FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

انسانیت موت کے دروازے پر

 

 

                مولانا ابوالکلام آزاد (رحمۃ اللہ علیہ)

 

(اس کتاب کے دو باب ’رحلت نبویؐ‘ اور ’شہادتِ حسینؓ‘ الگ ای بکس کے طور پر شائع کئے جا چکے ہیں)

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حرف دعا

 

دنیا میں آنا در حقیقت آخرت کی طرف رخت سفرباندھنے کی تمہید ہے۔ اس عالم رنگ و بو میں آنے والے ہرنفس نے بالآخرت موت کے جام کو پینا اور قبر کے دروازہ سے داخل ہونا ہے۔ یہ ایک ایسا اٹل قانون قدرت ہے جس سے کسی کو اختلاف نہیں۔

یہ حقیقت روز روشن سے زیادہ واضح ہے اور ہم روز اپنے سرکی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ یہ دنیا اور اس کی یہ تمام چمک دمک محض ایک جلوہ سراب ہے لیکن اس با وصف آج ہم دنیا اور اس کی رنگینیوں میں اس قدر کھو چکے ہیں کہ باید و شاید۔ آج نگاہوں کو خیرہ کرنے والے شان و شکوہ کے قصر زرنگار، مال و دولت کے انبار، مئے و مینا، شاہد و شراب ہی انسان کا منتہائے مقصود ہو کر رہ گئے ہیں اور عاقبت کو فراموش کر دیا گیا ہے۔ اکبر الہ آبادی نے کہا تھا

موت کو بھول گیا دیکھ کے جینے کی بہار      دل نے پیش نظر انجام کو رہنے نہ دیا

اگر ہم اس دنیا کا بغور جائزہ لیں تو یہ ہمیں ایک مرقع عبرت، افسانہ حسرت اور آئینہ حیرت کے روپ میں نظر آئے گی۔ دنیا کے سٹیج پرجن عظیم بادشاہوں نے جاہ و جلال کے جلوے دکھائے وہ بھی چل بسے، جن لوگوں نے دنیا کی آرائش و زیبائش چار چاند لگائے وہ بھی نہ رہے، وہ اہل کمال جن سے استفادہ اور کس فیض کرنے کے لیئے ایک دنیا ان کے پاس آتی تھی، وہ بھی رخصت ہو گئے اور بزرگان دین حتی کہ انبیاء کرام علیہم السلام بھی جن سے فرشتے مصافحہ کرتے تھے، یہاں سے رخت سفرباندھ گئے۔ الغرض موت سے کسی کو مفر نہیں۔ بو علی سینا ایسے حکیم کو بھی کہنا پڑا۔

از قعر گل سیاہ تا اوج زحل

کردم ہمہ مشکلات گیتی راحل

بیروں جستم زقید ہر مکر و حیل

ہر  بند کشادہ شد مگر بند اجل

انسانی زندگی کے آخری لمحات کو زندگی کے درد انگیز خلاصے سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس وقت بچپن سے لے کراس آخری لمحے تک کے تمام بھلے اور برے اعمال پردہ سکرین کی طرح آنکھوں کے سامنے نمودار ہونے لگتے ہیں۔ ان اعمال کے مناظر کو دیکھ کر کبھی تو بے ساختہ انسان کی زبان سے درد عبرت کے چند جملے نکل جاتے ہیں اور کبھی یاس وحسرت کے چند آنسوآنکھ سے عارض پر ٹپک پڑتے ہیں۔ اگرچہ دنیا کے اس پل پرسے گزر کر عقبیٰ کی طرف ہرانسان نے جانا ہے لیکن ان جانے والوں میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے متعلق کہنا پڑتا ہے۔

پی گئی کتنوں کا لہو تیری یاد

غم تیرا کتنے کلیجے کھا گیا

اس قبیل کی چند عظیم المرتبت ہستیوں کے سفر آخرت کی، دل و دماغ کے بادشاہ، خطابت کے شہسوار، قلم کے دھنی اور اردو زبان کے سب سے بڑے ادیب حضرت مولانا عبدالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ نے “انسانیت موت کے دروازہ پر”کے نام سے منظر کشی کی تھی۔ یہ پر تاثیر، پر درد، دل گذار اور دل سوزکتاب عبرت اس قدر مؤثر ہے کہ شاید ہی کوئی سنگ دل ہو جواس کا مطالعہ کرے اور اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑیاں نہ لگ جائیں۔ بالخصوص مولائے کل دانائے سبل، ختم الرسل صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سفرملک بقا کا تذکرہ دل تھام کر نہیں، دل پر پتھر رکھ کر پڑھنا پڑتا ہے، کون ظالم ہے جو یہ پڑھے

“خبر وفات کے بعد مسلمانوں کے جگر کٹ گئے، قدم لڑکھڑا گئے، چہرے بجھ گئے، آنکھیں خون بہانے لگیں، ارض وسماسے خوف آنے لگا، سورج تاریک ہو گیا، آنسوبہہ رہے تھے اور تھمتے نہیں تھے۔ کئی صحابہ رضوان علیہم حیران وسرگردان ہو کر آبادیوں سے نکل گئے، کوئی جنگل کی طرف بھاگ گیا، جو بیٹھا تھا، بیٹھا رہ گیا، جو کھڑا تھا، اسے بیٹھ جانے کا یارانہ نہ ہوا، مسجدنبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قیامت سے پہلے قیامت کا نمونہ پیش کر رہی تھی۔ ”

اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کے آبشار نہ بہہ نکلے ؟

٭٭٭

 

 

 

رحلت نبویﷺ

 

اذاجآء نصراللہ والفتح و رایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا۔ فسبح بحمدربک واستغفرہ۔ انہ کان توابا۔

 

جب اللہ کی مدد آ گئی اور مکہ فتح ہوا، تم نے دیکھ لیا کہ لوگ دین خداوندی میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔ اب تم اللہ کی یاد میں مصروف ہو جاؤ اور استغفار، بے شک وہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔

 

                آخری حج کی تیاری

 

جب یہ سورت نازل ہوئی تو پیغمبرانسانیت نے اللہ کی مرضی کو پا لیا کہ اب وقت رحلت قریب آ گیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس سے پہلے خانہ کعبہ میں تطہیر حرم کا آخری اعلان کر چکے تھے کہ آئندہ کسی مشرک کو اللہ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہو گی اور کوئی برہنہ شخص خانہ کعبہ کا طواف نہیں کر سکے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہجرت کے بعد فریضۂ حج ادا نہیں فرمایا تھا۔ اب سنہ 10 ہجری میں آرزو پیدا ہوئی کہ سفر آخرت سے پہلے تمام امت کے ساتھ مل کر آخری حج کر لیا جائے۔ بڑا اہتمام کیا گیا کہ کوئی عقیدت کیش ہمرکابی سے محروم نہ رہ جائے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن سے بلایا گیا۔ قبائل کو آدمی بھیج کر ارادہ پاک کی اطلاع دی گئی۔ تمام ازواج مطہرات رضوان اللہ علیھم کو رفاقت کی بشارت سنائی۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہم کو تیاری کا حکم دیا۔ 25 ذیقعدکومسجد نبوی میں جمعہ ہوا اور وہیں 26کی صبح روانگی کا اعلان ہو گیا۔ جب 26 کی صبح منور ہوئی تو چہرہ انورسے روانگی کی مسرتیں نمایاں ہو رہی تھیں۔ غسل کر کے لباس تبدیل فرمایا اور ادائے ظہر کے بعد، حمد و شکر کے ترانوں میں مدینہ منورہ سے باہر نکلے، اس وقت ہزارہا خدام امت اپنے نبی نعمت کے ہمرکاب تھے۔ یہ قافلہ مقدس مدینہ منورہ سے 6میل دور، ذی الحلیفہ میں پہنچ کر رکا اور شب بھر اقامت فرمائی۔ دوسرے روز حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دوبارہ غسل فرمایا۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جسم پاک پر اپنے ہاتھوں سے عطر ملا۔ راہ سپارہونے سے پہلے آپ پھر اللہ کی حاضری میں کھڑے ہو گئے اور بڑے دردوگدازسے دو رکعتیں ادا کیں۔ پھرقصواپرسوارہو کر احرام باندھا اور ترانہ لبیک بلند کیا۔

لبیک اللھم لبیک لاشریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک و الملک لاشریک لک۔

اس ایک صدائے حق کی اقتداء میں ہزارہاخداپرستوں کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ آسمان کا جوف حمد خدا کی صداؤں سے لبریز ہو گیا اور دشت و جبل توحید کے ترانوں سے گونجنے لگے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورسرورعالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں جہاں تک انسان کی نظر کام کرتی تھی، انسان ہی انسان نظر آتے تھے۔ جب اونٹنی کسی اونچے ٹیلے پرسے گزرتی تو تین تین مرتبہ صدائے تکبیر بلند فرماتے۔ آوازہ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ لاکھوں آوازیں اور اٹھتیں اور کاروان نبوت کے سروں پر نعرہ ہائے تکبیر کا ایک دریائے رواں جاری ہو جاتا۔ سفرمبارک نوروز تک جاری رہا۔ 4ذوالحجہ کو طلوع آفتاب کے ساتھ مکہ معظمہ کی عمارتیں نظر آنے لگیں تھیں اور ہاشمی خاندان کے معصوم بچے اپنے بزرگ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تشریف اوری کی ہواسن کر اپنے اپنے گھروں سے دوڑتے ہوئے نکل رہے تھے کہ چہرہ انور کی مسکراہٹوں کے ساتھ لپٹ جائیں۔ ادھرسرورعالم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)شفقت منتظر کی تصویر بن رہے تھے۔ حضور پاک (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اپنے کم سن بچوں کے معصوم چہرے دیکھے، تو جوش محبت سے جھک گئے اور کسی کو اونٹ کے آگے بٹھا لیا اور کسی کو پیچھے سوار کر لیا۔ تھوڑی دیر بعد کعبۃ اللہ عمارت پر نظر پڑی تو فرمایا؟

“اے اللہ!خانہ کعبہ کو اور زیادہ شرف و امتیاز عطا فرما!”

معمار حرم نے سب سے پہلے کعبۃ اللہ کا طواف فرمایا۔ پھر مقام ابراہیم کی طرف تشریف لے گئے اور دوگانہ تشکر ادا کیا۔ اس وقت زبان پاک پریہ آیت جاری تھی۔

واتخذوا من مقام ابراھیم مصلی۔ اور مقام ابراہیم کوسجدہ گاہ بناؤ۔

کعبۃ اللہ کی زیارت کے بعد صفا و مروہ کے پہاڑوں پر تشریف لے گئے۔ یہاں پر آنکھیں کعبۃ اللہ سے دوچار ہوئیں، تو زبان پاک سے ابر گہر بار کی طرح کلمات توحید و تکبیر جاری ہو گئے۔

لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد یحی ویمیت وھوعلی کل شی قدیرلا الہ الا اللہ وحدہ انجروعدہ نصرعبدہ وھزم الاحزاب وحدہ۔

خدا، صرف خدا، معبود برحق کوئی اس کا شریک نہیں، ملک اس کا، حمداس کے لئے، وہی جلاتا ہے، وہی مارتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے اس کے سواکوئی معبود نہیں، اس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ اس نے اپنے بندے کی امداد فرمائی اور اس کے لیے نے تمام قبائلی جمعیتیں پاش پاش کر دیں۔

8 ذی الحجہ کو منیٰ میں قیام فرمایا۔ 9 کو جمعہ کے روز نماز صبح ادا کر کے منیٰ سے روانہ ہوئے اور وادی نمرہ میں آ ٹھہرے، دن ڈھلے میدان عرفات میں تشریف لائے تو ایک لاکھ 24 ہزارخداپرستوں کا مجمع سامنے تھا اور زمین سے آسمان تک تکبیر و تہلیل کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ اب سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پرسوارہو کر آفتاب عالمتاب کی طرح کوہ عرفات کی چوٹی سے طلوع ہوئے تاکہ خطبہ حج ارشاد فرمائیں۔ پہاڑ کے دامن میں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما، علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما، بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اصحاب صفہ اور عشرہ مبشرہ اور دوسری سینکڑوں اسلامی جماعتیں اور قبائلی جمعیتیں جلوہ فرما تھیں اور پہلی ہی نظرسے یہ معلوم ہو جاتا تھا کہ والی امت اپنی امت کے موجودات لے رہے ہیں اور محافظ حقیقی کواس کا چارج سپرد فرما رہے ہیں۔

 

                خطبہ حجۃ الوداع

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آخری آنسو، جواس امت کے غم میں بہے، حجۃ الوداع کے خطبہ میں جمع ہیں، اس وقت دولت و حکومت کا سیلاب مسلمانوں کی طرف امڈا چلا آ رہا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو غم یہ تھا کہ دولت کی یہ فراوانی، آپ کے بعد آپ کی امت سے رابطہ اتحاد کو پارہ پارہ کر دے گی۔ اس لئے اتحاد امت کا موضوع اپنے سامنے رکھ لیا اور پھر درد نبوت کی پوری توانائی اس موضوع پر صرف فرما دی۔ پہلے نہایت ہی درد انگیز الفاظ میں قیام اتحاد کی اپیل کی۔ پھر فرمایا کہ پسماندہ طبقات کو شکایت کا موقع نہ دینا تاکہ حصاراسلام میں کوئی شگاف نہ پڑ جائے۔ پھراسباب نفاق کی تفصیل پیش کر کے ان کی بیج کنی کا عملی طور پرسروسامان فرمایا۔ پھر واضح کیا کہ جملہ مسلمانوں کے اتحادکاسنگ اساس کیا ہے ؟آخری وصیت یہ فرمائی کہ ان ہدایات کو آئندہ نسلوں میں پھیلانے اور پہچانے کے فرض میں کوتاہی نہ کرنا۔ خاتمہ تقریر کے بعد حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے اپنی ذاتی سرخروئی کے لئے حاضرین سے شہادت پیش کرتے ہوئے اس طرح بار بار اللہ کو پکارا کہ مخلوق خدا کے دل پگھل گئے، آنکھیں پانی بن گئیں اور روحیں انسانی جسموں کے اندر تڑپ تڑپ کر الامان اور الغیاث کی صدائیں بلند کرنے لگیں۔

حمد و صلوۃ کے بعد خطبہ حج کا پہلا درد انگیز فقرہ یہ تھا۔

“اے لوگو!میں خیال کرتا ہوں کہ آج کے بعد میں اور تم اس اجتماع میں کبھی دوبارہ جمع نہیں ہوں گے۔ ”

اس ارشاد سے اجتماع کی غرض و غایت بے نقاب ہو کرسب کے سامنے آ گئی اور جس شخص نے بھی یہ ارشادسنا، تڑپ کے رہ گیا۔ اب اصل پیغام کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:

“اے لوگو!تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہارا ننگ وناموس، اسی طرح ایک دوسرے پر حرام ہے جس طرح یہ دن(جمعہ)یہ مہینہ(ذی الحج) اور یہ شہر(مکہ مکرمہ)تم سب کے لئے قابل حرمت ہے۔ ”

اسی نکتے پر مزید زور دے کر ارشاد فرمایا:

“اے لوگو!آخر تمہیں بارگاہ ایزدی میں پیش ہونا ہے، وہاں تمہارے اعمال کی بازپرس کی جائے گی۔ خبردار میرے بعد گمراہ نہ ہو جائیو کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنا شروع کر دو۔ ”

رسول پاک (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی یہ دردمندانہ وصیت زبان پاک سے نکلی اور تیرکی طرح دلوں کو چیر گئی۔ اب ان نفاق انگیز شگافوں کی طرف توجہ دلائی، جن کے پیدا ہو جانے کا اندیشہ تھا، یعنی یہ کہ اقتداراسلام کے بعد غریب اور پسماندہ گروہوں پر ظلم کیا جائے گا۔

اس سلسلہ میں فرمایا:۔

“اے لوگو!اپنی بیویوں کے متعلق اللہ سے ڈرتے رہنا۔ تم نے نام خدا کی ذمہ داری سے انہیں زوجیت میں قبول کیا ہے اور اللہ کا نام لے کران کا جسم اپنے لیے حلال بنایا ہے۔ عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ غیر کو تمہارے بسترپرنہ آنے دیں، اگر وہ ایسا کریں تو تم انہیں ایسی مار مارو جو نمایاں نہ ہو اور عورتوں کا حق تم پریہ ہے کہ انہیں با فراغت کھانا کھلاؤ اور با فراغت کپڑا پہناؤ۔ ”

اسی سلسلے میں فرمایا:۔

“اے لوگو!تمہارے غلام، تمہارے غلام جو خود کھاؤ گے، وہی انہیں کھلاؤ، جو خود پہنو گے، وہی انہیں پہناؤ۔ ”

عرب میں فسادو خون ریزی کے بڑے بڑے موجبات دو تھے۔ ادائے سود کے مطالبات اور مقتولوں کے انتقام۔ ایک شخص دوسرے شخص سے اپنے قدیم خاندانی سودکامطالبہ کرتا تھا اور یہی جھگڑا پھیل کر خون کا دریا بن جاتا تھا۔ ایک آدمی دوسرے آدمی کو قتل کر دیتا، اس سے نسل بعد نسل قتل و انتقام کے سلسلے جاری ہو جاتے تھے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) انہیں دونوں اسباب فسادکوباطل فرماتے ہیں۔

“اے لوگو!آج میں جاہلیت کے تمام قواعدورسوم کو اپنے قدموں سے پامال کرتا ہوں۔ میں جاہلیت کے قتلوں کے جھگڑے ملیامیٹ کرتا ہوں اور سب سے پہلے خود اپنے خاندانی مقتول ربیعہ بن حارث کے خون سے، جسے ہذیل نے قتل کیا تھا، دست بردار ہوتا ہوں۔ میں زمانہ جاہلیت کے تمام سودی مطالبات باطل قرار دیتا ہوں اور سب سے پہلے خود اپنے خاندانی سود، عباس بن عبد المطلب کے سود سے دست بردار ہوتا ہوں۔ ”

سود اور خون کے قرض معاف کر دینے کے بعد فرد عدالت نفاق کی طرف متوجہ ہوئے اور ورثہ، نسب، مقروضیت اور تنازعات کے متعلق فرمایا:

“اب اللہ تعالیٰ نے ہر ایک حقدار کا حق مقرر  کر دیا ہے، لہذاکسی کو وارثوں کے حق میں وصیت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بچہ جس کے بسترپرپیدا ہوا ہو، اس کو دیا جائے اور زنا کاروں کے لیے پتھر ہے اور ان کی جواب دہی اللہ پر ہے۔ جو لڑکا باپ کے سواکسی دوسرے نسب کا دعویٰ کرے اور غلام اپنے مولا کے سواکسی اور طرف اپنی نسبت کرے، ان پر خدا کی لعنت ہے۔ عورت شوہر کے بلا اجازت اس کا مال صرف نہ کرے، قرض ادا کیے جائیں، عاریت واپس کی جائے۔ عطیات لوٹائے جائیں اور ضامن تاوان ادا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ ”

اہل عرب کے نزاع اور اسباب نزاع کا دفعیہ ہو چکا تواس بین الاقوامی تفریق کی طرف توجہ دلائی جو صدیوں کے بعد عرب و عجم یا گورے اور کالے کے نام سے پیدا ہونے والی تھی۔ ارشاد فرمایا:

“ہاں اے لوگوں !تم سب کا خدا بھی ایک ہی ہے اور تم سب کا باپ بھی ایک ہی ہے، لہذاکسی عربی کو عجمی پر، کسی سرخ کوسیاہ پر، کسی سیاہ کوسرخ پر کوئی پیدائشی برتری یا امتیاز حاصل نہیں ہو گا۔ ہاں افضل وہی ہے جو پرہیز گاری میں افضل ہو۔ ہرمسلمان دوسرے کا بھائی ہے اور تمام مسلمان ایک برادری ہیں۔ ”

اتحاداسلام کی مستقل اساس کی طرف رہنمائی فرمائی۔

“اے لوگو!میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور نہ میرے بعد کوئی نئی امت ہے۔ پس تم سب اپنے اللہ کی عبادت کرو۔ نماز پنجگانہ کی پابندی کرو، رمضان کے روزے رکھو، خوش دلی سے اپنے مالوں کی زکوٰۃ نکالو۔ اللہ کے گھر کا حج کرو۔ حکام امت کے احکام مانو اور اپنے اللہ کی جنت میں جگہ حاصل کر لو۔ ”

آخر میں فرمایا۔

وانتم تسالون عنی فما انتم قائلون۔ ایک دن اللہ تعالیٰ تم لوگوں سے میرے متعلق گواہی طلب کرے گا، تم اس وقت کیا جواب دو گے ؟

اس پر مجمع عام سے پر جوش صدائیں بلند ہوئیں۔

انک قدبلغت:اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)!آپ نے تمام احکام پہنچا دئیے۔

وادیت: اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)!آپ نے فرض رسالت ادا کر دیا۔

ونصحت:اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)!آپ نے کھرے کھوٹے کا الگ کر دیا۔

اس وقت حضورسرورعالم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھی۔ ایک دفعہ آسمان کی طرف اٹھاتے تھے اور دوسری دفعہ مجمع کی طرف اشارہ فرماتے تھے اور کہتے جاتے تھے۔

اللھم اشھد       اے اللہ!خلق خدا کی گواہی سن لے۔

اللھم اشھد       اے اللہ!مخلوق خدا کا اعتراف سن لے۔

اللھم اشھد       اے اللہ!گواہ ہو جا۔

اس کے بعد ارشاد فرمایا۔

“جو لوگ موجود ہیں، وہ ان لوگوں تک جو یہاں موجود نہیں ہیں، میری ہدایات پہنچاتے چلے جائیں۔ ممکن ہے کہ آج کے بعض سامعین سے زیادہ پیام تبلیغ کے سننے والے اس کلام کی محافظت کریں۔ (صحیح بخاری ج، 1، ص234نورمحمدکراچی1961)

 

                تکمیل دین و اتمام نعمت

 

خطبہ حج سے فارغ ہوئے تو جبرائیل امیں وہیں تکمیل دین اور اتمام نعمت کا تاج لے آئے اور یہ آیت نازل ہوئی۔

الیوم اکملت لکم دینکم واممت علیکم نعمتی رضیت لکم الاسلام دینا(سورۃ المائدہ، آیت نمبر3)

آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت مکمل کر دی اور دین اسلام پر اپنی رضامندی کی مہر لگا دی۔

سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جب لاکھوں کے اجتماع میں اتمام نعمت اور تکمیل دین فطرت کا یہ آخری اعلان فرمایا تو آپ کی سواری کا سامان ایک روپے سے زیادہ قیمت کا نہ تھا۔ اختتام خطبہ کے بعد حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان بلند کی اور حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ پڑھائی۔ یہاں سے ناقہ پرسوارہو کر موقف میں تشریف لائے اور دیر تک بارگاہ الٰہی میں کھڑے دعائیں کرتے رہے جب غروب آفتاب کے قریب ناقہ نبوی ہجوم خلائق میں سے گزری تو آپ کے خادم اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ، آپ کے ساتھ سوار تھے اور کثرت ہجوم کے باعث لوگوں میں اضطراب ساپیدا ہو رہا تھا۔ اس وقت حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ناقہ کی مہار کھینچتے جاتے تھے اور زبان پاک سے ارشاد فرماتے جاتے تھے۔

السکینۃ ایھا الناس  لوگو!سکون کے ساتھ

السکینۃ ایھا الناس  لوگو!سکون کے ساتھ

مزدلفہ میں میں نماز مغرب ادا کی اور سواریوں کو آرام کے لئے کھول دیا گیا۔ پھر نماز عشاء کے بعد لیٹ گئے اور صبح تک آرام فرماتے رہے۔ محدثین رحمۃ اللہ علیہم لکھتے ہیں کہ عمر بھر یہی ایک شب ہے جس میں آپ نے تہجد ادا نہیں فرمائی۔ 10ذی الحج کو ہفتہ کے روز جمرہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اس میں آپ کے چچیرے بھائی فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے ساتھ سوار تھے۔ ناقہ قدم بہ قدم جا رہی تھی۔ چاروں طرف ہجوم تھا۔ لوگ مسائل پوچھتے تھے اور آپ جواب دیتے تھے۔ جمرہ کے پاس ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کنکریاں چن کر دیں تو آپ نے انہیں پھینکا اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا۔

“اے لوگو!مذہب میں غلو کرنے سے بچے رہنا، تم سے پہلی قومیں اسی سے برباد ہوئی ہیں۔ ”

تھوڑی تھوری دیر کے بعد فراق امت کے جذبات تازہ ہو جاتے تھے، آپ اس وقت ارشاد فرماتے تھے۔

“اس وقت حج کے مسائل سیکھ لو، میں نہیں جانتا کہ شایداس کے بعد مجھے دوسرے حج کی نوبت آئے۔ ”

 

                میدان منیٰ اور غدیر خم کے خطبات

 

یہاں سے منیٰ کے میدان میں تشریف لائے، ناقہ پرسوار تھے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ مہار تھامے کھڑے تھے۔ اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیچھے بیٹھے کپڑا تان کرسایہ کیے ہوئے تھے۔ آگے پیچھے اور دائیں بائیں مہاجرین، انصار، قریش اور قبائل کی صفیں، دریا کی طرح رواں تھیں اور ان میں ناقہ نبوی کشتی نوح کی طرح ستارہ نجات بن رہی تھی اور ایسامعلوم ہو رہا تھا کہ باغبان ازل نے قرآن کریم کے انوارسے صدق و اخلاص کی جونئی دنیابسائی تھی۔ اب وہ شگفتہ و شاداب ہو چکی ہے۔ حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے اسی دور جدید کی یاد تازہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔

“آج زمانے کی گردش دنیاکوپھراسی نقطہ فطرت پرلے آئی جبکہ اللہ تعالیٰ نے تخلیق ارض وسما کی ابتداء کی تھی۔ ”

پھر ذیقعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب کی حرمت کا اعلان کرتے ہوئے مجمع کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا۔

پیغمبرانسانیت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم): آج کونسادن ہے ؟

مسلمان: اللہ اور رسول بہتر جانتے ہیں۔

پیغمبرانسانیت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)(طویل خاموشی کے بعد)کیا آج قربانی کا دن ہے ؟

مسلمان:بے شک!قربانی کا دن ہے۔

پیغمبرانسانیت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم):یہ کونسامہینہ ہے ؟

مسلمان:اللہ اور رسول بہتر جانتے ہیں۔

پیغمبرانسانیت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)(طویل خاموشی کے بعد)کیایہ ذوالحجہ نہیں ہے ؟

مسلمان:بے شک!یہ ذوالحجہ ہے۔

پیغمبرانسانیت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم):۔ یہ کون ساشہر ہے ؟

مسلمان : اللہ اور رسول بہتر جانتے ہیں۔

پیغمبرانسانیت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم):۔ (طویل خاموشی کے بعد)کیا یہ بلدۃ الحرام نہیں ہے ؟

مسلمان:بے شک بلدۃ الحرام ہے۔

اس کے بعد فرمایا:۔

مسلمانو!تمہارا خون، تمہارا مال، تمہاری آبرو، اسی طرح محترم ہیں، جس طرح یہ دن، یہ مہینہ اور یہ شہر محترم ہیں۔ تم میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مار نے لگو۔ اے لوگو!تمہیں اللہ کے دربار میں حاضر ہونا ہے، وہ تم سے تمہارے اعمال کی بازپرس کرے گا۔ اگرکسی نے جرم کیا تووہ خود اپنے جرم کا ذمہ دار ہو گا۔ باپ بیٹے کے جرم کا ذمہ دار نہیں اور بیٹا باپ کے جرم کا ذمہ دار نہیں۔ اب شیطان اس بات سے مایوس ہو گیا ہے کہ تمہارے اس شہر میں کبھی اس کی پرستش کی جائے گی۔ ہاں تم چھوٹی چھوٹی با توں میں اس کی پیروی کرو گے تو وہ ضرور خوش ہو گا۔ اے لوگو!توحید، نماز، روز ہ، زکوٰۃ اور حج یہی جنت کا داخلہ ہے۔ میں نے تمہیں حق کا پیغام پہنچا دیا ہے، اب موجود لوگ یہ پیغام ان لوگوں تک پہنچاتے رہیں جو بعد میں آئیں گے۔

یہاں سے قربان گاہ میں تشریف لائے اور 63اونٹ خود ذبح فرمائے اور 37کوحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ذبح کرایا اور ان کا گوشت اور پوست سب خیرات کر دیا۔ پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ کو طلب کر کے سرکے بال اتروائے اور یہ موئے مبارک تبرکاتقسیم ہو گئے۔ یہاں سے اٹھ کر خانہ کعبہ کا طواف فرمایا اور زمزم پی کر منیٰ میں تشریف لے گئے اور 12ذوالحجہ تک وہیں اقامت پذیر رہے۔ 13کوخانہ کعبہ کا آخری طواف کیا اور انصار و مہاجرین کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف مراجعت فرمائی، جب غدیر خم پہنچے تو صحابہ کرام کو جمع کر کے ارشاد فرمایا۔

“اے لوگو!میں بھی بشر ہوں۔ ممکن ہے اللہ کا بلاوا اب جلد آ جائے اور مجھے قبول کرنا پڑے۔ میں تمہارے لئے دو مرکز ثقل قائم کر چلا ہوں۔ ایک اللہ کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور روشنی جمع ہے۔ اسے محکمی اور استواری کے ساتھ پکڑ لو۔ دوسرامرکزمیرے اہل بیت ہیں، میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمہیں خداترسی کی وصیت کرتا ہوں۔ ”

گویا یہ اجتماع امت کے لئے اہل و عیال کے حقوق و احترام کی وصیت تھی تاکہ وہ کسی بحث میں الجھ کر حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے مختصرسے خاندان کے ساتھ بے لحاظی کا سلوک نہ کریں۔ مدینہ کے قریب پہنچ کر رات ذوالحلیفہ میں ٹھہرے اور دوسرے دن مدینہ منورہ میں داخل ہو گئے۔ محفوظ و مامون حمد کرتے ہوئے اور شکر بجا لاتے ہوئے۔

 

                ملک بقا کی تیاری

 

حضورسرورعالم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) مدینہ منورہ میں پہنچ کر۔ فسبح بحمد ربک واستغفرہ۔ کی تعمیل میں مصروف ہو چکے تھے۔ بارگاہ ایزدی کی حاضری کا شوق روز بروز بڑھتا جاتا تھا۔ صبح و شام معبود حقیقی کے ذکر و یادکی طلب تھی اور بس۔

رمضان المبارک میں ہمیشہ دس روز کا اعتکاف فرماتے تھے۔ 10ھ میں 20روز کا اعتکاف فرمایا۔ ایک دن حضرت فاطمہ بتول رضی اللہ تعالیٰ عنہما تشریف لائیں تو ان سے فرمایا:پیاری بیٹی!اب مجھے اپنی رحلت قریب معلوم ہوتی ہے۔ انہی ایام میں شہدائے احد کی تکلیف، بے بسی کی شہادت اور مردانہ وار قربانیوں کا خیال آ گیا تو گنج شہیداں میں تشریف لے گئے اور بڑے دردوگذارسے ان کے لئے دعائیں کیں۔ نماز جنازہ پڑھی اور انہیں اس طرح الوداع کہی جس طرح ایک شفیق بزرگ، اپنے کم سن بچوں سے پیار کرتا ہے اور پھر انہیں الوداع کہتا ہے۔ یہاں سے واپس آئے تو منبر نبوی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پر جلوہ طراز ہوئے اور ارباب صدق وصفاسے نہایت دردمندانہ لہجہ میں مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا۔

“دوستو!اب میں تم سے آگے منزل آخرت کی طرف چلا جا رہا ہوں تاکہ بارگاہ ایزدی میں تمہاری شہادت دوں۔ واللہ!مجھے یہاں سے وہ اپنا حوض نظر آ رہا ہے جس کی وسعت ایلہ سے مجقہ تک ہے، مجھے تمام دنیا کے خزانوں کی کنجیاں دے دی گئی ہیں۔ اب مجھے یہ خوف نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے۔ البتہ میں اس سے ڈرتا ہوں کہ کہیں دنیا میں مبتلا نہ ہو جاؤ اور اس کے لئے آپس میں کشت و خون نہ کرو، اس وقت تم اسی طرح ہلاک ہو جاؤ گے جس طرح پہلی قومیں ہلاک ہوئیں۔ ”

کچھ دیر کے بعد قلب صافی میں زید بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یاد تازہ ہو گئی۔ انہیں حدود شام کے عربوں نے شہید کر دیا تھا۔ فرمایا!اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوج لے کر جائیں اور اپنے والد کا انتقام لیں۔ ان ایام میں خیال مبارک زیادہ تر گزرے ہوئے نیاز مندوں ہی طرف مائل محبت رہتا تھا۔ ایک رات آسودگان بقیع کا خیال آ گیا۔ یہ عام مسلمانوں کا قبرستان تھا۔ جوش محبت سے آدمی رات اٹھ وہاں تشریف لے گئے اور عام امتیوں کے لئے بڑے سوزسے دعا فرماتے رہے۔ پھر یہاں کے روحانی دوستوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:۔ انابکم سلاحقون۔ میں اب جلد تمہارے ساتھ شامل ہو رہا ہوں۔

ایک دن مسجدنبوی میں پھرمسلمانوں کو یاد فرمایا۔ اجتماع ہو گیا تو ارشاد فرمایا۔ “مسلمانو!مرحبا، اللہ تعالیٰ تم سب پر اپنی نعمتیں نازل فرمائے۔ تمہاری دل شکستگی دور فرمائے، تمہاری اعانت ودستگیری فرمائے، تمہیں رزق اور برکت مرحمت فرمائے۔ تمہیں عزت و رفعت سے سرفرازفرمائے، تمہیں دولت امن و عافیت سے شادکام فرمائے۔ میں اس وقت تمہیں صرف خوف خدا و اتقاء کی وصیت کرتا ہوں۔ اب اللہ تعالیٰ ہی تمہارا وارث اور خلیفہ ہے اور میری تم سے اپیل اسی خوف کے لئے ہے۔ اس لئے کہ میرا منصب نذیر مبین ہے۔ دیکھنا اللہ کی بستیوں اور بندوں میں تکبر اور برتری اختیار نہ کرنا۔ یہ حکم ربانی ہر وقت تمہارے ملحوظ خاطر رہنا چاہیے۔

تلک الدارالاخرۃ نجعلھا للذین لایریدون علوافی الارض ولافسادا والعاقبۃ للمتقین۔

یہ آخرت کا گھر ہے، ہم یہ ان لوگوں کو دیتے ہیں جو زمین میں غروروفسادکا ارادہ نہیں کرتے اور آخرت کی کامیابی پرہیز گاروں کے لئے ہے۔

الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین۔ کیا تکبر کرنے والوں کا ٹھکانہ دوزخ نہیں ہے ؟آخری الفاظ یہ ارشاد فرمائے۔ سلام تم سب پر اور ان سب لوگوں پرجوواسطہ اسلام سے میری بیعت میں داخل ہوں گے۔ ”

 

                علالت کی ابتداء

 

29صفربروز دو شنبہ ایک جنازے سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ اثنائے راہ میں سرکے درد سے علالت کا آغاز ہو گیا۔ حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ سرکاردوجہاں (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے سرمبارک پر رو مال بندھا تھا۔ میں نے ہاتھ لگا، یہ اس قدر جل رہا تھا کہ ہاتھ کو برداشت نہ ہوتی تھی۔ دو شنبہ تک اشتداد مرض نے مرضی اقدس پر قابو پا لیا۔ اس واسطے ازواج مطہرات نے اجازت دے دی کہ اب حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا مستقل قیام حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں کر دیا جائے۔ اس وقت مزاج اقدس پر ضعف اس قدر طاری تھا کہ خود قدموں سے چل کر حجرہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تک تشریف نہیں لے جا سکے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کردگار کے دونوں بازو تھامے اور بڑی مشکل سے حجرہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا میں تشریف لائے۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) جب کبھی بیمار ہوتے تھے، یہ دعا اپنے ہاتھوں پر دم کر کے جسم مبارک پر ہاتھ پھیر لیتے تھے۔

اذھب الباس رب الناس واشف انت الشافی لاشفاء الاشفائک شفاء لایغادرسقما۔

اے مالک انسانیت!خطرات دور فرما دے۔ اے شفاء دینے والے تو شفا عطا فرما دے، شفا وہی ہے جو تو عنایت کرے، وہ صحت عطا کر کہ کوئی تکلیف باقی نہ رہے۔

اس مرتبہ میں نے یہ دعا پڑھی اور نبی خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ہاتھوں پر دم کر کے یہ چاہا کہ جسم اطہر پر مبارک ہاتھ پھیر دوں۔ مگر حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ہاتھ پیچھے ہٹا لئے اور ارشاد فرمایا۔

اللھم اغفرلی والحقنی بالرفیق الاعلی۔

اے اللہ!معافی اور اپنی رفاقت عطا فرما دے۔

 

                وفات سے پانچ روز پہلے

 

وفات اقدس سے پانچ روز پہلے (چہار شنبہ)پتھر کے ایک ٹب میں بیٹھ گئے اور سرمبارک پر پانی کی سات مشکیں ڈلوائیں۔ اس سے مزاج اقدس میں خنکی اور تسکین سی پیدا ہو گئی۔ مسجدمیں تشریف لائے اور فرمایا۔ “مسلمانو!تم سے پہلے ایک قوم گزر چکی ہے جس نے اپنے انبیاء و صلحاء کی قبروں کوسجدہ گاہ بنا لیا تھا، تم ایسانہ کرنا۔ “پھر فرمایا:”ان یہود و نصاریٰ پر خدا کی لعنت ہو، جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کوسجدہ گاہ بنایا۔ پھر فرمایا میری قبر کو میرے بعد وہ قبر نہ بنا دینا کہ اس کی پرستش شروع ہو جائے۔ “پھر فرمایا:

مسلمانو!وہ قوم اللہ کے غضب میں آ جاتی ہے جو قبور انبیاء کومساجدبنادے۔ “پھر فرمایا”دیکھو، میں تم کواس سے منع کرتا رہا ہوں، دیکھو، اب پھر یہی وصیت کرتا ہوں، اے اللہ!تو گواہ رہنا!”

پھر یہ ارشاد فرمایا۔

“اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو اختیار عطا فرمایا ہے کہ وہ دنیا و ما فیہا کو قبول کرے یا آخرت کو، مگراس نے صرف آخرت ہی کو قبول کر لیا ہے۔ ”

یہ سن کر رمز شناس نبوت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنسوبھرلائے اور رونے لگے اور کہا:”یارسول اللہ!ہمارے ماں، باپ، ہماری جانیں اور ہمارے زر و مال آپ پر قربان ہو جائیں۔ “لوگوں نے ان کو تعجب سے دیکھا کہ حضور انور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)تو ایک شخص کا واقعہ بیان فرما رہے ہیں، پھراس میں رونے کی کونسی بات ہے، مگر یہ بات انہوں نے سمجھی، جورو رہے تھے۔ حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس بے کلی نے خیال اشرف کودوسری طرف مبذول کر دیا۔ ارشاد فرمایا:۔

“میں سب سے زیادہ جس کی دولت اور رفاقت کا مشکور ہوں، وہ بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں اگر میں اپنی امت میں سے کسی ایک شخص کو اپنی دوستی کے لئے منتخب کر سکتا تووہ بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوتے لیکن اب رشتہ اسلام میری دوستی کی بنا ہے اور وہی کافی ہے۔ مسجد کے رخ پر کوئی دریچہ بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دریچہ کے سواباقی نہ رکھا جائے۔ ”

انصار مدینہ حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے زمانہ علالت میں برابر رو رہے تھے۔ حضرت بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو انہوں نے انصار کو روتے دیکھا، دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا:۔ “آج ہمیں محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی صحبتیں یاد آ رہی ہیں۔ “انصار کی اس دردمندی اور بے دلی کی اطلاع سمع مبارک تک پہنچ چکی تھی۔ ارشاد فرمایا۔

“اے لوگو!میں اپنے انصار کے معاملہ میں تم کو وصیت کرتا ہوں، عام مسلمان روز بروز بڑھتے جائیں گے مگر میرے انصار”کھانے میں نمک”کی طرح رہ جائیں گے۔ یہ لوگ میرے جسم کا پیرہن اور میرے سفرزندگی کا توشہ ہیں۔ انہوں نے اپنے فرائض ادا کر دئیے، مگر ان کے حقوق باقی ہیں جو شخص امت کے نفع اور نقصان کا متولی ہو، اس کا فرض ہے کہ وہ انصار نکو کار کی قدر افزائی کرے اور جن انصارسے لغزش ہو جائے، ان کے متعلق درگزرسے کام لے۔ ”

حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے حکم دیا کہ حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن زید شام پر حملہ اور ہوں اور اپنے شہید والد کا انتقام لیں۔ اس پر منافقین کہنے لگے۔ ایک معمولی نوجوان کواکابراسلام پرسپہ سالارمقرر  کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پیغمبرمساوات نے ارشاد فرمایا۔

“آج اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سرداری پر تم کو اعتراض ہے اور کل اس کے باپ زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سرداری پر تم کو اعتراض تھا۔ خدا کی قسم!وہ بھی اس منصب کے مستحق تھے اور یہ بھی۔ وہ بھی سب سے زیادہ محبوب تھے اور اس کے بعد یہ بھی سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ ”

پھر فرمایا:حلال و حرام کے تعین کو میری طرف منسوب نہ کرنا۔ میں نے وہی چیز حلال کی ہے جسے قرآن نے حلال کیا اور اسی کو حرام قرار دیا ہے، جسے خدا نے حرام کیا ہے۔ ”

اب آپ اہل بیت کی طرف متوجہ ہوئے کہ کہیں رشتہ نبوت کا غرور انہیں عمل وسعی سے بیگانہ نہ بنا دے۔ ارشاد فرمایا۔

“اے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا! اور اے پیغمبر خدا کی پھوپھی صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا!خدا کے ہاں کے لئے کچھ کر لو۔ میں تمہیں خدا کی گرفت سے نہیں بچاسکتا۔

یہ خطبہ درد، حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا آخری خطبہ تھاجس میں حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے حاضرین مسجدکوخطاب فرمایا، اختتام کلام کے بعد حجرہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا میں تشریف لے آئے۔

شدت مرض کی حالت یہ تھی کہ عالم بے تابی میں کبھی ایک پاؤں پھیلاتے اور کبھی دوسراسمیٹتے تھے۔ کبھی گھبرا کر چہرہ انور پر چادر ڈال لیتے تھے اور کبھی الٹا دیتے تھے۔ ایسی حالت میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا صدیقہ نے زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے۔

“یہود و نصاریٰ پر خدا کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا ہے۔ ”

 

                وفات سے چار روز پہلے

 

وفات سے چار روز پہلے (جمعرات)حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے ارشاد فرمایا اپنے والد بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اپنے بھائی عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلا لیجئے۔ اسی سلسلے میں فرمایا:”دوات کاغذ لے آؤ۔ “میں ایک تحریر لکھوا دوں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے۔ “یہ شدت مرض میں حضورسرورعالم کا ایک خیال تھا۔ حضرت فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ رائے ظاہر کی کہ حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)اس حال میں تکلیف دینامناسب نہیں ہے۔ اب تکمیل شریعت کا کوئی ایسانکتہ باقی نہیں رہاجس میں قرآن کافی نہ ہو۔ بعض دوسرے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم نے اس رائے سے مطابقت نہ کی جب شور زیادہ ہوا تو بعض نے کہا:”خود حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)سے دریافت کر لیا جائے۔ “ارشاد فرمایا:”مجھے چھوڑ دو۔ میں جس مقام پر ہوں، وہ اس سے بہت رہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو۔ ”

اسی روز تین وصیتیں اور فرمائیں۔

1-    کوئی مشرک عرب میں نہ رہے۔

2-    سفیروں اور وفود کی بدستورعزت و مہمانی کی جائے۔

3-    قرآن پاک کے متعلق کچھ ارشاد فرمایا جو راوی کو یاد نہیں رہا۔

سرکارپاک(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)علالت کی تکلیف اور بے چینی کے باوجود گیارہ روز تک برابرمسجدمیں تشریف لاتے رہے۔ جمعرات کے روز مغرب کی نماز بھی خود پڑھائی اور اس میں سورہ مرسلات تلاوت فرمائی۔ عشاء کے وقت آنکھ کھولی اور دریافت فرمایا:”کیا نماز ہو چکی؟”مسلمانوں نے عرض کیا:مسلمان آپ کے منتظر بیٹھے ہیں۔ لگن میں پانی بھروا کرغسل فرمایا اور ہمت کر کے اٹھے، مگر غش آ گیا۔ تھوڑی دیر میں پھر آنکھ کھولی اور فرمایا:”کیا نماز ہو چکی؟”لوگوں نے عرض کیا:یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)!مسلمان آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ “اس مرتبہ پھر اٹھنا چاہا، مگر بے ہوش ہو گئے، کچھ دیر کے بعد پھر آنکھ کھولی اور وہی سوال دہرایا:”کیا نماز ہو چکی ہے ؟”لوگوں نے عرض کیا:”یارسول اللہ!سب لوگوں کو حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ہی کا انتظار ہے۔ تیسری مرتبہ جسم مبارک پر پانی ڈالا اور جب اٹھنا چاہا تو غشی آ گئی۔ افاقہ ہونے پر ارشاد فرمایا۔ بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز پڑھا دیں۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا:بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت رقیق القلب آدمی ہیں جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو نماز پڑھاس کیں گے۔ “ارشاد فرمایا:وہی نماز پڑھائیں۔ “حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا خیال یہ تھا کہ جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے بعد امام مقرر  ہو گا، لوگ اسے لازمامنحوس خیال کریں گے۔ روایت ہے کہ اس وقت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف فرما نہیں تھے۔ اس واسطے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آگے بڑھایا گیا مگر حضور نے تین مرتبہ فرمایا:نہیں، نہیں، نہیں، بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز پڑھائیں۔

رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا منبر چند روز پہلے خالی ہو چکا تھا۔ آج رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا مصلی بھی خالی ہو گیا۔ جب بو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت محمد مصطفی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی جگہ کھڑے ہوئے تو عالم یاس نے مسجدنبوی پر اپنے پردے تان دئیے اور مسلمانوں کے دل بے اختیار رو دئیے اور خود صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قدم بھی لڑکھڑا گئے چونکہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ارشاد کے ساتھ توفیق الٰہی شامل تھی۔ اس واسطے یہ کٹھن گھاٹی بھی گزر گئی۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حیات پاک نبوی میں اسی طرح سترہ نمازیں پڑھیں۔

 

                وفات کے دو روز پہلے

 

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی طبیعت نے مسجدکی طرف رجوع کیا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کندھوں پرسہارالیتے ہوئے جماعت میں تشریف لے آئے۔ نمازی نہایت بے قراری کے ساتھ حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی طرف متوجہ ہوئے اور صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مصلے سے پیچھے ہٹے۔ مگر حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے ارشاد فرمایا:پیچھے مت ہٹو۔ پھر حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے برابر بیٹھ گئے اور نماز ادا کرنے لگے۔ حضور کی اقتداء صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کرتے تھے اور صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اقتداء مسلمان کرتے تھے۔ یہ پاک نمازاسی طرح مکمل ہو گئی تو حضور پاک (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) حجرہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا میں تشریف لے گئے۔

 

                وفات کے ایک روز پہلے

 

مخدوم انسانیت جوقیددنیاسے آزاد ہو رہے تھے، صبح بیدار ہوئے تو پہلا کام یہ کیا کہ سب غلاموں کو آزاد فرمایا۔ یہ تعداد میں 40 تھے۔ پھر اثاث البیت کی طرف توجہ فرمائی۔ اس وقت کاشانہ نبوی کی ساری دولت صرف سات دینار تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے فرمایا:انہیں غریبوں میں تقسیم کر دو، مجھے شرم آتی ہے کہ رسول اپنے اللہ سے ملے اور اس کے گھر میں دولت دنیا پڑی ہو۔ “اس ارشاد پر گھر کا گھر صاف کر دیا گیا۔ آخری رات کاشانہ نبوی میں چراغ نبوی جلانے کے لئے تیل تک موجود نہیں تھا۔ یہ ایک پڑوسی عورت سے ادھار لیا گیا۔ گھر میں کچھ ہتھیار باقی تھے۔ انہیں مسلمانوں کو ہبہ کر دیا گیا۔ زرہ نبوی، 30 صاع جوکے عوض ایک یہودی کے پاس رہن تھی۔ چونکہ ضعف لمحہ بہ لمحہ ترقی پذیر تھا۔ اس واسطے بعض درد مندوں نے دوا پیش کی مگر انکار فرمایا۔ اسی وقت غشی کا دورہ آ گیا اور تیمار داروں نے منہ کھول کر دوا پلا دی۔ افاقہ کے بعد جب اس کا احساس ہوا تو فرمایا:اب یہی دوا پلانے والوں کو بھی پلائی جائے۔ یہ اس لئے کہ جس وجود باوجود کی صحت کے لئے ایک دل گرفتہ دعائیں کر رہی تھی، وہ اپنے اللہ کی دعوت کواس طرح قبول کر چکا تھا کہ اب اس میں نہ دعا کی گنجائش باقی تھی اور نہ دوا کی۔

 

                یوم وفات

 

9 ربیع الاول(دو شنبہ)کو مزاجِ اقدس میں قدرے سکون تھا، نماز صبح ادا کی جا رہی تھی کہ حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے مسجد اور حجرہ کا درمیانی پردہ سرکادیا۔ اب چشم اقدس کے روبرو نمازیوں کی صفیں مصروف رکوع وسجود تھیں۔ سرکاردوعالم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اس پاک نظارے کو جو حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی پاک تعلیم کا نتیجہ تھا، بڑے اشتیاق سے ملاحظہ فرمایا اور جوش مسرت سے ہنس پڑے۔ لوگوں کو خیال ہوامسجدمیں تشریف لا رہے ہیں، نمازی بے اختیارسے ہو گئے، نماز ٹوٹنے لگیں اور حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو امامت کرا رہے تھے، نے پیچھے ہٹنا چاہا، مگر حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)اشارہ مبارک سے سب کوتسکین دی اور چہرہ انور کی ایک جھلک دکھا کر پھر حجرے کا پردہ ڈال دیا۔ اجتماع اسلام کے لئے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کا یہ جلوہ زیارت کا آخری تھا اور شاید یہ انتظام بھی خود قدرت کی طرف سے ہوا کہ رفیقان صلوۃ جمال آراء کی آخری جھلک دیکھتے جائیں۔

9 ربیع الاول کی حالت صبح سے نہایت عجیب تھی۔ ایک سورج بلند ہو رہا تھا اور دوسراسورج غروب ہو رہا تھا۔ کاشانہ نبوی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)میں پے درپے غشی کے بادل آئے اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے وجوداقدس پر چھا گئے۔ ایک بے ہوشی گزر جاتی تھی تو دوسری پھر وارد ہو جاتی تھی۔ انہیں تکلیفوں پر پیاری بیٹی کو یاد فرمایا۔ وہ مزاج اقدس کا یہ حال دیکھ کرسنبھل نہ سکیں۔ سینہ مبارک سے لپٹ گئیں اور رونے لگیں۔ بیٹی کواس طرح نڈھال دیکھ کر ارشاد فرمایا۔

“میری بیٹی!رو نہیں، میں دنیاسے رخصت ہو جاؤں گا۔ تو انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اسی میں ہر شخص کے لئے سامان تسکین موجود ہے۔ “حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا:کیا آپ کے لیے بھی؟فرمایا:ہاں، اس میں میری بھی تسکین ہے۔

جس قدر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا درد و کرب بڑھ رہا تھا، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا کلیجہ کٹتا جا رہا تھا۔ حضرت رحمۃ العالمین (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ان کی اذیت کومحسوس کر کے کچھ کہنا چاہا تو پیاری بیٹی نے سرورکائنات (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے لبوں سے اپنے کان لگا دیئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:بیٹی!میں اس دنیا کو چھوڑ رہا ہوں۔ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بے اختیار رو دیں۔ پھر فرمایا:فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا!میرے اہل بیت میں تم سب سے پہلے مجھے ملو گی۔ “فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاہنس دیں کہ یہ جدائی قلیل ہے۔

پیغمبرانسانیت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی حالت نازک ہوتی جا رہی تھی۔ یہ حال دیکھ کر فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہنا شروع کیا:واکرب اباہ!ہائے میرے باپ کی تکلیف، ہائے میرے باپ کی تکلیف!فرمایا!فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا!آج کے بعد تمہارا باپ کبھی بے چین نہیں ہو گا۔ حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت غمگین ہو رہے تھے، انہیں پاس بلایا، دونوں کو چوما، پھر ان کے احترام کی وصیت فرمائی۔ پھر ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہم کو طلب فرمایا اور انہیں نصیحتیں فرمائیں۔ اسی دوران میں ارشاد فرماتے تھے۔

مع الذین انعم اللہ علیھم

ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام فرمایا

اللھم بالرفیق الاعلی

اے خداوند!بہترین رفیق۔

پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو طلب فرمایا۔ آپ نے سرمبارک کو اپنی گود میں رکھ لیا۔ انہیں بھی نصیحت فرمائی۔ پھر ایک دم اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:۔

الصلوۃ الصلوۃ وماملکت ایمانکم

نماز، نماز اور لونڈی، غلام اور پسماندگان اب نزع کا وقت آ پہنچا تھا۔ رحمۃ العالمین (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ پانی کا پیالہ پاس رکھا تھا، اس میں ہاتھ ڈالتے تھے اور چہرہ انور پر پھرا لیتے تھے۔ روئے اقدس کبھی سرخ ہو جاتا اور کبھی زرد پڑ جاتا تھا۔ زبان مبارک آہستہ آہستہ ہل رہی تھی۔ لا الہ الا اللہ، ان للموت سکرات۔

“خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور موت تکلیف کے ساتھ ہے۔ ”

حضرت عبدالرحمن بن بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک تازہ مسواک کے ساتھ آئے تو حضور پاک(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے مسواک پر نظر جما دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسمجھ گئیں کہ مسواک فرمائیں گے۔ ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دانتوں میں نرم کر کے مسواک پیش کی اور آپ نے بالکل تندرستوں کی طرح مسواک کی۔ دہان مبارک پہلے ہی طہارت کا سراپا تھا۔ اب مسواک کے بعد اور بھی مجلا ہو گیا تو یک لخت ہاتھ اونچا کیا کہ گویا تشریف لے جا رہے ہیں اور پھر زبان قدس سے نکلا:

بل الرفیق الاعلی۔ اب اور کوئی نہیں، صرف اسی کی رفاقت منظور ہے۔

بل الرفیق الاعلی۔ بل الرفیق الاعلی۔ تیسری آواز پر ہاتھ لٹک آئے، پتلی اوپر کو اٹھ گئی اور روح شریف عالم قدس کو ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گئی۔

اللھم صلی علی محمد و علی آل محمد و بارک و سلم

یہ ربیع الاول 11ھ دو شنبہ کا دن اور چاشت کا وقت تھا۔ عمر مبارک قمری حساب سے 63سال اور 4دن ہوئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

 

                صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم میں اضطراب عظیم

 

خبر وفات کے بعد مسلمانوں کے جگر کٹ گئے، قدم لڑکھڑا گئے، چہرے بجھ گئے، آنکھیں خون بہانے لگیں۔ ارض وسماء سے خوف آنے لگا، سورج تاریک ہو گیا، آنسوبہہ رہے تھے اور نہیں تھمتے تھے۔ کئی صحابہ حیران وسرگردان ہو کر آبادیوں سے نکل گئے۔ کوئی جنگل کی طرف بھاگ گیا۔ جو بیٹھا تھا بیٹھا رہ گیا، جو کھڑا تھا اس کو بیٹھ جانے کا یارانہ ہوا۔ مسجد نبوی قیامت سے پہلے قیامت کا نمونہ پیش کر رہی تھی۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے اور چپ چاپ حجرہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا میں داخل ہو گئے۔ یہاں حضرت رحمۃ العالمین کی میت پاک پڑی تھی۔ حضرت صدیق نے چہرہ اقدس سے کپڑا اٹھا کر پیشانی مبارک پربوسہ دیا اور پھر چادر ڈھک دی اور روکر کہا:۔

“حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر میرے ماں باپ قربان!آپ کی زندگی بھی پاک تھی اور موت بھی پاک ہے۔ واللہ!اب آپ پر دو موتیں وارد نہیں ہوں گی۔ اللہ نے جو موت لکھ رکھی تھی، آپ نے اس کا ذائقہ چکھ لیا اور اب اس کے بعد موت ابد تک آپ کا دامن نہ چھوسکے گی۔ ”

جب صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجدنبوی میں تشریف لائے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ غایت بے بسی سے نڈھال کھڑے تھے اور بڑے درد و جوش سے یہ اعلان کر رہے تھے۔ “منافقین کہتے ہیں کہ حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)انتقال فرما گئے ہیں۔ واللہ!آپ نے وفات نہیں پائی۔ آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حضرت موسی کی طرح طلب کئے گئے ہیں جوچالیس روز غائب رہ کرواپس آ گئے تھے۔ اس وقت موسی علیہ السلام کی نسبت بھی یہی کہا جاتا تھا کہ آپ وفات پا گئے ہیں۔ خدا کی قسم حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) بھی انہیں کی طرح دنیا میں واپس تشریف لائیں گے اور ان لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیں گے جو آپ پر وفات کا الزام لگاتے ہیں۔ ”

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کلام سنا تو فرمایا:عمر!سنبھلو اور خاموش ہو جاؤ جب عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی وارفتگی میں بہے چلے گئے تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت دانشمندی کے ساتھ ان سے الگ ہٹ گئے اور خود گفتگو شروع کر دی جب حاضرین مسجدبھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چھوڑ کر ادھر متوجہ ہو گئے تو آپ نے پہلے حمد و ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا:۔

“اے لوگو!تم میں سے جو شخص محمد کو پوجتا تھا وہ سمجھ لے کہ محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)وفات پا گئے ہیں اور جو شخص خداکاپرستا رہے، وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور وہ کبھی مرے گا نہیں اور یہ حقیقت خود قرآن پاک نے واضح کر دی ہے۔

و مامحمد”الارسول”قدخلت من قبلہ الرسل۔ افائن مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم ومن ینقلب علی عقبیہ فلن بضراللہ شیئا۔ وسیجزی اللہ الشاکرین۔ نہیں ہیں محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)مگر ایک رسول۔ ان سے پہلے رسول گزر چکے ہیں۔ کیا اگر وہ مر جائیں یا شہید ہو جائیں تو تم دین سے برگشتہ ہو جاؤ گے ؟جو شخص برگشتہ ہو جائے گا، وہ اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا اور اللہ عنقریب شکر گزاروں کو جزا دے گا۔ ”

اس آیت پاک کوسن کر تمام مسلمان چونک پڑے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ “خدا کی قسم!ہم لوگوں کوایسامعلوم ہوا کہ یہ آیت اس سے پہلے نازل ہی نہیں ہوئی تھی۔ “حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ آیت سن کر میرے پاؤں ٹوٹ گئے اور کھڑے رہنے کی قوت باقی نہیں رہی تھی، میں زمین پر گر پڑا اور مجھ کو یقین ہو گیا کہ واقعی حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)رحلت فرما گئے ہیں۔ ”

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا غم سے نڈھال تھیں اور فرما رہی تھیں :

“پیارے باپ نے دعوت حق کو قبول کیا اور فردوس بریں میں نزول فرمایا۔

آہ!وہ کون ہے جو جبرائیل امیں کواس حادثہ غم کی اطلاع کر دے۔ ”

“الٰہی!فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روح کو محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی روح کے پاس پہنچا دے۔ الٰہی!مجھے دیدار رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی مسرت عطا فرما دے۔ ”

الٰہی!مجھے اس معیت کے ثواب سے بہرہ ور کر دے۔ الٰہی!مجھے رسول امیں(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی شفاعت سے محروم نہ رکھنا۔ ”

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دل و جان پر غم کی گھٹائیں چھا گئی تھیں اور زبان اخلاق پیغمبری کی ترجمانی کر رہی تھی۔

“حیف، وہ بنی جس نے تمول پر فقیری کو چن لیا، جس نے تونگری کو ٹھکرا دیا اور مسکینی قبول کر لی۔ ”

“آہ!وہ صاحب خلق عظیم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)، جو ہمیشہ آٹھوں پہرنفس سے جنگ آزما رہا۔ ”

آہ!وہ اللہ کا پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)، جس نے ممنوعات کو کبھی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ ”

“آہ! وہ رحمۃ العالمیں(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)، جس کا باپ فیض فقیروں اور حاجت مندوں کے لیے کھلا رہتا تھا، جس کا رحیم دل اور پاک ضمیر کبھی دشمنوں کی ایذارسانی سے غبار آلود نہ ہوا۔ ”

“جس کے موتی جیسے دانت توڑے گئے اور اس نے پھر بھی صبر کیا۔ ”

“جس کی پیشانی انور کو زخمی کیا گیا اور اس نے پھر بھی دامن عفو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ ”

“آہ!کہ آج اسی وجودسرمدی سے ہماری دنیا خالی ہے۔ ”

 

                تجہیز و تکفین

 

سہ شنبہ سے تجہیز و تکفین کا کام شروع ہوا۔ فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ پردہ تان کر کھڑے ہو گئے۔ انصار نے دروازہ پردستک دی کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی آخری خدمت گزاری میں اپنا حصہ طلب کرنے آئے ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اوس بن خولی انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اندر بلایا، وہ پانی کا گھڑا بھر کر لاتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جسم مبارک سینہ سے لگا رکھا تھا۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے صاحبزادے جسم مبارک کی کروٹیں بدلتے تھے اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اوپرسے پانی ڈالتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ غسل دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔

“میرے مادر پدر قربان!آپ کی وفات سے وہ دولت گم ہوئی ہے جوکسی دوسری موت سے گم نہیں ہوئی۔ ”

“آج نبوت، اخبار غیب اور نزول وحی کا سلسلہ کٹ گیا ہے۔ ”

“آپ کی وفات سے تمام انسانوں کے لئے یکساں مصیبت ہے۔ ”

“اگر آپ صبر کا حکم نہ دیتے اور گریہ و زاری سے منع نہ فرماتے تو ہم دل کھول کر آنسوبہاتے لیکن پھر بھی یہ دکھ لاعلاج ہوتا اور یہ زخم لازوال رہتا۔

“ہمارا درد بے درماں ہے، ہماری مصیبت بے دوا ہے۔ ”

“اے حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)!میرے والدین آپ پر قربان، جب آپ بارگاہی الٰہی میں پہنچیں تو ہمارا ذکر فرمائیں اور ہم لوگوں کو فراموش نہ کر دیں۔ ”

تین سوتی سفیدکپڑوں میں کفن دیا گیا، چونکہ وصیت پاک یہ تھی کہ آپ کی قبرایسی جگہ نہ بنائی جائے کہ اہل عقیدت اسے سجدہ گاہ بنا لیں، اس لئے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے کے مطابق حجرہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں قبر کھودی گئی جہاں آپ نے انتقال فرمایا تھا۔ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لحد قبر کھودی چونکہ زمین میں نمی تھی، اس واسطے وہ بسترجس میں وفات پائی تھی، قبر میں بچھا دیا گیا جب تیاری مکمل ہو گئی تو اہل ایمان نماز کے لئے ٹوٹ پڑے چونکہ جنازہ حجرہ کے اندر تھا، اس واسطے باری باری جماعتیں اندر جاتی تھیں اور نماز جنازہ ادا کرتی تھیں۔ اس نماز میں امام کوئی نہیں تھا۔ پہلے کنبہ والوں نے جنازہ پڑھا، پھر مہاجرین نے، پھر انصار نے، مردوں نے الگ جنازہ پڑھا، عورتوں نے الگ اور بچوں نے الگ۔ یہ سلسلہ رات اور دن برابر جاری رہا۔ اس لئے تدفین مبارک چہار شنبہ کی شب کو یعنی رحلت پاک سے 32 گھنٹے بعد عمل میں آئی۔ جسم مبارک کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عوف نے قبر میں اتارا اور آخراس علم کے چاند، دین کے سورج اور اتقاء کے گلزار کو اہل دنیا کی نگاہ سے اوجھل کر دیا گیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

 

                متروکات

 

صاحب”سیرۃ النبی”نے کتنا اچھا لکھا ہے۔ حضور پاک(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اپنی زندگی ہی میں اپنے پاس کیا رکھتے تھے جو مرنے کے بعد چھوڑ جاتے۔ پہلے ہی اعلان فرما چکے تھے۔ لانورث ماترکناصدقہ۔ ہم نبیوں کا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔

عمرو بن حویرث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے مرتے وقت کچھ نہ چھوڑا۔ نہ درہم، نہ دینار، نہ غلام، نہ لونڈی اور نہ کچھ اور صرف اپناسفیدخچر، ہتھیار اور کچھ زمین تھی جو عام مسلمانوں پر صدقہ کر گئے۔

آثار متبرکہ کہ چند یادگاریں صحابہ رضوان اللہ علیہم کے پاس باقی رہیں۔ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس موئے مبارک تھے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس موئے مبارک کے علاوہ نعلین مبارک اور ایک لکڑی کا ٹوٹا ہوا پیالہ تھا۔ ذوالفقار حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس وہ کپڑے تھے جن میں انتقال فرمایا۔ مہر منور اور عصائے مبارک حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تفویض ہوئے۔ ان کے علاوہ سب سے بڑی نعمت اور دولت جو عرش عظیم سے بھی زیادہ قیمت تھی، آپ اس پوری انسانیت کو عطا فرما گئے۔ یہ نعمت عظیم اللہ کی کتاب قرآن ہے۔

وقدترکت فیکم مالن تضلوا بعدہ ان اعتصمتم بہ کتاب اللہ

اے لوگو!میں تم میں وہ چیز چھوڑ چلا ہوں کہ اگراسے مضبوط پکڑ لو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے، یہ اللہ کی کتاب ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

وفات صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 

                زندگی پرحسرت

 

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی وفات کے بعد صرف دوبرس تین مہینے اور گیارہ دن زندہ رہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے فراق کا صدقہ آپ سے برداشت نہیں ہوا۔ ہر روز لاغر اور نحیف ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ سفر آخرت اختیار کر لیا۔ آپ نے وفات نبوی کے بعد سب کوتسکین کا پیغام سنایامگر آپ کے دل کی بے قراری کم نہ ہوئی۔ ایک روز درخت کے سائے میں ایک چڑیا کو اچھلتے اور پھدکتے دیکھا، ایک ٹھنڈی سانس بھر کراس سے فرمایا:۔ “اے چڑیا!توکس قدر خوش نصیب ہے، درختوں کے پھل کھاتی اور ٹھنڈی چھاؤں میں خوش رہتی ہے، پھر موت کے بعد تو وہاں جائے گی یہاں تجھ سے کچھ بازپرس نہ ہو گی۔ اے کاش!بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اس قدر خوش نصیب ہوتا۔ کبھی فرماتے !اے کاش میں درخت ہوتا، کھا لیا جاتا یا کاٹ دیا جاتا۔ کبھی فرماتے :اے کاش!میں سبزہ ہوتا اور چارے پائے مجھے چر لیتے۔ ان ارشادات درد سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رحلت نبوی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے بعد صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی درد و گداز کی کیفیتیں کہاں تک پہنچ چکی تھیں۔

 

                آغاز علالت

 

ابن شہاب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ہدیہ میں گوشت آیا تھا۔ آپ حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن کلدہ کے ساتھ اس کو تناول فرما رہے تھے کہ حارث نے کہا:یا امیرالمومنین!آپ نہ کھائیں مجھے اس میں زہر کی آمیزش کا اشتباہ ہو رہا ہے۔ آپ نے  ہاتھ کھینچ لیا، مگراسی روز سے دونوں صاحب مضمحل رہنے لگے۔ 7جمادی الاخری (دو شنبہ)13ھ کو آپ نے غسل فرمایا تھا۔ اسی روز سردی سے بخار ہو گیا اور پھر نہیں سنبھلے جب تک جسم پاک میں آخری توانائی باقی تھی، مسجدنبوی میں تشریف لاتے رہے اور نماز پڑھاتے رہے لیکن جب مرض نے غلبہ پا لیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا کر ارشاد فرمایا کہ آئندہ آپ نماز پڑھائیں۔

بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم نے حاضر ہو  کر عرض کیا اگر آپ اجازت دیں تو ہم کسی طبیب کو بلا کر آپ کو دکھا دیں۔ فرمایا:طبیب نے مجھے دیکھ لیا ہے۔ وہ پوچھنے لگے :اس نے کیا کہا ہے ؟آپ نے ارشاد فرمایا:انی فعال لما یرید۔ وہ کہتا ہے :میں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔

 

                حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتخاب

 

جب طبیعت زیادہ کمزور ہو گئی تو آپ کورسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے جانشین کا فکر پیدا ہوا۔ آپ چاہتے تھے کہ مسلمان کسی طرح فتنہ اختلاف سے مامون رہ جائیں۔ اس لئے رائے مبارک یہ ہوئی کہ اہل الرائے صحابہ رضوان اللہ علیہم کے مشورے سے خود ہی نامزدگی کر دیں۔ پہلے آپ نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور پوچھا:عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟انہوں نے عرض کیا:آپ ان کی نسبت جنتی بھی اچھی رائے قائم کر لیں، میرے نزدیک وہ اس سے بھی زیادہ بہتر ہیں، ہاں ان میں کسی قدر تشدد ضرور ہے۔ حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب میں فرمایا:ان کی سختی اس لئے تھی کہ میں نرم تھا جب ان پر ذمہ داری پڑ جائے گی تو وہ از خود نرم ہو جائیں گے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ رخصت ہو گئے تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو طلب فرمایا اور رائے دریافت کی۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا:آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا:پھر بھی آپ کی رائے کیا ہے ؟عرض کیا:”میں اس قدر کہہ سکتا ہوں کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا باطن ظاہرسے اچھا ہے اور ان کی مثل ہم لوگوں میں اور کوئی نہیں۔ ”

حضرت سعیدبن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اسیدبن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی استفسارفرمایا۔ حضرت اسیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  کہا:عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا باطن پاک ہے، وہ نیکوکاروں کے دوست اور بدوں کے دشمن ہیں۔ مجھے ان سے زیادہ قوی اور مستعدشخص نظر نہیں آتا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی طرح یہ سلسلہ جاری رکھا اور مدینہ میں خبر عام ہو گئی کہ آپ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا جانشین مقرر فرما رہے ہیں۔ اس پر حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے پاس آئے اور کہا آپ جانتے ہیں کہ آپ کی موجودگی میں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہم لوگوں سے کیا برتاؤ تھا؟جب وہ خلیفہ ہو گئے تو معلوم نہیں کیا کریں ؟آپ بارگاہ الٰہی میں چلے جا رہے ہیں، غور کر لیجئے، آپ اللہ تعالیٰ کواس کا کیا جواب دیں گے ؟”میں خداسے کہوں گا میں نے تیرے بندوں پراس شخص کو مقرر کیا ہے جوسب سے اچھا تھا۔ پھر فرمایا:جو کچھ میں اب کہہ رہا ہوں، عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے بھی زیادہ اچھے ہیں۔ ”

 

                وصیت نامہ

 

تکمیل مشاورت کے بعد آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو طلب کیا اور فرمایا:عہد نامہ خلافت لکھئے۔ ابھی چندسطریں لکھی گئی تھیں کہ آپ کو غش آ گیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ دیکھ کر یہ الفاظ اپنی طرف سے لکھ دئیے کہ”میں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ”کو خلیفہ مقرر  کرتا ہوں۔ “تھوڑی دیر کے بعد ہوش آیا تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:جو کچھ لکھا ہے، وہ پڑھ کرسناؤ۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ساری عبارت پڑھ دی تو بے ساختہ اللہ اکبر پکار اٹھے اور کہا:”خدا تعالیٰ تم کو جزائے خیر عطا فرمائے۔”(الفاروق)

وصیت نامہ تیار ہو گیا تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایک انصاری کے ہاتھ مسجدمیں بھیج دیا تاکہ مسلمانوں کوسنادیں اور خود بھی بالاخانے پر تشریف لے گئے۔ شدت ضعف کے باعث اپنے قدموں پر کھڑے نہیں ہو سکتے تھے۔ اس واسطے ان کی بی بی اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں ہاتھوں سے سنبھالے ہوئے تھیں۔ نیچے آدمی جمع تھے، ان سے مخاطب ہو کر فرمایا:

“کیا تم اس شخص کو قبول کرو گے جسے میں تم پر خلیفہ مقرر  کروں۔ خدا کی قسم! میں نے غور و فکر میں ذرا برابر کمی نہیں کی، اس علاوہ میں نے اپنی کسی قریبی و عزیز کو بھی تجویز نہیں کیا۔ میں عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا جانشین مقرر  کرتا ہوں جو کچھ میں نے کیا ہے، اسے تسلیم کر لو۔ ”

وصیت نامہ کے الفاظ یہ تھے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ یہ بو بکر بن ابو قحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصیت نامہ ہے جواس نے آخر وقت میں دنیا میں جبکہ وہ اس جہان سے کوچ کر رہا ہے اور شروع وقت آخرت میں جبکہ وہ عالم بالا میں داخل ہو رہا ہے، قلمبند کرایا ہے۔ یہ ایسے وقت کی نصیحت ہے جس وقت کافر ایمان لے آتے ہیں، بدکارسنبھل جاتے ہیں اور جھوٹے حق کے روبرو گردن جھکا دیتے ہیں۔ میں نے اپنے بعد عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تم پر امیر مقرر کیا ہے، لہذا تم ان کا حکم ماننا اور اطاعت کرنا۔ میں نے اس معاملے میں اللہ کی، رسول کی، اسلام کی، خود اپنی اور آپ لوگوں کی خدمت کا پورا لحاظ رکھا ہے اور کوئی کوتاہی نہیں کی۔ اب اگر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عدل کریں گے تو ان کے متعلق میرا علم اور حسن ظن یہی ہے، اگر وہ بدل جائیں تو ہر شخص اپنے کئے کا جواب دہ ہے۔ میں نے جو کچھ بھی کیا ہے نیک نیتی سے کیا ہے اور غیب کا علم سوائے اللہ کے کسی کو نہیں جو لوگ ظلم کرین گے، وہ اپنا انجام جلد دیکھ لیں گے۔ والسلام علیک و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔

 

                آخری وصایا اور دعا

 

اس کے بعد آپ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلوت میں بلایا اور مناسب وصیتیں کیں، پھر ان کے لئے بارگاہ خداوندی میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دئیے اور کہا:

“خداوند!میں نے یہ انتخاب اس لئے کیا ہے تاکہ مسلمانوں کی بھلائی ہو جائے۔ مجھے یہ خوف تھا کہ کہ وہ کہیں فتنہ نفاق وفسادمیں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اے مالک!جو کچھ میں نے کیا تواسے بہتر جانتا ہے۔ میرے غور و فکر نے یہی رائے اور اس لئے میں نے ایک ایسے شخص کو والی مقرر  کیا ہے جو میرے نزدیک سب سے زیادہ مستقل مزاج ہے اور سب سے زیادہ مسلمانوں کی بھلائی کا آرزومند ہے۔ اے اللہ!میں تیرے حکم سے اس دنیائے فانی کو چھوڑتا ہوں۔ اب تیرے بندے تیرے حوالے، وہ سب تیرے بندے ہیں، ان کی باگ تیرے ہاتھ میں ہے۔ یا اللہ!مسلمانوں کو صالح حکم عنایت فرما۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلفائے راشدین کی صف میں جگہ عطا کر اور اس کی رعیت کو صلاحیت سے بہرہ مند فرما۔ ”

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولایت و قبولیت کا اعجاز تھا کہ اس قدر اہم، کٹھن اور پیچیدہ معاملہ اس قدرسہولت اور خوش اسلوبی سے طے ہو گیا۔ پہلے اور پچھلے مسلمانوں کا یہ فتوی ہے کہ خلافت پر عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تقرر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اسلام اور اس امت پراس قدر بڑا احسان ہے کہ قیامت تک اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے خلافت کے چندسالوں میں جو کچھ کیا، اس کی صحیح حیثیت یہ ہے کہ اسلام کی طاقت فرش زمین پر بکھری پڑی تھی، آپ نے اسے جمع کیا اور پھر عرش عظیم تک پہنچا دیا۔

 

                حسابات دنیا کی بے باقی

 

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غابہ کی 20وسق کھجوریں مجھے ہبہ کر دی تھیں جب مرض کا غلبہ ہونے لگا تو ارشاد فرمایا:بیٹی!میں تمہیں ہر حال میں خوش دیکھنا چاہتا ہوں، تمہارے افلاس سے مجھے دکھ ہوتا ہے اور تمہاری خوشحالی سے مجھے راحت ملتی ہے۔ غابہ کی کھجوریں میں نے ہبہ کی تھیں۔ اگر تم نے ان پر قبضہ کر لیا ہو تو خیر ورنہ میری موت کے بعد وہ کھجوریں میرا ترکہ ہوں گی، تمہارے دوسردوبہن بھائی ہیں، ان کھجوروں کو از روئے قرآن ان سب میں تقسیم کر دینا۔

حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا:اے میرے بزرگ باپ!میں حکم والا کی تعمیل کروں گی۔ اگراس سے بہت زیادہ مال ہوتا تو بھی میں آپ کے ارشاد پراسے چھوڑ دیتی۔

وفات کے بعد کچھ عرصہ پہلے ارشاد فرمایا:بیت المال کے وظیفہ کا حساب کیا جائے جو میں نے آج تک وصول کیا ہے۔ حساب کیا گیا تو معلوم ہوا کہ کل 6 ہزار درہم یا15سوروپے دیا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا:میری زمین فروخت کر کے یہ تمام رقم ادا کر دی جائے۔ اسی وقت زمین فروخت کی گئی اور رسول امیں (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے یار غار کے ایک ایک بال کو بیت المال کے بارسے سبکدوش کر دیا گیا جب یہ ادائیگی ہو چکی تو ارشاد فرمایا:تحقیقات کی جائے کہ خلافت قبول کرنے کے بعد میرے مال میں کیا کچھ اضافہ ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ پہلا اضافہ ایک حبشی غلام کا ہے جو بچوں کو کھلاتا ہے اور مسلمانوں کی تلواریں صیقل بھی کرتا ہے۔ دوسرا اضافہ ایک اونٹنی کا ہے جس پر پانی لایا جاتا ہے۔ تیسرا اضافہ ایک سواروپے کی چادر کا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ میری وفات کے بعد یہ تینوں چیزیں خلیفہ وقت کے پاس پہنچا دیں، جائیں۔

رحلت مبارک کے بعد جب یہ سامان خلیفہ حضرت فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے آیا تو آپ رو پڑے اور کہا:اے بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم اپنے جانشینوں کے واسطے بہت دشوار کر گئے ہو۔

 

                آخری سانس میں ادائے فرض

 

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حیات پاک کا آخری دن تھا کہ حضرت مثنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نائب سالارعراق آ پہنچے۔ اس وقت حضرت امیرالمومنین جان کنی کے آخری مراحل سے گزر رہے تھے۔ حضرت مثنی کی آمد معلوم ہوئی تو کسی خطرے کا احساس کر کے انہیں اسی وقت بلا بھیجا۔ انہوں نے محاذ جنگ کے تمام حالات تفصیل سے بیان کئے اور کہا کہ کسری نے اپنی تازہ دم فوجیں محاذ عراق پر بھیج دیں ہیں۔ حالات سن کراسی حال میں عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو طلب کر کے ارشاد فرمایا:عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ!جو کچھ میں کہتا ہوں اسے سنو اور اس پر عمل کرو۔ مجھے امید ہے کہ آج میری زندگی ختم ہو جائے گی۔ اگر دن میں میرا دم نکلے تو شام سے پہلے  اور اگر رات میں نکلے تو صبح سے پہلے مثنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے کمک بھیج دینا۔ پھر فرمایا:عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ!کسی بھی مصیبت کی وجہ سے دین اسلام کی خدمت اور حکم ربانی کی تعمیل کوکل پر ملتوی نہ کرنا۔ حضرت محمد مصطفی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی وفات سے بڑھ کر ہمارے لئے اور کونسی مصیبت ہو سکتی تھی مگر تم نے دیکھا کہ اس روز بھی جو کچھ میں نے کرنا تھا، میں نے کر دیا۔

اللہ کی قسم!اگر میں اس روز حکم خداوندی کے تعمیل سے غافل ہو جاتا تو اللہ تعالیٰ ہم پر تباہی کی سزامسلط کر دیتا اور مدینہ کے گوشے گوشے میں فسادکی آگ بھڑک اٹھتی۔ اگر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو شام میں کامیابی عطا فرمائے تو پھر خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فوجوں کو عراق کے محاذ پر بھیج دینا، اس لئے کہ وہ آزمودہ کار بھی ہیں اور عراق کے حالات سے با خبر بھی ہیں۔

 

                عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی درد مندیاں

 

انتقال کے روز دریافت فرمایا:حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے کس روز رحلت فرمائی تھی؟لوگوں نے کہا:دو شنبہ(پیر)کے روز۔ ارشاد فرمایا:میری آرزو بھی یہی ہے کہ میں آج رخصت ہو جاؤں۔ اگر اللہ تعالیٰ اسے پورا کر دے تو میری قبر آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی مرقد مبارک ساتھ بنائی جائے۔ اب وفات کا وقت قریب آ رہا تھا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے دریافت فرمایا:حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کو کتنے کپڑوں کا کفن دیا گیا تھا؟عرض کیا:تین کپڑوں کا۔ ارشاد فرمایا:میرے کفن میں بھی تین کپڑے ہوں۔ دو یہ چادریں جو میرے بدن پر ہیں، دھو لی جائیں اور ایک کپڑا بنا لیا جائے۔

حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دردمندانہ کہا:ابا جان!ہم اس قدر غریب نہیں ہیں کہ نیا کفن بھی نہ خریدسکیں۔ ارشاد فرمایا۔

“بیٹی!نئے کپڑے کی مردوں کی نسبت زندوں کو زیادہ ضرورت ہے، میرے لئے یہی پھٹا پرانا ٹھیک ہے۔ ”

موت کی سا‏عتیں لمحہ بہ لمحہ قریب آ رہی تھی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس ڈوبتے ہوئے چاند کے سرہانے بیٹھی تھیں اور آنسوبہارہی تھیں۔ غم آلود اور حسرت انگیز خیالات آنسوؤں کے ساتھ ساتھ دماغ کی پہنائی سے اتر رہے تھے اور زبان سے بہہ رہے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ شعر پڑھا۔

“بہت سی نورانی صورتیں ہیں جن سے بادل بھی پانی مانگتے تھے، وہ یتیموں کے فریادرس تھے اور بیواؤں کے پشت پناہ تھے۔

یہ سن کر حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنکھیں کھول دیں اور فرمایا:میری بیٹی!یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی شان تھی۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دوسراشعر پڑھا۔

“قسم ہے تیری عمر کی جب موت کی ہچکی لگ جاتی ہے تو پھر کوئی زر و مال کام نہیں دیتا۔ ”

ارشاد فرمایا:یہ نہیں اس طرح کہو۔ جأت سکرۃ الموت بالحق ذلک ماکنت منہ تحید(موت کی بے ہوشی کا صحیح وقت آ گیا، یہ وہ ساعت ہے جس سے تم بھاگتے تھے۔ )

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نزع کے وقت میں اپنے باپ کے سرہانے گئی تو یہ شعر پڑھا۔ ترجمہ!

“جس کے آنسوہمیشہ رکے ہیں، ایک دن وہ بھی بہہ جائیں گے۔

ہرسوارکی ایک منزل ہوتی ہے اور ہر پہننے والے کو ایک کپڑا دیا جاتا ہے۔ ”

فرمایا:بیٹی اس طرح نہیں، حق بات اسی طرح ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے۔ جأت سکرۃ الموت بالحق ذلک ماکنت منہ تحید(موت کی بے ہوشی کا صحیح وقت آ گیا، یہ وہ ساعت ہے جس سے تم بھاگتے تھے۔ )

 

                انتقال پاک

 

پاک زندگی کا خاتمہ اس کلام پاک پر ہوا۔ رب توفنی مسلمانوالحقنی بالصلحین(اے اللہ!مجھے مسلمان اٹھا اور اپنے نیک بندوں میں شامل کر)

جب روح اقدس نے پرواز کی تو 22جمادی الآخر13ھ تاریخ تھی۔ دو شنبہ کا دن، عشاء اور مغرب کا درمیانی وقت، عمر شریف 63 سال تھی۔ ایام خلافت 2سال 3مہینے اور 11دن۔ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غسل دیا۔ حضرت عبدالرحمن بن بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جسم اطہر پر پانی بہاتے تھے۔ حضرت فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے مرقد مبارک کے ساتھ قبر شریف اس طرح کھودی گئی کہ آپ سرمبارک حضرت رحمۃ العالمین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دوش پاک کے ساتھ رہے اور قبروں کے تعویز برابر برابر آ جائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میت پاک کو آغوش لحد میں اتارا اور ایک ایسی برگزیدہ شخصیت کوجورسول دوجہاں صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد امت مسلمہ کی سب سے زیادہ مقبول، بزرگوار اور صالح شخصیت تھی، ہمیشہ کے چشم جہاں سے اوجھل کر دیا گیا۔

انا للہ و انا الیہ راجعون۔

٭٭٭

 

 

 

 

شہادت فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 

                بار خلافت

 

حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی وفات پاک کے بعد دین توحید اور امت مسلمہ کی پاسبانی کا کام ایک پہاڑ تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ بوجھل۔ یہ ناقابل برداشت بوجھ اسلام کے دو مخلص ترین فرزندوں نے متحد ہو کر اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔ ان میں پہلی شخصیت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تھی اور دوسری حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی۔ حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کیفیت یہ تھی کہ انہیں ایک طرف فراق رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا غم کھائے جا رہا تھا اور دوسری طرف اسلام اور امت کے افکار ان کے دل و دماغ کو پگھلاتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وفات نبوی کے بعد آپ صرف سوادوسال جی سکے۔ اس کے بعد یہ پورا بوجھ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کندھوں پر آ گیا۔ موصوف نے کس مشقت اور جان کنی سے اپنے فرائض خلافت ادا کئے، اس کا اندازہ ذیل کے واقعات سے کیجئے۔

ہرمزان بڑی شان و شوکت کا سپہ سالار تھا۔ یزدگرد شہنشاہ ایران نے اسے اہواز اور فارس، دو صو بوں کی گورنری دے کرمسلمانوں کے مقابلے میں بھیجا تھا۔ جنگ ہوئی تو ہرمزان نے اس شرط پر ہتھیار ڈالے کہ اسے مدینہ میں صحیح وسلامت پہنچا دیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو کچھ فیصلہ کریں گے، اسے منظور ہو گا۔ ہرمزان بڑی شان و شوکت سے روانہ ہوئے۔ بڑے بڑے ایرانی رئیس اس کے ہمرکاب تھے۔ جب یہ مدینہ کے قریب پہنچا تواس نے تاج مرصع سرپر رکھا۔ دیبا کی قبا زیب بدن کی، کمرسے مرصع تلوار لگائی اور شاہانہ جاہ و جلال کے ساتھ مدینہ میں داخل ہوا۔ مسجدنبوی کے قریب پہنچ کر پوچھا، امیرالمومنین کہاں ملیں گے ؟

ایرانیوں کا خیال تھا کہ جس شخص کے دبدبے نے تمام دنیا میں غلغلہ ڈال رکھا ہے، اس کا دربار بھی سازوسامان کا ہو گا۔ ایک بدوی نے اشارہ سے بتایا وہ ہیں امیرالمومنین۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت صحن مسجدمیں فرش خاک پر لیٹے ہوئے تھے۔

جب یرموک میں 30 ہزار رومی اپنے پاؤں میں بیڑیاں پہن کرمسلمانوں کے ساتھ لڑے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حال کیا تھا؟صحیح روایت ہے کہ جب تک یہ لڑائی ہوتی رہی، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کے وقت چین سے نہیں سوئے۔ پھر جب فتح کی خبر پہنچی تو بے اختیارسجدے میں گر گئے اور آنسوبہانے لگے۔

جنگ قادسیہ میں شہنشاہ ایران نے ملک کی آخری طاقتیں میدان جنگ میں جھونک دی تھیں۔ جنگ کی بلا خیزی کا اندازہ کیجئے کہ صرف ایک دن کے اندر معرکہ اغوات میں 10ہزارایرانی اور 2ہزارمسلمان مقتول و مجروح ہوئے تھے۔ دوران جنگ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حال یہ تھا کہ جب سے قادسیہ کا معرکہ شروع تھا۔ آپ ہر روز طلوع آفتاب کے ساتھ مدینہ سے نکل جاتے تھے اور کسی درخت کے نیچے اکے لیے کھڑے قاصد کی راہ تکتے رہتے تھے جب قاصد فتح کی خبر لایا  تو آپ اس وقت بھی باہر کھڑے انتظار کر رہے تھے جب معلوم ہوا کہ حضرت سعدرضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قاصد ہے تو آپ نے حالات پوچھنے شروع کر دیئے۔ قاصد اونٹ بھگائے جاتا تھا، حالات بیان کرتا جاتا تھا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رکاب کے ساتھ دوڑے جاتے تھے جب شہر کے اندرمسلمانوں نے انہیں امیرالمومنین کہہ کر پکارنا شروع کیا تو قاصد حیرت زدہ رہ گیا کہ آپ ہی رسول اللہ کے جانشین ہیں۔ اب قاصد کہتا تھا امیرالمومنین!آپ نے اپنا نام کیوں نہ بتایا کہ میں اس گستاخی کا مرتکب نہ ہوتا مگر آپ فرماتے تھے، یہ نہ کہو، اپنی بات جاری رکھو۔ قاصد بیان کرتا گیا اور آپ اسی طرح رکاب کے ساتھ ساتھ۔

جب خلافت کی ذمہ قبول فرما چکے تو مسلمانوں کومسجدنبوی میں جمع کر کے ارشاد فرمایا:مسلمانو!مجھے تمہارے مال میں اس قدر حق ہے جس قدر یتیم کے  سرپرست کو یتیم کے مال میں ہوتا ہے۔ اگر میں دولت مند ہوا تو کچھ معاوضہ نہیں لوں گا۔ اگر تہی دست ہو گیا، صرف کھانے کا خرچ لوں گا۔ پھر بھی مجھ سے برابر باز پرس کرتے رہنا کہ میں نہ تو بے جا طور پر جمع کروں اور نہ بے جا طور پر خرچ کر سکوں۔ بیماری میں شہد کی ضرورت ہوئی تو مسجدنبوی میں سب کو جمع کر کے درخواست کی کہ اگر آپ لوگ اجازت دیں تو بیت المال سے تھوڑاساشہدلے لوں۔ لوگوں نے منظور کیا تو شہد لیا۔

رات بھر نمازیں پڑھتے تھے اور اس قدر روتے تھے کہ روتے روتے ہچکی بندھ جاتی تھی۔ آنسوؤں کی روانی سے چہرہ اقدس پردوسیاہ لکیریں پڑ گئیں تھیں۔ حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز پڑھ رہے تھے جب قرات کرتے ہوئے آیہ پاک۔ انما اشکوابئی وحزبی الی اللہ۔ پر پہنچے تو اس زورسے روئے کہ لوگ مضطرب ہو گئے۔

حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز پڑھ رہے تھے جب اس آیت پر پہنچے۔ ان عذابک لواقع مالہ من دافع۔ تو اس قدر روئے کہ روتے روتے آنکھیں سوج گئیں۔ بعض دفعہ لوگوں کو شبہ ہوتا کہ فرط غم سے آپ کا دل چھوٹ جائے گا اور اب آپ بچیں گے نہیں۔ کئی دفعہ حالت اس قدر رقیق ہو جاتی کہ کئی کئی دن تک لوگ بیمارپرسی کرنے آتے تھے۔

ایک صحابی ان اعمال حسنہ کا ذکر کر رہے تھے جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ مل کر انجام دئیے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے قرار ہو گئے اور ارشاد فرمایا:مجھے اس ذات پاک کی قسم!جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں اسی کو غنیمت سمجھتا ہوں کہ اگر اجر نہ ملے تو عذاب ہی سے بچ جاؤں۔

ایک راستے سے گزر رہے تھے کہ کچھ خیال آیا۔ وہیں آپ زمین کی طرف جھکے اور ایک تنکا اٹھا لیا، پھر ارشاد فرمایا:اے کاش!میں اس تنکے کی طرح خس و خاشاک ہوتا۔ اے کاش!میں پیدا ہی نہ کیا جاتا۔ اے کاش!میری ماں مجھے نہ جنتی۔ ایک دوسرے موقع پر فرمایا:اگر آسمان سے ندا آئے کہ ایک آدمی کے سوادنیاکے تمام لوگ بخش دئیے گئے ہیں، تب بھی میرا خوف زائل نہ ہو گا۔ میں سمجھوں گا شاید وہ اکی بدقسمت انسان میں ہوں گا۔

ان خیالات نے آپ کی معاشی زندگی میں بڑی تکلیف پیدا کر دی تھی۔ آپ روم اور ایران کے شہنشاہ بن چکے تھے، پھر بھی آپ سے فقر و فاقہ کی زندگی نہ چھٹی۔ لوگ اس کومحسوس کرتے تھے، مگر آپ راضی برضا تھے۔ ایک دن آپ کی صاحبزادی ام المومنین حضرت حفضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جرات کر کے یہ کہہ ہی دیا:والد محترم!خدا نے آپ کوبڑا درجہ دیا ہے، آپ کو اچھے لباس اور اچھی غذاسے پرہیز نہ کرنا چاہیے۔ ارشاد فرمایا:اے جان پدر!معلوم ہوتا ہے کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے فقر و فاقہ کو بھول گئی ہو۔ خدا کی قسم!میں انہیں کے نقش قدم پر چلوں گاتا آنکہ آخرت کی مسرت حاصل کروں۔ اس کے بعد آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی تنگدستی کا ذکر چھیڑ دیا، یہاں تک کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بے قرار ہو کر رونے لگیں۔

ایک دفعہ یزید بن سفیان نے آپ کی دعوت کی جب دسترخوان پر بعض اچھے کھانے آئے تو آپ نے ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا:اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا طریقہ چھوڑ دو گے تو ضرور بھٹک جاؤ گے۔

حضرت احوض رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے گوشت پیش کیا گیاجس میں گھی پڑا ہوا تھا۔ آپ نے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا:یہ ایک سالن نہیں ہے، یہ دوسالن ہیں۔ گھی ایک سالن ہے اور گوشت الگ سالن ہے۔ پھراس تکلف کی کیا ضرورت ہے کہ دونوں سالنوں کو جمع کر کے کھایا جائے۔

صحابہ رضوان اللہ علیہم نے آپ کے جسم مبارک پر کبھی نرم کپڑا نہیں دیکھا تھا۔ آپ کے کرتے میں بارہ بارے پیوند ہوتے تھے۔ سرپرپھٹاعمامہ ہوتا تھا اور پاؤں میں پھٹی جوتی ہوتی تھی۔ پھر جب اسی حال میں قیصروکسری کے سفیروں سے ملتے تھے تو مسلمان شرما جاتے تھے مگر آپ پر کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔ یہاں تک حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دونوں نے مل کر کہا:امیرالمومنین ! خدا نے آپ کو مرتبہ دیا۔ شہنشاہوں کے سفیر آپ کے پاس آتے ہیں۔ ، اب آپ کو اپنی معاشرت بدل دینی چاہیے۔ فرمایا!افسوس ہے تم دونوں پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی ازواج ہو کر مجھے دنیا طلبی کی ترغیب دیتی ہو؟اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا!تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی حالت کو بھول گئیں جبکہ گھر میں صرف ایک ہی کپڑا ہوتا تھا، اسی کو آپ دن کے وقت بچھاتے اور اسی کورات اوڑھتے تھے۔ اے حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا!کیا تمہیں یاد نہیں کہ جب ایک رات تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے بسترکودہرا کر کے بچھا دیا تو آپ رات بھرسوئے رہے۔ پھر صبح اٹھتے ہی حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ارشاد فرمایا:”حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا!یہ تم نے میرے بسترکودہرا کر دیا اور صبح تک سوتارہا۔ مجھے دنیاوی آسائشوں سے کیا تعلق؟تم نے فرش کی نرمی سے مجھے کیوں غافل کر دیا؟”

ایک دفعہ کرتہ پھٹ گیا تو آپ نے پیوند پر پیوند لگاتے تھے۔ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے روکا تو فرمایا:اے حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا!میں مسلمانوں کے مال میں اس زیادہ تصرف نہیں کر سکتا۔

جب آپ منڈی کی تنبیہ و ہدایت کے لئے بازار میں گشت فرماتے تھے تو کوئی پرانی رسی یا کھجور کی گٹھلی جوسامنے آ جاتی، آپ اٹھا لیتے تھے اور لوگوں کے گھروں میں پھینک دیتے تھے تاکہ لوگ پھران سے نفع اٹھائیں۔

ایک دفعہ عتبہ بن فرقد آپ پاس آئے، دیکھا کہ ابلا ہوا گوشت اور سوکھی روٹی کے ٹکڑے سامنے رکھے ہیں اور انہیں زبردستی حلق کے نیچے اتار رہے ہیں۔ ان سے رہا نہیں گیا کہنے لگے :”امیرالمومنین!اگر آپ کھانے پینے میں کچھ زیادہ صرف کریں تو اس سے امت کے مال میں کمی نہیں آ سکتی۔ “فرمایا:افسوس!کیا تم مجھے عیش و عشرت کی ترغیب دیتے ہو؟ربیع بن زیاد نے کہا:امیرالمومنین آپ اپنے خدا داد مرتبہ کی وجہ سے  عیش و آرام کے زیادہ مستحق ہیں۔ اب آپ خفا ہو گئے اور فرمایا:میں قوم کا امیں ہوں۔ کیا امانت میں خیانت جائز ہے ؟”

اپنے وسیع کنبہ کے لئے بیت المال سے صرف دو درہم روزانہ لیتے تھے۔ ایک سفرحج میں کل اسی درہم خرچ آ گئے۔ اس پر بار بارافسوس کرتے تھے کہ مجھ سے فضول خرچی ہو گئی ہے، اس خیال سے کہ بیت المال پر بوجھ نہ پڑے، آپ اپنے پھٹے ہوئے کپڑوں پر برابر پیوند لگاتے جاتے تھے۔ ایک مرتبہ جمعہ کے دن منبر پر خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے تو امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کے کرتہ کے پیوند گنے، بارہ شمار میں آئے۔ ابو عثمان کہتے ہیں کہ میں نے آپ کا پاجامہ دیکھا، اس میں چمڑے کا پیوند لگا ہوا تھا۔

ایک دفعہ بحرین سے مال غنیمت میں مشک اور عنبر آیا اور اسے تقسم کرنے کے لئے آپ کوایسے شخص کی تلاش ہوئی جو نہایت احتیاط کے ساتھ وزن کر سکے۔ آپ کی بیوی نے کہا:میں نہایت ہی خوشی اسلوبی سے اس خدمت کو انجام دے سکتی ہوں۔ فرمایا:عاقلہ!میں تجھ سے یہ کام نہیں لوں گا۔ مجھے ڈر ہے کہ مشک تمہاری انگلیوں میں لگ جائے گا، پھرتم اپنے جسم پرملو گی اور جوابدہ اس کا میں ہو گا۔

ایک دفعہ سرپرچادرڈال کر دوپہر میں گشت کے لئے نکلے۔ اسی وقت ایک غلام گدھے پرسوارجا رہا تھا، چونکہ تھک گئے تھے، اس لئے سواری کی خواہش ظاہر کی۔ غلام فوراً اتر پڑا اور گدھا پیش کیا، فرمایا:میں تمہیں اس قدر تکلیف نہیں دے سکتا۔ تم بدستورسوار رہو، میں پیچھے بیٹھ جاتا ہوں۔ اسی حالت میں مدینہ منورہ کے اندر داخل ہوئے، لوگ حیران ہوتے تھے کہ غلام آگے بیٹھا ہے اور امیرالمومنین اس کے پیچھے سوارہیں۔

انتظام سلطنت کے سلسلے میں کئی دفعہ سفرپرگئے مگر کبھی خیمہ ساتھ نہ لیا۔ ہمیشہ درخت کے سائے میں ٹھہرتے تھے اور فرش خاک پراپنابسترجمالیتے تھے۔ کبھی کسی درخت پر اپنا کمبل تان لیتے تھے اور دوپہر کاٹ لیتے تھے۔

18ھ میں قحط پڑا۔ اس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بے قراری قابل دیدی تھی۔ گوشت، گھی  اور تمام دوسری مرغوب غذائیں ترک فرما دیں۔ ایک دن اپنے بیٹے کے ہاتھ میں خربوزہ دیکھا توسخت خفا ہوئے۔ کہنے لگے :مسلمان بھوکے مر رہے ہیں اور تم میوے کھاتے ہو۔

چونکہ گھی کی بجائے روغن زیتون کھانا شروع کر دیا تھا، اس واسطے ایک روز شکم مبارک میں قراقر ہوا۔ آپ نے پیٹ میں انگلی چبھو کر فرمایا جب تک ملک میں قحط ہے، تمہیں یہی کچھ ملے گا۔

عکرمہ بن خالد کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے ایک وفد نے مل کر عرض کیا کہ اگر آنجناب ذرا بہتر کھانا کھایا کریں تو اللہ تعالیٰ کے کام میں اور زیادہ قوی ہو جائیں۔ آپ نے پوچھا:کیا یہ تمہاری ذاتی رائے ہے یاسب مسلمان اس کا تقاضا کرتے ہیں ؟عرض کیا گیا یہ سب مسلمانوں کی متفقہ رائے ہے فرمایا:میں تمہاری خیرخواہی کا مشکور ہوں، مگر میں اپنے دو پیش روؤں کی شاہراہ ترک نہیں کر سکتا۔ مجھے ان کی ہم نشینی یہاں کی لذتوں سے زیادہ مرغوب ہے۔ ”

جو لوگ محاذ جنگ پر ہوتے، ان کے گھروں پر جاتے اور عورتوں سے پوچھ کر انہیں بازارسے سوداسلف لا دیتے۔ اہل فوج کے خطوط آتے تو خود گھروں میں پھر کر پہنچاتے۔ جس گھر میں کوئی پڑھا لکھا نہ ہوتا واہں خود ہی چوکھٹ پر بیٹھ جاتے اور گھر والے جو کچھ لکھاتے لکھ دیتے۔

حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک روز صبح سویرے مجھے شک ہوا کہ سامنے کے جھونپڑے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف فرما ہیں۔ پھر خیال آیا کہ امیرالمومنین کا یہاں کیا کام؟دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ یہاں ایک نا بینا ضعیفہ رہتی ہیں اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزانہ اس کی خبرگیری کے لئے آتے ہیں۔

یہ تھی حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روزانہ زندگی۔ اللہ کا بے پناہ خوف، مسلمانوں کی بے پناہ خدمت، شب و روز مصروفیتیں، ان سب پرمستزادیہ کہ ایک رات بھی پاؤں پھیلا کر نہ سوتے تھے اور ایک وقت بھی سیرہو کر نہ کھاتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جسم پاک روز بروز تحلیل ہوتا گیا۔ قوت گھٹ گئی، جسم مبارک سوکھ گیا اور بڑھاپے سے بہت پہلے بڑھاپامحسوس کرنے لگے۔ ان ایام میں اکثر فرمایا کرتے :اگر کوئی دوسرا شخص بار خلافت اٹھاسکتا تو خلیفہ بننے کی بجائے مجھے یہ بہت زیادہ پسند تھا کہ میری گردن اڑا دی جائے۔ ”

23ھ میں کرمان، سجستان، مکران اور اصفہان کے علاقے فتح ہوئے۔ گویاسلطنت اسلامی کی حدودمصرسے بلوچستان تک وسیع ہو گئیں۔ اسی سال آپ نے آخری حج فرمایا۔ حج سے واپس تشریف لا رہے تھے، راہ میں ایک مقام پر ٹھہر گئے اور بہت سی کنکریاں جمع کر کے ان پر چادر بچھائی۔ پھر چت لیٹ کر آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور دعا کرنے لگے۔

“خداوندا!اب میری عمر زیادہ ہو گئی ہے۔ میری قوی کمزور پڑ گئے ہیں اور میری رعایا ہر جگہ پھیل گئی ہے۔ اب تو مجھے اس حالت میں اٹھا لے کہ میرے اعمال برباد نہ ہوں اور میری عمر کا پیمانہ اعتدال سے متجاوز نہ ہو۔ ”

 

                سامان شہادت

 

کعب بن احبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:میں تو رات میں یہ دیکھتا ہوں کہ آپ شہید ہوں گے۔ آپ نے فرمایا:یہ کیسے ممکن ہے کہ عرب میں رہتے ہوئے شہید ہو جاؤں ؟پھر دعا فرمائی:اے خداوندا!مجھے اپنے راستے میں شہادت عطا کر اور اپنے محبوب کے مدینہ کی حدود کے اندر پیغام اجل ارزانی فرما۔

ایک دن خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک مرغ آیا ہے اور مجھ پر ٹھونگیں مار رہا ہے۔ اس کی یہی تعبیر ہے ہو سکتی ہے کہ اب میری وفات کا زمانہ قریب آ گیا۔ میری قوم مجھ سے مطالبہ کر رہی کہ میں اپنا ولی عہد مقرر  کروں۔

یاد رکھو میں موت کا مالک ہوں نہ دین اور خلافت کا۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور خلافت کا خود محافظ ہے وہ انہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا۔

زہری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا کہ کوئی مشرک جو بالغ ہو، مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اس سلسلہ میں حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن شعبہ گورنر کوفہ نے آپ کو لکھا کہ یہاں کوفہ میں فیروز نامی ایک بہت ہوشیار نوجوان ہے اور وہ نقاشی نجاری اور آہن گری میں بڑی مہارت رکھتا ہے۔ اگر آپ اسے مدینہ میں داخلے کی اجازت عطا کریں تو وہ مسلمانوں کے بہت کام آئے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا کہ اس کو بھیج دیا جائے۔ فیروز نے مدینہ پہنچ کر شکایت کی کہ مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ پر بہت ٹیکس لگا رکھا ہے، آپ کم کرا دیجئے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ:کتناٹیکس ہے ؟

فیروز :دو درہم روزانہ(سات آنے )

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ:تمہارا پیشہ کیا ہے ؟

فیروز :نجاری، نقاشی اور آہن گری۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ:ان صنعتوں کے مقابلہ میں یہ رقم کچھ بہت نہیں ہے۔

فیروز کے لئے یہ جواب ناقابل برداشت تھا۔ وہ عناد سے لبریز ہو گیا اور دانت پیستا ہوا باہر چلا گیا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ امیرالمومنین میرے سواہر ایک کا انصاف کرتے کرتے ہیں۔ چند روز کے بعد حضرت موصوف نے اسے پھر یاد فرمایا اور پوچھا:میں نے سناتم ایک چکی تیار کر سکتے ہو جو ہوا سے چلے ؟فیروز نے ترش روئی سے جواب دیا کہ میں تمہارے لئے ایک ایسی چکی تیار کروں گاجسے یہاں کے لوگ کبھی نہیں بھولیں گے۔ فیروز رخصت ہو گیا تو آپ نے فرمایا:یہ نوجوان مجھے قتل کی دھمکی دے گیا ہے۔ دوسرے روز ایک دودھاراخنجرجس کا قبضہ وسط میں تھا، آستین میں چھپایا اور صبح سویرے مسجد کے گوشے میں آ بیٹھا۔ مسجدمیں کچھ لوگ صفیں سیدھی کرنے پر مقرر  تھے جب وہ صفیں سیدھی کر لیتے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لاتے اور امامت کراتے تھے۔ اس روز بھی اسی طرح ہوا جب صفیں سیدھی ہو چکیں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ امامت کے لئے آگے بڑھے اور جونہی نماز شروع کی، فیروز نے دفعۃً گھات میں سے نکل کر چھ وار کئے جن میں ایک ناف کے نیچے پڑا۔ دنیا نے اس دردناک ترین حالت میں خداپرستی کا ایک عجیب نظارہ دیکھا۔ اس وقت جبکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے قدموں پر گر رہے تھے۔ آپ نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عوف کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جگہ پر کھڑا کر دیا اور خود وہیں زخموں کے صدمہ سے زمین پر گر پڑے۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عوف نے اس حالت میں نماز پڑھائی کہ امیرالمومنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سامنے تڑپ رہے تھے۔ فیروز نے اور لوگوں کو بھی زخمی کیا لیکن آخر وہ پکڑا گیا اور اسی وقت اس نے خودکشی کر لی۔

حضرت فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اٹھا کر گھر لایا گیا۔ آپ نے سب سے پہلے یہ دریافت فرمایا کہ کہ میرا قاتل کون تھا؟لوگوں نے عرض کیا فیروز۔ اس جواب سے چہرہ انور پر بشاشت ظاہر ہوئی اور زبان مبارک سے فرمایا:الحمد للہ!میں کسی مسلمان کے ہاتھ سے قتل نہیں ہوا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ زخم چنداں کاری نہیں، اس لئے شفا ہو جائے گی چنانچہ ایک طبیب بلایا گیا، اس نے نبیذ اور دودھ پلایا، مگر یہ دونوں زخم کی راہ سے باہر آ گئیں۔ اس سے تمام مسلمانوں پرافسردگی طاری ہو گئی اور وہ سمجھے کہ اب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جانبر نہ ہو سکیں گے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تنہا زخمی نہیں ہوئے، ایسامعلوم ہوتا کہ پورا مدینہ زخمی ہو گیا ہے۔ خلافت اسلامیہ زخمی ہو گئی ہے۔ اس سے بھی زیادہ یہ کہ خوداسلام پاک زخمی ہو گیا ہے۔ غم میں ڈوبے ہوئے لوگ آپ کی عیادت کے لئے آتے تھے اور بے اختیار آپ کی تعریفیں کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور بے اختیار آپ کے فضائل و اوصاف بیان کرنے لگے مگر ارشاد فرمایا:اگر آج میرے پاس دنیاکاسونابھی موجود ہوتا تومیں اسے خوف قیامت سے رستگاری حاصل کرنے کے لئے قربان کر دیتا۔

 

                انتخاب خلافت کی مہم

 

جب تک حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے تھے،  انہیں نئے انتخاب کا تصور تک نہیں ہوا۔ وہ یوں سمجھتے تھے کہ شایداسلام کا یہ سب سے بڑا خادم یوں ہی عرصہ دراز تک امت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حفاظت کرتا رہے گا جب عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ناگہاں بسترپرگر پڑے تو مسلمانوں کو اب پہلی دفعہ اپنی بے بسی اور اسلام کی تنہائی کا احساس ہوا۔ اب ہرمسلمان کوسب سے پہلا فکر یہی تھا کہ اب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد اس امت کا محافظ کون ہو گا؟جتنے بھی لوگ خبرگیری کے لئے آتے تھے، یہی عرض کرتے۔ “امیرالمومنین!آپ اپنا جانشین مقرر  کرتے جائیے۔ “آپ مسلمانوں کا یہ تقاضاسنتے تھے اور چپ ہو جاتے تھے۔ آخر ارشاد فرمایا:کیا تم چاہتے ہو کہ موت کے بعد بھی یہ بوجھ میرے ہی کندھوں پر ر ہے ؟یہ نہیں ہو سکتا۔ میری آرزو صرف یہی ہے کہ میں اس مسئلہ سے اس طرح الگ ہو جاؤں کہ میرے عذاب و ثواب کے دونوں پلڑے برابر رہ جائیں۔

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ نے انتخاب خلافت کے مسئلہ پر مدتوں غور فرمایا اور وہ اکثراسی کوسوچا کرتے تھے۔ لوگوں نے متعدد مرتبہ ان کواس حالت میں دیکھا تھا کہ سب سے الگ متفکر بیٹھے ہوئے ہیں اور کچھ سوچ رہے ہیں۔ دریافت کیا جاتا تو ارشاد فرماتے۔ میں خلافت کے معاملے میں حیران ہوں، کچھ نہیں سوجھتا۔ بارہا کے غور و فکر کے بعد بھی ان کی نظرکسی ایک شخص پر جمتی نہیں تھی۔ بارہا ان کے منہ سے ایک بے ساختہ آہ نکل جاتی، افسوس، مجھے اس بار کا کوئی اٹھانے والا نظر نہیں آتا۔

ایک شخص نے کہا:آپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ کیوں نہیں مقرر  کر دیتے ؟فرمایا”اے شخص!خدا تجھے غارت کرے، واللہ!میں نے خداسے کبھی یہ استدعانہیں کی۔ کیا میں ایسے شخص کو خلیفہ بنا دوں، جس میں اپنی بیوی کو طلاق دینے کی بھی صحیح قابلیت موجود نہیں ہے۔

اسی سلسلہ میں فرمایا:میں اپنے ساتھیوں کو خلافت کی حرص میں مبتلا دیکھ رہا ہوں۔ ہاں اگر آج سالم رضی اللہ تعالیٰ اور ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ یا ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن جراح زندہ ہوتے تو میں ان کے متعلق کہہ سکتا تھا۔ اس ارشاد مبارک سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو یہ بہت زیادہ پسند تھا کہ انتخاب خلافت کے مسئلہ کو چھوئے بغیراس دنیا کو عبور کر جائیں لیکن مسلمانوں کا اصرار روز بروز بڑھتا چلا گیا۔ آخر آپ نے فرمایا کہ میرے انتقال کے بعد عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ، علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عوف اور سعدبن وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ تین دن کے اندرجس شخص کو منتخب کر لیں، اسی کو خلیفہ مقرر کیا جائے۔

 

                سفر آخرت کی تیاری

 

آخری گھڑیوں میں اپنے صاحبزادے عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو طلب فرمایا، وہ حاضر ہو گئے تو ارشاد فرمایا:عبداللہ حساب کرو مجھ پر قرض کتنا ہے ؟حساب لگا کر بتایا گیا کہ 86ہزاردرہم۔ فرمایا یہ قرض آل عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حساب سے ادا کیا جائے۔ اگر ان میں استطاعت نہ ہو تو خاندان عدی سے امداد لی جائے۔ اگر پھر بھی ادانہ ہو، کل قریش سے لیا جائے لیکن قریش کے علاوہ دوسروں کو تکلیف نہ دی جائے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام نافع رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر قرض کیونکر رہ سکتا تھا جبکہ ان کے ایک وارث نے اپنا حصہ وراثت ایک لاکھ میں بیچا۔ دوسری روایت یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مسکونہ مکان بیچ ڈالا گیاجس کو امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خریدا اور قرض ادا ہو گیا۔ تصفیہ قرض کے بعد بیٹے سے فرمایا:تم ابھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے التماس کرو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ چاہتا ہے کہ اسے اپنے دو رفیقوں کے پاس دفن ہونے کی اجازت دی جائے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ یہ پیغام حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پہنچایا تووہ بے حد درد مند ہوئیں اور فرمایا:میں نے یہ جگہ اپنے لیے محفوظ کر رکھی تھی مگر آج میں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی ذات پر ترجیح دیتی ہوں جب بیٹے نے آپ کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی منظوری کی اطلاع دی تو بے حد خوش ہوئے اور اس آرزو کی قبولیت پر بہ صد خلوص و نیاز شکر ادا کرنے لگے۔

اب کرب و تکلیف کی حالت شروع ہو چکی تھی۔ اسی حالت میں لوگوں سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا:جو شخص خلیفہ منتخب ہو، وہ پانچ جماعتوں کے حقوق کا لحاظ رکھے۔ مہاجرین کا، انصار کا، اعراب کا، ان اہل عرب کا جودوسرے شہروں میں جا کر آباد ہوئے اور اہل ذمہ کا۔ پھر ہر جماعت کے حقوق کی تشریح فرمائی اور اہل ذمہ کے متعلق ارشاد فرمایا میں خلیفہ وقت کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذمہ داری کا لحاظ رکھے اور اہل ذمہ کے تمام معاہدات پورے کئے جائیں۔ ان کے دشمنوں سے لڑا جائے اور انہیں طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دی جائے۔

انتقال سے تھوڑا عرصہ پہلے اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا:میرے کفن میں بیجا صرف نہ کرنا۔ اگر میں اللہ کے ہاں بہتر ہوں تو مجھے ازخودبہترلباس مل جائے گا۔ اگر بہتر نہیں ہوں تو بہتر کفن بے فائدہ ہے۔

پھر فرمایا:میرے لئے لمبی چوڑی قبر نہ کھدوائی جائے۔ اگر میں اللہ تعالیٰ کے ہاں مستحق رحمت ہوں تو خود از خود میری قبر حد نگاہ تک وسیع ہو جائے گی۔ اگرمستحق رحمت نہیں ہوں تو قبر کی وسعت میرے عذاب کی تنگی کو دور نہیں کر سکتی۔ پھر فرمایا:میرے جنازہ کے ساتھ کوئی عورت نہ چلے۔ مجھے مصنوعی صفات سے یاد نہ کیا جائے۔ جب میرا جنازہ تیار ہو جائے تو مجھے جلد سے جلد قبر میں پہنچا دیا جائے۔ اگر میں مستحق رحمت ہوں تو مجھے رحمت ایزدی تک پہچانے میں جلدی کرنی چاہیے۔ اگرمستحق عذاب ہوں تو ایک برے آدمی کا بوجھ جس قدر جلد سے جلد کندھوں سے اتار پھینکا جائے، اسی قدر بہترہو گا۔ ان درد انگیز وصایا کے تھوڑا عرصہ بعد فرشتہ اجل سامنے آ گیا اور آپ جان بحق تسلیم ہو گئے۔ یہ ہفتہ کا دن تھا۔ 23ھ۔ اس وقت عمر 63 برس کی تھی۔ حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ حضرت عبدالرحمن، حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت طلحہ، حضرت سعدبن وقاص اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے قبر میں اتارا اور دنیائے اسلام کے اس درخشندہ ترین آفتاب کو آقائے انسانیت کے پہلو میں ہمیشہ کے لئے سلادیا گیا۔

انا للہ و انا الیہ راجعون۔

مسلمانوں کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت سے جو صدمہ ہوا، الفاظ سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ہرمسلمان نے اپنی عقل کے مطابق انتہائی غم و اندوہ کا اظہار کیا۔ حضرت ایم ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہاجس روز حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہوئے، اسی روز اسلام کمزور پڑ گیا۔

حضرت ابواسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام کے مائی باپ تھے، وہ گزر گئے تو اسلام یتیم ہو گیا۔ خدا کہتا ہے کہ وہ گزرے نہیں بلکہ زندہ ہیں اور ہمیشہ تک زندہ رہیں گے۔

٭٭٭

 

 

 

 

شہادت عثمانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 

                دیرینہ خاندانی رقابت

 

اسلامی تاریخ میں نفاق کی ایک لکیر ہے، یہ لکیر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خون سے کھینچی گئی اور اسی میں اسلام کا پورا جاہ و جلال دفن ہو گیا۔

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی اصل بنیاد بنی ہاشم اور بنی امیہ کی خاندانی رقابت ہے۔ جب تک اس رقابت کی تشریح نہ کی جائے، شہادت کے صحیح اسباب روشنی میں نہیں آ سکتے اس لئے سب سے پہلے ہم اسی مسئلہ کی وضاحت پیش کرنا چاہتے ہیں۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے والد ماجد کے پر دادا عبد مناف کی شخصیت بہت اہم ہے، ان کے چار بیٹے تھے۔

نوفل۔ مطلب۔ ہاشم۔ عبدشمس

نبی ہاشم اور بنی امیہ کی رقابت کے معنی ہیں۔ ہاشم اور عبدشمس کی اولادوں کی نا اتفاقی۔

ہاشم اگرچہ عبدشمس سے چھوٹا تھا لیکن وہ اپنی لیاقت اور فیاضی سے قوم کا پیشوا بن گیا۔ اس نے قیصر روم اور نجاشی شاہ حبش سے تجارتی مراعات حاصل کیں اور اس کے بعد خانہ کعبہ کے انتظامات بھی اس کے متعلق ہو گئے۔ یہ سب چیزیں ہاشم کے بھتیجے (عبدشمس کے بیٹے )امیہ کو بہت ناگوار گزریں اور ایک موقع پراس نے اپنے چچا ہاشم کو لڑائی کا چیلنج دے دیا۔

شرط یہ تھی کہ چچا (ہاشم) اور بھتیجا (امیہ)کے درمیان مناظرہ ہو گا۔ قبیلہ خزاعہ کا  ایک کاہن مناظرے کا فیصلہ دے گا اور فریقین اس کو منظور کر لیں گے۔ طے پایا کہ ہار نے والا شخص جتنے والے کو50 سیاہ اونٹ دے گا اور دس سال کے لئے جلاوطن کر دیا جائے گا۔

ہاشم اور امیہ میں مناظرہ ہوا۔ جج نے امیہ کی شکست کا اعلان کر دیا۔ امیہ نے پچاس اونٹ دیئے اور شام کی طرف جلاوطن ہو گیا۔ بس اسی نقطے سے بنی ہاشم اور بنی امیہ میں عنادکاسلسلہ شروع ہوتا ہے۔

 

                عہد نبوی میں اموی اور ہاشمی

 

بعثت نبوی کے وقت چار آدمی بنی ہاشم کے ستون تھے۔ ہاشم کے بیٹے عبدالمطلب یعنی حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے دادا۔ آپ کے چچا ابوطالب۔ حمزہ۔ عباس اور ابولہب۔ اسی عہد میں بنی امیہ کی قیادت تین آدمیوں کے ہاتھ میں تھی۔ ابوسفیان۔ عفان اور حکم۔

حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے 40 میلادی میں دنیا کے سامنے نبوت کا دعویٰ کیا۔ آپ چونکہ بنی ہاشم میں سے تھے اس لئے بنی امیہ کے افراد نے خاندانی رقابت کے باعث آپ کی مخالفت کی اور ان کے مدمقابل بنی ہاشم نے آپ کا ساتھ دیا۔

آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے دادا عبدالمطلب نے آپ کو پالا تھا۔ آپ کے چچا ابوطالب نے آپ کی کڑی حمایت کی تھی۔ آپ کے چچازاد بھائی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ پر ایمان لانے میں پیش قدمی کی تھی۔ آپ کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی بہت جلد آپ پر ایمان لے آئے اور قوت بازو ثابت ہوئے۔ آپ کے دوسرے چچاعباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اگرچہ دیر میں ایمان لائے۔ پھر بھی آپ کے کافی ہمدرد تھے۔ مختصر یہ کہ بنی ہاشم میں صرف ابولہب دشمن رہا اور باقی سب ہاشمی حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ، حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جناب ابو تراب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ ایمان لے آئے۔ یہ لوگ آپ کے چچا تھے یا آپ کے چچاؤں کی اولاد۔

ہم نے اوپر ذکر کیا ہے کہ اس زمانے میں بنی امیہ کے تین سردار تھے۔ ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ،  عفان اور حکم۔ ان کے بعد ان کے بیٹے رئیس خاندان قرار پائے۔ ابوسفیان کے بیٹے امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عفان کے فرزند حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حکم کے بیٹے مروان۔ ان سب میں عفان کے بیٹے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پیش قدمی کی اور مسلمان ہو گئے اور باقی سب لوگ عام طور پرپیغمبراسلام کی مخالفت پر تلے رہے۔ یہاں یاد رکھئے امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مروان، یہ تینوں امیہ کے پر پوتے ہیں اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے اسباب انہیں تینوں حضرات کے باہمی تعلقات میں مضمر ہیں۔

شجرہ نسب سے بنی ہاشم اور بنی امیہ کے تعلقات کی کڑیاں ملاحظہ ہوں۔

نقطہ دار خطوط بنی امیہ اور بنی ہاشم کے نسلی تصادم کو ظاہر کرتے ہیں۔ امیہ ہاشم سے ٹکرایا۔ ابوسفیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے لڑا۔ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں جنگ ہوئی۔ یزید نے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ کو شہید کیا۔ مروان کی اولاد سے خلافت بنی امیہ کا سلسلہ جاری ہواجسے اولادعباس نے خلافت عباسیہ قائم کر کے ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا۔

ہم بیان کر چکے ہیں کہ پیغمراسلام کی مکی زندگی میں بنی ہاشم حضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے موافق تھے اور بنی امیہ مخالف۔ اسی دوران میں عفان کے بیٹے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ ان کا بنی امیہ کے مخالف کیمپ سے تن تنہا ہاشمی کیمپ میں چلے آنا بڑی جرات و صداقت کی بات تھی اور یہی ایک چیز حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمت و نورانیت کی دلیل بھی ہے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد بنی امیہ کے دوسرے افرادبھی مسلمان ہو گئے اور حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ان نفسوں کا اس طرح تزکیہ فرمایا کہ بنی ہاشم اور بنی امیہ کی دیرینہ رقابت محو ہو کر رہ گئی۔ اب اموی اور ہاشمی بھائی بھائی تھے اور ایک دوسرے سے بڑھ کراسلام کی خدمات انجام دے رہے تھے۔

 

                حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتخاب خلافت

 

پیغمبرانسانیت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے انتقال کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ ہوئے اور یہ وقت بڑے امن سے گزرا۔ پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ ہوئے اور آپ کا زمانہ بھی بڑی کامیابی سے گزرا۔ 23ھ میں عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انتقال فرمایا اور وصیت کی کہ علی، عثمان، زبیر، طلحہ، سعدبن ابی وقاص اور عبدالرحمن بن عوف(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم)۔ یہ چھ آدمی تین دن کے اندراندرکسی کو خلیفہ منتخب کر لیں۔ پورے دو دن بحث میں گزر گئے اور کوئی بات طے نہ ہوئی۔ تیسرے دن حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ہم میں سے تین آدمی ایک ایک شخص کے حق میں دستبردارہو جائیں تاکہ چھ کی بحث تین میں محدود ہو جائے۔ اس پر حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں دستبردارہو گئے۔ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں اور حضرت سعدبن وقاص رضی اللہ تعالیٰ، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:میں امیدواری سے دستبردارہوتا ہوں۔ اب بحث صرف علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں رہ گئی چونکہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایثار کیا تھا۔ اس لئے ان دونوں نے اپنا آخری فیصلہ ان کے سپردکر دیا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کومسجدمیں جمع کر کے مختصرسی تقریر کی اور اپنا فیصلہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ کے حق  میں دے دیا اور سب سے پہلے اسی مسجدمیں خود بیعت کی۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ نے بیعت کی اور پھر تمام مخلوق بیعت کے لئے ٹوٹ پڑی اور بنی امیہ کے ایک معزز فرزند حضرت عثمان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے جانشین ہو گئے۔ گواس وقت یہ بات زبانوں پرنہ آئی ہو تاہم دلوں نے یہ ضرورمحسوس کر لیا۔ لیجئے رسول ہاشمی کی مسندخلافت پر بنی امیہ کا ایک فرزند متمکن ہو گیا۔ یہ 4 محرم 24 ھ کا واقعہ ہے۔

 

                ناموافق اسباب کا ظہور

 

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے پہلے چھ سال بڑے امن سے گزرے لیکن آخری چھ سالوں میں دنیا کا رنگ ہی پلٹ گیا۔ اس انقلاب کی اصل وجہ صرف ایک تھی اور وہ یہ ہے کہ صحابہ کرام (رضی اللہ تعالیٰ عنہم)کی وہ مبارک جماعت جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے چہرہ مبارک کی روشنی میں زندگی اور اتحاد کے سبق سیکھے تھے، اس دنیاسے رخصت ہو رہی تھیں اور وہ نئی نسلیں جو جواس با خدا جماعت کی وارث ہوئیں۔ تقویٰ اور اتحاد میں ان کی وارث نہ تھیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے صحابہ کی سب سے بڑی فضیلت یہ تھی کہ ان کا جینا اور مرنا محض اللہ کے لئے تھا چونکہ وہ غرض سے خالی تھے، اس لئے وہ نفاق و اختلاف سے بھی خالی تھے لیکن اب جونئی نسلیں میدان میں آئیں، وہ اس درجہ بے نفس اور بے غرض نہ تھیں اور اسی واسطے ان میں اختلاف و انتشار کا رنگ بھی نمایاں تھا اور اقتدار و مفاد کی طلب بھی موجود تھی۔

دلوں پر توحید کا رنگ جس قدر زیادہ ہو گا، وہ اسی قدر کھوٹ، خیانت، غرض اور نفاق سے پاک ہوں گے اور وہ دل جو غرض اور نفاق سے پاک ہوں گے، بے تکلف متحد بھی ہو جائیں گے لیکن صحابہ رضوان اللہ علیہم کی اولادوں میں توحید کا جذبہ گھٹا تو غرضیں بڑھ گئیں اور جس قدر غرضیں بڑھیں، اسی قدر دلوں میں تفاوت پیدا ہو گیا اور اسی تفاوت قلوب کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ چند ہی سالوں میں خلافت نبوی اور امارت اسلامی کے قلعے پارہ پارہ ہو گئے۔

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں نفاق کی تین تحریکیں پیدا ہوئیں۔

1-    بنی امیہ اور بنی ہاشم میں نفاق

ہاشمی لوگ اپنے آپ کورسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا وارث سمجھتے تھے اور خاندانی رقابت کے ماتحت یہ صورت حالات انہیں کچھ زیادہ پسندیدہ معلوم نہ ہوتی تھی کہ بنی امیہ کے سردارکابیٹارسول ہاشمی کے دین و حکومت کا امام ہو۔

2-    قریش اور غیر قریش میں نفاق

مسلمانوں کی تعداد بہت بڑھ گئی تھی۔ غیر قریش قبائل نے فتوحات اسلامی میں قریش کے دوش بدوش کام کیا تھا، انہیں یہ گوارا نہ تھا کہ افسری کا تاج صرف قریش ہی پہنے رہیں۔

3-    عرب اور غیر عرب میں نفاق:۔

اسلام کی شعاعیں روم، شام اور مصر تک پھیل چکی تھیں۔ یہودی، مجوسی، عیسائی ہزارہا کی تعداد میں حلقہ اسلام میں داخل ہو چکے تھے اور مساوات اسلامی کے نظریہ کے ماتحت اپنے آپ کوا ہل عرب کے مساوی کہتے تھے۔ انہیں عربوں کی ترجیح گوارا نہ تھی۔

مختصر یہ کہ بنی ہاشم کا دل بنی امیہ سے متحد نہ تھا۔ عام عرب قریش کے اقتدارسے جلتے تھے۔ تمام عجمی عربوں کے اقتدارپرحسدکرتے تھے، یعنی حکومت کے اعلی، درمیانی اور ادنی طبقوں میں حسب مدارج نفاق و اختلاف اور حسدورقابت نے اپنی تخم ریزیاں شروع کر دی تھیں۔

 

                غیر مطمئن عناصر کی تنظیم

 

سب سے پہلے کوفہ میں انقلابی اثرات ظاہر ہوئے اور اشتر نخعی نے لوگوں میں یہ خیال پھیلایا کہ ازروئے اسلام کوئی حق نہیں ہے کہ چند قریش تمام دنیائے اسلام کو اپنا غلام بنائے رکھیں چونکہ عام مسلمانوں نے ممالک فتح کئے ہیں۔ اس لئے وہ سب امارت کے مستحق ہیں۔ غیر عربی عناصر نے اشتر نخعی کی تلقین کوبڑی تیزی سے قبول کیا۔ ایک سازشی پارٹی بنا لی گئی اور سعیدبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ گورنر کوفہ کے خلاف پراپیگنڈہ شروع کر دیا۔ گورنر نے اپنے بچاؤ کے لئے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی منظوری لے کراس انقلابی پارٹی کے دس لیڈروں کو شام کی طرف جلاوطن کر دیاجس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بصرہ میں بھی ایک انقلابی پارٹی پیدا ہو گئی۔ کوفہ اور بصرہ میں جو کام اشتر نخعی نے کیا تھا، عبداللہ بن سبامصرمیں اس کا بیڑا اٹھا چکا تھا جب عبداللہ بن سباکوجوایک یہودی النسل نومسلم تھا۔ بصرہ اور کوفہ کی سازشی پارٹیوں کا حال معلوم ہوا تو بے حد خوش ہوا اور اس نے بہت ہی تھوڑی محنت سے ان تمام پارٹیوں کو منظم کر کے اس امر پر آمادہ کر لیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کومسندخلافت سے معز ول کر کے بنی امیہ کی طاقت کو توڑا جائے۔ اس نے اپنے مبلغ ہر طرف پھیلا دیئے۔ یہ لوگ دینداری اور مولویت کا لبادہ پہن کر پہلے عام مسلمانوں کا  اعتماد حاصل کرتے تھے۔ پھر انہیں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے گورنروں کے خلاف شکایت سناتے تھے اور خیرخواہی اسلام کے پردے میں خلیفۃ المسلمین سے بدگمان کر دیتے تھے۔

انقلابی پروپیگنڈہ کی کامیابی کا اندازہ اس سے کیجئے کہ محمد بن ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور محمد بن بو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے آدمی بھی تحریک انقلاب میں شامل ہو گئے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ خود مدینہ منورہ کا حال بھی بگڑنے لگا۔ ایک دن حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ خطبہ جمعہ کے لئے کھڑے ہوئے آپ حمد و ثنا کر رہے تھے کہ مجمع میں سے ایک شخص کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا:عثمان!کتاب اللہ کی پیروی کر۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہایت نرمی سے فرمایا:آپ بیٹھ جائیے، مگر اثناء خطبہ یہ دوسری بار کھڑا ہو گیا اور پہلے جملے کا اعادہ کیا۔ حضرت موصوف نے پھر اسے بیٹھ جانے کی ہدایت فرمائی۔ وہ بیٹھا اور پھر کھڑا ہو گیا مگر پیکر حلم عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اب بھی بے طیش تھے۔ آپ نے پھر نرمی اور محبت سے فرمایا:آپ بیٹھ جائیے اور خطبہ سنائیے۔ چونکہ یہ سب کچھ ایک سازش کے ماتحت تھا۔ اس واسطے دفعۃً اس کے بہت سے ساتھی اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے عین خطبہ ہی میں خلیفہ رسول کو گھیر لیا اور اس قدرپتھربرسائے کہ نائب رسول زخموں سے چور چور ہو کر زمین پر گر پڑے۔ پیکر حلم حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صبر و تحمل کی داد دیجئے کہ آپ نے مفسدین سے کوئی بازپرس نہ کی، جو کچھ گزر چکا تھا اسے برداشت کر لیا اور سب کو معاف کر دیا۔

 

                شورش پسندوں کے الزامات

 

مفسدین کی طرف سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر پانچ اہم الزامات لگائے گئے۔

1-    آپ نے اکابر صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم کی بجائے اپنے نا تجربہ کار رشتہ داروں کو بڑے بڑے عہدے دے رکھے ہیں۔

2-    آپ اپنے عزیزوں پر بیت المال کا روپیہ بے جا صرف کرتے ہیں۔

3-    آپ نے زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لکھے ہوئے قرآن کے سواباقی سب صحیفوں کو جلا دیا ہے۔

4-    آپ نے بعض صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم کی تذلیل کی ہے اور نئی نئی بدعتیں اختیار کر لی ہیں۔

5-    مصری وفد کے ساتھ صریح بدعہدی کی ہے۔

یہ تمام الزامات قطعی طور پرسازشیوں کی شرارت کا نتیجہ تھے۔ یہ اس طرح کہ:

1-    صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم کی معز ولی انتظامی اسباب سے متعلق تھی

2-    عزیزوں کو آپ نے جو کچھ دیا، اپنے ذاتی مال سے دیا تھا۔

3-    آپ نے جس صحیفہ کو باقی رکھا، وہ خود حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تیار کرایا تھا اور اس سے زیادہ مکمل ومستندصحیفہ اور کون ہو سکتا تھا۔

4-    جن بدعات کا حوالہ دیا گیا، ان کا تعلق اجتہادی مسائل سے ہے، اس لئے انہیں بدعت نہیں کہا جا سکتا۔

5-    مصری وفد کے حالات ابھی بیان کیے جائیں گے۔

 

                گورنروں کی کانفرنس

 

جب حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان شورشوں کا علم ہوا تو انہوں نے تمام صوبوں کے گورنروں کو جمع کر کے رائے طلب کی۔ گورنروں کی اس کانفرس میں حضرت موصوف کوحسب ذیل مشورے دئیے گئے۔

عبداللہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ:۔ کسی ملک پر فوج کشی کر کے لوگوں کو جہاد میں مصروف کر دینا چاہیے۔ شورش از خود رفتہ ہو جائے گی۔

امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ:۔ ہر صوبے کا گورنر اپنے صوبے کوخودسنبھالے۔

عبداللہ بن سعدرضی اللہ تعالیٰ:۔ روپیہ دے کر شورش پسندوں کی حرص پوری کر دی جائے۔

عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ:۔ آپ عدل کریں ورنہ مسندخالی کر دیں۔

لیکن جب کانفرس منتشر ہو گئی تو عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے معذرت کی اور کہا:مفسدین کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے وہ رائے پیش کی تھی، اب میں ان کی ہر سازش سے آپ کو مطلع کرتا رہوں گا۔

گورنرکانفرس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام معاملات پر خود غور کیا اور اس کے لیے تین اقدام کیے :۔

1-    گورنر کوفہ سعدبن العاص رضی اللہ تعالیٰ کو معزول کر کے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مقرر  کر دیا۔

2-    تمام صوبوں میں اصلاح حال کے لیے تحقیقاتی وفد روانہ کئے۔

3-    اعلان کیا گیا کہ حج کے موقع پر تمام لوگ اپنی شکایات پیش کریں، تدارک کیا جائے گا۔

 

                مفسدین کی مدینہ پر یورش

 

مفسدین کو اصلاح منظور نہ تھی، اس لئے انہوں نے ٹھیک اس وقت جبکہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اصلاح کی کوشش فرما رہے تھے، الگ الگ پارٹیاں بنا لیں اور اپنے آپ کو حاجی ظاہر کر کے مدینے کی طرف کوچ کر دیا۔ جب یہ لوگ شہر کے قریب پہنچے تو وہاں ایک حملہ اور فوج کی شکل اختیار کر کے طرح اقامت ڈال دی۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواس مظاہرے کا علم ہوا تو آپ نے حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو باری باری ان کے پاس بھیجا اور ترغیب دی کہ تمام مظاہرین اپنے اپنے علاقوں میں واپس چلے جائیں، تمام جائز مطالبات جلد پورے کر دئیے جائیں گے۔ تمام معاملات پرمسجدمیں غور کیا گیا۔ طلحہ بن عبید اللہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے نہایت سخت الفاظ میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے گفتگو کی۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف پیغام آیا کہ آپ عبداللہ بن ابی سرح کوجس پر صحابہ رضوان اللہ علیہم کے قتل کا الزام ہے کیوں مصر کی امارت سے الگ نہیں کر دیتے ؟جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس خیال کی تائید فرمائی تو ارشاد فرمایا:”یہ لوگ اپنا امیر خود تجویز کر لیں، میں اس کو عبد اللہ بن ابی سرح کی جگہ مقرر  کر دوں گا۔ لوگوں نے محمد بن بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو متنخب کیا تو آپ نے ان کی تقرر ی اور عبداللہ بن ابی سرح کی علیحدگی کا فرمان لکھ دیا۔ یہ فرمان لے کر محمد بن بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت سے مہاجرین و انصار کے ساتھ تشریف لے گئے اور معاملہ ختم ہو گیا۔

اس واقعہ کے چند روز بعد مدنیہ میں ناگہاں شور اٹھا کہ مفسدین کی جماعتیں پھر مدینہ میں آگھسی ہیں اور یورش پیدا کر رہی ہیں۔ شورسن کرمسلمان اپنے اپنے گھروں سے نکل آئے۔ دیکھا کہ مدینہ کے تمام گلی کوچوں میں انتقام انتقام کا شور برپا ہے جب مفسدین سے ان کی حیرت انگیزواپسی کا سبب دریافت کیا گیا تو انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پرایساعجیب الزام لگایا کہ تمام لوگ دم بخود رہ گئے۔ انہوں نے کہا محمد بن بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تیسری منزل میں تھے کہ وہاں سے خلافت کا ایک شترسوارگزراجونہایت تیز رفتاری کے ساتھ مصر کی طرف چلا جا رہا تھا۔ محمد بن بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رفیقوں نے اسے پکڑ لیا اور اس سے دریافت کیا کہ تم کون ہو اور کہاں جا رہے ہو؟شترسوار نے کہا میں امیرالمومنین کا غلام ہوں اور حاکم مصر کے پاس جا رہا ہوں۔ لوگوں نے محمد بن بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف اشارہ کر کے کہا یہ ہیں حاکم مصر۔ شترسوار نے کہا یہ نہیں اور اپنے راستے پر چل دیا۔ لوگوں نے اسے دوبارہ پکڑ لیا اور جب اس کی تلاشی لی گئی تو اس کے خشک مشکیزہ کے اندرسے یہ خط ملاجس پر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مہر کے ساتھ یہ لکھا گیا تھا کہ محمد بن بو بکر رضی اللہ تعالیٰ اور ان کے فلاں فلاں ساتھی جس وقت بھی تمہارے پاس پہنچیں، انہیں قتل کر دیا جائے اور ہر شکایت کرنے والے کو تا حکم ثانی قید رکھا جائے۔

مفسدین نے کہا:حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ اب ہم ضرور ان سے انتقام لیں گے۔ حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت سعد اور بہت سے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین جمع ہوئے اور مفسدین نے “حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط”ان کے سامنے رکھ دیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی یہاں تشریف لے آئے اور گفتگو شروع ہوئی۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ:امیرالمومنین!یہ آپ کا غلام ہے ؟

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ:ہاں

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ:امیرالمومنین!یہ اونٹنی آپ کی ہے ؟

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ:ہاں میری ہے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ : امیرالمومنین!اس خط پر مہر آپ کی ہے۔

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ:ہاں یہ میری مہر ہے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ: کیا یہ خط آپ نے لکھا ہے ؟

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ:میں اللہ کو حاضر و ناظر جان کر یہ حلف کرتا ہوں کہ یہ خط میں نے نہیں لکھا اور نہ ہی میں نے کسی کواس کے لکھنے کا حکم دیا اور نہ مجھے اس کے متعلق کچھ معلوم ہے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ:تعجب ہے کہ غلام آپ کا، اونٹنی آپ کی، خط پر مہر آپ کی اور پھر بھی آپ کو خط کے متعلق کچھ معلوم نہیں ؟

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ:واللہ!نہ میں نے خط کو لکھا، نہ کسی سے لکھوایا، نہ میں نے غلام کو دیا کہ وہ اسے مصر لے جائے۔

اب خط دیکھا تو معلوم ہوا کہ کہ مروان کا رسم الخط ہے جواس وقت حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان میں موجود تھا۔ لوگوں نے کہا:مروان کو ہمارے سپردکر دیجئے، مگر آپ نے انکار فرما دیا۔ اس پرایک انتشار رونماہوا۔ اکثر لوگوں کی رائے یہ تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کبھی جھوٹی قسم نہیں کھاتے، مگر بعض کہتے تھے کہ آپ مروان کو ہمارے حوالے کیوں نہیں کرتے تاکہ ہم تحقیق کر لیں۔ اگر مروان کی غلطی ثابت ہوئی تو ہم اسے سزادیں گے لیکن حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ شبہ تھا کہ اگر مروان کومفسدین کے سپردکیا گیا تووہ اسے قتل کر دیں گے، اس لئے آپ نے مروان کی سپردگی سے انکار کر دیا۔

اس کے بعد مفسدین نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور مطالبہ کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسندخلافت سے کنارہ کش ہو جائیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:جب تک مجھ میں سانس باقی ہے، میں اس خلعت کو جو خدا نے مجھے پہنایا ہے، اپنے ہاتھ سے نہیں اتاروں گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وصیت کے مطابق اپنی زندگی کے آخری لمحے تک صبرسے کام لوں گا۔

محاصرہ چالیس دن تک جاری رہا۔ کوئی شخص کھانا یا پانی اندر نہیں لے جا سکتا تھا۔ بے احترامی اس قدر بڑھ گئی تھی کہ بڑے بڑے اکابر صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کی بھی شنوائی نہ تھی۔ ایک دفعہ ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خود کھانا اٹھا کر لے گئیں تو مفسدین نے حرم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بھی بے ادبی سے واپس کر دیا۔

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا بھیجا مگر باغیوں نے انہیں داخلہ کی اجازت نہ دی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا عمامہ اتار کر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیج دیا تھا کہ آپ کو نزاکت حال کا علم ہو جائے اور خود ننگے سرواپس تشریف لے گئے۔

مدینہ کے تمام معاملات کی باگ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں رہتی تھی، مگراس ہنگامہ کرب وفسادمیں ان اکابر کی آواز بھی بے اثر ہو گئی۔ حرم سرائے عثمانی کے محصورین کی تکالیف جب حد سے بڑھ گئیں تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود بالاخانے پر تشریف لے گئے اور فرمایا:کیا تم میں علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود ہیں ؟لوگوں نے کہا نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا:کیا اس مجمع میں سعدرضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود ہیں ؟جواب دیا گیا، وہ بھی نہیں۔ اب آپ رک گئے۔ تھوڑی دیر بعد فرمایا کیا تم میں کوئی ایساشخص ہے جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا کر یہ کہہ دے کہ وہ ہم پیاسوں کو پانی پلا دیں ایک دردمند آدمی نے نائب رسول کے یہ دردمندانہ الفاظ سنے تو وہ بے تابانہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچا۔ آپ نے پانی کے تین مشکیزے اس وقت بھجوائے مگر یہ پانی بھی اتنی مشکل سے پہنچا کہ بنی ہاشم اور بنی امیہ کے چند غلام زخمی ہو گئے۔ اب مدینہ میں یہ خبر اڑی کہ اگر مروان سپردنہ کیا گیا تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ قتل کر دئیے جائیں گے۔ یہ سن کر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ تم دونوں امیرالمومنین کے دروازے پر ننگی تلواریں لئے کھڑے رہو اور کسی شخص کو اندر داخل نہ ہونے دو۔ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت زبیر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور کئی دوسرے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے بھی اپنے اپنے لڑکوں کو آپ کی حفاظت کے لئے بھیجا۔

 

                حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خطاب باغیوں سے

 

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے متعدد بار باغیوں کوسمجھانے کی کوشش فرمائی۔ ایک دفعہ آپ محل سرائے کی چھت پر تشریف لے گئے اور باغیوں سے مخاطب ہو کر فرمایا۔

“اے لوگو!وہ وقت یاد کرو، جب مسجدنبوی کی زمین تنگ تھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے فرمایا کون ہے جو اللہ کے لئے اس زمین کوخریدکرمسجد کے لئے وقف کرے اور جنت میں اس سے بہتر جگہ کا وارث ہو۔ وہ کون تھا کہ جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے اس حکم کی تعمیل کی تھی؟”

آوازیں آئیں :”آپ نے تعمیل کی تھی۔ ”

پھر فرمایا:”کیا تم آج اسی مسجد سے مجھے نماز پڑھنے سے روکتے ہو؟”

پھر فرمایا:”میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم وہ وقت یاد کرو جب مدینہ میں بئیر  رومہ کے سوامیٹھے پانی کا کوئی کنواں نہ تھا اور تمام مسلمان روزانہ قلت آب سے تکلیفیں اٹھاتے تھے وہ کون تھاجس نے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے حکم سے اس کنوئیں کو خریدا اور عام مسلمانوں پر وقف کر دیا؟”

آوازیں آئیں :”آپ نے وقف فرمایا تھا۔ ”

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ “آج اسی کنوئیں کے پانی سے تم مجھے روک رہے ہو۔

پھر فرمایا:لشکرعسرت کا سازوسامان کس نے آراستہ کیا تھا؟”

لوگوں نے کہا:”آپ نے۔ ”

پھر فرمایا:میں تم کو خدا کی قسم دیتا ہوں اور پوچھتا ہوں کہ تم میں سے کوئی جو اللہ کے لئے حق کی تصدیق کرے اور یہ بتائے کہ جب ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)احد پہاڑ پر چڑھے تو وہ ہلنے لگا تو آپ نے اس پہاڑ کو ٹھکرا دیا اور فرمایا:اے احد!ٹھہر جا کہ اس وقت تیری پیٹھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید کھڑے ہیں اور میں اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ساتھ تھا۔

آوازیں آئیں : سچ فرمایا۔

پھر فرمایا:”اے لوگو!اللہ کے لئے مجھے بتاؤ کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے مجھے حدیبیہ کے مقام پراپناسفیر بنا کر قریش کے پاس بھیجا تو کیا واقعہ پیش آیا تھا؟کیا یہ صحیح نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اپنا ایک ہاتھ کو میرا ہاتھ قرار دے کر میری طرف سے خود اپنی بیعت کی تھی؟”

مجمع سے آوازیں آئیں۔ “آپ سچ فرماتے ہیں۔ ”

لیکن افسوس کہ فضل و شرف کے اس اعتراف کے باوجود باغیوں کے پست دماغ سے بدنیتی کا خمار دور نہ ہوا۔ حج کی تقریب چند ہی روز میں ختم ہوئی چاہتی تھی اور باغیوں کو خطرہ تھا کہ مسلمان حج سے فارغ ہو کر مدینہ کی طرف پلٹیں گے اور اس کے ساتھ ہی ان کا سارامنصوبہ ختم ہو جائے گا اس لئے انہوں نے آخری طور پر اعلان کر دیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کر دیا جائے۔ حضرت امیرالمومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ ندا اپنے کانوں سے سنی اور فرمایا:

“اے لوگو!آخرکس جرم میں تم میرے خون کے پیاسے ہو؟شریعت اسلامی میں کسی شخص کے قتل کی تین ہی صورتیں ہو سکتی ہیں :اس نے بدکاری کی ہو تواسے سنگسارکیا جاتا ہے، اس نے قتل عمد کیا ہو تووہ قصاص میں مارا جاتا ہے۔ وہ مرتد ہو گیا ہو تواسے انکاراسلام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ تم اللہ کے لئے بتاؤ میں نے کسی کو قتل کیا ہے ؟کیا تم مجھ پر بد کاری کا الزام لگاسکتے ہو؟کیا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے دین سے پھر گیا ہوں ؟سنو!میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ کیا اب اس کے بعد بھی تمہارے پاس میرے قتل کی وجہ جواز باقی ہے ؟

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ان دردناک الفاظ کا کسی کے پاس جواب موجود نہ تھا لیکن پھر بھی مفسدین کے دلوں سے خوف خدا پیدا نہ ہوا۔ مفسدین کی جماعت اپنے ناپاک ارادوں پر اب بھی قائم تھی۔

 

                نائب رسول کی برد باری

 

جب حالات بہت زیادہ نازک ہو گئے تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے امیرالمومنین!میں اس نازک وقت میں تین رائیں عرض کرتا ہوں۔ آپ کے طرف داروں اور جاں بازوں کی ایک طاقتور جماعت یہاں موجود ہے۔ آپ جہاد کا حکم دیجئے۔ اس وقت بے شمارمسلمان رفاقت حق کے لئے کمربستہ ہیں اگر یہ رائے مقبول نہ ہو تو آپ صدر دروازہ کے سامنے کی دیوار توڑ کر محاصرہ سے نکلئے اور مکہ معظمہ تشریف لے جائیے۔ اگر یہ بھی پسندنہ ہو پھر شام چلے جائیے وہاں کے لوگ وفادار ہیں، آپ کا ساتھ دیں گے۔ پیکراستقلال حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ نہیں کر سکتا۔ مجھے یہ منظور نہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا خلیفہ ہو کرامت کا خون بہاؤں۔ میں وہ خلیفہ نہ بنوں گا جو امت محمدیہ میں خوں ریزی کی ابتداء کرے۔ میں مکہ معظمہ میں بھی نہیں جا سکتا، کیونکہ میں نے اپنے آقا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے یہ سنا ہے کہ قریش میں کوئی آدمی حرم محترم میں فتنہ وفسادکرائے گا، اس پر آدھی دنیا کا عذاب ہو گا۔ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی اس وعید کا کبھی مورد نہیں بن سکتا۔ باقی رہا شام کا ارادہ تو میرے لئے کس طرح یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ میں اپنے دار ہجرت اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے پڑوس کی نعمت کو پش پشت ڈال دوں اور محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی ہمسائے گی ترک کر دوں۔

حالات اور زیادہ نازک ہو گئے تو آپ نے ابو ثور الفہی سے دردمندانہ ارشاد فرمایا:

“مجھے اپنے پروردگارسے بہت بڑی امیدیں ہیں اور میری دس امانتیں اس کی بارگاہ میں محفوظ ہیں۔

1-    میں اسلام میں چوتھامسلمان ہوں۔

2-    رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے مجھ سے اپنی صاحبزادی کا نکاح کیا۔

3-    ان کا انتقال ہو گیا تودوسری صاحبزادی نکاح میں مرحمت فرمائی۔

4-    میں نے کبھی نہیں گایا۔

5-    میں نے کبھی بدی کی خواہش نہیں کی۔

6-    جس وقت سے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی بیعت کی ہے۔ میں نے اپنا وہ دایاں ہاتھ کبھی اپنی شرمگاہ کو نہیں لگایا۔

7-    جب میں مسلمان ہوا ہوں، ہر جمعہ کے دن میں نے ایک غلام آزاد کیا اور اگر کبھی میرے پاس نہیں تو میں نے اس کی قضا ادا کی۔

8-    میں نے زمانہ جاہلیت یا اسلام میں کبھی زنا نہیں کیا۔

9-    میں نے  زمانہ جاہلیت یا اسلام میں کبھی چوری نہیں کی۔

10-   میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی حیات پاک ہی میں قرآن کریم حفظ کر لیا تھا۔ ”

حالات پہلے سے بھی زیادہ نازک ہو گئے۔ اس وقت حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاضر خدمت ہوئے اور عرض کی اے خلیفہ رسول!اس وقت سات سوجانبازوں کی جمعیت محل سراکے اندر موجود ہے۔ ایک بار اجازت دیجئے کہ ہم باغیوں کی طاقت آزما لیں۔

ارشاد فرمایا:میں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ ایک مسلمان بھی میرے لئے خون نہ بہائے۔ پھربیس غلاموں کو جو گھر میں موجود تھے، طلب فرمایا، وہ حاضر ہوئے تو فرمایا:آج تم اللہ کے لئے آزاد ہو۔ اس وقت زید بن سعدرضی اللہ تعالیٰ عنہ حاضر ہو گئے اور عرض کیا:اے امیرالمومنین!رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے انصار دروازے پر کھڑے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آج پھر اپنا وعدہ نصرت پورا کر دیں۔ ارشاد فرمایا:اگر لڑائی مقصود ہے تو اجازت نہ دوں گا۔ آج میری سب سے بڑی حمایت یہ ہے کہ کوئی مسلمان میرے لئے تلوار نہ اٹھائے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے اور نہایت انکسارکے ساتھ جہاد کی اجازت طلب کی۔ وہ جانتے تھے کہ نائب رسول کی زبان سے جہاد کا ایک لفظ لاکھوں مسلمانوں کو ان کے جھنڈے تلے جمع کر دے گا۔ ارشاد فرمایا:اے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ!تمہیں یہ پسند آئے گا کہ تم تمام دنیاکواس کے ساتھ مجھے بھی قتل کر دو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا:اے امیرالمومنین!کوئی مسلمان اس چیز کو بھی پسندکر سکتا ہے؟

ارشاد فرمایا:اگر تم نے ایک شخص کو بھی ناحق قتل کیا تو گویا تم نے سب مخلوق قتل کر دی۔ یہ سورۃ مائدہ کی ایک آیت کی طرف اشارہ تھا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سنا تو چپ ہو گئے اور واپس تشریف لے گئے۔

 

                حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ کی شہادت

 

حضرت محمدرسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  تعلق پیش گوئی فرما چکے تھے۔ عام مسلمان حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خاموشی اور باغیوں کی تباہ کاریوں پر خون کے آنسو رہے تھے مگر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بالکل چپ تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی وصیت کی تکمیل کا انتظار فرما رہے تھے۔ ابھی جمعہ کا آفتاب طلوع نہ ہوا تھا کہ آپ نے روزہ کی نیت فرمائی۔ اسی صبح خواب میں دیکھا کہ حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) تشریف لائے ہیں اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے ہمرکاب ہیں۔ حضور نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلدی آؤ۔ ہم یہاں افطاری کے لئے تمہارے منتظر بیٹھے ہیں۔ آنکھ کھلی تو اہلیہ محترمہ سے فرمایا:میری شہادت کا وقت قریب آ گیا ہے باغی ابھی مجھے قتل کر ڈالیں گے۔ انہوں نے دردمندانہ کہا:امیرالمومنین!ایسانہیں ہو سکتا۔ ارشاد فرمایا:میں یہ خواب دیکھ چکا ہوں۔ جب بسترسے اٹھے تو آپ نے وہ پاجامہ طلب فرمایاجس کو آپ نے کبھی نہیں پہنا تھا اور اسے زیب تن فرمایا۔ پھربیس غلاموں کو آزاد کر کے کلام پاک کو کھولا اور یاد حق میں مصروف ہو گئے۔

یہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حرم سراکے اندرونی حالات تھے۔ ٹھیک اسی وقت محل سراکے باہر محمد بن بو بکر نے تیر چلانے شروع کر دیئے۔ ایک تیر حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو دروازہ پر کھڑے تھے، لگا اور وہ زخمی ہو گئے۔ دوسراتیرمحل کے اندر مروان تک پہنچا۔ ایک تیر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام قنبرکاسرزخمی ہو گیا۔ محمد بن بو بکر کو خوف پیدا ہوا کہ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خون رنگ لائے بغیر نہیں رہے گا۔ یہ سوچ کر انہوں نے اپنے دوساتھیوں سے کہا اگر بنی ہاشم پہنچ گئے تو وہ حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زخمی دیکھ کر عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھول جائیں گے اور ہماری تمام کوشش ناکام ہو جائیں گی۔ اس لئے چند آدمی اسی وقت محل سرا میں کودیں۔ محمد بن بو بکر کے ساتھیوں نے اس تجویز کے ساتھ اتفاق کیا اور اسی وقت چند باغی دیوار پھاند کر محل سرا میں داخل ہو گئے۔ اس وقت جتنے بھی مسلمان محل سرا میں موجود تھے۔ اتفاق سے وہ سب اوپر کی منزل میں بیٹھے تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نیچے کے مکان میں تن تنہا مصروف تلاوت تھے۔ محمد بن بو بکر نے قابل صدافسوس حرکت کا ثبوت دیا۔ آگے بڑے اور ہاتھ بڑھا کر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ریش مبارک پکڑ لی اور اسے زورزورسے کھینچنے لگے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:بھتیجے !اگر آج حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ زندہ ہوتے تو اس منظرکوپسندنہ فرماتے۔ اب محمد بن بو بکر پشیمان ہوا اور پیچھے ہٹ گیا مگر کنانہ بن بشر نے پیشانی مبارک پرلو ہے کی سلاخ سے ایک دردناک ضرب لگائی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا یہ بزرگ ترین نائب فرش زمین پر گر پڑا اور فرمایا۔ بسم اللہ توکلت علی اللہ۔ دوسری ضرب سودان بن حمران نے ماری جس سے خون کا فوارہ چل نکلا۔ عمرو بن حمق کو یہ سفاہیت ناکافی معلوم ہوئی۔ یہ ذلیل ترین بدوی نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سینے پر کھڑا ہو گیا اور جسم مبارک و اطہر کو نیزے سے چھید نے لگا۔ اسی وقت ایک اور بے رحم نے تلوار چلائی اور حضرت نائلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ہاتھ سے روکا تو ان کی تین انگلیاں کٹ کر گر گئیں۔ اسی کشمکش کے دوران حضرت امیرالمومنین بے دم ہو رہے تھے کہ مرغ روح قفس عنصری سے پرواز کر گیا۔

انا للہ وہ انا الیہ راجعون۔

جلادی اور بہیمت کا یہ دردناک واقعہ صرف حضرت نائلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی غم نصیب آنکھوں کے سامنے ہوا۔ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ذبح ہوتے دیکھا تو آپ کوٹھے پر چڑھ کر چیخنے لگیں :امیرالمومنین شہید ہو گئے۔ امیرالمومنین کے دوست دوڑتے ہوئے نیچے آئے تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرش خاک پر کٹے پڑے تھے جب یہ مصیبت انگیز خبر مدینہ میں پھیلی تو لوگوں کے ہوش اڑ گئے اور مدہوشانہ دوڑتے ہوئے محل سراکی طرف آئے مگر اب یہاں کیا رکھا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک طمانچہ مارا، ایک مکہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چھاتی پر دیا مگر اب یہ سب کچھ بعد از وقت تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ محل سراکے اندر خون میں ڈوبے پڑے تھے مگر محاصرہ اب بھی جاری تھا۔ دو دن تک نعش مبارک وہیں بے گور و کفن پڑی رہی۔ تیسرے دن چند خوش قسمت مسلمانوں نے اس خونی لباس میت کو کندھا دیا۔

صرف سترہ مسلمانوں نے نماز جنازہ پڑھی اور کتاب اللہ کے سب سے بڑے خادم اور سنت رسول اللہ کے سب سے بڑے عاشق کو جنت البقیع کے گوشہ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سلادیا گیا۔

چونکہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت تلاوت فرما رہے تھے اور قرآن مجیدسامنے کھلا تھا، اس لئے خون ناحق نے جس آیت پاک کو رنگین فرمایا، وہ یہ تھی۔ فسیکفیکھم اللہ وھوالعلیم الحکیم۔ “خدا کی ذات تم کو کافی ہے، وہ علیم ہے اور حکیم ہے۔ ”

جمعہ کے دن عصر کے وقت شہادت ہوئی۔ حضرت زبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر فرمایا:”میں عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خون سے بری ہوں۔ “سعیدبن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:لوگو!واجب ہے کہ اس بد اعمالی پر کوہ احد پھٹے اور تم پر گرے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب تک زندہ تھے، خدا کی تلوار نیام میں تھی، آج اس شہادت کے بعد یہ تلوار نیام سے نکلے گی اور قیامت تک کھلی رہے گی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:اگر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خون کا مطالبہ نہ کیا جاتا تو لوگوں پر آسمان سے پتھربرستے۔

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:قتل عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا رخنہ قیامت تک بند نہیں ہو گا اور خلافت اسلامی مدینہ سے اس طرح نکلے گی کہ وہ قیامت تک کبھی مدینہ میں واپس نہیں آئے گی۔

کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شہادت کی خبرسنی تو ان کی زبان سے بے اختیارانہ چند دردناک اشعار نکلے، جن کا ترجمہ یہ ہے۔

ترجمہ:۔ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ باندھ لئے اور اپنا دروازہ بند کر لیا اور اپنے دل سے کہا:اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔ آپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔ دشمنوں کے ساتھ لڑائی مت کرو۔ آج جو شخص میرے لئے جنگ نہ کرے، وہ خدا کی امان میں رہے۔ اے دیکھنے والے !حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت سے آپس کا میل محبت کس طرح ختم ہوا اور اللہ نے اس کی جگہ بغض و عداوت مسلط کر دی۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد بھلائی مسلمانوں سے اس طرح دور نکلے گی جس طرح تیز آندھیاں آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں۔ ”

 

                اسلام کی تقدیر پلٹ گئی

 

شہادت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خبر آناً فاناً تمام ملک میں پھیل گئی۔ اس وقت حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک ایساجملہ ارشاد فرمایا کہ بعد کے تمام واقعات صرف اسی ایک جملے کی تفصیل ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا۔ “عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل سے اسلام میں ایک ایسارخنہ پڑ گیا ہے کہ اب وہ قیامت تک بند نہیں ہو گا۔ “حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خون آلود کرتہ اور حضرت نائلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کٹی ہوئی انگلیاں امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گورنر شام کو جو بنی امیہ کے ممتاز ترین فرد تھے، بھیج دی گئیں جب یہ کرتہ مجمع میں کھولا گیا تو حشر برپا ہو گیا اور انتقام انتقام کی صداؤں سے فضا گونج اٹھی۔ بنی امیہ کے تمام اراکین امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گرد جمع ہو گئے۔ یہاں یہ نکتہ ذہین نشین کر لینا چاہیے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت سے لے کر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ کی شہادت بلکہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد امیوں اور عباسیوں کی خلافت کے آخر تک جس قدر بھی واقعات پیش آئے، ان میں ہر جگہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خون کا اثر موجود ہے۔ یہ ایک ایساواقعہ ہے۔ جس سے تاریخ اسلام کا رخ پلٹ گیا۔ جو کچھ جنگ جمل میں ہوا، وہ بھی یہی تھا اور جو کچھ کربلا میں پیش آیا، وہ بھی یہی تھا اور جو کچھ اس کے بعد امیوں اور عباسیوں نے کیا وہ اسی ایک ظلم یا گمراہی کے لازمی اور منطقی نتائج تھے۔ شہادت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد بنی امیہ اور بنی ہاشم کی خاندانی رقابتوں کی آگ دوبارہ بھڑک اٹھی اور اسلام کے قدموں نے جو بجلی کی رفتارسے کائنات عالم کی اصلاح کے لئے اٹھ رہے تھے، ایک ایسی ٹھوکر کھائی کہ وہ بگڑے ہوئے حالات پھردرست نہ ہو سکے۔

٭٭٭

 

 

 

 

شہادت علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 

                جنگ جمل کے بعد

 

جنگ جمل کے بعد اسلامی خلافت کی نزاع دو شخصوں میں محصور ہو گئی تھی۔ امام علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن ابی طالب اور معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی سفیان، ان کے درمیان تیسری شخصیت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن العاص کی تھی اور اپنے سیاسی تدبر کی وجہ سے غیر معمولی اہمیت رکھتی تھی۔

جنگ صفین نے مسلمانوں میں ایک نیا فرقہ خوارج کا پیدا کر دیا تھا۔ یہ اگرچہ تمام ترسیاسی اغراض و مقاصد رکھتا تھا لیکن دوسرے سیاسی فرقوں کی طرح اس کے عقائد بھی دینی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ اس نے اپناسیاسی مذہب یہ قرار دیا تھا۔ ان الحکم الا اللہ۔ یعنی حکومت اللہ کے سواکسی آدمی کی نہیں ہونی چاہیے۔ در اصل تاریخ اسلام کے خوارج، موجودہ تمدن کے انارکسٹ تھے، لہذا وہ کوفہ اور دمشق حکومتوں کے مخالف تھے۔

مکہ میں بیٹھ کر خارجیوں نے سازش کی۔ تین آدمیوں نے بیڑا اٹھایا کہ پوری تاریخ اسلام بدل دیں گے اور انہوں نے بدل دی۔

عمرو بن بکر تمیمی نے کہا:میں حاکم مصر عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کر دوں گا کیونکہ وہ فتنہ کی متحرک روح ہے۔

برک بن عبداللہ نے کہا:”میں معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی سفیان کو قتل کر دوں گا کیونکہ اس نے مصر میں قیصریت قائم کی ہے۔ ”

ایک لمحہ کے لئے خاموشی چھا گئی۔ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن ابی طالب کے نام سے دل تھراتے تھے۔ بالآخر عبدالرحمن بن ملجم مرادی نے مہرسکوت توڑی، میں علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کر دوں گا۔

ان ہولناک مہموں کے لئے 17 رمضان کی تاریخ مقرر کی گئی۔ پہلے دو شخص اپنی مہم میں ناکام رہے لیکن عبدالرحمن ملجم کامیاب ہو گیا۔ اس اجمال کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

مکہ سے چل کر عبدالرحمن کوفہ پہنچا۔ یہاں بھی خوارج کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ عبدالرحمن ان کے ہاں آتا جاتا تھا۔ ایک دن قبیلہ تیم الرباب کے بعض خارجیوں سے اس کی ملاقات ہو گئی۔ انہی میں ایک خوبصورت عورت قطام بنت ثحنہ بن عدی بن عامر بھی تھی۔ عبدالرحمن اس پر عاشق ہو گیا۔ سنگدل نازنین نے کہا:”میرے وصل کی شرط یہ ہے کہ جو مہر میں طلب کروں، وہ ادا کرو”ابن ملجم راضی ہو گیا۔ قطام نے اپنا مہر یہ بتلایا:”تین ہزار درہم، ایک غلام، ایک کنیز اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قتل۔ ”

عبدالرحمن نے کہا:”منظور، مگر علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کیوں کر قتل کروں ؟”

خونخوار معشوقہ نے جواب دیا:”چھپ کر۔ “اگر تو کامیاب ہو کر لوٹ آئے گا تو مخلوق کو شرسے نجات دے گا اور اہل و عیال کے ساتھ مسرت کی زندگی بسر کرے گا۔ اگر مارا جائے گا تو جنت اور لازوال نعمت حاصل کرے گا۔ ”

عبدالرحمن نے مطمئن ہو کر یہ شعر پڑھے۔

ثلاثہ الاف وعبد وفینہ وضرب علی بالحسام المصمم فلامھراعلی من وان غلاولافتک الادون فتک ابن ملجم(طبقات ابن سعد۔ کامل ابن اثیر۔ تاریخ طبری ج 6ص87)

عبدالرحمن بن ملجم دو مرتبہ بیعت کے لئے آیا مگر آپ نے لوٹا دیا۔ تیسری مرتبہ آیا تو فرمایا”سب سے زیادہ بدبخت آدمی کو کون چیز روک رہی ہے۔ واللہ!یہ چیز(اپنی داڑھی کی طرف اشارہ کر کے )ضرور رنگ جانے والی ہے۔ ”

کبھی کبھی اپنے ساتھیوں سے خفا ہوتے تو فرماتے :تمہارے سب سے زیادہ بدبخت آدمی کو آنے اور میرے قتل کرنے کون چیز روک رہی ہے ؟خدایا!میں ان  سے اکتا گیا ہوں اور یہ مجھ سے اکتا گئے ہیں۔ مجھے ان سے راحت دے اور انہیں مجھ سے راحت دے۔ (طبقات ابن سعد ج 3ص34)

ایک دن خطبہ میں فرمایا:”قسم اس پروردگار کی جس نے بیج اگایا اور جان پیدا کی۔ یہ ضروراس سے رنگ جانے والی ہے (اپنی داڑھی اور سرکی طرف اشارہ کیا)بدبخت کیوں انتظار کر رہا ہے ؟

لوگوں نے عرض کیا:”امیرالمومنین ! ہمیں اس کا نام بتاؤ، ہم ابھی اس کا فیصلہ کر ڈالیں گے۔ ”

فرمایا:”تم ایسے آدمی کو قتل کرو گے، جس نے ابھی مجھے قتل نہیں کیا ہے۔ ”

عرض کی گئی:”توہم پرکسی کو خلیفہ بنا دیجئے۔ “فرمایا:”نہیں، میں تمہیں اسی حال میں چھوڑ جاؤں گا، جس حال میں تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)چھوڑ گئے تھے۔ ”

لوگوں نے عرض کیا:”اس صورت میں آپ اللہ کو کیا جواب دیں گے ؟”فرمایا کہوں گا خدایا میں ان میں تجھے چھوڑ آیا ہوں تو چا ہے تو ان کی اصلاح کر دے اور چا ہے تو انہیں بگاڑ دے (مسنداحمدامام)

 

                حادثہ سے پہلے

آپ کی کنیز ام جعفر کی روایت ہے کہ واقعہ قتل سے چند دن پہلے میں آپ کے ہاتھ دھلا رہی تھی کہ آپ نے سراٹھایا۔ پھر داڑھی ہاتھ میں لی اور فرمایا:”حیف!تجھ پرتو خون سے رنگی جائے گی۔ “(ابن سعد ج3ص34)

آپ کے بعض اصحاب کو بھی اس سازش کا پتہ چل گیا تھا، چنانچہ خود بنی مرادمیں سے ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کیا:”امیرالمومنین ! ہوشیار رہئے، یہاں کچھ لوگ آپ کے قتل کا ارادہ کر رہے ہیں۔ (الامامۃ والسیاستہ)

یہ بھی معلوم ہو گیا تھا کہ کس قبیلہ میں سازش ہو رہی ہے چنانچہ ایک دن آپ نماز پڑھ رہے تھے، ایک شخص نے آ کر عرض کیا:ہوشیار رہیئے، کیونکہ قبیلہ مراد کے کچھ لوگ آپ کے قتل کی فکر میں ہیں۔ “(طبقات ابن سعد، ج3ص34)

یہ بھی واضح ہو گیا تھا کہ کون شخص ارادہ کر رہا ہے ؟اشعت نے ایک دن ابن ملجم کو تلوار لگاتے دیکھا اور اس سے کہا:مجھے اپنی تلوار دکھاؤ۔ اس نے تلوار دکھائی تو وہ بالکل نئی تھی۔ انہوں نے کہا”تلوار لگانے کی کیا وجہ ہے ؟حالانکہ یہ زمانہ تو جنگ کا نہیں۔ “عبدالرحمن نے کہا:”میں گاؤں کے اونٹ ذبح کرنا چاہتا ہوں۔ اشعت سمجھ گئے اور خچرپرسوارہو کر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے حاضر ہوئے اور کہا”ابن ملجم کی جرات و شجاعت سے آپ واقف ہیں۔ “آپ نے جواب دیا:”لیکن اس نے مجھے ابھی تک قتل نہیں کیا ہے۔ “(الکامل)

ابن ملجم کا ارادہ اس قدر مشہورہو گیا تھا کہ خود آپ بھی اسے دیکھ کر عمرو بن معدی کرب کا یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔

اریدحیاتہ، ویرید قتلی عذیرک من خلیلک من مراد۔ ابن ملجم برابر برات کیا کرتا تھالیکن ایک دن جھنجھلا کر کہنے لگا:”جو بات ہونے والی ہے، ہو کر رہے گی۔ ”

اس پر بعض لوگوں نے کہا”آپ اسے پہچان گئے ہیں، پھراسے قتل کیوں نہ کر ڈالتے ؟”فرمایا”اپنے قاتل کوکیسے قتل کروں۔ “(ایضاً)

 

                صبح شہادت

 

اقدام قتل جمعہ کے دن نماز فجر کے وقت ہوا۔ رات بھر ابن ملجم اشعت بن قیس کندی کی مسجدمیں اس کے ساتھ باتیں کرتا رہا۔ اس نے کوفہ میں شبیب بن بجرہ نامی ایک اور خارجی کو اپنا شریک کار بنا لیا تھا۔ دونوں تلوار لے کر چلے اور اس دروازے کے مقابل بیٹھ گئے جس سے امیرالمومنین نکلا کرتے تھے۔ (طبقات ابن سعدیج 3ص36)

اس رات امیرالمومنین کو نیند نہیں آئی۔ حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں سحرکے وقت حاضر ہوا تو فرمایا:فرزند رات بھر جاگتا رہا ہوں۔ ذرا دیر ہوئی بیٹھے بیٹھے آنکھ لگ گئی تھی۔ خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا۔ میں نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ اللہ و آلہ و سلم!آپ کی امت نے بڑی تکلیف پائی۔ فرمایا:”دعا کر خدا تجھے ان سے چھٹکارا دے دے۔ “(کالم)

اس پر میں نے دعا کی خدایا!مجھے ان سے بہتر رفیق عطا فرما اور انہیں مجھ سے بدترساتھی دے۔ (طبقات ابن سعد، ج3ص36)

حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔ اسی وقت ابن البناح موذن بھی حاضر ہوا اور پکارا”لوگو!”(نماز)میں نے آپ کا ہاتھ تھام لیا۔ آپ اٹھے۔ ابن البناح آگے تھا، میں پیچھے تھا۔ دروازے سے باہر نکل کر آپ نے پکارا:”لوگو!نماز”روز آپ کا یہی دستور تھا کہ لوگوں نماز کے لئے مسجدمیں آنے کے لئے جگاتے پھرتے تھے۔ (ایضاً)

ایک روایت میں ہے کہ مؤذن کے پکار نے پراٹھے نہیں، لیٹے رہے موذن دوبارہ آیا مگر آپ سے پھر بھی اٹھا نہ گیا۔ سہ بارہ اس کے آواز دینے پر آپ بمشکل یہ شعر پڑھتے ہوئے مسجد کی سمت کو چلے۔

اشدد حیازیمک للموت            فان الموت الیک

ولاتجزع من الموت             اذاخل بوادیک (احیاء العلوم ج4)

(موت کے لئے کمرکس لے کیونکہ موت تجھ سے ضرور ملاقات کرنے والی ہے )(موت سے نہ ڈر، اگر وہ تیرے ہاں نازل ہو جائے )

آپ جونہی آگے بڑھے، دو تلواریں چمکتی نظر آئیں اور ایک آواز بلند ہوئی، “حکومت خدا کی ہے نہ کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تیر!شبیب کی تلوار تو طاق پر پڑی، لیکن ابن ملجم کی تلوار آپ کی پیشانی پر لگی اور دماغ میں اتر گئی(طبقات ابن سعد ج3 ص37) نیز پکارے قاتل جانے نہ پائے، لوگ ہر طرف سے ٹوٹ پڑے۔ شبیب تو نکل بھاگا۔ (احیاء العلوم 4)

عبدالرحمن نے تلوار گھمانا شروع کر دی اور مجمع کو چیرتا ہوا آگے بڑھا۔ قریب تھا کہ ہاتھ سے نکل جائے، لیکن مغیرہ بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب جو اپنے وقت کے پہلوان تھے، نے بھاری کپڑا اس پر ڈال دیا اور زمین پردے مارا۔ (طبقات ابن سعد ج3ص 37)

 

                قاتل اور مقتول میں گفتگو

 

امیرالمومنین گھر پہنچائے گئے۔ آپ نے قاتل کو طلب کیا وہ سامنے آیا تو فرمایا:”او دشمن خدا!کیا میں نے تجھ پراحسان نہیں کئے تھے ؟”اس نے کہا:”ہاں !”فرمایا:پھرتو نے یہ حرکت کیوں کی؟”کہنے لگا:”میں نے اسے (تلوار کو)چالیس دن تیز کیا اور خداسے دعا کی تھی کہ اس سے اپنی بدترین مخلوق قتل کرائے۔ “فرمایا:میں سمجھتا ہوں تو اسی سے قتل کیا جائے اور خیال کرتا ہوں تو ہی خدا کی بدترین مخلوق ہے۔ “(الکامل)

آپ کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پکار کر کہا:او دشمن خدا!تو نے امیرالمومنین کو قتل کر ڈالا۔ “کہنے لگا:میں نے امیرالمومنین کو قتل نہیں کیا، البتہ تمہارے باپ کو قتل کیا ہے۔ “انہوں نے خفا ہو کرو اللہ!میں امید کرتی ہوں، امیرالمومنین!کا بال بیکا نہ ہو گا۔ “کہنے لگا:”پھرٹسوے کیوں بہاتی ہو؟”پھر بولا:بخدا میں نے مہینہ بھراسے (تلوار کو)زہر پلایا ہے، اگر اب بھی یہ بے وفائی کرے تو اللہ اسے غارت کر دے۔ “(تاریخ طبری ج 6ص 84)

امیرالمومنین نے حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا:”یہ قیدی ہے، اس کی خاطر تواضع کرو، اچھا کھانا دو، نرم بچھونا دو۔ اگر زندہ رہوں گا تو اپنے خون کا سب سے زیادہ دعویدار میں ہوں گا۔ قصاص لوں گا یا معاف کر دوں گا۔ اگر مر جاؤں تو اسے بھی میرے پیچھے روانہ کر دینا۔ رب العالمین کے حضوراس سے جواب طلب کروں گا۔ “(طبقات ابن سعد ج 3 ص37)ایضاً ج 3ص 35(دارصادر بیروت 1957)

“اے بنی عبدالمطلب ایسانہ ہو کہ مسلمانوں کی خونریزی شروع کر دو اور کہو کہ امیرالمومنین قتل ہو گئے۔ خبردار میرے قاتل کے سوادوسراقتل نہ کیا جائے۔ اے حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اگر میں اس کی ضرب سے مر جاؤں تو ایسی ہی ضرب سے اسے بھی مارنا۔ اس کے ناک، کان کاٹ کر لاش خراب نہ کرنا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو فرماتے سنا ہے کہ خبردار ناک، کان نہ کاٹو اگرچہ وہ کتا ہی کیوں نہ ہو۔ “(تاریخ طبری، ج 6ص86)

ایک روایت میں ہے کہ فرمایا:”اگر تم قصاص لینے ہی پر اصرار کرو تو چاہیے کہ اسی طرح ایک ضرب سے ماروجس طرح اس نے مجھے مارا، لیکن اگر معاف کر دو تو یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔ “(کامل)

“دیکھو زیادتی نہ کرنا کیونکہ خدا زیادتی کرنے والوں کوپسندنہیں کرتا۔ “(طبقات ابن سعد ج 3ص 35)

 

                وصیت

 

پھر آپ بے ہوش ہو گئے جب ہوش میں آئے تو جندب بن عبداللہ نے حاضر ہو کر کہا:خدانخواستہ اگر ہم نے آپ کو کھو دیا تو کیا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کریں ؟”

آپ نے جواب دیا”میں تمہیں نہ اس کا حکم دیتا ہوں، نہ اس سے منع کرتا ہوں۔ اپنی مصلحت تم بہترسمجھتے ہو۔ “(تاریخ طبری ج 6ص 86)

پھر اپنے صاحبزادوں حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا کر فرمایا:میں تم دونوں کو تقویٰ الٰہی کی وصیت کرتا ہوں۔ اور اس کی دنیا کا پیچھا نہ کرنا۔ اگرچہ وہ تمہارا پیچھا کرے جو چیز تم سے دور ہو جائے اس پرنہ کڑھنا۔ ہمیشہ حق کرنا، یتیم پر رحم کرنا، بیکس کی مدد کرنا۔ آخرت کے لئے عمل کرنا۔ ظالم کے دشمن بننا، مظلوم کے حامی بننا، کتاب اللہ پر چلنا، خدا کے باب میں ملامت کرنے والوں کی ملامت کی پرواہ نہ کرنا۔ ”

پھر آپ نے تیسرے صاحبزادے محمد بن الحنیفہ کی طرف دیکھا جو نصیحت میں نے تیرے بھائیوں کوکی، تو نے بھی حفظ کر لی؟”

انہوں نے عرض کی:”جی ہاں “فرمایا:”میں تجھے بھی یہی وصیت کرتا ہوں نیز وصیت کرتا ہوں کہ اپنے دونوں بھائیوں کے عظیم حق کا خیال رکھنا، ان کی اطاعت کرنا۔ بغیر ان کی رائے کے کوئی کام نہ کرنا۔ ”

پھر امام حسن وحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا۔ میں تمہیں اس کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہارا بھائی ہے، تمہارے باپ کا بیٹا ہے اور تم جانتے ہو کہ تمہارا باپ اس سے محبت کرتا ہے۔ ”

پھر امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:”فرزند میں تمہیں وصیت کرتا ہوں خوف خدا کی، اپنے اوقات میں نماز قائم کرنے کی، میعاد پر زکوٰۃ ادا کرنے کی، ٹھیک وضو کرنے کی کیونکہ نماز بغیر طہارت ممکن نہیں اور مانع زکوٰۃ کی نماز قبول نہیں نیز وصیت کرتا ہوں خطائیں معاف کرنے کی، دین میں عقل و دانش کی، ہر معاملہ میں تحقیق کی، قرآن سے مزاولت کی، پڑوسی سے حسن سلوک، امر بالمعروف و نہی المنکر کی، فواحش سے اجتناب کی۔ “(طبری، ج 6ص 85، دارالقاموس)

پھر اپنی تمام اولاد کو مخاطب کر کے کہا:اللہ سے ڈرتے رہو، اس کی اطاعت کرو، جو تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے، اس کا غم نہ کرو۔ اس کی عبادت پرکمربستہ رہو۔ چست و چالاک بنو، سست نہ بنو، ذلت قبول نہ کرو۔ خدایا ہم سب کو ہدایت پر جمع کر دے۔ ہمیں اور انہیں دنیاسے بے رغبت کر دے۔ ہمارے اور ان کے لئے آخرت اول سے بہتر کر دے۔ “(الامامۃ والسیاستہ)

وفات کے وقت یہ وصیت لکھوائی۔ “یہ علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وصیت ہے، وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ واحدہ لاشریک لہ کے سواکوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ میری نماز، میری عبادت، میرا جینا، میرامرناسب کچھ اللہ تعالیٰ رب العالمین کے لئے ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا فرمانبردار ہوں۔ پھر فرمایا اے حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ!میں تجھے اور اپنی تمام اولاد کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کا خوف کرنا اور جب مرنا اسلام ہی پر مرنا۔ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو کیونکہ میں نے ابوالقاسم(رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کو فرماتے سنا ہے کہ آپس کا ملاپ قائم رکھنا، روز ے، نمازسے بھی افضل ہیں۔ اپنے رشتہ داروں کا خیال کرو، ان سے بھلائی کرو، خدا تم پرحساب آسان کر دے گا اور ہاں یتیم!یتیم!یتیموں کا خیال رکھو۔ ان کے منہ میں خاک مت ڈالو۔ وہ تمہاری موجودگی میں ضائع نہ ہونے پائیں اور دیکھو تمہارے پڑوسی!اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھو کیونکہ یہ تمہارے نبی کی وصیت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم برابر پڑوسیوں کے حق میں وصیت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ہم سمجھے شاید انہیں ورثہ میں شریک کر دیں گے اور دیکھو قرآن!قرآن!ایسانہ ہو قرآن پر عمل کرنے سے کوئی تم پر بازی لے جائے اور نماز!نماز کیونکہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے اور تمہارے رب کا گھر!اپنے رب کے گھرسے غافل نہ ہونا اور جہاد فی سبیل اللہ! جہاد فی سبیل اللہ!اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال سے جہاد کرتے رہو، زکوٰۃ، زکوٰۃ، زکوٰۃ!زکوٰۃ پروردگار کا غصہ ٹھنڈا کر دیتی ہے اور ہاں تمہارے نبی کے ذمی!تمہارے نبی کے ذمی(یعنی غیرمسلم جو تمہارے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں )۔ ایسانہ ہو ان پر تمہارے سامنے ظلم کیا جائے اور تمہارے نبی کے صحابی!تمہارے نبی کے صحابی!یادرکھورسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے صحابیوں کے حق میں وصیت کی ہے اور فقراء ومساکین!فقراومساکین!انہیں اپنی روزی میں شریک کرو اور تمہارے غلام!تمہارے غلام!غلاموں کا خیال رکھنا۔ خدا کے باب میں اگرکسی کی بھی پرواہ نہ کرو گے تو بھی اللہ تمہارے دشمنوں سے تمہیں محفوظ کر دے گا۔ اللہ کے بندوں پر شفقت کرو، میٹھی بات کرو۔ ایساہی اللہ نے حکم دیا ہے۔ امر بالمعروف نہی عن المنکر نہ چھوڑنا  اور نہ تمہارے اشرار تم پرمسلط کر دئیے جائیں گے، پھر تم دعائیں کرو گے مگر قبول نہ ہوں گی۔ باہم ملے جلے رہو، بے تکلف اور سادگی پسندرہو۔ خبردار!ایک دوسرے سے نہ کٹنا اور نہ آپس میں پھوٹ ڈالنا، نیکی اور تقویٰ پر باہم مددگار ہو۔ مگر گناہ اور زیادتی میں کسی کی مدد نہ کرو، اللہ سے ڈرو کیونکہ اس کا عذاب بڑا ہی سخت ہے۔ اے اہل بیت!اللہ تمہیں محفوظ رکھے اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے طریقہ پر قائم رکھے۔ میں تمہیں اللہ ہی کے سپردکرتا ہوں، تمہارے لئے سلامتی اور برکت چاہتا ہوں۔ ”

اس بعد۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ کہا اور ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کر لیں۔ (طبری، ج 6ص 86)

 

                تدفین کے بعد

 

تدفین کے بعد دوسرے دن حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجدمیں خطبہ دیا:”لوگو!کل تم سے ایک ایساشخص رخصت ہو گیا ہے جس سے نہ اگلے علم میں پیش قدمی کر گئے اور نہ پچھلے اس کی برابری کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اسے جھنڈا دیتے تھے اور اس کے ہاتھ پر فتح ہو جاتی تھی۔ اس نے سوناچاندی کچھ نہیں چھوڑا۔ صرف اپنے روزینے میں سے کاٹ کرسات سودرہم گھرکے لئے جمع کئے تھے (مسندحسن)

(ایک درہم تقریباً چار آنے کا ہوتا تھا)۔

زید بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ امیرالمومنین کی شہادت کی خبر کلثوم بن عمر کے ذریعہ مدینہ پہنچی۔ سنتے ہی تمام شہر میں کہرام مچ گیا۔ کوئی آنکھ نہ تھی جو روتی نہ ہو، بالکل وہی منظر درپیش تھاجورسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے دن دیکھا گیا تھا جب ذراسکون ہوا تو صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم نے کہا:”چلو ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو دیکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عم زاد کی موت سن کران کا کیا حال ہے ؟”

حضرت زید کہتے ہیں۔ “سب لوگ ہجوم کر کے ام المومنین کے گھر گئے اور اجازت چاہی۔ انہوں نے دیکھا کہ حادثہ کی خبر یہاں پہلے ہی پہنچ چکی ہے اور ام المومنین غم سے نڈھال اور آنسوؤں سے تر بتر بیٹھی ہیں۔ لوگوں نے یہ حالت دیکھی تو خاموشی سے لوٹ آئے۔ ”

حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔ دوسرے دن مشہور ہوا۔ ام المومنین رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قبر پر جا رہی ہیں۔ مسجدمیں جتنے بھی مہاجرین و انصار تھے، استقبال کو اٹھ کھڑے ہوئے اور سلام کرنے لگے مگر ام المومنین نہ کسی کے سلام کا جواب دیتی تھی اور نہ بولتی تھیں۔ شدت گریہ سے زبان بند تھی، دل تنگ تھا، چادر تک نہ سنبھلتی تھی، بار بار پیروں میں الجھتی اور آپ لڑکھڑا جاتیں، بدقت تمام پہنچیں، لوگ پیچھے پیچھے آ رہے تھے۔ حجرہ میں داخل ہوئیں تو دروازہ پکڑ کر کھڑی ہو گئیں اور ٹوٹی ہوئی آواز میں کہا:

“اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہدایت! تجھ پرسلام!ابوالقاسم علیہ السلام تجھ پراسلام!رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ پر اور آپ کے دونوں ساتھیوں پرسلام!میں آپ کے محبوب ترین عزیز کی موت کی خبر آپ کوسنانے آئی ہوں۔ میں آپ کے عزیز ترین کی یاد تازہ کرنے آئی ہوں۔

بخدا آپ کا چنا ہوا حبیب، منتخب کیا ہوا عزیز قتل ہو گیاجس کی بیوی افضل ترین عورت تھی، واللہ وہ قتل ہو گیا۔

جو ایمان لایا اور ایمان کے عہد میں پورا اترا، میں رونے والی غم زدہ ہوں، میں اس پر آنسوبہانے اور دل جلانے والی ہوں۔ اگر قبر کھل جاتی تو تمہاری زبان بھی یہی کہتی کہ تیرا عزیز ترین اور افضل ترین وجود قتل ہو گیا۔ “(عقد الفرید ج2)

ایک روایت میں ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جب امیرالمومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبرسنی تو ٹھنڈی سانس لی اور کہا:”اب عرب جو چاہیں کریں، کوئی انہیں روکنے والا باقی نہیں رہا۔ “(استیعاب)

آپ کے مشہور صحابی ابوالاسودالدولی نے مرثیہ کہا تھا۔ جس کا پہلا شعر کتب ادب و محاضرات میں عام طور پر نقل کیا جاتا ہے۔

الا ابلغ معاویہ بن حرب

فلاقرت عیون الشامتینا(تاریخ الامم و الملکوک ج 6ص87)

٭٭٭

 

 

 

 

شہادت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 

 

                ضروری تمہید

 

دنیا میں انسانی عظمت و شہرت کے ساتھ حقیقت کا توازن بہت کم قائم رہ سکتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ جو شخصیتیں عظمت وتقدس اور قبول و شہرت کی بلندیوں پر پہنچ جاتی ہیں۔ دنیا عموماً تاریخ سے زیادہ افسانہ اور تخیل کے اندر انہیں ڈھونڈنا چاہتی ہے، اس لئے فلسفہ تاریخ کے بانی اول ابن خلدون کو یہ قاعدہ بنانا پڑا کہ جو واقعہ دنیا میں جس قدر زیادہ مقبول و  مشہور ہو گا، اتنی ہی افسانہ سرائی اسے اپنے اپنے حصار تخیل میں لے لے گی۔ ایک مغربی شاعر گوئٹے نے یہی حقیقت ایک دوسرے پیرایہ میں بیان کی ہے، وہ کہتا ہے انسانی عظمت کی حقیقت کی انتہاء یہ ہے کہ افسانہ بن جائے۔

تاریخ اسلام میں حضرت امام حسین(علیہ وعلی آباۂ واجدادہ الصلوۃ والسلام) کی شخصیت جو اہمیت رکھتی ہے، محتاج بیان ہیں۔ خلفائے راشدین کے عہد کے بعد جس واقعہ نے اسلام کی دینی، سیاسی اور اجتماعی تاریخ پرسب سے زیادہ اثر ڈالا ہے، وہ ان کی شہادت کا عظیم واقعہ ہے۔ بغیرکسی مبالغہ کے کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کے کسی المناک حادثہ پرنسل انسانی کے اس قدر آنسونہب ہے ہوں گے جس قدراس حادثہ پرب ہے ہیں۔ تیرہ سوبرس کے اندر تیرہ سومحرم گزر چکے اور ہر محرم اس حادثہ کی یاد تازہ کرتا رہا۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسم خونچکاں سے دشت کربلا میں جس قدر خون بہا تھا، اس کے ایک ایک قطرہ کے بدلے دنیا اشک ہائے ماتم و الم کا ایک ایک سیلاب بہا چکی ہے۔

بایں ہمہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ تاریخ کا اتنا مشہور اور عظیم تاثیر رکھنے والا واقعہ بھی تاریخ سے کہیں زیادہ افسانہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اگر آج ایک جویائے حقیقت چا ہے کہ جو صرف تاریخ اور تاریخ کی محتاط شہادتوں کے اندراس حادثہ کا مطالبہ کرے تو اکثر صورتوں میں اسے مایوسی سے دو چار ہونا پڑے گا۔ اس وقت جس قدر بھی مقبول اور متداول ذخیرہ اس موضوع پر موجود ہے، وہ زیادہ تر روضہ خوانی سے تعلق رکھتا ہے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ گریہ و بکا کی حالت پیدا کر دیتی ہے، حتی کہ تاریخی حیثیت سے بیان کردہ بعض چیزیں جو تاریخ کی شکل میں مرتب ہوئی ہیں، وہ بھی در اصل تاریخ نہیں ہے۔ روضہ خوانی اور مجلس طرازی کے مواد ہی نے ایک دوسری صورت اختیار کر لی ہے۔

آج اگرجستجوکی جائے کہ دنیا کی کسی زبان میں بھی کوئی کتاب ایسی موجود ہے جو حادثہ کربلا کی تاریخ ہو تو واقعہ یہ ہے کہ ایک بھی نہیں۔

اہل بیت شروع سے اپنے تئیں خلافت کا زیادہ حق دارسمجھتے تھے۔ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی سفیان کی وفات کے بعد تخت خلافت خالی ہوا۔ یزید بن معاویہ پہلے سے ولی عہد مقرر  ہو چکا تھا، اس نے اپنی خلافت کا اعلان کر دیا اور حسین ابن علی علیہ السلام سے بھی بیعت کا مطالبہ کیا۔ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام نے کوفہ کو دارا الخلافہ قرار دیا تھا، اس لئے وہاں اہل بیت کرام کے طرفداروں کی تعداد زیادہ تھی۔ انہوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھا آپ تشریف لائیے ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔ آپ نے اپنے چچیرے بھائی مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اہل کوفہ سے بیعت لینے کے لئے بھیج دیا اور خود بھی سفرکی تیاری کرنے لگے۔

 

                دوستوں کا مشورہ

 

آپ کے دوستوں اور عزیزوں کو معلوم ہوا تو سخت مضطرب ہوئے، وہ اہل کوفہ کی بے وفائی اور زمانہ سازی سے واقف تھے۔ بنی امیہ کی سخت گیر طاقتوں سے بھی بے خبر نہ تھے۔ انہوں نے اس سفرکی مخالفت کی۔ حضرت عبداللہ بن رضی اللہ تعالیٰ عباس نے کہا:یہ سن کر بڑے پریشان ہیں کہ آپ عراق جا رہے ہیں، مجھے اصلی حقیقت سے آگاہ کیجئے۔ ”

حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا۔ میں نے عزم کر لیا ہے۔ آج یا کل ہی میں روانہ ہوتا ہوں۔ “ابن عباس”بے اختیار پکار اٹھے۔ “خدا آپ کی حفاظت کرے، کیا آپ ایسے لوگوں میں جا رہے ہیں جنہوں نے اپنے دشمن کو نکال دیا ہے اور ملک پر قبضہ کر لیا ہے ؟اگر وہ ایسا کر چکے ہیں تو بڑے شوق سے تشریف لے جائیے لیکن اگرایسانہیں ہوا ہے۔ حاکم بدستوران کی گردن دبائے بیٹھا ہے، اس کے گماشتے برابر اپنی کارستانیاں کر رہے ہیں تو ان کا آپ کو بلانا در حقیقت جنگ کی طرف بلانا ہے۔ میں ڈرتا ہوں، وہ آپ کو دھوکا نہ دیں اور جب دشمن کو طاقتور دیکھیں تو خود آپ سے لڑنے کے لئے آمادہ نہ ہو جائیں۔ “مگر آپ اس طرح کی با توں سے متاثر نہ ہوئے اور اپنے ارادہ پر قائم رہے۔ ”

 

                ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جوش

 

جب روانگی کی گھڑی بالکل قریب آ گئی تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ پھر دوڑے آئے۔ اے ابن عم!انہوں نے کہا:میں خاموش رہنا چاہتا تھا مگر خاموش رہا نہیں جاتا۔ میں اس راہ میں آپ کی ہلاکت اور بربادی دیکھ رہا ہوں۔ عراق والے دغا باز ہیں، ان کے قریب بھی نہ جائیے، یہیں قیام کیجئے کیونکہ یہاں حجاز میں آپ سے بڑا کوئی نہیں ہے۔ اگر عراقی آپ کو بلاتے ہیں تو ان سے کہیے، پہلے مخالفین کو اپنے علاقے سے نکال دو۔ پھر مجھے بلاؤ۔

اگر آپ حجازسے جانا ہی چاہتے ہیں تو یمن چلے جائیے، وہاں قلعے اور دشوار گزار پہاڑ ہیں، ملک کشادہ ہے۔ آبادی عموماًً آپ کے والد کی خیر خواہ ہے وہاں آپ ان لوگوں کی دسترس سے باہر ہوں گے۔ خطوں اور قاصدوں کے ذریعے اپنی دعوت پھیلائے گا۔ مجھے یقین ہے۔ اس طرح آپ کامیاب ہو جائیں گے۔ ”

لیکن حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا۔ “اے ابن عم!میں جانتا ہوں تم میرے خیرخواہ ہو، لیکن اب میں عزم کر چکا۔ ”

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:آپ نہیں مانتے تو عورتوں اور بچوں کوساتھ نہ لے جائیے۔ مجھے اندیشہ ہے آپ ان کی آنکھوں کے سامنے اسی طرح نہ قتل کر دیئے جائیں جس طرح حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر والوں کے سامنے قتل کر دیئے گئے تھے۔

تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جوش میں آ کر کہا:”اگر مجھے یقین ہوتا کہ آپ کے بال پکڑ لینے اور لوگوں کے جمع ہونے سے آپ رک جائیں گے تو واللہ!میں ابھی آپ کی پیشانی کے بال پکڑ لوں۔ “(ابن جریر ج6ص217)

مگر آپ پھر بھی اپنے ارادہ پر قائم رہے۔

 

                عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط

 

اسی طرح اور بھی بہت سے لوگوں نے آپ کوسمجھایا۔ آپ کے چچیرے بھائی عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خط لکھا۔

“میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ یہ خط دیکھتے ہی اپنے ارادے سے باز آ جائیے کیونکہ اس راہ میں آپ کے لئے ہلاکت اور آپ کے اہل بیت کے لئے بربادی ہے اگر آپ قتل ہو گئے تو زمین کا نور بجھ جائے گا۔ اس وقت ایک آپ ہی ہدایت کا نشان اور ارباب ایمان کی امیدوں کا مرکز ہیں۔ سفرمیں جلدی نہ کیجئے، میں آتا ہوں۔ “(ایضاً۔ کامل)

 

                والی عمرو کا خط

 

یہی نہیں بلکہ انہوں نے یزید کے مقرر کئے ہوئے والی عمرو بن سعید بن العاص سے جا کر کہا۔ “حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھو اور ہر طرح سے مطمئن کر دو۔ “عمرو نے کہا:آپ خود خط لکھ لائیے، میں مہر کر دوں گا چنانچہ عبداللہ نے والی کی جانب سے یہ خط لکھا:۔

“میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ آپ کواس راستہ سے دور کر دے جس میں ہلاکت ہے اور اس راستہ کی طرف رہنمائی کر دے جس میں سلامتی ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے آپ عراق جا رہے ہیں۔ ”

“میں آپ کے لئے شقاق و اختلاف سے پناہ مانگتا ہوں۔ میں آپ کی ہلاکت سے ڈرتا ہوں۔ میں عبداللہ بن جعفر اور یحیی بن سعیدکوآپ کے پاس بھیج رہا ہوں، ان کے ساتھ واپس چلے آئیے۔ میرے پاس آپ کے لے لئے امن، سلامتی، نیکی، احسان اور حسن جواز ہے۔ اللہ اس پر شاہد ہے وہ ہی اس کا نگہبان اور کفیل ہے۔ “والسلام!

مگر آپ بدستوراپنے ارادے پر جمے رہے۔ (ابن جریر ج6ص319)

 

                فرزوق سے ملاقات

 

مکہ سے آپ عراق کو روانہ ہو گئے۔ “صفاح”نام مقام پر مشہور محب اہل بیت شاعر فرزوق سے ملاقات ہوئی۔

آپ نے پوچھا:”تیرے پیچھے لوگوں کا کیا حال ہے ؟”

فرزوق نے جواب دیا:”ان کے دل آپ کے ساتھ مگر تلواریں بنی امیہ کے ساتھ ہیں۔ “فرمایا”سچ کہتا ہے، مگر اب ہمارا معاملہ اللہ کے ہاتھ ہے، وہ جو چاہتا ہے، وہی ہوتا ہے۔ ہمارا پروردگار ہر لمحہ کسی نہ کسی حکم فرمائی ہے اگراس کی مشیت ہماری پسند کے مطابق ہو تواس کی ستائش کریں گے۔ اگر امید کے خلاف ہو تو بھی نیک نیتی اور تقویٰ کا ثواب کہیں نہیں گیا ہے۔ ”

یہ کہا اور سواری آگے بڑھائی۔ (ایضاً ج6ص219)

 

                مسلم بن عقیل کے عزیزوں کی ضد

 

زرود نام مقام میں پہنچ کر معلوم ہوا کہ آپ کے نائب مسلم بن عقیل کو کوفہ میں یزید کے گورنر عبید اللہ بن زیاد نے علانیہ قتل کر دیا اور کسی کے کان پر جون تک نہ رینگی۔ آپ نے سنا تو بار بار۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ پڑھنا شروع کیا۔ بعض ساتھیوں نے کہا:۔

“اب بھی وقت ہے ہم آپ کے اور آپ کے اہل بیت کے معاملہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں۔ للہ یہیں سے لوٹ چلئے۔ کوفہ میں آپ کا کوئی ایک بھی طرفدار و مددگار نہیں۔ سب آپ کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے۔ ”

آپ خاموش کھڑے ہو گئے اور واپسی پر غور کرنے لگے لیکن مسلم بن عقیل کے عزیز کھڑے ہو گئے :”واللہ!ہم ہر گز نہ ٹلیں گے۔ “انہوں نے کہا:ہم اپنا انتقام لیں گے یا اپنے بھائی کی طرح مر جائیں گے۔ “اس پر آپ نے ساتھیوں کو نظر اٹھا کے دیکھا اور ٹھنڈی سانس لے کر کہا:”ان کے بعد زندگی کا کوئی مزا نہیں۔ ”

رستہ میں بھیڑ چھنٹ گئی۔

بدوؤں کی ایک جماعت آپ کے ساتھ ہو گئی تھی۔ وہ یہ سمجھتے تھے کوفہ میں خوف آرام کریں گے۔ آپ ان کی حقیقت سے واقف تھے، سب کو جمع کر کے خطبہ دیا:

“اے لوگو!ہمیں نہایت دہشت ناک خبریں پہنچی ہیں۔ مسلم بن عقیل، ہانی بن عروہ اور عبداللہ بن بقطر قتل کر ڈالے گئے۔ ہمارے طرفداروں نے بے وفائی کی۔ کوفہ میں ہمارا کوئی مددگار نہیں، جوہماراساتھ چھوڑنا چا ہے چھوڑ دے۔ ہم ہر گز خفا نہ ہوں گے۔ ”

بھیڑنے یہ سنا تو دائیں بائیں کٹنا شروع ہو گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد آپ کے گرد وہی لوگ رہ گئے جو مکہ سے ساتھ چلے تھے۔ (ابن جریر ج6ص225)

 

                حر بن یزید کی آمد

 

قادسیہ سے جوں ہی آگے بڑھے عبید اللہ بن زیاد والی عراق کے عامل حصین بن نمیر تمیمی کی طرف سے حر بن یزید ایک ہزار فوج کے ساتھ نمودار ہوا اور ساتھ ہولیا۔ اسے حکم ملا تھا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ برابر لگا رہے اور اس وقت تک پیچھا نہ چھوڑے جب تک انہیں عبید اللہ بن زیاد کے سامنے نہ لے جائے۔ اسی اثناء میں نماز ظہر کا وقت آ گیا، آپ تہبند باندھے، چادر اوڑھے، نعل پہنے تشریف لے آئے اور حمد و نعت کے بعد اپنے ساتھیوں اور حر کے سپاہیوں کے سامنے خطبہ دیا۔

 

                راہ میں ایک اور خطبہ

 

“اے لوگو!اللہ کے سامنے اور تمہارے سامنے میرا عذر یہ ہے کہ میں اپنی طرف سے یہاں نہیں آیا ہوں۔ میرے پاس تمہارے خطوط پہنچے، قاصد آئے۔ مجھے بار بار دعوت دی گئی کہ ہمارا کوئی امام نہیں۔ آپ آئیے تاکہ اللہ ہمیں آپ کے ہاتھ پر جمع کر دے۔ اگر اب بھی تمہاری یہ حالت ہے تو میں آ گیا ہوں۔ اگر مجھ سے عہد و پیمان کرنے کے لئے آئے ہو، جن پر میں مطمئن ہو جاؤں تو میں تمہارے شہر چلنے کو تیار ہوں اگرایسانہیں ہے بلکہ تم میری آمد سے ناخوش ہو تومیں وہیں واپس چلا جاؤں گا، جہاں سے آیا ہوں۔ ”

 

                دشمنوں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی

 

کسی نے کوئی جواب نہ دیا، دیر تک خاموش رہنے کے بعد لوگ مؤذن سے کہنے لگے۔ “اقامت پکارو۔ ”

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حر بن یزید سے کہا:”کیا تم علیحدہ نماز پڑھو گے ؟”اس نے کہا:”تمہیں، آپ امامت کریں، ہم آپ ہی کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ ”

وہیں عصر کی بھی نماز پڑھی۔ دوست دشمن سب مقتدی تھے۔ نماز کے بعد آپ نے پھر خطبہ دیا۔

 

                دوسراخطبہ

 

“اے لوگو!اگر تم تقویٰ پر ہو اور حقدار کا حق پہچانو تو یہ اللہ کی خوشنودی کا موجب ہو گا۔ ہم اہل بیت ان مدعیوں سے زیادہ حکومت کے حقدار ہیں۔ ان لوگوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا۔ یہ تم پر ظلم وجورسے حکومت کرتے ہیں لیکن اگر تم ہمیں ناپسندکرو، ہمارا فرض نہ پہچانو اور تمہاری رائے اب اس کے خلاف ہو گئی ہو جوتم نے مجھے اپنے خطوں میں لکھی اور قاصدوں کی زبانی پہنچائی تھی تو میں بخوشی واپسی چلے جانے کو تیار ہوں۔ ”

 

                اہل کوفہ کے خطوط

 

اس پر حر نے کہا:”آپ کن خطوط کا ذکر کرتے ہیں، ہمیں ایسے خطوں کا کوئی علم نہیں۔

آپ نے عقبہ بن سمعان کو حکم دیا کہ وہ دونوں تھیلے نکال لائے جن میں کوفہ والوں کے خط بھرے ہیں۔ عقبہ نے تھیلے انڈیل کر خطوں کا ڈھیر لگا دیا۔ اس پر حر نے کہا:”لیکن ہم وہ نہیں ہیں جنہوں نے یہ خط لکھے تھے۔ ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ آپ کو عبید اللہ بن زیاد تک پہنچا کے چھوڑیں۔ ”

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:”لیکن یہ موت سے پہلے نا ممکن ہے۔ ”

پھر آپ نے روانگی کا حکم دیا لیکن مخالفین نے راستہ روک لیا۔ آپ نے خفا ہو کرحرسے کہا:”تیری ماں تجھے روئے تو کیا چاہتا ہے ؟”

حر نے جواب دیا:”واللہ!اگر آپ کے سواکوئی اور عرب میری ماں کا نام زبان پر لاتا تو میں اسے بتا دیتا لیکن آپ کی ماں کا ذکر میری زبان پر برائی کے ساتھ نہیں آ سکتا۔ ”

آپ نے فرمایا:پھر تم کیا چاہتے ہو؟”

اس نے کہا:میں نے آپ کو عبید اللہ بن زیاد کے پاس لے جانا چاہتا ہوں۔ ”

آپ نے فرمایا:”تو واللہ!میں تمہارے ساتھ نہیں چلوں گا۔ ”

اس نے کہا:”میں بھی آپ کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔ ”

اگر دنیا ہمارے لئے ہمیشہ باقی رہنے والی ہو اور ہم سدا اس میں رہنے والے ہوں جب بھی آپ کی حمایت و نصرت کے لئے اس کی جدائی گوارا کر لیں گے اور ہمیشہ کی زندگی پر آپ کے ساتھ مر جانے کو ترجیح دیں گے۔ “(ایضاً ج 6ص229)

 

                حرکی دھمکی کا جواب

 

حر بن یزید آپ کے ساتھ برابر چلا آ رہا تھا اور بار بار کہتا تھا:اے حسین!اپنے معاملہ میں اللہ کو یاد کیجئے، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ جنگ کریں گے تو ضرور قتل کر ڈالے جائیں گے۔ ”

ایک مرتبہ آپ نے غضبناک ہو کر فرمایا:تو مجھے موت سے ڈراتا ہے، کیا تمہاری شقاوت اس حد تک پہنچ جائے گی کہ مجھے قتل کرو گے ؟ سمجھ میں نہیں آتا کہ جواب دوں تجھے ؟لیکن میں وہی کہوں گاجورسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ایک صحابی نے جہاد پر جاتے ہوئے اپنے بھائی کی دھمکی سن کر کہا:۔

سامضی ومابالموت عارعلی الفتی     اذامانوی حقاوجاھدمسلما

(میں روانہ ہوتا ہوں، مرد کے لئے موت ذلت نہیں، جبکہ اس کی نیت نیک ہو اور وہ اسلام کی راہ میں جہاد کرنے والا ہو)

وآسی الرجال الصالحین بنفسہ        وفارق مثبوریغش ویرغما

( اور جبکہ وہ اپنی جان دے کر صالحین کا مدد گار ہو اور دغا باز ظالم ہلاک ہونے والے سے جدا ہو رہا ہو۔ )(ایضاً:ج 6ص229)

 

                چار کوفیوں کی آمد

 

عذیب الہجانات نام مقام پر کوفہ سے چارسوار آتے دکھائی دئیے، ان کے آگے آگے طرماح بن عدی یہ شعر پڑھ رہا تھا

یاناقتی لاعذعری من زجری       وشمری قبل طلوع الفجر

(اے میری اونٹنی!میری ڈانٹ سے ڈر نہیں اور طلوع فجرسے پہلے ہمت سے چل!)

بخیروکبان وخیرسفر      حتی تجلی بکریم النحر

(سب سے اچھے مسافروں کولے چل، سب سے اچھے سفرپرچل، یہاں تک شریف النسب آدمی تک پہنچ جا)

الماجدالحر رحیب الصدر   اتی بہ اللہ لخیرامر

(وہ عزت والا ہے، آزاد ہے، فراخ سینہ ہے، اللہ اسے سب سے اچھے کام کے لئے لایا ہے۔ )

لمت ابقاہ بقاء الدھر

(خدا اسے ہمیشہ سلامت رکھے )

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ شعرسنے تو فرمایا:واللہ!مجھے یہی امید ہے کہ اللہ کو ہمارے ساتھ بھلائی منظور ہے، چا ہے قتل ہوں یا فتح یاب ہوں۔ ”

حر بن یزید نے ان کو دیکھا تو حضرت سے کہا”یہ لوگ کوفہ کے ہیں، آپ کے ساتھ نہیں ہیں، میں انہیں روکوں گا اور واپس کر دوں گا۔ ”

آپ نے فرمایا”تم وعدہ کر چکے ہو کہ ابن زیاد کا خط آنے سے پہلے مجھ سے کوئی تعرض نہیں کرو گے۔ یہ اگرچہ میرے ساتھ نہیں آئے لیکن میرے ہی ساتھی ہیں۔ اگر ان سے چھیڑ چھاڑ کرو گے تو میں تم سے لڑوں گا۔ “یہ سن کر حر خاموش ہو گیا۔

کوفہ والوں کی حالت:۔

آنے والوں سے آپ نے پوچھا:”لوگوں کوکس حال میں چھوڑ آئے ہو؟”

انہوں نے جواب دیا۔ شہر کے سرداروں کو رشوتیں دے کر ملایا گیا۔ عوام کے دل آپ کے ساتھ ہیں مگر ان کی تلواریں کل آپ کے خلاف نیام سے باہر نکلیں گی۔ (ابن جریر ج ص230 اور کامل وغیرہ)

 

                آپ کے قاصد کا قتل

 

اس سے پہلے قیس بن مسہرکوبطور قاصد کوفہ بھیج چکے تھے۔ عبید اللہ بن زیاد نے انہیں قتل کر ڈالا تھا مگر آپ کو اطلاع نہ دی تھی۔ ان لوگوں سے قاصد کا حال پوچھا انہوں نے ساراواقعہ بیان کیا۔ آپ کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور فرمایا:

منھم من قضی نحبہ ومنھم من ینتظرومابدلواتبدیلا۔

(بعض ان میں سے مر چکے ہیں اور بعض موت کا انتظار کر رہے ہیں، مگر حق پر ثابت قدم ہیں، اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے )

خدایا ہمارے لئے اور ان کے لئے جنت کی راہ کھول دے۔ اپنی رحمت اور ثواب کے دار القرار میں ہمیں اور انہیں جمع کر۔ ”

 

                طرماح بن عدی کا مشورہ

 

طرماح بن عدی نے کہا:”واللہ!میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا ہوں مگر آپ کے ساتھ کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ اگر صرف یہی لوگ ٹوٹ پڑیں جو آپ کے پیچھے لگے ہوئے ہیں تو خاتمہ ہو جائے۔ میں نے اتنا بڑا انبوہ آدمیوں کا کوفہ کے عقب میں دیکھا ہے جتناکسی ایک مقام پر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یہ سب اسی لئے جمع کئے گئے ہیں کہ ایک حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لڑیں۔ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ اگر ممکن ہو تو ایک بالشت بھی آگے نہ بڑھئے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایسی جگہ پہنچ جائیں جہاں دشمنوں سے بالکل امن ہو تو میرے ساتھ چلے چلئے میں اپنے پہاڑ”آ جا”میں آپ کو اتار دوں گا۔ واللہ!وہاں دس دن بھی نہ گزریں گے قبیلہ طے کے 20 ہزار بہادر تلواریں لئے آپ کے لئے سامنے کھڑے ہو جائیں گے۔ واللہ!جب تک ان کے دم میں دم رہے گا، آپ کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ سکے گا۔ ”

آپ نے جواب دیا:”اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔ لیکن ہمارے اور ان کے مابین ایک عہد ہو چکا ہے۔ ہم اس کی موجودگی میں ایک قدم نہیں اٹھاسکتے۔ کچھ نہیں کہا جا سکتاہمارا اور ان کا معاملہ کس حد پر پہنچ کر ختم ہو گا۔ ”

(ابن جریر ج 6ص230 اور کامل وغیرہ)

 

                خواب

 

اب آپ کو یقین ہو چلا تھا کہ موت کی طرف جا رہے ہیں “قصر بنی مقاتل”نامی مقام سے کوچ کے وقت آپ اونگھ گئے تھے۔ پھر چونک کر بآواز بلند کہنے لگے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ الحمد للہ العالمیں۔ تین مرتبہ یہی فرمایا:آپ کے صاحبزادے علی اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا:انا للہ اور الحمد للہ کیوں ؟

فرمایا:”جان پدر!ابھی اونگھ گیا تھا، خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سوارکہتا چلا آ رہا ہے :”لوگ چلتے ہیں اور موت ان کے ساتھ چلتی ہے۔ “میں سمجھ گیا کہ یہ ہماری ہی موت کی خبر ہے جو ہمیں سنائی جا رہی ہے۔ ”

علی اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:”اللہ آپ کو روز بد نہ دکھائے !کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟”فرمایا” بے شک ہم حق پر ہیں۔ “اسی پروہ بے اختیار پکار اٹھے :اگر ہم حق پر ہیں تو پھر موت کی کوئی پرواہ نہیں۔ ”

یہی وہ آپ کے صاحبزادے ہیں جو میدان کربلا میں شہید ہوئے اور علی الاکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لقب سے مشہورہیں۔ (ابن جریر ج6ص232، شرح نہج البلاغہ، امام سیدمرتضی وغیرہ ذامک)

 

                ابن زیاد کا خط

 

صبح آپ پھرسوار ہوئے، اپنے ساتھیوں کو پھیلانا شروع کیا مگر حر بن یزید انہیں پھیلنے سے روکتا تھا۔ باہم دیر تک کشمکش جاری رہی۔ آخر کوفہ کی طرف سے ایک سوار آتا دکھائی دیا۔ یہ ہتھیار بند تھا۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے اس نے منہ مگرحرکوسلام کیا اور ابن زیاد کا خط پیش کیا۔ خط کا مضمون یہ تھا۔

“حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ”کو کہیں ٹکنے نہ دو، کھلے میدان کے سواکہیں اتر نے نہ دو۔ قلعہ بند یا شاداب مقام میں پڑاؤ نہ ڈال سکے۔ “میرا یہی قاصد تمہارے ساتھ رہے گا کہ تم کہاں تک میرے حکم کی تعمیل کرتے ہو۔ ”

حر نے خط کے مضمون سے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آگاہ کیا اور کہا:”اب میں مجبور ہوں۔ آپ کو بے آب و گیاہ کھلے میدان میں اتر نے کی اجازت دے سکتا ہوں۔ ”

زہیر القین نے حضرت سے عرض کیا:”ان لوگوں سے لڑنا اس فوج گراں سے لڑنے کے مقابلہ میں کہیں آسان ہے جو بعد میں آئے گی۔ ”

مگر آپ نے لڑنے انکار کر دیا۔ فرمایا”میں اپنی طرف سے لڑائی میں پہل نہیں کرنا چاہتا۔ “زہیر نے کہا”توپھرسامنے کے گاؤں میں چل کر اترئیے جو فرات کے کنارے ہے اور قلعہ بند ہو جانا چاہیے۔ ”

آپ نے پوچھا:”اس کا نام کیا ہے ؟”زہیر نے کہا:”عقر”(عقر کے معنی ہیں کاٹنا یا بے ثمر و بے نتیجہ ہونا)یہ سن کر آپ منغض ہو گئے اور کہا:”عقرسے اللہ کی پناہ!”(ابن جریر ج6ص232شرح نہج البلاغہ، امام سیدمرتضی وغیرہ ذالک)

 

                کربلا میں ورود

 

آخر آپ ایک اجاڑسرزمین پر پہنچ کر اتر پڑے۔ پوچھا:اس سرزمین کا کیا نام ہے ؟معلوم ہوا”کربلا”آپ نے فرمایا”یہ کرب اور بلا ہے۔ “یہ مقام دریاسے دور تھا۔ دریا اور اس میں ایک پہاڑی حائل تھی۔ یہ واقعہ 2محرم الحرام 61ھ کا ہے۔

 

                عمر بن سعدکی آمد

 

دوسرے روز عمر بن سعدبن ابی وقاص کوفہ والوں کی چار ہزار فوج لے کر پہنچا۔ عبید اللہ بن زیاد نے عمرکوزبردستی بھیجا تھا۔ عمر کی خواہش تھی کسی طرح اس امتحان سے بچ نکلے اور معاملہ رفع دفع ہو جائے۔ اس نے آتے ہی حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس قاصد بھیجا اور دریافت کیا آپ کیوں تشریف لائے ؟آپ نے وہی جواب دیا جو حر بن یزید کودے چکے تھے۔ “تمہارے شہر کے لوگوں ہی نے مجھے بلایا ہے۔ اب اگر وہ مجھے ناپسندکرتے ہیں تو میں لوٹ جانے کے لئے تیار ہوں۔ ”

 

                ابن زیاد کی سختی

 

عمر بن سعدکواس جواب سے خوشی ہوئی اور امید بندھی کے یہ مصیبت ٹل جائے گی چنانچہ عبید اللہ بن زیاد کو خط لکھا۔ خط پڑھ کر ابن زیاد نے کہا۔

الآن اذ علقت مخالینا بہ     یرجوالنجاۃ ولات حین مناص)

(اب کہ ہمارے پنجہ میں آپھنسا ہے، چاہتا ہے کہ نجات پائے مگر اب واپسی اور نکل بھاگنے کا وقت نہیں رہا۔ )

“حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہو اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ یزید بن معاویہ کی بیعت کریں پھر ہم دیکھیں گے ہمیں کیا کرنا ہے۔ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں تک پانی نہ پہنچنے پائے۔ وہ پانی کا ایک قطرہ بھی پینے نہ پائیں، جس طرح حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عفان پانی سے محروم رہے تھے۔

 

                پانی پر تصادم

 

عمر بن سعد نے مجبوراً پانچ سوسپاہی گھاٹ کی حفاظت کے لئے بھیج دئیے اور آپ اور آپ کے ساتھیوں پر پانی بند ہو گیا۔ اس پر آپ نے اپنے بھائی عباس بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ30سوار اور 20پیادے لے کر جائیں اور پانی بھر لائیں۔ یہ پہنچے تو محافظ دستے کے افسرعمرو بن الحجاج نے روکا۔ باہم مقابلہ ہوا لیکن آپ 20مشکیں بھر لائے۔

 

                عمر بن سعد سے ملاقات

 

شام کو حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عمر بن سعدکوکہلابھیجا، آج رات مجھ سے ملاقات کرو چنانچہ دونوں بیس بیس سوارلے کر اپنے اپنے پڑاؤسے نکلے اور درمیانی مقام میں ملے۔ تخلیہ میں بہت رات گئے تک باتیں ہوتی رہیں۔ راوی کہتا ہے گفتگو بالکل خفیہ تھی، لیکن لوگوں میں یہ مشہور ہو گیا حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عمرسے کہا ہم، تم دونوں اپنے اپنے لشکر یہیں چھوڑ کر یزید کے پاس روانہ ہو جائیں۔ عمر نے کہا:”اگر میں ایسا کروں گا تو میرا گھر کھدوا ڈالا جائے گا۔ ”

آپ نے فرمایا:”میں بنا دوں گا۔ “عمر نے کہا”میری تمام جائیداد ضبط کر لی جائے گی۔ “آپ نے فرمایا:”میں اپنی حجاز کی جائداد سے اس کا معاوضہ دے دوں گا۔ “مگر عمر نے منظور نہ کیا۔ (ابن جریر ج 6ص 235)

 

                تین شرطیں

 

اس کے بعد بھی تین چار مرتبہ باہم ملاقاتیں ہوئیں۔ آپ نے تین صورتیں پیش کیں۔

1-    مجھے وہیں لوٹ جانے دو، جہاں سے آیا ہوں۔

2-    مجھے یزید سے اپنا معاملہ طے کر لینے دو۔

3-    مجھے مسلمانوں کی کسی سرحد پر بھیج دو، وہاں کے لوگوں پر جو گزرتی ہے، وہ مجھ پربھی گزرے گی۔

 

                ابن زیاد کا خط

 

بار بار کی گفتگو کے بعد عمر بن سعد نے ابن زیاد کو پھر لکھا:”اللہ نے فتنہ ٹھنڈا کر دیا۔ پھوٹ دور کر دی، اتفاق پیدا کر دیا۔ امت کا معاملہ درست کر دیا۔ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھ سے وعدہ کر گئے ہیں کہ وہ ان تین صورتوں میں سے کسی ایک کے لئے تیار ہیں۔ اس میں تمہارے لئے بھلائی بھی ہے اور امت کے لئے بھی بھلائی ہے۔ ”

 

                شمر کی مخالفت

 

ابن زیاد نے خط پڑھا تو متاثر ہو گیا۔ عمر بن سعدکی تعریف کی اور کہا:میں نے منظور کیا، مگر شمر ذی الجوشن نے مخالفت کی اور کہا:اب حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ قبضہ میں آ چکے ہیں۔ اگر بغیر آپ کی اطاعت کے نکل گئے تو عجب نہیں عزت و قوت حاصل کر لیں اور آپ کمزور عاجز قرار پائیں۔ بہتر یہی ہے کہ اب انہیں قابوسے نکلنے نہ دیا جائے جب تک وہ آپ کی اطاعت نہ کر لیں۔ مجھے معلوم ہوا کہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عمر رات بھرسرگوشیاں کیا کرتے ہیں۔ ”

 

                ابن زیاد کا جواب

 

ابن زیاد نے یہ رائے پسندکر لی اور شمر کو خط دے کر بھیجا۔ خط کا مضمون یہ تھا کہ “اگرحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ معہ اپنے ساتھیوں کے اپنے آپ کو ہمارے حوالے کر دیں تو لڑائی نہ لڑی جائے اور انہیں صحیح سالم میرے پاس بھیج دیا جائے لیکن اگر یہ بات وہ منظور نہ کریں تو پھر جنگ کے سواچارہ نہیں۔ شمرسے کہہ دیا کہ عمر بن سعد نے میرے حکم پر ٹھیک ٹھاک عمل کیا تو تم اس کی اطاعت کرنا ورنہ چاہئے کہ اسے ہٹا کر خود فوج کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لینا اور حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سرکاٹ کر میرے پاس بھیج دینا۔ ”

ابن زیاد کے اس خط میں عمرکوسخت تہدید بھی کی گئی تھی۔ میں نے تمہیں اس لیے نہیں بھیجا ہے کہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بچاؤ اور میرے پاس سفارشیں بھیجو۔ دیکھو، میرا حکم صاف ہے اگر وہ اپنے آپ کو حوالے کریں تو صحیح وسالم میرے پاس بھیج دو لیکن اگر انکار کریں تو پھر بلا تامل حملہ کرو، خون بہاؤ، لاش بگاڑو کیونکہ وہ اسی کے مستحق ہیں۔ قتل کے بعد ان کی لاش گھوڑوں سے روند ڈالنا کیونکہ وہ باغی ہیں اور جماعت سے نکل گئے ہیں۔ میں نے عہد کر لیا ہے اگر قتل کروں گا تو یہ ضرور کروں گا۔ ”

“اگر تم نے میرے حکم کی تعمیل کی تو انعام و اکرام کے مستحق ہو گے اور اگر نافرمانی کی تو قتل کئے جاؤ گے۔ ”

 

                شمر بن ذی الجوشن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 

شمر بن ذی الجوشن کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی پھوپھی ام البنین بنت خرام امیرالمومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجیت میں تھیں اور انہی کے بطن سے ان کے چار صاحبزادے عباس، عبداللہ، جعفر اور عثمان پیدا ہوئے تھے جواس معرکہ میں امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے۔ اس طرح شمر، ان چاروں کا ان کے واسطے سے حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پھوپھیرا بھائی تھا۔ اس نے ابن زیاد سے درخواست کی تھی کہ اس کے ان عزیزوں کو امان دے دی جائے اور اس نے منظور کر لیا تھا، چنانچہ اس نے میدان میں چاروں صاحبزادوں کو بلا کر کہا:”تم میرے دادہیالی ہو، تمہارے لئے میں نے امن وسلامتی کا سامان کر لیا ہے۔ ”

لیکن انہوں نے جواب دیا۔ “افسوس تم پر، تم ہمیں تو امان دیتے ہو لیکن فرزندرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے امان نہیں ہے ؟

شمر نے ابن سعدکوحاکم کوفہ کا خط پہنچا دیا اور وہ طوعاً کرہاً بخوف عزل آمادہ تعمیل ہو گیا۔ (ابن جریر ج6ص234)

 

                فوج کی ابتدائی حرکت

 

نماز عصر کے بعد عمر بن سعد نے اپنے لشکر کو حرکت دی جب قریب پہنچا تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیس سواروں کے ساتھ نمودار ہوئے۔ عمر نے ان سے کہا کہ”ابن زیاد کا جواب آ گیا ہے اور اس کا مضمون یہ ہے۔ ”

حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوٹے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواس کی اطلاع دیں۔ اس اثناء میں فریقین کے بعض پر جوش آدمیوں میں جو رد و کد ہوئی، اسے رایوں نے محفوظ رکھا ہے۔

 

                دونوں فوجوں میں رد و کد

 

حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طرفداروں میں سے حبیب ابن مظاہر نے کہا:”اللہ کی نظر میں بدترین لوگ وہ ہوں گے جواس کے حضوراس حالت میں پہنچیں گے کہ اس کے نبی کی اولاد اور اس شہر(کوفہ)کے تہجد گزار عابدوں کے خون سے ان کے ہاتھ رنگین ہوں۔ ”

ابن سعدکی فوج میں سے عزرہ بن قیس نے جواب دیا:”شاباش اپنی خوب بڑائی کرو، پیٹ بھر کر اپنی پاکی کا اعلان کرو”زہیر بن القین نے کہا:اے عزرہ!اللہ ہی نے ان نفسوں کو پاک کر دیا ہے اور ہدایت کی راہ دکھائی ہے، اللہ سے ڈرو اور ان پاک نفسوں کے قتل میں گمراہی کا مددگار نہ بن۔ ”

عزرہ نے جواب دیا:”اے زہیر!تم تو اس خاندان کے حامی نہ تھے، کیا آج سے پہلے تک تم عثمان(حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حامی)نہ تھے ؟”

زہیر نے کہا:”ہاں یہ سچ ہے میں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کبھی کوئی خط نہیں لکھا نہ کبھی کوئی قاصد بھیجا لیکن سفر نے ہم دونوں کو یکجا کر دیا ہے۔ میں نے انہیں دیکھا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سلم یاد آ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ان کی محبت یاد آ گئی۔ میں نے دیکھا یہ کتنے قوی دشمن کے سامنے جا رہے ہیں۔ اللہ نے میرے دل میں ان کی محبت ڈال دی۔ میں نے اپنے دل میں کہا۔ “میں ان کی مدد کروں گا اور اللہ اور اس کے رسول کے اس حق کی حفاظت کروں جسے تم نے ضائع کر دیا ہے۔ ”

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب ابن زیاد کے خط کا مضمون معلوم ہوا تو انہوں نے کہا:اگر ممکن ہو تو آج انہیں ٹال دو تاکہ آج رات اور اپنے کی نماز پڑھ لیں، اس سے دعا کریں، مغفرت مانگیں کیونکہ وہ جانتا ہے، میں اس کی عبادت کا دلدادہ اور اس کی کتاب پڑھنے والا ہوں۔ ”

چنانچہ یہی جواب دیا گیا اور فوج واپس آ گئی۔ (ابن جریر ج6ص233ویعقوبی)

 

                آپ کی حسرت اور احباب کی وفاداری

 

فوج کی واپسی کے بعد رات کو آپ نے اپنے ساتھی جمع کئے اور خطبہ دیا:۔

“اللہ کی حمدوستائش کرتا ہوں، رنج و راحت ہر حالت میں اس کا شکر گزار ہوں۔ الٰہی !تیرا شکر کہ تو نے ہمیں دیکھنے سننے اور عبرت پکڑنے کی قوتوں سے سرفرازکیا۔ اما بعد!لوگو!میں نہیں جانتا آج روئے زمین پر میرے ساتھیوں سے افضل اور بہتر لوگ بھی موجود ہیں یا میرے اہل بیت سے زیادہ ہمدرد اور غمگساراہل بیت کسی کے ساتھ ہیں۔ اے لوگو!تم سب کو اللہ میری طرف سے جزائے خیر دے۔ میں سمجھتا ہوں کل میرا اور ان کا فیصلہ ہو جائے گا۔ غور و فکر کے بعد میری رائے یہ ہے کہ تم سب خاموشی سے نکل جاؤ۔ رات کا وقت ہے میرے اہل بیت کا ہاتھ پکڑو اور تاریکی میں ادھر ادھر چلے جاؤ۔ میں خوشی سے تمہیں رخصت کرتا ہوں، میری طرف سے کوئی شکایت نہ ہو گی۔ یہ لوگ صرف مجھے چاہتے ہیں، میری جان لے کر تم سے غافل ہو جائیں گے۔ ”

یہ سن کر آپ کے اہل بیت بہت رنجیدہ اور بے چین ہوئے۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:”یہ کیوں ؟کیا اس لئے کہ ہم آپ کے بعد زندہ رہیں۔ اللہ ہمیں وہ دن نہ دکھائے۔ ”

حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رشتہ داروں سے کہا:اے اولاد عقیل!مسلم کا قتل کافی تم چلے جاؤ، میں نے تمہیں اجازت دی۔ ”

رہوں گا، نہتا ہو جاؤں گا تو پتھر پھینکوں گا، یہاں تک موت میرا خاتمہ کر دے۔ ”

سعدبن عبداللہ الخفی نے کہا:واللہ!ہم آپ کواس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک اللہ جان نہ لے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا حق محفوظ رکھا۔ واللہ!اگر مجھے معلوم ہو کہ میں قتل ہوں گا یا جلایا جاؤں گا، آگ میں بھونا جاؤں گا۔ پھر میری خاک ہوا میں اڑا دی جائے گی اور ایک مرتبہ نہیں 70 مرتبہ مجھ سے یہی سلوک کیا جائے گا۔ پھر بھی میں آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ آپ کی حمایت میں فنا ہو جاؤں گا۔ ”

زہیر بن القین نے کہا:بخدا اگر میں ہزار مرتبہ بھی آرے سے چیرا جاؤں تو بھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑوں گا۔ خوشا نصیب!اگر میرے قتل سے آپ کی اور آپ کے اہل بیت کے ان نونہالوں کی جانیں بچ جائیں۔ (ابن جریر ج6ص229کامل شرح نہج البلاغہ)

 

                حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بے چینی اور آپ کا توصیۂ صبر

 

حضرت زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جس رات کی صبح میرے والد شہید ہوئے ہیں، میں بیٹھا تھا۔ میری پھوپھی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا میری تیمار داری کر رہی تھیں۔ اچانک میرے والد نے خیمہ میں اپنے ساتھیوں کو طلب کیا۔ اس خیمے میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام”حوی”تلوار صاف کر رہے تھے اور میرے والد یہ شعر پڑھ رہے تھے

یادھراف لک من خلیل  کم لک بالاشراق والاصیل

اے زمانہ تیرا برا ہو توکیسابے وفادوست ہے۔ صبح اور شام تیرے ہاتھوں کتنے

من صاحب او طالب قتیل والدھر لایقنع بالبدیل

مارے جاتے ہیں۔ زمانہ کسی کی رعایت نہیں کرتا۔ کسی سے عوض قبول نہیں کرتا۔

وانما الامرالی الجلیل               وکل حی سالک السبیل

سارامعاملہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ ہر زندہ موت کی راہ پر چلا جا رہا ہے۔

تین چار مرتبہ آپ نے یہی شعر دہرائے۔ میرا دل بھر آیا۔ آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ مگر میں نے آنسوروک لئے۔ میں سمجھ گیا مصیبت ٹلنے والی نہیں ہے۔ میری پھوپھی نے یہ شعرسنے تو وہ بے قابو ہو گئیں، بے اختیار دوڑتی ہوئی آئیں اور شیون و فریاد کرنے لگیں۔ ”

حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ حالت دیکھی تو فرمایا:”اے بہن!یہ کیا حال ہے، کہیں ایسانہ ہو کہ نفس و شیطان کی بے صبریاں ہمارے ایمان واستقامت پر غالب آ جائیں۔ ”

انہوں نے روتے ہوئے کہا:”کیوں کراس حالت پر صبر کیا جائے کہ آپ اپنے ہاتھوں قتل ہو رہے ہیں۔ ”

آپ نے کہا:”مشیت ایزدی کا ایساہی فیصلہ ہے۔ ”

اس پران کی بے قراریاں اور زیادہ بڑھ گئیں اور شدت غم سے بے حال ہو گئیں۔ یہ حالت دیکھ کر آپ نے ایک طولانی تقریر صبر و استقامت پر فرمائی۔ آپ نے کہا:۔

“بہن!اللہ سے ڈر، اللہ کی تعزیت سے تسلی حاصل کر۔ موت دنیا میں ہر زندگی کے لئے ہے۔ آسمان والے بھی ہمیشہ جیتے نہ رہیں گے۔ ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔ پھر موت کے خیال سے اس قدر رنج و بے قراری کیوں ہو؟دیکھ ہمارے ہرمسلمان کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی اسوہ حسنہ ہے۔ یہ نمونہ ہمیں کیاسکھاتا ہے ؟ہمیں ہر حال میں صبر و ثبات اور توکل کی تعلیم دیتا ہے۔ چاہیے کہ کسی حال میں بھی اس سے منحرف نہ ہوں۔ “(یعقوبی و ابن جریر ج6ص240)

 

                پوری رات عبادت میں گزاری

 

پوری رات آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے نماز، استغفار اور دعا و تضرع میں گزار دی۔ راوی کہتا ہے دشمن کے سوار رات بھر ہمارے لشکر کے گرد چکر لگاتے رہے۔ حضرت حین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلند آوازسے یہ آیت پڑھ رہے تھے۔

الایحسبن الذین کفروا انمالھم خیرالانفسھم انمانملی لھم لیزدادوانماولھم عذاب مھین۔ ماکان اللہ لیذرالمؤمنین علی ما انتم علیہ حتی یمیزالخبیث من الطیب۔ (دشمن یہ خیال نہ کریں کہ ہماری ڈھیل ان کے لئے بھلائی ہے۔ ہم صرف اس لئے ڈھیل دے رہے ہیں کہ ان کا جرم اور زیادہ ہو جائے۔ اللہ مومنین کواسی حالت میں چھوڑ رکھنے والا نہیں ہے، وہ پاک کو ناپاک سے الگ کر دے گا)

دشمن کے ایک سوار نے یہ آیت سنی تو چلا کر کہنے لگا:”قسم رب کعبہ کی، ہم ہی وہ طیب ہیں اور تم سے الگ کر دئیے گئے ہیں۔

 

                عشرہ کی صبح

 

جمعہ یاسنیچرکے دن دسویں محرم کو نماز فجر کے بعد عمر بن سعداپنی فوج لے کر نکلا۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اپنے اصحاب کی صفیں قائم کیں۔ ان کے ساتھ صرف32 سوار اور 40 پیدل، کل 72 آدمی تھے۔ میمنہ پر زہیر بن القین کو مقرر  کیا۔ علم اپنے بھائی عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں دے دیا۔ خیموں کے پیچھے خندق کھودکراس میں بہت سا ایندھن ڈھیر کر دیا گیا اور آگ جلادی گئی تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ آور نہ ہو سکے۔

 

                شمر کی یادہ گوئی

 

فوج سے شمر ذی الجوشن گھوڑا دوڑاتا ہوا نکلا۔ آپ کے لشکر کے گرد پھرا اور آگ دیکھ کر چلایا:اے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ!قیامت سے پہلے ہی تم نے آگ قبول کر لی؟”

حضرت نے جواب دیا:اے چروا ہے کے لڑکے !تو ہی آگ کا زیادہ مستحق ہے۔ مسلم بن عوسجہ نے عرض کیا:”مجھے اجازت دیجئے، اسے تیر مار کر ہلاک کر ڈالوں کیونکہ بلکہ زد پر ہے۔ ”

حضرت نے منع کر دیا:”نہیں میں لڑائی میں پہل نہیں کروں گا۔ “(یعقوبی و ابن جریر ج6ص242)

 

                دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دئیے

 

دشمن کا رسالہ آگے بڑھتے دیکھ کر آپ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دئیے۔

الٰہی!ہر مصیبت میں تجھی پرمیرابھروسہ ہے۔ ہرسختی میں میرا تو ہی پشت پناہ ہے۔ کتنی مصیبتیں پڑیں۔ دل کمزور ہو گیا۔ تدبیر نے جواب دے دیا۔ دوست نے بے وفائی کی۔ دشمن نے خوشیاں منائیں۔ مگر میں نے صرف تجھی سے التجا کی اور تو نے ہی میری دستگیری کی!تو ہی ہر نعمت کا والی ہے تو ہی احسان والا ہے، آج بھی تجھی سے التجا کی جاتی ہے۔ (شرح نہج البلاغہ)

 

                دشمن کے سامنے خطبہ

 

جب دشمن قریب آ گیا تو آپ نے اونٹنی طلب کی، سوار ہوئے، قرآن سامنے رکھا اور دشمن کی صفوں کے سامنے کھڑے ہو کر بلند آوازسے یہ خطبہ دیا:

“لوگو!میری بات سنو، جلدی نہ کرو۔ مجھے نصیحت کر لینے دو، اپنا عذر بیان کرنے دو، اپنی آمد کی وجہ کہنے دو۔ اگر میرا عذر معقول ہو اور تم اسے قبول کر سکو اور میرے ساتھ انصاف کرو تو یہ تمہارے لئے خوش نصیبی کا باعث ہو گا اور تم میری مخالفت سے باز آ جاؤ گے لیکن اگرسننے کے بعد بھی تم میرا عذر قبول نہ کرو اور انصاف کرنے سے انکار کر دو تو پھر مجھے کسی بات سے بھی انکار نہیں۔ تم اور تمہارے ساتھی ایکا کر لو، مجھ پر ٹوٹ پڑو، مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو۔ میرا اعتماد ہر حال میں صرف پروردگار عالم پر ہے اور وہ نیکوکاروں کا حامی ہے۔ ”

آپ کی اہل بیت نے یہ کلام سنا تو شدت تاثرسے بے اختیار ہو گئیں اور خیمہ سے آہ و بکا کی صدا بلند ہوئی۔ آپ نے اپنے بھائی عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اپنے فرزند علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا تاکہ انہیں خاموش کرائیں اور کہا:”ابھی انہیں بہت رونا باقی ہے۔ “پھر بے اختیار پکار اٹھے :

“خداعباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر دراز کرے۔ “(یعنی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ)راوی کہتا ہے یہ جملہ اس لئے آپ کی زبان سے نکل گیا کہ مدینہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عورتوں کوساتھ لے جانے سے منع کیا تھا مگر آپ نے اس پر توجہ نہ کی تھی۔ اب ان کا جزع و فزع دیکھا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات یاد آ گئی۔ پھر آپ نے ازسرنوتقریرشروع کی:

“لوگو!میراحسب ونسب یاد کرو، سوچوکہ میں کون ہوں ؟پھر اپنے گریبانوں میں منہ ڈالو اور اپنے ضمیرکامحاسبہ کرو۔ خوب غور کرو، کیا تمہارے لئے میرا قتل کرنا اور میری حرمت کا رشتہ توڑنا روا ہے ؟کیا میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی لڑکی کا بیٹا، اس کے عم زاد کا بیٹا نہیں ہوں ؟کیاسیدالشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے باپ کے چچا نہ تھے ؟کیا ذو الجناحین حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے چچا نہیں ہیں ؟کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ مشہور قول نہیں سناکہ آپ میرے اور میرے بھائی کے حق میں فرماتے ہیں۔ سیدالشباب اہل الجنۃ)(جنت میں نو عمروں کے سردار)اگر میرا یہ بیان سچ ہے اور ضرورسچا ہے کیونکہ واللہ میں نے ہوش سنبھالے کے بعد سے آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا تو بتلاؤ، کیا تمہیں برہنہ تلواروں سے میرا استقبال کرنا چاہیے ؟اگر تم میری بات پر یقین نہیں کرتے تو تم میں ایسے لوگ موجود ہیں جن سے تصدیق کر سکتے ہو۔ جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھو۔ ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھو، سہیل بن سعدساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھو، زید بن رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارقم سے پوچھو۔ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھو، وہ تمہیں بتائیں گے کہ انہوں نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ فرماتے سنا ہے یا نہیں ؟کیا یہ بات بھی میرا خون بہانے سے نہیں روک سکتی؟واللہ!اس وقت روئے زمین پر بجز میرے کسی نبی کی لڑکی کا بیٹا موجود نہیں۔ میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا بلاواسطہ نواسہ ہوں۔ کیا تم اس لئے مجھے ہلاک کرنا چاہتے کہ میں نے کسی کی جان لی ہے ؟کسی کا خون بہایا ہے ؟کسی کا مال چھینا ہے ؟کہو کیا بات ہے ؟آخر میرا قصور کیا ہے ؟”

 

                کوفہ والوں کی یاد

 

آپ نے بار بارپوچھامگرکسی نے جواب نہ دیا۔ آخر آپ نے بڑے بڑے کوفیوں کے نام لے کر پکارنا شروع کیا۔ “اے اشعت بن ربعی، اے حجاب بن ابجر، اے قیس بن الاشعت، اے یزید بن الحارث!کیا تم نے مجھے نہیں لکھا تھا کہ پھل پک گئے ہیں، زمین سرسبزہو گئی، نہریں ابل پڑیں۔ آپ اگر آئیں گے تو اپنی فوج جرار کے پاس آئیں گے، جلد آئیے۔ ”

اس پران لوگوں کی زبانیں کھلیں اور انہوں نے کہا:ہرگز نہیں، ہم نے تو نہیں لکھا تھا۔ ”

آپ چلا اٹھے۔ “سبحان اللہ!یہ کیا جھوٹ ہے۔ واللہ تم نے لکھا تھا۔ اس کے بعد آپ نے پھر پکار کر کہا:”اے لوگو!چونکہ تم اب مجھے ناپسندکرتے ہو، اس لئے بہتر ہے کہ مجھے چھوڑ دو، میں یہاں سے واپس چلا جاتا ہوں۔ ”

 

                ذلت منظور نہیں

 

یہ سن کرقیس بن الاشعت نے کہا:”کیا یہ بہتر نہیں کہ آپ اپنے آپ کو اپنے عم زادوں کے حوالے کر دیں، وہ وہی برتاؤ کریں گے جو آپ کوپسند ہے، آپ کو ان سے کوئی گزند نہیں پہنچے گی۔ ”

آپ نے جواب دیا۔ “تم سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہو۔ اے شخص!کیا تو چاہتا ہے کہ بنی ہاشم تجھ سے مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ تعالیٰ عنہ کے سوا ایک اور خون کا بھی مطالبہ کریں ؟نہیں، واللہ!میں ذلت کے ساتھ اپنے آپ کو ان کے حوالے نہیں کروں گا۔ “(ابن جریر ج6ص243)

 

                زہیر کا کوفہ والوں سے خطاب

 

زہیر بن القین اپنا گھوڑا بڑھا کر لشکر کے سامنے پہنچے اور چلائے :

“اے اہل کوفہ!عذاب الٰہی سے ڈرو، ہرمسلمان پر اپنے بھائی کو نصیحت کرنا فرض ہے۔ دیکھواس وقت تک ہم سب بھائی بھائی ہیں۔ ایک ہی دین اور ایک ہی طریقہ پر قائم ہیں جب تک تلواریں نیام سے باہر نہیں نکلتیں تم ہماری نصیحت اور خیرخواہی کے ہر طرح حقدار ہو لیکن تلوار کے درمیان آتے ہی باہمی حرمت ٹوٹ جائے گی اور ہم تم الگ دو گروہ ہو جائیں گے۔ دیکھو اللہ نے ہمارا، تمہارا اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اولاد کے بارے میں امتحان لینا چاہا ہے۔ ہم تمہیں اہل بیت کی نصرت کی طرف بلاتے اور سرکش عبید اللہ بن زیاد کی مخالفت پر دعوت دیتے ہیں۔ یقین کرو ان حاکموں سے کبھی تمہیں بھلائی حاصل نہ ہو گئی۔ یہ تمہاری آنکھیں پھوڑیں گے، تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹیں گے، تمہارے چہرے بگاڑیں گے۔ تمہیں درختوں کے تنوں میں پھانسی دیں گے اور نیکوکاروں کو چن چن کر قتل کریں گے بلکہ وہ تو کب کا کر بھی چکے ہیں۔ ابھی حجر بن عدی، ہانی بن عمرو وغیرہ کے واقعات اتنے پرانے نہیں ہوئے ہیں کہ تمہیں یاد نہ رہے ہوں۔ ”

کوفیوں نے یہ تقریرسنی تو زہیر کو برا بھلا کہنے لگے اور ابن زیاد کی تعریفیں کرنے لگے۔

“بخدا ہم اس وقت تک نہیں ٹلیں گے، جب تک حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو قتل نہ کر لیں یا انہیں امیر کے روبرو حاضر کر لیں۔ “یہ ان کا جواب تھا۔

زہیر نے جواب دیا:”خیر اگر فاطمہ کا بیٹاسمیہ کے چھوکرے (یعنی ابن زیاد)سے کہیں زیادہ تمہاری حمایت و نصرت کا مستحق ہے تو کم از کم اولادرسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اتناپاس کرو کہ اسے قتل نہ کرو۔ اسے اور اس کے عم زاد یزید بن معاویہ کو چھوڑ دو تاکہ آپس میں اپنا معاملہ طے کر لیں۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یزید کو خوش کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ تم حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خون بہاؤ۔ “(ابن جریر ج 6ص 243 و شرح نہج البلاغہ)

 

                حر بن یزید کی موافقت

 

عدی بن حرملہ سے روایت ہے کہ ابن سعد نے جب فوج کو حرکت دی تو حر بن یزید نے کہا:۔

“خدا آپ کوسنوارے !کیا آپ اس شخص سے واقعی لڑیں گے ؟”

ابن سعد نے جواب دیا:”ہاں، واللہ لڑائی!ایسی لڑائی جس میں کم از کم یہ ہو گا کہ سرکٹیں گے اور ہاتھ شانوں سے اڑ جائیں گے۔ ”

حر نے کہا۔ “کیا ان تین شرطوں میں سے کوئی ایک بھی قابل قبول نہیں جو انہوں نے پیش کی ہیں ؟”

ابن سعد نے کہا۔ “بخدا مجھے اختیار ہوتا تو ضرور منظور کر لیتا مگر کیا کروں تمہارا حاکم منظور نہیں کرتا۔ ”

حر بن یزید یہ سن کر اپنی جگہ لوٹ آیا۔ اس کے قریب خوداس کے قبیلہ کا بھی ایک شخص کھڑا تھا، اس کا نام قرہ بن قیس تھا۔ حر نے اس سے کہا:”تم نے اپنے گھوڑے کو پانی پلا لیا؟”

بعد میں قرہ کہا کرتا تھا:”حر کے اس سوال ہی سے میں سمجھ گیا تھا کہ وہ لڑائی میں شریک نہیں ہونا چاہتا اور مجھے ٹالنا چاہتا ہے تاکہ اس کی شکایت حاکم سے نہ کروں۔ “میں نے گھوڑے کو پانی نہیں پلایا، میں ابھی جاتا ہوں۔ “یہ کہہ کر میں دوسری طرف روانہ ہو گیا۔ میرے الگ ہوتے ہی حر نے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف آہستہ آہستہ بڑھنا شروع کیا۔

اس کے قبیلہ کے ایک شخص مہاجر بن اوس نے کہا:”کیا تم حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حملہ کرنا چاہتے ہو؟”حر خاموش ہو گیا۔ مہاجر کو شک ہوا کہنے لگا۔

“تمہاری خاموشی مشتبہ ہے۔ میں نے کبھی کسی جنگ میں تمہاری یہ حالت نہیں دیکھی۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ کوفہ میں سب سے بہادر کون ہے ؟تو تمہارے نام کے سواکوئی نام میری زبان پر نہیں آ سکتا۔ پھر یہ تم اس وقت کیا کر رہے ہو؟”

حر نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ ”

“بخدا میں جنت یا دوزخ کا انتخاب کر رہا ہوں۔ واللہ میں نے جنت کا انتخاب کر لیا ہے، چا ہے مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا جائے۔ ”

یہ کہا اور گھوڑے کو ایڑ لگا کر لشکرحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں پہنچ گیا۔

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں پہنچ کر کہا:”ابن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم!میں ہی وہ بدبخت ہوں جس نے آپ کو لوٹنے سے روکا۔ راستہ بھر آپ کا پیچھا اور اس جگہ اتر نے پر مجبور کیا۔ اللہ کی قسم میرے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ آئی کہ یہ لوگ آپ کی شرطیں منظور نہ کریں گے اور آپ کے معاملہ میں اس حد تک پہنچ جائیں گے۔ واللہ اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ وہ ایسا کریں گے تو ہرگزاس حرکت کا مرتکب نہ ہوتا۔ میں اپنے قصوروں پر نادم ہو کر توبہ کے لئے آپ کے پاس آیا ہوں۔ میں آپ کے قدموں پر قربان ہونا چاہتا ہوں۔ کیا آپ کے خیال میں یہ میری توبہ کے لئے کافی ہو گا؟”

حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شفقت سے فرمایا۔ “ہاں اللہ تیری توبہ قبول کرے، تجھے بخش دے۔ تیرا نام کیا ہے ؟”اس نے کہا:”حر بن یزید۔ ”

فرمایا:”تو حر(یعنی آزاد)ہی ہے جیساکہ تیری ماں نے تیرا نام رکھ دیا ہے تو دنیا میں اور آخرت میں انشاء اللہ حر ہے۔”

 

                کوفیوں سے حر کا خطاب

 

پھر حر دشمن کی صفوں کے سامنے پہنچا اور کہا:”اے لوگو!حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیش کی ہوئی شرطوں میں سے کوئی شرط منظور کیوں نہیں کر لیتے تاکہ اللہ تمہیں امتحان سے بچا لے ؟”

لوگوں نے جواب دیا:”یہ ہمارے سردارعمر بن سعدموجودہیں، جواب دیں گے۔ ”

عمر نے کہا:”میری دلی خواہش تھی کہ ان کی شرطیں منظور کر سکتا۔ ”

اس کے بعد حر نے نہایت جوش و خروش سے تقریر کی اور اہل کوفہ کو ان کی بدعہدی و عذر پر شرم و غیرت دلائی لیکن اس کے جواب میں انہوں نے تیربرسانے شروع کر دیئے، ناچار خیمہ کی طرف لوٹ آئے۔

 

                جنگ کا آغاز

 

اس واقعہ کے بعد عمر بن سعد نے اپنی کمان اٹھائی اور لشکرحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف یہ کہہ کر تیر پھینکا:”گواہ رہوسب سے پہلا تیر میں نے چلایا ہے۔ “پھر تیر بازی شروع ہو گئی۔

تھوڑی دیر میں زیادہ بن ابیہ اور عبید اللہ بن زیاد کے غلام یسار اور سالم نے میدان میں مبارزت کی طلب کی۔ قدیم طریق جنگ میں مبارزت کا طریقہ یہ تھا کہ فریقین کے لشکرسے ایک ایک جنگ آزما نکلتا اور پھر دونوں باہم دگر پیکار کرتے۔ لشکرحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سے حبیب بن مظاہر اور بریر بن حضریر نکلنے لگے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں منع کیا۔ عبداللہ بن عمیر الکلمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا:”مجھے اجازت دیجئے۔ “یہ شخص اپنی بیوی کے ساتھ حضرت کی حمایت کے لئے کوفہ سے چل کر آیا تھا۔ سیاہ رنگ، تنومند، کشادہ سینہ تھا۔ آپ نے اس کی صورت دیکھ کر فرمایا:بے شک یہ مرد میدان ہے اور اجازت دی۔ عبداللہ نے چند پھیروں میں دونوں زیر کر کے قتل کر ڈالے۔ اس کی بیوی ام وہب ہاتھ میں لاٹھی لئے کھڑی تھی اور جنگ کی ترغیب دیتی تھی۔ پھر یکایک اسے اس قدر جوش آیا کہ میدان جنگ کی طرف بڑھنے لگے۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ دیکھ کر بہت متاثر ہوئے۔ فرمایا:کہ اہل بیت کی طرف سے اللہ تمہیں جزائے خیر دے لیکن عورتوں کے ذمہ لڑائی نہیں۔ ”

 

                گھٹنے ٹیک کر نیزے سیدھے کر دیئے

 

اس کے بعد ابن سعد کے میمنہ نے حملہ کیا جب بالکل قریب پہنچ گئے تو حضرت کے رفقاء زمین پر گھٹنے ٹیک کر کھڑے ہو گئے اور نیزے سیدھے کر دیئے۔ نیزوں کے منہ پر گھوڑے بڑھ نہ سکے اور لوٹنے لگے۔ حضرت کی فوج نے اس موقع پر فائدہ اٹھایا اور تیر مار کر کئی آدمی اور زخمی کر دئیے۔

 

                عام حملہ

 

اب باقاعدہ جنگ جاری ہو گئی۔ طرفین سے ایک ایک دو دو جوان نکلتے تھے اور تلوار کے جوہر دکھاتے تھے۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طرفداروں کا پلہ بھاری تھاجوسامنے آتا تھا، مارا جاتا تھا، میمنہ کے سپہ سالاروں عمرو بن الحجاج نے یہ حالت دیکھی تو پکار اٹھے :”بیوقوفو!پہلے جان لو، کن سے لڑ رہے ہو؟یہ لوگ جان پر کھیلے ہوئے ہیں، تم اسی طرح ایک ایک کر کے قتل ہوتے جاؤ گے۔ ایسانہ کرو، یہ مٹھی بھر ہیں، انہیں پتھروں سے مارسکتے ہو۔ عمر بن سعد نے یہ رائے پسندکی اور حکم دیا کہ مبارزت موقوف کی جائے اور عام حملہ شروع ہو چنانچہ میمنہ آگے بڑھا اور کشت و خون شروع ہو گیا۔ ایک گھڑی بعد لڑائی رکی تو نظر آیا کہ حسینی فوج کے ناموربہادرمسلم بن عوسجہ خاک و خون میں پڑے ہیں۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوڑ کر لاش پر پہنچے، ابھی سانس باقی تھی۔ آہ بھر کر فرمایا:مسلم تجھ پر اللہ کی رحمت:منھم من قضی نحبہ ومنھم من ینتظرومابدلواتبدیلا۔ مسلم بن عوسجہ اس جنگ میں آپ کی جانب سے پہلے شہید تھے۔ (تاریخ طبری، ج6ص249)

 

                گھوڑے بیکار ہو گئے

 

میمنہ کے بعد میسرہ نے یورش کی۔ شمر ذی الجوشن اس کا سپہ سالار تھا۔ حملہ بہت ہی سخت تھا، مگرحسینی میسرے نے بڑی بہادری سے مقابلہ کیا۔ اس بازو میں صرف 32سوار تھے جس طرف ٹوٹ پڑتے تھے، صفیں الٹ جاتی تھیں۔ آخر طاقتور دشمن نے محسوس کر لیا کہ کامیابی نا ممکن ہے چنانچہ فوراً نئی کمک طلب کی، بہت سے سپاہی اور پانچ سوتیراندازمددکوپہنچ گئے۔ انہوں نے آتے ہی تیربرسانے شروع کر دیئے۔ تھوڑی دیر میں حسینی فوج کے گھوڑے بیکار ہو گئے اور سواروں کو پیدل ہو جانا پڑا۔

 

                حرکی شجاعت

 

ایوب بن مشرح روایت کرتا ہے کہ حر بن یزید کا گھوڑا خود میں نے زخمی کیا تھا۔ میں نے اسے تیروں سے چھلنی کر ڈالا۔ حر بن یزید زمین پر کود پڑے، تلوار ہاتھ میں لئے بالکل شیر ببر معلوم ہوتے تھے، تلوار ہر طرف متحرک تھی اور یہ شعر زبان پر تھا۔

ان تعقروابی فانا ابن الحر اشجع من ذی لبدھزبر

(اگر تم نے میرا گھوڑا بیکار کر دیا تو کیا ہوا؟میں شریف کا بیٹا ہوں۔ خوفناک شیرسے بھی زیادہ بہادر ہوں۔ )

 

                خیمے جلا دیئے

 

لڑائی اپنی پوری ہولناکی سے جاری تھی، اب دو پہر ہو گئی، مگر کوئی فوج غلبہ حاصل نہ کر سکی۔ وجہ یہ تھی کہ لشکر امام مجتمع تھا اور حسینی فوج نے تمام خیمے ایک جگہ جمع کر دیئے تھے اور دشمن صرف ایک ہی رخ سے حملہ کر سکتا تھا۔ عمر بن سعد نے یہ دیکھا تو خیمے اکھاڑ ڈالنے کے لئے آدمی بھیجے۔ حسینی فوج کے صرف چار پانچ آدمی یہاں مقابلہ کے لئے کافی ثابت ہوئے۔ خیموں کی آڑسے دشمن کے آدمی قتل کرنے لگے۔ جب یہ صورت بھی ناکامیاب رہی تو عمر بن سعد نے خیمے جلا دینے کا حکم دیا۔ سپاہی آگ لے کر دوڑے۔ حسینی فوج نے یہ دیکھا تو مضطرب ہوئی مگر حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:کچھ پرواہ نہیں، جلانے دو، یہ ہمارے لئے اور بھی زیادہ بہتر ہے۔ اب وہ پیچھے سے حملہ نہیں کر سکیں گے اور ہوا بھی یہی۔

 

                ام وہیب کا قتل

 

اسی اثناء میں زہیر بن القین نے شمرپرزبردست حملہ کیا اور اس کی فوج کے قدم اکھاڑ دئیے۔ مگر کب تک؟ذراسی دیر کے بعد پھر دشمن کا ہجوم ہو گیا۔ اب حسینی لشکر کی بے بسی صاف ظاہر تھی۔ بہت سے لوگ قتل ہو چکے تھے۔ کئی نامی سردارمارے جا چکے تھے۔ حتی کہ عبداللہ بن عمیر کلبی بھی جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے، قتل ہو چکا تھا، اس کی بیوی ام وہب بھی شہید ہو چکی تھی۔ یہ میدان جنگ میں بیٹھی اپنے مقتول شوہر کے چہرے سے مٹی صاف کر رہی تھیں اور یہ کہتی جاتی تھیں :”تجھے جنت مبارک ہو۔ ”

شمر نے دیکھا اور قتل کر ڈالا۔ (ابن جریر، طبری، ج6ص251)

 

                نماز پڑھنے نہیں دی

 

ابو تمامہ عمرو بن عبداللہ صاندی نے اپنی بے بسی کی حالت محسوس کی اور جناب حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا”دشمن اب بالکل آپ کے قریب آ گیا ہے۔ واللہ آپ اس وقت تک قتل نہیں ہونے پائیں گے جب تک میں قتل نہ ہو جاؤں لیکن میری آرزو یہ ہے کہ میں اپنے رب سے نماز پڑھ کرملوں جس کا وقت قریب آ گیا ہے۔ ”

یہ سن کر حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سراٹھایا اور فرمایا:”دشمنوں سے کہو ہمیں نماز کی مہلت دیں۔ “مگر دشمنوں نے درخواست منظور نہیں کی اور لڑائی جاری رہی۔

 

                حبیب اور حرکی شہادت

 

یہ وقت بہت سخت تھا۔ دشمن نے اپنی پوری قوت لگا دی۔ غضب یہ ہوا کہ حسینی میسرہ کے سپہ سالارحبیب ابن مظاہر بھی قتل ہو گئے۔ گویا فوج کی کمر ٹوٹ گئی حبیب کے بعد ہی حر بن یزید کی باری تھی۔ جوش سے یہ شعر پڑھتے ہوئے دشمنوں کی صفوں میں گھس پڑے۔

الیت لا اقتل حتی اقتلا      ولن اصاب الیوم الامقبلا

(میں نے قسم کھا لی ہے کہ قتل نہیں ہوں گا جب تک قتل نہ کر لوں اور مروں گا تواسی حال میں مروں گا کہ آگے بڑھ رہا ہوں گا۔ )

اصربھم بالسیف ضربامقصلا لاناکلاعنھم ولامھللا

(انہیں

تلوار کی کاری ضربوں سے ماروں گا، نہ بھاگوں گانہ ڈروں گا)

 

                زہیر کی شہادت

 

چند لمحوں کی بات تھی۔ حر زخموں سے چور ہو گرے اور جاں بحق تسلیم ہو گئے۔ اب ظہر کا وقت ختم ہو رہا تھا۔ حضرت نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ نماز کے بعد دشمن کا دباؤ اور بھی زیادہ ہو گیا۔ اس موقع پر آپ کے میسرہ کے سپہ سالارزہیر بن القین نے میدان اپنے ہاتھ میں لے لا ا اور شعر پڑھتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ :

انازھیر وانا ابن القین اذودھم بالسیف عن حسین

(میں زہیر ہوں، ابن القین ہوں، اپنی تلوار کی نوک سے انہیں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دور کر دوں گا)

صفیں درہم برہم کر ڈالیں۔ پھر لوٹے اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شانے پر ہاتھ مار کر جوش سے یہ شعر پڑھے۔

اقدم ھدیت ھادیا مھدیا فالیوم تلفی جدک النبیا

(بڑھ خدا نے تجھے ہدایت دی، آج تو اپنے نانا نبی سے ملاقات کرے گا)

وحسناو المرتضی علیا ودالجناحین الفنی الکمیا

( اور حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، علی المرتضی سے رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بہادر جوان جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے )

واسداللہ الشھیدالحیا

اور شہید زندہ اسداللہ حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے

پھر دشمن کی طرف لوٹے اور قتل کرتے رہے، یہاں تک کہ خود قتل ہو گئے۔

 

                غفاری بھائیوں کی بہادری

 

اب آپ کے ساتھیوں نے دیکھا کہ دشمن کو روکنا نا ممکن ہے چنانچہ انہوں نے طے کیا کہ آپ کے سامنے ایک ایک کر کے قتل ہو جائیں چنانچہ دو غفاری بھائی آگے بڑھے اور لڑنے لگے۔ یہ شعر ان کی زبان پر تھے۔

قدعلمت حقابنوغفار وخندف بعد بنی نزار

(اے قوم!تلواروں اور نیزوں سے شریفوں کی حمایت کرو)

(بنی غفار اور قبائل نزار نے اچھی طرح جان لیا ہے )

لنضر بن معشرالفجار بکل غضب صارم تبار

(کہ ہم بے پناہ شمشیر آبدارسے فاجروں کے ٹکڑے کر دیں گے )

یاقوم ذودواعن بنی الاحرار بالمشرقی والقنا الخطار

 

                جابری لڑکوں کی فدا کاری

 

ان کے بعد دو جابری لڑکے سامنے آئے، دونوں بھائی تھے۔ زار و قطار رو رہے تھے۔ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں دیکھا تو فرمانے لگے :اے میرے بھائی کے فرزندو!کیوں روتے ہو، ابھی چند لمحے بعد تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی۔ ”

انہوں نے ٹوٹی ہوئی آواز میں عرض کیا:”ہم اپنی جان پر نہیں روتے، ہم آپ پر روتے ہیں۔ دشمن نے آپ کو گھیر لیا ہے اور ہم آپ کے کچھ بھی کام نہیں آ سکتے۔ ”

پھر دونوں سے بڑی ہی شجاعت سے لڑنا شروع کیا۔ بار بار چلاتے تھے۔ السلام علیک یا ابن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم!

 

                حنظلہ بن اسعدکی شہادت

 

ان کے بعد حنظلہ بن اسعدحضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے آ کھڑے ہوئے اور بآواز بلند مخاطب ہوئے :”اے قوم!میں ڈرتا ہوں، عاد و ثمود کی طرح تمہیں روز بد نہ دیکھنا پڑے۔ میں ڈرتا ہوں تم برباد نہ جاؤ۔ اے قوم!حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل نہ کرو۔ ایسانہ ہو اللہ تم پر عذاب نازل کر دے۔ “بالآخر یہ بھی شہید ہو گئے۔

 

                علی اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت

 

غرض کہ یکے بعد دیگرے تمام اصحاب قتل ہو گئے۔ اب بنی ہاشم اور خاندان نبوت کی باری تھی۔ سب سے پہلے آپ کے صاحبزادے علی اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میدان میں آئے اور دشمن پر حملہ کیا۔ ان کا رجزیہ تھا۔

اناعلی بن حسین بن علی    نحن ورب البیت اولی بالنبی

(علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوں۔ قسم رب کعبہ کی ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قرب کے زیادہ حقدار ہیں۔ )

تا اللہ لایحکم فینا ابن الدعی

(قسم خدا کی نامعلوم باپ کے لڑکے کا بیٹا ہم پر حکومت نہیں کر سکے گا)

بڑی شجاعت سے لڑے، آخر مرہ بن مرہ بن متقد  العبدی کی تلوارسے شہید ہو گئے۔ ایک راوی کہتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ خیمہ سے ایک عورت تیزی سے نکلی۔ اتنی حسین عورت تھی جیسے اٹھتا ہواسورج!وہ چلا رہی تھی آہ!بھائی!آہ بھتیجے !میں نے پوچھا:یہ کون ہے ؟لوگوں نے کہا”زینب بنت فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم!”لیکن حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور خیمے میں پہنچا آئے۔ پھر علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نعش اٹھائی اور خیمے کے سامنے لا کر رکھ دی۔ (ابن جریر طبری ج6 ص256)

 

                ایک جوان رعنا

 

ان کے بعد اہل بیت اور بنی ہاشم کے دوسرے جاں فروش قتل ہوتے رہے یہاں تک کہ میدان میں ایک جوان رعنا نمودار ہوا، وہ کرتہ پہنے، تہ بند باندھے، پاؤں میں نعل پہنے تھا، بائیں نعل کی ڈوری ٹوٹی ہوئی تھی۔ وہ اس قدرحسین تھا کہ چاند کا ٹکڑا معلوم ہوتا تھا۔ شیر کی طرح بپھرتا ہوا آیا اور دشمن پر ٹوٹ پڑا۔ عمرو بن سعدازوی نے اس کے سرپرتلوارماری نوجوان چلایا:”ہائے چچا” اور زمین پر گر پڑا۔ آوازسنتے ہی حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھوکے باز کی طرح ٹوٹے اور غضبناک شیر کی طرح قاتل پر لپکے، بے پناہ تلوار کا وار کیا مگر ہاتھ کہنی سے کٹ کر اڑ چکا تھا۔ زخم کھا کر قاتل نے پکارنا شروع کیا۔ فوج اسے بچانے کے لئے ٹوٹ پڑی مگر گھبراہٹ میں بچانے کی بجائے اسے روند ڈالا۔

راوی کہتا ہے “جب غبار چھٹ گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ لڑکے کے سرہانے کھڑے ہیں، وہ ایڑیاں رگڑ رہ ہے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :”ان کے لئے ہلاکت جنہوں نے تجھے قتل کیا ہے۔ قیامت کے دن تیرے نانا کو یہ کیا جواب دیں گے ؟بخدا تیرے چچا کے لئے یہ سخت حسرت کا مقام ہے تو اسے پکارے اور وہ جواب نہ دے یا جواب دے مگر تجھے اس کی آواز نفع نہ دے سکے۔ افسوس!تیرے چچا کے دشمن بہت ہو گئے اور دوست باقی نہر ہے۔ “پھر لاش اپنی گود میں اٹھا لی۔ لڑکے کا سینہ آپ کے سینہ سے ملا ہوا تھا اور پاؤں زمین پر رگڑتے جاتے تھے۔ اس حال میں آپ اسے لائے اور علی اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لاش کے پہلو میں لٹا دیا۔ راوی کہتا ہے۔ “میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے ؟”لوگوں نے بتایاقاسم بن حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی طالب۔ ”

 

                مولود تازہ شہادت

 

حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پھر اپنی جگہ کھڑے ہو گئے۔ عین اس وقت آپ کے یہاں لڑکا پیدا ہوا، وہ آپ کے پاس لایا گیا۔ آپ نے اسے گود میں رکھا اور اس کے کان میں اذان دینے لگے۔ اچانک ایک تیر آیا اور بچہ کے حلق میں پیوست ہو گیا۔ بچہ کی روح اسی وقت پرواز کر گئی۔ آپ نے تیراس کے حلق سے کھینچ کر نکالا۔ خون سے چلو بھرا اور اس کے جسم پر ملنے اور فرمانے لگے۔ واللہ!تو اللہ کی نظر میں حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی سے زیادہ عزیز ہے اور محمدﷺ کی نظر میں صالح علیہ السلام سے زیادہ افضل ہیں۔ الٰہی!اگر تو نے ہم سے نصرت روک لی ہے تو وہی کرجس میں بہتر ہے۔ (ایوبی و ابن جریر ج 6ص257)

 

                بنی ہاشم کے مقتول

 

اسی طرح ایک ایک کر کے اکثر بنی ہاشم اور اہل بیت کے شہید ہو گئے۔ ان میں ذیل کے نام مؤرخین نے محفوظ رکھے ہیں۔

1۔ محمد بن ابی سعیدبن عقیل

2۔ عبداللہ بن مسلم بن عقیل

3۔ عبدالرحمن بن عقیل

4۔ جعفر بن عقیل

5۔ محمد بن عبداللہ بن جعفر

6۔ عون بن عبداللہ بن جعفر

7۔ عباس بن علی

8۔ عبداللہ بن علی

9۔ عثمان بن علی

10۔ محمد بن علی

11۔ بو بکر بن علی

12۔ بو بکر بن الحسن

13۔ عبداللہ بن الحسن

14۔ قاسم بن الحسن

15۔ علی بن الحسین

16۔ عبداللہ بن الحسین

 

                ایک بچے کی شہادت

 

ان سب کے بعد اب خود آپ کی باری تھی۔ آپ میدان میں تنہا کھڑے تھے دشمن یلغار کر کے آتے تھے۔ ہر ایک کی خواہش تھی کہ اس کا گناہ دوسرے کے سربعد بعد ڈالے لیکن شمر ذوالجوشن نے لوگوں کو برانگیختہ کرنا شروع کیا۔ ہر طرف سے آپ کو گھیر لیا گیا۔ اہل بیت کے خیمے میں عورتیں اور چند کم عمر لڑکے رہ گئے تھے۔ اندرسے ایک لڑکے نے آپ کواس طرح گھرا دیکھا تو جوش سے بے خود ہو گیا اور خیمہ کی لکڑی لے کر دوڑ پڑا۔ راوی کہتا ہے اس کے کانوں میں پردے ہل رہے تھے، یہ گھبرایا ہوا دائیں بائیں دیکھتا چلا گیا۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نظراس پر پڑ گئی، دوڑ کر پکڑ لیا۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی دیکھ لیا اور بہن سے کہا:”روکے رکھو، آنے نہ پائے۔ “مگر لڑکے نے زور کر کے اپنے آپ کو چھڑا لیا اور حضرت کے پہلو میں پہنچ گیا۔ عین اس وقت بحر بن کعب نے آپ پر تلوار اٹھائی۔ لڑکے نے فوراً ڈانٹ پلائی۔ “او خبیث!میرے چچا کو قتل کرے گا؟”سنگدل حملہ آور نے اپنی بلند تلوار لڑکے پر چھوڑ دی، اس نے ہاتھ پر روکی۔ ہاتھ کٹ گیا، ذراسی کھال لگی رہ گئی۔ بچہ تکلیف سے چلایا۔ حضرت نے اسے سینے سے چمٹا لیا اور فرمایا:”صبر کراسے ثواب خداوندی کا ذریعہ بنا۔ اللہ تعالیٰ تجھے بھی تیرے بزرگوں تک پہنچا دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی طالب، حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک۔

 

                حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت

 

اب آپ پر ہر طرف سے نرغہ شروع ہوا۔ آپ نے بھی تلوار چلانا شروع کی۔ پیدل فوج پر ٹوٹ پڑے اور تن تنہا اس کے قدم اکھاڑ دئیے۔ عبداللہ بن عمارجوخوداس جنگ میں شریک تھا، روایت کرتا ہے کہ میں نے نیزے سے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حملہ کیا اور ان کے بالکل قریب پہنچ گیا۔ اگر میں چاہتا تو قتل کر سکتا تھا مگر یہ خیال کر کے ہٹ گیا کہ یہ گناہ اپنے سرکیوں لوں ؟میں نے دیکھا دائیں بائیں ہر طرف سے ان پر حملے ہو رہے تھے لیکن وہ مڑ جاتے تھے، دشمن کو بھگا دیتے تھے۔ وہ اس وقت کرتہ پہنے اور عمامہ باندھے تھے۔ واللہ!میں نے کبھی کسی شکستہ دل کوجس کا گھرکاگھرخوداس کی آنکھوں کے سامنے قتل ہو گیا، ایساشجاع، ثابت قدم، مطمئن اور جری نہیں دیکھا۔ حالت یہ تھی کہ دائیں بائیں سے دشمن اس طرح بھاگ کھڑے ہوتے تھے جس طرح شیر کو دیکھ کر بکریاں بھاگ جاتی ہیں۔ دیر تک یہی حالت رہی۔ اسی اثناء میں آپ کی بہن زینب بنت فاطمہ(علیہما السلام)خیمہ سے باہر نکلیں۔ ان کے کانوں میں بالیاں پڑی تھیں۔ وہ چلاتی تھی”کاش!آسمان زمین پر ٹوٹ پڑے۔ “یہ وہ موقع تھا جبکہ عمر بن سعدحضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بالکل قریب ہو گیا۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے پکار کر کہا:”اے عمر!کیا ابو عبد اللہ تمہاری آنکھوں کے سامنے قتل ہو جائیں گے ؟”عمر نے منہ پھیرلیامگراس کے رخسار اور داڑھی پر آنسوؤں کی لڑیاں بہنے لگیں۔

 

                آپ کے حلق میں تیرپیوست ہو گیا

 

لڑائی کے دوران میں آپ کو بہت سخت پیاس لگی۔ آپ پانی پینے فرات کی طرف چلے، مگر دشمن کب جانے دیتا تھا۔ اچانک ایک تیر آیا اور آپ کے حلق میں پیوست ہو گیا۔ آپ نے تیر کھینچ لیا۔ پھر آپ نے ہاتھ منہ کی طرف اٹھائے تو دونوں چلو خون سے بھر گئے۔ آپ نے خون آسمان کی طرف اچھالا اور خدا کا شکر ادا کیا۔ الٰہی!میرا شکوہ تجھی سے ہے، دیکھ تیرے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نواسے سے کیا برتاؤ ہو رہا ہے ؟

تونیزبرسربام آنچہ خوش تماشائیست

 

                شمرکوسرزنش

 

پھر آپ اپنے خیمے کی طرف لوٹنے لگے تو شمر اور اس کے ساتھیوں نے یہاں بھی تعرض کیا۔ حضرت نے محسوس کیا کہ ان کی نیت خراب ہے۔ خیمہ لوٹنا چاہتے ہیں۔ فرمایا:

“اگر تم میں دین نہیں روز آخرت سے ڈرتے نہیں ہو تو کم از کم دنیاوی شرافت پر تو قائم رہو۔ میرے خیمے کو اپنے جاہلوں اور اوباشوں سے محفوظ رکھو۔ ”

شمر نے جواب دیا:”اچھا ایساہی کیا جائے گا اور آپ کا خیمہ محفوظ رہے گا۔ ”

 

                آخری تنبیہ

 

اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ راوی کہتا ہے کہ دشمن اگر چاہتا تو آپ کو بہت پہلے قتل کر ڈالتا مگر یہ گناہ کوئی بھی اپنے سرنہ لینا چاہتا تھا۔ آخر شمر ذوالجوشن چلایا:”تمہارا برا ہو!کیا انتظار کرتے ہو، کیوں کام تمام نہیں کرتے۔ ”

اب پھر ہر طرف سے نرغہ ہوا۔ آپ نے پکار کر کہا:کیوں میرے قتل پر ایک دوسرے کو ابھارتے ہو؟واللہ!میرے بعد کسی بندے کے قتل پربھی اللہ اتنا نا خوش نہ ہو گا جتنا میرے قتل پر نا خوش ہو گا۔ ”

 

                شہادت

 

مگر اب وقت آ چکا تھا۔ زرعہ بن شریک تمیمی نے آپ کے بائیں ہاتھ کو زخمی کر دیا۔ پھر شانے پر تلوار ماری۔ آپ کمزوری سے لڑکھڑائے۔ لوگ ہیبت سے پیچھے ہٹے مگرسنان بن انس نخفی نے بڑھ کر نیزہ مارا اور آپ زمین پر گر پڑے۔ اس نے ایک شخص سے کہا:”سرکاٹ لے۔ “وہ سرکاٹنے کے لئے لپکا مگر جرات نہ ہوئی۔ سنان بن انس نے دانت پیس کر کہا:”اللہ تیرے ہاتھ شل کر ڈالے۔ “پھر جوش سے اترا اور آپ کو ذبح کیا اور سرتن سے جدا کیا۔

جعفر بن محمد بن علی سے مروی ہے کہ قتل کے بعد دیکھا گیا کہ آپ کے جسم پر نیزے کے 33 اور تلوار کے 34 گھاؤ تھے۔

 

                قاتل

 

سنان ابن انس کے دماغ میں کسی قدر فتور تھا۔ قتل کے وقت اس کی عجیب حالت تھی جو شخص حضرت کی نعش کے قریب آتا تھا، وہ اس پر حملہ آور ہوتا تھا، وہ ڈرتا تھا کوئی دوسرا ان کا سرنہ کاٹ لے جائے۔ قاتل نے سرکاٹ کر خولی بن یزید اصبحی کے حوالے کیا اور خود عمر بن سعد کے پاس دوڑا۔ خیمے کے سامنے کھڑا ہو کر چلایا:۔

اوقر رکابی من فضۃ وذھبا اناقتلت الملک المجبا

(مجھے سونے چاندی سے لاد دو۔ میں نے بڑا بادشاہ مارا ہے )

قتلت خیرالناس اماوابا وخیرھم اذینسبون نسبا

(میں نے اس کو قتل کیا ہے جس کے ماں باپ سب سے افضل ہیں اور جو اپنے نسب میں سب سے اچھا ہے )

عمر بن سعد نے اسے اندر بلا لیا اور بہت خفا ہو کر کہنے لگا:”واللہ تو مجنون ہے۔ “پھر اپنی لکڑی سے اسے مار کر کہا:”پاگل ایسی بات کہتا ہے۔ بخدا اگر عبید اللہ بن زیادہ سنتا تو تجھے ابھی مروا ڈالتا۔ “(ابن جریر ج 6ص 261)

 

                لوٹ کھسوٹ

 

قتل کے بعد کوفیوں نے آپ کے بدن کے کپڑے تک اتار لئے، پھر آپ کے خیمے کی طرف بڑھے۔ زین العابدین بسترپربیمار پڑے تھے۔ شمر اپنے چندسپاہوں کے ساتھ پہنچا اور کہنے لگا:اسے بھی کیوں نہ قتل کر ڈالیں۔ “لیکن اس کے بعض ساتھیوں نے مخالفت کی۔ کہا:کیا بچوں کو بھی مار ڈالو گے ؟”

اسی اثناء میں عمر بن سعدبھی آ گیا اور حکم دیا:”کوئی عورتوں کے خیمے میں نہ گھسے اس بیمار کو کوئی نہ چھیڑے، جس کسی نے خیمہ کا اسباب لوٹا ہو، واپس کر دے۔ ”

زین العابدین نے یہ سن کر اپنی بیمار آوازسے کہا: عمر بن سعد!اللہ تجھے جزائے خیر دے، تیری زبان نے ہمیں بچا لیا۔ ”

 

                نعش روند ڈالی

 

عمر بن سعدکوحکم تھا کہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نعش گھوڑوں کے ٹاپوں سے روند ڈالے، اب اس کا وقت آیا اور اس نے پکار کر کہا:”اس کام کے لئے کون تیار ہے ؟”دس آدمی تیار ہوئے اور گھوڑے دوڑا کرجسم مبارک روند ڈالا۔

چوں بگذردنظیری خونین کفن بہ حشر

خلقے فغاں کنندکہ ایں دادخواہ کیست

اس جنگ میں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے 72آدمی مارے گئے اور کوئی فوج کے 88 مقتول ہوئے (ابن جریر ج6ص261)

 

                حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پامال لاش دیکھی

 

دوسرے دن عمر بن سعد نے میدان جنگ سے کوچ کیا۔ اہل بیت کی خواتین اور بچوں کوساتھ لے کر کوفہ روانہ ہو گیا۔

قرہ بن قیس(جو شاہد عینی ہے )روایت کرتا ہے کہ ان عورتوں نے جب حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے لڑکوں اور عزیزوں کی پامال لاشیں دیکھیں تو ضبط نہ کر سکیں اور آہ و فریاد کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ میں گھوڑا لے کران کے قریب پہنچا۔ میں نے اتنی حسین عورتیں کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ مجھے زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ بین کسی طرح بھی نہیں بھولتا۔ اے محمدﷺ!تجھ پر آسمان کے فرشتوں کادروداسلام!یہ دیکھ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ریگستان میں پڑا ہے۔ خاک و خون میں آلودہ ہے، تمام جسم ٹکڑے ٹکڑے ہے۔ تیری بیٹیاں قیدی ہیں۔ تیری اولاد مقتول ہے۔ ہوا ان پر خاک ڈال رہی ہے۔ “راوی کہتا ہے دوست دشمن کوئی نہ تھا، جوان کے بین سے رونے نہ لگا ہو۔

 

                72سر

 

پھر تمام مقتولوں کے سرکاٹے گئے۔ کل 72 سر تھے۔ شمر ذوالجوشن قیس بن العثت، عمرو بن الحجاج، عزمرہ بن قیس، یہ تمام عبید اللہ بن زیاد کے پاس لے گئے۔

حمید بن مسلم(جو خولی بن یزید کے ساتھ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاسرکوفہ لایا تھا)روایت کرتا ہے کہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاسرابن زیاد کے روبرو رکھا گیا۔ مجلس حاضرین سے لبریز تھی۔ ابن زیاد کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ چھڑی آپ کے لبوں پر مارنے لگا۔

جب اس نے بار بار یہی حرکت کی تو زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ارقم چلا اٹھے :ان لبوں سے اپنی چھڑی ہٹا لے قسم خدا کی، میری ان دونوں آنکھوں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے ہونٹ ان ہونٹوں پر رکھتے تھے اور ان کابوسہ لیتے تھے۔ “یہ کہہ کروہ زار و قطار رونے لگے۔ ابن زیاد خفا ہو گیا:”خدا تیری آنکھوں کو رلائے۔ واللہ اگر تو بوڑھا ہو کرسٹھیانہ گیا ہوتا تو ابھی تیری گردن مار دیتا۔ ”

زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ارقم یہ کہتے ہومجلس سے اٹھ گئے۔ “اے عرب کے لوگو!آج کے بعد سے تم غلام ہو، تم نے ابن فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو قتل کیا۔ ابن مرجانہ (یعنی عبید اللہ)کو حاکم بنایا، وہ تمہارے نیک انسان قتل کرتا اور شریفوں کو غلام بناتا ہے، تم نے ذلت پسندکر لی۔ خدا انہیں مارے جو ذلت پسندکرتے ہیں۔ “بعض روایات میں یہ واقعہ خود یزید کی طرف منسوب ہے مگر صحیح یہی ہے کہ ابن زیاد نے چھڑی ماری تھی۔

 

                ابن زیاد اور حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما

 

راوی کہتا ہے جب اہل بیت کی خواتین اور بچے عبید اللہ کے سامنے پہنچے تو حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے نہایت حقیرلباس پہنا ہوا تھا، وہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ ان کی کنیزیں انہیں اپنے بیچ میں لئے تھیں۔ عبید اللہ نے پوچھا:”یہ کون بیٹھی ہے۔ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ تین مرتبہ یہی سوال کیا، مگر وہ خاموش رہیں۔ آخر ان کی ایک کنیز نے کہا:”یہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما بنت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہیں۔ “عبید اللہ شمائت کی راہ سے چلایا:”اس اللہ کی ستائش جس نے تم لوگوں کورسوا اور ہلاک کیا ہے اور تمہارے نام کو بٹہ لگایا۔ ”

اس پر حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جواب دیا:”ہزارستائش اس اللہ کے لئے جس نے ہمیں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے عزت بخشی اور ہمیں پاک کیا نہ کہ جیسا تو کہتا ہے۔ فاسق رسواہوتے ہیں، فاجروں کے نام کو بٹہ لگتا ہے۔ ”

ابن زیاد نے کہا”تو نے دیکھا خدا نے تیرے خاندان سے کیاسلوک کیا۔ ”

حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما بولیں :”ان کی قسمت میں قتل کی موت لکھی تھی، اس لئے وہ مقتل میں پہنچ گئے۔ عنقریب اللہ تجھے اور انہیں ایک جگہ جمع کر دے گا اور تم باہم اس کے حضورسوال و جواب کر لو گے۔ ”

ابن زیاد غضبناک ہوا، اس کا غصہ دیکھ کر عمرو بن حریث نے کہا:”اللہ امیرکوسنوارے یہ تو محض ایک عورت ہے۔ عورتوں کی بات کا خیال نہیں کرنا چاہیے۔ ”

پھر کچھ دیر بعد ابن زیاد نے کہا:خدا نے تیرے سرکش سردار اور تیرے اہلبیت کے نافرمان باغیوں کی طرف سے میرا دل ٹھنڈا کر دیا۔ “اس پر حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما اپنے تئیں سنبھال نہ سکیں، بے اختیار رو پڑیں۔ انہوں نے کہا:”واللہ تو نے میرے سردارکوقتل کر ڈالا، میرا خاندان مٹا ڈالا، میری شاخیں کاٹ دیں، میری جڑ اکھاڑ دی، اس سے تیرا دل اگر ٹھنڈا ہو سکتا ہے، تو ٹھنڈا ہو جائے۔ ”

ابن زیاد نے مسکرا کر کہا:”یہ شجاعت ہے !تیرے باپ بھی شاعر اور شجاع تھا۔ ”

حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا”عورت کو شجاعت سے کیاسروکار؟میری مصیبت نے مجھے شجاعت سے غافل کر دیا ہے۔ میں جو کچھ کہہ رہی ہوں۔ یہ تو دل کی آگ ہے۔ ”

 

                ابن زیاد اور امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ

 

اس گفتگوسے فارغ ہو کر ابن زیاد کی نظر زین العابدین”علی بن الحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ”پر پڑی۔ یہ بیمار تھے۔ ابن زیاد نے تعجب سے کہا:”اللہ نے علی بن الحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل نہیں کر ڈالا؟”

زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوئی جواب نہ دیا۔

ابن زیاد نے کہا:”بولتا کیوں نہیں ؟”

انہوں نے جواب دیا:”میرے ایک اور بھائی کا نام بھی علی تھا، لوگوں نے غلطی سے اسے مار ڈالا ہے۔ ”

ابن زیاد نے کہا”لوگوں نے نہیں، اللہ نے مارا ہے۔ ”

اس پر زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت پڑھی۔

اللہ یتوفی الانفس حین موتھاوماکان لنفس ان تموت الاباذن اللہ۔

اس پر ابن زیاد چلایا:”اللہ تجھے بھی مارے تو بھی انہیں میں سے ہے۔ پھراس کے بعد ابن زیاد نے چاہا کہ انہیں بھی قتل کر ڈالے لیکن زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما بے قرار ہو کر چیخ اٹھیں :”میں تجھے خداکاواسطہ دیتی ہوں اگر تو مومن ہے اور اس لڑکے کو ضروری قتل کرنا چاہتا ہے تو مجھے بھی اسی کے ساتھ مار ڈال۔ ”

امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلند آوازسے کہا:”اے ابن زیاد!اگر تو ان عورتوں سے ذرا بھی رشتہ سمجھتا ہے تو میرے بعد ان کے ساتھ کسی متقی آدمی کوبھیجناجواسلامی معاشرت کے اصول پران سے برتاؤ کرے۔ “ابن زیاد دیر تک حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو دیکھتا رہا۔ پھر لوگوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا۔ رشتہ بھی کیسی عجیب چیز ہے۔ واللہ!مجھے یقین ہے کہ یہ سچے دل سے لڑکے ساتھ قتل ہونا چاہتی ہے۔ اچھا لڑکے کو چھوڑ دو، یہ بھی اپنے خاندان کی عورتوں کے ساتھ جائے۔ (ابن جریر ج6ص263، کامل وغیرہ)

 

                ابن عفیف کا قتل

 

اس واقعہ کے بعد ابن زیاد نے جامع مسجدمیں شہر والوں کو جمع کیا اور خطبہ دیتے ہوئے اس اللہ کی تعریف کی جس نے حق کو ظاہر کیا، حق والوں کو فتح یاب کیا۔ امیرالمومنین یزید بن معاویہ اور ان کی جماعت غالب ہوئی۔ کذاب(حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشہور صحابی ہیں اور جنگ جمل و صفین میں زخمی ہو کر اپنی دونوں آنکھیں کھو چکے تھے ) کھڑے ہو گئے اور چلائے :اللہ کی قسم اے ابن مرجانہ!کذاب ابن کذاب تو تو ہے نہ کہ حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ “ابن زیاد نے یہ سن کر انہیں قتل کر ڈالا۔

 

                یزید کے سامنے

 

اس کے بعد ابن زیاد نے حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاسربانس پر نصب کر کے زحر بن قیس کے ہاتھ یزید کے پاس بھیج دیا۔ غار بن ربیعہ کہتا ہے۔ “جس وقت زحر بن قیس پہنچا، میں یزید کے پاس بیٹھا تھا۔ یزید نے اس سے کہا:کیا خبر ہے ؟”حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اٹھارہ اہل بیت اور ساٹھ حمایتیوں کے ساتھ ہم تک پہنچے، ہم نے انہیں بڑھ کر روکا اور مطالبہ کیا کہ سب اپنے آپ کو ہمارے حوالے کریں ورنہ لڑائی لڑیں۔ انہوں نے اطاعت پر لڑائی کو ترجیح دی چنانچہ ہم نے طلوع آفتاب کے ساتھ ان پر ہلہ بول دیا جب تلواریں ان کے سروں پر پڑنے لگیں تو وہ اس طرح ہر طرف جھاڑیوں اور گڑھوں میں چھپنے لگے جس طرح کبوتربازسے بھاگتے اور چھپتے ہیں۔ پھر ہم نے ان سب کا قلع قمع کر دیا۔ اس وقت ان کے رخسارغبارسے میلے ہو رہے ہیں ان کے جسم دھوپ کی شدت اور ہوا کی تیزی سے خشک ہو رہے ہیں اور گدھوں کی خوراک بن گئے ہیں۔ ”

 

                یزید رونے لگا

 

راوی کہتا ہے۔ یزید نے یہ سنا تواس کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ کہنے لگا۔ “بغیر قتل حسین کے بھی میں تمہاری اطاعت سے خوش ہو سکتا تھا۔ ابن سمیہ(ابن زیاد)پر اللہ کی لعنت!واللہ! اگر میں وہاں ہوتا توحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ضرور درگزر کر جاتا۔ اللہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔ قاصد کو یزید نے کوئی انعام نہیں دیا۔ (ابن جریر،ج 6ص 264، کامل تاریخ کبیر ذہبی)

 

                یزید کا تاثر

 

یزید کے غلام قاسم بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ جب حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے اہل بیت کے سریزید کے سامنے رکھے گئے تو اس نے یہ شعر پڑھا۔

یفلقن ھاما من رجال اعزۃ علیناوھم کانوا اعق واظلما

(تلواریں ایسوں کاسرپھاڑتی ہیں جو ہمیں عزیز ہیں حالانکہ در اصل وہ ہی حق فراموش کرنے والے ظالم تھے )

پھر کہا:”واللہ!اے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ!اگر میں وہاں ہوتا تو تجھے ہر گز قتل نہ کرنا۔ ”

 

                اہل بیت دمشق میں

 

حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سرکے بعد ابن زیاد نے اہل بیت کو بھی دمشق روانہ کر دیا۔ شمر ذوالجوشن اور محضر بن ثعلبہ اس قابلہ کے سردار تھے۔ امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھر خاموش رہے، کسی سے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ یزید کے دروازے پر پہنچ کر محضر بن ثعلبہ چلایا۔ میں امیرالمومنین کے پاس فاجر کمینوں کو لایا ہوں۔ ”

یزید یہ سن کر خفا ہوا، کہنے لگا:”محضر کی ماں سے زیادہ کمینہ اور شریر بچہ کسی عورت نے پیدا نہیں کیا۔ ”

 

                یزید اور امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 

پھر یزید نے شام کے سرداروں کو اپنی مجلس میں بلایا۔ اہل بیت کو بھی بٹھایا اور امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مخاطب ہوا۔ “اے علی!تمہارے ہی باپ نے میرا رشتہ کاٹا۔ میرا حق بھلایا، میری حکومت چھیننا چاہی۔ اس پر اللہ نے اس کے ساتھ وہ کیا جو تم دیکھ چکے ہو۔ “امام زین العابدین اس کے جواب میں یہ آیت پڑھی:۔

ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولافی انفسکم الافی کتاب من قبل ان نبر آھا ان ذالک علی اللہ یسیرلکیلاتاسواعلی ماقاتکم ولاتفرحوابما اتاکم واللہ لایحب کل مختال فخور۔

تمہاری کوئی مصیبت بھی نہیں جو پہلے سے لکھی نہ گئی ہو۔ یہ خدا کے لئے بالکل آسان ہے، یہ اس لئے کہ نقصان پرافسوس نہ کرو اور فائدہ پر مغرور نہ ہو، اللہ تعالیٰ مغروروں اور فخر کرنے والوں کوناپسندکرتا ہے۔

یہ جواب یزید کو ناگوار ہوا۔ اس نے چاہا، اپنے بیٹے خالد سے جواب دلوائے مگر خالد کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ تب یزید نے خالد سے کہا:”کہتا کیوں نہیں۔

ما اصابکم من مصیبۃ فبماکسبت ایدیکم ویعفواعن کثیر۔

پھر یزید دوسرے بچوں اور عورتوں کی طرف متوجہ ہوا، انہیں اپنے قریب بلا کر بٹھایا ان کی ہیئت خراب ہو رہی تھی، دیکھ کرمتاسف ہوا اور کہنے لگا:”ابن مرجانہ کا اللہ برا کرے اگر تم سے اس کا کوئی رشتہ ہوتا تو تمہارے ساتھ ایساسلوک نہ کرتا، نہ اس حال میں تمہیں میرے پاس بھیجتا۔ ”

 

                حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی بے باکانہ گفتگو

 

حضرت فاطمہ بنت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ”جب ہم یزید کے سامنے بٹھائے گئے تو اس نے ہم پرترس ظاہر کیا۔ ہمیں کچھ دینے کا حکم دیا۔ بڑی مہربانی سے پیش آیا۔ اسی اثناء میں ایک سرخ رنگ کا شامی لڑکا کھڑا ہوا اور کہنے لگا:”امیرالمومنین!یہ لڑکی مجھے عنایت کر دیجئے۔ ” اور میری طرف اشارہ کیا۔ اس وقت میں کمسن اور خوبصورت تھی۔ میں خوف سے کانپنے لگی اور اپنی بہن زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی چادر پکڑ لی۔ وہ مجھ سے بڑی تھیں۔ ۔ ۔ اور زیادہ سمجھدار تھیں اور جانتی تھیں کہ یہ بات نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے پکار کر کہا:”تو کمینہ ہے نہ تجھے اس کا اختیار ہے نہ اسے (یزید کو)اس کا حق ہے۔ ”

اس جرات پر یزید کو غصہ آ گیا۔ کہنے لگا۔ “تو جھوٹ بکتی ہے۔ واللہ مجھے یہ حق حاصل ہے، اگر چاہوں تو ابھی کر سکتا ہوں۔ ”

حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا:”ہرگز نہیں !خدا نے تمہیں یہ حق ہرگز نہیں دیا۔ یہ بات دوسری ہے کہ تم ہماری ملت سے نکل جاؤ اور ہمارا دین چھوڑ کر دوسرادین اختیار کر لو۔ ”

یزید اور بھی خفا ہوا، کہنے لگا:”دین سے تیرا باپ اور تیرا بھائی نکل چکا ہے۔ ”

زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بلا تامل جواب دیا۔ اللہ کے دین سے، میرے باپ کے دین سے، میرے بھائی کے دین سے، میرے نانا کے دین سے، تو نے، تیرے باپ نے، تیرے دادا نے ہدایت پائی ہے۔ ”

یزید چلایا:”اے دشمن خدا!تو جھوٹی ہے۔ ”

حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما بولیں “توزبردستی حاکم بن بیٹھا ہے، ظلم سے گالیاں دیتا ہے، اپنی قوت سے مخلوق کو دباتا ہے۔ ”

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بنت علی کہتی ہیں۔ یہ گفتگوسن کر شاید یزید شرمندہ ہو گیا کیونکہ پھر کچھ نہ بولا مگر وہ شامی لڑکا پھر کھڑا ہوا اور وہی بات کی۔ اس پر یزید نے اسے غضب ناک آواز میں ڈانٹ پلائی:”دور ہو کم بخت !خدا تجھے موت کا تحفہ بخشے۔ ”

 

                یزید کا مشورہ

 

دیر تک خاموشی رہی۔ پھر یزید شامی رؤساوامراء کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا:”ان لوگوں کے بارے میں کیا مشورہ دیتے ہو؟”بعضوں نے سخت کلامی کے ساتھ بدسلوکی کا مشورہ دیا، مگر نعمان بن بشیر نے کہا:”ان کے ساتھ وہی سلوک کیجئے جورسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم انہیں اس حال میں دیکھ کر کرتے۔ ”

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بنت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سن کر کہا:”اے یزید !یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی لڑکیاں ہیں۔ “اس نسبت کے ذکرسے یزید کی طبیعت بھی متاثر ہو گئی، وہ اور درباری اپنے آنسونہ روک سکے۔ بالآخر یزید نے حکم دیا کہ ان کے قیام کے لئے علیحدہ انتظام کر دیا جائے۔ ”

 

                یزید کی بیوی کا غم

 

اس اثناء میں واقعہ کی خبر یزید کے گھر میں عورتوں کو بھی معلوم ہو گئی۔ ہندہ بنت عبداللہ، یزید کی بیوی نے منہ پر نقاب ڈالی اور باہر آ کر یزید سے کہا:”امیرالمومنین کیاحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کاسر آیا ہے ؟”یزید نے کہا:”ہاں !تم خوب روؤ، بین کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نواسے اور قریش کے اصیل پر ماتم کرو۔ ابن زیاد نے بہت جلدی کی، قتل کر ڈالا، اللہ اسے بھی قتل کر دے۔ ”

 

                حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اجتہادی غلطی

 

اس کے بعد یزید نے حاضرین مجلس سے کہا:تم جانتے ہو، یہ سب کس بات کا نتیجہ ہے ؟یہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اجتہاد کی غلطی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے سوچامیرے باپ یزید کے باپ سے افضل ہیں، میری ماں یزید کی ماں سے افضل ہے، میرے نانا یزید کے ناناسے افضل ہیں اور میں خود یزید سے افضل ہوں، اس لئے حکومت کا یزید سے زیادہ مستحق ہوں حالانکہ ان کا یہ سمجھناکہ ان کے والد میرے والد سے افضل تھے، صحیح نہیں۔ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باہم جھگڑا کیا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ فیصلہ کس کے حق میں ہوا؟رہا ان کا یہ کہنا کہ ان کی ماں میری ماں سے افضل تھی تو یہ بلاشبہ ٹھیک ہے۔ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میری ماں سے کہیں زیادہ افضل ہیں۔ اسی طرح ان کے نانا میرے ناناسے افضل تھے تو خدا کی قسم ! کوئی بھی انسان اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والارسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے افضل بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے برابرکسی انسان کو نہیں سمجھ سکتا۔ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اجتہاد نے غلطی کی وہ یہ آیت بالکل بھول گئے۔

اللھم مالک الملک تؤتی الملک من تشاء وتنزع الملک ممن تشاء وتعزمن تشاء وتذل من تشاء بیدک الخیر۔ انک علی کل شی ء قدیر۔

پھر اہل بیت کی خواتین یزید کے محل میں پہنچائی گئیں۔ خاندان معاویہ کی عورتوں نے انہیں اس حال میں دیکھا تو بے اختیار رونے پیٹنے لگیں۔

 

                یزید کی سعی تلافی

 

پھر یزید آیا تو فاطمہ بنت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس سے کہا:”اے یزید !کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی لڑکیاں کنیزیں ہو گئیں ؟یزید نے جواب دیا:”اے میرے بھائی کی بیٹی!ایساکیوں ہونے لگا۔ ”

فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا:”بخدا ہمارے کان میں ایک بالی بھی نہیں چھوڑی گئی۔ ”

یزید نے کہا:”تم لوگوں کو جتنا گیا ہے، اس سے کہیں زیادہ میں تمہیں دوں گا۔ ”

چنانچہ جس نے اپنا جتنا نقصان بتایا، اس سے دو گنا تگنا دے دیا گیا۔ ”

یزید کادستور تھا۔ روز صبح و شام کے کھانے میں علی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے ساتھ شریک کیا کرتا۔ ایک دن حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کم سن بچے عمرو کو بلایا اور ہنسی سے کہنے لگا۔ “تواس سے لڑے گا۔ ” اور اپنے لڑکے خالد کی طرف اشارہ کیا۔ عمرو بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بچپنے کے بھولپن سے جواب دیا:”یوں نہیں ایک چھری مجھے دو اور ایک چھری اسے دو، پھر ہماری لڑائی دیکھو۔ ”

یزید کھلکھلا کرہنس پڑا اور عمر بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گود میں اٹھا کرسینے سے لگا لیا اور کہا:”سانپ کا بچہ بھی سانپ ہوتا ہے۔ ”

 

                یزید کی زود پشیمانی

 

یزید نے اہل بیت کو کچھ دن اپنا مہمان رکھا۔ اپنی مجلس میں ان کا ذکر کرتا اور بار بار کہا:”کیا حرج تھا اگر میں خود تھوڑی سی تکلیف گوارا کر لیتا۔ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے ساتھ رکھتا۔ ان کے مطالبہ پر غور کرتا، اگرچہ اس سے میری قوت میں کمی نہ ہو جاتی لیکن اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حق اور رشتہ داری کی حفاظت ہوتی۔ خدا کی لعنت ابن مرجانہ(یعنی ابن زیاد)پرحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوجس نے لڑائی پر مجبور کیا۔ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میرے ساتھ اپنا معاملہ طے کر لیں گے یامسلمانوں کی سرحد پرجا کر جہاد میں مصروف ہو جائیں گے مگر ابن زیاد نے ان کی کوئی بات نہیں مانی اور قتل کر دیا۔ ان کے قتل سے تمام مسلمانوں میں مجھے مبغوض بنا دیا۔ خدا کی لعنت ابن مرجانہ پر، خدا کا غضب ابن مرجانہ پر!”

 

                اہل بیت کو رخصت کرنا

 

جب اہل بیت کو مدینے بھیجنے لگا تو امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک مرتبہ اور کہا:”ابن مرجانہ پر اللہ کی لعنت، واللہ!اگر میں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہوتا اور وہ میرے سامنے اپنی کوئی شرط بھی پیش کرتے تو میں اسے منظور کر لیتا۔ میں ان کی جان ہر ممکن ذریعہ سے بچاتا۔ اگرچہ ایسا کرنے میں خود میرے کسی بیٹے کی جان چلی جاتی لیکن اللہ کو وہی منظور تھا جو ہو چکا۔ دیکھو!مجھ سے برابر خط و کتابت کرتے رہنا جو ضرورت بھی پیش آئے مجھے خبر دینا۔ ”

بعد میں حضرت سکینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما برابر کہا کرتی تھیں :”میں نے کبھی کوئی ناشکرا انسان یزید سے زیادہ اچھاسلوک کرنے والا نہیں دیکھا۔ ”

 

                اہل بیت کی فیاضی

 

یزید نے اہل بیت کو اپنے معتبر آدمی اور فوج کی حفاظت میں رخصت کر دیا۔ اس شخص نے رستہ بھر ان مصیبت زدوں سے اچھا برتاؤ کیا جب منزل مقصود پر پہنچ گئے تو حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہما بنت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بنت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی چوڑیاں اور کنگن اسے بھیجے اور کہا:”یہ تمہاری نیکی کا بدلہ ہے، ہمارے پاس کچھ نہیں کہ تمہیں دیں۔ ”

اس شخص نے زیورواپس کر دئیے اور کہلایا۔ “واللہ!میرا یہ برتاؤکسی دنیاوی طمع سے نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خیال سے تھا۔ ”

 

                مدینہ میں ماتم

 

اہل بیت کے آنے سے پہلے مدینہ میں جاں گسل خبر پہنچ چکی تھی۔ بنی ہاشم کی خاتونوں نے سنا تو گھروں سے چلاتی ہوئی نکل آئیں۔ حضرت عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی آگے آگے تھیں اور یہ شعر پڑھتی جاتی تھیں :

ماذاتقولون ان قالا لنبی لکم

ماذا فعلتم وانتم اخرالامم

(کیا کہو گے جب نبی تم سے سوال کریں گے کہ اے وہ جوسب سے آخری امت ہو)

یعترتی وبا ھلی بعد مفقدنی

منھم اساری ومنھم ضرجوابدم

(تم نے میری اولاد اور خاندان سے میرے بعد کیاسلوک کیا کہ ان میں سے بعض قیدی ہیں اور بعض خون میں نہائے پڑے ہیں )

 

                مرثیہ

 

حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت پر بہت سے لوگوں نے مرثیے کہے۔ سلیمان بن قتیبہ کا مرثیہ بہت زیادہ مشہورہوا۔ (البدایۃ، والنھایت ج8، ص211)

مورت علی ابیات آل محمد فلم ارھاکعھدھایوم حلت

(میں خاندان محمدﷺ کے گھروں کی طرف سے گزرا، مگر وہ کبھی روئے تھے، جیسے اس دن جب ان کی حرمت توڑی گئی)

فلایبعد اللہ الدیار واھلھا وان اصبحت منھم یزعمی تحلت

(خدا ان مکانوں اور مکینوں کو دور نہ کرے اگرچہ وہ اب اپنے مکینوں سے خالی پڑے ہیں۔ )

وان قتیل الطف من آل ھاشم اذل رقاب المسلمین فذلت

(کربلا میں ہاشمی مقتول کے قتل نے مسلمانوں کی گردنیں ذلیل کر ڈالیں۔ )

وکانورجاء ثم صاروارزیۃ لقدعظمت تلک الرزایاو جلت

(ان مقتولوں سے دنیا کی امیدیں وابستہ تھیں مگر وہ مصیبت بن گئے۔ آہ یہ مصیبت کتنی بڑی اور سخت ہے۔ )

الم تران الارض اصبحت مریضۃ لفقدحسین والبلاداقشعرت

(کیا تم نہیں دیکھتے کہ زمین حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فراق میں بیمار ہے اور دنیا کانپ رہی ہے )

وقداعوات تبکی السماء مفقدہ وانجمھاتاحت علیہ وسلت

(آسمان بھی اس کی جدائی پر روتا ہے۔ ستارے بھی ماتم اور سلام بھیج رہے ہیں۔ )

٭٭٭

 

 

 

عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شجاعت، تدبر، فتوحات سے تاریخ کے صفحات لبریز ہیں۔ مصر کی فتح سراسرانہی کے تدبر و قیادت کا نتیجہ تھی۔ خلافت اموی کے قیام میں انہی کی سیاست کار فرما تھی۔ اپنے عہد کے سیاست میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔ مؤرخین نے اتفاق کیا ہے کہ عرب کی سیاست تین سروں میں جمع ہو گئی تھی۔ عمرو بن العاص، معاویہ بن ابوسفیان، زیاد بن ابیہ۔ اتفاق سے یہ تینوں سرمل کر ایک ہو گئے۔ انہوں نے سیاسی حکمت عملیوں سے اسلامی سیاست کا دھارا اس طرف پھیر دیا، جدھر وہ پھیرنا چاہتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور خلافت راشدہ کے نظام کو صرف امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیاست نے شکست نہیں دی تھی، اس میں سب سے زیادہ کار فرما عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تھا۔

ایک ایسے سیاسی مدبر نے موت کاکس طرح خیرمقدم کیا تھا، ذیل کی سطروں میں اس کی تفصیل ملے گی۔

 

                ایک عجیب سوال

 

جب بیماری نے خطرناک صورت اختیار کر لی اور عرب کے اس دانشمند کو زندگی کی کوئی امید باقی نہ رہی تو اس نے اپنی فوج کے افسر اور سپاہی طلب کئے۔

لیٹے لیٹے ان سے سوال کیا:”میں تمہاراکیساساتھی تھا؟”

“سبحان اللہ!آپ نہایت ہی مہربان آقا تھے، دل کھول کر دیتے تھے۔ ہمیں خوش رکھتے تھے، یہ کرتے تھے وہ کرتے تھے۔ “وہ بڑی سرگرمی سے جواب دینے لگے۔ ابن عاص نے یہ سن کربڑی سنجیدگی سے کہا:”میں یہ سب کچھ صرف اس لئے کرتا تھا کہ مجھے موت کے منہ سے بچاؤ گے کیونکہ تم سپاہی تھے اور میدان جنگ میں اپنے سردارکے لئے سپر تھے لیکن یہ دیکھو، موت سامنے کھڑی ہے اور میرا کام تمام کر دینا چاہتی ہے، آگے بڑھو اور مجھ سے دور کر دو۔ ”

سب ایک دوسرے کا حیرت سے منہ تکنے لگے۔ پریشان تھے کیا جواب دیں ؟

اے ابو عبداللہ!دیر کے بعد انہوں نے کہا:”واللہ!ہم آپ کی زبان سے ایسی فضول بات سننے کے ہرگز متوقع نہ تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ موت کے مقابلہ میں ہم آپ کے کچھ بھی کام نہیں آ سکتے۔ ”

انہوں نے آہ بھری”واللہ!یہ حقیقت میں خوب جانتا ہوں۔ “انہوں نے حسرت سے کہا:واقعی!تم مجھے موت سے ہرگز نہیں بچاسکتے لیکن اے کاش!یہ بات پہلے سے سوچ لیتا۔ اے کاش!میں نے تم سے کوئی ایک آدمی بھی اپنی حفاظت کے لئے نہ رکھا ہوتا۔ ابن ابی طالب(حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)کا بھلا ہو۔ کیا ہی خوب کہہ گیا ہے۔ آدمی کی سب سے بڑی محافظ خوداس کی موت ہے۔ “(طبقات ابن سعد ج4ص260-259)

 

                دیوار کی طرف منہ کر کے رونے لگے

 

راوی کہتا ہے ہم عمرو بن العاص کی عیادت کو حاضر ہوئے۔ وہ موت کی سختیوں میں مبتلا تھے، اچانک دیوار کی طرف منہ پھیر لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ ان کے بیٹے عبداللہ نے کہا آپ کیوں روتے ہیں ؟کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ کو یہ بشارتیں نہیں دے چکے ہیں ؟”انہوں نے بشارتیں سنائیں لیکن ابن عاص نے روتے ہوئے سرسے اشارہ کیا، پھر ہماری طرف منہ پھیرا اور کہنے لگے :

 

                زندگی کے تین دور

 

میرے پاس سب سے افضل دولت لا الہ الا اللہ محمدرسول اللہ کی شہادت ہے۔ “مجھ پر تین حالتیں گزری ہیں۔ “ایک وقت وہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے زیادہ میں کسی کی اپنے دل میں دشمنی نہیں رکھتا تھا۔ میری سب سے بڑی تمنا یہ تھی کہ کسی طرح قابو پا کر آپ کو قتل کر ڈالوں۔ اگراس حالت میں، میں مر جاتا تو یقیناً جہنمی مرتا۔ ”

پھر ایک وقت آیا جب اللہ نے میرے دل میں اسلام ڈال دیا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت حاضر ہوا۔ عرض کیا”یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہاتھ بڑھائیے میں بیعت کرتا ہوں۔ “آپ نے دست مبارک دراز کیا مگر میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ فرمایا:”عمرو تجھے کیا ہوا۔ “میں نے عرض کیا:”ایک شرط چاہتا ہوں۔ “فرمایا:”کونسی شرط؟”میں نے عرض کیا:”یہ شرط کہ میری تشفی ہو جائے۔ “اس پر ارشاد ہوا:”اے عمرو!کیا تجھے معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے تمام گناہ مٹا دیتا ہے۔ ہجرت بھی مٹا دیتی ہے، حج بھی مٹا دیتا ہے۔ ”

(یہ ابن عاص کی مشہور روایت ہے جسے شیخین نے بھی روایت کیا ہے )اس وقت میں نے اپنا یہ حال دیکھا کہ نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے زیادہ مجھے کوئی دوسرا انسان محبوب نہ تھا اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے زیادہ کسی کی عزت میری نگاہ میں تھی۔ میں سچ کہتا ہوں اگر کوئی مجھ سے آپ کا حلیہ پوچھے تو میں بتا نہیں سکتاکیونکہ انتہائی عظمت و ہیبت کی وجہ سے میں آپ کو نظر بھر کے دیکھ ہی نہیں سکتا تھا۔ اگر میں اس حالت میں مر جاتا تو میری جنتی ہونے کی پوری امید تھی۔ ”

“پھر ایک زمانہ آیاجس میں ہم نے بہت سے اونچ نیچ کام کیے۔ میں نہیں جانتا اب میرا کیا حال ہو گا؟”

 

                مٹی آہستہ آہستہ ڈالنا

 

جب میں مروں تو میرے ساتھ رونے والیاں نہ جائیں، نہ آگ جائے۔ دفن کے وقت مجھ پرمٹی آہستہ آہستہ ڈالنا۔ میری قبرسے فارغ ہو کراس وقت تک میرے قریب رہنا جب تک جانور ذبح کر کے ان کا گوشت تقسیم نہ ہو جائے کیونکہ تمہاری موجودگی سے مجھے انس حاصل ہو گا۔ پھر میں جان لوں گا کہ اپنے پروردگار کو کیا جواب دوں ؟”(طبقات ابن سعد ج4 ص253)

 

                بگڑتا زیادہ ہوں بنتا کم ہوں

 

ہوش وحواس آخری وقت تک قائم تھے۔ معاویہ بن خدیج عیادت کو گئے تو دیکھا نزع کی حالت ہے، پوچھا”کیا حال ہے ؟”

آپ نے جواب دیا:”پگھل رہا ہوں، بگڑتا زیادہ ہوں، بنتا کم ہوں، اس صورت میں بوڑھے کا بچنا کیوں کر ممکن ہے۔ “(عقد الفرید و ابن سعد ج4 ص260)

 

                حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال و جواب

 

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ عیادت کو آئے، سلام کیا، طبیعت پوچھی، کہنے لگے :”میں نے اپنی دنیا کم بنائی اور دین زیادہ بگاڑ لیا۔ اگر میں نے اسے بگاڑاہوتاجسے سنوارا ہے اور اسے سنواراہوتاجسے بگاڑا ہے تو یقیناً بازی لے جاتا۔ اگر مجھے اختیار ملے تو ضروراسی کی آرزو کروں۔ اگر بھاگنے سے بچ سکوں تو ضرور بھاگ جاؤں۔ اس وقت تو میں منجنیق کی طرح آسمان اور زمین کے درمیان معلق ہو رہا ہوں، نہ اپنے ہاتھوں کے زورسے اوپر چڑھ سکتا ہوں نہ پیروں کی قوت سے نیچے اترسکتا ہوں۔ اے میرے بھتیجے !مجھے کوئی ایسی نصیحت کرجس سے فائدہ اٹھاؤں۔”

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا:اے عبداللہ !اب وقت کہاں ؟آپ کا بھتیجا تو خود بوڑھا بن کر آپ کا بھائی بن گیا ہے۔ اگر آپ رونے کے لئے کہیں تو میں حاضر ہوں جو مقیم ہے، وہ سفرکاکیونکریقین کر سکتا ہے ؟

عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ جواب سن کر بہت افسردہ ہوئے اور کہنے لگے “گیسی سخت گھڑی ہے۔ کچھ اوپراسی برس کاسن، اے عباس!تو مجھ کو پروردگار کی رحمت سے نا امید کرتا ہے، الٰہی!مجھے خوب تکلیف دے یہاں تک کہ تیرا غصہ دور ہو جائے اور تیری رضامندی لوٹ آئے۔ ”

 

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:ابو عبداللہ!آپ نے جو چیز لی تھی، وہ تو نئی تھی اور جو دے رہے ہو، وہ چیز پرانی ہے، یہ کیسے ممکن ہے ؟

اس پروہ آزردہ خاطر ہو گئے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ!مجھے کیوں پریشان کرتا ہے ؟جو بات کرتا ہوں، اسے کاٹ دیتا ہے۔

 

                موت کی کیفیت

 

عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ زندگی میں اکثر کہا کرتے تھے، مجھے ان لوگوں پر تعجب ہے جن کے موت کے وقت حواس درست ہوتے ہیں مگر موت کی حقیقت بیان نہیں کرتے۔ لوگوں کو یہ بات یاد تھی جب وہ خوداس منزل پر پہنچے تو حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ مقولہ یاد دلایا۔ ایک روایت میں ہے کہ خود ان کے بیٹے نے سوال کیا تھا۔ عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ٹھنڈی سانس لی۔ جان من!انہوں نے جواب دیا:موت کی صفت بیان نہیں ہو سکتی۔ موت اس وقت صرف ایک اشارہ کر سکتا ہوں، مجھے ایسامعلوم ہوتا ہے گویا آسماں زمین پر ٹوٹ پڑا ہے اور میں دونوں کے درمیان پڑ گیا ہوں۔ (الکام جلد1)

گویا میری گردن پر رضوی پہاڑ رکھا ہے، گویا میرے پیٹ میں کھجور کے کانٹے بھر گئے ہیں، گویا میری سانس سوئی کے ناکے سے نکل رہی ہے۔ (ابن سعد ج4ص260)

 

                دولت سے بے زاری

 

اسی حال میں انہوں نے ایک صندوق کی طرف اشارہ کر کے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا:”اسے لے لو۔ ”

آپ کے بیٹے عبداللہ کا زہد مشہور ہے، انہوں نے کہا:”مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ ”

عمرو نے کہا:”اس میں دولت ہے۔ ”

عبداللہ نے پھر انکار کیا۔ اس پر ہاتھ مل کر کہنے لگے :کاش!اس میں سونے کی بجائے بکری کی مینگنیاں ہوتیں۔ ”

 

                دعا

 

جب بالکل آخری وقت آ گیا تو انہوں نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا دئیے، مٹھیاں کس لیں اور دعا کے لئے یہ کلمات زبان پر تھے۔

“الٰہی!تو نے حکم دیا اور ہم نے حکم عدولی کی۔ الٰہی!تو نے منع کیا اور ہم نے نافرمانی کی۔ الٰہی میں بے قصور نہیں ہوں کہ میں معذرت نہ کروں۔ طاقتور نہیں ہوں کہ غالب آ جاؤں۔ اگر تیری رحمت شامل حال نہ ہو گی تو ہلاک ہو جاؤں گا۔ “(ابن سعد ج4ص260، الکامل)

اس کے بعد تین مرتبہ:لا الہ الا اللہ کہا اور جان بحق تسلیم ہو گئے۔

٭٭٭

 

 

 

 

معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 

امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت تعارف سے بے نیاز ہے۔ عرب کا عزم و جزم، عقل، تدبر پورے تناسب سے اس دماغ میں جمع ہو چکا تھا۔ عربی کتب ادب و تاریخ ان کی تدبیروسیاست کے واقعات سے لبریز ہیں۔ تقریباً پوری زندگی امارت و حکومت میں بسر ہوئی اور ہمیشہ ان کی سیاست کامیاب رہی۔ وہ اس عہد کے ایک پورے سیاسی آدمی تھے۔

 

                ایک عجیب عزم

 

جب مرض نے خطرناک صورت اختیار کر لی اور لوگوں میں ان کی موت کے چرچے ہونے لگے تو امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فتنہ وفسادکا اندیشہ ہوا۔ ولی عہد یزید، جسے جبراً بزور شمشیر ولی عہد منوایا گیا، دارالخلافہ سے دور تھا اور ابتری پیدا ہو جانے کا قوی احتمال تھا، انہوں نے فورا ً اپنے تیمار داروں سے کہا:

“میری آنکھوں میں خوب سرمہ لگاؤ، سرمیں تیل ڈالو”حکم کی تعمیل کی گئی۔ سرمہ اور روغن نے بیمار چہرے میں تازگی پیدا کر دی۔ پھر انہوں نے حکم دیا:

“میرا بچھونا اونچا کر دو، مجھے بٹھا دو، میرے پیچھے تکیے لگاؤ۔ “اس حکم بھی تعمیل کی گئی۔

پھر کہا:”لوگوں کو حاضری کی اجازت دو۔ سب آئیں اور کھڑے کھڑے اسلام کر کے رخصت ہو جائیں۔ کوئی بیٹھنے نہ پائے۔ ”

لوگ اندر آنا شروع ہوئے جب وہ سلام کر کے باہر جاتے تو آپس میں کہتے :

“کون کہتا ہے خلیفہ مر رہے ہیں ؟وہ تو نہایت تر و تازہ اور تندرست ہیں۔ “جب سب لو گے چلے گئے تو امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ شعر پڑھا:۔

وتجلدی للشامتین اریھم الی لریب الدھرلا اتضعفع(طبری ج6ص181)

(شماتت کرنے والوں کے سامنے اپنی کمزوری ظاہر نہیں ہونے دیتا۔ میں انہیں ہمیشہ یہی دکھاتا ہوں کہ زمانے کے مصائب مجھے مغلوب نہیں سکتے۔ ”

 

                دنیا کی بے ثباتی

 

دوران علالت قریش کی ایک جماعت عیادت کو آئی۔ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے سامنے دنیا کی بے ثباتی کا نقشہ ان لفظوں میں کھینچا۔ “دنیا آہ دنیا”اس کے سواکچھ نہیں جسے ہم اچھی طرح دیکھ چکے ہیں اور جس کا خوب تجربہ کر چکے ہیں۔ اللہ کی قسم ہم اپنی جوانی کے عالم میں دنیا کی بہار کی طرف دوڑے اور اس کے سبب مزے لوٹے مگر ہم نے دیکھ لیا کہ دنیا نے پلٹا کھایا۔ بالکل کایا پلٹ رکھ کر دی۔ ایک ایک کر کے تمام گرہیں کھول ڈالیں۔ پھر کیا ہوا؟دنیا نے ہم سے بے وفائی کی۔ ہماری جوانی چھین لی۔ ہمیں بوڑھاب نا دیا۔ آہ یہ دنیا کتنی خراب جگہ ہے، یہ دنیاکیسابرامقام ہے۔ (احیاء العلوم الدین ج6)

 

                آخری خطبہ

 

امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیماری میں آخری خطبہ یہ دیا:”اے لوگو!میں اس کھیتی کی بالی ہوں جو کٹ چکی ہے مجھے تم پر حکومت ملی تھی۔ میرے بعد جتنے حاکم آئیں گے، وہ مجھ سے برے ہوں گے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے اگلے حکام مجھ سے اچھے تھے۔ “(احیاء العلوم ج4)

 

                حسرت

 

جب وقت آخر ہوا تو کہا:مجھے بٹھا دو، چنانچہ بٹھا دئیے گئے، دیر تک ذکر الٰہی میں مصروف رہے۔ پھر رونے لگے اور کہا:

“معاویہ!اپنے رب کو یاد کرتا ہے جبکہ بڑھاپے نے کسی کام نہیں رکھا اور  جسم کی چولیں ڈھیلی ہو گئیں۔ اس وقت کیوں خیال نہ آیا جب شباب کی ڈالی تر و تازہ اور ہری بھری تھی۔ ”

الٰہی اس کی ٹھوکریں معاف کر دے، اس کے گناہ بخش دے، اپنے وسیع علم کواس کے شامل حال کرجس نے تیرے سواکسی سے امید نہیں کی، تیرے سواکسی پربھروسہ نہیں کیا۔ (احیاء العلوم ج4)

 

                بیٹیوں سے خطاب

 

تیمار داری کو ان کی دو لڑکیاں کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ انہیں بغور دیکھ کر کہا:”تم ایک ڈانواں ڈول وجود کو کروٹیں بدلوا رہی ہو۔ اس نے دنیا کے بھرکے خزانے جمع کر لئے لیکن وہ دوزخ میں نہ ڈالا جائے۔ پھر یہ شعر پڑھا۔

لقدسعیت لکم من سعی ذی نصب وقدکفیتکم التطواف والرحلا(طبری ج6ص182)

(میں نے تمہارے لئے سخت محنت سے کوشش کی اور در بدر ٹھوکریں کھانے سے بے پروا کر دیا۔ )

 

                اپنی فیاضی کی یاد

 

وفات سے پہلے اشب بن رمیلہ کے یہ شعر پڑھے جواس نے قباح کی مدح میں کہے تھے۔

اذامات الجودوانقطع الندی من الدین والدنیابخلف مجدد

(سائلوں کے ہاتھ لوٹا دیئے جائیں گے اور دین و دنیا کی محرومیاں ان کے انتظار میں ہوں گی۔ )

یہ سن کر لڑکیاں چلا اٹھیں :”ہرگز نہیں۔ امیرالمومنین!اللہ آپ کوسلامت رکھے۔ “انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ صرف یہ شعر پڑھ دیا۔

واذ المنیۃ الشبت اظفارھا القیت کل تمیمۃ لاتنفع

جب موت اپنے ناخن گاڑی دیتی ہے تو کوئی تعویذ بھی نفع نہیں پہنچاتا۔

 

                نصیحت

 

 

پھر بے ہوش ہو گئے، تھوڑی دیر کے بعد آنکھ کھولی اور اپنے عزیزوں کو دیکھ کر کہا:”اللہ عز و جل سے ڈرتے رہنا کیونکہ جو ڈرتا ہے، خدا اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اس شخص کے لئے کوئی پناہ نہیں جو اللہ سے بے خوف ہے۔ “(طبری، ج 6 ص182)

 

                یزید کی آمد

 

امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حالت نازک سے قاصد کے ذریعہ ویل عہد(یزید)کو مطلع کیا گیا، وہ فوراً روانہ ہوا۔ پہنچتے پہنچتے حالت اور بھی ابتر ہو چکی تھی۔ اس نے باپ کو پکارا مگر وہ بول نہ سکے۔ یزید رونے لگا اور یہ شعر پڑھے۔

لوعاش حی الدنیالعاش امام الناس لاعاجزولاکل

(اگر کوئی آدمی بھی ہمیشہ دنیا میں زندہ رہتا تو بلا شک آدمیوں کا امام زندہ رہتا۔ وہ نہ عاجز ہے نہ کمزور ہے۔ )

الحول القلب والاریب ولن یدفع وقت المنیہ الخیل

(وہ بڑا عاقل و مدبرو فہیم ہے لیکن موت کے وقت کوئی تدبرکسی کام نہیں آیا۔ )

 

                یزید سے خطاب

 

امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سن کر آنکھیں کھول دیں اور کہا:”اے فرزند!مجھے جس بات پر اللہ سے سب سے زیادہ خوف ہے، وہ تجھ سے میرا برتاؤ ہے۔ جان پدر!ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ سفرمیں تھا جب آپ ضروریات سے فارغ ہوتے یا وضو کرتے میں دست مبارک پر پانی ڈالتا۔ آپ نے میرا کرتہ دیکھا، وہ مونڈھے سے پھٹ گیا تھا۔ فرمایا”معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تجھے کرتہ پہنا دوں ؟”

میں نے عرض کیا:”میں آپ پر قربان!ضرور ضرور!”چنانچہ آپ نے کرتہ عنایت کیا مگر میں ایک مرتبہ سے زیادہ نہیں پہنا، وہ میرے پاس اب تک موجود ہے۔

ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بال ترشوائے۔ میں نے تھوڑے سے بال اور کترے ہوئے ناخن اٹھا لئے تھے، وہ بھی آج تک میرے پاس شیشی میں رکھے ہوئے ہیں، دیکھو جب میں مر جاؤں تو غسل کے بعد یہ بال اور ناخن میری آنکھوں کے حلقوں اور نتھنوں میں رکھ دینا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا کرتہ بچھا کراس پر لٹانا اور کفن پہنانا اگر مجھے کسی چیزسے نفع پہنچ سکتا ہے تو وہی یہی ہے۔ (استیعاب۔ عقدالفرید)

 

                سکرات موت

 

سکرات کے عالم میں یہ شعر زبان پر جاری تھا۔

فھل من خالداماملکنا

وھل بالموت یاللناس عار(استیعاب)

(اگر ہم مر جائیں گے تو کیا کوئی بھی ہمیشہ زندہ رہے گا؟کیا موت کسی کے لئے عیب ہے ؟)

 

                وفات

 

عین وفات کے وقت یہ شعر پڑھے۔

الالیتی لم اعن فی الملک ساعتہ ولم لک فی اللذات اعشی النواظر

(کاش!میں نے کبھی سلطنت نہ کی ہوتی۔ کاش!لذتیں حاصل کرنے میں اندھا نہ ہوتا۔ )

وکنت کذی طرین عاشق مبلغۃ لیالی حتی زارضتدالمقابر(عقدالفرید)

(کاش!میں اس فقیر کی طرح ہوتا جو تھوڑے پر زندہ رہتا ہے۔ )

 

                یزید کا مرثیہ

 

یزید ابن معاویہ نے مرثیہ کے یہ شعر کہے ؛۔

جاء البریدبقرطاس یخب بہ فاوجس القلب من قرطاسہ فرعا

قاصد خط لئے دوڑا ہوا آیا تو قلب خوفزدہ ہو گیا

قلنالک الویل ماذافی کتابکم قالو!الخلیفۃ امتی مثبتاوجعا

ہم نے کہا، تیری ہلاکت!خط میں کیا ہے ؟کہنے لگا خلیفہ سخت بیماری اور تکلیف میں ہے۔

فمادت الارض اوکادت تمیدبنا کان اغبرمن ارکانھا انقلھا

قریب تھا زمین ہمیں لے کر جھک جائے، گویا اس کا کوئی ستون اکھڑ گیا ہے۔

اودی ابن ھنداوی المجدیتبعہ کاناجمیعاقطلایسیران معا

ہند کا لڑکا(معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ)مرگیا اور عزت بھی مر گئی۔ دونوں ہمیشہ ساتھ رہتے تھے اب بھی دونوں ساتھ جا رہے ہیں۔

لایرقع الناس ما اوھی وان جھدوا ان یرقعوہ ولایوھون مارقعا

جو گر رہا ہے اسے آدمی لاکھ کوشش کریں اٹھا نہیں سکتے اور جو اٹھ رہا ہے، اسے لاکھ چاہیں گرا نہیں سکتے۔

اغرابلج یستقی الغمام بہ لوفارع الناس عن احلامھم قرعا(استیعاب، طبری، ج 6 ص182، البدایۃج 8ص144)

مبارک اور خوبصورت، جس کے واسطے سے باران رحمت طلب کیا جاتا ہے۔ اگر لوگوں کی عقلوں کا امتحان ہو تووہ سب سے بازی لے جائے گا۔

 

                یزید کا خطبہ

 

تین دن یزیدگھرسے نہیں نکلا۔ پھرمسجدمیں آیا اور حسب ذیل خطبہ دیا۔

“تمام ستائش اس خدا کے لئے ہے، جو اپنی مشیت کے مطابق عمل کرتا ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے، جسے چاہتا ہے محروم کر دیتا ہے، کسی کو عزت دیتا ہے، کسی کو ذلت دیتا ہے۔ لوگو!معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خدا کی رسیوں میں ایک رسی تھا جب تک خدا نے چاہا، اسے دراز کیا۔ پھراسے اپنی مشیت سے کاٹ ڈالا۔ معاویہ اپنے پیش روؤں سے کم تر اور بعد والوں بہتر تھا۔ میں اسے پاک ثابت کرنے کی کوشش نہیں کروں گا۔ اب وہ اپنے رب کے پاس پہنچ گیا ہے اگراس سے درگزر کرے تو یہ اس کی رحمت ہے۔ اگراسے عذاب دے تو یہ اس کے گناہ کا عذاب ہو گا۔ میں اس کے بعد برسرحکومت آیا۔ نہ سرکش ہوں نہ کمزور ہوں، جلد بازی نہ کرو اگر اللہ کوئی بات ناپسندکرتا ہے، بدل ڈالتا ہے اگرپسندکرتا ہے تو آسان کر دیتا ہے۔ ”

٭٭٭

 

 

 

خبیب بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 

دشمن جب محلہ چھوڑ دے یاشہرسے نکل جائے تو سکون مل جائے لیکن مسلمانوں نے جب شہر چھوڑا اور تمام جائیدادیں کفار کے حوالے کر کے مکہ سے 300 میل دور مدینہ میں جا آباد ہوئے تو کفار پہلے سے بھی زیادہ بے قرار ہو گئے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ ہجرت مدینہ سے انہیں یقین ہو گیا تھا کہ مسلمان الگ رہ کر تیاری کریں گے۔ اہل عرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعوت کو قبول کر لیں گے اور جب یہ قطرہ دریا بن گیا تو ہماری سرداری کا جاہ و جلال، اسلام کے سیلاب حق کے سامنے خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گا۔

مدینہ پہنچ کرمسلمانوں کو پہل کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ قریش مکہ نے اپنی دماغی پریشانیوں کے ماتحت خود ہی آ بیل مجھے مار”کی روش اختیار کر لی تھی جب بدر اور احد کے میدانوں میں ان کے تیغ آزماؤں کا زعم باطل بھی ختم ہو گیا تووہ سازش کے جال بھی بچھانے لگے۔ انہوں نے عضل اور فارہ کے ساتھ آدمیوں کورسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس بھیجا اور کہلوایا:”اگر آپ ہمیں چند مبلغ عنایت فرما دیں تو ہمارے تمام قبیلے مسلمان ہو جائیں گے۔ “حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ثابت کی ماتحتی میں کل دس بزرگ صحابہ رضوان اللہ علیہم کو وفد ان کے ساتھ بھیج دیا۔

ایک گھاٹی میں کفار کے دوسومسلح جوان مسلمانوں کے اس تبلیغی وفد کا انتظار کر رہے تھے جب مبلغین اسلام یہاں پہنچے تو بے نیام تلواروں نے بجلی بن کران کا استقبال کیا۔ مسلمان اگرچہ اشاعت قرآن کے لئے گھروں سے نکلے تھے مگرتلوارسے خالی نہ تھے۔ اس خطرہ کے ساتھ ہی دوسوارکے مقابلے میں دس تلواریں نیاموں سے باہر نکل آئیں اور مقابلہ شروع ہو گیا۔ آٹھ صحابی مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔  اور خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور زید بن رضی اللہ تعالیٰ عنہ دسنہ دو شیروں کو کفار نے محاصرہ کر کے گرفتار کر لیا۔ سفیان ہزلی انہیں مکہ لے گیا اور یہ دونوں صالح مسلمان نقد قیمت پر مکہ کے درندوں کے ہاتھ فروخت کر دیئے گئے۔

حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عامر کے گھر ٹھہرایا اور پہلا حکم یہ دیا گیا کہ انہیں روٹی دی جائے اور نہ پانی۔ حارث بن عامر نے حکم کی تعمیل کی اور کھانا بند کر دیا گیا۔

ایک دن حارث کا نو عمر بچہ چھری سے کھیلتا ہوا حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچ گیا۔ اس مرد صالح نے جو کئی روز سے بھوکا اور پیاسا تھا۔ حارث کے بچہ کو گود میں بٹھا لیا اور چھری اس کے ہاتھ سے پکڑ کر زمین پر رکھ دی جب ماں نے پلٹ کر دیکھا تو حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ چھری اور بچہ لئے بیٹھے تھے۔ عورت چونکہ مسلمانوں کے کردارسے ناواقف تھی۔ یہ حال دیکھ کر لڑکھڑا گئی اور بے تابانہ چیخنے لگی۔ حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عورت کی تکلیف محسوس کی تو فرمایا:بی بی!تم مطمئن رہو، میں بچے کو ذبح نہیں کروں گا۔ مسلمان ظلم نہیں کیا کرتے۔ ان الفاظ کے ساتھ ہی خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گود کھول دی۔ معصوم بچہ اٹھا اور دوڑ کر ماں سے لپٹ گیا۔

قریش نے چند روز انتظار کیا جب فاقہ کشی کے احکام اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے تو قتل کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا، کھلے میدان میں ایک ستون نصب تھا اور یہ اپنی بے بسی پر رو رہا تھا، اس کے چاروں طرف بے شمار آدمی ہتھیارسنبھالے کھڑے تھے۔ بعض تلواریں چمکا رہے تھے، بعض نیزے تان رہے تھے، بعض کمان میں تیر جوڑ کر نشانہ ٹھیک کر رہے تھے کہ آواز آئی:”خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ آ رہا ہے۔ “مجمع میں ایک شور محشر بپا ہو گیا۔ لوگ ادھر ادھر دوڑنے لگے۔ بعض لوگوں نے مستعدی سے ہتھیارسنبھالے اور حملہ کرنے اور خون بہانے کے لئے تیار ہو گئے۔

مرد صالح خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ قدم بہ قدم تشریف لائے اور انہیں صلیب کے نیچے کھڑا کر دیا گیا۔ ایک شخص نے انہیں مخاطب کیا اور کہا:”خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! ہم تمہاری مصیبت سے دردمند ہیں اگر اب بھی اسلام چھوڑ دوتو تمہاری جاں بخشی ہو سکتی ہے۔ ”

حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ خطاب کرنے والے کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا:”جب اسلام ہی باقی نہ رہا تو پھر جان بچانا بیکار ہے۔ “اس جواب کی ثابت قدمی بجلی کی طرح پر شور بھیڑ پر گری۔ مجمع ساکت ہو گیا اور لوگ دم بخود رہ گئے۔

“خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ!کوئی آخری آرزو ہے تو بیان کرو۔ “ایک شخص نے کہا۔

“کوئی آرزو نہیں، دو رکعت نماز ادا کر لوں گا۔ “حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔

“بہت اچھا، فارغ ہو جاؤ۔ “ہجوم سے آوازیں آئیں۔

پھانسی گڑی ہوئی ہے، حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے نیچے کھڑے ہیں تاکہ اللہ کی بندگی کا حق ادا کریں۔ خلوص و نیازکا اصرار ہے کہ زبان شاکر جو حمد حق میں کھلی چکی ہے، اب کبھی بند نہ ہو۔ دست نیاز جو بارگاہ کبریا میں بندھ چکے ہیں، اب کبھی نہ کھلیں۔ رکوع میں جھکی کمر کبھی سیدھی نہ ہو، سجدے میں گراہواسرکبھی خاک نیاز سے نہ اٹھے۔ ہر بن موسے اس قدر آنسوبہیں کہ عبادت گزارکاجسم تو خون سے خالی ہو جائے مگراس کے عشق و محبت کا چمن اس انوکھی آبیاری سے رشک فردوس بن جائے۔

حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دل محبت نواز عشق و نیاز کی لذتوں میں ڈوب چکا تھا کہ عقل مصلحت کیش نے انہیں روکا اور ایک ایسی آواز میں جسے صرف شہیدوں کی روح ہی سن سکتی ہے۔ انہیں روح اسلام کی طرف سے یہ پیغام دیا کہ اگر نماز زیادہ لمبی کرو گے تو  کافر یہ سمجھے گا کہ مسلمان موت سے ڈر گیا ہے۔ اس پیغام حق کے ساتھ ہی حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دائیں طرف گردن موڑ دی اور کہا:”السلام علیکم و رحمۃ اللہ”کفار نہیں بولے، مگر ان کی کھینچی ہوئی تلواروں نے جواب دیا۔ “وعلیکم السلام رحمۃ اللہ”اب آپ نے بائیں طرف گردن موڑی اور کہا:”السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ “کفار اب بھی خاموش رہے، مگر نیزوں کی انیاں اور تیروں کی زبانیں رو رو کر پکاریں :

“اے مجاہداسلام!وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ!”

مرد مجاہد خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سلام پھیر کے صلیب کے نیچے کھڑے ہو گئے۔ کفار نے انہیں پھانسی کے ستون کے ساتھ جکڑ دیا اور پھر نیزوں اور تیروں کو دعوت دی کہ وہ آگے بڑھیں اور ان کے صدق و مظلومیت کا امتحان لیں۔ ایک شخص آگے آیا اور اس نے خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مظلوم کے جسم پاک کے مختلف حصوں پر نیزے سے ہلکے ہلکے چرکے لگائے اور وہی خون اطہر جو چند لمحے پیشتر حالت نماز میں شکروسپاس کے آنسوبن کر آنکھوں سے بہا تھا، اب زخموں کی آنکھ سے شہادت کے مشک بو قطرے بن کر ٹپکنے لگا۔ پیکر صبر خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دردناک مصائب کا تصور کیجئے۔ آپ ستون کے ساتھ جکڑے ہوئے ہیں۔ کبھی تیر آتا ہے اور دل کے پار ہو جاتا ہے، کبھی نیزہ لگتا ہے اور سینے کو چیر دیتا ہے، ان کی آنکھیں آتے ہوئے تیروں کو دیکھ رہی ہیں۔ ان کے عضوعضوسے خون بہہ رہا ہے، درد و تکلیف کی اس قیامت میں بھی ان کا دل اسلام سے نہیں ٹلتا۔ ”

ایک اور شخص آگے آیا اور اس نے حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جگر پر نیزے کی انی رکھ دی۔ پھراس قدر دبا رکھا کہ کمر کے پار ہو گئی۔ یہ جو کچھ ہوا حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھیں دیکھ رہی تھیں۔ حملہ اور نے کہا:”اب تو تم پسندکرو گے محمدﷺ یہاں لگ جائیں اور تم اس مصیبت سے چھوٹ جاؤ۔ “پیکر صبر خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جگر کے چرکے کو حوصلہ مندی سے برداشت کر لیا مگر یہ زبان کا گھاؤ برداشت نہ ہو۔ اگرچہ زبان کا خون نچڑ چکا تھا مگر جوش ایمان نے اس خشک ہڈی میں بھی تاب گویائی پیدا کر دی اور آپ نے جواب دیا:”اے ظالم!خدا جانتا ہے کہ مجھے جان دے دیناپسند ہے مگر یہ پسندنہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قدموں میں ایک کانٹا بھی چبھے۔ ”

نماز کے بعد حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر جو حالتیں گزریں، آپ بے ساختہ شعروں میں انہیں ادا فرماتے رہے، ان اشعار کاترجمہ درج ذیل ہے :۔

1-    لوگ انبوہ در انبوہ میرے گرد کھڑے ہیں، قبیلے، جماعتیں اور جتھے یہاں سب کی حاضری لازم ہو گئی ہے۔

2-    یہ تمام اجتماع اظہار عداوت کے لئے ہے۔ یہ سب لوگ میرے خلاف جوش وانتقام کی نمائش کر رہے ہیں اور مجھے یہاں موت کی کھونٹی سے باندھ دیا گیا ہے۔

3-    ان لوگوں نے یہاں اپنی عورتیں بھی بلا رکھی ہیں اور بچے بھی اور ایک مضبوط اور اونچے ستون کے پاس کھڑا کر دیا گیا ہے۔

4-    یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں اسلام سے انکار کر دوں تو یہ مجھے آزاد کر دیں گے مگر میرے لئے ترک اسلام سے قبول موت بہت زیادہ آسان ہے، اگرچہ میری آنکھوں سے آنسوجاری ہیں مگر میرا دل بالکل پرسکون ہے۔

5-    میں دشمن کے سامنے گردن نہیں جھکاؤں گا، میں فریاد نہیں کروں گا، میں خوفزدہ نہیں ہوں گا، اس لئے کہ میں جانتا ہوں کہ اب اللہ کی طرف جا رہا ہوں۔

6-    میں موت سے نہیں ڈرسکتا، اس لئے کہ موت بہرحال آنے والی ہے۔ مجھے صرف ایک ہی ڈر ہے وہ دوزخ کی آگ کا ڈر ہے۔

7-    مالک عرش نے مجھ سے خدمت لی ہے اور مجھے صبر و ثبات کا حکم دیا ہے۔ اب کفار نے زد و کوب سے میرے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ہے اور میری تمام امیدیں ختم ہو گئی ہیں۔

8-    میں اپنی عاجزی، بے وطنی اور بے بسی کی اللہ سے فریاد کرتا ہوں، نہیں معلوم، میری موت کے بعد ان کے کیا ارادے ہیں۔ کچھ بھی ہو جب میں راہ خدا میں جان دے رہا ہوں تو یہ جو کچھ بھی کریں گے، مجھے اس کی پروا نہیں ہے۔

9-    مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ وہ میرے گوشت کے ایک ایک ٹکڑے کو برکت عطا فرمائے گا۔ اے اللہ!جو کچھ آج میرے ساتھ ہو رہا ہے، اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کواس کی اطلاع پہنچا دے۔

حضرت سعیدبن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عامل تھے۔ بعض اوقات آپ کو بیٹھے بیٹھے دورہ پڑتا تھا اور آپ وہیں بے ہوش ہو کر گر پڑتے۔ ایک دن حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا:”آپ کو یہ کیا مرض ہے ؟”جواب دیا:”میں بالکل تندرست ہوں اور مجھے کوئی مرض نہیں ہے جب حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوپھانسی دی گئی تو میں اس مجمع میں موجود تھا جب وہ ہوش ربا واقعات یاد آ جاتے ہیں تو مجھ سے سنبھلانہیں جاتا اور میں کانپ کر بے ہو جاتا ہوں۔ ”

٭٭٭

 

 

 

 

عبداللہ ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 

ہرانسان، موت کے آئینے میں اپنے دل کی آپ بیتی کا مرقع دیکھ لیتا ہے۔ اگراس نے اپنی زندگی میں حسد، نفاق، ریا اور برائی کے ساتھ عہد موت استوار رکھا ہو تو موت یہی تحائف اس کے سامنے لا کر رکھ دیتی ہے۔ اگراس نے محبت، خلوص، خدمت اور دیانت کو شمع حیات بنایا ہو تو موت انہیں انوارکاگلدستہ بناتی ہے اور اس کی نذر کر دیتی ہے۔ حضرت عبداللہ ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال”موت میں زندگی کی انعکاس”کی بہترین مثال ہے۔

قبول اسلام سے پہلے آپ کا نام عبد العزیٰ تھا۔ ابھی شیر خواری کی منزل میں تھے کہ باپ کا انتقال ہو گیا۔ والدہ نہایت غریب تھیں۔ اس واسطے چچا نے پرورش کا بیڑا  اٹھایا جب جوانی کی عمر کو پہنچے تو چچا نے اونٹ، بکریاں، غلام، سامان اور گھر بار دے کر ضروریات سے بے نیاز کر دیا تھا۔ ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد توحید کی صدائیں عرب کے گوشے گوشے میں گونجنے لگی تھیں اور ان کے کان میں برابر پہنچ رہی تھیں چونکہ لوح فطرت بے میل اور شفاف تھی۔ اس واسطے انہوں نے دل ہی دل میں قبول اسلام کی تیاریاں شروع کر دیں۔ اسلامی آواز جو عرب کے کسی گوشے میں بلند ہوتی، ان کے لئے ذوق و شوق کا تازیانہ بن جاتی۔ قبول اسلام کے لئے ہر روز قدم بڑھاتے مگر چچا کے خوف سے پھر پیچھے ہٹا لیتے۔ انہیں ہر وقت اسی کا انتظار رہتا کہ چچا اسلام کی طرف مائل ہوں تو یہ بھی آستانہ حق پرسرتسلیم خم کر دیں۔ اس انتظار میں ہفتے گزرے، مہینے بیتے اور سال ختم ہو گئے یہاں تک کہ مکہ فتح ہو گیا اور دین حق کی فیروز مندیاں، رحمت ایزدی کا ابر بہار بن کر کوہ و دشت پر پھول برسانے لگیں۔ حضرت محمدﷺ تطہیر حرم کے بعد مدینہ منورہ واپس تشریف لائے تھے کہ ذوالبجادین کا پیمانہ صبر بھی لبریز ہو گیا۔ آپ چچا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا:”محترم چچا!میں کئی برسوں سے آپ کے قبول اسلام کی راہ تک رہا ہوں، مگر آپ کا وہی حال ہے جو پہلے تھا۔ اب میں اپنی عمر پر زیادہ اعتماد نہیں کر سکتا۔ مجھے اجازت دیجئے کہ آستانہ اسلام پرسر رکھ دوں۔ ”

ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوجس بات کا خطرہ تھا، وہی پیش آ گئی۔ ادھر قبول اسلام کا لفظ ان کے لبوں سے باہر نکلا، ادھر چچا آپے سے باہر ہو گیا اور کہنے لگا:”اگر تم اسلام قبول کرو گے تو میں اپناہرسامان تم سے واپس لے لوں گا۔ تمہارے جسم سے چادر اتار لوں گا، تمہاری کمرسے تہ بند تک چھین لوں گا۔ تم اپنی دنیاسے بالکل تہی دست کر دئیے جاؤ گے اور ایسے حال میں یہاں سے نکلو گے تمہارے جسم پر کپڑے کا ایک تار بھی باقی نہ ہو گا۔

ناظرین!ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حالت کا اندازہ کیجئے، چچا کے الفاظ سے انہیں معلوم ہوا کہ گویا اللہ تعالیٰ نے موجودات عالم کو ایک مینڈھا بنا کران کے سامنے رکھ دیا ہے اور پھر حکم دیا ہے۔ “یہ تمہاری ساری زندگی، اے حضرت خلیل اللہ کی طرح ذبح کر دو۔ ”

ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک لمحے کی تاخیر کے بغیراس ذبح عظیم کے لئے تیار ہو گئے اور فرمایا:”اے عم محترم!میں مسلمان ضرور ہوں گا۔ میں حضرت محمدﷺ کی ضرور اتباع کروں گا۔ اب میں شرک و بت پرستی کاساتھ نہیں دے سکتا۔ آپ کا زر و مال آپ کے لئے مبارک اور میرا اسلام میرے لئے مبارک۔ تھوڑے دنوں تک موت، ان چیزوں کو مجھ سے چھڑا دے گی۔ پھر یہ کیا برا ہے کہ اگر میں آج خود ہی انہیں چھوڑ دوں۔ آپ اپناسب مال واسباب سنبھال لیں، میں اس کے لئے دین حق کو قربان نہیں کر سکتا۔ ”

ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کہا اور چچا کے تقاضا کے مطابق اپنالباس اتار دیا، جوتے اتار دیئے، چادر اتار دی اور اس کے بعد تہ بند بھی اتار کران کے سپردکر دیا۔ پھر چچا کے بھرے گھرسے اس طرح نکلے کہ خدائے واحد کے نام پاک کے سواکوئی بھی اور چیزساتھ نہ تھی۔

میں ہوں وہ گرم رد راہ وفا جوں خورشید

سایہ تک بھاگ گیا چھوڑ کے تنہا مجھ کو

اس حال میں آپ اپنی ماں کے گھر میں داخل ہوئے۔ ماں نے مادر زاد برہنہ دیکھ کر آنکھیں بند کر لیں اور پریشان ہو کر پوچھا:اے میرے بیٹے !تمہارا یہ کیا حال ہے ؟ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:”اے ماں !اب میں مومن و موحد ہو گیا ہوں۔ “اللہ اللہ!”مومن و موحد ہو گیا ہوں۔ “کے الفاظ ان کے حال کے کس قدر مطابق تھے۔ انہوں نے اپنی مادی زندگی اپنے ہاتھوں بھسم کی تھی۔ انہوں نے اپنی زیست کے تمام سازوسامان اپنے ہاتھوں ذبح کئے تھے۔ انہوں نے اسلام کے لئے اپنی زندگی کے تمام رشتوں کو کاٹ کاٹ کر پھینک دیا تھا، اب ان کے پاس نہ اونٹ تھے، نہ گھوڑے اور نہ بھیڑیں اور نہ بکریاں، نہ سامان تھانہ مکان، نہ غذا نہ پانی، نہ پانی نہ برتن۔ جسم پر کپڑے کا ایک تار نہ تھا۔ مادر زاد برہنہ اور یہ سمجھ رہے تھے کہ “اب میں مومن اور موحد ہوا ہوں۔ “ماں نے پوچھا”تواب کیا ارادہ ہے ؟”کہنے لگے :”اب میں حضرت محمدﷺ کی خدمت میں جاؤں گا۔ صرف یہ چاہتا ہوں کہ مجھے سترپوشی کے بقدر کپڑا دے دیا جائے۔ “ماں نے ایک کمبل دیا۔ آپ نے وہیں اس کپڑے کا دو ٹکڑے کئے ایک ٹکڑا تہ بند کے طور پر باندھا اور دوسراچادرکے طور پر اوڑھا اور یہ مومن اور موحداس حال میں مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گیا۔

رات کی تاریکی اپنی قوت ختم کر چکی تھی، کائنات سورج کا استقبال کرنے کے لئے بیدار ہو رہی تھی، پرندے حمد خدا میں مصروف تھے۔ روشنی سے بھیگی ہوئی بادسحرمسجدنبوی میں اٹکھیلیاں کر رہی تھیں کہ گرد سے اٹا ہوا ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تاروں کی چھاؤں میں مسجدنبوی میں داخل ہوا۔ ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر آفتاب ہدایت کے طلوع ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ تھوڑی دیر میں صحن مسجد کے ذرات نے خوش آمدید کا ترانہ چھیڑا۔ معلوم ہوا کہ حضرت محمدﷺ تشریف لا رہے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے صحن مسجدمیں قدم رکھا تو ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سامنے تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم:”آپ کون ہیں ؟”

ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ:”ایک فقیر اور مسافر۔ عاشق جمال اور طالب دیدار۔ میرا نام عبد العزیٰ ہے۔ ”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم:(حالات سننے کے بعد)یہیں ہمارے قریب ٹھہرو اور مسجدمیں رہا کرو۔ ”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عبد العزیٰ کے بجائے عبداللہ نام رکھا اور اصحاب صفہ میں شامل کر دیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ کا یہ موحد بندہ اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ قرآن پاک سیکھتا تھا اور آیات ربانی کودن بھر بڑے ہی ولولہ اور جوش سے پڑھتا رہتا تھا۔

حضرت فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ:۔ اے دوست!اس قدر اونچی آوازسے نہ پڑھو کہ دوسروں کی نماز میں خلل ہو۔ ”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم:۔ اے فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ!انہیں چھوڑ دو، یہ تو اللہ اور رسول کے لئے سب کچھ چھوڑ چکا ہے۔ ”

رجب 9 ھ کو اطلاع ملی کہ عرب کے تمام عیسائی قبائل قیصر روم کے جھنڈے تلے جمع ہو رہے ہیں اور وہ رومی فوجوں کے ساتھ مل کرمسلمانوں پر حملہ اور ہو رہے ہیں۔ اس وقت عرب کی گرمی زوروں پر تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آدمیوں اور روپے کے لئے اپیل کی۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 2900اونٹ، 1000گھوڑے اور ایک ہزار دینار چندہ دیا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 40ہزاردرہم دئیے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے تمام مال و متاع اور نقدوجنس کودو برابر حصوں میں تقسیم کیا اور ایک حصہ جنگ کے چندے میں دے دیا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے “اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نام”کے سوا اپناسب کچھ اٹھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نذر کر دیا۔

حضرت ابو عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رات بھر محنت کر کے کل چارسیرکھجوریں کمائیں، دوسیراپنے بیوی بچوں کودیں اور دوسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں پیش کر دیں۔

عبداللہ ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہلے ہی اللہ اور رسول کے نام کے سواکچھ بھی موجود نہ تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی پیش کر دی۔

حضرت محمدﷺ 30 ہزار کی جمعیت کے ساتھ ہجوم آتش بار کے طوفانوں میں مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، سواریاں اس قدر کم تھیں کہ اٹھارہ اٹھارہ آدمیوں کے حصے میں ایک ایک اونٹ آیا۔ سامان رسداس قدر قلیل تھا کہ مسلمان درختوں کے پتے کھاتے تھے اور قیصر روم کے مقابلے پر منزل بہ منزل چلے جاتے تھے۔ عبداللہ ذوالبجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ولولہ جہاد سے لبریز تھے۔ شوق شہادت سے سرشار تھے۔ اسی دھن میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت اقدس میں آئے اور کہنے لگے :

“یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! آپ دعا فرمائیے کہ میں راہ اللہ میں شہید ہو جاؤں۔ ”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:”تم کسی درخت کا چھلکا  اتار لاؤ۔ “عبداللہ درخت کا چھلکا لے کر خوشی خوشی حاضر خدمت ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے چھلکا لیا اور اسے عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بازو پر باندھ دیا اور زبان مبارک سے فرمایا:”خداوندا!میں کفار پر عبداللہ کا خون حرام کرتا ہوں۔ ”

عبداللہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر کچھ حیران سارہ گئے اور کہنے لگے :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں تو شہادت کا آرزومند ہوں۔ “فرمایا جب تم راہ اللہ میں نکل پڑے، پھراگربخارسے بھی مر جاؤ تو تم شہید ہو۔ ”

اسلامی فوج تبوک پہنچی تھی کہ عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوسچ مچ بخار آ گیا اور یہی بخار ان کے لئے پیغام شہادت تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ان کے انتقال کی خبر پہنچائی گئی تو آپ صحابہ کے ساتھ تشریف لائے۔ ابن حارث مزنی سے روایت ہے کہ رات کا وقت تھا۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں چراغ تھا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ہاتھوں سے میت کو لحد میں اتار رہے تھے خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قبر کے اندر کھڑے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرما رہے تھے۔

ادبا الی اخیکما

اپنے بھائی کو ادب سے لحد میں اتارو!

جب میت لحد میں رکھ دی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:”اینٹیں میں خود رکھوں گا۔ “چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے دست مبارک سے قبر میں اینٹیں لگائیں اور جب تدفین مکمل ہو چکی تو دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا:

“الٰہی!میں آج شام تک مر نے والے سے خوش رہا ہوں تو بھی اس سے راضی ہو جا۔ ”

حضرت ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یہ نظارہ دیکھا تو فرمایا:”اے کاش!اس قبر میں آج میں دفن کیا جاتا۔ ”

٭٭٭

 

 

 

عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

 

والد کا اسم گرامی: حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ، والدہ :حضرت اسماہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نانا: حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، خالہ: عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما، پھوپھی: حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور دادی: حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔

مدینہ منورہ میں تولد ہوئے۔ سات / آٹھ برس کی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے بیعت کی عزت حاصل کی۔ 21 سال کی عمر میں جنگ یرموک میں شامل جہاد ہوئے۔ فتح طرابلس 26 ھ آپ کے حسن تدبر کا  نتیجہ تھی۔ جنگ جمل میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حمایت میں دل کھول کر لڑے۔ جنگ صفین میں غیرجانبدار رہے جب حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ امیر معاویہ کے حق میں خلافت سے دست بردار ہو گئے تو آپ نے بھی رفع شر کے لئے ان کی بیعت کر لی مگر جب انہوں نے یزید کو ولی عہد بنایا تو آپ نے شدید مخالفت کی۔ اس پر امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود مدینہ منورہ آئے اور امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عبدالرحمن بن بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ کو بلوایا۔ ان سب نے مجلس گفتگو میں آپ ہی کو نمائندہ مقرر  کر دیا۔ یہاں جو گفتگو ہوئی، اس کا خلاصہ یہ ہے۔

امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ:۔ آپ لوگ میری صلہ رحمی اور عفودرگزرسے خوب واقف ہیں، یزید آپ کا بھائی اور ابن عم ہے۔ آپ اسے برائے نام خلیفہ تسلیم کر لیں۔ مناصب اور خراج و خزانہ کاسب انتظام آپ لوگوں کے ہاتھ میں ہو گا اور یزیداس میں آپ کی مزاحمت نہیں کرے گا۔ ”

یہ سن کر تمام لوگ خاموش رہے اور کسی نے کچھ جواب نہ دیا۔

امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ:۔ ابن زبیر!آپ ان کے ترجمان ہیں، جواب دیجئے۔ ”

ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ:۔ “آپ پیغمراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یا بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا طریقہ اختیار کیجئے، ہم اسی وقت سر جھکا دیں گے۔

امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ:۔ ان لوگوں کا طریقہ کیا تھا؟”

ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ:”رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کسی کو اپنا خلیفہ نہیں بنایا۔ مسلمانوں نے آپ کے بعد بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خود منتخب کیا تھا۔ ”

امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ:آج ہم میں بو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی شخصیت کس کی ہے ؟اگر میں یہ راستہ اختیار کروں تو اس سے اختلافات اور بڑھ جائیں گے۔ ”

ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ:تو پھر بو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا طریقہ اختیار کیجئے۔

امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ:ان کا طریقہ کیا تھا؟”

ابن زبیر:”حضرت بو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے کسی رشتہ دار کو خلیفہ نہیں بنایا تھا اور حضرت فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چھ ایسے آدمیوں کو جو ان کے رشتہ دار نہیں تھے، انتخاب خلیفہ کا اختیار دے دیا تھا۔ ”

امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ:۔ اس کے علاوہ کوئی بھی صورت تمہیں منظور ہو سکتی ہے ؟”

ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ:۔ بالکل نہیں۔

امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سختی کی پالیسی پر عمل کیا۔ اختلاف کرنے والوں کی زبان بندی کر دی اور پھر اہل مدینہ سے یزید کے حق میں بیعت لے لی۔ وفات کے وقت یزید کو وصیت کی۔ “جو شخص لومڑی کی طرح کاوے دے کر شیر کی طرح حملہ اور ہو گا، وہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے۔ اگر وہ مان لیں تو  خیر ورنہ قابو پانے کے بعد انہیں ختم کر دینا۔ ”

امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتقال کے بعد جب امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہو چکے تو ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تہامہ اور مدینہ کے لوگوں سے بیعت لی اور یزید کے عاملوں کو وہاں سے نکلوا دیا۔ یزید نے مسلم بن عقبہ کوبڑی فوج دے کران کے مقابلے پر بھیجا۔ مسلم نے پہلے مدینہ فتح کیا اور لوٹا۔ پھر ان کے جانشین حصین بن نمیر نے جبل بوقبیس پر چرخیاں لگا کر خانہ کعبہ پر آتش باری کی اور مکہ معظمہ کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ اس اثناء میں یزید کا انتقال ہو گیا اور اس کے بیٹے معاویہ نے خود ہی خلافت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اب ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قدرتی طور پر تمام ممالک اسلامیہ کے خلیفہ تھے۔ جس روز امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یزید کو اپنا جانشین بنایا تھا، نظام اسلام ختم ہو گیا تھا۔ اب قدرتاً نظام اسلام کے احیاء کی پھر صحیح صورت پیدا ہو گئی۔ بڑی توقع تھی کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو بہت بڑی اجتہادی غلطی واقع ہوئی ہے، اب وہ نکل جائے گی اور مسلمان پھرسے ہمیشہ کے لئے اسلام کے صحیح راستے پر آ جائیں گے مگرافسوس کے ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابتداء ہی میں کچھ ایسی فرو گزاشتیں ہوئیں کہ احیاء اسلام کی تمام اچھی امیدیں جو پیدا ہو رہی تھیں، دیکھتے دیکھتے پیوند زمین ہو گئیں۔ فرو گزاشتیں حسب ذیل ہیں۔

1-    شامی سپہ سالارحصین بن نمیر نے ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا:”ہم مشترکہ فوجوں کے ساتھ چلیں۔ اہل شام سب سے زیادہ آپ ہی کی خلافت کو ترجیح دیں گے اور وہاں آپ کی بیعت کرانے کی کوشش کروں گا۔ “اس پر ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا:”یہ اس وقت ہو گا جبکہ ایک ایک حجازی کے بدلے میں دس دس شامیوں کے قتل کرالوں گا۔ “اس پر حصین بن نمیرمایوس ہو کر اپنی فوج کے ساتھ شام واپس چلا گیا۔

2-    مروان اور دوسرے اکابر بنی امیہ مدینہ میں ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کے لئے تیار تھے مگر ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینہ پہنچتے ہی ان لوگوں کو نکال دیا اور ان کے لئے یہ موقع خود بہم پہنچایا کہ وہ شام جا کران کی مخالفت کا علم بلند کر دیں چنانچہ یہ سب لوگ شام گئے اور وہاں انہوں نے مروان کو خلیفہ بنا کر ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاقوں پر فوج کشی کر دی اور دمشق، حمص، فلسطین اور مصرسے ان کے گورنروں کوشکستیں دیں اور ملک بدر کر دیا۔

3-    بنی ثقیف کے ایک چالاک آدمی مختار ثقفی نے جاہ طلبی کے لئے انتقام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نعرہ بلند کیا۔ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت آسانی کے ساتھ ان لوگوں کو بنی امیہ سے الجھاسکتے تھے کیونکہ یہ نعرہ فی الاصل انہیں کے خلاف تھا مگر انہوں نے یہ نہ کیا بلکہ الٹا محمد بن حنیفہ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اہل بیت کے دوسرے بزرگوں سے بگاڑ لی اور انہیں قید یا جلا وطن کر دیا۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ مختار ثقفی کو اپنی طاقت بڑھانے کا موقع مل گیا اور اس نے ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گورنر کوفہ کو ملک بدر کر کے کوفہ اور عراق پر قبضہ کر لیا۔ آخر یہ فتنہ بڑے نقصان پہنچا کر، کافی وقت لے کر اور بڑی قربانیوں کے بعد فرد ہوا۔ اسی اثناء میں مروان کے جانشین عبد الملک نے اطراف شام میں بہت بڑی قوت حاصل کر لی اور قبل اس کے ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شام پر فوج کشی کرتے۔ عبد المالک نے عراق پر ہلہ بول دیا اور گورنر کوفہ کوشکست دے کر عراق پر قابض ہو گیا۔ اب عبد المالک اس قابل تھا کہ وہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آخری فیصلہ کر لے۔ اپنے اسی خیال کے تحت ایک دن اس نے ایک بہت بڑا مجمع کیا اور ایک گرم جوش تقریر کی اور پھر مجمع عام سے پوچھا۔

عبد الملک:۔ “تم میں کون ہے جو ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل کا بیڑا اٹھائے ؟”

حجاج:”یہ خدمت میں سرانجام دوں گا۔ ”

عبد الملک:”کون ہے جو ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاسرقلم کر لائے ؟”

حجاج:”یہ خدمت میرے سپردکی جائے۔ ”

یہ خدمت حجاج کے سپردکر دی گئی اور وہ 72 ھ میں ایک فوج گراں کے ساتھ مکہ معظمہ پر حملہ اور ہوا۔ حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حرم کعبہ میں پناہ گزیں تھے۔ حجاج نے حرم پاک کو چاروں طرف گھیرا اور آتش زنی اور سنگ باری کو اپنا وظیفہ حیات قرار دے لیا۔ گولے حرم کعبہ میں گر کراس طرح پھٹتے تھے، جیسے دو پہاڑ ٹکر کھاتے ہیں اور ٹکرا ٹکرا  کر پرزہ پرزہ ہو جاتے ہیں۔ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑے سکون سے آگ اور پتھروں کی برسات کا مقابلہ کرتے چلے گئے یہاں تک کئی مہینے ختم ہو گئے۔ جب نماز کا وقت آتا تو آپ صحن کعبہ میں قبلہ رو کھڑے ہو جاتے۔ آپ کے چاروں طرف پتھروں کی برسات شروع رہتی مگر آپ  گرد و غبارسے زیادہ اسے اہمیت نہ دیتے یہاں تک رسدبالکل ختم ہو گئی اور فوج سواری کے گھوڑوں کو ذبح کر کے کھانے لگی۔ مکہ مکرمہ کے اندر قحط نے اس قدر شدت اختیار کر لی کہ ہردرودیوارسے فریاد کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھی فاقہ کشی کے عذاب سے تنگ آ کر روزانہ بھاگتے تھے اور حجاج بن یوسف کی صفوں میں شامل ہو جاتے تھے۔ تھوڑے ہی عرصہ میں یہ تعداددس ہزار تک پہنچ گئی۔ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دولخت جگر۔ ۔ ۔ حمزہ اور حبیب۔ ۔ ۔ بھی ان سے الگ ہو گئے اور حجاج کے ساتھ مل گئے۔ تیسرے بیٹے نے بہادرانہ مقابلہ کیا اور میدان جنگ میں شہید ہو گیا۔

اب ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی والدہ حضرت اسماء بنت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں مشورہ لینے کے لئے آئے۔ اس وقت حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی عمر100 برس سے زیادہ تھی۔ جسم میں جتنے مسام ہوتے ہیں، اتنے ہی ان کے دل و جگر پر داغ تھے۔ بیٹے نے کہا:

اماں !میرے تمام ساتھی اور میرے بیٹے میراساتھ چھوڑ چکے ہیں صرف چند بندگان وفا باقی ہیں مگر وہ بھی حملے کا جواب نہیں دے سکتے۔ دوسری طرف دشمن ہمارے مطالبے کوتسلیم نہیں کر رہا ہے۔ ان حالات میں آپ کا مشورہ کیا ہے ؟

حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہما:بیٹا!اگر تم حق پر ہو تو جاؤ اور اس حق کے لئے جان دے دوجس پر تمہارے بہت سے ساتھی قربان ہو چکے ہیں لیکن اگر تم حق پر نہیں ہو تو پھر تمہیں سوچناچاہیے تھا کہ تم اپنی اور دوسرے لوگوں کی ہلاکت کے ذمہ دار بن رہے ہو۔ ”

ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ:۔ اس وقت میرے تمام ساتھی مجھے جواب دے گئے ہیں۔ ”

حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہما:۔ ساتھیوں کی عدم رفاقت، شریف اور دیندارانسانوں کے لئے کوئی وقعت نہیں رکھتی۔ غور کرو کہ تمہیں اس دنیا میں کب تک رہنا ہے ؟حق کے لئے جان دے دینا حق کوپس پشت ڈال کر زندہ رہنے سے ہزار درجے بہتر ہے۔ ”

ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ:۔ “مجھے اندیشہ ہے کہ بنی امیہ کے لوگ میری لاش کا مثلہ کریں گے، مجھے سولی پر لٹکا دیں گے اور کسی بھی بے حرمتی سے کوتاہی نہیں کریں گے۔

حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہما:۔ “بیٹا جب بکری ذبح ہو جائے، تو پھر کھال اتار نے سے اسے کچھ تکلیف نہیں ہوا کرتی۔ اچھا میدان جنگ کوسدھارو اور خدا تعالیٰ سے امداد طلب کر کے اپنا فرض ادا کر دو۔ ”

ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ماں کے سرکو بوسہ دیا اور کہا:”اے مادر محترم!میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں کمزور ثابت نہ ہوں گا۔ میرا مقصد صرف یہ تھا کہ آپ کو اطمینان دلا دوں کہ آپ کے بیٹے نے امر باطل پر جان نہیں دی۔ ”

حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہما:بیٹا!بہرحال میں تو صبر و شکر ہی سے کام لوں گی۔ اگر تم مجھ سے پہلے چل دئیے تو صبر کروں گی۔ اگر کامیاب واپس لوٹے تو میں تمہاری کامیابی پر خوش ہوں گی۔ اچھا اب تم قربانی دو۔ انجام خدا کے ہاتھ میں ہے۔ ”

ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ:میرے حق میں دعائے خیر فرما دیجئے۔ ”

حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہما:۔ اے اللہ!میں اپنے بیٹے کو تیرے سپردکرتی ہوں، تو اسے استقامت دے اور مجھے صبر و شکر عطا کر۔ ”

دعا کے بعد بوڑھی ماں نے کانپتے ہوئے ہاتھ پھیلا دئیے اور فرمایا۔ “بیٹا ذرا میرے پاس آ جاؤ تاکہ میں آخری مرتبہ تم سے مل لوں۔ ”

ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ:۔ نے کہا:”یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔ آج میری زندگی کا آخری دن ہے۔ “پھر فرمایا:”بیٹا اپنا فرض پورا کر دو۔ “ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت زرہ پہنے ہوئے تھے۔ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو جب یہ لو ہے کی کڑیاں سی محسوس ہوئیں، تو ان کے دل پر ایک دھچکاسالگا۔ آپ نے تعجب سے فرمایا:”میرے بیٹے !یہ کیا ہے ؟اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان دینے والوں کا یہ طریقہ نہیں ہوتا؟اس پر ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے، زرہ اتار کرجسم سے الگ پھینک دی، اور رجز پڑھتے ہوئے تیغ بکف شامی فوج کی طرف آئے۔ پھر ولولہ اور جوش کے ساتھ حملہ اور ہوئے کہ میدان کانپ اٹھا، چونکہ شامی فوج کی گنتی بے قیاس تھی۔ اس واسطے ان کے ساتھی حملے کی تاب نہ لا کر ادھر ادھر بکھر گئے۔ اس وقت ایک شخص نے پکار کر کہا۔ “اب زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ!پیچھے ہٹ کر حفاظت میں چلے آئیے۔ “آپ نے آواز دینے والے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا، اور گرجتے ہوئے شیر کی طرح یہ للکارتے ہوئے آگے بڑھے :”میں اس قدر بزدل نہیں ہوں کہ اپنے بہادرساتھیوں کی موت کے بعد خوداسی موت سے بھاگ نکلوں۔ “ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے چندساتھیوں کے ساتھ بپھرے ہوئے شیر کی طرح شامی فوجوں پر حملے کرتے تھے۔ جس طرف تلوار لے کر امنڈتے، صفیں الٹ جاتیں تھیں اور راہیں صاف ہو جاتی تھیں۔ چونکہ آپ کے جسم کو زرہ کی حفاظت حاصل نہ تھی۔ اس لیے بے دریغ تلوار چلاتے جاتے اور جسم کا خون برستے ہوئے بادل کی طرح ٹپکتا جاتا تھا۔ حجاج نے تمام شامی فوج کو حرکت دی۔ اپنے منتخب بہادروں کو آگے بڑھایا اور پھراس قوت و شدت کے ساتھ حملہ کیا کہ شامی فوجیں زور کرتے ہوئے خانہ کعبہ کے دروازوں تک پہنچ گئیں لیکن برتری کی باگ اب بھی ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھیوں کے ہاتھ میں تھی۔ یہ مٹھی بھر جوان تلواروں کی بجلی اور نعرہ ہائے تکبیر کی کڑک کے ساتھ جس طرف رخ کرتے تھے، شامیوں کا ہجوم زیر و زبر ہو جاتا تھا۔ یہ حال دیکھ کر حجاج بن یوسف اپنے گھوڑے سے اتر پڑا۔

اس نے اپنے علمبردار کو آگے بڑھایا اور اپنے سپاہیوں کو للکارا۔ ٹھیک اسی وقت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی جگہ سے تڑپ کر اٹھے، باز کی طرح لپکے اور اس بڑھتے ہوئے سیلاب کا رخ پھیر دیا۔ اسی اثناء میں خانہ کعبہ کے میناروں سے اذان کی صدائیں بلند ہوئیں۔ اللہ اکبر کے ساتھ ہی اس اللہ کے بندے نے تلوار نیام میں ڈال دی اور اپنی ایک صف، حجاج بن یوسف کے مقابلے میں چھوڑ کر خود مقام ابراہیم علیہ السلام پر جا کھڑا ہوا۔

ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب نمازسے لوٹے، تو معلوم ہوا کہ آپ کے ساتھی بکھر چکے ہیں، علم چھن چکا ہے اور علمبردار قتل ہو چکا ہے۔ اس نظارہ یاس وحسرت سے دل کا جو حال ہوا بیان میں نہیں آ سکتا۔ پھر بھی بے فوج سپہ سالار اور بے علم مجاہد مردانہ وار آگے بڑھا اور یہ “ایک”دس ہزار میں گھس کر تلوار چلانے لگا۔ سامنے سے ایک تیر آیا اور اس نے  ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاسرکھول دیا”ما تھا”چہرہ اور داڑھی خون سے تر ہو گئے۔ اس وقت بھی ان کی زبان پریہ رجز جاری تھا۔

ولسناعلی الاعقاب قدمی کلومنا

ولکن علی اقدامناتقطرالدما۔ (تاریخ طبری ج7ص205)

ہم وہ ہیں کہ سینہ سپر رہتے ہیں اور ہمارے پنجوں پرخون گرتا ہے۔

ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ رجز پڑھتے جاتے تھے، تلوار چلاتے جاتے تھے، اور آگے بڑھتے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ زمین پر گر پڑے اور دنیاسے ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گئے۔ حجاج نے حسب وعدہ ان کاسرکاٹ کر عبد المالک کے پاس بھیج دیا اور ان کی لاش شہر کے باہر ایک اونچی جگہ پر لٹکا دی۔

حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہماکواس دردناک انجام کی اطلاع ہوئی تو آپ نے حجاج کو پیغام بھیجا۔ “اب زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لاش کوسولی سے ہٹا دیا جائے۔ “حجاج نے جواب دیا۔ “میں اس نظارے کو قائم رکھنا چاہتا ہوں۔ “حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے پھر کہا:”مجھے تجہیز و تکفین کی اجازت دی جائے۔ “مگر حجاج نے اس سبھی انکار کر دیا۔ قریش یہاں آتے تھے اور اپنے نامور فرزند کی لاش سولی پر دیکھ کر چلے جاتے تھے۔ ایک دن حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی اتفاقا ادھرسے گزریں، ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی لاش اب بھی سولی پر لٹکی کھڑی تھی، آپ نے بیٹے پر نظر ڈالی اور فرمایا:”کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ شاہسواربھی اپنے گھوڑے سے اترے ؟”علامہ شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ان دلیرانہ الفاظ کاکس قدر اچھا ترجمہ کیا ہے۔

لاش لٹکی رہی سولی پر کئی دن لیکن

ان کی ماں نے نہ کیا رنج و الم کا اظہار

اتفاقات سے ایک دن جو ادھر جا نکلیں

دیکھ کر لاش کو بے ساختہ بولیں اک بار

ہو چکی دیر کہ منبر پہ کھڑا ہے یہ خطیب

اپنے مرکب سے اترتا نہیں اب بھی یہ سوار

٭٭٭

 

 

 

 

عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ

 

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کی حیات پاک اس قوم کے لئے جسے اللہ تعالیٰ حکمران ہونے کا شرف بخشے، نمونہ ہے اور آپ کی وفات ہر فانی انسان کے لئے نمونہ ہے۔ اگر وہ حق پر جان قربان کر دینے کا آرزومند ہو۔ یہاں ہم حضرت موصوف کی زندگی اور موت کے مختصر حالات درج کرتے ہیں :

جب خلیفہ ولید نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کو مدینہ منورہ کا گورنر مقرر کیا  تو آپ نے فرمایا:”اس شرط پر گورنری منظور کرتا ہوں کہ مجھے پہلے گورنروں کی طرح ظلم پر مجبور نہ کیا جائے۔ ”

خلیفہ نے کہا۔ “آپ حق پر عمل کریں، خواہ خزانہ خلافت کو ایک پائی بھی نہ ملے۔ “آپ نے مدینہ منورہ پہنچتے ہی علماء و اکابر کو جمع کیا اور فرمایا:

“اگر آپ لوگوں کو کہیں بھی ظلم نظر آ جائے تو خدا کی قسم مجھے اس کی اطلاع ضرور کر دیں، جب تک آپ مدینہ منورہ کے گورنر رہے، کسی شخص نے آپ سے عدل، نیکی، فیاضی اور ہمدردی کے سواکچھ نہیں دیکھا۔

خلیفہ سلیمان کی آخری بیماری میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کوشک ہوا کہ وہ کہیں آپ کو اپنا جانشین نہ بتائیں۔ گھبرائے ہوئے رجابن حیوۃ(وزیر اعظم)کے ہاں تشریف لے گئے اور فرمایا:”مجھے خطرہ ہے کہ خلیفہ سلیمان میرے حق میں وصیت نہ کر دی ہو، آپ مجھے ابھی بتا دیں تاکہ میں استعفیٰ دے کرسبکدوش ہو جاؤں اور وہ اپنی زندگی میں کوئی دوسرا انتظام کر جائیں۔ ”

رجاء نے آپ کو ٹال دیا، مگر جب وصیت نامہ سامنے آیا تو آپ کا خطرہ صحیح ثابت  ہوا۔ اس وقت خلیفہ سلیمان دنیاسے رخصت ہو چکے تھے۔ اس واسطے آپ نے عام مسلمانوں کو جمع کر کے ارشاد فرمایا:

“اے لوگو!میری خواہش اور تمہارے استصواب رائے بغیر مجھے خلیفہ بنایا گیا ہے، میں تمہیں اپنی بیعت سے خود ہی آزاد کرتا ہوں، تم جسے چاہو اپنا خلیفہ مقرر  کر لو۔ ”

مجمع سے بالاتفاق آواز آئی، یا امیرالمومنین ! ہمارے خلیفہ آپ ہیں۔ “ارشاد فرمایا:”صرف اس وقت تک جب تک میں اطاعت الٰہی کی حد سے قدم باہر نہ رکھوں۔ اب شاہی سواریاں پیش کی گئیں آپ محل شاہی میں تشریف لے چلیے۔ ارشاد فرمایا:”انہیں واپس لے جاؤ میری سواری کے لئے اپنا خچر کافی ہے۔ “جب آپ دارالحکومت کی طرف روانہ ہوئے تو کوتوال نے حسب دستورنیزہ اٹھا کر آپ کے ساتھ چلنا چاہا، مگر آپ نے اسے وہیں روک دیا اور فرمایا:”میں تو مسلمانوں کا ایک معمولی فرد ہوں۔ “جب علماء نے ممبروں پرحسب رواج آپ کا نام لیا اور دردوسلام بھیجا، تو آپ نے فرمایا میری بجائے سب مسلمان مردوں اور عورتوں کے لیے دعا کرو۔ اگر میں مسلمان ہوں گا، یہ دعا مجھے خود بخود پہنچ جائے گی۔ محل شاہی میں پہنچے تو وہاں خلیفہ سلیمان کے اہل و عیال فروکش تھے۔ ارشاد فرمایا”میرے لئے ایک خیمہ لگا دیا جائے، میں اس میں رہوں گا۔ “یہ ہو گیا، تو آپ اداس چہرے، حیران آنکھوں اور اڑے ہوئے رنگ کے ساتھ گھر آئے، لونڈی نے دیکھتے ہی کہا:”آپ آج اسقدرپریشان کیوں ہیں ؟”

فرمایا:”آج مجھ پر فرض عائد کیا گیا ہے کہ میں ہرمسلمان کابغیراس کے مطالبہ کے حق ادا کروں۔ آج میں مشرق و مغرب کے ہر یتیم کا اور ہر بیوہ ومسافرکاجواب دہ بنا دیا گیا ہوں، پھر مجھ سے زیادہ قابل رحم اور کون ہو سکتا ہے ؟”

امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خلیفہ سلیمان تک جتنے بھی اچھے اچھے علاقے، جاگیریں اور زمینیں مسلمانوں کے ہاتھ آئیں، وہ سب بنی امیہ والوں کو عطا کر دی گئی تھیں۔ امت کو دو تہائی دولت سندات شاہی کے ذریعہ سے بس انہیں لوگوں کے ہاتھ میں تھی۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے بنی امیہ والوں کو جمع کر کے کہا:

“یہ سب اموال ان کے اصل وارثوں کوواپس کر دو۔ ”

انہوں نے جواب دیا:”ہم سب کی گردنیں اتار دینے کے بعد ہی یہ ہو سکتا ہے۔ “اس پر عام مسلمانوں کومسجدمیں جمع ہونے کا حکم دیا۔ لوگ جمع ہو گئے تو آپ بھی اپنی تمام خاندانی جاگیروں اور عطیوں کی سندات شاہی کا تھیلہ اٹھائے وہاں تشریف لے گئے، میر منشی ایک ایک سندکوہاتھ میں لے کر پڑھتا، تو آپ ارشاد فرماتے۔

“میں یہ جاگیر اصل وارثوں کے حق میں چھوڑ دی۔ ” اور وہیں قینچی لے کراس سندشاہی کو کتر کتر کر پھینک دیتے تھے۔ صبح سے ظہر تک آپ نے اپنے ذاتی اور خاندانی عطیات کی سندیں اس طرح کاٹ کاٹ کر ضائع کر دیں۔ اپنی ذاتی مال کو بیت المال میں داخل کرا دیا۔ پھر گھر تشریف لائے اور اپنی بیوی فاطمہ سے جو خلیفہ عبد الملک کی بیٹی تھیں۔ “ارشاد فرمایا:”اپنا وہ بیش قیمت جواہر جو تمہیں عبد الملک نے دیا تھا، بیت المال میں داخل کرا دو یا مجھ سے اپنا تعلق ختم کر لو۔ ”

با وفا اور سیرچشم بیوی یہ سنتے ہی اٹھیں اور اپنے جواہر کو بیت المال کو بھیج دیا۔ جب دامن پاک اور گھر صاف ہو چکا، تو آپ اہل خاندان کی طرف متوجہ ہوئے اور یزید اور معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک کے وارثوں کو ایک ایک کر کے پکڑا اور تمام غضب شدہ جائیدادیں اور اموال اصل وارثوں کوواپس کرا دئیے۔ مال و دولت اس کثرت کے ساتھ واپس ہوا کہ حکومت عراق کا خزانہ خالی ہو گیا اور اخراجات کے لئے دمشق(صدرمقام)سے وہاں روپیہ بھیجا گیا۔ بعض خیرخواہوں نے کہا”آپ اپنی اولاد کے کچھ چھوڑ دیں۔ ارشاد فرمایا:”میں انہیں اللہ کے سپردکرتا ہوں۔”

آل مروان کی طرف لکھا گیا”یا امیرالمومنین ! آپ اپنے معاملات اپنی رائے سے طے کر لیں۔ مگر گذشتہ خلفاء کی کاروائیوں کو کالعدم  قرار نہ دیں۔ “آپ نے فرمایا آپ لوگ مجھے ایک سوال کا جواب سمجھادیں۔ اگر ایک ہی معاملہ کے متعلق امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور خلیفہ عبد المالک کی سندات پیش کی جائیں تو فیصلہ کس کے مطابق دینا چاہیے۔ “لوگوں نے کہا:”امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دستاویزقدیم ہے، اس لئے اس کے مطابق فیصلہ دینا چاہیے۔ ”

اس پر آپ نے فرمایا”میں بھی تو اب یہی کر رہا ہوں، میں خلیفوں کے فیصلے کو چھوڑتا ہوں اور قرآن مجید کے مطابق فیصلہ دیتا ہوں۔ ”

دوسری دفعہ یہی بحث چھڑی تو آپ نے فرمایا:”اگر باپ کی موت کے بعد بڑا بھائی تمام جائیداد پر قبضہ کر لے تو آپ کیا کریں گے ؟لوگ کہنے لگے “ہم چھوٹے بھائیوں کو بھی ان کا حق دلوا دیں گے۔ “آپ نے فرمایا”خلفائے راشدین کے بعد جو لوگ خلیفہ ہوئے، انہوں نے غریبان امت کے جائیداد پر قبضہ کر لیا تھا۔ اب میں بھی انہیں غریبوں کا حق امیروں سے دلوا رہا ہوں۔ ”

ایک مرتبہ تمام آل مروان جمع ہوئے اور انہوں نے آپ کے بیٹوں کے ذریعہ سے آپ کو کہلا بھیجا”ہم آپ کے رشتہ دار ہیں، آپ پہلے خلیفوں کی طرح ہماری قرابت کا لحاظ کریں آپ ہمیں عطیات سے محروم نہ رکھیں۔ “آپ نے کہلا بھیجا تم لوگ مجھے اللہ تعالیٰ سے زیادہ قریب نہیں ہو۔ اگر میں اس کی قرابت قربان کر دوں تو کیا تم قیامت کے دن مجھے اس کے عذاب سے بچا لو گے ؟لوگوں نے یہ سنا اور مایوس ہو کر منتشر ہو گئے۔

حضرت عمر بن عبد العزیر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے گھر والوں کے روزینے بند کر دیئے۔ جب انہوں نے تقاضا کیا تو فرمایا:میرے اپنے پاس کوئی مال نہیں ہے اور بیت المال میں تمہارا حق اسی قدر ہے، جس قدر کہ اس مسلمان کاجوسلطنت کے آخری کنارے پر آباد ہو۔ پھر میں تمہیں دوسرے مسلمانوں سے زیادہ کس طرح دے سکتا ہوں؟خدا کی قسم!اگرساری دنیا بھی تمہارے ہم خیال ہو جائے تو پھر بھی یہ نہیں کروں گا۔ ”

آپ نے سلطنت کے تمام ظالم عہدے دار، جن کے مزاج بگڑے ہوئے تھے، دائرہ نظم ونسق سے الگ کر دیئے۔ عوام پرہرقسم کا تشدد یک لخت ہٹا دیا گیا۔ افسران پولیس نے کہا”ہم جب تک لوگوں کو شبہ میں نہ پکڑیں اور سزائیں نہ دیں، واردات بند نہیں ہوں گی۔ ”

آپ نے ان سب کو ایک رقعہ لکھ بھیجا:”صرف حکم شریعت کے مطابق لوگوں سے مواخذہ کیجئے۔ اگر حق و عدل پر عمل کرنے سے واردات نہیں رکتی، تو اسے جاری رہنے دیجئے۔ ”

خراسان کے گورنر کا خط آیا کہ اس ملک کے لوگ سخت سرکش ہیں اور تلوار، کوڑے کے سواکوئی چیز ان کی سرکشی دور نہیں کر سکتی۔ آپ نے جواب بھیجا:”آپ کا خیال بالکل غلط ہے۔ بے لاگ حق پرستی اور معدلت گستری انہیں ضروردرست کر سکتی ہے۔ اب آپ اسی کو عام کیجئے۔ ”

آپ نے فرمان جاری کیا تھا کہ جب کوئی شخص مسلمان ہو جائے تو اس سے جزیہ کا ایک درہم بھی وصول نہ کیا جائے۔ اس حکم کے ساتھ ہی ہزاروں لوگ مسلمان ہو گئے اور جزیہ کی مد کا جنازہ اٹھ گیا۔ حیان بن شریح نے رپورٹ کی کہ”آپ کے فرمان سے لوگ اس کثرت سے مسلمان ہونے لگے ہیں کہ جزیہ کی آمدنی ہی ختم ہو گئی ہے اور مجھے قرض لے لے کرمسلمانوں کی تنخواہیں ادا کرنی پڑتی ہیں۔ “آپ نے جواب بھیجا:”جزیہ بہرحال موقوف کر دو اور یہ سمجھوکہ حضرت محمدﷺ ہادی راہ بنا کر بھیجے گئے، محصل اخراج بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔ میں یہ پسندکرتا ہوں کہ سارے غیرمسلم مسلمان ہو جائیں اور ہماری تمہاری حیثیت صرف ایک کاشتکار کی رہ جائے کہ ہم اپنے ہاتھ سے کمائیں اور کھائیں۔

عدی بن ارطاط گورنرفارس کے عہدیدار باغوں میں پھلوں کا تخمینہ کر کے انہیں کم قیمت پر خرید لیتے تھے۔ آپ کو اطلاع پہنچی، تو آپ نے تین آدمیوں کی ایک تحقیقاتی کمیٹی مقرر  کر دی اور عدی کو لکھا:اگر یہ سب کچھ تمہاری پسندیا ایماء سے ہو رہا ہے تو میں تم کو مہلت نہ دوں گا۔ میں ایک تحقیقاتی وفد بھیجتا ہوں۔ اگر میری اطلاع صحیح نکلی تو یہ تمام پھل، باغات کے مالکوں کوواپس کر دیں گے۔ تم کمیٹی کے کام میں ذرا بھی مداخلت نہ کرنا۔”

ایک مرتبہ یمن کے بیت المال سے ایک دینار گم ہو گیا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کواس کی اطلاع ملی تو آپ بے قرار ہو گئے۔ اسی وقت قلم ہاتھ میں لیا اور یمن کے افسرخزانہ کو لکھا۔ “میں تمہیں خائن قرار نہیں دیتا۔ پھر بھی تمہاری لاپروائی کواس کا مجرم قرار دیتا ہوں۔ میں مسلمانوں کی طرف سے ان کے مال کا مدعی ہوں۔ تم اس پر شرعی حلف اٹھاؤ کہ دینار کی گمشدگی میں تمہارا ہاتھ نہیں ہے۔ ”

سلطنت کا دفتری عملہ شاہی احکام کے اجراء میں کاغذ، قلم، دوات اور لفافے خوب استعمال کرتا تھا۔ جب حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے اس فضول خرچی اور نمائش کی طرف توجہ فرمائی اور بو بکر بن حزم اور دوسرے اہلکاروں کو لکھا:

“تم وہ دن یاد کرو،جب تم اندھیری رات میں روشنی کے بغیرگھرسے مسجدنبوی میں جایا کرتے تھے۔ بخدا آج تمہاری حالت اس سے بہتر ہے۔ اپنے قلم باریک رکھو، سطریں قریب قریب لکھا کرو۔ دفتری ضروریات میں کفایت شعاری برتو، میں مسلمانوں کے خزانہ سے ایسی رقم صرف کرناپسندنہیں کرتا، جس سے ان کو براہ راست کوئی فائدہ نہ ہو۔ ”

آپ نے شاہی خاندان کے وظیفے بند کر دیئے۔ وہ تمام اخراجات اڑا دیئے، جو شوکت شاہانہ کے لئے کیے جاتے تھے۔ شاہی اصطبل کی سواریاں فروخت کر دیں اور تمام روپیہ بیت المال میں بھیج دیا۔ پھر ان تمام لوگوں کے نام درج رجسٹرکیے جو کمائی کرنے کے قابل نہ تھے۔ ان سب کے وظیفے مقرر کیے۔ حکم عام یہ تھا کہ میری سلطنت میں کوئی شخص بھوکا نہ رہے۔ بعض گورنروں نے لکھا:”اس طرح تمام خزانے خالی ہو جائیں گے “حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کا جواب یہ تھا کہ”جب تک اللہ کا مال موجود  ہے، اللہ کے بندوں کو دیتے چلے جاؤ۔ جب خزانہ خالی ہو جائے تو اس میں کوڑا کرکٹ بھر دو۔ ”

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ ا للہ علیہ نے اپنی سلطنت کے اندرمسلم وغیرمسلم کے شہری حقوق یکساں کر دیئے۔ حیرہ کے ایک مسلمان نے ایک غیرمسلم کو قتل کر دیا۔ آپ نے قاتل کو پکڑ کے مقتول کے وارثوں کے حوالے کر دیا اور انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ ربیعہ بن شعودی نے ایک سرکاری ضرورت کے لئے ایک غیرمسلم کا گھوڑا پکڑ لیا اور اس پرسواری کی۔ حضرت کواس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے ربیعہ کو بلایا اور اسے چالیس کوڑے لگوائے۔ خلیفہ ولید نے اپنے بیٹے کو ایک ذمی کی زمین جاگیر میں دے دی تھی۔ ذمی نے دعویٰ کر دیا تو آپ نے عباس سے کہا”تمہارا عذر کیا ہے ؟”اس نے کہا:”یہ خلیفہ ولید کی سندمیرے پاس موجود ہے۔ “آپ نے ارشاد فرمایا:ذمی کی زمین واپس کر دو۔ ولید کی سندکتاب اللہ پر مقدم نہیں ہو سکتی۔ “ایک عیسائی نے خلیفہ عبد الملک کے بیٹے ہشام پر دعویٰ کر دیا جب مدعی اور مدعا علیہ حاضر ہوئے تو آپ نے دونوں کو برابر کھڑا کر دیا۔ ہشام کا چہرہ اس بے عزتی پر فرط غضب سے سرخ ہو گیا۔ آپ نے یہ دیکھا تو فرمایا:”اس کے برابر کھڑے رہو، شریعت حقہ کی شان عدالت یہی ہے کہ ایک بادشاہ کا بیٹا عدالت میں ایک نصرانی کے برابر کھڑا ہو۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے صرف اڑھائی سال حکومت کی تھی۔ اس مختصر مدت میں خلق خدا نے یوں محسوس کیا کہ زمین وآسمان کے درمیان عدل کا ترازو کھڑا ہو گیا ہے اور فطرت الٰہی خود آگے بڑھ کرانسانیت کو آزادی، محبت اور خوشحالی کا تاج پہنا رہی ہے۔ لوگ ہاتھوں میں خیرات لئے پھرتے تھے مگر کوئی محتاج نہیں ملتا تھا۔ لوگ ناظم المال کے پاس عطیات کی رقمیں بھیجتے مگر وہ عذر کر دیتے تھے کہ یہاں کوئی حاجت مند باقی نہیں رہا اور عطیات کوواپس کر دیتے تھے۔ عدی بن ارطاط والی فارس نے آپ کو لکھا کہ”یہاں خوشحالی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ عام لوگوں کے کبر و غرور میں مبتلا ہو جانے کا خطرہ ہو گیا ہے۔ “آپ نے جواب دیا”لوگوں کو اللہ کا شکر ادا کرنے کی تعلیم دینا شروع کر دو۔ ”

ایک طرف کروڑوں لوگ امن ومسرت اور راحت و شادکامی کے شادیانے بجا رہے تھے اور دوسری طرف وہ وجود پاک جس کی بدولت یہ سب کچھ ہوا تھا، روز بروز ضعیف و نزار ہوتا چلا جا رہا تھا، اسے دن کا چین میسرنہیں تھا، اسے رات کی نیند نصیب نہ تھی۔ جب حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ مدینہ کے گورنر بنائے گئے تھے تو اس وقت ان کا ذاتی سازوسامان اس قدروسیع اور عظیم تھا کہ صرف اسی سے پورے تیس اونٹ لاد کر مدینہ منورہ بھیجے گئے۔ جسم اس قدر تر و تازہ تھا کہ ازار بند، پیٹ کے پٹھوں میں غائب ہو جاتا تھا۔ لباس نعم اور عطریات کے بیحد شوقین تھے۔ نفاست پسندی کا یہ حال تھا کہ جس کپڑے کودوسرے لوگ آپ کے جسم پر ایک دفعہ دیکھ لیتے تھے، اسے اپ دوبارہ نہیں پہنتے تھے، چارچارسوروپے کی قیمت کا کپڑا حاضر کیا جاتا تھا مگر آپ اسے خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ خوشبو کے لئے مشک اور عنبراستعمال کرتے تھے۔ رجاء بن حیوۃ(وزیر اعظم خلیفہ ولید)کا بیان ہے کہ ہماری سلطنت میں سب سے زیادہ خوش لباس، معطر اور خوش خرام شخص عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ آپ جس طرف سے گزرتے تھے، گلیاں اور بازارخوشبوسے مہک جاتے لیکن جس دن خلیفہ اسلام بنائے گئے۔ آپ نے ساری جاگیریں اصل مالکوں کوواپس کر دیں اور فرش فروش، لباس و عطر، سازوسامان، محلات، لونڈی، غلام اور سواریاں سب بیچ دیا اور قیمت بیت المال میں داخل کر دی۔ آپ پاس لباس کا صرف ایک جوڑا رہتا تھا جب وہ میلا ہوتا، اسی کو دھو کر پہن لیتے تھے۔ مرض الموت میں آپ کے سالے نے اپنی بہن فاطمہ سے کہا:

“امیرالمومنین کی قمیض سخت میلی ہو رہی ہے، لوگ بیمارپرسی کے لئے آتے ہیں، اسے بدل دو۔ ”

فاطمہ نے یہ سنا اور خاموش ہو گئیں۔ بھائی نے جب پھر یہی تقاضا کیا تو فرمایا:

“خدا کی قسم، خلیفہ اسلام کے پاس اس کے سواکوئی دوسراکپڑانہیں ہے، میں کہاں سے دوسراکپڑاپہنادوں۔ “پھر یہ جوڑاسالم نہیں تھا، اس میں کئی کئی پیوند لگے ہوئے تھے۔

ایک دفعہ آپ کی صاحبزادی کے پاس کپڑا نہیں تھا۔ فرمایا:ابھی میرے پاس گنجائش نہیں ہے، فرش پھاڑ کراس کا کرتہ بنا دیا جائے۔ حضرت کی بہن کو خبر ہوئی تو انہوں بچی کے کپڑوں کے لئے ایک تھان لے دیا اور ساتھ ہی کہا:

“امیرالمومنین کواس کی خبر نہ دینا۔ ”

ایک مرتبہ ایک صاحبزادے نے کپڑے مانگے۔ فرمایا:”میرے کپڑے خیار بن ریاح کے پاس ہیں، ان سے لے لو، خلیفہ اسلام کا صاحبزادہ خوشی خوشی خیار بن ریاح کے پاس گیا تو انہوں نے صرف ایک کھدر کا کرتہ نکال کران کے حوالے کر دیا۔ وہ مایوس ہو کر دوبارہ آپ کی خدمت میں آئے۔ فرمایا:”اے بیٹا!میرے پاس تو بس یہی کچھ ہے۔ “پھر دوبارہ غور کر کے فرمایا:”اگر تم نہیں رہ سکتے تو اپنی تنخواہ میں سے ایک سودرہم پیشگی لے لو۔ “رقم دے دی، مگر جب تنخواہ کا وقت آیا تو کاٹ لی۔

ایک مرتبہ آپ کے ایک ملازم نے آپ کی بیوی سے کہا:”روز روز یہ دال روٹی، ہم سے نہیں کھائی جاتی۔ بیوی نے کہا:”میں کیا کر سکتی ہوں، امیرالمومنین کی روزانہ غذا یہی ہے، اس کو بھی وہ کبھی پیٹ بھر کر نہیں کھاتے۔ ایک دن طبیعت یہ آ گئی کہ انگور منگوائیں۔ حضرت فاطمہ(بیوی)سے فرمایا:”کیا تمہارے پاس ایک درہم ہے، میں انگور کھانا چاہتا ہوں۔ “فاطمہ نے کہا:خلیفۃ المسلمین ہو کر کیا آپ میں ایک پیسہ خرچ کرنے کی بھی طاقت نہیں ہے ؟”فرمایا:”میرے لئے جہنم کی ہتھ کھڑی سے یہ زیادہ آسان ہے۔ ”

جب خلافت کی ذمہ داریوں کا پہاڑ آپ پر ٹوٹ پڑا  تو غذا اور خوراک کے علاوہ میاں بیوی کے تعلقات سے بھی علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ سارادن سلطنت کی ذمہ داریاں ادا فرماتے اور رات کے وقت عشاء پڑھ کر تن تنہامسجدمیں بیٹھ جاتے اور ساری ساری رات جاگتے /سوتے گریہ و زاری میں بسر کر دیتے۔ فاطمہ رحمۃ اللہ علیہ سے ان کی یہ حالت دیکھی نہیں جاتی تھی۔ ایک دن انہوں نے تنگ آ کر پوچھا تو ارشاد فرمایا:

“میں نے ذمہ داری کے سوال پر غور کیا ہے اور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ میں اس امت کے چھوٹے بڑے اور سیاہ وسفیدکاموں کا ذمہ دار ہوں۔ مجھے یہ یقین ہو چکا ہے کہ میری سلطنت کے اندرجس قدر بھی غریب، مسکین، یتیم، مسافر، مظلوم اور گمشدہ قیدی موجود ہیں، ان سب کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے متعلق مجھ سے پوچھے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان سب کے متعلق مجھ سے دعویٰ کریں گے۔ اگر میں خدا اور رسول کے سامنے جواب دہی نہ کر سکا تو میرا انجام کیا ہو گا؟جب میں ان با توں کوسوچتا ہوں تو میری طاقت گم ہو جاتی ہے، دل بیٹھ جاتا ہے۔ آنکھوں سے آنسوبے دریغ بہنے لگتے ہیں۔ ”

آپ رات بھر جاگ کر موت کی جواب دہی پر غور کرتے تھے اور پھر دفعۃً بے ہوش ہو کر گر پڑتے تھے۔ آپ کی بیوی ہرچند آپ کوتسلی دیتی تھیں مگر آپ کا دل نہیں ٹھہرتا تھا۔ حضرت نے اسی حال میں خلافت کے اڑھائی سال گزارے۔ رجب 101ھ میں امیہ خاندان کے بعض لوگوں نے آپ کے غلام کو ایک ہزار اشرفی دے کر آپ کو زہر دلوا دیا۔ آپ کواس کا علم ہوا تو غلام کوپاس بلا لیا۔ اس سے رشوت کی اشرفیاں لے کر بیت المال میں بھجوا دیں اور پھر فرمایا:

“جاؤ، میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے لئے معاف اور آزاد کرتا ہوں۔ ”

طبیبوں نے فیصلہ کیا کہ زہر کے اخراج کی صورت کی جائے مگر آپ خلافت کی ذمہ داریوں میں ایک منٹ کا بھی اضافہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اطباء سے فرمایا:

“اگر مجھے یقین ہو کہ مرض کی شفاء میرے کان کی لو کے پاس ہے تو میں پھر بھی ہاتھ بڑھا کراسے قبضے میں نہیں لاؤں گا۔ ”

خلیفہ سلیمان نے خود ہی یزید بن عبد الملک کو آپ کا جانشین مقرر  کر دیا تھا۔ آپ نے اس کے لئے حسب ذیل وصیت نامہ لکھوایا:

“اب میں آخرت کی طرف چلا جا رہا ہوں، وہاں اللہ تعالیٰ مجھ سے سوال کرے گا، حساب لے گا اور میں اس سے کچھ چھپا نہیں سکوں گا۔ اگر وہ مجھ سے راضی ہو گیا تومیں کامیاب ہوں اگر وہ مجھ پر راضی نہ ہوا تو افسوس میرے انجام پر۔ تم کو میرے بعد تقویٰ اختیار کرنا چاہیے۔ رعایا کا خیال رکھنا چاہیے۔ تم میرے بعد زیادہ دیر تک زندہ نہ رہو گے۔ ایسانہ ہو کہ تم غفلت میں پڑ جاؤ اور تلافی کا وقت ضائع کر دو۔ ”

سلمہ کو آپ کے اہل و عیال کا بہت خیال تھا، انہوں نے عرض کی:

“امیرالمومنین کاش اس آخری وقت ہی میں آپ ان کے لئے کچھ وصیت فرما جاتے۔ ”

اگرچہ آپ اس وقت بے حد کمزور تھے۔ پھر بھی ارشاد فرمایا:”مجھے ٹیک لگا کر بٹھا دو۔ “آپ کو بٹھا دیا گیا تو ارشاد فرمایا:

“خدا کی قسم میں نے اپنی اولاد کا کوئی حق تلف نہیں کیا، البتہ وہ جودوسروں کا حق تھا، وہ نہیں دیا۔ میرا ان کا وارث صرف خدا ہے۔ میں ان سب کواسی کے سپردکرتا ہوں اگر یہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں گے تو وہ ان کے لئے کوئی سبیل نکالے گا۔ اگر یہ گناہوں میں مبتلا ہوں گے تو میں انہیں مال و دولت دے کران کے گناہوں کو قوی نہیں بناؤں گا۔ ”

پھر آپ نے اپنے بیٹوں کوپاس بلایا اور فرمایا:”اے میرے عزیز بچو!دو باتوں میں سے ایک بات تمہارے اختیار میں تھی۔ ایک یہ کہ تم دولت مند ہو جاؤ اور تمہارا باپ دوزخ میں جائے۔ دوم یہ کہ تم محتاج رہو اور تمہارا باپ جنت میں داخل ہو۔ میں نے آخری بات پسندکر لی ہے۔ اب میں تمہیں صرف اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔ ”

ایک شخص نے کہا:”حضرت کو روضہ نبوی کے اندر چوتھی خالی جگہ میں دفن کیا جائے۔ “یہ سن کر فرمایا:”خدا کی قسم!میں ہر عذاب برداشت کر لوں گا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جسم پاک کے برابراپناجسم رکھواؤں، یہ مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتا۔ ”

اس کے بعد آپ نے ایک عیسائی کو بلایا:اس سے اپنی قبر کی زمین خریدنا چاہی۔ عیسائی نے کہا:”میرے لئے یہ عزت کیا کم ہے کہ آپ کی ذات پاک میری زمین میں دفن ہو۔ میں اب اس عزت کی کوئی قیمت وصول نہیں کروں گا۔ ”

فرمایا:”یہ نہیں ہو سکتا۔ “آپ نے اصرار کر کے قیمت اسے اسی وقت ادا کر دی۔ پھر فرمایا:”جب مجھے دفن کر دو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ناخن اور موئے مبارک میرے کفن کے اندر رکھ دینا۔ “اسی وقت پیغام ربانی آ گیا اور زبان مبارک پریہ آیات قرآنی جاری ہو گئیں۔

تلک الدارالاخرۃ نجعلھاللذین لایریدون علواولافساداوالعافیۃ للمتقین۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ جیسی زندگی اور موت ہرمسلمان کو نصیب کرے۔

٭٭٭

 

 

 

حجاج بن یوسف

 

خلافت اموی کے حکام میں حجاج بن یوسف سے زیادہ کسی شخص کو شہرت حاصل نہیں ہوئی مگر یہ شہرت عدل و فیض رسانی کی نہیں تھی، سیاست و قہر کی تھی۔ تاریخ اسلام میں حجاج کا قہر ضرب المثل ہو گیا ہے۔ یزید بن معاویہ کی وفات کے بعد اموی سلطنت کی بنیادیں ہل گئی تھیں۔ وہ حجاج ہی تھاجس نے اپنی بے پناہ تلوارسے اور بے روک سفاکی سے ازسرنواس کی گری ہوئی عمارت کومستحکم کر دیا۔

بنی امیہ کے لئے سب سے بڑا خطرہ حضرت عبداللہ ابن الزبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تھا۔ ان کی حکومت کا مرکز مکہ میں تھا اور اس کا دائرہ شام کی سرحدوں تک پہنچ گیا تھا۔ حجاج بن یوسف نے یہ خطرہ ہمیشہ کے لئے دور کر دیا۔ مکہ کا محاصرہ کیا۔ کعبہ پر منجنیقیں لگا دیں اور حضرت عبداللہ ابن الزبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہایت سفاکی سے قتل کر ڈالا۔

عراق شروع ہی سے شورش پسندقبائل کا مرکز تھا۔ یہاں کی سیاسی بے چینی کسی طرح ختم نہ ہوتی تھی۔ والیوں پروالی آتے رہے اور بے بس ہو کر لوٹ جاتے تھے لیکن حجاج بن یوسف کی تلوار نے ایک ہی ضرب میں عراق کی ساری شورہ پشتی ختم کر ڈالی۔

خوداس عہد کے لوگوں کواس پر تعجب تھا۔ قاسم بن سلام کہا کرتے تھے :”کوفہ والوں کی خود داری اور نخوت اب کیا ہو گئی؟انہوں نے امیرالمومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کیا۔ حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاسرکاٹا۔ مختارجیساصاحب جبروت ہلاک کر ڈالامگراس بدصورت ملعون(حجاج) کے سامنے ذلیل ہو کر رہ گئے۔ کوفہ میں ایک لاکھ عرب موجود ہیں مگر یہ خبیث 12 سوارلے کر آیا اور غلام بنا ڈالا۔

حجاج کا عراق میں اولین خطبہ، ادب عربی کی مشہور چیز ہے کہ صرف اشارہ کر دینا کافی ہو گا:اماواللہ انی لاحمل الشربجملہ واخذوہ بنعلہ واجزیہ بمثلہ والی لاری ابصاراطامخۃ واعناقامتطاولۃ ورؤساقداینعت وحان قطافھاوانی لانظرالی الدماء بین العمائم واللحی۔ (البدایۃ والنہایۃ ج9ص 8، تاریخ طبری، ج 7ص210)

حجاج کی تلوارجس درجہ سفاک تھی، اتنی ہی اس کی زبان بلیغ تھی۔ اس کا یہ خطبہ خطیبانہ رنگ کا بے نظیر نمونہ ہے۔ “میں دیکھتا ہوں کہ نظریں اٹھی ہوئی ہیں۔ گردنیں اونچی ہو رہی ہیں، سروں کی فصل پک چکی ہے اور کٹائی کا وقت آ گیا ہے۔ میری نظریں وہ دیکھ رہی ہیں جو پگڑیوں اور داڑھیوں کے درمیان بہہ رہا ہے۔ ”

حجاج نے جیساکہا تھا، ویساہی کر دکھایا۔ ”

بیان کیا گیا ہے کہ جنگوں کے علاوہ حالت امن میں اس نے ایک لاکھ 25 ہزار آدمی قتل کئے تھے (عقد الفرید، البیان والتسبین وغیرہ)

بڑے بڑے اکابروابرارمثلاسعیدبن جبیر وغیرہ کی گردنیں اڑا دیں۔ مدینہ میں بے شمار صحابہ کے ہاتھوں پرسیسے کی مہریں لگا دیں۔ حضرت عبداللہ بن الزبیر اور حضرت عبداللہ بن عمر رضوان اللہ تعالیٰ عنہماجیسے جلیل القدر صحابیوں کو قتل کیا۔ موجود زمانے کی استعماری سیاست کی طرح اس کا بھی اصول یہ تھا۔ حکومت کے قیام کے لئے ہر بات جائز ہے اور حکومتیں رحم و عدل سے نہیں بلکہ قہروتعزیرسے قائم ہوتی ہیں۔

اس عہد کے عرفاء  و صلحاء حجاج کو اللہ کا قہر و عذاب خیال کرتے تھے۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کہا کرتے تھے۔ حجاج اللہ کا عذاب ہے، اسے اپنے ہاتھوں سے دور نہ کرو، بلکہ خداسے تضرع و زاری کرو کیونکہ اس نے فرمایا ہے :

ولقداخذناھم بالعذاب فما استکانوالربھم ومایتضرعون۔

یہی سبب ہے کہ جوں ہی اس کی موت کی خبرسنی گئی۔ حضرت حسن بصری رحمۃا للہ علیہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ سجدے میں گر پڑے “اس امت کا فرعون مرگیا۔ “بے اختیار ان کی زبانوں سے نکل گیا۔ “اب دیکھنا چاہیے اس جابر و قہرمان انسان نے موت کا مقابلہ کیوں کر کیا؟جس گھاٹ ہزاروں مخلوق کو اپنے ہاتھوں اتار چکا تھا، خوداس میں کیسے اترا؟

 

                بیماری

 

عراق پر20 برس حکومت کرنے کے بعد54 برس کی عمر میں حجاج بیمار ہوا۔ اس معدے میں بے شمار کیڑے پیدا ہو گئے تھے اور جسم کوایسی سخت سردی لگ گئی تھی کہ آگ کی بہت سی انگیٹھیاں بدن سے لگا کر رکھ دی جاتی تھیں، پھر بھی سردی میں کوئی کمی نہیں ہوتی تھی۔

 

                موت پر خطبہ

 

جب زندگی سے نا امیدی ہو گئی تو حجاج نے گھر والوں سے کہا:”مجھے بٹھا دو اور لوگوں کو جمع کرو۔ “لوگ آئے تو اس نے حسب عادت ایک بلیغ تقریر کی۔ موت اور سختیوں کا ذکر کیا۔ قبر اور اس کی تنہائی کا بیان کیا۔ دنیا اور اس کی بے ثباتی یاد کی۔ آخرت اور اس کی ہولناکیوں کی تشریح کی، اپنے ظلموں اور گناہوں کا اعتراف کیا۔ پھر یہ اشعاراس کی زبان پر جاری ہو گئے۔

ان ذنی وزن السموات والارض وظنی بخالقی ان بحابی

میرے گناہ آسمان اور زمین کے برابر بھاری ہیں، مگر مجھے اپنے خالق سے امید ہے کہ رعایت کرے گا۔

فلنن من بالرضاء مخعوظنی ولنن امربالکتاب عذابی

اگر اپنی رضامندی کا احسان مجھے دے تو یہی میری امید ہے لیکن اگر وہ عدل کر کے میرے عذاب کا حکم دے۔

لم یکن ذالک منہ ظلما وھل یظلم رب یرجی الحسن مآب

تو یہ اس کی طرف سے ہرگز ظلم نہیں ہو گا، کیا یہ ممکن ہے کہ وہ رب ظلم کرے جس سے صرف بھلائی کی توقع کی جاتی ہے۔

پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا۔ موقع اس قدر عبرت انگیز تھا کہ مجلس میں کوئی بھی اپنے آنسونہ روک سکا۔

 

                خلیفہ کے نام خط

 

اس کے بعد اس نے اپنا کاتب طلب کیا اور خلیفہ ولید بن عبد الملک کوحسب ذیل خط لکھوایا:

“اما بعد!میں تمہاری بکریاں چراتا تھا، ایک خیرخواہ گلہ بان کی طرح اپنے آقا کے گلے کی حفاظت کرتا تھا۔ اچانک شیر آیا، گلہ بان کو طمانچہ مارا اور چراگاہ خراب کر ڈالی۔ آج تیرے غلام پروہ مصیبت نازل ہوئی جو ایوب علیہ السلام صابر پر نازل ہوئی تھی۔ مجھے امید ہے کہ جباروقہاراس طرح اپنے بندے کی خطائیں بخشنا اور گناہ دھونا چاہتے ہیں۔ ”

پھر خط کے آخر میں یہ شعر لکھنے کا حکم دیا۔

اذامالقیت اللہ عنی راضیا فان شفاء النفس فیماھنالک

اگر میں نے اپنے اللہ کو راضی پایا توبس میری مراد پوری ہو گئی۔

فحسبی بقاء اللہ من کل میت وحسبی حیاۃ اللہ من کل ھالک

سب مر جائیں مگر خدا کا باقی رہنا میرے لئے کافی ہے :سب ہلاک ہو جائیں مگر خدا کی زندگی میرے لئے کافی ہے۔

لقدذاق ھذا الموت من کان قبلنا ونحن نلوق الموت من بعد ذالک

ہم سے پہلے یہ موت چکھ چکے ہیں، ہم بھی ان کے بعد موت کا مزہ چکھیں گے۔

فان مت فاذکرنی بذکرمحبب فقدکان جمافی رضاک مسالک

اگر میں مر جاؤں تو مجھے محبت سے یاد رکھنا کیونکہ تمہاری خوشنودی کے لئے میری راہیں بے شمار تھیں۔

والاففی دہرالصلوۃ بدعوۃ یلقی بھا المسجون فی نارمالک

یہ نہیں تو کم از کم ہر نماز کے بعد دعا میں یاد رکھنا کہ جس سے جہنم کے قیدی کو کچھ نفع پہنچے۔

علیک سلام اللہ حیاومیتا ومن بعد ماتحیاعتیقالمالک

تجھ پر ہر حال میں اللہ کی سلامتی ہو جیتے جی، میرے پیچھے اور جب دوبارہ زندہ کئے جاؤ

 

                سکرات موت کے شدائد

 

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ عیادت کو آئے تو حجاج نے ان سے اپنی تکلیفوں کا شکوہ کیا۔ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا:”میں تجھے منع نہیں کرتا تھا کہ نیکوکاروں کونہ سنتامگرافسوس تم نے نہیں سنا۔ ”

حجاج نے خفا ہو کر جواب دیا:”میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ اس مصیبت کے دور کرنے کی دعا کرو۔ میں تجھ سے یہ دعا چاہتا ہوں کہ اللہ جلد میری روح قبض کر لے اور اب زیادہ عذاب نہ دے۔ ”

اسی اثناء میں ابو منذریعلی بن مخلہ مزاج پرسی کو پہنچے۔

حجاج!موت کے سکرات اور سختیوں میں تیرا کیا حال ہے ؟انہوں نے سوال کیا۔

“اے یعلی!”حجاج نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا:”کیا پوچھتے ہو؟شدید مصیبت!سخت تکلیف!ناقابل بیان الم!ناقابل برداشت درد!سفردراز!توشہ قلیل!آہ!میری ہلاکت !اگراس جبار و قہار نے مجھ پر رحم نہ کھایا۔ ”

 

                ابو منذر کی بے لاگ تقریر

 

ابو منذر نے کہا:”اے حجاج!اللہ اپنے بندوں پر رحم کھاتا ہے جو رحم دل اور نیک نفس ہوتے ہیں۔ اس کی مخلوق سے بھلائی کرتے ہیں، محبت کرتے ہیں۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ تو فرعون و ہامان کاساتھی تھا کیونکہ تیری سیرت بگڑی ہوئی تھی، تو نے اپنی ملت ترک کر دی تھی، راہ حق سے ہٹ گیا تھا۔ صالحین کے طور طریقہ سے دور ہو گیا، تو نے نیک انسان قتل کر کے ان کی جماعت فنا کر ڈالی۔ تابعین کی جڑیں کاٹ کران کا پاک درخت اکھاڑ پھینکا۔ افسوس تو نے خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت کی تو نے خون کی ندیاں بہا دیں، جانیں لیں۔ آبروئیں برباد کیں۔ کبر و جبر کی روش اختیار کی تو نے اپنا دین ہی بچایا نہ دنیا ہی پائی، تو نے خاندان مروان کو عزت دی مگراپنانفس ذلیل کیا۔ ان کا گھر آباد کیا مگر اپنا گھر ویران کر لیا۔ آج تیرے لئے نہ نجات ہے نہ فریاد کیونکہ تو آج کے دن اور اس کے بعد سے غافل تھا، تو اس امت کے لئے مصیبت اور قہر تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ہزار شکر کہ اس نے تیری موت سے امت کو راحت بخشی اور تجھے مغلوب کر کے اس کی آرزو پوری کر دی۔ ”

 

                حجاج کی عجیب رحمت طلبی

 

راوی کہتا ہے حجاج یہ سن کر مبہوت ہو گیا۔ دیر تک سناٹے میں رہا، پھراس نے ٹھنڈی سانس لی، آنکھوں میں آنسوڈبدبا آئے اور آسمان کی طرف نظر اٹھا کر کہا:الٰہی!مجھے بخش دے کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ تو مجھے بخشے گا نہیں۔ پھر یہ شعر پڑھا۔

رب ان العبادقد ابا سونی ورجانی لک الفداۃ عظیم

الٰہی!بندوں نے مجھے نا امید کر ڈالا حالانکہ میں تجھ سے بڑی ہی امید رکھتا ہوں۔ یہ کہہ کراس نے آنکھیں بند کر لیں۔

اس میں شک نہیں، رحمت الٰہی کے بے کناروسعت دیکھتے ہوئے اس کا یہ انداز طلب ایک عجیب تاثیر رکھتا ہے اور اس باب میں بے نظیر مقولہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے حجاج کا یہ قول بیان کیا گیا تووہ پہلے تو متعجب ہوئے :”کیا واقعی اس نے یہ کہا”کہا گیا:”اس نے ایساہی کیا ہے۔ “فرمایا:تو شاید!

“یعنی اب شاید بخشش ہو جائے۔ (البدایۃ والنہایۃ ج9ص 138)

٭٭٭

کمپوزنگ اور تشکر: جاوید اقبال

ماخذ:

http://javediqbal.ueuo.com/?p=394

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید