FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

بنیادی عقائد

 

 

حصہ دوم

 

(مقدمۃ فی العقیدۃ للقیروانی کی شرح کا اردو ترجمہ)

 

                مولف : فضیلۃ الشیخ عبد المحسن حمد العباد(حفظہ اللہ)

                مترجم : فضیلۃ الشیخ عبد اللہ ناصر رحمانی(حفظہ اللہ)

 

 

 

ہمارے نبی محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کی رسالت کا بیان

 

[14]” ۔ ثم ختم الرسالۃ والنذارۃ والنبوۃ بمحمدنبیہﷺ، فجعلہ آخر المرسلین ، بشیرا ونذیرا ، وداعیا الی اللہ باذنہ وسراجامنیرا، وأنزل علیہ کتابہ الحکیم ، وشرح بہ دینہ القویم ، وھدی بہ الصراط المستقیم۔”

ترجمہ: “پھر اللہ تعالیٰ نے سلسلہ رسالت کا اپنے آخری نبی محمد ﷺ پر اختتام فرما دیا، اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ کو تمام انبیاء و مرسلین میں سے آخر میں مبعوث فرمایا، آپ ﷺ کو بشیر و نذیر بنایا، اپنے اذن سے اپنا د اعی اور سراجِ منیر بنا کر بھیجا، آپﷺ پر اپنی کتابِ حکیم(قرآن مجید) نازل فرمائی، اور آپﷺ کے ذریعے اپنے دینِ متین کی شرح و تفصیل فرما دی، نیز آپﷺ کے ذریعے لوگوں کو صراطِ مستقیم کی ہدایت فرما دی۔”

شرح

ہمارے نبی محمدﷺ کی رسالت کا بیان​

اس آخری زمانہ میں تمام جن وانس پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسولِ کریم محمدﷺ کی بعثت فرما دی، رسول اللہﷺ نے لوگوں کے سامنے خیر کے ہر راستے کی نشاندہی فرما دی اور انہیں شر کے ہر راستے سے متنبہ فرما دیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِه وَ يُزَكِّيْهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ)(آل عمران: 164)

ترجمہ: “بے شک مؤمنوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان یں بھیجا، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے ، یقیناً یہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے “​

نیز فرمایا:

(وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ) (سبأ: 28)

ترجمہ: “ہم نے آپ کو تمام لوگوں کیلئے خوشخبریاں سنانے والا اور دھمکا دینے والا بنا کر بھیجا ہے ، ہاں مگر(یہ صحیح ہے) کہ لوگوں کی اکثریت بے علم ہے “​

نیز فرمایا:

(قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا) (الأعراف: 158)

ترجمہ : “آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں”​

نیز فرمایا:

(يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّ لَا نَذِيْرٍ١ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّ نَذِيْرٌ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ) (المائدۃ: 19)

ترجمہ: “اے اہل کتاب! بالیقین ہمارا رسول تمہارے پاس رسولوں کی آمد کے ایک وقفے کے بعد آپہنچا ہے ۔ جو تمہارے لئے صاف صاف بیان کر رہا ہے تاکہ تمہاری یہ بات نہ رہ جائے کہ ہمارے پاس تو کوئی بھلائی، برائی سنانے والا آیا ہی نہیں، پس اب یقیناً خوشخبری سنانے والا اور آگاہ کرنے والا آ پہنچا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے “​

نیز فرمایا:

(قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ ۖ وَلَن نُّشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا) (الجن: 1-2)

ترجمہ: “(اے محمدﷺ) آپ کہہ دیں کہ مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے (قرآن) سنا اور کہا کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔ ہم اس پر ایمان لاچکے (اب) ہم ہر گز کسی کو بھی اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے “​

نیز فرمایا:

(وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِيَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِيْنَ قَالُوْا يٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِيْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِيْقٍ مُّسْتَقِيْمٍ يٰقَوْمَنَاۤ اَجِيْبُوْا دَاعِيَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِه يَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ يُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ وَ مَنْ لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللّٰهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍ فِي الْاَرْضِ وَ لَيْسَ لَه مِنْ دُوْنِه اَوْلِيَآءُ اُولٰٓىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ) (الاحقاف: 29تا 32)

ترجمہ: “اور یاد کرو! جبکہ ہم نے جنوں کی ایک جماعت کو تیری طرف متوجہ کیا کہ وہ قرآن سنیں، پس جب (نبی کہ) پاس پہنچ گئے تو (ایک دوسرے سے ) کہنے لگے خاموش ہو جاؤ، پھر جب ختم ہو گیا تو اپنی قوم کو خبردار کرنے کیلئے واپس لوٹ گئے ۔ لگے اے ہماری قوم! ہم نے یقیناً وہ کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو سچے دین کی اور راہ راست کی طرف رہبری کرتی ہے ۔ اے ہماری قوم! اللہ کے بلانے والے کا کہا مانو! اس پر ایمان لاؤ تو اللہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں المناک عذاب سے پناہ دے گا۔ اور جو شخص اللہ کے بلانے والے کا کہا نہ مانے گا پس وہ زمین میں کہیں (بھاگ کر اللہ کو) عاجز نہیں کرسکتا ، اور نہ ہی اللہ کے سوا کوئی اس کے مدد گار ہوں گے ، یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں”​

 

 

 

امتِ محمدیہ کی دو قسمیں ہیں: اُمتِ دعوت، اُمتِ اجابت

 

ہمارے نبی محمدﷺ کی اُمت دو قسم کی ہے : ایک اُمت دعوت ، دوسری: اُمتِ اجابت۔

اُمتِ دعوت کا اطلاق آپ ﷺ کی بعثت سے لے کر قیامِ قیامت تک آنے والے ہر جن وانس پر ہوتا ہے ،(خواہ اسلام قبول کریں یا نہ کریں۔) جبکہ اُمتِ اجابت سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے دینِ حنیف میں داخل ہونے کی توفیق مرحمت فرما دیں۔ گویا آپﷺ کی شریعت تمام جن وانس کیلئے ایک ضروری اور لازمی امر ہے اور تمام جن وانس بلا استثناء اسی شریعتِ مطہرہ کے مخاطب ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے :

“والذی نفس محمد بیدہ لایسمع بہ احد من ھذہ الامۃ یھودی ولا نصرانی ثم یموت ولم یؤمن بالذی ارسلت بہ الا کان من اصحاب النار​” (صحیح مسلم: 240)

یعنی: “مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے اس امت کا کوئی یہودی یا عیسائی میری دعوت کو سنے پھر وہ میری شریعت پر ایمان لائے بغیر ہی مرگیا تو وہ جہنم میں جائے گا۔”​

پس ہمارے نبی محمدﷺ کی بعثت کے بعد، یہودو نصاریٰ کا یہ دعویٰ یا زعم کہ وہ موسیٰ ؑ یا عیسیٰؑ کے امتی یا پیرو کار ہیں قطعی کفایت نہیں کرے گا، بلکہ ان سب کیلئے انتہائی ضروری اور متعین امر یہ ہے کہ وہ ہمارے نبی محمدﷺ پر ایمان لائیں۔ آپ ﷺ کی شریعت نے سابقہ تمام شریعتوں کو منسوخ کر دیا ہے اور آپﷺ پر بعثتِ انبیاء کا سلسلہ ختم ہو گیا۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيّنَ) (الاحذاب: 40)

ترجمہ : “(لوگو!) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد(ﷺ)نہیں لیکن آپ تو اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے ”

مؤلف رحمہ اللہ کے فرمان :”آپ ﷺ پر اپنی کتابِ حکیم (قرآن مجید) نازل فرمائی، اور آپ ﷺ کے ذریعے اپنے دینِ متین کی شرح و تفصیل فرما دی”

اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :

(اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَيْمِنًا عَلَيْهِ) (المائدۃ: 48)

ترجمہ: “اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی اور ان کی محافظ ہے “​

یہ آیتِ کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآنِ مجید سابقہ تمام کتب کا مھیمن و محافظ ہے ، جبکہ دوسری آیت سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ کی سنت قرآنِ مجید کی شرح و توضیح کرتی ہے ۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ) (النحل:44)

ترجمہ: “یہ ذکر( کتاب) ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا ہے آپ اسے کھول کھول کر بیان کر دیں شاید کہ وہ غور کریں”​

کتاب وسنت میں وارد تمام احکام پر عمل ضروری ہے ، جس شخص نے سنت کا انکارکیا اس نے قرآن کا انکار کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے نماز ، زکوٰۃ ، روزہ اور حج کی فرضیت کا قرآنِ پاک میں اعلان فرما دیا، جبکہ ان احکام کی ، نیز دیگر تمام احکام کی جزئیات و تفصیلات رسول اللہﷺ کی سنت سے حاصل ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں نماز قائم کرنے کا حکم دیا، جبکہ رسول اللہﷺ کی سنت نے ان نمازوں کے اوقات ، تعدادِ رکعات اور اول سے آخر تک ادائیگی نماز کا طریقہ بیان کیا، اور پھر رسول اللہﷺ نے حکم دے دیا”صلوا کما رأیتمونی اصلی” (صحیح بخاری: 631)

یعنی : “تم جس طرح مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو بالکل اسی طرح پڑھو۔”

اسی طرح قرآنِ حکیم نے ادائیگی زکوٰۃ کا حکم دیا، اور رسول اللہﷺ کی سنت نے وجوبِ زکوٰۃ کے شرائط نیز نصابِ زکوۃ بتلا دیا۔

اسی طرح قرآنِ حکیم نے روزہ کا حکم دیا، سنتِ رسول اللہﷺ نے روزے کے جملہ احکام و مفطرات بیان کیئے ۔

اسی طرح قرآن نے حجِ بیت اللہ کا حکم اور رسول اللہﷺ نے اپنی سنت سے حج کا مکمل طریقہ واضح کر دیا اور یہ فرما دیا:

“لتأ خذ وامنا سککم فانی لاادری لعلی لاأحج بعد حجتی ھذہ” (صحیح مسلم: 1297)

یعنی:”تم مجھ سے طریقہ حج لے لو، شاید اس حج کے بعد میں کبھی حج نہ کر سکوں۔”​

مؤلف رحمہ اللہ کے قول: “آپ ﷺ کے ذریعے لوگوں کو صراطِ مستقیم کی ہدایت فرما دی۔”

کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :

(وَ اِنَّكَ لَتَهْدِيْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍۙ) (الشوریٰ: 52)

ترجمہ :”آپ ﷺ صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دیتے ہیں”​

نیز اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:

(وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ) (المؤمنون: 73)

ترجمہ : “یقیناً آپ تو انہیں راہ راست کی طرف بلا رہے ہیں”​

نیز اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:

(وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِه ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِه لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْن) (الانعام: 153)

ترجمہ: “اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے سو اس راہ پہ چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی، اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکید ی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیز گاری اختیار کرو۔”​

ثابت ہوا کہ ہدایت کا راستہ صرف نبیﷺ کی اتباع پر مؤقف و مقصور ہے ، اللہ تعالیٰ کی ہر قسم کی عبادت کا صرف وہی طریقہ مقبول و معتبر ہے جو نبی ﷺ نے من جانب اللہ بیان فرما دیا، اللہ تعالیٰ سے ملانے والا راستہ بھی نبیﷺ کی اتباع پر موقف و قائم ہے ۔

صراط مستقیم کی ہدایت ایک ایسی نعمت ہے کہ ایک مسلمان کو کھانے پینے سے زیادہ اس کی ضرورت ہے ، کیونکہ کھانا پینا تو محض دنیوی زندگی کی طلب ہے ، جبکہ صراطِ مستقیم، دارِ آخرت کا زادِ راہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ سورہ فاتحہ جس کی ہر نماز خواہ وہ فرض ہو یا نفل، کی ہر رکعت میں قرأت فرض قرار دی گئی ہے ، میں صراطِ مستقیم کی ہدایت کی دُعا وارد ہے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَۙ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ) (الفاتحہ: 6تا7)

ترجمہ: “ہمیں سیدھی (اور سچی) راہ دکھا ۔ ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا۔ ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کی۔”​

ایک مسلمان بالا ستمرار اور بالتکرار یہ دعا مانگتا ہے ، تاکہ پروردگار اسے انعام یافتہ بندوں: انبیاء، صدیقین، شھداء اور صالحین کی راہ پر فائز فرما دے ، نیز انہیں ان لوگوں کی راہ سے بچا لے جو مستحقِ غضب اور معتوبِ ضلالت ہیں، اس سے مراد یہودو نصاریٰ اور دیگر دشمنانِ دین ہیں۔

نبیﷺ کے جن وانس کو صراطِ مستقیم کی ہدایت دینے سے مراد، ان کی طرف وہ نور منتقل کرنا ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں ذکر فرمایا:

(يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًاۙ وَّ دَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِه وَ سِرَاجًا مُّنِيْرًا) (الاحزاب:45-46)

ترجمہ: “ہم نے آپ کو (رسول بنا کر) گواہیاں دینے والا، خوشخبریاں سنانے والا ، آگاہ کرنے والا بھیجا ہے ۔ اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ”​

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ کو سراجِ منیر کے وصف سے متصف فرمایا ہے ، چنانچہ آپﷺ بندوں کیلئے اس راستے کو روشن اور منور فرماتے ہیں جو اللہ رب العزت کی طرف جاتا ہے ، اسی معنیٰ میں ایک آیت میں قرآنِ حکیم کو بھی نور کہا گیا ہے :

(فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِه وَ النُّوْرِ الَّذِيْۤ اَنْزَلْنَا) (التغابن: 8)

ترجمہ: “سوئم اللہ پرا ور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل فرمایا ہے ایمان لاؤ”​

قرآن کے نور ہونے سے مراد بھی یہی ہے کہ وہ صراطِ مستقیم کو منور کر کے طریقِ ہدایت واضح کر دیتا ہے ۔

 

 

 

قیامت کے سلسلہ میں چند قواعد کی معرفت ضروری ہے

 

[15]: قولہ وان الساعۃ اتیۃ لاریب فیھا وان اللہ یبعث من یموت کما یدأھم یعودون۔

ترجمہ : “اور بے شک قیامت آنے والی ہے ، اس میں کوئی شک نہیں، اور بے شک اللہ تعالیٰ تمام مُردوں کو اٹھائے گا، جیسے انہیں پیدا کیا تھا، ویسے ہی دوبارہ بن جائیں گے ۔”

شرح

(قیامت کے سلسلہ میں چند قواعد کی معرفت ضروری ہے )​

1- قیامت کے قائم ہونے کا علم صرف اللہ عزوجل کے پاس ہے ۔صحیح بخاری: (4697) میں رسول اللہﷺ کا فرمان مروی ہے :”غیب کی پانچ چابیاں ہیں جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ” اس حدیث کے آخر میں فرمایا: “ولا یعلم متی تقوم الساعۃ الااللہ” یعنی: قیامت کب قائم ہو گی، اس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس نہیں۔

رسول اللہﷺ سے جب قیامت کے وقوع کی بابت پوچھا جاتا تو آپﷺ اس کی نشانیاں بیان فرماتے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کس سال ، کس مہینہ اور مہینے کے کس دن قائم ہو گی، البتہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ قیامت جمعہ کے دن قائم ہو گی، چنانچہ آپﷺ نے فرمایا: “خیر یوم طلعت علیہ الشمس یوم الجمعۃ ، فیہ خلق آدم وفیہ ادخل الجنۃ وفیہ اخرج منھا ولا تقوم الساعۃ الافی یوم الجمعۃ” (صحیح مسلم: 854)

یعنی : دنیا کا سب سے بہترین دن جمعہ کا دن ہے ، کیونکہ اس دن آدم ؑ کو خلق کیا گیا، اس دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا، اور اسی دن نکالا گیا، اور قیامت بھی جمعہ کے دن قائم ہو گی۔

2- “الساعۃ” یعنی قیامت کے لفظ کا اطلاق اس موت پر موت ہے جو صور میں پھونک کے وقت زندہ لوگوں کو حاصل ہو گی، جیسا کہ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے :

“لاتقوم الساعۃ الاعلی شرار الناس” (صحیح مسلم: 2949)

یعنی: “قیامت تو بدبخت ترین لوگوں پر قائم ہو گی۔”​

البتہ جو لوگ نفخِ صور سے قبل موت کا شکار ہو چکے ہیں ان کی قیامت اسی وقت (یعنی ان کی موت کے وقت) ہی قائم ہو جاتی ہے اور وہ دار العمل سے دار الجزاء کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔

اسی طرح” الساعۃ” یعنی قیامت سے مراد بعث بعد الموت (مرنے کے بعد اٹھنا) بھی ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آل ِ فرعون کے بارے میں فرمایا:

(اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِيًّا وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ) (غافر: 46)

ترجمہ: “آگ ہے جس کے سامنے یہ ہر صبح شا م لائے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہو گی(فرمان ہو گا کہ) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں ڈالو”​

نیز فرمایا:

(وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِيْنَا السَّاعَةُ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُمْۙ) (سبأ: 3)

ترجمہ: “کفار کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت قائم ہونے کی نہیں، آپ(ﷺ) کہہ دیجئے ! کہ مجھے میرے رب کی قسم جو عالم الغیب ہے کہ وہ یقیناً تم پر آئے گی”​

کفار کا یہ کہنا کہ ہم پر قیامت قائم نہیں ہو گی ، درحقیقت بعث بعد الموت کا انکار ہے ،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

(زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا قُلْ بَلٰى وَ رَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرٌ) (التغابن: 7)

ترجمہ: “ان کافروں کا خیال ہے کہ دوبارہ زندہ نہ کئے جائیں گے ۔ آپ کہہ دیجئے کہ کیوں نہیں اللہ کی قسم! تم ضرور دوبارہ اٹھائے جاؤ گے پھر جو تم نے کیا ہے اس کی خبر دیئے جاؤ گے اور اللہ پر یہ بالکل ہی آسان ہے “​

(ثابت ہوا کہ “الساعۃ” کا اطلاق موت اور بعث بعد الموت دونوں پر ہوتا ہے ۔)

3- قیامت لا محالہ آنے والی ہے ، اور اللہ رب العزت تمام مرے ہؤوں کو ان کی پہلی خِلقت کے مطابق ضرور اٹھائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ) (غافر: 59)

ترجمہ: “قیامت بالیقین اور بلاشبہ آنے والی ہے ، لیکن(یہ اور بات ہے کہ) بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے “​

نیز فرمایا:

(وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيْهَا) (الکہف:21)

ترجمہ: “ہم نے اس طرح لوگوں کو ان کے حال سے آگاہ کر دیا کہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ بالکل سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک و شبہ نہیں”​

نیز فرمایا:

(ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّه يُحْيِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّه عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌۙ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُوْرِ) (الحج: 6-7)

ترجمہ: “یہ اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور وہی مُردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر ہر چیز پر قدرت رکھتے والا ہے ۔ اور یہ کہ قیامت قطعاً آنے والی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ قبروں والوں کو دوبارہ زندہ فرمائے گا”​

یہ آیتِ کریمہ قبر میں دفن تمام مُردوں کے اٹھائے جانے پر نص ہے ، قبر کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ عام طور پر فوت شدہ کو قبر ہی میں دفن کیا جاتا ہے ،

جب کہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ بعث یعنی اٹھنا ہر مردہ کیلئے ہے ، خواہ وہ قبر میں دفن ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔[1]

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

(وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ١ۙ لَا يَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ يَّمُوْتُ بَلٰى وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَۙ) (النحل: 38)

ترجمہ : “وہ لوگ بڑی سخت قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ مُردوں کو اللہ تعالیٰ زندہ نہ کرے گا۔کیوں نہیں ضرور زندہ کرے گا یہ تو اس کا برحق لازمی وعدہ ہے ، لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں”​

مؤلف رحمہ اللہ کی عبارت” کہ اللہ تعالیٰ تمام مُردوں کو اٹھائے گا” میں عموم ہے ، یعنی یہ مُردہ کو شامل ہے خواہ وہ قبر میں میں دفن ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، اور شاید اسی عموم اور شمول کی وجہ سے مؤلف رحمہاللہ نے یہ تعبیر اختیار فرمائی ہو۔

4- اللہ تعالیٰ نے قرآن ِ حکیم میں بہت سے مقامات پر قیامت کے روز تماما بندوں کے اٹھائے جانے کا ذکر فرمایا ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے عام طور پہ اس کے ا ثبات و تقریر کیلئے تین چیزیں بطورِ دلیل ذکر فرمائی ہیں:

اولاً: اللہ تعالیٰ نے بطورِ استدلال یہ ذکر فرمایا کہ ان انسانوں کو ہم ہی نے پہلی مرتبہ پیدا فرمایا(یعنی انہیں عدم سے حیاتِ دنیوی کی طرف منتقل کیا) چنانچہ فرمایا:

(اَوَ لَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِيَ خَلْقَه قَالَ مَنْ يُّحْيِ الْعِظَامَ وَ هِيَ رَمِيْمٌ قُلْ يُحْيِيْهَا الَّذِيْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيْمُۙ) (یس: 77 تا 79)

ترجمہ: “کیا انسان کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا ہے ؟ پھر یکایک وہ صریح جھگڑا لو بن بیٹھا ۔ اور اس نے ہمارے لئے مثال بیان کی اور اپنی(اصل) پیدائش کو بھول گیا، کہنے لگا ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کر سکتا ہے ؟ آپ جواب دیجئے ! کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں اول مرتبہ پیدا کیا ہے ، جو سب طرح کی پیدائش کا بخوبی جاننے والا ہے “​

نیز فرمایا:

(وَ هُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُه وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) (روم: 27)

ترجمہ : “وہی جو اول بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے پھر سے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر آسان ہے ۔ اسی کی بہترین اور اعلیٰ صفت ہے ، آسمانوں میں اور زمین میں بھی اور وہی غلبے والا حکمت والا ہے “​

نیز فرمایا:

(يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَيْرِ مُخَلَّقَةٍ) (الحج: 5)

ترجمہ: “لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو سوچو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خونِ بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو صورت دیا گیا تھا اور بے نقشہ تھا”​

نیز فرمایا:

(يَوْمَ نَطْوِي السَّمَآءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُه وَعْدًا عَلَيْنَا اِنَّا كُنَّا فٰعِلِيْنَ) (الانبیاء: 104)

ترجمہ : “جس دن ہم آسمان کو یوں لپیٹ لیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیے جاتے ہیں، جیسے کہ ہم نے اول دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوبارہ کریں گے ۔ یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے اور ہم اسے ضرور کر کے (ہی) رہیں گے”​

نیز فرمایا:

(اَفَعَيِيْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ بَلْ هُمْ فِيْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ) (ق: 15)

ترجمہ: “کیا ہم پہلی بار کے پیدا کرنے سے تھک گئے ؟ بلکہ یہ لوگ نئی پیدائش کی طرف سے شک میں ہیں”​

نیز فرمایا:

(اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰى ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰى فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰى اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يُّحْيِۧ الْمَوْتٰى) (القیامۃ: 36تا 40)

ترجمہ: “کیا انسان سمجھتا ہے کہ اسے بے کار چھوڑ دیا جائے گا۔ کیا وہ ایک گاڑھے پانی کا قطرہ نہ تھا جو ٹپکایا گیا تھا؟۔ پھر وہ لہو کا لوتھڑا ہو گیا پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست بنایا۔ پھر اس سے جوڑے یعنی نر و مادہ بنائے ۔ کیا(اللہ تعالیٰ) اس(امر) پر قادر نہیں کہ مُردے کو زندہ کر دے ۔”​

ثانیاً: اللہ تعالیٰ نے بعث بعد الموت کیلئے مردہ اور بنجر زمین کو زندہ اور شاداب کر دینے سے استدلال فرمایا چنانچہ ارشادِ گرامی ہے :

(وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِيْجٍ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّه يُحْيِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّه عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌۙ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُوْرِ) (الحج: 5تا7)

ترجمہ: “تو دیکھتا ہے کہ زمین (بنجر اور) خشک ہے پھر جب ہم اس پر بارشیں برساتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق دار نباتات اگاتی ہے ۔ یہ اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور وہی مُردوں کو جلاتا ہے اور وہ ہر ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔ اور یہ کہ قیامت قطعاً آنے والی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ قبروں والوں کو دوبارہ زندہ فرمائے گا”​

نیز فرمایا:

(وَ مِنْ اٰيٰتِه اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ اِنَّ الَّذِيْۤ اَحْيَاهَا لَمُحْيِ الْمَوْتٰى اِنَّه عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ) (فصلت: 39)

ترجمہ : “اس (اللہ تعالیٰ) کی نشانیوں میں سے (یہ بھی) ہے کہ تو زمین کو دبی دبائی دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر مینہ برساتے ہیں تو وہ تر و تازہ ہو کر ابھرنے لگتی ہے ۔ جس نے اسے زندہ کیا وہی یقینی طور پر مُردوں کو بھی زندہ کرنے والا ہے ، بے شک وہ ہر(ہر) چیز پر قادر ہے “​

نیز فرمایا:

(يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ يُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَ يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ) (الروم: 19)

ترجمہ: “(وہی) زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے ۔ اور وہی زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ اسی طرح تم (بھی) نکالے جاؤ گے “​

نیز فرمایا:

(وَ الَّذِيْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِه بَلْدَةً مَّيْتًا كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ) (الزخرف:11)

ترجمہ: “اسی نے آسمان سے ایک اندازے کے مطابق پانی نازل فرمایا، پس ہم نے اس سے مردہ شہر کو زندہ کر دیا۔ اسی طرح تم نکالے جاؤ گے “​

نیز فرمایا:

(وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِه جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِيْدِ وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيْد رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْيَيْنَا بِه بَلْدَةً مَّيْتًا كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ) (ق:9تا11)

ترجمہ: “اور ہم نے ا ٓسمان سے بابرکت پانی برسایا اور اس سے باغات اور کٹنے والے کھیت کے غلے پیدا کئے ۔ اور کھجوروں کے بلند و بالا درخت جن کے ء خوشے تہ بہ تہ ہیں۔ بندوں کی روزی کیلئے ہم نے پانی سے مردہ شہر کو زندہ کر دیا۔ اسی طرح (قبروں سے ) نکالنا ہے “​

نیز فرمایا:

(وَ هُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِه حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِه مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ)(الاعراف: 57)

ترجمہ: “اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران ِ رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ خوش کر دیتی ہیں، یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں بھاری بادلوں کو اُٹھا لیتی ہیں، تو ہم اس بادل کو کسی خشک سرزمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، پھر اس بادل سے پانی برساتے ہیں پھر اس پانی سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں۔ یونہی ہم مُردوں کو نکال کھڑا کر یں گے تاکہ تم سمجھو”​

نیز فرمایا:

(وَ اللّٰهُ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ الرِّيٰحَ فَتُثِيْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّيِّتٍ فَاَحْيَيْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ) (الفاطر: 9)

ترجمہ: “اور اللہ ہی ہوائیں چلاتا ہے جو بادلوں کو اُٹھاتی ہیں پھر ہم بادلوں کو خشک زمین کی طرف لے جاتے ہیں اور اس سے اس زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتے ہیں ۔ اسی طرح دوبارہ جی اُٹھنا (بھی) ہے “​

ثالثاً: اللہ تعالیٰ نے بطورِ استدلال یہ ذکر فرمایا کہ ہم آسمانوں اور زمینوں کے خالق ہیں جو خلق انسان سے کہیں بڑی نشانی ہے ، چنانچہ فرمایا:

(لَخَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ) (المؤمن: 57)

ترجمہ: “آسمان و زمین کی پیدائش یقیناً انسان کی پیدائش سے بہت بڑا کام ہے ، لیکن (یہ اور بات ہے کہ) اکثر لوگ بے علم ہیں”​

نیز فرمایا:

(اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يُّحْيِۧ الْمَوْتٰى بَلٰۤى اِنَّه عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ) (الاحقاف: 33)

ترجمہ: “کیا وہ نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے اور ان کے   پیدا کرنے سے وہ نہ تھکا، وہ یقیناً مُردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے ؟ کیوں نہ ہو؟ وہ یقیناً پر چیز پر قادر ہے “​

نیز فرمایا:

(اَوَ لَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ بَلٰى وَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِيْمُ) (یس:81)

ترجمہ: “جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے کیا وہ ان جیسوں کے پیدا کرنے پر قادر نہیں، بے شک قادر ہے ۔ اور وہی تو پیدا کرنے والا دانا (بینا) ہے “​

نیز فرمایا:

(اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَيْبَ فِيْهِ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا) (بنی اسرائیل: 99)

ترجمہ: “کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ ان جیسوں کی پیدائش پر پورا قادر ہے ، اسی نے ان کیلئے ایک ایسا وقت مقرر کر رکھا ہے جو شک شبہ سے یکسر خالی ہے ، لیکن ظالم لوگ انکار کئے بغیر رہتے ہی نہیں”​

نیز فرمایا:

(ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ بَنٰىهَا) (النازعات: 27)

ترجمہ: “کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ دشوار ہے یا آسمان کا ؟ اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا”​

5- قیامت کے دن بندوں کا اُٹھایا جانا ان دنیوی جسموں کے ساتھ ہو گا ، تاکہ وہ جسم اپنی اپنی رحوں کے ساتھ مل جائیں، اور پھر ثواب یا عذاب دونوں میں سے جس کے مستحق ہوں اسے پالیں ۔ یہ جسم نئے نہیں ہوں گے کہ جو دنیا میں پہلے موجود نہیں تھے ۔

کفار کی وجہ انکار بھی تو یہی امر تھا کہ انہوں نے دنیوی اجسام کے اعادہ کو ناممکن و محال سمجھا، اور پھر انکار کر دیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَيْءٌ عَجِيْبٌ ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِيْدٌ قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِيْظٌ)(ق: 2تا4)

ترجمہ: “بلکہ انہیں تعجب معلوم ہوا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک آگاہ کرنے والا آیا تو کافروں نے کہا کہ یہ ایک عجیب چیز ہے ۔ کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے ۔ پھر یہ واپسی دور(از عقل) ہے ۔ زمین جو کچھ ان میں سے گھٹاتی ہے وہ ہمیں معلوم ہے اور ہمارے پاس سب یاد رکھنے والی کتاب ہے “​

یہاں اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت سے یہ نکتہ سمجھا دیا کہ وہ ان کے جسموں کے ذرّات میں سے ہر اس ذرّہ کو جانتا ہے جسے زمین کھا جاتی ہے ۔ لہذا وہ بعث کے وقت ان ذرّات کو ان کے جسموں میں لوٹا کر اس مکمل جس کے ساتھ اٹھائے گا جو دنیا میں اسے حاصل تھا۔

(وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهمُ رَبِّ اَرِنِيْ كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتٰى قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّيَطْمَىِٕنَّ قَلْبِيْ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَاْتِيْنَكَ سَعْيًا وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ) (البقرۃ: 260)

ترجمہ: “اور جب ابراھیم (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار! مجھے دکھا تو مُردوں کو کس طرح زندہ کرے گا؟ جناب باری تعالیٰ نے فرمایا ، کیا تمہیں ایمان نہیں ؟ جواب دیا ایمان تو ہے لیکن میرے دل کی تسکین ہو جائے گی، فرمایا چار پرندے لو، ان کے ٹکڑے کر ڈالو، پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو پھر انہیں پکارو، تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آ جائیں گے اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمتوں والا”​

اس آیت کی تفسیر میں حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ نے علمائے سلف کی ایک جماعت کے حوالے سے فرمایا ہے : کہ ابراھیمؑ نے چاروں پرندوں کے گوشت کا قیمہ کر کے اُسے آپس میں خلط ملط کر دیا، پھر ہر پہاڑ کی چوٹی پر اس کا کچھ حصہ رکھ دیا ، پھر ان پرندوں کو آواز دی ، چنانچہ ہر پرندے کے اجزاء فوراً جمع ہو گئے اور ہر پرندہ اپنے پہلے جسم پر مکمل طور پہ لوٹ آیا، اور بھاگتا ہوا ابراھیم علیہ السلام کے پاس آگیا۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

(وَيَوْمَ يُحْشَرُ أَعْدَاءُ اللَّهِ إِلَى النَّارِ فَهُمْ يُوزَعُونَ حَتَّىٰ إِذَا مَا جَاءُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ وَقَالُوا لِجُلُودِهِمْ لِمَ شَهِدتُّمْ عَلَيْنَا ۖ قَالُوا أَنطَقَنَا اللَّهُ الَّذِي أَنطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَهُوَ خَلَقَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَن يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ وَلَٰكِن ظَنَنتُمْ أَنَّ اللَّهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا مِّمَّا تَعْمَلُونَ وَذَٰلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنتُم بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُم مِّنَ الْخَاسِرِينَ ) (حم السجدۃ: 19تا23)

ترجمہ:”اور جس دن اللہ کے دشمن دوزخ کی طرف لائے جائیں گے اور ان (سب) کو جمع کر دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب بالکل جہنم کے پاس آ جائیں گے ان پر ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے اعمال کی گواہی دیں گی۔ یہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی، وہ جواب دیں گی کہ ہمیں اس اللہ نے قوتِ گویائی عطا فرمائی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے ،اسی نے تمہیں اول مرتبہ پیدا کیا اور ای کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے ۔ اور تم (اپنی بد اعمالیاں) اس وجہ سے پوشیدہ رکھتے ہی نہ تھے کہ تم پر تمہارے کان اور تمہاری کھالیں گواہی دیں گی، ہاں تم یہ سمجھتے رہے کہ تم جو کچھ بھی کر رہے ہو اس میں سے بہت سے اعمال سے اللہ بے خبر ہے ۔ تمہاری اسی بدگمانی نے جو تم نے اپنے رب سے کر رکھی تھی تمہیں ہلاک کر دیا اور بالآخر تم زیاں کاروں میں ہو گئے “​

یہ آیات ِ مبارکہ بھی اس بات کی دلیل ہیں کہ قیامت کے دن دنیا کے جسموں کو ہی لوٹایا جائے گا تب ہی تو ان کے کان، آنکھیں اور چمڑے ان کی نافرمانیوں کی گواہی دیں گے ۔

انہی آیات کے مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :

(اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَيْدِيْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ) (یس:65)

ترجمہ: “ہم آج کے دن ان کے منہ پر مہریں لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں گواہیاں دیں گے ان کاموں کی جو وہ کرتے تھے “​

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(يَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَيْدِيْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ) (النور: 24)

ترجمہ: “جب کہ ان کے مقابلے میں ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے “​

اس حقیقت کے اثبات پر رسول اللہﷺ کی سنت سے بھی دلیل موجود ہے ، چنانچہ اس شخص کا قصہ قابلِ غور ہے جس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ جب وہ مر جائے تو ان کے جسم کو جلا دیں، اور کچھ راکھ خشکی کی ہواؤں میں منتشر کر دیں اور کچھ راکھ سمندر میں بہا دیں۔ بیٹوں نے اس وصیت کو نافذ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ اس کے جسم کی راکھ کا ایک ایک ذرّہ باہر نکال دے اور خشکی کو بھی حکم دیا کہ اس کی راکھ کا ایک ایک ذرّہ باہر نکال دے پھر اللہ تعالیٰ نے اس کا جسم جیسا تھا ویسا بنا دیا۔۔۔۔۔۔(الحدیث)

(صحیح البخاری: 7506،صحیح مسلم: 2756، بروایتِ ابو ھریرۃ ؓ)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حاشیہ:

[1]: شارح حفظہ اللہ نے یہ بات اس لئے فرمائی کہ عام طور پہ اس گڑھے کو کہ جسے کھود کر میت کو دفن کیا جاتا ہے قبر کہا جاتا ہے ، جبکہ اصل یہ ہے کہ مرنے کے بعد انسان جہاں بھی ہو وہی اس کی قبر ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق ہر شخص کے بارے میں فرمایا: (ثُمَّ اَمَاتَه فَاَقْبَرَه) (عبس: 21) یعنی: پھر اللہ تعالیٰ انسان کو موت دیتا ہے اور قبر دیتا ہے ۔ حالانکہ ہر شخص کو زمین میں کھودا گیا گڑھا نصیب نہیں ہوتا ، کئی لوگ جل جاتے ہیں یا پانی میں ڈوب جاتے ہیں وغیرہ ، تو وہ مر کر جس جگہ بھی ہوں گے وہی جگہ اُن کی قبر کہلائے گی۔(واللہ اعلم) مترجم۔

 

صغیرہ اور کبیرہ گناہ ، وسائلِ بخشش

 

[16]: قولہ وان اللہ سبحانہ وتعالیٰ ضاعف لعبادہ المؤمنین الحسنات وصفح لھم بالتوبۃ عن کبائر السیئات وغفرلھم الصغائر باجتناب الکبائر وجعل من لم یتب من الکبائر صائرا الی مشیئتہ ( اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِه وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ)

ترجمہ: “اور بے شک اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے مؤمن اور موحد بندوں کی نیکیوں کو خوب بڑھا دیتا ہے ، اور ان کی توبہ کے بہ سبب ان کے بڑے بڑے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے ، اور بڑے گناہوں سے اجتناب کی برکت سے ان کے چھوٹے گناہوں سے درگزر فرما دیتا ہے ، اور اگر کوئی موحد بندہ اپنے کبیرہ گناہوں سے توبہ نہ کر پایا ہو تو اس کا معاملہ اپنی مشیئت کے تحت فرما لیتا ہے ۔( اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِه وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ)

ترجمہ:”اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا اور شرک کے علاوہ جس گناہ کو چاہے معاف فرما دے ”

شرح

(یہاں چند امور غور طلب ہیں)

1- اللہ رب العزت اپنے بندوں کی نیکیوں کا اجرو ثواب خوب بڑھا کر عطا فرماتا ہے اور یہ اس کا عینِ فضل ہے ۔جبکہ گناہ کی جزاء ، اس کے برابر (یعنی ایک ہی) عطا فرماتا ہے ، اور یہ اس کا عینِ عدل ہے ۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَه عَشْرُ اَمْثَالِهَا وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ) (الانعام: 160)

ترجمہ: “جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دن گنا ملیں گے اور جو شخص بُرا کام کرے گا اس کو اس کے برابر ہی سزا ملے گی اور ان لوگوں پر ظلم نہ ہو گا”​

نیز فرمایا:

(مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَه خَيْرٌ مِّنْهَا وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ يَّوْمَىِٕذٍ اٰمِنُوْنَ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) (النمل: 89-90)

ترجمہ: “جو شخص نیک عمل لائے گا اسے اس سے بہتر بدلہ ملے گا اور وہ اس دن کی گھبراہٹ سے بے خوف ہوں گے ۔ اور جو بُرائی لے کر آئیں گے وہ اوندھے منہ آگ میں جھونک دیئے جائیں گے ۔ صرف وہی بدلہ دیئے جاؤ گے جو تم کرتے رہے “​

نیز فرمایا:

(مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَه خَيْرٌ مِّنْهَا وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى الَّذِيْنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْن) (القصص:84)

ترجمہ: “جو شخص نیکی لائے گا اسے اس سے بہتر ملے گا اور جو کوئی بُرائی لے کر آئے گا تو ایسے بد اعمالی کرنے والوں کو ان کے انہی اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کرتے تھے “​

نیز فرمایا:

(مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ وَ اللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ) (البقرۃ: 261)

ترجمہ: “جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہربالی میں سو دانے ہوں ، اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے اور اللہ تعالیٰ کشادگی والا اور علم والا ہے “​

نیز فرمایا:

(مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَه لَه اَضْعَافًا كَثِيْرَةً) (البقرۃ: 245)

ترجمہ: ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے پس اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے “​

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :

‘‘کلُ عمل ابن آدم یضاعف، الحسنۃ بعشر أمثالھا الی سبع مائۃ ضعف ، قال اللہ عزوجل: الا الصوم فانہ لی وأنا اجزی بہ۔۔۔۔ الحدیث”

ترجمہ: ‘‘ابن آدم کے ہر عمل کے اجرو ثواب کو خوب بڑھا دیا جاتا ہے ، چنانچہ ایک نیکی دس گنا سے سات سو گنا بڑھ جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : روزہ کے علاوہ، کہ وہ تو میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزاء دوں گا۔”( اس حدیث کو امام مسلم نے اپنی صحیح(1151) میں بروایت ابو ھریرۃ ؓ نقل فرمایا ہے )

صحیح بخاری(2491) اور صحیح مسلم(131) میں ہے :

عن ابن عباس رضی اللہ عنھما ، عن النبی ﷺ فیما یرویہ عن ربہ عزوجل قال: “ان اللہ کتب الحسنات والسیئات ثم بین ذلک فمن ھم بحسنۃ فلم یعملھا کتبھااللہ لہ عندہ حسنۃ کاملۃ، فان ھو ھم بھا فعملھا کتبھا اللہ لہ عندہ عشر حسنات الی سبعمالۃ ضعف الی أضعاف کثیرۃ ومن ھم بسیئۃ فلم یعملھا کتبھا اللہ لہ عندہ حسنۃ کاملۃ فان ھو ھم بھا فعملھا کتبھا اللہ لہ سیئۃ واحدۃ”

ترجمہ: عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں، جو نبی ﷺ اپنے رب سے روایت فرماتے ہیں :”بے شک اللہ تعالیٰ نے نیکیوں اور گناہوں کو لکھنے کا ایک نظام بیان فرمایا ہے ، جس شخص نے کسی نیکی کا ارادہ کیا لیکن وہ نیکی نہ کر سکا، تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے اپنے پاس ایک مکمل نیکی کا ثواب لکھ لیتا ہے ، اور اگر وہ کسی نیکی کا ارادہ کر لے پھر وہ نیک عمل انجام دے دے ، تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے اپنے پاس دس گنا سے لے کر سات سوگنا تک، بلکہ اس سے بھی زیادہ کئی گنا تک بڑھا کر لکھ لیتا ہے ، اور جو بندہ کسی بُرائی کا ارادہ کر لے ، لیکن وہ بُرائی نہ کر سکا تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے اپنے پاس ایک مکمل نیکی لکھ لیتا ہے ، اور اگر بُرائی کا ارادہ کر کے اسے اپنا بھی لیا تو اللہ تعالیٰ صرف ایک ہی بُرائی لکھتا ہے ”

اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل واحسان ہے ، کہ جو بندہ باقاعدگی سے نیک اعمال اختیار کیئے رہتا ہے ، پھر کسی مرض یا سفر کی وجہ سے وہ عمل چھوٹ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے مرض اور سفر کی حالت میں(عمل چھوٹ جانے کے باوجود) اسے اتنا ہی اجرو ثواب عطا فرما دیتا ہے جتنا بحالتِ صحت و اقامت ، اس عمل کی انجام دہی پر عطا فرمایا کرتا تھا۔

چنانچہ صحیح بخاری (2996) میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے مروی ہے ، رسول اللہﷺ نے فرمایا: “اذا مرض العبداو سافر کتب لہ مثل ما کان یعمل مقیما صحیحا”

یعنی: “جب بندہ بیمار پڑ جائے یا کسی سفر پر روانہ ہو جائے تو اس کیلئے (معمول کے عمل میں ناغہ کے باوجود) وہ مکمل ثواب لکھ دیا جاتا ہے جو مقیم یا صحت مند ہونے کی حالت میں ملا کرتا تھا”

2- صغیرہ اور کبیرہ گناہوں میں فرق:

کبیرہ گناہ وہ ہیں جن کے ارتکاب پر شرعی حد کی تعزیر ہو، یا لعنت ، یا غضب، یا جہنم ، یا بربادی عمل کی وعید ہو۔ جبکہ صغیرہ گناہ وہ ہیں جو اس تعزیر یا وعید سے کالی ہوں۔

کبیرہ گناہ توبہ سے معاف ہوتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

ٍٍ (قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا اِنَّه هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ) (الزمر:53)

ترجمہ: “(میری جانب سے ) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے نااُمید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے ، واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے “​

نیز فرمایا:

(وَ الَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا۠ لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ وَ لَمْ يُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ) (آل عمران:135)

ترجمہ: “جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا کوئی گناہ کر بیٹھیں تو فوراً اللہ کا ذکر اور اپنے گناہوں کیلئے استغفار کرتے ہیں، فی الواقع اللہ تعالیٰ کے سوا اور کون گناہوں کو بخش سکتا ہے ؟ اور وہ لوگ باوجود علم کے کسی بُرے کام بر اڑ نہیں جاتے “​

نیز فرمایا:

(يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَ يُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ) (التحریم:8)

ترجمہ: “اے ایمان والو! تُم اللہ کے سامنے سچی خالص تو بہ کرو۔ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں”​

سچی اور خالص توبہ کی تین شرائط ہیں:

الف: جس گناہ سے توبہ مقصود ہو اسے عملی طور پر چھوڑ دے اور مکمل کنارہ کشی اختیار کر لے ۔

ب: اس گناہ پر شرمندہ اور نادم ہو۔

ج: اس گناہ کو آئندہ کبھی نہ کرنے کا پختہ عزم کر لے ۔

اور اگر اس گناہ کا تعلق حقوق العباد سے ہو تو ایک چوتھی شرط عائد ہو جاتی ہے اور وہ یہ کہ ان حقوق کے تعلق سے اپنا دامن صاف کرالے ، جس کی صورت یہ ہے کہ اگر کسی کی مال کے تعلق سے حق تلفی کی ہے تو وہ مال اسے لوٹا دے ، اور اگر غیبت یا بہتان طرازی کے ذریعہ کسی بھائی کو در پئے آزار کیا ہے تو اس سے معافی طلب کر لے ، وغیرہ۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

( وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِيْعًا اَيُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ) (النور:31)

ترجمہ: “اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تا کہ تم نجات پاؤ”

(قُلْ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ يَّنْتَهُوْا يُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ) (الانفال:38)

ترجمہ: “آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے ! کہ اگر یہ لوگ باز آ جائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں سب معاف کر دیئے جائیں گے “​

اس آیتِ کریمہ سے ثابت ہوا کہ کفر جو سب سے بڑا گناہ ہے ، اسے بھی اللہ تعالیٰ توبہ کر لینے اور اسے یکسر چھوڑ دینے سے معاف فرما دیتا ہے ، توبقیہ تمام گناہ تو کفر سے کہیں چھوٹے ہیں، اگر ان سے سچی توبہ کر لی جائے تو وہ کہیں زیادہ بخشش کے لائق ہیں۔

وہ کبیرہ گناہ جس پر دُنیا میں اقامتِ حد کی تعزیر لاگو ہوتی ہے ، اگر اس کے مرتکب شخص پر وہ حد قائم کر دی جائے تو وہ اس کا کفارہ بن جاتی ہے ، کیونکہ اہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک حدود اس نقص کو پورا کر دیتی ہیں جو گناہ کے ارتکاب سے واقع ہو جاتا ہے ۔

اس کے علاوہ حدود کی اقامت میں مُرتکبِ گناہ کے ساتھ ساتھ، دوسرے لوگوں کیلئے بھی زجر و توبیخ اور تنبیہ کا پہلو ہوتا ہے ۔ عبادۃ بن صامتؓ سے مروی ہے ، رسول اللہﷺ کے ارد گرد صحابہ کرام کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا:

“مجھ سے بیعت کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کبھی شرک نہ کرو گے ، نہ چوری کرو گے ، نہ زنا کرو گے ، نہ اپنے بچوں کو قتل کرو گے ، نہ جانتے بوجھتے الزام تراشی اور بہتان طرازی کرو گے ، اور نہ ہی نیکی کے کاموں میں نافرمانی کرو گے ، جس نے ان تمام امور کے تعلق سے وفا کی اس اللہ تعالیٰ پر اجر ثابت ہو جائے گا اور جس نے ان میں سے کسی گناہ کا ارتکاب کریا اور اسے دنیا میں سزا دے دی گئی تو وہ سزا اس کیلئے کفارہ بن جائے گی، اور جس نے اس میں کسی گناہ کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس گناہ پر پردہ ڈال دیا، تو وہ گناہ اللہ تعالیٰ کی مرضی و مشیئت کے تحت ہے ، چاہے تو معاف فرما دے ، اور چاہے سزا دے دے ۔” چنانچہ ہم نے ان تمام امور پر نبی ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔(اس حدیث کو امام بخاری نے اپنی صحیح(ص:18) اور مسلم نے اپنی صحیح(1709) میں روایت فرمایا ہے )

3- چھوٹے گناہ ، اعمال ِ صالحہ کی انجام وہی کی برکت سے معاف ہو جاتے ہیں، نیزیہ کہ اگر بندہ بڑے گناہوں سے اجتناب کرتا ہے تو بھی اس کے چھوٹے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

(اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا) (النساء:31)

ترجمہ: “اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہو گے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناہ دور کر دیں گے اور عزت و بزرگی کی جگہ داخل کریں گے “​

امام مسلم نے اپنی صحیح (228) میں عثمان بن عفان ؓ سے روایت فرمایا ہے ، فرماتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

“مامن امرئ مسلم تعضرہ صلاۃ مکتوبۃ فیحسن وضو ء ھاوخشو عھا ورکوعھا الا کانت کفارۃ لما قبلھا من الذنوب مالم یؤت کبیرۃ، وذلک الدھر کلہ”

ترجمہ: “جس مسلمان آدمی پر فرض نماز کا وقت آ جائے ، اور وہ اچھے طریقے سے وضو کرے اور نماز کے خشوع اور رکوع وسجود کی مکمل حفاظت کرے تو وہ نماز اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے ، بشرطیکہ اس نے کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کیا ہو، اور یہ سلسلہ عمر بھر قائم رہتا ہے ”

صحیح مسلم(233) ہی میں ابوھریرۃ ؓ سے مروی ہے ، رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

“الصلوات الخمس، والجمعۃ الی الجمعۃ ، ورمضان الی رمضان مکفرات مابینھن اذا جتنبت الکبائر”

“پانچوں نمازیں، اور ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک ، اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک، بیچ کے گناہوں کا کفارہ ہیں، بشرطیکہ بڑے گناہوں سے اجتناب کر لیا جائے ”

صغیرہ گناہوں کا معاملہ بوجہِ اصرار انتہائی خوفناک اور ہیبتناک ہو جاتا ہے ، جبکہ کبیرہ گناہ پر ندامت وپشیمانی اسے ماند کر دیتی بلکہ مٹا دیتی ہے ۔

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کا قول ہے :

“لاصغرۃ مع الاصرار ولا کبیرۃ مع الاستغفار”

یعنی” چھوٹا گناہ اگر باربار کیا جائے تو وہ چھوٹا نہیں رہتا ،ا ور بڑے گناہ سے اگر توبہ کر لی جائے تو وہ مٹ جاتا ہے ”

4۔ بندہ مسلم اگر کسی بڑے گناہ کا ارتکاب کرے اور توبہ کرنے سے قبل موت کا شکار ہو جائے تو (بوجہ حسنِ عقیدہ) اس کا معاملہ اللہ رب العزت کے سپرد ہے چاہے تو عذاب میں مبتلا کر دے ، اور چاہے معاف کر دے ۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِه وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِيْمًا) (النساء: 48)

ترجمہ: “بلاشبہ اللہ تعالیٰ شرک کو تو معاف نہیں فرماتا ، اس کے علاوہ جسے چاہے معاف فرما دے اور جس نے شرک کیا اس نے بڑا جھوٹ باندھا “​

نیز فرمایا:

(اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِه وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا) (النساء:116)

ترجمہ: “بلاشبہ اللہ تعالیٰ شرک کو تو معاف نہیں فرماتا ، اس کے علاوہ جسے چاہے معاف فرما دے اور جس نے شرک کیا وہ پرلے درجہ کا گمراہ ہو گیا “​

عبادۃ بن صامت ؓ کی مذکورہ حدیث میں یہ بیان ہو چکا : “۔۔۔ جس نے ان میں سے کسی گناہ کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس گناہ پر پردہ ڈال دیا، تو وہ گناہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ومشیت کے تحت ہے ، چاہے تو معاف فرما دے ، اور چاہے سزا دے دے ۔”

 

 

 

نافرمان مسلمانوں کا انجام​

 

[17]: قولہ: “ومن عاقبہ اللہ بنارہ أخرجہ منھا بایمانہ فأدخلہ بہ جنتہ ( فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ) ویخرج منھا بشفاعۃ النبیﷺ من شفع لہ من اھل الکبائر من امتہ”

ترجمہ: “اور جس(مسلمان) کو اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ کی سزا دے گا اسے جہنم سے بوجہ کے ایمان ، نکال دے گا، پھر ایمان کی برکت سے جنت میں داخل کر دے گا: ” پس جس نے ایک ذرہ کے بقدر نیکی کی وہ اسے ضرور دیکھے گا” اللہ تعالیٰ جہنم سے نبیﷺ کی شفاعت کی وجہ سے آپﷺ کی اُمت کے بہت سے اہلِ کبائر کو ، جس جس کی آپﷺ شفاعت کریں گے ، نکال دے گا۔”

شرح

جس شخص نے کسی گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ہو، پھر وہ سچی توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دے گا، لیکن جو شخص گناہِ کبیرہ کے ارتکاب کے بعد توبہ کیئے بغیر مرگیا تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے ، چاہے تو معاف فرما دے اور چاہے مبتلائے عذاب کر دے ۔ جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے :

(اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِه وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِيْمًا) (النساء: 48)

ترجمہ: “اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا اور شرک کے علاوہ جس گناہ کو چاہے معاف فرما دے “​

جہنم میں داخل ہونے والے لوگ دو قسم کے ہوں گے :

(1) ایک کفار، یہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے ، ان کے باہر آنے کی کوئی سبیل نہیں ہو گی، جیسا کہ اللہ عزو جل کا فرمان ہے :

(اِنَّه مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ وَ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ) (المائدۃ: 72)

ترجمہ: “یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے ، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہو گا”​

نیز فرمایا:

(اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِه وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِيْمًا) (النساء: 48)

ترجمہ: “اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا اور شرک کے علاوہ جس گناہ کو چاہے معاف فرما دے “​

(2) دوسری قسم نا فرمان مسلمانوں کی ہے ، یہ لوگ جب جہنم میں داخل ہوں گے تو اپنے جرم کے بقدر عذاب جھیلیں گے ۔ پھر اپنے ایمان اور شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کی برکت سے جہنم سے نکل آئیں گے ۔

رسول اللہﷺ کا فرمان ہے :

ترجمہ: “اللہ تعالیٰ اہلِ جنت کو جنت میں ، اور اہلِ جہنم کو جہنم میں داخل فرمائے گا، پھر کہے گا: دیکھو، جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہوا سے جہنم سے نکال لو، چنانچہ بہت سے جہنمیوں کو جبکہ وہ کوئلہ ہو چکے ہوں گے ، جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ پھر وہ نہر الحیاۃ یا نہر الحیا میں ڈال دیئے جائیں گے ، اس میں وہ اس طرح پروان چڑھیں گے جیسے دانہ نہر کے جاری پانی کے کنارے اُگتا اور نشو نما پاتا ہے ، تم دیکھتے نہیں وہ کسی طرح زر درنگ ، بل کھائے نکلتا ہے ۔”

(اس حدیث کو بخاری(22) اور مسلم(304) نے بروایت ابو سعید خدریؓ نقل فرمایا ہے )

رسول اللہﷺ کی ایک اور حدیث ہے :

“لکل نبی دعوۃ مستجابۃ ، فتعجل کل نبی دعوتہ، وانی اختبأت دعوتی شفاعۃ لأ متی یوم القیامۃ، فھی نائلۃ ان شاء اللہ من مات من أمتی لایشرک باللہ شیئا”

ترجمہ: “ہر نبی کو ایک دعائے مستجاب عطا فرمائی گئی ہے ، ہر نبی نے اپنی وہ دعائے مستجاب دنیا ہی میں طلب کر لی، میں نے اپنی وہ دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کیلئے چھپا رکھی ہے ، میری شفاعت میری امت کے اس فرد کو حاصل ہو گی جو اس طرح مرا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کیا” ( اس حدیث کو امام بخاری نے اپنی صحیح(6304) اور امام مسلم نے اپنی صحیح (338) میں بروایت ابوھریرۃ ؓ نقل کیا ہے )

نافرمانوں کے جہنم سے خروج کیلئے شفاعت کی احادیث درجہ تواتر تک پہنچی ہیں۔

واضح ہو کہ شرعی نصوص میں بعض مسلمان نافرمانوں کیلئے ہمیشہ جہنم میں رہنا مذکور ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(وَ مَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُه جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ لَعَنَه وَ اَعَدَّ لَه عَذَابًا عَظِيْمًا) (النساء: 93)

ترجمہ: “جو کوئی کسی مؤمن کو قصداً قتل کر ڈالے ، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے ، اسے اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے “​

اور جیسا کہ رسول اللہﷺ کی ایک حدیث ہے :

ترجمہ: “جس شخص نے پہاڑ سے گر کر خودکشی کی وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا، اور یوں ہی اونچائی سے گرتا رہے گا، اور جس شخص نے زہر پی کر خودکشی کی ، وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہو گا جس کے وہ گھونٹ بھرتا رہے گا اور جس نے لوہے کے تیز دھار آلہ سے خود کشی کی ، اس کے ہاتھ میں وہی تیز دھار آلہ تھما دیا جائے گا اور وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور اس آلے کو اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا”

(اس حدیث کو بخاری(5778) اور مسلم(175) نے بروایت ابوھریرۃ ؓ نقل فرمایا ہے )

واضح ہو کہ ان دونوں نصوص اور اس قسم کے دیگر نصوص میں (بعض نافرمانوں کیلئے ) ذکر کردہ ہمیشگی، نسبی، ہمیشگی کہلاتی ہے ، جس سے مراد لمبا عرصہ جہنم میں رہنا ہے ، اس سے مراد وہ خلود یا ہمیشگی نہیں ہے جو کفار کے حق میں مذکور ہے ۔ یعنی کفار جہنم میں اتنا عرصہ رہیں گے ، جس کی کوئی نہایت نہیں ہو گی۔ (نافرمان مسلمانوں کیلئے جہنم کی ہمیشگی اس لئے نہیں ہے کہ) شر کے علاوہ ہر گناہ کی بخشش اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے تحت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِه وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ وَ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِيْمًا) (النساء: 48)

ترجمہ: “اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا اور شرک کے علاوہ جس گناہ کو چاہے معاف فرما دے “​

 

 

 

جنت اور جہنم​

 

[18]: قولہ:وأن اللہ سبحانہ قد خلق الجنۃ فأعد ھادار خلود لاولیائہ وأکرمھم فیھا بالنظر الی وجھہ الکریم، وھی التی أھبط منھا آدم نبیہ وخلیفتہ الی أرضہ بماسبق فی سابق علمہ، وخلق النار فأعد ھادار خلود لمن کفر بہ وألحد فی آیاتہ وکتبہ ورسلہ وجعلھم محجوبین عن رؤیتہ

ترجمہ: “اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا فرما دیا ہے ، اور اسے اپنے د وستوں کے رہنے کیلئے ہمیشہ کا گھر قرار دے دیا ہے ، اس گھر میں اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو اپنے بابرکت چہرے کے دیدار سے مشرف فرمائے گا۔ یہ جنت وہی گھر ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور خلیفہ آدم علیہ السلام کو اتار کر زمین پر بھیج دیا تھا، اللہ تعالیٰ کے علمِ سابق میں یہ بات موجود تھی۔ اللہ تعالیٰ جہنم کو بھی پیدا فرما چکا ہے ، اور اسے کفر کرنے والوں اور اپنی آیتوں ، کتابوں اور رسولوں میں الحاد پیدا کرنے والوں کا ہمیشہ کا ٹھکانہ قرار دے چکا ہے ، ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے دیدار سے محروم رکھے گا۔”

شرح

(جنت اور جہنم کے سلسلہ میں یہاں بہت سی باتیں بیان ہوئی ہیں: )

(1) جنت اور جہنم دونوں پیدا کی جاچکی ہیں اور اس وقت بھی موجود ہیں۔ جنت اللہ تعالیٰ کے دوستوں کا گھر ہے جبکہ جہنم دشمنوں کا۔

چند آیات پیش خدمت میں جن میں یہ بات مذکور ہے کہ جنت اللہ تعالیٰ کے دوستوں کا گھر ہے :

(وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ) (التوبۃ: 100)

ترجمہ: “اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کیلئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ ہیں گے یہ بڑی کا کامیابی ہے “​

نیز فرمایا:

(وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَۙ) (آ ل عمران: 133)

ترجمہ: “اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس کی جنت کی طرف دوڑ و جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے ، جو پرہیز گاروں کیلئے تیار کی گئی ہے “​

نیز فرمایا:

(سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِه) (الحدید: 21)

ترجمہ: “(آؤ) دوڑ و اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین کی وسعت کے برابر ہے یہ ان کیلئے بنائی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں”

نیز چند آیا تحریر کی جاتی ہیں جن میں صراحت ہے کہ جہنم اللہ تعالیٰ کے دشمنوں اک ٹھکانہ ہے

(وَّ يُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِيْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِيْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّيْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ عَلَيْهِمْ دَآىِٕرَةُ السَّوْءِ١ۚ وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ وَ سَآءَتْ مَصِيْرًا) (الفتح: 6)

ترجمہ: “اور تاکہ ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرکہ عورتوں کو عذاب کرے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانیاں رکھنے والے ہیں، (در اصل) انہیں پر بُرائی کا پھیرا ہے ، اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہوا اور انہیں لعنت کی ان کیلئے دوزخ تیار کی اور وہ بہت بُری لوٹنے کی جگہ ہے “​

نیز فرمایا:

(وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِيْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَۚ) (آل عمران:131)

ترجمہ: “اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کیلئے تیار کی گئی ہے “​

نیز فرمایا:

(فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِيْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْن) (البقرۃ: 24)

ترجمہ: “اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، جو کافروں کیلئے تیار کی گئی ہے “​

احادیث سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جنت اور جہنم اس وقت موجود ہیں، چنانچہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ، سورج گرہن کی نماز والے قصہ میں یہ بات مذکور ہے :

“صحابہ کرام نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ نماز میں ہم نے آپ(ﷺ) کو دیکھا کہ آپﷺ نے آگے بڑھ کر کوئی چیز اُٹھائی ہے ، پھر ہم نے آپ (ﷺ) کو پیچھے ہٹتے ہوئے بھی دیکھا۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں نے جنت دیکھی تھی، آگے بڑھ کر جنت کے پھلوں کا ایک خوشہ اُٹھانا چاہا تھا، اگر میں وہ خوشہ اُٹھا کر لے آتا تو جب تک دنیا قائم رہتی تم سب مل کر اسے کھاتے ہی رہتے ۔ پھر مجھے جہنم دکھائی گئی، اس جیسا خوف ناک منظر میں نے آج تک نہیں دیکھا، اور میں نے دیکھا کہ جہنم میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے ۔۔۔ الحدیث”(اس حدیث کو امام بخاری نے اپنی صحیح (1052) اور امام مسلم نے اپنی صحیح (907) میں روایت فرمایا ہے )

 

 

 

جنت اور جہنم کے اس وقت موجود ہونے کو تسلیم نہ کرنے والو ں پر رد​

 

بعض اہلِ بدعت مثلاً معتزلہ ، جنت اور جہنم کے اس وقت موجود ہونے کو تسلیم نہیں کرتے ، ان کا کہنا ہے کہ جنت اور جہنم کو قیامت سے قبل پیدا نہیں کیا جا سکتا ، کیونکہ قیامت سے قبل ان کا پیدا کیا جانا عبث ہے ، کیونکہ اس طرح یہ دونوں ایک طویل عرصہ اس طرح گزاریں گی کہ جنت سے انتفاع کرنے والا کوئی نہیں اور جہنم سے ضرر پانے والا کوئی نہیں؟

معتزلہ کا یہ قول باطل ہے ، اور اس قول کے بطلان کی کئی وجوہ ہیں:

1- بے شمار آیات و احادیث ان کے قیامت سے قبل پیدا کیئے جانے اور اس وقت بھی موجود ہونے پر دلالت کر رہی ہیں۔(معتزلہ کا قول ان تمام نصوص کا انکار ہے )

2- (جنت کا وجود عبث نہیں ہے ) بلکہ اس کے اس وقت موجود ہونے میں لوگوں کیلئے ترغیب و تشویق کا پہلو موجود ہے ، اسی طرح جہنم کے موجود ہونے میں تحذیر وتخویف کا پہلو ہے ۔

3- کتاب وسنت کے بہت سے نصوص میں وارد ہے کہ قیامت سے قبل بھی جنت کی نعمتوں سے انتفاع کی صورتیں موجود ہیں، اسی طرح قیامت سے قبل جہنم کے عذاب سے حصولِ ضرر کے مواقع بھی۔

قیامت سے قبل جہنم کا عذاب لاحق ہونے کی دلیل اللہ تعالیٰ کا آلِ فرعون کے بارہ میں یہ فرمان ہے :

(اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِيًّا١ۚ وَ يَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ١۫ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ​) (الغافر: 46)

ترجمہ: “آگ ہے جس کے سامنے یہ ہر صبح شام لائے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہو گی(فرمان ہو گا کہ) فرعونیوں کا سخت ترین عذاب میں ڈالو”​

اس آیتِ کریمہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ آلِ فرعون کو ان کی قبروں میں جہنم کی آگ سے عذاب دیا جا رہا ہے ، پھر جب قیامت قائم ہو گی تو انہیں اس سے بھی سخت عذاب میں منتقل کر دیا جائے گا۔

جنت کی نعمتوں سے قبلِ قیامت حصولِ نفع کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں شہداء کی روحوں کو سبز پرندوں کی شکل دینے کا ذکر ہے ، ان کے ساتھ روشن قندیلیں ہوں گی جو عرش کے ساتھ معلق ہوں گی، وہ روحیں جنت میں جہاں چاہیں گی چرتی رہیں گی، پھر اپنی قندیلوں میں لوٹ آئیں گی۔(صحیح مسلم(1887) بروایت عبد اللہ بن مسعودؓ)

مسند احمد (15778) میں امام احمد بن حنبل، امام شافعی سے وہ امام مالک سے وہ ابن شھاب زہری سے وہ عبد الرحمٰن بن کعب بن مالک سے اور وہ اپنے باپ کعب بن مالک سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

ترجمہ: “بے شک مؤمن کی روح، بشکلِ پرندہ جنت کے درخت کے ساتھ معلق ہوتی ہے ، جب قیامت قائم ہو گی تو اللہ تعالیٰ اس روح کو اس کے جسم کی طرف لوٹا دے گا”

یہ حدیث صحیح ہے ، اس کی سند میں تین جلیل القدر امام ہیں، جن کا شمار ان أئمہ اربعہ میں ہوتا ہے جن کے مذاہب اہل السنۃ میں معروف ہیں۔ امام ابن کثیر اپنی تفسیر میں اللہ تعالیٰ کے فرمان :

(وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْيَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَۙ) (آل عمران: 169) کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

“مسند احمد میں ایک حدیث مروی ہے جس میں ہر مؤمن کیلئے ایک عظیم بشارت ہے ، اور وہ یہ کہ ہر مؤمن کی روح جنت میں کھاتی پیتی ، گھومتی پھرتی رہے گی، جنت کی رونقیں اور مسرتیں دیکھتی رہے گی، نیز اللہ تعالیٰ نے اہلِ جنت کیلئے جو عزت و کرامت تیار فرما رکھی ہے ، اس کا مشاہدہ کرتی رہے گی۔ یہ حدیث ایک صحیح اور عظیم الشان سند کے ساتھ ثابت ہے ، اس کی سند میں أئمہ مذاہبِ اربعہ میں سے تنی جلیل القدر أئمہ مجتمع ہیں۔(پھر ابنِ کثیر نے مکمل حدیث سنداً ومتناً بیان فرمائی)

جنت کی نعمتوں اور جہنم کے عذاب کے پہنچنے کی ایک دلیل، براء بن عازب ؓ کی ایک طویل حدیث ہے ، جس میں رسول اللہﷺ نے ایک قبر کے پاس جو ایک صحابی کے دفن کیلئے تیار کی جا رہی تھی، بیٹھ کر نصیحت فرمائی تھی، اس حدیث میں آپﷺ نے مؤمن کے بارہ میں فرمایا تھا: (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) اسے جنت کا بستر اور لباس مہیا کر دو، اور اس کی قبر میں جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو(رسول اللہﷺ نے فرمایا) اسے جنت کی ہوائیں اور خوشبوئیں پہنچتی رہیں گی اور اس کی قبر کو تا حدِ نگاہ کشادہ کر دیا جائے گا۔

کافر کے بارہ میں فرمایا: اس کے نیچے آگ کا بستر بچھا دو، اور اس کی قبر میں ایک دروازہ بنا دو جو جہنم کی طرف کھلے تاکہ جہنم کی تپش اور گرم ہوائیں اس تک پہنچتی رہیں ، اس کی قبر اس قدر تنگ کر دی جائے گی کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گی۔

یہ حدیث حسن ہے ، دیکھیئے مسند احمد(18534)

عذاب ِ قبر اور اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کے حوالے سے بے شمار احادیث مروی ہیں۔ ان تمام ادلہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مؤمنین کو ان کی قبروں میں نعمتوں سے نوازا جاتا ہے جبکہ کفار مبتلائے عذاب کیئے جاتے ہیں۔ یہ نعمتیں اور یہ عذاب، روح اور جسم دونوں کو ہوتا ہے ۔

(2) جنت اور جہنم دونوں ہمیشہ قائم رہیں گی، ان پر کبھی افناء نہیں آئے گا، اہلِ جنت، جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نعمتوں سے نوازے جاتے رہیں گے ، جبکہ کفار جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مبتلائے عذاب رہیں گے ۔

جنت کا بقاء اور اہلِ جنت کا اس میں ہمیشہ رہنا قرآنِ حکیم کے مندرجہ ذیل دلائل سے ثابت ہوتا ہے : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(وَ بَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِيْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِه مُتَشَابِهًا وَ لَهُمْ فِيْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ) (البقرۃ: 25)

ترجمہ: “اور ایمان والوں اور انیک عمل کرنے والوں کو ان جنتوں کی خوشخبریاں دو ، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جب کبھی وہ پھلوں کا رزق دیئے جائیں گے ار ہم شکل لائے جائیں گے تو کہیں گے یہ وہی ہے جو ہم اس سے پہلے دیئے گئے تھے اور ان کیلئے بیویاں ہیں صاف ستھری اور وہ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنگے والے ہیں”​

نیز فرمایا:

(اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا لَا يَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا) (الکھف: 107، 108)

ترجمہ: “جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی اچھے کیے یقیناً ان کیلئے جنت الفردوس کے باغات کی مہمانی ہے ۔ جہاں وہ ہمیشہ رہا کریں گے جس جگہ کو بدلنے کا کبھی بھی انکار ارادہ ہی نہ ہو گا”​

نیز فرمایا:

(اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍ اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيْنَ وَ نَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ وَّ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ) (الحجر: 45 تا48)

ترجمہ: “پرہیز گار جنتی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے ۔(ان سے کہا جائے گا) سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہو جاؤ۔ ان کے دلوں میں جو کچھ رنجش و کینہ تھا، ہم سب کچھ نکال دیں گے ، وہ بھائی بھائی بنے ہوئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے ۔ نہ تو وہاں انہیں کو۴ی تکلیف چھوسکتی ہے اور نہ وہ وہاں سے کبھی نکالے جائیں گے “​

نیز فرمایا:

(اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّه) (البینۃ: 7 ،8)

ترجمہ: “بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے یہ لوگ بہترین خلائق ہیں۔ ان کا بدلہ ان ے رب کے پاس ہمیشگی والی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ ہیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو ا اور یہ اس سے راضی ہوئے ۔ یہ ہے اس کیلئے جو اپنے پروردگار سے ڈرے “​

جن آیات میں جہنم کا بقاء اور کفار کا اس میں ہمیشہ رہنا مذکور ہے ، ان میں سے بعض ذکر کی جاتی ہیں: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ) (البقرۃ:39)

ترجمہ: ” اور جو انکار کر کے ہماری آیتوں کو جھٹلائیں، وہ جہنمی ہیں اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے “​

نیز فرمایا:

(وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنَ النَّارِ) (البقرۃ: 167)

ترجمہ: ” یہ ہر گز جہنم سے نہ نکالیں گے “​

نیز فرمایا:

(يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْهَا وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ) (المائدۃ: 37)

ترجمہ: “یہ چاہیں گے کہ دوزخ میں سے نکل جائیں لیکن یہ ہر گز اس میں سے نہ نکل سکیں گے ، ان کیلئے تو دائمی عذاب ہے “​

نیز فرمایا:

(فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيْنَ) (المدثر: 48)

ترجمہ:”پس انہیں سفارش نفع نہ دے گی”​

نیز فرمایا:

(وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَ لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ) (الفاطر: 36)

ترجمہ: ” اور جو لوگ کافر ہیں ان کیلئے دوزخ کی آگ ہے نہ تو ان کی قضاء ہی آئے گی کہ مر ہی جائیں اور نہ دوزخ کا عذاب ہی ان سے ہلکا کیا جائے گا۔ ہم ہر کافر کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں”​

نیز فرمایا:

(اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيْقًااِلَّا طَرِيْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرً) (النساء: 168، 169)

ترجمہ: “جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم کیا، اُنہیں اللہ تعالیٰ ہر گز نہ بخشے گا اور نہ ہی انہیں کو۴ی راہ دکھا۴ے گا۔ بجز جہنم کی راہ کے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ پڑے رہیں گے ، اور یہ اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہے “​

نیز فرمایا:

(وَ مَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَه فَاِنَّ لَه نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا) (الجن: 23)

ترجمہ: “(اب ) جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نہ مانے گا اس کیلئے جہنم کی آگ ہے جس میں ایسے لوگ ہمیشہ رہیں گے “​

نیز فرمایا:

(اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِيْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِيْرًاۙ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا لَا يَجِدُوْنَ وَلِيًّا وَّ لَا نَصِيْرًا) (الاحزاب: 64، 65)

ترجمہ: “اللہ تعالیٰ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کیلئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کررکھی ہے ۔ جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ وہ کوئی حامی و مددگار نہ پائیں گے “​

نیز فرمایا:

(اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِيْنَ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا اُولٰٓىِٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ) (البینۃ: 6)

ترجمہ: ” بیشک جو لوگ اہل کتاب میں سے کافر ہوئے اور مشرکین وہ دوزخ کی آگ میں (جائیں گے ) جہاں وہ ہمیشہ(ہمیشہ) رہیں گے ۔ یہ لوگ بدترین خلائق ہیں”​

واضح ہو کہ جنت اور جہنم کا ہمیشہ کیلئے باقی رہنا، نیز اہلِ جنت اور اہلِ جہنم کا خلود ، اللہ تعالیٰ کی صفت “الآخر” جس کا معنی ہے : جس کے بعد کوئی چیز نہ ہو، کے منافی نہیں ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا باقی رہنا، اللہ تعالیٰ کی وہ صفت ہے ، جو اس کی ذات کے ساتھ لازم ہے ، جبکہ جنت اور جہنم اور اُن میں ان کے اہل کا بقاء اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ باقی رکھے گا، اور اگر اللہ تعالیٰ باقی نہ رکھے تو ان سب کیلئے بھی فناء ہے ، اس موضوع کی طرف کچھ اشارہ مؤلف رحمہ اللہ کے اس قول کے تحت گزر چکا ہے ” لیس لأولیتہ ابتداء ولا لآخریتہ انقضاء”

 

 

 

آدم علیہ السلام کس جنت سے نکالے گئے تھے ؟​

 

(3) مؤلف رحمہ اللہ کے قول”وھی التی اھبط منھا آدم نبیہ وخلیفتہ الی أرضہ بما سبق فی سابق علمہ” یعنی : یہ جنت وہی گھر ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور خلیفہ آدم علیہ السلام کو اتار کر اپنی زمین پر بھیج دیا تھا۔ اس قول سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ آدم علیہ السلام کو اسی اصل جنت سے نکالا گیا۔

اس مسئلہ میں دوسرا قول یہ ہے کہ آدم علیہ السلام کو جس جنت سے نکالا گیا وہ در اصل زمین سے اوپر کسی مقام پر ایک باغ تھا، جبکہ تیسرا قول یہ ہے کہ اس بارہ میں توقف اختیار کیا جائے ۔

اس بارہ میں پہلا قول ہی راجح اور مطابقِ ادلہ معلوم ہوتا ہے ۔ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے اس مسئلہ مٰں علماء کا اختلاف اور قولِ اول و ثانی کے دلائل ذکر کیئے ہیں ، نیز ہر دلیل کا جواب بھی نقل فرمایا ہے ، اور کسی قول کو ترجیح نہیں دی، (دیکھیئے کتاب ھادی الارواح، ص:16 تا32)

البتہ ان کے “قصیدہ میمیۃ” میں ان کے ذکر کردہ کلام سے یہ بات مفہوم ہوتی ہے کہ وہ پہلے قول کی ترجیح کے قائل ہیں۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

فحی علی جنات عدن فانھا منازلک الأولی وفیھا المخیم

ولکننا سبی العدوفھل تری نعود الی أو طاننا ونسلم

ترجمہ: ” جنابِ عدن کی طرف آ جا کہ وہ تیرا پہلا گھر تھا(مراد آدم ؑ کا) اور اسی میں مخیم ہیں، مگر ہم دشمن کے قیدی ہیں تو پھر کیا ہم اپنے اصل وطن کی طرف لوٹ سکیں گے ؟ اور سلامتی کی زندگی پا سکیں گے ؟​

(4) قیامت کے دن مؤمنین کا اپنے رب کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا ، دار النعیم یعنی جنت کی سب سے بڑی نعمت ہو گی، اس پر قرآن ، حدیث اور اجماع ِ امت کے دلائل موجود ہیں۔

قرآنی دلائل میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :

(وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ) (القیامۃ: 22،23)

“اس روز بہت سے چہرے تر و تازہ اور با رونق ہوں گے ۔ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے “​

نیز اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان:

(كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ) (المطففین: 15)

ترجمہ: “ہر گز نہیں، یہ لو اس دن اپنے رب سے اوت میں رکھے جائیں گے “​

اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب ان لوگوں کو بوجہ، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ، اللہ تعالیٰ کی رؤیت سے محروم کر دیا جائے گا تو پھر مؤمنین بوجہ، اللہ تعالیٰ رضاء، اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے ۔

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے دیدار پر ، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی دلیل ہے :

(لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِيَادَةٌ) (یونس: 26)

ترجمہ:” جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے خوبی ہے اور مزید برآں بھی”​

یہاں” الحسنیٰ” سے مراد جنت ہے ۔” وزیادۃ” سے مراد، اللہ تعالیٰ کے چہرہ کا دیدار ہے ۔

یہ تفسیر خود رسول اللہﷺ نے فرمائی ، چنانچہ صحیح مسلم(297) میں صہیب ؓ سے مروی ہے ، رسول اللہﷺ نے فرمایا: “جب اہلِ جنت ، جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہیں مزید کچھ چاہیے ؟ اہل جنت کہیں گے : اے اللہ! کیا تو نے ہمارے چہرے روشن نہیں فرما دیئے ؟ کیا تو نے ہمیں جہنم سے بچا کر، جنت میں داخل نہیں فرما دیا؟ تب اللہ تعالیٰ اپنا حجاب ہٹا دے گا(وہ اللہ تعالیٰ کے چہرے کا دیدار کریں گے ) انہیں اللہ تعالیٰ کے چہرے کے دیدار سے بڑھ کر پیاری کوئی نعمت حاصل نہیں ہوئی ہو گی۔ پھر رسول اللہﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:

(لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِيَادَةٌ) (یونس: 26)​

 

 

 

ایک اشکال اور اس کا جواب​

 

اللہ تعالیٰ کے فرمان: (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ) سے بعض لوگ اللہ تعالی ٰکی رؤیت کی نفی ثابت کرتے ہیں، جو کہ درست نہیں ہے ، کیونکہ یہ آیت رؤیت کی نہیں بلکہ ادراک کی نفی کر رہی ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رؤیت تو ثابت ہے لیکن ازروئے رؤیت ادراک یعنی احاطہ ممکن نہیں ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا علم تو حاصل ہوتا ہے لیکن ازروئے علم، احاطہ ممکن نہیں۔

چنانچہ ادراک کی نفی امرِ خاص ہے جو رؤیت کی نفی کو ، جو کہ امرِ عام ہے ، مستلزم نہیں ہے ۔

اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کے کوہِ طور والے قصہ میں رؤیت ِ باری تعالیٰ کی نفی مفہوم ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(وَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِيْقَاتِنَا وَ كَلَّمَه رَبُّه قَالَ رَبِّ اَرِنِيْۤ اَنْظُرْ اِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرٰىنِيْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَه فَسَوْفَ تَرٰىنِيْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّه لِلْجَبَلِ جَعَلَه دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًاۚ) (الاعراف: 143)

ترجمہ: ” اور جب موسیٰ ہمارے وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے کلام فرمائی ، تو عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! اپنا دیدار مجھ کو کرا دیجئے کہ میں آپ کو ایک نظر دیکھ لوں ارشاد ہوا کہ تم مجھ کو ہر گز نہیں دیکھ سکتے لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو وہ اگر اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے ۔ پس جب ان کے رب نے اس پر تجلی فرمائی تو تجلی نے اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ بے ہوش کر گر پڑے “​

موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے ایک امرِ ممکن کا سوال کیا تھا، کسی ایسے امر کا سوال نہیں کیا تھا جو ناممکن ومستحیل ہو، مگر اللہ رب العزت کی مشیئت یہ ہے کہ اس کی رؤیت صرف دار ِ آخرت میں حاصل ہو، کیونکہ دارِ آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رؤیت سب سے اکمل و اعظم نعمت ہو گی، ا س لئے “لن ترانی” کا معنی یہ ہو گا کہ تم مجھے دنیا میں نہیں دیکھ سکتے ۔

امام ابن القیم رحمہ اللہ نے اپنے کتاب” حادی الارواح” (ص179 تا186) میں اللہ تعالیٰ کی روزِ آخرت ، رؤیت کے اثبات میں قرآن ِ حکیم کے دلائل ذکر فرمائے ہیں، پھر ستائیس صحابہ کرام سے ، اثباتِ رؤیت میں مروی احادیث نقل فرمائی ہیں، اس کے بعد صحابہ کرام، تابعین اور بعد میں آنے والے بہت سے علمائے اہل السنۃ والجماعۃ کے اقوال و آثار جمع فرمائے ہیں، جو اس بات پر دال ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رؤیت پر صحابہ کرام اور ان کے منہج کے پیرو کاروں کا اجماع قائم ہے ۔

 

 

 

میدانِ محشر کے حالات​

 

[19]: قولہ: “وأن اللہ تبارک وتعالی یجیء یوم القیامۃ والملک صفا صفاً، لعرض الأمم وحسابھا وعقوبتھا وثوابھا، وتوضع الموازین لوزن أعمال العباد، فمن ثقلت موازینہ فأولئک ھم المفلحون ، ویؤتون صحائفھم بأعمالھم ، فمن أوتی کتابہ بیمینہ فسوف یحاسب حسابا یسیرا، ومن أوتی کتابہ وراء ظھرہ فأولئک یصلون سعیرا”

ترجمہ:”اور بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن آئے گا، اور فرشتے بھی قطاروں میں(آئیں گے ) تاکہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ پر پیش کریں، اور اللہ تعالیٰ ان سے سارا حساب کے ، اور انہیں عذاب میں جھونکنے یا ثواب عطا فرمانے کے فیصلے فرمائے ۔ بندوں کے اعمال کے وزن کیلئے ترازو بھی قائم کر دیئے جائیں گے ، پس جن کا نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گیا، وہ کامیاب قرار پائیں گے ۔ اسی طرح لوگوں کو ان کے اعمال کے صحیفے بھی دیئے جائیں گے ، پس جنہیں دائیں ہاتھ میں ان کا صحیفہ تھما دیا گیا، ان کا حساب بہت آسان کر دیا جائے گا، اور جنہیں ان کا صحیفہ پشت کے پیچھے سے دیا گیا، وہ لوگ جلتی آگ کا لقمہ بن جائیں گے ”

شرح

(یہاں بہت سے امور بیان ہوئے ہیں: )

1- قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فصلِ قضاء کیلئے آئے گا، اللہ تعالیٰ کا یہ آنا اس کی صفاتِ فعلیہ میں سے ہے ، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ، اور جو ارادہ فرما لیتا ہے وہی فیصلہ فرماتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے اس آنے میں وہی عقیدہ ہونا چاہیئے جو بقیہ تمام صفات میں ہے ، یعنی : اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن آنا، بالکل ویسا ہے جیسا اس کے لائق ہے ، ہم اس کے آنے کی نہ تو تکییف(یعنی کیفیت) کرتے ہیں، نہ تمثیل(کسی مخلوق کے مثل قرار دینا) نہ ہی کسی قسم کی تاویل کرتے ہیں، نہ تعطیل (یعنی اس صفت کی نفی یا انکار)۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

(وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا) (الفجر: 22)

ترجمہ: “تیرا رب(خود) آ جائے گا اور فرشتے صفیں باندھ کر (آ جائیں گے )”​

حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: یعنی اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کے درمیان ، فصلِ قضاء کیلئے آئے گا، اللہ تعالیٰ کا یہ آنا اس وقت ہو گا جب لوگ سید البشر محمد ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے دربار میں شفاعت کا مطالبہ کریں گے ، اس سے قبل وہ یکے بعد دیگرے تمام اولواالعزم انبیاء(ابراھیم، نوح، موسیٰ اور عیسیٰ علیھم السلام) سے شفاعت کا سوال کر چکے ہوں گے اور ہر نبی یہ جواب دے چکا ہو گا کہ یہ کام ہم نہیں کرسکتے ، بالآ خر وہ محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے ، آپﷺ فرمائیں گے : شفاعت کا منصب میرے لئے ہے ، شفاعت کا منصب میرے لئے ہے ، پھر آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے فصلِ قضاء کیلئے آنے کی سفارش کریں گے ، اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی شفاعت قبول فرما لے گا، یہ قیامت کے دن ہونے والی سب سے پہلی شفاعت ہو گی، اور یہی مقامِ محمود ہے ، جس کا ذکر سورہ بنی اسرائیل کی تفسیر میں گزر چکا ، پھر اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے گا، بندوں کے فیصلے کرنے کیلئے آئے گا، فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے صفوں اور قطاروں میں آئیں گے ۔

اولوالعزم رسل ، جن سے ہمارے نبی محمد ﷺ سے قبل شفاعت طلب کی جائے گی، کے نام نوح، ابراھیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیھم السلام ہیں، یہ چاروں انبیاء سورہ الاحزاب اور سورہ الشوریٰ کی آیات میں مذکور ہیں:

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِيّنَ مِيْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِيْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًاۙ) (الاحزاب: 7)

ترجمہ: “جب کہ ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا اور (بالخصوص) آپ سے ا ور نوح سے اور ابراھیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے اور ہم نے ان سے (پکا اور) پختہ عہد لیا”​

نیز فرمایا:

(شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰى بِه نُوْحًا وَّ الَّذِيْۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ وَ مَا وَصَّيْنَا بِه اِبْرٰهِيْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِيْسٰۤى اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ) (الشوریٰ:13)

ترجمہ: “اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا ہے جس کے قائم کرنے کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جو(بذریعہ وحی) ہم نے تیری طرف بھیج دیا ہے ، اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراھیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا تھا، کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا”​

2- بندوں کو اللہ تعالیٰ پر پیش کیا جائے گا، اور اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا ان سے حساب لے گا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

(وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ) (الکھف: 48)

ترجمہ: “اور سب کے سب تیرے رب کے سامنے صف بستہ حاضر کیے جائیں گے ۔یقیناً تم ہمارے پاس اسی طرح آئے جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا”​

نیز فرمایا:

(وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اُولٰٓىِٕكَ يُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ يَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيْنَۙ)(ھود: 18)

ترجمہ: ” اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور سارے گواہ کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا ، خبردار ہوکہ اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر”​

نیز فرمایا:

(وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَ يَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّ لَا كَبِيْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا وَ لَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا) (الکھف: 49)

ترجمہ: “اور نامہ اعمال سامنے رکھ دیئے جائیں گے ۔ پس تو دیکھے گا کہ گنہگار اس(کی تحریر) سے خوفزدہ ہورہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے ہائے ہماری خرابی یہ کیسی کتاب ہے جس نے کوئی چھوٹا بڑا(گناہ) بغیرگھیرے باقی نہیں چھوڑا ، اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم و ستم نہ کرے گا”​

نیز فرمایا:

(فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَه بِيَمِيْنِه فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًاۙ وَّ يَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِه مَسْرُوْرًا وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَه وَرَآءَ ظَهْرِه فَسَوْفَ يَدْعُوْا ثُبُوْرًا وَّ يَصْلٰى سَعِيْرًا) (الانشقاق: 7تا12)

ترجمہ: “تو( اس وقت) جس شخص کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا۔ اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا۔ اور وہ اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی لوٹ آئے گا ۔ ہاں جس شخص کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا۔ تو وہ موت کو بلانے لگے گا۔ اور وہ بھڑکتی ہوئی جہنم میں داخل ہو گا”​

نیز فرمایا:

(يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَىٰ مِنكُمْ خَافِيَةٌ فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ إِنِّي ظَنَنتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ يَا لَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ مَا أَغْنَىٰ عَنِّي مَالِيَهْ ۜ هَلَكَ عَنِّي سُلْطَانِيَهْ خُذُوهُ فَغُلُّوهُ ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوهُ) (الحاقۃ: 18 تا 32)

ترجمہ: “اس دن تم سب سامنے پیش کئے جاؤ گے ، تمہارا کوئی بھید پوشیدہ نہ رہے گا، سو جسے اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہنے لگے گا کہ لو میرا نامہ اعمال پڑھو۔ مجھے تو کامل یقین تھا کہ مجھے اپنا حساب ملنا ہے ۔ پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہو گا۔ بلند وبالا جنت میں۔ جس کے میوے جھکے پڑے ہوں گے ۔(ان سے کہا جائے گا) کہ مزے سے کھاؤ ،پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزشتہ زمانے میں کیے ۔ لیکن جسے اس (کے اعمال) کی کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں دی جائے گی، تو وہ کہے گا کہ کاش مجھے میری کتاب دی ہی نہ جاتی۔ اور میں جانتا ہ نہ کہ حساب کیا ہے ۔ کاش! کہ موت(میرا) کام ہی تمام کر دیتی ۔ میرے مال نے بھی مجھے کچھ نفع نہ دیا ۔ میرا غلبہ بھی مجھ سے جاتا رہا۔ (حکم ہو گا) اسے پکڑ لو پھر اسے طوق پہنادو۔ پھر اسے دوزخ میں ڈال دو۔ پھر اسے ایسی زنجریں جس کی پیمائش ستر ہاتھ کی ہے جکڑ دو۔”​

نیز فرمایا:

(يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا١ۙ۬ لِّيُرَوْا اَعْمَالَهُمْ فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَه وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَه)(الزلزلۃ: 6تا8)

ترجمہ: “اس روز لوگ مختلف جماعتیں ہو کر(واپس) لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں۔ پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر بُرائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔”​

رسول اللہﷺ کا فرمان ہے :”من حوسب عذب، قالت عائشۃ:فقلت: أولیس یقول اللہ(فسوف یحاسب حسابا یسیرا) قالت: فقال: انما ذلک العرض، ولکن من نوقش الحساب یھلک

ترجمہ: “جس شخص سے حساب لیا جائے گا اسے یقیناً عذاب دیا جائے گا ، عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے : ” کہ عنقریب آسان حساب لیا جائے گا”؟ فرمایا: آسان حساب سے مراد اعمال کا بندوں پر پیش کیا جانا ہے مگر جس سے حساب میں مناقشہ کیا گیا وہ ضرور ہلاک ہو جائے گا(مناقشہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا پوچھنا کہ فلاں گناہ کیوں کیا تھا؟)”

صحیح بخاری(103) اور صحیح مسلم(2876)

3- پہلے بندوں کے اعمال شمار کیئے جائیں گے ، پھر انہیں تو لا جائے گا، جس کا نیکیوں کا پلڑا بھاری پڑ گیا وہ نجات پاگیا، اور جس کا ہلکا رہ گیا وہ ہلاک ہو گیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

(وَ نَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَئًْا وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَيْنَا بِهَا وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِيْنَ) (الانبیاء:47)

ترجمہ: “قیامت کے دن ہم درمیان میں لارکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو۔ پھر کسی پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔ اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہو گا تو ہم اسے لاحاضر کریں گے ، اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے “​

نیز فرمایا:

(وَ الْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِ ا۟لْحَقُّ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُه فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُه فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَظْلِمُوْنَ ) (الأعراف: 8-9)

ترجمہ: “اور اس روز وزن بھی واقع ہو گا پھر جس شخص کا پلہ بھاری ہو گا سوایسے لوگ کامیاب ہوں گے ۔ اور جس شخص کا پلہ ہلکا ہو گا سہ یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کر لیا بسبب اس کے کہ ہماری آیتوں کے ساتھ ظلم کرتے تھے “​

نیز فرمایا:

(فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّ لَا يَتَسَآءَلُوْنَ۠ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُه فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْن وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُه فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِيْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ) (المؤمنون: 10 تا 103)

ترجمہ: “پس جب کہ صور پھونک دیا جائے گا اس دن نہ تو آپس کے رشتے ہی رہیں گے ، نہ آپس کی پوچھ گچھ۔ جن کی ترازو کا پلہ بھاری ہو گیا وہ تو نجات پانے والے ہو گئے ۔ اور جن کی ترازو کا پلہ ہلکا ہو گیا یہ ہیں وہ جنہوں نے اپنا نقصان آپ کر لیا جو ہمیشہ کیلئے جہنم واصل ہوئے “​

نیز فرمایا:

(فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُه فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُه فَاُمُّه هَاوِيَةٌ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِيَهْنَارٌ حَامِيَةٌ) (القارعۃ: 6 تا11)

ترجمہ: “پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے ۔ وہ تو دل پسند آرام کی زندگی میں ہو گا۔ اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے ۔ اس کا ٹھکانہ ہاویہ ہے ۔ تجھے کیا معلوم کہ وہ کیا ہے ۔ وہ تند و تیز آگ ہے “​

رسول اللہﷺ کا فرمان ہے :”الطھور شطر الایمان والحمدللہ تملأ المیزان وسبحان اللہ والحمدللہ تملآن او تملأ مابین السموات والارض”

ترجمہ:” صفائی اور پاکیزگی نصفِ ایمان ہے ، اور الحمدللہ میزان کو بھر دیتاہے ، اور سبحان اللہ والحمدللہ دونوں یعنی آسمانوں اور زمین کو یا ان دونوں کے مابین کو بھر دیتے ہیں” صحیح مسلم(223)

ایک اور حدیث میں رسول اللہﷺ کا ارشاد ِ گرامی ہے :

“کلمتان جیبتان الی الرحمن، خفیفتان علی اللسان ثقیلتان فی المیزان سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم”

ترجمہ:” دو کلمے جو رحمٰن کو بڑے محبوب ہیں، زبان پر ہلکے ، اور میزان پر بھاری ہیں، سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم” (صحیح بخاری(7563) اور صحیح مسلم(2694)

(یہ دونوں حدیثیں اثباتِ میزان کی دلیل ہیں)

اعمال اگرچہ اعراض ہیں(یعنی ایسی چیز جس کا جسم نہیں ہوتا) مگر اللہ تعالیٰ انہیں جسم دیکر اپنے میزان میں تول لے گا۔ بندوں کے اعمال کے وزن کی حکمت اولاً: یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا اظہار ہو جائے ، ثانیاً :

بندوں کو ان کے اعمال کی خبر ہو جائے ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر شئ کو جاننے والا ہے ۔

اور وزن، جس طرح اعمال کا ہو گا، اعمال کے صحائف کا بھی ہو گا، جیسا کہ حدیثِ بطاقہ سے واضح ہے ، رسول اللہﷺ نے فرمایا:

ترجمہ:” اللہ تعالیٰ میری اُمت کے ایک شخص کو قیامت کے دن ، تمام خلائق کے سامنے بلائے گا، اس پر(اس کے گناہوں کے ) ننانوے رجسٹر پھیلا دے گا، ہر رجسٹر کا طول و عرض تا حدِ نگاہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو ان گناہوں میں سے کسی گناہ کا انکار کرتا ہے ؟ کیا تجھ پر میرے کاتب فرشتوں نے کوئی ظلم کیا ہے ؟ وہ کہے گا: نہیں میرے روردگار ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تیرے پاس ان گناہوں کیلئے کوئی عذر ہے ؟ کہے گا: نہیں میرے پروردگار۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیونکہ نہیں، ہمارے پاس تیری ایک نیکی محفوظ ہے ، آج تجھ پر کوئی ظلم نہیں ہو گا، ایک پرچی نکالی جائے گی، جس میں (أشھد أن لاالٰہ الا اللہ وأشھدأن محمدا عبد اللہ ورسولہ) لکھا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے بندے ! اپنا وزن خود دیکھ لے ، کہے گا: اے میرے پروردگار! اس پرچی کا ان رجسٹروں سے کیا مقابلہ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تجھ پر آج کوئی ظلم نہیں ہو گا، چنانچہ وہ رجسٹر میزان کے ایک پلڑے میں رکھ دیئے جائیں گے ، دوسرے میں وہ پرچی۔ رجسٹروں والاپلڑا ہلکا پڑ کے اوپر کو اڑنے لگے گا اور پرچی بہت بھاری پڑ جائے گی، اللہ تعالیٰ کے نام کے سامنے کوئی چیز بھاری نہیں” اس حدیث کو امام ترمذی (2639) نے روایت کیا ہے ، اور اسے حسن کہا ہے ، نیز حاکم 1/6 نے بھی، اور اسے امام مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے ، اور امام ذھبی نے امام حاکم کی موافقت کی ہے ۔ شیخ البانی کا” السلسلۃ الا حادیث الصحیحۃ” (135) ملاحظہ کیجئے ۔

 

 

 

پُلِ صِراط​

 

[20]- قولہ:” وأن الصراط حق، یجوزہ العباد بقدر أعمالھم، فناجون متفاوتون فی سرعۃ النجاۃ علیہ من نار جھنم، وقوم أوبقتھم فیھا أعمالھم”

ترجمہ: “(قیامت کے دن ) پُلِ صراط بر حق ہے ، جسے بندے اپنے اپنے اعمال کے بقدر عبور کریں گے ، کچھ تو نجات پا جائیں گے جو جہنم سے نجات میں تیزی کے اعتبار سے متفاوت ہوں گے ۔ اور بہت سے لوگوں کو ان کے اعمال ہلاکت کے گڑھے (جہنم) میں پھینک دیں گے ”

شرح

پُلِ صراط حق ہے ، اور رسول اللہﷺ کی احادیث سے ثابت ہے ، یہ ایک پُل ہے جو جہنم کی کمر پر نصب ہے ، اس پر سے مسلمان، جنت میں پہنچنے کیلئے اپنے اپنے اعمال کے مطابق گزریں گے ، چنانچہ کچھ تو بجلی کی طرح عبور کر جائیں گے ، اور کچھ تیز رفتار ہوا کی طرح ، اور کچھ ایسے بھی ہوں گے جو سُرین پر گھسٹتے ہوئے بالآخر پار کر ہی جائیں گے ۔

صحیح بخاری(806) اور صحیح مسلم(299) میں ابو ھریرۃ ؓ سے مروی ہے ، رسول اللہﷺ نے فرمایا: “۔۔۔۔جہنم کے اوپر درمیان میں ایک پل نصب کیا جائے گا، تمام انبیاء میں سے سب سے پہلے میں اپنی امت کو لے کر اس پل کو عبور کروں گا، اس دن رسولوں کے علاوہ کوئی انسان، کوئی کلام نہیں کرسکے گا، رسولوں کا کلام بھی” اللھم سلم، اللھم سلم” ہو گا، یعنی: اے اللہ سلامتی عطا فرما۔ اور جہنم میں سعد (ایک خاردار درخت) کے کانٹوں کی طرح لوہے کے نوکیلے کنڈے ہوں گے ۔ کیا تم نے سعد ان کا درخت دیکھا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: وہ کنڈے سعدان کے کانٹوں کی طرح ہی ہوں گے ، البتہ وہ کتنے بڑے ہوں گے اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے ، یہ کنڈے لوگوں کو ان کے اعمال کے بہ سبب اچکتے رہیں گے ، کچھ تو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ہلاک کر دیئے جائیں گے ، اور کچھ کو (ایک مدت کیلئے ) جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ پھر وہ نجات پا جائیں گے ۔

صحیح مسلم(329) میں ابوھریرۃ اور حذیفہ رضی اللہ عنھما کی حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں:

[امانت اور رحم (رشتہ داری) کو چھوڑا جائے گا یہ دونوں پُلِ صراط کے دونوں کناروں میں دائیں اور بائیں کھڑے ہو جائیں گے ۔ تم میں سے پہلی جماعت بجلی کی طرح پُلِ صراط کو عبور کرنا کیسا ہے ؟ فرمایا: تم نے بھی بجلی نہیں دیکھی؟ وہ کس طرح گزرتی ہے ، اور پھر پلک جھپکنے میں لوٹ آتی ہے ۔ پھر کچھ لوگ ہوا کی طرح عبور کریں گے ، کچھ پرندے کی اور کچھ گھوڑوں کی رفتار سے عبور کریں گے ، درحقیقت ان کے اعمال، انہیں دوڑا رہے ہوں گے ۔ تمہارے نبی(ﷺ) پلِ صراط پر کھڑے ہوں گے ، اور” رَبِّ سَلَمُ سَلَمُ” کہہ رہے ہوں گے ، حتیٰ کہ ایسے لوگ آ جائیں گے جن کے اعمال عاجز ہوں گے ، اور ایسا شخص بھی آئے گا جو اپنی سُرین پر گھسٹتا ہو ا چل سکے گا۔”

صحیح مسلم(302) میں ابو سعید خدری ؓ سے مروی حدیث ہے ،، جس میں یہ الفاظ بھی مذکور ہیں: ” پھر جہنم پر ایک پل قائم کر دیا جائے گا اور شفاعت کرنا حلال ہو جائے گا، اور انبیاء”اللھم سلم سلم” پکار رہے ہوں گے ۔ پوچھا گیا: یار رسول اللہﷺ یہ پل کیا ہے ؟ فرمایا: ایک ایسا راستہ جس پر پھسلن ہی پھسلن ہو گی، اس میں نوچنے والے پرندوں کے پنجوں اور نجد کی سرزمین پر پائے جانے والے کانٹے دار درخت سعدان کے کانٹوں کی مانند لوہے کے نوک دار کنڈے ہوں گے ۔ مؤمن پلک جھپکنے کی طرح گزر جائیں گے ، کچھ بجلی کی طرح ، کچھ ہوا کی طرح ، کچھ پرندوں کی طرح اور کچھ برق رفتار گھوڑوں اور اونٹوں کی طرح عبور کر جائیں گے ۔ کچھ تو صحیح سالم عبور کر کے نجات پا جائیں گے ، کچھ زخموں سے چور چور بالآخر چھوڑ دیئے جائیں گے ، اور کچھ کٹ کر جہنم کی آگ میں گر جائیں گے ۔

 

 

 

حوضِ کوثر​

 

[21]: قولہ: “والایمان بحوض رسول اللہﷺ تردہ امتہ، لایظمأمن شرب منہ، ویزاد عنہ من بدل وغیر”

ترجمہ: “رسو ل اللہﷺ کے حوض پر ایمان لانا(فرض ہے ) آپ ﷺ کے حوض پر آپﷺ کی امت وارد ہو گی ، جس نے اس حوض سے پانی پی لیا اسے (جنت میں داخلے تک ) پیاس نہیں لگے گی، حوضِ کوثر سے اس بدعتی کو دور کر دیا جائے گا جس نے دین میں تبدیل و تغییر کا ارتکاب کیا”

شرح

ہمارے نبیﷺ کے حوض کا بیان​

ہمارے نبیﷺ کے حوض کے بارہ میں مروی احادیث درجہ تو اتر کو پہنچتی ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں کتاب الرقاق میں حوض کا باب ذکر فرمایا ہے ، اس باب میں (19) اسناد سے یعنی (6575) سے (6593) تک احادیثِ حوض نقل فرماتی ہیں۔

حافظ ابنِ حجر نے فتح الباری میں ذکر کیا ہے کہ احادیثِ حوض پچاس سے زائد صحابہ کرام سے مروی ہیں، انہوں نے ان میں سے پچیس صحابہ کا نام قاضی عیاض، جبکہ تین کا امام نووی کے حوالے سے ذکر فرمایا ہے ، اور تقریباً اتنی ہی تعداد کا اپنی تحقیق و تتبع سے اضافہ فرمایا ہے ، جس سے ان صحابہ کی تعداد پچاس سے متجاوز ہو گئی۔(دیکھیئے فتح الباری 11/468 تا469)

امام ابن ِ کثیر نے اپنی کتاب” النھایۃ” میں تیس سے زائد صحابہ سے احادیثِ حوض نقل فرمائی ہیں، ان میں سے اکثر احادیث ان أئمہ کی اسناد سے ذکر فرمائی ہیں، جنہوں نے اپنی کتب میں ان احادیث کی تخریج و روایت کی ہے ۔

رسول اللہﷺ کے حوض کے بارہ میں جو صفات وارد ہوئی ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں:

آپ ﷺ نے فرمایا: “حوضی مسیرۃ شھر، ماءہ ابیض من اللبن ، وریحہ أطیب من المسک، وکیزانہ کنجوم السماء، من شرب منھا فلا یظمأ أبدا

ترجمہ: “میرے حوض کی لمبائی ایک ماہ کی مسافت کے بقدر ہے ، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور خوشبو مسک سے زیادہ عمدہ ہو گی، اس کے آب خورے آسمان کے ستاروں کے برابر ہوں گے ، جسے ایک بار اس کا پانی نصیب ہو گیا، اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔(صحیح بخاری (6579) بروایت عبداللہ بن عمر ورضی اللہ عنھما”

امام مسلم نے اپنی صحیح(2292) میں یہ الفاظ نقل فرمائے ہیں:

“میرے حوض کی طوالت ایک ماہ کی مسافت کے بقدر ہے ، اور اس کے تمام کونے برابر ہیں، اس کا پانی چاندی سے زیادہ سفید اور خوشبو مسک سے زیادہ عمدہ ہے ، اس کے آب خورے آسمان کے ستاروں کے برابر ہیں جس نے ایک بار وہ پانی پی لیا اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔”

صحیح مسلم(2300) ابوذر غفاری ؓ سے مروی ایک حدیث کے یہ الفاظ بھی ہیں:

“یشخب فیہ میزابان من الجنۃ من شرب منہ لم یظمأ ، عرضہ مثل طولہ، مابین عمان الی أیلۃ، ماءہ أشد بیاضا من اللبن وأحلی من العسل”

ترجمہ:”حوضِ کوثر میں جنت کی طرف سے دو پر نالے گر رہے ہوں گے ، جس نے حوضِ کوثر کا پانی پی لیا اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی، اس کا عرض اس کے طول کے برابر ہے ، عمان سے لے کر ایلۃ تک اس کا پانی دود ھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے ”

حوضِ کوثر پر اہلِ بدعت کا ہیبت ناک انجام:

کچھ لوگوں کو حوضِ کوثر پر وارد ہونے سے روک دیا جائے گا، صحیح بخاری (2576) میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے ، رسول اللہﷺ نے فرمایا:

“أنا فرطکم علی الحوض ، ولیر فعن رجال منکم، ثم لیختلجن دونی فأقول یا رب اصحابی فیقال: لاتدری ماأحدثوا بعدک”

ترجمہ: “میں حوضِ کوثر پہ تمہارا انتظار و استقبال کروں گا ، تم میں سے کچھ لوگ ظاہر کیئے جائیں گے پھر میرے سامنے کھینچ کر نکال دیئے جائیں گے ، میں کہوں گا: میرے پروردگار یہ تو میرے ساتھی ہیں، کہا جائے گا: آپ(ﷺ) ، نہیں جانتے انہوں نے آپﷺ کے بعد کیا کیا نئے طریقے اپنا لئے تھے ”

ان ساتھیوں سے مراد وہ چند لوگ ہیں ، جنہوں نے نبی ﷺ کی وفات کے بعد ارتداد اختیار کر لیا تھا، اور پھر ان اسلامی کامیاب لشکروں کے ہاتھوں قتل کر دیئے گئے تھے ، جنہیں ابوبکر صدیق ﷺ نے مرتدین سے قتال کیلئے بھیجا تھا(نوٹ: وہ شرعی نصوص جو کسی مخصوص تناظر میں وارد ہوتے ہیں ان کے حکم میں عموم ملحوظ ہوتا ہے ، لہذا قیامت کے دن حوضِ کوثر پہ ہر مبتدع کی اسی طرح بے توقیری اور تذلیل ہو گی، جیسا کہ رسول اللہﷺ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا ہے کہ میں مبتدرین کو دیکھ کر یہ کہوں گا:”سحقا سحقا لمن غیر بعدی” یعنی: جن لوگوں نے میرے بعد دین کو تبدیل کر دیا انہیں میری نظروں سے دور کر دیا جائے ۔مترجم)

روافض کی ہذیان گوئی:

روافض، جن کے سینے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہھم اجمعین کے حقدو بغض سے لبریز ہیں، کا یہ زعمِ باطل ہے کہ صحابہ کرام نبیﷺ کی وفات کے بعد مرتد ہو گئے تھے ، بہت تھوڑی تعداد دین پر باقی رہی، ان کے بقول احادیث میں جن لوگوں کو حوضِ کوثر سے دور کرنے کا ذکر کردار ہے ، وہ (نعوذ باللہ) یہی اصحابِ رسول اللہ ﷺ ہیں۔

حقیقت یہ ے کہ حوضِ کوثر سے دور ہٹانے کے اصل مستحق خود روافض ہیں، کیونکہ وہ وضوء میں اپنے پاؤں نہیں دھوتے ، بلکہ مسح کرتے ہیں، اور رسول اللہﷺ کا فرمان ہے : “ویل للأعقاب من النار”یعنی: وضوء میں جن کے پاؤں کی ایڑیاں تھوڑی سی خشک رہ جائیں ان کیلئے جہنم کی ویل ہے ۔(صحیح بخاری(165) صحیح مسلم(242) بروایت ابوھریرۃ ؓ)

اس کے علاوہ روافض کے چہرے اس چمل دمک سے محروم ہیں جو وضوء سے پید ا ہوتی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : “ان أمتی یدعون یوم القیامۃ غرامحجلین من آثار الوضو ء”یعنی: بے شک میری امت قیامت کے دن بلائی جائے گی، ان کی پیشانیاں اور دیگر اعضاء وضوء، وضوء کی برکت سے چمل رہے ہوں گے ” (صحیح بخاری(136) بروایت ابوھریرۃؓ)

 

 

 

اس دور کے ایک گمراہ شخص کے صحابہ کرام کے متعلق باطل نظریہ کا رد​

 

واضح ہو کہ اس دور میں ایک شخص پیدا ہوا ہے جس کا زعم ہے کہ وہ اہل السنۃ میں سے ہے ، جبکہ اہل السنۃ سے اس کا کوئی واسطہ یا تعلق نہیں ہے ، بلکہ وہ ان روافض کے منہج پر قائم ہے جو اپنے سینوں میں صحابہ کے خلاف بغض و عناد رکھتے ہیں، اس شخص کا نام حسن بن فرحان المالکی ہے ، یہ سعودی عرب کے انتہائی جنوبی علاقہ بنو مالک کی طرف منسوب ہے ۔ اس شخص نے ایک انتہائی سخیف اور گھٹیا سا رسالہ تصنیف کیا ہے ، جس کا عنوان” الصحابۃ بین الصحبۃ اللغویۃ وصحبۃ الشرعیۃ “ہے (یعنی صحابہ میں لغوی اور شرعی صحبت کا فرق ) اس رسالہ میں اس کا زعم ہے کہ صحابہ صرف وہ مہاجرین و انصار ہیں جو صلح حدیبیہ سے قبل موجود تھے جنہوں نے حدیبیہ کے بعد اسلام قبول کیا یا ہجرت کی ان کیلئے شرعی صاابیت کا کوئی حصہ نہیں بلکہ ان کی صحبت تو منافقین و کفار کی صحبت جیسی ہے ۔

اس شخص نے اپنے اس قول سے بہت سے اصحاب رسول ﷺ کو نبی ﷺ کی صحابیت سے خارج کر دیا ، جن میں عباس بن عبد المطلب نبیﷺ کے چچا ، اور ان کے بیٹے حبر امت ، ترجمان القرآن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم بھی ہیں ۔ اسی طرح ابو موسیٰ اشعری ، ابو ھریرۃ اور خالد بن ولید رضی اللہ عنھم وغیرہ جیسے بے شمار صحابہ کو شرف صحابیت سے فارغ کر دیا ۔

یہ پندرھویں صدی میں ایک بدعت اور محدث قول ہے ، اس مالکی سے قبل یہ بات کسی نے نہیں کہی ، سوائے اسی جیسے ایک نوعمر نوجوان کے ، جس کا نام عبد الرحمٰن بن محمد الحکمی ہے ۔

اس کی اس گھٹیا کتاب میں صحابہ کرام کی عدالت کا بھی انکار ہے ، اس کے خیال فاسد کے مطابق اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نبی ﷺ کے حوض سے دھتکار دیا جائے گا اور نعوذ باللہ واصل جہنم کر دیا جائے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ صحابہ کرام میں سے بہت تھوڑی تعداد نجات پا سکے گی،(اس نے اس تھوڑی تعداد کے بیان کیلئے ” مثل ھمل النعم” کی تعبیراستعمال کی ہے ، یہ تعبیر ایک حدیث میں وارد ہوئی ہے ، جس کا بیان آگے آئے گا، اس تعبیر سے کسی شئی کی قلت کا اظہار مقصود ہوتا ہے ، “ھمل النعم” ریوڑ کے ان چند اونٹوں کو کہتے ہیں جو چرواہے کے بغیر دن یا رات گزاریں، ایسے اونٹوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے ۔

اس شخص(مالکی) کے مذکورہ بیانات سے ثابت ہو گیا کہ اس کا تعلق اہل السنۃ سے نہیں بلکہ روافض حاقدین علی اصحاب رسول اللہﷺ سے ہے ۔ میں نے ایک کتاب بعنوان” الانتصار للصحابۃ الاخیار فی رد اباطیل حسن المالکی” لکھی ہے ، جس میں اس کی تمام اباطیل و خرافات کا رد کیا ہے ۔

اس کتاب میں، میں نے حوض سے دور ہٹائے جانے کے تعلق سے لکھا ہے : مالکی نے جو عدالت صحابہ کا انکار کیا ہے ، اس کے رد کی ساتویں وجہ یہ ہے کہ مالکی اپنی کتاب کے صفحہ63میں لکھتا ہے کہ” صحابہ کرام کی مذمت عام میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں، ان میں سے ایک حدیث وہ ہے جس میں صحابہ کے ایک جمِ غفیر کو جہنم کی طرف جاتا دیکھ کر نبیﷺ فرمائیں گے یہ تو میرے صحابی ہیں، یہ تو میرے صحابی ہیں۔ کہا جائے گیا: آپ(ﷺ) نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ(ﷺ) کے بعد کیا کیا نئے طریقے اپنا لئے ۔ یہ بخاری ومسلم کی حدیث ہے ، جبکہ صحیح بخاری میں(بقول مالکی) یہ الفاظ بھی وارد ہیں:” فلا أری ینجومنکم الا مثل ھمل النعم” یعنی تم میں سے بہت تھوڑے لوگ “مثل ھمل النعم” نجات پا سکیں گے ۔”

اب اس مخالف و معاند کا کہنا ہے کہ صحابہ کیلئے کیا امتیاز باقی رہ گیا جبکہ نبیﷺ نے فرما دیا کہ ان میں سے بہت تھوڑے لوگ نجات پا سکیں گے ، باقی تمام جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے (والعیاذ باللہ) اس حاقد اور معاند نے یہی بات اپنی کتاب کے صفحہ 64میں دہرائی ہے ۔

ہم اس کے جواب میں عرض کرتے ہیں: صحیح بخاری ، کتاب الرقاق کی جس حدیث کا اس نے حوالہ دیا ہے ، وہ ابوھریرۃ ؓ سے مروی ہے ، اس کے الفاظ یوں ہیں(۶۵۸۷): “بینا أنا نائم فاذا زمرۃ، حتی اذا عرفتھم خرج رجل من بینی وبینھم ، فقال: ھلم،فقلت: أین ؟ قال: الی النار واللہ! قلت: وماشأ نھم ؟ قال انھم ارتدوا بعدک علی أدبارھم القھقری، ثم اذا زمرۃ، حتی اذا عرفتھم خرج رجل من بینی وبینھم، فقال : ھلم ، قلت : أین؟ قال : الی النار واللہ! قلت: ماشأ نھم؟ قال: انھم ارتدوا بعدک علی أدبارھم القھقری، فلا أراہ یخلص منھم الا مثل ھمل النعم

ترجمہ: ایک بار میں سو رہا تھا کہ میں نے ایک جماعت دیکھی جب میں ان کو پہچان چکا تو میرے اور ان کے درمیان سے ایک شخص نکلا، اس نے کہا: ادھر آؤ، میں نے پوچھا: کہا؟ اس نے کہا: جہنم کی طرف اللہ کی قسم ، میں نے پوچھا : ان کا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے کہا: انہوں نے آپ کے بعد اپنی پشتوں کے بل پھر کر ارتداد اختیار کر لیا تھا۔ پھر ایک جماعت ظاہر ہوئی، جب میں انہیں پہچان چکا تو ایک آدمی میرے اور ان کے درمیان سے بر آمد ہوا، اس نے کہا: آؤ، میں نے کہا: کس طرف؟ اس نے کہا: جہنم کی طرف اللہ کی قسم، میں نے پوچھا : ان کا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے کہا: انہوں نے آپ(ﷺ) کے بعد اپنی پشتوں کے بل پھر کرار تداد اختیار کیا تھا۔ میں نہیں سمجھتا کہ ان میں سے کچھ لوگ بچ کر(حوض تک پہنچ سکیں)، مگر اتنی سی تعداد میں جتنی تعداد میں بن چروا ہے رات یا دن گزار نے والے اونٹ ہوتے ہیں۔ حافظ ابن حجر اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: نبی ﷺ کا فرمان:”بین أنا نائم” اکثر نسخوں میں اسی طرح وارد ہوا ہے ، جبکہ کشمیھنی کے نسخہ میں” نائم” بالنون کی بجائے “قائم” بالقاف ہے ، اور یہ روایت زیادہ درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ قیام سے مراد قیامت کے دن حوض پہ کھڑا ہونا ہے ، اگر”نائم” لیا جائے تو وہ بھی درست ہے ، اس سے مراد یہ ہو گا کہ آپﷺ نے دنیا میں خواب میں قیامت کے دن(حوض پہ کھڑا ہونے کا) وہ منظر دیکھا (جس کا آپﷺ نے حدیث ِ مذکور میں ذکر فرمایا ہے ) حافظ ابن حجر نے حدیث کے آخری حصہ “فلا أراہ یخلص منھم الا مثل ھمل النعم” کا مطلب بیان فرماتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو حوض کو ثر پہ وارد ہونے کیلئے قریب آئیں گے تو انہیں روک دیا جائے گا۔(حافظ ابن حجر مزید فرماتے ہیں) مطلب یہ ہے کہ ان میں سے حوضِ کو ثر پر وارد ہونے والے بہت تھوڑے لوگ ہوں گے ، کیونکہ اونٹوں میں سے بن چروا ہے اونٹ بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ گویا مذکورہ حدیث میں وارد الفاظ” فلاأراہ یخلص منھم الا مثل ھمل النعم “کا مطلب یہ ہے کہ حدیث ِ مذکورہ میں جن دو جماعتوں کے حوض پر وارد ہونے کا ذکر ہے ، ان میں سے بہت تھوڑے لوگ حوض پر وارد ہوسکیں گے ، حدیث مذکور سے کہیں یہ ثابت نہیں ہو رہا کہ آپﷺ پر آپ کے صحابہ کی صرف یہی دو جماعتیں پیش ہوں گی۔ مالکی نے جب حدیث مذکورہ کو بیان کیا تو اس میں ایک غلط لفظ ڈال دیا، اور اسی غلط لفظ کی بنیاد پر صحابہ کرام پر ایک غلط حکم عام قائم کر دیا، چنانچہ اس کا کہنا ہے کہ صحیح بخاری میں یوں بھی مروی ہے ،” فلا أری ینجو منکم الا مثل ھمل النعم” اس نے ” منکم” مخاطب کے لفظ کے ساتھ حدیث بیان کی حالانکہ حدیث میں”منھم” ہے ، پھر اس نے اپنے غلط لفظ” منکم” کی بنیاد پر یہ بات کہہ دی کہ صحابہ کیلئے کیا امتیاز باقی رہ گیا جبکہ نبیﷺ نے فرما دیا کہ ان میں سے بہت تھوڑے لوگ نجات پا سکیں گے ، باقی تمام جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے (والعیاذ باللہ) نیز یہ کہہ دیا کہ نبیﷺ نے خبر دی ہے کہ قیامت کے دن آپﷺ کے صحابہ میں سے بہت کم لوگ” مثل ھمل النعم” نجات پا سکیں گے ۔ اس نے یہ بات کہہ کر نبیﷺ پر جھوٹ باندھا ہے ، کیونکہ نبیﷺ نے یہ خبر نہیں دی کہ صحابہ کرام میں سے بہت کم نجات پا سکیں گے ۔(بلکہ نبیﷺ کی حدیث کا ملخص یہ ہے کہ قیامت کے دن جو دو جماعتیں حوض پر وارد ہونے کیلئے آئیں گی، چونکہ ان میں سے اکثر نے ارتداد اختیار کر لیا تھا لہٰذا ان میں سے اکثر کو حوض سے روک لیا جائے گا اور بہت کم حوض پر وارد ہوں گے ، گویا اس حدیث میں صحابہ کرام کا ذکر نہیں بلکہ ان تھوڑے سے لوگوں کا ذکر ہے ، جنہوں نے نبی ﷺ کے دور میں اسلام قبول تو کر لیا لیکن آپﷺ کے فوت ہوتے ہی ارتداد اختیار کر لیا۔ مترجم) ہوسکتا ہے مالکی کی مذکورہ بات عمداً نہ ہو بلکہ پر بنائے خطاء ہو(واللہ اعلم) بعض احادیث میں جو یہ بات وارد ہوئی ہے ، کہ آپﷺ کے حوض سے آپﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کو دور کر دیا جائے گا، اور آپ ﷺ یاصحابی یا صحابی کہیں گے ، آپﷺ کو جواب ملے گا کہ آپﷺ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپﷺ کے بعد کیا کیا نئی چیزیں اپنا لی تھیں۔ تو اس سے مراد وہ تھوڑے سے لوگ ہیں جو نبیﷺ کی وفات کے بعد مرتد ہو گئے تھے ، امیر المؤمنین سیدنا ابوبکر صدیق ؓ نے ان مرتدین سے قتال کیلئے اپنے لشکر روانہ کیئے ، جو ان مرتدین کو قتل کر کے کامیاب و کامران واپس لوٹ آئے ۔

میں کہتا ہوں: اگر اس شخص (مالکی) کے زعم میں اکثر اصحاب رسول ﷺ کا انجام جہنم کی آگ ہے اور بہت کم نجات پا سکیں گے ، تو پھر یہ مالکی اپنے لئے کس قسم کا انجام سوچے بیٹھا ہے ۔

ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت اور سلامتی کا سوال کرتے ہیں اور ہر قسم کی ذلت و خذلان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں۔ اس شخص(مالکی) کا زعم ہے کہ شرعی صحبت صرف ان مہاجرین و انصار صحابہ کرام کو حاصل ہے جو صلح حدیبیہ سے قبل موجود تھے ، صلح حدیبیہ کے بعد آنے والے اس کے زعم ِ فاسد کے مطابق صحابہ کے زمرہ میں شامل نہیں ہیں۔ اب اس کا یہ قول کہ صحابہ میں سے بہت تھوڑے نجات پائیں گے ، بقیہ سب جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ، اس کا اطلاق انہیں انصار و مہاجرین صحابہ پر ہو گا جو حدیبیہ سے قبل آئے ، (کیونکہ وہ انہی کو صحابی مانتا ہے ) تو یہ صحابہ جو اس امت کا سب سے بہترین طبقہ ہے ، اگر جہنم سے نہیں بچ سکتے تو پھر امت کا وہ کون سا فرد ہے جو جہنم سے بچ سکے گا۔ یہود و نصاریٰ بھی موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے اصحاب کے بارہ میں وہ بات نہیں کہہ سکتے جو یہ مالکی کہہ گیا ، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ شخص قبیح وفساد اور شر کی انتہاء کو پہنچا ہوا ہے ، جو شخص بھی اس کی یہ بات سنے گا یا بذات خود پڑھے گا تو وہ یا تو اسے مفقود العقل سمجھے گا یا اسے پرلے درجے کا خبیث اور صحابہ کرام جو امت کی سب سے افضل جماعت ہے پر حاقد قرار دے گا، خاص طور پہ اس کا یہ کہنا کہ عباس بن عبد المطلب اور ان کا بیٹا عبد اللہ صحابی نہیں تھے ، اور خاص طور پہ اس کا یہ کہنا کہ اکثر صحابہ (تھوڑی تعداد کے علاوہ) جہنم میں جائیں گے ۔

پھر اگر اس شخص کے زعم کے مطابق ، اکثر صحابہ(علاوہ بعض کے ) جہنمی ہیں، تو کتاب وسنت تو ہم تک صحابہ کرام کے طریق سے پہنچا ہے ، وہی رسول اللہﷺ اور بعد میں آنے والے لوگوں کے درمیان واسطہ ہیں، تو پھر لوگوں کے پاس کون سا حق اور کون سی ہدایت ہے ، کیونکہ ناقل میں قدح اور جرح منقول میں قدح اور جرح کے مترادف ہے ۔ امام ابو زرعۃ الرازی(متوفیٰ :۲۶۴) فرماتے ہیں” : اذا رأیت الرجل ینتقص أحدا من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاعلم أنہ فاعلم أنہ زندیق وذلک أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عندنا حق والقرآن حق، وانما ادی الینا ھذا القرآن والسنن اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وانما یریدون أن یجرحوا شھودنا لیبطلوا الکتاب والسنۃ، والجرح بھم أولیٰ وھم زنادقۃ”

ترجمہ: ” جب تم کسی شخص کو اصحاب رسول ﷺ پر جرح کرتے ہوئے دیکھو تو یقین کر لو کہ وہ زندیق ہے ، کیونکہ ہمارے نزدیک رسول اللہﷺ حق ہیں، اور قرآن بھی حق ہے ، ہماری طرف قرآن اور رسولﷺ کی احادیث پہنچانے والے رسول اللہﷺ کے صحابی ہیں، یہ زنادقہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ان گواہوں(صحابہ کرام) پر جرح کر کے کتاب وسنت کو باطل کر دیں، حالانکہ یہ کود جرح و قدح کے مستحق ہیں اور زندیق ہیں” (الکفایۃ للخطیب البغدادی،ص49) مالکی کی دیگر اباطیل جنہیں اس نے اپنی کتاب “قراء ۃ فی کتب العقائد” میں ذکر کیا ہے ، میں ان سے بھی پردہ اٹھانا چاہتا ہوں، ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ ان تمام اباطیل پر اپنی کتاب “الانتصار لاھل السنۃ والحدیث فی رد اباطیل حسن المالکی” میں بلڈوزر چلا کر صفایا کر دوں گا۔

 

 

 

ایمان کی تعریف اور حقیقت​

 

[22]: قولہ: “وأن الایمان قول باللسان، واخلاص بالقلب ، وعمل بالضوارح ، یزید بزیادۃ الأعمال، وینقص بنقصھا ، فیکون فیھا النقص وبھا الزیادۃ، ولا یکمل قول الایمان الا بالعمل، ولا قول وعمل الا بنیۃ، ولا قول وعمل ونیۃ الا بموافقۃ السنۃ، وأنہ لایکفر أحد بذنب من اہل القبلۃ”

ترجمہ: “اور بے شک ایمان زبان کے اقرار، دل کے اخلاص ، اور اعضاء کے عمل کا نام ہے ، نیکیوں کی زیادتی سے بڑھتا ہے اور کمی سے گھٹتا ہے ، ایمان میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے ، ایمان کا قول ، عمل کے بغیر پورا نہیں ہوتا اور قول و عمل دونوں نیت کی درستگی کے بغیر نا مکمل ہیں، اور قول ، عمل اور نیت تینوں رسول اللہ ﷺ کی سنت کی مطابقت کے بغیر نا قابلِ قبول ہیں، اور اہلِ قبلہ میں سے کوئی شخص کسی گناہ کے ارتکاب سے کافر نہیں ہو جاتا ”

شرح

(یہاں چند مسائل کا ذکر ہے )

اہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک ایمان کی تعریف​

(1) اہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک، ایمان دل کی تصدیق ، زبان کے اقرار اور اعضاء کے عمل سے بنتا ہے ، ان کے نزدیک یہ تینوں امور مسمئ ایمان میں داخل ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

(اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُه زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَۚ الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِيْمٌۚ) (الانفال: 2تا4)

ترجمہ: “بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سُنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کر دیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ جو کہ نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ سچے ایمان والے یہی لوگ ہیں ان کیلئے بڑے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور مغفرت اور عزت کی روزی ہے”​

ان آیات میں قلوب و اعضاء کے تمام اعمال ایمان میں داخل کیئے گئے ہیں۔

صحیح مسلم(58) میں ابو ھریرۃ ؓ سے مروی ہے ، رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: “الایمان بضع وسبعون أو بضع وستون شعبۃ ، فأفضلھا قول لاالٰہ الا اللہ، وأد ناھا اماطۃ الاذی عن الطریق والحیاء شعبۃ من الایمان

یعنی :” ایمان کے ستر سے کچھ زیادہ یا ساٹھ سے کچھ زیادہ شعبے ہیں، سب سے افضل ” لاالہٰ الااللہ” کہنا ہے ، اور سب سے ادنیٰ راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا ہے ، اور حیاء بھی ایمان کا شعبہ ہے ”

اس حدیث نے بڑی صراحت سے ثابت کیا ہے کہ دل ، زبان اور اعضاء سے ادا ہونے والا ہر عمل ایمان کہلاتا ہے ۔ البتہ قرآنِ حکیم کی بہت سی آیات میں جو عملِ صالح کا ایمان پر عطف ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان:

(اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ) (الکھف: 107)

ترجمہ:” بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کی مہمان نوازی جنت الفردوس میں ہو گی”​

نیز فرمایا:

(اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ) (البینۃ: 7)

ترجمہ: “بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے یہ لوگ بہترین خلائق ہیں”​

نیز فرمایا:

(إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَٰنُ وُدًّا) (مریم:96 )

ترجمہ:” جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی اچھے کئے یقیناً ان کیلئے جنت الفردوس کے باغات کی مہمانی ہے”​

ان تمام آیات میں عطف کی دلالت یہ نہیں ہے کہ اعمال، مسمئ ایمان میں داخل نہیں بلکہ یہ عطف، از قبیل عطف الخاص علی العام ہے ،(نہ کہ برائے مغایرت) اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں میں ایمان کے تعلق سے پایا جانے والا تفاوت، اعمال کے تفاوت کی بناء پر ہے ، نیز اقوال کے بھی، کیونکہ قول بھی زبان کا عمل ہے ، بلکہ بعض اوقات تو یہ تفاوت ، عملِ قلب کی بناء پر بھی قائم ہو جاتا ہے ۔

حافظ ابنِ حجر نے فتح الباری(1/46) میں امام نووی کے حوالے سے نقل کیا ہے :

“انتہائی ظاہر اور مختارقول کے مطابق تصدیق ، جو دل کا فعل ہے ، میں بھی کثرتِ نظر اور وضوحِ ادلہ کی وجہ سے کمی بیشی واقع ہو جاتی ہے ، اسی لئے ابوبکر صدیق ؓ کا ایمان ، دوسروں کے ایمان سے زیادہ قوی تھا، کیونکہ ان کے ایمان میں کسی شبہ کا کوئی شائبہ یا امکان نہیں تھا، ہماری اس بات کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ ہر شخص بذاتِ خود یہ بات جانتا ہے کہ اس کے دل کی کیفیت میں تبدیلی ، تفاضل یا کمی بیشی آتی رہتی ہے ، حتی کہ بعض اوقات دل زیادہ دولتِ یقین و اخلاص و توکل سے معمور ہوتا ہے اور بعض حالات میں یہ کیفیت برقرار نہیں رہتی ، اسی طرح تصدیق ومعرفت میں بھی دلائل کی قوت وکثرت کی بناء پر کمی بیشی واقع ہوتی رہتی ہے ” (انتہیٰ)

(2) ایمان کی تعریف سے عمل کو خارج کرنے والے دو گروہ ہیں، ایک جنہیں” مرجئۃ الغلاۃ” کہا جاتا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ ہر وہ شخص جو ایمان قبول کر لے ، کامل الایمان ہوتا ہے ، ایمان کی موجودگی میں کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا ، جیسا کہ کفر کی موجودگی میں کوئی نیکی نفع نہیں دیتی ۔ یہ قول بہت بڑا باطل ، بلکہ کفر ہے ۔

دوسرے جنہیں ” مرجئۃ الفقھاء” کہا جاتا ہے ، یہ اہلِ کوفہ ہیں جو بیشتر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے پیرو کار ہیں ، یہ بھی مسمئ ایمان میں اعمال کے عدمِ دخول کے قائل ہیں، البتہ” مرجئۃ الغلاۃ” کے اس قول کے مخالف ہیں کہ ایمان کی موجودگی میں گناہ نقصان نہیں دیتا۔

بلکہ وہ گناہ پر مواخذہ اور سزا ملنے کے قائل ہیں۔

مرجئۃ الفقھاء کا قول بھی صحیح نہیں ، کیونکہ اس سے بھی اہلِ کلام مرجئہ کی بدعات کا راستہ ہموار ہوتا ہے ، نیز یہ فکر معاشرہ میں فسق و فجور کے پنپنے اور رواج پانے کا ذریعہ بنتا ہے ، تفصیل کیلئے شرحِ طحاویہ (470) ملاحظہ ہو۔

(3) نیکی کے کاموں سے ایمان بڑھتا ہے جبکہ معصیتوں کے ارتکاب سے گھٹتا ہے ۔

زیادتی ایمان کی ادلہ ، درجِ ذیل آیات ہیں:

(اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُه زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَۚ) (الانفال:2)

ترجمہ: “بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کر دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں”​

نیز فرمایا:

(فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِيْمَانًا) (التوبۃ: 124)

ترجمہ: ” سو جو لوگ ایمان دار ہیں اس سورت نے ان کے ایمان کو زیادہ کیا”​

نیز فرمایا:

(هُوَ الَّذِيْۤ اَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ فِيْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِيْنَ لِيَزْدَادُوْۤا اِيْمَانًا) (الفتح: 4)

ترجمہ: “وہی ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون (اور اطمینان ) ڈال دیا تا کہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ساتھ اور بھی ایمان میں بڑھ جائیں”​

نیزفرمایا:

(اَلَّذِيْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِيْمَانًا)

(آل عمران: 173)

ترجمہ:” وہ لوگ کہ جب ان سے لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابلے میں لشکر جمع کر لئے ہیں، تم ان سے خوف کھاؤ تو اس بات نے انہیں ایمان میں اور بڑھا دیا”​

نیز فرمایا:

(وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُه وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُه وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِيْمَانًا وَّ تَسْلِيْمًا) (الاحزاب: 22)

ترجمہ:” اور ایمان داروں نے جب (کفار کے ) لشکروں کو دیکھا (بے ساختہ) کہہ اٹھے ! کہ انہی کا وعدہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے دیا تھا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، اور اس (چیز) نے ان کے ایمان میں اور شیوہ فرماں برداری میں اور اضافہ کر دیا”​

ایمان کے کم ہونے کی دلیل رسول اللہﷺ کی یہ حدیث ہے :

“من رأی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ ، فان لم یستطع فبلسانہ ، فان لم یستطع فبقلبہ ، وذلک اضعف الایمان”

ترجمہ: “جو شخص تم میں سے کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے ، اگر ہاتھ سے طاقت نہ ہوتو زبان سے اصلاح کرے ، اگر زبان کی بھی طاقت نہ ہو تو اپنے دل میں برا جانے ، اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے “(صحیح مسلم (78)

ایمان کے کم ہونے کی ایک اور دلیل، حدیثِ شفاعت بھی ہے ، جس میں ان لوگوں کے جہنم سے نکالنے کا ذکر ہے ، جن کے دلوں میں ایمان ایک رائی کے دانے کی صورت ہو گا۔(دیکھیئے صحیح بخاری(7439) اور صحیح مسلم(302) بروایت ابوسعید خدریؓ)

وہ حدیث بھی ایمان کی کمی کی دلیل ہے جس میں رسول اللہﷺ نے عورتوں کو ناقصاتِ عقل و دین قرار دیا ہے۔(صحیح بخاری (304) صحیح مسلم(132)

حافظ ابن حجر فتح الباری(1/47) میں فرماتے ہیں : امام لالکائی نے صحیح سند کے ساتھ امام بخاری رحمہ اللہ سے نقل فرمایا ہے ، وہ فرماتے ہیں” فمارأیت أحدا منھم یختلف فی أن الایمان قول وعمل ویزید وینقص”

یعنی: میں مختلف شہروں میں ایک ہزار سے زائد علماء محدثین سے مل چکا ہوں سب کا یہ عقیدہ تھا کہ ایمان قول و عمل کا نام ہے ، اور بڑھتا اور گھٹتا ہے ، اس میں کسی کو اختلاف نہیں تھا۔

امام ابنِ ابی حاتم الرازی اور امام لالکائی نے اپنی اسانید سے صحابہ اور تابعین کے ایک جمِ غفیر سے ایمان کے بڑھنے اور گھٹنے کے اقوال نقل فرمائی ہیں، ان میں ایسے صحابہ اور تابعین کے نام بھی ہیں جن پر اجماع دائر ہوتا ہے ۔ قاضی فضیل ابن عیاض اور امام وکیع نے ایمان کی کمی و بیشتی کو اہل السنۃ والجماعۃ کا قول قرار دیا ہے ۔

(4) “اسلام” اور “ایمان” ان الفاظ میں سے ہیں جو کسی جملے میں اکھٹے مذکور ہوں تو ان کے معنی میں فرق ہوتا ہے اور جب دونوں میں سے ہر کوئی الگ الگ ذکر کیا جائے تو دونوں ایک دوسرے کا معنی دیتے ہیں، چنانچہ حدیثِ جبریل میں اسلام اور ایمان کو جمع کیا گیا ہے ، رسول اللہ ﷺ سے جب ایمان کی بابت سوال کیا گی تو آپ ﷺ نے اس سوال کا وہ جواب دیا جو ایمان کے لغوی معنی کے مناسب و مطابق تھا، (یعنی: باطنی امور) آپﷺ نے فرمایا:

“أن تؤمن باللہ وملا ئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الآخر والقدر خیرہ وشرہ”

ترجمہ:”یہ کہ تو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے ، اور تقدیر پر خواہ اچھی ہو یا بُری”

اور جب آپﷺ سے اسلام کی بابت سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے اس سوال کا وہ جواب دیا جو اسلام کے لغوی معنی کے مناسب ومطابق تھا(یعنی: ظاہری امور) آپ ﷺ نے فرمایا:

“أن تشھد أن لاالٰہ الااللہ وأن محمدا رسول اللہ وتقیم الصلاۃ ، وتؤنی الزکوۃ ، وتصوم ومضان، وتحج البیت ان استطعت الیہ سبیلا”

ترجمہ: “یہ کہ تو گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ، اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور نما ز قائم کرے ، اور زکوٰۃ دے ، اور رمضان کے روزے رکھے ، اور بیت اللہ کا حج کرے اگر استطاعت ہو۔”

اگر لفظِ اسلام کہیں اکیلا مذکور ہو، لفظِ ایمان کے ساتھ مقترن نہ ہو تو اس کا معنی ظاہری و باطنی تمام امور کو شامل ہوسکتا ہے ، اسی طرح اگر لفظِ ایمان، لفظِ اسلام کے بغیر مستعمل ہو تو وہ بھی تمام ظاہری و باطنی امور کو شامل ہوسکتا ہے ۔

کلامِ عرب میں اس قسم کے بہت سے مراد فات ہیں، جیسے لفظِ فقیر اور مسکین ، اور جیسے لفظِ البر اور التقویٰ وغیرہ۔

(5) ایمان میں تین چیزوں کا اجتماع ضروری ہے : اعتقاد، قول اور عمل۔

اعتقاد اور قول ، عمل کے بغیر کافی نہیں، اور ہر قول و عمل کیلئے نیت کا ہونا ضروری ہے ، کیونکہ رسول اللہﷺ کی حدیث ہے : “انما الاعمال بالنیات وانما لکل امرء مانوی”

یعنی:”تمام اعمال کا دار و مدارنیت پر ہے ، اور انسان کو اس کے عمل سے وہی ملے گا جو اس نے نیت کی” (صحیح بخاری(1) اور صحیح مسلم(1907)

اگر قول، عمل اور نیت تینوں چیزیں اکھٹی ہو جائیں تو یہ اس وقت تک فائدہ نہیں دے سکتیں جب تک رسول اللہﷺ کی سنت کے مطابق نہ ہوں، کیونکہ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے :

“من أحدث فی أمرنا ھذا مالیس منہ فھورد”

ترجمہ:”جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی چیز جاری کی وہ مردود ہے” (بخاری و مسلم)

صحیح مسلمان کی ایک حدیث میں بھی یہ الفاظ بھی وارد ہیں:

“من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فھورد” یعنی: “جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا امر یا تصدیق نہ ہو تو وہ مردود ہے ”

(6) مؤلف نے فرمایا ہے :”ولا یکفر احد بذنب من اہل القبلۃ” یعنی:” اہلِ قبلہ میں سے کوئی شخص کسی گناہ کے ارتکاب سے کافر نہیں ہو جاتا ۔”

البتہ اگر کوئی شخص دین کے کسی ایسے عمل کا ، جس کا وجوب بداہۃ وظاہر أ ثابت ہو، انکار کر دے ، مثلاً: نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج ، تو وہ کافر ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص دین کے کسی ایسے مسئلے کی تحریم کا انکار کر دے ، جس کی تحریم ظاہر أوبداہۃ ثابت ہو، مثلاً: شراب نوشی ، اور زنا وغیرہ تو وہ بھی کافر ہو جائے گا۔

جو شخص کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب کر لے ، بشرطیکہ وہ اس کے ارتکاب کو جائز اور حلال نہ مانتا ہو، تو اہل السنۃ کے نزدیک وہ مؤمن ہے ، البتہ اس کا ایمان ناقص ہے ، اگر توبہ کئے بغیر مرگیا تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہو گا، چاہے عذاب دے دے ، اور چاہے معاف فرما دے ۔ اگر عذاب دے گا تو اسے جہنم میں ہمیشہ نہیں رکھے گا۔

اہل السنۃ کے اس قول کے فرقہ معتزلہ اور خوارج نے مخالفت کی ہے ، ان کے نزدیک گناہِ کبیرہ کا مرتکب ، دنیا میں ایمان سے خارج ہو جاتا ہے ، اور آخرت میں جہنم میں ہمیشہ رہے گا۔

 

 

برزخی حیات/ شہداء کی برزخی زندگی اور اس کی نعمتوں کا بیان

 

                برزخی حیات​

 

[23]: قولہ: “وأن الشھداء أحیاء عندربھم یرزقون، وأرواح اہل السعادۃ باقیۃ ناعمۃ الی یوم یبعثون ، وأرواح اہل الشقاوۃ معذبۃ الی یوم الدین”

ترجمہ:”شہداء زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس رزق دیئے جاتے ہیں، نیک لوگوں کی روحیں قیامت قائم ہونے تک نعمتوں سے متمتع ہوتی رہیں گی ، جبکہ بُرے لوگوں کی روحیں قیامت تک مبتلائے عذاب رہیں گی۔”

شرح

شہداء کی برزخی زندگی اور اس کی نعمتوں کا بیان​

اللہ عزوجل کا فرمان ہے :

(وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْيَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَۙ) (آل عمران:169)

ترجمہ:”جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہیں ان کو ہر گز مردہ نہ سمجھیں، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس روزیاں دیئے جاتے ہیں”​

نیز فرمایا:

(وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْيَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ) (البقرۃ:154)

ترجمہ:” اور اللہ تعالیٰ کی راہ کے شہیدوں کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں، لیکن تم نہیں سمجھتے “​

یہ حقیقی برزخی حیات کہلاتی ہے ، جس کی کیفیت اللہ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ رسول اللہﷺ کی احادیث میں یہ بیان ہے کہ شہداء کی روحیں سرسبز پرندوں کے اجواف میں ہوتی ہیں، جبکہ دیگر اہلِ ایمان کی روحیں ایک پرندے کی صورت میں ہوتی ہیں۔(جنت کے اندر)

 

قبر میں مؤمنوں کو نعمتیں حاصل ہوتی ہیں اور کافروں کو عذاب​

 

مؤمن کی قبر میں جنت کا بستر بچھایا جاتا ہے ، ایک دروازہ جنت کی طرف کھول دیا جاتا ہے جہاں سے مسلسل جنت کی ہوائیں اور

خوشبو پہنچتی رہتی ہیں، اور اس کی قبر ک تا حدِ نگاہ کشادہ کر دیا جاتا ہے ۔

جبکہ کافر کی قبر میں جہنم کا بستر بچھایا دیا جاتا ہے ، اور ایک دروازہ جہنم کی طرف کھول دیا جاتا ہے ، جہاں سے مسلسل جہنم کی گرم ہوائیں پہنچتی رہتی ہیں، قبر اس قدر تنگ کر دی جاتی ہے کہ پسلیاں ایک د وسرے میں داخل ہو جاتی ہیں۔

یہ تمام احادیث مع تخریج گزر چکی ہیں۔

 

 

قبر کا فتنہ اور امتحان​

 

[24]: قولہ:”وأن المؤمنین یفتنون فی قبورھم ویسألون،(يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْاٰخِرَةِ) (ابراھیم:27)”

ترجمہ: مؤمنین کو ان کی قبروں میں آزمائش اور امتحان کے مرحلے سے گزارا جائے گا۔” اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو قولِ ثابت کے ساتھ دنیا کی زندگی اور آخرت میں ثابت قدمی عطا فرماتا ہے ”

شرح

تمام لوگ اپنی قبروں میں آزمائش اور امتحان (منکر نکیر کے سوالات) کے مرحلے سے دو چار ہوں گے ، چنانچہ اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو قولِ ثابت کے ساتھ دنیوی زندگی اور آخرت میں ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔

قبر کے فتنہ اور سوال کے حوالے سے بہت سی احادیث وارد ہیں، امام بخاری اپنی صحیح (86) میں فاطمہ ، بنت منذر سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے اسماء سے اور اسماء نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے ، سورج گرہن کے واقعہ میں رسول اللہﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے :

ترجمہ: “جو چیزیں میں آج تک نہیں دکھایا گیا تھا، آج میں نے اپنے اس مقام میں دیکھ لیں، حتیٰ کہ جنت اور جہنم بھی، اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کر کے بتایا کہ تم اپنی قبروں کے اندر فتنے میں ڈالے جاتے ہو، اور یہ فتنہ ، دجال کے فتنے کے مثل یا قریب

ہے ،(فاطمہ بنت منذر کا کہنا ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہاسماء نے کون سا لفظ ذکر کیا)

پوچھا جائے گا: اس آدمی کے بارہ میں تم کیا جاتے ہو؟

مؤمن یا موقن(وہ شخص جسے یقین کی نعمت میسر ہو، فاطمہ کا کہنا ہے کہ مجھے یاد نہیں کہ اسماء نے ان میں سے کون سا لفظ استعمال کیا) کہے گا: وہ محمدﷺ ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، ہمارے پاس بینات اور ہدایت لے کر آئے ، ہم نے آپﷺ کی دعوت قبول کر لی اور آپﷺ کی اتباع اختیار کر لی، وہ محمدﷺ ہیں۔(یہ لفظ تین بار کہے گا)

اس سے کہا جائے گا : تم میٹھی نیند سو جاؤ، ہمیں پتا چل گیا تھا کہ تم خوب یقین کی نعمت سے مالامال ہو۔

منافق یا مرتاب(یعنی وہ شخص جو شک و شبہ میں مبتلا ہو،فاطمہ کہتی ہیں مجھے یاد نہیں کہ اسماء نے کون سا لفظ کہا تھا) سے جب یہی سوال ہو گا تو وہ کہے گا: میں نہیں جانتا ، میں تو لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا اور وہی کہنا شروع کر دیا۔

امام بخاری نے اپنی صحیح(4699) میں براء بن عازب ؓ سے روایت کیا ہے ، رسول اللہﷺ نے فرمایا: “المسلم اذا سئل فی القبر یشھد أن لاالہٰ الااللہ وأن محمدا رسول اللہ، فذلک قولہ: ،(يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْاٰخِرَةِ) ”

ترجمہ:” مسلمان جب قبر میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ” لاالہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ” کی گواہی دیتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی گواہی مراد ہے ” اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو قولِ ثابت کے ساتھ دنیا کی زندگی اور آخرت میں ثابت قدمی عطا فرماتا ہے ” (یعنی قولِ ثابت سے مراد کلمہ” لاالہٰ الا محمد رسول اللہ” کی گواہی ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثابت قدمی کے ملنے سے مراد قبر میں اس کلمہ کو پڑھنے کی توفیق مرحمت فرمانا ہے ، جو کامیابی کی علامت ہے ، قبر میں اور قیامت کے دن )

مسند احمد میں، بسندِ حسن، براء بن عازب ؓ سے ایک طویل حدیث مروی ہے ، جس میں رسول اللہﷺ کے یہ الفاظ بھی مذکور ہیں:”قبر میں مؤمن کے پاس دو فرشتے آئیں گے ، اسے بٹھا لیں گے اور پوچھیں گے : تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہے گا : میرا رب اللہ ہے ۔ وہ

پوچھیں گے : تیرا دین کیا ہے ؟ وہ جواب دے گا: میرا دین اسلام ہے ۔ وہ پوچھیں گے : جو شخص تم میں مبعوث ہوا وہ کیا ہے ؟ کہے گا: وہ رسول اللہﷺ ہیں۔

جب کہ کافر کے پاس وہی دونوں فرشتے آئیں گے ، اسے بٹھا لیں گے ، اور پوچھیں گے : تیرا رب کون ہے ؟ جواب دے گا: ہائے افسوس مجھے معلوم نہیں ۔ وہ پوچھیں گے : تیرا دین کیا ہے ؟ وہ جواب دے گا: ہائے افسوس مجھے معلوم نہیں ۔ وہ پوچھیں گے : جو شخص تم میں مبعوث ہوا کون ہے ؟

جواب دے گا: ہائے افسوس مجھے معلوم نہیں۔”

مصنف عبد الرزاق (6744) میں ابن جریج کے طریق سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: مجھے ابو الزبیر نے یہ حدیث سنائی، انہوں نے جابر بن عبد اللہ الانصاری سے سنی ، فرماتے ہیں:

“بے شک یہ امت اپنی قبروں میں آزمائی جاتی ہے ، ایک مؤمن جب اپنی قبر میں داخل ہو جاتا ہے اور اس کے دوست و احباب اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، تو ایک فرشتہ شید غیظ و غضب کی حالت میں آ کر ، ڈانٹ ڈپٹ کے انداز میں پوچھتا ہے : اس شخص کے بارہ میں تم کیا کہتے ہو؟ مؤمن جواب دیتا ہے : وہ اللہ کے رسول اور اس کے بندے ہیں۔ فرشتہ کہتا ہے : ذرا اپنے اس تھکانے کو دیکھو جو تمہارے لئے پہلے جہنم میں بنایا گی تھا ، جس سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں نجات دے دی ہے ، اور اس کے بدلے میں جنت کا ٹھکانہ عطا فرما دیا ہے ۔

مؤمن ان دونوں ٹھکانوں کو دیکھے گا، پھر خوشی سے کہے گا: میں اپنے اہل کو خوشخبری دے آؤں؟

کہا جائے گا: یہیں پر سکوں رہو، اب یہ تمہارا ہمیشہ کا مستقل ٹھکانہ ہے ۔

منافق کو جب اس کے ساتھی دفن کر کے چلے جاتے ہیں، تو اس سے فرشتہ پوچھتا ہے : تیرا اس شخص کے بارہ میں کیا خیال ہے ؟ وہ کہتا ہے : مجھے معلوم نہیں، میں تو وہی کچھ کہتا تھا جو لوگ کہا کرتے تھے ۔ فرشتہ کہے گا: تو نے کچھ نہ جانا، اب ذرا اپنا وہ ٹھکانہ دیکھ لے جو پہلے تیرے لئے جنت میں تیار کیا گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے جہنم کا ٹھکانہ تیار کر دیا ہے ۔”

اس حدیث کی سندصحیح ہے اور یہ مرفوع کے حکم میں ہے (اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابی اس قسم کی خبر اپنی رائے سے نہیں دے سکتا لہذا وہ حدیث جو صحابی پر موقوف ہو لیکن مضمونِ حدیث ایسا ہو جس میں ذاتی رائے کی گنجائش نہ ہو تو اسے علماء نے مرفوع کا حکم دیا ہے ۔ملاحظہ ہو الفیۃ الحدیث للامام العراقی وغیرہ)

امام مسلم نے اپنی صحیح(588) میں ابوھریرۃ ؓ کی روایت سے رسول اللہﷺ کا یہ فرمان نقل فرمایا ہے : “اذا تشھد أحد کم فلیستعذ باللہ من أربع ، یقول: اللھم انی اعوذبک من عذاب جنھم، ومن عذاب القبر، ومن فتنۃ المحیا والممات ، ومن شرفتنۃ المسیح الدجال”

ترجمہ:” جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں تشہد پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ کی چار چیزوں سے پناہ طلب کرے ، یوں کہے : اے اللہ میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں ، اور قبر کے عذاب سے بھی ، اور زندگی اور موت کے فتنہ سے بھی، اور مسیحِ دجال کے فتنہ کے شر سے بھی(تیری پناہ میں آتا ہوں)”

صحیح بخاری(1377) میں ہے :

عن ابی ھریرۃؓ قال: “کان رسول اللہﷺ یدعو: اللھم انی اعوذبک من عذاب القبر، ومن عذاب النار ، ومن فتنۃ المھیا والممات ، ومن فتنۃ المسیح الدجال”

ترجمہ: ابوھریرۃ ؓ سے مروی ہے ، فرماتے ہیں:”رسول اللہﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے : اے اللہ میں عذابِ قبر سے ، عذاب جہنم سے ، زندگی اور موت کے فتنہ سے اور مسیحِ دجال کے فتنہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں”

یہ تین امور ، جن کی بابت قبر میں سوال کیا جائے گا،(یعنی :من ربک ما دینک من نبیک) عباس بن عبدلمطلب ؓ کی ایک حدیث میں اکھٹے ذکر ہوئے ہیں، چنانچہ صحیح مسلم (56) میں ہے ، عباس بن عبدالمطلب نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

“ذاق طعم الأیمان من رضی باللہ ربا، وبالا سلم دینا، وبحمدرسولا”

یعنی:”اس شخص نے ایمان کی حلاوت چکھ لی جو اللہ تعالیٰ کو رب مان کر اور اسلام کو دین مان کر اور محمدﷺ کو رسول مان کر راضی ہو گیا”

انہی تین امور کا صبح و شام کے اذکار میں بھی ذکر ہے ، اس کے علاوہ اذان کی دعا میں بھی یہ تینوں امور مذکور ہیں۔(اس سے شریعت کی یہ حکمت سمجھ میں آتی ہے ، کہ چونکہ یہ تینوں سوال قبر میں پوچھے جائیں گے ، اور قبر قیامت کی پہلی گھاٹی ہے ، لہذا بندہ ہر روز بار بار ان تینوں امور کو دہرا تار ہے ، چنانچہ صبح و شام کے اذکار میں، اور پنج وقتہ نمازوں کی اذانوں کے جواب میں یہ تینوں چیزیں یعنی: اللہ پر ایمان ، رسول پر ایمان اور دین اسلام کا اقرار ، شامل رکھی گئیں، ہم صحیح فہم کے ساتھ یہ دعائیں پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ امتحانِ قبر میں استقامت اور ثابت قدمی عطا فرمائے )

شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے ایک انتہائی نفیس رسالہ بنام” الاصول الثلاثۃ وادلتھا” تالیف فرمایا ہے ، اس رسالہ کی بنیاد یہی تین امور ہیں۔ چنانچہ اصولِ ثلاثۃ سے ان کی مراد یہی تین چیزیں ہیں: معرفتِ رب ، معرفتِ دین، اور معرفتِ نبیﷺ ۔ یہ رسالہ ہر شخص ار ہر طالبِ علم کی ضرورت ہے ، کوئی اس سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔

 

 

 

فرشتوں پر ایمان کی حقیقت​

 

[25]: “وأن علی العباد حفظۃ یکتبون أعمالھم، ولا یسقط شئ من ذلک عن علم ربھم، وأن ملک الموت یقبض الأرواح باذن ربہ۔”

ترجمہ:” بندوں پر نگران فرشتے مقرر ہںن، جوان کے اعمال لکھتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ کے علم سے بھی کوئی عمل ساقط نہیں ہوتا(خواہ فرشتے لکھیں یا نہ ) اور ملک الموت فرشتہ اللہ کے اذن سے روحیں قبض کرتا ہے ۔”

شرح

ایمان کے چھ اصولوں میں سے ایک اصل فرشتوں پر ایمان لانا ہے ، یہ چھ اصول حدیثِ جبریل میں مذکور ہیں:

“أن تؤمن باللہ وملا ئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الآخر والقدر خیرہ شرہ”

ترجمہ:”یہ کہ تو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے ، اور تقدیر پر خواہ اچھی ہو یا بُری”

فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں اس کی دلیل، صحیح مسلم(2996) میں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے مروی حدیث ہے ، رسول اللہﷺ نے فرمایا:”خلقت الملائکۃ من نور، وخلق الجان من مارج من نار، وخلق آدم مما وصف لکم”

یعنی:” فرشتوں کو نور سے ، اور جنوں کو آگ کے بہت بھڑکنے والے شعلے سے پیدا کیا گیا ہے ، جبکہ آدم کو جس چیز سے پیدا کیا گیا ہے وہ تمہیں بتا دی گئی ہے (یعنی مٹی)۔”

فرشتوں کے پر بھی ہوتے ہیں،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(الحمدللہ فاطر السموات والارض جاعل الملا ئکۃ رسلا اولی اجنحۃ مئنی وثلث وربع یزید فی الخلق مایشاء ان اللہ علی کل شیء قدیر)

ترجمہ:”اس اللہ کیلئے تمام تعریفیں سزا وار ہیں جو ( ابتداء) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا اور دو دو، تین تین، چار چار ، پروں والے فرشتوں کو اپنا پیغمبر(قاصد) بنانے والا ہے ، مخلوق میں جو چاہے زیادتی کرتا ہے اللہ تعالیٰ یقیناً ہر چیز پر قادر ہے ”

جبریل امین کے چھ سو پر ہیں۔(صحیح بخاری(3232) اور صحیح مسلم(280)

فرشتے ، انسانوں کے پاس اپنی اس ہئیت یا شکل میں نہیں آتے جن پر انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے ، بلکہ دیگر شکلوں میں آتے ہیں، جیسا کہ جبریل ؑ کا رسول اللہﷺ کے پاس ایک غیر معروف آدمی کی شکل میں آنا ثابت ہے ۔ ملاحظہ ہو حدیثِ جبریل، جو امیر المؤمنین عمر بن خطاب ؓ کی روایت سے مروی ہے ، اور یہ صحیح مسلم میں کتاب الایمان کی پہلی حدیث ہے ۔

اسی طرح جبریلؑ ، وحیہ بن خلیفہ الکلبی کی شکل میں بھی رسول اللہﷺ کے پاس آیا کرتے تھے ، مریم علیھا السلام کے پاس بھی بصورت بشر آئے ۔ ملائکہ ابراھیم ؑ کے پاس بھی انسانی شکل میں آئے تھے ، جیسا کہ اللہ عزوجل کے اس فرمان میں ہے :

(وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَۘ) (الحجر:51)

ترجمہ:”انہیں ابراھیم کے مہمانوں کا (بھی) حال سنادو”​

نیز فرمایا:

(هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ الْمُكْرَمِيْنَۘ) (الذاریات: 24)

ترجمہ:”کیا تجھے ابراھیم کے معزز مہمانوں کی خبر بھی پہنچی ہے ؟”​

فرشتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ، جسے اللہ عزوجل کے سوا کوئی نہیں جانتا، جس کا ثبوت یہ ہے کہ “البیت المعمور” جو ساتویں آسمان میں فرشتوں کی مسجد ہے میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں، اور جو فرشتے ایک بار داخل ہو جاتا ہے دوبارہ نہیں ٹوٹ پاتا۔(صحیح بخاری(3207) اور صحیح مسلم(259)

فرشتوں کی کثرتِ تعداد کی ایک اور دلیل، صحیح مسلم (2842) کی یہ حدیث ہے :

عن عبداللہ ابن مسعود ؓ قال: قال رسول اللہﷺ:”یؤتی یجھنم یومئذ لھا سبعون ألف زمام مع کل زمام سبعون ألف ملک یجرونھا”

عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے ، رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:”قیامت کے دن جہنم کو اس طرح لایا جائے گا کہ وہ ستر ہزار لگاموں میں جکڑی ہو گی، ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتوں کی ڈیوٹی ہو گی، جواسے کھینچ کر لائیں گے ۔” (صرف ان فرشتوں کی تعداد چار ارب نوے کروڑ بنتی ہے )

فرشتوں میں سے کچھ تو وحی پہنچانے پرمأ مور ہیں، کچھ بارش برسانے پر، کچھ موت پر ، کچھ عورتوں کے ارحام پر، کچھ بندوں کی حفاظت پر، کچھ جنت پر، کچھ جہنم پر، اور کچھ ان کے علاوہ دیگر ڈیوٹیوں پر مقرر ہیں۔ تمام فرشتے اللہ تعالیٰ کے امر پر سرجھکانے والے اور فوری اطاعت کرنے والے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے کسی امر کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کچھ انجام دیتے ہیں جن کا انہیں پروردگار کی طرف سے حکم ملتا ہے ، قرآن و حدیث میں فرشتوں کی بابت جو خبریں وارد ہوئی ہیں، ان پر ایمان لانا اور مکمل تصدیق کرنا ہر مسلمان کا فریضہ ہے ۔

(2)ملائکہ کی ایک بڑی تعداد کو ، انسانوں کی حفاظت اور انک ے اعمال کی کتابت کی ڈیوٹی سونپی گئی ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(وَ اِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَۙ كِرَامًا كَاتِبِيْنَۙ اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍۚ) (الانفطار:10 تا 12)

ترجمہ:”یقیناً تم پر نگہبان عزت والے ، لکھنے والے مقرر ہیں۔ جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتے ہیں”

(وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِه نَفْسُه وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ اِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ۠ عَنِ الْيَمِيْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَيْهِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌ) (ق: 16تا 18)

ترجمہ:”ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں ان سے ہم واقف ہیں اور ہم اس کی رگِ جان سے بھی زیاہ اس سے قریب ہیں، جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے ، انسان منہ سے کوئی لفظ نکال نہیں پاتا مگر کہ اس کے پاس نگہبان تیار ہے “​

وہ فرستے جنہیں بندوں کے اعمال کی کتابت کی ڈیوٹی سونپی گئی ہے ، وہ بندوں کے تمام اعمال و اقوال لکھ لیتے ہیں، حتیٰ کہ بندے اگر کسی نیکی یا بدی کا ارادہ کریں تو وہ بھی نوٹ کر لیتے ہیں، چنانچہ صحیح بخاری(7501) اور صحیح مسلم(203) میں ہے :

عن ابی ھریرۃ ؓ أن رسول اللہﷺ قال:”یقول اللہ: اذا اراد عبدی ان یعمل سیئۃ فلا تکتبو ھا علیہحتی یعملھا ، فان عملھا فا کتبو ھا بمئلھا ، وان ترکھا من أجلی فاکتبو ھالہ حسنۃ،وان اراد أن یعمل حسنۃ فلم یعملھا فاکتبو ھا لھا حسنۃ ، فان عملھا فاکتبو ھا لہ بعشر أمثالھا الی سبعمأۃ”

ترجمہ:” ابوھریرۃ ؓ سے مروی ہے ، رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :”جب میرا بندہ کسی برائی کا ارادہ کرتے تو اسے اس وقت تک نہ لکھو جب تک کر نہ لے اور جب کر لے تو ایک ہی گناہ لکھو، اور اگر اسے میرے خوف سے چھوڑ دے تو اس کیلئے ایک نیکی لکھ دو۔ اور جب بندہ کسی نیکی کا ارادہ کر لے ، تو اگر وہ نیکی نہ کر سکا تو بھی اس کیلئے ایک نیکی لکھ دو، اور اگر اس نے وہ نیکی کر لی، تو اسے دس گنا سے لے کر سات سوگنا تک بڑھا کر لکھ دو۔”

اور جہاں تک فرشتوں کو انسانوں کی حفاظت کی ڈیوٹی سونپنے کا تعلق ہے ، تو یہ ان امور سے حفاظت ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا اور حکم فرماتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے ۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(لَه مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِه يَحْفَظُوْنَه مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ) (الرعد:11)

ترجمہ:” اس کے پہرے دار انسان کے آگے پیچھے مقرر ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں”​

واضح ہو کہ بندوں کے اعمال و اقوال، فرشتے لکھیں یا نہ لکھیں، اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ، (یعنی اللہ تعالیٰ اعمال و اقوال کے علم کیلئے ملائکہ کی کتابت کا محتاج نہیں ہے )

اللہ رب العزت نے کتابت کا حکم اس لئے فرما رکھا ہے کہ فرشتے بندوں کے اعمال و اقوال کا شمار و احصاء کر کے ، قیامت کے دن بندوں کا آگاہ کر دیں، یوں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا اظہار و اعلان ہو گا، اور اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کے نیک اعمال سے باخبر کر دے گا(اور انہیں ان کا عظیم صلہ عطا فرما دے

گا) اور بُرے اعمال کی اطلاع دے کر انہیں ان کی سزا دے گا، جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایا ہے :

(فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَه وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَه) (الزالزال: 7-8)

ترجمہ:” پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ بابر بُرائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔”​

گناہوں میں سے شرک کی سزا تو لازمی ملے گی، دیگر گناہوں کی سزا، اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے تحت ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِه وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ) (النساء:48)

ترجمہ:”اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتا اور شرک کے علاوہ جس گناہ کو چاہے معاف فرما دے “​

(3) ملائکہ پر ایمان لانے میں، ان ملائکہ پر ایمان لانا بھی شامل ہے ، جنہیں موت (قبضِ ارواح) کی ڈیوٹی سونپی گئی ہے ۔

قرآن ِ حکیم میں” اَلتَّوَفَی” یعنی موت دینے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف بھی ہے اور ملائکہ کی طرف بھی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت اس آیتِ کریمہ میں مذکور ہے :

(اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا١ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَ يُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى) (الزمر:42)

ترجمہ:” اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آئی انہیٰں ان کی نیند کے وقت قبض کر لیتا ہے ، پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں روک لیتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کیلئے چھوڑ دیتا ہے “​

ملائکہ کی طرف موت دینے کی نسبت اس آیتِ کریمہ میں مذکور ہے :

(حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ) (الانعام: 61)

ترجمہ:” یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آ پہنچتی ہے تو اس کی روح ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے ) قبض کر لیتے ہیں، اور وہ ذرا کوتاہی نہیں کرتے “​

جب کہ ایک مقام پر ملک الموت کی طرف بھی موت دینے کی نسبت مذکور ہے :

(قُلْ يَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِيْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ) (السجدہ:11)

ترجمہ:” کہہ دیجئے ! کہ تمہیں موت کا فرشتہ فوت کرے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے “​

واضح ہو کہ موت دینے سے متعلق ، ان تین مختلف نسبتوں میں کوئی منافات یا تعارض نہیں ہے ۔

اللہ تعالیٰ کی طرف موت دینے کی نسبت اس لئے ہے کہ وہ موت کا حکم ار فیصلہ فرمانے والا ہے ، وہی موت کا مقدِر و موجِد ہے ، اور ملک الموت کی طرف اس لئے نسبت ہے کہ وہ مباشرۃُ(یعنی اپنے ہاتھوں سے ) روح قبض کرتا ہے ، جبکہ ملائکہ کی طرف موت دینے کی نسبت اس لئے وارد ہوئی ہے کہ وہ ملک الموت سے ، جب وہ روح قبض کر لیتا ہے ، لے لیتے ہیں(اور اسے اس کے اصل ٹھکانے تک پہنچا دیتے ہیں)

ان تمام امور کابیان مسند احمد کی ایک حدیث(18534) میں وارد ہے ، جو براء بن عازب ؓ سے بسندِ حسن مروی ہے ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

“بندہ مؤمن پر جب دنیا سے قطعِ تعلق اور آخرت کے سفر پر روانگی کا وقت آتا ہے تو آسمان سے روشن چہرہ فرشتے نازل ہوتے ہیں، شدید روشنی کی وجہ سے ان کے چہرے سورج معلوم ہوتے ہیں ان کے ساتھ جنت کے کفن اور جنت کی خوشبو ہوتی ہے ، وہ اس بندے سے نگاہ بھر کے فاصلے پر بیٹھ جاتے ہیں ، پھر ملک الموت ؑ آ جاتا ہے ، اور اس کے سرہانے بیٹھ کر کہتا ہے : اے نفس ِ طیبہ اپنے پروردگار کی مغفرت اور رضاء کی طرف نکل جا۔ اس کی روح اس طرح نکلتی ہے جیسے مشکیزے کے منہ سے پانی کا قطرہ بہتے ہوئے نکل جاتا ہے ۔ ملک الموت اس روح کو پکڑ لیتا ہے اور جونہی پکڑتا ہے وہ فرشتے فورا پہنچ جاتے ہیں اور پلک جھپکنے کے اندر ہی ملک الموت سے اس روح کو لے لیتے ہیں ، اور اسے جنت کا کفن پہنچا کر خوشبوؤں سے معطر کر دیتے ہیں،چنانچہ اس روح سے روئے زمین پر پائی جانے والی سب سے عمدہ خوشبو کے بھپکے نکلتے رہتے ہیں۔۔۔۔ (رسول اللہﷺ نے مزید فرمایا) کافر پر جب دنیا کو چھوڑ کر آخرت کے سفر پہ روانگی کا وقت آتا ہے تو آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے اپنے ہاتھوں میں ٹاٹ لئے اترتے ہیں،اور اس سے نگاہ بھر کی دوری پہ بیٹھ جاتے ہیں، پھر ملک الموت فرشتہ اترتا ہے اور س کے سرہانے بیٹھ کر کہتا ہے : اے نفسِ خبیثہ! تو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور غضب کی طرف نکل جا، پھر وہ اس کے جسم سے روح کو اس طرح نکالتا ہے جیسے بھیگی ہوئی اون سے لوہے کی سیخ کھینچ کر نکالی جاتی ہے ۔

جب ملک الموت اس کی روح نکال لیتا ہے ، وہ فرشتے پلک جھپکنے کے اندر اس روح کو لے لیتے ہیں اور اس ٹاٹ میں لپیٹ لیتے ہیں، اور اس میں روئے زمین پر موجود سب سے بدبو دار مردار کی بدبو کے بھپکے پھوٹتے ہیں۔

 

 

 

صحابہ کرام کا بیان​

 

[26]: “وأن خیر القرون القرن الذین رأوارسول اللہﷺ وآمنوا بہ، ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم ، وأفضل الصحابۃ الخلفاء الراشدون المھدیون، أبوبکر ثم عمر ثم عثمان ثم علی رضی اللہ عنھم أجمعین۔

وأن لایذکر أحد من صحابۃ الرسول ﷺ الا بأحسن ذکر، والا مساک عما شجر بینھم، وأنھم أحق الناس أن یلتمس لھم أحسن المخارج، ویظن بھم احسن المذاھب”

ترجمہ:” اور بے شک سب سے بہترین زمانہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے بحالتِ ایمان رسول اللہﷺ کی زیارت کا شرف حاصل کیا، پھر ان لوگوں کا جو صحابہ کے بعد آئے ، پھر ان کے بعد آنے والوں کا۔ صحابہ کرام میں سے سب سے افضل خلفاءِ راشدین ہیں جو ہدایت یافتہ ہیں، وہ ابوبکر صدیق پھر عمر پھر عثمان پھر علی رضی اللہ عنھم اجمعین ہیں۔

ضروری ہے کہ رسول اللہﷺ کے ہر صحابی کو اچھے ذکر سے یاد کیا جائے ، ان کے آپس کے مشاجرات و اختلافات کے متعلق خاموشی اختیار کی جائے ، وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ (ان کے مشاجرات میں) ان کیلئے بہتر مخرج تلاش کیا جائے ، اور ان کے بارہ میں سب سے اچھا گمان قائم کیا جائے ۔”

شرح

(یہاں بہت سے مسائل مذکور ہیں)

(1) سب سے پہلے صحابی کی تعریف، صحابی ہر وہ شخص ہے جو ایمان کے ساتھ ، رسول اللہﷺ کو ملا ہو اور اسلام ہی پر اس کا خاتمہ ہوا ہو۔ یہ تعریف حافظ ابنِ حجر نے اپنی کتاب” الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ” کے مقدمہ(ص:10) میں نقل فرمائی ہے ۔ فرماتے ہیں:” وأصح ما وقفت علیہ من ذلک أن الصحابی من لقی النبیﷺ مؤمنا بہ ومات علی الاسلام” یعنی: میرے علم کے مطابق صحابی کی سب سے صحیح تعریف یہ ہے کہ جو نبیﷺ پر ایمان کے ساتھ، نبیﷺ کو ملا ہو اور اسلام ہی پر فوت ہوا ہو۔

حافظ ابنِ حجر(ص:12) میں مزید فرماتے ہیں:” یہ تعریف محققین مثلاً: امام بخاری اور ان کے شیخ امام احمد بن حنبل اور ان کے اتباع ، کے نزدیک سب سے أصح اور پسندیدہ قرار پائی ہے ۔

حافظ ابنِ حجر، اس تعریف کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: تعریف میں ” نبیﷺ سے ملنے ” کی جو قید ہے اس میں ہر وہ صحابی داخل ہے جسے نبی ﷺ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ، خواہ صحبت طویل رہی یا مختصر ، خواہ آپﷺ سے حدیث روایت کی یا نہ ، اور خواہ آپﷺ کے ساتھ کوئی غزوہ کیا یا نہ۔ اسی طرح یہ تعریف اس صحابی کو بھی شامل ہے جس نے رسول اللہﷺ کو دیکھا ہو، خواہ مجالست کا شرف نہ ملا ہو۔ اسی طرح یہ تعریف اس صحابی کو بھی شامل ہے جس نے کسی عارضے کی وجہ سے نبیﷺ کو نہ دیکھا ہو، مثلاً: اندھا پن وغیرہ۔

“بحالتِ ایمان” دیکھنے قید سے وہ شخص نکل گیا جس نے آپﷺ کو بحالتِ کفر دیکھا، خواہ بعد میں اسلام قبول کر لیا ہو، بشرطیکہ دوبارہ آپ ﷺ سے نہ ملا ہو۔

“نبی ﷺ پر ایمان” کی قید سے وہ شخص خارج ہو گیا جو کسی اور پر ایمان رکھتا ہو، مثلاً: مؤمن اہلِ کتاب جو بعثت سے قبل آپﷺ سے ملے تھے ۔ البتہ وہ اہلِ کتاب جنہوں نے آپﷺ سے ملاقات کی اور اس بات پر ایمان و اقرار کا اظہار کیا کہ عنقریب آپﷺ کی بعثت ہونے والی ہے ، ان پر صحابیت کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں، اس بارہ میں علماء کی دونوں رائیں ملتی ہیں۔ اس قسم کے لوگوں میں راھب بحیرا، اور اس جیسے دیگر لوگ شامل ہیں۔

آپﷺ پر ایمان لانے کی قید میں ہر مکلّف داخل ہے ، خواہ وہ انسان ہو یا جن۔

” اسلام پر فوتے ہونے ” کی قید سے وہ لوگ زمرہ صحابیت سے خارج ہو گئے جنہوں نے بحالتِ ایمان آپﷺ سے ملاقات تو کی ، لیکن مرتد ہو کر مرے (والعیاذباللہ)

اس زمرہ میں بہت تھوڑے لوگوں کا نام آتا ہے ، ان میں سے ایک عبید اللہ بن حجش ہے ، جوامِ حبیبۃ کا شوہر تھا، یہ شخص اُمِّ حبیبۃ کے ساتھ ہی اسلام لایا تھا، بلکہ حبشہ کی طرف ہجرت بھی کی تھی، لیکن بعد میں نصرانی ہو گیا اور نصرانیت پر ہی مرگیا۔

دوسرا نام عبد اللہ بن خطل کا ہے ، جسے فتحِ مکہ کے موقعہ پر جبکہ وہ غلافِ کعبہ سے لٹکا ہوا تھا(نبی ﷺ کے حکم پر) قتل کر دیا گیا تھا۔

ایک اور نام ربیعہ بن امیہ بن خلف کا ہے ، میں اس کا تفصیلی ذکر اپنی کتاب” الاصابۃ” کی چوتھی قسم، ” حرف الراء” میں کروں گا۔

اس قید، یعنی” اسلام پر فوت ہوا ہو” ، کے تحت وہ شخص بھی زمرہ صحابیت میں داخل ہو گا جو نبی ﷺ پر ایمان لاکر مرتد ہو گیا، لیکن موت سے قبل دوبارہ اسلام قبول کر لیا، خواہ دوبارہ اسلام قبول کرنے بعد نبیﷺ سے ملا ہو یا نہ ۔ یہی بات صحیح اور معتمد ہے ۔

اس میں پہلی شِق یعنی دوبارہ اسلام قبول کرنے کے بعد نبی ﷺ سے ملا ہو، کی صورت میں اس کے صحابی ہونے میں کوئی اختلاف نہیں، لیکن دوسری شِق یعنی دوبارہ ملاقات نہ ہونے کی صورت میں بعض لوگوں نے اس کے صحابی ہونے کو تسلیم نہیں کیا، لیکن یہ احتمال مردود ہے ، کیونکہ تمام اہل الحدیث کا اشعت بن قیس کو صحابہ کی فہرست میں شامل کرنے پر اور اس کی احادیث کو اپنی صحاح و مسانید میں روایت کرنے پر اجماع ہے ، حالانکہ وہ اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو گیا تھا، پھر دوبارہ ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت میں اسلام قبول کیا تھا۔

ابنِ ابی زید (مؤلف) کا یہ فرمانا:” اور بے شک سب سے بہترین زمانہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے بحالتِ ایمان رسول اللہﷺ کی زیارت کا شرف حاصل کیا” اس قول کے بالکل مطابق اور موافق ہے جو حافظ ابن ِ حجر نے امام بخاری

، امام احمد بن حنبل اور ان کے اتباع کے حوالے سے نقل فرمایا ہے ۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ جو شخص نبیﷺ پر ایمان اور آپﷺ کی رؤیت ، دونوں چیزوں سے مشرف ہو گیا، اسے شرفِ صحابیت حاصل ہو گیا۔ یہ بات اِس دور کی پیداوار ،مبتدع شخص (مالکی) کے قول کے خلاف ہے ، جس کا ذکر حوضِ رسول اللہﷺ کی بحث میں گزرچکا ہے ۔ جس کذب اور بہتان پر مبنی یہ زعمِ باطل ہے کہ صلحِ حدیبیہ کے بعد اسلام لانے والے اور ہجرت کرنے والے ، رسول اللہﷺ کے صحابی نہیں ہیں، بلکہ ان کی صحبت کفار و منافقین کی صحبت کی مانند ہے ، میں اس ظالمانہ زعم کا بطلان اپنی کتاب” الانتصار اللصحابۃ الاخیار فی رد أباطیل حسن المالکی” میں بڑی تفصیل سے واضح کیا ہے ۔

 

 

 

فضائل ِ صحابہ کتاب و سنت سے ​

 

(2) رسول اللہﷺ کے صحابہ، اس امت کے سب سے بہترین انسان ہیں، اور یہ امت، سابقہ تمام امتوں سے افضل ہے ۔صحابہ کرام کے بعد، تابعین اور ان کے بعد، تبع تابعین کا درجہ اور مقام ہے ، قرآن و حدیث میں صحابہ کرام کی فضیلت و ذہانت کا جابجا تذکرہ موجود ہے ۔

قرآن ِ حکیم کی چند آیات ملاحظہ ہوں: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ)​(التوبۃ: 100)

ترجمہ:” اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلا ص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے ”

(مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَ الَّذِيْنَ مَعَه اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ)الی قولہ (مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِيْمًا) (الفتح:29)

ترجمہ:” محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع ، اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضا مندی کی جستجو میں ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے ، ان کی یہی مثال تورات میں ہے اور ان کی مثال انجیل میں ہے ، مثل اس کھیتی کے جس نے اپنا پٹھا نکالا پھر اسے مضبوط کیا اور وہ موٹا ہو گیا پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہو گیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے ، ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے “​

نیز فرمایا:

(وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِيْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَا يَسْتَوِيْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ اُولٰٓىِٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا) (الحدید: 10)

ترجمہ: ” تمہیں کیا ہو گیا ہے جو تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ؟ در اصل آسمانوں اور زمینوں کی میراث کا مالک(تنہا) اللہ ہی ہے ۔ تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے فی سبیل اللہ دیا ہے اور قتال کیا ہے وہ( دوسروں کے ) برابر نہیں ، بلکہ ان سے بہت بڑے درجے کے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیے “​

نیز فرمایا:

(لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ يَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَه اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ وَ الَّذِيْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِيْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَيْهِمْ وَ لَا يَجِدُوْنَ فِيْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ يُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَ مَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِه فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚوَ الَّذِيْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) (الحشر:8تا10)

ترجمہ:” (فئ کا مال) ان فقراء مہاجرین کیلئے ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے نکال دیئے گئے ہیں وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کے طلب گار ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی راست باز ہیں۔ اور (ان کیلئے ) جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی ہے اور اپنی طرف ہجرت کر کے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس سے وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیٰں رکھتے بلکہ کود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو کود کو کتنی ہی سخت حاجت ہو(بات یہ ہے ) کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچا لیا گیا وہی کامیاب (اور با مراد) ہے ۔ اور ان کے لئے بھی جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے اور دعا کرتے ہیں کہ ہمارے پروردگار ! ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے ، کہ جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں گناہ معاف فرما اور مؤمنوں کے واسطے ہمارے دلوں میں کینہ(بغض) نہ پیدا ہونے دے ۔ اے ہمارے رب! بے شک تو بڑا شفقت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے “​

اب چند احادیث جو صحابہ کرام کی فضیلت پر مشتمل ہیں پیش کی جاتی ہیں:

رسول اللہﷺ کا فرمان ہے :”خیر الناس قرنی ، ثم الذین یلونھم ، ثم الذین یلونھم” یعنی:” سب سے بہترین لوگ میرے زمانے کے لوگ ہیں، پھر وہ جو اِن کے بعد آئیں گے ، پھر وہ جو اُن کے بعد آئیں گے “(صحیح بخاری(3651) اور صحیح مسلم)

یہ حدیث عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے ہے ، اور الفاظ صحیح بخاری کے ہیں جبکہ بخاری ومسلم نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا ہے ، رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا :

“خیر اُمتی قرنی، ثم الذین یلونھم ، ثم الذین یلونھم ، قال عمران: فلاأدری أذکر بعد قرنہ قرنین أوثلاثۃ”

یعنی:” میری امت میں سب سے بہترین لوگ میرے دور کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے اور پھر وہ جو اُن کے بعد آئیں گے ۔ عمران فرماتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنے د ور کے بعد دوزمانے ذکر فرمائیں یا تین”

اس حدیث کے الفاظ بھی صحیح بخاری(3650) سے نقل کئے گئے ہیں۔

ایک اور حدیث میں رسول اللہﷺ کا فرمان ہے :

“یأتی علی الناس زمان، یغزو فئام من الناس ، فیقال لھم: فیکم من رأی رسول اللہ ﷺ فیقولون: نعم! فیفتح لھم، ثم یغزوفئام من الناس، فیقال لھم: فیکم من رأی من صحب رسول اللہﷺ فیقولون: نعم! فیفتح لھم، ثم یغزو فئام من الناس، فیقال لھم: ھل فیکم من رأی من صحب من صحب رسول اللہﷺ فیقولون: نعم ! فیفتح لھم”

ترجمہ:” (عنقریب) ایک دور آنے والا ہے ، لوگوں کی ایک جماعت غزوہ کرے گی، ان سے کہا جائے گا: کیا تمہارے بیچ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہﷺ کی زیارت کی ہو؟ وہ کہیں گے : جی ہاں ۔ تو انہیں فتح عطا فرما دی جائے گی۔ پھر لوگوں کی ایک جماعت جہاد کرے گی، ان سے پوچھا جائے گا: کیا تمہارے اندر ایسے لوگ ہیں، جنہوں نے رسول اللہﷺ کے صحابہ کو دیکھا ہو؟ وہ کہیں گے : جی ہاں۔ انہیں بھی فتح دے دی جائے گی۔ پھر لوگوں کی ایک جماعت جہاد کرے گی، ان سے پوچھا جائے گا: کیا تمہارے بیچ ایسے لوگ ہیں، جنہوں نے رسول اللہﷺ کے صحابہ کے ساتھیوں کو دیکھا ہو؟ وہ کہیں گے : جی ہاں۔ تو انہیں بھی فتحیاب کر دیا جائے گا۔”

(صحیح بخاری(3649) صحیح مسلم(2532) یہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں)

رسول اللہﷺ کا ایک اور فرمان ہے :”لاتسبوا اصحابی، فلو أن أحد کم أنفق مثل أحد ذھبا مابلغ مد أحد ھم ولا نصیفہ”‘

ترجمہ:” میرے صحابہ پر گالی گلوچ یا طعنہ زنی نہ کرو، تم میں سے کوئی شخص ، اگر احد پہاڑ کے برابر سونا خرج کر دے تو ان کے پاؤ بھر خرچ کی ہوئی کھجوروں کے ثواب کو بھی نہیں پہنچ سکتا”

(صحیح بخاری(3673) صحیح مسلم(2541) بروایت : ابوسعید الخدریؓ)

ایک اور حدیث میں رسول اللہﷺ کا فرمان ہے :

“النجوم أمنۃ للسماء، فاذا ذھبت أتی السماء ماتوعد، وأنا أمنۃ لاصحابی فاذا ذھبت أتی اصحابی مایوعدون، واصحابی أمنۃ لأمتی، فاذا ذھب اصحابی أتی أمتی مایوعدون”

ترجمہ:” ستارے آسمان کی امان ہیں، جب ستارے چلے جائیں گے تو آسمان پر وہ چیز آ جائے گی، جس کا وعدہ کیا گیا ہے (یعنی وہ ٹوٹ پھوٹ جو قیامت کے وقوع کے موقع پر ہو گی)۔ اور میں اپنے اصحاب کی امان ہوں جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ کو (وہ فتنے ) لاحق ہوں گے ، جن کا وعدہ کیا گیا ہے ، اور میرے صحابہ، میری امت کے امان ہیں، جب میرے صحابہ چلے جائیں گے تو میری امت اُن فتنوں میں گھر جائے گی، جن کا وعدہ کیا گیا ہے ”

(صحیح مسلم(2531) بروایت: ابوموسیٰ الاشعریؓ)

(3) اصحابِ رسول اللہﷺ میں سب سے افضل ، خلفاء راشدین ہیں، جو ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والے ہیں، وہ ابوبکر، پھر عمر، پھر عثمان اور پھر علی رضی اللہ عنھم ہیں۔ جو ان کی خلافت کی ترتیب ہے وہی ان کے شان و مرتبہ کی ترتیب ہے ، اس کی دلیل صحیح بخاری(3671) کی حدیث ہے ، جو محمد بن الحنفیہ ، جو علی بن ابی طالب ؓ کے بیٹے ہیں، سے مروی ہے ۔

محمد کہتے ہیں:” میں نے اپنے والد علی ؓ سے پوچھا: رسول اللہﷺ کے بعد سب سے افضل کون ہے ؟ فرمایا: ابوبکرؓ ۔ میں نے پوچھا : پھر کون؟ فرمایا: عمرؓ۔ پھر میں نے اس ڈر سے کہ آگے عثمان ؓ کا نام نہ لے لیں، کہا : پھر آپ؟ فرمایا : میں تو مسلمانوں میں ایک عام سا شخص ہوں”

امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند جو شعیب الأرؤوط اور عادم مرشد کی تحقیق سے شائع ہوئی ہے کے (رقم: 835) میں روایت لائے ہیں:

ترجمہ:”ہمیں حدیث بیان کی اسمٰعیل بن ابراھیم نے ، وہ فرماتے ہیں، ہمیں حدیث بیان کی منصور بن عبد الرحمٰن الغدانی الاشل نے ، انہوں نے شعبی سے سنا، وہ فرماتے ہیں: ہمیں ابو حجیفہ، جنہیں علیؓ” وہب الخیر” کا نام دیا کرتے تھے ، نے حدیث بیان کی، فرماتے ہیں: مجھ سے علیؓ نے پوچھا: اے ابو حجیفہ کیا تمہیں بتاؤں کہ اس امت میں نبیﷺ کے بعد، سب سے افضل کون ہے ؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟(ابو حجیفہ فرماتے ہیں: میرے خیال میں علی ؓ سے افضل کوئی نہیں تھا) لیکن انہوں نے فرمایا: نبیﷺ کے بعد، اس امت میں سب سے افضل ابوبکرؓ ہیں، اور ان کے بعد عمرؓ ہیں، اور ان دونوں کے بعد ایک تیسری شخصیت ہے ، جس کا انہوں نے نام نہیں بتایا”(اس حدیث کی سند صحیح ہے ، اس کے راوی بخاری و مسلم کے راوی ہیں، علاوہ منصور بن عبد الرحمٰن کے کہ وہ صحیح مسلم کے رواۃ میں سے ہیں۔ علی(رضی اللہ عنہ ) کا یہ اثر جو ابو حجیفہ سے مروی ہے ، مسند احمد میں بھی وارد ہے ۔ اور ان کے بیٹے عبد اللہ کی زوائد میں بھی صحیح یا حسن اسناد کے ساتھ وارد ہے ، جن کے ارقام(833 تا837) ہیں، نیز(871) بھی ہے ۔

صحیح بخاری(3655) میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے ، فرماتے ہیں:” ہم رسول اللہﷺ کے دور میں صحابہ کے درمیان ازروئے مرتبہ، درجہ بندی کرتے تھے ، چنانچہ ہم سب سے افضل ابوبکرؓ کو قرار دیتے تھے ، پھر عمر ؓ کو پھر عثمان بن عفان ؓ کو۔”

حافظ ابن حجر نے ” تقریب التھذیب” میں علی بن ابی طالب ؓ کے ترجمہ میں لکھا ہے : علیؓ ماہِ رمضان ، چالیس ہجری میں فوت ہوئے ، اور اس وقت وہ زمین پر موجود تمام زندہ افراد میں سب سے افضل تھے ، اس پر تمام اہل السنۃ کا اجماع ہے ۔

خلفاء ِ راشدین اور ان کی خلافت کی فضلیت میں، عرباض بن ساریہ ؓ کی حدیث میں رسول اللہﷺ کا یہ فرمانِ مبارک وارد ہے :

“فانہ من یعش منکم بعدی فسیری اختلافا کثیرا، فعلیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء المھدیین الراشدین ، تمسکوا بھا وعضوا علیھا بالنواجذوایاکم ومحدثات الامور، فان کل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ”

ترجمہ:”۔۔۔ میرے بعد تم میں سے جو زندہ رہا وہ بہت زیادہ اختلافات دیکھے گا، اس وقت تھا میری سنت کو لازم پکڑ لینا، نیز خلفاء راشدین جو ہدایت یافتہ ہیں، کی سنت کو بھی، اسے مضبوطی سے تھام لینا، بلکہ اپنی داڑھوں میں دبا لینا، اور نئے نئے امور سے بچنا ، ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ” (ابوداؤد(4607) ترمذی(2676) امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے )

نیز خلفائے راشدین اور ان کی خلافت کی فضیلت ، سفینہؓ جورسول اللہﷺ کے غلام تھے ، کی حدیث سے بھی واضح ہوتی ہے ، ارشاد ِ گرامی ہے :”خلافۃ النبوۃ ثلاثون سنۃ، ثم یؤتی اللہ الملک أو ملکہ من یشاء” یعنی:” خلافت علی منہاجِ النبوۃ کی مدت تیس سال ہے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ بادشاہت یا اپنی بادشاہت، جسے چاہے گا عطا فرما دے گا” (سنن ابی داؤد (4646) وغیرہ۔ یہ حدیث صحیح ہے ، اسے شیخ البانی نے السلسلۃ الصحیحۃ (460) میں ذکر کیا ہے اور نو علماء سے اس کی تصحیح نقل فرمائی ہے )

(4) رسول اللہ ﷺ کے تمام صحابہ عادم ہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ نے ، ان کی ثناء بیان کی ہے ، اس عظیم الشان تعدیل کے بعد وہ کسی معدِّل کی تعدیل ، اور کسی موثق کی توثیق کے محتاج نہیں ہیں، اسی لئے علماء اپنی کتبِ تراجم میں جب کسی صحابی کا ترجمہ لکھتے ہیں تو صرف صحابی کہنے پر ہی اکتفاء کرتے ہیں، دیگر رجال کی طرف ان کی توثیق کے اقوال نقل نہیں کرتے (کیونکہ ان کی ثقاہت و عدالت کتاب و سنت کے نصوص سے مسلم ہے )

“تابعی، جب رسول اللہﷺ کے کسی صحابی سے حدیث روایت کرتا ہے تو اس حدیث پر وجوبِ عمل کیلئے ، اس صحابی کا نام لے یا نہ لے ، کوئی فرق نہیں

پڑتا، کیونکہ تمام صحابہ عادل، ثقہ، ثبت اور انتہائی پسندیدہ ہیں، تمام علمائے اہلحدیث اس بات پر متفق و مجتمع ہیں”

امام قرطبی، اپنی تفسیر(16/299) میں فرماتے ہیں:

“صحابہ کرام ، سب کے سب عادل ہیں، اللہ تعالیٰ کے اولیاء و اصفیاء ہیں، انبیاء ورسل کے بعد تمام خلق میں سب سے افضل ہیں۔ یہی اہل السنۃ کا مذہب ہے ، اور اس امت کے أئمہ کا قول بھی۔ ایک چھوٹی سی جماعت ، جو قطعاً کسی پرواہ کئے جانے کے قابل نہیں ہے کا خیال ہے کہ صحابہ کرام کا حال بھی عام انسانوں جیسا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی اپنی عدالت کی چھان بین کی ضرورت ہے ”

حافظ ابن حجر” الاصابۃ”(1/17) میں فرماتے ہیں:

“تمام اہل السنۃ ، تمام صحابہ کرام کے عادل ہونے پر متفق ہیں، اس اجماع کی مخالفت صرف ایک چھوٹے سے بدعتی ٹولے نے کی ہے ”

امام سیوطی نے ” تدریب الراوی” (400) میں اس بدعتی ٹولے کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ معتزلہ ہیں جن کا کہنا ہے کہ علیؓ سے قتال کرنے والوں کے علاوہ تمام صحابہ عدول ہیں شیخ ابن الصلاح” علوم الحدیث”(264) میں فرماتے ہیں:” صحابہ کرام کو ایک خصوصی اور امتیازی شرف حاصل ہے ، اور وہ یہ کہ کسی صحابی کی عدالت کا سوال نہیں کیا جا سکتا ، کیونکہ ان کی عدالت ایک طے شدہ حقیقت ہے ، کیونکہ کتاب و سنت کے نصوص اور اجماعِ معتّدبہ سے ، علی الاطلاق ان کی عدالت ثابت ہے ۔

شیخ ابن الصلاح(ص:265) میں مزید فرماتے ہیں: پھر تمام امت، تمام صحابہ کو عادل قرار دینے میں متفق ہے ، حتیٰ کہ ان صحابہ کی تعدیل پر بھی جن کے فتنوں میں شامل ہونے کی نقول ملتی ہیں، اس پر ان علمائے کرام کا اجامع ہے جن کے اجماع کو معتد بہ سمجھا جاتا ہے ۔ صحابہ کرام کی تعدیل پر یہ اجماع ان کے ساتھ حسنِ ظن اور ان سے ثابت شدہ مآثر و مناقب کی بناء پر ہے ، گویا تعدیل صحابہ پر اجماع، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امرِ مقدر ہے ، جس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام شریعت کے ناقلینِ اولین ہیں۔”(واللہ اعلم)

امام نووی صحیح مسلم کی شرح(15/149) میں فرماتے ہیں:

“اسی لئے تمام اہلِ ھق اور وہ أئمہ جن کا اجماع معتدبہ مانا جاتا ہے ، صحابہ کرام کی شہادات ، روایات اور کمالِ عدالت پر متفق ہیں”

خطیب بغدادی” الکفایۃ” (ص:46) میں فرماتے ہیں:

“ہر وہ حدیث جس کی سندراوی سے لے کر نبیﷺ تک متصل ہو، اس پر اس وقت تک عمل واجب نہیں ہوتا جب تک اس کے تمام راویوں کی عدالت ثابت نہ ہو جائے ، چنانچہ اس صحابی کے علاوہ جو اسے نبیﷺ سے مرفوعاً نقل فرما رہا ہے ، تمام رجالِ حدیث کے احوال کی چھان بین ضروری ہے ، صحابہ کے احوال کی چھان بین کی اس لئے ضرورت نہیں ہے کہ ان سب کی عدالت اللہ تعالیٰ کی تعدیل سے ثابت ہے ، اللہ تعالیٰ ان کی طہارت کی خبر دیتا ہے ، اور انہیں پسندیدہ جماعت قرار دیتا ہے ۔”(اس کے بعد خطیب بغدادی نے متعلقہ آیات و احادیث نقل فرمائیں) عدالتِ صحابہ کا نکتہ اس بات سے مزید واضح ہوتا ہے کہ تمام کتبِ حدیث ، خواہ وہ صحیح ہوں یا جامع یا سنن یا مسند یا معجم، ایسی روایات پر بھی مشتمل ہیں جنہیں روایت کرنے والے صحابی کا نام مبہم ہے ، اہل السنۃ کے نزدیک یہ روایات بھی صحیح اور حجت ہیں(بشرطیکہ ان تک پہنچنے والی سند صحیح ہو) ان روایات میں صحابی کے نام کا مذکور نہ ہونا قطعاً نقصان وہ نہیں ہے ، کیونکہ مجہول الاسم صحابی، بحکمِ معلوم الاسم ہے ۔

واضح ہو کہ اہل السنۃ والجماعۃ کے عدالتِ صحابہ کی بابت قول کا معنی یہ نہیں ہے کہ صحابہ کرام معصوم ہیں ، کوینکہ اہل السنۃ کے نزدیک عصمت صرف انبیاء ومرسلین کے ساتھ خاص ہے ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ” العقیدۃ الواسطیۃ” (ص:28) میں فرماتے ہیں:

” اہل السنۃ والجماعۃ(جو عدالتِ صحابہ پر متفق ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ) یہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ صحابہ کرام کبائر و صغائر سے معصوم تھے ، ان سے فی الجملۃ گناہوں کا ارتکاب ممکن ہے ، لیکن ان کے سوابق و فضائل ان کیلئے موجبِ مغفرت ہیں، انہیں گناہوں کی بخشش کے تعلق سے جو مواقع میسر ہیں، وہ بعد میں آنے والوں کیلئے ممکن نہیں۔

رسول اللہﷺ کی زبانِ مبارک سے ان کا خیر القرون ہونا ثابت ہے ، ان کا مٹھی بھر اناج کا صدقہ ، بعد میں آنے والوں کے احد پہاڑ کے برابر سونے کے صدقہ سے افضل ہے ۔

پھر صحابہ کرام سے اگر کوئی گناہ سرزد ہو تو وہ ان کے توبہ کرنے یا کوئی نیک عمل کر لینے سے مٹ جاتا ہے ، اسی طرح وہ گناہ ان کے سبقت الی الاسلام کی فضیلت کی بناء پر بخش دیا جاتا ہے ، نیز وہ نبیﷺ کی شفاعت کے ذریعے بھی اس گناہ کی بخشش کا حق رکھتے ہیں، بلکہ رسول اللہﷺ کی شفاعت کے سب سے زیادہ مستحق صحابہ کرام ہی ہیں، اس کے علاوہ ان کا دنیا میں کسی آزمائش میں مبتلا ہونا بھی اس گناہ کا کفارہ بن سکتا ہے ۔

یہ سارا معاملہ کو ایسے امور کے ارتکاب پر ہے جن کا گناہ ہونا محقق ہے ، تو پھر ایسے امور جن میں صحابہ کرام نے اجتہاد فرمایا ہو، ان میں وہ یقینی طور پر درست اجتہاد پر دو اجروں اور غلط اجتہاد پر ایک اجر کے مستحق ہیں، اور خطأ معاف ہو جاتی ہے ۔

پھر صحابہ کرام کی سیرت میں قابل ِ اعتراض یا قابلِ انکار حصہ، جو بہت تھوڑے صحابہ سے منقول ہے ، کی مقدار انتہائی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے ، بلکہ وہ حصہ بھی صحابہ کرام کے فضائل اور ان کے محاسن، جن کا تعلق ایمان باللہ، ایمان بالرسول، جہاد فی سبیل اللہ، ہجرت و نصرت اور علمِ نافق و عملِ صالح کے سامنے دب کے رہ جاتا ہے ۔ علمِ وبصیرت اور انصاف کی نظروں سے صحابہ کرام کی سِیَر و فضائل کا مطالعہ کرنے والا لامحالہ اس علمِ یقین کو پالے گا کہ صحابہ کرام ، انبیاء کرام کے بعد خیر الخلق اور افضل الخلق ہیں، ان جیسا نہ کوئی ہوا اور نہ ہو گا، امت محمد یہ ﷺ جسے خیر الأمم ہونے کا شرف حاصل ہے ، میں صحابہ کرام کی حیثیت کریم کی سی ہے ”

اہل السنۃ کا تعدیل ِ صحابہ پر مبنی قول جس طرح کتاب وسنت کے نصوص سے منصوص ومستند ہے اسی طرح ان کے ساتھ ان کے حسنِ ظن کا مظہر بھی ہے ، اور اس عظیم و مقد س جماعت کے ساتھ یہ حسنِ ظن یقیناً موجب اجروثواب ہے ۔ جبکہ جو لوگ عدالتِ صحابہ کے قائل نہیں وہ اس مقدس جماعت کے ساتھ بدگمانی کی راہ پر قائم ہیں جو کہ گناہ کو مستو جب و مستلزم ہے ۔

 

 

 

صحابہ کرام کے متعلق اُمت پر کیا واجب ہے ​

 

(5) رسول اللہﷺ کے صحابہ کے ساتھ دوستی، محبت اور حسنِ ثناء جو ان کے شایانِ شان ہو ضروری ہے ، ان کا ذکر ِ خیر ہمیشہ انتہائی احسن الفاظ کے ساتھ ہو۔ امام طحاوی” عقیدۃ اھل السنۃ والجماعۃ ” میں فرماتے ہیں:

“ہم اصحابِ رسول اللہﷺ کے ساتھ محبت کرتے ہیں، ان کی محبت میں افراط و تفریط کا راستہ اختیار نہیں کرتے ، نہ ہی کسی صحابی سے اظہار برأت کرتے ہیں، اور جو صحابہ کا بغض رکھتا ہے اور ان کا ذکرِ خیر نہیں کرتا ہے ، ہم اس سے سخت بغض و عداوت رکھتے ہیں۔ ہم ہمیشہ صحابہ کرام کا ذکرِ خیر کرتے ہیں، ان کی محبت دین، ایمان اور احسان ہے ، جبکہ ان کا بغض کفر، نفاق اور طغیان (سرکشی) ہے ۔

خطیب بغدادی نے اپنی کتاب” الکفایۃ” (ص:49) میں اپنی سند سے اب وزرعۃ الرازی کا یہ قول نقل فرمایا ہے : “اذا رأیت الرجل ینتقص أحدا من اصحاب رسول اللہﷺ فاعلم أنہ زندیق ، وذلک أن رسول اللہﷺ عندنا حق والقرآن حق، وانما ادی الینا ھذا القرآن والسنن اصحاب رسول اللہ ﷺ ، وانما یریدون أن یجر حوا شھودنا لیبطلوا الکتاب والسنۃ، والجرح بھم أولی وھم زنادقۃ”

ترجمہ:” جب کسی شخص کو دیکھو کہ وہ رسول اللہﷺ کے کسی صحابی پر طعنہ زنی کر رہا ہے ، تو جان لو کہ وہ زندیق ہے ، کیونکہ ہمارے نزدیک قرآن بھی حق ہے اور رسول اللہﷺ بھی حق ہیں، اور قرآن اور رسول اللہﷺ کے فرامین ہم تک پہنچانے والے صحابہ کرام ہیں، وہ(زندیق) یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ان گواہوں کو مجروح قرار دیکر قرآن و حدیث کا بطلان ثابت کر دیں۔حالانکہ وہ خود جرح کے مستحق ہیں اور زندیق ہیں”

امام بغوی” شرح السنۃ” (1/229) میں فرماتے ہیں کہ امام مالک کا قول ہے :

“من یبغض أحدا من اصحاب رسول اللہﷺ وکان فی قلبہ علیہ غل فلیس لہ ھق فی فئ المسلمین”

ترجمہ:” جو کسی صحابی کا بغض رکھے اور اس کے دل میں خیانت بھی ہو تو اس کا مسلمانوں کے مالِ فئ میں کوئی حصہ نہیں” (مالِ فئ کفار کا وہ مال ہے جو قتال کے بغیر حاصل ہو جائے )

امام مالک اپنے اس قول پر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کیا کرتے تھے :

(مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِه مِنْ اَهْلِ الْقُرٰ) الی قولہ (وَ الَّذِيْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ۔۔۔الآیۃ) (الحشر: 7تا10)

ترجمہ:” بستیوں والوں کا جو (مال) اللہ تعالیٰ تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے وہ اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت والوں کا اور یتیموں کا اور مسافروں کا ہے تاکہ تمہارے دولت مندوں کے ہاتھ میں ہی یہ مال گردش کرتا نہ رہ جائے اور تمہیں جو کچھ رسول دے لے لو، اور جس سے روکے رک جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو، یقیناً اللہ تعالیٰ سخت عذاب والا ہے ۔(فئ کا مال) ان مہاجر مسکینوں کیلئے ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے نکال دیئے گئے ہیں وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کے طلب گار ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی راست باز ہیں۔”​

اور(ان کیلئے ) جنہوں نے اس گھر میں(یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنا لی ہے اور اپنی طرف ہجرت کر کے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس سے وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے بلکہ خود اپنے اوپر نہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کو کتنی ہی سخت حاجت ہو(بات یہ ہے ) کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچالیا گیا وہی کامیاب(اور بامراد) ہے ۔ اور ان کے لئے بھی جوان (مہاجرین) کے بعد آئے اور دعا کرتے ہیں کہ ہمارے پروردگار ! ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے ، کہ جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں گناہ معاف فرما اور مؤمنوں کے واسطے ہمارے دلوں میں کینہ(بغض) نہ پیدا ہونے دے ۔ اے ہمارے رب! بے شک تو بڑا شفقت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ”

امام مالک کے سامنے ایک شخص کا ذکر ہوا، جو اصحابِ رسول اللہﷺ کی تنقیصِ شان کیا کرتا تھا تو امام مالک نے اس آیتِ کریمہ کی تلاوت فرمائی:

(مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَ الَّذِيْنَ مَعَه اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ)الی قولہ (لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ) (الفتح:29)

ترجمہ:” محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع ، اور سجدے کررہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضا مندی کی جستجو میں ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے ، ان کی یہی مثال تورات میں ہے اور ان کی مثال انجیل میں ہے ، مثل اس کھیتی کے جس نے اپنا پٹھا نکالا پھر اسے مضبوط کیا اور وہ موٹا ہو گیا پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہو گیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے “​

پھر فرمایا: جس شخص کے دل میں اصحابِ رسول اللہﷺ میں سے کسی ایک کا بغض یا حقد ہو گا، اس پر یہ آیتِ کریمہ(مذکورہ آیت) پوری طرح چشپاں ہو گی۔

امام احمد بن حنبل” کتاب السنۃ” میں فرماتے ہیں:

“ومن السنۃ ذکر محاسن اصحاب رسول اللہﷺ کلھم أجمعین والکف عن الذی جری بینھم، فمن سب اصحاب رسول اللۃﷺ أو واحدا منھم فھو مبتدع رافضی، حبھم سنۃ، والدعاء لھم قربۃ ، والا قتداء بھم وسیلۃ، والأ خذ بآثار ھم فضیلۃ”

ترجمہ:” بلا استثناء تمام صحابہ کرام کے محاسن کا ذکر کرنا سنت ہے ، ان کے مابین رونما ہونے والے بعض مشاجرات و تنازعات سے پہلو تہی ضروری ہے ، جو شخص اصحابِ رسول اللہﷺ کو یا ان میں سے کسی ایک کو گالی دیتا ہے وہ بدعتی اور رافضی ہے ، ان کی محبت سنت ہے ، ان کیلئے دعاء قربتِ الہیٰ ہے ، ان کی اقتداء ذریعہ ، نجات ہے اور ان کے نقشِ قدم کی پیروی موجبِ فضیلت ہے ”

امام احمد بن حنبل مزید فرماتے ہیں:

“کسی شخص کیلئے جائز نہیں کہ وہ اصحابِ رسول اللہﷺ کو بُرے الفاظ سے یاد کرے ، یا کسی صحابی پر طعنہ زنی کرے ، اگر کسی نے ایسی حرکت کی تو حاکمِ وقت پر اُسے سزا دینا ضروری ہو جائے گا، اسے معاف کرنا جائز نہیں ہو گا، بلکہ ضروری ہو گا کہ اسے سزا دے ، اس کی اس حرکت پر توبہ طلب کرے ، اگر توبہ کر لے تو معاف کر دے ، نہ کرے تو پھر سزا دے اور اس وقت تک قید خانے میں بند رکھے جب تک توبہ کر کے رجوع نہ کر لے ”

ابنِ ابی حاتم اپنی کتاب” الجرح والتعدیل”(1/87) میں فرماتے ہیں:

“اصحابِ رسول ﷺ وہ مبارک لوگ ہیں، جنہوں نے وحی اور نزولِ قرآن کا مشاہدہ کیا ، اور اس کی تفسیر کی معرفت حاصل کی، یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی صحبت و نصرت نیز دین کی اقامت اور حق کے اظہار کیلئے چن لیا، نبیﷺ کی صحبت و رفاقت کے تعلق سے وہ پسندیدہ ہو گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں نشانِ ہدایت اور بعد میں آنے والوں کیلئے قدوۃ اور مثال بنا دیا۔ انہوں نے نبیﷺ سے وہ سارا دین جو آپﷺ نے ان تک پہنچایا لے کر محفوظ کر لیا، نیز جو امور آپﷺ نے مسنون و مشروع قرار دیئے ، جو فیصلے فرمائے ، جن مستحبات ، مندوبات، مأمورات ، منہیات اور محظورات کا ذکر فرمایا ، اور جتنے بھی آداب سکھائے ان سب کو بڑی پختگی اور اتقان کے ساتھ یاد کر لیا۔

چنانچہ وہ دین کے فقیہ بن گئے اور نبیﷺ کی ذاتِ گرمی کی مسلسل رفاقت اور آپﷺ سے تفسیر قرآن اور استنباطِ احکام کے مشاہدہ کے ساتھ، اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی کے عالم بن گئے ، جس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں امت کیلئے مثال اور قدوۃ ہونے کا شرف عطا فرما دیا۔۔۔(مزید فرماتے ہیں) وہ اس امت کا سرمایہ عدل، أئمہ ہدایت ، دین کے دلائل و حجج اور قرآن و حدیث کے حاملین و ناقلین بن گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا طریقہ اپنانے ، ان کے منہج پر چلنے اور ان کے راستہ کو اختیار کرنے کو انتہائی ضروری قرار دے دیا ، چنانچہ فرمایا:

(وَ مَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ يَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّه مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِه جَهَنَّمَ وَ سَآءَتْ مَصِيْرًا) (النساء:115)

ترجمہ:” جو شخص باوجود راہِ ہدایت کے واضح ہو جانے کے بھی رسول (ﷺ) کا خلاف کرے اور تمام مؤمنوں کی راہ کو چھوڑ کر چلے ، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کر دیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے ، وہ پہنچنے کی بہت ہی بُری جگہ ہے “​

ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اپنی بہت سی احادیث میں صحابہ کرام کو مخاطب کر کے اپنا دین پہنچانے کا حکم ارشاد فرمایا ہے ، چنانچہ کچھ احادیث میں دین پہنچانے پر دعا دی، جیسا کہ فرمان ہے :”نضر اللہ امرأ سمع مقالتی فحفظھا ووعاھا حتی یبلغھا غیرہ”

یعنی:” اللہ تعالیٰ اس شخص کو تر و تازہ کر دے جو میری حدیث سنے ، اسے اچھی طرح یاد کر لے اور دوسروں تک پہنچا دے ”

آپ ﷺ نے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا تھا:”فلیبلغ الشاھد منکم الغائب” یعنی:” جس نے میرا یہ خطبہ سنا وہ ان تک پہنچا دے جو نہیں سن سکے ”

ایک اور حدیث میں ارشادِ گرامی ہے :

“بلغوا عنی ولو آیۃ حدثوا عن بنی اسرائیل ولا حرج”

یعنی:” پہنچا دو میری طرف سے خواہ ایک مسئلہ ہی کیوں نہ ہو، اور بنی اسرائیل سے روایت بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں”

اس کے بعد صحابہ کرام مختلف خطوں، ملکوں اور سرحدوں میں پھیل گئے ، یہ پھیل جانا علاقوں کو فتح کرنے ، غزوات میں شریک ہونے اور مختلف مقامات پر امارت و قضاء کا منصب سنبھالنے کی بناء پر تھا ، جو صحابی جس علاقے میں گیا، اس میں نبیﷺ سے یاد کیا ہوا تمام علم پھیلا دیا، اللہ تعالیٰ کی شریعت سے فیصلے صادر فرمائے ، نبیﷺ کے طریقہ کے مطابق امور انجام دیئے ، جو سوال ہوتے ان پر نبیﷺ کے اس جواب کی روشنی میں فتویٰ دیتے جو آپﷺ نے اس مسئلہ کے نظائر پردیا ہوتا ۔ انہوں نے حسنِ نیت کے ساتھ، نیز اللہ عزوجل کے قرب کے حصول کیلئے ، اپنے آپ کو لوگوں کی تعلیم و تربیت کیلئے وقت کر دیا، تاکہ انہیں فرائض ، احکام، سنن اور حلال و حرام کے علم سے مالا مال کر دیں۔ تعلیم وتربیت کا یہ سلسلہ ان کی موت تک جاری رہا۔(رضوان اللہ ومغفرتہ ورحمتہ علیھم اجمعین)

ابو عثمان الصابونی اپنی کتاب” عقیدۃ السلف واصحاب الحدیث” میں فرماتے ہیں:

“(اہل السنۃ) صحابہ کرام کے مابین ہونے والے مشاجرات اور منازعات کے حوالے سے خاموشی اور پہلو تہی اختیار کرنا ضروری سمجھتے ہیں، نیز ہر ایسی چیز کے ذکر سے اپنی زبانوں کو پاک رکھنا ضروری قرار دیتے ہیں، جو کسی وجہ سے صحابہ کرام کی شان میں کسی عیب یا نقص کو متضمن ہو(اہل السنۃ) تمام صحابہ کرام کیلئے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور رضاء کی دعاء، نیز تمام صحابہ سے محبت اور دوسری کو فرض قرار دیتے ہیں”

حافظ ابن حجر نے فتح الباری(4/365) میں ابو مظفر السمعانی کا یہ قول نقل کیا ہے :

“صحابہ کرام کی تنقیصِ شان کے درپے ہونا، اس شخص کی ذلت اور گھٹیا پن کی علامت ہے ، بلکہ یہ عمل بدعت وضلالت ہے ”

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی کتاب” العقیدۃ الواسطیۃ” میں فرماتے ہیں:

“اھل السنۃ والجماعۃ کے اصول میں یہ بات بھی شامل ہے کہ صحابہ کرام کے متعلق اپنے دلوں اور زبانوں کی حفاظت کی جائے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس سوچ کے حامل لوگوں کی تعریف فرمائی ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

(وَ الَّذِيْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) (الحشر:10)

ترجمہ:” اور ان کے لئے بھی جو ان(مہاجرین) کے بعد آئے اور دعا کرتے ہیں کہ ہمارے پروردگار! ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے ، کہ جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں گناہ معاف فرما اور مؤمنوں کے واسطے ہمارے دلوں میں کینہ (بغض) نہ پیدا ہونے دے ۔ اے ہمارے رب! بے شک تو بڑا شفقت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے “​

اور رسول اللہﷺ کی اطاعت کا بھی یہی تقاضہ ہے چنانچہ فرمان نبوی ہے :

“لاتسبوا اصحابی ، فوالذی نفسی بیدہ لو أن أحدکم أنفق مثل أحد ذھبا مابلغ مد أحدھم ولا نصیفہ”

ترجمہ:” میرے صحابہ کو گالیاں مت دو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان میں سے کسی ایک کے ایک مدیا نصف مد کے خرچ کے برابر ثواب کو بھی نہیں پہنچ سکتا ”

(شیخ الاسلام مزید فرماتے ہیں: ) اہل السنۃ والجماعۃ روافض کے طرزِ عمل بری ہیں، جو کہ صحابہ کرام سے بغض رکھتے ہیں اور انہیں گالیاں دیتے ہیں، اسی طرح اہل السنۃ نواصب کے طرزِ عمل سے بھی بری ہیں جو کہ اہلِ بیت کو اپنے قول و عمل سے ایذاء پہنچاتے ہیں۔

اہل السنۃ مشاجرات صحابہ میں سکوت اختیار کرتے ہیں ان کی لغزشوں سے متعلق مروی آثار کے متعلق اہل السنۃ کا مؤقف یہ ہے کہ بعض آثار تو جھوٹے ہیں بعض میں کمی و بیشی کر کے حقیقت کو مسخ کر دیا گیا ہے البتہ بعض آثار صحیح ہیں۔ ایسی لغزشوں کے متعلق اہل السنۃ صحابہ کو معذور سمجھتے ہیں کیونکہ یہ اجتہادی غلطیاں ہیں اور مجتہد مصیب ہوسکتا ہے اور مخطئ بھی(اور دونوں صورتوں میں اس کیلئے اجر ہے )

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ آیتِ کریمہ(وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

“یہاں اللہ تعالیٰ نے ان مہاجرین و انصار صحابہ سے اپنے راضی ہونے کی خبر دی ہے جنہیں قبولِ اسلام میں سبقت و تقدم کا شرف حاصل ہے ، نیز اُن تمام سے بھی جو بطریقِ احسن اُن کے نقشِ قدم کے پیرو کار بن گئے ۔ لیکن افسوس ہے اُن لوگوں پر جو تمام صحابہ یا اُن میں سے بعض کا اپنے سینوں میں بغض رکھتے ہیں، یا انہیں سب وشتم کا نشانہ بناتے ہیں۔ خاص طور پہ رسول اللہﷺ کے بعد تمام صحابہ کے سردار اور سب سے افضل ہستی، صدیقِ اکبر اور خلیفہ اعظم ، ابوبکر بن ابی قحافہ ؓ، کہ روافض میں سے ایک انتہائی گمراہ ٹولہ ان سے عداوت قائم کئے ہوئے ہے ، بلکہ ان کے دل تو تمام صحابہ کرام کے بغض اور دشنام طرازیوں سے لبریز ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے عقول اور قلوب الٹے ہو چکے ہیں، بھلا ان لوگوں کا قرآنِ حکیم پر کیا ایمان رہا ، کہ قرآن تو ان سب سے اللہ تعالیٰ کی رضاء کا اعلان کرتا ہے ، اور وہ ان سب کو گالیوں سے نوازتے رہتے ہیں۔ لیکن اہل السنۃ کا منہج یہ ہے کہ وہ ان سب سے راضی ہیں جن سے اللہ راضی ہو گیا اور ان سب کی تنقیص و تفنید کرتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے موردِ سب وشتم ٹھہرایا، ان سب سے دوستی

قائم کرتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی دوستی قائم ہے ، اور ان سب سے عداوت قائم کرتے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عداوت قائم ہے ۔ لہذا اہل السنۃ اتباع اور اقتداء کرنے والے ہیں، بدعات کا ارتکاب کرنے والے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فلاح پانے والی جماعت ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے ایمان والے بندے ہیں”

ابن ابی العز” العقیدۃ الطحاویۃ” کی شرح (ص: 469) میں فرماتے ہیں:

“جن لوگوں کے دل افضل ترین مؤمنین اور انبیاء کرام کے بعد تمام اولیاء کے سرداروں کے متعلق خیانت سے بھرے ہوں ، ان سے بڑا گمراہ کون ہوسکتا ہے ، اس حوالے سے یہود و نصاریٰ ان پر سبقت لے گئے ، چنانچہ یہودیوں سے پوچھو: تمہاری ملت میں سب سے افضل کون ہے ؟ وہ جواب دیں گے : اصحابِ موسیٰؓ ۔ عیسائیوں سے پوچھو: تمہاری ملت میں سب سے افضل کون ہے ؟ جواب دیں گے : اصحاب عیسیٰ ؓ ۔ اب روافض سے پوچھو: تمہاری ملت میں سب سے بدترین کون ہے ؟ جواب دیتے ہیں: اصحابِ محمدﷺ ۔ وہ صحابہ کرام میں سے بہت تھوڑی تعداد کو اپنے بغض و عداوت سے مستثنیٰ قرار دیتے ہیں، اور جنہیں اپنی ناپاک گالیوں کا نشانہ بناتے ہیں اُن میں اُن صحابہ سے کہیں افضل صحابہ موجود ہیں، جن کا استثناءکرتے ہیں”

اس بغض کا اظہار بارہویں اور تیرہویں صدی ہجری کے درمیان پیدا ہونے والے ایک رافضی عالم، کاظم الأرزی نے اپنے ایک شعر میں بھی کیا ہے ، وہ کہتا ہے :

أھم خیر أمۃ اُخرجت للناس ھیھات ذاک بل اشقاھا!!!

ترجمہ: کیا یہ صحابہ امت میں سب سے افضل ہیں؟ یہ بات انتہائی بعید اور ناممکن ہے وہ تو امت کی سب سے بدبخت جماعت ہے (والعیاذ باللہ)

مُجھے اس شعر کا علم، استاد محمود الملا ح کے اس نقد سے ہوا جو انہوں نے کاظم کے اس قصیدے پر وارد کیا ہے ، ان کا یہ نقد” الرزیہ فی القصیدۃ الازریہ” کے عنوان سے مطبوع ہے ۔ اور مذکورہ شعر(ص:51) میں مذکور ہے ۔ اس شعر کا مضمون جو خبث و جفاء کی انتہاء کو پہنچا ہوا ہے ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متصادم و متضاد ہے : (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ) (آل عمران:110) حافظ ابن حجر اپنی کتاب”فتح الباری” (13/34) میں فرماتے ہیں:

” اہل السنۃ اس بات پر متفق ہیں کہ صحابہ کرام پر، بسبب ان کے مابین قائم ہونے والی جنگوں کے ، طعنہ زنی کرنے سے قطعی طور پر باز رہا جائے ، اگرچہ کسی کو یہ بات معلوم بھی ہو جائے کہ ان جنگوں میں حق پر کون تھا،

کیونکہ صحابہ کرام نے ان جنگوں میں محض اپنے اجتہاد کی بناء پر قتال کیا تھا، اور اللہ تعالیٰ اجتہاد میں خطأ کرنے والے کو معاف فرما دیتا ہے ،بلکہ یہ بات ثابت ہے کہ اجتہاد میں مخطئ کو ایک اجر اور مصیب کو دو اجر ملتے ہیں۔”

شیخ یحیٰ بن ابی بکر العامری اپنی کتاب”الریاض المستطابۃ من لہ روایۃ فی الصحیحین من الصحابۃ ” (ص: 311) فرماتے ہیں:

” ہر متدین اور متورع شخص کے لائق ہے کہ وہ مشاجراتِ صحابہ میں چشم پوشی سے کام لے ، اور کسی صحابی سے سرزد ہونے والی خطأ کا نہ صرف یہ کہ اعتذار کرے بلکہ اس کیلئے اچھا مخرج تلاش اور بیان کرے ، اور جس چیز پر صحابہ کا اجماع ثابت ہوا سے تسلیم و قبول کر لے ، کیونکہ انہیں احوال کی زیادہ آگاہی حاصل تھی، اور شخصِ حاضر کا علم و مشاہدہ، شخصِ غائب سے زیادہ ہوتا ہے ۔ عارفین کا طریقہ، لوگوں کے عیوب و نقائص سے اعتذار ہے ، جبکہ منافقین کا طریقہ عیوب کی تلاش اور تشہیر ہے ۔ جب عام مسلمانوں کے عیوب پر پردہ پوشی ایک لازمی امر قرار پاچکی ، اور یہی منہج ِ اسلام ہے ، تو پھر اس جماعت کے بارہ میں کیا خیال ہے جو خاتم النبیین کے اصحاب ہیں، اور جن کے حق میں یہ فرمان بھی موجود ہے :”لا تسبوا أحدا من اصحابی” یعنی:” میرے کسی صحابی کو گالی نہ دو” رسول اللہﷺ کا فرمان ہے :”من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ” یعنی:” آدمی کے حسنِ اسلام کی دلیل ، اس کا ہر لایعنی امر کو چھوڑ دینا ہے ” سلف صالحین کا یہی طریقہ ثابت ہے ، اس کے سوا ہر راستہ ہلاکت اور بربادی کا گڑھا ہے ۔

 

 

 

مسلمانوں کے حکام اور علماء کی اطاعت بھی ضروری ہے ​

 

[27]: “والطاعۃ لأئمۃ المسلمین من ولاۃ أمور ھم وعلما ئھم”

ترجمہ:” اور (اہل السنۃ) مسلمانوں کے حکام اور علماء ِ کرام کی اطاعت بھی (ضروری ) قرار دیتے ہیں”

شرح

(یہاں بہت سے اہم امور کا ذکر ہے )

(1) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

(يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ) (النساء: 59)

ترجمہ:” اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرما نبرداری کرو رسول اللہ(ﷺ) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی”​

اس آیتِ کریمہ میں” اولی الامر” سے مراد علماء و امراء ہیں۔ علماء کی بات سنی جائے اور جو امورِ دین وہ بیان کرتے ہیں، اُن میں ان کی اطاعت کی جائے ۔ اسی طرح امراء کی بات بھی سنی جائے اور ان کا جو امر اللہ تعالیٰ کی معصیت نہ بنتا ہو، میں ان کی اطاعت کی جائے ۔

“اولی الامر” سے علماء و امراء دونوں مراد ہونے کو امام قرطبی اور حافظ ابنِ کثیر نے اپنی اپنی تفسیروں میں راجح قرار دیا ہے ، چنانچہ امام قرطبی نے اس تفسیر کو ابوھریرۃ ، ابن عباس رضی اللہ عنھما اور جمہور علماء کی طرف منسوب کیا ہے ، اور یہ بھی فرمایا ہے کہ جابر بن عبد اللہ اور مجاہد کے نزدیک” اولی الامر” سے مراد اہل القرآن و العلم ہیں، امام مالک کے نزدیک بھی یہی راجح ہے ،ضحاک سے بھی اسی قسم کی تفسیر منقول ہے ، وہ فرماتے ہیں: اس سے مراد فقہائے اور علمائے دین ہیں۔

حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ، اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں: علی بن ابی طلحہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے بیان فرماتے ہیں:” اولی الامر” سے مراد اہل الفقہ والدین ہیں۔ مجاہد ، عطاء ، حسن بصری اور ابوالعالیۃ نے بھی” اولی الامر” سے علماء مراد لئے ہیں۔

علماء کی اطاعت کیلئے درجِ ذیل آیات سے بھی استدلال ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(فَسَْٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ) (النحل: 43)

ترجمہ:” پس اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے دریافت کر لو”​

ایک اور مقام پر فرمایا:

(لَوْ لَا يَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ) (المائدۃ: 63)

ترجمہ:” انہیں ان کے عابد و عالم جھوٹ باتوں کے کہنے اور حرام چیزوں کے کھانے سے کیوں نہیں روکتے “​

جہاں تک امراء حکام کی اطاعت کا تعلق ہے تو اس کے وجوب کی دلیل، رسول اللہﷺ کا یہ فرمان ہے :”السمع والطاعۃ علی المرء المسلم فیما أحب وکرہ مالم یؤ مر بمعصیۃ، فاذا امر بمعصیۃ فلا سمع ولا طاعۃ

ترجمہ:” ایک مسلمان پر (اپنے حاکم کی) سمع و اطاعت پسندیدہ و ناپسندیدہ ہر امر میں واجب ہے ، جب تک اس کا حکم معصیت پر مشتمل نہ ہو ، اور اگر اس کا حکم معصیت ہو تو پھر کوئی سمع و اطاعت نہیں ہے ” (صحیح بخاری(7142) صحیح مسلم(1839) بروایت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما)

نیز رسول اللہﷺ کا فرمان ہے :“انما الطاعۃ فی المعروف”

یعنی:” اطاعت تو معروف یعنی نیکی کے کاموں میں ہے ” (صحیح بخاری(7145) اور صحیح مسلم(1840) بروایت علی بن ابی طالب ؓ)

نیز رسول اللہﷺ کا فرمان ہے :“علیک السمع والطاعۃ فی عسرک ویسرک، ومنشطک ومکرھک وأثرۃ علیک “

ترجمہ:” تم پر، تنگی اور آسانی ، خوشی اور ناخوشی میں اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دینے کے باوجود، اپنے حاکم کی سمع و اطاعت واجب ہے ” (صحیح مسلم(1836) بروایت ابوھریرۃؓ)

صحیح مسلم (1837) میں ابو ذر غفاریؓ سے مروی ہے ، فرماتے ہیں:

میرے خلیل(ﷺ) نے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ” میں اپنے حاکم کی سمع و اطاعت کروں، خواہ وہ ہاتھ پاؤں کٹا غلام ہی کیوں نہ ہو۔”

سہل بن عبد اللہ التستری فرماتے ہیں:” لوگ اس وقت تک خیر پر قائم رہیں گے جب تک اپنے حاکم اور علماء کی تعظیم کرتے رہیں گے ، جب ان دونوں کی تعظیم کریں گے اللہ تعالیٰ ان کی دنیا اور آخرت سنوار دے گا، اور جب ان دونوں کا استخفاف اور تنقیصِ شان کریں گے اللہ تعالیٰ ان کی دنیا و آخرت دونوں کو بگاڑ دے گا” (تفسیر قرطبی (5/260)

(2) مصبِ امارت یا حکومت پر فائز و متمکن ہونا ، مندرجہ ذیل چار امور میں سے کسی ایک امر سے بایہ تکمیل کو پہنچتا ہے ۔

“الف”: رسول اللہﷺ کی طرف سے نصاً، کسی کے نام کا تعین ہو جائے ، تو وہ شخص آپﷺ کے بعد خلیفہ ہو گا۔ بعض اہلِ علم کا کہنا ہے کہ ابو بکر صدیق ؓ کی خلافت اسی طریق سے حاصل و ثابت ہوئی ۔ لیکن صحیح اور راجح بات یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی طرف سے ، آپ کے بعد خلیفہ کے تعین کے سلسلہ میں خاص نص وارد نہیں ہے ، نہ ابوبکر صدیق ؓ کیلئے ، اور نہ کسی اور کیلئے ۔

امیر المؤمنین عمر بن خطاب ؓ سے جب ان کے مرض الموت میں، ان کے بعد خلیفہ کے تعین کا مطالبہ کیا گیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا :”ان استخلف فقد أستخلف من ھو خیر منی: ابوبکر، وان أترک فقد ترک من ھو خیر منی: رسول اللہﷺ”

یعنی :” اگر میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کا تعین کر دوں تو مجھ سے بہتر شخصیت ، ابوبکر صدیق ؓ نے تعین فرمایا تھا، اور اگر تعین نہ کروں تو مجھ سے بہتر ہستی، رسول اللہﷺ نے تعین نہیں فرمایا تھا۔”(صحیح بکاری (7218) صحیح مسلم(1823) (تو گویا جنابِ عمر ؓ کے اس قول سے صراحۃً یہ بات ثابت ہو گئی کہ رسول اللہﷺ نے خلیفہ کا تعین نہیں فرمایا تھا)

لیکن رسول اللہﷺ سے بہت سے ایسے نصوص وارد اور ثابت ہیں جو دلالت کرتے ہیں کہ آپﷺ کے بعد خلافت کے سب سے زیادہ حقدار ابوبکر صدیق ؓ ہی تھے ۔ مثلاً : رسول اللہﷺ کا اپنے مرض الموت میں ابوبکر صدیقؓ کو نماز کی امامت کیلئے آگے کرنا(اور پھر نبیﷺ جتنے دن زندہ رہے ، انہی کا امامت کراتے رہنا)

اس سلسلہ میں سب سے واضح نص صحیح بخاری(5666) اور صحیح مسلم(2387) میں مروی ہے (اور ی یہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں)

عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت: قال لی رسول اللہﷺ فی مرضہ:”ادعی لی ابابکر وأخاک حتی أکتب کتابا، فانی أخاف أن یتمنی متمن ویقول قائل: أنا اولی، ویابی اللہ والمؤمنون الا بابکر”

ترجمہ: عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے ، فرماتی ہیں: مجھ سے رسول اللہﷺ نے اپنے مرض میں فرمایا: ” ابوبکر کو، اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ایک خط لکھوں ، کیونکہ میں ڈرتا ہوں کوئی تمنا کرنے والا تمنا کر بیٹھے اور کہے : مین(تولیتِ امر کا) سب سے زیادہ مستحق ہوں، اللہ تعالیٰ اور تمام مؤمنین، ابوبکر صدیق کے علاوہ سب کا انکار کرتے ہیں۔”

“ب” دوسرا طریق سے خلیفہ یا امیر کا تعین ہوتا ہے وہ اہلِ حل و عقد کا اتفاق ہے ، اس کی دلیل، رسول اللہﷺ کے بعد صحابہ کرام کا ابوبکر صدیق ؓ کو بالاتفاق خلیفہ چن لینا ہے ، صحابہ کرام کا یہ اتفاق ، ان دلائل اور نصوص کی بناء پر بھی تھا جو ابوبکر صدیقؓ کے أحق بالخلافۃ ہونے پر دال تھے ، جن میں سے بعض نصوص کی طرف اشارہ گزر چکا ۔

“ج” تیسرا طریق یہ ہے کہ خلیفہ وقت اپنے بعد آنے والے خلیفہ کا خود تقرر کر دے جیسا کہ ابوبکر صدیق ؓ نے عمر، بن خطاب ؓ کا بطورِ خلیفہ تعین فرما دیا تھا، نیز جنابِ عمر ؓ کا مذکورہ اثر بھی دلیل بن سکتا ہے ۔

“د” چوتھا طریق یہ ہے کہ کوئی شخص قہر و طاقت سے اقتدار پر غالب آ جائے ، اور اس کا معاملہ رعیت میں استقرار پکڑلے ، جیسا کہ ابوالعباس السفاح نے ، بنو أمیہ سے خلافت چھین کر اقتدار پر قبضہ اور غلبہ حاصل کر لیا تھا۔

یہ چاروں امور، امام قرطبی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں قولہ تعالیٰ(وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً) کے تحت ذکر فرمائے ہیں۔

ہمارے استاد، شیخ محمد الأ میں الشنقیطی رحمہ اللہ اپنی کتاب” اضواء البیان” میں اسی آیتِ کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

” امام قرطبی فرماتے ہیں: جس شخص میں امامت و امارت کی اہلیت و صلاحیت موجود ہو ، اور وہ قہر و غلبہ سے اسے حاصل کر لے تو اسے حصولِ اقتدار کی چوتھی شکل کے طور پر قبول کیا گیا ہے ۔ سہل بن عبد اللہ التستری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا : کوئی شخص امامت کا اہل ہو اور وہ ہمارے ملک کے اقتدار پر غالب آ جائے تو ہم پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے ؟ فرمایا: اسے قبول کر لو، اور وہ تم سے اپنے جس حق کا مطالبہ کرے اسے ادا کرو، اس کے کسی اچھے فعل کا انکار نہ کرو، اور نہ ہی اس سے فرار اختیار کرو، اگر وہ کسی امرِ دین کا تمہیں راز دان بنائے تو اس کا راز کبھی افشاء نہ کرو۔

ابنِ خویز منداد فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص ، لوگوں کے مشورہ اور چناؤ کے بغیر اقتدار پر قابض ہو جائے ، اور وہ اقتدار کا اہل ہو، اور لوگ اس کی بیعت کر لیں تو وہ بیعت صحیح اور مکمل شمار ہو گی(واللہ اعلم)”

امام نووی نے صحیح مسلم کی شرح(12/234) میں عبد اللہ بن عمروؓ کا یہ قول نقل فرمایا ہے :

“أطعۃ فی طاعۃ اللہ، واعصہ فی معصیۃ اللہ” یعنی:” اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں امیر کی اطاعت کرو، اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں امیر کی نافرمانی کرو” امام نووی اس قول کے تحت فرماتے ہیں: یہ قول اس امیر کی اطاعت کے واجب ہونے کی بھی دلیل ہے جو کسی اتفاق یا تعین کے بغیر قہراً اقتدار پر قابض ہو جائے ۔

حافظ ابنِ حجر فتح الباری (13/122) میں فرماتے ہیں:

“اگر کوئی شخص بزورِ طاقت، حقیقۃً ، اقتدار پر غلبہ حاصل کر لے تو فتنہ کی آگ بجھانے کیلئے اس کی اطاعت واجب ہو جائے گی، بشرطیکہ کسی معصیت کا حکم نہ دے ۔”

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اپنے ” اعتقاد” میں فرماتے ہیں:

“جو شخص مسلمانوں کے امام یا سربراہ پر بغاوت یا خروج اختیار کرتا ہے ، حالانکہ لوگ اس کی امامت پر مجتمع ہو چکے ہیں اور اس کی خلافت کا اقرار کر چکے ہیں، وہ امامت جیسے بھی حاصل ہوئی ہو، خواہ اربابِ حل و عقد کی رضا سے یا قہرو غلبہ سے ، تو اس بغاوت کرنے والے نے مسلمانوں کی جماعت اور وحدت کو بارہ بارہ کرنے کی کوشش کی، نیز رسول اللہﷺ سے ثابت آثار و احادیث کی مخالفت کی ، یہ شخص اگر اسی حالت میں مرگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔”

حافظ ابنِحجر فتح الباری(13/7) میں حدیثِ رسول اللہﷺ :”جو اپنے امیر کی کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو اس پر صبر کرے ، کیونکہ جو جماعت سے ایک بالشت علیحدہ ہو جائے پھر اسی حال میں مر جائے تو اس کی موت جاہلیت کی ہو گی” کے تحت فرماتے ہیں:

“ابن ِ بطال فرماتے ہیں: یہ حدیث اس بات پر حجت ہے کہ بادشاہ ، خواہ ظل ہی کیوں نہ کرے ، پر خروج ناجائز ہے ، فقہاء کا اس بات پر اجماع ہے کہ زبردستی اقتدار پر غلبہ حاصل کرنے والے حاکم کی اطاعت اور اس کے ساتھ مل کر دشمن سے جہاد کرنا واجب ہے ، اس کی اطاعت کرنا ، اس پر بغاوت کرنے سے بہتر ہے ، کیونکہ بغاوت میں لوگوں کے قتل و غارت گری کا بہت امکان ہوتا ہے ۔ ان کی دلیلِ حدیثِ مذکور اور دیگر بہت سی احادیث ہیں۔ فقہاء نے صرف ایک ہی استثنائی صورت ذکر کی ہے ، اور وہ یہ کہ بادشاہ سے کسی صریح کفر کا ارتکاب ثابت ہو جائے ، ایسی صورت میں اس کی اطاعت جائز نہیں ہو گی،بلکہ اگر قدرت ہو تو اس کے خلاف جہاد واجب ہو جائے گا، جیسا کہ اس سے بعد والی حدیث سے ثابت ہوتا ہے ۔

واضح ہوکہ وہ بعد ولی حدیث، عبادۃ بن صامت ؓ کی حدیث ہے ، فرماتے ہیں:” ہم نے رسول اللہﷺ کے ہاتھ پر اپنے ولی امر کی ہر پسندمیں اور ہر تنگی و آسانی میں اور دوسروں کے ہم پر ترجیح دینے کے باوجود، سمع و اطاعت کرتے رہنے پر بیعت کی اور یہ کہ ہم اپنے صاحب امر سے (بسلسلہ اقتدار) جھگڑا مول نہ لیں، الا یہ کہ تم ان کا کسی صریح کفر کا مرتکب ہونا کہ جس کے کفر پر تمہارے پاس واضح برہان ہو، دیکھ لو”

 

 

 

حکام کے ساتھ خیر خواہی​

 

(3) حکام کا رعیت پر یہ حق ہے کہ وہ ان کے ساتھ خیر خواہی کا برتاؤ کریں، خیر خواہی کی بہت سی صورتیں ہیں: (1) معروف یعنی نیکی کے کاموں میں ان کی سمع و اطاعت (2) ان کیلئے سداد واستقامت کی دعا(3) ان پر خروج یعنی بغاوت سے یکسر گریز کرنا، خواہ وہ ظلم ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔

اس خیر خواہی کے بہت سے ادلہ ہیں:

رسول اللہﷺ کا فرمان ہے :“الدین النصیحۃ ، قلنا: لمن قال: للہ والکتابہ ولرسولہ ولأئمۃ المسلمین وعامتھم”

یعنی: ” دین تو خیر خواہی کا نام ہے ، ہم نے پوچھا: کس کیلئے ؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ کیلئے ، اس کی کتاب کیلئے ، اس کے رسول کیلئے ، مسلمانوں کے أئمہ وحکام کیلئے ، اور عامۃ الناس کیلئے ” (صحیح مسلم(95) مؤطا امام مالک (2/990) میں سہیل بن ابی صالح اپنے والد ابو صالح ، اور وہ ابو ھریرۃ ؓ سے روایت کرتے ہیں، رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: “ان اللہ یرضی لکم ثلاثا، ویسخط لکم ثلاثا ، یرضی لکم أن تعبدوہ ولا تشر کو ابہ شیئا ، وأن تعتصموا بحبل اللہ جمیعا وأن تناصحوا من ولاہ اللہ أمر کم، ویسخط لکم قیل وقال، واضاعۃ المال، وکثرۃ السؤال

یعنی:” بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے لئے تین چیزیں پسند فرماتا ہے ، اور تین ناپسند ۔ جو چیزیں پسند فرماتا ہے وہ یہ ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور یہ کہ تم سب مل کر اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جنہیں تمہارے امور کا نگران اور حاکم مقرر فرمایا ہے ، ان کے ساتھ خیر خواہی کرو۔ اور جو چیزیں اللہ تعالیٰ کی ناپسندیدگی اور ناراضگی کا باعث ہیں وہ: قیل و قال ، مال کو ضائع کرنا اور کثرت سے سوال کرنا ہیں۔” اس حدیث کو امام احمد نے ا پنی مسند(8799) میں روایت فرمایا ہے ، اور یہ صحیح حدیث ہے ۔

مسند احمد(21590) میں ، بسندِ صحیح، زید بن ثابت ؓ کو ایک طویل حدیث میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں:” ثلاث لایغل علیھن قلب مسلم أبدا:اخلاص العمل للہ، ومناصحۃ ولاۃ الأمر، ولزوم الجماعۃ، وان دعو تھم تحیط من ورائھم ”

ترجمہ:” تین خصلتیں ایسی ہیں جن پر کسی مسلمان کا دل فریب خوردہ نہیں ہوسکتا ، ایک اللہ تعالیٰ کیلئے اخلاصِ عمل ، دوسری حکام کے ساتھ خیر خواہی، تیسری جماعت کے ساتھ چمٹے رہنا،۔۔۔۔

حافظ ابن القیم۔” مفتاح دار السعادۃ” (ص:79) میں مذکور حدیث کے ٹکڑے “لایغل علیھن قلب مسلم” کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

“یعنی جب تک مسلمان کے دل میں یہ تین چیزیں باقی اور موجود ہیں ، تب تک اس کا دل غِل یعنی دھوکہ ، فریب، ہر قسم کے فساد اور میل کچیل سے پاک ہو گا۔

پھر مزید فرماتے ہیں: حکام کے ساتھ خیر خواہی بھی فریب خوردگی کے منافی ہے ، کیونکہ خیر خواہی اور فریب اکھٹے نہیں ہوسکتے ، بلکہ خیر خواہی، فریب کی ضد ہے ، جو أئمہ اور اُمت کا خیر خواہ ہو گا وہ ہر قسم کے فریب سے پاک ہو گیا۔ اور رسول اللہﷺ کا یہ فرمان:”ولزوم جماعتھم” یعنی مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ چمٹے رہنا، بھی دل کو دھو کے سے پاک کرتا ہے ، کیونکہ جب تک ایک شخص بھی مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ چمٹا رہے گا، تب تک وہ ان کیلئے وہی کچھ پسند کرے گایا ناپسند کرے گا، جو اپنے لئے پسند یا نا پسند کرے گا ، اور تب تک جو چیز اس کیلئے خوشی یا تکلیف کا موجب ہو گی، اسی چیز کو ان کیلئے بھی خوشی یا تکلیف کی موجب تصور کرے گا۔”

امام نووی شرحِ مسلم(2/38) میں فرماتے ہیں:

“مسلمان حکام کے ساتھ خیر خواہی کا معنی یہ ہے کہ امورِ حق پر ان کی معاونت اور اطاعت کرے ، نیز انتہائی نرم خوئ اور لطف و محبت کے ساتھ انہیں حق کی تلقین و تبلیغ کرتا رہے ، اگر حکام کی طرف سے مسلمانوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی یا غفلت کا ارتکاب دیکھے تو ان پر تنقید کا طوفان بپا کرنے کے بجائے انہیں اچھے طریقے سے باخبر کرے ۔ ان پر خروج یعنی بغاوت سے یکسرگریز کرے ، عامۃ الناس کو بھی ان کی اطاعت کی ترغیب دے ۔ امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حکام کے ساتھ خیر خواہی کا معنی یہ بھی ہے کہ ان کے پیچھے نماز پڑھے ، ان کے ساتھ ملکر جہاد کرے ، اپنے

صدقات اُنہی کو ادا کرے ، اور اگر ان سے ظلم یا بد معاملگی ظاہر ہو تو ان سے بغاوت کی راہ اختیار نہ کرے ، ان کی جھوٹی تعریفیں کر کے انہیں دھوکے میں نہ رکھے ، اور ان کی رشد و صلاح کی دعائیں کرتا رہے ۔”

حافظ ابنِ حجر فتح الباری(1/138) میں فرماتے ہیں:

“أئمہ المسلمین کے ساتھ خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ ان کے کاندھوں پر جو بارِ سلطنت ڈال دیا گیا ہے ، اس پر ان کی اعانت کرے ، بصورتِ غفلت انہیں آگاہی دے کر بیدار کرے ، کسی کوتاہی یا غلطی کی صورت میں ان کی اصلاح کر دے ، ان پر رعیت کا شیرازہ بکھیرنے کی بجائے مجتمع رکھے ، جو دل حکام سے متنفر ہوں ان کی اصلاح کر کے انہیں حکام کے قریب کر دے ۔

سب سے بڑی خیر خواہی یہ ہے کہ انہیں ارتکابِ ظلم سے ، بطریقِ احسن باز رکھے ۔

أئمۃ المسلمین کے زمرے میں، أئمہ اجتہاد (علماء وقضاۃ) بھی آتے ہیں ، جن کے ساتھ خیر خواہی کا تقاضہ یہ ہے کہ ان کے علوم کو پھیلایا جائے ، ان کی مناقب (اچھائیاں) عام کی جائیں اور ان کے ساتھ ہمیشہ اچھا گمان رکھا جائے ۔”

واضح ہو کہ حکام کے ساتھ، بلکہ ہر کسی کے ساتھ خیر خواہی تنہائی میں، انتہائی رفق اور نرم خوئ کے ساتھ ہونی چاہئے ، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا موسیٰ اور ھارون علیھما السلام سے یہ فرمانا ہے :

(اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّه طَغٰى فَقُوْلَا لَه قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّه يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى) (طہ:43 -44)

ترجمہ:” تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے بڑی سرکشی کی ہے ۔ اسے نرمی سے سمجھاؤ کہ شاید وہ سمجھ لے یا ڈر جائے ”

عن عائشۃ رضی اللہ عنھا عن النبیﷺ قال:”ان الرفق لایکون فی شئ الا زائہ، ولا ینزع من شئ الا شائہ” یعنی: ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے ، رسول اللہﷺ نے فرمایا:”رفق یعنی نرمی جس چیز میں آ جائے اسے خوبصورت کر دیتی ہے ، اور جس چیز سے چھین لی جائے اسے بدصورت کر دیتی ہے “(صحیح مسلم(2594)

صحیح بخاری(3267) اور صحیح مسلم(2989) میں، ابووائل شقیق بن سلمۃ سے مروی ہے ، فرماتے ہیں: اسامہ نے کہا گیا: ” آپ امیر المؤمنین عثمانِ غنی ؓ پر

داخل ہو کر ان سے بات کیوں نہیں کرتے ؟ فرمایا: تم سمجھتے ہو کہ میں ان سے بات کروں تاکہ تم سنو؟ واللہ! میں نے ان سے تنہائی میں بات کی ہے ، اور میں نہیں چاہتا کہ میں ایک ایسی روش شروع کروں، جس کا شروع کرنا میرے ساتھ منسوب کر دیا جائے ۔الحدیث” (یہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں)

حافظ ابنِ حجر فتح الباری(13/51) میں اس قول کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

“اسامہ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس بات کی طرف تم نے اشارہ کیا ہے وہ میں امیر المؤمنین سے تنہائی میں کر چکا ہوں، کیونکہ مصلحت اور ادب کا یہی تقاضہ ہے ، میں نہیں چاہتا کہ میری بات کسی فتنہ کا سبب بن جائے ”

عن عیاض بن غنم ؓ عن رسول اللہﷺ قال: “من أراد أن ینصح السلطان بأمر فلایبدلہ علانیۃ ولکن لیأ خذ بیدہ فیخلوبہ، فان قبل منہ فذاک ، والا کان قد أدی الذی علیہ لہ”

ترجمہ:”جس شخص کا بادشاہِ وقت کو کوئی نصیحت کرنے کا ارادہ ہو تو وہ علی الاعلان اس کا اظہار نہ کرے ، بلکہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے تنہائی میں لے جائے (اور وہ نصیحت پیش کر دے ) اگر وہ اسے قبول کر لے تو بہت بہتر ہے ، ورنہ اس نے اپنا فریضہ ادا کر دیا” (مسند احمد(15333) مستدرک حاکم(3/290) کتاب السنۃ لابن ابی عاصم(1096 تا 1098) شیخ البانی اس کی تخریج (2/523) میں فرماتے ہیں: یہ حدیث اپنے طرق کے مجموعہ کی بناء پر صحیح ہے ۔)

اگر حاکم کو نصیحت کرنا، رفق ولین(نرمی) سے خالی ہو، اور وہ اعلانیہ بھی ہو، تو وہ فائدہ مند ہونے کی بجائے نقصان وہ ہو گی۔ پر شخص یہ چاہتا ہے کہ جب اس میں کوئی عیب ہو تو اسے نرمی سے تنہائی میں نصیحت کی جائے ، تو پھر اسے بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرنا چاہئے جو وہ اپنے بارہ میں چاہتا ہے (اور خصوصاً حکام اس سلوک کے زیادہ مستحق ہیں)

صحیح مسلم(1844) میں عبد اللہ بن عمر و بن العاص ؓ سے مروی ایک طویل حدیث میں یہ الفاظ بھی وار د ہیں:” جو شخص جہنم سے بچاؤ اور جنت کا داخلہ چاہتا ہے تو اس کی موت اس طرح آنی چاہئے کہ اس کا اللہ تعالیٰ اور روز ِ آخرت پر ایمان ہو، اور لوگوں کے ساتھ وہ سلوک اور معاملہ کرے جو اپنے بارہ میں چاہتا ہے ”

 

 

 

حکام کی اطاعت معروف میں ہے معصیت میں نہیں​

 

(4) حکام کے ساتھ خیر خواہی میں یہ انتہائی اہم نکتہ شامل ہے کہ امرِ معروف میں ان کی اطاعت کی جائے اور اگر وہ کسی معصیت کا حکم دیں تو ان کی سمع و اطاعت سے گریز کیا جائے ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ​) (النساء: 59)

ترجمہ:” اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول اللہ(ﷺ) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی “​

حکام کی سمع و اطاعت پر بے شمار احادیث مروی ہیں، جن میں سے عبد اللہ بن عمر، ابوھریرۃ، ابو ذر غفاری اور عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنھم کی احادیث اسی بحث میں گزرچکی ہیں۔

سنن نسائی(4168) میں صحیح سند کے ساتھ، جریر بن عبد اللہ ؓ کی روایت ہے ، فرماتے ہیں:

“بایعت النبیﷺ علی السمع والطاعۃ وأن أنصح لکل مسلم” یعنی:” میں نے نبیﷺ کے ہاتھ پر حکام کی سمع واطاعت کرنے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرتے رہنے کی بیعت کی ہے ” صحیح مسلم(1847) میں حذیفہ بن الیمان ؓ سے مروی ایک طویل حدیث میں، رسول اللہﷺ کے یہ الفاظ بھی ہیں:”تسمع وتطیع للأمیر، وان ضرب ظھر ک وأخذ مالک، فاسمع وأطع”

یعنی:” امیر کی سمع و اطاعت کرو، اور اگر وہ تمہاری پشت پر کوڑے مارتا ہو اور تمہارے مال کی زکوٰۃ وصول کرتا ہو تو ضرور اس کی بات سنو اور اطاعت کرو”

عن أبی ھریرۃ عن النبیﷺ قال: “من أطاعنی فقد أطاع اللہ، ومن یعصنی فقد عصی اللہ، ومن یطع الأمیر فقد أطاعنی ، ومن یعص الأمیر فقد عصانی”

ابوھریرۃ ؓ سے مروی ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ تعالیٰ کیا طاعت کی، اور جس نے میری نا فرمانی کی ، اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ، اور جو اپنے امیر کی اطاعت کرتا ہے ، اس نے میری اطاعت کی، اور جو اپنے امیر کی نافرمانی کرتا ہے اس نے میری نافرمانی کی” (صحیح بکاری(7137) صحیح مسلم(1835) یہ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں)

صحیح مسلم(1846) میں وائل بن حجرؓ سے مروی ہے ، فرماتے ہیں، سلمۃ بن یزید الجعفی نے رسول اللہﷺ سے سوال کیا : اے اللہ کے نبی! اگر ہم پر ایسے امراء مسلط ہو جائیں جو ہم سے اپنے حقوق کا تو تقاضہ کریں، مگر ہمیں ہمارے حقوق سے منع کر دیں؟ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

“سنو اور اطاعت کرو، ان پر ان کی ذمہ داریاں ہیں اور تم پر تمہاری ذمہ داریاں ہیں”

تفسیرِ قرطبی(5/259) میں ہے :” سھل بن عبداللہ التستری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:” جب حاکم ِ وقت، کسی عالم کو فتویٰ دینے سے روک دے ، تو اسے فتویٰ دینا جائز نہیں ہو گا، اور اگر وہ فتویٰ دے گا تو نافرمان قرار پائے گا، خواہ وہ حاکم ظالم ہی کیوں نہ ہو”

اس کی دلیل عوف بن مالک الاشجعی ؓ کی حدیث ہے ، رسول اللہﷺ نے فرمایا:”لایقبض الا أمیر أومأمور أو مختال” یعنی: ” تقریر یا تو حاکم کرتا ہے ، یا حاکم کا مأمور، یا پھر متکبر”

(مسند احمد(24005) ابوداؤد(3665) یہ حدیث اپنے جملہ طریق کے ساتھ صحیح ہے ، شیخ البانی کی مشکوٰۃ کی حدیث (240) پر تعلیق ملاحظہ ہو)

ابو موسیٰ اشعری ؓ حجِ تمتع کا فتویٰ دیتے تھے ، انہیں یہ خبر پہنچی کے امیر المؤمنین عمر بن خطاب ؓ نے حجِ افراد کا حکم ارشاد فرمایا ہے ، تو انہوں نے لوگوں سے کہا:”ہم نے جسے حجِ تمتع کا فتویٰ دیا ہے وہ رُک جائے ، کیونکہ امیر المؤمنین تشریف لانے والے ہیں، انہی کے حکم کی اقتداء کرنا”

(صحیح مسلم(1221)

السنن الکبریٰ للبیھقی(3/144) میں ہے ، عبد الرحمٰن بن یزید کہتے ہیں:” ہم عبد اللہ بن مسعودؓ کے ساتھ، میدانِ منیٰ میں تھے جب وہ(ابنِ مسعود) منیٰ کی مسجد میں داخل ہوئے تو پوچھا: امیر المؤمنین نے کتنی رکعت پڑھی ہیں؟ لوگو ں نے کہا: چار رکعت ، تو عبد اللہ بن مسعود ؓ نے بھی چار رکعت پڑھیں۔ ہم نے عرض کیا: آپ ہی تو حدیث بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے میدانِ منیٰ میں دو رکعت پڑھیں(یعنی نماز قصر کی) ؟ نیز ابوبکر صدیق ؓ نے بھی دو رکعت پڑھیں؟

فرمایا: کیوں نہیں، یہ حدیث میں اب بھی بیان کرتا ہوں، لیکن چونکہ عثمانِ غنی ؓ ہمارے امیر ہیں، مجھے ان کی مخالفت گوارا نہیں، اور اختلاف تو انتہائی بُری چیز ہے ”

یہ حدیث ابوداؤد(1960) میں بھی ہے ، بیہقی (3/143) نے اسے اپنی سند سے روایت کیا ہے مگر اس میں ایک مبہم راوی ہے ، بیہقی ایک اور سند بھی لائے ہیں، اس میں بھی ایک مبہم راوی ہے ، اس میں یہ الفاظ بھی ہیں:” میں اختلاف کونا پسند کرتا ہوں”

سفر میں پوری نماز پڑھنا اگرچہ خلافِ أولیٰ ہے ، مگر ابنِ مسعود ؓ نے امیر المؤمنین کی مخالفت ترک کرنے کو بہتر سمجھا اور پوری نماز پڑھی۔

صحیح بخاری(956) اور صحیح مسلم(889) میں، مروان کا عید کے دن ، نماز سے قبل خطبہ دینے اور ابو سعید الخدری ؓ کے انکار کرنے کا قصہ مذکور ہے ۔ اس کے تحت حافظ ابنِ حجر فتح الباری (2/450) میں لکھتے ہیں: اس حدیث سے حاصل ہونے والے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ ایک عالم کا خلافِ أولیٰ مسئلہ پر عمل کرنا جائز ہے اس وقت جب حاکم أولیٰ مسئلہ پر موافقت نہ کرے ، کیونکہ ابو سعید الخدریؓ اس انکار کے بعد میدانِ عید سے واپس نہیں گئے بلکہ امیر کے ساتھ خطبہ اور نماز ادا کی۔ جس سے یہ استدلال بھی کیا جا سکتا ہے کہ عید کے دن ابتداء بالصلاۃ، صحتِ نماز کیلئے شرط نہیں ہے (واللہ اعلم)

حافظ ابنِ رجب رحمہ اللہ،”جامع العلوم والحکم” (2/117) میں فرماتے ہیں:

“مسلمانوں کے حکام کی سمع و اطاعت ، سعادتِ دنیا کی موجب ہے ، اس سمع و اطاعت کے ساتھ بندوں کی معیشت کی مصلحتوں کا منظّم ہونا وابستہ ہے ، اور اسی سے پروردگار کی اطاعت کے اظہار پر مدد ملتی ہے ۔”

 

حکام کے ساتھ خیر خواہی کا تقاضا​

 

(5) حکام کے ساتھ خیر خواہی کا ایک تقاضہ یہ بھی ہے کہ ان کی استقامت وسداد کیلئے دعا کی جائے ، اور بد دعا نہ کی جائے ، اہل السنۃ والجماعۃ کا یہی طریقہ تھا۔ شیخ الاسلام بن تیمیہ رحمہ اللہ “السیاسۃ الشرعیۃ” (ص:129) میں فرماتے ہیں:

اسی لئے سلف صالحین، مثلاً: فضیل بن عیاض اور احمد بن حنبل وغیرہ فرمایا کرتے تھے : “لو کان لنا دعوۃ لنا دعوۃ مجابۃ لدعونا بھا للسلطان” یعنی: ارگ ہمیں کسی دعا کے قبول ہونے کا علم ہو جائے تو وہ دعا ہم بادشاہِ وقت کیلئے کریں گے ۔

شیخ ابو محمد الحسن البر بہاری اپنی کتاب”شرح السنۃ”(ص:116) میں فرماتے ہیں:

“جب تم کسی شخص کو بادشاہ پر بددعا کرتے ہوئے دیکھو تو سمجھ لو کہ وہ شخص بدعتی ہے اور جب تم کسی شخص کو بادشاہ کی درستگی و اصلاح کی دعا کرتے ہوئے دیکھو تو سمجھ لو کہ وہ ان شاء اللہ صاحبِ سنت ہے ، فضیل بن عیاض فرمایا کرتے تھے : اگر میرے پاس کوئی دعائے مستجاب ہو تو میں وہ دعا صرف حاکم وقت کو دوں گا۔( امام بر بہاری، فضیل بن عیاض کے اس قول کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ) کسی نے ان سے کہا : اے ابو علی! اپنے اس قول کی وضاحت کرو، فرمایا: وہ دعائے مستجاب اگر میں اپنے لئے مانگو گا تو اس کا اثر میری ذات تک محدودرہے گا، آگے نہیں بڑھے گا، اور اگر وہ دعا حاکم کو دوں گا تو اس کی اصلاح ہو گی، اور اس کی اصلاح سے لوگوں اور شہروں کی اصلاح ہو گی، تو ہمیں یہ حکم ہے کہ ہم حکام کی اصلاح کی دعا کریں، یہ حکم نہیں کہ ان پر بددعا کریں، خواہ وہ ظالم ہی کیوں نہ ہوں، کیونکہ ان کا ظلم و جوران کی ذات پر ہے ، اور ان کی اصلاح ان کی ذات اور تمام مسلمانوں کیا صلاح ہے ”

امام طحاوی”عقیدۃ اھل السنۃ والجماعۃ” میں فرماتے ہیں:

“ہم اپنے أئمہ اور ولاۃِ امور، خواہ وہ ظالم ہی کیوں نہ ہوں، پر خروج و بغاوت جائز نہیں سمجھتے ، نہ ہم ان پر بد دعا کرتے ہیں، نہ ان کی اطاعت سے ہاتھ کھینچتے ہیں، ان کی اطاعت کو، اللہ تعالیٰ کی اطاعت قرار دیتے ہوئے ، شرعی فریضہ قرار دیتے ہیں، جب تک وہ کسی معصیت کا حکم نہ دیں، ان کیلئے ہمیشہ اصلاح و عافیت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں”

(شرح العقیدۃ الطحاویۃ لابن ابی العز(540)

شیخ ابو اسمٰعیل الصابونی اپنی کتاب” عقیدۃ السلف اصحاب الحدیث” (ص:92 تا 93) میں فرماتے ہیں:

“اصحاب الحدیث ہر مسلم حکمران، خواہ وہ نیک ہوں یا فاجر، کے پیچھے ، جمعہ ، عیدین اور دیگر نماز یں ادا کرنا جائز سمجھتے ہیں، نیز ان کے ظلم و جور اور فسق و فجور کے باوجود ان کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد ضروری قرار دیتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ان کیلئے اصلاح ، توفیق ، استقامت اور

رعیت میں عدل و انصاف عام کرنے کی دعائیں مانگتے رہنے کی تلقین کرتے ہیں”

(6) حکام سے اگر کسی قسم کے ظلم یا گناہ کا ارتکاب ثابت ہو جائے تو ان پر خروج یا بغاوت جائز نہیں، کیونکہ بغاوت پر جو بے انتہاء فتنہ و فساد مرتب ہوسکتا ہے وہ حکام کے ظلم یا معصیت سے کہیں زیادہ ہو گا، الا یہ کہ وہ کسی واضح اور کھلم کھلا کفر کا ارتکاب کر بیٹھیں۔ ا س مؤقف پر رسول اللہﷺ کی احادیث اور سلف صالحین کا عمل ، بطورِ دلیل موجود ہے ۔

صحیح بخاری(7055) اور صحیح مسلم(1709) میں ، عبادۃ بن صامت ؓ کی یہ حدیث موجود ہے ، فرماتے ہیں:

“بایعنا رسول اللہﷺ علی السمع والطاعۃ فی منشطنا ومکر ھنا وعسرنا ویسرنا، وأثرۃ علینا، وأن لا ننازع الأزع الأمر اہلہ، الا أن تروا کفرا بواحا عندکم من اللہ فیہ برھان”

ترجمہ:”ہم نے رسول اللہﷺ کے ہاتھ پر اپنے ولی امر کی ہر پسند وناپسند میں ہر تنگی وآسانی میں اور دوسروں کے ہم پر ترجیح دینے کے باوجود، سمع و اطاعت کرتے رہنے پر بیعت کی ہے اور یہ کہ ہم اپنے صاحبِ امر سے (بسلسلہ اقتدار ) جھگڑا مول نہ لیں، الا یہ کہ تم ان کا کسی صریح کفر کا مرتکب ہونا کہ جس کے کفر پر تمہارے پاس واضح برہان ہو، دیکھ لو”

عن عوف بن مالک الأشجعیؓ قال: سمعت رسول اللہﷺ یقول: “خیارکم أئمتکم الذین تحبو نھم وحبونکم، وتصلون علیھم ویصلون علیکم، وشرار أئمتکم الذین تبغضو نھم ویبغضونکم ، وتلعنو نھم ویلعنونکم، قالو: قلنا: یارسول اللہ! أفلا ننابذ ھم عند ذلک قال: لا! ماأقاموا فیکم الصلاۃ، لا! ماأقاموافیکم الصلاۃ، ألا من ولی علیہ وال، فرآہ یأتی شیئا من معصیۃ ، فلیکرہ مایأتی من معصیہ اللہ، ولا یترعن یدا من طاعۃ”

ترجمہ:” عوف بن مالک الأشجعیؓ سے مروی ہے ، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:” تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں، تم انہیں دعائیں دو اور وہ تمہیں دعائیں دیں، جبکہ بدترین حکمران وہ ہیں، جن سے تم بغض وعداوت رکھو اور وہ تم سے بغض و عداوت رکھیں، تم ان پر لعنتیں برساؤ اور وہ تم پر لعنتیں برسائیں۔ صحابہ نے عرض کیا: یار سول اللہﷺ ! اگر ہم ایسے حکمران پائیں تو

ان سے اپنا اطاعت کا ہاتھ کھینچ نہ لیں؟ فرمایا: نہیں، جب تک نماز قائم کرتے ہوں۔ نہیں، جب تک نماز قائم کرتے ہوں۔ پھر ارشاد فرمایا: جس شخص پر کوئی حاکم مقرر ہو، اور وہ اس کے اندر کسی گناہ کا ارتکاب دیکھتا ہو تو اس گناہ سے نفرت کرے ، لیکن اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچے ” (صحیح مسلم(1855)

عن أم سلمۃ رضی اللہ عنھا عن النبیﷺ أنہ قال: “انہ یستعمل علیکم أمراء، فتعرفون وتنکرون، فمن کرہ فقد برئ، ومن أنکر فقد سلم، ولکن من رضی وتابع ، قالو: یا رسول اللہ! ألا نقاتلھم قال: لاماصلوا”

ترجمہ: أم ِ سلمۃ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے ، نبیﷺ نے ارشاد فرمایا:”عنقریب تم پر ایسے امراء حکام مقرر ہوں گے جن کے کچھ امور کو تم (شریعت کی موافقت کی وجہ سے ) پہچانتے ہو گے ، جبکہ کچھ امور کا (عدمِ موافقت کی وجہ سے ) انکار کرتے ہو گے ، جس نے قابلِ انکار امور کو ناپسند کیا وہ بری ہو گیا، اور جس نے ا نکار کر دیا اس نے سلامتی پالی، لیکن جو ان امور پر راضی ہو گیا اور متابعت بھی کر لی(وہ بربادی کی راہ پر چل نکلا) صحابہ نے کہا: یا رسول اللہﷺ کیا ہم ایسے حکام سے قتال نہ کریں؟ فرمایا: نہیں، جب تک وہ نماز پڑھتے ہوں” (صحیح مسلم(1854)

عن ابن عباس رضی اللہ عنھما عن النبیﷺ قال:“من رأی من أمیرہ شیئا یکرھہ فلیصبر علیہ، فانہ من فارق الجماعۃ شبرا فمات الا مات میئۃ جاھلیۃ”

ترجمہ: عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے ، رسول اللہﷺ نے فرمایا:” جو شخص اپنے امیر میں کوئی نا پسندیدہ چیز دیکھے تو وہ اس پر صبر کرے ، کیونکہ جو شخص ایک بالشت بھر جماعت سے جدا ہوا اور مرگیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی”

(صحیح بخاری(7054) اور صحیح مسلم(1849)

حافظ ابنِ حجر فتح الباری (13/7) میں فرماتے ہیں:

“ابنِ ابی جمرۃ فرماتے ہیں: اس حدیث میں جماعت سے مفارقت یعنی جدائی سے مراد یہ ہے کہ امیر کو جو عقدِ بیعت حاصل ہے اس کی گرہ کھولنے کی کوشش کرے ، خواہ وہ کوشش کتنی ہی معمولی ہی کیوں نہ ہو، اس معمولی کوشش کی مقدار کو”شبر” یعنی بالشت کی تعبیر سے واضح فرمایا: کیونکہ اس کو شش کا نتیجہ، ناحق خون ریزی کے سوا کچھ نہیں”

امام احمد اپنے ” الاعتقاد” میں فرماتے ہیں:

” کسی شخص کیلئے بادشاہ سے قتال کرنا یا اس پر خروج و بغاوت اختیار کرنا حلال نہیں ہے ، جس شخص نے ایسا کیا وہ سنت و ہدایت کے راستے سے بھٹک کر بدعتی بن جائے گا”

(السنۃ للالکائی(1/161)

ابھی ابھی امام طحاوی کا قول گزرا ہے ،(افادیت کیلئے دو بارہ نقل کیا جاتا ہے : )

“ہم اپنے أئمہ اور ولاۃِ امور، خواہ وہ ظالم ہی کیوں نہ ہوں، پر خروج و بغاوت جائز نہیں سمجھتے ، نہ ہم ان پر بد دعا کرتے ہیں، نہ ان کی اطاعت سے ہاتھ کھینچتے ہیں، ان کی اطاعت کو، اللہ تعالیٰ کی اطاعت قرار دیتے ہوئے ، شرعی فریضہ قرار دیتے ہیں، جب تک وہ کسی معصیت کا حکم نہ دیں، ان کیلئے ہمیشہ اصلاح و عافیت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں”

امام صابونی” عقیدۃ السلف اصحاب الحدیث” (ص:93) میں فرماتے ہیں:

” (اہل السنۃ) حکام پر خروج بالسیف جائز قرار نہیں دیتے ، خواہ وہ انہیں راہِ عدل سے انحراف اختیار کر کے ، ظلم و ستم کی راہ پر مائل کیوں نہ دیکھیں”

شریعت کے قواعد میں سے ایک قاعدہ یہ ہے کہ اگر دو ضرر مسلط ہوں تو ان میں سے ہلکے ضرر کا ارتکاب کیا جائے تاکہ بڑے ضرر سے بچ سکیں۔

حافظ ابن القیم رحمہ اللہ اپنی کتاب” اعلام الموقعین” (3/15) میں فرماتے ہیں:

“رسول اللہﷺ نے اپنی امت کیلئے برائی کے انکار کے واجب ہونے کو مشروع قرار دیا ہے ، تاکہ برائی کے انکار سے ، اس کی جگہ وہ نیکی آ جائے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کو پسند ہے ، لیکن جب کسی برائی کا انکار، اس سے بڑی برائی کو مستلزم ہو، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کو زیادہ مبغوض و ناپسندیدہ ہو، تو پھر اس چھوٹی برائی کا انکار جائز نہیں ہو گا، اگرچہ وہ چھوٹی برائی بھی اللہ تعالیٰ کے بغض اور ناراضگی کا باعث ہو۔ اس کی مثال حکام و ملوک پر انکار ، خروج اور بغاوت سے دی جا سکتی ہے (اگرچہ ان حکام ا باقی رہنا ایک برائی ہوسکتا ہے ) لیکن ان پر بغاوت کا راستہ اختیار کرنے سے ، ایک ایسی اس سے بھی بڑی برائی جنم لے سکتی ہے جو قیامت تک ہر شر اور فتنہ کی بنیاد بن سکتی ہے ۔

عبد اللہ بن مسعودؓ نے کیا خوب فرمایا ہے :”تکون امور مشتبھات، فعلیکم بالتؤدۃ، فان أحد کم أن یکون تابعا فی الخیر خیر من أن یکون رأسافی الشر”

یعنی:” بہت سے ایسے امور ہوں گے جو تم پر مشتبہ ہوں گے ، ان امور کے تعلق سے تم تحمل ، بردباری اور دھیما پن اختیار کرو، کیونکہ تم اگر خیر میں تابعدار بن کر رہو تو یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ تم شر میں لیڈر بن کر رہو” (شعیب الایمان للبیھقی(7/297)

 

 

سلف صالحین کے نقشِ قدم کی پیروی کا بیان​

 

[28]: قولہ:”واتباع السلف الصالح واقتفاء آثار ھم والا ستغفار لھم”

ترجمہ:” سلف صالحین کی اتباع، ان کے نقشِ قدم کی پیروی اور ان کیلئے استغفار کرتے رہنا(اہل السنۃ کے معتقدات میں شامل ہے )”

شرح

تمام تر خیر و سعادت، رسول اللہﷺ ، صحابہ کرام اور ان کے اتباع کی پیروی میں ہے ۔​

رسول اللہﷺ نے اس امت کے تہتر فرقوں میں بٹ جانے کی پیش گوئی فرمائی ہے ، اور یہ خبر بھی دی ہے کہ ان فرقوں میں ایک کے علاوہ سب جہنم میں جائیں گے ، پوچھا گیا : یار سول اللہ ﷺ وہ ایک(جنتی) گروہ کون ہے ؟ فرمایا: وہ” الجماعۃ” ہے ۔ یہ حدیث پیچھے بیان ہو چکی ، نیز رسول اللہﷺ کا یہ فرمان بھی گزر چکا:

“۔۔۔ فانہ من یعش منکم بعدی فسیری اختلافا کثیرا ، فعلیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء المھدیین الراشدین تمسکوا بھا وعضوا علیھا بالنوا جذ وایاکم ومحدثات الامور فان کل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ”

ترجمہ:” ۔۔۔ میرے بعد تم میں سے جو زندہ رہا وہ بہت زیادہ اختلافات دیکھے گا، اس وقت تم میری سنت کو لازم پکڑ لینا، نیز خلفاء، راشدین جو ہدایت یافتہ ہیں، کی سنت کو بھی، اسے مضبوطی سے تھام لینا، بلکہ اپنی داڑھوں میں دبالینا، اور نئے نئے امور سے بچنا، ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ”

امام مالک رحمہ اللہ کا یہ قول بھی گزر چکا :”لن یصلح آخر ھذہ الأمۃ الا بما صلح بہ أولھا” یعنی: اس امت کا آخری دور اسی چیز کے ساتھ سنور سکتا ہے ، جس چیز کے ساتھ اس امت کا پہلا دور سنورا تھا۔

امام احمد بن حنبل”الاعتقاد” کے شروع میں فرماتے ہیں:

“اصول السنۃ عندنا التمسک بما کان علیہ اصحاب رسول اللہﷺ والا قتداء بھم، ترکم البدع، وکل بدعۃ فھی ضلالۃ، وترک الخصومات والجلوس مع أصھاب الأھواء، وترک المراء والجدال والخصومات فی الدین”

ترجمہ:” صحابہ کرام کے منہج کے ساتھ تمسک اور ان کی اقتداء ، ہمارے نزدیک اصولِ دین میں سے ہے ، نیز بدعات کو چھوڑ دینا بھی، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے ۔ اس کے علاوہ بدعتیوں کے ساتھ بیٹھنے اور جھگڑنے سے گریز کرنا ، نیز دین میں جدال و خصومت سے بچنا بھی اصولِ دین میں شامل ہے “(السنۃ للالکائی(1/156)

اللہ تعالیٰ نے ان صحابہ کرام کی ثناء فرمائی جو انصار و مہاجرین کے بعد آئے اور ان کیلئے استغفار کرتے رہے ، نیز اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کرتے رہے کہ ان کی بابت ہمارے دلوں میں کوئی کینہ یا خیانت پیدا نہ فرمانا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

(وَ الَّذِيْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) (الحشر:10)

ترجمہ:”اور ان کے لئے بھی جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے اور دعا کرتے ہیں کہ ہمارے پروردگار! ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے ، کہ جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں گناہ معاف فرما اور مؤمنوں کے واسطے ہمارے دلوں میں کینہ (بغض) نہ پیدا ہونے دے ۔ اے ہمارے رب! بے شک تو بڑا شفقت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے “​

اُم المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے جب بعض لوگوں کو صحابہ کرام پر طعنہ زنی کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: “أمرواأن یستغفروا الاصحاب النبیﷺ فسبوھم”

یعنی:” انہیں تو حکم دیا گیا تھا کہ وہ نبیﷺ کے صحابہ کیلئے استغفار کریں، مگر یہ انہیں گالیوں سے نواز رہے ہیں” (صحیح مسلم: 3022)

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

(وَ مَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ يَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّه مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِه جَهَنَّمَ وَ سَآءَتْ مَصِيْرًا) (النساء:115)

ترجمہ:”جو شخص باوجود راہِ ہدایت کے واضح ہو جانے کے بھی رسول(ﷺ) کا خلاف کرے اور تمام مؤمنوں کی راہ کو چھوڑکر چکے ، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کر دیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے ، وہ پہنچنے کی بہت ہی بُری جگہ ہے “​

“جامع بیان العلم وفضیلہ”لابن عبدالبر(2/97) میں عبد اللہ بن مسعود ؓ کا یہ قول مذکور ہے :

“من کان منکم متأسیا فلیتأس باصحاب محمدﷺ ، فانھم کانوا أبر ھذہ الأمۃ قلوبا، وأعمقھا علما، وأقلھا تکلفا، وأقومھا ھدیا، وأحسنھا حالا، قوما اختار ھم اللہ تعالیٰ لصحبۃ نبیہﷺ، فاعرفوا لھم فضلھم، واتبعو ھم فی آثار ھم، فانھم کانوا علی الھدی المستقیم”

ترجمہ:” تم میں سے جو شخص کسی کو مثال بنا کر پیروی کرنا چاہتا ہے تو وہ محمدﷺ کے اصحاب کو مثال بنا لے ، کیونکہ یہ لوگ باعتبار دلوں کے اس امت کے سب سے نیک لوگ ہیں، باعتبارِ علم سب سے گہرے ہیں، باعتبارِ تکلف سب سے کم ہیں ، باعتبارِ ہدایت سب سے سیدھے ہیں، باعتبارِ حالت سب سے اچھے ہیں۔ یہ وہ قوم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کی صحبت کیلئے چن لیا، ان کے فضل کو پہچانو اور ان کے نقشِ قسم کے پیرو کار بن جاؤ، کہ یہی لوگ صراطِ مستتقیم پر فائز ہیں۔”

سنن الدارمی(211) میں عبد اللہ بن مسعود ؓ کا یہ قول بھی مذکور ہے :

“اتبعوا ولا تبتدعوا فقد کفیتم” یعنی:” تم (اصحابِ رسول ﷺ) کی اتباع کرو اور نئے طریقے اور راستے مت نکالو، ان کی پیروی میں ہی کفایت ہے ”

عثمان بن حاضر فرماتے ہیں:” میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کی خدمت میں حاضر ہوا، عرض کیا: مجھے نصیحت فرمائیے ، فرمایا: ہاں، تم اللہ تعالیٰ کے خوف اور استقامت کا راستہ اختیار کئے رکھو، اصحابِ رسول کی اتباع کرو اور بدعت کے اختیار سے گریز کرو” (سنن الدارمی(141)

محمد بن سیرین فرمایا کرتے تھے :”کانوا یرون أنہ علی الطریق ماکان علی الاثر”

یعنی:”(صحابہ وتابعین) کا یہ مسلک تھا کہ بندہ جب تک حدیثِ رسول ﷺ کے ساتھ وابستہ ہے ، تب تک صراطِ مستقیم پر قائم ہے “(سنن الدارمی(142)

سنن الدارمی (144) میں عبد اللہ بن مسعودؓ کا یہ قول بھی مذکور ہے :

“تعلموا العلم قبل أن یقبض وقبضہ أن یذھب اہلہ، ألا وایاکم والتنطع والتعمق والبدع، وعلیکم بالعتیق”

ترجمہ:” علم حاصل کرو، قبل اس کے کہ اسے قبض کر لیا جائے ، اس کا قبض کرنا، علماء کو اٹھا لینا ہے ۔ خبردار دین میں غلو، ضرورت سے زیادہ تعمق اور بدعات سے بچو، اور تم” عتیق” کو لازم پکڑ لو۔”

“عتیق” سے مراد وہ مسئلہ جس پر قرآن و حدیث کی دلیل موجود ہو، اور جس پر سلف صالحین کا عمل ہو، اور جو مُحدّث یعنی نیا نہ ہو۔

محمد بن نصر المروزی کی کتاب” السنۃ” (ص:80) میں عبد اللہ بن مسعودؓ کا یہ قول بھی مذکور ہے :” تم آج فطرتِ دین پر قائم ہو، اور تم احادیث بیان کرتے ہو، اور تمہارے سامنے احادیث بیان کی جاتی ہیں، لیکن جب تم کوئی نئی چیز دیکھو تو پہلی ہدایت(یعنی اصحاب رسول ﷺ کا طریقہ) کے ساتھ چمٹ جاؤ”

حذیفہ بن الیمان ؓ فرمایا کرتے تھے :”اے قراء کی جماعت! تم سیدھے راستے پر چلتے رہو، اللہ کی قسم، اگر تم صراطِ مستقیم پر چلتے رہو گے تو بڑی واضح سبقت حاصل کر لو گے ، اور اگر تم دائیں بائیں پھر گئے تو پرلے درجے کے گمراہ ہو جاؤ گے “(حوالہ مذکور(ص:87)

ابو الدرداء ؓ فرمایا کرتے تھے :” اقتصاد فی سنۃ خیر من اجتھاد فی بدعۃ ، انک ان تتبع خیر من أن تبتدع ، ولن تخطئ الطریق مااتبعت الأثر”

ترجمہ:” سنت کی راہ میں تھوڑا عمل، بدعت کی راہ میں ڈھیروں عمل سے افضل ہے ، تمہارا اتباع کا راستہ اختیار کرنا، بدعت کے راستے سے بہتر ہے ، تم اس وقت تک راستہ نہیں بھٹک سکتے جب تک رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام کے آثار پر چل رہے ہو”(حوالہ مذکور(ص:100)

خلیفہ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے لوگوں کے نام ایک کھلے خط میں فرمایا تھا کہ رسول اللہﷺ کی سنت کے مقابلے میں کسی کی رائے نہیں چل سکتی۔(حوالہ مذکور(ص:94)

عروۃ بن زبیر رحمہ اللہ کا قول ہے “السنن! السنن! فان السنن قوام الدین”

یعنی:” سنتوں کو تھامے رہو! سنتوں کو تھامے رہو! کیونکہ سنتیں دین کا قوام ہیں” (یعنی سنتوں پر عمل کرنے سے دین سیدھا رہتا ہے ) (حوالہ مذکور(ص:110)

کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :

دین النبی محمد أخبار……….نعم المطیۃ للفتی آثار

لاترغبن عن الحدیث واہلہ……….فالرأی لیل والحدیث نھار

ولربما جھل الفتی أثر لھدی……….والشمس بازغۃ لھا أنوار

ترجمہ:” محمدﷺ کا دین تو احادیث ہیں، ایک نوجوان کی سب سے بہترین سواری احادیث و آثار ہیں۔ کبھی حدیث یا اہل الحدیث سے بے رغبتی نہ برتنا، کہ رائے تو اندھیری رات ہے اور حدیث جگمگا تا دن۔ کئی لوگوں کو آثارِ ہدایت دکھائی نہیں دیتے (اور یہ انتہائی نعجب خیز بات ہے کیونکہ) سورج تو اپنی شعاعوں کے ساتھ چمک دمک رہا ہے ۔​

ایک اور شاعر نے بہت ہی خوب فرمایا:

الفقہ فی الدین بالآثار مقترن……….فاشغل زمانک فی فقہ وفی أثر

فالشغل بالفقہ والآثار مرتفع……….بقاصد اللہ فوق الشمس والقمر

ترجمہ: دین کی فقہ تو احادیث کے ساتھ مربوط ومنسلک ہے ، لہذا اپنے اوقات کو حدیث وفقہ دونوں کو ساتھ حاصل کرنے میں گزارو، حدیث اور فقہ میں اشتغال ، اللہ تعالیٰ جو شمس وقمر سے اوپر ہے کے قاصد کے ذریعہ اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے ۔​

 

 

 

دین میں جھگڑے سے یکسر گریز کیا جائے ​

 

[29]: “وترک المراء والجدال فی الدین”

ترجمہ:” (اہل السنۃ کے منہج میں یہ بات بھی شامل ہے کہ) دین میں جھگڑنے سے یکسر گریز کی جائے ”

شرح

کتاب وسنت کی اتباع ، اور ان کے نصوص پر مکمل استسلام اور انقیاد، اہل السنۃ والجماعۃ کا منہج ہے ، یہ منہجِ صافی ان لوگوں کے طریقہ کے خلاف ہے جو عقل پر اعتماد کرنے اور نقل یعنی قرآن و حدیث میں کیڑے نکالنے کی روش پر قائم ہیں، جو اپنے باطل کو لے کر حق سے ٹکرانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں تاکہ کسی بھی طریقہ سے حق کو دبا دیں۔

حالانکہ قرآن و حدیث اس طرزِ جدال کی مخالفت کرتا ہے ، اس سے تحذیر کے حوالے سے کئی دلائل موجود ہیں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

(اَلَاۤ اِنَّ الَّذِيْنَ يُمَارُوْنَ فِي السَّاعَةِ لَفِيْ ضَلٰلٍۭ بَعِيْدٍ) (الشوریٰ:18)

ترجمہ:”یادرکھو جو لوگ قیامت کے معاملہ میں لڑ جھگڑ رہے ہیں، وہ دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں”​

نیز فرمایا:

(وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ) (غافر:5)

ترجمہ:” اور باطل کے ذریعہ کج بحثیاں کیں، تاکہ ان سے حق کو بگاڑ دیں”​

نیز فرمایا:

(وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّ يَتَّبِعُ كُلَّ شَيْطٰنٍ مَّرِيْدٍۙ) (الحج:3)

ترجمہ:” بعض لوگ اللہ کے بارے میں باتیں بناتے ہیں اور وہ بھی بے علمی کے ساتھ اور سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں”​

نیز فرمایا:

(وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِيْرٍۙ)

(الحج:8) ترجمہ:”بعض لوگ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے جھگڑتے ہیں”​

عن عائشۃ رضی اللہ عنھا عن النبیﷺ قال:“ان أبغض الرجال الی اللہ الألد الخصم”

ترجمہ:” المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے ، رسول اللہﷺ نے فرمایا:”جھگڑا لو شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض اور نا پسندیدہ ہے ”

حافظ ابنِ حجر نے فتح الباری(13/181) میں جھگڑا لو شخص سے مراد کافر یا وہ مسلمان جو اپنے باطل کے ذریعہ حق کے ساتھ مجادلہ کرے ،بتلایا ہے ۔

رسول اللہﷺ کا یہ اور فرمان ہے :” ہدایت پا لینے کے بعد کسی قوم کا گمراہ ہو جانا” جدل” یعنی جھگڑنے کی وجہ سے ہوتا ہے ، پھر رسول اللہﷺ نے یہ آیتِ مبارکہ کی تلاوت فرمائی:

(مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ) (الزخرف:58)

ترجمہ:”تجھ سے ان کا یہ کہنا محض جھگڑے کی غرض سے ہے ، بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو”​

(جامع ترمذی(3253) امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے )

صحیح مسلم(2666) میں عبد اللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ عنھما سے مروی ہے ، فرماتے ہیں: ایک دن میں دو پہر کے وقت رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپﷺ نے دو آدمیوں کی آوازیں سنیں جو ایک آیتِ کریمہ میں اختلاف کر رہے تھے ، رسول اللہﷺ باہر تشریف لائے اور غضب کے آثار آپ کے چہرہ انور پر نمایا تھے ، آپﷺ نے فرمایا:” تم سے پہلے لوگ اپنی اپنی کتابوں میں اختلاف کرنے کی بناء پر برباد ہو گئے ”

سنن ابن ماجہ(254) میں ہے ، جابر بن عبد اللہ الانصاری رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:” علم اس نیت سے حاصل نہ کرو کہ علماء پر فخر کرو، اور نہ ہی اس نیت سے کہ ستھاء کے ساتھ جھگڑو، اور نہ ہی اس نیت سے کہ مجالس پر چھا جاؤ، جس نے ان مقاصد کیلئے علم حاصل کیا اس کیلئے آگ ہے ، اس کیلئے آگ ہے ۔”

ابنِ ابی العزا الحنفی نے امام طحاوی کے قول” ولا نماری فی دین اللہ” کی شرح کرتے ہوئے فرمایا ہے :” اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارا یہ منہج نہیں ہے کہ ہم اہل الحق پر بدعتیوں کے شبھات وارد کر کے ان سے خصومت یا جدال کریں، تاکہ انہیں مبتلائے شک کر کے ، انہیں اہلِ بدعت کی طرف مائل کر دیں، کیونکہ یہ معاملہ باطل کی طرف دعوت دینے ، حق کو خلط ملط کرنے اور دینِ اسلام کو بگاڑنے کے زمرے میں آتا ہے ۔”

جو لوگ کجی ار گمراہی کا شکار ہیں ان کا طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی خرافات کے ساتھ جدال کرتے ہیں، نیز قرآن کے متشابھات کا اتباع کرتے ہیں، جبکہ اہل الحق کا طریقہ اس کے برعکس ہے ، وہ محکم اور متشابہ ہر آیت پر ایمان رکھتے ہیں اور متشابہ کے فہم کیلئے اسے محکم کی طرف لوٹا دیتے ہیں، اللہ عزوجل کا فرمان ہے :

(هُوَ الَّذِي أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ ۖ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ ۗ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَيْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ) (آل عمران:7-8)

ترجمہ:” وہی اللہ تعالیٰ ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری جس میں واضح مضبوط آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ آیتیں ہیں، پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، فتنے کی طلب اور ان کی مراد کی جستجو کیلئے ، حالانکہ ان کی حقیقی مراد کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا اور پختہ و مضبوط علم والے یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان لاچکے ، یہ ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو صرف عقل مند حاصل کرتے ہیں۔ اے ہمارے رب!! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے والا ہے “​

صحیح بخاری(4547) اور صحیح مسلم(2665) میں ہے : اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: رسول اللہﷺ نے آیتِ کریمہ: (هُوَ الَّذِي أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ) تلاوت فرمائی ، پھر ارشاد فرمایا: “جب تم ایسے لوگ دیکھو جو متشابہ آیت کی اتباع کرتے ہیں، تو ان سے بچو، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے (اہلِ زیخ) قرار دیا ہے ”

سنن الدارمی (406) میں ابو جعفر محمد بن علی الباقر کا یہ قول مذکور ہے :” جھگڑا کرنے والوں کے ساتھ مت بیٹھو یہ وہ لوگ ہیں جو آیاتِ متشابھات میں غور و خوض کرتے رہتے ہیں”

“جامع بیان العلم وفضلہ” لابن عبد البر(1/134) میں امام مالک رحمہ اللہ کا یہ قول مذکور ہے :

“دین میں جھگڑنا دل کو سخت کر دیتا ہے ، اور کینہ و بغض پیدا کر دیتا ہے ”

اسی کتاب(2/93) میں عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کا یہ قول مذکور ہے :

” جو شخص اپنے دین کو خصومتوں کا نشانہ بنا لیتا ہے وہ بے پناہ قلابازیاں کھا تا رہتا ہے ”

واضح ہوکہ مجادلہ اس صورت میں حق اور ضروری ہے جب وہ بطریقِ احسن ہو، اور مقصود اظہارِ حق اور ردِ باطل ہو، اس قسم کے مجادلہ کا اللہ تعالیٰ نے خود حکم دیا ہے ، چنانچہ فرمایا :

(اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ) (النحل:125)

ترجمہ:”اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو اللہ کی وحی اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے “​

نیز فرمایا:

(وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ) (العنکبوت:46)

ترجمہ:” اور اہل کتاب کے ساتھ بحث و مباحثہ نہ کرو مگر اس طریقہ پر جو عمدہ ہو ، مگر ان کے ساتھ جو ان میں سے ظالم ہیں”​

حافظ ابنِ عبد البر نے اپنی کتاب”جامع بیان العلم وفضلہ” میں ایک باب مناظرہ، خصومت اور جدال کی ناپسندیدگی واضح کرنے کیلئے قائم فرمایا ہے : (دیکھئے ص92 تا99) پھر ایک باب مناظرہ اور مجادلہ کے اثبات کیلئے قائم فرمایا ہے ، جس کا مقصود اقامتِ حجت ہو( دیکھئے ص 99تا 108) ان دونوں ابواب میں انہوں نے بہت سے نصوص اور اہلِ علم کے آثار نقل فرمائے ہیں۔

 

 

 

بدعات کو کلی طور پر ترک کرنے کا بیان​

 

[30]: “وترک مااحدثہ المحدثون۔”

ترجمہ:” اہلِ بدعت نے ، دین میں جو اضافے کیے ہیں، انہٰیں کلی طور پہ ترک کر دینا(بھی اہل السنۃ والجماعۃ کے منہج میں شامل ہے )”

شرح:

مؤلف، ابن ابی زید رحمہ اللہ نے پچھلے صفحات میں یہ بتلایا ہے کہ اہل السنۃ والجماعۃ کا طریق و منہج ، سلف صالحین کی اتباع، ان کے نقشِ قدم کی پیروی اور ان کیلئے استغفار کرتے رہنا ہے ، نیز دین کے معاملے میں خصومت و جدال سے گریز کرنا ہے ۔

یہ سب کچھ بتا کر اب یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ اہلِ بدعت کے اس دین میں اضافوں اور زیادتیوں سے بچنا اور گریز کرنا بھی اہل السنۃ والجماعۃ کا طریقہ ہے ۔

قرآن و حدیث اور سلف صالحین کے آثار سے بدعات و محدثات کے سلسلہ میں بڑی تنبیہ اور تخدیر وارد ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

(وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِه ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِه لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ) (الانعام: 153)

ترجمہ:اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے سو اس راہ پہ چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی۔ اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔”​

نیز فرمایا ہے :

(اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِه اَوْلِيَآءَ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ) (الاعراف: 3)

ترجمہ:”تم لوگ اس کی اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے رفیقوں کی اتباع مت کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت مانتے ہو”​

أم المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی متفق علیہ حدیث میں رسول اللہﷺ کا یہ فرمان منقول ہے :”من أحدث فی أمرنا ھذا مالیس منہ فھورد”

یعنی: ” جس شخص نے ہمارے دین میں کوئی بھی نئی چیز نکالی، وہ مردود ہو گی”

صحیح مسلم میں یہ الفاظ بھی وارد ہیں:” من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فھورد”

یعنی:” جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا امرنہ ہو تو وہ مردود ہو گا”

رسول اللہﷺ نے عرباض بن ساریہ ؓ کی حدیث کے آخر میں ارشاد فرمایا تھا:

“وایاکم ومحدثات الأمور فان کل محدثۃ بعدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ”

یعنی:” اور تم بچو(دین میں) نئے نئے امور کی اختراع سے ، کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ”

یہ مکمل حدیث” الفائدۃ اولیٰ” کے ضمن میں گز چکی ہے ۔

نیز صحیح مسلم(767) میں مروی حدیثِ جابر ؓ بھی بیان ہو چکی ، جس میں رسول اللہﷺ کا ہر خطبہ جمعہ میں ان الفاظ کے کہنے کا ذکر ہے :

“أمابعد فان خیر الحدیث کتاب اللہ وخیر الھدی ھدی محمدﷺ وشر الأمور محدثاتھا وکل بدعۃ ضلالۃ “

ترجمہ:”أما بعد، بے شک سب سے بہترین حدیث، کتاب اللہ ہے اور سب سے بہترین طریقہ ، محمدﷺ کا ہے ، اور سب سے بدترین کام وہ ہے جو نیا ہو(یعنی قرآن و حدیث سے ثابت نہ ہو) اور ہر بدعت گمراہی ہے ”

پچھلے صفحات میں انس بن مالکؓ کی ایک طویل حدیث گزری ہے ، جس کے آخر میں رسول اللہﷺ کا یہ فرمان بھی مذکور ہے :”فمن رغب عن سنتی فلیس منی”

یعنی:” جس نے میری سنت سے بے رغبتی اختیار کی وہ مجھ سے نہیں”

ایک اور حدیث میں رسول اللہﷺ کا ارشادِ گرامی ہے :

“ان اللہ حجب التوبۃ عن کل صاحب بدعۃ حتی یدع بدعتہ”

یعنی:” بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر بدعتی شخص سے توبہ چھپا لی ہے ، جب تک وہ اپنی بدعت کو چھوڑ نہ دے ” امام منذری فرماتے ہیں: اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، جیسا کہ” الترغیب والترھیب”(1/65) میں بھی ہے ۔ شیخ البانی نے ” صحیح الترغیب” (52) میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ۔

ہماری اس کتاب کے فقرہ نمبر(1) میں اس صحابی کا قصہ بیان ہو چکا ہے ، جس نے اپنی قربانی کا جانور عید کی نماز سے قبل ذبح کر لیا تھا، رسول اللہﷺ نے اس سے فرمایا تھا:”شاتک شاۃ لحم” یعنی:” تمہاری یہ بکری محض گوشت کی بکری ہے ” (یعنی قربانی نہیں ہوئی)

اس کے علاوہ عبد اللہ بن مسعود ؓ کا اثر بھی گزر چکا ہے ، جس میں انہوں نے ان لوگوں کے عمل کا انکار فرمایا تھا جو کنکریوں پر تسبیح پڑھ رہے تھے ، انہوں نے فرمایا تھا:”فعد واسیئا تکم فأنا ضامن أن لا یضیع من حسناتکم شیئ” یعنی:” اس کی بجائے تم اپنے گناہ شمار کر لو، میں ضمانت دیتا ہوں کہ اس طرح کم از کم تمہاری کوئی نیکی ضائع نہیں ہو گی” (اس کے برعکس جو تسبیح کا عمل جس طریقے سے انجام دے رہے ہو یہ چونکہ بدعت ہے لہذا اس بدعت کے ارتکاب کی وجہ سے تمہاری تمام نیکیاں برباد ہو جائیں گی)

امام محمد بن نصر المروزی کی” کتاب السنۃ” (82) میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کا یہ قول مذکور ہے :”کل بدعۃ ضلالۃ وان رآھا الناس حسنۃ”

یعنی:” ہر بدعت گمراہی ہے ، خواہ لوگ اسے کتنا ہی اچھا سمجھتے ہوں”

امام شاطبی کی کتاب ” الاعتصام” (1/28) میں ہے ، ابن الماجثون فرماتے ہیں: میں نے امام مالک رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :”من ابتدع فی الاسلام بدعۃ یراھا حسنۃ، فقد زعم أن محمدا خان الرسالۃ، لأن اللہ یقول: (اَلیَومَ اَکمَلتُ لَکُم دِینکُم) فمالم یکن یومئذ دینا فلا یکون الیوم دینا”

ترجمہ:” جس شخص نے دینِ اسلام میں کوئی بدعت ایجاد کر ڈالی اور اسے اچھا سمجھا تو گویا وہ شخص اس زعمِ باطل میں مبتلا ہے کہ محمدﷺ نے رسالت پہنچانے میں خیانت سے کام لیا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ترجمہ:” آج میں نے تمہارے لئے ، تمہارا دین مکمل کر دیا ہے ” تو جو چیز رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام کے دور یں دین نہیں تھ وہ آج بھی دین نہیں ہوسکتی”

ابونعیم الاصبھانی ” حلیۃ الاولیاء” (10/244) میں ابو عثمان النیسا پوری کا یہ قول نقل فرماتے ہیں:

“من أمر السنۃ علی نفسہ قولا وفعلا نطق بالحکمۃ ، ومن أمر الھویٰ علی نفسہ قولا وفعلا نطق بالبدعۃ”

یعنی:” جس شخص نے اپنے نفس پر، قولاً و فعلاً ، رسول اللہﷺ کیسنت کی حاکمیت قائم کر لی، وہ ناطقِ حکمت ہے ، اور جس شخص نے اپنے نفس پر، قولاً و فعلاً ، خواہشاتِ نفس کی حکمرانی قائم کر لی، وہ ناطقِ بدعت ہے ”

سھل بن عبد اللہ التستری رحمہ اللہ کا قول ہے :

“جس شخص نے علم میں کوئی نئی چیز جاری کی اس سے قیامت کے دن اس کی بابت سوال ہو گا، اگر وہ چیز سنت کے مطابق ہوئی تو وہ نجات پا جائے گا، ورنہ تباہ و برباد ہو جائے گا۔”

حافظٖ ابن عبد البر” جامع بیان العلم وفضلہ” (2/95) میں فرماتے ہیں:

“ہر علاقے کے تمام محدثین وفقہاء کا اس بات پر اجماع ہے کہ اہلِ کلام (متکلمین) بدعتی اور کجرو ہیں، نیز علماء کے نزدیک وہ لوگ طبقہ علماء میں شمار نہیں ہوتے ، علماء تو صرف وہ ہیں جو رسول اللہﷺ کی احادیث حاصل کرتے اور ان میں تفقہ کرتے ہیں، اور احادیث میں اتقان و تمیز کی بناء پر ایک دوسرے پر فوقیت و فضیلت حاصل کرتے ہیں”

امام ابن امام، عبد اللہ بن ابی داؤد الجستانی اپنے ” منظومہ حائیۃ” کے مطلع میں کیا خوب فرماتے ہیں:

تمسک بحبل اللہ واتبع الھدی……….ولا تک بدعیا العلک تفلح

ودن بکتاب اللہ والسنن التی……….أتت عن رسول اللہ تنحو وتربح

ترجمہ: اللہکی رسی کو مضبوطی سے تھام لے ، راہِ ہدایت کی اتباع کر لے ، اور بدعتی نہ بن ، شاید کہ تو فلاح پا جائے ۔

کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ ﷺ کا فرمانبردار بن جا، نجات پا جائے گا، اور خوب نفع حاصل کرے گا۔​

آج کے دور میں بڑی بدعات و محدثات میں سے ایک بدعت کی نشاندہی ہم حوضِ کوثر کی بحث میں کر چکے ہیں، جس میں ایک معاصر نے شرعی صحابیت کو ان انصار و مہاجرین تک محدود کر دیا ہے جو صلحِ حدیبیہ سے قبل اسلام لا چکے تھے ،وہ ان صحابہ کرام کو جو حدیبیہ کے بعد اسلام لائے یا ہجرت کی، صحابی تسلیم نہیں کرتا ، اسی طرح جن صحابہ نے ہجرت نہیں کی لیکن انہیں نبیﷺ سے لقاء کا شرف حاصل ہو گیا تھا، انہیں بھی صحابی تسلیم نہیں کرتا، وہ ان تمام صحابہ کی صحبت کو جن میں سرِ فہرست عباس بن عبد المطلب اور ان کے بیٹے عبد اللہ جیسے صحابہ کا نام آتا ہے ، منافقین و کفار جیسی صحبت قرار دیتا ہے ۔

یہ بدعت ِ ضلالت ہے ، گزشتہ صدیوں میں ایسی بات کوئی نہ کہہ سکا، ایک مثل مشہو ر ہے :”کم ترک الاول للآخر ” جس کا مفہوم یہ ہے کہ پہلے دور میں گذرے ہو۴ے بدعتیوں نے ، بعد میں آنے والے بدعتیوں کیلئے بہت سی باتیں چھوڑ رکھی ہیں، چنانچہ سابقہ ادوار کے مبتدعین کو تو یہ بدعت نہ سوجھی، لیکن معاصر بدعتی(مالکی) کے ہاتھ لگ گئی۔

ان بدعات کا بوجھ، سابقہ مبتدعین پر بھی ہے اور بعد میں آنے والے و ہ مبتدعین بھی اس ہولناک بوجھ کے متحمل ہوں گے جو ان کے نقشِ قسم کے پیرو کار بن گئے ۔

 

 

 

 

اختتام

 

وصلی اللہ علی سیدنا محمد نبیہ، وعلی آلہ وأزواجہ وذریتہ، وسلم تسلیما کثیرا​

 

ترجمہ:اور اللہ تعالیٰ ہمارے سردار، نبی پاک محمدﷺ پر ، آپ کی آل، ازواجِ مطہرات اور ذریات پر رحمتیں اور بہت زیادہ سلامتیاں نازل فرمائے ۔​

شرح:

مؤلف ابن ابی زید رحمہ اللہ نے اپنے رسالہ کے مقدمہ کا اختتام رسول اللہﷺ پر صلاۃ وسلام سے فرمایا ہے ، یہی سلف صالحین کا طریقہ تھا، بہت سے مؤلفین نے اپنی مؤلفات کا اختتام اسی مبارک طریقہ یعنی رسول اللہﷺ پر صلاۃ و سلام کے ساتھ کیا ہے ۔

اس شرح کی تالیف سے ، جمعرات کی صبح، جمادی الاولیٰ کی آٹھ تاریخ ؁ 1423ھ کو فراغت حاصل ہوئی۔

(مترجم عبد اللہ ناصر الرحمانی کہتا ہے اس ترجمہ کی براہِ راست کمپیوٹر پر املاء سے یکم شعبان ؁ 1426ھ بمطابق 6ستمبر 2005، بروز منگل فراغت حاصل ہوئی۔)

والحمدللہ أولا وآخرا علی نعمہ الظاھرۃ والباطنۃ ، وصلی اللہ وسلم وبارک علی عبدہ ورسولہ نبینا وامامنا محمد ومن سلک سبیلہ واھتدی بھدیہ الی یوم الدین۔

٭٭٭

کمپوزنگ : ابوبکرالسلفی

ماخذ:

http://www.urdumajlis.net/index.php?threads/%D8%A8%D9%86%DB%8C%D8%A7%D8%AF%DB%8C-%D8%B9%D9%82%D8%A7%D8%A6%D8%AF-%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%85%DB%83-%D9%81%DB%8C-%D8%A7%D9%84%D8%B9%D9%82%DB%8C%D8%AF%DB%83-%D9%84%D9%84%D9%82%DB%8C%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%B1%D8%AD-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88-%D8%AA%D8%B1%D8%AC%D9%85%DB%81.20744/

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید