FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

فہرست مضامین

اللہ میاں کے مہمان

حصہ اول

حج 1997ء کا سفر نامہ ہلکے پھلکے رنگ میں

               اعجاز عبید

 

پہلی بات

مشتاق یوسفی کا کون مدّاح نہیں۔ ہم بھی ان کے خوشہ چینوں میں سے رہے ہیں۔ لیکن کچھ اس خوش فہمی کے ساتھ کہ در اصل ہماری ذہنی بُناوٹ (مائنڈ سیٹ) ان کا سا ہے۔ اگر چہ ہم نے شعوری کوشش کبھی نہیں کی کہ ان کی نقل کی جائے۔ اگر ہم جھوٹ نہیں بول رہے ہوں تو ہم نے اپنے پیسوں سے جو پہلی کتاب خریدی وہ “چراغ تلے” تھی۔ اس کے بعد “خاکم بدہن” بھی ہم نے اپنی ہی رقم سے خریدی، نہ کسی سے عاریتاً لی اور نہ چُرائی۔ تیسری کتاب جب سامنے آئی تو ہمارے گھر میں ہمارے، بلکہ ہماری نصف بہتر کے بھانجے افتخار بھی تھے۔ وہ خود بھی یہ کتاب خریدنا چاہتے تھے اور سوچا کہ ٹھیک ہے، گھر میں ایک کتاب تو رہے گی ہی۔ چنانچہ اس طرح ہم یہ کتاب “آبِ گُم” پڑھ کر بھول گئے۔ افتخار بھی دوسرے گھر میں شفٹ ہو گئے اور ہمیں بھی غمِ روزگار میں یہ یاد نہیں رہا کہ ایک کتاب اور بھی ہماری ذاتی ملکیت نہیں ہے۔ اس کے بعد ہم جب 1997 میں حج کے لئے گئے تو یہ حج کا دلچسپ (بزعمِ خود) سفر نامہ تخلیق کیا۔ اور اس کے پیشِ لفظ۔ کو وہی نام دے دیا “پس و پیشِ لفظ”۔ اور عرصے تک خیال بھی نہیں رہا۔ جب اپنی ہی کتاب پڑھتے تو اس لفظ سے لطف اندوز ہوتے۔

خدا کی کرنی یہ ہوئی کہ 2005 کے آخر میں ایک دوسرا سفر در پیش ہوا، امریکہ کا۔ ہیوسٹن میں تو ہمارا بیٹا کامران ہی رہائش پذیر ہے، قریب ہی ڈیلاس میں افتخار کے پاس بھی جانا ہوا بلکہ دو دن وہاں رہائش کے دوران افتخار میاں نے وہی کتاب ہم کو پیش کی کہ دو پہر میں جب تک باقی عوام محوِ خواب ہوں تو ہم اس سے لطف اٹھا لیں کہ ہم دن میں سوتے نہیں۔ عرصے بعد جب یہ کتاب دوبارہ پڑھی تو شروع کے صفحات نے ہی چونکا دیا۔ اور تب احساس ہوا کہ کہیں لا شعور میں اس کتاب کا “پس و پیشِ لفظ” محفوظ رہ گیا تھا جو “اللہ میاں کے مہمان” لکھتے وقت اس طرح سامنے آیا کہ ہم خود اب تک اسے اپنی ترکیب سمجھ کر خوش ہوتے رہے۔ یہ چند سطریں محض اس پس و پیشِ لفظ کا پیشِ لفظ ہے کہ اگرچہ ہمیں اب اس دیباچے کو استعمال کرنے میں پس و پیش۔ ہے، لیکن اس عرصے میں ہم نے اس قدر اسے اپنا سمجھ لیا ہے کہ اب خود سے جُدا کرنے کو جی نہیں چاہتا۔

اب اس اردو ویب ایڈیشن میں اس حلف نامے کے ساتھ مکمل کتاب پھر حاضر ہے۔ یہ کتاب اب تک اردوستان ڈاٹ کام سے قسط وار شائع ہوتی رہی ہے۔ لیکن تصویروں کی صورت میں۔ اب تحریری شکل کے لئے ہم اپنے ہی شکر گزار ہیں۔

اعجاز عبید

8 اپریل 2006

 

پس و پیش (لفظ)

ہم عرصے سے اس پس و پیش میں تھے کہ اس سفر نامے یا روزنامچے میں ، اگر کبھی شائع کرانے کی نوبت آئے تو، پیشِ لفظ لکھ کر پہلے ہی قارئین کو خبردار کر دیں یا پس لفظ لکھ کر ان سے معذرت کر لیں کہ انھوں نے نہ جانے کیا کیا توقعات رکھی ہوں گی ہم سے۔ پس و پیش یہ بھی تھا کہ اسے شائع بھی کروائیں یا نہیں بلکہ لکھیں بھی یا نہیں۔ بہرحال جب پس و پیش جاری رہا تو ہم نے عارضی طور پر اوپر والا عنوان دے کر انگریزی محاورے کے مطابق گیند کاتب صاحب کے پالے میں ڈال دی ہے کہ وہ کتاب کے شروع میں اس تحریر کو رکھیں یا آخر میں ۔ یہ تو امید رکھتے ہیں کہ کاتب صاحب کو اس میں تو پس و پیش نہ ہوگا کہ اس تحریر کا عنوان” پیش لفظ” کب کتابت کریں ا ور “پس لفظ ” کہاں۔ یہ جملہ لکھتے وقت ابھی خیال آیا کہ آج کل تو ہم اردو والے بھی خدا کے فضل اور امریکہ کے کرم سے کمپیوٹر کے دور میں داخل ہو گئے ہیں اور کاتب دور ماضی کی یادگار ہوتے جا رہے ہیں ۔ ” کلیدی تختے” (Keyboard) پر انگریزی حروف پر انگلیاں رکھ کر اردو حروف پیدا کرنے والے جادوگر کو کیا کہنا چاہیے قارئین اس پر ضرور غور کریں ۔

گذارش احوال واقعی کے طور پر کچھ باتیں گوش گذار کرنی تھیں ، اب آپ اس کو جو بھی نام دیں۔ اصل میں تو یہ ہمارا حلفیہ بیان ہے۔

شروع وہاں سے ہی کریں جہاں سے بات شروع ہونی چاہئے ۔

جانے ہماری کون سی نیکی کام آ گئی کہ 1997 کا حج نصیب ہو گیا۔ واقعہ سنا تھا کہ کو ئی بزرگ تھے جو تلبیہ پکارتے تھے “لَبَّیک اَلّٰہُمَّ لَبَّیک” ۔ “میں حاضر ہوں میرے اللہ ، میں حاضر ہوں” ، تو ا ن کو غیب سے صدا آتی تھی ” لَاَلَبَّیک” ۔ ان کی حاضری ہی قبول نہ تھی۔ مرحبا کہ نہ صرف ہمارا سفر ممکن ہو سکا بلکہ اس الرّحمٰن و رحیم کا رحم ہے کہ ہمارا لبّیک بھی قبول کیا گیا، حج کے ارکان بھی اللہ نے بخوبی ادا کروائے اور ہم کو ہر ہر بلا سے محفوظ بھی رکھا۔ جب اللہ میاں نے ہم کو مہمان بنانا قبول کر ہی لیا تو پھر خاطر تواضع بھی خاطر خواہ کرنی ہی تھی۔ لوگ کیا کہتے کہ پہلی بار کے مہمان کے ساتھ بھی کیسا سلوک کیا۔ اب یہ ہم خود ہی گواہی دیتے ہیں کہ ہم محض سوکھے ہی نہیں ٹرخائے گئے ہیں، رحمتوں کی بارش سے شرابور بھیگے ہوئے آئے ہیں۔

یہ بھی بتا دیں کہ ہم مان نہ مان میں تیرا مہمان قسم کے خود ساختہ مہمان نہیں تھے۔ ہمارا اشارہ اس حدیث کی طرف ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ عازمینِ حج اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔ “ضیوف الرحمٰن ّ۔ مکّے میں ہماری عمارت نمبر 468 کے قریب شعبِ عامر میں ہی غذائی سامان کی ایک دوکان تھی، اس کا نام ہی تھا “”بقالہ ضیوف الرحمٰن “”)۔ آپ مانیں یا نہ مانیں، ہم تو خود کو اللہ میاں کے مہمان ہی سمجھتے رہے بلکہ بہت بے تکلّف قسم کے۔ کہ تکلّف میں ذوقؔ صاحب کو ہی نہیں ہم کو بھی سراسر تکلیف ہی ہوتی۔ اس پروردگار کی طرف سے ہم نوازشوں کے امیدوار بھی رہے ا ور قطعی ناکام نہیں لوٹے۔ مراد یہ نہیں ہے کہ ہماری ساری مرادیں بر آئیں، ساری تکلیفات دور ہو گئیں یا ہماری کھانسی دمے کی تکلیف میں افاقہ ہو گیا۔ یہ بھی ہو جاتا تو مزید رحم و کرم ہی ہوتا، مگر یہی کیا کم ہے کہ ہم کو نہ جانے کیوں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم خالی ہاتھ نہیں لوٹے ہیں۔ کیا خدا کا یہ کرم بھی کم ہے کہ اس نے یہ سعادت ہمارے لئے لکھ دی۔

دوسری ایک اہم بات یہ عرض کرنی ہے کہ اللہ میاں کی مہمانی قبول کرنے والے کو ، بلکہ یوں کہیے کہ جسے اللہ میاں مہمان بنانا قبول کریں ، اسے تو بہت منکسر المزاج ہونا چاہیے تھا۔ اور یہاں ہم ہیں کہ”ما بدولتوں” کی طرح خود کو صیغۂ جمع میں لکھ رہے ہیں۔ حلفیہ بیان دیتے ہیں کہ ہم ما بدولت قطعی نہیں ہیں ، بس ایک روایت کا احترام کر رہے ہیں جو غالباً پطرس مرحوم سے شروع ہوئی تھی۔ پطرس نے واحد متتکلمّ کے لئے جمع کا صیغہ کیا استعمال کیا کہ یہ اب ہر طنز و مزاح نگار کی پہچان بن گیا ہے۔ شوکت تھانوی ہوں یا وجاہت سندیلوی، مشتاق احمد یوسفی ہوں کہ یوسف ناظم اور مجتبیٰ حسین ، سبھی یہ صیغہ اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ نثر کے طنز و مزاح میں ہم کو خود یہ ضروری محسوس ہونے لگا ہے۔ نہ لکھیں تو کچھ کمی سی محسوس ہو گی، چنانچہ عام بو ل چال میں چاہے ہم اپنے کو “ہم” نہ کہیں مگر جب قلم اٹھا کر اس کشتِ زعفران میں (جو میدانِ خاردار زیادہ ہے) قدم رکھتے ہیں تو بے ساختہ (بحرِ عروض کے ماہرین معاف فرمائیں) ؎ ڈبویا ہم کو (“ہم”) لکھنے نے، جو لکھتے ہم۔ تو “ہم ” لکھتے۔ قارئین کرام سے بھی معذرت۔

تیسری بات یہ کہ ہم نے اس سفرنامے /روزنامچے کے پہلے دِن ہی جو کچھ تحریر کیا ہے اس میں بھی کچھ “پیش لفظیت” آ گئی ہے۔ مگر کیوں کہ اصل پیش لفظ یہی ہے اس لئے یہاں “پہلا” دیں (یہ تحریر بعد کی ہے . اس لئے “دہرانا” کہنا چاہئے۔ مگر قارئین کرام تو پہلی بار یہ بات جان رہے ہیں، “ہم پائے کے ادیب ہیں” اور “کیا ہم سنجیدہ ہو سکیں گے” میں انہیں یہ محسوس ہوگا کہ ہم یہ بات دہرا رہے ہیں) کہ ہمارا ارادہ “حج گائڈ” قسم کی کتاب لکھنے کا تو نہیں تھا۔ اگر کسی قاری نے اسے “حج گائڈ” سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی کوشش کی تو بقول ابنِ انشا نتائج کا خود ذمّہ دار ہوگا۔ اگر توفیق ہوئی تو “پس پس لفظ” کے طور پر ضمیمہ ضرور شامل کیا جا سکتا ہے جس میں وہ باتیں شامل ہو سکیں جو حج گائڈ میں ہونی چاہئیں۔ ہماری کوشش تو یہی تھی کہ جو ہم پر گزرے گی، رقم کرتے رہیں گے (لوح و قلم کی پرورش ہو نہ ہو) اور ہماری دعا ہے کہ جو ہم پر گزری ہے وہ سب پر گزرے،یعنی سب کو حج نصیب ہو،مگر جو ہم نے نظارۂ بد دیکھا وہ خدا کسی کو نہ دکھائے ۔ یعنی منیٰ کی آگ کا حادثہ۔

اس سلسلے میں بھی کچھ عرض کرنی ہے۔ گرما گرم خبروں کے شوقین حضرات فوراً تلاش کریں گے کہ منیٰ کی آگ کا چشم دید حال ہم نے لکھا ہوگا، رننگ کمنٹری (Running Commentary) بلکہ “بَرننگ کمنٹری”(Burning Commentary) دی ہو گی ، مگر ان کو مایوسی ہی ہوگی، ہم کو تو خوشی ہے کہ ہم اس عذاب کو واقعی چشم دید نہیں کر سکے۔ لوگوں کی بھاگ دوڑ اور دھوئیں کے مرغولوں کے مناظر ہی ہماری آنکھوں میں محفوظ ہیں۔ اسی بھیگی بلیّ سے معلوم ہوا تھا کہ باہر بارش ہو رہی ہے۔ لیجئے، ہم اس موقعے پر بھی مزاح کا شکار ہو گئے۔

مختصر یہ کہ ہم نے جو کچھ دیکھا ہے، وہ سفر نامہ ہی کچھ زیادہ ہے۔ نہ حج گائڈ نما کتاب ہے اور نہ اس میں صحافیوں والی “کہانیاں” (جِن کو “اسکوپ” کہا جاتا ہے) ۔ شروع تو ہم نے کیا تھا کہ اسے ہلکے پھلکے انداز میں ہی غیر سنجیدگی سے لکھیں گے، مگر بعد میں اکثر جگہ یہ سفرنامہ محض ہو کر رہ گیا ہے۔ وجہ محض یہی رہی کہ ہم کو روزانہ لکھنے کا نہ وقت ملا اور وقت ملا تو طبیعت راغب نہیں ہوئی۔ اور کافی بعد میں جو پچھلی باتیں لکھتے رہے تو پھر قلم کو اس تیزی سے وقت کے ساتھ دوڑانا پڑا کہ نہ ہنسنے کی مہلت ملی نہ ہنسانے کی۔ حسِ مزاح کو بھی اسی طرح پیچھے چھوڑ دیا جس طرح ملکھا سنگھ کے بارے میں لطیفہ مشہور ہے کہ موصوف چور کو رنگے ہاتھوں پکڑنے گئے، اس کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اس سے دوڑ کا مقابلہ جیتنے کی کوشش کرنے لگے اور جیت کر بہت خوش ہوئے ۔ ہمارا یہی حال کبھی سنجیدگی کے ساتھ ہوتا ہے، کبھی حس مزاح کے ساتھ۔ یہاں تو خیر یہ شرط بھی تھی کہ واقعات بھی سارے لکھے جائیں ، اگرچہ کہیں سرسری ہی رہ جائیں۔ بہر حال جو چیز آپ کے سامنے ہے اس میں کہیں جذبۂ شوق کی کارفرمائی بھی ہے جو ممکن ہے کہ آپ کو بھی ہماری طرح رلا دے (ہم خود بھی کہیں کہیں لکھتے لکھتے چشمِ پر نم ہو گئے ہیں) تو کبھی کچھ اور بات آپ کو ہنسنے پر مجبور کر دے، کبھی محض کچھ معلومات ہی حاصل ہوں۔ کچھ ایسی ہی چیز ہے کہ “ہر مال دو ریال”، جیسے مدینے اور جدہ ایر پورٹ کے اکثر دوکان دار آوازیں لگاتے ہیں۔ یہ کتاب بھی ایسی ہی دوکان بن گئی ہے۔ (جو)قبول افتد زہے عز و شرف۔ اور یہ کہ ؎ ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اعجاز عبید۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

2 جون 1997

 

ہم پائے کے ادیب ہیں

بنگلور ۔ 27 مارچ 97ء ۔

40 ۔ 1 بجے دو پہر

بہت سے قارئین کرام نے شاید ہمارا نام بھی پڑھا یا سنا نہ ہوگا اور اگر یہ کتاب بھی شائع نہ ہوئی تو آئندہ بھی نہ سنیں گے۔ مگر یقین مانئے کہ ہم پائے کے ادیب ہیں۔ “پائے کے ادیب ” کا ارتقاء، ہمارا مطلب ہے اس محاورے کا ارتقاء کس طرح ہوا، ہمارا ناقص علم اس سلسلے میں معذور ہے۔ واللہ اعلم یہاں “پائے” سے کیا مراد ہے ؟ ویسے پائے بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ عالمِ حیوانات کے دو پایوں اور چار پایوں کے علاوہ، جن میں ہمارا بھی شمار ہونا چاہئے (مطلب اوّل الذکر میں)۔ بقول مشتاق یوسفی، ایسے بھی پائے ہوتے ہیں جن کو چوڑی دار پاجامہ پہنانے کو جی چاہے۔ ہمارا، بلکہ مشتاق یوسفی کا اشارہ چارپائی کے پایوں کی طرف ہے اور ان ہی کے بقول وہ پائے بھی ہوتے ہیں جن کو انھوں نے سریش سے تشبیہ دی ہے اور جسے ان کے یار غار اور ہمزاد مرزا عبدالودود بیگ دہلی کی تہذیب کی نشانی گردانتے ہوئے نوشِ جان کرتے ہیں۔ یہ نہاری پائے تو ہم کو بھی عزیز ہیں بشرطیکہ اس میں کام و دہن کی آزمائش نہ ہو۔ بہرحال اب ہم نے جب یہ فقرہ لکھ ہی دیا ہے تو امید ہے کہ آپ بھی اس کے معنی وہی سمجھیں گے جو ہم نے مراد لئے ہیں۔ اور اگر نہ سمجھیں تو ہمارے لئے وہی مثال ہو گی کہ نہ پائے ماندن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

معاف کیجئے، جملہ معترضہ کچھ “پیرا معترضہ ” ہو گیا۔ خدا نہ کرے کہ یہ کتاب ہی معترضہ ہو جائے۔

ہمارا مطلب دراصل یہ ہے کہ نظم و نثر میں خامہ فرسائی کرتے ہوئے اس حقیر فقیر بندہ پر تقصیر کو کم و بیش 30 سال گزر چکے ہیں۔ جو لکھا اس میں مشتے از چھپا بھی ہے چنیدہ چنیدہ رسائل (یعنی جن رسائل نے ہم کو چنا) میں۔ احباب کو بہر حال علم ہے کہ ہماری تخلیقات چھپیں یا نہ چھپیں، ہمارے ادبی قد و قامت میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ بطور شاعر ہم ضرور زیادہ جانے پہچانے گئے ہیں مگر نثر …..اللہ اکبر۔ افسانہ ناول کے علاوہ ہم چاہے تنقید لکھیں، خاکے لکھیں (یا اڑائیں) ، تاریخ یا سائنس کے موضوع پر قلم اٹھائیں، ہماری حسِ مزاح بری طرح پھڑک جاتی ہے۔ بلکہ در اصل یہ رگِ جان سے قریب ہی کوئی رگ واقع ہوئی ہے جو دھڑکن کے ساتھ دھڑکتی ہے۔

چار پانچ دن پہلے ہی یہ خیال آ یا کہ سفر بیت اللہ کے تاثرات پر مبنی کچھ لکھا جائے۔ رپورتاژ، سفر نامہ، ڈائری۔ جو بھی کہہ لیجیے ۔ جب حرمین میں داخل ہوں گے اس وقت کے تاثرات ممکن ہے کہ سنجیدہ ہوں، لیکن عام حالات میں (ابھی تو احرام سے بھی باہر ہیں۔ ویسے مزاح تو احرام کی حالت میں بھی حرام تو نہیں ہو گا) سنجیدگی کا دامن….. مگر یہ سنجیدگی کون ہے……؟

کیا ہم سنجیدہ ہو سکیں گے؟

جب قلم ہاتھ میں آتا ہے تو جیسا موڈ ہوگا، وہی زبانِ قلم سے ادا ہونا چاہئے۔ یہی سچّے ادیب کی پہچان ہے (کیا ہم یہ دعویٰ بھی کرنے لگے؟)۔ ہم عام حالات میں بھی طنز و مزاح کے شکار اسی طرح رہتے ہیں جیسا کھانسی اور دمے کے۔ کیسی بھی پریشانی اور تکلیف ہو ، اس کی شدّت کا اثر زائل ہو کر جیسے ہی نارمل ہوتے ہیں، سنجیدگی دامن چھڑا کر بھاگ جاتی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ اس ماڈرن لڑکی کا نام ہے جس کے پیچھے پیچھے یا ساتھ ساتھ بھاگتے بھاگتے ہم اس کا دامن پکڑنے (اور اگر ہاتھ آ جائے تو تھامے رہنے ) کی کوشش کرتے ہیں کہ بس اسٹاپ آ جاتا ہے اور متعلقہ نمبر کی بس آ کر رکتے ہی چل دیتی ہے اور ہم انگریزی محاورے کے مطابق بَس بھی مِس کر دیتے ہیں اور اِس مِس پر بھی بَس نہیں چلتا۔

جب ہم حج کے اجتماع کا حصہ بن جائیں گے تو اُس وقت کے تاثرات میں شاید مزاح دامن چھڑا کر بھاگ جائے (ویسے اس کی امید کم ہی ہے)۔ اپنی طرف سے یہ کوشش تو کر ہی سکتے ہیں کہ جو کچھ اس سفر میں لکھتے جا رہے ہیں، بعد میں فرصت نکال کر کانٹ چھانٹ کریں۔ معلومات والے حصّے حج گائڈ پڑھنے والوں کے لیے علیٰحدہ ، بصیرت افروز (اور بصیرت انگیز) حصّوں کا الگ انتخاب کریں اور رطب و یابس کو الگ چھان پھٹک کر نکال دیں (کنول مگر کیچڑ میں ہی کھلتا ہے)۔ لیکن اگر کوشش نہ کی جا سکے تو بھی قارئین خود سمجھ دار ہیں، یہ خدمت انجام دے سکتے ہیں کہ جس موقعے پر جو چاہیں پڑھیں۔ یہ بات تو بہر حال طے ہو گئی کہ ہم پائے کے ادیب ہیں، جو بھی لکھیں گے، اس کے معیاری ہونے میں چہ شک!!

ہم ہندوستان میں رہتے رہتے حاجی ہو گئے

تقریباً دو ماہ سے ہم یہی دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے پیارے اردو اخبار والے”زائرینِ حج” اور “عازمینِ حج”(جو بلا شک و شبہ ہم ہیں) کے علاوہ ہم جیسے مسافروں کو “حجاجِ کرام” بلکہ بنگلور کے حج کیمپ میں ہی جا بجا لگے پوسٹروں پر “حاجیاں” کے نام سے یاد کئے جانے لگے ہیں جو کہ ہمارا مستقبل ہے دراصل، بلکہ انشاء اللہ۔ مگر حج سے پہلے ہم کو حاجی بنا دیا گیا ہے۔ یہ کچھ غور و فکر کا مقام ہے۔ یہی حال یہاں نظر آنے والی کاروں کا ہے جس پر اردو میں “حجاجِ کرام” لکھا ہے (انگریزی میں Haj Pilgrimsاور ہندی میں محض “حج یاتری”)۔ خدا ان کی نیک دعائیں ہمارے حق میں قبول کرے اور ہم واقعی “حجاجِ کرام” بن کر لوٹیں۔ مگر یہ سوال اپنی جگہ باقیست کہ کیا عازمینِ حج کو حجاجِ کرام کہا جا سکتا ہے؟

بنگلور حج کیمپ

آج صبح ہم شمیم ٹریولس کی ہائی ٹیک (High Tech یاHi tech ) ڈی لکس بس جس کی عرفیت “پن ڈْبّی” (Submarine) تھی ، سے حیدرآباد سے بنگلور سیدھے ڈکنسن روڈ پر واقع مسلم یتیم خانے اور الحصنات کالج کیمپس میں سجائے گئے حج کیمپ پہنچ گئے ہیں۔ حیدر آباد سے بنگلور سفر کے لئے بنگلور کے شمیم ٹریولس والوں نے مفت انتظام کیا ہے جو کرناٹک حج کمیٹی کے لئے قابلِ فخر اقدام ہے۔ یہاں ہم اپنے انٹر نیشنل قاریوں کو اطلاع دے دیں کہ شہر بنگلور ہندوستان کی ریاست کرناٹک کی راج دھانی ہے۔ حج کمپ اور بسوں کے انتظام کا سہرا کرناٹک کی حکومت کے وزیر امورِ داخلہ و اوقاف جناب آر.روشن بیگ کے سر ہی ہے۔ یہ جواں سال اور فعّال جنتا دل (سیاسی پارٹی جو یہاں زیر اقتدار ہے) کے لیڈر کرناٹک حج کمیٹی کے چیر مین بھی ہیں۔ ان کی کوششوں سے ہی سال گزشتہ 1996 سے حج کے لئے جدّہ تک بنگلور سے راست پرواز کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ جس نے بھی روشن بیگ صاحب کو “خادم الحجاج” کا خطاب دیا ہے، بجا دیا ہے کہ یہ خطاب دراصل انھوں نے پہلے ہی اپنے لئے پسند کر لیا تھا، کوئ یدے یا نہ دے۔ یہاں حج کیمپ کے انتظامات بھی تسلّی بخش ہوں، اس امر کا بھی انہوں نے کافی خیال رکھا ہے۔ آج شام کو روشن بیگ صاحب کے دیدار بھی ممکن ہیں کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے پنڈال میں اعلان کیا گیا ہے کہ حیدرآباد کے کسی صاحب حاجی محمد عمر صاحب کی کتاب، جو سورۂ عصر کی تفسیر ہے، کے اجراء کے لیے روشن صاحب ہی تشریف لا رہے ہیں۔

یہاں کا انتظام واقعی عمدہ ہے۔ اگر کسی کو شکایت ہو تو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ ہزاروں کے انتظام میں بد نظمی بلکہ بد امنی تک کا خطرہ ہو سکتا ہے، اور اس حد تک بد انتظامی یہاں قطعی نہیں ہے۔ یہ محض امکان کی بات کر رہے ہیں ہم۔ ویسے اب تک کسی کو شکایت کرتے ہوے نہیں دیکھا ہے۔ مختلف کاؤنٹرس ہیں ، پہلے استقبال، ایک طرف کلوک روم۔ رہائش اور طعام کے کوپنوں کے کاؤنٹرس ، یہ سب باہر کی سمت، اندر پنڈال میں نماز اور اجتماعات کا انتظام، اسی کا ایک حصّہ خواتین کے لئے بھی مخصوص۔ اگرچہ مسجد بھی اسی کیمپس میں ہے، مگر اس “منی حج” کی سمائی اس مسجد میں کہاں ممکن؟ چنانچہ ابھی جمعے کی دو جماعتیں ہوئی ہیں، بلکہ اس وقت، دمِ تحریر، پنڈال میں جمعے کا خطبہ شروع ہو رہا ہے، جب کہ ہم اصل مسجد میں نمازِ جمعہ سے فارغ ہو کر 2 بجے سے کافی قبل آ کر یہ موقع غنیمت جان کر قلم لے کر بیٹھ گئے ہیں۔ صابرہ، ہماری نصف بہتر، پنڈال کی جماعت میں ہیں۔ لنچ کے کوپن محترمہ کے پرس میں ہیں۔ پہلے سوچا تھا کہ نماز کے بعد اپنے کمرے آ کر کوپن لے جا کر لنچ سے فارغ ہو جائیں، صابرہ کے آنے تک، پھر اطمینان سے یہ ڈائری لکھیں گے۔ مگر اب یہ ممکن نظر نہیں آتا۔ 3 بجے سے پہلے وہاں نماز کی تکمیل مشکل ہی ہے۔ اس لئے ابھی یہ کام شروع کر دیا ہے۔

پنڈال کے ہی ایک طرف وضو کا انتظام ہے۔ باہر کی طرف “قیمتی” یعنی قیمت ادا کر کے خریدی جانے والی طعامی اشیاء کی دوکانیں ہیں۔ 2 روپئے پیالی چائے مل رہی ہے، وہی ہم صبح سے دو بار پی چکے ہیں۔ “Thums Up” کے اسٹال پر ہی مشروب محض 3 روپئے میں دستیاب، بلکہ “دہن یاب” ہے۔ آئس کریم کے علاوہ با قاعدہ کھانے کی بھی ہوٹلیں ہیں، غالباً عازمینِ حج کے رشتے داروں اور احباب کے لئے، جن کو کیمپ میں جگہ نہ دی جا سکی ہو۔ ویسے کیمپ کے قوانین میں لکھا تو تھا کہ ہر پارٹی میں دو عدد غیر عازمین بھی حج کیمپ میں ساتھ رہ سکتے ہیں۔ مگر ان کے کھانے کا انتظام نہیں رکھا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان کے طعام کے لئے ہوٹلوں کی ضرورت ہوگی ہی۔

رہائشی حصےّ کا الگ احاطہ ہے، اسی میں اسپتال، کچن، ڈائننگ ہال، مردوں اور عورتوں کے لئے علیٰحدہ غسل خانے ا ور بیوت الخلاء( عورتوں کے لئے تین جگہوں پر)، ان کے علاوہ مختلف رہائشی ہال ہیں۔ ذرا ان کے نام بھی سن لیجئے….. منیٰ ہال، صفا ہال، مروہ ہال، عرفات ہال، فردوس ہال، اور ہم جس ہال میں خوش حال ہیں، اس کا نام ہے نِمرہ ہال۔ ویسے ہم ہر حال میں خوش حال ہیں۔

حاجی بنگا

یادش بخیر، 30۔ 35 سال قبل جب حضرتِ آتش کو تو قبر رسیدہ ہوئے بھی صدیاں گزر چکی تھیں، مگر ہم جوان نہیں، جوان ہونے کے خواب دیکھ رہے تھے، بچّوں کے لئے ایک کتاب چھپی تھی””حاجی بمبا کی ڈائری”” جو دہلی کے ماہنامہ “پیامِ تعلیم” میں قسط وار شائع ہونے کے بعد مکتبہ جامعہ یا شاید مکتبہ پیامِ تعلیم سے ہی کتابی صورت میں شائع ہوئی تھی۔ اب مصنّف کا نام بھی ذہن میں نہیں(غالباً یوسف ناظم، مگر صحیح معلومات کے لئے “کتاب نما” دیکھنا پڑے گا، اگر اب بھی یہ کتاب دستیاب ہے تو)۔ موصوف، مطلب مصنّف نہیں، اس کتاب کے واحد متکلم ّ، اس لئے حاجی بمبا کہے جاتے تھے کہ حج کے ارادے سے حضرت بمبئی تک تو پہنچ گئے، مگر اس کے آگے سفر کی زحمتوں سے گھبرا گئے شاید۔ یوں بھی وہ زمانہ ہوائی سفرِ حج کا نہیں تھا۔ موصوف بمبئی میں ہی رک گئے اور اس طرح کئی زحمتوں سے محفوظ اور بے شمار رحمتوں سے محروم رہے، وہ الگ، مگر حاجی کے لقب سے محروم نہ رہے۔ وہ حاجی بمبا کہلائے جانے لگے، مصنّف شاید آج کے زمانے میں یہ داستان لکھتے تو ان کا نام “حاجی مُمبا” ہوتا کہ عروس البلاد بمبئی کا پچھلے 4۔ 3 سال سے مُمبئی نام ہے۔ اب ہمارا رخشِ تصور دوڑنے لگا ہے۔ اس سال ہماری حج کمیٹی نے پانچ جگہوں سے حجاجِ کرام کو روانہ کرنے کا انتظام کیا ہے۔ دہلی، ممبئ، چینئی (سابق مدراس)، کلکتہ اور بنگلور، جہاں سے جدّہ کے لئے راست پروازیں ہیں۔ چنانچہ ان مقامات سے ہی لوٹنے والوں کو بالترتیب حاجی ممْبا، حاجی چّنا (جو آندھرا پردیش کی تیلگو زبان میں “چھوٹے میاں” کا ترجمہ ہو جائے گا)، حاجی کلکا ( کل کا، آج کا نہیں؟؟) اور یہاں بنگلور کے لئے حاجی بنگا کہا جا سکتا ہے۔ چنانچہ ہم لمحۂ موجود تک حاجی بنگا تو ہو ہی چکے ہیں (اور آپ “حاجی بنگا کی ڈائری” پڑھ رہے ہیں) اگر چہ بنگلور سے لوٹنے کی نوبت تو نہیں آئی ہے اور خدا نہ کرے کہ آئے۔ حاجی تو ہم دو ماہ قبل سے ہی پکارے جا رہے ہیں، جیسا کہ لکھ چکے ہیں۔ اور آج صبح 7 بجے سے، یعنی جب سے ہماری “پن ڈبیّ” یہاں اتری ہے، ہم منیٰ اور عرفات میں گھومتے بھی رہے ہیں اور صفا (ہال) اور مروہ (ہال) کے درمیان سعی بھی کرتے رہے ہیں۔

آج صبح رجسٹریشن وغیرہ اور قیام و طعام کے انتظامات اور ضروریات کے بعد پہلا جو ناشتہ کیا ہے وہ نمکین سویاں تھیں جن کے ساتھ آلو کا شوربہ تھا۔ اب رات یا کل جب لکھنے کا موقع ملے گا تو دو پہر اور رات کے کھانے کا احوال بھی لکھ دیں گے۔ مرحوم ابنِ انشاء سے لوگوں کو یہ شکایت تھی کہ موصوف چاہے “ابنِ بطوطہ کے تعاقب میں ” نکلیں یا “دنیا گول ہے”۔ کو ثابت کرنے، ہر غیر ملک میں ہوٹلوں کے غسل خانے ہی ناپتے رہتے تھے، ہمارے اس سفر نامے میں شاید طعام کا ذکر غسل خانوں سے زیادہ ہی ہو گا کہ ہمارے نزدیک پیٹ کی اہمیت بدن کی ظاہری صفائی کی بہ نسبت زیادہ ہے۔ بازار میں تقویٰ کا لباس کہیں مل نہ سکا ورنہ اسی کو زیبِ تن کئے رہتے۔ در اصل ہم روح اور ضمیر کی صفائی کے قائل ہیں اور اس صفائی کا خیال جب ہی آتا ہے جب آپ کا پیٹ بھرا ہوا ہو۔ اچھّے کھانے کے بعد جو فرحت حاصل ہوتی ہے، اسی حالت میں روح کی بالیدگی پیدا ہوتی ہے۔ اب کیوں کہ دوپہر کے تین بجنے والے ہیں، اس لئے ممکن ہے کہ یہ سطریں ہم سے بھوک لکھوا رہی ہو۔ اب پیٹ بھرنے کے بعد ہی لکھیں گے کہ قلم سے ندیدہ پن تو نہ ٹپکے!!

رہ شوق کے مسافر، تری آ گئی ہے منزل۔ ۔ ۔

مکّہ، یکم اپریل۔ 50۔ 10 بجے صبح

تین دن سے ہم کچھ نہیں لکھ سکے۔ یہاں مکّہ مکرّمہ پہنچ کر زیادہ تر وقت حرم شریف میں گزر رہا ہے۔ اب تک قلم کاغذ لانا بھول جا رہے تھے، آج لے کر آئے ہیں اور اس وقت باب السلام سے اندر داخل ہو کر مسعیٰ اور مطاف کے درمیان کے دالان میں بیٹھے ہیں۔ مسعٰی صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے کا راستہ ہے اور مطاف وہ دائرہ جس میں طواف کیا جاتا ہے اور جو اندرونی صحنِ حرم سے لے کر باہری پہلے دالان تک ہے۔ کعبۃ اللہ سامنے ہے۔ جی نہیں چاہتا کہ اس کے سامنے سے نظریں ہٹائی جائیں۔ حج کے سلسلے میں جو کتابیں ہماری نظر سے گزریں، سبھی میں احادیث درج ہیں کہ محض کعبۃ اللہ کو دیکھتے رہنے سے بھی 20 رحمتیں نازل ہوتی ہیں، یہاں نماز پڑھنے والوں پر 40 اور طواف کرنے والوں پر ساٹھ، یعنی کل ایک سو بیس (120) رحمتیں۔ یہ گنتی اللہ میاں ہی جانیں کہ ان رحمتوں کے نزول کا مطلب کیا ہے۔ مگر ہم جو سامنے کعبۃ اللہ کو دیکھے جا رہے ہیں تو اسی گھر کے مالک کی قسم! ہم ان رحمتوں کے طلب گار نہیں ہیں۔ ہماری رو سیاہی کے باوجود خدائے رحیم ہم پر اتنی ہی، یا کچھ کم زیادہ، رحمتیں نازل کرے تو بات دوسری ہے۔ ہم کو اس سے غرض نہیں۔ یک گونہ بے خودی ہمیں دن رات چاہئے۔ یہ تو نگاہِ شوق کا معاملہ ہے۔ آخر اس سیاہ غلاف پوش عمارت میں کیا کشش ہے ؟ غلاف کے نیچے جو پتھّر نظر آتے ہیں، وہ ایسے ہی ہیں جن سے ہر جگہ نہیں تو کم از کم حیدر آباد میں ، مکان کی بنیاد میں گرینائٹ کے بلاکس کی چار دیواری بنائی جاتی ہے۔ سیاہ غلاف اور اس پر سنہری کام، اور جو آیات کشیدہ کی گئی ہیں، وہ خوب صورت ضرور ہیں، مگر پھر بھی ایسی مثالیں نایاب تو نہیں۔ تقریباً دو ٹن وزنی خالص سونے کا دروازہ ہے۔ مگر اس میں تموّل کی نشانی کے علاوہ کون سی ایسی خاصیت ہے، اکثر محلوں کے دروازے سونے کے ہوا کرتے تھے۔ ایک کونے میں ایک چاندی کا حلقہ ہے جس میں کسی سیمنٹ میں ایک پتھّر کے 22 ٹکڑے جڑے ہیں۔ یہ سنگِ اسود ہے۔ ہاں، یہ ضرور کہیں نہیں ملے گا کہ کہا جاتا ہے کہ یہ پتھّر جنّت الفردوس سے لایا گیا تھا۔ ہمارے صدرِ شعبہ، ہماری مراد مادر درس گاہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ۔ ارضیات کے صدر مرحوم پروفیسر فخر الدین احمد سے ہے جو ہماری طالب علمی کے زمانے میں 1975؁ تک صدر رہے،ان کا خیال تھا کہ یہ ضرور کسی شہابِ ثاقب کا ٹکڑا ہوگا۔ کسی طرح اس کا کوئی ٹکڑا مل جائے تو خوردبین سے پرکھا جائے۔ ہمارے فخر الدین احمد تو اسی خواہش کو لئے سال گزشتہ ہی جنّت مکانی ہو گئے۔ مطلب یہ کہ اگر یہ پتھّر واقعی شہابِ ثاقب ہے بھی، تو ایسے لاکھوں ٹکڑے اس کرّہ ارض پر ابھی بھی موجود ہیں، کم از کم ہر ارضیاتی میوزیم میں۔

اچھّا ۔ اب دین کی طرف بھی آئیے۔ مان لیا کہ حج فرض ہے، اور حج میں طوافِ کعبہ بھی فرض ہے۔ حضرت ابراہیم کے زمانے سے جب اس کی تعمیر ہوئی تھی، تب سے لوگ حج کرتے آئے ہیں۔ لیکن حج تو مخصوص دنوں میں ہے، صرف ان دنوں میں حج کی وجہ سے اس کی اہمیت ہونی چاہئے تھی۔ ہاں، نماز کے لئے اس کا استقبال ضروری ہے یعنی اس کی طرف رخ کرنا۔ حالاں کہ ہم میں سے بیش تر لوگ نماز کی نیّت کرتے وقت محض عادتاً کہتے جاتے ہیں ” منہ میرا کعبے شریف کی طرف” مگر اس سے تو صرف یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ ؎ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز۔ یعنی ساری دنیا کے مسلمانوں میں یکسانیت بلکہ یک جہتی کے احساس کے لئے کہ آپ کسی بھی نقطۂ ارض پر ہوں، نماز پڑھیں گے تو اسی پتھرّ کی عمارت کی طرف۔

ان ساری حقیقتوں کو ایک ساتھ بھی ملا لیجئے اور محض دماغ سے سوچئے، دل کے دروازے کو مقفلّ کر دیجئے اور سوچئے کہ کیا اس کا جواز ہے کہ لاکھوں کروڑوں لوگ یہاں کھنچے چلے آتے ہیں۔ یہ بات پاسبانِ عقل کو کبھی کبھی ہی نہیں، ہمیشہ تنہا چھوڑ دینے کی ہے۔ اس سیاہ غلاف پوش عمارت میں کیا کشش ہے کہ ہر ملک کے مسلمان…طرح طرح کے لباس…قسم قسم کے چہرے…سینکڑوں زبانیں…اب سامنے ہی دیکھئے، کئے جا رہے ہیں طواف کے بعد طواف ۔ بس اسی کے لئے لوگ چلے آتے ہیں؎ شوق کھینچے لئے آتا ہے، چلا آتا ہوں۔

لوٹ پیچھے کی طرف….

قارئینِ کرام بے صبر نہ ہوں کہ ہم اچانک بنگلور حج کیمپ پہنچ کر 28/مارچ کی دو پہر کے بعد سے اب تک کچھ نہ لکھ سکے اور اب تک خاموش رہے ہیں اور درمیان کا کچھ حال نہیں لکھا ہے۔ دراصل ابھی جب قلم اٹھایا ہے تو بے اختیار سامنے کے نظارے نے ہوش گم کر دئے اور ہم “حال “میں۔ آ کر حال کی باتیں کرنے لگے۔ لوٹ پیچھے کی طرف…

چنانچہ اب شروع سے شروع کرتے ہیں، یعنی جہاں سے بات ختم کی تھی۔ پہلے ایک ممکنہ غلطی یا غلط فہمی کا ذکر کر دیں۔ ریاست کرناٹک کے وزیرِ امورِ داخلہ اور اوقاف جناب روشن بیگ صاحب کے بارے میں۔ ہم نے ان کے لئے خادم الحجاج کا خطاب بنگلور کے ایک روزنامے میں پڑھا تھا۔ مگر حج کیمپ میں ہی ایک جگہ Bannerلگا دیکھا “”جناب آر. روشن بیگ کو محسن الحجاج کا خطاب مبارک ہو”” پنڈال میں بھی ایک صاحب نے تقریر میں یہی خطاب دیا گیا تھا جو واقعی صحیح بھی ہے۔ ظاہر ہے روشن صاحب خود کو چاہے خادم کہہ لیں مگر ان کی تکریم کے لئے تو یہ خطاب غلط ہے۔ اخبار میں چھپی بات کو ہم مستند سمجھے۔ اسی لئے اس اخبار کا نام بھی نہیں لکھ رہے ہیں جو کہ حج کیمپ میں مفت تقسیم ہوا تھا۔ اگر روشن بیگ صاحب ہی کبھی یہ تحریر پڑھ سکیں تو ہم بھی اس خطاب پر ان کو مبارک باد دیتے ہیں اور تہہِ دل سے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ واقعی عازمین حج کے لئے جو بنگلور حج کیمپ میں انتظامات کئے گئے تھے، ان میں ان کا بہت ہاتھ تھا اور اس کے لئے یقیناً شکرئیے کے مستحق ہیں۔

بنگلور حج کیمپ ۔ پہلے د و د ن

رسالہ “شمع” دہلی میں ، کم از کم جن دنوں میں ہماری نظروں سے یہ پرچہ گزرتا تھا، اس میں ایک دو افسانے ایسے ہوتے تھے جن کے سر نامے پر لکھا ہوتا تھا “مختصر مختصر کہانی ، ایک ہی صفحے میں مکمل”۔ پہلے تو ہم نے بھی یہی سوچا کہ ہم بھی بنگلور کیمپ کا احوال اسی طرح ختم کر دیں۔ اب دیکھئے کتنا طویل ہوتا ہے۔

اس دن دو پہر کو ہمارے تحریر کرنے کے بعد صابرہ رہائشی ہال میں آئیں تو ہم نے کھانے کے کوپن لئے اور کھانے کے لئے گئے۔ اب ڈائننگ ہال دیکھئے۔ اس میں چھ طویل میزیں تھیں ، سامنے مردوں کے لئے اور اندرونی حصے میں عورتوں کے لئے۔ ہم نے گنیں تو نہیں، مگر ہر میز پر تقریباً 25 کرسیاں ضرور ہوں گی یعنی تقریباً 300 لوگوں کے لئے بیک وقت بیٹھنے کا انتظام۔ بنگلور سے روانہ ہونے والے 2 ہزار عازمین کے لحاظ سے چھ نشستوں میں ہی کھانا۔ ممکن تھا۔ یہی وجہ تھی قطار لگنے کی۔ ایک طرف ڈرم میں پینے کے پانی کے پاؤچ یا سیشٹ( Sachet ) رکھے تھے۔ صاف شدہ پانی (منرل واٹر) کے مہر بند پیکٹ۔ میزوں پر بھی ہر پلیٹ کے پاس پانی کے پیکٹ۔ پہلے دن دوپہر کے کھانے میں پلیٹ میں گوشت کی بوٹیاں پہلے سے ہی رکھی تھیں ، محدود مقدار میں اس لئے کہ سب کو مل سکیں، اگرچہ یہ مقدار محدود یعنی کم نہیں تھی۔ اس کے ساتھ سبزی کی بریانی اور رائتہ ، جسے دکن میں دہی کی چٹنی کہا جاتا ہے، ذائقہ بھی اچھّا تھا ۔ والنٹئرس بھی اچھی مدد کر رہے تھے۔ صابرہ تو کھا چکی تھیں، ہم اکیلے تھے۔ یوں بھی خواتین کا انتظام الگ تھا اس لئے ایک ہی میز پر ساتھ ساتھ تو نہ ہوتے۔ بہر حال ہمارے پاس حیدر آباد سے لایا ہوا کھانے کا ٹفن ساتھ تھا جس میں کچھ کباب اور ٹماٹر کا سالن باقی تھا، چنانچہ اس کو بھی ختم کیا گیا۔ ڈبّہ کھلنے میں مشکل ہو رہی تھی تو اس کے لئے بھی ایک والنٹیر نے اپنی خدمات پیش کیں۔ آس پاس کے سات آٹھ حاجیوں (ہم بھی اب سب کو حاجی ہی لکھیں گے کہ یہاں سب کو “حاجی “ہی کہا جا رہا ہے ) کو بھی کباب اور سالن تقسیم کیا۔

کھانا کھا کر کچھ دیر آرام کر کے ہم دونوں باہر نکلے۔ شام کی چائے پی۔ حج کیمپ کے باہر سڑک پر بھی بازار لگا تھا۔ “حاجیوں” کی ضرورت کی اشیاء کا ہی۔ ہم کو بھی ایک بیلٹ لینا تھا جسے احرام کی کمر والی چادر پر لپیٹ سکیں تاکہ اسے بار بار سنبھالنا بھی نہ پڑے اور رقم یا ضروری کاغذات بھی بیلٹ کے خانوں میں محفوظ رہیں۔ چنانچہ ایسا ہی پاؤچ والا بیلٹ ہم نے خریدا۔ پھر اگرچہ ہم نے کچھ سامان پر نام لکھ رکھا تھا مگر مزید محفوظ بنانے کے لئے بھی اور آئندہ جو سامان لیا جائے، اس پر بھی نشانی رکھنے کے لئے کاغذی ٹیپ اور مارکر قلم خرید لیا۔ ہم نے پہلے سوٹ کیسوں پر صرف نام لکھا تھا اب دوسروں کا لکھا دیکھا تو حج کمیٹی کا “کور نمبر ” بھی ہر عدد پر لکھ دیا۔ اے پی۔ 2/331۔

عصر کی نماز پنڈال میں پڑھی جماعت سے ہی۔ وہاں ہی مغرب تک تقریر ہوتی رہی مناسکِ حج کے بارے میں۔ مغرب کے بعد ہم دونوں کچھ دیر باہر احاطے میں ہی رہے، کولڈ ڈرنکس پئے۔ وہاں چائے تو ضرور “بازار کے بھاؤ” یعنی 2 روپئے کی مل رہی تھی، مگر کولڈ ڈرنکس نصف قیمت پر۔ فاؤنٹین ڈرنکس ، یعنی مشین میں لگے نلوں سے جو گلاس بھر کر دئے جاتے ہیں، وہ محض 3 روپئے، اور بوتلیں محض چار روپئے، کوئی سی بھی لیجئے۔ یہاں تک کہ ” بِسلیری منرل واٹر” یعنی معدنی پانی کی بوتلیں بھی 10۔ 12 روپئے کی جگہ صرف 5 روپئے میں۔ عشاء بلکہ اگلے دن کی بھی ساری نمازیں ہم نے جماعت سے پنڈال میں ہی پڑھیں۔ پہلے دن ہی ایک کارروائی اور ہوئی تھی، ہوائی جہاز کے ٹکٹوں کی بکنگ کی۔ اس کے لئے حج کمیٹی کا “کنفرمیشن کارڈ (Confirmation Card) اگر چہ جمعے کی نماز سے پہلے ہی دے دیا گیا تھا مگر کہا گیا تھا کہ 3 بجے لے لیں “بورڈنگ پاس”۔ ۔ 3 بجے معلوم ہوا کہ کارروائی مکمل نہیں ہوئی۔ 4 بجے، پھر 5 بجے، آخر سات بجے یہ حاصل ہو سکا۔ یعنی کنفرمیشن کارڈ پر ہی ہم دونوں کے لئے دو اعداد تحریر کر دئے گئے۔ 207 اور 208 ۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ یہ جہاز کے سیٹ نمبرس ہیں۔ مگر ہمارے علم کے مطابق جہاز کے سیٹ نمبر بغیر حرفِ تہجّی کے نہیں ہوتے۔ یہ صرف نمبر شمار ہی ہوں گے۔

رات کو کھانے کے لئے قطار میں لگے تو آدھے گھنٹے بعد نمبر لگا۔ کھانے میں پلاؤ ( یا بگھارے چاول) اور محض شوربے کے ساتھ کچھ مرغ کی بوٹیاں جو پلیٹ پر “محدود” مقدار میں پہلے ہی رکھی تھیں (“محدود” کے اُلٹے کاما پر غور کریں، کم کے معنے نہ لئے جائیں)۔

٢٩/ مارچ کی صبح فجر کی اذان سے پہلے آنکھ کھل گئی۔ ضروریات اور فجر کے بعد کچھ کتابوں کا سرسری مطالعہ کیا۔ جو مناسکِ حج کے بارے میں ہمارے ساتھ تھیں، پھر ناشتہ کیا۔ ناشتے میں جو ڈش تھی ، اسے یہاں انگریزی میں “لیمن رائس” (Lemon Rice) کہتے ہیں، اگرچہ تیلگو اور کنّڑ میں الگ الگ نام ہیں۔ “پھلی ہارا” اور “چتراننا” بالترتیب۔ اس کے ساتھ ناریل اور مونگ پھلی کی سفید چٹنی۔ اس جنوبی ہندی ناشتے کے بعد ہم نے باہر آ کر چائے خرید کر پی۔ اس کے بعد کچھ باتیں، کچھ آرام، کچھ مطالعہ، کچھ کیمپ کی سیر۔ کسی ایم ایل اے یا ایم پی نے بھی اس دن کیمپ کا معاینہ کیا۔ روشن بیگ بھی ایک چکّر لگا کر گئے۔ (اب انشاء اللہ بعد میں لکھیں گے۔ )

کمزور ہے میری صحّت بھی…

2/ اپریل، 3 بجے سہ پہر۔

…(ابھی کچھ وقت ملا ہے تو سوچا کہ رخشِ قلم کو کچھ کسرت کرائی جائے۔ باتیں پرانی ہوتی جا رہی ہیں ۔ یادداشت متاثّر ہوتی جا رہی ہے۔ واقعات کی ترتیب صحیح ہے یا نہیں، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ )

29/مارچ کی صبح 11 بجے ہی حج کمیٹی کے دفتر کھلنے کا وقت تھا جب پاسپورٹ وغیرہ مل سکتے تھے۔ حسبِ معمول صبح 8۔ 7 بجے سے قطار میں لوگ لگنا شروع ہو گئے۔ ہم نے دیکھا کہ عورتوں کی قطار بڑی نہیں ہے۔ ہماری طبیعت ویسے بھی خراب ہی رہتی ہے، صبح کے وقت تو ہمیشہ۔ اس وقت بھی کھانسی اٹھ رہی تھی۔ اب درمیان میں اس موضوع پر بھی آپ کو کچھ بتا دیں۔ ہم دو تین سال سے دمے کے مریض ہیں اور دن میں دو تین بار سے لے کر کبھی کبھی 6۔ 5 بار تک کھانسی اور کبھی کبھی “سانسی” کے دورے پڑتے ہیں۔ اور کچھ نہیں تو کسی دورے میں محض گلا خراب ہو جاتا ہے۔ اور پچھلے سال سے ہمارا مشاہدہ رہا ہے کہ ہماری پاؤچ کی سگریٹ رول کر کے پینے سے تقریباً آدھے گھنٹے میں طبیعت معمول پر آ جاتی ہے۔ ورنہ پھر پہلا دورہ ہی دن بھر جاری رہتا ہے۔ جیسا کہ اُن پانچ چھ ماہ تک چلتا رہا تھا جب ہم نے سگریٹ مکمل طور پر چھوڑ دی تھی۔ اب بھی ہم کوشش کرتے ہیں کہ اسموکنگ سے حتی الامکان گریز بلکہ پرہیز کریں۔ قارئین گھبرائیں نہیں ، ہم روزانہ لکھیں گے بھی تو اس کا ذکر زیادہ نہیں کریں گے کہ فلاں وقت سے فلاں وقت تک ہماری طبیعت خراب رہی اور پھر فلاں وقت تک نارمل رہی۔ بہر حال طبیعت کی وجہ سے ہم نے پاسپورٹ وغیرہ کے حصول وغیرہ کی ذمّہ داری ہماری اہلیہ محترمہ، خدا ان کو نیک توفیق دے اور ان کی جائز خواہشات پوری کرے اور ان کی دنیا کے ساتھ آخرت بھی سنوار دے، صابرہ کے سپرد کر دی۔ 11 بجے اعلان کیا گیا کہ ائر۔ لائنس نے ٹکٹ بنا کر نہیں بھیجے ہیں۔ پچھلے دِن گُڈ فرائی ڈے کی چھٹی کی وجہ سے دفتر میں کام نہیں ہوا تھا۔ آخر ڈھائی تین بجے پاسپورٹ اور جہاز کے ٹکٹ مل سکے۔ محترمہ بغیر تاخیر کے (اور بغیر کسی قطار کے) لے آئیں اگر چہ اس وقت ہماری طبیعت معمول پر تھی۔ ساتھ ہی ایر انڈیا کی طرف سے تحفتاً ایک ایک چھاتا (خود کار، Automatic) اور ایک ایک مختصر بیگ۔ حج کمیٹی کی طرف سے ایک کتاب “”حج گائڈ”” اور ایک کتابچہ “”تلبیہ”” ۔ ایک اور کتابچہ بنگلور کے ایک دینی ادارے کی طرف سے ہدیہ “”مسائلِ حج و عمرہ “”کے نام سے۔ ٹکٹ ملنے پر پتہ چلا ہماری واپسی کا ٹکٹ جدّہ سے بنگلور 10/ مئی کو 50۔ 15 یعنی شام 3 بج کر 50 منٹ کی اڑان سے ہے، یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہ وقت کون سا ہے، جدّے یعنی سعودی عرب کا یا ہندوستان کا معیاری وقت۔ پاسپورٹ بھی مل گئے اور فی کس 2316 ریال کے ڈرافٹ بھی۔

اب یہاں یہ بات بے محل نہ ہوگی کہ آپ کو بتاتے چلیں کہ ہم نے حج کمیٹی کی درخواست کے ساتھ پانچ ہزار روپئے تو بطور پیشگی (سعودی عرب میں رہائش کے انتظامات کے لئے) ہی ادا کئے تھے۔ (اس کے علاوہ ان کے سروِس چارجیز اور مکّہ میں حج ہاؤس کی تعمیر کے لئے چندہ وغیرہ بھی شامل تھا)، اس کے بعد 12 ہزار روپئے فی کس حج کمیٹی کے مرکزی دفتر، ممبئی ڈرافٹ کے ذریعے بھیجے تھے جو ہوائی ٹکٹ کے لئے تھے۔ اس کے بعد تیسری قسط میں 4600 ریال کی متبادل رقم تقریباً۔ 45 ہزار روپئے ممبئی بھیجی تھی۔ اسی 4600 ریال میں سے ہمارے سعودی عرب میں قیام کے دوران ہماری ضروری آمدورفت کیے لئے بسوں کے کرائے ، معلّم کی فیس اور مکّہ مدینہ عرفات اور منیٰ وغیرہ کے قیام کے اخراجات کے 2284 ریال منہیٰ کر کے باقی 2316 ریال ہم کو دے دئے گئے تھے کہ حاجی صاحب! آپ کو اختیار ہے کہ آپ یہ رقم چار دن میں کھا پی کر ختم کر دیں یا ساری رقم کا سونا وغیرہ خرید لائیں، یا کچھ بھی نہ خرچ کریں، ساری رقم واپس ہی بچا لائیں۔ حج کیمپ، بنگلور میں ہی ایک بنک کاؤنٹر اور بھی تھا جہاں آپ 3 ہزار تک کی رقم دے کر متبادل سعودی ریال یا امریکی ڈالر خرید سکتے تھے۔ قانونی طور پر زرِ مبادلہ، خیر، ہم کو اس کی ضرورت نہیں تھی۔

صبح سے پاسپورٹ کے حصول کا چکّر ہی چل رہا تھا۔ اسی لئے ہم اس ذکر میں ان کے حصول کے وقت یعنی ٣ بجے تک کی چھلانگ لگا گئے۔ کھانے کا ذکر ہم نہیں چھوڑنے والے۔ دوپہر کو کھانے میں مرغ کی بوٹیاں تھیں اور سبزی کے پلاؤ کے ساتھ شوربہ۔ اور رات کو پھر آلو قیمہ اور پلاؤ یا بگھارے چاولوں کے ساتھ “دالچہ” یعنی لوکی وغیرہ اور شاید گوشت اور ہڈّیوں کے ساتھ کھٹّی دال یا دال کا شوربہ (حیدرآبادی قارئین تو “بگھارے۔ چاول “اور” دالچہ” کی اصطلاح سمجھ جائیں گے، شمالی ہند کے قارئین کے لئے “اردو” میں ترجمہ کرنا پڑ رہا ہے)۔ خیر، یہ تو دو پہر کا ذکر کیا تو شام کے کھانے کا بھی کر دیا ورنہ ابھی ڈنر کھانے کی نوبت کہاں آئی ہے جس کے لئے ہم کو حکّام کے ساتھ کی بھی چنداں ضرورت نہیں۔ (ویسے اکبرؔ کی طرح قوم کا غم ہم کو بھی کم نہیں ہے۔ )

داستان چپّل کی ، لکھانی سے باٹا تک

ہم اتنے دن سے باٹا کی وہی پرانی چپّل پہنے جا رہے تھے جس کے انگوٹھے کی دو تین بار سلائی کروا چکے تھے۔ سوچا تھا سفر میں اسی کو چلنے دیں گے، مکّہ پہنچ کر اسے رخصت کر دیں گے۔ مگر 29/ کی صبح ہی یہ چپّل پھر ٹوٹ گئی، ہم کسی طرح شام تک گھسیٹتے رہے۔ حرم کے نیک ارادے سے ہم نے “لکھانی” کی سب سے مہنگی والی 58 روپئے کی کم وزن ہوائی چپّل خریدی تھی۔ سوچ رہے تھے کہ اسے ابھی نہ نکالیں، آس پاس گھوم کر دیکھتے رہے کہ کوئی موچی ہو تو وہی چپّل پھر سلوا لیں۔ مگر بنگلور کے ڈکنسن روڈ پر یا تو کوئی موچی بیٹھتا نہیں تھا، یا بیٹھتا بھی تھا تو ہمارا (یا پھر، خدا کرے، کسی اور کا) نام سن کر بھاگ لیا تھا۔ آخر یہ چپّل ہم نے حج کیمپ کے ہمارے نِمرہ ہال کی نذر کر دی۔ پاسپورٹ وغیرہ کے مطالعے کے بعد نہا دھو کر باہر نکلے تو یہی نئی چپّل پہن لی۔ اب کیوں کہ چپّل کی داستان لکھ رہے ہیں (اور کافی مدّت کے بعد جب بہت کچھ مزید واقع ہو چکا ہے) اس لئے یہ لکھ دیں کہ اس چپّل نے بھی ہمارا ساتھ محض 25۔ 26 گھنٹے ہی دیا کہ مکۃ المکرّمہ آنے کے بعد حرم کے پہلے ہی دورے میں داغِ مفارقت دے گئی۔

ہم نے مولانا عبدالکریم پاریکھ کی کتاب “حج کا ساتھی” میں پڑھا تھا کہ ایسے موقعوں پر مایوس ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہے اور نہ ضرورت ہے کہ آپ رقم خرچ کر کے بار بار چپّل خریدتے رہیں۔ حرم میں جب چپّلیں زیادہ جمع ہو جاتی ہیں یا ان کا ڈھیر راستے میں حائل ہو جاتا ہے تو حرم کے صفائی کرنے والے ملازمین دروازوں کے باہر یا کوڑے دانوں میں ڈال دیتے ہیں۔ آپ کو بھی چپّل نہ ملے تو جہاں لا وارث چپّلوں کے ڈھیر نظر آئیں، آپ کوئی بھی چپّل نکال کر پہن لیجئے۔ ہمارے ساتھ جو مظہر صاحب تھے، انھوں نے بھی یہی مشورہ دیا بلکہ ایک ڈھیر کی طرف اشارہ بھی کیا۔ ہم خوش ہوئے کہ چلو اس بہانے ہندوستانی چپّل کے بدلے میں کوئی عمدہ، باہر کی، مطلب ” اِمپورٹیڈ” چپّل مل جائے گی چین، جاپان یا سنگاپور وغیرہ کی۔ مگر اس ڈھیر میں دیکھا تو کوئی جوڑا مکمل نہ تھا جو ہمارے پیروں میں آتا۔ لے دے کر ایک جوڑ چپّل ایسی تھی جسے “زوجین” کہا جا سکتا تھا۔ بلکہ زوجین ہی تھیں یہ چپّلیں۔ اس وقت تو ہم نے اندھیرے میں بغیر دیکھے ہی پہن لیں، بعد میں قیام گاہ میں آ کر دیکھا تو یہ چپلیں باٹا کی تھیں۔

(پس تحریر:لکھتے وقت ہم کو غلط فہمی تھی کہ باٹا کی چپّلیں صرف ہندوستانی ہوتی ہیں۔ لیکن بعد میں پاکستانیوں کو بھی باٹا کی چپّلیں پہنے دیکھا اور جدّہ میں باٹا کی کچھ چپّلوں کے ڈبّوں پر “میڈ ان سایپرس” Made in Cyprus))بھی لکھا دیکھا۔ چنانچہ پتہ چلا کہ باٹا کی چپّلوں پر ہندوستان کا ہی ٹھیکہ (حیدرآبادی زبان میں “گتّہ”)نہیں ہے۔ اس وقت چپّل پا کر ہم کو مایوسی ہوئی تھی ۔ بعد میں خوش بھی ہو لئے کہ ممکن ہے کہ یہ چپّل قبرص یا کہیں اور کی ہو۔ بہر حال یہ چپّل بھی، اگرچہ سلامت تھی اور پورے قیام کے دوران ہمارا ساتھ نبھاتی رہی ، مگر ہم وطن واپس آتے وقت مکّے کی عمارت میں چھوڑ آئے، جان بوجھ کر۔ )

ہم محرم ہو گئے

ہاں، یہ لکھنا بھول گئے کہ پاسپورٹ وغیرہ کے حصول ا ور ساڑھے چار پانچ بجے نہانے کے دوران ہی کلوک روم سے ہمارے سوٹ کیس وغیرہ بھی نکال کر کسٹم اور امیگریشن اور سامان کے ناپ تول وغیرہ کے جھگڑوں سے بھی فارغ ہو چکے تھے۔ غسل بھی عصر سے قبل ہی کر لیا تھا مگر احرام نہیں باندھا تھا۔ یوں ہی وقت ضائع کرتے رہے۔ مغرب سے پہلے ہی پنڈال میں میں اعلان ہوا کہ رات کی فلائٹ سے جانے والے عشاء سے قبل ہی کھانے سے فارغ ہو لیں کہ عشاء کے فوراًہعبۃبدر طرح چپ رہتای  بعد ایر پورٹ کے لئے روانگی ممکن ہو سکے۔ یوں ٹکٹ کے حساب سے ہماری فلائٹ کی تاریخ 30 مارچ مگر وقت 05۔ 00 تھا یعنی 30 مارچ شروع ہوتے ہی۔ اس لئے اسے 29/مارچ کی رات کہا جا رہا تھا۔ ہم نے بھی یہی کیا کہ عشاء سے قبل ہی کھانا کھا لیا۔ اس کا ذکر پہلے ہی کر چکے ہیں۔ پھر عشاء پڑھ کر آئے اور ضروریات سے فارغ ہو کر وضو کر کے احرام باندھا۔ حیدرآباد سے ہی خریدی ہوئی “ہرک” اور بنگلور سے خریدے بیلٹ کے ساتھ۔ یہ ڈھائی میٹر اوپر اوڑھنے اور پونے تین میٹر نیچے لپیٹنے کی بغیر سلی چادریں ہوتی ہیں احرام میں جس میں گرہ لگانا یا پن ٹانکنا نا جائز ہے۔ البتّہ بیلٹ لگایا جا سکتا ہے۔ احرام کا یہ کپڑا حیدرآباد میں دھو کر بھی چلے تھے کہ کسی کتاب میں لکھا تھا کہ بغیر دھلا اور کلف لگا احرام بار بار پھسلتا ہے۔ ہمارا تجربہ تو یہ ہوا کہ ہمارا دھلا ہوا احرام بھی رکوع اور سجود میں ضرور ڈھلک جاتا تھا۔ احرام باندھ کر دو رکعتیں واجب الاحرام نماز بھی پڑھیں۔ ادھر ہماری محترمہ نماز سے فارغ ہو کر ہال بھر کی عورتوں کے سروں پر “احرام” باندھ رہی تھیں۔ ویسے عورت کا احرام صرف یہ ہے کہ چہرے پر کپڑا نہ لگے جو کہ مردوں کے احرام میں بھی شرط ہے۔ عام طور پر ایک تکونا کپڑا عورتوں کے “احرام” کے غلط نام (Misnomer)سے مشہور ہے جو سر کو باندھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ عورت کا سر اور بال تو در اصل اس کے ستر میں شامل ہیں چنانچہ یہ کپڑا احرام نہیں بلکہ لباس اور حجاب یعنی پردے کی پابندی ہے۔ عام طور پر برِصغیر کی عورتیں سر کے ڈھکنے کا خیال نہیں رکھتیں، اس کا خیال رکھنے کے لئے لوگوں نے اسے احرام کا نام دے دیا ہے کہ کم از کم حج کے دوران اس کی پابندی ہو سکے۔ احرام کی حد تک یہ کہہ سکتے ہیں کہ احرام کی حالت میں کنگھا کرنا جائز نہیں ہے اور اس بات کا بھی خیال رکھنا ہے کہ بال (سر کے اور مردوں کے چہرے کے بھی) نہ ٹوٹیں۔ تو اس “احرام” سے عورتوں کے بالوں کی حفاظت ضرور ہو جاتی ہے۔ احتیاط یہ ضروری ہے کہ سر پر یہ کپڑا اس طرح باندھیں کہ نہ بال ہی نظر آئیں، نہ چہرے یا پیشانی کے کسی حصے کو کپڑا لگے کہ اس کی بھی مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے ممانعت ہے۔ یہ کپڑا بالکل بالوں کی لکیر(Hair Line)کے ساتھ ساتھ باندھا جائے۔ دوسروں کے “احرام ” تو ہماری محترمہ باندھتی رہیں مگر خود ان کے احرام میں چہرے پر کپڑا لگنے پر ہم ہی ان کے سر کا کپڑا پیچھے سرکاتے رہے اور یہ جھنجھلاتی رہیں۔ خیر، خدا ان کا احرام قبول کرے مگر ہم سے بھی بھولے سے دو چھوٹی چھوٹی غلطیاں ہو گئیں احرام کی حالت میں۔ بے خیالی میں ہوائی جہاز میں سامنے کی سیٹ کی پشت پر پیشانی ٹیک دی جس پر کپڑے کا غلاف لگا تھا۔ اگرچہ جلد ہی غلطی کا احساس ہو گیا۔ اسی طرح صبح ہوتے ہوتے یعنی جدّے کے قریب ہم نے گردن کے پاس کھجانے کی کوشش کی تو میل نکلنے لگا۔ یہ بھی کارِ غلط یعنی احرام کے منافی تھا۔ یوں بے خیالی میں یہ غلطیاں ہوئیں پھر بھی احتیاط کے طور پر “دم” دے دیں گے یعنی جزا کے طور پر ایک ایک مٹھّی اناج، جو اب تک تو دے سکے ہیں۔

بہر حال احرام باندھ کر اور اپنا سامان لے کر ہم لوگ چلے۔ کلوک روم میں رکھے سوٹ کیس اور ایک بڑا بیگ تو سہ پہر کو ہی ایر انڈیا کے لگیج کاؤنٹر پر دے دئے تھے اور یہ شاید پانچ بجے تک ایر پورٹ پر چلے بھی گئے تھے۔ یہ ایسے پتہ چلا کہ ساری شام پنڈال کے مائک پر اس قسم کے اعلانات ہوتے رہے کہ فلاں صاحب کے سامان میں کچھ قابلِ اعتراض اشیاء کا پتہ چلا ہے اور وہ لوگ پہلے ہی ایرپورٹ پہنچ کر اس کا تدارک کریں۔ یعنی سب کے سامان کی جانچ بھی ہو چکی تھی۔ ہم اس پکار سے بچے رہے کہ خود ہمارے علاوہ قابلِ اعتراض کوئی شے ہمارے پاس تھی ہی نہیں۔

احرام باندھ کر پنڈال کی طرف آئے تو ہم کو کلوک روم کے سامنے دو رویہ کرسیوں پر بٹھایا گیا۔  اس راستے کے دونوں طرف ہم کو رخصت کرنے والے والنٹیرس اور بنگلور کے مقامی لوگ تھے جن میں سے بیشتر تو اپنے کسی رشتے دار کو رخصت کرنے ہی آئے ہوں گے، دوسرے عازمین کو بھی رخصت کرنے کھڑے ہو گئے تھے۔ ایک صاحب نے سب کو ایک ایک پیکٹ بھی تحفتاّ دیا۔ بعد میں کھول کر دیکھا تو اس میں پھل تھے..کیلے، سنترے اور سیب۔ اتفاق سے اُ س وقت کوئی اہم شخصیت ہم کو رخصت کرنے کے لئے موجود نہیں تھی۔ روشن بیگ صاحب پہلے ہی جا چکے تھے شاید ابتدا میں ہی کچھ لوگوں کو رخصت کر کے۔ تین بسوں کے روانہ ہونے کے بعد ہمارا نمبر لگا۔ ایک مقامی مولانا (ان کا نام پوچھنا چاہئے تھا کہ آپ کو بتا سکتے) تلبیہ پڑھاتے رہے اور سفر کی دعائیں بھی۔ تلبیہ تو آپ کو معلوم ہی ہو گا۔ چلئے یہ بھی آپ کو بتا دیں۔

” لَبّیک اَلَلٰھُمَّ لَبَّیک۔ لَبَّیک لاَ شَرِیکَ لَکَ لَبَّیک۔ اِنَّ اْلحَمْدَ وَ الْنِعمَتَہْ لَکَ وَالْمُلْکْ۔ لاَ شَرِیکَ لَک۔ “

بس کے باہر بھی مقامی مسلمانوں کا جمِّ غفیر رخصت کرنے کے لئے موجود تھا۔ نہ جانے کتنے لوگوں نے دکنی آداب کے مطابق کہا کہ دعاؤں میں انھیں یاد رکھیں۔ ہم نے انشاء اللہ کہا اور واقعی یہاں آ کر ہم کسی کو بھولے نہیں ہیں۔ حج کمیٹی، حج کیمپ بنگلور کے کارکنان، روشن بیگ اور جن جن لوگوں نے بنگلور میں دعائیں مانگنے کا کہا، ان سب کی جائز دعائیں قبول کرنے کے لئے ہم نے ضرور دعائیں کی ہیں، حطیم میں بھی۔

بنگلور۔ جدّہ پرواز نمبر 7111

آخر سوا گیارہ بجے ایر پورٹ پہنچے۔ 5۔ 12 پر فلائٹ تھی مگر 35۔ 11 پر ہی جہاز کے اندر لے جایا۔ ۔ حالاں کہ اعلان کیا گیا تھا کہ اب فلائٹ کا وقت 35۔ 12 کر دیا گیا ہے۔ اس وجہ سے بنگلور ایرپورٹ کے قوی ہیکل مچھّروں سے محفوظ رہے کہ تاخیر سے ایر پورٹ پہنچے اور جلد ہی جہاز کے اندر۔ مگر یہ مچھّر یہاں بھی داخل ہو چکے تھے۔ فلائٹ کی روانگی سے کچھ قبل جہاز میں مچھّر مار دوا چھڑکی گئی۔ اگرچہ بعد میں بھی کچھ مچھّر نظر آتے رہے مگر ان کی تکلیف زیادہ محسوس نہیں ہوئی، شاید اس دوران ان کے ڈنک کی تیزی غائب ہو چکی تھی۔ ایسی کوئی دوا انسانوں کے لئے بھی ہوتی تو کتنا اچھّا ہوتا۔

جہاز بوئنگ 747 تھا اور اس کا نام “سمُدر۔ سمراٹ” تھا۔ معلوم نہیں ہوائی جہاز کا نام سمندر سے موسوم کیوں؟ دونوں طرف 3۔ 3 سیٹیں تھیں اور درمیان میں 4۔ 4، یعنی ایک قطار میں 10 نشستیں اور شائد پورے جہاز میں ایسی 46 قطاریں۔ خود ہماری قطار کا نمبر 37 تھا۔

اس احوال کے مطابق اب 29/مارچ ختم ہو رہی ہے اور جہاز میں داخلے اور روانگی کے بعد 30/مارچ شروع ہو چکی ہے مگر حال کی بات یہ ہے کہ مدینے کے لئے چل چلاؤ لگ رہا ہے۔ اِ س لئے اب ساڑھے چھ بجے شام ختم کرتے ہیں، بعد میں ہی لکھیں گے۔

تحذ یر ۔ توقّف متکرّر

مکّہ۔ 3/اپریل، صبح 20۔ 6 بجے

یہاں مکّے کی بسوں کی پشت پر لکھا ہوتا ہے “تحذیر۔ توقّف متکرّر۔ (عربی میں ) اور اس کا ترجمہ انگریزی میں لکھتے ہیں (Warning, Frequent stoppages)یہی حال ہمارا بلکہ ہمارے رخشِ قلم کا ہے۔ حال کی اتنی بات لکھ دیں کہ ہنوز مکّے میں ہیں۔ ایک بات ابھی اس لفظ پر یاد آئی ہے تو لکھ ہی دیں کہ تحریراً محفوظ ہو جائے۔ ہمارے وطنِ مالوف (اندور، مدھیہ پردیش ، ویسے ہماری پیدایش اور خاص وطن ریاست جاؤرہ، ضلع رتلام،مدھیہ پردیش ہے)میں ، جہاں ہم نے ہائر۔ سیکنڈری کا امتحان 1966.ء میں پاس کیا تھا، وہاں اسلامیہ کریمیہ اسکول میں (جو بعد میں ڈگری کالج ہو گیا تھا جب ہم دوبارہ اس ادارے میں آٹھویں جماعت میں داخل ہوئے تھے) ، جب ہم چوتھی پانچویں کلاس کے طالبِ علم تھے تو ہمارے اردو کے استاد کامِل صاحب تھے۔ بعد میں یہ بزرگ مرحوم ہو گئے، والدِ مرحوم کے دوست بھی تھے، اگلے وقتوں کے سخن فہم حضرات میں سے تھے، بہر حال چوتھی کلاس میں ہنوز ہم اس لفظ “ہنوز” سے واقف نہیں تھے جب تک کہ خدا بخشے کامِل صاحب نے کسی سبق کے معانی میں “اب تک” کے معنی نہ لکھا دئے۔ مزدوری کے معنی “اجرت” اور نوکر کے معنی “خادِم “بھی ان سے ہی سیکھے۔ اس پر ہم کو فخر ہونے لگا تھا کہ ہم “اب تک” اور “مزدوری” جیسے “مشکل ” الفاظ عام بات چیت میں استعمال کرنے کی حد تک عالمِ فاضل بن گئے تھے۔ بہر حال اب تک بھی ہم “اب تک” یا “ہنوز” الفاظ کا استعمال کرتے ہیں ، مرحوم کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

ہم ابھی حرم میں فجر پڑھ کر لوٹے ہیں اور حوائجِ ضروریہ سے فارغ ہو کر بیٹھے ہیں، مگر اب پھر ماضی کی طرف لوٹتے ہیں کہ ابھی تو ہم جہاز سے اترے ہی نہیں ہیں، قارئین کو یہی تو معلوم ہے!۔ بار بار توقُّف ہوتا جا رہا ہے اسی لئے قارئین کو تحذیر دیتے جا رہے ہیں۔

پرواز جاری

جہاز ہندوستانی وقت کے مطابق سوا بارہ بجے (اور نہ جانے کہاں کے وقت کے مطابق 20 منٹ قبل ہی۔ کہ وقت 30/مارچ کے ابتدائی اوقات میں 35۔ 12 بجے مقرّر کر دیا گیا تھا ، اور ہندوستانی معیاری وقت تو ہمیشہ وقت کے بعد ہوتا ہے) اڑا۔ سامنے ہی اسکرین پر پہلے ایمرجینسی کی ہدایات دکھائی گئیں، انگریزی اور ہندی میں۔ جہاز اٹھتے وقت یعنی Take offکے وقت اور اترتے وقت، یعنی landing کے وقت کیا کچھ کیا جائے، سیٹ بیلٹ باندھنے کی ترکیب، استفراق کا خدشہ ہو تو اس کے لئے تھیلیاں سامنے رکھی ہیں، آکسیجن کی کمی ہونے پر آکسیجن ماسک (Oxygen Mask)کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ خدا نخواستہ اگر جہاز سمندر میں گِر جائے تو سیٹ کے نیچے کہاں “لائف جیکٹ” رکھی ہے اور اسے کس طرح استعمال کیا جائے، سیٹ پر لگے بٹنوں کی تفصیل تو چھوڑئیے، ٹائلیٹ کی ترکیبِ استعمال بھی دکھائی گئی۔ ٹافیاں دی گئیں، ٹھنڈا پانی اور مشروب دئے گئے۔

بنگلور کو پہلی بار آسمان سے دیکھا۔ بلکہ کسی بھی شہر کو رات کے وقت (فیضؔ کی یاد آ گئی؎ یہاں سے شہر کو دیکھو…)اس سے پہلے جب پروازوں کا موقعہ ملا تھا تو دن میں ہی سفر کیا تھا۔ راتوں کو ہر شہر عجیب منظر پیش کرتا ہے، سڑکوں پر قطار اندر قطار ایک سیدھ میں لگی ہوئی سٹریٹ لائٹیں۔ نیان لائٹیں۔ سارا شہر جگ مگ جگ مگ۔

ایر ہوسٹس نے ناشتہ” سرو”(serve)کیا، نہ جانے اسے کس وقت کا کھانا کہا جائے۔ ناشتہ کیا، باقاعدہ کھانا ہی تھا۔ اعلان بھی کیا گیا کہ یہ کھانا حج کمیٹی کا منظور شدہ ہے اس لئے حجاجِ کرام ہچکچائیں نہیں کہ اس میں بریانی بھی تھی۔ پوریاں تھیں، اچار تھا،دہی بھی تھی۔ رات کا کھانا، ڈنر، تو ہم کھا ہی چکے تھے اور پیٹ بھرا تھا، پھر بھی بریانی کی کچھ بوٹیاں چن کر چُگ ہی لیں۔ دہی میں شکر ڈال کر کھا لی۔ باقی یوں ہی بعد کے لئے بچا کر رکھ لیا ۔

ٹیک آف کے تھوڑی دیر بعد ہی مائک سے آواز آئی ” میں روشن بیگ آپ سے مخاطب ہوں…” یہ ریکارڈ کیا ہوا پیغام تھا۔ تمام حجاجِ کرام کو مبارک باد کے ساتھ اور کرناٹک حج کمیٹی کے چیرمین کی حیثیت سے بنگلور حج کیمپ میں اگر کچھ کوتاہی ہو گئی ہو تو اس کی معذرت کے لئے۔ اور یہ کہ ان کو اور حج کمیٹی کے دوسرے ممبران کو دعاؤں میں یاد رکھا جائے۔ خدا روشن بیگ کو اجر عطا کرے، انھوں نے جہاز کی روانگی کے بعد بھی حاجیوں کو یاد رکھا۔

ہم کو بسوں کی یا جہاز کی سیٹوں پر مشکل ہی سے نیند آتی ہے، پھر بھی کوئی آدھے گھنٹے کے لئے آنکھ لگ ہی گئی جس میں وہ ممکنہ مانعِ احرام حرکت ہو گئی جس کا ذکر کر ہی چکے ہیں۔

رات کے اندھیرے میں جہاز کی کھڑکیوں سے سمندر تو نظر نہیں آیا البتّہ تھوڑی تھوڑی دور تاریکی میں روشنیوں کے جزیرے ضرور دکھائی دئے جو بحرِ عرب کے جزیرے ہی ہوں گے۔ رات ساڑھے تین بجے (ہندوستانی وقت) ہم طوفان سے بھی گزرے۔ ہر طرف بجلیاں چمک رہی تھیں۔ اعلان کیا گیا کہ سیٹ بیلٹس باندھ لیں خطرے کے پیش نظر۔ عام طور پر ہم اس ہدایت پر ہر وقت ہی عمل کئے رہتے ہیں کہ سیٹ بیلٹ ٹیک آف کے بعد بھی کھولتے ہی نہیں۔ ضروریات کے لئے اٹھتے بھی ہیں تو واپس آ کر احتیاطاً فوراً پھر باندھ لیتے ہیں کہ بوقتِ ضرورت کام آئے۔

صبح 6 بجے، مگر باہر تاریکی ہی تھی، ہماری گھڑیوں میں چھ بجے تھے ہندوستانی وقت کے مطابق، باہر ایک بڑے شہر کی روشنیاں نظر آئیں۔ یہی جدّہ تھا۔ وہی جگمگاتا ہوا منظر جو کبھی دائیں طرف ہو جاتا کبھی بائیں طرف۔ اسی وقت ائر لائنس کی طرف سے ایک اور پالی تھین بیگ دیا گیا جس پر اردو میں بھی لکھا تھا “جدّہ ایر پورٹ پر استعمال کے لئے”۔ اس میں منرل واٹر (Mineral Water) کی بوتل کے علاوہ دو کھانے کے پیکٹ تھے۔ دونوں میں کھیرے اور ٹماٹر کے سینڈوچ، کباب، نمکین کاجو کے پیکٹ، مٹھائی کے دو ٹکڑے اور ایک پنیر سینڈوچ بھی۔ کھانا اتنا تھا (اس وقت دئے گئے ناشتے کے علاوہ رات کا بھی کھانا ساتھ تھا) کہ جدّہ ایرپورٹ پر دو بار تھوڑا تھوڑا ناشتہ کرنے کے بعد دو پہر تک کام آیا۔ پھر وہ بنگلور میں کسی صاحبِ خیر کے دئے پھل بھی تھے۔ بہر حال۔

35۔ 6 پر اعلان کیا گیا کہ ہم جدّہ ایر پورٹ پر اتر رہے ہیں۔ مقامی وقت کے مطابق صبح کے چار بج کر پانچ منٹ ہوئے ہیں اور باہر کا درجۂ حرارت 20 ڈگری سیلسیس ہے۔

حج ٹرمنل پر جہاز رکا۔ یہاں دوسرے جہازوں کے اترنے کی اجازت نہیں ہے۔ صرف حج کے موقعہ پر ہی ٹرمنل تین ماہ کے لئے کام کرتا ہے۔ جہاز کی کھڑکیوں سے ہی کئی دوسرے جہاز نظر آئے۔ پی۔ آئی۔ اے۔ اور سیرین ایر لائنس کے نام تو ہم نے سن رکھے تھے، مگر دوسرے کئی جہازوں پر لکھے نام ہمارے لئے انجانے ہی تھے۔

جہاز پر سیڑھیاں لگانے کی بجائے کچھ ایسا انتظام کیا گیا تھا کہ ہم سیدھے ہوائی جہاز کے دروازے سے نکل کر ایر پورٹ کی عمارت میں اس طرح داخل ہو گئے کہ جہاز نا شناس کو یہ بھی نہ معلوم ہوتا کہ جہاز کب ختم ہو گیا اور عمارت کہاں شروع۔ عمارت سے ملانے والا یہ ائر کنڈیشنڈ کاریڈور غالباً خود کار تھا جسے کسی سوئچ سے سرکا کر جہاز کے دروازے سے بالکل ملا دیا گیا تھا۔

صبح 5 بجے کے قریب (اور یہ سعودی وقت ہے ، اب ظاہر ہے ہم نے گھڑیاں اترتے وقت ہی ڈھائی گھنٹے پیچھے کر لی تھیں جب جہاز میں اعلان کیا گیا تھا کہ جدّہ میں یہ وقت ہے۔ اب آئندہ سعودی وقت ہی لکھیں گے)۔ ایر پورٹ میں داخل ہوئے۔ پہلے ہال میں پاسپورٹ چیک کئے گئے۔ اسی ہال میں ضروریات کے کمرے بھی تھے۔ یہاں ہی کافی دیر ہو گئی۔ اس ہال میں 11 زبانوں میں حاجیوں کو خوش آمدید کہا گیا تھا۔ عربی میں اہلاً و سہلاً کے علاوہ بنگلہ میں بھی کہ یہ ہندوستان کے علاوہ بنگلا دیش کی بھی زبان ہے۔ “خوش آمدید” تو اردو اور فارسی دونوں میں مشترک ہو گیا۔ ہندی میں البتّہ نہیں تھا۔ انگریزی کے علاوہ اور بھی کئی زبانوں مگر رومن رسم الخط میں، غالباً۔ انڈونیشی اور ملیشین۔

پھر درمیانے ہال میں لے جائے گئے۔ وہاں کسٹم کی ابتدائی چیکنگ ہوئی۔ پاسپورٹ پر کچھ مہریں ثبت کی گئیں، اس کے بعد اس سے ملحق تیسرے ہال میں آئے۔ یہاں جہاز سے اتارا گیا ہمارا سارا سامان موجود تھا۔ یہی در اصل کسٹم کی چیکنگ تھی کہ ہم ساتھ میں۔ سیاسی کتابچے، غیر اسلامی یا فحش لٹریچر اور تصاویر، خشخاش یا اچار قسم کی اشیاء تو نہیں لائے ہیں۔ کسٹم کے ملازمین ہر سامان کھول کھول کر دیکھ رہے تھے۔ ہمارے سوٹ کیس وغیرہ اوپر کے کپڑے وغیرہ ہٹا کر نیچے بھی اور ادھر ادھر کی چھوٹی موٹی اشیاء بھی چھو کر یا اٹھا کر دیکھی گئیں۔

(توقّف متکرّر۔ ساڑھے نو بجے صبح) ایک چُھری خاص طور پر دیکھی گئی کہ قانونی سائز سے زیادہ بڑی تو نہیں ، پھر منظوری دے دی گئی۔ اس سارے کام میں نو بج گئے۔ ہم سامان لے کر باہر آئے تو فوراً سامان ٹرالیوں میں رکھ کر جانے کہاں لے جایا گیا، یہ ہم کو فوراً معلوم نہ ہو سکا۔ باہر کی مزید قطاروں میں ہم کو لگنا پڑا۔ پاسپورٹ پر مختلف مہریں لگیں، اسٹکرس لگائے گئے، بس کے ٹکٹوں کی ایک کتاب پِن کی گئی.. یہ 405 ریال کی قیمت کے ٹکٹ تھے.. جدّہ سے مکّہ ، مکّہ سے مدینہ، واپس مکّہ اور مکّے سے جدّہ واپسی کے۔ اور حج کے دوران مکّے سے ،منیٰ، عرفات اور مزدلفہ وغیرہ کی آمدورفت کے بھی۔ اُس کے بعد ہم کو باہرہندوستان کے حصّے میں لایا گیا جہاں قونصل کا کاؤنٹرتھا اور جگہ جگہ ترنگے لگے تھے۔ یہاں ہی ہمارا سامان موجود تھا۔

اب جا کر مہلت ملی کہ ایرپورٹ کی عمارت دیکھی جائے۔ بے شمار خیموں کے نمونے کی چھت ہے جو محض ستونوں پر قایم ہے۔ دیواریں نہیں ہیں، سِوائے اُس حِصّے کے جہاں باقاعدہ عمارت کی ضرورت تھی، یعنی ایرپورٹ ، کسٹم یا ایر لائنس کے آفس، بنک وغیرہ، وہاں ایک منزلہ عمارتیں اس اونچی چھت کے تلے تعمیر کی گئی تھیں یا اس سے باہر۔

ہم باہر کی طرف آئے تو مظہر بھائی مل گئے۔ ان سے بنگلور میں ہمارا تعارف ہوا تھا اور معلوم ہوا تھا کہ محبوب نگر (آندھراپردیش، حیدرآباد سے 100 کلو میٹر دور ایک ضلع اور شہر) کے ہی ہیں اور ہمارے سسر مرحوم مولوی سیّد شمس الدّین کے شاگرد تھے اور صابرہ سے اچھّی طرح واقف تھے کہ اُن کے پڑوسی رہ چکے تھے(یہاں یہ بات بے محل نہ ہوگی کہ ہماری محترمہ کا کچھ پس منظر بھی دے دیا جائے۔ ان کا خاندان ویسے یو.پی. کا ہے اور ان کے والد ہی نظام کے زمانے میں الہ آباد ضلعے سے ہجرت کر کے دکن آئے تھے اور محبوب نگر کے ملٹی پرپز ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر کے طور پر رِٹائر ہوئے، یا جیسے حیدرآباد میں کہتے ہیں کہ وظیفہ یاب ہوئے)۔ چنانچہ وہاں صابرہ کی ان سے اور بھابھی سے ملاقات ہوئی اور تب سے ہم لوگ ساتھ ساتھ ہی ہیں۔

ہندوستانی قونصل کے حصّے میں پاسپورٹس پر مزید اسٹکرس لگائے گئے تو معلوم ہوا کہ ہمارے معلّم کا نمبر 53 ہے جسے مکتب نمبر کہتے ہیں اور مکّہ میں ہماری رہایشی عمارت کا نمبر 468 (عربی کے حساب سے عمارت رقم 468) یہ تو ہم کو معلوم تھا کہ عربی میں “4” کو “٤” اور “7” کو “٧” لکھا جاتا ہے مگر “2” اور “6” کو بالترتیب “٢” اور “٦” پہلی بار دیکھا۔ کمرہ نمبر بھی لکھا تھا۔ 201 (عرفہ رقم۲۰۱)۔

پہلے بنک جا کر ڈرافٹ ان کیش کرایا اور سعودی ریال حاصل کئے۔ پھر وہاں ہی فرش بلکہ قالین پر بیٹھ کر ناشتہ کیا۔ پھر ہم چائے خرید کر لائے، پہلی بار سعودی رقم کا استعمال کر کے، اور چاروں نے پی، پھر بس کے لئے قطار میں بٹھا دئے گئے۔ معلّم کے آدمیوں نے وہاں سے حرکت کرنے نہ دی حالاں کہ اب دم لینے کے بعد صابرہ کا ارادہ تھا کہ جدّہ میں ہی ان کے بہنوئی کے چھوٹے بھائی باقر رہتے ہیں، اُن کو فون کیا جائے۔ سامنے ہی فون بوتھ نظر آ رہے تھے مگر ان لوگوں نے اجازت نہ دی کہ ابھی بس آنے والی ہے۔ حالانکہ اس کے لئے تقریباً 10 بجے تک انتظار کرنا پڑا۔ اور مسافروں کے بیٹھنے اور بس کی چھت پر سامان رکھنے تک پونے گیارہ بج گئے تب ہی مکّے کے لئے روانگی ممکن ہو سکی۔

ہم “نقل” کئے گئے

یہ بس نمبر 768 تھی جس پر لکھا تھا “شرکۃ امّ القریٰ بنقل الحجاج”۔ امّ القریٰ.. شہروں کی ماں..یہ تو مکّے کی عرفیت ہے ۔ شرکۃ (جسے بول چال میں شِرکہ کہتے ہیں، یہ بعد میں معلوم ہوا) کا مطلب کارپوریشن یا کمپنی ہوگا اور حجاج کی نقل مطلب حمل و نقل۔ چنانچہ ان بسوں میں جدّہ ایرپورٹ سے ہمارا نقل (مکانی) ہوا۔ اب ہم بھی فخر سے کہ سکتے ہیں کہ ہم نقل کئے گئے۔ ورنہ کس مصنف نے ہماری تحریر کو نقل (Quote) کرنے کا خطرہ مول لیا ہے۔ ویسے ہم کو یاد ہے کہ دو چار نقّاد حضرات نے، جن سے ہمارے تعلّقات بھی تھے ..جیسے برادرم عمیق حنفی مرحوم، ہمارے اشعار کی ضرور مثالیں دی ہیں۔ بشیر بدر نے بھی جدید غزل پر اپنی تھیسس میں ہمیں یاد رکھا۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر عنوان چشتی نے ہماری دوہے والی غزل کے اشعار ضرور اپنے مضمون (اور اپنی ڈاکٹریٹ کی تھیسس) میں نقل کئے تھے، وہی غزل جو آپ نے تو نہ سنی ہوگی ؎

ڈھونڈھیں گے پھر ہم کہاں، ساگر ساگر پھول : اگلے برس جانے کہاں جائے گا بہہ کر پھول

اور ؎

پھینکے بھی تو اٹھائے کون۔ بانٹے بھی تو کسے : دھن شاعر کے پاس کیا، ہوا، سمندر، پھول

آپ بھی سوچیں گے کہ شاعر اپنے شعر سنانے سے باز نہیں آیا۔ مگر سچ مانئے، ہم اپنے اشعار بہت کم سناتے ہیں، یاد بھی نہیں رہتے۔ تحریر کی بات البتّہ اور ہے۔ بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ در اصل لفظ “نقل” ہمارے ذہن میں دو ہی مطلب پیدا کرتا ہے۔ امتحان کے پرچے میں کی جانے والی نقل۔ جس سے خدا کا شکر کہ ہم ہمیشہ محفوظ رہے، یا پھر جیسے ہمارے یہاں کے اکثر تنقیدی مضامین ہوتے ہیں.. انگریزی ادیبوں اور اردو کے مُستند نقّادوں کے مقولے (اور شاعری پر مضمون ہو تو شاعر مذکور کے اشعار کی مثالیں) جنہیں اگر خارج کر دیا جائے تو مضمون میں کچھ باقی ہی نہیں بچتا۔ یہ دوسری نقل ہوئی۔ جسے انگریزی میں Quoteکرنا کہتے ہیں۔ حالاں کہ حمل و نقل بھی سامنے کے الفاظ ہیں مگر ان کا یہ استعمال…! روزانہ ہم حیدرآباد میں گھر سے 26 کلو میٹر دور 4۔ 3 بسیں تبدیل کرتے ہوئے دفتر آتے جاتے ہیں مگر ہم کو کبھی احساس ہی نہ ہوا کہ ہم نقل ہو رہے ہیں..!!

خدا خدا کر کے ہماری نقل شروع ہوئی مگر تھوڑی تھوڑی دور پر اتنے چِک پائنٹس (عربی میں ہر جگہ لکھا تھا “نقطۂ تفتیش”) تھے کہ ایک گھنٹے بعد بھی ہماری بس جہاں کھڑی تھی وہاں سے ایر پورٹ کے “خیمے” نظر آ رہے تھے۔ بس کے بارے میں لکھتے چلیں کہ ائر کنڈیشنڈ تھی۔

اب ہم نے سعودی عرب کی اس شاہراہ کے مشاہدات شروع کئے۔ تلبیہ بھی جاری ہی رہا ساتھ ساتھ۔ بلکہ ہم نے ہی دوسرے مسافروں کو پڑھوایا بھی کہ پہلے دو حضرات نے بآوازِ بلند خود پڑھ کر دوسروں کو دہرانے کی دعوت دی تو وہ خود غلط پڑھ رہے تھے۔ لوگوں کو اب تک بھی یاد نہ تھا۔ ہم کو اتّفاق سے یہ بچپن سے ہی یاد تھا کہ ہماری والدہ حج کے ایام میں سعودی عرب ریڈیو لگا دیتی تھیں جہاں مستقل تلبیہ چلتا رہتا تھا۔ بہر حال۔

سڑک کے دونوں طرف 3۔ 3 گلیاں (lanes) تھیں۔ تین آنے کے لئے، تین جانے کے لئے۔ اسے ایکسپریس ہائی وے (Express High way) کہا جاتا ہے۔ سڑک کے دونوں طرف اکثر پہاڑ تھے ، شروع میں لاوے کے پہاڑ نظر آئے، اس کے بعد محض گرینائٹ اور نائس چٹانوں کے۔ یہ ہم بطور ارضیات داں لکھ رہے ہیں، بلکہ لاوے کی بجائے بھی بیسالٹ کے بہاؤ (Basalt Flows) اور نائس (Gneiss)کو بھی در اصل مِگمیٹائٹ (Migmatite)لکھنا چاہئے تھا۔ راستے میں جگہ جگہ “سُبْحٰنَ الْلّہ”،” اَلْحَمْدُ لِللّٰہ”، ” اَلْلّٰہُ اَکْبَرْ” اور” صَلّوُ عَلیَ النَّبِی” لکھا تھا اور ہم بھی اس پر عمل کرتے جا رہے تھے۔ کہیں کہیں عربی، انگریزی اور اردو میں بھی بالترتیب لکھا تھا۔ ” خدمۃ الحُجّاج شَرَفٌ لَنا”Service to Haj pilgrims is our privilege ۔ اور “حاجیوں کی خدمت ہمارا شرف ہے”۔

پھر حرم کی حدود شروع ہوئیں جہاں کے نقطۂ تفتیش کے آگے غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔ بلکہ ان کے لئے راستہ دوسری طرف ہے جو دوسرے شہروں کی طرف جاتا ہے۔ جدّہ ایرپورٹ سے مکّہ کا فاصلہ 92 ۔ 91کلو میٹر ہے (اگرچہ جدّہ شہر سے 77 کلو میٹر) جدہ شہر کا وہ علاقہ اس شاہراہ پر ضرور واقع ہے جو نسبتاً کم آباد ہے اور جسے انگریزی میں Suburban کہہ سکتے ہیں۔ غالباً یہ بائی پاس ہو گا۔

راستے میں تھوڑی تھوڑی دور پر خوب صورت مسجدیں نظر آئیں۔ اکثر ایک مینار کی ۔ اور یہ واحد مینار مسجد کے اندر ہی واقع۔ دراصل تھوڑی تھوڑی دور پر ایسے کامپلیکس تھے جہاں پٹرول پمپ، غذائی اشیاء کی دوکانیں، ہوٹل یا کم از کم چائے اور کولڈ ڈرنکس کے اسٹال، اور ہر کامپلیکس میں مسجد بھی۔ تاکہ راہ گیروں کو ہر سہولت مل سکے۔

راستوں میں اشتہاری بورڈ بھی تھے اور اسی وقت یہ مشاہدہ ہو گیا کہ کسی اشتہار میں صنفِ نازک کا چہرہ نظر نہیں آیا، بلکہ مزید غور کرنے پر معلوم ہوا کہ کسی جان دار کی تصویر بھی نہیں ہے۔

ایک بجے کے قریب ہم لوگ “مرکز استقبالیہ حُجّاج” میں پہنچے جو در اصل “زم زم کولنگ کامپلیکس” تھا۔ اس سرکاری (غالباً) کمپنی یا شرکۃ کا نام “زم زم یونائٹیڈ آفِس” یا عربی میں مکتب زمازمۃ الموحد تھا۔ یہاں ہی نماز کے لئے احاطہ تھا اگرچہ باقاعدہ مسجد نہیں تھی۔ صاف ستھرے غسل خانے اور پاخانے تھے۔ ہر حاجی کو ڈیڑھ لِٹر کی زم زم کی مہر بند بوتل تحفتاً دی گئی، ویسے وہاں ہی ٹھنڈے زمزم کے بے شمار نل لگے تھے۔ جتنا چاہیں پئیں اور رکھنا چاہیں تو ساتھ رکھ لیں۔ یہاں بس پون گھنٹہ کھڑی رہی، ظہر کی نماز بھی پڑھی گئی۔ اس کے بعد روانہ ہوئے تو مکّے پہنچے۔

ہماری بس میں ہماری عمارت کے علاوہ بھی دوسری عمارت کے مسافر تھے جو ہمارے ہی معلّم (مکتب) کے علاوہ ایک اور مکتب نمبر 54 سے بھی متعلق تھے۔ دونوں مکتبوں کے دفتروں پر بھی بس رکتی رہی اور دوسری عمارتوں میں دوسرے حاجیوں کو اتارتی ہوئی آخر میں ہماری عمارت پر پہنچی۔ اور جب ہم منزل پر پہنچے تو ساڑھے تین بج گئے تھے۔ ان مکتبوں پر ہم کو ہمارے شناختی کارڈ بھی دئے گئے۔ اور شناختی پٹّے بھی جو عام طور پر لوگوں نے کنگن کی طرح پہن لئے۔ جیسا ان سے کہا گیا تھا، مگر ہماری نازک کلائی کی وجہ سے ہم نے اسے بازو بند بنا لیا۔

ہماری عمارت رقم 468، “شعبِ عامر۔ شمال۔ 1شمال۔ 2۔ 48” پر واقع ہے۔ شعبِ عامر تو پورے علاقے کا نام ہو گا، ان سمتوں اور اعداد کا کیا مطلب ہے، یہ اہلیانِ مکّہ جانیں۔ ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ یہ عمارت سڑک سے اندر کی طرف ہے۔ تیسری منزل پر ہمارا کمرہ ہے، یعنی سیکنڈ فلور پر۔ اس میں لگی فہرست کے حساب سے یہاں 14 حاجیوں کا انتظام ہے مگر ہم ہیں یہاں نو ہی۔ 5 افراد کا ایک گروپ ہے، ایک بزرگ میاں بیوی ہیں اور ایک ہم بزرگ میاں بیوی۔

سامان ٹھیک ٹھاک کر کے ضروریات سے فراغت کے بعد کچھ کھانا کھایا، جو ساتھ تھا اسے ختم کیا۔ اگرچہ معلوم ہوا کہ اس وقت معلِّم کی طرف سے کھانا آنے والا ہے۔ یہ کھانا 5 بجے آیا جب ہم حرم کے لئے نکلنے کی تیاری کر رہے تھے۔ چنانچہ اسے یوں ہی رات کے لئے رکھ لیا۔

تابِ نظر چاہئے

حرم کی طرف چلے تو مظہر بھائی اور ان کی اہلیہ ساتھ تھیں۔ محبوب نگر کے ہی دو جوڑے اور بھی تھے۔ جبّار صاحب اور ستّار صاحب اور دونوں کی بیویاں۔ مظہر بھائی پہلے بھی نہ صرف حج کر چکے تھے بلکہ یہاں یہ سات آٹھ سال رہ چکے تھے، اس لئے ہم نے ان کو اپنا قائد یا گائڈ بنا لیا ( یہ گائڈ کہیں قائد لفظ سے ہی برامدہ تو نہیں ہے؟۔ “ق” کو یہاں بول چال میں اکثر “گ” سے بدل دیتے ہیں جیسے حیدرآبادی اسے “خ” سے)۔

جِس طرف سے ہم گئے، اُس طرف حرم کے احاطے کے باہر ہی غسل خانوں کا کامپلیکس ہے۔ سینکڑوں غسل خانے اور پاخانے (مشترکہ) اور وضو خانے بھی۔ مردوں کے الگ، عورتوں کے الگ۔ مردوں کے غسل خانوں پر عربی میں لکھا تھا “دورات میاہ للرجال” ۔ انگریزی میں بھی۔ مگر ہمارے عبدالکریم پاریکھ صاحب نے “حج کا ساتھی ” میں لکھا ہے کہ انگریزی میں “LAKI-LAK”لکھا گیا ہے، یہ تو وہاں نظر نہیں آیا، ممکن ہے کہیں اور کے غسل خانوں میں یہ لکھا ہو، مگر یہ انگریزی نہیں، رومن رسم الخط میں کسی اور زبان میں لکھا ہوگا (شاید انڈونیشی میں، یہ ہم کو بعد میں معلوم ہوا)۔ ہمارا داخلہ تو ایک طرف سے ہی ہوا تھا۔ حرم کے چاروں طرف ہی ایسے ہی غسل خانے ضرور ہوں گے۔ ہماری طرف کا احاطہ بہت وسیع تھا۔ سڑک کی طرف پہلے سلاخوں کی دیوار جس میں کئی دروازے، ان دروازوں سے اندر باہر صحن ہے، سفید سنگِ مرمر کا۔ یہاں اگرچہ جوتوں چپّلوں کی اجازت ہے لیکن صفوں اور قبلے کی نشان دہی کے لئے پتھّر کی دائرے وار لکیریں نصب ہیں۔ یوں کہئے کہ پتھّر کی جا نمازیں بچھا دی گئی ہیں۔ یہ حصّہ در اصل صفا اور مروہ کے درمیان کا ہے، اس لئے حرم کی دیوار ایک سیدھ میں چلی گئی ہے۔ اس میں کئی دروازے ہیں۔ آپ کو یہ تو معلوم ہوگا کہ صفا اور مروہ وہ پہاڑیاں تھیں جن کے درمیان حضرت ہاجرہ حضرت اسمٰعیل کو چھوڑ کر پانی کی تلاش میں نکلی تھیں بلکہ شیر خوار بچّے کو اکیلا چھوڑ کر گئی تھیں اس لئے دوڑی تھیں۔ اس وقوعے کے بعد ہی حضرت اسمٰعیل کے پیر مارنے سے زم زم کا چشمہ خدا کے کرنے سے پھوٹ نکلا تھا۔ ان پہاڑیوں کے درمیان ہی سعی کی جاتی ہے۔ اب یہ پہاڑیاں تو مٹا دی گئی ہیں کہ حاجیوں کے لئے حرم کا رقبہ بڑھایا جا سکے، جو کئی بار بڑھ چکا۔ آخری تعمیر ابھی حال ہی میں شاہ فہد نے کروائی ہے۔ اور اب سعی کا یہ علاقہ حرم کے احاطے کے اندر ہی شامل ہو گیا ہے۔ خیر۔

پہنچنے کو تو ہم لوگ اس صحن میں ساڑھے پانچ بجے پہنچ گئے تھے۔ عصر کی نماز بھی عمارت سے پڑھ کر نکلے تھے اور مغرب میں سوا گھنٹے سے زیادہ وقت باقی تھا، مگر یہ وقت عمرے کے طواف اور سعی کے لئے کافی نہیں تھا۔ اس لئے مظہر بھائی نے مشورہ دیا کہ آرام سے مغرب باہر ہی پڑھ کر اندر چلیں گے، اس وقت اندر جگہ ملنی مشکل ہوگی کہ بیشتر لوگ عصر کی نماز پڑھ کر مغرب تک جگہ پر قبضہ کئے رہتے ہیں۔ دوسری نمازوں کے لئے بھی گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ پہلے سے صفیں بن جاتی ہیں۔ ہم کو بھی باہر ہی کچھ دیر رکنا نہ صرف گوارا بلکہ قبول ہوا۔ یہ احساس کہ پہلے اس احاطے کے پر نور نظارے سے تو مسحور ہو لیں۔ کچھ دیر ہمّت ٹھکانے کر لیں، ابھی بیت اللہ دیکھنے کے لئے تابِ نظر کہاں!

36۔ 6 پر مغرب کی اذان ہوئی اور لگا کہ سارا مکّہ گونجنے لگا۔ اللہ اکبر کی پہلی صدا نے ہی بدن کو جھنجھوڑ دیا۔ بیت اللہ کی پہلی اذان جو ہمارے کانوں میں پڑی ہے (ویسے عصر کی اذان کے وقت بھی ہم ہماری عمارت میں ہی تھے اور وہاں بھی اذان کی آواز پہنچی ضرور ہو گی، مگر اُس وقت ہم نے دھیان نہیں دیا تھا کہ سیٹل (settle)ہونے میں لگے تھے یا شاید یہ سمجھے ہوں کہ کہیں اذان ہو رہی ہے۔ یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ ہماری عمارت میں بھی، جو اگرچہ ایک کلو میٹر سے زیادہ ہی دور ہوگی حرم سے، اذانوں کی آواز صاف آتی ہے۔ مسجدِ جِن کی بھی اور حرمِ مکہ کی بھی)۔

اذان ختم ہوتے ہی ہم نے دیکھا کہ لوگ فوراً نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے۔ ہم کو عجیب شک ہوا کہ شاید یہاں حرم کے باہری احاطے تک جماعت نہیں ہوتی اور ہم کیسے بد قسمت ہیں کہ حرم میں موجود ہیں اور وہاں کی با جماعت نماز سے محروم۔ کچھ لحظہ رُک کر آخر ہم بھی انفرادی طور پر مغرب کی نماز کے لئے کھڑے ہو گئے، ابھی نماز پڑھ ہی رہے تھے کہ مائک پر اقامت کی آواز آئی۔ یہ بھید اب تک تو نہیں کھلا ہے کہ عموماً اذان ہوتے ہی لوگ مغرِب کی جماعت سے پہلے کون سی نماز پڑھتے ہیں، ہم نے تو یہی سنا تھا کہ عصر اور مغرب کے درمیان سوائے قضا نمازوں کے اور کوئی نماز نہیں پڑھی جاتی۔ بہر حال ہم نے بھی جلدی جلدی اپنی نماز ختم کر کے جماعت کا ساتھ دیا۔ نماز سے فارغ ہو کر اندر چلنے کی ہمّت کی۔

اِس رُخ پر باب السلام کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اکثر جنازوں کو بھی ادھر سے لے جایا جاتا ہے۔ پہلی بار آنے والوں کے لئے بھی یہی افضل ہے کہ باب السّلام سے داخل ہوں، چنانچہ اسی دروازے سے ہم بھی داخل ہوئے ۔ یہاں یہ باہر “کبوتر خانوں” (Pigeon holes)کے ایک خانے میں ہم نے اپنی چپّلیں رکھ دیں اور اندر داخل ہوئے۔ جیسا کہ لکھ چکے ہیں کہ اسی رُخ پر مسعٰی ہے، یعنی سعی کرنے کا راستہ یا انگریزی میں (Corridor)کہہ لیجئے۔ دائیں طرف مروہ ہے اور بائیں جانب صفا۔ یہاں بھی سعی کرنے والوں کی بھیڑ تھی جو ہماری طرح عمرہ کرنے والے ہوں گے۔ ان کے درمیان سے جگہ بناتے ہوئے پہلے اندرونی دالان میں آئے۔ اور اس کے بعد ایک اور دالان میں۔ اور تب کعبۃ اللہ پر ہماری پہلی نظر پڑی…

اب تک تصویریں دیکھتے آئے تھے، مگر حرمِ کعبہ کی شان و شوکت، جاہ و جلال جو دیکھ کر محسوس کیا جا سکتا ہے وہ تصویروں میں کہاں ممکن؟ احادیث میں ہے کہ کعبے پر پہلی نظر پڑتے ہی جو دعا مانگی جائے، قبول ہوتی ہے۔ اور سب سے کارآمد دعا تو یہی ہے کہ یا اللہ ۔ آئندہ ہم جو بھی دعا مانگیں۔ جائز ہو تو اسے قبولیت کا درجہ بخش۔ یہ دعا قبول ہو گئی تو سمجھئے کہ پارس ہاتھ آ گیا۔ ویسے اب تک تو اس کے آثار نظر نہیں آتے ہیں۔ ہماری بیماری ابھی بھی جاری ہے۔ وہی معمول کے مطابق دن بھر میں کھانسی کے تین چار دورے، جس کا علاج سگریٹ سے ہی ممکن ہے۔ بعد میں ہم نے زمزم سے بڑے شوق اور عقیدت سے اپنے چہرے اور ہاتھ کے علاوہ سینے بلکہ پھیپھڑوں پر بھی ملا ہے۔ ممکن ہے کہ ؎ دوا یہ کرے گی اثر دھیرے دھیرے ، یا ، دعا یہ کرے گی اثر دھیرے دھیرے ۔

عمر ے کا طواف ا و ر سعی

اندر کی طرف دوسرے دالان کی سیڑھیاں اتر کر پھر اندرونی صحنِ کعبہ میں داخل ہوئے۔ یہاں بھی وہی سفید سنگِ مرمر کا فرش ہے، عمرے کے طواف کے لئے چلے کعبے کی طرف۔ مظہر بھائی کے علاوہ جبّار بھائی اور ستّار بھائی بھی ساتھ تھے اور ان تینوں کی بیویاں بھی۔ مظہر بھائی کی بیوی بے حد کمزور اور کم ہمّت خاتون ہیں اس لئے ہماری محترمہ نے ان کا ہاتھ تھام لیا اور سب لوگ ساتھ ہی چلے ۔ حجرِ اسود کی لکیر کی طرف آئے۔ یہ ایک بھورے پتھّر سے بنائی گئی لکیر ہے جو حجر اسود کی سیدھ میں ہے۔ کیوں کہ طواف حجر اسود سے شروع کیا جاتا ہے اور مطاف (یعنی طواف کے دائرے) میں اس کی سیدھ میں کہیں سے بھی طواف شروع کیا جا سکتا ہے اور یہاں سے ہی طواف “استلام” کے ساتھ شروع اور ختم کیا جاتا ہے، اس کی پہچان کے لئے یہ لکیر بنا دی گئی ہے۔ یہاں سے ہی طواف کے سات (7) چکّر (شوط) گِنے جاتے ہیں۔ استلام حجر اسود کا “سلام” ہوتا ہے۔ اگر بوسہ نصیب ہو تو کیا کہنے! ورنہ دور سے ہی اس کی طرف ہاتھ بڑھا کر ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو چوم لیا جاتا ہے۔ حجر اسود سینے کی اونچائی تک ہی ہے اور اسی لحاظ سے ہاتھ پھیلانا چاہئے اس کی طرف دیکھ کر۔ اس کا حلقہ تو دور سے بھی نظر آتا ہے، آپ نے بھی تصویروں میں دیکھا ہی ہوگا۔ چمک دار چاندی کا پان یا دل کی شکل کا حلقہ ہے جس میں سیاہ سیمنٹ میں حجر اسود کے شاید 22 ٹکڑے نصب کر دئے گئے ہیں۔ خیر۔

حج کمیٹی والوں نے سات دانوں کی تسبیح دے رکھی تھی، اس پر اپنے شوط گنتے رہے۔ 4۔ 3 اشواط تک تو ہم سب ساتھ ہی رہے۔ صابرہ کا سبز دوپٹّہ اس وقت طواف کرنے والوں میں نمایاں نظر آ رہا تھا کہ ہم الگ الگ رہتے ہوئے بھی ان کو پہچان سکتے تھے۔ مگر آخر آخر وہ نہ جانے کہاں بچھڑ گئیں۔ بلکہ کہنا چاہئیے کہ ہم کہاں گْم ہو گئے کہ باقی لوگ تو ساتھ ہی رہے جو ہمیں بعد میں معلوم ہوا۔ یہ البتہ پہلے سے ہی طے تھا کہ کبھی کبھی بچھڑ جانے کی صورت میں باب السلام کے باہر انتظار کیا جائے۔ اس لئے فکر تو نہیں تھی۔ البتہ یہ خیال ضرور تھا کہ یہ لوگ شاید ہمارے لئے فکرمند ہوں۔ ابھی ارکان بھی ادا کرنے تھے۔

آخری چکر پر حجرِ اسود کا استلام کر کے طواف مکمل کیا۔ بابِ کعبہ کی ہی طرف مقامِ ابراہیم ہے۔ حضرت ابراہیم ؑکے کھڑے ہونے کی جگہ۔ کہا جاتا ہے کہ آپؑ نے وہیں کھڑے ہو کر کعبے کی تعمیر کی تھی اور ان کے دونوں پیروں کے نشان محفوظ ہیں۔ آج کل یہ پتھّر ایک شیشے اور سنہری دھات (ممکن ہے سونا ہو، ہمیں ٹھیک سے معلوم نہیں، کیوں آپ کو بہکائیں) کی گنبد نما عمارت (یا انگریزی میں Structure کہئے) میں رکھا ہے۔ یہ قرآن کا حکم ہے کہ وَالتَّخِذُوْ مِنْ مُقَامِ اِبْراٰہیِمَ مُصَلّْیٰ۔ تو وہاں نماز ادا کرنی تھی۔ دو رکعت واجبُ الطواف۔ وہ ہم نے پڑھی۔ نظریں مگر سامنے سے ہٹتی نہیں تھیں۔ الفاظ زبان نے ادا کر دئے مگر ذہن میں نہ جانے کیا کیا آ رہا تھا۔ کبھی اقبالؔ ؎ دنیا کے بت کدے میں پہلا یہ گھر خدا کا۔ وغیرہ وغیرہ۔

(3/ اپریل، 10۔ 3 بجے دو پہر۔ توقّف جاری ہے، مگر تحریر میں توقّف کئے بغیر چلئے آگے بڑھیں۔ حالات ابھی 30 مارچ کے ہی جار ی ہیں)

پہلے تین چکروں میں اصطباغ اور رمل کیا جاتا ہے۔ اصطباغ یعنی احرام کی چادر کو دائیں بغل سے نکال کر بائیں شانے پر ڈالنا اس طرح کہ دایاں کندھا عریاں ہو جائے۔ رمل سے مراد ہے کہ پہلوانوں کی طرح مونڈھے ہلا ہلا کر اکڑ کر اور تیز تیز اور بھاری قدموں سے چلیں۔ یہ دونوں مردوں کے لئے افضل ہیں مگر صرف پہلے تین شوطوں میں۔ عورتوں کا تو احرام بھی نہیں ہے یعنی چادروں والا لباس کہ اصطباغ کریں، اور نہ رمل ہے ان کے لئے، بہت سے لوگوں کو وہاں دیکھا کہ مستقل اصطباغ کئے رہتے ہیں یہاں تک کہ احرام کی حالت میں نماز بھی پڑھتے ہیں تو دایاں کندھا کھلا رہتا ہے جو کہ غلط ہے۔ ہم نے بھی مغرب کی نماز کی جماعت کے فوراً بعد باب السلام سے داخل ہوتے ہی اصطباغ شروع کر دیا تھا اور طواف کے فوراً بعد کاندھا ڈھک لیا کہ بھول نہ جائیں۔ بھیڑ میں البتّہ رمل کرنا ممکن نہ ہو سکا۔

یوں کتابوں میں طواف کے ہر چکر کی الگ دعا دی گئی ہے مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ یہی دعائیں پڑھی جائیں۔ استلام کے بعد پہلے یہ کلمہ پڑھنا ہی کافی ہے..سُبحٰنَ اْللّٰہِ وَاْلحَمْدُ لِللّٰہِ وَ لاَ اِلٰہَ اِلْلّٰہُ وَالْلّٰہُ اَکْبَرْ، وَ لاَحَوْلَ وَ لاَ قُوّۃَ اِلاَّ بِالْلّٰہِ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمَ۔ اس کے بعد اَلْصّلاَ ۃُ وَالْسَلاَمُ عَلیٰ نَبِیِّ الْکَرِیْم اور پھر درود پڑھ لیں۔ وہ تسبیح بھی پڑھی جا سکتی ہے جو عیدین میں پڑھتے ہیں یعنی اَلْلّٰہُ اَکْبَرْ اَلْلّٰہُ اَکْبَرْ . لاَ اِلٰہَ اِلْلَّہُ وَالْلّٰہُ اَکْبَرْ اَلْلّٰہُ اَکْبَرْ وَ لِللّٰہِ الْحَمْد ورنہ جو دعا آپ کرنا چاہیں، جو بھی پڑھنا چاہیں، سب صحیح ہے۔ اگر اذان ہو رہی ہو تو اس کا جواب دینا افضل ہے۔ بہر حال یہ دونوں کلمات بیت اللہ کے دو کونوں تک، اس کے بعد جب آپ تیسرے کونے پر آئیں جسے “رکنِ یمانی” کہتے ہیں (چوتھا کونا حجر اسود کا ہی ہے) تو اس کونے پر ایک بار اَلْلّٰہُ اَکْبَرْ کہہ کر اس کے بعد حجر اسود تک رَبَّنَا اٰتِنَا پڑھتے ہیں۔ یہ تو آپ کو یاد ہی ہوگی، البتّہ اس کے بعد اس کا اضافہ ہے کہ “وَادْخِلْنَا الْجَنَّۃَ مَعَ اْلاَبْرَاْر یَاً عَزِیْزُ یَاً غَفَّارُ۔ یَاً رَبُّ الْعَاْلَمِیْن۔ “

واجب الطواف نماز کے بعد صابرہ کی طرف نظر دوڑائی کہ ساتھ ساتھ ہی طواف شروع کیا تھا تو تقریباً ساتھ ساتھ ہی اس سے عہدہ برآ ہوئے ہوں گے اور اس وقت مقامِ ابراہیم کے آس پاس ہی کہیں یہ لوگ بھی نماز پڑھ رہے ہوں گے، مگر مایوسی ہوئ۔ خیر۔ اس کے بعد زم زم کی طرف آنا تھا جو سامنے ہی نظر آ گیا تھا۔ ایک گول دائرے نما دیوار کے اوپر بورڈ لگا تھا “بئر زمزم” اردو میں بھی “زم زم کا کنواں”۔ بس یہی دو زبانیں وہاں تھیں۔ یہ تو پڑھ رکھا تھا کہ اصل کنواں نیچے ہے ۔ اس لئے سوچا کہ یہ پانی کی ٹنکی ہے اور اس کی گول دیوار کے ساتھ جو قطار سے کئی بڑے بڑے تھرمِک جگ (Thermic jugs) رکھے ہیں جن پر “سقیاء زم زم” لکھا لکھا ہے، وہاں سے ہی زم زم پیا جاتا ہو گا۔ ہم اسی طرح مشرّف بہ زم زم ہوئے (حالاں کہ بعد میں معلوم ہوا کہ زم زم کے لیے دوسری طرف سیڑھیوں سے نیچے اتر کر جاتے ہیں اور زم زم پیا جاتا ہے۔ ) مگر صابرہ کی پریشانی میں ، مطلب ہمارے بچھڑ جانے کی فکر میں زم زم پینے کی دعا بھول گئے۔ اب یاد آ گئی ہے تو آپ کو بھی بتاتے چلیں۔ اَلْلّٰھُمّ َاِنّیِ اَسْئَلُکَ عِلْمُ الْنَاْفِعَۃْ وَ رِزْقٌوَاْسِعَہ وَ شِفَاءِ مِن کُلِّ دَاْء ۔ یعنی اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، نفع دینے والے علم ، وسیع رزق اور ہر بیماری سے شفا کا۔

زم زم کے لئے بھی بمشکل جگہ بنا کر گئے تھے اور اسی اثناء میں عشاء کی اذان ہو گئی اور ہم صف بندی میں حصہ ہی نہ لے سکے۔ زمزم والے حصّے میں ہی قید ہو گئے تھے۔ اس طرف عورتوں کی صفیں تھیں، مردوں کی آگے تھیں اور سب پُر ہو چکی تھیں۔ نماز شروع ہو گئی اور ہم کو کہیں صف میں جگہ نہیں مل سکی، بلکہ عورتوں کے حصّے میں ہی کھڑے رہ گئے اور نماز ہی ادا نہ کر سکے۔ سجدہ ہوتا تو ہم دو عورتوں کے درمیان کی جگہ میں کھڑے ہو جاتے اور جب وہ کھڑی ہو جاتیں تو زم زم کی دیوار سے لگ کر کھڑے ہو جاتے۔ آس پاس نظریں بھی دوڑاتے رہے ۔ ہم جہاں کھڑے تھے وہاں سے کچھ ہی دور پر “باب الفتح ” لکھا تھا۔ صحنِ حرم کی سیڑھیوں کے پیچھے اس دالان کی صف میں صابرہ کا ہرا دوپٹّہ نظر بھی آ گیا اور یقین ہو گیا کہ محترمہ وہاں ہیں مگر جیسے ہی عشاء کی نماز ختم ہوئی اور پھر نمازِ جنازہ بھی، ہم اس طرف جگہ بناتے ہوئے دوڑ کر پہنچے، مگر وہ پھر غائب تھیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مقامِ ابراہیم پر نماز کے فوراً بعد وہ لوگ عشاء کی جماعت کے لئے صف میں آ گئے تھے کہ بعد میں جگہ نہیں ملتی ہے اور نماز تک انھوں نے کچھ نہیں کیا۔ زم زم کے لئے بھی نماز کے بعد گئے۔ وہ لوگ زم زم کے کنوئیں کے اندر بھی گئے اور وہاں نفل نماز بھی پڑھی اور خوب سیر ہو کر زم زم پیا بھی، اور جسم پر ملا بھی۔ مظہر بھائی کا حج کا پچھلا تجربہ جو ان کے ساتھ تھا۔ وہاں انھوں نے کافی وقت گزارا تھا۔ اتنا کہ ہم ان کی تلاش کے بعد اور عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد سعی میں صفا مروہ کے چھ چکر لگا چکے تھے، تب ان سے ملاقات ہوئی۔ بہر حال ہم جماعت کی نمازوں کے بعد بمشکل باہر آئے۔ باہر کی طرف نماز کے لئے جگہ مل گئی تو ہم نے بے جماعت عشاء کی نماز پڑھی اور صفا کی طرف آئے، نہ جانے کس طرف سے۔ بچھڑ جانے کی فکر میں ساری کتابی معلومات ذہن سے نکل گئیں کہ باب الصفا سے داخل ہونا افضل ہے سعی کے لئے۔ ہم پہنچ تو گئے صفا پر مگر سوچا کہ سعی کرنے سے قبل ذرا ان لوگوں کو پھر ایک بار دیکھ لیا جائے کہ یہ لوگ بھی سعی کر رہے ہوں گے (حالاں کہ یہ لوگ کافی بعد میں پہنچے تھے)۔ جس طرح بی بی ہاجرہ پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کے درمیان دوڑی تھیں، ہم ہماری بی بی ہاجرہ، مطلب بی بی صابرہ کی تلاش میں ہی دوڑتے رہے۔ یہ راستہ “ون وے” (One way) ہے، صفا سے مروہ آنے والوں کا ایک طرف اور مروہ سے صفا آنے والوں کا دوسری طرف۔ ہم نے یہ ترکیب کی کہ اُلٹے چکّر لگائے کہ یہ لوگ آسانی سے نظر آ جائیں۔ ڈرتے ڈرتے کہ کہیں پولس چالان نہ کر دے۔ ہمارے ملک میں تو لوگ پھر بھی رشوت دے کر چھوٹ جاتے ہیں۔ یوں بھی ہم کبھی رشوت نہیں دیتے ہیں اور پھر اللہ کے گھر میں!! ان دونوں راستوں کے درمیان دو پتلے گلیارے اور بھی ہیں، وھیل چئرس کے لئے۔ ہم نے ٹریفک کے قانون کو محض اس لئے توڑا کہ اس طرح شاید صابرہ کے دیدار ہو جائیں۔ دو چکر کر بھی لئے اور بی بی صابرہ نہیں ملیں تو ہم نے پھر باقاعدہ سعی کر نے کا ارادہ کیا اور پھر صفا پر پہنچے کہ اب سیدھے راستے سے سعی ہی کر لیں۔ ہاں، اس درمیان باب السلام کے دو چکر بھی لگا چکے تھے کہ شاید ہماری بی بی صابرہ ہمارے فراق میں اپنی سعی بھول کر اس سعی میں وہاں چلی آئی ہوں کہ ہم وہاں مل جائیں تو ہم پھر ساتھ ہی سعی کر کے عمرہ مکمل کر لیں۔ مگر لگتا ہے کہ محترمہ ہمیں بھولی ہی رہیں۔

اس پریشانی میں یہ بھی بھول گئے کہ سعی میں کیا پڑھا جاتا ہے، اور کوئی مخصوص دعا ہے یا نہیں۔ بس یہ آیت یاد تھی، اسی کو دہراتے ہوئے چلے۔ اِنَّ اْلصِّفَاً وَالْمَرْوَۃَ مِن شَعَاْئِرِاْللّٰہ۔ مسعیٰ میں دو سبز ستون ہیں اور دونوں جگہ چھت پر بھی نشانی کے لئے سبز پٹی بنا دی گئی ہے اور اس پر سبز ہی ٹیوب لائٹیں روشن ہیں۔ یہ “میلین اخضرین” کہلاتے ہیں اور ان کے درمیان مردوں کو تیز دوڑنا چاہئے۔ در اصل یہ حصہ نشیب میں تھا اور جہاں بی بی ہاجرہ صفا پر حضرت اسمٰعیلؑ کو چھوڑ کر آئی تھیں، نشیب کی وجہ سے وہ نظر نہیں آتے تھے تو دوڑ کر مروہ پر چڑھتی تھیں، یہی نشیب وہ جگہ ہے جسے میلین اخضرین کہتے ہیں۔ ہم حضرت ہاجرہ کی یہ سنّت پوری کرتے رہے اور جب ہمارے چار چکر ہو گئے تو صابرہ مع دوسرے ساتھیوں کے مل گئیں۔ یہ لوگ اسی وقت سعی کے لئے پہنچے تھے اور جیسا کہ پہلے ہی لکھ چکے ہیں کہ زم زم پر انھوں نے کافی وقت صرف کیا تھا۔ ہم نے پھر ساتھ ہی سعی شروع کی۔ تب معلوم ہوا کہ اگر چہ اب ان دونوں پہاڑوں، صفا اور مروہ کو ہموار کر دیا گیا ہے اور یہ اب ایر کنڈیشنڈ سڑک بن گئی ہے، مگر چوٹیوں کی نشانیوں کے طور پر صفا اور مروہ دونوں پر کچھ پتھّر ننگے (یہ شائد ہماری Geology بول رہی ہے) چھوڑ دئے گئے ہیں، وہاں چڑھا جائے تو بہتر ہے۔ اور صفا پر کعبۃ اللہ کی طرف دیکھ کر ، بلکہ جہاں سے قبلہ نظر آئے، وہاں دعا مانگنا چاہئے۔ مروہ پر محض قبلہ رو ہو کر۔ ہم نے صحیح قاعدے سے سعی نہیں کی تھی، اس لئے ان چار چکروں کو بھی گنتی میں شامل نہیں کیا اور پھر ان لوگوں کے ساتھ شروع سے سات چکر مکمل کئے (اس طرح ہمارے 13 چکر ہو گئے، دو چکروں میں اُلٹی گنگا بہائی تھی، چار چکروں میں سعی کے صحیح نہ ہونے کا شک تھا، اور سات صحیح طریقے سے کئے)۔

ویسے مروہ پر ہی (کیوں کہ سعی کے سات چکر وہاں ہی پورے ہوتے ہیں، صفا سے مروہ تک ایک اور مروہ سے صفا تک دو، یعنی ایک طرفہ فاصلہ طے کرنے کو ہی ایک چکر مانا جاتا ہے) بہت سے حجّام مستعدی سے کھڑے تھے کہ آپ کے بالوں کی ایک لٹ کاٹ لیں (جو کچھ مسلکوں کے لحاظ سے درست ہے)۔ بہت سے لوگ اسی طرح کترواتے بھی ہیں، مگر ہم سعی کے بعد “صالون” یعنی ہئیر کٹنگ سیلون پہنچے ۔ کم از کم چوتھائی سر کے بال اتروانا افضل ہے۔ ہم نے سوچا کہ پہلی بار محض بال چھوٹے کروا لیں گے، پھر ایک آدھ عمرہ اور کریں گے تو سر پر مشین پھروا لیں گے، اور پھر حج کے موقعے پر اُسترا پھروا لیں گے۔ صالون میں ہم نے حجام کو یہی بات سمجھانے کی کوشش کی کہ بھائی چوتھائی بال کاٹ دو مگر وہ اللہ کا بندہ سمجھا نہیں۔ اس نے مشکل سے ڈیڑھ منٹ میں بجلی کی مشین سر پر پھیر دی اور کہا “لائیے تین ریال”۔ چناں چہ سر سے پاؤں تک اس عمرے کی یادگار ہو گئے۔ پاؤں سے اس طرح کہ جب ہم حرم سے باہر آئے تو چپّلیں غائب پائیں، اس کا قصّہ ہم لکھ ہی چکے ہیں۔ غرض احرام سے فراغت ہو گئی، بال کٹوائے تھے اس لئے سر تو ہم نے وہاں غسل خانے میں ہی دھو لیا (عمارت میں آ کر نہائے)۔ ان سب کاموں میں رات کے ساڑھے دس بج گئے تھے۔ باہر آ کر ہوٹلوں کی طرف گئے۔ مظہر بھائی اور جبّار و ستّار صاحبان نے چاول، مرغی کا سالن اور سالم مرغی خریدی۔ ہمارا ارادہ تو معلّم کی طرف کا لایا ہوا کھانا کھا کر سو جانے کا تھا۔

رہائش گاہ پر پہنچے تو ساڑھے گیارہ بج گئے تھے، نہا دھو کر کھانے کا ارادہ کیا تو ساتھیوں نے مدعو کر ہی لیا، چنانچہ ہمارے ساتھ کا کھانا، بنگلور حج کیمپ میں تحفتاً ملے پھل اور ان لوگوں کا لایا کھانا سب مل جل کر کھا کر فارغ ہوئے تو اپنے بستر تک پہنچنے میں ساڑھے بارہ بج گئے تھے۔ تین بجے پھر تہجّد کے لئے اُٹھنا تھا، ہم کو لیٹنے تک مگر دو بج گئے، اس کا قصّہ مگر دوسرا ہے۔

د ا ستا ن ہما ر ی کھانسی کی

یہ تو ہم پہلے ہی لکھ چکے ہیں کہ ہماری تکلیف کا اب تک ایک ہی علاج ہم کو راس آیا ہے کہ اپنے ہاتھ سے وِلس یا کیپسٹن کے تمباکو کا پاؤچ لیں، تمباکو نکالیں، کیپسٹن سگریٹ پیپر کے لیفلیٹ (leaflet)سے ایک لیف (leaf)نکالیں یعنی کاغذ اور تمباکو رول کر کے چپکا کر اپنی سگریٹ بنا لیں اور نوش فرمائیں (پھر بھی فائدہ نہ ہو تو ڈاکٹر سے صلاح لینے کی چنداں ضرورت نہیں)۔ سگریٹ ختم ہونے کے آدھے پون گھنٹے میں ہم نارمل ہو جاتے ہیں۔ یہ جادو کسی ریڈی میڈ سگریٹ میں نہیں ملتا۔

29 مارچ کی شام ساڑھے سات آٹھ بجے سے کھانسی اٹھنا شروع ہوئی تھی جب احرام باندھا تھا۔ علاج کے لئے سوچا کہ سگریٹ بنا کر پی جائے۔ بلکہ پینا شروع بھی کر دی تھی مگر آندھرا پردیش اور کرناٹک کے حجاج نے اعتراض شروع کیا کہ احرام کی حالت میں سگریٹ پینا حرام ہے۔ یہ ہمارے حساب سے غلط بات تھی۔ ہم مانتے ہیں کہ یہ احرام کے آداب کے خلاف ضرور کہی جا سکتی ہے مگر اسے حرام کہنا غلط ہوگا۔ حرام شے ہر حالت میں حرام رہتی ہے اور کسی کو احرام کی حالت کے لئے مخصوص سمجھنا ہمارے نزدیک صحیح نہیں۔ یوں گناہ سے پرہیز ضروری سہی مگر سگریٹ نوشی گناہ!! ہمارا خیال ہے کہ یہ حضرات خود بھی سگریٹ پیتے ہوں گے تو سگریٹ کی لذّت نہیں بلکہ لذتِ گناہ کے باعث۔ اس لئے کہ ایک منع کرنے والے صاحب کو خود ہم نے سگریٹ پیتے دیکھا تھا۔ ہم نے یہ ضرور سوچا کہ بزرگوں اور وہ بھی دینی بھائیوں کو جو حج کے پاکیزہ مقصد سے آئے ہوں، تکلیف دینا ضرور اس سے کہیں بڑا گناہ ہے، محض اس وجہ سے ان کی بات مان کر سگریٹ بجھا دی۔ ایر پورٹ تک بھی اسی طرح آئے۔ جہاز میں اگرچہ سگریٹ نوشی صرف جہاز کے چڑھتے اور اترتے ہوئے ممنوع ہوتی ہے، مگر ہمارے بائیں طرف صابرہ تھیں جن کے قریب ہم یوں بھی سگریٹ نہیں پیتے، اور بائیں طرف وہی معترض حاجی صاحبان۔ جہاز میں اگرچہ کھانسی کی شدّت میں کمی ہو گئی مگر گلا ویسے ہی خراب رہا۔ یہ تکلیف جدّہ ایر پورٹ پر پھر کھانسی میں تبدیل ہو گئی۔ آخر جدّہ ایر پورٹ پر جب سب لوگ بس کی لائن میں لگے تو ہم موقعہ نکال کر بازار کا جائزہ لینے کے بہانے نکلے اور صبح کے ساڑھے نو بجے جا کر سگریٹ پی سکے جس سے 10 بجے کے بعد، یعنی پورے چودہ گھنٹے بعد ہماری حالت نارمل ہو سکی۔ لیکن جب ہم حرم میں آئے ہیں تو تب سے ہی دیکھ رہے ہیں کہ ہندوستانیوں اور پاکستانیوں میں نسبتاً کم مگر دوسرے ممالک کے لوگ احرام کی حالت میں بھی بے جھجھک سگریٹ نوشی کر رہے ہیں۔

مریض اللّہ

یہاں آ کر ایک نئی بیماری ہو گئی ہے۔ یہ تو خیر ایک پرانی بیماری ہی ہے کہ جب کسی بھی باعث چھینکیں آ جائیں یا ناک بہنا شروع ہو جائے تو بلغم کی ایسی پیدائش شروع ہو جاتی ہے کہ کھانسی یا “سانسی” شروع ہو جاتی ہے۔ خانۂ کعبہ میں طواف ہی کیا، نماز بھی پڑھتے ہیں تو جی چاہتا ہے کہ قبلے سے نظریں نہ ہٹیں۔ رِقّت کا عالم اس طرح طاری ہوتا ہے کہ آنسو بہنے لگتے ہیں، پھر ناک بہنے لگتی ہے اور کھانسی شروع!صراحی آئے گی، خم آئے گا، تب جام آئے گا۔ یعنی ؎ بہے آنسو، بہے گی ناک، پھر کھانسی شروع ہوگی۔ اب اس مصرعے پر گرہ لگائیے۔

اگرچہ پڑھا تھا کہ طواف میں زور زور سے کچھ نہ پڑھا جائے، مگر لوگوں کو دیکھا کہ سبھی زور زور سے بلکہ چِلّا چِلّا کر پڑھ رہے ہیں، گروپ میں ایک آواز اُٹھاتا ہے اور سب دہراتے ہیں۔ پہلی شام اور اگلے دو ایک دن ہم کو بھی خیال نہیں آیا، سب کی نقل ہی کرنے لگے۔ کچھ زور سے پڑھنے میں جذبے کی شدت کا بھی احساس ہوتا تھا، کچھ ریلے میں بہنے کی وجہ سے بھی۔ ادھر آنسو بھی بہتے، اُدھر بآوازِ بلند” سُبحٰنَ اْللّٰہِ وَاْلحَمْدُ لِللّٰہ اور رَبَّنَا اٰتِنَا” کی گردان ہوتی اور کھانستے بھی رہتے۔ کل ہی پھر کتابوں میں دوبارہ پڑھا کہ زیر لب پڑھنا افضل ہے تو کل مغرب کے بعد ہم دونوں نے طواف کیا (ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر جیسا کہ ساتھ رہنے پر اگلے دن سے کرتے آ رہے ہیں) تو محسوس کیا کہ دھیرے پڑھنے سے رقّت کم ہوتی ہے اور کھانسی کی شدّت بھی کچھ کم ہوتی ہے۔ اس لئے کہنا چاہئے کہ یہاں آ کر ہم مریضُ اللہ ہو گئے ہیں۔

اُمّ القریٰ میں د و دِ ن

ان دو دِنوں کی تفصیل شاید اب تک (یہ اب 3/اپریل کی شام 5 بجے حرم سے واپس آ کر لکھ رہے ہیں) کچھ گڈ مڈ ہو گئی ہے۔ 31/کی صبح تک تو یاد ہے کہ صابرہ تو تہجد کے لئے صبح 3 بجے ہی حرم چلی گئی تھیں، ہم سوا چھ بجے اُٹھ سکے اور اُٹھتے ہی ضروریات سے فارغ ہو کر چلے حرم کی طرف۔

صابرہ سے حرم میں ملاقات تو مشکل ہی تھی۔ اس لئے راستے میں ہم نے تنہا فروٹ کیک کا ایک ریال کا پیکٹ خریدا اور حرم کے باہر ہی ہوٹلوں سے ایک ریال کی چائے خریدی اور ناشتہ کیا۔ کھانس رہے تھے اس لئے ناشتے کے بعد پہلے سگریٹ پی، پھر حرم کے غسل خانوں میں وضو کر کے فجر کی قضا اور کچھ اور قضا نمازیں پڑھیں اور پھر طواف کیا۔ ساڑھے دس بجے تک وہاں ہی رہ کر پھر واپس رہائش گاہ آئے تھے تو صابرہ وغیرہ پھر حرم کے لئے نکلنے کو تیار تھیں۔ یہ سات بجے تک واپس آ گئی تھیں اور ساتھیوں کے ساتھ ناشتہ کر کے کچھ دیر آرام کر چکی تھیں۔ مگر ہمارے لئے تو آرام حرام ہے۔ دِن میں ہمیں نیند نہیں آتی، بس یہی آرام ہوتا ہے کہ کوئی رسالہ یا کتاب لے کر بیٹھ جائیں یا لیٹ جائیں یا کچھ لکھتے رہیں۔ اگر اس وقت صابرہ کا آرام کرنے کا ارادہ ہوتا تو شاید جو تحریر ہم اس وقت لکھ رہے ہیں، اسی وقت لکھ چکے ہوتے۔ بہر حال صابرہ نکل ہی رہی تھیں تو ہم پھر ان کے ساتھ ہی دو بارہ حرم کی طرف نکل گئے۔ طواف کیا اور پھر ظہر کی نماز کے لئے انتظار میں کچھ قضا نمازیں پڑھتے رہے، کچھ اللہ کی رحمتیں حاصل کرتے رہے..محض بیٹھے بیٹھے یا کعبۃ اللہ کو دیکھتے دیکھتے۔ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر باہر نکلے اور باہر کی ہوٹلوں میں ہی چیز پیسٹری (Cheese pastry) اور کیک خرید کر اور چائے پی کر اس ناشتے کو لنچ کا نام دے دیا۔ اور پھر داخلِ حرم۔ عصر کی نماز یہاں 50۔ 3 پر ہوتی ہے۔ ویسے روزانہ ایک دو منٹ کا فرق ہوتا رہتا ہے ہر نماز کے شروع اوقات میں، آج 48۔ 3 پر تو کل۔ 49۔ 3پر) عصر کے بعد کچھ دیر رہائش گاہ پر لوٹے ، چائے پیتے ہوئے اور پھر شام کو چھ بجے نکل گئے مغرب کے لئے۔ پھر عشاء تک طواف کیا۔ ہاں، 31/ کی صبح ہی زم زم کا کنواں ہم نے دریافت کر لیا اور وہاں بھی نفل نماز پڑھنے کا موقع ملا۔ حرم کے صحن میں یہ ایک ٹینک نما دائرہ ہے جو صرف ایک طرف سے کھلا ہے، جہاں سے زیر زمین جانے کے لئے سیڑھیاں اترتی ہیں۔ نیچے کنواں اور پانی کی سپلائی کا انتظام ہے۔ اس کی مشینیں شیشے کی دیوار کے پار نظر آتی ہیں۔ یہی جگہ ہے چاہِ زم زم کی جہاں بی بی ہاجرہ نے چشمہ ابلتے دیکھ کر کہا تھا “زم! زم!” یعنی ٹھہر جا، ٹھہر جا۔ اور وہ اس طرح ٹھہر گیا کہ اب لاکھوں کروڑوں لوگوں کی پیاس بجھا رہا ہے اور شفا عطا کر رہا ہے ڈھائی تین ہزار سال سے۔ ایک مکتبہ زمازمۃ الموحّد ہے یعنی “زم زم یو نائیٹیڈ آفس”۔ مکتب کا یہاں مطلب دفتر ہے، اردو فارسی والا نہیں جو ہند و پاک کے مکتبوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ پھر شاعری میں تو ایک مکتبِ عشق بھی ہوتا ہے جہاں مستقبل کے فرہاد درس لیتے ہیں۔ معلوم نہیں کہ یہاں بھی کوئی مکتبِ عشق ہوتا ہے یا نہیں۔ اگر راستہ چلتے ہمیں کوئی مکتب عشق الموحدہ کا بورڈ نظر آ جائے تو آپ کو ضرور اطّلاع دیں گے۔ ہو سکتا ہے نظر آ ہی جائے، دیدۂ بینا چاہئے۔ ہاں تو اس مکتب نے کولنگ پلانٹ (Cooling Plant) لگا رکھا ہے غالباً حرم میں بھی۔ ویسے اس کی باٹلنگ کمپنی تو علیٰحدہ ہے جدّہ کے راستے میں۔ یہاں حرم میں ٹھنڈا پانی فراہم (سپلائی کے معنوں میں، یہاں یہ بات یاد آ گئی کہ ہمارے حیدرآباد میں نہ جانے سپلائی کا ترجمہ “سربراہی” کیوں کیا جاتا ہے جس کے اصل معنی شاید حیدرآباد کے سربراہوں کو معلوم نہ ہوں گے، یا پھر یہ ہماری ہی کم مائیگی ہے کہ ہم نے یہ لفظ ان معنوں میں پہلے کبھی نہ سنا تھا۔ حیدرآبادی قارئین معاف فرمائیں) کیا جاتا ہے بے شمار کولروں کے ذریعے سے۔ حرم کے اندر قطار اندر قطار تھرمِک جگس (Thermic jugs) ہیں جن کا ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ “سُقیا زم زم” کے نام سے موسوم ہیں۔ مکتب زمازمۃالموحدہ کی طرف سے ہی ہر رہائشی عمارت میں پلاسٹک کے بڑے بڑے جری کینوں میں عازمین کے لئے روزانہ صبح زم زم فراہم کیا جاتا ہے۔

وہ اہلِ سیا ست جانیں…….

4/ اپریل، دو پہر ڈھائی بجے (قوسین میں وہی جو لکھتے آئے ہیں کہ اب مدینے میں رہ کر مکّے کی باتیں کر رہے ہیں، اس لئے اس سطر کو پڑھ کر تاریخ بھی بھول جائیں تو بہتر ہوگا)

راستوں سے گزرتے ہوئے یہاں کے دو ایک انگریزی اخبار بھی نظر سے گزرے۔ عرب نیوز اور رِیاض ٹائمس۔ جِدّہ میں ایک اردو اخبار بھی دیکھا تھا. اردو نیوز۔ عرب دنیا کا اردو کا پہلا اخبار۔ بہر حال 31 مارچ کے اخبار میں پہلے یہ خبر ملی کہ ہمارے یہاں متحدہ محاذ کی سرکا رکو کانگریس پارٹی نے تعاون دینا بند کر دیا ہے اور صدر کانگریس اور پارلیمانی لیڈر سیتا رام کیسری نے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا ہے۔ اگلے دن کی خبر تھی کہ صدر شنکر دیال شرما نے 7/اپریل کو دیوے گوڑا سرکار کو اپنی اکثریت ثابت کرنے کا حکم دیا ہے پارلیمنٹ کے فرش پر ( فلور floor) کا اردو ترجمہ فرش صحیح اور مناسب ہے نا !!)، اب کیا کچھ ہوتا ہے ہمارے وطنِ عزیز میں یہ اہلِ سیاست جانیں، لگتا ہے ہمارے نکلنے کا انتظار ہی تھا کیسری جی کو۔ مبادا کہیں ہم سے اجازت طلب کرنے کی ضرورت پیش آئے اور ہم منع فرما دیں۔

ر و ز کے معمولات

کل تو ہم بھی الحمدُ لللّٰہ صابرہ کے ساتھ ہی تہجّد کے لئے حرم شریف گئے تھے، ورنہ ہمارا معمول وہی ہے کہ فجر کے لئے جاتے ہیں۔ 31/ کو تو فجر بھی نکل گئی تھی۔ یکم اپریل کو تہجد کے بعد حرم میں ہی تھے، 2/ کو حرم کی فجر کی جماعت مل گئی اور 3/ کو غسل خانے ہی ڈھونڈھتے رہ گئے۔ یہاں یعنی رہائشی عمارت میں پانی نہیں تھا، اگرچہ آنکھ کھل گئی تھی ہماری ساڑھے چار بجے ہی۔ مگر ضروریات اور وضو کے لئے حرم جانے کا وقت نہ تھا۔ یہاں ہی اُتار پر (اس ڈھلان پر سڑک بنانے کا پلان ہے، آج کل بُل ڈوزر سے زمین ہموار کی جا رہی ہے) “مسجدِ جِن” ہے۔ وہی جگہ جہاں آں حضرت نے جِنوں کو نماز پڑھائی تھی۔ وہاں پہلی بار ہی گئے تھے تو دیکھا کہ غسل خانے یا وضو خانے ندارد ہیں۔ ہم نے لاکھ عربی، فارسی، اردو، انگریزی اور فرانسیسی آزمائی۔ جن صاحب سے فرانسیسی میں “توالہ” کہا، اُن کو فرانسیسی نہیں آتی تھی۔ “حوائج”، “طہارہ” “بول و براز” سبھی کچھ کہتے رہے۔ انگریزی میں ٹائلیٹ بھی۔ آخر میں ایک صاحب سے پھر انگریزی میں ٹائلیٹ کہا تو انھوں نے الٹا سوال کیا “توالہ ؟” فرانسیسی میں۔ ہم نے محض گردن ہلا دی کہ کہیں Oui, monsieurکہہ کر پچھتانا نہ پڑ جائے۔ تب انھوں نے اشارہ کیا کہ مسجد کے پاس ہی جو کئی منزلہ عمارت ہے۔ اس میں فرسٹ فلور پر کاروں کی پارکنگ سے اوپر ٹائلیٹ ہیں۔ مسجد میں محض وضو کا انتظام تھا۔ وہاں جب تک ضروریات سے فارغ ہوئے، فجر کی جماعت ختم ہو چکی تھی۔ چنانچہ مسجد جن میں پھر وضو بھی نہیں کیا اور سیدھے حرم کی طرف ہی آ گئے کہ وہاں جا کر ہی وضو کر کے فجر پڑھ لیں گے، انفرادی تو پڑھنی ہی تھی۔

نماز کے بعد وہی معمولات، طواف، ناشتہ، پھر کچھ قضا نمازیں۔ دس بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک اپنی عمارت میں ، پھر ظہر کے لئے حرم۔ اس کے بعد دو پہر کا کھانا جو ڈھائی تین بجے تک چلتا تھا۔ درمیان میں آرام۔ پھر عصر، مغرب اور عشاء کے لئے حرم میں ہی۔ درمیان میں چائے وغیرہ کی “ضرورت” کے لئے باہر آتے ہیں۔ روزانہ چار پانچ طواف اور قضا نمازیں حرم کا معمول ہے جماعت کی نمازوں کے علاوہ۔ پھر عشاء کے بعد کچھ روٹی سالن لیتے ہوئے واپس آتے ہیں رات کے کھانے کے لئے اور اسے ساتھیوں کے ساتھ مل بانٹ کر کھاتے ہیں۔

ہم عربی سیکھ رہے ہیں

گنتی تو ہم کو پہلے ہی آتی ہے عربی میں، واحد ریال اور اربع ریال تو خوب بولتے ہیں۔ ” کَیف” کہہ کر قیمت بھی پوچھ لیتے ہیں اور جواب میں ” ثلاثہ “ریال کی جگہ “تلاتہ ” ریال (بولنے میں “ث” کا ایک نقطہ حذف کرنے کی عادت ہے عربوں کی) سن کر بھی سمجھ لیتے ہیں کہ اس کی قیمت تین ریال ہے۔ اگرچہ سبھی لوگ اردو بھی سمجھ لیتے ہیں، کم از کم دوکان دار۔ مگر کل پھر بھی مشکل ہو گئی۔ پوسٹ آفس کو عربی میں کیا کہتے ہیں، یہ معلوم نہیں تھا۔ ڈاک خانہ، لیٹرس، خطوط، مراسلہ، سب کچھ کہہ کر پوچھنے کی کوشش کی۔ یہاں ہماری فرانسیسی بھی جواب دے گئی۔ بعد میں ایک اردو بولنے والے دوکان دار سے پتہ چلا کہ کہ کہاں ہے پوسٹ آفس۔ حرم کے قریب ہی ایک بڑی عمارت ہے، جس پر لکھا ہے “وزارت البرق والہاتف والبرید” برق ٹیلیگراف یا ٹیلی گرام کو، ہاتف ٹیلی فون کو اور برید پوسٹ آفس کو کہتے ہیں۔ ہاتف تو ہم سیکھ چکے تھے کہ ٹیلی فون بوتھس پر یہی لکھا دیکھا تھا اور ہاتفِ غیبی کی صدا سنی تو نہیں مگر اس کا ذکر ضرور سن رکھا تھا۔ یہاں Fax بھی تھا مگر e-mail سے یہ لوگ لا علم ہیں، نہ جانے کیوں، ورنہ خیال تھا کہ صابرہ کے آفس کے پتے پر ای۔ میل ہی بھیج دیں جہاں سے آفس والے گھر فون کر دیتے تو کامران، ہمارے بیٹے، جا کر حاصل کر سکتے تھے۔ ہمارا آفس کیوں کہ شہر سے باہر ہے اس لئے یہ مشکل تھا اور ہمارے گھر کے کمپیوٹر میں یہ سہولت نہیں ہے کہ انٹر نیٹ (Internet)نہیں ہے۔ آخر خط ہی لکھا۔ پوسٹ آفس میں معلوم ہوا کہ لفافے پر لگانے کے لئے ٹکٹ صرف چھوٹے پوسٹ آفسوں میں ملتے ہیں۔ بڑے ” بُریدوں” میں لفافہ کاؤنٹر پر دیجئے، ڈاک خرچ کے پیسے ادا کیجئے اور “برید دار” اس قیمت کی مہر لگا کر اپنے پاس رکھ لے گا کہ خط پوسٹ ہو گیا۔ بچوں کو لفافے پر ٹکٹ لگا کر بھیجنے کا ارادہ تھا کہ یہ لوگ ٹکٹ جمع کر لیں، معلوم ہوا کہ اس کا کاؤنٹر علیٰحدہ ہے۔ مہر لگانے والے کاؤنٹر پر تو بھیڑ لگی تھی مگر ٹکٹ والے کاؤنٹر کے شیخ ہی غائب تھے۔ شاید اس کا رواج یہاں نہیں ہے۔ بہر حال 2 ریال کے ٹکٹ لگتے ہیں ہندوستان کے لئے۔ امّی کے لئے سوچا تھا کہ انھیں ایروگرام لکھ دیں گے، وہ بھی وہاں دستیاب نہیں تھا، ان کے لئے بھی ٹکٹ خرید کر رکھ لئے مگر سادہ لفافے کی تلاش میں اب تک سر گرداں ہیں کہ سادہ لفافے مل جائیں تو خط لکھ کر پوسٹ کر دیں، حیدر آباد میں بچّے بھی فکر مند ہوں گے اور علی گڑھ میں امّی بھی۔

یہ وزارت البرید “شارع المسجد الحرام” پر واقع ہے۔ مکّے کا بڑا پوسٹ آفس، بقول حیدرآبادیوں کے “صدر ٹپّہ خانہ” ۔ شارع روڈ کا ترجمہ ہے کہ یہ زیادہ نمایاں شاہراہ ہے۔ ہم جس راستے سے حرم جاتے ہیں، اس کا نام “طریق المسجد الحرام” ہے۔ دونوں متوازی سڑکیں ہیں مگر طریق کچھ پتلی ہے، اسے سٹریٹ کہئے۔ عمارتوں کے نام اکثر ” قصر “ہیں، ہمارے راستے میں دو قصر ہیں “قصر الرایان” اور “قصر شاہین” ۔ ہوٹلیں “مطعم ” ہیں اور ہئیر کٹنگ سیلون “صالون”۔ ٹیلی فون نمبروں کے لئے “تلفونّ بھی لکھتے ہیں اور ” ہاتِف ّ بھی۔ پھر انھوں نے ایک نیا حرف بھی ایجاد کیا ہے، جو انگریزی کے حرف “V” کے لئے استعمال ہوتا ہے، اس کی آواز جرمنی وغیرہ میں ضرور ” ف ” کی ہوتی ہے، یہاں “کاروان” (Caravan) اور “سیون ” (Seven) کو نہ صرف “کارفن” اور “سفن” بولتے ہیں بلکہ لکھتے بھی اس نئے حرف سے ہیں جو “ف” پر دو مزید نقطے لگا کر لکھا جاتا ہے۔ یعنی”ڤ”۔ “سون اپ” ایک مشروب کا نام ہے، اسے لکھتے ہیں اسی نئے حرف سے “سفن اب”۔ یہاں “پ” کی آواز “ب” سے بدل جاتی ہے۔ ۔ چنانچہ Suntop ایک اور مشروب ہے، اسے ” صن توب” لکھتے ہیں۔ جو لباس یہاں مرد پہنتے ہیں یعنی ٹخنوں تک کا لمبا کرتا، اسے “توب” کہتے ہیں، ممکن ہے یہ بھی انگریزی Top کا بگڑا (یا سدھرا ) ہوا روپ ہو۔ یا Vice versa یعنی انگریزی میں عربی سے آیا ہو۔ ویسے محض لباس کے لئے بھی عربی میں یہی لفظ ہے اور نہ صرف یہ مخصوص لباس “توب” ہے بلکہ انگریزی “ٹاپ” بھی اسی سے برامد ہوا ہو۔ پےپسی (Pepsi)نام کا مشہور ڈرنک ” بیبسی” ہے۔ جب بے بسی کا عالم ہو تو ” بیبسی” ہی پینی پڑتی ہے۔ ٹیکسیوں پر کہیں کہیں “تاکسی ” لکھا ہے ورنہ زیادہ تر “اجرت” اور اسے زبر سے بولا جاتا ہے، ہماری طرح “اُجرت ” نہیں۔ کہیں کہیں ” أجرت عامّہ” بھی لکھتے ہیں۔

آخر ہم ہندوستانی ہیں

5/ اپریل، ساڑھے دس بجے رات

ہم اس روزنامچے یا سفر نامے میں چار دن لیٹ چل رہے ہیں۔ یکم اپریل کی تفصیل بھی پوری نہیں لکھ سکے تھے، کچھ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے تھے نا! اب یہ سطریں مدینہ منوّرہ سے لکھ رہے ہیں۔ یہاں آج دوسرا دن ہے۔ بس یہاں پہنچنے کی داستان سنا دیں، پھر آج سے تازہ بہ تازہ لکھا کریں گے انشا ء اللہ۔ باسی روٹی کب تک آپ کو کھلائیں۔ یوں بھی بیت اللہ میں جو وقت گزارا جا رہا تھا اور جس طرح شب و روز گزر رہے تھے اور جو مشاہدات ہو رہے تھے، اب ہفتے بھر بعد وہی معمولات پھر ہوں گے۔ اگر تازہ بہ تازہ لکھتے رہے تو مشاہدات کا ذکر ہی زیادہ کریں گے جو کہ اب تک ذہن میں لکھتے آئے تھے۔ ہماری عادت یہی ہے کہ کوئی بات نئی معلوم ہوئی تو خیال آتا ہے کہ اس کا ذکر آپ سے کریں اور الفاظ اور جُملے تک ذہن میں بن جاتے ہیں۔ مگر ہم تو ہندوستانی ٹھہرے، ہمیشہ کے لیٹ لطیف۔ ٹرین پورے چوبیس گھنٹے بھی لیٹ ہو تو صحیح وقت پر کہنے والے۔ یہ دوسری بات ہے کہ عادتاً ہم وقت کی قدر کرنے کے لئے مشہور ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ضائع نہ ہو۔ لیکن یہاں کے معمولات ایسے ہیں کہ وقت واقعی ملتا نہیں ہے۔ بیت اللہ ہو یا مسجدِ نبوی ، نمازوں کے وقت کے آس پاس جب صف میں اچھّی جگہ مل جاتی ہے تو سب کی موجودگی میں اچھّا نہیں لگتا کہ جھولے سے ہم اپنا یہ رجسٹر نکال کر لکھنا شروع کر دیں۔ حالاں کہ ساتھ ضرور رکھتے ہیں۔ دو ایک دن حرمِ کعبہ میں جو لکھ سکے تو وہ اس باعث کہ کافی دور پر دالان میں یا چھت پر تنہائی دیکھ کر بیٹھے تھے۔ مگر وہ جگہیں نماز کے اوقات میں عورتوں کے لئے مخصوص ہو جاتی ہیں۔ اس لئے نماز سے گھنٹہ بھر قبل ہی اُٹھا دئے جاتے تھے۔  بے آبرو، یا با آبرو خود ہی اُٹھ جاتے تھے۔

شعبِ عامر کے قیدی

مکّے میں ہماری رہائش گاہ کے علاقے کا نام ہے ” شعبِ عامر” گلی نمبر شمال۔ 1، شمال۔ 2/41 جو شائد ہم لکھ چکے ہیں۔ ایک زمانے میں آں حضرتؐ اور ایمان والوں کو کفارِ قریش نے شعبِ ابی طالب میں قید کر دیا تھا ایمان لانے کے “جرم” میں۔ 2/ اپریل کو ہم اپنی رہائش گاہ واقع شعبِ عامر میں محصور ہو گئے۔ ہوا یوں کہ ہمارے معلّم صاحب انعام عبد الہادی میاں جان نے یکم کی شام کو نوٹس لگا دیا کہ 2/ کو عصر کی نماز کے بعد مدینے کے لئے روانگی ہوگی اور ہم لوگ تیار رہیں اور کہیں باہر نہ جائیں۔ چنانچہ سامان ٹھیک ٹھاک کر کے ظہر کی نماز ضرور حرم میں پڑھ لی اور پھر کھانا وغیرہ کھا کر ہم لوگ تیار ہو گئے۔ عصر کی نماز 4 بجے رہائش گاہ پر ہی قصر کر کے پڑھ لی (جدّے میں ہی پتہ چل گیا تھا کہ دو چار دن میں ہی مدینے جانا ہے، یہ اندراج پاسپورٹ میں ہی تھا کہ “زیارت المدینہ قبل الحج” اس لئے تنہا پڑھنے پر نمازوں میں قصر کرنا تھا) عمارت میں تعینات لڑکے اطّلاع دیتے رہے کہ بس 5 بجے آئے گی، پھر 6 بجے کی خبر ملی۔ پھر یہ کہ مغرب کے بعد آئے گی، عشاء کے بعد آئے گی، ہم نے مسافر ہونے کے ناطے قصر کر کے مغرب کے وقت ہی مغرب اور عشاء کی نمازیں ملا کر پڑھ لیں کہ مبادا عشاء کی نماز سفر میں چھوٹ جائے۔ جو لوگ وہاں کھانا پکا رہے تھے۔ وہ بھی دو پہر کو کھانے کے بعد ہمارے دفتر کی اصطلاح میں “کِچن باکس” بند کر چکے تھے۔ چناں چہ رات کا کھانا سب کو باہر سے خرید کر کھانا پڑا۔ کھانا کھا کر بھی 11 بجے تک انتظار کر کے سوئے، 3/اپریل کی صبح معلوم ہوا کہ بس نہیں مل رہی ہے اور مدینے کے پاس بند ہو گئے ہیں۔ 10/ بجے کے قریب حرم سے واپس آ کر ہم ہمارے علاقے کے ہندوستانی حج آفس بھی گئے، برانچ نمبر 7۔ یہاں کے اسسٹنٹ حج آفیسر ہیں ابراہیم کٹّی ّ۔ اصل میں کیرالا کے مسلمان مگر دہلی میں سکونت رکھتے ہیں۔ ان سے معلومات کی گئی اور انھوں نے ہمارے معلّم سے پوچھ گچھ کی تو معلوم ہوا کہ مکّے سے مدینے کی آمدورفت حکومت کی طرف سے بند کر دی گئی ہے اور اب حج کے بعد ہی شاید مدینے جانا ممکن ہو سکے گا۔ معلمّ کوشش تو کر رہے ہیں کہ اجازت مل جائے کیوں کہ وہ پچھلے دن کا وعدہ نہیں نباہ سکے تھے۔ ممکن ہے کہ ان کی کوششوں سے بسوں کا انتظام ہو جائے اور جانے کی اجازت مل جائے اور شاید عصر تک کچھ طے ہو سکتا ہے۔ عصر کے بعد واقعی معلوم ہو گیا کہ معلّم صاحب اپنی کوششوں میں کامیاب ہو گئے ہیں اور عشاء کے بعد بسیں ضرور آ جائیں گی۔ چناں چہ پھر آرام سے عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں حرم میں ہی جماعت سے ادا ہوئیں، مگر احتیاطاً ہم مغرب کے بعد عمارت پر واپس آ گئے۔ ویسے ہماری بیگم یا ” بیغم” مغرب کے بعد بھی حرم میں ہی رہیں اور عشاء پڑھ کر ہی لوٹیں ہم واپس آ کر حالات کا جائزہ لے کر پھر عشاء کے لئے گئے۔ یہاں پھر کچھ بات قطع کلامی کی ہو جائے۔ عربی میں یہ لوگ بیغم ہی لکھتے اور بولتے ہیں۔ ان محترمہ کا نام کاغذات میں ہر جگہ صابرہ اعجاز لکھا ہے مگر ایک جگہ اردو میں صرف صابرہ لکھ دیا گیا ہے۔ چناں چہ جدّہ ایر پرٹ پر جو کاغذات اور کارڈس ہم کو ملے، ان میں اندراج عربی میں ہے اور وہاں ان کو صابرہ بیغم کر دیا گیا ہے۔ اس پر ہم کو ابنِ صفی کے قاسم صاحب کی بیوی چپاتی بیغم ضرور یاد آ جاتی ہیں۔ (معلوم نہیں آپ نے ابنِ صفی کے جاسوسی ناول پڑھے ہیں یا نہیں، مگر ہم کو یہ افسوس ہے کہ جب انگریزی فِکشن میں آرتھر کانن ڈائل کا نام مقرّب مصنفین میں شامل ہے تو اردو میں ابنِ صفی کا کیوں نہیں۔ ان کے ساتھ ہم اردو والے کچھ زیادتی ہی کرتے آئے ہیں)۔ بہر حال ہماری بیگم بے غم ضرور رہتی ہیں مگر نہ قاسم کے حساب سے چپاتی بیغم (قاسم کے ڈیل ڈول کے مقابلے میں) ہیں نہ بیگم قاسم کی طرح ہمہ وقت شوہر کی طرف سے شک میں مبتلا۔

بہر حال 3/ کی رات کو ہی تقریباً ساڑھے گیارہ بجے مدینے کے لئے روانہ ہو سکے۔ تب سے غالباً مظفّر وارثی کا یہ شعر ذہن میں گونجتا رہا ہے ؎

۔ ۔ جب مدینے کا مسافر کوئی پا جاتا ہوں : حسرت آتی ہے کہ وہ پہنچا ، میں رہا جاتا ہوں

ہماری حسرت کی اور شعبِ عامر میں محاصرے کی مدّت دو دن رہی اور آخر ہم پہنچ گئے مدینے۔

مدینے کا مسا فر

مکّے سے نکلتے نکلتے 12 بج گئے تھے کہ راستے میں کئی نقاطِ تفتیش تھے جہاں “پاس” چیک کیے گئے۔ یہ پاس عصر کے بعد معلّم نے بھجوا دئے تھے، پاس کیا، باقاعدہ شناختی کارڈ س تھے۔ دو بسوں میں ہم معلّم نمبر 53 کے سارے مسافر نیم خوابی کے عالم میں کاغذات دکھاتے رہے۔ پونے چار بجے تک پھر بس متحرک رہی اور پھر ایک پٹرول پمپ کامپلیکس میں روکی گئی۔ یہ وادیِ ستارہ کا علاقہ تھا۔ یہاں ضروریات اور چائے میں پون گھنٹہ کے قریب وقت گزارا گیا۔ ساڑھے چار بجے یہاں سے روانہ ہو کر آدھے گھنٹے بعد ہی پھر ایک اور مقام پر جادہ کیا۔ فجر کا وقت ہو چلا تھا۔ مسجد بھی تھی اور کیوں کہ حرمِ کعبہ میں نماز کے اوقات کا علم تھا، اس لئے ہم سب نے فرض کر لیا کہ اذان ہو چکی ہوگی مگر وہاں مقامی کوئی شخص نظر نہیں آیا۔ آخر ہمارے ہی ایک ساتھی عازمِ حج نے نماز پڑھائی اور ہم نماز سے فارغ ہو کر بس میں بیٹھے تھے کہ اب آگے چلیں گے۔ تب پھر اذان کی آواز آئی۔ اس مسجد کے “ریگولر” مؤذن اور امام اب آئے تھے اور ہم سمجھے کہ یہ راستے کی مسجد ہے تو یہاں ہم جیسے لوگ ہی آتے ہوں گے۔ مسافروں میں بحث ہوئی کہ اب دوبارہ نماز پڑھنے کا کیا جواز ہے۔ کچھ لوگوں نے یہ سوچ کر بس سے نہ اترنے کا فیصلہ کیا مگر ہماری ناقص رائے تھی کہ اگر نماز ہو بھی چکی ہو اور دوبارہ کسی جماعت میں شامل ہونے کا موقع مل جائے تو دوبارہ پڑھنا بہتر ہے۔ ایک نماز نفل بن جائے گی۔ اس میں ثواب ہی ہے۔ اس لئے ہم دوبارہ بھی فجر کی جماعت میں شامل ہوئے۔ پھر بس میں بیٹھے۔ ڈرائیور صاحب بھی نماز میں شامل تھے۔ اس لئے ان کے آنے کے بعد ہی بس چلی۔

مدینے میں ہما را استقبال

لیجئے صبح ہو گئی۔ صبح کیا، اچھّا خاصا ایک پہر بیت گیا یعنی پونے نو بجے ہماری بس ذو الحلیفہ کے پاس ہی ہمارے استقبال کے لئے روکی گئی۔ اگر چہ شاہ فہد ہمارے استقبال کے لئے موجود نہیں تھے مگر ہم نے دل کو تسلّی دے لی کہ یہ سارے انتظامات تو شاہ کے حکم سے ہی ہوئے ہوں گے۔ ہم ابھی خوش ہو ہی رہے تھے کہ معلوم ہوا کہ ہمارے اتراتے پھرنے سے کچھ حاصل نہیں، ہماری اس شہر میں آبرو ہی کیا ہے۔ کہنے کو تو یہ “مرکزِ استقبال ” تھا مگر لگتا تھا کہ سب کو باز رکھنے کی کوشش تھی۔ مدینے والے کہتے تھے کہ ہم آپ کو ہمارے شہر میں گھسنے ہی نہ دیں گے جب تک ہم سے پوری طرح مطمئن نہ ہو جائیں۔ خدایا! یہاں کے انصار کہاں گئے؟

البتہ ایک لحاظ سے یہ استقبال بہت اچھّا رہا، وہ جو انگریزی میں کہتے ہیں Cheap and best کہ یعنی کم خرچ بالا نشیں کہہ لیجئے۔ وہاں ہر چیز مکّے کے مقابلے میں نصف داموں میں دستیاب تھی۔ ہر وہ چیز جو مکّہ میں ایک ریال میں تھی، یہاں ایک ریال میں دو عدد۔ چناں چہ ہم نے ناشتے کا بہت سا سامان لے لیا کہ چاہے سند نہ رہے، مگر وقتِ ضرورت کام آئے۔

اہلیانِ مدینہ کی اجازت حاصل کرتے کرتے جب ہمارے ہوٹل پہنچے مدینے میں تو، 12 بج گئے تھے اور جمعے کی نماز کا وقت قریب تھا۔ جمعہ نہ بھی ہوتا تو ظہر کا وقت ہو رہا تھا۔ چناں چہ سامان رکھتے ہی نہانے کے لئے قطار میں لگ گئے اور ہوٹل کا ٹھیک سے جائزہ بھی نہیں لیا اور نہا کر جمعے کے لئے چلے گئے۔

نماز کے بعد واپس آ کر سامان ٹھیک ٹھاک کیا اور عصر تک آرام کیا اور یہ روزنامچہ لکھا۔ ہمارا یہی آرام ہے۔ عصر کی نماز پڑھ کر بڑے شوق سے روضۂ اقدس کی طرف گئے مگر اے بسا آرزو ……

….کہ خاک شد ہ

(اتوار ٦/اپریل، ساڑھے نو بجے صبح۔ توقّف متکرّر، بِلا تحذیر)

ہاں تو ہم کہہ رہے تھے کہ عصر کے بعد روضے کی طرف گئے۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ بابِ جبرئیل سے داخلہ افضل ہے۔ مگر یہ باب بند تھا۔ داخلے کی اجازت نہیں تھی کہ ادھر سے لوگوں کی واپسی کا انتظام تھا، یہ Exit تھا ۔ اس کے دائیں طرف والے دروازے سے داخل کئے گئے۔ اندر متعدد لوگ قرآن پڑھ رہے تھے یا دعائیں اور درود و سلام۔ وہ لوگ کس طرح پہنچ کر بیٹھے تھے ، کب سے بیٹھے تھے، یہ بھید اب تک نہ کھل سکا۔ ہم کو تو۔ “ٹریفک پولس ” نے دھکّے دے دے کر آگے بڑھانا شروع کیا، ادھر لوگ رکنا چاہ رہے تھے چناں چہ افراتفری کا عالم تھا۔ اپنے آپ کو سنبھالتے اور محض دھکّوں کی وجہ سے آگے بڑھتے ہوئے جب ہوش آیا تو ہم بابِ جبرئیل کے باہر کھڑے تھے۔ ہم کو معلوم ہی نہیں ہو سکا کہ کہاں کیا تھا۔ ایک جالی والی دیوار بھی دیکھی تھی شاید آں حضرت ؐ۔ کی آرام گاہ اس کے پیچھے ہوگی۔ مگر یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے زیارت بھی کی یا نہیں۔ اور یہ بات یاد ہے کہ جب پولس نے دھکّا دے کر زائرین کو گرانے کی کام یاب کوشش کی تو ہم بھی ان گرنے والے شہ سواروں میں شامل تھے۔ مقابلتاً ایک بات یاد آ گئی ہے اگرچہ احترام کے خلاف ہے، مگر اس رخشِ تصوّر کو کیا کیجیے کہ ہر بحرِ ظلمات یعنی ممنوع مقام میں دوڑتا ہے۔ ہندوستانی نمائشوں جیسے حیدر آباد یا علی گڑھ (اور بطور خاص علی گڑھ نمائش کی ” ہائے بیلا کی گلی”) میں ٹکٹ لے کر تماشہ دکھایا جاتا ہے جیسے لومڑی کے بدن والی لڑکی جس کا چہرہ انسان کا اور بدن لومڑی کا ہوتا ہے ۔ یا ایک “ہنسی گھر ” ہوتا ہے جہاں مختلف قسم کے آئینے لگے ہوتے ہیں، اس آئینہ خانے کے کسی آئینے میں آپ کا عکس لمبوترا ہو جاتا ہے تو کسی میں چپٹا اور آپ خود پر ہنستے رہتے ہیں، یہ تماشے دیکھتے ہوئے آپ ایک طرف سے داخل ہوں اور دوسری طرف سے نکل جائیں، چنانچہ روضۂ اقدس کے اس دورے میں بلکہ اس دورے کے بعد ہم اپنے پر اسی طرح ہنستے رہے بس اتنا ہوش ضرور رہا کہ کم از کم ہر لمحہ درود پڑھتے رہے زیر لب۔ 5 منٹ میں باہر آ گئے اور اپنے کمرے میں۔

…..سفارت بھی ہے قبول

ہم آپ کو بھی اپنے ساتھ مدینہ پہنچتے ہی جمعے کی نماز کے لئے مسجدِ نبوی لے گئے ہیں۔ در اصل اپنی رہائش گاہ کا جائزہ خود ہم نے بعد میں لیا۔ اس لئے یہاں ہی اس کا صحیح موقع ہے کہ بارے اس عمارت کا کچھ بیاں ہو جائے۔

یہ ” مرکزِ سفیر” ہے۔ شاید ہم کو ہندوستان کی سفارت کا شرف بخشا گیا ہے جو ہمیں بخوشی قبول ہے۔ یہ رہایش گاہ 468 یعنی مکّے کی عمارت سے کئی گنا بہتر ہے، بلکہ بے حد آرام دہ ہے۔ اس 7 منزلہ عمارت میں ہم تیسری منزل یعنی سیکنڈ فلور ۔ “دور الثانی” میں ہیں۔ اس لحاظ سے کمرہ نمبر 205 ہے جیسا کہ ہوٹلوں کا قاعدہ ہے کہ کمروں کے نمبر فلور نمبر سے شروع کئے جاتے ہیں۔ مکّے میں کمرہ نمبر 201 تھا اور وہی دور الثانی۔ یہ مگر بے حد صاف ستھری اور خوب صورت عمارت ہے۔ سیڑھیاں سنگِ مر مر کی، فرش بھی صاف ستھرا، کہیں پتھّر، کہیں موزیک اور کہیں سیرامک کے ٹائلس۔ کمرے میں سبز دبیز قالین، تقریباً 20 ضرب 15 کے کمرے میں 6 عدد بستر، یعنی 6 لوگوں کے سونے کا انتظام۔ اگر چہ ساتھ رہنے کی کوشش کرنے والوں کی وجہ سے یہاں دو عدد مزید بستر لگ گئے ہیں اور مظہر بھائی کے کمرے (نمبر 206) میں محض 6 لوگ رہ گئے ہیں۔ ائر کنڈیشنر بھی اچھّا کام کر رہا ہے۔ غسل خانے بھی نہ صرف یہ کہ صاف ستھرے ہیں بلکہ ہر منزل پر تین عدد، دو دیسی یعنی ہندوستانی اور ایک مغربی معہ باتھ ٹب یا جاکوزی (Jaccuzzi) کے جب کہ ہر منزل پر چار ہی کمرے ہیں۔ ایک کمرہ کچن کے لئے مخصوص ہے جس میں فرِج اور کولر بھی ہے، اگر چہ کولر کام نہیں کر رہا۔ اس کمرے میں بھی واش بیسن ہیں اور غسل خانوں اور باہر کاریڈور میں بھی ۔ یہ عمارت حرم یعنی مسجدِ نبوی سے کوئی چار سو میٹر دور ہے۔ ہاں، یہ بتا دیں کہ اب تک ہم کعبۃ اللہ کو ہی حرم کہتے آئے ہیں۔ یہاں یہ غلط فہمی دور کر دیں کہ مسجدِ نبوی کو بھی حرم کہتے ہیں اور کعبے اور مدینے کی مسجدِ نبوی کو ملا کر حرمین شریفین کہا جاتا ہے ( جیسے شاہ فہد خود کو خادم الحرمین شریفین کہتے ہیں ) ایک حرمِ مکّہ اور ایک حرمِ مدینہ۔  چناں چہ جب ہم مدینے کے قیام کے دوران حرم لکھیں تو قارئین مسجدِ نبوی مراد لیں ۔ سڑک کے نُکّڑ پر ہی یہ عمارت ہےَ اور اسی سڑک سے بائیں طرف مُڑ کر آگے سیدھے جانے پر مسجدِ نبوی ہے۔ اس سڑک کا نام ” طریق المطار النازل ” لکھا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ سڑک یہاں کے مطار یعنی ایر پورٹ جاتی ہو۔ ہماری نگاہِ تجسّس یہ بھی تو ڈھونڈھتی رہتی ہے کہ کس سڑک کا کیا نام ہے اور کہیں نہ کہیں یہ اطّلاع بھی مل ہی جاتی ہے۔

دیارِ مدینہ کی پہلی شا م

مسجدِ نبوی کے احاطے کے بالکل سامنے ایک نئی عمارت ہے جس کا انگریزی نام “کمرشل سینٹر ” ہے۔ اردو میں اسے “تجارتی مرکز” اور عربی میں ” مرکز التجارۃ” لکھا ہے۔ اس کے علاوہ ایک زبان اور بھی ہے رومن رسم الخط میں جو غالباً انڈونیشین یا ملیشین ہو گی۔ ہر اہم سائن بورڈ یہاں یا مکّہ میں کم از کم تین زبانوں میں ضرور ہے۔ انگریزی اور عربی کے بعد تیسری زبان اردو ضرور ہے ( جدّہ ایر پورٹ پر اور کہیں دو ایک جگہ اور چھ چھ زبانوں میں بورڈ لگے ہیں۔ وہاں یہ دو مزید زبانیں ہیں بنگلہ اور فرانسیسی۔ جدّہ ایر پورٹ پر تو خیر ہندی میں بھی “سواگتم”(“svaagatam” ) لکھا ہے اور ہندی ہمیں ہندوستانی حج آفس کے علاوہ کہیں نظر نہیں آئی)۔

یہ تجارتی مرکز ہمہ منزلہ نئی عمارت ہے۔ اس کا ثبوت ہی یہ تھا کہ اس کے دو طرف ( ممکن ہے کہ چاروں طرف ، ہم نے دو ہی سمتیں دیکھی تھیں۔ اس پر مشتاق یوسفی کی یاد آ گئی کہ انھوں نے ایک صاحب سے ایک محترمہ کے حسن کی اس طرح تعریف کی ہے کہ آپ کا بایاں کان بہت خوب صورت ہے۔ کیوں کہ جہاں وہ بیٹھے تھے وہاں سے انھیں ایک ہی کان نظر آتا تھا۔ اس سے ہم نے یہ سبق سیکھا کہ جھوٹ بولنے میں بھی “لاجِک”(logic) کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے)سائن بورڈ لگے ہیں “تجارتی مرکز اب کھل چکا ہے” اردو میں اور اسی کا ترجمہ انگریزی میں کہ ” Commercial Centre now opened”.پہلے دن عصر کے بعد ہم کو کھانسی اٹھ رہی تھی۔ ادھر چائے کا وقت بھی تھا۔ سوچا کہ پہلے چائے پی جائے پھر سگریٹ۔ سوچا کہ مدینے کے راستے میں نصف ریال کی طرح شاید یہاں بھی نصف ہی ریال میں چائے مل جائے۔ یہ بھی مرکز تو ہے، استقبال کا نہ سہی۔ چناں چہ اس مرکز کے اندر چائے کی دوکان ڈھونڈھی۔ ایک چائے خانہ تھا جس کا نام انگریزی میں ہی لکھا تھا “ہاؤس آف دونت” ۔ یہاں دو ریال کی چائے ملی۔ بہر حال چائے پی اور کچھ دور جا کر جہاں “تدغین” ممنوع نہیں تھی (یہ سائن بورڈ بھی جگہ جگہ تین زبانوں میں لگا ہے ” نو اسموکنگ”۔ “سگریٹ پینا منع ہے” اور “ممنوع التدغین” ) وہاں جا کر اپنی طبیعت کا علاج کیا یعنی سگریٹ نوشِ جان کی۔ پھر مغرب کے لئے حرم میں اور عشاء تک وہاں ہی وقت گزارا۔ قضاءِ عمری پڑھی۔ اب یہاں اور کچھ اقرارِ جرم کر لیں۔ ہم پچھلے آٹھ دس سال سے تو نماز کے پابند ہیں اور روزانہ ہر نماز کے ساتھ روز کی قضا نمازیں پڑھتے رہے ہیں۔ سال میں پانچ چھ مہینے ضرور اپنے فیلڈ کیمپوں میں نماز پڑھا کرتے تھے ( وہ بھی فجر اور عشاء شاذ ہی) مگر ہیڈ کوارٹر کے قیام میں اللہ اللہ خیر صلّیٰ۔ اس طرح ایک اندازے کے مطابق کم و بیش ١٨ سال کی نمازیں قضا ہوئی ہوں گی۔ ادھر حرمین میں ایک نماز کا ثواب ہزاروں نمازوں کے برابر ہے تو دونوں حرمین میں ہم دن میں کم از کم ہفتے بھر کی قضا نمازیں ضرور پڑھ رہے ہیں بطور قضاءِ عمری.. یعنی سات نمازیں فجر کی، پھر سات نمازیں ظہر کی وغیرہ وغیرہ۔ اب یہاں سے حاجی ہو کر جائیں گے تو اس امید سے کہ اللہ ہماری ساری قضائیں قبول کر لے گا اور باقی کچھ ہوں گی تو معاف کر دے گا۔ شائد ضرورت سے زیادہ ہی ادا ہو جائیں گی اس دوران انشاء اللہ۔ حرمین میں کم از کم لیٹ فیس کے ٹکٹ تو لگ جائیں گے۔

اب کے ہم بچھڑیں تو “ممنوع ا لتدغین” پر ملیں

بیت اللہ میں اگر چہ مرد اور عورتیں ایک ساتھ یا قریب قریب نماز پڑھ سکتے تھے۔ ہم کوشش کرتے تھے کہ صابرہ عورتوں کی صف میں سب سے پیچھے اور ہم مردوں کی صف میں آخر میں رہیں تاکہ نمازوں کے بعد آسانی سے مل سکیں۔ مگر مسجدِ نبوی باقاعدہ مسجد ہے۔ یہاں عورتوں کا انتظام نہ صرف بالکل علیٰحدہ ہے بلکہ دروازے بھی الگ ہیں۔ چناں چہ صابرہ سے ملاقات مشکل تھی ۔ ہم نے ایک کھمبا نشانی کے لئے مقرر کیا ہے جس پر ” نو اسموکنگ” اور “ممنوع التدغین” کا بورڈ ہے۔ ہم نے صابرہ کو یہی نشانی بتا دی ہے کہ ہم یہاں ان کے منتظر رہا کریں گے۔ یا وہ پہلے آ جائیں تو وہ۔ مگر پہلی ہی رات کو عشاء کے بعد ہم نے تقریباً 15 منٹ تک ان کا انتظار کیا مگر نہ ملیں تو ہم کو شک ہوا کہ یہ شاید بہت پہلے ہی کسی وجہ سے نکل گئی ہوں یا شاید ان کو وہاں کھڑے رہ کر انتظار کرنا اچّھا نہیں لگا ہو۔ بہر حال ہم دھیرے دھیرے ہوٹل آ گئے مگر یہ ہوٹل میں ہم سے 5۔ 7منٹ بعد پہنچیں۔ معلوم ہوا کہ مسجدِ نبوی کے کولروں میں بھی زم زم کا ہی پانی آتا ہے ، ٹھنڈا اور وہ بھی زم زم کا، چناں چہ وہ اپنی واٹر باٹل لے کر بھرنے میں لگی تھیں اور وہاں بھیڑ تھی۔ انھیں کافی دیر میں پانی حاصل ہو سکا۔ بہر حال ہم نے اب ممنوع التدغین والی جگہ تبدیل کر دی ہے ، اور اب جو جگہ مقرّر کی ہے وہ عورتوں کے دروازے کے قریب ہی ہے۔ کل سے انشا ء اللہ وہاں ملاقات ہو سکے گی۔

حا جی مفت خو ر

“خدمت الحجاج شرفٌ لنا” یہ عربوں کا موقف ہے۔ کم از کم سرکاری طور پر یا کاغذی حد تک۔ ویسے اہلیانِ خیر کہاں نہیں ہوتے۔ جمعے کے بعد یہ ہم دونوں آ رہے تھے کہ اللہ کے ایک مقامی بندے نے ہم دونوں کو ایک بڑی روٹی اور ایک مہر بند کپ پیش کیا۔ کمرے آ کر دیکھا تو کپ میں بہت نفیس دہی تھی۔ ہم سامنے کے پاکستانی ہوٹل سے جا کر سبزی کی پلیٹ “پارسل” کروا لائے اور سیر ہو کر کھانا کھایا۔ کل صبح صابرہ کو فجر کے بعد ایک لمبا والا بن (بعد میں معلوم ہوا کہ اسے سلومی کہتے ہیں)اور اُبلے ہوئے انڈے کا پیکٹ اسی طرح ملا تھا۔ کل صبح ہم نے ناشتے میں وہی بن اور دہی کھایا۔ اپنی ہندوستانی شکر کے ساتھ جو ساتھ لائے تھے۔ خدا ان خدّام الحجاج کو جزائے خیر دے ۔ ضرورت نہ ہونے پر بھی تحفے کو ٹھکرانا نہیں چاہئے اور سنا ہے کہ منع کرنے پر لوگ ناراض ہوتے ہیں۔

تلاش مکتبۂ نبوی کی

کل سے ہم مسجدِ نبوی میں مکتبۂ نبوی تلاش کر رہے ہیں۔ ہمارے دفتر کے دوست بشیر محمد شاہ کو بیلجیم (Belgium)کے سعودی سفارت خانے سے قرآنِ کریم کا ایک انگریزی ترجمے والا بے حد خوب صورت چھپا نسخہ ملا تھا۔ ان سے ہی معلوم ہوا کہ اسے “شاہ فہد ایڈیشن” کہتے ہیں۔ مگر ہمارے بشیر میاں کا نسخہ ان کے غیر مسلم باس ، مطلب ڈائرکٹر نے زندگی بھر کے لئے قرض لے لیا اور وہ خالی ہاتھ رہ گئے۔ یہ ڈائرکٹر موصوف رِٹائر بھی ہو چکے۔ ہم کو بھی اس نسخے کا دیدار نصیب نہیں ہو سکا تھا۔ ان کی فرمایش تھی کہ کسی بھی طرح، مانگ کر، خرید کر (یا چرا کر بھی) یہ نسخہ ان کے لئے لائیں، اور چاہے ان کے لئے کچھ نہ لائیں۔ پھر ہم نے حیدر آباد میں ہی اپنے سالے منظور کے پاس بھی کسی حاجی کے ہی دئیے گئے تحفے کے طور پر شاہ فہد اردو ایڈیشن بھی دیکھا تھا، یعنی معہ ترجمہ و تفسیر۔ یہ نسخے چھپے بھی مکتبہ نبوی کے ہیں۔ مدینے کے بازاروں میں ہم نے دیکھا تو شاہ فہد ایڈیشن تو بہت ہیں مگر معرّیٰ۔ اگر خدا نخواستہ اردو یا انگریزی ترجمے والا نسخہ نہیں ملا تو آخر میں یہی معرّیٰ خرید لیں گے مگر پہلے کم از کم مکتبے میں ترجمے والے نسخوں کی دستیابی کی کوشش تو کر لیں۔ اگر اردو اور انگریزی دونوں زبانوں کے مل جائیں تو کیا کہنے! 4۔ 3 کاپیاں لے لیں گے۔ گھر میں بھی رکھیں گے کم از کم ایک اردو اور ایک انگریزی۔

صابرہ کے مربّع بہنوئی، یعنی بہنوئی کے بہنوئی، بہنوئی اسکوئیر) اشفاق بھائی نے جو جدّے میں ہی سکونت رکھتے ہیں( اور مدینے کے لئے روانگی والے دن ہی ہم کو ڈھونڈھتے ہوئے آ کر مل گئے تھے) سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ مکتبہ نبوی مدینے میں ہی اور مسجدِ نبوی کے اندر ہی واقع ہے۔ اور ہر ہفتے عازمین حج کو کسی مقرّرہ دن قرآن کے نسخے تقسیم ہوتے ہیں۔ عام طور پر معرّیٰ مگر معلوم کریں اور کوشش کریں تو انگریزی یا اردو ترجمے والا بھی مل سکتا ہے، خریدنے پر نہیں ملیں گے۔ یہ تقسیم کے لئے ہی چھپوائے جاتے ہیں۔ بازار میں جو ملتے بھی ہیں ان پر بیچنے والے ہی فوراً۔ ” وقف اِلی الحرم” کا ٹھپّا لگا دیتے ہیں۔ یعنی خرید کر گھر لے جانا سرکاری طور پر ممنوع ہے، خریدئیے بھی تو حرم میں لے جا کر رکھ دیجئے۔

یہاں مدینے میں پہلے ہی دن عصر یا مغرب کی نماز جہاں ہم نے پڑھی تھی، وہاں ہی “مکتبۃالنبوی” کا سائن بورڈ لگا دیکھا تھا اور تیر کا بائیں طرف نشان تھا۔ اس وقت تو ہم نہ جا سکے۔ یوں بھی نمازوں کے بعد ریلے کے ساتھ بہنا پڑتا ہے اور ریلے کا رخ باہر کی جانب ہوتا ہے جب کہ مکتبہ اندر ہی تھا۔ مخالف سمت میں بڑھنا مشکل۔ اس دن کے بعد وہ جگہ ہی بھول گئے جہاں وہ بورڈ دیکھا تھا۔ کئی بار ادھر ادھر گھومے۔ حرم میں صفائی کرنے والے زیادہ تر برّ صغیر کے ہیں اور اردو سے واقف۔ ان سے معلومات کی تو ہر شخص نے الگ الگ خبر دی۔ کسی نے کہا کہ دروازہ نمبر (عربی میں باب رقم)37 ، کسی اور نے بتایا کہ 34، کسی نے 18 تو کسی اور اللہ کے بندے نے دروازہ نمبر 9 کہا۔ مگر ہر دروازے سے یہ سائل خالی ہاتھ ہی لوٹا کہ مکتبہ ہنوز دور است۔ ایک جگہ مکتبۂ صوفیہ دیکھا جو بند بھی تھا۔ اب انشاء اللہ یہ تلاش ہم آج پھر گزشتہ سے پیوستہ کریں گے۔

ا سرا ر میا ں ا لو ر ی/ کرا چو ی / مدنی

پرسوں رات سے ہی ایک صاحب جن کا نام اسرار ہے، اصرار کر رہے تھے کہ مدینے کی زیارتیں ان کے ساتھ دیکھیں۔ فی کس 10 ۔ 10 ریال۔ بس اسی سرائے سے روانہ ہوگی۔ اردو دانی کی وجہ سے ہم نے بھی ان کو ترجیح دی ورنہ معلوم ہوا تھا کہ 10 ۔ 10 ریال میں ہی ٹیکسیاں جاتی ہیں جو زیادہ آرام دہ ہوتی ہیں مگر یہ ٹیکسی والے تقریباً سبھی عرب ہیں، کچھ ہم کو بتا نہیں سکیں گے۔ چنانچہ کل صبح سات بجے نکلنے کا طے ہوا۔ انھوں نے دو دن میں اسی سرائے کے ہماری طرح ہندوستانی پاکستانی “سفیروں” سے رابطہ قائم کر کے، بہلا پھسلا کر بس بھر کے مسافر تو جمع کر لئے تھے مگر ان سب کے جمع ہونے تک، یعنی بس میں بیٹھنے تک 8۔ بج گئے تھے اور ہم 12 بجے تک واپس آ گئے۔ زیارتوں میں کیا کیا دیکھا، یہ تو ہم بعد میں بتائیں گے، فی الحال اس اسرار پر پردہ ہی رہنے دیں، پہلے ان اسرار میاں کا تعارف کرا دیں۔ راستے میں ان سے کافی گفتگو رہی۔ اور کل شام سے تو باقاعدہ سلام دُعا ہو گئی ہے۔ بلکہ آج صبح تو انھوں نے ہم کو اپنی نمائندگی کا شرف بخشا ہے ۔ یعنی کہا ہے کہ اور بھی دوسرے ساتھی جانا چاہیں تو ہم ان کا کمرہ نمبر وغیرہ نوٹ کر کے رکھیں اور ان کو بتا دیں۔

بہر حال ان سے معلوم ہوا کہ وطنِ مالوف ان صاحب کا راجستھان ملک ہند ہے۔ والد الور کے اور والدہ اجمیر کی تھیں (اجداد تو ہمارے بھی اجمیر کے قریب نصیر آباد کے تھے)، مگر آزادی اور ملک کی تقسیم کے بعد والدین ہجرت کر کے کراچی چلے آئے۔ 4۔ 5 سال کراچی میں رہ کر مدینہ چلے آئے اور اسرار میاں کی پیدائش مدینے کی ہی ہے۔ اردو اچھّی بول لیتے ہیں مگر تلفّظ پر راجستھان یا کراچی کی بجائے لاہور کا اثر زیادہ ہے کہ علّامہ اقبال کو خود علامہ کی طرح “اکبال” بولتے ہیں اور عربوں کی طرح۔ “غ” اور “ق” کو بھی “گ” کی طرح بولتے ہیں۔ جب سب سے پہلے ان کی بس مسجدِ غمامہ پہنچی تو انھوں نے مسجدِ گمامہ کا اعلان کیا۔ ہم کو پہلے شک ہوا کہ شائد یہ مسجد جمامہ ہو۔ عربوں میں “ج” اور “گ” میں بھی تلفّظ کا پھیر بدل ہوتا ہے۔ جمال ناصر کو گمال ناصر کہتے ہیں مگر بعد میں اسرار میاں نے خود خالص “غ” کی آواز بمشکل ادا کر کے ثابت کیا کہ یہ مسجدِ غمامہ ہے۔

مدینے کی زیارتیں

یہ مسجد یعنی مسجدِ غمامہ مسجدِ نبوی کے مغرب میں اور قریب ہی ہے۔ اسرار میاں نے بتایا کہ آں حضرتؐ یہاں عیدین کی نمازیں پڑھتے تھے۔ اسی کو مسجدِ مصلّیٰ بھی کہتے ہیں۔ اس کے بارے میں دو روایتیں ہیں۔ ایک یہ کہ حضورؐ نے یہاں قحط کے دور میں نمازِ استسقا پڑھائی تھی اور اسی وقت بادل (غمامہ) چھا گئے اور بارش شروع ہو گئی۔ دوسری یہ کہ ایک بار دھوپ کی شدّت میں اسی جگہ آپؐ پر بادلوں نے سایہ کیا تھا۔

مسجدِ غمامہ کے پاس ہی تین اور مسجدیں خلفائے راشدین کے نام پر ہیں۔ مسجدِ ابو بکر صدّیق ؓ، مسجد عمر فاروقؓ اور مسجد علی ؓ۔ یہ محض اس وجہ سے کہ ان بزرگوں نے یہاں کچھ نمازیں ادا کی تھیں۔

اس کے بعد ہماری بس اسرار میاں مدنی (حال) کی رہنمائی میں شعبِ بلال میں داخل ہوئی۔ یہ پوری آبادی حضرت بلالؓ کے نام سے موسوم ہے اور یہاں ہی مسجد بلالؓ بھی ہے۔

پھر اسرار میاں ہم کو مسجدِ جمعہ لے گئے۔ اس مسجد میں آں حضرت ؐ کے دور اسلام میں پہلا جمعہ ادا کیا گیا تھا۔ یہ مسجدِ قُبا کے راستے میں ہے۔ اُس زمانے میں یہ بنو سالم کا علاقہ تھا۔ آپؐ وہاں گئے ہوئے تھے کہ سورۂ جمعہ نازل ہوئی اور آپؐ نے اسی مسجد میں پہلی نماز جمعے کی ادا کی۔ یہ مسجد زیادہ تر بند رہتی ہے۔ صرف جمعے کے دن کھلتی ہے ا ور کبھی کبھی عصر کے وقت۔ کبھی نماز ہوتی ہے اور کبھی نہیں۔ کیوں کہ یہ مسجدِ قبا سے محض دو ایک فرلانگ پر ہی واقع ہے، اس لئے لوگ یہاں کی بجائے قُبا میں ہی نماز پڑھنا بہتر سمجھتے ہیں ۔ حدیث میں ہے کہ مسجدِ قُبا میں دو رکعت نفِل کا ثواب بھی ایک عمرے کے برابر ہے۔

مسجدِ قُبا تک تو اسرار میاں بس روکے بغیر یہ کمنٹری دیتے رہے۔ قبا کے پاس ہی بس پہلی جگہ روکی ۔ ہماری بس کی طرح ہی اور کئی بسیں تھیں، سبھی پیلی شیورلے۔ ہم نے اس بس کا ” رقم “(نمبر )بھی حافظے میں رقم کر لیا تھا، اب بھی یاد ہے 9000741۔ مگر اسرار میاں نے پہچان کے لئے اس کے بونٹ پر ایک بڑا جری کین رکھ دیا کہ لوگ اسے دیکھ کر جلد ہی صحیح بس میں واپس آ جائیں۔ ہم بھی اترے اور اور دو نفلوں کے علاوہ چار رکعتیں اور بھی پڑھ لیں یعنی دو رکعت فجر کی مزید قضا نمازوں کی نیت سے۔

یہ مسجد مسلمانوں کی پہلی مسجد کہلاتی ہے۔ ہجرت کے بعد آں حضرتؐ قبیلہ بنو عوف کے پاس ٹھہرے تھے اور اپنے ہاتھ سے ان کے ہی علاقے میں اس مسجد کی تعمیر شروع کی تھی۔ یہاں عبادت کے لئے سنیچر کا دن افضل ہے اور اتّفاق سے کل سنیچر کے دن ہی ہمیں اس مسجد میں عبادت کا موقع ملا۔ پوری مسجِد سفید ہے۔ بلکہ یہ مسجد ہی کیا، ساری مسجدیں ہی عموماً باہر سے سفید ہی ہیں۔ اندر سے بھی کافی خوبصورت ہے۔ خوبصورت پالش کئے ہوئے پتھّر کا فرش، دیواروں پر بھی خوش نما پتھّر۔ یہاں ہم کو منبر کے قریب ہی نماز ادا کرنے کا موقع نصیب ہوا اور بعد میں مسجد قبلتین اور مسجدِ فتح میں بھی۔

یہاں آنے کے لئے مسجدِ نبوی سے بسیں بھی چلتی ہیں۔ کوئی 5 کلو میٹر ہو گی یہ مسجد وہاں سے۔ ایک ایک ریال بس کا کرایہ لگتا ہے، بلکہ معلوم ہوا کہ کہیں بھی جانے کے لئے کرایہ کم سے کم اتنا ہی ہے۔ ہم نے کہیں بھی ایک ریال سے کم کی کوئی چیز دیکھی ہی نہیں ۔ بعد میں ٹیلی فون کرنے کے لئے بمشکل سکّے حاصل کئے تو پہلی بار سکّے دیکھنے کو ملے۔ بہر حال 12۔ 10 مسجدوں کا دیکھنے کا پلان ہو تو ہمارے اسرار میاں کی 10 ریال کی بس معہ اسرار میاں بطور گائڈ بزبانِ خود کی رہنمائی ہی بہتر ثابت ہو سکتی ہے۔

مسجد قبا سے نکلنے کے بعد تھوڑے ہی فاصلے پر اسرار میاں نے کھجوروں کا ایک باغ دکھایا کہ یہ باغ حضرت سلمان فارسیؓ کا ہے۔ یہاں ہی حضورؐ نے عجوہ قسم کی کھجور کے دو پودے لگائے تھے اور اس کی نسل سے یہ کھجور کئی جگہ پھیل گئی۔ یہ کھجور سب سے مہنگی بھی ہے اور کہتے ہیں کہ ہر مرض کے لئے شفا کا اثر بھی رکھتی ہے۔ دوکانوں میں ابھی تک پوچھا تو نہیں مگر لوگ بتاتے ہیں کہ سو ریال یعنی ایک ہزار روپئے کلو ہے۔

پھر بس کو لمحہ بھر کے لئے ٹھہراتے ہوئے ایک کنواں بھی دکھایا گیا ۔ یہاں اسرار میاں کے قول کے مطابق (کہ ہم نے کسی کتاب میں پڑھا تو نہیں) آں حضرتؐ کو غسلِ میت دیا گیا تھا اور غسلِ میت کے بعد یہ کنواں ہی خشک ہو گیا۔

اسی طرح گزرتے ہوئے ایک اور مسجدِ دُہاب بھی دکھائی۔ غزوۂ خندق کے موقع پر آپؐ کا خیمہ یہاں نصب تھا اور آپ نے مشرکینِ قریش سے مورچہ لیا تھا۔

اس کے بعد ہم شہدائے احد کی طرف آئے۔ پہاڑ یعنی جبلِ احد کے دامن میں ایک گول دیوار بنائی گئی ہے اور اس احاطے میں ہی شہدائے احد کے مدفن ہیں بشمول حضرت امیر حمزہؓ کے۔ ان شہداء کو سلام کر کے ہم نے یہاں چائے بھی پی۔ یہاں ایک نبی بوٹی نام کی چیز ملتی ہے۔ حرمِ کعبہ میں بھی ہم نے یہ شے دیکھی تھی ان دوکانوں پر جہاں مسواکیں وغیرہ ملتی ہیں مگر در اصل یہ بوٹی احد پہاڑ کے جنگلوں میں ہی ملتی ہے۔ اس بوٹی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ” جو صاحبِ “انصاف” سے “اولاد” طلب ہو” ، اس کی مراد بر آتی ہے۔

اب مسجدِ قبلتین کی طرف روانہ ہوئے۔ اس کے راستے میں بئرعثمانؓ یعنی حضرت عثمانؓ کا کنواں بھی اسرار میاں نے دکھایا۔ یہ کنواں پہلے ایک یہودی کا تھا جو اس کا پانی فروخت کرتا تھا۔ حضرت عثمانؓ کو پتہ چلا تو انھوں نے یہ کنواں ہی خرید لیا اور مفت پانی کی تقسیم کا انتظام فرمایا تھا۔

مسجد قبلتین کے بارے میں ہمارے مقرّب قارئین جانتے ہوں گے کہ آپ ؐ اسی مسجد میں تھے کہ بیت المقدس کی جگہ کعبے کو قبلہ مقرر کرنے کی آیت نازل ہوئی تھی۔ ابتدا میں مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے تھے۔ آپؐ کو معراج بھی وہاں سے ہی ہوئی تھی۔ ہجرت کے بھی 2۔ 3 ماہ تک وہی قبلہ رہا۔ مگر مدینے میں وہ مہاجرین جو قریش تھے ، ان کا دلی لگاؤ کعبۃ اللہ سے تھا۔ خود آں حضرتؐ کی بھی دلی تمنّا یہی تھی کہ اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں۔ یہ علاقہ بنو سلمہ کا تھا اور ایک دن آپؐ یہاں مہمان تھے اور ظہر کا وقت ہو گیا۔ بنو سلمہ کی اسی مسجد میں آپؐ ظہر کی نماز پڑھانے کی غرض سے بیت المقدس کی طرف ہی رخ کر کے کھڑے ہوئے ، یعنی شمال کی جانب۔ دو رکعتیں اسی طرح ادا ہوئی تھیں کہ البقرہ کی 144 ویں آیت نازل ہوئی..” لو ہم تمھارا رخ اسی قبلے کی طرف پھیرے دیتے ہیں جسے تم پسند کرتے ہو” اور آپؐ فوراً یہ حکم بجا لائے۔ اس طرح ظاہر ہے کہ باقی دو رکعتوں کے کئے آپؐ کو صفوں کے پیچھے آنا پڑا ہوگا اور آخری صف پہلی صف بن گئی ہوگی اور سبھی مقتدیوں کو نہ صرف جنوب کی طرف(جس سمت مکّہ ہے مدینے سے) گھومنا پڑا ہوگا بلکہ کافی حرکت بھی کرنی پڑی ہوگی۔ مسجد میں پرانے قبلے کی بھی نشان دہی کی گئی ہے اور وہاں دیوار پر وہی آیت بھی کندہ ہے۔ یہاں نفل نماز پڑھ کر ہم پھر آگے بڑھے۔

آخری پڑاؤ غزوۂ خندق کے علاقے کی طرف تھا۔ اسے سبع مساجد بھی کہتے ہیں کہ یہاں سات مسجدیں ہیں۔ یہاں کی نمایاں ترین مسجد مسجدِ فتح ہے جو سب سے اونچائی پر ہے۔ اسی کو مسجدِ احزاب بھی کہتے ہیں۔ غزوۂ خندق کے موقع پر آپؐ نے یہاں اللہ سے دعا فرمائی تھی اور اللہ نے آپ کو فتح کی خوش خبری دی تھی۔ اس مسجد کے جنوب کی جانب باقی چھ مساجد ہیں مسجد سلمان فارسیؓ، مسجد ابو بکرؓ، مسجد عمر ؓ، مسجد علیؓ، مسجد فاطمہ زہرہؓ اور مسجد ابو سعید خدریؓ۔ ابتدا مسجد فاطمہ سے کی جاتی ہے اور دائیں طرف دوسری مساجد میں نفلیں ادا کرتے ہوئی آخر میں مسجدِ فتح میں آتے ہیں۔ مسجدِ عمرؓ البتہ تھوڑی الگ ہے۔ وہاں واپسی میں نماز پڑھی۔ ساری مسجدوں میں جو نفلیں ہم نے پڑھیں وہ در اصل تحیّۃ المسجد تھیں۔

بس کے سارے ساتھی ہندوستانی پاکستانی تھے اور ہمارے یہاں کی عورتیں بہت slow ہوتی ہیں۔ یہ آپ تو جانتے ہی ہوں گے۔ جہاں اسرار میاں پندرہ منٹ دیتے تھے وہاں عورتیں آدھا گھنٹہ ضرور لگا دیتی تھیں بس تک پہنچنے میں اور خندق کے علاقے میں تو گھنٹہ بھر لگ گیا۔

واپسی ہوئی تو ظہر کا وقت قریب تھا چناں چہ بس نے حرم اور ہمارے “سفارت خانے” (مراد “مرکز سفیر”) کے درمیان اتار دیا کہ جو لوگ زیادہ خریداری کر کے آئے ہیں اور پہلے سامان کمروں پر لے جا کر رکھنا چاہیں تو رکھ دیں اور جو نماز کے لئے سیدھے حرم جانا چاہیں، وہ وہاں چلے جائیں۔ حالاں کہ ہم نے بھی مسجد قبا کے پاس ایک کلو کھجوریں خریدی تھیں، مگر اور کچھ سامان نہ تھا۔ اس لئے ہم حرم ہی آ گئے۔

ظہر کے بعد نشان زدہ جگہ پر صابرہ سے ملاقات ہو گئی۔ اور ہم اپنی سرائے کی طرف آئے۔ راستے میں ایک پاکستانی “سمیر ہوٹل” میں کھانا کھایا اور کمرے پر آئے تو صابرہ حسبِ معمول خوابِ خرگوش کے مزے لینے لگیں اور ہم موقع غنیمت جان کر والدہ اور بچّوں کو بالترتیب علی گڑھ اور حیدر آباد خطوط لکھنے بیٹھ گئے۔ تین بجے ہم پھر اٹھے اور عصر کے لئے حرم روانہ ہو گئے۔ صابرہ کا ارادہ عشاء تک وہاں ہی رہنے کا تھا۔

صفّہ یا کچھ اور…!!

6 اپریل۔ دو پہر ڈھائی بجے۔

عصر کی نماز پڑھ کر حالاں کہ پھر کھانسی اٹھنی شروع ہو گئی تھی مگر سوچا کہ پہلے مکتبے کی تلاش کی جائے۔ تلاش کرتے کرتے روضۂ اقدس کی طرف گزر ہوا تو وہاں پھر قطار میں لگ گئے۔ کل کی قطار سے اس بار کچھ لمبا دائرہ تھا۔ اس میں ایک جگہ 8۔ 10 فٹ مربّع کا ایک چبوترہ سا بنا تھا جس کے چاروں طرف قدِّ آدم بڑے ستون تھے، سنگِ مرمر کے۔ خیال ہوا کہ یہ وہ چبوترہ تو نہیں جہاں اصحابِ صفّہ بیٹھا کرتے تھے؟ واپس آ کر ساتھ لائی ہوئی کتابیں دیکھیں تو اصحابِ صفّہ کے چبوترے کا سائز 40 فٹ مربّع۔ لکھا تھا۔ ہم کو تو یہ لگا کہ جو چبوترہ ہم نے دیکھا اس کی چاروں ساقیں 8۔ 8 فٹ کی ہوں گی۔ مگر اس کتاب کے 40 فٹ مربّع سے ہم یہ سمجھے ہیں کہ سبھی ساقیں 40 فٹ کی اور آپس میں برابر ہوں گی اور مصنّف کو 40 مربّع فٹ اور 40 فٹ مربّع کا فرق معلوم نہ ہوگا۔ آپ کو بھی اتنا حساب تو آتا ہوگا کہ 5 فٹ ضرب 8 فٹ کا علاقہ بھی 40 مربّع فٹ ہوتا ہے۔ واللہ معلوم ہم نے یہ کون سا چبوترہ دیکھا تھا۔

البتّہ اس بار ہم کو مزارِ اقدس کی سنہری جالی والی دیوار نظر آ گئی جہاں آں حضرتؐ کے ساتھ ان کے دونوں گہرے دوست حضرات ابو بکرؓ اور عمرؓ بھی آرام فرما ہیں۔ اس بار حضور اقدسؐ کے علاوہ ان بزرگوں کی خدمت میں بھی سلام گزارنے کا موقع ملا۔ کچھ دیر رقّت کے ساتھ دعا بھی مانگی۔ جب پولس نے زیادہ دھکّا دیا تو باہر آ گئے۔

باہر آ کر پھر مکتبے کی تلاش شروع کی، مگر مایوسی ہی ہاتھ آئی۔ البتّہ اس بہانے جنّت البقیع کی زیارت ضرور ہو گئی کسی کی رہنمائی کے بغیر۔ ایک احاطے میں تین حصوں میں لا تعداد قبریں ہیں بے نام و نشاں۔ ان سینکڑوں مدفنوں میں کون کون سو رہا ہے، خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ لوگوں کے کہنے کی بات اور ہے۔ نہ جانے کتنے اکابر صحابہ اور صحابیات یہاں ہوں گی۔ ان سب کو ایک “جنرل” (General) سا سلام ہی عرض کرنا پڑا۔ ویسے ضروری نہیں کہ ان مرحومین میں سارے ہی ایمان والے صحابہ ہوں، کچھ مشرکین بھی ضرور ہوں گے۔ بہر حال آں حضرتؐ وہاں اکثر جاتے تھے۔ اس طرح ہم نے یہ سنّت پوری کی۔ آپؐ کے زمانے کے مدفون حضرات تو زیادہ تر مشرکین ہی ہوں گے۔ عبرت ضرور حاصل کی ہم نے۔ یہاں عورتوں کا داخلہ ممنوع ہے اسلامی قانون کے مطابق۔ وہ محض باہر کی جالی سے دیدار کر سکتی ہیں۔

اس کے باہر بازار میں آئے۔ چائے اور پھر سگریٹ پی کر اپنا “علاج” کیا۔ جہاں سگریٹ پی رہے تھے وہاں ہی ایک “توب” کی دوکان تھی۔ لمبے چُغّے نما کرتے جو یہاں عرب مرد پہنتے ہیں۔ دوکان دار 15۔ 15 ریال کی آواز لگا رہا تھا کہ یہ آدھی آستین کے تھے، اگرچہ کشیدے والے تھے۔ سارے سفید اور کریم رنگ کے۔ خریداری تو ہم نے کچھ نہیں کی، گھنٹہ بھر وقت گزاری ضرور کی بلکہ “کھڑکی خریداری” (Window Shopping) یا اور صحیح لفظ استعمال کریں تو “فٹ پاتھ شاپنگ” کہ وہاں ہی بازار زیادہ گرم ہوتا ہے۔ 3۔ 3، 4۔ 4 ریال کی ہوائی چپّلیں مل رہی تھیں۔ 10۔ 10 ریال کی سنتھیٹک ہلکی ہلکی چپّلیں، مردانہ بھی اور زنانہ بھی۔ پھر ضروریات سے فراغت کے بعد مغرب اور عشاء مسجد نبوی میں ادا کیں اور ہر دو نمازوں کے درمیان قضائیں پڑھیں۔

تین پاکستانی

کل مغرب کے بعد ہماری ملاقات تیسرے پاکستانی سے ہوئی کہ اس سے پہلے دو اور پاکستانیوں سے ہو چکی ہے۔ اب ذکر نکلا ہے تو بالترتیب تینوں کا ذکر کرتے چلیں۔

پہلا پاکستانی ہم کو مکّے کے قیام کی پہلی ہی صبح ملا۔ ہم طواف اور قضا کے بعد چائے پی کر غسل خانوں کی چھت پر (جو باقاعدہ بالکنی ہے اور ضرورت پڑنے پر یہاں بھی صفیں بن جاتی ہیں۔ ) سگریٹ پی رہے تھے کہ ایک صاحب نے ہماری سگریٹ کو بیڑی سمجھ کر ہم سے بیڑی مانگی۔ شاید آپ کو بتایا نہیں کہ ہم پاؤچ کی سگریٹ پیتے ہیں کہ یہی سگریٹ ہماری کھانسی دمے کی دوا کا کام کرتی ہے۔ پیکٹ کی ریڈی میڈ سگریٹ سوائے مزید پیسے خرچ کروانے کے اور کچھ کام نہیں کرتی۔ بہرحال ان بیڑی کے خواست گار کو تشریح کرنی پڑی کہ یہ بیڑی نہیں ہے ۔ تمباکو الگ آتا ہے، کاغذ الگ۔ کاغذ میں تمباکو لپیٹ کر سگریٹ بنانی پڑتی ہے صراحی آئے گی، خُم آئے گا، تب جام آئے گا۔ اور یہ سگریٹ بنانا ہم جیسے دیدہ وروں کا ہی کام ہے۔ بہر حال ہمارے پاؤچ میں ایک سگریٹ کا ہی تمباکو اور تھا۔ ہم یوں کرتے ہیں کہ ایک “ماسٹر پاؤچ” رکھتے ہیں۔ اس میں سے دو ایک دن کی ضرورت کا تمباکو نکال کر دوسرے پاؤچ میں استعمال کے لئے رکھ لیتے ہیں اور ماسٹر پاؤچ کو ٹیپ لگا کر سیل کر کے رکھ لیتے ہیں۔ ہمارے پاس تو مہینے بھر سے زیادہ ہی پاؤچ چل جاتا ہے کہ کھانسی کا اوسط دن میں تین چار بار کا ہے اور اتنی ہی سگریٹیں پی جاتی ہیں۔ پورا پاؤچ ساتھ رکھنے پر ، بلکہ کھلا رکھنے پر 8۔ 10 دن میں ہی تمباکو سوکھنے لگتا ہے۔ اس سے سگریٹ بنانے میں مشکل ہوتی ہے، وہ الگ ، اور پینے میں الگ کہ تمباکو جھڑنے لگتا ہے۔ کسی کو سگریٹ “آفر” (Offer)بھی کرنی ہو تو کاغذ میں تمباکو بھر کر اچھّی طرح “رول” کر کے دیتے ہیں کہ بھیا ! تھوک اپنا استعمال کر لو۔ ہم اپنا لعابِ دہن ادھار نہیں دیتے کسی کو۔ بہر حال ذکر تھا ان پاکستانی صاحب کا اور بات کرنے لگے ہمارے پاؤچ کی، بلکہ اب تک تو ہم یہ بھی آپ کو نہیں بتا پائے تھے کہ یہ صاحب پاکستانی تھے۔ ویسے ماشاء اللہ آپ عقل مند ہیں، انٹلکچوئل بھی ہوں گے (ورنہ ہماری یہ کتاب ہی کیوں پڑھ رہے ہوتے) سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ جب ہم نے پاکستانیوں سے ملاقات کا پیش لفظ باندھا ہے تو یہی پہلے پاکستانی ہوں گے۔ بہر حال ان کو ہم نے سگریٹ بنا کر پیش کی اور گفتگو شروع کی۔ پتہ چلا کہ نام عبد الغفور ۔ وطن فیصل آباد۔ پیشہ مزدوری۔ کبھی قلی گیری کرتے ہیں کبھی عمارتی مزدوری۔ کسی طرح پیسے پس انداز کر کے مکّے آنے کا ایک طرفہ کرایہ جمع کر لیا اور پہنچ گئے۔ ایک جھولے میں ضروریات کا سامان رکھتے ہیں۔ رات ہوئی یا جب بھی نیند آئی، حرم میں ہی جہاں جگہ ملی، سو رہے۔ کھانا پینا اہلیانِ خیر کے ذمّے۔ ہم سے بھی 5 ریال مانگ لئے۔ بیڑی سگریٹ علیٰحدہ۔ ہم نے رقم تو دے دی مگر شک ہوا کہ واللہ اعلم، ان کی باتیں کہاں تک سچ تھیں۔

اس کے دو تین دن بعد ہی تقریباً اسی مقام پر دوسرے پاکستانی ملے۔ یہاں ہم دونوں یعنی ہم اور ہماری “بیغم” چائے پی رہے تھے۔ یہ بزرگ عبدالحمید صاحب تھے۔ موضع چوریاں، ضلع قصور، معلوم ہوا کہ در اصل مہاجر ہیں۔ اصل وطن غازی آباد ہے۔ ہم نے اپنا مسکن علی گڑھ بتایا تو بڑے خوش ہوئے کہ ان کا سسرال بھی علی گڑھ کے قریب ہی اور اسی ضلعے کا اترولی نا م کا قصبہ ہے۔

تیسرے پاکستانی جو ابھی حال ہی میں مدینے میں ملے ہیں مگر ہم ان کا نام بھول گئے ہیں۔ بھر حال ان صاحب کو اپنی مملکتِ خدا داد۔ پر بڑا ناز تھا۔ نوجوان ہی تھے۔ بتایا کہ اصلاً کاٹھیاواڑ کے ہیں۔ حال مقیم کراچی۔ فرمانے لگے کہ آپ کی تو ہندو حکومت ہے۔ حج میں بڑی مشکل ہوتی ہوگی۔ پاسپورٹ وغیرہ بمشکل ملتا ہوگا۔ سفر بھی بہت مہنگا پڑتا ہوگا۔ “ہمارا تو الحمدُ للہ 75 ہزار میں حج ہو جا رہا ہے۔ “

انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں حج کے دو طریقے ہیں۔ ایک تو یہ کہ آپ غیر ملکی زرِ مبادلہ میں ہی رقم ادا کریں اور سعودی ریال حاصل کریں، بشرطیکہ یہ زرِ مبادلہ آپ کے کوئی غیر ملکی رشتے دار۔ ادا کریں، خود آپ نہیں، یعنی وہ آپ کو “اسپانسر” (Sponsor)کریں۔ دوسرے یہ کہ حکومتِ پاکستان کو آپ پاکستانی روپئے ہی دیں۔ ان صاحب نے پہلا طریقہ اپنایا تھا۔ کسی رشتے دار نے 1900 ڈالر کا ڈرافٹ بھجوایا تھا جس سے ان کو 6800 ریال مل گئے تھے، یہ صرف یہاں کے اخراجات کے لئے۔ ساڑھے پندرہ ہزار روپئے (پاکستانی) جہاز کا دو طرفہ کرایہ علیٰحدہ ہے۔ ان 6800 ریال کا حساب بھی انھوں نے بتایا کہ ایک ہزار ریال معلّم کو دئے ہیں، 500 ریال اس کی فیس اور 500 ریال جدّہ، مکّہ، مدینہ، عرفات اور منیٰ وغیرہ کی آمدورفت کے لئے۔ 1200 ریال ماہانہ ہوٹل کے کمرے کا کرایہ ہے، فی کس یعنی 5 لوگ مل کر 6 ہزار ریال کرایہ دے رہے ہیں مدینے میں رہائش کے لئے ان کو فی کس 350 ریال کا حساب پڑا ہے دس دن کا۔ ہم نے ہماری “غیر مسلم” (سیکولر حکومت کو بھی بہر حال غیر مسلم تو کہا ہی جا سکتا ہے) کی حج کمیٹی کی تفصیل بتائی کہ ہمارا جہاز کا کرایہ دو طرفہ (رعائتی) 6 ہزار روپئے ہے، وہ بھی بنگلور سے (کراچی سے تو اور 3/2 ہی ہونا چاہئے فاصلے کے لحاظ سے)۔ ہمارے جمع شدہ 58 ہزار کی رقم سے جہاز کے کرائے، معّلم، آمد و رفت اور مکّے مدینے میں رہائش کے انتظامات کے اخراجات میں کل 2287 ریال لگے ہیں، باقی رقم، فی کس 2316 ریال ہم کو واپس دے دی گئی ہے ہمارے کھانے پینے اور دوسرے اخراجات کے لئے۔ اس رقم کا ڈرافٹ ہم کو بنگلور میں ہی دے دیا گیا تھا جو ہم نے جدّہ ایرپورٹ پر بھنا لیا ہے۔ ہاں، اس سے پہلے پانچ ہزار روپئے اور بھی رہائش کے لئے ایڈوانس کے طور پر ادا کئے تھے(جو 58 ہزار میں شامل ہیں) اسے بھی شامل کر لیں تو یہ کل خرچ 2800 ریال کا ہی ہے۔ جو رقم ہم کو دی گئی ہے وہ ہمارے اختیار میں ہے کہ چاہے بھوکے رہ کر یا عبدالغفور فیصل آبادی کے طریقے پر عمل کر کے ساری رقم بچا کر لے جائیں ، چاہے دو دن میں اڑا ڈالیں۔ خوب سی شاپنگ کر کے رشتے داروں کو خوش کر دیں یا سب کو ناراض کر کے خود ہی خوش ہوتے رہیں۔ بہر حال ایسے موقعوں پر ہم کو اپنے وطن پر ناز ہی ہوتا ہے۔ ایر انڈیا کمپنی ہی سہی، مگر ہے تو نیم سرکاری۔ جہاز کے کرائے کا ہی مقابلہ کر لیجئے۔ رہائش کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے، ممکن ہے کہ ان کی رہایش گاہ بہت نفیس (Posh) ہو۔ یہ صاحب بقول کسے “بزنیس مین آدمی” تھے، خرچ میں ہاتھ خلاصہ تھا۔ حالاں کہ کاٹھیاواڑی تھے مگر بالکل بنئے نہ تھے۔

پاکستانی ہوٹل

یہ بات دوسری ہے کہ ہم نے ابھی ہندوستان پاکستان کی جنگ کرا دی ہے، مطلب مقابلہ۔ اور اس میں ہندوستان کو فتح دلا دی ہے مگر کھانے کے لئے ہم پاکستانی ہوٹل ہی ڈھونڈھتے ہیں۔ پرسوں رات کو ، یعنی مدینے کی پہلی رات کو مرکزِ سفیر کے پاس ہی کے مطعمِ الطیب (اس پر بھی اردو میں پاکستانی ہوٹل کا ہی بورڈ لگا ہے) سے مکسڈ۔ ویجیٹیبل کری کی پلیٹ “پارسل” کروا کے لے گئے تھے۔ کل دوپہر کو پاکستانی ہوٹل سمیر میں کدّو (مراد گول کدّو۔ ویسے ہمارے حیدرآباد میں لوکی کو بھی کدّو کہتے ہیں)کا سالن اور روٹیاں کھائی تھیں۔ رات کو صابرہ سے ملاقات نہیں ہو سکی ورنہ راستے میں کہیں کھاتے ہوئے آتے، اس لئے الطیب سے وہی مکسڈ ویجی ٹیبل کری پیک کروا کر لے گئے تھے، روٹیوں کے ساتھ۔ اب ایک بات اور یاد آ گئی ہے تو لکھ ہی دیں۔

مکّے کے قیام میں تو ہم خوب مرغیاں کھا رہے تھے، زیادہ تر سینڈوچ یا برگر قسم کی چیزیں۔ مگر اشفاق بھائی نے ہم کو مکّے سے رخصت کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی ذبیحہ تو صحیح ہوتا ہے مگر دوسرے غیر ممالک سے جو گوشت برآمد کیا جاتا ہے، وہ بھروسے کے قابِل نہیں ہے۔ اور یہ کچھ سستا بھی ہوتا ہے اس لئے چھوٹے موٹے ہوٹلوں میں، بطور خاص جو چھوٹے چھوٹے کاؤنٹر لگا کر ہوٹلیں سجا لیتے ہیں جہاں برگر اور سینڈوچ قسم کی اشیاء ملتی ہیں، ممکن ہے کہ یہ سستا گوشت استعمال کیا جاتا ہو۔ اگرچہ حکومت مطمئن ہے مگر اشفاق بھائی وغیرہ کو شک ہے۔ اس لئے وہ پرہیز کرتے ہیں۔ ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ جہاں ساری دنیا کے مسلمانوں کی نظریں لگی ہوں، وہاں یہ غیر شرعی حرکت ممکن تو نہیں مگر ہماری صابرہ بیغم کا کہنا ہے کہ اگر ہم لوگ بھی احتیاط کریں تو کیا حرج ہے! مدینے سے روانگی والی شام کو یہ گفتگو ہوئی تھی اس لئے مدینے میں ہم سبزی خور ہو گئے ہیں۔

ان پاکستانی ہوٹلوں میں یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اگر آپ ہوٹل میں ہی کھانا کھائیں تو روٹیاں مفت میں ملتی ہیں، مگر کچھ حد ضرور ہے ان کی تعداد کی۔ پیک کروا کر “پارسل” لے جائیں تو روٹیاں خریدنی پڑتی ہیں۔ مکّے مدینے میں تو گوشت مرغی سب جگہ ٦۔ ٦ ریال کی پلیٹ ہے، شوربے والے سالن کی۔ گرلڈ اور روسٹ ٨ ریال کا ہے۔ سبزی چار ریال اور دال ٣ ریال کی۔

پاکستانی ہوٹلوں کے بارے میں ایک بات اور لکھ دیں۔ ان میں سے کچھ ہوٹل ہندوستانیوں کے بھی ہیں۔ مگر کیوں کہ جیسے ہندوستانی ہوٹلوں میں اگر ہوٹل کا نام “بسم اللہ” یا “غریب نواز” یا پہلا نام کچھ بھی ہو، اگر اس کے آگے مسلم ہوٹل لکھا ہو تو ہمارے مومن بھائی بلا جھجھک جا کر گوشت کھا لیتے ہیں کہ ضرور حلال ہوگا۔ غیر ممالک میں ہندوستانی ہوٹل سے مراد صرف “کری” ہے اور گوشت مرغی کے سالنوں کے لئے پاکستانی ہوٹل ہی مشہور ہیں چناں چہ یہاں کے ہندوستانی بھی ہوٹل کھولتے ہیں تو “پاکستانی ہوٹل” کا بورڈ لگا دیتے ہیں۔ ایک جگہ ہم نے “ہندوستانی پاکستانی ہوٹل “بھی لکھا دیکھا۔ مکّے اور مدینے میں بنگلہ دیشی ہوٹل بھی ہیں جن پر بنگالی میں بورڈ لگاتے ہیں جو ہم پڑھ سکتے ہیں اور بول سکتے ہیں۔ مگر وہ کلچر تو البتّہ الگ ہی ہے۔ وہاں تو “ماچھ بھات” ہی ملے گا۔

کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر ساڑھے دس بجے رات تک ہم یہ ڈائری یا سفر نامہ لکھتے رہے۔ نیند آنے لگی تو سوا گیارہ بجے سو گئے۔ صابرہ نے بھی بچّوں کے نام خطوط لکھ دئے ہیں اور ہم نے لفافے بند کر کے پوسٹ کرنے کے لئے رکھ لئے ہیں۔

اب ہم وقت پر ہیں

اتوار کا دن ہے اور اس وقت ہم مسجدِ نبوی کے صحن میں عمارت کی جنوبی دیوار سے لگ کر بیٹھے یہ سطریں لکھ رہے ہیں۔ وقت ہو رہا ہے 20۔ 6 بجے شام۔ صبح سے ہی اب تک کی تفصیل باقی ہے کہ ہم آج دن بھر اسی نیک کام میں مصروف رہے ہیں۔ صبح ناشتے کے بعد سے ظہر تک (کچھ وقفے کے علاوہ) ہم نے “…کہ خاک شدہ” سے “مدینے کی زیارتیں” ، پھر ظہر اور دوپہر کھانے کے بعد ڈھائی بجے سے عصر کے لئے نکلنے (ساڑھے تین بجے) تک اسے ہندوستان پاکستان کے مقابلے تک آگے بڑھایا ہے عصر کے بعد پونے چھ بجے سے (درمیان میں کچھ وقت گھومنے پھرنے میں برباد کرنے کے علاوہ) اسی نشست میں پاکستانی ہوٹلوں کا احوال لکھا ہے۔ اب کیوں کہ نمازِ مغرب کا وقت قریب ہے ۔ اس لئے صف باندھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ باقی انشاء اللہ رات کو لکھیں گے۔ یہی کیا کم ہے کہ اب ہم وقت پر ہیں۔

کھانسی اور بازار

(وہی دن۔ ١١ بجے رات)

یوں تو اتوار کا دن ہمارے لئے خاصی اہمیت رکھتا ہے کہ اس دن چھٹّی ہوتی ہے۔ ہندوستان میں اور دوسرے ممالک میں (مسلم ممالک کو چھوڑ کر، جہاں یہ فضیلت جمعے کو حاصل ہے) بہت سی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ ہمارے لئے تو اکثر سنیچر اور اتوار ( کہ ہمارے دفتر میں دونوں دن چھٹیاّں ہوتی ہیں) کو اتنے کام جمع ہو جاتے ہیں کہ ان کو چھٹّیاں کہنے میں شرم آتی ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ دفتر نہیں جاتے۔ مگر سنیچر کو بازار کے مختلف کام ہوتے ہیں اور اتوار کو گھر کے کہ اس دن بازار بند ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آفس جانے والے دنوں میں ہماری کھانسی کے اوقات مقرّر ہیں مگر چھٹی ّکے دن کا کوئی بھروسہ نہیں۔ وہاں بھی چھٹی ّکے دن طبیعت زیادہ ہی خراب رہتی ہے، یہی حال مدینے میں بھی ہمارا آج رہا ہے۔ ممکن ہے کہ کچھ دخل اس میں مدینے کے ٹھنڈے موسم کا بھی رہا ہو، صبح سے مستقل ہماری ناک بہہ رہی ہے اور مستقل کھانسی بھی اٹھ رہی ہے۔ سگریٹ پینے سے بھی ایک ڈیڑھ گھنٹے کا آرام ملتا ہے یعنی کھانسی کم ہو جاتی ہے یا ہم بالکل نارمل ہو جاتے ہیں، اور پھر شروع ہو جاتی ہے۔ آپ کہیں گے کہ “کھانسی اور بازار” کا عنوان چہ معنی دارد؟ یہ تو آپ کو شروع میں ہی بتا چکے ہیں کہ “تدغین” (یعنی اسموکنگ، اگر آپ بھول رہے ہوں تو…) سے دوسروں کی نوبت بھلے ہی “تدفین” تک پہنچ جاتی ہوگی مگر ہماری طرفہ طبیعت میں افاقہ ہی ہوتا ہے۔ مسجدِ نبوی میں “ممنوع التدغین” کے نشان سے دور جا کر بھی سگریٹ پیتے ہیں تو لوگ اشارے سے منع کرتے ہیں۔ معلوم نہیں کہ کہاں تک اس کی حد بندی ہے۔ آج معلوم ہوا کہ مسجدِ نبوی کے مغرب میں ہی ایک بازار ہے۔ یہ دریافت سگریٹ پینے کے لئے جگہ کی تلاش کے دوران ہوئی۔ وہاں گھوم پھر کر سگریٹ پینے کے چکّر میں ہم کو اس علاقے کی شاپنگ کا اچّھا آئڈیا (Idea) ہو گیا ہے کہ انجان لوگوں کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ اس بازار کا ذکر بعد میں کریں گے، پہلے آج کی مصروفیت کا ذکر اور کر دیں۔ دعویٰ تو کر رہے تھے کہ ہم اب پابندِ وقت ہو گئے ہیں یا ہونے جا رہے ہیں کہ آج کا حال آج ہی لکھنے کی “نوبت آ گئی ہے” مگر محض کھانسی اور سیر بازار کا ذکر کر کے آپ کو شب بخیر کہنے جا رہے ہیں۔ نیند آنے کے آثار ہیں۔ اس لئے بس اتنا اور لکھ دیں کہ الحمدُ لِلّہ آج صبح سوا تین بجے آنکھ کھل گئی تھی اور ہم دونوں میاں بیوی جب تہجّد کے لئے مسجد روانہ ہوئے تو اذان بھی نہیں ہوئی تھی (حرمین میں تہجد کی اذان ضرور پابندی سے ہوتی ہے مگر با جماعت نماز نہیں) راستے میں اذان ہوئی۔ ہم نے تہجّد اور پھر کچھ قضا نمازیں پڑھیں۔ 40۔ 5 پر فجر کی اذان ہوئی اور اس کے فوراً 5۔ 6 منٹ بعد ہی نماز۔ ساڑھے پانچ بجے ہی ہم گھر، یا ہمارے سفارت خانے واپس آ گئے (آپ کو یاد ہے نا کہ یہاں ہمارا قیام “مرکزِ سفیر” میں ہے) ۔ صابرہ وہاں ہی رک گئیں۔ دراصل روضۂ مبارک میں داخلے کے لئے مردوں اور عورتوں کے اوقات مقرّر ہیں۔ بلکہ کہنا چاہئے کہ صرف عورتوں کے اوقات مقرر ہیں کہ وہ صبح 7 بجے سے 9 بجے اور پھر دوپہر دو بجے سے تین بجے تک زیارت کر سکتی ہیں، باقی سارے اوقات مردوں کے لئے ہی مخصوص ہیں۔ چناں چہ ہم نے واپس آ کر تنہا ہی ناشتہ کیا۔ بریڈ وغیرہ کی نوعیت کی جو چیزیں رکھی تھیں، وہ کھائیں اور چائے کے لئے باہر نکلے۔ پچھلی رات کو دو خطوط پوسٹ کرنے کے لئے تیار رکھے تھے، وہ بھی ساتھ لئے۔ سامنے کے مطعم الطیب میں چائے پی اور وہاں ہی ہوٹل والے پاکستانی صاحب سے پوچھا کہ بھائی لیٹر باکس کہاں ہے، کس طرف ہے اور کدھر ہے۔ معلوم ہوا کہ وہ بھی صنم کی کمر کی طرح ہی ہے۔ گلی کوچوں میں لیٹر باکس یہاں نہیں ہیں۔ وہی مکتبِ برید (پوسٹ آفس) جانا پڑے گا جو مسجد نبوی کے قریب ہی ہے۔ یہاں لگتا ہے کہ لوگ خطوط لکھتے ہی نہیں، محض فون کر دیتے ہیں۔

پیر، 7/ اپریل، صبح 10۔ 6 بجے

ادھوری بات کو اب مکمل کریں۔ جب مکتب البرید کی ضرورت ہوئی تو ہم نے قیاس کیا کہ وہیں ہوگا جہاں سے ہم نے پچھلے دن سادہ لفافے لئے تھے، پھر بھی ان پاکستانی ہوٹل والے سے پوچھا کہ اور کوئی مکتب البرید؟ (آخر ہم عربی بولنے لگے ہیں، جو ہماری شد بد والی دسویں زبان ہے اللہ کے فضل سے)۔ چائے تو ہم نے پی لی تھی کہ کھانسی کا علاج بھی کرنا تھا (چائے کے بعد سگریٹ اور زود اثر ہوتی ہے) جو بازار میں گھومتے پھرتے اور جلدی اچھّی ہوتی ہے۔ مگر سوچا کہ پہلے ضروری کام سے فارغ ہو لیا جائے یعنی خطوط پوسٹ کر دئے جائیں اور اسی تلاش میں بازار گھومتے رہے اور اس کام سے فارغ ہو کر بھی سگریٹ پیتے ہوئے گشت جاری رہا۔ اور حیران رہ گئے کہ ان دو آنکھوں سے کیا کیا دیکھیں اور جب خریدیں تو کیا کیا خریدیں؟ بقیع کا بھی ایک چکر لگایا اور مکتبے کی تلاش بھی جاری رہی۔ ایک صاحب نے پتہ دیا کہ “باب العثمان” کے پاس دروازہ نمبر 18 یا 19 ہے، وہاں معلوم کریں۔ مسجد نبوی کے چاروں طرف گھوم کر باب عثمان دیکھتے رہے مگر نہیں ملا۔ ممکن ہے کہ یہ تعمیر جدید سے قبل کا ہو جو اب موجودہ باہری دروازوں کے اندر چلا گیا ہے۔ بہر حال مکتبہ نبوی کی تلاش بے سود رہی۔ 10 بجے کے قریب واپس آ گئے اور پھر یہی ڈائری لکھتے رہے بازار کے بارے میں اتنا ضرور لکھ دیں کہ اس بات پر تعجّب اور خوشی دونوں ہوئیں کہ صبح صبح ہی یہاں بازار لگ جاتا ہے اور فجر سے ہی دوکانیں کھل جاتی ہیں اور فٹ پاتھ کا بازار بھی۔ ممکن ہے کہ یہ محض حج کے دوران ہوتا ہو۔ پھر 11 بجے کے بعد پھر حرم گئے یعنی مسجدِ نبوی۔

مکتبہ نبوی د و ر نیست

ظہر کے لئے اگرچہ دیر ہو گئی تھی پھر بھی اندر مسجد میں نہ صرف جگہ مل گئی بلکہ جہاں جگہ ملی، وہاں ہی سامنے مکتبۂ نبوی کا سائن بورڈ نظر آیا۔ خوشی ہوئی کہ دلّی دور ہو تو ہو ، اور یہاں سے تو ہے بھی، مکتبۂ نبوی دور نہیں۔ سائن بورڈ پر بائیں طرف کے تیر کے نشان کی طرف نظریں دوڑائیں تو دیکھا کہ تھوڑی دور پر ہی شجرِ ممنوعہ بھی ہے۔ یہ عورتوں کے حصّے کی دیوار تھی جسے انگریزی میں پارٹیشن (Partition) کہتے ہیں۔ اس دیوار کے ساتھ ہی ایک دروازہ نظر آیا جس پر باب عثمان بن عفّان بھی لکھا تھا۔ ثابت ہو گیا کہ یہ اندرونی دروازہ ہی ہے۔ باہر تو وہی 34 دروازے ہیں۔ رقم 1 تا 34، مگر یہ دیکھ چکے تھے کہ کہ ان محراب دار بڑے دروازوں پر جو نمبر پڑے ہیں وہی نمبر دو بڑے دروازوں کے درمیان کے 4۔ 3 چھوٹے دروازوں کے بھی ہیں۔ بہر حال ظہر کے بعد صابرہ سے ملنا تھا اور ساتھ کھانے کے لئے جانا تھا اس لئے مکتبے کا ارادہ موقوف کر دیا اور نماز کے بعد سیدھے باہر آ گئے۔

مقرّرہ جگہ پر محترمہ مل گئیں اور ہم آگے بڑھے۔ روزانہ سڑک کے داہنی طرف چلتے ہیں کہ یہاں ٹریفک کا اصول دائیں طرف کا ہی ہے، مگر سڑک کی اس سمت کی ہوٹلوں کا “سروے” کر چکے تھے چناں چہ آج سڑک پار کر کے دوسری طرف آ گئے۔ دو ہوٹلوں میں داخل بھی ہوئے جہاں پاکستانی ہوٹل کا بورڈ لگا تھا، مگر دونوں میں جگہ نہ تھی۔ اور ایک جگہ دیکھا تو اردو میں “پاکستانی بنگلہ دیشی ہوٹل ” اور بنگلہ میں “بنگلہ دیشی پاکستانی ہوٹل ” لکھا تھا۔ اس میں جگہ مل گئی۔ یہ در اصل بنگلہ دیشی ہوٹل ہی تھی۔ ہر طرف بنگلہ بولی جا رہی تھی۔ آخر ہم لسان الملک واقع ہوئے ہیں، شروع ہو گئے بنگالی میں۔ اردو ہندی اور انگریزی تو ہماری مادری زبانیں ہیں تقریباً۔ بنگلہ کا نمبر چوتھا ہے ہماری مہارت کے لحاظ سے۔ اس کے بعد کچھ کچھ سمجھ میں آنے والی زبانوں میں پنجابی، گجراتی تیلگو اور کنّڑ ہندوستانی زبانیں ہیں، فارسی ہماری آبائی زبان ہے اور پھر عربی۔ دس زبانیں تو یہ ہو گئیں۔ لیجئے، ہم فرانسیسی تو بھولے جا رہے ہیں۔ یہ تو ہم نے بی۔ ایس سی۔ میں با قاعدہ ایک سال کے کورس میں پڑھی تھی۔ پھر بھی اہلیت کے حساب سے بنگالی کے بعد فارسی کا ہی نمبر آتا ہے۔ باقی سب زبانوں کا علم تقریباً ایک ہی سطح کا ہے، یعنی سطحی۔

جے بنگلہ دیش

بنگلہ دیشی ہوٹل سے بات ہماری ہمہ دانی یا ہمہ زبانی کی چھڑ گئی اور ہم رعب بگھارنے لگے۔ بہرحال ہم سیکھے ہوئے تھے ہمارے کلکتّہ کی بنگلہ اور یہ لوگ تھے بنگلہ دیشی۔ ان کا لہجہ اور لفظیات ہماری سمجھ میں پوری طرح نہیں آ رہے تھے۔ در اصل ہماری بنگالی یعنی ہندوستانی یا مغربی بنگال کی بنگالی ہی فصیح سمجھی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش میں پانی کو پانی ہی کہتے ہیں “جول” نہیں۔ بہر حال ہم نے حسبِ معمول “شوبجی” (سبزی) منگوائی۔ یہ سبزی آلو بینگن کی تھی اور مقدار میں بہت کم تھی۔ عموماً ایک پلیٹ میں ہم دونوں آرام سے کھا لیتے ہیں۔ مگر یہاں “ڈال” (دال) بھی منگوانا پڑی۔ چنے کی دال تھی اور روٹیاں تو ساتھ میں مفت تھیں ہی۔ ہوٹل دیکھ کر خیال آیا کہ یہاں کبھی کبھی مچھلی بھی کھائی جا سکتی ہے، بکری اور مرغ سے تو ہم احتیاط برت رہے ہیں۔

کھانا کھا کر کمرے واپس آ گئے۔ بلکہ صابرہ کو تو ہم نے سفارت خانے کے باہر ہی چھوڑا اور خود کھانسی کے علاج کے لئے باہر ہی رہ گئے۔ اس کے بعد کمرے آ کر ڈیڑھ بجے سے… مگر ہم یہ دوبارہ کیوں لکھیں۔ سرسری طور پر “اب ہم وقت پر ہیں” دیکھ لیجئے۔ تھوڑی دیر یہ سفر نامہ لکھ کر عصر کے لئے حرم چلے گئے اور نماز کے بعد مکتبہ نبوی گئے۔

مکتبے میں نیچے دار المطالعہ تھا مگر صرف عربی کی کتابیں تھیں۔ وہاں ہی لائبریرین نما صاحب سے پوچھا کہ آیا وہ اردو انگریزی سمجھتے ہیں، انھوں نے ایک دوسرے صاحب کی طرف اشارہ کیا۔ ان سے ہم نے ما فی الضمیر بیان کیا کہ ہم کو قرآن معہ ترجمہ اور تفسیر چاہئے دو تین اردو اور انگریزی نسخے۔ انھوں نے اردو میں جواب دیا کہ ترجمے والے نسخے تو شاید ختم ہو چکے ہیں اور بغیر ترجمے کے ہی قرآن تقسیم ہوتے ہیں جس کے اوقات مقرّر ہیں 10 تا 12۔ اور جو ہوں بھی تو میں وہاں ہی پڑھنا پسند کروں گا یا ساتھ لے جانا؟ ہم نے سوچا کہ پہلے انگلی تو پکڑی جائے۔ اس لئے کہہ دیا کہ ساتھ لے جانا پسند کروں گا ۔ انھوں نے ایک اور عرب صاحب کو بلوایا اور عربی میں کچھ ہدایت دی۔ یہ صاحب ہاتھ پکڑ کر تیسری منزل پر لے گئے۔ جہاں کچھ مطبوعات مفت تقسیم کے لئے رکھی تھیں۔ اور یہ صاحب واپس چلے گئے۔ مگر وہاں قرآن کے نسخے تو کچھ نہیں تھے، کچھ کتابچے تھے حج کے طریقوں پر۔ اردو اور انگریزی کا ایک ایک لے لیا پھر جو صاحب وہاں تھے ان سے گفتگو کی تو ترسیل و ابلاغ کا مسئلہ ہو گیا ۔ بہرحال وہاں تبرّکات کے طور پر قرآن کے کئی نسخے رکھے تھے بطور نمائش۔ مصحف عثمانی کے، خطِ کوفی کے، اور خطّاطی کے خوبصورت نمونے بھی۔

پھر نیچے واپس آئے تو وہ اردو داں صاحب بھی غائب! دوسری منزل پر البتّہ کچھ کمپیوٹر رکھے دیکھے تھے۔ خیال آیا کہ وہاں لوگ انگریزی سمجھتے ہوں گے۔ معلوم ہوا کہ یہ کمپیوٹر بھی عربی سمجھنے والے تھے۔ عربی “وِنڈوز”95 (Windows 95) ڈیسک ٹاپ پر نظر آ رہی تھی۔  ایک صاحب انگریزی داں نکلے۔ انھوں نے کہا کہ اگلے دن ان کے “شیخ” سے ملوں جو 8 سے 2 بجے کے درمیان ہی ملتے ہیں۔

پھر مغرب تک یہ روزنامچہ لکھا اور مغرب اور عشاء کے درمیان کھانسی کے علاج کے لئے بازار گئے۔

ہر ما ل 2۔ 2 ریال

اس بازار میں کئی دوکانیں ہیں جن میں ہر مال۔ 2۔ 2 ریال کا ملتا ہے۔ یہ دوکانیں ہم کو پسند آئیں۔ پوچھئے کیوں؟ ارے صاحب، اتنے عربی داں تو ہم نہیں ہو گئے کہ دوکان دار بولے کہ پندرہ ریال اور ہم 8 ریال سے شروع کر کے 12 ریال میں سودا چکائیں۔ سودے یہاں ایسے ہی ہندوستان کی طرح ہی ہوتے ہیں مول چُکا کر۔ عربی کی طویل گفتگو میں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آیا دوکان دار ہماری مجوّزہ قیمت پر راضی ہے یا نہیں اور اسے بھی یہ کہ ہم کو اس کی یہ قیمت قبول ہے یا نہیں۔ ایک اسکارف کی دوکان پر عورت عشرہ ریال کی آواز لگا رہی تھی ، یعنی 10 ریال۔ صابرہ نے 5 ریال کہا پھر 6 ریال۔ اس نے کچھ گفتگو کی اور پھر خود ہی شاید دو اسکارف باندھ کر دینے لگی۔ ہم 20 ریال دے کر سوچ رہے تھے کہ 8 ریال ہم کو واپس ملیں گے، مگر وہ 5 ریال اور مانگ رہی تھی، یعنی کل 25 ریال۔ آخر صابرہ اسکارف واپس رکھنے لگیں تو پتہ چلا کہ یہ تین اسکارف تھے جس کے وہ 25 ریال مانگ رہی تھی۔ ہم نے لاکھ کہا کہ ہم کو تین نہیں چاہئیں دو ہی رہنے دو اور بہن 5 نہیں تو 4 ریال ہی واپس کر دو۔ مگر اس اللہ کی بندی نے دو اسکارف واپس رکھ لئے اور ایک ہی ہمیں زبردستی پکڑا دیا اور پھر 10 ریال واپس کر دئے۔ مجبوراً لینا پڑا۔ یہ تو پھر عشرہ ریال کی آواز لگانے والی تھی، دوسری دوکانوں پر تو ممکن ہے کہ 20 ریال بولیں اور 6 ریال میں آپ کو وہ شے مل جائے۔ اس وجہ سے ہم سودا چکانے والی بات سے ڈرنے لگے ہیں اور اس لحاظ سے ایسی دوکانیں بہتر ہیں جہاں مال کی ایک ہی قیمت ہے۔ اسی سبب ہم کو یہ۔ 2۔ 2۔ ریال والی دوکانیں پسند آئیں۔ کچھ 5۔ 5 اور کچھ 10۔ 10 ریال کے سامان کی بھی ہیں۔ سب اشیاء سامنے سجی ہیں۔ دوکان میں گھومئے پھرئیے، کچھ لینا ہو تو اٹھا لیجئے، نہیں تو ایسے ہی واپس نکل آئیے۔ لیا ہو تو باہر کے دروازے کے پاس دوکاندار کھڑا ہوگا، اسے اشیاء گنوا دیجئے اور رقم ادا کر دیجئے 2 کا پہاڑہ پڑھ کر۔ مرحبا، اہلاً و سہلاً۔ ان دوکانوں پر گھڑیاں تک تھیں،۔ 2۔ 2۔ ریال والی دوکانوں پر معمولی ڈیجیٹل (Digital) تو 10۔ 15 ریال والی دوکانوں میں کوارٹز گھڑیاں بھی۔ سبھی چینی۔

عشاء پڑھ کر صابرہ کا انتظار کیا مقرّرہ جگہ پر۔ مظہر بھائی کی بیوی اور ایک اور صاحبہ ان کے ساتھ ہی آئی تھیں مگر بچھڑ گئی تھیں، صابرہ ان کو تلاش کرتی ہوئی آئیں۔ پھر ہم دونوں ان عورتوں کو ادھر ادھر دیکھتے رہے۔ دراصل ان خواتین کے بارے میں شک تھا کہ کہیں بھٹک نہ جائیں۔ مظہر بھائی، ستّار اور جبّار صاحبان، سبھی نے اپنی اپنی بیویوں کو صابرہ کی نگرانی میں دے رکھا ہے کہ اس طرح امّید ہے کہ یہ عورتیں ہر لحاظ سے محفوظ رہیں گی۔ 20۔ 9 تک ان کی تلاش کر کے آخر مایوس لوٹے اور اس پریشانی کی وجہ سے کھانے کے لئے راستے میں رکے بھی نہیں، سیدھے سرائے آئے اور ان کے کمرے میں گئے تو ساری بیویاں اور ان کے شوہران آرام سے کھانا کھانے میں مشغول تھے۔ معلم ہوا کہ نماز کے فوراً بعد ہی مظہر بھائی خود ان کو مل گئے اور ان کے ساتھ ہی یہ لوگ واپس آ گئی تھیں۔ جب یہ فکر دور ہوئی تو پیٹ کی فکر ہوئی۔ صابرہ کہنے لگیں کہ کچھ پیٹ میں درد محسوس ہو رہا ہے اس لئے پھر باہر کھانا کھانے نہیں گئے۔ سامنے ہی مطعم الطیب سے صابرہ کے لئے ایک ریال کی دہی کا پیکنگ اور اپنے لئے وہی “مکسڈ ویجیٹیبل کری” یعنی آلو، مٹر، گاجر اور فرنچ بینس کا شوربہ معہ روٹیوں کے۔ ساڑھے دس بجے تک کھانے سے فارغ ہو کر کچھ لوگوں سے باتیں کیں، کچھ دیر یہ ڈائری لکھی اور 12 بجے کے قریب سوئے ہیں تو آج پیر کو صبح ساڑھے پانچ بجے کے بعد ہی آنکھ کھلی ہے۔ فجر کی جماعت تو نہیں مل سکی ہے مگر نماز کے لئے مسجدِ نبوی ہی گئے تھے اور پھر نماز پڑھ کر آئے ہیں تو پچھلے سوا گھنٹے سے آپ سے ہی یہ گفتگو ہو رہی ہے۔ بلکہ اپنے آپ سے بھی۔ صابرہ اب تک مسجد سے نہیں لوٹی ہیں، 3 بجے تہجّد کے لئے گئی تھیں۔ ساڑھے سات بج رہے ہیں، اب ناشتہ کریں گے اور پھر مسجدِ نبوی جائیں گے۔ دیکھئے اب ہم وقت پر آ گئے ہیں۔ خدا ہم کو وقت کی ایسی ہی پابندی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

کچھ مسجدِ نبوی کے با رے میں

7/ اپریل۔ 10۔ 10 بجے رات

ہم یوں بھی ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ کبھی پاکستانیوں سے آپ کو ملواتے ہیں، کبھی مکتبہ نبوی کے شیخ سے۔ کبھی حرمِ مکّہ کی سیر کراتے ہیں تو کبھی مدینے کے بازاروں کی۔ اور اکثر اس چکّر میں بھی ہمارا روزنامچہ رہ جاتا ہے اور ہم وقت پر نہیں رہ پاتے۔ اب آج صبح ساڑھے سات بجے سے اب تک کے حالات لکھنے سے پہلے کچھ مسجدِ نبوی کی تفصیل لکھ دیں تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔

جنوب کی طرف سے ہم جس راستے سے داخل ہوتے ہیں ، وہی خاص دروازہ ہے۔ یہاں درمیان میں دو بڑے دروازے ہیں اور ان کے درمیان چار عدد چھوٹے دروازے بھی۔ دائیں طرف اور بائیں طرف بھی بڑے چھوٹے دروازے ہیں مگر یہ دروازے عورتوں کے لئے مخصوص ہیں۔ یہ مخصوص حصّہ باہری صحن میں سنہری جالی دار دیوار یا اسکرین سے علیٰحدہ کر دیا گیا ہے۔ مگر مسجد کے اندر عورتوں کے حصّے میں سفید پلائی ووڈ کا پارٹیشن ہے جس کا ہم ذکر کر چکے ہیں۔ سامنے کے حصے میں نیلے سفید گنبد ہیں۔ سارے میناروں پر بھی سفید اور خاکستری (گرے) رنگ سے کندہ کاری کی گئی ہے۔ ہماری ارضیات کے حساب سے یہ سفید پتھّر سنگِ مر مر ہے اور گرے پتھّر گرینائٹ۔ عورتوں کے حصّے کو باہر سے پار کر کے مغرب کی طرف آئیے تو اسی طرح کئی دروازے ہیں۔ قبلہ شمال کی جانب ہے کہ مدینہ مکّہ کے جنوب میں واقع ہے۔ اس لئے اس طرف بڑے دروازے نہیں ہیں۔ مگر اس کے ہی مغربی گوشے میں روضۂ مبارک ہے جو کہ کچھ سامنے کی طرف نکلا ہوا ہے تاکہ کسی کا سجدہ اس جانب نہ ہو کہ شرک کا دروازہ کھل جائے۔ اس نکلے ہوئے حصّے میں تین دروازے ہیں۔ بابِ جبرئیل، بابِ بقیع (کہ یہ دروازہ جنتّ البقیع کی طرف ہے) اور ایک اور دروازہ جس کا نام ہم ابھی بھول رہے ہیں۔ مغرب کی طرف بھی چھوٹے دروازے ہیں۔ کل ملا کر یہاں 41 عدد۔ ان پر باب رقم 1 سے باب رقم 41 تک نمبر دئے گئے ہیں۔

اندر بھی روضے کے حصّے کو چھوڑ کر وہی رنگ ہیں۔ گرے اور سفید اور سنہری مینا کاری ستونوں پر۔ سطحِ زمین سے 12۔ 15 فٹ کی اونچائی تک سفید سنگ مرمر ۔ سنہری جالی کے ہی لیمپ شیڈس ہیں۔ ستونوں کے اوپری حصّے میں چھت کے قریب اور کہیں کہیں نیچے بھی۔ روشنیوں پر “اللہ” لکھے ہوئے شیشے کا خول ہے۔ بیچ بیچ میں دائرے کی شکل کے فانوس ہیں، یعنی کئی فانوس دائرے کی شکل کی لڑی کے روپ میں۔ باہری حصّہ مسجدِنبوی کی تازہ ترین شاہ فہد کی تعمیر ی توسیع ہے۔ اس کے بعد پچھلی توسیع کی حد پر پھر اندرونی دروازے ہیں جیسے بابِ عثمان وغیرہ۔ بابِ عثمان کے قریب ہی کچھ حصّے کو خالی چھوڑ دیا گیا ہے، یعنی یہاں چھت نہیں ہے اور دن میں دھوپ ہونے پر یہاں ایک چھتری تان دی جاتی ہے۔ یہ بڑا خوب صورت سفید اور نیلے کسی سنتھیٹک مادّے کا چھاتا ہے جسے ضرورت پڑنے پر کھولا جا سکتا ہے اور رات کو بند کر دیا جاتا ہے۔ ہم تو اسے چھت ہی سمجھے تھے، بعد میں آج شام کو ہی مظہر بھائی نے بتایا ۔ اب کل پھر غور سے دیکھیں گے انشاء اللہ۔

راستوں کو چھوڑ کر سارے فرش پر سرخ قالین بچھے ہیں۔ دونوں کناروں پر وہی بیت اللہ کی طرح “سُقیا زم زم” کے بڑے بڑے تھرمِک جگ رکھے ہیں اور بیچ بیچ میں سنہری کام والے شیلفوں (Shelves) میں قرآن مجید۔ اب قرآن مجید کا ذکر آیا ہے تو ذرا موضوع بدلیں۔

مکتبے کی تلاش بے سود رہی

آج صبح 10 بجے ہم مکتبے کی طرف پھر گئے، جن صاحب نے ہم سے کہا تھا کہ 10 بجے سے 12 بجے تک قرآن تقسیم ہوتے ہیں اور جو واحد شخص انگریزی سمجھتے تھے، وہ آج نہیں ملے۔ معلوم ہوا کہ ان کی عصر کے وقت ڈیوٹی ہوتی ہے۔ بہر حال مدیر صاحب (شیخ) سے ملے تو وہ صرف عربی داں ہی نکلے۔ انھوں نے کسی ہندوستانی یا پاکستانی ملازم کو بلا کر ہمارا مقصد دریافت کیا، جو ہم نے پھر بیان کیا۔ یہ تو شاید ہم لکھ ہی چکے ہیں کہ شاہ فہد ایڈیشن جو ہے وہ شاہ فہد نے چھپوایا ہے مفت تقسیم کے لئے ہی کہ ہر نسخے پر انگریزی میں بھی Not for Saleلکھا ہے۔ محض وقف المساجد۔ اگر ہم کو یا کسی کو کسی مسجد میں رکھنے کے لئے چاہئے تو شاید مل سکتا تھا۔ حرمِ مکہ میں بھی تقسیم ہوتے تھے، پتہ چلا کہ رمضان تک ہوئے تھے، پھر بند کر دئے گئے اور اب شاید حج کے بعد پھر شروع ہوگی ان کی تقسیم۔ کہنا یہ چاہ رہے تھے کہ یہ بازار میں اپنی ضرورت کے لئے بھی دستیاب نہیں ہیں۔ ہمارے دوست بشیر کو بیلجئم کے سفارت خانے سے وہ نسخہ ملا تھا جو اب ان کے پاس نہیں رہا تھا۔ بہرحال ان مدیر صاحب نے کچھ دوسری کتابیں دے کر بہلا دیا۔ یہ انگریزی کے کتابچے تھے، عربی کتابوں کے ترجمے۔ ان کی فہرست بھی دینا موقعے سے خارج تو نہیں ہے اس لئے آپ کو بتا ہی دیں۔ “الکروس المھمۃالعامۃالاُمّہ”تالیف عبدالعزیز عبداللہ بن باز، اس کا انگریزی میں نام دیا گیا ہے “The Important Lessons for Muslim Ummah ” دوسری کتاب ہے “والقرآن والحدیث” تالیف ڈاکٹر موریس بوکالے۔ انگریزی میں اس کا نام ہے “The Quran and Modern Science” ۔ تیسری کتاب ہے “رسالہ موجزۃ عن الاسلام” تالیف محمود مراد جسے انگریزی میں “Islam in Brief” لکھا گیا ہے۔ ایک اور کتاب ہے “دلیل الحاجّ والمعمر” جس کا انگریزی ترجمہ بہت مختلف ہے یعنی “A Guide to Hajj, Umrah and Visiting the Prophet’  اور ایمان والوں کو کفآs Mosque “اس ہندوستانی کارکن سے لاکھ کہا کہ بھیا ایک آدھ کاپی قرآن کی بھی ڈھونڈھ کر نکال دو اردو یا انگریزی ترجمے والی مگر اس اللہ کے بندے نے ڈھونڈھ کر نہ دی کہ 18 نمبر گیٹ پر پوچھو۔ ہم پھر 18 نمبر کے دروازے والے دفتر پر گئے مگر وہاں کے شیخ صاحب بھی انگریزی داں نہ تھے۔ ایک اور کارکن ہندوستانی یا پاکستانی تھے، انھوں نے بتایا کہ ترجمے والے تو پچھلے سال ہی ختم ہو چکے تھے ، صرف معرّہ بچے ہیں جو رمضان تک تقسیم ہوئے تھے اور اب حج کے بعد پھر ہوں گے۔ پچھلے سالوں میں ایرپورٹ پر بھی تحفتاً تقسیم کئے گئے تھے، اگر اس سال بھی ہو سکا تو تقسیم کئے جائیں گے۔ اب ہم کو یہ امّید رکھنے میں خطرہ ہی محسوس ہوتا ہے کہ اگر تب نہ ملے تو پھر کہاں سے حاصل کر سکیں گے؟ پریس کا پتہ اور فون نمبر بھی نہ مل سکا جہاں کچھ معلومات کی جا سکے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ 10 ریال میں ٹیکسی والا پریس میں چھوڑ دے گا، مگر ہم سوچتے ہیں کہ پہلے یہ تو معلوم ہو جائے کہ ہیں بھی یا نہیں، ورنہ 20 ریال (200 روپئے)خواہ مخواہ خرچ ہو جائیں گے۔ اگر اردو یا انگریزی تفسیر والا قرآن ملنے کی گارنٹی ہو تو ہم 20 کیا 40 ریال بھی خرچ کرنے کے لئے راضی ہیں۔ بہر حال اس سیکشن والوں نے بھی ہم پر یہ کرم کیا کہ ایک اور کتاب “دلیل الحاجّ والمعمر”کا اردو ترجمہ بعنوان “رہنمائے حج و عمرہ و زیارتِ نبوی” ہم کو عنایت کی۔ گر قبول افتد زہے عزّ و شرف۔ اور یقیناً ہم کو ہر شے قبول ہے کہ مدینے کا تبرّک ہے۔

مسجدِ نبوی کی باقی باتیں

ستونوں کی بات تو ہم نے لکھ دی ۔ ہر ستون پر زمین کے قریب جالی دار گول چبوترہ ہے، اس میں در اصل ایر کنڈیشنر کے سوراخ ہیں۔ سارے صحن میں سفید سنگِ مرمر ہے اور درمیان میں بھورے اور سیاہ سنگِ مرمر کے ہی ڈیزائن والے پتھّر ہیں۔ مگر باہری صحن میں گرینائٹ ہے۔ باہری دیواریں بھی گلابی گرینائٹ کی ہیں، کچھ اونچائی تک پالش کئے ہوئے اور اس کے اوپر بغیر پالش کے۔ دروازوں پر بھی سنہری کام کیا ہوا ہے۔

یہاں بھی غسل خانے اور بیت الخلا بیت اللہ کی طرح ہی ہیں، مگر کیوں کہ یہاں جگہ کم تھی اس لئے اس لئے یہ چار منزل تک انڈر گراؤنڈ ہیں(معلوم نہیں تہہ خانے کی منزلوں کو کیا کہنا چاہئے)۔ اکہری منزل پر اترنے کے لئے سیڑھیاں ہیں اور دو دو منزلوں پر اترنے لے لئے اسکیلیٹر (Escalators) ہیں جنھیں عربی میں “سفل کہہ ربائی” لکھا گیا ہے۔ اندر ہی وضو کے علاوہ ہر فلور پر چالیس چالیس ٹائلیٹس ہیں مگر یہ بیت اللہ سے سائز میں کچھ چھوٹے ہیں۔ یہاں بھی شاور ہے اور بیت اللہ کی طرح بیت الخلاؤں میں ٹونٹی والے پائپ ہیں۔ نل کھولئے اور پائپ کو جس طرح چاہے استعمال کیجئے۔

سامنے والے جنوبی دروازے (عام) کے باہر ایک طرف وہی مرکز طیبہ مرکز التجارہ ہے جس کا ہم ذکر کر چکے ہیں۔ دوسری طرف ہوٹل ہے “الاندلس رویال” یعنی انگریزی میں رایل اندلس ہوٹل ( رایل یا Royal کا عربی بلکہ فرانسیسی تلفّظ ہے “رویال”)، اس علاقے میں سبھی 3 یا 4 ستارہ ہوٹلیں ہیں۔ کچھ زیر تعمیر ہیں۔ جنوب مشرق کی طرف “مدینہ اوبروئ” یعنی مدینہ اوبیرائے ہے ۔ جو زیر تعمیر ہیں وہ ہیں مدینہ ہلٹن اور طیبہ شیرٹن، جسے عربی میں بالترتیب مدینہ ہلتون اور طیبہ شیراتون لکھا گیا ہے۔ مدینہ اوبیرائے کے پاس ہی گرین پیلیس ہوٹل ہے۔ اور بھی کئی ہوٹلیں ہیں جن کو عربی میں “خندق” لکھتے اور بولتے ہیں۔ اکثر کے نام “قصر”سے ہیں مشرق اور جنوب مشرق کی جانب بہت سے “اسواق” یعنی بازار ہیں، جن کے نام میں لفظ سوق ضرور شامل ہے۔ یہاں دوکانیں ہی دوکانیں جن کا احوال ہم لکھ چکے ہیں۔

آج ہم سست ہیں

ہماری کھانسی وغیرہ سے قطعِ نظر ہم کو دو تکلیفیں اور بھی ہیں آج کل۔ ایک تو مستقل چپلّیں پہنے رہنے کے باعث دائیں ایڑی میں قاشیں بن گئی ہیں پھٹ کر۔ دوسرے اسی پیر میں چھوٹی انگلی کے نیچے ایک گٹّہ بن گیا ہے اس لئے چلنے میں تکلیف ہوتی ہے۔ پھر ادھر ویسے بھی تھکن اور کم خوابی چل رہی ہے اور بدن میں درد ہے۔ چناں چہ آج صبح ہماری آنکھ 40۔ 5 پر کھلی۔ فجر کی جماعت کا وقت کب کا نکل چکا تھا پھر بھی فضیلت تو مسجدِ نبوی میں نماز پڑھنے کی ہے۔ اس لئے ضروریات سے فارغ ہو کر بھاگے مسجد کی جانب اور آخر 6 بجے نماز ادا کر کے واپس آ گئے۔ اور پھر یہ روزنامچہ لکھتے رہے اور صابرہ کا انتظار کر تے رہے۔ ساڑھے سات بجے تک یہ نہیں آئیں تو ہم نے اکیلے ہی ناشتہ کیا اور باہر جا کر چائے پی کر آئے۔ کھانسی تو اٹھ ہی رہی تھی اس لئے باہر ہی سگریٹ بھی پی۔ تب صابرہ آئیں تو ان کو پھر ناشتہ کرایا۔ کچھ دیر لوگوں سے باتیں کیں۔ اس میں ساڑھے نو بج گئے۔ ہم اب پھر باہر گئے۔ پہلے مکتبہ نبوی کی تلاش کی اور پھر مسجدِ نبوی گئے۔ کچھ دیر قضائیں پڑھیں اور پھر روضے کی طرف گئے۔ آج آں حضرتؐ کی خدمت میں سلام کرنے کا اچھّا موقع ملا۔ آج جالیاں اور اور ان کے سوراخوں میں سے جھانک بھی سکے۔ ساڑھے گیارہ بج گئے تو پھر سگریٹ پینے “اسواق”کی طرف گئے۔ پھر 12 بجے واپس مسجد ظہر کے لئے۔ صابرہ مرکز سفیر سے دوسری خواتین کے ساتھ آ گئی ہوں گی۔ یہ سوچ کر نماز کے بعد ان کا انتظار کیا مقرّرہ جگہ پر۔

کل یا پرسوں ہمارے سگریٹ پیتے ہوئے ہمارے سفارت خانے کے آس پاس کے علاقے کا سروے کر رہے تھے تو ایک تندور دریافت ہوا تھا۔ آج صبح ہی جب باہر سگریٹ پی رہے تھے کہ اندر سے مظہر بھائی نکلے جو ناشتے کے انتظام کے لئے نکلے تھے۔ وہ کہنے لگے کہ کوئی تندور مل جائے تو گرم گرم روٹیاں مل سکتی ہیں۔ ان کو اپنی دریافت سے آگاہ کیا۔ بلکہ ساتھ ہی ہم بھی گئے۔ معلوم ہوا کہ اس افغانی تندور میں تین طرح کی روٹیاں ملتی ہیں۔ “چپاتی” جو ہمارے یہاں کی تندوری روٹی کی طرح ہوتی ہے، پراٹھا اور “بسکوت” جو گودی ہوئی سوراخ دار تندوری روٹی ہوتی ہے اور زیادہ خستہ۔ یہیں دال اور شوربہ بھی ملتا ہے۔

چنانچہ آج ہم نے یہ نیا تجربہ کیا ہے۔ محض سستا ہونے کی وجہ سے نہیں۔ بلکہ الطیب کے آلو بینس کے شوربے (جسے مکسڈ۔ ویجی ٹیبل کری کا شاہانہ نام دیا گیا ہے) سے بچنے کے لئے۔ ادھر صابرہ کی طبیعت بھی کچھ گڑبڑ چل رہی ہے، ان کو دہی چاہئے تھی۔ چناں چہ ہم گرما گرم روٹیاں لائے۔ صرف ایک ریال کی مسور کی دال اس افغانی تندور سے اور ہماری پرانی ہوٹل الطیب سے ایک ریال کا ہی 200 گرام (یا غرام) دہی کا پیالہ۔ یوں کھانا ہو گیا۔ دال سبزی اس تندور میں شاید زیتون کے تیل میں بنائی جاتی ہے اس لئے مزے میں کچھ فرق محسوس ہوا مگر برا نہیں لگا۔ دہی ملا کر کھانے سے مزہ ہی آیا۔

کھانا کھا کر آئے تو سوچا کہ کچھ دیر آرام کر لیں پھر اٹھ کر نہائیں گے دھوئیں گے اور عصر کے لئے جائیں گے۔ ڈھائی تو بج گئے تھے۔ مگر بڑے مغربی غسل خانے میں جہاں نہانا اور کپڑے دھونے کی بہتر سہولت ہے ایک صاحبہ نے دھوبی گھاٹ بنا رکھا تھا۔ اسی انتظار میں ہم لیٹ گئے اور یہ وہ نایاب دن نکلا کہ ہم دن میں سو گئے جو ہر گز ہماری عادت نہیں۔ ایک بار آنکھ کھلی بھی مگر بدن ٹوٹ رہا تھا اور حرارت بھی تھی۔ بہر حال اٹھے تو سوا چار بج رہے تھے۔ جیسے ہی ہوش آیا تو مسجدِ نبوی کی جماعت کی مائک کی آواز آ رہی تھی “اسّلام وعلیکم و رحمت اللہ “۔ چنانچہ آج اس بدنصیب کی فجر اور عصر دو نمازوں کی جماعت چھوٹ گئی۔ اٹھ کر ضروریات سے فراغت کے بعد نہائے بھی، کرتا پاجامہ دھویا بھی( یہ ہم میاں بیوی کا بلا تحریری معاہدہ ہے کہ اپنے اپنے کپڑے دھوئیں گے)۔ پھر حرم گئے اور عصر کی نماز پڑھی، چائے پی اور کھانسی کے علاج کے لئے سگریٹ پی۔ پھر مغرب کے لئے اندر گئے اور قضائیں پڑھیں اور عشاء پڑھ کر تندور سے آلو مٹر کی سبزی 4 ریال کی لے کر آئے ہیں۔ روٹیاں تو دو پہر کو دو عدد لائے تھے وہ اب تک ختم نہیں ہوئی تھیں، اور دہی لیا ہے اور کھانے کے بعد یہ گفتگو ہو رہی ہے۔

ایک انل جین(Analgin) تو ہم نے سو کر اٹھتے ہی کھا لی تھی اور پھر نہانے دھونے سے کچھ تازگی آ گئی ہے تو اب ہم کچھ بہتر ہیں جو یہ روزنامچہ لے کر بیٹھے ہیں اور اب ساڑھے گیارہ بجے تک لکھے جا رہے ہیں بلکہ اب ختم کرنے جا رہے ہیں۔ ایک بات اور یاد آ گئی ہے وہ اور لکھ دیں۔ گھنٹہ بھر سے گلا پھر خراب ہو رہا ہے اس کا علاج کر کے سوئیں گے۔ اس پر یہ بھی یاد آیا کہ آپ کو بتا دیں کہ یہاں ماچسیں نہیں ملتی ہیں۔ ہماری سگریٹ بھی آج کل پائپ کے موٹے تمباکو سے بن رہی ہے کہ حیدرآباد میں خریدتے وقت باریک “فائن کٹ” تمباکو نہیں ملا تھا نہ کیپسٹن ، جو ہمارا برانڈ ہے، نہ وِلس جو کیپسٹن نہ ملنے پر ہم لے لیتے ہیں۔ اس لئے پائپ والے اس تمباکو سے بنی ایک سگریٹ 10۔ 8 تیلیوں کی سوختہ قربانی چاہتی ہے اور ہم یہاں صرف 4 عدد ماچسیں لے کر آئے تھے اور کیوں کہ پاؤچ کی سگریٹ کو تیلی سے پیک کرنے کی ضرورت بھی ہوتی ہے اس لئے کچھ تیلیاں تو چاہئیں ہی۔ یہاں تو سب “ڈسپوزیبل”(Disposable) لائٹر لے کر گھومتے ہیں، ایک ریال کا خریدا، استعمال کیا ، گیس ختم ہوئی، پھینک دیا اور دوسرا لیا۔ ہم نے بھی آج لائٹر خرید لیا ہے کہ باقی تیلیوں سے تمباکو پیک کرنے کا کام لیں گے اور سگریٹ لائٹر سے جلائیں گے۔

پاکستانی لنگوٹی

اس خریداری کے ساتھ ہی ہم نے آج۔ 2۔ 2 ریال ہر مال کی دوکانوں کا بھی ایک چکّر کیا تو ایک انڈروئر بھی خریدا ہے جو پاکستان کا مصنوعہ ہے۔ اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ یہاں آتے وقت زیادہ تر سامان مکّے میں ہی چھوڑا تھا اور تھوڑا سامان لانے کے لئے جب پیکنگ کر رہے تھے تو غلطی سے انڈروئر مکّے میں ہی رہ گئے۔ اب تک جو ہم پہنتے رہے تھے، اسی کو نہا تے تو دھو کر پہن لیتے۔ بہر حال یہ خریداری اس لئے بھی کی کہ ہمارے پاس پاکستان کی بھی کچھ یادگار رہ جائے۔ جیسے کل بنگلہ دیشی ہوٹل کا تبرّک نوشِ جان کیا تھا۔ ہم بّرِ صغیر کی تہذیبی وحدانیت کے قائل ہیں دراصل۔ ان تینوں ملکوں کا کردار، وراثت ایک سی ہیں، پھر یہ اختلافات کیسے؟ عوام کی حد تک تو اختلافات بالکل نہیں ہونے چاہئیں۔ جس طرح ہمارے پاکستانی دوست ہندوستانی فلموں، گیتوں اور ساریوں کے لئے ترستے ہیں، اسی طرح ہم ہندوستانی پاکستانی ادبی رسالوں اور کتابوں کے لئے۔ کسی کے پاس “نقوش” یا ” فنون”کا تازہ شمارہ مل جائے، پھر دیکھئے اس کی مانگ کم از کم ادبی حلقوں میں۔ بھاگتے بھوت کی سہی ، سو آج ہم نے پاکستانی لنگوٹی خرید لی ہے۔

وہی دن وہی رات

8/ اپریل، 40۔ 10 بجے رات

آج کا دن بھی روز کی طرح ہی گزرا ہے۔ رات کو سونے تک ڈیڑھ دو بج گئے تھے ۔ صابرہ کا تہجّد کے لئے جانا یاد ہے (حسرت موہانی کی یاد آ گئی اور ساتھ ہی ہمارے ایک اور پاکستانی دوست غلام علی کی “وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے”۔ غلام علی صاحب اگر بفرضِ محال یہ پڑھ رہے ہوں تو پریشان نہ ہوں کہ ان کو دوست ہم مجازی معنوں میں لکھ رہے ہیں، ان محترم سے ہمارے کوئی قریبی تعلقات نہیں ہیں، یاد اللہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ان کے لئے بھی دعائیں کر سکتے ہیں اللہ سے)۔ مگر ہم پھر سو گئے تو پھر 50۔ 4 پر آنکھ کھلی۔ جلدی جلدی ضروریات سے فارغ ہو کر حرمِ مدینہ بھاگے۔ جماعت تو مل گئی مگر باہر سڑک پر جگہ مل سکی۔ نماز پڑھ کر سیدھے واپس آ گئے اور برش وغیرہ کر کے مکتبۂ نبوی کی کتابیں پڑھتے رہے۔ صابرہ سات بجے واپس آئیں اور کہنے لگیں کہ مظہر بھائی، ان کی بیوی اور دوسرے دو اور “جوڑے” (حالت یہ ہو گئی ہے کہ اب انگریزی میں سوچنے لگے ہیں اور پہلے لفظCouple ذہن میں آیا جس کا صحیح اردو ترجمہ افسوس کہ نہیں ہے سوائے اس لفظ “جوڑے” کے)مدینے کی زیارتوں کے لئے جا رہے ہیں، ہم جس دن گئے تھے تو یہ لوگ ساتھ نہیں تھے۔ صابرہ نے بتایا کہ مظہر بھائی بضد ہیں کہ کم از کم صابرہ ان کے ساتھ عورتوں کی لیڈر بن کر جائیں ورنہ ان عورتوں کے گم ہو جانے کا خطرہ ہے، اپنی بس ہی پہچان نہ سکیں گی۔ بہر حال ہم رہ گئے اور صابرہ چلی گئیں، بعد میں صابرہ نے بتایا کہ ہم ہی خوش نصیب تھے کہ اسرار میاں کے ساتھ گئے تھے جنھوں نے اردو میں اچھّی تشریح کی تھی۔ ان لوگوں کا عربی ڈرائیور تھا جو ظاہر ہے کہ اردو میں کیا تفصیل دیتا، بس جگہ کی نشان دہی کر دیتا۔ خود مظہر بھائی اور صابرہ ہی (اسرار میاں کے حوالے سے) اس وفد کے لئے بہتر گائڈ ثابت ہوئے۔ ادھر اسرار میاں کا داخلہ ہمارے سفارت خانے والوں نے بند کر دیا ہے۔ کل باہر ان سے ملاقات ہوئی تو پتہ چلا۔ حالاں کہ انھوں نے ہوٹل والے کو کمیشن بھی دیا تھا ان کے ہی بیان کے مطابق۔ بہر حال صابرہ تو صبح اطّلاع دیتے ہی چلی گئیں کہ باہر ہی ناشتے کا ارادہ ہے۔ ہمارے لئے دہی رکھی تھی، روٹی رکھی تھی اور شکر تو رہتی ہی ہے۔ ہم نے دہی روٹی کھا کر باہر جا کر چائے پی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر مسجدِ نبوی کی طرف نکل گئے۔ قضا نمازیں وہاں ہی پڑھتے ہیں، قضائے عمری۔ کہ وہاں کی ایک نماز ہزار نمازوں کے برابر ہے۔ نمازوں اور درود اور روضۂ اقدس پر سلام کے بعد ہم حرم کے پیچھے یعنی جنوب کی طرف گئے جہاں اب تک نہ گئے تھے۔ سنا تھا کہ اسی طرف مدینے کی مرکزی کھجور مارکیٹ ہے۔ خیال تھا کہ پہلے خود راستہ وغیرہ دیکھ لیں کہ کہاں ہے، کس طرف ہے اور کدھر ہے، پھر بعد میں صابرہ کے ساتھ جا کر خرید لائیں گے۔ یہ مارکیٹ دیکھی اور پھر “اسواق” کی طرف نکل گئے۔ کچھ شاپنگ کی مگر زیادہ تر “ونڈو شاپنگ”۔ 2۔ 2۔ ریال والی چھوٹی چھوٹی چیزیں کچھ اور خرید لیں۔ 11 بجے ادھر ہم واپس آئے، ادھر ۔ صابرہ بھی پہنچیں۔ کچھ دیر ان سے اس ٹرپ کی باتیں کیں (جس کا احوال ہم لکھ چکے ہیں پہلے ہی)، پھر ہم دونوں ظہر کے لئے نکل گئے۔ نماز کے بعد اسی افغانی تندور ( پہلے ہم اسے عربی تندور سمجھتے تھے، مظہر بھائی نے بتایا کہ یہ دوکانیں یا ہوٹلیں افغانی ہیں) سے ایک ریال کی روٹی اور ایک ریال کی دال لی اور ہمارے الطیب پاکستانی ہوٹل سے ایک ریال کی دہی کا پیکنگ لیا۔ ہاں، 11 بجے بازار سے واپسی کے وقت ہم کچھ سبزی بھی خرید لائے تھے۔ کھیرے، ٹماٹر اور پیاز۔ سب ملا کر پانچ ریال کے۔ چناں چہ کچھ سلاد اور کچھ رائتہ بنایا اور خوب مزے سے کھایا۔ روٹی پہلے کی بھی رکھی تھی، اس لئے اب بھی روٹی بچ گئی۔

کھانے کے بعد ہم لیٹ کر مکتبہ نبوی والی کتابیں پڑھ رہے تھے کہ آج بھی وہی انہونی بات ہو گئی کہ ہماری آنکھ لگ گئی۔ کوئی آدھے گھنٹے کے لئے۔ آج عصر کے بعد صابرہ کو بھی بازار دکھانے کا ارادہ تھا۔ اس لئے بازار کی سمت ہی ایک جگہ مقرّر کر لی تھی جہاں نماز کے بعد مل سکیں۔ یہ مل گئیں تو پہلے چائے پی پھر بازار گئے۔ آج بھی ونڈو شاپنگ ہی زیادہ کی۔ کچھ سفری بیگ دیکھے، کچھ اسکارف دیکھے، مگر خریدے نہیں۔ وہی 2۔ 2۔ ریال کے سامان.. کچھ پاکستانی طغرے، کچھ لڑکیوں کی مطلب کی چیزیں، کنگھے، برش کے سیٹس وغیرہ۔ اسی میں چھ۔ بج گئے۔ پہلے صابرہ مسجد چلی گئیں۔ ہم کو کھانسی اٹھ رہی تھی، اس لئے ہم نے پہلے سگریٹ پی پھر حرم گئے۔ نماز پڑھ کر پھر باہر آئے۔ اس سے پہلے 2۔ 2۔ ریال کی دوکانوں میں کچھ چیزیں دیکھی تھیں مگر وہ دوکانیں صابرہ کے ساتھ جانے میں نظر نہیں آئی تھیں، ان کو ڈھونڈھا۔ دو ٹوپیاں اور ایک ٹارچ خریدی اور 8 ریال کی ایک دوکان سے کوریا کی ایک چپّل بھی لی۔ ایک ہوٹل میں فرائڈ مچھلی بھی نظر آئی تو لے لی اور پھر عشاء کے لئے پہنچ گئے۔ نماز کے بعد کمرے میں آنے سے پہلے ایک روٹی اور ایک دال کی پلیٹ اور خرید لائے اسی تندور سے گرما گرم اور کھانا کھا کر اور سگریٹ پی کر اب یہ سب لکھ رہے ہیں۔ چناں چہ آج کا دن بھی روز کی طرح ہی گزرا۔ اب سوچ رہے ہیں کہ دوپہر میں لکھنا زیادہ بہتر ہوگا۔ رات کو دیر تک لکھتے رہیں تو نیند خراب ہوتی ہے اور دو پہر کو سونا ہم کو پسند نہیں ہے کہ اس سے اور بھی تھکن اور سستی بڑھ جاتی ہے۔ تازگی نہیں آتی دن کو سو جانے سے۔

…متاعِ کوچۂ و بازار…

9/ اپریل 2/1 10۔ بجے رات۔

سوچا تھا کہ آ ج دو پہر کو لکھیں گے مگر آج دو پہر کو وقت کم ہی رہا تو پھر وہی رات ہو گئی ہے۔ ویسے روز کے معمولات کے علاوہ بس یہی بات اہم ہے کہ ہم نہ نہ کرتے بھی خریداری میں لگے رہے۔ لاکھ کتابوں میں پڑھا کہ بھائی مکّے مدینے جاؤ تو اللہ میاں سے لو لگاؤ۔ خریداری کے چکر میں مت پڑو۔ بس مدینے کے خرمے خریدو اور مکّے سے زمزم مفت حاصل کرو اور وطن لے جاؤ، سامانِ دنیا داری تو سب جگہ ملتا ہے، حرمین اور کہاں ؟۔ صحیح ہے ناصح..۔ ؎ تری آواز مکّے اور مدینے۔ مگر ان لوگوں کو کیا کہیں جو ہم کو ہار پھول پہنا کر رخصت کر کے اب ہمارے انتظار میں دن گن رہے ہیں!خیر، خدا نخواستہ ہمارے سارے رشتے دار، احباب اور محلّے والے محض ہمارے تحفوں کی امّید پر ہم سے اظہارِ محبّت اور اظہارِ عقیدت کرتے رہے ہوں۔ مگر ہمارا فرض بھی تو بنتا ہے کہ ان لوگوں کے لئے چھوٹے موٹے تحفے تو لے ہی لیں۔ سبھی جا نمازیں، تسبیحیں اور سرمہ تو لیتے ہی ہیں بزرگوں کے لئے، کھجوریں اور زم زم سب کے لئے، مگر بچّوں کے لئے؟ ان کے لئے تو ہم محض “فارین” (Foreign) جا کر لوٹیں گے۔ یہ لوگ بھی تو پر امّید ہوں گے اور ہمیں سب کو بھی تو خوش کرنا ہے۔ اور پھر ہم کوئی فرج، ٹیپ ریکارڈر اور ایسی اشیاء تو خرید نہیں رہے ہیں اور نہ عبادتوں میں حرج کر کے خریداری میں وقت گنوا رہے ہیں۔ ہم تو عموماً اپنی طبیعت کے علاج کے لئے سگریٹ ،اور اکثر اس سے پہلے چائے، کے لئے باہر نکلتے ہی ہیں اور اسی سگریٹ نوشی کے دوران ایسی خریداری کر رہے ہیں۔ اس لئے ہمارا ضمیر مطمئن ہے۔ ہاں، آج باقاعدہ خریداری کی مہم رہی۔ باقاعدہ اس لئے کہ ہماری صابرہ بیغم بھی اس میں شریک رہیں۔ اس طرح ہمارا صبح 9 بجے حرم جانے کا معمول ضرور بگڑ گیا جس کا کچھ افسوس ضرور ہے، مگر یہ اطمینان بھی ہے کہ الحمدُ لِلّہ آج ہم تہجّد کے لئے بھی جا سکے تھے۔

تہجّد مجبوری تو نہیں؟؟

آج ہم بھی ساڑھے تین بجے اٹھ بیٹھے تھے اور صابرہ کے ساتھ تہجّد کے لئے گئے۔ یہاں بھی بیت اللہ کی طرح تہجّد کی اذان تو ہوتی ہے۔ ماشاء اللہ بیشتر لوگ تہجد گذار ہیں (یا ہو گئے ہیں)، مگر نعوذ باللہ ہم کو کبھی شک گزرتا ہے کہ یہ کہیں لوگوں کی مجبوری تو نہیں؟ یہاں ہو یا بیت اللہ۔ اگر آپ کو حرمین میں اندر نماز کے لئے صف میں جگہ چاہئے جہاں آپ مخملی قالین پر، جو دونوں حرموں میں جانماز کا کام کرتے ہیں، آرام سے بیٹھ سکیں ، تو آپ کو اذان سے بھی کم سے کم ڈیڑھ گھنٹہ قبل پہنچنا ہوگا۔ فجر کی اذان 50۔ 4 پر ہوتی ہے، اس لئے اندر صف میں جگہ حاصل کرنے کے لئے تقریباً ساڑھے تین بجے پہنچنا ضروری ہے۔ اور یہی وقت ہے تہجّد کا۔ اور اچھّی جگہ کی کوشش میں تہجّد کی نماز مفت میں مل جاتی ہے کہ چچا غالب کا مشورہ ہے۔ جیسے سبزی لینے جائیں تو سبزی والا تھوڑا ہرا دھنیا یا ہری مرچ مفت میں اوپر ڈال دیتا ہے (کہیں کہیں اسے “اول” کہتے ہیں)۔ اسی طرح لوگوں کو تہجّد مفت مل جاتی ہے۔ اور پھر اندر صف میں بلکہ قالین پر جگہ ملنے کا ایک اور فائدہ بھی دیکھا۔ کئی حضرات فجر کے بعد ان قالینوں پر لمبی تان لیتے ہیں اور اپنی نیند پوری کرتے ہیں۔ حرمِ مکّہ میں ایک اور سہولت یہ بھی ہے کہ رہائشی عمارتوں میں ضروریات کے انتظامات تشفّی بخش نہیں ہیں، کم از کم ہماری عمارت رقم 468 کا تو یہی حال تھا۔ لوگ زیادہ اور بیت الخلاء کم۔ اس کا حرمین میں بہت معقول انتظام ہے۔ یہاں مدینے میں ہمارے سفارت خانے میں تو یہ نظم بہت بہتر ہے، مگر حرمِ مکّہ میں تو ہم خود ضروریات کے لئے حرم جانا پسند کرتے ہیں۔ اس کے لئے بھی آپ کو نماز کے اوقات سے کافی پہلے حرم پہنچنا ضروری ہے۔ یہاں بھی غسل خانوں کی 14 اکائیاں (وحدتیں) ہیں، شاید 10 مردانہ اور 4 زنانہ۔ دورات میاہ للرجال اور دورات میاہ للنساء۔ ہر ایک زیر زمین چار منزلہ۔ زنانہ کا واللہ اعلم (صابرہ سو گئی ہیں ورنہ ان سے پوچھ لیتے) مگر مردانہ میں ہر اکائی میں 40۔ 40 مشترکہ غسل خانے اور بیت الخلاء ہیں۔ آپ نماز کے لئے ایک گھنٹہ قبل بھی جائیں تو ہر منزل پر کسی بھی غسل خانے میں آپ کا قطار میں چوتھا یا پانچواں نمبر ہوگا (دورِ اوّل۔ یعنی پہلی منزل یا فلور پر تو آٹھواں دسواں)۔ وضو کے لئے البتّہ جگہ جلدی مل سکتی ہے۔ ہاں ، اگر آپ نماز سے محض 5 منٹ قبل پہنچیں تو وضو کے لئے بھی آپ کا نمبر لگنے میں اتنی دیر ممکن ہے کہ جب آپ وضو کر کے پہنچیں تو جماعت ختم ہو چکی ہو۔ خوش قسمت رہے تو شاید آخری رکوع نصیب ہو جائے جس سے آپ خود کو جماعت میں شریک سمجھ سکیں۔ پھر نماز کے اوقات بھی ہمارے ہندوستان کی طرح مقرّر نہیں ہیں کہ سال کا کوئی بھی دن ہو، یہ طے ہے کہ ظہر کی اذان ایک بجے اور جماعت ڈیڑھ بجے۔ حرمین ہی نہیں، دوسری مسجدوں میں بھی اذان کے اوقات مقرّر ہیں، وقت کی شروعات کے مطابق۔ مثلاً آج ظہر کا وقت تھا 23۔ 12 دو پہر۔ اور اذان کے 5۔ 4 منٹ بعد جماعت ہو جاتی ہے۔ دونوں حرموں میں آئندہ اذان کا وقت گھڑی کی شکل کے کئی سائن بورڈوں میں دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جمعے کا بھی یہی عالم ہے۔ پہلا جمعہ یہاں ہی ادا ہوا ہے اور اس میں اذان کے 3۔ 4 منٹ بعد ( جس میں ہم 4 سنّتیں بمشکل پڑھ سکے) خطبہ شروع ہو گیا اور اس کے فوراً بعد نماز کی اقامت۔ فجر میں بھی اذان اور جماعت کے درمیان بہت کم وقفہ دیا جاتا ہے۔ ہاں عشاء کے وقت یہ وقفہ تقریباً پندرہ منٹ کا ہوتا ہے۔ یہ بھی آپ کو جان کر تعجّب ہوگا کہ مغرب کی اذان کے بعد بھی 5۔ 4 منٹ کا وقفہ دیا جاتا ہے کہ لوگ تہیۃ المسجد پڑھ لیں۔ یہ معلوم نہ ہونے ہر ہم حرم میں پہلے دن ہی بے وقوف بن گئے تھے، جس کا لکھ چکے ہیں۔

ہاں، ایک بات اور یاد آ گئی۔ اب تک ہم روضۂ پاک پر 5۔ 4 بار جا چکے ہیں مگر اس کا جغرافیہ اب بھی سمجھ میں نہیں آیا ہے۔ منبر تو ہم نے دیکھ لیا ہے مگر مصلیٰ نبی اور ریاض الجنّہ (جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ حصّہ قیامت کے بعد سیدھا جنّت میں جائے گا) کہاں ہیں، معلوم نہیں ہوا۔ بے خبری کا عالم وہی ہے۔

آٹے دال کے علاوہ ہر چیز کا بھاؤ

آج دن بھر کی تفصیل لکھیں تو وہی سب کچھ دہرانا ہو جائے گا۔ جو آج فرق ہوا ہے اس کا ذکر کر چکے ہیں کہ صبح ناشتے کے بعد ساڑھے آٹھ بجے ہی جو خریداری کے لئے نکلے تو سوا گیارہ بجے ہی واپسی ہوئی۔ اور سامان پٹک کر ظہر کے لئے چلے گئے۔

جو قارئین اس کتاب کو مکّہ مدینہ گائڈ (حج گائڈ بھی نہیں)کے طور پر پڑھ رہے ہیں، ان کو ایک گر بتا دیں خریداری کا۔ یوں تو بہت سے عربی دوکان دار بھی ہندوستانی پاکستانی حاجیوں کو اردو میں ہی قیمت بتاتے ہیں، مگر پھر بھی کچھ غیر اردو داں ہیں ہی۔ اگر دوکان دار ” سبع (7)ریال”بولے اور آپ “خمسہ (5) ریال” بولیں اور وہ لمبی تقریر عربی میں شروع کر دے تو سمجھ لیجئے کہ سودا ممکن نہیں ہے۔ ممکن ہو بھی تو ہم میں آپ میں اتنا صبر اور صلاحیت کہاں کہ اسے آپ اپنی قیمت پر مطمئن کر سکیں (جو ناممکن تو نہیں مگر کارے دارد ہے)۔ اور اگر جواب ملے “خلّاص۔ بسمِ اللہ” تو سمجھئے کہ سودا “پٹ گیا”۔ اور اس سے پہلے کہ وہ اپنا ارادہ بدل لے، آپ جھٹ سے پیسے، مطلب ریال نکال لیجئے اور دوکان دار کو دے دیجئے۔ رقم کو روپیوں میں تبدیل کر کے قیمت پر غور کئے بغیر۔ یا اسی مثال میں آپ کو یا دوکان دار کو سودے بازی میں مزہ نہیں آیا تو پھر بھی آپ “سِتّہ (6) ریال” کہہ سکتے ہیں تو ممکن ہے کہ دوکان دار راضی ہو جائے۔ مگر آپ اگر اتنا بہت کچھ کہنا چاہیں کہ بھائی ہم ایک درجن لیں گے اور اس صورت میں تو کم سے کم ٹھیک دام لگا دو اور 7 ریال لے لو، تو چاہے آپ لاکھ عربی بولنا چاہیں کہ کہ ہم کو “درجن فی الستّین” دے دو۔ مگر دوکان دار اپنی عربی دانی بھول جائے گا اور کہے گا آگے جاؤ۔ آپ بور ہو کر آگے بڑھ جائیں گے۔ ہم کو تو اس سے بچنے کی ایک ہی ترکیب سمجھ میں آئی ہے۔ ہر مال 2۔ 2ریال۔ “کُلٌ شیء ریالین” ۔ خیر یہ تو کم سے کم قیمت والی دوکانیں ہیں مگر یہاں ہی ہر مال 5، 10، 15، 20 اور 50 ریال کی بھی دوکانیں ہیں۔ اس میں یہی فائدہ ہے کہ آپ کو قیمت معلوم ہے، اس کی کچھ حجّت کرنے کی ضرورت نہیں۔ خود ہی فیصلہ کر لیجئے کہ اس قیمت پر یہ شے مناسب ہے یا نہیں۔ ویسے ہم اتنا اور اشارہ کر دیں کہ اس قسم کی دوکانوں پر بچّوں کے کام کی چیزوں (کھلونوں، تعلیم کی ضرورت کی اشیاء اور ملبوسات وغیرہ) کے علاوہ مردوں کے شرٹس، عورتوں کے خواب گاہی ملبوسات اور “میکسیاں”، عورتوں کے لئے بغیر سلے 3۔ 4 میٹر لمبائی کے کپڑے، جن سے آپ کرتے شلواریں بنائیں یا میکسیاں۔ ریڈی میڈ شلواریں جو یہاں مرد عورتیں دونوں پہنتے ہیں۔ مرد “توب” کے نیچے (اور توب بھی اسی طرح دستیاب ہیں۔ اس کے پیکٹوں پر عربی میں ثوب لکھا ہوتا ہے، جیسا کہ ہم شاید پہلے بھی ذکر کر چکے ہیں۔ اس پر یاد آیا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ایک مقامی صاحب کو ماہ ربیع الثانی کو بھی “ربیع التانی” بولتے سنا ہے ہم نے۔ توب آدھی آستین کے دس اور 15 ریال میں اور پوری آستین کے 15 اور 20 ریال میں ) اور عورتیں کرتوں کے ساتھ۔ یہ زیادہ تر 10۔ 10 ریال کی دوکانوں میں ہیں۔ 3۔ 4 میٹر کے کپڑوں کے ٹکڑے 15 اور 20 ریال میں مل سکتے ہیں۔ کم چوڑی “سنگل” جا نمازیں 10 ریال اور بڑی 15 اور 20 ریال کی ہیں۔ گھڑیاں بھی 15 سے 40 ریال تک کی ہیں، ان دوکانوں پر بھی اردو اور عربی میں لکھا ہوتا ہے “کُلٌ ساعات 20 ریال” ۔ 10 کو عشرہ اور 20 کو عشرین بولتے ہیں۔ عجوہ کھجور کا آج پوچھا تو 110 ریال فی کلو ہیں۔ دوسری کھجوریں 8 سے 15 ریال کلو تک ہیں مختلف اقسام کی۔ اب اور کچھ بھاؤ بھی بتا دیں۔ روٹیاں ایک ریال کی تین یا چار (بیکری کی دوکانوں یا کھانے پینے کی اشیاء کے ڈیپارٹمینٹل اسٹورس میں جنھیں “بقالہ “کہا جاتا ہے) سے ایک ریال کی ایک (ہوٹلوں اور تندوروں میں)ہر پھل اور تمام سبزیاں 4 تا 5 ریال فی کلو۔ کیلے البتّہ درجن کے حساب سے ہیں 8۔ 10 ریال درجن۔ چائے اور اس کے ساتھ کھانے کے لوازمات یعنی مختلف اقسام کے کیک، بسکٹ، بن وغیرہ سبھی ایک ایک ریال۔ کولڈ ڈرنک بھی سب ایک ایک ریال۔ چاہے آپ 200 یا 250 ملی لیٹر کی شیشے کی بوتل لیں یا پلاسٹک کی (پیٹ) بوتلیں، یا 300۔ 330 بلکہ کوئی کوئی 375 ملی لیٹر کے ٹن۔ چاہے کوئی بھی برانڈ ہو۔ پیپسی اور کوک کے علاوہ یہاں سیون اپ بھی عام ہے، ایک لٹر (اور کچھ برانڈس میں سوا لٹر) کی بوتلیں 2 ریال اور 2 لٹر (اس میں بھی کسی برانڈ میں 250 ملی لیٹر مزید مفت۔ یعنی سوا دو لٹر) 3 ریال میں۔

یہ بھاؤ تو معلوم ہو گئے کہ یہی کھاتے پیتے ہیں۔ آٹے دال کا بھاؤ معلوم کرنے کی اب تک ضرورت نہیں پڑی ہے، معلوم ہوئے تو آپ کو ضرور بتائیں گے۔

عارضی جنّت مکانی

10/ اپریل، 2 بجے دوپہر

آج ہم جنّت مکانی بننے میں کامیاب ہو گئے اسی دنیا میں۔ ویسے بخدا ہم کو جنّت کی ایسی آرزو نہیں ہے۔ ربِ رحیم و کریم بخش دے اور جنّت عطا کرے تو یہ اس کا کرم ہے۔ ہم کو تو بس اس بات کا خیال تھا کہ ریاض الجنّۃ میں نمازیں اور سلام پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے۔ اب تک ہم چار بار تو روضۂ پاک پرجا چکے تھے مگر وہاں کے چوکی دار داخل ہونے نہیں دیتے تھے کہ اندر ہمیشہ بھیڑ تھی اور باہر ہی باہر سے قطار آگے بڑھا دی جاتی تھی۔ اس لئے اب تک ہم جغرافیہ نہیں سمجھ سکے تھے وہاں کا۔ آج آخر معلوم ہوا۔ حالانکہ ریاض الجنّہ کا کچھ حصہ عورتوں کے لئے بھی مخصوص تھا اور اس وقت ان کا بھی وقت تھا، مگر خاص روضۂ پاک تک نہیں۔ وہاں شاید ان کو اجازت نہیں ہو۔ آج ہم سوا دس یا ساڑھے دس بجے اس طرف گئے۔ خیال تھا کہ 10 بجے تک عورتوں کا وقت ختم ہو گیا ہوگا، مگر تب تک بھی جاری تھا۔ ہم بھی یہی سوچ رہے تھے کہ عورتوں کا قبروں پر جانا منع ہے پھر روضے تک انھیں کیسے اجازت ملتی ہے؟ پھر یہ بھی خیال آیا کہ در اصل یہاں قبر تو اندر ہی ہے، جالیوں تک ان کو بھی اجازت ضرور ہوگی۔ اسی طرح جب ہم جنّت البقیع گئے تھے تو سیڑھیاں چڑھتے میں جو عورتیں جانے کی کوشش کر رہی تھیں، انھیں پولس والے “حاجّہ!حاجّہ!” کہہ کر روک رہے تھے، وہاں بھی انھیں باہری جالیوں تک جانے کی اجازت ہے۔ اس کے بھی اوقات مقرّر ہیں اس لئے کہ ہم بعد میں 10 بجے گئے تو دیکھا کہ عورتیں بلا روک ٹوک جا رہی ہیں۔ ہم کو پہلے تو تعجّب ہوا، پھر بعد میں معلوم ہوا کہ ان کی حد محض باہری جالیوں تک ہے۔ عورتیں باہر سے ہی زیارت کر سکتی ہیں اور فاتحہ وغیرہ پڑھ سکتی ہیں اگر چاہیں تو۔ وہاں بھی پولس کا معقول انتظام تھا۔ پہلے سنا تھا کہ وہاں اور روضۂ پاک پر بھی ہندوستانی پاکستانی عورتیں دھاگے وغیرہ باندھ دیتی تھیں منّت کے۔ اب اس بدعت پر روک لگانے کے لئے پولس رہتی ہے۔

کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ محض اتنی اطّلاع دینی تھی کہ ہم آج روضے کے اس حصّے میں کچھ عبادت کر سکے ہیں جسے ریاض الجنّہ کہا جاتا ہے۔

آئے ہیں اس گلی میں تو پتھّر ہی لے چلیں

آپ کو تو کیا معلوم ہوگا جب تک ہم آپ کو بتائیں نہیں کہ ہم تعلیم اور پیشے کے لحاظ سے ماہر ارضیات یعنی جیالوجسٹ واقع ہوئے ہیں ، ویسے ایسے زیادہ ماہر بھی نہیں، من آنم کہ من دانم۔ ویسے ابھی آدھے گھنٹے قبل ہمارے “ہم کمرہ” اسمٰعیل بیگ صاحب کے صاحب زادے بھی جیالوجسٹ بننے کی کوشش کر رہے تھے۔ فرمانے لگے کہ یہاں ہر طرف “سینڈ سٹون” (Sandstone)ہے اسی لئے سینڈ یعنی ریت بہت ہے اور یہ علاقہ ریگستان ہے۔ ان کے “کامن سینس” (Common Sense)کی ضرور داد دینی چاہئے۔ اب ہم کو یہ تکنیکی راز بھی بتا دیں کہ جس پتھّر میں بھی ایک معدن کوارٹز (Quartz)ہوتا ہے (وہی کوارٹز جس کا کرسٹل کوارٹز گھڑیوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور جس کی مختلف شکلیں قیمتی پتھّر اور نگینے بھی ہوتے ہیں) وہ ایسا سخت جان واقع ہوا ہے کہ بارش اور موسم کے گرم و سرد سے دوسرے معدنیات تو سب ٹوٹ بکھر کر اور گھل کر ختم ہو جاتے ہیں اللہ کے نام کے علاوہ بچتا ہے تو یہی معدن کوارٹز۔ اور اسی کے دانے بڑے بڑے ہوں تو اسے ریت کہتے ہیں۔ ہم پہلے بھی یہ لکھ چکے ہیں کہ حرمین میں کیسا کیسا گرینایٹ اور سنگ مرمر استعمال ہوا ہے۔ مکّے سے مدینے کے راستے میں بھی ہم نے ہر طرف گرینائٹ ہی گرینائٹ یا اسی کے دوسرے روپ نائس(Gneiss) اور مگمیٹائٹ (Migmatite) دیکھے ہیں۔ خاکستری (گرے) اور گلابی بھی۔ اس میں بھی کوارٹز بہت ہوتا ہے اور جو موسم کے زیر اثر ریت میں بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔ سینڈ اسٹون البتّہ یہاں کہیں نہیں ہے۔

ہم کو خیال تو تھا کہ کسی پتھّر کا اچھّا نمونہ مل جائے تو لیتے چلیں گے۔ اس پتھّر کا چھوٹا سا ٹکڑا ہی سہی (کہ ہماری صابرہ بیگم کو بھی اعتراض نہ ہو کہ خواہ مخواہ ایک آدھ کلو وزن بڑھا لیا) جس سے مسجدِ نبوی بنائی گئی ہے۔ آس پاس دیکھتے ہوئے چلتے تھے۔ آج ہی کھانستے کھانستے صبح ساڑھے نو بجے مسجد کی طرف جا رہے تھے اور اور راستے سے ہٹ کر رایل اندلس ہوٹل کے پیچھے کی طرف بیٹھ کر سگریٹ پی رہے تھے ۔ یہاں آس پاس نئی نئی عمارتیں بن رہی ہیں(جس کا ذکر کر چکے ہیں) یا توسیع ہو رہی ہے۔ اور یہاں سامنے ہی ہماری نظر گلابی گرینائٹ کے ایک پالشڈ ٹکڑے پر پڑی۔ یہ لمبا “x102 کا ٹکڑا تھا۔ ہم نے اس کا بھی نصف لیا ہے اور سگریٹ ختم کر کے مسجد کی طرف گئے تو دربانوں نے اس اس ٹکڑے پر بھی اعتراض کیا۔ معلوم نہیں کیوں اسے بھی ممنوع قرار دیا۔ کھانے پینے کی چیزوں کو اندر لے جانے کی پابندی ہے، وہ تو ٹھیک بھی ہے۔ حالاں کہ یہ بھی محض ہمارا قیاس ہی ہے کہ جس پتھّر سے یہ دوسری عمارتیں بن رہی ہیں۔ وہی یعنی اسی مقام کے پتھّر سے حرمِ مدینہ کی تعمیر ہوئی ہوگی، اگرچہ قسم تو وہی ہے گلابی گرینائٹ کی۔ بہر حال اس وقت اس ٹکڑے کو بیگ سے نکال کر ایک کونے میں دیوار کے پاس رکھ دیا کہ اندر جانے کا بھی جی چاہ رہا تھا۔ بعد میں ہم اگرچہ قضا نمازوں کے بعد روزے کی طرف جا کر دوسرے دروازے سے باہر نکل گئے تھے جنّت کی سیر کرنے کے بعد۔ ، مگر اس مدینہ گرینائٹ (جی ہاں، ہم جیالوجسٹ پتھّروں کو ان کے مقام کے نام سے یاد کرتے ہیں)کے ٹکڑے کے لئے پھر داخلِ مسجد ہو کر اسی دروازے سے باہر یہ دعا کرتے ہوئے نکلے کہ یہ ٹکڑا محفوظ ہو۔ مگر افسوس کہ وہ ٹکڑا پھنکوا دیا گیا تھا۔ ہم کو اس کا ماخذ تو یاد تھا۔ اس لئے ہم پھر اسی مقام پر پہنچے اور وہی باقی آدھا ٹکڑا لے کر آ گئے ہیں ہمارے استاد ناصر کاظمی مرحوم (انھیں بھی ہم مجازی طور پر اپنا استاد کہہ رہے ہیں جس طرح غلام علی کو اپنا دوست کہا تھا) کا مصرعہ دہراتے ہوئے جسے اس باب کا عنوان بنایا ہے۔

آج کی بقیہ تفصیل یہ ہے کہ آج بھی اس بد نصیب کی فجر کی جماعت نکل گئی۔ اگرچہ 20۔ 5 پر نکل سکے تھے ۔ بہرحال ہم نے حرم میں ہی اپنی انفرادی نماز پڑھی، پھر سورج نکلنے تک وہیں درود شریف وغیرہ پڑھتے رہے۔ بلکہ اور 20۔ 25 منٹ بعد تک۔ جب اشراق کا وقت ہوا تو اشراق کی نماز پڑھ کر اور کچھ قضا نمازیں پڑھ کر سات بجے واپس آئے۔ صابرہ نماز پڑھ کر ہی آ گئی تھیں۔ ہم لوٹے تو یہ آ کر سو بھی گئی تھیں۔ ان کے اٹھنے کا انتظار کر کے 8 بجے ناشتے کے لئے باہر نکلے۔ سامنے کے پاکستانی ہوٹل میں ہی۔ پھر کچھ دیر باتیں کرتے رہے، مگر کھانسی تو اٹھ ہی رہی تھی صبح سے ہی۔ اس لئے ساڑھے نو بجے پھر نکل گئے اور مدینہ گرینائٹ کی دستیابی کے سلسلے میں باقی تفصیل لکھ ہی چکے ہیں۔ گیارہ بجے سے پون گھنٹے بازار میں گھومے کہ خریداری کا کچھ پلان بنا سکیں۔ 2۔ 2 ریال کی دوکانوں سے کچھ “قبلہ نما” خرید لئے کہ دوستوں کو دے سکیں اور پھر ظہر کے لئے مسجد واپس آ کر اسی افغانی تندور سے آلو مٹر کی سبزی لائے ہیں اور دہی۔ ابھی پونے دو بجے تک صابرہ کا انتظار کیا پھر یاد آیا کہ یہ کہہ کر گئی تھیں کہ نماز کے بعد روضے کی طرف جائیں گی کہ 2 سے 3 بجے تک بھی عورتوں کے لئے یہ حصّہ کھلتا ہے اور ہم ان کا انتظار نہ کریں اور کھانا کھا لیں۔ چناں چہ کھانا کھا کر یہ لکھنے بیٹھ گئے ہیں۔

مزید کچھ اِدھر اُدھر کی

ہماری لاج جس علاقے میں ہے اس مین سب آٹو موبایل شاپس ہیں یعنی موٹروں کے سامان کی دوکانیں، ایک چکّر محض اس چکّر میں بھی لگایا کہ شاید یہاں بھی ہمارے پنجاب “دے”سردار جی نظر آ جائیں ۔ ہندوستان میں تو ہر شہر میں اس بازار میں ان کا ہی قبضہ ہے۔ مگر اس سڑک پر مایوسی ہوئی۔ کسی “سامان سیارات” کی دوکان میں ہم کسی دار جی کو ست سری آکال کر کے “گل “نہیں کر سکے۔ سیارہ یہاں موٹر گاڑیوں کو کہتے ہیں۔ معلوم نہیں کیوں انھیں سیارہ کہتے ہیں۔ کاریں تو یہاں چھلاوہ ہیں اور سیارے تو اپنی رینگتی چال کے لئے مشہور ہیں جب کہ یہاں کی کاریں برق رفتار ہیں یعنی اس تیز رفتاری سے سڑکوں پر دوڑتی ہیں کہ ہم نے ہندوستان میں کہیں نہیں دیکھیں۔ یہاں تک کہ مقامی بسیں اور نجی گاڑیاں (جو غیر ملکی حاجیوں کے علاوہ مقامی لوگوں کی ہوں) مکّہ مدینہ کی 452 کلو میٹر کی دوری 5 گھنٹے میں طے کر لیتی ہیں۔ حاجیوں کے لئے البتّہ سب “پا بہ بریک” رہتے ہیں۔ مکّے میں تو آپ اپنی مرضی کے مطابق سڑک پار کر سکتے ہیں۔ ڈرائیور آپ کو جگہ ضرور دے گا۔ اگر آپ کسی گاڑی کو آتا دیکھ کر رک گئے تو وہ اپنی گاڑی روک کر اشارہ کرے گا کہ آپ پہلے گزر جائیے جناب حاجی صاحب کہ خدمتِ حجّاج شرفٌ لنا۔ مدینے میں البتّہ مسجدِ نبوی اور ہماری لاج کے درمیان ایک چوراہا پڑتا ہے اس پر پولس کھڑی رہتی ہے اور حجّاج کو اپنی مرضی سے سڑک پار کرنے نہیں دیتی۔

جب بات کاروں اور ٹریفک کی ہو رہی ہے تو کچھ جان کاری پڑھنے والوں کو اور دے دی جائے۔ ایک تو یہ کہ یہاں سڑک کے دائیں طرف چلنے کا رواج ہے امریکی نظام کے مطابق۔ اور اسی وجہ سے زیادہ تر گاڑیاں “لیفٹ ہینڈ ڈرائیو” ہیں یعنی اسٹئیرنگ بائیں طرف ہے۔ ۔ اور یہ کہ یہاں گاڑیوں کے نمبر سات ہندسی ہیں، اس سے پہلے اے،بی،سی،ڈی کچھ نہیں ہوتا جیسے کہ ہندوستان میں نمبروں میں پہلے ریاست اور پھر شہر کا کوڈ ہوتا ہے۔ یہاں اوپر لکھتے ہیںالسعودیہ اور اس کے بعد ایک ڈیش کے بعد نجی گاڑی ہونے سے لکھتے ہیں “خصوصی” اور سرکاری گاڑی ہونے سے اس کے محکمے کا نام جیسے “نقل”۔ بسوں کے لئے “حافلہ” لکھتے ہیں۔ ٹیکسیوں (تاکسیوں )کے لئے “أجرت”، ایمبولینس “اسعاف” ہے۔ آک ایک ترجمہ بھی مزے کا دیکھا۔ “Accessories”کے لئے عربی میں لکھا تھا “الاکسسوار”۔ وی (V)کی آواز کے لئے ہم تین نقطوں کی “ف” کا ذکر پہلے بھی کر چکے ہیں مگر یہاں سامنے کی دوکان میں ہی “ویڈیو” کے لئے یہ حرف استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ اور نہ ٹیلی ویژن کے لئے۔ اس “الالکترونیات” (الکٹرانکس) کی دوکان میں “فیدیو” اور “تلفزیون” لکھا گیا ہے۔ انگریزی میں اکثر املا کی غلطیاں نظر آتی ہیں۔ ریسٹوراں کے لئے تو مختلف ہجّے ہندوستان میں بھی نظر آتے ہیں خاص کر حیدر آباد کی ایرانی ہوٹلوں میں۔ یہاں “لانڈری” کا بھی یہی حال ہے۔ کہیں Laundery لکھا ہے تو کہیں اور Londry یا Landry ۔ عربی میں اسے “مغسلہ” یا “تنظیف المبالس” لکھتے ہیں۔ لفظ ملبوسات شاید صرف ہندوستان کی اردو فارسی میں ہے، یہاں لباس کی جمع مبالس ہے۔

کچھ اور ارضیات

ایک چٹّان ہوتی ہے جسے ارضیات کی اصطلاح میں “کانگلومریٹ” (Conglomerate) کہتے ہیں۔ اس کی بناوٹ اس طرح ہوتی ہے کہ مثلاً ندیوں میں جو مختلف قسم کے گول پتھّر (Pebbles) ہوتے ہیں،وہ کسی بھی جگہ جمع ہو کر مٹی وغیرہ سے ڈھک جائیں یا کسی اور طریقے سے ان پتھّروں کی بستگی ہو جائے تو یہ پتھّر بنتا ہے۔ ارضیات میں ہر پتھّر کی خصوصیات اور جغرافیائی حیثیت کے مطابق اس کا نام دیا جاتا ہے۔ جیسے آندھرہ پردیش میں کڈاپہ ضلعے کے رسوبی پتھّروں کوکڈاپہ گروپ کے پتھّر۔ اسی طرح کانگلومریٹ اور دوسرے پتھّروں کو بھی نام دیا جاتا ہے جیسے بنگنا پلّی کانگلومریٹ (بنگنا پلّی اسی مقام کا نام ہے جہاں کے قلمی آم حیدرآباد میں مشہور ہیں۔ یہ مقام جنوبی ہند کی ارضیات میں اپنے کانگلومریٹ کے لئے مشہور ہے)۔

یہ تمہید ہم نے اس لئے باندھی کہ ارضیات کی ایک انگریزی کتاب کا ایک کارٹون یاد آ گیا تھا جس میں ایک ماہرِ ارضیات ایک پرت کا معائنہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ “بئر کین کانگلومریٹ”( Beer can Conglomerate) کہ اس پتھّر میں گول پتھّروں کی جگہ بئیر کے ڈبّے بھرے تھے۔ یہ دراصل آج کے کسی سمندری ساحل کے مستقبل کی طرف اشارہ تھا۔ اب سے لاکھوں سال بعد اگر یہاں کی مٹی اس قسم کے پتھّر میں تبدیل ہوگی تو اسے “پےپسی۔ کانگلومریٹ” کہا جائے گا کیوں کہ یہاں ہر طرف پےپسی اور دوسرے کولڈ ڈرنکس کے ڈِبّے نظر آتے ہیں۔ ویسے یہ بکھرے تو نہیں رہتے کہ سڑکوں کی صفائی کا بہت عمدہ انتظام ہے۔ دن بھر صفائی ہوتی رہتی ہے۔ البتّہ یہ اس لئے یاد آیا کہ جس دن ہم نے مکّے میں قدم رکھا، وہاں اور پھر مدینے میں بھی ہر سڑک پر کچھ “حلقے” لگے ہوئے دیکھے۔ ہم پہلے سوچتے رہے کہ یہ کیا شے ہے جس سے سڑک بنانے میں مدد لی جاتی ہے۔ غور کیا تو معلوم ہوا کہ ان کولڈ ڈرنک کے ڈبّوں میں ڈبّہ کھولنے کے لئے ایک حلقہ بنا ہوتا ہے۔ آپ ڈرنک پینے کے لئے اس حلقے میں انگلی ڈال کر کھینچیں تو ایک تکونا حصّہ کٹ جاتا ہے اور ڈِبّہ کھل جاتا ہے۔ صفائی کرنے والے ایک برش اور ایک بڑا “اسکوپ” لئے گھومتے رہتے ہیں۔ بڑے ڈبّے اور پالی تھین پیکٹ اس میں آسانی سے سما جاتے ہیں مگر یہ حلقے چھوٹ جاتے ہیں، گرمی کی وجہ سے سڑک کا کولتار بہتا ہے تو یہ حلقے سڑک میں پیوست ہو جاتے ہیں۔ آنے جانے والی گاڑیاں مزید روڈ رولر کا کام کرتی ہیں۔ سعودی عرب والے کسی سڑک کو ایکسپریس ہائی وے، کسی کو ایکسپریس وے، اور کسی کو محض ہائی وے کہتے ہیں مگر سچ پوچھئے تو ہر سڑک کو “پےپسی کین وے”کہنا بجا ہوگا۔ ہم نے ارضیات کی سرخی لگائی اور پٹری سے اتر گئے۔ مگر دراصل پٹری سے اتر کر اسی سڑک پر چلنے کے لئے ہی ہم نے یہ سرخی لگائی تھی۔ آپ تو سمجھ ہی گئے ہوں گے۔

اب باقی پھر لکھیں گے سوا تین بج رہے ہیں اب عصر کے لئے نکلیں گے۔

…… شیطان کھڑا دام لگائے

11/ اپریل ۔ ساڑھے دس بجے رات

ہمارے مولانا عبدالکریم پاریکھ صاحب نے جو بات اپنی کتاب “حج کا ساتھی” میں لکھی ہے اس پر ہم کل ایمان لے آئے، مولانا نے لکھا ہے کہ اکثر نماز کے اوقات میں شیطان کسی دوکان دار کی صورت میں کھڑا ہو جاتا ہے اور عام طور پر کسی شے کے نصف دام لگا کر آوازیں لگاتا ہے اور اپنا دام پھیلاتا ہے۔ کل ہم یہ روزنامچہ لکھ کر عصر کے لئے نکلے تھے کہ سڑک پار کرتے ہی ایک دوکان میں کھجوروں کی آواز لگائی جا رہی تھی “10 ریال کے تین کلو”۔ اب یہاں یہ جملۂ معترضہ قسم کی بات لکھ دیں کہ اکثر دوکانیں کھلی ٹویوٹا کاروں یا۔ وینوں میں ہوتی ہیں، بغیر چھت کی۔ صرف ڈرائیور کے سر پر چھت ہوتی ہے اور پیچھے کے حصّے میں جہاں حمل و نقل کے سامان کی جگہ ہوتی ہے، وہاں دوکان سجائی جاتی ہے، کھجوروں کی یہ ایسی ہی دوکان تھی۔ یہ تو ہم لکھ چکے ہیں کہ حرمین میں کھانے پینے کی چیزیں لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس ۔ لئے اسی وقت خریدنا بیکار تھا بہرحال کچھ اور آگے بڑھے تو ایک بچّہ چار ریال کی ایک درجن تسبیحوں کی آواز لگا رہا تھا۔ پھر حرم کے قریب ہی ایک حبشی 10۔ 10 ریال کے “توب” بیچ رہا تھا، وہ بھی پوری آستین کے۔ ہم نے سوچا کہ نماز کا وقت قریب ہے، بعد میں دیکھیں گے کہ عصر اور مغرب کے درمیان سوا دو ڈھائی گھنٹے کا وقفہ ہوتا ہے۔ عصر کے بعد ہم پھر اسی طرف آئے تو نہ وہ توب والا نظر آیا اور نہ تسبیحوں والا۔ البتّہ سفارت خانے کی طرف آئے تو وہی کھجور والا (یا شاید اسی جگہ پر کوئی دوسرا دوکان دار، ہم نے پہلے دوکان دار کی شکل تو اتنی اچّھی طرح نہیں دیکھی تھی) اب 5 ریال فی کلو کھجور بیچ رہا تھا۔ اس وقت تو ہم پھر مغرب کے لئے چلے گئے۔ بعد میں عشاء کی نماز کے بعد ہم نے اسی دوکان دار سے پوچھا بھی کہ بھائی پہلے تو 10 ریال کے تین کلو بیچ رہے تھے۔ اس اللہ کے بندے نے یہ بات قبول کرنے کی بجائے یہ کہا کہ اب 4 ریال کے بھاؤ سے لے لیں۔ ہم نے یہی کیا اور اس طرح شیطان کے داؤ سے محفوظ رہے۔

کچھ کھجوروں کے بارے میں

ویسے مدینے کی کھجوریں تو مشہور ہیں ہی، ان میں ایک عجوہ کھجور بہت مشہور ہے جس کے بارے میں کئی احادیث ہیں اور کہا جاتا ہے کہ کھجور کی یہ قسم آں حضرتؐ نے اپنے ہاتھ سے مدینے میں لگائی تھی اور اس کی قلم کہیں باہر سے آئی تھی۔ آپ نے دو ہی پودے لگائے تھے اور ان سے ہی مدینے بھر میں اور پھر سارے عرب میں یہ قسم پھیل گئی۔ اس کھجور میں کئی بیماریوں کے لئے شفا ہے۔ شاید اسی لئے یہ کھجور بہت مہنگی ہے۔ مدینے میں ایک “مرکزی سوق التمر” ( تمر اب کھجور کو ہی کہتے ہیں، خرمہ نہیں۔ یہ بھی شاید لفظ “ثمر” کا بگڑا ہوا تلفّظ ہے جیسا کہ جدید عربی میں “ث” کو “ت” کر دیا جاتا ہے)۔ اس کے بارے میں ہم لکھ چکے ہیں جب ہم اس کا محلِ وقوع ایک دن دیکھ کر آئے تھے۔ ویسے حرم کے مشرق میں جو بازار ہے، اس میں بھی انواع و اقسام کی کھجوریں ملتی ہیں 8 سے لے کر 25 ریال فی کلو تک۔ اس وقت ہم کو ان قسموں کے نام بھی یاد نہیں آ رہے ہیں۔ ہم کو سستی کھجوروں کی تلاش تھی کہ وطن زیادہ سے زیادہ لے جا سکیں۔ عجوہ کھجوروں کے لئے بھی مظہر بھائی سے کہہ دیا ہے کہ وہی پہچان کر ہمارے لئے لے لیں۔ یہاں پہنچنے کے اگلے دن ہی جب ہم اسرار میاں کی معیت یا رہنمائی میں مدینے کی زیارتیں دیکھنے گئے تھے تو مسجدِ قبا اور شہدائے احد کے بازاروں سے 5 اور 6 ریال فی کلو سے بڑی تازہ تازہ کھجوریں لے لی تھیں، مگر اس وقت ہم کو بازار کے بھاؤ کا کچھ اندازہ نہیں تھا اور خریداری کی مہم شروع نہیں کی تھی۔ اب پچھتا رہے ہیں کہ صرف تین کلو ہی کیوں خریدیں اس دن، اور زیادہ لے لینی تھیں۔ یہاں 8 اور 10 ریال کلو کی بھی کافی سوکھی کھجوریں نظر آ رہی ہیں بازاروں میں۔ کسی دن کوئی اور احد کی طرف جانے والا ملے ورنہ ہم خود ہی “تاکسی” میں جا سکیں تو وہاں سے ہی لے کر آئیں گے، ورنہ پھر بعد میں جدّے میں دیکھیں گے کہ حج کے بعد وہاں بھی جانے کا ارادہ ہے۔ صابرہ کے بہنوئی کے چھوٹے بھائی باقر اور اور ان کے بہنوئی اشفاق بھائی کافی شدّت سے مدعو کر گئے ہیں۔ مسجدِ قبا میں بھی نماز پڑھنے کا ثواب عمرے کے برابر ہے۔ اگر ہو سکا تو اگلے سنیچر کو (شاید اسی دن یہاں سے روانگی ہوگی 40 نمازیں مکمل ہونے کے بعد) کہ وہاں سنیچر کو نماز زیادہ افضل کہی جاتی ہے۔

شرحِ اموات کم ہو گئی ہے

حج و عمرہ کی کتابوں میں اکثر لکھا ہوا دیکھا ہے کہ حرمین میں ..یعنی بیت اللہ اور مسجد نبوی دونوں جگہ اکثر فرض نمازوں کے بعد کسی نہ کسی کی نمازِ جنازہ ہوتی ہے۔ اب آپ سے جھوٹ کیا بولیں۔ ہم کو پہلے نمازِ جنازہ پڑھنی آتی ہی نہیں تھی، خدا بھلا کرے ان حج گائڈس لکھنے والوں کا کہ ان کتابوں سے ہی ہم نے یہ نماز سیکھی ہے۔ مکّے میں جو چار دن تھے اور جتنی نمازیں حرم میں ادا کیں، ہر نماز کے بعد نمازِ جنازہ ضرور ہوئی۔ یہاں بھی 6 دن تک وہی معمول چلا ہے۔ مگر کل یہ انہونی بات ہوئی کہ عصر اور پھر مغرب کے بعد بھی کوئی جنازے کی نماز نہیں ہوئی ہے۔ آج بھی عصر اور عشاء کی نمازوں کے بعد یہی ہوا۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی نمازِ جنازہ حرم میں پڑھی جاتی ہے۔ نہ جانے ان میں کتنے غیر ملکی حاجی بھی رہے ہوں گے۔ ہم شروع سے ہی یہ دعا کرنے لگے تھے کہ اللہ ان حجاج کرام کو موت سے فی الحال محفوظ رکھے کہ بے چارے کم از کم حج تو مکمّل کر لیں۔ شاید قبولیت کے کسی موقعے پر بھی ہم نے یہ دعا کی تھی جو کل سے قبول ہونی شروع ہوئی ہے کہ شرحِ اموات کم ہو گئی ہے۔

خریداری جاری ہے

کل ہم نے عصر کے بعد اکیلے کچھ خریداری کی ہے اور آج ہماری صابرہ بیغم کو بھی ساتھ لے لیا ہے۔ کل کچھ 5۔ 5 ریال کے سامان کی ایک دوکان دیکھی تھی، وہاں سے انھیں کے لئے ایک پرس یا لیڈیز ہینڈ بیگ (اسے حیدرآباد کی زبان میں “ہیانڈ بیاگ ” لکھیں گے) ہاں کا۔ آج آخر معلوم ہوا۔ حالاںلیا تھا جو قیمت اور کوالٹی کے حساب سے مناسب ہی لگا۔ مگر رات کو صابرہ نے جو غلطی بتائی۔ اس کی طرف ہمارا دھیان نہیں گیا تھا۔ یہ انگریزی حرف “ڈی” کی شکل کا ہے اور ہماری بیغم کا کہنا تھا کہ اس میں سامان کس طرح رکھا جا سکتا ہے۔ جو رکھیں گے، ڈھلک کر بیچ میں آ جائے گا۔ پانی پانی کر گئی ہم کو قلندر کی یہ بات۔ مصرعہ صحیح فٹ نہیں ہوا شاید۔ اقبال تو اقبال ہی ٹھہرے، ان کا واسطہ قلندروں سے ہی پڑا تھا شاید بیغموں سے نہیں۔ بہر حال ہم نے تلافی کی غرض سے کہا کہ ہم 10 اور 15 ریال کی دوکانوں میں بھی پرس دیکھ کر آئے ہیں۔ آج ان محترمہ کو 10 ریال کا ایک پرس پسند آ گیا ہے تو وہ بھی لے لیا ہے۔ یہ بھی ہر مال 5 اور 10 ریال والی تھی، یعنی نصف چیزیں 5 اور باقی نصف چیزیں 10 ریال کی۔ کل ہم نے اپنے لئے 20 ریال کی اطالوی سینڈل “چپس” چھاپ (Chips) خریدی جو بہت ہلکی پھلکی اور مضبوط معلوم ہوتی ہے۔ آج صابرہ نے بھی چپّلیں دیکھیں مگر ان کو پسند نہیں آئیں۔ البتّہ تحفوں کے لئے کافی سامان خرید لیا جیسے 5 ریال کا ایک “گفٹ سیٹ”(Gift Set)جس میں ایک قلم (بال پین)، ایک تسبیح ایک انگوٹھی اور ایک کیلکولیٹر (Calculator) تھا۔ انگوٹھی پر اس وقت “اے” اور “بی” حروف نظر آئے تھے تو ہم نے ہمارے دوست بشیر میاں کے لئے۔ بی” حرف والی انگوٹھی والا سیٹ لیا۔ اسی شام یاد آیا کہ ہمارے دوسرے دوست ثناء اللہ کے لئے حرف ” ایس” کی انگوٹھی والا بھی ایک سیٹ لے لیں۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سیٹ یا کم سے کم انگوٹھی بنانے والوں نے انگوٹھی بناتے وقت تک صرف “سی” تک انگریزی پڑھی تھی۔ کہ ہر انگوٹھی میں یہ تین ہی حروف تھے۔ ایک کیلکولیٹر اور لیا۔ دوکان دار سے پوچھا کہ بھائی “سولار”(Solar) ہو تو دکھاؤ، مگر وہ سمجھا نہیں۔ ایک اور خریدار نے ہماری مدد کی ۔ کہا “شمسی۔ شمسی”۔ واہ۔ اتنی سامنے کی بات تھی۔ مگر ہم کو خیال نہیں آیا کہ “شمسی کالکولیتر” کا دوکان والے سے کہیں۔ یہ بھی 10 ریال کا ہے مگر عام قسم کا ہے۔ سائنسی نہیں جس میں کئی Functions ہوں۔ صابرہ کچھ لڑکیوں کا سامان بھی دیکھ رہی تھیں۔ 2۔ 2 ریال کی دوکانوں سے 3 عدد دست بند بھی الگ الگ طرح کے پسند کر کے خرید لئے۔ اس کے علاوہ ایک چیز اور نظر آئی۔ کپڑے کی چپّل۔ جو دراصل بیڈ روم سلیپر کہلاتی ہے۔ 2۔ ریال کی یہ بھی خرید لی ہے۔ اس کا خیال یوں آیا کہ بیت اللہ میں پتھّر کے فرش پر طواف کرنے اور ویسے بھی کافی چلتے رہنے کی وجہ سے ہمارے دائیں پیر میں چھوٹی انگلی کے نیچے Mount پر ایک گٹّہ ہو گیا ہے۔ یہ اب کافی تکلیف دینے لگا ہے۔ ویسے تو ان فرائض اور واجبات کی ادائیگی میں جتنی زیادہ تکلیف ہو، اتنا ہی زیادہ ثواب ہوتا ہے۔ مگر ہم سوچتے ہیں کہ جب اس ثواب کا وزن اتنا ہو جائے گا کہ اٹھائے نہ بنے تو ہم یہ سلپرس استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

تندوری پراٹھے

کل دوپہر کو ہم ایک بات لکھنا بھول گئے تھے۔ تندور پر سننے میں آیا تھا کہ وہاں “بسکوت”اور چپاتی کے علاوہ پراٹھے بھی بنتے ہیں جو ہم نے اب تک نہیں دیکھے تھے۔ کل سامنے کی ہوٹل میں چائے پیتے ہوئے ہم نے دیکھا کہ کچھ لوگ کاغذ میں لپٹے ہوئے خستہ خستہ پراٹھے لے کر آئے اور چائے کے ساتھ کھا رہے تھے۔ ہم نے سوچا کہ شاید افغانی تندور میں بھی یہی پراٹھے ملتے ہوں گے۔ چناں چہ کل ناشتے کے لئے ہم اپنے تندور کی طرف گئے تو پوچھا۔ پراٹھے مل تو گئے مگر یہ کسی اور قسم کے نکلے جو چائے کے ساتھ کھانے کے قابل نہیں تھے، انھیں ہم نے دوپہر کے لئے رکھ لیا اور چائے کے لئے ہوٹل گئے تو پھر وہاں سے ہی کیک کے ساتھ ناشتہ کیا۔ اس پراٹھے کو دوپہر کھانے میں کھایا تو پسند آیا۔ اس میں اندر گھی یا تیل کی وجہ سے پتلی پتلی پرتیں بن جاتی ہیں اور کافی نرم ہو جاتا ہے۔ چناں چہ ہم کل سے یہی پراٹھے لا رہے ہیں اور دعا کر رہے ہیں کہ ایسا ہی تندور مکّے میں بھی دریافت ہو جائے ۔ اب پرسوں وہاں واپس جانا ہے۔ وہاں مچھلی بھی نہیں نظر آئی تھی۔ یہ تو ہم پہلے ہی لکھ چکے ہیں کہ مدینہ آ کر ہم نے مرغی گوشت چھوڑ دیا تھا۔ ہاں ،ایک بار مچھلی مل گئی تھی۔ آج بطور خاص ڈھونڈھ کر لائے کہ پھر معلوم نہیں کہ “نان ویجی ٹیرین “کھانا کب نصیب ہوتا ہے۔ یہاں 3 ریال کی مسلّم مگر چھوٹی تلی ہوئی مچھلی ملی تھی ایک پاکستانی ہوٹل میں ہی۔

…موہے پی کے نگر آج جانا پڑا…

کل رات ہماری رخصتی ہے۔ اس وقت تک 39 نمازیں یہاں پڑھ چکے ہیں اور الحمدُ لِّلہ شاید دو نمازوں کو چھوڑ کر ساری نمازیں جماعت سے ادا ہوئی ہیں۔ کل فجر کے وقت 40 نمازیں پوری ہو جائیں گی جیسا کہ مدینے کے قیام کا قاعدہ ہے اور کل عشاء کے بعد روانگی کا نوٹس لگا دیا گیا ہے ہمارے معلّم کی طرف سے۔ چناں چہ ہم کل اس وقت مکّے کے راستے میں ہوں گے اور احرام میں ہوں گے۔ ایک اور عمرے کا موقعہ ہے۔ ذو الُحلیفہ کی مسجدِ میقات کی بجائے یہاں سے ہی احرام باندھ کر چلیں تو وقت بچے گا۔ اگر چہ احرام کی نیت اور واجب نماز ذو الحُلیفہ میں پڑھیں گے، سنا ہے کہ بس والے وہاں غسل اور نماز کے لئے روکتے ہیں۔ اتوار کی صبح مکّے پہنچتے ہی پہلے عمرہ کر لیں گے۔ چناں چہ کل رسولِ پاک سے رخصت ہونا ہے۔ لیکن ہم کو محسوس ہوتا ہے کہ ہم اللہ والے زیادہ ہو گئے ہیں۔ جو حالت ہماری بیت اللہ میں ہوتی ہے وہ بات یہاں نہیں۔ بلکہ خوشی ہی ہو رہی ہے کہ پھر بیت اللہ دیکھنے کا موقعہ ملے گا اور پھر خوب طواف کریں گے۔

کچھ اختلافات

12/ اپریل، 20۔ 2 بجے دن

کل سے ہی ہماری سرائے میں ہمارے ہندوستانی ساتھیوں کو بہت سی مشکلات پیش آ رہی ہیں ، اختلافات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ہم بھی اپنے آپ کو بڑا عالم فاضل سمجھتے آئے تھے مگر دو سوالات ہمارے ذہن میں بھی اٹھ رہے ہیں، ان کا ذکر بعد میں کریں گے، پہلے ایک مسئلے کے بارے میں۔

ایک صاحب کا خیال ہے کہ اگر ہم مدینہ پہلے آئے ہوتے اور ذوالحجّہ شروع پونے سے پہلے واپس مکّے جاتے تو ضرور عمرہ کرتے اور اس کے سارے واجبات معہ حلق (یعنی سر کے بال منڈوانے یا کٹوانے ) مکمّل کرتے۔ مگر آج ہی 3 ذوالحجّہ ہے اور حج یا قربانی کرنے والے کو بال کٹوانا منع ہے اس ماہ میں قربانی کرنے تک۔ اس وجہ سے ہم کو یہ عمرہ کرنا ضروری نہیں ہے کہ اس کی ایک شرط مکمّل نہیں کی جا سکتی۔ ہمارے نزدیک بال نہ کٹوانا یا ناخن نہ کاٹنا در اصل سنّت ہے جب کہ عمرے کے لئے بال کٹوانا واجب ہے اور اسے پورا کرنا سنّت پر عمل کی بہ نسبت زیادہ ضروری ہے۔ کہ اس کی اہمیت واجبات سے کم ہی ہے۔ اس لئے عمرہ کرنا بہتر ہے۔ البتّہ اس ضمن میں ایک صاحب کا یہ نکتہ ہے کہ واجب عمرہ تو ہم مکّے پہنچتے ہی ادا کر چکے۔ اب سارے عمرے نفلی ہیں اور کرنے ضروری نہیں۔ (ہمارے خیال میں تو آپ جتنی بار بھی حرم کی حدود میں داخل ہوں گے، عمرہ واجب ہی ہوگا)۔ ان کے خیال میں اب جب اس عمرے کی نوعیت جو مدینے سے واپسی میں پھر میقات میں داخلے کی وجہ سے کیا جائے، نفلی ہے تو اس کی شرائط بھی نفلی ہوں گی۔ اس لئے کیا بھی جائے تو بال کٹوانے ضروری نہیں۔ مگر یہ دلیل ہم کو قابلِ قبول نہیں۔ آپ نفل نماز کی نیت کریں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے واجبات اب ضروری نہیں رہے۔ اسی طرح نماز میں سجدے رکوع نہ کریں یا سورۂ فاتحہ نہ پڑھیں اور ضد کریں کہ یہ نماز نفلی ہے اور اس کا کوئی جز فرض یا واجب نہیں تو کیا اسے نماز کہا جائے گا؟ہمارے “ہم کمرہ” اسمٰعیل صاحب کا ارادہ نہ احرام باندھنے کا ہے اور نہ عمرہ کرنے کا۔ فرماتے ہیں” ایک عمرہ ہو چکا ہمارا، اب بار بار کیوں کریں؟ اب حج ہی کریں گے”۔ خیر یہ صاحب تو اب تک پہلے عمرے کی ہی تھکن اتار رہے ہیں کہ یہاں آتے ہی بیمار پڑ گئے تھے اور مدینے میں یعنی حرم میں ان بیچارے کی اب تک ایک نماز بھی ادا نہیں ہوئی ہے۔ حالاں کہ دو تین دن سے ہم کو تو یہ صاحب ٹھیک ٹھاک نظر آ رہے ہیں، اچّھا کھا پی رہے ہیں، سگریٹیں پی رہے ہیں۔ خیر۔

اب ہمارے ذہن میں پیدا سوالات۔ وہ یہ کہ عمرے کا ارادہ تو ہم کر ہی رہے ہیں۔ آج شام کو احرام باندھیں گے اور کل عمرے کا طواف اور سعی کریں گے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہمارا ارادہ یہ عمرہ اپنی والدہ کے نام سے کرنے کا تھا۔ ہمارا خیال ہے کہ آفاقی کے لئے بھی (یعنی جو میقات کی حدود سے باہر رہتا ہو اور جو ہم آج کل ہو گئے ہیں) میقات میں داخل ہونے پر عمرہ واجب ہوتا ہے۔ تو ہم پر بھی یہ عمرہ واجب ہوگا، عام طور پر آپ دوسرے کے نام کا عمرہ کریں تو یہ عمرہ آپ کے لئے نفلی ہوگا اور جس کے نام کا کیا جائے، ان کا واجب پورا ہوگا۔ اب جب کہ یہ عمرہ ہم پر ہی واجب ہے تو دوسرے کے نام کا کس طرح ادا ہو سکتا ہے؟ علماء کے لئے یہ نکتہ قابلِ غور ہے۔ ہمارا ارادہ تو یہ ہے کہ نیّت اس طرح کریں گے کہ ہم پر وجوب پورا ہونے کے ساتھ ساتھ اگر قبول ہو سکے تو یہ ہماری والدہ کی طرف سے بھی مانا جائے۔ ویسے بعد میں ہم ان کے نام کا احتیاطاً اور عمرہ بھی کر لیں گے۔ ایک عمرہ والد کی طرف سے ادا کرنے کا بھی ارادہ ہے۔ حج کے بعد جدّہ بھی جانا ہے جیسا کہ لکھ چکے ہیں اور وہاں سے واپسی میں بھی ایک عمرہ ہوگا، مگر اس کی نوعیت بھی اسی قسم کی ہوگی کہ ہم پر بھی میقات سے گزرنے کے باعث واجب ہوگا۔ مکّے سے بھی اکثر لوگ بطور خاص وہاں کی ایک میقات مسجدِ عائشہ جا کر احرام باندھتے ہیں اور پھر مکّہ آ کر عمرہ کرتے ہیں تو اس طرح بھی یہ لوگ خود پر عمرہ واجب کر لیتے ہیں۔ پھر نفلی عمرہ ہو ہی کس طرح سکتا ہے؟ بہر حال ہم نے اپنے ارادے کا لکھ ہی دیا ہے۔ خدا قبول کرے، ہمارے لئے بھی اور والدین کے لئے بھی۔ البتّہ ہمارا یہ مسئلہ ضرور ہے کہ اس حکم کی نوعیت کیا ہے کہ مکّے کے جوار میں معہ احرام کے ہی داخل ہوں اور عمرہ کریں۔ قرآن میں تو نہیں ہے، اس سلسلے کی احادیث ہی ہوں گی۔ معلوم نہیں کہ اسے واجب کہیں گے یا سنّت۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ محض ایامِ تشریق ( یعنی 8،9، 10 ذوالحجّہ ) میں ہی بال اور ناخن کاٹنا منع ہے یا عشرے کے تمام دس دنوں میں؟ اور اس حکم کی نوعیت کیا ہے، واجب، سنّت یا محض احسن یا افضل۔ اگر واجب نہیں جس کا ہمارا خیال ہے تو اس پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں۔

مسجدِ نبوی سے وداع

اب تھوڑی دیر میں ہم عصر کے لئے جائیں گے تب ارادہ ہے کہ مسجدِ نبوی سے وداع لے لیں گے اس لئے کہ عصر کے بعد نہانا دھونا ہے اور احرام کی تیاری کرنی ہے۔ ویسے آج صبح روضۂ پاک پر جانے کا موقعہ مل گیا تھا اور ریاض الجنّۃ میں زیادہ سکون سے 2 رکعت نماز ادا کر سکے تھے۔ اب یہ سمجھ میں آیا ہے کہ ریاض الجنّۃ میں نہ صرف قالین یا جا نمازیں سفید اور سبز رنگ کی ہیں بلکہ اس کے ستونوں پر سنہری اور سرخی مائل بھوری پتھّروں کی ڈیزائن بھی دوسرے ستونوں سے مختلف ہے۔ روضے کا حصّہ ہی قدیم ترین مسجدِ نبوی ہے اس لئے یہ حصّہ ایر کنڈیشنڈ بھی نہیں ہے۔ یہاں لا تعداد پنکھے لگے ہیں جو چلتے رہتے ہیں۔ روضے اور بعد کی نئی عمارت کے درمیان ہی وہ کھلا حصّہ ہے جہاں وہ چھتری کی چھت ہے۔ بلکہ ایسے کھلے حصّے دو عدد ہیں۔ کل شام کو ہی ہم نے مغرب کی نماز اس حصّے میں پڑھی اور پہلی بار ان چھتریوں کو بند دیکھا۔ بند صورت میں یہ بھی میناروں کی شکل کی ہیں اور ان پر بھی ویسی ہی سفید اور نیلی دھاریاں ہیں جیسی گنبدِ خضریٰ کے علاوہ دوسرے ستونوں پر ہیں۔

جنّت البقیع میں بھی جانا ہے۔ صبح ہم روضے سے باہر اس طرف نکلے ضرور تھے مگر وہ وقت عورتوں کے لئے مخصوص تھا اس لئے قبرستان کی جالیاں بند کر دی جاتی ہیں اور اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

کبوتر اور بلّیاں

اس علاقے میں کبوتروں کی بہتات ہے ۔ کبوتر ویسے مسجدِ نبوی میں بھی کافی ہیں، مگر یہاں ان کو دانہ ڈال سکتے ہیں، مسجدِ نبوی میں نہیں۔ اس کے لئے ہر طرف گیہوں بیچنے کے لئے عورتیں اور بچّے کھڑے رہتے ہیں۔ ایک ایک ریال اور 5۔ 5 ریال کے پیکٹ فروخت کرتے رہتے ہیں، اسی طرح حرمِ مکّہ میں بھی دانہ بیچا جاتا ہے۔

کبوتروں کے ذکر پر ہم کو ایک اور بات یاد آ گئی ہے جس کا ذکر کرتے چلیں۔ بلّیاں یہاں گلیوں گلیوں نظر آتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ عربی بلّیاں ہی ہوں گی، قرّۃ العین حیدر یاد آ گئی ہیں، انھوں نے اپنے ایران کے سفر نامے میں (اس کا عنوان یاد نہیں آ رہا، کچھ فارسی میں ہی تھا اور غالباً “آج کل” رسالے میں قسط وار چھپا تھا۔ اس کا ایک “کردار ” ہُد ہُد تھا) لکھا تھا کہ ایران میں کسی نے بلّیاں دیکھ کر کہا تھا کہ “دیکھو ایرانی بلّیاں!” تو فاضل مصنّفہ نے جواباً کہا تھا کہ ایران میں ایرانی بلّیاں نہیں تو کیا ہندوستانی بلّیاں ہوں گی؟۔ اب بلّیاں ہیں تو چوہے بھی ضرور ہوں گے اگر چہ ہمارا ان سے واسطہ نہیں پڑا۔ یا ممکن ہے کہ عربی بلّیوں کی غذا کچھ اور ہو یا عربی چوہے کسی اور قسم کے ہوں۔

یہ بلّیاں سڑکوں سے دور رہتی ہیں اور صرف رہائشی علاقوں میں نظر آتی ہیں۔ اس پر یہ بھی لکھ دیں کہ اب تک ہم نے کتّا ایک بھی نہیں دیکھا ہے، نہ مکّے میں نہ مدینے میں۔ جدّہ کے ائر پورٹ پر بھی نہیں تھے، شہر تو ہم نے اب تک دیکھا نہیں ہے۔ فرشِ زمین پر کتّے نہیں اور آسمان میں کوّے بھی نہیں یہاں۔ کبوتروں کے علاوہ اور کوئی پرند ہم نے نہیں دیکھا ہے۔ ظاہر ہے کہ دوسرے پرندے درختوں میں رہتے ہیں جو یہاں مفقود ہیں۔ شاہین اور مردِ شاہین کی بات اور ہے جو بناتا نہیں آشیانہ۔ کبوتر محض روشن دانوں ، چھتوں کے کویلوؤں اور ٹی.وی کے اینٹینا پر آرام کر لیتے ہیں یا ضرورت پڑنے پر گھونسلہ بنا لیتے ہیں، ان کو درخت کی بنیادی ضرورت نہیں ہوتی۔ شاید ان کی حکومت اور ہاؤسنگ بورڈ مجبور کرتا ہو تو گھونسلہ بناتے ہیں یا پھر ان کی “وزارتِ داخلہ”۔ یہاں درخت نایاب نہ ہوں کمیاب ضرور ہیں۔ سڑکوں پر صرف جھاڑیاں ہیں یا پھولوں کے پودے، بڑے پیڑ ندارد۔ ہاں، جدّے کے راستے میں ہم نے ببول اور سرو کے درخت ضرور دیکھے تھے۔

کچھ آج کی تفصیل

آج ہماری فجر کی جماعت نکل گئی کہ صبح 20۔ 5 پر آنکھ کھلی۔ بغیر جماعت کے پڑھی مگر مسجدِنبوی میں ہی کہ 50 ہزار نمازوں کا ثواب تو ملے۔ چناں چہ اٹھ کر ضروریات سے فارغ ہوتے ہی بھاگے تھے۔ پھر فوراً ہی واپس آ کر کافی دیر کمرے پر ہی رہے۔ پھر ناشتے کے بعد سوا آٹھ یا ساڑھے آٹھ پر دوبارہ نکلے اور مسجدِ نبوی میں قضائیں پڑھیں، درود پڑھے اور روضے پر سلام کر کے ریاض الجنۃ میں مزید نوافل پڑھ کر بازار کی طرف گئے۔ ایک چپّل اور خریدی اور کھجوریں بھی۔ بھاؤ تاؤ کر کے 5 ریال کلو سے ایک کلو “صغریٰ” کھجوریں 12 ریال فی کلو سے آدھا کلو “صقعی”کھجوریں اور 25 ریال کلو کی “رومانہ”کھجوریں بھی آدھا کلو خریدیں۔ اور دوسرے قسموں کے نام ہیں”لبانا” جو چھوہارے نما ہوتی ہیں سوکھی سوکھی، “مبروم” جو پیلے سر کی ہوتی ہیں اور سبزی مائل “خضریٰ”۔ صغریٰ عام قسم کی ہے جیسی ہندوستان میں بھی ملتی ہے۔ ۔ صقعی سیاہ رنگ کی نرم نرم ہوتی ہے۔ ساڑھے دس بجے تک واپس آ گئے تھے۔ اس کے بعد سامان باندھنے میں لگے، پھر وہ اختلافی مسائل کی باتیں چلتی رہیں مختلف کیمپوں میں۔ ظہر کی نماز کے بعد کھانے سے فارغ ہو کر ہم ساتھ کی کتابیں دیکھنے لگے کہ کچھ ان مسائل کا حل ملے اور اب یہ روزنامچہ لکھ رہے ہیں۔ صابرہ اب تک آئی نہیں ہیں ۔ ان کا کھانا ان کا منتظر ہے۔ دال اور لوبیا دونوں لائے تھے۔ ہاں، یہ لکھنا ہم بھول گئے تھے کہ دال اور سبزی (اور گوشت) کے علاوہ ان تندوروں میں لوبئے کے بیجوں کا ایک سالن بھی ملتا ہے جس کی دریافت کچھ بعد میں ہوئی۔ یہ ہمارے راجما جیسا اور کچھ ویسے ہی مزے کا سالن ہوتا ہے۔ آج سبزی ختم ہو گئی تھی تو دال اور لوبیا دونوں لے آئے تھے ورنہ پہلے کبھی دال اور کبھی لوبیا لاتے تھے۔ دال مسور کی تھی۔ کبھی بلکہ اکثر چنے کی ملی تھی۔ صابرہ اس وقت روضے کے آخری سلام کے لئے گئی ہیں۔ ویسے تو وقت 3 بجے تک رہتا ہے۔ اب معلوم نہیں کہ جلد ہی آتی ہیں یا پھر عصر پڑھ کر ہی۔ یا پھر عشاء کے بعد۔ ان کو عموماً کھانے کی فکر کم ہی رہتی ہے۔

اب انشاء اللہ مکّے میں لکھیں گے عمرہ کرنے کے بعد۔

نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم…

منیٰ۔ سنیچر 19/ اپریل، 12 ذی الحجّہ

ساڑھے نو بجے صبح

اب ایک ہفتے بعد کاغذ قلم ہاتھ میں آیا ہے، کیا لکھیں، کہاں سے شروع کریں۔ قلم ہاتھ میں لے کر سوچتے رہ گئے ہیں، ایک ہفتے کی داستان لکھی جانی باقی ہے اور یہ ہفتہ بھی ایسا ویسا نہیں جیسا ہمارے اختر الایمان مرحوم کہہ گئے ہیں ؎ نہ کوئی حادثہ گزرا نہ کوئی کام ہوا۔ یہ ہفتہ پر از ہنگام رہا۔ بہت سر گرم بلکہ گرم گرم بھی کہ منیٰ کی آگ کا حادثہ بھی اسی دوران گزرا۔ اب اتنے ہنگاموں کے بعد سکون ملا ہے تو سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ کیا لکھیں، پہلے وقوعوں کی فہرست بنا لی جائے تاکہ کچھ ہم “فکرِ پُر شور”( یہ Loud thinking  کا ترجمہ کرنے کی کوشش ہے ہم نے)کر سکیں:

1۔ مدینے سے 12/ اپریل کو بعد عشاء روانگی

2۔ ذوالحلیفہ میں ایک بجے سے 3 بجے تک مسجدِ میقات میں قیام۔ ہم نے بھی پھر وہاں ہی احرام باندھا۔ اسے پہلے ہم “خلیفہ” پڑھتے تھے،یعنی “خلی فا ” بعد میں معلوم ہوا کہ یہ “حُلَیفہ” (Hulaifa)ہے۔

3۔ مکّے میں اسی عمارت رقم 468 میں آمد، 13 اپریل، صبح 11 بجے۔

4۔ عصر کے بعد عمرہ۔ عشاء تک اس سے فراغت۔

5۔ 14 اپریل کی رات کو ہی حج کے ارکان کے لئے روانگی کا اعلان مگر تیاری کے باوجود روانگی ممکن نہیں۔

6۔ 15/اپریل، 8 ذو الحجہ کو صبح 7 بجے روانگی، منیٰ میں آمد ساڑھے نو بجے صبح

7۔ آتش زدگی، 4 بجے تک افراط و تفریط کا عالم

8۔ اسی شام عرفات کے لئے روانگی۔

9۔ عرفات میں قیام، 16 اپریل، مغرب کے کافی دیر بعد تک۔

10۔ 16 اپریل کی رات، 17/ اپریل کی فجر کے بعد تک مزدلفہ میں قیام۔

11۔ 17 اپریل مزدلفہ سے صبح 7 بجے منیٰ کے لئے پیدل واپسی۔

12۔ قربانی، رمی جمار۔ رات طوافِ زیارۃ کے لئے مکّہ۔

13۔ 18/ اپریل صبح ٤ بجے پھر منیٰ واپس۔ فون کی تلاش کہ ہمارے محفوظ ہونے کی گھر اطّلاع دے دیں۔

14۔ 18۔ کو بھی رمی جمار، منیٰ میں ہی قیام۔

اور آج 19 اپریل کو منیٰ سے ہی آپ سے مخاطب ہیں۔ اوپر کے 14 نکتوں (Points) میں کس سے کتنا انصاف کر سکیں گے، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ پہلے اہم ترین وقوعے کا ذکر ہی کریں۔

رات ساڑھے نو بجے۔ اُس وقت بھی نہیں لکھ سکے اور نہ اس وقت زیادہ موقعہ ہے۔ اب مکّے پہنچ کر ہی لکھیں گے جہاں کل ظہر کے بعد واپسی ہے۔

٭٭٭

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید