FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

ترجمہ و تفسیر قرآن

 

حصہ ۱۴: مدثر تا  ناس

 

                ترجمہ: حافظ نذر احمد

 

 

 

اس ترجمہ قرآن میں تحت اللفظ ترجمہ حافظ نذر احمد صاحب کے ’’ترجمہ قرآن‘‘ سے لیا گیا ہے ، اور ہر سورۃ کا تعارف مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا آسان ترجمہ قرآن(توضیح القرآن)سے پیش کیا گیا ہے ، قرآن کریم کی جو آیتیں بغیر تشریحات کے سمجھ میں آ جاتی ہیں وہاں تشریح کے بجائے صرف ترجمہ پر اکتفا کیا گیا ہے ، اور جن آیتوں کو سمجھنے کے لئے تشریحات ضروری ہیں وہاں پر توضیح القرآن، معارف القرآن اور تفسیر عثمانی سے مختصر تشریح کی گئی ہے۔

 

 

 

 

۷۴۔ سُوْرَۃُ الْمُدّثِّرِ

 

                تعارف

 

اس سورت کی ابتداء میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی طرف دعوت، کفار کو ڈرانے اور ان کی تکلیفوں پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، یہ سورت مجرموں کو اس دن کے عذاب سے ڈراتی ہے جو ان کے لئے بڑا سخت ثابت ہو گا، اس سورت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بدترین دشمن کا تذکرہ ہے جسے ولید بن مغیرہ کہا جاتا ہے ، یہ شخص قرآن سنتا اور پہچانتا بھی تھا کہ یہ اللہ کا کلام ہے ، لیکن بڑا ہونے کے گھمنڈ میں کفر و انکار کرتا تھا، اور قرآن کو معاذاللہ سحر اور جادو قرار دیتا تھا، پھر یہ سورت اس جہنم کا اور اس کے داروغوں کا ذکر کرتی ہے جن کا سامنا کفار و فجار کو کرنا پڑے گا، اور ان کے دلوں میں نرمی نہیں ہو گی۔ یہ سورت ہر شخص کی مسؤلیت اور ذمہ داری کو واضح کرتی ہے کہ ہر شخص سے اس کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا، اور وہ اپنے گناہوں کے اسیر ہوں گے ، سوائے ان کے کہ جن کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ اسیر نہیں ہوں گے ، وہ قیامت کے دن مجرموں سے سوال کریں گے کہ تمہیں کس چیز نے دوزخ میں ڈالا تو وہ جواب میں چار اسباب بیان کریں گے ، پہلا یہ کہ ہم نمازی نہیں تھے ، دوسرا یہ کہ ہم مسکینوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے ، تیسرا یہ کہ ہم کج بحثی اور گمراہی کی حمایت میں خوب حصہ لیتے تھے ، اور چوتھا یہ کہ ہم قیامت کا انکار کرتے تھے ، اس سورت کے اختتام پر بتلایا گیا ہے کہ یہ قرآن ایک نصیحت ہے جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرسکتا ہے ، لیکن اس کے لئے اللہ کی مشیت بھی ضروری ہے۔

(خلاصہ قرآن)

 

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۵۶        رکوعات:۲

 

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

اے کپڑے میں لپٹے ہوئے محمد! (۱) کھڑے ہو جاؤ پھر ڈراؤ۔ (۲) اور اپنے رب کی بڑائی بیان کرو۔ (۳) اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔ (۴) اور پلیدی سے دور رہو۔ (۵) اور زیادہ لینے کی غرض سے احسان نہ رکھو۔ (۶) اور اپنے رب (کی رضا جوئی) کے لئے صبر کرو۔ (۷)

تشریح: یہ اسی طرح کا خطاب ہے جیسا پچھلی سورت کے شروع میں گزرا ہے ، فرق صرف یہ ہے کہ وہاں اصل عربی لفظ مزمل تھا اور یہاں مدثر ہے ، معنی دونوں کے تقریباً ایک ہیں، اس کی تشریح کے لئے پچھلی سورت کا حاشیہ نمبر ۱ ملاحظہ فرمائیں، صحیح احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ پر سب سے پہلی وحی کے طور پر تو سورۂ علق (سورت نمبر:۹۶) کی پہلی پانچ آیتیں نازل ہوئی تھیں، اس کے بعد ایک عرصے تک وحی کا سلسلہ بندرہا، پھر سورۂ مدثر کی یہ آیتیں نازل ہوئیں۔

وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ: (اور زیادہ لینے کی غرض سے احسان نہ رکھو۔ ) کسی کو اس نیت سے کوئی ہدیہ تحفہ دینا کہ جواب میں وہ اس سے زیادہ دے اس آیت کی رو سے ممنوع ہے۔

وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ: جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام کی تبلیغ کا حکم ہوا تو اس بات کا پورا اندیشہ تھا کہ کافر لوگ آپ کو ستائیں گے ، اس لئے حکم دیا گیا کہ فی الحال مسلح جدوجہد نہیں کرنی ہے ، صبر سے کام لینا ہے اور ان کی زیادتیوں کی اصل سزا انہیں اس وقت ملے گی جب قیامت کے لئے صور پھونکا جائے گا جس کا ذکر اگلی آیت میں آرہا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

پھر جب صور پھونکا جائے گا۔ (۸) تو وہ دن ایک دن ہو گا بڑا دشوار۔ (۹) کافروں پر آسان نہیں۔ (۱۰)

مجھے اور اسے چھوڑ دو، جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔ (۱۱) اور میں نے اسے دیا مال کثیر۔ (۱۲) اور سامنے حاضر رہنے والے بیٹے۔ (۱۳) اور اس کے لئے (ہر طرح کا) سامان مہیا کیا۔ (۱۴)

پھر وہ طمع کرتا ہے کہ اور زیادہ دوں۔ (۱۵) ہر گز نہیں بیشک وہ ہماری آیات کا مخالف ہے۔ (۱۶)

اب اس سے بڑی چڑھائی چڑھواؤں گا (اسے مشقت سے تکلیف دوں گا)۔ (۱۷) بیشک اس نے سوچا اور اس نے اندازہ کیا۔ (۱۸) سو وہ مارا جائے کیسا اس نے اندازہ کیا۔ (۱۹) پھر وہ مارا جائے اس نے کیسا اندازہ کیا۔ (۲۰)

پھر اس نے دیکھا۔ (۲۱) پھر اس نے تیوری چڑھائی، اور منہ بگاڑ لیا۔ (۲۲) پھر اس نے پیٹھ پھیر لی اور اس نے تکبر کیا۔ (۲۳)

تو اس نے کہا یہ تو صرف ایک جادو ہے (جو) اگلوں سے نقل کیا جاتا ہے۔ (۲۴) یہ تو صرف ایک آدمی کا کلام ہے۔ (۲۵)

تشریح: متعدد تفسیری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے ، جو مکہ مکرمہ کا بڑا دولت مند سردار تھا، اس کی دولت مکہ مکرمہ سے طائف تک پھیلی پڑی تھی، وہ کبھی کبھی حضرت ابوبکر کے پاس جایا کرتا تھا، اور ایک مرتبہ وہ قرآن کریم سن کر یہ اعتراف کر چکا تھا کہ یہ ایک بے نظیر کلام ہے ، جو کسی انسان کا نہیں ہو سکتا، اس سے ابوجہل کو یہ خوف ہوا کہ وہ کہیں مسلمان نہ ہو جائے ، چنانچہ اس نے ولید بن مغیرہ کے پاس جا کر اسے غیرت دلائی اور کہا کہ لوگ تمہارے بارے میں یہ باتیں کر رہے ہیں کہ تم مسلمانوں کے پاس دولت حاصل کرنے جاتے ہو، ولید کو اس پر غیرت آ گئی اور اس نے کہا کہ آئندہ میں کبھی ابوبکر وغیرہ کے پاس نہیں جاؤں گا، ابوجہل نے کہا کہ جب تک قرآن کے خلاف کوئی بات نہیں کہو گے لوگ مطمئن نہیں ہوں گے ، ولید نے کہا کہ میں اسے نہ شعر کہہ سکتا ہوں نہ کاہنوں کا کلام کہہ سکتا ہوں، نہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مجنون کہہ سکتا ہوں، کیونکہ یہ باتیں چلنے والی نہیں ہیں، پھر کچھ سوچنے کے بعد کہا کہ البتہ اسے سحر (جادو) کہا جا سکتا ہے ، کیونکہ جس طرح جادو کے ذریعے جادوگر میاں بیوی میں تفرقہ ڈال دیتے ہیں، اسی طرح اس کلام کو سن کر جو مسلمان ہو جاتا ہے وہ اپنے کافر ماں باپ وغیرہ سے الگ ہو جاتا ہے ، اور بعض روایات میں ہے کہ ولید نے یہ بات اس موقع پر کہی تھی جب قریش کے لوگوں نے حج سے کچھ پہلے یہ مشورہ کیا کہ حج میں  سارے عرب سے لوگ آئیں گے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سوالات کریں گے ، ہمیں یہ طے کر لینا چاہئیے کہ ان سے کیا کہیں، ولید نے کہا کہ انہیں نہ مجنون کہا جا سکتا ہے نہ شاعر نہ کاہن نہ جھوٹا، لوگوں نے پوچھا کہ پھر کیا کہیں تو اس نے کچھ سوچ کر جواب دیا کہ اگر انہیں جادوگر کہا جائے تو بات کچھ چل جائے گی۔

(توضیح القرآن)

 

عنقریب اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔ (۲۶) اور تم کیا سمجھے جہنم کیا ہے۔ (۲۷) وہ نہ باقی رکھے گی اور نہ چھوڑے گی۔ (۲۸) آدمی کو جھلس دینے والی ہے۔ (۲۹) اس پر انیس داروغہ (مقرر) ہیں۔ (۳۰)

تشریح: یعنی دوزخ کے انتظام پر جو فرشتوں کا لشکر ہو گا اس کے افسر انیس فرشتے ہوں گے۔ جن میں سب سے بڑے ذمہ دار کا نام ”مالک”ہے (تنبیہ) حضرت شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے نہایت تفصیل سے انیس کے عدد کی حکمتیں بیان کی ہیں جو قابل دید ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ جہنم میں مجرموں کو عذاب دینے کے لیے انیس قسم کے فرائض ہیں جن میں سے ہر فرض کی انجام دہی ایک ایک فرشتہ کی سرکردگی میں ہو گی۔ کوئی شبہ نہیں کہ فرشتہ کی طاقت بہت بڑی ہے اور ایک فرشتہ وہ کام کر سکتا ہے جو لاکھوں آدمی مل کر نہیں کر سکتے۔ لیکن یاد رہے کہ ہر فرشتہ کی یہ قوت اسی دائرہ میں محدود ہے جس میں کام کرنے کے لیے وہ مامور ہوا ہے۔ مثلاً ملک الموت لاکھوں آدمیوں کی جان ایک آن میں نکال سکتا ہے۔ مگر عورت کے پیٹ میں ایک بچہ کے اندر جان نہیں ڈال سکتا۔ حضرت جبرئیل چشم زدن میں وحی لا سکتے ہیں، لیکن پانی برسانا ان کا کام نہیں۔ جس طرح کان دیکھ نہیں سکتا آنکھ سن نہیں سکتی۔ اگرچہ اپنی قسم کے کام کتنے ہی سخت ہوں کر سکتے ہیں۔ مثلاً کان ہو سکتا ہے کہ ہزاروں آوازیں سن لے اور نہ تھکے ، آنکھ ہزاروں رنگ دیکھ لے اور عاجز نہ ہو۔ اسی طرح اگر ایک فرشتہ عذاب کے واسطے دوزخیوں پر مقرر ہوتا اس سے ایک ہی قسم کا عذاب دوزخیوں پر ہو سکتا تھا۔ دوسری قسم کا عذاب جو اس کے دائرہ استعداد سے باہر ہے ممکن نہ تھا اس لیے انیس قسم کے عذابوں کے لیے (جن کی تفصیل تفسیر عزیزی میں ہے ) انیس ذمہ دار فرشتے مقرر ہوئے ہیں۔ علماء نے اس عدد کی حکمتوں پر بہت کچھ کلام کیا ہے مگر احقر کے نزدیک حضرت شاہ صاحب کا کلام بہت عمیق و لطیف ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور دوزخ کے داروغہ صرف فرشتے بنائے ہیں، اور ہم نے ان کی تعداد صرف ان لوگوں کی آزمائش کے لئے رکھی ہے جو کافر ہوئے ، تاکہ اہل کتاب یقین کر لیں، ا ور جو لوگ ایمان لائے ان کا ایمان زیادہ ہو، اور وہ لوگ شک نہ کریں جنہیں کتاب دی گئی (اہل کتاب) اور مؤمن اور تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے اور کافر کہیں کہ کیا ارادہ کیا اللہ نے اس مثال (بات) سے ؟ اسی طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے ، (کوئی) نہیں جانتا تیرے رب کے لشکروں کو خود اس کے سوا، اور یہ نہیں مگر آدمی کی نصیحت کے لئے۔ (۳۱)

تشریح: وَمَا جَعَلْنَا أَصْحَابَ النَّارِ إِلَّا مَلَائِکَۃً :انیس کا عدد سن کر مشرکین ٹھٹھا کرنے لگے کہ ہم ہزاروں ہیں۔ انیس ہمارا کیا کر لیں گے۔ بہت ہوا ہم میں سے دس دس ان کے ایک ایک کے مقابلہ میں ڈٹ جائیں گے۔ ایک پہلوان بولا کہ سترہ کو تو میں اکیلا کافی ہوں، دو سے تم نمٹ لینا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ یعنی وہ انیس تو ہیں مگر آدمی نہیں فرشتہ ہیں۔ جن کی قوت کا یہ حال ہے کہ ایک فرشتہ نے قوم لوط کی ساری بستی کو ایک بازو پر اٹھا کر پٹک دیا تھا۔

وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّتَہُمْ إِلَّا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا: کافروں کو عذاب دینے کے لیے انیس کی گنتی خاص حکمت سے رکھی ہے جس کی طرف ”علیہا تسعۃً عشر” کے فائدہ میں اشارہ کیا جا چکا ہے اور اس گنتی کے بیان کرنے میں منکروں کی جانچ ہے۔ دیکھتے ہیں کہ کون اس کو سن کر ڈرتا ہے اور کون ہنسی مذاق اڑاتا ہے۔

لِيَسْتَيْقِنَ الَّذِیْنَ أُوْتُوا الْكِتَابَ وَيَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا إِيْمَانًا ۙ وَّلَا يَرْتَابَ الَّذِیْنَ أُوْتُوا الْكِتَابَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ  وَلِيَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ وَّالْکَافِرُوْنَ مَاذَآ أَرَادَ اللّٰہُ بِہٰذَا مَثَلًا:اہل کتاب کو پہلے سے یہ عدد معلوم ہو گا جیسا کہ ترمذی کی ایک روایت میں ہے یا کم از کم کتب سماویہ کے ذریعہ اتنا تو جانتے تھے کہ فرشتوں میں کس قدر طاقت ہے۔ انیس بھی تھوڑے نہیں۔ اور یہ کہ انواع تعذیب کے اعتبار سے مختلف فرشتے دوزخ پر مامور ہونے چاہیں یہ کام تنہا ایک کا نہیں۔ بہرحال اس بیان سے اہل کتاب کے دلوں میں قرآن کی حقیقت کا یقین پیدا ہو گا۔ اور یہ دیکھ کر مومنین کا ایمان بڑھے گا اور ان دونوں جماعتوں کو قرآن کے بیان میں کوئی شک و تردد نہیں رہے گا۔ نہ مشرکین کے استہزاء و تمسخر سے وہ کچھ دھوکا کھائیں گے۔ ”اَلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ”سے منافقین یا ضعیف الایمان مراد ہیں اور ”اَلْکَافِرُوْنَ” سے کھلے ہوئے منکر۔

کَذٰلِکَ يُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ يَّشَآءُ وَيَہْدِیْ مَنْ يَشَآءُ: ایک ہی چیز سے بداستعداد آدمی گمراہ ہو جاتا ہے اور سلیم الطبع راہ پا لیتا ہے جسے ماننا مقصود نہ ہو وہ کام کی بات کو ہنسی مذاق میں اڑا دیتا ہے اور جس کے دل میں خوفِ خدا اور نورِ توفیق ہو اس کے ایمان و یقین میں ترقی ہوتی ہے۔

وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ إِلَّا ہُوَ  وَمَا ہِيَ إِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ :اللہ کے بے شمار لشکروں کی تعداد اسی کو معلوم ہے۔ انیس تو صرف کارکنان جہنم کے افسر بتلائے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

نہیں نہیں! قسم ہے چاند کی۔ (۳۲) اور رات کی، جب وہ پیٹھ پھیرے۔ (۳۳)

اور صبح کی جب وہ روشن ہو۔ (۳۴) بیشک وہ (دوزخ) ایک بڑی آفت ہے۔ (۳۵)

اور صبح کی جب وہ روشن ہو۔ (۳۴) بیشک وہ (دوزخ) ایک بڑی آفت ہے۔ (۳۵) لوگوں کو ڈرانے والی۔ (۳۶) تم میں سے جو کوئی چاہے آگے بڑھے یا پیچھے رہے۔ (۳۷)

تشریح: آگے بڑھے نیکی یا بہشت کی طرف اور پیچھے رہے بدی میں پھنسا ہوا یا دوزخ میں پڑا ہوا۔ بہرحال مقصود یہ ہے کہ دوزخ سب مکلفین کے حق میں بڑے ڈراوے کی چیز ہے اور چونکہ اس ڈرانے کے عواقب و نتائج قیامت میں ظاہر ہوں گے۔ اس لیے قسم ایسی چیزوں کی کھائی جو قیامت کے بہت ہی مناسب ہے۔ چنانچہ چاند کا اول بڑھنا پھر گھٹنا نمونہ ہے ، اس عالم کے نشوونما اور اضمحلال و فنا کا اسی طرح اس عالم دنیا کو عالم آخرت کے ساتھ حقائق کے اختفاء و اکتشاف میں ایسی نسبت ہے جیسے رات کو دن کے ساتھ۔ گویا اس عالم کا ختم ہو جانا رات کے گزر جانے اور اس عالم کا ظہور نورِ صبح کے پھیل جانے کے مشابہ ہے۔ واللہ اعلم۔

(تفسیرعثمانی)

 

ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے گروی ہے۔ (۳۸) مگر داہنی طرف والے (نیک لوگ)۔ (۳۹)

باغات میں (ہوں گے ) ، وہ پوچھیں گے۔ (۴۰) گنہگاروں سے۔ (۴۱)

تشریح: یعنی جو لوگ میثاق کے دن حضرت آدم کی پشت سے داہنی طرف سے نکلے تھے اور دنیا میں بھی سیدھی چال چلتے رہے اور موقف میں بھی عرش کے داہنی طرف جدھر بہشت ہے کھڑے ہوئے اور اسی طرف روانہ ہوئے اور ان کے نامہ اعمال بھی داہنے ہاتھ میں آئے وہ لوگ البتہ قید میں پھنسے ہوئے نہیں، بلکہ جنت کے باغوں میں آزاد ہیں اور نہایت بے فکر اور فارغ البال ہو کر آپس میں ایک دوسرے سے یا فرشتوں سے گنہگاروں کا حال پوچھتے ہیں کہ وہ لوگ کہاں گئے جو نظر نہیں پڑتے۔

(تفسیرعثمانی)

 

تمہیں جہنم میں کیا چیز لے گئی۔ (۴۲)

تشریح: یعنی جب سنیں گے کہ گنہگاروں کو دوزخ میں داخل کیا گیا ہے ، تب ان گنہگاروں کی طرف متوجہ ہو کر یہ سوال کریں گے کہ باوجود عقل و دانائی کے تم اس دوزخ کی آگ میں کیسے آ پڑے۔

(تفسیرعثمانی)

 

وہ کہیں گے ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے۔ (۴۳) اور ہم محتاجوں کو کھانا نہ کھلاتے تھے۔ (۴۴) اور ہم بیہودہ باتوں میں لگے رہنے والوں کے ساتھ بیہودہ باتوں میں دھنستے رہتے تھے۔ (۴۵) اور ہم روزِ  جزا وسزا کو جھٹلاتے تھے۔ (۴۶) یہاں تک کہ ہمیں موت آ گئی۔ (۴۷)

تشریح: یعنی نہ اللہ کا حق پہچانا نہ بندوں کی خبر لی۔ البتہ دوسرے لوگوں کی طرح حق کے خلاف بحثیں کرتے رہے اور بد صحبتوں میں رہ کر شکوک و شبہات کی دلدل میں دھنستے چلے گئے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ ہم کو یقین نہ ہوا کہ انصاف کا دن بھی آنے والا ہے۔ ہمیشہ اس بات کو جھٹلایا کیسے ، یہاں تک کہ موت کی گھڑی سر پر آن پہنچی اور آنکھوں سے دیکھ کر ان باتوں کا یقین حاصل ہوا جن کی تکذیب کیا کرتے تھے۔

(تفسیرعثمانی)

 

سو انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش نے نفع نہ دیا۔ (۴۸)

تو انہیں کیا ہوا کہ وہ نصیحت سے منہ پھیرتے ہیں؟ گویا کہ وہ بھاگے ہوئے گدھے ہیں۔ (۵۰)

بھاگے جاتے ہیں شیر سے (۵۱) بلکہ ان میں سے ہر آدمی چاہتا ہے کہ اسے دئیے جائیں صحیفے کھلے ہوئے۔ (۵۲)

تشریح: یعنی پیغمبر کی بات ماننا نہیں چاہتے ،بلکہ ان میں ہر شخص کی آرزو یہ ہے کہ خود اس پر اللہ کے کھلے ہوئے صحیفے اتریں اور پیغمبر بنایا جائے۔ ”حَتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ رُسُلُ اللہ” (انعام، رکوع١٥، آیت: ١٢٤) یا یہ کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس براہِ راست ایک نوشتہ خدا کی طرف سے آئے جس میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا حکم دیا گیا ہو۔ ”حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتَاباً نَقْرَؤُہ، ” (بنی اسرائیل، رکوع١٠، آیت:٩٣)

(تفسیرعثمانی)

 

ہرگز نہیں بلکہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔ (۵۳) ہر گز نہیں بیشک یہ نصیحت ہے۔ (۵۴) سو جو چاہے اسے یاد رکھے۔ (۵۵)

تشریح: کَلَّا:یعنی یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہر شخص کو الگ کتاب بھیجی جائے ، اول تو ایمان بالغیب کا تصور ہی ختم ہو جائے جو سارے امتحان کی بنیاد ہے ، دوسرے تنہا کتاب انسان کی ہدایت کے لئے کافی نہیں ہو سکتی جب تک پیغمبر کی شکل میں کوئی معلم ساتھ نہ ہو وہی انسانوں کو کتاب کا صحیح مطلب سمجھاتا ہے اور وہی اس پر عمل کرنے کا طریقہ سکھاتا ہے ، ورنہ ہر شخص کتاب کی من مانی تشریحات کر کے اس کا سارا مفہوم ہی خراب کرسکتا ہے۔

بَلْ لَّا يَخَافُوْنَ الْاٰخِرَۃَ: یعنی یہ بیہودہ درخواستیں بھی کچھ اس لیے نہیں کہ ایسا کر دیا جائے تو واقعی مان جائیں گے بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت کے عذاب سے نہیں ڈرتے اس لیے حق کی طلب نہیں، اور یہ درخواستیں محض تعنت سے ہیں۔ اگر یہ درخواستیں بالفرض پوری کر دی جائیں تب بھی اتباع نہ کریں۔ کما قال تعالیٰ ”وَلَوْنَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتَاباً فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْہُ بِاَیْدِیْہِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُو ا اِنْ ہٰذَا اِلَّا سِحْرٌمُّبِیْن” (انعام، رکوع١، آیت:٧)۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور وہ یاد نہ رکھیں گے مگر یہ کہ اللہ چاہے ، وہی ہے ڈرنے کے لائق اور مغفرت کے لائق۔ (۵۶)

تشریح: یعنی ہر ایک کو الگ الگ کتاب دی جائے ، ایسا نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک کتاب (قرآن کریم) ہی نصیحت کے لیے کافی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

۷۵۔ سُوْرَۃُ الْقِیَامَۃِ

 

                تعارف

 

اس سورت کا موضوع بعث یعنی مرنے کے بعد کی زندگی ہے جو کہ ایمان کے ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے ، یہ سورت قیامت کے مصائب، شدائد اور عذابوں کا ذکر کرتی ہے اور موت کے وقت انسان کی جو حالت ہوتی ہے اس کا نقشہ کھینچتی ہے ، اس سورت کی ابتداء میں اللہ تعالی نے حشر و نشر کے قیام پر یوم القیامہ اور نفس لوامہ کی قسم کھائی ہے (نفس لوامہ وہ ہے جو انسان کو گناہوں پر ملامت کرتا ہے اور نیکی پر آمادہ کرتا ہے ) آخرت میں تو ہر شخص کا نفس اسے ملامت کرے گا ہی دنیا میں بھی جن لوگوں کا ضمیر بیدار ہوتا ہے وہ انہیں ملامت کرتا رہتا ہے ، ایک قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ یہاں پر اللہ نے خاص طور پر ذکر کیا ہے کہ ہم انسان کی پور پور تک درست کرنے کی قدرت رکھتے ہیں، ہر انسان کی انگلی کی پور قدرت کی تخلیق کا شاہکار ہے کہ اس چھوٹی سی جگہ میں جو خطوط اور لکیریں ہیں وہ دوسرے انسان کے ساتھ مشابہت نہیں رکھتیں، اسی وجہ سے پوری دنیا میں کسی انسان کی شخصیت کو پہچاننے کے لئے انگلیوں کی لکیروں پر اعتماد کیا جاتا ہے اور اللہ فرماتے ہیں کہ ہم ان پوروں کو اس ہیئت اور شکل پر بنا دیں گے جس شکل و ہیئت پریہ تھیں اور اس نکتے کی وضاحت کے لئے اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم پیدا کر دیں گے بلکہ یہ فرمایا ہم درست کر دیں گے ، اس کے بعد یہ سورت قیامت کی بعض ہولناکیوں اور علامتوں کا تذکرہ کرتی ہے ، پس جس وقت نگاہ پتھرا جائے گی اور چاند بے نور ہو جائے گا، سورج اور چاند جمع کر دئیے جائیں گے ، اس دن انسان کہے گا آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے ؟

یہ سورت بتلاتی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حفظِ قرآن کا بڑا اہتمام فرماتے تھے اور حضرت جبرئیل کی تلاوت کے وقت اس بات کی شدید کوشش کرتے تھے کہ آپ سے کوئی چیز فوت نہ ہو جائے ، اس لئے آپ حضرت جبرئیل کی اتباع میں جلدی جلدی پڑھنے اور یاد کرنے کی سعی فرماتے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ آپ اپنے آپ کو تکلیف میں نہ ڈالیں، میرا یہ وعدہ ہے کہ قرآن میں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہو گی، اسے جمع کرنے ، محفوظ کرنے ، باقی رکھنے اور بیان کرنے کا میں خود ذمہ دار ہوں۔

یہ سورت بتلاتی ہے کہ آخرت میں انسان دو فریقوں میں تقسیم ہو جائیں گے ، ایک طرف سعداء ہوں گے اور دوسری طرف اشقیاء، سعداء کے چہرے روشن ہوں گے اور وہ رب تعالی کی زیارت سے مشرف ہوں گے ، اشقیاء کے چہرے سیاہ اور بد رونق ہوں  گے اور وہ جان لیں گے کہ آج ہمیں جہنم میں پھینک دیا جائے گا، یہ سورت موت کے وقت انسان کا جو حال ہوتا ہے اور کافر کو جس تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسے بھی بیان کرتی ہے ، سورت کے اختتام پر بتلایا گیا ہے کہ انسان کو ہم نے بے کار پیدا نہیں کیا، ایسا نہیں ہو سکتا کہ نہ اس کا حساب ہو، نہ اسے جزا سزا دی جائے ، اس طرح آخر میں حشر و معاد کی ایک حسی دلیل بیان کی گئی ہے ، وہ یہ کہ جس اللہ نے انسان کو پہلی بار پیدا کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۴۰        رکوعات:۲

 

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں۔ (۱) اور میں اپنے اوپر ملامت کرنے والے دل کی قسم کھاتا ہوں۔ (۲) کیا انسان گمان کرتا ہے کہ ہم ہر گز جمع نہ کریں گے ا سکی ہڈیاں۔ (۳) کیوں نہیں؟ کہ ہم اس پر قادر ہیں کہ اس کے پورے پورے درست کر دیں۔ (۴)

تشریح: محققین نے لکھا ہے کہ آدمی کا نفس ایک چیز ہے لیکن اس کی تین حالتوں کے اعتبار سے تین نام ہو گئے ہیں۔ اگر نفس عالم علوی کی طرف مائل ہو اور اللہ کی عبادت و فرمانبرداری میں اس کو خوشی حاصل ہوئی اور شریعت کی پیروی میں سکون اور چین محسوس کیا اس نفس کو ”مطمئنہ” کہتے ہیں۔ ”یااَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ارْجِعِی اِلٰی رَبِّکَ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً (الفجر، آیت:٢٧، ٢٨) اور اگر عالم سفلی کی طرف جھک پڑا اور دنیا کی لذات و خواہشات میں پھنس کر بدی کی طرف رغبت اور شریعت کی پیروی سے بھاگا اس کو نفس ”امارہ” کہتے ہیں کیونکہ وہ آدمی کو برائی کا حکم کرتا ہے۔ ”وَمَا اُبَرِّیئُ نَفْسِیْ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ بِالسُّوْ ءِ اِلَّا مَارَحِمَ رَبِّی” (یوسف، رکوع٧، آیت:٥٣) اور اگر کبھی عالم سفلی کی طرف جھکتا اور شہوت و غضب میں مبتلا ہوتا ہے اور کبھی عالم علوی کی طرف مائل ہو کر ان چیزوں کو برا جانتا ہے اور ان سے دور بھاگتا ہے اور کوئی برائی یا کوتاہی ہو جانے پر شرمندہ ہو کر اپنے تئیں ملامت کرتا ہے اس کو ”نفس لوامہ” کہتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں ”آدمی کا جی اول کھیل میں اور مزوں میں غرق ہوتا ہے ہرگز نیکی کی طرف رغبت نہیں کرتا۔ ایسے جی کو ”امارہ بالسوء” کہتے ہیں۔ پھر ہوش پکڑا، نیک و بد سمجھا تو باز آیا کبھی (غفلت ہوئی تو) اپنی خو پر دوڑ پڑا، پیچھے کچھ سمجھ آئی تو اپنے کیے پر پچھتانے اور ملامت کرنے لگا۔ ایسا نفس (جی) ”لوامہ” کہلاتا ہے۔ پھر جب پورا سنور گیا، دل سے رغبت نیکی ہی پر ہو گئی، بیہودہ کام سے خود بخود بھاگنے لگا اور بدی کے ارتکاب بلکہ تصور سے تکلیف پہنچنے لگی وہ نفس ”مطمئنہ” ہو گیا۔ ”اھ بتغیریسیر۔ یہاں نفس لوامہ کی قسم کھا کر اشارہ فرما دیا کہ اگر فطرت صحیح ہو تو خود انسان کا نفس دنیا ہی میں برائی اور تقصیر پر ملامت کرتا ہے۔ یہی چیز ہے جو اپنی اعلیٰ و اکمل ترین صورت میں قیامت کے دن ظاہر ہو گی۔

(تفسیرعثمانی)

 

أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَہٗ:یعنی یہ خیال ہے کہ ہڈیوں تک کا چورا ہو گیا اور ان کے ریزے مٹی وغیرہ کے ذرات میں جا ملے۔ بھلا اب کس طرح اکٹھے کر کے جوڑ دیے جائیں گے ؟ یہ چیز تو محال معلوم ہوتی ہے۔

بَلٰی قَادِرِيْنَ عَلٰٓی أَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَہٗ:فرمایا جا رہا ہے کہ ہڈیوں کو جمع کر لینا تو بہت معمولی بات ہے ، اللہ تعالی تو انسان کی انگلیوں کے ایک ایک پورے دوبارہ ٹھیک ٹھیک اسی طرح دوبارہ بنانے پر قادر ہیں، جیسے وہ شروع میں تھے ، انگلیوں کے پورے کا خاص طور پر اس لئے ذکر فرمایا گیا ہے کہ ان پوروں میں جو باریک باریک لکیریں ہوتی ہیں، وہ ہر انسان کی دوسرے سے الگ ہوتی ہیں، اسی وجہ سے دنیا میں دستخط کے بجائے انگوٹھے کے نشان کو استعمال کیا جاتا ہے ، ان لکیروں میں اتنا باریک باریک فرق ہوتا ہے کہ اربوں پدموں انسانوں کی انگلیوں کے اس فرق کو یاد رکھ کر پھر دوبارہ ویسی ہی لکیریں بنا دینا اللہ تعالی کے سوا کسی اور کے لئے ممکن نہیں ہے۔

(توضیح القرآن)

 

بلکہ انسان چاہتا یہ ہے کہ آگے کو بھی گناہ کرتا رہے۔ (۵) وہ پوچھتا ہے روزِ قیامت کب ہو گا؟ (۶)

تشریح: یعنی جو لوگ قیامت کا انکار کرتے اور دوبارہ زندہ کیے جانے کو محال جانتے ہیں، اس کا سبب یہ نہیں کہ یہ مسئلہ بہت مشکل ہے اور اللہ کی قدرت کاملہ کے دلائل و نشانات غیر واضح ہیں۔ بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ قیامت کے آنے سے پہلے اپنی اگلی عمر میں جو باقی رہ گئی ہے بالکل بے باک ہو کر فسق و فجور کرتا رہے ، اگر کہیں قیامت کا اقرار کر لیا اور اعمال کے حساب کتاب کا خوف دل میں بیٹھ گیا تو فسق و فجور میں اس قدر بے باکی اور ڈھٹائی اس سے نہ ہو سکے گی۔ اس لیے ایسا خیال دل میں آنے ہی نہیں دیتا۔ جس سے عیش منغض ہو اور لذت میں خلل پڑے۔ بلکہ استہزاء و تعنت اور سینہ زوری سے سوال کرتا ہے کہ ہاں صاحب وہ آپ کی قیامت کب آئے گی۔ اگر واقعی آنے والی ہے تو بقید سنہ و ماہ اس کی تاریخ تو بتلائیے۔

(تفسیرعثمانی)

 

پس جب آنکھیں چندھیا جائیں گی (۷) اور چاند کو گرہن لگ جائے گا (۸) اور سورج اور چاند جمع کر دئیے جائیں گے (۹) انسان کہے گا کہاں ہے آج کے دن بھاگنے کی جگہ۔ (۱۰)

تشریح: یعنی حق تعالیٰ کی تجلی قہری سے جب آنکھیں چندھیانے لگیں گی اور مارے حیرت کے نگاہیں خیرہ ہو جائیں گی اور سورج بھی سر کے قریب آ جائے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

ہر گز نہیں، کوئی بچاؤ کی جگہ نہیں۔ (۱۱) آج کے دن تیرے رب کی طرف ٹھکانا ہے۔ (۱۲)

تشریح: یعنی اب تو کہتا ہے کہ وہ دن کہاں ہے۔ اور اس وقت بدحواس ہو کر کہے گا کہ آج کدھر بھاگوں اور کہاں پناہ لوں۔ ارشاد ہو گا کہ آج نہ بھاگنے کا موقع ہے نہ سوال کرنے کا۔ آج کوئی طاقت تیرا بچاؤ نہیں کر سکتی، نہ پناہ دے سکتی ہے۔ آج کے دن سب کو اپنے پروردگار کی عدالت میں حاضر ہونا اور اسی کی پیشی میں ٹھہرنا ہے پھر وہ جس کے حق میں جو کچھ فیصلہ کرے۔

(تفسیرعثمانی)

 

وہ جتلا دیا جائے گا آج کے دن انسان کو وہ جو اس نے آگے بھیجا، اور اس نے پیچھے چھوڑا۔ (۱۳) بلکہ انسان اپنی جان پر باخبر ہے۔ (۱۴) اگرچہ اپنے عذر (حیلے ) لا ڈالے (پیش کرے )۔ (۱۵)

تشریح: حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ ”یعنی اپنے احوال میں غور کرے تو رب کی وحدانیت جانے (اور یہ کہ سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ) اور جو کہے میری سمجھ میں نہیں آتا، یہ سب بہانے ہیں۔ ” لیکن اکثر مفسرین نے اس کا تعلق ”یُنَبَّؤا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ” الخ سے رکھا ہے یعنی جتلانے پر بھی موقوف نہیں۔ انسان اپنی حالت پر خود مطلع ہو گا گو باقتضائے طبیعت وہاں بھی بہانے بنائے اور حیلے حوالے پیش لائے جیسے کفار کہیں گے۔ ”وَاللہُ رَبِّنَا مَاکُنَّا مُشْرِکِیْنَ۔ ” بلکہ یہاں دنیا میں بھی وہ انسان جس کا ضمیر بالکل مسخ نہ ہو گیا ہو اپنی حالت کو خوب سمجھتا ہے۔ گو دوسروں کے سامنے حیلے بہانے بنا کر اس کے خلاف ثابت کرنے کی کتنی ہی کوشش کرے۔

(تفسیرعثمانی)

 

آپ قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دیں کہ اس کو جلد یاد کر لیں۔ (۱۶) بیشک اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھنا ( آسان کرنا) ہمارے ذمے ہے۔ (۱۷) پس جب ہم اسے (فرشتے کی زبانی) پڑھیں، آپ پیروی کریں اس کے پڑھنے کی۔ (۱۸) پھر بیشک اس کا بیان کرنا ہمارے ذمے ہے۔ (۱۹)

تشریح: شروع میں جس وقت حضرت جبرئیل اللہ کی طرف سے قرآن لاتے ، ان پر پڑھنے کے ساتھ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی دل میں پڑھتے جاتے تھے ، تاکہ جلد اسے یاد کر لیں اور سیکھ لیں۔ مبادا جبرئیل چلے جائیں اور وحی پوری طرح محفوظ نہ ہو سکے۔ مگر اس صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت مشقت ہوتی تھی۔ جب تک پہلا لفظ کہیں اگلا سننے میں نہ آتا۔ اور سمجھنے میں بھی ظاہر ہے دقت پیش آتی ہو گی، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس وقت پڑھنے اور زبان ہلانے کی حاجت نہیں ہمہ تن متوجہ ہو کر سننا ہی چاہیے۔ یہ فکر مت کرو کہ یاد نہیں رہے گا۔ پھر کیسے پڑھوں گا۔ اور لوگوں کو کس طرح سناؤں گا۔ اس کا تمہارے سینے میں حرف بحرف جمع کر دینا اور تمہاری زبان سے پڑھوانا ہمارے ذمہ ہے۔ جبرئیل جس وقت ہماری طرف سے پڑھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو خاموشی سے سنتے رہیے۔ آگے اس کا یاد کرانا اور اس کے علوم و معارف کا تمہارے اوپر کھولنا اور تمہاری زبان سے دوسروں تک پہنچانا، ان سب باتوں کے ہم ذمہ دار ہیں۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل کے ساتھ ساتھ پڑھنا ترک کر دیا۔ یہ بھی ایک معجزہ ہوا، کہ ساری وحی سنتے رہے اس وقت زبان سے ایک لفظ نہ دہرایا۔ لیکن فرشتے کے جانے کے بعد پوری وحی لفظ بہ لفظ کامل ترتیب کے ساتھ بدون ایک زبر زیر کی تبدیلی کے فرفرسنا دی اور سمجھا دی، یہ اس دنیا میں ایک چھوٹا سا نمونہ ہوا۔ یُنَبَّؤُا اِلَّاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ” کا یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ اپنی وحی فرشتے کے چلے جانے کے بعد پوری ترتیب کے ساتھ حرف بحرف بدون ادنیٰ فروگذاشت کے اپنے پیغمبر کے سینے میں جمع کر دے ، کیا اس پر قادر نہیں کہ بندوں کے اگلے پچھلے اعمال جن میں سے بعض کو کرنے والا بھی بھول گیا ہو گا سب جمع کر کے ایک وقت میں سامنے کر دے اور ان کو خوب طرح یا دلا دے اور اسی طرح ہڈیوں کے منتشر ذرات کو سب جگہ سے اکٹھا کر کے ٹھیک پہلی ترتیب کو ازسر نو وجود عطا فرما دے۔ بیشک وہ اس پر اور اس سے کہیں زیادہ پر قادر ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

ہرگز نہیں بلکہ (اے کافرو) تم دنیا سے محبت رکھتے ہو۔ (۲۰) اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔ (۲۱)

تشریح: یعنی تمہارا قیامت وغیرہ سے انکار کرنا ہرگز کسی دلیل صحیح پر مبنی نہیں، بلکہ دنیا میں انہماک اس کا سبب ہے۔ دنیا چونکہ نقد اور جلد ملنے والی چیز ہے اسی کو تم چاہتے ہو۔ اور آخرت کو ادھار سمجھ کر چھوڑتے ہو کہ اس کے ملنے میں ابھی دیر ہے۔ انسان کی طبیعت میں جلد بازی داخل ہے۔ ”خُلِقَ الْاِنْسانُ مِنْ عَجْلٍ” (انبیاء رکوع٣) فرق اتنا ہے کہ نیک لوگ پسندیدہ چیزوں کے حاصل کرنے میں جلدی کرتے ہیں جس کی ایک مثال ابھی ”لَاتُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ” میں گزری اور بدتمیز آدمی اس چیز کو پسند کرتے ہیں جو جلد ہاتھ آئے خواہ آخرکار اس کا نتیجہ ہلاکت ہی کیوں نہ ہو۔

(تفسیرعثمانی)

 

اس دن بہت سے چہرے با رونق ہوں گے۔ (۲۲) اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے۔ (۲۳)

تشریح: یہ آخرت کا بیان ہوا۔ یعنی مومنین کے چہرے اس روز تر و تازہ اور ہشاش بشاش ہوں گے۔ اور ان کی آنکھیں محبوب حقیقی کے دیدار مبارک سے روشن ہوں گی۔ قرآن کریم اور احادیث متواترہ سے یقینی طور پر معلوم ہو چکا ہے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو گا۔ گمراہ لوگ اس کے منکر ہیں کیونکہ یہ دولت ان کے نصیب میں نہیں۔ اللہم لاتحرمنا من ہذالنعمۃ التی لیس فوقہا نعمۃ۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور  بہت سے چہرے اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے۔ (۲۴) خیال کرتے ہوں گے کہ ان سے کمر توڑنے والا (معاملہ) کیا جائے گا۔ (۲۵)

تشریح: یعنی یقین رکھتے ہیں کہ اب وہ معاملہ ہونے والا ہے اور وہ عذاب بھگتنا ہے جو بالکل ہی کمر توڑ دے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

ہاں ہاں جب (جان) ہنسلی تک پہنچ جائے۔ (۲۶) اور کہا جائے کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا۔ (۲۷) اور وہ گمان کرے کہ یہ جدائی کی گھڑی ہے۔ (۲۸) اور ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جائے (پاؤں میں حرکت نہ رہے )۔ (۲۸) اس دن (تجھے ) اپنے رب کی طرف چلنا ہے۔ (۲۹)

تشریح: کَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ:یعنی آخرت کو ہرگز دور مت سمجھو۔ اس سفر آخرت کی پہلی منزل تو موت ہے جو بالکل قریب ہے ، یہیں سے باقی منزلیں طے کرتے ہوئے آخری ٹھکانے پر جا پہنچو گے۔ گویا ہر آدمی کی موت اس کے حق میں بڑی قیامت کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے۔ جہاں مریض کی روح سمٹ کر ہنسلی تک پہنچی اور سانس حلق میں رکنے لگی سمجھو کہ سفر آخرت شروع ہو گیا۔

وَقِيْلَ مَنْ رَاقٍ:ایسی مایوسی کے وقت طبیبوں اور ڈاکٹروں کی کچھ نہیں چلتی جب لوگ ظاہری علاج و تدبیر سے عاجز آ جاتے ہیں تو جھاڑ پھونک اور تعویذ گنڈوں کی سوجھتی ہے۔ کہتے ہیں کہ میاں کوئی ایسا شخص ہے جو جھاڑ پھونک کر کے اس کو مرنے سے بچا لے اور بعض سلف نے کہا کہ ”من راقٍ” فرشتوں کا کلام ہے جو ملک الموت کے ساتھ روح قبض کرنے کے وقت آتے ہیں وہ آپس میں پوچھتے ہیں ہیں کہ کون اس مردے کی روح کو لے جائے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے ؟ اس تقدیر پر ”راقی”، ”رقی” سے مشتق ہو گیا، جس کے معنی اوپر چڑھنے کے ہیں۔ ”رقیہ” سے نہ ہو گا۔ جو افسوس کے معنی میں ہے۔

وَظَنَّ أَنَّہُ الْفِرَاقُ:یعنی مرنے والا سمجھ چکا کہ تمام عزیز و اقارب اور محبوب و مالوف چیزوں سے اب اس کو جدا ہونا ہے یا یہ مطلب کہ روح بدن سے جدا ہونے والی ہے۔

وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ، إِلٰی رَبِّکَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ:یعنی بعض اوقات سکرات موت کی سختی سے ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ لپٹ جاتی ہے۔ نیز نیچے کے بدن سے روح کا تعلق منقطع ہونے کے بعد پنڈلیوں کا ہلانا اور ایک کو دوسرے سے جدا رکھنا اس کے اختیار میں نہیں رہتا۔ اس لیے ایک پنڈلی دوسری پر بے اختیار جا گرتی ہے۔ اور بعض سلف نے کہا کہ عرب کے محاور ات میں ‘ساق” کنایہ ہے سخت مصیبت سے۔ تو آیت کا ترجمہ یوں کیا جائے گا کہ ”ملی ایک سختی دوسری سختی کے ساتھ” کیونکہ مرنے والے کو اس وقت دو سختیاں پیش آتی ہیں۔ پہلی سختی تو یہی دنیا سے جانا، مال و اسباب، اہل و عیال، جاہ و حشم، سب کو چھوڑنا دشمنوں کی خوشی و طعنہ زنی، اور ودستوں کے رنج و غم کا خیال آنا، اور دوسری اس سے بڑی قبر اور آخرت کے احوال کی ہے۔ جس کی کیفیت بیان ہی نہیں آسکتی۔

(تفسیرعثمانی)

 

نہ اس نے (اللہ رسول کی ) تصدیق کی اور نہ اس نے نماز پڑھی۔ (۳۱) بلکہ اس نے جھٹلایا اور منہ موڑا۔ (۳۲)

تشریح: یعنی سفر آخرت کی ابتداء یہاں سے ہے گویا بندہ اپنے رب کی طرف کھنچنا شروع ہوا مگر افسوس اپنی غفلت و حماقت سے کوئی سامان سفر کا پہلے سے درست نہ کیا نہ اتنے بڑے سفر کے لیے کوئی توشہ ساتھ لیا۔

(تفسیرعثمانی)

 

پھر اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا چلا گیا۔ (۳۳)

تشریح: یعنی بجائے سچا سمجھنے اور یقین لانے کے پیغمبروں کو جھوٹا بتلاتا رہا، اور بجائے نماز پڑھنے اور مالک کی طرف متوجہ ہونے کے ہمیشہ ادھر سے منہ موڑ کر چلا۔ نہ صرف یہی بلکہ اپنی اس سرکشی اور بدبختی پر اتراتا اور اکڑتا ہوا اپنے متعلقین کے پاس جاتا تھا۔ گویا کوئی بہت بڑی بہادری اور ہنر مندی کا کام کر کے آ رہا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

افسوس ہے تجھ پر افسوس۔ (۳۴) پھر افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس۔ (۳۵)

تشریح: یعنی او بدبخت اب تیری کم بختی آئی، ایک مرتبہ نہیں کئی مرتبہ اب تیرے لیے خرابی پر خرابی اور تباہی پر تباہی ہے۔ تجھ سے بڑھ کر اللہ کی نئی نئی سزاؤں کا مستحق اور کون ہو گا۔ (تنبیہ) شاید اول خرابی یقین نہ لانے اور نماز نہ پڑھنے پر، دوسری اس سے بڑھ کر جھٹلانے اور منہ موڑنے ، پر تیسری اور چوتھی ان دونوں امور میں سے ہر ایک کو قابل فخر سمجھنے پر ہو۔ جس کی طرف۔ ”ثُمَّ ذَہَبَ اِلٰی اَہْلِہٖ یَتَمَطّٰی” میں اشارہ ہے۔ واللہ اعلم۔

(تفسیرعثمانی)

 

کیا انسان گمان کرتا ہے کہ وہ یونہی چھوڑ دیا جائے گا۔ (۳۶)

تشریح: یعنی کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اس کو یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا؟ اور امر و نہی کی کوئی قید اس پر نہ ہو گی؟ یا میرے پیچھے اٹھایا نہ جائے گا؟ اور سب نیک و بد کا حساب نہ لیں گے ؟

(تفسیرعثمانی)

 

کیا وہ منی کا ایک نطفہ (قطرہ) نہ تھا جو (رحم مادر میں) ٹپکایا گیا۔ (۳۷) پھر وہ جما ہوا خون ہوا۔ پھر اس نے اسے پیدا کیا، پھر اسے درست (اندام) کیا۔ (۳۸)

پھر اس کی مرد اور عورت دو قسمیں بنائیں۔ (۳۹)

کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کرے۔ (۴۰)

تشریح: یعنی نطفہ سے جمے ہوئے خون کی شکل میں آیا۔ پھر اللہ نے اس کی پیدائش کے سب مراتب پورے کر کے انسان بنا دیا اور تمام ظاہری اعضاء اور باطنی قوتیں ٹھیک کر دیں۔ ایک نطفہ بیجان سے انسان عاقل بن گیا۔ پھر اسی نطفہ سے عورت اور مرد دو قسم کے آدمی پیدا کیے ، جن میں سے ہر ایک قسم کی ظاہری و باطنی خصوصیات جداگانہ ہیں۔ کیا وہ قادرِ مطلق جس نے اولاً سب کو ایسی حکمت و قدرت سے بنایا، اس پر قادر نہیں کہ دوبارہ زندہ کر دے ؟ ”سبحانک اللہم فبلٰی۔ ” پاک ہے تیری ذات اے خدا! کیوں نہیں، تو بیشک قادر ہے۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

 

 

 

۷۶۔ سُوْرَۃُ الْدَّھْرِ

 

                تعارف

 

یہ سورت مدنی ہونے کے باوجوداس کی مضامین مکی سورتوں جیسے ہیں، اس میں جنت اور جنت کی نعمتوں، جہنم اور جہنم کے عذابوں کا بیان ہے ، صحیح مسلم کی روایت سے ثابت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز فجر میں اس سورت کی تلاوت کرتے تھے ، اس سورت کی ابتداء میں اللہ تعالی کی قدرت عظیمہ کا بیان ہے کہ اس نے کیسے انسان کو مختلف ادوار میں پیدا فرمایا اور اس کو سمع و بصر اور عقل و فہم سے نوازا تاکہ وہ طاعت و عبادت کی ان تمام ذمہ داریوں کو ادا کرسکے جن کا اسے مکلف بنایا گیا ہے اور زمین کو ایک اللہ کی بندگی سے آباد کرسکے ، لیکن پھر انسان دو گروہوں میں تقسم ہو گئے بعض شاکر ہیں اور بعض کفور (ناشکرے ) ہیں، کافروں کے لئے اللہ نے آخرت میں زنجیریں طوق اور شعلوں والی آگ بنا رکھی ہے ، اور شکر گزاروں کے لئے وہ جام جن میں کافور کی آمیزش ہو گی، شکر گزاروں کی یہاں تین نشانیاں بیان کی گئی ہیں، ایک یہ کہ وہ جب کوئی نذر مان لیتے ہیں تو اسے پورا کرتے ہیں، دوسری یہ کہ وہ قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں، تیسری یہ کہ وہ محض اللہ کی رضا کے لئے مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں، ان کے نیک اعمال اور صبر کا نتیجہ انہیں جنت کی صورت میں دیا جائے گا، جہاں نہ گرمی ہو گی نہ سردی، اور نہ کوئی دکھ اور غم، سورت کے اختتام پر اللہ نے اپنی اس عظیم نعمت کا ذکر فرمایا جس کا کوئی بدل اور کوئی مثال نہیں، فرمایا (اے محمد) بیشک ہم نے آپ پر بتدریج قرآن نازل کیا ہے ، پس آپ اپنے رب کے حکم پر رہیں، ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرے کا کہا نہ مانئے ، اور اپنے رب کے نام صبح وشام ذکر کیا کریں، اور رات کے وقت اس کے سامنے سجدے کریں اور بہت رات تک اس کی تسبیح کیا کریں، ان آیات کا مقصد یہ ہے کہ داعی کو ذکر و عبادت اور صبر لازم ہے ، تاکہ اللہ کے دشمنوں کے مقابلے میں اسے تقویت قلبی حاصل ہو، خصوصاً رات کی نماز ایمان کی مضبوطی کا اہم وسیلہ ہے ، اس سورت کی آخری آیات میں مشرکین کو سخت تنبیہ کی گئی ہے کہ ہم اگر چاہیں تو ان کو ختم کر کے ا ن کے عوض ان جیسے اور بھی پیدا کرسکتے ہیں۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَّدَنِیَّۃٌ

آیات:۳۱         رکوعات:۲

 

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

یقیناً انسان پر ایک وقت گزرا ہے کہ وہ کچھ (بھی) قابل ذکر نہ تھا۔ (۱)

تشریح: بیشک انسان پر ایک وقت گزر چکا ہے۔ جب اس کا کچھ نام و نشان نہ تھا۔ پھر کتنے ہی دور طے کر کے نطفہ کی شکل میں آیا۔ وہ حالت بھی اس کی موجودہ شرافت و کرامت کو دیکھتے ہوئے اس قابل نہیں کہ زبان پر لائی جائے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بے شک ہم نے انسان کو پیدا کیا مخلوط نطفہ سے (کہ) ہم اسے آزمائیں تو ہم نے اسے سنتا دیکھتا بنایا۔ (۲)

تشریح: یعنی نطفہ سے جما ہوا خون، پھر اس سے گوشت کا لوتھڑا بنایا۔ اسی طرح کئی طرح کے الٹ پھیر کرنے کے بعد اس درجہ میں پہنچا دیا کہ اب وہ کانوں سے سنتا اور آنکھوں سے دیکھتا ہے اور ان قوتوں سے وہ کام لیتا ہے جو کوئی دوسرا حیوان نہیں لے سکتا۔ گویا اور سب اس کے سامنے بہرے اور اندھے ہیں (تنبیہ) ”نبتلیہ” کے معنی اکثر مفسرین نے امتحان و آزمائش کے لیے ہیں۔ یعنی آدمی کا بنانا اس غرض سے تھا کہ اس کو احکام کا مکلف اور امرو نہی کا مخاطب بنا کر امتحان لیا جائے اور دیکھا جائے کہ کہاں تک مالک کے احکام کی تکمیل میں وفاداری دکھلاتا ہے اسی لئے اس کو سننے ، دیکھنے اور سمجھنے کی وہ قوتیں دی گئی ہیں جن پر تکلیف شرعی کا مدار ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک ہم نے اسے راہ دکھائی (اب وہ) خواہ شکر کرنے والا ہو خواہ ناشکرا۔ (۳)

تشریح: یعنی اولاً اصل فطرت اور پیدائشی عقل و فہم سے ، پھر دلائل عقلیہ و نقلیہ سے نیکی کی راہ سمجھائی جس کا مقتضی یہ تھا کہ سب انسان ایک راہ پر چلتے ، لیکن گردو پیش کے حالات اور خارجی عوارض سے متاثر ہو کر سب ایک راہ پر نہ رہے۔ بعض نے اللہ کو مانا اور اس کا حق پہچانا، اور بعض نے ناشکری اور ناحق کوشی پر کمر باندھ لی۔ آگے دونوں کا انجام مذکور ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک ہم نے کافروں (ناشکروں) کے لئے زنجیریں اور طوق اور دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ (۴)

تشریح: یعنی جو لوگ رسم و رواج اور اوہام و ظنون کی زنجیروں میں جکڑے رہے اور غیر اللہ کی حکومت و اقتدار کے طوق اپنے گلوں سے نہ نکال سکے۔ بلکہ حق و حاملین حق کے خلاف دشمنی اور لڑائی کی آگ بھڑکانے میں عمریں گزار دیں، کبھی بھول کر اللہ کی نعمتوں کو یاد نہ کیا۔ نہ اس کی سچی فرمانبرداری کا خیال دل میں لائے۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے آخرت میں دوزخ کے طوق و سلاسل اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک پئیں گے نیک بندے پیالے سے (وہ مشروب) جس میں کافور کی آمیزش ہو گی۔ (۵)

تشریح: یعنی جام شراب پئیں گے جس میں تھوڑا سا کافور ملایا جائے گا۔ یہ کافور دنیا کا نہیں بلکہ جنت کا ایک خاص چشمہ ہے جو خاص طور پر اللہ کے مقرب و مخصوص بندوں کو ملے گا۔ شاید اس کو ٹھنڈا، خوشبودار، مفرح اور سفید رنگ ہونے کی وجہ سے کافور کہتے ہوں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

ایک چشمہ اس سے اللہ کے بندے پیتے ہیں، اس سے نالیاں رواں کرتے ہیں۔ (۶)

تشریح: یعنی وہ چشمہ ان بندوں کے اختیار میں ہو گا جدھر اشارہ کریں گے اسی طرف کو اس کی نالی بہنے لگے گی۔ بعض کہتے ہیں کہ اس کا اصل منبع حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قصر میں ہو گا۔ وہاں سے سب انبیاء و مومنین کے مکانوں تک اس کی نالیاں پہنچائی جائیں گی۔ واللہ اعلم۔ آگے ابرار کی خصلتیں بیان فرمائی ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

وہ پوری کرتے ہیں اپنی نذریں اور وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی بُرائی پھیلی ہوئی (عام) ہو گی۔ (۷)

تشریح: یعنی جو منت مانی ہو اسے پورا کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب خود اپنی لازم کی ہوئی چیز کو پورا کریں گے تو اللہ کی لازم کی ہوئی باتوں کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔  یعنی اس دن کی سختی اور برائی درجہ بدرجہ سب کو عام ہو گی۔ کوئی شخص بالکلیہ محفوظ نہ رہے گا۔ ”الا من شاء اللہ”

(تفسیرعثمانی)

 

اور وہ اس کی محبت پر کھانا کھلاتے ہیں محتاج، اور یتیم اور قیدی کو۔ (۸)

تشریح: یعنی اللہ کی محبت کے جوش میں اپنا کھانا باوجود خواہش اور احتیاج کے نہایت شوق اور خلوص سے مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھلا دیتے ہیں۔ (تنبیہ) قیدی عام ہے مسلم ہو یا کافر۔ حدیث میں ہے کہ ”بدر” کے قیدیوں کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جس مسلمان کے پاس کوئی قیدی رہے اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے۔ چنانچہ صحابہ اس حکم کی تعمیل میں قیدیوں کو اپنے سے بہتر کھانا کھلاتے تھے حالانکہ وہ قیدی مسلمان نہ تھے۔ مسلمان بھائی کا حق تو اس سے بھی زیادہ ہے۔ اگر لفظ ”اسیر” میں ذرا توسع کر لیا جائے تب تو یہ آیت غلام اور مدیون کو بھی شامل ہو سکتی ہے کہ وہ بھی ایک طرح سے قید میں ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

(اور وہ کہتے ہیں) ا سکے سوا نہیں کہ ہم تمہیں رضائے الہی کے لئے کھلاتے ہیں ہم تم سے نہ جزا چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔ (۹)

تشریح: یہ کھلانے والے زبانِ حال سے کہتے ہیں اور کہیں مصلحت ہو تو زبانِ قال سے بھی کہہ سکتے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک ہمیں ڈر ہے اپنے رب کی طرف سے اس دن کا جو منہ بگاڑنے والا نہایت سخت ہے۔ (۱۰)

تشریح: یعنی کیوں نہ کھلائیں اور کھلانے کے بعد کیونکر بدلہ یا شکریہ کے امید وار رہیں جبکہ ہم کو اپنے پروردگار کا اور اس دن کا خوف لگا ہوا ہے جو بہت سخت اداس اور غصّہ سے چیں بہ چیں ہو گا  ہم تو اخلاص کے ساتھ کھلانے پلانے کے بعد بھی ڈرتے ہیں کہ دیکھئے ہمارا عمل مقبول ہوا یا نہیں۔ مبادا اخلاص وغیرہ میں کمی رہ گئی ہو اور الٹا منہ پر مارا جائے۔

(تفسیرعثمانی)

 

پس اللہ نے انہیں اس دن کی بُرائی سے بچا لیا، اور انہیں تازگی عطا کی اور خوش دلی۔ (۱۱) اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی لباس کا بدلہ دیا۔ (۱۲)

تشریح: یعنی جس چیز سے وہ ڈرتے تھے۔ اللہ نے اس سے محفوظ و مامون رکھا۔ اور ان کے چہروں کو تازگی اور دلوں کو سرور عطا کیا۔

وَجَزَاہُمْ بِمَا صَبَرُوْا :یہ لوگ دنیا کی تنگیوں اور سختیوں پر صبر کر کے معاصی سے رکے اور طاعت پر جمے رہے تھے۔ اس لیے اللہ نے ان کو عیش کرنے کے لیے جنت کے باغ اور لباسہائے فاخرہ مرحمت فرمائے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اس میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے ، وہ نہ دیکھیں گے اس میں دھوپ (کی تیزی) نہ سردی (کی شدت)۔ (۱۳)

تشریح: یعنی جنت کا موسم نہایت معتدل ہو گا نہ گرمی کی تکلیف نہ سردی کی۔

(تفسیرعثمانی)

 

ان پر اس کے سائے نزدیک ہو رہے ہوں گے اور اس کے گچھے جھکا کر نزدیک کر دئیے گئے ہوں گے۔ (۱۴)

تشریح: یعنی درختوں کی شاخیں مع اپنے پھول پھل وغیرہ کے ان پر جھکی پڑتی ہوں گی، اور پھلوں کے خوشے اس طرح لٹکے ہوں گے اور ان کے قبضہ میں کر دیے جائیں گے  کہ جنتی جس حالت میں چاہے کھڑے بیٹھے ، لیٹے بے تکلف چن سکے (تنبیہ) شاید درختوں کی شاخوں کو یہاں ظلال سے تعبیر فرمایا ہے یا واقعی سایہ ہو۔ کیونکہ آفتاب کی دھوپ نہ سہی، کوئی دوسری قسم کا نور تو وہاں ضرور ہو گا۔ اس کے سایہ میں بہشتی خوش طبعی تفریح کی غرض سے کبھی بیٹھنا چاہیں گے۔ واللہ اعلم۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور ان پر دَور ہو گا چاندی کے برتنوں کا، اور آبخوروں کا جو شیشوں کے ہوں گے۔ (۱۵) شیشے چاندی کے (ساقیوں نے ) ان کا مناسب اندازہ کیا ہو گا۔ (۱۶)

تشریح: یعنی آبخورے اصل میں چاندی کے بنے ہوں گے نہایت سفید، بے داغ اور فرحت بخش، لیکن صاف و شفاف اور چمکدار ہونے میں شیشے کی طرح معلوم ہوں گے۔ ان کے اندر کی چیز باہر سے صاف نظر آئے گی۔

جنتی کو جس قدر پینے کی خواہش ہو گی ٹھیک اس کے اندازے کے موافق بھرے ہوں گے کہ نہ کمی رہے نہ بچے۔ یا بہشتیوں نے اپنے دل سے جیسا اندازہ کر لیا ہو گا بلا کم و کاست اسی کے موافق آئیں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور انہیں اس میں ایسا جام پلایا جائے گا جس کی آمیزش سونٹھ کی ہو گی۔ (۱۷) اس میں ایک چشمہ ہے جو سلسبیل سے موسوم کیا جاتا ہے۔ (۱۸)

تشریح: یعنی ایک جام شراب وہ تھا جس کی ملونی کافور ہے۔ دوسرا وہ ہو گا۔ جس میں سونٹھ کی آمیزش ہو گی۔ مگر یہ دنیا کی سونٹھ نہ سمجھے وہ ایک چشمہ ہے۔ جنت میں جس کو سلسبیل کہتے ہیں۔ سونٹھ کی تاثیر گرم ہے اور وہ حرارتِ عزیزیہ میں انتعاش پیدا کرتی ہے۔ عرب کے لوگ اس کو بہت پسند کرتے تھے۔ بہرحال کسی خاص مناسبت سے اس چشمہ کو زنجبیل کا چشمہ کہتے ہیں۔ ابرار کے پیالہ میں اس کی تھوڑی سی آمیزش کی جائے گی۔ اصل میں وہ چشمہ بڑے عالی مقام مقربین کے لیے ہے۔ واللہ اعلم۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور گردش کریں گے ان پر ہمیشہ نوعمر رہنے والے لڑکے ، جب تو انہیں دیکھے تو انہیں بکھرے ہوئے موتی سمجھے۔ (۱۹)

تشریح: یعنی ہمیشہ لڑکے رہیں گے یا جنتیوں سے کبھی چھینے نہ جائیں گے۔ اپنے حسن و جمال صفائی اور آب و تاب میں اِدھر اُدھر پھرتے ہوئے ایسے خوش منظر معلوم ہوں گے گویا بہت سے چمکدار خوبصورت موتی زمین پر بکھیر دیے گئے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جب تو دیکھے گا تو وہاں (جنت میں) بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دیکھے گا۔ (۲۰) ان کے اوپر کی پوشاک سبز باریک ریشم اور اطلس کی ہو گی اور انہیں کنگن پہنائے جائیں گے چاندی کے ، اور ان کا رب انہیں نہایت پاک ایک مشروب پلائے گا۔ (۲۱)

تشریح: یعنی جنت کا حال کیا کہا جائے ، کوئی دیکھے تو معلوم ہو کہ کیسی عظیم الشان نعمت اور کتنی بھاری بادشاہت ہے جو ادنیٰ ترین جنتی کو نصیب ہو گی۔ رَزَقْنَا اللّٰہ مِنْہَا بمنہٖ وَفَضْلہٖ۔ باریک اور دبیز دونوں قسم کے ریشم کے لباس جنتیوں کو ملیں گے۔

اس سورت میں تین جگہ چاندی کے برتنوں اور زیور وغیرہ کا ذکر آیا ہے۔ دوسری جگہ سونے کے بیان کیے گئے ہیں۔ ممکن ہے یہ بھی ہوں اور وہ بھی، کسی کو یہ ملیں، کسی کو وہ۔ یا کبھی یہ کبھی وہ۔

وَسَقَاہُمْ رَبُّہُمْ :سب نعمتوں کے بعد شراب طہور کا ایک جام محبوب حقیقی کی طرف سے ملے گا، جس میں نہ نجاست ہو گی نہ کدورت، نہ سرگرائی، نہ بدبو، اس کے پینے سے دل پاک اور پیٹ صاف ہوں گے ، پینے کے بعد بدن سے پسینہ نکلے گا جس کی خوشبو مشک کی طرح مہکنے والی ہو گی۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک یہ تمہاری جزا ہے اور تمہاری سعی (کوشش) مقبول ہوئی۔ (۲۲)

تشریح: یعنی مزید اعزازو اکرام اور تطییب قلوب کے لیے کہا جائے گا کہ یہ تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔ تمہاری کوشش مقبول ہوئی۔ اور محنت ٹھکانے لگی۔ اس کو سن کر جنتی اور زیادہ خوش ہوں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

ہم نے آپ پر قرآن بتدریج نازل کیا۔ (۲۳)

پس آپ اپنے رب کے حکم کے لئے صبر کریں، اور آپ کہا نہ مانیں ان میں سے کسی گنہگار ناشکرے کا۔ (۲۴) اور آپ اپنے رب کا نام صبح و شام یاد کرتے رہیں۔ (۲۵)

تشریح: تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل مضبوط رہے اور لوگ بھی آہستہ آہستہ اپنے نیک و بد کو سمجھ لیں۔ اور معلوم کر لیں کہ جنت کن اعمال کی بدولت ملتی ہے۔ اگر اس طرح سمجھانے پر بھی نہ مانیں اور اپنی ضدو عناد ہی پر قائم رہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پروردگار کے حکم پر برابر جمے رہیے۔ اور آخری فیصلہ کا انتظار کیجیے۔

(تفسیرعثمانی)

 

عتبہ اور ولید وغیرہ کفار قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیاوی لالچ دے کر اور چکنی چپڑی باتیں بنا کر چاہتے تھے کہ فرض تبلیغ و دعوت سے باز رکھیں۔ اللہ نے متنبہ فرما دیا۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کی بات نہ مانیں۔ کیونکہ کسی گنہگار فاسق یا ناشکرے کافر کا کہنا ماننے سے نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں۔ ایسے شریروں اور بدبختوں کی بات پر کان دھرنا نہیں چاہیے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور رات کے کسی حصہ میں آپ اس کو سجدہ کریں اور اس کی پاکیزگی بیان کریں رات کے بڑے حصے میں۔ (۲۶)

تشریح: یعنی نماز پڑھ، شاید مغرب و عشاء مراد ہو یا تہجد۔  اگر ”وَمِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْلَہ، ” سے تہجد مراد لیا جائے تو یہاں تسبیح ہے ، اس کے معنیٰ متبادل مراد لیں گے۔ یعنی شب کو تہجد کے علاوہ بہت زیادہ تسبیح و تہلیل میں مشغول رہیے اور اگر پہلے مغرب و عشاء مراد تھی تو یہاں تسبیح سے تہجد مراد لے سکتے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک یہ منکر دنیا کو دوست رکھتے ہیں اور ایک بھاری دن (روز قیامت کو) اپنے پیچھے (پس پشت) چھوڑ دیتے ہیں۔ (۲۷)

تشریح: یعنی یہ لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت و ہدایت قبول نہیں کرتے اس کا سبب حب دنیا ہے۔ دنیا چونکہ جلد ہاتھ آنے والی چیز ہے اسی کو یہ چاہتے ہیں اور قیامت کے بھاری دن سے غفلت میں ہیں، اس کی کچھ فکر نہیں۔ بلکہ اس کے آنے کا یقین بھی نہیں۔ سمجھتے ہیں کہ مر کر جب گل سڑ گئے پھر کون دوبارہ ہم کو ایسا ہی بنا کر کھڑا کر دے گا؟ آگے اس کا جواب دیا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

ہم نے انہیں پیدا کیا اور ہم نے ان کے جوڑ مضبوط کئے اور ہم جب چاہیں (ان کی جگہ) ان جیسے اور لوگ بدل کر لے آئیں۔ (۲۸)

تشریح: یعنی اول پیدا ہم نے کیا اور سب جوڑ بند درست کیے۔ آج ہماری وہ قدرت سلب نہیں ہو گئی۔ ہم جب چاہیں ان کی موجودہ ہستی کو ختم کر کے دوبارہ ایسی ہی ہستی بنا کر کھڑی کر دیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ یہ لوگ نہ مانیں گے تو ہم قادر ہیں کہ جب چاہیں ان کی جگہ دوسرے ایسے ہی آدمی لے آئیں جو ان کی طرح سرکش نہ ہوں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک یہ نصیحت ہے ، پس جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ اختیار کر لے۔ (۲۹)

تشریح: یعنی جبرو زور سے منوا دینا آپ کا کام نہیں، قرآن کے ذریعہ نصیحت کر دیجئے۔ آگے ہر ایک کو اختیار ہے جس کا جی چاہے اپنے رب کی خوشنودی تک پہنچنے کا راستہ بنا رکھے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور تم نہیں چاہو گے اس کے سوا جو اللہ چاہے ، بے شک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ (۳۰)

تشریح: یعنی تمہارا چاہنا بھی اللہ کے چاہے بدون نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ بندہ کی مشیت اللہ کی مشیت کے تابع ہے وہ جانتا ہے کہ کس کی استعداد و قابلیت کس قسم کی ہے اسی کے موافق اس کی مشیت کام کرتی ہے۔ پھر وہ جس کو اپنی مشیت سے راہِ راست پر لائے ، اور جس کو گمراہی میں پڑا چھوڑ دے عین صواب و حکمت ہے

(تفسیرعثمانی)

 

وہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور (رہے ) ظالم تو ان کے لئے اس نے دردناک عذاب تیار کیا ہے۔ (۳۱)

تشریح: یعنی جن کی استعداد اچھی ہو گی ان کو نیکی پر چلنے کی توفیق دے گا۔ اور اپنی رحمت و فضل کا مستوجب بنائے گا۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

 

 

 

۷۷۔ سُوْرَۃُ الْمُرْسَلٰتِ

 

                تعارف

 

اس سورت کی ابتداء میں پانچ قسمیں کھا کر فرمایا ہے کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ یقیناً ہونے والی ہے ، یعنی قیامت اور حساب و جزا کا معاملہ ہو کر رہے گا، اس میں تخلف نہیں ہو سکتا، اس کے بعد یہ سورت ان نشانیوں کو بیان کرتی ہے جو قیامت کے قریب واقع ہوں گی، یعنی ستارے بے نور کر دئے جائیں گے ، آسمان توڑ پھوڑ دیا جائے گا، پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے کر کے اڑا دئیے جائیں گے ، اور رسولوں کو مقررہ وقت پر لایا جائے گا، قیامت کے دن کو اللہ نے یوم الفصل کہا، کیونکہ اس دن مخلوق کے درمیان عدل و انصاف پر مبنی فیصلہ کیا جائے گا، قیامت کو یوم الفصل قرار دینے کے بعد اسے جھٹلانے کے بارے میں اللہ فرماتے ہیں یومئذ للمکذبین (اس دن جھٹلانے والوں کے لئے خرابی ہے ) یہ آیت اور یہ الفاظ اس سورت میں دس بار آئے ہیں، اس تکرار کا مقصد تخویف اور ترہیب ہے ، علاوہ ازیں یہ سورت مجرمین سابقین کا ذکر کرتی ہے جنہیں اللہ تعالی نے تباہ و برباد کر دیا، اور مخاطبین سے سوال کرتی ہے کہ کیا ہم نے تم کو حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا؟پھر مختلف مراحل سے گزار کر خوبصورت انسان بنا دیا، بعث بعد الموت کے بعض حسی دلائل بھی یہاں مذکور ہیں جن سے ثابت کیا گیا ہے کہ وہ جو زمین کو مردوں اور زندوں کو سمیٹنے والی بنا سکتا ہے اور میٹھے پانی سے سیراب کرسکتا ہے وہ دوبارہ زندہ بھی کرسکتا ہے ، اگلی آیات میں مکذبین اور متقین کے الگ الگ انجام کا بیان ہے ، مکذبین کو بھڑکتی ہوئی آگ کی طرف لے جایا جائے گا، اور متقین کو ٹھنڈے سائے اور بہتے چشموں کے پاس جگہ دی جائے گی، آخری آیات میں دوبارہ مجرموں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ کھا پی لو اور تھوڑے سے مزے اڑا لو!بالآخر تمہارے لئے ہلاکت اور تباہی کے سوا کچھ نہیں۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۵۰        رکوعات:۲

 

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

دل خوش کرنے والی ہواؤں کی قسم۔ (۱) پھر شدت سے تند و تیز چلنے والی ہواؤں کی قسم۔ (۲)

تشریح: یعنی اول ہوا نرم اور اور خوشگوار چلتی ہے ، جس سے مخلوق کی بہت سی توقعات اور منافع وابستہ ہوتے ہیں۔ پھر کچھ دیر بعد وہی ہوا ایک تند آندھی اور طوفان جھکڑ کی شکل اختیار کر کے وہ خرابی اور غضب ڈھاتی ہے کہ لوگ بلبلا اٹھتے ہیں۔ یہی مثال دنیا و آخرت کی سمجھو کتنے ہی کام ہیں جن کو لوگ فی الحال مفید اور نافع تصور کرتے ہیں اور ان پر بڑی بڑی امیدیں باندھتے ہیں۔ لیکن وہی کام جب قیامت کے دن اپنی اصلی اور سخت ترین خوفناک صورت میں ظاہر ہوں گے تو لوگ پناہ مانگنے لگیں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بادلوں کو اٹھا کر لانے والی پھیلانے والی ہواؤں کی قسم۔ (۳) پھر بانٹ کر پھاڑنے والی ہواؤں کی قسم۔ (۴) پھر وحی القا کرنے والے فرشتوں کی قسم۔ (۵)

تشریح: یعنی ان ہواؤں کی قسم جو بخارات وغیرہ کو اٹھا کر اوپر لے جاتی ہیں اور ابر کو ابھار کر جو میں پھیلا دیتی ہیں پھر جہاں جہاں پہنچانا ہے اللہ کے حکم سے اس کے حصے کر کے بانٹتی ہیں اور بارش کے بعد بادلوں کو پھاڑ کر ادھر ادھر متفرق کرتی ہیں اور کچھ ابر کے ساتھ مخصوص نہیں، ہوا کی عام خاصیت یہ ہے کہ اشیاء کی کیفیات مثلاً بدبو وغیرہ کو پھیلائے ان کے لطیف اجزا کو جدا کر کے لے اڑے اور ایک چیز کو اٹھا کر دوسری چیز سے جا ملائے۔ غرض یہ جمع و تفریق جو ہوا کا خاصہ ہے ایک نمونہ ہے آخرت کا، جہاں حشر و نشر کے بعد لوگ جدا کیے جائیں گے اور ایک جگہ جمع ہونے کے بعد الگ الگ ٹھکانوں پر پہنچا دیے جائیں گے۔ ”ہٰذَا یَوْمَ الْفَصْلِ جَمَعْنٰکُمْ وَالْاَ وَّلِیْنَ۔ ”

حضرت شاہ صاحب عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فَالْمُلْقِيَاتِ ذِكْرًا سے بھی ہوائیں مراد لی ہیں کیونکہ وحی کی آواز کا لوگوں کے کانوں تک پہنچانا بھی ہوا کے ذریعہ سے ہے۔ (تنبیہ) ”اَلْمُرْسَلٰتِ”، ”اَلْعٰصِفٰتِ”، ” اَلنّٰشِرَاتِ الْفٰرِقٰتِ”، ”اَلْمُلٰقِیٰتِ” پانچوں کا مصداق کسی نے ہواؤں کو ٹھہرایا ہے ، کسی نے فرشتوں کو، کسی نے پیغمبروں کو، اور بعض مفسرین نے پہلی چار سے ہوائیں مراد لیں ہیں اور پانچویں سے فرشتے ، جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہے۔ اور بھی اقوال ہیں جن سب کی تفصیل روح المعانی میں ملے گی۔

(تفسیرعثمانی)

 

حجت تمام کرنے کو یا ڈرانے کو۔ (۶)

تشریح: یعنی نیک لوگوں کو اس کلام کے ذریعے گناہوں سے معافی کی دعوت دی جاتی ہے ، اور بُرے لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

بیشک جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے وہ ضرور ہونے والا ہے۔ (۷)

تشریح:یعنی قیامت کا اور آخرت کے حساب و کتاب اور جزا و سزا کا وعدہ۔

(تفسیرعثمانی)

 

پھر جب ستارے بے نور ہو جائیں۔ (۸) اور جب آسمان پھٹ جائے۔ (۹) اور جب پہاڑ اڑتے (پارہ پارہ ہو کر) پھریں۔ (۱۰)

اور جب رسول وقت (معین) پر جمع کئے جائیں۔ (۱۱)

تشریح: اللہ تعالی نے آخرت کا ایک وقت مقرر فرمایا ہے ہوا ہے جس میں تمام پیغمبر جمع ہو کر اپنی اپنی امت کے بارے میں گواہی دیں گے ، یہاں وہی وقت مراد ہے۔

(توضیح القرآن)

 

(ان کا معاملہ) کس دن کے لئے ملتوی رکھا گیا ہے۔ (۱۲)

تشریح: یہ کافروں کا وہی سوال ہے جو وہ اکثر کیا کرتے تھے کہ اگر عذاب و ثواب ہونا ہے تو ابھی کیوں نہیں ہو جاتا، دیر کیا ہے ؟

(توضیح القرآن)

 

فیصلے کے دن کے لئے۔ (۱۳) اور تم کیا سمجھے فیصلے کا دن کیا ہے۔ (۱۴) خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔ (۱۵)

تشریح: یعنی جانتے ہو؟ ان امور کو کس دن کے لیے اٹھا رکھا ہے ؟ اس دن کے لیے جس میں ہر بات کا بالکل اور دو ٹوک فیصلہ ہو گا۔ بیشک اللہ چاہتا تو ابھی ہاتھوں ہاتھ ہر چیز کا فیصلہ کر دیتا۔ لیکن اس کی حکمت مقتضی نہیں ہوئی کہ ایسا کیا جائے۔

وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لَّلْمُکَذِّبِيْنَ :کچھ مت پوچھو، فیصلہ کا دن کیا چیز ہے۔ بس یہ سمجھ لو کہ جھٹلانے والوں کو اس روز سخت تباہی اور مصیبت کا سامنا ہو گا۔ کیونکہ جس چیز کی انہیں امید نہ تھی جب وہ یکایک اپنی ہولناک صورت میں آن پہنچے گی تو ہوش پراں ہو جائیں گے ، اور حیرت و ندامت سے حواس باختہ ہوں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

کیا ہم نے ہلاک نہیں کیا پہلے لوگوں کو۔ (۱۶) پھر پچھلوں کو ان کے پیچھے چلاتے ہیں۔ (۱۷) اسی طرح ہم مجرموں کے ساتھ کرتے ہیں۔ (۱۸) خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔ (۱۹)

تشریح: منکرین قیامت سمجھتے تھے کہ اتنی بڑی دنیا کہاں ختم ہوتی ہے ؟ بھلا کون باور کرے گا کہ سب آدمی بیک وقت مر جائیں گے اور نسل انسانی بالکل نابود ہو جائے گی؟ یہ دوزخ اور عذاب کے ڈراوے سب فرضی اور بناوٹی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ اس کا جواب دیا کہ پہلے کتنے آدمی مر چکے اور کتنی قومیں اپنے گناہوں کی پاداش میں تباہ کی جا چکی ہیں۔ پھر ان کے پیچھے بھی موت و ہلاکت کا یہ سلسلہ برابر جاری ہے۔ جب ہماری قدیم عادت مجرموں کی نسبت معلوم ہو چکی تو سمجھ لو کہ دورِ حاضر کے کفار کو بھی ہم ان ہی اگلوں کے پیچھے چلتا کر دیں گے۔ جو ہستی الگ الگ زمانوں میں بڑے بڑے مضبوط آدمیوں کو مار سکتی اور طاقتور مجرموں کو پکڑ کر ہلاک کر سکتی ہے ، وہ اس پر کیوں قادر نہ ہو گی کہ سب مخلوق کو ایک دم میں فنا کر دے۔ اور تمام مجرموں کو بیک وقت عذاب کا مزہ چکھائے۔

خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے :یعنی جو قیامت کی آمد کو اس لیے جھٹلاتے ہیں کہ سب انسان ایک دم کیسے فنا کر دیے جائیں گے اور کس طرح سب مجرموں کو بیک وقت گرفتار کر کے سزا دیں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے نہیں پیدا کیا؟ (۲۰) پھر ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ میں رکھا۔ (۲۱) ایک وقت معین تک۔ (۲۲) پھر ہم نے اندازہ کیا تو (ہم) کیسا اچھا اندازہ کرنے والے ہیں۔ (۲۳) خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔ (۲۴)

تشریح: فَجَعَلْنَاہُ فِیْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ: یعنی ایک ٹھہراؤ کی جگہ میں محفوظ رکھا۔ مراد اس سے رحم مادر ہے جسے ہمارے محاور ات میں بچہ دان کہتے ہیں۔ اکثر وہاں ٹھہرنے کی مدت نو مہینے ہوتی ہے۔ اس پانی کی بوند کو بتدریج پورا کر کے انسان عاقل بنا دیا۔ اس سے ہماری قدرت اور سکت کو سمجھ لو۔ تو اسی انسان کو مرنے کے بعدکیا ہم دوبارہ زندہ نہیں کر سکتے ؟۔

(تفسیرعثمانی)

 

کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا؟ (۲۵) زندوں کو اور مردوں کو۔ (۲۶) اور ہم نے اس میں اونچے اونچے پہاڑ رکھے اور ہم نے تمہیں میٹھا پانی پلایا۔ (۲۷) خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔ (۲۸)

تشریح: یعنی اس زمین میں پہاڑ جیسی وزنی اور سخت چیز پیدا کر دی جو اپنی جگہ سے ذرا جنبش نہیں کھاتے ، اور اسی زمین میں پانی کے چشمے جاری کر دیے جو نرم و سیال ہونے کی وجہ سے برابر بہتے رہتے ہیں، اور بڑی سہولت سے پینے والے کو سیراب کرتے ہیں۔ پس جو خدا اس حقیر زمین میں اپنی قدرت کے متضاد نمونے دکھلاتا ہے اور موت و حیات اور سختی و نرمی کے مناظر پیش کرتا ہے۔ کیا وہ میدانِ حشر میں سختی و نرمی اور نجات و ہلاکت کے مختلف مناظر نہیں دکھلا سکتا۔ نیز جس کے قبضہ میں پیدا کرنا، ہلاک کرنا، اور حیات و بقاء کے سامان فراہم کرنا یہ سب کام ہوئے اس کی قدرت و نعمت کو جھٹلانا کیوں کر جائز ہو گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

(حکم ہو گا) تم چلواس کی طرف جس کو تم جھٹلاتے تھے۔ (۲۹) تم چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف۔ (۳۰) نہ گہرا سایہ، اور نہ وہ تپش سے بچائے۔ (۳۱) بیشک وہ محل جیسے ( اونچے ) شعلے پھینکتی ہے (۳۲) گویا کہ وہ اونٹ ہیں زرد۔ (۳۳) خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔ (۳۴)

تشریح: قتادہ وغیرہ سے مروی ہے کہ کافروں کے سایہ کے لیے ایک دھواں دوزخ سے اٹھے گا، جو پھٹ کر کئی ٹکڑے ہو جائے گا، کہتے ہیں کہ ان میں سے ہر شخص کو تین طرف سے گھیرے گا۔ ایک ٹکڑا سر کے اوپر سائبان کی طرح ٹھہر جائے گا۔ دوسرا ٹکڑا داہنے اور تیسرا بائیں ہو جائے گا۔ حساب سے فارغ ہونے تک وہ لوگ اسی سایہ کے نیچے رہیں گے۔ اور ایمان دار نیک کردار عرش اعظم کے سایہ میں آرام سے کھڑے ہوں گے۔

خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے :جو سمجھتے تھے کہ قیامت آنے والی نہیں، اور اگر آئی تو ہم وہاں بھی آرام سے رہیں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اس دن نہ وہ بول سکیں گے۔ (۳۵) اور نہ انہیں اجازت دی جائے گی کہ وہ عذر خواہی کریں۔ (۳۶) خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔ (۳۷)

تشریح: ہٰذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُوْنَ: یعنی محشر کے بعض مواطن میں بالکل بول نہ سکیں گے اور جن مواطن میں بولیں گے وہ نافع نہ ہو گا۔ اس لحاظ سے بولنا نہ بولنا برابر ہوا۔

وَلَا يُؤْذَنُ لَہُمْ فَيَعْتَذِرُوْنَ: کیونکہ معذرت اور توبہ کے قبول ہونے کا وقت گزر گیا۔

وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لَّلْمُکَذِّبِيْنَ: خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے : جنہوں نے دنیا کی عدالتوں پر قیاس کر کے سمجھ رکھا ہو گا کہ اگر ایسا موقع پیش آ گیا تو وہاں بھی زبان چلا کر اور کچھ عذر معذرت کر کے چھوٹ جائیں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

یہ فیصلے کا دن ہے ہم نے تمہیں جمع کیا اور پہلے لوگوں کو۔ (۳۸) پھر اگر تمہارے پاس کوئی داؤ ہے تو مجھ پر داؤ کر لو۔ (۳۹) خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔ (۴۰)

تشریح: تاکہ سب کو اکٹھا کر کے پھر الگ الگ کر دیں اور آخری فیصلہ سنائیں۔ لو! سب کو ہم نے یہاں جمع کر دیا آپس میں مل کر اور مشورے کر کے جو داؤ تدبیر ہماری گرفت سے نکلنے کی کر سکتے ہو کر دیکھو! دنیا میں حق کو دبانے کی بہت تدبیریں کی تھیں۔ آج ان میں سے کوئی یاد کرو۔

خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے :جو دوسروں پر بھروسہ کیے ہوئے تھے کہ وہ کسی نہ کسی طرح ہم کو چھڑا لیں گے اور بعض گستاخ تو دوزخ کے فرشتوں کی تعداد انیس سن کر یہاں تک کہہ گزرتے تھے کہ ان میں سے سترہ کو میں اکیلا کافی ہوں۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک پرہیزگار سایوں اور چشموں میں ہوں گے۔ (۴۱) اور اس قسم کے میووں میں جو وہ چاہیں گے۔ (۴۲) (ہم فرمائیں گے ) تم کھاؤ اور پیو مزے سے (با فراغت) اس کے بدلے جو تم کرتے تھے۔ (۴۳) بیشک ہم اسی طرح نیکو کاروں کو جزا دیتے ہیں۔ (۴۴)

خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔ (۴۵) تم کھاؤ اور فائدہ اٹھا لو تھوڑا (کسی قدر) بیشک تم مجرم ہو۔ (۴۶) خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔ (۴۷)

تشریح: یہ خطاب مکذبین کو ہے کہ چند روز اور مزے اڑا لو۔ آخر یہ کھایا پیا بہت بری طرح نکلے گا۔ کیونکہ تم اللہ کے مجرم ہو جس کی سزا حبسِ دوام اور عذاب الیم کے سوا کچھ نہیں۔ گویا ”کُلُوْا وَتَمَتَّعُوا” فرمانا ایسا ہوا جیسے ایک مجرم کو جس کے لیے پھانسی کا حکم ہو چکا ہو، پھانسی دینے سے قبل کہہ دیتے ہیں کہ کوئی خواہش ہو تو ظاہر کرو تاکہ اس کے پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔

خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے :جو دنیا کے عیش و بہار اور لذتوں پر ریجھ رہے تھے ، یہ خبر نہ تھی کہ جس چیز کو پھولوں کا ہار سمجھ کر گلے میں ڈال رہے ہیں وہ کالا ناگ ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جب ان سے کہا جائے تم رکوع کرو وہ رکوع نہیں کرتے۔ (۴۸) خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔ (۴۹) تو اس کے بعد وہ کونسی بات پر ایمان لائیں گے ؟ (۵۰)

تشریح: خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے :اس دن پچھتائیں گے کہ دنیا میں احکام الٰہی کے سامنے کیوں نہ جھکے۔ وہاں سر جھکاتے تو آج یہاں سربلند ہوتے۔

فَبِأَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَہٗ يُؤْمِنُوْنَ :یعنی قرآن سے بڑھ کر کامل اور موثر بیان کس کا ہو گا۔ اگر یہ مکذبین اس پر یقین نہیں لاتے تو اور کس بات پر ایمان لائیں گے ؟ کیا قرآن کے بعد کسی اور کتاب کے منتظر ہیں جو آسمان سے اترے گی؟

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

 

 

۷۸۔ سُوْرَۃُ النَّبَاِ

 

                تعارف

 

کافر لوگ قیامت کے بارے میں طرح طرح کی باتیں بنایا کرتے تھے ، کوئی اس کا مذاق اڑاتا، کوئی اس کے خلاف دلیلیں پیش کرتا، کوئی مسلمانوں سے اس کی تفصیلات کے بارے میں سوالات کرتا، اور سوال کرنے کا مقصد حق کی تلاش نہیں، بلکہ استہزاء ہوتا تھا، ان آیتوں میں ان کے اسی طرز عمل کی طرف اشارہ ہے ، اس کے بعد اللہ تعالی نے کائنات میں پھیلی ہوئی اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے کہ جب تم یہ مانتے ہو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالی نے پیدا فرمایا ہے تو اس کی یہ قدرت تسلیم کرنے میں تمہیں کیوں مشکل پیش آ رہی ہے کہ وہ اس عالم کو ایک مرتبہ ختم کر کے دوبارہ پیدا فرما دے گا۔

(توضیح القرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۴۰        رکوعات:۲

 

 

اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، اور رحم کرنے والا ہے

 

لوگ آپس میں کس کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ (۱) (پوچھتے ہیں) بڑی خبر (قیامت) کی بابت۔ (۲) جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ (۳) ہر گز نہیں عنقریب جان لیں گے۔ (۴) پھر ہرگز نہیں عنقریب جان لیں گے۔ (۵)

تشریح: عَمَّ يَتَسَآءَلُوْنَ، عَنِ النَّبَإِ الْعَظِيْمِ:یعنی لوگ کس بات کا کھوج لگانے اور کس چیز کی تحقیق و تفتیش میں مشغول ہیں۔ کیا ان میں ایسی استعداد ہے کہ بہت پوچھ پاچھ کرنے سے وہ چیز ان کی سمجھ میں آ جائے گی۔ ہرگز نہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ کفار جو از راہِ انکار و استہزاء آپس میں ایک دوسرے سے نیز پیغمبر اور مومنین سے سوال کرتے ہیں کہ ہاں صاحب! وہ قیامت کب آئے گی؟ ابھی کیوں نہیں آ جاتی؟ جانتے ہو یہ کس چیز کی نسبت سوال کر رہے ہیں؟ وہ بہت عظیم الشان چیز ہے جس کا علم ان کو عنقریب ہو جائے گا۔ جب اپنی آنکھ سے اس کے ہولناک مناظر دیکھیں گے۔

اَلَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ مُخْتَلِفُوْنَ:یعنی قیامت کی خبر جس میں لوگوں کا اختلاف ہے ، کوئی اس کے آنے پر یقین رکھتا ہے ، کوئی منکر ہے کوئی شک میں پڑا ہے ، کوئی کہتا ہے بدن اٹھے گا، کوئی کہتا ہے کہ سب عذاب و ثواب روح پر گزرے گا بدن سے کچھ تعلق نہیں۔ الیٰ غیر ذٰلک من الاختلافات۔

کَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ، ثُمَّ کَلَّا سَيَعْلَمُوْنَ :یعنی پیغمبروں نے ابتداءِ دنیا سے آج تک بہت کچھ سمجھایا، مگر لوگ اپنے اختلافات اور پوچھ پاچھ سے ہرگز باز آنے والے نہیں۔ اب قریب ہے کہ وہ ہولناک منظر ان کے سامنے آ جائے اس وقت جان لیں گے کہ قیامت کیا چیز ہے اور ان کے سوالات و اختلافات کی حیثیت کیا تھی۔

(تفسیرعثمانی)

 

کیا ہم نے زمین کو نہیں بنایا بچھونا۔ (۶) اور پہاڑوں کو میخیں۔ (۷) اور ہم نے تمہیں جوڑے جوڑے پیدا کیا۔ (۸) اور تمہارے لئے نیند کو بنایا آرام (راحت) (۹) اور ہم نے رات کو اوڑھنا (پردہ) بنایا۔ (۱۰) اور ہم نے دن کو معاش کا وقت بنایا۔ (۱۱)

تشریح: کیا ہم نے زمین کو نہیں بنایا بچھونا:جس پر سکون و اطمینان سے آرام کرتے اور کروٹیں بدلتے ہیں۔

اور پہاڑوں کو میخیں :جیسا کسی چیز میں میخ لگا دینے سے وہ چیز اپنی جگہ سے نہیں ہلتی۔ ایسے ہی ابتداء میں زمین جو کانپتی اور لرزتی تھی، اللہ نے پہاڑ پیدا کر کے اس کے اضطراب اور کپکپی کو دور کیا۔ گویا زمین کو ایک طرح کا سکون پہاڑوں سے حاصل ہوا۔

اور ہم نے تمہیں جوڑے جوڑے پیدا کیا :یعنی مرد کے سکون و راحت کے لئے عورت کو اس کا جوڑا بنایا۔ ”و من ایاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنو ا الیھا۔ ” (روم۔ رکوع٣) یا ازواج سے مراد طرح طرح کی اشکال والوان وغیرہ ہوں۔

اور تمہارے لئے نیند کو بنایا آرام (راحت) :یعنی دن بھر کی دوڑ دھوپ سے تھک کر جب آدمی نیند لیتا ہے تو سب تعب اور تکان دور ہو جاتا ہے گویا نیند تو نام ہی سکون و استراحت کا ہے ، آگے نیند کی مناسبت سے رات کا ذکر کرتے ہیں۔

اور ہم نے رات کو اوڑھنا (پردہ) بنایا:جیسے آدمی کپڑا اوڑھ کر اپنے بدن کو چھپا لیتا ہے۔ اسی طرح رات کی تاریکی مخلوق کی پردہ داری کرتی ہے اور جو کام چھپانے کے لائق ہوں عموماً رات کے اندھیرے میں کئے جاتے ہیں۔ اور حسی طور پر بھی شب کو کپڑا اوڑھنے کی ضرورت دن سے زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ نسبتاً وہ وقت خنکی اور ٹھنڈک کا ہوتا ہے۔

اور ہم نے دن کو معاش کا وقت بنایا :یعنی عموماً کاروبار اور کمائی کے دھندے دن میں کئے جاتے ہیں جن کا مقصد یہی ہے کہ اپنی اور اپنے بال بچوں کی حوائج کی طرف سے دل کو سکون و اطمینان نصیب ہو۔ آگے رات دن کی مناسبت سے آسمانوں اور سورج کا ذکر فرماتے ہیں۔ یا یوں کہو کہ زمین کے مقابل آسمان کا بیان ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور ہم نے بنائے تمہارے اوپر سات مضبوط (آسمان)۔ (۱۲) اور ہم نے چمکتا ہوا چراغ (آفتاب) بنایا۔ (۱۳) اور ہم نے پانی بھری بدلیوں سے اتاری موسلا دھار بارش۔ (۱۴) تاکہ ہم اس سے اناج اور سبزی نکالیں۔ (۱۵) اور پتوں میں لپٹے ہوئے (گھنے ) باغ۔ (۱۶)

تشریح: قدرت کی عظیم الشان نشانیاں بیان فرما کر بتلا دیا کہ جو خدا ایسی قدرت و حکمت والا ہے ، کیا اسے تمہارا دوسری مرتبہ پیدا کر دینا اور حساب و کتاب کے لئے اٹھانا کچھ مشکل ہو گا؟ اور کیا اس کی حکمت کے یہ بات منافی نہ ہو گی کہ اتنے بڑے کارخانہ کو یوں ہی غلط ملط بے نتیجہ پڑا چھوڑ دیا جائے۔ یقیناً دنیا کے اس طویل سلسلہ کا کوئی صاف نتیجہ اور انجام ہونا چاہیے اسی کو ہم ” آخرت ” کہتے ہیں۔ جس طرح نیند کے بعد بیداری اور رات کے بعد دن آتا ہے ، ایسے ہی سمجھ لو کہ دنیا کے خاتمہ پر آخرت کا آنا یقینی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک فیصلہ کا دن ایک مقررہ وقت ہے۔ (۱۷) جس دن صور پھونکا جائے گا پھر تم گروہ در گروہ چلے آؤ گے۔ (۱۸)

تشریح: فیصلہ کا دن وہ ہو گا جس میں نیک کو بد سے بالکلیہ الگ کر دیا جائے کہ کسی قسم کا اشتراک و اجتماع باقی نہ رہے ہر نیکی اپنے معدن میں اور ہر بدی اپنے مرکز پر جا پہنچے۔ ظاہر ہے کہ ایسا کامل امتیاز و افتراق اس دنیا میں نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یہاں رہتے ہوئے زمین، آسمان، چاند، سورج، رات دن، سونا جاگنا، بارش، بادل، باغ، کھیت، اور بیوی بچے تمام نیکوں اور بدوں میں مشترک ہیں ہر کافر اور مسلم ان سامانوں سے یکساں منتفع ہوتا ہے۔ اس لئے ضرور ہے کہ ”یوم الفصل”ایک دن موجودہ نظام عالم کے ختم کئے جانے کے بعد ہو۔ اس کا تعین اللہ کے علم میں ٹھہرا ہوا ہے۔

(تفسیر عثمانی)

 

اور آسمان کھولا جائے گا تو (اس میں) دروازے ہو جائیں گے۔ (۱۹) اور پہاڑ چلائے جائیں گے ، پس سراب ہو جائیں گے۔ (۲۰)

تشریح: یعنی آسمان پھٹ کر ایسا ہو جائے گا گویا دروازے ہی دروازے ہیں۔ شاید اس کی طرف اشارہ ہے جو دوسری جگہ فرمایا۔ ویوم تشقق السماء بالغمام ونزل الملائکۃ تنزیلا۔ (فرقان۔ رکوع٣)۔

اور پہاڑ چلائے جائیں گے ، پس سراب ہو جائیں گے :جیسے چمکتی ریت پر دور سے پانی کا گمان ہو جاتا ہے ، ایسے ہی ان پر پہاڑوں کا گمان ہو گا۔ حالانکہ واقع میں وہ پہاڑ نہیں رہیں گے محض ریت کے تودے رہ جائیں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک جہنم گھات  میں ہے۔ (۲۱) سرکشوں کا ٹھکانہ ہے۔ (۲۲) وہ اس میں رہیں گے مدتوں۔ (۲۳) نہ اس میں ٹھنڈک (کا مزہ) چکھیں گے ، نہ پینے کی چیز کا۔ (۲۴)

مگر گرم پانی اور بہتی پیپ۔ (۲۵) (یہ) پورا پورا بدلہ ہو گا۔ (۲۶)

تشریح: لَا يَذُوْقُوْنَ فِیْہَا بَرْدًا وَّلَا شَرَابًا :یعنی نہ ٹھنڈک کی راحت پائیں گے ، نہ کوئی خوشگوار چیز پینے کو ملے گی۔ ہاں گرم پانی ملے گا جس کی سوزش سے منہ جھلس جائیں گے اور آنتیں کٹ کر پیٹ سے باہر آ پڑیں گی، اور دوسری چیز پیپ ملے گی جو دوزخیوں کے زخموں سے نکل کر بہے گی۔ اعاذنا اللہ منھا و من سائر انواع العذاب فی الدنیا والاخرۃ۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک وہ حساب کی توقع نہیں رکھتے تھے۔ (۲۷) اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے جھوٹ جان کر۔ (۲۸)

تشریح: یعنی جس چیز کی امید ان کو نہ تھی وہی سامنے آئی۔ اور جس بات کو جھٹلاتے تھے آنکھوں سے دیکھ لی۔ اب دیکھیں کیسے جھٹلاتے اور مکرتے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور ہم نے ہر چیز گن کر لکھ رکھی ہے۔ (۲۹) اب مزہ چکھو، پس ہم تم پر ہرگز نہ بڑھاتے جائیں گے مگر عذاب۔ (۳۰)

تشریح: یعنی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے اور اسی علم محیط کے موافق دفاتر میں باقاعدہ مندرج ہے۔ کوئی نیک و بد عمل اس کے احاطہ سے باہر نہیں۔ رتی رتی کا بھگتان کیا جائے گا۔

فَذُوْقُوْا :جیسے تم تکذیب و انکار میں برابر بڑھتے چلے گئے اور اگر بے اختیار موت نہ آ جاتی تو ہمیشہ بڑھتے ہی چلے جاتے۔ اب بڑے عذاب کا مزہ چکھتے رہو۔ ہم بھی عذاب بڑھاتے ہی چلے جائیں گے۔ جس میں کبھی تخفیف نہ ہو گی۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک پرہیزگاروں کے لئے کامیابی ہے۔ (۳۱) باغات اور انگور۔ (۳۲) اور نوجوان عورتیں ہم عمر۔ (۳۳) اور چھلکتے ہوئے پیالے۔ (۳۴)

وہ اس میں نہ سنیں گے کوئی بیہودہ بات اور نہ جھوٹ (خرافات)۔ (۳۵)

یہ بدلہ ہے تمہارے رب کا انعام حساب سے (کافی)۔ (۳۶)

تشریح: یعنی جنت میں بیہودہ بکواس یا جھوٹ فریب کچھ نہ ہو گا۔ نہ کوئی کسی سے جھگڑے گا کہ جھوٹ بولنے اور مکرنے کی ضرورت پیش آئے۔

جَزَآءً مِّنْ رَّبِّکَ :یہ بدلہ بھی محض بخشش اور رحمت سے ہے ، ورنہ ظاہر ہے ، اللہ پر کسی کا قرض یا جبر نہیں۔ آدمی اپنے عمل کی بدولت عذاب سے بچ جائے یہی مشکل ہے ، رہی جنت، وہ تو خالص اس کے فضل و رحمت سے ملتی ہے ، اس کو ہمارے عمل کا بدلہ قرار دینا یہ دوسری ذرہ نوازی اور عزت افزائی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، بہت مہربان وہ اس سے بات کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ (۳۷)

تشریح: یعنی باوجود اس قدر لطف و رحمت کے عظمت و جلال ایسا ہے کہ کوئی اس کے سامنے لب نہیں ہلا سکتا۔

(تفسیر عثمانی)

 

جس دن روح اور فرشتے صف باندھے کھڑے ہوں گے ، نہ بول سکیں گے مگر جس کو رحمٰن نے اجازت دی اور بولے گا ٹھیک بات۔ (۳۸)

تشریح: یعنی اس کے دربار میں جو بولے گا اس کے حکم سے بولے گا۔ اور بات بھی وہی کہے گا، جو ٹھیک اور معقول ہو، مثلاً کسی غیر مستحق کی سفارش نہ کرے گا۔ مستحق سفارش کے وہی ہیں جنہوں نے دنیا میں سب باتوں سے زیادہ سچی اور ٹھیک بات کہی تھی یعنی لا الہٰ الا اللہ۔

(تفسیر عثمانی)

 

یہ دن برحق ہے ، پس جو کوئی چاہے وہ اپنے رب کے پاس ٹھکانا بنائے۔ (۳۹)

تشریح: یعنی وہ دن آنا تو ضروری ہے۔ اب جو کوئی اپنی بہتری چاہے اس وقت کی تیاری کر رکھے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک ہم نے تمہیں قریب آنے والے عذاب سے ڈرایا ہے ، جس دن آدمی دیکھ لے گا، جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا، اور وہ کافر کہے گا کاش میں مٹی ہوتا۔ (۴۰)

تشریح: يَوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاہُ :جس دن آدمی دیکھ لے گا، جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا :یعنی سب اچھے برے ، اگلے پچھلے اعمال سامنے ہوں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

وَيَقُوْلُ الْکَافِرُ يَا لَيْتَنِيْ كُنْتُ تُرَابًا :بعض روایتوں میں ہے کہ جن جانوروں نے دنیا میں ایک دوسرے پر ظلم کیا تھا، میدانِ حشر میں ان کو بھی جمع کر کے ان سے ان کے ظلم کا بدلہ دلوایا جائے گا، یہاں تک کہ اگر کسی سینگ والی بکری نے کسی بے سینگ والی بکری کو سینگ مارا تھا تو حشر میں اس کا بھی بدلہ دلوایا جائے گا، اور جب یہ بدلہ پورا ہو جائے گا تو ان جانوروں کو مٹی میں تبدیل کر دیا جائے گا، اس وقت وہ کافر لوگ جنہیں دوزخ کا انجام نظر آ رہا ہو گا، وہ یہ تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مٹی ہو جاتے (مسلم و ترمذی)۔

(توضیح القرآن)

٭٭

 

 

 

 

۷۹۔ سُوْرَۃُ النّٰزِعَاتِ

 

                تعارف

 

اس سورت میں بھی قیامت کے مختلف احوال اور اہوال (ہولناکیوں) کا بیان ہے ، ابتداء میں اللہ نے مختلف کاموں پر مامور پانچ قسم کے فرشتوں کی قسم کھائی ہے ، لیکن جواب قسم ذکر نہیں فرمایا، سیاق کلام کو دیکھ کر جو جواب قسم سمجھ میں آتا ہے وہ ہے لتبعثن (تمہیں قیامت کے دن ضرور زندہ کیا جائے گا)

سورۂ نازعات بتاتی ہے کہ قیامت کو جھٹلانے والوں کا قیامت کے دن یہ حال ہو گا کہ ان کے دل دھڑک رہے ہوں گے ، دہشت، ذلت اور ندامت کی وجہ سے ان کی نظریں جھکی ہوں گی، لیکن آج وہ فرعون بنے بیٹھے ہیں، اور اللہ کے نبی کی بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ، لیکن شاید انہیں فرعون کا انجام معلوم نہیں، یہ عقل سے کورے اور احمق یہ نہیں سوچتے کہ جو اللہ مضبوط آسمان بنا سکتا ہے شب و روز کا نظام مقرر کرسکتا ہے ، زمین کا فرش بچھا سکتا ہے ، پہاڑوں کو میخیں گاڑ سکتا ہے ، کیا وہ انہیں دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا، سورت کے اختتام پر مشرکین کا سوال مذکور ہے جو وہ وقوع قیامت کو محال سمجھ کر قیامت کے بارے میں کرتے تھے ، لیکن جس روز یہ قیامت کو دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہو گا کہ صرف دن کا آخری حصہ یا اول حصہ ہی وہ دنیا میں رہے۔

(خلاصہ قرآن)

 

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۴۶        رکوعات:۲

 

 

اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، اور رحم کرنے والا ہے

 

قسم ہے گھسیٹ کر دشمن سے (جان) کھینچنے والے (فرشتوں) کی۔ (۱) اور کھول کر چھڑانے والوں کی۔ (۲) اور تیزی سے تیرنے والوں کی۔ (۳) پھر دوڑ کر آگے بڑھنے والوں کی۔ (۴) پھر حکم کے مطابق تدبیر کرنے والوں کی۔ (۵)

وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا:یعنی ان فرشتوں کی قسم جو کافر کی رگوں میں گھس کر اس کی جان سختی سے گھسیٹ کر نکالیں۔

وَالنَّاشِطَاتِ نَشْطًا:یعنی جو فرشتے مومن کے بدن سے جان کی گرہ کھول دیں، پھر وہ اپنی خوشی سے عالم پاک کی طرف دوڑے ، جیسے کسی کے بند کھول دیے جائیں تو آزاد ہو کر بھاگتا ہے۔ مگر یاد رہے یہ ذکر روح کا ہے بدن کا نہیں نیک خوشی سے عالم قدس کی طرف دوڑتا ہے ، بد بھاگتا ہے ، پھر گھسیٹا جاتا ہے۔

وَالسَّابِحَاتِ سَبْحًا، فَالسَّابِقَاتِ سَبْقًا:یعنی جو فرشتے روحوں کو لے کر زمین سے آسمان کی طرف اس سرعت و سہولت سے چلتے ہیں گویا بے روک ٹوک پانی پر تیر رہے ہیں۔ پھر ان ارواح کے باب میں جو خدا کا حکم ہوتا ہے اس کے امتثال کے لئے تیزی کے ساتھ دوڑ کر آگے بڑھتے ہیں۔

فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا:یعنی اس کے بعد ان ارواح کے متعلق ثواب کا حکم ہو یا عقاب کا دونوں امروں میں سے ہر امر کی تدبیر و انتظام کرتے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

جس دن کانپنے والی کانپے۔ (۶) اور اس کے پیچھے آئے پیچھے آنے والی۔ (۷) کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گے۔ (۸) ان کی نگاہیں جھکی ہوئی۔ (۹) وہ کہتے ہیں کیا ہم پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے ؟ (۱۰) کیا جب ہم کھوکھلی ہڈیاں ہو چکے ہوں گے ؟ (۱۱) وہ بولے یہ پھر خسارے والی واپسی ہے۔ (۱۲) پھر وہ تو صرف ایک ڈانٹ ہے۔ (۱۳) پھر وہ اس وقت میدان میں (آرہے ہیں)۔ (۱۴)

يَقُوْلُوْنَ أَإِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَۃِ :یعنی ”قبر کے گڑھے میں پہنچ کر کیا پھر ہم الٹے پاؤں زندگی کی طرف واپس کئے جائیں گے۔ ہم تو نہیں سمجھ سکتے کہ کھوکھلی ہڈیوں میں دوبارہ جان پڑ جائے گی۔ ایسا ہوا تو یہ صورت ہمارے لئے بڑے ٹوٹے اور خسارہ کی ہو گی۔ کیونکہ ہم نے اس زندگی کے لئے کوئی سامان نہیں کیا۔ ” یہ تمسخر سے کہتے تھے۔ یعنی مسلمان ہماری نسبت ایسا سمجھتے ہیں حالانکہ وہاں مرنے کے بعد سرے سے دوسری زندگی ہی نہیں، نقصان اور خسارہ کا کیا ذکر۔

فَإِنَّمَا ہِيَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ :یعنی یہ لوگ اسے بہت مشکل کام سمجھ رہے ہیں حالانکہ اللہ کے ہاں یہ سب کام دم بھر میں ہو جائیں گے۔ جہاں ایک ڈانٹ پلائی، یعنی صور پھونکا اسی وقت بلا توقف سب اگلے پچھلے میدان حشر میں کھڑے دکھائی دیں گے ، آگے اس کی ایک مختصر سی جھڑکی اور معمولی سی ڈانٹ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جو دنیا میں ایک بڑے متکبر کو دی گئی تھی۔ یا یوں کہیے کہ ان منکرین کو سنایا جا رہا ہے کہ تم سے پہلے بڑے زبردست منکروں کا کیا حشر ہوا۔

(تفسیرعثمانی)

 

کیا تمہارے پاس موسٰی کی بات پہنچی ؟ (۱۵) جب اس کو اس کے رب نے پکارا طوی کے مقدس میدان میں۔ (۱۶) کہ فرعون کے پاس جاؤ بیشک اس نے سرکشی کی ہے۔ (۱۷) پس تم کہو کیا تجھ کو (خواہش ہے ) کہ تو سنور جائے۔ (۱۸) اور میں تجھے رب کی راہ دکھاؤں پس تو ڈر۔ (۱۹) (موسیٰ نے ) اس کو دکھائی بڑی نشانی۔ (۲۰)

تشریح: وَأَہْدِيَکَ إِلٰی رَبِّکَ فَتَخْشٰى :یعنی اگر تجھے سنورنے کی خواہش ہو تو اللہ کے حکم سے سنوار سکتا ہوں اور ایسی راہ بتا سکتا ہوں جس پر چلنے سے تیرے دل میں اللہ کا خوف اور اس کی کامل معرفت جم جائے ، کیونکہ خوف کا ہونا بدون کمال معرفت کے متصور نہیں۔ معلوم ہوا حضرت موسٰی کی بعثت کا مقصد فرعون کی اصلاح بھی تھی۔ محض بنی اسرائیل کو قید سے چھڑانا ہی نہ تھا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو دکھائی بڑی نشانی:یعنی وہاں پہنچ کر اللہ کا پیغام پہنچایا اور اس پر حجت تمام کرنے کے لئے وہ سب سے بڑا معجزہ عصا کے اژدہا بننے کا دکھلایا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی۔ (۲۱) پھر دوڑتا ہوا پیٹھ پھیر کر چلا۔ (۲۲) پھر (لوگوں کو) جمع کیا پھر پکارا۔ (۲۳) پھر کہا میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔ (۲۴)

تشریح: یعنی وہ ملعون ماننے والا کہاں تھا۔ اس فکر میں چلا کہ لوگوں کو جمع کرے اور جادو گروں کو تلاش کر کے بلوائے کہ وہ موسٰی کے معجزات کا مقابلہ کریں۔ پھر لوگوں کو جمع کیا پھر پکارا: سب سے بڑا رب تو میں ہوں۔ یہ موسٰی کسی کا بھیجا ہوا آیا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

تو اللہ نے اس کو دنیا اور آخرت  کی سزا میں پکڑا۔ (۲۵) بیشک اس میں اس کے لئے عبرت ہے جو ڈرے۔ (۲۶)

تشریح: یعنی یہاں پانی میں ڈوبا، وہاں آگ میں جلے گا۔ اس قصہ میں بہت سی باتیں سوچنے اور عبرت پکڑنے کی ہیں۔ بشرطیکہ آدمی کے دل میں تھوڑا بہت ڈر ہو۔ (ربط) موسٰی اور فرعون کا قصہ درمیان میں استطراداً آ گیا تھا۔ آگے پھر اسی مضمون قیامت کی طرف عود کرتے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

کیا تمہارا بنانا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کا، اس نے اس کو بنایا۔ (۲۷) اس کی چھت کو بلند کیا پھر اس کو درست کیا۔ (۲۸) اس کی رات کو تاریک کر دیا اور نکالی دن کی روشنی۔ (۲۹) اور اس کے بعد زمین کو بچھایا۔ (۳۰) اس سے اس کا پانی نکالا اور اس کا چارہ۔ (۳۱)

تشریح: یعنی تمہارا پید کرنا (اور وہ بھی ایک مرتبہ پیدا کر چکنے کے بعد) آسمان و زمین اور پہاڑوں کے پیدا کرنے سے زیادہ مشکل تو نہیں۔ جب اتنی بڑی بڑی چیزوں کا خالق اس کو مانتے ہو، پھر اپنی دوبارہ پیدائش میں کیوں تردد ہے۔

آسمان کو خیال کرو کس قدر اونچا، کتنا مضبوط، کیسا صاف ہموار، اور کس درجہ مرتب و منظم ہے ، کس قدر زبردست انتظام اور باقاعدگی کے ساتھ اس نے سورج کی رفتار سے رات اور دن کا سلسلہ قائم کیا ہے۔ رات کے اندھیرے میں اس کا سماں کچھ اور ہے اور دن کے اجالے میں ایک دوسری ہی شان نظر آتی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور پہاڑ کو قائم کیا۔ (۳۲) تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے فائدہ کے لئے۔ (۳۳) پھر جب وہ بڑا ہنگامہ آئے گا (قیامت)۔ (۳۴)

تشریح: جو اپنی جگہ سے جنبش نہیں کھاتے اور زمین کو بھی بعض خاص قسم کے اضطرابات سے محفوظ رکھنے والے ہیں۔ یہ انتظام نہ ہو تو تمہارا اور تمہارے جانوروں کا کام کیسے چلے۔ ان تمام اشیاء کا پیدا کرنا تمہاری حاجت روائی اور راحت رسانی کے لئے ہے۔ چاہیے کہ اس منعم حقیقی کا شکر ادا کرتے رہو۔ اور سمجھو کہ جس قادر مطلق اور حکیم برحق نے ایسے زبردست انتظامات کئے ہیں کیا وہ تمہاری بوسیدہ ہڈیوں میں روح نہیں پھونک سکتا۔ لازم ہے کہ آدمی اس کی قدرت کا اقرار کرے۔ اور اس کی نعمتوں کی شکر گذاری میں لگے ، ورنہ جب وہ بڑا ہنگامہ قیامت کا آئے گا اور سب کیا کرایا سامنے ہو گا سخت پچھتانا پڑے گا۔

(تفسیر عثمانی)

 

اس دن انسان یاد کرے گا جو اس نے کمایا (اپنے اعمال)۔ (۳۵) اور جہنم ظاہر کر دی جائے گی ہر اس کے لئے جو دیکھے گا۔ (۳۶)

تشریح: یعنی دوزخ کو اس طرح منظر عام پر لائیں گے کہ ہر دیکھنے والا دیکھ سکے گا۔ کوئی آڑ پہاڑ درمیان میں حائل نہ رہے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

پس جس نے سرکشی کی۔ (۳۷) اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ (۳۸) تو یقیناً اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (۳۹)

تشریح: یعنی دنیا کو آخرت پر ترجیح دی اسے بہتر سمجھ کر اختیار کیا اور اسے بھلا دیا۔

(تفسیر عثمانی)

 

اور جو اپنے رب (کے سامنے ) کھڑا ہونے سے ڈرا، اور اس نے روکا اپنے دل کی خواہش سے۔ (۴۰) تو یقیناً اس کا ٹھکانہ جنت ہے۔ (۴۱)

تشریح: یعنی جو اس بات کا خیال کر کے ڈرا کہ مجھے ایک روز اللہ کے سامنے حساب کے لئے کھڑا ہونا ہے اور اسی ڈر سے اپنے نفس کی خواہش پر نہ چلا بلکہ اسے روک کر اپنے قابو میں رکھا اور احکام الہٰی کے تابع بنایا تو اس کا ٹھکانا بہشت کے سوا کہیں نہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

وہ آپ سے پوچھتے ہیں قیامت کی بابت کہ کب (ہو گا) اس کا قیام ؟ (۴۲) تمہیں کیا کام اس کے ذکر سے ؟ (۴۳) تمہارے رب کی طرف ہے اس کی انتہا۔ (۴۴)

تشریح: یعنی اس کا وقت ٹھیک متعین کر کے بتلانا آپ کا کام نہیں کتنے ہی سوال جواب کرو۔ آخرکار اس کا علم خدا ہی پر حوالہ کرنا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ ”پوچھتے پوچھتے اسی تک پہنچنا ہے ، پیچھے سب بے خبر ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

آپ صرف اس کو ڈرانے والے ہیں جو اس سے ڈرے۔ (۴۵) گویا وہ جس دن اس کو دیکھیں گے (ایسا لگے گا) وہ نہیں ٹھہرے مگر ایک شام یا اس کی ایک صبح! (۴۶)

تشریح: یعنی آپ کا کام قیامت کی خبر سنا کر لوگوں کو ڈرا دینا ہے۔ اب جس کے دل میں اپنے انجام کی طرف سے کچھ خوف ہو گا یا خوف آخرت کی استعداد ہو گی وہ سن کر ڈرے گا اور ڈر کر تیاری کرے گا۔ گویا آپ کا ڈرانا نتیجہ کے اعتبار سے صرف ان ہی لوگوں کے حق میں ہوا جو اس سے منتفع ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ورنہ نا اہل لوگ تو انجام سے غافل ہو کر ان ہی فضول بحثوں میں پڑے ہوئے ہیں کہ قیامت کس تاریخ، کس دن، کس سن میں آئے گی۔ اب تو شور مچا رہے ہیں کہ قیامت کے آنے میں دیر کیوں ہے جلد کیوں نہیں آ جاتی۔ مگر اس وقت معلوم ہو گا کہ بہت جلد آئی۔ بیچ میں دیر کچھ نہیں لگی۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

 

 

۸۰۔ سُوْرَۃُ عَبَسَ

 

                تعارف

 

یہاں سے آخر تک ہر سورت ایک رکوع پر ہی مشتمل ہے ، اس سورت کی ابتداء میں نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا قصہ مذکور ہے جو طلب علم کے لئے ایسے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گئے جب کہ آپ چند سردارانِ قریش کو دعوت اسلام دینے میں مصروف تھے ، ایسی اہم مصروفیت کے وقت ان کے آنے سے آپ کو طبعی طور پر ناگواری ہوئی، اور آپ نے ان کی بات کا جواب دینے سے اعراض کیا، اس پر سورۂ عبس کی یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں اللہ نے آپ کو تنبیہ فرمائی، اس کے بعد جب بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کو دیکھتے تو ان کا استقبال کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے یہ ہیں وہ جن کی وجہ سے اللہ نے مجھے تنبیہ فرمائی تھی، اور ان سے دریافت فرماتے کہ کوئی کام ہے تو بتاؤ، آپ نے نابینا ہونے کے باوجود دو غزوات کے موقع پر انہیں مدینہ پر والی مقرر فرمایا، یہ واقعہ اور اس جیسے دوسرے واقعات جن میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تنبیہ فرمائی گئی ہے ، ان کا قرآن کریم میں مذکور ہونا اس کی صداقت و حقانیت کی دلیل ہے ، اگر معاذاللہ قرآن آپ کا خود تراشیدہ کلام ہوتا تو آپ ایسی آیات اس میں ہرگز ذکر نہ فرماتے جن میں خود آپ سے باز پرس کی گئی ہے۔

اگلی آیات میں رب تعالی کی قدرت اور وحدانیت کے تکوینی دلائل ہیں اور اختتام پر قیامت کا وہ ہولناک منظر بیان کیا گیا ہے جب انسان خوفزدہ ہو کر قریب ترین رشتوں کو بھی بھول جائے گا، نفسا نفسی کا عالم ہو گا، کسی کو کسی کی فکر نہیں ہو گی، ہر کسی کو اپنی ذات کا غم کھائے جا رہا ہو گا، بہت سے چہروں پر کامیابی کی چمک ہو گی، اور بے شمار چہروں پر ناکامی کی ذلت اور تاریکی چھائی ہو گی۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۴۲        رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، اور رحم کرنے والا ہے

 

تیوری چڑھائی اور منہ موڑ لیا۔ (۱) کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا۔ (۲)

اور آپ کو کیا خبر شاید وہ سنور جاتا۔ (۳) یا نصیحت مانتا تو نصیحت کرنا اسے نفع پہنچاتا۔ (۴)

تشریح: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بعض سرداران قریش کو مذہب اسلام کے متعلق کچھ سمجھا رہے تھے ، اتنے میں ایک نابینا مسلمان (جن کو ابن ام مکتوم کہتے ہیں) حاضر خدمت ہوئے اور اپنی طرف متوجہ کرنے لگے کہ فلاں آیت کیونکر ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے اس میں سے کچھ سکھائیے جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھلایا ہے۔ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا بے وقت کا پوچھنا گراں گزرا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوا ہو گا کہ میں ایک بڑے مہم کام میں مشغول ہوں۔ قریش کے یہ بڑے بڑے سردار اگر ٹھیک سمجھ کر اسلام لے آئیں تو بہت لوگوں کے مسلمان ہونے کی توقع ہے۔ ابن ام مکتوم بہرحال مسلمان ہے اس کو سمجھنے اور تعلیم حاصل کرنے کے ہزار مواقع حاصل ہیں، اس کو دکھائی نہیں دیتا کہ میرے پاس ایسے با اثر اور بارسوخ لوگ بیٹھے ہیں جن کو اگر ہدایت ہو جائے تو ہزاروں اشخاص ہدایت پر آسکتے ہیں، میں ان کو سمجھا رہا ہوں، یہ اپنی کہتا چلا جاتا ہے۔ اتنا بھی نہیں سمجھتا کہ اگر ان لوگوں کی طرف ہٹ کر گوشہ التفات اس کی طرف کروں گا تو ان لوگوں پر کس قدر شاق ہو گا۔ شاید پھر وہ میری بات سننا بھی پسند نہ کریں۔ غرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم منقبض ہوئے اور انقباض کے آثار چہرے پر ظاہر ہونے لگے۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ روایات میں ہے کہ اس کے بعد جب وہ نابینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت تعظیم و تکریم سے پیش آتے اور فرماتے ”مرحبابمن عاتبنی فیہ ربی ”۔

(تفسیر عثمانی)

 

اور جس نے بے پروائی کی۔ (۵) آپ اس کے لئے فکر کرتے ہیں۔ (۶) اور آپ پر (کوئی الزام) نہیں اگر وہ نا سنورے۔ (۷) اور جو آپ کے پاس دوڑتا ہوا آیا۔ (۸) اور وہ ڈرتا بھی ہے۔ (۹) تو آپ اس سے تغافل کرتے ہیں۔ (۱۰)

تشریح: یعنی جو لوگ اپنے غرور اور شیخی سے حق کی پروا نہیں کرتے اور ان کا تکبر اجازت نہیں دیتا کہ اللہ و رسول کے سامنے جھکیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ یہ کسی طرح مسلمان ہو جائیں تاکہ ان کے اسلام کا اثر دوسروں پر پڑے۔ حالانکہ اللہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی الزام نہیں کہ یہ مغرور اور شیخی باز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت سے درست کیوں نہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرض دعوت و تبلیغ کا تھا، وہ ادا کر چکے اور کر رہے ہیں۔ آگے ان لا پروا متکبروں کی فکر میں اس قدر انہماک کی ضرورت نہیں کہ سچے طالب اور مخلص ایماندار توجہ سے محروم ہونے لگیں۔ یا معاملہ کی ظاہری سطح دیکھ کر بے سوچے سمجھے لوگوں میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ پیغمبر صاحب کی توجہ امیروں اور تونگروں کی طرف زیادہ ہے۔ شکستہ حال غریبوں کی طرف نہیں اس مہمل خیال کے پھیلنے سے جو ضرر دعوت اسلام کے کام کو پہنچ سکتا ہے ، وہ اس نفع سے کہیں بڑھ کر ہے جس کی ان چند متکبرین کے مسلمان ہونے سے توقع کی جا سکتی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

ہرگز نہیں یہ تو (کتاب) نصیحت ہے۔ (۱۱) سو جو چاہے اس سے نصیحت قبول کرے۔ (۱۲) با عزت اوراق میں۔ (۱۳) بلند مرتبہ انتہائی پاکیزہ۔ (۱۴) لکھنے والے ہاتھوں میں۔ (۱۵) بزرگ نیکو کار لوگ۔ (۱۶)

تشریح: فَمَنْ شَآءَ ذَکَرَہُ: یعنی متکبر اغنیاء اگر قرآن کو نہ پڑھیں اور اس نصیحت پر کان نہ دھریں تو اپنا ہی برا کریں گے۔ قرآن کو ان کی کچھ پروا نہیں۔ نہ آپ کو اس درجہ ان کے درپے ہونے کی ضرورت ہے۔ ایک عام نصیحت تھی سو کر دی گئی جو اپنا فائدہ چاہے اس کو پرکھے اور سمجھے۔

فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ، مَرْفُوْعَۃٍ مُّطَہَّرَۃٍ:یعنی کیا ان مغرور سر پھروں کے ماننے سے قرآن کی عزت و وقعت ہو گئی؟ قرآن تو وہ ہے جس کی آیتیں آسمان کے اوپر نہایت معزز، بلند مرتبہ اور صاف ستھرے ورقوں میں لکھی ہوئی ہیں اور زمین پر مخلص ایماندار بھی اس کے اوراق نہایت عزت و احترام اور تقدیس و تطہیر کے ساتھ اونچی جگہ رکھتے ہیں۔

بِأَيْدِیْ سَفَرَۃٍ، كِرَامٍ بَرَرَۃٍ:یعنی وہاں فرشتے اس کو لکھتے ہیں اسی کے موافق وحی اترتی ہے۔ اور یہاں بھی اوراق میں لکھنے اور جمع کرنے والے دنیا کے بزرگ ترین پاکباز نیکوکار اور فرشتہ خصلت بندے ہیں جنہوں نے ہر قسم کی کمی بیشی اور تحریف و تبدیل سے اس کو پاک رکھا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

انسان مارا جائے کیسا ناشکرا ہے۔ (۱۷) اس (اللہ) نے اسے کس چیز سے پیدا کیا ؟ (۱۸)

اس کو ایک نطفہ سے پیدا کیا۔ پھر اسے انداز پر رکھا۔ (۱۹)

تشریح: قُتِلَ الْإِنْسَانُ مَآ أَكْفَرَہُ: یعنی قرآن جیسی نعمت عظمیٰ کی کچھ قدر نہ کی اور اللہ کا حق کچھ نہ پہچانا۔ ذرا اپنی اصل پر تو غور کیا ہوتا کہ وہ پیدا کس چیز سے ہوا ہے۔ ایک ناچیز اور بے قدر قطرۂ آب سے جس میں حس و شعور، حسن و جمال اور عقل و ادراک کچھ نہ تھا۔ سب کچھ اللہ نے اپنی مہربانی سے عطا فرمایا۔ جس کی حقیقت کل اتنی ہو کیا اسے یہ طمطراق زیبا ہے کہ خالق و منعم حقیقی ایسی عظیم الشان نصیحت اتارے اور یہ بے شرم اپنی اصل حقیقت اور مالک کی سب نعمتوں کو فراموش کر کے اس کی کچھ پروا نہ کرے۔ اور احسان فراموش! کچھ تو شرمایا ہوتا۔

(تفسیرعثمانی)

 

پھر اس کی راہ آسان کر دی۔ (۲۰) پھر اس کو مردہ کیا پھر اسے قبر میں رکھوایا۔ (۲۱)

پھر جب چاہا اس کو نکالا۔ (۲۲) اس نے ہرگز پورا نہ کیا جو اس نے اس کو حکم دیا۔ (۲۳)

تشریح: یعنی ایمان و کفر اور بھلے برے کی سمجھ دی یا ماں کے پیٹ میں سے نکالا آسانی سے۔ پھر مرنے کے بعد اس کی لاش کو قبر میں رکھنے کی ہدایت کر دی۔ تاکہ زندوں کے سامنے یوں ہی بے حرمت نہ ہو۔

جس نے ایک مرتبہ جِلایا اور مارا۔ اسی کو اختیار ہے کہ جب چاہے دوبارہ زندہ کر کے قبر سے نکالے۔ کیونکہ اس کی قدرت اب کسی نے سلب نہیں کر لی۔ (العیاذ باللہ) بہرحال پیدا کر کے دنیا میں لانا، پھر مار کر برزخ میں لے جانا، پھر زندہ کر کے میدان حشر میں کھڑا کر دینا، یہ امور جس کے قبضہ میں ہوئے کیا اس کی نصیحت سے اعراض و انکار اور اس کی نعمتوں کا استحقار کسی آدمی کے لئے زیبا ہے۔ انسان نے ہرگز اپنے مالک کا حق نہیں پہچانا اور جو کچھ حکم ہوا تھا ابھی تک اس کو بجا نہیں لایا۔

(تفسیرعثمانی)

 

پس چاہئے کہ انسان دیکھ لے اپنے کھانے کو۔ (۲۴) ہم نے اوپر سے گرتا ہوا پانی ڈالا۔ (۲۵) پھر زمین کو پھاڑ کر چیرا۔ (۲۶) پھر ہم نے اس میں اگایا غلہ۔ (۲۷) اور انگور اور ترکاری۔ (۲۸) اور زیتون اور کھجور۔ (۲۹) اور باغات گھنے۔ (۳۰) اور میوہ اور چارہ۔ (۳۱) تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے فائدہ کے لئے۔ (۳۲)

تشریح: یعنی ایک گھاس کے تنکے کی کیا طاقت تھی کہ زمین کو چیر پھاڑ کر باہر نکل آتا، یہ قدرت کا ہاتھ ہے جو زمین کو پھاڑ کر اس سے طرح طرح کے غلے ، پھل اور سبزے ، ترکاریاں وغیرہ باہر نکالتا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

پھر جب آئے کان پھوڑنے والی۔ (۳۳)

تشریح: یعنی ایسی سخت آواز جس سے کان بہرے ہو جائیں۔ اس سے مراد نفخہ صور کی آواز ہے۔

 

جس دن بھاگے آدمی اپنے بھائی۔ (۳۴) اپنی ماں اور اپنے باپ۔ (۳۵) اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹے سے۔ (۳۶)

اس دن ان میں سے ہر ایک آدمی کو ایک فکر ہے جو اسے کافی ہو گی۔ (۳۷)

تشریح: یعنی اس وقت ہر ایک کو اپنی فکر پڑی ہو گی احباب و اقارب ایک دوسرے کو نہ پوچھیں گے بلکہ اس خیال سے کہ کوئی میری نیکیوں میں سے نہ مانگنے لگے یا اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے لگے ایک دوسرے سے بھاگے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اس دن بہت سے چہرے چمکتے۔ (۳۸) ہنستے اور خوشیاں مناتے ہوں گے۔ (۳۹)

تشریح: یعنی مومنین کے چہرے نور ایمان سے روشن اور غایت مسرت سے خنداں و فرحاں ہوں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اس دن بہت سے چہروں پر غبار ہو گا۔ (۴۰) سیاہی چھائی ہوئی (ہو گی)۔ (۴۱)

یہی لوگ ہیں کافر گنہگار ! (۴۲)

تشریح: یعنی کافروں کے چہروں پر کفر کی کدورت چھائی ہو گی اور اوپر سے فسق و فجور کی ظلمت اور زیادہ تیرہ تاریک کر دے گی۔

کافر بے حیا کو کتنا ہی سمجھاؤ ذرا نہ پسیجیں۔ نہ خدا سے ڈریں، نہ مخلوق سے شرمائیں۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

 

 

۸۱۔ سُوْرَۃُ التَّکْوِیْرِ

 

                تعارف

 

اس سورت کے دو حصے ہیں، پہلے حصہ میں جو کہ ۱۴ آیات پر مشتمل ہے اس ہولناک کائناتی انقلاب کا ذکر ہے جس کے اثرات سے کائنات کی کوئی چیز بھی محفوظ نہیں رہے گی، سب کچھ بدل جائے گا، یہ سورج اور ستارے ، پہاڑ اور سمندر ریت کے گھروندے ثابت ہوں گے ، اس دن ہر شخص کو پتہ چل جائے گا کہ کتنے پانی میں ہے اور اپنے دامن میں کیا لے کر آیا ہے گناہ یا نیکیاں، دوسرے حصہ میں جو کہ ۱۵ آیات پر مشتمل ہے ، باری تعالی نے تین قسمیں کھا کر قرآن کی حقانیت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و صداقت کو بیان فرمایا ہے ، اور ان دیوانوں کو بڑی محبت سے سمجھایا ہے جو اللہ کے نبی کو معاذاللہ دیوانہ قرار دیتے تھے ، فرمایا گیا تمہارا ساتھی دیوانہ نہیں ہے ، وہ تو بندوں تک اللہ کا کلام پہنچانے والا سچا نبی ہے ، سورۂ اعراف (۱۸۴) اور سورۂ سبا (۴۶) میں بھی یہی بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ تم غور و فکر کرو گے تو تمہارے ضمیر کا یہی فیصلہ ہو گا کہ تمہارے سامنے شب و روز گزارنے والا یہ عظیم انسان دیوانہ نہیں، یہ تو دیوانوں کو فرزانگی سکھانے کے لئے آیا ہے ، اور قرآن کے بارے میں فرمایا کہ یہ شیطان مردود کا کلام نہیں ہے یہ تو اہل جہاں کے لئے نصیحت ہے مگر اس کے لئے جو سیدھی راہ پر چلنا چاہے ، اور تم نہیں چاہ سکتے جب تک کہ رب العالمین نہ چاہے۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۲۹        رکوع:۱

 

 

اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، اور رحم کرنے والا ہے

 

جب سورج لپیٹ دیا جائے۔ (۱) اور جب ستارے ماند پڑ جائیں۔ (۲) اور جب پہاڑ چلائے جائیں۔ (۳) اور جب دس ماہ کی گابھن اونٹنیاں چھٹی پھریں۔ (۴) اور جب وحشی جانور اکٹھے کئے جائیں۔ (۵) اور جب دریا بھڑکائے جائیں۔ (۶) اور جب جانوں کے جوڑے باندھے جائیں۔ (۷)

تشریح: وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ: اونٹنی اس وقت عرب کے لوگوں کے لئے سب سے بڑی دولت سمجھی جاتی تھی، اور اگر اونٹنی گابھن یعنی حاملہ ہو تو اس کی قیمت اور بڑھ جاتی تھی، اور دس مہینے کی گابھن ہو تو اسے سب سے زیادہ قیمتی سمجھا جاتا تھا، اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے وقت ہر شخص پر ایسی حالت طاری ہو گی کہ اسے اتنی بڑی دولت کو بھی سنبھالنے کا ہوش نہیں رہے گا، اس لئے ایسی اونٹنیاں بھی بیکار چھٹی پھریں گی۔

وَإِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ :قیامت کے ہولناک منظر کو دیکھ کر سارے وحشی جانور بھی گھبراہٹ کے عالم میں اکھٹے ہو جائیں گے ، جیسے کہ کسی عام مصیبت کے موقع پر تنہا رہنے کے بجائے دوسروں کے ساتھ رہنے کو پسند کیا جاتا ہے۔

وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ:سمندروں کے بھڑکانے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان میں طغیانی آ جائے گی اور دریا سمندر آپس میں مل کر ایک ہو جائیں گے اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ ان کا پانی خشک ہو جائے گا اور ان میں آگ لگادی جائے گی۔

وَإِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ: یعنی ایک قسم کے لوگ ایک جگہ جمع کر دئیے جائیں گے ، کافر ایک جگہ اور مؤمن ایک جگہ، نیز نیک لوگ ایک جگہ اور بدکار ایک جگہ۔

(توضیح القرآن)

 

اور جب زندہ گاڑی ہوئی (زندہ درگور) لڑکی سے پوچھا جائے۔ (۸) وہ کس گناہ میں ماری گئی ؟ (۹)

تشریح: عرب میں رسم تھی کہ باپ اپنی بیٹی کو نہایت سنگدلی اور بے رحمی سے زندہ زمین میں گاڑ دیتا تھا بعض تو تنگدستی اور شادی بیاہ کے اخراجات کے خوف سے یہ کام کرتے تھے اور بعض کو یہ عار تھی کہ ہم اپنی بیٹی کسی کو دیں گے وہ ہمارا داماد کہلائے گا۔ قرآن نے آگاہ کیا کہ ان مظلوم بچیوں کی نسبت بھی سوال ہو گا کہ کس گناہ پر اس کو قتل کیا تھا۔ یہ مت سمجھنا کہ ہماری اولاد ہے ، اس میں ہم جو چاہیں تصرف کریں ،بلکہ اولاد ہونے کی وجہ سے جرم اور زیادہ سنگین ہو جاتا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جب اعمال نامے کھولے جائیں۔ (۱۰) اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے۔ (۱۱) اور جب جہنم بھڑکائی جائے۔ (۱۲) اور جب جنت قریب لائی جائے۔ (۱۳) ہر شخص جان لے گا وہ جو کچھ لایا ہے۔ (۱۴)

سو میں قسم کھاتا ہوں (ستارے کی) پیچھے ہٹ جانے والے۔ (۱۵) سیدھے چلنے والے چھپ جانے والے۔ (۱۶) اور رات کی جب وہ پھیل جائے۔ (۱۷) اور صبح کی جب دم بھرے (نمودار ہو)۔ (۱۸)

تشریح: فَلَآ أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ: بعض ستارے ایسے ہوتے ہیں کہ وہ کبھی مشرق سے مغرب کی طرف چلتے نظر آتے ہیں اور کبھی مغرب سے مشرق کی طرف، گویا وہ ایک سمت میں چلتے چلتے واپس پلٹ رہے ہیں، پھر چلتے چلتے نگاہوں سے غائب ہو جاتے ہیں، گویا وہ کہیں دبک کر چھپ گئے ہیں، ان ستاروں کی یہ گردش اللہ تعلی کی قدرت کاملہ کا عجیب مظہر ہے ، اس لئے ان کیقسم کھائی گئی ہے۔

وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ :صبح کے وقت عموماً ہلکی ہلکی ہوا چلتی ہے جسے باد نسیم کہا جاتا ہ اس ہوا کے چلنے کو بڑی بلاغت کے ساتھ صبح کے سانس لینے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک یہ (قرآن) کلام ہے عزت والے قاصد (فرشتہ) کا۔ (۱۹) قوت والا، عرش کے مالک کے نزدیک بلند مرتبہ۔ (۲۰) سب کا مانا ہوا۔ وہاں کا امانتدار۔ (۲۱)

اور تمہارے رفیق (حضرت محمد ) کچھ دیوانے نہیں۔ (۲۲)

تشریح: یہ حضرت جبرئیل کی صفات بیان ہوئیں۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم جو اللہ کے پاس سے ہم تک پہنچا اس میں دو واسطے ہیں۔ ایک وحی لانے والا فرشتہ (جبرئیل) اور دوسرا پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم، دونوں کی صفات وہ ہیں جن کے معلوم ہونے کے بعد کسی طرح کا شک و شبہ قرآن کے صادق اور منزل من اللہ ہونے میں نہیں رہتا۔ کسی روایت کی صحت تسلیم کرنے کے لئے اعلیٰ سے اعلیٰ راوی وہ ہوتا ہے جو اعلیٰ درجہ کا ثقہ، عادل، ضابط، حافظ اور امانتدار ہو۔ جس سے روایت کرے اس کے پاس عزت و حرمت کے ساتھ رہتا ہو۔ بڑے بڑے معتبر ثقات اس کی امانت وغیرہ پر اعتماد کلی رکھتے ہوں۔ اور اسی لئے اس کی بات بے چون و چرا مانتے ہوں۔ یہ تمام صفات حضرت جبرئیل میں موجود ہیں وہ کریم (عزت والے ) ہیں جن کے لئے اعلیٰ نہایت متقی اور پاکباز ہونا لازم ہے ” ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم ” وفی الحدیث ”الکرم التقویٰ ”

بڑی قوت والے ہیں: جس میں اشارہ ہے کہ حفظ و ضبط اور بیان کی قوت بھی کامل ہے۔ اللہ کے ہاں ان کا بڑا درجہ ہے۔ سب فرشتوں سے زیادہ بارگاہ ربوبیت میں قرب اور رسائی حاصل ہے ، آسمانوں کے فرشتے ان  کی بات مانتے اور ان کا حکم تسلیم کرتے ہیں کیونکہ   ان کے امین اور معتبر ہونے میں کسی کو شبہ نہیں۔ یہ تو رسول ملکی کا حال تھا آگے رسول بشری کا حال سن لیجئے۔

وَمَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍ :یعنی بعثت سے پہلے چالیس سال تک وہ تمہارے اور تم اس کے ساتھ رہے اتنی طویل مدت تک اس کے تمام کھلے چھپے احوال کا تجربہ کیا۔ کبھی ایک مرتبہ اس میں جھوٹ فریب یا دیوانہ پن کی بات نہ دیکھی۔ ہمیشہ اس کے صدق و امانت اور عقل و دانائی کے معترف رہے۔ اب بلاوجہ اسے جھوٹا یا دیوانہ کیونکر کہہ سکتے ہو۔ کیا یہ و ہی تمہارا رفیق نہیں ہے جس کے رتی رتی احوال کا تم پہلے سے تجربہ رکھتے ہو۔ اب اس کو دیوانہ کہنا بجز دیوانگی کے کچھ نہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اس (محمد) نے اس (فرشتہ) کو کھلے (آسمان) کے کنارہ پر دیکھا۔ (۲۳) اور وہ غیب پر بخل کرنے والے نہیں۔ (۲۴) اور یہ (قرآن) شیطان مردود کا کہا ہوا نہیں۔ (۲۵)

تشریح: وَلَقَدْ رَاٰہُ بِالْأُفُقِ الْمُبِيْنِ:حضرت جبرئیل علیہ السلام عام طور پر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی انسان کی صورت میں آیا کرتے تھے ، لیکن حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ انہیں اپنی اصلی صورت میں دیکھنے کی فرمائش کی تھی، اس موقع پر وہ افق پر اپنی اصل صورت میں بھی آپ کے سامنے ظاہر ہوئے ، اس آیت میں اس کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے ، اس کی کچھ تفصیل سورۂ نجم میں پیچھے گزر چکی ہے ، اس موقع پر اس سورت کے حواشی نمبر:۲، ۳، ۴ ضرور دیکھ لئے جائیں۔

وَمَا ہُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِيْنٍ:یعنی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے غیب کی جو باتیں معلوم ہوتی ہیں، وہ انہیں لوگوں سے چھپاتے نہیں ہیں، بلکہ سب کے سامنے ظاہر فرما دیتے ہیں، جاہلیت کے زمانے میں جو لوگ کاہن کہلاتے تھے ، وہ بھی غیب کی باتیں بتانے کا دعوی کرتے تھے ، اور شیطانوں سے دوستی کر کے ان سے کچھ جھوٹی سچی باتیں سن لیا کرتے تھے ، لیکن جب لوگ ان سے پوچھتے تو وہ انہیں فیس لئے بغیر کچھ بتانے سے انکار کرتے تھے ، اللہ تعالی کافروں سے فرما رہے ہیں کہ تم آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کاہن کہتے ہو، حالانکہ کاہن تو تمہیں جھوٹی باتیں بتانے میں بھی بڑے بخل سے کام لیتے ہیں، اور پیسے لئے بغیر کچھ نہیں بتاتے ، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کی جو سچی باتیں معلوم ہوتی ہیں وہ بتانے میں بھی نہ بخل سے کام لیتے ہیں، اور نہ اس پر کوئی معاوضہ مانگتے ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

پھر تم کدھر جا رہے ہو ؟ (۲۶) یہ نہیں ہے مگر (کتاب) نصیحت تمام جہانوں کے لئے۔ (۲۷) تم میں سے جو بھی چاہے کہ وہ سیدھا راستہ چلے۔ (۲۸)

تشریح: فَأَيْنَ تَذْہَبُوْنَ:یعنی جب جھوٹ، دیوانگی، تخیل و توہم اور کہانت وغیرہ کے سب احتمالات مرفوع ہوئے تو بجز صدق و حق کے اور کیا باقی رہا۔ پھر اس روشن اور صاف راستہ کو چھوڑ کر کدھر بہکے جا رہے ہو۔

إِنْ ہُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِيْنَ:قرآن کی نسبت جو احتمالات تم پیدا کرتے ہو، سب غلط ہیں۔ اگر اس کے مضامین و ہدایات میں غور کرو تو اس کے سوا کچھ نہ نکلے گا کہ یہ سارے جہان کے لئے ایک سچا نصیحت نامہ اور مکمل دستور العمل ہے جس سے ان کی دارین کی فلاح وابستہ ہے۔

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ أَنْ يَّسْتَقِيْمَ:بالخصوص ان کے لئے نصیحت ہے جو سیدھا چلنا چاہیں۔ عناد اور کجروی اختیار نہ کریں۔ کیونکہ ایسے ہی لوگ اس نصیحت سے منتفع ہوں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور تم نہ چاہو گے مگر یہ کہ جو تمام جہانوں کا رب چاہے ! (۲۹)

تشریح: یعنی فی نفسہ قرآن نصیحت ہے لیکن اس کی تاثیر مشیت الہٰی پر موقوف ہے جو بعض لوگوں کے لئے متعلق ہوتی ہے۔ اور بعض کے لئے کسی حکمت سے ان کے سوءِ استعداد کی بناء پر متعلق نہیں ہوتی۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

 

 

۸۲۔ سُوْرَۃُ الاِنْفِطَارِ

 

                تعارف

 

 

 

اس سورت میں پہلے تو ان تبدیلیوں کا ذکر ہے جو وقوعِ قیامت کے وقت نظام کائنات میں رونما ہوں گی، پھر محبت آمیز انداز میں انسان سے شکوہ کیا گیا ہے کہ اے انسان تجھے آخر کس چیز نے اپنے پروردگار کے بارے میں دھوکے میں ڈال رکھا ہے ؟ اس کے احسانات کو بھلا کر تو معصیت اور ناشکرا پن پر اتر آیا ہے ، اصل بات یہ ہے کہ تمہیں جزاء کے دن کا یقین نہیں ہے ، حالانکہ وہ تو آ کر رہے گا اور کراماً کاتبین تمہاری زندگی کا کچا چٹھا تمہارے سامنے پیش کر دیں گے پھر تمہیں ابرار اور فجار دو گروہوں میں تقسم کر دیا جائے گا، ابرار نعمتوں کی جگہ یعنی جنت میں جائیں گے اور فجار عذاب کی جگہ یعنی دوزخ میں ہوں گے۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۱۹         رکوع:۱

 

 

اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، اور رحم کرنے والا ہے

 

جب آسمان پھٹ جائے۔ (۱) اور جب ستارے جھڑ پڑیں۔ (۲) اور جب دریا ابل پڑیں۔ (۳) اور جب قبریں کریدی جائیں۔ (۴) ہر شخص جان لے گا اس نے آگے کیا بھیجا اور پیچھے (کیا) چھوڑا ؟ (۵)

تشریح: عَلِمَتْ نَفْسٌ: جو آگے بھیجا سے مراد وہ اعمال ہیں جو کسی شخص نے دنیا میں کر کے انہیں آخرت کے لئے آگے بھیج دیا، یعنی انہیں آخرت کا ذخیرہ بنا لیا، اور جو پیچھے چھوڑا سے مراد وہ اعمال ہیں جو اسے کرنے چاہیں تھے ، لیکن اس نے نہیں کئے اور دنیا میں چھوڑ آیا۔

(توضیح القرآن)

 

اے انسان تجھے اپنے رب کریم کے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا۔ (۶)

تشریح: یعنی اللہ تعالی کی قدرت کے بارے میں یہ دھوکہ نہیں کھانا چاہئے کہ معاذاللہ وہ مردوں کو دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا۔

(توضیح القرآن)

 

جس نے تجھے پیدا کیا پھر ٹھیک کیا پھر برابر کیا۔ (۷) جس صورت میں چاہا تجھے جوڑ دیا۔ (۸)

تشریح: فِیْٓ أَيِّ صُوْرَۃٍ مَّا شَآءَ رَکَّبَکَ :یعنی سب کی صورتوں میں تھوڑا بہت تفاوت رکھا۔ ہر ایک کو الگ صورت شکل اور رنگ روپ عنایت کیا اور بحیثیت مجموعی انسان کی صورت کو تمام جانداروں کی صورت سے بہتر بنایا۔ بعض سلف اس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ وہ چاہتا تو تجھے گدھے ، کتے ، خنزیر کی شکل و صورت میں ڈال دیتا۔ باوجود اس قدرت کے محض اپنے فضل اور مشیت سے انسانی صورت میں رکھا۔ بہرحال جس خدا کی یہ قدرت ہو اور ایسے انعامات ہوں، کیا اس کے ساتھ آدمی کو یہی معاملہ کرنا چاہئے۔

(تفسیرعثمانی)

 

ہرگز نہیں بلکہ تم جزا و سزا کے دن (قیامت) کو جھٹلاتے ہو۔ (۹) اور بیشک تم پر نگہبان (مقرر) ہیں۔ (۱۰) عزت والے (اعمال) لکھنے والے۔ (۱۱) جو تم کرتے ہو وہ جانتے ہیں۔ (۱۲)

تشریح: کَلَّا بَلْ تُکَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِ:یعنی بہکنے اور دھوکا کھانے کی اور کوئی وجہ نہیں۔ بات یہ ہے کہ تم انصاف کے دن پر یقین نہیں رکھتے ہو کہ جو چاہیں کرتے رہیں، آگے کوئی حساب اور باز پرس نہیں۔ یہاں جو کچھ عمل ہم کرتے ہیں کون ان کو لکھتا اور محفوظ کرتا ہو گا۔ جس کی تفصیل آگے بیان کی۔

يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ :جو نہ خیانت کرتے ہیں نہ کوئی عمل لکھے بغیر چھوڑتے ہیں۔ نہ ان سے تمہارے اعمال پوشیدہ ہیں جب سب عمل ایک ایک کر کے اس اہتمام سے لکھے جا رہے ہیں تو کیا یہ سب دفتر یوں ہی بیکار چھوڑ دیا جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ یقیناً ہر شخص کے اعمال اس کے آگے آئیں گے اور اس کا اچھا برا پھل چکھنا پڑے گا۔ جس کی تفصیل آگے بیان کی۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک نیک لوگ جنت میں ہوں گے۔ (۱۳) اور بیشک گنہگار جہنم میں ہوں گے۔ (۱۴) اس میں روز جزا و سزا (قیامت کے دن) ڈالے جائیں گے۔ (۱۵) اور وہ اس سے جدا ہونے والے نہ ہوں گے۔ (۱۶)

اور تمہیں کیا خبر روز جزا و سزا کیا ہے ؟ (۱۷) پھر تمہیں کیا خبر روز جزا و سزا کیا ہے ؟ (۱۸) جس دن کوئی شخص کسی شخص کا مالک نہ ہو گا (کچھ بھلا نہ کرسکے گا) اس دن حکم اللہ ہی کا ہو گا ! (۱۹)

يَوْمَ لَا تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْئًا : یعنی کتنا ہی سوچو اور غور کرو، پھر بھی اس ہولناک دن کی پوری کیفیت سمجھ میں نہیں آسکتی۔ بس مختصراً اتنا سمجھ لو کہ اس دن جتنے رشتے ناطے خویشی اور آشنائی کے ہیں سب نیست و نابود ہو جائیں گے۔ سب نفسی نفسی پکارتے ہوں گے۔ کوئی شخص بدون حکم مالک الملک کے کسی کی سفارش نہ کر سکے گا۔ عاجزی، چاپلوسی اور صبر و استقلال کچھ کام نہ دے گا۔ ”الا من رحم اللہ”۔

وَّالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِّلّٰہِ :یعنی دنیا میں جس طرح بادشاہ کا حکم رعیت پر، ماں باپ کا اولاد پر، اور آقا کا نوکر پر جاری ہوتا ہے اس دن یہ سب حکم ختم ہو جائیں گے اور اس شہنشاہِ مطلق کے سوا کسی کو دم مارنے کی قدرت نہ ہو گی تنہا بلا شرکت غیرے ظاہر اًوباطناً اسی کا حکم چلے گا۔ اور سارے کام حساًّ و معنًا اکیلے اسی کے قبضہ میں ہوں گے۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

 

 

۸۳۔ سُوْرَۃُ الْمُطَفِّفِیْنَ

 

                تعارف

 

اس سورت میں بھی بنیادی عقائد سے بحث کی گئی ہے ، یوم القیامہ کے احوال اور اہوال اس میں خاص طور پر مذکور ہیں، اس کی ابتدائی آیتوں میں ان لوگوں کے لئے بڑی سخت وعید بیان فرمائی گئی ہے جو دوسروں سے اپنا حق وصول کرنے میں تو بڑی سرگرمی دکھاتے ہیں، لیکن جب دوسروں کا حق دینے کا وقت آتا ہے تو ڈنڈی مارتے ہیں، یہ وعید صرف ناپ تول ہی سے متعلق نہیں ہے ،بلکہ ہر قسم کے حقوق کو شامل ہے ، اور اس طرح ڈنڈی مارنے کو عربی میں تطفیف کہتے ہیں، اسی لئے اس سورت کا نام مطففین ہے۔

(خلاصہ قرآن و توضیح القرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۳۶        رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، اور رحم کرنے والا ہے

 

خرابی ہے کمی کرنے والوں کے لئے۔ (۱) جو (لوگوں سے ) ماپ کر لیں تو پورا بھرلیں۔ (۲) اور جب (دوسروں کو) ماپ کر یا تول کر دیں تو گھٹا کر دیں۔ (۳)

تشریح: گو لوگوں سے اپنا حق پورا لینا مذموم نہیں، مگر یہاں اس کے لانے سے مقصود خود اس بات پر مذمت کرنا نہیں، بلکہ کم دینے کی مذمت کو مؤکد کرنا ہے۔ یعنی کم دینا اگرچہ فی نفسہ مذموم ہے ، لیکن اس کے ساتھ اگر لیتے وقت دوسروں کی بالکل رعایت نہ کی جائے تو اور زیادہ مذموم ہے۔ بخلاف رعایت کرنے والے کے کہ اگر اس میں ایک عیب ہے تو ایک ہنر بھی ہے ، فتلک بتلک۔ لہٰذا پہلے شخص کا عیب زیادہ شدید ہوا، اور چونکہ اصل مقصود مذمت ہے کم دینے کی، اس لئے اس میں ناپ اور تول دونوں کا ذکر کیا جائے تاکہ خوب تصریح ہو جائے کہ ناپنے میں بھی کم ناپتے ہیں اور تولنے میں بھی کم تولتے ہیں اور چونکہ پورا لینا مذموم نہیں اس لئے وہاں صرف ایک کے ذکر پر اکتفاء کیا پھر تخصیص ناپ کی شاید اس لئے ہو کہ عرب میں اور خصوصاً مدینہ میں زیادہ رواج کیل کا تھا۔ اس کے سوا اور بھی وجوہ تخصیص کی ہو سکتی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

کیا یہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ وہ اٹھائے جانے والے ہیں۔ (۴) ایک بڑے دن۔ (۵) جس دن لوگ کھڑے ہوں گے تمام جہانوں کے رب کے سامنے۔ (۶)

تشریح: یعنی اگر انہیں خیال ہوتا کہ مرنے کے بعد ایک دن پھر اٹھنا اور اللہ کے سامنے تمام حقوق و فرائض کا حساب دینا ہے ، تو ہرگز ایسی حرکت نہ کرتے۔

(تفسیرعثمانی)

 

ہرگز نہیں۔ بیشک بدکاروں کا اعمال نامہ سجین میں ہے۔ (۷) اور تجھے کیا خبر سجین کیا ہے ؟ (۸) ایک لکھا ہوا دفتر (نوشتہ)۔ (۹)

تشریح: یعنی ہرگز گمان نہ کیا جائے کہ ایسا دن نہیں آئے گا۔ وہ ضرور آنا ہے اور اس کے لئے سب نیکوں اور بدوں کے اعمالنامے اپنے اپنے دفتر میں مرتب کئے رکھے ہیں۔

كِتَابٌ مَّرْقُوْمٌ :یعنی سجین ایک دفتر ہے جس میں نام ہر ایک دوزخی کا درج ہے۔ اور ” بندوں کے عمل لکھنے والے فرشتے ” جن کا ذکر اس سے پہلی سورت میں آ چکا، ان بدکاروں کے مرنے اور عمل منقطع ہونے کے بعد ہر شخص کے عمل علیحدہ علیحدہ فردوں میں لکھ کر اس دفتر میں داخل کرتے ہیں اور اس فرد پر یا ہر ایک دوزخی کے نام پر ایک علامت بنا دیتے ہیں جس کے دیکھتے ہی معلوم ہو جائے کہ یہ شخص دوزخی ہے اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کی ارواح بھی اسی مقام میں رکھی جاتی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں ”یعنی ان کے نام وہاں داخل ہوتے ہیں مر کر وہیں پہنچیں گے۔ ” بعض سلف نے کہا ہے کہ یہ مقام ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ واللہ اعلم۔

(تفسیرعثمانی)

 

اس دن خرابی ہے جھٹلانے والوں کے لئے۔ (۱۰) جو لوگ جھٹلاتے ہیں روز جزا و سزا کو۔ (۱۱) اور اسے نہیں جھٹلاتا مگر حد سے بڑھ جانے والے گنہگار۔ (۱۲) جب پڑھی جاتی ہیں اس پر ہماری آیتیں تو کہے یہ پہلوں کی کہانیاں ہیں۔ (۱۳)

تشریح: جو شخص روزِ جزا کا منکر ہے فی الحقیقت اللہ کی ربوبیت، اس کی قدرت اور اس کے عدل و حکمت سب کا منکر ہے اور جو ان چیزوں کا منکر ہو وہ جس قدر گناہوں پر دلیر ہو تھوڑا ہے۔ قرآن اور نصیحت کی باتیں سن کر کہتا ہے ایسی باتیں، لوگ پہلے بھی کرتے آئے ہیں۔ و ہی پرانی کہانیاں اور فرسودہ افسانے انہوں نے نقل کر دیے۔ بھلا ہم ان نقلوں اور کہانیوں سے ڈرنے والے کہاں ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

ہرگز نہیں۔ بلکہ زنگ پکڑ گیا ہے ان کے دلوں پر جو وہ کماتے تھے۔ (۱۴) ہرگز نہیں۔ وہ اس دن اپنے رب سے روک دیئے جائیں گے۔ (۱۵)

تشریح: یعنی ہماری آیتوں میں کچھ شک و شبہ کا موقع نہیں۔ اصل یہ ہے کہ گناہوں کی کثرت و مزاولت سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گئے ہیں۔ اس لئے حقائق صحیحہ کا انعکاس ان میں نہیں ہوتا۔ حدیث میں فرمایا کہ جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے ، ایک سیاہ نقطہ اس کے دل پر لگ جاتا ہے۔ اگر توبہ کر لی تو مٹ گیا ورنہ جوں جوں گناہ کرتا جائے گا وہ نقطہ بڑھتا اور پھیلتا رہے گا۔ تاآنکہ قلب بالکل کالا سیاہ ہو جائے کہ حق و باطل کی تمیز باقی نہ رہے۔ یہ ہی حال ان مکذبین کا سمجھو کہ شرارتیں کرتے کرتے ان کے دل بالکل مسخ ہو چکے ہیں۔ اسی لئے آیات اللہ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس انکارو تکذیب کے انجام سے بے فکر نہ ہوں۔ وہ وقت ضرور آنے والا ہے جب مومنین حق سبحانہ، و تعالیٰ کے دیدار کی دولت سے مشرف ہوں گے اور یہ بد بخت محروم رکھے جائیں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

پھر بیشک وہ جہنم میں داخل ہونے والے ہیں۔ (۱۶) پھر کہا جائے گا یہ وہی ہے جس کو تم جھوٹ جانتے تھے۔ (۱۷)

ہرگز نہیں۔ بیشک نیک لوگوں کا اعمالنامہ “علّییّن ” میں ہے۔ (۱۸) اور تجھے کیا خبر علیّین کیا ہے ؟ (۱۹) ایک دفتر ہے لکھا ہوا۔ (۲۰) دیکھتے ہیں (اللہ کے ) مقرب (نزدیک والے )۔ (۲۱)

تشریح: یعنی جنتیوں کے نام درج ہیں اور ان کے اعمال کی مسلیں مرتب کر کے رکھی جاتی ہیں اور ان کی ارواح کو اول وہاں لے جا کر پھر اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچایا جاتا ہے اور قبر سے بھی ان ارواح کا ایک گونہ تعلق قائم رکھا جاتا ہے کہتے ہیں کہ یہ مقام ساتویں آسمان کے اوپر ہے اور مقربین کی ارواح اسی جگہ مقیم رہتی ہیں۔ واللہ اعلم۔ مقرب فرشتے یا اللہ کے مقرب بندے خوش ہو کر مومنین کے اعمالنامے دیکھتے ہیں اور اس مقام پر حاضر رہتے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک نیک بندے آرام میں۔ (۲۲) تختوں (مسندوں) پر دیکھتے ہوں گے۔ (۲۳) تو ان کے چہروں پر نعمت کی تر و تازگی پائے گا۔ (۲۴) انہیں پلائی جاتی ہے خالص شراب۔ سر بمہر۔ (۲۵) اس کی مہر مشک پر جمی ہوئی۔ اور چاہئے کہ رغبت کرنے والے اس میں رغبت کریں۔ (۲۶) اور اس میں آمیزش ہے “تسنیم” کی۔ (۲۷) یہ ایک چشمہ ہے جس سے مقرب پیتے ہیں۔ (۲۸)

تشریح: یعنی مسہریوں میں بیٹھے جنت کی سیر کرتے ہوں گے اور دیدارِ الہٰی سے آنکھیں شاد کریں گے۔ جنت کے عیش و آرام سے ان کے چہرے ایسے پر رونق اور تر و تازہ ہوں گے کہ ہر ایک دیکھنے والا دیکھتے ہی پہچان جائے کہ یہ لوگ نہایت عیش و تنعم میں ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک جن لوگوں نے جرم کیا (گنہگار) وہ مومنوں پر ہنستے تھے۔ (۲۹) اور جب ان سے ہو کر گزرتے تو آنکھ مارتے۔ (۳۰) اور جب وہ اپنے گھروں کی طرف لوٹتے تو ہنستے (باتیں بناتے ) لوٹتے۔ (۳۱)

تشریح: یعنی خوش طبعی کرتے اور مسلمانوں پر پھبتیاں کستے تھے اور اپنے عیش و آرام پر مفتون و مغرور ہو کر سمجھتے کہ ہمارے ہی عقیدے اور خیالات درست ہیں ورنہ یہ نعمتیں ہم کو کیوں ملتیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے بیشک یہ لوگ گمراہ ہیں۔ (۳۲) اور وہ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے۔ (۳۳)

تشریح: وَإِذَا رَأَوْہُمْ :کہ خواہ مخواہ زہد و ریاضت کر کے اپنی جانیں کھپاتے اور موہوم لذتوں کو موجودہ لذتوں پر ترجیح دیتے ہیں اور لا حاصل مشقتوں کا کمالاتِ حقیقی نام رکھا ہے۔ کیا کھلی ہوئی گمراہی نہیں کہ سب گھر بار اور عیش و آرام چھوڑ کر ایک شخص کے پیچھے ہو لئے اور اپنے آبائی دین کو بھی ترک کر بیٹھے۔

وَمَآ أُرْسِلُوْا عَلَيْہِمْ حَافِظِيْنَ :یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کافروں کو ان مسلمانوں پر کچھ نگہبان نہیں بنایا گیا کہ احمق اپنی تباہ کاریوں سے آنکھیں بند کر کے ان کی حرکات کی نگرانی کیا کریں۔ اپنی اصلاح کی فکر نہ ہو۔ اور سیدھی راہ چلنے والوں کو گمراہ اور احمق بنائیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

پس آج ایمان والے کافروں پر ہنستے ہیں۔ (۳۴) تختوں (مسہریوں) پر بیٹھے دیکھتے ہیں۔ (۳۵) کافروں نے اب بدلہ پایا ہے جیسا کہ وہ کرتے تھے ! (۳۶)

تشریح: یعنی قیامت کے دن مسلمان ان کافروں پر ہنستے ہیں کہ یہ لوگ کیسے کوتاہ اندیش اور احمق تھے جو خسیس اور فانی چیز کو نفیس اور باقی نعمتوں پر ترجیح دی۔ آخر آج دوزخ میں کس طرح عذابِ دائم کا مزہ چکھ رہے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

۸۴۔ سُوْرَۃُ الْاِنْشِقَاقِ

 

                تعارف

 

پچھلی سورتوں کی طرح اس سورت میں بھی قیامت کے حالات بیان فرمائے گئے ہیں، عربی میں پھٹ پڑنے کو انشقاق کہتے ہیں، اسی لئے اس سورت کا نام انشقاق ہے۔

(توضیح القرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۲۵        رکوع:۱

 

 

اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، اور رحم کرنے والا ہے

 

جب آسمان پھٹ جائے گا۔ (۱) اور وہ اپنے رب کا (حکم) سن لے گا اور وہ اسی لائق ہے۔ (۲) اور جب زمین پھیلا دی جائے گی۔ (۳) اور جو کچھ اس میں ہے وہ اسے نکال ڈالے گی اور خالی ہو جائے گی۔ (۴) اور اپنے رب کا (حکم) سن لے گی اور اسی لائق ہے۔ (۵)

تشریح: وَأَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ :یعنی اللہ کی طرف سے جب پھٹنے کا حکمِ تکوینی ہو گا، آسمان اس کی تعمیل کرے گا اور وہ مقدورو مقہور ہونے کے لحاظ سے اسی لائق ہے کہ بایں عظمت و رفعت اپنے مالک و خالق کے سامنے گردن ڈال دے اور اس کی فرمانبرداری میں ذرا چون و چرا نہ کرے۔

وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ :محشر کے دن یہ زمین ربڑ کی طرح کھینچ کر پھیلا دی جائے گی اور عمارتیں پہاڑ وغیرہ سب برابر کر دیے جائیں گے تاکہ ایک سطح مستوی پر سب اولین و آخرین بیک وقت کھڑے ہو سکیں اور کوئی حجاب و حائل باقی نہ رہے۔

وَأَلْقَتْ مَا فِیْہَا وَتَخَلَّتْ :زمین اس دن اپنے خزانے اور مردوں کے اجزاء اگال ڈالے گی اور ان تمام چیزوں سے خالی ہو جائے گی جن کا تعلق اعمال عباد کے مجازات سے ہے۔ الغرض زمین و آسمان جس کے حکمِ تکوینی کے تابع و منقاد ہوں، آدمی کو کیا حق ہے کہ اس کے حکم تشریعی سے سرتابی کرے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اے انسان بیشک تو اپنے رب کی طرف (پہنچنے میں) خوب تکلیف اٹھانے والا ہے۔ پھر اس کو ملنا ہے۔ (۶)

تشریح: یعنی رب تک پہنچنے سے پہلے ہر آدمی اپنی استعداد کے موافق مختلف قسم کی جدوجہد کرتا ہے کوئی اس کی طاعت میں محنت و مشقت اٹھاتا ہے ، کوئی بدی اور نافرمانی میں جان کھپاتا ہے۔ پھر خیر کی جانب میں ہو یا شر کی، طرح طرح کی تکلیفیں سہ سہ کر آخر پروردگار سے ملتا اور اپنے اعمال کے نتائج سے دوچار ہوتا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

پس جس کو اس کا اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا۔ (۷) پس اس سے عنقریب آسان حساب لیا جائے گا۔ (۸) اور وہ اپنے اہل کی طرف خوش خوش لوٹے گا۔ (۹)

تشریح: آسان حساب یہی کہ بات بات پر گرفت نہ ہو گی۔ محض کاغذات پیش ہو جائیں گے اور بدون بحث و مناقشہ کے سستے چھوڑ دیے جائیں گے۔ نہ سزا کا خوف رہے گا نہ غصہ کا ڈر، نہایت امن و اطمینان سے اپنے احباب و اقارب اور مسلمان بھائیوں کے پاس خوشیاں مناتا ہوا آئے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جس کو اس کا اعمالنامہ اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا گیا۔ (۱۰) وہ عنقریب موت مانگے گا۔ (۱۱) اور جہنم میں داخل ہو گا۔ (۱۲)

تشریح: یعنی پیٹھ کے پیچھے سے بائیں ہاتھ میں پکڑایا جائے گا۔ فرشتے سامنے سے اس کی صورت دیکھنا پسند نہیں کریں گے ، گویا غایت کراہیت کا اظہار کیا جائے گا۔ اور ممکن ہے پیچھے کو مشکیں بندھی ہوں اس لئے اعمالنامہ پشت کی طرف سے دینے کی نوبت آئے۔ وہ عذاب کے ڈر سے موت مانگے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک وہ اپنے اہل میں خوش و خرم تھا۔ (۱۳) اس نے گمان کیا تھا کہ وہ ہرگز نہ لوٹے گا۔ (۱۴) کیوں نہیں ؟ اس کا رب بیشک اسے دیکھتا تھا۔ (۱۵)

تشریح: یعنی دنیا میں آخرت سے بے فکر تھا اس کا بدلہ یہ ہے کہ آج سخت غم میں مبتلا ہونا پڑا۔ اس کے برعکس جو لوگ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی فکر میں گھلے جاتے تھے۔ ان کو آج بالکل بے فکری اور امن چین ہے۔ کافر یہاں مسرور تھا، مومن وہاں مسرور ہے۔

إِنَّہٗ ظَنَّ أَنْ لَنْ يَّحُوْرَ: اسے کہاں خیال تھا کہ ایک روز خدا کی طرف واپس ہونا اور رتی رتی کا حساب دینا ہے اسی لئے گناہوں اور شرارتوں پر خوب دلیر رہا۔

بَلٰٓی إِنَّ رَبَّہٗ کَانَ بِہٖ بَصِيْرًا :یعنی پیدائش سے موت تک برابر دیکھتا تھا کہ اس کی روح کہاں سے آئی، بدن کس کس چیز سے بنا۔ پھر کیا اعتقاد رکھا، کیا عمل کیا۔ دل میں کیا بات تھی۔ زبان سے کیا نکلا۔ ہاتھ پاؤں سے کیا کمایا، اور موت کے بعد اس کی روح کہاں گئی اور بدن کے اجزاء بکھر کر کہاں کہاں پہنچے۔ وغیر ذٰلک۔ جو خدا آدمی کے احوال سے اس قدر واقف ہو اور ہر جزئی وکلی حالت کو نگاہ میں رکھتا ہو، کیا گمان کر سکتے ہو کہ وہ اس کو یوں ہی مہمل اور معطل چھوڑ دے گا؟ ضرورت ہے کہ اس کے اعمال پر ثمرات و نتائج مرتب کرے۔

(تفسیرعثمانی)

 

سو میں قسم کھاتا ہوں شام کی سرخی کی۔ (۱۶) اور رات کی اور جو (اس میں) سمٹ آتی ہے۔ (۱۷) اور چاند کی جب وہ مکمل ہو جائے۔ (۱۸) تم درجہ بدرجہ ضرور چڑھنا ہے۔ (۱۹) سو انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے ؟ (۲۰)

تشریح: یعنی آدمی اور جانور جو دن میں تلاشِ معاش کے لئے مکانوں سے نکل کر اِدھر اُدھر منتشر ہوتے ہیں رات کے وقت سب طرف سمٹ کر اپنے اپنے ٹھکانوں پر جمع ہو جاتے ہیں۔

وَالْقَمَرِ إِذَا اتَّسَقَ :یعنی چودھویں رات کا چاند جو اپنی حدِ کمال کو پہنچ جاتا ہے۔

لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ :یعنی دنیا کی زندگی میں مختلف دور سے بتدریج گزر کر اخیر میں موت کی سیڑھی ہے ، پھر عالمِ برزخ کی، پھر قیامت کی، پھر قیامت میں خدا جانے کتنے احوال و مراتب درجہ بدرجہ طے کرنے ہیں۔ جیسے رات کے شروع میں شفق کے باقی رہنے تک ایک قسم کی روشنی رہتی ہے۔ جو فی الحقیقت بقیہ ہے آفتاب کے اثرات کا، پھر شفق غائب ہونے پر دوسرا دور تاریکی کا شروع ہوتا ہے جو سب چیزوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ اس میں چاند بھی نکلتا ہے اور درجہ بدرجہ اس کی روشنی بڑھتی ہے آخر چودھویں شب کو ماہ کامل کا نور اس تاریک فضاء میں ساری رات اجالا رکھتا ہے۔ گویا انسانی احوال کے طبقات رات کی مختلف کیفیات سے مشابہ ہوئے۔ واللہ اعلم۔

فَمَا لَہُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ : پھر کیا ہوا ہے ان کو جو یقین نہیں لاتے :کہ ہم کو موت کے بعد بھی کسی طرف رجوع ہونا ہے اور ایک بڑا بھاری سفر درپیش ہے جس کے لئے کافی توشہ ساتھ ہونا چاہئیے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جب ان پر قرآن پڑھا جاتا تو وہ سجدہ نہیں کرتے۔ (۲۱)

تشریح: یعنی اگر ان کی عقل خود بخود ان حالات کو دریافت نہیں کر سکتی تھی تو لازم تھا کہ قرآن کے بیان سے فائدہ اٹھاتے لیکن اس کے برخلاف ان کا حال یہ ہے کہ قرآن معجز بیان کو سن کر بھی ذرا عاجزی اور تذلل کا اظہار نہیں کرتے۔ حتٰی کے جب مسلمان خدا کی آیات سن کر سجدہ کرتے ہیں، ان کو سجدہ کی توفیق نہیں ہوتی۔

(تفسیرعثمانی)

 

یہ سجدہ کی آیت ہے ، یعنی اس آیت کو جب عربی میں تلاوت کیا جائے تو پڑھنے اور سننے والے پر سجدۂ تلاوت واجب ہو جاتا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

بلکہ جن لوگوں نے کفر کیا (منکر) وہ جھٹلاتے ہیں۔ (۲۲) اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ (دلوں میں) بھر رکھتے ہیں۔ (۲۳) سو انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا۔ (۲۴)

تشریح: یعنی فقط اتنا ہی نہیں کہ اللہ کی آیات سن کر انقیاد و تذلل کا اظہار نہیں کرتے ، بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ ان کو زبان سے جھٹلاتے ہیں اور دلوں میں جو تکذیب و انکار، بغض و عناد اور حق کی دشمنی بھری ہوئی ہے اس کو تو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ سو انہیں خوشخبری سنا دیجئے کہ جو کچھ وہ کما رہے ہیں اس کا پھل ضرور ملے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے ان کے لئے ختم نہ ہونے والا اجر ہے ! (۲۵)

٭٭

 

 

 

 

۸۵۔ سُوْرَۃُ الْبُرُوْجِ

 

                تعارف

 

مشہور تفسیر کے مطابق ان آیتوں میں ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح مسلم کی ایک حدیث میں منقول ہے اور وہ یہ کہ پچھلی کسی امت میں ایک بادشاہ تھا جو ایک جادو گر سے کام لیا کرتا تھا، جب وہ جادوگر بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس کوئی لڑکا بھیج دیا کرو جسے میں جادو سکھاؤں تاکہ میرے بعد وہ تمہارے کا م آسکے ، بادشاہ نے ایک لڑکے کو بادشاہ کے پاس بھیجنا شروع کر دیا، یہ لڑکا جب جادوگر کے پاس جاتا تو راستے میں ایک عبادت گذار شخص کے پاس سے گزرتا جو عیسیٰٰ علیہ السلام کے اصلی دین پر تھا (ایسے شخص کو راہب کہتے تھے ) اور توحید کا قائل تھا یہ لڑکا اس کے پاس بیٹھ جاتا اور اس کی باتیں سنتا تھا جو اچھی لگتی تھیں، ایک دن وہ جا رہا تھا تو راستے میں ایک بڑا جانور نظر آیا جس نے لوگوں کا راستہ روکا ہوا تھا (بعض روایتوں میں آتا ہے کہ وہ جانور شیر تھا ) لڑکے نے ایک پتھر اٹھایا اور اللہ تعالی سے دعا کی کہ یا اللہ ! اگر راہب کی باتیں آپ کو جادو گر کی باتوں سے زیادہ پسند ہے تو اس پتھر سے اس جانور کو مروا دیجئے ، اب جو اس نے پتھر اس جانور کی طرف پھینکاتو جانور مرگیا، اور لوگوں کا راستہ کھل گیا، اس کے بعد لوگوں کو اندازہ ہوا کہ اس لڑکے کے پاس کوئی خاص علم ہے ، چنانچہ ایک اندھے شخص نے درخوست کی کہ اس کی بینائی واپس آ جائے ، لڑکے نے اس سے کہا کہ شفاء دینے والا اللہ تعالی ہے اس لئے اگر تم وعدہ کرو کہ اللہ کی توحید پر ایمان لے آؤ گے تو میں تمہارے لئے اللہ سے دعا کروں گا، اس نے یہ شرط مان لی لڑکے نے دعا کی تو اللہ تعالی نے اس کی بینائی عطا کر دی، اور توحید پر ایمان لے آیا، ان واقعات کی خبر جب بادشاہ کو ہوئی تو اس نے اس نابینا کو بھی گرفتار کر لیا اور لڑکے اور راہب کو بھی، اور ان سب کو توحید کے انکار پر مجبور کیا جب وہ نہ مانے تو اس نے اس نابینا شخص اور راہب کو تو آری سے چروا دیا، اور لڑ کے کے بارے میں اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ اسے کسی اونچے پہاڑ پر لے جا کر نیچے پھینک دیں، لیکن جب وہ لڑکے کو لے کر گئے تو اس نے اللہ تعالی سے دعا کی پہاڑ پر زلزلہ آگیا جس سے وہ لوگ مر گئے اور لڑکا زندہ رہا، بادشاہ نے حکم دیا کہ اسی کشتی میں لے جا کر سمندر میں ڈبو دیا جائے ، لڑکے نے پھر دعا کی، جس کے نتیجے میں کشتی الٹ گئی وہ سب ڈوب گئے اور لڑکا پھر سلامت رہا، بادشاہ جب عاجز آگیا تو لڑکے نے اس سے کہا اگر تم مجھے واقعی مارنا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ تم سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کر کے مجھے سولی پر چڑھاؤ، اور اپنے ترکش سے تیر نکال کر کمان میں چڑھاؤ، اور یہ کہو کہ :اس اللہ کے نام پر جو اس لڑکے کا پروردگار ہے پھر تیر سے میرا نشانہ لگاؤ، بادشاہ نے ایسے ہی کیا اور تیر اس لڑکے کی کنپٹی پر جا کر لگا اور اس سے وہ شہید ہو گیا، لوگوں نے جب یہ نظارہ دیکھا تو بہت سے ایمان لے آئے ، اس موقع پر بادشاہ نے ان کو سزادینے کے لئے سڑکوں کے کنارے پر خندقیں کھدوا کر ان میں آگ بھڑکائی اور حکم دیا کہ جو کوئی دین حق کو نہ چھوڑے اسے ان خندقوں میں ڈال دیا جائے ، چنانچہ اس طرح ایمان والوں کی ایک بڑی تعداد کو زندہ جلا دیا گیا۔ صحیح مسلم کی اس حدیث میں یہ صراحت نہیں ہے کہ سورۂ بروج میں خندق والوں کا جو ذکر ہے اس سے یہی واقعہ مراد ہے ، محمد بن اسحاق نے اس سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ بیان کیا ہے اور اس کو سورۂ بروج کی تفسیر قرار دیا ہے ، یہاں اس تفصیل کا موقع نہیں ہے حضرت مولانا حفظ الرحمن صاحب سیوہاروی نے قصص القرآن میں اس پر بہت مفصل بحث کی ہے ، اہل علم اس کی مراجعت فرمائیں۔

(توضیح القرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۲۲        رکوع:۱

 

 

اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، اور رحم کرنے والا ہے

 

برجوں والے آسمان کی قسم۔ (۱) اور وعدہ کیے ہوئے دن کی۔ (۲) اور حاضر ہونے والے (دن) کی۔ اور جہاں حاضر ہوتے ہیں۔ (۳)

تشریح: وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ: برجوں سے مراد تو وہ بارہ برج ہیں جن کو آفتاب ایک سال کی مدت میں تمام کرتا ہے یا آسمانی قلعہ کے وہ حصے جن میں فرشتے پہرہ دیتے ہیں یا بڑے بڑے ستارے جو دیکھنے میں آسمان پر معلوم ہوتے ہیں۔ واللہ اعلم۔

وَالْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ: یعنی قیامت کا دن۔ وَشَاہِدٍ وَّمَشْہُوْدٍ: سب شہروں میں حاضر ہوتے ہیں: جمعہ کا دن۔ اور سب ایک جگہ حاضر ہوتے ہیں عرفہ کے دن حج کے لیے اسی لئے روایات میں آیا کہ ”شاہد” جمعہ کا دن ہے اور ”مشہود” عرفہ کا دن۔ اس کے علاوہ ”شاہد” و ”مشہود” کی تفسیر میں اقوال بہت ہیں لیکن اوفق بالروایات یہی قول ہے۔ واللہ اعلم۔

(تفسیرعثمانی)

 

ہلاک کر دئے گئے خندقوں والے۔ (۴) ایندھن والی آگ والے۔ (۵) جب وہ اس پر بیٹھتے تھے۔ (۶) اور وہ جو مومنوں کے ساتھ کرتے (اپنی آنکھوں سے ) دیکھتے۔ (۷)

اور انہوں نے (مومنوں سے ) بدلہ نہیں لیا مگر اس بات کا کہ اللہ پر ایمان لائے جوزبردست ہے تعریفوں والا۔ (۸)

جس کی بادشاہت ہے آسمانوں اور زمین میں۔ اور اللہ ہر چیز پر باخبر ہے۔ (۹)

تشریح: ان آیات کی تشریح اوپر سورت کے تعارف میں گزر چکی۔

بیشک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیفیں دیں پھر انہوں نے توبہ نہ کی تو ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لئے جلنے کا عذاب ہے۔ (۱۰)

تشریح: یعنی کچھ اصحاب الاخدود پر منحصر نہیں۔ جو لوگ ایمانداروں کو دین حق سے برگشتہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ (جیسے کفارِ مکہ کر رہے تھے ) پھر اپنی ان نالائق حرکات سے تائب نہ ہوں گے ان سب کے لئے دوزخ کا عذاب تیار ہے جس میں بے شمار قسم کی تکلیفیں ہوں گی اور بڑی تکلیف آگ لگنے کی ہو گی جس میں دوزخی کا تن من سب گرفتار ہو گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے ان کے لئے باغات ہیں جن کے نیچے جاری ہیں نہریں۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔ (۱۱)

تشریح: یعنی یہاں کی تکلیفوں اور ایذاؤں سے نہ گھبرائیں۔ بڑی اور آخری کامیابی ان ہی کے لئے ہے۔ جس کے مقابلہ میں یہاں کا عیش یا تکلیف سب ہیچ ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک تمہارے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ (۱۲) بیشک وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور (وہی) لوٹاتا ہے۔ (۱۳) اور وہی بخشنے والا محبت کرنے والا ہے۔ (۱۴) عرش کا مالک بڑی بزرگی والا ہے۔ (۱۵) جو وہ چاہے کر ڈالنے والا ہے۔ (۱۶)

تشریح: إِنَّہٗ ہُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيْدُ: یعنی پہلی مرتبہ دنیا کا عذاب اور دوسری مرتبہ آخرت کا (کذافی الموضح) یا یہ مطلب ہے کہ اول مرتبہ آدمی کو و ہی پیدا کرتا ہے اور دوسری مرتبہ موت کے بعد بھی و ہی پیدا کرے گا۔ پس مجرم اس دھوکے میں نہ رہے کہ موت جب ہمارا نام و نشان مٹا دے گی، پھر ہم کس طرح ہاتھ آئیں گے۔

وَہُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُ :یعنی باوجود اس صفت قہاری و سخت گیری کے اس کی بخشش اور محبت کی بھی کوئی حد نہیں وہ اپنے فرمانبردار بندوں کی خطائیں معاف کرتا، ان کے عیب چھپاتا اور طرح طرح کے لطف و کرم اور عنایت و شفقت سے نوازتا ہے۔

فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ :یعنی اپنے علم و حکمت کے موافق جو کرنا چاہے کچھ دیر نہیں لگتی نہ کوئی روکنے ٹوکنے کا حق رکھتا ہے۔ بہرحال نہ اس کے انعام پر بندہ کو مغرور ہونا چاہیے نہ انتقام سے بے خوف بلکہ ہمیشہ اس کی صفاتِ جلال و جمال دونوں پر نظر رکھے۔ اور خوف کے ساتھ رجاء اور رجاء کے ساتھ خوف کو دل سے زائل نہ ہونے دے۔

(تفسیرعثمانی)

 

کیا تمہارے پاس لشکروں کی بات (خبر) پہنچی۔ (۱۷) فرعون اور ثمود کی۔ (۱۸) بلکہ جن لوگوں نے کفر کیا (کافر) جھٹلانے میں (لگے ہوئے ہیں)۔ (۱۹) اور اللہ انہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ (۲۰)

تشریح: فِرْعَوْنَ وَثَمُوْدَ کہ ایک مدت تک انعام کا دروازہ ان پر کھلا رکھا تھا۔ اور ہر طرف سے طرح طرح کی نعمتیں ان کو پہنچتی تھیں پھر ان کے کفر و طغیان کی بدولت کیسا سخت انتقام لیا گیا۔

بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ تَكْذِیْبٍ :یعنی کفار ان قصوں سے عبرت نہیں پکڑتے اور عذابِ الہٰی سے ذرا نہیں ڈرتے۔ بلکہ ان قصوں کے اور قرآن کے جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں۔

وَاللّٰہُ مِنْ وَّرَآئِہِمْ مُّحِيْطٌ :یعنی جھٹلانے سے کوئی فائدہ نہیں۔ ہاں اس تکذیب کی سزا بھگتنا ضروری ہے اللہ کے قبضہ قدرت سے وہ نکل نہیں سکتے نہ سزا سے بچ سکتے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

بلکہ یہ قرآن بڑی بزرگی والا ہے۔ (۲۱) لوح محفوظ میں (لکھا ہوا) ہے ! (۲۲)

بَلْ ہُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ :یعنی ان کا قرآن کو جھٹلانا محض حماقت ہے۔ قرآن ایسی چیز نہیں جو جھٹلانے کے قابل ہو، یا چند احمقوں کے جھٹلانے سے اس کی شان اور بزرگی کم ہو جائے۔

فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ :جہاں کسی قسم کا تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا۔ پھر وہاں سے نہایت حفاظت و اہتمام کے ساتھ صاحبِ وحی کے پاس پہنچایا جاتا ہے۔ ”فانہ یسلک من بین یدیہ و من خلفہ ر صدًا” (الجن۔ رکوع ٢) اور یہاں بھی قدرت کی طرف سے اس کی حفاظت کا ایسا سامان ہے جس میں کوئی طاقت رخنہ نہیں ڈال سکتی۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

 

 

۸۶۔ سُوْرَۃُ الطَّارِقِ

 

                تعارف

 

اس سورت کی ابتدائی آیات میں اللہ نے آسمان کی اور رات کو چمکنے والے ستارے کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ ہر انسان پر اللہ کی طرف سے نگہبان فرشتہ مقرر ہے ، پھرانسان کی پہلی تخلیق سے اس کی دوسری زندگی پر استدلال کیا گیا ہے ، اگلی آیات میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن جب انسان عدالت الہیہ کے روبرو کھڑا ہو گا تو اس کے پوشیدہ راز ظاہر کر دئیے جائیں گے ، سورت کے اختتام پر قرآن کی صداقت اور اس کے قول فیصل ہونے پر قسم کھائی گئی ہے اور کفار کو وعید سنائی گئی ہے۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۱۷         رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، اور رحم کرنے والا ہے

 

قسم ہے آسمان کی اور “طارق” (رات کو آنے والے ) کی۔ (۱) اور تم نے کیا سمجھا “طارق” کیا ہے ؟ (۲) چمکتا ہوا ستارا۔ (۳) کوئی جان نہیں جس پر (کوئی) نگہبان نہ ہو۔ (۴)

تشریح:طارق سے مراد چمکتا ہوا ستارا ہے ، کیونکہ وہ رات ہی کہ وقت نظر آتا ہے ، اس کی قسم کھا کر فرمایا گیا ہے کہ کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس پر کوئی نگراں مقرر نہ ہو، ستارے کی قسم کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ جس طرح ستارے آسمان پر دنیا کی ہر جگہ نظر آتے ہیں، اور دنیا کی ہر چیز ان کے سامنے ہوتی ہے ، اسی طرح اللہ تعالی خود بھی ہر انسان کے ہر قول و فعل کی نگرانی فرماتا ہے اور اس کے فرشتے بھی اس کام پر مقرر ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

اور انسان کو چاہئے کہ دیکھے وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ؟ (۵) وہ پیدا کیا گیا اچھلتے ہوئے پانی سے۔ (۶)

تشریح: جس طرح آسمان پر ستارے ہر وقت محفوظ ہیں مگر ان کا ظہور خاص شب میں ہوتا ہے۔ ایسے ہی سب اعمال نامہ اعمال میں اس وقت بھی محفوظ ہیں، مگر ظہور ان کا خاص قیامت میں ہو گا۔ جب یہ بات ہے تو انسان کو قیامت کی فکر کرنی چاہیے۔ اور اگر اس کو مستبعد سمجھتا ہے تو اس کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔

 

وہ نکلتا ہے پیٹھ اور سینے کے درمیان سے۔ (۷)

تشریح: اس سے مراد وہ مادہ منویہ ہے جس سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے ، اور اس کے پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے دھڑکا یہ درمیانی حصہ ہی اس مادے کا اصل مرکز ہے۔

(توضیح القرآن)

 

بیشک وہ (اللہ) اس کو دوبارہ لوٹانے پر قادر ہے۔ (۸)

تشریح: نطفہ سے انسان بنا دینا بہ نسبت دوبارہ بنانے کے زیادہ عجیب ہے ، جب یہ امر عجیب اس کی قدرت سے واقع ہو رہا ہے تو جائز نہیں کہ اس سے کم عجیب چیز کے وقوع کا خواہ مخواہ انکار کیا جائے۔

(تفسیرعثمانی)

 

جس دن (لوگوں کے ) راز جانچے جائیں گے۔ (۹) تو نہ اسے (انسان) کو کوئی قوت ہو گی اور نہ مددگار۔ (۱۰)

تشریح: یعنی سب کی قلعی کھل جائے گی۔ اور کل باتیں جو دلوں میں پوشیدہ رکھی ہوں یا چھپ کر کی ہوں ظاہر ہو جائیں گی، اور کسی جرم کا اخفاء ممکن نہ ہو گا۔ اس وقت مجرم نہ اپنے زور و قوت سے مدافعت کر سکے گا، نہ کوئی حمایتی ملے گا جو مدد کر کے سزا سے بچا لے۔

(تفسیرعثمانی)

 

قسم آسمان کی بارش والا۔ (۱۱) اور زمین کی پھٹ جانے والی۔ (۱۲)

بیشک وہ کلام ہے فیصلہ کر دینے والا۔ (۱۳) اور وہ بیہودہ بات نہیں۔ (۱۴)

تشریح: یعنی قرآن اور جو کچھ وہ معاد کے متعلق بیان کرتا ہے ، کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں۔ بلکہ حق و باطل اور صدق و کذب کا دو ٹوک فیصلہ ہے۔ اور لاریب وہ سچا کلام اور ایک طے شدہ معاملہ کی خبر دینے والا ہے جو یقیناً پیش آ کر رہے گا۔ (تنبیہ) قسم کو اس مضمون سے یہ مناسبت ہوئی کہ قرآن آسمان سے آتا ہے اور جس میں قابلیت ہو مالا مال کر دیتا ہے جیسے بارش آسمان کی طرف سے آتی ہے اور عمدہ زمین کو فیضیاب کرتی ہے۔ نیز قیامت میں ایک غیبی بارش ہو گی جس سے مردے زندہ ہو جائیں گے جس طرح یہاں بارش کا پانی گرنے سے مردہ اور بے جان زمین سر سبز ہو کر لہلہانے لگتی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک وہ (طرح طرح کی) تدبیریں کرتے ہیں۔ (۱۵) اور میں (بھی) ایک تدبیر کرتا ہوں۔ (۱۶) پس ڈھیل دو کافروں کو تھوڑی ڈھیل ! (۱۷)

تشریح: یعنی منکرین داؤ پیچ کرتے رہتے ہیں کہ شکوک و شبہات ڈال کر یا اور کسی تدبیر سے حق کو ابھرنے اور پھیلنے نہ دیں۔ اور میری تدبیر لطیف بھی (جس کا انہیں احساس نہیں) اندر اندر کام کر رہی ہے کہ ان کے تمامی مکر و کید کا جال توڑ پھوڑ کر رکھ دیا جائے اور ان کے سب داؤ پیچ ان ہی کی طرف واپس کئے جائیں۔ اب خود سوچ لو کہ اللہ کی تدبیر کے مقابلہ میں کسی کی چالاکی اور مکاری کیا کام دے سکتی ہے لا محالہ یہ لوگ ناکام اور خائب و خاسر ہو کر رہیں گے۔ اس لئے مناسب ہے کہ آپ ان کی سزا دہی میں جلدی نہ کریں اور ان کی حرکات شنیعہ سے گھبرا کر بد دعا نہ فرمائیں بلکہ تھوڑے دن ڈھیل دیں پھر دیکھیں نتیجہ کیا ہوتا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

 

 

 

۸۷۔ سُوْرَۃُ الْأَعْلٰى

 

                تعارف

 

اس سورت میں تین اہم مضامین بیان ہوئے ہیں: ۱۔ ابتدائی آیات میں اللہ کی ذات و صفات کے اعتبار سے اس کی تسبیح وتقدیس بیان کرنے کا حکم دیا گیا، اس نے انسان کو پیدا کیا، اسے پرکشش صورت سے نوازا، اور سعادت و ایمان کاراستہ دکھایا، ۲۔ یہ سورت قرآن کریم کا ذکر کرتی ہے اور اس کے حفظ کے آسان ہونے کی بشارت سناتی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتی ہے کہ آپ نفوس کی اصلاح اور اخلاق  کی درستگی کے لئے قرآن کے ذریعے نصیحت کیجئے ، جن کے دل میں خوفِ خدا ہو گا وہ ضرور نصیحت قبول کر لیں گے ، ۳۔ سورت کے اختتام پر بتایا گیا ہے کہ جو شخص اپنے نفس کو گناہوں کی آلائش سے پاک کر لے گا، اسے اچھے جذبات و خیالات سے سنوارلے گا، اپنے دل میں اللہ کی عظمت اور جلال پیدا کر لے گا، اور دنیا کو آخرت پر ترجیح نہیں دے گا وہ کامیاب ہو گا، یہ وہ اصول ہے جو تمام صحیفوں اور شریعتوں میں بیان ہو چکا ہے۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۱۹         رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، اور رحم کرنے والا ہے

 

پاکیزگی بیان کر اپنے سب سے بلند رب کے نام کی۔ (۱) جس نے پیدا کیا پھر ٹھیک کیا۔ (۲) اور جس نے اندازہ ٹھہرایا پھر راہ دکھائی۔ (۳) اور جس نے چارا اگایا۔ (۴) پھر اسے خشک سیاہ کر دیا۔ (۵)

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَى: حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اجعلوھا فی سجودکم ” (اس کو اپنے سجود میں رکھو) اسی لئے سجدہ کی حالت میں ” سبحان ربی الاعلٰی” کہا جاتا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

وَالَّذِیْ قَدَّرَ فَہَدٰى: اللہ تعالی نے کائنات میں ہر چیز ایک خاص انداز سے بنائی ہے پھر ہر ایک کو اس کے مناسب دنیا میں رہنے کا طریقہ بھی بتا دیا ہے۔

فَجَعَلَہٗ غُثَآءً أَحْوٰى :اشارہ اس طرف ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز اللہ تعالی نے ایسی بنائی ہے کہ کچھ عرصے اپنی بہار دکھانے کے بعد وہ بد شکل اور پھر فنا ہو جاتی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

ہم جلد آپ کو پڑھائیں گے پھر آپ نہ بھولیں گے۔ (۶) مگر جو اللہ چاہے۔ بیشک وہ جانتا ہے ظاہر بھی اور پوشیدہ بھی۔ (۷)

تشریح: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فکر رہتی تھی کہ کہیں آپ قرآن کریم کا کچھ حصہ بھول نہ جائیں، اللہ تعالی نے اس آیت میں اطمینان کرا دیا کہ ہم آ پ کو بھولنے نہیں دیں گے ، البتہ اللہ تعالی جن احکام کو منسوح کرنا چاہے گا انہیں آ پ بھول سکتے ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

اور ہم آپ کو آسان طریقہ کی سہولت دیں گے۔ (۸) پس آپ سمجھا دیں اگر سمجھانا نفع دے۔ (۹) جو ڈرتا ہے وہ جلد سمجھ جائے گا۔ (۱۰)

تشریح: یعنی وحی کو یاد رکھنا آسان ہو جائے گا اور اللہ کی معرفت و عبادت اور ملک و ملت کی سیاست کے طریقے سب سہل کر دیے جائیں گے اور کامیابی کے راستہ سے تمام مشکلات ہٹا دی جائیں گی۔

سَيَذَّکَّرُ مَنْ يَّخْشٰى :سمجھانے سے وہی سمجھتا ہے اور نصیحت سے و ہی فائدہ اٹھاتا ہے ، جس کے دل میں تھوڑا بہت خدا کا ڈر اور اپنے انجام کی فکر ہو۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اس سے بدبخت پہلو تہی کرے گا۔ (۱۱) جو بہت بڑی آگ میں داخل ہو گا۔ (۱۲)

تشریح: یعنی جس بد قسمت کے نصیب میں دوزخ کی آگ لکھی ہے وہ کہاں سمجھتا ہے۔ اسے خدا کا اور اپنے انجام کا ڈر ہی نہیں جو نصیحت کی طرف متوجہ ہو اور ٹھیک بات سمجھنے کی کوشش کرے۔

(تفسیرعثمانی)

 

پھر نہ مرے گا وہ اس میں اور نہ جئے گا۔ (۱۳)

تشریح: یعنی نہ موت ہی آئے گی کہ تکلیفوں کا خاتمہ کر دے اور نہ آرام کی زندگی ہی نصیب ہو گی۔ ہاں ایسی زندگی ہو گی جس کے مقابلہ میں موت کی تمنا کرے گا۔ العیاذ باللہ۔

(تفسیرعثمانی)

 

یقیناً ًاس نے فلاح پائی جو پاک ہوا۔ (۱۴) اور اس نے اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی۔ (۱۵)

تشریح: قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰى:یعنی ظاہری و باطنی، حسی و معنوی نجاستوں سے پاک ہو اور اپنے قلب و قالب کو عقائدِ صحیحہ، اخلاقِ فاضلہ اور اعمالِ صالحہ سے آراستہ کیا۔

وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی :یعنی پاک و صاف ہو کر تکبیرِ تحریمہ میں اپنے رب کا نام لیا۔ پھر نماز پڑھی۔

(تفسیرعثمانی)

 

بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ (۱۶) اور (جبکہ) آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ (۱۷)

تشریح: یعنی یہ بھلائی تم کو کیسے حاصل ہو جب کہ آخرت کی فکر ہی نہیں بلکہ دنیا کی زندگی اور یہاں کے عیش و آرام کو اعتقاد اً یا عملاً آخرت پر ترجیح دیتے ہو۔ حالانکہ دنیا حقیر و فانی اور آخرت اس سے کہیں بہتر اور پائیدار ہے۔ پھر تعجب ہے کہ جو چیز کماً و کیفاً ہر طرح افضل ہو اسے چھوڑ کر مفضول کو اختیار کیا جائے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک یہ پہلے صحیفوں میں۔ (۱۸) ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں (لکھی ہوئی) ہے ! (۱۹)

تشریح: یعنی یہ مضمون (”قد افلح من تزکی” سے یہاں تک) اگلی کتابوں میں بھی مذکور ہے۔ جو کسی وقت منسوخ نہیں ہوا، نہ بدلہ گیا، اس اعتبار سے اور زیادہ مؤکدہ ہو گیا۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

 

 

۸۸۔ سُوْرَۃُ الْغَاشِيَہ

 

                تعارف

 

قیامت کے ناموں میں سے ایک نام غاشیہ بھی ہے یعنی چھپا لینے والی، قیامت کو غاشیہ اس لئے کہا جاتا ہے ، کیونکہ اس کی ہولناکیاں ساری مخلوق کو ڈھانپ لیں گی، یہ سورت بتاتی ہے کہ قیامت کے دن کچھ چہرے ذلیل ہوں گے ، انہوں نے بڑی محنت کی ہو گی جس کی وجہ سے تھکے تھکے محسوس ہوں گے ، علماء کہتے ہیں اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا میں بڑی عبادت و ریاضت کی ہو گی، لیکن چونکہ ان کے عقائد صحیح نہیں تھے ، اس لئے یہ عبادت ان کے کسی کام نہیں آئے گی، یہ چہرے دہکتی ہوئی آگ کا ایندھن بنیں گے اور بعض چہرے تر  و تازہ اور پر رونق ہوں گے یہ وہ چہرے ہوں گے جنہوں نے دنیا میں صحیح رخ پر محنت کی ہو گی اور ان کے عقائد میں بھی باطل کی آمیزش نہیں ہو گی، ان کا مسکن بلند و بالا جنتیں ہوں گی۔

دوسرا اہم مضمون جو اس سورت میں بیان ہوا ہے وہ رب العالمین کی وحدانیت کے تکوینی دلائل ہیں، ان میں سے اونٹ ہے جسے صحرائی جہاز بھی کہا جاتا ہے طویل قد و قامت کے باوجود ایک بچہ بھی اس کی نکیل پکڑ کر جہاں چاہے لے جاتا ہے ، اس کے صبر کا یہ حال ہے کہ دس دس دن تک پیاس برداشت کر لیتا ہے ، اس کی غذائیت بہت سادہ ہوتی ہے ، ایسی جھاڑیوں سے پیٹ بھر لیتا ہے جنہیں کوئی بھی چوپایہ کھانا گوارا نہیں کرتا، ان دلائل میں سے بلند و بالا آسمان ہے جو کسی ستون کے بغیر کھڑا ہے ، زمین ہے جسے یوں بچھایا گیا کہ اس پر چلنا بھی آسان اور کھیتی باڑی بھی آسان، پہاڑ ہیں جو زمین کو زلزلوں کی زد میں آنے سے بچاتے ہیں، منکرینِ توحید کو ان دلائل کی طرف متوجہ کرنے کے بعد اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ آپ کے ذمہ صرف نصیحت کر دینا ہے آپ اپنی ذمہ داری ادا کر دیجئے ، پھر ان کا معاملہ اور حساب ہم پر چھوڑ دیجیے۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۲۶        رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، اور رحم کرنے والا ہے

 

کیا تمہارے پاس ڈھانپنے والی (قیامت) کی بات پہنچی۔ (۱) کتنے ہی منہ اس دن ذلیل و عاجز ہوں گے۔ (۲) عمل کرنے والے مشقت اٹھانے والے۔ (۳) دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔ (۴) ایک کھولتے ہوئے چشمے سے (پانی) پلائے جائیں گے۔ (۵)

تشریح: یعنی جب دوزخ کی گرمی ان کے باطن میں سخت تشنگی پیدا کرے گی، بے اختیار پیاس پکاریں گے کہ شاید پانی پینے سے یہ تشنگی دور ہو۔ اس وقت ایک گرم کھولتے ہوئے چشمہ کا پانی دیا جائے گا جس کے پیتے ہی ہونٹ کباب ہو جائیں گے۔ اور آنتیں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر پڑیں گی۔ پھر فوراً درست کی جائیں گی اور اسی طرح ہمیشہ عذاب میں گرفتار رہیں گے۔ العیاذباللہ۔

(تفسیرعثمانی)

 

نہ ان کے لئے کھانا ہو گا مگر خار دار گھاس سے۔ (۶) جو نہ موٹا کرے گی نہ بھوک سے بے نیاز کرے گی۔ (۷)

تشریح: ”ضریع” ایک خاردار درخت ہے دوزخ میں جو تلخی میں ایلوے سے زیادہ اور بدبو میں مردار سے بدتر اور گرمی میں آگ سے بڑھ کر ہے۔ جب دوزخی بھوک کے عذاب سے چلائیں گے تو یہ چیز کھانے کو دی جائے گی۔

کھانے سے مقصود یا محض لذت حاصل کرنا ہوتا ہے یا بدن کو فربہ کرنا یا بھوک کو دفع کرنا۔ ”ضریع” کے کھانے سے کوئی بات حاصل نہ ہو گی۔ لذت و مزہ کی نفی تو اس کے نام سے ظاہر ہے ، رہے باقی دو فائدے ان کی نفی اس آیت میں تصریحاً کر دی۔ غرض کوئی لذیذ و مرغوب کھانا ان کو میسر نہ ہو گا۔ یہاں تک دوزخیوں کا حال تھا۔ آگے ان کے بالمقابل جنتیوں کا ذکر ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

کتنے ہی منہ اس دن ترو تازہ ہوں گے۔ (۸) اپنی کوشش (کمائی) سے خوش خوش۔ (۹) بلند باغ میں۔ (۱۰) اس میں وہ نہ سنیں گے بیہودہ بکواس۔ (۱۱) اس میں بہتا ہوا ایک چشمہ ہے۔ (۱۲) اس میں اونچے اونچے تخت ہیں۔ (۱۳) اور آبخورے چنے ہوئے۔ (۱۴) اور غالیچے برابر بچھے ہوئے۔ (۱۵) اور گدے بکھرے ہوئے (پھیلے ہوئے )۔ (۱۶)

کیا وہ نہیں دیکھتے ؟ اونٹ کی طرف کہ وہ کیسے پیدا کیا گیا۔ (۱۷) اور (نہیں دیکھتے ) آسمان کی طرف کیسے بلند کیا گیا ؟ (۱۸) اور پہاڑ کی طرف (نہیں دیکھتے ) کیسے نصب کئے گئے۔ (۱۹) اور زمین کی طرف (نہیں دیکھتے ) کیسے بچھائی گئی۔ (۲۰)

پس آپ سمجھاتے رہیں۔ آپ صرف سمجھانے والے ہیں۔ (۲۱) آپ ان پر داروغہ نہیں۔ (۲۲) مگر جس نے منہ موڑا اور کفر کیا (منکر ہو گیا)۔ (۲۳) پھر اللہ اسے عذاب دے گا بہت بڑا عذاب۔ (۲۴) بیشک انہیں ہماری طرف لوٹنا ہے۔ (۲۵) پھر بیشک ہم پر ہے (ہمارا کام ہے ) ان کا حساب لینا ! (۲۶)

تشریح: عرب کے لوگ عام طور پر صحراؤں میں اونٹوں پر سفر کرتے تھے ، اور اونٹ کی تخلیق میں جو عجیب خصوصیات ہیں ان سے واقف تھے ، نیز اونٹوں پر سفر کرتے وقت انہیں آسمان، زمین اور پہاڑ نظر آتے تھے ، اللہ تعالی فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ اگر اپنے آس پاس کی چیزوں پر ہی غور کر لیں تو انہیں پتہ چل جائے گا کہ جس ذات نے کائنات کی چیزیں پیدا فرمائی ہیں، اسے اپنی خدائی میں کسی شریک کی ضرورت نہیں ہو سکتی، نیز یہ کہ جو اللہ تعالی کائنات کی ان چیزوں کو پیدا کرنے پر قادر ہے وہ یقیناً اس بات پر بھی قادر ہے کہ وہ انسانوں کو مرنے کے بعد دوسری زندگی عطا کر دے ، اور ان سے ان کے اعمال کا حساب لے ، کائنات کا یہ عظیم کارخانہ اللہ تعالی نے یونہی بے مقصد پیدا نہیں فرمایا، بلکہ اس کا مقصد یہی ہے کہ نیک لوگوں کو ان کی نیکی کا انعام دیا جائے اور بد کاروں کو ان کی بدکاری کی سزا دی جائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کافروں کی ہٹ دھرمی سے جو تکلیف ہوتی تھی اس پر آپ کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ آپ کا فریضہ صرف تبلیغ کر کے پورا ہو جاتا ہے ، آپ پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ انہیں زبردستی مسلمان بنائیں اس میں ہر مبلغ اور حق کے داعی کے لئے بھی یہ اصول بیان فرمایا گیا ہے کہ اسے اپنا تبلیغ کا فرض ادا کرتے رہنا چاہئے اور یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ وہ ان سے زبر دستی اپنی بات منوانے کا ذمہ دار ہے۔

(توضیح القرآن)

٭٭

 

 

 

۸۹۔ سُوْرَۃُ الْفَجْرِ

 

                تعارف

 

 

 

اس سورت کی ابتداء میں چار قسمیں کھائی گئیں ہیں کہ کفار پر اللہ کا عذاب واقع ہو کر رہے گا، اس کے بعد سورۂ فجر میں تین مضامین نمایاں طور پر مذکور ہیں۔

(۱) قوم عاد، ثمود اور فرعون جیسے متکبروں اور فسادیوں کے قصے اجمالی طور پر ذکر کئے گئے ہیں جو اپنی سرکشی اور جرائم کی وجہ سے اللہ کے عذاب کے مستحق ٹھہرے۔

(۲) اللہ کی سنت اور دستور یہ ہے کہ وہ دنیا کی زندگی میں انسان کو خیر و شر فقر و غنی اور صحت و بیماری جیسی آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے ، انسان کی طبیعت ایسی ہے کہ وہ اپنے رب کے فضل واحسان کا شکر ادا نہیں کرتا اور اللہ کا دیا ہوا مال اس کی راہ میں خرچ نہیں کرتا وہ مال کی محبت میں بڑا حریص ہے اس کا پیٹ بھرتا ہی نہیں۔

(۳) قیامت کے دن جو زلزلے اور ہولناک واقعات پیش آئیں گے ان کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ انسان دو قسموں میں تقسیم ہو جائیں گے ، شقی لوگ اللہ کے غضب کے حقدار ہوں گے اور نفس مؤمن، جسے نفس مطمئنہ کہا گیا ہے اسے اپنے رب کی طرف لوٹنے اور جنت میں داخل ہونے کے لئے کہا جائے گا۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۲۶        رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

قسم فجر کی۔ (۱) اور دس راتوں کی۔ (۲) اور جفت اور طاق کی۔ (۳) اور رات کی جب وہ چلے۔ (۴) کیا اس میں (ان چیزوں کی) قسم ہر عقلمند کے نزدیک معتبر ہے ؟ (۵)

تشریح: وَالْفَجْرِ :فجر کا وقت دنیا کی ہر چیز میں ایک نیا انقلاب لے کر نمودار ہوتا ہے ، اس لئے اس کی قسم کھائی گئی ہے ، بعض مفسرین نے اس آیت سے خاص ذوالحجہ کی صبح مراد لی ہے ، اور دس راتوں سے مراد ذوالحجہ کے مہینے کی پہلی دس راتیں ہیں، جن کو اللہ تعالی نے خصوصی تقدس عطا فرمایا ہے ، اور اس میں عبادت کا بہت ثواب ہے۔

وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ: جفت سے مراد دس ذوالحجہ کا دن اور طاق سے مراد عرفہ کا دن ہے ، جو نو ذوالحجہ کو آتا ہے ان ایام کی قسم کھانے سے ان کی اہمیت اور فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔

وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ : یعنی جب رات رخصت ہونے لگے ، ان تمام دنوں اور راتوں کا حوالہ شاید اس لئے دیا گیا ہے کہ عرب کے کافر لوگ بھی ان کو مقدس سمجھتے تھے ، ظاہر ہے کہ یہ تقدس ان دنوں اور راتوں میں خود سے نہیں آ گیا ،بلکہ اللہ تعالی نے پیدا فرمایا ہے اس لئے یہ سارے دن رات اللہ تعالی کی قدرت اور حکمت پر دلالت کرتے ہیں، اور اس قدرت اور حکمت کا ایک مظاہرہ یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالی نیک اور بد کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہ فرمائے ، بلکہ نیک لوگوں کو انعام دے اور بُرے لوگوں کو سزا ،چنانچہ اس سورت میں انہی دونوں باتوں کو نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا گیا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

ہَلْ فِیْ ذٰلِکَ قَسَمٌ: یعنی یہ قسمیں معمولی نہیں نہایت معتبر اور مہتم بالشان ہیں اور عقلمند لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ تاکید کلام کے لئے ان میں ایک خاص عظمت و وقعت پائی جاتی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

کیا تم نے نہیں دیکھا تمہارے رب نے کیا معاملہ کیا ؟ عاد کے ساتھ۔ (۶) ارم کے ستونوں والے۔ (۷) اس جیسا شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا۔ (۸)

تشریح: ارم ذات العماد :اِرم قوم عاد کے جد اعلی کا نام ہے ، اس لئے قوم عاد کی جس شاخ کا یہاں ذکر ہے اس کو عادِ اِرم کہا جاتا ہے ، اور ان کو ستونوں والا کہنے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان کے قد و قامت اور ڈیل ڈول بہت زیادہ تھے ، اسی لئے آگے فرمایا گیا ہے کہ ان جیسے لوگ کہیں اور پیدا نہیں کئے گئے ، اور بعض حضرات نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ انہوں نے اپنی تعمیرات میں بڑے بڑے ستون بنائے ہوئے تھے ، ان کے پاس حضرت ہود علیہ السلام کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا۔

 

اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی میں سخت پتھر تراشے۔ (۹) اور میخوں والے فرعون کے ساتھ۔ (۱۰) جنہوں نے شہروں میں سرکشی کی۔ (۱۱) پھر ان شہروں میں بہت فساد کیا۔ (۱۲) پس ان پر تمہارے رب نے عذاب کا کوڑا ڈالا (پھینکا)۔ (۱۳) بیشک تمہارا رب گھات میں ہے۔ (۱۴)

تشریح: وَثَمُوْدَ الَّذِیْنَ :قوم ثمودکے پاس حضرت صالح علیہ السلام کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا۔ وَفِرْعَوْنَ ذِی الْأَوْتَادِ :فرعون کو میخوں والا اس لئے کہا گیا کہ وہ لوگوں کو سزا دینے کے لئے ان کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گاڑ دیا کرتا تھا۔

(توضیح القرآن)

 

فَصَبَّ عَلَيْہِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَابٍ: یعنی ان قوموں نے عیش و دولت اور زور و قوت کے نشہ میں مست ہو کر ملکوں میں خوب اودھم مچایا۔ بڑی بڑی شرارتیں کیں اور ایسا سر اٹھایا گویا ان کے سروں پر کوئی حاکم ہی نہیں؟ ہمیشہ اسی حال میں رہنا ہے ! کبھی اس ظلم و شرارت کا خمیازہ بھگتنا نہیں پڑے گا؟ آخر جب ان کے کفر و تکبر اور جورو ستم کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اور مہلت و درگزر کا کوئی موقع باقی نہ رہا، دفعتاً خداوند قہار نے ان پر اپنے عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ ان کی سب قوت اور بڑائی خاک میں مل گئی اور وہ سازو سامان کچھ کام نہ آیا۔

إِنَّ رَبَّکَ لَبِالْمِرْصَادِ :یعنی جیسے کوئی شخص گھات میں پوشیدہ رہ کر آنے جانے والوں کی خبر رکھتا ہے کہ فلاں کیونکر گزرا اور کیا کرتا ہوا گیا، اور فلاں کیا لایا اور کیا لے گیا، پھر وقت آنے پر اپنی ان معلومات کے موافق معاملہ کرتا ہے۔ اسی طرح سمجھ لو کہ حق تعالیٰ انسانوں کی آنکھوں سے پوشیدہ رہ کر سب بندوں کے ذرہ ذرہ احوال و اعمال دیکھتا ہے ، کوئی حرکت و سکون اس سے مخفی نہیں۔ ہاں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا، غافل بندے سمجھتے ہیں کہ بس کوئی دیکھنے اور پوچھنے والا نہیں جو چاہو بے دھڑک کئے جاؤ۔ حالانکہ وقت آنے پر ان کا سارا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیتا ہے اور ہر ایک سے انہی اعمال کے موافق معاملہ کرتا ہے جو شروع سے اس کے زیر نظر تھے۔ اس وقت پتہ لگتا ہے کہ وہ سب ڈھیل تھی اور بندوں کا امتحان تھا کہ دیکھیں کن حالات میں کیا کچھ کرتے ہیں اور ایک عارضی حالت پر نظر کر کے آخری انجام کو تو نہیں بھولتے۔

(تفسیرعثمانی)

 

پس انسان کو جب اس کا رب آزمائے پھر اس کو عزت دے اور نعمت دے ، تو وہ کہے میرے رب نے مجھے عزت دی۔ (۱۵)

اور جب اسے آزمائے اور اسے روزی اندازہ سے (تنگ کر کے ) دے تو وہ کہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کیا۔ (۱۶)

تشریح: اللہ تعالی نے رزق کی تقسیم اپنی حکمت کے مطابق فرمائی ہے ، لہٰذا رزق میں تنگی ہو تو اسے اپنی توہین سمجھنا بھی غلط ہے ، اور رزق میں زیادتی ہو تو اسے اپنی عزت سے تعبیر کرنا بھی غلط ہے ، کیونکہ اس دنیا میں اللہ تعالی نے بہت سے ایسے لوگوں کو مال و دولت سے نوازا ہے جو نیک نہیں ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

ہرگز نہیں بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔ (۱۷) اور رغبت نہیں دیتے مسکین کو کھانا (کھلانے پر)۔ (۱۸) اور تم مال میراث سمیٹ سمیٹ کر کھاتے ہو۔ (۱۹) اور مال سے محبت کرتے ہو بہت زیادہ محبت۔ (۲۰)

تشریح: یعنی خدا کے ہاں تمہاری عزت کیوں ہو، جب تم بے کس یتیموں کی عزت اور خاطر مدارت نہیں کرتے۔  خود اپنے مال سے مسکینوں کی خبر گیری کرنا تو کجا دوسروں کو بھی اس طرف نہیں ابھارتے کہ بھوکے محتاجوں کی خبر لے لیا کریں۔ مردے کی میراث لینے میں حلال حرام اور حق ناحق کی کچھ تمیز نہیں، جو قابو چڑھا ہضم کیا، یتیموں اور مسکینوں کے حقوق تلف ہوں، ہونے دو۔ جڑ کی بات یہ ہے کہ تمہارا دل مال کی حرص اور محبت سے بھرا ہوا ہے۔ بس کسی طرح مال ہاتھ آئے اور ایک پیسہ کسی نیک کام میں ہاتھ سے نہ نکلے خواہ آگے چل کر نتیجہ کچھ ہی کیوں نہ ہو۔ مال کی اس قدر محبت اور پرستش کہ آدمی اسی کو کعبہ مقصود ٹھہرا لے ، صرف کافر کا شیوہ ہو سکتا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

ہرگز نہیں جب زمین کوٹ کوٹ کر پست کر دی جائے۔ (۲۱) اور آئے تمہارا رب اور (آئیں) فرشتے قطار در قطار۔ (۲۲)

تشریح: ہرگز نہیں جب زمین کوٹ کوٹ کر پست کر دی جائے :یعنی سب ٹیلے اور پہاڑ کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیے جائیں اور زمین صاف چٹیل میدان ہو جائے۔ اور آئے تمہارا رب :یعنی اپنی قہری تجلی کے ساتھ جیسا اس کی شان کے لائق ہے۔ اور (آئیں) فرشتے قطار در قطار میدان محشر میں وہاں انتظامات کے لئے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اس دن جہنم لائی جائے۔ اس دن انسان سوچے گا اور اسے سوچنا کہاں (نفع) دے گا ؟ (۲۳)

تشریح: اور اس دن جہنم لائی جائے : یعنی لاکھوں فرشتے اس کی جگہ سے کھینچ کر محشر والوں کے سامنے لائیں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اس وقت اگر کوئی شخص ایمان لانا بھی چاہے تو ایمان اس کے لئے فائدہ مند نہیں ہو گا، ایمان تو وہی معتبر ہے جو قیامت اور موت کے آنے سے پہلے پہلے ہو۔

(توضیح القرآن)

 

کہے گا اے کاش ! میں نے اپنی اس زندگی کے لئے پہلے (نیک عمل) بھیجا ہوتا۔ (۲۴) پس اس دن اس جیسا عذاب کوئی نہ دے گا۔ (۲۵) نہ اس جیسا باندھنا کوئی باندھ کر رکھے گا۔ (۲۶)

تشریح: يَقُوْلُ يَا لَيْتَنِيْ :یعنی افسوس دنیا کی زندگی میں کچھ نیکی کر کے آگے نہ بھیجی۔ جو آج اس زندگی میں کام آتی۔ یونہی خالی ہاتھ چلا آیا۔ کاش حسنات کا کوئی ذخیرہ آگے روانہ کر دیتا جو یہاں کے لئے توشہ بنتا۔

وَلَا يُوْثِقُ وَثَاقَہٗ أَحَدٌ :اللہ تعالیٰ اس دن مجرموں کو ایسی سخت سزا دے گا اور ایسی سخت قید میں رکھے گا کہ کسی دوسرے کی طرف سے اس طرح کی سختی کسی مجرم کے حق میں متصور نہیں۔ اور حضرت شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ” اس روز نہ مارے گا اس کا سا مارنا کوئی۔ نہ آگ نہ دوزخ کے موکل نہ سانپ بچھو، جو دوزخ میں ہوں گے ، کیونکہ ان کا مارنا اور دکھ دینا عذاب جسمانی ہے ، اور حق تعالیٰ کا عذاب اس طور سے ہو گا کہ مجرم کی روح کو حسرت اور ندامت میں گرفتار کر دے گا جو عذاب روحانی ہے اور ظاہر ہے عذاب روحانی کو عذاب جسمانی سے کیا نسبت، نیز نہ باندھے گا اس کا سا کوئی باندھنا کوئی۔ کیونکہ دوزخ کے پیادے ہر چند کہ دوزخیوں کے گلے میں طوق ڈالیں گے اور زنجیروں سے جکڑیں گے اور دوزخ کے دروازے بند کر کے اوپر سے سرپوش رکھ دیں گے ، لیکن ان کی عقل اور خیال کو بند نہ کر سکیں گے اور عقل و خیال کی عادت ہے کہ بہت سی باتوں کی طرف التفات کرتا ہے اور ان میں سے بعض باتیں دوسری باتوں کے لئے حجاب ہو جاتی ہیں۔ اسی لئے عین قید کی تنگی میں انسان کو عقلی اور خیالی وسعت حاصل ہوتی ہے۔ برخلاف اسی شخص کے کہ اللہ تعالیٰ عقل و خیال کو اِدھر اُدھر جانے سے روک دے اور بالکل ہمہ تن دکھ درد ہی کی طرف متوجہ رکھے۔ تو ایسی قید بدنی قید سے ہزاروں درجے سخت ہے۔ اسی لئے مجنوں سو دائیوں کو عین باغوں اور جنگلوں کی سیر کے وقت تنگی اور گھبراہٹ و ہم و خیال کے سبب سے پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ باغ اور وسیع جنگل اس کی نظر میں تنگ معلوم ہوتے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اے روح مطمئن (اطمینان والی)۔ (۲۷) لوٹ چل اپنے رب کی طرف وہ تجھ سے راضی۔ تو اس سے راضی۔ (۲۸) پس داخل ہو جا میرے بندوں میں۔ (۲۹) اور داخل ہو جا میری جنت میں ! (۳۰)

تشریح: پہلے مجرموں اور ظالموں کا حال بیان ہوا تھا۔ اب اس کے مقابل ان لوگوں کا انجام بتلاتے ہیں جن کے دلوں کو اللہ کے ذکر اور اس کی اطاعت سے چین اور آرام ملتا ہے ، ان سے محشر میں کہا جائے گا کہ اے نفس آرمیدہ بحق! جس محبوب حقیقی سے تو لو لگائے ہوئے تھا، اب ہر قسم کے جھگڑوں اور خرخشوں سے یکسو ہو کر راضی خوشی اس کے مقام قرب کی طرف چل، اور اس کے مخصوص بندوں کے زمرہ میں شامل ہو، اس کی عالیشان جنت میں قیام کر۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو موت کے وقت بھی یہ بشارت سنائی جاتی ہے۔ بلکہ عارفین کا تجربہ بتلاتا ہے کہ اس دنیا کی زندگی میں بھی ایسے نفوس مطمئنہ اس طرح کی بشارات کافی الجملہ حظ اٹھاتے ہیں۔ ”اللّٰھم انی اسالک نفسا بک مطمئنۃ تومن بلقائک و ترضی بقضائک وتقنع بعطائک (تنبیہ) نفس مطمئنہ، نفس امارہ اور نفس لوامہ کی تحقیق سورہ ”قیامہ” کے شروع میں دیکھ لی جائے۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

۹۰۔ سُوْرَۃُ الْبَلَدِ

 

                تعارف

 

 

 

اس سورت کا موضوع انسان کی سعادت اور شقاوت ہے ، سورت کی ابتداء میں اللہ نے تین قسمیں کھا کر فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا ہے ، یعنی اس کی زندگی محنت و مشقت اور جفا کشی سے عبارت ہے ، کبھی فقر و فاقہ کبھی بیماری اور دکھ، کبھی حوادث اور آلام پھر بڑھاپا اور موت، قبر کی تاریکی اور منکر نکیر کے سوالات، قیامت اور اس کی ہولناکیاں غرضیکہ ابتداء سے انتہاء تک مشقت ہی مشقت! اس کے بعد ان کفار کا تذکرہ ہے جنہیں اپنی قوت پر بڑا گھمنڈ تھا، وہ فخر و ریا کی نیت سے اموال خرچ کرتے تھے ، ایسے لوگوں کو آنکھوں، ہونٹوں، زبان اور ہدایت جیسی نعمتیں یاد دلائی گئی ہیں، پھر قیامت کے شدائد و مصائب کا تذکرہ ہے ، جن سے ایمان اور عمل صالح کے علاوہ کوئی چیز چھٹکارہ نہیں دے سکتی، سورت کے اختتام پر ان لوگوں کے لئے کامیابی کا راستہ بیان کیا گیا ہے ، یعنی ایمان باللہ ایک دوسرے کو صبر کی اور آپس میں رحم کرنے کی وصیت۔

(خلاصہ قرآن)

 

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۲۰        رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

نہیں، میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں۔ (۱) اور آپ اس شہر میں اترے ہوئے ہیں۔ (۲) اور (قسم کھاتا ہوں) والد کی اور اولاد کی۔ (۳)

تشریح: اس شہر سے مراد مکہ مکرمہ ہے جسے اللہ تعالی نے خصوصی تقدس عطا فرمایا ہے اور اس میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم مقیم ہونے کی بنا پر اس کے تقدس میں اضافہ ہوا ہے۔ وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ :والد سے مراد حضرت آدم ہیں اور چونکہ تمام انسان انہیں کی اولاد ہیں، اس لئے اس آیت میں تمام نوع انسانی کی قسم کھائی گئی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

تحقیق ہم نے انسان کو مشقت میں (گرفتار) پیدا کیا۔ (۴) کیا وہ گمان کرتا ہے کہ اس پر ہرگز کسی کا بس نہ چلے گا ؟ (۵) وہ کہتا ہے میں نے ڈھیروں مال خرچ کر ڈالا۔ (۶)

تشریح: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ: یہ ہے وہ بات جو قسم کھا کر فرمائی گئی ہے ، مطلب یہ ہے کہ دنیا میں انسان کو اس طرح پیدا کیا گیا ہے کہ وہ کسی نہ کسی مشقت میں لگا رہتا ہے ، چاہے کتنا بڑا حاکم ہو یا دولت مند شخص ہو اسے زندہ رہنے کے لئے مشقت اٹھانی  ہی پڑتی ہے ، لہذا اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ اسے دنیا میں کبھی کوئی محنت کرنی نہ پڑے تو یہ اس کی خام خیالی ہے ، ایسا کبھی ممکن ہی نہیں ہے ، ہاں مکمل راحت کی زندگی جنت کی زندگی ہے جو دنیا میں کی ہوئی محنت کے نتیجے میں ملتی ہے ، ہدایت یہ دی گئی ہے کہ انسان کو دنیا میں جب کسی مشقت کا سامنا ہو تو اسے یہ حقیقت یاد کرنی چاہئیے ، خاص طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو مکہ مکرمہ میں جو تکلیفیں پیش آرہی تھیں اس آیت نے ان کو بھی تسلی دی ہے ، اور یہ بات کہنے کے لئے اول تو شہر مکہ کی قسم کھائی ہے ، شاید اس لئے کہ مکہ مکرمہ کو اگرچہ اللہ تعالی نے دنیا کا سب سے مقدس شہر بنایا ہے ، لیکن وہ شہر بذات خود مشقتوں سے بنا، اور اس کے تقدس سے فائدہ اٹھانے کے لئے آج بھی مشقت کرنی پڑتی ہے ، پھر خاص طور پر اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے مقیم ہونے کا حوالہ دینے میں شاید یہ اشارہ ہے کہ افضل ترین پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم، افضل ترین شہر میں مقیم ہیں، لیکن مشقتیں ان کو بھی اٹھانی پڑ رہی ہیں، پھر حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی ساری اولاد کی قسم کھانے سے اشارہ ہے کہ انسان کی پوری تاریخ پر غور کر جاؤ یہ حقیقت ہر جگہ نظر آئے گی کہ انسان کی زندگی مشقتوں سے پُر رہی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

أَيَحْسَبُ أَنْ لَنْ يَّقْدِرَ عَلَيْہِ أَحَدٌ :مکہ مکرمہ میں کئی کافر ایسے تھے جنہیں اپنی جسمانی طاقت پر ناز تھا، جب انہیں اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرایا جاتا تو کہتے تھے کہ ہمیں کوئی قابو میں نہیں کرسکتا، نیز وہ آپس میں دکھاوے کے طور پر کہتے تھے کہ ہم نے ڈھیر ساری دولت خرچ کی ہے ، خاص طور پر یہ بات اس دولت کے بارے میں کہتے تھے جو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور دشمنی میں خرچ کی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

کیا وہ گمان کرتا ہے کہ اس کو کسی نے نہیں دیکھا ؟ (۷) کیا ہم نے نہیں بنائیں ؟ اس کی دو آنکھیں۔ (۸) اور زبان اور دو ہونٹ۔ (۹) اور ہم نے دو راستے دکھائے۔ (۱۰)

تشریح: کیا اللہ تعالی دیکھ نہیں رہے تھے کہ وہ کس کام میں اور کس مقصد کے لئے خرچ کر رہا ہے۔

وَہَدَيْنَاہُ النَّجْدَيْنِ :انسان کو اللہ تعالیٰ نے نیکی اور بدی کے دونوں راستے دکھا دئے ہیں اور اختیار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے جو راستہ چاہو اختیار کرسکتے ہو، لیکن بدی کا راستہ اختیار کرو گے تو سزا ہو گی۔

(توضیح القرآن)

 

پس وہ نہ داخل ہوا “عقبہ” (گھاٹی) میں۔ (۱۱) اور تم کیا سمجھے “عقبہ” کیا ہے ؟ (۱۲) گردن چھڑانا (اسیر کا آزاد کرانا)۔ (۱۳) یا کھانا کھلانا بھوک والے دن میں۔ (۱۴) قرابت دار (رشتہ دار) یتیم کو۔ (۱۵) یا خاک نشین مسکین کو۔ (۱۶)

تشریح: گھاٹی دو پہاڑوں کے درمیانی راستے کو کہتے ہیں، عام طور پر جنگ کے دوران ایسے راستے کو دشمن سے بچنے کے لئے اختیار کیا جاتا ہے ، اور یہاں گھاٹی میں داخل ہونے سے مراد ثواب کے کام کرنا ہے ، ان کو گھاٹی میں داخل ہونا اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ انسان کو اللہ تعالی کے عذاب سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

پھر ہو ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور انہوں نے وصیت کی باہم صبر کی اور باہم رحم کھانے کی۔ (۱۷) یہی لوگ ہیں خوش نصیب۔ (۱۸)

تشریح: اصحب المیمنہ:سے مراد وہ نیک لوگ ہیں جن کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

(توضیح القرآن)

 

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا وہ بد بخت لوگ ہیں۔ (۱۹) ان پر آگ موندی ہوئی ہے (انہیں آگ میں بند کر دیا گیا ہے ) ! (۲۰)

تشریح: اصحب المشئمہ:سے مراد وہ بد کار ہیں جن کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

(توضیح القرآن)

٭٭

 

 

 

 

۹۱۔ سُوْرَۃُ الشَّمْسِ

 

                تعارف

 

 

 

اس سورت کا اصل مقصود نیکیوں کی ترغیب اور معاصی سے بچاؤ اور تحذیر ہے ، اس سورت کی ابتداء میں تکوینی مخلوقات میں سے سات ایسی چیزوں کی قسم کھائی ہے جو سب کی سب اللہ کی قدرت اور وحدانیت کے آثار ہیں، یعنی سورج، چاند، دن، رات، آسمان، زمین اور نفس انسانی، ان چیزوں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اگر انسان اپنے رب سے ڈرے اور اپنے نفس کا تزکیہ کر لے تو وہ کامیاب ہو جاتا ہے اور اگر اس کی تربیت سے غفلت اختیار کرے اور اس کو گندگی میں پڑا رہنے دے تو ناکام ہو جاتا ہے۔ اللہ نے انسان کے اندر نیکی اور بدی دونوں کی صلاحیت رکھی ہے ، اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ کونسی صلاحیت کو بروئے کار لاتا ہے ، اس تفصیل کے بعد یہ سورت ہمارے سامنے مثال اور نمونہ کے طور پر قوم ثمود کا قصہ بیان کرتی ہے جس نے اپنے نفس کا تزکیہ نہ کیا ،بلکہ اسے معاصی کا عادی بنا دیا، جس کی وجہ سے وہ ہلاکت کے مستحق ہو گئے۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۱۵         رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی۔ (۱) اور چاند کی جب وہ اس کے پیچھے سے نکلے۔ (۲) اور دن کی جب وہ اسے روشن کر دے۔ (۳) اور رات کی جب وہ اسے ڈھانپ لے۔ (۴) اور قسم آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔ (۵) اور زمین کی اور جس نے اسے پھیلایا۔ (۶) اور انسان کی اور جس نے اسے درست کیا۔ (۷)

پھر اس کے گناہ اور پرہیزگاری (کی سمجھ) اس کے دل میں ڈالی۔ (۸) تحقیق کامیاب ہوا جس نے اس کو پاک کیا۔ (۹) اور تحقیق نامراد ہوا جس نے اسے خاک میں ملایا۔ (۱۰)

فَأَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوَاہَا :یعنی اول تو اجمالی طور پر عقلِ سلیم اور فطرت صحیحہ کے ذریعہ سے بھلائی میں فرق کرنے کی سمجھ دی۔ پھر تفصیلی طور پر انبیاء و رُسل کی زبانی کھول کھول کر بتلا دیا کہ یہ راستہ بدی کا اور یہ پرہیزگاری کا ہے۔ اس کے بعد قلب میں جو نیکی کا رجحان یا بدی کی طرف میلان ہو، ان دونوں کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے۔ گو اِلقاءِ اول میں فرشتہ واسطہ ہوتا ہے۔ اور ثانی میں شیطان۔ پھر وہ رجحان و میلان کبھی بندہ کے قصد و اختیار سے مرتبہ عزم تک پہنچ کر صدور فعل کا ذریعہ بن جاتا ہے جس کا خالق اللہ اور کاسِب بندہ ہے۔ اسی کسبِ خیرو شر پر مجازات کا سلسلہ بطریق تسبیب قائم ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَکَّاہَا: نفس کو پاکیزہ بنانے کا مطلب یہی ہے کہ انسان کے دل میں جو اچھی خواہشات اور اچھے جذبات پیدا ہوتے ہیں، انہیں ابھار کر اس پر عمل کرے اور جو بری خواہشات اور جذبات پیدا ہوتے ہیں انہیں دبائے اسی طرح مسلسل مشق کرتے رہنے سے نفس پاکیزہ ہو کروہ نفس مطمئنہ بن جاتا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاہَا: خاک میں ملا چھوڑنے سے یہ مراد ہے کہ نفس کی باگ یکسر شہوت و غضب کے ہاتھ میں دے دے۔ عقل و شرع سے کچھ سروکار نہ رکھے۔ گویا خواہش اور ہویٰ کا بندہ بن جائے۔ ایسا آدمی جانوروں سے بدتر اور ذلیل ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

(تنبیہ) قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَکَّاہَا، وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاہَا: جواب قسم ہے اور اس کو مناسبت قسموں سے یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے سورج کی دھوپ اور چاند کی چاندنی دن کا اجالا، اور رات کا اندھیرا، آسمان کی بلندی اور زمین کی پستی کو ایک دوسرے کے مقابل پیدا کیا اور نفس انسانی میں خیر و شر کی متقابل قوتیں رکھیں اور دونوں کو سمجھنے اور ان پر چلنے کی قدرت دی۔ اسی طرح متضاد و مختلف اعمال پر مختلف ثمرات و نتائج مرتب کرنا بھی اسی حکیم مطلق کا کام ہے خیر و شر اور ان دونوں کے مختلف آثار و نتائج کا عالم میں پایا جانا بھی حکمتِ تخلیق کے اعتبار سے ایسا ہی موزوں ومناسب ہے ، جیسے اندھیرے اور اجالے کا وجود۔

(تفسیرعثمانی)

 

ثمود نے اپنی سرکشی (کی وجہ) سے جھٹلایا۔ (۱۱) جب ان کا بد بخت اٹھ کھڑا ہوا۔ (۱۲) تو ان سے اللہ کے رسول نے کہا (خبردار ہو) اللہ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری ہے۔ (۱۳) پھر انہوں نے اس کو جھٹلایا اور اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ (۱۴) پھر ان کے رب نے ان پر ان کے گناہ کے سبب ہلاکت ڈالی پھر انہیں برابر کر دیا۔ (۱۵) اور وہ ان کے انجام سے نہیں ڈرتا (۱۶) !

کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوَاہَا:قوم ثمود کے مطالبے پر اللہ تعالی نے ایک اونٹنی پیدا فرمائی تھی، اور لوگوں سے کہا تھا کہ ایک دن کنویں سے یہ پانی پئے گی اور دوسرے دن تم پانی بھر لیا کرنا، لیکن اس قوم کا ایک سنگدل شخص نے جس کا نام ’’قدار‘‘ بتایا جاتا ہے ، اونٹنی کو قتل کر دیا، اس کے بعد اس قوم پر ایسا عذاب آیا کہ سب فنا ہو گئے اور کوئی باقی نہیں بچا۔

وَلَا يَخَافُ عُقْبَاہَا:جب انسانوں کا کوئی لشکر کسی بستی میں تباہی مچائے تو اسے خوف بھی ہوتا ہے کہ کوئی اس سے انتقام نہ لے ، ظاہر ہے کہ اللہ تعالی جب کسی قوم کو ہلاک کرتا ہے تو اسے کسی کے انتقام کا کوئی خوف نہیں ہوتا۔

(توضیح القرآن)

٭٭

 

 

 

۹۲۔ سُوْرَۃُ اللَّيْلِ

 

                تعارف

 

اس سورت کا موضوع انسانوں کے مختلف قسم کے اعمال اور جدوجہد ہے ، جب اعمال اور  جہد وسعی کا رخ مختلف ہے تو اس کے نتائج بھی مختلف برآمد ہوتے ہیں، اس کی ابتدائی آیات میں تین قسمیں کھا کر فرمایا گیا ہے کہ اے انسانو! تمہاری سعی مختلف ہے کوئی متقی ہے اور کوئی شقی ہے ، کوئی مؤمن ہے اور کوئی کافر، کوئی اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور کوئی بخل کرتا ہے ، کوئی اللہ سے ڈرنے والا ہے ا ورکسی  نے بے نیازی اختیار کر رکھی ہے ، کوئی بھلائی کی بات کی تصدیق کرتا ہے اور کوئی تکذیب کرتا ہے ، انسانوں میں سے جو کوئی اپنے لئے جس قسم کی راہ کا انتخاب کرتا ہے ہم اس راہ پر چلنا اس کے لئے آسان کر دیتے ہیں۔

سورت کے اختتام پر بتایا گیا کہ اہل ایمان کو رب تعالی دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا، اور اس کے لئے ایک مؤمن صالح کا قصہ بیان کیا ہے جو اپنا مال رضاءِ الہی کی خاطر خرچ کرتا تھا، تمام تفاسیر میں ہے کہ یہ آیات حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھیں جن کا مال جہاد کی تیاری، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت اور ایسے غلاموں کو خرید کر آزاد کرنے میں خرچ ہوتا تھا جو قبول اسلام کی وجہ سے ظلم وستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۲۱         رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

رات کی قسم جب وہ ڈھانک لے۔ (۱) اور دن کی جب وہ روشن ہو۔ (۲) اور اس کی جو اس نے نر و مادہ پیدا کئے۔ (۳) بیشک تمہاری کوشش مختلف (منتشر) ہے۔ (۴)

تشریح: إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتّٰى :کوششوں سے مراد اعمال ہیں اور مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے اعمال مختلف قسم کے ہیں، اچھے بھی اور بُرے بھی، اور ان اعمال کے نتائج بھی مختلف ہیں، جیسا کے آگے آ رہا ہے ، یہ بات کہنے کے لئے رات اور دن کی قسم کھانے کا شاید یہ مقصد ہے کہ جس طرح رات اور  دن کے نتائج مختلف ہیں، اسی طرح نیکی اور بدی کے نتائج بھی مختلف ہیں، اور جس طرح اللہ تعالی نے نر اور مادہ کی خاصیتیں الگ الگ رکھی ہیں، اسی طری اعمال کی خاصیتیں بھی جدا جدا ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

سو جس نے دیا اور پرہیزگاری اختیار کی۔ (۵) اور اچھی بات کو سچ جانا۔ (۶) پس ہم عنقریب اس کے لئے آسانی (کی توفیق) کر دیں گے۔ (۷)

فَسَنُيَسِّرُہٗ لِلْيُسْرٰى: یعنی جو شخص نیک راستہ میں مال خرچ کرتا اور دل میں خدا سے ڈرتا ہے اور اسلام کی بھلی باتوں کو سچ جانتا اور بشاراتِ ربانی کو صحیح سمجھتا ہے ، اس کے لئے ہم اپنی عادت کے موافق نیکی کاراستہ آسان کر دیں گے اور انجام کار انتہائی آسانی اور راحت کے مقام پر پہنچا دیں گے جس کا نام جنت ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جس نے بخل کیا اور بے پروا رہا۔ (۸) اور جھٹلایا اچھی بات کو۔ (۹) پس ہم عنقریب اس کے لئے دشواری آسان کر دیں گے۔ (۱۰) اور اس کا مال اس کو فائدہ نہ دے گا جب وہ نیچے گرے گا۔ (۱۱)

تشریح: فَسَنُيَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰى :یعنی جس نے خدا کی راہ میں خرچ نہ کیا، اس کی خوشنودی اور آخرت کے ثواب کی پروانہ کی اور اسلام کی باتوں اور اللہ کے وعدوں کو جھوٹ جانا، اس کا دل روز بروز تنگ اور سخت ہوتا چلا جائے گا۔ نیکی کی توفیق سلب ہوتی جائے گی اور آخرکار آہستہ آہستہ عذاب الہٰی کی انتہائی سختی میں پہنچ جائے گا۔ یہی اللہ کی عادت ہے کہ سعداء جب نیک عمل اختیار کرتے ہیں اور اشقیاء جب بد عمل کی طرف چلتے ہیں تو دونوں کے لئے وہی راستہ آسان کر دیا جاتا ہے جو انہوں نے تقدیر الہٰی کے موافق اپنے ارادہ اور اختیار سے پسند کر لیا ہے۔ ”کلا نمد ھولاء و ھولاء من عطاء ربک وما کان عطاء ربک محظوراً۔ ” (اسراء۔ رکوع٢)۔

وَمَا يُغْنِيْ عَنْہُ :یعنی جس مال و دولت پر گھمنڈ کر کے یہ آخرت کی طرف سے بے پروا ہو رہا تھا وہ ذرا بھی عذاب الہٰی سے نہ بچا سکے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک ہمارے ذمہ ہے راہ دکھانا۔ (۱۲) اور بیشک دنیا و آخرت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ (۱۳)

تشریح: یعنی ہماری حکمت اس کو مقتضی نہیں کہ کسی آدمی کو زبردستی نیک یا بد بننے پر مجبور کریں۔ ہاں یہ ہم نے اپنے ذمہ لیا ہے کہ سب کو نیکی بدی کی راہ سجھا دیں۔ اور بھلائی برائی کو خوب کھول کر بیان کر دیں۔ پھر جو شخص جو راہ اختیار کر لے دنیا اور آخرت میں اسی کے موافق اس سے برتاؤ کریں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

پس میں تمہیں ڈراتا ہوں بھڑکتی ہوئی آگ سے۔ (۱۴) اس میں صرف بدبخت داخل ہو گا۔ (۱۵) جس نے جھٹلایا اور منہ موڑا۔ (۱۶)

تشریح: بھڑکتی ہوئی آگ سے شاید دوزخ کا وہ طبقہ مراد ہو گا۔ جو بڑے بھاری مجرموں اور بدبختوں کے لئے مخصوص ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور عنقریب اس سے پرہیزگار بچا لیا جائے گا۔ (۱۷) جو اپنا مال دیتا ہے (اپنا دل) پاک صاف کرنے کو۔ (۱۸) اور کسی کا اس پر احسان نہیں جس کا بدلہ دے۔ (۱۹) مگر اپنے بزرگ و برتر رب کی رضا چاہنے کو۔ (۲۰) اور وہ عنقریب راضی ہو گا ! (۲۱)

وَسَيُجَنَّبُہَا الْأَتْقَى:یعنی اللہ تعالی کے راستے میں جو کچھ خرچ کرتا ہے اس میں دکھاوا مقصود نہیں ہوتا، بلکہ اللہ تعالی کی خوشنودی مقصود ہوتی ہے ، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایسے خرچ کرنے سے انسان کو اخلاقی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے ، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیتیں حضرت ابو بکر صدیق کی تعریف میں نازل ہوئی ہیں، جو اللہ تعالی کے راستے میں بہت خرچ کرتے تھے ، تاہم الفاظ عام ہیں، اور ہر اس شخص کے لئے خوشخبری پر مشتمل ہیں جو ان صفات کا حامل ہے۔

(توضیح القرآن)

٭٭

 

 

 

 

۹۳۔ سُوْرَۃُ الضُّحٰى

 

                تعارف

 

نبوت کے بعد شروع شروع میں کچھ دن ایسے گزرے جس میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی وحی نہیں آئی اس پر ابو لہب کی بیوی نے طعنہ دیا کہ تمہارے پروردگار نے ناراض ہو کر تمہیں چھوڑ دیا ہے ، اس پر یہ سورت نازل ہوئی تھی، ضحی عربی میں دن چڑھنے کے وقت جو روشنی ہوتی ہے اس کو کہتے ہیں، اللہ تعالی نے پہلی آیت میں اس کی قسم کھائی ہے اس لئے اس سورت کا نام سورۃ الضحی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۱۱         رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

قسم ہے آفتاب کی روشنی کی۔ (۱) اور رات کی جب وہ چھا جائے۔ (۲) آپ کے رب نے آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ بیزار ہوا۔ (۳)

تشریح: روایات صحیحہ میں ہے کہ جبرئیل علیہ السلام دیر تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ آئے (یعنی وحی قرآنی بند رہی) مشرکین کہنے لگے کہ (لیجئے ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے رب نے رخصت کر دیا۔ اس کے جواب میں یہ آیات نازل ہوئیں، میرا گمان یہ ہے (واللہ اعلم) کہ یہ زمانہ فترت الوحی کا ہے جب سورہ ”اقراء” کی ابتدائی آیات نازل ہونے کے بعد ایک طویل مدت تک وحی رکی رہی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود اس فترت کے زمانہ میں سخت مغموم و مضطرب رہتے تھے ، تاآنکہ فرشتہ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ”یا ایھا المدثر” کا خطاب سنایا۔ اغلب ہے کہ اس وقت مخالفوں نے اس طرح کی چہ میگوئیاں کی ہوں۔ چنانچہ ابن کثیر رحمہ اللہ عنہ نے محمد بن اسحاق وغیرہ سے جو الفاظ نقل کئے ہیں وہ اسی احتمال کی تائید کرتے ہیں۔ ممکن ہے اسی دوران میں وہ قصہ بھی پیش آیا ہو جو بعض احادیث صحیحہ میں بیان ہوا ہے کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کی وجہ سے دو تین رات نہ اٹھ سکے ، تو ایک (خبیث) عورت کہنے لگی۔ اے محمد! معلوم ہوتا ہے تیرے شیطان نے تجھ کو چھوڑ دیا ہے (العیاذ باللہ) غرض ان سب خرافات کا جواب سورہ ”والضحیٰ” میں دیا گیا ہے۔ پہلے قسم کھائی دھوپ چڑھتے وقت کی اور اندھیری رات کی۔ پھر فرمایا کہ (دشمنوں کے سب خیالات غلط ہیں) نہ تیرا رب تجھ سے ناراض اور بیزار ہوا نہ تجھ کو رخصت کیا۔ بلکہ جس طرح ظاہر میں وہ اپنی قدرت و حکمت کے مختلف نشان ظاہر کرتا، اور دن کے پیچھے رات اور رات کے پیچھے دن کو لاتا ہے ، یہی کیفیت باطنی حالات کی سمجھو۔ اگر سورج کی دھوپ کے بعد رات کی تاریکی کا آنا اللہ کی خفگی اور ناراضگی کی دلیل نہیں، اور نہ اس کا ثبوت ہے کہ اس کے بعد دن کا اجالا کبھی نہ ہو گا۔ تو چند روز نورِ وحی کے رکے رہنے سے یہ کیونکر سمجھ لیا جائے کہ آجکل خدا اپنے منتخب کیے ہوئے پیغمبر سے خفا اور ناراض ہو گیا اور ہمیشہ کے لئے وحی کا دروازہ بند کر دیا ہے۔ ایسا کہنا تو خدا کے علمِ محیط اور حکمتِ بالغہ پر اعتراض کرنا ہے۔ گویا اسے خبر نہ تھی کہ جس کو میں نبی بنا رہا ہوں وہ آئندہ چل کر اس کا اہل ثابت نہ ہو گا؟ العیاذ باللہ۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور آخرت آپ کے لئے پہلی (حالت) سے بہتر ہے۔ (۴)

تشریح: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پچھلی حالت پہلی حالت سے کہیں ارفع و اعلیٰ ہے وحی کی یہ چند روزہ رکاوٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزول و انحطاط کا سبب نہیں بلکہ بیش از بیش عروج و ارتقاء کا ذریعہ ہے اور اگر پچھلی سے بھی پچھلی حالت کا تصور کیا جائے۔ یعنی آخرت کی شان و شکوہ کا، جبکہ آدم اور آدم کی ساری اولاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو گی۔ تو وہاں کی بزرگی اور فضیلت تو یہاں کے اعزازو اکرام سے بے شمار درجہ بڑھ کر ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور عنقریب آپ کو آپ کا رب عطا کرے گا پس آپ راضی ہو جائیں گے۔ (۵)

تشریح: یعنی ناراض اور بیزار ہو کر چھوڑ دینا کیسا، ابھی تو تیرا رب تجھ کو (دنیا و آخرت میں) اس قدر دولتیں اور نعمتیں عطا فرمائے گا کہ تو پوری طرح مطمئن اور راضی ہو جائے۔ حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محمد راضی نہیں ہو گا جب تک اس کی امت کا ایک آدمی بھی دوزخ میں رہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔

(تفسیر عثمانی)

 

کیا آپ کو یتیم نہیں پایا ؟ پس ٹھکانہ دیا۔ (۶)

تشریح: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والد وفات پا چکے تھے۔ چھ سال کی عمر تھی کہ والدہ نے رحلت کی۔ پھر آٹھ سال کی عمر میں تک اپنے دادا (عبدالمطلب) کی کفالت میں رہے۔ آخر اس دُرِ یتیم اور نادرہ روزگار کی ظاہری تربیت و پرورش کی سعادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیحد شفیق چچا ابوطالب کے حصہ میں آئی۔ انہوں نے زندگی بھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت و حمایت اور تکریم و تبجیل میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ ہجرت سے کچھ پہلے وہ بھی دنیا سے رخصت ہوئے۔ چند روز بعد یہ امانتِ  الہٰی اللہ کے حکم سے انصارِ مدینہ کے گھر پہنچ گئی۔ ”اوس” اور ”خزرج” کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا۔ اور انہوں نے اس کی حفاظت اس طرح کی جس کی نظیر چشمِ فلک نے کبھی نہ دیکھی ہو گی۔ یہ سب صورتیں درجہ بدرجہ فَاٰوٰى کے تحت میں داخل ہیں۔ کما اشار الیہ ابن کثیر رحمہ اللہ۔

(تفسیر عثمانی)

 

اور آپ کو بے خبر پایا تو ہدایت دی۔ (۷)

تشریح: جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم جوان ہوئے ، قوم کے مشرکانہ اطوار اور بیہودہ رسم و راہ سے سخت بیزار تھے اور قلب میں خدائے واحد کی عبادت کا جذبہ پورے زور کے ساتھ موجزن تھا۔ عشقِ الہٰی کی آگ سینہ مبارک میں بڑی تیزی سے بھڑک رہی تھی۔ وصول الی اللہ اور ہدایتِ خلق کی اس اکمل ترین استعداد کا چشمہ جو تمام عالم سے بڑھ کر نفسِ قدسی میں ودیعت کیا گیا تھا۔ اندر ہی اندر جوش مارتا تھا، لیکن کوئی صاف کھلا ہوا راستہ اور مفصل راستہ اور مفصل دستور العمل بظاہر دکھائی نہ دیتا تھا جس سے اس عرش و کرسی سے زیادہ وسیع قلب کو تسکین ہوتی۔ اسی جوشِ طلب اور فرطِ محبت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے قرار اور سرگرداں پھرتے اور غاروں اور پہاڑوں میں جا کر مالک کو یاد کرتے اور محبوبِ حقیقی کو پکارتے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ”غارِ حرا” میں فرشتہ کو وحی دے کر بھیجا اور وصول الی اللہ اور اصلاحِ خلق کی تفصیلی راہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کھول دیں۔ یعنی دین حق نازل فرمایا۔ ”ماکنت تدری ما الکتب ولا الایمان ولکن جعلنہ نورا نھدی بہ من نشاء من عبادنا۔ ” (شوریٰ۔ رکوع ٥) (تنبیہ) یہاں ”ضالا” کے معنی کرتے وقت سورہ ”یوسف”کی آیت ”قالو اتاللّٰہ انک لفی ضلالک القدیم” کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔

(تفسیر عثمانی)

 

آپ کو مفلس پایا تو غنی کر دیا۔ (۸)

تشریح: اس طرح کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی تجارت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مضارب ہو گئے۔ اس میں نفع ملا۔ پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کر لیا اور اپنا تمام مال حاضر کر دیا۔ یہ تو ظاہری غناء تھا۔ باقی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلبی اور باطنی غناء کا درجہ تو وہ غنی عن العالمین ہی جانتا ہے۔ کوئی بشر اس کا کیا اندازہ کر سکے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء سے موردِ انعامات رہے ہیں۔ آئندہ بھی رہیں گے۔ جس پروردگار نے اس شان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت فرمائی۔ کیا وہ خفا ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یونہی درمیان میں چھوڑ دے گا۔ استغفراللہ!۔

(تفسیرعثمانی)

 

پس جو یتیم ہو اس پر قہر نہ کریں۔ (۹) اور جو سوال کرنے والا ہو اسے نہ جھڑکیں۔ (۱۰)

تشریح: فَاَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْہَرْ: بلکہ اس کی خبر گیری اور دلجوئی کر۔ جس طرح تم کو یتیمی کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے ٹھکانا دیا۔ تم دوسرے یتیموں کا ٹھکانا دو۔ اسی طرح کے مکارم اخلاق اختیار کرنے سے بندہ اللہ کے رنگ میں رنگا جاتا ہے۔ ”صبغۃ اللہ و من احسن من اللہ صبغۃ حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”انا وکافل الیتیم کھاتین ” ”واشار الی السبابۃ والوسطی۔ ”

وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْہَرْ :یعنی تم نادار تھے ، اللہ تعالیٰ نے غناء عطا فرمایا۔ اب شکر گزار بندے کا حوصلہ یہی ہونا چاہیے کہ مانگنے والوں سے تنگ دل نہ ہو اور حاجتمندوں کے سوال سے گھبرا کر جھڑکنے ڈانٹنے کا شیوہ اختیار نہ کرے۔ بلکہ فراخدلی اور خوش اخلاقی سے پیش آئے۔ احادیث میں سائلین کے مقابلہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وسعتِ اخلاق کے جو قصے منقول ہیں وہ بڑے سے بڑے مخالف کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا گرویدہ بنا دیتے ہیں (تنبیہ) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ سائل کے زجر کی ممانعت اس صورت میں ہے جب وہ نرمی سے مان جائے۔ ورنہ اگر اڑی لگا کر کھڑا ہو جائے اور کسی طرح نہ مانے اس وقت زجر جائز ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جو آپ کے رب کی نعمت ہے اسے بیان کریں۔ (۱۱)

تشریح: محسن کے احسانات کا بہ نیت شکر گذاری (نہ بقصد فخر و مباہات) چرچا کرنا شرعاً محمود ہے۔ لہٰذا جو انعامات اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرمائے ان کو بیان کیجئے۔ خصوصاً وہ نعمتِ ہدایت جس کا ذکر ”ووجدک ضالافھدی ” میں ہوا۔ اس کا لوگوں میں پھیلانا اور کھول کھول کر بیان کرنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرضِ منصبی ہے۔ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات وغیرہ کو جو حدیث کہا جاتا ہے۔ وہ اسی لفظ فحدث سے لیا گیا ہو۔ واللہ اعلم۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

 

 

۹۴۔ سُوْرَۃُ أَلَمْ نَشْرَحْ

 

                تعارف

 

 

 

جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کی عظیم ذمہ داریاں سونپی گئیں تو شروع میں آپ نے ان کا زبردست بوجھ محسوس کیا، اس بوجھ کی وجہ سے شروع میں آپ بے چین رہتے تھے ، لیکن پھر اللہ تعالی نے آپ کو وہ حوصلہ عطا فرمایا جس کے نتیجے میں آپ نے مشکل سے مشکل کام انتہائی اطمینان اور سکون کے ساتھ انجام دیئے ، اس صورت میں اللہ تعالی کے اسی انعام کا تذکرہ ہے۔

(توضیح القرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۸          رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا ؟ (۱) اور آپ سے آپ کا بوجھ اتار دیا۔ (۲) جس نے توڑ دی (جھکا دی) آپ کی پشت۔ (۳)

أَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ: کہ اس میں علوم و معارف کے سمندر اتار دیے اور لوازم نبوت اور فرائض رسالت برداشت کرنے کو بڑا وسیع حوصلہ دیا کہ بے شمار دشمنوں کی عداوت اور مخالفوں کی مزاحمت سے گھبرانے نہ پائیں (تنبیہ) احادیث و سیر سے ثابت ہے کہ ظاہری طور پر بھی فرشتوں نے متعدد مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ چاک کیا۔ لیکن مدلول آیت کا بظاہر وہ معلوم نہیں ہوتا۔ واللہ اعلم۔

وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ، الَّذِیْٓ أَنْقَضَ ظَہْرَکَ :وحی کا اترنا اول سخت مشکل تھا۔ پھر آسان ہو گیا۔ یا منصبِ رسالت کی ذمہ داریوں کو محسوس کر کے خاطر شریف پر گرانی گزرتی ہو گی۔ وہ رفع کر دی گئی۔ یا ”وزر” سے وہ امورِ مباحہ مراد ہوں جو گاہ بگاہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرین حکمت و صواب سمجھ کر لیتے تھے۔ اور بعد میں ان کا خلافِ حکمت یا خلاف اولیٰ ہونا ظاہر ہوتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوجہ علو شان اور غایت قرب کے اس سے ایسے ہی مغموم ہوتے تھے جس طرح کوئی گناہ سے مغموم ہوتا ہے تو اس آیت میں ان پر مواخذہ نہ ہونے کی بشارت ہوئی۔ کذاروی عن بعض السلف۔ اور حضرت شاہ عبدالعزیز لکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمتِ عالی اور پیدائشی استعداد جن کمالات و مقامات پر پہنچنے کا تقاضا کرتی تھی۔ قلب مبارک کو جسمانی ترکیب یا نفسانی تشویشات کی وجہ سے ان پر فائز ہونا دشوار معلوم ہوتا ہو گا۔ اللہ نے جب سینہ کھول دیا اور حوصلہ کشادہ کر دیا، وہ دشواریاں جاتی رہیں اور سب بوجھ ہلکا ہو گیا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور ہم نے آپ کا ذکر بلند کیا۔ (۴)

تشریح: یعنی پیغمبروں اور فرشتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بلند ہے۔ دنیا میں تمام سمجھدار انسان نہایت عزت و وقعت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہیں۔ اذان، اقامت، خطبہ، کلمہ طیبہ اور التحیات وغیرہ میں اللہ کے نام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا جاتا ہے اور خدا نے جہاں بندوں کو اپنی اطاعت کا حکم دیا ہے وہیں ساتھ کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کی تاکید کی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

پس بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔ (۵) بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔ (۶)

تشریح: یعنی اللہ کی رضا جوئی میں جو سختیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برداشت کیں اور رنج و تعب کھینچے۔ ان میں سے ہر ایک سختی کے ساتھ کئی کئی آسانیاں ہیں۔ مثلاً حوصلہ فراخ کر دینا جس سے ان مشکلات کا اٹھانا سہل ہو گیا، اور ذکر کا بلند کرنا، جس کا تصور بڑی بڑی مصیبتوں کے تحمل کو آسان کر دیتا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روحانی راحت دی اور روحانی کلفت رفع کر دی جیسا کہ ”الم نشرح” الخ سے معلوم ہوا تو اس سے دنیاوی راحت و محنت میں بھی ہمارے فضل و کرم کا امیدوار رہنا چاہیے ہم وعدہ کرتے ہیں کہ بیشک موجودہ مشکلات کے بعد آسانی ہونے والی ہے اور تاکید مزید کے لئے پھر کہتے ہیں کہ ضرور موجودہ سختی کے بعد آسانی ہو کر رہے گی۔ چنانچہ احادیث و سیر سے معلوم ہو چکا کہ وہ سب مشکلات ایک ایک کر کے دور کر دی گئیں۔ اور ہر ایک سختی اپنے بعد کئی کئی آسانیاں لے کر آئی۔ اب بھی عادۃ اللہ یہی ہے کہ جو شخص سختی پر صبر کرے اور سچے دل سے اللہ پر اعتماد رکھے اور ہر طرف سے ٹوٹ کر اسی سے لو لگائے۔ اسی کے فضل و رحمت کا امیدوار رہے ، امتدادِ زمانہ سے گھبرا کر آس نہ توڑ بیٹھے ضرور اللہ اس کے حق میں آسانی کرے گا۔ ایک طرح کی نہیں، کئی طرح کی، وفی الحدیث ”لن یغلب عسر یسرین” وفیہ ایضا ”لوجاالعسر فدخل ھٰذا الحجر لجاء الیسر حتی ید خل علیہ فیخرجہ”

(تفسیرعثمانی)

 

پس جب آپ فارغ ہوں تو (عبادت میں) محنت کریں۔ (۷) اور اپنے رب کی طرف رغبت کریں (دل لگائیں) (۸)

تشریح: ظاہر ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی مصروفیات تمام تر دین کے لئے تھی، تبلیغ ہو یا تعلیم، جہاد ہو یا حکمرانی، سارے کام ہی دین کے لئے ہونے کی وجہ سے بذات خود عبادت کا درجہ رکھتے تھے ، لیکن فرمایا جا رہا ہے کہ جب ان کاموں سے فراغت ہو تو خالص عبادت مثلاً نفلی نمازوں اور زبانی ذکر وغیرہ میں اتنے لگے کہ جسم تھکنے لگے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہوں ان کو بھی کچھ وقت خالص عبادتوں کے لئے مخصوص کرنا چاہئیے ، اسی سے اللہ تعالی کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے ، اور اسی سے دوسرے کاموں میں برکت پیدا ہوتی ہے۔

(توضیح القرآن)

٭٭

 

 

 

۹۵۔ سُوْرَۃُ التِّينِ

 

                تعارف

 

اس سورت میں تین امور بیان ہوئے ہیں (۱) نوع انسانی کی تکریم (۲) جب انسان انسانیت کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا اور ناشکرا پن کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اسے نیچوں سے بھی نیچے گرا دیا جاتا ہے ، البتہ ایمان اور عمل صالح والے اس پستی سے بچے رہتے ہیں (۳) وہ اللہ جو پانی کے ایک قطرے سے ایسا خوبصورت انسان پیدا کرسکتا ہے وہ انسان کو دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے ، ویسے بھی دوبارہ پیدا کرنا اور حساب و جزا اس کے حاکم اور عادل ہونے کا تقاضٰی ہے۔

(مختصر خلاصہ قرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۸          رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

!قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی۔ (۱) اور طور سینا کی۔ (۲) اور اس امن والے شہر کی۔ (۳)

تشریح: انجیر اور زیتون فلسطین اور شام میں زیادہ پیدا ہوتے ہیں، اس لئے ان سے فلسطین کے علاقہ کی طرف اشارہ ہے ، جہاں حضرت عیسیٰٰ علیہ السلام کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا، اور انہیں انجیل عطا فرمائی گئی تھی، اور صحرائے سینا کا پہاڑ طور وہ ہے جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات عطا فرمائی گئی تھی، اور اس امن والے شہر سے مراد مکہ مکرمہ ہے جہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا، اور آپ پر قرآن کریم نازل ہوا، ان تینوں کی قسم کھانے سے مقصود یہ ہے کہ جو بات آگے کہی جا رہی ہے وہ ان تینوں کتابوں میں درج ہے اور تینوں پیغمبروں نے اپنی اپنی امتوں کا بتائی ہے۔ (۲)

 

البتہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا۔ (۴) پھر ہم نے اسے سب نیچی (پست ترین) حالت میں لوٹا دیا۔ (۵)

ثم رددناہ: اکثر مفسرین نے اس آیت کا یہ مطلب بیا ن کیا ہے کہ ہر انسان بڑھاپے میں جا کر انتہائی خستہ حالت کو پہنچ جاتا ہے ، اس کی خوبصورتی بھی جاتی رہتی ہے ، اور طاقت بھی جواب دیتی ہے ، اور آئندہ کسی اچھی حالت کے واپس آنے کی انہیں کوئی امید نہیں ہوتی، کیونکہ وہ آخرت کے قائل ہی نہیں ہوتے ، البتہ نیک مسلمان چاہے اس بڑھاپے کی بُری حالت کو پہنچ جائیں، لیکن ان کو یہ یقین ہوتا ہے کہ یہ بری حالت عارضی ہے ، اور آگے دوسری زندگی آنے والی ہے جس میں انشاء اللہ انہیں بہترین نعمتیں میسر آئیں گی، یہ عارضی تکلیفیں ختم ہو جائیں گی، اس احساس کی وجہ سے ان کے بڑھاپے کی تکلیفیں بھی ختم ہو جاتی ہیں۔

 

سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے تو ان کے لئے ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ (۶)

پس تو اس کے بعد روز جزا و سزا کو کیوں جھٹلاتا ہے ؟ (۷) کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟ (۸)

تشریح: یعنی او آدمی! ان دلائل کے بعد کیا سبب ہے جس کی بناء پر سلسلہ جزاء و سزا کا انکار کیا جا سکتا ہے ؟ یا یہ خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہو گا۔ یعنی ایسے صاف بیانات کے بعد کیا چیز ہے جو منکرین کو جزاء کے معاملہ میں تمہاری تکذیب پر آمادہ کرتی ہے خیال کرو! انسان کو اللہ نے پیدا کیا اور بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا۔ اس کا قوام ایسی ترکیب سے بنایا کہ اگر چاہے تو نیکی اور بھلائی میں ترقی کر کے فرشتوں سے آگے نکل جائے ، کوئی مخلوق اس کی ہمسری نہ کر سکے۔ چنانچہ اس کے کامل نمونے دنیا نے شام، بیت المقدس، کوہ طور اور مکہ معظمہ میں اپنے اپنے وقت پر دیکھ لئے جن کے نقشِ قدم پر اگر آدمی چلیں تو انسانی کمالات اور دارین کی کامیابی کے اعلیٰ ترین مقامات پر پہنچ جائیں۔ لیکن انسان خود اپنی بدتمیزی اور بد عملی سے ذلت و ہلاکت کے گڑھے میں گرتا اور اپنی پیدائشی بزرگی کو گنوا دیتا ہے۔ کسی ایماندار اور نیکوکار انسان کو اللہ تعالیٰ خواہ مخواہ نیچے نہیں گراتا بلکہ اس کے تھوڑے عمل کا بے اندازہ صلہ مرحمت فرماتا ہے۔ کیا ان حالات کے سننے کے بعد بھی کسی کا منہ ہے و دینِ فطرت کے اصول اور جزاء و سزا کے ایسے معقول قاعدوں کو جھٹلا سکے ؟ ہاں ایک ہی صورت تکذیب و انکار کی ہو سکتی ہے کہ دنیا کو یونہی ایک بے سرا کارخانہ فرض کر لیا جائے۔ جس پر نہ کسی کی حکومت ہو نہ یہاں کوئی آئین و قانون جاری ہو، نہ کسی بھلے مرے پر کوئی گرفت کر سکے ، اس کا جواب آگے دیتے ہیں ”الیس اللّٰہ باحکم الحکمین۔ ”

اَلَیْسَ اللہُ بِاَحْکَمِ الحَاکِمِیْن :یعنی اس کی شہنشاہی کے سامنے دنیا کی سب حکومتیں ہیچ ہیں۔ جب یہاں کی چھوٹی چھوٹی حکومتیں اپنے وفاداروں کو انعام اور مجرموں کو سزا دیتی ہیں تو اس احکم الحاکمین کی سرکار سے یہ توقع کیوں نہ رکھی جائے۔

(تفسیرعثمانی)

 

ابو داؤد اور ترمذی کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے پڑھنے کے وقت یہ کہنا مستحب ہے کہ‘‘ بَلٰی وانَا عَلٰی ذٰلِکَ مِنَ ا لشَّاہِدِیْنَ’’ (کیوں نہیں؟ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی سارے حکمرانوں سے بڑھ کر حکمران ہے )

(توضیح القرآن)

٭٭

 

 

 

 

۹۶۔ سُوْرَۃُ عَلَقٍ

 

                تعارف

 

اس سورت کی پہلی پانچ آیتیں سب سے پہلی وحی ہے ، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر غارِ حرا میں نازل ہوئی، آپ نبوت سے پہلے کئی کئی دن اس غار میں عبادت کیا کرتے تھے ، ایک روز اسی دوران حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے ، اور آپ کو دبایا اور کہا کہ ’’پڑھو‘‘ آپ نے فرمایا کہ’’ میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘ یہ مکالمہ تین مرتبہ ہوا، پھر حضرت جبرئیل نے یہ پانچ آیتیں پڑھیں۔

اس کے بعد سورت کے آخر تک جو آیتیں ہیں، وہ غار حرا ء کے مذکورہ بالا واقعے کے کافی بعد نازل ہوئی تھیں، اور ان کا واقعہ یہ ہے کہ ابوجہل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت دشمن تھا، ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حرم میں نماز پڑھ رہے تھے ، اس نے آپ کو نماز پڑھنے سے منع کیا، اور یہ بھی کہا کہ اگر آپ نے نماز پڑھی تو میں (معاذاللہ) آپ کی گردن کو پاؤں سے کچل دوں گا، اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئی تھیں۔

(توضیح القرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۱۹         رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

پڑھئے اپنے رب کے نام سے جس نے (سب کو) پیدا کیا۔ (۱) انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ (۲) پڑھئے اور آپ کا رب سب سے بڑا کریم ہے۔ (۳) جس نے قلم سے سکھایا۔ (۴) انسان کو سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔ (۵)

تشریح: یہ پانچ آیتیں (اقرا سے مالم یعلم تک) قرآن کی سب آیتوں اور سورتوں سے پہلے اتریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”غارِ حرا”میں خدائے واحد کی عبادت کر رہے تھے کہ اچانک حضرت جبرئیل علیہ السلام وحی لے کر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا ”اقرا” (پڑھیے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”ماانا بقاری (میں پڑھا ہوا نہیں) جبرائیل علیہ السلام نے کئی بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زور زور سے دبایا، اور بار بار وہی لفظ ”اقرا” کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہی ”ما انا بقاری ” جواب دیتے رہے۔ تیسری مرتبہ جبرئیل علیہ السلام نے زور سے دبا کر کہا۔ ”اقرا باسم ربک ” بعنی اپنے رب کے نام کی برکت اور مدد سے پڑھیے۔ مطلب یہ ہے کہ جس رب نے ولادت سے اس وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک عجیب اور نرالی شان سے تربیت فرمائی جو پتہ دیتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بہت بڑا کام لیا جانے والا ہے کیا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ادھر میں چھوڑ دے گا؟ ہرگز نہیں۔ اسی کے نام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہو گی جس کی مہربانی سے تربیت ہوئی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

ہرگز نہیں بیشک انسان تو سرکشی کرتا ہے۔ (۶) اگر اپنے تئیں غنی (بے پروا) دیکھتا ہے۔ (۷) بے شک اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ (۸)

کیا آپ نے اسے دیکھا جو روکتا ہے۔ (۹) ایک بندہ کو جب وہ نماز پڑھے۔ (۱۰) بھلا دیکھو اگر یہ ہدایت پر ہوتا۔ (۱۱) یا پرہیزگاری کا حکم دیتا۔ (۱۲)

بھلا دیکھیں اگر اس نے جھٹلایا اور منہ موڑا۔ (۱۳) کیا اس نے نہ جانا کہ اللہ دیکھ رہا ہے ؟ (۱۴)

ہرگز نہیں اگر باز نہ آیا تو پیشانی کے بالوں سے (پکڑ کر) ہم ضرور گھسیٹیں گے۔ (۱۵) کیسی پیشانی ؟ جھوٹی گنہگار۔ (۱۶) تو وہ بلا لے اپنی مجلس (جتھے ) کو۔ (۱۷) ہم بلاتے ہیں پیادوں کو۔ (۱۸)

تشریح: شروع میں ابوجہل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز سے روکا تھا تو آپ نے اسے جھڑک دیا تھا، اس پر ابوجہل نے کہا تھا کہ مکہ میں میری مجلس میں بڑا مجمع ہوتا ہے ، وہ سب میرے ساتھ ہیں، اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ اگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے کے لئے اپنی مجلس والوں کو بلائے گا توہم دوزخ کے فرشتوں کو بلا لیں گے ، بعض روایتوں میں ہے کہ ابوجہل آپ کو تکلیف پہنچانے کے لئے بڑھا تو تھا لیکن پھر رک گیا ورنہ فرشتے اس کی بوٹیاں بوٹیاں نوچ ڈالتے (الدر لمنثور)

(توضیح القرآن)

 

نہیں نہیں اس کی بات نہ مان اور تو سجدہ کر اور نزدیک ہو ! (۱۹)

تشریح: یہ بڑا پیار بھرا فقرہ ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو سجدے کی حالت میں اللہ تعالی کا خاص قرب عطا ہوتا ہے ، یہ آیت سجدے کی آیت ہے اور اس کی تلاوت کرنے اور سننے والے پر سجدۂ تلاوت واجب ہو جاتا ہے۔

(توضیح القرآن)

٭٭

 

 

 

۹۷۔ سُوْرَۃُ الْقَدْر

 

                تعارف

 

ابن ابی حاتم نے مجاہد سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک مجاہد کا حال ذکر کیا جو ایک ہزار مہینے تک مسلسل مشغولِ جہاد رہا کبھی ہتھیار نہیں اتارے ، مسلمانوں کو یہ سن کر تعجب ہو ا، اس پر سورۂ قدر نازل ہوئی، جس میں اس امت کے لئے صرف ایک رات کی عبادت کو اس مجاہد کی عمر بھر کی عبادت یعنی ایک ہزار مہینے سے بہتر قرار دیا، اور ابن جریر نے بروایت مجاہد ایک دوسرا واقعہ یہ ذکر کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک عابد کا یہ حال تھا کہ ساری رات عبادت میں مشغول رہتا اور صبح ہوتے ہی جہاد کے لئے نکل کھڑا ہوتا، دن بھر جہاد میں مشغول رہتا، ایک ہزار مہینے اس نے اسی مسلسل عبادت میں گزار دئے ، اس پر اللہ تعالی نے سورۂ قدر نازل فرما کر اس امت کی فضیلت سب پر ثابت فرما دی، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شب قدر امت محمدیہ کی خصوصیات میں سے ہے۔

(مظہری، از معارف القرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۵          رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

بیشک ہم نے یہ (قرآن) اتارا لیلۃ القدر میں۔ (۱)

تشریح: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ پورا قرآن لوحِ محفوظ سے اس رات میں اتارا گیا، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام اسے تھوڑا تھوڑا کر کے تئیس سال تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کرتے رہے ، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم کا نزول سب سے پہلے شبِ قدر میں شروع ہوا، شبِ قدر رمضان کی آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کسی رات میں ہوتی ہے ، یعنی اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں، یا انتیسویں رات میں

(توضیح القرآن)

 

اور آپ کیا سمجھے “لیلۃ القدر” کیا ہے ؟” (۲) لیلۃ القدر” ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ (۳)

تشریح: یعنی اس ایک رات میں عبادت کرنے کا ثواب ایک ہزار راتوں میں عبادت کرنے سے بھی زیادہ ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اس میں اترتے ہیں فرشتے اور روح (روح الامین) اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے انتظام کے لئے۔ (۳)

تشریح: اس رات میں فرشتوں کے اترنے کے دو مقصد ہوتے ہیں ایک یہ کہ اس رات جو لوگ عبادت میں مشغول ہوتے ہیں فرشتے ان کے حق میں رحمت کی دعا کرتے ہیں اور دوسرا مقصد آیتِ کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی اس رات میں سال بھر کے فیصلے فرشتوں کے حوالے فرما دیتے ہیں، تاکہ وہ اپنے اپنے وقت پر ان کی تعمیل کرتے رہیں ’’ہر کام اترنے ‘‘کا یہی مطلب مفسرین نے بیان فرمایا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

طلوع فجر تک یہ رات سلامتی (ہی سلامتی) ہے۔ (۴)

تشریح: لیلۃ القدر کی یہ برکات رات کے کسی خاص حصہ کے ساتھ مخصوص نہیں، شروع رات سے طلوع فجر تک ایک ہی حکم ہے۔

(معارف القرآن)

 

(تنبیہ) قرآن سے معلوم ہوا کہ وہ رات رمضان شریف میں ہے ” شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن۔ ” اور حدیث صحیح میں بتلایا کہ رمضان کے اخیر عشرہ میں خصوصاً عشرہ کی طاق راتوں میں اس کو تلاش کرنا چاہئے ، پھر طاق راتوں میں بھی ستائیسویں شب پر گمان غالب ہوا ہے۔ واللہ اعلم۔ بہت سے علماء نے تصریح کی ہے کہ ”شب قدر” ہمیشہ کے لئے کسی ایک رات میں متعین نہیں۔ ممکن ہے ایک رمضان میں کوئی رات ہو، دوسرے میں دوسری۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

 

 

۹۸۔ سُوْرَۃُ الْبَيِّنَۃُ

 

                تعارف

 

اس سورت میں تین امور سے بحث کی گئی ہے (۱) اہل کتاب کا خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے بارے میں موقف، یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا انتظار کر رہے تھے ، لیکن ان کا یہ خیال تھا کہ آخری نبی بنی اسرائیل میں سے ہو گا، لیکن جب ایسا نہ ہوا تو انہوں نے آپ کی نبوت کو جھٹلا دیا، اس سورت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بینہ اور واضح حجت اور دلیل قرار دیا گیا ہے۔ (۲) یہ سورت دین و ایمان کی بنیاد کی نشاندہی کرتی ہے اور وہ ہے اخلاص، کوئی عمل بغیر ایمان کے اور ایمان بغیر اخلاص کے معتبر نہیں، ہر نبی نے اپنی امت کو اس بنیاد کی دعوت دی۔ (۳) یہ سورت اشقیاء اور سعداء یعنی کافروں اور مؤمنوں دونوں کا انجام بیان کرتی ہے۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَدَنِیَّۃٌ

آیات:۸          رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

جن لوگوں نے کفر کیا اہل کتاب اور مشرکوں میں سے ، باز آنے والے نہ تھے یہاں  تک کہ ان کے پاس کھلی دلیل آئے۔ (۱) اللہ کا رسول پاکیزہ صحیفے پڑھتا ہوا۔ (۲) اس میں لکھے ہوئے مضبوط (احکام) ہوں۔ (۳)

تشریح: ان آیتوں میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر بنا کر بھیجنے کی وجہ بتائی جا رہی ہے ، اور وہ یہ کہ جاہلیت کے زمانے میں جو کافر لوگ تھے ، چاہے وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا بت پرستوں میں سے ، وہ اس وقت تک اپنے کفر سے باز نہیں آسکتے تھے جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں ایک روشن دلیل ان کے سامنے نہ آ جاتی، چنانچہ جن لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں پر کھلے دل سے غور کیا، وہ واقعی اپنے کفر سے توبہ کر کے ایمان لے آئے ، البتہ جن کی طبیعت میں ضد تھی وہ اس نعمت سے محروم رہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور اہل کتاب فرقہ فرقہ نہ ہوئے مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس آ گئی کھلی دلیل۔ (۴)

تشریح: یہ ان اہل کتاب کی بات ہو رہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے روشن دلائل دیکھنے کے بعد بھی آپ پر ایمان نہیں لائے ، مطلب یہ ہے کہ آپ کی تشریف آوری کو ایک نعمت سمجھنے کے بجائے ان لوگوں نے ضد کی وجہ سے آپ کی بات نہیں مانی اور الگ الگ راستہ اختیار کر لیا، حالانکہ ان کے پاس روشن دلیل آ چکی تھی۔

(توضیح القرآن)

 

اور انہیں صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اس کے لئے خالص کرتے ہوئے دین (بندگی)۔ یک رخ ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور یہی مضبوط دین ہے۔ (۵)

تشریح: یعنی ہر قسم کے باطل اور جھوٹ سے علیحدہ ہو کر خالص خدائے واحد کی بندگی کریں اور ابراہیم علیہ السلام حنیف کی طرح سب طرف سے ٹوٹ کر اسی ایک مالک کے غلام بن جائیں۔ تشریع و تکوین کے کسی شعبہ میں کسی دوسرے کو خود مختار نہ سمجھیں۔ یہ چیزیں ہر دین میں پسندیدہ رہی ہیں، انہی کی تفصیل یہ پیغمبر کرتا ہے۔ پھر خدا جانے ایسی پاکیزہ تعلیم سے کیوں وحشت کھاتے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اہل کتاب اور مشرکوں میں سے وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی لوگ بدترین مخلوق ہیں۔ (۶)

تشریح: یعنی علم کا دعویٰ رکھنے والے اہلِ کتاب ہوں، یا جاہل مشرک، حق کا انکار کرنے پر سب کا انجام ایک ہے ، وہی دوزخ جس سے کبھی چھٹکارا نہیں۔ یہی لوگ بدترین مخلوق ہیں، بہائم سے بھی زیادہ ذلیل اور بدتر۔ کما قال فی سورۃ ”الفرقان”” ان ھم الا کالانعام بل ھم اضل سبیلا۔ ”

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل کئے نیک۔ یہی لوگ بہترین مخلوق ہیں۔ (۷)

تشریح: یعنی جو لوگ سب رسولوں اور کتابوں پر یقین لائے اور بھلے کاموں میں لگے رہے وہی بہترین، خلائق ہیں حتی کہ ان میں سے بعض افراد بعض فرشتوں سے آگے نکل جاتے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

ان کی جزا ان کے رب کے پاس ہمیشہ رہنے والے باغات ہیں، ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا، اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہ اس کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرے ! (۸)

تشریح: یعنی جنت کے باغوں اور نہروں سے بڑھ کر رضاء مولیٰ کی دولت ہے۔ بلکہ جنت کی تمام نعمتوں کی اصلی روح یہی ہے۔ یہ مقام بلند ہر ایک کو نہیں ملتا۔ صرف ان بندوں کا حصہ ہے جو اپنے رب کی ناراضی سے ڈرتے ہیں۔ اور اس کی نافرمانی کے پاس نہیں جاتے۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

۹۹۔ سُوْرَۃُ الزِّلْزَالِ

 

                تعارف

 

اِس  سورت میں زلزلے کی خبر دی گئی ہے ، جو قیامت سے پہلے واقع ہو گا، اور سارے انسان اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور زمین انسان کے اعمال پر گواہی دے گی، لوگ حساب و کتاب کے لئے اللہ کے سامنے پیش ہوں گے ، پھر ان کے اعمال کے مطابق انہیں دو قسموں میں تقسیم کیا جائے گا، بعض شقی ہوں گے اور بعض سعید، اور ان میں سے ہر ایک اپنے چھوٹے بڑے اعمال کی جزا دیکھ لے گا۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَدَنِیَّۃٌ

آیات:۸          رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

جب زمین زلزلہ سے ہلا ڈالی جائے گی۔ (۱) اور اپنے بوجھ باہر نکال ڈالے گی۔ (۲) اور کہے گا انسان اس کو کیا ہو گیا ؟ (۳)

تشریح: یعنی سارے مردے جو زمین میں دفن ہیں، وہ باہر آ جائیں گے اور زمین میں جو خزانے دفن ہیں، زمین ان کو بھی اگل دے گی۔ ایک حدیث میں ہے کہ جس کسی نے مال کی خاطر کسی کو قتل کیا ہو گا، یا جس نے مال و دولت کی خاطر رشتہ داروں کا حق پامال کیا ہو گا، یا اس کی خاطر چوری کی ہو گی، وہ اس مال کو دیکھ کر یہ کہے گا کہ یہ ہے وہ مال جس کی وجہ سے میں نے یہ گناہ کئے تھے پھر کوئی بھی اس سونے اور چاندی کی طرف توجہ نہیں دے گا۔

(توضیح القرآن)

 

اس دن وہ اپنے حالات بیان کرے گی۔ (۴) کیونکہ تیرے رب نے اسے حکم بھیجا ہو گا۔ (۵)

تشریح: زمین پر کسی نے جو اچھے یا بُرے عمل کئے ہوں گے زمین ان کی گواہی دے گی۔

(توضیح القرآن)

 

اس دن لوگ گروہ در گروہ باہر نکلیں گے تاکہ وہ ان کے عمل ان کو دکھا دے۔ (۶)

تشریح: نیک لوگوں کو اپنی نیکیوں کا انعام دکھا دیا جائے گا اور برے لوگوں کو ان کے اعمال کی سزا دکھادی جائے گی۔

(توضیح القرآن)

 

پس جس نے کی ہو گی ایک ذرہ برابر نیکی وہ اسے دیکھ لے گا۔ (۷) اور جس نے کی ہو گی ایک ذرہ برابر برائی وہ اسے دیکھ لے گا ! (۸)

تشریح: بُرائی سے مراد وہ بُرائی ہے جس سے کسی شخص نے دنیاوی زندگی میں اس سے توبہ نہ کی ہو، کیونکہ سچی توبہ سے گناہ معاف ہو کر ایسے ہو جاتے ہیں جیسے وہ کئے ہی نہیں تھے اور سچی توبہ میں یہ بات بھی داخل ہے کہ جس گناہ کی تلافی ممکن ہو اس کی تلافی بھی کی جائے ، مثلاً کسی کا حق ہے تو اسے دے دیا جائے ، یا اس سے معاف کرا لیا جائے ،  یا  فرائِض چھوٹے ہیں تو ان کی قضا کر لی جائے۔

(توضیح القرآن)

٭٭

 

 

۱۰۰۔ سُوْرَۃُ الْعَادِيَاتِ

 

                تعارف

 

اس سورت میں تین اہم مضامین بیان ہوئے ہیں: (۱) مجاہدین کے گھوڑوں کی قسم کھا کر فرمایا گیا کہ انسان بڑا نا شکر ہے ، اور اس کے ناشکرا ہونے پر خود اس کے اعمال گواہ ہیں (۲) انسان کی فطرت اور طبیعت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ مال کی محبت میں بڑا سخت ہے ، اس کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو دوسری کی تلاش کرتا ہے ، اور دوسری ہو تو تیسری تلاش کرتا ہے ، اور اس کے منہ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ (۳) انسان کو ان اعمال صالحہ پر برانگیختہ کیا گیا ہے جو اسے اس وقت فائدہ دیں گے جب اسے حساب و جزا کے لئے پیش کیا جائے گا، اور بندوں کے سینوں میں جو راز ہیں آشکارا کر دئیے جائیں گے۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۱۱         رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

قسم ہے دوڑنے والے ہانپتے ہوئے گھوڑوں کی۔ (۱) (سُم) جھاڑ کر چنگاریاں اڑانے والوں کی۔ (۲) صبح کے وقت غارتگری کرنے والوں کی۔ (۳) پھر اس سے گرد اڑاتے ہوئے۔ (۴) پھر اس وقت فوج میں گھس جانے والے۔ (۵)

تشریح: اس سے مراد وہ جنگی گھوڑے ہیں جن پر سوار ہو کر اس زمانہ میں لڑائیاں لڑی جاتی تھیں، اس کی قسم کھانے میں یہ اشارہ ہے کہ یہ گھوڑے اپنے مالکوں کے اتنے وفادار ہوتے تھے کہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اپنے مالکوں کے حکم کی تعمیل بھی کرتے تھے ، اور ان کی جان کی حفاظت بھی، اللہ تعالی نے اتنے مضبوط جانور کو انسان کا ایسا تابع اور وفادار بنا دیا ہے ، گنہگار انسان کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ اپنے مالک اور خالق کے اس احسان کا شکر ادا کرنے کے بجائے اس کی نافرمانی کرتا ہے اور اپنے پروردگار کا اتنا بھی وفادار نہیں جتنے اس کے گھوڑے اس کے وفادار ہوتے ہیں، چنانچہ اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ انسان یعنی گنہگار انسان بڑا ناشکرا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ (۶) اور بے شک وہ اس پر گواہ ہے۔ (۷) اور بے شک وہ مال کی محبت میں سخت ہے۔ (۸)

تشریح: بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے :یعنی اس کا طرز عمل گواہی دیتا ہے کہ وہ ناشکرا ہے۔ اور بے شک وہ مال کی محبت میں سخت ہے۔ اس سے مراد مال کی وہ محبت ہے جو انسان کو اپنے دینی فرائض سے غافل کر دے ، یا گناہ میں مبتلا کر دے۔

(توضیح القرآن)

 

کیا وہ نہیں جانتا جب اٹھائے جائیں گے (مردے ) جو قبروں میں ہیں ؟ (۹) اور وہ سامنے آ جائے گا جو سینوں میں ہے۔ (۱۰) بیشک ان کا رب اس دن ان سے خوب باخبر ہے ! (۱۱)

یعنی مردوں کو قبروں سے نکال دیا جائے گا، اور لوگوں کے سینوں میں چھپے راز کھل جائیں گے۔

(توضیح القرآن)

 

إِنَّ رَبَّہُمْ بِہِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيْرٌ :یعنی ہر چند کہ اللہ کا علم ہر وقت بندے کے ظاہر و باطن پر محیط ہے۔ لیکن اس روز اس کا علم ہر شخص پر ظاہر ہو جائے گا۔ اور کسی کو گنجائش انکار کی نہ رہے گی۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

 

                سورۃ ۱۰۱؟

 

 

۱۰۲۔ سُوْرَۃُ التَّکَاثُرِ

 

                تعارف

 

اس سورت میں ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو صرف دنیا کی زندگی کو اپنا مقصد بنا لیتے ہیں اور دنیا کا ایندھن جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں، ان کے انہماک کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ انہیں دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے ، لیکن پھر اچانک موت آ جاتی ہے ، جس کی وجہ سے ان کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور انہیں قصر سے قبر کی طرف منتقل ہونا پڑتا ہے ، ان لوگوں کو ڈرایا گیا کہ قیامت کے دن تمام اعمال کے بارے میں سوال ہو گا، پھر تم جہنم کو ضرور دیکھو گے اور تم سے اللہ کی نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ امن، فراغت، اکل و شرب، مسکن، علم اور مال و دولت جیسی نعمتوں کو کہاں استعمال کیا؟

(خلاصہ قرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۸          رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

تمہیں حصول کثرت کی خواہش نے غفلت میں رکھا۔ (۱) یہاں تک کہ تم نے قبروں کی زیارت کر لی (دیکھ لیں)۔ (۲) ہرگز نہیں تم عنقریب جان لو گے۔ (۳) پھر ہرگز نہیں تم جلد جان لو گے۔ (۴)

تشریح: أَلْہَاكُمُ التَّکَاثُرُ :یعنی مال و اولاد کی کثرت اور دنیا کے سازو سامان کی حرص آدمی کو غفلت میں پھنسائے رکھتی ہے۔ نہ مالک کا دھیان آنے دیتی ہے نہ آخرت کی فکر۔ بس شب و روز یہی دھن لگی رہتی ہے کہ جس طرح بن پڑے مال و دولت کی بہتات ہو، اور میرا کنبہ اور جتھا سب کنبوں اور جتھوں سے غالب رہے۔ یہ پردہ غفلت کا نہیں اٹھتا یہاں تک کہ موت آ جاتی ہے۔ تب قبر میں پہنچ کر پتہ لگتا ہے کہ سخت غفلت اور بھول میں پڑے ہوئے تھے محض چند روز کی چہل پہل تھی۔ موت کے بعد وہ سب سامان ہیچ بلکہ و بالِ جان ہیں۔

ثُمَّ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ :دیکھو بار بار بتاکید کہا جاتا ہے کہ تمہارا خیال صحیح نہیں کہ مال و اولاد وغیرہ کی بہتات ہی کام آنے والی چیز ہے۔ عنقریب تم معلوم کر لو گے کہ یہ زائل و فانی چیز ہرگز فخر و مباہات کے لائق نہ تھی پھر سمجھ لو کہ آخرت ایسی چیز نہیں جس سے انکار کیا جائے یا غفلت برتی جائے۔ آگے چل کر تم پر بہت جلد کھل جائے گا کہ خواب سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی، یہ حقیقت بعض لوگوں کو دنیا میں تھوڑی بہت کھل جاتی ہے لیکن قبر میں پہنچ کر اور اس کے بعد محشر میں سب کو پوری طرح کھل جائے گی۔

(تفسیرعثمانی)

 

ہرگز نہیں کاش تم علم یقین سے جان لیتے۔ (۵)

تشریح: یعنی تمہارا خیال ہرگز صحیح نہیں اگر تم یقینی طور پر دلائل صحیحہ سے اس بات کو جان لیتے کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کے سب سامان ہیچ ہیں تو ہرگز اس غفلت میں پڑے نہ رہتے۔

(تفسیرعثمانی)

 

تم ضرور دیکھو گے جہنم کو۔ (۶) پھر تم اسے ضرور یقین کی آنکھ سے دیکھو گے۔ (۷)

تشریح: یعنی اس غفلت و انکار کا نتیجہ دوزخ ہے ، وہ تم کو دیکھنا پڑے گا۔ اول تو اس کا کچھ اثر برزخ میں نظر آ جائے گا۔ پھر آخرت میں پوری طرح دیکھ کر عین الیقین حاصل ہو جائے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

پھر تم اس دن ضرور پوچھے جاؤ گے (بازپرس ہو گی) نعمتوں کی بابت ! (۸)

تشریح: یعنی اس وقت کہیں گے اب بتلاؤ! دنیا کے عیش و آرام کی کیا حقیقت تھی۔ یا اس وقت سوال کیا جائے گا کہ جو نعمتیں (ظاہری و باطنی، آفاقی وانفسی، جسمانی و روحانی) دنیا میں عطا کی گئی تھیں ان کا حق تم نے کیا ادا کیا اور منعمِ حقیقی کو کہاں تک خوش رکھنے کی سعی کی۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

 

 

۱۰۳۔ سُوْرَۃُ الْعَصْرِ

 

                تعارف

 

سورۂ عصر قرآنِ کریم کی بہت مختصر سورت ہے لیکن ایسی جامع ہے کہ بقول امام شافعی ؒ اگر لوگ اسی صورت کو غور و تدبر کے ساتھ پڑھ لیں تو دین و دنیا کی درستی کے لئے کافی ہو جائے ، اس صورت میں حق تعالی نے زمانہ کی قسم کھا کر فرمایا کہ نوعِ انسانی بڑے خسارے میں ہے اور اس خسارے سے مستثنی صرف وہ لوگ ہیں جو چار چیزوں کے پابند ہو ں: ایمان، عملِ صالح، دوسروں کو حق کی نصیحت اور صبر کرنے کی وصیت، دین و دنیا کے خسارے سے بچنے اور نفع عظیم حاصل کرنے کا یہ قرآنی نسخہ چار اجزاء سے مرکب ہے جن میں پہلے دو جز اپنی ذات کی اصلاح کے متعلق ہیں اور دوسرے دو جز دوسرے مسلمانوں کی ہدایت و اصلاح سے متعلق ہیں۔

(معارف القرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۳          رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو بہت مہربان، رحم والا ہے

 

زمانہ کی قسم۔ (۱) بیشک انسان خسارے میں ہے۔ (۲)

تشریح: یعنی زمانے کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جو لوگ ایمان اور نیک عمل سے محروم ہوتے ہیں، وہ بڑے گھاٹے میں ہیں اس لئے کہ ایسی بہت سی قوموں کو دنیا ہی میں آسمانی عذاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اور ہر زمانے میں اللہ کی نازل کی ہوئی کتابیں اور اللہ تعالی کے بھیجے ہوئے پیغمبر خبر دار کرتے رہے ہیں کہ اگر ایمان اور نیک عمل کی رَوِش اختیار نہ کی گئی تو آخرت میں بڑا سخت عذاب انسان کا منتظر ہے۔

(توضیح القرآن)

 

سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے اور انہوں نے ایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور صبر کی وصیت (تلقین) کی ! (۴)

تشریح: یعنی انسان کو خسارہ سے بچنے کے لئے چار باتوں کی ضرورت ہے۔ اول خدا اور رسول پر ایمان لائے اور ان کی ہدایات اور وعدوں پر خواہ دنیا سے متعلق ہوں یا آخرت سے ، پورا یقین رکھے۔ دوسرے اس یقین کا اثر محض اپنی انفرادی صلاح و فلاح پر قناعت نہ کرے بلکہ قوم و ملت کے اجتماعی مفاد کو پیشِ نظر رکھے۔ جب دو مسلمان ملیں ایک دوسرے کو اپنے قول و فعل سے سچے دین اور ہر معاملہ میں سچائی اختیار کرنے کی تاکید کرتے رہیں۔ چوتھے ہر ایک کو دوسرے کی یہ نصیحت و وصیت رہے کہ حق کے معاملہ میں اور شخصی و قومی اصلاح کے راستہ میں جس قدر سختیاں اور دشواریاں پیش آئیں یا خلافِ طبع امور کا تحمل کرنا پڑے ، پورے صبر و استقامت سے تحمل کریں، ہرگز قدم نیکی کے راستہ میں ڈگمگانے نہ پائے۔ جو خوش قسمت حضرات ان چار اوصاف کے جامع ہوں گے اور خود کامل ہو کر دوسروں کی تکمیل کریں گے ان کا نام صفحاتِ دہر پر زندہ جاوید رہے گا۔ اور جو آثار چھوڑ کر دنیا سے جائیں گے وہ بطور باقیاتِ صالحات ہمیشہ ان کے اجر کو بڑھاتے رہیں گے۔ فی الحقیقت یہ چھوٹی سی سورت سارے دین و حکمت کا خلاصہ ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اس سے معلوم ہوا کہ خود نیک بن جانا ہی کافی نہیں ہے ، بلکہ اپنے اپنے اثرو رسوخ کے دائرے میں دوسروں کو حق بات اور صبر کی تلقین کرنا بھی ضروری ہے ، صبر قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کی دلی خواہشات اسے کسی فریضے کی ادائیگی سے روک رہی ہوں یا کسی گناہ پر آمادہ کر رہی ہوں اس وقت ان خواہشات کو کچلا جائے ، اور جب کوئی ناگوار بات سامنے آئے تو اللہ تعالی کے فیصلے پر اعتراض سے اپنے آپ کو روکا جائے ، ہاں تقدیر کا شکوہ کئے بغیر اس ناگوار چیز کے تدارک کی جائز تدبیر کرنا صبر کے خلاف نہیں ہے۔

(توضیح القرآن)

٭٭

 

 

 

۱۰۴۔ سُوْرَۃُ الہُمَزَۃِ

 

                تعارف

 

اس سورت میں انسان کی تین بیماریوں کی نشاندہی کی گئی ہے ، پہلی بیماری ہے پس پشت کسی کے عیب بیان کرنا، اسے غیبت بھی کہتے ہیں او غیبت بدترین گناہ ہے۔ دوسری بیماری ہے کسی کو اس کے سامنے اس کے حسب ونسب، دین و مذہب اور شکل و صورت کا طعنہ دینا، اس کا مذاق اڑانا، یہ منافقین کی عادت تھی، وہ غریب مسلمانوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے ، یوں ہی یہود و نصاریٰ دین حق کا مذاق اڑاتے ہیں۔ تیسری بیماری ہے حب دنیا، جس میں مبتلا ہو کر انسان حقوق اللہ بھی بھول جاتا ہے اور حقوق العباد بھی بھول جاتا ہے ، اور ا سکے دل میں اللہ کی محبت کے لئے کوئی جگہ نہیں رہتی۔ سورت کے اختتام پر ان اشقیاء کا انجام بتلایا گیا ہے جو ان بیماریوں میں مبتلا ہوں گے۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۹          رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

خرابی ہے ہر طعنہ زن عیب جو کے لئے۔ (۱)

تشریح: پیٹھ پیچھے کسی کا عیب بیان کرنا غیبت ہے ، جسے قرآن کریم میں نہایت گھناؤنا گناہ قرار دیا گیا ہے ، اور کسی کے منہ پر طعنہ دینا جس سے اس کی دل آزاری ہو اس سے بھی بڑا گناہ ہے۔

(توضیح القرآن)

 

جس نے مال جمع کیا اور اسے گن گن کر رکھا۔ (۲) وہ گمان کرتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ رکھے گا۔ (۳)

تشریح: یعنی طعنہ زنی اور عیب جوئی کا منشاء تکبر اور تکبر کا سبب مال ہے جس کو مارے حرص کے ہر طرف سے سمیٹتا اور مارے بخل کے گن گن کر رکھتا ہے کہ کوئی پیسہ کہیں خرچ نہ ہو جائے یا نکل کر بھاگ نہ جائے۔ اکثر بخیل مالداروں کو دیکھا ہو گا کہ وہ بار بار روپیہ شمار کرتے اور حساب لگاتے رہتے ہیں۔ اسی میں ان کو مزہ آتا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

جائز طریقہ سے مال حاصل کرنا کوئی گناہ نہیں ہے لیکن اس کی ایسی محبت کہ ہر وقت انسان اسی کی گنتی میں لگا رہے ، اسے گناہ پر آمادہ کر دیتی ہے اور جب کسی شخص پر مال کی محبت اس طرح سوار ہو جائے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ میری ہر مشکل اسی مال کے ذریعہ آسان ہو گی اور موت سے غافل ہو کر دنیا داری کے منصوبے اس طرح بناتا رہتا ہے جیسے یہ مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔

(توضیح القرآن)

 

ہرگز نہیں وہ ضرور “حطمہ” میں ڈالا جائے گا۔ (۴)

تشریح: یعنی یہ خیال محض غلط ہے۔ مال تو قبر تک بھی ساتھ نہ جائے گا۔ آگے تو کیا کام آتا۔ سب دولت یونہی پڑی رہ جائے گی۔ اور اس بدبخت کو اٹھا کر دوزخ میں پھینک دیں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور تم کیا سمجھے “حطمہ” کیا ہے ؟ (۵) اللہ کی آگ بھڑکائی ہوئی۔ (۶) جو دلوں تک جا پہنچے گی۔ (۷)

تشریح: یعنی یاد رہے یہ آگ بندوں کی نہیں، اللہ کی سلگائی ہوئی ہے۔ اس کی کیفیت کچھ نہ پوچھو، بڑی سمجھدار ہے۔ دلوں کو جھانک لیتی ہے۔ جس دل میں ایمان ہو نہ جلائے ، جس میں کفر ہو جلا ڈالے۔ اس کی سوزش بدن کو لگتے ہی فوراً دلوں تک نفوذ کر جائے گی۔ بلکہ ایک طرح دل سے شروع ہو کر جسموں میں سرایت کرے گی۔ اور باوجودیکہ قلوب و ارواح جسموں کی طرح جلیں گے۔ اس پر بھی مجرم مرنے نہ پائیں گے دوزخی تمنا کرے گا کہ کاش موت آ کر اس عذاب کا خاتمہ کر دے۔ لیکن یہ آرزو پوری نہ ہو گی۔ اعاذنا اللّٰہ منھا ومن سائر و جوہ العذاب۔

(تفسیرعثمانی)

 

وہ ان پر بند کی ہوئی ہے۔ (۸) لمبے لمبے ستونوں میں !۔ (۹)

تشریح: إِنَّہَا عَلَيْہِمْ مُّؤْصَدَۃٌ: یعنی کفار کو دوزخ میں ڈال کر دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ کوئی راستہ نکلنے کا نہ رہے گا۔ ہمیشہ اس میں پڑے جلتے رہیں گے۔

فِیْ عَمَدٍ مُّمَدَّدَۃٍ: یعنی آگ کے شعلے لمبے لمبے ستونوں کی مانند بلند ہوں گے۔ یا یہ کہ دوزخیوں کو لمبے ستونوں سے باندھ کر خوب جکڑ دیا جائے گا کہ جلتے وقت ذرا حرکت نہ کر سکیں۔ کیونکہ ادھر ادھر حرکت کرنے سے بھی عذاب میں کچھ برائے نام تخفیف ہو سکتی تھی۔ اور بعض نے کہا کہ دوزخ کے منہ کو لمبے لمبے ستون ڈال کر اوپر سے پاٹ دیا جائے گا۔ واللہ اعلم۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

 

 

۱۰۵۔ سُوْرَۃُ الْفِیْلِ

 

                تعارف

 

اس سورت میں اصحابِ فیل کے واقعہ کا مختصر بیان ہے کہ انہوں نے بیت اللہ کو مسمار کرنے کے قصد سے ہاتھیوں کی فوج لے کر مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی تھی، حق تعالی نے معمولی پرندوں کے ذریعہ ان کی فوج کو عذابِ آسمانی نازل فرما کر نیست و نابو د کر کے ان کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔

(معارف القرآن )

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۵          رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے

 

کیا آپ نے نہیں دیکھا آپ کے رب نے کیا سلوک کیا ہاتھی والوں سے ؟ (۱) کیا اس نے ان کا داؤ نہیں کر دیا گمراہی میں (بے کار) ؟ (۲) اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیجے۔ (۳) وہ ان پر کنکریاں پھینکتے تھے سنگ گل کی۔ (۴) پس ان کو کھائے ہوئے بھوسے کے مانند کر دیا ! (۵)

تشریح: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پہلے یمن کے ملک پر ابرہہ نامی ایک عیسائی بادشاہ حکومت کرتا تھا اس نے دیکھا کہ خانۂ کعبہ کو سارے عرب میں مقبولیت حاصل ہے اور ہر سال سارے عربستان سے لوگ اس کی زیارت کے لئے جمع ہوتے ہیں، اس کو حسد پیدا ہوا، چنانچہ اس نے یمن میں ایک عالیشان کلیسا تعمیر کر کے یمن کے لوگوں میں یہ اعلان کرا دیا کہ آئندہ کوئی شخص حج کے لئے مکہ مکرمہ نہ جائے اور اسی کلیسا کو بیت ا للہ سمجھے ، عرب کے لوگ اگرچہ بت پرست تھے ،لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعلیم و  تبلیغ سے کعبے کی عظمت ان کے دلوں میں پیوست تھی، اس اعلان سے ان میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور ان میں سے کسی نے رات کے وقت اس کلیسا میں جا کر گندگی پھیلا دی اور بعض روایتوں میں ہے کہ اس کے کچھ حصہ میں آگ بھی لگائی، ابرہہ کو جب یہ معلوم ہوا تواس نے ایک بڑا لشکر تیار کر کے مکہ مکرمہ کا رخ کیا، راستہ میں عرب کے کئی قبیلوں نے اس سے جنگ کی ،لیکن ابرہہ کے لشکر کے ہاتھوں انہیں شکست ہوئی، آخر کار یہ لشکر مکہ مکرمہ کے قریب مغمس نامی ایک جگہ تک پہنچ گیا، لیکن اگلی صبح اس نے بیت اللہ کی طرف بڑھنا چاہا تو اس کے ہاتھی نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا اور اسی وقت سمندر کی طرف سے عجیب و غریب قسم کے پرندوں کا ایک غول آیا اور پورے لشکر پر چھا گیا، ہر پرندے کی چونچ میں تین تین کنکر تھے جو انہوں نے لشکر کے لوگوں پر برسائے ، ان کنکروں نے لشکر کے لوگوں پر وہ کام کیا جو بارودی گولی بھی نہیں کرسکتی، جس پر بھی یہ کنکری لگتی اس کے پورے جسم کو چھیدتی ہوئی زمین میں گھس جاتی تھی، یہ عذاب دیکھ کر سارے ہاتھی بھاگ کھڑے ہوئے ، لشکر کے سپاہیوں میں کچھ وہیں ہلاک ہو گئے اور کچھ جو بھاگ نکلے وہ راستہ میں مرے ، اور ابرہہ کے جسم میں ایسا زہر سرایت کر گیا کہ اس کا ایک ایک جوڑ گل سڑ کر گرنے لگا اسی حالت میں اسے یمن لایا گیا اور وہاں اس کا سارا بدن بہہ کر ختم ہو گیا اور اس کی موت سب سے زیادہ عبرتناک ہوئی، یہ واقعہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت سے کچھ ہی روز پہلے پیش آیا تھا، اور حضرت عائشہ اور ان کی بہن حضرت اسماء رضی اللہ عنہما نے ان دو اندھے اپاہجوں کو دیکھا ہے۔ (تفصیلی واقعات کے لئے ملاحظہ ہو معارف القرآن)۔ اس سورت میں اس واقعے کا تذکرہ فرما کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ اللہ تعالی کی قدرت بہت بڑی ہے ، اس لئے جو لوگ آپ کی دشمنی پر کمر باندھے ہوئے ہیں آخر میں وہ بھی اصحاب الفیل کی طرح منہ کی کھائیں گے۔

(توضیح القرآن)

٭٭

 

 

 

۱۰۶۔ سُوْرَۃُ قُرَيْشٍ

 

                تعارف

 

اس سورت میں اللہ نے اپنے دو بڑے احسانات بیان فرمائے ہیں، پہلا یہ کہ قریش بلا خوف و خطر گرمیوں میں شام کی طرف اور سردیوں میں یمن کی طرف تجارتی سفر کیا کرتے تھے ، اور یہ تجارتی سفر ان کا بہت بڑا ذریعۂ معاش تھے ، دوسرا احسان یہ کہ انہیں بلد حرام میں امن، اطمینان اور تحفظ کی نعمت حاصل تھی، یہ دو نعمتیں ذکر فرما کر انہیں سمجھایا گیا ہے کہ خود فریبی خود پسندی اور قوم پرستی سے باز آ جاؤ اور بیت اللہ کے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں نوازا ہے۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۴          رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

قریش کو مانوس کرنے کے سبب۔ (۱) انہیں سردی گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے سبب۔ (۲) پس چاہئے کہ وہ عبادت کریں اس گھر کے رب کی۔ (۳) جس نے انہیں کھانا دیا بھوک میں۔ (۴) اور امن دیا خوف میں ! (۵)

تشریح: اس سورت کا پس منظر یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے عرب میں قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا، کوئی شخص آزاد اور امن کے ساتھ سفر نہیں کرسکتا تھا، کیونکہ راستے میں چور ڈاکو یا اس کے دشمن قبیلے کے لوگ اسے مارنے اور لوٹنے کے درپے رہتے تھے۔ لیکن قریش کا قبیلہ چونکہ بیت اللہ کے پاس رہتا تھا اور اسی قبیلے کے لوگ بیت اللہ کی خدمت کرتے تھے ، اس لئے سارے عرب کے لوگ ان کی عزت کرتے تھے ، اور جب وہ سفرکرتے تو کوئی انہیں لوٹتا نہیں تھا، اس وجہ سے قریش کے لوگوں کا یہ معمول تھا کہ وہ اپنی تجارت کی خاطرسردیوں میں یمن کا سفر کرتے تھے اور گرمیوں میں شام کا سفر کرتے تھے ، اسی تجارت سے ان کا روز گاروابستہ تھا اور اگرچہ مکہ مکرمہ میں نہ کھیت تھے ، نہ باغ لیکن انہی سفروں کی وجہ سے وہ خوش حال زندگی گزارتے تھے۔ اللہ تعالی اس سورت میں انہیں یاد دلا رہے ہیں کہ ان کو سارے عرب میں جو عزت حاصل ہے ، اور جس کی وجہ سے وہ سردی اور گرمی میں آزادی سے تجارتی سفر کرتے ہیں، یہ سب کچھ اس بیت اللہ کی برکت ہے کہ اس کے پڑوسی ہونے کی وجہ سے سب اُن کا احترام کرتے ہیں۔

(توضیح القرآن)

٭٭

 

 

۱۰۷۔ سُوْرَۃُ الْمَاعُوْنَ

 

                تعارف

 

اس سورت میں اختصار کے ساتھ انسانوں کے دو گروہوں کا ذکر ہے (۱) وہ کافر جو قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ، یتیموں کے حقوق دبا لیتے ہیں اور ان کی ساتھ سختی کا معاملہ کرتے ہیں غرباء اور مساکین کو نہ خود کھلاتے ہیں اور نہ دوسروں کو ترغیب دیتے ہیں، گویا کہ نہ تو اللہ کے ساتھ ان کا معاملہ صحیح ہے اور نہ اللہ کے بندوں کے ساتھ۔ دوسرا گروہ، وہ منافقین کا ہے ان کی تین صفات قبیحہ یہاں بیان کی گئی ہیں :پہلی یہ کہ وہ نماز سے غافل ہیں، یہ غفلت دو اعتبار سے ہو سکتی ہے ایک یہ کہ نماز ادا ہی نہ کی جائے ، دوسری یہ کہ نماز تو پڑھی جائے مگر نہ وقت کی پابندی کا لحاظ ہو اور نہ خشوع و خضوع ہو، دوسری صفت یہ کہ وہ دکھاوے کے لئے اعمال کرتے ہیں، تیسری صفت یہ کہ وہ ایسے بخیل ہیں کہ عام ضرورت کی چیز دینے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۷          رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو روز جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے ؟ (۱)

تشریح: یعنی سمجھتا ہے کہ انصاف نہ ہو گا اور اللہ کی طرف سے نیک و بد کا کبھی بدلہ نہ ملے گا۔ اور بعض نے دین کے معنی ” ملت ” کے لئے ہیں۔ یعنی ملتِ اسلام اور مذہبِ حق کو جھٹلاتا ہے۔ گویا مذہب و ملت اس کے نزدیک کوئی چیز ہی نہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

یہی ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ (۲)

تشریح: کئی کافروں کے بارے میں روایت ہے کہ ان کے پاس کوئی یتیم خستہ حالت میں کچھ مانگنے کو آیا تو انہوں نے اسے دھکا دے کر نکال دیا، یہ عمل ہر ایک کے لئے انتہائی سنگدلی اور بڑا گناہ ہے ، لیکن کافروں کا ذکر فرما کر اشارہ یہ کیا گیا ہے کہ یہ کام اصل میں کافروں ہی کا ہے ، کسی مسلمان سے اس کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

(توضیح القرآن)

 

اور نہیں رغبت دلاتا مسکین کو کھانا کھلانے کی۔ (۳)

تشریح: یعنی غریب کی نہ خود خبر لے نہ دوسروں کو ترغیب دے۔ ظاہر ہے کہ یتیموں اور محتاجوں کی خبر لینا اور ان کے حال پر رحم کھانا دنیا کے ہر مذہب و ملت کی تعلیم میں شامل ہے اور ان کا مکارمِ اخلاق میں سے ہے جن کی خوبی پر تمام عقلاء اتفاق رکھتے ہیں۔ پھر جو شخص ان ابتدائی اخلاق سے بھی عاری ہو، سمجھو کہ آدمی نہیں، جانور ہے۔ بھلا ایسے کو دین سے کیا واسطہ، اور اللہ سے کیا لگاؤ ہو گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

پس خرابی ہے ان نمازیوں کے لئے۔ (۴) جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔ (۵) جو دکھاوا کرتے ہیں۔ (۶) اور عام ضرورت کی چیز (بھی مانگی) نہیں دیتے ! (۷)

الَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاہُوْنَ:نماز سے غفلت برتنے میں یہ بھی داخل ہے کہ نماز پڑھے ہی نہیں اور یہ بھی کہ اس کو صحیح طریقہ سے نہ پڑھے۔

(توضیح القرآن)

 

الَّذِیْنَ ہُمْ يُرَآءُوْنَ:یعنی اگر پڑھتے بھی ہیں تو اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کو دکھاوا کرنے کے لئے پڑھتے ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

وَيَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ:یعنی زکات و صدقات وغیرہ تو کیا ادا کرتے معمولی برتنے کی چیزیں بھی مثلاً (ڈول، رسی، ہنڈیا، دیگچی، کلہاڑی، سوئی دھاگا وغیرہ) کسی کو مانگے نہیں دیتے جن کے دے دینے کا دنیا میں عام رواج ہے۔ بخل اور فسق کا جب یہ حال ہو تو ریا کاری کی نماز سے ہی کیا فائدہ ہو گا۔ اگر ایک آدمی اپنے کو مسلمان نمازی کہتا اور کہلاتا ہے مگر اللہ کے ساتھ اخلاص اور مخلوق کے ساتھ ہمدردی نہیں رکھتا، اس کا اسلام لفظِ بے معنی، اور اس کی نماز حقیقت سے بہت دور ہے۔ یہ ریا کاری اور بد اخلاقی تو ان بدبختوں کا شیوہ ہونا چاہیے جو اللہ کے دین اور روزِ جزا پر کوئی اعتقاد نہیں رکھتے۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

 

 

۱۰۸۔ سُوْرَۃُ الْکَوْثَرِ

 

                تعارف

 

اس سورت میں تین مقاصد بیان ہوئے ہیں: (۱) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کا فضل واحسان کہ اس نے آپ کو کوثر عطا کی، کوثر جنت کی وہ نہر ہے جہاں قیامت کے دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے امتیوں کو جام بھر کر پلائیں گے ، چونکہ کوثر کا معانی خیر کثیر ہے اس لئے نبوت، کتاب، حکمت، علم، حق شفاعت، مقام محمود، معجزات اور قرآن کریم کو بھی کوثر قرار دیا گیا ہے (۲) نبی   اکرم صلی اللہ علی وسلم کو حکم دیا گیا کہ کوثر جیسی عظیم نعمت کا شکر ادا کرنے کے لئے آپ نماز کی پابندی فرمائیں اور اللہ کے لئے قربانی دیں (۳) آپ کو بشارت سنائی گئی کہ آپ کے دشمن ذلیل و خوار ہوں گے اور ان کا نام و نشان مٹ جائے گا، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۳          رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

بیشک ہم نے آپ کو “کوثر” عطا کیا۔ (۱) پس اپنے رب کے لئے نماز پڑھیں اور قربانی دیں۔ (۲) بیشک آپ کا دشمن ہی نامراد ہے ! (۳)

تشریح: إِنَّآ أَعْطَيْنَاکَ الْکَوْثَرَ: ایک روز جب کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ہمارے درمیان تھے اچانک آپ پر ایک قسم کی نیند یا بیہوشی کی سی کیفیت طاری ہوئی پھر ہنستے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اٹھایا، ہم نے پوچھا یا رسول اللہ آپ کے ہنسنے کا سبب کیا ہے تو فرمایا کہ مجھ پر اسی وقت ایک سورت نازل ہوئی ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ کے ساتھ سورۂ کوثر پڑھی، پھر فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ کوثر کیا چیز ہے ؟ ہم نے عرض کیا ’’اللہ ورسولہ اعلم‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :یہ ایک نہرِ جنت ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے ، جس میں خیر کثیر ہے اور وہ حوض ہے جس پر میری امت قیامت کے روز پانی پینے کے لئے آئے گی، اس کے پانی پینے کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد میں ہوں گے ، اس وقت بعض لوگوں کو فرشتے حوض سے ہٹا دیں گے تو میں کہوں گا کہ اے میرے پروردگار یہ تو میری امت میں ہے ، اللہ تعالی فرمائیں گے کہ آپ نہیں جانتے کہ اس نے آپ کے بعد کیا نیا دین اختیار کیا ہے۔

(مسلم۔ معارف القرآن)

 

فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ :کوثر کی خوشخبری دینے کے بعد آپ کو دو چیزوں کی ہدایت کی گئی ہے ، ایک نماز دوسرے قربانی۔ نماز بدنی عبادتوں میں بڑی عبادت ہے اور اللہ کے نام پر قربانی کرنا بت پرستی کے شعار کے خلاف ایک جہاد ہے۔ کیونکہ ان کی قربانیاں بتوں کے نام پر ہوتی تھیں۔

(معارف القرآن)

 

إِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الْأَبْتَرُ :عرب کے لوگ ایسے شخص کو ابتر کہتے تھے جس کی نسل آگے نہ چلے ، یعنی جس کی کوئی نرینہ اولاد نہ ہو۔ جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کا انتقال ہوا تو آپ کے دشمنوں نے جن میں عاص بن وائل پیش پیش تھا، آپ کو یہ طعنہ دیا کہ معاذاللہ آپ اَبتر ہیں اور آپ کی نسل نہیں چلے گی، اس کے جواب میں اس سورت میں فرمایا کہ آپ کو تو اللہ تعالی نے کوثر عطا فرمائی ہے ، آپ کے مبارک ذکر اور آپ کے دین کو آگے چلانے والے تو بے شمار ہوں گے ، ابتر تو آپ کا دشمن ہے جس کا مرنے کے بعد نام و نشان بھی نہیں رہے گا، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ اور آپ کی سیرت طیبہ تو الحمدللہ زندۂ جاوید ہے ، اور طعنے دینے والوں کو کوئی جانتا بھی نہیں، اور اگر کوئی ان کا ذکر کرتا بھی ہے تو برائی سے کرتا ہے۔

(توضیح القرآن)

٭٭

 

 

 

۱۰۹۔ سُوْرَۃُ الْکَافِرُوْنَ

 

                تعارف

 

جب مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی کہ آؤ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہم آپس میں مصالحت کریں، ایک سال آپ ہمارے خداؤں کی عبادت کر لیا کریں اور ایک سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کر لیا کریں گے ، اس سورت نے ایمان و کفر، موحدین اور مشرکین کے درمیان حد فاصل قائم کر دی اور بتا دیا کہ توحید اور شرک دو متصادم نظام ہیں، دونوں میں مصالحت کی کوئی صورت نہیں، یوں کفار کی امیدوں کا خاتمہ کر دیا اور ہمیشہ کیلئے واضح کر دیا کہ ایمان میں کفر کی ملاوٹ نہیں ہو سکتی۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۶          رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

کہہ دیجئے اے کافرو ! (۱) میں عبادت نہیں کرتا جس کی تم پوجا کرتے ہو۔ (۲)

اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ (۳) اور نہ میں عبادت کرنے والا ہوں جس کی تم پوجا کرتے ہو۔ (۴) اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ (۵) تمہارے لئے تمہارا دین میرے لئے میرا دین ! (۶)

تشریح: یہ سورت اس وقت نازل ہوئی تھی جب مکہ مکرمہ کے کچھ سرداروں نے جن میں ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل وغیرہ شامل تھے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح کی یہ تجویز پیش کی کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کر لیا کریں تو دوسرے سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کر لیں گے ، کچھ اور لوگو ں نے اسی قسم کی کچھ اور تجویز بھی پیش کیں جن کا خلاصہ یہی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی نہ کسی طرح ان کافروں کے طریقے پر عبادت کے لئے آمادہ ہو جائیں تو آپس میں صلح ہو سکتی ہے ، اس سورت نے دو ٹوک الفاظ میں واضح فرما دیا کہ کفر اور ایمان کے درمیان اس قسم کی کوئی مصالحت قابل قبول نہیں ہے جس سے حق اور باطل کا امتیاز ختم ہو جائے اور دینِ برحق میں کفر کی ملاوٹ کر دی جائے ، ہاں اگر تم حق قبول نہیں کرتے تو تم اپنے دین پر عمل کرو جس کے نتائج تم خود بھگتو گے ، اور میں اپنے دین پر عمل کروں گا اور اس کے نتائج کا میں ذمہ دار ہوں، اس سے معلوم ہوا کہ غیر مسلموں سے کوئی ایسی مصالحت جائز نہیں ہے جس میں ان کے دین کے شعائر کو اختیار کرنا پڑے ، البتہ اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے امن کا معاہدہ ہو سکتا ہے ، جیسا کہ قرآن کریم نے سورۂ انفال (۶۔ ۸) میں فرمایا ہے۔

(توضیح القرآن)

٭٭

 

 

 

۱۱۰۔ سُوْرَۃُ النَّصْرِ

 

                تعارف

زیادہ تر مفسرین کے مطابق یہ سورت فتح مکہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی تھی، اور اس میں ایک طرف تو یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ مکہ مکرمہ فتح ہو جائے گا، اور اس کے بعد عرب کے لوگ جوق در جوق دین میں داخل ہوں گے ، چنانچہ واقعہ بھی یہی ہوا، اور دوسری طرف چونکہ اسلام کے پھیل جانے سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں تشریف لانے کا مقصد حاصل ہو جائے گا اس لئے آپ کو دنیا سے رخصت ہونے کی تیاری کے لئے حمد، تسبیح اور استغفار کا حکم دیا گیا ہے ، جب یہ سورت نازل ہوئی تو اس میں دی ہوئی خوشخبری کی وجہ سے بہت سے صحابہ خوش ہوئے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ اسے سن کر رونے لگے اور وجہ یہ بیان کی کہ اس سورت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے تشریف لے جانے کا وقت قریب آ رہا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

مَدَنِیَّۃٌ

آیات:۳          رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے

 

جب اللہ کی مدد آ جائے اور فتح (ہو جائے )۔ (۱) اور آپ دیکھیں لوگ داخل ہو رہے ہیں اللہ کے دین میں فوج در فوج۔ (۲) پس اپنے رب کی تعریف کے ساتھ پاکی بیان کریں اور اس سے بخشش طلب کریں، بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے ! (۳)

تشریح: فتح: سے مراد مکہ مکرمہ کی فتح ہے یعنی جب مکہ مکرمہ آپ کے ہاتھوں فتح ہو جائے۔ وَرَاَیْتَ النّاسَ:فتح مکہ سے پہلے بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی تھی جن  کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور اسلام کی حقانیت پر تقریباً یقین ہو چکا تھا، مگر اسلام میں داخل ہونے سے ابھی تک قریش کی مخالفت کے خوف سے یا کسی تذبذب کی وجہ سے رکے ہوئے تھے فتح مکہ نے وہ رکاوٹ دور کر دی تو فوج در فوج ہو کر قرآن پڑھتے ہوئے اسلام میں داخل ہونے لگے۔

فَبّسِحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ اس سورت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو یہ دعا کرتے سُبْحٰانَکَ رَبَّنَا وَبَحَمْدِکَ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ۔

(بخاری)

 

حضرت امّ سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ اس سورت کے نزول کے بعد اٹھتے  بیٹھتے اور جاتے آتے ہر وقت میں یہ دعا پڑھتے تھے سُبْحَانَ اللہِ وَبَحَمْدِہ اَسْتَغْفِرُاللہِ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ اور فرماتے تھے کہ مجھے اس کا حکم کیا گیا، اور دلیل میں اذا جا ء نصرا للہ کی تلاوت فرماتے تھے۔

(معارف القرآن)

 

اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر طرح کے گناہوں سے بالکل پاک اور معصوم تھے اور اگر آپ کی شان کے لحاظ سے کوئی بھو ل چوک ہوئی بھی تو سورۂ فتح میں اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی معاف کرنے کا اعلان فرما دیا تھا، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو استغفار کی تلقین امت کو یہ بتانے کے لئے کی جا رہی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار کرنے کے لئے کہا جا رہا ہے تو دوسرے مسلمانوں کو تو اور زیادہ اہتمام کے ساتھ استغفار کرنا چاہئے۔

(توضیح القرآن)

٭٭

 

 

 

۱۱۱۔ سُوْرَۃُ اللَّہَبِ

 

                تعارف

 

یہ سورت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا مگر بدترین دشمن ابولہب اور اس کی بیوی ام جمیل کا انجام بتلاتی ہے ، اس شخص کو اپنے مال اور اولاد پر بڑا غرور تھا ،لیکن مال و اولاد اسے اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکے ، یہ دونوں میاں بیوی ذلت آمیز عبرتناک انجام سے دوچار ہوئے۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۵          رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے

 

ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہوا۔ (۱) اس کے کام نہ آیا اس کا مال اور جو اس نے کمایا۔ (۲) عنقریب وہ داخل ہو گا شعلے مارتی ہوئی آگ میں۔ (۳)

تشریح: ابو لہب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک چچا تھا جو آپ کی دعوت اسلام کے بعد آپ کا دشمن ہو گیا تھا اور طرح طرح سے آپ کو تکلیف پہنچاتا تھا، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بار اپنے خاندان کے لوگوں کو صفا پہاڑ پر جمع فرما کر ان کو اسلام کی دعوت دی تو ابو لہب نے یہ جملہ کہا تھا کہ:تبا لک ألھذا جمعتنا:یعنی بربادی ہو تمہاری کیا اس کام کے لئے تم نے ہمیں جمع کیا تھا، اس کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی، اور اس میں پہلے تو ابولہب کو بددعا دی گئی ہے کہ بربادی (معاذاللہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں ہے بلکہ ہاتھ ابو لہب کے برباد ہوں (عربی محاور ہ میں ہاتھوں کی بربادی کا مطلب انسان کی بربادی ہوتا ہے ) پھر فرمایا گیا ہے کہ وہ بربادی ہوہی گئی یعنی اس کی بربادی اتنی یقینی ہے جیسے ہوہی چکی، چنانچہ جنگ بدر کے سات دن بعد اسے طاعون جیسی بیماری ہوئی جسے عدسہ کہتے ہیں، عرب کے لوگ چھوت چھات کے قائل تھے اور جسے عدسہ کی بیماری ہوتی اسے ہاتھ بھی نہیں لگاتے تھے ، چنانچہ وہ اسی حالت میں مرگیا اور اس کی لاش میں سخت بدبو پیدا ہو گئی، یہاں تک کہ لوگوں نے کسی لکڑی کے سہارے سے اسے ایک گڑھے میں دفن کیا۔

( توضیح القرآن)

 

بھڑکتے شعلے کو عربی میں: لہب: کہتے ہیں، ابو لہب بھی اس کو اس لئے کہتے تھے کہ اس کا چہرہ شعلے کی طرح سرخ تھا، قرآن کریم نے یہاں دوزخ کے شعلوں کے لئے یہی لفظ استعمال کر کے یہ لطیف اشارہ فرمایا ہے کہ اس کے نام میں بھی شعلے کا مفہوم داخل ہے اسی مناسبت سے اس سورت کا نام بھی سورۃ اللھب ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور اس کی بیوی لادنے والی ایندھن۔ (۴) اس کی گردن میں کھجور کی چھال کی رسی ہے ! (۵)

تشریح: ابولہب کی عورت ام جمیل باوجود مالدار ہونے کے سخت بخل اور خست کی بناء پر خود جنگل سے لکڑیاں چن کر لاتی، اور کانٹے حضرت کی راہ میں ڈال دیتی تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آنے والوں کو تکلیف پہنچے۔ فرماتے ہیں کہ وہ جس طرح یہاں حق کی دشمنی اور پیغمبرِ خدا کی ایذاء رسانی میں اپنے شوہر کی مددگار ہے۔ دوزخ میں بھی اسی ہئیت سے اس کے ہمراہ رہے گی۔ شاید وہاں زقوم اور صریع کی (جو جہنم کے خاردار درخت ہیں) لکڑیاں اٹھائے پھرے۔ اور ان کے ذریعہ سے اپنے شوہر پر عذاب الہٰی کی آگ کو تیز کرتی رہے۔ کما قال ابن اثیر۔ (تنبیہ) بعض نے ”حمالۃ الحطب” کے معنی چغل خور کے لئے ہیں۔ اور محاور ات عرب میں یہ لفظ اس معنی میں مستعمل ہوتا ہے جیسے فارسی میں بھی ایسے شخص کو ”ہیزم کش” کہتے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

 

 

۱۱۲۔ سُوْرَۃُ الْاِخْلَاصِ

 

                تعارف

 

یہ سورت اسلام کے بنیادی عقیدہ یعنی توحید سے بحث کرتی ہے ، توحید کی تین قسمیں ہیں

۱۔ توحید ربوبیت یعنی ہر چیز کا خالق، مالک اور رازق اللہ ہے ، اس کا اقرار کافر بھی کرتے ہیں

۲۔ توحید الوہیت یعنی بندہ جو بھی عبادت کرے خواہ دعا ہو یا نذر و قربانی تو وہ صرف اللہ کے لئے ، مشرکین غیر اللہ کی عبادت بھی کرتے تھے مگر اس لئے تاکہ اللہ کا قرب حاصل ہو۔

۳۔ توحید ذات اور اسماء و صفات، توحید کی یہ تیسری قسم ایسی ہے کہ انسان نے اکثر اس میں ٹھوکر کھائی ہے ، غور کیا جائے تو سورتِ اخلاص میں زیادہ زور توحید کی اسی قسم پر ہے۔

(خلاصہ قرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۴          رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے

کہہ دیجئے وہ اللہ ایک ہے۔ (۱) اللہ بے نیاز ہے۔ (۲) نہ اس نے (کسی کو) جنا اور نہ (کسی نے ) اس کو جنا۔ (۳) اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ! (۴)

تشریح: اس سورۃ کی ان چار مختصر آیتوں میں اللہ تعالی کی توحید کو انتہائی جامع انداز میں بیان فرمایا گیا ہے ، پہلی آیت میں ان کی تردید ہے جو ایک سے زیادہ خداؤں کے قائل ہیں، دوسری آیت میں ان کی تردید ہے جو اللہ تعالی کو ماننے کے باوجود کسی اور کو اپنا مشکل کشا، کار ساز یا حاجت روا قرار دیتے ہیں، تیسری آیت میں ان کی تردید ہے جو اللہ تعالی کے لئے اولاد مانتے ہیں، اور چوتھی آیت میں ان لوگوں کا ردّ کیا گیا ہے جو اللہ تعالی کی کسی بھی صفت میں کسی اور کی برابری کے قائل ہیں مثلاً بعض مجوسیوں کا کہنا یہ تھا کہ روشنی کا خالق کوئی اور ہے اور اندھیرا کا خالق کوئی اور ہے ، اسی طرح اس مختصر سورت نے شرک کی تمام صورتوں کو باطل قرار دے کر خالص توحید ثابت کی ہے ، اس لئے اس سورت کو سورۂ اخلاص کہا جاتا ہے ، اور ایک صحیح حدیث میں اس کو قرآن کریم کا ایک تہائی حصہ قرار دیا گیا ہے ، جس کی وجہ بظاہر یہ ہے کہ قرآن کریم نے بنیادی طور پر تین عقیدوں پر زور دیا ہے : توحید، رسالت اور آخرت اور اس صورت نے ان میں توحید کے عقیدے کی پوری وضاحت فرمائی ہے ، اس سورۃ کی تلاوت کے بھی احادیث میں بہت فضائل آئے ہیں۔

(توضیح القرآن)

٭٭

 

 

 

۱۱۳۔ سُوْرَۃُ الْفَلَقِ

 

                تعارف

 

قرآن کریم کی یہ  دوسورتیں  معو ّذتین کہلاتی ہیں، یہ دونوں سورتیں اس وقت نازل ہوئی تھیں جب کچھ یہودیوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کرنے کی کوشش کی تھی، اور اس کے کچھ اثرات آ پ پر ظاہر بھی ہوئے تھے ، ان سورتوں میں آ پ کو جادو ٹونے سے حفاظت کے لئے ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی تلقین فرمائی گئی ہے ، اور کئی احادیث سے ثابت ہے کہ ان سورتوں کی تلاوت اور ان سے دم کرنا جادو کے اثرات دور کرنے کے لئے بہترین عمل ہے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سونے سے پہلے ان سورتوں کی تلاوت کر کے اپنے مبارک ہاتھوں پر دم کرتے اور پھر ان ہاتھوں کو پورے جسم پر پھیر لیتے تھے۔

(توضیح القرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۵          رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

کہہ دیجئے میں پناہ میں آتا ہوں صبح کے رب کی۔ (۱) اس کے شر سے جو اس نے پیدا کیا۔ (۲) اور اندھیرے کے شر سے جب وہ چھا جائے۔ (۳) اور گرہوں میں پھونکیں مارنے والیوں کے شر سے۔ (۴)

تشریح: اندھیری رات کے شر سے خاص طور پر اس لئے پنا ہ مانگی گئی ہے کہ عام طور پر جادوگروں کی کاروائیاں رات کے اندھیروں میں ہوا کرتی ہیں۔

وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِی الْعُقَدِ:جانوں کے شر سے ، جانوں کے لفظ میں مرد اور عورت دونوں داخل ہیں، جادو گر مرد ہوں یا عورت، دھاگے کے گنڈے بنا کر اس میں گرہیں لگا تے جاتے ہیں اور ان پر کچھ پڑھ پڑھ کر پھو نکتے رہتے ہیں۔ ان کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور شر سے حسد کرنے والے کے جب وہ حسد کرے ! (۵)

تشریح: اکثر مفسرین کے نزدیک ” ومن شر حاسد اذا حسد” کا مطلب یہ ہے کہ حاسد جب اپنی قلبی کیفیت کو ضبط نہ کر سکے اور عملی طور پر حسد کا اظہار کرنے لگے ، اس کی بدی سے پناہ مانگنا چاہئے۔ اگر ایک شخص کے دل میں بے اختیار حسد پیدا ہو مگر وہ اپنے نفس کو قابو میں رکھ کر محسود کے ساتھ کوئی ایسا برتاؤ نہ کرے وہ اس سے خارج ہے۔ نیز یاد رکھنا چاہیے کہ حسد کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے سے اللہ کی دی ہوئی نعمت کے زوال کا متمنی ہو۔ باقی یہ آرزو کرنا کہ مجھے بھی ایسی نعمت یا اس سے زائد عطا ہو جو فلاں کو عطا ہوئی ہے۔ حسد میں داخل نہیں۔ اس کو ”غبطہ” کہتے ہیں۔ بخاری کی حدیث ”لا حسد الا فی اثنتین الخ ” میں لفظ ”حسد” سے یہی غبطہ مراد ہے۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭

 

 

 

۱۱۴۔ سُوْرَۃُ النَّاسِ

 

                تعارف

 

قرآن کریم کی یہ  دوسورتیں  معو ّذتین کہلاتی ہیں، یہ دونوں سورتیں اس وقت نازل ہوئی تھیں جب کچھ یہودیوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کرنے کی کوشش کی تھی، اور اس کے کچھ اثرات آ پ پر ظاہر بھی ہوئے تھے ، ان سورتوں میں آ پ کو جادو ٹونے سے حفاظت کے لئے ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی تلقین فرمائی گئی ہے ، اور کئی احادیث سے ثابت ہے کہ ان سورتوں کی تلاوت اور ان سے دم کرنا جادو کے اثرات دور کرنے کے لئے بہترین عمل ہے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سونے سے پہلے ان سورتوں کی تلاوت کر کے اپنے مبارک ہاتھوں پر دم کرتے اور پھر ان ہاتھوں کو پورے جسم پر پھیر لیتے تھے۔

(توضیح القرآن)

 

مَکِّیَّۃٌ

آیات:۶          رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو نہایت رحم کرنے والا، مہربان ہے

 

کہہ دیجئے میں پناہ میں آتا ہوں لوگوں کے رب کی۔ (۱) لوگوں کے بادشاہ کی۔ (۲)

لوگوں کے معبود کی۔ (۳) وسوسہ ڈالنے والے۔ چھپ چھپ کر حملہ کرنے والے کے شر سے۔ (۴) جو وسوسہ ڈالتا ہے لوگوں کے دلوں میں۔ (۵) جنوں میں سے اور انسانوں میں سے ! (۶)

تشریح: قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں جو سب کا پروردگار بھی ہے ، صحیح معنی میں سب کا بادشاہ بھی، اور سب کا معبود حقیقی بھی۔

ایک مستند حدیث میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے کہ جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے اس کے دل پر وسوسہ ڈالنے والا (شیطان) مسلط ہو جاتا ہے ، جب وہ ہوش میں آ کر اللہ تعالی کا ذکر کرتا ہے تو یہ وسوسہ ڈالنے والا پیچھے کو دبک جاتا ہے اور جب غافل ہوتا ہے تو دوبارہ آ کر وسوسے ڈالتا ہے۔

(روح المعانی بحوالہ حاکم وابن امنذر روضیاء)

 

قرآن کریم نے سورۂ انعام (۶۔ ۱۱۲) میں بتایا ہے کہ شیطان جنات میں سے بھی ہوتے ہیں اور انسانوں میں سے بھی ہوتے ہیں، البتہ شیطان جو جنات میں سے ہے وہ نظر نہیں آ تا اور دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے ، لیکن انسانوں میں سے جو شیطان ہوتے ہیں وہ نظر آتے ہیں اور ان کی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں سن کر انسان کے دل میں طرح طرح کے بُرے خیالات اور وسوسے آ  جاتے ہیں، اس لئے آیتِ کریمہ میں دونوں قسم کے وسوسہ ڈالنے والوں سے پناہ مانگی گئی ہے ، شیطان کی چالیں کمزور ہوتی ہیں اور اس میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ انسان کو گناہ پر مجبور کرسکے ، یہ توانسا ن کی ایک آزمائش ہے کہ وہ انسان کو بہکانے کی کوشش کرتا ہے لیکن جو بندہ اس کے بہکائے میں آنے سے انکار کر کے اللہ تعالی کی پناہ مانگ لے تو شیطان اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔

(توضیح القرآن)

٭٭٭

ماخذ

http://anwar-e-islam.org

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید