FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

ایک لمحہ تیز سفر کا

 

 

“دشمنوں کے درمیان شام” مجموعے کی اور کچھ مزید نظمیں

 

                   منیر نیازی

 

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

 

 

حمد

 

شامِ شہرِ ہول میں شمعیں جلا دیتا ہے تو

یاد آ کر اس نگر میں حوصلہ دیتا ہے تو

آرزو دیتا ہے دل کو موت کی وقتِ دعا

میری ساری خواہشوں کا یہ صلہ دیتا ہے تو

حد سے بڑھ کر سبز ہو جاتا ہے جب رنگِ زمیں

خاک میں اس نقشِ رنگیں کو مِلا دیتا ہے تو

ماند پڑ جاتی ہے جب اشجار پر ہر روشنی

گھپ اندھیرے جنگلوں میں راستا دیتا ہے تو

دیر تک رکھتا ہے تو ارض و سما کو منتظر

پھر انھیں ویرانیوں میں گُل کھلا دیتا ہے تو

تیز کرتا ہے سفر میں موجِ غم کی یورشیں

بجھتے جاتے شعلۂ دل کو ہوا دیتا ہے تو

اے منیرؔ اس رات کے افلاک پر ہونا ترا

اک حقیقت کو فسانہ سا بنا دیتا ہے تو

٭٭٭

 

 

وصال کی خواہش

 

کہہ بھی دے اب وہ سب باتیں

جو دل میں پوشیدہ ہیں

سارے روپ دکھا دے مجھ کو

جو اب تک نادیدہ ہیں

 

ایک ہی رات کے تارے ہیں

ہم دونوں اس کو جانتے ہیں

دوری اور مجبوری کیا ہے

اس کو بھی پہچانتے ہیں

 

کیوں پھر دونوں مل نہیں سکتے

کیوں یہ بندھن ٹوٹا ہے

یا کوئی کھوٹ ہے تیرے دل میں

یا میرا غم جھوٹا ہے

٭٭٭

ایک خیال

 

 

دنیا سے دور اس کی بھری محفلوں سے دور

بھٹکا ہے دل ہوا کی طرح منزلوں سے دور

اٹھّی ہے موجِ درد کوئی دل کے آس پاس

پھرتی ہے اک صدا سی کہیں ساحلوں سے دور

٭٭٭

 

 

شام، خوف، رنگ

 

 

بجلی کڑک کے تیغِ شرر بار سی گری

جیسے گھٹا میں رنگ کی دیوار سی گری

دیکھا نہ جائے گا وہ سماں شام کا منیرؔ

جب بامِ غم سے خوشبو کوئی ہار سی گری

٭٭٭

خوبصورت خیال

 

چھوڑو تو چھوٹ جائیں

پکڑو تو ٹوٹ جائیں

صابن کے بلبلے سے

رنگیں آئینے سے

٭٭٭

 

 

وہ دونوں

 

 

اک تصویر اداس

اک سایہ خاموش

اپنے اپنے خواب میں

بری طرح مدہوش

٭٭٭

مینہ، ہوا اور اجنبی شہر

 

بارش تھی دیواروں اور کوٹھوں پر

اور گھروں کے گھنے درختوں پر

تند ہوا تھی، چہروں پر، دروازوں پر

اور کالی خالی رستوں پر

روشنیاں تھیں کہیں کہیں

درگاہوں میں یا اونچے سرد مکانوں میں

ہوگا وہ بھی وہیں کہیں

ویرانوں میں یا مرمر کے ایوانوں میں

٭٭٭

ساتھیوں کی تلاش

 

 

کچھ اپنے جیسے لوگ ملیں

ان رنگ برنگے شہروں میں

کوئی اپنی جیسی لہر ملے

ان سانپوں جیسی لہروں میں

کوئی تیز  نشیلا زہر ملے

اتنی قسموں کے زہروں میں

ہم بھی نہ گھر سے باہر نکلیں

ان سونی دو پہروں میں

٭٭٭

دیکھنے والے کی الجھن

 

سورج میں جو چہرے دیکھے  اب ہیں سپنے سمان

اور شعاعوں میں الجھی سی

گیلے گیلے ہونٹوں کی وہ نئی لال مسکان

جیسے کبھی نہ زندہ تھے یہ

 

چھوٹی چھوٹی اینٹوں والے ٹھنڈے برف مکان

کہاں گئی وہ شام ڈھلے کی

سر سر کرتی تیز ہوا کی دل پر کھچی کمان

 

اور سپنا جو نیند میں لایا

پوری ادھوری خواہشوں کا

اک درد بھرا طوفان

کیسے کوئی کر سکتا ہے ان سب میں پہچان

٭٭٭

 

 

 

آدمی

 

بھولی باتیں یاد نہ آئیں

کیا کیا کوشش کرتا ہے

کون ہے وہ بس اسی سوچ میں

سائے سے بھی ڈرتا ہے

جیسے سکھ کے طوفانوں میں

دکھ کا ریلا پھرتا ہے

ساتھ اپنے جمگھٹا لگا کر

آپ اکیلا پھرتا ہے

٭٭٭

گزرگاہ پر تماشا

 

کھلی سڑک ویران پڑی تھی

بہت عجب تھی شام

اونچا قد اور چال نرالی

نظریں خوں آشام

سارے بدن پر مچا ہوا تھا

رنگوں کا کہرام

لال ہونٹ یوں دیک رہے تھے

جیسے لہو کا جام

ایسا ھسن تھا اس لڑکی میں

ٹھٹھک گئے سب لوگ

کیسے خوش خوش چلے تھے گھر کو

لگ گیا کیسا روگ

٭٭٭

 

 

ساحلی شہر میں ایک رات

 

روشنیاں ہی روشنیاں اور نوح تھکے جہازوں کے

بارش میں جادو کے منظر کھلے ہوئے دروازوں کے

لاکھ جتن سے بھی نہیں مانا

دل کو دِکھایا بیتے دن کے ہنگاموں کا تماشا بھی

شہر ہے سارا پتھر جیسا

میرا بھی دشمن ہے یہ اور اس کے لہو کا پیاسا بھی

میں بھی اپنی سوچ میں گم ہوں

پاگل ہو کر ناچ رہی وہ ہوٹل کی رقّاصہ بھی

٭٭٭

ساتواں در کھلنے کا سماں

 

ڈوب چلا ہے زہر میں اس کی آنکھوں کا ہر روپ

دیواروں پر پھیل رہی ہے پھیکی پھیکی دھوپ

سنّاٹا ہے شہر میں جیسے ایسی ہے آواز

اک دروازہ کھلے گا جیسے کوئی پرانا راز

٭٭٭

حسن میں گناہ کی خواہش

 

حسن تو بس دو طرح کا خوب لگتا ہے مجھے

آگ میں جلتا ہوا

یا برف میں سویا ہوا

درمیاں میں کچھ نہیں

 

صرف ہلکا سا اچنبھا، عکس سا اڑتا ہوا

ال خیال انگیز قصّہ اپنی آدھی موت کا

اک الم افزا فسانہ خونِ دل کے شوق کا

اک کنارے سے صدا تو تو وہ چلتی جائے گی

دور تک اپنے گنہ پر ہاتھ ملتی جائے گی

٭٭٭

دشمنوں کے درمیان شام

 

پھیلتی ہے شام دیکھو ڈوبتا ہے دن عجب

آسماں پر رنگ دیکھو ہو گیا یسا غضب

کھیت ہیں اور  ان میں اک روپوش سے دشمن کا شک

سرسراہٹ سانپ کی گندم کی وحشی گر مہک

اک طرف دیوار و در اور جلتی بجھتی بتّیاں

اک طرف سر پر کھڑا یہ موت جیسا آسماں

٭٭٭

کہسارِ مری میں سردیاں

 

چاند نکلا بادلوں سے رات گہری ہو گئی

جیسے یہ دنیا خدا کی گونگی بہری ہو گئی

دیکھ کر مجھ کو وہ ناگن اور زہری ہو گئی

جسم ریشم بن گیا، رنگت سنہری ہو گئی

سر کے اوپر شاخ تھی اور اس کے اوپر آسماں

آنکھ اس کی سرخ اور رنگت سنہری ہو گئی

 

لال پیلی چاندنی برفوں پہ ڈھلتی دیکھنا

بے ثمر اندھی نظر رنگوں سے جلتی دیکھنا

ایک خواہش سو طرح کے رخ بدلتی دیکھنا

٭٭٭

ڈھاکہ کے بلدا باغات میں تماشا

 

دور تک جاتی ہوئی پتھر کی کالی سیڑھیاں

اور گہرے لال پتّے پیڑ کے

گھر کو تکتی دو نگاہیں ایک کالے جسم کی

بن کی پوشیدہ جگہوں کی اوٹ سے

دو عجائب گھر کے کمرے ایک خونی داستان

خوب صورت مرد و زن کی انجمن آرائیاں

اپنی حد سے آگے بڑھ کر گرم خوں کی تیزیاں

بے وفائی کی پرانی رسم کے سود و زیاں

چھپ چلیں افلاک پر دیکھو شفق کی سرخیاں

اک پرانی شب کا قصّہ چھیڑ کر

دور تک جاتی ہوئی پتھر کی خالی سیڑھیاں

اور گہرے لال پتّے پیڑ کے

٭٭٭

دھوپ میں ایک غیر آباد شہر کا نظارہ

 

ایک کنواں تھا بیچ میں اک پیتل کا مور

خالی شہر ڈراؤنا کھڑا تھا چاروں اور

٭٭٭

 

 

دھوپ میں دو سفید عورتیں

 

ادھر تھا مندر بھیروں کا

ادھر ہوا تھی راہوں میں

دھوہ تھا شیشہ چاندی کا

چمک گیا جو نگاہوں میں

٭٭٭

 

 

شبِ ماہ میں سیر کے دوران

 

ایک مکاں کے دس دروازے

کھلے پڑے ہیں سارے

اندر باہر کوئی نہیں

کوئی چاہے لاکھ پکارے

٭٭٭

 

ہونے کا غم کس کو نہیں

 

ہونے کا غم اسے بھی ہے

اور مجھ کو بھی

کبھی نہ ہونے کا اندیشہ

اسے بھی ہے اور مجھ کو بھی

٭٭٭

 

 

میں جیسا بچپن میں تھا

 

میں جیسا بچپن میں تھا

اسی طرح اب تک ہوں

کھلے باغ کو دیکھ دیکھ کر

بری طرح حیران

آس پاس مرے کیا ہوتا ہے

اس سب سے انجان

٭٭٭

 

زندگی کی رنگا رنگی

 

 

دکھ بھی تھا اس کو شادی کا

خوش بھی ہے وہ دیکھو کتنی

٭٭٭

 

 

اپنے گھر کے صحن میں

 

دیواروں پر ہری بیل ہے

اس سے اوپر تارے ہیں

سب سے اوپر کھلا آسمان ہے

اور اس کے نظّارے ہیں

٭٭٭

خدا کو اپنے ہمزاد کا انتظار

 

اداس ہے تو بہت خدایا

کوئی نہ تجھ کو سنانے آیا

وہ سُر جو تیرے اجاڑ دل میں

چراغ بن کر چمک رہی ہے

 

کوئی نہ تجھ کو دِکھانے آیا

عجیب حسنِ مہیب جیسی

خلش جو دل میں کھٹک رہی ہے

٭٭٭

ایک دھندلا سا خواب

 

کھچی کمان سی نئی چاند کی

اور س کی خوشبو

آس پاس گہرے رنگوں کا

زہریلا جادو

ایک پیڑ اور ایک سانپ سا

ایک میں اور اک تو

٭٭٭

ایک لمحہ تیز سفر کا

 

ایک ربن کسی کی زلفوں کا

بیمار مہک کسی جنگل کی

رنگین جھلک کسی بادل کی

 

دروازے بڑے مکانوں کے

کچھ پھول کھلے دالانوں کے

کچھ رنگ چھپے ویرانوں کے

فانوس کھلی دکانوں کے

 

اک لڑی میں اڑتے آتے ہیں

اور واپس مڑتے جاتے ہیں

٭٭٭

ایک بہادر کی موت

 

زخمی دشمن حیرت میں ہے

ایسا بھی ہو سکتا تھا

اس کو شاید خبر نہیں ہے

اب وہ گہری حیرت میں ہے

 

آسمان پر رب ہے اس کا اور صدائیں یاروں کی

آس پاس شکلیں ہیں اس کے لہولہان سواروں کی

دل میں اس کے خلش ہے کوئی، شاید گئی بہاروں کی

کھیل ذرا ہونی کے دیکھو اور جفا اغیاروں کی

فتح کے بدلے موت ملی اسے گھر سے دور دیاروں میں

٭٭٭

ایک شہر میں شام

 

چلی ہوائیں باغوں میں

اڑے ہیں رنگ چراغوں میں

چھپا ہے غم آوازوں میں

کھلے ہوئے دروازوں میں

٭٭٭

 

 

آدھی رات میں ایک نیم وا دریچہ

 

آدھا چہرہ روشنی میں ہے آدھا کالے پردے میں

ایک آنکھ ہے سورج جیسی ایک ہے کالے پردے میں

بھید نہ اب تک باہر آیا آدھے گِرے نقابوں سے

آنکھ ہمیشہ گھری رہی ظاہر اور چھپے سرابوں سے

٭٭٭

سیرِ سحرِ آب زارِ بنگال

 

رخصتِ سرما کی صبح، سرد، نم، سنگین سی

خواب خاموشی کی تہہ میں اک جھلک رنگین سی

 

بانس کا جنگل، ہوا، پانی پرانی جھیل کا

سبز ڈر پر رنگ جیسے آسماں کے نیل کا

 

گرتے جاتے شہر دونوں سمت اک انبار میں

کھنچتی جاتی خاکِ میداں ایک ہی رفتار میں

 

ہلتے جاتے نقش سے کچھ پھیلتی دیوار پر

بجھ کے گرتے حرف سے حدِّ سفر آثار پر

 

ہر طرف خوشبو ہوا میں، بن میں قربِ آب کی

ایک پر اسرار خواہش دل میں مرگِ آب کی

٭٭٭

ایک احتمال

 

شاید وہ ملے انھیں راہوں پر جن راہوں پر چھوڑا تھا اسے

کرنوں کی کلیاں چنتے ہوئے

مری جانب دوڑتے آتے ہوئے

پھر رک کر واپس جاتے ہوئے

شاید وہ موسم اب تک ہو جس موسم میں دیکھا تھا اسے

٭٭٭

 

 

ایک دوزخی شہر پر بادلوں کی دعا

 

گرم رنگ پھولوں کا

گرم تھی مہک ان کی

گرم خون آنکھوں میں

تیز تھی چمک ان کی

 

سوچتا میں کیا اس کو

اس حسیں کی باتوں کو

دیکھتا میں کیا اس کے

خاک رنگ ہاتھوں کو

 

خوف تھا تمازت میں

عیشِ شب کی شدّت کا

در کھلا تھا دوزخ کا

لمسِ لب کی حدّت کا

 

میں جواب کیا دیتا

اس کی ان اداؤں کا

ایک شہرِ مردہ میں

دور کی نِداؤں کا

 

سحر زرد باطن میں

پانچ بند اسموں کا

بن گیا تھا جسموں میں

زہر پانچ قسموں کا

٭٭٭

 

 

بے سود سفر کے بعد آرام کا پَل

 

پھر ہری بیلوں کے نیچے بیٹھنا شام و سحر

پھر وہی خوابِ تمنّا، پھر وہی دیوار و در

بلبلیں، اشجار، گھر، شمس و قمر

خوف میں لذّت کے مسکن جسم پر ان کا اثر

موسموں کے آنے جانے کے وہی دل پر نشاں

سات رنگوں کے علم نیلے فلک تک پر فشاں

صبح دم سونے محلّے پھیکی پھیکی سہ پہر

پھول گرتے دیکھنا شاخوں سے فرشِ شام پر

خواب اس کے دیکھنا موجود تھا جو بام پر

پھر ہری بیلوں کے نیچے بیٹھنا شام و سحر

٭٭٭

حرفِ سادہ و رنگیں

 

اک کلی گلاب کی

کوچۂ چمن میں ہے

یاد ایک خواب کی

شام کے گگن میں ہے

اسم سبز باب کا

پر فریب بن میں ہے

نقش اک شباب کا

سایۂ کہن میں ہے

الم پکارتی صدا

جبر کے گہن میں ہے

دور دور تک ہوا

کوہ اور دمن میں ہے

٭٭٭

 

 

 

خزاں زدہ باغ پر بوندا باندی

 

آمدِ باراں کا سنّاٹا

کبھی کبھی اس سنّاٹے میں ٹوٹ کے گرتے پتّے

دیو آسا اشجار کھڑے ہیں

کہیں کہیں اشجار تلے ویران پرانے رستے

 

لے کے چلیں آوارہ ہوائیں

ایک نشانی اس کی جو تھی اس کو واپس پہنچانے

آج بہت دن بعد آئی ہے شام یہ چادر تانے

اک وعدہ جو میں نے کیا تھا اس کی یاد دلانے

 

آج بہت دن بعد ملے تھے گہری پیاس اور پانی

ساحلوں جیسا حسن کسی کا اور میری حیرانی

٭٭٭

 

 

 

خاکی رنگ کی پریشانی میں خواب

 

کھوہ کے باہر سبز جھروکا اس کے پیچھے چاند ہے

جس کی صاف کشش کے آگے رنگ زمیں کا ماند ہے

ریز ضیا چہروں پر آئی کیسے بندھن توڑ کے

کیسی دور دراز جگہوں کے دلکش منظر چھوڑ کے

مٹتے بنتے نقش ہزاروں گھٹتی بڑھتی دوریاں

ایک طرف پر وصل کا قصّہ تین طرف مہجوریاں

٭٭٭

 

 

آغازِ زمستاں میں دوبارہ

 

غروبِ مہر کا منظر گھڑی ہوئی گزرا

بس ایک پل کو نیستاں اسی طرح گزرا

گیاہِ سبز کی خوشبو اسی زمانے کی

اسی طرح کی مسرّت بہار آنے کی

وہی جمالِ در و سقف و بام ہے، میں ہوں

کنارِ رودِ سیہ فام شام ہے، میں ہوں

٭٭٭

میں بھی ہوں اپنے ایک خواب میں مست

 

کوئی ہے شیشہ و شراب میں مست

کوئی ہے لذّتِ شباب میں مست

مبتلا ہیں سبھی کہیں نہ کہیں

میں بھی ہوں اپنے ایک خواب میں مست

٭٭٭

 

 

 

شہر  کو تو دیکھنے کو اک تماشا چاہیے

 

ہے یہ ان کی زندگی کے روگ کا کوئی علاج

ابتدا ہی سے ہے شاید شہر والوں کا مزاج

اپنے ایک  ایک آدمی کو قتل کرنے کا رواج

مارنے کے بعد اس کو دیر تک روتے ہیں وہ

اپنے کردہ جرم سے ایسے رہا ہوتے ہیں وہ

٭٭٭

جنگ کے سایے میں جنّتِ ارضی کا خواب

 

کبھی جامن کی شاخوں میں

کبھی فرشِ زمرّد پر

یہ گل دُم گا رہی ہے راگنی عہدِ محبّت کی

جھلی چٹیل زمینوں سے

غبارِ شام میں اڑتی

صدائیں گھر کو  واپس آ رہے مسرور لوگوں کی

افق تک کھیت سرسوں کے

گلاب اور سبز گندم کے

حویلی  کے شجر پر شور چڑیوں کے چہکنے کا

عجب حیرانیاں سی ہیں

مکانوں اور مکینوں میں

کہ موسم آ رہا ہے گاؤں کے جنگل مہکنے کا

٭٭٭

 

بھیروں بہار کا خیال

 

لاگی لگن گھر گھر

پت جھڑ کی ہے بہار جلے جیا بار بار

آنکھوں میں انتظار

ڈھلے چاند کے پار

لاگی لگن۔۔۔۔۔۔

 

ایک اجنبی دیار

چلے ہوا سوگوار

دل میں وہم بے شمار

ایک دور کی پکار

آ رہی ہے بار بار

لاگی لگن۔۔۔۔۔

٭٭٭

 

یہ گزرتے دن ہمارے

 

نرم بوندوں میں مسلسل بارشوں کے سامنے

آسماں کے نیل میں، کومل سروں کے سامنے

یہ گزرتے دن ہمارے پنچھیوں کے روپ میں

تنگ شاخوں میں کبھی خوابیدگی کی دھوپ میں

ہیں کبھی اوجھل کبھی سکھ کی حدوں کے سامنے

چہچہاتے، گیت گاتے بادلوں کے شہر میں

اک جمالِ بے سکوں کی حسرتوں کے سامنے

سبز میدانوں، بنوں میں، کوہساروں میں کبھی

زرد پتوں میں کبھی، اجلی بہاروں میں کبھی

قید غم میں یا کھلی آزادیوں کے سامنے

٭٭٭

کوئی زمانہ ہو

 

 

کوئی زمانہ ہو کوئی شہر ہو

میں اسی طرح ان سے گزرتا رہتا ہوں

اسی رفتار سے

مضافات کے کچے راستے ہوتے ہیں

اور شام پڑنے کے قریب کا وقت

مجھے کہیں جانا ہے

بس یہی دھیان مجھے رہتا ہے

میرے دور دور تک آشیاں کی طرف لوٹتا پرندہ

کوئی اور راہرو نہیں ہوتا

کوئی زمانہ ہو کوئی شہر ہو

٭٭٭

اس کے باہر صرف ڈر ہے رات کے ہنگام کا

اس کے باہر صرف ڈر ہے رات کے ہنگام کا
اک دھندلکا صبح کا ہے اک دھندلکا شام کا
اور ان کے درمیاں دن کارِ بے آرام کا
سانس لینے ہی نہیں دیتا یہ وقفہ کام کا
کچھ ذرا فرصت ملے تو یاد آئے یار بھی
اس کی صحبت میں جو تھی وہ ساعت سار بھی
سرحدوں پر ہے جو قائم وہ در دلدار بھی
میری ہستی میں بھی آئے ایک دن آرام کا
ایک دھندلی صبح کا اور ایک دھندلی شام کا

٭٭٭

 

 

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں

 

ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو

اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

مدد کرنی ہو اس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو

بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو

کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو

حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں

٭٭٭

ٹائپنگ: اعجاز عبید، عمر سیف

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید