FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

فہرست مضامین

تفسیرنور

 

سورہ مائدہ

 

                شیخ محسن قرائتی

 

 

 

 

                آیت نمبر ۱ تا ۲۷

 

 

مقدمہ

 

سورہ مائدہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت سے ایک دو ماہ پہلے نازل ہوئی اور اس کی کوئی ایک آیت بھی منسوخ نہیں ہوئی ہے۔

اس کو سورہ “مائدہ” کہنے کی وجہ یہ ہے اس کی ایک سو چودھویں آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا کی وجہ سے آسمانی مائدہ کے نازل ہونے کا تذکرہ ہے اس لئے اسے سورہ مائدہ کہتے ہیں۔ اس کی ایک سو بیس آیات ہیں اور “یاایھا الذین امنوا” کے ساتھ خطاب اس صورت میں سب سے زیادہ آیا ہے مثلاً سورہ بقرہ میں یہ خطاب گیارہ مرتبہ آیا ہے جبکہ اس سورت میں سولہ مرتبہ بیان ہوا ہے۔

اس سورت میں ولایت اور رہبری، عقیدہ تثلیث کی تردید، ایفائے عہد کی اہمیت، عدل و انصاف پر مبنی گواہی، کسی کو قتل کرنے کی حرمت، کھانے کی چیزوں کے احکام، وضو، اور تمیم اور عدالت اجتماعی وغیرہ کا تذکرہ ہے۔

چونکہ یہ نازل ہونے والی آخری سورت ہے لہٰذا سورت کے آغاز ہی میں “اوفوا بالعقود” کے جملہ کے ساتھ ہر قسم کے عہد و پیمان کو پورا کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

 

بِسْمِ اللّٰہِ الرَِحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

 

                آیت ۱

 

ترجمہ۔ اے وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہو اپنے (ان) عہد اور پیمانوں کو پورا کرو (جو تم نے خدا یا لوگوں کے ساتھ باندھا ہے) حلال چوپایوں (کے گوشت کھانے) کو تمہارے لئے حلال کیا گیا ہے، مگر جن کی (حرمت) کو تمہارے لئے پڑھا (اور بیان کیا) جائے گا، جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار کو حلال نہ جانو، یقیناً اللہ تعالیٰ جو کچھ کہنا چاہتا ہے حکم کرتا ہے۔

پیام و نکات:

۱۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ جس شخص یا گروہ کے ساتھ جس قسم کا معاہدہ کریں اس کی پابندی اختیار کریں۔ چاہے وہ معاہدہ زبانی ہو یا تحریری اور عملی، چاہے سیاسی معاہدہ ہو یا اقتصادی، اجتماعی اور عائلی، خواہ طاقتور کے ساتھ ہو یا کمزور کے ساتھ، دوست کے ساتھ ہو یا دشمن کے ساتھ۔ 1 چاہے خدا کے ساتھ ہو (جیسے نذر اور عہد وغیرہ) خواہ لوگوں کے ساتھ، فرد کے ساتھ ہو یا معاشرہ کے ساتھ، چھوٹے کے ساتھ ہو یا بڑے کے ساتھ، علاقائی حکومتوں کے ساتھ ہو یا بین الاقوامی سطح پر، کیونکہ “اوفوا بالعقود” میں موجود “الف لام” ہر قسم کے معاہدوں کو شامل ہے۔

۲۔ جس طرح عہد شکنی اور ظلم بہت سی چیزوں سے محروم ہو جانے کا موجب ہوتے ہیں 2 اسی طرح عہد و پیمان کی پابندی بہت سی چیزوں سے استفادہ کا موجب ہوتی ہے “اوفوا بالعقود احلت لکم” اچھے طریقے سے لوگوں کے ساتھ پیش آنا، اچھی روزی کی علامت ہے مثل مشہور ہے “اچھے طریقہ سے لین دین کرنے والا، لوگوں کے مال میں شریک ہوتا ہے”

۳۔ آسمانی کتابیں بھی خدا کا “عہد” ہیں۔ ان کی پابندی بھی ضروری ہے، عہد قدیم (تورات) عہد جدید (انجیل) اور عہد اخیر (قرآن مجید) ہیں۔ حدیث میں ہے کہ “القرآن عھد اللہ” 3 یعنی قرآن اللہ کا عہد ہے۔

۴۔ ایمان، عہد و پیمان کے وفا کی بنیاد ہے، ارشاد نبوی ہے “لا دین لمن لا عھدلہ” یعنی جو عہد و پیمان کی پابندی نہیں کرتا ہے وہ بے دین ہے۔

اگر عہد و پیمان پر عمل درآمد نہ ہو تو معاشرتی بنیادیں ہل کر رہ جائیں، عمومی اعتماد ایک دوسرے سے ختم ہو جائے اور معاشرہ تباہ و برباد وہ جائے۔

۵۔ مکہ کے امن و امان کو محفوظ رکھنے کے لئے بعض چیزوں سے محروم ہونے کو برداشت کیا جائے اور شکار سے چشم پوشی کی جائے۔ (غیر، محلی الصید)

 

آیت ۲

 

ترجمہ۔ اے وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہو! شعائر خداوندی، حرمت والے مہینے، بغیر نشانی والی قربانی اور گلے میں پڑی ہوئی نشانیوں والی قربانی اور بیت اللہ کے قصد سے آنے والوں جو کہ اپنے رب کے فضل اور خوشنودی کے طلبگار ہوتے ہیں (کی حرمت) کو حلال نہ سمجھو۔ اور جب تم (اعمال عمرہ بجا لا کر حالت احرام سے نکل جاؤ تو پھر شکار کر سکتے ہو۔ اور ایسے لوگوں کے ساتھ دشمنی، جنہوں نے (اپنے اقتدار کے دوران) تمہیں مسجد الحرام (مکہ) میں داخل ہونے سے روکا تھا، تمہیں بے عدالتی اور بے اعتدالی پر آمادہ نہ کرے۔ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور گناہ اور ستم کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو، اور خدا سے ڈرتے رہو، اس لئے کہ یقیناً (مجرمین کے لئے) خدا کا عذاب بہت سخت ہے۔

نکتہ:

“ھدی” بغیر نشانی کے وہ جانور ہوتے ہیں حج کے موقع پر ہدیہ (قربان) کئے جاتے ہیں۔ اور “قلائد” نشانیوں والے جانور ہوتے ہیں۔

پیام:

۱۔ شعائر اللہ کے تقدس اور ان کی عظمت کو پامال نہ کرو (لاتحلوا شعائراللہ)

۲۔ تمام زمانے ایک جیسے نہیں ہوتے، بعض دن اور “ایام اللہ” کا خصوصی احترام ہوتا ہے۔ یعنی وہ خاص طور پر محترم ہوتے ہیں۔ (ولاالشھر الحرام)

۳۔ جو جانور الٰہی مقاصد کی تکمیل کے لئے کام میں لائے جاتے ہیں وہ بھی قابل احترام ہوتے ہیں۔ (والھدی ولاالقلائد)

۴۔ بیت اللہ کے مسافروں کا احترام کیا جانا چاہئے (ولا آمین البیت الحرام)

۵۔ حج، دنیوی اور اخروی مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہے (یبتغون فضلا من ربھم و رضوانا)

۶۔ حج میں سفر کا اصل ہدف تو خانہ خدا ہی ہے باقی سرگرمیاں ضمنی ہیں۔ (آمین البیت الحرام)

۷۔ مکہ میں انجام دی جانے والی ہر قسم کی اقتصادی سرگرمیاں اور اسلامی ممالک کے لئے تجارت اور درآمدات و برآمدات آزاد ہیں (یبتغون فضلا)

۸۔ اگر کسی زمانے میں لوگوں نے ہمارے ساتھ دشمنی کا مظاہرہ کیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسرے دور میں ہم ان پر ظلم و تجاوز کو جائز سمجھنے لگ جائیں۔ (ولا یجرمنکم۔۔۔ ) 4

۹۔ خدا کے حرم کے تقدس و احترام کے لئے ہمارے باہمی تعاون کی ضرورت ہے (لاتحلوا شعائر اللّٰہ۔۔۔وتعاونوا)

۱۰۔ دوسروں کی غلطیوں سے چشم پوشی، انہیں اپنی طرف مائل کرنے اور نیکی کے کاموں میں تعاون کا ایک راستہ ہے (لایجر منکم۔۔۔تعاونوا)

۱۱۔ اسلامی حکومت اور اسلامی معاشرہ بین الاقوامی تلخ و شیریں حوادثات اور ظالم و مظلوم کے مدمقابل آنے میں اپنا فعال کردار ادا کریں جہاں ضرورت ہو حمایت کریں اور جہاں ضروری سمجھیں مذمت کریں۔ (تعاونوا علی البر۔۔)

۱۲۔ تمام پہلوؤں کے لحاظ سے فضلیتوں کو پروان چڑھانے کی راہیں ہموار کرنی چاہئیں اور اس مقصد کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہئے (تعاون علی البر۔۔۔ ) 5

۱۳۔ کسی خاص قبیلے، علاقے، قوم، زبان اور اتحادی ملکوں وغیرہ کی بے جا حمایت کی بجائے “حق” کی حمایت کرنی چاہئے اور “نیکی” میں مدد بہم پہنچانی چاہئے۔ (تعاونوا علی البر)

۱۴۔ اسلامی معاشرہ میں نیک شخص اپنے آپ کو اکیلا نہ سمجھے، جبکہ ظالم کا کوئی یارومدگار نہیں ہوتا۔ (تعاونوا علی البر۔۔۔ ولاتعاونوا۔۔۔ )

۱۵۔ ظالموں اور گناہ کا ارتکاب کرنے والوں پر ہر قسم کے دروازے بند کر دینے چاہئیں، تاکہ فساد اور بدکاری کا قلع قمع کیا جا سکے۔ (ولاتعاونوا) 6

۱۶۔ جو لوگ شعائراللہ کے تقدس کو پامال کرتے ہیں اور گناہ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں انہیں خدا کے عذاب کے لئے خود کو تیار کر لینا چاہئے۔ (واتقوااللہ ان اللہ شدید العقاب) 7

 

آیت۳

 

ترجمہ۔ تمہارے اوپر حرام کیا گیا ہے مردار کا گوشت خون، سور کا گوشت (کا کھانا) اور وہ جانور جو غیرخدا کے نام سے ذبح کیا جائے، اور حلال گوشت جانور جو گلا گھٹنے یا مار کھانے یا بلندی سے گرنے یا کسی دوسرے جانور کے سینگ لگنے کی وجہ سے مر جائیں یا کسی درندہ کا باقی ماندہ جانور (بھی حرام ہیں) مگر جس جانور کو (درندہ کے شکار کی وجہ سے مرنے سے پہلے تم اس کے پاس پہنچ جاؤ اور اسے شرعی طریقہ سے) ذبح کرو اور (اسی طرح وہ جانور بھی حرام ہیں) جو بتوں کے آگے ذبح کئے جائیں۔ یا جنہیں تم “ازلام” کے ذریعہ تقسیم کرتے ہو 8 یہ سب خدا کی نافرمانی کی چیزیں ہیں۔

آج کے دن کفار تمہارے دین سے مایوس ہو گئے ہیں۔ لہٰذا ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ آج کے دن میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا، اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو “دین” کے طور پر پسند کر لیا۔

لیکن جو شخص بھوک کی وجہ سے مجبور ہو جائے اور گناہ کی طرف مائل بھی نہ ہو (تو وہ مذکورہ حرام شدہ غذا سے کھا سکتا ہے) کیونکہ خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

نکتہ:

اسی سورت کے اول میں چوپایوں کے گوشت سے بہرہ مندی کا تذکرہ تھا کہ یہ گوشت تمہارے لئے حلال ہے مگر جس قسم کے گوشت کی حرمت بعد میں بیان ہو گی وہ حلال نہیں ہے۔ چنانچہ اس آیت میں دوسری قسم کے گوشت کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

“مخنقہ” وہ جانور ہوتا ہے جس کا گلا گھٹ جائے خواہ کسی انسان کے ہاتھوں سے گھٹے یا کسی جوان سے یا خودبخود۔

“موقوذہ” وہ جانور ہوتا ہے جو مارنے، یا تشدد کرنے یا بیماری کی وجہ سے مر جائے۔ چنانچہ عربوں کی رسم یہ تھی۔ بتوں کے احترام کی خاطر بعض جانوروں کو اس قدر تشدد کا نشانہ بنائے کہ وہ اس کی وجہ سے مر جاتا تھا۔ اور وہ اسے اپنے لئے ایک قسم کی عبادت سمجھتے تھے۔ (ملاحظہ ہو تفسیر قرطبی)

“متردیہ” وہ جانور ہوتا ہے جو کسی بلندی سے گرنے کی وجہ سے مر جائے۔

“نطیحہ” وہ جانو رہوتا ہے جو کسی دورسے جانور کے سینگ لگنے کی وجہ سے مر جائے۔

اس آیت میں جس قسم کی غذا کی حرمت بیان کی گئی ہے قرآن مجید میں کئی بار ذکر کی گئی ہے۔ سورہ انعام اور سورہ نحل مکی سورتیں ہیں ان میں بھی اور سورہ بقرہ جو مدنی سورت ہے اس میں بھی۔ لیکن اس آیت میں مردار کی مختلف نوعیتیں بیان کی گئی ہیں کہ جن کا مصرف حرام ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس مقام پر دو آیتیں ایک ہی آیت میں بیان کی گئی ہیں، ایک میں تو اضطراری اور مجبوری کے علاوہ حرام گوشت کے استعمال کو بیان کیا گیا ہے اور دوسری “الیوم” سے لے کر “دنیا” تک ایک مستقل آیت ہے۔ اوراس کی چند دلیلیں ہیں۔

۱۔ اگر مذکورہ آیت سے “الیوم” سے “دنیا” تک کو حذف کر دیا جائے تو آیت کے معنی میں کسی قسم کی کمی اور نقص واقع نہیں ہوتا۔

۲۔ کفار کو دین سے اس لئے مایوسی نہیں ہوتی کہ وہ کسی قسم کے گوشت کو کھائیں یا کسی قسم کے گوشت کو نہ کھائیں۔

۳۔ شیعہ اور سنی روایات کی رو سے جو اس آیت کے شان نزول کے بارے میں بیان ہوئی ہیں۔ “الیوم یئس الذین کفروا” کا تعلق “الیوم الکملت لکم دینکم۔۔۔ ” سے تاکہ اس سے پہلے یا اس کے بعد کے جملوں سے۔

چونکہ آیت کا یہ حصہ نہایت ہی حساس تھا اور حاسدوں اور مخالفوں کے دل میں بہت کھٹکتا تھا۔ لہٰذا حضرت رسول خدا کے حکم ہی سے اسے گوشت کی حرمت کے حکم کے درمیان قرار دیا گیا ہے تاکہ مخالفین کی دستبرد سے محفوظ رہ جائے۔ ویسے ہی جیسے طلا اور جواہرات کو دوسری عام قسم کی چیزوں کے درمیان میں چھپایا جاتا ہے تاکہ چوروں اور لٹیروں کی لوٹ مار سے محفوظ رہ سکیں۔

شیعہ اور سنی روایات بتاتی ہیں کہ آیت کا یہ حصہ “الیوم یئس الذین۔۔۔ تا۔۔۔ لکم الاسلام دینا” حضرت علی علیہ السلام کے مقام عذیر خم میں منصب امامت پر فائز ہونے کے بعد نازل ہوا۔ نقلی دلائل سے قطع نظر عقلی دلائل بھی اسی بات کی راہنمائی کرتے ہیں۔ کیونکہ اس دن “الیوم” کے لئے چار اہم خصوصیات بیان ہوئی ہیں۔ ۱۔ تمام کفار کی مایوسی کا دن ۲۔ دین کے کامل ہونے کا دن ۳۔ لوگوں پر نعمت خداوندی کے تمام ہونے کا دن ۴۔ ایک دن کہ جس میں اسلام لوگوں کے لئے ایک کامل دین اور مکمل مذہب کے طور پر خدا کا پسندیدہ قرار دیا گیا۔

اگر ہم تاریخ اسلام کے تمام ایام پر اچھی طرح غور و حوض سے کام لیں تو تاریخی نوعیت کا کوئی بھی دن خواہ وہ روز بعثت پیغمبر ہو یا روز ہجرت، یا یوم ولادت حضرت فاطمہ زہرا ہو یا کسی بھی جنگ میں لشکر اسلام کی کامیابی کا دن، حجۃ الوداع ہو یا کوئی اور تاریخی اہمیت کا حامل دن، اس دن کی عظمت، سربلندی، اعزاز اور افتخار کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ حتیٰ کہ حجۃ الوداع کا دن بھی اس کی برابری نہیں کر سکتا۔ اس لئے کہ حج خواہ کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو پھر بھی ہے تو دین کا ایک جزو۔ پس مذکورہ چار صفات کا حامل صرف روز عزیزخم ہی ہے جس میں علی بن ابی طالب علیہ السلام کو پیغمبر کے جانشین کے طور پر منصوب کیا گیا اور حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد امامت کی رہبری کے لئے منتخب کیا گیا۔

پیام:

قرآن میں رہبر کا مقام

۱۔ دین و مذہب اور مکتب فکر صحیح معنوں میں اس کے قائد کے دم قدم ہی سے قائم رہ سکتا ہے اور تمام کفار کو اسی قائد کی موجودگی سے ہی مایوسی ہوئی ہے کسی اور چیز سے نہیں،

۲۔ اگر اسلامی معاشرہ میں غدیر و ولایت جیسا رہبر موجود ہو تو مسلمانوں کو کسی سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ (فلاتخشوھم)

۳۔ کفار کی امیدوں کا اہم ترین مرکز اسلامی رہبر و قائد کی موت ہے اور امیر الموٴمنین علی کے رہبر و قائد کی حیثیت سے انتخاب نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ (الیوم یئس۔۔۔ )

۴۔ اگر خارجی دشمن سے محفوظ رہ بھی جاؤ پھر بھی داخلی دشمن اور گناہ کا اندرونی امکان موجود ہے جس کا مقابلہ صرف خوف خدا ہی کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے۔ (لاتخشوھم و اخشون)

۵۔ رہبر و قائد کے بغیر دین نامکمل ہے (اکملت لکم دینکم)

۶۔ اگر رہبر و قائد کی طرف سے خدائی نعمتوں کی طرف راہنمائی نہ ہو تو تمام نعمتیں نامکمل اور ناقص ہوتی ہیں (اتممت علیکم نعمتی)

۷۔ بغیر رہبر اور قائد کے دین رضائے الٰہی کی سند حاصل نہیں کر سکتا۔ (۔۔۔ رضیت لکم الاسلام دینا)

۸۔ اگر اکمال دین، اتمام نعمت، رضائے الٰہی اور کفار کی مایوسی میں سے کوئی ایک صورت بھی کسی دن انجام پا جائے تو اس دن کے لئے کافی ہے کہ اس کا شمار “ایام اللہ” میں ہونے لگے چہ جائیکہ غدیر جیسا دن کہ جس میں تمام خصوصیات یکجا انجام پا گئیں۔ اسی لئے تو اہلِ کتاب کہتے ہیں کہ اگر “ہماری کتاب میں اس قسم کا دن ہوتا تو ہم اسے “عید کا دن” قرار دیتے۔ چنانچہ روایات اہلبیت میں “عید غدیر” کو اسلام کی عظیم ترین عید قرار دیا گیا ہے۔

۹۔ کفار، ایک کامل اور اکمل دین سے ڈرتے ہیں اور مسلمانوں سے مایوس ہو چکے ہیں تاکہ ایسے دین سے کہ جس کا رہبر ان کے سامنے ہتھیار ڈال دے، جس میں جہاد کا حکم معطل ہو جائے، جس کے مصادر اور منابع تہس نہس ہو چکے ہوں اور جس کے ماننے والے پراگندہ ہو چکے ہوں (الیوم یئس۔۔ الیوم اکملت لکم دینکم)

۱۰۔ اگر اس کے باوجود بھی کفار تم سے امیدیں لگائے ہوئے ہیں اور مایوس نہیں ہوئے تو تم جان لو کہ تمہاری دینداری میں کچھ کمی ہے۔ (الیوم یئس۔۔۔ الیوم اکملت لکم۔۔۔ )

۱۱۔ کفار کی اس وقت تک امیدیں وابستہ تھیں جب تک “غدیر کے دن کا رہبر” منصوب اور متعین نہیں ہوا تھا۔ اور جب رہبر متعین ہو گیا تو ان کی تمام امیدیں خاک میں مل گئیں، تو معلوم ہوا کہ تمام کفار ایک طرف اور اکیلے علی بن ابی طالب ایک طرف۔

۱۲۔ خدائی رہبر کے بغیر تمام نعمتیں نامکمل ہیں (الیوم۔۔۔ اتممت علیکم نعمتی)

۱۳۔ جب دیکھو کہ کفار اسلام اور مسلمانوں کی گھات میں لگے ہوئے ہیں تو فوراً اسلامی معاشرہ کی رہبری کی اصلاح کی فکر کرو۔ (الیوم یئس الذین کفروا)

۱۴۔ دین کامل ہے لیکن لوگ نہ! لہٰذا اپنا خاص خیال رکھو اور خدا سے ہمیشہ ڈرتے رہو۔ (اکملت لکم دینکم۔۔ واخشون)

۱۵۔ مسلمانوں کو کفار کی مایوسی کے دن کا انتظار تھا اور یوم غدیر اس انتظار کی تکمیل کا دن ہے۔

۱۶۔ خدا کا علی بن ابی طالب کو امامت کے عہدے پر فائز کرنا، نعمتوں کے تمام ہونے کا موجب ہے اورعلی کی ولایت کا انکار، کفران نعمت ہے اور کفران نعمت کا انجام بہت خطرناک ہے۔ “یعرفون نعمت اللہ ثم ینکرونھا” یعنی لوگ اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہوئے اس کا انکار کر دیتے ہیں۔

۱۷۔ اگر مسلمان، غدیر کے دن کے رہبر کا انکار نہ کرتے تو انہیں کفار کی طرف سے تاریخ میں کبھی بھی کوئی خطرہ لاحق نہ ہوتا۔ (لاتخشوھم)

۱۸۔ قرآن میں مسلمانوں کو جس خطرے سے زیادہ خبردار کیا گیا ہے وہ ہے رہبر سے انحراف اور منہ موڑنے کا خطرہ۔ (واخشون) اور سورہ آل عمران/۲۸ میں ارشاد ہوتا ہے “ویحذرکم اللہ نفسہ” یعنی خدا تمہیں اپنی نافرمانی سے ڈراتا ہے۔

۱۹۔ اشیاء کے آثار بعض اوقات ان کے مجموعی اجزا پر مترتب ہوتے ہیں۔ مثلاً روزہ ہے کہ اگر اذان مغرب سے ذرا بھی پہلے اسے افطار کیا جائے تو باطل ہو جاتا ہے اسی لئے روزہ کے بارے میں لفظ “تمام” کا استعمال ہوا ہے کہ “ثم اتموا الصیام الی اللیل”

اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی چیز کی ہر جزو کا اپنا علیحدہ اثر ہوتا ہے۔ مثلاً قرآنی آیات کی تلاوت ہے کہ تلاوت کا کمال یہ ہے کہ پورے قرآن کی آیات کو تلاوت کیا جائے، لیکن اگر صرف چند ایک آیت کو پڑھا جائے تو بھی ثواب مل جاتا ہے۔

بعض اوقات کسی چیز کے بعض اجزاء ایسے ہوتے ہیں کہ اگر وہ اس میں نہ ہوں تو وہ چیز کلی طور پر ناقص ہوتی ہے۔ ہر چند کہ دوسرے تمام اجزا موجود ہی ہوں جیسے ہوائی جہاز کا پائلٹ یا گاڑی کا ڈرائیور اگر نہ ہوں تو جہاز یا گاڑی بے ثمر اور بے مقصد ہوتی ہے۔

برحق رہبر کی قیادت اور ولایت بھی بعینہ اسی طرح ہے کیونکہ یہی چیز تو انسان کو خدا سے جا ملاتی ہے۔ اور اگر یہ نہ ہوتی تو تمام کائنات اور اس کی نعمتیں، عذاب میں بدل جاتی ہیں اس لئے کہ یہ چیزیں بذات خود انسان کو خدا تک نہیں پہنچاتیں۔

یہ تو تھی ولایت اور قیادت و رہبری کے بارے میں تھوڑی سی بحث، اب ہم آیت کے پہلے حصہ کے بارے میں گفتگو کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور غذاؤں اور گوشت کے بارے چند ایک مطالب کا ذکر کرتے ہیں۔

پیام:

غذا کا زندگی کے ساتھ تعلق

۱۔ روح اور جسم کی سلامتی کے لئے غذا اس حد تک ضروری ہے کہ قرآن مجید میں بارہا اس کی تاکید کی گئی ہے۔

۲۔ اسلام ایک ایسا جامع دین ہے کہ جو انسان کی تمام طبعی اور روحانی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ان کے بارے میں اپنا واضح اور صریح نظریہ پیش کرتا ہے (حرمت)

۳۔ ایسا قانون صحیح معنوں میں مکمل اور کامل کہلا سکتا ہے جو تمام انسانوں کے حالات اور ضروریات پر توجہ قائم کئے رکھے کہ عام حالات میں انہیں کیا کرنا چاہئے؟ مجبوری اور بھوک وغیرہ کی صورت میں کیا کریں؟

۴۔ اسلامی احکام کہیں پر بھی مشکل یا ناتوانی سے دوچار نہیں ہوتے (فمن اضطر)

۵۔ مجبوری کے خاص حالات، گناہ اور مطلق آزادی کے موجب نہیں بننے چاہئیں، بلکہ صرف اس حد تک اکتفا کرنا چاہئے جس سے صرف مجبوری دور ہو سکے۔ (غیرمتوانف لاثم)

۶۔ نظام توحید میں جانوروں کا ذبح کرنا بھی رنگ الٰہی میں رنگا ہوا ہونا چاہئے، ورنہ جانور حرام ہو جائیں گے (وما اھل لغیراللہ)

۷۔ شرک کے تمام مظاہر سے نبرد آزمائی کرنی چاہئے خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو (وما ذبح علی النصب) 11

۸۔ اسلام، دین عدل ہے، نہ تو یورپی ملکوں کی مانند گوشت کے کثرت استعمال کا حکم دیتا ہے اور نہ بدھ بھکشوؤں کی مانند اسے حرام جانتا ہے۔ اور نہ ہی چینیوں کی طرح ہر قسم کے جانور کا ہر صورت میں استعمال کی اجازت دیتا ہے۔ اسلام میں گوشت کے استعمال کے لئے کچھ شرائط اور حدود مقرر کئے گئے ہیں۔ منجملہ ان کے چند ایک شرائط یہ بھی ہیں۔

الف۔ گوشت خور جانوروں کے گوشت کو نہیں کھانا چاہئے، اور اس کی وجہ شاید یہ ہو سکتی ہے کہ اس قسم کے جانور عام طور پر مردار کا گوشت کھاتے ہیں۔

ب۔ درندوں کا گوشت نہیں کھانا چاہئے، کیونکہ اس سے انسان میں شقاوت اور درندگی کی روح پیدا ہوتی ہے۔

ج۔ ان جانوروں کا گوشت نہیں کھانا چاہئے جو عام طور پر نفرت کا موجب ہوتے ہیں۔

د۔ جس جانور پر ذبح کے وقت خدا کا مبارک نام نہ لیا جائے اس کا گوشت نہیں کھانا چاہئے۔ 12

۹۔ تمام حرام گوشت جانوروں میں سے صرف “سور” کا نام ذکر کیا گیا ہے کیونکہ اس کے استعمال کا عام رواج ہے۔

۱۰۔ خون کا خوراک کی صورت میں استعمال چونکہ (سنگدلی) دل کی قساوت اور بیماریوں کے منتقل کرنے کا موجب ہوتا ہے لہٰذا حرام ہے۔ البتہ دوا کے طور پر اور انجکشن کی صورت میں استعمال میں کوئی حرج نہیں۔

آیت میں مذکور گوشت خوری اور غذا کے حصول پر ایک نظر

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام مردار کے گوشت کے بارے میں فرماتے ہیں “جو شخص بھی اس (مردار کے گوشت) کے قریب گیا، کمزوری، لاغری، سستی، قطع نسل، سکتہ اور ناگہانی موت نے اسے اپنا شکار بنا لیا۔‘

خون کا پینا زمانہ جاہلیت کی رسم تھی اور یہ کام سنگدلی اور رحمدلی کے فقدان کا اس حد تک موجب ہوتی ہے کہ انسان اپنی اولاد اور ماں باپ تک کو قتل کرنے سے نہیں چوکتا، خونخوار انسان اپنے رفیق اور دوست تک کو نہیں پہچانتا۔ اسی طرح سور کے گوشت کے بارے میں بھی بہت سی روایات موجود ہیں۔ (تفسیر المیزان)

کچھ گوشت خوری کے بارے میں

بدھ مت کے پیروکار گوشت کھانے کے مخالف ہیں، جبکہ بعض دوسرے افراد ہر قسم کے جانور کا ہر قسم کا گوشت کھاتے ہیں، خواہ وہ کتا ہو یا خنزیر، مینڈک ہو یا کیکڑا وغیرہ۔

البتہ یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ” آیا گوشت کے حصول کے لئے کسی جانور کی جان لینا اور اسے ذبح کرنا رحمدلی کے ساتھ سازگار ہے؟

جواب:

۱۔ نظام تخلیق کائنات تغیر اور تبدل پر مبنی ہے۔ مٹی، نباتات بنتی ہے، نباتات حیوانات میں تبدیل ہو جاتی ہے اور حیوانات کا گوشت انسان میں بدل جاتا ہے۔ یہی ایک ارتقاء ہے اور ان تبدیلیوں کا نتیجہ انسانی ارتقا اورنشو و نما ہے۔

۲۔ نظام ہضم کی کیفیت اور دانتوں کی نوعیت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ انسان کی غذا کیا کیا چیزیں ہیں؟

۳۔ عدل ہر جگہ بہتر ہے لیکن رحمدلی ہر مقام پر بہتر نہیں ہے ورنہ جنگ اور قصاص کا حکم نہ ہوتا۔

۴۔ جانوروں کے ذبح کے بارے میں جن جن باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے وہ سنگدلی اور بے رحمی کے برعکس ہے۔ مثلاً جانور کو تیز دھار آلے سے ذبح کیا جائے، اسے تکلیف نہ دی جائے، ذبح کرنے سے پہلے اسے پانی پلا یا جائے اور مکمل طور پر جان نکل جانے سے پہلے اس کے اعضا نہیں کاٹنے چاہئیں۔ وغیرہ۔

 

آیت۴

 

ترجمہ: (اے رسول) لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کیا چیزیں حلال کی گئی ہیں؟ تو آپ کہہ دیں کہ تمہارے لئے تمام پاکیزہ چیزیں حلال ہیں اور ان جانوروں کا شکار (بھی حلال ہے) جنہیں تم نے وہ کچھ سکھایا جس کی خدا نے تمہیں تعلیم دی تھی۔ جبکہ تم شکاری کتوں کو سکھاتے ہو، پس جو کچھ کہ شکار کے لئے سدھائے ہوئے کتے تمہارے لئے شکار کرتے ہیں اور روک رکھتے ہیں وہ کھا لو اور (جب جانور کو شکار کے لئے چھوڑو تو) اس پر خدا کا نام لیا کرو، اور اللہ سے ڈرو کیونکہ اللہ حساب لینے والا ہے۔

نکتہ

لفظ “مکلبین” کے پیش نظر شیعہ عقیدہ کے مطابق صرف سدھائے ہوئے شکاری کتے کا شکار حلال ہے (نا کہ کسی اور جانور کا شکار کہ جو شکار کو جائے اور کوئی چیز شکار کر کے لے آئے) اور پھر سدھائے ہوئے کتے کا بھی وہ شکار کہ کتا جس کے پیچھے چھوڑا جائے اور وہ اسے پکڑ کر لے آئے یا اسے بچائے رکھے۔ نا کہ کتا خود شکار کے پیچھے جائے اسے پکڑے چیر پھاڑ کرے خود کھائے اور جو بچ جائے وہ تمہارے لئے لے آئے۔ کیونکہ ایسا شکار حرام ہے۔

“جوارح” جمع ہے “جارحہ” کی اور لفظ “جرح” سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے “کمانا” اور “کسی چیز کا حاصل کرنا” اور “زخم” کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اور شکاری جانوروں کو “جارحہ” کہتے ہیں اس لئے کہ وہ اسے زخمی کرتے ہیں۔ یا اس لئے کہ اپنے مالک کے لئے شکار حاصل کرتے ہیں۔ اعضائے بدن کو بھی “جوارح” کہتے ہیں کیونکہ یہ تلاش و کوشش اور حصول اشیاء کا ذریعہ ہوتے ہیں۔

پیام

۱۔ انبیائے عظام معاشرہ کے ہر قسم کے طبعی سوالوں اور ضروریات کو پورا کرنے کے لئے جواب گو ہوتے ہیں (یسئلونک)

۲۔ ہم جو کچھ نہیں جانتے وہ انبیاء یا ان کے وارثوں سے پوچھنا چاہئے (یسئلونک)

۳۔ اصول اور قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ تمام پاکیزہ اور من پسند چیزیں حلال ہوں کہ جن سے انسان کو نفرت نہ ہو۔ (احل لکم الطیٰبت)

۴۔ جو غذا یا عمل حرام ہوا ہے اس کی وجہ یا تو اس کا فاسد اور خراب ہونا ہے یا پھر اس کا “خبیث” ہونا ہے (احل لکم الطیٰبت)

۵۔ اسلام چونکہ دین فطرت ہے لہٰذا جو چیزیں قابل نفرت نہیں اور نہ ہی ان میں کسی قسم کے فاسد ہونے کا پہلو ہے وہ حلال ہیں (احل لکم الطیٰبت)

۶۔ تعلیم دینا اور سدھانا صرف انسان ہی کے لئے نہیں ہے حیوان بھی سدھائے اور سکھائے جا سکتے ہیں اور انسان کے لئے مسخر ہیں (تعلمونھن)

۷۔ دانش کی اہمیت اس قدر ہے کہ اگر کتا بھی اسے حاصل کر لے تو وہ قدر و قیمت کا حامل ہو جاتا ہے اور اس کی اہمیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

۸۔ کتا اپنی تھوڑی سی سکھلائی اور تعلیم سے اپنی ساری زندگی کا شکار اپنے معلم کو ہدیہ کرتا رہتا ہے۔ (امسکن علیکم) لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جو خدا سے سب کچھ، تعلیم پاتے ہیں (علیکم اللہ) مگر خدا کو کیا ہدیہ دیتے ہیں؟ معلوم نہیں!

۹۔ حصول غذا کا مسئلہ اہم ہے (شکار بھی حصول غذا یا حصول رزق کے لئے کیا جائے) اور اسے معمولی نہیں سمجھنا چاہئے لہٰذا حرام شکار، اسراف کے شکار اور نفسانی خواہشات کے تحت شکار سے پرہیز کرنا چاہئے (اتقوا اللہ)

 

آیت ۵

 

ترجمہ۔ آج تمام پاکیزہ اور دلپسند چیزیں تمہارے لئے حلال کر دی گئی ہیں اور (نیز) اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے۔ اور (نیز) پاکدامن مومنہ عورتیں اور اہل کتاب کی پاکدامن عورتیں تمہارے لئے حلال ہیں، بشرطیکہ ان کا حق مہر ادا کرو اور پاکدامن رہو (ناکہ زنا کرو) اور (نامشروع) پوشیدہ طریقہ سے دوستی نہ لگاؤ۔ اور جو شخص ایمان لانے سے انکار کرے گا یقیناً اس کا عمل تباہ ہو جائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گا۔

نکتہ:

تنہا لفظ “طعام” اگرچہ ہر قسم کی کی غذا پر بولا جاتا ہے لیکن سابقہ آیت کی وجہ سے بھی کہ حیوانوں کے گوشت کے لئے ان کے ذبح کے وقت خدا کا نام لینا شرط قرار دیا گیا تھا، نیز روایات اہل بیت کی رو سے بھی اس سے مراد گندم، جو اور دیگر غلہ ہے۔ اور ابن کثیر اور خلیل جیسے ماہرین لغات کہتے ہیں کہ “حجاز کی لغت میں “گندم” کو بھی “طعام” کہا جاتا ہے” (تفسیرالمیزان)

چونکہ اس آیت کی رو سے دینی اقلیتوں (یہود و نصاریٰ) کے ساتھ آمد و رفت، غذا کھانے اور ان کی عورتوں سے نکاح کی راہیں کھل جاتی ہیں اور ممکن ہے کہ مسلمان یہود و نصاریٰ کی لڑکیوں کو حاصل کرنے کے لئے اپنی روزانہ کی آمد و رفت میں اضافہ کر دیں اور آہستہ آہستہ ان کے افکار و آداب کو اپنانے لگ جائیں اور اسلام کا راستہ چھوڑ کر کافر ہو جائیں لہٰذا آیت کا آخری حصہ اس قسم کے خطرات کے پیش نظر مسلمانوں کو متنبہ کر رہا ہے۔

“اخدان”، “خدن” کی جمع ہے جس کا معنی ہے “دو دوست” لیکن عام طور پر مخفی اور غیرشرعی دوستوں کے لئے بولا جاتا ہے۔

اس آیت میں مسلمانوں کے لئے سابقہ محدودیت کو لازم قرار نہیں دیا گیا، بلکہ اہل کتاب کے ساتھ ارتباط اور معاشرے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس لئے کہ مسلمان طاقتور ہو چکے ہیں اور کفار مسلمانوں سے مایوس ہو چکے ہیں۔

آیت مذکورہ میں فریقین (مسلمانوں اور اہلِ کتاب) کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے طعام سے استفادہ کریں، لیکن ازدواج کے بارے میں اسلام نے مسلمانوں کو اہلِ کتاب سے رشتہ لینے کی اجازت دی ہے لیکن رشتہ دینے کی اجازت نہیں دی، اس لئے کہ عورتیں عموماً اپنے لطیف اور ہمدردانہ جذبات کے تحت مرد کے زیراثر آ جاتی ہیں۔ چنانچہ اگر کتابیہ عورتیں اسلام کو اپنا لیں گی تو یہ اسلام کی ترقی کی ایک صورت ہو گی جبکہ مسلمان عورتیں اگر اہلِ کتاب کے مذہب کو اپنا لیں گی تو یہ اسلام کی تنزلی کی ایک صورت ہو گی۔ اسی لئے مسلمانوں کا اہلِ کتاب کو رشتہ دینا جائز نہیں ہے۔

زنانِ اہل کتاب سے ازدواج سے مراد نکاح موقت (متعہ) ہے اور اس کی چند دلیلیں ہیں۔

۱۔ اس بارے میں متعدد روایات موجود ہیں۔ ۲۔ لفظ “اجورھن” کا استعمال، کہ جو زیادہ تر متعہ کے مہر کے لئے استعمال ہوا ہے۔ ۳۔ چونکہ عدم زنا اور دوستانہ مراسم کی شرط ازدواج موقت (متعہ) سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے جبکہ دائمی عقد (نکاح) کے سلسلہ میں زنا یا دوستانہ مراسم کی بات نہیں ہوتی۔

البتہ شیعہ اور سنی علماء میں سے کچھ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ کتابیہ عورت سے ہر قسم کا عقد (دائمی یا موقت) جائز ہے اور اس میں کوئی جرم نہیں ہے۔

پیام

۱۔ احکام اور قوانین میں “زمانہ” کے عنصر سے غافل نہیں ہونا چاہئے (الیوم)

۲۔ کسی نعمت کی حرمت یا حلیت ممکن ہے کہ تدریجی طور پر ہو، جبکہ شراب یا سور کی حرمت تدریجی طور پر ہوئی۔ اور یہ تدریج بھی حکمت اور مصلحت کے تحت تھی۔

اسی طرح بنی اسرائیل پر بعض حلال چیزیں ان کے ظلم کی وجہ سے ان پر حرام قرار دے دی گئیں۔ (سورہ بقرہ/۱۰۹) یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بعض ممنوع چیزوں کے استعمال کو حلال قرار دے دیا۔ لیکن زیر بحث آیت نے کلی طور پر تمام پاک و پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دے رہی ہے۔

۳۔ ازدواجی روابط میں اقتصادی اور لین دین کے روابط سے افکار میں رسوخ و نفوذ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے لہٰذا خبردار رہنا اور اہل کتاب کو اپنا رشتہ نہ دینا۔

۴۔ پاکدامنی خواہ کسی بھی مذہب و ملت میں قابلِ ستائش ہے (والمحصنات من الموٴمنات والمحصنات من الذین اوتواالکتاب)

۵۔ پاکدامنی، مردوں اور عورتوں دونوں قسم کے افراد کے لئے لازمی شرط ہے (محصنین، محصنات)

۶۔ عورت کو حق مالکیت حاصل ہے خواہ وہ مسلمان ہے یا غیرمسلم (اجورھن)

۷۔ دھوکہ، فریب اور جعل سازی خواہ غیرمسلم ہی سے کیوں نہ ہو ہر حالت میں ممنوع ہے (آتیتموھن اجورھن)

۸ اہل کتاب سے مراسم، ان کے محلوں میں رہائش، ان کے ملکوں میں سفر، لغزش کے مواقع فراہم کرتے ہیں، اس لئے اس آیت میں جہاں پر ان سے مراسم قائم کرنے کی اجازت دی گئی ہے وہاں پر اس بات سے بھی خبردار کیا گیا ہے کہ اپنے ایمان کو بچائے رکھنا۔

۹۔ مخفی اور غیر شرعی دوستی خواہ غیرمسلمان سے ہی کیوں نہ ہو ناجائز اور ممنوع ہے (ولا متخذی اخذان)

۱۰۔ خبردار! اقتصادی اور خاندانی رابطے تمہارے عقیدوں کو تبدیل نہ کر دیں اور نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے اپنے ایمان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھو۔ (ومن یکفر بالایمان)

 

آیت ۶

 

ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لیا کرو، اور اپنے سروں اور پاؤں کے کچھ حصے کا ٹخنوں (پاؤں کی ابھری ہوئی جگہ) تک کا مسح کر لیا کرو۔ اور اگر تم حالت جنب میں ہو تو خود کو پاک (غسل) کر لیا کرو۔ اور اگر تم بیمار یا مسافر ہو یا تم میں سے کوئی شخص نشیبی جگہ (قضائے حاجت سے) لوٹا ہے یا عورتوں کو (جنسی آمیزش کے لئے) ہاتھ لگایا ہے تو اگر (غسل یا وضو کے لئے) پانی تک تمہاری رسائی نہیں ہے تو پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو۔ پس چہرے اور ہاتھوں (کے کچھ حصے) پر اس مٹی سے (جو تمہارے ہاتھوں پر رہ گئی ہے) مسح کر لیا کرو۔ اللہ نہیں چاہتا کہ تمہارے لئے مشکل اور تنگی پیدا کرے، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کرے شاید کہ تم اس کے شکرگزار (بندے) بن جاؤ۔

سورہ نساء کی ۴۳ ویں آیت میں غسل اور تیمم کے مسئلہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہاں پر مذکورہ دو مسائل کے علاوہ وضو کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔

“قیام” کا لفظ جب “الیٰ” کے ساتھ استعمال ہو تو اس کا معنی “ارادہ کرنا” ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے “قمتم الی الصلٰوۃ” کا معنی ہو گا اور جب تم نے نماز پڑھنے کا ارادہ کر لیا”۔

“جنب” کے لفظ کا مرد، عورت، مفرد اور جمع سب کے لئے یکساں اطلاق ہوتا ہے۔ اور اس آیت میں شاید جنب سے مراد “احتلام” ہو، اور “عورتوں کو ہاتھ لگانے” سے مراد جنسی آمیزش ہے۔

“فاطھروا” کا لفظ “غسل کرنے” کا معنی دے رہا ہے۔ اور سورہ نساء کی ۴۳ ویں آیت میں “فاطھروا” کی بجائے “تغتبلوا” ہے۔

“الی المرافق” کا جملہ ہاتھوں کی دھونے کی مقدار کو بیان کر رہا ہے نا کہ دھونے کی کیفیت کو۔ (یعنی دھونے کی مقدار کہنیوں سے انگلیوں کے سرے تک ہے نا کہ انگلیوں کے سرے سے لے کر کہنیوں تک)

تیمم میں بھی عبادت کی روح موجود ہے۔ کیونکہ ہاتھوں کا خاک پر مارنا اور پھر اس کا عضائے بدن میں سے بالا ترین عضو (چہرے) پر ملنا ایک قسم کی تواضع اور خاکساری ہے جس کا اظہار جلیل القدر خدا کے سامنے کیا جاتا ہے۔

جس طرح پانی آلودگیوں کو دور کرتا ہے اسی طرح پاک مٹی بھی جراثیم کشی کی صلاحیت رکھتی ہے کیونکہ اس پر سورج کی شعاعیں پڑ چکی ہوتی ہیں۔

“صعید” کا لفظ “صعود” سے نکلا ہے۔ جس کا معنی ہے بلند، اور یہ بلند زمین کی طرف اشارہ ہے۔ اس لئے کہ برجستہ اور بلند زمین کی مٹی آلودگی اور نجاست سے بچی رہتی ہے۔ یا پھر اس سے مراد وہ مٹی ہے جو زمین کی بلند جگہوں پر ہوتی ہے۔

پیام

۱۔ طہارت، نماز کے لے شرط ہے (فاغلوا)

۲۔ جس طرح قرآن کو پاکیزہ لوگ مس کر سکتے ہیں اسی طرح خدا سے بھی رابطہ کرنے کے لئے طہارت ضروری ہے۔

۳۔ نجاست سے آلودگی اور کثافت، قرب خداوندی سے مانع ہے۔ 14

۴۔ نماز کے لئے غسل جنابت واجب ہے (اذاقمتم الی الصلٰوۃ۔۔ وان کنتم جنبا فاطھروا)

۵۔ نماز کے شرائط اور مقدمات میں تخفیف تو ہو سکتی ہے لیکن انہیں بطور کلی ختم نہیں کیا جا سکتا۔

۶۔ ناپاک مقدمات کے ذریعہ خداوند پاک و منزہ کی بارگاہ میں حاضری نہیں دینی چاہئے۔ (صعید اطیبا)

۷۔ جس طرح خوراک پاک اور طیب ہونی چاہئے اسی طرح پاک اور طیب مٹی سے تیمم کے ساتھ خدا کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔

۸۔ کلام کا کلی اصول یہ ہے کہ اس کے دوران آداب کو پیش نظر رکھا جائے (لامستم النساء) صرف ان مسائل میں بے حجاب گفتگو کی جاتی ہے جن کا تعلق حقوق سے ہوتا ہے، تاکہ کسی کا حق ضائع نہ ہو۔ جیسے عورتوں کے حق مہر کے بارے میں ہے کہ “دخلتم بھن” یا حضرت مریم سلام اللہ علیہا سے تہمت کو دور کرنے کے لئے فرمایا کہ “احصنت فرجھا”۔

۹۔ بعض اوقات صرف ایک کلمہ ہی سے نہیں بلکہ ایک حرف سے بھی کلام کا مطلب الٹ ہو جاتا ہے۔ جیسے (وامسحوابروٴ سکم) ہے کہ اگر اس میں “روٴو سکم” ہوتا تو اس سے سارے سر کا مسح مراد ہوتا نہ کہ کچھ حصے کا۔

۱۰۔ دین میں دشواری اور مشکل نہیں ہے (من خرج)

۱۱۔ غسل، وضو اورتیمم کا مقصد معنوی اور اندرونی طہارت کا حصول اور خداوند متعال سے رابطہ قائم کرنا ہوتا ہے (لیطھرکم) 15

۱۲۔ خدا کی طرف سے عائد فرائض انسان کے لئے نعمت ہیں ( لتم نعمۃ علیکم)

۱۳۔ فرائض کی ادائیگی، خدا کا شکر ہے (لعلکم تشکرون)

 

آیت ۷

 

ترجمہ: اپنے اوپر خدا کی نعمت کو یاد کرو نیز اس عہد و پیمان کو بھی، جو اس نے تم سے لیا ہے جبکہ تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ اور اللہ سے ڈرو کیونکہ اللہ سینوں کے اندر چھپے ہوئے حالات سے آگاہ ہے۔

نکتہ:

آیت میں اگرچہ ایک کلی اور عمومی تنبیہ ہے لیکن ممکن ہے کہ چند دلائل کے پیش نظر اسلامی امہ کی قیادت اور رہبری کا مسئلہ اور قیادت کی اطاعت مراد ہو۔ اور وہ دلائل یہ ہیں۔

۱۔ خدا کی طرف سے عطا کردہ قیادت اور رہبری خدا کا میثاق ہوتا ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی داستان میں ان کا اپنی ذریت میں امامت کے لئے درخواست کرنا اور خدا کا جواب دینا کہ “ظالم افراد میرے عہد (امامت) کو نہیں پہنچیں گے۔”

۲۔ جب حضرت علی علیہ السلام کو مقام غدیر خم میں منصب امامت پر فائز کر دیا گیا تو آیت نازل ہوئی کہ “میں نے اپنی نعمتیں تم پر تمام کر دیں”

۳۔ غدیرخم کے مقام پر لوگوں نے علی علیہ السلام کی بیعت کی اور “سمعاً و طاعۃً ” (یعنی ہم نے سن لیا اور اطاعت کریں گے) کہا۔ شاید اس آیت میں لوگوں کو ایک بار پھر قائد اور رہبر کے ساتھ کئے ہوئے اس عہد و پیمان کو پورا کرنے کے لئے بلایا گیا ہو جو انہوں نے غدیر خم کے مقام پر کیا تھا۔

پہلی آیت میں ایفائے عہد کو لازمی قرار دیا، تیسری آیت میں رہبر اور قائد کی تعین کر کے دین کو کامل کر دینے کا مژدہ سنایا اور اس آیت کے آخر میں اس خدا کا تقویٰ اختیار کرنے کو کہا جو جان کی گہرائیوں اور دلوں کے راز سے بخوبی واقف ہے۔

“سمعنا و اطعنا” کہہ کر سننے اور اطاعت کرنے کا پیمان ہوتا ہے جو ہر قسم کے عہد و پیمان کو شامل ہے جو انسان فطری، طبعی، قولی یا عملی طور پر انبیاء سے باندھتا ہے۔ جیسے ان کی بیعت ہے اور توحید و نبوت کی گواہی ہے۔

پیام:

۱۔ نعمت کو یاد کرنا بھی، نعمت کا شکر ادا کرنا ہے۔

۲۔ عظیم ترین اور کامل ترین نعمت قیادت اور رہبری کی نعمت ہے۔ (جو کہ اس سے پہلے والی آیت میں ذکر ہو چکی ہے) اور اس نعمت کی یاد آوری مسلمین کے ولی امر کی اطاعت ہے۔

۳۔ اس آیت کی نعمت، میثاق، سمع و طاعت اور ذات الصدور جیسے مفاہیم پر تاکید اور وہ بھی غدیر خم کے واقعہ کے بعد اور آیت ۳ میں بیان ہونے والے مضمون کی فراموشی اور اس کی خلاف ورزی پر تنبیہ اور اشارہ ہو سکتا ہے کہ خبردار! غدیر خم میں پیش کئے گئے خطوط سے منحرف نہ ہو جانا۔ (جیسا کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا ہے، ملاحظہ ہو تفسیر نورالثقلین)

 

آیت۸

 

ترجمہ۔ اے وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہو! ہمیشہ اللہ کے لئے قیام کرو۔ اور عدالت کی گواہی دو اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں عدالت کے ترک کرنے کی طرف نہ لے جائے، عدل کرو کہ وہ پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے۔ اور خدا سے ڈرو کیونکہ جو کچھ تم کرتے ہو یقیناً اللہ تعالیٰ اس سے آگاہ ہے۔

نکتہ:

اسی آیت سے ملتی جلتی مگر قدرے تفاوت کے ساتھ سورہ نساء کی ۱۳۵ ویں آیت ہے کہ “یایھاالذین امنواکونوا قوامین بالقسط شھدآ ء للہ ولو علی انفسکم اوالوالدین والاقربین۔۔۔ ” یعنی اے ایماندارو! مکمل طور پر عدالت کے ساتھ قیام کرو، خدا کے لئے گواہی دو خواہ یہ تمہارے اپنے یا تمہارے والدین اور عزیز و اقارب کے لئے ہی نقصان دہ کیوں نہ ہو۔

یعنی کسی قسم کا کینہ تمہیں عدالت کی راہ سے نہ ہٹا دے۔۔۔

چونکہ لوگوں سے کینے کا جدا ہونا مشکل ہوتا ہے لہٰذا اس آیت میں چند فرمان اور چند ترغیبیں پیش کی گئی ہیں۔

پیام:

۱۔ عدالت اجتماعی صرف اور صرف خدا اور معاد (قیامت) پر ایمان ہی کے سایہ میں برقرار ہو سکتی ہے (یٰا یھا الذین امنوا۔۔۔ ۔۔۔ اعدلوا۔۔۔ ) ورنہ جس نظام میں نہ مبدا کا تصور ہو اور نہ معاد کا، نہ تو جبر کا کوئی ولی و وارث ہو اور نہ ہی کسی قسم کا حساب کتاب تو اس کا کیا فائدہ؟ انسان ہوں اور عدالت کا اجرا کریں اور غصے پر قابو پائیں یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

۲۔ اگر انسان کا مقصد کینہ پروری قرار پا جائے تو خلوص و اخلاص رخصت ہو جاتا ہے لیکن اگر اس کا مقصد رضائے الٰہی ہو تو ہر قسم کے کینے کافور ہو جاتے ہیں۔

۳۔ ہمیشہ کی عدالت اور وہ بھی عادت اور ملکہ کی صورت میں ہو تو قابل قدر ہوتی ہے وقتی اور عارضی عدالت کا کوئی فائدہ نہیں۔ (قوامین)

۴۔ عدالت صرف ایک اخلاقی صفت ہی نہیں خدا کا حتمی فرمان بھی ہے۔ (کونوا)

۵۔ انتقام اور کینہ توزی، عدالت سے انحراف کے اسباب میں سے ایک عامل ہے۔ (شنان قوم)

۶۔ داخلی اور خارجی سیاست حتیٰ کہ دشمنوں کے ساتھ بھی عدالت کے ساتھ رفتار کرنی چاہئے۔ (شنان قوم)

۷۔ مومنین کا خدا کے ساتھ بھی رابطہ ہوتا ہے (ہمیشہ خدا ہی کے لئے قیام کرتے ہیں) اور لوگوں کے ساتھ بھی ان کا رابطہ ہوتا ہے کہ عدل کے ساتھ گواہی دیتے ہیں (شھدآء بالقسط)

۸۔ فریضہ جس قدر سنگین اور مشکل ہو گا اس کے بارے میں تاکید اور تشویق بھی اسی قدر زیادہ ہو گی کیونکہ لوگوں کی دشمنی کو نظرانداز کرنا سخت مشکل بات ہوتی ہے لہٰذا اس آیت میں “کونوا” “اعدلوا” اور “اتقوا” کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔

۹۔ “قسط” اور “عدل” کا ایک ہی مفہوم ہے کیونکہ آیت میں “قسط” کی تفسیر “عدل” سے کی گئی ہے۔ (شھداء بالقسط۔۔۔ اعدلوا)

۱۰۔ کینہ ور اور منتقم مزاج لوگ عادل نہیں ہو سکتے۔

۱۱۔ عادل اور منصف لوگ تقویٰ سے زیادہ نزدیک ہیں اور قرآن ان کے لئے موجب ہدایت ہے۔

 

آیت ۹ , ۱۰

 

ترجمہ۔ جو لوگ ایمان لے آئے اور شائستہ اعمال بجا لاتے رہے اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ان کے لئے بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا، وہ سب دوزخی ہیں۔

نکتہ:

قرآن مجید میں چند مختلف اقسام کے اجر کا ذکر ہے۔ “اجر کریم”، “اجر کبیر” اور “اجر عظیم”۔

خدا کا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا “ان اللہ لا یخلف المیعاد” یعنی اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ (آل عمران۔۔۔ ۹)

“حجیم” کا لفظ “حجم” سے ہے جس کا معنی ہے ” آگ کا شدت سے بھڑکنا” چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی داستان میں ہے کہ انہیں نمرود نے “حجیم” یعنی شعلہ ور آگ میں ڈالا تھا۔ اور “اصحاب الحجیم” کا معنی ہے جو لوگ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔

پیام:

۱۔ ایمان اور عمل صالح دو ایسے عناصر ہیں جو گزشتہ گناہوں کی تلافی کرتے ہیں اور آئندہ کے لئے گناہوں سے بچنے کا موجب ہوتے ہیں۔ (مغفرۃ۔ اجر)

۲۔ گزشتہ اعمال کی یا دآوری اور عاقبت، کی طرف توجہ، انسان کے ارادوں کے لئے زبردست اہمیت کے حامل ہیں۔

۳۔ مغفرت، اجر کے عطا کرنے کا مقدمہ ہوتی ہے (مغفرۃ و اجر)

۴۔ کافروں اور آیات الٰہی کی تکذیب کرنے والوں کی سزا ابدی جہنم ہے۔

 

آیت۱۱

 

ترجمہ۔ اے ایمان والو! خدا کی وہ نعمت یاد کرو جو اس نے تمہیں عطا کی ہے جب (دشمنوں کی) ایک جماعت نے ارادہ کر لیا تھا کہ تمہاری طرف دست ستم دراز کرے (اور تمہیں ختم کر دے) لیکن خدا نے ان کے دست تجاوز کو تم سے کوتاہ کر دیا اور خدا سے ڈرتے رہو اور مومنین کو چاہئے کہ صرف خدا پر ہی توکل کریں۔

نکتہ:

اگرچہ اس بارے میں اختلاف ہے کہ یہ آیت کس سلسلہ میں نازل ہوئی ہے، لیکن اسے تمام ان واقعات کے بارے میں سمجھنا چاہئے جہاں پر مسلمانوں نے دشمنوں کے غلط ارادوں اور جارحیت کے ارتکاب کے موقع پر خدا پر توکل کر کے کامیابی حاصل کی اور نجات پائی۔

پیام:

۱۔ خدائی نعمتوں کی یادآوری ایک طرح کا شکر ہوتا ہے اور انسان کو غرور و غفلت سے دور کر کے اس کے خدا کے ساتھ عشق کو دوبالا کرتی ہے۔

۲۔ دشمن کے خطرات کو دور کرنا خدا کی اہم ترین نعمت ہے۔

۳۔ خدا سے تقویٰ، اس پر توکل اور ایمان رکھ کر لطف پروردگار کو حاصل کرو، اور دشمن کے خطرات کو خود سے دور ہٹاؤ۔ (جس طرح کہ گناہ کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انسان پر اس کے دشمن کو مسلط کر دیتا ہے، اسی طرح خدا کی طرف توجہ دشمنوں کو دور بھگانے کا موجب ہوتی ہے)

 

آیت ۱۲

 

ترجمہ: یقیناً اللہ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ہم نے ان میں سے بارہ سرپرست اور رہبر (بارہ گروہوں کے لئے) معبوث کئے۔ اور اللہ نے (ان سے) فرمایا: میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز قائم کرو، زکوۃٰ ادا کرو اور میرے رسولوں پر ایمان لے آؤ اور ان کی مدد کرو اور اللہ کو قرض حسنہ دو تو میں (بھی) یقیناً تمہارے گناہوں کو چھپاؤں گا اور تمہیں بہشت کے ایسے باغات بھیجوں گا جن کے (درختوں کے) نیچے نہریں بہتی ہیں۔ تو اس کے بعد تم میں سے جو شخص بھی کافر ہو جائے تو وہ راہِ راست سے بھٹک جائے گا۔

نکتہ:

بنی اسرائیل کے نقیب بارہ افراد تھے، جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وزیر اور بنی اسرائیل کے بارہ ٹولوں (گروہوں) کے سرپرست اور رہبر تھے۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں : “میرے بعد میرے بارہ خلیفے ہوں گے بنی اسرائیل کے نقیبوں کی تعداد کے برابر: 16

مسلک اہلبیت علیہم اسلام کے مخالفین اس تعداد کو خلفائے راشدین، خلفائے بنی امیہ اور خلفائے بنی عباس سے پورا کرنے کی فضول کوشش کرتے چلے آئے ہیں لیکن کبھی بھی یہ تعداد ان سے پوری نہیں ہو سکی۔ جبکہ ا س کے برعکس پیغمبر اکرم کی زبانی بیسیوں ایسی احادیث منقول ہیں جن میں ان بارہ نائبین کا نام بنام تذکرہ ہے اور حضرت علی سے لے کر حضرت امام مہدی علیہم السلام تک بارہ اماموں کا کہیں تفصیلی اور کہیں اجمالی تذکرہ ہے۔

“عذرتموھم” کا کلمہ لفظ “عذر” سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے کسی کی اس انداز میں امداد کرنا کہ احترام بھی اس کے ساتھ ہو۔ اسی طرح “تعزیر” کالفظ ہے جس سے مجرم کو ترک جرم میں مدد ملتی ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی سزائیں تربیتی پہلو کی حامل ہوتی ہیں نا کہ انتقامی پہلو کی۔

“سواء السبیل” کا معنی ہے راستے کا درمیانی حصہ کہ جس سے انحراف، سقوط اور گمراہی کا موجب ہوتا ہے۔

پیام:

۱۔ خدا ہمارے ساتھ چند شرائط کی وجہ سے ہوتا ہے اور وہ ہیں نماز، زکوٰۃ، ایمان، انبیاء کی نصرت، راہ خدا میں خرچ کرنا وغیرہ اور ان کے بغیر لطف پروردگار ختم ہو جاتا ہے۔

۲۔ نماز، زکوٰۃ اور انفاق ازراہ خدا میں خرچ کرنا، تمام آسمانی ادیان میں شامل ہے۔

۳۔ انبیاء عظام پر صرف ایمان ہی کافی نہیں، ان کی نصرت بھی ضروری ہے (وعذرتموھم)

۴۔ صرف واجبات کی بجاآوری ہی کافی نہیں ہوتی، واجبات اور مستحبات مل کر ہی کارساز اور کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ (نماز، زکوٰۃ اور انفاق)

۵۔ مخلوق خدا کی امداد ہی خدا کی امداد ہوتی ہے (اقرضتم اللہ)

۶۔ دین کے راہنما کو خدا ہی کی طرف سے مبعوث ہونا چاہئے (بعثنا) اور انبیاء کے برگزیدہ افراد بھی خدا کے فرمان کے مطابق ہونے چاہئیں۔

۷۔ نماز، زکوٰۃ اور انفاق بھی صحیح معنوں میں اس وقت حقیقت کا روپ حاصل کرتے ہیں جب خدائی رہبر اور قائد کی رہنمائی میں انجام دیئے جائیں۔ اور وہ بھی تمام انبیاء کی ولایت کو تسلیم کرنے کے ساتھ نا کہ بعض کی۔

۸۔ رہبر اور قائد اگر خود انہی لوگوں میں سے ہو تو اپنے مقاصد میں کامیاب رہتا ہے۔ (بعثنا منھم)

۹۔ بہشت “قیمت” دے کر حاصل کی جاتی ہے حیلوں بہانوں سے نہیں۔ اگر نماز، زکوٰۃ، انبیاء پر ایمان، ان کی امداد، راہ خدا میں انفاق ہو گا تو بہشت بھی ملے گی ورنہ نہیں!

۱۰۔ بہشت پلید لوگوں کی جگہ نہیں ہے، پہلے پاک ہونا چاہئے پھر بہشت میں داخلہ ممکن ہو گا۔ (لاکفرون۔۔۔ لارخلنکم)

۱۱۔ خدا کی بخشش تک دسترسی، ایمان اور عمل صالح ہی سے ہو سکتی ہے (لاکفرن)

۱۲۔ میثاق، اتمام حجت اور لطف پروردگار کے حصول کی شرائط کے بیان کے بعد اب کسی کے لئے کوئی عذر اور بہانہ باقی نہیں رہ گیا۔

 

آیت ۱۳

 

ترجمہ: پس ان کی پیمان شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا وہ کلمات (الٰہی) کی اپنی جگہ سے تحریف کرتے ہیں۔ اور جو چیز کے ان کے گوشزد کی گئی تھی اس کے کچھ حصے کو فراموش کر دیا۔ اور تم ہمیشہ ان کی (نئی) خیانت سے آگاہ ہوتے رہتے ہو (روزانہ ان کی نئی سازش اور نئی خیانت ہوتی ہے) مگر ان میں سے بہت کم لوگ (جو سنگدل، تحریف کرنے والے اور خائن نہیں ہیں) پس تم ان سے درگزر سے کام لو اور ان کی لغزشوں کو معاف کر دو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

نکتہ:

۱۔ اس سورت کی سب سے پہلی آیت میں ایفائے عہد کی بات ہوئی ہے، بارہویں آیت میں بنی اسرائیل کے خدا کے ساتھ عہد و پیمان باندھنے اور پھر اس سے روگردانی کا تذکرہ ہے اور زیر نظر آیت عہد شکنی کے نتائج کا پتہ دے رہی ہے۔ اسی لئے اس سورت (مائدہ) کو “سورہ عہد” بھی کہتے ہیں، اگر تمام آیات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ پیمان شکنی کے بارے میں زبردست تنبیہ کی گئی ہے۔

پیام:

۱۔ عہد شکنی لطف الٰہی سے محرومی اور سنگدلی کی پیدائش کا موجب ہوتی ہے (لعنا ھم جعلنا قلوبھم قاسیۃ) 17

۲۔ عہد شکنی، سنگدلی کا اور سنگدلی دین میں تحریف اور تصرف کرنے کا موجب ہوتی ہے۔ (وقلوبھم قاسیۃ یحفون)

۳۔ بنی اسرائیل ہمیشہ سے خیانت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ (لاتزال)

۴۔ بنی اسرائیل کی عہد شکنی اور اس عہد شکنی کے نتائج سے تم بھی عبرت حاصل کرو (فبمانقضھم۔۔۔ )

۵۔ جو لوگ دین میں تحریف کرتے ہیں وہ اپنے ایک بہت بڑے حصے کو فراموش کر دیتے ہیں۔ (یحرفون، نسواخط)

۶۔ عفو درگزر نیکی کی ایک بہترین قسم ہے (فاعف۔۔۔ محسنین)

 

آیت ۱۴

 

ترجمہ: اور جن لوگوں نے کہا کہ ہم “نصاریٰ” ہیں ہم نے ان سے (بھی) عہد لیا، تو انہوں نے (بھی بنی اسرائیل کی طرح) اس کے ایک حصے کو فراموش کر دیا جو انہیں بتایا گیا تھا۔ پس ہم نے ان کے درمیان دشمنی اور کینے کو قیامت کے دن تک ڈال دیا۔ اور اللہ تعالیٰ بہت جلد انہیں ان کے کئے سے آگاہ کر دے گا۔

نکتہ:

۱۔ سابقہ آیت میں بنی اسرائیل کی عہد شکنی کی بات ہو رہی تھی اور اس آیت میں نصاریٰ کی پیمان شکنی کا تذکرہ ہے، اس آیت میں تمام بنی اسرائیل کو عہد شکن بتایا گیا (سوائے چند لوگوں کے “الاقلیلا منھم”) اور اس آیت میں پہلے سے ہی نصاریٰ کے صرف ایک گروہ کو پیمان شکن کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے (من الذین) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کے گمراہ لوگوں کی تعداد نصرانیوں کے گمراہوں سے زیادہ ہے (از تفسیر نمونہ)

۲۔ “نصاریٰ” جمع ہے “نصرانی” کی، چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوستوں کا یہ نعرہ تھا کہ “نخن انصار اللہ” یعنی ہم خدا کے یارو مددگار ہیں۔ اس لئے عیسائیوں کو “نصاریٰ” کہتے ہیں۔

۳۔ “بغضاء” باطنی دشمنی اور بغض و کینہ کو کہتے ہیں جبکہ “عداوت” ظاہری دشمنی کو کہا جاتا ہے۔

۴۔ نصرانیوں کو بتائی ہوئی باتوں میں سے بعض کو فراموش کر دینا یہ ہے کہ وہ “توحید” کی حدود سے بڑھ کر “تثلیث” کی حدوں تک جا پہنچے اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت تبلیغ کو قبول کرنے کی بجائے ان کے بارے میں بتائی ہوئی خدا کی نشانیوں کو چھپا دیا۔

پیام

۱۔ دعوے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن عمل اور حقیقت بہت کم ہوتی ہے۔ (قالوا انا نصاریٰ)

۲۔ تفرقہ بازی اور فرقہ بندی کی جڑ، خدا کو فراموش کر دینا ہے، جبکہ توحید پرستی وحدت و اتحاد کا موجب ہوتی ہے۔ (فتسوا۔۔۔ فاغرینا)۔

۳۔ خدا کی طرف سے کرائی گئی یاددہانی کو فراموش کر دینے حقائق اور عہدین (قدیم و جدید عہدوں) کو چھپانے کا نتیجہ تفرقہ اور دشمنی ہوتا ہے۔

۴۔ دوسروں کی عہد شکنی کے تلخ نتائج سے عبرت حاصل کرو (ہم نے نصاریٰ سے عہد و پیمان لیا اور انہوں نے اسے فراموش کر دیا لہٰذا بدبختی اور شقاوت سے دوچار ہو گئے، خبردار تم ایسا نہ کرنا)

۵۔ یہود اور نصاریٰ تا قیامت باقی ہیں اور منقرض نہیں ہوں گے (الی یوم القیمۃ)

۶۔ تفرقہ اور دشمنی، خدائی عذاب کا ایک حصہ ہیں (نسوا۔۔۔ فاغرینا)

۷۔ تمہارے سارے کام خدا کی نظروں میں ہیں لہٰذا خدا تمہیں تمہارے اعمال کی سزا اور جزا دے گا۔ (ینبھم اللہ بما کانوایصنعون)

 

آیت ۱۵

 

ترجمہ: اے اہل کتاب! یقیناً تمہارے پاس ہمارا رسول آ چکا ہے جو (آسمانی) کتاب کے ان بہت سے حقائق کو تمہارے لئے بیان کرتا ہے جو تم چھپاتے ہو۔ اور بہت سے حقائق سے (کہ جنہیں تم چھپاتے ہو اور سر دست ان کی ضرورت نہیں) چشم پوشی کرتا ہے۔ اس میں شک نہیں کی خدا کی طرف سے تمہارے پاس نور اور واضح کتاب پہنچ چکی ہے۔

پیام:

۱۔ اسلام ایک عالمی دین ہے اور سب ادیان کو حق اور اپنی طرف دعوت دیتا ہے (یٰاھل الکتاب)

۲۔ لوگوں کو راہ راست کی دعوت دینے سے مایوس نہ ہو جاؤ حتیٰ کہ عہدشکن اہل کتاب کو بھی دعوت دینے سے گریز نہ کرو (یااھل الکتاب)

۳۔ انبیاء علیہ السلام کے فرائض میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ ایسی چیزوں کو بیان کریں جو چھپائی گئی ہیں (یبین۔۔)

۴۔ چھپائے گئے مطالب کو بیان کرنا پیغمبر کی غیب دانی کی دلیل اور ان کی معرفت کا ایک راستہ ہے۔ (تفسیر المیزان)

۵۔ توریت ہو یا انجیل دونوں میں تحریف کی گئی ہے (کثیر ابما تخفون)

۶۔ اسلام سب سے آسان اور نہایت ہی سادہ دین ہے ( یعفوا عن کثیر)

۷۔ تبلیغ و ارشاد کا ایک شیوہ یہ بھی ہے کہ مطالب کو بقدر ضرورت بیان کیا جائے ناکہ کسی کو رسوا کیا جائے یا اسے نقصان پہنچایا جائے (ویعفوا عن کثیر)

۸۔ یہ کائنات اور عالم انسانیت قرآن کے بغیر تاریک (قدجاء کم من اللہ نور)

 

آیت ۱۶

 

ترجمہ: اللہ تعالیٰ اسی (نور) کے ذریعہ ان لوگوں کو سلامتی کے رستوں کی ہدایت کرتا ہے جو رضائے الٰہی کی پیروی کرتے ہیں۔ اور انہیں اپنے (لطف و کرم اور) حکم سے تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آتا ہے اور سیدھے رستے کی ہدایت کرتا ہے۔

نکتہ

“سلام” اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے “السلام الموٴمن المھیمن۔۔۔ ” اور بہشت کو “دارلسلام” کہا جاتا ہے، گویا “سلام” کی راہوں کی ہدایت کا مقصد اللہ اور بہشت کی راہوں کی ہدایت ہے۔ اور اگر ان دونوں “سلام” تک پہنچنا مقصود ہو تو “سبل اسلام” کو اختیار کرنا چاہئے جو پیروان حق سے مخصوص ہے۔

“سلام” فرد و معاشرہ، خاندان و نسل اور فکر و روح و ناموس غرض ہر قسم کی سلامتی کو شامل ہے۔

پیام

۱۔ صرف وہی لوگ قابل ہدایت ہیں جو رضائے حق کے حصول کی کوشش کرتے ہیں، نا کہ جاہ و مقام، مال و منال، ہوائے نفسانی اور انتقام کے طلبگار ہوتے ہیں۔

۲۔ رضائے الٰہی کے پیروکاروں کے واضح مصداق “غدیر خم” کے بتائے ہوئے رستوں پر گامزن افراد ہیں۔ کیونکہ ” رضیت لکم الاسلام دینا” کی سورت اسی دن نازل ہوئی تھی۔ (ملاحظہ ہو تفسیر اطیب البیان)

۳۔ سلامتی اور سعادت کی تمام راہیں رضائے الٰہی کے حصول سے ہی ملتی ہیں۔ اور جو شخص “غیراللہ” کو راضی کرے گا وہ گمراہی کی راہوں پر گامزن ہو گا۔

۴۔ “نور” صرف ایک ہی ہے اور “ظلمات” (تاریکیاں) بہت زیادہ ہیں (ظلمات، نور)

۵۔ حصول حق کے لئے متعدد فروعی رستے، انجام کار حق کے اصل راستے تک لے جاتے ہیں۔ “سبل اسلام” (سلامتی کی راہیں) صراط مستقیم تک جا پہنچاتی ہیں۔ اور یہ سب راستے جو مختلف حالات میں گوناگوں فرائض کی بجا آوری اور رضائے الٰہی کے حصول کے ساتھ ایک ہی راستے تک پہنچ جاتے ہیں۔

۶۔ صرف نور اور کتاب ہی کافی نہیں خدا کا لطف و کرم اور ارادہ بھی ضروری ہے (باذنہ)

۷۔ منزل مقصود ایک ہی ہے لیکن اس تک پہنچنے کی راہیں متعدد ہیں (یعنی “سبل السلام”، رضوان اللہ تک پہنچا دیتے ہیں)

۸۔ قرآن مجید اور مکتب وحی فرد اور معاشرے، روح اور جسم، افطار اور نظام کی ہر گونہ سلامتی کی ضمانت دیتے ہیں۔ (سبل السلام)

۹۔ عالم انسانیت قرآن مجید کے زیرسایہ بقائے باہمی اور صدق و صفا کے زریں اصولوں کے تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ (سبل السلام)

۱۰۔ قرآن مجید تمام ظلمانی بیماریوں کی شافی علاج ہے چاہے وہ شکوک و شبہات کی ظلمانی بیماری ہو یا خواہشات، خرافات، جرائم اور کوئی دوسری ظلمانی بیماری۔۔۔

 

آیت ۱۷

 

ترجمہ: جن لوگوں نے یہ کہا کہ (حضرت عیسیٰ) مسیح بن مریم ہی اللہ ہے تو یقیناً وہ کافر ہو گئے (اے پیغمبر! ان سے) کہہ دو کہ اگر خدا ارادہ کرے کہ مسیح بن مریم اور اس کی ماں کو اور روئے زمین پر موجود تمام لوگوں کو ہلاک کر دے تو کون شخص ان سب کو خدا کے اس ارادے سے بچا سکتا ہے؟ اور زمین اور آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کی حکومت اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

نکتہ:

خدا کے بارے میں عیسائیوں کے چند بے بنیاد دعوے ہیں قرآن مجید جن کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ:

۱۔ ان کا دعویٰ ہے کہ خدا تین ہیں: اور قرآن یکتا ہے “لاتقو لوائلئۃ” یعنی یہ نہ کہو کہ خدا تین ہیں۔ (نسأ/۱۷۱)

۲۔ وہ کہتے ہیں خداوند خالق کائنات ان تین خداؤں میں سے ایک ہے جو کہ “باپ خدا” ہے قرآن مجید اس عقیدہ کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے “قالوا ان اللہ ثالث ئلٰئۃ” یعنی وہ کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے تیسرا خدا ہے (مائدہ/۷۳)

۳۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا، حضرت عیسیٰ اور روح القدس سب ایک ہیں، اور یہ آیت اسی عقیدہ کی رو میں ہے۔ قرآن کہتا ہے “مخلق ما یشاء” یعنی خدا جو چاہے پیدا کرے، اور یہ حضرت عیسیٰ کی بغیر باپ کے اور حضرت آدم کی بغیر ماں اور باپ کے پیدائش کی طرف اشارہ ہے۔

پیام

۱۔ اسلام، کفر، شرک اور خرافات کے مخالفت ہے خواہ وہ کسی مذہب و ملت میں ہو (غلو بھی ایک قسم کا کفر ہے)

۲۔ اگر حضرت عیسیٰ مسیح خدا ہیں تو پھر (تمہارے اپنے عقیدے کے مطابق) کیونکر قتل ہو گئے؟ اور “صلیب” کس لئے ان کی مظلومیت کی علامت قرار پائی؟ خدا کو تو قتل نہیں کیا جا سکتا۔

۳۔ خدا تو ماں کے شکم میں نہیں ٹھہرتا اور تم کہتے ہو “مسیح بن مریم”۔

۴۔ “واجب الوجود” (خدا) ہونے کے ساتھ فنا اور نیستی کا احتمال قطعاً ہی سازگار نہیں

۵۔ انسان ہونے کے ناتے حضرت عیسیٰ، ان کی والدہ اور روئے زمین کے لوگ سب یکساں ہیں۔ (المسیح بن مریم و امہ و منفی الارض جمیعا)

۶۔ قدرت خداوندی کسی خاص نظام میں محدود نہیں ہے، وہ چاہے تو بغیر باپ کے بیٹا پیدا کر سکتی ہے۔ (علیٰ کل شیٴ قدیر)

 

آیت۱۸

 

ترجمہ۔ یہود اور نصاریٰ کہتے آ رہے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے (خاص) دوست ہیں۔ تو (اے پیغمبر! ان سے) کہہ دو کہ پھر تمہیں وہ تمہارے گناہوں کی سزا کیوں دیتا ہے؟ (ایسی بات نہیں ہے) بلکہ تم بھی اس کی مخلوقات میں سے (باقی انسانوں کی طرح) انسان ہو (اور تمہیں کوئی خاص امتیاز حاصل نہیں ہے) خدا جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے سزا اور عذاب دے، اور آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب خدا ہی کے لئے ہے اور (سب کی) بازگشت اسی کی طرف ہے۔

نکتہ

جب حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے کہا “ہم تو خدا کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں” 19 (ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ منقول از تفسیر فخر رازی)

یہود اور نصاریٰ خود کو خدا کا حقیقی فرزند نہیں سمجھتے تھے بلکہ ایک قسم کے تکلف کے طور پر خدا کا منہ بولا بیٹا سمجھتے تھے۔ “ابناء اللہ” ان کی کسی دلیل کے بغیر بلند پروازی کی توقع سے ایک کنایہ ہے۔

پیام

۱۔ نسل پرستی، امتیازطلبی، خود کو یا اپنے گروہ اور اپنی جماعت کو برحق جاننا اور دوسروں کو ناحق سمجھنا، ضوابط کو چھوڑ کر روابط کو اپنانا، قطعاً ممنوع اور ناجائز ہے (بل انتم بشرممن خلق)

۲۔ کوئی بھی فرد، قوم، نسل اور امت خدا کی بخشش سے سو فیصد مطمئن نہ ہو جائے اور نہ ہی اس کی رحمت سے قطعاً مایوس ہو جائے (یغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء)

۳۔ گستاخ یہودی، خدا کی اس قدر آیات کو دیکھ لینے کے باوجود اس قدر جرائم کے مرتکب ہوتے ہوئے بھی خود کو خدا کا خاص دوست سمجھتے تھے، اس سے بڑھ کر اور کیا ڈھٹائی اور بے شرمی ہو سکتی ہے؟ 20

 

آیت۱۹

 

ترجمہ: اے اہل کتاب! ہمارا رسول اس دوران میں تمہارے پاس آیا ہے جس میں رسول نہیں آئے۔ تاکہ (کہنے کی باتوں کو) تمہارے لئے بیان کرے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ تم (قیامت کے دن) یہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ اب یقیناً بشارت دینے والا اور ڈرانے والا (پیغمبر) تمہارے پاس آ گیا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

نکتہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کا درمیانی فاصلہ اور “فترت” کا عرصہ تقریباً چھ سو سال ہے۔

جس دوران میں کوئی پیغمبر مبعوث نہیں ہوتا، زمین پھر بھی محبت خدا سے خالی نہیں ہوئی اس لئے کہ اس دوران میں انبیاء علیہم السلام کے اوصیاء موجود ہوتے ہیں۔ بقول حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام “زمین ہرگز حجت خدا سے خالی نہیں ہوتی چاہے وہ طاقتور ہوں یا کمزور تاکہ خدا کا راستہ، طے کرنے والوں کے لئے مخفی نہ رہے” 21 تو معلوم ہوا کہ فترت کا عرصہ ایسا نہیں ہے کہ بندوں کو کسی ہادی اور راہنما کے چھوڑ دیا جائے۔

پیام

۱۔ انبیاء علیہم اسلام کا کام ان حقائق کو بیان کرنا ہے جو چھپائے جا چکے ہوتے ہیں یا جن میں تحریف کی جا چکی ہوتی ہے یا جنہیں فراموش کر دیا گیا ہوتا ہے (یبین لکم)

۲۔ فترت کا عرصہ یا لمبی یا طویل مدت کا فاصلہ خدا کے تربیتی نظام میں مفید پروگراموں کا ایک حصہ ہے۔ 22

۳۔ انبیاء علیہم السلام کی بعثت، لوگوں کے لئے اتمام حجت ہوتی ہے اور ان کے واسطے عذر اور بہانے کی راہیں بند کر دیتی ہے۔ (ما جاء نا من بشیر۔۔۔ )

۴۔ انبیاء کی تبلیغ کا انداز بشارت اور انذار (ڈرانا) ہوتا ہے۔

۵۔ حضرت محمد مصطفی صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کے بارے میں شک نہ کرنا (کہ دنیا میں کسی سے سبق نہ پڑھنے والا انسان کیونکہ چھپائے جانے والے حقائق اور دینی تحریفات کو بیان کر سکتا ہے؟) کیونکہ خداوند عالم ہر کام پر قدرت رکھتا ہے۔

۶۔ انبیاء کا کام صرف بشارت (خوشخبری دینا) اور انذار (ڈرانا) ہے، اب یہ انسان کا اپنا کام ہے کہ کس راہ کا انتخاب کرتا ہے، کیونکہ اس بارے میں انسان آزاد ہے۔

 

آیت ۲۰

 

ترجمہ: اور (اس وقت کو یاد کرو کہ) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم! خدا کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تمہیں دی ہے کہ اس نے تمہارے درمیان انبیاء مقرر کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا (اور تم، لوگوں کے جان و مال، عزت و ناموس اور ملک و حکومت کے لئے صاحب اختیار قرار پائے) اور تمہیں وہ چیزیں عطا کیں جو تمام جہانوں میں سے کسی ایک کو نہیں دیں۔

پیام

۱۔ خدائی نعمتوں کی یاد آوری خدا کے ساتھ عشق، اس کے شکر اور اس کی عبادت کرنے کا موجب ہوتی ہے۔

۲۔ نبوت، حکومت، اقتدار اور آزادی جیسی نعمتیں ہوتی ہیں۔

۳۔ لوگوں کو دعوت دینے کے لئے ان کے جذبات اور احساسات کے عناصر کو پیش نظر رکھنا چاہئے (یٰقوم)

۴۔ کسی کے کام کے لئے اور اپنے ساتھ چلنے کے لئے لوگوں کو دعوت دینے کے واسطے پہلے انہیں خدا کے لئے لطف و کرم کی یاد دلائی جائے پھر انہیں اپنے ساتھ ملا یا جائے۔ (اس آیت میں خدا کی نعمتوں کا ذکر ہے اور بعد کی آیت میں ایک اہم فرمان صادر ہو رہا ہے)

۵۔ نعمتوں میں سے خصوصی نعمات کو یاد کیا جانا چاہئے (آ تا کم مالم یوٴت احدا۔۔۔ ) 23

۶۔ لوگوں کے لئے خدا کی نعمتوں کی یاددہانی انبیاء کے فرائض میں شامل ہے (اذکرو نعمۃ اللہ)۔

۷۔ تاریخ سے عبرت حاصل کرو، کیونکہ موسیٰ کی قوم خدا کی خصوصی نعمتوں سے بہرہ مند ہونے اور حکومت حاصل کرنے کے بعد، ذلت اور خواری کا شکار ہو گئی۔ (لم یوٴت احدا من العالمین)

 

آیت ۲۱

 

ترجمہ: (موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا) اے میری قوم! مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جسے خدا نے تمہارے لئے مقرر کر دیا ہے اور اپنے پچھلے پاؤں واپس نہ لوٹو (پیچھے نہ ہٹو) ورنہ خسارہ اٹھا کر واپس لوٹو گے۔

نکتہ:

“ارض مقدس” یا تو شامات کے تمام علاقے (شام، اردن اور فلسطین وغیرہ) مراد ہیں یا پھر صرف “بیت المقدس” مراد ہے۔

“لاترتدوا” کے تحت پیچھے کی طرف نہ لوٹنے سے مراد یا تو اس راستے سے واپس نہ پلٹنا ہے جو اختیار کئے ہوئے ہیں یا پھر احکام و فرامین الٰہی کو پشت نہ کرنا مراد ہے۔

پیام

۱۔ عوام اور رہبر کا ایک دوسرے سے رابطہ اور تعلق گہرا اور پیار و محبت پر مبنی ہونا چاہئے (یٰقوم)

۲۔ تمام زمینیں ایک جیسی نہیں ہوتیں بعض مقامات کو زیادہ تقدس حاصل ہوتا ہے (الارض المقدسۃ)

۳۔ بنی اسرائیل میں سرکشی کا عنصر پایا جاتا تھا جس کی بنا پر انہیں پیچھے لوٹنے سے روکا گیا ہے (لاترتدوا)

۴۔ خدا کا بندوں پر لطف و کرم مشروط ہوتا ہے (اس آیت میں مقدس سرزمین کا مقدر ہونا ان لوگوں کے لئے بیان کیا گیا ہے کہ (کتب اللہ لکم) جبکہ ایک اور آیت میں وہی سرزمین ان پر چالیس سال تک حرام قرار دی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ: “فانھا محرمتہ علیھم بعین سنتہ”

۵۔ دین سے فرار اور مرتد ہونے کا انجام “خسارت” ہے۔

۶۔ مقدس سرزمینوں کو نااہل افراد کے چنگل سے نکالنا چاہئے (ادخلوا الارض المقدسۃ)

 

آیت ۲۲

 

ترجمہ: (بنی اسرائیل نے جواب میں) کہا اے موسیٰ! اس (زمین) میں ظالم اور جابر لوگ (رہتے) ہیں اور ہم ہرگز اس میں داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ لوگ اس سے باہر نہیں چلے جائیں گے۔ پس اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم یقیناً اس میں داخل ہو جائیں گے۔

نکتہ

” جبار ” کا حکمہ “جبر” سے لیا گیا ہے، جس کا معنی ہے زور اور غلبہ کے ساتھ کسی چیز کی اصلاح کرنا، پھر ان دونوں میں سے ہر ایک معنی جداگانہ طور پر استعمال ہونے لگا۔

۱۔ تلافی کرنا ۲۔ قہر اور غلبہ اور خداوند عالم کے بارے میں اس کلمہ کے دونوں معنی استعمال ہوتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ)

“قوم جبار” سے مراد “شام” کی نسل سے “عمالقہ” تھے جو جزیرہ نمائے عرب کے شمال اور صحرائے سینا میں رہتے تھے۔ اور مصر پر حملہ کر کے وہاں پر پانچ سو سال تک حکومت کرتے رہے۔ (ملاحظہ ہو کتاب “دائرۃ المعارف” از فرید وجدی)

پیام

۱۔ کسی مقام پر نااہل افراد کا ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اہل اور شائستہ افراد موجود ہی نہیں ہیں۔ لہٰذا چاہئے کہ دشمن کو نکال باہر کیا جائے اور اس بات کا انتظار نہیں کرنا چاہئے کہ وہ خودبخود باہر نکل جائے گا۔

۲۔ آرام طلبی صحیح نہیں ہے لہٰذا آگے بڑھنا چاہئے اور امدا دکی اپیل کرنی چاہئے تاکہ دشمن کو نکال باہر کیا جا سکے۔

۳۔ جنگ میں سستی اور شکست کا موجب احساس کمتری اور خوف ہے (لن ند خلھا) 24

 

آیت ۲۳

 

ترجمہ: (ڈرپوک لوگوں کے مقابلے میں) دو خدا ترس افراد نے کہ اللہ نے جنہیں (عقل، ایمان اور جرأت کی) نعمت سے نوازا تھا، کہنے لگے (شہر کے) دروازہ سے ہی ان (دشمنوں) کے پاس داخل ہو جاؤ (اور کسی قسم کا خوف نہ کرو) پس، جونہی تم ان کے پاس پہنچ جاؤ گے تو تم یقینی طور پر کامیاب ہو گے اور خدا پر بھروسہ کرو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔

نکتہ

تفسیروں میں مذکور ہے کہ جن دو افراد کا آیت میں ذکر ہے وہ بنی اسرائیل کے بارہ نقیبوں میں سے تھے جن کا نام ۱۔ یوشع بن نون اور ۲۔ کالب بن یوفنا تھا، توریت سفر تشنیہ میں یہی نام مذکور ہیں۔ (ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ)

تفسیر المیزان میں ہے کہ اگرچہ “نعمت” کا حکم قرآن مجید میں کلی طور پر بیان ہوا ہے لیکن یہاں پر اس سے مراد ولایت اور نبوت کی نعمت مراد ہے۔

پیام

۱۔ خدا ترسی (خوف خدا) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور لطف و کرم کے فراہم کرنے کا موجب ہوتی ہے۔ (یخافون انعم اللہ علیہما)

۲۔ جو خدا سے ڈرتا ہے وہ دنیا کی کسی اور طاقت سے نہیں ڈرتا۔ (یخافون۔۔۔ ادخلوا)

۔ حرکت میں برکت ہے۔ اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے۔ پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے (ادخلوا علیھم۔ غالبون)

۔ حملہ کرنے کے موقع پر مجاہدین کے حوصلے بڑھانے چاہئیں (ادخلوا۔۔۔ فانکم غالبون)

۔ توکل صرف خدا کی ذات پر اور وہ بھی خلوص کی بنیادوں پر ہونا چاہئے (علی اللہ فتو کلوا)

۔ جرأت اور جسارت بھی ضروری ہے اور تقویٰ اور عہد کی پاسداری بھی لازم ہے (یخافون۔۔۔ ادخلوا)

۔ دلیرانہ انداز میں دشمن پر تمہارا حملہ اس کی شکست اور کمزوری سبب ہوتا ہے (ادخلوا۔۔۔ غالبین)

۸۔ کامیابی کے دو بنیادی اصول ہیں ۱۔ خدا پر ایمان اور توکل اور ۲۔ عزم صمیم اور جرأت۔ صرف مادی ذرائع اور ہتھیار کافی نہیں ہیں۔

۹۔ خدا پر توکل، سعی اور کوشش کے ساتھ ہونا چاہئے (ادخلوا۔۔۔ توکلوا)

۰۔ اگر دشمن پر خالصانہ انداز میں یلغار کر دو اور ساتھ ہی خدا پر توکل بھی ہو تو یہ تمہاری کمیابی کا ضامن ہو گا۔

۱۱۔ خدا کا خوف اور تقویٰ و پرہیزگاری کے ذریعہ انسان میں بصیرت پیدا ہوتی ہے۔ جس سے انسان مسائل کا صحیح طریقے سے تجزیہ و تکمیل کرسکتا ہے۔ (یخافون۔۔۔ انکم غالبون)

۱۲۔ توکل لفظوں کا نہیں بلکہ ایمان کی ایک روحانی کیفیت کا نام ہے۔ (فتوکلوا ان کنتم موٴمنین)

 

آیت ۲۴

 

ترجمہ۔ ان لوگوں (اور بنی اسرائیل) نے کہا: اے موسیٰ ! جب تک کہ وہ (ظالم اور جابر لوگ) اس (شہر) میں ہیں ہم ہرگز اس میں داخل نہیں ہوں گے۔ لہٰذا تم خود اور تمہارے پروردگار جاؤ اور جا کر (ان سے) لڑو۔ ہم تو یہیں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

نکتہ:

مکہ معظمہ اور بیت المقدس دونوں ہی مقدس سرزمینیں ہیں۔ لیکن حضرت موسیٰ نے جب اپنی قوم سے کہا کہ : “اس سرزمین میں داخل ہو جاؤ اور دشمن سے جنگ کرو!” تو وہ بہانے بنانے لگے اور موسیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ لیکن ۶ ہجری میں جب مسلمان آنحضرت صلی اللہ علی آلہ وسلم کی ہمراہی میں عمرہ کی بجا آوری کی غرض سے مکہ معظمہ روانہ ہوئے لیکن مکہ پہنچنے سے پہلے ہی روک دئیے گئے۔ اگر حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسلمانوں کو نہ روکتے تو وہ یقیناً شہر پر حملہ آور ہو جاتے۔ اور اسی سفر کے دوران ہی “صلح حدیبیہ” عمل میں آئی۔

گویا دونوں قومیں (موسیٰ کی قوم بھی اور پیغمبرِ اسلام کی قوم بھی) دو مقدس شہروں کے دروازے تک پہنچ گئیں لیکن ایک (موسیٰ کی) قوم اس قدر بزدل اور دوسری (محمدِ مصطفےٰ کی) قوم اس حد تک نڈر!

پیام:

1۔ بنی اسرائیل بے ادبی، بہانہ جوئی، کمزوری اور رفاہ طلبی کا مجسم نمونہ تھے۔ انہوں نے “انا” کا لفظ کہہ کر اپنی برتری اور فوقیت ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ اور یہ بہت بڑی بے ادبی ہے۔ (ھم)

انہوں نے خدا کے فرمان “ادخلوا” (داخل ہو جاؤ) کے مقابلہ میں “لن ندخلھا” (ہرگز نہیں جائیں گے) کہہ کر جسارت اور گستاخی کی انتہا کر دی۔

“ابدا” (ہمیشہ کے لئے) کا کلمہ ان کی گستاخی اور جسارت پر اصرار کی دلیل ہے۔

“اذھب” (تو خود جا) کے کلمہ سے حضرت موسیٰ کی توہین واضح ہوتی ہے۔

“ربک” (تیرا رب) کے کلمہ سے ذاتِ پروردگار کی توہین ظاہر ہوتی ہے۔

“قاعدون” (ہم بیٹھے ہیں) کے جملہ سے ان کی رفاہ طلبی واضح ہوتی ہے نا کہ عزت خواہی۔

2۔ بجائے اس کے کہ وہ بذاتِ خود معاشرہ کی اصلاح کے لئے قدم بڑھاتے خدا اور دینی رہبر سے اس کی توقع قائم کر لی۔ (قاتلا انا ھٰبہنا قاعدون)

3۔ وہ لوگ تو کامیابی کے حصول کے لئے اپنی جگہ سے ہلنے کے بھی روادار نہیں تھے۔ (ھٰبہُنا)

4۔ دشمن سے جنگ کے لئے بنی اسرائیل کی سستی اس حد تک شہرت حاصل کر گئی کہ مسلمانوں نے ( ۲ ھ میں) جنگ بدر شروع ہونے سے پہلے اور ( ۶ھ میں) مکہ میں داخل ہونے کے وقت کہ جب کفار نے انہیں مکہ جانے سے روک دیا تھا۔ ا ور “صلح حدیبیہ” کا واقعہ پیش آ گیا۔ حضرت رسول خدا کی خدمت میں عرض کیا کہ “ہم بنی اسرائیل کی مانند نہیں ہیں کہ آپ سے کہیں “انا ھٰبہنا قاعدون” (ہم یہیں پر بیٹھے ہیں) ہم ہر حالت میں آپ کے ہم رکاب لڑنے کیلئے تیار ہیں۔”

 

آیت ۲۵

 

ترجمہ۔ (موسیٰ علیہ السلام نے) کہا پروردگار! میرا بس تو صرف اپنے اور اپنے بھائی پر چلتا ہے پس تو ہمارے اور فاسق و بدکار قوم کے درمیان جدائی ڈال دے۔

نکتہ:

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ دُعا، بنی اسرائیل سے مایوس ہو جانے کے بعد ہوئی۔ جدائی ڈالنے کی درخواست اس لئے کی تھی کہ خدا کے قہر و غضب کی آگ موسیٰ علیہ السلام کے یاران و مددگاران کو نہ جلا ڈالے۔ اور دشمن اپنے کئے کی سزا پائیں۔ یا پھر وہ یہ دُعا مانگ رہے تھے کہ موت دے کر ان کے اور دشمنوں کے درمیان جدائی ڈال دے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس جملہ میں صرف اپنا اور اپنے بھائی کا ذکر کیا ہے۔ اور ان دو حضرات کا ذکر نہیں کیا جو خدا کا خوف رکھنے والے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہم نوا تھے۔ اور لوگوں کو شہر میں داخل ہونے کی رغبت دِلائی تھی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے چنانچہ  تفسیر مراغی میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان دونوں کی ثابت قدمی کا بھی یقین نہیں تھا۔

تفسیر المیزان میں ہے کہ چونکہ حضرت موسیٰ نے خدا سے ان لوگوں کی شکایت کی تھی اور اپنی ذات کے لئے مدد کے طلبگار ہوئے لہٰذا اپنے کم سے کم ساتھیوں کا ذکر کیا۔

تفسیر اطیب البیان میں ہے کہ چونکہ مذکورہ دونوں حضرات کو اس ضدی اور ہٹ دھرم قوم کی طرف سے سنگسار کرنے کی دھمکی مل چکی تھی لہٰذا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے زبان حال سے بارگاہِ رب العزت میں عرض کیا۔ “پروردگار! اب میرا کوئی بس نہیں چل سکتا، حتیٰ کہ وہ دو حضرات کی جان بھی خطرے میں ہے۔”

پیام:

1۔ تبلیغ میں انبیاء علیہم السلام کا طریقہ کار “زور اور زبردستی” سے ماورا ہوتا ہے۔ (لااملک الانفسی)

2۔ بد دُعا یا خُدا کی بارگاہ میں شکایت اس وقت کی جانی چاہیے جب لوگوں کی اطاعت سے مایوسی حاصل ہو جائے۔

3۔ انبیاء علیہم السلام کی اطاعت سے روگردانی “فسق” ہے۔

 

آیت ۲۶

 

ترجمہ۔ (اللہ نے موسیٰ سے) فرمایا! یقیناً وہ (مقدس سرزمین) چالیس برس تک ان پر حرام کر دی گئی ہے۔ (پس وہ اس سستی اور خلاف ورزی کی وجہ سے) چالیس سال تک زمین میں سرگرداں رہیں گے۔ (اور اس مقدس سرزمین کی مادی اور معنوی نعمتوں سے محروم رہیں گے۔) پس فاسق اور بدکار لوگوں پر افسوس نہ کرو۔

نکتہ:

“یتیہون” کا کلمہ “تیہ ” کے لفظ سے لایا گیا ہے جس کا معنی ہے “سرگردانی” لیکن وقت گذارنے کے ساتھ ساتھ “تیہ” “صحرائے سینا” کو کہا جانے لگا جس میں بنی اسرائیل سرگرداں مارے مارے پھرتے رہے۔ اور وہاں پر چالیس برس تک مادی اور معنوی نعمتوں سے محروم رہے۔ اور مقدس سرزمین کی برکات سے کوئی فائدہ نہ اُٹھا سکے۔

بنی اسرائیل کی خلاف ورزی، ان پر خدا کے قہر و غضب اور وادی تیہ میں ان کی سرگردانی کی داستان توریت سفر اعداد فصل چہارم میں بھی موجود ہے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں! وہ لوگ چالیس سال کی سرگردانی، آوارہ وطنی اور موسیٰ و ہارون سے محروم ہو جانے کے بعد بھی فوجی حملہ کئے بغیر شہر میں داخل نہ ہو سکے۔ اور ان کی رفاہ طلبی نے انہیں تاخیر اور سرگردانی کے سوا کوئی فائدہ نہیں دیا۔”

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ہی فرماتے ہیں کہ: بنی اسرائیل سے ملتی جلتی داستان مسلمانوں کو بھی درپیش آئے گی۔

پیام:

1۔ کمزوری اور سستی دِکھانے، رہبر کے فرمان سے منہ موڑنے اور جنگ سے فرار کی سزا، خدا کی نعمتوں سے محرومی اور آوارہ وطنی ہوتی ہے۔ (فانھا محرمۃ علیہم)

2۔ سرگردانی، فاسقوں کے لئے عذاب کی ایک قسم ہے۔ اور “نور” و “فرقان” کا حامل ہونا “متقین” کے لئے ایک قسم کا ہدیہ ہے۔

3۔ میدان جنگ سے فرار کرنے والوں اور تن آسان لوگوں کی سزا یہ ہونی چاہیئے کہ انہیں وسائل اور امکانات اور بعض خصوصیات سے محروم کر دیا جائے۔ (فانھا محرمۃ علیھم )

4۔ “اربعین” (چالیس) کے عدد میں ایک خاص رمز ہے جو خدا کے لطف و کرم یا قہر و غضب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

5۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے نسل قدیم کے منقرض ہو جانے کے بعد ہی نسل جدید کی اصلاح ہوتی ہے۔ (اربعین سنۃ) 25

6۔ انبیاء کرام علیھم السلام اور ان لوگوں کے لیے دردمند دل رکھتے ہیں (لا تائس)

۷۔ فاسقوں کے لئے کسی قسم کی ہمدردی اور دلسوزی نہیں کرنی چاہئیے۔ مجرم کو سزا، کڑوی دوا کے مانند ہے جو فرد اور معاشرہ کے مفاد میں ہے۔ (فلاتائس)

 

آیت ۲۷

 

ترجمہ۔ (اے پیغمبر ! ) ان کے سامنے آدم کے دو بیٹوں کی بر حق داستان پڑھو! جبکہ ا ن میں سے ہر ایک نے (اپنی اپنی) قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی تو قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہیں ہوئی ۔ (ہابیل کی قربانی قبو ل ہوئی اور قابیل کی قبول نہیں ہوئی قابیل نے کہا) میں تجھے یقیناً قتل کر دو ں گا۔ (ہابیل نے) کہا: خدا تو صرف ہر پیز گاروں سے قبول کرتا ہے۔

نکتہ

“برحق ” داستان کی تلاوت سے مراد شاید یہ ہو کہ یہ داستان تو ریت میں یاتو تحریف کی گئی ہے یا پھر اس کے ساتھ خرافات کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ لیکن جو کچھ قرآن میں ہے وہ حق ہے۔

اسلامی روایات اور توریت (سفر تکوین باب چہارم ) میں مذکور ہے کہ ہابیل گلہ بانی کرتے تھے اور انہوں نے اپنی بہترین گوسفند قربانی کے لئے پیش کی اور قابیل کسان تھا اور کھیتی باڑی کا کام کرتا تھا ، اور اپنی زراعت میں سے بد ترین چیز قربانی کے لئے پیش کی ۔ اور قرآن بھی کہتا ہے کہ: ” لن تنالو اابرحتی تنفقو امماتحبون” یعنی تم نیکی تک ہر گز نہیں پہنچ سکو گے جب تک تم اپنی اس چیز سے خرچ نہیں کر و گے جسے تم دوست رکھتے ہو ،

پیام

۔ تاریخ کا مطالعہ عزت حاصل کرنے کے لیے ہونا چاہئیے (واتل علیھم)

۔ تاریخ کے اہم ترین واقعات بیان کئے جانے چاہئیں(نبا )

۔ تاریخ حقائق کو عام قصے کہانیوں سے جدا رکھنا چاہیئے (بالحق)

۔ اصل حقیقت ،،قرب خداوندی ،، ہے ناکہ قربانی تو کسی بھی قسم کی ہو سکتی ہے (قربان)

۔ اعمال کی قبولیت یا عدم قبولیت کے لئے دلی جذبات، روحانی کیفیات اور خصائل کو بڑی حد تک عمل دخل ہوتا ہے۔

۔ حسد اور کینہ اس حد تک بڑھ سکتاہے کہ بھائی کو بھائی قتل کر ڈالے(لاقتلنک)

۔ اعمال کو قبولیت کا دارو مدار تقویٰ پر ہے ناکہ میں اور آپ !(انمایتقبل اللہ من المتقین)

۔ قتل اور خونریزی کی تاریخ !تاریخ انسانیت ہی سے شروع ہو جاتی ہے (نباء النبی آدم)

۔ قبولیت یا عدم قبولیت حکمت کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔ کسی کو کسی پر ترجیح دینے کی وجہ سے نہیں ۔ (من المتقین)

۔ قاتل کو بھی منطقی جواب دینا چاہیئے(انماتیقبل اللہ )

۔ خود سازی اور تقوی کا حصول ہر قسم کے دوسرے کام پر مقدم ہے۔ (انماتیقبل اللہ من المتقین)

 

 

                آیت نمبر ۲۸ تا ۶۴

 

آیت ۲۸

 

ترجمہ۔ (ہابیل نے اپنے بھائی قابیل سے )کہا! اگر تو نے میرے قتل کے لئے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا تو میں تیرے قتل کے لئے اپنا ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔ کیونکہ میں تو تمام جہانو ں کے پروردگار سے ڈرتا ہوں ،

پیام

۱۔ حاسدین کے ساتھ نرمی سے بات کرنی چاہیئے ، اور حسد کی آگ کو آرام و سکون کی گفتگوسے بجھایا جائے (لئِن بسطت)

۲۔ نہی عن المنکر کا نیک راستہ یہ بھی ہے کہ آپ گناہگار کو اس بات کا اطمینان دلائیں کہ اس سے تجاوزاور زیادتی نہیں کی جائے گی (ماانابباسط یدی۔۔۔۔)

۳۔ ہابیل کا قابیل کو قتل کرنے کا ارادہ ہی نہیں تھا ، ناکہ وہ اپنا دفاع کر رہے تھے۔

(کیونکہ قاتل کے آگے سر جھکا دینا ، تقوی سے میل نہیں کھاتا)

۴۔ جو چیز قابل قدر ہے وہ یہ کہ کسی کو خوف خدا کی بنیاد پر قتل نہ کیا جائے ناکہ عجز و ناتوانی کی وجہ سے کسی کو قتل نہ کیا جائے۔ (انی اخاف اللہ)

۵۔ خوف خدا اور تقوی ، حساس ترین حالات میں گناہ اور سر کسی سے بازو رکھنے کا بہت بڑا عامل ہوتا ہے ۔ (انی اخاف اللہ)

 

آیت ۲۹، ۳۰

 

ترجمہ۔ میں تو یقیناً یہی چاہتا ہوں کہ تو میرے گناہ اور اپنے گناہ کے (بوجھ کے ) ساتھ (خدا کی طرف) پلٹ جائے ۔ اور تو جہنمیوں میں سے ہو جائے گا ، اور ظالموں کی یہی سزاہے ،

پس (حسد کی وجہ سے پیدا ہونے والے وسوسوں کی وجہ سے ) اس (قابیل) کے نفس نے بھائی کے قتل کو اس کے لئے آسان اور رام کر دیا اور اس نے اسے قتل کر ڈالا ۔ جس کی وجہ سے وہ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گیا۔

نکتہ

ہابیل نہیں چاہتے تھے کہ دوسرے کے گناہ کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائیں ۔ اسی لئے انہوں نے بر ادر کشی اور خونریزی کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا ۔ بلکہ اپنے گناہو ں کا بوجھ بھی دوسرے کے کندھوں پر ڈال دیا۔ ایک حدیث میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: من قتل مو منا متعمدا اثبت اللہ علی قاتلہ جمیع الذنوب وبرء المقتول منھا، ذالک قولہ :”انی اریدان تبوا۔۔۔یعنی جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اللہ تعالی مقتول کے تمام گناہ پھر (قاتل ) کے کھاتے میں لکھ دیتا ہے اور مقتول کو گناہوں سے پاک کر دیتا ہے (ازتفسیرنورالتقین)

البتہ آیت کا یہ معنی ہر گز نہیں کہ ظالم کے آگے سکوت اختیار کر لیا جائے اس امید کے ساتھ کہ وہ ہمارے گناہ اپنے کندھوں پر اٹھا رہا ہے ۔

پیام :

۱۔ مقتول کے گناہ قاتل کو منتقل ہو جاتے ہیں (تبوء باثمی)

۲۔ معاد (قیامت) پر ایمان ، روئے زمین کے سب سے پہلے انسانوں کے عقائد کا حصہ رہ ہے ۔ (اصحٰب النار)

۳۔ نہی المنکر کرنے کی سزا کے علاوہ مظلوم کے گنا ہوں کا بوجھ بھی اٹھانا ہو گا کہ جس کی سزا اور عذاب بہت زیادہ ہے۔

۴۔ انسان کا نفس اگر یکبارگی اس پر تسلط حاصل نہ کر سکے تو پھر آہستہ آہستہ اور مختلف ذرائع مثلاً وسوسوں ، مختلف انداز میں آرائش اور دل میں مختلف باتوں کو رائج کر نے کے ذریعہ انسان کو رام اور خام کر کے یہی گناہ کا ارتکاب کر ا دیتا ہے (فطوعت لہ نفسہ)

۵۔ انسان کی پاک “انسانی فطرت ” آدم کُشی سے بیزار ہوتی ہے لیکن اس کا نفس اس کام کو اس کے سامنے مزین کر کے پیش کر تا ہے اور اسے انسان کے قتل پر آمادہ کر دیتا ہے (فطوعت)

۶۔ روئے زمین پر سب سے پہلی موت کا آغاز ” شہادت ” سے ہوا (فقتلہ)

۷۔ قاتل ‘ خود کو بھی خسارے میں ڈالتا ہے اور مقتول کو بھی خسارہ پہنچاتا ہے ، مقتول کے خاندان کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اور معاشرے کو بھی زیاں سے دو چار کرتا ہے۔

۷ ۔ قاتل اندرونی طور پر بھی “ضمیر کے عذاب ” میں مبتلا رہتا ہے اور بیرونی طور پر معاشرے کی خدمت میں گرفتار ہوتا ہے ۔ اور قصاص اور عدل کے آ ہنی ہاتھوں میں جکڑا جاتا ہے ۔ غرض جس مقصد کے لئے اس نے قتل کیا ہوتا ہے اسے وہ مقصد حاصل نہیں ہوپاتا۔ (فاصبح من الٰخسرین)

۷۔ حق اور باطل کے درمیان محاذ آرائی اتنا ہی پرانی ہے جتنا انسانی تاریخ۔

 

آیت ۳۱

 

ترجمہ۔ پس اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کو بھیجا جو زمین کھودتا تھا، تاکہ امر (قاتل) کو دکھا سکے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کس طرح چھپائے (اور دفن کرے) ۔ اس (قاتل) نے کہا کہ وائے ہو مجھ پر کہ آیا میں اس بات سے بھی عاجز ہوں کہ اس کوے کی طرح ہو سکوں؟ اور اپنے بھائی کے لاشے کو دفن کر سکوں! آخر کار وہ پشیمانوں میں سے ہو گیا۔

نکتہ

قابیل جب اپنے بھائی کے قتل کے گناہ کا مرتکب ہو چکا تو دیکھا کہ درندے اس کی لاش کو کھانے کے لئے اس کی طرف آ رہے ہیں تو اس نے اسے وہاں سے اٹھا لیا اور اٹھائے پھرتا رہا، لیکن جب اسے اس میں بھی کوئی فائدہ نظر نہ آیا اور اسی حالت پر سرگردوں رہا، تو خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے کوے سے سبق حاصل کیا کہ وہ دوسرے مردہ کوے کے جسم کو زمین میں دفن کر رہا ہے تو اس نے اپنے بھائی کی لاش کو زمین میں دفن کر دیا۔

پیام

1 ۔ بعض اوقات جانوروں کو بھی خدا کی طرف سے ڈیوٹی سونپی جاتی ہے اور پرندوں کی حرکت بھی اس کے فرمان کے مطابق ہوتی ہے جس راستے پر وہ انہیں چلانا چاہتا ہے (فبعث اللہ غرابا)

2 ۔ ہر قسم کی حرکت سے سبق حاصل کیا جا سکتا ہے بہت سی انسانی معلومات ، حیوانات کی حرکات و سکنات کی مرہون منت ہیں۔

3 ۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ، مغرور اور سرکش لوگوں کو چھوٹے چھوٹے جانوروں کے ذریعہ ذلیل کروا دیتا ہے تاکہ انہیں یہ باور کروائے کہ ہد ہد اور کوا بھی انسان کو سکھانے کا ذریعہ ہو سکتے ہیں۔ بس غرور کو اپنے دماغ سے نکال دو۔

4 ۔ انسان کو ہمیشہ سیکھتے رہنا چاہئے خواہ اسے جانوروں ہی سے سیکھنا پڑے! پس اصل چیز “سیکھنا اور نہ یاد کرنا” ہے خواہ کسی سے ہو اور کہیں پر ہو۔

5 ۔ مردوں کو زمین ہی میں دفنانا چاہئے (ا نہیں شیشے میں رکھنا یا مومیائی کرنا یا جلا دینا وغیرہ صحیح نہیں ہے)

6 ۔ تاریخی طور پر انسان کی زیادہ تر تعلیم، تجربوں کے ساتھ ہوئی ہے۔ تاریخ انسانیت میں تجرباتی تعلیم کی ایک لمبی تاریخ ہے۔

7۔ پشیمانی، انسانی فطرت کی حق طلبی کی دلیل ہے۔ (اصبح من النادمین)

 

آیت ۳۲

مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ کَتَبْنَا عَلَی بَنِیْ اِسْرٰاِئیْلَ اَنَّہ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بَغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا ط وَمَنْ اَحْیَاھَا فَکَاَنَّماَ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا ط وَلَقَدْ جَائَتْھُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مِنْھُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ ہ

ترجمہ۔ اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا (واجب قرار دے دیا) کہ جو شخص کسی انسان کو قتل کرے بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین پر تباہی پھیلائی ہو تو ایسے ہے جیسے اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا۔ اور جو کسی ایک انسان کو زندہ کرے (اسے مرنے سے بچالے) گویا اس نے تمام لوگوں کو زندہ کر دیا۔ البتہ ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ ان کے پاس آئے، پھر ان میں سے بہت سے لوگ (انبیاء کے) اس (پیغام) کے بعد زمین پر اسراف کرنے والے ہو گئے۔

پیام:

1۔ تاریخ حوادث بعض اوقات فرامین الٰہی کے صدور کا موجب بن جاتے ہیں۔ (من اجل ذالک)

2۔ تاریخی طور پر انسانوں اور ان کی سر نوشت کا چولی دامن کا ساتھ چلا آرہا ہے۔ (من اجل ذالک کتبناعلی بنی اسرائیل)

3 ۔ چاہے انسان کسی قوم ، نسل اور علاقہ سے تعلق رکھتے ہوں سب کی جان محترم ہے (نفسا)

4 ۔ کسی انسان کو دو صورتوں میں قتل کرنا جائزہے ۔ الف! قاتل سے قصا ص کے طور پر ب۔ مفسد کاخاتمہ کرنے کے عنوان سے ۔

5 ۔ تمام انسان ، ایک مشرکہ حقیقت اور ایک ہی قسم کی رو ح کے حاصل ہوتے ہیں ۔ اور ایک جسم کے مختلف اعضاء کی مانند لہذا ایک انسان کو قتل کرنا گویا تمام انسانیت کا ایک طرح قتل کرنا ہے (فکا نماقتل الناس جمیعا)

6۔ روایات کے مطابق لوگوں کو راہ حق کی ہدایات بھی انسانیت کے احیاء (زندہ کرنے ) کی ایک قسم ہے ۔26 اور لوگوں کو گمراہ کرنا انسانیت کا ایک طرح کا قتل ہے۔

7 ۔ اعمال کی قدرو قیمت کا دارومدا ر ان اعمال کے مقاصد پر ہوتا ہے ۔ ظلم وجود کی بناء پر ایک انسان کا قتل ، پورے انسانی معاشرے کی موت ہے۔ جبکہ کسی کو قصاص کے عنوان کے قتل کرنا پورے معاشرے کی زندگی ہے۔

8 ۔ کسی ایک انسان کی زندگی یا موت بعض اوقات پورے انسانی معاشر ے کی زندگی یا موت کے لئے موثرہوتی ہے ۔ اور بعض اوقات انفرادی قتل ، اجتماع قتل و غارت کا موجب بن جاتے ہیں ۔

9 ۔ جس قدر روئے زمین کے لوگوں کا قتل مشکل بات ہے اسی طرح ایک انسان کا قتل بھی خطرناک ہے۔

10 ۔ ہر انسان میں ایک عظیم معاشرے اور جدید نسل کی پیدائش کی صلاحیت ہوتی ہے اسی لئے کسی ایک شخص کی نابودبعض اوقات ایک پوری نسل کی تباہی ہوتی ہے۔

11 ۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص کسی کو بے گناہ قتل کرتا ہے اس کا عذاب اس شخص کی مانند ہے جو تمام لوگوں کو شہید کر ڈالے، اور ایک نفس کی جان بچانے کا اجر پوری انسانیت کو بچانے کے برابر ہے۔(از تفسیر نور الثقلین)

12 ۔ ایک زندہ معاشرے کی شناخت یہ ہے کہ وہ مصیبت میں گھرے لوگوں کو امداد بہم پہنچاتا اور انسانی جانوں کو مرنے سے بچاتا ہے۔ (من احیاھا فکانما احی الناس جمیعا)

13 ۔ خودکشی اور اسقاط حمل بھی “قتل النفس” میں شمار ہوتے ہیں، اور حرام ہیں۔

14 ۔ ایک فرد کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا پورے انسانی معاشرہ کے امن و امان کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔ (وکانما قتل الناس جمیعا)

15 ۔ جو شخص کسی دوسرے انسان کی جان کی قدر و قیمت کو کچھ نہیں سمجھتا یا ذہن میں فساد پھیلاتا ہے تو اس کا اپنا خون بھی بے ارزش ہے ۔ اس کی بھی کوئی قدروقیمت نہیں ہے ۔ (بغیر نفس او فساد)

16 ۔ جن لوگوں کاکام انسانی جان کوبچانا ہے ، انہیں اپنی قدروقیمت کو جاننا نہیں چاہیئے۔ مثلاً، ڈاکٹر ،اطباء، نرسیں ، آگ بجھانے والے افراد ، ان کے معاون ، دو کزانے والے افراد وغیرہ (فکانمااحی الناس جمیعا)

17 ۔ انسان خود مختار ہے انبیاء کے تشریف لے آنے کے بعد بھی ان کے بر خلاف رستوں پر چل سکتاہے (بعد ذالک)

18 ۔ لوگوں کے ایمان نہ لانے سے پریشان نہ ہونا ، کیونکہ قدیم الایام سے یہی سلسلہ چلاآرہا ہے۔

(کثیر امنھم بعد ذالک فی الارض لمترفون)

 

آیت ۳۳

اِنَّماَ جَزَئُو الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اِنْ یُّقتَّلُوْا وَ یُصَلَّبُوْا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَ اَرْجُلَھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ط ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْیٌ فِی الَّدُنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ہ

ترجمہ۔ جو خدا اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کرتے ہیں اور (اسلحہ ،دہشت اور لوٹ مار کا ذریعہ) زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ، ان کی سزا بس یہی ہے کہ یا تو انہیں قتل کر دیا جائے یا سولی پہ لٹکایا جائے یا ان کے مخالف طریقہ سے ہاتھ اور پاؤں کاٹے جائیں ۔ ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کی مقدار وہی ہے جو چور کے کاٹنے کی ہے (یعنی ہاتھ کی انگلیاں) اور “مخالف طریقہ” سے مراد جو کہ آیت میں مذکور ہے یہ ہے کہ بالترتیب دائیں ہاتھ کی انگلیاں اور بایاں پاؤں یا بائیں ہاتھ کی انگلیاں اور دایاں پاؤں۔ یا پھر (اپنی) سرزمین سے نکال دئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں رسوا کن سزا ہے اور آخرت میں ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔

نکتہ:

آیت کے شان ِ نزول کے بارے میں ہے کہ کچھ مشرکین مدینہ آئے اور مسلمان ہو گئے چونکہ وہ مریض تھے لہٰذا حضور پیغمبرِ خدا کے حکم کے مطابق شہر کے اچھی آب و ہوا کے بیرونی علاقہ میں چلے گئے اور انہیں اس بات کی اجازت تھی کہ وہاں پر زکواۃ کی اونٹنیوں کے دودھ کو استعمال کر یں، جب وہ وہاں پر ٹھیک ہو گئے تو اور جانوروں کو اپنے ساتھ بھگا لے گئے۔ اور اسلام سے بھی دستبردار ہو گئے۔

اس پر حضرت رسالتمآب نے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیاجب گرفتار ہو گئے تو آنجناب نے ان کے ساتھ وہی سلوک کرنے کا حکم دیا جو انہوں نے چرواہے سے کیا تھا۔ مذکورہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی۔

آیت میں مذکور سزائیں “حقوق اللہ” میں شمار ہوتی ہیں لہٰذا نہ تو معاف ہو سکتی ہیں اور نہ ہی تبدیل کی جا سکتی ہیں۔ (تفسیر اطیب البیان) 28

پیام

1 ۔ معاشرے کی اصلاح کے لئے موعظہ اور تبلیغ بھی لازم ہے اور تلوار اور دو ٹوک اور انقلابی رفتار بھی ضروری ہے۔

(سابقہ آیت میں قاتل کو علمی اور منطقی طور پر خبردار کیا گیا تھا اور یہاں پر ہر ڈاکو اور مفسد کی سزا کو بیان کیا گیا ہے)

2 ۔ خلق خدا کے ساتھ جنگ، خود خدا کے ساتھ جنگ ہوتی ہے اور جو لوگ مخلوق خدا کے مقابل آتے ہیں گویا خود خدا کے مقابلہ میں آتے ہیں۔

3 ۔ جو لوگ معاشرے کے امن و سکون کو تہ و بالا کرتے ہیں ان کے لئے کئی قسم کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں، موت ، جلا وطنی، ہاتھ اور پاؤں کا کاٹنا اور سولی پر لٹکانا۔

4 ۔ سزائیں، عدالت کے مطابق ہیں، چونکہ فسادات اور مفسدین کی خصوصیات مختلف ہوتی ہیں لہٰذا سزائیں بھی ایک جیسی نہیں ہیں۔ اگر فساد میں دردناک پہلو ہوتا ہے تو اس کی سزا قتل ہے۔ اگر عام قسم کا ہوتا ہے تو سزا جلا وطنی ہے۔ اور یہ بات روایت سے معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ کہ قتل کی سزا موت ہے۔ ڈرانے دھمکانے اور دہشت پھیلانے کی سزا جلاوطنی ہے چوری کی سزا ہاتھ پاؤں کاٹنا ہے

قتل اور مسلحانہ ڈکیتی کی سزا ہاتھ اور پاؤں کاٹنا اور پھانسی ہے۔ (تفسیر صافی)

5 ۔ سخت قسم کی سزائیں، ستم پیشہ لوگوں کے لئے ہیں تاکہ ان لوگوں کے لئے جو اچانک اس معاملہ میں آ پھنسے ہیں۔ (یحاربون۔ یسعون)

6 ۔ حدود و احکام الٰہی کا اجرا اسلام نظام ِ حکومت کے سائے میں ہی ہو سکتا ہے یہیں سے پتہ چلتا ہے کہ دین سیاست سے جدا نہیں ہے۔

7 ۔ حکومت اور نظامِ حکومت کا فرض ہے کہ شہروں ، دیہاتوں اور رستوں کے امن و امان کو یقینی بنائے۔

8 ۔ رسول ِ خدا کی ولایت کے مخالفین کہ جو نبوی حکومت کو ختم کرنا چاہتے ہیں یا نظام کے ساتھ برسر پیکار ہیں ان کا قلع قمع کر دینا چاہئے۔

9 ۔ جو لوگ امام المسلمین یا صحیح اسلامی حکومت پر خروج کرتے ہیں وہ “یحاربون اللہ” (خدا سے لڑنے والوں ) کے زمرے میں آتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو تفسیر فی ظلال القرآن)

10 ۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں اور فسادی کی جلا وطنی کا عرصہ ایک سال ہے اور لوگوں میں اس کی جلا وطنی کا اعلان کرنا چاہئے تاکہ جلا وطن شخص سے لوگوں کا کسی قسم کا رابطہ نہ ہو سکے۔ (تفسیر نور الثقلین)

11 ۔ قرآنی آیت کی رو سے “سود خور” بھی “خدا کے ساتھ جنگ کرنے والا” ہوتا ہے کیونکہ وہ بھی معاشرہ کے اقتصادی امن و امان کو تباہ کرتا ہے۔ روایت کے مطابق کسی مسلمان کی توہین بھی خدا کے ساتھ جنگ میں شمار ہوتی ہے۔ حدیث کی رو سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے “من اھانی لی ولیا فقد بار زنی ابالمحاربۃ” یعنی جس نے میرے کسی دوست کی توہین کی اس نے مجھے جنگ کے لئے للکارا۔

 

آیت ۳۴

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلُ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھِمْ فَاعْلَمُوْا اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌہ

ترجمہ۔ مگر جو لوگ ان پر تمہارے قابو پانے سے پہلے تو بہ کر لیں، تو جانے رہو کہ خدا وند عالم بخشنے والامہربان ہے۔

نکتہ

خدا اور رسول کے ساتھ لڑنے والے ڈاکو اور مفسد کی توبہ سے صرف اسے ڈرانے دھمکانے کی سزا اٹھ سکتی ہے لیکن قتل اور چوری کی سزا اسے ضرور ملے گی۔ یعنی توبہ صرف “حقو ق اللہ ” میں موثر ہوتی ہے “حقوق الناس” میں نہیں۔ کیونکہ حقوق الناس کا تعلق حقداروں کی رضا مندی سے ہوتا ہے۔ “محارب” کا اپنا علیحدہ عنوان ہوتا ہے اور چور اور قاتل کا اپنا علیحدہ حساب۔ (ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ)

پیام

1 ۔ توبہ کا دروازہ ہر ایک کے لئے کھلا ہوا ہے۔

2 ۔ ایسی توبہ قابلِ قدر ہوتی ہے جو مجرم کی گرفتاری اور عدالت میں پیش ہونے سے پہلے ہو۔ اور پھر یہ کہ پوری سوجھ بوجھ ، سوچ سمجھ بغیر کسی جبر و اکراہ اور مکمل آزادی کے ساتھ کی جائے۔ (دوسرے گناہوں میں توبہ مرنے سے پہلے تک مفید ہے۔ ملاحظہ ہو سورہ نساء / ۱۸)

ضمنی طور پر یہ بات بھی جاننی ضروری ہے کہ سزا ختم کرنے کے لئے حقیقی توبہ کا معلوم ہونا ضروری ہے ( کہ مجرم کے اخلاق ، رفتار اور کردار سے عیاں ہو یا پھر دو عادل آدمی گواہی دیں)

3 ۔ خدا کی مقرر کردہ سزائیں، فرد اور معاشرے کی اصلاح اور تربیت کی حامل ہوتی ہیں، ان میں جذبہ انتقام کار فرما نہیں ہوتا ۔ لہٰذا گنہگار کی توبہ موٴثر ہوتی ہے۔

 

آیت ۳۵

یَاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَ ابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ وَ جَاھِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ہ

ترجمہ۔ اے ایماندارو! خدا سے ڈرتے رہو اور (اس کے تقرب کے لئے) وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کروہو سکتا ہے تم فلاح پا جاؤ۔

نکتہ

حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے خطبہ ۱۱۰ میں فرماتے ہیں ۔ “بہترین وسیلہ کہ جس کے ذریعہ خدا کا تقرب حاصل ہو سکتا ہے ، خدا کی ذات اور اس کے پیغمبر پر ایمان ، اس کی راہ میں جہاد، کلمہ اخلاص ، نماز کا قائم کرنا، زکوٰۃ کا ادا کرنا ماہ رمضان کو روزوں کا رکھنا، حج اور عمرہ کا بجا لانا، صلہ رحمی کرنا، خدا کی راہ میں چھپا کر اور ظاہر کر کے خرچ کرنا اور نیکی کا کام کرنا۔”

پیام

1 ۔ سعادت اور فلاح و کامیابی کا راستہ، ایمان ، تقویٰ ، شفاعت اور جہاد ہے۔ (لعلکم تفلحون)

2 ۔ فلاح اور رستگاری تک پہنچنے کے لئے گناہوں کو بھی ترک کرنا چاہئے اور خدا اور رسول کی اطاعت بھی کرنی چاہئے۔ (اتقواللہ۔ وابتغوا۔۔)

3 ۔ نیکی کے تمام کام ، سعادت و نیک بختی کے وسیلہ اور ذریعہ میں بشرطیکہ ہم خود گناہوں کا ارتکاب کر کے ان وسیلوں کو ختم نہ کر دیں۔ (لعلکم)

4 ۔ اہلِ بیت اطہار علیہم السلام خدا تک پہنچنے اور اس کا قرب حاصل کرنے کا وسیلہ اور اس کی مضبوط رسی ہیں۔

 

آیت ۳۶، ۳۷

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَھُمْ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَ مِثْلُہ مَعْہ لِیْفَتَدُوْابِہ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَا تُقُبِّلَ مِنْھُم وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ہ

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا ھُمْ بِخَارِجِیْنَ مِنْھَا وَلَھُمْ عَذَابٌ مُقِیْمٌ ہ

ترجمہ: یقیناً جو لوگ کافر ہو گئے ہیں، اگر روئے زمین پر جو کچھ ان کے پاس ہے اور اس کے برابر کے بھی (زمین پر موجود دوگنا کے) مالک بن جائیں اور وہ قیامت کے دن سزا سے بچنے کے لئے سب کچھ فدیہ کے طور پر یکجا دے دیں تو بھی ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

اور وہ جب بھی جہنم سے باہر آنا چاہیں گے تو اس سے نہیں نکل سکیں گے اور ان کے لئے پائیدار عذاب ہے۔ 30

پیام:

۱۔ مال ، صرف دنیا میں ہی کارآمد ہوتا ہے اور آخرت میں یہ دولت بیکار ہے (ماتقبل۔۔۔ )

۲۔ عدل الٰہی کے نظام میں دوزخ سے نجات حاصل کرنے کے لئے فدیہ قبول نہیں (ماتقبل)

۳۔ کافر، ہر حالت میں جہنمی ہے اور کسی بھی قیمت اس کی بخشش نہیں ہے۔

۴۔ سعادت اور نیک بختی کا عامل انسان کے اندر موجود ہے (یعنی ایمان، تقویٰ اور جہاد) نا کہ اس کے باہر میں (مال اور ثروت وغیرہ)

۵۔ کافروں کو ملنے والا دائمی عذاب نہ تو فدیہ سے ٹل سکتا ہے اور نہ ہی زمانے کے گزرنے سے ختم ہو سکتا ہے۔(وماھم بخارجین)

۶۔ نجات کی تمام راہیں کافروں پر بند ہو چکی ہیں۔ نہ تو وہ خدا کی رحمت سے بہرہ مند ہو سکیں گے کیونکہ وہ تو پرہیزگاروں کے ساتھ خاص ہے “رحمتی وسعت کل شیٴ فساکتبھا للذین یتقون” یعنی میری رحمت نے ہر چیز کو اپنی وسعت میں لیا ہوا ہے جس کو میں ان لوگوں کے لئے لکھوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔۔۔ (اعراف/۱۵۶) اور نہ ہی شفاعت سے بہرہ ور ہو سکیں گے کیونکہ شفاعت ان لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے جن سے خدا راضی ہو گا ارشاد ہوتا ہے “یومئذٍ لاتنفع الشفاعۃ الامن اذن لہ الرحمن رضی لہ قولا” یعنی قیامت کے دن کسی شخص کی شفاعت فائدہ نہیں دے گی سوائے اس شخص کے کہ جسے خدائے رحمان نے اجازت دی ہو گی اور وہ اس کی گفتگو سے راضی ہو گا۔ (طہ/۱۰۹) اور نہ ہی وہاں پر موت آئے گی۔ وہ ہمیشہ جہنم میں زندہ رہیں گے اور ان کی موت کی درخواست قبول نہیں کی جائے گی۔ چنانچہ ارشاد باری ہے “ونا دوا، یٰمٰلک لیقض علینا ربک۔ قال انکم مکئون” یعنی وہ پکاریں گے کہ اے مالک (داروغہ جہنم!) ہماری آرزو ہے کہ تیرا پروردگار ہمیں موت دیدے، وہ جواب دے گا کہ تمہیں اسی حال میں رہنا ہو گا (زخرف/۷۷)

۷۔ جو شخص دنیا میں اس قدر واضح اور روشن براہین و ارشادات کے باوجود شرک و جہالت کی تاریکیوں سے باہر نہیں نکلتا وہ آخرت میں بھی جہنم سے باہر نہیں نکلے گا۔ (لھم عذاب مقیم)

 

آیت ۳۸

وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْا اَیْدِیْھُمَا جَزٰآء ً بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ ہ

ترجمہ: چور مرد اور عورت کا ہاتھ ان کے انجام دیئے گئے عمل کی سزا میں کاٹ دو۔ یہ سزا خدا کی طرف سے ہے اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔

نکتہ:

اس مقام پر پہلے چور مرد کا نام لیا گیا ہے پھر چور عورت کا (السارق۔ والسارقۃ) لیکن سورہ نور کی دوسری آیت میں کہ جہاں پر زناکاری کی سزاکے بارے میں بتایا گیا ہے پہلے زناکار عورت کا نام لیا گیا ہے پھر زانی مرد کا۔ “الزانیۃ۔ والزانی” تو شاید اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ چوری میں مرد کا نقش زیادہ ہے اور زناکاری میں عورت کا۔

مرحوم سید مرتضی علم الہدیٰ سے (تقریباً آج سے ایک ہزار سال پہلے) سوال کیا گیا تھا کہ: جس ہاتھ کی دیت پانچ سو دینار ہے وہ ایک چوتھائی دینار چوری کرنے کے بدلے میں کیوں کاٹا جاتا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: امانت کی عزت نے اس ہاتھ کو گراں قیمت بنا دیا تھا، لیکن خیانت کی ذلت نے اس کی قیمت گرا دی۔

روایات کے مطابق ہاتھ کے کاٹنے کی مقدار صرف اس کی چار انگلیاں ہیں۔ لہٰذا انگوٹھا اور ہتھیلی کو نہیں کاٹا جائے گا۔

چوری کے مال کی مقدار کم از کم ایک چوتھائی دینار ہو کہ جس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور وہ مال بھی کسی مکان کے اندر محفوظ ہو۔ لہٰذا مسافرخانوں، حماموں، مسجدوں اور اس قسم کے عوامی مقامات میں نہ ہو۔

جب چور پر حد جاری ہو جائے تو مسروقہ مال اس کے مالک کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔ اور چور کو اس سزا کا علم بھی ہو یعنی اسے یہ بھی معلوم ہو کہ چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے، ورنہ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اسی طرح اگر چور اپنے شریک کے مالک و چرائے یا قحط سالی کے دوران مجبور ہو کر اشیائے خوردنی کی چوری کرے تو بھی اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔

اسی طرح باپ کا اپنے بیٹے کے مال کو چرانا، غلام کا اپنے آقا کے مال کو چوری کرنا، نابالغ یا دیوانے یا ایسے شخص کا چوری کرنا جو یہ سمجھتا ہے وہ مال لینے کا حق رکھتا ہے۔ ان کے چوری کرنے سے، ان کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ البتہ مذکورہ موارد میں صرف ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، دوسری سزا دی جا سکتی ہے۔

حدیث میں ہے کہ حضرت رسول خدا نے چوری کی بدترین قسم نماز میں چوری کو قرار دیا ہے جس میں رکوع اور سجود کو ناقص طریقہ سے بجا لایا جائے۔ (تفسیر قرطبی)

بعض بزرگان دین کی تصریحات میں آیا ہے کہ: مسلمانوں کا ایک گروہ سورہ حمد کی تلاوت میں “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم” کی چوری کیوں کرتے ہیں؟”

چوری میں ہاتھ کاٹنے کا پہلا مرحلہ ہے۔ جب دوسری دفعہ چوری کرے گا تو بایاں پاؤں ابھری ہوئی جگہ کے نیچے سے کاٹا جائے گا۔ تیسری مرتبہ عمر قید کی سزا کاٹے گا اور چوتھی مرتبہ میں اسے سزائے موت دی جائے گی

(تفسیر صافی اور تفسیر مجمع البیان)

پیام و نکات:

۱۔ صرف سنگین جرمانہ اور سخت سزا سے ہی چوری کا سدباب کیا جا سکتا ہے (فاقطعوا ایدیھما)

۲۔ اسلام کے قانون سزا میں جسمانی نقصان کے علاوہ حیثیت عرفی اور عزت و آبرو کا نقصان بھی ہے۔ تاکہ جرائم کا زیادہ سے زیادہ سدباب ہو سکے۔ (مجمع عام میں کوڑوں کی سزا یا ہاتھ کا کاٹنا وغیرہ)

۳۔ اسلام کے قانون سزا میں جہاں مجرم کو تنبیہ کا پہلو مدنظر رکھا گیا ہے وہاں دوسروں کی عبرت کا سامان بھی فراہم کیا گیا ہے۔ (حدود کے اجرا میں لوگوں کا موجود ہونا) اس کے علاوہ جب بھی لوگ ہتھ کٹے شخص کو دیکھیں گے فوراً متوجہ ہو جائیں گے کہ چوری کی سزا سخت ہے۔

۴۔ حدود الٰہی کے اجراء (سز ادینے) کے لئے رحمدلی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔

۵۔ چونکہ چوری کی سزا کے لئے دنیا کا قانون سزا صرف قید اور جرمانے پر مبنی ہے لہٰذا چوری کا سدباب کرنے سے عاجز ہے اور قید یا جرمانے سے اس کے اعداد و شمار میں کمی نہیں آئی ہے۔

۶۔ ہاتھ کاٹنے کی سزا خود مجرم کے لئے بھی ہمیشہ کے لئے خبردار کرنے اور دائمی طور پر متنبہ رہنے کا موجب ہے کہ دوبارہ اس قسم کی غلطی نہ کرے۔

۷۔ چونکہ سرقہ (چوری) ہاتھ اور پاؤں سے انجام پاتی ہے لہٰذا پہلے مرحلہ میں ہاتھ کاٹا جائے گا اور دوسرے مرحلہ میں پاؤں تاکہ پھر ایسا جرم سرزد نہ ہونے پائے۔

۸۔ جہاں پر چوری کے لئے ہاتھ کاٹنے کی تمام شرائط موجود نہ ہوں تو پھر تعذیر اور تنبیہ کے طور پر دوسری سزا دی جائے گی۔

۹۔ سرقہ کا موجب یا تو مال اکٹھا کرنا اور دولت جمع کرنا ہوتا ہے یا پھر مستقبل بہتر صورت میں گزرنے کی توقع ہوتی ہے، جبکہ ہاتھ کا کاٹنا ان تمام عوامل کو کمزور کر دیتا ہے۔ اور یہ ایک ایسی سزا ہے جس کا مقابلہ قید یا کوڑے نہیں کر سکتے۔

۱۰۔ سارق (چوری) کا صرف ہاتھ ہی نہیں کاٹا جاتا مال مسروقہ کا ضامن بھی ہوتا ہے۔

۱۱۔ کسی کی ذاتی ملکیت اور عمومی امن وامان اس قدر اہم ہے کہ اس کے لئے مسلمان کا ہاتھ تک کاٹنا پڑتا ہے۔

۱۲۔ ان احکام کے اجراء کے لئے حکومت، اقتدار، نظام خاص اور سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ “اسلام، حکومت اور سیاست کا دین ہے۔”

۱۳۔ غربت، سرقت کا موجب اور اس کے جواز کا سبب نہیں بن سکتی۔ (کیونکہ اسلام نے ہاتھ کاٹنے سے پہلے عوام کے لئے روزگار کی اہمیت پر زور دیا ہے اور غریبوں کو بیت المال سے وظیفہ یا ان کے عزیزوں رشتہ داروں کو ان کا حق دینے پر زور دیا ہے اور قرض حسنہ اور امداد اور تعاون کے دوسرے راستوں سے ان کی زندگی بسر کرنے کے سامان فراہم کرنے کی تاکید کی ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر (فی ظلال القرآن)۔

۱۴۔ خداوند عالم کی مقررکردہ سزائیں انتقام کے طور پر نہیں ہیں بلکہ جرائم کے سدباب کے لئے ہیں (کیونکہ “نکال” کا معنی ہے “مہار” جو جانور کو روکنے کا ایک ذریعہ ہوتی ہے)۔

۱۵۔ روایات کی رو سے چور کا دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا تاکہ بایاں ہاتھ بیت الخلاء کی طہارت کے لئے محفوظ رہے اور ایسا حفظان صورت کی اہمیت کے پیش نظر کیا جاتا ہے (ملاحظہ ہو تفسیر صافی اور تفسیر مجمع البیان)

۱۶۔ قدرت اور طاقت کا استعمال بھی جچے تلے انداز میں ہونا چاہئے۔ (عزیز حکیم)

 

آیت ۳۹

فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِہ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰہِ یَتُوْبَ عَلَیْہِ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ ہ

ترجمہ۔ پس جو شخص اپنے ظلم کے بعد توبہ کرے اور (اپنے برے کاموں کی) اصلاح کرے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے اور اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔

نکتہ:

اسلام میں سزائیں، تبلیغ، ارشاد اور ہدایت کے ساتھ ساتھ ہیں، اس سے پہلی آیت میں چور کی سزا بیان ہوئی ہے اور یہاں پر خداوند غفور کی بارگاہ میں توبہ کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اور اپنی برائیوں کی اصلاح کی طرف رہنمائی کی گئی ہے کہ جو اس بات کا موجب ہوتی ہے کہ خداوند کریم بھی اپنا لطف و کرم بندے کی طرف پھیر دے۔

پیام:

۱۔ خطارکار انسان کے لئے بازگشت اور اصلاح کا راستہ ہمیشہ کھلا ہے (فمن تاب)

۲۔ توبہ صرف باطنی طور پر ندامت ہی کا نام نہیں بلکہ گزشتہ برائیوں کی تلافی بھی ضروری ہوتی ہے (واصلح)

۳۔ اگر انسان توبہ کرے اور اپنی حقیقت کی طرف لوٹ آئے تو خداوند عالم بھی اپنے قطع شدہ لطف و کرم کو اس کی طرف پلٹا دیتا ہے۔ (یتوب علیہ)

۴۔ اگر چور (گرفتار ہو جانے اور عدالت میں پیش ہونے سے پہلے) توبہ کر لے اور مال مسروقہ اس کے اصل مالک کو واپس کر دے تو دنیا میں بھی اسے معاف کر دیا جائے گا اور آخرت میں بھی، لیکن اگر گرفتار ہونے کے بعد توبہ کرے تو اس پر سرقہ کی حد جاری کی جائے گی رہا توبہ کا معاملہ، تو یہ قیامت سے متعلق ہو جائے گا۔

۵۔ سرقہ کوئی معمولی جرم نہیں بلکہ خود پر اور معاشرہ پر ظلم کے علاوہ اپنی روح اور معاشرہ کے امن وامان پر زیادتی ہوتی ہے۔

۶۔ مجرمین کو ہر طرح سے راہ خدا کی دعوت دینی چاہئے اور انہیں امید دلانی چاہئے۔ (یتوب، غفور، رحیم) 31

 

آیت ۴۰

اَلَمْ تَعْلَمْ اِنَّ اللّٰہَ لَہ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط یُعَذِّبَ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَاللّٰہُ عَلَی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٌ ہ

ترجمہ۔ آیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کے لئے ہے (اپنی حکمت اور عدالت کے مطابق) جسے چاہتا ہے عذاب میں ڈالتا ہے اور جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔ اور اللہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ چاہے تو مفسد اور چور کو ذلت اور عذاب دیتا ہے اور پشیمان ہونے والے، توبہ کرنے والے اور اپنی اصلاح کرنے والوں کو بخش دیتا ہے)

پیام:

۱۔ اللہ تعالیٰ کو بندوں کی توبہ کی احتیاج نہیں ہے کیونکہ تمام عالم ہستی پر اسی کی حکومت ہے (لہ ملک السماوات والارض)

۲۔ چوروں، لٹیروں، غنڈوں اور بدمعاشوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کے لئے کوئی بھی راہ فرار نہیں ہے لہٰذا انہیں خدا کی ہی کی طرف لوٹ آنا چاہئے۔ (لہ ملک السموت والارض)

۳۔ انسان کو ہمیشہ خوف اور امید کی حالتوں میں رہنا چاہئے (یعذب من یشأ ویغفر من یشا)

 

آیت ۴۱

یَاَیُّھَاالرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْکَ الَّذِیَْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اٰمَنَّا بِاَفْوَاھِھِمْ وَلَمْ تَؤْمِنْ قُلُوْبُھُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اَخِرِیْنَ لَمْ یَاتُْوْکَ ط یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِہ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ ھٰذَا فَخُذُوْہُ وَ اِنْ لَمْ تُؤْتُْوْہُ فَاحْذَرُوْا ط وَمَنْ یَّرِدِ اللّٰہُ فَتْنَتَہ فَلَنْ تَمْلِکَ لَہ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا ط اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَمْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یُّطَھِّرَ قُلُوْبَھُمْ ط لَھُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌہ

ترجمہ۔ اے رسول! جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں وہ آپ کو غمگین نہ کر دیں، ان میں سے کچھ لوگ (منافقانہ طور پر) زبان سے کہتے ہیں کہ ہم لے آئے، لیکن ان کے دل ایمان نہیں لائے، اور (نیز) یہودیوں سے بھی غم نہ کھاؤ! جو کہ جھوٹ گھڑنے اور تحریف کرنے کے لئے بڑے غور سے آپ کی باتوں کو سنتے ہیں، وہ ان لوگوں کی جاسوسی کے لئے آپ کی باتوں کو غور سے سنتے ہیں جو آپ کے پاس نہیں آئے ہیں، وہ آسمانی قوانین کی تحریف کرتے ہیں اور (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں: اگر یہ مطلب (جو ہماری منشا کے مطابق ہے) تمہیں دے دیا جائے تو تم لے لو اور قبول کر لو، اور اگر (جو ہماری منشا کے مطابق ہے) تمہیں نہ دیا جائے تو اس سے دوری اختیار کر لو۔ اور جس شخص کو خدا عذاب دینا چاہے اور رسوا کرنا چاہے تو تم قہر خداوندی کے سامنے اس کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی قلبی طہارت کو خدا نہیں چاہتا۔ (یہ دل کے مریض، متعصب اور ہٹ دھرم لوگ ہیں جنہوں نے اپنے لئے ہدایت کی راہیں بند کر لی ہیں) ان کے لئے دنیا میں ذلت و خواری ہے اور آخرت میں ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔

پیام:

۱۔ گمراہ لوگوں کے بارے میں بھی انبیاء دل سوزی سے کام لیتے ہیں (لایحزنک)

۲۔ دوسرے لوگوں کا کفر کی طرف میلان، پیغمبر کی حالت اور ان کے فیصلہ کے بارے میں کسی قسم کا ردوبدل کا سبب نہیں بننا چاہئے۔ (ولایحزنک)

۳۔ ایمان، دل سے قبولیت کا نام ہے، زبانی اظہار کا نہیں۔ (باخواھم۔۔۔ قلوبھم)

۴۔ منافقین اور یہودی ایک دوسرے کے شانہ بشانہ ایک مقصد کو پیش نظر رکھ کر آگے بڑھتے ہیں۔ (ومن الذین ھاروا)

۵۔ کان لگا کر سننا اتنا زیادہ اہم نہیں ہے جتنا اس کے مقاصد کی تکمیل اہم ہے (سماعون للکذب)

۶۔ کفار نے اپنے ایجنٹ اور جاسوس مسلمانوں کے درمیان چھوڑے ہوئے ہیں۔ مبلغین دین کو ہوشیار رہنا چاہئے اور اپنے تمام سامعین کو نیک نیت نہیں سمجھنا چاہئے (سماعون لقوم آخرین)

۷۔ تحریف، یہود کی ایک علمی خیانت ہے (یحرفون الکلم)

۸۔ ہمیں خدا کے اوامر اور حقائق کو تسلیم کرنا چاہئے، صرف اپنی مرضی کے دینی احکام ہی کو قبول نہیں کرنا چاہئے۔ (خذوہ۔۔۔ فاحذوہ) 32

۹۔ انسان کا گناہ، اس کی ہدایت کے لائق ہونے کو ختم کر دیتا ہے۔ (مرداللہ فتنۃ)

۱۰۔ ہٹ دھرم متعصبین اور ہوس کے پجاریوں کے لئے تو اللہ کا رسول بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ (فلن تملک)

۱۱۔ سخت اور ہٹ دھرم قسم کا دل خداوند عالم کے لطف و کرم کے حصول سے محروم ہوتا ہے۔

۱۲۔ دشمن تو کفر اور نفاق میں جلدبازی سے کام لیتے ہیں، لیکن مسلمان راہ حق میں سستی سے کام لیں، یہ عجیب نہیں ہے؟ (یسارعون فی الکفر)

۱۳۔ جاسوسانہ انداز میں بیان ہونے والا جھوٹ سننا، کفر میں جلدی کرنے کی علامت ہے۔

۱۴۔ تقویٰ سے ہٹ کر مرتب کی جانے والی رپورٹیں، بہت ہی خطرناک کھیل ہوتی ہیں۔ (سماعون للکذب۔۔۔ یحرفون۔۔۔ )

۱۵۔ منافقین، دنیاوی بدبختی کے بھی حامل ہوتے ہیں (جھوٹ سنتے ہیں، جاسوسی کرتے ہیں، تحریف کرتے ہیں اور اپنے مقصد و منشا کا دین چاہتے ہیں) اور قیامت کے دن آخرت کا عظیم عذاب بھی ان کا منتظر ہے (لھم فی الاخرۃ عذاب عظیم)

 

آیت ۴۲

سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ اَکَّلُوْنَ لِلسُّحْتِ ط فَاِنْ جَآءُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْھُمْ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْھُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْکَ شَیْئًا ط وَ اِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِالْقِسْطِ ط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِِطِیْنَ ہ

ترجمہ: (وہ لوگ) جھوٹ کو بڑے غور سے سنتے ہیں اور حرام کا مال بڑی فراوانی سے کھاتے ہیں۔ پس اگر وہ (فیصلہ کے لئے) آپ کے پاس آئیں تو آپ یہ تو ان کے درمیان فیصلہ کر دیں یا پھر ان سے منہ پھیر لیں۔ اور اگر آپ ان سے منہ پھیر لیں تو وہ ہرگز آپ کو کسی قسم کی گزند نہیں پہنچا سکتے۔ اور اگر ان کے درمیان فیصلہ کریں تو قسط و عدل کے مطابق فیصلہ دیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

نکتہ:

کچھ یہودی جو کہ “زنائے محصنہ” (شوہردار عورت سے زنا) کے مرتکب ہو چکے تھے، سنگساری کی سزا سے بچنے کے لئے۔۔۔ جو یہودیوں کے دین میں ہے۔۔۔ پیغمبر اسلام کی خدمت میں فیصلہ کرانے کے لئے حاضر ہوئے۔ لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ ایسے لوگوں کے بارے میں اسلام کا حکم بھی یہی (سنگساری) ہے۔ چنانچہ جب انہوں نے دیکھا کہ اس بارے میں اسلام کا بھی یہی حکم ہے تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔

“سحت” کا معنی روایات کے مطابق رشوت یا ایسا تحفہ ہے جو کسی کام کی بجاآوری کے لئے دیا جاتا ہے۔ جبکہ اس کا لغوی معنی “ہلاکت” یا ایسی چیز ہے جو ہلاکت کا موجب ہوتی ہے۔

پیام:

۱۔ علمائے یہود راشی تھے (اکالون للسحت) اور یہودی جھوٹ سننے کو پسند کرتے تھے۔ (سماعون للکذب) اور لفظ “سماعون” کا تکرار شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ خصلت آہستہ آہستہ ان کی عادت ثانوی بن چکی تھی۔

۲۔ کفار اہل کتاب کے ساتھ مسلمانوں کا باہمی میل جول اس حد تک تھا کہ وہ اپنے فیصلے پیغمبر اسلام کے پاس لے آتے تھے۔

۳۔ انبیاء کو بعض مسائل میں یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق عمل کریں اور وحی کا انتظار نہ کریں، (فاحکم۔۔۔ اواعرض)

۴۔ عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ ہمیشہ اور ہر قوم کے لئے قابل قدر چیز ہے (فاحکم بینھم بالقسط)

۵۔ اگر کوئی اسلامی حاکم یا اسلامی حکومت، غیرمسلم حکومتوں کے لئے “جج” مقرر ہو جائے تو اسے چاہئے کہ عدالت، جرأت اور صراحت کے ساتھ مگر دو ٹوک فیصلہ کرے۔ (فاحکم بینھم)

۶۔ فیصلہ کرنے کے لئے نسلی اور علاقائی مسائل اور جماعتی تعصب اور ذاتی میلان یا کسی کی طرف سے کسی قسم کی دھمکی کو اثرانداز نہیں ہونا چاہئے۔ (بالقسط)

۷۔ اگر مناسب سمجھو کہ کسی مقدمہ میں فیصلہ دینا خلاف مصلحت ہے تو اس سے دستکشی کر لو اور نہ ڈرو۔

 

آیت ۴۳

وَکَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ وَ عِنْدَ ھُمْ التَّوْرٰٰٰٰۃُ فِیْھَا حُکْمُ اللّٰہِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ ط وَمَآ اُوْلٰٓئِکَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ

ترجمہ۔ اور وہ (یہودی) آپ کو کس طرح اپنا فیصلہ کرنے والے کی حیثیت سے قبول کر سکتے ہیں؟ جبکہ توریت ان کے پاس ہے۔ اور اس میں خدا کا حکم (بیان کیا گیا) ہے۔ پھر آپ کے فیصلہ کے بعد وہ منہ موڑ لیتے ہیں اور وہ مومن نہیں ہیں۔

پیام:

۱۔ تمام توریت، تحریف شدہ نہیں ہے (فیہا حکم اللہ)

۲۔ یہودیوں کے لئے جو چیز اہمیت کی حامل ہے وہ ان کی آسائش طبی اور سزا میں تخفیف ہے نا کہ قانون اور ادائیگی فرائض پر ایمان! (اسی لئے تو توریت میں قانون موجود ہونے کے باوجود اپنی سہولت کی خاطر آپ کے پاس آئے ہیں)

۳۔ کاش کہ اہل کتاب: اپنی کتاب میں موجود احکام ہی کے پابند ہوتے!! (وعذرھم التوراۃ)

۴۔ ایمان کی علامت یہ ہے کہ قوانین الٰہی کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا جائے (وما اولئک الموٴمنین)

 

آیت ۴۴

اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰۃَ فِیْھَا ھُدٰی وَ نُوْرٌ یَحْکُمُ بِھَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ ھَادُوْا وَ الرَّبَّانِیُّوْنَ وَالْاَ حْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ کِتٰبِ اللّٰہِ وَ کَانُوْا عَلَیْہِ شُھَدَآءَ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَلاَتَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا ط وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ ہ

ترجمہ۔ ہم نے تورات کو نازل کیا جس میں ہدایت اور نور ہے۔ انبیاء اللہ جو حکم خدا کے سامنے تسلیم تھے (اور توریت کے نازل ہونے کے بعد اپنے فرائض انجام دینے لگے، سارے کے سارے) اسی کے مطابق یہودیوں کے لئے فیصلے کیا کرتے تھے اور (اسی طرح) یہودیوں کے بڑے علماء اور پاک دل اور نیک دانشور بھی اسی آسمانی کتاب کے مطابق (فیصلے کرتے تھے) جو ان کے سپرد کر دی گئی تھی اور وہ اسی پر گواہ تھے۔ پس (اے علماء!) تم لوگوں سے نہ ڈرو (اور خدائی احکام کو بیان کرو) اور مجھ سے (یعنی میری مخالفت سے) ڈرو اور میری آیات کو معمولی قیمت نہ بیچو اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے پس وہ کافر ہیں۔

نکتہ:

“ربانی” کا لفظ “رباّن” (بروزن عطشان) سے نکلا ہے جس کا معنی ہے “تربیت کرنے والا” اور بعض علماء کے بقول “ربانی” وہ شخص ہوتا ہے جس کا تعلق رب العالمین سے ہو اور اس کے علاوہ کسی اور کے ساتھ اسے کسی کروٹ چین نہ آئے۔ اور اپنے علم وعمل کے لحاظ سے خدائی رنگ میں رنگ چکا ہو اور لوگوں کی تربیت کرے۔

“جر” کا معنی ہے “نیک اثر” چونکہ معاشرہ میں علماء کرام نیک اثر کا موجب ہوتے ہیں لہٰذا انہیں “جر” اور “احبار” کہتے ہیں۔ 33

پیام:

۱۔ تحریف کا اعتراف کرنے کے باوجود اصل آسمانی کتاب کا احترام کرنا چاہئے۔

۲۔ اگرچہ توریت حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی، لیکن ان کے بعد آنے والے تمام انبیاء اور علماء مامور تھے کہ اسی کے مطابق فیصلے کریں۔

۳۔ اگر حکم الٰہی کے سامنے انبیاء تسلیم ہو چکے ہیں تو پھر ہم کیوں نہ ہوں؟ (اسلموا) انبیاء اپنی طرف سے کوئی فیصلہ نہیں کرتے بلکہ حکم خداوندی کے آگے سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں۔

۴۔ اسلام، تمام لوگوں کا دین ہے، انبیاء بنی اسرائیل کی بھی “اسلموا” کے جملہ سے توصیف و تعریف کی گئی ہے، نصرانیت اور یہودیت سے نہیں!

۵۔ ہر امت کے علماء لوگوں کے درمیان احکام الٰہی کے اجرا کے ذمہ دار ہیں اور “ولایت فقیہ” تمام ادیان کے رگ و ریشہ میں موجود ہے (یحکم بھا النبیون)

۶۔ سلسلہ مراتب کی رعایت ضروری ہے، پہلے انبیاء پھر ربانیوں (ائمہ) پھر احبار اور علماء و صاحبان دانش و بصیرت۔

۷۔ انبیاء تمام توریت کے عالم ہیں۔ لیکن اخبار و علماء صرف اس حصہ کے کہ جو انہیں سونپا گیا ہے (بما استخفظوا)

۸۔ مبلغ اور قاضی کو مسائل دین سے آگاہ ہونا چاہئے، اور جس قدر کسی کا مبلغ علمی ہے اسی قدر اس بارے میں مداخلت کرے (کانواعلیہ شھداء۔ بما استحفظوامن کتاب اللہ)

۹۔ علماء کو چاہئے کہ فیصلوں کے اجرا پر مکمل نگرانی رکھیں اور مذہب کے محافظ بنے رہیں (کانواعلیہ شھداء)

۱۰۔ اللہ تعالیٰ نے علما اور قاضیوں سے دو طرح کا عہد و پیمان لیا ہے: الف: لوگوں کے خوف سے حکم خدا کو تبدیل نہ کریں۔ ب۔ معمولی مال کے لالچ میں حق بات کو چھپانے کے مرتکب نہ ہوں اور کسی مقام پر لغزش سے دوچار نہ ہوں۔

۱۱۔ فیصلہ کرتے وقت انحراف کا شکار ہو جانا کفر ہے۔ 34

۱۲۔ فیصلہ کرتے وقت، صراحت، جرأت، ہمت اور شہامت ضروری ہے اور دھمکیوں اور غلط پروپیگنڈوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے (لاتخشواالناس)

۱۳۔ جو شخص اپنا معاملہ خدا کے ساتھ صاف رکھتا ہے وہ مخلوق خدا سے نہیں ڈرتا (لاتخشواالناس واخشون)

۱۴۔ تحریف، سکوت، حق پوشی اور فرمانِ الٰہی سے ہٹ کر فیصلے کرنا اگرچہ پوری دنیا کی قیمت حاصل کر لینے کے بدلے ہی میں کیوں نہ ہوں پھر بھی خساہ ہی خسارہ ہے، اس لئے کہ ساری دنیا “متاع قلیل” ہے (ثمنا قلیلا)

۱۵۔ آسمانی قوانین کے ہوتے ہوئے مشرق و مغرب کے (انگریزی اور دوسرے کافرانہ) نظام اور قوانین کو اپنانا کفر ہے (ومن لم یحکم بما انزل اللہ۔۔۔ )

۱۶۔ احکام الٰہی کا قلبی انکار، عملی تکبر کا اظہار اور جان بوجھ کر ان میں تبدیلی پیدا کرنا کفر ہے۔

۱۷۔ طاغوتوں کے سامنے خاموشی اختیار کرنا اور حق کو چھپانا، سرمایہ داروں کے آگے دین فروشی اور عوام کو دھوکہ اور فریب ایسے خطرات ہیں جو علماء کو ہر وقت درپیش رہتے ہیں (لاتشتروا ولاتخشواالناس۔۔۔ )

 

آیت ۴۵

وَ کَتَبْنَا عَلَیْھِمْ فِیْھَا اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالُْاذُنِ وَالسِّنِ بِالسِّن ِوَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ ط فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہ ط وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُُوْنَہ

ترجمہ: اور ہم نے اس (توریت) میں ان (یہودیوں) کے لئے لکھ دیا کہ (قصاص میں) جان کے بدلے میں جان، آنکھ کے بدلے میں آنکھ، ناک کے بدلے میں ناک، کان کے بدلے میں کان اور دانت کے بدلے میں دانت ہے اور ہر زخم کے لئے قصاص ہے۔ پس جو شخص معاف کرتے ہوئے (قصاص سے) درگزر کرے تو یہ اس کے گناہوں کا کفارہ شمار ہو گا۔ اور جو شخص خدا کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں۔

نکتہ:

جسم کو اور اس کے دوسرے حصوں مثلاً آنکھ، کان، دانت اور ناک وغیرہ کو نقصان پہنچانے کا قصاص ہے اور “اس جیسے عضو” کو ہی قصاص کی صورت میں کاٹا جائے گا۔ آیت میں مذکور اعضاء کا نام صرف نمونہ کے طور پر ہے ورنہ ہر ایک عضو کا قصاص ہے (تفسیر اطیب البیان)

پیام:

۱۔ تمام انسان خواہ وہ کسی قوم اور قبیلے سے تعلق رکھتے ہوں، امیر ہوں یا غریب قانون کے سامنے برابر ہیں اور کسی ایک کا خون دوسرے کے خون سے زیادہ قیمتی نہیں ہے۔ 35

۲۔ قصاص کا حکم سابقہ ادیان میں بھی تھا 36 اور اسلام اور دوسرے ادیان ایک جیسے عادلانہ قوانین کے حامل ہیں۔

۳۔ صدقہ صرف، مال کو خرچ کرنے ہی کا نام نہیں، مجرم سے عفو و درگزر بھی ایک قسم کا صدقہ ہے۔ (فمن تصدق)

۴۔ تمہارا دوسروں کو معاف کر دینا، خدا کا تمہیں معاف کر دینے کا موجب بن جاتا ہے۔ (فھو کفارۃ لہ) اور شاید اس سے یہ بھی مراد ہو کہ تمہارا مجرم کو معاف کر دینا، اس کے جرم کا بھی کفارہ ہو گا اور وہ قیامت میں تمہارے معاف کر دینے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا نہیں ہو گا۔ (تفسیرالمیزان)

۵۔ سزا کے مسائل کے ساتھ ساتھ اخلاقی مسائل کو بھی بیان کیا گیا ہے (قصاص۔ اور۔ عفو)

۶۔ توریت میں “دیت” نہیں ہے یا “قصاص” اور یا “عفو” لیکن اسلا م میں “دیت” کا ایک تیسرا راستہ بھی موجود ہے۔ (تفسیر قرطبی)

۷۔ فقط مالی جرمانہ یا قید، جرائم کی روک تھام کے لئے کافی نہیں ہیں۔

۸۔ اگر حکم خداوندی کا اجراء نہ ہو تو انسانیت مظلومیت کا شکار ہے۔ (ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الظالمون)

۹۔ آنکھ اور کان وغیرہ کا نام بطور نمونہ ہے ورنہ ہر عضو کو نقصان پہنچانے کا قصاص ہے (تفسیر الطیف البیان)

 

آیت ۴۶

وَ قَفَّیْنَا عَلَی اَثَارِھِمْ بِعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَ اٰتَیْنَہُ الْاِنْجِیْلَ فِیْہِ ھُدًی وَّ نُوْرٌ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَ ھُدًی وَّ مَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْنَ ہ

ترجمہ: اور ہم ان (گزشتہ انبیاء) کے بعد عیسیٰ بن مریم کو لے آئے جبکہ وہ تورات کی تصدیق کرتے تھے جو عیسیٰ سے پہلے موجود تھی۔ اور خود عیسیٰ کو انجیل عطا کی کہ جس میں ہدایت اور نور ہے۔ اور (خود عیسیٰ کی مانند) توریت کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے تھی۔ اور پرہیزگاروں کے لئے ہدایت اور موعظہ ہے۔

نکتہ:

قرآن بھی پرہیزگاروں کے لئے ہدایت ہے (سورہ بقرہ/۱) اور انجیل بھی تیقن کے لئے ہدایت اور موعظہ ہے۔

ممکن ہے کہ اس آیت کا معنی اس طرح ہو کہ: ہم نے انبیاء بنی اسرائیل کے بعد عیسیٰ کو بھیجا کہ جن کی ذاتی خصوصیات ان نشانیوں سے مطابقت رکھتی ہیں جو توریت میں ان کے بارے میں بتائی گئی ہیں۔ پس خود حضرت عیسیٰ اور نشانیاں ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔

پیام:

۱۔ انبیاء عظام اور ان کی کتابیں، تمام کا سرچشمہ ایک ہے اور ہدف بھی ایک ہے اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔ (مصدقا) 37

۲۔ توریت، انجیل اور قرآن تینوں “نور” ہیں۔ 38

۳۔ لوگوں کے عقائد حقہ کا احترام کیا کرو (مصد قالمابین یدیہ) 39

۴۔ اگرچہ انبیاء عظام اور آسمانی کتابیں تمام لوگوں کے لئے ہدایت ہیں، لیکن اس نور سے صرف صاحبان تقویٰ ہی ہدایت حاصل کرتے ہیں۔

 

آیت ۴۷

وَلْیَحْکُمْ اَھْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فِیْہِ ط وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ہ

ترجمہ: انجیل والوں کو چاہئے کہ وہ اس حکم کے مطابق حکم (فیصلہ) کریں جو اللہ نے انجیل میں نازل کیا ہے، اور جو لوگ خدا کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ فاسق ہیں۔

نکتہ:

اس آیت میں پیغمبر اسلام کی تشریف آوری سے پہلے حضرت عیسیٰ کے دین کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، ورنہ دین اسلام کے آ جانے کے بعد تمام لوگوں کا شرعی فریضہ دین اسلام پر عمل کرنا ہوتا ہے۔

جو لوگ قوانین الٰہی کے مطابق حکم اور فیصلہ نہیں کرتے ان کی پے درپے چند آیات میں مذمت کی گئی ہے اور انہیں “ظالموں”، “فاسقوں” اور “کافروں” کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور اسی سے مسئلہ کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ اس لئے کہ ایسے لوگ قوانین الٰہی کو زیرپا قرار دیتے ہیں لہٰذا “کافر” ہیں۔ چونکہ وہ اپنی ذمہ داری کی حدود سے نکل جاتے ہیں لہٰذا “فاسق” ہیں اور چونکہ فیصلہ کرنے میں ایک فریق کے حق کو پامال کرتے ہیں لہٰذا “ظالم” ہیں۔

اسی سورت کی ۴۴ ویں اور ۴۵ ویں آیت میں یہودیوں سے خطاب ہے اور انہیں “ظالم” اور “کافر” قرا دیا گیا ہے، اس لئے کہ وہ قانون میں تحریف اور ردوبدل کرتے ہیں، دین کو معمولی قیمت کے بدلے بیچ ڈالتے ہیں اور خدا سے ڈرنے کی بجائے خلق خدا سے ڈرتے ہیں اسی لئے “اولئک ھم الکافرون” اور افراد معاشرہ کے حقوق پر ظلم کرتے ہیں اسی لئے “اولئک ھم الظٰلمون” ہیں۔

اور اس ۴۷ ویں آیت میں نصاریٰ کے بارے میں صرف یہ ہے کہ وہ انجیل کے مطابق حکم اور فیصلہ نہیں کرتے (نہ تو قصاص میں سکوت اختیار کرتے ہیں اور نہ ہی دین کومعمولی قیمت کے بدلے بیچتے ہیں) اور صرف حق کی حدود سے نکل جاتے ہیں لہٰذا (اولئک ھم الفٰسقون) ہیں۔

 

آیت ۴۸

وَ اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ الْکِتٰبِ وَ مُھَیْمِنًا عَلَیْہِ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ وَلَا تَتَّبِعَ اَھْوَآءَ ھُُمْ عَمَّا جَآئَکَ مِنَ الْحَقِّ ط لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّ مِنْھَا جاً ط وَلَوْ شَآءَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلَکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِی مَآ اٰتٰکُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ ط اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَہ

ترجمہ: اور (اے پیغمبر!) ہم نے کتاب (قرآن) کو آپ پر برحق نازل کیا، جبکہ یہ کتاب گزشتہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی اور ان کی محافظ اور نگہبان ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کے درمیان خدا کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکم کریں اور اس (حق سے دور ہو کر) جو آپ کے لئے آیا ہے، ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے آئین اور واضح طریقہ مقرر کر دیا ہے۔ اور اگر خدا چاہتا تم سب کو ایک امت قرار دیتا (اور سب کے لئے ایک ہی قسم کا آئین اور قانون ہوتا) لیکن (خدا چاہتا ہے کہ) تمہیں ان چیزوں کے بارے میں آزمائے جو اس نے تمہیں عطا کی ہیں۔ لہٰذا تم نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو، تم سب کی بازگشت خدا کی طرف ہے پس وہ تمہیں اس چیز سے آگاہ کرے گا جس میں تم اختلاف کرتے ہو۔

نکتہ:

“شرعۃ” اس رستے کو کہتے ہیں جو پانی پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ اور “منہاج” روشن اور واضح راستے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ: “شرعہ” وہ احکام ہیں جو قرآن میں بیان ہوئے ہیں اور “منہاج” وہ ہیں جو سنت نبوی میں بیان ہوئے ہیں (مفردات راغب)

پیام:

۱۔ قرآن مجید، آسمانی کتابوں کے اصول کا شاہد اور محافظ ہے اور ان کا تکمیل کنندہ ہے۔ (مھیمن) یعنی قرآن مجید تمام آسمانی کتابوں پر نظر رکھے ہوئے ہے، جس طرح یونیورسٹی کی کتابیں پرائمری سے ہائی سٹینڈرڈ کی کتابوں پر نظر رکھے ہوئے ہوتی ہیں)

۲۔ اہل کتاب کے درمیان، قرآن مجید کے مطابق فیصلہ دیا جا سکتا ہے (فاحکم بینھم بما انزل اللہ)

۳۔ دینی رہنماؤں کے لئے جس بات کا زیادہ خطرہ لاحق رہتا ہے وہ ہے لوگوں کی خواہشات کی پیروی اور حق کو نظرانداز کر دینا، (ولاتتبع اھواھم)

۴۔ توریت اور انجیل جیسی کتابوں کی یہ تصدیق کہ آسمانی ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں ہمیشہ کے لئے برقرار رکھا جائے گا۔

۵۔ دین صرف ایک ہے لیکن “شریعتیں” متعدد ہیں، جیسے ایک دریا ہوتا ہے کہ جس تک پہنچنے کے لئے متعدد راستے ہوتے ہیں۔

۶۔ لوگوں کی آزمائش کا ایک ذریعہ، ادیان کا مختلف ہونا ہے۔ تاکہ معلوم ہو سکے کہ کون شخص ایمان لے آتا ہے اور کون کفر اور تعصب کا شکار ہو جاتا ہے۔

۷۔ منفی لڑائی جھگڑوں میں الجھنے کی بجائے خیر اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ (فاستبقوا)

۸۔ آگے بڑھنے کا میدان اور راستہ امور خیریہ اور معنویہ ہونا چاہئے (فاستبقوا الخیرات)

۹۔ قیامت کے دن رسوا ہونے سے پہلے ہی اپنے اختلافات حل کر لو (فینبئکم، بما کنتم فیہ تختلفون)

۱۰۔ قبل اس کے کہ موقع ہاتھ سے نکل جائے، نیکی کے کاموں میں سبقت لے جاؤ۔

۱۱۔ معاد (قیامت) پر ایمان تمام اختلافات کے رفع کرنے کا موجب ہے (فینبئکم بما کنتم فیہ تختلفون)

 

آیت ۴۹

وَ اَنِ احْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآ اَنْزَ لَ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعَ اَھْوَآءَ ھُمْ وَ احْذَرْھُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْکَ عَنْمبَعْضٍ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْکَ ط فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اِنَّماَ یُرِیْدُ اللّٰہَ اَنْ یُّصِیْبَھُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِھِمْ ط وَ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفَسِقُوْنَ ہ

ترجمہ۔ اور (اے پیغمبر!) ان (اہلِ کتاب) کے درمیان وہی فیصلہ کرو جو خدا نے نازل کیا ہے۔ اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو، اور ان سے ان باتوں سے بچو کہ وہ تمہیں ان بعض چیزوں سے منحرف کر دیں جو خدا نے تم پر نازل کی ہیں۔ پس اگر وہ تمہارے حکم اور فیصلہ سے روگردانی کریں تو پھر تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ انہیں ان کے کچھ گناہوں کے بدلے سزا دے۔ اور یقیناً بہت سے لوگ فاسق (نافرمان) ہیں۔

نکتہ:

مفسرین نے اس آیت کے شان نزول کے بارے میں کہا ہے کہ: کچھ یہودی علماء حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ “اگر آپ فلاں مسئلہ کے بارے میں جو ہمارے اور دوسروں کے درمیان اختلافی مسئلہ ہے (ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے اور ہمارے ساتھ تمام یہودی بھی ایمان لے آئیں گے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

قرطبی کہتے ہیں کہ اس آیت میں “یقتنوک” کا کلمہ آیا ہے جس میں فتنہ سے مراد “خدا کی راہ کو بند کرنا ہے”

پیام:

۱۔ نہایت ہی اہم اور حیات بخش مسائل میں پیغامات کا تکرار کہ “صرف حکم خداوندی کے مطابق فیصلہ کرو اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو” اس آیت میں اور اس سے پہلی آیت میں)

۲۔ “مقصد ذرائع کو جائز قرار نہیں دیتا” (یعنی کچھ لوگوں کے مسلمان ہونے کے لئے ناجائز فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔

۳۔ انبیاء عظام کو خدا کی تنبیہ ان کی عصمت کا عامل ہوتی ہے (فاحذرھم)

۴۔ جب حضرت رسول خدا کو کفار کی ثقافتی یلغار کا خطرہ درپیش ہے تو عام لوگوں کا حال تو واضح ہے۔

۵۔ دشمن کی ثقافتی یلغار کے نفوذ سے ہوشیار رہو! (واحذرھم ان یفتنوک)

۶۔ اس قدر سخت قسم کی تنبیہات (لاتتبع، احذرھم، یفتنوک۔۔۔ ) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صداقت اور صراحت کی دلیل ہیں کہ یہ آیات خدا کی طرف سے نازل کردہ ہیں، کیونکہ کوئی شخص خود کو ایسے سخت لہجے میں خطاب نہیں کرتا۔

۷۔ گناہ انسان کی پستی کا عامل اور عذاب الٰہی کا موجب ہوتے ہیں۔ (لیعصیبہم ببعض ذنوبھم)

۸۔ مخالفین بھی بعض الٰہی احکام کو پسند کرتے ہیں، تحریف کا خطرہ بعض قسم کے احکام میں ہوتا ہے۔ (عن بعض ما انزل اللہ)

۹۔ دشمن کی روگردانی کا سبب اس کا اپنا فسق ہے ورنہ اے پیغمبر! نہ آپ میں کسی قسم کا نقص ہے اور نہ ہی آپ کے دین میں کسی قسم کی کوئی کمی ہے، گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ (فان تولوافاعلم)

۱۰۔ تمام لوگوں کے ہدایت پا جانے کی توقع نہیں رکھنی چاہئے (کثیرا منھم لفاسقون)

 

آیت ۵۰

اَفَحُکْمَ الجَّاھِلِیْۃِ یَبْغُوْنَ ط وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ حُکْمًا لِّقُوْمٍ یُّوْقِنُوْنَہ

ترجمہ۔ آیا وہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں؟ صاحبان ایمان و یقین کے لئے خدا سے بڑھ کر اور کون بہتر فیصلہ کر سکتا ہے؟

نکتہ:

بہترین قانون وہ ہوتا ہے جس کا مقنن (قانون ساز) مندرجہ ذیل شرائط کا حامل ہو،

۔ جو تمام کائنات اور انسانوں کے حال اور مستقبل سے اچھی طرح واقف ہو۔

۔ اس کا اپنا کوئی ذاتی فائدہ پیش نظر نہ ہو۔

۔ کسی قسم کی عمداً اور سہواً غلطی کا ارتکاب نہ کرے۔

۔ کسی بھی طاقت سے نہ ڈرے۔

۔ سب کا خیرخواہ ہو۔

اور یہ تمام شرائط ذات پروردگار میں بدرجہ اتم موجود ہیں لہٰذا (ومن احسن من اللہ حکما) یعنی خدا سے بڑھ کر اور کون بہتر فیصلہ کر سکتا ہے؟

پیام:

۔ روابط و مراسم اور خارجہ سیاست میں کفار کا مسلمانوں پر تسلط اور ان کی سرپرستی قطعاً ناجائز ہے۔ (لاتخذوا) 40 تسلط خواہ کسی بھی قسم کا ہو خواہ ماہر کے عنوان سے ہو یا سپیشلسٹ اور سیاح کے عنوان سے۔

۲۔ دشمن سے تبرا (اظہار برائت) ایمان کی شرط ہے (یٰا یھاالذین امنوا لاتخذوا۔۔۔ )

۳۔ جو مسلمان حکومتیں کفار کے تسلط اور ان کی آقائیت کو قبول کریں گی، کافر سمجھی جائیں گی (فانہ منھم) ہر انسان اور گروہ کے ساتھ دوستی انسان کو اس کا جز بنا دیتی ہے۔

۴۔ کفار، مسلمانوں کے خلاف متحد ہو جاتے ہیں (بعضھم اولیاء بعض)

۵۔ کفار کی ولایت اور آقائیت کو ہرگز قبول نہ کرنا کیونکہ صرف اپنی ذات کے فائدہ کے لئے سوچتے ہیں۔ (بعضھم اولیاء بعض) 41

۔ نہ تو کفار کو اپنا “ولی” اور مقتدر اعلیٰ سمجھو اور نہ ہی ان افراد اور حکومتوں سے اپنے کسی قسم کے دوستانہ مراسم کو جو کفار کی “ولایت” کو قبول کئے ہوئے ہیں۔ (فانہ منہم)

۷۔ کفار سے ولایت کے رابطے کا مطلب ہے خدا سے رابطہ ولایت کا انقطاع۔ لایھدی القوم الظٰلمین)

۸۔ کفار پر بھروسہ اسلامی امہ اور نظام اسلام پر ظلم ہے (القوم الظٰلمین)

 

آیت ۵۲ ، ۵۳

فَتَرَی الَّذِیَْنَ فِی قُلُوْبِھِمْ مَرَضٌ یُسَارِعُوْنَ فِیْھِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓی اَنْ تُصِیْبَنَا دَائِرَۃٌ ط فَعَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِہ فَیُصْبِحُوْا عَلٰی مَآ اَسَرُّوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ نٰدِمِیْنَ ہ وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھٰؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَھْدَ اَیْمَاِنِھمِ اَنَّھُمْ لَمَعَکُمْط حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ ہ

ترجمہ: (اے پیغمبر! کفار کی سرپرستی قبول نہ کرنے کی اس قدر تاکید کے باوجود) تم ایسے لوگوں کو بھی دیکھو گے کہ جن کے دل میں بیماری ہے وہ کفار کے ساتھ دوستی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں (اور اپنے اس اقدام کی توجیہ میں) کہتے ہیں کہ ہمیں ڈر اس بات کا ہے کہ ہمیں کوئی حادثہ درپیش آ جائے (اور ہمیں ان کی مدد کی ضرورت پڑ جائے) پس امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے (مسلمانوں کے فائدہ کے لئے) کوئی فتح یا کوئی اور واقعہ ان کے درپیش کر دے اور اس وقت (منافقین) جو کچھ کہ اپنے دل میں چھپاتے ہیں اس پر پشیمان ہو جائیں۔

اور (مسلمانوں کی فتح و کامرانی اور منافقین کی رسوائی کے موقع پر) مومنین (بڑے تعجب سے) کہتے ہیں، آیا یہ وہی لوگ ہیں جو بڑی تاکید کے ساتھ خدا کی قسمیں کھایا کرتے تھے کہ (اور کہتے تھے کہ) ہم تو تمہارے ساتھ ہیں؟ (اب ان کی یہ کیفیت کیوں ہو چکی ہے؟) ان کے اعمال اکارت گئے اور وہ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گئے۔

پیام:

۱۔ کمزور ایمان کے بیمار دل لوگوں کو کافر دشمنوں کے ساتھ دوستی کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی جلدی ہوتی ہے۔ (فی قلوبھم مرض یسارعون)

۲۔ بیمار دل، ضعیف الایمان افراد اور منافقین انہی کفار کا ایک حصہ ہیں (یسارعون فیھم) ہے “یسارعون الیھم” نہیں ہے۔ (غور کیجئے گا)

۳۔ سپر طاقتوں کے ساتھ رسواکن تعلقات قائم کرنے کا موجب ایمان کی کمزوری اور غیرخدا سے خوف اور وحشت ہے (یقولون نحشی)

۴۔ مسلمانوں کو اپنی فتح و کامرانی، اسلام کی وسعت اور منافقین کے راز فاش ہونے کی امید رکھنی چاہئے (عسی اللہ ان یاتی بالفتح)

۵۔ سیاسی عزت، اقتصادی قدرت اور فوجی کامیابی سب خدا کی طرف سے اور خدا کے ہاتھ میں ہے (بالفتح اور امرض عندہ)

۶۔ اقتدار اور حکومت آنے جانے والی چیزیں ہوتی ہیں (دائرۃ)

۷۔ مستقبل کا خوف، دل کی بیماری اور خدا پر ایمان و توکل کی کمزوری ہے۔

۸۔ خوف اور ڈر کا بہانہ بنانا ایک توجیہ ہے حقیقت نہیں ہے (یقولون نخشی)

۹۔ کفار کے ساتھ “ولایت” پر مبنی تعلقات قائم نہ کرو تاکہ تمہاری طرف غیبی امدادیں امڈ آئیں (امر من عندہ)

۱۰۔ نفاق کا انجام، اعمال اکارت جانا، رسوائی اور شرمندگی ہے (نادمین)

۱۱۔ منافقین کی قسموں کے فریب میں نہ آؤ۔ (اقسمواباللہ)

 

آیت ۵۴

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُحِبُّھُمْ وَ یُحِبَّوْنَہ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ یُجَاھِدُوْنَ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ ط ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ ط وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ہ

ترجمہ۔ اے ایماندارو! تم میں سے جو شخص بھی اپنے دین سے پھر جائے گا (وہ خدا کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا) کیونکہ عنقریب اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم کو لے آئے گا جسے خدا دوست رکھتا ہو گا اور وہ خدا کو دوست رکھتی ہو گی۔ وہ ایسے لوگ ہوں گے جو مومنین کے سامنے متواضع اور کفار کے مقابلہ میں طاقتور ہوں گے۔ خدا کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ یہ سب خدا کا فضل و کرم ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا اور جاننے والا ہے۔

نکتہ:

روایات میں ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو حضرت رسول اکرم نے اپنا دست مبارک حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر مار کر فرمایا: “تمہارے ہم وطن میں اس آیت کے مصداق ہیں‘ذ (تفسیر نورالثقلین)

سابقہ آیت میں کفار اور منافقین کے تسلط کے خطرہ کی بات ہو رہی تھی اور اس آیت میں ارتداد کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے۔ جو شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کفار نفاق اور کفار کے ساتھ دوستانہ مراسم کا انجام ارتداد (دین سے پھر جانا ہوتا ہے۔

پیام:

۱۔ خردمند اور روشن ضمیر رہبر اور قائد وہ ہوتا ہے جو اپنے پیروکاروں کے بارے میں ارتداد اور اصل اہداف سے پھر جانے کا احتمال بھی دے۔ (من یرتد منکم)

۲۔ ہر مومن کو اپنے انجام بخیر کی فکر میں رہنا چاہئے (امنوا۔۔۔ یرتکد منکم۔۔۔ )

۳۔ مضبوط قیادت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ کسی لگی لپٹی بغیر کہہ دے کہ: “اگر کوئی پیروکار پھر بھی جائے تو ہمارے مقصد کو نقصان نہیں پہنچائے گا”۔

۴۔ ارتداد، نتیجہ ہے معرفت، دین اور خدا سے محبت کے فقدان کا۔ (یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ)

۵۔ خدا اپنے دوستوں اور حامیوں کو لے آئے گا، اس تمہاری کوئی ضرورت نہیں لہٰذا اس پر احسان نہ جتاؤ۔ (فسوف یاتی اللہ)

۶۔ ایمان کی راہ میں اور جاہلانہ عادات و رسوم کے توڑنے میں دشمن کے سرزنش شوروشرابے اور مسموم پروپیگنڈے سے گھبرانا نہیں چاہئے ۔ اور نہ ہی ماحول، عوام اور اکثریت کے آگے ہتھیار ڈالنے چاہئیں۔ (لایخافون لومۃ لائم)

۷۔ مسلمان کا لائحہ عمل یہ ہونا چاہئے کہ اپنے دینی بھائی کے سامنے تواضع اور انکساری کا مظاہرہ کرے اور دشمن کے آگے خم ٹھونک کر آ جائے۔ اور تواضع ہو یا طاقت کا مظاہرہ ان میں سے کوئی ایک بھی اصل مطلق نہیں ہے (اذلۃ۔ اعزۃ)

۸۔ فضل خداوندی صرف مال اور جاہ و مقام کے ملنے کا نام نہیں، خدا کی محبت، اس کی راہ میں جہاد اور دین میں پختگی کا مظاہرہ بھی پروردگار عالم کے فضل و کرم کا مظہر ہوتے ہیں۔

۹۔ خدا اور بندہ کے درمیان برابر کی دوستی انسانی کمالات میں سے ایک ہے (یحبھم و یحبونہ) 42

 

آیت ۵۵

اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ رَاکِعُوْنَ ہ

ترجمہ: تمہارا ولی اور سرپرست تو بس اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ لوگ جو ایمان لے آئے، نمازکو قائم کرتے ہیں اور رکوع کی حالت زکوۃٰ دیتے ہیں۔

نکتہ:

اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ: ایک سائل مسجد نبوی میں داخل ہوا اور لوگوں سے راہ خدا میں اپنی امداد کی درخواست کی، کسی نے بھی اسے کچھ نہ دیا، حضرت علی علیہ السلام اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، اور حالت میں اسے انگلی سے اشارہ کیا اور اسی حالت میں اسے اپنی انگوٹھی عطا فرمائی، اس بخشش اور عطیہ کی عزت و تکریم کے لئے یہ آیت نازل ہوئی۔

اس ماجرا کو دس اصحاب پیغمبر نے نقل کیا ہے جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس، عمار بن یاسر، جابر بن عبداللہ، ابوذر غفاری، انس بن مالک اور بلال وغیرہ۔ اور اس کے شان نزول ہر شیعہ اور سنی کا اتفاق ہے اور حضرت عمار یاسر کہتے ہیں کہ جب مولا نے حالت رکوع میں انگشتری دے دی اور اس پر آیت ولایت بھی نازل ہو گئی تو حضرت رسول خدا نے فرمایا “من کنت مولاہ فعلی مولاہ” یعنی جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں۔ (ملاحظہ ہو تفسیر المیزان)

پیغمبر اکرم نے غدیرخم کے مقام پر علی بن ابی طالب کی اوصاف اور ان کا مقام و منزلت بیان کرتے ہوئے اس آیت کو تلاوت فرمایا، (تفسیر صافی) خود حضرت علی علیہ السلام بھی اپنی حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے بارہا اس آیت کو پڑھا کئے۔ (تفسیرالمیزان) اور حضرت ابوذر غفاری جو خود اس واقعہ کے شاہد تھے مسجدالحرام میں اس واقعہ کو لوگوں کے سامنے بیان کرتے رہے (تفسیر مجمع البیان)

اس آیت میں “ولی” کا لفظ “دوست” اور “مددگار” کے معنی میں نہیں ہے کیونکہ دوستی اور امداد رسانی کا تعلق تمام مسلمانوں سے ہے۔ صرف ان سے نہیں جو حالت رکوع میں راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں۔ اور روایات کی رو سے اس سے مراد ذات علی بن ابی طالب ہے اور ایک شخص کے لئے جمع کے الفاظ کا اطلاق (امنوا۔۔۔ ) اس کی اہمیت کو بیان کرنے کے لئے ہے جس طرح آیہ مباہلہ میں “انفسنا و انفسکم” آیا ہے۔

پیام:

۱۔ اسلام تولا اور تبرا کا دین ہے۔ اس میں جذب کرنے کی کشش بھی پائی جاتی ہے اور دور کرنے کی طاقت بھی، گزشتہ آیت میں یہود و نصاری کو ولی و سرپرست بنانے کے لئے روکا ہے۔

۲۔ خدا، رسول اور علی کی “روح ولایت” ایک ہے اسی لئے (ولیکم) فرمایا ہے ورنہ “اولیائکم کہا جاتا۔

۳۔ قرآن مجید میں عام طور پر نماز اور زکوٰۃ ساتھ ساتھ بیان ہوئی ہیں، لیکن اس آیت میں دونوں ایک دوسرے میں ملکی ہوئی ہیں۔ (رکوع کی حالت میں زکوٰۃ کی ادائیگی)

۴۔ جن لوگوں کا نماز و زکوۃ سے کوئی سروکار نہیں ہوتا انہیں لوگوں کی ولایت اور رہبری کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ معاشرہ کے محروم طبقہ کی فریادرسی کے لئے نماز جیسی عبادت کو بھی مانع نہ سمجھو اور مسلمانوں کے مجمع سے سائل کو خالی ہاتھ نہیں پلٹنا چاہئے۔

۶۔ رضائے الٰہی کے حصول کے لئے مخلوق خدا کی طرف توجہ، اخلاص کے لئے مضر نہیں ہوتی (حالت رکوع میں زکوٰۃ) اسی طرح خدا کو چھوڑ کر خلق خدا کے لئے کام کرنا “مارکسزم” ہے، خلق خدا سے بے پرواہ ہو کر خدا کے لئے کام کرنا “رہبانیت” (سادھو ازم) اور رضائے الٰہی کی خاطر خلق خدا کے لئے کام کرنا “اسلام” کی روش ہے)۔

۷۔ جسے غریبوں کی آہ کا کوئی خیال نہیں ہوتا وہ تمہارا رہبر اور ولی نہیں ہو سکتا۔

۸۔ (راہ خدا میں رضائے خدا کے لئے خرچ کرنے جیسے) جزوی کام نماز کو باطل نہیں کرتے۔

۹۔ قرآن نے مستحبی صدقہ اور انگوٹھی کو بھی زکوٰۃ کہا ہے (یوٴتون الزکوٰۃ)

۱۰۔ مسلمانوں پر ولایت کا حق پہلے مرحلہ میں خدا کو حاصل ہے اس کے بعد اس رسول خدا کو پھر امام کو اور اس کے بعد “ولی فقیہ” کو۔

۱۱۔ رسول اسلام کے بعد علی بن ابی طالب علیہ السلام ہی مسلمانانِ عالم کے اکلوتے رہنما ہیں۔

۱۲۔ تعارف کی بہترین نوعیت یہ ہے کہ کسی کا نام لئے بغیر اس کے اوصاف اور خصوصیات کو بیان کیا جائے، مخاطب خود ہی اس کا مصداق پیدا کرے۔ (جیسا کہ آیت میں علی علیہ السلام کا نام لئے بغیر ان کے اوصاف و افعال کو بیان کیا گیا ہے)

 

آیت ۵۶

وَمَنْ یَّتَوَلَ اللّٰہَ وََ رَسُوْلَہ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْغٰلِبُوْنَ ہ

ترجمہ۔ جو شخص خدا، رسول اور مومنین سے ولایت کا تعلق رکھتا ہے تو (اسے معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کامیاب ہے، کیونکہ) خدا کا گروہ یقینی طور پر کامیاب ہے۔

نکتہ:

“امنوا” کا مصداق سابقہ آیت میں بیان ہو چکا ہے۔

“حزب اللہ” (خدا کا گروہ) کے اوصاف سورہ مجادلہ/۲۲ میں مذکورہ ہیں۔

یہ آیت کہ جس میں خدا، رسول اور مومنین کی ولایت کے قبول کرنے کا ذکر ہے، یہ بات سمجھا رہی ہے کہ سابق آیت میں “ولیکم” سے مراد سرپرست اور حاکم ہے نا کہ دوست اور مددگار۔ کیونکہ “حزب اللہ” اور ا س کے غالب آنے کی تعبیر ایک مقتدر نظام اور حکومت کی طرف اشارہ ہے۔ 43

“حزب” کا معنی ہے طاقتور اور مضبوط گروہ (کتاب معجم الوسیط)

پیام:

۱۔ “حزب اللہ” صرف وہی لوگ ہیں جنہوں نے خدا، پیغمبر اور اہلبیت کی ولایت اور حکومت کو تسلیم کیا ہے۔

۲۔ ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب “اسلام” تمام دنیا پر حکم فرما ہو گا “لیظہرہ علی الدین کلہ” اور اسی دور میں تشیع ہی کا مکمل غلبہ ہو گا (ومن یتول۔۔۔ ھم الغالبون)

۳۔ ہر طرح کی کامیابی حق پر مبنی قیادت اور رہبری میں ہے (ومن یتول۔۔۔ ھم الغالبون)

۴۔ چونکہ نظم و ضبط، مدیریت، قدرت، طاقت، وحدت اور جرأت کے بغیر کامیابی کا حصول ناممکن ہے لہٰذا حکومت اور غلبہ و کامرانی کے لئے “حزب اللہ” کو ان اوصاف کا حامل ہونا ضروری ہے۔

۶۔ اسلامی غلبہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں فلاح، عزت، وقار اور منطق کارفرما ہوتی ہے صرف اور صرف طاقت یا حکومت کا تختہ الٹنا نہیں ہوتا۔ (حزب اللہ ھم الغالبون) اور ایک دوسرے مقام پر فرماتا ہے “حزب اللہ ہم المفلحون”

۷۔ چونکہ خداوند عالم غالب ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے “واللہ غالب علی امرہ” لہٰذا اس سے تعلق رکھنے والے افراد بھی غالب ہیں (حزب اللہ ھم الغالبون)

 

آیت ۵۷

یَاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ھُزُوًا وَّ لَعِبًا مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْ الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ الْکُفَّارَ اَوْلِیَآءَ وَاتَّقُوْا اللّٰہَ اِنْ کُنْتَمْ مُؤْمِنِیْنَ ہ

ترجمہ۔ اے ایماندارو! ان (یہودی اور نصرانی) لوگوں کہ جنہیں تم سے پہلے آسمانی کتاب دی گئی ہے اپنا سرپرست نہ بناؤ جو تمہارے دین کا مذاق اڑائے اور اسے کھیل تماشہ سمجھتے ہیں۔ اور نہ میں (دوسرے) کفار کو اور اگر تم مومن ہوتو خدا سے ڈرتے رہو۔

پیام:

۱۔ دین خدا اور مذہبی مقدسات کی توہین اور مسخرہ بازی کی دنیا میں سزا یہ ہے کہ ایسا کرنے والوں سے تعلقات ختم کر دیئے جائیں (لاتتخذوا۔۔۔ )

۲۔ دین کا مذاق اڑانا، کافروں کا کام ہے۔

۳۔ دینی حمیت رکھنا اور نااہل افراد سے تبرا کرنا، ایمان کی شرط ہے۔

۴۔ اگر تم ایماندار ہو اور خدا سے بھی ڈرتے ہو تو پھر دین کا مذاق اڑانے والے کفار سے تعلقات منقطع کرنے سے ہرگز نہ گھبراؤ۔

 

آیت ۵۸

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوْھَا ھُزُوًا وَّ لَعِبًا ط ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَا یَعْقِلُوْنَ ہ

ترجمہ۔ اور جب تم (اذان کے ذریعہ لوگوں کو) نماز کیلئے بلاتے ہو تو وہ تمہارے بلاوے کامذاق اڑاتے ہیں اور اسے کھیل تماشہ سمجھتے ہیں یہ اس لئے کہ وہ لوگ عقل نہیں رکھتے۔

پیام:

۱۔ ان لوگوں سے دوستانہ مراسم نہ رکھو جو اذان کا مذاق اڑاتے ہیں۔

۲۔ نماز، دین کا چہرہ اور نمونہ ہے، (گزشتہ آیت میں دین کے مذاق اڑانے کی بات ہو رہی تھی اور اس آیت میں نماز کو مذاق سمجھنے کی بات ہو رہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز دین کی ایک نمایاں تصویر ہے۔

۳۔ نماز کیلئے بلند آواز سے بلانا چاہئے تاکہ سب لوگ اکٹھے ہوں اور نماز اعلانیہ طور پر ہونی چاہئے (نادیتم)

۴۔ اسلامی معاشرہ میں نماز کیلئے بلند آواز سے بلانا چاہئے اور اس کی زیادہ سے زیادہ تبلیغ کرنی چاہئے اور انداز ایسا ہو کہ کسی کے مزاحم بھی نہ ہو۔

۵۔ عقلمندوں کا طریقہ کار تو منطقی گفتگو ہے لیکن بے عقل لوگوں کا کام مذاق اڑانا ہوتا ہے (ذالک بانھم قوم لایعقلون)

 

آیت ۵۹

قُلْ یَاَھْلَ الْکِتٰبِ ھَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّا اِلَّا اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَآ اَنْزَلَ اِلَیْنَا وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ وَ اَنَّ اَکْثَرَ کُمْ فٰسِقُوْنَ ہ

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) آپ کہہ دیں کہ اے اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) یہ جو تم ہم پر اعتراض کرتے ہو آیا ہم نے اس کے علاوہ کوئی کام کیا ہے کہ خدا پر ایمان لائے، جو چیز ہم پر نازل ہوئی ہے اس پر اور جو کچھ (قرآن سے) پہلے نازل ہوا (گزشتہ انبیاء پر) ایمان لائے، یقیناً تم میں سے بہت سے لوگ حق کی حدود سے نکل گئے ہیں (اور فاسق ہو چکے ہیں)

پیام:

۱۔ مخالفین کے ساتھ بھی اچھے انداز سے جھگڑنا چاہئے، یعنی ایسے استدلال پیش کرنے چاہئیں جن میں دل کو نرم کر دینے والے سوالات موجود ہوں (ھل تنقمون؟)

۲۔ ہمارے ساتھ مخالفین کی دشمنی صرف ہمارے ایمان کی وجہ سے ہے (الا ان امنا باللہ)

۳۔ تاریخی اعتبار سے اہلِ کتاب نے ہم پر ظلم کرنے کی کیا کسر باقی چھوڑی ہے؟ (ھل تنقمون منا)

۴۔ دشمن کی سختی کے باوجود تم عدل و انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو۔ اور سب کو ایک جیسا اور فاسق نہ سمجھو (اکثرکم)

۵۔ حق کا انکار اور حق کے پیروکاروں کی ایذارسانی، فسق ہے (فاسقون)

 

آیت ۶۰

قُلْ ھَلْ اُنَبِّئُکُمْ بِشَرِّ مِّنْ ذٰلِکَ مَثُوْبَۃً عِنْدِ اللّٰہِ ط مَنْ لَّعَنَہُ اللّٰہُ وَ غَضِبَ عَلَیْہِ وَ جَعَلَ مِنْھُمُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَنَازِ یْرَوَعَبْدَ الطَّاغُوْتِ ط اُوْلٰٓئٰکَ بِشَرٍّمَّکَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ ہ

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ آیا میں تمہیں یہ خبر نہ دوں کہ خدا کے نزدیک کن لوگوں کی بدترین جزا ہے؟ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور ان پر غضب ڈھایا ہے، اور ان میں سے کچھ لوگوں کو بندروں اور سوروں کی شکل میں تبدیل کر دیا ہے اور جنہوں نے طاغوت کی پرستش کی ہے۔ اللہ کے نزدیک ایسے لوگوں کا بدترین ٹھکانہ ہے اور راہ راست سے بھٹکے ہوئے گمراہ ترین لوگ ہیں۔

نکتہ:

جو لوگ مسلمانوں کے دین اور نماز کا مذاق اڑاتے ہیں، اور انہیں ایمان رکھنے کی وجہ سے اذیتیں دیتے ہیں وہ اپنے تاریک اور بے شرمانہ ماضی پر نگاہ کیوں نہیں کرتے؟ کہ خدا کے قہر و غضب میں گرفتار ہو کر مسخ اور رسوا ہوئے۔ اگرچہ زمانہ پیغمبر اسلام کے یہودی بندروں اور خنزیروں کی صورت میں تبدیل نہیں ہوئے لیکن چونکہ بنی اسرائیل خود کو ایک قوم اور اجتماعی اوصاف کا حامل سمجھتے تھے اور اپنے اسلاف کے کارناموں پر فخر کرتے تھے اور انہیں اپنی طرف نسبت دیتے تھے لہٰذا ان کے اسلاف کی رسوائیاں، ان کے غرور کو توڑ رہی ہیں۔

پیام:

۱۔ دشمن کے مسموم پروپیگنڈے اور ان کی نیش زنی سے خوف مت کھاؤ کہ ان کی اپنی ایک رسوا کن تاریخ ہے۔

۲۔ جو دوسروں کا احترام نہیں کرتا، اس کا بھی احترام نہیں کیا جاتا۔

۳۔ اگر اہل کتاب نے تہیہ کر لیا ہے کہ تمہارا مذاق اڑائیں اور تمہیں دکھ پہنچائیں تو ہم بھی ان کا تاریخی ریکارڈ پیش کئے دیتے ہیں (ان کا بندر اور خنزیر بن جانا اور طاغوت کی پرستش کرنا)

۴۔ دشمن کے مسخرہ بازی کے سوتوں (غرور اور تفوق طلبی) کو ان کے رسواکن ریکارڈ کے ذریعہ خشک کر دینا چاہئے۔

۵۔ طاغوت کی اطاعت کرنے والے، مسخ ہو جانے والوں کے زمرہ میں شامل ہیں۔

۶۔ تنقید یا مذمت تو وہ کرے جس کے پاس منطقی استدلال ہو اور دل پاک ہو۔ (گزشتہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ ان کے پاس کوئی منطقی دلیل نہیں ہے اور اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ ان کے دل پاک نہیں تھے)

 

آیت ۶۱

 

ترجمہ۔ اور جب بھی وہ (منافقین) تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ “ہم ایمان لے آئے” حالانکہ وہ یقینی طور پر کفر میں داخل ہو چکے ہوتے ہیں اور یقین کے ساتھ کفر کی حالت میں باہر جاتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ بہتر طور پر آگاہ ہے کہ جو کچھ وہ چھپاتے ہیں۔

پیام:

۱۔ لوگوں کا اظہار ایمان تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے۔

۲۔ کفر کی حالت میں آنا اور کافر ہو کر واپس جانا دل کی قساوت کی دلیل ہے۔

۳۔ ماحول اور معاشرہ انسان کو کسی چیز کے قبول کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔

۴۔ اللہ تعالیٰ دشمن کی باطنی کیفیت سے آگاہ ہے۔

۵۔ اللہ تعالیٰ، انسان کے ضمیر اور باطن سے اس کی اپنی نسبت زیادہ آگاہ ہے (اعلم)

۶۔ بعض اوقات اسلامی معاشرہ کے مذہبی اجلاسوں میں بعض افراد کی شرکت ضروری نہیں ہے کہ ان کے خلوص کی وجہ سے اور ہدایت پانے کے لئے ہو۔

 

آیت ۶۲

ترجمہ۔ اور (اے پیغمبر! تم) ان (ایمان کے دعویداروں) میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھو گے کہ گناہ اور ظلم اور حرام کا کھانے میں جلدی کرتے ہیں۔ اور کیا ہی برا کام ہے جو وہ کرتے ہیں۔

نکتہ:

گزشتہ آیت میں ان لوگوں کی کافرانہ کیفیت کی بات ہو رہی تھی اور اس آیت میں ان کی اخلاقی، اجتماعی اور اقتصادی خرابیوں کی گفتگو ہو رہی ہے۔

پیام:

۱۔ منحرف اور گمراہ لوگوں پر تنقید اور ان کی مذمت کرنے میں بھی انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔ (کثیرامنھم)

۲۔ اسلامی معاشرے کی تصویر یہ ہے کہ اس میں صدقات و خیرات اور نیکی کی طرف سبقت ہوتی ہے اور کافرانہ اور منافقانہ معاشروں میں فساد و خرابی کی طرف دوڑ ہوتی ہے۔ پہلے معاشرہ کے لئے ہے “یسارعون فی الخیرات” اور دوسرے کے لئے ہے (یسارعون فی الاثم والعدوان)

۳۔ منافقین کا اصل مقصد “شہوت” اور “ثروت” اور “قدرت” ہوتا ہے۔ (“اثم”، “سحت”، “عدوان”)

۴۔ گناہ سے برتر، اس کا علانیہ انجام دینا ہے (تری)

۵۔ اخلاقی برائیوں (اثم) اجتماعی برائیوں (عدوان) اور اداری و دفتری برائیوں (سخت و رشوت) سے برتر برائیوں کی عادت بنا لیا ہے۔ (یسارعون استمرار پر دلالت کر رہا ہے)

۶۔ گناہ کی آلودگی سے بدتر گناہ میں غرق ہونا ہے (فی الاثم)

 

آیت ۶۳

 

ترجمہ۔ اللہ والے اور تربیت کرنے والے علماء (جن کا معاشرے میں مقام ہے اور کردار موثر ہے) ان لوگوں کو گناہ آلود گفتار اور کردار سے اور ناجائز طریقے سے مال کھانے سے کیوں نہیں روکتے؟ کس قدر برا کام کرتے ہیں!

نکتہ:

حضرت علی علیہ اسلام خطبہ قاصعہ (نہج البلاغہ کے ۱۹۲ ویں خطبہ) میں ارشاد فرماتے ہیں: “اللہ تعالیٰ نے گزشتہ اقوام پر اس لئے قہر و غضب نازل کیا ہے کہ انہوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ترک کر دیا تھا، خدا لعنت کرے گناہ کا ارتکاب کرنے والے عوام اور چپ رہنے والے علماء پر”۔

پیام:

۱۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کی ادائیگی سب سے پہلے علماء پر عائد ہوتی ہے اور ان کا کام صرف دین سکھانا اور تقریر کرنا نہیں ہے۔

۲۔ علماء کی خاموشی اور معاشرے سے ان کی لاتعلقی برائیوں کی ترویج کا سبب ہوتی ہے۔

۳۔ علماء کے پاس اقتدار ہونا چاہئے تاکہ وہ وعظ و تبلیغ کے علاوہ اس کے ذریعہ برائیوں کا سدباب کر سکیں (ینھاھم)

۴ اگر نہی عن المنکر، گناہ کو نہیں روک سکتی، کم از کم اس کی سرعت اور تیزی کو تو روک سکتی ہے۔ (یسارعون۔۔۔ لولاینھا ھم)

۵۔ علماء اہل کتاب نے تو اپنے کم از کم فریضہ کو بھی ادا نہیں کیا (ا س سے پہلی آیت اثم، عدوان اور حرام خواری کو ان کے گناہ شمار کیا گیا ہے لیکن اس آیت میں “عدوان” کا لفظ نہیں آیا۔ جو شاید یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر علماء اہل کتاب عدوان کو نہیں روک سکتے تھے، “سحت” کو تو روک سکتے تھے اور کیوں نہیں روکا؟)

۶۔ علم زینت یہ ہے کہ اس کا اظہار کیا جائے اور اس کی برائی اس بات میں ہے کہ خاموشی اختیار کر کے حق بات کو چھپایا جائے۔

۷۔ برائیوں کے سامنے خاموشی اختیار کر لینے والا عالم، مجرم اور جرائم پیشہ لوگوں سے زیادہ بدتر ہے کیونکہ یہ سمجھ رکھتا ہے اور بیان کی قدرت بھی، لیکن کوئی کام نہیں کرتا۔ 44

 

آیت ۶۴

 

ترجمہ۔ اور یہودیوں نے کہا کہ “خدا کا ہاتھ بندھا ہوا ہے” ان کے اپنے ہاتھ بندھتے رہیں، وہ اس طرح کی بات کرنے سے خدا کے لطف و کرم سے دور ہو گئے۔ بلکہ خدا کے تو دونوں دست (قدرت) ہمیشہ کھلے ہیں، وہ جس طرح چاہتا ہے بخشش کرتا ہے۔ (دشمن اس قدر ہٹ دھرم اور ضدی ہیں کہ) جب بھی کوئی چیز (اے رسول!) آپ پر نازل ہوتی ہے (اسے قبول کرنے اور اس پر ایمان لانے کے لئے بجائے) ان میں سے بہت لوگوں کے کفر اور سرکشی میں اضافہ کر دیتی ہے۔ اور ہم نے (ان کے بغض و عناد کی وجہ سے) قیامت کے دن تک ان کے درمیان دشمنی اور کینہ ڈال دیا ہے۔ وہ جب بھی جنگ کے لئے آگ بھڑکاتے ہیں خداوند عالم (اسلام کے فائدہ اور ان کے نقصان میں) اسے بجھا دیتا ہے۔ وہ ہمیشہ زمین میں فتنہ و فساد اور تباہی و بربادی کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

نکتہ:

گزشتہ آیت میں یہودیوں کی مخالفانہ اور غیر مربوط باتوں کا ذکر اور علماء کا ایسی باتوں سے نہ روکنے کا تذکرہ تھا۔ اور اس آیت میں ایسی باتوں کا ایک نمونہ بیان کیا گیا ہے کہ یہودی کہتے ہیں۔ “خدا کا ہاتھ بندھا ہوا اب وہ ہمیں اقتدار و قدرت اور شان و شوکت نہیں دے سکتا جیسا کہ ہم سابق میں قدرت مند تھے۔”

شیعی روایات کے مطابق یہ آیت بتا رہی ہے کہ یہودیوں کا قضا و قدر کے بارے میں کیا عقیدہ ہے؟ کیونکہ یہودیوں کے عقیدہ کے مطابق ابتدائے آفرینش میں تو خدا کے ہاتھ کھلے تھے جو چاہتا تھا پیدا کر دیتا تھا۔ اور جب سب کچھ خلق کر لیا اب اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔

آیت میں “ید” (ہاتھ) کا لفظ “قدرت” کے معنی میں ہے۔ عربی میں “ید” فارسی میں “دست‘ (اور اردو میں “ہاتھ”) کنایہ کے طور پر قدرت اور اثر و رسوخ کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً ہم روزمرہ کی باتوں میں کہتے ہیں کہ فلاں شخص کا فلاں علاقہ یا فلاں ادارے میں ہاتھ ہے۔ یا فلاں شخص کے بڑے لمبے ہاتھ ہیں۔ یا فلاں کے ہاتھ کٹ گئے۔ یا فلاں شخص تک ہمارا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا۔ یعنی ہمارے بس سے باہر ہے وغیرہ۔

روایات میں یہ آیا ہے کہ “اولیاء اللہ خدا کے ہاتھ ہیں” یعنی لوگوں کے لئے خدا کی رحمت اور لطف و کرم کا واسطہ اور وسیلہ ہیں۔

پیام:

۔ اپنی عدم لیاقت اور نااہلی کا الزام دوسروں پر نہ لگاؤ۔ (شیطان نے اپنے تکبر کا الزام خدا پر لگایا اور اس کی طرف گمراہ کرنے کی نسبت دی اور کہا: “رب بما اغوتینی”) اور یہودیوں نے بھی اپنی بے لیاقتی اور نااہلی کا الزام خدا پر لگایا اور اس کی توجیہ یوں کی کہ خدا بخیل ہے (یداللہ مغلولہ)

۲۔ دین میں کج فہمی کی اجازت نہیں ہے۔ (علامہ طبا طبائی مرحوم فرماتے ہیں کہ جب فقر و فاقوں کی نوبت آ جاتی یا خدا کو قرض دینے کی آیت نازل ہوئی تو یہودی کہتے کہ: یہ قحط کی صورت اور قرض الحسنہ کی یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں)

۳۔ جیسا کردار ویسی ہی کیفر۔ انہوں نے کہا: (یداللہ مغلولہ) اللہ نے فرمایا، (غلت ایدیھم)

۴۔ دوسروں کے گناہ پر راضی ہونا خود گناہ میں شریک ہونا ہوتا ہے (خدا کی طرف ہاتھ بندھنے کی نسبت بعض یہودی دیتے تھے۔ لیکن چونکہ دوسرے تمام یہودی اس پر راضی تھے لہٰذا اس غلط اور گمراہ کن نظریہ کی نسبت سب کی طرف دی گئی۔ (قالت الیہود)

۵۔ جواب، اعتراض سے زیادہ طاقتور ہونا چاہئے۔ (انہوں نے کہا: خدا کا ہاتھ بندھا ہوا ہے، آیت کہہ رہی ہے خدا کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں۔ یعنی خدا صرف قدرت ہی نہیں رکھتا قدرت کاملہ بھی رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا “یداللہ” آیت نے کہا: “یداہ”)

۶۔ قرآن مجید میں جس جگہ کوئی ایسا نقطہ نظر آئے جس کا بظاہر عقل کے ساتھ سازگار نہیں ہوتا تو اس کی صحیح تفسیر تلاش کرنی چاہئے۔ (خدا کی طرف “ہاتھ” کی نسبت کہ “یداہ مبسوطتان) جبکہ خدا کا جسم ہی نہیں کہ اس کے دو ہاتھ ہوں۔ تو یہاں سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ “ہاتھ” خدا کی قدرت اور طاقت سے کنایہ کے طور پر استعمال ہوئے ہیں)

۷۔ جس طرح قرآن مجید، پرہیزگاروں کے لئے نور اور ہدایت ہے، اسی طرح ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے لئے کفر اور سرکشی کا موجب بن جاتا ہے (ویزیدن۔۔۔ )

۹۔ یہودی ہمیشہ سے فتنہ کی آگ بھڑکاتے آ رہے ہیں لیکن خود ہی اس میں جل جاتے ہیں۔ (کلما اوقدوا۔۔ )

۱۰۔ یہودی بظاہر قیامت تک رہیں گے (الی یوم القیمٰۃ)

۱۱۔ جب تک مسلمان، حضرت رسول پاک کی اتباع کرتے رہے اس وقت تک خدا بھی یہودیوں کے فتنہ و فساد اور جنگ کی آگ کو بجھاتا رہا اور جب سے وہ اس رستے سے ہٹ گئے اور نصرت الٰہی کا سہارا چھوڑ دیا اس وقت سے یہودیوں کے فتنوں کی آگ میں جل رہے ہیں۔

۱۲۔ سزا کے طور پر ان یہودیوں میں کینہ اور دشمنی کا ڈالنا بھی خدا کی طرف سے ہے اور آتش جنگ کا بجھانا بھی اسی کی طرف سے ہے۔ (القینا۔۔۔ اطفا)

 

                آیت نمبر ۶۵ تا ۸۰

 

آیت ۶۵

 

ترجمہ۔ اور لوگ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) ایمان لے آئے اور تقویٰ اختیار کرتے تو یقیناً ہم بھی ان کے گناہ معاف کر دیتے، اور پورے یقین کے ساتھ ہم انہیں نعمتوں بھری بہشت میں لے جاتے۔

پیام:

۱۔ شدید طریقہ پر مذمت کرنے کے ساتھ، واپسی کی راہ بھی کھلی رکھنی چاہئے (ولو ان اھل الکتاب)

۲۔ ایمان اور اسلام لے آنے سے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں (حدیث پاک میں ہے کہ “الاسلام یجب ما قبلہ” یعنی اسلام سابقہ خطاؤں کو معاف کر دیتا ہے اور قرآن مجید کہتا ہے (لفکرنا)

۳۔ تقویٰ گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے (اتقوا لکفرنا)

۴۔ تقویٰ کے بغیر ایمان کارساز نہیں ہوتا (امنوا و اتقوا)

۵۔ خدا کی رحمت اور اس کے لطف و کرم کے حصول کے لئے پہلے پاک صاف ہونا چاہئے (کفرنا، ادخلنا)

۶۔ خدا کے پاس عفو و درگزر کے علاوہ لطف و کرم بھی ہے (ولادخلنا)

 

آیت ۶۶

 

ترجمہ۔ اور اگر وہ (یہودی و نصاریٰ) توریت، انجیل اور اس چیز کو قائم رکھتے جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ہے تو ان کے اوپر سے (آسمانی برکتیں) اور نیچے سے (زمینی برکتیں) ان تک پہنچ جائیں اور وہ) مزے سے کھاتے۔ ان میں سے کچھ تو میانہ رو (اعتدال پسند) ہیں اور بہت سے لوگ برے کام کرتے ہیں۔

نکتہ:

اگر دوسری آسمانی کتابوں کے پیروکار قرآن کے آگے جھک جاتے، اور قرآن کے آگے جھکنے کا مقصد بنی اسرائیل کا عربوں کے آگے گھٹنے ٹیکنا نہ سمجھتے، اور یہ سمجھتے کہ انبیاء کی اصول تعلیمات ایک ہی ہیں اور توریت و انجیل کے بعد نازل ہونے والی کتاب (قرآن) پر ایمان، اوپر کی کلاس تک رسائی ہے نا کہ سابقہ آئین و دستور کا بطلان ہے تو وہ قیامت کے دن آخرت میں بہرہ مندی کے علاوہ اسی دنیا میں بھی انواع و اقسام کی نعمتوں سے مالا مال ہوتے۔

سابقہ آیت میں معنوی اور اخروی سعادت کے حصول میں ایمان کے عمل دخل کو بیان کیا گیا ہے اور اس آیت میں دنیوی سعادت اور اقتصادی آسائشوں کو ذکر کیا گیا ہے۔

پہلی آیت میں یہودیوں کے عقیدہ کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ خدا کے بارے میں کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ بند ہے، اور اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہودیو تم آسمانی کتابوں کی طرف رجوع کرو پھر دیکھو کو خدا کے ہاتھ بندھے ہیں یا کھلے؟ اگر تمہاری عظمت، ذلت میں تبدیل ہو گئی ہے تو یہ تمہارے کفر اور احکام الہٰی سے منہ موڑ لینے کی وجہ سے ہے نا کہ خدا کے بخل کی وجہ سے!

پیام:

۱۔ تمام آسمانی کتابیں قابل احترام ہیں (اقامو اا لتورٰۃ والا نجیل۔۔۔۔۔)

۲۔ دوسروں کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے ان کے صحیح عقائد اور مقدسات پر حملہ نہ کرو۔ (اقاموا التورٰۃ والانجیل۔۔)

۳۔ آسمانی کتابیں، تمام تحریکوں کے لئے راہنما، محور اور آئین کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جس طرح محاذ جنگ پر جھنڈے کی حیثیت ہوتی ہے کہ اسے ہمیشہ کھلا اور سربلند رہنا چاہئے (اقاموا)

۴۔ مذہب کی طرف توجہ اور دینی دستوروں پر عمل مادی زندگی کو بھی سنوارتا ہے (لاکلوا۔۔۔ ) 44

۵۔ اسلام، عوام کے رفاہ اور سہولت کو بھی مد نظر رکھے ہوئے ہے۔ (لاکلوا۔۔۔ )

۶۔ بگڑا ہوا معاشرہ انسان کو بگڑنے پر مجبور نہیں کرتا، بدکاروں کے انبوہ کثیر میں معتدل مزاج لوگ بھی موجود ہوتے ہیں (منھم امۃ معتقدۃ)

۷۔ لوگوں کا ایمان، نظام کائنات، زمین، ابروباراں، زراعت اور باغات وغیرہ میں بڑا عمل دخل رکھتا ہے (تفسیرالمیزان)

۸۔ کبھی بھی ایک اکائی، ایک قوم، ایک علاقہ اور ایک مذہب کے تمام لوگوں کو برا نہ سمجھو، (منھم امۃ مقتصدۃ)

۹۔ کتاب آسمانی کی صرف تلاوت ہی کافی نہیں اس کا قائم کرنا بھی ضروری ہوتا ہے (اقاموا التورٰۃ)

۱۰۔ قرآن کی مخاطب تمام امتیں ہیں صرف مسلمان نہیں ہیں (ما انزل الیھم من ربھم)

 

آیت ۶۷

 

ترجمہ۔ اے رسول! جو کچھ کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ پہنچا دو۔ اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو الٰہی رسالت کو نہیں پہنچایا۔ (ڈرو نہیں) خدا تمہیں لوگوں (اور ان افراد کے شر) سے بچائے گا (جو اس اہم پیغام کو سننا گوارا نہیں کرتے) یقیناً خداوند عالم کافر لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا۔

نکتہ:

تمام شیعہ مفسرین روایات اہل بیت کی رو سے اور فخر رازی اور صاحب تفسیر “النار” جیسے بعض اہلسنت مفسرین کہتے ہیں کہ اس آیت کا تعلق علی بن ابی طالب کی ولایت اور واقعہ غدیر خم سے ہے۔

آیت کا انداز تخاطب اور لب و لہجہ اسے پہلے اور بعد کی آیات سے جدا کر رہا ہے پورے قرآن میں صرف اسی مقام پر پیغمبر کو پیغام نہ پہنچانے پر زبردست تہدید کی گئی ہے کہ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو جو کچھ تم نے ۲۳ سال کے عرصہ میں کاررسالت انجام دیا ہے وہ سب اکارت جائے گی۔

اب یہاں پر دیکھنا یہ چاہئے کہ یہ کیسا اہم پیغام ہے جس کے بارے میں اس قدر تاکید و تہدید سے کام لیا گیا ہے؟

اس آیت میں چند نکات ایسے ہیں جو اس کے مضامین پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں۔

۱۔ سورہ مائدہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں نازل ہوئی۔

۲۔ آیت میں آنجناب کو “یا ایھا النبی” کے ساتھ خطاب کرنے کی بجائے “یا ایھا الرسول” کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسالت کا کوئی اہم پیغام ہے۔

۳۔ “ابلغ” کی بجائے “بلغ” کے ساتھ تبلیغ رسالت کا حکم دیا گیا ہے جو ایک اہم سرکاری اور حتمی پیغام ہونے کی علامت ہے۔

۴۔ آیت شریفہ میں پیغمبر اکرم کو اس اہم پیغام نہ پہنچانے پر اس قدر دھمکی دی گئی ہے کہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا اور لوگوں تک اسے نہ پہنچایا تو ان کی تمام تئیس سالہ دینی خدمات اور رسالت کا کام رائیگاں ہو جائے گا۔

۵۔ رسول گرامی اسلام کو اس پیغام کے پہنچانے پر کوئی خاص اندیشہ درپیش تھا، جس کی بنا پر خداوند عالم ان کی دلجوئی کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ “ہم تمہیں لوگوں کے شر سے محفوظ رکھیں گے”۔

۶۔ سرکار رسالت کو اپنی جان کا خطرہ نہیں تھا، کیونکہ آپ تو اس وقت بھی نہیں ڈرے تھے تنہائیوں کے خلاف برسرپیکار رہے اور مشرکین کے ساتھ کئی لڑائیاں لڑیں حالانکہ اس وقت آپ اکیلے تھے اور خطرات اس سے کہیں زیادہ تھے۔ اس زمانے میں تو آپ کو پتھر مارے جاتے اور اصحاب کو اذیتیں پہنچائیں جاتیں۔ اب جبکہ آپ عمر کے آخری حصے میں ہیں اور اصحاب و احباب کی کثرت ہے کیسے ڈر سکتے ہیں؟

۷۔ آیت میں ایک ایسا پیغام ہے جو اپنی اہمیت کے لحاظ سے نبوت و رسالت کے تمام عرصے کے کار رسالت کے برابر ہے۔

۸۔ اس آیت میں الٰہی تربیت کے تسلسل کا پیغام پنہاں ہے۔ (من ربک)

۹۔ اس پیغام کا مضمون کوئی خاص بنیادی اور اساسی مسئلہ ہونا چاہئے، ورنہ عام جزوی اور انفرادی مسائل میں اس قدر دھمکی یا دلجوئی کی ضرورت نہیں ہوتی۔

۱۰۔ آیت کا پیغام توحید، نبوت اور معاد (قیامت) سے متعلق بھی نہیں ہے، کیونکہ یہ اصول تو بعثت کے پہلے ہی ایام میں مکہ مکرمہ میں بیان کئے جا چکے تھے اور آنحضرت کی عمر کے آخری دنوں میں اس بارے میں اس قدر تاکید کی ضرورت نہیں ہے۔

۱۱۔ آیت کا پیغام، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، خمس، جہاد وغیرہ کے بارے میں بھی نہیں ہے کیونکہ یہ سب کچھ آنحضرت کی ۲۳ سالہ زندگی میں بیان ہو چکے ہیں اور لوگ بھی ان پر عمل درآمد کر چکے ہیں اور ان کے بارے میں کسی قسم کا خدشہ یا اندیشہ بھی پیش نظر نہیں ہے۔

تو پھر اس اہم پیغام کا مضمون اور مقصد کیا ہے جو اس آخری سورت میں آیا ہے؟ بہت سی شیعہ اور سنی روایات ہمیں اس حیرت سے نجات دلاتی ہیں اور ہماری راہنمائی کرتی ہیں۔ روایات بتاتی ہیں کہ اس آیت کا تعلق ۸ ذی الحجہ ۱۰ ہجری سے ہے جو حجۃ الوداع کے سفر میں آنحضرت پر نازل ہوئی ہے۔ اور وہ یوں کہ جب سرکار رسالت آخری حج سے فارغ ہو کر مدینہ واپس تشریف لے جا رہے تھے تو “غدیرخم” کے مقام پر آپ نے حکمِ الہٰی کے تحت تمام لوگوں کو رکنے کا حکم دیا اور سب حاجی صاحبان وہیں پر جمع ہوئے۔

یہ وہ جگہ ہے جس میں پانی بھی تھا اور درخت بھی جو حجاز کی گرمی میں بڑے کارآمد تھے اور یہیں سے ہی اہلِ یمن، عراق، شام، مدینہ اور حبشہ کے حاجیوں کے قافلے ایک دوسرے سے جدا ہوتے۔

مقام غدیر خم میں حضرت رسالت مآب نے مسلمانوں کے جم غفیر میں اونٹوں کے پالانوں کا منبر تیار کرایا اور اس پر تشریف لے جا کر ایک طویل خطبہ ارشاد فرمایا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی خاص اور اہم ترین مسئلہ پیش نظر ہے جس کے لئے طولانی خطبہ ارشاد کیا جا رہا ہے۔ اور وہ بھی ایسی جگہ پر جہاں جھلسا دینے والی گرمی ہو اور زمین آگ اگل رہی ہو۔ لوگ اپنے سروں پر کپڑے ڈالے ہوئے تھے اور عبائیں نیچے بچھائے ہوئے تھے۔ اس خطبہ کا ابتدائی حصہ توحید، نبوت اور معاد پر مشتمل تھا۔ جو نوعیت کے لحاظ سے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ نئی بات وہاں سے شروع ہوئی جب آنحضرت نے اپنے وصال کی خبر دی اور اپنے بارے میں لوگوں کا نظریہ معلوم کرنا چاہا۔ سب نے آپ کی عظمت، شرافت، خدمت اور رسالت کی اعلیٰ درجہ کی گواہی دی۔

جب آپ مطمئن ہو گئے کہ آپ کی آواز چار اطراف تک بخوبی پہنچ رہی ہے، تو اس پر مستقبل کے لئے ایک اہم پیغام ان لوگوں تک پہنچایا۔ اور اطمینان کا یہ حصول مستقبل کی پیش بندی کے لئے تھا تاکہ کل کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہم نے آپ کا پیغام نہیں سنا تھا۔ کیونکہ جب آنحضرت کی وفات کے بعد بنت پیغمبر حضرت فاطمہ زہرا نے ہر ایک کے دروازے پر جا کر یہ کہا: “کیا تم غدیر خم میں موجود نہیں تھے؟ اور تم نے نہیں سنا تھا رسول خدا نے علی کے بارے میں کیا کہا؟ اور کیا علی کا امام اور رہبر کی حیثیت سے تعارف نہیں کرایا؟ ۔۔۔ ” تو وہ لوگ جواب میں کہتے: “ہم غدیر خم میں پیغمبر سے دور بیٹھے ہوئے تھے اور ان کی آواز کو نہیں سنا!”

خدا کی پناہ اس حق پوشی، ڈر، بے وفائی اور بنت پیغمبر سے جھوٹ بولنے سے!!!

بہرحال، تاریخ کے ان حساس ترین لمحوں میں اور اس کیفیت کے ساتھ ارشاد فرمایا: “من کنت مولاہ فعلی مولاہ” یعنی جس کا میں مولا و رہبر ہوں، علی بھی اسی کے مولا و رہبر ہیں۔

پس معلوم ہوا کہ اس اہم پیغام کا موضوع “علی بن ابی طالب کی رہبری، امامت اور خلافت” تھا۔

پیام:

۱۔ خطاب کی نوعیت، ہدف کی نوعیت سے ہم آہنگ ہونی چاہئے۔ چونکہ ہدف، پیغام کی رسالت ہے لہٰذا خطاب بھی (یایھاالرسول) کے ساتھ ہوا ہے۔

۲۔ خدائی احکام اور پیام، سب ایک سطح کے نہیں ہوتے، بعض اوقات ایک جملہ کو ظاہر نہ کرنا، تمام حقائق کے چھپانے کے برابر ہوتا ہے۔

۳۔ دشمن کے نیزوں، تلواروں اور ایذارسانیوں سے زیادہ خطرہ نہیں ہوتا جتنا خطرہ داخلی فتنوں سے ہوتا ہے۔

۴۔ اگر قیادت اور رہبری صحیح نہ ہو مذہب اور امت برباد ہو جاتے ہیں۔

۵۔ یہود و مشرکین سے جنگ کرنا اتنا خطرناک نہیں جتنا حسد کی آفتیں خطرناک ہوتی ہیں۔

۶۔ اسلام کا اصل رکن اسلامی قیادت اور اسلامی حکومت ہے۔ (رسالتہ)

۷۔ اسلامی رہبر کا انتخاب خدا کی طرف سے ہونا چاہئے (ماانزل الیک من ربک)

(ملاحظہ ہو تفسیرالمیزان)

۸۔ ولایت کا انکار ایک طرح کا کفر ہے (ان اللہ لایھدٰی القوم الکافرین)

۹۔ زمان اور مکان دو ایسے عناصر ہیں جو تبلیغ کے لئے اہم ارکان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ “غدیر خم”

۱۰۔ لوگ تو دو گواہوں کے ساتھ اپنا حق حاصل کر لیتے ہیں، لیکن علی بن ابی طالب ہزارہا گواہوں کی موجودگی میں اپنا حق حاصل نہ کر سکے۔ خدا برا کرے دنیا کی محبت اور حسد کا!

 

آیت ۶۸

 

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ اے اہلِ کتاب! جب تک تم تورات، انجیل اور اس چیز کو جو تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ہے قائم نہیں کرو گے (دین برحق کی) کسی چیز پر نہیں ہو گے۔ اور جو قرآن (اے پیغمبر!) تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے بالیقین ان میں سے بہتیروں کی سرکشی اور کفر میں اضافہ کر دے گا، لہٰذا کافر لوگوں پر افسوس نہ کیا کرو۔ 45

پیام:

۱۔ تمام آسمانی کتابوں پر ایمان رکھنا ضروری ہے (یقیموا التورٰۃ والانجیل و ما۔۔۔ )

۲۔ ایمان کا دعویٰ ہی کافی نہیں اسے قائم رکھنا اور اس کے مطابق عملی اقدام بھی ضروری ہوتا ہے (حتی یقیموا) جو عمل نہیں کرتا بے دین ہے (لمنکم علی شیٴ)

۳۔ دینی احکام اور آسمانی کتاب کے قوانین کو محور عمل ہونا چاہئے اور انہی کی مقتدر اعلیٰ ہونا چاہئے۔ (تقیموا، اقاموا)

۴۔ انسان کی شخصیت اور ان کی قدرو قیمت ان کے مذہبی امور کی پاسداری کے مطابق ہوتی ہے۔ (لستم علی شیٴ حتی تقیمون)

۵۔ تبلیغ کا خوبصورت انداز یہ ہے کہ سب سے پہلے دوسروں عقائد حقہ کا احترام کرو پھر انہیں اپنے مذہب کی راہیں دکھاؤ (توریت، انجیل اور قرآن)

۶۔ افراد کا کفر اور ان کی سرکشی نہ تو نظام کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور نہ ہی دین و مذہب کو، بلکہ خود ان کے اپنے لئے نقصان دہ اور مضر ہوتی ہے اور دین و مہذب کا حامی خود خدا ہے، (فلاتاس)

۷ ضدی مزاج اور ہٹ دھرم افراد کے لئے افسوس کرنا جائز نہیں ہے (فلاتاس)

 

آیت ۶۹

 

ترجمہ۔ یقیناً جو لوگ مومن ہیں، یہودی، صابی اور نصرانی ہیں، جو بھی (اپنے زمانے میں) خدا اور قیامت کے دن پر ایمان لے آیا اور نیک کام انجام دیئے ان پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔ 46

نکتہ:

حضرت امام رضا علیہ اسلام کے فرمان کے مطابق “صائبین” ستارہ پرست ہیں۔ (تفسیر اطیب البیان)

آیت کا تعلق ان لوگوں کے ایمان اور عمل صالح سے ہے جو اپنے دور کے دین کے پیروکار تھے اور نئے دین کے آ جانے کے بعد، انہیں چاہئے کہ خدا کی نئی شریعت پر ایمان لے آئیں ورنہ تو ان کے بعد میں آنے والے انبیاء کی بعثت کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔ یہودی، نصرانی اور دوسرے لوگ مسلمانوں کی طرح اسلام پر ایمان لے آئیں اور اعمال صالح بجا لائیں تو ان پر کسی قسم کا خوف اور غم نہیں ہو گا۔

۱۔ قوم پرستی، نسل پرستی اور ہر قسم کا مذہبی تعصب قطعاً ممنوع ہے (من امن باللہ)

۲۔ تمام آسمانی ادیان میں سعادت کا معیار صرف اور صرف “ایمان اور عمل صالح ہے” نہ تو خالی خولی دعوے ہیں اور نہ ہی کسی خاص اسم سے موسوم ہونا۔

۳۔ ایمان اور عمل کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ (امن۔۔۔ وعمل)

۴۔ سکون و اطمینان صرف ایمان اور عمل صالح کے زیرسایہ حاصل ہوتا ہے (فلاخوف۔۔۔ )

 

آیت ۷۰

 

ترجمہ۔ یقیناً ہم نے بنی اسرائیل سے عہد و پیمان لیا اور ان کی طرف رسول بھیجے، جب بھی کوئی پیغمبر ان کے پاس کوئی (پیغام اور) بات لے آیا جو ان کی منشا کے خلاف تھی تو کچھ کو تو انہوں نے جھٹلا دیتے اور کچھ کو قتل کر دیتے۔

نکتہ:

اس آیت میں “میثاق” سے مراد شاید وہی عہد و پیمان ہے جو سورہ بقرہ/۹۳ اور سورہ آل عمران /۸۱ میں گزر چکا ہے۔

لوگوں کی مرضی اور منشاء کے خلاف انبیاء کی دعوت، اولیاء خدا کی تکذیب، لوگوں کی پیمان شکنی اور اولیاء اللہ کی شہادت کا تذکرہ اور وہ بھی ایسی آیات میں جو مقام غدیر خم میں علی علیہ السلام کے منصب امامت و خلافت پر فائز ہونے کے بارے میں نازل ہونے والی آیت کے بعد، کوئی اتفاقی بات نہیں ہے۔ اسی طرح یہ آیت جو پیمان غدیر خم کے بعد کی آیت ہے، اور اس سورت کا آغاز بھی عقود و پیمان کو پورا کرنے ” سے ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر کئی پیام مضمر ہیں۔

پیام:

۱۔ عہد شکنی، پیغمبر کشی ، تکذیب اور ہٹ دھرمی بنی اسرائیل کی خصوصیات رہی ہیں۔

۲۔ انبیاء کرام علیہم اسلام کی تکذیب کا سرچشمہ نفسانی خواہشات ہیں (بما لاتھوی۔۔۔ )

۳۔ بنی اسرائیل میں صرف حضرت موسیٰ ہی نہیں کئی دوسرے انبیاء بھی گزر چکے ہیں (رسلا)

۴۔ بنی اسرائیل کی تاریخ سے واقفیت سے ایک تو ان کے حقائق سے واقفیت ہوتی ہے دوسرے ان کے واقعات سے عبرت حاصل ہوتی ہے تیسرے اس سے مسلمانوں کو خبردار کیا جاتا ہے اور چوتھے سب لوگوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بھی ہے۔

۵۔ تمام انبیاء علیہم اسلام یا تو جھٹلائے گئے ہیں یا پھر انہوں نے جام شہادت نوش کیا ہے (فریق کذبوا وفریقایقتلون)

۶۔ بگڑے ہوئے خراب معاشرے میں یا تو اللہ والوں کی ذات کو قتل کیا جاتا ہے یا پھر ان کی شخصیت کو۔ (قتل۔ تکذیب)

 

آیت ۷۱

 

ترجمہ۔ اور (یہودی چونکہ خود کو برتر اور اولیاء اللہ سمجھتے تھے لہٰذا) انہوں نے یہ گمان کر لیا کہ ان کے لئے کوئی فتنہ اور آزمائش نہیں ہو گی۔ لہٰذا وہ (حقائق کو دیکھنے سے) اندھے اور (حقائق کو سننے سے) بہرے ہو گئے۔ پھر خدا نے اپنا لطف و کرم ان کی طرف پلٹا دیا اور ان کی توبہ قبول کر لی۔ لیکن پھر بھی ان میں سے بہت لوگ (آیات الٰہی کو دیکھنے اور سننے سے) اندھے اور بہرے ہو گئے۔ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔

نکتہ:

بنی اسرائیل سمجھتے تھے کہ خدائی آزمائشات اور قہر و غضب کا تعلق صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے تک تھا۔ اب وہ بات نہیں رہی۔ اس لئے وہ مادی زندگی، آسائش طلبی میں سرگرم ہو گئے اور آیات خداوندی سے اپنا تعلق منقطع کر لیا۔

پیام:

۱۔ کبھی بھی فتنوں (خدا کی آزمائش، اس کے قہر و غضب اور شرک کی آلودگیوں) سے غافل نہیں ہونا چاہئے (وحسبوا الاتکون فتنۃ)

۲۔ غرور، تکبر، خیال گمان، انسان کو اندھا اور بہرہ اور صحیح شناخت سے محروم کر دیتے ہیں۔ (عموا۔۔۔ )

۳۔ کسی کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ وہ امتحان کے بغیر کسی مقام و منصب پر فائز ہو جائے گا۔ (حسبوا الاتکون فتنۃ)

۴۔ خداوند عالم کا لطف و کرم اس حد تک ہے کہ انسان کی عذرخواہی کے بغیر بھی اس کے پاس آ پہنچتا ہے (تاب اللہ)

۵۔ خداوند کریم تو مہربان ہے لیکن انسان ضدی اور ہٹ دھرم ہے (تاب اللہ علیھم ثم عموا)

۶۔ توبہ شکنی بنی اسرائیل کے کرتوتوں میں سے ایک ہے (تاب اللہ علیھم ثم عموا)

۷۔ اگرچہ انسان بعض اوقات اندھا اور بہرہ ہو جاتا ہے لیکن خداوند عالم ہمیں اچھی طرح دیکھ رہا ہوتا ہے، (واللہ بصیر)

 

آیت ۷۲

 

ترجمہ۔ جن لوگوں نے کہا: “حضرت مسیح بن مریم ہی خدا ہیں” یقیناً وہ کافر ہو گئے ہیں (وہ ایسا کیوں کہتے ہیں جبکہ خود) حضرت عیسیٰ نے کہا: اے بنی اسرائیل! اس خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے۔ یقینی بات یہ ہے کہ جو شخص خدا کے ساتھ شرک کرے گا، خدا اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہیں ہے۔

نکتہ:

انجیل مرقس باب ۱۲ آیت ۲۹ میں حضرت عیسیٰ نے لوگوں کو توحیدِ الٰہی کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا ہے: “ہمارا خدا ایک ہی خدا ہے”

انجیل میں باب ۶ آیت ۲۴ میں بھی یوں آیا ہے کہ “مجال ہے کہ انسان کے دو آقا اور دو محبوب ہوں۔ اور وہ خدا کی بھی خدمت کرے اور کسی دوسرے کی بھی!”

پیام:

۱۔ انحراف، کج فکری اور گمراہی کا جواب دو ٹوک انداز میں دینا چاہئے۔ (لقد)

۲۔ غلو، اور خدا کے حصول کا عقیدہ خواہ خدا کے بہترین بندے کے قالب کے بارے میں کیوں نہ ہو، کفر ہے (کفر)

۳۔ جو لوگ حضرت عیسیٰ کو خدا سمجھتے ہیں وہ کافر، مشرک، ظالم اور بہشت سے محروم ہیں۔

۴۔ جو شخص شکم مادر سے باہر آئے وہ کیونکر خدا ہو سکتا ہے؟ (مسیح بن مریم)

۵۔ مدعی سست گواہ چست کا مصداق نہ بنو، خود حضرت عیسیٰ تو خدا کی توحیدپرستی کی دعوت دیں اور تم عیسیٰ کو خدا ماننے لگو (قال المسیح۔۔۔ )

۶۔ مشرک ہرگز بہشت نہیں جائے گا۔ (فقد حرم اللہ۔۔۔ )

۷۔ غیرخدا کی عبادت کا سوچنا بھی مقام انسانیت پر ظلم ہوتا ہے (للظالمین)

۸۔ یہ خیال دل سے نکال دو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جان کا نذرانہ دے کر تمہاری نجات کی ضمانت دے دی ہے۔ ایں خیال است و محال است و جنون، (وما للظالمین من انصار)

 

آیت ۷۳

 

ترجمہ۔ جن لوگوں نے یہ کہا کہ” خدا تین (خداؤں میں) سے تیسرا خدا ہے” وہ یقیناً کافر ہو گئے جبکہ خداوند یکتا کے علاوہ اور کوئی خدا ہے ہی نہیں۔ اور اگر وہ اس بات سے باز نہیں آتے جو کہتے ہیں تو یقیناً دردناک عذاب کافروں کو آ لے گا۔

نکتہ:

گزشتہ آیت میں حضرت عیسیٰ کے قالب میں خداوند یگانہ کے حلول کے گمراہ کن عقیدہ کی نفی کی گئی ہے اور اس آیت میں “تثلیث” کے گمراہ کن عقیدہ کو باطل کیا جا رہا ہے۔ چونکہ دونوں شرک ہیں اور ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جانا چاہئے۔

اور عیسائیوں دانشوروں کی جدید تحقیق کے مطابق “تثلیث” کا عقیدہ علمی لحاظ سے قابلِ اعتبار نہیں ہے۔ (ملاحظہ ہو تفسیرالمیزان)

پیام:

۱۔ اسلام، تمام آسمانی ادیان اعتقادات کی اصلاح کا ذمہ دار ہے۔

۲۔ شرک اور کئی خداؤں (تثلیث) کا ماننا کفر ہے، (لقد کفر۔۔۔ )

۳۔ ایسی یاوہ گوئی کی سزا ملتی ہے جو جان بوجھ کر، دشمنی کی بنا پر اور کوتاہی کی وجہ سے کی جائے۔ (کفروامنھم)

۴۔ عذاب سے پہلے تنبیہ ضروری ہے (وان لم نیتھوا)

۵۔ کفر و شرک کا انجام، عذاب ہے (عذاب الیم)

 

آیت ۷۴

 

ترجمہ۔ آیا وہ خدا کی طرف واپس نہیں لوٹتے اور (اپنی غلطیوں کی)خدا سے معافی نہیں مانگتے؟ جبکہ خداوند عالم بخشنے والا مہربان ہے۔

پیام:

۱۔ غلط اور گمراہ عقیدوں سے توبہ کرنی چاہئے (افلاتیوبوں)

۲۔ گمراہ اور منحرف لوگوں کو خدا کی بخشش اور رحمت کا ذکر کر کے سیدھے راستے کی دعوت دو (واللہ غفور رحیم)

۳۔ کفر اور شرک جیسے گناہ بھی توبہ اور خدا کی توحید پر عقیدہ رکھنے سے بخشے جاتے ہیں۔

۴۔ خدا بخشتا بھی ہے اور اپنی رحمت بھی نازل کرتا ہے (غفور رحیم)

۵۔ عذا ب کے ساتھ ساتھ (جیسا کہ گزشتہ آیت میں ہے) توبہ کرنے والوں کے لئے رحمت کا ذکر بھی ہے۔

 

آیت ۷۵

 

ترجمہ۔ مسیح بن مریم کو رسول کے علاوہ اور کچھ نہیں ہیں۔ ان سے پہلے کئی رسول گزر چکے ہیں اور ان کی ماں بہت سچی تھیں اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ (اے پیغمبر!) آپ دیکھئے کہ ہم اپنی نشانیاں کس طرح بیان کرتے ہیں۔ پھر یہ بھی دیکھئے کہ یہ لوگ (حق سے) کس طرح بھٹکتے پھرتے ہیں۔

نکتہ:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین دلائل کے ذریعہ ثابت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ خدا نہیں ہیں۔

الف: شکم مادر سے باہر آئے ہیں اور مریم کے بیٹے ہیں۔

ب: ا ن کی طرح کے اور پیغمبر بھی گزر چکے ہیں وہ کوئی اکیلے پیغمبر نہیں ہیں۔

ج: انہیں بھی دوسرے لوگوں کی طرح کھانے اور زندگی کی ضروریات کی دوسری چیزوں کی ضرورت رہتی ہے اور اپنے زور بازو سے لقمہ نان حاصل کرتے ہیں اور کسی طرح کی قدرت کاملہ کے مالک نہیں ہیں کہ خدا ہوتے، جسے کھانے کی ضرورت ہوتی ہے وہ غذا کا خالق نہیں بن سکتا۔ یہ قرآن کا واضح اور عمومی بیان ہے۔

پیام:

۱۔ (معجزہ جیسی) بعض خصوصیات یا مستثنیات کا حامل ہونا کسی کے خدا ہونے کی دلیل نہیں ہوتا۔ دوسرے انبیاء بھی معجزے پیش کیا کرتے تھے یا آدم علیہ السلام بھی بغیر ماں اور باپ کے پیدا ہوئے تھے (قد خلت میں قبلہ الرسل)

۲۔ حضرت مریم “ولیتہ اللہ” ہیں۔ قرآن، عورت کی تعظیم کرتا ہے اور حضرت مریم کو “صدیقہ” کہتا ہے۔ ایک اور آیت میں ہے کہ حضرت مریم، کلمات اللہ کی تصدیق کرتی تھیں اور عبادت گزاروں میں سے تھیں۔ (صدقت بکلمات ربھا و کتبہ و کانت من القانئین،) سورہ تحریم/۱۲۔

۳۔ موت، تمام انبیاء کے لئے حتمی ہے۔ (قد خلت)

۴۔ خدا کا نہ جسم ہے نہ کسی سے پیدا ہوا ہے، نہ کسی کا محتاج ہے نہ کسی مکان میں ہے، جبکہ حضرت عیسٰی ان سب چیزوں کے حامل ہیں، کہاں ضرورت مند ہونا اور احتیاج رکھنا اور کہاں خدا ہونا؟

۵۔ اگر عناد اور دشمنی ہی اصل بنیاد ہو تو واضح سے واضح اور روشن سے روشن دلائل بھی بیکار ہوتے ہیں (کیف نبین۔۔۔ انی یوٴفکون)

 

آیت ۷۶

 

ترجمہ۔ (اے پیغمبر! لوگوں سے) کہہ دو کہ آیا خدا کے علاوہ ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہو جو نہ تو کسی نفع کی مالک ہیں اور نہ ہی نقصان کی؟ اور خداوند عالم ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔

پیام:

۱۔ کسی کی عبادت اور پرستش کا محور، ضروریات کا پورا کرنا، منفعت کا حصول اور مضرات کا دور کرنا ہے۔ اور غیراللہ تو تمہاری کوئی بھی ضرورت پوری نہیں کرتے۔ (اتعبدون۔۔۔ )

۲۔ مضرات کا دور کرنا، منفعت کے حصول پر مقدم ہوتا ہے (ضرا و الانفعا)

۳۔ مشرک کی راہوں کے باطل ہونے کے لئے اپنے ضمیر اور اپنی عقل کی طرف رجوع کرو! (اتعبدون)

۴۔ خدا کے علاوہ تمہارے دوسرے معبود تو تمہاری باتوں کے سننے اور ضروریات کو سمجھنے سے بھی عاجز ہیں تو انہیں پورا کیسے کر سکتے ہیں؟ جبکہ خداوند عالم سننے والا اور جاننے والا ہے۔ (السمیع العلیم)

 

آیت ۷۷

 

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ اے اہلِ کتاب! اپنے دین میں (ناحق) غلو (حد سے تجاوز) نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو اس سے پہلے خود بھی گمراہ ہو چکے ہیں اور بہتیروں کو گمراہ بھی کر چکے ہیں اور (اب بھی) حق کی راہ سے منحرف ہو چکے ہیں۔

نکتہ:

اس آیت سے یہ بات سمجھتی جا سکتی ہے کہ حضرت عیسیٰ کو خدا جاننے کا عقیدہ ایک طرح کا غلو ہے جو سابقہ امتوں کے مشرکانہ افکار سے اخذ کیا گیا ہے۔ سورہ برأت کی ۳۰ویں آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کا غلو، کفار کے ان عقائد سے ملتا جلتا ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔

پیام:

۱۔ تمام ادیان کی نظریاتی سرحدوں کو محفوظ رہنا چاہئے اور شخصیتوں کے بارے میں غلو ممنوع اور ناجائز ہے (لاتغلوا)

۲۔ رہبر، دین و مذہب اور ملت کی تصویر ہوتا ہے لہٰذا اس کے بارے میں غلو کرنا دین میں غلو کے مترادف ہوتا ہے (گزشتہ آیات کے پیش نظر جن میں بتایا گیا ہے کہ عیسائی حضرت مسیح کو خدا جانتے ہیں)

۳۔ افراط اور تفریط دونوں ممنوع ہیں (لاتغلوا)

۴۔ اگر خدا کے دین اور اولیاء اللہ کے بارے میں غلو ممنوع ہے تو دوسرے لوگوں کے بارے میں مبالغہ آرائی بھی جائز نہیں ہے۔

۵۔ اندھی تقلید ممنوع ہے (ولاتتبعوا)

۶۔ غلو کا سرچشمہ، نفسانی خواہشات ہیں (لاتغلوا۔۔۔ لاتتبعوا اھواء۔۔۔ )

۷۔ غلو صرف حضرت عیسیٰ ہی بارے میں نہیں تھا، بعض یہودیوں نے بھی حضرت “عزیر” کے بارے میں غلو کیا اور انہیں خدا کا بیٹا جانا (یٰاھل الکتٰب)

۸۔ قدیمی اور پرانے علم و ہنر کی قدروقیمت ہے، لیکن نفسانی خواہشات پر مبنی پرانے لوگوں کے نظریات اور عقائد کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے (ضلوامن قبل)

 

آیت ۷۸

 

ترجمہ۔ جو لوگ بنی اسرائیل سے کافر ہو گئے ان پر حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی ہے (انبیاء کی یہ نفرین اور لعنت) ان لوگوں کے گناہوں اور حد سے تجاوز کرنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

نکتہ:

حضرت داؤد علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اس لئے لعنت کی کہ ان لوگوں نے ہفتہ کے دن تعطیل کے دوران احکام خداوندی کی خلاف ورزی کی۔ اور حضرت عیسیٰ نے اس لئے ان پر لعنت کی کہ ان لوگوں نے اپنے اطمینان قلب کی خاطر آسمانی مائدہ کی درخواست کی اور حضرت عیسیٰ کی دعا کی وجہ سے وہ زمین پر اترا انہوں نے اس سے کھایا بھی لیکن پھر کفر اختیار کر لیا جس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان پر لعنت بھیجی۔ (تفسیر نمونہ)

پیام:

۱۔ بنی اسرائیل اونچی اور برتر نسل سے نہیں ہیں (لعن)

۲۔ انبیاء کی دعا قبول ہوتی ہے (علی لسان)

۳۔ انبیاء ہمیشہ شفیع ہی نہیں ہوتے، کبھی لعنت بھی بھیجا کرتے ہیں۔

۴۔ گناہ اور حد سے تجاوز اللہ کی لعنت کا سبب ہوتے ہیں (بماعصوا)

۵۔ حد سے تجاوز اور قانون شکنی بنی اسرائیل کا شیوہ تھا (کانوایعتدون)

۶۔ اے میرے محبوب پیغمبر! آپ نہ گھبرائیں، بنی اسرائیل نے بھی گزشتہ انبیاء کے دل خون سے بھر دیئے تھے۔

 

آیت ۷۹

 

ترجمہ۔ (حضرت داؤد اور جناب عیسیٰ کی بنی اسرائیل پر لعنت اس لئے تھی ان لوگوں نے گناہ اور حد سے تجاوز کیا تھا اور) وہ جو بھی برا کام کرتے تھے اس سے ایک دوسرے کو نہیں روکتے تھے، اور کس قدر برا کام تھا جو وہ انجام دیتے تھے۔

نکتہ:

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں۔ “بنی اسرائیل کے نیک لوگ گناہ کی محفلوں میں شریک نہیں ہوا کرتے تھے لیکن مجرموں اور گناہگاروں کے ساتھ ہنستے مسکراتے اور ان سے انس و محبت کرتے تھے” (اس لئے عذاب میں مبتلا ہوئے)

(ملاحظہ ہو تفسیر نورالثقلین)

پیام:

۱۔ جو معاشرتی برائیوں کے بارے میں لاتعلق رہے وہ انبیاء کی زبانی ملعون ہے، (لعن۔۔۔ لایتناھون)

۲۔ نہی عن المنکر صرف دین اسلام سے مخصوص نہیں (کانوالاتینا ھون)

۳۔ نہی عن المنکر ہر ایک کے لئے برابر کا فریضہ ہے (لایتناھون)

۴۔ بنی اسرائیل اور یہودیوں میں برائیاں پھیل چکی تھیں (منکر فعلوہ)

 

آیت ۸۰

 

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) ان (بنی اسرائیل) میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھو گے جو (مومنین کی بجائے) کفار سے محبت کرتے ہیں، انہیں دوست بناتے ہیں اور اپنا سرپرست سمجھتے ہیں۔ کس قدر بری چیز کو ان کا نفس (قیامت کے لئے) آگے بھیجتا ہے کہ خدا کی ناراضگی ان پر حاکم ہے اور وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔

نکتہ:

اس آیت میں بنی اسرائیل کے ملعون ہونے کی ایک اور دلیل پیش کی گئی ہے کہ یہ لوگ کفار کے ساتھ دوستی اور ولایت کی پینگیں بڑھائے ہوئے ہیں۔

پیام:

۱۔ کفار کی ولایت کو اپنانا، خدا کے غیض و غضب اور ناراضگی کا موجب ہے۔

۲۔ اہلِ کتاب، کفار کے تسلط اور دوستی کو تو قبول کر لیتے ہیں لیکن اسلام کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ رکھنا گوارہ نہیں کرتے۔ (انہوں نے ایک مرتبہ تو یہ تک بھی کہہ دیا کہ “ھٰوٴلاء اھدیٰ من الذین امنوا” یعنی مشرکین کا راستہ تو مسلمانوں سے بہتر ہے) ملاحظہ ہو تفسیر مجمع البیان

 

                آیت نمبر ۸۱ تا ۱۰۵

 

آیت ۸۱

 

ترجمہ۔ اور اگر وہ خدا، پیغمبر اور جو کچھ پیغمبر کی طرف نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان لے آئے تو پھر ہرگز کافروں کو اپنا سرپرست اور دوست نہ بناتے۔ لیکن ان میں سے بہت سے لوگ فاسق ہیں۔

نکتہ:

اس آیت کے کئی مصداق ہو سکتے ہیں۔

الف۔ اگر یہودی، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی کتاب تورات پر حقیقی معنوں میں ایمان لے آتے تو مشرکین کو ہرگز اپنا ولی قرار نہ دیتے۔ (تفسیر آلوسی)

ب۔ اگر کفار اور مشرکین مسلمان ہو جاتے تو یہودی ان کے ساتھ تعاون اور ہم کاری نہ کرتے۔ (تفسیر المیزان)

ج۔ اگر اہل کتاب یا منافقین یا خود مسلمان صحیح معنوں میں خدا اور سول پر ایمان رکھتے تو کفار کو اپنا ولی نہ بتاتے۔

پیام:

۱۔ اہلِ کتاب کا ایمان لانا اس قدر بعید ہے کہ اس بارے میں صرف آرزو ہی کی جا سکتی ہے۔ (ولو)

۲۔ ہر وہ مشرک، منافق یا اہل کتاب جو دل کی گہرائیوں سے خدا اور رسول پر ایمان لے آئے کبھی اس بات کے لئے حاضر نہیں ہوتا کہ غیراللہ کی ولایت کا چولا اپنے گلے میں ڈالے۔

۳۔ ایمان اور کفار کی ولایت کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں، سازشی عناصر جو کفار کے تسلط اور غلبہ کو قبول کئے ہوتے ہیں بے دین اور فاسق ہیں۔

۴۔ فسق، ایمان سے مانع ہوتا ہے (لوکانوا یوٴمنون۔۔۔ ولکن۔۔۔ فاسقون)

۵ فسق اور بے ایمانی کفار کا تسلط قبول کرنے کا موجب ہیں۔

۶۔ مختلف قسم کے گمراہ لوگوں کے درمیان تعلقات کا اہم سبب ان کا کفر ہے، ان میں سے جو بھی اس حدود سے نکلے گا، دوسرے اسے فوراً چھوڑ دیں گے۔

۷۔ جو مدار حق سے نکل جائے گا، طاغوتوں اور کافروں کی گرفت میں چلا جائے گا۔ (فسق کے معنی کو پیش نظر رکھتے ہوئے)

 

آیت ۸۲

 

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) تم یقیناً مومنین کا سر سخت ترین دشمن یہودیوں اور مشرکین کو پاؤ گے، اور (اس کے برعکس) مومنین کے ساتھ دوستی کے لحاظ سے ان سب میں سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ (دوستی) اس وجہ سے ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ عالم اور راہب (عابد) ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔

نکتہ:

اس آیت کے شان نزول کے باے میں مفسرین کہتے ہیں کہ: یہ آیت نجاشی بادشاہ حبشہ اور اس ملک کے دوسرے عیسائیوں کا وہ حسن سلوک ہے جو انہوں نے “ہجرت حبشہ” کے مہاجرین کے ساتھ روا رکھا۔ اور یہ ہجرت بعثت کے پانچویں سال حضرت جعفر طیار (ابن ابی طالب) کی سرکردگی میں عمل آئی۔ چنانچہ بعثت میں کچھ مسلمان حضرت جعفر طیار کی قیادت میں رسول پاک کے حکم سے مکہ سے ہجرت کر کے حبشہ پہنچے اور وہاں کے بادشاہ نجاشی نے پناہ دی اور وہ مشرکین اور ان کے دوسرے ہم پیمان لوگوں کی ایذارسانیوں سے محفوظ رہے۔

یہودیوں کی کیفیت تو یہ تھی کہ انہوں نے پیغمبر اسلام کے اس قدر عظیم معجزے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اخلاق کو بھی ملاحظہ کیا لیکن پھر بھی ایمان نہ لائے، بلکہ مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے کئی طرح کی عہد شکنی کی اور فتنہ و فساد کی آگ بھڑکاتے رہے۔ جبکہ اس کے برعکس حبشہ کے نصرانی علماء نے سورہ مریم کی چند آیات کو سن کر گریہ بھی کیا اور مسلمانوں کی حمایت بھی کی (تفسیر مجمع البیان)

“قسیس” عربی میں نصرانی علماء کو کہتے ہیں۔

پیام:

۱۔ دشمنانِ اسلام اور غیرمسلمین کی درجہ بندی ہونی چاہئے۔ اور ہر ایک کے ساتھ اس کے درجہ کے مطابق سلوک ہونا چاہئے۔

۲۔ تمہاری تبلیغ کا زیادہ تر رخ عیسائی حکومتوں کی طرف ہونا چاہئے۔

۳۔ عیسائی اگرچہ تثلیث جیسے گمراہ عقیدہ کے حامل ہیں لیکن ان کی قبولیت حق کے لئے آمادگی زیادہ ہوتی ہے۔

۴۔ کسی معاشرے کی ترقی کے تین بنیادی ستون ہیں۔ ۱۔ علما اور دانشمند افراد (قسیس) عبادت اور پرہیزگاری (رہبان) اور غیر متکبرانہ مزاج۔

۵۔ مسلمانوں کے ساتھ یہودیوں کی پرانی دشمنی چلی آ رہی ہے۔

۶۔ یہودی، اسلام کے سخت ترین دشمن ہیں۔

 

آیت ۸۳

 

ترجمہ۔ اور جب وہ (عیسائی) ان آیات کو سنتے ہیں جو پیغمبر پر نازل ہوئی ہیں تو تم ان کی آنکھوں کو دیکھو گے کہ امر حق کے پہچاننے کی وجہ سے آنسو اس زور سے بہتے ہیں جیسے گویا جام چھلک رہا ہو۔ اور کہتے ہیں کہ: اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان لا چکے۔ پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ دے۔

نکتہ:

مسیحیوں کے اشک شوق کا ایک نمونہ تو اس وقت دیکھنے میں آیا جب جناب جعفر طیار نے حبشہ میں نجاشی کے سامنے سورہ مریم کی کچھ آیات کی تلاوت کی۔ اور دوسرا اس وقت جب کچھ عیسائی حضرت جعفر طیار کے ہمراہ مدینہ آئے اور سورہ یٰس کی کچھ آیات کو سنا۔ (تفسیر نمونہ)

پیام:

۱۔ جن لوگوں کے دل حق بات قبول کرنے کے لئے آمادہ ہوتے ہیں تو وہ صرف حق بات سن کر ہی منقلب ہو جاتے ہیں۔ لیکن جو نااہل ہوتے ہیں وہ آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے)(اذاسمعوا)

۲۔ اشک شوق اگر معرفت کے ساتھ ہوں تو یہ کمال کی علامت ہوتے ہیں (مماعرفوا)

۳۔ انسان کی روح اور فطرت، حق و حقیقت کی شیدائی ہوتی ہیں جب بھی انہیں اپنے معشوق کا وصال ہوتا ہے فوراً اشک شوق جام چشم سے چھلک اٹھتے ہیں۔

۴۔ ایمان اور اقرار، معرفت کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ (مماعرفوا)

۵۔ سو سالہ راہ کو ایک ہی مرتبہ طے کرنا قابل قدر ہے۔ “سننا” (سموا)۔ “پہچان لینا” (عرفوا) “اقرار کر لینا” (آمنا) اور “آملنا” (مع الشٰھدین)

۶۔ ایمان اور اقرار کے ساتھ ہی دعا موثر ہوتی ہے (آمنا فاکثینا)

۷۔ عارضی اور وقتی ایمان بے سود ہے، پائیدار اور دائمی ہونا چاہئے (فاکتبنا)

۸۔ اہل ایمان آخری دم تک اپنی عاقبت بخیر ہونے اور ایمان کے محفوظ رہنے کے بارے میں ہر وقت متفکر رہیں اور دعا کرتے رہیں۔ (فاکتبنا)

 

آیات ۸۴ تا ۸۶

ترجمہ۔ اور (کہتے ہیں کہ) ہمیں کیا ہو گیا ہے کہ ہم خدا پر اور (ہر) اس حق پر ایمان نہ لائیں جو (اس کی طرف سے) ہمارے پاس آ چکا ہے اور اس بات کی امید رکھیں کہ ہمارا پروردگار ہمیں نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) پہنچا دے گا۔

پسند خداوند عالم نے انہیں اس بات (اور گواہی) کے صلہ میں ایسے باغات عطا فرمائے کہ جن (کے درختوں) کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ کے لئے رہیں گے۔ اور نیکی کرنے والوں کی یہی جزا ہے۔

اور جو لوگ کافر ہو گئے ہیں اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا ہے، وہ جہنمی ہیں۔

نکتہ:

جو لوگ حق بات سمجھ لینے کے بعد مردانہ وار اور صدق دل سے فراخدلی کے ساتھ اس کا اعتراف کر لیتے ہیں اور اپنے دین و ہم مسلک لوگوں کی پروا نہیں کرتے، وہ بہترین اور نیک لوگ ہیں۔ اس لئے کہ ایک تو وہ خود اپنے ساتھ نیکی کرتے ہیں اور اس طرح کہ اپنے آپ کو جہنم سے نجات دلاتے ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ اپنے اقرار کے ساتھ دوسروں کے لئے نیکی کی راہ ہموار کرتے ہیں۔

پیام:

۱۔ ارتقائی مراحل میں سے ایک مرحلہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے ضمیر کی طرف لوٹ آئے اور اپنے ضمیر سے سوال کرے۔ (ومالنا۔۔۔ ) 47

۲۔ خارجی اثرات اور اعمال کے ذریعہ ہی بہشت کی توقع رکھی جا سکتی ہے (دامن القسومن)

۳۔ صرف مسلمان قوم ہی، صالح اور شائستہ قوم ہے (مع القوم الصٰلحین)

۴۔ خدا پر ایمان، وحی پر ایمان سے ہٹ کر نہیں ہے (باللہ وما جائنا)

۵۔ ایمان کی جزا بہشت اور کفر و تکذیب کی سزا جہنم ہے۔

 

آیت ۸۷

 

ترجمہ۔ اے ایماندارو! پاک و پاکیزہ چیزوں کو جو خدا نے تمہارے لئے حلال کی ہیں اپنے اوپر حرام نہ کرو، اور حد سے آگے نہ بڑھو، یقیناً خدا حد سے آگے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

نکتہ:

ایک دن سرکار ختمی مرتبت نے روز قیامت اور عرصہ محشر کے بارے میں خطبہ ارشاد فرمایا جس کا لوگوں پر زبردست اثر ہوا اور بہت گریہ کاری ہوا اوران میں انقلاب برپا ہو گیا ان میں سے کچھ لوگوں نے تہیہ کر لیا کہ اب کے بعد نہ تو وہ اچھا کھانا کھائیں گے، نہ ہی آرام و راحت کریں گے روزے رکھیں گے، اپنی بیویوں سے جدا رہیں گے، رات کو کم سے کم سوئیں گے۔ اور پھر اس پر انہوں نے قسم بھی کھا لی۔

اس بات کی اطلاع سرکار رسالت کی بارگاہ تک پہنچی تو آپ نے لوگوں کو مسجد میں اکٹھا ہونے کا حکم دیا۔ جب سب جمع ہو گئے تو آپ نے ارشاد فرمایا: “میں کھانا کھاتا ہوں رات کو سویا کرتا ہوں، اپنی بیویوں سے الگ تھلگ نہیں رہتا، ہمارا دین گوشہ نشینی اور رہبانیت کا دین نہیں ہے، میری امت کی رہبانیت جہاد ہے، لہٰذا جو شخص میری سنت کے خلاف کرے گا، وہ مجھ سے نہیں ہے”

کچھ لوگوں نے عرض کیا: ہم نے جو قسمیں کھا رکھی ہیں ان کا کیا بنے گا؟” اس پر بعد کی آیات نازل ہوئیں۔

پیام:

۔ اسلام دین و آئین فطرت ہے اور فطرت کشی حرام ہے (لاتحرموا طیبتا)

۔ گوشہ نشینی، رہبانیت (سادھوازم) افراط اور تفریط ممنوع ہے۔ (لاتحزوا)

مسلمان تو امر الٰہی کا فرمانبردار ہے از خود حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہیں کرتا۔

۔ حلال خوراک، حلال پوشاک اور حلال لذات انسان کے لئے ہی پیدا کی گئی ہیں (حکم)

۔ حلال چیزوں سے استفادہ کرنے میں اسراف سے کام نہ لو (لاتعتداوا)

۶۔ جو نذر، عہد اور قسم قرآن کی صریح نہی کے خلاف ہو اس کا کوئی اعتبار اور قدر و قیمت نہیں ہے۔

 

آیت ۸۸

 

ترجمہ۔ اور جو پاک و پاکیزہ روزی اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہے اس سے کھاؤ اور اس خدا سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔

نکتہ:

قرآن مجید میں عام طور پر جہاں بھی “کلوا” کا لفظ آیا ہے اس کے ساتھ دوسری شرائط اور احکام بھی موجود ہیں۔ مثلاً

کلوا۔۔۔ واشکروا (کھاؤ۔۔۔ اور (خدا کا) شکرو کرو)

کلوا۔۔۔ ولاتطفعوا (کھاؤ۔۔۔ اور سرکشی نہ کرو)

کلوا۔۔۔ واعملوا (کھاؤ۔۔۔ اور نیک کام کرو)

کلوا۔۔۔ واطعموا (کھاؤ۔۔۔ اور دوسروں کو کھلا ؤ)

کلوا۔۔۔ ولاتتبعوا خطوات الشیطان۔ (کھاؤ۔۔۔ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو)

حدیث پاک میں ہے کہ: “اللہ تعالیٰ ٰنے لوگوں کا پاک و پاکیزہ رزق معین کیا ہے، جب وہ حرام کی طرف رخ کرتے ہیں تو ان کے حلال رزق کا حصہ کم ہو جاتا ہے (از تفسیراطیب البیان)

پیام:

۔ حلال چیزوں سے استفادہ، تمہارے ایمان کے منافی نہیں ہے (یایھا الذین امنوا۔۔۔ کلوا۔ )

۔ غذائی مسائل میں خوب غور و فکر سے کام لو (حلالا، طیبا، واتوا)

۔ تمہارا رزق خدا کے ہاتھ میں ہے لہٰذا جلدبازی، حرص اور حرام خواری سے دور رہو۔ (رزقکم اللہ)

۔ تقوا ایمان کی علامت ہے (واتقوا اللہ الذی انتم بہ موٴمنون)

 

آیت ۸۹

 

ترجمہ۔ اللہ تعالیٰ تم سے تمہاری بے ہودہ (اور بغیر ارادہ کے کھائی جانے والی) قسموں کا مواخذہ نہیں کرے گا، لیکن جو قسمیں تم نے (تہہ دل سے) پختہ کر کے کھائی ہیں ان کا موٴاخذہ (ضرور) کرے گا۔ پس اس (قسم توڑنے) کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہو اس کا اوسط قسم کا کھانا ہے یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنانا ہے یا ایک غلام کا آزاد کرنا ہے۔ پس جو شخص ایسا نہیں کر سکتا تو تین دن کے روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب بھی تم قسم کھاؤ۔ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو (اور ان کا کفارہ ادا کرو) اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اپنی آیات کو بیان کرتا ہے تاکہ تم شکر کرو۔

نکتہ:

بے ہودہ قسمیں وہ ہوتی ہیں جو:

قصد اور توجہ کے بغیر

بے مقصد

غصے اور طیش کی حالت میں

غلط مقاصد کے لئے

خلاف شرع کاموں کے لئے۔۔۔ کھائی جائیں۔ اس قسم کی قسموں کا کفارہ نہیں ہوتا۔ لیکن قصد اور ارادے کے تحت اور مفید کاموں کے لئے کھائی جانے والی قسموں کی پابندی ضروری ہوتی ہے ورنہ کفارہ کی ادائیگی ضروری ہو جاتی ہے۔

قسم کے کفارہ کے بارے میں بیان ہونے والی ایک قسم مسکینوں کو کپڑے پہنانا بھی ہے، جو ہر قسم کی پوشاک خواہ وہ سردی کے لئے ہو یا گرمی کے لئے مردوں کے لئے ہو یا عورتوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

“اوسط” (متوسط اور درمیانہ قسم) کے لفظ کی بعض لوگوں نے بہترین اور عمدہ قسم کی غذا کے معنی کے ساتھ تفسیر کی ہے۔ جیسا کہ سورہ نٓ و القلم کی ایک آیت ہے کہ “قال۔ اوسطھم” یعنی ان کے بہترین اور بالا ترین شخص نے کہا۔

پیام

۱۔ اسلام ایک آسان دین ہے اور غیر حتمی قسم کی قسموں کے لئے کفارہ مقرر نہیں کیا۔ (لایوٴاخذکم۔۔۔ )

۲۔ اسلام میں مالی جرمانہ بھی ہے (اطعام۔۔۔ اوکسوتھم۔۔۔ )

۳۔ اعتدال پسندی اور عدالت کی ہر جگہ حتیٰ کہ جرمانے کی نوعیت میں بھی اپنی قدر و قیمت ہے (من اوسط۔ )

۴۔ جرمانہ، افراد کی مالی حالت کے مطابق ہونا چاہئے۔ (تطعمون اھلیکم)

۵۔ جرمانے اور کفارہ میں افرا دکی روزمرہ اور معمول کی متوسط زندگی کو پیش نظر رکھنا چاہئے نا کہ استثنائی ایام کی زندگی کو (من اوسط)

۶۔ کفارہ کی ادائیگی میں فقراء کی شخصیت اور ان کے دلوں کو نہ توڑو اور انہیں اپنے خاندان کے افراد سمجھو۔ (اھلیکم)

۷۔ ایک عالمی اور پائیدار دین کے قوانین اور سزاؤں کے جرمانوں میں بھی وسعت ہونی چاہئے۔ مثلاً غلام کا آزاد کرنا یا غریبوں کو کھانا کھلانا یا انہیں کپڑے پہنانا۔ ان میں سے جو بھی اور جس کے لئے بھی اور جہاں پر بھی قابل عمل ہو اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

۸۔ مجرم پر جرمانے کی راہیں تنگ نہ کرو اور اسے جرمانہ کی نوعیت (خوراک، لباس یا غلام کی آزادی) میں اختیار دو۔

۹۔ اپنی قسم توڑنے کی جرأت کی تلافی روزے کی سختی یا جرمانہ کی ادائیگی سے کرو۔ اسلام میں جرمانہ کی ادائیگی اور کفارہ انسان سازی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

۱۰۔ اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لئے ہر فرصت سے استفادہ کیا ہے (تحریر رقبۃ)

۱۱۔ قسم اور خدا کے مقدس نام کی حرمت کا خاص خیال رکھو یا تو قسم نہ کھاؤ، اگر قسم کھاؤ تو پھر اس پر عمل کرو یا پھر کفارہ ادا کر کے اس کی تلافی کرو (واحفظوا ایمانکم)

۱۲۔ ہم اپنی قسموں کے جوابدہ ہیں، سرمایہ دار یہ نہ سمجھیں کہ انہیں حق حاصل ہے جب چاہیں قسم کھا لیں اور جرمانہ ادا کر دیں۔ (واحفظوا ایمانکم)

۱۳۔ جس شخص میں مالی توانائی نہیں ہے وہ جسمانی توانائی کو خرچ کرے (فصیام ثلثۃ ایام)

 

آیت ۹۰

 

ترجمہ۔ اے ایماندارو! شراب، جوا، بت اور قرعہ کے تیر تو پلیدی اور شیطانی کاموں میں سے ہیں لہٰذا تم ان سے اجتناب کرو ہو سکتا ہے کہ تم فلاح پا جاؤ۔

نکتہ

عربوں کو شعر، شراب اور جنگ سے خاصی وابستگی تھی اور شراب کی حرمت کا حکم بتدریج نازل ہوا۔

پہلے تو یہ آیت نازل ہوئی کہ خرما اور انگور سے رزق و روزی بھی حاصل ہوتی ہے اور مست کرنے والی چیزیں بھی ہیں (نحل/۶۷) یہ اشارہ مست کرنے کی طرف جو اس کی برائی کو بیان کر رہا ہے۔ پھر جوا اور شراب کے فوائد اور فوائد سے زیادہ گناہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے (بقرہ/۲۱۹) پھر آیت نازل ہوئی کہ مستی کی حالت میں نماز نہ پڑھو (نسأ/۴۳) اور آخر میں زیر نظر آیت نازل ہوئی جس نے شراب کو نجاست، شیطانی کام اور حرام قرار دے دیا۔

“خَمر” اور “خُمر” کا ایک ہی رشتہ ہے۔ جن کا معنی ہے “چھپانا” اسی لئے عورت کے مقنعہ کو “خِمار” کہتے ہیں کیونکہ وہ سر کے بالوں کو چھپاتا ہے۔ اور شراب عقل پر پردے ڈال دیتی ہے۔

“مَیسر” کو “یُسر” (آسانی) کے لفظ سے لیا گیا ہے۔ چونکہ جوا بازی میں لوگ کسی قسم کی تکلیف اور زحمت اٹھائے بغیر جوا کے ذریعہ رقوم اور پیسے کو حاصل کرتے ہیں۔

“ازلام” زمانہ جاہلیت میں لکڑیوں کے ذریعہ قرعہ اندازی کی ایک قسم ہے جس کا ذکر پہلے بھی ہو چکا ہے (مائدہ/۳) مزید تفصیل کے لئے مفصل تفاسیر کا مطالعہ کیا جائے)

پیام

۱۔ ایمان اور شر اب خوری باہم سازگار نہیں ہیں (امنوا۔۔۔ رجس فاجتنوبہ)

۲۔ شراب اور جوا، بت پرستی کے مترادف ہیں (الخمر و المیسر و الانصاب) 48

۳۔ اسلام کے اوامر و نواہی دلیل اور حکمت کے بغیر نہیں ہیں (رجس فاجتنوبہ)

۴۔ نہ صرف شراب نہ پیو بلکہ اس کے نزدیک بھی نہ پھٹکو۔ (اسی لئے “لاتشربوا” کی بجائے “اجنبوا” کہا ہے) 49

۵۔ صاف ستھری اور پاک و پاکیزہ غذا انسان کی سعادت کے لئے موثر ہے (فاجتنبوہ لعلکم تفلحون)

 

آیت ۹۱

 

ترجمہ۔ شیطان تو بس چاہتا ہی یہی ہے کہ شراب اور جوا کے ذریعہ تمہارے درمیان دشمنی اور کینہ ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد اور نماز سے روک دے۔ تو کیا تم (ان تمام برائیوں کی وجہ سے) باز آ جاؤ گے؟

نکتہ

اعداد و شمار کی رو سے بہت سے قتل، جرائم، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں گاڑیوں کا ٹکرا جانا، طلاقیں، ذہنی اور اندرونی بیماریاں وغیرہ شراب کی وجہ سے رونما ہوتی ہیں لیکن قرآن مجید نے اس کی حرمت کے فلسفہ کی دو بنیادی وجوہات پیش کی ہیں۔ ایک تو اجتماعی اور معاشرتی نقصان اور دوسرا معنوی نقصان (مثلاً عداوت اور نماز، یاد خدا سے غفلت)

پیام و نکات

۱۔ فلسفہ احکام کا بیان کلام کے موثر ہونے والے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔ (انما یرید۔۔۔ )

۲۔ کینہ کو وجود میں لانے والے تمام ذرائع سے نبرد آزما رہنا چاہئے۔

۳۔ جو بھی تحرک یا جو بھی شخص لوگوں کے درمیان عداوت اور کینہ کا سبب بنتا ہے شیطانی ہے۔

۴۔ جو بھی کام یاد خدا اور نماز سے غفلت کا سبب بنتا ہے شراب اور جوئے کی مانند ناپسندیدہ ہے۔

۵۔ جہاں پر کینہ اور عداوت پیدا ہوں وہاں پر بہتر ہے کہ مالی اور مادی منفعت سے دستبرداری اختیار کر لینا ضروری ہے۔ خواہ یہ منفعت کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو!

۶۔ روحانی اور معنوی نقصانات، جسمانی اور مادی نقصانات سے زیادہ اہم ہیں۔ (اگرچہ شراب سے جسمانی نقصانات بھی ہوتے ہیں لیکن قرآن نے زیادہ زور عداوت اور یاد خدا اور نماز سے غفلت پر دیا ہے)

 

آیت ۹۲

 

ترجمہ۔ اور خدا کی اطاعت کرو اور پیغمبر کی فرمانبرداری کرو اور (نافرمانی سے) بچتے رہو۔ پس اگر تم نے روگردانی کر لی (اور اطاعت نہ کی) تو جان لو کہ ہمارے پیغمبر پر واضح اور روشن پیغام پہنچانے کے علاوہ اور کوئی (ذمہ داری) نہیں ہے۔

پیام و نکات

۱۔ حضرت رسول خدا کے سرکاری اور سیاسی احکام، فرامین الٰہی کی مانند ہیں جن کی اطاعت واجب ہے (اطیعوا اللہ کے ساتھ ساتھ اطیعوا الرسول ہے)

۲۔ واضح اور روشن طریقہ سے دعوت، جزو نبوت لیکن التماس اور چاپلوسی ہرگز نہیں۔ (فان تولیتم۔۔۔ علی رسولنا البلاغ المبین)

۳۔ انسان، راستے کے انتخاب میں آزاد ہے (فان تولیتم)

۴۔ نافرمانی اور روگردانی کر کے اپنی ذات کے علاوہ کسی اور کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ (انما علی رسولنا البلاغ المبین)

 

آیت ۹۳

 

ترجمہ۔ جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک کام انجام دیئے ہیں ان پر کوئی جرح نہیں ہے کہ جو وہ (حرام ہونے سے پہلے) کھا چکے ہیں۔ اگر وہ تقویٰ اختیار کریں۔ اور ایمان دار ہوں، (اور اس ایمان پر پائیدار ہوں) نیک اعمال بجا لائیں پھر (حرام کردہ چیزوں سے) پرہیز کریں اور (ان کی حرمت پر) ایمان رکھیں پھر (حرام سے) پرہیز کریں اور نیکی کے کام کریں، اور خداوند عالم تو نیکی کا کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

دو نکات:

۱۔ شراب کو حرام کرنے والی آیت کے نزول کے بعد بعض مسلمان ان لوگوں کے بارے میں دریافت کرنے لگے جو شراب پیتے تھے اور ان سے پہلے فوت ہو چکے تھے، یہ آیت اسی کے جواب میں نازل ہوئی۔

۲۔ آیت میں دو مرتبہ ایمان اور عمل کو بیان کیا گیا ہے دو بار تقویٰ اور ایمان کو اور ایک مرتبہ تقویٰ اور ایمان کو۔ چنانچہ بعض مفسرین کے بقول یہ اس لئے کہ ہے کیونکہ ایمان اور تقویٰ کے مقامات، مراحل اور درجات مختلف ہیں اس لئے ان کا تکرار کیا گیا ہے (ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ) بعض مفسرین کہتے ہیں کہ: ان کا تکرار دراصل ایمان اور تقویٰ کے تسلسل کو بحال رکھنے کے لئے ہے۔

پیام

۱۔ جو مومنین اور صاحبان تقویٰ اس حکم سے پہلے اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ان کی اس بارے میں غلطی قابل عفو ہے۔

۲۔ انسان اس دنیا میں جو چیزیں استعمال کرتا ہے اگر ان کے ساتھ “ایمان”، “عمل”، “تقویٰ” اور “احسان” وہ تو حلال ہیں وگرنہ کفران نعمت ہے۔

۳۔ مادیات اور دنیا سے استفادہ کرتے وقت آخرت اور معنویات پر توجہ رکھنی چاہئے۔

۴۔ تقویٰ انسان کے لئے ایسے ہے جیسے انسانی جسم میں موجود رگوں میں خون ہوتا ہے۔

یعنی: استفادہ کرتے وقت تقویٰ (طمعوا اذاما اتقوا)

مذہب و مکتب میں تقویٰ( ثم اتوا و امنوا)

خدمت میں تقویٰ (ثم اتقوا و احسنوا)

۵۔ آیت کہتی ہے کہ: کہاں سے لائے ہو؟ (تقویٰ)

کہاں اور کس لئے خرچ کر رہے ہو؟ (عمل صالح)

معاشرہ کے کچلے اور پسے ہوئے طبقہ یعنی محرومین کے ساتھ تمہارا کس حد تک تعلق ہے؟ (احسان)

 

آیت ۹۴

 

ترجمہ۔ اے ایماندارو! یقیناً خداوند عالم تمہیں کسی ایسے شکار کے ذریعہ آزماتا ہے جس تک تمہارے ہاتھ اور نیزے جا پہنچتے ہیں اور یہ (آزمائش) اس لئے ہے تاکہ اسے معلوم ہو جائے کہ کون شخص باطنی طور پر اس سے ڈرتا ہے (اور اس کا فرمانبردار ہے اور شکار نہیں کرتا) لہٰذا اس کے بعد جو شخص حد سے تجاوز کرے گا اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔

نکات:

۱۔ ایام حج اور احرام کی حالت میں حاجی کو شکار کرنے کا حق حاصل نہیں ہے، انہی ایام میں بعض اوقات شکار کا جانور انسان کے اس حد تک نزدیک آ جاتا ہے کہ انسان جھپٹ کر اسے اپنے قابو میں لا سکتا ہے لیکن خدا کی آزمائش اس بات میں ہے کہ حاجی اس کا شکار نہ کرے۔

۲۔ قرآن مجید میں “پیٹ کا مسئلہ” خدا کی آزمائشوں میں سے ایک آزمائش بیان ہوا ہے۔ اور ا س کے کئی نمونے بیان ہوئے ہیں۔

الف: حضرت آدم اور جناب حوا غذا کے مسئلہ میں شکست کھا گئے۔ (جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے “لا تقربا ھذہ الشجرۃ ” یعنی اس درخت کے نزدیک مت جانا۔

ب: بنی اسرائیل ہفتہ کے دن مچھلی کے شکار کے شکست کھا گئے۔

ج: بنی اسرائیل کے لئے خدا کے مقرر کردہ ایک دینی رہبر نے دریا سے گزرتے وقت اپنے لشکر والوں کو حکم دیا کہ دریا سے پانی نہیں پینا، لیکن سوائے معدودے چند لوگوں کے سب نے اس سے پیا۔ “فشربوا منہ الاقلیلاً”

د: روزہ رکھنا بھی بذات خود ایک آزمائش ہے۔

ھ: حالت احرام میں شکار کے جانور کا حاجی کے قریب آ جانا کہ جس کے شکار کا اسے حق حاصل نہیں ہے۔ آزمائش ہے۔

و: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری باوجودیکہ آپ سے اس قدر معجزات ملاحظہ کر چکے تھے پھر بھی وہ خدا کا امتحان کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے آسمانی مائدہ کی درخواست کی۔ اور خدا نے بھی وہ مائدہ کا نازل فرمایا: البتہ ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دے دی کہ اس کے نازل ہو جانے کے بعد جو کفر اختیار کرے گا اسے عذاب دیا جائے گا۔ (اسی سورہ کی ایک سو پندرھویں آیت)

پیام

۱۔ امتحان و آزمائش خداوند عالم کا ایک قطعی اور قدیمی طریقہ کار ہے (لیبلونکم)

۲۔ آزمائش و امتحان ہوتا ہی مومنین کا ہے ورنہ کفار کا تو کوئی دعویٰ ہی نہیں ہوتا۔ (یٰا یھاالذین امنوا لیبلونکم)

۳۔ خوف خدا کا اس وقت پتہ چلتا ہے جب گناہ کے ذرائع موجود ہوں اور انسان گناہ نہ کرے۔ (تنالہ ایدیکم)

۴۔ ضروری نہیں ہے کہ جو چیز تمہارے ہاتھوں تک پہنچ جائے وہ حلال بھی ہو اور اس پر تمہاری روزی بھی۔ (تنالہ ایدیکم)

۵۔ تقویٰ کا دارومدار باطنی خوف پر ہے نا کہ ظاہری حیا و شرم پر (یخافہ بالغیب)

۶۔ جو حاجی کئی کئی دن تک اور کئی کئی میل تک جنگلوں اور بیابانوں میں حق تعالیٰ کے عشق میں جلتا رہتا ہے بعض اوقات اسے ایک چھوٹا سا شکار پچھاڑ دیتا ہے اور حق تعالیٰ کی نافرمانی تک جا پہنچتا ہے۔

۷۔ ذمہ داری پیغام پہنچ جانے کے بعد عائد ہوتی ہے۔ (بعد ذالک)

۸۔ بعض اوقات شکار کا شمار بھی حد سے تجاوز کے زمرہ میں آتا ہے۔

۹۔ جس سرزمین میں حضرت ابراہیم نے اپنے فرزند حضرت اسماعیل کی ذات کے بارے میں درگزر سے کام لیا وہاں پر تم بھی ایک شکار سے درگزر سے کام لو۔

۱۰۔ خود شکار کا دردناک عذاب نہیں ہے بلکہ عذاب کا موجب قانون شکنی ہوتی ہے۔

 

آیت ۹۵

 

ترجمہ۔ اے ایماندارو! احرام کی حالت میں شکار نہ کرو۔ اور تم میں سے جو شخص جان بوجھ کر شکار کو قتل کرے گا تو اس کی سزا اور کفارہ چوپالوں میں سے اسی جیسا جانور ذبح کرنا ہے ۔ اور ( اس جیسا ہونے کے لئے) دو عادل گواہ فیصلہ کریں گے ۔ (یہ جانور ) ایک ہدیہ اور قربانی ہے جو کعبہ تک جا پہنچے ۔ (وہیں پر ذبح کیا جائے اور اس کا گوشت وہاں کے غریبوں کو ملے) یا ذبح شدہ شکار کے برابر کفارہ ہے جو مسکینوں کے دیا جائے یا اس کے برابر روزے رکھے۔

(یہ تین طرح کا کفارہ اس لئے ہے ) تا کہ شکاری اپنے کئے ہوئے شکار کا مزہ چکھے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے تمہاری اس سے قبل کی خلاف ورزیوں کو معاف کر دیا ہے (جب تک کفارہ کا قانون نہیں آیا تھا ) اور جو شخص ( شکار کے قتل کا ) اعادہ کرے گا خدا ہی اس سے انتقام لے گا ۔ اور اللہ تعالیٰ ناقابل شکست اور انتقام لینے والا ہے ۔

پیام

۱۔ حرم کعبہ کا امن وا مان اور اس کی حفاظت کرنی چاہئیے خواہ جانوروں کے لئے ہی ہو ۔ (لا تقتلوا الصید)

۲۔ عمل سے زیادہ خطرناک جان بوجھ کر برائی کا قصد کرنا ، اس کا سوچنا اور اسے ہدف قرار دینا ہے۔ (متعمدا)

۳۔ سزا منصفانہ ہونی چاہئیے ۔ (مثل ما)

۴۔ سزا اور جرمانہ کا اجر ا سوچ سمجھ کر اور خوب غور و خوض کے ساتھ ہونا چاہئیے۔ (یحکم بہ ذواعدل)

۵۔ جرمانے کی ادائیگی کے لئے مجرم کا ہاتھ کھلا چھوڑنا چاہئیے۔ (قربانی دے یا کھانا کھلائے یا روزے رکھے) اور اس کی جسمانی اور مالی توانائیوں کو پیش نظر رکھنا چاہئیے۔

۶۔ کعبہ کے باہر گناہ کے ارتکاب کا کفارہ بھی کعبہ کے باہر ہی ادا کرنا چاہئیے۔ (بالغ الکعبۃ)

۷۔ خدا کی طرف سے مقر ر کردہ جرمانے تربیت کا پہلو رکھتے ہیں اور انسانی غرور کو توڑتے ہیں (وبال امرہ)

۸۔ قوانین کا اجراء رسمی طور پر قوانین کے اعلان کے بعد ہوتا ہے (عضی اللہ عماسلف)

۹۔ گناہ کا تکرار ‘ زبردست اور سخت سزا کا موجب بن جاتا ہے (ومن عماد ۔۔۔ )

 

آیت ۹۶

 

ترجمہ۔ دریاکی شکار اور اس کی غذا تمہارے لئے حلال کر دی گئی ہے ۔ (یہ شکار اور خوراک ) تمہارے لئے اور قافلہ والوں کے لئے زادراہ ہے۔ اور جب تک تم احرام کی حالت میں ہو خشکی کا شکار تمہارے لئے حرام ہے ۔ اور اس خدا سے ڈرتے رہو جس کی طرف تمہیں محشور ہونا ہے۔

ایک نقطہ :

اس آیات کی رو سے احرام کی حالت میں دریا کی شکار اور اس کی غذا کا استعمال جائز ہے ۔ لیکن صحرائی جانوروں کا شکار اور ان کی غذا کا استعمال حرام ہے ۔ (ملاحظہ ہو تفسیر مجمع البیان اور دیگر فقہی کتابیں)

پیام

۱۔ احرام والے شخص کے لئے تمام راہیں بند نہیں کی گئیں (احل ۔۔۔۔حرم )

۲۔ دریائی شکار یا غذا صرف ساحل نشینوں کے ساتھ خاص نہیں ہے (ولسیارۃ)

۳۔ ساحل نشینوں کو دریاسے استفادہ کرنے میں اولویت ضروری حاصل ہے (لکم و للسیارۃ)

۴۔ کسی چیز کا حلال یا حرام کرنا ہمیشہ کے لئے ذاتی نہیں ہوتا ، بلکہ بعض اوقات زمان اور مکان کی کیفیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تاریخ اور جعفرایہ کے پیش نظر احکام الہیٰ مئوثر ہوں (وانتم حرم)

۵۔ قیامت اور معاد پر ایمان ہی تقوی کا موجب ہوتا ہے (واتقو اللہ الذی الیہ تحشرون)

۶۔ انسانی آبادی کا کثرت سے اژدھام اور عبادی وسیاسی مراسم کی ادائیگی کو جانوروں کی نسل یا درختوں کی تباہی کا موجب نہیں ہونا چاہئیے۔

 

آیت ۹۷

 

ترجمہ۔ خداوند عالم نے کعبہ حرمت والے گھر کعبہ کو لوگوں کے لئے امر کے قیام کا ذریعہ قرار دیا ہے اور( اسی طرح)حرمت والا مہینہ اور بے نشان قربانیوں اور نشاندار قربانیوں کو بھی (لوگوں کے امر کے قیام کا ذریعہ بنایا ہے) یہ سب اس لئے ہے تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ان سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور خداوند عالم ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔

نکات:

“قیام” پائیداری کا ذریعہ ہے جس طرح خیمہ کے لئے ستوں اس کی پائیداری کا ذریعہ ہوتا ہے (سفطہ ہو مفردات راغب)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ کعبہ کو اس لئے “بیت الحرام ” کہا گیا ہے کہ وہاں پر کفار کا داخلہ حرام ہے۔ (تفسیر نور التقلین)

کسی امر کے قائم اور پائیدار ہونے کے لیے چند چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ۱۔مرکزیت ۔ ۲۔ امن و امان ۳۔ غذا اور خوراک ۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ تینوں چیزیں کعبہ بیت الحرام میں مقر ر فرما دی ہیں ۔ کہ یہ جگہ مرکز مسلمین بھی ہے ۔ وہاں ہر کسی کو کسی قسم کے جھگڑے فساد کی اجازت بھی نہیں ۔ اور قربانی کا گوشت مسلمان کی غذابھی ہے۔

“ھُدی” بغیر نشانی والی قربانی کو کہتے ہیں اور “قلائد ” نشانی والی قربانیوں کو حرمت والے مہینے چار ہیں ۱۔ رجب ۲۔ ذیقعد ۳۔ ذی الحجہ اور ۴ محرم کو ان مہینوں میں جنگ ممنوع اور حرام ہے۔

اس مقام پر مسلمانوں کا لاکھوں کا اجتماع جس میں نہ تو کسی قسم کا سرکاری پرٹوکول ہوتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی امتیاز روا رکھاجاتا ہے ایک مقدس مقام پر لفظی اور عملی جدال اور نزاع سے پاک ماحول اسلام کے امتیاز میں سے ایک ہے۔ اور اگر ہم حج کی دوسری برکتوں کو بھی مد نظر لے آئیں یعنی حج پر جاتے وقت یا حجاج کی واپسی پران سے ملاقات کے موقع پر مسلمانوں کا ایک دوسرے سے معافی طلب کرنا ، اپنے گناہ بخشوانا ، ایام حج میں تجارت کی رونق ، خمس و زکات کی ادائیگی، معار ف الہیٰ اور رنگ و نسل کا امتیاز کئے بغیر مختلف قوموں کی ایک دوسرے آشنا کی ، سب لوگوں کا توحید کے قدیم ترین مرکز میں اجتماع ، گریہ و زاری صحرائے عرفات و شعر میں توبہ کرنا اور وہاں پر قیامت کی یاد دلوں میں رونا ‘ سیاسی مشقیں اور کفارے اظہار برأت اور اس قسم کی دوسری برکتوں کو نظر میں لے آئیں تو ہمیں اچھی طرح معلوم ہو جائے گا کہ حج کے یہ تمام جچے تلے پروگرام اور منصوبے ۔ خدا کے ایسے بے پایاں علم سے عمل میں آئے ہیں جو کائنات کی ہر چیز سے آگاہ ہے اور محدود علم ہر گز اس قسم کے ہر کشش قوانین جاری نہیں کر سکتا۔

پیام

۱۔ “کعبہ ” سب کے لئے ہے (للناس)

۲۔ مسلمانوں کا ثبات اور ان کی زندگی حج سے وابستہ ہے (قیاماللناس)

۳۔ امور کے قیام کے لئے اجتماعیت ‘ وحدت اور عبادت (کعبہ) قدس اور حرمت(بیت الحرام) امن اور سکون (الشھرالحرام) نشاندار اور بے نشان کام (ھدی و قلائد) اور بقدر ضرورت غذا اور خوراک ضروری ہے

۴۔ کعبہ جو کہ حرمت والا گھر ہے سادہ پتھروں سے بنایا گیا ہے اور یہ اس کی معنوی قدرو قیمت کی دلیل ہے ۔

۵۔ قانون سازی اورقوانین کے نفاذ کا حق اسے حاصل ہوتا ہے جو تمام کائنات سے آگاہ ہوتا ہے (یعلم مافی السموت و مافی الارض)

۔ احکام الہٰی کا سرچشمہ اس کا بے پایاں اور بیکراں علم ہے ۔ اگر تمہیں ان احکام کا فلسفہ نظر نہ آئے تو ا س کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ احکام ہی نا مناسب ہیں ۔ اس لئے کہ وہ خود انہی سے آگاہ ہے ۔ (ذالک لتعلموا)

۷۔ خدائی قوانین کے بعض اسرار ور موز مستقبل میں واضح ہوں گے اور سمجھ میں آئیں گے (تعلموا)

۸۔ مسجد ہو یا قربانگاہ دونوں قیام و پائیداری کا موجب ہیں (کعبہ ، ھدی )

 

آیت ۹۸ ، ۹۹

 

ترجمہ۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ خدا وند عالم سخت عذاب دینے والا ہے اور اللہ تعالی یقیناً بخشنے والا اور مہربان ہے۔

پیغمبر پر سوائے (احکام الٰہی کے )پہنچانے کے اور کچھ نہیں اور اللہ تعالی جانتا ہے جو کچھ کہ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔

پیام

۱۔ تشویق و ترغیب اور تہدیدو دھمکی ساتھ ساتھ ہونی چاہئیے (شدید العقاب ، غفورر حیم)

 

 آیت نمبر ۱۰۰ تا ۱۰۵ اس فائل میں موجود نہیں

 

                آیت نمبر ۱۰۶ تا ۱۲۰

 

آیت ۱۰۶

 

ترجمہ۔ اے ایماندارو! جب تم میں سے کسی شخص کے پاس موت (کی نشانی) آپہنچے تو اپنے میں سے دو عادل آدمیوں کو وصیت کے وقت شہادت اور گواہی کے لئے بلاؤ۔ اور اگر سفر کی حالت میں ہو اور موت کی مصیبت تمہارے پاس آ جائے (اور کوئی مسلمان گواہ بھی نہ ہو) تو اپنے غیر(دینی) افراد کو گواہی کے لیے بلاؤ اور اگر تمہیں ان (کی صداقت)میں شک ہو تو نماز کے بعد انہیں اپنے پاس روکے رکھو تا کہ وہ خدا کی قسم کھائیں کہ ہم حق کو کسی قسمت پر بیچنے کے لئے تیار نہیں ہیں خواہ تمہارے قریبی لوگ ہی کیوں نہ ہوں۔ اور اپنی خدا لگتی گواہی نہیں چھپائے گے۔ (اگر ایسا نہیں کریں گے ) تو اس وقت ہم گناہگاروں میں سے ہوں گے۔

ایک نقطہ

“ابن ابی ماریہ” نامی ایک مسلمان ” تمیم” اور ” عدی نامی دو عیسائی بھائیوں کے ساتھ تجارت کی غرض سے سفر پر گیا۔ اور دوران سفر بیمار ہو گیا۔ اس نے وصیت نامہ لکھ کر اپنے سفر کے سامان میں چھپا کر رکھ دیا ۔ اور تمام مال و اسباب ان دو عیسائی بھائیوں کے حوالے کر دیا۔ تا کہ وہ اسے اس کے ورثا تک پہنچا دیں۔ جب وہ فوت ہو گیاتو ان دونوں بھائیوں نے اس کے سامان میں سے مرحوم کے خط ملاحظہ کیا تو اس میں تمام اشیاء کی تفصیل درجہ تھی ۔ چنانچہ انہوں نے ان سے تمام چیزوں کا مطالبہ کیا تو انہوں نے دینے سے انکار کر دیا۔ ورثاء نے اس بات کی شکایت پیغمبر اکرم سے کی، تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔

کافی کی حدیث کے مطابق آنحضرت نے ان دونوں عیسائیوں سے قسم لے کر انہیں بری کر دیا۔ لیکن جب خط کے ذریعے ان کا پول کھل گیا تو آنحضرت نے انہیں دوبارہ بلایا ، اور متوفی کے ورثاء نے قسم کھائی کہ اور مال بھی تھا ، لہذا ان سے وہ قیمتی واپس لے لیں۔

پیام

۱۔ وصیت کے وقت مومن کو چاہئیے کہ اچھی طرح اورسوچ سمجھ کر تمام لازمی امور کو پیش نظر رکھے (یا ایھاالذین امنوا)

۲۔ موت سب لوگوں کے ایک جیسی ہے اور ہر ایک نے موت کا پیالہ پینا ہے (احدکم)

۳۔ قرب قوت وصیت کے لئے آخری فرصت ہے (حضراحدکم الموت ۔۔۔۔الوصیتہ)

۴۔ حقوق الناس کی ادائیگی کے لئے گواہ ٹھہرایا کرو۔ (شھادۃ بینکم)

۵۔ حقوق الناس کی ادائیگی کے لئے ایک گواہ پر اکتفا نہ کرو (اثنان)

۶۔ حقوق الناس کے لئے ادا کرنے کے لئے ہر شخص پر اعتماد کرو (ذو اعدل)

۷۔ حقوق الناس کے ادا کرنے کے لیے مسلمان گواہ موجود نہ ہوں تو غیرمسلم کے ذریعہ بھی کام کو مستحکم کر سکتے ہو (غیرکم)

۸۔ حقوق الناس کی رعایت ہر جگہ ضروری ہے اس کے لئے زمان اور مکان کی کوئی قید نہیں۔ (ضربتم فی الارض)

۹۔ حق کی ادائیگی کے لئے ہر قسم کے شک کو دور کرو (ان ارتبتم)

۱۰۔ قسم ۔ شک کے دور کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ ( یقسمان)

۱۱۔ صرف “اللہ ” کے نام سے کھائی جانے والی قسم قابل اعتماد اور فائدہ مند ہے (بااللہ)

۱۲۔ ملزم کو ایک مناسب وقت تک روکے رکھنا ضروری ہے (تحسبونھما)

۱۳۔ حق کی ادائیگی کے لئے فرصت کے بہتر لمحات سے فائدہ اٹھانا چاہئیے (بعد الصواۃ)

۱۴۔ حصول زر اور روپیہ پیسہ کا حصول گمراہ کرنے والے اسباب میں سے ایک ہے۔ (تمنا)

۱۵۔ رشتہ داری اور قوم پروری بھی گمراہی کے اسباب میں سے ایک ہے (ذاقربیٰ)

۱۶۔ وحی کے ذریعہ جس “قسم نامہ ” کا متن قرآن میں بیان ہوا ہے وہ صرف “حقوق الناس ” کے بارے میں ہے۔ (لا نشتری ۔)

۱۷۔ حق پوشی‘ عادل کو فاسق کر دیتی ہے (“ذوا عدل ” تبدیل ہو جاتے ہیں “آثمین ! میں)

 

آیت ۱۰۷

 

ترجمہ۔ پس اگر معلوم ہو جائے کہ (سفر میں غیر مسلوں نے ) گناہ اور خیانت کا ارتکاب کیا ہے (اور ان کی قسم ناحق تھی) تو دوسرے دو (مسلمان ) شخص جو میت کے زیادہ قریبی ہیں اور ان پر ظلم ہوا ہے قسم کھائیں گے کہ ہماری (مسلمان وارثوں کی) گواہی ان دو (غیر مسلموں) کہ گواہی سے حق کے زیادہ قریب ہے (جن کی خیانت ظاہر ہو چکی ہے اور کہیں گے کہ ) ہم نے (حق اور حد سے ) تجاوز نہیں کیا ۔ اور اگر تجاوز کریں گے تو یقیناً ظالموں میں سے ہوں گے ۔

ایک نقطہ

واضح یاد کہ میت کے ورثاء کی گواہی اور قسم ان معلومات کی بناء پر ہو گی جو پہلے سے میت کے اموال کے بارے میں سفر کے دوران یا اس کے علاوہ رکھتے ہیں۔

پیام

۱۔ تمہیں تجسس اور جستحو کا حق حاصل نہیں ہے لیکن اگر معلومات حاصل ہو جائیں تو پھر طریقہ کار بدل جائے گا (بقول مفردات راغب جستجوکئے بغیر حاصل ہونے والی معلومات کو “عشر” کہتے ہیں)

 

آیت ۱۰۸

 

ترجمہ۔ یہ (طریقہ کا ر بہتری کے ) زیادہ قریب ہے کہ گواہی کو اچھے انداز میں پیش کریں یا انہیں خوف ہو کہ ان کے قسم کھانے کے بعد ‘ قسمیں (میت کے ورثاء کی طرف) پلٹا ئی جائیں گی اور خدا سے ڈرتے رہو اور (اور اس کے فرامین کو) سفو ‘ اور خد ا وند عالم فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا۔

ایک نقطہ

یہ آیت گواہی دینے اور گواہ بنانے کے بارے میں اچھی طرح بوجھ سے کام لینے کے فلسفہ کو بیان کر رہی ہے جو اس سے پہلے کی دو آیا ت میں ذکر ہوا ہے ، نماز کے بعد لوگوں کے سامنے قسم کھانا اس بات کا موجب بن جاتا ہے کہ گواہی سچی حقیقی اور واقعی ہو جھوٹی نہیں ہو گی ۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ان کی گواہی قابل قبول نہ ٹھہرے تو قسم اور گواہی نا قابل اعتبار ہو گی اور معاشرہ میں ان لوگوں کی رسوائی ہو گی ۔

پیام

۱۔ ایسے مراسم اور تکلفات جو حقوق الناس کے ضائع ہونے سے روکتے ہیں قابل قدر ہوتے ہیں ۔ (ذلک ادنی)

۲۔ گناہ سے بچانے کے اسباب میں سے ایک سبب معاشرہ میں رسوائی کا اندیشہ بھی ہے (او یخافو ا ن ترد ایمان)

۳۔ رہن سہن ایسااختیار کرو کہ کچھ لوگ تمہارے افطار و خیالات اور مال و دولت سے اس قدر باخبر ہوں کہ نا اہل اور نام عادل اپنی جھوٹی قسموں سے تمہاری کاوشوں کو ضائع مت کر سکیں۔ اور انہیں اس بات کا یقین ہو کہ اگر وہ غلط معلومات فراہم کریں گے تو ان سے بہتر لوگ صحیح معلومات فراہم کر دیں گے ۔ (ترد ایمان بعد ایمانھم)

۴۔ (اس قدر سختی کے باوجود بھی) تقویٰ اختیار کئے رہو۔

۵۔ غلط گواہی ، فسق کی علامت ہے (واللہ لا یھدی القوم الفسقین)

 

آیت ۱۰۹

 

ترجمہ۔ (یاد کرو) اس دن (کو) جب خداوند عالم رسولوں کو جمع کر کے پوچھے گا کہ لوگوں نے تمہیں کیسا جواب دیا؟ تو وہ کہیں گے ہمیں علم نہیں ہے تو ہی تمام غیبوں کو اچھی طرح جانتا ہے ۔

ایک نقطہ

حقیقی علم صرف خدا ہی کے پاس ہے اور جو شخص بھی کوئی علم رکھتا ہے اسی کی طرف سے رکھتا ہے جس طرح کہ غیب کو صرف وہی جانتا ہے اور اس کا علم جسے چاہتا وہی خود عطا کرتا ہے۔

پیام

۱۔ قیامت کے دن انبیاء سے بھی سوال ہو گا کہ لوگوں کا تمہارے ساتھ کیسا رویہ رہا؟ (ماذااجتبنم)

۲۔ انبیاء علیھم السلام کا علم ، خدا کے علم کی نسبت نہ ہونے کے برابر ہے (لا علم لنا)

 

آیت ۱۱۰

 

ترجمہ۔ اس وقت (کو یاد کرو) جب اللہ تعالی نے حضرت سے فرمایا : میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تمہیں اور تمہاری والدہ کو دی ۔ جب کہ میں نے “رو ح القدوس “کے ذریعہ تمہاری تائید کی کہ تم نے گہوارہ میں (معجزہ کے ساتھ ) اور بزرگی میں (وحی کے ساتھ) لوگوں سے باتیں کیں۔ جب کہ میں نے تمہیں کتاب و حکمت انجیل کی تعلیم دی ‘ اور اس زمانے (کو فراموش نہ کرو) جب تم میرے حکم کے ساتھ مٹی سے پرندے جیسے چیز بناتے اور اس میں پھونک مارتے تو وہ میرے حکم سے پرندہ ہو جاتا ۔ اور میرے ہی اذن سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو شفا دیتے اور جبکہ میرے ہی اذن سے مردوں کو زندہ کرتے (اور قبر سے باہر نکالتے ) اوراس وقت کو یاد کرو جب میں نے بنی اسرائیل (کے ظلم ۔۔۔کے ہاتھ )کو میں نے تم سے روکے رکھا۔ جب کہ تم ان کے لیے واضح اور روشن دلائل لے آئے ۔ اور ان میں سے کافر لوگوں نے (معجزہ کے بارے میں ) کہا یہ تو کھلم کھلا جادو کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔

نکات

اس آیت سے لے کر سورت کے آخر تک کی تما م آیات حضرت عیسی کے بارے میں ہیں۔

اس آیت میں حضرت عیسی کے بارے میں خداوند کے لطف و کر م کی مختلف اقسام بیان کی گئی ہیں جن میں سر فہرست روح القدس کے ساتھ انکی تائید کو بیان کیا گیا ہے ۔

حضرت عیسی کی والدہ کو ملنے والی نعمت سے مراد شاید انہیں حضرت عیسی کے بارے میں ملنے والی خوشخبری اور ان کی فرشتو ں کے ساتھ ہونے والی گفتگو ہو(ملاحظہ ہو سورہ آل عمران آیات ۴۵تا ۵۰ کہ جن کا آغاز  و اذقالت الملائکہ یمریم سے ہوتا ہے)

پیام

۱۔ خداوند عالم کی اپنے اولیاء کو نعمتیں اور لطف و کرم کی یاد دہانی حق کی راہ پر چلنے والے افراد کے لئے تسلی اور دل گرمی کا موجب ہوتی ہے۔

۲۔ انبیاء کو بھی خدا کی نعمتوں کی یاد سے غافل نہیں رہنا چاہئیے۔

۳۔ عورت ایسے مقام تک پہنچ سکتی ہے کہ اس کا تذکرہ انبیاء کے ساتھ ساتھ ہو(علیک و علی والدتک) بلکہ عورت اور اس کا پیغمبر بیٹا دونوں خدا کی ” ایک آیت شمار ہوتے ہیں جیسا کہ ایک اور آیت میں ہے “و جعلنا ھا وا نبھاآیتہ ۔۔۔یعنی ہم نے اس (مریم ) اور اس کے بیٹے (عیسی ) کو ایک آیت قرار دیا ہے۔۔

۴۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے صرف ایک ہی گفتگو کے ساتھ اپنی نبوت کو بھی ثابت کر دیا اور اپنی والدہ کی عفت و عصمت کو بھی۔

۵۔ ارادہ الٰہی، تجربہ ،قدرت اور زمانے کے گزرنے کی ضرورت کو حل کر دیتا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بغیر کسی تجربے ، مشق اور زمانہ کے گزرنے کے طفلی میں بھی ٹھیک ٹھیک وہی باتیں کیں جو بڑھاپے میں کرتے رہے بچپن میں بچوں والی باتیں نہیں کیں۔ (فی المھد و کھلا)

۶۔ انبیاء کو عالم ہونا چاہئیے (الکتاب ) صاحب بینش ہونا چاہئیے (الحکمتہ) سابق انبیاء کے فرمودات کے جانتے ہوں (التو را ۃ)اور جدید پیام کا حامل ہونا چاہئیے (الانجیل)

۷۔ تخلیق و پیدائش کی نسبت غیر اللہ کی طرف بھی دی جا سکتی ہے البتہ خدا کے اذن و حکم کے تحت۔ (اذنحلق)

۸۔ اذن الٰہی ، مجسمہ سازی کے جوا ز کا موجب بنا ہے (باذنی)

۹۔ خدا کے خاص بندے بھی ولایت تکوینی رکھتے ہیں (“تخلق “تنفخ،” برء اور تخرج کے ساتھ حضرت کو خطاب کیا گیا ہے )

۱۰۔ حضرت کے اعجاز میں جہاں ان کی مسیحائی کو عمل دخل حاصل ہے وہاں مجسمہ سازی کا ہنر بھی اپنی خاص اہمیت رکھتا ہے (کھیئتہ الطیر۔۔۔ فتنفخ)

۱۱۔ حضرت عیسی کی مسیحائی نے جماد کو تو قوت پر واز عطا کر دی لیکن بنی اسرائیل کے دلوں کو طاقت پرواز نہ دے سکی۔

۱۲۔ جہاں شرک کا اندیشہ ہوتا ہے وہاں توحید کا تکرار ضروری ہو جاتا ہے ( “باذنی”کے کلمہ کا تکرار)

۱۳۔ جب خداوند عالم کو مردہ زندہ کرنے اور بیماروں کو شفا دینے کی قدرت عطا کر تا ہے تو لوگوں کا ان سے مدد مانگنا انبیاء اور ان کو رہنا و سیلہ قرار دینا بھی جائز ہونا چاہئے۔ (توسل اور وسیلہ بنانے کے مخالفین سے ہمارا سوال ہے کہ آیا یہ ممکن ہے کہ خداوند عالم کسی کو قدرت تو عطا کرے لیکن لوگوں کو ان کی طرف توجہ کرنے سے روک دے؟

۱۴۔ “رجعت” اور مردوں کا زندہ کرنا اسی دنیا میں بھی رونما ہو چکا ہے۔ (تحرج الموتیٰ)

۱۵۔ بنی اسرائیل کا حضرت عیسیٰ کو زک پہنچانے اور قتل کرنے کا ارادہ خدا کی طرف سے ناکام ہو چکا ہے (کففت)

 

آیت ۱۱۱

 

ترجمہ۔ اور (اس وقت کو یاد کرو) جب میں نے (عیسیٰ کے) حواریوں کی طرف وحی کی مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لے آؤ، تو انہوں نے کہا: ہم ایمان لے آئے اور گواہ رہ کہ ہم مسلمان ہیں اور سر جھکا چکے ہیں۔

نکتہ

حواریوں کی طرف وحی سے مراد یا تو خود انہی کے دلوں میں الہام ہے یا حضرت عیسیٰ کے ذریعہ وحی کا پیغام ہے۔

پیام

۱۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ آمادہ دلوں کو الہام کرتا ہے۔

۲۔ خدا پر ایمان، رسول پر ایمان سے علیحدہ نہیں ہے (لی وبرسولی)

۳۔ جب ہدایت باطنی اور خدا کی طرف سے ہو تو گہری بھی ہوتی ہے اور وسیع تر اثر بھی کرتی ہے۔ (اوحیت۔۔۔ قالوا آمنا)

۴۔ اندرونی طرف سے خدائی نور کے بغیر ہدایت یا تو بے اثر ہوتی ہے یا بہت ہی کم اثر اور نا پائیدار ہوتی ہے۔

۵۔ لوگوں کے خدا کے الہامات اس لئے ہوتے ہیں کہ وہ انبیاء کی تصدیق و تائید کرتے ہیں ان کی اپنی ذات کی وجہ سے نہیں ہوتے (اوحیت۔۔۔ آمنوا بی و برسولی)

۶۔ باطنی ایمان کی نشانی، زبانی اقرار و اظہار ہوتا ہے وہ اس طرح کہ قلبی ایمان زبانی نعروں کا پشت پناہ ہوتا ہے (واشھد باننا مسلمون)

 

آیت ۱۱۲، ۱۱۳

 

ترجمہ۔ (اس وقت کو یاد کرو) جب حواریوں نے کہا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! آیا تمہارا پروردگار (تمہاری دعا کے ساتھ) آسمان سے (غذا کا) دسترخوان ہمارے لئے اتار سکتا ہے؟ عیسیٰ نے کہا: اگر تم مومن ہو تو خدا سے ڈرو۔

انہوں نے کہا: (ہمارا کوئی غلط نظریہ نہیں ہے اور ہم بہانہ گیری سے کام لے رہے ہیں بلکہ) ہم چاہتے ہیں کہ اس سے کھائیں تاکہ ہمارے دل مطمئن ہو جائیں اور جان لیں (اور دیکھ لیں) کہ تم نے ہم سے سچ کہا ہے اور ہم آسمانی دسترخوان پر گواہ رہیں۔

چند نکات

اس سورت کو اسی آسمانی دسترخوان کی درخواست کی وجہ سے “مائدہ” کہتے ہیں۔

“مائدہ” کا معنی غذا بھی ہے اور “دسترخوان” بھی کہ جس پر غذا ہوتی ہے۔

چونکہ ان کے سوال کا انداز کسی حد تک غیر مودبانہ اور مہذبانہ تھا، اسی لئے انہیں “اتقوااللہ” کے ساتھ جواب ملا۔ (“یاروح اللہ” یا پھر “یا رسول اللہ” کہنے کی بجائے انہوں نے “یا عیسیٰ بن مریم” کہا۔ ” آیا خدا مہربانی کرے گا؟ ” کی بجائے انہوں نے کہا ” آیا خدا اتار سکتا ہے” اور “ہمارا پروردگار” کہنے کی بجائے “تمہارا پروردگار” کہا۔ جو غیرمہذبانہ انداز گفتگو ہے)

پیام

۱۔ اگر بری نیت نہ بھی رکھتے ہو لیکن کسی سے گفتگو کرتے وقت مخاطب کے احترام کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے (“اتقوااللہ” کے ساتھ جوا)

۲۔ مومن شخص کو زیب نہیں دیتا کہ وہ خدا کا امتحان کرے (ھل یستطیع؟)

۳۔ کسب و کار اور معاشی امور کو معجزہ سے وابستہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ تلاش و کوششیں اور توکل برخدا کر کے طبعی راستہ کو اختیار کرنا چاہئے۔ اور یہاں پر تو درخواست ہی صرف ایک وقت کے کھانے کی گئی ہے نا کہ ہمیشہ کے لئے غذا بھیجنے کی (مائدۃ)

۴۔ تقویٰ ایمان کی علامت ہے (اتقوا اللہ ان کنتم مومنین)

۵۔ اے رسول اسلام ! آپ کو ان لوگوں سے زیادہ توقع وابستہ نہیں کرنی چاہئے، باوجودیکہ حواریوں عیسیٰ کی طرف الہام بھی ہوتا تھا، ایمان اور اسلام کا اقرار بھی کرتے تھے پھر بھی ہم سے مفت کھانے اور اپنی حسب منشاء معجزہ کے بھی طلبگار ہوئے۔

 

آیت ۱۱۴

 

ترجمہ۔ مریم کے بیٹے عیسیٰ نے کہا: خداوندا! پروردگارا! ہم پر آسمان سے غذا کا دسترخوان بھیج تاکہ ہماری موجودہ اور آئندہ نسل کے لئے جشن و عید اور تیری نشانی قرار پائے، اور روزی عطا فرما کیونکہ تو بہترین روزی دینے والا ہے۔

ایک نکتہ

قرآنی دعائیں ہر مقام پر “ربنا” کے ساتھ شروع ہوتی ہیں لیکن اس آیت میں دو کلمات “اللھم ربنا” کے ساتھ شروع ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ یہ ایک نہایت ہی اہم واقعہ ہے اور اس کا انجام بہت سخت ہے۔

پیام

۱۔ اولیاء اللہ کی طرف سے دعا، توسل اور تقاضائے حاجت جائز ہے۔

۲۔ انبیاء علیہم السلام کے تمام لوگ اور ہر دور کی نسلیں پیش نظر ہوتی ہیں (لاولنا و اخرنا)

۳۔ خدائی نشانیوں سے ہمیشہ کے لئے سبق حاصل کرنا چاہئے (اولنا و اخرنا)

۴۔ قرآن کی رو سے عید اور جشن منانا جائز ہے (اولیاء اللہ کی ولادت اور رسول اکرم کی بعثت آسمانی مائدہ کے نزول سے کم اہمیت کی حامل نہیں)

۵۔ اللہ کے پیغمبر جناب عیسیٰ علیہ السلام دعا میں “کھانے کے مسئلے” کی بجائے مائدہ کے خدا کی نشانی ہونے کی طرف توجہ دی ہے (آیۃ منک)

۶۔ مومنین کے عذر اور ان کی توجیہ کو قبول کرو۔ (اس سے پہلی آیت میں مائدہ کے نزول کا سبب بتایا گیا ہے۔ اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام) آسمانی مائدہ (دسترخوان) کی طلب اور دعا کے ساتھ ان کی درخواست اور عذر کو قبول فرمایا)

۷۔ لوگوں کی پیش کش اور تقاضوں کو پورا کرنا چاہئے (سابق آیت میں لوگوں کی طرف سے مائدہ کی درخواست کھانے اور اطمینان حاصل کرنے کے لئے تھی۔ اور کھانے کو مقدم رکھا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خدا سے مائدہ کی درخواست کی تاکہ عید و جشن بھی ہو اور لوگوں کو اطمینان بھی حاصل ہو جائے اور آیت و نشانی بھی قرار پائے اور لوگ اسے کھائیں بھی۔ عیسیٰ علیہ السلام نے عید کے لفظ کا بھی اضافہ کیا اور نشانی ہونے کو کھانے کے مسئلہ پر مقدم کیا)

۸۔ دوسروں کی سبک اور توہین آمیز تعبیرات کو اصلاح کر کے بیان کرنا چاہئے۔ (حواریوں کا سوال اس طرح تھا کہ “ھل یستطع ربک” کیا تیرا رب قدرت رکھتا ہے؟ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب دعا کی تو انہوں نے اس سے بلند تر مقصد کے لئے مائدہ کی درخواست کی اور جو باتیں یا توہین کا پہلو رکھتی تھیں انہیں حذف کر دیا)

۹۔ دعاؤں میں خداوند تعالیٰ کو دعا سے مناسب صفات کے ساتھ پکارا جائے (چونکہ “مائدہ” کی درخواست کی گئی تھی لہٰذا “خیرالرازقین” کا جملہ استعمال کیا گیا)

 

آیت ۱۱۵

 

ترجمہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں یقیناً اس (مائدہ) کو تم پر نازل کروں گا، پس تم میں سے جو شخص اس کے بعد اس سے کفر اختیار کرے گا اسے ایسا عذاب دوں گا کہ تمام جہانوں میں سے کسی ایک کو اس جیسا عذاب نہیں کروں گا۔

چند نکات

مائدہ کے نزول کی داستان جس طرح قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے انجیل میں اسی طرح نہیں ہے (تفسیر نمونہ)

بعض لوگوں کے بقول جب حوراریوں نے آیت کی تہدید (دھمکی) کو سنا تو انہوں نے اپنی درخواست واپس لے لی اور مائدہ نازل نہیں ہوا۔ لیکن ان کا یہ قول آیت اور روایات کے خلاف ہے (ملاحظہ ہو تفسیراطیب البیان)

روایات میں ہے کہ مائدہ کے نازل ہونے کے بعد کچھ لوگ کافر ہو گئے تھے اور سور (خنزیر) کی صورتوں میں مسخ ہو گئے۔

پیام

۱۔ انبیاء کی دعا قبول ہوتی ہے (انی منزلھا)

۲۔ جو لوگ علم و یقین اور شہود کی اعلیٰ منازل تک جا پہنچتے ہیں ان پر ذمہ داری بھی بھاری عائد ہو جاتی ہے اور ان کی خلاف ورزی کی سزا بھی سخت ہوتی ہے (فمن یکفر بعد ذالک۔۔۔ ) یہ آیت لوگوں کو خبردار کرنے کے لئے سب سے زیادہ دھمکی آمیز آیت ہے۔

۳۔ معمول کی زندگی بسر کرنے والے خداوند عالم کے قہر و غضب سے بہت دور ہوتے ہیں۔

۴۔ خداوند عالم کا عذاب اور لطف و کرم کے مختلف درجات ہیں۔

۵۔ جن کی توقعات زیادہ ہوتی ہیں (آسمانی مائدہ) انہیں اصولوں کی پاسداری بھی زیادہ کرنا پڑتی ہے پہاڑ کی بلند چوٹیوں کے درے بھی خطرناک ہوتے ہیں۔

ضمنی طور پر معلوم ہونا چاہئے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کے لئے آسمان سے غذا نازل ہوئی ہے تو روایات کے مطابق رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے بھی بہشتی میوے اترے ہیں جن سے حضرت فاطمہ زہر اسلام اللہ علیہا کی پیدائش عمل میں آئی۔

 

آیت ۱۱۶

 

ترجمہ۔ اور جس وقت اللہ نے فرمایا: اے مریم کے فرزند عیسیٰ ! آیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ”خدا کی بجائے مجھے اور میری والدہ دونوں کو معبود بناؤ؟ ” (حضرت عیسیٰ نے) کہا: (خداوندا! تو پاک اور منزہ ہے میرے لئے مناسب نہیں ہے کہ میں کوئی ایسی بات کہوں میرے شایان شان نہیں ہے۔ اگر میں ایسی کوئی (غلط) بات کی ہے تو تُو اسے جانتا ہے۔ جو کچھ میرے دل و جان میں ہے تو اسے جانتا ہے، یہ میں ہوں کہ تیرے اسرار سے بے خبر ہوں یقیناً تو ہی ہر قسم کے غیب کو اچھی طرح جانتا ہے۔

چند نکات

اسی سورہ (مائدہ) کی ۱۰۹ویں آیت میں ہے کہ “خداوند عالم انبیاء (علیہم السلام) کو قیامت میں اکٹھا کر کے فرمائے گا، لوگوں سے تم نے کیا جواب سنا؟” اور یہ آیت اسی دن کے لئے خدا اور عیسیٰ علیہ السلام کی گفتگو کو بیان کر رہی ہے۔

اگرچہ عیسائی حضرت مریم سلام اللہ علیہا کو خدا نہیں جانتے لیکن ان کے مجسمہ کے سامنے ان لوگوں کا عبادت کرنا، حضرت مریم کو معبود قرار دینا ہے۔

پیام

۱۔ بعض اوقات “درے کہا جاتا ہے تاکہ دیوار سن لے” کے مصداق سوال اور سرزنش تو بے گناہ کو کی جاتی ہے تاکہ دوسرے لوگ خبردار ہو جائیں۔ (ء انت قلت)

۲۔ “دون اللہ” شرک کی نشانی ہے نا کہ خدا کی نفی کی دلیل، یعنی خدا کے علاوہ عیسیٰ اور مریم کو معبود سمجھنا بھی شرک اور تثلیث ہے۔ (البتہ عیسائیوں کی موجود تثلیث باپ، بیٹا اور روح القدس ہے

۳۔ انسانوں کا دعوی الوہیت ایک غلط اور ناروا دعوی ہے (لیس لی بحق)

۴۔ انبیاء معصوم ہوتے ہیں (مایکون لی ان اقول ما لیس لی بحق)

۵۔ انبیاء اپنے ماننے والوں کے غلو سے بیزار ہیں (ان کنت قلۃ فقد علمتہ) 50

۶۔ گزشتہ انسانوں کی تمام گفتگو اور ان کے باطن کے تمام اسرار خدا کے لئے روشن، آشکار اور واضح ہے۔ (فقد علمتہ، تعلم ما فی نفسی)

۷۔ خداوند عالم کی مقدس ذات کو ہر طرح کی ناروا اور غیر مؤدبانہ نسبت سے پاک و منزہ سمجھنا لازم اور ضروری ہے (سبحانک)51

 

آیت ۱۱۷

 

ترجمہ۔ (عیسیٰ نے خدا سے عرض کیا) میں نے ان سے صرف وہی بات کی ہے جس کا تونے مجھے حکم دیا ہے۔ (میں نے ان سے کہا) کہ “خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے” اور جب تک میں ان کے درمیان رہا، ان (کے توحیدی افکار و عقائد) کا شاہد اور ناظر رہا۔ پس جب تو نے مجھے (ان کے درمیان سے) اٹھا لیا تو تو خود ہی ان پر نگہبان تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔

پیام

۱۔ انبیاء علیہم السلام معصوم ہوتے ہیں، خدا کے حکم کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کرتے، خدا کی وحی میں کسی قسم کی تبدیلی اور تصرف نہیں کرتے۔

۲۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے آپ کو دوسرے لوگوں کی طرح خدا کا دست پروردہ سمجھتے ہیں (ربی و ربکم)52

۳۔ انبیاء علیہم السلام لوگوں کے اعمال کے ناظر ہیں (کنت علیھم شھیدا)

 

آیت ۱۱۸

 

ترجمہ۔ (عیسیٰ نے کہا خداوندا!) اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر انہیں معاف کر دے تو تو خود ہی غالب اور حکمت والا ہے۔

ایک نکتہ

حضرت ابوذر غفاری روایت کرتے ہیں: پیغمبر خدا ایک رات صبح تک اس آیت کی بار بار تلاوت کرتے رہے اور رکوع و سجود میں اسے پڑھتے رہے اور خدا سے اس قدر شفاعت کی درخواست کی کہ خدا نے انہیں عطا فرما دی (تفسیر مراغی) آنحضرت اس آیت کو تلاوت کرتے وقت اپنے مبارک ہاتھوں کو بلند کر کے درود کر امت کے حق میں دعا فرماتے تھے۔

پیام

۱۔ حضرت انبیاء کرام علیہ السلام بارگاہ رب العزت میں سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں۔ 53

۲۔ خدا کا کسی پر قہر و غضب یا لطف و کرم اس کی حکمت کی بنیاد پر ہے (الحکیم)

۳۔ دعا کی روش میں رحمت طلبی کو فراموش نہیں کرنا چاہئے (فانھم عبادک)

۴۔ تم اپنے فریضہ کو ادا کرتے رہو، انجام خدا کے ہاتھ میں ہے۔

۵۔ انبیاء علیہم السلام مقام شفاعت کے حامل ہیں لیکن کبھی گناہ اور جرم اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ انبیاء کو بھی کنارہ کشی اختیار کرنی پڑ جاتی ہے۔ (ان تعذبھم فانھم عبادک)

 

آیت ۱۱۹، ۱۲۰

 

ترجمہ۔ اللہ نے فرمایا: یہ وہ دن ہے کہ جس میں سچ بولنے والوں کو ان کا سچ فائدہ پہنچاتا ہے۔ ان کے لئے ایسے باغات ہیں جن کے (درختوں کے) نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے خدا ان سے راضی ہے اور وہ خدا سے راضی ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ کہ ان کے اندر ہے (سب) کی ملکیت اور حکومت خدا کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

پیام

۱۔ اگر اپنی صداقت کی وجہ سے مومنین کو دنیا میں مشکلات اور سختیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو آخرت میں ان کی یہی صداقت ان کے لئے کارساز اور کارآمد ضرور ہو گی۔

۲۔ صرف سچے لوگوں کو ہی فائدہ حاصل ہو گا، نا کہ سچ کا غلط دعویٰ کرنے والوں، نعرہ بازوں اور ریاکاروں کو۔

۳۔ جس چیز کو اہمیت حاصل ہے وہ ہے خود بندوں سے خدا کی رضا نا کہ بندوں کے کاموں سے، (کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے فاسد اور غلط قسم کے لوگ اچھے اچھے کام کرتے ہیں، ان کے کام تو اچھے ہوتے ہیں لیکن خود افراد خدا کے لئے قہر و غضب کا شکار ہو جاتے ہیں) (منھم)

۴۔ خدا کی رضا کے ساتھ ساتھ بہشت، باغات اور نہریں بہت بڑی کامیابی اور “فوز عظیم” ہے۔

۵۔ عبادت اسی ذات کے شایان شان ہوتی ہے جس کے قبضہ میں کائنات کی سلطنت اور قدرت مطلقہ ہے نا کہ عیسیٰ و مریم جیسے لوگوں کے۔

٭٭

 

حوالا جات اور فٹ نوٹس

 

1قرآن مجید تو مشرکین کے ساتھ کئے ہوئے معاہدے کی بھی پابندی کو لازم سمجھتا ہے ارشاد ہوتا ہے “واتموا الیھم العھد” ان سے کیا ہوا وعدہ پورا کرو۔

حتیٰ کہ فاجر قسم کے لوگوں کے ساتھ بھی کیا ہوا وعدہ پورا کرنا پڑتا ہے، جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث کتاب کافی جلد ۲ ص ۱۶۲ پر موجود ہے،

اسی طرح اس عہد و پیمان کو بھی پورا کرنا پڑتا ہے جو کسی مسلمان کے اشارے کے ساتھ کسی دشمن سے کیا جاتا ہے۔ مثلاً جہاں پر کوئی کافر کسی مسلمان کے اشارے سے مسلمانوں کے علاقہ میں داخل ہو جائے تو وہ امان میں ہوتا ہے۔

ملاحظہ ہو کتاب مستدرک الوسائل جلد ۲ ص ۲۵۰

2 سورہ نسأ کی آیات ۱۵۴ اور ۱۵۹ اور سورہ انعام کی آیت ۱۴۵ کی طرف اشارہ ہے

3 بحارالانوار جلد ۱۶ ص ۱۴۶

4 مسلمان اسی فرسخ کا فاصلہ طے کر کے مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ پہنچے تاکہ حج کا فریضہ ادا کر سکیں لیکن کفار نے انہیں ایسا نہ کرنے دیا جس کے نتیجہ میں “صلح حدیبیہ” کا واقعہ پیش آ گیا، اب جبکہ مکہ فتح ہو چکا ہے تو ہمیں ان سے انتقام نہیں لینا چاہئے۔

5 مثلاً اگر حصول علم ایک “بر” (نیکی) ہے تو اس کی راہ ہموار کرنا “تعاون علی البر” ہے، مثلاً مدارس دینیہ کی تشکیل، کتب خانوں کا قیام، لیبارٹریوں کی تاسیس، کتاب، ذرائع حمل و نقل، استاد کی تربیت، استاد اور شاگرد کی تشویق وغیرہ۔

6 مثلاً شراب بنانے والوں کو انگور فروخت نہیں کرنے چاہئیں، ظالموں کو اسلحہ نہیں دینا چاہئے، سازشیوں کی سازشوں کو ناکام بنانا چاہئے، طاغوتی افراد اور حکمرانوں کو وسائل حمل و نقل حتیٰ کہ مکہ جانے کے لئے بھی سواری نہیں دینی چاہئے، کم ظرف لوگوں کو اہم رازوں سے مطلع نہیں کرنا چاہئے۔ اور گناہگار کے منہ پر ہنسنا نہیں چاہئے جس سے اسے گناہ میں تقویت ملے۔

7 اس میں اہم نکتہ یہ مضمر ہے کہ سورہ بقرہ کی آیت ۱۷۷ میں اسی “بر” (نیکی) کے مقامات بیان کئے گئے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے “ولکن البرمن امن باللہ والیوم الاخرو الملٰئکۃ والکتٰب والنبین و اتی المال علی حبہ ذوی القربیٰ والیتٰمی و …واولئک ھم المتقون” یعنی بر (نیکی) خدا، قیامت، انبیاء، آسمانی کتابوں اور فرشتوں پر ایمان اور معاشرہ کے محروم طبقوں کی دیکھ بھال اور قول و قرار اور معاہدوں کی پابندی اور تمام امور میں صبر و استقامت اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا نام ہے۔

بہت سی روایات میں نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور مظلوم و محروم لوگوں کی امداد کی تاکید کی گئی ہے اور ظالموں کی مدد سے مدد و امداد سے روکا گیا ہے، یہاں پر ہم تبرک کے طور پر چند ایک احادیث کو ذکر کرتے ہیں۔

ایک مسلمان کی اولاد، ایک ماہ کے مستحبی روزوں اور اعتکاف سے افضل ہے (وسائل الشیعہ جلد ۱ ص ۳۴۵)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی کی اولاد کے لئے ایک قدم اٹھاتا ہے اس کا ثواب ایک بہادر مجاہد کے ثواب کے برابر ہے (وسائل الشیعہ جلد ۸ ص ۶۰۲)

ایک اور حدیث میں ہے کہ : جب تک انسان لوگوں کی امداد کرنے کی فکر میں رہتا ہے اس وقت تک اللہ تعالیٰ اس کی امداد کرتا رہتا ہے، (وسائل الشیعہ جلد ۸ ص ۵۸۶)

8 زمانہ جاہلیت کی رسم کے مطابق کسی جانور کو مشروط طریقہ پر خریدتے اور اسے ذبح کیا کرتے تھے، وہ یوں کہ دس تیروں کو ایک ترکش میں رکھتے تھے جن میں سے سات تیروں پر “جیت” کے لفظ اور تین پر “ہار” کے لفظ لکھا کرتے تھے، اس کے بعد قرعہ ڈال کر ہر ایک تیر کو ترکش سے باہر نکالتے تھے چنانچہ مذبوح جانور کا تمام گوشت ان سات آدمیوں کو مل جاتا تھا جن کے نام “جیت” کے تیر نکلتے تھے اور جانور کی قیمت ان تین آدمیوں کو ادا کرنا پڑتی جن کے نام “ہار” کے تیر نکلتے تھے۔ اور انہیں گوشت کا حصہ بھی نہیں ملتا تھا۔ اس قسم کے جانور کو قرآن نے “حرام” قرار دیا ہے، پس “ازلام” کا معنی ہو گا “قرعہ کی خاص قسم کی لکڑیاں”۔

9 سورہ بقرہ / ۱۰۹ میں ہے کہ کفار اس بات کی طرف مائل تھے کہ مسلمانوں کو سیدھے راستے سے منحرف کیا جائے لیکن خداوند عالم نے حکم دیا ہے کہ: مسلمانو! چشم پوشی اور درگزر سے کام لو تاکہ خدا اپنا فرمان بھیجے، جس کی بنا پر مسلمان اللہ تعالیٰ کے ایک ایسے قطعی فرمان کے منتظر رہے کہ جس سے کفار مایوس ہو جائیں۔

10 قرآن مجید میں ہے “فکفرت بانعم اللہ … ” یعنی ان لوگوں نے کفران نعمت کیا اور اللہ نے ان کے اعمال کے باعث انہیں بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا (نحل /۱۱۲)

11 بت تو مجسموں کی شکل میں ہوتے تھے لیکن “نصب” بغیر کسی شکل و صورت کے پتھر ہوتے تھے جو خانہ کعبہ کے اطراف میں گڑھے ہوئے تھے جن کے پاس جانور ذبح کئے جاتے تھے اور ان کا خون ان پتھروں پر مل دیا جاتا تھا۔

12 چونکہ جانور کی موت کے وقت اس کا خون ہی سب سے پہلے فاسد اور خراب ہو جاتا ہے اور ایک قسم کی زہر کو ایجاد کرتا ہے، اسی لئے جو جانور دم گھٹنے سے یا سینگ لگنے سے یا اوپر سے گرنے سے یا تشدد کی وجہ سے یا کسی جانور کے پھاڑ دینے کی وجہ سے مر جاتے ہیں ان کا خون مکمل طور پر باہر نہیں نکلتا لہٰذا اسلام نے ایسے جانوروں کے گوشت کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے (از تفسیر نمونہ)

13 حدیث پاک میں “لاصلوٰۃ الابطہور” یعنی طہارت (اور وضو) کے بغیر نماز صحیح نہیں ہے۔

14 لا یمسہ الاالمطہرون

15 حضرت امام رضا علیہ السلام فلسفہ وضو کے بارے میں فرماتے ہیں: یکون العبد طاہرا اذ اقام بین یدی الجبار” یعنی خدا کے حضور جانے کے لئے ایک قسم کا ادب اور پاکیزگی ہے، “مطیعالہ فیما امرہ” یعنی ایک قسم کی اطاعت اور بندگی ہے۔ “نقیامن الادناس” یعنی پلیدی سے دوری ہے۔ “ذھاب الکسل و النعاس” یعنی سستی اور نیند کو دور کرنا ہے۔ “وتزکیۃ الغوأ و للقیام” یعنی نماز کے لئے روحانی نشو و نما اور آمادگی ہے۔ (ملاحظہ ہو کتاب وسائل الشیعہ جلد اول ص ۲۵۷، منقول از تفسیر نمونہ)

16 مسند امام احمد بن حنبل جلد اول ص ۳۹۸ اور کئی دوسری کتابیں

17 سورہ توبہ کی ۷۷ ویں آیت میں ہے کہ “عہدشکنی نفاق کے پیدا ہونے کا سبب ہوتی ہے”

18 سورہ صف /۱۴

19 ان کا خدا کا بیٹا اور خاص دوست ہونے کا دعویٰ انجیل یوحنا باب ۸ جملہ ۴۱ میں بھی آیا ہے۔

20 انبیاء کا قتل، پیغمبر اسلام کے تشریف لانے کی خوشخبری کو چھپانا، کئے ہوئے عہد کی خلاف ورزی کرنا، آسمانی کتابوں میں تحریف کرنا، شہر میں جانے سے ڈرنا، گوسالہ پرستی، مختلف قسم کے حیلے بہانے بنانا، شکم پرستی، ایک جیسی غذا پر قانع نہ رہنا، یہ سب ان کے جرائم کی فہرست ہے، اور ان پر خدا کا قہر و غضب، ان کے سروں پر پہاڑ کا مسلط رہنا، چالیس سال تک دربدری، بندروں کی صورت میں ان کا مسخ ہو جانا، ذلت اور خواری وغیرہ کی صورت میں خدا کا ان کو سزا دینا۔

21 نہج البلاغہ حکمت ۱۴۷

22 تاریخ میں اس کی کئی تمثالیں ملتی ہیں ، مثلاً حضرت موسیٰ کا اپنی قوم سے جدا ہونا، انبیاء کا اعتکاف میں جانا، پیغمبر اکرم سے وحی کا رک جانا اور غیبتِ صغریٰ اور غیبت کبریٰ وغیرہ

23 دریائے نیل سے گزر جانے کی نعمت، کوہ طور کے سایہ فگن رہنے کی نعمت، من و سلوٰی کے نزول کی نعمت، بارہ چشموں کے پھوٹنے کی نعمت اور اس کے علاوہ دوسری کئی نعمتیں ہیں جو بنی اسرائیل کو خصوصیت کے ساتھ عطا ہوئیں۔

24 ایک اور مقام پر اس قوم کی زبانی ہم پڑھ چکے ہیں کہ انہوں نے کہا “لاطقۃ لنا الیوم …” یعنی آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر کے ساتھ مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ (لقرہ / ۲۴۹)

25 فرعون کے طاغوتی نظام پر جان قربان کرنے والوں کو جو موسیٰ کی نہیں جانتے اس دنیا سے چلے جانا چاہئے اور نئی نسل کو وجود میں آنا چاہئے جو آزاد فضا اور صحرائی مشکلات میں پروان چڑھے تاکہ اسے شہروں میں اور آسمانی رہبروں کے زیرسایہ زندگی بسر کرنے کی قدر معلوم ہو۔

حدیث شریف میں ہے کہ “وہ لوگ سرزمین “تیہ” ہی میں انتقال کر گئے اور ان کی اولاد سرزمین مقدس میں داخل ہوئی”

26 سورہ انفال/۳۴ میں حضرت پیغمبر خدا کی دعوت کو معاشرے کی زندگی قرار دیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے “دعاکم لما یحییکم”

27 ہاتھ اور پاؤں کے کاٹنے کی مقدار وہی ہے جو چور کے کاٹنے کی ہے، (یعنی ہاتھ کی انگلیاں) اور “مخالف طریقہ” سے مراد جو کہ آیت میں مذکور ہے یہ ہے کہ بالترتیب دائیں ہاتھ کی انگلیاں اور بایاں پاؤں یا بائیں ہاتھ کی انگلیاں اور دایاں پاؤں۔

28 تفسیرالمیزان میں ہے کہ مذکورہ چار سزاؤں میں سے کسی کا انتخاب امام مسلمین کی صوابدید پر ہے اور اگر مقتول کے وارث معاف بھی کر دیں تب بھی ان میں سے کوئی ایک سزا ضرور ملے گی۔

29 حضرات معصومین علیہم السلام کی روایات میں “وسیلہ” کا معنی “امام” کیا گیا ہے، اور کہا گیا ہے کہ “تقربوا بالامام” یعنی امام کے ذریعہ خدا کا قرب حاصل کرو، (ملاحظہ ہو تفسیر صافی) اور روایات میں ہے کہ “ھم العروۃ الوئقی والوسیلۃ الی اللہ” یعنی ائمہ اطہار خدا کی طرف سے مضبوط سہارا اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ ہیں، (تفسیر صافی) “توسل” ایک ایسا موضوع ہے جس کے متعلق اہلنست کی بہت سی کتب مثلاً ضواعق محرقہ، سنن بیہقی اور صحیح دارمی وغیرہ میں روایات کو نقل کیا گیا ہے، نیز وفاء الوفاء جلد ۳ ص ۱۳۷۱ میں بھی نیز سورہ نسأ کی آیت ۶۴۔ سورہ یوسف کی آیت ۹۷ سورہ توبہ کی آیت ۱۱۴ میں بھی توسل کا ذکر موجود ہے۔

30 سورہ حج /۲۲ میں بھی ہم پڑھتے ہیں: “کلما ارادوا ان غیرجوا منہا من غم اعددوا منہا …” یعنی جب بھی وہ دوزخ کے غم سے نجات پانے کی خواہش کریں گے دوبارہ اسی میں پلٹا دیئے جائیں گے۔

31 حدیث میں ہے کہ ایک چور نے جس کا ہاتھ چوری کے جرم میں کاٹ دیا گیا تھا پیغمبر خدا سے سوال کیا کہ آیا میرے لئے توبہ کا دروازہ بند تو نہیں ہو گیا؟ تو آنحضرت نے فرمایا: نہیں! بلکہ تو آج اس دن کی مانند ہے جس دن اپنی ماں کے پیٹ سے باہر آیا تھا۔ (تفسیرالمیزان)

32 بعض لوگ ایسے مرجع کی تقلید کرتے ہیں جو ان کی مرضی کے مطابق فتوی دے یا ایسے عالم کے پاس جاتے ہیں یا عدالتوں کا رخ کرتے ہیں جو ان کی مرضی کی بات کریں یا فیصلہ دیں، آیت اس سے بھی روک رہی ہے،

33 حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: “انا ربانی ھذا الامۃ” یعنی میں اس امت کا ربانی ہوں (ملاحظہ ہو تفسیر مراغی) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: “ربانیون، ائمہ اہل بیت ہیں” (تفسیر صافی) اور حضرت عبداللہ بن عباس کو ” جرالامۃ” کا لقب دیا گیا ہے۔

34 حضرت رسول خدا فرماتے ہیں، “جو شخص دو درہم کی مقدار تک میں بھی ناحق فیصلہ کرے گا وہ اسی آیت کے آخری جملہ “ھم الکافرون” کے مصداق میں شامل ہو گا” (تفسیر صافی)

35 البتہ مرد اور عورت کے، غلام اور آزاد کے، مسلمان اور کافر کے درمیان قصاص کے حکم میں فرق ہے جو فقہی کتابوں میں بیان ہوا ہے۔

36 تورات سفر خروج فصل ۲۱, ۲۳, ۲۶

37 انجیل متی فصل پنجم آیت ۱۷ میں ہے: “یہ گمان نہ کرو کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ توریت یا انبیأ کے صحیفوں کو باطل کروں بلکہ اس لئے آیا ہوں تاکہ ان کی تکمیل کروں”

38 اسی سورت ۱۵ ویں آیت میں خدا فرماتا ہے کہ “قرآن نور ہے” اور ۴۴ویں آیت میں فرمایا ہے کہ “توریت نور ہے” اور زیر نظر آیت میں انجیل کو نور کہا ہے،

39 قرآن مجید میں سترہ مرتبہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کا ذکر ہوا ہے،

40 یہود اور نصار ہی کا ذکر تو صرف نمونہ کے طور پر ہے اور یہ بتانا مقصود ہے کہ کسی بھی قسم کے کافر کا تسلط قبول نہ کرو۔

41 البتہ دوسری آیات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کفار کی غذا جو گوشت کے علاوہ ہے، یا کتابیہ عورت سے ازدواج موقت (متعہ) یا لین دین اور ان کے ساتھ صلح صفائی کے ساتھ رہن سہن جائز ہے، اور یہ مسائل کفار کے تسلط قبول کرنے کے معنی میں نہیں ہیں۔

42 شیعہ اور سنی روایات میں ہے کہ: جنگ خیبر میں جب بھی کوئی مسلمان کمانڈر پرچم اسلام لے جاتا تھا وہ ناکام واپس آ جاتا تھا۔ آخرکار پیغمبر اسلام نے فرمایا: “میں کل اس شخص کو علم دوں گا جو …خدا اور رسول کو دوست رکھتا ہو گا اور خدا اور رسول اسے دوست رکھتے ہوں گے، اور وہ فتح و کامرانی کے ساتھ واپس لوٹے گا” (احقاق الحق جلد ۳ ص ۲۰۰ ) اور علم علی بن ابی طالب کو عطا کیا۔

ملاحظہ ہو کتاب “الغدیر” جلد دوم اور احقاق الحق جلد ۲ ص ۴۰۰ اور کنزالعمال جلد ۶ ص ۳۹۱ اور دوسری بہت سی کتابیں،

43 حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: “غدیر خم میں حضرت علی علیہ السلام کے ۱۲ ہزار شاہد تھے، لیکن وہ اپنا حق نہ لے سکے جبکہ اگر کسی مسلمان کے صرف دو گواہ ہوں تو وہ بھی اپنا حق لے سکتا ہے” (تفسیر نورالثقلین)

44 سابقہ آیت میں “ماکانوا یعملون” تھا اور اس آیت میں “ماکانوالیصنعون” ہے، علامہ محسن فیض کاشانی فرماتے ہیں: “صانع” اور ہوتا ہے اور “عامل” اور ہوتا ہے، “صانع” اسے کہتے ہیں جس نے تجربہ اور قدرت کے ساتھ کام سیکھا ہو اور کام اس کے لئے ایک خصلت اور ملکہ کی صورت اختیار کر چکا ہو۔”

44-B سورہ اعراف آیت ۹۶ میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے

45 اس آیت کا مفہوم آیت ۶۶ میں گزر چکا ہے

46 اسی سے ملتی جلتی آیت سورہ بقرہ میں گزر چکی ہے یعنی آیت ۶۲۔

47 سورہ یٰسین کی آیت ہے “وما لی لا اعبدالذی فطرنی … ” یعنی مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں اس ذات کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے

48 حدیث شریف میں ہے “شارب الخمر کعابدالوئن” یعنی شراب خور انسان بت پرست کی مانند ہے۔

49 شراب کے سلسلہ میں ہر طرح کا تعاون خواہ وہ پیداوار کی صورت میں وہ یا اس کے تقسیم کرنے اور استعمال کی صورت میں، حرام ہے، حضرت امام محمد باقر علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آنحضرت نے دس قسم کے لوگوں پر لعنت کی ہے جو کسی بھی طرح شراب خوری میں موثر واقع ہوتے ہیں، آپ فرماتے ہیں: نماز سھا، حارسھا، عاصرھا، شاربھا، ساقیھا، حاملھا، المحمول الیہ، با یعھا ومشتریھا و آکل ثمرھا” یعنی جو پودا لگاتا ہے، جو اس کی حفاظت کرتا ہے، جو اسے تیار کرتا ہے، جو اسے پیتا ہے، جو اسے پلاتا ہے، جو اسے اٹھاتا ہے، جو اسے وصول کرتا ہے، جو اسے خریدتا ہے جو کسی بھی طریقے سے اس کی آمدنی سے بہرہ مند ہوتا ہے ملعون ہے۔ (تفسیر نورالثقلین اس آیت کے ذیل میں)

50 حضرت امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں: میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہو جائیں گے لیکن اس میں میرا کوئی قصور نہیں، ایک تو حد سے زیادہ محبت کرنے والے اور دوسرے بے مقصد دشمنی رکھنے والے۔ (تفسیر نورالثقلین اسی آیت کے ذیل میں)

51 دوسری آیات میں ہے “قالا اتخذالرحمن ولدا سبحانہ” (انبیاء /۲۶) “ویجعلون للہ البنات سبحانہ” (نحل /۵۷) ان آیات میں مشرکین کے عقیدہ کے مطابق خدا کو بیٹے اور بیٹیوں سے پاک و منزہ قرار دیا گیا ہے۔

52 سورہ نسأکی آیت ۷۲ میں پڑھ چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کی بندگی سے کسی قسم کا انکار ہرگز نہیں ہے۔

53 خدا کے کاموں کے بارے میں اس سے سوال نہیں کیا جا سکتا، “لا یسئل عما یفعل” (انبیاء /۲۳)

٭٭٭

ماخذ:

http://www.alhassanain.com/urdu/download_zip.php?book_id=3683&link_book=holy_quran_library/quran_interpretation/tafseer_e_noor

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید