج کو، جہاں  وہ میسر ہو، جان بوجھ کر چھوڑ دیا جائے،  اور صرف جھاڑ پھونک سے کام لینے ہی پر اکتفا کیا جائے،  اور کچھ لوگ علیات اور تعویذوں  کے مَطب کھول کر بیٹھ جائیں  اور اسی کو کمائی کا ذریعہ بنا لیں۔           اس معاملہ میں  بہت سے لوگ حضرت ابو سعیدؓ خدری کی اُس روایت سے استدلال کرتے ہیں  جو بخاری، مسلم،  ترمذی، مسند احمد، ابو داؤد اور ابن ماجہ میں  منقول ہوئی ہے اور اس کی تائید بخاری میں  ابن عباسؓ کی بھی ایک روایت کرتی ہے۔  اس میں  یہ بیان ہوا ہے کہ حضورؐ نے ایک مہم پر اپنے چند اصحاب کو بھیجا جن میں  حضرت ابو سعیدؓ خُدری بھی تھے۔  یہ حضرات راستہ میں  عرب کے ایک قبیلے کی بستی پر جا کر ٹھیرے اور انہوں  نے قبیلے والوں  سے کہا کہ ہماری میز بانی کرو۔ انہوں  نے انکار کر دیا۔ اتنے میں  قبیلے کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا، اور وہ لوگ اِن مسافروں  کے پاس آئے  اور کہا کہ تمہارے پاس کوئی دوا یا عمل ہے جس سے تم ہمارے سردار کا علاج کر دو؟ حضرت ابو سعید نے کہا ہے تو سہی مگر چونکہ تم نے ہماری میزبانی سے انکار کیا ہے اس لیے جب تک تم کچھ دینا نہ کرو، ہم اس کا علاج نہیں  کریں  گے۔  انہوں  نے بکریوں  کا ایک ریور(بعض روایات میں  ہے ۳۰ بکریاں ) دینے کا وعدہ کیا اور ابو سعیدؓ نے جا کر اس پر سورۃ الفاتحہ پڑھنی شروع کی اور لعاب دھن اس پر ملتے گئے۔  ۵؎ آخر کار بچھو کا اثر زائل ہو گیا اور قبیلے والوں  نے جتنی بکریاں  دینے کا وعدہ کیا تھا وہ لا کر دے دیں۔  مگر ان حضرات نے آپس میں  کہا ان بکریوں  سے کوئی فائدہ نہ اٹھاؤ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم  سے پوچھ نہ لیا جائے۔  نہ معلوم اس کام پر اجر لینا جائز ہے یا نہیں۔  چنانچہ یہ لوگ حضورؐ کی خدمت میں  حاضر ہوئے اور ماجرا عرض کیا۔ حضورؐ نے مسکرا کر فرمایا’’تمہیں  کیسے معلوم ہوا کہ یہ سورہ جھاڑنے کے کام بھی آ سکتی ہے ؟ بکریاں  لے لو اور ان میں  میرا حصہ بھی لگاؤ‘‘۔          لیکن اِس حدیث سے تعویذ، گنڈے اور جھاڑ پھونک کے مطلب چلانے کا جواز نکالنے سے پہلے عرب کے اُن حالات کا نگاہ میں  رکھنا چاہیے جن میں  حضرت ابو سعید خُدری نے یہ کام کیا تھا اور حضورؐ نے اسے نہ صرف جائز رکھا تھا، بلکہ یہ بھی فرمایا تھا کہ میرا حصہ بھی لگاؤ، تا کہ اس کے جواز و عدمِ  جواز کے معاملہ میں  اِن اصحاب کے دلوں  میں  کوئی شبہ باقی نہ رہے۔  عرب کے حالات اُس زمانے میں   بھی یہ تھے اور آج تک یہ ہیں  کہ پچاس پچاس،  سوسو، ڈیڑھ ڈیڑھ سو میل تک آدمی کو ایک بستی سے چل کر دوسری بستی نہیں  ملتی۔  بستیاں  بھی اُس وقت ایسی نہ تھیں  جن میں  ہوٹل، سرائے یا کھانے کی دوکانیں  موجود ہوں  اور مسافر کئی کئی روز کی مسافت طے کر کے جب وہاں  پہنچے تو سامانِ خوردنوش خرید سکے۔  ان حالات میں  یہ بات عرب کے معروف اصولِ اخلاق میں  شامل تھی کہ مسافر جب کسی بستی پر پہنچیں  تو بستی کے لوگ ان کی میزبانی کریں۔  اس سے انکار کے معنی بسا اوقات مسافروں  کے لیے مَوت کے ہوتے تھے،  اور عرب میں  اِس طرز عمل کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے اپنے صحابہ کے اس  فعل کو جائز رکھا کہ جب قبیلے والوں  نے میز بانی سے انکار کر دیا تھا تو ان کے سردار کا علاج کرنے سے انہوں  نے بھی انکار کر دیا، اور اس شرط پر اس کا علاج کرنے پر راضی ہوئے کہ وہ ان کو کچھ دینا کریں۔  پھر جب ان میں  سے ایک صاحب نے اللہ کے بھروسے پر سورہ فاتحہ اُس سردار پر پڑھی اور وہ اس سے اچھا ہو گیا تو طے شدہ اجرت قبیلے والوں  نے لا کر دے دی اور حضورؐ نے اس اجرت کے لینے کو حلال و طیب قرار دیا۔ بخار ی میں  اس واقعہ کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس کی جو روایت ہے اس میں  حضورؐ کے الفاظ یہ ہیں  کہ اِنَّ احقَّ ما اخذ تم علیہ اجراً کتاب اللہِ، یعنی بجائے اس کے کہ تم کوئی اور عمل کرتے،  تمہارے لیے یہ زیادہ برحق بات تھی کہ تم نے اللہ کی کتاب پڑھ کر اس پر اجرت لی۔ یہ آپ نے اس لیے فرمایا کہ دوسرے تمام عملیات سے اللہ کا کلام بڑھ کر ہے،  علا وہ بریں  اس طرح عرب کے اُس قبیلے پر حق تبلیغ بھی ادا ہو گیا کہ انہیں  اس کلام کی برکت معلوم ہو گئی جو اللہ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم لائے ہیں۔  اِس واقعہ کو اُن لوگوں  کے لیے نظیر قرار نہیں  دیا جا سکتا جو شہروں  اور قصبوں  میں  بیٹھ کر جھاڑ پھونک کے مطب چلاتے ہیں  اور اسی کو انہوں  نے وسیلہ معاش بنا رکھا ہے۔  اس کی کوئی نظیر نبی کریم  صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم یا صحابہ و تابعین اور ائمہ سلف کے ہاں  نہیں  ملتی۔

سورہ فاتحہ اور اِن سورتوں  کی مناسبت: آخری چیز جو معوّذتین کے بارے میں   قابل توجہ ہے  وہ قرآن کے آغاز اور اختتام کی مناسبت ہے۔ اگر چہ قرآن مجید ترتیب نزول پر مرتب نہیں  کیا گیا ہے،  مگر ۲۳ سال کے دوران میں  مختلف حالات اور  مواقع اور ضروریات کے لحاظ سے  نازل ہونے والی آیات اور سورتوں  کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے بطور خود نہیں  بلکہ  ان کے نازل کرنے والے خدا کے حکم سے  اس شکل میں  مرتب  فرمایا جس میں  ہم  اب اس کو پاتے ہیں۔  اس ترتیب کے لحاظ سے قرآن کا آغاز سورہ فاتحہ سے ہوتا ہے اور اختتام معوّذتین پر۔ اب ذرا دونوں  پر ایک نگاہ ڈالیے۔  آغاز میں  اللہ رب العالمین، رحمٰن الرحیم،  اور مالک یوم الدین کی حمد و ثناہ کر کے بندہ عرض کرتا ہے کہ آپ ہی کی میں   بندگی کرتا ہوں  اور آپ ہی سے مدد چاہتا ہوں،  اور سب سے بڑی مدد جو مجھے درکار ہے وہ یہ ہے کہ مجھے سیدھا راستہ بتائیے۔  جو اب میں  اللہ تعالیٰ کی طرف سے سیدھا راستہ دکھانے کے لیے اسے پورا قرآن دیا جاتا ہے،  اور اس کو ختم اس بات پر کیا جاتا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے جو رب الفلق،  رب الناس،  مالک الناس اور الہ الناس ہے،  عرض کرتا ہے کہ میں  ہر مخلوق کے ہر فتنے اور شر سے محفوظ رہنے کے لیے آپ ہی کی پناہ لیتا ہوں،  ا اور خصوصیت کے ساتھ  شیاطین جن و انس کے وسوسوں  سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں،  کیونکہ رائے راست کی پیروری میں  وہی سب سے زیادہ مانع ہوتے ہیں۔  اس آغاز کے ساتھ یہ اختتام جو مناسبت رکھتا ہے وہ کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں  رہ سکتی۱؎ بعض راویوں  نے اُسے یہودی کہا ہے،  اور بعض نے منافق اور یہود کا حلیف۔ لیکن اس پر سب متفق ہیں  کہ وہ بنی زُریق میں  سے تھا، اور یہ سب کو معلوم ہے کہ بنی زُریق یہودیوں  کا کوئی قبیلہ نہ تھا بلکہ خَزْرج میں  سے انصار کا ایک قبیلہ تھا۔ اس لیے یا تو وہ اُن لوگوں میں  سے تھا جو اہلِ مدینہ میں  سے یہودی ہو گئے تھے،  یا یہود کا حلیف ہونے کی بنا پر بعض لوگوں  نے اسے بھی یہودی شمار کر لیا۔ تاہم اس کے لیے منافق کا لفظ استعمال ہونے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر و ہ مسلمان بنا ہوا تھا۔ ۲؎ ابتدا میں  کھجور کا خوشہ ایک غلاف کے اندر ہوتا ہے۔  اور نَر کھجور کے غلا ف کا رنگ انسان کے رنگ سے ملتا جلتا ہوتا ہے۔  اور اس کی بو انسان کے مادہ منویہ جیسی ہوتی ہے۔  ۳؎ اِن خاتون کا اصل نام لیلیٰ تھا۔  مگر شفابنتؓ عبد اللہ کے نام سے مشہور تھیں ۔  ہجرت سے پہلے ایمان لائیں۔  قریش کے خاندان بنی عَدِی سے ان کا تعلق تھا۔ یہ وہی خاندان ہے جس کے ایک فرد حضرت عمرؓ تھے۔  اِس طرح یہ حضرت حفصہؓ کی رشتہ داری ہوتی تھیں۔ ۴؎ مادہ پرست دنیا کے بھی بہت  سے ڈاکٹروں  نے اعتراف کیا ہے  کہ دعا اور رجوع الی اللہ مریضوں  کی شفا یابی میں  بہت کار گرچیز ہے۔  اور اِ س کا خود مجھے ذاتی طور پر اپنی زندگی میں  دو مرتبہ تجربہ ہوا ہے۔  ۱۹۴۸؁ء میں   جب مجھے نظر بند کیا گیا تو چند روز بعد ایک پتھری میرے مثانے میں  آ کر اَڑ گئی اور ۱۶ گھنٹے تک پیشاب بند رہا۔ میں  نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میں  ظالموں  سے علاج کی درخواست نہیں  کرنا چاہتا، تو ہی میرا علاج فرمادے۔  چنانچہ وہ پتھری پیشاب کے راستے سے ہٹ گئی اور ۲۰ برس تک ہٹی رہی یہاں  تک کہ ۱۹۶۸؁ء میں  اس نے پھر تکلیف دی اور اس کو آپریشن کر کے نکالا گیا۔ دوسری مرتبہ جب ۱۹۵۳؁ء میں  مجھے گرفتار کیا گیا تو میری دونوں  پنڈلیاں  کئی مہینے سے داد کی سخت تکلیف میں  مبتلا تھیں  اور کسی علاج سے آرام نہیں  آرہا تھا۔ گرفتاری کے بعد میں  نے اللہ تعالیٰ سے پھر وہی دعا کی جو ۱۹۴۸؁ء میں  کی تھی اور کسی علاج کے دوا کے بغیر پنڈلیاں  داد سے بالکل صاف ہو گئیں۔  آج تک پھر کبھی وہ بیماری مجھے نہیں  ہوئی۔ ۵؎ اکثر روایات میں  یہ صراحت نہیں  ہے کہ یہ عمل کرنے والے حضرت ابو سعید تھے۔  بلکہ ان میں  یہ صراحت بھی نہیں  ہے کہ حضرت ابو سعید خود اس مہم میں  شریک تھے۔  لیکن ترمذی کی روایت میں  دونوں  باتوں  کی صراحت ہے۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

کہو، ۱ میں  پناہ مانگتا ہوں  ۲ صبح کے ربّ ۳ کی،  ہر اُس چیز کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ہے،  ۴ اور رات کی تاریکی کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے،  ۵ اور گِرہوں  میں  پھُونکنے والوں  (یا والیوں )کے شر سے،  ۶ اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے۔  ۷ ؏۱

 

تفسیر

 

۱: چونکہ قُل (کہو) کا لفظ اُس کا پیغام کا ایک حصہ ہے جو تبلیغِ رسالت کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر بذریعہ وحی نازل ہوا ہے،  اس لیے اگر چہ اِس ارشاد کے اولین مخاطب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم ہی ہیں،  مگر آپ کے بعد ہر مومن بھی اِس کا مخاطب ہے۔ ۲: پناہ مانگنے کے فعل میں  لازماً تین اجزاء شامل ہوتے ہیں۔  ایک بجائے خود پناہ مانگنا۔ دوسرے پناہ مانگنے والا۔ تیسرا وہ جس کی پناہ مانگی جائے۔  پناہ مانگنے سے مراد کسی  چیز سے خوف محسوس کر کے اپنے آپ کو اس سے  بچانے کے لیے کسی دوسرے کی حفاظت میں  جانا، یا اس کی آڑ لینا، یا اُس سے لپٹ جانا یا اُص کے سایہ میں  چلاجانا ہے۔  پناہ مانگنے والا بہر حال وہی شخص ہوتا ہے جو محسوس کرتا ہے کہ جس چیز سے وہ دوڑ رہا ہے اس کا مقابلہ وہ خود نہیں  کر سکے گا  بلکہ وہ اس کا حاجت  مند ہے کہ اُس سے بچنے کے لیے دوسرے کی پناہ لے۔  پھر جس کی پناہ مانگی جاتی ہے وہ لازماً کوئی ایسا ہی شخص یا وجود ہوتا ہے جس کے متعلق پناہ لینے والا یہ سمجھتا ہے کہ اُس خوفناک چیز سے وہی اس کو بچا سکتا ہے۔  اب پناہ کی ایک قسم تو وہ ہے جو قوانینِ  طبعی کے مطابق عالمِ اسباب کے اندر کسی محسوس مادّی چیز یا شخص یا طاقت سے حاصل کی جاتی ہے۔  مثلاً دشمن کے حملہ سے بچنے کے لیے کسی قلعہ میں  پناہ لینا، یا گولیوں  کی بوچھاڑ سے بچنے کے لیے خندق یا کسی دمدمے یا کسی دیوار کی آڑ لینا، یا کسی طاقت ور ظالم سے بچنے کے لیے کسی انسان یا قوم یا حکومت کے پاس پناہ لینا، دھوپ سے بچنے کے لیے کسی درخت یا عمارت کے سایہ میں  پناہ لینا۔ بخلاف اس کے دوسری قسم وہ ہے جس میں  ہر طرح کے خطرات اور ہر طرح کی مادّی، اخلاقی یارو حانی مضرتوں  اور نقصان رساں  چیزوں  سے کسی فوق الفطر ی ہستی کی پناہ اِس عقیدے کی بنا پر مانی جاتی ہے کہ وہ ہستی عالم  اسباب پر حکمراں  ہے اور بالا تر از حِس و ادراک طریقے سے وہ اس شخص کی ضرور حفاظت کر سکتی ہے جو اس کی پناہ ڈھونڈ رہا ہے۔  پناہ کی یہ دوسری قسم کی نہ صرف سورہ فلق  اور سورہ ناس میں   مراد ہے۔  بلکہ قرآن اور حدیث میں  جہاں  بھی اللہ تعالی ٰ کی پناہ مانگنے کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد یہی خاص قسم کی پناہ ہے۔  اور عقیدہ توحید کا  لازمہ یہ ہے کہ  اس نوعیت کا تعوذ یا استعاذہ(پناہ مانگنا) اللہ کے سوا کسی اور سے نہ کیا جائے۔  مشرکین اس نوعیت کا تحفظ اللہ کے سوا دوسری ہستیوں ،  مثلاً جنوں   یا دیویوں  اور دیوتاؤں  سے مانگتے تھے اور آج بھی مانگتے ہیں ۔ مادہ پرست لوگ اس کے لیے بھی مادی ذرائع ووسائل ہی کی  طرف رجوع کرتے ہیں،  کیونکہ فوق الفطری طاقت کے قائل نہیں  ہیں ۔  مگر مومن ایسی تمام آفات و بلیآت کے مقابلہ میں ،  جن کو دفع کرنے پر وہ خود اپنے آپ کو قادر نہیں  سمجھتا،  صرف اللہ کی طرف رجوع کرتا اور اسی کی پناہ مانگتا۔ مثال کے طور پر مشرکین کے متعلق قرآن میں  بیان کیا گیا ہے : وَاَنَّہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْ ذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ، ’’اور یہ کہ  انسانوں  میں  سے کچھ لوگ جنوں  میں  سے  کچھ لوگوں  کی پناہ مانگا کرتے تھے ‘‘(الجن۔۶)۔ اور اس کی تشریح کرتے ہوئے ہم سورہ جن حاشیہ ۷ میں   حضرت عبدا للہ بن عباس کی یہ روایت نقل کر چکے ہیں  کہ مشرکین عرب کو جب رات کسی سنسان وادی میں  گزارنی پڑتی تو وہ پکار کر کہتے ’’ہم اس وادی کے رب کی (یعنی اس جن کی جو اس وادی کا حکمران ہے یا اس وادی کا مالک ہے ) پناہ مانگتے ہیں ‘‘۔ بخلاف اس کے فرعون کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ کی پیش کردہ عظیم نشانیوں   کو دیکھ کر  فَتَوَلّیٰ بِرُکْنِہٖ، ’’وہ اپنی بل بوتے پر  اکڑ گیا‘‘ (الذاریات، ۳۹)۔ لیکن خدا پرستوں  کا رویہ قرآن میں  بتایا گیا ہے کہ جس چیز کا بھی وہ خوف محسوس کیا کرتے ہیں،  خواہ مادی ہو یا اخلاقی یا روحانی اس کے شر سے بچنے کے لیے وہ خدا کی پناہ مانگتے ہیں ۔  چنانچہ حضرت مریم کے متعلق بیان ہوا ہے کہ جب اچانک تنہائی میں  خدا کا فرشتہ ایک مرد کی شکل میں  ان کے سامنے آیا(جبکہ وہ نہ جانتی تھیں  کہ یہ فرشتہ ہے )تو انہوں  نے کہا  اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیّاً، ’’اگر تو خدا سے ڈرنے والا آدمی ہے  تو میں  تجھ سے خدائے رحمٰن کی پناہ مانگی ہوں ‘‘( مریم۔ ۱۸)۔حضرت نوح نے جب اللہ تعالی ٰ سے ایک بے جا دعا کی اور جواب اللہ کی طرف سے  ان پر ڈانٹ پڑی تو انہوں  نے فوراً عرض کیا رَبِّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَسْئَلُکَ مَالَیْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ، ’’میرے رب میں  تیری پناہ مانگتا ہوں  اس بات سے کہ میں  تجھ سے ایسی چیز کی درخواست کروں  جس کا مجھے علم نہیں   ‘‘(ہود۔۴۷)۔ حضرت موسیٰ نے جب بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا اور انہوں  نے کہا کہ آپ ہم سے مذاق کرتے ہیں،  تو انہوں  نے جواب میں  فرمایا اَعُوْذُ بِا للہِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ، ’’میں  خدا کی پناہ مانگا ہوں  اس بات سے کہ  جاہلوں  کی سی باتیں  کروں ‘‘(البقرہ۔ ۶۷)۔ یہی شان اُن تمام تَعَوُّذات کی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم  سے کتب حدیث میں  منقول ہوئے  ہیں۔  مثال کے طور پر حضورؐ کی حسب ذیل دعاؤں  کو ملاحظہ کیجیے : عن عائشہ ان النبی صلّی اللہ علیہ و سلم کان یقول فی دعآ ۂ الّٰھُمَّ اِنِّیٓ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ اَعْمَلْ (مسلم) حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم اپنی دعاؤں  میں  یہ فرمایا کرتے تھے کہ ’’خدا یا میں  تیری پناہ مانگتا ہوں  اُن کاموں  کے شر سے جو میں  نے کیے اور ان کاموں  کے شر سے جو میں  نے نہیں  کیے ‘‘(یعنی اگر میں  نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اس کے برے نتیجے سے پناہ مانگتا ہوں،  اور اگر کوئی کام جو کرنا چاہیے تھا میں  نے نہیں  کیا تواُس کے نقصان سے بھی پناہ مانگتا ہوں،  یا اِس بات سے پناہ مانگتا ہوں  کہ جو کام نہ کرنا چاہیے وہ میں  کبھی کر گزروں )۔ عن ابن عمر ؓ کان من دعآءِ رسُول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم اَلّٰھُمَّ اِنّیْٓ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ زَوَا لِ نِعْمَتِکَ، وَتَحَوُّلِ عَافِیَتِکَ، وَفَجْأَۃِ نِقْمَتِکَ وَجَمِیْعِ سَخَطِکَ۔ (مسلم) ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی دعاؤں  میں  سے ایک یہ بھی تھی کہ ’’خدا یا میں  تیری پناہ مانگتا ہوں  اِس سے کہ تیری جو نعمت مجھے حاصل ہے وہ چھن جائے،  اور تجھ سے جو عافیت مجھے نصیب ہے وہ نصیب نہ رہے،  اور تیرا غضب یکایک ٹوٹ پڑے،   اور پناہ مانگتا ہوں  تیری ہر طرح کی ناراضی سے ‘‘۔ عن زید بن ارقم کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم یقول الّٰھُمَّ اِ نِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عِلْمٍ لَّا یَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَّا یَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَّا تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَۃ ٍلَّا یَسْتَجَابُ( مسلم) زید بن ارقم کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم فرمایا کرتے تھے ’’خدا یا میں  تیری پناہ مانگتا ہوں  اُس علم سے جو نافع نہ ہوں  اس دل سے جو تیرا خوف نہ کرے،  اس نفس سے جو کبھی سیر نہ ہو اور اس دعا سے جو قبول نہ کی جائے ‘‘۔ عن ابی ھریرۃ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم یقول اَللّٰھُمَّ اِنِّیٓ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُوْعِ فَاِنَّہٗ بِئْسَ الضَّجِیْعُ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخِیَا نُۃِ فَاِنَّہٗ بِئْسَتِ الْبِطَا نَۃُ (ابو داؤد) حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم فرماتے تھے ’’خدایا میں  تیری پناہ مانگتا ہوں  بھوک سے کیونکہ وہ بد ترین چیز ہے جس کے ساتھ کوئی رات گزارے،  اور تیری پناہ مانگتا ہوں  خیانت سے کیونکہ  وہ بڑی بد باطنی ہے۔  عن انس ان النبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کان یقول اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبَرَ صِ وَ الْجُنُوْنِ وَالْجُذَامِ وَسِّیِٔ الْاَسْقَامِ (ابو داؤد) حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم فرمایا کرتے تھے ’’خدایا میں  تیری پناہ مانگتا ہوں  کوڑھ اور جنون اور جُذام اور تمام بریر بیماریوں  سے ‘‘۔ عن عائشہ ان النّبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کان یدعو بھٰؤ لاء الکلمات اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ النَّارِ  وَمِنْ شَرِّ الْغِنیٰ وَالْفَقِرْ (ترمذی و ابو داؤد) حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ ان کلمات کے ساتھ دعا مانگا کرتے تھے : ’’خدایا میں  تیری پناہ مانگتا ہوں  آگ کے فتنے سے اور مالداری اور مفلسی کے شر سے ‘‘۔ عن قُطبۃ بن مالک کان النبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم یقول اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنْ مُّنْکَرَاتِ الْاَخْلَا قِ و َالْا عْمَالِ وَ الْا َھْوَاءِ (ترمذی) قطبہ بن مالک کہتے ہیں  کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم فرمایا کرتے تھے۔ ’’خدایا، میں  برے اخلاق اور برے اعمال اور بری خواہشات سے تیری پناہ مانگتا ہوں ‘‘۔ شَکَل بن حُمید نے حضورؐ سے عرض کیا مجھے کوئی دعا بتا ئے ے۔  فرمایا کہو: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ سَمْعِیْ،  وَمِنْ شَرِّ بَصَرِیْ،  وَمِنْ شِرِّ لِسَانِیْ، وِمِنْ شَرِّ قَلْبِیْ، وَمِنْ شَرِّ مَنِیِّیْ۔ (ترمذی و ابو داؤد) خدایا میں  تیری پناہ مانگتا ہوں  اپنی سماعت کے شر سے،  اور اپنی بصارت کے شر سے ،  اور اپنی زبان کے شر سے،  اور اپنے دل کے شر سے،  اور اپنی شہوت کے شر سے۔  عن انس بن مالک کان رسُول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم یقول اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْعَجِزْ وَ الْکَسَلِ وَ الْجُبْنِ وَ الْھَدَمِ وَالْبُخْلِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَاوَالْمَمَا تِ (وفی روایۃ لمسلم) وَضَلَعِ الدَّیْنِ وَغَلَبَۃِ الرِّجَالِ (بخاری و مسلم) انس بن مالک کی روایت ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم فرمایا کرتے ’’خدایا میں  تیری پناہ مانگتا ہوں  عاجزی اور سُستی اور بزدلی اور بُڑھاپے اور بخل سے،  اور تیر ی پناہ مانگتا ہوں  قبر کے عذاب  اور زندگی و موت کے فتنے سے ( اور مسلم کی ایک روایت میں  یہ بھی ہے ) اور قرض کے بوجھ سے اور اس بات سے کہ لوگ مجھ پر غالب ہوں ‘‘۔ ھن خَوْلَۃ بنت حُکَیْم السُّلَمِیَّۃ سمعتُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم یقول مَنْ نَّزَلَ مَنْزِ لاً ثُمَّ قَالَ اَعُوْ ذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ یَضُرُّہٗ شَیْٔ حَتّیٰ یَرْ تَحِلَ مِنْ ذٰلِکَ الْمَنْزِلِ (مسلم) خَوْلَہ بنت حُکَیم سُلَمِیّہ کہتی ہیں  کہ میں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو شخص کسی نئی منزل پر اترے اور یہ الفاظ کہے کہ ’’ میں  اللہ کے بے عیب کلمات کی پناہ مانگتا ہوں  مخلوقات کے شر سے،  تو اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی یہاں  تک کہ وہ اس منزل سے کوچ کر جائے۔            یہ حضور ؐ  کے چند تَعوُّذات بطور نمونہ ہم نے احادیث سے نقل کیے ہیں  جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کا کام ہر خطرے اور شر سے خدا کی پناہ مانگتا ہے نہ کہ کسی اور کی پناہ،  اور نہ اس کا یہ کام ہے کہ خدا سے بے نیاز ہو کر وہ اپنے آپ پر بھروسہ کرے۔   ۳: اصل میں  لفظ رَبُّ الْفَلَق‘‘ استعمال ہوا ہے۔ فلق کے اصل معنی پھاڑ نے کے ہیں۔  مفسرین کی عظیم اکثریت نے اس سے مراد رات کی تاریکی کو پھاڑ کر سپیدہ صبح نکالنا لیا ہے کیونکہ عربی زبان میں  فَلَقُ الصبح کا لفظ طلوعِ صبح کے معنی میں  بکثرت استعمال ہوتا ہے،  اور قرآن میں  بھی  اللہ تعالیٰ کے لیے فَالِقُ الْاِ  صْباح کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں،  یعنی ’’وہ جو رات کی تاریکی کو پھاڑ کر صبح نکالتا ہے ‘‘(الانعام۔۹۶)۔ فَلَق کے دوسرے معنی خَلْق بھی لیے گئے ہیں،  کیونکہ دنیا میں  جتنی چیزیں  بھی پیدا ہوتی ہیں  وہ کسی نہ کسی چیز کو پھاڑ کر نکلتی ہیں۔  تمام نباتات بیج اور زمین کو پھاڑ کر اپنی کونپل نکالتے ہیں ۔  تمام  حیوانات یا تو رحم مادر سے  بر آمد ہوتے ہیں،  یا تو انڈا توڑ کر نکلتے ہیں،  یا کسی اور مانع ظہو چیز کر چیر کو باہر آتے ہیں  تمام چشمے پہاڑ یا زمین کو شق کر کے نکلتے ہیں۔  دن  رات کا پردہ چاک ک کے نمودار ہوتا ہے۔  بارش کے قطرے بادلوں  کو چیر کر زمین کا رخ کرتے ہیں۔  غرض  موجودات میں  سے ہر چیز کسی نہ کسی طرح کے انشقاق کے نتیجے میں   عدم سے وجود میں  آتی ہے،  حتیٰ کہ زمین اور  سارے آسمان بھی پہلے ایک ڈھیر تھے جس کو پھاڑ کر انہیں  جدا جدا کیا گیا،  کَانَتَا رَتْقاً فَفَتَقْنٰھُمَا (الانبیاء۔۳۰)۔ پس اس معنی کے لحاظ سے فلق کا لفظ تمام مخلوقات کے لیے عام ہے۔  اب اگر پہلے معنی لیے جائیں  تو آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ میں  طلوع صبح کے مالک کی پناہ لیتا ہوں۔  اور دوسرے معنی لیے جائیں  تو مطلب ہو گا میں  تمام خلق کے رب کے  پناہ لیتا ہوں۔  اس جگہ اللہ تعالیٰ کا اسم ذات چھوڑ کر اس کا اسم صفت’’رب‘‘اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ پناہ مانگنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ’’رب ‘‘، یعنی مالک و پروردگار اور آقا دمربی ہونے کی صفت زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔  پھر رَبُّ الْفَلَقْ سے مراد اگر طلوع صبح کا رب ہوتو اس کی پناہ لینے کے معنی یہ ہوں گے کہ جو رب تاریکی کو چھانٹ کر صبح روشن نکالتا ہے میں  اس کی پناہ لیتا ہوں  تاکہ وہ آفات کے ہجوم کو چھانٹ کر میرے لیے  عافیت پیدا کردے،  اور اگر اس سے مراد رَبِّ خَلْق ہو تو معنی یہ ہوں  گے کہ  میں  ساری خلق کے مالک کی پناہ لیتا ہوں  تا کہ وہ  اپنی مخلوق کے  شرسے مجھے بچائے۔ ۴: بالفاظ دیگر تمام مخلوقات کے شر سے  میں  اُس کی پناہ مانگتا ہوں۔  اس فقرے میں  چند باتیں  قابل غور  ہیں : اول یہ کہ شر کو پیدا کرنے کی نسبت اللہ کی طرف نہیں  کی گئی،  بلکہ مخلوقات کی پیدائش کی نسبت اللہ کی  طرف اور شر کی نسبت مخلواقات کی طرف کی گئی ہے۔  یعنی یہ نہیں  فرمایا کہ اُن شرُور سے پناہ مانگتا ہوں  جو اللہ نے پیدا کیے ہیں،  بلکہ یہ فرمایا کہ اُن چیزوں  کے شر سے پناہ مانگتا ہوں  جو اُس نے پیدا کی ہیں۔  اِس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی مخلوق کو شر کے لیے پیدا نہیں  کیا ہے۔  بلکہ اُس کا ہر کام خیر اور کسی  مصلحت ہی کے لیے ہوتا ہے،  البتہ مخلوقات کے اندر جو اوصات اُس نے  اس لیے پیدا کیے ہیں  کہ  اُن کی تخلیق  کی مصلحت پوری ہو، ان سے بعض اوقات اور بعض اقسام کی مخلواقت سے اکثر شرور رنما ہوتا ہے۔  دوم یہ کہ اگر صرف اسی ایک فقرے پر اکتفا کیا جاتا  اور بعد کے فقروں  میں  خاص خاص قسم کی مخلوقات  کی شُرور سے الگ الگ خدا کی پناہ مانگنے کا نہ بھی ذکر کیا جاتا تو یہ فقرہ مدعا پورا کرنے کے لیے کافی تھا، کیونکہ اس میں  ساری مخلوقات کے شر سے خدا کی پناہ مانگ لی گئی ہے۔  اس عام اِستعاذ ے کے بعد چند مخصوص شرور سے  پناہ مانگنے کا ذکر خود بخود یہ معنی دیتا ہے کہ ویسے تو میں  خدا کی پیدا کی ہوئی  ہر مخلوق  کے شر سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں،  لیکن خاص طور پر  وہ چند شرور جن کا ذکر سورہ فلق کی باقی آیات اور سورہ ناس میں  کیا گیا ہے،  ایسے ہیں  جن سے خدا کی  امان پانے کا میں  بہت محتاج ہوں۔  سوم یہ کہ مخلوقات کے شر سے پناہ حاصل کرنے کے لیے موزوں  ترین‘‘ اور مؤثر ترین استعاذہ اگر کوئی ہو سکتا ہے تو  وہ یہ ہے کہ اُن کے خالق کی پناہ مانگی جائے،  کیونکہ وہ بہر حال اپنی مخلوق پر غالب ہے،  اور ان کے ایسے شرور کو بھی جانتا ہے  جنہیں  ہم جانتے ہیں  اور ایسے شرور سے بھی واقف ہے جنہیں  ہم نہیں  جانتے۔  لہٰذا اُس کی پناہ گویا اُس حاکم اعلیٰ کی پناہ ہے جس کے مقابلے کی طاقت کسی مخلوق میں  نہیں  ہے،  اور اس کی پناہ مانگ کر ہم ہر مخلوق کے ہر شر سے اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں ،  خواہ وہ ہمیں  معلوم ہو یا نہ ہو۔  نیز اس میں  دنیا ہی کے نہیں  آخرت کے بھی ہر شے سے استعاذہ شامل ہے۔  چہارم یہ کہ شر کا لفظ نقصان،  ضرر، تکلیف اور اَلَم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے،  اور اُن اسباب کے لیے بھی جو نقصان و ضرور اور تکلیف والم کے موجب ہوتے ہیں۔  مثلاً بیماری،  بھوک، کسی حادثے یا جنگ میں  زخمی ہونا، آگ سے جل جانا،  سانپ بچھو وغیرہ سے ڈسا جانا، اولاد کی موت کے غم میں  مبتلا ہونا، اور ایسے ہی دوسرے شرور پہلے معنی میں  شر  ہیں،  کونکہ یہ بجائے خود تکلیف اور اذیت ہیں۔  بخلاف اس کے مثال کے طور پر کفر، شرک،  اور ہر قسم کے گناہ اور ظلم دوسرے معنی میں  شر ہیں  کیونکہ ان کا انجام نقصان اور ضرر ہے اگرچہ بظاہر ان سے فی الوقت کوئی تکلیف نہ پہنچتی ہو، بلکہ بعض گناہوں  سے لذت ملتی یا نفع حاصل ہوت ہو۔ پس شر سے پناہ مانگنا اِن دونوں  مفہومات کا جامع ہے۔            پنجم یہ کہ شر سے پناہ مانگنے میں  دو مفہوم اور بھی شامل ہیں۔  ایک یہ کہ جو شر واقع ہو چکا ہے،  بندہ اپنے خدا سے دعا مانگ رہا ہے کہ وہ اسے دفع کر دے۔  دوسرے یہ کہ جو شر واقع نہیں  ہوا ہے،  بندہ یہ دعا مانگ رہا ہے کہ خدا مجھے اُس شر سے محفوظ رکھے۔   ۵: مخلوقات کے شر سے عموماً خدا کی پناہ مانگنے کے بعد اب بعض خاص مخلوقات کے شر سے خصوصیت کے ساتھ پناہ مانگنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔  آی میں  غَاسِق اِذَا وَقَبَ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔  غاسق کے لغوی معنی تاریک کے ہیں۔  چنانچہ قرآن میں  ایک جگہ ارشاد ہوا ہے۔  اَقِمِ الصَّلوٰ ۃَ لِدُ لُوْکِ الشَّمْسِ اِلیٰ غَسَقِ الَّیْلِ’’نماز قائم کرو زوالِ آفتاب کے وقت سے رات کے اندھیرے تک‘‘(بنی اسرائیل۔۷۸)۔ اور وَقَب کے معنی داخل ہونے یا چھا جانے کے ہیں۔  رات کی تاریکی کے شر سے خاص طور پر اس لیے پناہ مانگنے کی تلقین کی گئی ہے کہ اکثر جرائم اور مظالم رات ہی کے وقت ہوتے ہیں۔  موذی جانور بھی رات ہی کو نکلنے ہیں۔  اور عرب میں  طوائف الملو کی کا  جو حال اِن آیات کے نزول کے وقت تھا اس میں  تورات بڑی خوفناک چیز تھی، اس کے اندھیرے میں  چھاپہ مار نکلتے تھے اور بستیوں  پر غارت گری کے لیے ٹوٹ پڑتے تھے۔  جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی جان کے درپے تھے وہ بھی رات ہی کے وقت آپ کے قتل کر دینے کی  تجویز سوچا کرتے تھے تا کہ قاتل کا پتہ نہ چل سکے۔  اس لیے اُن تمام شرور آفات سے خدا کی پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا جو رات کے وقت نازل ہوتی ہیں۔  یہاں  اندھیری رات کے شر سے طلوعِ فجر کے رب کی پناہ مانگنے میں  جو لطیف مناسبت ہے وہ کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں   رہ سکتی۔           اس آیت کی تفسیر میں  ایک اِشکال یہ پیش آتا ہے کہ متعدد صحیح احادیث میں  حضرت عائشہ ؓ کی یہ روایت آئی ہے کہ رات کو چاند نکلا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر اُس کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ اللہ کی پناہ  مانگو، ھٰذا الغاسق اذا وقب، یعنی یہ الغاسق اذا قب ہے (احمد،  ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن المُنذر، حاکم، ابن مردویہ)۔ اِس کی تاویل میں  بعض لوگوں  نے کہا ہے کہ اِذَا وَقَبَ کا مطلب یہاں  اِذَا خَسَفَ ہے،  یعنی جبکہ وہ گہنا جائے یا چاند گرہن اس کو ڈھانک لے۔  لیکن کسی روایت میں  بھی یہ نہیں  آیا ہے کہ جس وقت حضورؐ نے چاند کی طرف اشارہ کر کے یہ بات فرمائی تھی اُس وقت وہ گرہن میں  تھا۔ اور لغتِ عرب میں  بھی اِذَاوَقَبَ کے معنی اِذَا خَسَفَ کسی طرح نہیں  ہو سکتے۔  ہمارے نزدیک اِ س حدیث کی صحیح تاویل یہ ہے کہ چاند نکلنے کا وقت  چونکہ رات ہی کو ہوتا ہے،  دن کو اگر چاند آسمان پر ہوتا بھی ہے تو روشن نہیں  ہوتا،  اس لیے حضورؐ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اس کے (یعنی چاند کے ) آنے کے وقت یعنی رات سے خدا کی پناہ مانگو، کیونکہ چاند کی روشنی مدافعت کرنے والے کے لیے اُتنی مدد گار نہیں  ہوتی جتنی حملہ کرنے والے کے لیے ہوتی ہے،  اور جرم کا شکار ہونے والے کے لیے اُتنی مددگار نہیں  ہوتی جتنی مجرم کے لیے ہوا کرتی ہے۔  اسی بنا پر حدیث میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کا ارشاد ہے کہ اِنَّ الشَّمْسَ اِذَا غَرَ بَتْ انتشرت الشیاطین، فالَفتو اصبیانکم و احبسو امواشیکم حتی تذھب فحمۃ العشاء’’جب سورج غروب ہو جائے تو شیاطین ہر طرف پھیل جاتے ہیں،  لہٰذا اپنے بچوں  کو گھروں  میں  سمیٹ لو اور اپنے جانوروں  کو باندھ رکھو جب تک رات کی تاریکی ختم نہ ہو جائے ‘‘۔۶: اصل الفاظ ہیں  نَفَّا ثَاتِ فِی الْعُقَدِ۔ عُقَد جمع ہے عُقْدہ کی جس کے معنی گرہ کے ہیں،  جیسی مثلاً تا گے یا رسی میں  ڈالی جاتی ہے۔  نَفْث کے معنی پھونکنے کے ہیں۔  نَفَّا ثَات جمع ہے نَفَّا ثَہ کی جو کو اگر علامہ کی طرح سمجھا جائے تو مراد بہت پھونکنے والے مرد ہوں  گے،  اور اگر مؤنث کا صیغہ سمجھا جائے تو مرد بہت پھونکنے والی عورتیں  بھی ہو سکتی ہیں،  اور نفوس یا جماعتیں  بھی، کیونکہ عربی میں  نفس اور جماعت دونوں  مؤنث ہیں۔  گرہ میں  پھونکنے کا لفظ اکثر، بلکہ تمام تر مفسرین کے نزدیک جادو کے لیے استعارہ ہے،  کیونکہ جادوگر عموماً کسی ڈور یا تاگے میں  گرہ  دیتے اور اس پر پھونکتے جاتے ہیں۔  پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ میں  طلوعِ فجر کے رب کی پناہ مانگتا ہوں  جادوگر یا جادوگرنیوں  کے شر سے۔  اِ س مفہوم کی تائید وہ روایات بھی کرتی ہیں  جن میں  یہ بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم پر جب جادو ہوا تھا تو جبریل علیہ السلام نے آ کر حضورؐ کو معوِّذتین پڑھنے کی ہدایت کی تھی، اور معوِّذتین میں  یہی ایک فقرہ ہے جو براہِ راست جادو سے تعلق رکھتا ہے۔  ابو مسلم اصفہانی اور زمخْشَری نے نَفَّاثات فی العقد کا ایک اور مفہوم بھی بیان کیا ہے،  اور وہ یہ ہے کہ اس سے مراد عورتوں  کی مکاری، اور مردوں  کے عزائم اور آراء اور خیالات پر اُن کی اثر اندازی ہے ار اس کو جادو گری سے تشبیہ دی گئی ہے،  کیونکہ عورتوں  کی محبت میں  مبتلا ہو کر آدمی کا وہ حال ہو جاتا ہے گویا اُس پر جادو کر دیا گیا ہے۔  یہ تفسیر اگرچہ پرلطف ہے،  لیکن اُس تفسیر کے خلاف  ہے جو سلف سے مسلم چلی آتی ہے۔  اور اُن حالات سے بھی یہ مطابقت نہیں  رکھتی جن میں  معوِّ ذتین نازل ہوئی ہیں  جیسا کہ ہم دیباچے میں  بیان کر چکے ہیں۔            جادو کے متعلق یہ جان لینا چاہیے کہ اس میں  چونکہ دوسرے شخص پر بُرا اثر ڈالنے کے لیے شیاطین یا ارواحِ خبیثہ یا ستاروں  کی مدد مانگی جاتی ہے اس لیے قرآن میں  اسے کفر کہا گیا ہے : وَمَا کَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَلٰکِنَّ الشَّیٰطِیْنَ کَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاس السِّحْر، ’’سلیمان نے کفر نہیں  کیا تھا بلکہ شیاطین نے کفر کیا تھا، وہ لوگوں  کو جادو سکھاتے تھے ‘‘(البقرہ۔۱۰۲)۔ لیکن اگر اُس میں  کوئی کلمہ کفر یا کوئی فعلِ شرک نہ بھی ہو تو وہ بالاتفاق حرام ہے  اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے اُسے سات ایسے کبیرہ گناہوں  میں  شمار کیا ہے جو انسان کی آخرت کو برباد کردینے والے ہیں۔  بِخاری ومسلم  میں  حضرت ابو ہریرہؓ کیر وایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا سات غارت گر چیزوں  سے پر ہیز کرو۔ لوگوں  نے پوچھا وہ کیا ہیں  یا رسول اللہ؟ فرمایا خدا کے ساتھ کوئی شریک کرنا، جادو، کسی ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا ہے،  سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جہاد میں  دشمن کے مقابلہ سے پیٹھ پھیر کا بھاگ نکلنا، اور بھولی بھالی عَفیف مومن عورتوں  پر زنا کی تُہمت لگانا۔  ۷: حسد کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو اللہ نے جو نعمت یا فضیلت یا خوبی عطا کی ہو اس پر کوئی دوسرا شخص چلے اور یہ چاہے کہ وہ اُسے سے سلب ہو کر حاسد کو مل جائے یا کم از کم یہ کہ اُس سے ضرور چھِن جائے۔  البتہ حسد کی تعریف میں  یہ بات نہیں  آتی کہ کوئی شخص یہ چاہے کہ جس فضل دوسرے کو ملا ہے وہ مجھے بھی مل جائے،  یہاں  حاسد کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ اُس حالت میں  مانگی  گئی ہے جب کہ وہ حسد کرے،  یعنی اپنے دل کی آگ بجھانے کے لیے قول یا عمل سے کوئی اقدام کرے۔  کیونکہ جب تک وہ کوئی اقدام نہیں  کرتا اُس وقت تک اُس کا جلنا بجائے خود چاہے بُراسہی، مگر محسود کے لیے ایسا شر نہیں  بنتا کہ اس سے پناہ مانگی جائے۔  پھر جب ایسا شر کسی حاسد سے  ظاہر ہو تو اُس سے بچنے کے لیے اولین تدبیر یہ ہے کہ اللہ کی پناہ مانگی جائے۔  اس کے ساتھ حاسد کے شر سے امان پانے کے لیے چند چیزیں  اور بھی مددگار ہوتی ہیں۔  ایک یہ کہ انسان اللہ پر بھروسہ کرے اور یقین رکھے کہ جب تک اللہ نہ چاہے کوئی اُس کا کچھ نہیں  بگاڑ سکتا۔ دوسرے یہ کہ حاسد کی باتوں  پر صبر کرے،  بے صبر ہو  کر ایسی باتیں  یا کاروائیاں  نہ کرنے لگے جن سے وہ خود بھی اخلاقی طور پر حاسد ہی کی سطح پر آ جائے۔ تیسرے یہ کہ حاسد خواہ خدا سے بے خوف اور خلق سے بے شرم ہو کر کیسی ہی بیہودہ حرکتیں  کرتا رہے،  محسود بہر حال تقویٰ پر قائم رہے۔  چوتھے یہ کہ اپنے دل کو اُس کی فکر سے بالکل فارغ کر لے اور اُص کو اِس طرح نظر انداز کر دے کہ گویا وہ ہے ہی نہیں۔  کیونکہ اُس کی فکر میں  پڑنا حاسد سے مغلوب ہونے کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔  پانچویں  یہ کہ حاسد کے ساتھ بدی سے پیش آنا تو درکنار، جب کبھی ایسا موقع آئے کہ محسود اس کے ساتھ بھلائی اور احسان کا برتاؤ کر سکتا ہو تو ضرور ایسا ہی کرے،  قطع نظر اِس سے کہ حاسد کے دل کی جلن محسود کے اِس نیک رویّہ سے مٹتی ہے یا نہیں۔  چھٹے یہ کہ محسود توحید کے عقیدے کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر اس بات پر ثابت قدم رہے،  کیونکہ جس دل میں  توحید بسی ہو ئی ہو اس میں  خدا کے خوف کے ساتھ کسی اور کا خوف جگہ ہی نہیں  پا سکتا۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

۱۱۴۔سورۃ الناس

 

 

ترجمہ

 

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

کہو، میں  پناہ مانگتا ہوں  انسانوں  کے ربّ، انسانوں  کے بادشاہ، انسانوں  کے حقیقی معبُود کی ۱ اُس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے،  ۲ جو لوگوں  کے دلوں  میں  وسوسے ڈالتا ہے خواہ وہ جِنّوں  میں  سے ہو یا انسانوں  میں  سے۔  ۳ ؏۱

 

تفسیر

 

۱: یہاں  بھی سورہ فلق کی طرح اعوذ باللہ کہنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کو اس تین صفات سے یاد کر کے اس کی پناہ مانگنے کی تلقین کی گئی ہے۔  ایک اُس کا ربُّ الناس، یعنی تمام انسانوں  کا پرودگار و مربّی اور مالک اور آقا ہونا۔ دوسرے اُس کا ملکُ الناس،  یعنی تمام انسانوں  کا بادشاہ اور حاکم و فرمانبردار ہونا۔ تیسرے،  اُس کا اِلٰہُ الناس، یعنی انسانوں  کا حقیقی معبود ہونا۔ (یہاں  یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اِلٰہ کا لفظ قرآن مجید میں  دو معنوں  میں  استعمال ہوا ہے۔  ایک وہ شے یا شخص جس کو عبادت کا کوئِ استحقاق نہ پہنچتا ہو مگر عملاً اس کی عبادت کی جا رہی ہو۔ دوسرا وہ جسے عبادت کا استحقاق پہنچتا ہو اور جو حقیقت میں  معبود ہو، خواہ لوگ اس کی عبادت کر رہے ہوں  یا نہ کر رہے ہوں۔  اللہ کے لیے جہاں  یہ لفظ استعمال ہوا ہے اسی دوسرے  معنی میں  ہوا ہے )۔ اِن تین صفات سے استعاذہ کا مطلب یہ ہوا کہ میں  اُس خدا کی پناہ مانگتا ہوں  جو انسانوں  کا رب، بادشاہ، اور معبود ہونے کی حیثیت سے اُن پر کامل اقتدار رکھتا ہے،  جوا پنے بندوں  کی حفاظت پر پوری طرح قادر ہے،  اور جو واقعی اُس شر سے انسانوں  کو بچا سکتا ہے جس سے خود بچنے اور دوسرے انسانوں  کو بچانے کے لیے میں  اُس کی پناہ مانگ رہا ہوں۔  یہی نہیں  بلکہ چونکہ وہی رب اور بادشاہ اور اِلٰہ ہے،  اس لیے اُس کے سوا اور کوئی ہے ہی نہیں  جس سے میں  پناہ مانگوں  اور جو حقیقت میں  پناہ دے بھی سکتا ہو۔

۲: اصل میں  وَسْوَاسِ الْخَنَّاس کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔  وَسْوَاس کے معنی ہیں  بار بار سوسہ ڈالنے والا۔ اور وَسْوَسے کے معنی ہیں   پے در ہے ایسے طریقے یا طریقوں  سے کسی کے دل میں  کوئی بری بات ڈالنا کہ جس کے دل میں  وہ ڈالی جا رہی ہو  اُسے یہ محسوس نہ ہو سکے کہ وسوسہ انداز اُس کے دل میں  ایک بری بات ڈال رہا ہے۔  وَسوسے کے لفظ میں  خود تکر ار کا مفہوم شامل ہے،  جیسے زلزلہ میں  حرکت کی تکرار کا مفہوم شامل ہے۔  چونکہ انسان صرف ایک  دفعہ بہکانے سے نہیں  بہکتا بلکہ اسے بہکانے کی پے درپے کوشش کرتی ہوتی ہے،  اس لیے ایسی کوشش کو وَسْوَسہ اور کوشش کرنے والے کو وَسْوَاس کہا جاتا ہے۔  رہا لفظ خَنَّاس،  تو یہ خُنوس سے ہے جس کے معنی ظاہر ہونے کے بعد چھپنے یا آنے کے بعد پیچھے ہٹ جانے کے ہیں،  اور خناس چونکہ مبالغہ کا صیغہ ہے اس لیے اس کے معنی یہ فعل بکثرت کرنے والے کے ہوئے۔  اب یہ ظاہر بات ہے کہ وسوسہ ڈالنے والے کو بار بار وسوسہ اندازی کے لیے آدمی کے پاس آنا پڑتا ہے،  اور ساتھ ساتھ جب اسے خَناس بھی کہا گیا تو دونوں  الفاظ کے ملنے سے خود بخود یہ مفہوم پیدا ہو گا کہ وسوسہ ڈال ڈال کروہ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور پھر پے در پے وسوسہ اندازی کے لیے پلٹ کر آتا ہے۔  بالفاظ دیگر ایک مرتبہ اس کی وسوسہ اندازی کی کوشش جب ناکام ہوتی ہے تو وہ =چلا جاتا ہے،  پھر وہی کوشش کرنے کے لیے دوبارہ، سہ بارہ اور بار بار آتا رہتا ہے۔  وسواس الخناس کا مطلب سمجھ لینے کے بعد اب اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس کے شر سے پناہ مانگنے کے مطلب کیا ہے ؟ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ پناہ مانگنے والا خود اُس کے شرسے خدا کی پناہ مانگتا ہے،  یعنی اِس شر سے کہ وہ کہیں  اُس کے اپنے دل میں  کوئی وسوسہ نہ ڈال دے۔  دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے راستے کی طرف دعوت دینے والے کے خلاف جو شخص بھی لوگوں  کے دلوں  میں  وسوسے ڈالتا پھرے اُس کے شر سے داعیِ حق خدا کی پناہ مانگتا ہے۔  داعی الیٰ الحق کے بس کا یہ کام نہیں  ہے کہ اُس کی ذات کے خلاف جن جن لوگوں  کے دلوں  میں  وسوسے ڈالے جا رہے ہوں  ان سب تک خود پہنچے اور ایک ایک شخص کی غلط فہمیوں  کو صاف کرے۔  اُس کے لیے یہ بھی مناسب نہیں  ہے کہ اپنی دعوت الیٰ اللہ کا کام چھوڑ چھاڑ کر وسوسہ اندازوں   کی پیدا کردہ غلط فہمیوں  کو صاف کرنے اور اُن کے الزامات کی جواب دہی کرنے میں  لگ جائے۔  اُس کے مقام سے یہ بات بھی فروتر ہے کہ جس سطح پر اس کے مخالفین اُتر ے ہوئے ہیں  اسی پر خو د بھی اتر آئے۔  اس لیے اللہ تعالیٰ نے دعوتِ حق دینے والے کو ہدایت فرمائی کہ ایسے اَشرار کے شر سے بس خدا کی پناہ مانگ لے اور پھر بے فکری کے ساتھ اپنی دعوت کے کام میں  لگا رہ۔ اس کے بعد اُن سے نمٹنا تیرا کام نہیں  بلکہ رب الناس، ملک الناس اور اِلٰہُ الناس کا کام ہے۔  اس مقام پر یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ وسوسہ عملِ شر کا نقطہ آغاز ہے۔  وہ جب ایک غافل یا خالی الذہن آدمی کے اندر اثر انداز ہو جاتا ہے تو پہلے اُس میں   بُرائی کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔  پھر مزید وسوسہ اندازی اُس بُری خواہش کو بُری نیت اور بُرے ارادے میں  تبدیل کر دیتی ہے۔  پھر اس سے آگے جب وسوسے کی تاثیر بڑھتی ہے تو ارادہ عزم بن جاتا ہے اور آخری قدم پھر عملِ شر ہے۔  اس لیے وسوسہ انداز کے شر سے خدا کی پناہ مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ شر کاآغاز جس مقام سے ہوتا ہے،  اللہ تعالیٰ اُسی مقام پر اس کا قلع قمع فرمادے۔  دوسرے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو وسوسہ اندازوں  کے شر کی ترتیب یہ نظر آتی ہے کہ پہلے وہ کھلے کھلے کفر، شرک، دہریت، یا للہ اور رسول سے بغاوت اور اللہ والوں  کی عداوت پر اُکساتے ہیں۔  اس میں  ناکامی ہو اور آدمی دینُ اللہ  میں  داخل ہی ہو جائے تو وہ اسے کسی نہ کسی بدعت کی راہ سمجھا تے ہیں۔  یہ بھی نہ ہو سکے تو معصیت کی رغبت دلاتے ہیں ۔  اس میں  بھی کامیابی نہ ہو سکے تو آدمی کے دل میں  یہ خیال ڈالتے ہیں  کہ چھوٹے چھوٹے گناہ کر لینے میں تو کوئی مضائقہ نہیں ،  تاکہ یہی اگر کثرت سے صادر ہو جائیں  تو گناہوں  کا بار عظیم انسان پر لد جائے۔  اس سے بھی اگر آدمی بچ نکلے تو بدرجہ آخر وہ  کوشش کرتے ہیں  کہ آدمی دین حق کو بس اپنے آپ تک ہی محدود رکھے،  اُسے غالب کرنے کی فکر نہ کرے،  لیکن اگر کوئی شخص اِن تمام چالوں  کو جاکام کر دے تو پھر شیاطین جن و انس کی پوری پارٹی ایسے آدمی پر پِل پڑتی ہے،  اس کے خلاف لوگوں  کو اکساتی اور بھڑ کاتی ہے،  اُس پر گالیوں  اور الزامات کی بو چھاڑ کراتی ہے،  اسے ہر طرف بدنام اور رسوا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔  پھر شیطان اُس مرد مومن کو آ کر غصہ دلاتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ سب کچھ بر داشت کر لینا تو بڑی بذدلی کی بات ہے،  اُٹھ اور اِن حملہ آوروں  سے بھڑ جا۔ یہ شیطان کا آخری حربہ ہے جس سے وہ دعوتِ حق کی راہ کھوٹی کرانے اور داعیِ حق  کو راہ کے کانٹوں  سے الجھا دینے کی کوشش کرتا ہے۔  اس سے بھی اگر داعی حق  بچ نکلے تو شیطان اُس کے آگے بے بس ہو جاتا ہے۔  یہی وہ چیز ہے جس کے متعلق قرآن مجید میں  ارشاد ہوا ہے وَاِمَّایَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذَ بِا للہِ، ’’اور اگر شطاھن کی طرف سے تمہیں  کوئی  اُکساہٹ محسوس ہوتو اللہ کی پناہ مانگو‘‘(الاعراف۲۰۰۔حٰم السجدہ۔۳۶)۔ وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ ھَمَزَاتِ الشَّیْطٰنِ، ’’کہو، میرے پروردگار میں  شیاطین کی اُکساہٹوں  سے تیری پناہ مانگتا ہوں ‘‘(المومنون۔۹۷) اِنَّ الَّذِ یْنَ اتَّقَوْ ا اِذَا مَسَّھُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْ ا فَاِذَا ھُمْ مُّبْصِرُوْنَ، ’’جو لوگ پرہیز گارہیں  ان کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال اُنہیں  چھو بھی جائے تو وہ فوراً چونک جاتے ہیں۔  اور پھر انہیں  (صحیح راستہ) صاف نظر آنے لگتا ہے ‘‘(الاعراف۔۲۰۱)۔ اور اسی بنا پر جو لوگ شیطان کے اس آخری حربے سے بچ نکلیں  ان کے بارے میں  اللہ تعالیٰ کا ارشا د ہے وَمَا یُلَقّٰھَآ اِلّاَ ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ، ’’یہ چیز بڑے نصیبے والے کے سوا کسی کوحاصل نہیں  ہوتی‘‘(حٰم السجدہ، ۳۵)۔           اس سلسلے میں  ایک بات اور بھی نگاہ میں  رہنی چاہیے۔  وہ یہ کہ انسان کے دل میں  وسوسہ اندازی صرف باہر سے شیا طینِ  جن و انس ہی نہیں  کرتے بلکہ اندر سے خود انسان کا اپنا نفس بھی کرتا ہے۔  اُس کے اپنے غلط نظریات اُس کی عقل کو گمراہ کرتے ہیں۔  اُس کی اپنی ناجائز اغراض و خواہشات اُس کی قوتِ تمیز  اور قوتِ ارادی اور قوتِ فیصلہ کو،  بد راہ کرتی ہیں۔  اور باہر کے شیاطین ہی نہیں،  انسان کے اندر اس کے اپنے نفس کا شیطان بھی  اس کو بہکا تا ہے۔  یہی بات ہے جو قرآن میں  ایک جگہ فرمائی گئی ہے کہ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ (ق۔۱۶)۔’’اور ہم اُس کے اپنے نفس سے اُبھرنے والے وسوسوں  کو جانتے ہیں ‘‘ اسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے اپنے مشہور خطبہ مسنونہ میں  فرمایا ہے نعوذ با للہ من شر و رانفسنا ’’ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں  اپنے نفس کی شرارتوں  سے ‘‘۔

۳: بعض اہل علم کے نزدیک اِن الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ وسوسہ ڈالنے والا دوقسم کے لوگوں  کے دلوں  میں  وسوسہ ڈالتا ہے،  ایک جن، دوسرے انسان۔ اس بات کو اگر تسلیم کیا جائے تو لفظ ناس کا اطلاق جن اور انسان دونوں  پر ہو گا۔ وہ کہتے ہیں  کہ ایسا ہو سکتا ہے،  کیونکہ قرآن میں  جب رِجَا لٌ ( مردوں  ) کا لفظ جِنوں  کے لیے استعمال ہوا ہے،  جیسا کہ سورہ جن آیت ۶ میں  ہم دیکھتے ہین، اور جب نَفَر کا استعمال جِنوں  کے گروہ پر ہو سکتا ہے،  جیسا کہ سورہ احقاف آیت۲۹ میں  ہوا ہے،  تو مجازاً ناس کے لفظ میں   بھی انسان اور جِن دونوں  شامل ہو سکتے ہیں۔  لیکن یہ رائے اس لیے غلط ہے کہ ناس اور انس اور انسان کے الفاظ لغت ہی کے اعتبار سے لفظ جِن کی ضد ہیں۔  جِنّ کے اصل معنی پوشیدہ مخلوق ے ہیں  اور جِن کوجِن اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ وہ انسانی آنکھ سے مخفی ہے۔  اس کے بر عکس ناس اور اِنس کے الفاظ انسان کے لییے بولے ہی اس بنا پر جاتے ہیں  کہ وہ ظاہر اور مَرْئی اور محسوس ہے۔  سورہ قَصص،  آیت۲۹ میں  ہے اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَاراً۔ یہاں  اَنَسَ کے معنی رَأَی ہیں،  یعنی حضرت موسیٰ نے ’’کوہ طور کے کنارے آگ دیکھی‘‘۔سورہ نساء، آیت ۶ میں  ہے فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْھُم رُشْداً، ’’اگر تم محسوس کرو کہ ییمو بچے اب ہوشمند ہو گئے  ہیں ‘‘۔یہاں  اٰنَسْتُم کے معنی اَحْسَنْتُمْ یَا رَاَیْتُمْ ہیں۔  پس ناس کا اطلاق لغتِ عرب کی رو سے جِنوں  پر نہیں  ہو سکتا، اور آیت کے صحیح معنی یہ ہیں  کہ ’’ اُس سووسہ انداز کے شر سے جو انسانوں  کے دلوں  میں  وسوسے ڈالتا ہے،  خواہ وہ جِنوں  میں  سے ہو یا خود انسانوں  میں  سے ‘‘۔ یعنی دوسرے الفاظ میں  وسوسہ اندازی کا کام شیاطینِ جِن بھی  کرتے ہیں  اور شیاطین اِنس بھی، اور دونوں  کے شر سے پناہ مانگنے کی اس سورہ میں  تلقین کی گئی ہے۔  اس معنی کی تائید قرآن سے بھی ہوتی ہے اور حدیث سے بھی۔قرآن میں  فرمایا: وَکَذٰالِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوّاًشَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضھُمْ اِلیٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْراً۔ (الانعام۔۱۱۲) اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے شیطان جِنوں  اور شیطان انسانوں  کو دشمن بنا دیا ہے  جو ایک دوسرے پر خوش آیند باتیں  دھوکے اور فریب کے طور پر القا کرتے ہیں۔  اور حدیث میں  امام احمد، نسائی اور  ابن حِبّان حضرت ابو ذر کی روایت نقل کرتے ہیں  کہ میں   نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی خدمت میں  حاضر ہوا۔ آپ مسجد میں  تشریف فرما تھے۔  ابو ذر، تم نے  نماز پڑھی؟ میں  نے عرض کاں  نہیں۔  فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو۔ چنانچہ میں  نے نماز پڑھی  اور پھر آ کر بیٹھ گیا۔ حضورؐ نے فرمایا یا اباذرّ، تَعَوَّذ با للہ من شِرّ شیاطینِ  الانس والجن، ’’اے ابو ذر، شیاطینِ اِنس اور شیاطینِ  جن کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو‘‘۔ میں  نے عرض کیا یا رسول اللہ،  کیا انسانوں  میں  بھی شیطان ہوتے ہیں ؟فرمایا ہاں۔

٭٭٭

 

 

 

٭٭٭

ماخذ:

http://www.urduquran.net

http://www.tafheemonline.com/tafheem.asp

http://ur.wikipedia.org

تشکر: سبط الحسین

جمع و ترتیب: سبط الحسین، اعجاز عبید

مزید ٹائپنگ: مخدوم محی الدین، کلیم محی الدین،  عبد الحمید

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید