FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

  تفسیرنور

 

سورہ اعراف

 

                شیخ محسن قرائتی

 

 

سورہ اعراف

 

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

 

                آیت نمبر ۱ تا ۲۵

 

آیت ۱، ۲

 

الف۔ لام۔ میم۔ صاد

(یہ) وہ کتاب ہے جو ( اے پیغمبر) تمہاری طرف نازل کی گئی، پس اس سے تمہارے سینے میں تنگی (اور شک و شبہ) نہیں ہونا چاہیے۔ (یہ کتاب اس لئے نازل ہوئی ہے۔) تاکہ اس کے ذریعہ تم ڈراؤ اور مومنین کے لئے نصیحت ہو۔

ایک نکتہ

صاحب تفسیر المیزان کے بقول، وہ تمام موضوعات جو سورة “الم” اور سورة “ص” میں ذکر ہوئے ہیں۔ وہ سب اسی سورة میں بیان ہوئے ہیں۔ (کیونکہ اس کی پہلی آیت ان دونوں کا مجموعہ (یعنی “المص” ہے۔)

پیام:

1۔ قرآن مجید کی تلاوت اور اس کے مفہوم کی طرف توجہ سینے کی وسعت کا سبب ہوتی ہے۔ (اُنزل۔ فلایکن)

2۔ رسالت کی شرط وسعت قلبی ہے۔ (فلایکن فی صدرک حرج منہ لتنذر)

3۔ اے پیغمبر! آپکو کفار کی ہٹ دھرمی اور اکھڑ پن سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ آپ کا کام تو صرف (انہیں ڈرانا) ہے۔ اجبار و زربردستی نہیں ہے۔ (لتنذر)

4۔ انبیاء علیہم السلام کی تنبیہ، عمومی ہوتی ہے لیکن یاد دہانی اور سبق سکھلانا صرف مومنین کے ساتھ مخصوص ہے۔ (وذکٰری للمومنین)

آیت ۳

اُتَّبِعُوْا مَااُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِنْ رِّبِّکُمْ وَلَاتَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہِ اَوْلِیَاءَ قَلِیْلًامَّا تَذَکَّرُوْنَO

ترجمہ: جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے۔ اس کی پیروی کرو۔ اور اس کے علاوہ کسی اور معبود کی پیروی نہ کرو۔ تم کیا ہی کم نصیحت حاصل کر تے ہو۔

سابقہ آیت پیغمبر اکرم کے فرائض کو بیان کر رہی ہے۔ اور یہ آیت امت کے فریضہ کو۔ اس آیت میں پیغمبر کو وسعت قلبی کا ثبوت دینے کے لیے کہا گیا اور اس آیت میں امت سے اطاعت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس آیت میں “انزل الیک”ہے۔ اور اس میں “انزل الیکم”

پیام:

1۔ آیات الٰہی کی پیروی تمہارے اپنے اارتقاء اور رشدو تربیت کا سبب ہے (ربکم)

2 ۔ آیاتِ الٰہی کی پیروی کا نتیجہ “ولایت الٰہی” کو تسلیم کرنا ہوتا ہے۔ اور اس کے ترک کر دینے کا نتیجہ غیر اللہ کی ولایت کا جو گلے میں ڈالنا ہوتا ہے۔ (ولا تتبعوامن دونة اولیاء )

3۔ جو خداوند یکتا وحدہ لاشکریک کی ولایت اور اس کے قانون کو قبول نہیں کرتا۔ (ربکم) اسے کئی “ولیّوں” کو راضی کرنا پڑتا ہے۔ (اولیاء)

4۔ نصیحت حاصل کرنے والا ہمیشہ اور ہر دور میں قلیل تعداد میں ہوتے ہیں۔ (قلیلا ماتذکرون)

آیت ۴۔۵

وَ کَمْ مِنْ قَرْیَةٍ اَھْلَکْنَھَا فَجَآءَ ھَا بَاسُنَا بَیَتًا اَوْھُمْ قَائِلُوْنَ O فَمَا کَانَ دَعْوَھُمْ اِذْ جَآءَ ھُمْ بَاسُنَآ اِلَّا اَنْ قَالُوْ اِنَّا کُنَّا ظَلِمِیْن O

اور کتنی ایسی آبادیاں ہیں کہ ہم نے وہاں کے رہنے والوں کو (ان کے اپنے کرتوتوں اور کفر کی وجہ سے) نیست و نابود کر دیا۔ پس ہمارا عذاب رات کو یا دِن کو جب وہ سو رہے ہوتے تھے ان کے پاس پہنچ جاتا۔

پس جب ہمارا عذاب ان کے پاس آ جاتا تو وہ اس کے سوا اور کچھ نہ کہتے کہ “ہم خود ظالم تھے”

چند نکات:

دو ” قریہ” کے معنی گاؤں یا بستی کے نہیں بلکہ اس کے معنی ہیں آبادی، لوگوں کے جمع ہونے کا مرکز، خواہ شہر ہو یا گاؤں۔

دو “قائلون “کے لفظ کو” قیلولہ” سے لیا گیا ہے۔ جس کے معنی ہیں دوپہر کا آرام و استراحت اور اقالہ کا تعلق بھی اسی باب سے ہے جس کا معنی ہے فروخت شدہ چیز کو واپس لینا۔ کیونکہ اس طرح سے خریدار معاملے کی پریشانی سے راحت محسوس کرتا ہے۔

“بیات “کے معنی “شبانہ” یا رات کا وقت ہے۔ (ازتفسیر نمونہ)

پیام:

1۔ جو علاقے خدائی قہر و غضب سے نیست و نابود ہوئے ہیں وہ بہت کم ہیں۔ (وکم)

2۔ دوسروں کے تلخ تجربوں سے عبرت حاصل کرو (وکم)

3۔ خدائی سزاؤں کا تعلق صرف قیامت ہی سے نہیں بلکہ دنیا میں اس کے نمونے دیکھے جا سکتے ہیں۔ (اھلکنا)

4۔ خدائی قہر و غضب ناگہانی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ اس کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ (بیاتا او ہم قائلون)

5۔ آرام کے وقت عذاب کا اپنی گرفت میں زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ (بیاتااوہم قائلون)

6۔ خدائی عذاب اس وقت اپنی لپیٹ میں لیتا ہے جب سوچنے سمجھنے اور چارہ جوئی کی فرصت بھی نہیں ملتی۔ (بیاتا اوہم قائلون)

7۔ باحوصلہ رہبر اور کامل قانون (سابقہ دو آیات کی طرف اِشارہ ہے۔) کے آ جانے کے بعد لوگوں پر حجت تمام ہوچکی ہے۔ لہٰذا اس کی نافرمانی سخت سزا کا موجب بن جائے گی۔ (وکم اھلکنا)

8۔ خطرات اور جوادثات، غرور کا سر نیچا کر دیتے ہیں۔ غفلت کے پردے چاک کر دیتے ہیں۔ اور مردہ ضمیروں کو زندہ اور سوئے ہوئے ضمیروں کو بیدار کر دیتے ہیں۔ (لاان قالوا)

9۔ ہر ظالم و جابر انسان جب عذاب الٰہی کو دیکھتا ہے تو اس میں ٹھراؤ آ جاتا ہے۔ اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کر لیتا ہے۔ (انا کنا ظالمین)

10۔ نعرے اس وقت لگائے جاتے ہیں جب آسائش کا زمانہ ہوتا ہے۔ لیکن جب خطرہ سر پر منڈلانے لگتا ہے تو ایک حرف بھی منہ سے نہیں نکل پاتا۔ (فما کان دعوٰھم)

11۔ اگر آج اپنے ارادے اور اختیار سے سر تسلیم خم نہیں کروگے۔ تو کل خواہ مخواہ مجبوراً کورنش بجانا پڑے گی۔ (قانو اناکنا۔)

12۔ غیر اللہ کے پیچھے جانا ان کی اطاعت کرنا اور انبیاء کی اطاعت سے منہ موڑنا۔ (سابقہ دو آیات کے پیشِ نظر) ظلم ہے۔ (کنا ظالمین)

آیت ۶۔۷

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْھِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ o فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْہِمْ بِعِلْمٍ وَ مَا کُنَّا غَآئِبِیْنَo

ترجمہ: پس ہم یقیناً ان لوگوں سے باز پرس کریں گے جن کی طرف پیغمبر بھیجے گئے۔ اور خود پیغمبروں سے بھی جواب طلبی کریں گے۔

پس ہم یقیناً علم ( اور پوری تحقیق) کی بناء پر ان لوگوں کو (وہ) سب کچھ بتا دیں گے (جو انہوں نے کیا ہو گا) اور ہم غائب اور بے خبر نہیں تھے۔

ایک نکتہ

سابقہ آیت میں دنیوی سزا کا تذکرہ تھا۔ اور یہ آیت اخروی سزا اور احتساب کو بیان کر رہی ہے۔ اور اس طرح تاکید کے ساتھ اس کا تذکرہ کر رہی ہے کہ قیامت کے دِن سوال و جواب ختمی ہوں گے۔ اور یہ صرف گناہگاروں ہی کے ساتھ خاص نہیں ہے۔

پیام:

1۔ قیامت کے دِن، رہبروں اور راہنماؤں سے بھی سوال ہوں گے۔ اور اُمتوں اور پیروکاروں سے بھی۔ نیک لوگوں سے بھی پوچھا جائے گا۔ اور بدکاروں سے بھی۔ علماء سے بھی بازپرس ہو گی اور مقلدین سے بھی۔

2۔ قیامت کے دن سوال کرنے کا مقصد یہ نہیں ہو گا کہ خدا سے کوئی چیز پوشیدہ ہے۔ اور وہ پوچھ پوچھ کر شکوک و شبہات دور کر ے گا، نہیں بلکہ مقصد بندوں کی اپنے اعمال کے بارے میں شہادت، ان کا اقرار اور خدا کی

ہے۔ جب کہ سورہ سبا / ۳ میں ہے۔

“ومایغرب عن ربک مثقال ذرة فی السٰمٰوات والارض”

تفسیر:

اس آیت میں چند نکتے موجود ہیں۔

الف: کن چیزوں کے بارے میں پوچھا جائے گا؟ اِن چیزوں کے بارے میں:

1۔ نعمتوں کے بارے میں جیسا کہ ارشاد ہے ۔ “ثم لتسئلن یومئذٍ عن النعیم۔” (تکاثر/۷) تم سے اس دِن نعمتوں کے بارے میں ضرور سوال کیا جائے گا۔ اور روایات میں ہے کہ یہاں ہر نعمت سے مراد “رہبری اور ولایت ” ہے۔

2۔ کردار کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ جیسا کہ فرماتا ہے۔ “لنسئکنھم اجمعین عما کانوا یعملون” (حجر/۹۲) ہم ان سے ضرور سوال کریں گے ان چیزوں کے بارے میں جو وہ انجام دیتے رہے۔

3۔ اعضاء کے بارے میں پوچھا جائے گا جیسا کہ فرماتا ہے۔ “ان السمع والصبرو الفواد کل اولئک کان عنہ مسئولا” (بنی اسرائیل / ۸۳) کان، آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں سوال ہو گا۔

4۔ عمر و جوانی اور مال و دولت کا حصول اور ان کے مصرف کے بارے میں سوال ہو گا۔ جیساکہ روایات و احادیث اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ب: سوال کس انداز میں کیا جائے گا؟ اس انداز میں مثلاً

1) “یمعشرالجن والا نس اکم یاتکم رسل منکم۔۔۔” (انعام / ۱۳۰) اے گروہ جن و انس! آیا دنیا میں تمہارے پاس پیغمبر نہیں آتے تھے کہ تمہیں حقائق بتاتے؟

2) “یومِ یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم۔۔۔” (مائدہ / ۱۰۹) جس دن اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں کو اکٹھا کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ لوگوں نے آپ کو کس طرح جواب دیا تھا؟

ج: اس آیت میں فرماتا ہے کہ یقیناً انبیاء سے بھی سوال کریں گے اور لوگوں سے بھی! جبکہ سوة الرحمن /۳۹ میں فرماتا ہے کہ ” اس دِن کسی جن و انس سے ان کے گناہوں کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔ “فیومئذٍلایسئل عن ذنبہ انس و الاجان” تو کیا ان دونوں آیات کا آپس میں اختلاف ہے؟

جواب: قیامت میں صرف ایک جگہ ہی سوال نہیں کیا جائے گا، کئی مقامات پر ٹھہرایا جائے گا اور ہر مقام پر مختلف نوعیت کا سوال کیا جائے گا۔ اور ایک جگہ پر ہونٹوں پر مہر لگا دی جائے گی اور کسی کو بولنے کا یارا نہیں ہو گا۔ کہیں پر مہر سکوت توڑ دی جائے گی۔ ہر طرف سے چیخ و پکار، نصرت طلبی اور اقرار کی آوازیں گونج رہی ہوں گی۔ کسی جگہ پر سب سے پوچھا جائے گا۔ اور کہیں پر سب خاموش!

آیت ۸

وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَاُوْلٰئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ o

ترجمہ: اور (قیامت کے دِن) میزان (لوگوں کے جاننے کا ذریعہ) حق ہے، پس جس شخص (کے اعمال) کے پلڑے بھاری ہوں گے تو وہ لوگ ہی کامیاب ہیں۔”

“میزان” کسی چیز کے وزن کرنے ا ور جانچنے کے ذریعہ کو کہتے ہیں اور ہر چیز کا میزان جداگانہ ہے۔ْ دیوار کو ساہول کے ساتھ، آب و ہوا کو تھرمامیٹر کے ساتھ، پھل و میوے کو کلو کے ساتھ اور کپڑے کو میٹر یا گز کے ساتھ جانچتے ہیں۔ عام انسانوں کی جانچ اور وزن کا ذریعہ انسان کامل ہیں جو مجسم حق ہیں۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام “ونضع الموازین القسط” ہم عدل و انصاف کے ترازو قائم کریں گے۔ (انبیاء / ۴۷) کی تفسیر کے متعلق حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں اور انبیاء اور اوصیاء علیہم السلام میزان ہیں۔ اور حضرت امیر المٴومنین علی علیہ السلام کی زیارت مطلقہ میں ہم پڑھتے ہیں۔ “السلام علی میزان الاعمال” اعمال کے ترازو پر ہمارا سلام۔ اس لئے کہ یہی ذوات قدسیہ بذات خود دوسروں کے اعمال و افعال کے جانچنے، پرکھنے اور تولنے کا حقیقی معیار ہیں۔

پیام:

1۔ قیامت کے دِن حق کی حکومت ہو گی۔ “ھنالک الولایة للّٰہ الحق ” (کہف/۴۴) اور وہ دن بذاتِ خود حق ہو گا۔ “ذالک الیوم الحق” (بنا/ ۳۹) اس دِن وزن بھی حق ہو گا اور فیصلہ بھی برحق ہو گا۔ (آیت الذکر)

2۔ قیامت کے دِن تمام بندوبست باقاعدہ منظم طریقے سے کئے جائیں گے، حساب و کتاب احکام اور فیصلوں کا صدور، سزا و جزا کا فیصلہ سب کچھ حق کی بنیادوں پر ہو گا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ “والوزن یومئَذالحق”

3۔ ہر شخص کے لئے کسی قسم کے جانچنے اور وزن کرنے کے معیار ہوں گے۔ “وموازینہ”

4۔ عمل کے بغیر کسی جزا کی توقع غلط ہے۔ “فمن ثقلت۔۔۔۔ ھم المفلحون”

آیت ۹

وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَاُ ْولٰئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْ ا اَنْفُسَھُمْ بِمَا کَانُوْ ا بِئَایَتِنَا یَظْلِمُوْنَ O

ترجمہ: اور جس شخص کے (اعمال کے) پلڑے ہلکے ہوں گے (اور ان کے اعمال و افکار ناشائستہ ہوں گے) تو یہی وہ لوگ ہوں گے جو ہماری آیات پر ظلم کرنے کی وجہ سے خود کو تباہ و برباد کر کے نقصان پہنچائیں گے۔

پیام:

1۔ ایک انسان کے جانچنے اور پرکھنے کے لئے کئی وسائل ضروری ہوتے ہیں۔ (موازین)

2۔ اعمال صالح اگر کم مقدار میں ہوں تو خسارے کا موجب ہوتے ہیں، چہ جائیکہ سرے ہی سے نہ ہو۔ (خفت خسروا)

3۔ آیات الٰہی کا انکار اور ان سے بے پرواہی۔ ان پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ (بایاتنایظلمون)

4۔ اس دنیا کو بازار کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس میں رہ کر ایمان لانا “منافع” ہے اور کفارو انکار کا خسارہ ہے۔ اور فطرات سلیم اور استدلال کو نظر انداز کر دینا جو ہر انسانیت کو نابود کرنے اور اپنے اوپر ظلم کا موجب ہے۔ (خسرو اانفسہم)

آیت ۱۰

فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَکُمْ فِیْہَا مَعَیِشَ قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُونَ

ترجمہ: اور ہم نے یقیناً تمہیں روئے زمین پر تسلط اور حکومت عطا کی (اور فطرت کو مسخر کر کے) تمہارے لئے اس زمین میں وسائل زندگی فراہم کئے۔ (لیکن) تم بہت ہی کم شکر بجا لاتے ہو۔

پیام:

1۔ دنیا میں تمام چیزیں انسان کے اختیار میں اور اس کے لئے مسخر ہیں۔ (مکناکم) ۱

2۔ زمین کی تخلیق اور اس کے متعلقہ امور مثلاً گردش، حرارت، جاذنیت، وافعیت، پانی، نباتات، فضلات کو قبول کر کے سبزیجات و پھل میوے واپس کرنا وغیرہ ایسے امور کہ جنہیں دیکھ انسان اپنے لئے زمین کو محل سکونت کے عنوان سے منتخب کرسکتا ہے۔ “مکناکم فی الارض”

3۔ طبیعت و فطرات پر حکمران قوانین کچھ اس طرح سے ہیں کہ انسان ان پر تسلط قائم کرسکتا ہے اور انہیں اپنے اختیار میں لا سکتا ہے۔ اگر خداوندتعالیٰ زمین کو رام نہ کرتا۔ تو انسان کے بس کی بات نہیں تھی کہ اسے اپنے قابو میں رکھتا اور اس سے بہرہ گیری کرتا۔ “مکنا”

4۔ نعمتوں کو شکر بجا لانے کا سبب سمجھو نہ کہ غفلت اور عیاشی کا موجب۔ (تشکرون)

5۔ قرآن مجید بار بار لوگوں کی ناشکری، غفلت اور بے ایمانی کی بات کرتا ہے۔ (قلیلا مایشکرون)

آیت ۱۱

اوَلَقَدْ خَلَقْنَاکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِکَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلاَّ إِبْلِیسَ لَمْ یَکُنْ مِنْ السَّاجِدِینَ

ترجمہ: اور ہم نے یقیناً تمہیں پیدا کیا، پھر تمہاری صورت بندی اور چہرہ نگاری کی، پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ “آدم کو سجدہ کرو” پس سب نے سجدہ کیا سوائے ! ابلیس کے۔ کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔

دو نکات:

سابقہ آیت میں انسان کو زمین پر تسلط کی بات ہو رہی تھی جو کہ اس کی مادی قدرت کی بات تھی، اور اس آیت میں اس کے “مسجود ملائکہ” ہونے کا تذکرہ جو اس کی تصویر عظمت کی دلیل ہے۔

اس آیت سے لے کر بعد کی ۱۰ آیت تک حضرت آدم کی داستان سے تعلق رکھتی ہے۔ جو گذشتہ آیت یعنی انسان کی زمین پر تمکین و قدرت کی تفصیل ہیں۔

پیام:

1۔ انسانی تخلیق چند مراحل میں عمل میںآ ئی۔ (ثُم ثُم)

۲۔ انسان میں اس مقام پر و منزلت تک پہنچنے کی استعداد و صلاحیت ہو کہ مسجود ملائکہ بن سکتا ہو ۔ (اسجدو الادم)

۳۔ اگر فرمان خدا کے مطابق غیر خدا کو سجدہ کیا جائے تو شرک نہیں ہے۔ (قلنا ۔السجدوا)

۴۔ باپ پر احسان، اولاد پر احسان ہوتا ہے( حکم خداوندی کے ملائکہ نے ابوابستہ آدم کو سجدہ کیا ہے اپنی قدرو منزلت کو خوب اچھی طرح پہچانو)

آیت ۱۲

قَالَ مَا مَنَعَکَ أَلاَّ تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُکَ قَالَ أَنَا خَیْرٌ مِنْہُ خَلَقْتَنِی مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَہُ مِنْ طِینٍ

ترجمہ: اللہ نے (ابلیس سے) فرمایا جب میں نے تجھے سجدے کا حکم دیا تھا تو تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے باز رکھا؟ اس نے کہا: میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی کے خلق کیا ہے ۔

ایک نکتہ:

سجدہ کرنے کی وجہ لیاقت اور شایستگی تھی تاکہ “ذات پات” اور شرعی روایات کیمطابق سب سے پہلے جس کسی نے قیاس کیا وہ شیطان تھا 2

پیام:

۱۔ غرور اور تکبر کے خطرہ اس حد تک ہے کہ متکبرین خدا کے فرمان کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ امر کے آگے لکڑ جاتے ہیں۔ (اناخیرمنہ)

۲۔ شیطان نے قیاس سے کام لیا جو گمان اور تخمین پر مبنی ہے۔ (خلقنی نارو خلقتہ من طین)

۳۔ تعصب اور بے جا حمیت نے شیطان کو تباہ و برباد کر ڈالا۔ (خلقتنی من نار)

۴۔ کائنات کا سب سے پہلا گناہگار شیطان ہے اور اس کی تباہی و بربادی کا موجب اس کا غرور و تکبر اور دریں کہنا ہے۔

۵۔ میرے خدا کی خالقیت ہی کو قبول کر لینا۔ (تسلیم کر لینا) کافی نہیں بلکہ امر کا حکم ماننا اور امر کے آگے سر تسلیم حکم کرنا بھی ضروری ہے۔ (خراضتنی)

۶۔ شیطان، آدم کے نہیں خدا ایک ہے ڈٹ گیا۔ (اذام تک) 3

۷۔ شیطان نے نص کے مقابلے میں اجتہاد کیا۔ اور آگ کی مٹی ہے بدتر کا سہارا لے کر خدا ئی حکمت کا انکار کر دیا۔ (خلقتنی من نار)

آیت ۱۳

قَالَ فَاہْبِطْ مِنْہَا فَمَا یَکُونُ لَکَ أَنْ تَتَکَبَّرَ فِیہَا فَاخْرُجْ إِنَّکَ مِنْ الصَّاغِرِین ترجمہ: اللہ نے شیطان سے کہا: اس مرتبے اور درجے سے نیچے آ جا! تجھے نہیں چاہیے تھا کہ تکبر کرتا۔ پس باہر نکل جا کیونکہ تو یقیناً ذلیل اور رسواؤں سے ہے۔

پیام:

۱۔ غروروتکبر کا نتیجہ حقارت ذلت اور رسوائی ہے۔ (فاھبط۔ فاخرج)

۲۔ تکبر صرف عام لوگوں کے لئے خطرناک نہیں ہے بلکہ ان کیلئے بھی خطرناک ہے جو ملاء اعلیٰ میں فرشتوں کا ہم نشین رہ کر ہزاروں سال کی ریکارڈ عبادت کے حاصل ہوتے ہیں۔ (فاھبط فاخرج)

۳۔ نہ تو شیطان کر اس کا خدا کے بارے میں علم بچا سکا اور نہ ہی لمبی چوڑی عبادت، راہ نجات صرف اور صرف اس کے آگے سر تسلیم خم کر دینے میں ہے۔ (تتکبر فیھا۔ فاخرج) 4

۴۔ تکبر اعمال کی نابودی اور بربادی کا موجب ہوتا ہے ۔ (فاخرج)

۵۔ “میں بہتر ہوں” (اناخیر) کے نعرے کا جواب “نکل جا” (فاخرج) ہے۔

۶۔ بعض اوقات ایک لمحے کا تکبر، اور تباہی کا موجب بن سکتا ہے۔ (تتکبر۔ فاخرج)

آیت ۱۴۔ ۱۵

قَالَ أَنظِرْنِی إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ ۔ قَالَ إِنَّکَ مِنْ الْمُنظَرِینَ

ترجمہ: (شیطان نے توبہ کرنے اور معافی مانگنے کی بجائے ) کہا : مجھے اس دن تک مہلت دے جس دن لوگ قبور سے اٹھائے جائیں گے۔ (اللہ نے) فرمایا : یقیناً تو ان افراد میں سے ہے جنہیں مہلت دی جا چکی ہے۔

دو نکات:

ابلیس تو قیامت تک کی مہلت چاہتا تھا۔ لیکن اس آیت سے اور سورہ ۳۸ ویں اور سورہ ص کی ۸۱ ویں آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے قیامت تک تو نہیں البتہ ایک لمبے عرصے کے لئے مہلت ملی ہے۔ کہ “درانک من المنظرین امر یوم الوقت المعلوم”

تفسیر صافی میں ہے کہ ابلیس پہلے صور کے پھونکے جانے تک زندہ رہے گا پھر وہ بھی مر جائے گا۔

سوال: ابلیس کو خدا نے کس لیے مہلت دی ہے؟

جواب: اس لئے کہ مہلت دینا خدا کا ایک طریقہ کار چلا آ رہا ہے۔ تاکہ خیر اور شر کے اسباب مہیا رہیں اور انسان اپنے ارادہ اور اختیارات۔ راہ کا انتخاب کرے، ابلیس، انسان کو گمرہ کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔ ( سورہ ابراہیم ۲۶)

پیام:

۱۔ پر لمبی عمر بھی قابل قدر نہیں ہوا کرتی۔ (انظرنی)

۲۔ بعض اوقات کافر کی دلی تمنا بھی پوری ہو جاتی ہے۔ (انک من المنظرین)

۳۔ شیطان بھی جانتا ہے کہ عمر خدا کے ہاتھ اور ارادے میں ہے۔ اسی لئے اے خدا اے خدا مانگا ہے۔ (انظرنی)

۴۔ مہلت دینا خدا کا طریقہ کار ہے۔ (انک من المنظرین)

۵۔ ابلیس، اپنے خالق کو بھی پہچانتا تھا کہ کہا (خلقتنی) اور معاد کو بھی جانتا تھا اسی لئے قیامت کے دن تک کی مہلت مانگی (یوم یبعثون) لیکن ایسی معرفت کا کیا فایدہ جب اس کے فرمان پر عمل نہ کرے۔

آیت ۱۶۔۱۷

قَالَ فَبِمَا أَغْوَیْتَنِی لَأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیمَ ۔ ثُمَّ لَآتِیَنَّہُمْ مِنْ بَیْنِ أَیْدِیہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْمَانِہِمْ وَعَنْ شَمَائِلِہِمْ وَلاَتَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِینَ

ترجمہ: (شیطان نے )کہا: تو چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے لہٰذا میں بھی یقیناً (فریب دینے کے لئے) تیرے سیدھے راستے پر بیٹھا رہوں گا۔

پھر (تیرے) ان (بندوں) کے آگے سے یا پیچھے سے، دائیں سے اور بائیں سے ان تک آ پہنچوں گا (میرے مسلسل وسوسوں کے نتیجے میں تو ان میں سے بہترین کو شکر گزار نہیں پائے گا۔

دو نکات:

شیطان نے خدا سے اس لئے مہلت نہیں مانگی تھی کہ غلطی کی تلافی کرے، بلکہ آدم کا انتقام اولاد آدم سے لینے کے لئے مہلت مانگی تاکہ انہیں گمراہ کرے۔

حدیث میں ہے کہ شیطان نے قسم کھائی کہ اولاد آدم کے چاروں طرف گھات لگائے رکھے گا تاکہ انہیں گمراہ کر دے یا نیکی سے روکے رکھے۔ فرشتوں نے انسانوں کی ہمدردی میں خدا کی بارگاہ میں عرض کی۔ “پروردگا! یہ انسان کے پنجے سے کیسے چھٹکارا پا سکے گا؟ “اللہ نے فرمایا” اگر وہ چاروں اطراف سے انہیں گمراہ کرے گا تو دو راستے اورپر اور نیچے والے ان کے لئے کھلے ہوں گے جب بھی انسان دعا کے لئے ہاتھ کھڑے دے گا یا اپنی صورت خاک پر رکھ دے گا تو اس کے ستر سال کے گناہ معاف کر دوں گا” (از تفسیر فخر الدین رازی)

جب آدم کو شیطان کے تسلط کا علم ہوا تو خدا کی بارگاہ میں فریاد کرنے لگ گئے۔ اللہ نے فرمایا: “گھبرانے کی ضرورت نہیں میں گناہ کو اور نیکی کو اسی گناہ کروں گا۔ اور توبہ کا دروازہ بھی کھلا رکھوں گا”

(ازتفسر نورا الثقلین)

پیام:

۱۔ اپنی خلاف ورزیوں کی توجیہہ نہیں کرنی چاہئے جب کہ عذر گناہ بلا تراز گناہ کے میدان شیطان نے اپنے تکبر کو تو نظر انداز کر دیا اور گمراہی کی نسبت خدا کی طرف دیدی۔ (اغوتنی)

۲۔ شیطان، انسان کا تو قسم خوردہ دشمن ہے۔ (لاغوینھم) 5

۳۔ راہ مستقیم پر چلنا اور اس راہ کا تلاتر کرنا بہت مشکل ہے جس کے الھی امداد کی ضروت ہے چونکہ شیطان بروقت گھات میں ہے لہٰذا اس کے بروقت ہوشیار اور اس کے خلاف نبر آزمانا رہنے کے لئے بروقت مسلح رہنا چاہتے (لاقعدن لھم۔۔)

۴۔ شیطان سب کچھ سے واقف ہے۔ صراط مستقیم کو بھی جانتا ہے۔ شکر گزاروں سے بھی واقف ہے وسوسے ڈالنا بھی خوب جانتا ہے اور جارحانہ انداز سے حملے کرنے سے بھی باخبر ہے۔ (تفسیر)

یاد رہے کہ شیطان کے وسوسہ ڈالنے کے کئی راستے ہیں۔ اگر آپ ایک راسے کوبند کر دیں گے تو وہ دوسری راہ لے آ جائے گا۔ لہٰذا اچھی طرح ہوشیار اور خبردار رہنا چاہئے ہو سکتا ہے کہ اس کا آگے کی طرف سے آنے کا مقصد جاہ و مقام اور سال کے حصول کی خواہش ہو، پیچھے کی طرف یہ آنے کا مقصد اولاد اور الاتوں کی فکر ہو، دائیں طرف کا مقصد علم و عبادت کے اور سماجی خدمات کے ذریعہ وسوسے ڈالنا ہو اور بائیں جانب کے رسوخ سے مراد برائیوں اور بے حیائیوں کی طرف رغبت دلانا ہو۔ (ازتفسر المیزان)

۵۔ شیطان کے گھات کی تاثیر چند چیزوں کے ذریعہ سے ہوتی ہے یا گمراہ کرنے سے یا پیچھے ہٹا دینے سے یا روک دینے سے یا دل میں مختلف شکوک و شبہات اور وسوسے ڈالنے سے۔

۶۔ شیطان آگے کی طرف سے یوں آتا ہے کہ دنیا کو انسان کے لئے مزین کر کے پیش کر کے پیش کرتا ہے پیچھے سے یوں کہ آخرت کو فرا موش کرا دیتا ہے۔ دائیں طرف سے اس طرح کہ عبادتوں کو بوجھل اور سنگین ظاہر کرتا ہے۔ اور بائیں جانب سے اس طرح کہ گناہوں کو شیریں لذیذ اور خوشگوار انداز میں پیش کرتا ہے۔ (ازتفسیر مجمع البیان)

آیت ۱۸

قَالَ اخْرُجْ مِنْہَا مَذْئُومًا مَدْحُورًا لَمَنْ تَبِعَکَ مِنْہُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَہَنَّمَ مِنْکُمْ أَجْمَعِین

ترجمہ: (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: تو ذلیل و خوار ہو کر (اپنے مقام و منزلت سے) نکل جا، (میں قسم کھا کر کہتاہوں) ان میں سے جو شخص تیری پیروی کرے گا تو میں یقیناً تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔

دو نکات:

ایک لمحہ کے لئے اظہار تکبر اور “اناخیرة” کہنا کہ قدتباہی کا موجب بن گیا! “اھبط، اخرج” انک من الصاغرین” جیسے الفاظ انجام دے دو چار ہونا پڑا اور یہ سب حقدارتیں پستی اور ذلت ، متکبر نام پرور قربان” اس لئے کہ معذرت طبی کی اور معافی مانگنے کی بجائے ڈٹ گیا اور نسل انسانی کی گمراہی پر کمر باندھ لی۔

“مذعوم” کو اصل “ذعم” ہے جس کا معنی ہے شدید عیب اور “مدحور” کی اصل “دم” ہے جبر کا معنی ہے ذلت و رسائی کے ساتھ دھکے دیکر باہر نکال دینا۔

پیام:

۱۔ انسان خود شیطان کی پیروی کرتا اور جہنم کا حقدار بنتا ہے۔

۲۔ گمراہ اور اس قدر زیادہ ہیں کہ دوزخ جب “داھل من مزید” (اور کچھ) کا نعرہ لگائے گی تو (لاملئن) کے تحت اسے بھر دیا جائے گا، جبکہ نیک اور پاک سیرت لوگوں کی تعداد بہت کم ہے جب کہ خداوند عالم فرماتا ہے: “وقلیلا ماتشکرون”

آیت ۱۹

وَیَاآدَمُ اسْکُنْ أَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ فَکُلاَمِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَلاَتَقْرَبَا ہَذِہِ الشَّجَرَةَ فَتَکُونَا مِنْ الظَّالِمِینَ

ترجمہ: اور اے آدم! تم اور تمہاری زوجہ بہشت میں جا ٹھہرو! اور جو چیز جہاں ہے اور جب چاہو کھاؤ لیکن اس درخت کے نزدیک نہ جانا کہ (اپنے اوپر) ظلم کرنے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔

دونکات:

اس جیسی آیت سورہ بقرہ میں گزر چکی ہے ملاحظہ ۳۵ ویں آیت

آیت میں مذکور نہیں تحریمی نہیں بلکہ کرایت پر مبنی تھی۔ لیکن آدم کا بلند مقام و مرتبہ اس قدر زہر و توبیخ کا موجب بن گیا یا پھر نہی ارشادی تھی کہ جس کا خبر کی خلاف ورزی کا ضبطی نتیجہ وہی نکلا جو آگے بیان ہو رہا ہے۔ جیسے کوئی ڈاکٹر بیمار کو ایک غذا سے روکتا ہے کہ اگر اسے کھائے گا تو سخت پریشان ہو گا۔ ورنہ وہ حرام نہیں ہے۔

پیام:

۱۔ مقام رہائش میں عورت مردکے تابع ہوتی ہے۔ (انت و زوجک)

۲۔ حلال راستہ ہو جانے کے باوجود (فکلا) حرام کے پیچھے جانا ظلم ہے۔ (فتکو نامن الظلمین)

۳۔ پہلے حلال مصرف کی راہیں کھو لو پھرا نہیں اور ممنوعیت کے مقامات کی نشاندہی کرو (کلالاتقربا)

۴۔ گناہ کے نزدیک جانا بھی آلودگی کا موجب بن جاتاہے (لاتقربا۔ فتکونا)

آیت ۲۰

فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّیْطَانُ لِیُبْدِیَ لَہُمَا مَا وُورِیَ عَنْہُمَا مِنْ سَوْآتِہِمَا وَقَالَ مَا نَہَاکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ہَذِہِ الشَّجَرَةِ إِلاَّ أَنْ تَکُونَا مَلَکَیْنِ أَوْ تَکُونَا مِنْ الْخَالِدِینَ

ترجمہ: پس شیطان نے ان دونوں (آدم اور ان کی بیوی) کو وسوسہ میں ڈال دیا تاکہ ان کے چھپائے جانے کے مقامات کو ظاہر کرے اور کہا: تمہارے پروردگار نے اس درخت سے کھانے سے نہیں روکا مگر اس لئے کہ کہیں فرشتے بن جاؤ یا حیات ابدی حاصل نہ کر لو۔

چند نکات:

شیطان ان کے دل میں یہ وسوسہ ڈال رہا تھا کہ اس درخت سے کھانے سے وہ فرشتے بن جائیں گے یا اور زندگی کے حاصل ہو جائیں گے، اور چونکہ خدا یہ نہیں چاہتا کہ تم اس مقام و منزلت تک جا پہنچو لہٰذا تمہیں اس سے روک دیتا ہے۔

وہ درخت کونسا تھا جس کے قریب جانے سے انہیں روک دیا گیا تھا؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے بعض حضرات کہتے ہیں کہ گندم کا پودا تھا، اور نباتات پر بھی ” شجرہ ” کا لفظ بولا جاتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے “شجرة من لقطین” (کدو کا درخت) حالانکہ وہ تو پودا بھی نہیں ہوتا بلکہ اس کی بیل ہوتی ہے لیکن چونکہ نباتات ہے اس لئے اسے “شجرہ” کہا گیا۔

بعض حضرات نے اس درخت سے “حسد” کی خصلت مراد لی ہے۔

تو ریت نے شجرہ سے “علم و معرفت کا درخت” مراد لیا ہے (جو ندات اس کی تحریف کی دلیل ہے، اس لئے کہ خداوند متعال انسان کو علم و معرفت سے نہی نہیں کرتا ہے اگرچہ پورے کلام پاک میں یہ ماجرا چھ مرتبہ بیان ہوا ہے لیکن کہیں پر بھی اس درخت کی تعین نہیں کی گئی۔

پیام:

۱۔ شیطان تو انبیاء تک کو بھی نہیں چھوڑتا۔ (لھما)

۲۔ شیطان کا آخری حربہ وسوسے پیدا کرنا ہوتا ہے کسی کو مجبور کرنا نہیں ہو گا۔ رہنمائی کرنا ہے مداخلت نہیں۔ (فوسوس)

۳۔ گناہ کے ارتکاب اور خلاف ورزی کا نتیجہ رسوائی ہوتا ہے۔ (لیبدی)

۴۔ پر دے اتارنا اور جنسی مسائل کو نمایاں کرنا انسان کی راہ پر شیطان کے بچھائے جانے والے جال اور اس کی دلی آرزو ہے۔ (لیبدی)

۵۔ احکام الٰہی کی خلاف ورزی کے لئے غلط توجیہات اور فلسفہ آرائی ممنوع ہے۔ (مانھا کماربکما۔)

۶۔ انسانی آرزؤوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بے غم، بے فکر اور سکون کی فضا میں زندگی گزارے۔ (ملکین)

۷۔ ہمیشہ کے لئے اور زندگی جاودانہ سے محبت پر انسان کو ہے۔ (خالدین)

۸۔ انسانی آرزؤوں کے راستہ ہی سے شیطان کو داخل ہونے کام وقعہ ملتا ہے۔ (تکونامن الخالدین)

۹۔ شیطان انسان کو گناہ پر آمادہ کرنے کے لئے اس کی فکری اس کے اندر ثقافتی اور تعلیمی راہوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ (تکونا من الخالدین)

آیت ۲۱

وَقَاسَمَہُمَا إِنِّی لَکُمَا لَمِنْ النَّاصِحِینَ

ترجمہ: اور شیطان نے (اپنے وسوسے کو موثر بنانے کے لئے) ان دونوں کے قسم کھائی کہ یقین جانو میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں۔

چند نکات:

سب سے پہلی جھوٹی قسم شیطان نے کھائی۔

قرآن مجید کے بقول منافقین ہی جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو سورہ توبہ آیات ۴۵۶ ۔ ۶۲: ۷۴۔۱۰۷)

جو ہمیشہ یا اکثر و بیشتر قسمیں کھاتا رہتا ہے وہ قیادت اور رہبری کے لائق نہیں ہے ملاحظہ اہو سورہ قلم ۱۰ اور لاتطع کل حلاف مھین”

پیام:

۱۔ جھوٹی قسمیں کھانا، شیطانی کام ہے (قاسمھا)

۲۔ ہر قسم پر اعتماد نہیں کر لینا چاہئے (قاسمھا)

۳۔ دشمن ہمارے عقائد سے اپنے مفادات اٹھانے کی کوشش کرتا ہیے (قاسمھما)

۴۔ خیر خواہلی کے بلند بانگ دعوے اور نعرے ہی دشمن کے ہمارے اندر درآنے کے موجب ہوتے ہیں۔ (المن لناصحین) 6

آیت ۲۲

فَدَلاَّہُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَہُمَا سَوْآتُہُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَیْہِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ وَنَادَاہُمَا رَبُّہُمَا أَلَمْ أَنْہَکُمَا عَنْ تِلْکُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُلْ لَکُمَا إِنَّ الشَّیْطَانَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُبِینٌ

ترجمہ: پس شیطان نے ان دونوں (آدم اور ان کی زوجہ) کو دھوکہ دیا (اور انہیں مقام و مرتبہ سے نیچے گرا دیا) پس جونہی انہوں نے (ممنوعہ) درخت سے چکھا (انکا الباس گر پڑا اور) شرمگاہیں ان کے لئے نمایاں ہو گئیں۔ اور اپنے آپ کو جنت کے پتوں سے چھپانے لگے۔ اور ان کے رب نے انہیں آواز دی: آیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہیں روکا تھا۔ اور نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارے لئے کھلم کھلا دشمن ہے؟

چند نکات: “دلی” کا لفظ “تدلیة” سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے” نزدیک کرنا” اور یہ ڈول اور رسی کی طرف اشارہ ہے کہ جب پانی کے حصول کے لئے اسے کنویں میں چھوڑا جاتا ہے۔ اور پھر کھینچا جاتا ہے۔ گویا شیطان نے دھوکے کی رسی سے آدم کو فریب کے کنویں کے قریب کر دیا۔

“یخیصفان” لفظ “خصف” سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے سینا، ٹانکنا، جوڑ لگانا۔

آدم و حوا کے بارے میں اللہ نے “ناداھما” فرمایا ہے جس کا معنی ہے انیس دورے پکارا، گویا ممنوعہ درخت سے کھانے کے بعد وہ قریب خداوندی سے دور ہو گئی۔

پیام:

۱۔ زن و مرد دونوں میں ہمیشہ شیطانی وسوسوں کے تیروں کی زد میں ہیں۔ (دلاھما)

۲۔ شیطان کا حربہ دھوکا اور فریب ہی ہے (بغرور)

۳۔ شیطانی چالیں ایسی ہوتی ہیں جیسے گناہ کے کنویں میں سقوط کے لئے رسی ہوتی ہے (دلاھما)

۴۔ گناہ کے ارتکاب میں کم یا زیادہ کو نہیں دیکھا جاتابلکہ جسارت اور گستاخی کو دیکھا جاتا ہے۔ (ذاقا)

۵۔ عریانی برائی اور چھپا رہنا شرافت ہے اور دونوں انسانی فطرت میں شامل ہیں۔ (طفقا یخصفان)

۶۔ عریانی ایک الٰہی سزا ہے (نہ کہ فیشن وار تمدن و ترقی کی علامت)

۷۔ ہر شخص کے ساتھ اس کے مرتبہ اور حسب حال بات کرنی چاہئے۔ (آدم جو کہ خد کے مخاطب تھے۔ ممنوعہ درخت سے کھا لینے کے بعد اپنا مقام گنوا بیٹھے۔ اور “خطاب” کی بجائے داندا “اے نورزے گے۔ اور “ھذہ الشجرہ” کے بجائے “تکلما الشجرة” کہا گیا۔

۸۔ اور ابلیس نے انسان پر سب سے پہلا جو وار کیا وہ یہی کہ اس کا پردہ اتروا دیا۔

۹۔ باوجودیکہ شیطانکی دشمنی حکم کھلا، واضح‘ آشکار اور الم نشرح ہے، لیکن انسان کے اس خطرات غافل ہے۔ (الم اقل۔۔ عدومبین)

۱۰۔ ممنوع لقمہ اور بے مقصد اخراجات عریانی کا موجب ہیں اس لئے کہ عریانی اور اقتصاد کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ (ذاقا الشجرة بدتلھما، سورھتھما)

۱۱۔ عریانی بری شے ہے خواہ اپنے محرم اور زن و شوہر کے سامنے بھی ہو، (سوئاتھما)

۱۲۔ چھپانا لازمی ہے جیسے بھی ہو اور جہاں بھی ہو۔ (ورق الجنة)

آیات ۲۳

قَالاَرَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُونَنَّ مِنْ الْخَاسِرِین

ترجمہ: (آدم و حوا نے) کہا خداوندا! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اگر تو ہمیں بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو یقیناً خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔

ایک نکتہ:

شیطان اور آدم میں یہی فرق ہے کہ شیطان نے اپنے سجدہ نہ کرنیکی نافرمانی کے بارے میں خدا کے عدل اور کرم کی حکمت پر اعتراض کیا، تکبر کا مظاہرہ کیا، غرور کااظہار کیا، اپنی غلطی پر ڈٹ گیا، قوم پرستی کو فروغ دیا، پشیمانی کا اظہار نہ کیا۔ لیکن آدم نے اپنی اور اپنی بیوی کی خلاف ورزی کا اعتراف کیا، اپنی بخشش کا خدانے تقاضا کیا۔ اور یہ نہیں کہا کہ “تو ہمیں بخش دے “بلکہ کہا: اگر نہیں بخشے گا تو ہم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہونگے۔

پیام:

۱۔ ہر قسم کی خلاف ورزی اپنے اور ہر ظلم ہوتا ہے ۔ (کیونکہ خدا کے فرمان کی مخالفت، حقیقی سعادت اور ارتقاء بشریت کی مخالفت ہوتی ہے)

۲۔ بخش دیا جاتا، قہر خداوندی سے نجات مل جاتا ہے۔ (وان لمتغفرلنا و ترحمنا)۔

۳۔ آدم و حوا جس طرح خلاف ورزی میں شریک تھے اسی طرح گزشتہ کی تلافی اور عزر خواہی میں بھی شریک تھے۔ (ذاقا۔ قالاربنا)

۴۔ تاریخ شریت میں سب سے پہلی خواہش غفور ورحمت الٰہی کا تقاضا ہے۔ (وان نم تغفرلنا)

۵۔ گناہگاروں کا سب سے اہم مسئلہ خدا کی مغفرت ہے اس کے بعد باقی درخواستیں۔ (تغفرلنا و ترحمنا)

۶۔ خداوند عالم کے ایک لمحہ کی رحمت اور عنایت ابدی اور دائمی خساروں کے آگے بند باندھ دیتی ہے۔ (خاسرین)

آیت ۲۴۔۲۵

قَالَ اہْبِطُوا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَکُمْ فِی الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَی حِینٍ ۔ قَالَ فِیہَا تَحْیَوْنَ وَفِیہَا تَمُوتُونَ وَمِنْہَا تُخْرَجُونَ

ترجمہ: اللہ نے فرمایا: نیچے اتراو! تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گئے اور ایک (مقررہ) مدت تک تمہارے لئے زمین میں ٹھکانہ اور فائدہ اٹھانے کے ذریعہ ہو گا۔

فرمایا: اسی زمین ہی میں سے زندگی گزرو گے اسیمیں مرو گے اور (قیامت کے دن حساب و کتاب کے لئے) اسی سے نکالے جاؤ گے۔

دو نکات:

بالکل یہی آیت سورہ بقرہ میں گزر چکی ہے، ملاحظہ ہو ۳۷ ویں آیت۔

اگرچہ خداوند نے آدم و حوا کی توبہ قبول کر لی “فتاب علیہ” بقرہ ۳۷ لیکن خلاف ورزی کا ایک طبعی اثر ہوتا ہی ہے اور اس نافرمانی کا طبعی اثر بہشت سے خروج اور زمین پرنزول ہو گا۔

پیام:

۱۔ خلاف ورزی کے طبعی اثر سے فرار ناممکن ہے۔ (اھبطوا)

۲۔ بسا اوقات والدین کی خلاف ورزی کا اثر اولاد بلکہ نسلوں کے ہوط و سقوط میں بھی ہوتا ہے۔

۳۔ دنیا، تنازع، چپقلش، گیردار اور تضاد کا گھر ہے اور اور انسان اپنے مفادات کے حصول اور غرائز کی تسکین کے لئے آپس میں دست و گریبان رہتے ہیں۔ (بدضیکم بعض عدو)

۴۔ دنیاوی زندگی اور اس کے فوائد و منافع ابلا نہیں ہیں۔ (الی حین

تفسیرنور

آیت نمبر ۲۶ تا ۵۰

آیت ۲۶

یَابَنِی آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُوَارِی سَوْآتِکُمْ وَرِیشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَی ذَلِکَ خَیْرٌ ذَلِکَ مِنْ آیَاتِ اللهِ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُونَ

ترجمہ: اے اولاد آدم! یقیناً ہم نے تمہارے لئے بکا سر اتارا ہے تاکہ تمہاری عریانی کی برائی کو بھی چھپائے اور تمہاری زینت بھی ہو۔ لیکن تقویٰ کا لباس بہتر ہے۔ یہ خدا کی نگاہوں میں سے ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

دو نکات:

حضرت آدم کی داستان بیان کرنے کے بعد چار مقامات (اس آیت میں اور آیت ۲۷، ۳۱، ۳۴) پر بنی آدم کو خطاب کرتے ہوئے کلی سفارشوں سے نوازا ہے جن کا تعلق عالم انسانیت سے ہے، مثلاً تدبیر تقوی کی حفاظت، شیطان کے فریب میں نہ آنا۔ اسراف نہ کرنا، کھانے، پینے، اور پہننے کی چیزوں میں سے فضول خرچہ سے بچنا اور انبیاء کی دعوت کو تسلیم کرنا وغیرہ۔

“درویش” کا ابتدائی معنی تو پرندوں کے ہر میں جو ان کے لباس کا کام بھی دیتے ہیں۔اور ان کی زینت کا ذریعہ بھی۔ اور جو لباس انسان کی زینت و آرائش کا سبب بنے اسے “ریش” کہا جاتا ہے۔

پیام:

۱۔ نعمتوں کی طرف توجہ خدا کے ساتھ محبت اور اس کی بندگی کا موجب ہوتی ہے۔ (تمام آیت کو غور سے پڑھیں)

۲۔ مادی نعمتوں سے تمام لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں (بنی آدم) لیکن معنوی نعمتوں سے صرف شائستہ پرہیز کار ہی بہرہ مند ہوتے ہیں۔ (لباسا۔ لباس التقوی)

۳۔ تمام نعمتیں خدا کے غیبی خزانوں سے انسان کے لئے آ موجود ہوتی ہیں ۔ (انزلنا علیکم) اور ان کا خزانہ خدا کے پاس ہے۔ 8 اور وہ اندازے اور اپنی حکمت کیمطابق نازل کرتا ہے۔ پس تمام نعمتیں مقام ربوبیت سے ہی نازل ہوتی ہیں۔ (انزلنا)

۴۔ لباس کا اسی وقت نعمت ہے جب بدن کو بھی چھپائے۔ (یواری)

۵۔ لباس پہنانا خدا کا کام ہے (انزلنا علیکم لباسا) اور برہنہ کرنا شیطان کا کام ہوتا ہے۔ (فوسوس۔۔ لیبدی لھما ماوری عنھما من سوا تھما)

۶۔ لباس پہننا نعمت ہو اور اس کا اتار لینا سزا ہے (فلماذا اقالشجرة بدت لھما سوء اتھما)۔

۷۔ جب تک اسراف کے زمرے میں نہ آ جائے اس وقت تک خوبصورت لباس سے زینت وار آرائش کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ (ریشا)

۸۔ تقویٰ کا بھی زینت و زیبائش کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ (ریشاولباس و تقوی) گویا لباس تقویٰ کے ساتھ اچھا لگتا ہو اگر تقویٰ سے ہٹ کر لباس اختیار کیا جائے تو وہ اسراف تکبر، فساد، خود نمائی، فیشن، رشوت دانی، استعمار، کفار کی جیبیں بھرنے اور بے جا مصرف کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

۹۔ مادیت کے ساتھ معنویت کا ہونا بھی ضروری ہے۔ (لباسا۔ لباس التقویٰ) 9

۱۰۔ جس طرح مادی لباس عیبوں کا چھپاتا ہے۔ سردی گرمی سے بچاتاہے، زیبائی کا سبب بنتا ہے۔ اسی طرح تقویٰ بھی عیبورہ کے چھپانے، گناہوں سے بچانے اور معنوی حسن عطاکرنے کا سبب ہوتا ہے۔

۱۱۔ زمین سے گھاس اگتی ہے زمین سے ہی اگنے والی گھاس کو جانور چرتاہے اور اس سے پشم حاصل کی جاتی ہے اور کیڑے کی لعاب سے ریشم بنتی ہے یہ سب خدا کی آیات ہیں۔ (ذلک من آیاتِ اللّٰہ)

آیت ۲۷

یَابَنِی آدَمَ لاَیَفْتِنَنَّکُمْ الشَّیْطَانُ کَمَا أَخْرَجَ أَبَوَیْکُمْ مِنْ الْجَنَّةِ یَنزِعُ عَنْہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوْآتِہِمَا إِنَّہُ یَرَاکُمْ ہُوَ وَقَبِیلُہُ مِنْ حَیْثُ لاَتَرَوْنَہُمْ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّیَاطِینَ أَوْلِیَاءَ لِلَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ ۔

ترجمہ: اے فرزندانِ آدم: کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں دھوکہ دے جس طرح کہ اس نے تمہارے ماں باپ کو بہشت سے نکال دیا تھا۔ (جبکہ درخت کے وسوسہ میں) ان سے لباس اتروا دیا تاکہ ان کی شرمگاہ انہیں دکھائے ۔ یقیناً شیطان اور اس کا قبیلہ تمہیں وہاں سے دیکھ رہے ہیں جہاں سے تم انہیں دیکھ رہے۔ یقین جانو کہ ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا سرپرست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لائے۔

دونکات:

اس سے پہلی آیت میں لباس کو نعمت کے عنوان سے ذکر کیا ہے اور یہاں خبردار کرتا ہے کہ ہوشیار رہنا کہ شیطان کہیں تم سے یہ لباس اور نعمت نہ طلب کر لے۔

شیطان اگرچہ اہل ایما ن کے دلوں میں سے وسوسے ڈالتا ہے اور انہیں بھی گمراہ کرنے کوشش کرتا ہے، لیکن ان پر اس کا پورا تسلط اور ولایت نہیں ھے۔ اس لئے کہ مومن خدا نے توبہ کر کے اسی کے حضور پناہ لیتا ہے اور کافر کا چونکہ کوئی ایسا ٹھکانہ اور اس کے لئے جائے پناہ نہیں ةے لہٰذا اس پر پوری طرح مسلط ہے۔

پیام:

۱۔ ہر قسم کا پروپیگنڈا جو عریانی کا سبب بنے شیطانی کام ہے۔ (الفیتنکم)

۲۔ ان کے جسم سے ضروری چھپائے جانے ولاے مقامات کا کھلا رکھنا بے ایمانی اور شیطانی تسلط کی علامت ہے (ینزع عنھما لباسھما۔۔ لایوٴمنون)

۳۔ عریانی، قرب خداوندی سے دور کر دینے کا موجب ہے (اخرج ابویکم۔۔ ینزع عنھما)

۴۔ حضرت آدم جو کہ مسجود الملائکہ تھے، شیطان کے پھندے میںآ گئے نہیں تو زیادہ ہوشیار رہنا چاہئے۔ (اخرج ابویکم۔۔۔)

۵۔ شیطان اکیلا نہیں ہے، اس کے ٹولے ہیں، آلہ کار ہیں، ایجنٹ ہیں جو ہر وقت آپ لوگوں کی تاک میں رہتے ہیں۔ (قبیلہ ۔۔یراکم)۔ 10

۶۔ چونکہ تم شیطان کو نہی دیکھ سکتے اس لئیے تیار نہیں رہ سکتے ہو اور غفلت کا شکار ہو جاتے ہو۔ (اثرونھم)

۷۔ شیطان اس لئے فریب میں جکڑلیتا ہے کہ نظر نہیں آتا۔ لہٰذا زیادہ سے زیادہ خبردار رہو (لایفتنکم لاترنھم)

۸۔ شیطان نظر نہیں آتا لیکن اس کا دائرہ کا رہر ایک کو نظر آتا ہے۔ (مثلا غصے کا موقعہ، فیصلہ کرنے کا وقت، نامحرم عورت کے ساتھ خلوت کا موقع) 11

۹۔ شیطان کا تسلط، انسان کے اپنے اعمال کی وجہ سے ہوتا ہے۔ (اولیاء للذین لایوٴمنون) 12

آیت ۲۸

وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَیْہَا آبَائَنَا وَاللهُ أَمَرَنَا بِہَا قُلْ إِنَّ اللهَ لاَیَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ أَتَقُولُونَ عَلَی اللهِ مَا لاَتَعْلَمُونَ

ترجمہ: اور جب وہ کوئی برا کام کرتے ہیں تو (اس کی توجیہ میں) کہتے ہیں: ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو اسی حالت میں پایا ہے۔ اور خدا نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ تو (اے پیغمبر ! آپ) کہہ دیجئے خدا قطعا برائی کا حکم نہیں دیتا۔ تو جس چیز کو نہی جانتے ہو اس کی نسبت خدا کی طرف دیتے ہو؟

دونکات:

یہ آیت عریانی سے متعلق ہے خصوصاً طواف کی حالت جس کا زمانہ حاہلیت میں رواج تھا۔

بدکار لوگ پیروی تو اپنے باپ دادوں کی کرتے ہیں لیکن اپنے شرک کی نسبت خدا کی طرف دیتے ہیں13

اور سمجھتے ہیں چونکہ خدا نے انہیں مہلت دی ہوئی ہے لہٰذا ان کی برائیوں اور بدکاریوں پر بھی راضی ہے، یا نہیں اس کا حکم دیا ہے۔

پیام:

۱۔ عذر گناہ بدستر ازگناہ خواہ مذہبی عذر تراشا جائے (کہ خدا نے اس کا حکم دیا ہے) یا معاشرتی اور سماجی (کہ ہمارے دادے پڑدادے ایسے تھے۔)

۲۔ بعض اعمال اس قدر فاسد وار برے ہوتے ہیں اور ان کی برائی اس قدر فطری اور روشن ہے کہ انہیں “فحشاء” کہا جاتا ہے۔

۳۔ گمراہی تو آنے والی نسلوں میں بھی منتقل ہو جاتی ہے۔ (آبائنا)

۴۔ گمراہ لوگ آئندہ نسلوں کے گناہوں کا بوجھ بھی اپنے کندھوں پرلیتے ہیں۔

۵۔ گزشتہ لوگوں کا طریقہ کار ہمیشہ قابل فخر نہیں ہوتا۔ اور سابقہ لوگوں کی تقلید ناجائز ہے۔

آیت ۲۹

قُلْ أَمَرَ رَبِّی بِالْقِسْطِ وَأَقِیمُوا وُجُوہَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوہُ مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّینَ کَمَا بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ

ترجمہ: کہہ دیجئے کہ میرے رب نے عدل و انصاف کا حکم دیا ہے اور (نماز کے وقت) ہرمسجد میں اپنے چہرے اسی کی طرف سیدھے کر لو اور اپنے دین کو خالص بنتے ہوئے اسے پکارو اجر حرام اس نے تمہیں آغاز میں پیدا کیا ہے اسی طرح تم پلٹ جاؤ گے۔ 14

دو نکات:

“قسط” “امتیازی سلوک” کے مقابلے میں ہے یعنی ہر شخص کو جو اس کا حق بنتا ہے دیا جائے نہ کہ کسی دوسرے کو۔

اس آیت میں متعدد موضوعات بیان ہوئے ہیں۔ مثلا “ترصبیت” (ربی) “عدل و انصاف” (قسط) “عبادت” (اقیموا) “جماعت” (وجوھکم) “وحدت” (مسجد) “دعوت” (وادعوہ) “نقطہ نظر” (مخلصین لہ) ’معاد” (تعودون)

پیام:

۱۔ انبیاء، قسط و عدل کے لئے مامور ہیں (امرربی)

۲۔ مسجد ، صدق و صفا اور اخلاص کا مرکز ہے ترک و ریاکار نہیں۔ (اقیموا۔۔ مسجد، مخلصین)

۳۔ اللہ تعالی نیک کاموں کا حکمدیتا ہے، (امر ربی بالقسط) اور برائیوں سے روکتا ہے، “لایامر بالفحشاء کی جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حسن اور قبائح عقلی ہیں یعنی عقلی طور پر چیزیں اچھی یا بری ہیں۔ اور ایسا نہیں ہے کہ خدا جو کام چاہے انجام دے حتی کہ اگر چاہے تو انبیاء کو دوزخ میں بھیج دے (یایزید اور یزید جیسوں کو بہشت میں۔ از مترجم)

۴۔ نماز کے ساتھ ہی ساتھ امتیازی سلوک سے روکنے کا تذکرہ ہوا ہے، گویا نماز وہی قبل قدر ہوتی ہے جو عدل و قسط کی فضا میں ہو۔ (قسط اقیموا)

۵۔ صحیح تربیت عادلانہ نظام ہی میں ممکن ہے۔ (ربے بالقسط)

۶۔ عدل و انصاف اور قسط، خدائی راستہ ہے۔ اپنے باپ دادوں کے مشرکانہ افکار کے بجائے دل کے ساتھ اس کی بارہ میں آ جاؤ۔

۷۔ قیامت کے دن خالص عبادت جو شرک دور کر کے انجام دی گئی ہو کام آئے گی۔ (مخلصین ۔ تعودون)

۸۔ معاد پر ایمان قسط اور عمل میں اخلاص کا باعث ہوتا ہے (کمابدأ کم تعودون)

۹۔ معاد جسمانی ہے جس طرح تماہرے اندر غذا کے راستے خاکہ کے والے جمع ہو چکے ہیں۔ اسی طرح تمہاری گلی سڑی ہڈیاں بھی جمع ہو جائیں گی۔ (کما بدا کم تعودون) جب اللہ نے تمہیں ایک خلئے اور ایک سپرم سے پیدا کیا ہے قیامت کے دن وہی تمہارے بقایا جات کو بھی زندہ کرے گا، وہی قدرت باقی ہے۔

آیت ۳۰

فَرِیقًا ہَدَی وَفَرِیقًا حَقَّ عَلَیْہِمْ الضَّلَالَةُ إِنَّہُمْ اتَّخَذُوا الشَّیَاطِینَ أَوْلِیَاءَ مِنْ دُونِ اللهِ وَیَحْسَبُونَ أَنَّہُمْ مُہْتَدُونَ ۔

ترجمہ: (اللہ تعالی نے) ایک فریق کو ہدایت فرمائی اور ایک فریق کیلئے گمراہی حق بن گئی۔ کیونکہ انہوں نے خدا کے بجائے شیطانوں کو اپنا سر پرست بنا لیا۔ اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہدایت یافتہ ہیں۔

پیام:

۱۔ انسان کو آزاد ہے چاہے تو خدا کی ولایت کو تسلیم کر کے اس کا تابع فرمان بن جائے اور رہ راست پر گامزن رہے اگر چاہے تو شیطان کی سرپرستی کو قبول کرے۔

۲۔ ہدایت کرنا خدا کا کام ہے لیکن گمراہی ہمارے اپنے غلط انتخاب سے ہوتی ہے۔ (اتخذووالشیطین)

۳۔ گمراہ لوگوں کا نظریہ حقیقت پر مبنی نہیں ہوتا۔ (یحسبون انھم)

۴۔ شیطانی وسوسے تو قابل علاج و تلافی ہوتے ہیں ۔15

لیکن خدا سے کٹ کر شیطان کی ولایت میں چلے جانا ناقابل تلافی ہے۔ (حق علیھم الضلالة)

۵۔ غلط سوچ اور بے جا نظریہ قائم کرنا یہ گمراہی سے بدتر ہے۔ (گمراہ ہونے کے باوجودخود کو راہ ہدایت پر سمجھنا (ویسبونانھم مھتدون) 16

آیت ۳۱

یَابَنِی آدَمَ خُذُوا زِینَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَکُلُوا وَاشْرَبُوا وَلاَتُسْرِفُوا إِنَّہُ لاَیُحِبُّ الْمُسْرِفِینَ ۔

ترجمہ: اے اولاد آدم! یہ مسجد کا وقت (نماز کے لئے اپنے لباس اور زینت اختیار کیا کرو۔ اور کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو۔ بے شک خدا اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

دو نکات:

یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ جن آیات میں (پانی آدم) کے ساتھ خطاب کیا جا رہا ہے ان کے مطالب کا تعلق تمام ادیان کے اور سب کے مشترکات سے ہو۔

قرآن نے مال اور اولاد کو بھی “زینت” کہا ہے اور اس آیت کی مراد شاید یہ بھی ہو کہ مسجد جاتے وقت انہیں بھی ساتھ لے لیا کرو۔ تاکہ مال کے ذریعہ مسلمانوں کے اقتصادی مشکلات میں ہاتھ بٹا سکو اور اولاد کو مسجد میں لے جا کر آنے والی نسلوں کی تربیتی مشکلات کو حل کر سکو۔ اور یہ اشارہ بھی لیا جا سکتا ہے “اول نماز بعد طعام”

پیام:

۱۔ مسجد چونکہ مسلمانوں کا دینی مرکز ہے لہٰذا اسے آراستہ ، مرتب، منظم اور پرکشش ہونا چاہئے عبادت اور خوبصورتی وزیبائی آپس مخالف نہیں ہیں۔ (خذواز ینتکم)

۲۔ اسلام نے باطن کو بھی پیش نظر رکھا ہوا ہے “فی صلٰوتھم خاشعون” اور ظاہر بھی اس کے نظر ہے۔ (زینتکم عندکل مسجد )

۳۔ بہترین لباس، بہترین حکام کے لئے ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت امام حسن مجتبی ایسا ہی کیا کرتے تھے اور اسی آیت کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔

۴۔ زینت کو اپنے ہمراہ مسجد میں لے جانا خدا، عبادت، وقت اور واقف کے احترام کے مترادف ہے۔ اور دوسرے لوگوں کے مسجد و عبادت گاہ کی طرف آنے کے لئے باعث کشش اور عملی طور پر رغبت دلانے کا موجب ہے۔

۵۔ زینت کی اگرچہ فراد کی نماز میں بھی بڑی اہمیت ہے لیکن اجتماعی عبادت میں تو اس کا اپناخاص مقام ہے۔ (عندکل مسجد)

۶۔ اسلام آئین فطرت ہے اور انسان زینت سے لذت اٹھاتا ہے۔

۷۔ حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں: “مسجد کی زینت امام عادل ہے” (ازتفسیر نوراثقلین)

۸۔ زینت کو مسجد میں لے جاؤ لیکن جوتے باہر اتارو ایک اور آیت میں ہے “فاخلع نعلیک” (طہ ۱۱)

۹۔ اخراجات محدود انداز میں ہونے چاہیئں، کفایت شعاری خدا کو پسند ہے، مال جو کہ انسان کے ہاتھوں میں اللہ کی ایک امانت ہے اس سے ضرور فائدہ اٹھایا جائے لیکن اسراف کے پرہیز کیا جائے۔ (تفسیر صافی میں مذکور امام صادق کی حدیث کا ایک مضمون)۔

۱۰۔ زینت اور غذا سے بہرہ اندوزی قسط و عدل کے تقاضوں کے مطابق اور اسراف سے ہٹ کر ہولی( پہلی آیت میں رہ ہو چکا ہے)

۱۱۔ غذا میں اسراف اور پرخوری بہت بیماریوں کا سبب ہے جن میں جسمانی بیماریوں کے علاوہ سنگدلی اور عرفان کے مزے سے لطف اندوز ہونے کی محرومی بھی ہے۔ 17

۱۲۔ زینت اور طعام سے استفادہ ایک طبعی اور فطری قانون ہے لیکن خاص معاشرتی حالات اور معاشرت کے ضرورت مند اور محروم طبقات کی موجودگی میں ان کی ضروریات کا بھی خاص خیال رکھا جائے اور ان کے ساتھ ہمدردانہ سلوک کی جائے۔ حضرت امام جعفر صادق کا لباس ایرا لموٴمنین کے لاس سے مختلف تھا۔ اس لئے ہر ایک معصوم کے دور کے معاشرتی حالات مختلف تھے۔ 18

آیت ۳۲

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِینَةَ اللهِ الَّتِی أَخْرَجَ لِعِبَادِہِ وَالطَّیِّبَاتِ مِنْ الرِّزْقِ قُلْ ہِیَ لِلَّذِینَ آمَنُوا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ۔

ترجمہ: کہہ دو کہ کس نے اللہ کی اس زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہے اور دلپسند اور پاکیز ہ رزق کو اپنے اوپر بغیر کی دلیل کے حرام قرار دیا ہے۔ کہہ دو کہ یہ نعمتیں دنیوی زندگی میں مونین کے لئے ہیں (اگرچہ کفار بھی ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔)

اور قیامت کے دن (آخرت میں) موٴمنین کیلئے مخصوص ہیں۔ اسی طرح ہم رہنما آیات کو ان لوگوں کے لئے تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔

چند نکات:

یہ آیت انسان کے زینت کو حلال قرار دے رہی ہے۔ قرآن مجید نورِ آسمان کی ستاروں کے ساتھ زینت کو بھی انسانوں کے لئے بیان کر رہا ہے۔ فرماتا ہے “زیناھا للناظرین” (حجر ۱۶) ہاں البتہ انسان کی زینت کے محبت اسے ہلاکت اور تباہیوں کے گڑھوں میں نہ پھینک دے اگر زینت لے استفادہ کرنا چاہتا ہے توآئے، صحیح اور مناسب طریقوں سے فائدہ اٹھائے۔ قرآن مجید عورت کی زینت کو سوائے اپنے شوہر کے حرام سمجھتا ہے ارشاد ہو رہا ہے: “لایبدین زینتھن الا لبعولتھن” (لفد ۳۱)

عتان بن مظعون حضرت رسول کی خدمت میں حاضرہوئے اپنے عزائم پیغمبر کی خدمت میں بیان کئے کہ مردانہ لزتوں کو خیرباد کہہ کہ راہب بننا چاہتا ہے اور بیوی عطریات اور معاشرہ وسماج کو چھوڑ چھاڑ کر جنگل کا رخ کرنا چاہتا ہے!

آنحضرت نے اسے اس کام سے سختی سے روکا اور ارشاد فرمایا: “اپنی شہوت پر کنٹرول کرنے کے لئے روزے رکھو، رہبانیت اختیار کرنے کی بجائے مسجد چلے جاؤ اور جنگلوں بیابانوں کی خاک چھاننے کی بجائے محاذ جہاد میں شرکت کرو اپنی عورت اور خوشبو کے فائدہ اٹھاؤ، اپنے مال میں سے غریبوں کو دو، یہ ہے میرا دین اور میری شریعت اور جواس سے منہ موڑے گا اور تبہ نہیں کرے گا فرشتے اے حوض کو تدبیر آنے سے روک دیں گے۔ (ازتفسیر فخررازی)

عاصم بن زیاد نے بھی یہی تہہ کر لیا تھا، اس طرح سے اس نے اپنی زندگی میں تبدیل کر لینے کی ٹھان لی اورجلال اور لذت سے کنارہ کشی پر تل گیا۔ حضرت علی نے اس کے اس طرز فکر کی سخت مذمت کی، اس نے کہا تو پھر آپ یوں اس قدر سادہ ترین زندگی گزار رہے ہیں؟

حضرت نے فرمایا: “میں امام اور رہبر ہوں اور اللہ تعالی نے ائمہ اور رہبروں کے لئے لازم قرار دے دیا ہے کہ اپنی سطح زندگی ملک کے غریب بے غریب افراد کی سطح زندگی پر رکھیں اور دوسروں کے رنج و غم میں شریک رہیں۔” (نہج البلاء حکمت ۲۸۴)

پیام:

۱۔ اسلام ریاکارانہ زہد، رہبانیت اور تقدس نمائی کے مخالف ہے۔ (من حرم)

۲۔ خدا تک پہنچنے کا رستہ یہ نہیں ہے کہ انسان حلال اور پاکیزہ چیزیں بھی ترک کر دے، بلکہ ان کے ذریعہ سے گناہوں کا ارتکاب نہ کرے۔

۳۔ اسلام ، فطری تقاضوں کے ہم آہنگ اور معتدل آئین کا ہم خوا ہے اسی کے پاس فطری تقاضوں کا مثبت جواب اور جواز موجود ہے۔ مفید کو حلال اومضر کو ناجائز اور حرام قرار دیتا ہے۔ (من حرم۔ اخرج لعبادہ)

۴۔ ہر چیز کے لئے اصل یہ ہے کہ مباح ہے مگر جب اس کی حرمت پر کوئی خاص دلیل موجود ہو۔ (من حرم) یقیناً مسلمان کی ہر حالت میں جیت ہی جیت ہے کیونکہ وہ دنیا میں لذتوں اور پاکیزہ چیزوں سے اسی طرح بہرہ ور ہیں جس طرح کوئی غیر مسلم، جبکہ آخرت میں صرف مسلمان ہی بہرہ مند ہوں گے کافر محروم رہیں گے۔ اورہار جائیں گے۔

۵۔ اپنے آپ کو لذتوں سے محروم نہ کرو، بلکہ انہیں خدائی طریقوں اور شرعی حدود میں لا کر ان سے فائدہ اٹھاؤ۔ (من حرم)

قرآن مجید میں ہے “اناجعلنا ماعلی الارض زینة لھا لنبلوھم ایھم احسن عملا” جو کچھ کہ روئے زمین پر ہے ہم نے اس کی زینت قرار دیا ہے ۔ تکاہ ہم اس بات کی آزمائش کریں کہ ان میں سے کس کے عمل سب سے بہترین۔ (کہف ۷)

آیت ۳۳

قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّی الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِکُوا بِاللهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ سُلْطَانًا وَأَنْ تَقُولُوا عَلَی اللهِ مَا لاَتَعْلَمُونَ

ترجمہ: (اے پیغمبر !) کہہ دو کہ صرف میرے رب ہی نے ظاہری اور باطنی برائیوں کو گناہ کو لوگوں کے حق پر ناجائز تجاوز کرنے کو حرام قرار دیا ہے اور خدا کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک قرار دینے کو جس کی حقانیت پر کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ اور جو کچھ نہیں جانتے اے خدا کیطرف نسبت دے یہ سب کچھ حرام قرار دیا ہے ۔

چند نکات:

“فواحش” جمع ہے “فاحشہ” کی اور وہ ایسا گناہ ہے کہ جس کی برائی ہر ایک پر آشکار ہوتی ہے جیسے آتا ہے، چونکہ زمانہ جاہلیت میں چھپ کر زنا کرنے کو جائز سمجھتے تھے لہٰذا اس آیت نے اس کی حرمت کی دونوں صورتوں میں تاکید کر دی ہے۔ (مابطن)

“اتُم” وہ گناہ ہوتا ہے جس کے ارتکاب سے انسان پستی میں جا گرتاہے۔

“یعنی دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کا نام ہے۔ اور اس آیت میں اعتقاد سے اور زبان سے تعلق رکھنے والے گناہوں کی ایک مختصر فہرست موجود ہے۔

ُپیام:

۱۔ خداوند عالم کی طرف سے حرام کردہ چیزیں انسان کو تربیت اور اسے ترقی و کما ل کی منزلوں تک پہنچانے کے لئے ہوتی ہیں۔

۲۔ حلال زیادہ ہیں اور حرام کم ہیں۔

۳۔ گناہ کا قبح (برائی) ذات اور عقلی بھی ہے صرف اجتماعی ہی نہیں(ومابطن)

۴۔ مشرکین کے افکار کے لئے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے

۵۔ تبلیغی روسے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے مثبت نقاط بیان کئے جائیں پھر منکر اور ان کے منفی نقطے پیش کئے جائیں۔ اس سے پہلی آیت میں حلال چیزوں کا تذکرہ تھا یہاں پر حرام اشیاء کا)

آیت ۳۴

وَلِکُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُہُمْ لاَیَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلاَیَسْتَقْدِمُون

ترجمہ: اور راحت کے لئے ایک مقررہ مدت ہے ، پس جب بھی ان کا مقررہ وقت آن پہنچتا ہے تو پھرنہ تو ایک لحظہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔

ایک نکتہ:

اجل” صرف افرادی کے لئے نہیں ہے، حکومتوں، قوموں اور امتوں کے لئے بھی ہے، جو خود بھی ختم ہو گئیں اور ان کے تمدن، ثقافت، عادات و اطوار اور آثار بھی ملیا میٹ ہو گئے۔ اجل کا تعلق صرف صرف زندگی اور موت ہی سے نہیں ہوتا،عزت ، اقتدار، حکومت اور دولت سے بھی ہوتا ہے۔ جب ان میں سے کسی کی اجل آ جاتی ہے تو الٹ ہو گئیں اب تدبیریں کچھ نہ دوانے کام دیا کے مصداق سب کچھ رخصت ہو جاتاہے۔

پیام:

۔ اس کائنات میں کوئی بھی چیز، کوئی بھی تبدیلی،کوئی بھی حادثہ (اتفاقی) اور تدبیر الٰہی سے باہر نہیں ہے۔ اہم، اقوام اور ملل پر حکم فرما قوانین بھی ویسے ہی ہوتے ہیں جیسا کہ افراد پر ہوتے ہیں۔ (لکل امةاجل)

۲۔ جو سہولیات تمہیں حاصل ہیں ختم ہو سکتی ہیں جس قدر ہو سکتے ان سے صحیح صحیح فائدہ اٹھاؤ۔

۳۔ دنیا اور امر کے دئیے ہوئے مقام و مرتبے ہر مغرور نہ ہو جانا۔ (لکل امة اجل)

۴۔ ظالم لوگ خدا کی مہلت کو امر کی مہربانی نہ سمجھیں، ان کا وقت بھی آیا ہی چاہتا ہے 19

۵۔ ازل سے یہ سلسلہ چلا آ رہا ہے کہ کچھ افراد برسراقتدار آتے ہیں۔ حکومت کرتے ہیں۔ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں وقت آنے پر صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔ (جاہ اجلھم)

۶۔ راہ خدا میں برسرپیکار لوگوں کو طاغوت کے تسلط سے مایوس نہ ہوں، کوشش جاری رکھیں، طاغوت نے آخر ایک دن مٹنا ہی ہے۔ (الکل امة اجل)

آیت ۳۵۔۳۶

یَابَنِی آدَمَ إِمَّا یَأْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِنْکُمْ یَقُصُّونَ عَلَیْکُمْ آیَاتِی فَمَنْ اتَّقَی وَأَصْلَحَ فَلاَخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَہُمْ یَحْزَنُونَ ۔ َ وَالَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَاسْتَکْبَرُوا عَنْہَا أُوْلَئِکَ أَصْحَابُ النَّارِ ہُمْ فِیہَا خَالِدُونَ

ترجمہ: اے اولاد آدم ! جب بھی تمہارے پاس تم میں سے پیغمبر آئیں جو میری آیات تم پر پڑھتے ہوں ( تو ان کی پیروی کرنا) پس جو تقویٰ اختیار کرے اور نیک کام انجام دے تو ان پر نہ تو کوئی خود اپنے اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور تکبر برتتے ہوئے ان سے روگردانی کی تو وہ جہنم کے ساتھی ہیں۔ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔

پیام:

خدائی طریقہ کار کے مطابق انبیاء مسلسل آتے رہے ہیں۔ اور یہ پہلے ایک طے شدہ منصوبہ تھا۔ (یاتینکم)

۲ انبیاء علیہم السلام کے کلام کی لوگوں میں تاثیر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کا تعلق وہاں کے لوگوں ہی سے ہوتا ہے۔ (منکم)

۳ متقی کو دوسروں کی اصلاح کرنی چاہیے۔ اور مثبت سرگرمیاں انجام دینی چاہئیں گوشہ نشینی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ (اتقی واصلح)

انبیاء پر حقیقی طور پر ایمان لانے والے وہ لوگ ہی ہیں جو تقویٰ اور صلاح کے حامل ہوتے ہیں۔ کیونکہ “آمن بھم” کی بجائے “اتقی واصلح” فرمایا ہے۔

سکون و اطمینان ایمان اور تقویٰ کے زیر سایہ ہے۔ (الاخوف)

انبیاء کی پیروی سے منہ موڑ کر تکبر اختیار کرنے کی سزا ایذی عذاب اور جہنم ہے۔

۷ انبیاء کی تکذیب کے ساتھ ہی ساتھ تکبر ہوتا ہے۔ (کذبوا۔ استکبروا)

آیت ۳۷

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہ ط اُوْلٰٓئِکَ یَنَالُہُمْ نَصِیْبُہُمْ مِنَ الْکِتٰبِ ط حَتّٰٓی اِذَ اجَآ ءَ تْہُمْ رُسُلُنَا یَتَوَ فَّوْنَہُمْ قَالُوْ ا اَیْنَ مَا کُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط قَالُوْ ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَہِدُ ْو ا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ کَا ُنوْ کٰفِرِیْنَ۰

ترجمہ: پس اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو گا جو خدا پر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کی آیات کو جھٹلاتا ہے؟ وہ (اسی دنیا ہی میں) خدا کی طرف سے اپنا مقرر کردہ حصہ پا لیں گے۔ یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئیں تو ان سے پوچھیں گے کہ کہاں ہیں وہ جنہیں تم معبودِ حقیقی کی بجائے پکارا کرتے تھے؟ تو وہ کہیں گے وہ سب ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوکر گم ہو گئے ہیں۔ اور اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ کافر تھے۔

ایک نکتہ:

قرآنی آیات میں عام طور پر “خدا پر بہتان باندھنے ” سے مرادسرکشی ہی ہوتا ہے۔ (تفسیر المیزان)

پیام:

خدا کو جھٹلانا اور خدا پر بہتان باندھنا بہت بڑا ظلم ہے۔ (اظلم)

۲ خداوندتعالیٰ دنیا میں مادی ذرائع، امداد، مہلت جس طرح مومنوں کو دیتا ہے اسی طرح کافروں کو بھی دیتا ہے۔ (ینا لھم نصیبھم) 20

انسان جب موت کی نشانیاں دیکھے گا تو بیدار ہو گا لیکن اب کیا فائدہ؟ (یتوفونھم)

انسان سے جواب طلبی کے مراحل کا آغاز ہنگام مرکزی سے شروع ہو جائے گا۔ (این ماکنتم)

کچھ فرشتے روح قبض کرنے پر مامور ہیں۔ (رسلنا)

غیر اللہ تو سراب ہیں اور بس (ضلوا عنا)

آیت ۳۸

قَالَ ادْخُلُوْ ا فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِی النَّا رِ کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ الَّعَنَتْ اُخْتَہَاط حَتّٰٓی اِذَا ادَّرَاکُوْ ا فِیْہَا جَمِیْعًا قَالَتْ اُخْرٰ ہُمْ لِاُوْلٰہُمْ رَبَّنَا ہٰٓؤُلٰآءِ اَضَّلُّوْ نَا فَاٰتِہِمْ عَذَاباً ضِعْفًا مِّنَ النَّارِط قَالَ لِکُلِّ ضِعْفٌ وَّ لٰکِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ ۰

ترجمہ: (مرنے کے وقت ان کے اعتراف کے بعد) خداوندعالم فرمائے گا۔ تم بھی (جن و انس کے ان گروہوں میں داخل ہو جاؤ جو تم سے پہلے (یہاں) پہنچ چکے ہیں۔ جب بھی کوئی گروہ جہنم میں داخل ہو گا تو اپنے ہم مذہب گروہ پر نفرتیں اور لعنت کرے گا۔ تو جب سب گروہ جہنم میں اکٹھے ہو جائیں گے تو بعد میں آنے والا، پہلے آنے والے گروہ کے بارے میں کہے گا۔ “پروردگار! یہی لوگ تھے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا، پس تو انہیں جہنم کے دوہرا عذاب دے۔ (ایک تو ان کی اپنی گمراہی کا اور ایک ہمارے گمراہ کرنے کا) خدا فرمائے گا تم سب کے لئے دوہرا عذاب ہے لیکن تم نہیں جانتے۔

ایک نکتہ :

قیامت کے لرزا دینے والے مناظر میں سے ایک یہ بھی ہو گا کہ جب جہنمی ایک دوسرے کے ساتھ خصوصاً ان سرداروں اور پیشواؤں کے ساتھ گفتگو کریں گے جو ان کے جہنمی ہونے کا سبب بنے تھے۔ اسی بنا پر وہاں پر یہاں کے جگری دوست، دشمن بن جائیں گے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ “الاخلٴا یومَئذٍ بعضھم بعض عدوالاالمتقین” اس دن دوست ایکدوسرے کے دشمن ہوں گے مگر پرہیز گاروں ( کہ وہ دوست ہی رہیں گے) (زخرف/۶۷) اور سورہ ص /۶۴ میں فرماتا ہے کہ “ان ذٰلک لحق تخاصم اھل النار” بیشک یہ بات حق اور ایک واقفیت ہے کہ دوزخی مخاصمانہ باتیں کریں گے۔

پیام:

۱۔ بہشت میں نہ کینہ ہو گا اور نہ ہی دشمنی صرف صلح و صفا ہو گی جبکہ جہنم میں افراد ایکدوسرے پر لعنت کریں گے۔ (لعنت اختھا)

۲۔ انسانوں کی طرح جنات بھی مکلف (احکام الٰہی کی پابندی کے ذمہ دار) ہیں۔ اور ایک جیسے انجام سے دوچار ہوں گے۔ (الجن و انس)

۳۔ کفار ایک ہی دفعہ جہنم میں نہیں ڈالے جائیں گے بلکہ بالترتیب اور باری باری وارد جہنم ہوں گے۔ (کلما دخلت)

۴۔ غیر الٰہی محبتیں، دوستیاں، حمایتیں بروز قیامت کینوں اور نفرتوں میں عناد اور دشمنی میں بدل جائیں گی۔ (لعنت اختھا)

۵۔ قیامت کے دِن ہر ایک کی یہی کوشش ہو گی کہ اپنا گناہ دوسروں کے سر تھونپنے یا اپنے لئے کسی ایک مجرم کو تلاش کرے (ھولاء الضلونا)

۶۔ اعمال کی بجا آوری کے لئے انسان آزاد بنے لیکن “اضلونا” (انہوں نے ہمیں گمراہ کیا) کہہ کر اپنا پیچھا نہیں چھڑا سکتا۔ کہ اپنے گناہ دوسروں کے کھاتے میں ڈال دے۔

۷۔ بعض اوقات انسان کی ایسی سزائیں بھی ملیں گی جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہونگی۔ (واللہ تعلمون)

قرآن کہتا ہے “پیشواؤں کو بھی دوہری سزا ملے گی اور پیروکاروں کو بھی ” پیشواؤں کو اس لئے کہ خود بھی گمراہ تھے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ پیروکاروں کو اس لئے کہ خود بھی گمراہ تھے ا ور باطل کے اماموں اور پیشواؤں کی دوکانوں کو خوب چمکایا۔ اگر یہ ان کی پیروی نہ کرتے تو باطل کے امام بھی اس قدر ترقی نہ کرتے۔ (لعل ضعف)

آیت ۳۹

وَ قَالَتْ اُوْلٰہُمْ لِاُخْرٰہُمْ فَماَ کَا نَ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوْ الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ ۰

ترجمہ: اور (عذاب میں) پیشگام گو (اپنے) پیروکاروں سے کہیں گے۔ “تم ہم سے برتر (اور زیادہ بے گناہ) نہیں تھے۔ پس تم اپنی کارستانیوں کا عذاب چکھو۔

ایک نکتہ:

گمراہ کرنے والوں کے لئے دوہرے عذاب کے تقاضے کے خلاف وہ لوگ اپیل دائر کریں گے کہ “یہ پیروکار ہی تھے جنہوں نے ہماری ترقی کے اسباب فراہم کئے تھے۔ اگر یہ ہماری اتباع نہ کرتے تو ہماری گمراہ کرنے کی رفتار آگے نہ بڑھتی، لہٰذا یہ خود ہی قصور وار ہیں۔”

تو کیوں ایک لقمہ نان یا چند روزہ جاہ و مقام کی خاطر اے نامراد اور نالائق پیشواؤں کی اتباع کا دم بھریں جو شفاعت تو بجائے خود ہماری فریاد کو ہی نہ پہنچیں؟!

پیام:

۱۔ بروز قیامت ہر قسم کی مدد خواہی اور امداطلبی بھی بیسودا ثابت ہو گی۔ (فذوقو العذاب)

۲۔ حتیٰ کہ خود مجرمین کو بھی علم ہے کہ جہنم ان کے اعمال کی سزا ہو گی پھر بھی گمراہی پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ (فماکان لکم علینا من فضل)

آیت ۴۰

اِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْ ا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَکْبَرُوْ ا عَنْہَا لَاتُفُتَّحُ لَہُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَلَا یَدَخْلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ ط وَ کٰذَلِکَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ ۰

ترجمہ: یقیناً جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور تکبر کے ساتھ ان سے منہ پھیرا تو آسمان (رحمت) کے دروازے ان کے لئے نہیں کھولے جائیں گے۔ اور جب تک اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ گذر جائے اس وقت تک وہ بہشت میں نہیں جائیں گے۔ (یہ ان کے لئے انہونی بات ہے۔) اور ہم مجرموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔

دو نکات:

اس آیت سے یہ سمجھاجا سکتا ہے کہ آسمان سے مراد ایک عالم ہے کہ جس پر بہشت واقع ہے۔ اور بہشت کے اندر جانے کے لئے ان کے لئے دروازوں سے ہو کر جانا پڑے گا۔

اس آیت میں “جمل” سے مراد یا تو اونٹ ہے یا پھر وہ ضخیم رسہ ہے جس کے ساتھ کشتیوں اور جہازوں کو ساحل پر باندھتے ہیں۔ اور یہ معنی سوئی کے ساتھ زیادہ مناسب یا نسبت اس معنی کے کہ کیا جائے “اونٹ سوئی کے ناکے سے گذر جائے”

اللہ تعالیٰ نے چونکہ مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ کفار کا بہشت میں جانا محال ہے لہٰذا “جمل” کا معنی اونٹ اور اس سورخ سے اونٹ کا عبور کرنا اس سے زیادہ نزدیک ہے۔ اس کے علاوہ انجیل موقا (کے باب اٹھائیس آیت ۴۲) میں ہے کہ : اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گذرنا آسان ہے۔ لیکن دولتمند اور سرمایہ داروں کا ملکوت اعلیٰ تک پہنچنا مشکل ہے۔”

پیام:

۱۔ جہاں ہر مومنین باتقویٰ کے لئے خدائی رحمت کے آسمانی اور زمینی رستے کھلے ہوتے ہیں22

اس کے برخلاف کفار اور جھٹلانے والوں کے لئے آسمان کے دروازے بند رہتے ہیں۔ (لاتفتح لھم)

۲۔ اس آیت سے یہ استفادہ بھی ہوسکتا ہے کہ “بہشت آسمانوں میں ہے” (تفسیرفخررازی والمیزان)

۳۔ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں “آسمان کے دروازے پانچ موقع پر کھولے جاتے ہیں۔”

۱۔ جب مجاہدین اسلام راہ خدا میں جنگ کر رہے ہوتے ہیں۔

۲۔ جب بارش ہورہی ہوتی ہے۔

۳۔ جب قرآن مجید یعنی اللہ کے کلام کی تلاوت کی جا رہی ہوتی ہے۔

۴۔ جب طلوع فجر ہو رہی ہوتی ہے اور اذان دی جا رہی ہوتی ہے۔ (تفسیر نور الثقلین)

آیت ۴۱

لَہُمْ مِّنْ جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَّمِنْ فَوْقِہِمْ غَوَاشٍ ط کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۰

ترجمہ: ان (مجرمین) کے لئے جہنم کے بستر ہوں گے اور ان کے اوپر (آگ کی) اوڑھیاں ہو گی اور اسی طرح ہم ظالموں کو سزا دیتے ہیں۔

چند نکات:

اصل “مھاد” “مھد” سے ہے۔ جس کا معنی بستر اور “غوائیں” جمع ہیں۔ “غاشیہ” کی اور اس کا معنی ہے ڈھانپ دینے والی چیز۔ اور “خیمہ” کو بھی غاشیہ کہتے ہیں۔

ہر دشمن اور روگردانی کرنے والے گروہ کو اسی سورت کی ۳۷ ویں آیت میں “کافر” اور اسی آیت میں “ظالم” گروہ کے عنوان سے کیا گیا ہے۔ اس لئے کہ یہ لوگ آیاتِ الٰہی کی تکذیب کرتے ہیں۔ لہٰذا ان کے شایانِ شان ہی یہی ہے کہ انہیں ایسے القاب کے ساتھ یاد کیا جائے۔ اور سورہ بقرہ کی آیت ۳۰۴ میں ہم پڑھ چکے ہیں “والکافرون ھم الظالمون” اور کافر ہی تو ظالم ہیں۔

اس آیت میں “مھاد” کا لفظ جہنمیوں کے لئے ایک قسم کے استہزاء کے طور پر یعنی “اُن کی آرام گاہ” اللہ نے جہنم بنائی ہے۔ (ازتفسیر فی ظلال القرآن)

پیام:

۱۔ جہنم کفار کے سارے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی۔ (مھاد و غواش) 23

آیت ۴۲

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ا وَ عَمِلُو الصّٰلِحٰتِ لَانُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ۰

ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لے آتے اور نیک کام انجام دیتے (جس قدر بھی انجام چیتے ہم قبول کر لیں گے کیونکہ) ہم کسی کو اتنا ہی تکلیف دیتے ہیں جتنا اس کی توانائی ہوتی ہے۔ یہی لوگ ہی بہشتی ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

دو نکات:

قرآن مجید عام طور پر خوشخبری اور خوف دِلانے کو ایک دوسرے کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ اس سے پہلی آیت میں بدکار متکبر بن کے انجام کو ذکر کیا ہے۔ یہاں پر شائستہ مومنین کے نیک انجام کا تذکرہ کر رہا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ اس دنیا میں شاذ و نادر افراد کے لئے بہشت کی جیسی نعمتیں مہیا ہوں۔ مثلاً دودھ اور شہد کی نہریں، خوبصورت بیویاں، باغات و محلات وغیرہ، لیکن ایک تو ان میں اور بہشت کی نعمتوں میں بڑا فرق ہو گا دوسرے یہ کہ ان میں ہمیشگی اور پائیداری ناممکن ہے۔

پیام:

۱۔ بہشت امان و عمل کی جزا ہے۔ یہ قیمت کے بدلے ملتی ہے۔ بہانوں سے نہیں ملتی۔ (امنواوعملوا)

۲۔ اگرچہ تمام نیک اعمال مطلوب ہوتے ہیں، لیکن ہرشخص اپنی توانائی کے مطابق اپنے اعمال کے بارے میں جوابدہ ہو گا۔ (الصالحات۔ وسعھا)

۳۔ اسلام میں تکلیف مالایطاق نہیں ہے۔ (وسعھا) 24

۴۔ اگر خداوند عالم نے ہم پر کوئی تکلیف عائد کی ہے تو یقیناً ہم اس کی توانائی بھی رکھتے ہیں یہ اور بات ہے کہ ہم اس توانائی سے کماحقہ استفادہ نہ کریں۔

آیت ۴۳

وَنَزَعْنَا مَافِیْ صُدُوْرِ ہِمْ مِنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہِمُ الْاَنْہٰرُ وَقَالُو االْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ہَدٰنَالِہٰذَا وَ مَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْ لَآ اَنْ ہَدٰنَااللّٰہُ لَقَدْ جَآئَتْ رُسُلِ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ط وَنُوْدُوْٓااَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّةُ اُوْ رِثْتُمُوْہَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْْنَ ۰

ترجمہ: اور ہم ان کے سینوں سے بھی کینے ہوں گے نکال دیں گے۔ (تاکہ وہ صدق و صفا اور غنیمت باہم زندگی گذاریں) ان کے محلات کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ اور وہ کہیں گے اس نے ہمیں اس (بہشت) کی ہدایت کی ہے۔ اور اگروہ ہمیں ہدایت نہ کرتا ہم (خودبخود) یہاں نہ پہنچ پاتے۔ خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے پیغمبر ہمارے پاس آئے (جنہوں نے ہمیں ہدایت کی) اور ان ہدایت یافتہ افراد سے خطاب ہو گا۔ یہ وہی بہشت ہے جس کے تم اپنے اعمال کی وجہ سے وارث ہوئے ہو۔

دو نکات:

“غل” کے معنی ہیں کسی چیز میں چپکے سے داخل ہو جانا۔ اسی لئے خفیانہ طور پر دل میں موجود حسد اور کینے کو “غل” کہتے ہیں۔

گذشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ جہنمی لوگ ایکدوسرے کو نصب اور نفرتیں کریں گے۔ جبکہ یہاں فرماتا ہے کہ اہلِ بہشت کے دلوں میں ایکدوسرے کے بارے میں کوئی کینہ اور حسد نہیں ہو گا۔ سب صلح و صفائی اور محبت بھرے ماحول میں مل جل کر رہیں گے۔ کوئی کسی کے مقام و مرتبے سے بھی حسد نہیں کرے گا۔

پیام:

۱۔ بہشت میں صفائے باطن اور صفائے ظاہر ایک جا جمع ہوں گے۔ (نزعنا ) باطنی صفائی کا مظہرہے۔ اور (تجری) ظاہر صفا کا۔

۲۔ بہشت میں اگرچہ درجات کا فرق ہو گا لیکن کسی بارے میں کسی کے دل میں حسدو کدورت نہیں ہو گی۔ (نزعنا)

۳۔ مومن اپنی دینوی زندگی کو بہشتی زندگی جیسا صاف و ستھرا رکھنا چاہتا ہے۔ (نزعنا) 25

۴۔ ہدایت ایک ایسی نعمت ہے جو تا ابد شکریے کی مستحق ہے۔ (ہدانا لھذا)

۵۔ انبیاء علیہم السلام ہدایت کا وسیلہ ہیں اور ان کی ہدایت حق کے ساتھ ہوتی ہے۔ یعنی وہ خود آپ، ان کی گفتگو، ان کے اعمال، ان کے طریقہ پائے کار اور ان کے وعدے سب حق ہوتے ہیں۔

۶۔ بہشتی لوگ ذکر الٰہی میں مصروف ہیں۔ (قالو الحمدللّٰہ)

۷۔ فقط عقل اور علم ہی کافی نہیں، ہدایت کے لئے خدا کی عنایت اور مدد بھی ضروری ہے۔ (مولا ان ہدانا)

۸۔ اہل بہشت خدا کے لطف و کرم پر شکر ادا کریں گے۔ اور اپنے ہدایت یافتہ ہونے پر مغرور نہیں ہوں گے۔ (الحمدللّٰہ)

۹۔ اور آیات کے مطابق ہر مومن اور کافر کا جنت اور دوزخ میں ایک ایک مقام ہے۔ لہٰذا بہشت میں کافر کا مکان وراثت میں اور کافر جہنم میں مومن کا مکان وراثت میں لے جائے گا۔ (اورثتموھا) (ازتفسیر نورالثقلین)

اس قسم کی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت اور جہنم کے دروازے ہر شخص کے لئے کھلے ہوتے ہیں اور کوئی بھی شخص ابتدا میں جنت یا دوزخ کے لئے خلق نہیں ہوا بلکہ اس کا رستے کا انتخاب اور اس انتخاب کی روشنی میں اس عمل ہی سے “نوری یا ناری” بناتا ہے۔ (ازمترجم ۔۔ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی۔ یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے۔ ۔۔ اقبال)

۱۰۔ خیالی پلاؤ پکانے اور پکا کر کھانے سے نہیں عمل سے جنت ملتی ہے۔ (تعلمون)

آیت ۴۴

وَنَا دٰٓی اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّا رِ اَنْ قَدْ وَجْدَنَامَا وَعْدَنَارَبُّنَا بِاالْحَقِّ فَہَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَ عَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا ۰ قَالُوْ اَ نْعَمْ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌبَیْنَہُمْ اَنْ لَّعَنَةُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ ۰

ترجمہ: اور بہشتی، دوزخیوں کو پکار کر کہیں گے “ہمارے رب نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا اسے ہم نے حق اور سچ پایا (اور اس تک پہنچ بھی گئے) تو کیا تم نے بھی اپنے رب کے وعدے کو حق پایا؟ (ہم تو بہشت بریں کی نعمت کے مزے لوٹ رہے ہیں کی تم بھی جہنم کے عذاب میں مبتلا ہو۔؟) تو وہ کہیں گے “ہاں! تو اسی دوران میں ایک موذن ان کے درمیان میں بلند آواز سے کہے گا: “خدا کی لعنت ہے ظالموں پر”

ایک نکتہ:

شیعہ اور کچھ اہلسنت مثلاً حاکم حکانی وغیرہ کی روایات میں ہم پڑھتے ہیں کہ:

“جو موٴذن بیانگ دہل اعلان کرے گا کہ “ظالموں پر اللہ کی لعنت !” وہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہو گا”

علی نے جس طرح دنیا میں سورہ برائت کے ذریعے اسے مکہ میں پڑھ کر مشرکین سے اعلان برائت کیا تھا اسی طرح آخرت میں بھی ظالموں پر لعنت کا اعلان بھی وہی کریں گے۔ گویا خدا کی طرف سے مشرکین اور ظالمین کے خلاف نازل ہونے والی قراردادوں کا پڑھنا علی کا کام ہے۔

پیام:

۱۔ آخرت میں بہشتی اور دوزخی آپس میں گفتگو کریں گے۔ (نادی۔۔۔)

۲۔ جنتویوں اور جہنمیوں کے درمیان فاصلہ ہو گا۔ جس کے لئے ندا کی ضرورت ہو گی۔ (نادیٰ)

۳۔ جغرافیائی لحاظ سے جنت اور جہنم کا وقوع اس طرح سے ہو گا کہ بہشتی بہشت میں پہنچ کر اہل جہنم سے حال احوال پوچھ سکیں گے۔ (نادی۔۔۔)

۴۔ مومن بھی اور کافر بھی اپنے ساتھ خدا کے کئے ہوئے وعدے کو حق اور عملی صورت میں دیکھیں گے۔ (وجدنا۔۔ حق)

۵۔ اللہ تعالیٰ بہشتی لوگوں کے ذریعہ جہنمیوں سے اعتراف لے گا ان کی شرمندگی اور عذاب میں مزید اضافہ ہو۔ (ازتفسیر المیزان)

۶۔ کفار کی ہر قسم کی تکذیب، تہمت، زبان کے زخم کا ایک دن ایک اور صرف ایک جواب ہو گا جو انہیں ابد الدباد تک دُکھ اور درد میں مبتلا کئے رکھے گاوہ ہے (لعنة اللّٰہ علی الظالمین)

۷۔ قیامت کی عدالت اس نعرے کے ساتھ برخواست ہو گی۔ “ظالموں پر خدا کی لعنت” (لعنة اللّٰہ علی الظالمین)

آیت ۴۵

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ یَبْغُوْنَھَا عِوَجًاوَہُمْ بِالْاٰ خِرَةِ کٰفِرُوْنَ ۰

ترجمہ: (ظالم وہیں) جو لوگوں کو خدا کی راہ سے ہٹاتے ہیں اور اس راہ کو ٹیڑھا بنانا چاہتے ہیں اور یہی لوگ آخرت کے منکر بھی ہیں۔

ایک نکتہ:

خدا کا راستہ، توحید و تسلیم، ایمان، ہجرت اور جہاد کا راستہ ہے۔ مگر ظالموں کا کام یہ ہوتا ہے کہ اس بارے میں شبہے اور وسوسے پیدا کر کے لوگوں کو اس سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یا پروپیگنڈا کر کے، مومنین کے دلوں میں کمزوری پیدا کر کے یا بدعتیں اور خرافات کو اس راہ پر ڈال کر گمراہ کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں یا پھر الٰہی راہبروں کے مقابلے میں یا مایوسیاں پھیلا کر یا رخنہ اندازی کر کے یا روڑے اٹکا کر خدا کے رستے سے لوگوں کوہٹانے کی کوشش کرتے ہیں یا اس میں تبدیلی اور ایجاد کر دیتے ہیں۔

پیام:

۱۔ خدا کی راہ سے جس طرح بھی ہٹایا جائے ظلم ہے۔ بلکہ اگر اس میں کجی اور انحراف پیدا کرنا بھی ستم ہے۔ اور “ثقافتی یلغار” تو ایک ایسا ظلم ہے جس کا مقابلہ کسی طرح کا ظلم بھی نہیں کرسکتا۔

۲۔ اگر دشمن کے بس میں ہو تو کھلم اور اعلانیہ طور پر جنگ کر کے راہ حق کو مکمل طور پر بند کر دیتا ہے۔ لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرسکتا تو پھر مختلف حیلوں بہانوں اور عیاریوں کے ساتھ راہ کوکج کر کے اس میں تبدیلیاں پیدا کر کے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ (یصدون ۔۔۔۔۔۔ یغبونھا عوجا)

آیت ۴۶

وَ بَیْنَہُمَا حِجَابٌ وَ عَلَی الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ کُلًّا بِسِیْمٰہُمْ وَناَ دَوْ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ لَمْ یَدْخُلُوْہَا وَ ہُمْ یَطْمَعُوْنَ ۰

ترجمہ: اور ان دو (جنتی اور جہنمی گروہوں) کے درمیان حجاب ہے۔ اور اعراف ہر (اولیاء اللہ میں سے) کچھ لوگ ہوں گے جو تمام (بہشتوں اور دوزخیوں) کو ان کی نشانیوں سے پہچان لیں گیا ور بہشتوں کو جو کہ ابھی بہشت میں نہیں پہنچے ہوں گے بلکہ اس کے امیدوار ہوں گے صدا دے کر کہیں گے “السلام علیکم” تم پر سلام ہو۔

چند نکات:

حجاب سے مراد شاید وہ دیولد ہو جس کا تذکرہ سورہ حدید کی ۱۳ویں آیت میں ہم پڑھتے ہیں کہ “فضرب بینھم من سورلہ باب باطنہ فیہ الرحمة و ظاھرہ من قبلہ العذاب” ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی۔ جس کا بیرون حصہ عذاب اور اندرونی حصہ رحمت ہے۔ (از تفسیر المیزان)

“اعراف” جمع ہے۔ “عرف” جس کا معنی ہے بلند جگہ۔ اس سورة کو “اعراف” کہتے ہیں۔ اور پورے قرآن مجید میں صرف اسی جگہ پر اعراف اور اہل اعراف کا تذکرہ ہے۔

اہل اعراف کون ہیں؟

اس بارے میں روایات اور تفاسیر میں مختلف آراء اور نظریات ملتے ہیں۔ کچھ تو وہ جو “اولیاء اللہ” کو اہل اعراف سمجھتے ہیں۔ جو کہ جنت اور جہنم کے درمیان بلند جگہ پر موجود ہوں گے۔ اور تمام لوگوں میں وہیں پرسے پہچان لیں گے۔ اہلِ بہشت کو سلام اور مبارک باد سے نوازیں گے۔ جبکہ جہنمیوں کے بارے میں پریشان دِکھائی دیں گے۔

بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد ضعیف اور کمزور لوگ ہیں جن کے گناہ بھی ہوں گے لیکن عبادت بھی ساتھ ہی ہو گی۔ خدا کے لطف و کرم کے منتظر ہوں گے۔ (جب کہ سورہ توبہ کی آیت ۱۰۵ بتلاتی ہے۔)

ان دونوں نظریات کو اس طرح جمع کیا جا سکتا ہے کہ اصل مراد تو اولیاء اللہ ہوں لیکن ان کی اطراف میں مذکورہ متوسط اور ضعیف افراد بھی ہوں جو اعراف میں گرفتار اور اپنے انجام کے منتظر ہوں۔ کیونکہ بہشتی، بہشت ہیں اور جنہمی جہنم میں چلے جائیں گے۔ اور متوسط اور ضعیف لوگ اپنے انجام کے منتظر ہوں گے۔ اور اولیاء اللہ جو اعراف پر ہوں ان کی مدد کرتے ہوئے ان کے حق میں شفاعت کریں گے۔ اور مفسرین اور روایات حدیث نے بھی اسی طرح ان نظریات کو جمع کیا ہے۔ (از مترجم: روایات اہل بیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اولیاء اللہ آئمہ اطہار ہی ہیں۔)

آیت ۴۷

وَ اِذَاصُرِفَتْ اَبْصَارُہُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ قَالُوْ رَبَّنَا لَا تَجَعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۰

ترجمہ: اور جب ان کی نگاہیں جہنمیوں کی طرف پلٹائی جائیں گی تو وہ کہیں گے پروردگار! تو ہمیں ظالموں کے ساتھ قرار نہ دے۔

دونکات:

اہل اعراف، بہشتوں کی طرف دیکھیں گے بھی اور انہیں سلام بھی کریں گے۔ لیکن جہنمیوں کو دیکھنا گوارا نہیں کریں گے بلکہ ان کی ان پر صرف اچکتی ہوئی نگاہ پڑے گی۔ (صرفت ابصارھم)

وہ اپنی دعا میں یہ نہیں کہیں گے کہ “ہمیں اہل جہنم نہ بنا” بلکہ کہیں گے “ہمیں ظالموں کا ہم نشیں نہ بنا” جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظالم کی ہم نشینی، جہنم سے بھی بدتر ہے۔ (تفسیر الوسی)

(ہماری دعا بھی ہے کہ خداوند! اگر تو ہمیں بہشت میں نہیں لے جائے گا تو ظالموں کا ہم نشین بھی نہ بنانا۔ آمین)

آیت ۴۸

وَ نَا دٰی اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجْالًا یَّعْرِفُوْنَہُمْ بِسِیْمٰہُمْ قَالُوْ مَآ اَغْنٰی عَنْکُمْ جَمْعُکُمْ وَ مَا کُنْتُمْ تَسْتَکْبِرُوْنَ ۰

ترجمہ: اور اہل اعراف (وہ اولیاء اللہ جو بلند جگہ پر موجود ہوں گے، جہنم والے) لوگوں کو ان کی نشانیوں سے پہچان کر آواز دیں گے اور کہیں گے۔ تمہیں نہ تو تمہارے جمع شدہ سرمائے اور مال نے فائدہ پہنچایا اور نہ ہی اشکبار نے۔

پیام:

۱۔ قیامت کے دن جہنمیوں کو خدائی عذاب کے علاوہ انسانوں کی جھڑکیاں اور سرزنش بھی سننا پڑیں گی۔ (قالوا۔۔۔۔)

۲۔ زراندوزی اور تکبر قہر خداوندی کا موجب ہے۔

۳۔ مال اور اقتدار، نجات کا موجب نہیں ہیں۔ (مااغنیٰ عنکم۔۔۔۔) 26

آیت ۴۹

اَہٰٓؤُلَآءِ الّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَا لُہُمُ اللّٰہُ بِرَحْمَةٍ ط اُدْخُلُواالْجَنَّةَ لَاخَوْفٌ عَلَیْکُمْ وَ لَا اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ ۰

ترجمہ: آیا یہ بہشتی دینی لوگ ہیں کہ جن کے متعلق تم قسم کھایا کرتے تھے (خدا کی) رحتم ان کے شامل حال نہیں ہو گی؟ (پھر مومنین سے خطاب ہو گا) بہشت میں داخل ہو جاؤ۔ نہ تو تم پر کوئی خوف ہے اور نہ ہی غم سے دوچار ہو گے۔

ایک نکتہ:

کفار میں سے کچھ مغرور فراد ایسے بھی تھے جو مومنین کی تحقیر کرتے تھیا ور کہتے تھے کہ خدا کی رحمت ان کے شامل حال نہیں ہو گی۔ حالانکہ وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ ان کا ایمان اور نیک اعمال ہی انہیں خُدائی رحمت کے شامل حال قرار دے چکے ہوں گے۔ اور “ادخلواالجنة” خطاب انہیں سے ہو گا۔ رحمت خداوندی کے لئے اندرونی لیاقت و شائستگی اور بیرونی اعمال صالحہ کا ہونا ضروری ہے۔ جاہ و مال اور مقام و منصب کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ کیا رحمت خداوندی کی ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے کہ جسے چاہے دیدے یا اس ذات کے قبضہ قدرت میں جو ہر شئے پر قادر ہے؟ اس لئے تو خداوند فرماتا ہے۔ “اھم لقیسمون رحمة ربک” آیا یہی لوگ تیرے رب کی رحمت کو تقسیم کرتے ہیں؟

پیام:

1۔ کون لوگ خدائی رحمت کے مستحق ہیں؟ اس بارے میں جلد فیصلہ نہ کر لیا کرو۔

2۔ دنیا میں فقر و فاقہ، تنہائی اور گمنامی، قیامت کے دن رحمت خداوندی سے محرومیت کی علامت نہیں ہے۔

آیت ۵۰

وَنَادٰٓی اَصْحٰبُ النَّا رِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْ ا عَلَیْنَا مِنَ الْمَٓاءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ ط قَالُوْااِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَہُمَا عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ۰

ترجمہ۔ اور اہل جہنم بہشتوں کو پکاریں گے کہ کچھ پانی یا جو کچھ تمہیں اللہ نے عطا کیا ہے اس میں سے کچھ ہمارے اوپر بھی ڈالو ۔ تو (بہشتی) کہیں گے کہ اللہ نے یہ پانی اور نعمتیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔

ایک نکتہ:

قیامت کے منجملہ ناموں میں سے ایک نام “یوم التناد” بھی ہے۔ یعنی جس دِن آوازیں بلند ہوں گے۔ اور ایکدوسرے کو مدد کے لئے پکارا جائے گا۔

پیام:

۱۔ جو دنیا میں رہ کر آخرت کے لئے توشہ تیار نہیں کرتے، قیامت کے دن ان کی ضرورت اور احتیاج کا ہاتھ ہر ایک کے آگے پھیلا ہو گا۔ (ونادیٰ۔۔۔۔)

۔ قیامت کے دن مجرمین کی آہ و زاری کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ (ان اللہ حرمھما)

۔ آخرت کی نعمتیں، مومنین کے ساتھ مخصوص ہیں۔ (حرمھما علی الکٰفرین)

۔ نہ خدابخیل ہے۔ اور نہ ہی اہلِ بہشت! لیکن کفر، آزادانہ مصرف اور دنیا میں عیاشی کی سزا قیامت کے دن نعمتوں سے محرومی کی صورت میں ملے گی۔ (حرمھما علی الکٰفرین)

تفسیرنور

آیت نمبر ۵۱ تا ۷۴

آیت ۵۱

اَلَّذِیْنَ اتَّخَذُوْ ادِیْنَہُمْ لَہْوً ا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْہُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فَالْیَوْمَ نَنْسٰہُمْ کَمَانَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِہِمْ ہٰذَا وَ مَا کَا نُوْ ا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ ۰

ترجمہ: وہی لوگ تو (کافر) ہیں جو اپنے دین کو کھیل تماشہ سمجھتے ہیں اور دینوی زندگی نے انہیں مغرور بنا دیا ہے۔ پس جس طرح وہ اپنے اس دن ملاقات کو فراموش کر چکے ہیں۔ اور ہماری آیات کا انکار کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح ہم بھی انہیں فراموشی کے سپرد کر دیں گے۔

ایک نکتہ:

“لھو” یہ ہوتا ہے کہ انسان بنیادی کاموں سے غافل ہو جائے۔ اور “لعب” یہ ہے کہ انسان خیالی پلاؤ پکاتا ہے۔ (ازتفسیر المیزان)

پیام:

1۔ کفار دین کو مذاق سمجھتے ہیں حالانکہ وہ ایک یقینی چیز ہے۔ اور دنیا کو حقیقت سمجھتے ہیں حالانکہ کھیل تمام ہے۔ (دینھم لھوا) 27

2۔ جب دین کی طنابیں کٹ جاتی ہیں تو دینوی گرداب انسان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ (اتخذوا۔۔۔۔ عرتھم)

3۔ خدا اور قیامت سے غفلت، انسان کے قیامت کے دن فراموش ہو جانے کا سبب بن بن جاتا ہے۔ 28

اور (افیضواعلینا) گذشتہ آیت ہیں۔

4۔ دین کا مذاق اُڑانا، دنیاوی لذتوں میں غرق ہو جانا، آخرت کو فراموش کر دینا، خدا کی آیات کا للکار غرض اس قسم کی تمام باتیں کفر کی علامتیں ہیں۔ (الذین۔۔۔۔)

آیت ۵۲

وَلَقَدْ جِئْنٰہُمْ بِکِتٰبٍ فَصَّلْنَہُ عَلٰی عِلْمٍ ہُدً ی وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۰

ترجمہ: اور یقیناً ہم ان کے لئے کتاب لے آئے کہ جس میں ہر چیز کو علم کی بنیادوں پر تفصیل اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا تاکہ ایمانداروں کے لئے ہدایت اور رحمت ہو۔

پیام:

1 ۔ اللہ تعالیٰ نے اتمام حجت کر دی ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر کوئی دنیا کے گرداب میں غرق ہے یا آخرت کو فراموش کر چکا ہے یا آیات خداوندی کو للکارتا ہے تو یہ اس کی اپنی کوتاہی ہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ (لقدجلناھم)

صد ہا چراغ دار دوبیراہہ ہی رود۔ بگزار تا بیفتد و بیندسزا سی خویش

سینکڑوں چراغوں کے باوجود بھی غلط رستے پر چل رہا ہے تو چلنے دو تاکہ گر کر مرے اور اپنی سزا کو پا لے۔

2۔ خدا کی وحی کی اساس علم اور حقیقت ہے۔

3۔ انسان کی ہدایت، خد اکی بہت بڑی رحمت اور مہربانی ہے۔

4۔ دین اسے ہدایت کرتا ہے جو اسے قبول کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ ضدی مزاج اور ہٹ دھرم افراد کو ہدایت اور دین نصیب نہیں ہوتا۔ (لقوم یومنون)

آیت ۵۳

ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاوِیْلَہ ط یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلَہ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْہُ مِنْ قَبْلِ قَدْ جَآئَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ فَہَلْ لَّنَامِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَا اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ کُنَّا نَعْمَلُ قَدْ خَسِرُوْ ٓا اَنْفُسَہُمْ وَ ضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَا نُوْ یَفْتَرُوْنَ ۔

ترجمہ: کیا کفار کتاب کی تاویل (اور قرآنی وعدوں کے پورا ہونے) کے علاوہ کسی اور چیز کے منتظر ہیں؟ جس دن کہ کتاب کی تاویلیں (خدا کا قہر و غضب اور اس کے حساب و کتاب کی نشانیاں) پہنچ جائیں گی تو جو لوگ اس سے پہلے (دنیامیں) اس دن کو بھلا چکے تھے کہیں گے: اس میں شک نہیں کہ اللہ کے رسول ہمارے پاس ہی حق لے کرآئے (لیکن ہم نے ان سے منہ پھیرے رکھا) آیا ہمارے کوئی شفاعت کرنے والے ہیں جو شفاعت کریں گے؟ یا ممکن ہے کہ ہم دنیا میں واپس ہٹائے جائیں تاکہ ایسے کام کریں جو نہیں کئے تھے؟ (یہ سب بے فائدہ حسرت ہے) یقیناً ان لوگوں نے اپنے آپ کو خسارہ پہنچایااور وہ سب کچھ ختم ہو جائے گا جو وہ افتراپردازی کیا کرتے تھے (اور بتوں کو اپنا معبود سمجھتے تھے)۔

دو نکات

“تاویل” کا معنی ہے گزشتہ یا آئندہ (ماضی یا مستقبل کی طرف پلٹانا۔ اور قرآن میں اس کا معنی ہے حقیقت امر اور کسی کام کا آغاز یا انجام۔

اس سورت کی ۴۳ ویں آیت می اہل بہشت کی زبانی کہا گیا ہے “لقد جأت رسل ربنا بالحق” اور اس جگہ ہر اہلِ جہنم یہی اقرار کر رہے ہیں۔

پیام

۱۔ قیامت کے دن کفار کی داد و فریاد اور اعتراف اور آرزوئیں کسی کام نہیں آئیں گی۔ لہٰذا انہیں چاہئے کہ جو کچھ کرنا ہے اسی دنیا میں ہی کر لیں۔ (یوم باقی تاویل)

۲۔ دین، مذہب اور قرآن کو فراموش کر دینا بہت بڑا احسان ہے (نسوہ)29

۳۔ کفار، یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کے اعمال صحیح ہیں، قیامت کے دن جب اپنی خطاؤں اور غلط کاریوں کی طرف متوجہ ہوں گے تو دنیا کی طرف واپسی کی خواہش کریں گے لیکن یہ آرزو غلط ہو گی (اونرد فضل)30

۴۔ قیامت آگاہی اور بیداری کا دن ہے۔ (جائت رسل ربنا بالحق)

۵۔ شفاعت ہر ایک کے لئے نہیں ہو گی (ھل لنا من شفعاء)

۶۔ قیامت کے دن طاغوتوں، بتوں، مال و دولت اور اقتدار کا نام و نشان اور جلوہ گری نہیں ہو گی (ضل عنھم)

آیت ۵۴

اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلیَ الْعَرْشِ یُغْشَی الَّیْلَ النَّہَارَ یَطْلُبُہ حَثِیْثَا وَالشَّمْسَ وَ ْالْقَمْرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍ م بِاَمْرِہ ط اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ ط تَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعَلٰمِیْنَ ۰

ترجمہ: درحقیقت تمہارا پروردگار وہ اللہ ہے کہ جس نے چھ دنوں (اور دورانیوں) میں آسمان اور زمین کو پیدا پھر اقتدار کی کرسی اور کائنات کی تدبیر پر مسلط ہوا۔ وہی تو ہے جو دن کو رات کے ذریعہ چھپا دیتا ہے اور رات بڑی تیزی سے دن کا پیچھا کرتی ہے اور سورج، چاند اور ستارے اس کے احکام کے فرمانبردار ہیں۔ آگاہ رہو کہ تخلیق بھی اسی کا کام ہے اور تدبیر بھی۔ نہایت ہی بابرکت ہے وہ اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

گزشتہ آیت میں بتایا گیا تھا کہ قیامت کے دن ہر چیز اور ہر شخص فنا ہو جائے گا بقا صرف ذات پروردگار عالم ہی کو حاصل ہے۔ (ضل عنھم…) اور اس آیت میں حقیقی پروردگار کا تعارف کرایا جا رہا ہے۔

“یوم” کے کئی معنی ہیں۔ اور یہ “نہار” (دن) کے علاوہ ہے جو “لیل” (رات) کے مقابل میں ہوتا ہے۔ اس لئے کہ “یوم” کا ایک معنی تو “دن” کا ہے ایک “دن رات” کا اور ایک “دورانئے” کا۔

“تبارک” کو “برکت” سے لیا گیا ہے جو “برک” سے ماخوذ ہے۔ جبر کا معنی ہے “اونٹ کا سینہ جب وہ زمین پر رکھتا ہے” یہ اس کے وہاں پر ٹھہرنے کی علامت ہوتی ہے۔ اور “برکت” کا معنی بھی “بقاء” اور “ٹھہرا رہنا ہے” اور “برکہ” (کنواں) اسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں پانی ٹھہرا اور ذخیرہ بنا رہتا ہے۔

پیام

۱۔ اگرچہ خداوند عالم اس بات پر قادر ہے کہ تمام کائنات کو ایک ہی لمحہ میں خلق فرما دے، لیکن آرام اور سکون کے ساتھ کام کی بجاآوری ہی اس کا انداز کار ہے اور اسی میں لوگوں اور کائنات کی مصلحت ہے۔ (فرشتہ ایام)31

۲۔ “عرش پر متمکن ہونا” یا “تخت پر بیٹھنا” “تسلط، اقتدار، تدبیر امور، ہدایت اور مکمل ارادے سے کنایہ ہے۔ دوسری زبانوں میں بھی اسی قسم کا کنایہ استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً کہتے ہیں کہ “فلاں کو عرش سے فرش پر پھینک دیا گیا” یعنی اسے اقتدار اور تسلط سے علیحدہ کر دیا گیا۔ (استوی علی العرش)

۳۔ زمین گول اور متحرک ہے (یطلب حثیثا) شب و روز کا مسلسل ایک دوسرے کے پیچھے لگ رہنا یہ زمین کے گول اور متحرک ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔

۴۔ کائنات کا ایک باقاعدہ نظام ہے اور وہ بھی ارادہ الٰہی کے آگے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہے (بامرہ مسخرات)

۵۔ کائنات کی پیدائش بھی خدا کے ہاتھ میں ہے اور اس کا ارادہ اور تدبیر بھی۔ (لہ الخلق والامر)

آیت ۵۵

اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَّ خُفْیَةً ط اِنَّہ لَایُحِبُُّ الْمُعْتَدِیْنَ ۰

ترجمہ: اپنے پروردگار کو گڑگڑا کر اور مخفی انداز میں پکارو، یقیناً وہ تجاوز کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے۔

دو نکات

ایک سفر میں حضرت رسول خدا نے اپنے بعض صحابیوں کو دیکھا جو زور زور سے دعا کر رہے تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا:

“دعا آہستہ مانگا کرو۔” (از تفسیر فخر رازی، فی ظلال القرآن اور مجمع البیان)

سابقہ آیت میں خدا کی معرفت کی بات ہوئی تھی اور اس میں خدا کی عبادت کی بات ہو گی۔

پیام

۱۔ خدا کی معرفت کے بعد اس کی عبادت ضروری ہے (ادعوا ربکم)

۲۔ بہتر یہی ہے کہ دعا تضرع و زاری کے ساتھ اور آہستہ سے ہونی چاہئے۔ (تضرعا و خفیة)

۳۔ دعا میں تضرع، نالہ اور زاری کا اسی لئے حکم ہے تاکہ انسان اپنی ضروریات اور اپنے اندر ہر قسم کی کمی کو محسوس کرے اور غرور، تکبر اور خودخواہی جو اس کے اندر موجود ہے اسے باہر نکال دے (جو خود کو بے نیاز اور طاقتور سمجھتا ہے وہ آہ و زاری نہیں کرتا)

۴۔ گریہ و زاری اس وقت موثر ہے جب خلوص قلب اور تہہ دل سے ہو (تضرعا و خفیة) حضرت زکریا علیہ السلام بھی اپنے رب کو مخفی انداز میں اور خلوص دل سے پکارا کرتے تھے جب کہ ارشاد الٰہی ہے “اذنادی اللہ نداء خفیا”

۵۔ عبادت اور دعا و نیائش میں بلند آواز ریاکاری اور دکھاوے کا موجب بن سکتی ہے (خفیة)

۶۔ پورے وجود کے ساتھ خدا کی عبادت کرو اور اس سے دعا مانگو، تمہاری زبان تمہارے وجود کی نمائندہ ہونی چاہئے۔ (لضرعا)

۷۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: “دعا میں ہاتھوں کو بلند کرنا ہی گڑگڑانا اور تضرع و زاری کرنا ہے” حضرت پیغمبر اکرم بھی ہاتھوں کو اٹھا کر دعا کیا کرتے تھے، چنانچہ حضرت سلمان فارسی روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول خدا نے فرمایا:

“خداوند عالم کو ایسا ہاتھ خالی لوٹانے سے شرم آتی ہے جو دعا کے لئے اٹھایا جائے” (اس روایت کو تفسیر قرطبی اور سنن ترمذی نے بھی نقل کیا ہے)

۸۔ سرے سے دعا ہی نہ مانگی جائے، اگر مانگی جائے تو اس میں تضرع و زاری نہ ہو، یا ریاکارانہ انداز میں مانگی جائے یا مخفی طو رپر نہ مانگی جائے بلکہ زور زور سے اور بلند آواز کے ساتھ مانگی جائے تو “تجاوز” کے زمرے میں آئے گی (لایحب المعتدین)

آیت ۵۶

وَلَاتُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِہَاوَ ادْعُوْہُ خَوْفًا وَّ طَمْعًاط اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ ۰

ترجمہ: زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ، اور خدا کو خوف اور امید کے ساتھ پکارو! یقیناً اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے نزدیک ہے۔

چند نکات

گزشتہ آیت میں بندے کا خدا سے تعلق بیان کیا گیا تھا اس آیت میں بندے کا بندوں کے ساتھ رابطہ کیا گیا ہے۔

اس میں اور اس سے پہلی آیت میں دو مرتبہ “ادعوا” کا حکم ہے۔ اور ان دونوں فرمانوں کے درمیان “لاتفسدو فی الارض” کا حکم ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زبان کے ساتھ مانگی جانے والی دعا کے ساتھ ساتھ اجتماعی طور پر اصلاح طلبی کی سعی پیہم کو بھی ہر وقت پیش نظر رکھنا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ زبان سے تو دعا مانگی جائے لیکن عمل سے فساد اور معاشرے کی تباہی کے سامان مہیا کئے جائیں۔

اس میں اور اس سے پہلی آیت میں دعا کے شرائط، آداب اور قبولیت کے اسباب کو بیان کیا گیا ہے جو درج ذیل ہیں:

۱۔ دعا گڑگڑا کر اور تضرع و زاری کے ساتھ مانگی جائے ۲۔ ریاکاری سے ہٹ کر اور مخفی انداز میں دعا کی جائے ۳۔ امید اور خوف کے درمیان رہ کر دعا مانگی جائے ۴۔ حق کی حدود سے تجاوز کئے بغیر ہونی چاہئے ۵۔ فساد اور تباہی کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہونا چاہئے۔

پیام

۱۔ اصلاح شدہ اور صاف ستھرے معاشرے کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں (بعد اصلاحھا)

۲۔ انقلابی مصلح دعا، عرفان اور مناجات سے بے نیاز نہیں ہوتے (وادعوہ خوف و …)

۳۔ اگر دعا، خوف اور طمع حد اعتدال پر نہ ہوں تو فساد کی حد تک جا پہنچتے ہیں۔

۴۔ انسان کو ہر وقت خوف اور امید کی حالت میں رہنا چاہئے، اسی اعتدال کو خداوند عالم نے “احسان” کا نام دیا ہے…(قریب من المحسنین)

۵۔ احسان، خداوند عالم کی رحمت کے حصول کا ذریعہ ہے اور اس کے بغیر رحمت کا انتظار بے جا ہے (قریب من المحسنین)

۶۔ حق کی جانب دست نیاز دراز کرنا اور فساد سے دور رہنا ہی “احسان” ہے (قریب من المحسنین)

آیت ۵۷

وَ ہُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْراًًم بَیْنَ یَدَ یْ رَحْمَتِہ حَتّٰی اِذَآ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثَقَالًا سُقْنٰہُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِہ الْمَآءَ فَاَخْْرَجْنَا بِہ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ کَذٰلِکَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰی لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ۰

ترجمہ: اور وہ وہی (خدا) ہے جو اپنی (باران) رحمت کے آگے آگے ہواؤں کو خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے، حتیٰ کہ جب ہوا سنگین (اور پانی سے بھرے) بادلوں کو اٹھا کر روانہ ہوتی ہے تو ہم اسے بے جان سرزمین کی طرف روانہ کرتے ہیں پس اس ذریعے سے ہم بارش نازل کرتے ہیں، پس اس کی وجہ سے ہم ہر قسم کے میوے (زمین سے) اگاتے اور باہر نکالتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو زمین سے نکالیں گے تاکہ تم (زمین کے بے جان اور افسردہ ہونے کے بعد اس کی زندگی کو ملاحظہ کر کے) نصیحت حاصل کرو۔

ایک نکتہ

گزشتہ آیات میں خدا شناسی یا معرفت الٰہی کا ذکر تھا اور یہاں ہر معاد کا تذکرہ ہے۔ اور مبداء و معاد دونوں میں فطری مسائل اور نظام تخلیق کائنات سے استدلال کیا گیا ہے۔

پیام

۱۔ طبعی اور فطری قوانین اپنی تمام پیچیدگی اور نظم و انتظام کے باوجود پروردگار عالم کے ارادہ و اختیار کے ماتحت ہیں لہٰذا کہیں ایسا نہ ہو کہ انسان کو مبرا ہستی یا خالق کائنات سے غافل کر دے۔ (ھوالذی)

(سائنسی اور مادی فارمولوں کے چکر میں پڑ کر مادیات کے سمندر میں غرق نہ ہو جانا ہوا کی حرکت اور اس کی ہدایت، بارش کا برسنا اور نباتات کا اگنا سب خداوند عالم کی تدبیر کے تابع ہیں (ھوالذی)

۲۔ معاد (قیامت کے منکرین کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے صرف وہ “استبعاد” (بعید سمجھنے) سے کام لیتے ہیں یعنی کہتے ہیں کہ قیامت کے دن منتشر اجزاء اور پراگندہ ذرات کو یکجا کرنا بعید ہے۔ حالانکہ اس کائنات میں اس کے نمونے موجود ہیں۔ سیب، ناشپاتی اور انار کے ذرات جو کہ اس زمین میں منتشر اور اجزا جو کہ پراگندہ ہیں انہیں جمع کر کے سیب، ناشپاتی اورانار کی صورت میں پیدا کرنے والی ذات مردوں کے ذرات اور اجزا کو جمع کرنے پر قادر ہے۔ اور یہی بات اس استبعاد کے دور کرنے کے لئے کافی ہے۔ (کذالک مخرج الموتیٍ)

۳۔ موت، عدم (نیستی) نہیں بلکہ حالت کی تبدیلی کا نام ہے جبکہ مردہ زمین، معدوم چیز کا نام نہیں ہے۔

آیت ۵۸

وَالْبَلَدُ الطَّیِّبُ یُخْرِجُ نَبَاتُہ بِاِذْنِ رَبِّہ وَالَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَکِدًا ط کَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْکُرُوْنَ ۰

ترجمہ: پاکیزہ (اور آمادہ) سرزمین کی نباتات اپنے پروردگار کے حکم سے (مفید اور بابرکت) باہر نکلتی ہے۔ لیکن جو زمین خبیث (شورہ زار اور معیوب) ہوتی ہے وہ تھوڑی سی بے فائدہ چیز کے علاوہ اور کچھ باہر نہیں نکالتی۔ اس طرح ہم اپنی آیات کو شکرگزار لوگوں کے لئے الٹ پھیر کر بیان کرتے ہیں۔

ایک نکتہ

قرآنی آیات باران رحمت کی مانند ہیں اگر آمادہ دلوں پر پڑھی جائیں تو معرفت، عشق ایمان اور سعی مسلسل میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ نااہل افراد کے لئے ہٹ دھرمی اور ضد کے علاوہ کسی چیز میں اضافہ نہیں ہوتا۔ ارشاد پروردگار ہے: “وننزل من القرآن ماھوشفاء و رحمة للموٴمنین ولا یزید الظالمین الاخسارا” (بنی اسرائیل/۸۲)

باران کہ در لطافت طبعش خلاف نیست در باغ لالہ روید و در شورہ زار خس

پیام

۱۔ خاندانی، شرافت، وراثت اور شخصیت کے عوامل میں سے ایک ہے۔ (البلد الطیب)

۲۔ صرف نزول رحمت ہی کافی نہیں، مکان و محل کی قابلیت اور فراخیت کے علاوہ اذن الٰہی بھی ضروری ہے (باذن ربہ)

۳۔ اگرچہ نظام فطرت اپنے خاص قوانین کی بنیادوں پر استوار ہے لیکن سب کچھ پروردگار عالم کی زیرنگرانی اور اس کے ارادہ و اختیار کے تحت چل رہا ہے (باذن ربہ)

۴۔ اگرچہ قرآن مجید تمام لوگوں کے لئے ہدایت اور بیان ہے لیکن اس سے صرف متقین اور شاکرین ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں (لقوم یشکرون)32

آیت ۵۹، ۶۰

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًااِلَی قَوْمِہ فَقَالَ یَقَوْمِ عْبُدُو ا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہ ط اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ۰ قَالَ الْمَلَاءُ مِنْ قَوْمِہٓ اِنَّا لَنَرٰکَ فِیْ ضَلٰلِ مُّبِیْنٍ ۔

ترجمہ: بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا، تو اس نے کہا: اے میری قوم! خدا کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ یقین جانو کہ میں تم پر بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

اس کی قوم کے سرداروں نے کہا: اس میں شک نہیں کہ ہم تجھے واضح اور آشکارا گمراہی میں دیکھ رہے ہیں۔

چند نکات “بلاخبیث” (جو گزشتہ آیت میں بیان ہوا ہے) کا نمونہ حضرت نوح کی قوم تھی کہ حضرت نوح علیہ السلام نے انہیں جس قدر بھی تبلیغ کی انہوں نے اس سے کوئی اثر نہ لیا۔

حضرت نوح علیہ السلام کی داستان سورت احقاف، سورہ صافات، اسرأ (بنی اسرائیل) احزاب، مومنون اور قمر میں مذکور ہے۔

“خوف” میں مثبت پہلو پایا جاتا ہے جبکہ “جبن” (بزدلی) منفی بھی ہے اور ناپسند میں بھی (اخاف علیکم)

پیام

۱۔ توحید اور خداپرستی کی دعوت تمام انبیا کی دعوت و تبلیغ کا سرنامہ ہے اور تمام ادویات کے مشترکات میں شامل ہے (اعبدوااللہ)

۲۔ انبیاء، عالم انسانیت کے حقیقی اور دلسوز وست میں (یا قوم، اخاف علیکم)

(البتہ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت عالمی تھی۔ کیونکہ ان کی قوم اس دور کے تمام لوگ تھے۔ اور حضرت نوح نے اپنی بددعا میں روئے زمین کے تمام کفار کو شامل کیا تھا اور وہ غرق ہو گئے تھے۔ انہوں نے بددعا کی کہ “رب لاتعزی علی الارض من الکافرین دیارا” (نواح/۸)

۳۔ انبیاء کے مخالف ہمیشہ بڑے لوگ، اشرافیہ، سردار، ثروتمند اور مالدار لوگ ہی ہوا کرتے تھے کہ جن کی دولت کی “چمک” لوگوں کی آنکھوں کو “پُر” کر دیتی تھی۔ (اعلأ من قومہ)

۴۔ اگرچہ ایمان نہ لانا بری بات ہے لیکن اس سے بڑھ کر برائی یہ ہے کہ انبیاء کو (نعوذ باللہ) گمراہ سمجھا جائے۔ جب فطرت مسخ ہو جاتی ہے تو حقیقی راہنماؤں کو بھی گمراہ سمجھاجانے لگتا ہے آج بیسویں صدی میں بھی دنیا کے الحاد کو روشن فکر اور انبیاء اور مبلغین دین کو رجعت پسند، وقیانوسی اور سادہ لوح سمجھتے ہیں۔

۵۔ جو نظام توحید کے اجرا اور نظام شرک کی بیخ کنی کا داعی ہوتا ہے اسے ہر قسم کی تہمت، توہین، استہزاء اور مشکلات کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ (لنراک فی ضلٰل مبین)

آیت ۶۱۔۶۲

قَالَ یَقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لَکِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۰ اُبَلِّغُکُمْ رِسَلَتِ رَبِّیْ وَاَنْصَحُ لَکُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَاتَعْلَمُوْنَ ۰

ترجمہ: (حضرت نوح نے کہا! اے میری قوم! مجھ میں کسی قسم کا انحراف اور گمراہی نہیں ہے، بلکہ میں عالمین کے پروردگار کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں۔

میں اپنے پروردگار کے پیغامات تم تک پہنچاتا ہوں، تمہارا خیرخواہ ہوں اور خدا کی طرف وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

ایک نکتہ

“نصح” کا معنی ہے خالص اور کسی قسم کی ملاوٹ کے بغیر ہونا۔ اسی لئے خالص شہد و “ناصح العسل” کہتے ہیں۔

پیام

۱۔ تمام کائنات کا صرف اور صرف ایک ہی رب ہے جو سب کا پروردگار ہے، لہٰذا ہر ایک چیز کے لئے علیحدہ علیحدہ رب نہ بناؤ۔ (رب العالمین)

۲۔ جاہلوں کی توہین و استہزاء کے مقابل میں صبر سے کام لو۔ (یس بی ضلالة)

۳۔ سب سے پہلا اولوالعزم نبی، بدترین باتوں کے جواب میں نرم ترین روش اختیار کرتا ہے۔ اس سے ہمیں سبق سیکھنا چاہئے۔

۴۔ مبلغ کو ایک تو خیرخواہ اور دلسوز ہونا چاہئے اور اس کے ساتھ ہی کافی حد تک عوام سے بہرہ ور بھی ہونا چاہئے۔ (الضح۔ اعلم)

۵۔ انبیاء کرام، علم و معرفت کی ان حدود تک پہنچے ہوتے ہیں کہ جہاں پر عام انسان کی رسائی نہیں ہو سکتی۔ (لاتعلمون)

آیت ۶۳

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآئَکُمْ ذِکْرٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَلٰی رَجُلٌ مِّنْکُمْ لِیُنْذِرَکُمْ وَ لِتَتَّقُوْ ا وَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ۰

ترجمہ: کیا تم نے اس بات پر تعجب کیا ہے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم میں سے ایک شخص کے پاس نصیحت آ چکی ہے تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو اور ہو سکتا ہے کہ تم پر رحم کیا جائے۔

پیام

۱۔ وحی کا اصل مقصد انسان کی تربیت ہے۔ (ربکم)

۲۔ “حجاب معاصرت” (کسی کا ہم عصر ہونا اس کی) برحق اور منطقی باتوں کی قبولیت سے مانع ہوتا ہے۔ حضرت نوح کی قوم بھی کہتی تھی کہ “وہ کیونکر نبی ہوئے اور ان پر کسی لئے وحی نازل ہوئی ہے جبکہ ہم اس چیز سے محروم ہیں؟ وہ وحی کی باتوں کو سمجھیں اور ہم کیوں محروم رہیں؟ آخر کس لئے نوح جیسے غریب آدمی پر وحی نازل ہو اور فلاں امیر کبیر اور سرمایہ دار پر نازل نہ ہو؟” (اوعجبتم)

۳۔ بعثت اور نبوت کا فلسفہ، لوگوں کو خبردار کرنا، توجہ دلانا، گناہوں سے بچانا، تقویٰ کا درس دینا اور خداوند عالم کے لطف و کرم کو حاصل کرنا ہے (لینذر کم، تتقوا، ترحمون)

۴۔ تقویٰ، رحمت خداوندی کے نزول کا موجب ہوتا ہے (لتتقوا، لعلکم ترحمون)

آیت ۶۴

فَکَذَّبُوْہُ فَاَنْجَیْنٰہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہ فِی الْفُلْکِ وَ اَغْرَقَنْاَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْ ا بِاٰیٰتِنَا ط اِنَّہُمْ کَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ ۰

ترجمہ: پس انہوں نے (اس بے جا تعجب کی وجہ سے ) نوح کو جھٹلایا، تو ہم نے اسے اور جو کشتی میں اس کے ہمراہ تھے نجات بخشی اور جن لوگوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی انہیں غرق کر دیا کیونکہ وہ (دل کے ) اندھے لوگ تھے۔

ایک نکتہ

“عمین” جمع ہے “عمی (بروزن دلو) کی۔ اور عمی اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کی چشم بصیرت یا باطنی دید ختم ہو چکی ہو، جبکہ “اعمٰی” اس شخص کو کہتے ہیں کہ جسکے باطن کی آنکھیں بھی جواب دے چکی ہوں۔ (تفسیر نمونہ، المیزان قدر کے فرق کے ساتھ)

پیام

۱۔ ایمان، نجات کا سبب اور تکذیب موجب ہلاکت ہے۔ (انجینا۔ اغرقنا)

۲۔ دل کا اندھاپن، انبیاء کی دعوت کی تکذیب کا اصل عامل ہے (عمین)

آیت ۶۵

وَ اِلٰی عَادٍ اَخَاہُمْ ہُوْدًا ط قَالَ یَقَوْمِ اعْبُدُوااللّٰہَ مَالَکُمْ مِنْ اِلٰہٍ غَیْرُہط اَفَلَاتَتَّقُوْنَ ۰

ترجمہ: ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا، اس نے (ان سے) کہا، اے میری قوم! صرف ایک ہی خدا کی عبادت کرو جس کے علاوہ کوئی اور عبادت کے لائق نہیں۔ کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے؟

چند نکات

یہ اس سورت کی دوسری داستان ہے۔ جبکہ حضرت ہود کی داستان کی تفصیل سورہ شعرأ اور سورہ ہود میں بیان ہوئی ہے۔

قوم عاد، یمن کی سرزمین اور حجاز کے جنوبی علاقہ “احقاف” میں رہتی تھی۔ جسمانی لحاظ سے ہٹے کٹے لوگوں کی قوم تھی۔ افزائش حیوانات اور کاشتکاری کے لحاظ سے بھی مالدار قوم تھی۔ لیکن اخلاقی جرائم اور بت پرستی کی مصیبت میں گرفتار تھی، حضرت ہود علیہ السلام کا اس قوم سے رشتہ تھا۔ آپ اسے ڈرانے کے لئے مبعوث بہ نبوت ہوئے۔ اور نوح علیہ السلام کی طرح سب سے پہلے انہیں توحید کی دعوت دی۔

پیام:

۱۔ تمام انبیاء کی دعوت کا سرنامہ “توحید” ہے (اعبدوااللہ)

۲۔ انبیاء علیہم اسلام عوامی اور عوام کے بہت بڑے ہمدرد، خیرخواہ اور دلسوز افراد تھے (اخاھم)

۳۔ مبلغین کو چاہئے کہ وہ عوام الناس کے ساتھ بھائیوں کے جیسا سلوک کریں اور ان کے ساتھ محبت کا اظہار کریں (اخاھم)

۴۔ اگر گزشتہ کفار پر اللہ تعالیٰ کا قہر و غضب نازل ہوا ہے تو اس سے آئندہ اور آنے والی نسلوں کو دراصل عبرت حاصل کرنا چاہئے اور دین کی تکذیب سے گرنا چاہئے۔ (افلاتتقون)

آیت ۶۶، ۶۷

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْ ا مِنْ قَوْمِہ اِنَّا لَنَرٰکَ فِیْ سَفَاہَةٍ وَّ اِنَّا الَنَظُنُّکَ مِنَ الْکَذِبِیْنَ ۰ قَالَ یَقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاہَةٌ وَّ لَکِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۰

ترجمہ: (ہود علیہ السلام کی دعوت کے جواب میں) اس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا، ہم تو تجھے یقینی طور پر بیوقوفی اور بے عقلی کی صورت میں دیکھ رہے ہیں اور اس میں تو شک ہی نہیں ہم تجھے جھوٹے لوگوں میں سے سمجھتے ہیں۔

(ہود علیہ السلام نے ان کی جسارت اور گستاخی کے جواب میں) کہا: اے میری قوم! میں بے وقوف نہیں ہوں بلکہ میں تو عالمین کے پروردگار کی طرف سے رسول بھیجا گیا) ہوں۔

ایک نکتہ

ہود کے مخالفین کی جسارت اور گستاخی، نوح علیہ السلام کے مخالفین کی گستاخی سے زیادہ تھی۔

حضرت نوح کے دشمن انہیں “فی ضلالت” گمراہ کیا کرتے تھے۔ جبکہ حضرت ہود علیہ السلام کے دشمن انہیں کم عقل اور جھوٹا کہتے تھے (سفاھة، کاذبین)

پیام

۱۔ اللہ کے پیغمبروں کو بہت ہی سخت اور نہایت ہی واضح پروپیگنڈوں، مخالفتوں اور تہمتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ (سفاھة، کاذبین)

۲۔ لوگوں کو راہ خدا میں تبلیغ و ارشاد کے سلسلہ میں کائنات کے شریف ترین اور عالم ترین لوگوں کودنیا جہان کے پست ترین اور رذیل ترین لوگوں سے بدترین الفاظ سننے اور برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

۳۔ انبیاء کی فراخدلی، وسعت ظرفی اور اخلاقی بزرگواری کا کمال بھی دیکھئے کہ اس قدر گستاخانہ اور جسارت آمیز لہجے میں گفتگو سننے کے بعد بھی کہتے ہیں “اے میری قوم!” (لقوم)

۴۔ اپنی ذات پر لگنے والی تہمت کا ازالہ ضرور کریں، لیکن دوسروں کومتہم ہرگز نہ کریں۔ (لیس بی سفاھة)

۵۔ مبلغ کو اپنا مقصد کبھی پس پشت نہیں ڈالنا چاہئے (لکنی رسول)

۶۔ جسے اپنے ہدف پر یقین ہوتا ہے اور خدائی پشت پناہی سے بھی بہرہ ور ہوتا ہے وہ صبر و سکون کے ساتھ گفتگو کرتا ہے (لیس بی سفاھة)

آیت ۶۸

اُبَلِّغُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَاَ َنا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ ۰

ترجمہ: میں تو اپنے پروردگار کے پیغامات تم تک پہنچاتا رہوں گا اور میں ہی تمہارا خیرخواہ امیں ہوں۔

پیام

۱۔ پیغمبروں کی باتیں خدائی رسالت و احکام ہوتی ہیں، اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں کہتے۔ (رسالات ربی)

۲۔ مبلغین کے لئے دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے ۱۔ عوام الناس کے ساتھ دلسوزی ۲۔ صداقت۔ (ناصح امین)

۳۔ جہاں ہر کسی کی اصلاح مقصود ہو تو وہاں پر اپنی تعریف کرنے میں جرم نہیں (انا لکم ناصح امین)33

۴۔ اگر دلسوزی کے ساتھ دیانتداری نہ ہو تو وہ خطرناک ہو جاتی ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ایسی دلسوزی سے کسی کے حقوق پامال ہو جائیں یا قوانین الٰہیہ کی خلاف ورزی ہو جائے (ناصح امین)

آیت ۶۹

اَوَ اَعْجِبْتُمْ اَنْ جَآئَکُمْ ذِکْرٌ مِّنْ رِّبِّکُمْ عَلٰی رَجُلٌ مِّنْکُمْ لِیُنْذِرَکُمْْ ط وَاذْکُرُوْا اِذْجَعَلَکُمْ خُلَفَآءَ مِنْ م بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَ کُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْطَةً فَاذْ کُرُوْٓ ا اَلآَءَ اللّٰہِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۰

ترجمہ: آیا تم نے اس بات سے تعجب کیا ہے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک شخص کے ذریعہ ہدایت پہنچی ہے؟ تاکہ وہ تمہٰں (گناہوں اور گمراہی کے انجام سے) ڈرائے۔ اور اس وقت کو یاد کرو جب خدا نے تمہیں قوم نوح کے بعد اس کا جانشین قرار دیا اور تمہاری خلقت میں اضافہ فرمایا۔ پس تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ فلاح پا جاؤ۔

ایک نکتہ:

۱۔ قوم عاد کی جسمانی طاقت اس حد تک تھی کہ وہ خود کہا کرتے تھے: “من اشد منا فوة” ہم سے بڑھ کر اور کون طاقتور ہو سکتا ہے؟۔ اور اس حد تک تنومند تھے کہ جب ہلاک ہو کر زمین پر گرے تو معلوم ہوتا تھا کہ کھجور کے درخت کے تنے گرے پڑے ہیں: کا نھم اعجاز نخل خاویة” (الحاقہ /۷)

پیام:

۱۔ آیا تم اس شخص کو تعجب کرتے ہو کہ جو خدا کا پیغمبر ہے امین بھی ہے، اس کا ماضی بھی تابناک ہے اور تم میں سے بھی ہے، لیکن اپنی بت پرستی سے تعجب نہیں کرتے ہو؟ (اوعجتم)

۲۔ جسمانی توانائی خدا کی ایسی نعمت ہے جسے صحیح راہ میں صرف کرنا دچاہئے۔ (زاد کم فی الخلق البطعة فاذ کروا)۔

۳۔ خدا کی نعمتوں کی یاد آوری، کامیابی کی دلیل ہے۔ (فاز کروا۔ تفلحون) اس لئے نعمتوں کی یاد آوری سے حق و محبت پیدا ہوتی ہے، محبت کیس اتھ ساتھ اطاعت کا جذبہ پدیا ہوتا ہے اور اطاعت سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

آیت ۷۰

قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰہَ وَ حْدَہ وَ نَذَرَ مَا کَانَ یَعْبُدُاٰبَآؤُنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدِنَآاِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۰

ترجمہ: (قوم عاد کے افراد نے حضرت ہود سے) کیا: آیا تم ہمارے پاس آ لتے آئے ہو کہ ہم خدائے یگانہ کی پرستش کریں اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجا کرتے تھے انہیں چھوڑ دیں؟ اگر تم سچوں میں سے ہو تو تم نے جو وعدہ ہم سے کیا تھا وہ لے آؤ!

پیام:

۱۔ منطق کی بجائے تعصب کا اظہار قابل مذمت ہے۔ اسی طرح جاہل کا کسی جاہل کی تقلید کرنا بھی!۔ (یعبد آباؤنا)

۲۔ رسومات اور گزشتگان کی مقرر کی ہوئی سنتیں ہر جگہ پر قابل قدر نہیں ہوا کرتیں۔ (یعبد آباؤ نا)

۳۔ تعصب اور اندھی تقلید ، حقیقت کی معرفت کے مانع ہوتی ہے اور انسان کو عناد دشمنی کی طرف لے جاتا ہے۔ (فائنبما تعدنا)

۴۔ بعض اوقات، عادت فطرت پر غالب آ جاتی ہے جیسے گزشتہ لوگوں کی عادت حق طلبی کی فطرت پر غالب آ گئی تھی۔

۵۔ انبیاء نے ناجائزرسومات اور بیہودہ سنتوں کی بیخ کنی کی ہے۔ (نذرمان کان یعبد اباؤنا)

۶۔ انسان چاہے کل (ماضی) کا ہو یا آج (حال) کا اس پر دور میں حق مکی منطق کا رستہ اختیار کرنے کی بجائے زوروجبر اور قدرت اور طاقت کی منطق کی بات کی ہے۔ اور انبیاء سے بھی یہی راستہ اختیار کرنے کی خواہش کی ہے۔ (فاتنا بماتعدنا)

آیت ۷۱

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ ط اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْ ٓ اَسْمَآءِ سَمَّیْتُمُوْہَآ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُکُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ سُلْطٰنٍ ط فَانْتَظِرُؤْٓ ا اِنِّیْ مَعَکُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ ۰

ترجمہ: (ہود نے قوم عاد کی ضد کو دیکھ کر کہا: تمہارے پروردگار کی طرف سے پلیدی اور غلیظ و غضب اوعر سزا تمہارے لئے حتمی ہو چکی ہے۔ آیا تم میرے ساتھ اپنے کاموں کے بارے میں جھگڑا کرتے ہو کہ جنہیں تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے موسوم کیا ہے؟ خدا نے تمہارے معبودوں کے بارے میں کوئی دلیل و برہان نازل نہیں کی ہے۔ پس تم (خدائی قہر کے) منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ اسی انتظار میں ہوں۔

پیام:

۱۔ ضد، ہٹ دھرمی اور حق کے ساتھ آویز شرکا نتیجہ خدا کی منزل ننگ و عار اور ہلاکت و تباہی ہوتا ہے۔ (قدروقع علیکم)

۲۔ پتھر اور لکڑی کو “خدا” کا نام دینے سے خدا نہیں بن جاتے۔ ہمارے دور میں بھی بڑے بڑے بھاری بھر کم الفاظ کے بے مقصد نام ایک وبائی سورت اختیار کر چکے ہیںَ (اسماء سمیتموھا)

۳۔ مشرکین کے معبود بے مسمیٰ نام ہیں کہ جن کی نہ تو کوئی حقیقت ہے اوعر نہ ہی جواز، نہ ہی خدا نے اس بارے کوئی حکم صادر فرمایا ہے۔ (اسماء۔۔۔۔۔ مانزل اللہ بھما من سلطٰن)

۴۔ بت پرستوں سے بھی دلیل طلب کیا کرو۔ وہ جو یہ کہتے ہیں کہ “بت، خدا کے تقرب کا ذریعہ سب “ان سے پوچھو کہ‘ آیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے کہ خدا نے اپنے قرب کے لئے بتوں کی پرستش کو وسیلہ قرار دیا ہے؟” (مانزل اللہ بھما من سلطان)

۵۔ انبیاء کو اپنے ہدگ اور کامیابی پر پورا پورا یقین ہوتا ہے اور دشمنوں کی شکست پر مکمل اطمینان۔ (انتظر وا انی معکم من المتنظرین)

آیت ۷۲

فَاَنْجَیْنٰہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَمَاکَانُوْا مُؤْمِنِِیْنَ۰

ترجمہ:

پس ہم نے ہود اور ان کے (عملی اوعر فکری) ساتھیوں کو اپنے لطف و کرم سے نجات دی۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور جو لوگ بے ایمان تھے ہم نے ان کی بیخ کنی کر ڈالی۔

چند نکات:

“دابر” کا معنی ہے کسی چیز کا آخر یا پچھلا حصہ یا اختتام۔ اور “قاطع دابر” کا معنی ہے کسی چیز کی بیخ کنی کر اور آخری شخص کو ہلاک کر ڈالا۔

قوم عاد کی ہلاکت ایسے ہوئی طوفان سے ہوائی جو بانجھ، شور شرابے سے بھرپور ، سرد اور زہریلا تھا۔ اور مسلسل آٹھ دن تک ان پر مسلط رہا۔ جیسا کہ سورہ “الحاقہ” میں ہے کہ: “بریح موصوعاتیةً اور مفسرین نے “ایح صرصر” کی تین خصوصیات بیان کی ہیں اس حال پر دی ہوتی ہے۔ ۲۔ شور ہوتا ہے اور ۳۔ زہر ہوتی ہے اور زہریلے سرد اور گونجتے طوفان نے ان کا ایک قلع قمع کیا کہ وہ سارے کے سارے درخت فرما کے منہ کی مانند زمین پر پرے ہوئے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے: فتری القوم فیھا صرعیٰ کانھم اعجاز نخل خاویة”

پیام:

۱۔ تاریخ سے عبرت حاصل کرو (قطعنا دارالذین کو بھرا)

۲۔ رحمت خداوندی انبیاء کے ماننے والوں کے شامل حال ہوتی ہے۔ (انجنیاہ۔ برحمة منا)

آیت ۷۳

وَاِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاہُمْ صَلِحًا قَالَ یَقَوْمِ اعْبُدُو اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہط قَدْ جَآَتْکُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ ہٰذِہ نَاقَةُ اللّٰہِ لَکُمْ اٰیَةً فَذَرُوْ ہَا تَاکُلْ فِیْٓ اَرْضِ اللّٰہِ وَ لَا تَمَسُّوْہَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَکُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۰

ترجمہ: اور قوم ثمود کی طرف اس کے بھائی صالح کو (ہم نے بھیجا اور اس نے بھی نو اور ہود کی مانند لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور) اس نے کہا: اے میری قوم (صرف ایک) خدا کی عبادت کرو کہ خبر کے بغیر کوئی تمہارا معبود نہیں۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس معجزہ اور واضح دلیل آ چکی ہے۔ یہ خدا کی اونتنی سرزمین میں کھاتی (پیتی) رہے۔ اور اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچاؤ ورنہ تمہیں دردناک عذاب اپنی گرفت میں لے لے گا۔

چند نکات:

قرآن مجید میں سات مرتبہ ناقہء صالح” اور چھبیس بار قوم ثمود” کا نام لیا گیا ہے۔ قوم ثمود کی داستان سورہ شعرأ، قمر، کسمس، اور ہود میں بیان ہوتی ہے۔ بقول صاحب۔ تفسیر “المیزان” یہ لوگ یمن میں رہتے تھے۔

بینہ اور معجزہ کا دوسرے خارق العادت انسان ی کاموں کے ساتھ چند چیزوں میں فرق ہوتا ہے،

الف: معجزہ کے لئے ، مشق، کسی سے سیکھنے ، حاصل کرنے اور ماضی کے ساتھ تعلق جیسی صورت نہیں ہوتی۔ جبکہ دوسرے کے خارق العادت انسانی کاموں کے لئے ان چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

ب: معجزے و معصوم اور باکردار افراد سے رونما ہوتا ہے جبکہ دوسرے کام نااہل افراد سے بھی صادر ہو سکتے ہیں۔

ج: معجزے کا مقصد لوگوں کی ہدایت اور راہنمائی ہوتا ہے جبکہ دوسرے افراد کا ہدف خودنمائی شہرت، حصول زر اور کسی قسم کی دوسری سرگرمی ہوتا ہے۔

د: معجزے میں انبیاء کا کام چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے یعنی وہ ایسا دعویٰ کرتے ہیں جس کو دوسرے انجام نہیں دے سکتے۔ جبکہ نابغہ روزگار افراد، اختراع کنندگان اور ریافت کرنے والوں میں یہ چیز نہیں پائی جاتی۔

پیام:

۱۔ انبیاء کا عوام کے ساتھ رابطہ بھائیوں جیسا ہوتا ہے۔ (اخاھم)

۲۔ انبیاء عوام ہی کے درمیان میں سے ہوتے ہیں۔ (یاقوم)

۳۔ توحید پرستی، تمام انبیاء کی دعوت کا سرنامہ ہوتا ہے۔ (اعبدواللہ)

۴۔ انبیاء کو خدائی معجزہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ (مالکم من الہ غیرہ) تمام انبیاء کی دعوت تھی۔

۵۔ انبیاء کو خدائی معجزہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ (بنیة من ربکم) البتہ بعض اوقات عوام کی درخواست کے مطابق بھی معجزات رونما ہوتے ہیں جسے “شق القمر” اور “ناقہ صالح”۔

۶۔ مقدسات الٰہی کی توہین کی سزا۔ عذاب الہٰی ہے۔ (لا تمسوھا لبو ٴفیاخذکم)

۷۔ خداوند عالم کی خصوصی عنایت اور اس کا لطف و کرم جس چیز کے ساتھ بھی متعلق ہو جائے وہ چیز مقدس ہو جاتی ہو۔ (ناقة اللہ)

۸۔ معجزہ ایسا ہونا چاہئے جو جسے پرسطح کے لوگ درک کر سکیں۔ (ناقہ۔ اور۔ اس کا پہاڑے باہر آنا)

۹۔ معجزہ کی نوعیت بعض اوقات اس کا تقاضا کرنے والوں کی فکری حیثیت اور عوامی و معاشرتی نیز اقتصادی حالات کے پیش نظر بھی ہوتی ہے۔ (شاید اگر آج کے دور میں ایسی کنیت ہوتی تو وہ پہاڑے ہوائی جہاز کے باہر آنے کا تقاضا کرتے۔)

آیت ۷۴

وَاذْکُرُوْٓا اِذجَعَلَکُمْ خُلَفَآءَ مِنْ م بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَکُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُہْوْلِہَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیَوْتًا فَاذْکُرُوْٓا الَآَءَ اللّٰہِ وَ لَاتَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْْنَ ۰

ترجمہ: اور اس وقت کو یاد کرو جب خدا نے عاد (کی ہلاکت) کے بعد تمہیں (ان کا) جانشین بنایا اور زمین میں تمہیں ٹھکانہ عطا کیا کہ جس کے نرم اور ہموار حصوں کے تم محلات تیار کر سکتے ہو اور پہاڑوں سے مکان تراش سکتے ہو۔ پس تم خدا کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد برپا نہ کرو۔

ایک نکتہ:

“لاتعثوا‘ ‘ کے معنی ہٰں “لاتفسدوا” (فساد نہ پھیلاؤ) اور “مفسدین” کا کلمہ یا تو تاکید کے لئے ہے یا پھر اس لئے کہ “فساد تمہارا شیوہ نہ بن جائے۔”

پیام:

۱۔ گزشتہ افراد کی تاریخ سے عبرت حاصل کرو۔ (بعدعاد)

۲۔ تمہیں ملنے والی ہر نعمت خدا کی طرف سے ہے۔ (جعلکم)

۳۔ ہر طبعی کیفیت سے بہرہ مند ہو سکتے ہو۔ (سھدلھا۔ الجبال)

۴۔ مسکن اور مقام رہائش، خداوند عالم کی مخصوص نعمتوں میں سے ہے۔ (قصور، ہوت، الآء اللہ)

۵۔ آسائش، مقام رہائش اور محلات اگر یاد خدا سے ہت کر ہوں تو فساد کا سبب بن جاتے ہیں۔ (قصوراً۔ ہوتا۔ مفسدین)

۶۔ اگر نعمتوں کو خدا کی امانت سمجھو اور خود کو فانی، تو ہر قسم کے تجاوز اور فساد ہے، دوری اختیار کرو۔ (واذکروا۔۔۔ ولاتعثبوا)

۷۔ اشرافیہ اور محل نشینان کے لئے یاد خداوندی کی زیادہ ضروررت ہے تکاہ فساد و تباہی کا شکار نہ ہو جائیں۔ (“قصر” کا کلمہ دو “واذکروا” کے درمیان واقع ہوا ہے)

تفسیرنور

آیت نمبر ۷۵ تا ۱۰۱

آیت ۷۵۔۷۶

قَالَ الْمَلَاُالَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْ ا مِنْ قَوْمِہ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْ ا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْہُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صَلِحًامُّرْسَلٌ مِّنْ رِّبِّہ ط قَالُوْٓااِنَّابِمَا اُرْسِلَ بِہ مُؤْمِنُوْنَ ۰ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرَوْٓا اِنَّا بِالَّذِیْٓ اٰمَنْتُمْ بِہ کٰفِرُوْنَ۰

ترجمہ: حضرت صالح کی قوم کے متکبر سرداروں نے اس قوم کے مستصعف مومنین سے کہا: آیا تمہیں “سلام ہے کہ صالح اپنے پروردگار کی طرف سے بھیجا گیا ہے؟ (مومنین نے ان کے شکوک و شبہات پیدا کرنے والے انداز گفتگو کے جواب میں) کہا: یقیناً ہم ان تمام چیزوں پر ایمان لا چکے ہیں جن کے ساتھ انہیں بھیجا گیا ہے۔ تو متکبرین نے کہا: ہم ان چیزوں کے کافر ہیں جن پر تم ایمان لا چکے ہو۔

پیام:

۱۔ اشرافیہ اورپوش علاقوں کے مکین انبیاء کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہوتے ہیں۔ (الملا الذین استکبروا)

۲۔ انبیاء کے بیشتر پیروکارمستضعفین ہی ہوا کرتے تھے۔ (لمن آمن منھم)

۳۔ انبیاء کی دعوت پر مستضعفین کے ایمان لانے کا عامل صرف مادی فقر نہیں ہوتا تھا کیونکہ بہت سے مستضعفین صاحب ایمان نہیں تھے۔ (منھم)

۴۔ رہبر کو کمزور کر دینا دشمن کے اصل ہداف میں شامل ہے۔ (اتعلمون ان صالحامرسل)

۵۔ دلوں میں شک و شبہ ایجاد کرنا ایمان کے کمزور آنے کا ایک شیوہ ہے۔ (القلمون)

۶۔ اگرچہ یہ ماحول اور معاشرے کا بھی اثر ہوتا ہے لیکن کسی کو مجبور نہیں کرتا۔ (غریب مستضعفین نے مالدار اور تونگ متکبرین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا؛ “ہم صالح پر ایمان رکھتے ہیں۔ )

۷۔ نہ تو فقری فاقہ اور استضعاف کی اہمیت ہے اور نہ ہی تونگری، قصر شکنی اور مالداری کی۔ اصل قدروقیمت منطبق، علم، ایمان، تقویٰ، ہجرت اور جہاد کو حاصل ہے۔ جیسا کہ گزشتہ آیت میں قصر سازی کو خدا کی نعمت میں شمار کیا گیا ہے بشرطیکہ موجب فساد نہ بنے اور اس جگہ پر متضعفین کے مومن گروہ کی ستائش کی گئی ہے نہ کہ سب کی۔ (امن منھم)

آیت ۷۷

فَعَقَرُالنَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّھِمْ وَ قَالُوْ یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا اِنْ کُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنََ۰

ترجمہ: پس ان (متکبرین) نے ناقہ (صالح) کو پے کر کے قتل کر دیا اور اپنے پروردگار کے فرمان (عذاب) ہمارے لئے لے آؤ جس کا تم وعدہ کرتے ہو۔

دونکات:

“عُقر” کا معنی ہے “پے کرنا” یعنی ایسی مخصوص حکم و مضبوط رگ کو کاٹ دینا ہے جو اونٹ یا گھوڑے کے پاؤں کے پچھلے حصے میں ہوتی ہے اور ان کی حرکت کا اہم عامل ہوتی ہے۔ اگر اسے کاٹ دیا جائے تو جانور زمین پر گر پڑتا ہے اور چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہتا۔

سورہ قمر میں “عقر” مفرد کی صورت میں استعمال ہوا ہے کیونکہ قاتل ایک ہی شخص تھا۔ لیکن اس آیت میں سورہ والشمس میں “عقروا” جمع کی صورت میں آیا ہوا ہے۔ کیونکہ اس کے پے کرنے کی نسبت ان سب لوگوں کو نگا طرف دی گئی ہے یہ اس لئے ہے کیونکہ ان کا اس تجاوز پرسکوت اور رضامندی انہیں امر کے جرم میں برابر کا شریک ٹھہرا رہی ہے۔

پیام:

۱۔ کسی گناہ پر خاموشی اختیار کر لینا اور اس پر راضی رہنا، خود گناہ میں شرکت حساب ہوتا ہے۔ (غور کیجئے کہ قاتل ناقہ ایک شخص تھا لیکن فعل میں جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔)

۲۔ اونٹ یا اونٹنی کا قتل کر دینا اتنا اہم نہیں جتنا فرمان ھق سے سر نیچی اور نافرمان اہم ہے۔ (عتوا عن امر ربھم)

۳۔ تکبر، جسارت اور گستاخی کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔ (امتنا بما تعدنا)

۴۔ جانور بذات خود مقدتر نہیں ہوتا اس کا تقدیر اس کی نسبت کی وجہ سے اورنمونہ ہونے کی بنا پر ہوتا ہے۔ (فعقروآالناقة و عتوا)

آیت ۷۸

فَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِھِمْ جٰثِمِیْنَ ۰

ترجمہ: پس زلزلے نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا، انہیں نے صبح کی تو ان کی کیفیت یہ تھی کہ اپنے گھروں میں منہ کے بل گرے مرے پڑے تھے۔

دونکات:

اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ قوم ثمود کی ہلاکت زلزلے کی وجہ سے ہوئی۔ جبکہ سورہ فصلت ۱۴ء اور سورہ زاریات ۴۴ میں ان کی ہلاکت کا موجب بجلی کو بتایا گیا ہے جب کہ ارشاد رب العزت ہے کہ “فاخذتھم الصاعقة وھم ینظرون” یعنی گرنے والی بجلی نے انہیں اس وقت تباہ کر دیا جب وہ دیکھ رہے تھے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم بیک وقت دو قسم کے عذابوں میں گرفتار ہوئی اوپر سے گرنے ولای بجلی اور نیچے سے زلزلہ۔

“جائم” اس کو کہتے ہیں جو زانو میں سر ڈالے ہوئے ہو اور اٹھنے پر قدرت نہ رکھتا ہو۔

پیام:

۱۔ خبردار! خدائی عذاب ناگہانی آتا ہے۔ (فاخذھم۔ فاصبحوا۔)

۲۔ انبیاء کا وعدہ پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے لہٰذا ان کی تنہیات کو مذاق نہ سمجھو۔ (گذشتہ آیات میں تنبیہ کی گئی تھی۔ “لاتمبوھابسوء فیا خذکم عذاب الیم” اس ناقہ کو کوئی تکلیف نہ دو ورنہ تمہیں عذاب الیم اپنی گرفت میں لے لے گا۔ چنانچہ اسی زلزلہ میں “عذاب الیم” ہے۔

۳۔ بعض اوقات قدرتی آفات اور زلزلے عذاب الہٰی بن کر آتے ہیں۔ (فاخذتھم الرجفة)

آیت ۷۹

فَتَوَلّٰی عَنْھُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسٰالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَکُمْ وَلَکِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ ۰

ترجمہ: پس (اللہ کے) اس (پیغمبر صالح) نے ان سے منہ پھیر لیا اور کہا اے میری قوم! یقیناً میں نے قوم ثم تک اپنے خدا کا پیغام پہنچا دیا اور تمہارے لئے خیر خواہی کی لیکن تم خیرخواہوں کو دوست نہیں رکھتے۔

ایک نکتہ:

حضرت صالح کی اس گفتگو کے بارے میں دو احتمال میں ایک تو یہ کہ ممکن ہے عذاب سے پہلے انہوں نے اپنی قوم کے ساتھ یہ باتیں کی ہوں۔ جبکہ یہ احتمال بھی ہے کہ ہو سکتا ہے ان کی ہلاکت کے بعد اس نے ایسا کہا ہو! جیسا کہ حضرت رسول خدا نے چاہ بدر کے کنارے پر کھڑے ہو کر مردہ کفار کے ساتھ باتیں کی تھیں۔ صحابہ نے پوچھا کہ: “آیا لوگ سن رہے ہیں؟” فرمایا: ’ہاں سن رہے ہیں۔

پیام:

۱۔ انبیاء کا تبلیغی پروگرام دل سوزی اور خیر خواہی پر مبنی ہوتا ہے تاکہ صرف خشک اور سرکاری دفتری حکم نامہ جاری کرنے کے انداز میں۔ (لصحت لکم)

۲۔ خدائی سزائیں اتمام حجت کے بعد ہی ملتی ہیں۔ (لقد ابلغتکم)

۳۔ جو لوگ ہمارے ساتھ دل سوزی اور خیر خواہی کا اظہار کرتے ہیں ہمیں ان کے ساتھ محبت ہونی چاہئے۔ کیونکہ جو شخص ایسے لوگوں کو دوست نہیں رکھتا وہ قہر خداوندی کی راہیں ہمسوار کرتا ہے۔ (فاخذتھم الرجفة)۔

۴۔ کسی کو دولت رکھنا، اس کی اتباع کرنے کی کنجی ہوتا ہے۔

آیت ۸۰۔۸۱

وَلُوْ طًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَکُمْ بِھَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ۰ اِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَھْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ ط بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ۰

ترجمہ: اور (ہم نے) لوط کو (لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا) جب اس نے اپنی قوم سے کہا: آیا تم ایسا برا کام کرتے ہو کہ اس سے پ ہلے اس جیسا دوسرا کام عالمین میں سے کسی ایک نے بھی نہیں کیا؟

تم شہوت کے لئے عورتوں کے بجائے مردوں کے باس جاتے ہو! بلکہ تم تو اسراف کرنے والے لوگ ہو۔

چند نکات:

حضرت لوط جناب ابراہیم کے رشتہ دار تھے اور وہ اکیلے شخص تھے جو اُن پر ایمان لائے اور ان کے ساتھ ہجرت کی “فآمن لہ لوط” (عنکبوت/۲۲) اور حضرت ابراہیم نے انہں ایسے علاقہ میں تبلیغ کے لئے بھیجا جہاں یہ برائی عام تھی۔

حدیثوں میں آیا ہے کہ: حضرت لوط کی قوم کے افراد مہمانوں کے ساتھ لوط جیسا قبیح فعل سرانجاقم دیتے تھے تاکہ لوگ ان کا مہمان بننے سے اجتناب کریں۔ قرآن کے بقول حضرت لوط نے انہیں لڑکیوں کے ساتھ شادی کرنے کی بھی پیشکش کی لیکن انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔

ازدواج اور نکاح میں چند خوبیان ہیں جو لواط میں نہیں ہیں۔

۱۔ انس و محبت اور پیار و رحمت

۲۔ افزائش نسل

۳۔ خانوادگی نظام کی تشکیل

۴۔ انسانی اور فطری طریقہ کار۔

بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پورے معاشرے نے ہم جنس بازی کے آس قبیح فعل کو برائی میں شمار نہیں کیا بلکہ بعض ملکوں میں تو اس کو باقاعدہ قانونی شکل دے دی گئی ۔

حضرت ہود، حضرت صالح اور حضرت شعیب کے بارے میں لفظ “اخاھم” استعمال ہوا ہے لیکن حضرت لوط کے بارے میں استعمال نہیں ہوا تو اس کی وجہ شاید یہی ہو سکتی ہے کہ حضرت لوط ایک اور علاقے سے ان لوگوں کی تبلیغ کے لئے ہجرت کر آئے تھے۔

پیام:

۱۔ حضرت لوط کی تبلیغ کا عمدہ پہلو فحاشی خصوصاً جنسی برائیوں کے خلاف جہاد تھا۔ کیونکہ ان کے معاشرے بہت بڑی مشکل یہی برائی تھی۔

۲۔ اگر بت پرستوں کے پاس یہ بہانہ تھا کہ ان کے اباؤ اجداد ایسا کام کرتے تھے تو فحاشی اور بدکاری پیروکاروں کے پاس یہ بہانہ بھی نہیں تھا۔ اس بدکاری اور گناہ کے موجد وہ خود آپ تھے۔ (ماسبقکم بھا)

۳۔ جو فطری راہوں کے استعمال کو چھوڑ کر دوسرے استعمال کرتا ہے سرف ہوتا ہے۔ (مسرفون)

آیت ۸۲

وَماَ کَانَ جَوَابَ قَوْمِہ اِلَّا اَنْ قَالُوْا اَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ قَرْیَتِکُمْ اِنَّہُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَھَّرُوْنَ ۰

ترجمہ: اور حضرت لوط کی قوم کا جواب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا کہ انہیں اپنی آبادی سے نکال دو (کیونکہ) یہ ایسے لوگ ہیں جو (تمہارے اس کام سے بڑے) پاکباز بنتے ہیں۔

پیام:

۱۔ گناہگاروں کے ہر کوئی منطقی جواب نہیں ہوتا۔ (ماکان جواب قومہ)

۲۔ جب کسی معاشرے میں بے حیائی عام ہو جاتی ہے تو اس میں نیک پاک لوگوں کو گوش گمنامی اختیار کر دینے پر مجبور کر دیا جاتا ہے اور پاکیزگی جرم سمجھی جاتی ہے۔ (اخرجوھم)

۳۔ نہی عن المفتکر کی راہ میں جلاوطنی اور مشکلات کے گھیراؤ کے لئے بھی تیار رہنا چاہئیت۔ (اجرحوھم)

۴۔ مجرمین، پاکدامن لوگوں کے لئے معاشرہ میں زندہ رہنے کے بھی روادار نہیں ہیں۔ (قریتکم)

۵۔ یہ ٹھیک ہے کہ حضرت لوط کی قوم گناہ کی عادت کر چکی تھی لیکن وہ حضرت لوط اور ان کے ساتھیوں کو پاک افراد سمجھتے تھے۔ (یطھرون)

آیت ۸۳

فَاَنْجَیْنٰہُ وَ اَھْلَہٓ اِلَّا امْرَاَتَہ کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ۰

ترجمہ: پس ہم نے لوط اور اس کے خاندان کو نجات دی سوائے اس کی بیوی کے کہ وہ (خاکستر عذاب میں) باقی رہنے والی تھی۔

پیام:

۱۔ انسان کو آزادی حاصل ہے اور خاندانی ماحول انسانی ارادے کے آگے کوئی حیثیت نہیں رکھتا (ہو سکتا ہے کہ ایک نبی کے گھرمیں رہ کر اس کی بیوی جو وحی کے ماحول میں رہ رہی ہو کفر کا راستہ اختیار کر لے اور نبی کا اس پر بس نہ چل سکے)

۲۔ اسلام میں مذہبی اور دینی رابطوں کو اہمیت حاصل ہوتی ہے رشتہ داری کو نہیں۔ (الاامرأتہ)

۳۔ مقدر اور نورانی چہرہ افراد کا حساب الگ ہوتا ہے اور ان سے وابستہ لوگوں کا حساب الگ (الامراتہ)

۴۔ ہر شخص اپنے اعمال کے گروی ہے۔ ایک نبی کی بیوی تباہ و برباد ہو سکتی ہے اور فرعون جیسے ظالم اور جابر شخص کی بیوی راہی خُلد برین ہوتی ہے۔ (للاامراتہ)

آیت ۸۴

وَ اَمْطَرْناَ عَلَیْھِمْ مَّطَرًا ط فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ ۰

ترجمہ: اور ہم نے ان کے اوپر (عذاب کی) بااثر برسائی، پس دیکھو کہ گنہگار مجرموں کا انجام کیسا ہوتا ہے؟

چند نکات:

قوم لوط کی ہلاکت ان کے سروں آسمانی پتھروں کی بارش سے ہوئی ایسے پتھر جو ڈھیلوں کی مانند نشان لگائے ہوئے تھے۔ یا پھر پتھر کسی خاص فرد کی ہلاکت کے لئے مخصوص تھا۔ (لفظ “مسومة” سے استفادہ کرتے ہوئے جو سورہ ہود /۸۳ میں ہے “واصطرنا علیھا حجارة من سجیل منضود مسومة عندربک” یعنی ہم نے اس بستی پر ڈھیلے نما پتھر تابڑ برسائے جن پر تمہارے پروردگار کی طرف سے نشان بنائے ہوئے تھے۔

قوم لوط میں صرف لواط جیسے قبیح فعل کی برائی نہیں پائی جاتی تھی وہ گور جواری بھی تھے ہرزہ گوئی بھی ان کا شیوہ تھا۔ راہ چلتے لوگوں کی توہین کرتا اور ان کی طرف کنکریان پھینکنا ان کا دلچسپ مشغلہ بھی تھا۔ اور پھر یہ کہ عام گزرگاہوں ، پر ننگے ہو کر بیٹھ جاتے تھے۔ (از سفینة البحار جلد نمبر ۲ صفحہ نمبر ۵۱۷)

حضرت امام جعفر صادق لواط کی حرمت کے فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: “لواط، زن و شوہر کے درمیان ازدواجی تعلقات پر اثر انداز ہوتا ہے، نسل انسانی کو منقطع کر دیتا ہے۔ طبعی طور پر جنسی آمیز شر کی لذت کو ضائع کر دیتا ہے، اس کے علاوہ بھی اس کے دوسرے بہت سارے نقصانات ہیں۔ (وسائل الشیعہ جلد ۱۴ ص۲۵۴)

اسلام میں لواط کی سزا، موت ہے فاعل ہو یا مفعول دونوں کے لئے حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں کہ ’لواطت کے موقعہ پر عرش الہٰی لہٰذا براندام ہو جاتا ہے۔ اس کا ارتکاب کرنے والا قیامت کے دن جنب محشور ہو گا۔ اس پر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے (وسائل الشیعہ جلد ۱۴ ص ۲۴۹)

حضرت رسول فرماتے ہیں۔

“خدا لعنت کرے ایسے لوگوں پر جو خود کو عورتوں کی مانند بنا کر ہوس کے پجاریوں کے اختیار میں دے دیتے ہیں” (وسائل الشیعہ جلد ۱۴ ص ۲۰۰)

یہ حصہ تفسیر نمونہ سے خلاصہ کیا گیا ہے۔

پیام:

۱۔ فطری راہوں کو تبدیل کرنا ۰مردون کے ذریعہ جنسی خواہش کی تکمیل کرنا) خدا کے مقرر کردہ راستوں میں تبدیلی کرنے کے مترادف ہوتا ہے، اسی لئے اس کی سزا بھی بارش کے پانی کی بجائے پتھروں کی بارش ہوتی ہے۔

۲۔ خدا کا قہر و غضب کسی خاص گناہگار طبقے سے مخصوص نہیں ہے عذاب پر گنہگار کے تعاقب میں ہے اس لئے سب کو مجرمین کو ہر ترمین رہنا چاہئے۔ (فانظر)

آیت ۸۵

وَ اِلٰی مَدَیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًا ط قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُواللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہ قَدْ جَآءَ تْکُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رِّبِّکُمْ فَاَوْفُو الْکَیْلَ وَالَمِیْزَنَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیآَئَھُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِھَا ط ذٰلِکُمْ خَیْرُ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْْ مُّؤْمِنِیْنَ ۰

ترجمہ: اور مدین (کے لوگوں) کی طرف (ہم نے) ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) اس نے کہا: اے میری قوم (صرف) ایک خدا کی پرستش کرو جس کے سوا تمہارے لئے کوئی اور معبود نہیں۔ یقیناً تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس واضح دلیل اور روشن معجزہ آ چکا ہے۔ پس تم (لین دین میں) پیمانہ اور ترازو کو پورا رکھو، اور لوگوں کی اشیاء کو کم نہ کرو اور زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ برپا کرو۔ تمہارے لئے یہ (راہنما اصول) بہتر ہیں اگر تم ایمان رکھتے ہو۔

چند نکات:

اس سورت میں یہ انبیاء کی یہ پانچیوں داستان ہے۔ حضرت شعیب جناب موسیٰ کے خُسر تھے جو مدین کے لوگوں کے لئے مبعوث ہوئے۔ (مدین ، شام کا ایک شہر تھا جس کے رہنے والے تجارت پیشہ، خوشحال، بت پرست اور کم فروش تھے۔) حضرت شعیب نے انہیں راہ الات کی ہدایت لیکن انہوں نے مند اور ہٹ دھرمی بے کام لیا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد ’ایکہ” کے لوگوں کے لئے بھیجے گئے انہوں نے بھی آپ کی نافرمانی کی چنانچہ ارشاد ہوتا ہے۔ “کذب اصحاب الایکة المرسلین اذقال لھم شعیب۔‘

احتمال یہی ہے کہ “مدین” آج کے جغرافیہ میں اردن کے نزدیک ایک جگہ ہے جسے آج کل “معان” کہتے ہیح۔ اور “ایکہ” وہی مدین ہی ہو۔ کیونکہ “ایکہ” امیر جگہ کو کہتے ہیں جہاں گھنے درخت ہوں، نیزار اور نخلستان ہوں۔ گویا حضرت شعیب کے شہر کے دو نام تھے، ایک “مدین” اور ایک “ایکہ”۔

پیام:

۱۔ کم فروشی، لین دین میں جعل سازی اور اقتصاد یں خلل اندازی “فساد پھیلانے” کے مصداقوں میں شمال ہے۔ (ولاتفسدوا)

۲۔ شرک اور عقیدے کے انحراف کے بعد قوم شعیب کا اقتصاد اور انحراف بہت ہی اہممسئلہ تھا۔ (اعبدوااللہ۔ اوفواالکیل)

۳۔ ایمان، عدالت اجتماعی کیااجرا کا ضامن ہے (ان کنتم موٴمنین)

۴۔ انبیاء کرام ، معاشرے کے اقتصادی مسائل کے نگران ہیں۔

۵۔ ہر دور میں لوگوں کی روحانی امراض مختلف ہوا کرتی ہیں حضرت لوط کے دور میں بواطت اور اخلاقی بگاڑ عروج پر تھا جبکہ حضرت شعیب کے زمانے میں اقتصادی بیمار اور فساد زورون پر تھا۔

۶۔ کم کاری بھی کم فروشی کی طرح جرم ہے۔ اسی لئے “اموالھم” کی بجائے (اشیاء ھم) فرمایا ہے تاکہ ہر چیز کو شامل ہو اجائے۔

۷۔ ایمان کامل ہو اور اقتصاد متعادل ہو تو اس سے دینا اور دنیا کی سلامتی یقینی ہو جاتی ہے۔ (ذلکم خیر)

آیت ۸۶

وَلَاتَقْعُدُ وْ ابِکُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِہ وَ تَْبغُوْنَھَا عِوَجًا وَ اذْکُرُوْٓا اِذْ کُنْتُمْ قَلِیْلًا فَکَثَّرَکُمْ وَ انْظُرُ ْو اکَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ ۰

ترجمہ: اور ہر راہ پر ڈرانے کے لئے اور انہیں خدا کے راستے سے روکنے کے لئے مت بیٹھو اور (شکوک و شابہات پیدا کر کے) اس راہ کو ٹیڑھی صورت میں تلاشی نہ کرو۔ اور اس زمانے کو یاد کرو جیسا تم تعداد میں تھوڑے تھے پس خدا نے تمہیں زیادہ کر دیا، اور دیکھو کہ فساد برپا کرنے والوں کا انجام کیا ہوا؟

دونکات:

ہر راہ پر بیٹھنے سے مراد ممکن ہے کہ رستوں، لڑکوں اور گلی کوچوں میں فتنہ برپا کرنے کی غرض سے بیٹھنے سے روکا گیا ہو، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فتنہ و فساد برپا کرنے کے لئے ہر راستہ اور ہر قسم کا طریقہ کار اختیار کرنا مراد ہو جیسا کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہا تھا کہ:

“لا قعدن لبھم صراط المستقیم” میں ان کے لئے تیرے سیدھے رستے پر بیٹھ جاوئں گا۔ اس سے مراد انسان کو سیدھی راہ سے گمراہ کرنے کے لئے ہر وقت کمین میں لگا ہوا ہے، تاکہ ظاہراً کسی راستے پر بیٹھا ہوا ہے۔

یہ آیت بھی حضرت شعیب کے وعظ و نصیحت سے تعلق رکھتی ہے جو انہوں نے بدین والوں کو کہا تھا۔

پیام:

۱۔ حق کے دشمن ، خدا کے راستے سے ہٹانے کے لئے ہر قسم کی راہوں اور ہر طرح کے طریقہ کار سے کام لیتے ہیں۔ (کل صراط)

۲۔ لوگوں کو وحشت زدہ کرنا، ان سے بھتہ وصول کرنا اور ان کے لئے کسی قسم کی پریشانی کے اسباب جیسا کرنا حرام ہے۔ (توعدون)

۳۔ اگر دشمنان دین، مومنین کو بے دین نہیں بنا سکتے تو ان کی کوشش ہو تی ہے کہ دین کو کج مج انداز میں پیش کریں۔ (عوجام)

۴۔ آبادی کی کثرت بھی ایک اہمیت کی حامل ہے۔ (فکترکم)

۵۔ تاریخ کا مطالعہ اور اس سے واس عبرت لینا، خدائی حکم ہے۔ (وانظرواکیف۔۔)

۶۔ لوگوں کی زندگی کا مطالعہ کرتے وقت ان کے انجام کو پیش نظر رکھا کرو کہا ن کا اناجام کیا ہوا؟ یہ نہ دیکھو کہ اس نے وقتی طور پرکیا کارنامے سرانجام دئیے؟ (عاقبة)

آیت ۸۷

وَ اِنْ َکَانَ طَائِفَةٌ مِّنْکُمْ اَمَنُوْا بِالََّذِیْٓ اُرْسِلْتُ بِہ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰی یَحْکُمَ اللّٰہُ بَیْنَنَا وَھُوَ خَیْرُ الْحٰکِمِیْنَ ۰

ترجمہ: اور اگر تم میں سے ایک گروہ اس چیز پرایمان لے آیا ہے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے اور ایک گروہ ایمان نہیں لایا تھا۔ تو پھر بھی (جلدبازی سیکام نہ لو کہ خدا کا لطف و کرم یا اس کی وسزا و عذاب کا کیا بنا؟) صبر کرو تاکہ اللہ تاعلیٰ ہمارے درمیانفیصلہ کرے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

ایک نکتہ:

حضرت شعیب کے مخالفین بڑی جسارت کے ساتھ کیا کرتے تھے، “اور کہاں ہے خدا کا قہر و غضب؟” جبکہ ان کے ماننے والے خدائی امداد کے منتظر تھے۔ اسی لئے آیت دونوں تمناؤں کا جواب دے نہیں ہے تاکہ نہ تو کفار مغرور ہو جائیں اور نہ ہی مومن مایوس ہوں۔

پیام:

۱۔ حق اور باطل کے طرفداروں انجام کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے۔ (فاصبروا)

۲۔ مکتب انبیاء یا دین الہٰی میں انبیاء کا ہدف اور مشن اہمہوتا ہے شخصیت نہیں۔ (ارسلتبہ) ہے نہ یہ کہ مجھ پر بلکہ مجھ پر نازل کیا چیزوں پر ایمان لاؤ۔

۳۔ مومنین اور کفار کی بظاہر اور چند روزہ زندگی تمہارے پاؤں میں لغزگیر پیدا نہ کرے دے۔ پائیداری سے کام لو اپنے من پر ڈٹے رہو اس لئے آخری فیصلہ خدا ہی نے کرنا ہے۔

آیت ۸۸

قَالَ الْمَلَاءُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُ ْوا مِنْ قَوْمِہ لَنُخْرِجَنَّکَ یٰشُعَیْبُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَکَ مِنْ قَرْیَتِنَا اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا قَالَ اَوَ لَوْ کُنَّا کٰرِھِیْنَ ۰

ترجمہ: شعیب کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا: اے شعیب! ہم تمہں اور تمہارے رب بھلائی کرم نے والوں کو انی آبادی سے حتماً باہر نکال دیں گے یا پھر تم ہماری ملت کی طرف واپس آ جاؤ۔

(شعیب نے) فرمایا: خواہ ہم (تمہاری) اس (ملت) کو نہ بھی چاہیں؟۔

ایک نکتہ:

دیس نکالے اور جلا وطنی کی دھمکی پر نبی کو ملتی رہی۔ اور اس طرح کی دھمکیاں زور آور گھر دیا کرتے ہیں جنکے پاس کوئی منطقی دلیل نہیں ہوا رکتی۔ چنانچہ سورہ ابراہیم/ ۱۴ میں ہم پڑھتے ہیں کہ: “قال الذین کفر وا لر سلھما لتخزجنکم من ارضنا اولتعودن فی ملتنا” کفار اپنے انبیاء کو کہا کرتے تھے کہ یا تو ہماری ملت میں شامل ہو جکاؤ ورنہ ہم تمہیں باہر نکال دیں گے۔

پیام:

۱۔ متکبرین اور شرافیہ۔ انبیاء کے نمبر ایک دشمن ہیں۔ (استکبروا)

۲۔ انبیاء کا شیوہتو منطق اور استدلال تھا جاء تکم نبیہ ۔ اعراف / ۷۵) لیکن کفار کا کام زور آوری اور دھمکی ہوتا ہے۔ (لنخرجنک)

۳۔ زبردستی ٹھولنے جانے والے دین و مذہب کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور عقائد کا مسلط کرنا کفار کا کام ہے۔ (کارھین۔ لتعودن فی ملتنا)

۴۔ مبلغین کو، دشمنوں کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے۔ اس لئے جلاوطنی کو دشمنان دین کا بہت بڑا حربہ ہوتا ہے۔ (لنجرجنکٌ)

۵۔ کفار کے جاہلانہ سلوک کے مقابلے میں ادب، نرم گفتاری اور حکمت بھرے کلام سے استفادہ کرنا چاہئے (اولوکناکار ھین)

آیت ۸۹

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلٰی اللّٰہِ کَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰنَا اللّٰہُ مِنْھَا ط وَماَ یَکُوْنُ لَنَٓا اَنْ نَّعُوْدَ فِیْھَا اِلَّا اَنْ یَّشَآءَ اللّٰہُ رَبُّنَا ط وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیْ ءٍ عِلْمًا ط عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفَاتِحِیْنَ ۰

ترجمہ: (حضرت شعیب نے مخالفین سے کہا): جب اللہ نے ہمیں تمہاری ملت سے نجات دی ہے ہم دوبارہ اس میں لوٹ جائیں تو یقیناً ہم خدا پر جھوٹ باندھیں گے، یہ تو ہرگز نہیں ہو سکتا کہ تمہارے دین کی طرف پلٹ جائیں۔ مگر یہ کہ خدا چاہے تو ہمارا پروردگار ہے۔ (اور خدا بھی ہرگز نہیں چاہے گا۔ ہماراپروردگار ہرچیز کا علمی احاطہ کئے ہوئے ہے۔ ہم خدا پر توکل کر چکے ہیں۔ پروردگارا! تو ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان برحق فیصلہ کر اور راستہ کھول دے، کیونکہ تو بہترین، فیصلہ کرنے والا اور راستہ کھولنے والا ہے۔

چند نکات:

“ملت” کا منی “دین” آئین مذہب اور دھرم ہے۔

چونکہ حضرت شعیب کے پیروکار دلیل و برہان کی بنیاد پر دین کو قبول کر چکے تھے۔ (ہوس اور کسی نفسانی خواہش کی بنیاد پر نہیں) لہٰذا وہ اسے کسی صورت میں نہیں چھوڑیں گے۔ اور خداوندا عالم بھی انہیں کسی صورت میں کفر و ترک کی طرف بازگشت کا حکم نہیں دے گا۔ اس لئے کہ اگر وہ ایسا حکم دیتا ہے تو پھر اپنے ہی بنائے ہوئے قانون سے پسپائی اختیار کرتا ہے، حد کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ اپنی کم علمی کی بناء پر اپنے کئے پر پشیمان ہوا اور ایسا حکم دیا (نعوذباللہ) لہٰذا ماننا پڑے گا کہ خداوند عالم کی ذات والا صفات اس قسم کے مواع پر “درفتح” اور “فاتح” معنی بالترتیب فیصلہ اور حاکم کے ہیں۔ چونکہ آخری فیصلہ خدا ہی کا ہوتا ہے کہ خبر ہے لوگ بند گلی سے نکل کر کھلے راستے پر آ جاتے ہیں۔

پیام:

۱۔ عقائد حقہ سے پلٹ کر عقائدباطلہ کو اپنانا، گویا خدا پر افتراپردازی اور اس کے ساتھ کئے ہوئے پیمان کو توڑنا ہوتا ہے۔ (افترینا۔ مایکون لنا ان نعود)

۲۔ دشمن کی ہر قسم کی ناپاک پیشکش کو قبول کرنے کے بجائے خدا پر توکل کر کے اسے پائے استحقارسے ٹھکرا دینا چاہئے۔ (مایکون لنا۔ توکلکنا)

۳۔ مومن کسی بھی صورت میں عقائد کے بارے میں سودے بازی نہیں کرتا ۔ راہ حق سے کبھی روگردان نہیں ہوتا اور اس کے نزدیک پچھلے پاؤں پلٹ جانا رجعت پسندی اور ناقابل قبول ہے۔ (مایکون لنا۔۔۔)

۴۔ خدا کے آگے میں سرتسلیم خم اور اس کے امر کی اطاعت کرنا چاہئے۔ اگر وہ چاہے گا کہ تمہارے دین کی طرف لوٹ جائیں تو ایسا ہی کریں گے۔ (الاان یشاء اللہ) اور واضح سی بات ہے کہ وہ ہرگز ایسا نہیں چاہے گا۔

۵۔ ہم خداوند عالم کے آگے کیوں سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں؟ اس لئے کہ اس کا علم بے ہایات ہے۔ (الاان یشأ اللہ۔۔۔ وسع۔۔ علما)

۶۔ گفتگو میں ادب کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ لعن و نفرین کی بجائے خدا سے عادلانہ فیصلے کی درخواست کی جا رہی ہے۔ (ربنا افتح)

۷۔ دعا میں اپنے مطالب اور اسمائے الہٰی کے درمیان تناسب کو ضرور پیش نظر رکھا جائے۔ چونکہ ایسے موقع پر “فتح” کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا خدا کو “خیرا لفاتحین” کہہ کر پکارتے ہیں۔ (افتح۔ خیر الفاتحین)

آیت ۹۰۔۹۱

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّکُمْ اِذَا لَّخٰسِرُوْنَ۰ فَاَخْذَتْھُمُ الرَّجْفَةُ فَاصْبَحُوْ ا فِیْ دٰارِھِمْ جَاثِِمِیْنَ۰

ترجمہ: قوم شعیب کے کافر اشراف اور سرداروں نے کہا: اگر تم نے شعیب اور ان کے ارشادات کی پیروی کی تو یقیناً تم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گے۔

پس انہیں (ان کو دشمنی کی سزا میں) زبردست زلزلے نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تو جب انہوں نے صبح کی تو اپنے گھروں میں خاک ہلاکت میں منہ کا بھل پڑے ہوئے تھے۔

دو نکات:

اس آیت میں”رجفہ” کا لفظ استعمال ہوا ہے جبکہ سورہ ہود /۹۴ میں “صیحہ” اور سورہ شعرا /۸۹ میں “عذاب یوم الظلة” (ابرہلاکت بار کا سایہ) مذکور ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا زلزلہ تھا جس میں خطرناک آواز بھی تھی اور تباہ کن تاریک بادل بھی۔ (ازتفسیر نمونہ)

“جاثم‘ کا لفظ “جثم” (بروزن خشم) سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں زانوں کے بل ایک جگہ جم کر بیٹھے رہنا۔ گویا عذاب رات کے وقت آیا جب وہ محو آرام تھے۔ اٹھے تو بھاگنے کی مہلت نہ مل سکی۔ اسی نیم خیز حالت میں تباہ و برباد ہو گئے۔ (ازتفسیر نمونہ اسی سورت کی ۷۸ ویں آیت کے ذیل میں)۔

پیام:

۱۔ انبیاء کے اکثر مخالف ۔ طبقہ اشرافیہ سے تھے۔ (الملأ)

۲۔ محاصرہ اقتصادی کی دھمکی دینا کفار کا قدیمی شیوہ چلا آ رہا ہے۔ (انکم اذالخاسرون)

(توضیح: جلاوطنی، اموال کی ضبطی، کہ فروشی کی آمدنی سے محرومی، کفار کے نکتہ نظر سے خسارہ ہے)

۳۔ اکثع خدائی عذاب رات کو نازل ہوتے ہیں۔ (فاصحوا)۔ از تفسیر امیزان۔

آیت ۹۲

اَلَّذِیْنَ کَذَّبُوْا شُعَیْبًا کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا اَلَّذِِیْنَ کَذَّبُوْا شُعَیْبًا کَانُوْا ھُمُ الْخٰسِرِیْنَ۰

ترجمہ: جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا (وہ یوں ہلاک ہو گئے کہ) گویا ان گھروں میں کبھی رہے ہی نہ کیوں جن لوگوں نے شعیب کی تکذیب کی وہی تو نقصان اور خسارہ والے تھے۔

دونکات:

“یغنو” کا لفظ “غنی” سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے “مکان میں رہنا” اور “غنا” معنی “بے نیازی” کے بھی آیا ہے۔ یعنی جو شخص ایک پرآسائش اور مکمل طور پر آمادہ مکان میں رہتا ہے وہ بے نیاز ہے۔

بہت بڑا خسارہ مشرکین ہی کے لئے ہے جو خداوند وحدہ الاشریک پر ایمان کی بجائے شریک کالا تکاب کرتے ہیں۔ اور معصوم رہبر کی اطاعت کی بجائے غیروں کے پیچھے بھاگتے پھرتے ہیں، مطمئن زندگی کی بجائے خانہ خراب ہو چکے ہوئے ہینَ بہشت کی بجائے جہنم جائیں گے اور رضولن کی بجائے ۔ غضب الہٰی کا شکار ہوں گے۔

پیام:

۱۔ باطل پرستوں کی تمام نیر نگیان نقش برآب ہو جاتی ہیں۔ (کفار تو حضرت شعیب کو اپنی آبادی سے جلاوطن کرنے کے در پے تھے لیکن خود ہی اپنے گھروں میں ہلاک ہو گئے۔)

۲۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جن پتوں پر تکیہ ہوتا ہے وہی ہوا دینے لگتے ہیں۔ اور کبھی تکیہ گاہ قتل گاہ بن جاتے ہیں۔ (قوم شعیب کی آبادی جو ان لوگوں کے لئے خوشگوار اور شعیب کو دھمکانے کا ذریعہ تھیں خود انہی لوگوں کے اوپر آ گری اور ان کا قتل کا ذریعہ بن گئی)

۳۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہئے۔ گزشتہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ کفار، حضرت شعیب کی حمایت اور طرفداری کو خارت اور نقصان سمجھتے تھے۔ جبکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ تو خود ہی زیان کار ہیں۔ وہ نعرے لگاتے تھے، خدا نے عملی کر کے دکھا دیا ہے۔

۴۔ جب خدا کا عذاب نازل ہوتا ہے تب پتہ چلتا ہے کہ خسارے میں کون رہا؟ (ھم الخاسرون)

آیت ۹۳

فَتَوَلّٰی عَنْھُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَکُمْ فَکَیْفَ اٰسٰی عَلٰی قَوْمٍ کٰفِرِیْنَ ۰

ترجمہ: پس (جب خدائی قہر نازل ہو گیا تو) شعیب نے ان سے منہ پھیر لیا۔ اور کہا: اے میری قوم! میں نے اپنے پروردگار کا پیغام تم لوگوں تک پہنچا دیا تھا اور تمہارے لئے خیر خواہی بھی کی تھی تو پھر کیوں اور کس لئے کافر لوگوں (کی سرنوشت) ہے افسوس کروں؟

پیام:

۱۔ لوگوں کی طرف توجہ کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ آخر ایک وقت ایسا بھی آ جاتا ہے کہ ان سے منہ پھیر لینا پڑ جاتا ہے۔ (فتولی عنھم)

۲۔ تبلیغ، مہربانی اور دل سوزی کے ساتھ ہونی چاہئے۔ (ابلغتکم۔ نصحت)

۳۔ جب آپ نے اپنے فریضہ پر عمل کر لیا تو پھر اس بات سے نہیں گھبرانا چاہیے کہ انجام کیا ہو گا؟ (کیف آسیٰ)

۴۔ بے جا افسوس اور مہربانی، ممنوع ہے (فکیف آسیٰ) ایک اور مقام پر حضرت رسول خدا سے خطاب ہے “لاتخرن علیھم” ان لوگوں کے لئے غم کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔

۵۔ اگر ضد اور ہٹ دھرمی کو خیر باد نہیں کہیں گے انبیاء کی نصیحتیں بھی غیر موثر ثابت ہوں گی۔

آیت ۹۴

وَمَا اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَبِیٍّ اِلَّا اَخَذْنَا اَھْلَھَا بِالْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّھُمْ یَضَّرَّعُوْنَ۰

ترجمہ: اور ہم نے کسی آبادی میں کوئی پیغمبر نہیں مگر وہاں کے لوگوں کو مصیبتوں اور بلاؤں میں گرفتار کیا تاکہ وہ تضرع اور زاری سے کام لیں۔

ایک نکتہ:

“باسأ” ایسے حواثات ہوتے ہیں جو جان پر ولاد ہوتے ہیں جیسے موت اور بیماری وغیرہ اور “جزأ” ایسے مصائب ہوتے ہیں جو مال کے لئے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ (ازتفسیر فرقان)

پیام:

۱۔ مصائب اور تلخیاں اور ناخوشگواریاں تمام اقوام عالم کے لئے ازل سے چلی آ رہی ہیں یہ ایک خدائی طریقہ کار ہے۔ (ماارسلنا فی قریة من نبی الا۔۔۔۔)

۲۔ سختیاں اور مشکلات، انسان کی تربیت ، غفلت دور کرنے اور اسے صحیح معنوں میں انسان بنانے کا موجب ہوتی ہیں۔

۳۔ ضروری نہیں ہے کہ مصائب و مشکلات ہمیشہ خدائی عذاب ہی ہوں بلکہ بعض اوقات بلا کی صورت میں خدا کا لطف و کرم بھی ہوتا ہے۔ (جیسے لوہے کو بھٹی میں گرم کر کے اسے نرم کیا جاتا ہے اور پھر اسے ہر شکل دینے کے لئے موڑا جاتا ہے، اسی طرح حوادثات بھی انسان کو نرم کر دیتے ہیں۔) اور فکرائد اور پریشانیاں مشکلات اور مصائب انسان کو تفرع و زاری اور خدائے نیاز مندی کے لئے آمادہ کرتے ہیں۔

آیت ۹۵

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰی عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبٰآئَنَا الضَّرَآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰھُمْ بَغْتَةً وَّھُمْ لَایَشْعُرُوْنَ ۰

ترجمہ: پھر ہم نے بدی (سختی اور غم) کی بجائے نیکی کو مقرر کر دیا، حتیٰ کہ ان کے مال و اولاد میں اضافہ ہو گیا اور کہتے لگے: ہمارے آباؤ اجداد کو تو (طبعی طور پر) رنج و غم اور خوشی نصیب ہوئی تھی (اور یہ تلخ و شیریں حوارث خدا کے غضب یا رحمت کے آئینہ دار نہیں تھے) تو ہم انہیں ناگہانی طور پر (اپنے قہر و غضب میں) گرفتار کر لیا اور انہیں اس بات کا شعور تک نہیں تھا۔

ایک نکتہ:

“عفوا” کا معنی ہے کامل اور اولاد کی کثرت ۔ اللہ کا فضل و کرم انہیں وافر مقدار میں ملا لیکن انہوں نے اس کا کوئی احساس نہ کیا اور قدر کی نگاہوں سے نہ دیکھا۔ اورنہ ہی اس سے عبرت حاصل کی۔ اس سے ملتی جلتی ایک آیت سورہ انعام میں ہے کہ “فلما نسوا ماذکروابہ فتحنا علیھم ابورب کل شیءٍ حتی اذافرحوابما اوتوا اخذنا ھم بغتة” یعنی چونکہ انہوں نے ہماری باربار کی یاد دہانیوں کو فراموش کر دیا تو ہم نے ان کے لئے اپنی ہر قسم کی نعمتوں کے دروازے کھول دئیے اور کئی کامیابیوں کے بعد ہم نے انہیں ناگہانی طور پر اپنے قہر و غضب میں گرفتار کر لیا۔ (انعام ۴۵) ایسے بیمار کی مانند ڈاکٹر جس کی زندگی سے ناامید ہو کر کہتا ہے جو چاہتا ہے اسے کھانے پینے کو دو کیونکہ اب اس کا کام ختم ہے”

البتہ یہ بھی ممکن ہے کہ آیت کا ایک اور معنی بھی سوجے مرجوم قمشرری ترجمہ کی صورت میں بیان کیا اور وہ یہ کہ “مصیبتیں دور ہو جانے کے بعد آنے والی نسل کہنے لگی تلخ جوائیاں تو ہمارے آباؤاجداد کے ساتھ مخصوص تھے ہم تو بالکل امن میں ہی ہیں۔ لیک وہ اس بات سے غافل تھے کہ خدا کا ازل سے یہی طریقہ کار چلا آ رہا ہے کہ وہ تمام نسلوں کو گرفتار کرنے پر قادر ہے اور اس قسم کی غفلت بھی قہر خداوندی کی علامت ہے”

پیام:

۱۔ تلخ اور شیرینِ حوادثات کے پاس سے گزرنا اور ان سے عبرت حاصل نہ کرنا بے شعوری کی علامت اور قہر خداوندی کے نزول کا سبب ہوتا ہے۔ (لایشعرون)

۲۔ ضروری نہیں ہے کہ ہر قسم کی آسائش اور خوشی خدا کے لطف و کرم کی علامت ہو۔ کبھی قہر خداوندی کا پیش خیمہ بھی ہو جاتی ہے۔ (حتی عفوا)

۳۔ بعض اوقات آسائش نسیان اور سرکشی کا موجب بھی بن جاتی ہے (قدمس آیائنا الفرٓء)

۴۔ اللہ کی آزمائش میں ناکام ہونے ولاے افراد میں زیادہ تر مسرفہ حال لوگوں کی تعداد ہوتی ہے۔ محروم طبقہ کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔

۵۔ خدائی قہر کسی کو بتا کر نہیں آیا کرتا۔ اچانک سر پر آ پہنچتا ہے۔ (بغتة)

آیت ۹۶

وَلَوْا اَنَّ اَھْلَ الْقُرٰی اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتْحَنَا عَلَیْھِمْ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ وَلَکِنْ کَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْ نَ ۰

ترجمہ: اگر آبادیوں اور قبروں میں ر ہنے والے لوگ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم بھی یقیناً ان کے لئے آسمان اور زمین کی برکتوں (کے دروازوں) کو کھول دیتے لیکن انہوں نے (ایمان لانے کے بجائے) جھٹلایا (اور کفر اختیار کرنا) شروع کر دیا تو ہم نے بھی ان کی کرتوتوں کی وجہ سے انہیں (اپنے قہر و غضب میں) گرفتار کر لیا۔

چند نکات:

“برکات” جمع ہے “برکت” کی جس کے معنی میں اللہ تعالیٰ کی مستقل اور پائیدار نعمتیں جو کہ وقتی اور جلد ختم ہو جانے والی چیز کے مقابلے میں ہے۔ اسی برکت کے معنی میں کچرت خیز اور افزائش کا معنی پایا ہے۔ اور یہ مادی اور معنوی برکات کو شامل ہے، جیسے عمر، علم اور کتاب میں برکت وغیرہ۔

یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ: اگر ایمان اور تقویٰ برکت کا سبب ہے تو پھر کافر ملکوں کی یہ ترقی یافتہ کیفیت اور اسلامی ملکوں کی یہ اسفبار نوعیت کیوں ہے؟

اس کے کئی جوابات ہو سکتے ہیں۔

۱۔ وہ ملک اگر چہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے ترقی یافتہ ہیں لیکن بہت بڑی مشکلات سے دچار بھی ہیں۔

۲۔ بہت سے اسلامی ملکوں میں اسلام کا صرف نام ہے اسلام احکام اور قوانین حکمفرما نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں مادی آسائشیں ایک طرح کا خدائی قہر بھی ہیں جیسا کہ خداوند عالم فرماتا ہے “فلما نسواماذکروابہ فتحنا علیھم ابواب کل شیٴٍ” جب انہوں نے تمام یادداشتیں فراموش کر دیں۔ تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے۔ (انعام / ۴۴) تاکہ وہ اپنی مستی میں مست رہیں۔ اگر فوب غور سے کام لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ’متقی مومنین کے لئے برکتوں کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور بدمست غافلوں کے واسطے نعمتوں کے دروازے کھولے جاتے ہیں برکتوں کے نہیں۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ رفاہ و آسائش کفار کے لئے غفلت اور بے پرواہی کا سبب بن جائے تاکہ برکت اور مستقبل کے لئے ذخیرے کا موجب۔

ان تمام باتوں سے قطع نظریہ چیز بھی پیش نظر ہونی چاہئے کہ بسا اوقات نعمتیں مہلت اور آسائش کا موجب بھی بن جایا کرتی ہیں۔

پیام:

۱۔ ممکن ہے کہ انفرادی ایمان اور تقویٰ کا اثر کم ہو، اس لئے معاشرے کی اکثریت کو ایمان و تقویٰ کا حامل ہونا چاہئے۔ تاکہ اس طرح سے وہ خداوند عالم کے اسواف و برکات کے شامل حال ہو سکیں۔ (اھل القری) از تفسیرفرقان 34

۲۔ معاشرے کی معنوی تعلیم و تربیت اور اگر و ہدایت کے لئے سرمایہ کاری اقتصادی اور مادی منافع کا موجب بھی ہوتی ہے۔ (اتقوا۔ برکت)

۳۔ ایمان اور تقویٰ نزول برکات کا سبب ہوتا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر نعمت اور آسائش ایمان اور تقویٰ کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔ (امنوا، واتقوا، برکات)

۴۔ محرومیوں اور مشکالت کا عامل خود انسان ہی ہوتا ہے۔ (یکسبون)

آیت ۹۷ ۔ ۹۸

اَفَاٰمِنَ اَھْلُ الْقَرٰی اَنْ یَّاْتِیَہُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَ ھُمْ نَآئِمُوْنَ۰ اَوَ اَمِنَ اَھْلُ الْقُرٰٓی اَنْ یَّاْتِیَھُمْ بَاْسُنَا ضُحًی وَّھُمْ یَلْعَبُوْنَ ۰

ترجمہ: آیا آبادی کے رہنے والے اس بات سے مطمئن ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس ہمارا عذاب اس وقت آ جائے جب وہ سوئے ہوئے ہوں؟

آیا آبادی کے رہنے والے اس بات مطمئن ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس ہمارا عذٓب بن کے وقت اس حالت میں پہنچے کہ وہ کھیل کود میں لگے ہوئے ہوں؟

پیام:

۱۔ یہ مت سمجھو کہ عذاب صرف گذشتہ اقوام کے ساتھ ہی مخصوص تھا۔ الہٰی قانون سب قوموں کے لئے یکساں ہے۔ (افامن)

۲۔ پورا عالم انسانیت اپنی تمام تدابیر، ایجادات، اختراعات، ترقی اورپیشرفت کے باوجود عذاب الہٰی سے آسودہ خاطر اور مطمئن نہیں ہو سکتا اور نہ ہی مطمئن اور آسودہ خاطر ہونا چاہئے۔

۳۔ اگرخدا چاہے تو اپنا قہر و غضب اس وقت نال کر دے جبکہ کوئی راہ چارہ موجود نہ ہو اور راتوں رات سب کو ہلاک کر کے رکھ دے۔ (بیاتاوھم نائمون)

۴۔ غضب کے دور کرنے کے لئے ایک راہ یہ بھی ہے کہ انسان کو جھنجوڑا جائے اور احتمال خطررات سے متنبہ کیا جائے۔ (اوامن)

۵۔ خواب غضب اور بے جا سرگرمیاں خدائی قہر و غضب کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ (یلعبون)

آیت ۹۹

اَفَآمِنُوْا مَکْرَاللّٰہِ ج فَلَا یَآمَنُ مَکْرَاللّٰہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُونَ ۰

ترجمہ: تو کیا یہ لوگ خدا کے مکر (ناگہانی عذاب) سے مطمئن ہو چکے ہیں؟ پس خدا کے مکر (ناگہانی عذاب سے خسارہ اٹھانے والوں کے علاوہ کوئی اور مطمئن نہیں ہوتا۔

ایک نکتہ:

ٍ اگرچہ “مکر” کا لفظ اردو اور فارسی میں “نیرنگی” “مکاری” “عیاری” اور غلط قسم کے حیلے بہانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اس کا حقیقی اور لغوری معنی “اصل مقصد سے لگانے کے لئے تدبیر اور چارہ سازی ہے خواہ وہ حق ہو یا باطل اور “مکر خدا” کا مطلب ہے “اس کی ایسی تدبیریں کہ جن سے کفار کے سارے منصوبے نقش برآب ثابت ہو جائیں۔

پیام:

۱۔ کسی بھی وقت خدائی عذاب سے مطمئن نہیں ہونا چاہئے بلکہ خوف اور امید کے درمیان درمیان زندگی گزارنی چاہئے۔

۲۔ بے خیال اور لاربانی قسم کے لوگ خسارے میں ہیں۔ (لایامن۔ خاسرون)

آیت ۱۰۰

اَوَلَمْ یَھْدِ الِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْ م بَعْدِ اَھْلِھَا اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰہُمْ بِذُنُوْبِھِمْ وَ نَطْبَعْ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ فَھُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ ۰

ترجمہ: آیا خدا وند عالم نے ان لوگوں کو اس ذریعہ سے ہدایت نہیں کی، جو زمین پر رہنے والوں کے ہلاک ہو جانے کے بعد اس کے وارث ہوئے ہیں۔ کہ اگر ہم چاہیں تو انہیں بھی ان کے گناہوں کی بدولت ہلاک کر ڈالیں اور ان کے دلوں پر یوں مہر لگا دیں کہ حق کی آوازکو نہ سن سکیں۔ (اور منطق واستدلال کو قبول نہ کریں)

پیام:

۱۔ جو لوگ مسند اقتدار تک جا پہنچتے ہیں انہیں چاہئے کہ سابقہ حکومتوں اور ان کے اقتدار کے حصول سے بھی آگاہی حاصل کریں اور ان کے تلخ و شرین تجربوں سے فائدہ اٹھائیں (اولم یھد للذین یرثون۔۔۔)

۲۔ خدا کی طرف سے انسانوں کو ملنے والی سزائیں خود ان کے لئے گناہوں کی بدولت ہوتی ہیں۔ (بذنوبھم)

۳۔ تاریخ پر حکم فرما الہٰی قوانین ثابت، مستقل اور پائیدار ہیں۔ اور اس کا تسلسل بحال ہے۔ (آیت کے لب و لہجہ کے پیش نظر)

۴۔ گناہ، دلوں پر مہر لگنے کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ اور انسان سے توفیق کے سبب ہو جانے کا سبب بھی (ذنوبھم۔ نطبع)

آیت ۱۰۱

تِلْکَ الْقُرٰی نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآئِھَا وَلَقَدْ جَآئَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا کَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ ط کَذَلِکَ یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِ الْکٰفِرِیْنَ ۰

ترجمہ: یہ وہی بستیاں ہیں کہ ہم جن کی کچھ خبریں تمہیں بیان کرتے ہیں۔ اور لیکن وہ لوگ جس بات کی پہلے سے تکذیب کر چکے تھے اس پر ایمان لانے والے کہاں تھے اسی طرح اللہ تعالیٰ کفار کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔

ایک نکتہ:

اس آیت میں “قریٰ” سے مراد وہ بستیاں ہیں جن کے لوگوں کی ہدایت کے لئے حضرت صالح، شعیب، لوط اور ہود علیھم السلام مبعوث ہوئے تھے۔

پیام:

۔ تاریخ کا جو حصہ ہندو نصائح پر مشتمل ہے اسے بیان کرنا چاہئے۔ (من انبائھا)

۔ مفید داستانیں، تعمیری اہمیت رکھتی ہیں۔ (نقص)

۔ تمام انبیاء معجزے کے حامل تھے۔ (رسئلھم بالبینات)

۔ ضد، ہٹ دھرمی، خودروبی، مناسب اور جائز نہیں ہے۔ (فما کانوا یسومنوا ابماکذبوا)

۔ لوگوں کے انکار کر دینے سے انبیاء کے ارادوں میں گزلزل پیدا نہیں ہونا چاہئے اس لئے کہ تاریخ میں یہ سلسلہ قدیم چلا آ رہا ہے۔ (وقد جاء تھم رسلھم۔۔۔)

۔ لوگوں کی طرف انطار، کفر، ضد، ہٹ دھرمی کا زوال بھی طرف سے ایسے دلوں پر مہر لگا دینے کا سبب بن جاتا ہے۔ (یطبع اللہ علی قلوب الکافرین)

تفسیرنور

آیت نمبر ۱۰۲ تا ۱۳۳

آیت ۱۰۲

وَمَا وَجَدْ نَا لِاَ کْثَرِھِمْ مِنْ عَھْدٍ ج وَ اِنْ وَّجَدْناَ اَکْثَرَ ھُمْ لَفٰسِقِیْنَ o

ترجمہ: اور ہم نے ان میں سے اکثر لوگوں کے لئے وعدے کی پابندی نہیں دیکھی۔ اور ان میں سے بیشتر لوگوں کو ہم نے فاسق پایا۔

دو نکات:

اس آیت میں “عہد” سے مراد یا تو خدا اور لوگوں کی صحیح و سالم فطرت کے درمیان باہمی رابطہ ہے یا انبیاء علیہم السلام کی دعوت اور قوانین میں اور یا پھر وہ مخصوص عہد و پیمان ہے جو کہ لوگ انبیاء کے ساتھ برقرار کیا کرتے تھے کہ اگر فلاں معجزہ دکھائیں گے تو یا فلاں مستقل حل کریں گے تو ایمان لے آئیں گے۔ جیسا کہ قرآن مجید کہتا ہے: “لئن کشفت عناالرجز لنوٴمنن بک ولنرسلن معک بنی اسرائیل فلما کشفنا عنھم الرجزالی احل ھم بالفوہ اذاھم ینکثون” (ان لوگوں نے حضرت موسیٰ سے کہا) اگر تو ہم سے اس بدبختی کو ہٹ ادے اور عذاب کو برطرف کردے تو ہم تم پر ایمان لے آئیں گے اور نبی اسرائیل کو تمہارے ساتھ روانہ کر دیں گے، لیکن جونہی ہم نے ان کی مشکل حل کر دی تو انہوں نے اپنا کہا ہو ا وعدہ توڑ ڈالا۔ (اعراف /۳۵)

خداوند عالم نے فطرت اور انبیاء کے ذریعے تمام حقائق انسان کے لئے بیان فرما دئیے ہیں تاکہ وہ ان کے ساتھ عہد و پیمان برقرار کر کے انہیں تسلیم کر لیں، لیکن لوگوں نے فطرت اور انبیاء کی آواز کو بھلا کر حق کے مدار سے نکل جانے کا ارتکاب کی اور فاسق ہو گئے۔

پیام:

۱۔ گزشتہ اقوام کی ہلاکتوں کی وجہ ان کی عہد شکنی اور سر پیش اور ہٹ دھرمی تھی (عھد، فاسقین)

۲۔ فیصلہ کرتے وقت انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے (“اثر” کلا لفظ ہے “سب” کا نہیں)

۳۔ اللہ تعالیٰ نے وفاداری کی تعریف کی ہے اور بے وفاؤں اور عہد شکنوں کی مذمت، 35

آیت ۱۰۳

ثُمَّ بَعَثْْنَا مِنْم بَعْدِ ھِمْ مُّوْسٰی بِاٰیٰتِنَا اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلٓائِہ فَظَلَمُوْْْا بِھَا فَانْظُرْ کَیْفَ کاَنَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ o

ترجمہ: پھر ہم نے ان سابق انبیاء کے بعد موسیٰ کو اپنی آیات اور معجزا سارے (بھیجا، پس انہوں نے ہماری آیت کے ساتھ ظلم کیا (اور کفر اختیار کیا) پس دیکھو کہ مفسدین کا کیا انجام ہوا ہے؟

چند نکات:

قرآن مجید میں حضرت موسیٰ کا اسم گرامی بھی اکتیس مرتبہ سے زیادہ استعمال ہوا ہے، اور اتنی تعداد میں کوئی اور نام مذکور نہیں ہوا۔ اور بقول تفسیر المیزان: “قرآن مجید میں جتنے حضرت موسٰی کے معجزات بیان ہوتے ہیں اتنا کسی اور نبی کے نہیں۔”

قرآن مجید میں حضرت موسٰی کی بیان ہونے والی داستان پانچ مراحل میں تقسیم ہوتی ہے۔

۱۔ ولادت اور بچپن کا دورانیہ ۲۔اپنے شہر کو خیرباد کہہ کر حضرت شعیب کے پاس مدین میں جا کر رہنے کا عرصہ ۳۔ بعثت اور فرعون کے ساتھ ہنجر آزمائی کا زمانہ۔ ۴۔ اپنی اور قوم کی فرعون سے نجات کے بعد سے فلسطین میں واپسی کا دورانیہ۔ ۵۔ بنی اسرائیل کے ساتھ نبردآزمانی کا زمانہ۔

یہ وہ پہلی مکی سورت ہے جس میں حضرت موسیٰ کی داستان کو بیان کیا گیا ہے۔

پیام:

۱۔ حضرت انبیاء عظام کی بعثت کا ایک فلسفہ، طاغوتوں کے ساتھ بزدآمائی بھی ہے (الی فرعون وملائہ)

۲۔ معاشرے کی کلی اور مکمل اصلاح کے لئے موٹے موٹوں کی گردنوں کو پکڑنا چاہئے۔ اور باقی کو چشمے ہی سے صاف ستھرا کرنا چاہئے۔ (الی فرعون وملائہ)

۳۔ ایمان، معاشرے کی اصلاح کرتا ہے اور کفر الحاد اسے فساد اور خرابی کی طرف لے جاتے ہیں۔ (مفسدین)

۴۔ جو زمین عبادت کے لئے بچھائی گئی ہے اگر اس میں حق کی پھر جانہ کی جائے تو “فساد فی الارض” کے زمرے میں آ جاتی ہے۔ (مفسرین)

۵۔ جو خدا پرستی سے ہٹ جاتا ہے وہ فساد کا مرتکب ہوتا ہے۔ (مفسدین)

۶۔ جو بھی خدا کی شریعت کو ٹھکراتا ہے، مفسد ہے۔

۷۔ جب کسی معاشرے پر خدا کی بجائے طاغوت حاکم ہو جاتا ہے وہ اپنے بچاؤ اور حفاظت کے لئے سی قسم کے فساد کا ارتکاب کرتے سے باک نہیں کرتا۔ (مفسدین)

آیت ۱۰۴

وَ قَالَ مُوْسٰی ٰیفِرْعَوْنَ اَنِّی رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الٰعلَمِیْنَ o

ترجمہ: اور موسیٰ نے کہا: اے فرعون! میں یقینی طور پر عالمین کے رب کی طرف سے رسول ہوں۔

پیام:

۱۔ انبیاء نے رسالت اور دعوت حق کے علاوہ کسی اور قسم کا دعویٰ نہیں کیا۔ (الی رسول)

۲۔ انبیاء کرام اپنی دعوت کے وقت کسی قسم کے خوف و ہراس اور کمزور کو خاطر میں لائے بغیر اپنے زمانے کے طاغوتوں کو للکارتے رہے۔ (یا فرعون)

۳۔ ایسا معاشرہ کہ جس میں طبقاتی نظام حکمرانا ہو اس کی اصلاح کیلئے سب سے پہلے سرغنہ افراد کی اصلاح ضروری ہوتی ہے۔ (یا فرعون)

۴۔ فرعون اپنے آپ کو لوگوں کا پروردگار سمجھتا تھا اور “اناربکم الاعلیٰ” کہتا تھا۔ جبکہ حضرت موسٰی اپنے “رب العالمین کے رسول” کی حیثیت سے متعارف کراتے تھے جس سے یہ بتانا مقصود تھا کہ “فرعون! تو بھی اس پر وردگار کے زیر تسلط ہے جس کا میں رسول ہوں!”

آیت ۱۰۵

حَقِیْقٌ عَلیٰ اَنْ لَّا اَقُوْلَ عَلَی اللّّٰہِ اِلَّا الْحَقَّّط قَدْْ جِئْتُکُمْْ بِبَیِّنَةٍٍٍٍ مِّّنْْ رَّبِّّکُمْْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْ اِسْرٰائِیْلَoط

ترجمہ: سزا وار بات یہ ہے کہ میں خداوند عالم کی طرف حق بات کے علاوہ کسی اور چیزکی نسبت نہ دوں، یقین جانو کہ میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل (اور روشن معجزہ) لے کر آیا ہوں۔ پس بنی اسرائیل کو میرے ساتھ روانہ کر دے۔

پیام:

۱۔ تمام انبیاء معصوم ہیں اور حق بات کے علاوہ کچھ نہیں کہتے۔ (لااقو اعلی اللہ الاالحق)

۲۔ انبیاء کو معجز نما ہونا چاہئے۔(بینتہ)

۳۔ تمام لوگوں کے لیے اییک رب ہونا چاہئے حتی کہ فرعون کے لئے بھی، پس فرعون کا دعوائے ربوبیت ، غلط تھا۔ (ربکم)

۴۔ انسانوں کی آزادی انبیاء کے اہداف و مقاصد میں لے سب سے پہلا مقصد ہے۔ اور  ان کے علاوہ جو بھی برسر اقتدار آکر سر پر آرائے حکومت ہوتا ہے لوگوں کو اپنا غلام بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ (ارسل معی بنی اسرائیل)

۵۔ جب تک لوگوں کو طاغوتوں سے پوری طرح چھٹکارا نہیں مل جاتا اس وقت تک ان کے لئے صحیح معنوں میں مگر و ہدایت اور تعلیم و تریبت کا بندوبست کرنا مشکل ہوتا ہے۔ (ارسل معی بنی اسرائیل)

آیت ۱۰۶، ۱۰۷

قَالَ اِنْ کُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِھَا اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ o فَاَلْقٰی عَصَاہُ فَاِذَا ھِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنَ o

ترجمہ: (فرعون نے) کہا: اگر تو سچوں میں سے ہے تو کوئی معجزہ لے آ۔

پس (موسیٰ ) اپنا عصا پھینکا تو وہ آنا فانا واضح طور پر اژدہا بن گیا۔

ایک نکتہ:

سورہ شعرأ کی آیت ۴۵ میں ہے کہ: یہ اژدھا جادوگروں کے جادو کے تمام مال و اسباب کو چٹ کر گیا۔ “تلقف مایافکون” اور اس عصا کے کئی اور معجزات بھی ظاہر ہوئے ۔ مثلاً اسے دریا پر مارا گیا تو اس کا پانی خشک ہو گیا “فاضرب بعصاک البحر” (شعرأ/۶۳) اور پتھر پر مارا گیا تو اس سے چشمے پھوٹ پڑے۔ “فاضرب بعصاک الحجر” (البقرہ/۶۰)

پیام:

۱۔ مخاطب افراد کی حیرت و شگفتگی کے مطابق معجزات مختلف ہوا کرتے تھے۔ (ثعبان) امر کی وضاحت یوں سمجھے کہ فرعون اور فرعون والوں کے لئے تو عصا “اژدہا” تھا جبکہ خودحضرت موسٰی کے سامنے یہی “اژدہا” ایک چھوٹا سا سانپ تھا: “الق عصاک کا نھا جان” (نحل/۱۰) اور عوام الناس کے سامنے ایک عام سا سانپ تھا “حیة تسعیٰ” (طہ /۲۰)

۲۔ معجزہ ایسا صاف اور واضح ہونا چاہئے جس میں کسی شخص کے لئے شک و تردید کی گنجائش نہ ہو۔ (مبین)

آیت ۱۰۸ ۔ ۱۰۹

وَنَزَعَ یَدَہ فَاِذَا ھِیَ بَیْضَآءَ لِلنّٰظِرِیْنَ o قَالَ اِنَّ الْمَلَاَ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّّ ھٰذَا الَسٰحِرٌ عَلِیْمٌ o

ترجمہ: اور موسیٰ نے اپنا ہاتھ (اپنے گریبان سے) باہر نکالا تو اچانک وہ دیکھنے والوں کے سفید (اور چمکدار) تھا۔

قوم فرعون کے سرداروں نے کہا: یہ تو یقیناً ایک سمجھدار جادو گر ہے۔

پیام:

۱۔ انبیاء جہان پر ڈراتے ہیں (اور عصا سے اژہا بناتے ہیں) وہاں پر خوشخبری بھی سناتے ہیں (اور نورانی ہاتھ دکھاتے ہیں) (بیضاء)

۲۔ طاغوث کے حامی ہمیشہ ان کے جرائم میں برابر کے شریک رہے ہیں (الملأمن قوم فرعون)

۳۔ مخالفین، انبیاء کی تبلیغ اور ان کے ثمن کو تہمتیں لگ اکر مخدوثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آیت ۱۱۰

یُرِیْْدَُ اَنْ یُّخْرِجَکُمْ مِنْ اَرْضِکُمْ فَماَذَا تَاْمُرُوْنَ o

ترجمہ: موسیٰ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہاری سرزمین سے نکال دے (اور تمہارے علاقہ پر قبضہ کر لے) تو اس بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے؟

ایک نکتہ:

فرعون نے عوام الناس کو فریب دینے کے اور ان کے افطار کو گمراہ کرنے کے لئے حضرت موسٰی پر ناروا تمہیں لگائی۔ ایک تو اعتقادی لحاظ سے انہیں “جادوگر” کہا، اور دوسرے اجتماعی، معاشرتی اور سیاسی نکتہ نظر سے انہیں ’فتنہ پرور” اور “آشوب گر” کیا۔

پیام:

۱۔ مردان حق پر اتہام اور بہتان طرازی، مخالفین کا ایک عملہ ہتھیار ہے (یرید ان یخرجکم)

۲۔ اپنے مکمل استہداد کے باوجود طاغوت کبھی کبھار اس قد رسیاسی گرفتاری میں مبتلا ہو کر ایسا ہو جاتے ہیں کہ انہیں اپنے اطرافیوں سے مشورے کرنے پڑ جاتے ہیں۔ (فماذاتامرون)

۳۔ چوکہ ہر شخس کو اپنے گھر اور وطن سے محبت ہوتی ہے اسی لئے لوگوں کو مردان خدا کے خلاف اکسانے کیلئے یہی حربہ اختیار کیا جاتا ہے۔ (یخرجکم من ارضکم)

آیت ۱۱۱، ۱۱۲

قَالُوْآ اَرْجِہْ وَاَخَاہُ وَاَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِِ حٰشِرِیْنَ o یَاْتُوْکَ بِکُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍo

ترجمہ: (فرعون کے اطرافیوں نے) کہا: اسے اور اس کے بھائی کو روکے رکھو اور نظر بند کر دو (اور اس کے قتل میں جلدی نہ کرو) جادو گروں کو جمع کرنے والوں کو شہروں میں روانہ نہ کرو تاکہ وہ ہر دانا اور آزمودہ کار جادوگر کو تمہارے پاس لے آئیں۔

ایک نکتہ:

اس آیت میں “سحر علیم” کا لفظ استعمال ہوا ہے جبکہ سورہ شعراأ کی آیت ۳۷ میں “سحارعلیم” کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جادو گر بڑے تجربہ کار ، آزمودہ کار اور ماہر فنکار تھے۔ اسی طرح “ارجہ” کا لفظ “رجاء” سے مشتق کیا گیا ہے جس کا معنی ہے “نطڑ بند کرنا” “قید کرنا” اور تاخیر میں ڈالنا”۔

لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو چونکہ حضرت موسٰی کی دعوت و تبلیغ کا دائرہ کار وسیع ہو چکا تھا اور ان کے معجزات کا ردعمل بہت اچھا تھا لہٰذا فرعون کے لئے ان کا قید کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ لہٰذا “تاخیر میں ڈالنا” کا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔

پیام:

۱۔ دعوت انبیاء کو شکست سے دوچار کرنے کے لئے طاعوتی طاقتیں ماہرین کی عالمی کانفرنسیں منعقد کرتی ہیں۔ (یاتوک بکل ساحر)

آیت ۱۱۳، ۱۱۴

وَجاَءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْا اِنَّ لَنَا لَاَجْراً اِنْ کُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ o قَالَ نَعَمْ وَاِنَّکُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ o

ترجمہ: اور جادوگر فرعون کے پا س پہنچ گئے۔ کہنے لگے اگر ہم غالب آ جائیں تو ہمارے لئے یا اثر اور انعام ہے؟ اس نے کہا: ہاں، یقیناً تم میری بارگاہ میں) مقرب ہو جاؤ گے۔

پیام:

۱۔ انبیاء اور جادوگروں کے اہداف و مقاصد میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے وہ یوں کہ انبیاء لوگوں کی ہدایت اور انہیں راہ راست پر لانے کے لئے کام کرتے ہیں اور کسی قسم کی اجرت کے طلبگار نہیں ہوتے بلکہ کہتے ہیں “ما اسئلکم علیہ من اجر” جبکہ جادوگروں کا مطمع نظر ہی دنیا کا کمانا ہوتا ہے۔ (لاجرا)

۲۔ طاغوتی درباروں کا رخ کرنے والے دنیور مقاصد کے حامل ہوتے ہیں۔ (ان لنا لاجرا)

۳۔ لوگوں کو وعدوں اور سرمایہ کے ذریعہ ہی طاغوتی طاقتیں اپنے گرد اکٹھا کرتی ہیں۔ (قال نعم)

۴۔ طاغوت کبھی اس قدر عاجز اور درماندہ ہو جاتے ہیں کہ ہر قسم کے مطالبے کو تسلیم کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ (قال نعم)

۵۔ دنیا پرست افراد کے نزدیک مال سے زیادہ سیاسی مقا مو منصب اور اجتماعی و معاشرتی قیدو منزلت زیادہ وقیع ہوتی ہے۔ (لمن المقربین)

آیت ۱۱۵۔۱۱۶

قَالُوْْا یٰمُوْسٰی اِمَّا اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّا اَنْ نَّکُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ o قَالَ اَلْقُوْا فَلَمَّا اَلْقَوْا سٰحَرُوْا اَعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْھَبُوْھُمْْ وَجَاءُ ْو بِسِحْرٍِ عَظِیْمٍ o

ترجمہ: (جادوگروں نے) کہا: اے موسٰی! آیا تو (اپنے جادو کے ذرائع کو) پھینکتا ہے یا ہم پھینکیں (موسیٰ نے خدا کی نصرت پر یقین رکھتے ہوئے) کہا: تم ہی پھینکو۔ تو جونہی انہوں نے (اپنے جادو کے وسائل کو) پھینکا تو لوگوں کی آنکھوں کو موند دیا اور (اس چشم بندی کی وجہ سے) لوگوں کے اندر خوف اور وحشت پھیلا دی اور ایک بڑے جادو کو لے آئے۔

پیام:

۱۔ معرفت کی راہوں میں صرف ظاہری جو اس پر ہی بھروسہ نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ بعض اوقات آنکھیں دھوکہ کھا جاتی ہیں اور ان پر جادو کا اثر ہو جاتا ہے (سحر واعین الناس)

۲۔ جادوگروں کے جادو کا اثر لوگوں کی آنکھوں میں ہوتا ہے۔ حقیقت میں تبدیلی پیدا نہیں کر دیتا۔ جیسے سراب دورے پانی نظر آتا ہے۔ لیکن معجزات میں ایسا نہیں ہوتا۔ موسیٰ کا اژدہا حقیقة اژدہا بنا صرف نظر نہیں آیا۔ انبیاء کا لوگوں کی بصیرت کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔ جبکہ جادوگر اور ساحروں کا کام لوگوں کی آنکھوں موندنا ہوتا ہے۔ (اعین الناس)

۳۔ ہرموقع پر حق کو ناکام بنانے کے لئے اسی جیسے وسائل سے کام لیا جاتا ہے۔ مذہب کے خلاف، مذہب، عالم کے خلاف اور یہاں پر معجزہ کے خلاف جادو۔

۴۔ طاغوت اور باطل کے دعویدار ہمیشہ اپنے دعوے دھونس اور دھاندلی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ (واسترھبوھم)

آیت ۱۱۷

وَ اَوْحَیْنَا اِلٰی مُوْسٰی اَنْ اَلْقِ عَصَاکَ فَاِذَا ھِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِکُوْنَ o

ترجمہ: اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنے عصا کو (زمین پر) پھینکو، (جونہی انہوں نے عصا کو پھینکا تو ہو اژدھا بن گیا اور ناگہانی طور پر جادوگروں کے گھڑے ہوئے جھوٹوں کو نگلنے لگ گیا۔

چند نکات:

“تلقف” کا لفظ “لقف” سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کو طاقت اور جلدی کے ساتھ پکڑنا چاہے دانتوں سے پکڑا جائے یا ہاتھوں اور انگلیوں سے۔ لیکن اس آیت میں اس کا معنی “نگلنا” ہے۔

“یافکون” کا کلمہ “افک” سے لیا گیا ہے اور “افک” کے معنی ہیں ’ایسا جھوٹ جو سچ کے قالب میں ڈھالا گیا ہو” یا “ایسا باطل جو حق کی صورت میں ہو۔”

اگر حضرت موسٰی کی لاٹھی جادوگروں کے گھڑے ہوئے جھوٹوں کو نگل سکتی ہے تو قرآن مجید کی تلاوت اور قرآن مقدس کے ذریعہ سے شیطان سے پناہ حاصل کرنا امر لاٹھی سے زیادہ موٴثر ہے اور باطل کے پیرکاروں کی سازشوں اور گٹھ جوڑ ان کے ہر طرح کے نقش برآب بنا کر رکھ دیتا ہے۔

پیام:

۱۔ بحرانی دور میں انبیاء کو براہِ راست غیبی مدد مل جاتی ہے۔ (اوحینا)

۲۔ اگر خدا چاہے تو اپنے مخلص بندوں کی بین الاقوامی اجتماعات اور دشمن کے مجمع میں جس میں حق کی تباہی کے لئے اکٹھے ہو جائیں امداد کر کے ان پر غالب کر دے۔

۳۔ جو باطل لوگوں کی آنکھوں کو خطا اور دلوں کولرزہ براندام کر دے (سحر وااعین الناس واستر ھبوھم) وہ خدائی قدرت کے ذریعہ اور انبیاء کے توسط سے سرکوب ہو جاتا ہے۔ (تلقف مایافکون)

آیت ۱۱۸ تا ۱۲۰

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ o فَغَلَبُوْْا ھُنَا لِکَ وَاْنقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَo وَاَلْقٰی السَّحَرَةُ سٰجِِدِیْنَ o

ترجمہ: پس حق آشکار اور ثابت ہو گیا (اور موسیٰ کی نبوت واضح ہو گئی) وار جادوگروں کے تمام کارنامے باطل اور محو ہو گئے۔

پس فرعون والے اسی جگہ پر ہی مغلوب ہو کر ذلیل اور خوار ہو گئے۔ اور جادو گر نے اختیار ہو کر) سجدے میں گرپڑے۔

ایک نکتہ:

حضرت موسٰی کے معجزہ کی کامیابی کے ساتھ فرعونی نظام کو سخت دھچکا لگا اور اس کے بڑھ کر یہ کہ تمام جادوگر بیک وقت موسی پر ایمان لے آئے اور فرعون کی عزت اندرونی طور پر خاک میں مل گئی۔

پیام:

۱۔ حق غالب اور باطل مغلوب اور نابود ہونے والا ہے۔ (فوقوع الحق)

۲۔ حق کے صرف ایک ہی جلوہ سے باطل کی ساری چکا چوند ختم ہو جاتی ہے (الحق ماکانوا)

۳۔ انسانی ہاتھوں سے تراشے ہوئے باطل الہٰی حق کے مقابلہ کی تاب نہیں رکھتے۔ (الحق۔یعملون)

۴۔ تبلیغ کے موقع پر حق کو بیان کر کے باطل کو میدان سے دور بھگایا جا سکتا ہے۔ (وقع الحق بطل)

۵۔ اگر معرفت حاصل ہو جائے تو پھر سجدہ اور سرتسلیم خم کر دینا لازمی ہو جاتا ہے۔ (القی)

۶۔ شکسوت کی ذلت اور تحقیق خود شکست سے بدتر ہوتی ہے۔ (صٰغرین)

۷۔ معرفت کے سایہ ایک ہی لمحہ میں عقیدے کو تبدیل کر کے خوش بختی حاصل کی جا سکتی ہے۔ (فالقی السحرة سٰجدین)

۸۔ “نحن الغالبون” (ہم ہی غالب ہیں ۔ آیت ۱۱۳) کے دعویدار آج “صاغرین” کی صورت میں مغلوب ہو چکے ہیں (وانقلبو اصاغرین)

آیت ۱۲۱۔۱۲۲

قَالُوْا اٰمَنَّا بِرَبِّ العٰلَمِیْنَ o رَبِّ مُوْسٰی وَ ھٰرُوْنَ o

ترجمہ: ان (جادوگر) لوگں نے کیا ہم تمام حیاتوں کے پروردگار پر ایمان لے آئے۔

(وہی جو) موسیٰ اور ہارون کا پروردگار ہے۔

دونکات:

جو جادوگر حضرت موسٰی کو رسوا کرنے، مال و دولت اور فرعون کا تقرب حاصل کرنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ موسٰی کامعجزہ دیکھ کر ایمان لے آئے اور علی الاعلان اس کا اظہار کر دیا۔

اپنے اس اعلان میں انہوں نے تینوں اصول دین کا اقرا ر کیا۔ یعنی توحید نبوت اور مدد کا۔ (رب العالمین، رب موسیٰ وہارون) اور بعد کی چند آیات میں ہے کہ انہوں نے کہا : “الی ربنا منقلبون” ہم اپنے رب کی طرف لوٹ جائیں گے۔ (آیت ۱۱۵)

پیام:

۱۔ انسان کا آزادی حاصل ہے اور وہ حق کو سمجھ لینے کے بعد اپنے ایمان اور عقیدے کو تبدیل کر سکتا ہے۔ (قالو آفنا)

۲۔ شرک اور ذہنی گمراہی سے توبہ کا نام ایمان ہے (آمان)

۳۔ معجزہ کی کیفیت کو دوسرے لوگوں سے زیادہ جادوگر ہی بہتر جانتے ہیں اسی لئے جلد ایمان لے آتے ہیں۔ (آمنا)

۴۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ حق بیان نہ ہونے کی وجہ سے لوگ ایمان نہیں لا سکتے، جونہی حق روشن ہوتا ہے، کئی لوگ ایمان لے آتے ہیں۔ (آمنا)

۵۔ خداوند عالم کے خالق ہونے میں تو کسی کو اختلاف نہیں ، سارا جھگڑا اس کی ربوبیت اور تدبیر عالم کے بارے میں ہے اور ہدیہ برہستی کی اطاعت کے متعلق ہے۔ (رب موسیٰ و ہارون)

۶۔ “عدو شود سبب خیر گر خدا وہد “والی کہاوت سو فیصد درست ہے، فرعون نے دنیا بھر کے جادوگروں کو ایک جگہ پر اکٹھا کیا جو اس بات کا سبب بن گیا کہ وہ سارے یگجا موسیٰ پر ایمان لے آئے۔

۷۔ لفظی طور پر بھی کسی کو ناجائز فائدہ نہیں اٹھانے دینا چاہئے۔ جادوگروں نے کہا: آمنا برب العالمین” ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے۔ کہیں شکست خوردہ فرعون یہ نہ کہہ دے کہ وہ رب العالمین، میں ہوں، اس لئے آیت کہتی ہے: “رب موسیٰ و ھارون” (ہارون و موسیٰ کا رب)

آیت ۱۲۳

َقَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْْتُمْ بِہ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ اِنَّ ھٰذَا لَمَکْرُمَّکَرْ تُمُوْہُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْہَآ اَھْلَھَا فَسَوْفَ َتعْلَمُوْنَ o

ترجمہ:

فرعون نے (جادوگروں سے) کہا: تم میرے اجازت دینے سے پہلے اس پر ایمان لے آئے ہو؟ یقیناً یہ تمہاری ایک چال ہے جو تم نے شہر میں چلی ہے تاکہ (علاقہ کو اپنے قبضہ میں لے کر) لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کرو۔ پس تم بہت جلد سمجھ لو (کہ تمہارا مقابلہ کسی کے ساتھ ہے اور تمہیں کیا سزا ملے گی؟)

پیام:

۱۔ فکری، ذہنی اور عقیدتی استعمار میں حکومتوں کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ لوگوں کے عقیدہ اور افکار پر پہرے بٹھا دئیے جاتے ہیں اور ان کی فکر سلب کر لی جاتی ہے (قبل ان اذن) بالفاظ دیگر طاغوتی نظاموں میں عقائد پر سینسر کی پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔

۲۔ طاغوت کا ایک طریقہ کار یہ بھی ہے کہ وہ مردان حق پر تہمتیں لگاتا ہے۔ (مکر مکرتموہ) 36

۳۔ طاغوت کی کوشش ہوتی ہے کہ لوگوں کو انبیاء کے خلاف بھڑکانے کے لئے انہیں ہر بات سے ڈراتے ہیں کہ وہ تمہیں تمہاری سرزمین سے باہر نکال دیں گے اور خود اس پر قابض ہو جائیں گے۔ (لتخر جوامنہا اھلہا)

۴۔ طاغوتی طاقتوں کا کام ڈرانا دھمکانا ہوتا ہے۔ (فسوف تعلمون)

آیت ۱۲۴ ۔ ۱۲۵

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَکُمْ وَ اَرْجُلَکُْمْ مِنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّکُمْ اَجْمَعِیْنَ o قَالُوْ اِنَّا اِلٰی رَبِّّنَا مَنْقَلِبُوْنَ o

ترجمہ: میں تمہارے ہاتھ پاؤں ایک دوسرے کے برخلاف (ایک دائیں طرف سے اور دوسرا بائیں جانب سے) ضرور کاٹوں گا۔ پھر تم سب کو سولی پر بھی ضرور لٹکاؤں گا۔

انہوں نے کہا: ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جائیں گے۔ (اور ہمارے لئے عقیدے کی راہ میں شہادت، ایک سعادت ہے۔)

چند نکات:

ان آیات سے ملتی جلتی سورہ طٰہ کی ۷۰ کے بعد کی آیات ہیں۔

آیت میں اگرچہ ان دھمکیوں پر عمل درآمد کرنے کی طرف اشارہ نہیں ہے لیکن روایات اور تاریخیں بتاتی ہیں فرعون نے حضرت موسٰی پر ایمان لانے والون کو ٹکڑے ٹکڑ کر کے درخت ضرما کی شاخوں پر لٹکا دیا تھا۔ اور مورخ طبری کے بقول: “کانوا اول النھار سحرة وآخر النھار شھداء بررة” وہ دن کے پہلے حصے میں جادو گر تھے اور آخری حصے میں نیک پاک شہید تھے۔ اپنے ایمان کی بدولت انہیں فرعون سے کسی قسم کا خوف و ہراس دامن گیر نہیں ہوا۔

فرعون اس قدر شور و ترابے کے باوجود حقیر اور رسوا ہو گای “القلبواصاغرین” اور جادوگر اپنے ایمان کی وجہ سے سعادت اور شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہو گئے۔ (الی ربنا منقلبون)

پیام:

۱۔ دھمکی اور دھونس، صاحبان اقتدار کا آخری حربہ ہوتا ہے۔ (لاقطعن)

۲۔ جو شخص دل کی بصیرت کے ساتھ ایمان لاتا ہے وہ مختلف اور مشکل کیفیات سے گزرتنے باوجود بھی ایمان سے دستبردار نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی قسم کی دھمکی کو خاطر میں نہیں لاتا (قالو انالی ربنا)

۳۔ اصلاحی اور انقلابی افکار کے اثر ور سوخ کو روکنے اور اس کے آگے بند باندھنے کے لئے طاغوت اور طاغوتی طاقتیں انقلابی و رہنماؤں کو قتل کرنے سے بھی باز نہیں آئیں۔ (لاصلبنکم)

۴۔ انسان کی طاغوت۔ نظام اور ماحول کا محکوم نہیں ہے۔ اور اپنے ایک ارادے کے ساتھ اپنی تقدیر بدل سکتا ہے۔ (لاقطعن۔ قالوا)

۵۔ ذلت کی زندگی غیرت کی موت بہتر (الی ربنا منقلبون)

۶۔ اس بات پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ ہم قدیمی مومن اور پرانے عبادت گزار ہیں کیونکہ بعض اوقات چند جادوگر اور کافر بھی یکسر تبدیلی کے ساتھ سب پر سبقت لے جاتے ہیں۔

۷۔ تبلیغی دورانئے میں زمانہ ماضی کے جوانمردوں کی تاریخ کو بھی دہرانا چاہئے۔ (قالوا)

۸۔ معاد اور قیامت پر ایمان انسان کو ہر قسم کے خوف و خطر سے محفوظ رکھتا ہے۔ (الی ربنا منقلبون) 37

۹۔ گمراہ اور منحرفین کی ہدایت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ جادوگروں جیسے کافروں میں بھی ایک ہی مرتبہ تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔ (قالوا۔۔)

۱۰۔ ایمان، انسان کے اندر تبدیلی پیدا کر کے اس کی شخصیت کو بلند و بالا کر دیتا ہے۔ (جو جادوگر کل فرعون کی طرف سے انعام و اکرام کی منتظر تھے آج ان کے مومن ہو جانے کے بعد ان کے لئے اس قسم کی ساری باتیں بے وقعت ہو چکی تھیں۔ (الی ربنا)

آیت ۱۲۶

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّا اِلَّا اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّناَ لَمَّا جَاءَ تْنَاط رَبَّنَا اَفْرِغْنَا عَلَیْنَا صَبْراً َو تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ o

ترجمہ: اور (اے فرعون!) تو ہم سے اس کے علاوہ اور کسی بات کا انتقام لے گا کہ ہم اپنے رب کی آیات پر ایمان لائے جب وہ ہمارے پاس آ گئیں۔ اے ہمار پروردگار! تو ہم کو صبر و شکیبائی فراوانی کے ساتھ عطا فرما اور ہمیں اپنا فرمابردار اور مسلمان بنا کر موت دے۔

ایک نکتہ:

یہ آیت اس مذموم و مسموم پراپگنڈے کا جواب ہے جو فرعون کی طرف سے موسیٰ پر ایمان لانے والوں کے خلاف کیا جا رہا تھا اور سابقہ آیات میں جس کی طرف اشارہ بھی ہو چکا ہے۔

پیام:

۱۔ خدا پر ایمان اور طاغوت کی نافرمانی کی قیمت تو چکانی ہی پڑتی ہے جو کافی بھاری ہوتی ہے۔ (وما تنقم)

۲۔ طاغوتی طاقتیں لوگوں کے عقیدہ توحید کے مخالف ہیں، کود ان کی ذات کے مخالف نہیں ہیں (الاانآمنا)

۳۔ سچے اور پکے مومن کی نشانی، آرام و سکون ، صبر وپائیداری ، صراحت و وضاحت ، شجاعت و شبہامت اور تضرع و دعا ہے۔ (ربنا)

۴۔ طاغوت کی دھمکی کے مقابل میں خدا سے بہترین طلب اور دعا ، ایمان کی بقا اور حفاظت کے لئے ہوتی ہے۔ (افرغ علینا توفنا)

۵۔ فریق مخالف کی دھونس اور دھمکی جس قدر شدید ہو گی اس قدر، صبر و جرأت کی بھی ضرور ت ہو گی۔ (افرغ علینا صبرا) کی درخواست کی گئی ہے کہ دلوں کو صبر سے لبریز کر دے، یہ دعا نہیں کی گئی کہ “انزل علینا صبرا” یعنی ہم پر صبر نازل فرما۔

آیت ۱۲۷

وَقَالَ الْمَلٓا ءُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَزَرُ مُوْسٰی وَقَوْمَہ لِیُفْسِدُوْفِیْ الْاَرْضِ وَیَزَرَکَ اٰلِہٰتَکَ قَالَ سُنِقَتِّلَ اَبْنَآئَھُمْ وَ نَسْتَحْیِِِِِِِِِیْ نِسَآئَھُمْ وَ اَنَا فَوْقَھُمْ قَاْھِرُوْنَo

ترجمہ: اور قوم فرعون کے سرداروں نے (فرعون سے) کہا: آیا تو موسٰی اور اس کے پیروکاروں کو چھوڑ دے گا۔ تاکہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں اور تجھے اور تیرے خداؤں کو چھوڑ دیں؟

تو اس (فرعون) نے کہا: ہم بہت جلد ان کے لڑکوں کو مار ڈالیں گے اور لڑکیوں کو (کنیزی اور خدمتگاری کے لئے) بچائے رکھیں گے۔ اور ہم ان پر پورا پورا تسلط رکھتے ہیں۔

چند نکات:

فرعون نے حضرت موسٰی کی دعوت کو ایک عرصے تک نظر انداز کئے رکھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت موسیٰ کے پیروکاروں کی تبلیغات کا دائرہ وسیع ہونے لگا جس سے قوم فرعون کے سرداروں کو خطرہ محوار ہوا اور فرعون سے اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کای۔

فرعون اپنے آپ کو خالق نہیں بلکہ “رب” سمجھتا تھا اور کہا کرتا تھا۔ “انا ربکم الاعلیٰ‘ ‘ میں تمہارا بہت ہی بڑا رب ہوں (نازعات /۳۷) اور یہ بھی کہ خوا وہ اور اس کے ماننے والے مختلف معبودوں کے قائل تھے۔ فرعونم کی قوم اسے اوردوسرے معبودوں کو “خالق کائنات کے مظاہر” سمجھ کر پوجتے تھے۔

پیام:

۱۔ طاغوتوں کی کچھ خرابیاں ان کے چیلے چانٹوں کی وجہ سے بھی ہوتی ہیں (قال الملأ)

۲۔ انبیاء کے انقلابی اور اصلاحی اقدامات طاغوتی طاقتوں کی نظر میں فتنہ و فساد گڑبڑ اور امن عامہ میں خلل اندازی ہوا رکتے ہیں۔ (لیفسدوافی الارض)

۳۔ مردوں کو ختم کر دینا اور علاقوں کو بچائے رکھنا ایک فرعون سیاست ہے۔ تاکہ جوانمردی اور مردانہ غیرت کا جنازہ نکال دیا جائے اور عورتیں فرعونی سیاست کا آلہ گارنبی اس بعینہ آج کل کی استہماری سیاست کے مانند۔ (سنتقل ابنا ئھم و نستحی نسائھم)

۴۔ انبیاء دشمن قوتیں نوجوانوں اور عورتوں کے لئے خصوصی پروگرام مرتب کرتی ہیں۔

۵۔ متضاد اور مخالف قسم کے اقدامات فرعونی سیاست کی سرگدانی کی علامت ہوتے ہیں۔ کبھی تو موسیٰ کو قتل کر دینے کے منصوبے تیار کئے جاتے ہیں “ذرونی اقتل موسٰی” (غافر/ ۲۶) لیکن پھر انہیں آزاد چھوڑا جاتا ہے اور اس حد تک آزادی دی جاتی ہے کہ خود فرعون کے طرفداروں کو احتجاج کرنا پڑتا ہے۔

۶۔ خالی خولی وار کھوکھلے نعروں کی بدولت اپنی جھوٹی انا کو بچائے رکھنا “فرعونی سیاست” ہے۔ (انافوقھم قاھرون)

آیت ۱۲۸

وَقَالَ مُوْسٰی لِقَوْمٍ اِسْتَعِیُوْنَ بِااللّٰہِ وَاصْبِرُوْ اَنََّ الْاَرْضَ لِلّٰہِ یُوْرِثُھَا مَنْ یَّشَآ ءُ مِنْ عِبَادِہ وَالْعَاقِبَةُ الْمُتَّقِیْنَo

ترجمہ: حضرت موسٰی نے اپنی قوم سے کہا: اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو اور صبر و پائیداری کا مظاہرہ کرو کیوں کہ اس بات میں قطعاً کوئی شک نہیں کہ زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے کہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور اس کے اختیار میں دے دیتا ہے۔ اور انجام کا (آخری فتح) تو مومنین ہی کے لئے ہے۔

ایک نکتہ:

اس آیات میں دو فرمان اور دو طرح کی خوشخبری بیان کی گئی ہے۔ فرمان یہ کہ خدا اسے مدد ضبط اور صبر اختیار کیا جائے۔ اور خوشخبری یہ کہ زمین کی ولائت اور نیک انجام مومنین کے لئے ہے۔

پیام:

۱۔ آخری کامیابی کے حصول اور دھمکیوں سے محفوظ رہنے کے لئے ضروری ہے کہ خدا اسیت مدد طلب کی جائے، اس پر توکل کیا جائے اور تقویٰ اور پائیداری اختیار کی جائے۔ (استعینوا۔ اصبروا) اس سے بھی مدد حاصل کی جائے اور خود بھی صبر کریں۔

۲۔ حساس مواقع پر رہبر کو چاہئے کہ اپنی امت کی دلجوئی کرے۔ (قال موسیٰ)

۳۔ روشن مستقبل کی امید اسلام سمیت تمام ادیان کے وعدوں میں شامل ہے۔ (العاقبة للمتقین)

۴۔ متقی افراد ایک تو دنیامیں نیک انجام کے حامل ہوتے ہیں۔ (یورثھا من یشاء) اور دوسرے آخرت میں بھی انہی کا نیک انجام ہو گا۔ (والعاقبة للمتقین)

آیت ۱۲۹

قَالُْْوْ اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلُ اَنْ تَاْتِیْنَا وَ مِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَناَ قَالَ عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّھْلِکَ عَدُوُّکُمْ وَ یَسْتَخْلِفُکُمْ فِیْ الْاَرْضِ فَیَنْظُرْ کَیْفَ تَعْلَمُوْنَ o

ترجمہ: (موسٰی کے پیروکاروں نے) کہا: ہمیں تو آپ کے آنے سے پہلے بھی دکھ پہنچائے گئے اور آپ کے آنے کے بعد بھی۔ (موسٰی نے) کہا: امید ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا۔ اور تمہیں زمین میں ان کا جانشین بنائے گا پھر دیکھے گا کہ تم کب عمل کرتے ہو؟

ایک نکتہ:

بنی اسرائیل کو یہ توقع تھی کہ حضرت موسٰی کے قیام اور انقلاب کے بعد سارے کام ایک ہی رات میں ٹھیک ہو جائیں گے۔ اور سارے وسائل سمیت مملکت مسر ان کے قبضہ قدرت میں آ جائے گی اور فرعون والے تب چٹ ہو جائیں گے۔ اسی لئے وہ اس بات مدعی تھے کہ موسیٰ کے انقلاب نے ان کے لئے آسائش فراہم نہیں کی۔ خدا کا جواب یہ ہے کامیابی کے بھی کچھ شرائط ہوتے ہیں۔ مثلاً صبر، استقلال، سعی و کوشش اور توکل برخدا وغیرہ ۔ اگر یہ فراہم ہو جائیں پھر خدائی امداد کی امید ہوتی ہے۔

پیام:

۱۔ الہٰی رہبر بعض اوقات اپنے ہی کم ظرف دوستوں کی تنقید کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ (قالوا اوذینا)

۲۔ اکثر لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ راحت اور آسائش و آرام ہی سعادت اور خوش بختی ہے اگر یہ چیزیں نہ ہوں تو انہیں کامیابی حاصل نہیں ہو گی۔ حالانکہ وہ اس بات سے غافل ہوتے ہیں کہ آسمانی ادیان لوگوں کی زندگی وک صحیح سمت کی طرف رہنمائی کرنے کے لئے ہوتے ہیں ان کی مشکلات ختم کرنے کے لئے نہیں ہوتے (من قبل ان تاتینا ومن بعد)

۳۔ رہبر کو چاہئے کہ ہر قسم کی تنقید کو سنے اور امید افزا پیغام سے نوازے (عسبی ربکم)

۴۔ لوگوں پر حکمرانی آزمائش امتحان کا ایک ذریعہ ہوتاہے، لذت حاصل کرنے کا راستہ نہیں۔ (فینظر کیف)

۵۔ قدرتی، معاشرتی اور فوجی مشکلات کو اپنی راہ اور تدبیروں سے حل کرنا چاہئے معجزات کے ذریعہ نہیں۔ (سابقہ آیت میں “اصبروا‘ اور “بعد ماجئتنا” کے جملے کے بہتر نظر۔

۶۔ عوام الناس حکومت الیہ کے سامنے جوابدہ ہیں (کیف تعملون) فرماتا ہے “کیف اعمل” نہیں کیا۔

آیت ۱۳۰

وَلَاقَدْاَخَذَ اٰلُ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّھُمْ یَذَکَّرُوْنَ ۰

ترجمہ: اور ہم نے فرعون کو طرفداروں کو قحط خشک سالی اور پھل میووں کی کمی کے ذریعہ اپنی گرفت میں لے لیا۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (اور اپنے گمراہی کے رستوں سے باز آ جائیں۔)

ایک نکتہ:

“سنین” جمع ہے “سنة” کی جس کے معنی میں “سال” لیکن جب لفظ “اخذ” کے ساتھ استعمال ہو تو اس کا غالب طور پر معنی “قحط اور خشک سالی میں گرفتار کرنا ہو گا۔

پیام:

۱۔ لوگوں کی تربیت کے لئے بعض دباؤ سے بھی کام لینا پڑھ جاتا ہے۔ (اخذنا)

۲۔ قحط اور خشک سالی یا تو عذاب الہٰی ہوتا ہے یا پھر بیداری کی گھنٹی اور غفلت دور کرنے کے لئے (بالسنین و نقص من الثمرات)

۳۔ ہو سکتا ہے کہ بعض لوگوں کی تبلیغ ولایت کے واسطے کوئی بھی ذریعہ موثرکاتب نہ ہو کیونکہ انسان کو ہدایت کے لئے مجبور تو نہیں کیا جا سکتا۔ (لعلھم)

آیت ۱۳۱

فَاِذَ جَآئَتْھُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْ الَنَا ھٰذِہ وَ اِنْ تُصِبْھُمْ سَیِّئَةٍ یَّطِیْرُوْ ا بِمُوْسٰی وَ مَنْ مَّعَہ اِلَّااِ نَّمَا طَیْرُھُمْ عِنْدَ اللّٰہِ وَلٰکِنْ اَکْثَرُھُمْ لَاْیَعْلَمُوْنَ ۰

ترجمہ: پس جب کوئی خوبی اور بھلائی انہیں خاص حاصل ہوتی تو وہ کہتے یہ ہمارا حق اور ہماری لیاقت اور شائستگی کی وجہ سے ہے لیکن اگر کوئی برائی ان کے دامنگیر ہوتی تو اس سے وہ موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست اور بدفالی سمجھتے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ ان کی تمام نحوستوں کا سرچشمہ خدا کے پاس ہے (اور وہی انہیں ان کی بداعملایوں کی سزاد ے گا) لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔

چند نکات:

“یطیروا” کا صیغہ “تطیر” سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں بدفالی اور نحولت سمجھنا۔ چونکہ عرب لوفگ اکثر کسی پرندے کی پرواز اور اس کی آواز سے بدفالی لیا کرتے تھے۔ پھر ہر قسم کی بدفالی کو “طیرہ” کہا جانے لگا۔ (ازتفیسر نمونہ)

سورہ یس کی انیسویں نحل کی سنتالیسویں اور نسأ کی ۷۸ ویں آیات میں انبیاء حتی سرکار رسالتماب کی ذات سے لوگوں کی بدفالی لینے کا تذکرہ ہے۔

حوادث اور واقعات کے معرض وجود میں لانے کے لئے بدفالی کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ البتہ اس سے ایک نفسیاتی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جو بدگمانی اور کام کے ٹھپ ہو جانے کا سبب بن جاتی ہے اس بناء پر بدفالی لینے سے منع کیا گیا ہے۔ ا ور روایت میں ہے کہ : “جب کسی موقع پر بری فال لو تو فوراً اس کام کو کر گزرو اور بدفالی کی پروا نہ کرو” لیکن نیک فال چوکہ امید و عشق اور تحرک کا موجب ہوتی ہے لہٰذا اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں بدفال کا رواج قدیم اقوام میں بھی پایا جاتا تھا اور آج کی متمدن قوموں میں بھی پایا جاتا ہے۔ حالانکہ روایات میں ہے کہ “بدفالی” خدا کے ساتھ شریک کرنا ہوتی ہے۔” (از تفیسر نمونہ)

پیام:

۱۔ اچھائیوں کی نسبت اپنی طرف اور برائیوں کی نسبت دین اور انبیاء کیطرف یہ انسان مغرور خود متکبر سونے کی علامت ہے۔

۲۔ خرافات اور بدفالی کا منبع جہالت ہے۔ (لایعلمون)

آیت ۱۳۲

وَقَالُوْا مَھْمَا تَاْتِنَا بِہ مِنْ اٰیَةٍ لِتَسْحََرنَا بِھَا فَمَانَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْنَ ۰

ترجمہ: اور (فرعون والوں نے حضرت موسٰی سے) کہا: تم ہمارے پاس جو بھی آیت اور معجزہ لے آؤ جس سے ہم پر جادو کرو ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

ایک نکتہ:

دشمن کوبھی علم تھا کہ موسیٰ کا کام جادو نہیں بلکہ آیت اور معجزہ ہے لیکن اپنے تکبر ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ لیکن فن جادو کے مارہین نے چونکہ اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔ موسٰی کا کام جادو نہیں ہے لہٰذا یمان لے آئے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ فرعون والوں نے حضرت موسیٰ کے کام کو آیت کا نام مذاق کے طور پر دیا ہو۔

پیام:

۱۔ انسان آزاد ہے معجزات کے مقابلے میں بھی ڈٹ جاتا ہے اور ایمان نہیں لاتا۔ (فمانحن لک بمومنین)

۲۔ دشمنان دین کی طرف انبیاء علیہم پر جادو کی تہمت آسان اور عام تھی۔ (تسحرنا)

آیت ۱۳۳

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَوَالْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍِ مُفَصَّلٰتٍ فَاسْتَکْبَرُوْ اَوْ کَا نُوْ قَوْمٍ مُجْرِمِیْنَ ۰

ترجمہ: پس ہم نے ان پر طوفان ، ٹڈی، چھوٹے چھوٹے جانور (متکبر جوئیں، چونٹیاں وغیرہ) مینڈک اور خوں کو بھیجا جو علیحدہ اور آشکار نشانشیاں تھیں، لیکن انہوں نے متکبر سے کام لیا اور بدکاری لوگ تھے۔

چند نکات:

فارسی اور اردو میں “طوفان” کامنی ہے تیز اور تندہو اور آندھی جھکڑا وغیرہ لیکن عربوں میں اسے ” تباہ کن سیلاب” کے معنی میں لیا جاتا ہے۔ اور مفردات راغب میں ہے کہ “ہر عمومی اور وحشت ناک حادثہ کو طوفان کہا جاتا ہے”

’قمل‘ چھوٹے چھوٹے جانوروں مثلاً جوئیں، سنڈیاں، زرعی آفات اور حشرات کے لئے بولا جاتا ہے۔

“خون” بھی فرعون والوں کے لئے عذاب بن کر آیا، یا تو پانی خون ہو جاتا تھا یا پھر ہر شخص کے ناک اور منہ سے خون بہنے لگ جاتا تھا۔

ہر قسم کا مذوکرہ عذاب صرف فرعون والوں کے لئے تھا بنی اسرائیل اس سے محفوظ تھے۔

اس عذاب کی داستان توریت میں بھی موجود ہے۔ (ملاحظہ ہو سفر خروج باب ۱۷ آیت ۲۰۔ پانی کا خون میں تبدیل ہو جانا باب ۸ آیت ۷ مچھروں کی یلغار باب ۹ آیت ۲۵ ادبوں کا ہڑنا باب ۱۰ آیت ۴ ٹڈی دل کی یلغار

پیام:

۱۔ اللہ تعالیٰ کی طرف جسے بار بار کی تنبیہ اور بندوں کی طرف مسلسل بے غوری اس بات کا موجب بن جاتی ہے کہ بندوں ہر سخت سے سخت عذاب نازل ہو۔ (فارسلنا)

۲۔ جانور بھی حکم الہٰی کے پابند ہیں کبھی تو رحمت کے حکم کی پابندی کرتے ہیں جیسے پیغمبر کی حفاظت کے لئے مکڑی کا غار کے منہ پر جالا بنانا، اور کبھی عذاب کے اجرا کے پابند ہوتے ہیں جیسے ابابیل، مینڈک ٹڈی دل وغیرہ۔

۳۔ مصیبتیں عام طور پر تربیتی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ ہرسزا کے بعد مہلت ملتی ہے تاکہ انسان سوچ و بچار کرے اور خدا کی طرف پلٹ آئے لیکن ضد اور ہٹ دھرمی کے مظاہرے پر پھر سزا پھر مہلت پھر سزا۔ (مفصلات)

۴۔ اتمام حجت کے بعد ہی خدا کی طرف سے سزائیں ملتی ہیں۔ پہلے انہیں آیات و معجزات دکھائے گئے جب انہوں نے ان کا انکار کیا اور ہٹ دھرمی پر اتر آئے تو پھر عذاب کی لپیٹ میں آ گئے۔ (فا رسلنا)

۵۔ مایہ رحمت ، ارراہ الہٰی ہی ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو پانی وسیلہ رحمت بن جاتا ہے اور اگر چاہے تو عذاب کا موجب بھی بن جاتا ہے۔ (طوفان)

تفسیرنور

آیت نمبر ۱۳۴ تا ۱۵۵

آیت ۱۳۴ ۔ ۱۳۵

وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیْہِمُ الرِّجْزُ قَالُوْ ا یٰمُوْسٰی ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنْدَ کَ لَئِنْ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ وَ لَنُرْسَلَنَّ مَعَکَ بَنِیْٓ اِسْرَآ ئِیْلَ ۰ فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُمُ الرِّجْزَ اِلٰی ٓ اَجَلٍ ہُمْ بَالِغُوْہُ اِذَا ہُمْ یَنْکُثُوْنَ ۰

ترجمہ: اور جب ان پر کوئی عذاب نازل ہوتا تو (موسٰی کے پاس آ کر) کہتے: اے موسٰی! اپنے اس عہد کی وجہ سے جو خدا نے تمہارے ساتھ کیا ہو اہے (اور تمہاری دعا کو قبول کرتا ہے) ہمارے لئے دعا مانگو کہ اگر اس مصیبت کو ہم سے دور کر دیا تو ہم یقیناً تم پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی یقینی طور پر (رہا کر کے) تمہارے ساتھ روانہ کر دیں گے۔

پس جب ہم نے ان سے ایک مقرررہ مدت تک کے لئے کہ جن تک انہیں پہنچنا چاہئے تھا عذاب کو دور کر دیا تو پھر وہ عہد شکنی کے مرتکب ہونے لگ گئے۔

دو نکات:

“نکث” کے معنی میں بتی ہوئی اس کو کھولنا لیکن اس کے بعد عہد شکنی پر اس کا اطلاق ہونے لگ گیا۔

اس آیت میں “اجل” سے ممکن ہے وہ مدت مراد ہو جو ضرت موسٰی انہیں مہلت کے طور پر دیا کرتے تھے کہ مثلاً فلاں دن یا فلاں وقت عذاب ہر طرف ہو جائے گا، تاکہ انہیں اچھی طرح یہ باور ہو جائے کہ یہ خدائی سزا ہے کوئی اتفاقی سانحہ نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ مراد بھی ہو کہ یہ ضدی اور ہٹ دھرمی قوم آخر کار خداوند عالم کے حتمی قہر و غضب کا شکار ہو کر رہے گی لیکن اس حتمی اور یقینی مقرر کردہ مدت کے پہنچنے اور دریا میں غرق ہونے سے پہلے وقتی طور پر اگر برسے عذاب کو عذا ب اٹھا لیا گیا ہے۔

پیام:

۱۔ ضرورت اور مجبوری انسان کے غرور کو توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ بول شاعر

آنچہ شیران را کندو رویہ مزاج احتیاج الت، احتیاج الت، احتیاج

یعنی چیز شیروں کو روباہ مزاج بنا دیتی ہے، وہ ضرورت ہے، ضرورت ہے اور ضرورت ہے۔ (لماوقع علیہم الرجز)

۲۔ کفار بھی اولیاء اللہ کے توبل سے نتیجہ حاصل کیا کرتے تھے (یاموسی ادع لنا)

۳۔ انسانوں اور مردوں کو غلامی ہائے آزادی دلانا، انبیاء کے منصب میں شامل ہے۔ (لنرسلن معک بنی اسرائیل)

۴۔ لوگوں کے ایسے وعدوں پر کبھی یقین نہ کرنا جو مجبوری کے وقت دیتے ہیں (فلما کشفنا ۔۔ ینکثون)

۵۔ عام طور پر انسان اس وقت سرکشی پر اتر آتا ہے جب رفاہ اور آسائش کی حالت میں ہوتا ہے۔ (کشفنا ۔ ینکثون) 38

۶۔ خوشگوار واقعات اور ناخوش گوار حوارث کی اس نظٓم کائنات میں ایک مدت مقرر ہے۔ (الی اجل)

آیت ۱۳۶

فَانْتَقَمْنَامِنْہُمْ فَاغْرَقْنٰہُمْ فِیْ الْیَمِّ بِاَ نَّہُمْ کَذَّبُوْ ا بِاٰیٰتِنَا وَ کَانُوْعَنْہَا غَفِلِیْنَ ۰

ترجمہ: پس ہم نے ان سے انتقام لے لیا اور انہیں دریا میں غرق کر دیا، کوینکہ وہ ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے اور ان سے غفلت برتے تھے۔ 39

دونکات:

“انتقام” کے معنی سزا ہیے ناکہ کینہ پروری۔

مصر کی قدیم “سمندر اور دریا کو کہتے تھے چونکہ اس داستان کا تعلق مصر سے ہے لہٰذا اس پر ان نعت کو قرآن میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔ (از تفسیر نمونہ۔ منقول نہ معجم الکبیر)

پیام:

۱۔ ناخوش گواریوں اور بلاؤں کا اصل خود ہمارے اندر ہے ۔ اور غفلت کی سزا بہت سنگین ہے (غافلون)

۲۔ جہاں پر خدا وند عالم “رؤف” (مہربان) ہے وہاں پر وہ ’منقتم” (انتقام لینے والا) بھی ہے

آیت ۱۳۷

وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُوْ یُسْتَضْعِفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَہَا الَّتِیْ بَرَکْنَا فِیْہَا ط وَ تَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنٰی عَلَی بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ بِمَا صَبَرُوْا وَدَمَّرْنَا مَا کَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنَ وَقَوْمُہ وَمَاکَانُوْایَعْرِشُوْنَ۰

ترجمہ: اور ہم نے ان (بنی اسرائیل) کو جو کہ مستعفف لوگ تھے (فرعون والوں کے غرق ہو جانے کے بعد) ایسی سرزمین کے مشارق اور منارب کا وارث بنایا کہ جس میں ہم نے برکت قرار دی۔ اور بنی اسرائیل کامیابی کے بارے میں تیرے پروردگار کا اچھا وعدہ پورا ہو گیا اس لئے کہ انہوں نے صبر سے کام لیا۔ اور جو کچھ فرعون اور اس کی قوم (والوں) نے بنایا اور پھیلایا ہوا تھا اسے ہم تباہ و برباد کر لیا۔

دونکات:

جس علاقہ کے بنی اسرائیل وارث ہوئے وہ موجودہ شام، اردن، مصر، لبنان، اور فلسطین کا علاقہ تھا، کہ جس کہ سرزمین مادی برکات کی حامل بھی تھی اور معنوی برکات کی بھی کہ اللہ کے عظیم انبیاء کی بعثت اور دفن کی جگہ ہے۔

جو سرزمین فرعون والوں کے اختیار میں تھی وہ اس قدر وسیع تھی کہ اس کے ہر علاقہ میں متعدد افق اور مختلف طلوع و غروب کے مقامات تھے۔

پیام:

۱۔ صابر اور صاحبان عزم و حوصلہ متصفف ہی زمین کے وارث ہو سکتے ہیں۔ (اورثنا۔ بماصبروا)

۲۔ انبیاء کی حکومت ہی، حکومتِ مستفعفن ہے۔ (یستضعفون)

۳۔ اللہ اپنے وعدے پر عمل کرتا ہے۔ (جیسا کہ موسٰی کی قوم کے صبر کے نتیجہ میں اسے زمین کا وارث بنایا اسی سورت کی آیات ۱۲۸۔۱۲۹ کی روشنی میں)۔

۴۔ زمین گول ہے اور اس کے کئی مشارق اور کئی مغارب ہیں۔

۵۔ زمین کا سرسبز ہونا وار انبیاء کا مقام پیدائش ہونا برکت کے دو عامل ہیں۔ (بارکنا)

۶۔ جو قوم راہ خدا میں اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور صبرو حوصلے سے آگے بڑھتی ہے وہ فاتح اور کامیاب ہے (بماصبروا)

۷۔ طاغوتی طاقتوں کے دباؤ کے مقالبے میں ڈٹ جانا ہوتا ہے ذلت کے ساتھ ہتھیار ڈالنا نہیں ہوتا۔

۸۔ جو معاشرہ الہٰی رنگ اختیار کر چکا ہو وہان طاغوت کے تمام مفہرا ختم کر دینے چاہئیں۔ (دمرنا)

۹۔ صنعت و حرفت، کاشتکماری اور فن تعمیر کے لحاظ سے قوم فرعون بہت ترقی کر چکی تھی۔ (یعرشون)

آیت ۱۳۸

وَجَوَزْنَا بِبَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْْا علَیٰ قَوْمٍ َیعْکِفُوْنَ عَلٰی اَصْنٰامٍ لَّھُمْ قَالُوْا یٰمُوْْسٰی اجْعَلْ لَّنَا اِلٰھًا کَمَا لَھُمْ اٰلِھَةٌ قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْھَلُوْنَ o

ترجمہ: اور ہم نے بنی اسرائیل دریا کے پار کر دیا، پس وہ ایک ایسی قوم کے پاس آئے جو اپنے بتوں کے گرد محبت اور احترام کے ساتھگ عبادت میں لگے ہئوے اور قیام پذیر تھے۔ (یہ کیفیت دیکھتے ہی) انہو ں نے کہا: اے موسیٰ! ہامرے لئے بھی اس طرح خدا بنا دے جس طرح ان کے لئے خدا (الابت) ہیں۔ موسٰی نے کہا: یقیناً تم ایسے لوگ ہو جو نادانی سے کام لیتے ہو۔

ایک نکتہ:

جو لوگ ساری زندگی جادو اور جادوگری سے گزار چکے تھے وہ تو ایک معجزہ دیکھتے ہی امر حد تک مومن ہو گئے کہ فرعون کی ہر قسم کی دھمیاں ان کے ہائے ثبات میں لغزثر پیدا نہ کر سکیں، لیکن موسٰع کے یہ موالی ان سے اس قدر معجزات ملاحظہ کرنے کے باوجودیت پرستی کا منظر دیکھ کر ان سے بتوں کا تقاضا کرنے لگے، بت پرستی کا گمراہ کن منظر دیکھنے کے ساتھ ہی وہ گمراہی کی طرف مائل ہو گئے۔ 40

پیام:

۱۔ انسان بعض اوقات اہم ترین نعمت کو بھی بھلا دیتا ہے (جاوزنا۔ اجعل لنا)

۲۔ عبادت اور پرستش (خواہ حق کی ہو یا باطل کی) انسانی تاریخ کے ساتھ ساتھ چلی آ رہی ہے۔

۳۔ جب تک انسان کا ایمان و عقیدہ پختہ نہ ہو جائیں اسے اس وقت تک گمراہ کن اور خطرناک علاقوں میں ہجرت نہیں کرنا چاہئے۔ (فاتوا علی قوم)

۴۔ ماحول مجبور نہیں کرتا لیکن اثر انداز ضرور ہوتا ہے۔ (اتواعلی قوم۔۔۔)

۵۔ افراد ہوں ، اقوام ہر لمحہ انحراف و گمراہی کے خطرات سے دوچار ہیں۔ (قالوایاموسیٰ)

۶۔ تقلیئد اور فیشن پرستی انسانی خصائل میں شامل ہے (کمالھم الھة)

۷۔ خراب قسم کے لوگ اپنے رہبروں سے بھی خرابی ہی کی درخواستے کرتے ہیں۔ (اجعل لنا)

۸۔ ضرور نہیں ہے کہ ہر مقام پر لوگوں کا ہر ایک تقاضا صحیح بھی ہو۔ اور ہر جگہ پر اکثریت اور اس مطالبے اہم نہیں ہوا کرتے۔ (اجعل لنا)

۹۔ بعوض اوقات ایک منفرا کے دیکھ لینے سے (خواہ وہ منظر فلم کیصورت میں ہو یا تصویر کی، ڈش انٹینا کی صورت میں ہو مجلس اور محفل کی دہبر کی تمام تربیتی رحمتوں ہریانی پھر جات اہے۔ (قالو۔ قالوا)

۱۰۔ بیرونی اور اجنبی دشمن سے بدتر اندرونی احمق حمایتی ہوتے ہیں۔ (یموسی اجعل۔۔)

۱۱۔ جہالت ، بت پرستی کی جڑ ہوتی ہے۔ (مجھلون)

آیت ۱۳۹

اِنَّ ھٰوُلٰآءِ مُتَّبِِّرٌ مَّّا ھُمْ فِیْہِ وَ ٰبطِلٌ مَّّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ o

ترجمہ: (موسٰی نے) کہا: یقیناً یہ بت پرست قوم کہکو خبر گمراہی میں یہ رہ رہی ہے ۔ ہلاک ہونے ولای ہے اور جو کچھ یہ لوگ سرانجام دے رہے ہیں سب باطل اور ناکارہ ہے۔

دونکات:

“متبر” کے لفظ کو “تبار” سے لیا گیا ہے جس کے معنی میں “ہلاکت”

یہ آیت شاید حضرت موسٰی کی اس بشارت کو بیان کرائی ہے جو انہوں نے لوگوں کو دی تھی کہ ہمارے اس علاقے میں آنے سے شرک اور گمراہی محو ہو جائے گی۔ (تفسیر مراغی)

پیام:

۱۔ فکری گمراہی بھی ختم ہو جانے والی ہے اور عملی گمراہی بھی۔ انجام کا کب کا خاتمہ ہو کر رہے گا (متبر)

آیت ۱۴۰ ۔ ۱۴۱

قَالَ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْغِیْکُمْ اِلٰھاً وَ ھُوَ فَضَّلَکُمْْ عَلٰی الٰعلَمِیْنَ o َو اِذْ اَنْجَیْنٰکُمْ مِنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْْ مُوْنَکُمْ سُوْءَ الْعَذَابِ یَقَتِّلُوْْنُ اَبْْنَآءَ کُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَ کُمْط وَ فِی ذٰلِکُمْ بَلٓاءٌ مِّنْْ رِّبِّّکُمْْ عَظِیْمٌ o

ترجمہ: (موسٰی نے) کہا: آیا تمہارے لئے اس خدا کے علاوہ کوئی اور معبود تلاش کروں کہ جس نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے؟

اور (اس وقت کو مت بھلاؤ) جب ہم نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی، وہ تمہیں مسلسل سخت عذاب بے دو چار کئے ہوئے تھے۔ تمہارے لڑکوں کو قتل کرایا کرتے تھے اور لڑکیوں کو (خدمت گزاری اور کنیزی کے لئے) زندہ چھوڑ دیتے تھے۔ اور اس مشکل حالت میں تمہارے لئے تمہارے پروردگار کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔

ایک نکتہ:

“یسونکم” کا کلمہ “سوم” سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کے پیچھے جانا۔

پیام:

۱۔ عبادت ہمیشہ سوچ سمجھ کر اور عقل و شکر کے تحت ہونی چاہئے (اغیر اللہ الغی وھوفضلکم)

۲۔ دوسرے لوگوں پر انہیں فضیلت عطا کرنا، خداوندعالم کے خصوصی لطف و کرم کی وجہ سے تھا لہٰذا شکر بھی خصوصی طور پر بجا لانا چاہئے۔ (فضلکم)

۳۔ بنی اسرائیل کی بجات میں اگرچہ دل غوت کا دباؤ اور موسٰی کی قیادت اس نجات کا اہم موجب تھی لیکن حقیقی نجات دہندہ تو خداوند عالم ہی تھا۔ (انجیناکم)

۴۔ طاغوتوں کے ماہر ان کے یارومددگار لوگوں کے بغیر کوئی طاقت نہیں ہوتی (آل فرعون)

۵۔ رہبروں کا کام ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو ہمیشہ خدا کی نعمتیں یاد دلا تے رہیں تاکہ لوگ غفلت کا شکار نہ ہو جائیں۔ (واذانجیناکم)

۶۔ ہر قسم کے ناگوار اور تلخ حوادث خدا کیط رف سے آزمائش وائلڈ کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ (بلا من ربکم)

۷۔ طاغوت اپنی حکومت کو بچانے کے لئے بے گناہوں کا خون بہانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ (یقتلون ابناء کم)

۸۔ عورتیں اور نئی نسل طاغوتی طاقتوں کا زیادہ نشانہ ہوتے ہیں۔

آیت ۱۴۲

وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰی ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَ اَتْمَمْنٰھَا بِعَشْرٍ فَتَمَّّ مِیْقَاتٌ رَبِّہ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً وَ قَالَ مُوْسٰی لِاَخِیْہِ ھٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِی قَوْمِیْ وَ اَصْلَحَ وَ لَاََ تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْْمُفْسِدِیْنَ o

ترجمہ: اور ہم نے (توریت اور آیات الہٰی کے حصول کے لئے کوہ طور پر) موتے اے تیس راتوں کا وعدہ کیا۔ اور اس وعدے کو اس راتوں کے اضافے کے ساتھ مکمل ہو گیا۔ اور (اس وعدہ گاہ کی طرف جانے سے پہلے) موسٰی نے اپنے بھائی ہارون سے کہا: میری امت میں مریے جانشین بن کر رہو اور لوگوں کے کاموں کی اصلاح اور فساد برپا کرنے والوں کے راستے کی پیروری نہ کرو۔

چندنکات:

سورہ بقرہ کی ۵۰ آیت میں حضرت موسٰی سے چالیس راتوں کے وعدے کی بات ہے جب کہ ارشاد ہوتا ہے “وواعدنا موسیٰ اربعین لیلة” لیکن اس آیت میں تیس کے ساتھ دس راتوں کے اضافے کی بات ہے۔ اور امام محمد باقر کے فرماں کے مطابق اس طرح سے بنی اسرائیل کی آزمائش مقصود تھی (تفسیر نورالثقلین صد۲صد ۶۱)

اگرچہ یہ مدت چالی سشبانہ روز پر مشتمل تھی لیکن اس کے باوجود لفظ “لیلة” استعمال کیا گیا ہے اور یہ شاید اس لئے ہے کہ غالب طور پر مناجات رات کو کی جاتی ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ اس دور میں کیلنڈر کی بنیاد چاند پر رکھی جاتی تھی۔ اور چاند رات کو ہی آشکار ہوتا ہے اسی لئے دن کا شمار بھی رات ہی میں ہوتا تھا۔ (لیلة)

“اربعین” یا “چالیس” کے عدد میں بھی کئی راز پوشیدہ ہیں۔ اور ادیان کی نعت میں اس عدد کو ایک خاص مقام حاصل مثلاً

۱۔ حضرت رسول خدا چالیس سال کی عمر میں مبعوث پر سالت ہوئے۔

۲۔ آنحضرت چالیس روز تک حضرت خدیجہ الکبریٰ سے جدار ہے تاکہ آسمانی غذا نازل ہو اور حضرت فاطمہ الزہرا علیہا السلام کی ولادت کا پیش خیمہ قرار پائے۔

۳۔ چالیس دن تک حضرت رسول خدا سے وحی منقطع رہی۔

۴۔ حضرت موسٰی کی قوم چالیس برس تک سرگرداں رہی۔

۵۔ حضرت نوح کے زمانے میں چالیس دن تک بارش برستی رہی۔

۶۔ چالیس حدیثیں یاد کر لینے سے اس بت کے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں کہ جن سے انسان بروز قیامت فقہاء کے زمرے میں محشور ہو گا۔

۷۔ چالیس سال تک روحانی اور معنوی بالدیگی کے اسباب مہیا ہوتے رہتے ہیں اس کے بعد کام مشکل تر اور حساب سخت تر ہو جاتا ہے۔

۸۔ سورہ حمد کو چالیس مرتبہ پانی پر دم کر کے اسے مریض پر چھڑکنے سے مریض کو شفا حاصل ہوتی ہے۔

۹۔ شرابی کی نماز چالیس دن تک قبول نہیں ہوتی۔

۱۰۔ اگر کسی مومن کے جنازہ پر چالیس مومن اس کی نیکی کی گواہی دیدیں تو خداوند عالم اسے بخش دیتا ہے۔۔۔ 41

یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ حضرت موسٰی کی چالیس راتوں کا ماجرا توریت سفر خروج میں بھی بیان ہوا ہے۔

اسلامی روایات کی رو سے ان چالیس راتوں میں سے پہلی تیس راتیں ماہ ذیقعدہ کی تھیں اور دوسری دس اضافی راتیں ذلحجہ کی پہلی دس راتیں تھیں۔ (تفسیر نورالثقلین)

پیام:

۱۔ کسی مقدمہ، خودسازی اور عبادت کے بغیر کسی پر آسمانی کتاب نازل نہیں ہوتی۔ (شبانہ اور عارفانہ عبادات و مناجات لازم ہیں)

۲۔ ذمہ داریاں خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہوں اور خواہ رہبر کی ذات سے ہی کیوں نہ متعلق ہوں انہیں عبادت، اعتکاف اور خدائے رازونیاز سے مانع نہیں ہونا چاہئے۔ (وواعدنا موسیٰ)

۳۔ رازونیاز اور مناجات کے لئے رات کا وقت نہایت ہی موزون ہوتا ہے۔ (لیلة)

۴۔ الہٰی قانون اس قدر مقدس ہوتا ہے کہ اس کو حاصل کرنے کے لئے پرٹوکول کی ضرورت ہوتی ہے۔ (وواعدنا)

۵۔ حکعمت کی بنیاد پر قانون ، فرمان اور پروگرام میں تبدیلی میں کوئی حرج نہیں ہے یہ ایسے ہے جسے کوئی ڈاکٹر کی کسی مریض کی خصوصی کینیت کے پیش نظر اس کے نسخون میں تبدیلی کرتا رہتا ہے۔ (فاتمہنا ھا بعثد)

۶۔ نئے رہبر کو تجربہ کار پرانے رہبر کے روشادوش تحریک کے ہر ایک نشیب و فراز میں ساتھ رہنا چاہئے۔ (لاخیہ)

۷۔ کسی معاشرے کو رہبر کے بغیر نہیں ہونا چاہئے۔ (اخلفنی)

۸۔ رہبر کے تقرر کا حق انبیاء کو حاصل ہے (اخلفی)

۹۔ ایک ہی دور میں بیک وقت دو رہبر نہیں ہو سکتے، جب تک موسٰی موجود رہے، ہارون نے نبی ہونے کے باوجود رہبری کی باگ دوڑ کو ہاتھ میں نہیں لیا۔ اور قیادت موسٰی موجود رہی اور جب موسٰی نے پردہ غیبت اختیار کیا تو ہارون قیامت میں ان کے جانشین قرار پائے۔

۱۰۔ رہبری اور قیامت کے دائر ہ اختیار اور اقتدار میں فرق ہوتا ہے۔ (فی قومی)

۱۱۔ قائد اور رہبر کا کلی اور عمومی فریضہ امت کی اصلاح ہے۔ (اصلح)

۱۲۔ اگر عوام الناس خود بخود فساد و خرابی کی طرف جھک جائیں یا اس کے خواہان ہو جائیں تو رہبر کو اپنے فریضہ سے ہاتھ نہیں اٹھا لینا چاہئے۔ اور اسے کسی سے نہیں گھبرانا چاہئے۔ (لاتتبع سبیل المفسدین)

۱۳۔ باوجودیکہ حضرت ہارون معصوم اور اللہ کے نبی تھے لیکن پھر بھی حضرت موسٰی نے انہیں دو اہم فرائض کی طرف متوجہ کیا ایک تو اصلاح امت اور دوسرے مفسدین کی پیروی نہ کرنا۔

۱۴۔ انبیاء امت کیلئے اس قدر ہمدرد، خیر خواہ اور دل سوز ہوتے ہیں کہ چند مختصر دنوں تک کے لئے بھی اسے سرپرست کے بغیر نہیں چھوڑتے۔ (اخلفنی)

۱۵۔ حضرت موسٰی تو اپنی چند روزہ اور عارضی غیبت کے لئے اپنا جانشین مقرر کر کے جائیں لیکن (عقیدہ اہلسنت کے مطابق) سرور دو عالم، خاتم الانبیاء ابدی اور دائمی عیبت کے لئے اپنا جانشین مقرر نہ فرمائیں؟ 42

۱۶۔ رہبر اور قائد میں دونوں طرح کے کاموں کی صلاحیت ہونی چاہئے ایجابی کاموں کی بھی (اصلح) اور سلبی کاموں کی بھی (لاتتبع)

۱۷۔ ہر کام میں دمت کا تقرر اور تعین ضروری ہے۔ (اریسن)

۱۸۔ خداوند عالم کی اپنے انبیاء کے لئے وعدہ گاہ یاتھ تو کوہ طور ہے یا پھر غار حرا ہے، جبکہ اپنے نیک بندوں کے لئے اس کی ضیافت، دعا و مناجات ہے (واعدنا)

آیت ۱۴۳

وَ لَمَّا جَاءَ مُوْْسٰی لِمِیْقٰاتِنَا وَ کَلَّمَہ رَبَّہ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْ اَنْظُرْ اِلَیْکَط قَالَ لَنْ تَرٰنِیْ وَلٰکِنِ انْظُرْْ اِلٰی الْجَبَلِ فَاِنَّ اسْتَقَرَّ مَکَانَہ فَسَوْفَ تَرٰنِیْْ فَلَمََّا تَجَلَّی رَبَّہ لِلْجَبَلِ جَعَلَہ دَکاًّ وَخَرَّ مُوْسٰی صَعِقَاً فَلَمَّا اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَکَ تُبْتُ اِلَیْکَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُوْمِنِیْنَ o

ترجمہ: اور جب موسٰی ہمارے وعدہ کے مقام پر پہنچ گئے اور اس کے پروردگار نے اس کے ساتھ گفتگو کی تو موسٰی نے عرض کیا: پروردگارا! تو مجھے اپنے آپ کو دکھلا تاکہ میں تجھے دیکھو! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ پائے گا۔ ہاں البتہ پہاڑ کی طرف دیکھ اگر وہ اپنی جگہ برقرار رہا تو مجھے بھی بہت جلد دیکھ لے گا۔ پس جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی اور جلوہ دکھایا (اور اپنی عظمت کا پر تو پہاڑ پر ڈالا) تو پہاڑ کو (صاف زمین کی مانند) ریزہ ریزہ کر دیا اور موسٰی مدہوش ہو کر زمین پر گر پڑے پس جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے: تو پاک و منزہ ہے (کہ دیکھا جائے یا کسی مکان کا محتاج ہو یا تیری ذات محل حوادث ہو) میں تیری طرف واپس آتا ہوں اور سب سے پہلا مومن ہوں۔

چند نکات:

“دک” کے معنی ہیں صاف اور چٹیل میدان پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا حتی کہ چٹیل میدان بن گیا۔

وہ خدائی طاقت آیا عظیم طاقت تھی یا قوت امورج تھی یا کوئی اور تھی طاقت؟ غرض جو کچھ بھی تھا اس نے پہاڑ کو نرم اور جاہے بے جا کر دیا۔

موسٰی کی طرف سے خدا کے دیکھنے کا تقاضا دو مرتبہ ہوا۔ ایک بار تو ذات خداوند عالم کی حقیقت کے دیدار کا مطالبہ تھا جو خود حضرت موسٰی کی طرف سے کیا گیا اور اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ موسٰی میں اس کے دیکھنے کی اہلیت نہیں ہے۔ اور ایک بار بنی اسرائیل کی جاہلانہ خواہش تھی جبکہ وہ بہانے کی تلاش میں تھے اور چاہتے تھے کہ خدا کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھیں اور یہ ماجرا بارہ آیات بعد میں پڑھتیں۔

پیام:

۱۔ خداوند تعالیٰ ان ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھا جا سکتا نہ تو دنیا میں اور نہ آخرت میں (لن ترانی) 43

۲۔ اللہ تعالیٰ کو اس کے آثار کے ذریعہ پہچانا جا سکتا ہے اور اس کے جلوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ (بلکہ یہ بات بھی یاد رہے کہ جلووں کی حقیقت بھی اچھی طرح واضح ہے۔ ان کے آثار کو دیکھا جا سکتا ہے۔ (تجلی۔ جعلہ دکا)

۳۔ انبیاء اپنے مکتب و مذہب کے سرخیل ہوتے ہیں۔ (اول الموٴمنین)

آیت ۱۴۴

قَالَ یٰمُوْسٰی اَنِّی اصْطَفَیْتُکَ عَلیَ النَّاسِّ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِکَلاَمِیْ فَخُذْ مَا اٰتَیْتُکَ وَکُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ o

ترجمہ: خداوند عالم نے فرمایا: اے موسٰی! میں نے تجھے اپنا پیغام پہنچانے اور اپنے ساتھ کلام کمرنے کے لئے تمام لوگوں سے برگزیدہ کیا ہے پس جو کچھ میں نے تجھے (کتاب اور انواح) عطا کی ہیں انہیں پکڑ لے اور شکر گزاروں میں سے ہو جا۔

پیام:

۱۔ حضرت موسٰی اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں اور ان کے اللہ سے تقاضے ، بے ہوش ہو جانا اور توبہ وغیرہ ان کی برگزیدگی سے مانع نہیں ہیں۔ (اصطفتیک) 44

۲۔ خدائی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہئے ، دینی اور تبلیغی مسوٴلیت بھی خدائی نعمتوں میں سے ایک ہے۔

۳۔ طاغوتی حکومت کے خاتمے اور الہٰی معاشرہ کے تشکیل پا جانے کے بعد خدائی احکام و قوانین کے اجرا کی نوبت آتی ہے۔ (فخذمااتیتک)

۴۔ شکر صرف ایک اخلاقی تقاضا ہی نہیں خدا کا حکم اور واجب فریضہ بھی ہے۔ (کن)

آیت ۱۴۵

وَکَتَبْْنَا لَہ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ مَوْعِظَةٍ وَّّ تَفْصِیْلاً لِِکُلِّّ شَیْءٍ فَخُذْ ھَا بِقُوَّةٍ وَ اَمَرَ قَوْمَکَ یَاْخُذُوْا بِاِحْسَنِھَاط سَاُوْرِیْکُمْ دَارَالْفٰسِقِیْنَ o

ترجمہ: اور ہم نے الواح (تورات) میں موسیٰ کیلئے ہر چیز کا موعظہ اور تفصیل لکھ دی (اے موسیٰ ) انہیں پوری طاقت سے لے لے اور قوم کو حکم دے کہ ان میں سے بہتر کو اختیار کریں۔45 بہت جلد میں تمہیں فاسق لوگوں کا ٹھکانہ (جہنم) دکھاؤں گا۔

ایک نکتہ: ممکن ہے کہ قوت سے مراد یہ ہو کہ اگر پوری طاقت کے ساتھ تورات پر عمل کرو گے تو اپنے دشمنوں پر غالب آ جاؤ گے اور ہم تمہیں انکے گھر دکھلائیں گے جو تم حاصل کرو گے۔

پیام:

۱۔ انسان کو تکبر، ہدایت اور آیات خداوندی پر ایمان لانے سے محروم کر دیتا ہے۔ (ساصرف) یعنی خدا وند عالم کسی کو بھی کسی وجہ کے بغیر گمراہی کے رستوں میں نہیں چھوڑتا اور اپنا لطف و کرم اس سے نہیں اٹھاتا۔ بلکہ یہ انسان کے اپنے کرتوت ہوتے ہیں جو اسے گمراہ کرتے اور ایمان سے محروم کر دیتے ہیں۔ (ساصرف۔ یتکبرون)

۲۔ تکبر ایسی خصلت ہے جو دل کو سیاہ اور خداوندعالم کی طرف سے مقرر کردہ ہدایت کے نشانات کو غیر موثر کر دیتا ہے۔ اور خدا کی طرف سے بار بارنازل ہونے والی آیات تھی اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتیں۔ (وان یرواکل آیة)

۳۔ کمزور اور محتاج شخص کو تکبرزیب ہی نہیں دیتا بلکہ کبر زیبا ہے جناب کبریا کے واسطے (بطیرالحق)

۴۔ انسان کو ہدات اور گمراہی کے راستوں میں کسی ایک کو اکتیار کرنے میں آزاد ہے۔ (لاتخذ وہ سبیلا۔ یتخذوہ سبیلا)

آیت ۱۴۶

سَأَصْرِفُ عَنْ آیَاتِی الَّذِینَ یَتَکَبَّرُونَ فِی الْأَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَإِنْ یَرَوْا کُلَّ آیَةٍ لاَیُؤْمِنُوا بِہَا وَإِنْ یَرَوْا سَبِیلَ الرُّشْدِ لاَیَتَّخِذُوہُ سَبِیلًا وَإِنْ یَرَوْا سَبِیلَ الغَیِّ یَتَّخِذُوہُ سَبِیلًا ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَکَانُوا عَنْہَا غَافِلِینَ

ترجمہ: جوزمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں میں انہیں بہت جلد اپنی آیات پر ایمان سے پھیر دوں گا (وہ یوں کہ) اگر (ہماری قدرت کی) کوئی ھبی نشانی دیکھیں تو ایمان نہیں لائیں گے اور اگر ہدایت کی راہ کو دیکھ لیں تو اسے اختیار نہیں کریں گے اور اگر گمراہی کی راہ کو دیکھ لیں تو اسے اختیار نہیں کریں گے اور اگر گمراہی کی راہ کو دیکھ لیں تو اسے اختیار کر لیں گے، یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور ان سے غفلت اختیار کئے ہوئے تھے۔

پیام:

۱۔ انسان کو تکبر، ہدایت اور آیات خداوندی پر ایمان لانے سے محروم کر دیتا ہے (سا صرف) یعنی خدا وند عالم کسی کو بھی کسی وجہ کے بغیر گمراہی کے راستوں میں نہیں چھوڑتا اور اپنا لطف و کرم اس سے نہیں اٹھاتا۔ بلکہ یہ انسان کے اپنے کرتوت ہوتے ہیں جو اسے گمراہ کرتے اور ایمان سے محروم کر دیتے ہیں۔ (ساصرف۔ یتکبرون)

۲۔ تکبر ایسی خصلت ہے جو دل کو سیاہ اور خداوند عالم کی طرف سے مقرر کردہ ہدایت کے نشانات کو غیر موثر کر دیتا ہے اور خدا کی طرف سے بار بار نازل ہونے والی آیات بھی اسے کوئی فائدہ نہیں پہچا سکتیں۔ (و ان یرواکل آیة)

۳۔ کمزور اور محتاج شخصکو تکبر زیب ہی نہیں دیتا بلکہ کبرزیبا ہے جناب کبریا کے واسطے (بغیرلحق)

۴۔ انسان ہدایت اور گمراہی کے راستوں میں کسی ایک کو اختیار کرنے میں آزاد ہے (لا یتخذوہ سبیلا۔ یتخذوہ سبیلہ)

آیت ۱۴۷

وَالَّذِیْنَ کَذَبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَلِقَآءَ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالَہُمْط ھَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ o

ترجمہ: اور جن لوگوں نے ہماری آیات اور قیامت کے دن کی ملاقات کو جھٹلایا ہے، ان کے اعمال نیت نابود ہو گئے۔ تو کیا ان کے کئے کے علاوہ کوئی اور جزا ملے گی؟

دونکات:

“حبط” کا لفظ “حبطت الناقة” سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے: وہ اونٹنی جس نے زہر کھا لیا ہو اور اس کا پیٹ پھو ل کر اس میں سوراخ ہو جائے اور اس کی آنتیں باہر آ چکی ہوں۔

اس طرح بعض کام ایسے ہوتے ہیں جو انسان کی ساری زندگی کے اعمال کو زہر کی مانند تباہ و برباد کر دیتے ہیں (تفسیر فی ظلال القرآن)

“حبط” “عدل” کے خلاف نہیں ہے بلکہ قانون کے مطابق اور انسان کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ (ھُل یجزون الاماکانوا یعملون)

پیام:

۱۔ کفر اور آیات الہٰی کی تکذیب گزشتہ اعمال کے حبط ہونے کا موجب ہیں (کذبوا۔ حبطت)

۲۔ قیامت کے دن کی جزا اورعذاب ، تجسم اعمال ہی تو ہے (ھل یجزون الاماکا نوا یعملون)

آیت ۱۴۸

وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰی مِنْم بَعْدِہ مِنْ حُلِیِّّھِمْ عَجَلاً جَسَد ًالَّہ خُوَارٌط اَلَمْ یَرَوْا اَنَّہ لَا یُکَلِّمَھُمْ وَلَا یَھْدِیَھُمْ سَبِیْلاً م اِتَّخِذُوْہُ وَ کَانُوْا ظٰلِمِیْنَ o

ترجمہ: اور موسٰی کی قوم نے موسیٰ (کے کوہ طور پر جانے) کے بعد اپنے زیورات سے بچھڑے کا مجسمہ بنایا جس سے گائے کی آواز آتی تھی۔ آیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ بچھڑا نہ تو ان کے ساتھ باتیں کرتا ہے اور نہ ہی انہیں سیدھے راہ کی ہدایت کرتا ہے؟ انہوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا اور ظالم ہو گئے۔

چند نکات:

بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی کا تذکرہ قرآن مجید کی چودہ سورتوں میں موجود ہے۔

ان کی گوسالہ پرستی اچانک اور کسی مقدمہ کے بغیر وجود میں نہیں آ گئی تھی، بلکہ اس کے بھی کئی اسباب تھے ایک تو یہ کہ انہوں نے مصر میں کئی سال تک گائے کی شکل کے بتوں کو دیکھا تھا، جب دریائے نیل سے عبور کر کے اس پار پہنچے تو ان کی نگاہیں پہلی مرتبہ ایسی قوم پر جا پڑیں جو گائے کی پوجا کر رہی تھی اس کا بھی انہوں نے فوری اثر لیا۔

اس کے علاوہ تیس راتوں کی مدت کا چالیس راتوں میں تبدیل ہو جانا بھی اس کا باعث ہو گیا کہ مخالفین کو موقعہ مل جائے اور وہ پھر حضرت موسیٰ کے مرنے کے افواہیں پھیلانا شروع کر دیں یہ پھر عوام الناس کی جہالت اور سامری کا ہنرمند ہاتھ اس کیلئے مرنے سوہاگے کا کام دے گیا ان اسباب کا نتیجہ یہ نکلا کہ موسیٰ کی قوم کے دو خدا پرستی کی بجائے “گوسالہ پرستی” اختیار کر لی۔

سورہ طہ کی ۷۸ ویں آیت میں گوسالہ سازی کی نسبت سامری کی طرف دی گئی ہے لیکن سب سے زیادہ تعجب آور بات یہ ہے کہ تورات (باب ۳۲ سفر خروج) میں اس کی حضرت ہارون کی طرف دی گئی ہے۔

اسی سورت کی ۱۰۹ ویں آیت میں گوسالہ پرستی کی طرف جھکاؤ کی نسبت کچھ لوگوں کی طرف دی گئی ہے سب کی طرف نہیں ارشاد ہوتا ہے۔ “ومن قوم موسیٰ امة۔۔۔”

پیام:

۱۔ دشمن اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے اپنے ہنر اور عوام کے رجحانات سے استفادہ کرتا ہے۔ (بچھڑے کا مجسمہ بنایا۔ لوگوں کی سونے سے محبت ہوتی ہے)

۲۔ سامری کا بنایا ہوا بچھڑا، مجسمہ تھا۔

۳۔ لوگوں کے گمراہی کرنے کے لئے رزق و برق اور شرابے کو بڑی حد تک عمل دخل حاصل ہے۔ (علیھم خوار)

۴۔ ہر آواز کے پیچھے نہیں جانا چاہئے۔ (لہ خوار)

۵۔ انسان کے معبود کو اس کا ہاوی بھی ہونا چاہئے۔ (لایھدیھم)

۶۔ انحرافات، کجرویوں اور گمراہیوں کے خاتمہ کے لئے قابل لمس دلائل سے کام لینا چاہئے۔ بچھڑے کی خدائی کی نفی یوں ثابت ہو گی کہ وہ مصنوع (بنایا ہوا) ہے صانع (بنانے والا) نہیں ہے۔ زمان و مکان اور حجم و شکل کا محتاج ہے۔ اور سب سے آساب بات یہ کہ یہ تو بات کر سکتا ہے اور نہ ہی راہنمائی کرتا ہے۔ (از تفسیر المیزان)

۷۔ جو شخص اپنے ہی ہاتھوں سے بنی ہوئی چیز کا اسیر ہو جائے اور حق کو چھوڑ دے وہ ظالم نہیں تو اور کیا ہے؟ (کانوا ظالمین)

آیت ۱۴۹

وَلَمَّا سَقَطَ فِیْ اَیْدِیْھِمْ وَ رَاَوْا اَنِّھُمْ قَدْ ضَلُّوا لا قَالُوْلَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبَّنَا وَیَغْفِرْ لَنَا لَنَکُوَْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ o

ترجمہ: اور جب انہوں نے اپنا سقوط اپنے ہاتھوں دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ یقینی طورپر گمراہ ہو چکے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارے پروردگار نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہمیں معاف نہ کیا تو ہم حتما خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔

پیام:

۱۔ انسان جب تک اپنے اعمال کا نتیجہ نہ دیکھ لے اپنی خطاؤں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔ (لماسقوط۔۔)

۲۔ انسان اللہ کی رحمت اور مغفرت کے بغیر، زبان اور خسارے میں ہے۔ (خاسرین)

آیت ۱۵۰

وَلَمَّا رَجَعَ مُوْْسٰی اِلٰی قَوْمِہ غَضَبَانَ اَسِفاً لا قاَلَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْ ِنیْ مِنْم بَعْدِیْج اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ َربَّکُم وَاَلْقٰی الْاَلْوَاحَ وَاَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْہِ یَجُرُّہُٓ اِلَیْہِ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْْعَفُوْ نِیْ وَکَادُوْا یَقْتُلُوْ نَنِیْ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَلَاَ تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ o

ترجمہ: اور جب موسٰی (کوہ طور سے) غضبناک اور افسوس کی حالت میں اپنی قوم کی طرف واپس آ گئے اور بچھڑے کی پرستش کو دیکھا تو کہا: تم نے میرے اور میرے بڑے جانشین ثابت ہوئے۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کے حکم سے (کہ جس میں اس نے دس راتوں کا اضافہ کر دیا) سبقت لے گئے؟ (اور تم نے اتنا بھی صبر نہ کیا کہ میں کوہ طور سے واپس آ جاتا) اور تورات کیک الواح کو زمین پر پھینک دیا اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں ) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ (ہارون نے) کہا: اے میرے ماں جائے اس قوم نے مجھے کمزور سمجھ لیا تھا۔ (میری بات تک کو نہیں سنا بلکہ) قریب تھا مجھے قتل کر دیتے۔ پس (میں بے گناہ ہوں اور آپ) ایسا کام نہ کریں جس سے میرے دشمنوں کو خوشی حاصل ہو، اور نہ ہی مجھے ظالموں کے ساتھ بھی قرار نہ دیں۔

پیام:

۱۔ افکار و عقائد کی گمراہی کے مقابلے میں دینی غیرت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ (غضبان آسفا)

تحریک کی آفات میں سے ارتدار اور رجحت پسندی ہے۔

۲۔ ارتداو اور رجحت پسندی پر انقلاب اور اصلاحی تحریک کی آفت ہوتی ہے لہٰذا قائد تحریک کو پہلے سے ہی اس بارے میں سوچ سمجھ لینا چاہئے۔ (افسوس بچھڑے کی پرستش پر کیا گیا تھا)

۳۔ اولیاء اللہ کا غم و غصہ لوگوں کے حال پر افسوس کی بنا پر ہوتا، ان کا کوئی ذاتی نظریہ نہیں ہوتا۔ (غضبان آسفا)

۴۔ اگر کسی وقت خدا کی طرف سے کسی چیز کے بیان کرنے یا امرونہیں میں تاخیر ہو جائے تو جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہئے۔ (اوعجلتم امر ربکم)

۵۔ حضرت موسیٰ کی واپسی میں تاخی راور کوہ طور میں ٹھہرنے کی مدت میں تجدید، حکم الہٰی سے عمل میں آئیں اس میں حضرت کی اپنی مرضی کا کوئی دخل نہیں تھا بلکہ اس میں تربیت کا پہلو نمایاں تھا۔ (امرر بکم)

۶۔ جس معاشرے کا خمیر مردہ ہو چکا ہو، افکار منحرف ہو چکے ہوں اور سوچ جامد ہو چکی ہو تو ایسی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے جس سے مردہ خمیر زندہ ہو جائیں منحرف افکار راہ راست پر آ جائیں اور جمود ٹوٹ جائے۔ (القی الاانواح واخذ براس اخیہ یجرہ)

۷۔ مرد کے لئے لانبے بال رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ (اخذ براس اخیہ یجرہ)

۸۔ غصہ ور شخص کے سامنے مہر و محبت سے لبریز گفتگو کرنی چاہئیے۔ (قل ابن ام) باجودیکہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے والدین ایک تھے لیکن ہارون نے موسٰی کو “ماں جائے” کہہ کر خطاب کیا۔

۹۔ کل کے متصنف جو فرعون کے عذاب اور شکنجوں سے بچ کر یہاں آ گئے آج اپنے قائدین کو کمزور بنانے کے درپے ہو گئے تھے۔ (استضعفونی)

۱۰۔ انسانی اخلاق کی پستی ملاحظہ ہو، کہ بچھڑے کی پرستش کی خاطر اپنے ولی نعمت کو قتل کی دھمکیاں دینے لگ گئے تھے۔ (وکا دوایقتلوننی)

۱۱۔ ڈانٹ ڈپٹ کے موقع پر یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہئے کہ دشمن کو اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے۔ (لایسئمت)

۱۲۔ ضروری نہیں کہ انبیاء کے تمام اصحاب عادل ہوں بعض اوقات کچھ لوگ مرتد بھی ہو سکتے ہیں۔ (بچھڑے کی پرستش تک کر سکتے ہیں۔)

۱۳۔ جب معاشرہ اور طرح بگڑ چکا ہو تو بعض اوقات انبیاء کی کوششیں بھی مکمل طور پر بار آور ثابت نہیں ہوتیں۔

آیت ۱۵۱

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِاَ خِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِکَ َو اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَo

ترجمہ: (اور جب موسٰی کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو) کیا: پروردگارا! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر دے اور تو سب رحم کرنے والوں میں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

پیام:

۱۔ حضرت موسٰی کی مغفرت طلبی یا تو دوسروں کو سبق دینے کے لئے تھی یا حضرت ہارون پر غصہ کرنے کی وجہ سے تھی۔ یا پھر الواح تورایت کو زین پر پھینکنے کی بنا پر ۔

۲۔ معاشرے کے طوفانی اور بحرانی امام میں قائدین کو دوسروں سے زیادہ دعا اور خداوند کے لطف و کرم کی ضرورت ہوتی ہے۔ (وادخلتافی رحمتک)

۳۔ اپنے ہم کاروں اور معاونین کو کے حق میں بھی دعا کرنی چاہئے۔ (لی ولاخی)

۴۔ بخشش ، خداوند عالم کی رحمت میں داخل ہونے کا مقدمہ ہویت ہے۔ (اغفر، ادحلنا)

۵۔ دعا کے وقت خداوند عالم کے بہترین لطف و کرم اور اعلیٰ صفات کو ذکر کرنا چاہئے۔ (ارحم الراحمین)

آیت ۱۵۲

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْْا الْعِجْلَ سَیَنَا لُھُمْ غَضَبَ مِنْ رَّبِّھِمْ وَذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْْیَاط وَ کَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُفْتَرِیْْنَ o

ترجمہ: بے شک لوگوں نے بچھڑے کو (خدا) بنایا اور ان کے پروردگار کی طر سے غضب انہیں بہت جلد آلے گا اور دنیوی زندگی میں ذلت بھی اور ہم افرا پردازوں کو اسطرح کی سزا دیتے ہیں۔

ایک نکتہ:

اسی سورت کی آیت ۱۴۹ سے پہلے کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ اپنے کئے پر پشیمان ہوئے اور الزاہات سے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی توبہ قبول نہیں ہوئی۔ توبہ کی قبولیت صرف اس صورت میں ہوتی ہے جیسا کہ سورہ بقرہ کی تحریت ۵۴ بنائی ہے کہ یہ اپنے آپ پر ظلم ہے اور ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اللہ کے حضور توبہ کریں اور ایک دوسرے کو قتل کریں۔ ’انکم ظلمتم انفسکم باتخاذکم العجل فتوبواالی بارئکم فاقتلو انفسکم”

جی ہاں! خدا کو چھوڑے دینے اور بچھڑے کے پیچھے لگ جانے کی توبہ صرف زبان کے ساتھ “استغفر اللہ” کہنا ہی کافی نہیں بلکہ جس طرح سورہ بقرہ میں بتایا گیا ہے اس کی سزا ور توبہ یہ ہے کہ اپنے ہی ہاتھوں سے ایک دوسرے کو انقلابی قتل کریں تاکہ مشرک کے ساتھ نبردآزمائی کا یہ نظریہ رہتی دنیا تک اور آئندہ اور نسلوں میں باقی رہے۔

پیام:

۱۔ مرتد لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے۔ (غضب من ربھم)

۲۔ خدا کا غضب صرف بنی اسرائیل کے ساتھ خاص نہیں دوسرے اقوام پر بھی نازل ہوا ہے اور ہوتا رہے گا۔ (کذلک)

۳۔ اولیأ خدا کا غضب، خدا ہی کا غضب ہوتا ہے (غضبان آسفا۔ غضب من ربھم)

۴۔ جو لوگ ایمان لانے کی بجائے رزق و برق اور شور شرابے کے حامل بچھڑے کی پرستش میں لگ جاتے ہیں وہ اس دنیا میں بھی رسوا ہوا کرتے ہیں۔ (ذلة فی الحیٰوة الدنیا)

آیت ۱۵۳

وَالَّذِیْنَ عَمِلُوْا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ھَا وَ اٰمَنُوْا اِنَّ رَبَّکَ مِنْم بَعْدِ ھَا لَغَفُوْرُ رَّحِیْمٌ o

ترجمہ: جن لوگوں نے برائیوں کا ارتکاب اور اس کے بعد (پشیمان ہوئے اور) توبہ کر لی اور ایمان لائے تو یقیناً اس کے بعد تمہارا پروردگار بھی بخشنے والا مہربان ہے۔

پیام:

۱۔ راستہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہوا ہے اور توبہ ہر وقت کی جا سکتی ہے۔

۲۔ برخلاف ورزی کی توبہ، اس کی کام کی تلافی ہے، بچھڑے کی پوجا کی توبہ یہ ہے کہ حقیقی معنوں میں لوٹ آنے کے بعد خدا پر ایمان لایا جائے اور اس کی عبادت کی جائے۔ (امنوا) اور وہ بھی اسی طرح جس طرح اس سے پہلی آیت میں اور سورہ بقرہ کی ۵۴ ویں آیت میں بتایا گیا ہے۔

۳۔ حقیقی معنوں میں توبہ کرنے والوں کے لئے خدا کی طرف سے بخشش کے علاوہ اس کی رحمت بھی ان کے شامل حال ہوتی ہے۔ (غفور رحیم)

آیت ۱۵۴

وَ لَمَّا سَکَتَ عَنْ مُّوْسٰی الْغَضَبُ اَخَذَالْاَلْوَاحَ وَ فِیْْ نُسْخَتِھَا ھُدیً وَّ رَحْمَةٌ لِلَّذِیْنَ ھُمْ لِرَبِّھِمْ یَرْْھَبُوْنَ o

ترجمہ: اور جب حضرت موسٰی کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو انہوں نے (زمین سے) الواج (تختیوں) کو اٹھایا اور اس میں لکھا ہو اتھا ان لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔

چند نکات:

“رھب” اور “ترھیب” ایسا خوف ہوتا ہے جس میں اجتناب اور بچاؤ کا پہاڑیاں ہوتا ہے۔

یہ نہیں کیا کہ: موسٰی نے غصے سے دستبرداری اختیار کی” بلکہ فرمایا ہے کہ “غصے نے موسیٰ سے ہاتھ اٹھا لیا” یہ حضرت موسٰی کے غصے پر مکمل کنٹرول کی طرف اشارہ ہے۔

“اخذا لالواح” کے جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ تختیوں کے زمین پر گرنے سے نہ تو وہ ٹوٹیں اور نہ ہی کم و بیش ہوئیں۔

پیام:

۱۔ آسمانی قوانین رحمت خداوندی ہوتے ہیں اور ہدایت کو اسی رحمت و مہربانی کے ساتھ ہونا چاہئے۔ ( ہدی و رحمة )

۲۔ صرف قرآن ہی متقین کے لئے ہدایت نہیں “ھدًی للمتقین ” توریت بھی صاحبان تقویٰ کے لئے مایہ ہدایت ہے۔ (ھدی ۔۔۔ یرھبون)

۳۔ خدا کا خوف، انسان کے لئے رحمت خداوند کے دروازے کھول دیتا ہے۔ (رحمة للذین ۔۔ )

آیت ۱۵۵

وَ اخْتَارَ مُوْسٰی قَوْمَہ سَبْعِیْنَ رَجُلَا لِّمِیْقَاتِنَا فَلَمَّا اَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَھْلَکْتَھُمْ مِنْ قَبْلِ وَ اِیَّایَط اَتُھْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَھَآءُ مِنَّا اِنْ ھِیَ اِلَّا فِتْنَتُکَط تُضِّلُ بِھَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَھْدِیْ مَنْ تَشَآئُط اَنْتَ وَ لِّیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغَافِرِیْنَ o

ترجمہ: اور موسٰی نے ہماری وعدہ گاہ (کی طرف جانے) کے لئے اپنی قوم سے ستر مردوں کا چنا پس جونہنم زلزلے نے انہیں اپنی لپیٹ میں لیا تو موسیٰ نے کہا: پروردگارا! اگر تو چاہتا تو ان لوگوں کو بھی اور مجھے بھی اس (کوہ طور تک پہنچنے) سے پہلے ہلاک کر دیتا، کیا تو ہمیں اس کے بدلے ہلاک کرتا ہے جو ہم نے بے وقوف اور ناسمجھ لوگوں نے سرانجام دیا ہے؟ یہ توتری آزمائش کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ اس آزمائش کے ذریعہ جسے تو (مناسب سمجھے اور) چاہے گمراہ کر دے اور جسے تو چاہے (اور لائق سمجھے) ہدایت کرے تو ہمارا ولی اور سرپست ہے۔ کہیں تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحمت فرما کیونکہ تو بہترین بخشنے والا ہیے۔

چند نکات:

آیا حضرت موسٰی کا ایک متصات (مقام وعدہ) تھا یا کئی؟ اور کیا ان لوگوں کی میقات میں ہلاکت ان کے خدا کے دیدار کے تقاضے کی وجہ سے عمل میں آئی یا گوسالہ پرستی کی وجہ سے؟ اس بارے میں کافی تفصیلی گفتگو ہے لیکن اس کا آیت کے سمجھنے سے کوئی تعلق نہیں لہٰذا ہم اس سے چشم پوشی کرتے ہیں۔

حضرت موسٰی کے اصحاب نے اس قدر معجزات دیکھنے کے باوجود بھی خدا کے دیدار یا اس کی آواز سننے کا شدید اصرار کیا اور ان کی تعداد کستر تھی اور ان ستر لوگوں کو حضرت موسٰی نے سات سو افراد کے درمیان میں سے منتخب کیا تھا۔ اور یہ لوگ کوہ طور پر گئے اور خدائی قہر و غضب میں مبتلا ہو گئے۔ لہٰذا جو معجزات دیکھ چکا ہو اسے مزید بہانے بہل بنانے چاہیں۔

“چالیس کے عدد” کی مانند “ستر کے عدد” میں بھی راز در پوشیدہ ہے۔

پیام:

۱۔ مقام اور اہم مسائل کے لئے جانے کے واسطے برجستہ افراد کا انتخاب ہونا چاہئے۔ تاکہ یہ کس و ناکس اور  ہر سطح کا انسان (واختصار موسٰی)

۔ انبیاء کرام علیہ السلام اپنے تحریک کے لئے ظاہر پر عمل کہتے ہیں تاکہ علم غیب پر۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات انبیاء کے منتخب کردہ افراد نالائق بھی ثابت ہوتے ہیں۔

۳۔ تمام حوادث اور بلاؤں میں خدائی آزمائش ہوتی ہے۔ اور ہر آزمائش میں لوگ درجنوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔

۔ جب حضرت موسٰی جیسے پیغمبر کے منتخب افراد نالائق ثابت ہو سکتے ہیں تو عام لوگ اپنے لئے امام کیونکر منتخب کر سکتے ہیں؟

۔ بعض اوقات قہر خداوند کی ااغ اس قدر شعلہ ور ہو جاتی ہے کہ خشک و تر لباس میں مل جاتے ہیں۔

۔ خدا کی آزمائش اور امتحان میں صفیں ایک دوسرے سے جدا ہو جاتی ہیں۔ (تضل ۔۔ تھدی)

۔ بہانے بنانا احمق اور بے وقوف لوگوں کا کام ہوتا ہے۔ (السفھاء)

۔ دعا مانگنے سے پہلے خدا کی تعریف کرنی چاہئے۔ (انت ولینا فاغفرلنا)

۹۔ جب تک روح کا صفحہ گناہ کی آلودگیوں سے پاک نہیں ہو گا تب تک خدا کی رحمت کو اپنے اند رجذب نہیں کر پائے گا۔ (اغفرلنا۔ ارحمنا)

۱۰۔ خدا کی بخشش اور بندوں کی بخشش میں فرق ہوتا ہے کیونکہ بندوں کی بخشش یا تو دیر سے ہوتی ہے یا منت و احسان جتانے کے ساتھ یا پھر حقارت کا پہلو اپنے ساتھ لئے ہوتی ہے۔ جب کہ بخشش خداوندی ایسی نہیں ۔ (خٰیر الغفرین)

۱۱۔ لوگوں کے طعنے سہنے اور ان کا دباؤ برداشت کرنے سے زیادہ آسان ہے۔ (من قبل وایای)

تفسیرنور

آیت نمبر ۱۵۶ تا ۱۷۰

آیت ۱۵۶

وَاکْتُبْ لَنَا فِی ھٰذِہ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا ھَدٰنَا اِلَیْکَط قَالَ عَذَابِیْ اُصِیْبُ بِِہ مَنْ اَشَآءُ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ کُلَّ شَیْئٍط فَسَاَ کْتُبُھَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُوْتُوْنَ الزَّکٰوةَ وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِنَا یُوْمِنُوْنَ o

ترجمہ: اور (خدا وندا!) تو ہمارے لئے اس دنیا میں اور آخرت میں خیر اور نیکی مقرر فرما اس لئے کرم تیری طرف لوٹ آئے ہیں اور توبہ کر لی ہے۔ (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: میں اپنا عذاب جسے چاہوں (اور وہ مستحق بھی ہو) پہنچاؤں گا، اور ہر رحمت ہر چیز پر چھائی ہے۔ اور میں بہت جلد اپنی اس رحمت کو ان لوگوں کے لئے مقرر کر دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ، زکٰوة ادا کرتے اور ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں۔

چند نکات:

حضرت موسٰی کی سابقہ دعاؤں کے ساتھ اس درخواست کا بھی تعلق ہے۔

“حدنا” کے لفظ کے ساتھ ان لوگوں کی توبہ کی طرف اشارہ ہے جو منحرف ہو گئے تھے اور خدا کے دیدار کا ناجائز مطالبہ کیا تھا۔

پیام:

۱۔ بہترین قدم اور بہترین کام، پائیدار اور دائمی ہو (واکتب)

۲۔ بہترین دعا وہ ہے جو سب سے زیادہ جامع ہو (دنیا و آخرت)

۳۔ خالص دل کے ساتھ خدا کی طرف بازگشت خدائی الطاف و کرم کے حصول کی راہ ہے۔ (ھدنا)

۴۔ خدا کی رحمت بے حدو حساب ہے، اگر کوئی اس تک نہیں پہنچ پاتا تو اس کی اپنی کوتاہی ہے۔ (رحمتی وسعت)

۵۔ رحمت خداوندی لب خیز پر حاوی ہے لیکن عذاب الہٰی ایسا نہیں ہے (عذ؟اب بے اصب بہ۔۔)

۶۔ خدا کای رحمت کی بے انتہا اور لامحدود ہے لیکن اس سے ناگدہ اٹھانے کی شرط یہ ہے کہ تقویٰ اختیار کہا جائے، زکوٰة اداؤں جائے اور ایمان رکھا جائے (یتقون ۔ الزکٰوہ۔ یومنون)

۷۔ خداوند عالم کی رحمت اس دنیا میں سب کے شامل حال ہے (وسعت) لیکن آخرات میں اس سے صرف ایک خاص گروہ ہی فائدہ اٹھائے گا (ساکتبھا للذین۔۔)

آیت ۱۵۷

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیِّ الْاُ مِّیِّ الِّذِیْ یَجِدُوْنَہ مَکْتُوْباً عِنْدَ ھُمْ فِیْ التَّوْرٰةِ وَ الْاِنْجِیْلَ یَاْ مُرُھُمْْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھٰھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یَحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْْْھِمُ الْخَبٰئِثَ وَ یَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَ ھُمْ وَالْاَ غْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْہِمْط فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِہ وَ عَزَّرُوْہ وَ نْصُرُوْہُ وَ اتَّبَعُوْا النُّوْرَ الَّذِیْ اَنْزَلَ مَعَہ اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ o

ترجمہ: جو لوگ اس رسول اور پیغمبر کی اتباع کرتے ہیں جس نے دنیا میں کسی سے کوئی سبق نہیں پڑھا ۔ کہ جس (کے نام و نشان) کو وہ لوگ اپنے پاس موجود تو رات دا نبھل میں لکھا ہوا ہیں (ایسا پیغمبر ہے) جو انہیں نیک کاموں کا حکم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے، اور جو پاک و پاکیزہ چیزیں ہیں ان کے لئے حلال کرتا ہے اور جو بلند اور خبیث چیزیں ہیں ان پر حرام کرتا ہے، اور ان سے بوجھ ہلکا کرتا ہے اور ان پر پڑے ہوئے پھندے ان سے ہٹا دیتا ہے۔ پس جو لوگ ایمان لے آئیں گے اور اس کا احترام کریں گے اور اس (قرآن اور) نور کی اتباع کریں گے جو اس کے ساتھ نازل ہوا ہے تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

چند نکات:

“اُمّی” ایسا کلمہ ہے جو “اُم” کی طرف منسوب ہے، اور اُمیّ اس شخص کو کہتے ہیں جس نے کسی سے کوئی سبق نہ پڑھا ہو، اور بالکل ایسے ہو جیسے شکم مادر سے متولد ہوا ہو۔

بعض حضرات کہتے ہیں “امی” اس شخص کو کہتے ہیں جو “امت” یعنی عوام الناس سے تعلق رکھتا ہو طبقہ اشرافیہ سے اس کا تعلق نہ ہو۔

جبکہ کچھ اور لوگ اسے “ام القری” یعنی مکہ کی طرف منسوب سمجھتے ہیں یعنی “مکہ والا”

“ہم اگرچہ بعض وجوہات کی بناء پر توریت اور انجیل کو تحریف شدہ سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی انہیں تحریف شدہ کتابوں میں حضرت پیغمبر کی ذات سے متعقل کئی ارشادات اور بشارتیں موجود ہیں۔ اور یہ اس بات کا سبب تھے کہ اہل کتاب آنحضرت کی معرفت حاسل کریں اور آپ کو ایسے پہچانیں جیسے باپ اور اپنی اولاد کو پہچناتا ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

توریت بمفر تکوین (پیدائش) فصل ۱۷ نمبر ۱۸، سفر پیدائش (تکفدین) باب ۴۹ نمبر ۱۰،

انجیل: یوحنا باب ۱۴ آیت ۱۵ آیت ۲۶۔

بوقت بعثت مکہ مکرمہ میں کل ۱۷ مرد اور ایک عورت تعلیم یافتہ تھے۔ اور اگر آنحضرت نے کسی شخص سے ایک حرف بھی پڑھا ہوتا تو کبھی بھی اپنے ااپ کو “امی” (کسی سے سبق نہ پڑھا ہوا) کے عنوان سے متعارف نہ کراتے۔

(ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ منقول از فتوح البلان بلاذری نمبر ۴۰۹)

“اغلال” باطل عقائد، خرافات، بت پرستی، باپ دادا کی اندھی تقلید کے بندھنوں اور زنجیروں کو کہتے ہیں۔

پیام:

۱۔ اسلام کا جلیل القدر اور عظیم رسول “امّی” یعنی کسی سے سبق پڑھا ہوا نہیں تھا (الامی) 47

۲۔ بات کو پکا کرنے اورحق کو ثابت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اسمی اور تحریر سند ہو (مکتوبا)

۳۔ اپنے بعد آنے والے رہبر اور قائد کے بارے میں خبر دینا اور اس کی تفصیل بیان کرنا قیادت اور رہبری کے فرائض میں شامل ہے۔ (مکتوباعندھم فی التوراة)

۴۔ بہتر یہی ہے کہ ہر آنے والا مبلغ اپنے بعد آنے ولاے مبلغ کے لئے راہ ہموار کرے

( فی التوراة والانجیل)

۵۔ اگر تورات اور انجیل میں پیغمبر اسلام کا نام و نشان نہ ہوتا تو مخالفین کے لئے بڑ ا آسان سی بات تھی کہ وہ دونوں کتابیں لے آتے اور کہتے کہاں ہے وہ سب کچھ جس کا تم دعویٰ کرتے ہو؟ اور مخالف کو شکست دینے کا یہ بہترین ذریعہ تھا، نہ لشک رکشی کی ضرورت تھی اور نہ ہی اس قدر سرمایہ خرچ کرنے کی، جس سے معلوم ہوتا ہے ان کتابوں میں وہ سب کچھ تھا جس کا قرآن کہتا ہے۔ (یجدونہ)

۶۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر انبیاء عظام علیہم السلام کے تبلیغی پروگراموں میں سرفہرست ہے۔ (یامرھم بالمعروف)

۷۔ غذا کے بارے میں اسلام کی خاص توجہ رہی ہے۔ (یحرم۔ یحل)

۸۔ خدا کی حلال اور حرام کردہ چیزیں فطرت کی بنیاد پر ہیں۔ (طیبات ۔ خبائث)

۹۔ غلط عادات و یوم عوام الناس کے گلے کا زنجیر ہوتی ہیں اور انبیاء و اولیاء اللہ کے علاوہ باقی سب دنیا ان زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ (اصرھم)

۱۰۔ تبلیغ اور تربیت کا اصل انداز یہی ہے کہ پہلے سہولیات فراہم کی جائین پھر قدغن کا سوچا جائے۔ (یحرم سے پہلے “یجل” ہے)

۱۱۔ صرف پیغمبر کی ذات پر ایمان ہی کافی نہیں ان کی حمایت اور عزتے و توقیر بھی لازم ہے۔ (عزروہ۔ نصروہ)

۱۲۔ عزت و احترام اور توقیر ، نصرت، تعاون اور امداد کے ساتھ ہونا چاہئے، ورنہ نفاق ہو گا۔ (عزروہ، نصروہ)

۱۳۔ قرآن ایک ایسا نور ہے جو دل و دماغ کا منور کر دیتا ہے۔ (النور)

۱۴۔ پیغمبر السلام کا احترام اور ان کی نصرت، ان پر ایمان کی مانند کسی خاص زبان یا مکان کے ساتھ متعلق نہیں ہے ہر زمانے اور ہر مکان میں ان کا احترام اور ان کی نصرت فرض ہے، لہٰذا آنحضرت کی قبر مطہر اور آچار باقیہ کا احترام بھی آپ کی نصرت و تکریم کے زمرے میں آتا ہے۔ (عزروہ)

آیت ۱۵۸

قُلْ یٰاَ یُّھَا النَّاسُ اِنِّی رَسُوْلَ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعاً نِ الَّذِیْ لَہ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ یُحْیِ وَ یُمِیْتُ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلَہِ النَّبِیِّ اْْلاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ کَلِمٰتِہ وَ اتَّبِعُوْْہُ لَعَلَّکُمْْ تَھْتَدُوْنَ o

ترجمہ: (اے پیغمبر!) کہہ دیجئے اے لوگو! میں تم سب لوگوں کی طرف خدا کا رسول ہوں کہ آسمانوں اور زمین پر جس کی حکومت ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی زندہ کرتا اور موت دیتا ہے۔ پس تم بھی خدا اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ جو کسی سے سبق نہ پڑھا ہوا پیغمبر ہے جو (خود بھی) خدا اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے۔ اور اسی کی اتباع کرو شاید کہ تم ہدایت پا جاؤ۔

چند نکات:

بعض متشرقین (یا اسلام شناس) حضرات یہ کہتے ہیں کہ: پیغمبر اسلام اپنے “علاقہ” کے لوگوں کی ہدایت کی فکر میں تھے، لیکن جب انہیں کامیابی حاصل ہو گئی تو پھر “عالمین” کی ہادیت کی فکر لے کر آگے بڑھے”

حالانکہ بات وہ نہیں ہے جو یہ لوگ کہتے ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید کی بعض آیات میں ’جمیعا” “کافةٰ” “للعالمین” “ومن بَلغ” وغیرہ جیسے کلمات حضرت رسول خدا کی آفاقی اور عالمی رسالت کو بیان کر رہے ہیں، اور مکہ میں بھی اور کامیابی حاصل کرنے سے پہلے بھی آپ تمام کائنات کے رسول تھے نہ یہ کہ بعد میں اس بارے میں سوچا۔

حضرت امام حسن مجتبیٰ فرماتے ہیں کہ یہودیوں کا ایک گروہ پیغمبر خدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: “آپ سمجھتے ہیں کہ حضرت موسٰی کی طرح اللہ کے رسول ہیں؟ “یہ سن کر آنحضرت نے قدرے سکوت اختیار فرمایا اور کہا: “جی ہاں! میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور اس پر میرے لئے فخر کی کوئی بات نہیں! میں ہوں خاتم الانبیاء پرہیزگاروں کا پیشوا اور رب العالمین کا رسول!”

انہوں نے پھر سوال کیا: “آپ کن لوگوں کی طرف مبعوث کئے گئے ہیں، عرب کی طرف ، عجم کی طرف یا ہماری طرف؟ “جس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی میں سب کی طرف بھیجا گیا ہو خواہ عرب ہوں یا عجم یا تم لوگ! (تفیسر صافی)

لفظ “امی” کا تکرار مسئلہ کی اہمیت پر دلالت کر رہا ہے۔

پیام:

۱۔ حضرت محمد مصطفی کی رسالت آفاقی اور عالمی ہے۔ (الیکم جمیعا) 47 اس لئے عالمی مذہب کے لئے عالمی قائد اور رہبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ البتہ آپ جناب کی عالمی رسالت بھی دوسرے تمام منصوبوں کی مانند مرحلہ وار آگے بڑھتی رہی ابتدا میں ذوالعشیرہ کی دعوت ، پھر ام القریٰ (مکہ) کے لوگ اس کے بعد دوسری دنیا۔

۲۔ نبوت ، توحید اور معاد کا لازمی حصہ ہے، کیونکہ خداوند وحدہ لاشریک تمام کائنات کا مالک ہے، موت اور زندگی بھی اسی کے ہاتھوں میں ہے لہٰذا عالم انسانیت کی رہنمائی اور ہدایت بھی اسی کی طرف سے ہونی چاہئے۔ (فامنوا باللہ و رسولہ النبی الامن الذی)

۳۔ رہبر اور قائد کو اپنی راہ پر ایمان کامل رکھنا ہوتا ہے۔ (یوٴمن باللہ وکلماتہ)

۴۔ خدا اور رسول پر ایمان اور رسول خدا کی اتباع ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ اور پہلو پہلو ہونا بھی ہدایت اور رہنمائی کی دلیل ہے۔ (آمنوا باللہ ورسولہ ۔۔ واتبعوہ لعلکم)

۵۔ قرآن مجید اور حضرت رسول خدا کی سنت و سیرت کی اتباع ضرور ہے۔ (سابقہ آیت میں نور کی اتباع کا تذکرہ تھا اور اس آیت میں پیغمبر خدا کی پیروری کا ذکر ہے)

سورہ اعراف آیت ۱۵۹

ومِنْ قَوْمِ مُوْسٰی اُمَّة ٌیَّھْدُوْنَ بِالْْحَقِّ وَ بِہ یَعْدِلُوْنَ o

ترجمہ: اور موسیٰ کی قوم سے ایک گروہ کے لوگ حق کی طرف ہدایت کرتے اور حق و عدالت کا فیصلہ کرتے ہیں۔

چند نکات:

حق کی ہدایت ، عدم تعصب کی دلیل اور حق شناسی اور حق کی اتباع کی دلیل ہے اور اس حق پرست گروہ کا ضدی مزاج اور ہت دھرم یہودیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس گروہ سے مراد شاید وہ یہودی مراد ہوں جنہوں نے پیغمبر اسلام کی دعوت پر لبیک کہا:۔

پیام:

۱۔ اقلیتوں کے ساتھ تعلق کے سلسلے میں انصاف سے کام نہیں چاہئے۔ اور خدمات اور کمالات کو نظر انداز نہیں کر دینا چاہئے۔

آیت ۱۶۰

وَ قَطَّعْنٰہُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطاً اُمَماًط وَ اَوْحَیْنَا اِلٰی مُوْسٰی اِذِاسْتَسْقٰہُ قَوْمُہٓ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْحَجَرَ فَانْبَجَسَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْناًط قَدْ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَھُْمْط وَظَلَّلْنَا عَلَیْھِمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْناَ عَلَیْھِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰیط کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْط وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَلٰکِنْْ کَانُوْا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَo

ترجمہ:

اور ہم نے موسیٰ کی قوم کو بارہ حصوں میں تقسیم کر دیا تاکہ ان میں سے ہر ایک (بنی اسرائیل کے خاندان سے اور) ایک امت جب موسیٰ سے اس کی قوم نے پانی طلب کیا (تو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی) اپنے عصا کو پتھر پر مارو۔ پس اس پتھر سے پارہ چشمے پھوٹ اٹھے (اور ہر طرف بہنے لگے اور وہ بھی اسطرح کہ) ہر گروہ نے اپنے حصے کے پانی کو اچھی طرح کی غزاؤں من اور سلویٰ کو نازل کیا۔ (اور انہیں کہا) پاک و پاکیزہ روزی جو ہم نے تمہیں عطا کی ہے اس سے کھاؤ۔ ان لوگوں نے (اپنی نافرمانی کی وجہ سے) ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ اپنے اوپر ظلم کرتے رہے۔

چند نکات:

“اسباط” جمع ہے “سبط” کی اور سبط اولاد ، نورسوں اور ایک خاندان کے افراد کو کہا جاتا ہے اور بنی اسرائیل کی اس پر ایک خاندان ی شاخ کو “سبط” کہا جاتا ہے جو اولاد یعقوب میں سے ایک فرزند کی طرف سے پروان چڑھی۔ اور آگے بڑھی۔

“من” شہد کی مانند ایک شیرہ دار غذا کو اور “سلویٰ” بٹیرے کی مانند ایک حلال پرندے کو کہا جاتا ہے۔

“بارہٰ” کا عدد سال کے مہیوں کا، بنی اسرائیل کے نقیبوں کا، پانی کے چشموں کا اور پیغمبر اسلام کے مقدس اور معصوم جانشینوں کا عدد ہے۔ چنانچہ پیغمبر اسلام نے اپنے جانشینوں کی تعداد بنی اسرائیل کے نشینوں کی تعداد کے مطابق بارہ بتائی ہے اور یہ بھی کہ وہ اب قریش سے ہوں گے۔ لیکن دشمنان اہلبیت اصبار نے بڑی کوشش کی ہے کہ یہ تعداد بنی امیہ یا بنی عباس کے خلیفوں سے پوری کجی جائے مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ حضرت پیغمبر کی مذکور حیثیت کو بیٹیوں اسناد کے شیعہ اور سنی مورثین نے نقل کیا ہے۔

ایک ہی وقت میں کئی معجزے رونما ہوئے۔ پتھر پہ عصاکا مارنا ، پانی کا بری مقدار میں پھوٹ کر بہہ نکلنا اور بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کی تعداد بارہ چشموں کا پھوٹنا وغیرہ۔

پیام:

۱۔ کسی اہم معاملے کو چلانے اور امور میں سہولت پیدا کرنے کے لئے منصوبہ بندی اور منصفانہ تقسیم بہت ضروری ہوتی ہے۔ (قطعنا ھم)

۲۔ لوگ اپنی مادی اور اقتصادی ضروریات بھی انبیاء کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے (استقاہ)

۳۔ وسیلہ کی زیادہ اہمیت ،اہمیت ارادہ الہٰی کو حاصل ہے، کہ بعض اوقات لکڑی کا ایک ڈنڈا پر جگہ الہٰی ارادے کے تحت مشکل کشائی کا کام کرتا ہے (بعصاک)

۴۔ اگر ہر گروہ کو معلوم ہو جائے کہ اس نے کہاں مراحہ کرنا ہے تو بہت سی اجتماعی اور معاشرتی مشکلات حل ہو جائیں (قدعلم کل اناس مشربھم) 48

۵۔ اگر مقصد تربیت کجرنا ہو تو ایک موضوع کے تکرار میں کوئی حرج نہیں ہے (یہی تذکرہ سورہ بقرہ کی آیت ۵۶ کے بعد میں بھی موجود ہے۔)

۶۔ حضرت موسٰی کے عصا کی ایک خیریت سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے ، لیکن ان تمام معجزات کے باوجود نااہل لوگوں کے دل پر کوئی اثر نہ ہوا۔

۷۔ لوگوں کے اندر آگاہی اور علم و معرفت پیدا کرو کہ وہ خود ہی عمل کریں۔ (قدعلم کل اناس مشربھم) فرمایا ہے۔ “قد شرب” نہیں فرمایا۔

۸۔ طلب کے بعد اس کی قدوقیمت زیادہ ہوتی ہے۔ ۰استیقاہ، اضرب بعصاک)

۹۔ تمام بارہ گروہوں کا تعلق ایک خاندا سے تھا۔ (قطعنا) فرامایا ہے “جعلنا” انہیں فرمایا۔

۱۰۔ اگر مقصد میں وحدت اور اتفاق و اعاد موجود رہے تو گروہ گروہ ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (قطعنا)

۱۱۔ انسانی جسم کو تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، پانی، ایسی غذا جس سے جسم پروان چڑھے اور ایسی غزا جس سے انرجی اور طاقت پیدا ہو، چنانچہ بنی اسرائیل کے لئے چشمہ اب سیراب ہونے کے لئے تھا “من” طاقت اور انرجی کے لئے اور “سلویٰ” جسمانی نشوونما کے واسطے اس لئے کہ گوشت اور وہ بھی خصوصی طور پر پرندوں کے سفید گوشت میں پروٹین ہوتے ہیں۔)

۱۲۔ بادلوں کی حرکت و پیدائش، ان کا اپنا کام انجام دینا سب ارادہ الہٰی کا مظہر تھے۔

۱۳۔ ناشکری یا کفران نعمت ، نعمتوں کے منقطع ہو جانے کا سبب ہوتاہے جس کا نقصان ناشکروں کو پہنچتا ہے۔

۱۴۔ جو لوگ یہی ہدایت اور معنویت کے راہوں کے لئے مادی نعمتوں سے بہرہ مند ہیں وہ اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں اور اقوام و ملل کی پستی اور ان کا سقوط ایسے لوگوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے (کانو انفسھم یظلمون)

آیت ۱۶۱

َو اِذْ قِیْلَ لَھُمْ اسْْکُنُوْْْا ھٰذِہ الْقَرْیَةَ وَکُلُوْا مِنْھَا حَیْْثُ شِئْْتُمْ وَقُوْلُوْْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوْْا الْبَابَ سَُجَّداً نَّغْْفِرْ لَکُمْ خَطٰیٰکُمْط سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ o

ترجمہ: اور (یاد کرو ابھی وقت کو) جب ان (بنی اسرائیل) سے کہا گیا کہ اس آبادی (بیت المقدس) میں سکونت اختیار کرو اور اس (کی نعمتوں) سے جہاں اور جیسے چاہے کھاؤ۔ (ان تمام حیلوں بہانوں اور موسیٰ کو ستانے کے بدلے استغفار کے طور پر) کہو “حصٰہ (ہمارے گناہوں کو جھاڑ دے) اور (بیت المقدس کے) دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جاؤ، اس سے ہم تمہاری خطائیں معاف کر دیں گے۔ اور نیک لوگوں کو بہت جلد بیشتر جئزا دیں گے۔

چند نکات:

“حِطہ” کا لفظ اورپر سے نیچے کی طرف نازل ہونے کے معنی میں آتا ہے۔ (منحط اور انحطاط کا بھی اسی سے تعلق ہے) اور اس کا معنی ہے خداوند عالم کی عفو اور رحمت کی درخواست کرنا۔ اور اس بارے حکم خداوندی یہ تھا کہ جب بنی اسرائیل سرزمین بیت المقدس داخل ہوں تو اس لفظ (حصٰہ) کے ساتھ خدائے مغفرت مانگیں۔ (لیکن ان لوگوں نے اس لفظ کامذاق اڑایا اور اسے بگاڑ کر رکھ دیا۔

اس آیت سے ملتی جلتی البتہ قدرے تغاوت کے ساتھ سورہ بقرہ کی ۵۸ ویں اور ۸۹ ویں آیات ہیں۔

روایات میں ہے کہ حضرت ائمہ اظہار علیہم السلام نے فرمایا ہے کہ “نحن باب حطتکم” یعنی ہم ہی تمہاری خطاؤں کی معافی کا دروازہ ہیں۔ یعنی اگر تم ہماری حکومت اور ولایت کے مدار میں داخل ہو جاؤ گے تو خداوند عالم کی رحمت اور بخشش تمہارے شامل حال ہو گی۔

پیام:

۱۔ خداوند عالم انسان کی تمام امدی و معنوی اور دنیوی اور اخروی ضروریات کو پیدا کرتا ہے اور روٹی کپڑا اور مکان جیسی نعمتوں سے استفادہ کے لئے حکم دیتا ہے کہ دعا، استغفار اور سبھی کریں۔

۲۔ اللہ تعالیٰ ایک ہی معذرت خواہی اور خالص دل کے ساتھ توبہ کے ذریعہ بہت سے گناہ بخش دیتا ہے۔ (نغفرلکم خطیئاتکم) 49

۳۔ مقامات مقدسہ میں داخل ہونے کے خصوصی آداب و شرائط ہوتے ہیں (وادخلو الباب سجدا)

۴۔ خدا وند عالم کی عفوومغفرت کے لئے دعا بھی ضروری ہے اع عمل بھی لازمی ہے (قولوا حطة وا دخلوا الباب)

۵۔ نیکوکاروں اور بدکاروں کے درمیان کوئی فرق ہونا چاہئے۔ جب گناہگاروں کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں تو نیک لوگوں کو درجات میں بھی اضافہ ہونا چاہئے۔ (سنزید المحسنین)

آیت ۱۶۲

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ قَوْلًا غَیْرَالَّّذِیْ قِیْلَ لَھُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِجْزاً مِّنَ السَّمَآءْ بِمَا کَانُوْا یَظْلِمُوْنَ o

ترجمہ: پس ان (بنی اسرائیل) میں سے ظالم لوگوں نے اس بات کو جو انہیں کہنا چاہئے تھی اس کے علاوہ میں تبدیل کر دیا، پس ہم نے بھی ان کے ظلم کرنے کی وجہ سے ان پر آسمان سے عذاب نازل کیا۔

چند نکات:

تحریف اور تبدیلی کبھی تو واضح اور آشکارا ہوتی ہے جیسے کسی لفظ کو تبدیل کر دینا، اور کبھی لفظ کی ظاہری صورت کو تو برقرار رکھا جاتا ہے لیکن اس کو روح موضوع اور مفہوم کو تبدیل کر دیا جاتاہے۔ جیسے بنی اسرائیل کو سینچر کے دن مچھلی کے شکار کا حیلہ، (کہ اس کا تذکرہ اگلی آیت میں ہو گا)

قرآن مجید قانون الہٰی میں تین طرح کی تبدیلیوں کو بیان فرماتا ہے۔

۱۔ ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر کسی بات میں تحریف و تبدیلی ۔ جیسے لفظ “حطة” (عفوومغفرت کی درخواست) کی بجائے “حنطة” (گندم) کہنا۔

۲۔ بدنیتی پر مشتمل فریبکاری سے کام لے کر کوء تبدیلی کونا، جیسے بنی اسرائیل نے دریا کے ساحل پر کچھ حوض بنا لئے تھے کہ سنیچر کے دن ان میں مچھلیاں جمع ہو جایا کرتی تھیں اور اس کے دوسرے دن (اتوار) کو شکار کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم سے سینچر کے دن شکار نہیں کیا۔ قرآن مقدس میں ارشاد ہوتا ہے “ولقد علمتم الذین اعتدوامنکم فی السبت” اور اپنی قوم سے ان لوگوں کی حالت تو تم بخوبی جانتے ہو جو سینچر کے دن اپنی حد سے گزر گئے۔ (بقرہ /۶۵)

۳۔ روشن فکری پر مشتمل تبدیلی، جیسے زمانہ جاہلیت میں جنگ کو جاری رکھنے کے لئے حرمت والے چار مہینوں میں موقوف کر دیں، لہٰذا ان مہینوں میں ردوبدل کر کے آگے کر دیا کرتے تھے جس پر یہ آیت نازل ہوا: “انما النئی زیارة فی الکفر” یعنی مہینوں کا آگے پیچھے کرنا کفر ہی کی زیادتی ہے۔ (عموبر /۳۷)

پیام:

۱۔ احکام خداوندی میں ردوبدل اور تحریف و تبدیلی کی سزا خدائی قہر و غضب ہے۔ (رجزا من السمآء)

۲۔ ہٹ دھرمی اور ضد اور وہ بھی مسخرہ بازی پر مبنی ایک ایسا جرم ہے جو کبھی معاف نہیں ہو سکتا (رجزامن سما)

۳۔ انسان کا انجام اس کے اپنے ہاتھ میں ہے اور عذاب، ظلم کا نتیجہ ہوتا ہے۔

آیت ۱۶۳

وَسْئَلْھُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِم اِذْ یَعْدُوْنَ فِیْ السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْہِمْ حِیْتَا نُھُمْ یَوْمَ سَبْتِہِمْ شُرْعاً وَّ یَوْمَ لَایَسْْبِتُوْنَ لَا تَاْتِیْھِمْ کَذٰلِکَ نَبْلُوْ ھُمْْ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْْنَ o

ترجمہ: اور (اے پیغمبر!) ان سے اس آبادی کے بارے میں پوچھئے جو دریا کے کنارے تھے؟ جب وہ (قانون اور) شنبہ کے دن کے بارے میں تجاوز کیا کرتے تھے، جب انکے چھٹی (سینچر) کے دن مچھلیاں بڑی تعداد میں دریا کے کنارے پانی کے اوپر آ جا یا کرتی تھیں۔ اور (دوسرے ایام میں) جب وہ چھٹی نہیں کرتے تھے وہ مچھلیاں بھی ظاہر نہیں ہوا کرتی تھیں اسی طرح ہم ان کے تجاوز اورفسق کی وجہ سے آزمایا کرتے تھے۔

ایک نکتہ:

بنی اسرائیل کا یہ گروہ ساحل سمندر (زیادہ امکان یہی ہے کہ بحیرہ احمر کے کنارے فلسطین کی اس سرزمین میں جسے آج بند ر ایلات کہا جاتاہے) رہا کرتا تھا۔ حکم خداوندی کے مطابق ان کے لئے شنبہ (سینچر) کے دن شکار ممنوع تھا، لیکن اسی دن مچھلیان دوسرے ایام کی نسبت زیادہ جلوہ گری کیا کرتی تھیں جس سے ان لوگوں کے منہ میں پانی بھر آتا، اور یہ ایک خدائی آزمائش تھی۔ اور اس قوم نے مختلف چالیں چل کر قوانین الہٰی کی خلاف ورزی کی اور وہ یوں کہ سمندر کنارے چھوٹے چھوٹے حوض بنا لئے اور ان میں مچھلیوں کے نکلنے کے راستے بند کر دئیے سینچر کے دن جب ان میں سے وافر مقدار میں مچھلیاں آ جایا کرتی تھیں۔ تو باہر نہیں نکل جاتی تھیں اسی لئے وہ اتوار کے دن بڑے آرام سے انہیں پکڑتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم نے حکم الہٰی کے تحت ان کا سینچر کا دن شکار نہیں کیا۔

پیام:

۱۔ اسلاف کی قانون شکنی آنے والی نسلوں کو بھی شرمندہ کرتی ہے۔ (واسئلھم)

۲۔ اسلاف کی بری عادات کا تذکرہ کہ جن کی وجہ سے انہیں تنبیہ کی گئی ہو اگر دوسروں کی عبرت کے لئے نقل کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (عن القریة التی)

۳۔ گناہ کے چہرے پر شرعی پردہ ڈال کر اسے شرعی حیثیت دینا سخت قابل مذمت ہے ۔50

(جس طرح کہ بنی اسرائیل نے اتوار کے دن شکار کے لئے سمندر کے کنارے حوض بنائے اور سینچر کے دن ان میں مچھلیوں کو اکٹھا کر لیا کرتے تھے)

۴۔ ماہی گیری کے ذریعہ گزر اوقات کا سلسلہ اور ساحل نشینی کی زندگی قدیم الایام سے چلی آ رہی ہے۔

۵۔ چھٹی اور عبادت کے دن کاروبار کرنا ایک طرح کا تجاوز ہے۔ (یعدون فی السبت)

۶۔ سمندر کی مچھلیاں بھی حکم الہٰی کے تحت سینچر کے دن کی اور انسانی افراد کی قدرت تشخیص پیدا کر چکی تھیں۔ (تاتیھم۔ لاتا تیھم)

۷۔ اگرچہ خداوند عالم نے مچھلیوں کو لوگوں کے استفادے کے لئے خلق فرمایا ہے لیکن ہفتے میں ایک دن ان کے شکار سے منع کر کے ان لوگوں کی آزمائش کی ہے۔ (حتیانھم)

۸۔ حرمت کا ہر حکم ضروری نہیں کہ طبی خصوصیت کا حاصل بھی ہو، سینچر کے دن کی مچھلیوں میں اور دوسری مچھلیوں میں پروٹین کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں تھا، البتہ کسی اور دلیل کے ساتھ ان کا شکار حرام کیا گیا تھا۔

۹۔ دنیوی اورمادی جلوے بھی خدا کی آزمائش ہوا کرتے ہیں۔ (نبلوھم)

۱۰۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ بھی ایسے مقامات پر انسان کا امتحان لیتا ہے جہاں کے انسانی خواہشات اپنے عروج پر ہوتی ہیں۔ (تاتیھم حیتا نھم) 51

آیت ۱۶۴

وَاِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْھُمْْ لِمَا تَعِظُوْنَ قَوْماَ نِ اللّٰہُ مُھْلِکُھُمْ اَوْمُعَذَّبُھُمْْ عَذَاباً شَدِیْْداًط قَالُوْا مَعْذِرَةًاِلٰی رَبِّکُمْ وَلَعَلَّھُمْ یَتَّقُوْْنَ o

ترجمہ: اور اس وقت کو یاد کرو، جب ان (بنی اسرائیل) میں سے ایک گروہ نے (دوسرے گروہ سے جونہی عن المنکر کر رہا تھا، ہے) کہا: تم ایسے لوگوں کو کس لئے نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ تعالیٰ یا تو ہلاک کرنے والا ہے یا پھر سخت عذاب دینے والا ہے؟ تو انہوں نے جوا بدیا: اس لئے کہ تمہارے پروردگار کے پاس ہمارا عذر موجود ہو اور تاکہ شاید وہ بھی تقویٰ اختیار کر لیں۔

ایک نکتہ:

معلوم ایسے ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے تین گروہ تھے۔ ۱۔ قانونی شکن اکثریت میں مشتمل گروہ۔ ۲۔ دلسوز اور ناصح گروہ اور ۳۔ لاغرض اور بے پرمالہ گوہ ، یہ تیرا گروہ دوسرے گروہ کے افراد سے کہتا تھا، اپنے آپ کو بے فائدہ پریشان نہ رکو، کیونکہ تمہاری باتوں کا ان فاسق لوگوں پر اثر نہیں ہوتا وہ تو میں ہی ہر حال میں جہنمی ۔ لیکن مبلغین کہتے تھے کہ ہماری باتیں اگر نہیں ہیں کم از کم ہم تو خدا کے حوجر اپنا عذر پیش کر سکیں گے۔ جی ہاں! عام طور پر ہر معاشرے کے لوگ اسی قسم کے تین گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

سورہ مرسلات کی چھٹی آیت میں ہے۔ “فالملقیات ذکرا۔ عذرا اور نذرا” یعنی ان لوگوں کی قسم جو ذکر خداوندی دوسرے لوگوں کو القاء کرتے ہیں خواہ اتمام حجت کے طور پر انہیں خبردار کرنے کے واسطے ۔

پیام:

۱۔ نہی عن المنکر، اتمام حجت کے لئے اور خدا کے نزدیک عذر پیش کرنے کے لئے لازم ہے۔ (معذرة)

(ہم اپنے فریضہ پر عمل کرنے کے پابند ہیں نتیجہ کا ضامن نہیں )

۲۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نہ تو خود کسی کو موعظہ کرتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کے موغطہ کو برداشت کرتے ہیں۔ (لم تعظون)

۳۔ اپنی لاپرواہی کے گناہ کی “خدا کی مرضی” سے توجیہ نہیں کرنی چاہئے۔ (لم تعظون قومان اللہ مہلکھم)

۴۔ لاپرواہ قسم کے لوگ، مجرمین اور گناہگاروں کو تنبیہ کرنے کی بجائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والوں پر اعتراض کرتے ہی۔ (لم تعظون)

۵۔ جو لوگ موعظہ اور تربیت کی کوششوں کو بے فائدہ اور غیر موثر سمجھتے ہیں ان کے مقابل میں ڈٹ جانا چاہئے۔ (معذرة)

۶۔ جلد بازی میں فیصلہ نہیں کر دینا چاہئے۔ کسی کے بارے میں فوراً نہیں کہہ دینا چاہئے۔ کہ خداوند عالم اسے عذاب دے گا یا ہلاک کرے گا۔ (مھلکھم اومذبھم)

۷۔ آپ لوگوں کو بھی اس قدر کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے رب کے پاس گھر جائیں تو آپ کے پاس معقول عذر ہونا چاہئے۔ (ربکم) ہے “ربنا” نہیں ہے۔

۸۔ اگر نہی عن المنکر کے اثر کے احتمال نہ بھی ہو، تاہم حجت اور خدا کے نزدیک معقول عذر تو ہو گا۔ لہٰذا اس فریضہ کو ترک نہیں کرنا چاہئے۔

۹۔ اللہ والے، معاشرتی اصلاح سے کبھی نامید نہیں ہوتے۔ (لعلھم یتقون)

آیت ۱۶۵۔۱۶۶

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا ِبہ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْھَوْنَ عَنِ السُّوْْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍ بَئِیْسٍم بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ o فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّانَھُوْا عَنْہُ قُلْنَا لَھُمْ کُوْنُوْا قِرَدَةً خٰاسِئِیْنَ o

ترجمہ: پس جب انہوں نے اس یاد دہانی کو فراموش کر دیا تو ہم نے نہی عن المنکر کرنے والوں کو نجات دیدی اور ظالموں کو ان کے فسق وفجوربجالانے کے سبب سخت عذاب میں گرفتار کر دیا۔

پس جب انہو ں ے اس بات سے سرکشی کی جس سے انہیں روکا گیا تھا تو ہم نے انہیں کہا: تم دھتکارے ہوئے بندر بن جاؤ!

چند نکات:

“بئس” کا لفظ “باس” سے نکلا ہے جس کا معنی ہے “سخت”

سورہ مائدہ/۶۰ میں ہے کہ کچھے لوگ بندر اور سور بن گئے۔ جبکہ یہاں صرف بندر بننے کا تذکرہ ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ دونوں آیات ایک ہی گروہ کے بارے میں ہیں اور آیت کا ظاہر یہی بتاتا ہے کہ وہ لوگ بندروں کی شکل میں تبدیل ہو گئے تھے بندروں کی خصلت نہیں بنائی تھی۔

روایات کے مطابق جب بنی اسرائیل کے موغطہ کرنے والوں نے دیکھا کہ ان کی نصیحت اپنی قوم میں بے اثر ہے تو وہ ان لوگوں سے جدا ہو گئے اور اسی رات عذاب الہٰی نازل ہوا جس نے گناہگاروں اور خاموشی اختیار کرنے والوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ (ازتفسیر نمونہ)

پیام:

۱۔ نہی عن المنکر اگر دوسروں کی ہدایت کا سبب نہ بن سکے، ہماری اپنی نجات کا ذریعہ ضرور ہوتا ہے۔ ( انجینا ینہون الذین )

۲۔ اگر عدم توجہ اور غفلت کی وجہ سے فراموشی کو اختیار کیا جائے تو اس سے سزا مل سکتی ہے۔ (فلما نسوا۔۔۔۔۔)

۳۔ جوا پنے لئے موغطہ اور پندو نصیحت کے راستے بند کر دیتا ہے وہ اپنے لئے خدائی قہر و غضب کے دروازے کھول دیتا ہے (نسوا۔۔ اخذنا)

۴۔ نہی عن المنکر ایک دائمی فریضہ ہے۔ (ینہون) فعل مضارع دوام و استمرار دلالت کرتا ہے،

۵۔ بے پروا قسم کے لوگ ظالم ہیں۔ (الذین ظلموا) اس سے پہلی آیت بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل تین گروہوں میں بٹ چکے تھے۔ ۱۔ ظالم۔ ۲۔ ہندونصحت کرنے والے اور ۳۔ لاپرواہ قسم کے لوگ جو ہر بات پر خاموشی اختیار کر لیتے تھے۔ اس آیت میں خاموشی اختیار کرنے والوں کو بھی ظلم کرنے والوں میں شمار کیا گیا ہے۔ (انجینا الذین ینہون عنہ)

۶۔ بہت بڑا اور بہت سخت عذاب ، مرحلہ ان نیت سے گر جاتا ہے (عذاب بئیس ۔۔۔۔۔ قردة)

۷۔ حد سے تجاوز کرنے والوں کی سزا یہ ہے کہ ان کی صورتیں مسخ ہو جائیں اور متکبرین کی سزا یہ ہے کہ انہیں معاشرے کی دھتکار دیا جائے اوران کی توہین و تحقیر کی جائے۔ (عتوا، قردة خاسئین)

۸۔ جو قومیں قوانین الہٰی کے مقابلے میں غرور اور تکبر کا مظاہرہ کرتی ہیں وہ بندروں کی مانند کبھی تو مشرق والوں کی ور کبھی اہل مغرب کی نقالی کرتی رہتی ہیں۔ (قردة)

۹۔ جو لوگ حکم خداوندی کو مختلف حیلو ں بہانوں سے مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے اپنے چہرے مسخ ہو جاتے ہیں۔ دین کے ساتھ بازیگری کرنے والے، خود ہی بازیگر جانوروں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔

۱۰۔ جو خدا صر ف ایک ہی حکم کے ساتھ ابراہیم کے لئے آگ کو گلستان بنا سکتا ہے، وہ انسان کو بندر میں بھی تبدیل کر سکتا ہے۔

آیت ۱۶۷

وَ اِذْتَاَذِّنَ رَبُّکَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْہِمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُھُمْ سُوٓءَ الْعَذَابِط اِنَّ رَبََََََّکَ لَسَرِیْعُ الْْعِقَابِ وَاِنَّہ لَغَفُوْرُُرَّحِیْمِ o

ترجمہ: اور اس وقت کو یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے اعلان کر دیا کہ قیامت کے دن تک ان (بنی اسرائیل) پر کسی ایسے شخص کو مسلط کرے گا جو انہیں سخت اور برا عذاب دیتا رہے گا یقیناً تمہارا مددگار ، بہت جلد سزا دینے والا ہے اور (توبہ کرنے والوں کے لئے) بخشنے والا اور مہربان ہے۔

ایک نکتہ:

“تاذّن” اور “اذّن” (دونوں) کا معنی اعلان کرنا ہے۔ اور قسم کے معنی کے لئے بھی آتے ہیں۔

پیام:

۱۔ خدا وند عالم کا طریقہ کار تو یہ ہے کہ مجرمین کومہلت دیتاہے، لیکن جو لوگ اس کے آگے اکڑ جاتے ہیں تو انہیں سزا بھی بہت جلد دیتا ہے۔

۲۔ فاسد اور جابر لوگوں کا تباہکار عوام پر تسلط کبھی خدائی سزا اور ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ بھی ہوا کرتا ہے۔ (لیبعثن)

۳۔ اقوام و ملل کی تاریخ زنجیر کڑیوں کی مانند ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہے اور کسی ایک گناہ کی سزا بعض اوقات تاریخی طور پر اس قدر طوانی ہوتی ہے کہ قیامت تک چلی جاتی ہے۔ (الی یوم القیامة)

۴۔ جو لوگ اولیاء اللہ کا منہ چیڑٓتے ہیں وہ ذلیل اور اشرار لوگ ہوتے ہیں۔ (یسومھم۔۔) 52

۵۔ خداوند عالم کی پیشن گوئی یہی ہے کہ ظالم یہودی قوم ہمیشہ ذلیل اور خوار ہی رہے۔ (الی یوم القیامة)

۶۔ توبہ کا دروازہ ہمیشہ اور ہر ایک کے واسطے کھلا ہوا ہے۔ (غفور رحیم)

آیت ۱۶۸

وَ قَطَّعْنٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَماً مِّنْھُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَمِنْہُمْ دُوْنَ ذٰلِکَ وَبَلَوْْنٰھُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّیِّّاٰتِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ o

ترجمہ: اور ہم نے بنی اسرائیل کو روئے زمین پر کئی گروہوں کی صورت میں منتشر کر دیا، ان میں سے کچھ لوگ تو نیک اور صالح ہیں اور کچھ لوگ ان کے علاوہ (ضدی اور ہٹ دھرم) ہیں۔ اور ہم نے انہیں نیکیوں اور برائیوں کے ساتھ آزمایا ہے تاکہ وہ لوٹ آئیں۔

ایک نکتہ:

بنی اسرائیل کو بعض اوقات عزت اور اقتدار مل جاتا ہے تاکہ ہو سکتا ہے کہ وہ خدا کا شکر بجا لائیں اور بعض اوقات انہی سختیوں اور مصیبتوں میں جکڑ دیا جاتا ہے تاکہ ہو سکتا ہے کہ ان میں توبہ اور بازگشت کی حس بیدار ہو جائے۔ انجام کار ایسا ہوتا ہے کہ بعض لوگ صالح بھی ہوتے ہیں اور اسلام کی حقانیت کو صدقہ دل سے قبول کر لیتے ہیں اور بعض کم بخت قسم کے لوگ دنیا پرستی اور ہٹ دھرمی پر ڈٹے رہتے ہیں۔

پیام:

۱۔ بعض اوقات انتشار ، آوارگی اور پراکندگی، خدا کے قہر و غضب کی علامتیں ہوتی ہیں اور مرکزیت اور ہمبستگی لطف خداوندی کی نشانیاں ہوتی ہیں۔ (قطعناھم)

۲۔ انسان، آزاد ہے (منھم الصالحون ومنھم دون ذالک)

۳۔ کسی پر تنقید کرتے وقت اچھے لوگوں کے حق کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ (منھم الصالحون)

۴۔ تلخ اور شیریں واقعات خدا کی آزمائش کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ (بلوناھم)

۵۔ تشویق و ترغیب اور تنبیہ نیز مہر اور قہر دونوں ہی انسان ساز اور تربیت کنندہ ہوتے ہیں۔ (لعلھم یرجعون)

۶۔ انسان کی روحانی تبدیلی اور حق کی طرف اس کی بازگشت امتحان الہٰی کی حکومتوں میں سے ایک حکمت ہے۔ (لعلھم رجعون)

آیت ۱۶۹

فَخَلَفَ مِنْم بَعْدِ ھِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوْا الْکِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ ھٰذَا الْاَدْنٰی وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُلَنَا وَ اِنْ یَّاْتِھِمْ عَرَضٌ مِّثْلُہ یَاْخُذُوْہُط اَلَمْ یُوْخَذْ عَلَیْھِمْ مِّیْثَاقُ الْکِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْہِط وَالدَّارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرُ لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَط اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ o

ترجمہ: پس ان کے بعد ان کی ناخلف اولاد ان کی جانشین ہوئی جو کہ آسمانی کتاب (تورات) کی وارث ہوئی (لیکن اس کی قدر کو نہ جانا) اور اس ناپائیدار دنیا کا مال و متاع سمیٹتی رہی اور (قوانین خداوندی کو ترک کر دینے کے ساتھ ساتھ) کہتی رہی کہ ہم بہت جلد بخش دئیے جائیں گے۔ اور اگر دوسری مرتبہ بھی ان قسم کے مادی منافع ملنے لگ جائیں پھر بھی وہ اسے لے لیں (اور قوانین الہٰی کو ترک کر دیں) آیا ان سے کتاب کا میثاق نہیں لیا گیا تھا کہ خد اکی طرف حق بات کے علاوہ کسی بھی چیز کی نسبت نہ دیں؟ اور ان لوگوں نے اس کتاب اور میثاق کو بارہا (درس کی صورت میں) پڑھا بھی ہے (لیکن عملی طور پر دنیا کی پرستش کی) حالانکہ آخرت کا گھر ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو تقوی اختیار کرتے ہیں، آیا وہ عقل سے کام نہیں لیتے؟

دو نکات:

’خلف” (بروزن حرف) عام طور پر ناخلف اولاد کو کہا جاتا ہے اور “خلف” (بروزن شرف) صالح شائستہ اور لائق اولاد کو کہتے ہیں۔ (ازتفسیر نمونہ، منقول از تفسری مجمع البیان وابوالفتوح)

“عرض” (بروزن صمد) ہر قسم کے سرمائے کو کہا جاتا ہے جبکہ “عرض” (بروزن قرض) صرف نقد رقم کے لئے بولا جاتا ہے۔ چونکہ دنیا ناپائیدار ہے اسی لئے اسے عرض کہا گیا ہے۔ علامہ محسن فیض کاشانی فرماتے ہیں اس آیت میں “عرض” سے مراد “رشوت” ہے۔

پیام:

۱۔ اپنی آنے والی نسلوں کے بارے میں غفلت سے کام نہ لو کہ کہیں وہ رفاہ طلب اور دنیا پرست نہ ہو جائیں! (خلف)

۲۔ دنیا پرستی اور دنیا داری پر انقلاب کے لئے آفت ہوا کرتی ہے۔ (من بعدھم خلف)

۳۔ دنیا ناپائیدار ہے۔ (عرض)

۴۔ یہودی ایک ایسی قوم تھے جو اپنے آپ پر راضی اور خوش تھے نیز بڑی ڈینگیں مارا کرتے تھے۔ (سیغفر لنا) 54

۵۔ بے جا امید بھی بے جا خوف کی مانند خرابی پیدا کر دیتی ہے۔ (سیغفرلنا)

۶۔ حقیقی توبہ کی علامت یہ ہے کہ اگر دوسری مرتبہ خلاف ورزی کا موقع ملے تو اس کا ارتکاب نہ کیا جائے (یاتیھم عرض مثلہ یاخذوہ)

۷۔ آسمانی کتاب کا صرف جان لینا اور اس کا مطالعہ کرنا ہی کافی نہیں ساتھ ہی تقویٰ بھی ضروری ہے (ورؤا الکتاب ، درسوا، یاخذوہ)

آیت ۱۷۰

وَالَّذِیْنَ یُمَسِّکُوْنَ بِالْکِتٰبِ وَاَقَامُوْا الصَّلٰوةَط اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ o

ترجمہ: اور جو لوگ آسمانی کتاب کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں تو ہم بھی یقیناً اصلاح کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کریں گے۔

دو نکات:

قرآن کریم کا عموم قرینہ ہے کہ فاسد اور مفسد اکثریت کے ساتھ نیک اور صالح اقلیت کا تذکرہ بھی کرتا ہے۔

“کتاب” کا لفظ تمام آسمانی کتابوں کو شامل ہے اور آیت کا مفہوم کسی خاص گوہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ ہان البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ گھر گزشتہ آیات کو پیش نظر لایا جائے تو پھر ممکن ہے کہ اس سے مراد “تورات” ہو۔

پیام:

۱۔ حقیقی معنوں میں اصلاح کی دو شرائط ہیں۔ ۱۔ قوانین کے ساتھ مکمل تمسک ۲۔ نماز کے ذریعہ خداوند عالم کے ساتھ مستحکم ربط۔ (مکمل آیت کا مفہوم)

۲۔ آسمانی کتا ب کو پڑھنا ، اسے حفظ کرنا، اسے چھاپنا، اس کی نشر و اشاعت کرنا ہی اصلاح کا موجب نہیں ہوتا بلکہ اس کو مضبوطی سے تھامنا یعنی اس پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ اس طرح سے نجات حاصل ہو، (یمسکون)

۳۔ دین یہودیت میں بھی نماز فرض چلی آئی ہے۔ (اقاموالصلٰوة)

۴۔ اگرچہ نماز آسمانی کتاب کے مضامین کا ایک حصہ ہے لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظر یہاں پر اس کا خصوصیت کے ساتھ نام لیا گیا ہے۔ (اقامواالصلٰوة)

۵۔ بے نماز اور کتاب سے بے خبر لوگ مصلح نہیں بن سکتے۔

۶۔ دین کے جہاں اُخروی فوائد میں وہاں پر اس دنیا میں بھی اس کی زبردست اہمیت ہے (مصلحین)

۷۔ نماز، معاشرے کی اصلاح کا ایک اہم ذریعہ ہے (اقامواالصلٰوة ، مصلحین

تفسیرنور

آیت نمبر ۱۷۱ تا ۱۹۳

آیت ۱۷۱

وَاِذْنَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَھُمْ کَاَنَّہ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوْٓا اَنَّہ وَاقِعٌم بِھِمْ خُذُوْا مَا اٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّةٍ وَ اذْکُرُوْا مَا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ o

ترجمہ: اور (اس وقت کو یاد کرو) جب ہم نے کوہ (طور) کو اس کی اپنی جگہ سے اکھاڑ کر ان کے سروں پر سائبان کی مانند قرار دیدیا اور وہ گمان کرنے لگے کہ یہ ان کے سروں پر گراہی چاہتا ہے اور ہم نے عطا کئے ہیں انہیں مضبوطی کے ساتھ اور سنجیدگی سے لے لو اور جو کچھ ان میں ہے انہیں یاد کر لو (اور ان پر عمل کرو) ہو سکتا ہے کہ تم متقی بن جاؤ۔

چند نکات:

یہ اس سورت کی آخری آیت ہے جو بنی اسرائیل کے بارے میں گفتگو کر رہی ہے آیت ۱۰۱ سے یہاں تک (یہ مسلسل ستر آیتیں ایسی ہیں جو) ان کے بارے میں مسائل کو ذکر کر رہی ہیں)

زیر نظر آیت سے ملتی جلتی سورہ بقرہ کی ۶۱ ویں آیت ہے۔

“نتق” کے معنی ہیں اکٹھا کر پھینک دینا۔

جب حضرت موسیٰ تورات لے کر کوہ طور سے واپس آ گئے تو بنی اسرائیل نے آپ کی مخالفت شروع کر دی، خداوند عالم نے پہاڑ کو زمین سے اکھاڑا اور ان کے سروں پر سائبان کی مانند لٹکا دیا جس سے وہ وحشت زدہ ہو گئے اور وعدہ کیا کہ اُن کی اطاعت کریں گے اور سجدہ میں بھی گر گئے۔

یہاں ہر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا کسی کو مجبور کر کے وعدہ لینا اور اس سے اطاعت کرانا صحیح ہے اور اس سے اطاعت کرانا صحیح ہے اور اس کی قدر وقیمت بھی ہے؟

تو اس جواب یہ ہے کہ ہر مقام پر مجبور کرنا برا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات نشے کے عادی کو مجبور کر کے اس سے نشہ چھڑایا جاتا ہے جو بجائے خود ایک اہم بات ہے البتہ مجبور کر کے اس پر قلبی عقیدہ مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن صحیح اعمال کو معاشرے میں زربدستی طریقے سے بھی رائج کیا جا سکتا ہے علاوہ ازیں بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کسی کام کو زبردستی کرایا جاتا ہے اور پھر وہ آہستہ آہستہ معرفت اور آگاہی اور شعور پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ارادہ اور اختیار سے انجام پانے لگتا ہے۔

پیام:

۱۔ معاشرے کی عمومی تربیت کے لئے بعض اوقات دباؤ اور سختی سے بھی کام لینا پڑتا ہے تاکہ لوگوں کو کارخیر پر آمادہ کیا جا سکے۔ (اذنتقنا ۔۔۔۔ خذوامااتیناکم۔۔۔۔۔ )

۲۔ احکام الہٰی کو عشق و شوق پھر سنجیدگی اور قوت کے ساتھ لینا چاہئے اور ان پر عمل کرنا چاہئے۔

۳۔ آسمانی کتابوں اور دینی رستوارات کا اصل مقصد لوگوں کے دلوں میں تقویٰ پیدا کرنا ہے۔ (لعلکم تتقون)

آیت ۱۷۲

وَ اِذْاَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِ ھِمْ ذُرِیَّتَہُمْ وَ اَشْھَدَ ھُمْ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْط قَالُوْا بَلٰی شَھِدْنَا اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ھٰذَا غٰفِلِیْنَo

ترجمہ: اور اس روز کو یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم کی پشت سے ان کی ذریت کو لیا اور انہیں اپنے آپ پر گواہ بنایا (اور کہا) آیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ تو سب نے کہا: کیوں نہیں؟ ہم گواہی دیتے ہیں (کہ تو ہمارے پروردگار ہے اولاد آدم سے اس طرح کا اقرار اس لئے لیا گیا) تاکہ بروز قیامت یہ نہ کہو کہ ہم اس سے غافل رہے تھے۔

چند نکات:

“ذریت” کے معنی ویسے تو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہیں لیکن عام طور پر اس کا استعمال تمام اولد میں بھی ہوتا ہے۔

آیت میں اولاد آدم سے پیمان لینے کا انداز ذکرنہیں ہوا۔ البتہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم کی تخلیق کے بعد ان کی تمام اولاد باریک لیکن باشعور ذرات کی صورت میں ان کی پشت سے نکالا گیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں مخاطب کر کے ان سے سوال کیا، جس پر انہوں نے خداوندمتعال کی ربوبیت کا اعتراف کیا: اس کے بعد ساری ذریت ان کی سلب اور مٹی میں واپس چلی گئی اور پھر تدریجی اور طبعی طور پر ان سے باہر آتی رہی، اس عالم کو “عالم ذر” اور اس پیمان کو “پیمان الست” اور اس کائنات کو “عالم ِ اَلَست” کہا جاتا ہے۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ “عالم ذر” سے مراد وہی استعداد اور صلاحیتوں کا عالم ہو اور پیمان سے مراد فطرت کا تکوینی پیمان ہو۔ یعنی جب اولاد آدم نطفہ کی صورت میں اپنے بالوں کی صلبوں سے نکل کر ماؤں کے رحموں میں منتقل ہوتی ہے تو اس وقت ایک ذرہ سے زیادہ ان کی حیثیت نہیں ہوتی۔ اور اللہ تعالیٰ توحید کی معرفت کی استعداد اور فطرت اسی طرح حق جوئی کی فطرت ان میں ودیعت کر دیتا ہے۔ اور یہ خدائی راز ایک اندرونی حسّ کی صورت میں ہر ایک کی نہاد وفطرت میں امانت کے طور پر رکھ دی جاتی ہے اور ساتھ ہی ان کی عقل و خرد میں بھی یہی بات بٹھا دی جاتی ہے۔ جب سے خدا کی تلاش اس کی شناخت اور اس کا اقرار ایک خود آگاہ حقیقت کی صورت میں منقش ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے تخلیقی زبان میں ان سے سوال کیا ہے اور انہوں نے بھی اسی زبان میں جواب دیا ہے۔

پیام:

۱۔ خداوند عالم نے توحید کو ہر انسان کی فطرت اورسرشت میں داخل کر دیا ہے۔ (اشھد ھم علی انفسھم)

۲۔ فطرت اور حق جوئی کا میثاق بندوں پر اتمام حجت کی طور پر ہے۔ (ان تقولوایوم القیامة)

۳۔ انسان اپنے وجود کی گہرائیوں میں خداوند عالم کے اقرار کی حس کو ضرور تلاش کرتا ہے اس لئے کہ اس نے عالم ذر میں اس کا اقرار کیا ہوا ہوتا ہے۔

آیت ۱۷۳ ، ۱۷۴

اَوْ تَقُوْلُوْا اِنَّمَا اَشْرَکَ اٰبٰٓائُنَا مِنْ قَبْلُ وَ کُنَّا ذُرِیَّةً مِّنْ م بَعْدِ ھِمْ اَفَتُھْلِکُنَا بِمَا فَعََلَ الْمُبْطِلُوْنَ o وَ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ o

ترجمہ: (ذُریت آدم سے ہم سے یہ سوال و جواب اس لئے کئے) تاکہ یہ نہ کہیں کہ ہمارے باپ دادا تو پہلے ہی سے مشرک تھے اور ہم ان کے بعد ان کی اولاد تھے (اور مجبور ان کی راہوں پر چلتے رہے) تو کیا ہم ٰن اہل باطل کی کارستانیوں کی وجہ سے سزا دے گا اور ہلاک کرے گا؟

اور ہم اس طرح اپنی آیات کو روشن کر کے بیان کرتے ہیں (تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ توحید کا نور ابتدا ہی سے ان کی فطرت میں شامل ہے) اور شاید کہ خداوند (اور توحید کی پاک فطرت) کی جانب لوٹ آئیں۔

پیام:

۱۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت کی فطرت، خدا کی طرف سے اتمام حجت کے طور پر ہوتی ہے اور فطرت کا چراغ اپنے اندر اس قدر طاقت رکھتا ہے کہ اس میں چاروں طرف پھیلائی ظلمت پر اپنا نور ڈالنے کی پوری پوری طاقت ہوتی ہے۔

۲۔ ماحول اور معاشرہ انسان کو مجبور نہیں کرتا۔ (اوتقولوا)

۳۔ اصول دین میں تقلید جائزنہیں ہے (اشرک آباؤنا)

۴۔ اپنے گناہ اور گمراہی کا بوجھ دوسروں کی گردن میں مت ڈالو (اشرک آباؤنا)

۵۔ اپنے اسلاف کا احترام اس حد تک ہے کہ انسان کومشرک نہ بنا دے۔ (ذی یة من بدھم)

۶۔ شرک انسان کو ہلاکت اور یا وہ کوئی اور غلط کایوں تک جا پہنچاتا ہے (تھلکنا ۔۔ مبطلون)

۷۔ آیات الہٰی انسان کو میثاق فطرت اور توحیدی سرشت کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ (لعلھم یرجعون)

آیت ۱۷۵

وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَاَ الَّذِیْ اٰتَیْنٰہ اٰیٰتِنَافَنْسَلَخَ مِنْھَا فَاَتْبَعَہ الشَّیْطٰنُ فَکَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَo

ترجمہ: اور ان لوگوں کے لئے اس شخص کی داستان کو پڑھو کہ جسے ہم نے اپنی آیات عطا کی تھیں، پس اس نے (ناشکری کرتے ہوئے) اپنے آپ کو ان آیات اور علوم سے باہر نکال لیا اور شیطان نے اسے اپنے پیچھے لگا لیا پس وہ گمراہوں میں سے ہو گیا۔

ایک نکتہ:

یہ آیت بنی اسرائیل کے ایک ایسے شخص کے بارے میں ہے جو پہلے پہل تو مومنین اور الہٰی آیات و علوم کے حاد ملن کی صف میں تھا، لیکن بعد میں گمراہ ہو گیا اور شیطان نے اس کے دل میں کئی وسوسے ڈال دیئے تمام تاریخی اور تفسیری کتابوں میں اس کا نام “بلعم باعورا” مذکور ہے۔

حضرت امام رضا سے روایت ہے کہ بلعم باعورا “اسم اعظم” جانتا تھا جس کی وجہ سے اس کی ہر دعا قبول ہوتی تھی لیکن بعد میں فرعون کے دربار میں جا پہنچا۔ اگرچہ وہ آغاز کار میں حضرت موسٰی کا مبلغ تھا، لیکن اس کا انجام بہت خرا ب ہوا۔

قرآن مجید میں اس کا نام تو نہیں لیا گیا لیکن اس کی کارستانیاں ضرور بیان کی گئی ہیں اور حضرت امام محمد باقر کے بقول یہ آیت ہر اس شخص سے مطا بقت رکھتی ہے جو خواہشات نفسانی کو حق پر غالب کرتا ہے (ازتفسیر نورالثقلین) اور اس قسم کے لوگ ہر دور اور ہر زمانے میں پائے جاتے ہیں آیت صرف بلعم سے ہی مخصوص نہیں ہے۔

بلعم باعورا کا قصہ توریت میں بھی ذکر ہوا ہے۔ (تفسیر قرطبی)

پیام:

۱۔ رہبر اور قائد کا فرض بنتا ہے کہ لوگوں کو درپیش آنے والے خطرات سے آگاہ کرے اور ڈرائے۔ (واتل علیھم)

۲۔ انسان کو جس قدر ترقی ملتی جائے اسے کبھی مغرور نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ اسے تباہی کا خطرہ ہر وقت درپیش رہتا ہے صحیح معنوں میں انجام کار ہی اہمیت رکھتا ہے، آغاز کار کو اپنی اہمیت حاصل نہیں، جو جتنا بلند ہو گا اس کا خطرہ بھی اسی قدر زیادہ ہو گا۔ (فانسلخ منھا)

۳۔ میرے انجام کے بارے میں ہر وقت ڈرتے رہنا چاہئے اور اس خطرے کو ہر وقت پیش نظر رکھنا چاہئے کہ کہیں نعمت ، عذاب اور سزا میں نہ بدل جائے!

۴۔ اگر نعمتوں کو ان کے صحیح مصرف میں استعمال نہ کیا جائے، واپس لے لیا جاتی ہیں (آئیناہ آیاتنا فانسلخ)

۵۔ جو خدا سے کٹ جاتا ہے ، شیطان کی گرفت میں آ جاتا ہے اور اس کا لقمہ بن جاتا ہے (فانسلخ مظ فاتبعہ الشیطان)

۶۔ دنیاوی چکا چوند اور شاہی دربار ایسی چیزیں جہاں پر علماء اور دانشوروں کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں ، عوام الناس کا تو خدا ہی حافظ ہے!

۷۔ انسان آزاد ہے، جب چاہے اپنی سمت بدل لے (آتینا آیتنا فانسلنج)

۸۔ جب شیطان کسی میں اپنی متابعت کی صلاحیت دیکھتا ہ تو اس کے پیچھے لگ جاتاہے۔ (فانسلخ فاتبعہ)

۹۔ صرف اکیلا علم ہی نجات دہندہ نہیں ہے۔ دنیا پرست عالم، شیطان کا اسیر ہو سکتا ہے (فاتبعہ الشیطان)

۱۰۔ طاغوتی طاقتیں علماء کو بھی فریب دے سکتی ہیں علماء سوکا انجام بلعم باعوراجیسا ہوتا ہے لہٰذا اے تاریخ کے لئے ایک یادگار سبق کے طور پر باقی رہنا چاہئے۔

۱۱۔ راہ خدا کو چھوڑ دینا حماقت ہے (فکان من الغاوین) اور “غوایت” اس گمراہی کو کہتے ہیں جو حماقت کی وجہ سے اختیار کی جاتی ہے۔

آیت ۱۷۶

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِھَا وَ لٰکِنَّہُ اَخْلَدَ اِلَی الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ ھَوٰہُ فَمَثَلُہ کَمَثَلِ الْکَلْبِ اِنْ َتحْمِلْ عَلَیْہِ یَلْھَثْ اَوْ تَتْرُکْہ یَلْھَثْطذٰٰلِکَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَo

ترجمہ: اور اگر ہم چاہتے تو اس کی قدرومنزلت کو (ان آیات و علوم کی وجہ سے) اورپر لے جاتے (جو ہم نے اسے عطا کئے تھے) لیکن وہ خود زمین (اور مادیات) سے چمٹ گئی اور اپنی خواہش کی اتباع کر لی، تو اس کی مثال اس کے جیسی ہے کہ لگ تو اس پر حملہ کرے تگو وہ منہ کھول کر بھونکنے لگے اور زبان کو باہر نکال لے، اور اگر (حملہ نہ کرے بلکہ) اسے ویسے ہی چھوڑ دے تو بھی وہ ایسا ہی کرے (دنیا پرستوں کا منہ ہمیشہ کھلا رہاتا ہے) کہتے کی یہ مثال ان لوگوں جیسی ہے جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا۔ پس (اے پیغمبر) تم ایسی داستانوں کو بیان کرتے رہو شاید کہ یہ لوگ غور فکر کے نام لیں۔

پیام:

۱۔ آیات خداوندی انسان کی بلندی (مراتب) کاسبب ہیں (لرفعناہ بھا)

۲۔ دنیا کے ساتھ دل لگا انسان کی پستی کا موجب ہوتا ہے اور اس کی معنوی پرواز رکاوٹ پید اکر دیتا ہے۔ (اخلد)

۳۔ لطف خداوندی مختلف طور طریقوں سے حاصل ہوتا رہتا ہے، لیکن انسان اسے اپنے تک پہنچنے سے روکنے کا سبب بن جاتا ہے (لوشئنا لرفعنٰہ بھا ولکن۔۔۔)

۴۔ دنیا پرستی ہو ا وہوس پرستی کے ساتھ ملی ہوتی ہے (اخلا ۔ اتبع ھواہ)

۵۔ غافل لوگوں کو چاپایوں سے تشبیہ دی گئی ہے لیکن علماء سو یا دنیا پرست عالموں کو حریص کتے کی مانند بتایا گیا ہے۔ (کمثل الکلب)

۶۔ بے عمل عالم۔ لوگوں کے نزدیک قابل نفرت ہوتا ہے (کمثل الکلب)

۷۔ دنیا کا بندہ کبھی سکون قلب حاصل نہیں کر پاتا (ان لتحمل علیہ یلھث وترکہ یلعث)

۸۔ دنیا کے ساتھ محبت اور خواہشات نفسانی کی اتالج، انسان کو لاپرواہ کر دیتی ہے (ان تحمل ۔۔۔۔ اوتترکہ۔۔)

۹۔ فریب خوردہ علماء کا انجام لوگوں کے سرمایہ عبرت اور موجب غور وفکر ہوتا ہے۔ (سابقہ آیت میں “واتل” ہے اور اس میں (ناقصص) ہے۔

۱۰۔ حرص اور دنیا پرستی کی کوئی حد انتہا نہیں ہے، دنیا پرستوں کے پاس جس قدر بھی دنیا موجود ہو بھی ان کے لئے کم ہے اور وہ طمع ولالچ کی زبان کھولے کتے کی طرح ہانپ کانپ رہے ہوتے ہیں۔

۱۱۔ قصوں اور داستانوں کو انسان کی فکری ترقی کا موجب بننا چاہئے تاکہ دماغی نشہ یا سرگرمی کا سبب تبلیغی قسم کی داستانیں بیان کرنا انبیاء کا کام ہوت اہے (فاقصص القصص لعلھم یتفکرون)

آیت ۱۷۷ ۔ ۱۷۸

سَاءَ مَثَلَا نِ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَھُمْ کَانُوْا یَظْلِمُوْنَ o مَنْ یَّھْدِ اللّٰہُ فَھُوَ الْمُھْتَدِی وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُوْلٰئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ o

ترجمہ: جن لوگوں نے یہی آیات کو جھٹلایا ہے ا ن کی مثال کس قدر بری ہے، اور یہ لوگ اپنے اوپر خود ہی ظلم کرتے تھے۔

جسے خدا ہدایت کرے وہی ہدایت یافتہ ہوتا ہے، اور جسے خدا گمراہی میں چھوڑ دے پس وہی لوگ ہی خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

چند نکات:

یہ جو انسان اپنے علمی اور معنوی سرمائے کو طاغوت کی تقویت پہنچانے کے لئے خرچ کرتا ہے اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔

ہدایت یافتہ افراد کے لئے مفرد (مھتد) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور گمراہوں کے لئے جمع (خاسرون) کا لفظ لایا گیا ہے اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہدایت یافتہ افراد کا راستہ ایک ہی ہے اور وہ متحد ہیں لیکن گمراہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں اور ان کی راہیں بھی مختلف ہیں۔

ہر چند کہ ہدایت اور گمراہی خدا کے ہاتھ میں ہے لیکن اس کے لئے راہیں ہموار کرنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے اور خداوند عالم حکیم اور رحیم ہے جب تک انسان راہیں ہموار نہیں کرے گا اس کے لطف و رکم یا قہر و غضب کے شامل حال نہیں ہو گا۔

پیام:

۱۔ آیات خداوندی کی تکذیب کرنا اپنے آپ پر ظلم کرنا ہوتا ہے دوسروں پر نہیں۔ (انفسھم کا نوا یظلمون) “انفسھم” کو “یظلمون” ہر مقدم کرنا انحصار کی دلیل ہے۔

۲۔ برا انجام آیات الہٰی کو جھٹلانے والوں کے انتظار میں ہے۔

۳۔ اگر خداوند تعالیٰ کی مہربانی شامل حال نہ ہو تو صرف علم رکھنا نجات اور ہدایت کا موجب نہیں بن سکتا۔ (من یھد اللہ)

آیت ۱۷۹

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَالِجَھَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ لَھُمْ قُلُوْبُ لَّا یَفْقَھُوْنَ بِھَا وَ لَھُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِھَاوَ لَھُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِھَاط اُولٰئِکَ کَالْاَنْعَامِ َبلْ ھُمْ اَضَلُّ اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَ o

ترجمہ: اور یہ بات یقینی ہے کہ ہم نے بہت سے جن وانس کو جہنم کے لئے پید اکیا ہے (کیونکہ) ان کے ایسے دل ہیں جن کے ذریعہ وہ حق کو درک نہیں کرتے آنکھیں ہیں کہ جن کے ذریعہ وہ نہیں دیکھ پاتے ایسے کان ہیں جن کے ذریعے وہ اسے نہیں سنتے وہ چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ یہی لوگ ہی غافل ہیں۔

چند نکات:

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے جن وانس دوزخ کے لئے پیدا کیا گیا ہے جبکہ سورہ ذاریات/۵۶ میں جن وانس کی تخلیق کا سبب عبادت بیان کیا گیا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے “وما خلقت الجن والانس الالیعبدون” تو اان میں سے کس کو صحیح مانا جائے؟

جواب: تخلیق کا اصل مقصد تو عبادت اور خدا پرستی ہی ہے، لیکن انسانوں “لجھنم” پر موجود “لام” عاقبت اور انجام کے لئے ہے مقعید اور ہدف کے لئے نہیں۔ جیسا کہ برھئی کا اصل مقصد تو دڑور دروازے کھڑکیاں وغیرہ تیار کرناہوتا ہے لیکن انہیں دروازوں اور کھڑکیوں کے تختے اور لکڑیاں انگیٹھی میں بھی جلتی ہیں تو یہ اس کا تبعی ہدف ہوتا اصل اور بنیادی مقصد نہیں ہوتا 55

یہاں پر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا فرشتہ زیادہ اہم یا انسان؟ تو اس کا جواب حضرت علی نے یوں دیا ہے کہ فرشتے میں صرف عقل ہوتی ہے اور حیوان میں فقط غریزہ حکم فرما ہوتا ہے۔ لیکن انسان ان دونوں صفات کا حامل ہوتا ہے۔ جس کی عقل اس کے عزیز پر غالب آ گئی وہ فرشتے سے برتر جس کا غریزہ اس کی عقل پر غالب آ گیا وہ حیوان سے بدتر ہو گیا۔ (اولئک کالانعام بل ھم اضل) 56

پیام:

۱۔ آفرنیش اور تخلیق تو رحمت کی بنیاد پر ہوتی ہے لیکن انسان اپنے غلط اختیار کی وجہ سے جہنمی بن جاتا ہے۔ (لھم قلوب۔۔۔)

۲۔ جنات بھی انسانوں کی طرح مکلف ہیں، وہ بھی صاحب اختیار وارادہ ہیں، انہیں بھی سزا اور جزا ملے گی۔ ( من الجن ولانس)

۳۔ جو شخص خدائی نعمتوں سے صحیح معنوں میں فائدہ نہیں اٹھاتا وہ اس سے بدتر ہے جس کے ہر اس قسم کی نعمتیں نہیں ہیں۔ (بل ھم اضل)

۴۔ آنکھ، کان، دل اور زبان رکھنے میں انسان بھی حیوان کے مشابہ ہے لیکن انسان کو چاہئے کہ وہ ان سے بہتر طور پر استفادہ کرے اور زیادہ سے زیادہ بہرہ برداری کرے، ورنہ وہ حیوان کی مانند بلکہ اس سے بھی زیادہ پست ہو ا۔ آنکھ کو چاہئے کہ ظاہری چیزوں کے علاوہ ملکوت کو بھی دیکھے۔ کان کو چاہئے کہ ظاہری شور شرابے کو سننے کے علاوہ باطنی زمزموں کو بھی سنے۔

(انسان معرفت کے ذرائع کی وجہ سے حیوان سے برتر اور بہتر ہے اور اگر یہ نہ ہوں تو حیوان کے برابر ہے (لایفقہون ۔ کالانعام)

۵۔ بے سمجھ اور بے بصیرت انسان مندرجہ ذیل امور میں چوپایوں کی مانند ہیں، بے پرواہی ، شکم پرستی ، استشمار ہونے، بار اٹھانے ، معرفت کی لذت سے محروم ہونے۔۔۔ وغیرہل ہیں۔

۶۔ بے بصیرت انسان مندرجہ ذیل مسائل سے غافل ہوتے ہیں۔

ہدف اور مقصد بے خدا، خود اپنے آپ سے وسائل سے ، آخرت سے اولاد سے، آیات الہٰی سے ، قانون خداوندی سے، خدا کی سابقہ مہربانیوں اور اپنے گناہوں سے۔

۷۔ غافل لوگ تو حیوانات سے بھی گئے گزرے ہوتے ہیں (بل ھم اضل)

۸۔ بہت سے انسان اس لئے جہنم خرید کر لیتے ہیں کہ وہ خداوند عالم کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کو ہدایت اور کمال کی راہوں میں استعمال نہیں کرتے۔ ایسے لوگ آنکھ، کان، دل اور زبان رکھنے کے باوجود غفلت اختیار کئے ہوتے ہیں۔

آیت ۱۸۰

وَلِلّٰہِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِھَا وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْ اَسْمَآئِہط سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ o

ترجمہ: اور اللہ ہی کے لئے ہیں اچھے اچھے نام، پس تم بھی خدا کو انہی ناموں سے پکارو، اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اللہ کے ناموں میں کجروہی سے کام لیتے اور لڑائی جھگڑا کرتے ہیں۔ بہت جلد یہی لوگ اپنے کیفر کردار کو پہنچ جائیں گے۔

چند نکات:

“السماء حسنیٰ” کا کلمہ قرآن مجید میں تین جگہ پر آیا ہے۔ ۱۔ اسی آیت میں ۲۔ بنی اسرائیل کی ۱۱۰ ویں آیت میں اور طہٰ کی ۸ویں آیت میں۔

اگرچہ اللہ تعالیٰ کے تمام نام ہی حسنیٰ (اچھے) ہیں اور خداوند متعال تمام کمالات اور اسماء کا مالک ہے لیکن روایات میں زیادہ تر ننانوے ناموں پر زور دیا گیا ہے کہ جو شخص خدا کو ان ناموں کے ساتھ پکارے گا اس کی دعا قبول ہو گی۔ اور جو شخص انہیں شمار کرے گا وہ بہشتی ہے (توحید شیخ صدوق تفسیر المیزان، مجمع البیان اور نور الثقلین۔ منقول از تفسیر نمونہ) البتہ شمار کرنے سے مراد لفظ یا لبوں کی حرکت کے ساتھ نہیں بلکہ ان اسماء کی طرف توجہ ، ان سے الہام لینا، ان کی صفات سے متصف ہونا اور ان کے ساتھ ہونا مراد ہے۔

اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں کا مسئلہ صحیح بخاری ، مسلم اور ترمذی شریف میں بھی موجود ہے کہ جو شخص خدا کو ان ناموں کے ساتھ پکارے گا اس کی دعا مستجاب ہو گی، (تفسیر المیزان تفسیر نمونہ)

خداوند تعالیٰ کے ننانوے نام یہ ہیں۔

اللہ، الٰہ، الواحد، الاحد، الصمد، الاول، الآخر، السمیع، البصیر، القدیر، العلی، الاعلیٰ، الباقی، البدیع، الباریٴ، الاکرم، الباطن، الحی، الحکیم، العلیم، الحلیم ، الحفیظ، الحق، الحسیب، الحمید، الحفی، الرب، الرحمن، الرحیم، الذارء، الرازق، الرقیب، الروٴف، الرائی، السلام الموٴمن، المھمین، العزیز، الجبار، المتکبر، انسید، السبوح، الشھید، الصادق، الصانع، الظٓہر، العدل، العفو، الغفور، الغنی، الغیاث، الفاطر، الفرد، الفتاح، الفالق، القدیم، الملک الدوس، القوی ، القریب، القیوم، القابض، الباسط، متقی، الحاجات، المجید، المولی، المنان، المحیط، المبین، المغیث، المصور، الکریم، الکبیر، الکافی، کاشف الضّر، القدیر، النور، لاوہاب، الناصر، الواسع، الودود، الھادی، الوفی، الوکیل، الوارث، البر، الباعث، التتواب، الجلیل، الجواد، الخبیر، الخالق، خیرالناصرین، العیان، الشکور، العظیم، اللطیف، الشافی، (ازتفسیر)

قرآن مجید میں اس سے زیادہ (تقریباً ۱۴۵) نام ہیں اور یہ جو ننانوے کی تعداد کا تذکرہ بعض روایات میں آیا ہے یا تو اس لئے ہے کہ بعض نام ایسے ہیں جو کہ ایک دوسرے میں لدغم ہونے کے قابل ہیں اور بعض ایسے کہ جنہیں ایک دوسرے سے مطابق دی جا سکتی ہے، یا پھر اس سے یہ مراد ہے کہ یہ نام بھی قرآن مجید میں ہیں نہ یہ کہ فقط یہی تعداد ہے۔ جبکہ بعض آیات میں ان ناموں کا مضمون ملتا ہے مثلاً قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے نام کے لئے “صادق‘ کا لفظ استعمال نہیں ہوا لیکن “من اصدق من اللہ قیلا” (النسأ/۱۲۲) یا “ومن اصدق من اللہ حدیثا” (نسأ /۷۷) یعنی خدا سے بڑھ کر بعض دعاؤں اور روایات میں خداوند تعالیٰ کے لئے کئی اور نام بھی ذکر ہوئے ہیں۔ (مثلا دعائے جو شن کبیر مکمل) البتہ بعض اسماء ایسے ہیں جن کے خصوصی آثار وبرکات اور اختیارات ہیں۔

بعض روایات میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں: “خدا کی قسم! اللہ کے اسماء حسنیٰ ہم ہی ہیں” (اصول کافی) یعنی خداوند عالم کی صفات ہمارے اندر جلوہ گر ہیں اور ہم ہی خدا خدا کی معرفت کا حقیقی ذریعہ ہیں” تو ان احادیث کی روشنی میں آیت میں موجود یہ جملہ “وذروالذین یلحدون‘ ہمیں کہہ رہا ہے کہ فضائل اہلبیت علیہم السلام کے بارے میں الحاد کرنے والوں کی پرواہ نہ کریں” (از تفسیر نورالثقلین ، منقول از اصول کافی)

وضو کے بغیر خدا کے کسی نام کو ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا، اور نہ ہی اللہ کے نام کو جنب شخص کے بدن کا کوئی حصہ میں کر سکتا ہے اور اس کی ہر طرح کی توہین بھی حرام ہے۔

“اسم اعظم” کیا ہے اور کونسا؟ تو اس بارے میں یہ عرض ہے کہ بعض روایات کے مطابق جو شخص خدا کا رسم اعظم جانتا ہے اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور عالم طبعیت اور جہان فطرت میں تصرف کر سکتا ہے بلعم باعورا (کہ جس کا ذکر اسی سورت کی ۱۷۵ ویں آیت میں گزر چکا ہے) بھی اسم اعظم جانتا تھا۔

بعض علماء کے بقول یہ خدا کا ایک ایسا نام ہے جو ہم سے پوشیدہ ہے۔ جبکہ بعض دوسرے علماء فرماتے ہیں “اسم اعظم” درحقیقت کوئی لفظ اور نام نہیں ہے بلکہ خدا کی صفت اور کمال ہے اور صفت اور کمال کا پر تو جو شخص اپنے وجود میں پا لیتا ہے اس کی روحانی قدرت اس حد تک جا پہنچتی ہے کہ وہ عالم فطرت اور جہاں طبعیت میں تصرف کر سکتا ہے ورنہ ایسی کوئی بات نہیں کہ ایک فاسق و فاسد شخص ایک لفظ یا کلمے کو یاد کر لے اور مستجاب الدعوت بن جائے، یا عالم فطرت میں تصرف کرنا شروع کر دے۔ (تفسیر نمونہ)

فخر الدین رازی فرماتے ہیں: “اللہ تعالیٰ کی تمام صفات دو چیزوں کی طرف پلٹتی ہیں۔

۱۔ خدا کی بے نیازی۔ ۲۔ مالوی اللہ کی خدا کی طرف نیاز مندی، (تفسیر نمونہ)

پیام:

۱۔ “اللہ” تمام اسمائے الہٰی محورو مرکز ہے۔ (وللہ الاسماء الحسنیٰ)

۲۔ تمام نیک اور مقدس نام جو خدا کے شایان ہیں اسی کے لئے ہیں (الاسماء)

۳۔ “اسمائے حسنیٰ” صرف خدا ہی کے ساتھ خاص ہیں، دوسرے لوگوں کو “حسنیٰ” کی رسائی کے لئے اسی کے پاس جانا چاہئے (للہ الاسماء)

۴۔ خدا کے کچھ نام ایسے ہیں جو دوسروں کے لئے نہیں رکھے جا سکتے مثلاً “رازق” کسی کا نام نہیں رکھا جا سکتا۔ (وللہ الاسماء)

۵۔ اپنی طرف سے خدا کا کوئی نام نہیں رکھا جا سکتا۔ مثلاً ازخود خدا کو “عفیف” یا “شجاع” یا کسی اور نام سے موسوم نہیں کیا جا سکتا۔ حضرت امام علی رضا فرماتے ہیں: “ان الخالق لایوصف الابما وصف بہ نفسہ” خالق کائنات کو صرف انہی تصیف کی ہے (تفیسر فرقان)

۶۔ اسم، اپنے مسمی پر دلالت کرتا ہے چونکہ اس کی ذلت مقدس ہے لہٰذا اس کے نام بھی مقدس ہونے چاہئیں۔ اور خدا کو ہرنا رواصفات و اسماء سے پاک و منزہ جاننا چاہئے “سج محمد ربک ۔۔” اور “سج اسم ربک”۔

۷۔ دعا بھی اچھائی اور زیبائی کے ساتھ مانگی جانی چاہئے۔ (الحسنیٰ۔ فادعوہ بھا)

۸۔ اسلام، نام پر بھی توجہ رکھتا ہے (الاسماء یلحدون فی اسمائہ۔۔۔)

۹۔ اسمائے الہٰی، اس کی نشانی کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس کے نشانات کے ذریعہ سے اس کی ذات تک رسائی حاصل کرنا چاہئے۔ (فادعوہ بہا)

۱۰۔ اولیاء اللہ بھی اللہ کی آیات اور نشانیاں ہیں (روایات میں ہے حضرات ائمہ اطہار علیہم السلام فرماتے ہیں “ہم خدا کے اسمائے حسنیٰ ہیں”)

۱۱۔ ملحدین کے متعلق ردعمل ظاہر کرنا چہائے (ذرواالذین یئلحدون)

۱۲۔ حق کا راستہ ، فطری ہے اور تمام کمالات کی جامع ذات خدا وند ذوالجلال پر ایمان فطرت اور ضمیر کی آواز ہے۔ اور اس راہ سے انحراف، فطرت کے راستوں سے ہٹ کر راستہ ہو گا۔ (یلحدون) الحاد کا معنی انحراف اور بے راہ روی ہے۔

۱۳۔ خدا کا نام کسی کو دنیا بھی الحاد ہے اور دوسروں کا نام خدا کو دینا بھی الحاد اور گمراہی ہے (یلحدون فی اسمائہ)

۱۴۔ اسمائے حسنی کے تین مصداق ہیں۔ ۱۔ صفات الہٰی ۲۔ اولیاء الہٰی اور ۳۔ اسمائے الہٰی۔ (از تفسیر فرقان)

۱۵۔ دعا اور نام رکھنا ایمان اور عمل کی علامت ہوتے ہیں۔ (ماکانوایعملون) یہ نہیں فرماتا: “ما کانوایعلمون”۔

۱۶۔ غفلت کا علاج خدا کی یاد ہے، جیسا کہ اس سے گزشتہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ “ھم الغافلون” اور اس آیت میں فرمایا ہے (للہ الاسماء الحسنیٰ)

آیت ۱۸۱

وَمِمَّنْ خَلَقْنَا اُمَّةٌ یَّھْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِہ یَعْدِلُوْنَ o

ترجمہ:

اور جن لوگوں کو ہم نے پیدا کیا ہے ان میں سے کچھ ایسے گروہ بھی ہیں جو (دوسروں کو) حق کی ہدایت کرتے ہیں اور حق کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں۔

دو نکات:

اسی سورت کی ۱۰۹ ویں آیت میں حضرت موسیٰ کی قوم کے کچھ افراد کے لئے یہی انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اور فرمایا ہے کہ “ومن قوم موسیٰ امة ۔۔”

روایات کے مطابق اس آیت میں “امت” سے مراد “امت محمد ہے جو تمام امتوں سے بہتر امت ہے۔ اور بعض اہل سنت روایات میں ہے کہ مسلمانوں کے بہتر فرقے ہوں گے جن میں سے صرف ایک فرقہ ہی نجات پائے گا۔ (تفسیر نور الثعلین منقول از تفسیر نمونہ)

پیام:

۱۔ حق وہدایت کے پیروکار کم ہی ہوا کرتے ہیں (وممن خلقنا امة)

۲۔ ہدایت اور حکومت کا محور مرکز صرف اور صرف “حق” کو ہی ہونا چاہئے۔

۳۔ وہی لوگ قابل قدر ہوتے ہیں جو ہدای قبول کرنے کے ساتھ ساتھ نظام حق کو وجود میں لانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں، صرف شناخت اور معرفت ہی کافی نہیں اس کی نثر و اشاعت اور اس پر عمل بھی ضروری ہے۔ (بہ یعدلون) یعنی “بہ یحکمون”

آیت ۱۸۲ ۔ ۱۸۳

وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْ رِجُھُمْ مِّنْ حَیْثُ لَاْ یَعْلَمُوْنَ o وَ اُمْلِیْ لَھُمْط اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ o

ترجمہ: اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہم بہت جلد انہیں مرحلہ وار ہاں سے اپنی گرفت میں لائیں گے جہاں کے بارے میں وہ جانتے بھی نہیں ہوں گے۔

اور میں انہیں مہلت دیتا ہوں (تاکہ ان کے ظلم کا پیمانہ پوری طرح لبریز ہو جائے) یقیناً میر ی تدبیر تو محکم اور مستحکم ہوتی ہی ہے۔

چند نکات:

“استدراج” جو کہ خدائی طریقہ کاروں میں سے ایک ہے اور جس کا تعلق آیات خداوندی کی تکذیب کرنے والوں اور مفہ حال آسائش پرستوں سے ہے لفظ “درجہ” سے لیا گی اہے جس کا معنی ہے “تدریجی طور پر لپیٹنا” ( ملاحظہ ہو مفردات راغب) اور یہی صورت حال سورہ قلم /۴۴ میں بھی بیان ہوئی ہے۔ امیر الموٴمنین حضرت علی فرماتے ہیں: “جو لوگ مرفہ حالی اور آسودگی کی زندگی گزارتے ہیں انہیں اس طرف بھی متوجہ رہنا چاہئے کہ کہیں تدریجی لپیٹ کا شکار نہ ہو جائیں اور ان کی یہ نعشیں ان کی غفلت کا موجب نہ بن جائیں” (تفیسر نور اثقلین)

استدراج کے طور پر خدا کا کسی کو مہلت دینا، کسی کو لمبی عمر دینا اور اس طرح کی دوسری چیزیں قرآن مجید میں بارہا بیان ہو چکی ہیں۔ مثلاً زیر نظر آیات ہیں یا “نذر ھم فی غمر تھم حتی حین (مومنون /۵۴) “لایحسبن الذین کفرواانما علی لھم خیر لانفسھم انما علی لھم یزداوا انما” (آل عمران /۱۷۸) نیز یہی موضوع انعام /۴۴۔ مومنون /۵۵ توبہ /۵۵۔ آل عمران /۱۹۸اور کہف /۱۰۳ میں بھی متعظہ کیا جا سکتا ہے۔

پیام:

۱۔ خدا کی طرف سے نعمتوں کا حصول امیر کی طرف سے گناہوں سے پردہ پوشی، لوگوں کا دادتحسن کے ڈونگرے برسانا ان سب باتوں کا تعلق ایسی چیز سے ہے جو انسان کے مغرور ہو جانے کا موجب اس کے سرگرم رہنے اور خدا کی طرف سے استدراج کا سبب بن سکتی ہے۔ 57

۲۔ انسان کی پستی بعض اوقات قدم بقدم اور آہستہ آہستہ ہوتی ہے جسے وہ محسوس نہیں کر پاتا باالفاظ دیگر خدائی لاٹھی بے اوند ہوتی ہے، (سنستدر جھم من حیث لایعلمون)

۳۔ اللہ تعالیٰ کی اظہرمن اشمس آیات کی تکذیب تدریجی سقوط اور مخفی ہلاکت کا موجب ہوتی ہے۔ (کفربوا ۔ سنستدر جھم)

۴۔ لوگوں کو مہلت دینا خدائی طریقہ کار ہے جو ازل سے چلا آ رہا ہے تاکہ جو شخص جس راہ کا چاہے انتخاب کر لے اور اس راہ پر چل کر پروان چڑھے ، اور سب لوگوں کے واسطے دروازے کھلے ہوں، تاہم اس میں سرکشی کی فرصت بھی باقی رہے اور توبہ اور بازگشت کی مجال بھی موجود ہو۔

۵۔ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو تلخ ترش مشکلات سے دوچار کر کے انہیں متنبہ کرتا ہے اور ۴ افراد کو ان کی سرمستیوں میں مگن رہنے دیتا ہے۔ 58

۶۔ جو لوگ تحریف کر کے توجیہ کرتے اور ہر روز نئے طاغوت کی اطاعت میں لگے رہتے ہیں وہ بھی اس استدراج کے قانون میں شامل ہیں۔ 59

۷۔ زندگی اللہ کے ہاتھوں میں ہے۔ (اُملی)

۸۔ ضروری نہیں ہے نعمتیں ہمیشہ خدا کے لطف و کرم کی علامات ہوں، بعض اوقات اس کے ناگہانی قہر و غضب کا موجب بھی بن سکتی ہیں۔ (املی۔ کیدی)

۹۔ گناہگار لوگ خدا کے شکنجے سے بچ کر نہیں جا سکتے (املی لھم) اور خواب غفلت میں بڑے ہوئے اشرافیہ کے افراد خدا کے مقابلے میں کمر بستہ ہوتے ہیں (کیدی)

۱۰۔ خداوند عالم توبہ اور گناہوں کی تلافی کی مہلت تو کافروں کو بھی دیتا ہے، لیکن وہ اس کے ایل ثابت نہیں ہوتے۔ (لھم)

۱۱۔ غرور وار غفلت کا خطرہ اس حد تک زیادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلسل تین بار مختلف تعبیروں کے ساتھ اس سے آگاہ کیا ہے۔ (استدراج ۔ کیدی۔ املی لھم)

۱۲۔ اللہ تعالیٰ کا منصوبے اور اس کی تدبیریں ایسی ہیں کہ جنہیں کوء شکست نہیں دے سکتا۔ (متین)

آیت ۱۸۴

اَوَ لَمْ یَتَفَکَّرُوْا مَا بِصَاحِبِھِمْ مِّنْ جِنَّةٍط اِنْ ھُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ o

ترجمہ: آیا ان لوگوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ ان کے ساتھی (پیغمر اسلام) کو کوئی دیوانگی اور جنون نہیں ہے۔ وہ تو بس آشکارا طور پر ڈرانے والا ہے۔

ایک نکتہ:

“جنہ” کے معنی ہیں “جنون” اور اس کا اصل معنی ہے “ڈھنپنا” گویا جب کجسی پر جنون طاری ہوتاق ہے تو اس کی عقل پر پردے پڑ جاتے ہیں۔

پیام:

۱۔ تہمت لگانا، جسارت اور گستاخی کرنا صاحبان فکر و اندیشہ کا کام نہیں ہوتا (اولم یتفکروا)

۲۔ پیغمبر اسلام لوگوں کا ساتھی یا باالفاظ دیگر ان کے ساتھ نشست و برخاست رکھنے ولای ہستی ہے۔ (اگر (نعوذ باللہ) دیوانے ہوتے تو یہ لوگ سالہا سال تک ان کے ہم نشین کیوں رہے؟ (صاجھم)

۳۔ پیغمبر تو لوگوں کے ہم نشین اور دولت تھے، ان سے ہٹ کر اور کٹ کر کبھی نہیں رہے (صاحبھم)

۴۔ فاسد نظام میں ہمیشہ حق گو افراد کو مجنون کہاہی جاتا ہے۔

۵۔ تمام انبیاء کو ان کے مخالفین کی طرف سے جادو اور جنون کی تہمتوں کا سامنا ہمیشہ سے رہا ہے۔ 60

۶۔ خطابت اور مخاطب شناسی کے فن میں یہ بات شامل ہے کہ غفلت کے شکار لوگوں کو ہمیشہ ڈرایا جاتا ہے، انہیں خوشخبری نہیں دی جاتی (ان ھولانذیر)

۷۔ مغرور اور خواب غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کے لئے صاف صاف اور دو ٹوک بات کہنی چاہئے۔ (مبین)

آیت ۱۸۵

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَکُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنْ شَیْ ءٍ وَّ اَنْ عَسٰی اَنْ یَّکُوْنَ قَدْ اقْتَرَبَ اَجَلُھُمْ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ م بَعْدَہ یُؤْمِنُوْنَ o

ترجمہ: آیا وہ آسمانوں اور زمین کے ملکوت (اور باطن) میں اور ہر اس چیز کے بارے میں خوب غور و فکر سے کام نہیں لیتے جسے خدا نے پیدا کیا ہے۔ (تاکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہو جائے کہ ان تمام چیزوں کے پیدا کرنے میں یقیناً کوئی مقصد کار فرما ہے اور ان کی تخلیق بے سود نہیں اور یہ کہ شاید ان کی موت نزدیک ہو چکی ہے؟ پس اس قدر روشن آیات کے بعد پھر کسی بات پر ایمان لے آئیں گے؟

ایک نکتہ:

“ملکوت” کا کلمہ “مُلک” سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں حکومت اور مالکیت اور اس آیت میں یہ کلمہ عالم ہستی پر خداوند عالم کی حکومت مطلقہ کے لئے استعمال ہوا ہے۔

پیام:

۱۔ نگاہ کو عمیق اور تفکر کے ساتھ استعمال کرنا چاہئے تاکہ وہ کسی نتیجہ پر جا پہنچے ، اس کائنات کے باطنی نظام میں توجہ اور غور و فکر اور اس کا خالق کائنات کے رابطہ کے بارے میں عمیق سوچ سے کام لینا انسان کو خدا سے جا ملاتا ہے، توحید اور نبوت کو عقل و فکر کے ساتھ سمجھنا چاہئے، کسی کی تقلید نہیں کرنی چاہئے “اولم یتفکروا” سابقہ آیت میں اور (اولم ینظروا) اسی آیت میں۔

۲۔ تشریعی نظام کے بغیر، تکوینی ظام نامکمل ہے (اولم ینظروا ۔۔۔ فبای حدیث)

۳۔ توحید، نبوت کا سرچشمہ اور پشت پناہ ہے۔ اور کائنات کے نظام میں غور و فکر کرے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اس نظام کو رہبر اور قائد کے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا (اولم ینظروا۔۔۔ فبای حدیث)

۴۔ اس جہان کا ظاہر جسم کی مانند اور باطن روح کی مثل ہے (ملکوت)

۵۔ نظام تخلیق کائنات میں کوئی بھی ذرہ بے مقصد اور بغیر فلسفہ کے نہیں ہے (من شیءٍ)

۶۔ انسانوں کی بہت سی بدبختیاں اس وجہ سے ہوتی ہیں کہ وہ موت کی یاد سے غافل ہو چکے ہوتے ہیں (عسی ان یکون قد اقترب اجلھم)

۷۔ موت کی یاد، بہت سی ہٹ درمیوں کے خاتمہ کا سبب ہوتی ہے۔ اور لوگوں کو فرصت سے استفادہ اور مرنے سے پہلے ایمان لانے کی دعوت دیتی ہے (قداقترب اجلھم)

۸۔ قرآن بہترین کتاب اور بہترین گفتگو ہے۔ اور اسے قبول نہ کرنے کے لئے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ (فبای حدیث بعدہ یوٴمنون)

آیت ۱۸۶

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَا ھَادِیَ لَہط وَ یَذَرُھُمْ فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ o

ترجمہ: جسے خداوند عالم (اس کے فق واعمال کی وجہ سے) گمراہی میں چھوڑ دے۔ اسے کوئی تقویت کرنے والا نہیں ہوتا اور انہیں ان کی سرکشی اور طغیان میں چھوڑ دیتا ہے تاکہ وہ سرگردان رہیں۔

پیام:

۱۔ جو لوگ انبیاء کرام کی تنبیہات پر کان نہیں دھرتے اور ان کے فرمودات کے بارے میں غور و فکر نہیں کرتے ان کی سزا یہ ہے کہ ہمیشہ خدائی قہر و غضب میں جکڑے رہیں اور اپنے حال میں مگن رہیں “فبای حدیث بعدہ یوٴمنون۔۔۔” سابقہ آیت میں اور (یذرھم) اسی آیت میں۔

۲۔ اضلال و ہدایت خدا کا کام ہے لیکن ان کے لئے اسباب کی فراہمی انسان کی نیت اور اس کے عمل میں مضمر ہے۔ جو اس بات کا موجب ہوتی ہے کہ انسان کا دل زنگ آلود وہ جاتا ہے اور ہدایت الہٰی اس کے شامل حال نہیں ہوتی (یضلل الله) 61

۳۔ طاغوت ہمیشہ ، سرگردان اور پریشان حال رہتا ہے (یعمھون)

۴۔ لوگوں کی سرکشی زبردستی نہیں ہوتی۔ (طغیانھم)

آیت ۱۸۷

یَسْئَلُوْنَکَ عَن السَّاعِةِ اَیَّانَ مُرْسٰھَاط قُلْ اِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِّیْ لَاْ یُجَلِّیْھَا لِوَ قْتِھَااِلَّا ھُوَط ثَقُلَتْ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط لَاْ تَاْتِیْکُمْ اِلَّا بَغْتَةًط یَسْئَلُوْنَکَ کَاَنَّکَ حَفِیٌّ عَنْہَاط قُلْ اِنَّمَا عِلْمَُھَا عِنْدَ اللّٰہِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَاْ یَعْلَمُوْنَo

ترجمہ: (اے پیغمبر!) آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ ہر وقت برپا ہو گی؟ تو ااپ کہہ دیجئے کہ اس کا علم صرف میرے پروردگار کے پاس اور اس کے علاوہ کوئی اور اس کے وقت کو آشکار نہیں کر سکتا۔ قیامت کا آسمانوں اور زمین میں آنا بہت ہی سنگین ہو گا، اور یہ تمہاری پاس اچانک آن پہنچے گی۔ یہ لوگ آپ سے یوں سوال کرتے ہیں گویا آپ اس کی مکمل آگاہی رکھتے ہیں، کہہ دیجئے کہ اس کا علم اور صرف خدا کے پاس ہے لیکن بہت سارے لوگ اس چیز کو نہیں جانتے۔

چند نکات:

کفار قریش نے کچھ لوگوں کو یہودی علماء کے پاس بھیجا تاکہ اسن سے چند مشکل اور پچیدہ سوالات سیکھ کر آئیں اور پیغمبر اسلام سے جا کر پوچھیں اور وہ ان مشکل سوالوں کا جواب نہیں دے پائیں گے جس کی وجہ سے وہ (نعوذباللہ) مغلوب ہو کر شکست کھا جائیں گے، ان مشکل سوالات میں سے ایک قیامت کے واقع ہونے کے وقت کی تعین کے بارے میں بھی تھا۔

“ایان” زمانے کے بارے میں سوال ہے (یاد رہے لفظ “الساعة” قیامت کے شروع کے لئے بولا جاتا ہے اور “القیاة” سزا وجزا کے لئے حساب و کتا ب کے زمانے کو کہتے ہیں۔ لزیز “مراغی”)

“مُرسیٰ” ثابت اور واقع ہونے کے معنی میں ہے، “جبال راسیات” محکم اور استوار پہاڑوں کو کہا جاتا ہے۔

“حفی” کے معنی ہیں ہمیشہ جستجو میں لگا رہنے والا شخص، اور پیغمبر کا “حفی” ہونا اس معنی میں ہے کہ گویا آپ نے قیامت کے بارے میں خدا سے بار بار پوچھ کر اس کی مکمل طور پر تحقیق کر لی ہے اورپوری طرح آگاہ ہو چکے ہیں۔

آسمانوں اور زمین کے قیامت کی سنگینی شاید آسمانوں کے ایک دوسرے پر گرنے مختلف کرات کے ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرانے سورج کے بے نور ہو جانے اور زمین کے اورپر تلے ہو جانے وغیرہ کی صورت میں ہو گی۔

پیام:

۱۔ خداوند عالم کے علاوہ کوئی بھی شخص قیامت کے واقع ہونے کے وقت کو نہیں جانتا ۔ (انما علمھا عندربی)

۲۔ وقت کا نہ جاننا انسان کی تربیت اور ہمہ وقت آمادہ رہنے کے لئے بہتر ہے۔

۳۔ قیامت، اچانک واقع ہو گی (بغتة) 62

۴۔ قیامت کی گھڑی بہت ہی سخت ہو گی حتی کہ آسمانوں اور زمین تک کے لئے بھی ، اللہ جانے انسان کا کیا حال ہو گا؟ (ثقلت)

۵۔ “میں نہیں جانتا” کہنے سے نہ گھبراؤ، اس لئے کہ اس آیت میں پیغمبر خدا کے بارے میں بھی حکم کوئی خداوندی ہے کہ وہ کہیں “میں نہیں جانتا” (قل انما علمھا عندربی)

۶۔ قیامت کے خصوصیات اور جزئیات کو نہ جاننے سے قیامت کے اصل عقیدہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کوئی بھی شخص اپنی موت کے زمانے اور مکان کو نہیں جانتا لیکن اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وہ اصل موت کا ہی منکر ہے۔ (انما علمہا عندربی)

آیت ۱۸۸

قُلْ لَاْ اَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعاً وَّ لَا ضَرًّ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُط وَ لَوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْءُ اِنْ اَنَا اِلَّانَذِیْرٌ وَ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُوْمِنُوْنَ o

ترجمہ: (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ میں اپنے لئے کسی نفع نقصان کا مالک نہیں ہو مگر صرف اسی کا جو خداچاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا اپنے لئے بہت سے فوائد اکٹھے کر لیتا اور مجھے کبھی بھی کوئی نقصان نہ پہنچتا ۔ میں تو صرف لانے والوں کے لئے ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں،

پیام:

۱۔ کسی کا خبر کا خدا پر ایمان س قدر زیادہ ہو گا، خدا کی قدرت کے آگے اسی قدر اس کا سر زیادہ جھکا ہو گا، اور اپنے بارے میں اسی قدر زیادہ عجز و نیاز کا اظہار کرے گا (لااملک لنفسی۔۔۔)

۲۔ ہر قسم کا نفع و نقصان خداوند عالم کے منشاء اور ارادے کے تحت ہی ہوتا ہے۔ (الامشاء اللہ)

۳۔ پیغمبر خدا اپنی طر ف سے اور اپنی نجی زندگی کے بارے میں غیب نہیں جانتے اگر غیب نہیں جانتے، اگر غیب کی خبریں انہیں عطا کی گئی ہیں تو وہ بھی پیغمبر خدا ہونے کے ناطے، اور وہ بھی خداوند متعال بھی ہی کی طرف سے۔ (لوکنت۔۔)

۴۔ پیغمبر عالیقدر ویسے تو تمام عالم انسانیت کے لئے بشیر و نذیر میں لیکن اس سے فائدہ صرف مومنین ہی حاصل کرتے ہیں (بشیر و نذیر لقوم یوٴمنون)

آیت ۱۸۹

ھُوَالَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ َنفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَھَا لِیَسْکُنَ اِلَیْھَا فَلَمَّا تَغَشّٰھَا حُمِلَتْ حَمْلاً خَفِیْفاً فَمَرَّتْ بِہ فَلَمَّا اَثْقَلَتْ دَعَوُا اللّٰہَ رَبَّھُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحاً لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ o

ترجمہ: وہ وہی (خدا) ہے جس نے تمہیں ایک قفس جان سے پیدا کیا ہے اور اس کی زوجہ کو بھی اسی کی جنس سے قرار دیا تاکہ اس سے اسے سکون حاصل ہو۔ پس جب مرد اپنی بیوی کو آغوش میں ڈھانپ لیتا ہے (اور اس سے جنسی آمیزش کرتا ہے) تو عورت ہلکا بوجھ اٹھا لیتی ہے (اور حاملہ ہو جاتی ہے) اور ایک عرصے تک اسے اپنے ساتھ لئے پھرتی ہے، پس جب اس سے بوجھل ہو جاتی ہے تو زن و مرد دنوں خدا سے جو ان کا پروردگار ہے دعا کرتے ہیں (اور اس سے عہد کرتے ہیں) کہ اگر تو ہمیں نیک فرزند عطا فرمائے گا تو ہم شکر کرنے والوں میں سے ہوں گے۔

پیام:

۱۔ زن و مرد کا جوہر وجودی ایک ہی ہے۔ (جعل منھازوجھا)

۲۔ ازدواج یا شادی روح اور زندگی کے آرام و سکون کا موجب ہوتی ہے اور ازدواجی روحانی بے چینی کا سبب ہوتی ہے (یسکن الیھا)

۳۔ زندگی انس و الفت کی بنیادوں پرت استوار ہے اختلاف اور انتشار ہر نہیں (یسکن الیھا )

۴۔ جنسی مسائل کے بارے میں کنایہ کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔ (تغشٰھا)

۶۔ جنسی ملاپ صرف لذات اور شہوت کی تسکین کے لئے نہیں بلکہ نیک بلکہ نیک اور صالح نسل کی بقا اور دوم کے لئے ہوتا ہے۔ (صالحا)

۷۔ انسان فطری طور پر اولادچ اور بقا کی طرف مائل ہوتا ہے۔ (آتیتنا)

۸۔ جب تک انسان کابوجھ سنگین نہ ہو جائے اس وقت تک متوجہ نہیں ہوتا۔ (فلما القلت دعوا۔۔)

۹۔ مشکلات خدا کی طرف توجہ کا ذرعیہ اور روحانی اور معنوں کیفیت کے پیدا ہونے کا سبب ہوتی ہیں۔ حاملہ عورتیں چونکہ تقدیر الہی سے بے خبر اور اضطرابی کیفیت سے دو چارہوتی ہیں لہذا ان کی اس کیفیت سے فائدہ اٹھا کر انہیں موعظہ اور نصیحت کی جا سکتی ہے۔ (از کتاب روانشناسی تبلیغی)

۱۰۔ انسان کی نفسیاتی کیفیت یہ ہے کہ وہ مجبوری کے وقت ہر طرح کا قول قرار دینے کے لئے تیار ہوتا ہے لیکن عام معمول کی حالت اور رفاہ وآسائش میں بے وفائی پر اُتر آتا ہے(لنکونن…)

۱۱۔ فطری طور پر انسان صلاح و بہتری کا خواہاں ہوتا ہے فساد اور بے پرواہی کا نہیں۔ اسی لئے تو کہا ہے(صالحا) اور “ولدا”نہیں کیا۔

۱۲۔ والدین اپنی اولاد کے انجام میں خود کو شریک سمجھتے ہیں(دعوا)

۱۳۔ شکم میں پروان چڑھنے والے بچے کسی نشوونما تدریجی ہوتی ہے تا کہ عورت میں اس کے اٹھانے کی آمادگی پائی جائے۔ (خفیا،)

۱۴۔ اولاد کوخدا کا عطیہ سمجھو، اس میں اپنا کمال یا کسی اور کا عمل دخل نہ سمجھو۔ (آتیتنا)

آیت۱۹۰، ۱۹۱

فَلَمَّا اَتٰی ہُمَا صَالِحاً جَعَلاً لَّہ شُرَکَآءَ فِیْمَا اَتٰی ہُمَا فَتَعٰلٰی اللّٰہُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ o اَیُشْرِکُوْنَ مَا لَایَخْلُقُوْ شَیْئاً وَ ھُمْ یَخْلُقُوْنَ o

ترجمہ۔ پس جونہی خد ا نے انہیں صالح فرزند عطا فرمایا تو وہ اس چیز میں خدا کا شریک ٹھہرانے لگے جو لطیف اور اولاد جیسی نعمت خدا نے انہیں عطا فرمائی تھی۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اس چیز سے بلند اور بالا تر ہے جس کو وہ خدا کا شریک جانتے ہیں۔

آیا وہ ان چیزوں کو خدا کا شریک جانتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتیں اور خود مخلوق ہیں؟!!

پیام

۱۔ اولاد کا تعلق ماں اور باپ دونوں سے ہوتا ہے (آتاھما)

۲۔ اللہ تعالیٰ تو نیک ‘صالح اور شائستہ اولاد ہمیں عطا فرماتا ہے یہ ہم ہوتے ہیں جو ان کی کجروی‘گمراہی اور بے لا پرواہی کا موجب بنتے ہیں (آتا ھما صالحا)

۳۔ خدائی امانت کو دوسروں کے سپرد کرنا خیانت ہے۔ (جعلالہ شرکاء)

۴۔ انسان بہت جلد اپنے وعدے بھول جاتا ہے(جعلالہ شرکاء)

۵۔ نا شکری ہو گی کہ انسان ایک چیز کسی سے لے اور کسی دوسرے کو دیدے ، یا اس کی مرضی کے خلاف اسے مصرف میں لے آئے۔ (شرکاء فیما آتاھما)

۶۔ اولاد خُدا کا عطیہ ہے اسے کسی اور شخص ،چیزیا عمل کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا، اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ مشکل وقیافے، ماں باپ کی غذا، معالج یا علاج اور اسپتال وغیرہ کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ ایسا سمجھنا شرک ہے (شرکاء)

۷۔ بعض اوقات اولاد جیسی نعمت ، والدین کے لئے غفلت کا سبب بن جاتی ہے (فلما آتا ھما…)

۸۔ معبود ہونے کے سب سے اولین شرط اس کاتخلیق پر قدرت کا ملہ رکھنا ہے، تعجب کی بات ہے کہ آج کے ترقی یافتہ اور علم وصنعت کے دور میں بھی لاکھوں کروڑوں افراد بت پرستی کرتے ہیں (ایشرکون مالا یخلق) 63

قرآن مجید کا یہ خطاب ہر دور کے لوگوں کے لئے ہے۔

آیت۱۹۲۔ ۱۹۳

وَلَاْ یَسْتَطِیْعُوْنَ لَھُمْ نَصْراً وَلَا اَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ o وَ اِنْ تَدْعُوْھُمْ اِلٰی الْھُدٰی لَا یَتْبَعُوْکُمْط سَوَآءٌ عَلَیْکُمْ اَدْعَوْتُمُوْ ھُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ o

ترجمہ۔ اور (ان کے یہ معبود)ان لوگوں کی مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ، حتی کہ وہ تو اپنی نصرت و حمایت بھی نہیں کر سکتے۔

اور اگر تم ان(معبودوں)کو ہدایت کے لئے بلاؤ تو وہ تمہاری التجا نہیں کریں گے تمہارے لئے برابر ہے کہ تم انہیں بلاؤ یا خاموش رہو۔ 64

ایک نکتہ

ہو سکتا ہے کہ”وان تدعو ھم الی الھدی”کا ایک معنی یہ بھی ہو کہ اگرتم ان سے یہ درخواست کرو کہ ہو تمہاری رہنمائی کریں تو وہ اس کا جواب تک نہیں دیں گے۔

پیام

۱۔ جومعبود نہ تو دوسروں کی امداد کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنا دفاع کر سکتے ہیں پھر ان کی پرستش کیسی؟ (ولا یستطیعون…

 

تفسیرنور

آیت نمبر ۱۹۴ تا ۲۰۶

آیت ۱۹۴

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنَ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ فَادْعُوْھُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ o

ترجمہ۔ یقیناً جن لوگوں کو تم پکارتے (اور جن کی تم عبادت کرتے )ہو وہ تمہارے ہی جیسے بندے ہیں۔ (جو زبان و مکان وغیرہ میں محدود ہیں)پس تم انہیں پکارو، اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں جواب دیں۔

ایک نکتہ

“عباد” سے مراد ممکن ہے ، وہ انسان ہوں جنہیں یہ لوگ خدا سمجھتے ہیں جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، یا فرشتے مراد ہوں، یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ بت مراد ہوں جنہیں بت پرست”الہٰ”سمجھتے ہیں۔

پیام

۱۔ پرستش اور پوجا پاٹ کیلئے دلیل اور کسی خاص امتیاز کی ضرورت ہوتی اور مخلوق یا اپنے جیسے انسانوں کی بندگی کے لئے نہ تو کوئی دلیل ہے اور نہ ہی انہیں کسی قسم کا امتیاز حاصل ہے (عباد ) 65

۲۔ “معبودوں”کی خاموشی ان کے عاجزا اور بے وقعت ہونے کی دلیل ہے (فلیستجیبوا)

۳۔ “معبود”کاکام ہوتا ہے کہ اپنے”عبد” کی ذہنی نشوونما کرے اور اسے پروان چڑھائے تا کہ اسے ساکت وجامذ اور موقوف کر دے۔ (فلیستجیبوا)

آیت۱۹۵

اَلَھُمْ اَرْجُلٌ یَمْشُوْنَ بِھَا اَمْ لَھُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِھَا اَمْ لَھُمْ اَعْیُنٍ یُّبْصِرُوْنَ بِھَا اَمْ لَھُمْ اَذَانٌ یَسْمَعُوْنَ بِہَاط قُلْ اَدْعُوْا شُرَکَآءَ کُمْ ثُمَّ کِیْدُوْنَ فَلَا تَنْظُرُوْنَ o

ترجمہ۔ آیا ان (معبودُوں) کے لئے پاؤں ہیں جن کے ساتھ وہ چل سکیں، یا ہاتھ ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنا زور دکھا سکیں، یا آنکھیں ہیں جن کے ذریعہ وہ دیکھ سکیں، یا کان ہیں جن کے ذریعہ وہ سن سکیں؟(تو اے پیغمبر!) کہہ دو کہ تم اپنے شریکوں کو بلاؤ پھر میرے خلاف نقشے بناؤ اور مجھے کوئی مہلت بھی نہ دو!

دو نکات

ٍ “یبطشون”کا لفظ “بطش”سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کو پوری قوت اور زور سے پکڑنا۔

اس آیت میں ان مشرکین کو جھنجھوڑا گیا ہے جو خدا کیلئے ایسے شریک ٹھہراتے ہیں جو ان سے بھی زیادہ عاجز اور لا چار ہیں، کیونکہ یہ مشرکین تو اپنے پاؤں سے چل بھی سکتے ہیں، ہاتھوں سے پکڑا سکتے ہیں آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں، کانوں سے سن سکتے ہیں جب کہ وہ بے روح مجسمے ایسی تمام باتوں سے محروم ہیں۔ اگر ان سے درخواست کی جائے کہ فلاں کام کر دیں تو وہ ایسا کرنے سے عاجز ہیں، تو پھر ان کی یہ بت پرستش اور عبادت کیسی؟

پیام

۱۔ خدائی رہبر میں اس قدر جرات اور قدرت ہونی چاہئے کہ پورے اطمینان کے ساتھ مخالف طاقتوں کے للکار سکے اور اس میں چیلنج کی وہ طاقت ہونی چاہئے کہ باطل اور طاغوتی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر کہہ سکے “تمہارے جو بھی خطرناک”ناپاک اور گھناوے منصوبے ہیں انہیں بے شک عملی پا جامہ پہناؤ، میرا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے، تا کہ اس طرح سے ان کا عجز اور ناتوانی ثابت ہو جائے(قل ادعوا…)

۲۔ جن کے ہاتھ اور پاؤں ہیں وہ تو مشرکین کی امداد نہیں کر سکتے اب بے چاری بے دست و پا چیزوں کی کیا مجال کہ ان کی کوئی مدد کر سکیں!

۳۔ مشرکین کی عقلیں بھی عجیب ہیں، کسی پیغمبر کی بات کو اس لئے ماننے کے لئے تیار نہیں کہ کہتے ہیں”یہ تو ہمارے جیسے بشر ہیں!”لیکن بتوں کے آگے سر جھکائے ہوئے ہیں اُن جیسے تو کیا ان سے بھی کم ترین ہیں۔

۴۔ تبلیغ و مناظرے کا یہ شیوہ بہترین ہے کہ سوال بھی ہو، تنفید بھی ہو، دباؤ بھی ہو پھر ساتھ ہی للکار اور چیلنج بھی! (اس آیت کے اور اس سے پہلی آیات کے پیش نظر)

آیت۱۹۶

اِنَّ وَلِیَّ اللّٰہِ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتٰبَصلے وَ ھُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ o

ترجمہ۔ٍ میرا ولی اور سر پرست یقیناً وہ اللہ ہے جس نے(اس آسمانی) کتاب کو نازل کیا ہے اور وہ تمام صالح لوگوں کی ولایت ، سر پرستی (اور مخصوص ہدایت) کرتا ہے۔

ایک نکتہ

اس سے پہلی آیات میں باطل معبودوں کی ناتوانی اور عاجزی کا تذکرہ تھا اور اس آیت معبود برحق کا تعارف کرایا جا رہا ہے۔

پیام

۱۔ اللہ اور مومن انسان کا باہمی رابطہ بہت ہی قریبی ہے(ولیّ)

۲۔ آسمانی کتاب کا نزول ، ولایت الہٰی کا ایک پر تو ہے(ولی۔ نزل)

۳۔ معبود حقیقی تو وہ ہوتا ہے جو منصوبے اور پروگرام بھی بھیجتا ہے (نزل الکتاب)اور ان کے اجراء اور نفاذ ہیں اس راہ پر چلنے والوں کی سر پرستی بھی کرتا ہے(یتولی الصالحین)۔ یعنی جہاں سے قانون بن کر آتا ہے ا سے نفاذ کے لئے قانون کا اجرا کرانے والوں کی حمایت اور سر پرستی بھی ہونی چاہئے(نزل۔ یتولی)

۴۔ تنہائی سے نہیں گھبرانا چاہئے، اس لئے کہ خداوندعالم صالحین کا ولی وسرپرست ہے۔ اور امداد کا وعدہ کیا ہوا ہے (یتولی الصالحین۔ ولیی)

۵۔ متقی اور صالح افراد کو کبھی اور کسی مقام پررکاوٹ پیش نہیں آتی(یتولی الصالحین) 66

۶۔ خدا کی ولایت اپنے اولیاء کے ساتھ دائمی ہوتی ہے (یتولی)

۷۔ انسانوں کی مشکل یہ ہے کہ تو ان کے پاس کوئی ٹھوس پروگرام نہیں ہوتا یا پھر اس کے ساتھ انہیں دلچسپی نہیں ہوتی ، جبکہ مومن کے لئے مذکورہ دونوں مشکلات میں سے کوئی بھی مشکل نہیں ہوتی (نزل الکتاب۔ یتولی الصالحین)

۸۔ فاسق لوگ اللہ تعالیٰ کی حمایت اور امداد کے مدار سے باہر ہیں(صالحین)

آیت ۱۹۷۔ ۱۹۸

وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہ لَاْ یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصَرَ کُمْ وَلَا اَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ o وَ اِنْ تَدْعُوْھُمْ اِلٰی الْھُدٰی لَا یَسْمَعُوْاط وَ تَرٰھُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ وَھُمْ لَا یُبْصِرُوْنَo

ترجمہ۔ اور تم لوگ خد اکے علاوہ دوسرے جن لوگوں کو پکارتے اور ان کی عبادت کرتے ہو نہ وہ تمہاری امداد کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی کوئی مدد کر سکتے ہیں۔

اور اگر تم ان(بت پرستوں یا بتوں) کو ہدایت کی طرف بلاؤ تو وہ نہیں سن پاتے اور اگر تم انہیں دیکھو تو(معلوم ہو گا کہ)وہ تمہاری طرف نگاہ کر رہے ہیں حالانکہ وہ نہیں دیکھ رہے ہوتے(اس لئے کہ ان میں بصیرت نہیں ہوتی)۔

(بتوں اور بت پرستوں کی نگاہیں،مصنوعی آنکھوں سے ہوتی ہیں گویا وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ حالانکہ ان کی نگاہیں ہر طرح کے غور اور شعور سے خالی ہوتی ہیں)۔

پیام

۱۔ شعور، ارادے اور قدرت سے عاری معبود، کبھی لائق عبادت نہیں ہوا کرتے۔ (لا یستطیعون۔ لایسمعوا،لا یبصرون)گذشتہ تمام آیات سے مجموعی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معبود ،مدبراور رب کو:

الف: خالق اور مالک ہونا چاہئے:”ایشرکون مالا یخلق وھم یخلقون”

ب: تاجر اورمددگار ہونا چاہئے:(لا یستطیعون نصرکم)

ج: حاجات اور دعاؤں کو سننااور قبول کرنا چاہئے:”سواء علیکم ادعوتموھم”

د: قادر اور توانا ہونا چاہئے:ام لھم ایدیبطشون بھا…،

ھ: سمیع اور بصیر(سننے اور دیکھنے وال) ہونا چاہئے: ام لھم اذان یسمعون بھا ام لھم المین یبصرون بھا،،

و: دشمنوں کی چالوں کو ناکام بنانے والا ہونا چاہئے:ادعوا شرکائکم ثم کیدون،،

ز: کتاب اور قانون دینے والا ہونا چاہئے:”نزل الکتٰب،،

ح: نیک اور صالح افراد کو اپنی مخصوص ولایت عطا کرنے والا ہونا چاہئے:”یتولی صالحین”

آیت ۱۹۹

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰھِلِیْنَ o

ترجمہ۔ (لوگوں کے ساتھ) عفو و درگزر سے کام لو (ان کے ساتھ آسانی برتو اور میانہ روی کا سلوک کرو) نیک کاموں کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔

چند نکات

“عفو” کے معنی ہیں متوسط اور درمیانی حد، خطاکار کے عذر کو قبول کر کے اسے معاف کر دینا، کاموں میں سختی سے کام نہ لینا، اور اضافی مقدار وغیرہ۔ لیکن اس آیت میں بظاہر پہلا معنی مراد ہے۔

یہ آیت اختصار اور سادگی کے باوجود تمام اخلاقی کی جامع ہے۔ مثلاً ا : انفرادی جیسے “عفو” ب: اجتماعی جیسے “امر” ج: دوستوں کے ساتھ جیسے “عفو” د: دشمنوں کے ساتھ جیسے : “جاھلین” ھ: زبانی جیسے: “امر” و: عملی جیسے: “اعرض” ز: مثبت جیسے: “خذ” ح: منفی جیسے: “اعرض” ط: رہبر کے لئے بھی ی: امت کے واسطے بھی۔ ک: گزشتہ زمانے کے لئے بھی۔ ل: موجودہ اور آئندہ دور کے لئے بھی۔67

جب یہ آیت نازل ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت جبرائیل سے اس کی وضاحت طلب کی تو جبرائیل بار دیگر یہ پیغام لے کر آئے: “تعفوا عمن ظلمک، تعطلی من حرمک و تصل من قطعک” جس نے تم پر ظلم کیا ہے اسے معاف کر دو، جس نے تمہیں محروم کر دیا ہے اسے عطا کرو اور جو تم سے تعلقات توڑ چکا ہے اس سے اپنے ناتے بحال کرو۔

پیام

۱۔ ہمیشہ اور ہر ایک کے ساتھ عفو و درگزر کے ساتھ کام لینا اور خاطر و مدارات سے کام لینا چاہئے (خذ) اس کا معنی ہے ہمیشہ اور ہر وقت عمل کرنا۔

۲۔ طاقت کے مطابق ہی فریضہ کی ادائیگی کا حکم ہونا چاہئے (خذا العفو)

۳۔ دین کی بنیاد آٰسانی اور نرمی پر ہے تنگی اور سختی پر نہیں (خذ العفو)

۴۔ ذاتی اور نجی معاملات میں بھی عفو و درگز سے کام لینا چاہئے (خذالعفو)

۵۔ صرف خود کو اچھا بنانا یا خود اچھا بننا کافی نہیں معاشرے میں بھی نیکیوں کو فروغ دینا اور ان کا حکم دینا بھی ضروری ہے (وامر بالمعروف)

۶۔ آیت کے مخاطب صرف سرکار سرور دو عالم ہی نہیں بلکہ ہر مسلمان، ہر مبلغ اور ہر مصلح کو معاشرے میں ضدی مزاج اور ہٹ دھرم، جاہل اور یاوہ گو لوگوں کے ساتھ روگردانی والی حکمت عملی اپنانی چاہئے، اگر وہ توہین کریں یا تہمتیں لگائیں تو چشم پوشی اور صبر سے کام لینا چاہئے، ان سے الجھنا اور لڑنا جھگڑنا نہیں چاہئے (اعرض…)

۷۔ جہاں نیکیوں کا حکم دینا چاہئے وہاں پر یہ حکم بھی اچھے اور معروف انداز میں دینا چاہئے (وامر بالعرف)

۸۔ جاہلوں سے مراد بے عقل لوگ ہیں نا کہ ان پڑھ افراد (جہل، عقل کے مقابلے میں ہے نا کہ علم کے مقابلے میں)68

۹۔ جاہلوں سے میل ملاقات یا عفو و درگزر کے موقع پر ان کی مرضی یا خواہشات کے مطابق عمل نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی ان کی طرف توجہ کرنی چاہئے کیونکہ یہ قرین مصلحت نہیں ہے، بلکہ ان سے روگردانی کر لینی چاہئے (اعرض عن الجاھلین)

۱۰۔ یہ ساری کی ساری سورت مختلف تعبیرات کے ساتھ اعتدال پسندی کی دعوت دے رہی ہے، مثلاً حقوق میں اعتدال کی: جیسے آیت ۲۹ ۔ خرچ اخراجات میں اعتدال کی جیسے: آیت ۳۱ ۔ زینت میں اعتدال کی جیسے: آیت ۳۲۔ عبارت میں اعتدال کی جیسے: آیت ۵۶۔ مکان بنانے میں اعتدال کی جیسے آیت ۷۳۔ اقتاصد میں اعتدال کی جیسے: آیت ۸۵۔ حضرت موسیٰ کی امت کو حق و عدل کا حکم ملا اسی طرح حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت کو حق و عدل اپنانے کا حکم ہوا۔ جیسے آیت ۱۵۷۔ امت موسیٰ کے بارے میں اور آیت ۱۸۱ امت پیغمبر اسلام کے بارے میں (“یھدون بالحق و بہ یعدلون”)

آیت ۲۰۰

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِط اِنَّہ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ o

ترجمہ۔ اور اگر تمہیں شیطان (اور شیطان صفت لوگوں) سے کوئی وسوسہ دامن گیر ہو تو تم خدا کی پناہ طلب کرو، کیونکہ وہ یقینی طور پر سننے اور جاننے والا ہے۔

دو نکات

“نزع” کا معنی ہے کسی کام میں فساد پیدا کرنے اور گڑبڑ پھیلانے کی غرض سے شامل ہونا۔ (تفسیر المیزان۔ تفسیر نمونہ)

اسی سورت کی آیت ۱۶ سے ۲۷ تک شیطانی کے آدم کو وسوسے ڈالنے کا تذکرہ ہے۔ اور سورت کے آخر میں بھی شیطانی وسوسوں سے خبردار رہنے کے لئے کہا گیا ہے۔ اس سے پہلی آیت میں جاہل لوگوں سے روگردانی اختیار کر لینے کی دعوت دی گئی تھی، جس پر رسول خدا نے جبرائیل سے دریافت کیا: “غصے کے عالم میں اس پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے؟ تو اس کے جواب میں یہی آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر نمونہ۔ و۔ تفسیر المنار)

پیام

۱۔ اگرچہ انبیاء کرام علیہم اسلام معصوم ہیں، لیکن شیطان ان کے لئے بھی وسوسے ڈالنے سے نہیں چوکتے۔69 (اور انبیاء علیہم اسلام کی عظمت بھی اسی میں ہے کہ بشری ضروریات، شیطانی اور وسوسوں کے باوجود پاک و پاکیزہ، معصوم، متقی اور ہر طرح کے گناہ سے دور ہیں۔ (ینزعنک)

۲۔ تمام انبیاء معصوم ہیں، اور ان کی عصمت کا ایک راستہ یہی خدا سے امداد طلب کرنا، اس کی طرف متوجہ رہنا اور اسی سے پناہ مانگنا ہے (فاستعذ)

۳۔ گناہ یا وسوسے کا فرض کر لینا اس کے واقع ہونے پر دلالت نہیں کرتا، صرف متوجہ اور خبردار کرنا مقصود ہوتا ہے۔ “اما” کا لفظ شرط کے سانچے میں ہے ثبوت اور وقوع کی صورت میں نہیں۔70

۴۔ خداوند عالم سے مددخواہی اور پناہ طلبی شیطانی وسوسوں کا بہترین علاج ہے، (فاستعذ)71

۵۔ انبیاء کو بھی خدا کی امداد اور پناہ کی ضرورت ہوتی ہے (فاستعذ)

۶۔ اولیاء اللہ کے لئے شیطانی وسوسہ جزوی صورت میں ہوتا ہے (نزغ)

۷۔ شیطانی وسوسہ حتمی ہوتا ہے (ینز غنک) نون تاکید ثقیلہ کے ساتھ۔

۸۔ شیطانی وسوسے دائمی اور ہمیشہ کے لئے ہوتے ہیں (ینز غنک) فعل مضارع کی صورت میں،

۹۔ خطرے کے وقت خصوصی ہوشیاری اور زیر کی درکار ہوتی ہے (فاستعذ)

۱۰۔ چونکہ شیطانی وسوسے مختلف انداز اور مختلف صورتوں میں ہوتے ہیں لہٰذا پناہ بھی “اللہ” ہی سے طلب کرنا چاہئے جو کمال کی تمام صفات کا جامع ہے (باللہ) فرمایا ہے “بالغنی” یا “بالعلیم” یا کسی اور صفت کو بیان نہیں فرمایا۔

۱۱۔ اس خدا سے پناہ طلب کرنا چاہئے جو سننا بھی ہے اور جاننا بھی اور ہر ظاہری اور باطنی مسئلے سے آگاہ ہے لہٰذا بتوں یا کسی اور خرافات کی پناہ بے سود ہے (سمیع علیم)

آیت ۲۰۱۔ ۲۰۲

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقُوْا اِذَا مَسَّھُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا فَاِذَا ھُمْ مُبْصِرُوْنَ o وَ اِخْوَانُھُمْ یَمَدُّوْنَھُمْ فِیْ الْغَیِّ ثُمَّ لَایَقْصُرُوْنَ o

ترجمہ۔ یقیناً جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے، جب شیطان کی طرف سے کوئی چکر لگانے والا انہیں مل جاتا ہے تو وہ فوراً (خدا اور اس کی سزا و جزا کی طرف)متوجہ ہو جاتے ہیں اور بینا ہو جاتے ہیں (اور انہیں بصیرت مل جاتی ہے)

اور ان کے (شیطان صفت گمراہ کن) بھائی انہیں گمراہی کی طرف کھینچ کر لے جانے میں مصروف رہتے ہیں اور پھر وہ اس بارے کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔

پیام

۱۔ شیطان، مومن اور متقی افراد کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں (اتقوا)

۲۔ شیاطین ہمیشہ اپنی مشقوں میں لگے رہتے ہیں اور مسلسل چکر لگاتے رہتے ہیں اور ان کے لئے تختہ مشق اور چکروں کا محور ہمیشہ انسان ہی ہوا کرتے ہیں۔ (طائف)

۳۔ شیطانی اور نفسانی وسوسے جراثیموں کی مانند ہر جگہ گھومتے رہتے ہیں۔ اور کمزور جسم و جان اور ضعیف الاعتقاد و الایمان لوگوں کے تو پیچھے ہوتے ہیں (طائف من الشیطان)

۴۔ شیطانی وسوسے کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ کبھی تو دور سے ہوتے ہیں جیسے “وسوس الیہ” (طٰہ ۱۲۰) کبھی جان و دل میں نفوذ پیدا کر کے جیسے “فی صدور الناس” (والناس/۵) کبھی ہم نشینی کی صورت میں جیسے “فھو لہ قرین” (زخرف/۳۶) اور کبھی چکر لگنے اور گھومنے کی صور تمیں جیسے “مسھم” (یہی آیت)

۵۔ علماء، مصلحین اور تربیت کنندگان کو خاص طور پر ہوشیار اور خبردار رہنا چاہئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مشکوک اور مجہول الحال لوگوں کے ساتھ تعلقات قائم کر کے دشمن کی چالوں اور ان کے جالوں میں نہ پھنس جائیں۔ لہٰذا ایسے لوگوں کو خاص طور پر خدا کی پناہ طلب کرنا چاہئے (اذا منھم…تذکروا)

۶۔ خدا کی یاد انسان کو بصیرت عطا کرتی ہے اور وسوسوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ (تذکروا…مبصرون)

۷۔ شیطان کے شکنجوں میں جکڑا ہوا انسان دل کا اندھا ہوتا ہے اور ابلیس کے دام سے محفوظ لوگ بابصیرت ہوتے ہیں (مبصرون)

۸۔ اگر معاشرہ اخلاقی، سیاسی، اقتصادی اور عسکری اعتبار سے پاک اور متقی ہو تو شیطان صفت لوگوں کی اس معاشرے میں آمد و رفت اور میل جول معاشرہ کے افراد پر کوئی اثر نہیں کر سکتی (تذکروا۔ مبصرون)

۹۔ متقی لوگ، شیطان شناس اور آگاہ و باخبر ہوتے ہیں۔ (اتقوا۔ تذکروا)

۱۰۔ اگر تقویٰ اور یاد خدا نہ ہو تو شیطان انسانوں کے بھائی بند بن جائیں اور انسانوں پر ان کی گرفت آسان اور موثر ہو جائے (اخوانھم)

۱۱۔ انحراف اور گمراہی کی راہیں بے انتہا اور لامحدد ہیں (یمدونھم فی الغی)

۱۲۔ اللہ تعالیٰ صالح اور متقی افراد کو اپنی ولایت کے سایہ میں لے لیتا ہے لیکن غیر متقی اور بے ایمان لوگ شیطانی اخوت کے جال میں پھنس جاتے ہیں (اخوانھم)

۱۳۔ گمراہ کرنے میں شیطان، کسی پر رحم نہیں کرتا۔ (لایقصرون)

آیت ۲۰۳

وَ اِذَا لَمْ تَاْتِھِمْ بِاٰیٰةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَھَاط قُلْ اِنَّمَا اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰی اِلٰی مِنْ رَبِّیْ ھٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّکُمْ وَ ھُدیً وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّوْمِنُوْنَ o

ترجمہ۔ اور (اے پیغمبر!) جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہیں لاتے (اور وحی کی تاخیر کی وجہ سے، چند روز کے لئے تلاوت کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے) تو وہ کہتے ہیں: کسی آیت کو کیوں منتخب نہیں کیا؟

(تلاوت یا آیت کی کوئی بات نہیں ہوئی) تو تم کہہ دو کہ میں تو صرف اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے مجھ پر وحی ہوتی ہے۔ یہ (قرآن) بصیرتوں کا مجموعہ ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

ایک نکتہ

“اجتباء” کا لفظ “جبایت” سے لیا گیا ہے جس کا اصل معنی ہے “حوض میں پانی کا جمع کرنا” اور حوض کو “جابیہ” کہا جاتا ہے۔ خراج اور مالیات کی جمع آوری کو بھی جبایت کہتے ہیں۔ پھر اس کا استعمال ہر طرح کی برگزیدہ چیزوں پر ہونے لگا، اور اس کے “اجتباء” کا انتخاب نہیں کہ اسے پڑھے؟ “اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آیت کا معنی یوں ہو کہ: “جس معجزے کا ہم نے تم سے مطالبہ کیا تھا اس کا انتخاب نہیں کیا اور دوسرا معجزہ لے آؤ ہو اور ہمارے سلیقے کے مطابق عمل کیوں نہیں کیا؟”

پیام

۱۔ کفار، بہانے جو لوگ ہوتے ہیں۔

۲۔ کفار، قرآنی آیات کو پیغمبر خدا کے برگزیدہ مطالب سمجھتے تھے وحی الٰہی کے طور پر نہیں مانتے تھے (لولا اجبیتہا)

۳۔ الٰہی رہبر کا فرض بنتا ہے کہ لوگوں کے حیلوں بہانوں اور ان کے ناجائز مطالبات کے آگے سر تسلیم خم نہ کر دے بلکہ اپنے موقف کو ڈٹ کر اور صاف صاف واضح کر دے (قل انما اتبع…)

۴۔ ضروری نہیں ہے کہ مبلغ ہر روز ہی تبلیغی کام سرانجام دے، شاید بعض اوقات سکوت بھی تبلیغی کام کی ایک صورت شمار ہوتی ہو۔ (لم تاتھم بایہ)

۵۔ پیغمبر گرامی صرف اور صرف وحی کے سرچشمہ سے ہی اپنی راہیں متعین کرتے اور احکام لیتے ہیں۔ (انما اتبع ما یوحیٰ الی)

۶۔ وحی، پیغمبر اور امت دونوں کے لئے تربیت کا ذریعہ ہوتی ہے (ربے۔ ربکم)

۷۔ ارشاد اور ہدایت و رہنمائی بصیرت کی بنیادوں پر ہونی چاہئے۔ (بصأر۔ ھدی)

۸۔ قرآن مجید ایک طرف تو فکری بصیرت اور معرفت کی کتاب ہے دوسری طرف ہدایت اور عملی حرکت کے لئے رہنما بھی ہے۔ اور اس کی اتباع و پیروی کا نتیجہ بھی دونوں جہانوں میں رحمت اور برکت ہی ہوتا ہے۔

۹۔ قرآن اگرچہ عمومی طور پر اور ہر ایک کے لئے کتاب ہدایت ہے، لیکن اس سے فائدہ صرف صاحبانِ ایمان ہی اٹھاتے ہیں۔ اور دل کے اندھے بصیرت سے بھی محروم ہوتے ہیں اور ہدایت الٰہی سے بھی دور ہوتے ہیں۔ اورنتیجہ اس کی رحمت سے بھی محروم ہوتے ہیں، (ھدی، رحمة ، قوم یوٴمنون)

سورہ اعراف آیت ۲۰۴

وَ اِذَا قُرِیَ الْقُرْآنَ فَاسْتَمَعُوْا لَہ وَا نْصُتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ o

ترجمہ۔ اور جب بھی قرآن پڑھا جائے تو تم اسے غور سے سنو اور خاموش ہو جاؤ تاکہ اسے سن سکو، شاید کہ خدا کی رحمت تمہارے شامل حال ہو جائے۔

چند نکات

فقہاء کرام سکوت کو مطلقاً واجب نہیں سمجھتے صرف نماز میں واجب جانتے ہیں، یہ آیت اس بات کی تاکید کر رہی ہے کہ جب قرآن پڑھا جا رہا ہو تو ادب کے طور پر خاموش ہو جاؤ اور اسے سنو۔

حضرت علی علیہ السلام نماز پڑھ رہے تھے تو ساتھ ہی ایک منافق بارہا قرآن کو بلند آواز سے پڑھنے لگا۔ حضرت خاموش ہو گئے، جب وہ پڑھ چکا تو آپ نے باقی سورت کو مکمل کیا۔ (از تفسیر نمونہ)

“الضات” کا معنی ہے ” کان لگا کر سننے کے لئے خاموش ہونا”

پیام

۱۔ قرآن جو کہ بصیرت اور رحمت کا وسیلہ ہے اسے مودبانہ طور پر اور کان لگا کر سننا چاہئے (وانصتو)

۲۔ قرآن کو کانوں کے راستے سے گزر کر دل تک جا پہنچنا چاہئے اور دلنشین ہو جانا چاہئے تاکہ اس طرح سے تم پر رحم کیا جائے۔ (لعلکم ترحمون)

(اگر سکوت اور خاموش رہنے کا حکم نہ بھی ہوتا، پھر بھی عقل اور ادب اس بات کے متقاضی تھے کہ کلام الٰہی کو خاموش ہو کر سنا جائے)

آیت ۲۰۵

وَ اذْکُرْ رَبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعاً وَّ خُفْیَةً وَّ دُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصٰالِ وَ لَا تَکُنْ مِنَ الْغٰفِلِیْنَ o

ترجمہ۔ اور اپنے پروردگار کو اپنے دل میں گڑگڑاتے ہوئے، ڈر کر آہستہ اور آرام کے ساتھ صبح و شام یاد کرو اور غفلت کرنے والوں میں سے نہ ہو جاؤ۔

چند نکات

سابقہ آیت میں تلاوت قرآن کے آداب کو بیان کیا گی تھا اس آیت میں ذکر اور دعا کے آداب کے بیان کو کیا جا رہا ہے۔

” آصال” جمع ہے “اصیل” کی جس کے معنی ہیں غروب کے نزدیک شام کا وقت۔

بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت میں مذکور “ذکر” تمام شبانہ روزی نمازوں کے لئے ہے۔

پیام

۱۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ہمیشہ کے لئے اور دائمی ہے لہٰذا اس کی یاد بھی ہمیشہ کے لئے ہونی چاہئے (ربک)

۲۔ قرآن مجید، زبان کے ساتھ ذکر الٰہی کو سراہنے کے ساتھ ساتھ قلبی اور اندرونی یاد کو بھی ستائش کرتا ہے۔ (فی نفسک)

۳۔ وہ ذکر یاد الٰہی انسان کو محفوظ رکھتی ہے جو عاشقانہ اور سوزناک ہو اور ہر صبح و شام کی جائے۔ (تضرعا)

۴۔ انبیاء علیہم اسلام کو بھی ہمیشہ خدا کی یاد میں مگن رہنا چاہئے۔ دوسروں کا حال تو واضح ہے۔

۵۔ صبح و شام خدا کو یاد کرنا چاہئے، یعنی جب کام کا آغاز کیا جائے اور دن کے پروگرام مرتب کئے جائیں تو پہلے خدا کو یاد کرنا چاہئے، اور جب سارے دن کے کاموں کے نتیجے کو سمیٹا جائے اور کام کی جمع بندی کی جائے تو بھی اسے یاد کیا جائے۔ (بالعذو و الاصال)

۶۔ یاد خدا اس وقت غفلت کو دور کرتی ہے جب کسی قسم کے ریأ ، دکھاوے اور شور شرابے سے پاک صاف ہو، ورنہ بذات خود ایک طرح سرگرمی اور غفلت ہو جائے گی۔ (تضرعا و خیفة و دون الجھر)

۷۔ جو لوگ صبح و شام خدا کو یاد نہیں کرتے ان کا غافلوں میں شمار ہوتا ہے۔

سورہ اعراف آیت ۲۰۶

اِنَِّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّکَ لَاْ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِہ وَ یَسْبَحُوْنَہ وَلَہ یَسْجُدُوْنَoع

ترجمہ۔ یقیناً جو لوگ تیرے پروردگار کی بارگاہ کے مقرب ہیں وہ اس کی عبادت اور پرستش سے سرکشی اور تکبر نہیں کرتے، اس کی تسبیح بیان کرتے اور اس کے لئے سجدہ کرتے ہیں۔

ایک نکتہ

“الذین عند ربک” کا جملہ احتمالاً فرشتوں کو بھی شامل ہے اور مقربان بارگاہ رب العزت بندوں کو بھی کہ جن کا رابطہ ذات الہٰی کے ساتھ ہے اور خود کو خدا کے حضور میں سمجھتے ہیں،

پیام

۱۔ اپنی عبادت پر کبھی ناز نہ کرنا اس لئے کہ خدا کے ایسے فرشتے ہی جو ہمیشہ عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔

۲۔ عبادت کے ساتھ خود کو فرشوتں کے ہم رنگ اور ہم آہنگ کر دو۔

۳۔ استکبار اور اظہار تکبر کی بدترین قسم، خدا کے آگے تکبر کا اظہار اور سرپیچی اورا س کی عبادت کو ترک کر دینا ہے۔

۴۔ سب سے پہلے استکباری کیفیت کو خیرباد کہا جائے، پھر اس کی تسبیح بیان کی جائے اور اس کے بعد سجدہ کیا جائے۔

۵۔ مستکبرین کبھی بھی خداوند عالم کے مقام قرب تک نہیں پہنچ سکتے، (عند ربک لایستکبرون)

۶۔ خدا کے سامنے تضرع اور زاری کی جائے۔ تواضع اختیار کی جائے۔ اس کی پاکیزگی کی طرف توجہ کی جائے اور سجدہ صرف اسی کی ذات کے لئے خاص سمجھا جائے۔ (لایستکبرون۔ یسجونہ، لہ یسجدون)

حوالا جات ۔ فٹ نوٹس

1۔ ابروبادومہ وخورشید و فلک درکارند۔ تاتونانی بہ کف آری و بہ غفلت نخواری ہم از بہر تو سرگستہ وفرمانبردار۔ شرط انصاف بنا شد کرتوفرمانبری بادل، ہوا، چاند، سورج اور فلک سب اس کام میں لگے ہوئے ہیں کہ تو روٹی حاصل کرے مگر غافل ہو کر نہ کھائے۔ چیزیں ہی لئے سرگرداں ار تیرے ہی فرمانبردار ہیں۔ لیکن یہ انصاف سے بعید ہو گا کہ جس کی اطاعت کے لئے تو پیدا ہوا ہے اس کی اطاعت نہ کرے۔

2مکتب تشیع اس قدر غنی اور بے نیاز ہے کہ اسے “قیاس” سے کام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے حضرت ابوحنفیہ کے قیاس سے کام لینے کی سخت مذمت کی ہے۔ عامة المسلمین کی کتب تفسیر مثلاً المنار اور طبرسی میں بھی قیاس سے روکا گیا ہے۔

3 سورہ کہف /۵۰میں ہے “ففسق عن امرربہ” (اس نے اپنے رب کے امر کی خلاف ورزی کی )

4حضرت علی علیہ السلام خطبہ “قاصعہ” میں فرماتے ہیں، ابلیس سے عبرت حاصل کرو اس نے اپنی طولانی عمر کو ایک لمحے میں تکبر کے ساتھ کیونکر برباد کر دیا۔ روایات میں ہے کہ کفر کی بنیاد تین چیزوں پر ہے۔ ۱۔حرص ۲۔حسد ۳۔تکبر (کام) جلد ۲ باب ۶ ف خوافی ۔ شیعہ سنی روایات میں ہے کہ قیامت کے دن متکبرین گواہی کی حالت میں گواہ ہوں گے۔ اور اہل محشر کے پاؤں تلے روندے جائیں گے۔

5سورہ ص / ۸۳ میں ہے کہ ہم پڑھتے ہیں کہ شیطان نے کہا: “فبعزتک لاغوینھم” (تیری عزت کی قسم! میں ان (تیرے بندوں) کو ضرور گمراہ کروں گا۔

6برادرانِ یوسف نے بھی یوسف کو باپ سے جدا کرنے کے لئے کیا تھا “بابا انالہ لناصحون” ہم تویوسف کے خیرخواہ ہیں۔ (سورہ یوسف)

7شیطان کی انسان کے ساتھ دشمنی کی طرف اور حق بات پر بھی اشارہ کیا گیا ہے جن میں سے ایک سورہ طہٰ کی ۱۱۰۔ ۱۱۶ویں آیات میں ہیں کہ جب آدم علیہ السلام شیطانی وسوسوں کا مقابلہ نہ کرسکے “فنسی ولم بخدلہ غرما” اور بہشت سے نکال دئیے جانے کی سزا پائی اور “فقلنا یٰادم ۔۔۔ فتشعیٰ” آنے کیا اے آدم ! یہ تمہارا اور تمہاری زوجہ کا دشمن ہے کہیں تمہیں بہشت سے نہ نکلوا دے کہ بدبخت ہو جاؤ گے۔”

8″ان من شیء ٍ الاعندنا خزائنہ ومان ننزلہ الاقدر معلوم” کوئی بھی چیز نہیں ہے مگر اس کے خزانے تمہارے پاس ہیں اور ہم معلوم اندازے کے علاوہ نہیں بھیجتے (حجر/ ۲۱) اور بھیجتے کیا ہیں؟ “انزلنا الحدید” “انزل لکم من الانعام” ۔۔۔۔ “انزل علیکم لباسا”

9ہو سکتا ہے کہ جنگی لباس مثلاً زرہ ڈھال، خود وغیرہ بھی “لباس تقوی” کے مصداق میں شامل ہوں، کیونکہ حضرت علی علیہ السلام نے جہاد کو بھی لباس تقوی قرار دیا ہے۔ فرماتے ہیں “الجہاد لباس التقویٰ” نہج البلاغہ خطبہ ۲۷۔

10۔ ابلیس کا لشکر ہے۔ “وخبودابلیس” (شعراء / ۹۵)

11 بحارالانوار جلد ۱۱ ص۳۱۸

12 اس سے ملتی جلتی سورہ نحل / ۱۰۰ ہے۔

13اور آیات میں بھی ہے۔ “لوشأاللہ مااشرکنا” (انعام/ ۱۴۸) یعنی اگر خدا چاہتا تو ہم مشرک نہ بنتے۔ “ولوشاء اللہ ما عبدنا من دونہ من شی ء ٍ ” (نحل/ ۳۵) یعنی اگر خدا چاہتا تو ہم اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرتے۔

14حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن لوگ ننگے بدن اور ننگے پاؤں محشور ہوں گے جیسا کہ پہلے دن اس دنیا میں قدم رکھا تھا۔ (تفسیر نورالثقلین)

15توبہ اور یادِ الٰہی شیطانی وسوسوں کو ختم کرتی ہے۔ ارشاد خداوندی ہے “اذامسھم طائف من الشیطان تذکروا” (اعراف/۲۰۱)

16سورہ کہف کی آیت ۱۰۴ میں ایسے لوگوں کی نشاندہی کی گئی ہے ارشاد ہوتا ہے “قل انبئکم بالاخیرمن اعمالا الذین ضل سیعھم فی الحیٰوة الدنیا وھم یحسبون انھم یحسنون صنعا” کہہ دو کہ آیا میں تمہیں ان لوگوں کے بارے میں بتاؤں جو اعمال کے لحاظ سے خسارے میں رہے، وہی تو ہیں جن کی تگ و دو اس دنیاوی زندگی میں اکارت گئی اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اچھا کام کر رہے ہیں۔

17حدیث شریف میں ہے کہ “المعدة بیت الداء” معدہ بیماریوں کا گھر ہے، چنانچہ ایک مسیحی ڈاکٹر کہتا ہے کہ : “سارا علم طب اسی صرف اسی آیت میں پوشیدہ ہے۔” حدث میں ہے کہ جو لوگ دنیا میں اکثر اوقات پیٹ بھرے رہتے ہیں قیامت کے دن بھوکے پیاسے ہوں گے۔ (تفسیر فرقان)

18امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :”جس کے پاس ایک دن کی غذا موجود ہو اور پھر بھی لوگوں سے مانگنے یا گداگری کرے تو اس کا شمار بھی مشرقین میں ہوتا ہے۔ (تفسیر فرقان)

19سورہ کہف / ۵۹ میں فرماتا ہے “جعلنا لمھلکھم موعدا” ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے وقت مقرر کر رکھا ہے۔

20ایک اور آیت میں ہے “کلانمرھٰوٴلاء وھولاء”

21سورہ عنکبوت/۲۰ میں ارشاد ہوتا ہے”یکفر بعضکم بیعض ویلعن بعضکم بعضا” تم ایک دوسرے کو کافر بتاؤ گے۔

22ارشاد باری ہے: “ولوان اھل القریٰ امنو اواتقوالفتحنا علیھم برکات من السماء و الارض” اگر ان بستیوں والے ایمان لے آئیں اور تقویٰ اختیار کریں تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیں

23دوسری آیت میں بھی اسی طرح ہے: “لمیحطة بالکافرین” یعنی کافروں کو گھرے ہوئے ہیں (عنکبوت /۵۵)

“لھم من فوقہ ظلل من النار و من تحتھم ظلل” یعنی انکے اوپر بھی آگ کے سائبان ہیں اور نیچے بھی ایسے ہی (زمر/۱۶) اور “یغشنھم العذاب من فوقھم و من تحت ارجلھم” یعنی عذاب انہیں اوپر سے بھی ان کے پاؤں کے نیچے سے بھی ڈھانپ لے گا۔ (عنکبوت/۵۵)

24″ماجعل علیکم فی الدین من حرج” خدانے دین میں تمہارے لئے کوئی تنگی قرار نہیں دی (حج /۴۷) “یرید الله بکم الیسر و لا یرید بکم العسر” خدا تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور مشکل نہیں چاہتا

25ایک اور آیت میں فرماتا ہے کہ مومن کہتے ہیں “لا تجعل فی قلوبنا غلا” ہمارے دلوں میں کینہ نہ رکھ (حشر/۱۰) جو کہ اہل ایمان کی دعا ہے۔

26انسان بھی اس حقیقت کا اعتراف کرے گا اور کہے گا”اغنی عنی ما لیہ” میرے مال نے مجھے کوئی فائدہ نہ پہنچایا

27قرآن کہتا ہے: “انما الحٰیوة الادنیا لعب ولھو” دنیا تو بس کھیل تماشا ہے جبکہ وہ دین کو تماشا سمجھتے ہیں۔

28خدا فرماتا ہے: “فاذ کرونی اذکرکم” تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا تو انسان کی یاد، خدا کی یاد کا سبب ہوتی ہے اور اس کی خدا سے غفلت، انسان کی فراموشی کا موجب ہوتی ہے۔

29چونکہ اس سے پہلے آیت “کتاب” سے تعلق رکھتی ہے لہٰذا “نسوہ” کا جملہ کتاب کے فراموش کرنے کے بارے میں ہے۔ تو کیا آج مسلمان کتاب اور قرآن کو فراموش نہیں کر چکے؟ قرآن کا فراموش کرنا خدا کو بھلا دینا اور خدا کو بھلا دینے والے شیطان کے جماعتی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے “انساھم ذکر الله اوئیک حزب الشیطان” (مجادلہ /۱۹۳

30قرآن کہتا ہے کہ اگر کفار دنیا میں واپس آ بھی جائیں تو بھی وہی کام کریں گے ” ولوی دو انعاد والمانہوا عنہ” (انعام /۱ ۲)

31

مکر شیطان است تعجیل و شتاب

خوی رحمان است صبر واحتساب

یاتانی گشت موجود از خدا

تابہ شش روز این زمین و چرخ ہا

ورہ قادر بود کز کن فیکون

صد زمین و چرخ آوردی برون

آدمی را اندک اندک آن ہمام

تاچہل سائش کند مردی تمام

این تانی ازیی تعلیم توست

صبر کن در کار در آئی درست

ترجمہ: شیطان کا کام اور مکاری جلد بازی میں ہے۔ جبکہ رحمان کا کام صبر و حوصلے کے ساتھ کام کرنا ہے۔ خداوند عالم آرام اور حوصلے کے ساتھ تخلیق کا عمل انجام دیتا ہے اور یہ زمین و آسمان چھ دن میں پیدا کئے وہ اس بات پر بھی قادر تھا کہ “کن” کہہ کر اس طرح کے سینکڑوں آسمان و زمین پیدا کرتا وہ خالق و مالک انسان کو بھی چالیس سال کی عمر میں پختہ کرتا ہے۔ یہ سب کچھ تمہارے سمجھانے کیلئے ہے لہٰذا صبر سے کام لو تاکہ دیر آید درست آید کے مصداق تمہارے کام صحیح طریقے سے انجام پائیں۔

32زمین شوہ سنبل نیارد دراو تخم و عمل ضایع مگر دان

شورہ زار: زمین میں سنبل کا درخت نہیں اگ سکتا لہٰذا اس میں نہ تو بیج کو ضائع کرو اور نہ ہی اپنی کاوشوں کو۔

گوہر پاک بیاید کہ شود قابل فیض ورنہ ہر سنگ و گلی ٹو ٹو و مرجان نشود

ذرہ راتا نبود ہمت عالی حافظ طالب چشمہ خورشید درخشاں نشود

ایک پاک جوہر ہونا چاہئے جو فیض کے قابل بھی ہو ۔ ورنہ ہر پتھر اور مٹی لولو و مرجان نہیں ہو سکتے۔

اے حافظ) جب تک ذرہ میں عالمی ہمتی نہ ہو تو اس وقت تک وہ نیردرخشاں کے چشمہ فیض کا طالب نہیں ہو سکتا۔

افتادگی آموز اگر طالب فیضی ہرگز نخورد آب زمینی کہ بلند است

اگر فیض کی ضرورت ہے تو پھر انکساری سیکھو۔ کیونکہ بلند زمین کبھی پانی سے سیراب نہیں ہو سکتی۔

33از حضرت امام جعفر صادق علیہم السلام (تفسیر نور الثقلین)

34اس آیت کے واضح ترین مصداقوں میں سے ایک حضرت امام زمان عجل الله فرجہ کا زمانہ ظہور ہے جس میں بقول روایات آسمان اور زمین سے برکتیں نازل ہوں گی (تفسیر نور الثقلین جلد نمبر ۰۲)

35وفاداروں کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے “مومنون” (سورہ منون/۱۔۲) متقین (آل عمران/۷۶)

“الوالالباب” (رعد/۲۰) “ابرار” (الدھر/۷) جبکہ بے وفاؤں اورعہد شکنوں کی ان الفاظ میں مذمت کی ہے ” فاسقین ” (زیر نظرآیت ) “کافرین” (نسا/۱۰۰) اور “مشرکین” ” ظالمین” “شرالاواب‘و (بدترین جانور)

36سورہ طہ/۷۱ میں ہم پڑھتے ہیں”انہ لکبیرکم الذی علمکم السحر” تم سب جادو موسیٰ کے شاگرد ہو۔

37سورہ طہ/۷۰ میں ہم پڑھتے ہیں کہ جادوگروں نے فرعون سے کہا “فاقض ما انت قاض انما تقضی ھذہ الحیٰوة الدنیا” جو چاہو کرو تمہارا تسلط صرف اور صرف اسی دنیوی زندگی کے ساتھ محدود ہے۔

38جسے قرآن کہتا ہے “ان الانسان لیطفی ان راہ استغفی” جب انسان خود کو تونگر سمجھنے لگتا ہے توسرکشی پر اتر آتا ہے۔

39آن گزشت لذنیل بایاران چو برق موسیٰ اپنے ساتھیوں سمیت دریائے نیل سے ایسے گزر گئے جیسے بجلی

گزرتی ہے۔

وین بہ خواری گشت درود ابہ غرق لیکن فرعون بڑی ذلت اور خواری کے ساتھ دریائے نیل کے پانی

میں غرق ہو گیا۔

ناظران بینند با چشم سئود دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ موسیٰ کہاں پر جا پہنچے اور

کان کجا رقت، این کجا مانند از حجود فرعون، نافرمانی کا ارتکاب کر کے کہاں پر رہ گیا۔

40ایک دن کسی یہودی نے مسلمانوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا: “تم مسلمانوں نے ابھی اپنے پیغمبر کا جنازہ دفن نہیں کیا تھا کہ اختلاف شروع کر دیا اس پر حضرت علی نے فرمایا: ہمارا اختلاف تو حضرت پیغمبر خدا کی باتوں کے سلسلے میں تھا نہ تو خود پیغمبر کے بارے میں اور نہ ہی خدا کے بارے میں تھا۔ جبکہ تمہارے پاؤں ابھی دریا کے پانی سے خشک نہیں ہوئے تھے کہ تم نے موسیٰ سے بتوں کا تقاضا شروع کر دیا (نہج البلاغہ حکمت ۳۱۷) ۲قرآن جید کی بعض آیات میں جہالت عمقل کے مقابلے میں ہے تاکہ علم کے مقابلے میں یعنی جہالت بے عقلی کا نام ہے۔

41سفینة البحار جلد اول ص ۰.۰ و ص ۴.۰ نیز سید رضا نقوی کی کتاب “اربعین در فرہنگ اسلامی” کا بھی مطالعہ کیا جائے

42حدیث منزلت یعنی پیغمبر اسلام کا حضرت علی سے فرمانا “انت منی بمنزلة ہارون من موسیٰ” یعنی اے علی تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ کیلئے ہارون تھے اہل سنت کی کتابوں میں بھی موجود ہے ملاحظہ ہو صحیح بخاری جلد ۶ ص ۳ صحیح مسلم جلد ۴ ص ۱۸۷ سنن ابن ماجہ جلد ۱ ص ۴۲ مسند احمد بن حنبل جلد ۱ ص ۱۷۳ ص ۱۷۰، ۱۷۷ ۔۱۷۹۔۱۸۲

43″لا تدرکة الابصار” اسے ظاہری آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں البتہ خدا کو دل کی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔”رائة القلوب بحقائق الایمان” (از تفسیر صافی) بقول شاعر چشم دل باز کن کہ جان بینی آنچہ نادیدنی است، آن بینی

44امام جعفر صادق فرمتے ہیں “الله تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے فرمایا،جانتے ہو کہ میں نے تمہیں کس لئے برگزیدہ کیا ہے؟” اس لئے کہ تمہارا خضوع و خشوع میری بارگاہ میں بے نظیر تھا، جب بھی نماز کیلئے کھڑے ہوتے ہو تو الٹے اپنے رخسار زمین پر رکھے (اصول کافی)

45مثلاً جہاں ہر “قصاص” اور “معافی‘ کا مسئلہ پیدا ہو جائے تو “معافی کو اپنائیں

46یعنی یہ نکتہ سورہ عنکبوت ۴۸ میں بھی بیان ہو چکا ہے “وما کنت تتلوا من قبلہ من کتاب”

47جو آیات آنحضرت کی عالمی اور آفاقی رسالت پر دلالت کرتی ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں۔ سورہ عبس/۲۸ “کافة للناس” انعام/۱۹ ” لا نذرکم و من بلغ” فرقان/۱ “للعالمین نذیرا”

48حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنے داماد (حضرت موسیٰ علیہ السلام) کو دیکھا کہ ان سے ملاقات کیلئے انتظارکرنے کیلئے بہت بڑی قطار کھڑی ہوئی ہے تو شعیب نے موسیٰ کو اس بات کی پیشکش کی کہ ان لوگوں کو چند گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر ایک گروہ کا ایک مسئول مقرر فرمائیں تاکہ مسئول قسم کی مشکلات کو وہ حل کریں اور اہم ترین سائل موسیٰ کیخدمت میں پیش کئے جائیں (از تفسیر کاشف)

49ہم دعائیں پڑھتے ہیں “یا من یقبل الیسیرو و یعفوا عن الکثیر” یعنی اے وہ الله جو تھوڑے سے عمل کو بھی قبول کر لیا ہے اور زیادہ سے زیادہ گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔

50حضرت علی علیہ السلام نے گناہوں کی توجہ اور شراب کو نیند کے نام سے رشوت کو تحفے کے نام سے اور سود کو منافع کے نام سے موسوم کرنے کی بڑی سخت مذمت کی ہے۔ (نہج البلاغہ خطبہ ۱۰۶)

51اسی طرح کے ایک اور امتحان کا تذکرہ سورہ مائدہ/۹۴ میں ہے کہ “یبلوکم الله بشیئی من الصید تنالہ ایدیکم ورماحکم” اس آیت میں حالت احترام کی حرمت کا تذکرہ ہے کہ جب شکاریاتو انسان کی دسترس میں ہوتا ہے یا تیر کی زد میں اور ایسی ہیجانی کیفت میں شکار سے روکنا خدا کی طرف سے ایک امتحان ہے۔

52حضرت علی علیہ السلام نے بارہا اپنے زمانہ کے بیوفا لوگوں کی شکایت کی ہے اور فرمایا ہے کہ الله مجھے تمہارے درمیان سے اٹھا لے اور دوسروں کو تم پر مسلط فرمائے”

53بنی اسرائیل اس قدر حیلہ سازی، دنیا طلبی، حرص و بہر اور قانون شکنی کے باوجود ہمیشہ ذلیل و خوار ہی رہے ہیں ہٹلر نے لاکھوں یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔

54دوسری آیات میں ہے کہ کہیں پر تو کہتے تھے “نحن ابناء الله و احبائہ” ہم الله کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں (مائدہ/۱۸) یا کہتے تھے “لن تمسناالنار” ہمیں تو آگ چھوئے گی بھی نہیں مگر چند گنتی کے دن (بقرہ/۸۰ آل عمران/۲۴)

55اسی سے ملتا جلتا حضرت علی علیہ السلام کا یہ جملہ ہے کہ “لدواللموت وابنو اللخراب” پیدائش کا انجام موت ہے اور تعمیر کا انجام خانہ خرابی ہے۔

56شاعر کا قول ہے

آدمی زادہ طرفہ معجونی است وز فرشتہ سرشتہ و زگل

گررود سوے این شود بہ ازاین ور رود سوی آن شودیس ازان

اس کا مفہوم وہی ہے جو اوپر بیان ہو چکا ہے۔

57حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی حدیث کا مفہوم (تفسیر مونہ منقول از تفسیر نور الثقلین)

58ایضاً (تفسیر نمونہ منقول از تفسیر برہان)

59حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی حدیث کا مفہوم (تفسیر نمونہ منقول از نور الثقلین)

60مسفطہ ہو سورہ ذاریات /۵۲ ۔ “کذالک ما اتی الذین من قبلھم من رسول الاقالوا ساحر اومجنون”

61دوسری آیات جو اس حقیقت کو بیان کر رہی ہیں بہت زیادہ ہیں منجملہ انکے یہ ہیں کہ “ومایضل بہ الاالفاسقین” (بقرہ/۲۶) یا “بل ران علی قلوبھم ماکانو ایکسنون” (مطففین/۱۴)

62حضرت رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے حضرت قائم آل محمد کے ظہور کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا”مثلہ مثل الساعة” یعنی انکا ظہور بھی قیام قیامت کی مانند اچانک ہو گا پھر آپ نے آیت تلاوت فرمائی “لا بحلیھا توقنا……الانقبة” (از حضرت امام رضا علیہ السلام تفسیر نور الثقلین)

63قرآن مجید بار ہا مختلف انداز میں مثلاً “لا یستطیعون لھم نصرا” (اعراف/۱۹۲) “لایملکون لا نفسھم نفعا” (رعد/۱۶) کہہ کر ہمیں شرک سے منع کر دیا ہے۔

64یقین جانیے طاغوتی طاقتوں کا یہی کام ہے کہ اپنی حکومت کو مستحکم بنائیں اور تمہارا استعمال کریں اگر یقین نہ آئے آزما کر دیکھ لیں اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ انہیں چند اصلاحی اور تعمیری باتوں کی پیشکش کریں تو وہ یقیناً قبول نہیں کریں گے انکے نزدیک آپ لوگوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے خواہ آپ نالہ و فریاد کریں یا خاموشی اختیار کئے رکھیں آپ کیلئے ایک جیسی بات ہے۔ حتیٰ کہ اگر آپ انہیں کرنا چاہیں تو بھی آپکی بات کو نہیں سنیں گی۔ اس لئے تو قرآن کہتا ہے “وان تدعوھم ………”

65علامہ اقبال فرماتے ہیں۔

آدم از بے بصری بندگی آدم کرد

یعنی انسان نے اپنی بے بصیرتی کی وجہ سے دوسرے انسان کی بندگی اختیار کی

گوہری داشت ولی نذر قبادو جم کرد

اس نے انسانیت جیسے عظیم گوہر کی بے قدری کرتے ہوئے اسے قباد اور جمید جیسے بادشاہوں کے قدموں میں ڈال دیا

یعنی از خوے غلامی زسگان پست تراست

من ندیدم کہ سگی پیش سگی سر خم کرد

ایسے انسان خصلت کے لحاظ سے تو کتوں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ میں نے کبھی کسی کتے کو دوسرے کتے کے آگے سر جھکائے ہوئے نہیں دیکھا

66ایک اور مقام پر فرماتا ہے “الله ولی الذین امنو یخرجھم من الظلمات الی النور” (بقرہ/۲۵۷)

67حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے قرآن مجید میں مکارم اخلاق کے سلسلے میں اس سے بڑھ کر کوئی اور آیت جامع نہیں ہے (تفسیر فرقان از درمنشور)

68۔ قرآن اور حدیث کی لغات میں کبھی “جہل” “عقل” کے مقابلے میں بھی آتا ہے اور روایات میں “کتاب العقل والجہل”

۔69 جیسا کہ یہ آیت ہے “وکذالک جعلنا لکل بنی عدو الشیاطین الانس والجن” (انعام/۱۱۲) جو اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ انبیاء کے دشمن جنوں میں سے بھی ہیں اور انسانوں میں سے بھی۔

70۔ جیسے یہ آیت ہے “لئن اشرکت لیحبطن عملک” اگر شرک کرو گے تو تمہارے سارے اعمال تباہ ہو جائیں گے۔ (زمر/۶۰) یہاں پر شرط ، واقع ہونے پر دلیل نہیں بن رہی۔

71صرف “اعوذبالله” کہہ دینے سے پناہ نہیں مل جاتی۔بلکہ خدا کے ساتھ ایک خصوصی روحانی تعلق، اس کے ساتھ ربط، اس پر توکل اور خود کو مکمل طور پر اس کے سپرد کر دینے سے ہی پناہ طلب کی جا سکتی ہے۔

٭٭٭

ماخذ:

http://www.alhassanain.com/urdu/download_zip.php?book_id=3683&link_book=holy_quran_library/quran_interpretation/tafseer_e_noor

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید