FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

فہرست مضامین

انتخاب انشاؔء

 

 

 

               انشاؔء اللہ خاں انشاؔء

 

جمع و ترتیب: کاشفی، فرخ منظور،  رضوان نور، اعجاز عبید

 

 

 

 

 

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں

بہت آگے گئے، باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

 

نہ چھیڑ اے نکہتِ بادِ بہاری راہ لگ اپنی

تجھے اٹھکھیلیاں سوجھی ہیں، ہم بیزار بیٹھے ہیں

 

تصور عرش پر ہے اور سر ہے پائے ساقی ہر

غرض کچھ اور دھُن میں اس گھڑی میخوار بیٹھے ہیں

 

بسانِ نقش پائے رہرواں کوئے تمنّا میں

نہیں اٹھنے کی طاقت، کیا کریں، لا چار بیٹھے ہیں

 

یہ اپنی چال ہے افتادگی سے اب کہ پہروں تک

نظر آیا جہاں پر سایہء دیوار بیٹھے ہیں

 

کہاں صبر و تحمل، آہ ننگ و نام کیا شے ہے

یہاں رو پیٹ کر ان سب کو ہم یکبار بیٹھے ہیں

 

نجیبوں کا عجب کچھ حال ہے اس دور میں یارو

جہاں پوچھو یہی کہتے ہیں ہم بیکار بیٹھے ہیں

 

بھلا گردش فلک کی چین دیتی ہے کسے انشاؔ

غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

جس شخص نے کہ اپنے نخوت کے بل کو توڑا

راہِ خدا میں اس نے گویا جبل کو توڑا

 

اپنا دلِ شگفتہ تالاب کا کنول تھا

افسوس تو نے ظالم! ایسے کنول کو توڑا

 

تھا ساعتِ فرنگی – دل چپ جو ہو رہا ہے

کیا جانئے کہ کس نے ہے اس کی کل کو توڑا

 

دارا و جم نے تجھ سے کیا کیا شکست پائی

اے چرخ! تو نے کس کس اہلِ دول کو توڑا

 

لینی ہے جنسِ دل تو ظالم! تو آج لے چُک

پڑ جائے گا وگرنہ پھر اس کاکل کو توڑا

 

احوالِ خوش انہوں کا انشاؔ میاں جنہوں نے

اُس ذاتِ بحَت سے مل بندِ اجل کو توڑا

٭٭٭

 

 

 

 

 

شعلے بھڑک رہے ہیں یوں اپنے تن کے اندر

دوں لگ رہی ہو جیسے گرمی میں بن کے اندر

 

جو چاہو تم- سو کہہ لو- چپ چاپ ہیں ہم ایسے

گویا زباں نہیں ہے اپنے دہن کے اندر

 

ق

گل سے زیادہ نازک جو دلبرانِ رعنا

ہیں بیکلی میں شبنم کے پیرہن کے اندر

 

ہے مجھ کو یہ تعجب سووینگے پانوں پھیلا

یہ رنگ گورے گورے کیونکر کفن کے اندر!

 

غم نے ترے بٹھایا – اے ماہِ مصرِ خوبی!

یعقوب وار ہم کو بیت الحزن کے اندر

 

یوں بولتا کہے ہے – سنتے ہو میر انشاؔ!

” ہیں طرفہ ہم مسافر اپنے وطن کے اندر”

٭٭٭

 

 

 

 

گالی سہی، ادا سہی، چینِ جبیں سہی

یہ سب سہی، پر ایک نہیں کی نہیں سہی

 

گر نازنیں کے کہنے سے مانا ہو کچھ بُرا

میری طرف کو دیکھئے! میں نازنیں سہی

 

آگے بڑھے جو جاتے ہو کیوں کون ہے یہاں

جو بات تجھ کو کہنی ہے مجھ سے یہیں سہی

 

منظور دوستی جو تمہیں ہے ہر ایک سے

اچھا تو کیا مضائقہ! انشاؔ سے کیں سہی

٭٭٭

 

 

 

چھیڑا نہ کرو میرے قلم دان کے کاغذ

ہیں اس میں پڑے بندے کے دیوان کے کاغذ

 

اس طِفل کو بیتوں کا مری شوق ہوا تو

محسوس ہوئے سارے گلستان کے کاغذ

 

ہر وصلی سرکار پہ جدول ہے طلائی

اب آپ لگے رکھنے بڑی شان کے کاغذ

 

اس شوخ نے کل ٹکڑے زلیخا کے کیے اور

مارے سر استاد پہ پھر تان کے کاغذ

 

دس بیس اکھٹے ہیں خط آس پاس تو قاصد

لے جا کہ یہ ہیں سخت ہی ارمان کے کاغذ

 

کیا چہرۂ انشاؔ کا ہوا رنگ، کل اس کا

یک بار جو قاصد نے دیا آن کے کاغذ

‌‌٭٭٭

 

 

 

 

 

 

دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیں

کہ ابھی عرش کو چاہیں تو ہلا سکتے ہیں

 

مجھ سے اغیار کوئی آنکھ ملا سکتے ہیں؟

منہ تو دیکھو وہ مرے سامنے آ سکتے ہیں؟

 

یاں و آتش نفساں ہیں کہ بھریں آہ تو جھٹ

آگ دامان شفق کو بھی لگا سکتے ہیں

 

سوچئے توسہی، ہٹ دھرمی نہ کیجئے صاحب

چٹکیوں میں مجھے کب آپ اڑا سکتے ہیں

 

حضرت دل تو بگاڑ آئے ہیں اس سے لیکن

اب بھی ہم چاہیں تو پھر بات بنا سکتے ہیں

 

شیخی اتنی نہ کر اے شیخ کہ رندان جہاں

انگلیوں پر تجھے چاہیں تو نچا سکتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

دل کے نالوں سے جگر دکھنے لگا

یاں تلک روئے کہ سر دکھنے لگا

 

دور تھی از بسکہ راہ انتظار

تھک کے ہر پائے نظر دکھنے لگا

 

روتے روتے چشم کا ہر گوشہ یاں

تجھ بِن اے نور بصر دُکھنے لگا

 

درد یہ ہے ہاتھ اگر رکھا ادھر

واں سے تب سرکا ہاتھ دُکھنے لگا

 

مت کراہ انشاؔ نہ کر افشائے راز

دل دُکھنے دے اگر دُکھنے لگا

٭٭٭

 

 

 

کام فرمائیے کس طرح سے دانائی کو

لگ گئی آگ یہاں صبر و شکیبائی کو

 

عشق کہتا ہے یہ وحشت سے جنوں کے حق میں

چھیڑ مت بختوں جلے میرے بڑے بھائی کو

 

کیا خدائی ہے منڈانے لگے اب خط وہ لوگ

دیکھ کر ڈیوڑھی میں چھپ رہتے تھے جو نائی کو

 

وعدہ کرتا ہے غزالانِ حرم کے آگے

کس نے یہ بات سکھائی ترے سودائی کو

 

گرچہ ہیں آبلہ پا دشت جنوں کے اے خضر

تو بھی تیار ہیں ہم مرحلہ پیمائی کو

 

اک بگولا جو پھرا ناقہ لیلی کے گرد

یاد کر رونے لگی اپنے وہ صحرائی کو

 

مست جاروب کشی کرتے ہیں یاں پلکوں سے

کعبہ پہنچے ہے  جو مے خانے کی ستھرائی کو

 

جی میں کیا آ گیا انشاؔ کے یہ بیٹھے بیٹھے

کہ پسند اس نے کیا عالم تنہائی کو

٭٭٭

 

 

 

مستی ہی تیری آنکھوں کی ہے جام سے لذیذ

ہے ورنہ کون شے مئے گل فام سے لذیذ

 

چٹکارے کیوں بھرے نہ زباں تیرے ذکر میں

کوئی مزہ نہیں ہے ترے نام سے لذیذ

 

گالی وہ اس کی ہو ہو کی آنکھیں دکھاتے وقت

ہے واقعی کہ پستہ و بادام سے لذیذ

 

انشاؔ کو لذت اس کی جوانی کی حسن کی

ہے زور طِفلگی کے بھی ایام سے لذیذ

 

آ جاوے پختگی پہ جو میوہ درخت کا

وہ کیوں نہ ہو بھلا ثمر خام سے لذیذ

٭٭٭

 

 

 

نرگس نے پھر نہ دیکھا جو آنکھ اٹھا چمن میں

کیا جانے کس نے کس سے کیا کر لیا چمن میں

 

چڑھ بیٹھا یاسمیں کی گردن پہ عشق پیچاں

آیا کدھر سے کافر یہ تسمہ پا چمن میں

 

نالے پہ میرے نالے کرنے لگی ہے اب تو

بلبل نے یہ نکالا نخرا نیا چمن میں

 

تکلیف سیر گلشن ، اے ہم صفیر مت دے

اس گل بغیر میرا کب دل لگا چمن میں

 

کچھ اوس سی گلوں پر کیوں پڑ گئی یکایک

دیکھو تو کس نے کھولے بند قبا چمن میں

 

ایسی ہوا چلی ہے تو بھی نہ پوچھے کوئی

کوئل کا جاوے کوا گر منہ چڑا چمن میں

 

داؤدی آج پہنے عیسیٰ کا پیرہن ہے

ٹک سیر کیجئے عالم مہتاب کے چمن میں

 

مجھ کو دکھا جواس نے کاجل دیاتو اس کے

معنی یہ تھے کہ شب کو نرگس کے آ چمن میں

 

ایسی ہوا چلی ہے تو بھی نہ پوچھے کوئی

کوئل کا جاوے کوا گر منہ چڑا چمن میں

 

بجلی نہیں چمکتی نے ابر ہے ہی تجھ بن

پھرتی ہے آگ اڑاتی کالی بلا چمن میں

 

ہے کیوڑے کی مادہ کیا چیز کیتکی جو

اس بو کو تیری پہنچے وہ بوغما چمن میں

 

ہے ہے پھریری لے لے تیرا یہ کہتے جانا

چلتی ہے ٹھنڈی ٹھنڈی کیا ہی ہوا چمن میں

٭٭٭

 

 

 

سودا زندہ ہے تو یہ تدبیر کریں گے

اس زلف گرہ گیر کی زنجیر کریں گے

 

غصے میں ترے ہم نے بڑا لطف اٹھایا

اب تو عمداً اور بھی تقصیر کریں گے

 

دیکھیں گے کہ جب آتے تھے آپ ایک ادا سے

ہو چیں بہ جبیں تکیہ بہ شمشیر کریں گے

 

یہ نالہ جاں کاہ پر از حسرت و درد آہ

تا بند ترے دل میں نہ تاثیر کریں گے

 

چمکا ہے ترا رنگ جو نظارے سے اپنے

پوچھ اہل نظر سے کہ وہ تقریر کریں گے

 

چندے جو بسر یوں ہوئی اوقات تو ہم یار

مکھڑے کو ترے عالم تصویر کریں گے

 

دل شاد رکھ انشاؔ متفکر نہ ہو ہرگز

عقدے ترے حل حضرت شبیر کریں گے

٭٭٭

 

 

 

 

پیدا ہوا جی وثق سے جب سنگ میں کیڑا

پھر کیوں نہ پڑے زخم دل تنگ میں کیڑا

 

عکس لب جاں بخش سے جوں بیر بہیٹی

پھرتا ہے پڑا ایک قدح بنگ میں کیڑا

 

کیڑے کے پر انگیا میں لگا رادھکا بولی

ہے کرشن یہ کاٹے گا مرے انگ میں کیڑا

 

منہ چنگی نے فنکاری کی یہ لی جھجک کے

کیڑے نے کہا ہے ترے منہ چنگ میں کیڑا

 

جگنو کو نہ رکھ محرم شبنم میں، اری چھوڑ

ایک زہر بھرا میرے دل تنگ میں کیڑا

 

جھینگر کی سن آواز ، مراقب ہو کہے یہ

مشغول عبادت عجب آہنگ میں کیڑا

 

لچھے ہیں یہ ریشم کے نہ یہ خط شعاعی

ہے مہر بھی ایک عالم نیرنگ میں کیڑا

 

ڈورے تری آنکھوں کے اگر دیکھے تو وہیں

ریشم کا لگے آئینے کے زنگ میں کیڑا

 

بوسیدہ لغت چھانٹے ہے، اللہ کرے پڑ جائے

اے شیخ تری عقل کے فرہنگ میں کیڑا

 

وہ مور و ملخ فوج مضامیں ہے مرے پاس

جس کے نہ مقابل ہو کسی ڈھنگ میں کیڑا

 

شدھ شدھ دستے شدھ پائی پڑھو تو

موذی نہ رہے سیکڑوں فرسنگ میں کیڑا

 

زاہد جو چمک جائے تو جوں کرمک شب تاب

بے پیچ کوئی مقعد پر تنگ میں کیڑا

 

چونکے یہ گرہ بند سے، سمجھے کہ در آیا

دارائی کے ایک نیفہ، خوش رنگ میں کیڑا

 

اس دور میں افسوس نہیں خواجوی کرمان

ہوتا تو بٹھاتا وہ ہر اک رنگ میں کیڑا

 

من بعد فنا، ناک سے ایک ناگ ہو نکلا

تھا کبر کا وہ جو سر ہو شنگ میں کیڑا

 

سائل ہو جکت بولنے پر مجھ سے تو وہیں

پڑ جائے تھی گاہ جگت جنگ میں کیڑا

 

انشاؔ نے چھوا آبلہ، دل کو تو آیا

جان دار، سمندر نمط ، اک چنگ میں کیڑا

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

ٹک آنکھ ملاتے ہی کیا کام ہمارا

تس پر یہ غضب پوچھتے ہو نام ہمارا

 

تم نے تو نہیں، خیر یہ فرمائیے بارے

پھر کن نے لیا ، راحت و آرام ہمارا

 

میں نے جو کہا آئیے مجھ پاس تو بولے

کیوں، کس لئے ، کس واسطے کیا کام ہمارا؟

 

رکھتے ہیں کہیں پاؤں تو پڑے ہیں کہیں اور

ساقی تو ذرا ہاتھ تو لے تھام ہمارا

 

ٹک دیکھ ادھر ، غور کر،انصاف یہ ہے واہ

ہر جرم و گنہ غیر سے اور نام ہمارا

 

اے باد سحر محفل احباب میں کہو

دیکھا ہے جو کچھ حال تہ دام ہمارا

٭٭٭

 

 

خیال کیجئے گا، آج کام میں نے کیا

جب اُس نے دی مجھے گالی، سلام میں نے کیا

 

کہا یہ صبر نے دل سے کہ “لو خدا حافظ”

حقوقِ بندگی اپنا، تمام میں نے کیا

 

جنوں یہ آپ کی دولت، ہوا حصول مجھے

کہ ننگ و نام کو چھوڑا ، یہ نام میں نے کیا

 

مزا یہ دیکھئے گا، شیخ جی رُکے اُلٹے

جو اُن کا بزم میں ، کل، احترام میں نے کیا

 

ہوس یہ رہ گئی، صاحب نے پر کبھی نہ کہا

کہ “آج سے تجھے انشاؔ غلام میں نے کیا”

٭٭٭

 

 

 

کھولے جب چاند سے اس مُکھڑے کا گھونگھٹ عاشق

کیوں نہ پھر لیوے بلائیں تری چٹ چٹ عاشق

 

نہیں معلوم اجی تم نے یہ کیا پڑھ پھُونکا

کہ تمہیں دیکھتے ہی ہو گئے ہم چٹ عاشق

 

میکشی تم کرو غیروں سے بہم، تو، اپنے

گھونٹ لہو کے پیئے کیوں نہ غٹاغٹ عاشق

 

اے نسیمِ سحری اُس سے یہ کہیو کہ ترا

رات سے اب تو بدلتا نہیں کروٹ عاشق

 

اک غزل اور نئے قافیہ میں کہہ انشاؔ

جس کے سُنتے ہی وہ معشوق ہو جھٹ پٹ عاشق

٭٭٭

 

 

اچھا جو خفا ہم سے ہو تم، اے صنم، اچھا

لو، ہم بھی نہ بولیں گے خدا کی قسم، اچھا

 

مشغول کیا چاہیے، اِس دل کو کسی طور

لے لیویں گے ڈھونڈ، اور کوئی یار ہم اچھا

 

گرمی نے کچھ آگ اور بھی سینہ میں لگائی

ہر طور غرض، آپ سے ، ملنا ہے کم اچھا

 

جو شخص مقیمِ رہِ دلدار ہیں زاہد

فردوس لگے اُن کو نہ باغِ ارم اچھا

 

اس ہستیِ موہوم سے میں تنگ ہوں انشاؔ

واللہ، کہ اِس سے بے مراتب ، عدم اچھا

٭٭٭

 

 

 

 

ہے ظلم، اُس کو یار کیا ، ہم نے کیا کیا؟

کیا جبر اختیار کیا ہم نے، کیا کیا؟

 

اُس رشک گل کی خواہشِ بوس و کنار کو

اپنے گلے کا ہار کیا، ہم نے کیا کیا؟

 

دستِ جنوں سے اپنے گریبانِ صبر کو

اے عشق، تار تار کیا، ہم نے کیا کیا؟

 

رہ رہ کے دل میں ، آوے ہے انشاؔ یہی کہ کیوں

اُس دل کو بیقرار کیا، ہم نے کیا کیا؟

٭٭٭

 

 

 

 

پھنس گئے عندلیب ہو بیکس

ہائے تنہائی اور کُنجِ قفس

 

ہاتھا پائی ہوئی کچھ ایسی کہ پھر

اُن کی اُنگلی کی چڑھ گئی جھٹ نس

 

جبکہ دیکھا کہ چھوڑتا ہی نہیں

تب تو ٹھہری کہ دیں گے بوسے دس

 

ایک، دو، تین، چار ، پانچ، چھ ، سات،

آٹھ ، نو ، دس ہوئے بس انشاؔ بس

٭٭٭

 

 

 

مجھے کیوں نہ آوے ساقی نظر آفتاب الٹا

کہ پڑا ہے آج خُم میں قدحِ شراب الٹا

 

عجب الٹے ملک کے ہیں اجی آپ بھی کہ تُم سے

کبھی بات کی جو سیدھی تو ملا جواب الٹا

 

چلے تھے حرم کو رہ میں، ہوئے اک صنم کے عاشق

نہ ہوا ثواب حاصل، یہ ملا عذاب الٹا

 

یہ شب گذشتہ دیکھا کہ وہ خفا سے کچھ ہیں گویا

کہیں حق کرے کہ ہووے یہ ہمارا خواب الٹا

 

یہ عجیب ماجرا ہے کہ بروزِ عیدِ قرباں

وہی ذبح بھی کرے ہے، وہی لے ثواب الٹا

 

کھڑے چُپ ہو دیکھتے کیا، مرے دل اجڑ گئے کو

وہ گنہ تو کہہ دو جس سے یہ وہ خراب الٹا

 

غزل اور قافیوں میں نہ کہے سو کیونکے انشاؔ

کہ ہوا نے خود بخود آ، ورقِ کتاب الٹا

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

مجھے چھیڑنے کو ساقی نے دیا جو جام اُلٹا

تو کِیا بہک کے میں نے اسے ایک سلام اُلٹا

 

سحر ایک ماش پھینکا مجھے جو دکھا کے اُن نے

تو اشارا میں نے تاڑا کہ ہے لفظِ شام اُلٹا

 

یہ بلا دھواں نشہ ہے مجھے اس گھڑی تو ساقی

کہ نظر پڑے ہے سارا در و صحن و بام اُلٹا

 

بڑھوں اُس گلی سے کیونکر کہ وہاں تو میرے دل کو

کوئی کھینچتا ہے ایسا کہ پڑے ہے گام اُلٹا

 

درِ میکدہ سے آئی مہک ایسی ہی مزے کی

کہ پچھاڑ کھا  کے گرا وہاں دلِ تشنہ کام اُلٹا

 

نہیں اب جو دیتے بوسہ تو سلام کیوں لیا تھا

مجھے آپ پھیر دیجے وہ مرا سلام اُلٹا

 

لگے کہنے، آبِ مائع تجھے ہم کہا کریں گے

کہیں ان کے گھر سے بڑھ کر جو پھرا غلام الٹا

 

مجھے کیوں نہ مار ڈالے تری زلف الٹ کے کافر

کہ سکھا رکھا ہے تُو نے اسے لفظِ رام الٹا

 

تو جو باتوں میں رکے گا تو یہ جانوں گا کہ سمجھا

مرے جان و دل کے مالک نے مرا کلام اُلٹا

 

فقط اس لفافے پر ہے کہ خط آشنا کو پہنچے

تو لکھا ہے اس نے انشاؔ یہ ترا ہی نام الٹا

٭٭٭

 

 

 

 

 

دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیں

کہ ابھی عرش کو چاہیں تو ہلا سکتے ہیں

 

مجھ سے اغیار کوئی آنکھ ملا سکتے ہیں؟

منہ تو دیکھو وہ مرے سامنے آ سکتے ہیں؟

 

یاں وہ آتش نفساں ہیں کہ بھریں آہ تو جھٹ

آگ دامان شفق کو بھی لگا سکتے ہیں

 

سوچئے توسہی ہٹ دھرمی نہ کیجئے صاحب

چٹکیوں میں مجھے کب آپ اڑا سکتے ہیں

 

حضرت دل تو بگاڑ آئے ہیں اس سے لیکن

اب بھی ہم چاہیں تو پھر بات بنا سکتے ہیں

 

شیخی اتنی نہ کر اے شیخ کہ رندان جہاں

انگلیوں پر تجھے چاہیں تو نچا سکتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

کچھ یہ مجھی کو یوں نہیں اس کی پھبن نے غش کیا

غنچے بھی چٹ سے فق ہوئے سارے چمن نے غش کیا

 

نالہ بھرا جو یاد میں میں نے شمیم یار کی

نبضیں گلوں کی چھٹ گئیں بوئے سمن نے غش کیا

 

میرے تمہارے رابطے دیکھے بہم تو رشک سے

نل تو پچھاڑ کھا گرا اس کی دمن نے غش کیا

 

میں نے دوپٹا جب ترا آنکھوں سے اپنی مل لیا

اس کی شمیم ناز سے باد یمن نے غش کیا

 

اچھی غزل پڑھ اور ایک انشاؔ بدل کے بحر اب

سنتے ہی تیری گفتگو اہل سخن نے غش کیا

٭٭٭

 

 

 

 

جھوٹا نکلا قرار تیرا

اب کس کو ہے اعتبار تیرا؟

 

دل میں سو لاکھ چٹکیاں لیں

دیکھا بس ہم نے پیار تیرا

 

انشاؔ سے نہ روٹھ، مت خفا ہو

ہے بندۂ جاں نثار تیرا

٭٭٭

 

 

 

 

کچھ اشارا جو کیا ہم نے ملاقات کے وقت

ٹال کر کہنے لگے دن ہے ابھی، رات کے وقت

 

گرچہ مے پینے سے کی توبہ ہے میں نے ساقی

بھول جاتا ہوں ولے تیری مدارات کے وقت

 

موسمِ عیش ہے یہ عہد جوانی، انشاؔ

دور ہیں تیرے ابھی زہد و عبادات کے وقت

٭٭٭

 

 

 

بندگی ہم نے تو جی سے اپنی ٹھانی آپ کی

بندہ پرور، خیر آگے مہربانی آپ کی

 

لے کے میں اوڑھوں ، بچھاؤں یا لپیٹوں کیا کروں؟

روکھی پھیکی ایسی سوکھی مہربانی آپ کی

 

دو گلابی لا کے ساقی نے کہا انشاؔ کو رات

زعفرانی میرا حصہ، ارغوانی آپ کی

٭٭٭

 

 

 

گالی سہی، ادا سہی، چینِ جبیں سہی

یہ سب سہی، پر ایک نہیں کی نہیں سہی

 

گر نازنیں کے کہنے سے مانا ہو کچھ بُرا

میری طرف کو دیکھئے! میں نازنیں سہی

 

آگے بڑھے جو جاتے ہو کیوں کون ہے یہاں

جو بات تجھ کو کہنی ہے مجھ سے یہیں سہی

 

منظور دوستی جو تمہیں ہے ہر ایک سے

اچھا تو کیا مضائقہ! انشاؔ سے کیں سہی

٭٭٭

 

مآخذ:اردو محفل اور مختلف ویب سائٹس

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید