FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

فہرست مضامین

تاریخِ اسلامی میں جھوٹے راویوں کا کردار اور تدوینِ جدید کی ضرورت

 

 

 

               مفتی ابوالخیر عارف محمود

استاذ و رفیق شعبۂ تصنیف و تالیف،  جامعہ فاروقیہ، کراچی

 

 

 

 

 

 

تاریخ کا لغوی مفہوم

 

لغت میں “تاریخ” وقت سے آگاہ کرنے(کسی چیز کے واقع ہونے کا وقت بتانے) کو کہتے ہیں۔ (۱)

اہل لغت کہتے ہیں کہ أرَّخْتُ الکتابَ: میں نے لکھنے کا وقت ظاہر کیا۔ علامہ اسماعیل بن حماد الجوہری (المتوفی ۳۹۳ھ) فرماتے ہیں کہ “تاریخ اور توریخ” دونو ں کے معنی وقت سے آگاہ کرنا ہیں، چناں چہ اس کے لیے”أرَّخْتُ” بھی کہا جاتا ہے اور” وَرَّخْتُ” بھی۔ (۲)

بعض اہل لغت کہتے ہیں کہ تاریخ “أرخ ” (بضم الھمزۃ و کسرھا) سے مشتق ہے، أرخ وحشی گائے (نیل گائے) کے مادہ بچہ کو کہتے ہیں، اور اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جس طرح بچہ نومولود ہوتا ہے، اسی طرح تاریخ بھی ایک نو ایجاد شئے ہے۔ (۳)

 

تاریخ کا اصطلاحی مفہوم

 

تاریخ کی اصطلاحی تعریف میں بڑی بڑی موشگافیاں کی گئی ہیں، یہاں بعض کا تذکرہ کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔

۱۔ اصطلاح میں تاریخ اس وقت کے بتانے کا نام ہے جس سے راویوں اور ائمہ کے سارے احوال وابستہ ہوتے ہیں، یعنی ان کی ولادت، وفات، ان کی صحت و عقل، طلبِ علم کے لیے سفر، ان کا حج، ان کا حافظہ، ضبط، و اتقان، ان کا عادل ہونا، قابلِ جرح ہونا وغیرہ وغیرہ تمام باتیں جن کا تعلق ان کے احوال کے چھان بین سے ہو۔

۲۔ یا اصطلاح میں تاریخ اس علم کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ بادشاہوں، فاتحوں اور مشاہیر کے احوال، گزرے ہوئے زمانہ کے بڑے اور عظیم الشان واقعات و حوادث، زمانۂ گزشتہ کی معاشرت، تمدن اور اخلاق وغیرہ سے واقفیت حاصل کی جا سکے۔

۳۔ بعض حضرات نے کہا کہ پھر اس مفہوم کو وسعت دے کر وہ سارے امور بھی اس سے ملحق کر دیے گئے جو بڑے واقعات و حوادث سے متعلق ہوں، جنگوں، امورِ سلطنت، تہذیب و تمدن، حکومتوں کے قیام، عروج و زوال، رفاہِ عامہ کے کاموں کی حکایت (وغیرہ) کو بھی تاریخ کہا گیا ہے۔

خلاصہ اور نتیجہ ان تمام اقوال کا یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ جو حالات و واقعات بقیدِ وقت لکھے جاتے ہیں، ان کو تاریخ کہتے ہیں۔ (۴)

 

تاریخ کی ضرورت و فوائد

 

تاریخ سے گزشتہ اقوام کے عروج و زوال، تعمیر و تخریب کے احوال معلوم ہوتے ہیں، جس سے آئندہ نسلوں کے لیے کافی عبرت کا سامان میسر آتا ہے، حوصلہ بلند ہوتا ہے، دانائی و بصیرت حاصل ہوتی ہے اور دل و دماغ میں تازگی و نشو نما کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، غرض تاریخ اس کائنات کا پس منظر بھی ہے اور پیش منظر بھی، اسی پر بس نہیں، بلکہ اس سے آئندہ کے لیے لائحۂ عمل طے کرنے میں خوب مدد ملتی ہے۔ (۵)

 

 

بہترین مؤرخ کون ؟

 

بہترین مؤرخ وہ ہوتا ہے جو سالم العقیدہ اور پاک مذہب ہو، جو کچھ لکھے وہ بیانِ واقعہ ہو، نہ کچھ چھپائے، نہ کچھ بڑھائے۔ مؤرخ کے لیے ضروری ہے کہ وہ امانت و دیانت میں ممتاز ہو، ذہین، نکتہ رس، منصف مزاج ہونے کے ساتھ ادیب اور قادر الکلام بھی ہو، سیاسی، مسلکی وابستگی و تعصب سے پاک ہو، امراء و حکام کی خوشنودی اور مادی منافع اور جاہ و منزلت کی خاطر حقائق کو توڑ مروڑ کر، ضمیر فروشی کا مرتکب نہ ہو، تائیدی اسباب کے مختلف احتمالات میں پہلے سے کسی ایک جانب کو متعین نہ کرے، انصاف کے ساتھ صحیح اور درست سَمت کو اختیار کرے، وغیرہ وغیرہ۔ (۶)

 

شرائط ِ مؤرخ

 

علامہ تاج الدین سبکی رحمہ اللہ “قاعدۃ فی المؤرخین نافعۃ جداً ” کے عنوان سے تحریر فرماتے ہیں کہ اہلِ تاریخ بعض دفع کچھ لوگوں کو ان کے مقام و مرتبہ سے گرا کر اور کچھ کو اونچا کر کے پیش کرتے ہیں، یہ یا تو تعصب، یا جہل، یا غیر موثوق راوی کے نقل پر اعتمادِ محض وغیرہ کی وجہ سے ہوتا ہے، شاید ہی کسی تاریخ کو آپ اس سے خالی پائیں گے․․․اس بارے میں صحیح و صائب رائے ہمارے نزدیک یہ ہے کہ چند شرائط کے بغیر مؤرخین کی نہ مدح قبول کی جائے اور نہ ہی جرح، وہ شرائط یہ ہیں:

(۱)مؤرخ صادق ہو، (۲) روایت باللفظ پر اعتماد کیا ہو نہ کہ روایت بالمعنی پر، (۳)اس کی نقل کردہ روایت مجلسِ مذاکرہ میں سن کر بعد میں لکھی گئی نہ ہو، (۴) جس سے نقل کر رہا ہو اس کے نام کی صراحت کرے، (۵)اپنی طرف سے کسی کے حالات بیان نہ کرے، (۶) تراجم میں کثرت نقل کو اختیار نہ کرے، (۷) مترجم لہ کے علمی اور دینی حالات سے پوری طرح واقف ہو، (۸) حسن تعبیر کا مالک ہو اور الفاظ کے مدلولات سے واقف ہو، (۹) حسنِ تصور والا ہو یہاں تک کہ مترجم لہ کے تمام حالات اس کے سامنے ہوں، اس کے بارے میں ایسی عبارت لائے جو نہ اسے اس کے حقیقی مقام سے اونچا کرے اور نہ گرا دے، (۱۰) ہوی پرستی کا شکار نہ ہو کہ وہ اس کو اپنی محبوب شخصیت کی مدح میں اطناب اور دیگر کے بارے میں تقصیر پر مجبور کرے، یا تو ہویٰ سے بالکل پاک ہو یا اس میں ایسا عدل ہو جو اس کے ہویٰ کو مغلوب کر کے انصاف پر مجبور کرے۔ (۷)

 

تاریخ ِقرونِ ثلاثہ

 

اس تمہیدی گفتگو کے بعد ہم اپنے اصل موضوع کی طرف لوٹ آتے ہیں، ہماری تحریر کا مقصد قرون ثلاثہ سے متعلق تاریخ کی تدوین اور دروغ گو راویوں کے کردار اور تاریخ کی تدوین جدید کی ضرورت کے متعلق بحث کرنا ہے، اگرچہ تدوینِ حدیث بھی تاریخ ہی کا ایک حصہ ہے، مگر وہ ہمارا موضوعِ بحث نہیں، اس سے متعلق سرسری اشاروں پر اکتفا کریں گے، اسلام میں تاریخ نویسی کی ابتدا تو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارک سے ہوئی کہ صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرایا و غزوات کے حالات نہ صرف اپنے سینوں میں محفوظ رکھتے تھے، بلکہ اپنی اولاد کو بھی انھیں یاد کرنے کی ترغیب دیا کرتے تھے، لیکن باقاعدہ تمام اخبار و وقائع کو بصورتِ تاریخ مدون کرنے کا کام دوسری صدی ہجری میں بنو عباس کے عہدِ حکومت میں شروع ہوا، ابتدا میں واقعات کو بیان کرنے کے لیے سند کا اہتمام کیا گیا، یہاں تک کہ اشعار بھی سند کے ساتھ بیان کیے جاتے تھے، چناں چہ تاریخِ طبری اور کتاب الأغانی اس کا مظہر ہیں، لیکن یہ واضح رہے عام اخبار و قائع اور اشعار کے راویوں کی بابت بحث و تمحیص اور تحقیق کے باب میں وہ اہتمام اور شدت نہیں برتی گئی جو روایاتِ حدیث کے متعلق بحث و تمحیص اور تحقیق کے باب میں برتی گئی۔

 

تدوینِ تاریخ میں کار فرما ایک نفسیاتی ضابطہ

 

 

یہ بات تو ہر عام و خاص پر واضح ہے کہ انسانی تاریخ میں جب بھی ایک قوم و قبیلہ یا جماعت و پارٹی کی حکومت و اقتدار کو ختم کر کے دوسری مقابل قوم و قبیلہ یا جماعت و پارٹی بر سرِ اقتدار آتی ہے تو وہ اپنے پیش رو حکمرانوں کی تمام خوبیوں، محاسن، اور تعمیری کاموں کو بھی خامیوں، برائیوں اور تخریب باور کروانے کے لیے پوری حکومتی مشینری کے ساتھ مل کر ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہے، تدوینِ تاریخ اسلامی کے وقت بھی یہ نفسیاتی ضابطہ کار فرما رہا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے درمیان مصالحت کے بعد سے تقریباً ۱۳۲ ہجری تک عالمِ اسلام پر بنو امیہ کی حکومت رہی، پھر اس کے بعد ۱۳۲ہجری بموافق ۷۴۹ء بنو عباس کے ایک شخص ابو العباس السفاح نے بنو امیہ کی حکومت ختم کر کے بنو عباس کی حکومت کی داغ بیل ڈالی۔

یہ بات بھی بالکل عیاں ہے کہ بنو عباس اور بنو امیہ میں باہمی مخالفت اس درجہ تھی کہ ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرسکتے تھے، لہٰذا جب بنو عباس کے دورِ حکومت میں تاریخ کی تدوین شروع ہوئی تو عام طور سے تاریخی وقائع و حوادث کو مرتب کرنے میں اسی نفسیاتی ضابطہ کو پیشِ نظر رکھا گیا، بلکہ بعض مؤرخین نے حکومتی ظلم و ستم سے بچنے یا حکامِ وقت کی خوشنودی کی خاطر اور اپنی معاشی و تمدنی حالت کو مستحکم کرنے کے لیے مذکورہ بالا طرز ہی اختیار کیا۔

 

علامہ شبلی ؒ کی گواہی

 

قریبی دور کے ایک مشہور مؤرخ علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تصنیف” الإنتقاد علی التمدن الإسلامی” میں اسلامی تاریخ کی ابتدائی تدوین کا بہترین جائزہ پیش کیا ہے، چناں چہ لکھتے ہیں : ” اسلامی تاریخ کے مؤرخین عموماً بنو عباس کے عہد میں (پیدا) ہوئے اور یہ بات بھی معلوم ہے کہ عباسیوں کے عہد میں بنو امیہ کی خوبی کی کوئی چیز (بھی) اتفاقاً صادر ہو جاتی تو اس کے قائل کو کئی قسم کی ایذاؤں کا سامنا کرنا پڑتا اور ہتکِ عزت کے علاوہ ناموافق انجام سے بھی دو چار ہونا پڑتا تھا، دفترِ تاریخ میں اس قسم کی کئی مثالیں موجود ہیں “۔ (۸)

 

راویوں کا نظریاتی کردار

 

اس کے علاوہ تاریخی واقعات کو نقل کرنے والے راویوں کے نظریات اور مذہبی رجحانات نے بھی ان واقعات کو بیان کرنے اور اس کے لیے اختیار کی جانے والی تعبیر میں مرکزی کردار ادا کیا، خصوصاً جب انھیں روایت با لمعنی کی عام اجازت بھی حاصل تھی، چناں چہ بہت سارے گمراہ عقائد و افکار کے حامل راویوں نے قرونِ ثلاثہ سے متعلق واقعات کو اپنے مذہبی رجحانات و نظریاتی افکار کے تحت حقائق کو نظر انداز کر کے اس طرح بیان کیا کہ اس سے حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و تابعین کے بارے میں بہت سارے مطاعن پید ا کیے گئے۔

 

دروغ گو راویوں کے ظہور کے اسباب و اہداف

 

قارئین کرام! اگر آپ قرون ثلاثہ کی تاریخ کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے تو تدوین کے اس زمانہ میں جھوٹ کے ظاہر ہونے کے اسباب و اہداف میں تداخل پائیں گے، بسا اوقات ایک ہی واقعہ میں سبب اور ہدف دونوں پائے جائیں گے، اگر آپ نفس واقعہ کی طرف دیکھیں گے تو آپ کو اس کا سبب نظر آئے گا، لیکن اسی واقعہ پر نتیجہ کے اعتبار سے غور کیا جائے تو اس کی ایک غرض بھی سامنے آئے گی۔ غرض دروغ گوئی کے بعض ایسے بنیادی اور واضح اسباب ہیں، جن کی وجہ سے قرون ثلاثہ کے دوران عام طور سے اور تدوین تاریخ کے وقت خاص طور سے دروغ گوئی نے جڑ پکڑ لی تھی۔

 

 دروغ گوئی کے اہم اور بنیادی اسباب

 

ویسے تو دروغ گوئی کے اسباب کثیر تعداد میں ہیں، ہم یہاں صرف چند اہم اور بنیادی اسباب کے ذکر پر اکتفا کریں گے۔

۱-       سیاسی اختلافات

۲-       فکری اور مذہبی گمراہی و بے اعتدالی۔

۳-       باطنی امراض (کفر و نفاق اور زندقہ)

 

سیاسی اختلافات

 

بنیادی طور پر سیاسی اختلافات ہی وہ اہم سبب ہے جس نے امتِ مسلمہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے باہم مقابل فرقوں میں بانٹ کر ایک دوسرے کے خون کا پیا سا بنا دیا، سیاسی اختلافات کی ابتدا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے آخری ایام میں ہوئی جس کا سلسلہ بعد کے زمانوں میں مختلف صورت میں جاری رہا۔

 

فکری اور مذہبی گمراہی

 

فکری اور مذہبی گمراہی نے اسی سیاسی فتنہ کے بطن سے جنم لیا، اس اندھے سیاسی فتنہ نے فکری اور مذہبی انحراف کو مزید گہرا کر کے نہ صرف اسے بنیاد فراہم کیا، بلکہ اس کا دفاع کر کے اسے ایک مقدس، شرعی و مذہبی رنگ دے دیا، جیسا کہ صراطِ مستقیم سے انحراف کرنے والے، اسلام کی طرف منسوب بہت سارے گمراہ فرقے خوارج و روافض وغیرہ کا حال یہی ہے کہ دونوں نے سیاسی فتنہ کے بطن سے جنم لے کر اسی کی گود میں پر ورش پائی اور اس کی تائید سے صراط مستقیم سے منحرف ان فرقوں نے ایک مقدس مذہبی رنگ کا لبادہ اوڑھ لیا، جن کی قداست کے پسِ پردہ امت مسلمہ کو گزشتہ تیرہ صدیوں سے لہو لہان کیا جا رہا ہے۔

 

 امراض باطنی

 

باقی رہی بات امراض باطنی کی، جیسا کہ کفر، نفاق، زندقہ، حسد، کینہ، دنیا کی محبت و حرص وغیرہ یہ وہ اسباب ہیں جنہوں نے بہت سارے لوگوں کو دروغ گوئی، اس میں مہارت و امتیاز حاصل کرنے پر ابھارا اور مجبور کیا، پھر اس کے برے اور زہریلے اثرات میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب ان امراض باطنی اور سیاسی و مذہبی اختلافات میں امتزاج ہوا۔

غرض یہی وہ مرکزی اور گہرے و بنیا دی اسباب تھے جنہوں نے ان دروغ گو راویوں کے لیے زمین ہموار کی اور فضا و ماحول کو سازگار بنایا جس کی وجہ سے وہ نہ صرف جھوٹ و دروغ گوئی کی طرف متوجہ ہوئے، بلکہ اس میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی سعی نامسعود کی، تاکہ اپنے زعمِ باطل کے مطابق اس دروغ گوئی کے سہارے اپنے مذہب کی خدمت، مصالح کے حصول اور شہوات کی تکمیل کرسکیں۔

مخصوص فکری و مذہبی فرقہ کی تائید و نصرت

دروغ گوئی و کذب کے ظاہر ہونے کے اسباب میں ایک سبب صراط مستقیم سے منحرف رہنے والے مخصوص فکری و مذہبی فرقہ کی تائید و نصرت بھی ہے، علامہ ذھبی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ دروغ گو اور کذّاب احمد بن عبداللہ جو یباری فرقہ کرامیہ کی نصرت و دفاع کی خاطر محمد بن کرام کے لیے احادیث گھڑا کرتا تھا اور محمد بن کرام انھیں اپنی کتابوں میں ذکر کرتا تھا۔ (۹)اس طرح دروغ گو و کذّاب قاضی محمد بن عثمان نصیبی روافض کی تائید و نصرت کی خاطر احادیث گھڑا کرتا تھا، اور ابو جارود بن منذر کوفی مثالبِ صحابہ میں احادیث وضع کیا کرتا تھا، عبدالرحمن بن خراشی شیعی کا بھی یہی وطیرہ تھا، اس نے حضرات شیخین رضی اللہ عنہم کے مزعومہ مثالب میں دو رسالے تحریر کر کے روافض کے ایک بڑے پیشوا کی خدمت میں پیش کیا تو اس نے اسے دو ہزار درھم انعام میں دیے۔ (۱۰)

قارئین کرام! غور فرمائیں کہ مذکورہ بالا تینوں افراد کا ہدف و مقصد وضعِ حدیث سے صرف اپنے مخصوص فرقہ کے فکری و اعتقادی افکار کی تائید کے علاوہ کچھ نہیں، یہ لوگ انبیاء کرام کے بعد بالاتفاق خیرالبشر و افضل البشر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف زبان درازی اور دلی کینہ کے اظہار کی غرض سے دروغ گوئی کیا کرتے تھے، روافض نے اہل بیت و حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تین ہزار کے قریب جعلی احادیث وضع کی ہیں۔ (۱۱)

 

ترغیب و ترہیب

 

دروغ گوئی کے اہداف میں ایک ہدف لوگوں کو دین کی ترغیب دینا اور ان کے دلوں کو نرم کرنا اور اپنے مزعومہ نظریہ کے مطابق لوگوں کو اجر کی امید دلانا اور گناہ سے روکنے کے لیے ترہیب بھی تھا، جیسا کہ بعض جہل گزیدہ نام نہاد صوفیوں نے اس قبیح فعل کا ارتکاب کیا۔

 

مادی و معاشی فوائد کا حصول

 

 

دروغ گوئی کے مرکزی اہداف و اسباب میں ایک بڑا اور بنیادی سبب جاہل عوام کو اپنی طرف مائل کر کے ان سے مادی و معاشی فوائد حاصل کر کے اپنی خواہشات کو پورا کرنا بھی تھا، یہ طرزِ عمل مخصوص گمراہ فرقوں کے علاوہ قصہ گو اور واعظ قسم کے لو گوں نے بھی اختیار کیا تھا، یہ لوگوں کو جھوٹی روایات، عجیب و غریب اور محیرالعقول قسم کی باتیں گھڑ کر سنایا کرتے، تاکہ لوگ ان سے متأثر ہو کر ان کی مادی و معاشی ضروریات کی تکمیل میں معاونت کریں۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے میں لکھا ہے کہ ابراہیم بن فضل اصفہانی (المتوفی ۵۳۰ھ)اصفہان کے بازار میں کھڑے ہو کر اسی وقت اپنی طرف سے احادیث گھڑ کر لوگوں کو سنایا کرتا تھا اور ان روایاتِ کاذبہ کے ساتھ صحیح روایات کی اسانید کو جوڑا کرتا تھا۔ (۱۲)

 

 شخصی یا گروہی مفادات

 

؂          جھوٹ میں منافست کا ایک سبب اپنے شخصی یا گروہی مفاد کے لیے بعض بر گزید اور بڑے لوگوں کی مدح یا مذمت میں احادیث وضع کرنا بھی تھا، جیسا کہ روافض کا یہ عمومی حال تھا، علامہ ذہبیؒ نے امام مازریؒ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ نعیم بن حماد امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مثالب میں جھوٹی روایات وضع کیا کرتا تھا، (۱۳) علامہ ذہبیؒ ہی نے لکھا ہے کہ احمد بن عبداللہ جو یباری نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی مدح میں ایک حدیث وضع کی تھی۔ (۱۴) ان تمام اسباب و اہداف میں غور و فکر سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کذب و دروغ گوئی کے پھلنے اور پھولنے کی بنیاد تو ان دروغ گو راویوں کے باطنی امراض کے سبب وجود پذیر ہوئی، لیکن سیاسی، گروہی اور مادی و معاشی عوامل نے اس کی گہرائی و نشاط میں اضافہ کر کے اسے مزید سہ آتشہ بنایا۔

 

تاریخ اسلامی پر جھوٹ کے برے اثرات

 

دروغ گو راویوں کے اس مخصوص مکتبۂ فکر نے ہماری پوری تاریخِ اسلامی پر عام طور سے اور قرونِ ثلاثہ پر خاص طور سے بہت سے زہریلے اور بُرے اثرات چھوڑے، مقامِ فکر یہ ہے کہ ان دروغ گو اور گذّاب( اور متہم بالکذب) لوگوں کی روایات ہماری تاریخ، ادب اور دینی تصانیف میں سرایت کر گئیں، اور ان کے ایک بڑے اور معتدبہ حصہ کو اپنے جھوٹ سے فاسد کر ڈالا، جس کے نتیجہ میں ثقہ روایات کے ساتھ ابا طیل، خرافات و متناقضات، ان کتابوں میں شامل ہو گئیں۔

 

تاریخِ طبری کا ایک سرسری جائزہ

 

جن حقائق کا ہم نے گزشتہ سطور میں تذکرہ کیا، ان کا ہماری اسلامی تاریخ سے کتنا تعلق ہے اور اس کے کیا برے اثرات مرتب ہوئے، ان کا ایک سر سری جائزہ لینے کی غرض سے ہم نے کتبِ تاریخ میں سے علامہ ابن جریر بن یزیدطبری (المتوفی: ۳۱۰ھ) کی مشہور و معروف تصنیف “تاریخ الأمم والملوک المعروف بتاریخ الطبری” کا بطور نمونہ کے انتخاب کیا ہے، تاریخِ طبری ہماری عہدِ اسلامی کی تاریخ کا اہم مصدر ہو نے کے علاوہ قرونِ ثلاثہ کے حوالہ سے سب سے اہم، کثیر المعلومات اور مستند کہی جانے والی کتاب ہے، اس لیے طبری اور ان کی کتاب کا مختصر سا تعارف پیش کرنے کے بعد ہم اپنے اصل موضوع پر گفتگو کریں گے، تاکہ قاری پر یہ بات واضح ہو جائے کہ علامہ طبری خود توثقہ ہیں، لیکن ان کی کتاب رطب و یابس کا مجموعہ ہے۔

 

ابن جریر طبری کا مختصر تعارف

 

نام: محمد، ولدیت: جریر، دادا کا نام: یزید اور کنیت: ابو جعفر ہے، پیدائش طبرستان میں ہوئی، اس کی نسبت سے “طبری” کہلاتے ہیں۔ سنہ ولادت میں دو قول ہیں:(۱)۲۲۴ھ کے آخر میں، (۲)۲۲۵ھ کے اول میں۔ ابن جریرؒ خود اپنے ابتدائی حالاتِ زندگی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے سات سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ یاد کر لیا، آٹھ سال کی عمر میں لوگوں کو نمازیں پڑھانا شروع کر دیں اور نوسال کی عمر میں حدیث لکھنا شروع کر دیا تھا۔ ابن جریر طبری نے علوم و فنون کی تکمیل کے لیے مختلف علماء اور علاقوں کی طرف اسفار کیے۔ عراق میں ابو مقاتل سے فقہ پڑھی، احمد بن حماد دولابی سے کتاب “المبتدا” لکھی، مغازی محمد بن اسحاق بواسطہ سلمہ بن فضل حاصل کیے اور اسی پر اپنی تاریخ کی بنیاد رکھی۔ کو فہ میں ھناد بن سری اور موسی بن اسماعیل سے حدیث لکھی، سلیمان بن خلادطلحی سے قرأت کا علم حاصل کیا پھر وہاں سے بغداد لوٹ آئے، احمد بن یوسف تغلبی کی صحبت میں رہے اور اس کے بعد فقہِ شافعی کی تحصیل کی طرف متوجہ ہوئے اور اسی کو اپنامسلک ٹھہرا کر کئی سال تک اس کے مطابق فتویٰ دیتے رہے، بیروت میں عباس بن ولید بیروتی سے شامیوں کی روایت میں قرأت و تلاوت مکمل کی۔

مصر میں بھی ایک طویل دور تک قیام پذیر رہے، اسی اثنا میں شام چلے گئے پھر لوٹ آئے اور امام مزنی اور عبدالحکم کے صاحبزادوں سے فقہ شافعی کا علم حاصل کیا اورابن وھب کے شاگردوں سے فقہ مالکی کی تحصیل کی۔ غرض علامہ طبری نے حدیث، تفسیر، قرأت، فقہ، تاریخ، شعر و شاعری اور تمام متداول علوم و فنون میں مہارت حاصل کر لی تھی۔ مختلف عنوانات پر ۲۶ کے قریب کتابیں تصنیف کیں، ان میں تفسیر طبری کے علاوہ تاریخ طبری بہت زیادہ مشہور و معروف ہے۔ (۱۵)

 

تاریخ طبری کا مختصر تعارف

 

اس کتاب کا نام “تاریخ الرسل والملوک ” یا “تاریخ الأمم و الملوک”ہے، البتہ “تاریخ طبری” کے نام سے عوام و خواص میں مشہور ہے۔ علامہ طبری کی یہ تصنیف عربی تصانیف میں مکمل اور جامع تصنیف شمار کی جاتی ہے، یہ کتاب ان سے پہلے کے مؤرخین یعقوبی، بلاذری، واقدی، ابن سعد وغیرہ کے مقابلہ میں اکمل اور ان کے بعد کے مؤرخین، مسعودی، ابن مسکویہ، ابن اثیر اور ابن خلدون وغیرہ کے لیے ایک رہنما تصنیف بنی۔ معجم الادباء میں یا قوت حموی نے لکھا ہے کہ ابن جریر نے اپنی اس تالیف میں۳۰۲ ھ کے آخر تک کے واقعات کو بیان کیا اور بروز بدھ ۲۷ ربیع الاول ۳۰۳ھ میں اس کی تکمیل کی۔ (۱۶)

 

طرزِ نگارش

 

ابن جریر نے اپنی تاریخ کی ابتدا حدوثِ زمانہ کے ذکر، اول تخلیق یعنی قلم و دیگر مخلوقات کے تذکرہ سے کی، پھر اس کے بعد آدم علیہ السلام اور دیگر انبیاء و رسل کے اخبار و حالات کو تورات میں انبیاء کی مذکورہ ترتیب کے مطابق بیان کیا، یہاں تک کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تک تمام اقوام اور ان کے واقعات کو بھی بیان کیا ہے۔ اسلامی تاریخ کے حوادث کو ہجرت کے سال سے لے کر ۳۰۲ھ تک مرتب کیا اور ہر سال کے مشہور واقعات و حوادث کو بیان کیا۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں حدیث، تفسیر، لغت، ادب، سیرت، مغازی، واقعات و شخصیات، اشعار، خطبات اور معاہدات وغیرہ کو خوبصورت اسلوب میں مناسب ترتیب کے ساتھ ہر روایت کو اس کے راوی اور قائل کی طرف (بغیر نقد و تحقیق کے ) منسوب کیا کہ اس کو کتاب اور فصول کے عنوان سے تقسیم کر کے ان کو علماء کے اقوال سے مزین کیا ہے۔

 

مصادرِ تصنیف

 

طبری نے اپنی اس تصنیف کے لیے جن مصادر کا انتخاب کیا وہ یہ ہیں:(۱) تفسیر مجاہد اور عکرمہ وغیرہ سے نقل کی، (۲)سیرت ابان بن عثمان، عروہ بن زبیر، شرجیل بن سعد، موسی بن عقبہ اور ابن اسحاق سے نقل کی، (۳)ارتداد اور فتوحاتِ بلاد کے واقعات سیف بن عمر اسدی سے نقل کیے، (۴)جنگ جمل اور صفین کے واقعات ابو مخنف اور مدائنی سے نقل کیے، (۵) بنو امیہ کی تاریخ عوانہ بن حکم سے نقل کی، (۶)بنو عباس کے حالات احمد بن ابو خیثمہ کی کتابوں سے لکھے، (۷)اسلام سے قبل عربوں کے حلات عبید بن شریۃ الجر ھمی، محمد بن کعب قرظی اور وھب بن منبہ سے لیے، (۸)اہل فارس کے حالات فارسی کتابوں کے عربی ترجموں سے لیے، (۹)پوری کتاب میں مصنف کا اسلوب یہ ہے کہ واقعات و حوا دث اور روایات کو ان کی اسناد کے ساتھ بغیر کسی کلام کے ذکر کرتے چلے گئے ہیں، (۱۰)جن کتابوں اور مؤلفین سے استفادہ کیا ہے تو جگہ جگہ ان کے ناموں کی صراحت کی ہے، (۱۱)تاریخِ طبری کے بہت سارے تکملات لکھے گئے اور کئی لوگوں نے اس کا اختصار بھی کیا اور خود طبری نے سب سے پہلے اس کا ذیل لکھا، بعض حضرات نے اس کا فارسی میں ترجمہ کیا، پھر فارسی سے ترکی زبان میں بھی ترجمہ کیا گیا۔ (۱۷)

 

ابن جریر طبری کا مذہب

 

تاریخ طبری کے مصنف” ابن جریر طبری “کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ سنی شافعی المسلک تھے، طبقاتِ شافعیہ اور دیگر رجال کی کتابوں میں یہی مذکور ہے بعد میں وہ درجۂ اجتہاد پر فائز ہو گئے تھے اور فقہائے مجتہدین کی طرح ان کا بھی مستقل مکتبِ فقہ وجود میں آ گیا تھا جو ایک عرصہ تک قائم رہا۔ (۱۸) اس موقع پر یہ یاد رہے کہ اسی نام و ولدیت سے ایک اور شخص بھی گزرا ہے جو رافضی تھا، چناں چہ علمائے رجال نے وضاحت کے ساتھ لکھا ہے کہ ابو جعفر محمد بن جریر بن رستم طبری رافضی تھا، اس کی بہت ساری تصانیف بھی ہیں، ان میں سے ایک “کتاب الرواۃ عن أہل البیت” بھی ہے، حافظ سلیمانی رحمہ اللہ کے کلام “کان یضع للروافض” کا مصداق بھی یہی شخص ہے۔ (۱۹)

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ابن جریر طبری (سنی)کے بارے میں(مسح رجلین کے قائل ہونے کا شبہ) اس لیے پیدا ہوا، کیوں کہ ابن جریر جو مسح رجلین کا قائل تھا وہ ان کے علاوہ ایک اور شخص ہے جو شیعی تھا، ان دونوں کا نام اور ولدیت ایک جیسی ہے، میں نے اس (ابن جریر شیعی) کی شیعہ مذہب کے اصول و فروع کے بارے میں کتابیں دیکھیں ہیں۔ (۲۰)حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ابن جریر کے بارے مسح رجلین کے قائل ہونے کی جو حکایت بیان کی جاتی ہے تو اس سے مراد محمد بن جریر بن رستم رافضی ہے، کیوں کہ یہ ان کا مذہب ہے، (نہ کہ اہل سنت کا)۔ (۲۱)چوں کہ دونوں کا نام ولدیت اور کنیت ایک جیسی ہے، اس لیے بہت سارے خواص بھی اس سے دھوکہ کھا جاتے ہیں، پہچان کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں کے دادا کا نام جدا جدا ہے، سنی ابن جریر کے داد کا نام یزید ہے اور رافضی ابن جریر کے دادا کا نام رستم ہے۔ (۲۲)

خود شیعہ مصنّفین اور اصحابِ رجال میں سے بحر العلوم طباطبائی، ابن الندیم، علی بن داؤد حلّی، ابو جعفر طوسی، ابو العباس نجاشی اور سیّد خوئی وغیرہ نے ابن جریر بن رستم طبری کا اہلِ تشیع میں سے ہونے کی تصریح کی ہے۔ (۲۳) بہرحال دونوں ناموں اور ولدیت و کنیت میں تشابہ ہے، اسی تشابہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیعہ علماء نے ابن جریر شیعی کی بہت ساری کتابوں کی نسبت ابن جریرسنی کی طرف کرنے کی کوشش کی ہے، چناں چہ ڈاکٹر ناصر بن عبداللہ بن علی قفازی نے “أصول مذھب الشیعۃ الإمامیۃ الإثنی عشریۃ عرض و نقد” میں لکھا ہے :”روافض نے اس تشابہ کو غنیمت جان کر ابن جریر سنی کی طرف بعض ان کتابوں کی نسبت کی ہے جس سے ان کے مذہب کی تائید ہوتی ہے، جیسا کہ ابن الندیم نے الفہرست، ص:۳۳۵ میں “کتاب المسترشد فی الإمامۃ” کی نسبت ابن جریر سنی کی طرف کی ہے، حالاں کہ وہ ابن جریر شیعی کی ہے، دیکھیے: طبقات أعلام الشیعۃ فی المائۃ الرابعۃ، ص:۲۵۲، ابن شہر آشوب، معالم العلماء، ص:۱۰۶، آج بھی روافض بعض ان اخبار کی نسبت امام طبری کی طرف کرتے ہیں جن سے ان کے مذہب کی تائید ہوتی ہے، حالاں کہ وہ اس سے بری ہیں، دیکھیے: الأمینی النجفی، الغدیر: ۱/۲۱۴-۲۱۶۔ روافض کے اس طرزِ عمل نے ابن جریر طبری سنی کو ان کی زندگی میں بہت سارے مصائب سے دوچار کیا، یہاں تک کہ عوام میں سے بعض لوگوں نے انھیں رفض سے متہم بھی کیا، جیسا کہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ (دیکھیے:البدایۃ و النہایۃ: ۱۱/۱۴۶)(۲۴)

 

موضوعِ بحث

 

اس وقت ہمارا موضوع ِ بحث علامہ ابن جریر بن یزید طبری اور ان کی تاریخ ہے، موصوف چوں کہ بڑے اور بلند مرتبہ کے عالم تھے، خاص کر قرونِ ثلاثہ کی تاریخ کے حوالہ سے ان کا نام اور کتاب کسی تعارف کے محتاج نہیں، قدیم و جدید تمام مؤرخین نے ان سے استفادہ کیا ہے۔

 

تاریخِ طبری کا اجمالی جائزہ

 

ان ساری خصوصیات کے باوجود تاریخ طبری میں جگہ جگہ حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق ایسی بے بنیاد اور جھوٹی روایات مروی ہیں، جن کی کوئی معقول و مناسب توجیہ نہیں کی جا سکتی ہے، جب کہ عدالتِ صحابۂ کرام پر موجود قطعی نصوص قرآن و سنت اور اجماعِ امت کے پیش نظر منصف مزاج اہل علم امام طبری اور خاص کر ان کی تاریخ میں مروی اس طرح کی روایات پر کلام کرنے پہ مجبور ہوئے ہیں، تاریخ طبری بڑے بڑے دروغ گو، کذّاب اور متہم بالکذب راویوں کی روایات سے بھری ہوئی ہے، بطور مثال کے تاریخ طبری کی روایات کا ایک جائزہ لینے کے لیے ڈاکٹر خالد علال کبیر صاحب نے تاریخ طبری میں موجود ثقہ و غیر ثقہ راویوں کی روایات کا ایک اجمالی خاکہ پیش کیا ہے، چناں چہ وہ لکھے ہیں کہ تاریخِ طبری میں اس کے بارہ (۱۲) مرکزی رواۃ کی روایات کا جائزہ لیتے ہیں، جن میں سے سات راوی کذّاب یا متہم بالکذب ہیں اور پانچ ثقہ ہیں۔

 

دروغ گو اور متہم بالکذب راویوں کی روایات کا اجمالی خاکہ

 

محمد بن سائب کلبی کی بارہ (۱۲) روایات، حشام بن محمد کلبی کی پچپن (۵۵) روایات، محمد بن عمر کی چار سو چالیس (۴۴۰)روایات، سیف بن عمر تمیمی کی سات سو (۷۰۰)روایات، ابو مخنف لوط بن یحی ٰ کی چھ سو بارہ (۶۱۲)روایات، ہیثم بن عدی کی سولہ(۱۶) روایات، محمد بن اسحاق بن سیار (یسار)(۲۵) کی ایک سو چونسٹھ (۱۶۴)روایات ہیں، ان سب کی روایات کا مجموعہ جن کو مؤرخ طبری نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے وہ انیس سو ننانوے( ۱۹۹۹) ہے۔

 

ثقہ راویوں کی روایات کا اجمالی خاکہ

 

زبیر بن بکار کی آٹھ(۸)روایات، محمد بن سعد کی ایک سو چونسٹھ (۱۶۴)روایات، موسی بن عقبہ کی سات(۷)روایات، خلیفہ بن خیاط کی ایک(۱) روایت، وھب بن منبہ کی چھیالیس (۴۶)روایات ہیں۔ تاریخ طبری کے ان پانچ ثقہ راویوں کی روایات کا مجموعہ دو سو نو(۲۰۹) ہے۔

تو گویا تاریخ طبری میں دو سو نو( ۲۰۹)ثقہ روایات کے مقابلہ میں ان سات دروغ گو اور متہم بالکذب راویوں کی انیس سو ننانوے( ۱۹۹۹) روایات ہیں، ان دونوں کے تناسب سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تاریخ طبری جیسی قدیم اور مستند سمجھی جانے والی کتاب کا جب یہ حال ہے تو تاریخ کی باقی کتابوں کا کیا حال ہو گا۔ (۲۶)

 

علامہ طبری کا اعتراف

 

مذکورہ بالا باتوں کی تائید خود علامہ طبری کا اپنی تاریخ کے مقدمہ کے اس اعتراف سے بھی ہوتی ہے، جس میں انہوں نے واضح طور سے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب میں بغیر نقد و تمحیص کے مختلف فرقوں اور گروہوں کے راویوں کی روایات کو ان کی اسانید کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ چناں چہ قارئین کے اطمینان قلبی کی خاطر علامہ طبری کی وہ پوری عربی عبارت پیش خدمت ہے، جس میں انہوں نے محض سند کے ساتھ بغیر نقد و تمحیص کے روایات ذکر کرنے کا اعتراف کیا ہے:

فَمَا یَکُنْ فِیْ کِتَابِیْ ھَذا مِنْ خَبَرٍ ذَکَرْناہ عن بَعْضِ الماضِیْنَ مِمَّا یَسْتَنْکِرُہ قَارِیہِ، أو یَسْتَشْنَعُہ سَامِعُہ، مِنْ أَجَلِ أنَّہ لَمْ یَعْرِفْ لَہ وَجْھاً فِی الصِّحَّۃِ، وَلاَ مَعْنًی فِی الْحَقِیْقَۃِ، فَلِیُعْلَمْ أنَّہ لَمْ یُؤْتِ فِیْ ذٰلِکَ مِنْ قَبْلِنَا، وَ إنَّمَا مِنْ قِبَلِ بَعْضِ نَاقِلِیْہِ إِلَیْنَا، وَأنّا إنَّما أدَّیْنَا ذلِکَ عَلی نَحْوِمَا أُدِّیَ إلَیْنَا“․(۲۷)

محترم قارئین کرام! کیا صرف سند کے ساتھ رطب و یابس، غث و سمین اور ثقہ و غیر معتبر ہر طرح کی روایات کا نقل محض کسی بھی ثقہ مصنف کے لیے معقول عذر بن سکتا ہے؟ اس پر اپنی ذاتی رائے اور نقطۂ نظر پیش کرنے کی بجائے ہم محقق علماء کی آرا نقل کر کے فیصلہ انصاف پسند قارئین پر چھوڑتے ہیں۔

 

 علامہ ذہبیؒ اور حافظ ابن حجرؒ کا اعتراف

 

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ابن جریر طبری ائمۂ جرح و تعدیل کے نزدیک ثقہ ہیں، لیکن ان کے بارے میں تشیع کی طرف میلان کا قول بھی مروی ہے، چناں چہ علامہ ذہبی اور حافظ ابن حجر رحمھما اللہ نے ان کی توثیق کرنے کے ساتھ ساتھ دبے لفظوں میں ان کے تشیع کی طرف میلان کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے:” ثِقَۃٌ صَادِقٌ فِیْہ تَشَیُّعٌ یَسِیْرٌ وَ مُوَالَاۃٌ لَاتَضُرُّ“․(۲۸) شاید ان دونوں حضرات کے کلام کا مقصد یہ ہو کہ چوں کہ علامہ طبری نے اپنی تاریخ میں ایسی روایات بغیر نقد و کلام کے نقل کی ہیں، جن سے ان کا تشیع کی طرف میلان معلوم ہوتا ہے، لہٰذا اس تصریح کے بعد طبری کی وہ تمام روایات جن سے اہلِ تشیع کے مخصوص افکار کی تائید ہوتی ہے وہ غیر معتبر قرار پائیں گی۔

 

محقق عصر مولانا محمد نافع صاحب کا تبصرہ

 

تاریخ طبری میں منقول معتضد با للہ عباسی کا رسالہ جسے مؤرخ طبری نے ۲۸۴ھ کے تحت بلا کسی نقد و تحقیق و تمحیص اور کلام کے نقل کیا ہے، جس میں حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں حضرات کے خلاف سب و شتم اور لعن طعن کرنے کے جواز میں مواد فراہم کیا اور اس میں موجباتِ لعن و طعن درج کیے ہیں، اس رسالہ پر تنقید کرتے ہوئے “الطبری کی حکمتِ عملی” کے تحت محققِ عصر، یگانۂ روزگار اور عبقری شخصیت حضرت مولانا محمد نافع صاحب دامت برکاتہم العالیہ، فاضل دارالعلوم دیوبند نے” فوائدِنافعہ “میں جو کچھ فرمایا وہ من و عن پیش خدمت ہے:

“غور طلب بات یہ ہے کہ صاحب التاریخ محمد ابن جریر الطبری کے لیے عباسیوں کے اس فراہم کردہ غلیظ مواد کو من و عن نقل کے کے اپنی تصنیف میں شامل کرنے کا کون سا داعیہ تھا؟اور اس نے کون سی مجبوری کی بنا پر یہ کارِ خیر انجام دیا؟ گو یا الطبری نے اس مواد کو اپنی تاریخ میں درج کر کے آنے والے لوگوں کو اس پر آگاہ کیا اور سب وشتم اور لعن طعن کے جو دلائل عباسیوں نے مرتب کروائے تھے، ان پر آئندہ نسلوں کو مطلع کرنے کا ثواب کمایا؟چناں چہ شیعہ اور روافض رسالۂ مذکورہ میں مندرجہ مواد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنی کتب میں ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر مطاعن قائم کرتے ہیں اور شدید اعتراضات پیدا کرتے ہیں۔ (۲۹)

 

 مولانا مہر محمد صاحب کی رائے

 

ابن جریر طبری کا مذہب، اس عنوان کے تحت مولانا مہر محمد صاحب رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہ وہی امام طبری المتوفی ۳۱۰ھ ہیں جنہیں اہلِ بغداد نے تشیع سے متہم کر کے اپنے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیا تھا(۳۰)، گو شیعہ نہیں ہیں، تاہم اپنی تاریخ یا تفسیر میں ایسی کچی پکی روایات خوب نقل کر دیتے ہیں جو شیعہ کی موضوع یا مشہور کی ہوئی ہوتی ہیں۔ (۳۱)

 

عرب علماء کی رائے

 

معاصر عرب اہل علم حضرات میں سے ڈاکٹر خالد علال کبیر صاحب (۳۲)نے اپنی کتاب “مدرسۃ الکذابین فی روایۃ التاریخ الإسلامی و تدوینہ” میں مؤرخ طبری کے اس مخصوص طرزِ عمل کے بارے میں لکھا ہے کہ میرے نزدیک انھوں نے یہ (یعنی تحقیق و تمحیص کے بغیر صرف اسانید کے ساتھ روایات کو نقل کر کے) ایک ناقص کام کیا ہے، اور ان تمام روایات کے وہ خود ذمہ دار ہیں جو انہوں نے اپنی تاریخ میں مدون کی ہیں، پس انہوں نے عمداً دروغ گو راویوں سے بہ کثرت روایات نقل کیں اور ان پر سکوت اختیار کیا، یہ انتہائی خطرناک معاملہ ہے جو بعد میں آنے والی بہت ساری نسلوں کی گمراہی کا سبب بنا، انھیں (طبری) چاہیے تھا کہ وہ ان دروغ گو رایوں کا بغیر ضرورت کے تذکرہ نہ کرتے، یا ان پر نقد کرتے اور ان کی روایات کی جانچ پڑتال کرتے، صرف ان کی اسانید کے ذکر پر اکتفا کر کے سکوت اختیار نہ کرتے۔ نقدِ روایات اس لیے ضروری تھا کہ تاریخِ طبری کا مطالعہ کرنے والوں میں غالب اکثریت ان لوگوں کی ہے جن میں اتنی علمی صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ ان روایات پر سند و متن کے اعتبار سے نقد کرسکیں، اگر اس سے استفادہ کرنے والے صرف حدیث، تاریخ و دیگر علوم میں متبحر ہوتے تو یہ طے شدہ بات تھی کہ وہ نقد و تمحیص کا عمل انجام دیتے۔ (۳۳)

ڈاکٹر صاحب موصوف مزید لکھتے ہیں کہ اس معاملہ کو اس سے بھی زیادہ سنگین اس بات نے کر دیا کہ طبری کے بعد آنے والے اکثر مؤرخین نے قرونِ ثلاثہ کے بارے میں ان سے بہ کثرت روایات نقل کی ہیں، جیسا کہ ابن جوزیؒ نے اپنی کتاب “المنتظم”‘ میں، ابن الاثیر نے “الکامل” میں اور ابن کثیر نے “البدایہ” میں بغیر سند کے نقل کیا ہے، اور ان حضرات کا اس طرح بغیر سند کے روایات نقل کرنے سے ثقہ اور دروغ گو راویوں کی روایات خلط ملط ہو گئیں ہیں، بسا اوقات تاریخ طبری کی طرف مراجعت کے بغیر ان روایات میں تمیز مستحیل ہو جاتی ہے۔ (۳۴)

 

 افتراق و انتشار اور گروہی اختلافات کی اساس

 

غرض کذّاب اور دروغ گو رایوں کی موضوع و من گھڑت اور نصوص شریعت و حاملینِ دین متین سے متصادم روایات ہی امتِ مسلمہ میں افتراق و انتشار اور تمام گروہی اختلافات کی اساس و بنیاد ہیں، جن کو صراطِ مستقیم سے منحرف فرقوں نے جب مذہبی قداست کا لبادہ اوڑھا دیا تو اس مکتبۂ فکر کے ماننے والوں نے ان روایات کو دین اور رجال پر طعن کرنے، گمراہ افکار کی نصرت و تائید، مسلمہ حقائق اور متوارث تاریخ اسلامی میں تشکیک پیدا کرنے کے لیے بطور سلاح کے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

 

اتحادِ امت کا نسخہ کیمیا

 

امتِ مسلمہ کا درد رکھنے والا منصف مزاج محقق ضرور اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ ان دروغ گو مکتبہ فکر کے گمراہ لوگوں نے اپنے مخصوص افکار و عقائد کی بنیاد اپنے مکتبۂ فکر کے ان مخصوص اور دروغ گو رایوں کی روایات پر رکھی ہے، اور قرآنِ کریم اور سنتِ صحیحہ و دیگر نصوصِ شریعت کو درخور اعتنا نہیں سمجھا، اگر یہ گمراہ فرقے آج بھی قرآنِ کریم، سنتِ صحیحہ اور دیگر متواتر و قطعی نصوص شریعت کی طرف رجوع کریں گے تو امتِ مسلمہ میں ہر طرح کے اختلاف ختم ہو جائیں اور یہ امت پھر سے ایک جسد و قلب کی مانند متفق و متحد ہو جائے گی، امتِ مسلمہ کے اتحاد کا یہی ایک نسخہ کیمیا ہے۔

 

تدوینِ جدید کی ضرورت

 

موجودہ حالات میں امتِ مسلمہ کے اختلافات، انتشار اور فرقوں میں تقسیم کو دیکھتے ہوئے ایک معتدل اور امت کا درد رکھنے والا مؤرخ ضرور تاریخِ اسلامی کی تدوین جدید کی آواز اٹھائے گا، تدوینِ جدید کے لیے کیا جانے والا جدید مطالعہ درج ذیل نکات کی روشنی میں ہو تو زیادہ مفید، مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے:

۱۔ شریعتِ مطہرہ اور درایت و عقل کے خلاف روایت مردود ہے، چناں چہ علما ء نے صراحت کی ہے کہ جو روایت بھی درایت اور عقل کے خلاف ہو، یا اصولِ شریعت کے مناقض ہو تو جان لیں کہ وہ روایت موضوع ہے اور اس کے راویوں کا کوئی اعتبار نہیں اسی طرح جو روایت حس اور مشاہدہ کے خلاف ہو، یا قرآن کریم، سنتِ متواترہ اور اجماعِ قطعی کے مبائن ہو تو وہ روایت بھی قابلِ قبول نہیں۔ (۳۵)

۲۔ صحابہ و ائمہ دین کی عیب جوئی سے متعلق روایت بھی قابلِ اعتبار نہیں، کیوں کہ روایات وضع کرنے والوں میں بعض لوگ وہ ہیں جنہوں نے حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور ائمۂ دین کی برائیاں اور عیب بیان کرنے کے لیے، یا اپنے دیگر مذموم اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لیے روایات وضع کی ہیں، ان کا یہ عمل یا تعنت و عناد کی وجہ سے ہے یا تعصب و فساد کی وجہ سے ہے، پس ان لوگوں کی روایات کا کوئی اعتبار نہیں، جب تک کہ ان کی کوئی سند معتمد نہ پائی جائے، یا سلفِ صالحین میں سے کسی نے اس پر اعتماد نہ کیا ہو۔ (۳۶)

علامہ نووی رحمہ اللہ نے قاضی عیاض اور علامہ مازری رحمھما اللہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ہمیں حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ حسنِ ظن رکھنے اور ہر بری خصلت کی ان سے نفی کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا اگر ان کے بارے میں کسی روایت میں اعتراض پایا جائے اور اس کی صحیح تاویل کی کوئی گنجائش نہ ہو تو اس صورت میں ہم اس روایت کے راویوں کی طرف جھوٹ کی نسبت کریں گے۔ (۳۷)

علامہ عبدالعزیز فرہاروی رحمۃ اللہ نے لکھا ہے کہ اس بارے میں اہلِ سنت کا مذہب یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اس کی مناسب تاویل کی جائے اور اگر مناسب تاویل ممکن نہ ہو تو اس روایت کو رد کر کے سکوت اختیار کرنا واجب ہے اور طعن کو بالیقین ترک کرنا ہو گا، اس لیے کہ حق سبحانہ و تعالی نے تمام صحابۂ کرامؓ سے مغفرت اور جنت کا وعدہ کیا ہے۔ (۳۸)

۳۔ نہایت اعتدال کے ساتھ ان تمام مؤرخین کی کتابوں سے ثقہ اور جھوٹے و کذّاب راویوں کی روایات میں تمیز کیا جائے، جنہوں نے اپنی کتابوں میں دونوں طرح کی روایات کو جگہ دی ہے، جیسا کہ خلیفہ بن خیاط، محمد بن سعد، زبیر بن بکار، موسی بن عقبہ، وھب بن منبہ، ابن جریر طبری اور ابن اثیر وغیرہ۔

۴۔ تاریخی روایات کی سند اور متن ہر دو اعتبار سے نقد و تمحیص و تحقیق کے مسلمہ قواعد کی روشنی میں جائزہ لے کر ان پر محتاط و محققانہ کلام کیا جائے۔

۵۔ اس بات میں بھی تفریق ضروری ہے کہ مؤلف اور صاحبِ تاریخ خود تو ثقہ ہیں، لیکن اس نے نقل واقعات و روایات میں دروغ گو اور کذّاب راویوں پر اعتماد کیا ہے، جیسا کہ ابن جریر طبری کا حال ہے، ایسی صورت میں اس مؤرخ کی صرف ثقہ راویوں والی روایات مقبول قرار پائیں گی، دروغ گو و کذّاب رواۃ کی روایات مردود سمجھی جائیں گی۔ (۳۹)

۶۔ اگر صاحبِ تاریخ خود کذّاب و دروغ گو ہو تو پھر اس کی کتاب میں موجود ثقہ لو گوں کی روایات بھی غیر معتبر قرار دے دی جائیں گی۔

۷۔ اصل اور ضابطہ تو کذاب راویوں کی روایات کے بارے میں عدمِ قبولیت کا ہے، البتہ اگر ان کی کوئی روایت، قرآنِ کریم، سنتِ مبارکہ اور اجماعِ امت کے مخالف نہ ہو تو دیگر ثقہ راویوں کی روایت کی تائید میں قرائن ومرجحات کی موجودگی میں قبول کرنے کی گنجائش ہو گی۔

۸۔ دینی امور، صحابۂ کرام، ائمہ و سلفِ صالحین کے علاوہ دیگر دنیاوی معاملات میں اگر کسی ثقہ راوی کی روایت دستیاب نہ ہو تو بصورت مجبوری دروغ گو راویوں سے منقول روایات نقلِ واقعہ کی غرض سے ذکر کرنے کی گنجائش ہو گی، مگر اس سے علمِ یقین حاصل نہ ہو گا۔

۹۔ تاریخ اور تحقیق کے نام پر محض مؤرخین کی ذکر کردہ روایات سے اخذ کردہ نتائج بھی غیر مقبول شمار ہوں گے، البتہ حقیقی اور مسلمہ اصولوں کے تحت روایت قابل قبول قرار پائے تو اس سے ماخوذ نتائج درست قرار دیے جائیں گے۔

۱۰۔ اس پورے عمل کے دوران اس بات کا استحضار رہے کہ ہماری تاریخ دروغ گو مکتبۂ فکر کی اغواکاری کا شکار رہی ہے، لہٰذا معمولی سی غفلت بھی موجودہ اور آئندہ آنے والی امتِ مسلمہ کی نسلوں میں تشکیک، تحریف، تضلیل، ائمۂ دین و اسلاف سے بیزاری اور گروہی اختلافات کی آڑ میں ان تاریخی روایات کی بنیاد پرکُشت و خون کی ہولیاں کھیلے جانے کا سبب بن سکتی ہے۔ (۴۰)

          أللھم أرنا الحقّ حقّاً وارزقنا اتباعہ و أرنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہ

٭٭٭

حواشی و حوالہ جات

 

(۱)         القاموس المحیط للفیروز آبادی، فصل الھمزۃ:۱/۳۱۷، المحکم والمحیط الأعظم لابن سیدۃ، فصل الخاء واللام والھمزہ: ۵/۲۳۸، دار الکتب العلمیۃ، المعجم الوسیط باب الھمزۃ:۱/۱۳، دار النشر، تاج العروس، أرخ: ۷/۲۲۵، دار الھدایۃ، لسان العرب، أرخ:۳/۴، دار صادر

(۲)        الصحاح : ۱/۴۴۰، مختار الصحاح، باب الألف :۱/۱۳، مکتبۃ لبنان ناشرون

(۳)        القاموس المحیط للفیروزآبادی، فصل الہمزۃ:۱/۳۱۸، المحکم والمحیط: ۵/۲۳۸، المغرب، الھمزۃ مع الراء ۱: ۳۵، مکتبۃ أسامۃ بن زید حلب، لسان العرب: ۳/۴، الصحاح:۱/۴۴۰

(۴)        تفصیل کے لیے دیکھئے : الشماریخ فی علم التاریخ للسیوطی: ۱/۱۰۔ ۱۴، الدار السلفیۃ کویت، تاریخ ابن خلدون : ۱/۳، ۹، ۳۵، تاریخ الإسلام للذھبی: ۱/۱۲، دار الکتاب العربی، تاریخ الطبری: ۱/۱۲، دار الکتب العلمیۃ

(۵)        الکامل فی التاریخ : ۱/۹، دار الکتب العلمیۃ، الشماریخ فی علم التاریخ للسیوطی: ۱/۱۴

(۶)        تفصیل کے لیے دیکھیے : تاریخ اسلام، مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی :۱/۲۳، ۲۴۔ مکتبۃ العلم کراچی

(۷)        طبقات الشافعیۃ:۱/۱۹۷، ۱۹۸، دار المعرفۃ، بیروت

(۸)        بحوالہ سیرت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ: ۲/۱۲، دار لکتاب لاہور

(۹)        میزان الاعتدال :۱/۲۴۵، دار لکتب العلمیۃ

(۱۰)       تفصیل کے لیے دیکھیے: الضعفاء لابن الجوزای: ۳/۸۴، ۴/۳۶۵، دار لکتب العلمیۃ، لسان المیزان : ۳/۴۴۴

(۱۱)        میزان الاعتدال:۲/۱۷۱

(۱۲)       لسان المیزان :۱/۱۳، مؤسسۃ الأعلمی بیروت

(۱۳)       میزان الاعتدال :۷/۴۴

(۱۴)       میزان الاعتدال :۲۴۵۱

(۱۵)       طبقات الشافعیۃ الکبریٰ للسبکی:۲/۱۳۵․۱۳۸، تذکرۃ الحفاظ : ۲/۷۱۰․۷۱۶، دار الصمیعی، میزان الاعتدال :۳/۴۹۸، ۴۹۹، لسان المیزان :۵/۱۰۰، ۱۰۳، وفیات الأعیان لابن خلکان: ۴/۱۹۱، دار صادر، الأعلام للزرکلی:۶/۶۹، دار العلم للملایین

(۱۶)       معجم الأدباء:۶/۵۱۶، مؤسسۃ المعارف

(۱۷)       مقدمۃ ملحقۃ فیبدایۃ تاریخ الطبری، ص۷، ۸، دار الکتب العلمیۃ

(۱۸)          طبقات الشافعیۃ الکبریٰ:۲/۱۳۵․۱۳۸، تذکرۃ الحفاظ : ۲/۷۱۶۷۱۰، میزان الاعتدال :۳/۴۹۸، ۴۹۹، لسان المیزان :۵/۱۰۰، ۱۰۳

(۱۹)           تذکرۃ الحفاظ : ۲ / ۷۱۰ ۷۱۶، میزان الاعتدال :۳/۴۹۸، ۴۹۹، لسان المیزان :۵/۱۰۰، ۱۰۳

(۲۰)          حاشیۃ الإمام ابن القیم علی سنن أبی داؤد فی ذیل عون المعبود:۲/۲۰۵

(۲۱)           لسان المیزان :۵/۱۰۳

(۲۲)          میزان الاعتدال :۳/۴۹۹، لسان المیزان :۵/۱۰۳

(۲۳)          الفوائد الرجالیۃ:۷/۱۹۹، مکتبۃ العلمین الطوسی و بحر العلوم فی نجف الأشرف، مکتبۃ الصادق طہران، الفہرست، ص:۵۸، رجال ابن داؤد للحلّی:۱/۳۸۶، رجال الطوسی لأبی جعفر الطوسی: ۲/۲۴۲، مؤسسۃ النشر الإسلامی قم، رجال النجاشی لأبی العباس أحمد بن علی النجاشی: ۱/۳۷۸، مؤسسۃ النشر الإسلامی قم، معجم رجال الحدیث للسید الخوئی: ۱/۱۳۲، ۱۲/۱۵۴، ایران

(۲۴)          أصول مذھب الشیعۃ الإمامیۃ الإثنی عشریۃ عرض و نقد:۳/۱۴۹

(۲۵)          ڈاکٹر خالد صاحب کی کتاب میں دو بار”یسار” کی جگہ “سیار” آیا ہے، غالباً یہ کمپوزنگ کی غلطی ہے، محمد بن اسحاق بن یسار کے بارے میں جرح اور تعدیل دونوں طرح کے اقوال ملتے ہیں، البتہ ابن اسحاق جمہور کے نزدیک ثقہ ہے، (تعلیقات الشیخ عبد الفتاح أبو غدہ علی الرفع والتکمیل، ص :۱۱۴۔ ۱۱۶، مکتبۃ الدعوۃ ا لإسلامیۃبشاور)، لیکن یہ ذہن نشین رہے کہ موصوف چوں کہ تشیع سے بھی متہم ہیں، (تہذیب الکمال:۲۴/۴۱۶، مؤسسۃ الرسالۃ)، اس لیے ان کی وہ تمام روایات جن سے تشیع کی کسی بھی طرح تائید ہوتی ہے غیر معتبر ہوں گی۔

(۲۶)          تفصیل کے لیے دیکھیے : مدرسۃ الکذابین فی روایۃ التاریخ الإسلامی و تدوینیہ، ص:۴۵۔ ۴۷، دار البلاغ الجزائر

(۲۷)          تاریخ الطبری، خطبۃ الکتاب : ۱/۱۳

(۲۸)          میزان الاعتدال :۳/۴۹۹، لسان المیزان :۵/۱۰۰

(۲۹)          فوائدنافعہ:۱/۵۷۔ ۵۸، دار الکتاب لاہور

(۳۰)          معجم الأدباء :۶/۵۱۴

(۳۱)          ہزار سوال کا جواب، ص:۷۹، مرحبا اکیڈمی

(۳۲)          موصوف نے جامعۃ الجزائر سے تاریخ اسلامی میں ڈاکٹریٹ کی ہوئی ہے۔

(۳۳)         مدرسۃ الکذابین فی روایۃ التاریخ الإسلامی و تدوینہ: ۱/۶۷، ۶۸

(۳۴)        حوالۂ سابق

(۳۵)         فتح المغیث: ۱/۲۴۹، ۲۵۰

(۳۶)          الأجوبۃ الفاضلۃ اللأسئلۃ العشرۃ الکاملۃ، ص:۲۹

(۳۷)         شرح النووی، کتاب الجھاد، باب حکم الفیء:۱۲/۲۹۶، دار المعرفۃ

(۳۸)         الناھیۃ عن طعن أمیر المؤمنین معاویۃ رضی اللّٰہ عنہ، ص:۶۶،

(۳۹)          مدرسۃ الکذابین فی روایۃ التاریخ الإسلامی و تدوینہ، ص:۵۳

(۴۰)          حوالۂ سابق

٭٭٭

مآخذ:

http://www.darululoom-deoband.com/urdu/magazine/new/tmp/05-Tarikh%20Islam%20Me%20Jhute_MDU_05_May_14.htm

http://www.darululoom-deoband.com/urdu/magazine/new/tmp/08-Tarikh%20Islami%20Men_MDU_06_June_14.htm

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید